‫‪
‫‪
‫داستان ایمان فروشوں 
‫)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
‫پہال حصہ‪ ،،،،،،قسط ‪1
‫"تم پرندوں سے دل بہالیا کرو‪ .سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو"
‫یہ تاریخی الفاظ سلطان صالح الدین نے اپنے چچا زاد بھائی خلیفہ الصالح کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے‪ ،ان دونوں
‫نے صلیبوں کو درپردہ مدد زر و جواھرات کا اللچ دیا اور صالح الدین ایوبی کو شکست دینے کی سازش کی‪ ،امیر سیف الدین
‫اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھاگا‪ ،اسکے ذاتی خیمہ گاہ سے رنگ برنگی پرندے ‪ ،حسین اور جوان رقاصائیں اور گانے والیاں ساز
‫اور سازندے شراب کے مٹکے برآمد ہوئے ‪ ،سلطان نے پرندوں گانے والیوں اور سازندوں کو آزاد کردیا اور امیر سیف الدین کو
‫اس مضمون کا خط لکھا
‫تم دونوں نے کفار کی پشت پناہی کر کہ ان کے ہاتھوں میرا نام و نشان مٹانے کی ناپاک کوششیں کیں مگر یہ نہ سوچا کہ"
‫تمھاری یہ ناپاک کوششیں عالم اسالم کا بھی نام و نشان مٹا سکتی تھیں۔ تم اگر مجھ سے حسد کرتے ھو تو مجھے قتل
‫کرادیا ھوتا ‪ ،تم مجھ پر دو قاتالنہ حملے کرا چکے ھو۔ دونوں ناکام ھوئے اب ایک اور کوشش کر کہ دیکھ لو‪ ،ھو سکتا ھے
‫کامیاب ھو جاؤ۔ اگر تم مجھے یقین دال دو کہ میرا سر میرے تن سے جدا ھو جائے تو اسالم اور زیادہ سر بلند رھے گا تو
‫رب کعبہ کی قسم میں اپنا سر تمھارے تلوار سے کٹواؤں گا اور تمھارے قدموں میں رکھنے کی وصیت کرونگا میں صرف تمھیں
‫یہ بتادینا چاھتا ھوں کہ کوئی غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ھو سکتا‪ ،تاریخ تمھارے سامنے ہے اپنا ماضی دیکھو‪ ،شاہ
‫فرینک اور ریمانڈ جیسے اسالم دشمن تمھارے دوست اس لیئے ہیں کہ تم نے انھیں مسلمانوں کے خالف جنگ میں اترنے کی
‫شہ اور مدد دی ھے۔ اگر وہ کامیاب ھو جاتے تو انکا اگال شکار تم ھوتے اور اس کے بعد ان کا یہ خواب بھی پورا ھوجاتا کہ
‫اسالم صفہ ھستی سے مٹ جائے۔
‫تم جنگجو قوم کے فرد ھو۔ فن سپاہ گری تمہارا قومی پیشہ ھے ہر مسلمان اللہ کا سپاھی ھے مگر ایمان اور کردار بنیادی
‫شرط ھے۔ تم پرندوں سے دل بہالیا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطرناک کھیل ھے جو عورت اور شراب کا دلدادہ
‫ھو میں تم سے درخواست کرتا ھوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہوجاو‪ ،اگر یہ نہیں کرسکو تو
‫"میری مخالفت سے باز آجاو‪ ،میں تمھیں کوئی سزا نہیں دونگا۔۔۔۔اللہ تمھارے گناہ معاف کرے۔۔۔۔۔(صالح الدین ایوبی)
‫ایک یورپی مؤرخ لین پول لکھتا ھے
‫صالح الدین کے ہاتھوں جو مال غنیمت لگا اسکا کوئی حساب نہیں تھا‪ ،جنگی قیدی بھی بے اندازہ تھے‪ ،سلطان نے تمام "
‫تر مال غنیمت تین حصوں میں تقسیم کیا‪ ،ایک حصہ جنگی قیدیوں میں تقسیم کر کہ انکو رہا کردیا‪ ،دوسرا حصہ اپنے سپاھیوں
‫اور غرباء میں تقسیم کیا‪ ،اور تیسرا حصہ مدرسہ نظام الملک کو دے دیا‪ ،اس نے اسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی تھی۔ نہ
‫خود کچھ رکھا اور نہ اپنے کسی جرنیل کو کچھ دیا‪ ،اس کا نتیجہ یہ ھوا کہ جنگی قیدی جن میں بہت سے مسلمان تھے اور
‫باقی غیر مسلم ‪ ،رہا ھوکر سلطان کے کیمپ میں جمع ھوگئے اور سلطان کی اطاعت قبول کر کہ اپنی خدمات فوج کے لیے
‫پیش کردیں ایوبی کی کشادہ ظرفی اور عظمت دور دور تک مشہور ھوگئی
‫اس سے پہلے حسب بن صباح کے پراسرار فرقے فدائی جنہیں یورپین مورخین نے قاتلوں کا گروہ لکھا ھے صالح الدین ایوبی
‫پر دو بارہ قاتالنہ حملے کرچکے تھے لیکن اللہ نے اس عظیم مرد مجاھد سے بہت کام لینا تھا دونوں بار ایک معجزہ ھوا
‫جس میں یہ مرد مجاھد بال بال بچ گیا سلطان پر تیسرا قاتالنہ حملہ اس وقت ھوا جب وہ اپنے مسلمان بھائیوں اور صلیبیوں
‫کی سازش کی چٹان کو شمشیر سے ریزہ ریزہ کرچکا تھا۔ امیر سیف الدین میدان جنگ سے بھاگ گیا تھا مگر وہ سلطان کے
‫خالف بغض اور کینہ سے باز نہیں آیا۔ اس نے حسن بن صباح کے قاتل فرقے کی مدد حاصل کی۔
‫حسن بن صباح کا فرقہ اسالم کی آستین میں سانپ کی طرح پل رھا تھا۔ اس کا تفصیلی تعارف بہت ہی طویل ہے‪ ،مختصر
‫یہ کہ جس طرح زمین سورج سے دور ہوکر گناہوں کا گہوارہ بن گئی ہے‪ ،اسی طرح ایک حسن بن صباح نامی ایک شخص نے
‫اسالم سے الگ ہوکر نبیوں اور پیغمبروں والی عظمت حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا وہ اپنے آپکو مسلمان ہی کہالتا رہا اور ایسا
‫گروہ بنالیا جو طلسماتی طریقوں سے لوگوں کا اپنا پیروکار بناتا ‪ ،اس مقصد کے لیے اس گروہ نے نہایت حسین لڑکیاں نشہ آور
‫جڑی بوٹیاں ھیپناٹائزم اور چرب زبانی جیسے طریقے اپنائے‪ ،بہشت بنائی جس میں جاکر پتھر بھی موم ھو جاتے تھے اپنے
‫مخالفین کو قتل کرانے کے لیے ایک گروہ تیار کیا‪ ،قتل کے طریقے خفیہ اور پر اسرار ھوتے تھے‪ ،اس فرقے کے افراد اس قدر
‫چالک ذہین اور نڈر تھے کہ بھیس بدل کر بڑے بڑے جرنیلوں کے باڈی گارڈ بن جاتے تھے اور جب کوئی پراسرار طریقے سے
‫قتل ہوجاتا تو قاتلوں کو سراغ ھی نہیں مل پاتا‪ ،کچھ عرصہ بعد یہ فرقہ "قاتلوں کا گروہ" کے نام سے مشہور ھوا
‫یہ لوگ سیاسی قتل کے ماھر تھے زہر بھی استعمال کیا کرتے تھے‪ ،جو حسین لڑکیوں کے ہاتھوں شراب میں دیا جاتا تھا
‫بہت مدت تک یہ فرقے اسی مقصد کے لیے استعمال ھوتا رھا۔۔ اس کے پیروکار "فدائی" کہالتے تھے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو نہ تو لڑکیوں سے دھوکہ دیا جاسکتا تھا اور نہ ھی شراب سے۔ وہ ان دونوں سے نفرت کرتا تھا
‫‪ ،سلطان کو اس طریقے سے قتل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کو قتل کرنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ اس پر قاتالنہ حملہ کیا
‫جائے ‪ ،اس کے محافظوں کی موجودگی میں اس پر حملہ نہیں کیا جاسکتا تھا‪ ،دو حملے ناکام ھو چکے تھے۔ اب جبکہ
‫سلطان کو یہ توقع تھا کہ اسکا چچازاد بھائی الصالح اور امیر سیف الدین شکست کھا کر توبہ کر چکے ھونگے انھوں نے انتقام
‫‪.کی ایک اور زیر زمین کوشش کی
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی (
‫قسط نمبر ‪2
‫صالح الدین نے اس فتح کا جشن منانے کے بجائے حملے جاری رکھے اور تین قصبوں کو قبضے میں لیا‪ ،ان میں غازہ کا
‫مشہور قصبہ تھا‪ ،اسی قصبے کے گردونواح میں ایک روز سلطان صالح الدین ایوبی ‪ ،امیر جاواالسدی کے خیمے میں دوپہر کے
‫وقت غنودگی کے عالم میں سستا رھے تھے‪ ،سلطان نے وہ پگڑی نھیں اتاری تھی جو میدان جنگ میں سلطان کے سر کو
‫صحرا کی گرمی اور دشمن کے تلوار سے بچا کر رکھتی تھی۔ خیمے کے باہر اس کے محافظوں کا دستہ موجود اور چوکس تھا‪،
‫باڈی گاڈز کے اس دستے کا کمانڈر زرا سی دیر کے لیے وہاں سے چال گیا‪ ،ایک محافظ نے سلطان کے خیمے میں گرے ھوئے

‫پردوں میں سے جھانکا‪ ،اسالم کے عظمت کے پاسبان کی آنکھیں بند تھیں اور پیٹھ کے بل لیٹا ھوا تھا‪ ،اس محافظ نے باڈی
‫گارڈز کی طرف دیکھا‪ ،ان میں سے تین چار باڈی گارڈز نے اس کی طرف دیکھا‪ ،محافظوں نے اپنی آنکھیں بند کر کہ کھولیں
‫(ایک خاص اشارہ)
‫تین چار محافظ اٹھے اور دو تین باقی باڈی گارڈز کو باتوں میں لگالیا‪ ،محافظ خیمے میں چال گیا۔۔۔ اور خنجر کمر بند سے
‫نکاال۔۔۔دبے پاؤں چال اور پھر چیتے کی طرح سوئے ھوئے سلطان صالح الدین ایوبی پر جست لگائی۔ خنجر واال ھاتھ اوپر
‫اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‫عین اسی وقت سلطان نے کروٹ بدلی‪ ،یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ حملہ آور خنجر کہاں مارنا چاھتا تھا‪ ،دل میں یا سینے
‫میں۔۔۔ مگر ہوا یوں کہ خنجر سلطان کی پگڑی کے باالئ حصے میں اتر گیا‪ ،اور سر بال برابر جتنا دور رہا اور پگڑی سر سے
‫‪،اتر گئی
‫سلطان صالح الدین بجلی کی سی تیزی سے اٹھا‪ ،اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ سب کیا ھے ۔اس پر اس سے
‫پہلے دو ایسے حملے ھو چکے تھے۔ اس نے اس پر بھی اظہار نہیں کیا کہ حملہ آور خود اس کے باڈی گارڈ کی وردیوں میں
‫تھے‪ ،جسے اس نے خود اپنے باڈی گارڈز کے لیے منتخب کیا تھا‪ ،اس نے ایک سانس برابر بھی اپنا وقت ضایع نہ کیا ۔
‫حملہ آور اپنا خنجر پگڑی سے کھینچ رھا تھا۔ ایوبی کا سر ننگا تھا۔۔ اس نے بھر پور طاقت سے ایک گھونسہ حملہ آور کی
‫تھوڑی پر دے مارا۔ ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی۔ حملہ آور کا جبڑا ٹوٹ چکا تھا‪ ،وہ پیچھے کی طرف گرا اور اسکے منہ سے
‫ھیبتناک آواز نکلی۔اسکا خنجر ایوبی کی پگڑی میں رہ گیا تھا‪ ،ایوبی نے اپنا خنجر نکال لیا تھا‪ ،اتنے میں دو محافظ اندر آئے
‫‪ ،ان کے ھاتھوں میں تلواریں تھیں‪ ،سلطان صالح الدین نے انھیں کہا کہ ان کو زندہ پکڑو۔
‫لیکن یہ دونوں محافظ سلطان صالح الدین پر ٹوٹ پڑے‪ ،سلطان صالح الدین نے ایک خنجر سے دو تلواروں کا مقابلہ کیا۔ یہ
‫مقابلہ ایک دو منٹ کا تھا۔ کیونکہ تمام باڈی گارڈز اندر داخل ھوچکے تھے‪ ،سلطان صالح الدین یہ دیکھ کر حیران تھا کہ
‫اسکے باڈی گارڈز دو حصوں میں تقسیم ھوکر ایک دوسرے کو لہولہان کر رھے تھے‪ ،اسے چونکہ معلوم ہی نہ تھا کہ اس میں
‫اسکا دوست کون ھے اور دشمن سو وہ اس معرکہ میں شامل ھی نہیں ھوا‪ ،کچھ دیر بعد باڈی گارڈز میں چند مارے گیے کچھ
‫بھاگ گیے کچھ زخمی ہوئے‪ ،تو انکشاف ھوا کہ یہ جو دستہ سلطان صالح الدین کی حفاظت پر مامور تھا اس میں سات
‫فدائی( انکا ذکر پہلے حصے میں کیا جا چکا ھے کہ یہ کون تھے کسی کو سمجھ نہیں آئی ھو تو وہ پہال حصہ پڑھ لیں
‫شکریہ۔۔ ) تھے جو سلطان صالح الدین کو قتل کرنا چاھتے تھے‪ ،انھوں نے اس کام کے لیے صرف ایک فدایئ کو اندر خیمے
‫میں بھیجا تھا‪ ،اندر صورت حال بدل گئی تو دوسرے بھی اندر چلے گئے‪ ،اصل محافظ بھی اندر چلے گئے وہ صورت حال
‫سمجھ گئے ‪ ،سو سلطان صالح الدین بچ گیا۔ سلطان صالح الدین نے اپنے پہلے حملہ آور ہونے والے کی شہ رگ پر تلوار
‫رکھ کر پوچھا ‪ ،کہ وہ کون ھے اور اسکو کس نے بھیجا ھے۔ سچ کہنے پر سلطان نے اسکے ساتھ جان بخشی کا وعدہ کیا۔
‫اس نے کہا کہ وہ " فدائی " ھے اور اسکو کیمیشتکن (جسے بعض مورخین نے گمشتگن بھی لکھا ھے) نے بھیجا ھے
‫کیمیشتکن الصالح کے قلعے کا ایک گورنر تھا
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی (
‫قسط ‪3
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے مدرسہ نظام الملک میں تعلیم حاصل کی‪ ،یاد رھے کہ نظام الملک دنیائے اسالم کے ایک وزیر
‫تھے یہ مدرسہ انھوں نے تعمیر کیا‪ ،جس میں اسالمی تعلیم دی جاتی تھی‪ ،اور بچوں کو اسالمی تاریخ اور نظریات سے بہرور
‫کیا جاتا ۔
‫ایک مورخ ابن االطہر کے مطابق نظام الملک حسن بن صباح کے فدائیوں کا پہال شکار ھوے تھے کیونکہ وہ رومیوں کی توسیع
‫پسندی کی راہ میں چٹان بنے ھوئے تھے رومیوں نے ‪٩١ہ‪ ١میں انھیں فدائیوں کے ہاتھوں قتل کردیا۔ ان کا مدرسہ قائم رھا‪،
‫اور سلطان صالح الدین ایوبی نے وہیں تعلیم حاصل کی۔ اسی عمر میں سپاہ گری کی تربیت اپنے خاندان کے بڑوں سے لی۔
‫نورالدین زنگی نے ان کو جنگی چالیں سکھائیں‪ ،ملک کے انتظامات کے سبق سکھائے اور ڈیپلومیسی میں مہارت دی‪ ،اس تعلیم
‫و تربیت نے اسکے اندر وہ جذبہ پیدا کیا جس نے آگے چل کر صلیبیوں کے لیے سلطان کو بجلی بنادیا۔ جوانی میں ہی اس
‫نے وہ مہارت ذہانت اور اہلیت حاصل کی تھی جو ایک ساالر عظیم کے لیے اھم ھوتے ھیں۔ سلطان صالح الدین نے فن حرب
‫و ضرب میں جاسوس گوریال اور کمانڈو آپریشنز کو خصوصی اھمیت دی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی جاسوسی کی میدان
‫میں آگے نکل گیے تھے اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگر حملے کر رھے تھے۔ سلطان صالح الدین نظریات کے
‫محاذ پر لڑنا چاھتا جس میں تلوار استعمال نہیں ھوتی تھی۔ ان واقعات میں آپ چل کر دیکھیں گے کہ سلطان صالح الدین
‫کی تلوار کا وار تو گہرا ھوتا ھی تھا لیکن اسکی محبت کا وار تلوار سے بھی زیادہ مارتا تھا‪ ،اس کے لیے تحمل اور بردباری
‫کی ضرورت ھوتی تھی جو سلطان صالح الدین نے جوانی میں ہی خود کے اندر پیدا کر لی تھی۔ سلطان صالح الدین کو جب
‫مصر کا وائسراۓ بنا کر بھیجا گیا تو وہاں پر سینئر عہدیداروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ سب اس عہدے کی آس
‫لگائے بیٹھے تھے۔
‫انکی نظر میں سلطان صالح الدین طفل مکتب تھا ‪ ،لیکن جب سلطان صالح الدین نے انکا سامنا کیا اور باتیں سنی تو ان کا
‫احتجاج سرد پڑ گیا۔
‫یورپین مورخ لین پول کے مطابق سلطان صالح الدین ڈسپلن کا بہت ہی سخت ثابت ہوا ۔
‫اس نے تفریح عیاشی اور آرام کو اپنے لیے اور فوج کے لیے حرام قرار دیا۔ اس نے اپنی تمام جسمانی اور ذہنی قوت صرف
‫اس میں خرچ کی کہ ملت اسالمیہ کو پھر سے ایک کر سکیں اور صلیبیوں کو یہاں کی سرزمین سے نکال سکیں۔ سلطان
‫صالح الدین فلسطین پر ہر قیمت سے قبضہ کرنا چاہتا تھا ۔ اور یہی مقاصد سلطان صالح الدین نے اپنی فوج کو دیئے مصر کا
‫وائسراۓ بن کر سلطان نے کہا۔۔۔۔۔۔۔
‫"‪،اللہ نے مجھے مصر کی سرزمین دی ھے اور اللہ ھی مجھے فلسطین بھی عطا کرے گا "
‫مگر مصر پہنچ کر سلطان پر انکشاف ہوا کہ اس کا مقابلہ صرف صلیبیوں سے نہیں ہے بلکہ اس کے اپنے مسلمان بھائیوں نے
‫اسکی راہ میں بڑے بڑے حسین جال بنا رکھے ہیں جو صلیبیوں کے عزائم اور جنگی قوتوں سے زیادہ خطرناک تھے تو یہ تھا
‫ہلکہ سا تعارف
‫مصر میں جن زعما نے سلطان کا استقبال کیا ان میں ایک ناجی نامی ساالر بلت اہمیت کا حامل تھا‪ ،سلطان نے سب کو

‫سر سے پاؤں تک دیکھا۔ سلطان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور زبان پر پیار کی چاشنی تھی۔ بعض پرانے افسروں نے سلطان کو
‫ایسی نظروں سے دیکھا جن میں طنز اور تمسخر تھا۔ وہ صرف سلطان صالح الدین ایوبی کے نام سے واقف تھے یا یہ کہ یہ
‫ایک شاہی خاندان کا فرد ھے اور اپنے چچا کا جانشین ھے‪ ،وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نورالدین زنگی کے ساتھ سلطان صالح
‫الدین ایوبی کا کیا رشتہ ھے ‪ ،ان سب کی نگاہوں میں سلطان صالح الدین ایوبی کی اہمیت بس اس کے خاندان بیک گراونڈ
‫کی وجہ سے تھی یا صرف یہ کہ وہ مصر کا وائسراۓ بن کر آیا تھا اس کے سوا انہوں نے سلطان صالح الدین ایوبی کو کوئی
‫"وقعت نہ دی‪ ،ایک بوڑھے افسر نے اپنے ساتھ کھڑے افسر کے کان میں کہا
‫"‪،بچہ ہے۔۔۔۔۔ اسے ہم پال لینگے"
‫اس وقت کے مورخ یہ نہیں لکھ پائے کہ آیا سلطان صالح الدین ایوبی نے انکی نظریں بھانپ لی تھیں کہ نہیں۔ وہ استقبال
‫کرنے والے اس ہجوم میں بچہ لگ رھا تھا‪ ،البتہ جب وہ ناجی کے سامنے ہاتھ مالنے کے لیے رکا تو اس کے چہرے پر
‫تبدیلی آگئی۔ وہ ناجی سے ھاتھ مالنا چاھتا تھا لیکن ناجی جو اس کے باپ کے عمر کا تھا سب سے پہلے درباری
‫خوشامدیوں کی طرح جھکا پھر ایوبی سے بغل گیر ھوگیا اس نے ایوبی کی پیشانی کو چوم کر کہا۔
‫"میری خون کا آخری قطرہ بھی آپکی حفاظت کے لیے ھوگا۔ تم میرے پاس زنگی اور شردہ کی امانت ھو"
‫میری جان عظمت اسالم سے زیادہ قیمتی نہیں محترم اپنے خون کا ایک ایک قطرہ سنبھال کر رکھیں‪ ،صلیبی سیاہ گھٹاؤں "
‫کی طرح چھا رھے ھیں۔" سلطان نے کہا۔
‫‪،ناجی جواب میں مسکرایا جیسے سلطان نے کوی لطیفہ سنایا ھو
‫سلطان صالح الدین اس تجربہ کار ساالر کی مسکراہٹ کو غالبًا نھییں سمجھ سکا۔ ناجی فاطمی خالفت کا پروردہ ساالر تھا‪ ،وہ
‫مصر میں باڈی گارڈز کا کمانڈر اینچیف تھا۔جس کی نفری پچاس ھزار تھی اور ساری کی ساری نفری سوڈانی تھی۔ یہ فوج اس
‫وقت کے جدید ہتھیاروں تیاروں سے لیس تھی اور یہی فوج ناجی کا ہتھیار بن گئی تھی جس کے زور پر ناجی بے تاج بادشاہ
‫بن گیا تھا‪ ،وہ سازشوں اور مفاد پرستوں کا دور رھا ‪ ،اسالمی دنیا کی مرکزیت ختم ھوگئی تھی‪ ،صلیبیوں کی بھی نہایت
‫دلکش تخزیب کاریاں شروع رہیں۔ زر پرستی اور تعیش کا دور دورہ تھا۔ جس کے پاس ذرا سی بھی طاقت تھی وہ اس کو
‫دولت اور اقتدار کے لیے استعمال کرتا تھا۔ سوڈانی باڈی گارڈ فوج کا کمانڈر ناجی مصر میں حکمرانوں اور دیگر سربراہوں کے
‫لیے دھشت بنا ھوا تھا۔ اللہ نے اسکو سازش ساز دماغ دیا تھا۔ناجی کو اس دور کا بادشاہ ساز کہا جاتا تھا بنانے اور بگاڑنے
‫میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔ اس نے سلطان صالح الدین کو دیکھا تو اسکے چہرے پر ایسی مسکراھٹ آئی جیسے ایک
‫کمزور اور خفیف بھیڑ کو دیکھ کر ایک بھیڑیئے کے دانت نکل آتے ہیں ‪ ،سلطان صالح الدین اس زہر خندہ کو سمجھ نہیں
‫سکا۔۔ سلطان صالح الدین کے لیے سب سے زیادہ اہم آدمی ناجی ہی تھا۔ کیونکہ وہ پچاس ھزار باڈی گارڈز کا کمانڈر رھا۔ اور
‫سلطان صالح الدین کو فوج کی بہت اشد ضرورت تھی۔ سلطان صالح الدین سے کہا گیا کہ حضور بڑی لمبی مسافت سے
‫‪،تشریف الئے ہیں پہلے آرام کر لیں تو سلطان صالح الدین نے کہا
‫میرے سر پر جو دستار رکھی گئی ہے میں اس کے الئق نہ تھا اس دستار نے میری نیند اور آرام ختم کردی ہے کیا آپ "
‫"حضرات مجھے اس چھت کے نیچھے لے کر نہیں جائینگے جس کے نیچے میرے فرائض میرا انتظار کر رہے ہیں۔
‫کیا حضور کام سے پہلے طعام لینا پسند کرینگے" اس کے نائب نے کہا"
‫سلطان صالح الدین نے کچھ سوچا اور اسکے ساتھ چل پڑا۔۔ لمبے تڑنگے باڈی گارڈز اس عمارت کے سامنے دو رویہ دیوار بن
‫کر کھڑے تھے جس میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
‫سلطان صالح الدین نے فوجیوں قد بت اور ہتھیار دیکھے تو اس کے چہرے پر رونق آگئی۔لیکن دروازے میں قدم رکھتے ھی یہ
‫رونق ختم ھوئی وہاں چار نوجوان لڑکیاں جن کے جسموں میں زھد شکن لچک اور شانوں پر بکھرے ھوئے ریشمی بالوں میں
‫قدرت کا حسن سمویا ھوا تھا ھاتھوں میں پھولوں کی پتیوں سے بھری ھوئی ٹوکریاں لیے کھڑی تھیں۔انھوں نے سلطان صالح
‫الدین کے قدموں میں پتیاں پھینکنا شروع کیں اور اسکے ساتھ دف کی تال پر طاوس درباب اور شہنایئوں کا مسحور کن نغمہ
‫ابھرا۔ سلطان صالح الدین نے راستے میں پھولوں کی پتیاں دیکھ کر قدم پیچھے کر لیے‪ ،ناجی اور اسکا نائب سلطان صالح
‫الدین کے دائیں بائیں تھے۔ وہ دونوں جھک گئے اور سلطان صالح الدین کو آگے بڑھنے کی دعوت دی۔۔ یہ وہ انداز تھا جو
‫‪،مغلوں نے ھندوستان میں رائج کیا تھا
‫صالح الدین پھولوں کی پتیاں مسلنے نہیں آیا" ایوبی نے ایسی مسکراہٹ سے کہا جو لوگوں نے بہت ھی کم کسی کے "
‫ہونٹوں پر دیکھی تھی۔
‫ھم حضور کے قدموں میں آسمان سے تارے بھی نوچ کر بچھا سکتے ہیں" ناجی نے کہا "
‫اگر میری راہ میں کچھ بچھانا ہی چاھتے ہو تو وہ ایک ھی چیز ھے جو مجھے بہت بھاتی ھے۔" سلطان صالح الدین نے کہا
‫آپ حکم دیں ۔۔ وہ کونسی چیز ھے جو سلطان کے دل کو بھاتی ہے" ناجی کے نائب نے کہا۔"
‫صلیبیوں کی الشیں۔۔۔سلطان صالح الدین نے مسکرا کر کہا۔ مگر جلد ہی یہ مسکراہٹ ختم ھو گئئ۔ اس کے آنکھوں سے "
‫"شعلے نکلنے لگے۔ اس نے دھیمی آواز میں جس میں غضب اور عتاب چھپا ھوا تھا۔کہا۔۔۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی (
‫قسط ‪4
‫مسلمانوں کی زندگیاں پھولوں کی سیج نہیں‪ ،جانتے نہیں ہو صلیبی سلطنت ملت اسالمیہ کو چوہوں کی طرح کھا رہی ہے اور"
‫جانتے ہو کہ وہ کیوں کامیاب ھو رہے ہیں
‫صرف اس لیئے کہ ھم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا شروع کیا۔ ھم نے اپنی بچیوں کو ننگا کر کہ انکی عصمتیں روند ڈالیں۔
‫میری نظریں فلسطین پر لگی ھوئی ہیں تم میری راہ میں پھول ڈال کر مصر سے بھی اسالمی جھنڈا اتروا دینا چاھتے ہو
‫کیا۔۔؟ سلطان صالح الدین نے سب کو ایک نظر سے دیکھا اور دبدبے سے کہا۔ اٹھا لو یہ پھول میرے راستے سے ‪ ،میں نے
‫ان پر قدم رکھا تو میری روح چھلنی ھو جائے گی ‪ ،ہٹا دو ان لڑکیوں کو میری آنکھوں سے ایسا نہ ہو کہیں میری تلوار ان
‫"کی زلفوں میں الجھ کر بیکار ہو جائے
‫"حضور کی جاہ حشمت"
‫مجھے حضور نہ کہو" سلطان صالح الدین نے بولنے والے کو یوں ٹوک دیا جیسے تلوار سے کسی کی گردن کاٹ دی ہو "
‫سلطان صالح الدین نے کہا " حضور وہ ہے جن کے نام کا تم کلمہ پڑھتے ہو‪ ،جن کا میں غالم بے دام ہوں۔ میری جان فدا

‫ہو اس حضور پر جن کے مقدس پیغام کو میں نے سینے پر کندہ کر رکھا ہے میں یہی پیغام لیکر مصر آیا ہوں۔ صلیبی مجھ
‫"سے یہ پیغام چھین کر بحیرہ روم میں ڈبو دینا چاھتے ہیں‪ ،شراب میں ڈبو دینا چاھتے ہیں‪ ،میں بادشاہ بن کر نہیں آیا۔
‫لڑکیاں کسی کے اشارے پر پھولوں کی پتیاں اٹھا کر وہاں سے ہٹ گئی تھیں‪ ،سلطان تیزی سے دروازے کے اندر چال گیا۔ ایک
‫وسیع کمرہ تھا جس میں ایک لمبی میز رکھی گی تھی‪ ،جس پر رنگا رنگ پھول رکھے ھوئے تھے ان کے بیچ روسٹ کیے
‫گئے بکروں کے بڑے بڑے ٹکڑے سالم مرغ اور جانے کیا کیا رکھا گیا تھا‪ ،سلطان صالح الدین رک گیا اور اپنے نائب سے کہا
‫"کہ " کیا مصر کا ہر ایک باشندہ ایسا ہی کھانا کھاتا ھے
‫نہیں حضور غریب تو ایسے کھانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے‪ "،نائب نے کہا "
‫تم کس قوم کے فرد ہو سلطان صالح الدین نے کہا کیا ان لوگوں کی قوم الگ ہے جو ایسے کھانوں کا خواب بھی نہیں "
‫دیکھ سکتے۔" کسی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا
‫اس جگہ جتنے مالزم ہیں اور جتنے سپاھی ڈیوٹی پر ہیں ان سب کو بالوؤ اور یہ کھانا ان کو دے دو۔" سلطان صالح "
‫الدین نے ایک روٹی اٹھائی اس پر دو تین بوٹیاں رکھیں ‪،نہایت تیزی سے روٹی کھا کر پانی پیا اور باڈی گارڈز کے کمانڈر
‫‪،ناجی کو ساتھ لیکر اس کمرے میں چالگیا جو وائسراۓ کا دفتر تھا
‫گھنٹے بعد ناجی دفتر سے نکال دوڑ کر اپنے گھوڑے پر سوار ھوا ایڑ لگائی اور نظروں سے اوجھل ھوا۔ رات ناجی کے دو ‪2
‫" کمانڈر جو اس کے ھمراز تھے بیٹھے اسکے ساتھ شراب پی رھے تھے‪ ،ناجی نے کہا
‫جوانی کا جوش ہے تھوڑے دنوں میں ٹھنڈا کرا دونگا‪ ،کم بخت جو بھی بات کرتا ہے کہتا ہے رب کعبہ کی قسم۔۔ صلیبیوں کو
‫"ملت اسالمیہ سے باہر نکال کر ہی دم لونگا۔
‫صالح الدین ایوبی" ایک کمانڈر نے طنزیہ کہا۔ " اتنا بھی نہیں جانتا کہ ملت اسالمیہ کا دم نکل چکا ھے اب سوڈانی "
‫"حکومت کرینگے
‫کیا آپ نے اسے بتایا نہیں کہ یہ پچاس ھزار کا لشکر سوڈانی ہے اور یہ لشکر جسے وہ اپنی فوج سمجھتا ہے صلیبیوں کے "
‫خالف نہیں لڑے گا۔" دوسرے کمانڈر نے ناجی سے پوچھا
‫تمہارا دماغ ٹھکانے ہے اوروش ۔۔۔؟ میں اسے یقین دال آیا ہوں کہ یہ ‪ 50ھزار سوڈانی شیر صلیبیوں کے پرخچے اڑا "
‫دینگے ۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ " ناجی چھپ ھوکر سوچ میں پڑ گیا
‫"لیکن کیا "
‫اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ مصر کے باشندوں کی ایک فوج تیار کرو۔ اس نے کہا ھے کہ ایک ہی ملک کی فوج ٹھیک "
‫نہیں ھوتی اس نے بوال کہ مصر کی فوج بنا کر ان میں شامل کردو" ناجی نے کہا
‫"تو آپ نے کیا جواب دیا۔؟ "
‫‪،میں نے کہا کہ حکم کی تعمیل ھوگی لیکن میں اس حکم کی تعمیل نکیں کرونگا‪ ،ناجی نے جواب دیا "
‫مزاج کا کیسا ھے" اوروش نے کہا
‫ضد کا پکا معلوم ھوتا ھے" ناجی نے کہا "
‫آپکے دانش اور تجربے کے آگے تو وہ کچھ بھی نہیں لگتا نیا نیا امیر مصر بن کر آیا ہے کچھ روز یہ نشہ طاری رھے گا" "
‫دوسرے کمانڈر نے کہا
‫میں یہ نشہ اترنے نہیں دونگا اسی نشے میں ہی بدمست کر کہ مارونگا" ناجی نے جواب دیا۔ "
‫بہت دیر تک وہ سلطان کے خالف باتیں کرتے رھے اور اس مسلئے پر غور کرتے رھے کہ اگر سلطان نے ناجی کی بے تاج
‫بادشاھی کے لیے خطرہ پیدا کردیا تو وہ کیا کرینگے‪ ،ادھر سلطان اپنے نائب کو سامنے بٹھائے یہ بات ذہن نشین کرا رہا تھا
‫کہ وہ یہاں حکومت کرنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی کو حکومت کرنے دے گا اس نے انہیں کہا کہ اس کو جنگی طاقت کی
‫ضرورت ہے اور اس نے یہ بھی کہا کہ اس کو یہاں کا فوجی ڈھانچہ بلکل پسند نہیں آیا ‪ 50ھزار باڈی گارڈز سوڈانی ہیں‪،
‫ہمیں ملک کے ہر باشندے کو یہ حق دینا چاھیے کہ وہ ھمارے فوج میں سے آۓ اپنے جوھر دکھائے اور مال غنیمت میں سے
‫اپنا حصہ وصول کرے یہاں کے عوام کا معیار زندگی اسی طرح بلند ھوسکتا ھے میں نے ناجی کو کہہ دیا ھے کہ وہ عام
‫بھرتی شروع کردیں۔
‫کیا آپکو یقین ھے کہ وہ آپکے حکم کی تعمیل کرے گا" ایک ناظم نے اس سے پوچھا۔ "
‫"کیا وہ حکم کی تعمیل سے گریز کرے گا "
‫وہ حکم کی تعمیل سے گریز کر سکتا ھے وہ حکم کی تعمیل نہیں اپنی منواتا ہے فوجی امور اس کے سپرد ھے " ناظم "
‫نے جواب دیا
‫سلطان ایوبی خاموش ہوا جیسے اس پر کچھ اثر ہوا ہی نہیں ہو۔ اس نے سب کو رخصت کردیا اور صرف علی بن سفیان کو
‫اپنے ساتھ رکھا‪ ،علی بن سفیان جاسوس اور جوابی جاسوسی کا ماہر تھا‪ ،اسے سلطان بغداد سے اپنے ساتھ الیا تھا‪ ،وہ ادھیڑ
‫عمر آدمی تھا اداکاری چرب زبانی بھیس بدلنے کا ماہر تھا‪ ،اس نے جنگوں میں جاسوسی کی بھی اور جاسوسوں کو پکڑا بھی
‫تھا‪ ،اسکا اپنا ایک گروہ تھا جو آسمان سے تارے بھی توڑ السکتا تھا‪ ،سلطان کو جاسوسی کی اھمیت سے واقفیت تھی۔ فنی
‫‪،مہارت کے عالوہ علی بن سفیان میں وہی جذبہ تھا جو سلطان ایوبی میں تھا
‫"تم نے سنا علی یہ لوگ کہتے ہیں کہ ناجی کسی سے حکم نہیں لیتا اپنی منواتا ہے "
‫صالح الدین نے کہا
‫ہاں میں نے سن لیا ہے اگر میں چہرے پہچاننے میں غلطی نہیں کرتا تو میری راۓ میں باڈی گارڈز کا یہ کمانڈر جس کا "
‫نام ناجی پے ناپاک ذہنیت کا مالک ھے اس کے مطابق میں پہلے سی ہی کچھ جانتا ھوں یہ فوج جو ھمارے خزانے سے
‫تنخواہ لے رھی ھے دراصل ناجی کی ذاتی فوج ھے اس نے حکومتی حلقوں میں ایسی ایسی سازشیں کی ہیں جس نے
‫حکومتی ڈھانچے کو بے حد کمزور کردیا ھے‪ ،آپکا یہ فیصلہ بلکل بجا ھے کہ فوج میں ہر خطے کے سپاھی ھونے چاھئیں میں
‫آپکو تفصیلی ریپورٹ دونگا۔ مجھے شک ھے کہ سوڈانی فوج اسکی وفادار ہے ھماری نہیں۔ آپکو اس فوج کی ترتیب اور تنظیم
‫بدلنی پڑے گی۔ یا ناجی کو سبگدوش کرنا پڑے گا" علی بن سفیان نے کہا
‫میں اپنے ھی صفوں میں اپنے دشمن پیدا نہیں کرنا چاھتا ناجی اپنے گھر کا بھیدی ہے اسکو سبکدوش کرکے دشمن بنالیا "
‫دانشمندی نہیں ھماری تلواریں غیروں کے لیے ہیں اپنوں کے خون بہانے کے لیے نہیں میں ناجی کی ذہنیت کو پیار اور محبت
‫سے بدل سکتا ہوں تم اس فوج کی ذہنیت معلوم کرنے کی کوشش کرو اور مجھے ٹھیک رپورٹ دو کہ فوج کہاں تک ھماری

‫وفادار ھے۔" سلطان صالح الدین نے کہا۔
‫مگر ناجی اتنا کچا نہیں تھا اسکی ذہنیت پیار اور محبت کے بکھیڑوں سے آزاد تھی اسے اگر پیار تھا تو اپنے اقتدار اور
‫شیطانیات کے ساتھ‪ ،اس لحاظ سے وہ پتھر تھا‪ ،مگر جیسے وہ اپنے جال میں پھنسا لینا چاھتا تھا اسکے سامنے موم بن جاتا
‫تھا اس نے سلطان صالح الدین کے سامنے یہی رویہ اختیار کیا یہاں تک کہ وہ سلطان صالح الدین کے سامنے بیٹھتا بھی نہیں
‫‪ ،ہاں میں ہاں مالتا چال جاتا ‪ ،اس نے مصر کے مختلف حصوں سے سلطان صالح الدین کے حکم کے مطابق فوج کے لیے
‫عام بھرتی شروع کی تھیں اگر چہ یہ کام اسکے مرضی کے خالف تھا‪ ،دن گزرتے گیے سلطان صالح الدین اسے کچھ کچھ
‫پسند کرنے لگا تھا ناجی نے سلطان صالح الدین کو یقین دالیا تھا کہ سوڈانی فوج اس کے حکم کی منتظر ھے اور یہ قوم کی
‫توقعات پر پورا اترے گی ناجی دو تین بار سلطان صالح الدین کو کہہ چکا تھا کہ سوڈانی فوج باڈی گارڈز کی طرف سے اسے
‫دعوت دینا چاھتا ھے اور فوج اس کے اعزاز میں جشن منانے کو بیتاب ھے لیکن سلطان صالح الدین یہ دعوت مصروفیات کی
‫وجہ سے قبول نہیں کر سکا۔۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
‫قسط ‪5
‫رات کا وقت تھا ناجی اپنے کمرے میں دو جونیئر کمانڈروں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا تھا دو ناچنے والیاں ہلکی ہلکی
‫موسیقی پر مستی میں آئی ھوئی ناگنوں کی طرح مسحور کن اداؤں سے رقص کر رہی تھیں‪ ،انکے پاؤں میں گھنگروں نہیں
‫تھے‪ ،انکے جسموں پر کپڑے صرف اس قدر تھے کہ ان کے ستر ڈھکے ھوئے تھے اس رقص میں خمار کا تاثر تھا۔۔۔۔
‫دربان اندر آیا اور ناجی کے کان میں کچھ کہا ناجی جب شراب اور رقص کے نشے میں محو ہوتا تھا تو کوئی اندر آنے کی
‫جرأت نہیں کر سکتا تھا‪ ،صرف ناجی کو معلوم تھا کہ وہ کونسا کام ہے جس کے لیے ناجی شراب و شباب کے محفل سے
‫اٹھا کرتا ہے ورنہ وہ اندر آنے کی جرأت نہیں کرتا تھا اسکی بات سنتے ہی ناجی باہر نکل گیا وہاں سوڈانی لباس میں
‫ملبوس ایک اڈھیڑ عمر کا آدمی تھا اسکے ساتھ ایک جوان لڑکی تھی ناجی کو دیکھ کر وہ اٹھی‪ ،ناجی اس کے چہرے کی
‫دلکشی اور قد کاٹھ دیکھ کر ٹھٹک گیا وہ عورتوں کا شکاری تھا اسے عورتیں صرف عیاشی کے لیے درکار نہیں تھیں ان سے
‫وہ اور بھی کئی کام لیا کرتا تھا جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ان میں سے بہت ہی خوبصورت اور عیار لڑکیوں کے ذریعے
‫بڑے بڑے افسروں کو اپنی مٹھی میں رکھتا تھا اور ایک کام یہ بھی کہ وہ انہیں امیروں اور حکمرانوں کو بلیک میل کرنے کے
‫لیے استعمال کیا کرتا تھا اور ساتھ میں ان سے جاسوسی بھی کرالیا کرتا تھا‪ ،جس طرح قصاب جانور کو دیکھ کر بتاتا ہے کہ
‫اسکا گوشت کتنا ہے اس طرح ناجی بھی لڑکی کو دیکھ کر بتاتا کہ یہ لڑکی کس کام کے لیے موزوں ہے لڑکیوں کے بیوپاری
‫اور بردہ فروش اکثر مال ناجی کے پاس ہی الیا کرتے تھے۔
‫یہ آدمی بھی ایسے ہی بیوپاریوں میں سے ہی لگتا تھا لڑکی کے متعلق اس نے بتایا کہ لڑکی تجربہ کار ہے ناچ بھی سکتی
‫ہے اور پتھر کو زبان کے میٹھے پن کی وجہ سے پانی میں تبدیل بھی کر سکتی ہے ناجی نے اسکا تفصیلی انٹرویو لیا وہ اس
‫فن کا ماہر تھا اس نے راۓ قائم کی کہ جس کام کے لیے وہ اس لڑکی کو تیار کر رہا ہے تھوڑی سی ٹرینگ کے بعد یہ
‫لڑکی اس کام کے لیے موزوں ہوگی‪ ،بیوپاری قیمت وصول کر کہ چالگیا ناجی اس لڑکی کو اپنے کمرے میں لیکر چال گیا جہاں
‫اس کے ساتھی رقص اور شراب سے دل بہال ریے تھے ‪ ،اس نے لڑکی کو نچانے کے لیے کہا ‪ ،اور جب لڑکی نے اپنا چغہ
‫اتار کر اپنے جسم کو دو بل دیئے تو ناجی اور اس کے ساتھی تڑپ اٹھے پہلے ناچنے والیوں کے رنگ پیلے پڑ گئے کیونکہ ان
‫کی قیمت کم ہو گئی تھی ناجی نے اس وقت محفل برخاست کردی ‪ ،اور لڑکی کو پاس بٹھا کر سب کو باہر نکال دیا لڑکی
‫‪،سے نام پوچھا تو اس نے زکوئی بتایا ‪ ،ناجی نے اس سے کہا
‫زکوئی تم کو یہاں النے والے نے بتایا ہے کہ تم پتھر کو پانی میں تبدیل کر سکتی ہو میں تمہارا یہ کمال دیکھنا چاہتا "
‫"ہوں
‫وہ پتھر کون ھے " زکوئی نے سوال کیا "
‫"نیا امیر مصر" ناجی نے کہا وہ ساالر اعظم بھی ہے "
‫سلطان صالح الدین ایوبی" زکوئی نے پوچھا "
‫"‪،ہاں اگر تم اسکو پانی میں تبدیل کردو تو میں اس کے وزن جتنا سونا تمہارے قدموں میں رکھ دونگا "
‫وہ شراب تو پیتا ہوگا " زکوئی نے پوچھا
‫نہیں شراب ناچ گانا تفریح سے وہ اتنی ہی نفرت کرتا ہے جتنی ایک مسلمان خنزیر سے کرتا ہے" ناجی نے کہا
‫میں نے سنا تھا آپکے پاس تو لڑکیوں کا ایک طلسم ہے جو نیل کی روانی کو روک لیتا ہے تو کیا وہ طلسم ناکام "
‫ہوا۔۔۔۔۔۔۔؟" زکوئی نے پوچھا
‫میں نے ابھی تک ان کو آزمایا نہیں ہے یہ کام تم کر سکتی ہو میں تم کو سلطان کی عادتوں کے بارے میں بتا دیتا ہوں "
‫" ناجی نے کہا
‫کیا آپ اسے زہر دینا چاھتے ہیں" زکوئی نے پوچھا"
‫نہیں ابھی نہیں میری اس کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں میں بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ ایک بار کسی تم جیسی لڑکی کے "
‫جال میں پھنس جائے پھر میں اسے اپنے پاس بیٹھا کر شراب پال سکوں اگر اسکو قتل کرنا مقصود تھا تو میں یہ کام
‫حشیشن سے آسانی کے ساتھ کر سکتا تھا " ناجی نے جواب دیا۔۔۔
‫یعنی آپ سلطان سے دشمنی نہیں دوستی کرنا چاہتے ہو" زکوئی نے کہا اتنا برجستہ جملہ سن کر ناجی لڑکی کو چند "
‫لمحے غور سے دیکھتا رہا لڑکی اسکے توقع سے زیادہ ذہین تھی۔
‫ہاں زکوئی" ناجی نے اسکے نرم و مالئم بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا میں اسکے ساتھ دوستی کرنا چاہتا ہوں ایسی "
‫دوستی کہ وہ میرا ہمنوا اور ہم پیالہ بن جائے آگے میں جانتا ہوں کہ مجھے اس سے کیا کام لینا ھے " ناجی نے کہا اور
‫ذرا سوچ کر بوال " لیکن میں تمہیں یہ بھی بتا دو کہ ایک جادو سلطان کے ہاتھوں میں بھی ہے اگر تمھارے حسن پر اسکے
‫ہاتھ کا جادو چل گیا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو تم ایک دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ
‫سکو گی صالح الدین تم کو موت سے بچا نہیں سکے گا تمھاری زندگی اور موت میرے ہاتھوں میں ہے تم مجھے دھوکہ نہیں
‫دے سکو گی ‪ ،اس لیئے میں نے تمھارے ساتھ کھل کر بات کی ہے ورنہ میری حیثیت اور رتبے کا انسان ایک پیشہ ور لڑکی
‫" سے پہلی مالقات میں ایسی باتیں نہیں کرتا

‫یہ آپکو آنے واال وقت بتائے گا کہ کون کس کو دھوکہ دیتا ہے زکوئی نے کہا " مجھے یہ بتائیں کہ میری سلطان تک رسائی
‫"کیسے ہوگی
‫میں اسے ایک جشن میں بال رہا ہوں‪ ،ناجی نے کہا اور اسی رات میں ہی آپ کو اس کے خیمے میں داخل کردونگا۔ میں "
‫"نے تمہیں اسی مقصد کے لیے بالیا ہے
‫باقی میں سنبھال لونگی " زکوئی نے کہا
‫وہ رات گزر گئی پھر اور کئی راتیں گزر گئیں‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی انتظامی اور فوج کی نئی بھرتی میں اتنا مصروف تھا
‫کہ ناجی کی دعوت قبول کرنے کا وقت نھیں نکال سکا علی بن سفیان نے سلطان صالح الدین ایوبی کو ناجی کے مطابق جو
‫ریپورٹ دی تھی اس نے سلطان کو پریشان کردیا تھا ۔ سلطان نے علی سے کہا
‫اس کا مطلب یہ ہے کہ ناجی صلیبیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے یہ سانپ ہے جیسے مصر کی امارات آستین میں پال "
‫"رہی ہے
‫علی بن سفیان نے ناجی کی تخزیب کاری کی تفصیل بتانی شروع کردی کہ ناجی نے کس طرح بڑے بڑے عہدیداروں کو ہاتھ
‫میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رہا۔ اور کہا "اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سپہ ساالر ہے وہ ہماری بجائے ناجی کی
‫"وفادار ہے کیا آپ اسکا کوئی عالج سوچ سکتے ہیں
‫صرف سوچ ہی نہیں سکتا عالج شروع بھی کر چکا پوں‪ ،مصر سے جو سپاہ بھرتی کیئے جا رہے یں وہ سوڈانی باڈی گارڈز "
‫میں گڈ مڈ کردونگا پھر یہ فوج نہ سوڈانی ہوگی اور نہ مصری ‪ ،ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ہماری فوج میں جذب ہوجائے
‫گی۔ ناجی کو میں اسکے اصل ٹھکانے پر لیں آونگا۔" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
‫اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ناجی نے صلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ رکھا ہے علی بن سفیان نے کہا آپ "
‫ملت اسالمیہ کو ایک مضبوط مرکز پر الکر اسالم کو وسعت دینا چاھتے ہیں مگر ناجی آپکے خوابوں کو دیوانے کا خواب بنا
‫"رہا ہے
‫تم اس سلسلے میں کیا کر رہے ہو۔" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
‫"
‫یہ مجھ پر چھوڑ دیں" علی نے کہا میں جو کرونگا وہ آپکو ساتھ ساتھ بتاتا رہونگا آپ مطمئن رہیں میں نے اس کو
‫جاسوسوں کی ایسی دیوار میں چن دیا ہے جس کے آنکھ بھی ہیں کان بھی اور یہ دیوار متحرک بھی ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ
‫"میں نے اسکو اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کرلیا ہے
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر بھروسہ تھا کہ اس نے علی سے اسکے درپردہ کاروائی کی تفصیل نہ
‫پوچھی‪ ،علی نے سلطان سے پوچھا" معلوم ہوا ہے وہ آپکو جشن پر بالنا چاہتا ہے اگر یہ ٹھیک بات ہے تو اسکی دعوت
‫" اس وقت قبول کرلیں جب میں آپکو کہونگا
‫ایوبی اٹھا اور اپنے ہاتھ پیچھے کر کہ ٹہلنے لگا اسکی آہ نکلی وہ رک گیا اور بوال " بن سفیان ۔۔!! زندگی اور موت اللہ
‫کے ہاتھ میں ہے بے مقصد زندگی سے بہتر نہیں کہ انسان پیدا ہوتے ہی مر جائے۔؟ کبھی کبھی یہ بات دماغ میں آتی ہے
‫کہ وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جن کی قومی حس مردہ ہوچکی ہوتی ہے اور جن کا کوئی کردار نہیں ہوتا بڑے مزے سے
‫"جیتے ہیں اور اپنی آئی پر مر جاتے ہیں
‫وہ بد نصیب ہے امیر محترم " علی بن سفیان نے کہا
‫ہاں بن سفیان میں جب انہیں خوش نصیب کہتا ہوں تو پتہ نہیں کون میرے کانوں میں یہ بات ڈال دیتا ہے جو تم نے "
‫کہی مگر سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے تاریخ کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلہ تو ملت اسالمیہ صحراؤں وادیوں میں گم ہو جائے گا
‫ملت کی خالفت تین حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے امیر من مانی کر رہے ہیں اور صلیبیوں کا آلہ کار بن رہے ہیں مجھے اس
‫بات کا ڈر بھی ہے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رہے تو وہ ھمیشہ صلیبیوں کے غالم اور آلہ کار بنیں گے وہ اسی پر خوش
‫ھونگے کہ وہ زندہ ہیں مگر قوم کی حیثیت سے وہ مردہ ھونگے زرا نقشہ دیکھو علی۔۔۔! آدھی صدی میں ھماری سلطنت کا
‫نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ہے وہ خاموش ھوگیا اور ٹہلنے لگا اور پھر سر جھٹک کر علی کو دیکھنے لگا
‫جب تباہی اپنے اندر سے ہو تو اسے روکنا محال ھوتا ہے اگر ھماری خالفتوں اور امارتوں کا یہی حال رھا تو صلیبیوں کو "
‫ھم پر حملہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی‪ ،،وہ آگ جس میں ھم اپنا ایمان اپنا کردار اپنی قومیت جال رہے ہیں اس
‫میں صلیبی آھستہ آھستہ تیل ڈالتے رہیں گے‪ ،انکی سازشیں ہمیں آپس میں لڑاتی رہیں گی‪ ،میں شاید اپنا عزم پورا نہ کر
‫سکوں۔ میں شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھا جاؤں لیکن میں قوم کے نام ایک وصیت چھوڑنا چاھتا ہوں وہ یہ ہے کہ
‫کسی غیر مسلم پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا‪ ،انکے خالف لڑنا ہے تو لڑ کر مر جانا ‪ ،کسی غیر مسلم کے ساتھ کوئی سمجھوتہ
‫"کوئی معاہدہ نہ کرنا
‫آپکا لہجہ بتا رہا ہے کہ جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ہوگیے ہیں" علی بن سفیان نے کہا "
‫مایوس نہیں جذباتی۔۔۔۔ علی۔۔۔ میرا ایک حکم متعلقہ شعبہ تک پہنچاؤ بھرتی تیز کردو اور کوشش کرو کہ فوج کے لیے "
‫ایسے آدمی زیادہ سے زیادہ بھرتی کرو جن کو جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ھو۔ ھمارے پاس اتنی لمبی تربیت کا وقت
‫نہیں‪ ،بھرتی ھونے والوں کے لیے مسلمان ہونا الزمی قرار دو‪ ،اور تم اپنے لیے ذھن نشین کردو کہ ایسے جاسوسوں کا دستہ تیار
‫کرو جو دشمن کے عالقے میں جا کر جاسوسی بھی کریں۔ اور شب خون بھی ماریں یہ جانبازوں کا دستہ ھوگا ‪ ،انھیں
‫خصوصی تربیت دو ‪ ،ان میں یہ صفات پیدا کرو کہ وہ اونٹ کی طرح صحرا میں زیادہ سے زیادہ عرصہ پیاس برداشت کر
‫سکیں۔ انکی نظریں عقاب کی طرح تیز ہوں۔ ان میں صحرائی لومڑی کی مکاری ھو اور وہ دشمن پر چیتے کی طرح جھپٹنے
‫کی مہارت طاقت کے مالک ہوں ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ھو اور عورت کے لیے وہ برف کی طرح یخ ہوں ‪،،
‫‪.بھرتی تیز کرا دو علی سفیان۔۔۔۔۔۔۔۔اور یاد رکھو
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
‫پہال حصہ‪ ،،،،،،قسط ‪6
‫میں ہجوم کا قائل نہیں ‪ ،مجھے لڑنے والوں کی ضرورت ہے خواہ تعداد تھوڑی ہو ‪ ،ان میں قومی جذبہ ہو اور وہ میرے عزم
‫‪،،کو سمجھتے ہوں ‪ ،کسی کے دل میں یہ شبہ نہ ہو کہ اسے کیوں لڑایا جا رہا ہے
‫٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭
‫اگلے دس دنوں میں ھزارہا تربیت یافتہ سپاھی امارت مصر کی فوج میں آگئے اور ان دس دنوں میں ذکوئی کو ناجی نے

‫ٹرینئنگ دے دی کہ وہ سلطان کو کون کون سے طریقے سے اپنے حسن کی جال میں پھنسا کر اسکی شخصیت اور اسکا کردار
‫کمزور کر سکتی ہے ۔ ناجی کے ہمراز دوستوں نے جب ذکوئی کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ مصر کے فرعون بھی اس لڑکی
‫کو دیکھ لیتے تو وہ جدائی کے وعدے سے دستبردار ہو جاتے ‪ ،ناجی کے جاسوسی کا اپنا نظام تھا ‪ ،بہت تیز اور دلیر ‪ ،،وہ
‫معلوم کر چکا تھا کہ علی بن سفیان سلطان کا خاص مشیر ہے۔ اور عرب کا مانا ہوا سراغ رساں ‪ ،اس نے علی کے پیچھے
‫اپنے جاسوس چھوڑ دیئے تھے اور علی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا ۔ ذکوئی کو ناجی نے سلطان صالح الدین
‫ایوبی کو اپنے جال میں پھسانے کے لیے تیار کیا تھا ‪ ،لیکن وہ محسوس نہیں کر سکا کہ مراکش کی رہنے والی یہ لڑکی خود
‫اسکے اپنے اعصاب پر سوار ہو گئی ہے ‪ ،وہ صرف شکل و صورت ہی کی دلکش نہیں تھی ‪ ،اسکی باتوں میں ایسا جادو تھا
‫کہ ناجی اسکو اپنے پاس بٹھا کر باتیں ہی کیا کرتا تھا اس نے دو ناچنے گانے والیوں سے نگاہیں پھیر لیں ‪ ،جو اسکی منظور
‫نظر تھیں ‪ ،تین چار راتوں سے ناجی نے ان لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بالیا بھی نہیں تھا‪ ،ناجی سونے کے انڈے دینے والی
‫مرغی تھی جو انکے آغوش سے ذکوئی کی آغوش میں چلی گی تھی ‪،انھوں نے ذکوئی کو راستے سے ہٹانے کی ترکیبیں شروع
‫کردیں ‪ ،وہ آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ اسے قتل کیا جائے ‪ ،لیکن اسکو قتل کرنا اتنا آسان نہ تھا ‪ ،کیونکہ ناجی نے اسے
‫جو کمرہ دیا تھا اس پر دو محافظوں کا پہرہ ہوا کرتا تھا ‪ ،اسکے عالوہ یہ دونوں لڑکیاں اس مکان سے بال اجازت نہیں نکل
‫سکتی تھیں جو ناجی نے انہیں دے رکھا تھا ‪ ،انہوں نے حرم کی خادمہ ) نوکرانی ( کو اعتماد میں لینا شروع کیا ‪ ،وہ
‫اسکے ھاتھوں ذکوئی کو زہر دینا چاہتی تھیں۔۔
‫علی بن سفیان نے سلطان صالح الدین ایوبی کا محافظ دستہ بدل دیا ‪ ،یہ سب امیر مصر کے پرانے باڈی گارڈز تھے ‪ ،اسکی
‫جگہ علی نے ان سپاہیوں میں باڈی گارڈز کا دستہ تیار کیا جو نئے آئے تھے ‪ ،یہ جانبازوں کا نیا دستہ تھا جو سپاہ گری
‫میں بھی تاک تھا ‪ ،اور جذبے کے لحاظ سے ہر سپاہی اس دستے کا اصل میں مرد مجاہد تھا ۔ ناجی کو یہ تبدیلی بلکل
‫بھی پسند نہیں تھی۔۔ لیکن اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کے سامنے اس تبدیلی کی بے حد تعریف کی ‪ ،اور اسکے ساتھ
‫ہی درخواست کی کہ سلطان صالح الدین ایوبی اسکی دعوت کو قبول کریں ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی نے اسکو جواب دیا کہ
‫وہ ایک آدھ دن میں اسکو بتائے گا کہ وہ کب ناجی کی دعوت قبول کرے گا ۔ ناجی کے جانے کے بعد سلطان صالح الدین
‫ایوبی نے علی سے مشورہ کیا کہ وہ دعوت پر کب جائے ۔ علی نے مشورہ دیا کہ اب وہ کسی بھی روز دعوت کو قبول
‫کریں۔۔
‫دوسرے دن سلطان صالح الدین ایوبی نے ناجی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رات دعوت پر آسکتا ہے ‪ ،ناجی نے سلطان صالح
‫الدین ایوبی کو تین دن کے بعد کی دعوت دی اور بتایا کہ یہ دعوت کم اور جشن زیادہ ہوگا اور یہ جشن شہر سے دور صحرا
‫میں مشغلوں میں منایا جائے گا‪ ،ناچ گانے کا انتظام ہوگا‪ ،باڈی گارڈز کے گھوڑے اپنا کرتب دکھائیں گے ‪ ،،شمشیر زنی اور
‫بغیر تلوار کے لڑائیوں کے مقابلے ھونگے اور سلطان صالح الدین ایوبی کو رات وہیں قیام کرنا پڑے گا ‪ ،رہائش کے لیے خیمے
‫نصب ہونگے ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی پروگرام کی تفصیل سنتا رہا اس نے ناچنے گانے پر اعتراض نہیں کیا تھا ‪ ،ناجی نے
‫ڈرتے اور جھجکتے ہوئے کہا " فوج کے بیشتر سپاھی جو مسلمان نہیں یا جو ابھی نیم مسلمان ہیں کبھی کبھی شراب پیتے
‫" ہیں ‪ ،وہ شراب کے عادی نہیں لیکن وہ اجازت چاھتے ہیں کہ جشن میں انہیں شراب پینے کی اجازت دی جاۓ
‫آپ ان کے کمانڈر ہو آپ چاہے ان کو اجازت دے دیں نہ چاہیں تو میں آپ پر اپنا حکم مسلط نہیں کرنا چاہتا " سلطان "
‫صالح الدین ایوبی نے کہا
‫سلطان صالح الدین ایوبی کا اقبال بلند ہوں میں کون ہوتا ہوں اس کام کی اجازت دینے واال جس کو آپ سخت ناپسند ؔ
‫کریں " ناجی نے کہا
‫انہیں اجازت دے دیں کہ جشن کی رات ھنگامہ آرائی اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ہیں اگر شراب پی کر کسی "
‫"نے ہلہ گلہ کیا تو اس کو سخت سزا دی جائے گی
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ۔
‫یہ خبر جب سلطان صالح الدین ایوبی کے سپاھیوں تک پہنچی کہ ناجی سلطان صالح الدین ایوبی کے اعزاز میں جشن منعقد
‫کر رہا ہے اور اس میں ناچ گانا بھی ہوگا شراب بھی ہوگی اور سلطان صالح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان سب
‫خرافات کے باوجود بھی قبول کی ہے تو وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے ۔ کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ہے اور
‫دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاھتا ہے اور کسی نے کہا ناجی کا سلطان صالح الدین ایوبی پر بھی چل گیا ۔یہ راۓ ناجی کے
‫ان افسروں کو بھی پسند آی جو ناجی کے ھم نوا اور ھم پیالہ تھے ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی نے چارج لیتے ہی ان کی
‫عیش و عشرت شراب اور بدکاری حرام کردی تھی ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی نے ایسا سخت ڈسپلن رائج کیا کہ کسی کو
‫بھی پہلے کی طرح اپنے فرائض سے کوتاہی کی جرأت نہیں ہوتی تھی ‪ ،وہ اس پر خوش تھے کہ نئے امیر مصر نے ان کو
‫رات کی شراب کی اجازت دی تھی تو کل وہ بھی خود ان سب چیزوں کا رسیا ہو جائے گا ‪ ،،صرف علی بن سفیان تھا
‫جسے معلوم تھا کہ سلطان نے ان سب خرافات کی اجازت کیوں دی تھی ۔
‫جشن کی شام آگئی ‪ ،ایک تو چاندنی رات تھی ‪ ،صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ھوتی ہے کہ ریت کے ذرے بھی نظر آجاتے
‫ھیں ‪ ،دوسرے ہزارہا مشغلوں نے وہاں کی صحرا کو دن بنایا تھا ‪ ،باڈی گارڈز کا ہجوم تھا جو ایک وسیع میدان کے گرد
‫دیواروں کی طرح کھڑا تھا ‪ ،ایک طرف جو مسند سلطان صالح الدین ایوبی کے لیے رکھی گی تھی وہ کسی بھت بڑے بادشاہ
‫کا معلوم ہوتا تھا ‪ ،اسکے دائیں بائیں بڑے مہمانوں کے لیے نشستیں رکھی گئی تھیں ‪ ،اس وسیع و عریض تماش گاہ سے
‫تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت خوبصورت خیمے نصب تھے ‪ ،ان سے ہٹ کر ایک بڑا خیمہ سلطان صالح الدین ایوبی کے
‫لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی۔ ۔ علی بن سفیان نے صبح سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں جاکر
‫محافظ کھڑے کردیئے تھے ۔ جب علی بن سفیان وہاں محافظ کھڑے کر رھا تھا تو ناجی ذکوئی کو آخری ھدایات دے رھا تھا۔
‫اس شام ذکوئی کا حسن کچھ زیادہ ہی نکھر آیا تھا ۔ اسکے جسم سے عطر کی ایسی بھینی بھینی خوشبو اٹھ رھی تھی۔
‫جس میں سحر کا تاثر تھا اس نے بال عریاں کندھوں پر پھیال دیے تھے ۔ سفید کندھوں پر سیاہی مائل بھورے بال زاھدوں
‫کی نظروں کو گرفتار کرتے تھے۔ اسکا لباس اتنا باریک تھا کہ اسکے جسم کے تمام نشیب و فراز دکھائی دیتے تھے ‪ ،اسکے
‫‪ ،،ہونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی طرح تھی
‫ناجی نے اسکو سر سے پاؤں تک دیکھا " تمھارے حسن کا شاید سلطان صالح الدین ایوبی پر اثر نہ ہو تو اپنی زبان
‫استعمال کرنا ‪ ،وہ سبق بھولنا نہیں جو میں اتنے دنوں سے تمھیں پڑھا رہا ہوں۔ اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اسکے پاس جا کر
‫اسکی لونڈی نہ بن جانا ۔ انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درخت کی چوٹی پر نظر آتا ہے مگر درخت پر چڑھ کر دیکھو تو

‫غائب ۔ اسے اپنے قدموں میں بٹھا لینا میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کرسکتی ھو ۔ اس
‫سرزمین میں قلوپطرہ نے سینرز جیسے مرد آہن کو اپنے حسن و جوانی سے پھگال کر مصر کے ریت میں بہا دیا قلوپطرہ تم
‫سے زیادہ خوبصورت نہیں تھی میں نے تم کو جو سبق دیا ہے وہ قلو پطرہ کی چالیں تھیں‪ ،عورت کی یہ چالیں کبھی ناکام
‫نہیں ھو سکتیں۔" ناجی نے کہا۔ذکوئی مسکرا رہی تھی اور بڑے غور سے سن رہی تھی مصر کی ریت نے ایک اور حسین
‫قلوپطرہ کو حسین ناگن کی طرح جنم دیا تھا مصر کی تاریح اپنے آپ کو دہرانے والی تھی سورج غروب ہوا تو مشعلیں جل
‫گئیں
‫سلطان صالح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار آگیا ۔ سلطان کے آگے پیچھے دائیں بائیں اس کے محافظ دستے کے گھوڑے تھے جو
‫علی بن سفیان نے منتحب کیئے تھے ‪ ،اسی دستے میں سے ہی اس نے دس محافظ شام سے پہلے ہی یہاں الکر سلطان
‫صالح الدین ایوبی کے خیمے کے گرد کھڑے کردیئے تھے ‪ ،سازندوں نے دف کی آواز پر استقبالیہ دھن بجائی اور صحرا" امیر
‫مصر سلطان صالح الدین ایوبی زندہ باد " کے نعروں سے گونجنے لگا ناجی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا" آپ کے
‫جانثار عظمت اسالم کے پاسبان آپکو بسیروچشم خوش آمدید کہتے ہیں ان کی بے تابیاں اور بے قراریاں دیکھیں آپ کے اشارے
‫پر کٹ مریں گے۔" اور خوشآمد کے لیے اسکو جتنے الفاظ یاد آئے ناجی نے کہہ دیئے۔
‫جونہی سلطان صالح الدین ایوبی اپنی شاہانہ نشست پر بیٹھا۔ سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں
‫گھوڑے جب روشنی میں آئے تب اس نے دیکھا کہ چار گھوڑے دائیں سے اور ‪ 4بائیں سے آرہے تھے ہر ایک پر ایک ایک
‫سوار تھا اور ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرہے تھے صاف ظاہر تھا کہ وہ ٹکرا جائینگے
‫کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرینگے وہ ایک دوسرے کے قریب آئے تو سوار رکابوں میں پاؤں جمائے کھڑے ھوئے پھر
‫انھوں نے لغامیں ایک ایک ہاتھ میں تھام لیں اور دوسرے بازو پھیال دیئے دونوں اطراف کے گھوڑے بلکل آمنے سامنے آگئے اور
‫سواروں کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے الجھ گئیں۔ سواروں نے ایک دوسرے کو پکڑنے اور گرانے کی کوشش کی سب
‫گھوڑے جب آگے نکل گئے تو دو سوار جو گھوڑوں سے گر گئے تھے ریت پر قالبازیاں کھا رھے تھے ‪ ،ایک طرف کے ایک
‫سوار نے دوسری طرف کے ایک سوار کو ایک بازو میں جکڑ کر اسے گھوڑے سے اٹھا لیا تھا اور اسے اپنے گھوڑوں پر الد کر
‫لے جا رہا تھے ‪ ،ہجوم نے اس قدر شور برپا کیا تھا کہ اپنی آواز خود کو سنائی نہیں دے رہی تھی۔ یہ سوار اندھیرے میں
‫غائب ھوئے تو دونوں اطراف سے اور چار چار گھڑ سوار آئے اور مقابلہ ہوا اس طرح آٹھ مقابلے ھوئے اور اسکے بعد شتر سوار
‫آئے پھر گھڑ سواروں اور شتر سواروں نے کئی کرتب دکھائے ۔ اسکے بعد تیغ زنی اور بغیر ہتھیاروں کے لڑائی کے مظاہرے
‫ھوئے جن میں کئی ایک سپاھی زخمی ہوئے سلطان صالح الدین ایوبی شجاعت اور بہادری کے ان مقابلوں میں جذب ہوکر رہ
‫گیا تھا اسے ایسے ہی بہادر فوج کی ضرورت تھی سلطان صالح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کے کان میں کہا " اگر اس
‫"فوج میں اسالمی جذبہ بھی ہو میں اسی فوج سے ہی صلیبیوں کو گھٹنوں بٹھا سکتا ھوں
‫علی بن سفیان نے وہی مشورہ دیا جو اس نے پہلے دیا تھا
‫اگر ناجی سے کمان لی جاۓ تو جذبہ بھی پیدا کیا جا سکتا ہے " علی بن سفیان نے کہا مگر سلطان صالح الدین ایوبی "
‫ناجی جیسے ساالر کو سبکدوش نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ سدھار کر راہ حق پر النا چاھتا تھا۔ وہ اس جشن میں اپنی آنکھوں
‫یہی دیکھنے آیا تھا کہ یہ فوج اخالقیات کے لحاظ سے کیسی ہے اس کو ناجی کے اس بات سے ہی مایوسی ہوئی تھی کہ
‫ناجی کے کمانڈر اور سپاھی شراب پینا چاھتے ہیں اور ناچ گانا بھی ھوگا سلطان صالح الدین ایوبی نے اس درخواست کی
‫منظوری صرف اس وجہ سے دی تھی کہ وہ دیکھنا چاھتا تھا کہ یہ فوج کس حد تک عیش و عشرت میں ڈوبی ھوئی ھے۔
‫بہادری شجاعت شاھسواری تیغ زنی تلوار زنی میں تو یہ فوج جنگی معیار پر پوری اترتی تھی لیکن جب کھانے کا وقت آیا تو
‫یہ فوج بدتمیزیوں بالنوشوں اور ھنگامہ پرور لوگوں کا ہجوم بن گئی کھانے کا انتظام وسیع و عریض میدان میں کیا گیا تھا اور
‫ان سے زرا دور سلطان صالح الدین ایوبی اور دیگر مہمانون کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا سینکڑون سالم دنبے اور بکرے
‫اونٹوں کی سالم رانیں اور ہزاروں مرغ روسٹ کیے گئے تھے دیگر لوازمات کا کوئی شمار نہ تھا اور سپاھیوں کے سامنے شراب
‫کے چھوٹے چھوٹے مشکیزے اور صراحیاں رکھ دی گئی تھیں ‪ ،سپاھی کھانے اور شراب پر ٹوٹ پڑے اور غٹاغٹ شراب چڑھانے
‫لگے اور معرکہ آرائی ھونے لگی سلطان صالح الدین ایوبی یہ منظر دیکھ رھا تھا اور خاموش تھا اسکے چہرے پر کوئی تاثر نہ
‫تھا جو یہ ظاھر کرتا کہ وہ کیا سوچ رھا ھے اس نے ناجی سے صرف اتنا کہا " پچاس ھزار فوج میں آپ نے یہ آدمی کس
‫"طرح منتخب کیئے کیا یہ آپکے بدترین سپاھی ہیں؟
‫نہیں امیر مصر ‪ !،،،یہ دو ہزار عسکری میرے بہترین سپاہی ہیں آپ نے انکے مظاہرے دیکھے ان کی بہادری دیکھی کے "
‫میدان جنگ میں جس جانبازی کا مظاہرہ کرینگے وہ آپکو حیران کردے گی آپ انکی بدتمیزی کو نہ دیکھیں یہ آپکے اشارے پر
‫جانیں قربان کردینگے میں انھیں کبھی کبھی کھلی چھٹی دے دیا کرتا ہوں کہ مرنے سے پہلے دنیا کے رنگ و بو کا پورا مزا
‫اٹھا لیں " ناجی نے غالمانہ لہجے میں کہا
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے اس استدالل کے جواب میں کچھ نہیں کہا ناجی جب دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ کوا تو
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا " میں جو دیکھنا چاھتا تھا وہ دیکھ لیا ہے یہ سوڈانی شراب اور
‫ہنگامہ آرائی کے عادی ہیں ‪ ،تم کہتے ہو ان میں جذبہ نہیں یے میں دیکھ رہا ہوں ان میں کردار بھی نہیں ہے ۔ اس فوج
‫کو اگر تم لڑنے کے لیے میدان جنگ میں لے گئے تو یہ لڑنے کی بجائے اپنی جان بچانے کی فکر کریں گے اور مال غنیمت
‫" لوٹیں گے اور مفتوح کی عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کریں گے
‫اس کا عالج یہ ہے کہ آپ نے جو فوج مصر کے مختلف خطوں سے بھرتی کی ہے اسکو ناجی کے ‪ 50ھزار فوج میں "
‫مدغم کرلیں برے سپاہی اچھے سپاہیوں کے ساتھ مل کر اپنی عادتیں بدل دیا کرتے ہیں " علی بن سفیان نے کہا ۔ سلطان
‫صالح الدین ایوبی مسکرایا اور کہا " تم یقینا میرے دل کا راز جانتے ہو میرا منصوبہ یہی ہے جو میں ابھی تمہیں نہیں بتانا
‫" چاہ رھا تھا ‪ ،تم اسکا ذکر کسی سے نہںی کرنا
‫علی بن سفیان میں یہی وصف تھی کہ وہ دوسرے کے دل کا راز جان لیتا تھا اور غیر معمولی طور پر ذہین تھا وہ کچھ اور
‫کہنے ہی لگا تھا کہ ان کے سامنے مشعلیں روشن ہوئیں ‪ ،زمین پر بیش قیمت قالینیں بچھے ھوئے تھے ‪ ،شہنائی اور سارنگ
‫کا ایسا میٹھا نغمہ ابھرا کہ مہمانوں پر سناٹا چھا گیا ایک طرف سے ناچنے والیوں کی قطار نمودار ہوئی ‪ ،بیس لڑکیاں ایسے
‫باریک اور نفیس لباس میں چلی آرہی تھیں کہ ان کے جسموں کا انگ انگ نظر آرہا تھا ہر ایک کا لباس باریک چغہ سا تھا
‫جو شانوں سے ٹخنوں تک تھا ان کے بال کھلے ھوئے تھے اور اسی ریشم کا حصہ نظر آرہے تھے جس کا انہوں نے لباس پہنا
‫ہوا تھا صحرا کی ہلکی ہلکی ھوا سے اور لڑکیوں کی چال سے یہ ڈھیال ڈھاال لباس ہلتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے پھولدار

‫پودوں کی ڈالیاں ھوا میں تیرتی ھوئی آرہی ہوں ھر ایک کے لباس کا رنگ جدا تھا ھر ایک کی شکل و صورت ایک دوسرے
‫سے مختلف تھی لیکن حس جسم کی جھلک میں ساری ایک ہی جیسی تھیں انکے مرمریں بازو عریاں تھے وہ چلتی آرہی
‫تھیں لیکن قدم اٹھتے نظر نہیں آرہی تھی وہ ھوا کی لہروں کی مانند تھیں وہ نیم دائرے میں ہوکر رہ گئیں سلطان صالح
‫الدین ایوبی کی طرف منہ کر کہ تعظیم کے لیے جھکیں سب کے بال سرک کر شانوں پر آگے سازندوں نے ان ریشمی بالوں
‫اور جسموں کے جادو میں طلسم پیدا کردیا تھا دو سیاہ فام دیو ھیکل حبشی جن کے کمر کے گرد چیتوں کی کالی تھی ایک
‫بڑا سا ٹوکرہ اٹھائے تیز تیز قدم چلتے آئے اور ٹوکرا نیم دائرے کے سامنے رکھ دیا ساز سپیروں کے بین کی دھن بجانے
‫لگے ‪ ،حبشی مست سانڈوں کی طرح پھنکارتے ہوئے غائب ھوئے ٹوکری میں سے ایک بڑی کلی اٹھی اور پھول کی طرح کھل
‫گئی‪ ،اس پھول میں سے ایک لڑکی کا چہرہ نمودار ہوا اور پھر وہ اوپر کو اٹھنے لگی یوں لگنے لگا جیسے یہ سرخ بادلوں
‫میں ایک چاند نکل رہا ہو یہ لڑکی اس دنیا کی معلوم نہیں ہوتی تھی اسکی مسکراہٹ بھی عارضی نہیں تھی اسکی آنکھوں
‫کی چمک بھی مصر کی کیسی لڑکی کے آنکھوں کی چمک نہیں لگتی تھی اور جب لڑکی نے پھولوں کی چوڑی پتیوں میں
‫سے باہر قدم رکھا تو اسکے جسم کی لچک نے تماشائیوں کو مسحور کردیا ‪ ،علی بن سفیان نے سلطان صالح الدین ایوبی کی
‫طرف دیکھا اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی ۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اسکے کانوں میں کہا " علی ۔۔ مجھے توقع
‫" نہیں تھی کہ یہ اتنی خوبصورت ھوگی
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
‫‪،،،،،،پہال حصہ
‫قسط ‪7 #
‫ناجی نے سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس آکر کہا " امیر مصر کا اقبال ہوں ۔۔۔ اس لڑکی کا نام زکوئی ہے اسے میں نے
‫آپکی خاطر اسکندریہ سے بلوایا ہے ‪ ،یہ پیشہ ور رقاصہ نہیں یہ طوائف بھی نہیں اسکو رقص سے پیار ہے شوقیہ ناچتی ہے
‫کسی محفل میں نہیں جاتی میں اسکے باپ کو جانتا ہوں ساحل پر مچھلیوں کا کاروبار کرتا ہے ۔ یہ لڑکی آپکی عقیدت مند
‫ہے آپکو پیغمبر مانتی ہے میں اتفاق سے اسکے گھر اس کے باپ سے ملنے گیا تو اس لڑکی نے استدعا کی کہ سنا ہے
‫سلطان صالح الدین ایوبی امیر مصر بن کر آئے ہیں اللہ کے نام پر مجھے اس سے ملوا دو۔ میرے پاس اپنی جان اور رقص
‫کے سوا کچھ بھی نہیں جو میں اس عظیم ھستی کے پاؤں میں پیش کرسکوں۔۔قابل صد احترام امیر میں نے آپ سے رقص اور
‫" ناچ کی اجازت اس لیے مانگی تھی کہ میں اس لڑکی کو آپکے حضور پیش کرنا چاھتا تھا
‫کیا آپ نے اسے بتایا تھا کہ میں کسی لڑکی کو رقص یا عریانی کی حالت میں اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتا یہ لڑکیاں "
‫جسے آپ ملبوس الئے ہیں بلکل ننگی ہیں" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ۔۔ " عالی مقام میں نے بتایا تھا کہ امیر مصر
‫رقص کو ناپسند کرتے ہیں لیکن یہ کہتی تھی کہ امیر مصر میرا رقص پسند کرینگے کیونکہ اس میں گناہ کی دعوت نہیں یہ
‫ایک باعصمت لڑکی کا رقص ھوگا میں ایوبی کے حضور اپنا جسم نہیں اپنا رقص پیش کرونگی اگر میں مرد ہوتی تو سلطان کی
‫جان کی حفاظت کے لیے محافظ دستے میں شامل ہو جاتی" ناجی نے کھسیانہ ہوکر کہا
‫آپ کیا کہنا چاھتے ہیں اس لڑکی کو اپنے پاس بال کر خراج تحسین پیش کروں کہ تم ھزاروں لوگوں کے سامنے اپنا جسم "
‫ننگا کر کہ بہت اچھا ناچتی ہو ؟ اسے اس پر شاباش دوں کہ تم نے مردوں کے جنسی جذبات بھڑکانے میں خوب مہارت
‫حاصل کی ہے۔۔؟ سلطان صالح الدین ایوبی نے پوچھا ۔۔۔
‫نہیں امیر مصر میں اسے اس واعدے پر یہاں الیا ہوں کہ آپ اسے شرف بازیابی بخشیں گے یہ بڑی دور سے اسی امید "
‫پر آئی ہے ‪ ،ذرا دیکھیئے اسے۔۔ اسکی رقص میں پیشہ ورانہ تاثر نہیں خود سپردگی ہے۔۔۔۔ دیکھیئے وہ آپکو کیسی نظروں
‫سے دیکھ رہی ہے بیشک عبادت صرف اللہ کی کی جاتی ہے لیکن یہ رقص کی اداؤں سے عقیدت سے آپکی عبادت کر رہی
‫ھے ‪ ،آپ اسے اپنے خیمے میں اندر آنے کی اجازت دیں ‪ ،تھوڑی سی دیر کے لیے ۔ اسے مستقبل کی وہ ماں سمجھیں
‫جس کی کوکھ سے اسالم کے جانباز پیدا ہونگے یہ اپنے بچوں کو فخر سے بتایا کرے گی کہ میں سلطان صالح الدین ایوبی
‫سے تنہائی میں باتیں کرنے کا شرف حاصل کیا تھا" ناجی نے نہایت پر اثر اور خوشامدی لہجے میں سلطان صالح الدین
‫ایوبی سے منوالیا کہ یہ لڑکی جسے ناجی نے ایک بردہ فروش سے خریدا تھا شریف باپ کی باعصمت بیٹی ہے ناجی نے
‫سلطان صالح الدین ایوبی سے کہلوا لیا کہ " اچھا اسے میرے خیمے میں بھیج دینا " زکوئی نہایت آھستہ آھستہ جسم کو بل
‫دیتی اور بار بار سلطان صالح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ‪ ،باقی لڑکیاں تتلیوں کی طرح جسے اسکے آس
‫پاس اڑ رہی تھیں ‪ ،یہ اچھل کود واال رقص نہیں تھا ‪،شغلوں کی روشنی میں کبھی تو یوں لگتا تھا جیسے ہلکے نیلے شفاف
‫پانی میں جل پریاں تیر رھی ہوں
‫چاندنی کا اپنا ایک تاثر تھا سلطان صالح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ بیٹھ کر کیا سوچ رہا تھا
‫ناجی کے سپاہی جو شراب پی کر ھنگامہ کر رہے تھے وہ بھی جیسے مر گئے تھے ‪ ،زمین اور آسمان پر وجد طاری تھا
‫ناجی اپنی کامیابی پر بہت مسرور تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی۔۔۔۔٭٭٭٭٭٭
‫٭٭٭٭
‫نصف شب کے بعد سلطان صالح الدین ایوبی اپنے خیمے میں داخل ہوا جو ناجی نے نصب کیا تھا اندر اس نے قالین بچھا
‫دیئے تھے پلنگ پر چیتے کی کھال کی مانند پلنگ پوش تھا فانوس جو رکھوایا تھا اسکی ہلکی نیلی روشنی صحر کی شفاف
‫چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطر بیز تھی خیمے کے اندر ریشمی پردے آویزاں تھے ناجی سلطان صالح الدین ایوبی
‫کے ساتھ خیمے میں اندر گیا اور کہا " اسے ذرا سی دیر کے لیے بھیج دو
‫میں وعدہ خالفی سے بہت ڈرتا ہوں‪ " ،،،،،بھیج دو " سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
‫اور ناجی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا خیمے سے باہر گیا ‪ ،تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے محافظوں
‫نے ایک رقاصہ کو اسکے خیمے کی طرف آتے دیکھا
‫خیمے کی ہر طرف مشعلیں روشن تھیں روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا کہ رات کے وقت محافظ گرد وپیش
‫میں اچھی طرح سے دیکھ سکے رقاصہ قریب آئی تو انہوں نے اسے پہچان لیا انہوں نے اسے رقص میں دیکھا تھا یہ ولی
‫لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی وہ زکوئی تھی وہ رقص میں لباس میں تھی یہ لباس توبہ شکن تھا ‪ ،محافظوں کے
‫کمانڈروں نے اسے روک لیا زکوئی نے بتایا کہ اسے امیر مصر نے بلوایا ہے کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ ان امیروں میں سے
‫نہیں کہ یہ تم جیسی فاحشہ لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزاریں " آپ ان سے پوچھ لیں میں بن بالیے آنے کی جرأت نہیں کر

‫" سکتی
‫انکا بالوا تم کو کس نے دیا " کمانڈر نے پوچھا "
‫ساالر ناجی نے کہا کہ تمہیں امیر مصر بال رہے ہیں آپ کہتے ہو تو میں چلی جاتی ہوں امیر نے جواب طلبی کی تو تم "
‫خود بھگت لینا " زکوئی نے کہا کمانڈر تسلیم نہیں کر سکتا تھا کہ امیر مصر نے ایک رقاصہ کو اپنے خیمے میں بلوایا ہے وہ
‫ایوبی کے کردار سے واقف تھا وہ اسکے اس حکم سے بھی واقف تھا کہ ناچنے گانے والیوں سے تعلق رکھنے والے کو ‪100
‫درے بھی مارے جائیں گے ‪ ،کمانڈر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ سوچ سوچ کر اس نے ھمت کی اور سلطان صالح الدین ایوبی
‫کے خیمے میں اندر چال گیا ایوبی اندر ٹہل رہا تھا کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا " باہر ایک رقاصہ کھڑی ہے کہتی ہے کہ حضور
‫نے اسے بلوایا ہے " اسے اندر بھیج دو" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ۔ کمانڈر باہر نکال اور زکوئی کو اندر بھیج دیا ۔۔۔
‫سپاہیوں کو توقع تھی کہ ان کا امیر اور ساالر اس لڑکی کو باہر نکال دے گا وہ سب سلطان صالح الدین ایوبی کی گرجدار
‫آواز سننے کے لیے تیار ہوئے تھے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا رات گزرتی جارہی تھی اندر سے دھیمی دھیمی باتوں کی آوازیں
‫آرہی تھی ‪ ،محافظ دستے کا کمانڈر بے قراری کے انداز میں ٹہل رہا تو ایک سپاہی نے کہا" کیا یہ حکم صرف ہمارے لیے
‫" ہے کہ کسی فاحشہ کے ساتھ تعلق رکھنا جرم ہے
‫ہاں حکم صرف ماتحتوں اور قانون صرف رعایا کے لیے ہوتا ہے " کمانڈر نے کہا "
‫"'امیر مصر کو درے نہیں لگائے جا سکتے۔۔؟
‫بادشاہوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا سلطان صالح الدین ایوبی شراب بھی پیتا ہوگا ہم پر جھوٹی پارسائی کا رعب جمایا جاتا "
‫ہے" کمانڈر نے کہا
‫انکی نگاہوں میں صالح الدین کا جو بت تھا وہ ٹوٹ گیا تھا اس بت میں سے ایک عربی شہزادہ نکال جو عیاش تھا پارسائی
‫کے پردے میں گناہ کا مرتکب ہو رہا تھا‪ ،،ناجی بہت خوش تھا‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی کی خوشنودی کے لیے اس نے
‫شراب سونگھی بھی نہیں تھی وہ اپنے خیمے میں بیٹھا مسرت سے جھوم رہا تھا اسکے سامنے اسکا نائب ساالر اوروش بیٹھا
‫ہوا تھا " اسے گئے بہت وقت ہو گیا ہے معلوم ہوتا ہے ہمارا تیر سلطان صالح الدین ایوبی کے دل میں اتر گیا ہے "
‫اوروش نے کہا۔۔۔۔" ہمارا تیر خطا کب گیا تھا اگر خطا جاتا بھی تو اب تک ہمارے آجاتا" ناجی نے قہقہ لگا کر کہا ' تم
‫ٹھیک کہتے ہو ۔ زکوئی انسان کے روپ میں ایک طلسم ہے معلوم ہوتا ہے یہ لڑکی حشیشن کے ساتھ رہی ہے ورنہ سلطان
‫صالح الدین ایوبی جیسا بت کبھی نہیں توڑ سکتی۔" اوروش نے کہا
‫میں نے اسے جو سبق دیئے تھے وہ حشیشن کے کبھی وہم و گمان میں بھی نہ آئے ہونگے اب سلطان صالح الدین ایوبی "
‫کے حلق سے شراب اتروانی باقی رہ گئی ہے " ناجی نے کہا ۔ ناجی کو باہر آہٹ سنائی دی ناجی نے دور سے سلطان
‫صالح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف دیکھا ‪ ،پردے گرے ہوئے تھے اور سپاہی کھڑے تھے اس نے اندر جا کر اوروش سے
‫کہا" اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری زکوئی نے بت توڑ ڈاال ہے"٭٭٭٭٭٭٭
‫رات کا آخری پہر تھا جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے سے باہر نکلی ناجی کے خیمے میں جانے کے بجائے
‫وہ دوسری طرف چلی گئی راستے میں ایک آدمی کھڑا تھا جو سر سے پاؤں تک ایک ہی لبادے میں چھپا ہوا تھا اس نے
‫دھیمی سی آواز میں زکوئئ کو پکارا وہ اس آدمی کے پاس چلی گئی وہ اسکو خیمے میں لے گیا بہت دیر بعد وہ اس خیمے
‫سے نکلی اور ناجی کے خیمے کا رخ کیا ناجی اس وقت تک جاگ رہا تھا اور کئی بار سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے
‫کی طرف باہر نکل کر دیکھ چکا تھا کہ زکوئی نے سلطان صالح الدین ایوبی کو پھانس لیا ہے اور اسے آسمان کی بلندیوں
‫سے گھسیٹ کر ناجی کی پست ذھنیت میں لے آئی ‪ "،،،اوروش رات بہت ہوگئی ہے وہ ابھی تک واپس نہیں آئی" ناجی نے
‫کہا ۔۔۔۔۔" وہ اب آئے گی بھی نہیں ‪ ،ایسے ھیرے کو کوئی شہزادہ واپس نہیں کرتا وہ اسے اپنے ساتھ لے جائے گا تم نے
‫اس پر بھی غور کیا ہے۔۔؟" اوروش نے کہا
‫نہیں میں نے اپنی چال کا یہ پہلو تو سوچا ہی نہیں تھا " ناجی نے کہا "
‫کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ امیر مصر زکوئی کے ساتھ شادی کر لیں اس صورت میں لڑکی ہمارے کام کی نہیں رہے گی" اوروش نے
‫کہا ۔" وہ ہے تو ھوشیار ۔۔۔ مگر رقاصہ کا کیا بھروسہ ‪ ،،وہ رقاصہ کی بیٹی ہے اور تجربہ کار بھی۔۔۔۔ دھوکہ بھی دے
‫سکتی ہے۔۔" ناجی نے کہا ‪ ،،،وہ گہرئ سوچ میں تھا کہ زکوئی خیمے میں داخل ہوئی‪،اس نے ہنس کر کہا " اپنے امیر مصر
‫"کا وزن کرو الؤ اتنا سونا آپ نے میرا یہی انعام مقرر کیا تھا نا۔۔؟
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
‫قسط ‪8
‫پہلے بتاو ہوا کیا" ناجی نے بے قراری سے کہا ۔۔۔۔۔ " جو آپ چاہتے تھے ۔۔ آپکو یہ کس نے بتایا کہ صالح الدین پتھر "
‫ہے فوالد ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے اللہ کا سایہ ہے " اس نے زمین پر پاؤں کا ٹھڈ مار کر کہا " وہ اس ریت سے زیادہ
‫" بےبس ہے جس کو ہوا کے جھونکے اڑاتے پھرتے ہیں" زکوئی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔
‫"تمہارے حسن کے جادو اور زبان کے طلسم نے اسے ریت بنایا ورنہ یہ کمبخت چٹان ہے
‫اوروش نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"ہاں چٹان تھا لیکن اب رتیال ٹیال بھی نہیں " زکوئی نے کہا
‫میرے متعلق کوئی بات ہوئی"؟ ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔۔" ہاں پوچھ رہا تھا کہ ناجی کیسا انسان ہے میں نے کہا کہ مصر میں "
‫اگر آپ کو کسی پر بھروسہ کرنا چاکیے تو وہ ناجی ہے اس نے کہا کہ تم کس طرح ناجی کو جانتی ہو میں نے کہا کہ وہ
‫میرے باپ کے گہرے دوست ہیں ہمارے گھر گئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں سلطان صالح الدین ایوبی کا غالم ہوں مجھے
‫سمندر میں کودنے کا حکم دینگے تو میں کود جاؤنگا پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم باعصمت لڑکی ہو‪ ،میں نے کہا میں
‫آپکی لونڈی ہوں آپکا ہر حکم سر آنکھوں پر ۔ کہنے لگا کہ کچھ دیر میرے پاس بیٹھو میں بیٹھ گئی ‪ ،پھر وہ اگر پتھر تھا تو
‫موم بن گیا اور میں نے موم کو اپنے سانچے میں ڈھال لیا ‪ ،اس سے رخصت ہونے لگی تو اس نے مجھ سے معافی مانگی ‪،
‫کہنے لگا میں نے زندگی میں پہال گناہ کیا ہے ‪ ،میں نے کہا یہ گناہ نہیں آپ نے میرے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کیا زبردستی
‫نہیں کی مجھے بادشاہوں کی طرح حکم دے کر نہیں بلوایا‪ ،میں خود آئی تھی اور پھر بھی آؤنگی۔" زکوئی نے ہر بات اس
‫طرح کھل کر سنائی جس طرح اس کا جسم عریاں تھا ناجی نے جوش مسرت سے اسے اپنے بازوؤں میں لے لیا اوروش زکوئی
‫کو خراج تحسین اور ناجی کو مبارک باد دے کر خیمے سے نکل گیا ۔
‫٭٭٭ ا؎؎؎؎ا٭٭٭

‫صحرا کی اس پراسرار رات کی کوکھ سے جس صبح نے جنم لیا وہ کسی بھی صحرائی صبح سے مختلف نہیں تھی مگر اس
‫صبح کے اجالے نے اپنے تاریک سینے میں ایک راز چھپا لیا تھا جس کی قیمت اس سلطنت اسالمیہ جتنی تھی جس کے
‫قیام اور استحکام کا خواب سلطان صالح الدین ایوبی نے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عزم لیکر جوان ہوا ‪ ،گزشتہ رات اس
‫صحرا میں جو واقعہ ہوا اس کے ‪ 2پہلو تھے ایک پہلو سے ناجی اور اوروش واقف تھے دوسرے سے سلطان صالح الدین ایوبی
‫کا محافظ دستہ واقف تھا اور سلطان صالح الدین ایوبی اس کا سراغ رساں اور جاسوس علی بن سفیان اور زکوئی تین ایسے
‫افراد تھے جو اس واقعے کے دونوں پہلوں سے واقف تھے ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی اور اس کے سٹاف کو ناجی نے نہایت
‫ہی شان اور عزت کے ساتھ رخصت کیا ‪ ،سوڈانی فوج دو قطاروں میں کھڑی " سلطان صالح الدین ایوبی زندباد" کے نعرے لگا
‫رہی تھی‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی نے نعروں کے جواب میں ہاتھ لہرانے مسکرانے اور دیگر تکلفات کی پرواہ نہیں کی ناجی
‫سے ہاتھ مالیا اور اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اسکے پیچھے اپنے محافظ اور دیگر سٹاف کو بھی اپنے گھوڑے دوڑانے پڑے اپنے
‫مرکزی دفتر پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے نائب کو اندر لے گیا اور دروازہ بند کردیا وہ سارا دن کمرے میں بند رہے
‫سورج غروب ہوا تاریکی چھا گئی کمرے کے اندر کھانا تو دور پانی بھی نہیں گیا ‪ ،رات خاصی گزر چکی تھی جب وہ تینوں
‫کمرے سے نکلے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے علی بن سفیان ان سے الگ ہوا تو محافظ دوستوں کے ایک کمانڈر نے
‫اسے روکا اور کہا۔۔۔
‫محترم ۔۔! ہمارا فرض ہے کہ حکم مانیں اور زبانیں بند رکھیں لیکن میرے دستے میں ایک مایوسی پھیل گئی ہے خود میں "
‫"بھی اس کا شکار ہوا ہوں
‫کیسی مایوسی " علی بن سفیان نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ "
‫کمانڈر نے کہا "محافظ کہتے ہیں کہ فوج کو اگر شراب پینے کی اجازت ہے تو ہمیں اس سے کیوں منع کیا گیا ہے اگر آپ
‫میری شکایت کو گستاخی سمجھیں تو سزا دے دیں لیکن میری شکایت سنیں ہم اپنے امیر کو اللہ کا برگزیدہ انسان
‫"‪،،،،،،سمجھتے تھے اور اس پر دل و جان سے فدا تھے مگر رات
‫مگر رات کو اسکے خیمے میں ایک رقاصہ گئی" علی بن سفیان نے کمانڈر کی بات مکمل کرتے ہوئے کہا " تم نے کوئی "
‫گستاخی نہیں کی ‪ ،گناہ امیر کریں یا غالم‪ ,سزا میں کوئی فرق نہیں ‪ ،گناہ بہرحال گناہ ھہے میں یقین دالتا ہوں آپ کو کہ
‫امیر مصر اور رقاصہ کے پچھلی رات کی مالقات میں گناہ کا کوئی عنصر نہیں کوئی تعلق نہیں ‪ ،،یہ کیا تھا۔۔؟ ابھی میں تم
‫کو نہیں بتاؤنگا آہستہ آہستہ وقت گزرتے ہوئے تم سب کو پتہ چل جائے گا کہ رات کو کیا کوا تھا " علی بن سفیان نے
‫کمانڈر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا میری بات غور سے سنو عامر بن صالح ۔ تم پرانے عسکری ہو اچھی طرح جانتے
‫ہو کہ فوج اور فوج کے سربراہوں کے کچھ راز ہوتے ہیں جن کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے رقاصہ کا امیر مصر کے خیمے
‫میں جانا بھی ایک راز ہے اپنے جانبازوں کو شک میں نہ پڑنے دو اور کسی سے ذکر تک نہ ہو کہ رات کو کیا ہوا تھا"
‫علی بن سفیان نے کہا
‫یہ کمانڈر پرانا تھا اور علی بن سفیان کی قابلیت سے آگاہ تھا سو اس نے اپنے دستے کے تمام شکوک رفو کیئے اگلے روز
‫سلطان صالح الدین ایوبی دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو اطالع دی گئی کہ ناجی آئے ہیں ‪،
‫سلطان صالح الدین ایوبی کھانے سے فارغ ہوکر ناجی سے ملے ‪ ،ناجی کا چہرہ بتا رہا تھا کہ غصہ میں ہے اور گھبرایا ہوا
‫ہے اس نے ہکالتے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‫قابل صدا احترام امیر مصر۔۔۔کیا یہ حکم آپ نے جاری کیا کے کہ سوڈانی فوج کی پچاس ہزار نفری مصر کی اس فوج میں "
‫" مدغم کردی جائے جو حال ہی میں تیار ہوئی ہے
‫ہاں ناجی میں نے کل سارا دن اور رات کا کچھ حصہ صرف کر کہ اور بڑی گہری سوچ و بچار کے بعد یہ فیصلہ تحریر کیا "
‫ہے کہ جس فوج کے تم ساالر ہو اسے مصر کی فوج میں اس طرح مدغم کردیا جائے کہ ہر دستے میں سوڈانیوں کی نفری
‫صرف دس فیصد ہو اور تمہیں یہ حکم بھی مل چکا ہوگا کہ اب تم اس فوج کے ساالر نہیں ہوگے تم فوج کے مرکزی دفتر
‫‪،میں آجاؤگے " سلطان صالح الدین ایوبی نے تحمل سے جواب دیا
‫عالی مقام مجھے کس جرم کی سزا دی جارہی ہے" ناجی نے کہا "
‫اگر تمہیں یہ فیصلہ پسند نہیں تو فوج سے الگ ہو جاؤ" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا "
‫معلوم ہوتا ہے میرے خالف سازش کردی گئی ہے آپ کو بلند دماغ اور گہری نظر سے چھان بین کرنی چاہیے مرکز میں "
‫میرے بہت سے دشمن ہیں" ناجی نے کہا
‫میرے دوست میں نے یہ فیصلہ صرف اس لیئے کیا کہ میری انتظامیہ اور فوج سے سازشوں کا خطرہ ہمیشہ کے لیے نکل "
‫ادنی کیوں نہ ہو وہ
‫جاۓ اور میں نے یہ فیصلہ اس لیئے کیا ہے کہ کسی کا عہدہ کتنا ہی کیوں نہ بلند ہو اور کتنا ہی
‫ٰ
‫شراب نہ پیئے ھلڑ بازی نہ کرے اور فوجی جشنوں میں ناچ گانے نہ ہوں" صالح الدین ایوبی نے کہا۔
‫لیکن عالی جاہ۔۔۔ میں تو حضور سے اجازت لی تھی" ناجی نے کہا "
‫میں نے شراب اور ناچ گانے کی اجازت صرف اس لیئے دی تھی کہ اس فوج کی اصل حالت میں دیکھ سکوں جسے تم "
‫ملت اسالمیہ کا فوج کہتے ہو ‪ ،میں پچاس ہزار نفری کو برطرف نہیں کر سکتا مصری فوج میں اس کو مدغم کر کہ اسکے
‫کردار کو سدھار لونگا اور یہ بھی سن لو کہ ہم میں کوئی مصری سوڈانی شامی عجمی نہیں ہے ہم سب مسلمان ہیں ہمارا
‫جھنڈا ایک اور مذہب ایک ہے " سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
‫امیر عالی مرتبت نے یہ تو سوچا ہوتا کہ میری کیا عزت رہ جائے گی" ناجی نے کہا "
‫جس کے تم اہل ہو‪ ،اپنی ماضی پر ہی نظر ڈالو ضروری نہیں کہ اپنی کارستانیوں کی داستانیں مجھ سے لی سنو فورا ً واپس "
‫جاؤ اور اپنی فوج کی نفری سامان جانور سامان خوردونوش وغیرہ کے کاغزات تیار کر کہ میرے نائب کے حوالے کرو سات دن
‫کے اندر اندر میرے حکم کی تعمیل ضروری ہونی چاھیے" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
‫‪ .............ناجی نے کچھ کہنا چاہا لیکن سلطان صالح الدین ایوبی مالقات کے کمرے سے باہر نکل گئے
‫یہ بات ناجی کے خفیہ حرم میں پہنچ گئی تھی کہ زکوئی کو شاہ مصر نے رات بھر شرف بازیابی بخشا ہے‪ ،زکوئی کے
‫خالف حسد کی آگ پہلے ہی پھیلی ہوئی تھی‪ ،اسے آئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا لیکن آتے ہی ناجی نے اس کو اپنے
‫پاس رکھا تھا ‪ ،اسے زرا سی دیر کے لیے بھی اس حرم میں جانے نہیں دیتا جہاں ناجی کی دلچسپ ناچنے والی لڑکیاں رہتی
‫تھیں زکوئی کو اس نے الگ کمرہ دیا تھا‪ ،انہیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ ناجی زکوئی کو صالح الدین کو موم کرنے کی ٹرینگ
‫دے رہا ہے اور کس بڑے تخریبی منصوبے پر کام کر رہا ہے ‪ ،یہ رقاصائیں بس یہی دیکھ کر جل بھن گئی تھیں کہ زکوئی نے

‫ناجی پر قبضہ کرلیا تھا‪ ،اور ناجی کے دل میں ان کے خالف نفرت پیدا کردی گئی ہے ‪ ،حرم کی دو لڑکیاں زکوئی کو ٹھکانے
‫لگانے کی سوچ رہی تھیں‪ ،اب انہوں نے دیکھا کہ زکوئی کو امیر مصر نے بھی رات بھر اپنے خیمے میں رکھا تو وہ پاگل ہو
‫گئیں‪ ،اس کو ٹھکانے لگانے کا واحد طریقہ قتل تھا‪ ،قتل کے دو ہی طریقے ہو سکتے تھے زہر یا کرائے کے قاتل۔ جو زکوئی
‫کو سوتے ہوئے ہی قتل کردیں‪ ،دونوں ہی طریقے ناممکن لگ رہے تھے کیونکہ زکوئی باہر نہیں نکلتی تھی اور اندر جانے تک
‫‪،اسکو رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا
‫ان دونوں نے حرم کی سب سے زیادہ ہوشیار چاالک مالزمہ کو اعتماد میں لیا تھا ‪ ،اسے انعام و اکرام دیتی رہتی تھیں‪ ،جب
‫حسد کی انتہا نے انکی آنکھوں میں خون اتار دیا تو انہوں نے اس مالزمہ کو منہ مانگا انعام دے کر اپنا مدعا بیان کیا ‪ ،یہ
‫مالزمہ بڑی خرانٹ اور منجھی ہوئی عورت تھی‪ ،اس نے کہا کہ ساالر کی رہائشگاہ میں جاکر زکوئی کو زہر دینا مشکل نہیں‪،
‫موقعہ محل دیکھ کر اسکو خنجر سے قتل کیا جاسکتا ہے اس کے لیے وقت چاھیے اس نے وعدہ کیا کہ وہ زکوئی کی نقل
‫وحرکت پر نظر رکھے گی ہوسکتا ہے کوئی موقعہ مل جائے ‪ ،اس جرائم پیشہ عورت نے یہ بھی کہا کہ اگر موقعہ نہیں مال
‫تو حشیشن ) ذکر پہلے ہو چکا ہے) بلیٹ کی مدد لی جا سکتی ھے مگر وہ معاوضہ بہت زیادہ لیتے ہیں دونوں لڑکیوں نے
‫‪،اسکو یقین دالیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ دے سکتی ہیں
‫ناجی اپنے کمرے میں بہت غصے کے عالم میں ٹہل رہا تھا زکوئی اس کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کا
‫‪ ،غصہ مزید بڑھتا چال جا رہا تھا
‫آپ مجھے اسکے پاس جانے دیں میں اس کو شیشے میں اتار لونگی" زکوئی نے کہا "
‫بیکار ہے ‪ ،،،،،،وہ کمبخت حکم نامہ جاری کرچکا ہے ‪ ،جس پر عمل بھی ہوچکا ہے مجھے اس نے کہیں کا نہیں رہنے دیا "
‫‪ ،اس پر تمہارا جادو نہیں چل سکا مجھے معلوم ہے میرے خالف سازش کرنے والے لوگ کون ہیں وہ میری ابھرتی ہوئی
‫حیثیت سے حسد محسوس کر رہے ہیں میں امیر مصر بننے واال تھا ‪ ،یہاں کے حکمرانوں پر میں نے حکومت کی ہے حاالنکہ
‫میں معمولی سا ساالر تھا اب میں ساالر بھی نہیں رہا‪ "،ناجی نے دربان کو بال کر کہا کہ اوورش کو بالئے‪ ،اس کا ہمراز اور
‫نائب آیا تو اس نے بھی اسی موضوع پر بات کی اسے وہ کوئی نئی خبر نہیں سنا رہا تھا‪ ،اوورش کے ساتھ وہ صالح الدین
‫کے نئے حکم نامے پر تفصیلی تبادلہ خیال کرچکا تھا مگر دونوں اسکے خالف کوئی تفصیلی کاروائی نہیں سوچ سکے تھے اب
‫" ناجی کے دماغ میں جوابی کاروائی آگئی تھی اس نے اوورش کو کہا " میں نے جوابی کاروائی سوچ لی ہے
‫کیا " اوورش نے کہا "
‫بغاوت " ناجی نے کہا اور اوورش اسکو چپ چاپ دیکھتا رہا۔ ناجی نے اس کو کہا " تم حیران ہو گئے ہو کیا تمہیں "
‫شک ہے کہ یہ ‪ 50ہزار سوڈانی فوج ہماری وفادار نہیں۔۔۔؟ کیا سلطان کے مقابلے میں مجھے اور تمھیں اپنا ساالر اور خیر
‫خواہ نہیں سمجھتی ۔۔؟ کیا تم اس فوج کو یہ کہہ کر بغاوت پر آمادہ نہیں کر سکتے کہ تمہیں مصر کا غالم بنایا جا رہا ہے
‫" مصر تمہارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
‫میں نے اس اقدام پر غور نہیں کیا تھا بغاوت کا انتظام ایک اشارے پر ہو سکتا ہے لیکن مصر کی نئی فوج بغاوت کو دبا "
‫سکتی ہے اور اس نئی فوج کو کمک بھی مل سکتی ہے ‪ ،حکومت سے ٹکر لینے سے پہلے ہمیں ہر پہلو پر غور کرنا
‫چاہیے" اوورش نے کہا
‫میں غور کرچکا ہوں میں عیسائی بادشاھوں کو مدد کے لیے بال رہا ہوں ‪ ،تم دو پیامبر تیار کرو انہیں بہت دور جانا لے آؤ "
‫میری بات بہت غور سے سنو ‪ ،،زکوئی تم اپنے کمرے میں چلی جاؤ " ناجی نے کہا زکوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور وہ
‫دونوں ساری رات اپنے کمرے میں بیٹھے رھے۔
‫٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی (
‫قسط ‪،،،،،، 9
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے دونوں فوجوں کو مدغم کرنے کا دورانیہ ‪ 7دن رکھا تھا ‪ ،کاغذی کاروائی ہوتی رہی ناجی پوری
‫طرح سے تعاون کرتا رھا ‪ 7روز گزر چکے تھے ناجی ایک بار پھر سلطان صالح الدین ایوبی سے مال لیکن کوی شکایت نہیں
‫کی ‪ ،تفصیلی ریپورٹ دے کر کہا کہ سات دن میں دونوں فوجیں ایک ہوجائیں گی ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی کے نایئبین نے
‫بھی یقین دالیا کہ ناجی ایمانداری سے تعاون کر رہا ھے مگر علی بن سفیان کی رپورٹ کسی حد تک پریشان کن تھی ‪،
‫اسکے انٹیلیجنس نے رپورٹ دی تھی کہ سوڈانی فوج میں کسی حد تک بے اطمینانی اور ابتری پائی جا رہی ہے وہ مصری
‫فوج میں مدغم ہونے پر خوش نہیں ان میں یہ افواہیں پھیالئی جا رہی تھیں کہ مصری فوج میں مدغم ہوکر انکی حیثیت
‫غالموں جیسی لو جائے گی‪ ،انکو مال غنیمت بھی نہیں ملے گا اور ان سے بردباری کا کام لیا جائے گا اور سب سے بڑی
‫بات کہ انکو شراب نوشی کی اجازت نہیں ہوگی علی بن سفیان نے سلطان صالح الدین ایوبی تک یہ خبریں پہنچا دیں ‪،،
‫ایوبی نے اسے کہا کہ یہ لوگ طویل وقت سے عیش کی زندگی بسر کر رہے ہیں انکو یہ تبدیلی پسند نلیں آئے گی ‪ ،مجھے
‫‪،امید ھہے کہ وہ نئے حاالت اور ماحول کے عادی کوجائینگے
‫اس لڑکی سے مالقات ہوئی کہ نہیں " سلطان صالح الدین ایوبی نے پوچھا "
‫نہیں اس سے مالقات ممکن نظر نہیں آرہی میرے آدمی ناکام ہوچکے ہیں ناجی نے اسکو قید کر کہ رکھا ہے " علی بن "
‫سفیان نے کہا
‫اس سے اگلی رات کا ہے رات ابھی ابھی تاریک ہوئی تھی زکوئی اپنے کمرے میں تھی ناجی اور اوورش ساتھ والے کمرے
‫میں تھے اسے گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائی دیں اس نے پردہ لٹادیا ‪ ،باہر کے چراغوں کی روشنی میں اس کو دو گھوڑ
‫سوار دکھائی دیئے ۔ لباس سے وہ تاجر معلوم ہورھے تھے گھوڑوں سے اتر کر وہ ناجی کے کمرے کی طرف بڑھے تو انکی
‫چال بتا رہی تھی کہ یہ تاجر نہیں اتنے میں اوورش باہر نکال دونوں گھوڑ سوار اسکو دیکھ کر رک گیے اور اوورش کو سپاہیوں
‫کے انداز سے سالم کیا ‪ ،اوورش نے ان کے گرد گھوم کر انکا جائزہ لیا اور پھر کہا کہ اپنے ہتھیار دکھاؤ دونوں نے پھرتی سے
‫چغے کھولے اور ہتھیار دکھا دیئے انکے پاس چھوٹی چھوٹی تلواریں اور ایک ایک نیزہ تھا اوورش انکو کمرے کے اندر لیے گیا
‫دربان باہر کھڑا تھا
‫زکوئی گہری سوچ میں پڑ گئی وہ کمرے سے نکلی اور ناجی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
‫مگر دربان نے اس کو دروازے پر لی روکا اور کہا کہ اسے حکم مال ہے کہ کسی کو اندر جانے نہ دیں زکوئی کو وہاں ایسی

‫حیثیت حاصل ہوئی تھی کہ وہ کمانڈروں پر بھی حکم چالیا کرتی تھی ۔ دربان کے کہنے سے وہ سمجھ گئی کہ کوئی خاص
‫بات لے اسے یاد آیا کہ ناجی نے اسکی موجودگی میں اوورش سے کہا تھا میں عیسائی بادشاہوں کو مدد کے لیے بال رہا ہوں
‫‪ ،تم دو پیامبر تیار کرو انھیں بہت دور جانا ھے آؤ میری بات بہت غور سے سنو اور پھر اس نے زکوئی کو اندر جانے کا کہا
‫اور ناجی پھر بغاوت کی باتیں کرنے لگا۔ یہ سب سوچ کر وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئی اسکے اور ناجی کے خاص
‫کمرے کے درمیان ایک دروازہ تھا جو دوسری طرف سے بند تھا اس نے اسی دروازے کے ساتھ کان لگا دیئے ‪ ،ادھر کی آوازیں
‫سنائی دے رھی تھیں پہلے تو اسے کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن بعد میں اسکو ناجی کی آواز بڑی صا ٖف سنائی دے
‫رھی تھی
‫آبادیوں سے دور رہنا اگر کوئی شک میں پڑے تو سب سے پہلے اس پیغام کو غائب کرنا ‪ ،جان پر کھیل جانا جو بھی "
‫تمھارے راستے میں حائل ہو اس کو راستے سے ہٹا دینا تمھارا سفر ‪ 4دنوں کا ہے ‪ 3دن میں پہچنے کی کوشش کرنا سمت
‫یاد کرلو " " شمال مشرق" ناجی کہہ رہا تھا
‫دونوں آدمی باہر نکلے زکوئی بھی باہر نکلی اس نے دیکھا کہ دونوں سوار گھوڑوں پر سوار ہو رھے تھے ‪ ،ناجی اور اوورش
‫بھی باہر نکلے تھے وہ شاید ان کو الوادع کہنے کے لیے باہر کھڑے تھے گھڑ سوار بہت تیزی سے روانہ ہوئے ناجی نے زکوئی
‫کو بال کر کہا کہ میں باہر جا رہا ھوں ‪ ،کام بہت لمبا ہے دیر لگے گی تم آرام کر لو اگر اکیلے دل نہ لگے تو گھوم پھر
‫" لینا
‫ہاں جب سے آئی ہوں باہر ہی نہیں نکلی" زکوئی نے کہا "
‫ناجی اور اوورش بھی چلے گئے زکوئی نے چغہ پہنا کمر میں خنجر اڑسا اور حرم کی طرف چل پڑی وہ جگہ کچھ سو گز دور
‫تھی وہ ناجی پر یہ ظاہر کرانا چاہتی تھی کہ وہ حرم کے اندر ہی جا رہی ہے دربان کو بھی اس نے یہی بتایا حرم کے اندر
‫جب زکوئی داخل ہوئی تو حرم والیاں اسکو دیکھ کر حیران ہوئیں وہ پہلی بار وہاں آئی تھی سب نے اسکا استقبال کیا اور
‫اسکو پیار کیا ‪ ،ان دونوں لڑکیوں نے بھی اسکو
‫خوش آمدید کہا جو زکوئی کو قتل کرنا چاہتی تھیں زکوئی سب سے ملی اور سب کے ساتھ باتیں کیں پھر حرم سے باکر
‫نکلی وہ خرانٹ مالزمہ بھی وہیں تھی جس نے زکوئی کو قتل کرنا تھا اس نے زکوئی کو بڑے غور سے دیکھا اور زکوئی باہر
‫نکل گئی
‫حرم والے مکان اور ناجی کے رہائش گاہ کا درمیانی عالقہ اونچا نیچا تھا اور ویران‪ ،زکوئی حرم سے نکلی تو ناجی کی
‫رھائشگاہ کے بجائے بہت تیز تیز دوسری سمت کی طرف چل پڑی ‪ ،ادھر ایک پگڈنڈی بھی تھی لیکن زکوئی ذرا اس سے دور
‫جا رہی تھی ‪ ،زکوئی سے ‪15۔‪ 20قدم دور ایک سایہ بھی چال جا رہا تھا وہ کوئی انسان ہو سکتا تھا لیکن سیاہ لبادے
‫میں لپٹے ہونے کی وجہ سے کوئی بھوت ہی لگ رہا تھا زکوئی کی رفتار تیز ہوئی تو اس بھوت نے بھی اپنی رفتار اور تیز
‫کردی ‪ ،آگے گھنی جھاڑیاں تھیں زکوئی ان میں سے روپوش ہوئی ‪ ،سیاہ بھوت بھی جھاڑیوں سے روپوش ہوگیا ۔ وہاں سے
‫کوئی اڑھائی ‪ 300سو گز دور سلطان صالح الدین کی رھائشگاہ تھی جس کے اردگرد فوج کے اعلی رتبوں کے افراد رھتے تھے
‫زکوئی کا رخ ادھر ہی تھا ‪ ،وہ جھاڑیوں سے نکلی ہی تھی کہ بائیں طرف سے سیاہ بھوت اٹھا چاندنی بڑی صاف تھی لیکن
‫پھر بھی اسکا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا اسکے پاؤں کی آہٹ بھی نہیں تھی بھوت کا ہاتھ اوپر اٹھا چاندنی میں خنجر چمکا اور
‫بجلی کی سی تیزی سے زکوئی کے بائیں کندھے اور گردن کے درمیان اتر گیا زکوئی کی کوئی چیخ نہیں نکلی ‪ ،خنجر اسکے
‫کندھے سے نکال دیا گیا ۔ زکوئی نے اتنا گہرا وار کھا کر اپنے کمر بند سے اپنا بھی خنجر نکاال‪ ،بھوت نے اس پر دوسرا وار
‫کیا تو زکوئی نے اسکے خنجر والے بازو کو اپنے بازو سے روک کر اپنا خنجر بھوت کے سینے میں اتار دیا ۔ زکوئی کو چیخ
‫سنائی دی جو کسی عورت کی تھی۔ زکوئی نے اپنا خنجر کھینچ کر دوسرا وار کیا جو اسکے پیٹ میں پورا خنجر اتر گیا ۔
‫اسکے ساتھ ہی زکوئی کے اپنے پہلو میں بھی خنجر لگا لیکن وہ اتنا گہرا نہیں تھا ۔ اسکے ساتھ ہی حملہ کرنے والی عورت
‫چکرا کر گر گئی۔
‫زکوئی نے یہ نہیں دیکھا کہ اس پر حملہ کرنے واال کون تھا ۔ وہ دور پڑی اسکے جسم سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا
‫سلطان صالح الدین کا مکان اسکو چاندنی میں نظر آنے لگا‪ ،آدھا فاصلہ طے کر کہ زکوئی کو چکر آنے لگے اسکی رفتار سست
‫ھو گئی اس نے چالنا شروع کیا
‫"علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایوبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایوبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے اس عظیم جاسوس زکوئی کے کپڑے خون سے سرخ ہونے لگے‪ ،وہ بہت مشکل سے اپنے قدم
‫گھسیٹنے لگی تھی ‪ ،اس عظیم جاسوس کی منزل تھوڑی بہت ہی قریب تھی لیکن اس تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آرہا تھا ‪،
‫زکوئی نے سلطان صالح الدین ایوبی کے لیے ایک قیمتی راز حاصل کیا تھا وہ مسلسل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایوبی کہہ کر
‫پکار رہی تھی‪ ،قریب ہی ایک گشتی سنتری پھر رہا تھا اسے آواز سنائی دی تو وہ دوڑ کر وہاں پہنچ گیا‪ ،زکوئی اس پر گر
‫پڑی اور کہا
‫"مجھے امیر مصر سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس پہنچا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔جلدی۔۔۔۔۔بہت جلدی "
‫سنتری نے جب اسکا خون دیکھا تو اسکو پیٹھ پر الد کر دوڑ پڑا۔
‫٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی اپنے کمرے میں بیٹھا علی بن سفیان سے رپورٹ لے رہا تھا
‫اسکے دو نائب بھی موجود تھے یہ رپورٹیں کچھ اچھی نہیں تھیں ‪ ،علی بن سفیان نے بغاوت کے خدشے کا اظہار کیا تھا
‫جس پر غور ہورہا تھا ‪ ،اتنے میں دربان دوڑتا کوا آیا کہ ایک سپاہی ایک زخمی لڑکی کو اٹھاۓ باہر کھڑا ھے ‪ ،کہتا ھے یہ
‫لڑکی امیر مصر سے ملنا چاھتی ھے۔ یہ سنتے ہی علی بن سفیان کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح باہر دوڑا ‪ ،سلطان
‫صالح الدین ایوبی نے بھی جب یہ الفاظ سنے تو وہ بھی علی کے پیچھے دوڑا‪ ،اتنے میں لڑکی کو اندر الیا گیا سلطان صالح
‫الدین ایوبی نے چیخ کر کہا " طبیب اور جراح کو جلدی سے بالؤ" لڑکی کو سلطان صالح الدین ایوبی نے اٹھا کر اپنے پلنگ
‫پوش پر لٹا دیا تھوڑے ہی وقت میں پلنگ پوش بھی خون سے سرخ ہو رھا تھا
‫کسی کو نا بالؤ میں اپنا فرض ادا کر چکی ہوں " لڑکی نے نخیف سی آواز میں کہا "
‫تمہیں زخمی کس نے کیا ہے زکوئی ‪ :علی نے کہا "
‫پہلے میری بات سن لو شمال مشرق کی طرف سوار دوڑا دو ‪ ،دو سوار جاتے نظر آئینگے دونوں کے چغے بادامی رنگ کے "
‫ہیں ‪ ،ایک کا گھوڑا بادامی اور دوسرے کا سیاہ ہے وہ تاجر لگتے ہیں ان کے پاس ساالر ناجی کا تحریری پیغام ہے جو

‫عیسائی بادشاہ فرینک کو بھیجا گیا ہے ۔ ناجی کی یہ سوڈانی فوج بغاوت کرے گی مجھے اور کچھ نہیں معلوم ‪ ،سلطان
‫آپکی سلطنت صحت خطرے میں ہے ان دو سواروں کو راستے میں ہی پکڑ لو۔ تفصیل ان کے پاس ہے " بولتے بولتے زکوئی
‫پر غشی طاری ہو گئی
‫دو طبیب آگئے انھوں نے خون بند کرنے کی کوشش کی زکوئی کے منہ میں دوائیاں ڈالیں جن کے اثر سے زکوئی پھر سے
‫بولنے کے قابل ہوئی ‪ ،مثال کے طور پر ناجی نے اوورش کے ساتھ کیا باتیں کیں ناجی نے زکوئی کو کیسے اپنے کمرے میں
‫جانے کو کہا ناجی کا غصہ اور بھاگ دوڑ دو سواروں کا آنا جانا وغیرہ‪ ،پھر اس نے بتایا کہ اسکو یہ علم نہیں کہ اس پر
‫حملہ کرنے واال کون تھا ‪ ،وہ موقعہ موزوں دیکھ کر ادھر ہی آرہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے خنجر گھونپ دیا اس نے اپنا
‫خنجر نکال کر اس پر حملہ کیا۔ حملہ آور کی چیخ بتا رہی تھی کہ وہ کوئی عورت تھی اس نے جگہ بتا دی تو اسی وقت
‫فوجی وہاں دوڑا دیئے گئے زکوئی نے کہا کہ وہ انسان زندہ نہیں ہوگا کیونکہ میں نے وار اسکے سینے اور پیٹ پر کیئے تھے
‫زکوئی کا خون نہیں رک رھا تھا زیادہ تر خون پہلے بہہ گیا تھا سلطان صالح الدین کا یہ جاسوس اپنی آخری سانسیں لے رہا
‫تھا اپنے فرض پر اپنی زندگی قربان ہو رہی تھی ‪ ،زکوئی نے امیر مصر سلطان صالح الدین کا ہاتھ پکڑا اور چوم کر کہا
‫اللہ آپکو اور آپکی سلطنت کو سالمت رکھے آپ شکست نہیں کھا سکتے ‪ ،مجھ سے زیادہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ سلطان "
‫ایوبی کا ایمان کتنا پختہ ہے ‪ " ،پھر اس نے علی بن سفیان سے کہا " علی۔۔۔۔! میں نے کوتاہی تو نہیں کی۔۔؟ آپ نے
‫جو فرض دیا تھا وہ میں نے پورا کردیا
‫تم نے اس سے زیادہ پورا کیا ہے ھمارے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ناجی اتنی خطرناک حد تک کاروائی کر "
‫سکتا کے اور تمھیں جان کی قربانی دینی پڑے گی میں نے تم کو صرف مخبری کے لیے وہاں بھیجا تھا" علی بن سفیان نے
‫کہا
‫اے کاش۔۔۔۔۔۔! میں مسلمان ہوتی ۔۔۔۔۔ زکوئی نے کہا اس کے آنسو نکل آئے" میرے اس کام کا جو بھی معاوضہ بنتا ہے "
‫" وہ میرے اندھے باپ اور صدا بیمار ماں کو دینا جن کی مجبوریوں نے مجھے بارہ سال کی عمر میں رقاصہ بنادیا
‫زکوئی کا سر ایک طرف ڈھلک گیا آنکھیں آدھی کھلی ھوئی تھیں اور اسکے ہونٹ نیم مسکرا رہے تھے طبیب نے نبض پر
‫ہاتھ رکھا اور سلطان کی طرف دیکھ کر سر ہال دیا زکوئی کی روح اسکے زخمی جسم سے آزاد ہوگئی تھی‪ ،ایک غیر مسلم نے
‫اسالم کی عظمت اور سلطان سے وفاداری کی خاطر جان قربان کردی۔
‫سلطان صالح الدین نے کہا" یہ کسی بھی مذہب سے تھی زکوئی کو پورے اعزاز کے ساتھ دفن کرو اس نے اسالم ہی کے
‫" لیے جان قربان کی ہے اگر چہ یہ ہمیں دھوکہ بھی دے سکتی تھی
‫دربان نے اندر آکر کہا کہ باہر ایک عورت کی الش آگئی ہے جا کر دیکھا گیا تو وہ ایک ادھیڑ عمر عورت کی الش تھی جاۓ
‫وقوعہ سے دو خنجر ملے تھے اس عورت کو کوئی نہیں پہچانتا تھا یہ ناجی کے حرم کی ایک مالزمہ تھی جس کو انعام کی
‫اللچ نے زکوئی پر حملہ کرنے پر مجبور کیا رات کو ہی زکوئی کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور مالزمہ کی
‫الش گھڑا کھود کر دفنا دی گئی ‪ ،دونوں کو نہایت خفیہ انداز سے دفنا دیا گیا ‪ ،جب تدفین ہو رہی تھی تو سلطان صالح
‫الدین نے نہایت اعلی قسم کے آٹھ جوان گھوڑے منگواۓ آٹھ جوان منگوائے گئے ان کو علی بن سفیان کی کمان میں ناجی
‫کے ان دو گھڑ سواروں کے پیچھے دوڑا دیا گیا جو ناجی کا تحریری پیغام عیسائی بادشاہ کو پہنچا رھے تھے۔۔۔۔۔۔۔
‫لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‫زکوئی کون تھی۔۔۔۔؟ وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اسکا مذہب کیا تھا وہ مسلمان نہیں
‫تھی وہ عیسائی بھی نہیں تھی۔۔
‫جیسا کہ کہا گیا ہے کہ علی بن سفیان سلطان کے انٹیلیجنس ) جاسوسی اور سراغ رسانی ( کا سربراہ تھا اور اسے
‫دوسروں کے راز معلوم کرنے کے کئی ڈھنگ اختیار کرنے پڑتے تھے ‪ ،صالح الدین اسکو اپنے ساتھ مصر الیا تھا یہاں آکر معلوم
‫ھوا کہ یہاں کا ساالر ناجی نہایت ہی شیطان اور سازشی ہے اسکے اندرونی حاالت معلوم کرنے کے لیے علی نے جاسوسوں کا
‫ایک جال بچھا دیا ۔۔ اس اقدام سے علی بن سفیان کو ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ ناجی حشیشن ) پہلے ذکر ہوا ہے بلیٹ
‫( کی طرح اپنے مخالفین کو زہر اور حسین لڑکیوں سے پھنساتا اور اپنا گرویدہ بناتا اور مرواتا ہے‪ ،علی بن سفیان نے تالش و
‫بسار کے بعد کسی کی مدد سے زکوئی کو مراکش سے حاصل کیا اور خود بردہ فروش کا روپ دھار کر ناجی کے ہاتھ بیچ دیا
‫زکوئی میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو سلطان کے پھنسانے کے لیے استعمال کرنا چاھتا تھا لیکن ناجی خود اس لڑکی کے ‪،
‫دام میں پھنس گیا اور پھنسا بھی ایسا کہ زکوئی کے سامنے وہ اپنے ساالر سے تمام باتیں کیا کرتا تھا ‪ ،ناجی نے زکوئی کو
‫جشن کی رات سلطان صالح الدین کے خیمے میں بھیج دیا اور اپنی اس فتح پر بہت خوش ہورھا تھا کہ اس نے صالح الدین
‫کا بت تھوڑ دیا ھے ‪ ،اب وہ اس لڑکی کے ہاتھوں شراب پال سکے گا اور سلطان کو اپنا گرویدہ بنا لے گا مگر ناجی کے تو
‫فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوسکا کہ زکوئی سلطان کی جاسوسہ تھی ‪ ،زکوئ سلطان کو اسی رات رپورٹیں دیتی رہی اور سلطان
‫سے ہدایت لیتی رہی زکوئی سلطان کے خیمے سے نکل کر دوسری طرف چلی گئی تھی جہاں زکوئی کو سر منہ کپڑے میں
‫لپیٹا ایک آدمی مال تھا وہ آدمی علی بن سفیان تھا جس نے زکوئی کو مزید کچھ اور ہدایت دی تھیں ۔ اسکے بعد زکوئی
‫ناجی کے گھر سے باہر نہ نکل سکی جس کی وجہ سے وہ علی کو کوئی رپورٹ نہ دے سکی ۔ آخر کار اسکو اسی رات
‫موقع مل گیا اور وہ ایسی رپورٹیں لیکر پہنچی جس کا علم صرف اللہ ہی کو تھا ۔ یہ زکوئی کی بدنصیبی تھی کہ زکوئی کے
‫خالف حرم میں صرف اس لیئے سازش ہوئی کہ اس نے ناجی پر قبضہ جمایا لے یہ سازش کامیاب رہی اور زکوئی قتل ھوگئی
‫لیکن مرنے سے پہلے وہ تمام اطالع سلطان تک پہنچانے میں کامیاب رہی ۔
‫زکوئی کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد وہ معاوضہ جو علی بن سفیان نے زکوئی کے ساتھ طے کیا تھا ۔ سلطان کی طرف سے
‫انعام اور وہ رقم جو علی بن سفیان نے ناجی سے بردہ فروش کی صورت میں ناجی سے وصول کی تھی ‪ ،مراکش میں زکوئی
‫کے معذور والدین کو ادا کردی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‫موت کے اس رات کے ستارے ٹوٹ گیے اور جب صبح ہوئی تو علی بن سفیان آٹھ سواروں کے ساتھ انتہائی تیز رفتاری سے
‫شمال مشرق کی طرف جا رہا تھا ‪ ،آبادیاں دور پیچھے ہٹتی جا رہی تھیں۔ علی کو معلوم تھا کہ شاہ فرینک کے ھیڈ کوارٹر
‫تک پہنچنےکا راستہ کونسا ہے ۔ رات انھوں نے گھوڑوں کو آرام دیا ۔ یہ عربی گھوڑے تھے جو تھکے ہوئے بھی تازہ دم لگتے
‫تھے ۔ دور کجھور کے چند درختوں میں علی کو ‪ 2گھوڑے جاتے نظر آئے ‪ ،علی نے اپنے دستے کو راستہ بدلنے اور اوٹ میں
‫ہونے کے لیے ٹیلوں کے ساتھ ساتھ ہو جانے کو کہا ‪ ،علی صحرا کا راز دان تھا بھٹکنے کا کوئی خدشہ نہ تھا ‪ ،علی نے
‫رفتار اور تیز کردی ‪ ،اگلے دو سواروں اور اس دستے کے بیچ کوئی ‪ 4میل کا فاصلہ رہ گیا ۔ یہ فاصلہ تو طے ہوا لیکن

‫گھوڑے تھک گئے تھے ‪ ،وہ جب کھجوروں کے درختوں تک پہنچے تو دو سوار کوئی دو میل دور مٹی کے ایک پہاڑی کے ساتھ
‫ساتھ جا رھے تھے ‪ ،ان کے گھوڑے بھی شاید تھک گئے تھے دونوں سوار اترے اور نظروں سے اوجھل ہوگئے
‫وہ پہاڑیوں کے اوٹ میں بیٹھ گئے ہیں" علی نے کہا اور راستہ بدل دیا ۔ فاصلہ کم ھوتا گیا اور جب فاصلہ کچھ سو گز "
‫رہ گیا تو وہ دونوں بندے اوٹ سے باہر آئے ‪ ،انہوں نے گھوڑوں کے سرپٹ دوڑنے کا شور سن لیا تھا ۔ وہ دوڑ کر غائب
‫ہوئے علی بن سفیان نے گھوڑے کو ایڑی لگائی ۔ تھکے ھوۓ گھوڑے نے وفاداری کا ثبوت دیا اور اپنی رفتار تیز کردی ۔ باقی
‫گھوڑے بھی تیز ھوگئے وہ جب پہاڑی کے اندر گئے تو دونوں سوار نکل چکے تھے مگر زیادہ دور نہیں گئے تھے ۔ وہ شاید
‫گھبرا بھی گئے تھے آگے ریتیلی چٹانیں بھی تھیں ۔ انھیں راستہ نہیں مل رھا تھا کبھی دائیں جاتے کبھی بائیں ۔علی بن
‫سفیان نے اپنے گھوڑے ایک صف میں پھیال دئے اور بھاگنے والوں سے ایک سو گز دور جا پہنچا ۔ ایک تیر انداز نے دوڑتے
‫ہوئے گھوڑے سے تیر چالیا جو ایک گھوڑے کے ٹانگ میں جا لگا ۔ گھوڑا بے لگام ہوا۔ تھوڑی سی اور بھاگ دوڑ کے بعد وہ
‫دونوں گھیرے میں آگئے تھے اور انھوں نے ہتھیار ڈال دیئے ‪ ،سوال جواب پر انکوں نے جھوٹ بوال اور اپنے آپ کو تاجر ظاھر
‫کرنے لگے ‪ ،لیکن جیسے ہی تالشی لی گئی تو وہ تحریری پیغام مل گیا جو ناجی نے انکو دیا۔ ان دونوں کو حراست میں
‫لیا گیا۔ گھوڑوں کو آرام کا وقت دیا گیا ۔ اور پھر یہ دستہ واپس آگیا۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی بڑی بے چینی سے ان کا انتظار کر رھا تھا‪ ،دن گزر گیا رات بھی گزرتی جا رہی تھی۔ آدھی رات
‫گزر گئی ‪ ،ایوبی لیٹ گیا ۔ اور اسکی آنکھ لگ گئی۔ سحر کے وقت دروازے پر ہلکے سے دستک پر ایوبی کی آنکھ کھل
‫گئی دوڑ کر دروازہ کھوال تو علی بن سفیان کھڑا تھا اسکے پیچھے آٹھ سوار اور وہ دو قیدی کھڑے تھے ۔ علی اور قیدیوں کو
‫سلطان نے اپنے سونے کے کمرے میں ہی باللیا علی سلطان کو ناجی کا پیغام سنانے لگا ۔ پہلے تو سلطان کے چہرے کا
‫رنگ ہی پیال پڑھ گیا پھر جیسے خون جوش مار کر سلطان کے چہرے اور آنکھوں میں چڑھ آیا ہو۔ ناجی کا پیغام خاصا طویل
‫تھا ناجی نے صلیبیوں کے بادشاہ فرینک کو لکھا تھا کہ وہ فالں دن اور فالں وقت یونانیوں رومیوں اور دیگر صلیبیوں کی بحریہ
‫سے بحیرہ روم کی طرف سے مصر میں فوجیں اتار کر حملہ کردیں‪ ،حملے کی اطالع ملتے ہی ‪ 50ہزار سوڈانی فوج بھی امیر
‫مصر کی خالف بغاوت کردے گی ‪ ،مصر کی نئی فوج ایک ہی وقت میں بغاوت اور حملے کے جواب کی قابل نہیں ‪ ،اس کے
‫عوض ناجی نے تمام تر مصر یا مصر کے ایک بڑے حصے کی بادشاہت کی شرط رکھی تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے
‫دونوں پیغام لیکر جانے والوں کو قید خانے میں ڈال دیا ‪ ،اور اسی وقت نئی مصری فوج سے ایک دستہ بھیج کر ناجی اور
‫ناجی کے نایئبین کو ان کے گھروں میں ہی نظر بند کردیا ۔ ناجی کے حرم کی تمام کی تمام لڑکیاں آزاد کردی گئیں ‪ ،ناجی
‫کے تمام خزانے کو سرکاری خزانے میں ڈال کر سرکاری خزانہ بنادیا گیا اور یہ تمام کاروائی خفیہ رکھی گئی‪ ،سلطان صالح
‫الدین ایوبی نے علی کی مدد سے اس خط میں جو پکڑا گیا تھا حملے کی تاریخ مٹا کر اگلی تاریخ لکھ دی۔ دو ذہین فوجیوں
‫کو شاہ فرینک کی طرف روانہ کیا گیا‪ ،ان دونوں فوجیوں کو یہ ظاھر کرنا تھا کہ وہ ناجی کے پیامبر ہیں ۔ سلطان صالح
‫‪ ،الدین ایوبی نے انکو روانہ کر کہ سوڈانی فوج کو مصری فوج میں مدغم کرنے کا حکم روک دیا
‫آٹھویں روز وہ دونوں پیامبر واپس آگئے اور شاہ فرنک کا جوابی خط جو اس نے ناجی کے نام لکھا تھا سلطان صالح الدین
‫ایوبی کو دیا ‪ ،شاہ فرنک نے لکھا تھا کہ حملے کی تاریخ سے دو دن قبل سوڈانی فوج بغاوت کردے ‪ ،تاکہ سلطان صالح
‫الدین ایوبی کو صلیبیوں کا حملہ روکنے کا ہوش تک نہ رھے ‪ ،علی بن سفیان نے ان دو پیامبروں کو سلطان صالح الدین
‫ایوبی کی اجازت سے نظر بند کردیا ‪ ،یہ نظربندی باعزت تھی‪ ،جس میں دونوں کے آرام اور بہترین کھانوں کا خاص خیال رکھا
‫گیا ‪ ،یہ ایک احتیاطی تدابیر تھی کہ یہ اہم راز فاش نہ ہو ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی نے بحیرہ روم کے ساحل پر اپنی فوج
‫کو چھپا لیا جہاں صلیبیوں نے لنگرانداز ہوکر اپنی فوجیں اتارنی تھیں ‪ ،حملے میں ابھی کچھ دن باقی تھے۔۔
‫ایک مورخ سراج الدین نے لکھا ھے کہ سوڈانی فوج نے شاہ فرینک کے حملے سے پہلے ھی بغاوت کردی تھی ‪ ،جو سلطان
‫صالح الدین ایوبی نے طاقت سے نہیں بلکہ پیار ڈپلومیسی اور اچھے حسن سلوک سے بدل لی تھی ‪ ،بغاوت کی ناکامی کی
‫ایک وجہ یہ بھی تھی کہ باغیوں کو اپنا ساالر ناجی کہی بھی نظر نہیں آیا اور اسکا کوئی نائب بھی سامنے نہیں آیا‪ ،،،،،وہ
‫‪ ،،سب تو قید میں تھے
‫مگر ایک اور مورخ ہیتاچی لکھتا ہے " سوڈانی فوج نے حملے کے وقت بغاوت کی تھی " تاہم یہ دونوں مورخ باقی تمام
‫واقعات پر متفق نظر آتے ہیں دونوں نے لکھا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے ناجی اور اسکے نایئبین کو سزا میں موت
‫" کی سزا دے کر رات میں ہی گمنام قبروں میں دفن کرادیا
‫ان دونوں مؤرخوں اور ایک اور مؤرخ " لین پول" نے بھی صلیبیوں کے بحریہ کے اعداد و شمار ایک جیسے ہی لکھے ہیں وہ
‫لکھتے ہیں کہ خط میں دی ہوئی تاریخ کے عین مطابق صلیبیوں کی بحریہ جس میں فرینک کی یونان کی روم کی اور سسلی
‫کی بحریہ شامل تھی ‪ ،متحدہ کمان میں بحریہ روم میں نمودار ہوئی ‪ ،مورخین کے مطابق اس بحریہ میں جنگی جہازوں کی
‫تعداد ‪ 150تھی ‪ ،اسکے عالوہ ‪ 1جنگی جہاز بہت بڑا تھا ان میں مصر میں اتارنے کے لیے فوجیں تھیں اس فوج کا صلیبی
‫کمانڈر ایمئرک تھا جن بادبانی کشتیوں میں رسد تھی اسکی ٹھیک تعداد کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ‪ ،جہاز دو قطاروں میں آرہے
‫تھے۔۔۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے دفاع کی کمانڈ اپنے پاس رکھی ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے بحریہ کو مزید قریب
‫آنے دیا دام بچھایا جا چکا تھا۔ سب سے پہلے بڑے جہاز لنگر انداز ہوئے ہی تھے کہ ان پر اچانک آگ برسنے لگی ‪ ،یہ
‫منجنیقوں سے پھینکے ہوئے شعلے تھے اور آگ کے گولے اور ایسے تیر بھی جن کے پچھلے حصے جلتے ہوئے شعلے کی مانند
‫تھے ‪ ،مسلمانوں کے اس برسائی ہوئی آگ نے صلیبیوں کے جہازوں کے بادبانوں کو آگ لگا دی ‪ ،جہاز لکڑی کے تھے جو فورا
‫جل اٹھے ‪ ،ادھر سے مسلمانوں کے چھپے ہوئے جہاز آگئے انھوں نے بھی آگ ہی برسائی ‪ ،یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے
‫بحیرہ روم جل رہا ھو‪ ،صلیبیوں کے جہاز موڑ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور ایک دوسرے کو خود ہی آگ لگانے لگے
‫جہازوں سے صلیبی فوج سمندر میں کھو رہی تھی ان میں سے جو سپاہی زندہ ساحل پر آرہے تھے وہ سلطان صالح الدین
‫ایوبی کے فوجیوں کے تیروں کا نشانہ بن رہے تھے
‫ادھر شیر اسالم نورالدین زنگی نے فرینک کی سلطنت پر حملہ کردیا فرینک نے اپنی فوج مصر خشکی کے ذریعے روانہ کردی
‫تھی ‪ ،فرینک اس وقت سمندر میں جنگی بیڑے کے ساتھ تھا جب اسکو اپنی سطنت پر حملے کی اطالع ملی تو وہ بڑی
‫‪،،،مشکل سے اپنی جان بچا کر بھاگ گیا لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو‪ ،وہاں کی دنیا بدل گئی تھی
‫بحیرہ روم میں صلیبیوں کا متحدہ بیڑہ تباہ ہوچکا تھا اور فوج جل اور ڈوب کر ختم ہورہی تھی ‪ ،صلیبیوں کا ایک کمانڈر
‫ایملرک بچ گیا اس نے ہتھیار ڈال کر صلح کی درخواست کی جو بہت بڑی رقم کے عوض منظور کی گئی ‪ ،یونانیوں اور سسلی

‫کے کچھ جہاز بچ گئے تھے ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی نے انکو جہاز واپس لے جانے کی اجازت دی مگر راستے میں ہی ایسا
‫طوفان آیا کہ تمام بچے کچھے جہاز وہیں غرق ہوئے
‫‪١٩دسمبر ‪ ١١٦٩کے روز صلیبیوں نے اپنی شکست پر دستخط کئے اور ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی کو تاوان ادا کردیا بیشتر
‫مؤرخین اور ماہرین حرب و ضرب نے ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی کے اس فتح کا سہرہ ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی کے
‫انٹیلیجنس کے سر باندھا ہے ‪ ،رقاصہ زکوئی کا ذکر اس دؤر کے ایک مراکشی واقعہ نگار اسد السدی نے کیا ہے ‪ ،اور علی بن
‫سفیان کا تعارف بھی اسی وقعہ نگار کی تحریر سے ہوا ہے ‪ ،یہ ایک ابتدا ہے۔ ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی کی زندگی اب
‫پہلے سے بھی زیادہ خطروں میں گھر رہی ہے۔۔۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫قسط ‪10
‫ساتویں لڑکی
‫‪،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
‫صلیبیوں کے بحری بیڑے اور افواج کو بحیرئہ روم میں غرق کر کے صالح الدین ایوبی ابھی مصر کے ساحلی عالقے میں ہی
‫موجود تھا ۔ سات دن گزر گئے تھے ۔ صلیبیوں سے تاوان وصول کیا جا چکا تھا ‪ ،مگر بحیرئہ روم میں ابھی تک بچے کچے
‫بحری جہازوں ‪ ،کشتیوں کو نگل اور انسانوں کو اُگل رہا تھا۔ صلیبی مالح اور سپاہ جلتے جہازوں سے سمندر میں کود گئے
‫تھے ۔ دور سمندر کے وسط میں سات روز بعد بھی چند ایک جہازوں کے بادبان پھڑپھڑاتے نظر آتے تھے ۔ ان میں کوئی
‫انسان نہیں تھا ۔ پھٹے ہوئے بادبانوں نے جہازوں کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا ۔ صالح الدین ایوبی نے اِن کی
‫تالشی کیلئے کشتیاں روانہ کر دی تھیں اور ہدایت دی تھی کہ اگر کوئی جہاز یا کشتی کام کی ہو تو وہ رسوں سے گھسیٹ
‫الئیں اور جو اس قابل نہ ہوں‪ ،اِ ن میں سے سامان اور کام کی دیگر چیزیں نکال الئیں ۔ کشتیاں چلی گئیں تھیں اور جہازوں
‫سے سامان الیا جا رہا تھا۔ ان میں زیادہ تر اسلحہ اور کھانے پینے کا سامان تھا یا الشیں ۔
‫سمندر میں الشوں کا یہ عالم تھا کہ لہریں انہیں اُٹھا ا ُٹھا کر ساحل پر پٹخ رہی تھیں ۔ ان میں کچھ تو جلی ہوئی تھیں اور
‫کچھ مچھلیوں کی کھائی ہوئی۔ بہت سی ایسی تھیں جن میں تیر پیوست تھے۔ صال ح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے تیروں‪،
‫نیزوں ‪ ،تلواروں اور دیگر اسلحہ کا معائنہ بڑی غور سے کیا تھا اور انہیں اپنے اسلحہ کے ساتھ رکھ کر مضبوطی اور مار کا
‫مقابلہ کیا تھا زندہ لوگ بھی تختوں اور ٹوٹی ہوئی کشتیوں پر تیرتے ابھی سمندر سے باہر آرہے تھے ۔ ان بھوکے ‪ ،پیاسے ‪،
‫تھکے اور ہارے ہوئے لوگوں کو لہریں جہاں کہیں ساحل پر ال پھینکتی تھیں ‪ ،وہ ہیں نڈھال ہو کر گر پڑتے اور مسلمان انہیں
‫پکڑ التے تھے ۔ ساحل کی میلوں لمبائی میں یہی عالم تھا ۔ صالح الدین ایوبی نے اپنی سپاہ کو مصر کے سارے ساحل پر
‫پھیال دیا تھا اور انتظام کیا تھا کہ جہاں بھی کوئی قیدی سمندر سے نکلے ‪ ،اسے وہیں خشک کپڑے اور خوراک دی جائے اور
‫جو زخمی ہوں ان کی مرہم پٹی بھی وہیں کی جائے ۔ اس احتمام کے بعد قیدیوں کو ایک جگہ جمع کیا جا رہا تھا ۔
‫صالح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ساحلی عالقے میں گھوم پھر رہا تھا ۔ وہ اپنے خیمے سے کوئی دو میل دور نکل گیا
‫تھا ۔ آگے چٹانی عالقہ آ گیا ۔ چٹانوں کی ایک سمت اور عقب میں صحرا تھا ۔ یہ سر سبز صحرا تھا جہاں کھجور کے
‫عالوہ دوسری اقسام کے صحرائی درخت اور جھاڑیاں تھیں ۔ صالح الدین ایوبی گھوڑے سے اُترا اور پیدل چٹانوں کے دامن میں
‫چل پڑا ۔ محافظ دستے کے چار سوار اس کے ساتھ تھے ۔ اس نے اپنا گھوڑا محافظوں کے حوالے کیا اور انہیں وہیں ٹھہرنے
‫رفیق خاص بہاوالدین شداد بھی تھا ۔وہ اس معرکے سے ایک ہی روز
‫کو کہا۔ اس کے ساتھ تین ساالر تھے ۔ ان میں اس کا
‫ِ
‫پہلے عرب سے اس کے پاس آیا تھا ۔انہوں نے بھی گھوڑے کو محافظوں کے حوالے کیا اور سلطان کے ساتھ ساتھ چلنے لگے
‫۔ موسم سرد تھا ۔ سمندر میں تالطم نہیں تھا ۔ لہریں آتی تھیں اور چٹانوں سے دور ہی سے واپس چلی جاتی تھیں ۔ ایوبی
‫ٹہلتے ٹہلتے ُد ور نکل گیا اور محافظ دستے کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔ اس کے آگے ‪ ،پیچھے اور بائیں طرف اونچی نیچی
‫چٹانیں اور دائیں طرف ساحل کی ریت تھی۔ وہ ایک چٹان پر کھڑا ہوگیا ‪ ،جس کی بلندی دو اڑھائی گز تھی ۔ اس نے
‫بحیرئہ روم کی طرف دیکھا ۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سمندر کی نیالہٹ سلطان ایوبی کی آنکھوں میں اُتر آئی ہو ۔ اس
‫کے چہرے پر فتح و نصرت کی مسرت تھی اور اس کی گردن کچھ زیادہ ہی تن گئی تھی ۔
‫اس نے ناک سکیڑ کر کپڑا ناک پر رکھ لیا ۔ بوال '' کس قدر تعفن ہے '' ‪............اس کی اور ساالروں کی
‫نظریں ساحل پر گھومنے لگیں ۔ پھڑپھڑانے کی آواز سنائی دی۔ پھر ہلکی ہلکی چیخیں سنائی دیں ۔ اوپر سے تین چار گدھ
‫پر پھیالئے اُترتے دکھائی دئیے اور چٹان کی اوٹ میں جدھر ساحل تھا ‪ ،اُترتے گئے ۔ ایوبی نے
‫کہا ‪ '' ....................الشیں ہیں'' ‪ ................اُدھر گیا تو پندرہ بیس گز دور گدھ تین الشوں
‫کو کھا رہے تھے ‪ ،ایک گدھ ایک انسانی کھوپڑی پنجوں میں دبوچ کر اُڑا اور جب فضا میں چکر کاٹا تو کھوپڑی اس کے
‫پنجوں سے چھوٹ گئی اور صالح الدین ایوبی کے سامنے آن گری۔ کھوپڑی کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جیسے صالح الدین
‫ایوبی کو دیکھ رہی ہوں ۔ چہرے اور بالوں سے صاف پتہ چلتا تھا کہ کسی صلیبی کی کھوپڑی ہے۔ ایوبی کچھ دیر کھوپڑی کو
‫دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اپنے ساالروں کی طرف دیکھا اور کہا ‪'' ...............ان لوگوں کی کھوپڑی مسلمانوں کی
‫کھوپڑیوں سے بہتر ہیں ۔ یہ ان کھوپڑیوں کا کمال ہے کہ ہماری خالفت عورت اور شراب کی ندر ہوتی جا رہی ہے ''۔
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کو ہڑپ کرتے چلے جارہے ہیں '' ۔ ایک ساالر نے کہا ۔''
‫صلیبی چوہوں کی طرح
‫اور ہمارے بادشاہ انہیں جزیہ دے رہے ہیں '' ‪...........شداد نے کہا ‪ '' ..........فلسطین پر صلیبی ''
‫قابض ہیں ۔
‫سلطان! کیا ہم اُمید رکھ سکتے ہیں کہ ہم فلسطین سے انہیں نکا ل سکیں گے ''۔
‫خدا کی ذات سے مایوس نہ ہو شداد '' ‪ ............صالح الدین ایوبی نے کہا ۔ ''
‫ہم اپنے بھائیوں کی ذات سے مایوس ہو چکے ہیں '' ‪ ............ایک اور ساالر بوال ۔ ''
‫تم ٹھیک کہتے ہو '' ‪ .........سلطان ایوبی نے کہا ‪ '' .........حملہ جو باہر سے ہوتا ہے ‪ ،اسے ہم ''
‫روک سکتے ہیں ۔ کیا تم میں سے کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ کفار کے اتنے بڑے بحری بیڑے کو تم اتنی تھوڑی طاقت سے
‫نذر آتش کر کے ڈبو سکو گے ؟ تم نے شاید اندازہ نہیں کیا کہ اس بیڑے میں جو لشکر آرہا تھا ‪ ،وہ سارے مصر پر مکھیوں
‫ِ
‫کی طرح چھا جاتا ۔ اللہ نے ہمیں ہمت دی اور ہم نے کھلے میدان میں نہیں بلکہ صرف گھات لگا کر اس لشکر کو سمندر
‫کی تہہ میں گم کر دیا ‪ ،مگر میرے دوستو ! حملہ جو اندر سے ہوتا ہے اسے تم اتنی آسانی سے نہیں روک سکتے ۔ جب
‫تمہارا اپنا بھائی تم پر وار کرے گا تو تم پہلے یہ سوچو گے کہ کیا تم پر واقعی بھائی نے وار کیا ہے ؟ تمہارے بازو میں

‫اسکے خالف تلوار اُٹھانے کی طاقت نہیں ہوگی ۔ اگر تلوار اُٹھاو گے اور اپنے بھائی سے تیغ آزمائی کرو گے تو دشمن موقع
‫غنیمت جان کر دونوں کو ختم کر دے گا ''۔
‫وہ آہستہ آہستہ ساحل پر چٹان کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا ۔ چلتے چلتے ُرک گیا۔ جھک کر ریت سے کچھ اُٹھایا اور ہتھیلی
‫پر رکھ کر سب کو دکھایا ۔ یہ ہتھیلی جتنی بڑی صلیب تھی جو سیاہ لکڑی کی بنی ہوئی تھی ۔ اُس کے ساتھ ایک مضبوط
‫دھاگہ تھا ۔ ا ُس نے ان الشوں کے بکھرے ہوئے اعضاء کو دیکھا ‪ ،جنہیں گدھ کھا رہے تھے ۔ پھر کھوپڑی کو دیکھا جو گدھ
‫کے پنجوں سے اُس کے سامنے گری تھی ۔ وہ تیز تیز قدم اُٹھاتا کھوپڑی تک گیا ۔ تین گدھ کھوپڑی کی ملکیت پر لڑ رہے
‫تھے ۔ صالح الدین ایوبی کو دیکھ کر پرے چلے گئے ۔ سلطان ایوبی نے صلیب کھوپڑی پر رکھ دی اور دوڑ کر اپنے ساالروں
‫سے جا مال ۔ کہنے لگا ‪ ''........میں نے صلیبیوں کے ایک قیدی افسر سے باتیں کی تھیں۔ اس کے گلے میں بھی
‫صلیب تھی ۔ اس نے بتایا کہ صلیبی لشکر میں جو بھی بھرتی ہوتا ہے اس سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا جاتا ہے کہ
‫وہ صلیب کے نام پر جان کی بازی لگا کر لڑے گا اور وہ روئے زمین سے آخری مسلمان کو بھی ختم کر کے دم لے گا ۔ اس
‫حلف کے بعد ہر لشکری کے گلے میں صلیب لٹکا دی جاتی ہے ۔ یہ صلیب مجھے ریت سے ملی ہے۔ معلوم نہیں کس کی
‫تھی ۔ میں نے اس کھوپڑی پر رکھ دی ہے تا کہ اس کی روح صلیب کے بغیر نہ رہے ۔ اس نے صلیب کی خاطر جان دی
‫ہے۔ سپاہی کو سپاہی کے حلف کا احترام کرنا چاہیے ''۔
‫سلطان !'' …… شداد نے کہا …… '' یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ صلیبی یروشلم کے مسلمان باشندوں کا کتنا کچھ احترام''
‫کر رہے ہیں ۔ وہاں سے مسلمان بیوی بچوں کو ساتھ لے کر بھاگ رہے ہیں۔ ہماری بیٹیوں کی آبرو لوٹی جا رہی ہے ۔
‫ہمارے قیدیوں کو انہوں نے ابھی تک نہیں چھوڑا ۔ مسلمان جانوروں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ کیا ہم ان عیسائیوں
‫سے انتقام نہیں لیں گے ؟
‫انتقام نہیں ''‪ ............صالح الدین ایوبی نے کہا‪ '' .........ہم فلسطین لیں گے مگر فلسطین کے راستے ''
‫میں ہمارے اپنے حکمران حائل ہیں ''‪ .....وہ چلتے چلتے ُرک گیا اور بوال ‪ '' .......کفار نے صلیب پر ہاتھ رکھ
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کے خاتمے کا حلف ا ُٹھایا ہے ۔ میں نے اپنے اللہ کے حضور کھڑے ہو کر اور ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر
‫کر
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کی سرحدیں اُفق تک لے جائوں گا مگر میرے رفیقو! مجھے اپنی
‫قسم کھائی ہے کہ فلسطین ضرور لوں گا اور
‫تاریخ کا مستقبل کچھ روشن نظر نہیں آتا ۔ ایک وقت تھا کہ عیسائی بادشاہ تھے اور ہم جنگجو۔ اب ہمارے بزرگ بادشاہ
‫بنتے جارہے ہیں اور عیسائی جنگجو۔ دونوں قوموں کا رحجان دیکھ کر میں کہہ رہا ہوں کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمان
‫بادشاہ بن جائیں گے ‪ ،مگر عیسائی ان پر حکومت کریں گے ۔ مسلمان اسی میں بد مست رہیں گے کہ ہم بادشاہ ہیں ‪ ،آزاد
‫ہیں مگر وہ آزاد نہیں ہوں گے ۔ میں فلسطین لے لوں گا مگر مسلمانوں کا رحجان بتا رہا ہے کہ وہ فلسطین گنوا بیٹھیں
‫گے ۔ عیسائیوں کی کھوپڑی بڑی تیز ہے ‪ .....پچاس ہزار سوڈانی لشکر کون پال رہا تھا ! ہماری خالفت اپنی آستین میں
‫ناجی نام کا سانپ پالتی رہی ہے ۔ میں پہال امیر مصر ہوں جس نے دیکھا ہے کہ یہ لشکر ہمارے لیے نہ صرف بیکار ہے ‪،
‫بلکہ خطرناک بھی ہے ۔ اگر ناجی کا خط پکڑا نہ جاتا تو آج ہم سب اس لشکر کے ہاتھوں مارے جا چکے ہوتے یا اس کے
‫''‪ ........قیدی ہوتے
‫اچانک ہلکا سا زناٹہ سنائی دیا اور ایک تیر صالح الدین ایوبی کے دونوں پائوں کے درمیان ریت میں لگا ۔جدھر سے تیر آیا
‫‪.........تھا ‪ ،اِس طرف سلطان ایوبی کی پیٹھ تھی
‫ساالروں میں سے بھی کوئی اُدھر نہیں دیکھ رہا تھا ۔ سب نے بِدک کر اس طرف دیکھا ‪ ،جدھر سے تیر آیا تھا ۔ اُدھر ‪.
‫نوکیلی چٹانیں تھیں ۔تینوں ساالر اور صالح الدین ایوبی دوڑ کر ایک ایسی چٹان کی اوٹ میں ہوگئے جو دیوار کی طرح عمودی
‫تھی ۔ انہیں توقع تھی کہ اور بھی تیر آئیں گے ۔ تیروں کے سامنے میدان میں کھڑے رہنا کوئی بہادری نہیں تھی ۔ شداد نے
‫منہ میں انگلیاں رکھ کر زور سے سیٹی بجائی ۔ محافظ دستہ تھوڑی دور تھا ۔ان کے گھوڑوں کے سرپٹ ٹاپوں کی آواز سنائی
‫دی ۔ اس کے ساتھ ہی تینوں ساالر اس طرف دوڑ پڑے جس طرف سے تیر آیا تھا۔ وہ بکھر کر چٹانوں پر چڑھ گئے ۔ چٹانیں
‫زیادہ اونچی نہیں تھیں ۔ صالح الدین ایوبی بھی ان کے پیچھے گیا۔ ایک ساالر نے اسے دیکھ لیا اور کہا ‪'' .......
‫سلطان ! آپ سامنے نہ آئیں '' مگر سلطان ایوبی ُرکا نہیں ۔
‫محافظ پہنچ گئے ۔ صالح الدین ایوبی نے انہیں کہا ‪'' ...........ہمارے گھوڑے یہیں چھوڑدو اور چٹانوں کے پیچھے
‫جائو ۔اُدھر سے ایک تیر آیا ہے‪ ،جو کوئی نظر آئے اسے پکڑ الئو ''۔
‫سلطان ایوبی چٹان کے اوپر گیا تو اُسے اونچی نیچی چٹانیں ُدور ُدور تک پھیلی ہوئی نظر آئیں ۔ وہ اپنے ساالروں کو ساتھ
‫لیے پچھلی طرف ا ُتر گیا اور ہر طرف گھوم پھر کر اور چٹانوں پر چڑھ کر دیکھا ۔ کسی انسان کا نشان تک نظر نہ آیا ۔
‫محافظ چٹانی عالقے کے اندر ‪ ،اوپر اور اِدھر اُدھر گھوڑے دوڑا رہے تھے ۔ صالح الدین ایوبی نیچے اُتر کے وہاں گیا جہاں
‫ریت میں تیر گڑھا ہوا تھا ۔ اس نے اپنے رفیقوں کو بالیا اور تیر پر ہاتھ مارا‪ ،تیر گر پڑا ۔ سلطان ایوبی نے
‫کہا ‪ُ '' ........د ور سے آیا ہے اس لیے پائوں میں لگا ہے ‪ ،ورنہ گردن یا پیٹھ میں لگتا ۔ ریت میں بھی زیادہ نہیں
‫اُترا '' ‪ ...اس نے تیر ا ُٹھا کر دیکھا اور کہا ‪ '' ...صلیبیوں کا ہے ‪ ،حشیشین کا نہیں ''۔
‫سلطان کی جان خطرے میں ہے '' ‪ .........ایک ساالر نے کہا ۔''
‫اور ہمیشہ خطرے میں رہے گی ''‪ ............صالح الدین ایوبی نے ہنس کر کہا ‪''.. ......میں بحیرئہ روم ''
‫میں کفار کی وہ کشتیاں دیکھنے نکال تھا جو مالحوں کے بغیر ڈول رہی ہیں ‪ ،مگر میرے عزیز دوستو! کبھی نہ سمجھنا کہ
‫صلیبیوں کی کشتی ڈول رہی ہے ‪ ،وہ پھر آئیں گے ۔ گھٹائوں کی طرح گرجتے آئیں گے اور برسیں گے بھی ‪ ،لیکن وہ زمین
‫کے نیچے سے اور پیٹھ کے پیچھے سے بھی وار کریں گے ۔ ہمیں اب صلیبیوں سے ایسی جنگ لڑنی ہے جو صرف فوجیں
‫فن حرب و ضرب کا نیا باب ہے ۔ اسے جاسوسوں کی
‫نہیں لڑیں گی ۔ میں جنگی تربیت میں ایک اضافہ کر رہا ہوں ۔ یہ ِ
‫جنگ کہتے ہیں ''۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی تیر ہاتھ میں لیے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور اپنے کیمپ کی طرف چل پڑا ۔ اس کے ساالر بھی
‫گھوڑوں پر سوار ہوگئے ۔ ان میں سے ایک نے سلطان کے دائیں طرف اپنا گھوڑا کر دیا ‪ ،ایک نے بائیں کو اور ایک نے اپنا
‫گھوڑا اس کے بالکل پیچھے اور قریب رکھا ‪ ،تا کہ کسی بھی طرف سے تیر آئے تو صالح الدین ایوبی تک نہ پہنچ سکے
‫صالح الدین ایوبی نے اس تیر پر ذرا سی بھی پریشانی کا اظہار نہ کیا جو کسی نے اسے قتل کرنے کیلئے چالیا تھا ۔اپنے
‫رفیق ساالروں کو اپنے خیمے میں بٹھائے ہوئے وہ بتا رہا تھا کہ جاسوس اور شب خون مارنے والے دستے کس قدر نقصان کرتے
‫ہیں ۔ وہ کہہ رہا تھا ‪'' ..........میں علی بن سفیان کو ایک ہدایت دے چکا ہوں ‪ ،لیکن اس پر عمل درآمد نہیں

‫ہوسکا ‪ ،کیونکہ فورا ً ہی مجھے اس حملے کی خبر ملی اور عمل درآمد دھرا رہ گیا ۔ تم سب فوری طور پر یوں کرو کہ اپنے
‫سپاہیوں اور ان کے عہدے داروں میں سے ایسے افراد منتخب کرو جو دماغی اور جسمانی ًلحاظ سے مضبوط اور صحت مند ہوں
‫۔ باریک بین ‪ ،دور اندیش‪ ،قوت فیصلہ رکھنے والے جانباز قسم کے آدمی چنو۔ میں نے علی کو ایسے آدمیوں کی جو صفات
‫بتائیں تھیں وہ سب سن لو ۔ اُن میں اونٹ کی مانند زیادہ سے زیادہ ِدن بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی قوت ہو ۔ چیتے
‫کی طرح جھپٹنا جانتے ہوں ‪ ،عقاب کی طرح ان کی نظریں تیز ہوں ‪ ،خرگوش اور ہرن کی طرح دوڑ سکتے ہوں۔ مسلح دشمن
‫سے ہتھیار کے بغیر بھی لڑ سکیں ۔ ان میں شراب اور کسی دوسری نشہ آور چیز کی عادت نہ ہو۔ کسی اللچ میں نہ
‫آئیں ۔ عورت کتنی ہی حسین مل جائے اور زر و جواہرات کے انبار ان کے قدموں میں لگا دئیے جائیں ‪ ،وہ نظر اپنے فرض
‫‪ .........پر رکھیں
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫ساتویں لڑکی
‫قسط ‪11
‫اپنے دوستوں اور ان کے کمان داروں کو خاص طور پر ذہن نشین کرائیں کہ عیسائی بڑی ہی خوب صورت اور جوان لڑکیوں کو
‫جاسوسی کے لیے اور فوجوں میں بے اطمینانی پھیالنے کے لیے اور عسکریوں کو جذبے کے لحاظ سے بیکار کرنے کے لیے
‫استعمال کر رہے ہیں‪ .میں نے مسلمانوں میں یہ کمزوری دیکھی ہے کہ عورت کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ میں مسلمان
‫عورت کو اس مقاصد کے لیے دشمن کے عالقے میں کبھی نہیں بھیجوں گا ۔ہم عصمتوں کے محافظ ہیں‪ ,عصمت کو ہتھیار
‫نہیں بنائیں گے۔ علی بن سفیان نے چند ایک لڑکیاں رکھی ہوئی ہیں‪ ،لیکن وہ مسلمان نہیں اور وہ عیسائی بھی نہیں ‪،مگر
‫میں عورت کا قائل نہیں''۔
‫محافظ دستے کا کمانڈر خیمے میں آیا اور اطالع دی کہ محافظ کچھ لڑکیوں اور آدمیوں کو ساتھ الئے ہیں۔ سلطان ایوبی باہر
‫نکال۔ اس کے تینوں ساالر بھی تھے۔ باہر پانچ آدمی کھڑے تھے‪ ،جن کے لمبے چغے‪ ،دستاریں اور ڈیل ڈول بتا رہی تھی کہ
‫تاجر ہیں اور سفر میں ہیں ۔ان کے ساتھ سات لڑکیاں تھیں۔ ساتوں جوان تھیں اور ایک سے ایک بڑھ کر خوب صورت۔ ان
‫محافظوں میں سے ایک نے جو سلطان پر تیر چالنے والے کی تالش میں گئے تھے بتایا تھا کہ انہوں نے تمام عالقہ چھان
‫مارا ‪ ،انہیں کوئی آدمی نظر نہیں آیا۔ دور پیچھے گئے تو یہ لوگ تین اونٹوں کے ساتھ ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے ۔
‫کیا ان کی تالشی لی ہے؟'' ایک ساالر نے پوچھا۔''
‫لی ہے '' ‪....محافظ نے جواب دیا ‪ '' ..یہ کہتے ہیں کہ تاجر ہیں۔ ان کا سارا سامان کھلوا کر دیکھا ہے۔ جامہ ''
‫تالشی بھی لی ہے۔ ان کے پاس ان خنجروں کے سوا اور کوئی ہتھیار نہیں '' اس نے پانچ خنجر سلطان ایوبی کے قدموں
‫میں رکھ دئیے ۔
‫ہم مراکش کے تاجر ہیں '' ‪ .ایک تاجر نے کہا ‪ '' .سکندریہ تک جائیں گے۔ دو روز گزرے ہمارا قیام یہاں سے دس ''
‫کوس پیچھے تھا ۔ پرسوں شام یہ لڑکیاں ہمارے پاس آئیں ۔ ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ِسسلی کی
‫رہنے والی ہیں ۔ انہیں عیسائی فوج کا ایک کماندار گھروں سے پکڑ کر ساتھ لے آیا اور ایک بحری جہاز میں سوار کیا ۔ ان
‫کے ماں باپ غریب ہیں ۔یہ کہتی ہیں کہ بے شمار جہاز اور کشتیاں چل پڑیں ۔ لڑکیوں والے جہاز میں چند اور کماندار قسم
‫کے آدمی تھے اور ا ُن کی فوج بھی تھی ۔ وہ سب ان لڑکیوں کے ساتھ شراب پی کر عیش و عشرت کرتے رہے ۔ اس
‫ساحل کے قریب آئے تو جہازوں پر آگ کے گولے گرنے لگے۔ تمام لوگ جہازوں سے سمندر میں کودنے لگے ۔ ان لڑکیوں کو
‫انہوں نے ایک کشتی میں بٹھا کر جہاز سے سمندر میں اُتار دیا ۔ یہ بتاتی ہیں کہ انہیں کشتی چالنی نہیں آتی تھی ۔ کشتی
‫سمندر میں ڈولتی اور بھٹکتی رہی ۔ پھر ایک روز خود ہی ساحل سے آ لگی ۔ ہمارا قیام ساحل کے ساتھ تھا ۔ یہ ہمارے
‫پاس آگئیں ۔ بہت ہی بُ ری حالت میں تھیں ۔ ہم نے انہیں پناہ میں لے لیا ۔ انہیں ہم دھتکار تو نہیں سکتے تھے ۔ ہمیں
‫کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان کا کیا کریں ۔ پچھلے پڑائو سے یہاں تک انہیں ساتھ الئے ہیں ۔ یہ سوار آگئے اور ہمارے
‫امیر مصر
‫سامان کی تالشی لینے لگے ۔ ہم نے ان سے تالشی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ سلطان صالح الدین ایوبی
‫ِ
‫کا حکم ہے ۔ ہم نے ان کی منت سماجت کی کہ ہمیں اپنے سلطان کے حضور لے چلو ۔ ہم عرض کریں گے کہ ان لڑکیوں
‫'' کو اپنی پناہ میں لے لیں ۔ ہم سفر میں ہیں ۔ انہیں کہاں کہاں لیے پھیریں گے
‫لڑکیوں سے پوچھا تو وہ ِس سلی کی زبان بول رہی تھیں ۔ وہ ڈری ڈری سی لگتی تھیں ۔ ان میں سے دو تین اکٹھی ہی
‫بولنے لگیں ۔ صالح الدین ایوبی نے تاجروں سے پوچھا کہ ان کی زبان کون سمجھتا ہے ؟ ایک نے بتایا کہ صرف میں
‫سمجھتا ہوں ۔ یہ التجا کر رہی ہے کہ سلطان انہیں پناہ میں لے لے ۔ کہتی ہیں کہ ہم تاجروں کے قافلے کے ساتھ نہیں
‫جائیں گی ‪ ،کہیں ایسا نہ ہو کہ راستے میں ڈاکو ہمیں اُٹھا کر لے جائیں ۔ اِدھر جنگ بھی ہو رہی ہے ۔ ہر طرف عیسائیوں
‫اور مسلمانوں کے سپاہی بھاگتے دوڑتے پھر رہے ہیں ۔ ہمیں سپاہیوں سے بہت ڈر آتا ہے ۔
‫ایک لڑکی نے کچھ کہا تو اس کی زبان جاننے والے تاجر نے سلطان ایوبی سے کہا ‪ ''........یہ کہتی ہے کہ ہمیں
‫مسلمانوں کے بادشاہ تک پہنچا دو ۔ ہو سکتا ہے اس کے دل میں رحم آجائے''۔
‫ایک اور لڑکی بول پڑی ۔ اس کی آواز رندھیائی ہوئی تھی۔ تاجر نے کہا‪ ''.......یہ کہتی ہے کہ ہمیں عیسائی سپاہیوں
‫کے حوالے نہ کیا جائے ۔ میں مسلمان ہو جائوں گی ‪ ،بشرطیکہ کوئی اچھی حیثیت واال مسلمان میرے ساتھ شادی کر لے ''
‫۔
‫دو تین لڑکیاں پیچھے کھڑی منہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔ ان کے چہروں پر گھبراہٹ تھی ۔ بات کرتے شرماتی یا
‫ڈرتی تھیں۔
‫صالح الدین ایوبی نے تاجر سے کہا ‪ ''............انہیں کہو کہ یہ عیسائیوں کے پاس نہیں جانا چاہتیں ۔ ہم انہیں
‫اسالم قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے ۔ یہ لڑکی جو کہہ رہی ہے کہ مسلمان ہو جائے گی ‪ ،بشرطیکہ کوئی مسلمان اس
‫کے ساتھ شادی کر لے ‪ ،اسے کہو کہ میں اس کی پیشکش قبول نہیں کر سکتا ‪ ،یہ خوف اور مجبوری کے عالم میں اسالم
‫قبول کرنا چاہتی ہے ۔ انہیں بتاو کہ انہیں مجھ پر اعتماد ہے تو میں انہیں اسالم کی بیٹیوں کی طرح پناہ میں لیتا ہوں ۔
‫اپنے دارالحکومت میں جا کر یہ انتظام کردوں گا کہ انہیں عیسائی راہبوں یا کسی پادری کے پاس بجھوادوں گا ۔
‫پادری یروشلم میں ہوں گے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب عیسائی قیدیوں کو آزادکیا جائے گا تو میں کوشش کروں گا کہ ان
‫قابل اعتماد اور اچھی حیثیت کے قیدیوں کے ساتھ کردوں۔ انہیں یہ بھی بتادو کہ کسی مسلمان کو ان سے ملنے
‫کی شادیاں
‫ِ
‫کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ انہیں اجازت ہوگی کہ کسی مسلمان سے ملیں ۔ ان کی ضروریات اور عزت کا خیال رکھا جائے

‫گا''۔
‫تاجر نے لڑکیوں کو ان کی زبان میں سلطان ایوبی کی ساری باتیں بتائیں تو ان کے چہروں پر رونق آگئی۔ وہ ان شرائط پر
‫رضا مند ہوگئیں۔ تاجر شکریہ ادا کر کے چلے گئے ۔ صالح الدین ایوبی نے لڑکیوں کے لیے الگ خیمہ لگانے اور خیمے کے
‫باہر ہر وقت ایک سنتری موجود رہنے کا حکم دیا ۔ وہ خیمے کی جگہ بتانے ہی لگا تھا کہ چھ صلیبی سلطان ایوبی کے
‫سامنے الئے گئے ۔ وہ بہت ہی بُ ری حالت میں تھے ۔ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے ۔ کپڑوں پر خون بھی تھا ‪ ،ریت بھی۔
‫بےسدھ پڑے تھے ۔ وہ ٹوٹی ہوئی
‫ان کے چہرے الشوں کی مانند تھے ۔ ان کے متعلق بتایا گیا کہ ڈیڑھ دو میل دور ساحل پر
‫ُ
‫کشتی پر تیر رہے تھے ۔ ایک دن کشتی پانی بھرجانے سے ڈوب گئی ۔ یہ سب تیر کر ساحل تک پہنچے ۔ کشتی میں
‫بائیس آدمی سوار ہوئے تھے ۔ صرف یہ چھ زندہ بچے ۔ ان سے چال نہیں جاتا تھا ۔ یہ صلیبی لشکر کے سپاہی تھے ۔ وہ
‫سب ڈھڑام سے بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک چہرے مہرے سے لگتا تھا کہ معمولی سپاہی نہیں ہے ‪ ،وہ کراہ رہا تھا ۔ اس
‫کے کپڑوں پر خون کا ایک دھبہ بھی نہ تھا‪ ،مگر زخمیوں سے زیادہ تکلیف میں معلوم ہوتا تھا۔ اس نے ساتوں لڑکیوں کو غور
‫سے دیکھا اور پھر کراہنے لگا ۔
‫یہ صالح الدین ایوبی کا حکم تھا کہ ہر ایک قیدی اسے دکھایا جائے ‪ ،چونکہ قیدی ابھی تک سمندر سے بچ بچ کر نکل رہے
‫تھے ‪ ،اس لیے ہر ایک قیدی سلطان ایوبی کے سامنے الیا جاتا تھا۔ اس نے قیدیوں کو بھی دیکھا۔ کسی سے کوئی بات نہ
‫کی البتہ اس قیدی کو جو سب سے زیادہ کراہ رہا تھا اور جس کے جسم پر کوئی زخم بھی نہ تھا ‪ ،سلطان نے غور سے
‫دیکھا اور آہستہ سے اپنے ساالروں سے کہا ‪ '' ....علی بن سفیان ابھی تک نہیں آیا ۔ ان تمام قیدیوں سے جو اب تک
‫ہمارے پاس آچکے ہیں ‪ ،بہت کچھ پوچھنا ہے ۔ ان سے معلومات لینی ہیں ''۔اس نے اس قیدی کی طرف دیکھ کر
‫کہا ‪ '' ....یہ آدمی کماندار معلوم ہوتا ہے ۔ اسے نظر میں رکھنا اور جب بھی علی بن سفیان آئے تو اسے کہنا کہ اس
‫سے تفصیلی پوچھ گچھ کرے۔ معلوم ہوتا ہے اسے اندر کی چوٹیں آئی ہیں ۔شاید پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں ‪...........
‫انہیں فورا ً زخمی قیدیوں کے خیموں میں پہنچا دو ۔ انہیں کھالئو اور ان کی مرہم پٹی کرو ''۔
‫قیدیوں کو اس طرف لے جایا گیا جس طرف زخمی قیدیوں کے خیمے تھے ۔ لڑکیاں انہیں جاتا دیکھتی رہیں‪ ،پھر ان لڑکیوں کو
‫بھی لے گئے ۔ فوج کے خیموں سے تھوڑی دور لڑکیوں کے لیے خیمہ نصب کیا جارہا تھا‪ ،وہاں سے کوئی سو قدم دور زخمی
‫قیدیوں کے خیمے تھے‪ ،وہاں بھی ایک خیمہ گاڑا جارہا تھا اور چھ نئے زخمی قیدی زمین پر لیٹے ہوئے تھے ۔ لڑکیاں ان کی
‫طرف دیکھ رہی تھیں۔ دونوں خیمے کھڑے ہو گئے۔ لڑکیاں اپنے خیمے میں چلی گئیں اور زخمیوں کے اُن کے اپنے خیمے میں
‫لے گئے ۔ ایک سنتری لڑکیوں کے خیمے کے باہر کھڑا ہو گیا ۔ لڑکیوں کے لیے کھانا آگیا جو انہوں نے کھا لیا ۔ پھر ایک
‫لڑکی خیمے سے نکل کر اس خیمے کی طرف دیکھنے لگی جس میں نئے چھ زخمی قیدیوں کو لے رکھا گیا تھا ۔ اس کے
‫چہرے پر اب گھبراہٹ اور خوف کا کوئی تاثر نہیں تھا ۔سنتری نے اسے دیکھا اور اسے نے سنتری کو دیکھا ۔ لڑکی نے
‫ُم سکرا کر اشارہ کیا کہ وہ زخمیوں کے خیمے کی طرف جانا چاہتی ہے ۔ سنتری نے سر ہال کر اسے روک دیا ۔ لڑکیوں کو
‫خیمے سے ُد ور جانے یا کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی ۔لڑکیوں اور چھ زخمیوں کے خیموں کے درمیان بہت سے درخت
‫تھے ۔ بائیں طرف مٹی کا ایک ٹیال تھا جس پر جھاڑیاں تھیں ۔
‫سورج غروب ہوگیا ۔ پھر رات تاریک ہونے لگی ۔ کیمپ کے غل غپاڑے پر نیند غالب آنے لگی اور پھر زخمیوں کے کراہنے
‫کی آوازیں رات کے سکوت میں کچھ زیادہ ہی صاف سنائی دینے لگیں۔ دور پرے بحیرئہ روم کا شور دبی دبی مسلسل گونج
‫کی طرح سنائی دے رہا تھا ۔ صالح الدین ایوبی کے اس جنگی کیمپ میں جاگنے والوں میں چند ایک سنتری تھے یا وہ
‫زخمی قیدی جنہیں زخم سونے دیتے تھے یا صالح الدین ایوبی کے خیمے کے اندر ِدن کا سماں تھا ‪ ،وہاں کسی کو نیند نہیں
‫آئی تھی ۔ سلطان ایوبی کے تین ساالر اس کے پاس بیٹھے تھے اور باہر محافظ دستہ بیدار تھا۔
‫سلطان ایوبی نے ایک بار پھر کہا ‪ ''...علی بن سفیان ابھی تک نہیں آیا '' ‪ .....اس کے لہجے میں تشویش تھی ۔
‫اس نے کہا ‪ ''...اس کا قاصد بھی نہیں آیا''۔
‫اگر کوئی گڑبڑ ہوتی تو اطالع آچکی ہوتی '' ‪ ..ایک ساالر نے کہا ‪ '' ...معلوم ہوتا ہے وہاں سب ٹھیک ہے ''۔''
‫ا ُمید تو یہی رکھنی چاہیے ''‪ ...صالح الدین ایوبی نے کہا‪ '' ..لیکن پچاس ہزار کے لشکر نے بغاوت کردی تو ''
‫سنبھالنا مشکل ہو جائے گا ۔ وہاں نفری ڈیڑھ ہزار سوار اور دو ہزار سات سو پیادہ ہیں ۔ان کے مقابلے میں سوڈانی بہتر اور
‫تجربہ کار عسکری ہیں اور تعداد میں بہت زیادہ ''۔
‫ناجی اور اس کے سازشی ٹولے کے خاتمے کے بعد بغاوت ممکن نظر نہیں آتی ''۔ ایک اور ساالر نے کہا ۔ '' قیادت ''
‫کے بغیر سپاہی بغاوت نہیں کریں گے ''۔
‫پیش بندی ضروری ہے '' ‪ ..صالح الدین ایوبی نے کہا ‪ '' ...لیکن علی آجائے تو پتہ چلے گا کہ پیش بندی کس ''
‫قسم کی کی جائے ''۔
‫صلیبیوں کو روکنے کیلئے تو سلطان ایوبی خود آیا تھا لیکن دارالحکومت میں سوڈانی فوج کی بغاوت کا خطرہ تھا۔ علی بن
‫سفیان کو سلطان ایوبی نے وہیں چھوڑ دیا تھا ‪ ،تاکہ وہ سوڈانی لشکر پر نظر رکھے اور بغاوت کو اپنے خصوصی فن سے دبانے
‫کی کوشش کرے ۔اسے اب تک صالح الدین ایوبی کے پاس آکر وہاں کے احوال و کوائف بتانے تھے مگر وہ نہیں آیا تھا ۔
‫جس سے سلطان ایوبی بے چین ہوا جارہا تھا ۔
‫ِ
‫صورت حال کے متعلق باتیں کر رہا تھا ‪ ،اس کا تمام کیمپ گہری نیند سو چکا تھا
‫وہ جب اپنے ساالروں کے ساتھ قاہرہ کی
‫مگر وہ ساتوں لڑکیاں جاگ رہی تھیں ‪ ،جنہیں سلطان ایوبی نے پناہ میں لے لیا تھا۔ ایک بار سنتری نے خیمے کا پردہ اُٹھا
‫کر دیکھا ‪ ،اندر دیا جل رہا تھا ۔ پردہ ہٹتے ہی لڑکیاں خراٹے لینے لگیں ۔ سنتری نے دیکھا وہ پوری سات ہیں اور سو رہی
‫ہیں تو اس نے پردہ گرایا اور خیمے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا ۔ خیمے کے پردے کے ساتھ جو لڑکی تھی اس نے نیچے سے
‫پردہ ذرا اوپر ا ُٹھایا ۔ پردہ آہستہ سے چھوڑ کر اس نے ساتھ والی کے کان میں کہا ‪' '.......بیٹھ گیا ہے
‫''‪ ............ساتھ والی نے اگلی لڑکی کے کان میں کہا ‪' '.......بیٹھ گیا ہے ''‪ ............اور اس
‫طرح کانوں کانوں میں یہ اطالع ساتوں لڑکیوں تک پہنچ گئی کہ سنتری بیٹھ گیا ہے۔ ایک لڑکی جو خیمے کے دوسرے دروازے
‫کے ساتھ تھی آہستہ سے ا ُٹھ کر بیٹھی اور بستر سے نکل گئی ۔ بستر زمین پر بچھے تھے ۔ اس لیے اوپر لینے والے کمبل
‫اس طرح بستر پر ڈال دئیے جیسے ان کے نیچے لڑکی لیٹی ہوئی ہے ۔
‫وہ پائوں پر سرکتی خیمے کے دروازے تک گئی ۔ پردہ ہٹایا اور باہر نکل گئی ۔ باقی چھ لڑکیوں نے آہستہ آہستہ خراٹے لینے
‫شروع کر دئیے ۔ سنتری کو معلوم تھا کہ یہ سمندر سے بچ کر نکلی ہیں پناہ گزین لڑکیاں ہیں ‪ ،کوئی خطرناک قیدی تو

‫نہیں ۔ وہ بیٹھ کر اونگھتا رہا ۔ لڑکی دبے پائوں ایسے ُرخ پر ٹیلے کی طرف چلتی گئی جس ُرخ سے اس کے اور سنتری کے
‫درمیان خیمہ حائل رہا ۔ٹیلے کے پاس پہنچ کر اس نے اُس خیمہ کا ُرخ کر لیا جس میں چھ نئے قیدی رکھے گئے تھے ۔
‫رات تاریک تھی ‪ ،وہاں کچھ درخت تھے ۔ سنتری اب ا ُدھر دیکھتا بھی تو اسے لڑکی نظر نہ آتی ۔ لڑکی بیٹھ گئی اور پائوں
‫سے سرک سرک کر آگے بڑھنے لگی ۔ آگے ریت کی ڈھیریاں سی تھیں ۔ وہ اُن کی اوٹ میں سرکتی ہوئی خیمے کے قریب
‫پہنچ گئی ‪ ،مگر وہاں ایک سنتری ٹہل رہا تھا۔ لڑکی ایک ڈھیری کے پاس لیٹ گئی ۔ سنتری اسے سیاہ سائے کی طرح نظر
‫آرہا تھا ۔
‫وہ اب دو سنتریوں کے درمیان تھی ۔ ایک اس کے اپنے خیمے کا اور دوسرا زخمیوں کے خیمے کا ۔ اسے ڈر یہ تھا کہ
‫زخمیوں کا سنتری اس کی طرف آگیا تو وہ پکڑی جائے گی ۔
‫بہت دیر انتظار کے بعد سنتری دوسرے زخمیوں کی طرف چال گیا ۔ لڑکی ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتی خیمے تک پہنچ
‫گئی اور پردہ ا ُٹھا کر اندر چلی گئی ۔ اندر اندھیرا تھا ۔ دو تین زخمی آہستہ آہستہ کراہ رہے تھے ۔ شاید ان میں سے کسی
‫نے خیمے کا پردہ ا ُٹھتا دیکھ لیا تھا ۔ اس نے نحیف آواز میں پوچھا‪'' ......کون ہے ''‪ ...لڑکی نے منہ سے
‫''ششش '' کی لمبی آواز نکالی اور سرگوشی میں پوچھا ‪'' ....رابن کہاں ہے؟ ''‪ .....اسے جواب مال ‪.....
‫''اُدھر سے تیسرا''‪ ........لڑکی نے تیسرے آدمی کے پائوں ہالئے تو آواز آئی ''کون ہے ''‪ ....لڑکی نے جواب
‫دیا‪'' ....موبی '' ۔
‫رابن ا ُٹھ بیٹھا ۔ ہاتھ لمبا کرکے لڑکی کو بازو سے پکڑا سنتری نہ آجائے ‪ ،میرے پاس رہو ''‪ .....اس نے لڑکی کو اپنے
‫ساتھ لگا لیا اور کہا‪ '' ......میں اس اتفاق پر حیران ہو رہا ہوں کہ ہماری مالقات ہوگئی ہے ۔ یہ ایک معجزہ ہے جس
‫سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ۔ ہم نے بہت بُری شکست کھائی ہے ‪ ،لیکن یہ سب
‫دھوکا تھا ''‪ ......یہ وہی زخمی قیدی تھا جو دوسروں سے الگ تھلگ اور چہرے مہرے سے جسم سے معمولی سپاہی
‫اعلی رتبے کا لگتا تھا ۔ صالح الدین ایوبی نے بھی کہا تھا کہ یہ کوئی معمولی سپاہی نہیں ‪ ،اس پر نظر رکھنا ‪،
‫نہیں بلکہ
‫ٰ
‫علی بن سفیان اس سے تفتیش اور تحقیقات کرے گا۔
‫''کتنے زخمی ہو؟'' لڑکی نے اس سے پوچھا‪ '' .....کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی؟ ''
‫میں بالکل ٹھیک ہوں'' ‪ ...رابن نے جواب دیا ‪ '' ....خراش تک نہیں آئی ۔ انہیں بتایا ہے کہ اندر کی چوٹیں ''
‫ہیں اور سینے کے اندر شدید درد ہے ‪ ،لیکن میں بالکل تندرست ہوں ''۔
‫پھر یہاں کیوں آ گئے؟'' ‪ .....لڑکی نے پوچھا ۔ ''
‫میں نے بہت کوشش کی کہ مصر میں داخل ہوجائوں اور سوڈانی لشکر تک پہنچ سکوں لیکن ہر طرف اسالمی فوج پھیلی ''
‫ہوئی ہے ۔ کوئی راستہ نہیں مال ۔ ان پانچ زخمیوں کو اکٹھا کیا اور ان کے ساتھ زخمی بن کر یہاں آگیا ۔ اب فرار کی
‫کوشش کروں گا جو ابھی ممکن نظر نہیں آتی ''‪ ......اس نے ذرا غصے سے کہا‪ ''.....مجھے دو سوالوں کا جواب
‫دو ۔ ایوبی کو میں نے زندہ دیکھا ہے ‪ ،کیوں؟ کیا تیر ختم ہوگئے تھے یا وہ حرام خور بزدل ہوگئے ہیں؟اور دوسرا سوال یہ
‫''ہے کہ تم سات کی سات لڑکیاں مسلمانوں کی قید میں کیوں آگئیں؟ کیا وہ پانچوں مر گئے ہیں یا بھاگ گئے ہیں؟
‫وہ زندہ ہیں رابن ! ''‪ ...موبی نے کہا‪ ''....تم کہتے ہو کہ خدائے یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے لیکن ''
‫میں کہتی ہوں کہ ہمارا خدا ہمیں کسی گناہ کی سزا دے رہا ہے ۔ صالح الدین ایوبی اسے لیے زندہ ہے کہ تیر اس کے
‫پائوں کے درمیان ریت میں لگا تھا '' ۔
‫''کیا تیر کسی لڑکی نے چالیا تھا؟''‪ ......رابن نے پوچھا‪ '' .....کرسٹوفر کہاں تھا؟ ''
‫''‪.....اُسی نے تیر چالیا تھا مگر''
‫کرسٹوفر کا تیر خطا گیا؟''‪ ......رابن نے حیرت سے تڑپ کر پوچھا‪ '' .....وہ کرسٹوفر جس کی تیر اندازی نے ''
‫شاہ آگسٹسن کو حیران کر دیا اور اس کی ذاتی تلوار انعام میں لی تھی ‪ ،یہاں آکر اس کا نشانہ اتنا چوک گیا کہ چھ فٹ
‫لمبا اور تین فٹ چوڑا صالح الدین ایوبی اس کے تیر سے بچ گیا؟ بد بخت کے ہاتھ ڈر سے کانپ گئے ہونگے ''۔
‫فاصلہ زیادہ تھا ''‪ .....موبی نے کہا‪ '' .....اور کرسٹوفر کہتا تھا کہ تیر کمان سے نکلنے ہی لگا تھا کہ کھلی ''
‫ہوئی آنکھ میں مچھر پڑ گیا۔ اسی حالت میں تیر نکل گیا ''۔
‫''پھر کیا ہوا؟''
‫جو ہونا چاہیے تھا ''‪ ....موبی نے کہا‪ ''......صالح الدین ایوبی ساحل پر گیا تھا تو اس کے تین کمانڈر تھے ''
‫اور چار محافظوں کا دستہ تھا۔ وہ ہر طرف پھیل گئے ۔ یہ تو ہماری خوش قسمتی تھی کہ عالقہ چٹانی تھا ‪ ،کرسٹوفر بچ
‫کے نکل آیا اور پھر ہمیں اتنا وقت مل گیا کہ ترکش اور کمان ریت میں دبا کر اوپر اونٹ بٹھا دیا ۔ سپاہی آگئے تو کرسٹوفر
‫نے انہیں بتایا کہ وہ پانچوں مراکش کے تاجر ہیں اور یہ لڑکیاں سمندر سے نکل کر ہماری پناہ میں آئی ہیں۔ مسلمان سپاہیوں
‫نے ہمارے سامان کی تالشی لی ۔ انہیں تجارتی سامان کے سوا کچھ بھی نہ مال ۔ وہ ہم سب کو سلطان ایوبی کے سامنے
‫لے گئے ۔ ہم نے یہ ظاہر کیا کہ ہم سسلی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتیں ۔ کرسٹوفر نے ایوبی سے کہا کہ وہ
‫ہماری زبان جانتا ہے ۔ ہم ساتوں لڑکیوں نے چہروں پر گھبراہٹ اور خوف پیدا کر لیا ''۔
‫موبی نے رابن کو وہ ساری باتیں سنائیں جو سلطان ایوبی کے ساتھ ہوئی تھیں ۔ یہ سات لڑکیاں اور پانچ آدمی جو مراکشی
‫تاجروں کے بھیس میں تھے‪ ،حملے سے دو روز پہلے ساحل پر اُتر گئے تھے۔ پانچوں آدمی صلیبیوں کے تجربہ کار جاسوس اور
‫کمانڈو تھے اور لڑکیاں بھی جاسوس تھیں۔ جاسوسی کے عالوہ ان کے ذمے یہ کام بھی تھا کہ مسلمان ساالروں کو اپنے جال
‫میں پھانسیں ۔ وہ خوبصورت تو تھیں ہی ‪ ،انہیں جاسوسی اور ذہنوں کی تخریب کاری کی خاص ٹریننگ دی گئی تھی۔ اس
‫ٹریننگ میں اداکاری خاص طور پر شامل تھی ۔ پانچ مردوں کا یہ مشن تھا کہ صالح الدین ایوبی کو ختم کرنا اور ناجی کے
‫ساتھ رابطہ رکھنا ۔ یہ لڑکیاں مصر کی زبان روانی سے بول سکتی تھیں ‪ ،لیکن انہوں نے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔ رابن اس
‫شعبے کا سربراہ تھا ۔ اسے ناجی تک پہنچنا تھا ‪ ،مگر صالح الدین ایوبی اور علی بن سفیان کی چال نے یہاں کے حاالت
‫کا ُرخ ہی اُلٹا کر دیا ۔
‫کیا تم صالح الدین ایوبی کو جال میں نہیں پھانس سکتیں ؟''‪.....رابن نے پوچھا ۔''
‫ابھی تو یہاں پہلی رات ہے ''‪ .......موبی نے کہا‪ '' .......اس نے ہمارے متعلق جو فیصلہ دیا ہے ‪ ،اگر وہ ''
‫سچے ِدل سے دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرد نہیں پتھر ہے ‪ ،اگر اُسے ہمارے ساتھ کوئی دلچسپی ہوتی تو کسی
‫ایک لڑکی کو اپنے خیمے میں بال لیتا‪......اسے قتل کرنا بھی آسان نہیں ۔ وہ ایک ہی بار ساحل پر آیا تھا ‪ ،مگر تیر

‫خطا گیا۔ وہ ساالروں اور محافظوں کے نرغے میں رہتا ہے ۔ اِدھر ایک سنتری ہمارے سر پر کھڑا ہے اور محافظوں کے پور ے
‫دستے نے صالح الدین ایوبی کے خیمے کو گھیر رکھا ہے ''۔
‫وہ پانچوں کہاں ہیں ؟''‪ .........رابن نے پوچھا ۔''
‫تھوڑی دور ہیں ؟''‪ .......موبی نے جواب دیا‪ ''...وہ ابھی یہیں رہیں گے ''۔ ''
‫سنو موبی !''‪ ....رابن نے کہا‪ '' ....اس شکست نے مجھے پاگل کر دیا ہے ۔ میرے ضمیر پر اتنا بوجھ آپڑا ''
‫ہے ‪ ،جیسے اس شکست کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے ۔ صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف تو سب سے لیا گیا ہے‪ ،لیکن
‫ایک سپاہی کے حلف میں اور میرے حلف میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ میرے رتبے کو سامنے رکھو۔ میرے فرائض کو
‫دیکھو ۔ آدھی جنگ مجھے زمین کے نیچے اور پیٹھ کے پیچھے سے وار کر کے جیتنی تھی‪ ،مگر میں اور تم سات اور وہ
‫پانچ اپنا فرض ادا نہیں کر سکے ۔ مجھ سے یہ صلیب جواب مانگ رہی ہے ''‪ .......اس نے گلے میں ڈالی ہوئی
‫صلیب ہاتھ میں لے کرکہا‪ '' .....میں اسے اپنے سینے سے جدا نہیں کر سکتا ''‪ ......اس نے موبی کی صلیب
‫ہاتھ میں لے لی اور کہا‪ '' .....تم اپنے ماں باپ کو دھوکہ دے سکتی ہو ‪ ،اس صلیب سے آنکھیں نہیں ُچرا سکتیں۔
‫اس نے جو فرض تمہیں سونپا ہے ‪ ،وہ پورا کرو۔ خدا نے تمہیں جو ُحسن دیا ہے ‪ ،وہ چٹانوں کو پھاڑ کر تمہیں راستہ دے
‫دے گا ۔ میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ ہماری اچانک اور غیر متوقع مالقات اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔
‫ہمارے لشکر بحیرئہ روم کے ا ُس پار اکٹھے ہو رہے ہیں ۔ جو مرگئے ‪ ،سو مر گئے ‪ ،جو زندہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ
‫شکست نہیں دھوکا تھا۔ تم اپنے خیمے میں واپس جائو اور ان لڑکیوں سے کہو کہ خیمے میں نہ پڑی رہیں ۔ بار بار صالح
‫الدین ایوبی سے ملیں ۔ اس کے ساالروں سے ملیں ۔ بے تکلفی پیدا کریں۔ مسلمان ہونے کا جھانسہ دیں ۔ آگے وہ جانتی ہیں
‫کہ انہیں کیا کرنا ہے ''۔
‫سب سے پہلے تو یہ معلوم کرنا ہے یہ ہوا کیا ہے ؟'' ‪ ....موبی نے کہا‪ '' ...کیا سوڈانیوں نے ہمیں دھوکہ دیا ''
‫ہے ؟'' ۔
‫میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا ''‪ .....رابن نے کہا‪ '' ....میں نے حملے سے بہت پہلے مصر میں ''
‫پھیالئے ہوئے اپنے جاسوسوں سے جو معلومات حاصل کیں تھیں ‪ ،وہ یہ ہیں کہ صالح الدین ایوبی کو سوڈانیوں کے پچاس
‫ہزار محافظ لشکر پر بھروسہ نہیں ‪ ،حاالنکہ یہ مسلمانوں کے وائسرائے مصر کی اپنی فوج ہے۔ ایوبی نے آکر مصری فوج تیار
‫کرلی ہے ۔ سوڈانی اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ۔ ان کے کمانڈر ناجی نے ہم سے مدد طلب کی تھی ۔ میں نے اس کا
‫خط دیکھا تھا اور میں نے تصدیق کی تھی کہ یہ خط ناجی کا ہی ہے اور اس میں کوئی دھوکہ نہیں مگر ہمارے ساتھ تاریخ
‫کا سب سے بڑا دھوکہ ہوا ہے ۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ کیسے ہوا ؟ کس نے کیا ؟ میں یہ چھان بین کیے بغیر
‫واپس نہیں جا سکتا ۔ شاہ آگسٹسن نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ میں مسلمانوں کے گھروں کے اندر کے بھید معلوم کر کے
‫ان کی بنیادیں ہال دوں گا ۔ اب تصور کرو موبی ! شہنشاہ کے ِدل پر کیا گزر رہی ہوگی ۔ وہ مجھے سزائے موت سے کم
‫کیا سزا دے گا ! صلیب کا قہر مجھ پر الگ نازل ہوگا ''۔
‫میں سب جانتی ہوں ''‪ ......موبی نے کہا‪ '' ....جذباتی باتیں نہ کرو ‪ ،عمل کی بات کرو ‪ ،مجھے بتاو میں ''
‫کیا کروں ''۔
‫رابن کے اعصاب پر اپنا فرض اور شکست کا احساس غالب تھا رابن نے موبی کے بالوں کے لمس کو ذرا سا محسوس کیا
‫اور کہا‪ ''.......موبی ! تمہارے یہ بال ایسی مظبوط زنجیریں ہیں جو صالح الدین ایوبی کے گرد لپٹ گئیں تو وہ تمہارا
‫غالم ہو جائے گا ‪ ،لیکن تمہیں سب سے پہال جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ کرسٹوفر اور اس کے ساتھیوں سے کہو کہ وہ
‫تاجروں کے بھیس میں ناجی کے پاس پہنچیں اور معلوم کریں کہ اس کے لشکر نے بغاوت کیوں نہیں کی اور یہ راز فاش کس
‫طرح ہوا کہ اس سے فائدہ ا ُٹھا کر صالح الدین ایوبی نے گنتی کے چند ایک دستے گھات میں بٹھا کر ہماری تین افواج کا
‫بیڑہ غرق کر دیا اور انہیں یہ بھی کہو کہ معلوم کریں کہ ناجی صالح الدین ایوبی سے ہی تو نہیں مل گیا؟ اور اس نے ہمارا
‫یہی حشر کرانے کیلئے ہی تو خط نہیں لکھا؟ اگر ایسا ہی ہوا ہے تو ہمیں اپنے جنگی منصوبوں میں ردو بدل کرنا ہوگا ۔
‫مجھے یہ یقین ہو گیا ہے کہ اسالمیوں کی تعداد کتنی ہی تھوڑی کیوں نہ ہوں ‪ ،انہیں ہم آسانی سے شکست نہیں دے سکتے
‫۔ ضروری ہو گیا ہے کہ ان کے حکمرانوں کا اور عسکری قیادت کا جذبہ ختم کیا جائے ۔ ہم نے تم جیسی لڑکیاں عربوں کے
‫حرموں میں داخل کر دی ہیں '' ۔
‫تم نے بات پھر لمبی کر دی ہے ''‪ .......موبی نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا‪ '' .......ہم اپنے گھر میں ایک ''
‫بستر پر نہیں لیٹے ہوئے کہ بڑے مزے سے ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے رہیں ۔ ہم دشمن کے کیمپ میں قید اور پابند
‫ہیں ۔ باہر سنتری پھر رہے ہیں ‪ ،رات گزرتی جا رہی ہے ۔ ہمارے پاس لمبی باتوں کا وقت نہیں ۔ ہمارا مشن تباہ ہو چکا
‫ہے ۔ اب بتاو کہ ان حاالت میں ہمارا مشن کیا ہونا چاہیے۔ ہم سات لڑکیاں اور چھ مرد ہیں ۔ ہم کیا کریں ۔ ایک یہ کہ
‫ناجی کے پاس جائیں اور اس کے دھوکے کی چھان بین کریں ‪ ،پھر کسے اطالع دیں؟ تم کہاں ملو گے ؟'' ۔
‫میں یہاں سے فرار ہوجاوں گا ''‪ ......رابن نے کہا‪ '' ......لیکن فرار سے پہلے اس کیمپ ‪ ،اس کی نفری اور ''
‫ایوبی کے آئندہ عزائم کے متعلق تفصیل معلوم کروں گا ۔ اس شخص کے متعلق ہمیں بہت چوکنا رہنا ہوگا ۔ اس وقت اسالمی
‫قوم میں یہ واحد شخص ہے جو صلیب کیلئے خطرہ ہے ‪ ،ورنہ اسالمی خالفت ہمارے جال میں آتی چلی جا رہی ہے ۔ شاہ
‫ایملرک کہتا تھا کہ مسلمان اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ اب ان کو ہمیشہ کیلئے اپنے پاوں میں بٹھانے کیلئے صرف ایک پل
‫کی ضرورت ہے ‪ ،مگر اس کا یہ عزم محض خوش فہمی ثابت ہوا ۔ مجھے یہاں رہ کر ایوبی کی کمزور رگیں دیکھنی ہیں اور
‫تمہیں پانچ آدمیوں کے ساتھ مل کر سوڈانی لشکر کو بھڑکانا اور بغاوت کرانی ہے ۔ نہایت ضروری یہ ہے کہ ایوبی زندہ نہ
‫رہے ‪ ،اگر وہ زندہ رہے تو ہمارے اس قید خانے میں زندہ رہے ‪ ،جہاں وہ عمر کے آخری گھڑی تک سورج نہ دیکھ سکے اور
‫رات کو آسمان کا اسے ایک بھی تارہ نظر نہ آئے‪ ....تم پہلے اپنے خیمے میں جاو اور اپنی چھ لڑکیوں کو ان کا کام
‫سمجھا دو۔ انہیں خاص طور پر ذہن نشین کرادو کہ اُس آدمی کا نام علی بن سفیان ہے جسے اِن ریشمی بالوں‪ ،شربتی آنکھوں
‫اور اتنے دلکش جسموں سے ایسے بیکار کرنا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے کام کا نہ رہے اور اگر ہو سکے تو اس کے اور
‫صالح الدین ایوبی کے درمیان ایسی غلط فہمی پیدا کرنی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں ۔ تم سب اچھی طرح
‫جانتی ہو کہ دو مردوں میں غلط فہمی اور دشمنی کس طرح پیدا کی جاتی ہے ‪ ..............جاو اور لڑکیوں کو
‫مکمل ہدایت دے کر کرسٹوفر کے پاس پہنچو ۔ اسے میرا سالم کہنا اور یہ بھی کہنا کہ تیرے تیر کو ایوبی پر آکر ہی خطا
‫ہونا تھا؟ اب اس گناہ کا کفارہ ادا کرو اور جو کام تمہیں سونپا گیا ہے ‪ ،وہ سو فیصد پورا کرو '' ۔

‫رابن نے موبی کے بالوں کو چوم کر کہا‪ ''.....تمہیں صلیب پر اپنی عزت بھی قربان کرنا پڑے گی ‪ ،لیکن خدائے یسوع
‫مسیح کی نظروں میں تم مریم کی طرح کنواری رہو گی ۔ اسالم کو جڑ سے اُکھاڑنا ہے ۔ ہم نے یروشلم لے لیا ہے ۔ مصر
‫بھی ہمارا ہوگا
‫موبی رابن کے بستر سے نکلی اور خیمے کے پردے کے پاس جا کر پردہ اُٹھایا ‪ ،باہر جھانکا ‪ ،اندھیرے میں اسے کچھ بھی
‫نظر نہ آیا ۔ وہ باہر نکل گئی اور خیمے کی اوٹ سے دیکھا کہ سنتری کہاں ہے۔ اسے دور کسی کے گنگنانے کی آواز سنائی
‫دی ۔ یہ سنتری ہی ہو سکتا تھا۔ موبی چل پڑی ۔ درختوں سے گزرتی قدم قدم پر پیچھے دیکھتی وہ ٹیلے تک پہنچ گئی
‫اور اپنے خیمے کا ُر خ کر لیا ۔ نصف راستہ طے کیا ہوگا کہ اسے دو آدمیوں کی دبی دبی باتوں کی آوازیں سنائی دینے
‫لگیں ۔یہ آوازیں اس کے خیمے کے قریب معلوم ہوتی تھیں ۔ اسے یہ خطرہ نظر آنے لگا کہ سنتری نے معلوم کر لیا ہے کہ
‫ایک لڑکی غائب ہے اور وہ کسی دوسرے سنتری یا اپنے کمانڈر کو بال الیا ہے۔ اس نے سوچا کہ خیمے میں جانے کی بجائے
‫ان پانچ ساتھیوں کے پاس چلی جائے جو مراکشی تاجروں کے بھیس میں کوئی ڈیڑھ ایک میل دور خیمہ زن تھے مگر اسے یہ
‫خیال بھی آگیاک ہ اس کی گمشدگی سے باقی لڑکیوں پر مصیبت آجائے گی ۔ وہ تھیں تو چاالک ‪ ،پھر بھی ان پر پابندیاں
‫سخت ہونے کا خطرہ تھا اور کوئی چارہ کار بھی نہ تھا ۔ موبی ذرا اور آگے چلی گئی تا کہ ان دو آدمیوں کی باتیں سن
‫سکے۔ ان کی زبان وہ سمجھتی تھی ۔ یہ تو اس نے دھوکا دیا تھا کہ وہ سسلی کی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں
‫‪.سمجھتی
‫داستان ایمان فروشوں کی ‪ 
‫قسط ‪12
‫وہ آدمی خاموش ہوگئے ۔ موبی دبے پائوں آگے بڑھی۔ اسے بائیں طرف قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے چونک کر دیکھا ۔
‫درختوں کے درمیان اسے ایک سیاہ سایہ جو کسی انسان کاتھا ‪ ،جاتا نظر آیا ۔ اس نے رخ بدل لیا اورٹیلے کی طرف آنے لگا
‫۔ موبی کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی ۔ وہ ٹیلے پر چڑھنے لگی۔ ٹیال اونچا نہیں تھا ۔ فورا ہی اوپرچلی گئی ۔ وہ
‫تھی تو بہت ہوشیار ‪ ،لیکن ہر انسان‪ ،ہر قدم پر پوری احتیاط نہیں کر سکتا ۔ وہ ٹیلے کی چوٹی پر کھڑی ہوگئی۔ اس کے
‫پس منظر میں ستاروں سے بھرا ہوا آسمان تھا ۔ سمندر اور صحرا کی فضا رات کو آئینے کی طرح شفاف ہوتی ہے ۔ درختوں
‫میں جاتے ہوئے آدمی نے ٹیلے کی چوٹی پر ٹنڈ منڈ درخت کے تنے کی طرح کا ایک سایہ دیکھا ۔ موبی نے پہلو اس آدمی
‫کی طرف کردیا ۔ اس کے بال کھلے ہوئے تھے ‪ ،جنہیں اس نے ہاتھ سے پیچھے کیا۔ اس کی ناک کا ابھار اور لمبا لبادہ
‫تاریکی میں بھی راز کو فاش کرنے لگا ۔ یہ آدمی سنتریوں کا کماندار تھا ۔ وہ آدھی رات کے وقت کیمپ کے گشت پر نکال
‫اور سنتریوں کو دیکھتا پھر رہا تھا ۔ یہ سنتریوں کی تبدیلی کا وقت تھا ۔ کماندار اس لیے زیادہ چوکس تھا کہ سلطان ایوبی
‫تین ساالروں کے ساتھ کیمپ میں موجود تھا ۔ سلطان ڈسپلن کا بڑا ہی سخت تھا ۔ ہر کسی کو ہر لمحہ خطرہ لگا رہتا تھا
‫کہ سلطان رات کو اٹھ کر گشت پر آجائے گا ۔ کماندار سمجھ گیا کہ ٹیلے پر کوئی لڑکی کھڑی ہے ۔ اسی شام کمان داروں
‫کو خبردار کیا گیا تھا کہ صلیبیوں نے جاسوسی اور تخریب کاری کیلئے لڑکیوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔ یہ لڑکیا ں
‫صحرائی خانہ بدوشوں کے بہروپ میں بھی ہو سکتی ہیں اور ایسی غریب لڑکیوں کے بھیس میں بھی جو فوجی کیمپوں میں
‫کھانے کی بھیگ مانگنے آتی ہیں اور یہ لڑکیاں اپنے آپ کو مغویہ اور مظلوم ظاہر کر کے پناہ مانگ سکتی ہیں ۔ کمانداروں
‫کو بتایا گیا تھا کہ آج رات سات لڑکیاں سلطان کی پناہ میں آئی ہیں‪ ،جنہیں بظاہر رحم کرکے مگر انہیں مشتبہ سمجھ کر
‫پناہ میں لے لیا گیا ہے ۔ اس کے کماندار نے یہ احکام سن کر اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا ‪''........اللہ کرے ایسی
‫کوئی لڑکی مجھ سے پناہ مانگے''‪ ........اور وہ دونوں ہنس پڑھے تھے ۔ اب آدھی رات کے وقت جب ساراکیمپ سو
‫رہاتھا ‪ ،اسے ٹیلے پر ایک لڑکی کا ہیوال نظر آرہا تھا۔ پہلے تو وہ ڈرا کہ یہ چڑیل یا جن ہو سکتا ہے ۔ اس نے نئے سنتری
‫کو لڑکیوں کے خیمے پر کھڑا کرکے اسے بتایا تھا کہ اندر سات لڑکیاں ہیں ۔ اس نے پردہ اُٹھا کر دیکھا تو دئیے کی روشنی
‫میں اسے سات بستر نظر آئے تھے۔ ہر لڑکی نے منہ بھی کمبلوں میں ڈھانپ رکھا تھا ۔ سردی زیادہ تھی ۔ اس نے اندر جا
‫کر یہ نہیں دیکھا کہ ساتواں بستر خالی ہے اور اس پر کمبل اس طرح رکھے گئے ہیں جیسے ان کے نیچے لڑکی سو ئی ہوئی
‫ہو۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ ساتویں لڑکی ٹیلے پر اس کے سامنے کھڑی ہے ۔ وہ کچھ دیر سوچتارہا کہ اسے آواز دے یا اس
‫تک خود جائے یا اگر و ہ جن یاچڑیل ہے تو اس کے غائب ہونے کا انتظار کرے ۔ تھوڑی سی دیر کے انتظار کے بعدبھی
‫لڑکی غائب نہ ہوئی ‪،بلکہ وہ تین قدم آگے چلی اور پھر پیچھے کو چل پڑی اور پھر ُرک گئی۔ کماندار جس کا نام فخر
‫المصری تھا ‪ ،آہستہ آہستہ ٹیلے تک گیا اور کہا ‪''......کون ہو تم ؟ نیچے آئو''۔ لڑکی نے ہرن کی طرح چوکڑی بھری
‫اور ٹیلے کی دوسری طرف ا ُتر گئی۔ فخر کو یقین آگیاکہ کوئی انسان ہے ‪ ،جن چڑیل نہیں ۔ وہ تنومند مرد تھا ۔ ٹیال اونچا
‫نہیں تھا ۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ٹیلے پر چڑھ گیا ۔ اُدھر بھی اندھیرا تھا ۔ رات کی خاموشی میں اسے لڑکی کے قدموں
‫کی آہٹ سنائی دی ۔ وہ ٹیلے سے دوڑتا ا ُترا اور لڑکی کے پیچھے گیا ۔ لڑکی اور تیز دوڑ پڑی ۔ فاصلہ بہت کم تھا لیکن
‫فخر مرد تھا ‪ ،فوجی تھا ‪ ،چیتے کی رفتا ر سے دوڑرہا تھا
‫۔ ٹیلے کے پیچھے ا ُونچی نیچی زمین خشک جھاڑیاں اور کہیں کہیں کو ئی درخت تھا ۔ بہت سا دوڑ کر فخر المصری نے
‫محسوس کیا کہ اس کے آگے تو کوئی بھی نہیں ۔ اِس نے ُرک کر اِدھر اُدھر دیکھا ۔ اسے اپنے پیچھے بائیں کو لڑکی کے
‫قدموں کی آہٹ سنائی دی ۔ وہ تربیت یافتہ لڑکی تھی ‪ ،جہاں اسے ُحسن اور شباب کے استعمال کی تربیت دی گئی تھی ‪،
‫وہا ں اسے فوجی ٹریننگ بھی دی گئی تھی اور خنجر زنی کے دائو پیچ بھی سکھائے گئے تھے۔ وہ ایک درخت کی اوٹ
‫میں چھپ گئی تھی ۔ فخر آگے گیا تو وہ دوسری طرف دوڑ پڑی ۔ یہ تعاقب آنکھ مچولی کی مانند تھا۔ فخر کو
‫اندھیراپریشان کر رہا تھا۔ موبی کے قدم خاموش ہوجاتے تو وہ ُرک جاتا ۔ قدموں کی آواز سنائی دیتی تو وہ دوڑ پڑتا ۔ غصے
‫سے وہ باوال ہوا جارہاتھا ۔ اس نے یہ جان لیا تھا کہ یہ کوئی جوان لڑکی ہے ‪ ،اگر بڑی عمر کی ہوتی تو اتنی تیز اور اتنا
‫زیادہ نہ بھاگ سکتی ۔ تعاقب میں فخر دو میل فاصلہ طے کر گیا ۔ موبی نے جھاڑیوں اور اونچی نیچی زمین سے بہت فائدہ
‫ا ُٹھایا ۔ اس کے مرد ساتھیوں کا ڈیرہ قریب آگیاتھا۔ وہ دوڑتی ہوئی وہاں تک جا پہنچی ۔ اس نے اپنے آدمیوں کو آوازیں دیں
‫۔ و ہ گھبرا کر جاگے اور خیمے سے باہر آئے ۔ ایک نے مشعل جاللی ۔ یہ ڈنڈے کے سرے پر لپٹے ہوئے کپڑے تھے۔ ان
‫کی آگ کی روشنی بہت زیادہ تھی ۔ فخر نے تلوار سونت لی اور ہانپتا کانپتا ان کے سامنے جا کھڑا ہوا
‫اس نے دیکھا کہ یہ پانچ آدمی لباس سے سفری تاجر نظر آتے ہیں اور مسلمان لگتے ہیں۔ لڑکی ان میں سے ایک کی ٹانگوں
‫کو دونوں بازوئوں میں مضبوطی سے پکڑے بیٹھی ہوئی تھی ۔ مشعل کے ناچتے شعلے میں اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور
‫خوف نظر آ رہا تھا ۔ اس کا سینہ اُبھراور بیٹھ رہا تھا ۔ اس کی سانسیں بُری طرح اُکھڑ ی ہوئی تھیں ۔''یہ لڑکی میرے

‫حوالے کر دو''‪.............فخر المصری نے حکم کے لہجے میں کہا ۔''یہ ایک نہیں''‪ .............ایک
‫آدمی نے التجا کے لہجے میں جواب دیا ‪''.............ہم نے تو سات لڑکیاں آپ کے سلطان کے حوالے کی ہیں ۔
‫آپ اسے لے جا سکتے ہیں''۔''نہیں''‪ .... .............موبی نے اس کی ٹانگوں کو اور مضبوطی سے پکڑتے
‫ہوئے ‪ ،روتے ہوئے اور خوف زدہ لہجے میں کہا ‪''...........میں اس کے ساتھ نہیں جاوں گی ۔ یہ لوگ عیسائیوں
‫سے زیادہ وحشی ہیں ۔ ان کا سلطان انسان نہیں سانڈ ہے ‪ ،درندہ ہے ۔ اس نے میری ہڈیاں بھی توڑ دی ہیں ۔ میں اس
‫سے بھاگ کر آئی ہوں''۔''کون سلطان؟''‪ ...... .......فخر نے حیران سا ہو کر پوچھا ۔''وہی جسے تم صالح
‫الدین ایوبی کہتے ہو''‪... ...........موبی نے جواب دیا ۔ وہ اب مصر کی زبان بول رہی تھی ۔''یہ لڑکی جھوٹ
‫بول رہی ہے''‪ ..........فخر نے کہا اور پوچھا ‪''...........یہ ہے کو ن ؟ تمہاری کیا لگتی ہے ؟''۔''اندر
‫آجاو دوست ! باہر سردی ہے''‪ ..........ایک آدمی نے فخر سے کہا ‪''...........تلوار نیام میں ڈال لو ۔ ہم
‫تاجر ہیں ۔ ہم سے آپ کو کیاخطرہ ۔ آئو۔ اس لڑکی کی بپتا سن لو''‪ .......اس نے آہ بھر کر
‫کہا ‪''..........میں آ پ کے سلطان کو مر ِد مومن سمجھتا تھا مگر ایک خوبصورت لڑکی دیکھ کر وہ ایمان سے ہاتھ
‫دھو بیٹھا ۔ وہ باقی چھ لڑکیوں کا بھی یہی حشر کر رہا ہوگا''۔''ان کا یہ حشر دوسرے ساالروں نے کیا
‫ہے''‪ .. .............موبی نے کہا ‪''........شام کو ان بے چاریوں کو اپنے خیمے میں لے گئے تھے اور انہیں
‫بے ُس دھ کر کے خیمے میں ڈال دیا ۔ وہ خیمے میں بے ہوش پڑی ہیں''۔ فخرالمصری تلوار نیام میں ڈال کر ان کے ساتھ
‫خیمے میں چال گیا ۔ اندر جا کر بیٹھے تو آدمی نے آگ جال کر قہوے کے لیے پانی رکھا اور اس میں جانے کیا کچھ ڈالتا
‫رہا ۔ دوسرے آدمی نے فخر سے پوچھا کہ اس کا ُرتبہ کیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ وہ کمان دار اور عہدے دارہے ۔انہوں نے اس
‫کے ساتھ بہت سی باتیں کیں جن سے انہوں نے اندازہ کر لیا کہ یہ شخص عام قسم کا سپاہی نہیں اور ذمہ دار فرد ہے ۔
‫ذہین اور دلیر بھی ہے ۔ ان لوگوں میں سے ایک (کرسٹوفر تھا) فخر کو سات لڑکیوں کی بالکل وہی کہانی سنائی جو انہوں
‫نے صالح الدین ایوبی کو سنائی تھی ۔ انہوں نے فخر کو یہ بھی بتایا کہ سلطان ایوبی نے ان کے متعلق کیا کہا تھا ۔ ان
‫لڑکیوں نے سلطان کو پیشکش بھی کی تھی کہ وہ اپنے گھروں کو تو واپس نہیں جا سکتیں اور عیسائیوں کے پاس بھی نہیں
‫جانا چاہتیں ‪ ،اس لیے وہ مسلمان ہونے کو تیار ہیں ‪ ،بشرطیکہ کوئی اچھے رتبوں والے عسکری اُن کے ساتھ شادی کر لیں ۔
‫ہم نے سنا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کردار کے لحاظ سے پتھر ہے ۔ ہم ہر روز سفر پر رہنے والے تاجر ہیں ‪ ،انہیں
‫کہاں ساتھ لیے لیے پھرتے ۔ ا ُنہیں سلطان کے حوالے کر دیا گیا ‪ ،مگر سلطان نے اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک کیا ‪ ،وہ اس
‫کی زبانی سن لو
‫فخر المصری نے لڑکی کی طرف دیکھا تو لڑکی نے کہا ……''ہم بہت خوش تھیں کہ خدا نے ہمیں ایک فرشتے کی پناہ دی
‫ہے ۔ سورج غروب ہونے کے بعد سلطان کا ایک محافظ آیا اور مجھے کہا کہ سلطان بالرہا ہے ۔ میں باقی چھ لڑکیوں کی
‫نسبت ذرا زیادہ خوبصورت ہوں ۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ تمہارا ایوبی بُری نیت سے بال رہا ہے ‪ ،میں چلی گئی ۔ سلطان
‫ایوبی نے شراب کی صراحی کھولی ۔ ایک پیالہ اپنے آگے رکھا اور ایک مجھے دیا ۔ میں عیسائی ہوں ‪ ،شراب سو بار پی
‫ہے ۔ بحری جہاز میں عیسائی کمان داروں نے میرے جسم کو کھلونہ بنائے رکھا ہے ۔ صالح الدین ایوبی بھی میرے جسم کے
‫ساتھ کھیلنا چاہتا تھا۔ لیکن ایوبی کو میں فرشتہ سمجھتی تھی ۔ میں اس کے جسم کو اپنے ناپاک جسم سے دور رکھنا
‫چاہتی تھی ‪ ،مگر وہ ان عیسائیوں سے بدتر نکال‪ ،جو مجھے بحری جہاز میں الئے تھے اور جب اُن کا جہاز ڈوبنے لگا تو
‫انہوں نے ہمیں ایک کشتی میں ڈال کر سمندر میں ا ُتار دیا ۔ ان میں سے کسی نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔ ہمارے جسم چچوڑے
‫ہوئے اور ہڈیاں چٹخی ہوئی تھیں ……''خدانے ہمیں بچالیا اور اس آدمی کی پناہ میں پھینک دیا جو فرشتے کے روپ میں
‫درندہ ہے ۔ مجھے سلطان نے ہی بتایاتھا کہ میرے ساتھ کی باقی چھ لڑکیاں اس کے ساالروں کے خیموں میں ہیں ۔ میں
‫نیت سلطان کے پاوں پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ شادی کرلو۔ اس نے کہا اگر تم مجھے پسند کرتی ہوتو شادی کے بغیر تمہیں
‫اپنے حرم میں رکھ لوں گا…اس نے میرے ساتھ وحشیوں کا برتاو کیا ۔ شراب میں بد مست تھا۔ ‪ ،جوں ہی اس کی آنکھ لگی
‫۔ میں وہاں سے بھاگ آئی ۔ اگر میری بات کا اعتبار نہ آئے تو اس کے محافظوں سے پوچھ لو''۔ اس دوران ایک آدمی نے
‫فخر کو قہوہ پالیا۔ ذراسی دیر بعد فخر کا مزاج بدلنے لگا۔ اس نے نفرت سے قہقہہ لگایا اور کہا…''ہمیں حکم دیتے ہیں کہ
‫عورت اور شراب سے دور رہو اور خود شراب پی کر راتیں عورتوں کے ساتھ گزارتے ہیں''۔ فخر محسوس ہی نہ کر سکا کہ
‫لڑکی کی کہانی محض بے بنیاد ہے اور نہ ہی وہ محسوس کر سکا کہ اس کا مزائج کیوں بدل گیاہے۔اُسے حشیش پالدی گئی
‫تھی ۔ اس پر ایسا نشہ طاری ہوچکاتھا جسے وہ نشہ نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اب اپنے تصوروں میں بادشاہ بن چکاتھا۔ لڑکی کے
‫چہرے پر مشعل کے شعلے کی روشنی ناچ رہی تھی ۔ اس کے بکھرے ہوئے سیاہی مائہل بھورے بال چمک رہے تھے ۔وہ
‫فخر کو پہلے سے زیادہ حسین نظر آنے لگی ۔ اس نے بے تاب ہوکر کہا……''تم اگر چاہوتو میں تمہیں'پناہ میں
‫لیتاہوں''۔''نہیں''…لڑکی ڈر کر پیچھے ہٹ گئی اور بولی …''تم بھی میرے ساتھ اپنے سلطان جیسا سلوک کرو گے۔ تم
‫مجھے اپنے خیمے میں لے جاوگے اور میں ایک بار پھر تمہارے سلطان کے قبضے میں آجاوں گی''۔''ہم تو اب دوسری چھ
‫لڑکیوں کو بھی بچانے کی سوچ رہے ہیں''……ایک تاجر نے کہا……''ہم ان کی عزت بچانا چاہتے تھے مگر ہم سے بھول
‫ہوئی''۔ فخر المصری کی نگاہیں لڑکی پر جمی ہوئی تھیں۔ اس نے اتنی خوب صورت لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی ۔خیمے
‫میں خاموشی طاری ہوگئی ‪ ،جسے کرسٹو فرنے توڑا ۔ اس نے کہا۔''تم عرب سے آئے ہویا مصری ہو؟''''مصری''……فخرنے
‫کہا……''میں دو جنگیں لڑچکاہوں۔اسی لیے مجھے یہ عہدہ دیاگیاہے ۔''''سوڈانی فوج کہاں ہے ‪ ،جس کا ساالرناجی
‫ہے؟''……کرسٹوفر نے پوچھا۔''ا ُس فوج کا ایک سپاہی بھی ہمارے ساتھ نہیں آیا''……فخر نے جواب دیا۔''جانتے ہو ایسا
‫کیوں ہواہے ؟……کرسٹو فرنے کہا ……''سوڈانیوں نے صالح الدین ایوبی کی امارات اور کمان کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ فوج اپنے
‫آپ کو آزاد سمجھتی ہے ۔ناجی نے سلطان ایوبی کو بتادیاتھا کہ وہ مصر سے چلے جائیں ‪ ،کیونکہ وہ غیر ملکی ہیں ۔اسی
‫لیے ایوبی نے مصریوں کی فوج بنائی اور لڑانے کے لیے یہاں لے آیا۔ اس نے تم لوگوں کو شرافت اور نیکی کا جھانسہ دیا اور
‫مال غنیمت مالہے ؟……اگر تمہیں مال بھی تو سونے چاندی کے دو دو ٹکڑے مل جائیں گے ۔
‫خود عیش کررہاہے ۔ کیا تمہیں
‫ِ
‫صلیبیوں کے جہازوں سے بے بہا خزانہ سلطان ایوبی کے ہاتھ آیاہے ۔ وہ سب رات کے اندھیرے میں سینکڑوں اونٹوں پر الد کر
‫قاہراہ روانہ کردیاگیاہے ‪ ،جہاں سے دمشق اور بغداد چالجائے لگا۔سوڈانی لشکر کو سلطان نہتہ کر کے غالموں میں بدل دینا
‫‪.چاہتا ہے ‪،پھر عرب سے فوج آجائے گی اور تم مصری بھی غالم ہوجائوگے
‫اس عیسائی کی ہر ایک بات فخر المصری کے دل میں ا ُتر تی جارہی تھی ۔ اثر باتو ں کا نہیں ‪ ،بلکہ موبی کے حسن اور
‫حسن بن صباح کے حشیشین سے سیکھا تھا۔موبی کو بالکل توقع نہیں تھی کہ یہ
‫حشیش کا تھا۔ عیسائیوں نے یہ حربہ
‫ِ

‫ِ
‫صورت حال پیدا ہوجائے گی کہ ایک مصری اس کے تعاقب میں اس کے دام میں آجائے گا۔انہیں معلوم ہوگیا کہ فخر مصر کی
‫زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتا ۔موبی نے اپنے پانچوں ساتھیوں کو سنانا شروع کردیا کہ رابن زخمی ہونے کا بہانہ
‫کرکے زخمیوں کے خیمے میں پڑا ہے اور اس نے کہا ہے کہ ناجی سے مل کر معلوم کروکہ اس نے بغاوت کیوں نہیں کی یا
‫اس نے عقب سے صالح الدین ایوبی پر حملہ کیوں نہیں کیا اور یہ بھی معلوم کرو کہ اس نے ہمیں دھوکہ تو نہیں دیا؟ وہ
‫باتیں کررہی تھی تو فخر نے پوچھا ……''یہ کیا کہہ رہی ہے ؟'' ''یہ کہہ رہی ہے ''……ایک نے جواب دیا……''اگر یہ
‫شخص یعنی تم صالح الدین کی فوج میں نہ ہوتے تو یہ تمہارے ساتھ شادی کرلیتی ۔یہ مسلمان ہونے کو بھی تیار ہے ‪،لیکن
‫کہتی ہے کہ اسے اب مسلمانوں پر بھروسہ نہیں رہا''۔ فخر نے بے تابی سے لپک کر لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اپنی طرف
‫گھسیٹ کر کہا '' اگر میں بادشاہ ہوتا تو خدا کی قسم تمہاری خاطر تخت اور تاج قربان کردیتا ۔اگر شرط یہی ہے کہ میں
‫صالح الدین ایوبی کی دی ہوئی تلوار پھینک دوں تو یہ لو'' ……اس نے کمر بند سے تلوار کھولی اور نیام سمیت لڑکی کے
‫قدموں میں رکھ دی ۔ کہا ……''میں اب سے ایوبی کا سپاہی اور کمان دار نہیں ہوں ''۔ ''مگر ایک شرط اور بھی ہے
‫''……لڑکی نے کہا ……''میں اپنا مذہب تمہاری خاطر ترک کردیتی ہوں ‪ ،لیکن صالح الدین ایوبی سے انتقام ضرور لوں گی
‫''۔ ''کیا اسے میرے ہاتھ سے قتل کرانا چاہتی ہو؟''فخر نے پوچھا ۔ لڑکی نے اپنے آدمیوں کی طرف دیکھا ۔ سب نے
‫ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ آخر کرسٹوفر نے کہا……''ایک صالح الدین ایوبی نہ رہا تو کیا فرق پڑے گا؟ایک اور سلطان
‫آجائے گا۔ وہ بھی ایساہی ہوگا ۔ مصریوں کو آخر غالم ہی ہونا پڑے گا۔ تم ایک کام کرو۔ سوڈانیوں کے ساالرناجی کے پاس
‫پہنچو اور یہ لڑکی اس کے سامنے کر کے اسے بتاو کہ سلطان صالح الدین ایوبی اصل میں کیا ہے اور اس کے ارادے کیا ہیں
‫؟'' ان لوگوں کویہ تو علم تھا کہ ناجی کا صلیبیوں کے ساتھ رابطہ ہے اور موبی اس کے ساتھ بات کرے گی ‪ ،لیکن انہیں
‫یہ علم نہیں تھا کہ ناجی اور اس کے معتمد ساالر خفیہ طریقے سے مروائے جاچکے ہیں ۔ اس تک لڑکی کوہی جانا تھا۔ اس
‫لہذا اسی کو استعمال کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ آدمی
‫کا اکیلے جانا ممکن نہیں تھا۔ اتفاق سے انہیں فخر المصری مل گیا۔ ٰ
‫چونکہ سلطان ایوبی کی نظر میں آگئے تھے ‪ ،اس لیے بھی اس کی نظر میں رہنا چاہتے تھے ۔ اس کے عالوہ انہوں نے
‫موبی سے سن لیاتھا کہ ان کے شعبہ جاسوسی اور تخریب کاری کا سربراہ رابن اسی کیمپ میں ھے اور فرار ہوگا‪ ،اس لیے
‫وہ اسے مدد دینے کے لیے بھی وہاں موجود رہنا چاہتے تھے ۔ان کے ارادے معلوم نہیں کیا تھے ۔ صالح الدین ایوبی پر چالیا
‫ہوا اِ ن کاتیر خطا گیا تو انہیں سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا تھا۔ ان کا بہروپ اور ڈرامہ کا میاب رہا‪ ،لیکن ان کا
‫ِ
‫صورت حال اور اتفاقات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کررہے تھے ۔ فخر المصری
‫لہذا اب وہ بدلی ہوئی
‫مشن تباہ ہوگیا تھا۔ ٰ
‫حسن اور حشیش کے جال میں آگیا تھا۔اس نے واپس کیمپ میں نہ جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
‫اسکو یہ مشورہ دیاگیا کہ وہ لڑکی کولے کر روانہ ہوجائے ‪ ،ا ُن لوگوں نے اسے اپنا ایک اونٹ دے دیا۔ پانی کا ایک مشکیزہ دیا
‫اور تھیلے میں کھانے کا بہت ساراسامان ڈال دیا۔ ان اشیاء میں کچھ ایسی تھیں جن میں حشیش ملی ہوئی تھی ۔ موبی کو
‫ان کا علم تھا۔ فخر کو ایک لمبا چغہ اور تاجرروں والی دستار پہنادی گئی ۔ لڑکی اونٹ پر سوار ہوئی ۔ اس کے پیچھے فخر
‫سوار ہوگیا اور اونٹ چل پڑا ۔ فخر گرد و پیش سے بے خبر تھا اور وہ اپنے ماضی سے بھی بے خبر ہوگیاتھا۔صرف یہ
‫احساس اس پر غالب تھا کہ روئے زمین کی حسین ترین لڑکی اس کے قبضے میں ہے ‪ ،جس نے سلطان کو ٹھکرا کر اسے
‫پسند کیا ہے ۔ موبی نے کہا……''تم عیسائی کمان داروں اور اپنے سلطان کی طرح وحشی تو نہیں بنوگے ؟میں تمہاری ملکیت
‫ہوں ۔ ''۔ ''کہو تو میں اونٹ سے ا ُتر جاتاہوں ''۔ فخر نے کہا……''مجھے صرف یہ بتادو کہ تم مجھے دل سے
‫چاہتی ہو یا محض مجبوری کے عالم میں میری پناہ لی ہے ؟'' ''پناہ تو میں ان تاجروں کی بھی لے سکتی تھی ''۔
‫موبی نے جواب دیا……''لیکن تم مجھے اتنے اچھے لگے کہ تمہاری خاطر مذہب تک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا''……اس نے
‫جذباتی باتیں کرکے فخر کے اعصاب پر قبضہ کر لیا اور رات گزرتی چلی گئی ۔ سفر کم و بیش پانچ دنوں کا تھا‪ ،لیکن فخر
‫گہری نیند سوگئی ۔اونٹ
‫المصری عام راستوں سے ہٹ کر جارہاتھا‪ ،کیونکہ وہ بھگوڑا فوجی تھا۔ موبی کو نیند آنے لگی ۔
‫چلتارہا‪ ،فخر جاگتارہا
‫…داستان ایمان فروشوں کی ‪ 
‫…ساتویں لڑکی
‫‪#قسط ‪13
‫صالح الدین ایوبی صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا ہی تھا کہ دربان نے اطالع دی کہ علی بن سفیان آیاہے ۔ سلطان دوڑ کر
‫''باہر نکال۔ اس کے منہ سے علی بن سفیان کے سالم کے جواب سے پہلے یہ الفاظ نکلے ……''اُدھر کی کیا خبر ہے ؟
‫ابھی تک خیریت ہے ''……علی بن سفیان نے جواب دیا ……''مگر سوڈانی لشکر میں بے اطمینانی بڑھتی جارہی ہے ۔میں''
‫نے اس لشکر میں اپنے جو مخبر چھوڑے تھے ‪ ،ان کی اطالع سے پتہ چلتاہے کہ ان کے ایک بھی کماندار نے قیادت سنبھال
‫لی تو بغاوت ہوجائے گی ۔'' صالح الدین ایوبی اسے اپنے خیمے میں لے گیا۔علی بن سفیان کہہ رہاتھا……''ناجی اور اس
‫کے سرکردہ ساالروں کو تو ہم نے ختم کردیا ہے ‪ ،لیکن وہ مصری فوج کے خالف سوڈانیوں میں نفرت کا جوزہر پھیال گئے
‫تھے ‪ ،اس کا اثر ذرہ بھر کم نہیں ہوا۔ ان کی بے اطمینانی کی دوسری وجہ اُن کے ساالروں کی گمشدگی ہے ۔ میں نے اپنے
‫امیر محترم !مجھے
‫مخبروں کی زبانی یہ خبر مشہور کرادی ہے کہ ا ُن کے ساالر بحیرۂ روم کے محاذ پر گئے ہوئے ہیں ‪ ،مگر
‫ِ
‫شک ہوتاہے کہ سوڈانیوں میں شکوک اور شبہات پائے جاتے ہیں ۔ جیسے انہیں علم ہوگیاہے کہ ان کے ساالروں کو قید
‫کرلیاگیاہے اور مار بھی دیاگیاہے ''۔ ''اگر بغاوت ہوگئی تو مصر میں ہمارے جو دستے ہیں ‪ ،وہ اسے دباسکیں گے؟''۔صالح
‫الدین ایوبی نے پوچھا……''کیا وہ پچاس ہزار تجربہ کار فوج کا مقابلہ کر سکیں گے ؟……مجھے شک ہے ''۔ ''مجھے یقین
‫ہے کہ ہماری قلیل فوج سوڈانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی ''۔علی بن سفیان نے کہا……''میں اس کا بندوبست کر آیاہوں
‫۔میں نے عالی مقام نور الدین زنگی کی طرف دو تیز رفتار قاصد بھیج دئیے ہیں ۔ میں نے پیغام بھیجا ہے کہ مصر میں
‫بغاوت کی فضا پیدا ہورہی ہے اور ہم نے جو فوج تیار کی ہے ‪ ،وہ تھوڑی ہے اور اس میں سے آدھی فوج محاذ پر ہے ۔
‫متوقع بغاوت کو دبانے کے لیے ہمیں مدد بھیجی جائے ''۔ ''مجھے اُدھر سے مدد کی اُمید کم ہے ''۔سلطان ایوبی نے
‫کہا……'' پر سوں ایک قاصد یہ خبر الیاتھا کہ زنگی نے فرینکوں پر حملہ کردیا تھا۔ یہ حملہ انہوں نے ہماری مدد کے لیے کیا
‫تھا۔ فرینکوں کے ا ُمراء اور فوجی قائدین بحیرۂ روم میں صلیبیوں کے اتحادی بیڑے میں تھے اور فرینکوں کی کچھ فوج مصر
‫میں داخل ہوکر عقب سے حملہ کرنے اور ہمارے سوڈانی لشکر کی پشت پناہی کے لیے مصر کی سرحد پر آگئی تھی ۔
‫محترم زنگی نے ان کے ملک پر حملہ کر کے اُن کے سارے منصوبے کو ایک ہی وار میں برباد کردیاہے اور شاہ فرینک کے
‫بہت سے عالقے پر قبضہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے صلیبیوں سے کچھ رقم بھی وصول کی ہے ''۔ صالح الدین ایوبی خیمے کے

‫اندر ٹہلنے لگا۔ جزباتی لھجے میں بوال……''سلطان زنگی کے قاصد کی زبانی وہاں کے کچھ ایسے حاالت معلوم ہوئے ہیں
‫جنہوں نے مجھے پریشان کررکھا ہے ''۔ ''کیا اب صلیبی اُدھر یلغار کریں گے ؟''علی بن سفیان نے پوچھا ۔ ''مجھے
‫صلیبیوں کی یلغار کی ذرہ بھر پروا نہیں ''۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا……''پریشانی یہ ہے کہ کفار کی یلغار کو روکنے والے
‫شراب کے مٹکوں میں ڈوب گئے ہیں ۔اسالم کے قلعے کے پاسبان حرم میں قید ہوگئے ہیں۔عورت کی زلفوں نے انہیں پابہ
‫زنجیر کردیاہے ۔ علی !چچا اسد الدین شیر کوہ کو اسالم کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ کاش وہ آج زندہ ہوتے ۔
‫میدان جنگ میں مجھے وہی الئے تھے ۔ ہم نے دستے کی کمان کی ہے ۔ میں اُن کے ساتھ صلیبیوں محاصرے میں تین
‫ِ
‫مہینے رہاہوں ۔ مجھے شیر کوہ ہمیشہ سبق دیا کرتے تھے کہ گھبراہٹ اور خوف سے بچنا۔ تائید ایزدی اور رضائے ال ٰہی کا
‫قائل رہنا اور اسالم کا علم بلند رکھنا ۔ میں شیر کوہ کی کمان میں مصریوں اور صلیبیوں کی مشترک فوج کے خالف بھی
‫لڑاہوں ۔ سکندر یہ میں محاصرے میں رہاہوں ۔شکست میرے سر پر آگئی تھی ۔ میرے مٹھی بھر عسکری بد ِدل ہوتے جارہے
‫تھے ۔ میں نے کس طرح ا ُن کے حوصلے اور جذبے تروتازہ رکھے ؟یہ میراخداہی بہتر جانتا ہے ۔ چچا شیر کوہ نے حملہ آور
‫ہوکر محاصرہ توڑا……تم یہ کہانی اچھی طرح جانتے ہو۔ ایمان فروشوں نے کفار کے ساتھ مل کر ہمارے لیے کیسے کیسے طوفان
‫کھڑے کیے ‪ ،مگر میں گھبرایا نہیں ۔ ِد ل نہیں چھوڑا''۔ ''مجھے سب کچھ یاد ہے سلطان !''……علی بن سفیان نے
‫کہا……''اس قدر معرکہ آرائیوں اور قتل و غارت کے بعد توقع تھی کہ مصری را ِہ راست پر آجائیں گے ‪ ،مگر ایک غدار
‫مرتاہے تو ایک اور اس کی جگہ لے لیتا ہے ۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ غدار کمزور خالفت کی پیداوار ہوتے ہیں ۔ اگر فاطمی
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ
‫خالفت حرم میں گم نہ ہوجاتی تو آج آپ صلیبیوں سے یورپ میں لڑرہے ہوتے ‪ ،مگر ہمارے غدار بھائی انہیں
‫سے باہرنہیں جانے دے رہے ۔ جب بادشاہ عیش و عشرت میں پڑجائیں تو رعایا میں سے بھی کچھ لوگ بادشاہی کے خواب
‫دیکھنے لگتے ہیں ۔ وہ کفار کی طاقت اور مدد حاصل کرتے ہیں ۔ ایمان فروشی میں وہ اس قدر اندھے ہوجاتے ہیں کہ کفار
‫کے عزائم اور اپی بیٹیوں کی عصمتوں تک کو بھالدیتے ہیں ''۔ '' مجھے ہمیشہ انہی لوگوں سے ڈرآتاہے ''۔ صالح الدین
‫ایوبی نے کہا۔'' اللہ نہ کرے ‪ ،اسالم کانام جب بھی ڈوبا مسلمانوں کے ہاتھوں سے ڈوبے گا۔ ہماری تاریخ غداروں کی تاریخ
‫بنتی جارہی ہے ۔ یہ رجحان بتارہاہے کہ ایک روزمسلمان جو برائے نام مسلمان ہوں گے ‪ ،اپنی سرزمین کفار کے حوالے کردیں
‫گے ۔ اگر اسالم کہیں زندہ رہاتو وہاں مسجدیں کم اور قحبہ خانے زیادہ ہوں گے ۔ ہماری بیٹیاں صلیبیوں کی طرح بال کھلے
‫چھوڑ کر بے حیا ہوجائیں گی ۔ کفار انہیں اسی راستے پر ڈال رہے ہیں ‪،بلکہ ڈال چکے ہیں ……اب مصر سے پھر وہی طوفان
‫ا ُٹھ رہاہے ۔ علی !تم اپنے محکمے کو اور مضبوط اور وسیع کرلو۔ میں نے اپنے رفیقوں سے کہہ دیاہے کہ دشمن کے عالقوں
‫میں جاکر شب خون مارنے اور خبریں النے کے لیے تنو مند اور ذہین جوانوں کا انتخاب کرو۔ صلیبی اس محاذ کو مضبوط اور
‫پُ ر اثر بنارہے ہیں ‪ ،تم فوری طور پر جاسوسی کرو‪ ،جنگ کی تیاری کرو……فوری طور پر کرنے واال کام یہ ہے کہ سمندرسے
‫کئی ایک صلیبی بچ کر نکلے ہیں۔ ان میں زیادہ تر زخمی ہیں اور جو زخمی نہیں ‪ ،وہ کئی کئی ِدن سمندر میں ڈوبنے اور
‫تیر نے کی وجہ سے زخمیوں سے بد تر ہیں ۔ ان سب کا عالج معالجہ ہورہاہے ۔میں نے سب کو دیکھا ہے ‪ ،تم بھی انہیں
‫دیکھ لو اور اپنی ضرورت کے مطابق ان سے معلومات حاصل کرو''۔
‫سلطان ایوبی نے دربان کو بال کر ناشتے کے لیے کہا اور علی بن سفیان سے کہا……''کل کچھ زخمی اور کچھ بھلی لڑکیاں
‫میرے سامنے الئی گئی تھیں ۔ چھ تو سمندر سے نکلے ہوئے قیدی ہیں ۔ ان میں ایک پر مجھے شک ہے کہ وہ سپاہی نہیں
‫۔رتبے اور عہدے واال آدمی ہے ۔ سب سے پہلے اسے ملو‪ ،پانچ تاجر سات عیسائی لڑکیوں کو ساتھ الئے تھے''……اس نے
‫علی بن سفیان کو لڑکیوں کے متعلق وہی کچھ بتایا جو تاجروں نے بتایاتھا۔ سلطان ایوبی نے کہا……''میں نے لڑکیوں کو
‫دراصل حراست میں لیا ہے ‪ ،لیکن انہیں بتایا ہے کہ میں انہیں پناہ میں لے رہاہوں۔لڑکیوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ غریب
‫گھرانوں کی لڑکیاہیں اور پھر ان کا یہ بیان کہ انہیں ایک جلتے ہوئے جہاز میں سے کشتی میں بٹھا کر سمندر میں اُتارا گیا
‫اور کشتی انہیں ساحل پر لے آئی ۔ مجھے شکوک میں ڈال رہاہے ۔ میں نے انہیں الگ خیمے میں رکھا ہے اور سنتری کھڑا
‫کر دیاہے ۔ تم ناشتے کے فورا ً بعد اس قیدی اور ان لڑکیوں کو دیکھو''۔
‫آ خر میں صالح الدین ایوبی نے ُمسکراکر کہا……''کل ِد ن کے وقت ساحل پر ٹہلتے ہوئے مجھ پر ایک تیر چالیا گیاتھا‪ ،جو
‫میرے پائوں کے درمیان ریت میں لگا''……اس نے تیر علی بن سفیان کو دے کر کہا ……''عال قہ چٹانی تھا۔ محافظ تالش
‫اور تعاقب کے لیے بہت دوڑے ‪ ،مگر انہیں کوئی تیر انداز نظر نہیں آیا۔ اس عالقے سے انہیں یہ پانچ تاجر ملے ‪ ،جنہیں
‫محافظ میرے پاس لے آئے ۔ انہوں نے یہ سات لڑکیاں بھی میرے حوالے کیں اور چلے گئے ''۔
‫''اور وہ چلے گئے ؟''علی بن سفیان نے حیرت سے کہا……''آپ نے انہیں جانے کی اجازت دے دی ؟''
‫محافظون نے ان کے سامان کی تالشی لی تھی ''… سلطان ایوبی نے کہا……''اُن سے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی ''
‫جس سے اُن پر شک ہوتا''۔
‫علی بن سفیان تیر کو غور سے دیکھتا رہا اور بوال……''سلطان اور سراغ رساں کی نظر میں بڑا فرق ہو تاہے ۔ میں سب
‫سے پہلے ان تاجروں کو پکڑنے کی کوشش کروں گا''۔
‫علی بن سفیان صالح الدین ایوبی کے خیمے سے باہر نکال تو دربان نے اسے کہا ……''یہ کمان دار اطالع الیا ہے کہ کل
‫سات عیسائی لڑکیاں قید میں آئی تھیں ۔ا ُن میں سے ایک الپتہ ہے ۔کیا سلطان کو یہ اطالع دینا ضروری ہے ؟۔یہ کوئی اہم
‫واقعہ تو نہیں کہ سلطان کو پریشان کیا جائے ''۔
‫علی بن سفیان گہری سوچ میں پڑگیا۔ کمان دار جو اطالع دینے آیاتھا ‪ ،اس نے علی بن سفیان کے قریب آکر آہستہ سے
‫کہا…… ایک عیسائی لڑکی کا الپتہ ہوجانا تو اتنا اہم واقعہ نہیں ‪ ،مگر اہم یہ ہے کہ فخر المصری نام کا کماندار بھی رات سے
‫الپتہ ہے ۔رات کے سنتریوں نے بتایا ہے کہ وہ لڑکویں کے خیمے تک گیاتھا‪ ،وہاں سے زخمیوں کے خیموں کی طرف گیا اور
‫پھر کہیں نظر نہیں آیا ۔ رات وہ گشت پر نکالتھا ''۔
‫علی بن سفیان نے ذرا سوچ کر کہا……''یہ اطالع سلطان تک ابھی نہ جائے ۔ رات کے اُس وقت کے تمام سنتریوں کو اکٹھا
‫کرو‪ ،جب فخر گشت پر نکال تھا''…… اس نے سلطان ایوبی کے محافظ دستے کے کمان دار سے کہا کہ کل سلطان کے ساتھ
‫جو محافظ ساحل تک گئے تھے ‪ ،انہیں الو۔ وہ وہیں تھے ۔ چاروں سامنے آگئے تو علی بن سفیان نے انہیں کہا……''کل
‫جہاں تم نے تاجروں اور لڑکیوں کو دیکھا تھا‪ ،وہاں فورا ً پہنچو۔ اگر وہ تاجر ابھی تک وہیں ہیں تو انہیں حراست میں لے لو
‫اور وہیں میرا انتظار کرو اور اگر جاچکے ہوں تو فورا ً واپس آو''۔
‫محافظ روانہ ہوگئے تو علی بن سفیان لڑکیوں کے خیمے تک گیا۔ چھ لڑکیاں باہر بیٹھی تھی اور سنتری کھڑا تھا۔ علی نے
‫''لڑکیوں کو اپنے سامنے کھڑا کر کے عربی زبان میں پوچھا …… ''ساتویں لڑکی کہاں ہے ؟

‫لڑکیوں نے ایک دوسری کے منہ کی طرف دیکھا اور سر ہالئے ۔ علی بن سفیان نے کہا…''تم سب ہماری زبان سمجھتی
‫ہو''۔
‫لڑکیاں اسے حیران سا ہوکے دیکھتی رہیں ۔علی ا ُن کے چہروں اور ڈیل ڈول سے شک میں پڑگیا تھا۔وہ لڑکیوں کے پیچھے جا
‫کھڑا ہوا اور عربی زبان میں کہا……''ان لڑکیوں کے کپڑے اُتار کر ننگا کردو اور بارہ وحشی قسم کے سپاہی بال الو''۔
‫تمام لڑکیاں بدک کر پیچھے کو ُم ڑیں ۔ دو تین نے بیک وقت بولنا شروع کردیا‪ ،وہ عربی زبان بول رہی تھیں……''لڑکیوں کے
‫ساتھ تم ایسا سلوک نہیں کر سکتے ''……ایک نے کہا…… ''ہم تمہارے خالف نہیں لڑیں''۔
‫علی بن سفیان کی ہسنی نکل گئی ۔اس نے کہا……''میں تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کروں گا۔ تم نے جس طرح ایک ہی
‫دھمکی سے عربی بولنی شروع کردی ہے ‪،اب بغیر کسی دھمکی کے یہ بتا دو کہ ساتویں لڑکی کہاں ہے''……سب نے العلمی
‫کا اظہار کیا ۔علی نے کہا……''میں اس سوال کا جواب لے کر رہوں گا۔ تم نے سلطان پر ظاہر کیا ہے کہ تم ہماری زبان
‫نہیں جانتیں ‪ ،اب تم ہماری زبان ہماری طرح بول رہی ہو۔ کیا میں تمہیں چھوڑدوں گا؟''……اس نے سنتری سے
‫کہا……''انہیں خیمے کے اندر بٹھا دو''۔
‫رات کے سنتری آگئے تھے ۔ فخر المصری کی گشت کے وقت کے سنتریوں سے علی بن سفیان نے پوچھ گچھ کی ۔ آخر
‫لڑکیوں کے خیمے والے سنتری نے بتایا کہ فخر رات ا ُسے یہاں کھڑا کر کے زخمیوں کے خیموں کی طرف گیا تھا۔ تھوڑی دیر
‫بعد اسے اس کی آواز سنائی دی ……''کون ہوتم ؟نیچے آو''……سنتری نے اُدھر دیکھا تو اندھیرے میں اسے کچھ بھی نظر نہ
‫آیا ۔ سامنے مٹی کے ٹیلے پر اُسے ایک آدمی کا سایہ نظر آیا اور وہ سایہ وہیں غائب ہوگیا۔
‫علی بن سفیان فورا ً وہاں گیا۔ یہ ٹیلہ ساحل کے قریب تھا۔ اس کی مٹی ریتلی تھی ۔ ایک جگہ سے صاف پتہ چل رہاتھا
‫کہ وہاں کوئی اوپر گیا ہے ۔ وہاں زمین پر دو قسم کے پائوں کے نشان تھے ۔ ایک نشان تو مرد کا تھا‪ ،جس نے فوجیوں واال
‫جو تا پہن رکھا تھا۔ دوسرا نشان چھوٹے جوتے کا تھا اور زنانہ لگتا تھا۔ زمین کچی اور ریتلی تھی تھی۔ زنانہ نشان جدھر
‫سے آیاتھا‪ ،علی بن سفیان اُدھر کو چل پڑا۔یہ نشان اُسے اس خیمے تک لے گئے جہاں موبی رابن سے ملی تھی ۔ اس نے
‫خیمے کا پردہ اُٹھا یا اور اندر چال گیا۔
‫اس کی چہرہ شناس نگاہوں نے زخمی قیدیوں کو دیکھا۔سب کے چہرے بھانپے ۔ رابن بیٹھا ہوا تھا۔اس نے علی بن سفیان کو
‫دیکھا اور فورا ً ہی کر اہنے لگا‪،جیسے اسے دردکا اچانک دورہ پڑا ہو۔علی نے اسے کندھے سے پکڑ کر اُٹھا لیا اور خیمے سے
‫باہر لے گیا۔ اس سے پوچھا……''رات کو ایک قیدی لڑکی اس خیمے میں آئی تھی ‪،کیوں آئی تھی ؟''……رابن اسے ایسی
‫نظروں سے دیکھنے لگا جن میں حیرت تھی اور ایسا تاثر بھی جیسے وہ کچھ سمجھا ہی نہ ہو۔ علی بن سفیان نے اُسے
‫آہستہ سے کہا……'' تم میری زبان سمجھتے ہو دوست!میں تمہاری زبان سمجھتا ہوں ۔بول سکتاہوں ‪ ،لیکن تمہیں میری زبان
‫میں جواب دینا ہوگا''……رابن اس کا منہ دیکھتا رہا۔علی نے سنتری سے کہا۔''اسے خیمے سے باہر رکھو''۔
‫علی بن سفیان خیمے کے اندر چالگیا اور قیدیوں سے اُن کی زبان میں پوچھا ۔ ''رات کو لڑکی اس خیمے میں کتنی دیر
‫رہی تھی ؟اپنے آپ کو اذیت میں نہ ڈالو''۔
‫سب چپ رہے ‪،مگر ایک اور دھمکی سے ایک زخمی نے بتادیا کہ لڑکی خیمے میں آئی تھی اور رابن کے پاس بیٹھی یا لیٹی
‫رہی تھی ۔ یہ زخمی سمندر سے جلتے جہاز سے کودا تھا۔اس نے آگ کا بھی اور پانی کا بھی قہر دیکھا تھا۔ وہ اتنا زخمی
‫نہیں ‪،جتنا خوف زدہ تھا۔ وہ کسی اور مصیبت میں پڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے بتا یا کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ
‫رابن اور لڑکی کے درمیان کیا باتیں ہوئیں اور لڑکی کون تھی ۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ رابن کا عہدہ کیا ہے ۔ وہ
‫اس کے صرف نام سے واقف تھا۔ا س نے یہ بھی بتادیا کہ رابن اس کیمپ میں آنے تک بالکل تندرست تھا۔ یہاں آکر وہ اس
‫طرح کراہنے لگا‪ ،جیسے اُسے اچانک کسی بیماری کا دورہ پڑگیا ہو۔
‫علی بن سفیان ایک محافظ کی راہنمائی میں ا ُن پانچ آدمیوں کو دیکھنے چالگیا جو تاجروں کے بہروپ میں کچھ ُدور خیمہ زن
‫تھے ۔محافظوں نے انہیں الگ بٹھا رکھا تھا۔علی کو انہوں نے پہلی اطالع یہ دی کہ اُن کے پاس کل دو اونٹ تھے ‪ ،مگر آج
‫ایک ہی ہے ۔ یہی اشارہ کافی تھا۔ وہ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے کہ دوسرا اونٹ کہاں ہے ۔
‫تمہاراجرم معمولی چوری چکاری نہیں ہے ۔تم
‫دوسرے اونٹ کے پائوں کے نشان مل گئے ۔ علی بن سفیان نے انہیں کہا……''
‫ُ
‫ایک پوری سلطنت اور اس کی تمام ترآبادی کے لیے خطرہ ہو۔ا سلیے میں تم پر ذرہ بھر رحم نہیں کروں گا۔ کیا تم تاجر
‫''ہو؟
‫ہاں''……سب نے سر ہال کر کہا……''ہم تاجر ہیں جناب ! ہم بے گناہ ہیں ''۔''
‫علی بن سفیان نے کہا……''اپنے ہاتھوں کی اُلٹی طرف میرے سامنے کرو''۔ پانچوں نے ہاتھ اُلٹے کر کے آگے کردئیے ۔علی
‫نے سب کے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی اُنگلی کی درمیانی جگہ کو دیکھا اور ایک آدمی کو کالئی سے پکڑ کر
‫گھسیٹ لیا ۔اسے کہا……''کمان اور ترکش کہاں چھپا رکھی ہے؟'' اس آدمی نے معصوم بننے کی بہت کوشش کی ۔علی نے
‫سلطان ایوبی کے ایک محافظ کو اپنے پاس بال کر اس کے بائیں ہاتھ کی اُلٹی طرف اسے دکھائی ۔اس کے انگوٹھے کے اُلٹی
‫طرف ا ُس جگہ جہاں انگوٹھا ہتھیلی کے ساتھ ملتا ہے ‪ ،یعنی جہاں جوڑ ہوتاہے ‪ ،وہاں ایک نشان تھا۔ ایسا نشان اس آدمی
‫کے انگوٹھے کے جوڑ پر بھی تھا۔علی نے اسے اپنے محافظ کے متعلق بتایا……''یہ سلطان ایوبی کا بہترین تیر انداز ہے اور
‫یہ نشان اس کا ثبوت ہے کہ یہ تیر انداز ہے ''۔ اس کے انگوٹھے کی اُلٹی طرف ایک مدھم سانشان تھا‪ ،جیسے وہاں بار بار
‫کوئی چیز رگڑی جاتی رہی ہو۔ یہ تیروں کی رگڑ کے نشان تھے ۔تیر دائیں ہاتھ سے پکڑا جاتا ہے ۔کمان بائیں ہاتھ سے پکڑی
‫جاتی ہے ‪ ،تیر کا اگال حصہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر ہوتاہے اور جب تیر کمان سے نکلتا ہے تو انگوٹھے پر رگڑ کھا جاتا
‫ہے ۔ایسا نشان ہر ایک تیر انداز کے ہاتھ میں ہوتاتھا۔ علی بن سفیان نے کہا…… ''ان پانچ میں تم اکیلے تیر انداز ہو۔کمان
‫اور ترکش کہاں ہے؟''…… پانچوں چپ رہے ۔علی نے ان پانچ میں سے ایک کو پکڑ کر محافظوں سے کہا…… ''اس کو اُس
‫درخت کے ساتھ باند ھ دو''۔ اسے کھجور کے درخت کے ساتھ کھڑا کرکے باندھ دیاگیا۔علی نے اپنے تیر انداز کے کان میں
‫کچھ کہا۔ تیر انداز نے کندھے سے کمان ا ُتار کر اس میں تیر رکھا اور درخت سے بندھے ہوئے آدمی کا نشانہ لے کر تیر
‫چھوڑا ۔ تیر اس آدمی کی دائیں آنکھ میں اتر گیا ۔وہ تڑپنے لگا۔ علی نے باقی چار سے کہا……''تم میں کتنے ہیں جو
‫صلیب کی خاطر اس طرح تڑپ تڑپ کر جان دینے کو تیار ہیں ؟اس کی طرف دیکھو''……انہوں نے دیکھا۔ وہ آدمی چیخ
‫رہاتھا‪ ،تڑپ رہاتھا‪ ،اس کی آنکھ سے خون بُری طرح بہہ رہاتھا۔ ''میں تم سے وعدہ کرتاہوں ''…… علی بن سفیان نے
‫کہا…… ''کہ باعزت طریقے سے تم سب کو سمندر پار بھیج دوں گا……''دوسرے اونٹ پر کون گیا ہے ؟کہاں گیا ہے ؟''
‫'' تمہارا اپنا ایک کمان دار ہمارا ایک اونٹ ہم سے چھین کر لے گیا ہے ''……ایک آدمی نے کہا۔ ''اور ایک لڑکی بھی

‫''۔ علی بن سفیان نے کہا۔ تھوڑی ہی دیر بعد علی بن سفیان کے فن نے اُن سے اعتراف کروالیا کہ وہ کون ہیں اور کیا
‫ہیں ‪ ،مگر انہوں نے یہ جھوٹ بوال کہ لڑکی رات خیمے سے بھاگ آئی تھی اور اس نےبتایا کہ صالح الدین ایوبی نےرات
‫اسے اپنے ٰخ مے میں رکھا تھا‪ ،اس نے شراب پی رکھی تھی اور لڑکی کو بھی پالئی تھی اور لڑکی گھبراہٹ اور خوف کے
‫عالم میں آئی تھی ۔ اس کے تعاقب میں فخر المصری نام کا ایک کمان دار آیا اور اس نے جب لڑکی کی باتیں سنیں تو
‫اسے ہمارے اونٹ پر بٹھا کر زبردستی لے گیا۔ انہوں نے وہ تمام بہتان علی بن سفیان کو سنائے جو لڑکی نے سلطان ایوبی
‫پر لگائے تھے ۔ علی نے ُم سکراکر کہا ……''تم پانچ تربیت یافتہ عسکری اور تیر انداز اور ایک آدمی تم سے لڑکی بھی لے
‫گیا اور اونٹ بھی ''……اس نے انہی کی نشاندہی پر زمین میں دبائی ہوئی کمان اور ترکش بھی نکلوالی ۔ ان چاروں کو خیمہ
‫گاہ میں بھجوادیا گیا۔ پانچواں آدمی تڑپ تڑپ کر مرچکا تھا۔ اونٹ کے پاوں کے نشان صاف نظر آرہے تھے ۔ علی بن سفیان
‫نے نہایت سرعت سے دس سوار بالئے اور انہیں اپنی کمان میں لے کر اس طرف روانہ ہوگیا‪ ،جدھر اونٹ گیاتھا‪ ،مگر اونٹ
‫کی روانگی اور اس کے تعاقب میں علی بن سفیان کی روانگی میں ‪ ،چودہ پندرہ گھنٹوں کا فرق تھا‪ ،اونٹ تیز تھا اور اسے
‫آرام کی بھی زیادہ ضرورت نہیں تھی ۔اونٹ ‪ ،پانی اور خوراک کے بغیر چھ سات ِدن تروتازہ رہ سکتا ہے ۔ا سکے مقابلے
‫میں گھوڑوں کو راستے میں کئی بار آرام‪ ،پانی اور خوراک کی ضرورت تھی ۔ان عناصر نے تعاقب ناکام بنادیا۔اونٹ نے چودہ
‫پندرہ گھنٹوں کا فرق پورا نہ ہونے دیا۔ فخر المصری نے تعاقب کے ِ
‫پیش نظر قیام بہت کم کیاتھا۔ علی بن سفیان کو راستے
‫میں صرف ایک چیز ملی ‪ ،یہ ایک تھیال تھا۔ اس نے ُرک کر تھیال اُٹھایا ‪،کھول کر دیکھا‪ ،اس میں کھانے پینے کی چیزیں
‫تھیں ۔ اسی تھیلے میں ایک اور تھیال تھا۔ اس میں بھی وہی چیزیں تھیں ۔علی بن سفیان کے سونگھنے کی تیز حس نے
‫اسے بتادیا کہ ان اشیاء میں حشیش ملی ہوئی ہے ۔راستے میں اُسے دوجگہ ایسے آثار ملے تھے ‪ ،جن سے پتہ چلتا تھا کہ
‫یہاں اونٹ ُر کا ہے اور سوار یہاں بیٹھے ہیں ۔کھجوروں کی گٹھلیاں ‪ ،پھلوں کے بیج اور چھلکے بھی بکھرے ہوئے تھے ۔تھیلے
‫نے اسے شک میں ڈال دیا۔ اس کے ذہن میں یہ شک نہ آیا کہ فخرالمصری کو حشیش کے نشے میں لڑکی اپنے محافظ کے
‫طور پر ساتھ لے جارہی ہے ۔تاہم اس نے تھیال اپنے پاس رکھا ‪ ،مگر تھیلے کی تالشی اور قیام نے وقت ضائع کردیاتھا۔ ٭ ٭
‫٭
‫فخر المصری اور موبی منزل پر نہ بھی پہنچتے اور راستے میں پکڑے بھی جاتے تو کوئی فرق نہ پڑتا ۔سوڈانی لشکر میں
‫ناجی ‪،اوروش اور ان کے ساتھی جو زہر پھیال چکے تھے وہ اثر کر گیا تھا۔ فاطمی خالفت کے وہ فوجی سربراہ جو برائے نام
‫جرنیل اور دراصل حاکم بنے ہوئے تھے ‪،سلطان صالح الدین ایوبی کو ایک ناکام امیر اور بے کار حاکم ثابت کرنا چاہتے تھے ۔
‫مسلمان حکمران حرم میں ا ُن لڑکیوں کے اسیر ہوگئے تھے ۔حکومت کا کاروبار خود ساختہ افسر چالرہے تھے ‪ ،من مانی اور
‫عیش و عشرت کررہے تھے ۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ صالح الدین ایوبی جیسا کوئی مذہب پسند اور قوم پرست قائد قوم کو
‫جگا دے اور حکمرانوں اور سلطانوں کو حرم کی جنت سے باہر الکر حقائق کی ُدنیا میں لے آئے ۔ سلطان ایوبی کے پہلے
‫معرکوں سے جو اس نے اپنے چچا شیر کوہ کی قیادت میں لڑے تھے ‪ ،یہ لوگ جان چکے تھے کہ اگر یہ شخص اقتدار میں
‫لہذا انہوں نے ہروہ داو کھیال جو سلطان ایوبی کو
‫آگیا تو اسالمی سلطنت کو مذہب اور اخالقیات کی پابندیوں میں جکڑلے گا۔ ٰ
‫چاروں شانے چت گرا سکتا تھا۔ انہوں نے درپردہ صلیبیوں سے تعاون کیا اور ان کے جاسوسوں اور تخریب کاروں کے لیے زمین
‫ہموار کی اور اس کے راستے میں چٹانیں کھڑی کیں ۔اگر نور الدین زنگی نہ ہوتا تو آج نہ صالح الدین ایوبی کا تاریخ میں نام
‫‪..ہوتا ‪ ،نہ آج نقشے پر اتنے زیادہ اسالمی ممالک نظر آتے
‫نور الدین زنگی نے ذراسے اشارے پر بھی سلطان ایوبی کو مدد بھیجی ۔صلیبیوں نے مصری فوج کے سوڈانیوں کے بالوے پر
‫بحیرۂ روم سے حملہ کیا تو نورالدین زنگی نے اطالع ملتے ہی خشکی پر صلیبیوں کی ایک مملکت پر حملہ کر کے اُن کے
‫اس لشکر کو مفلوج کردیا جو مصر پر حملہ کرنے کے لیے جارہاتھا۔یہ تو سلطان ایوبی کا نظا ِم جاسوسی ایسا تھا کہ اس نے
‫صلیبیوں کا بیڑہ غرق کردیا۔ اب علی بن سفیان نے زنگی کی طرف برق رفتار قاصد یہ خبر دینے کے لیے دوڑادئیے تھے کہ
‫سوڈانیوں کی بغاوت کا خطرہ ہے اور ہماری فوج کم بھی ہے ‪ ،دوحصوں میں بٹ بھی گئی ہے ۔قاصد پہنچ گئے تھے اور
‫نورالدین زنگی نے خاصی فوج کو مصرکی طرف کوچ کا حکم دے دیاتھا۔ بعض مورخین نے اس فوج کی تعداد دوہزار سوار اور
‫پیادہ لکھی ہے اور کچھ اس سے زیادہ بتاتے ہیں ۔بہر حال زنگی نے اپنی مشکالت اور ضروریات کی پروانہ کرتے ہوئے سلطان
‫ایوبی کی مشکالت اور ضروریات کو اہمیت اور اولیت دی ‪ ،مگر اس کی فوج کو پہنچنے کے لیے بہت ِدن درکار تھے ۔
‫مسلمان نام نہاد فوجی اور دیگر سرکردہ شخصیتوں نے دیکھا کہ مصر میں سلطان ایوبی کے خالف بے اطمینانی اور بغاوت
‫پھوٹ رہی ہے تو انہوں نے اسے ہوادی ۔ در پردہ سوڈانیوں کو اُکسایا اور اپنے مخبروں کے ذریعے یہ بھی معلوم کرلیا کہ
‫سوڈانیوں کے ساالروں کو مرواکر خفیہ طریقے سے دفن کردیاگیاہے ۔ سوڈانی لشکر کے کم رتبے والے کمان دار ساالر بن گئے اور
‫صالح الدین ایوبی کی اس قلیل فوج پر حملہ کرنے کے منصوبے بنانے لگے ‪ ،جو مصر میں مقیم تھی ۔ وہ سلطان ایوبی کی
‫آدھی فوج اور سلطان کی دار الحکومت سے غیر حاضری سے فائدہ اُٹھانا چاہتے تھے ۔ منصوبہ ایسا تھا کہ جس کے تحت
‫پچاس ہزار سوڈانی فوجی سیاہ گھٹا کی طرح مصر کے آسمان سے اسالم کے چاند کو روپوش کرنے والی تھی ۔
‫علی بن سفیان قاہرہ پہنچ گیا۔ وہ جن کے تعاقب میں گیاتھا‪ ،اُن کا اُس سے آگے کوئی سراخ نہیں مل رہاتھا۔ اس نے اپنے
‫ا ُن جاسوسوں کو بالیاجو اس نے سوڈانی ہیڈ کوارٹر اور فوج میں چھوڑ رکھے تھے ۔ان میں سے ایک نے بتایا کہ گزشتہ رات
‫ایک اونٹ آیاتھا۔ اندھیرے میں جو کچھ نظر آسکا‪ ،وہ دوسوار تھے ‪،ایک عورت اور ایک مرد ۔جاسوس نے یہ بھی بتایاکہ وہ
‫ِ
‫سلطنت
‫کون سی عمارت میں داخل ہوئے تھے ۔علی بن سفیان کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ وہاں چھاپہ مارتا۔ سوڈانی فوج
‫اسالمیہ کی فوج تھی‪ ،کوئی آزاد فوج نہیں تھی ‪،مگر علی نے اس خدشے کے پیش نظر چھاپہ نہ مارا کہ یہ جلتی پر تیل
‫کاکام کرے گا۔ اس کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ موبی اور فخر المصری کو گرفتار کرنا ہے ‪،بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ سوڈانی
‫قیادت کے عزائم اور آئندہ منصوبے معلوم کیے جائیں ‪ ،تاکہ پیش بندی کی جاسکے ۔ اس نے اپنے جاسوسوں کو نئی ہدایات
‫جاری کیں۔جاسوسوں میں غیر مسلم لڑکیا ں بھی تھیں‪ ،جو عیسائی یا یہودی نہیں تھیں۔ یہ قحبہ خانوں کی بڑی ذہین اور تیز
‫طرار لڑکیا ں تھیں ‪،مگر علی بن سفیان نے ان پر کبھی سو فیصد بھروسہ نہیں کیاتھا‪ ،کیونکہ وہ دوغال کھیل بھی کھیل سکتی
‫تھیں ۔ ان لڑکیوں سے بھی اُس لڑکی )موبی (کا سراغ نہ مل سکا جس کے تعاقب میں علی آیا تھا۔
‫‪...داستان ایمان فروشوں کی ‪ 
‫‪...ساتویں لڑکی
‫‪#قسط ‪14
‫چار روز علی بن سفیان دارالحکومت سے باہر مارامارا پھر تارہا۔ اس کا دائرہ کار سوڈانی فوجی قیادت کے ارد گرد کا عالقہ

‫تھا۔ پانچویں رات وہ باہر کھلے آسمان تلے بیٹھا اپنے دوجاسوسوں سے رپورٹ لے رہاتھا۔ اس کے تمام آدمیوں کو معلوم
‫ہوتاتھا کہ کس وقت وہ کہاں ہوتا ہے ۔اُس کے گروہ کا ایک آدمی ایک آدمی کو ساتھ لیے اُس کے پاس آیا اور کہا……''یہ
‫اپنا نام فخر ی المصری بتاتا ہے ‪ ،جھاڑیوں میں ڈگمگاتا‪ ،گرتا اور اُٹھتا تھا۔ میں نے اس سے بات کی تو کہنے لگا کہ مجھے
‫میری فوج تک پہنچا دو۔ اس سے اچھی طرح بوال بھی نہیں جاتا''……اس دوران فخر المصری بیٹھ گیاتھا۔ ''تم وہی کمان دار
‫ہو جو محاذ سے ایک لڑکی کے ساتھ بھاگے ہو؟'' ۔علی بن سفیان نے اُس سے پوچھا ۔ ''میں سلطان کی فوج کا بھگوڑا
‫ہوں ''……فخر نے ہکالئی لڑکھڑاتی زبان میں کہا……''سزائے موت کا حق دار ہوں ‪ ،لیکن میری پوری بات سن لیں ‪ ،ورنہ تم
‫سب کو سزائے موت ملے گی ''۔ علی بن سفیان اُس کے لب و لہجے سے سمجھ گیا کہ یہ شخص نشے میں ہے یا نشے
‫کی طلب نے اس کا یہ حال کررکھا ہے ۔وہ اسے اپنے دفتر میں لے گیا اور اسے وہ تھیال دکھایا جو اسے راستے میں پڑا
‫مالتھا۔ پوچھا ……''یہ تھیال تمہارا ہے؟اور تم اس سے یہ چیزیں کھاتے رہے ہو؟'' ''ہاں ''……فخر المصری نے جواب
‫دیا……''وہ مجھے اسی سے کھالتی تھی ''۔ اس کے سامنے وہ تھیال بھی پڑاتھا جو تھیلے کے اندرسے نکال تھا۔علی نے
‫اس میں سے چیزیں نکال کر سامنے رکھ لی تھیں ۔فخر نے یہ چیزیں دیکھیں تو جھپٹ کر مٹھائی کی قسم کا ایک ٹکڑا اُٹھا
‫لیا۔ علی نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ پر اپناہاتھ رکھ دیا۔ فخر نے بے تابی سے کہا……''خدا کے لیے مجھے یہ کھانے دو۔
‫میری جان اور روح اسی میں ہے ''……مگر علی نے اُس سے وہ ٹکڑا چھین لیا اور اسے کہا……''مجھے ساری واردات سناو‪،
‫پھر یہ ساری چیزیں ا ُٹھا لینا''۔ فخر المصری نڈھال اور بے جان ہواجارہاتھا۔ علی بن سفیان نے اُسے ایک سفوف کھالدیا جو
‫حشیش کا توڑ تھا۔ فخر نے اسے تمام تر واقعہ سنادیا کہ وہ کیمپ سے لڑکی کے تعاقب میں کس طرح گیاتھا۔ تاجروں نے
‫اُسے قہوہ پالیا تھا‪،جس کے اثر سے وہ کسی اور ہی ُدنیا میں جاپہنچا تھا۔ تاجروں )صلیبی جاسوسوں (نے اُس سے جو باتیں
‫کی تھیں ‪ ،وہ بھی ا س نے بتائیں اور پھر لڑکی کے ساتھ اس نے اونٹ پر جو سفر کیا تھا‪ ،وہ اس طرح سنایا کہ وہ
‫مسلسل چلتے رہے ۔اونٹ نے بڑی اچھی طرح ساتھ دیا۔رات کو وہ تھوڑی دیر قیام کرتے تھے۔ لڑکی اسے کھانے کو دوسرے
‫تھیلے میں سے چیزیں دیتی تھی۔وہ اپنے آپ کو باد شاہ سمجھتاتھا۔ لڑکی نے اسے اپنی محبت کا یقین دالیا اور شادی کا
‫وعدہ کیاتھا اور شرط یہ رکھی تھی کہ وہ اسے سوڈانی کمان دار کے پاس پہنچادے۔ فخری نے محسوس تک نہ کیا کہ لڑکی
‫اسے حشیش اور اپنے حسن و شباب کے قبضے میں لیے ہوئے ہے ۔تیسرے پڑاو میں جب انہوں نے کھانے پینے کے لیے اونٹ
‫روکا تو تھیال غائب پایا جو اونٹ کے دوڑ نے سے کہیں گر پڑا تھا۔ لڑکی نے اسے کہا کہ واپس چل کر تھیال ڈھونڈ لیتے ہیں
‫‪،لیکن فخر المصری نے کہا کہ وہ بھگوڑا فوجی ہے‪ ،خدشہ ہے کہ اس کا تعاقب ہورہاہوگا۔ لڑکی ضد کرنے لگی کہ تھیال ضرور
‫ڈھونڈیں گے۔ فخر نے اسے یقین دالیا کہ بھوکا مرنے کا کوئی خطرہ نہیں ‪ ،راستے میں کسی آبادی سے کچھ لے لیں گے ‪،
‫مگر لڑکی آبادی کے قریب جانا نہ چاہتی تھی اور کہتی تھی کہ واپس چلو۔ فخر المصری نے اُسے زبردستی اونٹ پر بٹھالیا
‫اور اس کے پیچھے بیٹھ کر اونٹ کو ا ُٹھایا اور دوڑا دیا۔ وہ سفر کی تیسری رات تھی ۔اگلی شام وہ شہر سے باہر سوڈانیوں
‫کے ایک کمان دار کے ہاں پہنچ گئے ‪ ،مگر فخر المصری اپنے سر کے اندر ایسی بے چینی محسوس کرنے لگا‪ ،جیسے کھوپڑی
‫میں کیڑے رینگ رہے ہوں۔ آہستہ آہستہ وہ حقیقی ُدنیا میں آگیا۔ وہ سمجھ نہ سکا کہ یہ حشیش نہ ملنے کا اثر ہے ۔اُس کی
‫تصوراتی بادشاہی اور ذہہن میں بسائی ہوئی جنت تھیلے میں کہیں رہ گزار میں گرگئی تھی ۔ لڑکی نے اُس کے سامنے کمان
‫دار کو صلیبیوں کا پیغام دیا اور اسے بغاوت پر اُکسایا۔ فخر پاس بیٹھا سنتا رہا اور اُس کے ذہہن میں کیڑے بڑے ہوکر تیزی
‫سے رینگنے لگے ۔ نشہ اتر چکا تھا ۔چناچہ ا ُس نے بے خوف و خطر کمان دار سے یہ بھی کہہ دیا کہ سلطان ایوبی اور
‫علی بن سفیان کے درمیان یہ غلط فہمی پیدا کرنی ہے کہ وہ ظاہری طور پر نیک بنے پھر تے ہیں مگر عورت اور شراب کے
‫دلدادہ ہیں۔ ا ُن کی اس طویل گفتگو میں بغاوت کی باتیں بھی ہوئیں۔ اس وقت تو فخر المصری پوری طرح بیدار ہو چکاتھا‪،
‫لیکن سر کے اندر کی بے چینی اسے بہت پریشان کررہی تھی ۔لڑکی نے کمان دار سے کہا کہ اگر بغاوت کرنی ہے تو وقت
‫ضائع نہ کریں۔ سلطان ایوبی محاذ پر ہے اور ا ُلجھا ہواہے ۔لڑکی نے یہ جھوٹ بوال کہ صلیبی تین چار دنوں بعد دوسرا حملہ
‫کرنے والے ہیں۔سلطان ایوبی کو یہاں سے بھی فوج محاذ پر بالنی پڑے گی۔ کمان دار نے لڑکی کو بتایا کہ چھ سات دنوں
‫تک سوڈانی لشکر یہاں کی فوج پر حملہ کردے گا۔ فخر یہ ساری گفتگو سنتارہا۔ آدھی رات کے بعد اُسے الگ کمرے میں
‫بھیج دیاگیا جہاں ا ُس کے سونے کا انتظام تھا۔ لڑکی اور کمان دار دوسرے کمرے میں رہے ۔درمیان میں دروازہ تھا جو بند
‫کردیاگیا ۔اسے نیند نہیں آرہی تھی۔اُس نے دروازے کے ساتھ کان لگائے تو اُسے ہنسی کی آزوازیں سنائی دیں‪،پھر لڑکی کے یہ
‫الفاظ سنائی دئیے……''اسے حشیش کے زور پر یہاں تک الئی ہوں اور اس کی محبوبہ بنی رہی ہوں۔مجھے ایک محافظ کی
‫ضرورت تھی ۔حشیش کا تھیال راستے میں گر پڑاہے۔ اگر صبح اسے ایک خوراک نہ ملی تو یہ پریشان کرے گا''…… اس کے
‫بعد فخر نے دوسرے کمرے سے جو آوازیں سنیں ‪ ،وہ اسے صاف بتارہی تھیں کہ شراب پی جارہی ہے اور بد کاری ہورہی
‫ہے۔ بہت دیر بعد ا ُسے کمان دار کی آواز سنائی دی……''یہ آدمی اب ہمارے لیے بے کار ہے ۔ اسے قید میں ڈال دیتے ہیں
‫یا ختم کرادیتے ہیں ''……لڑکی نے اس کی تائید کی ۔ فخر المصری پوری طرح بیدار ہوگیا اور وہاں سے نکل بھاگنے کی
‫سوچنے لگا۔رات کا پچھال پہر تھا۔ وہ اس کمرے سے نکال۔ اس کا دماغ ساتھ نہیں دے رہاتھا۔ کبھی تو دماغ صاف ہوجاتا‪،
‫مگر زیادہ دیر ماو ف رہتا۔ صبح کی روشنی پھیلنے تک وہ خطرے سے ُدور نکل گیا تھا ۔ اسے اب دوہرے تعاقب کا خطرہ
‫تھا ۔ دونوں طرف اسے موت نظر آرہی تھی ۔ اپنی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوجاتا تو بھی مجرم تھا اور اگر سوڈانی پکڑ لیتے
‫تو فورا ً قتل کر دیتے ۔ وہ دن بھر فرعونوں کے کھنڈروں میں چھپا رہا ۔ حشیش کی طلب ‪ ،خوف اور غصہ اُس کے جسم و
‫دماغ کو بے کا ر کر رہا تھا ۔ رات تک وہ چلنے سے بھی معذور ہو ا جا رہا تھا ۔ پھر اُسے یہ بھی احساس نہ رہا کہ ِدن
‫ہے یا رات اور وہ کہاں ہے ۔ اس کے دماغ میں یہ اِرادہ بھی آیا کہ اس عیسائی لڑکی کو جا کر قتل کر دے ۔ یہ سوچ
‫بھی آئی کہ اونٹ یا گھوڑا مل جائے اور وہ محاز پر سلطان ایوبی کے قدموں میں جا گرے ۔ مگر جو بھی سوچ آتی تھی ‪،
‫اس پر اندھیرا چھا جاتا تھا جو ا ُس کی آنکھوں کے سامنے ہر چیز تاریک کر دیتا تھا ۔ اسی حالت میں اسے یہ آدمی مال ۔
‫وہ چونکہ جاسوس تھا ‪ ،اس لیے تربیت کے مطابق ا ُس نے فخرالمصری کے ساتھ دوستی اور ہمدردی کی باتیں کیں اور اسے
‫علی بن سفیان کے پاس لے آیا ۔
‫تصدیق ہو گئی کہ سوڈانی لشکر حملہ اور بغاوت کرے گا اور یہ کسی بھی لمحے ہو سکتا ہے ۔ علی بن سفیان سوچ رہا تھا
‫کہ مقامی کمانڈروں کو فورا ً چوکنا کرے اور سلطان ایوبی کو اطالع دے‪ ،مگر وفت ضائع ہونے کا خطرہ تھا ۔ اتنے میں اسے
‫پیغام مالکہ صالح الدین ایوبی بال رہے ہیں ۔ وہ حیران ہو کر چل پڑا کہ سلطان کو تو وہ محاظ پر چھوڑ آیا تھا ۔
‫وہ حیران ہو کر چل پڑا کہ سلطان کو تو وہ محاظ پر چھوڑ آیا تھا ۔ وہ سلطان ایوبی سے مال تو سلطان نے بتایا … ''
‫مجھے اطالع مل گئی تھی کہ ساحل پر صلیبی جاسوسوں کا ایک گروہ موجود ہے اور اُن میں سے کچھ اِدھر بھی آگئے ہوں

‫گے ۔ محاظ پر میرا کوئی کام نہیں رہ گیا تھا ۔ میں کمان اپنے رفیقوں کو دے کر یہاں آگیا ۔ ِدل اس قد ر بے چین تھا کہ
‫میں یہاں بہت بڑا خطرہ محسوس کر رہا تھا ۔ یہاں کی کیا خبر ہے ؟'' علی بن سفیان نے اُسے ساری خبر سنا دی اور
‫کہا …'' اگر آپ چاہیں تو میں زبان کا ہتھیار استعمال کر کے بغاوت کو روکنے کی کوشش کروں یا سلطان زنگی کی مدد آنے
‫تک ملتوی کرادوں ۔ میں جاسوسوں کو ہی استعما ل کر سکتا ہوں ۔ ہماری فوج بہت کم ہے ۔ حملے کو نہیں روک سکے
‫گی ''۔ سلطان ایوبی ٹہلنے لگا ۔ ا ُس کا سر جھکا ہوا تھا ۔ وہ گہری سوچ میں کھو گیا تھا اور علی بن سفیا ن اسے
‫دیکھ رہا تھا ۔ سلطان نے ُر ک کر کہا …… '' ہاں علی !تم اپنی زبان اور اپنے جاسوس استعمال کرو ‪ ،لیکن حملے کو
‫روکنے کیلئے نہیں ‪ ،بلکہ حملے کے حق میں ۔ سوڈانیوں کو حملہ کرنا چاہیے ‪ ،مگر رات کے وقت جب ہماری فوج خیموں
‫میں سوئی ہوئی ہوگی '' ۔ علی بن سفیان نے حیرت سے سلطان کو دیکھا ۔ سلطان نے کہا ……'' یہاں کے تمام کمانداروں
‫کو بلوالو اور تم بھی آجاو '' …… سلطان ایوبی نے علی بن سفیان کو یہ ہدایت بڑی سختی سے دی …… '' یہ سب کو
‫بتا دینا کہ میرے متعلق ا ُس کے سوا کسی کو معلوم نہ ہو سکے کہ میں محاظ سے یہاں آگیا ہوں ۔ سوڈانیوں سے میری یہاں
‫موجودگی کو پوشیدہ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ میں بڑی احتیاط سے خفیہ طریقے سے آیا ہوں ''۔ تین راتیں بعد …… قاہر ہ
‫تاریک رات کی آغوش میں گہری نیند میں سویا ہوا تھا ۔ ایک روز پہلے قاہرہ کے لوگوں نے دیکھا تھا کہ اُن کی فوج جو
‫مصر سے تیا ر کی گئی تھی ‪ ،شہر سے باہر جا رہی تھی ۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ فوج جنگی مشقوں کیلئے شہر سے با ہر
‫گئی ہے ۔ نیل کے کنارے جہاں ریتلی چٹانیں اور ٹیلے ہیں وہاں دریا اور ٹیلوں کے درمیان فوج نے جا کر خیمے گاڑ دئیے
‫تھے ۔ فوج پیادہ بھی تھی ‪ ،سوار بھی …… رات کا پہال نصف گزر رہا تھا کہ قاہرہ کے سوئے ہوئے باشندوں کو ُدور قیامت کا
‫شور سنائی دیا ۔ گھوڑوں کے سرپٹ بھاگنے کی آوازیں سنائی دیں ۔ سوئے ہوئے لوگ جاگ اُٹھے ‪ ،وہ سمجھے کہ فوج جنگی
‫مشق کر رہی ہے ‪ ،مگر شور قریب آتا اور بلند ہوتا گیا ۔ لوگوں نے چھتوں پر چڑھ کر دیکھا ۔ آسمان الل سرخ ہو رہا تھا ۔
‫بعض نے دیکھا کہ دور دریائے نیل سے آگ کے شعلے ا ُٹھتے اور تاریک رات کا سینہ چاک کر تے خشکی پر کہیں گرتے تھے
‫۔ پھر شہر میں سینکڑوں سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپ سنائی دئیے۔ شہر والوں کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہ جنگی مشق
‫نہیں ‪ ،باقاعدہ جنگ ہے اور جو آگ لگی ہوئی ہے ‪ ،اس میں سوڈانی لشکر کا خاصا بڑا حصہ زندہ جل رہا ہے ۔ یہ سلطان
‫صالح الدین ایوبی کی ایک بے مثال چال تھی ۔ اس نے دارالحکومت میں مقیم قلیل فوج کو دریائے نیل جو ریتلے ٹیلوں کے
‫درمیان وسیع میدان میں خیمہ زن کر دیا تھا ۔ علی بن سفیان نے اپنے فن کا مظاہر ہ کیا تھا ۔ ا س نے سوڈانی لشکر
‫میں اپنے آدمی بھیج کر بغاوت کی آگ بھڑکا دی تھی اور اس کے کمانداروں سے یہ فیصلہ کروالیا تھا کہ رات کو جب سلطان
‫کی فوج گہری نیند سوئی ہوئی ہوگی ‪ ،اس پر سوڈانی فوج حملہ کر دے گی اور صبح تک ایک ایک سپاہی کا صفایا کر کے
‫دارالحکومت پر بے خوف و خطر قابض ہوجائے گی اور سوڈانی فوج کا دوسرا حصہ بحیرئہ روم کے ساحل پر مقیم فوج پر حملہ
‫کرنے کیلئے روانہ کر دیا جائے گا …… اس فیصلے اور منصوبے کے مطابق سوڈانی فوج کا ایک حصہ نہایت خفیہ طریقے سے
‫رات کو بحیرئہ روم کے محاظ کیطرف روانہ کر دیا گیا اور دوسرا حصہ دریائے نیل کے کنارے خیمہ زن فو ج پر ٹوٹ پڑا ۔
‫اس فوج نے سیالب کی طرح ایک میل میں پھیلی ہوئی خیمہ گاہ پر ہال بول دیا اور بہت ہی تیزی سے اس عالقے میں
‫پھیل گی ۔ اچانک خیموں پر آگ اور تیل کے بھیگے ہوئے کپڑوں کے جلتے گولے برسنے لگے۔ نیل بھی آگ برسا نے لگا ۔
‫خیموں کو آگ لگ گئی اور شعلے آسمان تک پہنچنے لگے ۔ سوڈانی فوج کو خیموں میں سلطان ایوبی کی فوج کا نہ کوئی
‫سپاہی مال ‪ ،نہ گھوڑا ‪ ،نہ کوئی سوار۔ اس فوج کو وہاں تمام خیمے خالی ملے ۔ کوئی مقابلے کیلئے نہ اُٹھا اور اچانک آگ
‫ہی آگ پھیل گئی ۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ سلطان ایوبی نے رات کے پہلے پہر خیموں سے اپنی فوج نکال کر ریتلے ٹیلوں
‫کے پیچھے چھپا دیا تھا اور خیموں میں خشک گھاس کے ڈھیر لگوا دئیے تھے ۔ خیموں پر اور اندر بھی تیل چھڑک دیا
‫تھا ۔ اس نے کشتیوں میں چھوٹی منجنیقیں رکھوا کر شام کے بعد ضرورت کی جگہ بجھوا دی تھیں ۔ جونہی سوڈانی فوج
‫خیمہ گاہ میں آئی سلطان کی چھپی ہوئی فوج نے آگ والے تیر اور نیل سے کشتیوں میں رکھی ہوئی منجنیقوں نے آگ کے
‫گولے پھینکنے شروع کر دئیے۔ خیموں کو آگ لگی تو گھاس اور تیل نے وہاں دوزخ کا منظر دیا ۔ سوڈانیوں کے گھوڑے اپنے
‫پیادہ سپاہیوں کو روندنے لگے ۔ سپاہیوں کے لیے آگ سے نکلنا ناممکن ہو گیا ۔ چیخوں نے آسمان کا جگر چاک کر دیا ۔
‫اس قدر آگ نے رات کو ِد ن بنا دیا ۔ سلطان ایوبی کی مٹھی بھر فوج نے آگ میں جلتی سوڈانیوں کی فوج کو گھیرے میں
‫لے لیا ‪ ،جو آگ سے بچ کر نکلتا تھا ‪ ،وہ تیروں کا نشانہ بن جاتا تھا ‪ ،جو فوج بچ گئی ‪ ،وہ بھاگ نکلی ۔ اُدھر سوڈانیوں
‫کی جو فوج محاظ کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے جا رہی تھی ‪ ،اُس کا بھی صالح الدین ایوبی نے انتظام کر رکھا
‫تھا ۔ چند ایک دستے گھات لگا ئے بیٹھے تھے۔ اِن دستوں نے اُس فوج کے پچھلے حصے پر حملہ کر کے ساری فوج میں
‫بھگڈر مچادی ۔ یہ دستے ایک حملے میں جو نقصان کر سکتے تھے‪ ،کر کے اندھیرے میں غائب ہو گئے ۔ سوڈانی فوج سنبھل
‫کر چلی تو پچھلے حصے پر پھر ایک اور حملہ ہوا ۔ یہ برق رفتار سوار تھے جو حملہ کر کے غائب ہو گئے ۔ صبح تک
‫اس فوج کے پچھلے حصے پر تین حملے ہوئے ۔ سوڈانی سپاہی اسی سے بدل ہو گئے۔ انہیں مقابلہ کرنے کا تو موقع ہی
‫نہیں ملتا تھا ۔ دن کے وقت کمانداروں نے بڑی مشکل سے فوج کا حوصلہ بحال کیا ‪ ،مگر رات کو کوچ کے دوران اُن کا پھر
‫وہی حشر ہوا ۔ دوسری رات تاریکی میں ا ُن پر تیر بھی برسے ۔ انہیں اندھیرے میں گھوڑے دوڑنے کی آوازیں سنائی دیتی
‫تھیں جو ا ُن کی فوج کے عقب میں گشت و خون کرتی دور چلی جاتی تھیں ۔ تین چا ر یورپی مورخوں نے جن میں لین
‫قابل ذکر ہیں ‪ ،لکھا ہے کہ دشمن کی کثیر نفری پر رات کے وقت چند ایک سواروں سے عقبی
‫پول اور ولیم خاص طور پر
‫ِ
‫حصے پر شب خون مارنا اور غائب ہو جانا سلطان ایوبی کی ایسی جنگی چال تھی جس نے آگے چل کر صلیبیوں کو بہت
‫نقصان پہنچایا۔ اس طرح سلطان ایوبی دشمن کی پیش قدمی کی رفتار کو بہت سست کر دیتا تھا اور دشمن کو مجبور کر دیتا
‫تھا کہ وہ ا ُ س کی پسند کے میدان میں لڑیں جہاں سلطان ایوبی نے جنگ کا پانسہ پلٹنے کا انتظام کر رکھا ہوتا تھا ۔ ان
‫مورخین نے سلطان ایوبی کے ان جانبازسواروں کی جرأ ت اور برق رفتاری کی بہت تعریف کی ہے ۔ آج کے جنگی مبصر ‪،
‫جن کی نظر جنگوں کی تاریخ پر ہے ‪ ،رائے دیتے ہیں کہ آج کے کمانڈو اور گوریال آپریشن کا موجد صالح الدین ایوبی ہے ۔
‫وہ اس طریقہ جنگ سے دشمن کے منصوبے درہم برہم کر دیا کرتا تھا ۔ سوڈانیوں پر اس نے یہی طریقہ آزمایا اور صرف دو
‫راتوں کے بار بار شب خون سے اس نے سوڈانی سپاہیوں کا لڑنے کا جذبہ ختم کر دیا ۔ ان کی قیادت میں کوئی دماغ نہ تھا
‫۔ یہ قیادت فوج کو سنبھال نہ سکی ۔ اس فوج میں علی بن سفیان کے بھی آدمی سوڈانی سپاہیوں کے بھیس میں موجود
‫تھے ۔ انہوں نے یہ افواہ پھیالدی کہ عرب سے ایک لشکر آرہا ہے جو انہیں کاٹ کر رکھ دے گا ۔ انہوں نے بددلی اور فرار
‫کا رحجان پیدا کرنے میں پوری کامیابی حاصل کی ۔ فوج غیر منظم ہو کر بکھر گئی۔ نیل کے کنارے اس فوج کا جو حشر ہوا
‫‪ ،وہ عبرت ناک تھا ……یہ افواہ غلط ثابت نہ ہوئی کہ عرب سے فوج آرہی ہے ۔ نورالدین زنگی کی فوج آگئی جس کی

‫نفری بہت زیادہ نہیں تھی ۔ بعض مورخین نے دو ہزار سوار اور دس ہزار پیادہ لکھی ہے ۔ بغض کے اعدادو شمار اس کے
‫کچھ زیادہ ہیں ۔ تا ہم صالح الدین ایوبی کو سہارا مل گیا اور اُس نے فورا ً اس فوج کی قیادت سنبھال لی ۔ اس کیفیت میں
‫جب کہ سوڈانیوں کا پچاس ہزار لشکر سلطان ایوبی کے آگ کے پھندے میں اور اُدھر صحرا میں شب خون کی وجہ سے بد
‫نظمی کا شکار ہو گیا تھا ‪ ،یہ تھورڑی سی فوج بھی کافی تھی ۔ سلطان ایوبی اس فوج سے اور اپنی فوج سے سوڈانیوں کا
‫قتل عام کر سکتا تھا ‪ ،لیکن ا ُس نے ڈپلو میسی سے کام لیا ۔ سوڈانی کمان کے کمانداروں کو پکڑا اور انہیں ذہن نشیں کرایا
‫ِ
‫کہ ا ُن کے لیے تباہی کے سوا کچھ نہیں رہا ‪ ،لیکن وہ انہیں تباہ نہیں کرے گا ۔ کمانداروں نے اپنا حشر دیکھ لیا تھا ۔ وہ
‫اب سلطان کے عتاب اور سزا سے خائف تھے ‪ ،لیکن سلطان نے انہیں بخش دیا اور سزا دینے کی بجائے سوڈانیوں کی بچی
‫کچھی فوج کو سپاہیوں سے کاشت کاروں میں بدل دیا ۔انہیں زمینیں دیں اور کھیتی باڑی میں انہیں سرکاری طور پر مدد دی
‫اور پھر انہیں یہ اجازت بھی دے دی کہ ان میں سے جو لوگ فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں‪ ،ہو سکتے ہیں ۔ سوڈانیوں کو
‫یوں دانشمندی سے ٹھکانے لگا کر صالح الدین ایوبی نے نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی فوج اور اپنی فوج کو یکجا کرکے اس
‫میں وفادار سوڈانیوں کو بھی شامل کر کے ایک فوج منظم کی اور صلیبیوں پر حملے کے منصوبے بنانے لگا ۔اس نے علی بن
‫سفیان سے کہا کہ وہ اپنے جاسوسوں اور شب خون مارنے والے جانبازوں کے دستے فورا ً تیار کرے۔ اُدھر صلیبیوں نے بھی
‫جاسوسی اور تخریب کاری کا انتظام مستحکم کرنا شروع کردیا ۔
‫صالح الدین ایوبی کے دور کے واقع نگاروں کی تحریروں میں ایک شخص سیف اللہ کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے کہ اگر کسی
‫ِ
‫دست راست بہاوالدین
‫انسان نے سلطان ایوبی کی اعطاعت کی ہے تو وہ سیف اللہ تھا۔ سلطان ایوبی کے گہرے دوست اور
‫شداد کی اس ڈائری میں جو آج بھی عربی زبان میں محفوظ ہے‪ ،سیف اللہ کا ذکر ذرا تفصیل سے ملتا ہے ۔ یہ شخص جس
‫کا نام کسی باقاعدہ تاریخ میں نہیں ملتا ‪ ،صالح الدین ایوبی کی وفات کے بعد سترہ سال زندہ رہا ۔واقع نگار لکھتے ہیں کہ
‫ا س نے عمر کے یہ آخری سترہ سال سلطان ایوبی کی قبر کی مجاوری میں گزارے تھے۔ اس نے وصیت کی تھی کہ وہ مر
‫جائے تو اسے سلطان کے ساتھ دفن کیا جائے ‪ ،مگر سیف اللہ کی کو ئی حیثیت نہیں تھی ۔ وہ ایک گمنام انسان تھا ‪،
‫جسے عام قبرستان میں دفن کیا گیا اور وہ وقت جلدی ہی آگیا کہ اس قبرستان پر انسانوں نے بستی آباد کر لی اور قبرستان
‫کا نام و نشان مٹا ڈاال ۔
‫تاریخی لحاظ سے سیف اللہ کی اہمیت یہ تھی کہ وہ سمندر پار سے صالح الدین ایوبی کو قتل کرنے آیا تھا ۔ اُس وقت اس
‫کا نام میگناناماریوس تھا ۔ ا ُس نے اسالم کا صرف نام سنا تھا ۔ اسے کچھ علم نہیں تھا کہ اسالم کیسا مذہب ہے ۔
‫قابل نفرت فرقہ ہے جو
‫قابل نفرت مذہب اور مسلمان ایک
‫صلیبیوں پے پروپیگنڈے کے مطابق اسے یقین تھا کہ اسالم ایک
‫ِ
‫ِ
‫لہ ذا میگناناماریوس جب کبھی مسلمان کا لفظ سنتا تھا تو وہ نفرت
‫عورتوں کا شیدائی اور انسانی گوشت کھانے کا عادی ہے ۔ ٰ
‫سے تھوک دیا کرتا تھا ۔ وہ بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب صالح الدین ایوبی تک پہنچا تو میگناناماریوس قتل
‫ہو گیا اور اس کے ُمردہ وجود سے سیف اللہ نے جنم لیا ۔
‫تاریخ میں ایسے حکمرانوں کی کمی نہیں‪ ،جنہیں قتل کیا گیا یا جن پر قاتالنہ حملے ہوئے ‪ ،لیکن سلطان صالح الدین ایوبی
‫تاریخ کی ا ُن چند شخصیتوں میں سے ہے ‪ ،جسے قتل کرنے کی کوششیں دشمنوں نے بھی کیں اور اپنوں نے بھی ‪ ،بلکہ
‫داستان ایمان افروز
‫اپنوں نے اسے قتل کرنے کی غیروں سے زیادہ سازشیں کیں۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ سلطان ایوبی کی
‫ِ
‫کے ساتھ ساتھ ایمان فروشوں کی کہانی بھی چلتی ہے۔ اسی لیے صالح الدین ایوبی نے بارہا کہا تھا ۔ '' تاریخ اسالم وہ
‫وقت جلدی دیکھے گی ‪ ،جب مسلمان رہیں گے تو مسلمان ہی لیکن اپنا ایمان بیچ ڈالیں گے اور صلیبی ان پر حکومت کریں
‫گے ''۔
‫آج ہم وہ وقت دیکھ رہے ہیں ۔
‫نذر آب و
‫سیف اللہ کی کہانی ا ُس وقت سے شروع ہوتی ہے ‪ ،جب سلطان ایوبی نے صلیبیوں کا متحد بیڑہ بحیرئہ روم میں ِ
‫آتش کیا تھا۔ ان کے کچھ بحری جہاز بچ کر نکل گئے تھے ۔ سلطان ایوبی بحیرئہ روم کے ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ
‫موجود رہا اور سمندرمیں سے زندہ نکلنے والے صلیبیوں کو گرفتار کرتا رہا ۔ ان میں سات لڑکیاں بھی تھیں جن کا تفصیلی ذکر
‫آپ پڑھ چکے ہیں ۔ مصر میں سلطان کی سوڈانی سپاہ نے بغاوت کر دی جسے سلطان نے دبا لیا ۔ اُسے سلطان زنگی کی
‫بھیجی ہوئی فوج بھی مل گئی ۔ وہ اب صلیبیوں کے عزائم کو ختم کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔
‫بحیرئہ روم کے پار روم شہر کے مضافات میں صلیبی سربراہوں کی کانفرنس ہو رہی تھی ۔ ان میں شاہ آگسٹس تھا‪،شاہ ریمانڈ
‫اور شہنشائی ہفتم کا بھائی رابرٹ بھی ۔ اس کانفرنس میں سب سے زیادہ قہر و غضب میں آیا ہوا ایک شخص تھا جس کا
‫نام ایملرک تھا ۔ وہ صلیبیوں کے اس متحدہ بیڑے کا کمانڈر تھا جو مصر پر فوج کشی کے لیے گیا تھا مگر صالح الدین ایوبی
‫ان پر ناگہانی آفت کی طرح ٹوٹ پڑا اور اس بیڑے کے ایک بھی سپاہی کو مصر کے ساحل پر قدم نہ رکھنے دیا ۔ مصر کے
‫ساحل پر جو صلیبی پہنچے ‪ ،وہ سلطان ایوبی کے ہاتھ میں جنگی قیدی تھے۔صلیبیوں کی کانفرنس میں ایملرک کے ہونٹ
‫کانپ رہے تھے۔ اس کا بیڑہ غرق ہوئے پندرہ ِد ن گزر گئے تھے۔ وہ پندرہویں دن اٹلی کے ساحل پر پہنچا تھا ۔ سلطان ایوبی
‫کے آتشیں تیر اندازوں نے اس کے جہاز کے بادبان اور مستول جال ڈالے تھے۔ یہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے
‫مالحوں اور سپاہیوں نے آگ پر قابو پا لیا تھا اور وہ جہاز کو بچا لے گئے تھے مگر بادبانوں کے بغیر جہاز سمندر پر ڈولتا
‫رہا۔ پھر طوفان آگیا۔اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہی تھی ۔ بہت سے بچے کھچے جہاز اور کشتیاں اس طوفان میں
‫غرق ہوگئی تھیں ۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ ایملرک کا جہاز ڈولتا‪ ،بھٹکتا ‪ ،ڈوب ڈوب کر اُبھرتا اٹلی کے ساحل سے جا لگا ۔
‫اس میں اس کے مالحوں کابھی کمال شامل تھا ۔ انہوں نے چپوئوں کے زور پر جہاز کو قابومیں رکھاتھا ۔
‫ساحل پر پہنچتے ہی اس نے ان تمام مالحوں اور سپاہیوں کو بے دریغ انعام دیا ۔ صلیبی سربراہ وہیں اس کے منتظر تھے۔
‫وہ اس پر غور کرنا چاہتے تھے کہ انہیں دھوکہ کس نے دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شک سوڈانی ساالر ناجی پر ہی ہو سکتا تھا ۔
‫اسی کے خط کے مطابق انہوں نے حملے کے لیے بیڑہ روانہ کیا تھا مگر ان کے ساتھ ناجی کا تحریری رابطہ پہلے بھی موجود
‫تھا ۔ انہوں نے ناجی کے اس خط کی تحریرپہلے دو خطوں سے مالئی تو انہیں شک ہوا کہ یہ کوئی گڑبڑ ہے ۔ انہوں نے
‫قاہرہ میں جاسوس بھیج رکھے تھے مگر ان کی طرف سے بھی کوئی اطالع نہیں ملی تھی ۔ انہیں یہ بتانے واال کوئی نہ تھا
‫کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے ناجی اور اس کے سازشی ساالروں کو خفیہ طریقے سے مروا دیا اور رات کی تاریکی میں
‫گمنام قبروں میں دفن کر دیا تھا اور صلیبی سربراہوں اور بادشاہوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ
‫جس خط پر انہوں نے بیڑہ روانہ کیا تھا ‪ ،وہ خط ناجی کا ہی تھا ‪ ،مگر حملے کی تاریخ سلطان ایوبی نے تبدیل کر کے
‫لکھی تھی ۔ جاسوسوں کو ایسی معلومات کہیں سے بھی نہیں مل سکتی تھیں۔

‫یہ کانفرنس کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی ۔ ایملرک کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی ۔ وہ شکست خوردہ تھا ۔ غصے میں
‫بھی تھا اور تھکا ہوا بھی تھا ۔ کانفرنس اگلے روز کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی ……رات کے وقت یہ تمام سربراہ شکست
‫قابل اعتماد
‫کا غم شراب میں ڈبو رہے تھے ۔ایک آدمی اس محفل میں آیا ۔ اسے صرف ریمانڈ جانتا تھا ۔ وہ ریمانڈ کا
‫ِ
‫جاسوس تھا ۔ وہ حملے کی شام مصر کے ساحل پر ا ُترا تھا ۔ اس سے تھوڑی ہی دیر بعد صلیبیوں کا بیڑہ آیا اور اس کی
‫آنکھوں کے سامنے یہ بیڑہ سلطان ایوبی کی قلیل فوج کے ہاتھوں تباہ ہوا تھا ۔
‫یہ جاسوس مصر کے ساحل پر رہا اور اس نے بہت سی معلومات مہیا کر لی تھیں ۔ ریمانڈ نے اس کا تعارف کرایا تو سب
‫اس کے گرد جمع ہو گئے ۔ اس جاسوس کو معلوم تھا کہ صلیبی سربراہوں نے سلطان ایوبی کو قتل کرانے کیلئے رابن نام کا
‫ایک ماہر جاسوس سمندر پار بھیجاتھا اور اس کی مدد کے لیے پانچ آدمی اور سات جوان اور خوبصورت لڑکیاں بھیجی گئی
‫تھیں ۔ اس جاسوس نے بتایا کہ رابن زخمی ہونے کا بہانہ کر کے صالح الدین ایوبی کے کمیپ میں پہنچ گیا تھا ۔
‫اس کے پانچ آدمی تاجروں کے بھیس میں تھے۔ ان میں کرسٹوفر نام کے ایک آدمی نے ایوبی پر تیر چالیا مگر تیر خطا
‫گیا ۔ پانچوں آدمی پکڑے گئے اور ساتوں لڑکیاں بھی پکڑی گئیں۔ انہوں نے کہانی تو اچھی گھڑلی تھی ۔ سلطان ایوبی نے
‫لڑکیوں کو پناہ میں لے لیا اور پانچوں آدمی کو چھوڑ دیا تھا ‪ ،مگر ایوبی کا ماہر سراغ رساں جس کا نام علی بن سفیان ہے
‫‪،اچانک آگیا ۔ اس نے سب کو گرفتار کر لیا اور پانچ میں سے ایک آدمی کو سب کے سامنے قتل کر اکے دوسروں سے
‫اقبال جرم کروالیا۔ جاسوس نے کہا ……'' میں نے اپنے متعلق بتایا تھا کہ ڈاکٹر ہوں‪ ،اس لیے سلطان نے مجھے زخمیوں کی
‫ِ
‫مرہم پٹی کی ڈیوٹی دے دی ۔ وہیں مجھے یہ اطالع ملی کہ سوڈانیوں نے بغاوت کی تھی جو دبالی گئی ہے اور سوڈانی
‫افسروں اور لیڈروں کو ایوبی نے گرفتار کر لیا ہے ۔ رابن ‪ ،چارآدمی اور چھ لڑکیاں ایوبی کی قید میں ہیں ‪ ،لیکن ابھی تک
‫ساحل پر ہیں ۔ ساتویں لڑکی جو سب سے زیادہ ہوشیار ہے ‪ ،الپتہ ہے ۔ اُس کا نام موبینا ارتالش ہے ‪ ،موبی کہالتی ہے ۔
‫ایوبی بھی کیمپ میں نہیں ہے اورر اس کا سراغ رساں علی بن سفیان بھی وہاں نہیں ہے ۔میں بڑی مشکل سے نکل کر آیا
‫ہوں ۔ بڑی زیادہ ا ُجرت پر تیز رفتار کشتی مل گئی تھی ۔ میں یہ خبر دینے آیا ہوں کہ رابن ‪ ،اس کے آدمی اور لڑکیاں
‫موت کے خطرے میں ہیں ۔ مردوں کی فکر ہمیں نہیں کرنا چاہیے ‪ ،لڑکیوں کا بچانا الزمی ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ سب
‫جوان ہیں اور چنی ہوئی خوبصورت ہیں ۔ مسلمان ان کا جو حال کر رہے ہوں گے ‪ ،اس کا آپ تصور کر سکتے ہیں ''۔
‫ہمیں یہ قربانی دینی پڑے گی ''……شاہ آگسٹس نے کہا۔''
‫اگر مجھے یقین دال دیا جائے کہ لڑکیوں کو جان سے مار دیا جائے گا تو میں یہ قربانی دینے کیلئے تیاری ہوں ''…… ''
‫ریمانڈ نے کہا…… '' مگر ایسا نہیں ہوگا‪ ،مسلمان اس کے ساتھ وحشیوں کا سلوک کر رہے ہوں گے ۔ لڑکیاں ہم پر لعنت
‫بھیج رہی ہوں گی ‪ ،میں انہیں بچانے کی کوشش کروں گا ''۔
‫یہ بھی ہو سکتا ہے ''……رابرٹ نے کہا …… '' کہ مسلمان ان لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ہمارے خالف ''
‫جاسوسی کیلئے استعمال کرنے لگیں ۔ بہر حال ہمارا یہ فرض ہے کہ انہیں قید سے آزاد کروائیں ۔ میں اس کے لیے آپنا آدھا
‫خزانہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہوں ''۔
‫یہ لڑکیاں صرف اس لیے قیمتی نہیں کہ یہ لڑکیاں ہیں ''…… جاسوس نے کہا…… '' وہ دراصل تربیت یافتہ ہیں ۔ اتنے ''
‫خطرناک کام کے لیے ایسی لڑکیاں ملتی ہی کہاں ہیں ۔ آپ کسی جوان لڑکی کو ایسے کام کیلئے تیار نہیں کر سکتے کہ وہ
‫دشمن کے پاس جا کر اپنا آ پ دشمن کے حوالے کر دے۔دشمن کی عیاشی کا ذریعہ بنے اور جاسوس اور تخریب کاری
‫کرے ۔ اس کام میں عزت تو سب سے پہلے دینی پڑتی ہے اوریہ خطرہ توہروقت لگا رہتا ہے کہ جوں ہی دشمن کو پتہ چلے
‫زر
‫گا کہ یہ لڑکی جاسوس ہے تو اسے اذیتیں دی جائیں گی ‪،پھر اسے جان سے مار دیا جاگے گا ۔……ان لڑکیوں کو ہم نے ِ
‫کثیر صرف کرکے خاص کیا ۔ پھر ٹریننگ دی تھی اور انہیں بڑی محنت سے مصر اور عرب کی زبان سکھائی تھی ۔ ایک ہی
‫بار تجربہ کار لڑکیوں کو ضائع کرنا عقل مندی نہیں ''۔
‫کیا تم کہہ سکتے ہو کہ لڑکیوں کو ایوبی کے کیمپ سے نکاال جا سکتا ہے ؟'' ……آگسٹس نے پوچھا ۔ ''
‫جی ہاں !''…… جاسوس نے کہا…… '' نکاالجا سکتا ہے ؟''…… اس کے لیے غیر معمولی طور پر دلیر اور پختہ کار ''
‫آدمیوں کی ضرورت ہے مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دو دنوں تک رابن ‪ ،اس کے چار آدمیوں اور لڑکیوں کے قاہرہ جا
‫ئیں ۔وہاں سے نکالنا بہت ہی مشکل ہوگا ۔ اگر ہم وقت ضائع نہ کریں تو ہم انہیں کیمپ میں ہی لے جائیں گے ۔ آپ
‫مجھے بیس آدمی دے دیں۔ میں ان کی رہنمائی کروں گا ‪ ،لیکن آدمی ایسے ہوں جو جان پر کھیلنا جانتے ہوں ''۔
‫ہمیں ہر قیمت پر ان لڑکیوں کو واپس النا ہے ''…… ایملرک نے گرج کر کہا ۔ اس پر بحیرئہ روم میں جو بیتی تھی ‪'' ،
‫اس کا وہ انتقام لینے کو پاگل ہوا جا رہا تھا ۔ وہ صلیبیوں کے متحدہ بیڑے اور اس بیڑے میں سوار لشکر کا سپریم کمانڈر بن
‫کراس ا ُمید پر گیاتھا کہ مصر کی فتح کا سہرا اس کے سر بندھے گا ‪ ،مگر صال ح الدین ایوبی نے اسے مصر کے ساحل کے
‫قریب بھی نہ جانے دیا ۔ وہ جلتے ہوئے جہاز میں زندہ جل جانے سے بچا تو طوفان نے گھیر لیا ۔ اب بات کرتے اس کے
‫ہونٹ کانپتے تھے اور وہ زیادہ تر باتیں میز پر مکے مار کر یا اپنی ران پرزورزور سے ہاتھ مار کر اپنے جذبات کااظہار کر رہا
‫تھا ۔ اس نے کہا ……'' میں لڑکیوں کو بھی الئوں گا اور صالح الدین ایوبی کو قتل بھی کرواوں گا ۔ میں ان ہی لڑکیوں کو
‫مسلمانوں کی سلطنت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے استعمال کروں گا ''۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔۔ ‪ 
‫ساتویں لڑکی
‫قسط ‪15
‫میں سچے دل سے آپ کی تائید کرتا ہوں شاہ ایملرک !''…… ریمانڈ نے کہا …… '' ہمیں تربیت یافتہ لڑکیوں کو اتنی ''
‫آسانی سے ضائع نہیں کرنا چاہیے نہ ہم کریں گے۔ آپ سب کواچھی طرح معلوم ہے کہ شام کے حرموں میں ہم کتنی لڑکیاں
‫داخل کر چکے ہیں ۔ کئی مسلمان گورنر اور امیر ان لڑکیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ بغداد میں یہ لڑکیاں اُمراء کے
‫ہاتھوں ایسے متعدد افراد کو قتل کراچکی ہیں جو صلیب کے خالف نعرہ لے کر اُٹھے تھے۔ مسلمانوں کی خالفت کو ہم نے
‫عورت اور شراب سے تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔ ان میں اتحاد نہیں رہا۔ وہ عیش و عشرت میں غرق ہوتے جارہے
‫ہیں ۔ صرف دو آدمی ہیں جو اگر زندہ رہے تو ہمارے لیے مستقل خطرہ بنے رہیں گے ۔ ایک نورالدین زنگی اور دوسرا صالح
‫الدین ایوبی ۔ اگر ان دونوں میں سے ایک بھی زیادہ دیر تک زندہ رہا تو ہمارے لیے اسالم کو ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر
‫صالح الدین ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت دبالی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص اُس حد سے زیادہ خطرناک ہے ‪،
‫میدان جنگ سے ہٹ کر تخریب کاری کا محاذ بھی کھولنا پڑے گا ۔
‫جس حد تک ہم اسے سمجھتے رہے ہیں ۔ ہمیں
‫ِ

‫مسلمانوں میں تفرقہ اور بے اطمینانی پھیالنے کے لیے ہمیں ان لڑکیوں کی ضرورت ہے ''۔
‫ہمیں اپنے کامیاب تجربوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیے ''…… لوئی ہفتم کے بھائی رابرٹ نے کہا……'' عرب میں ہم ''
‫مسلمانوں کی کمزوریوں سے فائدہ ا ُٹھا چکے ہیں ۔ مسلمان عورت‪ ،شراب اور دولت سے اندھا ہو جاتا ہے۔ مسلمان کو مارنے
‫کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے مسلمان کے ہاتھوں مرواو۔ مسلمان کو ذہنی عیاشی کا سامان مہیا کردو تو وہ اپنے دین اور
‫ایمان سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ تم مسلمان کا ایمان آسانی سے خرید سکتے ہو ''……اس نے عرب کے کئی امراء اور وزراء
‫کی مثالیں دیں جنہیں صلیبیوں نے عورت‪ ،شراب اور دولت سے خرید لیا تھا اور انہیں اپنا درپردہ دوست بنا لیا تھا ۔
‫✔✔✔
‫کچھ دیر مسلمانوں کی کمزوریوں کے متعلق باتیں ہوئیں پھر لڑکیوں کو آزاد کرانے کے عملی پہلوئوں پر غور ہوا۔ آخریہ طے پا
‫یا کہ بیس نہایت دلیر آدمی اس کام کے لیے روانہ کیے جائیں اور وہ اگلی شام تک روانہ ہوجائیں ۔ اسی وقت چار پانچ
‫کمانڈروں کو بال لیاگیا ۔ انہیں اصل مقصد او مہم بتا کر کہا گیاکہ بیس آدمی منتخب کریں۔ کمانڈروں نے تھوڑی دیر اس مہم
‫کے خطروں کے متعلق بحث مباحثہ کیا ۔ ایک کمانڈر نے کہا …… '' ہم پہلے ہی ایک ایسی فورس تیار کر رہے ہیں جو
‫مسلمانوں کے کیمپوں پر شب خون مارا کرے گی اور ان کی متحرک فوج پر بھی رات کو حملے کر کے پریشان کرتی رہے
‫گی۔ اس فورس کے لیے ہم نے چند ایک آدمی منتخب کیے ہیں ''۔
‫قابل اعتماد ہونے چاہئیں ''… آگسٹس نے کہا ۔'' وہ ہماری تمہاری نظروں سے اوجھل ہو کر ''
‫لیکن یہ آدمی سو فیصد
‫ِ
‫ہی کام کریں گے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ نہ کریں اور واپس آ کر کہیں کہ وہ بہت کچھ کر کے آئے ہیں ''۔
‫آپ یہ سن کر حیران ہوں گے'' …… ایک کمانڈر نے کہا ……'' کہ ہماری فوج میں ایسے سپاہی بھی ہیں جنہیں ہم نے ''
‫جیل خانوں سے حاصل کیا ہے ‪ ،یہ ڈاکو ‪،چور اور رہزن تھے۔ انہیں بڑی بڑی لمبی سزائیں دی گئی تھیں ۔ انہیں جیل خانوں
‫میں ہی مرنا تھا ۔ ہم نے ان سے بات کی تو وہ جو ش و خروش سے فوج میں آگئے ۔ آپ کو شاید یہ معلوم کرکے بھی
‫حیرت ہو کہ ناکام حملے میں ان سزایافتہ مجرموں نے بڑی بہادری سے کئی جہاز بچائے ہیں …… میں لڑکیوں کو مسلمانوں
‫سے آزاد کرنے کی مہم میں ایسے تین آدمی بھیجوں گا ''۔
‫مورخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں عیش و عشرت کا رحجان بڑھ گیا اور اتحاد ختم ہو رہا تھا ۔ عیسائیوں نے مسلمانوں
‫کو اخالقی تباہی تک پہنچانے میں ذہنی عیاشی کا ہر سامان مہیا کیا …… اب انہیں یہ توقع تھی کہ مسلمانوں کو ایک ہی
‫حملے میں ختم کر دیں گے‪ ،چنانچہ ان کے خالف عیسائی ُدنیا میں نفرت کی طوفانی مہم چالئی گئی اور ہر کسی کو اسالم
‫کے خالف جنگ میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی ۔ اس کے جواب میں معاشرے کے ہر شعبے کے لوگ صلیبی لشکر
‫میں شامل ہونے لگے۔ ان میں پادری بھی شامل ہوئے اور عادی مجرم بھی گناہوں سے توبہ کر کے مسلمانوں کے خالف مسلح
‫ہو گئے ۔ بعض ملکوں کے جیل خانوں میں جو مجرم لمبی قید کی سزائیں بھگت رہے تھے ‪ ،وہ بھی فوج میں بھرتی ہوگئے
‫۔ ان مجرموں کے متعلق عیسائیوں کا تجربہ غالبا ً اچھا تھا ‪ ،جس کے پیش نظر ایک کمانڈر نے لڑکیوں کو آزاد کرانے اور
‫صالح الدین ایوبی کو قتل کرنے کے لیے قیدی مجرموں کا انتخا ب کیا تھا ۔
‫صبح تک بیس انتہائی دلیر اور ذہین آدمی چن لیے گئے ۔ ان میں میگناناماریوس بھی تھا جسے روم کے جیل خانے سے الیا
‫گیا تھا ۔ اس جاسوس کوجو ڈاکٹر کے بہروپ میں سلطان ایوبی کے کیمپ رہا اور فرار ہو کر آیا تھا ‪ ،اس کمانڈو پارٹی کا
‫کمانڈر اور گائیڈ مقرر کیا گیا ۔ ا س پارٹی کو یہ مشن دیاگیا کہ لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے نکالنا ہے ۔ اگر رابن اور
‫اس کے چار ساتھیوں کو بھی آزاد کرایا جا سکے تو کرالینا‪ ،ورنہ ان کے لیے کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ۔ دوسرا
‫مشن تھا ‪ ،صال ح الدین ایوبی کا قتل۔ اس پارٹی کو کوئی عملی ٹریننگ نہ دی گئی ۔ صرف زبانی ہدایات اور ضروری ہتھیار
‫دے کر اسی روز ایک بادبانی کشتی میں ماہی گیروں کے بھیس میں روانہ کر دیا گیا ۔
‫جس وقت یہ کشتی اٹلی کے ساحل سے روانہ ہوئی۔صالح الدین ایوبی سوڈانیوں کی بغاوت مکمل طور پر دبا چکا تھا ۔
‫سوڈانیوں کے بہت سے کماندار مارے گئے یا زخمی ہو گئے تھے اور بہت سے سلطان ایوبی کے دفترکے سامنے کھڑے تھے ۔
‫انہوں نے ہتھیار ڈال کر شکست اور سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کر لی تھی ۔ وہ سلطان کے حکم کے منتظر تھے۔ سلطان
‫اندر بیٹھا اپنے ساالروں کو احکام دے رہا تھا۔علی بن سفیان بھی موجود تھا۔ اس فتح میں اس کا بہت عمل دخل تھا۔
‫صلیبیوں کو شکست دینے میں بھی اس کے نظا ِم جاسوسی نے بہت کام کیا تھا ‪ ،بلکہ یہ دونوں کامیابیاں جاسوسی کے نظام
‫کی ہی کامیابیاں تھیں۔ سلطان ایوبی کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا ہو۔ اس نے علی بن سفیان سے کہا ……''علی ! ہمیں
‫ان جاسوس لڑکیوں اور ا ُن کے ساتھیوں کے متعلق سوچنے کا وقت ہی نہیں مال ۔ وہ ابھی تک ساحل پر قیدی کیمپ میں
‫ہیں ۔ ان سب کو فورا ً یہاں النے کا بندوبست کرو اور تہ خانے میں ڈال دو ''۔
‫میں ابھی پیغام بھجوا دیتا ہوں '' … علی بن سفیا ن نے کہا ……'' ان سب کہ یہاں پہرے میں بلوا لیتا ہوں …سلطان ''
‫! آپ شاید ساتویں لڑکی کو بھول گئے ہیں ۔ وہ سوڈانیوں کے ایک کماندار بالیان کے پاس تھی ۔ اسی لڑکی سے جاسوسوں
‫اور بغاوت کا انکشاف ہوا تھا ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ بالیان ان کمانداروں میں نہیں ہے جو باہر موجود ہیں اور وہ زخمیوں
‫میں بھی نہیں ہے اور وہ مرے ہوئوں میں بھی نہیں ہے ۔ مجھے شک ہے کہ ساتویں لڑکی جس کانام فخرالمصری نے موبی
‫بتایا تھا ‪ ،بالیان کے ساتھ کہیں روپوش ہوگئی ہے ''۔
‫اپنا شک رفع کروعلی ''… سلطان ایوبی نے کہا …'' یہاں مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ بالیان الپتہ ہے تو وہ ''
‫بحیرئہ روم کی طرف نکل گیا ہوگا ۔ صلیبیوں کے سوا اسے اور کون پناہ دے سکتا ہے ۔ بہر حال ان جاسوسوں کو تہہ خانوں
‫میں ڈالو اور اپنے جاسوس فورا ً تیار کرکے سمندر پار بھیج دو ''۔
‫زیادہ ضرورت یہ ہے کہ اپنے جاسوس اپنے ہی ملک میں پھیال دئیے جائیں ''۔ یہ مشورہ دینے واال سلطان نورالدین ''
‫زنگی کی بھیجی ہوئی فوج کا سپہ ساالر تھا ۔ اس نے کہا … '' ہمیں صلیبیوں کی طرف سے اتنا خطرہ نہیں‪ ،جتنا اپنے
‫مسلمان امراء سے ہے ۔ اپنے جاسوس ان کے حرموں میں داخل کر دئیے جائیں تو بہت سی سازشیں بے نقاب ہوں گی ''۔
‫ا ُس نے تفصیل سے بتایا کہ یہ خود ساختہ حکمران کس طرح صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ سلطان زنگی اکثر
‫پریشان رہتے ہیں کہ باہر کے حملوں کو روکیں یا اپنے گھر کو اپنے ہی چراغ سے جلنے سے بچائیں ۔
‫صالح الدین ایوبی نے یہ روائیداد غور سے سنی اور کہا …'' اگر تم لوگ جن کے پاس ہتھیار ہیں ‪ ،دیانت دار اور اپنے
‫مذہب سے مخلص رہے تو باہر کے حملے اور اندر کی سازشیں قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔ تم اپنی نظریں سرحدوں سے
‫مذہب
‫دور آگے لے جاو ۔ سلطنت اسالمیہ کی کوئی سر حد نہیں ۔ تم نے جس روز اپنے آپ کو اور خدا کے اس عظیم
‫ِ
‫اسالم کو سرحدوں میں پابند کرلیا اور اس روز سے یوں سمجھو کہ تم اپنے ہی قید خانے میں قید ہوجاو گے ۔ پھر تمہاری

‫سرحدیں سکڑنے لگیں گی۔ اپنی نظریں بحیرئہ روم سے آگے لے جائو۔ سمندر تمہارا راستہ نہیں روک سکتے ۔ گھر کے چراغوں
‫سے نہ ڈرو‪ ،یہ تو ایک پھونک سے گل ہو جائیں گے ۔ ان کی جگہ ہم ایمان کے چراغ روشن کریں گے''۔
‫سلطان محترم !''… ساالر نے کہا … '' ہم مایوس نہیں ''۔ ''
‫ہمیں اُمید ہے کہ ہم ایمان فروشی روک لیں گے‪،
‫ِ
‫صرف دو لعنتوں سے بچو میرے عزیز رفیقوں!'' سلطان ایوبی نے کہا …'' مایوسی اور ذہنی عیاشی ۔ انسان پہلے ''
‫مایوس ہوتا ہے ‪ ،پھر ذہنی عیاشی کے ذریعے را ِہ فرار اختیار کرتا ہے ''۔
‫اس دوران علی بن سفیان جا چکا تھا ۔ اس نے فورا ً ایک قاصد بحیرئہ روم کے کیمپ کی طرف اس پیغام کے ساتھ روانہ کر
‫دیا کہ رابن‪ ،اس کے چار ساتھیوں اور لڑکیوں کو گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار کر کے بیس محافظوں کے پہرے میں دارالحکومت
‫کو بھیج دو … قاصد کو روانہ کر کے اس نے اپنے ساتھ چھ سات سپاہی لیے اور کماندار بالیان کی تالش میں نکل گیا ۔ ان
‫نے ان سوڈانی کمانداروں سے جو باہر بیٹھے تھے‪ ،بالیان کے متعلق پوچھ لیا تھا ۔ سب نے کہا تھا کہ اسے لڑائی میں کہیں
‫بھی نہیں دیکھا گیاتھا اور نہ ہی وہ اس فوج کے ساتھ گیا تھا جو بحیرئہ روم کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے کے
‫لیے بھیجی گئی تھی ۔ علی بن سفیان بالیان کے گھر گیا تو وہاں اس کی بوڑھی خادمائوں کے سوا اور کوئی نہ تھا ۔ انہوں
‫نے بتایا کہ بالیان کے گھر میں پانچ لڑکیاں تھیں ۔ ان میں جس کی عمر ذرا زیادہ ہوجاتی تھی ‪ ،اسے وہ غائب کر دیتا اور
‫اس کی جگہ جوان لڑکی لے آتا تھا ۔ ان خادمائوں نے بتایا کہ بغاوت سے پہلے اس کے پاس ایک فرنگی لڑکی آئی تھی جو
‫غیر معمولی طور پر خوبصورت اور ہوشیارتھی ۔ بالیان اس کا غالم ہو گیا تھا ۔ بغاوت کے ایک روز بعد جب سوڈانیوں نے
‫ہتھیار ڈال دئیے تو بالیان رات کے وقت گھوڑے پر سوار ہوا‪ ،دوسرے گھوڑے پر اس فرنگی لڑکی کو سوار کیا اور معلوم نہیں
‫دونوں کہاں روانہ ہوگئے ۔ ان کے ساتھ سات گھوڑ سوار تھے۔ حرم کی لڑکیوں کے متعلق بوڑھیوں نے بتایا کہ وہ گھر میں جو
‫ہاتھ لگا اُٹھا کر چلی گئی ہیں ۔
‫علی بن سفیان وہاں سے واپس ہوا توایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا ہوا آیا اور علی بن سفیان کے سامنے ُرکا۔ اس پر فخرالمصری
‫سوار تھا۔ کود کر گھوڑے سے ا ُترا اور ہانپتی کانپتی آواز میں بوال … '' میں آپ کے پیچھے آیا ہوں ۔ میں بھی اسی
‫بدبخت بالیان اور اس کافر لڑکی کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ میں ان سے انتقام لوں گا ۔ جب تک ان دونوں کو اپنے ہاتھوں قتل
‫نہیں کرلوں گا ‪ ،مجھے چین نہیں آئے گا ۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کدھر گئے ہیں ۔ میں نے ان کا پیچھا کیا ہے لیکن ان کے
‫ساتھ سات مسلح محافظ تھے ‪ ،میں اکیال تھا ۔ وہ بحیرئہ روم کی طرف جا رہے ہیں ‪ ،مگر عام راستے سے ہٹ کر جارہے
‫ہیں ''… اس نے علی بن سفیان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ '' خدا کے لیے مجھے صرف چار سپاہی دے دیں ‪ ،میں
‫ان کے تعاقب میں جائوں گا اور انہیں ختم کرکے آئوں گا ''۔
‫علی بن سفیان نے اسے اس وعدے سے ٹھنڈا کیا کہ وہ اسے چار کی بجائے بیس سوار دے گا ۔ وہ ساحل سے آگے اتنی
‫جلدی نہیں جا سکتے ۔ میرے ساتھ رہو۔ علی بن سفیان مطمئن ہوگیا کہ یہ تو پتہ چل گیاہے کہ وہ کسطرف گئے ہیں ۔
‫٭ ٭ ٭
‫ا ُس وقت بالیان اسی صلیبی لڑکی کے ساتھ جس کا نام موبی تھا‪ ،ساحل کی طرف جانے والے عام راستے سے ہٹ کر دور
‫جا چکا تھا ۔ان عالقوں سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ سوڈانی فوج اور اس کے کمانداروں کو صالح
‫الدین ایوبی نے معافی دے دی ہے ۔ ایک تو وہ سلطان کے عتاب سے بھاگ رہا تھا اور دوسرے یہ کہ وہ موبی جیسی حسین
‫لڑکی کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ دنیا کی حسین لڑکیاں صرف مصر اور سوڈان میں ہی ہیں مگر اٹلی کی
‫اس لڑکی کے حسن اور ِدل کشی نے اسے اندھا کر دیا تھا ۔ اس کی خاطر وہ اپنا ُرتبہ ‪ ،اپنا مذہب اور اپنا ملک ہی چھوڑ
‫رہا تھا لیکن ا ُسے یہ معلوم نہیں تھا کہ موبی اس سے جان چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ وہ جس مقصد کے لیے آئی
‫تھی ‪ ،وہ ختم ہو چکا تھا ۔ گو مقصد تباہ ہوگیا تھا ‪ ،تاہم موبی اپنا کام کر چکی تھی ۔ اس کے لیے اس نے اپنے جسم اور
‫اپنی عزت کی قربانی دی تھی ۔ وہ ابھی تک اپنی عمر سے ُدگنی عمر کے آدمی کی عیاشی کاذریعہ بنی ہوئی تھی ۔
‫بالیان اس خوش فہمی میں مبتال تھا کہ موبی اسے بُری طرح چاہتی ہے مگر موبی اس سے نفرت کرتی تھی ۔ وہ چونکہ
‫مجبور تھی ‪ ،اسی لیے اکیلی بھاگ نہیں سکتی تھی ۔ وہ اس مقصد کے لیے بالیان کو ساتھ لے ہوئے تھی کہ اسے اپنی
‫حفاظت کی ضرورت تھی ۔ اسے بحیرئہ روم پار کرنا تھا یا رابن تک پہنچنا تھا ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ رابن اور اس کے
‫ساتھ جو تاجروں کے بھیس میں تھے ‪ ،پکڑے جا چکے ہیں ۔ اس مجبوری کے تحت وہ بالیان کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی
‫تھی ۔ وہ کئی بار اسے کہہ چکی تھی کہ تیز چلو اور پڑائو کم کرو ورنہ پکڑے جائیں گے لیکن بالیان جہاں اچھی جگہ دیکھتا
‫ُرک جاتا ۔ اس نے شراب کا ذخیرہ اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔
‫ایک رات موبی نے ایک ترکیب سوچی ۔ اس نے بالیان کو اتنی زیادہ پالدی کہ وہ بے سدھ ہوگیا ۔ ان کے ساتھ جو سات
‫محافظ تھے ‪ ،وہ کچھ دیر ہوے سو گئے تھے ۔ موبی نے دیکھا تھا کہ ان میں سے ایک ایسا ہے جو جوان ہے اور سب پر
‫چھایا رہتا ہے۔ بالیان زیادہ تر اسی کے ساتھ ہر بات کرتا تھا ۔ موبی نے اسے جگایا اور تھوڑی دور لے گئی ۔ اسے کہا
‫…'' تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کون ہوں ‪ ،کہاں سے آئی ہوں اور یہاں کیوں آئی تھی ۔ میں تم لوگوں کے لیے مدد
‫الئی تھی تا کہ تم صالح الدین ایوبی جیسے غیر ملکیوں سے آزاد ہو سکو مگر تمہارا یہ کماندار بالیان اس قدر عیاش آدمی
‫ہے کہ اس نے شراب پی کر بد مست ہو کر میرے جسم کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ۔ بجائے اس کے کہ وہ عقل مندی
‫سے بغاوت کا منصوبہ بناتا اور فتح حاصل کرتا ‪ ،اس نے مجھے اپنے حرم کی لونڈی بنا لیا اور اندھا دھند فوج کو دو حصوں
‫میں تقسیم کر کے ایسی الپرواہی سے حملہ کروایا کہ ایک ہی رات میں تمہاری اتنی بڑی فوج ختم ہوگئی۔
‫تمہاری شکست کا ذمہ دار یہ شخص ہے ۔ اب یہ میرے ساتھ صرف عیاشی کے لیے جا رہا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ ''
‫میں اسے سمندر پار لے جائوں ‪ ،اسے اپنی فوج میں ُرتبہ دالئوں اور اس کے ساتھ شادی کر لوں ‪ ،مگر مجھے اس شخص
‫سے نفرت ہے ۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر مجھے شادی کرنی ہے اور اپنے ملک میں لے کر جانا ہے اسے فوج میں
‫ُر تبہ دالنا ہے تو مجھے ایسے آدمی کا انتخاب کرنا چاہیے جو میرے دل کو اچھا لگے ۔ وہ آدمی تم ہو ‪ ،تم جوان ہو‪ ،دلیر
‫ہو‪ ،عقل مند ہو‪ ،میں نے جب سے تمہیں دیکھا ہے ‪ ،تمہیں چاہ رہی ہوں۔ مجھے اس بوڑھے سے بچائو۔ میں تمہاری ہوں۔
‫سمندر پار لے چلو ۔ فوج کا ُر تبہ اورمال و دولت تمہارے قدموں میں ہوگا مگر اس آدمی کو یہیں ختم کر دو۔ وہ سویا ہوا ہے
‫‪ ،اسے قتل کردو اور آئو نکل چلیں ''۔
‫اس نے محافظ کے گلے میں باہیں ڈال دیں ۔ محافظ اس کے حسن میں گرفتار ہوگیا ۔ موبی اس جادوگری میں ماہر تھی ۔
‫وہ ذرا پرے ہٹ گئی۔ محافظ اس کی طرف بڑھا تو عقب سے ایک برچھی اس کی پیٹھ میں اُتر گئی۔ اس کے منہ سے ہائے
‫نکلی اور وہ پہلو کے بل لڑھک گیا ۔ برچھی اس کی پیٹھ سے نکلی اور اسے آواز سنائی دی …''نمک حرام کو زندہ رہنے

‫کا حق نہیں ''۔ لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ وہ ا ُٹھی اور اتنا ہی کہنے پائی تھی کہ تم نے اسے قتل کر دیا ہے کہ پیچھے
‫سے ایک ہاتھ نے اس کے بازو کو جکڑ لیا اور جھٹکا دے کر اپنے ساتھ لے گیا ۔ اسے بالیان کے پاس پھینک کر کہا …''
‫ہم اس شخص کے پالے ہوئے دوست ہیں ۔ ہماری زندگی اسی کے ساتھ ہے ۔ تم ہم میں سے کسی کو اس کے خالف گمراہ
‫نہیں کر سکتی ۔ جو گمراہ ہوا اس نے سزا پا لی ہے ''۔
‫بالیان شراب کے نشے میں بے ہوش پڑا تھا ۔
‫تم لوگوں نے یہ بھی سوچا ہے کہ تم کہاں جا رہے ہو؟''…موبی نے پوچھا۔ ''
‫سمندر میں ڈوبنے ''… ایک نے جواب دیا …'' تمہارے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ‪ ،جہاں تک بالیان جائے گا ‪ ،ہم ''
‫وہیں تک جائیں گے ''… اور وہ دونوں جا کر لیٹ گئے ۔
‫دوسرے دن بالیان جاگا تو اسے رات کا واقعہ بتایا گیا ۔موبی نے کہا کہ وہ مجھے جان کی دھمکی دے کر اپنے ساتھ لے گیا
‫تھا ۔ بالیان نے اپنے محافظوں کو شاباش دی ‪ ،مگر ان کی یہ بات سنی ا َن سنی کر دی کہ یہ لڑکی اسے گمراہ کر کے لے
‫گئی تھی اور انہوں نے اس کی باتیں سنی تھیں ۔ وہ موبی کے حسن اور شراب میں مدہوش ہو کر سب بھول گیا۔ موبی نے
‫اسے ایک بار پھر کہا کہ تیز چلنا چاہیے مگر بالیان نے پروا نہ کی ۔ وہ اپنے آپ میں نہیں تھا۔ موبی اب آزاد نہیں ہو
‫سکتی تھی ۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ لوگ اپنے دوستوں کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
‫علی بن سفیان نے نہ جانے کیا سوچ کر ان کا تعاقب نہ کیا ۔ بغاوت کے بعد کے حاالت کو معمول پر النے کے لیے وہ
‫سلطان ایوبی کے ساتھ بہت مصروف ہو گیا تھا ۔

‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪16#
‫ساتویں لڑکی
‫ساحل کے کیمپ سے رابن ‪ ،اس کے چاروں ساتھیوں اور چھ لڑکیوں کو پندرہ محافظوں کی حفاظت میں قاہر ہ کے لیے روانہ
‫کر دیا گیا۔ قاصد ان سے پہلے روانہ ہو چکا تھا ۔ قیدی اونٹوں پر تھے اور گارڈ گھوڑوں پر۔ وہ معمول کی رفتار پر جارہے
‫تھے اور معمول کے مطابق پڑاو کر رہے تھے ۔وہ بے خوف و خطر جا رہے تھے وہاں کسی دشمن کے حملے کا ڈر نہیں تھا۔
‫قیدی نہتے تھے اور ان میں چھ لڑکیاں تھیں ۔ کسی کے بھاگنے کا ڈر بھی نہیں تھا ‪ ،مگر وہ یہ بھول رہے تھے کہ یہ قیدی
‫تربیت یافتہ جاسوس ہیں بلکہ لڑاکے جاسوس تھے۔ ان میں جو تاجروں کے بھیس میں پکڑے گئے تھے وہ چنے ہوئے تیر انداز
‫اور تیغ زن تھے اور لڑکیاں محض لڑکیاں نہیں تھیں جنہیں وہ کمزور عورت ذات سمجھ رہے تھے ۔ ان لڑکیوں کی جسمانی
‫ِد لکشی ‪ ،یورپی رنگت کی جاذبیت ‪ ،جوانی اور ان کی بے حیائی ایسے ہتھیار تھے جو اچھے اچھے جابر حکمرانوں سے ہتھیار
‫ڈلوا لیتے تھے ۔
‫محافظوں کا کمانڈر مصری تھا۔ اس نے دیکھا کہ ان چھ میں سے ایک لڑکی اس کی طرف دیکھتی رہتی ہے اور وہ جب
‫اسے دیکھتا ہے لڑکی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے ۔یہ مسکراہٹ اس مصری کو موم کر رہی تھی ۔ شام کے وقت
‫انہوں پہال پڑاو کیا تو سب کو کھانا دیا گیا ۔ اس لڑکی نے کھانا نہ کھایا ۔ کمانڈر کو بتایاگیا تو اس نے لڑکی کے ساتھ بات
‫کی ۔ لڑکی اس کی زبان بولتی اور سمجھتی تھی ۔ لڑکی کے آنسو نکل آئے۔ اس نے کہا کہ وہ اس کے ساتھ علیحدگی میں
‫بات کرنا چاہتی ہے ۔
‫رات کو جب سو گئے تو کمانڈر ا ُٹھا۔ اس نے لڑکی کو جگایا اور الگ لے گیا ۔ لڑکی نے اسے بتایا کہ وہ ایک مظلوم لڑکی
‫ہے ‪ ،اسے فوجیوں نے ایک گھر سے اغوا کیا اور اپنے ساتھ رکھا ۔پھر اسے جہاز میں اپنے ساتھ الئے ۔ دوسری لڑکیوں کے
‫متعلق اس نے بتایا کہ ان کے ساتھ اس کی مالقات جہاز میں ہوئی تھی ۔ انہیں بھی اغوا کرکے الیا گیا تھا ۔ اچانک
‫جہازوں پر آگ برسنے لگی اور جہاز جلنے لگے۔ ان لڑکیوں کو ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر میں ڈال دیا گیا ۔ کشتی انہیں
‫ساحل پر لے آئی ‪ ،جہاں انہیں جاسوس سمجھ کر قید میں ڈال دیا گیا ۔
‫یہ وہی کہانی تھی جو تاجروں کے بھیس میں جاسوسوں نے ان لڑکیوں کے متعلق صالح الدین ایوبی کو سنائی تھی ۔ مصری
‫گارڈ کمانڈر کو معلوم نہیں تھا ۔ وہ یہ کہانی پہلی بار سن رہا تھا ۔اسے تو حکم مال تھا کہ یہ خطرناک جاسوس ہیں۔ انہیں
‫قاہرہ لے جاکر سلطان کے ایک خفیہ محکمے کے حوالے کرنا ہے ۔ اس حکم کے پیش نظر وہ ان لڑکیوں کی یا اس لڑکی کی
‫کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا ۔اس نے لڑکی کو اپنی مجبوری بتادی ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ لڑکی کی ترکش میں ابھی بہت
‫تیر باقی ہیں ۔ لڑکی نے کہا ۔ '' میں تم سے کوئی مدد نہیں مانگتی ‪ ،تم اگر میری مدد کر و گے تومیں تمہیں روک دوں
‫گی ‪ ،کیونکہ تم مجھے اتنے اچھے لگتے ہو کہ میں اپنی خاطر تمہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتی ۔ میرا کوئ غم
‫خوار نہیں ۔ میں ان لڑکیوں کو بالکل نہیں جانتی اور ان آدمیوں کو بھی نہیں جانتی۔ تم مجھے رحم ِدل بھی لگتے ہو اور
‫میرے ِدل کو بھی اچھے لگتے ہو‪ ،اس لیے تمہیں یہ باتیں بتا رہی ہوں ''۔
‫اتنی خوبصورت لڑکی کے منہ سے اس قسم کی باتیں سن کر کون سا مرد اپنے آپ میں رہ سکتا ہے ۔ یہ لڑکی مجبور بھی
‫تھی۔ رات کی تنہائی بھی تھی ۔ مصری کی مردانگی پگھلنے لگی۔ ۔لڑکی نے ایک اور تیر چالیا اور صالح الدین ایوبی کے
‫کردار پر زہر ا ُگلنے لگی۔ اس نے کہا …'' میں نے تمہارے گورنر صالح الدین ایوبی کو مظلومیت کی یہ کہانی سنائی تھی۔
‫مجھے ا ُمید تھی کہ وہ میرے حال پر رحم کرے گا ‪ ،مگر اس نے مجھے اپنے خیمے میں رکھ لیا اور شراب پی کر میرے
‫ساتھ بدکاری کرتا رہا۔ اس وحشی نے میرا جسم توڑ دیا ہے ۔ شراب پی کر وہ اتنا وحشی بن جاتا ہے کہ اس میں انسانیت
‫رہتی ہی نہیں ''۔
‫مصر ی کا خون کھولنے لگا ۔ اس نے بدک کر کہا …'' ہمیں کہا گیا تھا کہ صالح الدین ایوبی مومن ہے ‪ ،فرشتہ ہے ‪،
‫شراب اور عورت سے نفرت کرتا ہے ''۔
‫مجھے اب اسی کے پاس لے جایا جا رہا ہے ''… لڑکی نے کہا … '' اگر تمہیں یقین نہ آئے تو رات کو دیکھ لینا کہ ''
‫میں کہاں رہوں گی ۔ وہ مجھے قید خانے میں نہیں ڈالے گا ‪ ،اپنے حرم میں رکھ لے گا ۔ مجھے اس آدمی سے ڈر آتا ہے
‫' …اس قسم کی بہت سے باتوں سے لڑکی نے اس مصری کے دل میں صالح الدین ایوبی کے خالف نفرت پیدا کر دی اور وہ
‫پوری طرح مصری پر چھا گئی۔ اس کے دل اور دماغ پر قبضہ کر لیا ۔ مصری کو معلوم نہیں تھا کہ یہی ان لڑکیوں کا ہتھیار
‫ہے ۔ لڑکی نے آخر میں کہا … '' اگر تم مجھے اس ذلیل زندگی سے نجات دال دو تو میں ہمیشہ کیلئے تمہاری ہو جائو ں
‫گی اور میرا باپ تمہیں سونے کی اشرفیوں سے ماال مال کر دے گا …'' میرے ساتھ سمندر پار بھاگ چلو۔ کشتیوں کی کمی

‫نہیں ۔ میرا باپ بہت امیر آدمی ہے ۔ میں تمہارے ساتھ شادی کر لوں گی اور میرا باپ تمہیں نہایت اچھا مکان اور بہت
‫سی دولت دے گا ۔ تم تجارت کر سکتے ہو ''۔
‫مصری کو یہ یاد رہ گیا کہ وہ مسلمان ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنا مذہب ترک نہیں کر سکتا ۔ لڑکی نے ذرا سوچ کر کہا
‫…'' …'' میں تمہارے لیے اپنا مذہب چھوڑ دوں گی
‫اس کے بعد وہ فرار اور شادی کا پروگرام بنانے لگے ۔لڑکی نے اسے کہا … '' میں تم پر زور نہیں دیتی ‪ ،اچھی طرح سوچ
‫لو ۔ میں صرف جاننا چاہتی ہوں کہ میرے دل میں تمہاری جو محبت پیدا ہوگئی ہے ‪ ،اتنی تمہارے دل میں بھی پیدا ہوئی
‫ہے یا نہیں۔ اگر تم مجھے قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہو تو سوچ لو اور کوشش کرو کہ قاہر ہ تک ہمارا سفر لمبا ہوجائے۔
‫ہم ایک بار وہاں پہنچ گئے تو پھر تم میری بو بھی نہیں سونگھ سکو گے ''۔
‫لڑکی کا مقصد صرف اتنا سا تھا کہ سفر لمبا ہو جائے اور تین دنوں کی بجائے چھ دن راستے میں ہی گزر جائیں ۔ اس کی
‫وجہ یہ تھی کہ رابن اور اس کے ساتھی فرار کی ترکیبیں سوچ رہے تھے۔ وہ اس کوشش میں تھے کہ رات کو سوئے ہوئے
‫محافظوں کے ہتھیار اُٹھا کر انہیں قتل کیا جائے ۔ جو نا ممکن سا کام تھا یا اُن کے گھوڑے چرا کر بھاگا جائے۔ ابھی تو
‫پہال ہی پڑائو تھا۔ ا ُن کی ضرورت یہ تھی کہ سفر لمبا ہو جائے تا کہ اطمینان سے سوچ سکیں اور عمل کر سکیں ۔ اس
‫مقصد کے لیے انہوں نے اس لڑکی کو استعمال کیا ‪ ،وہ محافظوں کے کمانڈر کو قبضے میں لے لے ۔ لڑکی نے پہلی مالقات
‫میں ہی یہ مقصد حاصل کر لیا اورمصری کو منہ مانگی قیمت دے دی ۔ مصری ایسا بڑا ُرتبے واال آدمی نہیں تھا ۔ معمولی
‫سا عہدے دار تھا۔ اس نے کبھی خواب میں بھی اتنی حسین لڑکی نہیں دیکھی تھی ۔ کہاں ایک جیتی جاگتی لڑکی جو اس
‫کے تصوروں سے بھی زیادہ خوبصورت تھی ‪ ،اس کی لونڈی بن گئی تھی ۔ وہ اپنا آپ‪ ،اپنا فرض اور اپنا مذہب ہی بھول گیا
‫۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی لڑکی سے الگ نہیں ہونا چاہتا تھا۔
‫لہذا آج سفر نہیں ہوگا ۔ محافظوں
‫اس پاگل پن میں اُس نے صبح کے وقت پہال حکم یہ دیا کہ جانور بہت تھکے ہوئے ہیں ‪ٰ ،
‫اور شتربانوں کو اس حکم سے بہت خوشی ہوئی ۔ وہ محاذ کی سختیوں سے اُکتائے ہوئے تھے۔ انہیں منزل تک پہنچنے کی
‫کوئی جلدی نہیں تھی ۔ وہ دن بھر آرام کرتے رہے۔گپ شپ لگاتے رہے اور انکاکمانڈر اس لڑکی کے پاس بیٹھا بدمست ہوتا
‫رہا۔ دن گزر گیا ‪ ،رات آئی اور جب سب سو گئے تو مصر ی لڑکی کو ساتھ لیے ُدور چال گیا ۔ لڑکی نے اُسے آسمان پر
‫پہنچا دیا ۔
‫صبح جب یہ قافلہ چلنے لگا تو مصری کمانڈر نے راستہ بدل دیا ۔ اپنے دستے سے اس نے کہا کہ اس طرف اگلے پڑائو کے
‫لیے بہت خوبصورت جگہ ہے ۔ قریب ایک گائوں بھی ہے جہاں مرغیاں اور انڈے مل جائیں گے۔ اس کا دستہ اس پر بھی
‫خوش ہوا کہ کمانڈر انہیں عیش کرا رہا ہے ۔ البتہ اس دستے میں دو عسکری ایسے بھی تھے جوکمانڈر کی ان حرکتوں سے
‫خوش نہیں تھے ۔ انہوں نے اسے کہا کہ ہمارے پاس خطرناک قیدی ہیں ۔ یہ سب جاسوس ہیں ۔ انہیں بہت جلدی حکومت
‫کے حوالے کر دینا چاہیے ۔ بالوجہ سفر لمبا کرنا ٹھیک نہیں ۔ مصری نے انہیں یہ کہہ کر چپ کروادیا کہ یہ میری ذمہ داری
‫ہے کہ جلدی پہنچوں یا دیر سے۔ جواب طلبی ہوئی تو مجھ سے ہوگی۔ دونوں خاموش ہوگئے ‪ ،لیکن وہ الگ جا کر آپس میں
‫کھسر پسر کرتے رہے ۔
‫٭
‫دوپہر کے بعد انہیں ُدور آگے بہت سے گدھ اُڑتے اور اُترتے نظر آئے ۔ یہ اس کی نشانی تھی کہ وہاں کوئی ُمردار ہے۔وہ
‫عالقہ مٹی اور ریت کے ٹیلوں کا تھا۔ صحرائی درخت بھی تھے۔ چلتے چلتے وہ ان ٹیلوں میں داخل ہوگئے ۔ راستہ اوپر ہوتا
‫گیا اور ایک بلند جگہ سے انہیں ایک میدان نظر آیا جہاں ِگد ھوں کے غول اُترتے ہوئے شور برپا کر رہے تھے ۔ ذرا اور آگے
‫گئے تو نظر آیا الشیں ہیں ‪ ،بدبو بھی تھی ۔ یہ ا ُن سوڈانیوں کی الشیں تھیں جو بحیرئہ روم کے ساحل پر مقیم سلطان
‫ایوبی کی فوج پر حملہ کرنے چلے تھے۔سلطان ایوبی کے جانباز سواروں نے راتوں کو ان کے عقبی حصے پر حملے کر کے یہ
‫کشت و خون کیا اور سوڈانی فوج کو تتر بتر کر دیا تھا۔یہاں سے آگے میلوں وسعت پر الشیں بکھری ہوئی تھیں ۔ سوڈانیوں
‫کو اپنی الشیں ا ُٹھانے کی مہلت نہیں ملی تھی ۔ قیدیوں اور محافظوں کا قافلہ چلتا رہا اور ذرا سا ُرخ بدل کر الشوں اور
‫گدھوں سے ہٹ گیا ۔
‫قافلہ جب وہاں سے گزر رہا تھا تو انہوں نے دیکھا کہ الشوں کے اردگرد اُن کے ہتھیار بھی بکھرے ہوئے تھے ۔ ان میں
‫کمانیں اور ترکش تھے۔ بر چھیاں ‪ ،تلواریں اور ڈھالیں بھی تھیں ۔ قیدیوں نے یہ ہتھیار دیکھ لیے ۔ انہوں نے آپس میں باتیں
‫کیں اور رابن نے اس لڑکی سے کچھ کہا جس نے مصری کمانڈر پر قبضہ کر رکھا تھا ۔ الشیں اور ہتھیار ُدور ُدور تک پھیلے
‫ہوئے تھے۔ دائیں طرف ٹیلوں کے قریب سر سبز جگہ تھی ۔ پانی بھی نظر آرہا تھا ۔ سبزہ ٹیلوں کے اوپر تک گیا ہوا تھا ۔
‫لڑکی نے کمانڈر کو اشارہ کیا تو وہ اس کے قریب چال گیا ۔ لڑکی نے کہا …'' یہ جگہ بہت اچھی ہے ۔ یہیں ُرک جاتے
‫ہیں ''…مصری نے قافلے کا ُر خ پھیر دیا اور سر سبز ٹیلے کے قریب پانی کے چشمے پر جا روکا۔ رات یہیں بسر کرنی تھی
‫۔سب گھوڑوں اور اونٹوں سے ا ُترے ‪ ،جانور پانی پر ٹوٹ پڑے۔ رات گزارنے کے لیے اچھی جگہ دیکھی جانے لگی ۔ دو ٹیلوں
‫کے درمیان جگہ کشادہ بھی تھی اور وہاں سبزہ بھی تھا ۔ یہی جگہ منتخب کر لی گئی ۔
‫جب رات کا اندھیرا گہرا ہوا تو سب سو گئے ۔ مصری جاگ رہا تھا اور لڑکی بھی جاگ رہی تھی ۔اس رات اسے خاص طور
‫پر جاگنا اور مصری کمانڈر کو پوری طرح مدہوش کرنا تھا ۔ اسے جب خراٹوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں تو وہ مصری کے
‫پاس چلی گئی ۔ اسی لڑکی کی خاطر وہ سب سے الگ اور ُدور ہٹ کر لیٹا تھا ۔ لڑکی اسے ٹیلے کی اوٹ میں لے گئی
‫اورر وہاں سے اور زیادہ ُد ور جانے کی خواہش ظاہر کی ۔ مصری اس کی خواہشوں کا غالم ہو گیا ۔ اسے احساس تک نہ ہوا
‫کہ آج رات لڑکی ا ُسے ایک خاص مقصد کے لیے دور لے جارہی ہے ۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور لڑکی اسے تین
‫ٹیلوں سے بھی پرے لے گئی ۔
‫ا ُدھر رابن نے جب دیکھا کہ کمانڈر جا چکا ہے اور دوسرے محافظ گہری نیند سوئے ہوئے ہیں تو اس نے لیٹے لیٹے اپنے ایک
‫ساتھی کو جگا یا۔ اس نے ساتھ والے کو جگایا ۔ اس طرح رابن کے چاروں ساتھی جاگ اُٹھے … محافظ اُن سے ذرا ُدور
‫سوئے ہوئے تھے ۔ مصری کمانڈر کو لڑکی نے اتنا بے پروا کر دیا تھا کہ رات کو وہ سنتری کھڑا نہیں کرتا تھا ۔ پہلے رابن
‫پیٹ کے بل رینگتا ہوا محافظوں سے دور چال گیا ۔ اس کے بعد اس کے چاروں ساتھی بھی چلے گئے ۔ ٹیلے کی اوٹ میں
‫ہو کر وہ تیز تیز چلنے لگے اور الشوں تک پہنچ گئے ۔ ٹٹول ٹٹول کر انہوں نے تین کمانیں اور ترکش اُٹھائے اور ایک ایک
‫برچھی ا ُٹھالی ۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے لڑکی سے کہا تھا کہ وہ کمانڈر سے یہی کہے کہ یہاں پڑائو کیا جائے ۔ وہ
‫ہتھیار لے کر واپس ہوئے ‪ ،اب وہ اکٹھے تھے ۔

‫وہ سوئے ہوئے محافظوں کے قریب جا کھڑے ہوئے ۔ رابن نے ایک محافظ کے سینے میں برچھی مارنے کے لیے برچھی ذرا
‫اُوپر ا ُٹھائی ۔ باقی چاربھی ایک ایک محافظ کے سر پر کھڑے تھے ۔ یہ نہایت کامیاب چال تھی۔ وہ بیک وقت چار محافظوں
‫کو ختم کر سکتے تھے اور باقی گیارہ کے سنبھلنے تک انہیں بھی ختم کرنا مشکل نہیں تھا۔ پیچھے تین شتربان تھے اور
‫مصری کمانڈر ۔ وہ آسان شکار تھے ۔ رابن نے جونہی برچھی اُوپر اُٹھائی ‪ ،زناٹہ سا سنائی دیا اور ایک تیر رابن کے سینے
‫میں ا ُتر گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک تیر رابن کے ساتھی کے سینے میں لگا ‪ ،وہ ڈولے ۔ ان کے تین ساتھی ابھی دیکھ ہی
‫رہے تھے کہ یہ کیا ہوا ہے کہ دو تیر اور آئے اور دو اور قیدی اوندھے ہوگئے ۔ آخری قیدی بھاگنے کے لیے پیچھے کو ُمڑا تو
‫ایک تیر اس کے پہلو میں ا ُترگیا ۔ یہ کام اتنی خاموشی سے ہوگیا کہ ان محافظوں میں سے کسی کی آنکھ ہی نہ کھلی جن
‫کے سروں پر موت آن کھڑی ہوئی تھی ۔
‫تیر انداز آگے آگئے ۔انہوں نے مشعلیں روشن کیں۔ یہ دو محافظ تھے جنہوں نے اپنے کمانڈر سے کہا تھا کہ انہیں منزل پر
‫پہنچنا چاہیے۔وہ دیانت دار تھے ۔وہ سوئے ہوئے تھے ‪ ،جب چاروں قیدی ان کے قریب سے گزرے تو اُن میں سے ایک کی
‫آنکھ کھل گئی تھی ۔ اس نے اپنے ساتھی کو جگایا اور قیدیوں کا تعاقب دبے پائوں کیا ۔ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ اگر
‫قیدیوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو انہیں تیروں سے ختم کر دیں گے ‪ ،مگر اس سے پہلے وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ کیا
‫کرتے ہیں ۔ اندھیرے میں انہیں جو کچھ نظر آتا رہا ‪ ،وہ دیکھتے رہے ۔ قیدی ہتھیار اُٹھا کر واپس آئے تو دونوں محافظ آکر
‫ٹیلے کے ساتھ چھپ کر بیٹھ گئے ۔ جونہیں قیدیوں نے محافظوں کو برچھیاں مارنے کے لیے برچھیاں اُٹھائیں ‪ ،انہوں نے تیر
‫چال دئیے ۔ پھر چاروں کو ختم کر دیا ۔ انہوں نے اپنے کمانڈر کو آواز دی تو اسے ال پتہ پایا۔ اس آواز سے لڑکیاں جاگ
‫ا ُٹھیں اور باقی محافظ بھی جاگے۔ لڑکیوں نے اپنے آدمیوں کی الشیں دیکھیں۔ ہر ایک الش میں ایک تیر اُترا ہوا تھا۔ لڑکیاں
‫خاموشی سے الشوں کو دیکھتی رہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ آدمی آج رات کیا کریں گے ۔
‫مصری کمانڈر وہاں نہیں تھا اور ایک لڑکی بھی غائب تھی ۔
‫محافظوں کو معلوم نہیں تھا کہ جب ان قیدی جاسوسوں کے سینوں میں تیر داخل ہوئے تھے ‪ ،بالکل اسی وقت اُن کے
‫مصری کمانڈر کی پیٹھ میں ایک خنجر اُتر گیا تھا ۔ اُس کی الش تیسرے ٹیلے کے ساتھ پڑی تھی اس رات صحرا کی ریت
‫خون کی پیاسی معلوم ہوتی تھی ۔ مصری کمانڈر اپنے محافظ دستے اور قیدیوں سے بے خبر اس لڑکی کے ساتھ چال گیا اور
‫لڑکی اسے خاصا دور لے گئی تھی ۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے ساتھی ایک خونی ڈرامہ کھیلیں گے ۔ لڑکی مصری کو ایک
‫ٹیلے کے ساتھ لے کے بیٹھ گئی ۔
‫اسی ٹیلے سے ذرا پرے بالیان اور اس کے چھ محافظوں نے پڑائو ڈال رکھا تھا ۔ اُن کے گھوڑے کچھ دور بندھے ہوئے تھے ۔
‫بالیان موبی کو ساتھ لیے ٹیلے کی طرف آگیا ۔ اس کے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی ۔ موبی نے نیچے بچھانے کے لیے
‫دری اُٹھا رکھی تھی ۔ بالیان محافظوں سے ُد ور جا کر عیش و عشرت کرنا چاہتا تھا۔ اس نے دری بچھا دی اور موبی کو
‫اپنے ساتھ بٹھا لیا ۔ وہ بیٹھے ہی تھے کہ رات کے سکوت میں انہیں قریب سے کسی کی باتوں کی آواز یں سنائی دیں ۔
‫وہ چونکے اور دم سادھ کر سننے لگے ۔آواز کسی لڑکی کی تھی ۔ بالیان اور موبی دبے پائوں اس طر ف آئے اور ٹیلے کی
‫اوٹ سے دیکھا ۔ انہیں دو سائے بیٹھے ہوئے نظر آئے ۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ ایک عورت اور ایک مرد ہے ۔ موبی اور زیادہ
‫قریب ہوگئی اور غور سے باتیں سننے لگی ۔ مصری کمانڈر کے ساتھ اس لڑکی نے ایسی واضح باتیں کیں کہ موبی کو یقین
‫ہوگیا کہ یہ اس کی ساتھی لڑکی ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسے قاہرہ لے جایا جارہا ہے ۔
‫مصر ی نے جو باتیں کیں ‪ ،وہ تو بالکل ہی صاف تھیں ۔ کسی شک کی گنجائش نہیں تھی ۔ موبی جان گئی تھی کہ یہ
‫مصری اس لڑکی کو اس کی مجبوری کے عالم میں عیاشی کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ موبی نے یہ بالکل نہ سوچا تھا کہ اردگرد
‫کوئی اور بھی ہوگا اور اس نے جو ارادہ کیا ہے ‪ ،اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اس نے پیچھے ہٹ کر بالیان کے کان میں کچھ کہا
‫…… '' یہ مصری ہے اور یہ میرے ساتھ کی ایک لڑکی کے ساتھ عیش کر رہا ہے ۔ اس لڑکی کو بچالو۔ یہ مصری تمہارا
‫دشمن ہے اور لڑکی تمہاری دوست ''…… اس نے بالیان کو اور زیادہ بھڑکانے کے لیے کہا ۔'' یہ بڑی خوبصورت لڑکی ہے ‪،
‫اسے بچالو اور اپنے سفری حرم میں شامل کرلو
‫بالیان شراب پئے ہوئے تھا ۔ اس نے کمر بند سے خنجر نکاال اور بہت تیزی سے آگے بڑھ کر خنجر مصری کمانڈر کی پیٹھ
‫میں گھونپ دیا۔ خنجر نکال کر اسی تیزی سے ایک اور وار کیا ۔ لڑکی مصری سے آزاد ہو کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ موبی دوڑی
‫اور ا ُسے آواز دی ۔ وہ دوڑ کر موبی سے لپٹ گئی۔ موبی نے اس سے پوچھا کہ دوسری کہاں ہیں ۔ اس نے رابن اور دوسرے
‫ساتھیوں کے متعلق بھی بتایا اور یہ بھی کہا کہ وہ پندرہ محافظوں کے پہرے میں ہیں ۔ بالیان دوڑتا گیا اور اپنے چھ ساتھیوں
‫کو بال الیا۔ ا ُن کے پاس کمانیں اور دوسرے ہتھیار تھے۔ اتنے میں قیدیوں کے محافظوں میں سے ایک اپنے مصری کمانڈر کو
‫آوازیں دیتا اِ دھر آیا۔ بالیان کے ایک ساتھی نے تیر چالیا اور اس محافظ کو ختم کر دیا ۔ وہ لڑکی انہیں اپنی جگہ لے جانے
‫کے لیے آگے آگے چل پڑی ۔
‫بالیان کو آخری ٹیلے کے پیچھے روشنی نظر آئی ۔ اس نے ٹیلے کی اوٹ میں جا کر دیکھا ۔ وہاں بڑی بڑی دو مشعلیں جل
‫رہی تھیں۔ ان کے ڈنڈے زمین میں گڑھے ہوئے تھے ۔ اس کے اوپر والے سروں پر تیل میں بھیگے ہوئے کپڑے لپٹے ہوئے تھے
‫‪ ،جو جل رہے تھے ۔ بالیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ اندھیرے میں تھا ۔ اسے روشنی میں پانچ لڑکیاں الگ کھڑی نظر آرہی
‫تھیں اور محافظ بھی دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے درمیان پانچ الشیں پڑی تھیں ‪ ،جن میں تیر اُترے ہوئے تھے ۔ موبی اور
‫دوسری لڑکی کی سسکیاں نکلنے لگیں۔ موبی کے ا ُکسانے پربالیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ تمہارا شکار ہے ‪ ،تیروں
‫سے ختم کر دو ۔ ان کی تعداد اب چودہ تھی ۔ یہ اُن کی بد قسمتی تھی کہ وہ روشنی میں تھے۔
‫بالیان کے ساتھیوں نے کمانوں میں تیر ڈالے۔ تمام تیر ایک ہی بار کمانوں سے نکلے ۔ دوسرے ہی لمحے کمانوں میں چھ اور
‫تیر آچکے تھے۔ ایک ہی بار قیدیوں کے چھ محافظ ختم ہو گئے ۔ باقی ابھی سمجھ نہ سکے تھے کہ یہ تیر کہاں سے آئے
‫ہیں ۔ چھ اور تیروں نے چھ اور محافظوں کو گرا دیا ۔ باقی دو رہ گئے تھے۔ اُن میں سے ایک اندھیرے میں غائب ہوگیا ۔
‫دوسرا ذرا سست نکال اور وہ بھی سوڈانیوں کے بیک وقت تین تیروں کا شکار ہو گیا ۔ تین شتربان رہ گئے تھے‪ ،جو سامنے
‫نہیں تھے۔ وہ اندھیرے میں کہیں اِدھر ا ُدھر ہوگئے ۔ مشعلوں کی روشنی میں اب الشیں ہی الشیں نظر آرہی تھیں۔ ہر الش
‫ایک ایک تیر لیے ہوئے تھی اورء ایک میں تین تیر پیوست تھے۔ موبی دوڑ کر لڑکیوں سے ملی ۔ اتنے میں ایک گھوڑے کی
‫سرپٹ دوڑنے کی آوازیں سنائی دی ‪ ،جو دور نکل گئیں ۔ بالیان نے کہا …… ''یہاں ُرکنا ٹھیک نہیں ۔ ان میں ایک بچ کر
‫نکل گیا ہے ۔ وہ قاہرہ کی سمت گیا ہے ‪ ،فورا ً یہاں سے نکلو ''۔
‫انہوں نے محافظوں کے گھوڑے کھولے اور اپنی جگہ لے گئے ‪ ،وہاں جا کر دیکھا ایک گھوڑا بمع زین غائب تھا ۔ اسے بچ کر

‫نکل جانے واال محافظ لے گیا تھا ۔ وہ اپنے گھوڑوں تک نہیں جا سکا تھا ۔ چھپ کر اُدھر چالگیا ‪ ،جہاں اسے آٹھ گھوڑے
‫بندھے نظر آئے ۔ زینیں پاس ہی پڑی تھیں ۔ ا ُس نے ایک گھوڑے پر زین کسی اور بھاگ نکال ۔ بالیان نے چودہ گھوڑوں پر
‫زینیں کسوائیں ۔ سامان دو گھوڑوں پر الدا اور باقی گھوڑے ساتھ لیے اور روانہ ہو گئے ۔ لڑکیوں نے موبی کو سنایا کہ اُن پرکیا
‫بیتی ہے اور انہیں کہاں لے جایا رہا تھا ۔ ا ُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ رابن اور اس کے ساتھی الشوں کے ہتھیار اُٹھا نے گئے
‫تھے ‪ ،مگرمعلوم نہیں کہ وہ کس طرح مارے گئے ۔
‫موبی نے کہا …… '' ایوبی کے کیمپ میں میری اور رابن کی مالقات اچانک ہوگئی تھی ۔ اس نے کہا تھا کہ مجھے یو ں
‫ِ
‫خالف توقع نہ ملتے۔ آج ہماری مالقات بالکل
‫نظر آرہا تھا کہ یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ‪ ،ورنہ ہم اس طر ح
‫ِ
‫خالف توقع ہوگئی ہے ‪ ،لیکن میں یہ نہیں کہوں گی کہ یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ۔خدائے یسوع مسیح ہم سے
‫ناراض معلوم ہوتا ہے ۔ ہم نے جس
‫کام میں ہاتھ ڈاال وہ چوپٹ ہوا ۔ بحیرئہ روم میں ہماری فوج کو شکست ہوئی اور مصر میں ہماری دوست سوڈانی فوج کو
‫شکست ہوئی ۔ اِ دھر رابن اور کرسٹوفر جیسے دلیر اور قابل آدمی اور ان کے اتنے اچھے ساتھی مارے گئے ۔ معلوم نہیں ‪،
‫ہمارا کیا انجام ہوگا ''۔
‫ہمارے جیتے جی تمہیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ''۔ بالیان نے کہا ……'' میرے شیروں کا کمال تم نے دیکھ لیا ہے ''
‫''۔
‫٭ ٭ ٭
‫جس وقت قیدیوں کا قافلہ الشوں کے پاس ٹیلوں میں ُرکا تھا ۔ اُس وقت ساحل پر سلطان ایوبی کی فوج کےکیمپ میں تین
‫آدمی داخل ہوئے ۔ وہ اٹلی کی زبان بولتے تھے۔ ان کا لباس بھی اٹلی کے دیہاتیوں جیسا تھا ‪ ،ان کی زبان کوئی نہیں
‫سمجھتا تھا ۔ اٹلی کے جنگی قیدیوں سے معلوم کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اٹلی سے آئے ہیں اور اپنی لڑکیوں کو
‫ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔ یہ یہاں کے ساالر سے ملنا چاہتے ہیں ۔ انہیں بہائوالدین شداد کے پاس پہنچا دیا گیا ۔ صالح الدین
‫ایوبی کی غیر حاضری میں شداد کیمپ کمانڈر تھا ۔ اٹلی کا ایک جنگی قیدی بالیا گیا ۔ وہ مصر کی زبان بھی جانتا تھا ۔
‫اس کی مدد سے ان آدمیوں کے ساتھ باتیں ہوئیں ۔ اِن تین آدمیوں میں ایک ادھیڑ عمر تھا اور دو جوان تھے۔ تینوں نے
‫ایک ہی جیسی بات سنائی ۔ تینوں کی ایک ایک جوان بہن کو صلیبی فوجی اُن کے گھروں سے اُٹھا الئے تھے۔ انہیں کسی
‫نے بتایا تھا کہ وہ لڑکیاں مسلمانوں کے کیمپ میں پہنچ گئی ہیں ۔ یہ اپنی بہنوں کی تالش میں آئے ہیں
‫انہیں بتایا گیا تھا کہ یہاں سات لڑکیاں آئی تھیں ۔انہوں نے یہی کہانی سنائی تھی مگر ساتوں جاسوس نکلیں ۔ ان تینوں نے
‫کہا کہ ہماری بہنوں کا جاسوسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہم توغریب اور مظلوم لوگ ہیں ۔کسی سے کشتی مانگ کر
‫اتنی دور آئے ہیں۔ ہم غریبوں کی بہنیں جاسوسی کی جرٔات کیسے کر سکتی ہیں۔ ہمیں اِن سات لڑکیوں کا کچھ پتہ نہیں ۔
‫معلوم نہیں‪ ،وہ کون ہوں گی ۔ ہم تو اپنی بہنوں کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔
‫ہمارے پاس اور کوئی لڑکی نہیں ''۔ شداد نے بتایا ۔'' یہی سات لڑکیاں تھیں‪ ،جن میں سے ایک الپتہ ہو گئی تھی ''
‫اور باقی چھ کو پرسوں صبح یہاں سے روانہ کر دیا گیا ہے ۔ اگر انہیں دیکھنا چاہتے ہو تو قاہرہ چلے جائو ۔ ہمارا سلطان
‫رحم ِدل انسان ہے ‪ ،تمہیں لڑکیاں دکھا دے گا ''۔
‫نہیں '' ۔ایک نے کہا ……'' ہماری بہنیں جاسوس نہیں ۔ وہ سات کوئی اورہوں گی۔ ہماری بہنیں سمندر میں ڈوب گئی ''
‫ہوں گی یا ہمارے ہی فوجیوں نے انہیں اپنے پاس رکھا ہوا ہوگا ''۔
‫بہائو الدین شداد نیک خصلت انسان تھا۔ اُس نے ان دیہاتیوں کی مظلومیت سے متا ثر ہو کر اُن کی خاطر تواضع کی اور
‫انہیں عزت سے رخصت کیا ۔ اگر وہاں علی بن سفیان ہوتا تو ان تینوں کو اتنی آسانی سے نہ جانے دیتا۔ اس کی سراغ
‫رساں نظریں بھانپ لیتیں کہ یہ تینوں جھوٹ بول رہے ہیں …… تینوں چلے گئے ۔ کسی نے بھی نہ دیکھا کہ وہ کہاں گئے
‫ہیں ۔ کیمپ سے ُد ور کوئی خطرہ نہ تھا ‪ ،وہ چٹانوں کے اندر چلے گئے ۔ وہاں ان جیسے اٹھارہ آدمی بیٹھے ان کا انتظار کر
‫رہے تھے۔ ان تینوں میں جو ا ُدھیڑ عمر تھا ‪ ،وہ میگنا ناماریوس تھا ۔ یہ صلیبیوں کی وہ کمانڈو پارٹی تھی جسے لڑکیوں کو
‫آزاد کرانے اور اگر ممکن ہو سکے تو سلطان ایوبی کو قتل کرنے کا مشن دیا گیا تھا ۔ان تینوں نے کیمپ سے کچھ اور
‫ضروری معلومات بھی حاصل کرلی تھیں ۔ یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ صالح الدین ایوبی یہاں نہیں قاہرہ میں ہے ۔ شداد کے
‫ساتھ باتیں کرتے ‪ ،جہاں انہیں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ لڑکیاں قاہرہ کو روانہ کر دی گئی ہیں ‪ ،وہاں انہوں نے یہ بھی معلوم
‫کر لیا تھا کہ ان کے ساتھ پانچ مرد قیدی بھی ہیں ۔
‫یہ پارٹی ایک بڑی کشتی میں آئی تھی ۔ انہوں نے کشتی ساحل پرایک ایسی جگہ پر باندھ دی تھی جہاں سمندر چٹان کو
‫کاٹ کر اندر تک گیا ہوا تھا ۔ ان لوگوں کو اب قاہرہ کے لیے روانہ ہونا تھا ‪ ،مگر سواری نہیں تھی ۔ یہ تین آدمی جو
‫کیمپ میں گئے تھے ‪ ،یہ بھی دیکھ آئے تھے کہ اس فوج کے گھوڑے اور اونٹ کہاں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی
‫دیکھاتھا کہ کیمپ سے جانور چوری کرنا آسان نہیں ۔ اکیس گھوڑے یااونٹ چوری نہیں کیے جاسکتے تھے۔ ابھی سورج طلوع
‫ہونے میں بہت دیر تھی ۔ وہ پیدل ہی چل پڑے ۔ اگر انہیں سواری مل جاتی تو وہ قیدیوں کو راستے میں ہی جا لینے کی
‫کوشش کرتے ۔ اب وہ یہ سوچ کر پیدل چلے کہ قاہر میں جا کر قیدیوں کو چھڑانے کی کوشش کریں گے۔ سب جانتے تھے
‫کہ یہ زندگی اور موت کی مہم ہے ۔ صلیبی فوج کے سربراہوں اور شاہوں نے انہیں کامیابی کی صورت میں جو انعام دینے کا
‫وعدہ کیا تھا ‪ ،وہ اتنا زیادہ تھا کہ کوئی کام کیے بغیر اپنے کنبوں سمیت ساری عمر آرام اور بے فکری کی زندگی بسر کر
‫سکتے تھے ۔
‫میگناناماریوس کو جیل خانے سے الیا گیا تھا ۔ اُسے ڈاکہ زنی کے جرم میں تیس سال قید کی سزا دی گئی تھی ۔ اس
‫کے ساتھ دو اور قیدی تھے جن میں ایک کی سزا چوبیس سال اور دوسرے کی ستائیس سال تھی ۔ اُس زمانے میں قید خانے
‫قصاب خانے ہوتے تھے ۔ مجرم کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ بڑی ظالمانہ مشقت لی جاتی اور میویشیوں کی طرح کھانے
‫کو بے کار خوراک دی جاتی تھی ۔ قیدی رات کو بھی آرام نہیں کر سکتے تھے ۔ایسی قید سے موت بہتر تھی ۔ ان تینوں
‫کو انعام کے عالوہ سزا معاف کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔۔ صلیب پرحلف لے کر انہیں اس پارٹی میں شامل کیا گیا تھا ۔
‫جس پادری نے ا ُن سے حلف لیا تھا ‪ ،اس نے انہیں بتایا تھا کہ وہ جتنے مسلمانوں کو قتل کریں گے ‪ ،اس سے دس گناہ ان
‫کے گناہ بخشے جائیں گے اور اگر انہوں نے صالح الدین ایوبی کو قتل کیا تو اُن کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اور اگلے
‫جہان خدائے یسوع مسیح انہیں جنت میں جگہ دیں گے ۔
‫یہ معلوم نہیں کہ یہ تینوں قید خانے کے جہنم سے آزاد ہونے کے لیے موت کی اس مہم میں شامل ہوئے تھے یا اگلے جہاں

‫جنت میں داخل ہونے کے لیے یا انعام کا اللچ انہیں لے آیا تھا یا وہ نفرت جو اُن کے ِدلوں میں مسلمانوں کے خالف ڈالی
‫گئی تھی ۔ بہر حال وہ عزم کے پختہ معلوم ہوتے تھے اور ا ُن کا جوش و خروش بتا رہا تھا کہ وہ کچھ کر کے ہی مصر
‫سے نکلیں گے یا جانیں قربان کردیں گے ۔ باقی اٹھارہ تو فوج کے منتخب آدمی تھے ۔ انہوں نے جلتے ہوئے جہازوں سے
‫جانیں بچائی تھیں اور بڑی مشکل سے واپس گئے تھے۔ یہ مسلمانوں سے اس ذلت آمیز شکست کا انتقام لینا چاہتے تھے۔
‫انعام کا اللچ تو تھا ہی …… یہی جذبہ تھا جس کے جوش سے وہ ا َ ن دیکھی منزل کی سمت پیدل ہی چل پڑے ۔
‫دوپہر کے وقت ایک گھوڑا سوار صالح الدین ایوبی کے ہیڈ کواٹر کے سامنے جا ُرکا ۔ گھوڑے کا پسینہ پھوٹ رہا تھا اور سوار
‫کے منہ سے تھکن کے مارے بات نہیں نکل رہی تھی ۔ وہ گھوڑے سے اُترا تو گھوڑے کاسارا جسم بڑی زور سے کانپا ۔ گھوڑا
‫گر پڑا اور مر گیا ۔ سوار نے اسے آرام دئیے بغیر اور پانی پالئے بغیر ساری رات اور آدھا دن مسلسل دوڑایا تھا ۔ سلطان
‫ایوبی کے محافظوں نے سوار کو گھیرے میں لے لیا ۔ ا ُسے پانی پالیا اور جب وہ بات کرنے کے قابل ہوا تو اس نے کہا کہ
‫کسی ساالر یا کماندار سے مال دو …… سلطان ایوبی خود ہی باہر آگیا تھا ۔ سوار اُسے دیکھ کر اُٹھا اور سالم کرکے کہا
‫……'' سلطان کا اقبال بلند ہو ۔ بُری خبر الیا ہوں ''…… سلطان ایوبی اسے اندر لے گیا اور کہا ……'' خبر جلدی سے سنا
‫و ''۔
‫قیدی لڑکیاں بھاگ گئی ہیں ۔ ہمارا پورا دستہ مارا گیا ہے '' ۔ اس نے کہا ……'' مرد قیدیوں کو ہم نے جان سے مار ''
‫دیا ہے۔ میں اکیال بچ کر نکال ہوں ۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ حملہ آور کون تھے ۔ ہم مشعلوں کی روشنی میں اور وہ
‫اندھیرے میں ۔ اندھیرے سے تیر آئے اور میرے تمام ساتھی ختم ہوگئے ''۔
‫یہ قیدیوں کے محافظوں کے دستے کا وہ آدمی تھا جو اندھیرے میں غائب ہو گیا تھا اور سوڈانیوں کا گھوڑا کھول کر بھاگ آیا
‫تھا ۔ اس نے گھوڑے کو بالروکے سرپٹ دوڑایا تھا اور اتنا طویل سفر آدھے سے بھی تھوڑے وقت میں طے کر لیا تھا ۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے علی بن سفیان اور فوج کے ایک نائب ساالر کو بالیا ۔ وہ آئے تو اس آدمی سے کہا کہ وہ اب
‫ساری بات سنائے۔ ا ُس نے کیمپ سے روانگی کے وقت سے بات شروع اور اپنے کمانڈر کے متعلق بتایا کہ وہ ایک قیدی لڑکی
‫کے ساتھ ِد ل بہالتا رہا اور قیدیوںبسے الپروا ہو گیا ‪ ،پھر راستے میں جو کچھ ہوتا رہا اور آخر میں جو کچھ ہوا ‪ ،اُس نے
‫سنا دیا ‪ ،مگر وہ یہ نہ بتا سکا کہ حملہ آور کون تھے ۔
‫سلطان ایوبی نے علی بن سفیان اور نائب ساالرسے کہا ……'' اس کامطلب یہ ہے کہ صلیبی چھاپہ مار مصر کے اندر موجو
‫دہیں ''۔
‫ہو سکتا ہے '' ۔ علی بن سفیان نے کہا ……'' یہ صحرائی ڈاکو بھی ہو سکتے ہیں ۔ اتنی خوبصورت چھ لڑکیاں ڈاکوئوں ''
‫کے لیے بہت بڑی کشش تھی ''۔
‫تم نے اس کی بات غور سے نہیں سنی ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' اس نے کہا ہے کہ مرد قیدی الشوں کے ''
‫ہتھیار ا ُٹھا الئے تھے اور محافظوں کو قتل کرنے لگے تھے۔ محافظوں میں سے دو نے انہیں تیروں سے ہالک کر دیا ۔ اس کے
‫بعد ا ُن پر حملہ ہوا ۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے صلیبی چھاپہ مار اُن کے تعاقب میں تھے ''۔
‫سلطان محترم !'' نائب ساالر نے کہا ۔ '' فوری طور پر کرنے واال کام یہ ہے کہ اس عسکری کو ''
‫وہ کوئی بھی تھے
‫ِ
‫راہنمائی کے لیے ساتھ بھیجا جائے اور کم از کم بیس گھوڑا سوار جو تیز رفتار ہوں ‪ ،تعاقب کے لیے بھیجے جائیں۔ یہ بعد
‫کی بات ہے کہ وہ کون تھے ''۔
‫میں اپنے ایک نائب کو ساتھ بھیجوں گا '' ۔ علی بن سفیان نے کہا ۔ ''
‫اس عسکری کو کھانا کھالئو ''…… سلطان ایوبی نے کہا …… '' اسے تھوڑی دیر آرام کرلینے دو۔ اتنی دیر میں بیس سوار''
‫تیار کرو اور تعاقب میں روانہ کر دو۔ اگر ضرورت سمجھو تو زیادہ سوار بھیج دو ''۔
‫میں نے جہاں گھوڑا کھوال تھا ‪ ،وہاں آٹھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے ''۔ محافظ نے کہا ……'' وہاں کوئی انسان نہیں ''
‫تھا ۔حملہ آور وہی ہو سکتے ہیں ‪ ،اگر گھوڑے آٹھ تو وہ بھی آٹھ ہی ہوں گے ''۔
‫چھاپہ ماروں کی تعداد زیادہ نہیں ہو سکتی ''۔ نائب ساالر نے کہا …… '' ہم انشاء اللہ انہیں پکڑ لیں گے ''۔
‫یہ یاد رکھو کہ وہ چھاپہ مار ہیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' اور لڑکیاں جاسوس ہیں ‪ ،اگر تم ایک جاسوس یا ''
‫چھاپہ مار کو پکڑ لو تو سمجھ لو کہ تم نے دشمن کے دو سو عسکری پکڑ لیے ہیں ۔ میں ایک جاسوس کو ہالک کرنے کے
‫لیے دشمن کے دو سو عسکریوں کو چھوڑ سکتا ہوں ۔ ایک عورت کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مگر ایک جاسوس اور
‫تخریب کار عورت اکیلی پورے ملک کا بیڑہ غرق کر سکتی ہے ۔ یہ لڑکیاں بے حد خطرناک ہیں ‪ ،اگر وہ مصر کے اندر رہ
‫گئیں تو تمہارا پورے کا پورا لشکر بے کار ہو جائے گا ۔ ایک جاسوس یا جاسوسہ کو پکڑنے یا جان سے مارنے کے لیے اپنے
‫ایک سو سپاہی قربان کر دو ۔ یہ سودا پھر بھی سستا ہے ۔ چھاپہ مار اگر نہ پکڑے جائیں تو مجھے پروا نہیں اِن لڑکیوں کو
‫ہر قیمت پر پکڑنا ہے ۔ ضرورت سمجھو تو تیروں سے انہیں ہالک کر دو ۔ زندہ نکل کر نہ جائیں ''۔
‫ایک گھنٹے کے اندر اندر بیس تیز رفتار سوار روانہ کر دئیے گئے ۔ اس کا راہنما یہ محافظ تھا اور کمانڈر علی بن سفیان کا
‫ایک نائب زاہدین تھا ۔ ان سواروں میں فخرالمصری کو علی بن سفیان نے خاص طور پر شامل کیا تھا ۔ یہ فخر کی خواہش
‫تھی کہ اسے بالیان کے تعاقب کے لیے بھیجا جائے۔ یہ تو نہ علی بن سفیان کو علم تھا ‪ ،نہ فخر المصری کو کہ جن کے
‫تعاقب میں سوار جا رہے ہیں ‪ ،وہ بالیان ‪ ،موبی اور ان کے چھ وفادار ساتھی ہیں ۔
‫ادھر سے یہ بیس سوار روانہ ہوئے جن میں اکیسواں ان کا کمانڈر تھا ۔ ان کا ہدف لڑکیاں تھیں اور انہیں چھڑا کر لے جانے
‫والے ۔ ادھر سے صلیبیوں کے بیس کمانڈو آرہے تھے جن میں اکیسواں ا ُن کا کمانڈر تھا ۔ ان کا بھی ہدف یہی لڑکیاں تھیں ‪،
‫مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ وہ پیدل آرہے تھے ۔ دونوں پارٹیوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ جن کے تعاقب
‫میں وہ جا رہے ہیں ‪ ،وہ کہاں ہیں ۔
‫صلیبیوں کی کمانڈو پارٹی اگلے روز سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے خاصہ فاصلہ طے کر چکی تھی ۔ راستہ اُوپر چڑھ رہا
‫تھا ‪ ،وہ عالقہ نشیب و فراز کا تھا ۔ یہ لوگ بلندی پر گئے تو انہیں دور ایک میدان میں جہاں کھجور کے بہت سے درختوں
‫کے ساتھ دوسری قسم کے درخت بھی تھے ‪ ،بے شمار اُونٹ کھڑے نظر آئے ۔ انہیں بٹھا بٹھا کر اُن سے سامان اُتارا جا رہا
‫تھا ۔ بارہ چودہ گھوڑے بھی تھے۔ ان کے سوار فوجی معلوم ہوتے تھے ‪ ،باقی تمام شتر بان تھے ۔ یہ اکیس صلیبی ُرک
‫گئے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ‪ ،جیسے انہیں یقین نہ آرہا ہو کہ وہ اونٹ اور گھوڑے ہیں ۔ یہی ان کی
‫ضرورت تھی ۔ ا ُن کے کمانڈر نے پارٹی کو روک لیا اور کہا ……''ہم سچے دل سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر آئے
‫ہیں ۔ وہ دیکھو صلیب کا کرشمہ …… یہ معجزہ ہے ۔ خدا نے آسمان سے تمہارے لیے سواری بھیجی ہے ۔ تم میں سے جس

‫کے ِد ل میں کسی بھی گناہ کا یا فرض سے کوتاہی کا یا جان بچا کر بھاگنے کا خیال ہے ‪ ،وہ فورا ً نکال دو ۔ خدا کا بیٹا
‫جو مظلوموں کا دوست اور ظالموں کا دشمن ہے ‪ ،تمھاری مدد کے لیے آسمان سے اُتر آیا ہے ۔
‫سب کے چہروں پر تھکن کے جو آثارتھے ‪ ،وہ غائب ہو گئے اور چہروں پر رونق آگئی ۔ انہوں نے ابھی اس پہلو پر غور ہی
‫نہیں کیا تھا کہ اتنے میں بے شمار اونٹوں اور گھوڑوں میں سے جن کے ساتھ اتنے زیادہ فوجی اور شتر بان ہیں ‪ ،وہ اپنی
‫ضرورت کے مطابق جانور کس طرح حاصل کریں گے ۔
‫یہ ایک سو کے لگ بھگ اونٹوں کا قافلہ تھا جو محاذ پر فوج کے لیے راشن لے جا رہا تھا ۔ چونکہ ملک کے اندر دشمن
‫کا کوئی خطر ہ نہیں تھا ‪ ،اس لیے قافلے کی حفاظت کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا گیا تھا ۔ صرف دس گھوڑا سوار تھا
‫بھیج دئیے گئے تھے ۔ شتر بان نہتے تھے۔ ابھی چھاپہ مار اور شب خون مارنے والے میدان میں نہیں آئے تھے ۔ صلیبیوں
‫کے یہ اکیس آدمی پہلے چھاپہ مار تھے یا اس سے پہلے صالح الدین ایوبی نے شب خون کا وہ طریقہ آزمایا تھا جس میں
‫تھوڑے سے سواروں نے سوڈانیوں کی فوج کے عقبی حصے پر حملہ کیا اور غائب ہو گئے تھے ۔
‫اس '' وار کرو اور بھاگو '' کے طریقہ جنگ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے سلطان ایوبی نے تیز رفتار ‪ ،ذہین اور جسمانی
‫لحاظ سے غیر معمولی طور صحت مند عسکریوں کے دستے تیار کرنے کا حکم دے دیا تھا اور دشمن کے ملک میں لڑاکا
‫جاسوس بھیجنے کی سکیم بھی تیار کر لی تھی ‪ ،لیکن صلیبیوں کو ابھی شب خون اور چھاپوں کی نہیں سوجھی تھی ۔کسی
‫نجی قافلے کو ڈاکو بعض اوقات لوٹ لیا کرتے تھے ۔ سرکاری قافلے ہمیشہ محفوظ رہتے تھے ۔ اسی لیے فوجیوں کے رسد
‫کے قافلے بے خوف و خطر رواں دواں رہتے تھے ۔ اس سے پہلے بھی اسی محاذ کے لیے دو بار رسد کے قافلے جا چکے
‫لہذا حفاظتی اقدامات کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی ۔
‫تھے اور اسی عالقے سے گزرے تھے ۔ ٰ
‫یہ قافلہ بھی خطروں سے بے پروا محاذ کو جا رہا تھا اور رات کے لیے یہاں پڑائو کر رہا تھا ۔ اس سے تھوڑی ہی دور
‫قافلے کے لیے بہت بڑا خطرہ آرہا تھا ۔ صلیبی کمانڈر نے اپنی پارٹی کو ایک نشیب میں بٹھا لیا اور دو آدمیوں سے کہا کہ
‫وہ جا کر یہ دیکھیں کہ قافلے میں کتنے ا ُونٹ ‪ ،کتنے گھوڑے ‪ ،کتنے مسلح آدمی اور خطرے کیاکیا ہیں۔ پھر وہ رات کو حملہ
‫کرنے کی سکیم بنانے لگا ۔ ا ُن کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں تھی ۔ جذبے کی بھی کمی نہیں تھی ۔ ہر ایک آدمی جان
‫پر کھیلنے کو تیا ر تھا ۔
‫نصف شب سے بہت پہلے وہ دو آدمی واپس آئے جو قافلے کو قریب سے دیکھنے گئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ قافلے کے
‫ساتھ دس مسلح سوار ہیں جو ایک ہی جگہ سوئے ہوئے ہیں ۔ گھوڑے الگ بندھے ہوئے ہیں ۔ شتربان ٹولیوں میں بٹ کر
‫سوئے ہوئے ہیں ۔ سامان میں زیاد ہ تر بوریاں ہیں ۔ شتر بانوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ۔
‫یہ بڑی اچھی معلومات تھیں ۔ کام مشکل نہیں تھا ۔
‫قافلے والے گہری نیند سوئے ہوئے تھے ۔ دس عسکریوں کی آنکھ بھی نہ کھلی کہ تلواروں اور خنجروں نے انہیں کاٹ کر رکھ
‫دیا ۔ صلیبی چھاپہ ماروں نے یہ کام اتنی خاموشی اور آسانی سے کر لیا کہ بیشتر شتربانوں کی آنکھ ہی کھلی اور جن کی
‫آنکھ کھلی و ہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ‪ ،جس کے منہ سے آواز نکلی وہ اس کی زندگی کی آخری آواز ثابت
‫ہوئی ۔ چھاپہ ماروں نے شتربانوں کو ہراساں کرنے کے لیے چیخنا شروع کر دیا ۔ سوئے ہوئے شتر بان گھبرا کر ہڑ بڑا کر
‫قتل عام شروع کر دیا ۔ بہت تھوڑے بھاگ سکے ۔ صلیبی
‫اُٹھے ۔ اُونٹ بھی بدک کر اُٹھنے لگے ۔ صلیبیوں نے شتربانوں کا
‫ِ
‫کمانڈر نے چال کر کہا …… '' یہ مسلمانوں کا راشن ہے ‪ ،تباہ کر دہ ۔ اونٹوں کوبھی ہالک کر دو '' ……انہوں نے اونٹوں
‫کے پیٹوں میں تلواریں گھونپنی شروع کر دیں ۔ اونٹوں کے واویلے سے رات کانپنے لگی ۔ کمانڈر نے گھوڑے دیکھے ۔
‫بارہ تھے‪ ،دس سواروں کے لیے دو فالتو ۔ اُس نے نو اُونٹ الگ کر لیے ۔
‫سورج طلوع ہوا تو پڑائو کا منظر بڑا بھیانک تھا ۔ بے شمار الشیں بکھری ہوئی تھیں ۔ بہت سے اونٹ مر چکے تھے ۔ کئی
‫تڑپ رہے تھے ۔ کچھ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے ۔ آٹا اور کھانے کا دیگر سامان خون میں بکھرا ہوتا تھا ۔ بارہ کے بارہ
‫گھوڑے غائب تھے اور وہاں کوئی زندہ انسان موجود نہیں تھا ۔ چھاپہ مار ُدور نکل گئے تھے۔ اس کی سواری کی ضرورت
‫پوری ہو گئی تھی ۔ اب وہ تیز رفتاری سے اپنے شکار کو ڈھونڈ سکتے تھے ۔
‫٭ ٭ ٭
‫شکار ُد ور نہیں تھا ۔ بالیان کا دماغ پہلے ہی موبی کے حسن و جوانی اور شراب نے مائوف کر رکھا تھا ۔ اب اس کے پاس
‫سات حسین اور جوان لڑکیاں تھیں ۔ وہ خطروں کو بھول ہی گیا تھا ۔ موبی اس کوبار بارکہتی تھی کہ اتنا زیادہ کہیں ُرکنا
‫ٹھیک نہیں‪ ،جتنی جلدی ہو سکے ‪ ،سمندر تک پہنچنے کی کوشش کرو ‪ ،ہمارا تعاقب ہو رہا ہوگا ‪ ،مگر بالیان بے فکرے
‫بادشاہوں کی طرح قہقہ لگا کر اس کی بات سنی ا َن سنی کر دیتا تھا ۔ لڑکیوں کو جس رات آزاد کرایا گیا تھا ‪ ،اس سے
‫اگلی رات وہ ایک جگہ ُر کے ہوئے تھے۔ بالیان نے موبی سے کہا کہ ہم سات مرد ہیں اور تم سات لڑکیاں ہو۔ میرے ان چھ
‫دوستوں نے میرے ساتھ بڑی دیانت داری سے ساتھ دیا ہے ۔ میں ا ُن کی موجودگی میں تمہارے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا‪ ،پھر
‫بھی وہ نہیں بولے ۔ اب میں انہیں انعام دینا چاہتا ہوں۔ تم ایک ایک لڑکی میرے ایک ایک دوست کے حوالے کر دو اور
‫انہیں کہو کہ یہ تمہاری وفاداری کا تحفہ ہے۔
‫یہ نہیں ہو سکتا '' ……موبی نے غصے سے کہا ……'' ہم فاحشہ نہیں ہیں ۔ میری مجبوری تھی کہ میں تمہارے ہاتھ ''
‫میں کھلونا بنی رہی ۔ یہ لڑکیاں تمہاری خریدی ہوئی لونڈیاں نہیں ہیں ''۔
‫میں نے تمہیں کسی وقت بھی شریف لڑکی نہیں سمجھا''۔ بالیان نے کہا ……''تم سب ہمارے لیے اپنے جسموں کا ''
‫تحفہ الئی ہو ۔ یہ لڑکیاں معلوم نہیں کتنے مردوں کے ساتھ کھیل چکی ہیں۔ ان میں ایک بھی مریم نہیں ''۔
‫ہم اپنا فرض پورا کرنے کے لیے جسموں کا تحفہ دیتی ہیں ''۔ موبی نے کہا …… '' ہم عیاشی کے لیے مردوں کے ''
‫پاس نہیں جاتیں ۔ ہمیں ہماری قوم اور ہمارے مذہب نے ایک فرض سونپاہے ۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہم اپنا جسم ‪،
‫اپنا حسن اور اپنی عصمت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ ہمارا فرض پورا ہو چکا ہے ۔ اب تم جو کچھ کہہ رہے
‫ہو ‪ ،یہ عیاشی ہے جو ہمیں منظور نہیں ۔ جس روز ہم عیاشی میں اُلجھ گئیں ‪ ،اس روز سے صلیب کا زوال شروع ہو جائے
‫گا ۔
19:12
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 17ساتویں لڑکی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

‫صلیب ٹوٹ جائے گی ۔ ہم اپنی عصمت کے شیشے توڑ دیتی ہیں تاکہ صلیب نہ ٹوٹے۔ ہمیں ٹریننگ دی گئی ہے کہ ایک
‫کار ثواب ہے ۔ مسلمانوں کے ایک
‫مسلمان سربراہ کو تباہ کرنے کے لیے دس مسلمانوں کے ساتھ راتیں بسر کرنا جائز اور ِ
‫کار خیر سمجھتی ہیں ۔
‫مذہبی پیشوا کو اپنے جسم سے ناپاک کرنے کو ہم ایک عظیم ِ
‫تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم صلیب کی بقاء کے لیے مجھے استعمال کر رہی ہو '' ۔ بالیان کے احساسات آہستہ ''
‫''آہستہ جاگنے لگے……''کیا تم مجھے صلیب کا محافظ بنانا چاہتی ہو ؟
‫''کیا تم ابھی تک شک میں ہو ؟'' موبی نے کہا …… '' تم نے صلیب کے ساتھ کیوں دوستی کی ؟ ''
‫صالح الدین ایوبی کی حکمرانی سے آزاد ہونے کے لیے ''۔ بالیان نے کہا …… '' صلیب کی حفاظت کے لیے نہیں ۔ ''
‫میں مسلمان ہوں ‪ ،لیکن اس سے پہلے میں سوڈانی ہوں ''۔
‫میں سب سے پہلے صلیبی ہوں ''۔ موبی نے کہا …… '' میں عیسائی ہوں اور اس کے بعد اُس ملک کی بیٹی ہوں ''
‫جہاں میں پیدا ہوئی تھی ''۔ موبی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا ……'' اسالم کوئی مذہب نہیں ۔ اسی لیے تم
‫اپنے ملک کو اس پر ترجیح دے رہے ہو۔ یہ تمہاری نہیں ‪ ،تمہارے مذہب کی کمزوری ہے۔ تم میرے ساتھ سمندر پار چلو تو
‫میں تمہیں اپنا مذہب دکھائوں گی ۔ تم اپنے مذہب کو بھول جاو گے ''۔
‫میں اس مذہب پر لعنت بھیجوں گا جو اپنی بیٹیوں کو غیر مردوں کے ساتھ راتیں بسر کرنے اور شراب پینے کو ثواب کا ''
‫کام سمجھتا ہے ''۔ بالیان اچانک بیدار ہوگیا ۔ اس نے کہا ……'' تم نے اپنی عصمت مجھ سے نہیں ل ُٹائی ‪ ،بلکہ میری
‫عصمت لوٹی ہے۔ میں نے تمہیں نہیں ‪ ،بلکہ تم نے مجھے کھلونا بنائے رکھا ہے ''۔
‫ایک مسلمان کا ایمان خریدنے کے لیے عصمت کوئی زیادہ قیمت نہیں ''۔ لڑکی نے کہا …… '' میں نے تمہاری عصمت ''
‫نہیں لوٹی ‪ ،تمہارا ایمان خریدا ہے‪ ،مگر تمہیں راستے میں بھٹکتا ہوا چھوڑ کر نہیں جاو ں گی ۔ تمہیں ایک عظیم روشنی
‫کی طرف لے جا رہی ہوں ‪ ،جہاں تمہیں اپنا مستقبل اور اپنی عاقبت ہیروں کی طرح چمکتی نظر آئے گی ''۔
‫میں اس روشنی میں نہیں جاو ں گا ''۔ بالیان نے کہا ۔ ''
‫دیکھو بالیان ! '' موبی نے کہا ……'' مرد‪ ،جنگجو وعدے اور سودے سے نہیں پھرا کرتے ۔ تم میرا سودا قبول کر ''
‫چکے ہو۔ میں نے تمہارا ایمان خرید کر شراب میں ڈبو دیا ہے اورتمہیں منہ مانگی قیمت دی ہے۔ اتنے ِدنوں سے میں تمہاری
‫لونڈی اور بنی ہوئی ہوں ۔ اس سودے سے پھرو نہیں ۔ ایک کمزور لڑکی کو دھوکہ نہ دو ''۔
‫تم نے مجھے وہ عظیم روشنی یہیں دکھا دی ہے جو تم مجھے سمندر پار لے جا کر دکھانا چاہتی ہو ''۔ بالیان نے کہا ''
‫……'' مجھے اپنا مستقبل اور اپنی عاقبت ہیروں کی طرح چمکتی نظر آنے لگی ہے ''…… موبی نے کچھ کہنے کی کوشش
‫'' کی تو بالیان گرج کر بوال ۔
‫خاموش رہو لڑکی ! صالح الدین ایوبی میرا دشمن ہو سکتا ہے ‪ ،لیکن میں اس رسول ۖ کا دشمن نہیں ہو سکتا جس کا
‫صالح الدین ایوبی بھی نام لیوا ہے۔ میں اس رسول ۖ کے نام پر مصر اور سوڈان قربان کر سکتا ہوں ۔ اس کے عظیم اورمقدس
‫نام پر میں صالح الدین ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال سکتا ہوں ''۔
‫میں تم کو کئی بار کہہ چکی ہوں کہ شراب کم پیا کرو ''۔ موبی نے کہا …… '' ایک شراب اور دوسرے رات بھر ''
‫جاگنا اور میرے جسم کے ساتھ کھیلتے رہنا ۔ دیکھو تمہارا دماغ با لکل بے کار ہو گیا ہے ۔ تم یہ بھی بھول گئے ہو کہ میں
‫تمہاری بیوی ہوں ''۔
‫''
‫میں کسی فاحشہ صلیبی کا خاوند نہیں ہو سکتا '' ۔ اس کی نظر شراب کی بوتل پر پڑی ‪ ،اس نے بوتل اُٹھا کر
‫پھینک دی اور ا ُٹھ کھڑا ہوا ۔ اس نے اپنے دوستوں کو بالیا ۔ وہ دوڑتے ہوئے آئے ۔ اُس نے کہا ۔ '' یہ لڑکیاں اور یہ لڑکی
‫بھی تمہاری قیدی ہیں ‪ ،انہیں واپس قاہرہ لے چلو ''۔
‫''قاہرہ ؟ '' ایک نے حیران ہو کرکہا ۔ ''آپ قاہر ہ جانا چاہتے ہیں ؟ ''
‫ہاں !''اس نے کہا …… '' قاہرہ ! حیران ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اس ریگستان میں کب تک بھٹکتے رہو گے ؟ کہاں ''
‫جاو گے ؟ چلو ۔ گھوڑوں پر زینیں کسو اور ہر لڑکی کو ایک ایک گھوڑے کی پیٹھ پر باندھ کر لے چلو ''۔
‫٭ ٭ ٭
‫صحرا میں اونٹ کا سفر بے آواز ِپا ہوتا ہے۔گھوڑوں کے پاوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیتی ہیں ‪ ،لیکن اونٹ کے پاوں خدا
‫نے ایسے بنائے ہیں کہ ہلکی سی آواز بھی پیدا نہیں ہوتی ۔ بالیان جس وقت موبی کے ساتھ باتیں کر رہا تھا ‪ ،اسے
‫محسوس تک نہ ہوا کہ ایک اونٹ ایک چھوٹے سے ریتلے ٹیلے کی اوٹ میں کھڑا اِن دونوں کو اور چھ لڑکیوں کو اور چھ
‫آدمیوں کو دیکھ رہا ہے ۔ وہ صلیبی کمانڈو پارٹی کا ایک آدمی تھا ۔ اس پارٹی کا کمانڈر عقل مند آدمی تھا ۔ بالیان کے
‫ڈیرے سے تقریبا ً نصف میل ُدور اس نے پڑاو کیا تھا ۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کا شکار اُس سے نصف
‫میل ُد ور ہے ۔ اس نے فوجی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے رات کو تین آدمیوں کو یہ ڈیوٹی دی تھی کہ وہ اونٹوں پر سوار
‫ہو کر ُدور ُد ور تک گھو م آئیں اور جہاں انہیں کوئی خطرہ یا کام کی کوئی چیز نظر آئے ‪ ،آکر اطالع کریں ۔ اس کام کے
‫لیے اونٹ ہی موزوں سواری تھی ‪ ،کیونکہ اس کے پاوں کی آواز نہیں ہوتی ۔ تینوں سوار مختلف سمتوں کو چلے گئے تھے ۔
‫یہ سارا عالقہ ایسا تھا کہ پڑاو کے لیے نہایت اچھا تھا ‪ ،اس لیے کمانڈر نے سوچا تھا کہ یہاں کسی اورنے بھی ڈیرے ڈال
‫رکھے ہوں گے۔
‫ایک شتر سوار کو روشنی سی نظر آئی تو و اس طرف چل پڑا ۔ یہ ایک چھوٹی مشعل تھی جو بالیان کے عارضی کیمپ
‫میں جل رہی تھی ۔ شتر سوا رآگے گیا تو ایک ٹیلے کے پیچھے ہو گیا ۔ یہ اتنا ہی اونچا تھا کہ اونٹ پر سوار ہو کر آگے
‫دیکھا جا سکتا تھا ۔ اونٹ اور سواراس کے پیچھے چھپ گئے تھے ۔ اسے ہلکی ہلکی روشنی میں لڑکیاں نظر آئیں جو بالیان
‫کے فوجی دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا رہی تھیں ۔ اُن سے کچھ ُدور ایک اور لڑکی ایک آدمی کے ساتھ باتیں کر تی نظر
‫آئی ۔ ذرا پرے بہت سے گھوڑے بندھے ہوئے تھے ۔ ان میں وہ گھوڑے بھی تھے جو اِن لوگوں نے قیدیوں کے محافظوں کو
‫قتل کر کے حاصل کیے تھے۔
‫صلیبی شتر سوا ر نے اونٹ کو موڑا ۔ کچھ ُد ور تک آہستہ آہستہ چال اور پھر اونٹ دوڑا دیا ۔ اونٹ کے لیے نصف میل کا
‫فاصلہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ سوار نے اپنی پارٹی کو خوش خبری سنائی شکار ہمارے قدموں میں ہے ۔ کمانڈر نے ایک لمحہ
‫بھی ضائع نہ کیا ۔ شتر سوار سے ہدف کی تفصیل پوچھی اور پارٹی کو پیدل چال دیا ۔ گھوڑوں کے قدموں کی آواز سے شکار
‫کے چوکنا ہوجانے کا خطرہ تھا …… جس وقت یہ پارٹی بالیان کے ڈیرے تک پہنچی ‪ ،بالیان حکم دے چکا تھا کہ ایک ایک
‫لڑکی گھوڑے کی پیٹھ پر باندھ دو ۔ اس کے دوست حیرت ذدہ ہو کہ بالیان کو دیکھ رہے تھے کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا

‫ہے ۔ انہوں نے اس کے ساتھ بحث شروع کر دی اور وقت ضائع ہوتا رہا ۔ بالیان نے انہیں بڑی مشکل سے قائل کیا وہ جو
‫کچھ کہہ رہا ہے ‪ ،ہوش ٹھکانے رکھ کر کہہ رہا ہے اور قاہرہ چلے جانے میں ہی عافیت اور مصلحت ہے ۔
‫لڑکیاں پریشانی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھیں۔بالیان کے آدمیوں نے گھوڑوں پر زینیں ڈالیں اور لڑکیوں کو پکڑ لیا ۔ اچانک
‫ا ُن پر آفت ٹوٹ پڑی ۔بالیان نے بلند آواز سے بار بار کہا ……'' ہم ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں ۔ لڑکیوں کو قاہر ہ لے جا رہے
‫ہیں ''……وہ حملہ آوروں کو سلطان ایوبی کے فوجی سمجھ رہا تھا ‪ ،لیکن ایک خنجر نے اس کے ِدل میں اُتر کر اُسے
‫خاموش کر دیا ۔ اس کے دوست اتنے زیادہ آدمیوں کے ایسے اچانک حملے کا مقابلہ نہ کر سکے ۔ سنبھلنے سے پہلے ہی
‫ختم ہو گئے ۔ صلیبیوں کا چھاپہ کامیاب تھا ۔ لڑکیاں آزاد ہو چکی تھیں۔ چھاپہ مار انہیں فورا ً اپنی جگہ لے گئے ۔ انہوں
‫نے کمانڈر کو پہچان لیا ۔ وہ بھی ان کی پارٹی کا جاسوس تھا ۔ انہوں نے رات وہیں بسر کرنے کا فیصلہ کیا اور پہرے کے
‫لیے دو سنتری کھڑے کر دئیے جو ڈیرے کے ارد گرد گھومنے لگے ۔
‫سلطان ایوبی کے بھیجے ہوئے سوار ‪ ،اس جگہ سے ابھی ُد ور تھے ‪ ،جہاں قیدی لڑکیاں بالیان کے آدمیوں نے رہا کرائیں تھیں
‫۔ رات کو بھی چلے جا رہے تھے ۔ وہ تعاقب میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ راہنما اُن کے ساتھ تھا ۔ وہ راستہ
‫اور جگہ بھوال نہیں تھا ۔ وہ انہیں اس جگہ لے گیا جہاں ا ُن پر حملہ ہوا تھا ۔ ایک مشعل جال کردیکھا گیا ‪ ،وہاں رابن اور
‫اس کے ساتھیوں کی الشیں اور ا ُن کے محافظوں کی الشیں پڑی تھیں ۔ یہ چیر پھاڑی اور کھائی ہوئی تھیں ۔ اُس وقت بھی
‫صحرائی لومڑیاں اور گیڈر انہیں کھا رہے تھے ۔ سواروں کو دیکھ کر یہ درندے بھاگ گئے۔ دن کے وقت انہیں گدھ کھاتے رہے
‫تھے ۔ محافظ اپنے کمانڈر کو ا ُس جگہ لے گیا جہاں سے اس نے گھوڑا کھوال تھا ۔ وہاں سے مشعل کی روشنی میں زمین
‫دیکھی گئی تھی۔ گھوڑوں کے قدموں کے نشان نظر آرہے تھے اور سمت کی نشان دہی کر رہے تھے ‪ ،جدھر یہ گئے تھے ‪،
‫مگر رات کے وقت ان نشانوں کو دیکھ دیکھ کر چلنا بہت مشکل تھا ۔ وقت ضائع ہونے کا اور بھٹک جانے کا ڈر تھا ۔ رات
‫کو وہیں قیام کیا گیا۔
‫صلیبی پارٹی کے کیمپ میں سب جاگ رہے تھے ۔ وہ بہت خوش تھے ۔ کمانڈر نے فیصلہ کیا تھا کہ سحر کی تاریکی میں
‫بحیرئہ روم کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ اس وقت میگناناماریوس نے کہا کہ مقصد ابھی پورا نہیں ہوا ۔ صالح الدین ایوبی کو
‫قتل کرنا باقی ہے۔ کمانڈر نے کہا کہ یہ ا ُس صورت میں ممکن تھا کہ وہ لڑکیوں کے پیچھے قاہرہ چلے جاتے ۔ اب وہ قاہرہ
‫سے بہت دور ہیں ‪ ،اس لیے قتل کی مہم ختم کی جاتی ہے ۔
‫یہ میری مہم ہے ‪ ،جسے موت کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا ''۔ میگنا ناماریوس نے کہا …… ' ' میں نے صالح ''
‫الدین ایوبی کو قتل کرنے کا حلف ا ُٹھایا تھا۔ مجھے ایک ساتھی اور ایک لڑکی کی ضرورت ہے ''۔
‫یہ فیصلہ مجھے کرنا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے '' …… کمانڈر نے کہا …… '' سب پر فرض ہے کہ میرا حکم مانیں ''
‫''۔
‫میں کسی کے حکم کا پابند نہیں '' ۔ میگنا ناماریوس نے کہا ۔'' تم سب خدا کے حکم کے پابند ہو ''۔ ''
‫کمانڈر نے اُسے ڈانٹ دیا ۔ میگنا ناماریوس کے پاس تلوار تھی ۔ و ہ اُٹھ کھڑا ہوا اور کمانڈر پر تلوار تان لی ۔
‫ا ُن کے ساتھی درمیان میں آگئے ۔ میگنا ناماریوس نے کہا …… ' ' میں خدا کا دھتکارا ہوا انسان ہوں ۔ میں گناہ اور بے
‫انصافی کے درمیان بھٹک رہا ہوں ۔ کیا تم جانتے ہو ‪ ،مجھے تیس سالوں کے لیے قید خانے میں قید کیوں کیا گیا تھا ؟ پانچ
‫سال گزرے میری ایک بہن جس کی عمر سولہ سال تھی ‪ ،اغوا کر لی گئی تھی ۔ میں غریب آدمی ہوں ‪ ،میرا باپ مر چکا
‫ہے ‪ ،ماں اندھی ہے ‪ ،میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ‪ ،محنت مشقت کر کے میں ان سب کا پیٹ پالتا تھا ۔ میں نے
‫گرجے میں صلیب پر لٹکے ہوئے یسوع مسیح کے بت سے بہت دفعہ پوچھا تھا کہ میں غریب کیوں ہوں ؟میں نے کبھی گناہ
‫نہیں کیا ۔ میں دیانت داری سے اتنی محنت کرتا ہوں ‪ ،مگر میرے کنبے کے پیٹ پھر بھی خالی رہتے ہیں ۔ میری ماں کو
‫خدا نے کیوں اندھا کیا ہے ؟ یسوع مسیح نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اور جب کنوری بہن اغوا ہو گئی تو میں نے گرجے
‫میں جا کر کنواری مریم کی تصویر سے پوچھا تھا کہ میری کنواری بہن کے کنوارے پن پر تجھے ترس کیوں نہیں آیا ؟وہ
‫معصوم تھی ۔ اس پر خدا نے یہ ظلم کیا تھا کہ اسے خوبصورتی دے دی تھی ۔ مجھے یسوع مسیح نے بھی کوئی جواب
‫نہیں دیا ۔مجھے کنواری مریم نے بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔
‫ایک روز مجھے ایک بہت ہی امیر آدمی کے نوکر نے بتایا کہ تمہاری بہن اس امیر آدمی کے گھر میں ہے۔ وہ عیاش ''
‫آدمی ہے ۔ کنواریوں کو اغوا کرتا ہے ‪ ،تھوڑے دن اُس کے ساتھ کھیلتا ہے اور انہیں کہیں غائب کر دیتا ہے ‪ ،لیکن وہ آدمی
‫بادشاہ کے دربار میں بیٹھتا ہے ۔ لوگ اس کی عزت کرتے ہیں ۔ بادشاہ نے اُسے ُرتبے کی تلوار دی ہے ۔ گناہ گار ہوتے
‫ہوئے خدا اس پر خوش ہے ۔ ُدنیا کا قانون ا ُس کے ہاتھ میں کھلونا ہے ……میں اس کے گھر گیا اور اپنی بہن واپس مانگی۔
‫اس نے مجھے دھکے دیکر اپنے محل سے نکال دیا۔میں پھر گرجے میں گیا ۔یسوے مسیح کے بت اور کنواری مریم کی تصویر
‫کے آگے رویا ۔خدا کو پکارا ۔مجھے کسی نے جواب نہیں دیا ۔میں گرجے میں اکیال تھا۔ پادری آگیا۔اس نے مجھے ڈانٹ کر
‫گرجے سے نکال دیا ۔کہنے لگا ‪...........یہاں سے دو تصویریں چوری ہو چکی ہیں ‪،نکل جاو ‪ ،ورنہ پولیس کے حوالے
‫کر دوں گا ‪..........میں نے حیران ہوکر اس سے پوچھا ‪.........کیا یہ خدا کا گھر نہیں
‫ہے ؟ ‪............اس نے جواب دیا ‪.............تم مجھ سے پوچھے بغیر خدا کے گھر میں کیسے آئے ۔اگر
‫گناہوں کی معافی مانگنی ہے تو میرے پاس آو ۔اپنا گناہ بیان کرو ۔میں خدا سے کہوں گا کہ تمہیں بخش دے ۔تم خدا سے
‫برا ِہ راست کوئی بات نہیں کرسکتے ۔جاونکلو یہاں سے ‪...........اور میرے دوستو !مجھے خدا کے گھر سے نکال دیا
‫گیا ۔
‫وہ ایسے لہجے میں بول رہا تھا کہ سب پر سناٹا طاری ہوگیا ۔لڑکیوں کے آنسو نکل آئے ۔صحرا کی رات کے سکوت میں اس
‫کی باتوں کا تاثر سب پر طلسم بن کر طاری ہو گیا ۔
‫وہ کہہ رہا تھا ……'' میں پادری کو ‪ ،یسوع مسیح کے بت کو ‪ ،کنواری مریم کی تصویر کو اور اُس خدا کو جو مجھے گرجے
‫میں نظر نہیں آیا ‪ ،شک کی نظروں سے دیکھتا نکل آیا ۔ گھر گیا تو اندھی ماں نے پوچھا ۔ '' میری بچی آئی یا نہیں ؟
‫میری بیوی نے پوچھا ‪ ،میرے بچوں نے پوچھا ۔میں بھی بت اور تصویر کی طرح چپ رہا ‪ ،مگر میرے اندر سے ایک طوفان
‫ا ُٹھا اور میں باہر نکل گیا۔ میں سارا دن گھومتا پھرتا رہا۔ شام کے وقت میں نے ایک خنجرخریدا اور دریا کے کنارے ٹہلتا
‫رہا۔ رات اندھیری ہوگئی اور بہت دیر بعد میں ایک طرف چل پڑا ۔ مجھے اس محل کی بتیاں نظر آئیں جہاں میری بہن قید
‫تھی ۔ میں بہت تیز چل پڑا اور اس محل کے پچھواڑے چال گیا ۔ میں اتنا چاالک اور ہو شیار آدمی نہیں تھا ‪ ،لیکن مجھ
‫میں چاالکی آ گئی ۔ میں پچھلے دروازے سے اندر چال گیا۔ محل کے کسی کمرے میں شور شرابا تھا ۔ شاید کچھ لوگ شراب

‫پی رہے تھے ۔ میں ایک کمرے میں داخل ہوا تو ایک نوکر نے مجھے روکا ۔ میں نے خنجر اس کے سینے میں رکھ دیا اور
‫اپنی بہن کا نام بتا کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے ۔ نوکر مجھے اندرکی سیڑھیوں سے اوپر لے گیا اور ایک کمرے میں داخل کرکے
‫…… کہا کہ یہاں ہے۔ میں اندر گیا تو میرے پیچھے دروازہ بند ہوگیا۔ کمرہ خالی تھا
‫دروازہ کھال اور بہت سے لوگ اندر آگئے۔ ا ُن کے پاس تلواریں اور ڈنڈے تھے ۔ میں نے کمرے کی چیزیں اُٹھا اُٹھا کر اُن ''
‫پر پھینکنی شروع کر دیں۔ بہت توڑ پھوڑ کی ۔ انہوں نے مجھے پکڑ لیا ۔ مجھے مارا پیٹا اور میں بے ہوش ہو گیا ۔ ہوش
‫میں آیا تو میں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا ۔ میرے خالف الزام یہ تھے کہ میں نے ڈاکہ ڈاال ‪ ،بادشاہ کے درباری
‫کا گھر برباد کیا اور تین آدمیوں کو قتل کی نیت سے زخمی کیا۔ میری فریاد کسی نے نہ سنی اور مجھے تیس سال قید
‫کی سزا دے کر قید خانے کے جہنم میں پھینک دیا ۔ ابھی پانچ سال پورے ہوئے ہیں ۔ میں انسان نہیں رہا۔ تم قید خانے
‫کی سختیاں نہیں جانتے ۔ دن کے وقت مویشیوں جیسا کا م لیتے ہیں اور رات کوکتوں کی طرح زنجیر ڈال کر کوٹھریوں میں
‫بند کر دیتے ہیں ۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میر ی اندھی ماں زندہ ہے یا مر چکی ہے ۔ بیوی بچوں کا بھی کچھ پتہ
‫…… نہیں تھا ۔ مجھے خطرناک ڈاکو سمجھ کر کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا
‫میں ہر رقت سوچتا رہتا تھا کہ خدا سچا ہے یا میں سچا ہوں۔ سنا تھا کہ خدا بے گناہوں کو سزا نہیں دیتا ‪ ،مگر ''
‫مجھے خدا نے کس گناہ کی سزادی تھی ؟ میرے بچوں کو کس گنا ہ کی سزا دی تھی ؟ میں پانچ سال اسی اُلجھن میں
‫مبتال رہا ۔ کچھ ِد ن گزرے‪ ،فوج کے دو افسر قید خانے میں آئے ۔ وہ اس کا م کے لیے جس میں ہم آئے ہوئے ہیں ‪ ،آدمی
‫تالش کر رہے تھے ۔ میں اپنے آپ کو پیش نہیں کرنا چاہتا تھا ‪ ،کیونکہ یہ بادشاہوں کی لڑائی جھگڑے تھے۔ مجھے کسی
‫بادشاہ کے ساتھ دلچسپی نہیں تھی ‪ ،لیکن میں نے جب سنا کہ چند ایک عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے آزاد کرانا
‫قابل نفرت قوم ہے۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں
‫ہے تو میرے دل میں اپنی بہن کاخیال آگیا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسلمان
‫ِ
‫عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے آزاد کراوں گا تو خدا اگر سچا ہے تو میری بہن کو اُس ظالم عیسائی کی پنجے سے
‫چھڑا دے گا ‪ ،پھر فوجی افسروں نے کہا کہ ایک مسلمان بادشاہ کو قتل کرنا ہے تو میں نے اسے جزا کا کام سمجھا اور
‫اپنے آپ کو پیش کر دیا ‪ ،مگر شرط یہ رکھی کہ مجھے اتنی رقم دی جائے جو میں اپنے کنبے کو دے سکوں ۔ انہوں نے
‫رقم دینے کا وعدہ کیا اور یہ بھی کہا کہ اگر تم سمندر پار مارے گئے تو تمہارے کنبے کو اتنی زیادہ رقم دی جائے گی کہ
‫ساری عمر کے لیے وہ کسی کے محتاج نہیں رہیں گے ''۔
‫اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کرکے کہا …… '' یہ دو میرے ساتھ قیدخانے میں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے آپ کو
‫پیش کر دیا ۔ ہم سے سینکڑوں باتیں پوچھیں گئیں ۔ ہم تینوں نے انہیں یقین دالدیا کہ ہم اپنی قوم اور اپنے مذہب کو دھوکہ
‫نہیں دیں گے۔ میں نے دراصل اپنے کنبے کے لیے اپنی جان فروخت کر دی ہے ۔ قید خانے سے نکلنے سے پہلے ایک پادری
‫نے ہمیں بتایا کہ مسلمانوں کا قتل عام تمام گناہ بخشوا دیتا ہے اور عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے آزاد کراو گے
‫تو سیدھے جنت میں جاو گے ۔ میں نے پادری سے پوچھا کہ خدا کہاں ہے ؟اس نے جو جواب دیا ‪ ،اس سے میری تسلی نہ
‫ہوئی ۔ میں نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف ا ُٹھایا۔ہمیں باہر نکاال گیا ‪ ،مجھے میرے گھر لے گئے ۔ میرے گھر والوں کوانہوں
‫نے بہت سی رقم دی ۔ میں مطمئن ہو گیا۔ اب میرے دوستو ! مجھے اپنا حلف پورا کرنا ہے ۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ
‫میرا خدا کہاں ہے ۔ کیاایک مسلمان بادشاہ کو قتل کر کے خدا نظر آ جائے گا ''۔
‫تم پاگل ہو '' کمانڈر نے کہا ۔''تم نے جتنی باتیں کی ہیں ‪ ،ان میں مجھے عقل کی ذرا سی بھی بو نہیں آئی ''۔ ''
‫اس نے بڑی اچھی باتیں کیں ہیں ''۔اس کے ایک ساتھی نے کہا ۔''میں اس کا ساتھ دوں گا ''۔ ''
‫مجھے ایک لڑکی کی ضرورت ہے '' ۔ میگنا نا ماریوس نے لڑکیوں کی طرف دیکھ کر کہا ۔'' میں لڑکی کی جان اور ''
‫عزت کا ذمہ دار ہوں ۔ لڑکی کے بغیر میں صالح الدین ایوبی تک نہیں پہنچ سکوں گا ۔ میں جب سے آیا ہوں ۔ سوچ رہا
‫ہوں کہ صالح الدین ایوبی کے ساتھ تنہائی میں کس طرح مل سکتا ہوں ''۔
‫موبی ا ُٹھ کر اس کے ساتھ جا کھڑی ہوئی اور بولی … … '' میں اس کے ساتھ جاوں گی ''۔
‫ہم تمہیں بڑی مشکل سے آزاد کرا کے الئیں ہیں موبی !'' کمانڈر نے کہا …… '' میں تمہیں ایسی خطرناک مہم پر ''
‫جانے کی اجازت نہیں دے سکتا ''۔
‫مجھے اپنی عصمت کا انتقام لینا ہے ''۔ موبی نے کہا …… '' میں صالح الدین ایوبی کی خواب گاہ میں آسانی سے ''
‫داخل ہو سکتی ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ مسلمان کا ُرتبہ جتنا اونچا ہوتا ہے ‪ ،وہ خوبصورت لڑکیوں کا اتنا ہی شیدائی ہو
‫جاتا ہے ۔ صالح الدین ایوبی کو محسوس تک نہ ہوگا کہ وہ اپنی زندگی میں آخری لڑکی دیکھ رہا ہے ''۔
‫بہت دیر بحث اور تکرار کے بعد میگنا نا ماریوس اپنے ایک ساتھی اور موبی کے ساتھ اپنی پارٹی سے رخصت ہوا ۔ سب نے
‫انہیں دعائوں کے ساتھ الوداع کہا ۔انہوں نے دو اونٹ لیے ۔ ایک پر موبی سوار ہوئی اور دوسرے پر دونوں مرد ۔ اُن کے پاس
‫مصر کے سکے تھے اور سونے کی اشرفیاں بھی ۔ دونوں مردوں نے چغے اوڑھ لیے تھے ۔ میگنا نا ماریوس کی داڑھی خاصی
‫لمبی ہو گئی تھی ۔ قید خانے میں دھوپ میں مشقت کر کرکے اس کا رنگ اٹلی کے باشندوں کی طرح گورا نہیں رہا تھا ۔
‫سیاہی مائل ہوگیا تھا ۔اس سے اس پر یہ شک نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ یورپی ہے ۔ بھیس بدلنے کے لیے انہیں کپڑے
‫دے کر بھیجا گیا تھا ‪ ،مگر ایک رکاوٹ تھی جس کا بظاہر کوئی عالج نہیں تھا ۔ وہ یہ کہ میگناناماریوس اٹلی کی زبان کے
‫سوا اور کوئی زبان نہیں جانتا تھا ۔ موبی مصر کی زبان بول سکتی تھی ۔ دوسرا جو آدمی ان کے ساتھ گیاتھا ‪ ،وہ بھی مصر
‫کی زبان نہیں جانتا تھا ۔ انہیں اس کا کو ئی عال ج کرنا تھا ۔
‫وہ رات کو ہی چل پڑے ۔ موبی راستے سے واقف ہو چکی تھی ۔ وہ قاہر ہ سے ہی آئی تھی ۔ میگنا نا ماریوس نے اس
‫پر بھی ایک چغہ ڈال دیا اور اس کے سر پر دوپٹے کی طرح چادر اوڑھ دی ۔
‫٭ ٭ ٭
‫صبح کی روشنی میں سلطان ایوبی کے اُن سواروں کا دستہ جو ا ُن کے تعاقب میں گیاتھا ‪ ،گھوڑوں کے کھرے دیکھ کر روانہ
‫ہوگیا ۔ یہ بہت سے گھوڑوں کے نشان تھے ‪ ،جو چھپ ہی نہیں سکتے تھے ۔ صبح سے پہلے صلیبیوں کے پارٹی لڑکیوں کو
‫ساتھ لے کر چل پڑی ۔ا ُن کی رفتار خاصی تیز تھی ۔ ان کے تعاقب میں جانے والوں کا سفر ُرک گیا ‪ ،کیونکہ رات کے وقت
‫وہ زمین کو دیکھ نہیں سکتے تھے ‪ ،مگر صلیبیوں نے سفر جاری رکھا ۔ وہ آدھی رات کے وقت پڑاو نہیں کر نا چاہتے تھے
‫‪ ،وہ بہت جلدی میں تھے ۔
‫صبح کی دھند میں صلیبی جو آدھی رات کے وقت ُرکے تھے ‪ ،چل پڑے ۔ اُن کے تعاقب میں جانے والوں کی پارٹی صبح کی
‫روشنی میں روانہ ہوئی ۔ میگناناماریوس نے عقل مندی کی تھی کہ وہ اونٹوں پر گیا تھا ۔ اونٹ بھوک اور پیاس کی پرواہ

‫نہیں کرتا ۔ ُر کے بغیر گھوڑے کی نسبت بہت زیادہ سفر کر لیتا ہے ۔ اس سے میگناناماریوس کا سفر تیز ی سے طے ہو رہا
‫تھا ۔
‫سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر تھی ‪ ،جب انہیں الشیں نظر آئیں ۔ علی بن سفیان کے نائب نے بالیان کی الش
‫پہچان لی ۔ اُس کا چہرہ سالمت تھا ۔ اُس کے قریب اس کے چھ دوستوں کی الشیں پڑی تھیں ۔ ِگدھوں اور درندوں نے
‫زیادہ تر گوشت کھا لیا تھا ۔ سوار حیران تھے کہ یہ کیا معاملہ ہے ۔ خون بتا تا تھا کہ انہیں مرے ہوئے زیادہ ِدن نہیں
‫گزرے ۔ اگر یہ بغاوت کی رات مرے ہوتے تو خون کا نشان تک نہ ہوتا اور ا ُ ن کی صرف ہڈیاں رہ جاتیں ۔ یہ ایک معمہ
‫تھا جسے کوئی نہ سمجھ سکا ‪ ،وہاں سے پھر گھوڑوں کے نشان چلے ۔ سواروں نے گھوڑے دوڑا دئیے ۔ نصف میل تک گئے
‫تو اونٹوں کے پاوں کے نشان بھی نظر آئے ۔ وہ بڑھتے ہی چلے گئے ۔ سورج غروب ہوا تو بھی نہیں ُرکے ‪ ،کیونکہ اب مٹی
‫کے اونچے نیچے ٹیلوں کا عالقہ شروع ہو گیا تھا ‪ ،جس میں ایک راستہ بل کھاتا ہوا گزرتا تھا ۔ اس کے عالوہ وہا ں سے
‫گزرنے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔
‫صلیبی اسی راستے سے گزرے تھے اور بحیرئہ روم کی طر ف چلے جا رہے تھے ۔ ٹیلوں کا عالقہ ُدور تک پھیال ہوا تھا ‪،
‫وہاں سے تعاقب کرنے والے نکلے تو ُرک گئے ‪ ،کیونکہ آگے ریتال میدان آ گیا تھا ۔
‫صبح کے وقت چلے تو کسی نے کہا کہ سمندر کی ہوا آنے لگی ہے ۔ سمندر ُدور نہیں تھا مگر صلیبی ابھی تک نظر نہیں
‫آئے تھے ۔ راستے میں ایک جگہ کھانے کے بچے کھچے ٹکڑوں سے پتہ چال کہ رات یہاں کچھ لوگ ُرکے تھے ۔ گھوڑے بھی
‫یہاں باندھے گئے تھے ۔ پھر یہ گھوڑے وہاں سے چلے ۔ زمین کو دیکھ کر تعاقب کرنے والوں نے گھوڑوں کوایڑ یں لگا دیں۔
‫سورج اپنا سفر طے کرتا گیا اور آگے نکل گیا ۔ گھوڑوں کو ایک جگہ آرام دیا گیا ۔ پانی پالیا اور یہ دستہ روانہ ہو گیا ۔
‫سمندر کی ہوائیں تیز ہوگئی تھیں اور ان میں سمندر کی بُو صاف محسوس ہوتی تھی ۔ پھر ساحل کی چٹانیں نظر آنے لگیں۔
‫زمین بتا رہی تھی کہ گھوڑے آگے آگے جا رہے ہیں اور یہ بے شمار گھوڑے ہیں ۔
‫ساحل کی چٹانیں گھوڑوں کی رفتار سے قریب آرہی تھیں ۔ تعاقب کرنے والوں کو ایک چٹان پر دو آدمی نظر آئے ۔ وہ اس
‫طرف دیکھ رہے تھے ۔ وہ تیزی سے سمندر کی طرف ا ُتر گئے ۔ گھوڑے اور تیز ہو گئے ۔ چٹانوں کے قریب گئے تو انہیں
‫گھوڑے روکنے پڑے ‪ ،کیونکہ کئی جگہوں سے چٹانوں کے پیچھے جایا جا سکتا تھا ۔ایک آدمی کو چٹان پر چڑھ کر آگے
‫دیکھنے کو بھیجا گیا ۔ وہ آدمی گھوڑے سے ا ُتر کر دوڑتا گیا اور ایک چٹان پر چڑھنے لگا ۔ اوپر جا کر اس نے لیٹ کر
‫دوسری طرف دیکھا اور پیچھے ہٹ آیا ۔ وہیں سے اس نے سواروں کو اشارہ کیا کہ پیدل آو ۔ سوار گھوڑوں سے اُترے اور
‫دوڑتے ہوئے چٹان تک گئے ۔ سب سے پہلے علی بن سفیان کا نائب اوپر گیا ۔ اس نے آگے دیکھا اور دوڑ کر نیچے اُترا۔
‫اس نے اپنے دستے کو بکھیر دیا اور انہیں مختلف جگہوں پر جانے کو کہا ۔
‫دوسری طرف سے گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ صلیبی وہاں موجود تھے ۔ یہ وہ جگہ تھی‪ ،جہاں سمندر چٹانوں
‫کو کاٹ کر اندر آجاتا تھا ۔ اس پارٹی نے اپنی کشتی وہاں باندھی تھی ۔وہ گھوڑوں سے اُتر کر کشتی میں سوار ہو رہے تھے
‫۔ کشتی بہت بڑی تھی ۔ لڑکیاں کشتی میں سوار ہو چکی تھیں ۔ گھوڑے چھوڑ دئیے گئے تھے ۔ اچانک اُن پر تیر برسنے
‫لگے ۔ تمام کو ہالک نہیں کرنا تھا ۔ انہیں زندہ پکڑنا تھا ۔ بہت سے کشتی سے کود گئے اور کشتی کے چپو مارنے لگے ۔
‫پیچھے جو رہ گئے وہ تیروں کا نشانہ بن گئے تھے ۔ کشتی میں جانے والوں کو للکارا گیا ‪ ،مگر وہ نہ ُرکے ‪ ،وہاں سمندر
‫گہرا تھا ۔ کشتی آہستہ آہستہ جاری تھی ۔ اِدھر سے اشارے پر تیر اندازوں نے کشتی پر تیر برسا دئیے ۔ چپوئوں کی حرکت
‫بند ہو گئی ۔ تیروں کی دوسری باڑ گئی ‪ ،پھر تیسری اور چوتھی باڑ الشوں میں پیوست ہوگئی ۔ اُن میں اب کوئی بھی زندہ
‫نہیں تھا ۔ کشتی وہیں ڈولنے لگی ۔ سمندر کی موجیں ساحل کی طرف آتیں اور چٹانوں سے ٹکڑا کر واپس چلی جاتی
‫تھیں ۔ ذرا سی دیر میں کشتی ساحل پر واپس آگئی ۔ سوارو ں نے نیچے جا کر کشتی پکڑ لی ‪ ،وہاں صرف الشیں تھیں ‪،
‫بعض کو دو دو تیر لگے تھے ۔
‫کشتی کو باندھ دیا گیا اور سواروں کا دستہ محاذ کی طرف روانہ ہوگیا ۔ کیمپ ُدور نہیں تھا ۔
‫میگنا نا ماریوس قاہرہ کی ایک سرائے میں قیام پذیر تھا ۔ اس سرائے کا ایک حصہ عام اور کمترمسافروں کے لیے تھا اور
‫دوسرا حصہ امراء اور اونچی حیثیت کے مسافروں کے لیے ۔ اس حصے میں دولت مند تاجر بھی قیام کرتے تھے ۔ اُن کے لیے
‫شراب اور ناچنے گانے والیاں بھی مہیا کی جاتی تھیں ۔ میگنا نا ماریوس اسی خاص حصے میں ٹھہرا ۔ موبی کو اُس نے
‫اپنی بیوی بتایا اور اپنے ساتھی کو معتمد مالزم ۔ موبی کی خوبصورتی اور جوانی نے سوائے والوں پر میگنا نا ماریوس کا
‫رعب طاری کر دیا ۔ ایسی حسین اور جوان بیوی کسی بڑے دولت مند ہی کی ہو سکتی تھی ۔ سرائے والوں نے اس کی
‫طرف خصوصی توجہ دی ۔ موبی نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے صالح الدین ایوبی کے گھر اور دفتر کے متعلق معلومات
‫حاصل کر لیں ۔ اس نے یہ بھی معلوم کر لیا کہ سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کو معافی دے دی ہے اور سوڈانی فوج توڑ دی
‫ہے ۔ اسے یہ بھی پتہ چل گیاکہ سوڈانی ساالروں اور کمانداروں وغیرہ کے حرم خالی کر دئیے گئے ہیں اور یہ بھی کہ انہیں
‫زرعی زمینیں دی جارہی ہیں ۔
‫یہ میگنا نا ماریوس کی غیر معمولی دلیری تھی یا غیر معمولی حماقت کہ وہ اس ملک کی زبان تک نہیں جانتاتھا ۔ پھر
‫بھی انتے خطرناک مشن پر آگیا تھا ۔ ا ُسے اس قسم کے قتل کی اور اتنے بڑے رتبے کے انسان تک رسائی حاصل کرنے کی
‫کوئی ٹریننگ نہیں دی گئی تھی ۔ وہ ذہنی لحاظ سے انتشار اور خلفشار کا مریض تھا ‪ ،پھر بھی وہ صالح الدین ایوبی کو
‫قتل کرنے آیا‪ ،جس کے اردگرد محافظوں کا پورا دستہ موجود رہتا تھا۔ اس کے دستے کے کمانڈر نے اسے کہا تھا کہ تم پاگل
‫ہو‪ ،تم نے جتنی باتیں کی ہیں ۔ ان میں ذرا سی بھی عقل کی بو نہیں آئی ۔ باظاہر میگنا نا ماریوس پاگل ہی تھا ۔
‫یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بڑے آدمیوں کو قتل کرنے والے عموما ً پاگل ہوتے ہیں ۔ اگر پاگل نہیں تو اُن کے ذہنی توازن
‫میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوتی ہے ۔ یہی کیفیت اٹلی کے اس سزا یافتہ آدمی کی تھی ۔ اس کے پاس ایک ہتھیار ایسا
‫تھا جو ڈھال کا کام بھی دے سکتا تھا ۔ موبی مصر کی صرف زبان ہی نہیں جانتی تھی ‪ ،بلکہ اُسے اور اس کی مری ہوئی
‫چھ ساتھی لڑکیوں کو مصری اور عربی مسلمانوں کے رہن سہن‪ ،تہذیب و تمدن اور دیگر معاشرتی اونچ نیچ کے متعلق لمبے
‫عرصے کے لیے ٹریننگ دی گئی تھی ۔ وہ مسلمان مردوں کی نفسیات سے بھی واقف تھی ۔ اداکاری کی ماہر تھی اور سب
‫سے بڑی خوبی یہ کہ وہ مردوں کو انگلیوں پر نچانا جانتی تھی ۔
‫یہ تو کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ بند کمرے میں میگنا نا ماریوس ‪ ،موبی اور ان کے ساتھی نے کیاکیا باتیں کیں اور کیا
‫منصوبہ بنایا ۔ البتہ ایسا ثبوت پرانی تحریروں میں ملتا ہے کہ تین چار روزسرائے میں قیام کے بعد میگنا نا ماریوس باہر نکال
‫‪ ،تو اس داڑھی ُد ھلی دھالئی تھی ۔ اس کے چہرے کا رنگ سوڈانیوں کی طرح گہرا بادامی تھا ‪ ،جو مصنوعی ہو سکتا تھا ‪،

‫لیکن مصنوعی لگتا نہیں تھا ۔ اس نے معمولی قسم کا چغہ اور سر پر معمولی قسم کا رومال اورعمامہ باند ھ رکھا تھا ۔
‫موبی سر سے پاوں تک سیاہ برقعہ نما لبادے میں تھی اور اس کے چہرے پر باریک نقاب اس طرح پڑا تھا کہ ہونٹ اور
‫ٹھوڑی ڈھکی ہوئی تھی پیشانی تک چہرہ ننگا تھا۔ پیشانی پر اس کے بھورے ریشمی بال پڑے ہوئے تھے اور اس کا حسن
‫ایسا نکھرا ہوا تھاکہ راہ جاتے لوگ ُر ک کر دیکھتے تھے۔ ان کا ساتھی معمولی سے لباس میں تھا ‪ ،جس سے پتہ چلتا تھا
‫اعلی نسل کے گھوڑے کھڑے تھے ۔ یہ سرائے والوں نے میگنا نا ماریوس کے لیے
‫کہ نوکر ہے۔ سرائے کے باہر دو نہایت
‫ٰ
‫اُجرت پر منگوائے تھے ‪ ،کیونکہ ا ُس نے کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ سیر کے لیے جانا چاہتا ہے ۔ میگنا نا ماریوس اور
‫موبی گھوڑوں پر سوار ہوگئے اور جب گھوڑے چلے تو ان کاساتھی نوکروں کی طرح پیچھے پیچھے چل پڑا ۔
‫صالح الدین ایوبی اپنے نائبین کو سامنے بٹھائے سوڈانیوں کے متعلق احکامات دے رہا تھا ۔ وہ یہ کام بہت جلدی ختم کرنا
‫چاہتا تھا ‪،کیو نکہ ا ُس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ سلطان زنگی کی بھیجی ہوئی فوج‪ ،مصر کی نئی فوج اور وفادار سوڈانیوں کو
‫ساتھ مال کر ایک فوج بنائے گا اور فوری طور پر یروشلم پر چڑھائی کرے گا ۔ بحیرئہ روم کی شکست کے بعد ‪ ،جبکہ سلطان
‫زنگی نے فرینکوں کو بھی شکست دے دی تھی ‪ ،ایک لمبے عرصے تک صلیبیوں کے سنبھلنے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔ ان
‫کے سنبھلنے سے پہلے ہی سلطان ایوبی ان سے یروشلم چھین لینے کا منصوبہ بنا چکا تھا ۔ اس سے پہلے وہ سوڈانیوں کو
‫زمینوں پر آباد کر دینا چاہتا تھا ‪ ،تا کہ کھیتی باڑی میں اُلجھ جائیں اور ان کی بغاوت کا امکان نہ رہے ۔
‫نئی فوج کی تنظی ِم نو اور ہزار سوڈانیوں کو زمینوں پر آباد کرنے کا کام آسان نہیں تھا ۔ ان دونوں کاموں میں خطرہ یہ تھا
‫اعلی افسر موجود تھے جو اُسے مصر کی امارت کے سرابراہ کی حیثیت
‫کہ سلطان ایوبی کی فوج اوراپنی انتظامیہ میں ایسے
‫ٰ
‫سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ سوڈانیوں کی فوج کو توڑ کربھی سلطان ایوبی نے اپنے خالف خطرہ پیدا کر لیا تھا ۔ اس فوج
‫اعلی حکام زندہ تھے ۔ انہوں نے سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کر لی تھی ‪ ،مگر علی بن سفیان کی انٹیلی
‫کے چندایک
‫ٰ
‫جنس بتا رہی تھی کہ بغاوت کی راکھ میں ابھی کچھ چنگاریاں موجود ہیں ۔
‫انٹیلی جنس کی رپورٹ یہ بھی تھی کہ ان باغی سربراہوں کی اپنی شکست کا اتنا افسوس نہیں ‪ ،جتنا صلیبیوں کی شکست
‫کا غم ہے ‪ ،کیونکہ وہ بغاوت دب جانے کے بعد بھی صلیبیوں سے مدد لینا چاہتے تھے اور مصرکی انتظامیہ اور فوج کے دو
‫اعلی حکام کو سوڈانیوں کی شکست کا افسوس تھا ‪ ،کیونکہ وہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ صالح الدین ایوبی مارا جائے گا
‫تین
‫ٰ
‫یا بھاگ جائے گا ۔ یہ ایمان فروشوں کا ٹولہ تھا ‪ ،لیکن سلطان ایوبی کاایمان مضبوط تھا ۔ اس نے مخالفین سے واقف ہوتے
‫ہوئے بھی اُن کے خالف کوئی کاروائی نہ کی ۔ ا ُن کے ساتھ نرمی اورخلوص سے پیش آتا رہا۔ کسی محفل میں اُس نے ان
‫کے خالف کوئی بات نہ کی اورجب کبھی اس نے ماتحتوں سے اور فوج سے خطاب کیا توایسے الفاظ کبھی نہ کہے کہ میں
‫اپنے مخالفین کو مزہ چکھادوں گا۔ کبھی دھمکی آمیز یا طنزیہ الفاظ استعمال نہیں کیے ۔ البتہ ایسے الفاظ اکثر اس کے منہ
‫سے نکلتے تھے ……'' اگر کسی ساتھی کو ایمان بیچتا دیکھو تو اُسے روکو ۔ اسے یاد دالو کہ وہ مسلمان ہے اور اس کے
‫ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرو تاکہ وہ دشمن کے اثر سے آزاد ہوجائے '' …… لیکن در پردہ مخالفین کی سر گرمیوں سے
‫زیر زمین سیاست کی اطالعیں
‫باخبر رہتا تھا ۔ علی بن سفیان کا محکمہ بہت ہی زیادہ مصروف ہوگیا تھا ۔ سلطان ایوبی کو ِ
‫باقاعدگی سے دی جارہی تھیں ۔
‫اب اس محکمے کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ محافظوں اور شتربانوں کے قتل کی اطالع بھی قاہرہ آچکی تھی ۔ اس
‫سے پہلے جاسوسوں کا گروہ جس میں لڑکیاں بھی تھیں ۔ محافظوں سے نا معلوم افراد نے آزاد کرالیا تھا ۔ ان دو واقعات نے
‫یہ ثابت کر دیا تھا کہ ملک میں صلیبی جاسوس اور چھاپہ مار موجود ہیں اور یہ بھی ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں یہاں کے
‫باشندوں کی پشت پناہی اور پناہ حاصل ہے ۔ ابھی یہ اطالع نہیں پہنچی تھی کہ چھاپہ مار وں اور لڑکیوں کو عین اس وقت
‫ختم کر دیا گیا ہے ‪ ،جب وہ کشتی میں سوار ہو رہے تھے ۔ چھاپہ ماروں کی سرگرمیوں کوروکنے کے لیے فوج کے دو دستے
‫سارے عالقے میں گشت کے لیے گزشتہ شام روانہ کر دئیے گئے اور انٹیلی جنس کے نظام کو اور زیادہ وسیع کر دیاگیاتھا ۔
‫صالح الدین ایوبی قدرے پریشان بھی تھا ۔ وہ کیا عزم لے کر مصر میں آیاتھا اور اب سلطنت اسالمیہ کے استحکام اور وسعت
‫کے لیے اس نے کیا کیا منصوبے بنائے تھے ‪ ،مگر اُس کے خالف زمین کے اوپرسے بھی اور زمین کے نیچے سے بھی ایسا
‫طوفان اُٹھا تھا کہ اسکے منصوبے لرزنے لگے تھے ۔ اُسے پریشانی یہ تھی کہ مسلمان کی تلوار مسلمان کی گردن پر لٹک رہی
‫تھی ۔ ایمان نیالم ہونے لگا تھا ۔سلطنت اسالمیہ کی خالفت بھی سازشوں کے جال میں اُلجھ کر سازشوں کا حصہ اور آلہ
‫کار بن گئی تھی ۔ زن اور زر نے عرب سر زمین کو ہالڈاالتھا ۔ سلطان ایوبی اس سے بھی بے خبر نہیں تھا کہ اسے قتل
‫کرنے کی سازششیں ہو رہی ہیں ‪ ،لیکن اس پر وہ کبھی پریشان نہیں ہواتھا ۔ کہا کرتا تھا کہ میری جان اللہ کے ہاتھ میں
‫ِ
‫گا۔لہذا اس نے اپنے طور پر اپنی حفاظت کی
‫ذات باری کوجب زمین پرمیرا وجود بیکار لگے گاتو مجھے اُٹھالے
‫ہے ۔ اس کی
‫ٰ
‫کبھی فکر نہیں کی تھی۔ یہ تو ا ُس کی فوجی انتظامیہ کا بندو بست تھا کہ اسکے گرد محافظوں کے دستے اور انٹیلی جنس
‫کے آدمی موجود رہتے تھے اور علی بن سفیان تو اس معاملے میں بہت چوکس تھا ۔ایک تو یہ اُس کی ڈیوٹی تھی ‪ ،دوسرے
‫یہ کہ وہ سلطان ایوبی کو اپنا پیرو ُمرشد سمجھتا تھا ۔
19:12
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪18۔ ساتویں لڑکی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫دوسرے یہ کہ وہ سلطان ایوبی کو اپنا پیرو ُم رشد سمجھتا تھا ۔اس روز سلطان ایوبی نائبین کو احکامات اور ہدایات دے رہا
‫پررکے۔ انہیں محافظوں کے کمانڈر نے روک لیا تھا۔ سوار
‫تھا ‪ ،جب دو گھوڑے اس کے محافظ دستے کی بنائی ہوئی حد
‫ُ
‫میگناناماریوس اور موبی تھے ۔وہ گھوڑے سے ا ُترے تو گھوڑوں کی باگیں ان کے ساتھی نے تھام لیں ۔ موبی نے کمانڈر سے کہا
‫کہ وہ اپنے باپ کو ساتھ الئی ہے۔ سلطان ایوبی سے ملنا ہے ۔ کمانڈر نے میگناناماریوس سے بات کی اور مالقات کی وجہ
‫پوچھی ۔ میگناناماریوس نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہ ہو۔ وہ یہ زبان نہیں سمجھتا تھا۔ موبی نے اپنا نام اسالمی
‫بتایا تھا ۔ اس نے کمانڈر سے کہا …… '' اس سے بات کرنا بے کار ہے‪ ،یہ گونگا اور بہرہ ہے …… مالقات کا مقصد ہم
‫سلطان ایوبی کو یااس کے کسی بڑے افسر کو بتائیں گے ''۔
‫علی بن سفیان باہر ٹہل رہاتھا ۔ اس نے میگناناماریوس اورموبی کو دیکھا تو ان کے پاس آگیا۔ اس نے اسالم و علیکم کہا تو
‫موبی نے وعلیکم السالم کہا۔ کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ سلطان سے ملنا چاہتے ہیں ۔ علی بن سفیان نے میگناناماریوس سے
‫مالقات کی وجہ پوچھی تو موبی نے اسے بتایا کہ یہ میرا باپ ہے ‪ ،گونگا اور بہرہ ہے۔ علی بن سفیان نے انہیں بتایاکہ

‫سلطان ابھی بہت مصروف ہیں ‪ ،فارغ ہو جائیں گے تو اُن سے مالقات کا وقت لیا جائے گا ۔ اس نے کہا ……'' آپ مالقات
‫کا مقصد بتائیں ۔ہو سکتا ہے کہ آپ کا کا م سلطان سے ملے بغیر ہو جائے ۔ سلطان چھوٹی چھوٹی شکایتوں کے لیے
‫مالقات کاوقت نہیں نکال سکتے۔ متعلقہ محکمہ از خود ہی شکایت رفعہ کر دیتا ہے ''۔
‫کیا سلطان ایوبی اسالم کی ایک مظلوم بیٹی کی فریاد سننے کے لیے وقت نہیں نکا ل سکیں گے ؟''…… موبی نے کہا ''
‫……''مجھے جو کچھ کہنا ہے ‪ ،وہ میں انہی سے کہوں گی ''۔
‫مجھے بتائے بغیر آپ سلطان سے نہیں مل سکیں گی ''…… علی بن سفیان نے کہا ۔'' میں سلطان تک آپ کی فریاد ''
‫پہنچاوں گا ۔ وہ ضروری سمجھیں گے تو آپ کو اندر بال لیں گے'' …… علی بنی سفیان انہیں اپنے کمرے میں لے گیا ۔
‫موبی نے شمالی عالقے کے کسی قصبے کا نام لے کرکہا ……''دو سال گزرے سوڈانی فوج وہاں سے گزری ۔ میں بھی لڑکیوں
‫کے ساتھ فوج دیکھنے کے لیے باہر آگئی ۔ ایک کماندار نے اپنا گھوڑا موڑا اورمیرے پاس آکر میرا نام پوچھا ۔ میں نے بتایا
‫تو اس نے میرے باپ کو بالیا ۔ اسے پرے لے جا کر کوئی بات کی ‪ ،کسی نے کماندار سے کہا کہ یہ گونگا اور بہرہ ہے ۔
‫کماندار چال گیا ۔ شام کے بعد چار سوڈانی فوجی ہمارے گھر آئے اور مجھے زبردستی اُٹھا کر لے گئے اور کماندار کے حوالے
‫کردیا ۔اس کا نام بالیان تھا ۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے آیا او ر حرم میں رکھ لیا ۔ اُس کے پاس چار اور لڑکیاں تھیں۔میں
‫نے اسے کہاکہ میرے ساتھ باقاعدہ شادی کرلے‪ ،لیکن اس نے مجھے شادی کے بغیر ہی بیوی بنائے رکھا ۔ دوسال اس نے
‫مجھے اپنے پاس رکھا ۔ سوڈانی فوج نے بغاوت کی تو بالیان چال گیا ۔ معلوم نہیں مارا گیا ہے یا قید میں ہے ۔ آپ کی
‫…… فوج اس کے گھر میں آئی اور ہم سب لڑکیوں کو یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا تم سب آزاد ہو
‫میں اپنے گھر چلی گئی۔ میرے باپ نے شادی کرنی چاہی تو سب نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ کہتے ہیں کہ یہ
‫حرم کی چچوڑی ہوئی ہڈی ہے ‪ ،وہاں لوگوں نے میرا جینا حرام کر دیا ہے ۔ ہم سرائے میں ٹھہرے ہیں۔ سنا تھا کہ سلطان
‫سوڈانیوں کو زمینیں اور مکان دے رہے ہیں ۔ مجھے آپ بالیان کی داشتہ یا اس کی بیوی سمجھ کہ یہاں زمین اور مکان دے
‫دیں ‪ ،تا کہ میں ا ُس قصبے سے نکل آوں۔ ورنہ میں خود کشی کر لوں گی یا گھر سے بھاگ کر کہیں طوائف بن جاوں گی
‫''۔
‫اگر آپ کو زمین سلطان سے ملے بغیر مل جائے تو سلطان سے ملنے کی کیا ضرورت ہے ؟''…… علی بن سفیان نے ''
‫کہا۔
‫ہاں! ''…… موبی نے کہا ……''پھر بھی ملنے کی ضرورت ہے ۔ اُسے آپ عقیدت بھی کہہ سکتے ہیں ۔ میں سلطان کو''
‫صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اس کی سلطنت میں عورت کھلونا بنی ہوئی ہے ۔ دولت مندوں اور حاکموں کے ہاں شادی کا
‫رواج ختم ہو گیا ہے۔ خدا کے لیے عورت کی عصمت کو بچاو اور عورت کی عظمت کو بحال کرو ۔ سلطان سے یہ کہہ کر
‫شاید میرے دل کو سکون آجائے گا ''۔
‫میگناناماریوس اس طرح خاموش بیٹھا رہا ‪ ،جیسے اس کے کان میں کوئی بات نہیں پڑ رہی۔ علی بن سفیان نے موبی سے کہا
‫کہ سلطان کو اجالس سے فارغ ہونے دیں پھر ان سے مالقات کی اجازت لی جائے گی ۔ یہ کہہ کر علی بن سفیان باہر نکل
‫گیا ۔ وہ بہت دیر بعد آیااور کہا کہ وہ سلطان سے اجازت لینے جا رہا ہے ۔ وہ سلطان ایوبی کے کمرے میں چال گیا
‫اورخاصی دیر بعد آیا۔ اس نے موبی سے کہا کہ اپنے باپ کو سلطان کے پاس لے جاو ۔ اس نے انہیں سلطان ایوبی کا کمرہ
‫دکھا دیا ۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دونوں نے باہر کی طرف دیکھا ۔ وہ غالبا ً قتل کے بعدوہاں سے نکلنے کا راستہ
‫دیکھ رہے تھے ۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان کمرے میں اکیال تھا ۔ اس نے دونوں کو بٹھایا اور موبی سے پوچھا ۔'' کیا تمہار باپ پیدائشی گونگا اور بہرہ
‫''ہے ؟
‫سلطان محترم !''…… موبی نے جواب دیا ……''یہ اس کا پیدائشی نقص ہے ''۔''
‫ہاں
‫ِ
‫سلطان ایوبی بیٹھا نہیں ‪ ،کمرے میں ٹہلتا رہا اور بوال …… ''میں نے تمہاری شکایت اور مطالبہ سن لیا ہے۔ مجھے تمہارے
‫ساتھ پوری ہمدردی ہے ۔ میں تمہیں یہاں زمین بھی دوں گا اور مکان بھی بنوا دوں گا ۔ سنا ہے تم کچھ اور بھی مجھ سے
‫کہنا چاہتی ہو ''۔
‫اللہ آپ کا اقبال بلند کرے !''…… موبی نے کہا……'' آپ کو بتا دیا گیا ہوگا کہ میرے ساتھ کوئی آدمی شادی نہیں ''
‫کرتا ۔ لوگ مجھے حرم کی چچوڑی ہوئی ہڈی ‪ ،فاحشہ اور بدکار کہتے ہیں اور میرے باپ کو کہتے ہیں کہ اس نے بیٹی بیچ
‫ڈالی تھی ۔ آپ مجھے زمین اور مکان تو دے دیں گے ‪ ،لیکن مجھے ایک خاوند کی ضرورت ہے ‪ ،جو میری عزت کی
‫رکھوالی کرے ''…… اس نے جھجک کر کہا ……'' میں ایسی بات کہنے کی جرٔا ت نہیں کر سکتی ‪ ،لیکن اپنی ماں کی
‫عرض آپ تک پہنچانا چاہتی ہوں کہ آپ اگر میری شادی نہیں کرا سکتے تو مجھے اپنے حرم میں رکھ لیں ۔ آپ میری
‫عمر‪ ،میری شکل و صورت اور میرا جسم دیکھیں ۔ کیا میں آپ کے قابل نہیں ہوں ؟'' یہ کہہ کر اس نے میگناناماریوس کے
‫کندھے پرہاتھ رکھ کر دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور سلطان ایوبی کی طرف اشارہ دیا ۔ یہ اشارہ شاید پہلے سے طے شدہ
‫تھا ۔ میگناناماریوس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلطان ایوبی کی طرف کیے اور پھر موبی کے ہاتھ پکڑ کر سلطان ایوبی کی طرف
‫بڑھایا‪ ،جیسے وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری بیٹی قبول کر لو ۔
‫میرا کو ئی حرم نہیں لڑکی !'' …… سلطان ایوبی نے کہا …''میں ملک سے حرم ‪ ،قحبہ خانے اور شراب ختم کر رہا ''
‫ہوں '' …… بات کرتے کرتے اس نے اپنی جیب سے ایک سکہ نکاال اورہاتھ میں اُچھالنے لگا ۔ اس نے کہا …… '' میں
‫عورت کی عزت کا محافظ بنناچاہتاہوں ''…… یہ کہتے کہتے وہ دونوں کے
‫پیٹھ پیچھے چال گیا اور سکہ ہاتھ سے گرا دیا ۔
‫ٹن کی آواز آئی تو میگناناماریوس نے چونک کر پیچھے دیکھا اور پھر فورا ً ہی سامنے دیکھنے لگا ۔
‫صالح الدین ایوبی نے تیزی سے اپنے کمر بند سے ایک فٹ لمبا خنجر نکا ل کر اس کی نوک میگناناماریوس کی گردن پر
‫رکھ دی اور موبی سے کہا ۔
‫یہ شخص میری زبان نہیں سمجھتا ۔ اس سے کہو کہ اپنے ہاتھ سے اپنا ہتھیار پھینک دے ۔اس نے ذرا سی پس و پیش ''
‫کی تو یہاں سے تم دونوں کی الشیں اُٹھائی جائیں گی ''۔
‫موبی کی آنکھیں حیرت اور خوف سے کھل گئیں ۔ اس نے اداکاری کا کمال دکھانے کی کوشش کی اور کہا ……''میرے باپ
‫کو ڈرا دھمکا کر آپ مجھ پر کیوں قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔ میں تو خود ہی اپنے آپ کو پیش کر رہی ہوں ''۔

‫تم جب محاظ پر میرے سامنے آئیں تھیں تو تم میری زبان نہیں بولتی تھیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا اورخنجر کی نوک ''
‫میگناناماریوس کی گردن پر رکھے رکھی ۔ اُس نے کہا ……'' کیا تم اتنی جلدی یہاں کی زبان بولنے لگی ہو ؟ …… اس
‫سےکہو کہ ہتھیار فورا ً باہر نکال دے ''۔
‫موبی نے اپنی زبان میں میگناناماریوس سے کچھ کہا تو ا ُس نے چغے کے اندر ہاتھ ڈال کر خنجر باہر نکاال جو اتنا ہی لمبا
‫تھا جتنا سلطان ایوبی کا تھا ۔ سلطان نے اس کے ہاتھ سے خنجر لے لیا اور اپنا خنجر اس کی گردن سے ہٹا کر کہا ……''
‫باقی چھ لڑکیاں کہاں ہیں ؟''۔
‫آپ نے مجھے پہچاننے میں غلطی کی ہے ''…… موبی نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا ……'' میرے ساتھ اورکوئی لڑکی ''
‫''نہیں ہے ۔ آپ کون سی چھ لڑکیوں کی بات کر رہے ہیں ؟
‫مجھے خدا نے آنکھیں دی ہیں '' …… سلطان ایوبی نے کہا …… '' اور خدا نے مجھے ذہن بھی دیا ہے ‪ ،جس میں ''
‫وہ چہرے نقش ہو جاتے ہیں جنہیں ایک بار آنکھ دیکھ لیتی ہے ۔ تمہارا چہرہ جو آدھا نقاب میں ہے ‪ ،میں نے پہلے بھی
‫دیکھا ہے …… تمہیں اور تمہارے اس ساتھی کو خدا نے اتنا ناقص ذہن دیا ہے کہ جس کام کے لیے تم آئے تھے ‪ ،تم اس
‫قابل نہیں ۔ سرائے میں تم دونوں میاں اور بیوی تھے ۔ یہاں آکر تم باپ اوربیٹی بن گئے ‪ ،مگر تم ہو کچھ بھی نہیں اور
‫تمہارا ایک ساتھی باہر گھوڑوں کے پاس کھڑا ہے ‪ ،وہ تمہارا نوکر نہیں ۔ اسے گرفتار کر لیا گیا ہے ''۔
‫یہ کمال علی بن سفیان کا تھا ۔ اسے موبی نے بتایا تھا کہ وہ سرائے میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ وہ ان دونوں کو اپنے کمرے
‫میں بٹھا کر باہر نکل گیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر سرائے میں چال گیا تھا۔ سرائے والوں سے اُس نے ان کے حلیے بتا کر
‫پوچھا تو اسے بتایا گیا تھا کہ وہ میاں بیوی ہیں اور ان کے ساتھ ان کا نوکر ہے ۔ اسے یہ بھی بتایا گیا کہ انہوں نے بازار
‫سے کچھ کپڑے بھی خریدے تھے ‪ ،جن میں لڑکی کا برقعہ نما چغہ اور جوتے بھی تھے ۔انہوں نے علی بن سفیان سے کہا
‫تھا کہ وہ میاں بیوی ہیں۔اس نے اور کوئی تفتیش نہیں کی ۔ ان کے کمرے کا تاال توڑ کر ان کے سامان کی تالشی لی ۔
‫اس سے چند ایسی اشیاء برآمد ہوئیں جنہوں نے شک کو یقین میں بدل دیا ۔ علی بن سفیان سمجھ گیا کہ سلطان ایوبی
‫اعلی نسل کے تیز رفتار گھوڑے
‫سے ان کا تنہائی میں ملنے کا مطلب کیا ہوسکتا ہے ۔ اس نے ان کے گھوڑے دیکھے تھے ۔
‫ٰ
‫تھے ۔ سرائے والے سے ان کے گھوڑوں کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ یہ تینوں مسافر اونٹوں پر آئے تھے اور یہ
‫گھوڑے لڑکی نے یہ کہہ کر منگوائے تھے کہ نہایت اچھے ہوں اور تیز رفتار ہوں ۔ سرائے والوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ لڑکی
‫کا خاوند گونگا معلوم ہوتا ہے ‪ ،وہ کسی سے بات نہیں کرتا ۔ دراصل وہ یہاں کی زبان نہیں جانتا تھا ۔
‫علی بن سفیان نے واپس آکر دیکھا کہ اجالس ختم ہو گیاہے تو وہ سلطان ایوبی کے پاس چال گیا۔ اسے ان کے متعلق بتایا
‫اور وہ کہانی بھی سنائی جو لڑکی نے اسے سنائی تھی ۔ پھر سرائے سے معلومات اس نے حاصل کی تھیں اور ان کے
‫سامان سے جو مشکوک چیزیں برآمد کیں تھیں ‪ ،وہ دکھائیں اور اپنی رائے یہ دی کہ آپ کو قتل کرنے آئے ہیں ۔ آپ سے
‫تنہائی میں ملنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہوگا کہ آپ کو قتل کرکے نکل جائیں گے ۔ جتنی دیر میں کسی کو
‫پتہ چلے گا‪ ،اتنی دیر میں وہ تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر شہر سے ُدور جا چکے ہوں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے یہ
‫لوگ آپ کو اتنی خوبصورت لڑکی کے چکر میں ڈال کر خواب گاہ میں قتل کرنا چاہتے ہوں گے۔
‫سلطان ایوبی سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر کہا …… '' انہیں ابھی گرفتار نہ کرو ۔ میرے پاس بھیج دو ''۔
‫علی بن سفیان نے انہیں اندر بھیج دیا اور خود سلطان ایوبی کے کمرے کے دروازے کے ساتھ لگا کھڑا رہا ۔اس نے محافظ
‫دستے کے کمانڈر کو بال کر کہا …… '' ان دونوں گھوڑوں کو اپنے گھوڑوں کے ساتھ باندھ دو اور زینیں اُتار دو اور ان کے
‫ساتھ جو آدمی ہے ‪ ،اسے حراست میں بٹھا لو ۔ اس کی تالشی لو ۔ اس کے کپڑوں کے اندر خنجر ہوگا ۔ وہ اس سے لے
‫لو ''۔
‫ان احکام پر عمل ہوگیا ۔ میگناناماریوس کا ساتھی گرفتار ہو گیا ۔ اس سے ایک خنجر برآمد ہوا ۔ گھوڑوں پر بھی قبضہ کر
‫لیا گیا۔
‫اور جب انہیں سلطان ایوبی کے کمرے میں داخل کیا گیا تو باتوں باتوں میں سلطان نے ایک سکہ فرش پر پھینک کر یقین
‫کر لیا کہ یہ شخص بہرہ نہیں ۔ سکے کی آواز پر اس نے فورا ً پیچھے ُمڑ کر دیکھا تھا ۔
‫صالح الدین ایوبی نے لڑکی سے کہا ……'' اسے کہو کہ میری جان صلیبیوں کے خدا کے ہاتھ میں نہیں ‪ ،میرے اپنے خدا کے
‫ہاتھ میں ہے ''۔
‫موبی نے اپنی زبان میں میگناناماریوس سے بات کی تو اس نے چونک کر کچھ کہا ۔ موبی نے سلطان ایوبی سے کہا ……''
‫''یہ کہتا ہے ‪ ،کیا آپ کا خدا کوئی اور ہے اور کیامسلمان بھی خدا کو مانتے ہیں ؟
‫اسے کہو کہ مسلمان اس خدا کو مانتے ہیں جو سچا ہے اور سچے عقیدے والوں کو عزیز رکھتا ہے ''…… سلطان ایوبی ''
‫نے کہا …… '' مجھے کس نے بتایا ہے کہ تم دونوں مجھے قتل کرنے آئے ہو ؟ …… میرے خدا نے ‪ ،اگر تمہارا خدا سچا
‫ہوتا تم تمہارا خنجر مجھے ہالک کر چکا ہوتا ۔ میرے خدا نے تمہارا خنجر میرے ہاتھ میں دے دیا ہے ''۔ اس نے ایک
‫تلوار کہیں سے نکالی اور چند اشیاء انہیں دکھا کر کہا ……'' یہ تلوار اور چیزیں تمہاری ہیں ۔ یہ تمہارے ساتھ سمندر پار
‫سے آئی ہیں ۔ تم سے پہلے یہ مجھ تک پہنچ گئی ہیں ''۔
‫میگناناماریوس حیرت سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔ اس کے آنکھیں اُبل کر باہر آگئیں ‪ ،جتنی باتیں ہوئیں ‪ ،وہ موبی کی مدد سے ہوئیں۔
‫میگناناماریوس نے بولنا شروع کر دیا اور وہ صرف اپنی زبان بولتا اور سمجھتا تھا ۔ خدا کے متعلق یہ باتیں سن کر اس نے
‫کہا…… '' یہ شخص سچے عقید ے کا معلوم ہوتاہے ۔ میں اس کی جان لینے آیا تھا ‪ ،لیکن اب میری جان اس کے ہاتھ
‫میں ہے ۔ اسے کہو کہ تمہارے سینے میں ایک خدا ہے ‪ ،وہ مجھے دکھائے ۔ میں اس خدا کو دیکھنا چاہتا ہوں ‪ ،جس نے
‫اسے اشارہ دیا ہے کہ ہم اسے قتل کرنے آئے ہیں ''۔
‫سلطان ایوبی کے پاس اتنی لمبی چوڑی باتوں کا وقت نہیں تھا ۔ اُسے چاہیے تھا کہ ان دونوں کو جالد کے حوالے کر دیتا‪،
‫لیکن اس نے دیکھا کہ یہ شخص بھٹکا ہوا معلوم ہوتا ہے ‪ ،اگر یہ پاگل نہیں تو یہ ذہنی طو پر گمراہ ضرور ہے ‪ ،چنانچہ
‫اس نے اس کے ساتھ دوستانہ انداز میں باتیں شروع کر دیں ۔ اس دوران علی بن سفیان اندر آگیا ۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ
‫سلطان خیریت سے تو ہیں ‪ ،سلطان ایوبی نے ُمسکرا کر کہا ۔ '' سب ٹھیک ہے علی ! میں نے ان سے خنجر لے لیا
‫ہے '' …… علی بن سفیان سکون کی آہ بھر کر باہر چال گیا ۔
‫میگناناماریوس نے کہا ……'' پیشتر اس کے کہ سلطان میری گردن تن سے جدا کردے ‪ ،میں اپنی زندگی کی کہانی سنانے کی
‫مہلت چاہتا ہوں''۔

‫سلطان ایوبی نے اجازت دے دی ۔ میگناناماریوس نے بالکل وہ کہانی جورات صحرا میں اس نے اپنے پارٹی کمانڈر اور اپنے
‫عیسی علیہ
‫ساتھیوں کو سنائی تھی ‪ ،من و عن سلطان ایوبی کو سنا دی ۔ اب کے اس نے صلیب پر لٹکتے ہوئے حضرت
‫ٰ
‫السالم کے بُت ‪ ،کنواری مریم کی تصویر اور پادریوں کے اُس خدا سے جس سے وہ پادری کی اجازت کے بغیر با ت بھی
‫نہیں کر سکتا تھا ‪ ،بیزاری کا اظہار اور زیادہ شدت سے کیا اور کہا ……'' مرنے سے پہلے مجھے خدا کی ایک جھلک دکھا
‫دو ۔ میرے خدا نے بچوں کو بھوکا مار دیا ہے ‪ ،میری ماں کو اندھا کر دیا ہے ‪ ،میری بہن کو شرابی وحشیوں کا قیدی بنا
‫دیا ہے اور مجھے تیس سالوں کے لیے قید خانے میں بند کر دیا ہے ‪ ،میں وہاں سے نکال تو موت کے منہ میں آپڑا ۔
‫سلطان ! میری جان تیرے ہاتھ میں ہے ‪ ،مجھے سچا خدا دکھا دے ‪ ،میں اس سے فریاد کروں گا ‪ ،اس سے انصاف مانگوں
‫گا ''۔
‫تیری جان میرے ہاتھ میں نہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… '' میرے خدا کے ہاتھ میں ہے ‪ ،اگر میرے ہاتھ میں ہوتی ''
‫تو اس وقت تک تم میرے جالد کے پاس ہوتے ‪ ،میں تمہیں وہ سچا خدا دکھا دوں گا ‪ ،جو تیری گردن مارنے سے مجھے
‫روک رہا ہے ‪ ،لیکن تجھے اس خدا کا سچا عقیدہ قبول کرنا ہوگا‪ ،ورنہ خدا تمہاری فریاد نہیں سنے گا اور انصاف بھی نہیں
‫ملے گا ''……سلطان ایوبی نے اس کا خنجر اس کی گود میں پھینک دیا اور خود اس کے پاس جا کر اس کی طرف پیٹھ کر
‫کے کھڑا ہوگیا ۔ موبی سے کہا …… '' اسے کہو میں اپنی جان اس کے حوالے کرتا ہوں ۔ یہ خنجر میری پیٹھ میں گھونپ
‫دے ''۔
‫میگناناماریوس نے خنجر ہاتھ میں لے لیا ۔ اسے غور سے دیکھا ۔ سلطان ایوبی کی پیٹھ پر نگاہ دوڑائی ۔ اُٹھا اور سلطان کے
‫سامنے چال گیا ۔ اسے سر سے پاوں تک دیکھا ۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کی جاللی شخصیت کا اثر تھا یا سلطان کی
‫آنکھوں کی چمک میں ا ُسے سچا خدا نظر آگیا کہ اس کے ہاتھ کانپے ۔ اس نے خنجر سلطان ایوبی کے قدموں میں رکھ دیا ۔
‫وہ دوزانو بیٹھ گیا اور سلطان کے ہاتھ چوم کر زارو قطار رونے لگا ۔ ……موبی سے کہا……'' اسے کہو کہ یا تو یہ خود خدا
‫ہے یا اس نے خدا کو اپنے سینے میں قید کر رکھا ہے ۔ اسے کہو مجھے اپنا خدا دکھا دو ''۔
‫سلطان ایوبی نے اُسے ا ُٹھایا اور سینے سے لگا کر اپنے ہاتھ سے اس کے آنسو پونچھے ۔
‫وہ تو بھٹکا ہوا انسان تھا ۔ اس کے دل میں مسلمانوں کے خالف نفرت بھر دی گئی تھی اور اسال م کے خالف زہر ڈاال
‫گیاتھا ۔ پھر حاالت نے اسے اپنے مذہب سے بیزا ر کیا۔ یہ ایک قسم کا پاگل پن تھا اور ایک تشنگی تھی جو اسے ایسی
‫خطرناک مہم پر لے آئی تھی ۔ سلطان ایوبی ا ُسے بے گناہ سمجھتا تھا ‪ ،لیکن اسے آزاد بھی نہ کیا ‪ ،بلکہ اپنے پاس رکھ
‫لیا ۔ موبی باقاعدہ ٹریننگ لے کر آئی تھی اور مفرور جاسوسہ تھی ۔ یہ وہ ساتویں لڑکی تھی جس نے صلیبیوں کا پیغام
‫سوڈانیوں تک پہنچایا اور بغاوت کرائی تھی ۔ وہ ملک کی دشمن تھی ۔ اسے اسالمی قانون نہیں بخش سکتا تھا ۔ سلطان
‫اقبال جرم کر لیا اور یہ بھی بتا
‫نے ا ُسے اور اس کے ساتھی کو علی بن سفیان کے حوالے کر دیا ۔ تفتیش میں دونوں نے
‫ِ
‫دیا کہ رسد کے قافلے کو انہوں نے ہی لوٹا تھا اور لڑکیوں کو بھی انہوں نے آزاد کرایااور محافظ دستے کو ہالک کیا تھا اور
‫بالیان اور اس کے ساتھیوں کو بھی انہوں نے ہالک کیا تھا ۔
‫یہ تفتیش تین دن جاری رہی ۔ اس دوران میگناناماریوس کا دماغ روشن ہو چکا تھا ۔ ایک بار اس نے سلطان ایوبی سے
‫''پوچھا ……'' کیا آپ نے اس لڑکی کو مسلمان کر کے اپنے حرم میں رکھ لیا ہے ؟
‫آج شام کو اس کا جواب دوں گا ''…… سلطان ایوبی نے جواب دیا ۔''
‫شام کے وقت سلطان ایوبی نے میگناناماریوس کو ساتھ لیا اور کچھ ُدور جا کر ایک احاطے میں لے گیا ۔لکڑی کے دو تختے
‫پڑے تھے ۔ ان پر سفید چادریں پڑی ہوئی تھیں۔ سلطان ایوبی نے چادروں کو ایک طرف سے اُٹھایا اور میگناناماریوس کو دکھایا
‫‪ ،اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ اس کے سامنے موبی کی الش پڑی تھی اور دوسرے تختے پر اس کے ساتھی کی الش
‫تھی ۔ سلطان ایوبی نے موبی کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کھینچا ‪ ،گردن کندھے سے جدا تھی ۔ اس نے میگناناماریوس
‫سے کہا ……'' میں اسے بخش نہیں سکتا تھا ‪ ،تم اسے اپنے ساتھ الئے تھے کہ میں اس کے حسن اور جسم پر فدا ہوجاوں
‫گا ‪ ،مگر اس کا جسم مجھے ذرا بھر اچھا نہیں لگا ‪ ،یہ ناپاک جسم تھا ۔ یہ اب مجھے اچھا لگ رہا ہے ۔ جب جبکہ اس
‫جسم سے اتنی حسین شکل و صورت جدا ہوچکی ہے ۔ مجھے یہ بہت اچھی لگ رہی ہے ۔ اللہ اس کے گنا ہ معاف کرے
‫''۔
‫''سلطان!''…… میگناناماریوس نے پوچھا …… ''آپ نے مجھے کیوں بخش دیا ؟''
‫اس لیے کہ تم مجھے قتل کرنے آئے تھے ''……سلطان ایوبی نے جواب دیا ……'' مگر یہ میری قوم کے کردار کو قتل ''
‫کرنے آئی تھی اورر تمہارا یہ ساتھی بھی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بہت سے لوگوں کا قاتل بنا اور تم نے میرا خون
‫بہا کر خدا کو دیکھنا چاہا تھا ''۔
‫چند ِد نوں بعد میگناناماریوس سیف اللہ بن گیا جو بعد میں سلطان ایوبی کے محافظ دستے میں شامل ہوا اور جب سلطان
‫خالق حقیقی سے جا مال ‪ ،تو سیف اللہ نے زندگی کے آخری سترہ برس سلطان صالح الدین ایوبی کی قبر پر گزار
‫ایوبی
‫ِ
‫دئیے۔ آج کسی کو بھی معلوم نہیں کہ سیف اللہ کی قبر کہاں ہے۔
19:13
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫قسط نمبر۔‪19۔ دوسری بیوی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫طرف ریت کے ٹیلے اور باقی ہر طرف صحرا ریت کے سمندر کی مانند اُفق تک پھیال
‫قاہرہ سے ڈیڑھ دومیل دور جہاں ایک
‫ٍ
‫ہواتھا‪ ،انسانوں کے سمندر تلے دب گیا تھا۔ یہ الکھوں انسانوں کا ہجوم تھا۔ ان میں شتر سوار بھی تھے اور گھوڑا سوار
‫بھی ۔ بہت سے لوگ گدھوں پر بھی سوار تھے ۔ تعداد ان کی زیادہ تھی ‪،جن کے پاس کوئی سواری نہیں تھی ۔ التعداد
‫ہجوم چار پانچ دنوں سے صحرا کی اس وسعت میں جمع ہونا شروع ہوگیا تھا۔ قاہرہ کے بازاروں میں بھیڑ اور رونق زیادہ
‫ہوگئی تھی ۔ سرائے بھر گئی تھی ۔ یہ لوگ دور دور سے اس سرکاری منادی پر آئے تھے کہ چھ سات روز بعد قاہرہ کے
‫مضافاتی ریگستان میں مصر ی فوج گھوڑ سواری ‪ ،شتر سواری‪ ،دوڑتے گھوڑوں اور اونٹوں سے تیر اندازی اور بہت سے جنگی
‫کماالت کا مظاہرہ کرے گی ۔منادی میں یہ اعالن بھی کیاگیاتھا کہ غیرفوجی لوگ بھی ان مظاہروں میں جس کسی کو چاہیں
‫تیغ زنی ‪ ،ک ُشتی ‪ ،دوڑتے گھوڑوں کی لڑائی اور تیر اندازی وغیرہ کے لیے للکار کر مقابلہ کرسکتے ہیں ۔
‫یہ منادی صالح الدین ایوبی نے کرائی تھی ۔ اس کے دومقاصد تھے ۔ ایک یہ کہ لوگوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب

‫ملے گی اور دوسرے یہ کہ جولوگ ابھی تک سلطان کو فوجی لحاظ سے کمزور سمجھتے ہیں ‪،ان کے شکوک رفع ہوجائیں ۔
‫سلطان ایوبی کو جب یہ اطالع ملنے لگیں کہ لوگ چھ روز پہلے ہی تماشہ گاہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں تو وہ بہت
‫خوش ہوا مگر علی بن سفیان پریشان سا نظر آتاتھا۔ اس نے سلطان کے آگے اس پریشانی کا اظہار کربھی دیاتھا۔ سلطان ایوبی
‫نے مسرت سے ا ُسے کہاتھا……''اگر تماشائیوں کی تعداد الکھ ہوجائے تو ہمیں پانچ ہزار سپاہی تو مل ہی جائیں گے ''۔
‫محترم امیر!''علی بن سفیان نے کہا…''میں تماشائیوں کے ہجوم کو کسی اور زاویے سے دیکھ رہاہوں ۔ میرے اندازے کے''
‫مطابق اگر تماشائیوں کی تعداد ایک الکھ ہوئی تو اس میں ایک ہزار جاسوس ہوں گے ۔ دیہات سے عورتیں بھی آرہی ہیں ۔ان
‫میں زیادہ تر سوڈانی ہیں ۔ان میں اکثر کا رنگ اتنا گوراہے کہ عیسائی عورت ان میں چھپ سکتی ہے ''۔
‫میں تمہاری اس مشکل کو اچھی طرح سمجھتا ہوں علی ! ''سلطان نے کہا……''لیکن تم جانتے ہوکہ میں نے جس میلے''
‫کا انتظام کیاہے ‪ ،وہ کیوں ضروری ہے۔ تم اپنے محکمے کو اور زیادہ ہوشیار کردو''۔
‫میں اس کے حق میں ہوں !'' ……علی بن سفیان نے کہا……''یہ میلہ بہت ہی ضروری ہے ۔ میں نے اپنی پریشانی آپ''
‫کو پریشان کرنے کے لیے نہیں بتائی ‪ ،صرف یہ اطالع پیش کی ہے کہ یہ میلہ اپنے سات کیا خطرہ الرہاہے ۔ قاہرہ میں
‫عارضی قحبہ خانے کھل گئے ہیں جو ساری رات شائقین سے بھرے رہتے ہیں ۔تماشائیوں میں سے بعض نے شہر کے باہر
‫خیمے نصب کر لیے ہیں ۔میرے گروہ نے مجھے اطالع دی ہے کہ ان میں بھی قمار بازوں اور عصمت فروشوں کے خیمے
‫موجود ہیں ۔کل میلے کا دن ہے ۔ ناچنے گانے والیوں نے تماشائیوں سے دولت کے ڈھیر اکٹھے کر لیے ہیں ''۔
‫میلہ ختم ہوجائے گا تو یہ غالظت بھی ہجوم کے ساتھ ہی صاف ہوجائے گی ''۔سلطان ایوبی نے کہا……''میں اس پر ''
‫پابندی عائد نہیں کرنا چاہتا ۔ مصر کی اخالقی حاالت اچھی نہیں ۔ رقص اور عصمت فروشی ایک دو دنوں میں ختم نہیں کی
‫جاسکتی ۔ ابھی مجھے زیادہ سے زیادہ تماشائیوں کی ضرورت ہے ۔مجھے فوج تیار کرنی ہے اور تم جانتے ہو علی ! ہمیں
‫بہت زیادہ فوج کی ضرورت ہے ۔ میں نے فوج اور انتظامیہ کے سربراہوں کے اجالس میں یہ ضرورت وضاحت سے بیان کردی
‫تھی ''۔
‫میں آپ کو اس وضاحت سے روک نہیں سکاتھا‪ ،امیر محترم !''……علی بن سفیان نے کہا……''میری سراغ رساں نگاہوں ''
‫میں ان سربراہوں میں نصف ایسے ہیں جو ہمارے وفادار نہیں ۔آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان میں کچھ ایسے ہیں جو آپ
‫گدی پر نہیں دیکھنا چاہتے اور باقی جو ہیں اُن کی دل چسپیاں سوڈانیوں کے ساتھ ہیں ۔میں نے ان میں سے ہر
‫کو اس ّ
‫ایک کے پیچھے ایک ایک آدمی چھوڑ رکھاہے ۔ میرے آدمی مجھے ان کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ''۔
‫کسی کی کوئی خطرناک سرگرمی سامنے آئی ہے ؟سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
‫نہیں ۔ ''علی بن سفیان نے جواب دیا……''سوائے اس کے ‪ ،کہ یہ لوگ اپنی حیثیت اور رتبوں کو فراموش کرکے راتوں ''
‫کو مشکوک خیموں میں اور ا ُن مکانوں میں جاتے ہیں جو عارضی قحبہ خانے اور رقص گاہیں بن گئے ہیں ۔دونے تو ناچنے
‫والی لڑکیوں کو گھروں میں بھی بالیا ہے …… ان سے زیادہ میرا دماغ اُن دوبادبانی کشتیوں پر گھوم رہاہے جو دس روز گزرے ‪،
‫بحیرٔہ روم کے ساحل کے ساتھ دیکھی گئی تھیں''۔
‫اُن میں کیاخاص بات تھی ؟''…… سلطان ایوبی نے پوچھا ۔''
‫اس وقت تک بحیرٔہ روم کے ساحل سے فوج کو واپس باللیاگیاتھا‪ ،وہاں ڈھکی چھپی جگہوں پر دودو فوجی سمندر پر نظر
‫رکھنے کے لیے بٹھا دئیے گئے تھے ۔علی بن سفیان نے ماہی گیروں اور صحرائی خانہ بدوشوں کے لباس میں ساحلی پر انٹیلی
‫جنس کے چند آدمی مقرر کردئیے تھے ۔ یہ اہتمام ایک تو اس لیے کیاگیا تھا کہ صلیبی اچانک حملہ نہ کردیں اور دوسرے
‫اس لیے کہ ادھر سے صلیبیوں کے جاسوس نہ آسکیں ‪ ،مگر ساحل بہت لمبا تھا۔ کہیں کہیں چٹانیں بھی تھیں ‪ ،جہاں سمندر
‫اندر آجاتا تھا۔ سارے ساحل پر نظر نہیں رکھی جاسکتی تھی ۔دس روز گزرے ایسی ہی ایک جگہ سے جہاں سمندر چٹانوں کے
‫اندر آیاہوا تھا‪ ،دو باد بانی کشتیاں نکلتی دیکھی تھیں ۔ وہ شاید رات کو آئی تھیں۔
‫انہیں جاتا دیکھ کر سلطان کے دو سوار سر پٹ گھوڑے دوڑاتے اس جگہ پہنچے ‪ ،جہاں سے کشتیاں نکل کر گئی تھیں ۔ وہاں
‫کچھ بھی نہ تھا۔کوئی انسان نہیں تھا اور کشتیاں سمندر میں دور چلی گئی تھی کشتیوں اور بادبانوں کی ساخت بتاتی تھی کہ
‫یہ مصر کے ماہی گیروں کی نہیں ۔ سمندر پار معلوم ہوتی تھیں۔ سوار تھوڑی ُدور تک صحرا میں گئے ۔ انہیں کسی انسان کا
‫سراغ نہیں مال۔انہوں نے قاہرہ اطالع بھجوادی تھی کہ ساحل کے ساتھ دو مشکوک کشتیاں دیکھی گئی ہیں ۔ علی بن سفیان
‫کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ ریگستان میں انہیں ڈھونڈ لیتا جو کشتیوں میں سے اُترے تھے ۔ اطالع پہنچتے پہنچتے تین ِدن
‫گزرگئے تھے ۔یہ بھی یقین نہیں تھا کہ کشتیوں سے کون اُترا ہے ۔
‫علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے اس سوال کے جواب میں کہ ان کشتیوں میں کیا خاص بات تھی‪،یہ وضاحت کردی اور
‫کہا……''ہم میلے کی منادی ڈیڑھ مہینے سے کرارہے ہیں۔ ڈیڑھ مہینے میں خبریورپ کے وسط تک پہنچ سکتی ہے اور وہاں
‫سے جاسوس آسکتے ہیں ۔ مجھے یقین کی حد تک شک ہے کہ تماشائیوں کے ساتھ صلیبیوں کے جاسوس میلے میں آگئے
‫ہیں ۔قاہرہ میں اس وقت لڑکیاں عارضی طور پر نہیں ‪ ،مستقل طور پر فروخت ہورہی ہیں ۔ سلطان سمجھ سکتے ہیں کہ ان
‫کے خریدار معمولی حیثیت کے لوگ نہیں ہوسکتے ۔ ان خریداروں میں قاہرہ کے تاجر‪ ،ہماری انتظامیہ اور فوج کے سربراہ اور
‫نامی گرامی بردہ فروش شامل ہیں ۔بکنے والی لڑکیوں میں صلیبیوں کی جاسوس لڑکیاں ہوسکتی ہیں اور یقینا ہوں گی''۔
‫سلطان ایوبی ان اطالعوں سے پریشان نہ ہوا۔ بحیرٔہ روم میں صلیبیوں کو شکست دئیے تقریبا ًایک سال گزر گیاتھا۔ علی بن
‫قابل اعتماد نہیں تھا۔ تاہم یہ اطالع مل گئی تھی
‫سفیان نے سمندر پار جاسوسی کا انتظام کررکھاتھا جو مضبوط اور سوفیصد
‫ِ
‫کہ صلیبیوں نے مصر میں جاسوس اور تخریب کار بھیج رکھے ہیں ۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ مصر کے متعلق ان کے
‫منصوبے کیا ہیں ۔ بغداد اور دمشق سے آنے ولی اطالعوں سے پتہ چالتھا کہ صلیبیوں نے زیادہ تر دباو ادھر ہی رکھا ہواہے ۔
‫وہاں خصوصا ً شام میں ‪ ،وہ مسلمان ا ُمرا کو عیاشیوں اور شراب میں ڈبوتے چلے جارہے تھے ۔سلطان نور الدین زنگی کی
‫موجود گی میں صلیبی ابھی برا ِہ راست ٹکرلینے کی جرٔات نہیں کررہے تھے ۔بحیرٔہ روم میں جب صالح الدین ایوبی نے اُن کا
‫بیڑہ بمع لشکر غرق کردیاتھا ‪ ،ا ُدھر عرب میں سلطان زنگی نے صلیبیوں کی مملکت پر حملہ کرکے انہیں صلح پر مجبور کیا
‫اور جزیہ وصول کرلیاتھا۔ اس معرکے میں بہت سے صلیبی سلطان زنگی کی قید میں آئے تھے ۔جن میں رینالٹ نام کا ایک
‫صلیبی ساالر بھی تھا۔ سلطان زنگی نے ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا تھا‪ ،کیونکہ صلیبیوں نے مسلمان جنگی قیدیوں کو شہید
‫کردیاتھا۔ اس کے عالوہ صلیبی عہد شکنی بھی کرتے تھے ۔
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کی پاسبانی کررہاہے ‪ ،پھر بھی وہ فوج تیار کررہاتھا تاکہ
‫سلطان ایوبی کو اطمینان تھا کہ اُدھر سلطان زنگی
‫صلیبیوں سے فلسطین لیاجائے اور عرب کی سر زمین کو کفار سے پاک کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ مصر کا دفاع مضبوط

‫کرنا چاہتاتھا۔ بیک وقت حملے اور دفاع کے لیے بے شمار فوج کی ضرورت تھی ۔ مصر میں بھرتی کی رفتار سلطان ایوبی کے
‫عزائم کے مطابق سست تھی ۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ سوڈانیوں کی جو فوج توڑ دی گئی تھی ‪ ،اس کے کماندار اور
‫عہدے دار دیہات میں سلطان ایوبی کے خالف پروپیگنڈا کرتے پھر رہے تھے ۔ اس فوج میں سے تھوڑی سی تعداد سلطان کی
‫فوج میں وفاداری کا حلف ا ُٹھا کر شامل ہوگئی تھی۔ کچھ فوج مصر سے تیار کرلی گئی تھی اور کچھ سلطان زنگی نے بھیج
‫دی تھی ۔ مصر کے لوگوں نے ابھی یہ فوج نہیں دیکھی تھی‪ ،نہ ہی انہوں نے سلطان ایوبی کو دیکھا تھا ۔سلطان ایوبی نے
‫اس میلے کا عالن کرکے اپنے فوجی سربراہوں اور ا ُن کے ماتحت کمان داروں وغیرہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ باہر سے آئے
‫ہوئے لوگوں سے ملیں اور پیار و محبت سے ان کا اعتماد حاصل کریں ۔ انہیں باور کرائیں کہ وہ انہی میں سے ہیں اور ہم
‫سب کا مقصد یہ ہے کہ خدا اور رسول ۖ کی سلطنت کو ُدور ُدور تک پھیال نا اور ا سے صلیبی فتنے سے پاک کرنا ہے ۔
‫امیر محترم !
‫میلے سے ایک روز پہلے علی بن سفیان ‪،سلطان کو جاسوسوں کے خطرے سے آگاہ کررہاتھا۔اس نے کہا…… '' ِ
‫مجھے جاسوسوں کا کوئی ڈر نہیں ‪ ،دراصل خطرہ اپنے ان کلمہ گو بھائیوں سے ہے جو کفار کے اس زمین دوز حملے کو
‫کامیاب بناتے ہیں ۔اگر ان کا ایمان مضبوط ہوتو جاسوسوں کا پورا لشکر بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ میلے کے تماشائیوں میں جو
‫ناچنے والی لڑکیا ں نظر آرہی ہیں ۔وہ صلیبیوں کا جال ہیں‪ ،تاہم میرا گروہ ِدن رات مصروف ہے''۔
‫اپنے آدمیوں سے یہ کہہ دو کہ کسی جاسوس کو جان سے نہ ماریں ''……سلطان ایوبی نے کہا…''زندہ پکڑو ۔ جاسوس ''
‫دشمن کے لیے آنکھ اور کان ہوتاہے ‪،لیکن ہمارے لیے وہ زبان ہے ۔وہ تمہیں اُن کی خبریں دے گا‪ ،جنہوں نے اُسے بھیجاہے
‫''۔
‫٭ ٭ ٭
‫میلے کی صبح طلوع ہوئی ۔ وہ میدان بہت ہی وسیع تھا جس کے تین اطراف تماشائیوں کا ہجوم تھا‪،جس طرف ریت کے
‫ٹیلے تھے ادھر کسی کو نہیں جانے دیاگیاتھا۔ جنگی دف بجنے لگے ۔گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں اس طرح سنائی دیں ‪،
‫جیسے سیالبی دریا آرہاہو۔ گرد آسمان کی طرف ا ُٹھ رہی تھی ۔ یہ دو ہزار سے زیادہ گھوڑے تھے۔ پہال گھوڑا سوار میدان میں
‫داخل ہوا۔یہ صالح الدین ایوبی تھا ۔ اس کے دونوں طرف علم بردار تھے اور پیچھے سواروں کا دستہ تھا ۔ گھوڑوں پر پھول
‫دار چادری ڈالی گئی تھیں ۔ہر سوار کے ہاتھ میں برچھی تھی ۔ بر چھی کے چمکتے ہوئے پھل کے ساتھ رنگین کپڑے کی
‫چھوٹی سی جھنڈی تھی۔ ہر سوار کی کمر سے تلوار لٹک رہی تھی ۔ گھوڑے ُدلکی چال آرہے تھے ۔ سوار گردنیں تانے اور
‫سینے پھیالئے بیٹھے تھے ۔ ا ُن کے چہروں پر جاللی تاثر تھا۔ یوں معلوم ہوتاتھاجیسے یہ تماشائیوں کے دم بخو د ہجوم سے
‫علی و برتر ہوں ۔ا ُن کی آن بان دیکھ کر تماشائیوں پر خاموشی طاری ہوگئی تھی ۔ ان پر رعب چھا گیا تھا ۔
‫ا
‫ٰ
‫تماشائی نیم دائرے میں کھڑئے تھے ۔ ان کے پیچھے تماشائی گھوڑوں پر بیٹھے تھے اور ان کے پیچھے کے تماشائی اونٹوں پر
‫بیٹھے تھے۔ ایک ایک گھوڑے اور ایک ایک اونٹ پر دودو تین تین آدمی بیٹھے تھے ۔ ان کے آگے ایک جگہ شامیانہ لگایا گیا
‫تھا‪ ،جس کے نیچے کر سیاں رکھی تھی۔ یہاں اونچی حیثیت والے تماشائی بیٹھے تھے۔ ان میں تاجر بھی تھے ۔ سلطان کی
‫حکومت کے افسر اور شہر کے معززین بھی ۔ان میں قاہرہ کی مسجدوں کے امام بھی بیٹھے تھے۔ انہیں سب سے آگے بٹھایا
‫گیا تھا‪،کیونکہ سلطان ایوبی مذہبی پیشوائوں اور علماء کا اس قدر احترام کرتاتھا کہ ان کی موجودگی میں ان کی اجازت کے
‫بغیر بیٹھتا نہیں تھا۔ ان میں سلطان کے وہ افسر بھی بیٹھے تھے جو انتظامیہ کے تھے ‪ ،لیکن ان کا تعلق فوج سے تھا۔
‫سلطان نے انہیں خاص طور پر کہا تھا کہ ان درمیان بیٹھ کر ان کے ساتھ دوستی پیدا کریں ۔ان میں خادم الدین البرق تھا ۔
‫علی بن سفیان کے بعد یہ دوسرا آدمی تھا جو سلطان ایوبی کے خفیہ منصوبوں ‪ ،مملکت اور فوج کے ہر راز سے واقف تھا۔
‫اس کاکام ہی ایسا تھا اور اس کا عہدہ ساالر جتنا تھا۔ جنگ کے منصوبے اور نقشے اسی کے پاس ہوتے تھے ۔ اس کی عمر
‫چالیس سال کے قریب تھی۔ وہ عرب کے مردانہ حسن اور جالل کا پیکر تھا۔ جسم توا نا اور چہرہ ہشاش بشاش تھا۔
‫البرق کے ساتھ ایک لڑکی بیٹھی تھی ۔ بہت ہی خوب صورت لڑکی تھی۔ وہ نوجوان تھی ۔لڑکی کے ساتھ ایک آدمی بیٹھا
‫تھا جس کی عمر ساٹھ سال سے کچھ زیادہ تھی۔ وہ کوئی امیر کبیر لگتاتھا۔البرق کئی بار اس لڑکی کی طرف دیکھ چکاتھا۔
‫ایک بار لڑکی نے بھی اسے دیکھا تو مسکرادی ۔ پھر اس نے بوڑھے کی طرف دیکھا تو اس کی ُمسکراہٹ غائب ہوگئی۔
‫گھوڑے تماشائیوں کے سامنے سے گزرگئے تو شتر سوار آگئے ۔ اونٹوں کو گھوڑوں کی طرح رنگ دار چادروں سے سجایا گیا
‫تھا۔ ہر سوار کے ہاتھ میں ایک لمبا نیزہ اور اس کے پھل سے ذرانیچے تین تین انچ چوڑے اور ڈیڑ ھ ڈیڑھ فٹ لمبے دورنگے
‫کپڑے جھنڈیوں کی طرف بندھے ہوئے تھے۔ ہوا میں وہ پھڑ پھڑ اتے بہت ہی خوب صورت لگتے تھے ۔ہر سوار کے کندھوں
‫سے ایک کمان آویزاں اور اونٹ کی زین کے ساتھ رنگین ترکش بندھی تھی۔ اونٹوں کی گردنیں خم کھا کر اوپر کو اُٹھی ہوئیں
‫اور سر جیسے فخر سے اونچے ہوگئے تھے ۔ سواروں کی شان نرالی تھی ۔گھوڑ سواروں کی طرح ہر شتر سوار سامنے دیکھ
‫رہاتھا۔ ا ُن کی آنکھیں بھی دائیں بائیں نہیں دیکھتی تھیں۔ یہ اونٹ انہی اونٹوں جیسے تھے جن پر تماشائی بیٹھے ہوئے تھے‪،
‫لیکن فوجی ترتیب ‪،فوجی چال اور فوجی سواروں کے نیچے وہ کسی اور جہان کے لگتے تھے۔
‫البرق نے اپنے پاس بیٹھی ہوئی لڑکی کو ایک بار پھر دیکھا ۔اب کے لڑکی نے اسے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ۔اس
‫کی آنکھوں میں ایسا جادو تھاکہ البر ق نے اپنے آپ میں بجلی کا جھٹکا محسوس کیا۔
‫لڑکی کے ہونٹوں پر شرم و حیا کا تبسم آگیا اور اس نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے بوڑھے کو دیکھا تو اس کا تبسم نفرت میں
‫بدل گیا۔ البرق کی ایک بیوی تھی‪ ،جس سے اُس کے چار بچے تھے۔ وہ شاید اس بیوی کو بھول گیاتھا۔ وہ لڑکی کے اس
‫قدر قریب بیٹھا تھا کہ لڑکی کا اُٹھا ہوا ریشمی نقاب ہوا سے اُڑ کر کئی بار البرق کے سینے سے لگا۔ ایک بار ا س نے
‫نقاب ہاتھ سے پرے کیا تو لڑکی نے شرما کر معذرت کی ۔البرق مسکرایا ‪ ،منہ سے کچھ نہ کہا۔
‫شتر سواروں کے پیچھے پیادہ فوج آرہی تھی۔ ان میں تیر اندازوں اور تیغ زنوں کے دستے تھے۔ا ُ ن کی ایک ہی جیسی
‫چال ‪ ،ایک ہی جیسے ہتھیار اور ایک ہی جیسا لباس تماشائیوں پر وہی تاثر طاری کررہاتھا۔ جو سلطان ایوبی کرنا چاہتا تھا۔
‫سپاہیوں کے چہروں پر تندرستی اور توانائی کی رونق تھی اور وہ خوش و خرم اور مطمئن نظر آتے تھے ۔یہ ساری فوج نہیں ‪،
‫صرف منتخب دستے تھے ۔ ان کے پیچھے منجنیقیں آرہی تھیں‪ ،جنہیں گھوڑے گھسیٹ رہے تھے ۔ ہر منجنیق دستے کے
‫پیچھے ایک ایک گھوڑا گاڑی تھی جس میں بڑے بڑے پتھر اور ہانڈیوں کی قسم کے برتن رکھے تھے ۔ ان میں تیل جیسی
‫کوئی چیز بھری ہوئی تھی جو منجنیقوں سے پھینکی جاتی تھی ۔ جہاں یہ برتن گرتاتھا وہ کئی ٹکڑوں میں ٹوٹ کر سیال
‫مادے کو بہت سی جگہ پر بکھیر دیتا تھا۔ اس پر آتشیں تیر چالئے جاتے تو سیال مادہ شعلے بن جاتاتھا ۔
‫سلطان ایوبی کی قیادت میں یہ سوار اور پیادہ دستے ‪ ،نیم دائرے میں کھڑے اور بیٹھے ہوئے تماشائیوں کے آگے سے ُدور آگے
‫نکل گئے ۔ صالح الدین ایوبی راستے میں سے واپس آگیا۔ ا ُس کے گھوڑے کے آگے علم برداروں کے گھوڑے ‪ ،دائیں ‪ ،بائیں اور

‫پیچھے محافظو ں کے گھوڑے اور ا ُن کے پیچھے نائب ساالروں کے گھوڑے تھے۔ سلطان نے گھوڑا روک لیا‪ ،کود کر اُترا اور
‫تماشائیوں کو ہاتھ ہوا میں لہرا لہرا کر سالم کرتا شامیا نے کے نیچے چالگیا‪،وہاں بیٹھے ہوئے تمام لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔
‫سلطان ایوبی نے سب کو سالم کیا اور اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔
‫سوار اور پیادہ دستے ُد ور آگے جاکر ٹیلوں کے عقب میں چلے گئے ۔ میدان خالی ہوگیا۔ ایک گھوڑا سوار سرپٹ گھوڑا دوڑ اتا
‫آیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گھوڑے کی لگام اور دوسرے میں اونٹ کی رسی تھی ۔ اونٹ گھوڑے کی رفتار کے ساتھ دوڑتا
‫آرہاتھا۔میدان کے وسط میں آکر گھوڑسوار گھوڑے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے باگیں چھوڑدیں ۔ وہ اُچھل کر اونٹ کی پیٹھ پر کھڑا
‫ہوگیا‪ ،وہاں سے کود کر گھوڑے پر سوار ہوا۔گھوڑے اور اونٹ کی رفتار میں کوئی فرق نہیں آیاتھا۔ گھوڑے کی پیٹھ سے وہ اونٹ
‫کی پیٹھ پر چال گیااور ُدور آگے جاکر غائب ہوگیا۔
‫خادم الدین البرق دائیں کو ذراساجھکا۔ ا ُس کے منہ اور لڑکی کے سر کے درمیان دو تین انچ کا فاصلہ رہ گیاتھا۔ لڑکی نے
‫اسے دیکھا ۔البرق ُمسکرایا۔ لڑکی شرماگئی ۔بوڑھے نے دونوں کو دیکھا۔ اس کے بوڑھے ماتھے کے ِشکن گہرے ہوگئے ۔
‫اچانک ٹیلوں کے پیچھے سے ہانڈ یوں کی طرح کے مٹی کے وہ برتن جو گھوڑا گاڑیوں پر لدے ہوئے تھے ‪،اوپر کو جاتے ‪،
‫آگے آتے اور میدان میں گرتے نظر آئے ۔بر تن ٹوٹتے تھے تو تیل اچھل کر بکھر جاتاتھا۔کم و بیش ایک سو برتن گرے اور اُن
‫سے نکال ہوا مادہ تقریباٍ ایک سو گز لمبائی اور اسی قدر چوڑائی میں بکھر گیا۔ایک ٹیلے پر چھ تیر انداز نمودار ہوئے ۔انہوں
‫نے جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر چالئے جو سیال مادے والی جگہ گرگئے ۔ فورا ً وہ تمام جگہ ایک ایسا شعلہ بن گئی جو
‫گھوڑے کی پیٹھ تک بلند اور کوئی ایک سو گز تک پھیال ہواتھا۔ ایک طرف سے چار گھوڑ سوار گھوڑے پوری رفتار سے دوڑتے
‫آئے ۔ شعلے کے قریب آکر وہ ُر کے نہیں ۔رفتار کم بھی نہ کی ۔ چاروں شعلے میں چلے گئے ۔ تماشائی دم بخود تھے کہ
‫وہ جل جائیں گے مگر وہ اتنے وسیع شعلے میں دوڑتے نظر آرہے تھے ۔آخر وہ چاروں شعلے میں سے نکل گئے ۔تماشائیوں
‫نے داد و تحسین کا وہ شور بلند کیا کہ آسمان پھٹنے لگا۔ دوسواروں کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی ۔ دونوں بھاگتے گھوڑوں
‫سے ریت پر گرے اور تھوڑی دور لڑھکنیاں کھاتے گئے ۔ان کے کپڑوں کی آگ بجھ گئی۔
‫البرق اس شور و غل اور سواروں کے کماالت سے نظریں پھیرے ہوئے لڑکی کودیکھ رہاتھا۔لڑکی اس کی طرف دیکھتی اور ذراسا
‫مسکراکر بوڑھے کو دیکھنے لگتی تھی۔ بوڑھا ا ُٹھ کر جانے کیوں چالگیا۔ لڑکی اسے جاتا دیکھتی رہی ۔البر ق کو معلوم تھاکہ
‫لڑکی بوڑھے کے ساتھ آئی ہے ۔ اس نے لڑکی سے پوچھا۔
‫''تمہارے والد صاحب کہاں چلے گئے ہیں؟''
‫یہ میرا باپ نہیں ''……لڑکی نے جواب دیا……''میرا خاوند ہے ''۔''
‫''خاوند؟''……البرق نے حیرت سے پوچھا……''کیا یہ شادی تمہارے والدین نے کرائی ہے ؟''
‫اس نے مجھے خریداہے ''……لڑکی نے اُداس لہجے میں کہا۔''
‫وہ کہاں گیاہے ؟''……البرق نے پوچھا۔''
‫'' ناراض ہوکر چالگیاہے ''…لڑکی نے جواب دیا…''اسے شک ہوگیاہے کہ میں آپ کو دلچسپی سے دیکھتی ہوں''
‫کیا تم واقعی مجھے دلچسپی سے دیکھتی ہو؟''……البر ق نے رومانی انداز سے پوچھا۔''
‫لڑکی کے ہونٹوں پر شرمیلی سی ُمسکراہٹ آگئی ۔دھیمی سی آواز میں بولی ۔ ''میں اس بوڑھے سے تنگ آگئی ہوں۔اگر
‫کسی نے مجھے اس سے نجات نہ دالئی تو میں خود کشی کرلوں گی''۔
‫میدان میں سوار اور پیادہ فوجی حیران کن کرتب دکھارہے تھے اور حرب و ضرب کے مظاہرے کرہے تھے ۔ تماشائیوں نے
‫جنگی مظاہرے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ انہوں نے صرف سوڈانی فوج دیکھی تھی جو خزانے کے لیے سفید ہاتھی بنی
‫ہوئی تھی ۔ اس کے کمان دار بادشاہوں کی طرف باہر نکلتے تھے ۔ ان کے ساتھ اگر فوج کا دستہ ہوتو وہ دیہات کے لیے
‫مصیبت بن جاتے تھے۔ مویشی تک کھول کر لے جاتے تھے ۔ کسی کے پاس اچھی نسل کا اونٹ ‪ ،گھوڑا دیکھتے تو زبردستی
‫لے جاتے تھے۔ لوگوں کے ِد ل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ فوج رعایا پر ظلم و تشدد کرنے کے لیے رکھی جاتی ہے ‪،لیکن
‫سلطان کی فوج بہت مختلف تھی ۔ایک تو وہ دستے تھے جو مظاہرے میں شریک تھے ۔باقی فوج کو سلطان کی ہدایات کے
‫مطابق تماشائیوں میں پھیالدیاگیا تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل کر ان پر یہ تاثر پیدا کریں کہ فوجی ان کے بھائی ہیں اور
‫انہی میں سے ہیں ۔بد تمیزی یا بد اخالقی کرنے والے فوجی کے لیے بڑی سخت سزا مقرر کی گئی تھی۔
‫خادم الدین البرق جو سلطان ایوبی کی جنگی مشاورتی محکمے کا سربراہ اور راز داں تھا‪ ،سلطان کی ہدایات اور میلے کے شور
‫و غل سے بالکل ہی التعلق ہوگیاتھا۔ لڑکی ایک جادو بن کر اس کی عقل پر غالب آگئی تھی ۔اس نے لڑکی میں دلچسپی کا
‫اظہار کیا‪ ،اسے لڑکی نے قبول کرلیاتھا۔ اس سے دونوں کے لیے سہولت پیدا ہوگئی ۔ البرق نے کہیں ملنے کو کہا تو لڑکی نے
‫جواب دیا کہ وہ خریدی ہوئی لونڈی ہے اور بوڑھے نے اسے قید میں رکھا ہواہے ۔وہ اس پر ہر وقت نظر رکھتا ہے ۔لڑکی نے
‫یہ بھی بتایا کہ بوڑھے کے گھر چار بیویاں ہیں … البرق نے اپنے ُرتبے کو فراموش کردیا۔ عشق باز نوجوان کی طرح اُس نے
‫مالقات کی وہ جگہیں بتانی شروع کردیں جہاں آوارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہیں جاتا تھا۔ ان جگہوں میں ایک جگہ لڑکی کو
‫پسند آگئی۔ یہ شہر سے باہر قدیم زمانے کاکوئی کھنڈر تھا۔ البرق نے لڑکی سے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ اسے بوڑھے سے آزاد
‫‪..کرانے کی کوشش کرے گا
‫تیسری رات البرق گھر سے نکال وہ حاکموں کی شان سے گھر سے نکالکرتاتھا‪،مگراس رات وہ چوروں کی طرح باہر نکال۔ اِدھر
‫ا ُدھر دیکھا اور ایک طرف چل پڑا ۔ قاہرہ پر سکوت طاری تھا۔ فوجی میلہ ختم ہوئے دو ِدن گزرگئے تھے ۔ باہر سے آئے
‫ہوئے تماشائی جاچکے تھے۔ سرکاری حکم کے تحت عارضی قحبہ خانے اٹھا دئیے گئے تھے۔ علی بن سفیان کا محکمہ اب یہ
‫سراغ لگاتا پھر رہاتھا کہ باہر سے آئی ہوئی کتنی لڑکیا ں اور کتنے مشکوک لوگ شہر یا مضافاتی دیہات میں رہ گئے ہیں ۔
‫میلے کا مقصد پورا ہوگیا تھا۔ دوہی دنوں میں چار ہزار جوان فوج میں بھرتی ہوگئے تھے اور مزید بھرتی کی توقع تھی۔
‫البرق شہر سے نکل گیا اور اس نے اُس کھنڈر کا ُرخ کیا جہاں لڑکی کو آناتھا۔ صحرائی گیدڑوں کے سوا زمین و آسمان گہری
‫نیند سوگئے تھے ۔ لڑکی نے البرق سے کہاتھا کہ وہ بوڑھے کی قیدی ہے اورو ہ اُس پر ہر وقت نظررکھتا ہے ‪ ،پھر بھی
‫البرق اس ا ُمید پر جارہاتھا کہ لڑکی ضرور آئے گی ۔ممکنہ خطروں سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس ایک خنجر تھا۔ عورت
‫ایسا جادو ہے کہ جس پر طاری ہوجائے وہ کسی کی پرواہ نہیں کیا کرتا ۔عقل و دانش اس کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔ البرق
‫پختہ عمر کا آدمی تھا مگر وہ نادان نوجوان بن گیا تھا‪،اسے اندھیرے میں کھنڈر کے قریب ایک تاریک سایہ‪ ،سر سے پائوں
‫تک لبادے میں لپٹا ہوا نظر آیا اور کھنڈر کے کھڑے سیاہ بھوت میں جذب ہوگیا تو وہ تیز تیز چلتا کھنڈر میں پہنچا گری
‫ہوئی دیوار کے شگاف سے وہ اندر آگیا۔ آگے اندھیرہ کمرہ تھا۔ چھت میں بڑی زور سے کوئی بہت بڑا پرندہ پھڑ پھڑا یا۔

‫البرق نے ہوا کے تیز جھونکے محسوس کیے اور اچانک اس کے منہ پر تھپڑ پڑا اس کے ساتھ ہی اسے ''چی چی''کی
‫آوازیں سنائی دینے لگیں۔ وہ جان گیا کہ یہ بڑے چمگادڑ ہیں جن کے پنجے اس کا منہ نوچ ڈالیں گے۔ وہ بیٹھ گیا اور پائوں
‫پر سر کتا کمرے سے نکل گیا ۔ کمرہ اڑتے چمگادڑوں سے بھر گیا تھا۔
‫آگے صحن تھا‪ ،جس کے ارد گرد گول برآمدہ تھا۔ البرق نے یہ بھی نہ سوچا کہ ایک خریدی ہوئی قیدی لڑکی جس پر ہر
‫وقت نظر رکھی جاتی ہے‪،اس ہیبت ناک کھنڈر میں کیسے آئے گی‪ ،مگر برآمدے میں اس کے قدموں کی دبی دبی آہٹ نے
‫اسے بتادیاکہ یہاں کوئی موجود ہے ۔اس نے کمر سے خنجر نکال کر ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے سر پر چمگادڑ اُڑ رہے تھے‪،
‫پھڑ پھڑانے کی آوازیں ڈرائونی تھیں ۔ البرق نے آہستہ سے پکارا……''آصفہ!''…… لڑکی نے اُسے اپنانام بتادیا تھا اور میلے
‫میں یہ بھی بتادیاتھا کہ وہ کس طرح فروخت ہوئی ہے ۔
‫آپ آگئے ؟''……اسے آصفہ کی آواز سنائی دی۔ وہ برآمدے میں سے دوڑتی آئی اور البرق کے ساتھ چپک گئی ۔کہنے ''
‫لگی…… '' آپ کی خاطر جان کو خطرے میں ڈال کر آئی ہوں ۔مجھے جلدی واپس جانا ہے ۔بوڑھے کو شراب میں نیند کا
‫سفوف پالآئی ہوں ۔وہ جاگ نہ اُٹھے ''۔
‫کیا تم اُسے شراب میں زہر نہیں پالسکتی ؟''……البرق نے پوچھا۔''
‫میں نے کبھی قتل نہیں کیا''…… آصفہ نے کہا……''میں نے تو کبھی یہ بھی نہیں سوچاتھا کہ اس طرح کسی غیر مرد ''
‫''سے ملنے اس ڈرائونے کھنڈر میں آوں گی۔
‫اچانک ان کے پیچھے برآمدہ روشن ہوگیا‪ ،جس کمرے میں سے البرق گزر کر آیاتھا‪ ،اس میں سے دومشعلیں نکلیں ۔یہ لکڑیوں…
‫کے سروں پر تیل بھیگے ہوئے کپڑے لپیٹ کر بنائی گئی تھیں۔ اُن کے شعلے خاصے بڑے تھے۔ البرق نے آصفہ کو اپنے
‫پیچھے کرلیا۔ اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ کیا یہ کھنڈر میں رہنے والی بدروحیں تھیں ؟یا لڑکی کے تعاقب میں اس کا خاوند
‫آگیاتھا؟… البرق ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ ایک آواز گرجی …''دونوں کو قتل کردو''۔
‫مشعلیں قریب آئیں تو ا ُن کے ناچتے شعلوں میں البرق اور آصفہ کو چار آدمی نظر آئے ۔ایک کے ہاتھ میں برچھی اور تین
‫کے پاس تلواریں تھیں ۔ انہوں نے مشعلیں زمین میں گاڑ دیں۔ کھنڈر کا صحن روشن ہوگیا۔ چاروں آدمی البرق کے گرد بھوکے
‫بھیڑیوں کی طرح آہستہ آہستہ چکر میں چلنے لگے۔ آصفہ اس کے پیچھے تھی۔ برآمدے میں سے ایک اور آواز آئی…… ''مل
‫گئے ؟زندہ نہ چھوڑنا''……یہ لڑکی کے بوڑھے خاوند کی آواز تھی۔
‫آصفہ البرق کے عقب سے آگے آگئی ۔ اس نے حقارت اور غصے میں بوڑھے سے کہا……''آگے آو اور مجھے قتل کردو۔ میں
‫'' تم پر لعنت بھیجتی ہوں ۔میں اپنی مرضی سے یہاں آئی ہوں
‫چاروں مسلح آدمی اِ ن کے گرد کھڑے تھے ۔برچھی والے نے برچھی آہستہ آہستہ آصفہ کی طرف کی اور اس کی نوک اس کے
‫پہلو لگا کر کہا……''مرنے سے پہلے برچھی کی نوک دیکھ لو‪،لیکن تم سے پہلے یہ شخص تڑپ تڑپ کر تمہارے سامنے مرے
‫گا‪ ،جس کی خاطر تم یہاں آئی ہو''۔
‫آصفہ نے جھپٹا مار کر برچھی پکڑلی اور جھٹکادے کر برچھی چھین لی۔ آصفہ البرق سے الگ ہوگئی اور للکار کر کہا……''آو‪،
‫آگے آو۔ میں دیکھتی ہوں کہ تم مجھ سے پہلے اس آدمی کو کس طرح قتل کرتے ہو''۔
‫البرق خنجر آگے کیے اس کے سامنے آگیا۔ لڑکی نے برچھی سے اس پروار کیا جس سے اس نے برچھی چھینی تھی۔وہ آدمی
‫پیچھے کو بھاگا۔ اس کے ساتھیوں نے البرق پر حملہ کرنے کی بجائے صرف پینترے بدلے ۔وہ البرق کو آسانی سے قتل کر
‫سکتے تھے‪ ،مگر وہ بڑھ کر حملہ نہیں کررہے تھے ۔آصفہ کی للکار گرج رہی تھی ۔ وہ بڑھ کروار کرتی تھی ‪ ،مگر وار خالی
‫جاتاتھا۔ البرق نے ایک آدمی پر خنجر سے حملہ کیا تو دو آدمی اس کے پیچھے آئے ۔آصفہ ایک ہی جست میں اس کے
‫پیچھے ہوگئی ۔ا ُس کے ہاتھ میں لمبی برچھی تھی جو تلوار کا مقابلہ کر سکتی تھی ۔ خنجر تلوار کے مقابلے میں کچھ بھی
‫نہیں تھا۔ بوڑھا ایک طرف کھڑا اپنے آدمیوں کو للکاررہاتھا۔ تھوڑی سی دیر انہوں نے البر ق اور آصفہ پر حملے کیے۔ آصفہ اُن
‫پر ٹوٹ پڑتی تھی ۔ البرق وار بچاتا تھا اور خنجر سے وار کرنے کی کوشش کرتاتھا‪ ،مگر عجیب امر یہ تھا کہ لڑکی کے
‫حملوں کے باوجود کوئی زخمی نہیں ہوا۔ بوڑھے کے آدمیوں نے بھی تیغ زنی کے جوہر دکھائے ‪ ،مگر البرق اور آصفہ کو خراش
‫تک نہ آئی ۔ اتنے میں بوڑھ نے کہا '' ُرک جاو''……اور لڑائی بند ہوگئی ۔
‫میں ایسی بے وفا لڑکی کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتا''……بوڑھے نے کہا……''مجھے معلوم نہیں تھاکہ یہ اتنی دلیر اور ''
‫بہادر ہے‪ ،اگر اسے میں زبردستی لے بھی گیا تو یہ مجھے قتل کردے گی''۔
‫میں تمہیں اس کی پوری قیمت دوں گا''……البرق نے کہا……''کہو‪ ،تم نے اسے کتنے میں خریدا تھا''۔''
‫بوڑھا ہاتھ بڑھا کر آگے بڑھا اور البرق سے ہاتھ مال کر بوال……''میرے پاس دولت کی کمی نہیں ۔ میں یہ لڑکی تمہیں بخش
‫دیتا ہوں ۔اسے تمہارے ساتھ اتنی محبت ہے کہ تمہاری خاطر اتنے سارے آدمیوں کے مقابلے میں آگئی ہے ۔ میں اسے اس
‫لیے بھی تمہارے حوالے کرتاہوں کہ یہ جنگجو نسل کی لڑکی ہے ۔ میں تاجر اور سودا گرہوں ۔یہ کسی تم جیسے جنگجو کے
‫گھر میں اچھی لگے گی ۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ تم سلطان صالح الدین ایوبی کی حکومت کے حاکم ہو۔ میں سلطان کا وفادار
‫اور مرید ہوں ۔ میں تمہیں ناراض نہیں کرناچاہتا‪ ،جاو۔ میں نے اسے طالق دی اور اسے تم پر حالل کردیا……چلو‪ ،دوستو! انہیں
‫اکیال چھوڑ دو''……وہ مشعلیں اُٹھا کر چلے گئے ۔
‫البرق کی حیرت کی انتہا یہ تھی کہ اس کے پاوں تلے زمین ہلنے لگی ۔اسے یقین نہیں آرہاتھا ۔وہ اسے بوڑھے کا فریب
‫سمجھ رہاتھا۔ اسے یہ خطرہ نظر آرہاتھا کہ یہ لوگ راستے میں گھات لگاکر ان دونوں کو قتل کریں گے ۔ آصفہ کے ہاتھ میں
‫برچھی تھی ‪ ،وہ البرق نے لے لی اور کچھ دیر بعدکھنڈر سے نکلے ۔ وہ دائیں بائیں اور پیچھے دیکھتے تیز تیز چلنے لگے۔
‫ذراسی آہٹ سنائی دیتی تو وہ چونک کر ُرک جاتے ۔ ہر طرف اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کرتے اور آہستہ آہستہ چل
‫پڑتے ۔ شہر میں داخل ہوئے تو ان کی جان میں جان آئی ۔ آصفہ نے رک کر بازو البرق کے گلے میں ڈال دئیے اور
‫پوچھا۔''آپ کو مجھ پر اعتماد ہے یا نہیں ؟…… لڑکی نے اسے بے دام خرید لیاتھا۔اسے یہ تو اب پتہ چال تھا کہ لڑکی اسے
‫کیسی دیوانگی سے چاہتی ہے اور کتنی بہادر ہے ۔دراصل وہ لڑکی کے حسن پر مر مٹا تھا۔اُس کی بیوی اس کی ہم عمر تھی
‫۔آصفہ کو دیکھ کر اس نے محسوس کیا کہ وہ بیوی اس کے کام کی نہیں رہی ۔
‫ا ُس دور میں جب عورت فروخت ہوتی تھی ‪ ،گھر میں بیوی کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ بیک وقت چار بیویاں تو خاوند اپنا
‫حق سمجھتا تھا‪ ،لیکن جو پیسے والے تھے ‪ ،وہ دو دو چار خوب صورت لڑکیاں بغیر نکاح کے رکھ لیتے تھے ۔ مسلمان اُمراء
‫کو عورت نے ہی تباہ کیاتھا۔ ان کے ہاں یہ بھی رواج تھا کہ ایک آدمی کی بیویاں خاوند کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے
‫ڈھونڈ ڈھونڈ کر خوب صورت لڑکیاں خاوند کو بطور تحفہ پیش کرتی تھیں ۔

‫البرقی جب آصفہ کو ساتھ لیے گھر میں داخل ہواتو سب سوئے ہوئے تھے ۔صبح اس کی بیوی نے اپنے خاوند کے پلنگ پر
‫اتنی حسین لڑکی دیکھی تو اسے ذرہ بھر محسوس نہ ہوا کہ اس کا سہاگ اُجڑ گیاہے ‪،بلکہ وہ خوش ہوئی کہ اس کے اتنے
‫اچھے خاوند کو اتنی خوب صورت لڑکی مل گئی ہے ۔ اسکے آجانے سے وہ کچھ فرائض سے سبکدوش ہوئی تھی ۔البرق کی
‫حیثیت ایسی تھی کہ وہ ایسی ایک اور بیوی یا داشتہ رکھ سکتا تھا۔
‫صالح الدین ایوبی مسلمانوں کو عورت سے اور عورت کو مسلمانوں سے آزاد کرناچاہتا تھا۔ وہ ایک خاوند ایک بیوی کا حکم
‫نافذ کرنا چاہتاتھا ‪ ،مگر ابھی وہ ہر ا ُس امیر اور وزیر کو دشمن بنانے سے ڈرتاتھا جس نے کئی کئی لڑکیوں کوگھروں میں
‫رکھاہوا تھا۔عورت کے خریدار یہی لوگ تھے۔ انہی کی دولت سے عورت کھلی منڈی میں نیالم ہوتی تھی ۔اغوا کی وارداتیں
‫ہوتی تھیں ۔قتل اور خون خرابے ہوتے تھے اور ا ُمراء اور حاکموں کی زن پرستی کا ہی نتیجہ تھا کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کی جڑوں میں زہر بھردیاتھا۔ اس کے عالوہ سلطان ایوبی کو یہ احساس بھی پریشان کیے
‫لڑکیون کی مدد سے
‫رکھتا تھا کہ یہی عورت مردوں کے دوش بدوش کفار کے خالف لڑاکرتی تھی ‪ ،مگر اب یہ عورت جہاد میں مرد کے لیے آدھی
‫قوت تھی ‪ ،مرد کی تفریح اور عیاشی کا ذریعہ بن گئی ہے ۔ اس سے صرف یہ نہیں ہوا کہ قوم کی آدھی جنگی قوت ختم
‫ہوگئی ہے ‪ ،بلکہ عورت ایک ایسا نشہ بن گئی ہے جس نے قوم کی مرادنگی کو بیکار کردیاہے ۔
‫سلطان ایوبی عورت کی عظمت بحال کرنا چاہتا تھا ۔اُس نے ایک منصوبہ تیار کررکھا تھا جس کے تحت وہ غیر شادی شدہ
‫لڑکیوں کو باقاعدہ فوج میں بھرتی کرنا چاہتا تھا۔ اسی کے تحت حرم بھی خالی کرنے تھے ‪ ،مگر ایسے احکام وہ اسی
‫صورت میں نافذ کرسکتاتھا کہ سلطنت کی خالفت یا امارت اس کے ہاتھ آجائے ۔ یہ مہم بڑی دشوار تھی ۔ اس کے دشمنوں
‫میں اپنو ں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ جانتا تھا کہ قوم میں ایمان فروشوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ اسے یہ معلوم نہیں
‫ہواتھا کہ اس کا ایک خاص بندہ اور حکومت کے رازو ں کا رکھواال ‪،خادم الدین البرق بھی ایک نوجوان حسینہ کو گھر لے
‫آیاہے اور یہ لڑکی اس کے اعصاب پر ایسی بُری طرح چھا گئی ہے کہ وہ اب فرائض سلطنت سے بے پرواہوسکتاہے ۔
‫فوجی میلے میں مصر کے لوگ سلطان ایوبی کی فوجی طاقت سے مرعوب نہیں ہوئے ‪،بلکہ اسے اسالمی اور مصری فوج
‫سمجھ کر اس سے متاثر ہوئے تھے ۔سلطان ایوبی تقریر یں کرنے واال حاکم نہیں تھا‪ ،لیکن اس دن اتنے بڑے اجتماع سے اس
‫نے خطاب کرنا ضروری سمجھا۔ اس نے کہا کہ یہ فوج قوم کی عصمت کی محافظ اور اسالم کی پاسبان ہے ۔ اس نے
‫صلیبیوں کے عزائم تفصیل سے بیان کیے اور مصریوں کو بتایا کہ عرب میں مسلمان اُمراء اور حاکموں کی تعیش پرستی کی
‫وجہ سے صلیبیوں نے وہاں مسلمان کا جینا حرام کررکھا ہے ۔ وہ قافلوں کو لوٹ لیتے ہیں ‪ ،مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے بے
‫آبرو کرتے ‪،پھر انہیں بیچ ڈالتے ہیں ……سلطان ایوبی نے لوگوں کو قومی جذبے سے آگاہ کرکے انہیں کہا کہ وہ فوج میں بھرتی
‫ہوکر اپنی بیٹیوں کی عصمت اور اسالم کی عظمت کی پاسبانی کریں۔ سلطان کی تقریر میں جوش تھا اور ایسا تاثر کہ
‫تماشائیوں کے دلوں میں ہلچل مچ گئی اور اسی روز جوان آدمی فوج میں بھرتی ہونے لگے۔
‫دس روز تک بھرتی ہونے والوں کی تعداد چھ ہزار ہوگئی ۔اس میں کم و بیش ڈیڑھ ہزار جوان اپنے اونٹ ساتھ الئے اور ایک
‫ہزار کے قریب گھوڑوں اور خچروں سمیت آئے ۔ سلطان نے انہیں جانوروں کا معاوضہ فوری طور پر اداکردیا اور فوج نے ان کی
‫ٹریننگ شروع کردی ۔
‫……میلے کے تین ماہ بعد
19:13
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫قسط نمبر‪20.۔ دوسری بیوی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫……میلے کے تین ماہ بعد
‫سلطان کی فوج میں تین جرائم کی رفتار بڑھنے لگی ……چوری ‪ ،جواء بازی اور رات کی غیر حاضری……یہ جرائم اس سے پہلے
‫بھی ہوتے تھے ‪ ،لیکن نہ ہونے کے برابر تھے ۔ فوجی میلے کے بعد یہ وبا کی صورت اختیار کرنے لگے۔ ان تینوں کی بنیاد
‫جواء بازی تھی ۔چوری کی وارداتیں اسی تک محدود تھیں کہ سپاہی سپاہی کی کوئی ذاتی چیز چرا کر بازار میں بیچ ڈالتا
‫تھا‪ ،مگر ایک رات فوج کے تین گھوڑے غائب ہوگئے ۔سواروں اور سپاہیوں کی تعداد پوری تھی ۔کوئی بھی غیر حاضر نہیں
‫اعلی حکام تک رپورٹ پہنچی ۔انہوں نے
‫تھا‪ ،اگر اس نقصان کو نظر انداز کردیاجاتا تو اگلی بار دس گھوڑے چوری ہوجاتے ۔
‫ٰ
‫فوجیوں کو تنبیہ کی ‪ ،سزاسے ڈرایا ‪ ،خدا سے ڈرایا مگر یہ تینوں جرائم بڑھتے گئے۔
‫ایک رات ایک سپاہی پکڑا گیا۔ وہ کہیں سے کیمپ میں آرہاتھا۔ اس سے پہلے رات کو غیر حاضر ہونے والے سپاہی چوری
‫چھپے سنتریوں سے بچ کر نکل جاتے اور بچتے بچاتے آجاتے تھے‪ ،لیکن یہ سپاہی لڑکھڑاتا آرہاتھا ۔ سنتری نے اسے دیکھ لیا
‫اور اُسے پکارا ۔ سپاہی ُرک گیا اور گر پڑا ۔ سنتری نے دیکھا کہ یہ خون میں نہایا ہواتھا۔ اسے اُٹھا کر اپنے عہدے دار کے
‫پاس لے گیا۔ اس کی مرہم پٹی کی گئی ‪ ،مگر وہ زندہ نہ رہ سکا۔ مرنے سے پہلے اس نے بتایا کہ وہ اپنے ایک ساتھی
‫سپاہی کو قتل کر آیا ہے اور اس کی الش کیمپ سے نصف کوس دور ایک خیمے میں پڑی ہے ۔اس کے بیان کے مطابق وہاں
‫تین خیمے تھے ۔وہ لوگ خانہ بدوش تھے ۔ان کے پاس خوب صورت عورتیں تھیں ۔ وہ ان عورتوں کی نمائش فوجیوں میں
‫کرتے تھے ۔ رات کو سپاہی وہاں تک پہنچ جاتے تھے ‪ ،وہ دوسروں کو بتاتے تو وہ بھی چلے جاتے ۔
‫وہ خانہ بدوش صرف عصمت فروش نہیں تھے ۔ ان کی ہر عورت اپنے ہر فوجی گاہک کو یہ تاثر دیتی تھی کہ وہ اس پر
‫فدا ہے اور اس کے ساتھ شادی کر لے گی ۔بعد کی تحقیقات سے پتہ چال کہ انہوں نے سپاہیوں میں رقابت پیدا کردی تھی۔
‫اسی کا نتیجہ تھا کہ یہ دوسپاہی خانہ بدوشوں کے خیمے میں لڑپڑے ۔ ایک مارا گیا اور دوسرا زخمی ہوکر آیا اور بیان دے
‫کر مرگیا۔
‫دوسرے سپاہی کی الش النے کے لیے آدمی روانہ کردئیے گئے ۔ ان کے ساتھ ایک کمان دار بھی تھا۔ مرنے والے سپاہی نے
‫راستہ اور جگہ بتادی تھی ۔ وہاں گئے تو دیکھا کہ سپاہی کی الش پڑی ہے ۔ خیمے نہیں ہیں ‪ ،وہاں کے نشان بتارہے تھے
‫کہ یہاں سے خیمے اُکھاڑے گئے ہیں ۔ رات کے وقت اُن کی تالش ممکن نہیں تھی ۔ سپاہی کی الش اُٹھاالئے ۔اس حادثے
‫کی رپورٹ سلطان ایوبی کو دی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ فوج میں جرائم بڑھ گئے ہیں اور تین گھوڑے بھی چوری ہوچکے
‫ہیں ۔سلطان نے علی بن سفیان کو بال کر کہا کہ وہ سپاہیوں کے بھیس میں اپنے سراغ رساں فوج میں شامل کرکے معلوم
‫کرے کہ یہ جرائم کیوں بڑھ گئے ہیں ۔سلطان نے اس سلسلے میں البرق کو بھی حکم دیا۔
‫اس ''کیوں ''کا جواب شہر کے اندر موجود تھا‪ ،جہاں تک علی بن سفیان کے سراغ رساں کی رسائی محال تھی ۔ یہ

‫ایک بہت بڑا قلعہ نما مکان تھا۔ مصریوں کا ایک کنبہ نہیں ‪،بلکہ پورا خاندان اس میں رہتاتھا۔ اس مکان اور مکینوں کو شہر
‫میں عزت حاصل تھی ‪ ،کیونکہ یہاں خیرات بہت تقسیم ہوتی تھی ۔ناداروں کو یہاں سے مالی مدد ملتی تھی ۔فوجی میلے
‫میں اس خاندان نے سلطان ایوبی کو اشرفیوں کی دو تھیلیاں فوج کے لیے پیش کی تھی ۔ یہ سودا گر خاندان تھا۔ مصرمیں
‫سلطان ایوبی کے آنے سے پہلے یہ مکان سوڈانی فوج کے بڑے رتبے والوں اور انتظامیہ کے حاکموں کی مہمان گاہ بنارہاتھا۔
‫سوڈانیوں کو سلطان ایوبی نے آکر ختم کردیا تو اس خاندان کی وفاداریاں حکومت کے ساتھ رہیں اور یہ سلطان ایوبی کا وفادار
‫ہوگیا۔
‫جس روز سلطان ایوبی نے البرق اور علی بن سفیان کو حکم دیا کہ وہ فوج میں جرائم کی وبا کی وجوہات معلوم کریں ‪ ،اس
‫سے اگلی رات اس مکان کے ایک کمرے میں دس بارہ آدمی بیٹھے تھے ۔شراب کا دور چل رہاتھا۔ کمرے میں ایک بوڑھا
‫آڈمی داخل ہوا۔اسے دیکھ کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ا سکے ساتھ ایک بڑی خوب صورت لڑکی تھی جس کا آدھا چہرہ نقاب
‫میں تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کردیاگیا اور لڑکی نے نقاب اُٹھادیا ۔وہ بوڑھے کے ساتھ بیٹھ گئی ۔
‫امیر مصر تک اطالع پہنچ گئی ہے کہ فوج میں جوئے بازی اور بدکاری بڑھ گئی ہے ''۔ بوڑھے نے کہا……''ہماری آج''
‫کل
‫ِ
‫کی یہ نشست بہت اہم ہے ۔امیر نے سپاہیوں کے بھیس میں فوج میں سراغ رساں شامل کرنے کا حکم دے دیاہے ۔ ہمیں ان
‫سراغ رسانوں کو ناکام کرنا ہے ۔تازہ اطالع بڑی ہی ا ُمید افزاہے ۔ دومصری سپاہیوں نے ایک عورت پر لڑ کر ایک دوسرے کو
‫''قتل کردیاہے ‪،یہ ہمای کامیابی کی ابتدا ہے ۔
‫تین مہینوں میں صرف ایک مسلمان سپاہی نے دوسرے کو قتل کیا اور خود بھی قتل ہواہے ''۔ ایک آدمی نے بوڑھے کی''
‫بات کاٹ کر کہا……''کامیابی کی یہ رفتار بہت سست ہے۔ کامیابی ہم اسے کہیں گے جب ایوبی کا کوئی نائب ساالر اپنے
‫ساالر کو قتل کردے گا''۔
‫میں کامیابی اسے کہوں گا کہ جب کو ئی ساالر یا نائب ساالر صالح الدین ایوبی کو قتل کرد ے گا ''۔ بوڑھے نے کہا ''
‫……'' مجھے معلوم ہے کہ ایک ہزار سپاہی قتل ہوجائیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارامقصد نظر ایوبی کا قتل ہے ۔آپ
‫سب کو پچھلے سال کے دونوں واقعات یاد ہوں گے۔ساحل پر سلطان ایوبی پر تیر چالیا گیا اور وہ خطا گیا۔ روم سے آدمی
‫آئے ‪ ،وہ ایسے ناکام ہوئے کہ سب کے سب مارے گئے اور ایک بد بخت مسلمان ہوگیا۔ اس سے کیا ظاہر ہوتاہے ؟……یہ کہ
‫سلطان کو قتل کرنا آسان نہیں جتنا آپ لوگ سمجھتے ہیں ۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ ایوبی قتل ہوجائے تو اس کا جانشین اس
‫سے زیادہ سخت اور کٹر مسلمان ثابت ہو۔ اس لیے یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے کہ اس کی فوجوں کو اس خوب صورت تباہی کے
‫راستے پر ڈال دو ‪ ،جس پر صلیب کے پرستاروں نے بغداد اور دمشق کے مسلمان اُمراء اور حاکموں کو ڈال دیاہے ''۔
‫صلیب کے پرستاروں اور سوڈا نیوں کو شکست کھائے ایک سال گزر گیاہے ''۔ ایک نے کہا……''اس ایک سال میں آپ ''
‫نے کیاکیاہے؟……محترم !آپ بڑا لمبا راستہ اختیار کررہے ہیں ۔دو آدمیوں کا قتل بے حد الزمی ہے ۔ایک صالح الدین ایوبی ‪،
‫دوسرا علی بن سفیان ''۔
‫اگر علی بن سفیان کو ختم کردیاجائے تو ایوبی اندھا اور بہرہ ہوجائے گا''۔ ایک اور نے کہا۔''
‫میں نے وہ آنکھیں حاصل کرلی ہیں جو سلطان ایوبی کے سینے کے ہر ایک راز کو دیکھ سکتی ہیں''۔ بوڑھے نے کہااور ''
‫اس لڑکی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا جو اس کے ساتھ آئی تھی ۔بوڑھے نے کہا……''یہ ہیں وہ آنکھیں ۔دیکھ لو اِن آنکھوں میں
‫کیا جادو ہے ۔تم سب نے صالح الدین ایوبی کے ایک حاکم خادم الدین البرق کانام سنا ہوگا۔تم میں سے بعض نے اسے دیکھا
‫بھی ہوگا۔ صرف دو آدمی ہیں جو صالح الدین ایوبی کے سینے میں دیکھ سکتے ہیں ۔ایک علی ‪ ،دوسرا البرق ۔علی بن
‫سفیان کو قتل کرنا حماقت ہوگی‪ ،میں نے جس طرح البرق پر قبضہ کر لیاہے ‪،اسی طرح علی پر بھی کرلوں گا''۔
‫البرق آپ کے قبضے میں آچکاہے ؟……ایک نے پوچھا ۔''
‫ہاں! ''بوڑھے نے لڑکی کے ریشمی بالوں کو ہاتھ سے چھیڑ کر کہا……''میں نے اسے اِن زنجیروں میں جکڑ لیاہے ۔ میں''
‫نے آج آپ سب کو چند اور باتیں بتانے کے عالوہ یہ خوش خبری بھی سنانے کے لیے بالیاہے ۔ہمیں جلدی برخاست
‫ہوناہے ‪،کیونکہ ہم سب کا ایک جگہ اکٹھا ہونا ٹھیک نہیں ۔اس لڑکی کو تم سب شاید جانتے ہو۔ مجھے بالکل اُمید نہیں تھی
‫کہ یہ اتنی ا ُستادی سے یہ ڈرامہ کھیل لے گی۔اس کی عمر دیکھئے ‪،پختہ نہیں ہے ۔ میں پورے ایک سال ایسے موقع کی
‫تالش میں مارا مارا
‫پھر تارہا کہ علی بن سفیان یا البرق کو یادونوں کو پھانس سکوں ۔میں ان سے مال کبھی نہیں ‪،کیونکہ میں ان کی شناخت
‫میں نہیں آنا چاہتاتھا تھا۔ فوجی حکام کو سلطان شہریوں سے دور رکھتا تھا۔آخر اس نے فوجی میلے کا اعالن کیا اور مجھے
‫پتہ چل گیا کہ اس نے اپنے فوجی کمان داروں ‪ ،ساالروں اور عہدے داروں سے کہاہے کہ میلے میں وہ شہریوں میں بیٹھیں اور
‫ان سے باتیں کریں اور ان پر اپنا رعب نہیں ‪ ،بلکہ اعتماد پیدا کریں ۔ مجھے علی بن سفیان کہیں نظر نہیں آیا۔ اس لڑکی
‫کو میں ساتھ لے گیا تھا‪ ،البرق نظر آگیا۔ اس کے ساتھ دوکرسیاں خالی تھیں ۔ میں نے لڑکی کو اس کے پاس بٹھادیا۔ اسے
‫میں آٹھ مہینوں سے استادی طریقے سکھارہاتھا۔ مجھے اپنا بوڑھا خاوند اور اپنے آپ کو خرید ی ہوئی مظلوم لڑکی بتاکر اس
‫نے البرق جیسے مومن کو اپنی خوب صورتی میں گرفتار کرلیا۔ مالقات کا وقت اور جگہ طے کرلی ۔ میں نے اسے بتایا کہ
‫اسے کھنڈر میں کیاناٹک کھیلناہے ۔لڑکی کھنڈر میں چلی گئی ۔میں چار آدمیوں کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ دوآدمی اس وقت
‫یہاں موجود ہیں ۔دوکو آپ سب نہیں جانتے ۔ وہ ہمارے گروہ کے آدمی ہیں۔اس نے البرق پر ثابت کردیا کہ یہ اس کی خاطر
‫جان دے دے گی۔ ہمارے چاروں ساتھیوں نے البرق پر اور اس پر تلواروں سے حملے کیے ۔ اس نے برچھی کے وار کیے ۔یہ
‫ناٹک اس قدر حقیقی معلوم ہوتاتھا کہ البرق کو شک تک نہ ہوا۔ کم بخت کے دماغ میں یہ بھی نہ آئی کہ تلواروں کے اور
‫برچھی کے اتنے وار ہوئے ‪ ،مگر کوئی زخمی تک نہ ہوا۔میں نے یہ کہہ کر یہ کھیل ختم کیا کہ یہ لڑکی اتنی بہادر ہے کہ
‫کسی بہادر کے پاس ہی اچھی لگتی ہے ۔ میں نے اسے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے البرق کے حوالے کردیا''۔
‫میں نے اسے اپنا نام آصفہ بتارکھاہے ''۔ لڑکی نے کہا……''میں حیران ہوں کہ اتنی پختہ عمر کا حاکم اتنی آسانی سے ''
‫میرے جال میں پھنس گیاہے ۔میں نے اسے شراب کا عادی بنادیاہے ۔اس نے کبھی نہیں پی تھی ۔ پہلی بیوی اسی گھر میں
‫رہتی ہے ۔ا سکے بچے بھی ہیں ‪ ،لیکن وہ سب کو جیسے بھول گیاہے ''……لڑکی نے محفل کو تفصیل سے بتایا کہ اس نے
‫کیسے کیسے طریقوں سے سلطان ایوبی کے اس معتمد خاص کی عقل کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے ۔
‫ان تین مہینوں میں یہ لڑکی مجھے صالح الدین ایوبی کے کئی قیمتی راز دے چکی ہے ''۔بوڑھے نے کہا…… ''سلطان ''
‫ایوبی بہت زیادہ فوج تیار کررہاہے ۔ اس میں سے وہ آدھی مصر میں رکھے گا اور باقی نصف کو اپنی کمان میں عیسائی باد
‫شاہوں کے خالف لڑانے کے لیے جائے گا۔ اس کی نظر یروشلم پر ہے ‪ ،لیکن البرق سے اس لڑکی نے جو راز لیے ہیں ‪ ،وہ

‫یہ ہیں کہ سلطان سب سے پہلے اپنے مسلمان حکمرانوں اور قلعہ داروں کو متحد کرے گا ۔ ان کے اتحاد کو صلیب کے
‫پرستاروں نے بالکل اسی طرح بکھیر دیاہے جس طریقے سے ہم نے البرق کو اپنے قبضے میں لیاہے ''۔
‫تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ البرق اب ہمارے گروہ کافرد ہے؟''……ایک آدمی نے پوچھا۔''
‫نہیں ''۔بوڑھے نے جواب دیا۔ ''وہ سچے ِد ل سے ایوبی کا وفادار ہے ۔ وہ اتناہی وفادار اس لڑکی کا بھی ہے۔یہ لڑکی ''
‫سلطان ‪ ،قوم اور اسالم کی وفاداری کا اظہار ایسے والہانہ طریقے سے کرتی ہے کہ البرق اسے ‪ ،قوم کی جانباز بیٹی سمجھتا
‫ہے
‫اس لڑکی کے حسن و جوانی اور محبت کے عملی اظہار کا جادو الگ ہے ۔ البرق کو ہم اپنے ساتھ نہیں مالسکتے ۔ ضرورت
‫ہی کیا ہے ۔وہ پوری طرح ہمارے ہاتھوں میں کھیل رہاہے ''۔
‫سلطان ایوبی اور کیا کرنا چاہتاہے؟''۔اس گروہ کے ایک ُرکن نے پوچھا۔''
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ ہے ''۔ بوڑھے نے کہا۔''وہ صلیب کی سلطنت میں اسالم کا جھنڈا گاڑنے کا منصوبہ ''
‫اس کے ذہن میں
‫بناچکاہے ۔ہمارے ان جاسوسوں کو جو سمند رپار سے آئے ہیں ‪،ایوبی نے گرفتار اور بے کار کرنے کے لیے علی بن سفیان کی
‫نگرانی میں ایک بہت بڑا گروہ تیار کیاہے۔ البرق سے حاصل کی ہوئی اطالعات کے مطابق اس نے جانبازوں کی ایک الگ
‫فوج تیار کی ہے ‪ ،جسے وہ صلیبی ملکوں میں بھیج کر جاسوسی اور تباہی کرائے گا۔ اس فوج کی ٹریننگ شروع ہوچکی
‫ہے ۔صالح الدین ایوبی کے منصوبے بہت خطرناک ہیں ۔ انہی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس نے فوجی میلے کا ڈھونگ
‫رچایا اور چھ سات ہزار جوان بھرتی کر لیے ہیں ۔لوگ ابھی تک بھرتی ہورہے ہیں ۔بھرتی ہونے والوں میں سوڈانی بھی
‫ہیں ۔مجھے اوپر سے جو ہدایات ملی ہیں ‪،وہ یہ ہیں کہ ایوبی کی فوج میں بدکاری کے بیج بونے ہیں ۔ اس کا طریقہ یہ ہے
‫کہ ان کے دلوں میں عورت اور جواء داخل کردو''۔
‫بوڑھے نے بتایا کہ اس نے فوجی میلے کے فورا ً بعد اپنے آدمی بھرتی کرادئیے تھے ۔انہوں نے بڑی خوبی سے فوج میں جواء
‫شروع کرادیاہے ۔جواء اور عورت ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو چوری اور قتل تک لے جاتی ہیں ۔اس نے دوسرا طریقہ یہ
‫بتایا کہ عصمت فروش عورتوں کو ٹریننگ دے کر فوجی کیمپوں کے ارد گرد چھوڑدیاگیاہے ‪ ،جو یہ ظاہرنہیں ہونے دیتیں کہ وہ
‫پیشہ ور ہیں ۔انہوں نے سلطان کے فوجیوں کو بدی کے راستے پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان میں رقابت بھی پیدا کردی ہے ۔
‫بوڑھے نے کہا……''اس کی کامیابی پر سوں سامنے آئی ہے۔دوسپاہی ایک عورت کے خیمے میں بیک وقت پہنچ گئے ۔دونوں
‫لڑپڑے اور ایک دوسرے کو بُ ری طرح زخمی کردیا۔ایک تو خیمے میں ہی مرگیا۔ دوسرے کے متعلق پتہ چال کہ کیمپ میں جاکر
‫مرگیاہے ……یہ رپورٹ سلطان ایوبی تک پہنچ گئی ہے۔ اس نے علی بن سفیان اور البرق کو حکم دیاہے کہ فوجوں میں اپنے
‫ہے۔لہذا آپ سب ان تمام
‫سراغ رساں بھیج کر معلوم کریں کہ جواء بازی ‪ ،چوری چکاری اور بدکاری کیوں بڑھتی جارہی
‫ٰ
‫عورتوں سے جو اسی کام میں مصروف ہیں ‪،کہہ دیں کہ کیمپوں کے قریب نہ جائیں ''۔
‫اسی مجلس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آصفہ جس کا اصلی نام کچھ اور تھا‪ ،پانچویں ‪ ،چھٹی رات اس بوڑھے کو اطالع دینے
‫جاتی ہے جو وہ البرق سے حاصل کرتی ہے ‪ ،جس رات اُسے باہر نکلنا ہوتاہے ‪،وہ البرق کو شراب میں ایک خاص سفوف
‫گھول کر پالدیتی ہے۔ا سکے اثر سے صبح تک اس کی آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ مجلس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ مصرکے
‫شہریوں اور قصبوں میں خفیہ قحبہ خانے اور قمار خانے قائم کردئیے گئے ہیں ۔ان کے اثرات اُمید افزا ہیں ۔تربیت یافتہ
‫عورتیں اچھے اچھے گھرانوں کے نوجوانوں کو بدکاری کے راستے پر ڈالتی جارہی ہیں ۔اب کوشش یہ کی جائے گی کہ مسلمان
‫لڑکیوں میں بھی بے حیائی کا رجحان پیدا کیا جائے۔
‫یہ محفل جو جاسوسوں کا ایک خفیہ اجالس تھا‪ ،برخاست ہوئی ۔ وہ سب اکٹھے باہر نہ نکلے ۔ایک آدمی باہر جاتاتھا۔ دس
‫پندرہ منٹ بعد دوسرا آدمی نکلتاتھا۔ بوڑھا بھی چالگیاتھا۔ صرف آصفہ اور ایک آدمی رہ گیا ۔آصفہ نے نقاب میں چہرہ چھپایا
‫اور اس آدمی کے ساتھ نکل گئی ۔
‫البرق نے آصفہ کو ایک راز بناکے رکھا ہواتھا۔ اس نے ابھی کسی کونہیں بتایا تھا کہ اس نے دوسری شادی کرلی ہے ۔دوسری
‫شادی معیوب نہیں تھی ‪،لیکن وہ ڈرتاتھا کہ دوست مذاق کریں گے کہ اتنا عرصہ ایک بیوی کے ساتھ گزار کر چالیس سال کی
‫عمر میں نوجوان لڑکی کے ساتھ شادی کرلی ‪،مگر یہ بھید چھپ نہ سکا۔ علی بن سفیان نے شہر میں اور فوجی کیمپوں کے
‫ارد گرد اپنے جاسوس پھیالرکھے تھے ۔اسے یہ اطالع مل رہی تھی کہ فوجی میلے کے بعد شہر میں بھی جواء اور بدکاری
‫بڑھ رہی ہے۔ ایک روز ایک سراغ رساں نے علی بن سفیان کو یہ رپورٹ دی کہ گزشتہ تین مہینوں میں اس نے چار بار
‫دیکھا ہے کہ خادم الدین البرق کے گھر سے رات اُس وقت جب سب سوجاتے ہیں ‪،ایک عورت سیاہ لبادے میں لپٹی ہوئی
‫نکلتی ہے۔وہ تھوڑی دور جاتی ہے تو ایک آدمی اس کے ساتھ ہوجاتاہے ۔سراغ رساں نے بتایا کہ دوبار اس نے یہیں تک
‫دیکھا‪ ،تیسری بار اس نے اس عورت کا پیچھا کیا‪ ،وہ اس آدمی کے ساتھ ایک مکان میں چلی گئی ۔وہاں سے کچھ دیر بعد
‫نکلی اور اُس آدمی کے ساتھ واپس چلی گئی۔
‫اس سراغ رساں نے بتایا کہ اس نے اس عورت کو گزشتہ رات گھر سے نکلتے ‪،ایک آدمی کے ساتھ جاتے دیکھا تو تعاقب
‫کیا۔وہ اسی مکان میں داخل ہوگئی ۔ذراسی دیر بعد وہ ایک آدمی کے ساتھ مکان سے نکلی ۔وہ دونوں شہر کے ایک بہت
‫بڑے مکان میں داخل ہوگئے ۔سراغ رساں مکان سے ُدور ُد ور رہا۔بہت ساوقت گزرجان کے بعد اس مکان سے ایک ایک کرکے
‫گیارہ آدمی نکلے ۔ آخر میں وہ عورت ایک آدمی کے ساتھ نکلی ۔سراغ رساں اندھیرے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان کے تعاقب
‫میں گیا۔ البرق کے مکان سے کچھ ُد ور آدمی ایک اور طرف چال گیااور عورت البرق کے مکان میں داخل ہوگئی۔
‫سراغ رساں البرق جیسے حاکم کے گھر کے متعلق کوئی بات کہنے کی جرٔات نہیں کرسکتاتھا‪ ،لیکن علی بن سفیان کی ہدایات
‫اور احکام بڑے ہی سخت تھے۔ اس نے اپنے جاسوسوں ‪ ،مخبروں اور سراغ رسانوں سے کہہ رکھاتھا کہ وہ سلطان ایوبی کی
‫کسی حرکت کو شک سے دیکھیں تو بھی اسے بتائیں اور وہ کسی کے رتبے کا لحاظ نہ کریں ‪،جہاں انہیں کسی قسم کا شک
‫ہو‪،خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو‪،وہ علی بن سفیان کو تفصیل سے بتائیں ۔یہ سبق جاسوسی کی ٹریننگ میں شامل تھا کہ
‫جاسوسی کی کامیابی کا دارومدار ایسی ہی حرکتوں اور با توں سے ہوتاہے ‪،جنہیں بے معنی سمجھ کر نظر انداز کردیاجاتاہے۔
‫اس سراغ رساں نے چار مرتبہ جو مشاہدہ کیاتھا‪ ،وہ علی بن سفیان کے لیے اہم تھا‪ ،وہ البرق کی بیوی ک اچھی طرح
‫جانتاتھا‪ ،وہ ایسی عورت نہیں تھی کہ راتوں کو کسی غیر مرد کے ساتھ باہر جائے ۔البرق کی کوئی جوان بیٹی بھی نہیں
‫تھی۔ یہ تو کسی کو بھی علم نہ تھا کہ البرق نے ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ شادی کر لی ہے ۔اس نے اس مسئلے پر بہت
‫غور کیا‪ ،اُسے یہ خیال بھی آگیا کہ البرق اس کا دوست بھی ہے ۔اُسے حق پہنچتا تھاکہ اس کے دوست کے گھر میں کوئی
‫گڑبڑہے اس کے لیے کچھ کرے ‪،مگر اس کے ذہن میں جوسوچ غالب تھی ‪،وہ یہ تھی کہ شہر میں مشکوک عورتوں کا ریال سا

‫آگیاتھا۔ کہیں ایسا تونہیں کہ البرق کسی بدکار عورت کے چکر میں آگیاہو؟ایک طریقہ اس کے دماغ میں آگیا۔ اس نے اپنے
‫محکمے کی ایک عورت کو اس روپ میں البرق کے گھر میں بھیجا کہ وہ ایک مظلوم عورت ہے ۔ا س کا خاوند مرگیاہے اور
‫لہذا اس کی مدد کی جائے ۔
‫اس کے بیٹے آوارہ ہوگئے ہیں ‪ٰ ،
‫ہدایت کے مطابق یہ عورت ا ُس وقت البرق کے گھر میں گئی جب وہ گھر میں نہیں تھا۔ دوسری ہدایت کے مطابق و ہ سارے
‫گھر میں پھری تو ا ُسے آصفہ نظر آگئی۔ یہ عورت البرق کی پہلی بیوی سے ملی ۔اپنی ''فریاد'' پیش کی اور کہا کہ وہ )
‫البرق کی پہلی بیوی( البرق سے اس کی سفارش کرے ۔باتوں باتوں میں اس نے کہا ……''آپ کی بیٹی کی شادی ہوگئی ہے
‫یا ابھی کنواری ہے؟'' ……اسے جواب مال ……''یہ میری بیٹی نہیں ‪ ،میرے خاوند کی دوسری بیوی ہے ۔تین مہینے ہوئے
‫انہوں نے شادی کی ہے''۔
‫علی بن سفیان کے لیے یہ اطالع حیران کن تھی۔اس کے دل میں یہی شک پیدا ہوگیا کہ رات کو باہر جانے والی اس کی
‫نئی بیوی ہوسکتی ہے ۔علی نے ایک اور عورت کے ہاتھ البرق کی پہلی بیوی کو پیغام بھیجاکہ وہ اُسے کہیں باہر ملنا چاہتا
‫ہے ‪ ،مگر البرق کو پتہ نہ چلے ‪ ،اس نے یہ بھی کہال بھیجا کہ ان کے گھر کے متعلق کوئی بہت ہی ضروری بات کرنی
‫ہے۔ علی نے مالقات کے لیے ایک جگہ بھی بتادی اور وقت وہ بتا دیا جب البر ق دفتر میں مصروف ہوتاتھا…… وہ آگئی ۔
‫علی بن سفیان کے دل میں اس معزز عورت کا بہت ہی احترام تھا ۔اس نے البرق کی بیوی سے کہا کہ اسے معلوم ہوا ہے
‫کہ البرق نے دوسری شادی کرلی ہے ۔بیوی نے جواب دیا……''خدا کا شکر ہے کہ اس نے دوسری شادی کی ہے ۔چوتھی اور
‫پانچویں نہیں کی''۔
‫''باتیں کرتے کرتے علی بن سفیان نے پوچھا ۔''وہ کیسی ہے؟
‫بہت خوب صورت ہے ''۔بیوی نے جوا ب دیا۔''
‫شریف بھی ہے ؟''…… علی بن سفیان نے پوچھا ……''آپ کو اس پر کسی قسم کا شک تو نہیں؟…… کچھ دیر تک وہ ''
‫گہری سوچ میں پڑی رہی ۔علی نے کہا……''اگر میں یہ کہوں کہ وہ کبھی کبھی رات کو باہر چلی جاتی ہے تو آپ بُرا تو
‫''نہ جانیں گی ؟
‫وہ ُم سکرائی اور کہنے لگی……''میں خود پریشان تھی کہ یہ بات کس سے کروں ۔ میرے خاوند کا یہ حال ہے کہ اس کا
‫غالم ہوگیاہے ۔ مجھ سے تو اب بات بھی نہیں کرتا۔ میں اس لڑکی کے خالف خاوند کے ساتھ بات کروں تو وہ مجھے گھر
‫سے نکال دے ۔وہ سمجھے گا کہ میں حسد سے شکایت کررہی ہوں ۔یہ لڑکی صاف نہیں ۔ ہمارے گھر میں شراب کی بو
‫بھی کبھی نہیں آئی تھی ۔ اب وہاں مٹکے خالی ہوتے ہیں ''۔
‫''شراب ؟'' علی بن سفیان نے چونک کر پوچھا……''البرق شراب بھی پینے لگاہے ؟''
‫صرف پیتا نہیں ''۔بیوی نے کہا ……''بد مست اور مدہوش ہوجاتا ہے۔میں نے چھ بار اس لڑکی کو رات کے وقت باہر ''
‫جاتے اور بہت دیر بعد آتے دیکھا ہے ۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جس رات لڑکی کو باہر جاناہوتا ہے ‪،ا س رات البرق بے
‫ہوش ہوتاہے ۔صبح بہت دیر سے اُٹھتا ہے ۔ لڑکی بدمعاش ہے ۔اسے دھوکہ دے رہی ہے''۔
‫لڑکی بدمعاش نہیں''۔ علی بن سفیان نے کہا…''وہ جاسوس ہے۔و ہ البرق کو نہیں ‪ ،قوم کو دھوکہ دے رہی ہے''۔''
‫جاسوس ؟'' بیوی نے چونک کر کہا……''میرے گھر میں جاسوس ؟'' وہ اُٹھ کھڑی ہوئی ۔دانت پیس کر بولی……''آپ ''
‫جانتے ہیں کہ میں شہید کی بیٹی ہوں ۔البرق پکا مسلمان تھا ۔ اس نے زندگی اسالم کے نام پر وقف کررکھی تھی۔میں بچوں
‫کو جہاد کے لیے تیار کرہی ہوں اور آپ کہتے ہیں کہ میرے بچوں کا باپ ایک جاسوس لڑکی کے قبضے میں آگیا ہے۔ میں
‫اپنے بچوں کے باپ کو قربان کرسکتی ہوں ‪ ،قوم اور اسالم کو قربان ہوتا نہیں دیکھ سکتی ۔ میں دونوں کو قتل کردوں
‫گی''۔
‫علی بن سفیان نے اسے بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا اور اسے سمجھا یا کہ ابھی یہ یقین کرنا ہے کہ یہ لڑکی جاسوس ہے اور
‫یہ بھی دیکھنا ہے کہ البرق بھی جاسوسوں کے گروہ میں شامل ہوگیاہے یا اسے شراب پال کر صرف استعمال کیاجارہاہے ۔
‫اس عورت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جاسوسوں کو قتل نہیں ‪ ،گرفتار کیا جاتاہے اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے متعلق پوچھا
‫جاتاہے ۔ علی بن سفیان نے اسے کچھ ہدایات دیں اور اُسے کہا کہ وہ لڑکی کی ہر حرکت پر نظر رکھے ……یہ عورت چلی
‫گئی ۔یوں معلوم ہوتاتھا جیسے علی بن سفیان کی ہدایات پر ٹھنڈے دل سے عمل کرے گی ‪ ،مگر اس کی چال اور اسکے
‫انداز سے یہ بھی معلوم ہوتاتھا کہ کسی بھی وقت بے قابوہوجائے گی ۔ وہ حرم کی عورت نہیں تھی‪ ،وہ خاوند کی وفادار
‫بیوی اور ملک و ملت پر جان نثار کرنیوالی قوم کی بیٹی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫خادم الدین البرق اور علی بن سفیان صرف رفیق کار ہی نہیں تھے۔ ان کی گہری دوستی بھی تھی۔وہ ہم عمر تھے ۔ انہوں
‫نے اکٹھے معرکے لڑے تھے۔ دونوں سلطان ایوبی کے پرانے ساتھی تھے ۔ اتنی گہری دوستی کے باوجود البرق نے علی بن
‫سفیان سے دوسری شادی چھپا رکھی تھی ۔علی کو معلوم ہواتو اس نے البرق کے ساتھ اس ضمن میں کوئی بات نہیں کی۔
‫وہ اس کی بیوی کی مدد سے اس کے گھر کا معمہ حل کرنے کی کوشیشوں میں لگا ہواتھا۔ اس نے البر ق کے مکان اور اُس
‫مکان کے درمیان اپنے جاسوسوں میں اضافہ کردیا تھا‪ ،جہاں البرق کی نئی بیوی رات کو جایا کرتی تھی ۔البرق کی پہلی بیوی
‫کے ساتھ باتیں کیے دو راتیں گزر گئی تھیں ۔ لڑکی باہر نہیں نکلی تھی۔ جاسوس پوری پوری رات بیدار رہے تھے۔
‫تیسری رات‪ ،نصف شب سے ذرا پہلے علی بن سفیان گہری نیند سویا ہوا تھا۔ اس نے اپنے عملے اور اپنے مالزموں سے کہہ
‫رکھا تھا کہ وہ جب چاہیں اسے جگا سکتے ہیں۔وہ ان حاکموں سے مختلف تھا جو کسی کو آرام میں مخل ہونے کی اجازت
‫نہیں دیتے تھے ۔ا ُس رات علی کو مالزم نے گہری نیند سے بیدار کیا اور کہا……''عمرآیا ہے‪،گھبرایا ہواہے''۔
‫علی بن سفیان کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح کمرے سے نکال ‪،صحن دوتین چھالنگوں میں عبور کیا اور ڈیوڑھی سے باہر
‫نکل گیا۔ اس کے عملے کا ایک آدمی باہر کھڑا تھا۔اس نے کہا …… ''مال زم کو دوڑائیں ۔دس بارہ سوار فورا ً منگوائیں۔ اپنا
‫گھوڑا جلدی تیار کریں‪،پھر آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہواہے''۔
‫علی بن سفیان نے مالز کو چودہ مسلح سوار اور اپنا گھوڑا اور تلوار النے کو دوڑا یا اور عمر سے پوچھا…''کہو کیا بات
‫ہے''۔
‫عمر اور آذر نام کے دوجاسوس آصفہ کو دیکھنے کے لیے متعین تھے۔ علی بن سفیان نے انہیں حکم دے رکھا تھا کہ لڑکی
‫گھر سے نکل کر کہیں جائے تو اسے فورا ً اطالع دی جائے ۔ عمر بڑی خطرناک اطالع لے کر آیا۔ اس نے بتایا کہ تھوڑی دیر
‫گزری ‪ ،البرق کے گھر سے سیاہ چادر میں سر سے پائوں تک لپٹی ہوئی ایک عورت نکلی ۔پچاس ساٹھ گز آگے گئی تو

‫البرق کے گھر سے اسی لباس میں ایک اور عورت نکلی ۔وہ بہت تیز تیز اگلی عورت کے پیچھے چلی گئی۔جب اُس سے ذرا
‫ُدور رہ گئی تو اگلی عورت ُرک گئی۔ دونوں جاسوس چھپے ہوئے تھے۔ انہیں کوئی دیکھ نہ سکا۔ وہ تعاقب بھی چھپ کر
‫کرتے تھے دونوں عورتوں میں نہ جانے کیا بات ہوئی۔ ان میں سے ایک نے تالی بجائی‪ ،کہیں قریب سے ایک آدمی نکال ۔
‫اس نے بعد میں آنے والی عورت کو پکڑنا چاہا۔ عورت نے اس پر کسی ہتھیار کا وار کیا جو اندھیرے میں نظر نہیں آتا تھا۔ا
‫س آدمی نے بھی اس پر کسی ہتھیار سے وار کیا۔
‫جو عورت پہلے آئی تھی‪ ،اس کی آواز سنائی دی……''اِسے اُٹھا کر لے چلو''……دوسری عورت نے اس پر وار کیا۔ اس کی
‫چیخ سنائی دی۔ دوسری عورت نے اس پر ایک اور وار کیا اور آدمی کا وار بچایا بھی ۔ دونوں عورتیں زخمی ہوگئیں تھیں ۔
‫عمر علی بن سفیان کو اطالع دینے دوڑ پڑا۔آذر وہیں چھپا رہا۔اُسے یہ دیکھنا تھا کہ یہ لوگ کہاں جاتے ہیں۔
‫علی بن سفیان نے اس قسم کے ہنگامی حاالت کے لیے تیز رفتار اور تجربہ کار لڑا کا سواروں کا ایک دستہ تیار رکھا ہوا تھا۔
‫یہ سوار اپنے گھوڑوں کے قریب سوتے تھے ۔ زینیں اور ہتھیار اُن کے پاس رہتے تھے ۔ انہیں یہ مشق کرائی جاتی تھی کہ
‫رات کے وقت ضرورت پڑنے پر وہ چند منٹوں میں تیار ہوکر ضرورت کی جگہ پہنچیں ۔وہ اس قدر تیز ہوگئے تھے کہ علی بن
‫سفیان کے مالزم نے دستے کے کمان دار کو اطالع دی کہ چودہ سوار بھیج دو تو وہ علی بن سفیان کے کپڑے بدلنے اور اس
‫کا گھوڑا تیار ہونے تک پہنچ گئے ۔
‫علی بن سفیان کی قیادت اور عمر کی راہنمائی میں وہ واردات کی جگہ پہنچے ۔دوسواروں کے ہاتھوں میں ڈنڈوں کے ساتھ
‫تیل میں بھیگے ہوئے کپڑوں کی مشعلیں تھیں‪ ،وہاں دو الشیں پڑی تھیں ۔علی بن سفیان نے گھوڑے سے اُتر کر دیکھا‪ ،ایک
‫البرق کی پہلی بیوی تھی ‪،دوسرا آذر تھا‪ ،عمر کا ساتھی۔دونوں زندہ تھے اور خون میں ڈوبے ہوئے تھے ۔آذر نے بتایا کہ وہ
‫البرق کی بیوی کو پھینک کر چلے گئے تو وہ اس کے پاس گیا۔ اچانک پیچھے سے کسی نے اُس پر خنجر کے تین وار کیے۔
‫وہ سنبھل نہ سکا‪،حملہ آور بھاگ گیا۔ آذر نے بتایا کہ دوسری عورت البرق کے گھر کی طرف نہیں گئی‪ ،بلکہ اُدھر گئی ہے‪،
‫جہاں وہ پہلے جایا کرتی تھی ۔عمر کو اس گھر کا علم تھا۔
‫علی بن سفیان نے دو سواروں سے کہا کہ وہ دونوں زخمیوں کو فورا ً جراح کے پاس لے جائیں اور ان کا خون روکنے کی
‫کوشش کریں ۔ باقی سواروں کو وہ عمر کی راہنمائی میں اُس مکان کی طرف لے گیا ‪،جہاں آصفہ پہلے کئی بار جاتے دیکھی
‫گئی تھی ۔ وہ پرانے زمانے کا بڑا مکان تھا۔ اس سے ملحق کئی اور مکان تھے۔ پچھواڑے سے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز
‫آئی ۔علی نے اپنے سواروں کو مکان کے دونوں طرف سے پیچھے بھیجا۔دوسواروں کو مکان کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا کہ
‫کوئی بھی اندر سے نکلے تو اسے پکڑ لو‪ ،بھاگنے کی کوشش کرے تو پیچھے سے تیر مارو اور ختم کردو۔
‫سوار ابھی چکر کاٹ کر پچھواڑے کی طرف جاہی رہے تھے کہ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دینے لگے۔ علی بن سفیان نے
‫ایک سوار سے کہا…''سر پٹ جائو‪ ،اپنے کمان دار سے کہو کہ اس مکان کو گھیرے میں لے کر اندر داخل ہو جائیں ‪ ،اندر
‫کے تمام افراد کو گرفتار کرلے''… سوار کیمپ کی طرف روانہ ہوگیا۔علی بن سفیان نے بلند آواز سے اپنے جاسوسوں کو حکم
‫دیا…''ایڑ لگائو‪ ،تعاقب کرو۔ ایک دوسرے کو نظر میں رکھو''۔…اور اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی ۔یہ رسالے کے چنے
‫خراج تحسین حاصل کرچکے تھے ۔مفرور بھی شاہ سوار معلوم
‫ہوئے گھوڑے تھے اور ان کے سوار سلطان ایوبی سے کئی بار
‫ِ
‫ہوتے تھے ۔ا ُن کے گھوڑوں کے ٹاپو بتاتے تھے کہ اچھی نسل کے بہت تیز دوڑنے والے گھوڑے ہیں۔یہ شہر کا عالقہ تھا‪ ،جہاں
‫مکان کی رکاوٹیں تھیں ۔گلیاں تھیں ‪،جو گھوڑوں کی دوڑ کے لیے کشادہ نہیں تھیں ‪،اِن سے آگے کھال میدان تھا۔
‫اندھیرے میں گھوڑے نظر نہیں آتے تھے ۔ ا ُن کی آوازوں پر تعاقب ہورہاتھا۔ وہ جب کھلے میدان میں گئے تو اُن کا چھپنا
‫مشکل ہوگیا ۔ا ُفق کے پس منظر میں وہ سایوں کی طرح صاف نظر آنے لگے۔وہ چار تھے۔ انہوں نے کم و بیش ایک سو گز کا
‫فاصلہ حاصل کرلیاتھا۔ وہ پہلو بہ پہلو جارہے تھے ۔علی بن سفیان کے حکم پر دوسواروں نے اسی رفتار سے گھوڑے دوڑآتے
‫ہوئے تیر چالئے ۔تیر شاید خطا گئے تھے ‪ ،بھاگنے والے دانش مند معلوم ہوتے تھے ۔تیر ان کے قریب سے یا درمیان سے گر
‫ے تو انہوں نے گھوڑے پھیالدئیے۔وہ اکٹھے جارہے تھے ۔ان کے گھوڑے کھلنے لگے۔ نہایت اچھے طریقے سے گھوڑے ایک
‫دوسرے سے خاصے دور ہٹ گئے ۔ علی بن سفیان کا دستہ بہت تیز تھا‪ ،فاصلہ کم ہوتا جارہاتھا‪،مگر بھاگنے والوں کے گھوڑے
‫اور زیادہ ایک دوسرے سے ہٹتے جارہے تھے۔ آگے کھجور کے پیڑو ں کا جھنڈ آگیا۔اُن کے گھوڑے وہاں اس طرح ایک دوسرے
‫سے دورہٹ گئے کہ دو دائیں طرف اور دو کھجوروں کے بائیں طرف ہوگئے ۔یہ جگہ اونچی تھی‪ ،گھوڑے اوپر اُٹھے اور غائب
‫ہوگئے ۔
‫تعاقب کرنے والے بلند ی پر گئے تو انہیں آگے جو بھاگتے سائے نظر آئے ‪،وہ ایک دوسرے سے بہت ہی ُدور ہوگئے تھے ۔پھر
‫وہ اتنی دور دور ہوگئے کہ ان کے ُر خ ہی بدل گئے ۔علی بن سفیان جان گیا کہ وہ اس کے سواروں کو منتشر کرنا چاہتے ہیں
‫۔ علی نے بلند آواز سے کہا…'' ہر سوار کے پیچھے تقسیم ہوجائو۔ ایک دوسرے کو بتادو۔ ایڑ لگاو‪ ،فاصلہ کم کرو‪ ،کمانوں میں
‫تیر ڈال لو''۔
‫سوار تقسیم ہوگئے ۔سب نے کندھوں سے کمانیں ا ُتار کر تیر ڈال لیے اور تقسیم ہوکر ایک ایک گھوڑے کے پیچھے گئے ۔ ان
‫کے گھوڑوں کی رفتار اور تیز ہوگئی ۔ٹاپوئوں کے شور و غل میں کمانوں سے تیر نکلنے کی آوازیں سنائی دیں ۔ کسی نے
‫للکار کر کہا……'' ایک کو مارلیا‪ ،گھوڑا بے قابو ہوگیاہے ''……ادھر علی بن سفیان کے ساتھ جو دوسوار تھے ‪،انہوں نے بیک
‫وقت تیر چالئے ۔ اندھیرے میں تیر خطاجانے کاڈر تھا اور تیر خطا جابھی رہے تھے ۔ پھر بھی انہوں نے ایک اور گھوڑے کو
‫نشانہ بنالیا۔ یہ گھوڑا بے قابو ہوکر اور گھوم کر پیچھے کو آیا ۔ ایک سوار نے اس کی گردن میں برچھی ماری ۔ دوسرے نے
‫اپنے گھوڑے سے جھک کر اس کے پیٹ میں برچھی داخل کردی ‪،مگر گھوڑا توانا تھا‪ ،گرانہیں۔سوار زندہ پکڑ ناتھا۔ علی کے
‫ایک سوار نے بازو بڑھا کر ایک سوار کی گردن جکڑ لی نیچے گھوڑا زخمی تھا۔ وہ ُرکتے ُرکتے رک گیا۔ اس پر ایک آدمی
‫سوار تھااور ایک لڑکی جسے سوار نے آگے بٹھا رکھا تھا۔ لڑکی شاید بے ہوش تھی۔
‫صحرا کی تاریک رات میں اب کسی سر پٹ دوڑ تے گھوڑے کے ٹاپو نہیں سنائی دیتے تھے ۔سواروں کی آوازیں اور ُدلکی
‫چلتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دیتے تھے۔ سوار ایک دوسرے کو پکار رہے تھے ۔ان کی آوازوں سے پتہ چلتاتھا کہ انہوں نے
‫بھاگنے والوں کو پکڑ لیاہے۔ علی بن سفیان نے سب کو اکٹھا کرلیا۔ بھاگنے والے پکڑے گئے تھے۔ ان کے دوگھوڑے زخمی
‫تھے۔ ان گھوڑوں کو مرنے کے لیے صحرامیں چھوڑدیاگیا۔ بھاگنے والے پانچ تھے۔ چار آدمی اور ایک لڑکی۔ لڑکی گر پڑی
‫تھی ۔ بھاگنے والوں میں سے ایک نے کہا……''ہمارے ساتھ تم لوگ جو سلوک کرنا چاہوکر لو ‪ ،مگر یہ لڑکی زخمی ہے۔ہم
‫َ''اُمید رکھیں گے کہ تم اسے پریشان نہیں کروگے
‫ایک گھوڑے کی زین کے ساتھ مشعل بندھی ہوئی تھی ۔کھول کر جالئی گئی ۔لڑکی کو دیکھا گیا۔ بہت ہی خوب صورت اور

‫نوجوان لڑکی تھی ۔اس کے کپڑے خون سے سرخ ہوگئے تھے۔ اس کے کندھے پر‪ ،گردن کے قریب ‪،خنجر کا گہرا زخم تھا۔ اس
‫سے اتناخون نکل گیا تھا کہ لڑکی کا چہرہ الش کی طرح سفید اور آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔ علی بن سفیان نے زخم میں ایک
‫جراح تک پہنچے ۔ وہاں
‫کپڑا ٹھونس کر اوپر ایک اور کپڑا باندھ دیا اور اُسے ایک گھوڑے پر ڈال کر سوار سے کہا کہ جلدی
‫ّ
‫جلدی کا تو سوال ہی نہیں تھا‪،وہ شہر سے میلوں ُدور نکل گئے تھے ۔قیدیوں میں ایک بوڑھا تھا۔
‫یہ قافلہ جب قاہرہ پہنچا تو صبح طلوع ہورہی تھی ۔ سلطان کو رات کے واقعہ کی اطالع مل گئی تھی ۔علی بن سفیان
‫ہسپتال گیا ۔جراح اور طبیب قیدی لڑکی کی مرہم پٹی میں اور ہوش میں النے میں مصروف تھے ۔سوار نے اسے تھوڑی دیر
‫پہلے پہنچا دیاتھا۔ البرق کی پہلی بیوی اور آذر ہوش میں آگئے تھے‪،مگر اُن کی حالت تسلی بخش نہیں تھی۔سلطان ایوبی
‫ہسپتال میں موجود تھا۔ اس نے علی بن سفیان کو الگ کرکے کہا۔''میں بہت دیر سے یہاں ہوں۔میں نے البرق کو بالنے کے
‫لیے دو آدمی بھیجے تو اس نے عجیب بات بتائی ہے۔وہ کہتاہے کہ البرق ہوش میں نہیں ۔اس کے کمرے میں شراب کے
‫پیالے اور صراحی پڑی ہے ۔کیا وہ شراب بھی پینے لگاہے؟اُسے اتنا بھی ہوش نہیں کہ اس کی بیوی گھر سے باہر زخمی پڑی
‫ہے۔میں نے اس کی بیوی سے ابھی کوئی بات نہیں کی ۔طبیب نے منع کردیاہے''۔
‫اس کی ایک نہیں‪ ،دوبیویاں زخمی ہیں''……علی بن سفیان نے کہا ……''یہ لڑکی جسے ہم نے صحرا سے جا کر پکڑا ہے‪''،
‫البرق کی دوسری بیوی ہے۔ذرازخمیوں کو بولنے کے قابل ہونے دیں۔ہم نے بہت بڑا شکار ماراہے''۔
‫البرق سورج نکلنے کے بعد جاگا۔ مالزم کے بتانے پر وہ دوڑتا آیا۔اس کی دونوں بیویاں زخمی پڑی تھیں ۔ اسے چاروں جاسوس
‫دکھائے گئے۔ وہ بوڑھے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ اسے وہ آصفہ کا بوڑھا خاوند سمجھتارہاتھا۔ سلطان ایوبی نے یہ واردات
‫اپنی تحویل میں لے لی‪ ،کیونکہ یہ جاسوسوں کے پورے گروہ کی واردات تھی اور اس میں اس کا معتمد ملوث تھا جسے فوج
‫کے تمام راز اور آئندہ منصوبے معلوم تھے۔
‫جوں ہی زخمی بیان دینے کے قابل ہوئے ‪ ،ان سے بیان لیے گئے ۔ان سے یہ کہانی یوں بنی کہ البرق کی پہلی بیوی کو
‫جب علی بن سفیان نے بتایا کہ اس کے خاوند کی دوسری بیوی مشتبہ چال چلن کی ہے اور وہ جاسوس معلوم ہوتی ہے تو
‫وہ سخت غصے کے عالم میں گھر چلی گئی۔ وہ اپنے خاوند کو اور آصفہ کو قتل کردینا چاہتی تھی‪ ،لیکن علی بن سفیان نے
‫ا ُسے کہاتھا کہ جاسوسوں کو زندہ پکڑا جاتاہے‪،تاکہ ان کے چھپے ہوئے ساتھیوں کا سراغ لیاجاسکے۔ اس نے اپنے آپ پر قابو
‫پایا اور آصفہ پر گہری نظر رکھنے لگی۔ اس نے رات کا سونا بھی ترک کردیا تھا
‫موقع دیکھ کر اس نے ان کے سونے والے کمرے کے اس دروازے میں چھوٹا سا سوراخ کرلیا جو دوسرے کمرے میں کھلتاتھا۔
‫رات کو اس سوراخ میں سے انہیں دیکھتی رہتی تھی۔دو راتیں تو اس نے یہی دیکھا کہ لڑکی البرق کو شراب پالتی تھی اور
‫عریانی کا پورا مظاہرہ کرتی تھی ۔ وہ سلطان ایوبی کی باتیں ایسے انداز سے کرتی تھی جیسے وہ اس کا پیر اور مرشد ہو۔
‫صلیبیوں کو بُ را بھال کہتی اور وہی باتیں کرتی جو سلطان ایوبی کے جنگی منصوبے میں شامل تھیں۔البرق اسے بتاتا تھا کہ
‫سلطان کیا کررہاہے اور کیا سوچ رہا ہے ۔
19:14
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫قسط نمبر‪21.۔ دوسری بیوی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫سلطان کیا کررہاہے اور کیا سوچ رہاہے
‫البرق کی پہلی بیوی نے دوراتیں یہی کچھ دیکھا اور سنا ۔تیسری رات وہ ناٹک کھیالگیا جس کا البرق کی پہلی بیوی کو بے
‫تابی سے انتظار تھا۔ آصفہ نے البرق کو شراب پالنی شروع کی اور اسے بالکل حیوان بنادیا۔ آصفہ دونوں پیالے اُٹھا کر اور یہ
‫کہہ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی…''دوسری التی ہوں''…وہ واپس آئی تو پیالوں میں شراب تھی۔اس نے ایک پیالہ البرق
‫کودے دیا ۔ دوسرا خود منہ سے لگا لیا۔ اس کے بعد اس نے البرق کو آہستہ آہستہ بالیا۔ وہ نہ بوال‪ ،پھر اسے ہالیا۔ ہاتھ
‫سے اس کے پپوٹے اوپر کیے‪،مگر ااس کی آنکھیں نہ کھلیں ۔اس نے پیالے دوسرے کمرے میں لے جا کر شراب میں بے ہوش
‫کرنے والی کوئی چیز البرق کے پیالے میں مالدی تھی۔
‫آصفہ نے کپڑوں کے اوپر سیاہ چادر اس طرح لے لی کہ سر سے پائوں تک چھپ گئی ۔ آدھی رات ہونے کوتھی۔ اس نے
‫قندیل بجھائی اور باہر نکل گئی۔پہلی بیوی آگ بگولہ ہوگئی۔ اس نے خنجر اُٹھایا۔ اوپر لباد اوڑھا‪ ،وہ کمرے سے نکلنے لگی تو
‫دیکھا کہ آصفہ ایک مالزمہ کے ساتھ ک ُھسر پُھسر کررہی تھی۔ اس سے پتہ چال کہ مالزمہ کو اس نے ساتھ مالرکھاتھا۔ آصفہ
‫باہر نکل گئی ۔مالزمہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔پہلی بیوی بڑے دروازے سے باہر نکل گئی ۔ وہ تیزتیز چلتی آصفہ کے تعاقب
‫میں گئی۔وہ اس کے قدموں کی آہٹ پر جارہی تھی۔وہ صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کہاں جارہی ہے۔آصفہ کو شاید اس
‫کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی۔ وہ ُرک گئی۔پہلی بیوی اندھیرے میں اچھی طرح دیکھ نہ سکی ۔وہ آصفہ کے قریب چلی
‫گئی اور ُر ک گئی۔ اچانک آمنے سامنے آجانے سے پہلی بیوی فیصلہ نہ کر سکی کہ کیا کرے ۔ اس کے منہ سے نکل
‫گیا…''کہاں جارہی ہوآصفہ؟
‫پہلی بیوی کو معلوم نہ تھا کہ لڑکی کی حفاظت کے لیے آدمی چھپ چھپ کر اس کے ساتھ جاتاہے جو کسی کو نظر نہیں
‫آتا۔ آصفہ نے اپنے ہاتھ پر پاتھ مارا اور البرق کی پہلی بیوی سے ہنس کر کہا…'' آپ میرے پیچھے آئی ہیں یا کہیں جارہی
‫ہیں؟''…اتنے میں پیچھے سے کسی نے پہلی بیوی کو بازوئوں میں جکڑ لیا‪ ،مگر اس عورت نے گرفت مضبوط ہونے سے پہلے
‫ہی جسم کو زور سے جھٹکادیا اور آزاد ہوگئی ۔اس نے تیزی سے خنجر نکال لیا۔ اس کے سامنے ایک آدمی تھا۔ عورت نے
‫اس پر وار کیا جو وہ بچاگیا۔ آدمی نے ایسا وار کیا کہ خنجر عورت کے پہلو میں اُترگیا۔ اس آدمی نے دیکھ لیاتھا کہ عورت
‫کے پاس خنجر ہے۔وہ فورا ً پیچھے ہٹ گیا۔ پہلی بیوی نے آصفہ پر حملہ کیا اور خنجر اس کی گردن اور کندھے کے درمیان
‫ا ُتاردیا۔لڑکی نے زور سے چیخ ماری۔ آدمی نے پہلی بیوی پر وار کیا جو یہ عورت پھرتی سے بچاگئی ۔ اس نے وار کیاتو اس
‫آدمی نے اس کابازو اپنے بازو سے روک لیا ۔
‫آصفہ گرپڑی تھی ۔البرق کی پہلی بیوی کوبھی گہرا زخم آیاتھا جو پہلو سے پیٹ تک چالگیا تھا۔ وہ ڈگمگانے لگی ۔وہ آدمی
‫آصفہ کو ا ُٹھا کر کہیں چال گیا۔ علی بن سفیان کے دوجاسوس عمر اور آذر چھپ کر دیکھ رہے تھے ۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ
‫دوسری عورت کون ہے ۔عمر اس آدمی کے پیچھے چھپ چھپ کر گیا جو آصفہ کو اُٹھالے گیاتھا۔ وہ اسی مکان میں لے گیا
‫جہاں وہ جایا کرتی تھی ۔وہاں سے عمر علی بن سفیان کو اطالع دینے چالگیا۔آذر نے بتایا کہ وہ وہیں چھپا رہا۔ زخمی
‫عورت وہیں پڑی تھی وہاں اور کوئی نہ تھا۔ آذر اس عورت کے پاس جاکر بیٹھ گیاپیچھے سے کسی نے اس پر خنجر سے

‫تین وار کیے اور حملہ آور بھاگ گیا۔ آذر وہیں بے ہوش ہوگیا۔
‫شام تک البرق کی پہلی بیوی اور آذر کی حالت بگڑ گئی ۔جراحوں اور طبیبوں نے بہت کوشش کی ‪،مگر وہ زندہ نہ رہ سکے۔
‫البرق کی بیوی نے علی بن سفیان سے کہاتھا کہ میں اپنے خاوند کو قربان کرسکتی ہوں اسالم اورقوم کی عزت کو قربان ہوتا
‫نہیں دیکھ سکتی ۔اس نے قوم کے نام پر جان دے دی۔
‫سلطان ایوبی کے حکم سے خادم الدین البرق کو قید خانے میں ڈال دیاگیا ۔اس نے یقین دالنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ
‫اس نے یہ جرم دانستہ نہیں کیا۔وہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں بے وقوف بن گیاتھا‪ ،مگر یہ ثابت ہوچکاتھا کہ اس نے حکومت
‫اور فوج کے راز شراب اور حسین لڑکی کےنشے میں دشمن کے جاسوسوں تک پہنچائے ہیں ۔سلطان ایوبی قتل کا جرم بخش
‫سکتاتھا ۔شراب خوری اور عیاشی کا اور دشمن کو راز دینے کے جرم نہیں بخشا کرتاتھا۔
‫آصفہ سے اس روز کوئی بیان نہ لیاگیا۔ اس پر زخم کا اتنا اثر نہیں تھا‪ ،جتنا خوف کا تھا۔وہ جاسوس لڑکی تھی ۔ سپاہی
‫نہیں تھی ۔ا سے شہزادی کے روپ میں شہزادوں سے بھید لینے کی ٹریننگ دی گئی تھی ۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ
‫اس کا یہ حشر بھی ہوسکتاہے ۔اس پر زیادہ خوف اس کا تھا کہ وہ مسلمانوں کی قیدی ہے اور مسلمان اسے بہت خراب
‫کریں گے۔ ایک خطرہ یہ بھی اسے نظر آیاتھا کہ مسلمان اس کے زخم کا عالج نہیں کریں گے۔
‫ا س نے اس خطرے کا اظہار ہر ا ُس آدمی سے کیا جو س کے قریب گیا۔ وہ ڈرے ہوئے بچے کی طرح روتی تھی ۔ علی بن
‫سفیان نے اسے بہت تسلی دی کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو کسی مسلمان زخمی عورت کے ساتھ کیاجاتاہے ‪،
‫مگر وہ سلطان ایوبی سے ملنا چاہتی تھی ۔ آخر سلطان کو بتایا گیا۔
‫سلطان ایوبی اس کے پاس اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اس حالت میں وہ اسے اپنی بیٹھی سمجھتا ہے ۔
‫میں نے سناتھا کہ سلطان ایوبی تلوار کا نہیں ‪،دل کا بادشاہ ہے''……آصفہ نے روتے ہوئے کہا……''اتنا بڑا بادشاہ جسے ''
‫شکست دینے کے لیے عیسائیوں کے سارے بادشاہ اکٹھے ہوگئے ہیں ۔ایک مجبور لڑکی کو دھوکا دیتے اچھا نہیں لگتا ……ان
‫لوگوں سے کہو کہ مجھے فور ا ً زہر دے دیں۔ میں اس حالت میں کوئی اذیت برداشت نہیں کرسکوں گی''۔
‫کہو تو میں ہروقت تمہارے پاس موجود رہوں گا''…… سلطان ایوبی نے کہا۔''میں تمہیں دھوکہ بھی نہیں دوں گا‪ ،اذیت ''
‫بھی نہیں دوں گا‪ ،مگر وعدہ کرو کہ تم بھی مجھے دھوکہ نہیں دوگی‪ ،تم ذرا اور بہتر ہولو‪ ،طبیب نے کہاہے کہ تم ٹھیک ہو
‫جاوگی۔ اگر تمہیں اذیت دینی ہوتی تو میں اسی حالت میں قید خانے میں ڈال دیتا ۔تمہارے زخم پر نمک ڈاال جاتا۔ تم چیخ
‫چیخ اور چالچال کر اپنے جرم اور اپنے ساتھیوں سے پردے اُٹھاتیں‪ ،مگر ہم کسی عورت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیاکرتے۔
‫البرق کی بیوی مرگئی ہے‪،لیکن تمہیں زندہ رکھنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے''۔
‫میں ٹھیک ہوجاوں گی تو میرے ساتھ کیا سلوک کروگے؟''اس نے پوچھا۔''
‫یہاں تمہیں کوئی مرد اس نظر سے نہیں دیکھے گا کہ تم ایک نوجوان اور خوب صورت لڑکی ہو''……سلطان ایوبی نے ''
‫کہا……''تم یہ خدشہ دل سے نکال دو۔ تمہارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اسالمی قانون میں لکھاہے''۔
‫اس مکان کی تالشی لی گئی تھی جہاں آصفہ جایا کرتی تھی ۔ وہ کسی کا گھر نہیں تھا۔ جاسوسوں کا اڈہ تھا۔ اندر اصطبل
‫بناہواتھا ۔ اندر سے پانچ آدمی برآمد ہوئے تھے ‪،انہیں گرفتار کرلیاگیا تھا۔ان پانچ نے ان چاروں نے جنہیں تعاقب میں پکڑا
‫گیاتھا‪ ،جرم کا اعتراف کرنے سے انکار کردیا۔ آخر انہیں اس تہہ خانے میں لے گئے جہاں پتھر بھی بول پڑتے تھے۔بوڑھے نے
‫تسلیم کرلیا کہ اس نے اس لڑکی کو دانے کے طور پر پھینک کر البرق کو پھانسا تھا۔ اس نے سارا ناٹک سنادیا۔دوسروں نے
‫بھی بہت سے پردے ا ُٹھائے ا ور اس مکان کا راز فاش کیا‪ ،جسے شہر کے لوگ احترام کی نگاہوں سے دیکھتے تھے ۔اس
‫مکان میں بہت سی لڑکیاں رکھی گئی تھیں جو دومقاصد کے لیے استعمال ہوتیں۔ایک جاسوسی کے لیے اور حاکموں اور اونچے
‫گھرانے کے مسلمان نوجوانوں کے اخالق تباہ کرنے کے لیے وہ جاسوسوں اور تخریب کاروں کا اڈہ تھا۔
‫ان جاسوسوں نے یہ بھی بتایا کہ سلطان ایوبی کی فوج میں انہوں نے اپنے آدمی بھرتی کرادئیے ہیں ‪،جنہوں نے سپاہیوں میں
‫جوئے بازی کی عادت پیدا کردی ہے ۔وہ ہاری ہوئی بازی جیتنے کے لیے ایک دوسرے کے پیسے چراتے اور چور بنتے جارہے
‫ہیں ۔ شہر میں انہوں نے پانچ سو سے کچھ زیادہ فاحشہ عورتیں پھیالدی ہیں جو نوجوانوں کو پھانس کر انہیں عیاشی کی راہ
‫پر ڈال رہی ہیں ۔خفیہ قمار خانے بھی کھول دئیے گئے ہیں ۔ان لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن سوڈانیوں کو سلطان کے خالف
‫بھڑ کایا جارہاہے‪ ،جنہیں فوج سے نکال دیاگیاتھا۔ سب سے اہم انکشاف یہ تھا کہ انہوں نے چھ ایسے مسلمان افسروں کے نام
‫بتائے جو سلطان ایوبی کی حکومت میں اہم حیثیت رکھتے تھے مگر سلطان ایوبی کے خالف کام کررہے تھے ۔ آصفہ عیسائی
‫لڑکی تھی اس کانام فلیمنگو بتایا گیا۔ وہ یونانی تھی ۔اسے تیرہ سال کی عمر سے اس کام کی ٹریننگ دی جارہی تھی۔ اسے
‫مصر کی زبان سیکھائی گئی ۔ایسی سینکڑوں لڑکیاں مسلمان عالقوں میں استعمال کرنے کے لیے تیار کی گئی تھیں‪ ،جنہیں
‫چوری چھپے اِدھر بھیجا گیاتھا۔
‫اس لڑکی نے بھی کچھ نہ چھپایا۔ پندرہ روز بعد اس کا زخم ٹھیک ہوگیا۔اسے جب بتایا گیا کہ اُسے سزائے موت دی جارہی
‫ہے تو اس نے کہا……''میں خوشی سے یہ سزاقبول کرتی ہوں ۔میں نے صلیب کا مشن پورا کردیا ہے''……اسے جالد کے
‫حوالے کردیاگیا۔
‫دوسروں کی ابھی ضرورت تھی ۔ان کی نشاند ہی پر چند اور لوگ پکڑے گئے ‪ ،جن میں چند ایک مسلمان بھی تھے۔ان سب
‫کو سزائے موت دی گئی ۔البرق کو ایک سو بید کی سزادی گئی جو وہ برداشت نہ کرسکا اور مرگیا۔ا سکے بچوں کو سلطان
‫ایوبی نے سرکاری تحویل میں لے لیا۔ ان کے لیے سرکاری خرچ پر مالزمہ اور اتالیق مقرر کیے گئے ۔وہ البرق کے بچے
‫نہیں ‪ ،ایک مجاہدہ کے بچے تھے ۔ان کی ماں شہید ہوگئی تھی۔
‫‪.دوسری بیوی کا قصہ یہیں تمام ہوتا ہے
19:15
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪22.۔ "ام عرارہ کا اغواہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫جون ‪ ١١٧١ء کا وہ دن مصر کی گرمی سے جل رہاتھا‪ ،جس دن خلیفہ العاضد کے قاصد نے آکر صالح الدین ایوبی کوپیغام دیا
‫کہ خلیفہ یاد ّفرمارہے ہیں۔ سلطان ایوبی کے تیور بدل گئے۔اس نے قاصد سے کہا……''خلیفہ کو بعد از سالم کہنا کہ کوئی بہت
‫ضروری کام ہے توبتادیں میں آجاوں گا۔اس وقت مجھے ذراسی بھی فرصت نہیں۔ انہیں یہ بھی کہنا کہ میرے سامنے جو کام
‫پڑے ہیں ‪،وہ حضور کے دربار میں حاضری دینے کی نسبت زیادہ ضروری اور اہم ہیں''۔

‫قاصد چالگیا اور سلطان ایوبی بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔ وہ فاطمی خالفت کا دور تھا۔ مصر میں اس خالفت کا
‫خلیفہ العاضد تھا۔ ا ُس دور کا خلیفہ بادشاہ ہوتاتھا۔ جمعہ کے خطبے میں ہر مسجد میں خدا اور رسول ۖ کے بعد خلیفہ کانام
‫لیاجاتا تھا۔ عیش و عشرت کے سوا ان لوگوں کے پاس کوئی کام نہ تھا۔ اگر نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی نہ ہوتے
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کو بیچ
‫یاوہ بھی دوسرے امراء وزراء کی طرح خوشامدی اور ایمان فروش ہوتے تو اس دور کے خلیفوں نے تو
‫کھایا تھا۔العاضد ایسا ہی ایک خلیفہ تھا۔صالح الدین ایوبی مصر میں گور نر بن کر آیا تو ابتداء میں خلیفہ نے اسے کئی بار
‫بالیاتھا۔سلطان ایوبی سمجھ گیا کہ خلیفہ اسے صرف اس لیے بالتا ہے کہ اُسے یہ احساس رہے کہ حاکم ایوبی نہیں ‪ ،خلیفہ
‫ہے۔وہ سلطان ایوبی کا احترام کرتاتھا۔اسے اپنے ساتھ بٹھاتاتھا‪،مگر اس کا انداز شاہانہ اور لب و لہجہ آمرانہ ہوتاتھا۔۔اس نے
‫سلطان ایوبی کو جب بھی بالیا‪،بالمقصد بالیا اور رخصت کردیا۔ صلیبیوں کو بحیرٔہ روم میں شکست دے کر اور سوڈانی فوج کی
‫بغاوت کو ختم کرکے صالح الدین ایوبی نے خلیفہ کو ٹالنا شروع کردیاتھا۔
‫اس نے خلیفہ کے محل میں جو شان و شوکت دیکھی تھی ‪،اس نے اس کے سینے میں آگ لگارکھی تھی۔محل میں زر و
‫جواہرات کا یہ عالم تھا کہ کھانے پینے کے برتن سونے کے تھے۔ شراب کی صراحی اور پیالوں میں ہیرے جڑے ہوئے تھے۔
‫حرم لڑکیوں سے بھراپڑاتھا۔ ان میں عربی‪ ،مصری ‪ ،مراکشی ‪،سوڈانی اور تُرک لڑکیوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اور یہودی لڑکیاں
‫بھی تھیں ۔یہ اس قوم کا خلیفہ تھا جسے ساری ُدنیا میں اللہ کا پیغام پھیالنا تھا اور جسے ُدنیائے کفر کی جنگی قوت کا
‫سامنا تھا۔ سلطان ایوبی کو خلیفہ کی کچھ اور باتیں بھی کھائے جارہی تھیں ۔ایک یہ کہ خلیفہ کا ذاتی حفاظتی دستہ سوڈانی
‫حبشیوں اور قبائلیوں کاتھا جن کی وفاداری مشکوک تھی۔دوسرے یہ کہ خلیفہ کے دربار میں سو ڈان کی باغی اور برطرف کی
‫ہوئی فوج کے کمان دار اور نائب ساالر خصوصی حیثیت کے مالک تھے۔
‫قصر خالفت میں نوکروں ااور اندر کے دیگر کام کرنے والوں کے بھیس میں
‫صالح الدین ایوبی کی ہدایت پر علی بن سفیان نے
‫ِ
‫اپنے جاسوس بھیج دئیے تھے۔ خلیفہ کے حرم کی دو عورتوں کو بھی اعتماد میں لے کر جاسوسی کے فرائض سونپے گئے
‫تھے۔ ان جاسوسوں کی اطالعوں کے مطابق ‪،خلیفہ سوڈانی کماند داروں کے زیر اثر تھا۔ وہ ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر کا بوڑھا
‫تھا‪ ،لیکن خوب صورت عورتوں کی محفل میں خوش رہتاتھا۔ اس کی اسی کمزوری سے صالح الدین ایوبی کے مخالفین فائدہ
‫اُٹھا رہے تھے۔‪ ١١٧١ء کے دوسرے تیسرے مہینے میں خلیفہ کے حرم میں ایک جوان اور غیر معمولی طور پر حسین لڑکی کا
‫اضافہ ہواتھا۔ حرم کی جاسوس عورتوں نے علی بن سفیان کو بتایا تھا کہ تین چار آدمی آئے تھے جو عربی لباس میں تھے۔
‫وہ اس لڑکی کو الئے تھے۔ان کے پاس بہت سے تحفے بھی تھے۔ لڑکی بھی تحفے کے طور پر آئی تھی۔ اس کانام ا ُ ِم عرارہ
‫بتایا گیا تھا۔ اس میں خوبی یہ تھی کہ خلیفہ العاضد پر اس نے جادو ساکر دیاتھا۔ بہت ہی چاالک اور ہوشیار لڑکی تھی ۔
‫قصر خالفت کی ان تمام خرافات کا علم تھا مگر حکومت پر اس کی گرفت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوتی
‫سلطان ایوبی کو
‫ِ
‫تھی……کہ وہ خلیفہ کے خالف کو ئی کاروائی کرسکتا۔ اس سے پہلے کے گورنر اور امیر خلیفہ کے آگے جھکے رہتے تھے ۔اسی
‫لیے مصر بغاوتوں کی سرزمین بن گیا تھا۔ وہاں اسالمی خالفت تو تھی ‪ ،مگر اسالم کا پر چم سرنگوں ہوتاجارہاتھا۔ فوج
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کی تھی‪ ،مگر سوڈانی جرنیل شہر ی حکومت کی باگ ڈور ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔ اور ان کا رابطہ صلیبیوں
‫کے ساتھ تھا۔ انہی کی بدولت قاہرہ اور اسکندریہ میں عیسائی کنبے آباد ہونے لگے تھے۔ ان میں جاسوس بھی تھے۔ صالح
‫الدین ایوبی نے سوڈانی فوج کو تو ٹھکانے لگادیاتھا‪ ،لیکن ابھی چند ایک سوڈانی جرنیل موجود تھے جو کسی بھی وقت خطرہ
‫قصر خالفت میں اثر و رسوخ پیدا کررکھا تھا۔
‫بن کر اُبھر سکتے تھے۔ انہوں نے
‫ِ
‫گد ی کو اس ڈر سے نہیں چھیڑ نا چاہتاتھا کہ خالفت کے متعلق کچھ لوگ جذباتی
‫سلطان ایوبی خالفت کی تعیش پر ست ّ
‫اعلی حکام بھی تھے جو مصر
‫تھے اور کچھ حامی تھے۔ ان میں خوشامدیوں کے ٹولے کی اکثریت تھی۔اس اکثریت میں وہ
‫ٰ
‫کی امارت کی توقع لگائے بیٹھے تھے مگر یہ حیثیت صالح الدین ایوبی کو مل گئی ۔ سلطان ایوبی ان حاالت میں جہاں
‫ادنی حکام کو اپنا
‫اعلی اور
‫ملک جاسوسوں اور غداروں سے بھرا پڑا تھا اور صلیبیوں کے جوابی حملے کا خطرہ بھی تھا‪،ان
‫ٰ
‫ٰ
‫دشمن نہیں بنانا چاہتا تھا جو خالفت کے پروردہ تھے‪ ،مگر جون ‪١١٧١ء کے ایک روز جب خلیفہ نے اسے بالیا تو اس نے
‫اسے صاف انکار کردیا۔
‫عیسی الہکاری فقہیہ اور الناصر کو میرے پاس جلدی بھیج دو''۔
‫اس نے دربان سے کہا……''علی بن سفیان ‪ ،بہائوالدین شداد‪،
‫ٰ
‫٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
‫یہ چاروں سلطان ایوبی کے خصوصی مشیر اور معتمد تھے ۔ سلطان ایوبی نے انہیں کہا……''ابھی ابھی خلیفہ کا قاصد مجھے
‫بالنے آیاتھا۔ میں نے جانے سے انکار کردیاہے ۔میں نے آپ کو یہ بتانے اور رائے لینے کے لیے بالیا ہے کہ میں جمعہ کے
‫خطبہ سے خلیفہ کانام نکلوارہاہوں ''۔
‫یہ اقدام ابھی قبل ازوقت ہوگا''……شداد نے کہا……''خلیفہ کو لوگ پیغمبر سمجھتے ہیں ۔رائے عامہ ہمارے خالف ہوجائے''
‫گی''۔
‫ابھی تو لوگ اسے پیغمبر سمجھتے ہیں ''……سلطان ایوبی نے کہا……''تھوڑے ہی عرصے بعد وہ اسے خدا سمجھنے لگیں''
‫گے۔ اسے پیغمبری اور خدائی دینے والے ہم لوگ ہیں ‪ ،جو خطے میں اس کانام خدا اور رسول اکرم ۖ کے ساتھ لیتے ہیں ۔
‫عیسی فقیہہ !آپ کیا مشورہ دیتے ہیں؟
‫''کیوں
‫ٰ
‫عیس ی الہکاری فقہیہ نے جواب دیا……''کوئی بھی مسلمان خطبے میں کسی انسان کانام ''
‫میں آپ کی تائید کرتاہوں''…… ٰ
‫برداشت نہیں کرسکتا۔انسان بھی ایسا جو شراب ‪ ،عورت اور ہر طرح کے گناہ کا شیدائی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ صدیوں سے
‫خلیفہ کو پیغمبر وں کا درجہ دیاجارہاہے ‪ ،میں چونکہ شہری اور مذہبی امور کا ذمہ دار ہوں ۔اس لیے یہ نہیں بتا سکتاکہ
‫کاردعمل کیا ہوگا''۔
‫سیاسی اور فوجی لحاظ سے آپ کے فیصلے
‫ّ
‫رد عمل شدید ہوگا''…… بہائوالدین شداد نے کہا……''اور ہمارے خالف ہوگا۔ اسکے باوجود میں یہی مشورہ دوں گا کہ یہ ''
‫ّ
‫بدعت ختم ہونی چاہیے یا خلیفہ کو پکا مسلمان بناکر لوگوں کے سامنے الیا جائے جو مجھے ممکن نظر نہیں آتا''۔
‫رائے عامہ کو مجھ سے بہتر اور کون جان سکتاہے ''……علی بن سفیان نے کہا جو جاسوسی اور سراغ رسانی کے شعبے ''
‫کا سربراہ تھا۔ اس نے ملک کے اندر جاسوسوں اور مخبروں کا جال بچھا رکھا تھا۔ اس نے کہا……''عام لوگوں نے خلیفہ کی
‫کبھی صورت نہیں دیکھی ۔وہ العاضد کے نام سے نہیں صالح الدین ایوبی کے نام سے واقف ہیں ۔میرے محکمے کی مصدقہ
‫دور امارت میں لوگوں کی ایسی ضروریات پوری ہوگئی ہیں جن کے
‫اطالعات نے مجھے یقین دالیا ہے کہ آپ کے دو سالہ
‫ِ
‫متعلق انہوں نے کبھی سو چا بھی نہ تھا۔ شہروں میں ایسے مطب نہیں تھے ‪،جہاں مریضوں کو داخل کرکے عالج کیاجاسکتا ۔
‫لوگ معمولی معمولی بیماریوں سے مرجاتے تھے۔اب سرکاری مطب کھول دئیے گئے ہیں ‪،درس گاہیں بھی کھولی گئی ہیں‪،

‫تاجروں اور دکان داروں کی لوٹ کھسوٹ ختم ہوگئی ہے ‪،جرائم بھی کم ہوگئے ہیں اور اب لوگ اپنی مشکالت اور فریادیں آپ
‫تک برا ِہ راست پہنچا سکتے ہیں ۔آپ کے یہاں آنے سے پہلے لوگ سرکاری اہل کاروں اور فوجیوں سے خوف زدہ رہتے
‫تھے ۔ آپ نے ان کے حقوق بتا دئیے ہیں اور وہ اپنے آپ کو ملک و ملت کا حصہ سمجھنے لگے ہیں ۔خالفت سے انہیں
‫بے انصافی اور بے رحمی کے سوا کچھ نہیں مال۔ آپ نے انہیں عدل و انصاف اور وقار دیاہے ۔میں وثوق سے کہہ سکتاہوں کہ
‫قوم خالفت کی بجائے امارت کے فیصلے کو قبول کرے گی''۔
‫میں نے قوم کو عدل و انصاف اور وقار دیاہے یا نہیں ''……سلطان ایوبی نے کہا……''میں نے قوم کے حقوق اسے دئیے ''
‫ہیں یا نہیں ‪ ،میں نہیں جانتا ۔میں قوم کو ایک انتہائی بیہودہ روایت نہیں دینا چاہتا۔ میں قوم کو شرک اور کفر نہیں دینا
‫چاہتا ۔ضروری ہوگیاہے کہ اس روایت کو توڑ کر ماضی کے کوڑے کرکٹ میں پھینک دیاجائے جو مذہب کا حصہ بن گئی ہے ۔
‫اگر یہ روایت قائم رہی تو یہ بھی ہوسکتاہے کہ کل پرسوں میں بھی اپنانام خطبے میں شامل کردوں ۔ دئیے سے دیا جلتا ہے
‫قصر خالفت بدکاری کا اڈہ بناہواہے۔ خلیفہ
‫‪،لیکن میں اس دئیے کو بجھادینا چاہتاہوں جو شرک کی روشنی کو آگے چالرہاہے۔
‫ِ
‫ا ُس رات بھی شراب پئے ہوئے حرم کے حسن میں بدمست پڑا تھا جس رات سوڈانی فوج نے ہم پر حملہ کیاتھا‪ ،اگر میری
‫چال ناکام ہوجاتی تو مصر سے اسالم کا پرچم ا ُتر جاتا۔جب اللہ کے سپاہی شہید ہو رہے تھے ‪ ،اس وقت بھی خلیفہ شراب
‫پئے ہوئے تھا۔میں اسے احکام کے مطابق یہ بتانے گیا کہ سلطنت پر کیا طوفان آیاتھااور ہماری فوج نے اس کا دم خم کس
‫طرح توڑ اہے تو اس نے مست سانڈکی طرح جھوم کر کہا تھا……''شاباش !ہم بہت خوش ہوئے ۔ہم تمہارے باپ کو خصوصی
‫قاصد کے ہاتھ مبارک باد اور انعام بھیجیں گے''……میں نے اسے کہا کہ یا خلیفة المسلمین!میں نے اپنا فرض اداکیاہے ۔ میں
‫نے یہ فرض اپنے باپ کی خوشنودی کے لیے نہیں‪ ،اللہ اور اس کے رسولۖ کی خوشنودی کے لیے اد اکیاہے ۔
‫اس بڈھے خلیفہ نے کہا……''صالح الدین ایوبی !تم ابھی بچے ہو‪ ،مگر کام تم نے بڑوں واال کردکھایاہے''۔
‫اس نے میرے ساتھ اس طرح بات کی تھی جیسے وہ مجھے اپنا غالم اور اپنے حکم کا پابند سمجھتا ہے ۔یہ بے دین ''
‫انسان قومی خزانے کے لیے سفید ہاتھی بناہواہے ''……سلطان ایوبی نے ایک خط نکال کر سب کو دکھایا اور کہا……چھ سات
‫دن گزرے نور الدین زنگی نے مجھے یہ پیغام بھیجا ہے ۔انہوں نے لکھا ہے کہ خالفت تین حصوں میں بٹ گئی ہے ۔بغداد
‫کی مرکزی خالفت کا دونوں ماتحت خلیفوں پر اثر ختم ہوچکاہے۔ آپ یہ خیال رکھیں کہ مصر کا خلیفہ خود مختار حاکم نہ
‫بن جائے۔وہ سوڈانیوں اور صلیبیوں سے بھی ساز باز کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ میں سوچ رہاہوں کہ خالفت صرف بغداد
‫میں رہے اور ذیلی خلیفے ختم کردئیے جائیں ‪،لیکن میں ڈرتاہوں کہ ان لوگوں نے ہمارے خالف سازشیں تیار کررکھی ہیں ۔اگر
‫آپ مصر کے خلیفہ کی بادشاہی اس کے محل کے اندر ہی محدود رکھنے کی کوشش کریں گے تو میں آ پ کو فوجی اور
‫مالی امداد دوں گا ۔احتیاط کی بھی ضرورت ہے کیونکہ مصر کے اندرونی حاالت ٹھیک نہیں ۔مصر میں ایک بغاوت اور بھی
‫ہوگی۔سوڈانیوں پر کڑی نظر رکھیں''۔
‫سلطان ایوبی نے خط پڑھ کر کہا……''اس میں کیا شک ہے کہ خالفت سفید ہاتھی ہے۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ خلیفہ العاضد
‫دورے پر نکلتا ہے تو آپ کی آدھی فوج اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف پھیالدی جاتی ہے؟لوگوں کو مجبور کیا جاتاہے کہ
‫وہ خلیفہ کے راستے میں چادریں اور قالین بچھائیں۔خلیفہ کا حفاظتی دستہ دورے سے پہلے لوگوں کو دھمکیاں دے کر مجبور
‫کردیتا ہے کہ ان کی عورتیں اور جوان بیٹیاں خلیفہ پر پھولوں کی پتیاں پھینکیں ۔اس کے دوروں پر خزانے کی وہ رقم تباہ کی
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کے دفاع اور توسیع کے لیے اور قوم کی فالح و بہبود کے لیے درکار ہے۔اس کے عالوہ
‫جاتی ہے جو ہمیں
‫اس پہلو پر بھی غور کروکہ ہمیں مصری عوام پر‪،یہاں کے عیسایویں اور دیگر غیر مسلموں پر یہ ثابت کرنا ہے کہ اسالم
‫شہنشاہوں کا مذہب نہیں۔ یہ عرب کے صحرائوں کے گڈریوں‪ ،کسانوں اور شتر بانوں کا سچامذہب ہے اور یہ انسان کو انسانیت
‫کا وہ درجہ دینے واال مذہب ہے جو خدا کو عزیزہے''۔
‫یہ بھی ہوسکتاہے کہ خلیفہ کے خالف کا روائی کرنے سے آپ کے خالف یہ بہتان تراشی ہونے لگے کہ خلیفہ کی جگہ آپ''
‫خود حا کم بننا چاہتے ہیں ''شداد نے کہا……''آج جھوٹ اور باطل کی جڑیں صرف اس لیے مضبوط ہوگئی ہیں کہ مخالفت
‫رد عمل سے ڈر کر لوگوں نے سچ بولنا چھوڑ دیاہے ۔حق کی آواز سینوں میں دب کررہ گئی ہے۔ شاہانہ دوروں نے
‫اور مخالفانہ ّ
‫طرز امتیاز تھا۔ عوام کو
‫اور شہنشاہیت کے اظہار کے اوچھے طریقوں نے رعایا کے دلوں سے وہ وقار ختم کردیاہے جو قوم کا
‫ِ
‫بھوکا رکھ کر اور ان پر زبردستی اپنی حکمرانی ٹھونس کر انہیں غالمی کی ان زنجیروں میں باندھا جارہاہے ‪،جنہیں ہمارے
‫رسول اکرم ۖ نے
‫توڑا تھا۔ ہمارے بادشاہوں نے قوم کو اس پستی تک پہنچا دیاہے کہ یہ بادشاہ اپنی عیاشیوں کی خاطر صلیبیوں سے دوستانہ
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ پر قابض ہوتے چلے جارہے ہیں آپ نے شداد !
‫کررہے ہیں‪ ،ان سے پیسے مانگتے ہیں اور صلیبی آہستہ آہستہ
‫مخالفت کی بات کی ہے ۔ہمیں مخالفت سے نہیں ڈرناچاہیے''۔
‫میدان جنگ ''
‫قابل احترا ِم امیر!'' سلطان ایوبی کے نائب ساالر الناصر نے کہا''ہم مخالفت سے نہیں ڈرتے ۔آپ نے ہمیں
‫ِ
‫ِ
‫میں دیکھا ہے۔ہم اس وقت بھی نہیں ڈرے تھے ‪ ،جب ہم محاصرے میں لڑے تھے۔ ہم بھوکے اور پیاسے بھی لڑے تھے ۔
‫صلیبیوں کے طوفان ہم نے اس حالت میں بھی روکے تھے‪ ،جب ہماری تعداد کچھ بھی نہیں تھی‪ ،مگر میں آپ کو آپ کی
‫ہی کہی ہوئی ایک بات یاد دالناچاہتاہوں ۔آپ نے ایک بار کہاتھا کہ حملہ جو باہر سے آتا ہے اُسے ہم قلیل تعداد میں بھی
‫روک سکتے ہیں ‪،لیکن حملہ جو اندر سے ہوتاہے اور جب حملہ آور اپنی قوم کے افراد ہوتے ہیں تو ہم ایک بار چونک اُٹھتے
‫امیر مصر ! جب ملک کے حاکم ملک کے دشمن ہوجائیں
‫قابل احترام
‫اور ُسن ہوجاتے ہیں کہ یا خدائے ذو الجالل یہ کیاہوا۔
‫ِ
‫ِ
‫تو آ پ کی تلوار نیام کے اندر تڑپتی رہے گی‪ ،باہر نہیں آئے گی''۔
‫آپ نے درست کہا الناصر!''…… سلطان ایوبی نے کہا……''میری تلوار نیام میں تڑپ رہی ہے۔ یہ اپنے حاکموں کے خالف''
‫باہر نہیں آنا چاہتی ۔میرے دل میں قوم کے حکمرانوں کا ہمیشہ احترام رہاہے ۔ملک کا حکمران قوم کی عظمت کا نشان
‫ہوتاہے ‪،قوم کے وقار کی عالمت ہوتاہے ‪،لیکن آپ سب غور کریں کہ ہمارے حکمرانوں میں کتنی کچھ عظمت اور کتنا کچھ
‫وقار رہ گیاہے۔میں صرف خلیفہ العاضد کی بات نہیں کررہا۔علی بن سفیان سے پوچھو ۔اس کا محکمہ موصل‪ ،حلب ‪ ،دمشق ‪،
‫مکہ اور مدینہ منورہ کی جو خبریں الیا ہے وہ یہ ہیں کہ خالفت کی تعیش پرستی کی وجہ سے جہاں جہاں کوئی امیرحاکم
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ ٹکڑوں میں بٹتی جارہی ہے۔خالفت اس قدر کمزور ہوگئی ہے کہ اس
‫مختار ک ُل بن گیا ہے۔
‫ہے‪ ،وہ وہاں کا
‫ِ
‫نے ا ُمرا اور حکام کو ذاتی سیاست بازیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کردیاہے۔ میں اس خطرے سے بے خبر نہیں کہ قوم
‫کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ہم جب یکجا کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ اور بکھرے گا۔ ہمارے سامنے پہاڑ کھڑے ہو جائیں
‫گے‪ ،لیکن میں گھبرائوں گا نہیں اور مجھے ا ُمید ہے کہ آپ بھی نہیں گھبرائیں گے۔ میں آپ کے مشوروں کا احترام کروں

‫گا‪،لیکن میں آئندہ خلیفہ کے بالوے پر صرف اس صورت میں جاوں گا ‪ ،جب کوئی ضروری کام ہوگا۔ فوری طور پر میں خطبے
‫سے خلیفہ کا نام اور ذکر نکلوارہاہوں''۔
‫سب نے سلطان ایوبی کے اس اقدام کی حمایت کی اور اسے اپنی پوری مدد اور ہرطرح کی قربانی دینے کا یقین دالیا۔ خلیفہ
‫العاضد اس وقت اپنے ایک خصوصی کمرے میں تھا ۔ جب قاصد نے اسے بتایا کہ صالح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ اگر کوئی
‫ضروری کام ہے تو میں آسکتاہوں‪،ورنہ میں بہت مصروف ہوں۔ خلیفہ آگ بگولہ ہوگیا۔اس نے قاصد سے کہا کہ رجب کو میرے
‫پاس بھیج دو۔ رجب اس کے حفاظتی دستے کا کمان دار تھا جس کا عہدہ نائب ساالر جتنا تھا۔ وہ مصر ی فوج کا افسر تھا۔
‫قصر خالفت اور خلیفہ کے حفاظتی دستوں میں ُچن ُچن کر
‫اسے خلیفہ کے باڈی گارڈز کی کمان دی گئی تھی۔ اس نے
‫ِ
‫سوڈانی حبشیوں کو رکھا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے مخالفین میں سے اور خلیفہ کے خوشامدیوں میں سے تھا۔
‫اُس وقت خلیفہ کے اس خصوصی کمرے میں ا ُ ِم عرارہ موجود تھی جب قاصد صالح الدین ایوبی کا جواب لے کے آیاتھا۔ اس
‫نے خلیفہ سے کہا……''صالح الدین ایوبی آپ کا نوکر ہے‪ ،آپ نے اسے سر پر چڑھا رکھاہے‪،آپ کیوں نہیں اسے معزول کردیتے
‫''ہیں ؟کیوں نہیں اپنے سپاہی بھیج کر اسے حراست میں یہاں بلوالیتے ؟
‫اس لیے کہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے''……خلیفہ نے غصے کے عالم میں کہا……''فوج اس کی کمان میں ہے ‪ ،وہ''
‫میرے خالف فوج استعمال کرسکتاہے''……اتنے میں رجب آگیا۔اس نے جھک کر فرشی سالم کیا۔ العاضد نے غصے سے کانپتی
‫ہوئی آواز میں اسے کہا……''میں پہلے ہی جانتاتھا کہ یہ کم بخت خود سر اور سرکش آدمی ہے……یہ صالح الدین ایوبی ……
‫میں نے اسے بالیا تو یہ کہہ کر آنے سے انکار کردیاہے کہ کوئی ضروری کام ہے تو آئوں گا‪ ،ورنہ آپ کا بالوا میرے لیے کوئی
‫معنی نہیں رکھتا ‪ ،کیونکہ میرے سامنے ضروری کام پڑے ہیں ''۔
‫غصے میں بولتے بولتے اسے ہچکی آئی ‪ ،پھر کھانسی ا ُٹھی اور اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا ۔اس کا رنگ زرد ہوگیا۔اس حالت
‫میں کمزور سی آواز میں کہا ……''بد بخت کو یہ بھی احساس نہیں کہ میں بیمار ہوں ۔میرا دل مجھے لے بیٹھے گا۔ میرے
‫لیے غصہ ٹھیک نہیں ۔مجھے اپنی صحت کا غم کھائے جارہاہے اور اسے اپنے کا موں کی پڑی ہے''۔
‫آپ نے اسے کیوں بالیا تھا؟''……رجب نے پوچھا ……''مجھے حکم دیجئے''۔''
‫میں نے اسے صرف اس لیے بالیا تھا کہ اسے احساس رہے کہ اس کے سر پر ایک حاکم بھی ہے''……خلیفہ نے ِدل پر ''
‫ہاتھ رکھے ہوئے کراہتی ہوئی آواز میں کہا……''تم ہی نے مجھے بتایا تھا کہ کہ صالح الدین خود مختار ہوتا جارہا ہے۔میں
‫اسے بار بار یہاں بالنا چاہتا ہوں‪،تاکہ اسے اپنے پاوں کے نیچے رکھوں ۔یہ ضروری اُم عرارہ نے شراب کا پیالہ اس کے ہونٹوں
‫سے لگا کر کہا……''آپ کو سوبار کہاہے کہ غصے میں نہ آجایا کریں۔آپ کے ِدل اور اعصاب کے لیے غصہ ٹھیک نہیں''……
‫اس نے سونے کی ایک ڈبیہ میں سے نسواری رنگ کے سفوف میں سے ذراسا خلیفہ کے منہ میں ڈاال اور پانی پالدیا۔ خلیفہ
‫نے اس کے بکھرے ہوئے ریشمی بالوں میں انگلیاں ا ُلجھا کر کہا……''اگر تم نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا۔ سب کو میری دولت اور
‫رتبے سے دلچسپی ہے ۔میری ایک بھی بیوی ایسی نہیں جسے میری ذات کے ساتھ دلچسپی ہو ۔ تم تو میرے لیے فرشتہ
‫…… ''ہو
‫خلیفة المسلمین ''!…… رجب نے کہا……''آپ بڑے ہی نرم دل اور نیک انسان ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صالح الدین ایوبی ''
‫نے یہ گستاخی کی ہے ۔ آپ نے یہ بھی فراموش کردیاہے کہ وہ عربی نسل سے نہیں۔ وہ آپ کی نسل سے نہیں۔ وہ
‫ک ُردہے‪ ،میں حیران ہوں کہ اسے اتنی بڑی حیثیت کس نے دے دی ہے‪ ،اگر اس میں کچھ خوبی ہے تو صرف یہ ہے کہ وہ
‫میدان جنگ کا استاد ہے ‪،لڑنا بھی جانتاہے اور لڑانا بھی جانتا ہے مگر یہ وصف اتنا اہم نہیں کہ اسے مصر
‫اچھا عسکری ہے۔
‫ِ
‫کی امارت سونپ دی جاتی ……ا ُس نے سوڈان کی اتنی بڑی اور اتنی تجربہ کار فوج یوں توڑ کر ختم کردی ہے‪،جس طرح بچہ
‫کوئی کھلونہ توڑدیتاہے ۔آپ ذرا غور فرمائیں کہ جب یہاں سوڈانی باشندوں کی فوج تھی‪ ،ناجی اور ادروش جیسے ساالر تھے
‫تو رعایا آپ کے کتوں کے آگے بھی سجدے کرتی تھی۔ سوڈانی لشکر کے ساالر آپ کی دہلیز پر حاضر رہتے تھے۔ اب یہ
‫حال ہے کہ آپ اپنے ایک ماتحت کو بالتے ہیں تو وہ آنے سے انکار کردیتا ہے''۔
‫رجب!'' خلیفہ نے اچانک گرج کر کہا…… ''تم ایک مجرم ہو''۔''
‫رجب کا رنگ پیال پڑگیا۔ا ُم عرارہ بدک کر العاضد سے الگ ہوگئی ۔العاضد نے اسے پھر بازو کے گھیرے میں لے کر اپنے ساتھ
‫لگالیا اور پیار سے بوال……''کیا میں نے تمہیں ڈرادیاہے؟میں رجب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آج دوسال بعد مجھے بتارہاہے
‫کہ ہماری پرانی فوج اور اسکے ساالر اچھے تھے اور صالح الدین ایوبی کی بنائی ہوئی فوج خالفت کے حق میں اچھی نہیں ۔
‫امیر مصر اپنی جڑیں مضبوط کر چکاہے ‪،مجھے
‫کیوں رجب! تم یہ بات پہلے بھی جانتے تھے؟چپ کیوں رہے؟اب جب کہ یہ
‫ِ
‫بتارہے ہوکہ وہ خالفت کا باغی اور سرکش ہے''۔
‫میں حضورکے عتاب سے ڈرتاتھا''……رجب نے کہا……'سلطان ایوبی کا انتخاب بغداد کی خالفت نے کیا تھا۔ یہ آپ کے ''
‫امیر مصر کی
‫مشورے سے ہی ہواہوگا۔ میں خالفت کے انتخاب کے خالف زبان کھولنے کی جرٔات نہیں کرسکتا تھا۔ آج
‫ِ
‫زیر اثر آپ کے دل کے دورے نے مجھے مجبور کردیاہے کہ زبان کھولوں۔ میں کب سے دیکھ رہاہوں کہ
‫گستاخی اور اس کے ِ
‫صالح الدین ایوبی کئی بار آپ کے حضور گستاخی کر چکاہے۔ میرا فرض ہے کہ آپ کو خطروں سے آگاہ کروں اور بچائوں ''۔
‫روز قیامت جب مجھے جنت میں بھیجیں گے تو میں خدا سے کہوں گا کہ مجھے کوئی حور نہیں چاہیے‪ ،مجھے ا ُ ِم ''……
‫ِ
‫عرارہ دے دو''۔
‫ا ُ ِم عرارہ صرف حسین ہی نہیں ''……رجب نے کہا……''یہ بہت ہوشیار اور ذہین بھی ہے۔حضور کا حرم سازشوں کا گھر ''
‫بناہوا تھا۔ اس نے آکر سب کو لگام ڈال دی ہے۔اب کسی کی جرٔا ت نہیں کہ کوئی عورت کسی عورت کے خالف یا کوئی
‫قصر خالفت میں ذراسی بھی گڑ بڑکرے''۔
‫اہل کار
‫ِ
‫جب صالح الدین ایوبی کے متعلق بات کررہے تھے''…… ا ُ ّم عرارہ نے کہا۔''ان کی باتیں غور سے سنیں اور صالح الدین ''
‫ایوبی کو لگام ڈالیں ''۔
‫تم کیا کہہ رہے تھے رجب!'' ……خلیفہ نے پوچھا ۔''
‫امیر مصر کے خالف کوئی بات خالفت کو گوارہ نہ ''
‫میں یہ عرض کررہاتھا کہ میں نے اس ڈر سے زبان بندرکھی کہ
‫ِ
‫ہوگی''……رجب نے کہا……''صالح الدین ایوبی قابل ساالر ہوسکتاہے ''۔
‫میدان جنگ میں وہ اسالم کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیتا''خلیفہ نے کہا ''
‫مجھے اس کا صرف یہی وصف پسند ہے کہ
‫ِ
‫ِ
‫میدان جنگ میں قائم رکھیں''۔
‫خالفت اسالمیہ کا وقار
‫……''ہمیں سلطان ایوبی جیسے ہی ساالروں کی ضرورت ہے جو
‫ِ
‫میں گستاخی کی معافی چاہتاہوں خلیفة المسلمین !''…… رجب نے کہا……''خالفت نے ہمیں میدان ِ جنگ میں نہیں آزمایا''

‫ِ
‫خالفت اسالمیہ کے وقار کے لیے نہیں لڑتا‪ ،بلکہ اپنے
‫۔ صالح الدین ایوبی کے متعلق میں یہ کہنے کی جرٔات کروں گا کہ وہ
‫وقار کے لیے لڑتا ہے ۔آپ فوج کے ساالر سے ہی پوچھ لیں۔ صالح الدین ایوبی انہیں یہ سبق دیتا رہتاہے کہ وہ ایسی
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کے قیام کے لیے لڑیں‪ ،جس کی سرحدیں المحدودہوں۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ ایسی سلطنت کے خواب دیکھ
‫رہاہے‪،جس کا بادشاہ وہ خود ہوگا۔نور الدین زنگی اس کی پشت پناہی کرہاہے ۔اس نے صالح الدین ایوبی کے ہاتھ مضبوط کرنے
‫کے لیے دوہزار سواروں اور اتنے ہی پیادہ عسکریوں کی فوج بھیجی تھی۔ کیا اس نے خلیفٔہ بغداد کی اجازت سے یہ فوج
‫بھیجی تھی؟کیا خالفت کا کوئی ایلچی آپ سے مشورہ لینے آیاتھا کہ مصر میں فوج کی ضرورت ہے یا نہیں ؟جو کچھ ہوا
‫خالفت سے باالتر ہوا''۔
‫تم ٹھیک کہتے ہو''……خلیفہ نے کہا……''مجھ سے نہیں پوچھا گیا تھا اور مجھے خیال آیاہے کہ اُدھر سے آئی ہوئی اتنی''
‫زیادہ کمک واپس نہیں بھیجی گئی''۔
‫واپس اس لیے نہیں بھیجی گئی کہ یہ کمک مصر پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی اور اسی لیے یہاں رکھی''
‫گئی ہے''……رجب نے کہا……''مصر کی پرانی فوج کے سپاہیوں کو کسان اور بھکاری بنانے کے لیے یہ کمک آئی تھی۔ ناجی‪،
‫ادروش ‪ ،کاکیش ‪،عبدیزدان‪ ،ابی آذر اور ا ُن جیسے آٹھ اور ساالر کہاں ہیں؟حضور نے کبھی سوچانہیں ۔ان سب کو صالح الدین
‫ایوبی نے خفیہ طور پر قتل کرادیاتھا۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ صالح الدین ایوبی سے زیادہ قابل ساالر تھے۔یہ قتل کس
‫کی گردن پر ہے؟صالح الدین ایوبی نے حاکموں کی مجلس میں کہاتھا کہ خلیفٔہ مصر نے ان سب کو غداری اور بغاوت کے
‫جرم میں سزائے موت دے دی ہے''۔
‫جھوٹ ''……خلیفہ نے بھڑک کر کہا……''سفید جھوٹ ۔مجھے صالح الدین ایوبی نے بتایاتھا کہ یہ سب غدا ر ہیں ۔میں ''
‫نے اسے کہاتھا کہ گواہ الو اور مقدمہ چالو۔
‫اس نے مقدمہ چالئے بغیر وہ فیصلہ خود کیا جو خالفت کی ُمہر کے بغیر بے کار ہوتاہے ''……رجب نے کہا……''ان بد ''
‫قسمت ساالروں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے صلیبی بادشاہ سے رابطہ قائم کیاتھا۔ان کا مقصد کچھ اور تھا ‪ ،وہ یہ تھا کہ
‫صلیبیوں سے بات چیت کرکے جنگ و جدل ختم کیا جائے اور ہم اپنے ملک اور رعایا کی خوشحالی اور فالح و بہبود کی
‫طرف توجہ دے سکیں ۔ آپ شاید تسلیم نہ کریں‪ ،مگر یہ حقیقت ہے کہ صلیبی ہمیں اپنا دشمن نہیں سمجھتے ۔ وہ ہمارے
‫خالف جنگی طاقت صرف اس لیے تیار رکھتے ہیں کہ نور الدین زنگی اور شیر کوہ جیسے مسلمانوں سے انہیں حملے کا خطرہ
‫رہتاہے ۔ شیر کوہ مرگیا تو صالح الدین ایوبی کو اپنی جگہ چھوڑ گیا۔ یہ شخص شیر کوہ کا پروردہ ہے۔اس نے ساری عمر
‫عیسائی قوم سے لڑتے اور اسالم کے دشمن پیدا کرتے اور دشمنوں میں اضافہ کرتے گزاری ہے۔ اگرصالح الدین ایوبی کی جگہ
‫مصر کا امیر کسی اور کو مقرر کیاجاتا تو آج عیسائی بادشاہ آپ کے دربار میں دوستوں کی طرح آتے‪،قتل و غارت نہ ہوتی‪،
‫اتنے پرانے اور تجربہ کار ساالر قتل ہوکر گمنام نہ ہوجاتے ''۔
‫''مگر رجب!'' …… خلیفہ نے کہا……'' صلیبیوں نے بحیرٔہ روم سے حملہ جو کیا تھا ؟ ''
‫صالح الدین ایوبی نے ایسے حاالت پیداکیے تھے کہ صلیبی اپنے دفاع کے لیے حملے میں پہل کرنے پر مجبور ''
‫ہوگئے''…… رجب نے کہا……''صالح الدین ایوبی کو معلوم تھا کہ حملہ آرہاہے‪،کیونکہ حاالت اسی نے پیدا کیے تھے۔اس لیے
‫اس نے حملہ روکنے یعنی دفاع کا انتظام پہلے ہی کررکھاتھا۔ یہ شخص فرشتہ تو نہیں تھا کہ اسے غیب کا حال معلوم
‫ہوگیاتھا۔ اس نے ایک ایسا ناٹک کھیالتھا جس میں ہزار ہا بچے یتیم اور ہزار ہا عورتیں بیوہ ہوگئیں۔اس پر آپ نے اسے
‫خراج تحسین پیش کیا۔پھر اس نے سوڈانی فوج کو جو آپ کی وفادار تھی‪،جنگی مشق کے بہانے رات کو
‫میری موجود گی میں
‫ِ
‫باہر نکاال اور اندھیرے میں اس پر اپنی نئی فوج سے حملہ کردیا۔مشہور یہ کیا کہ ناجی کی فوج نے بغاوت کردی تھی۔اس پر
‫خراج تحسین پیش کیا ۔آپ اتنے سادہ ِدل اور مخلص ہیں کہ آپ اس چال اور اس دھوکے کو سمجھ نہ
‫بھی آپ نے اسے
‫ِ
‫سکے''۔
‫اس دوران ا ُ ِم عرارہ جو عرب کے حسن کا شاہکار تھی ۔خلیفہ العاضدکے ساتھ ''بڑی معصومیت'' شراب پالتی رہی کہ
‫العاضد پر شراب کا نشہ ُد گناہوگیا۔ اس کی ذہنی کیفیت اس لڑکی کے قبضے میں تھی ۔رجب کی باتیں اور دلیلیں اُس کے
‫دماغ میں اُترتی جارہی تھیں۔اُس کی زیادہ تر توجہ ا ُ ِم عرارہ پر مرکوز تھی۔ رجب کی باتیں تو وہ ضمنی طور پر ُسن رہاتھا۔
‫رجب نے صالح الدین ایوبی پر ایک انتہائی بے ہودہ وار کیا ۔ اس نے کہا……''اُس نے ایک اور فریب کاری شروع کررکھی
‫ہے۔کسی خوب صورت اور جوان لڑکی کو پکڑ کر اس کی آبرو ریزی کرتاہے اور چند دن عیش کرکے اسے یہ کہہ کر مروادیتا
‫ہے کہ یہ جاسوس ہے۔عیسائیوں کے خالف قوم میں نفرت پیدا کرنے کے لیے اس نے فوج اور عوام میں یہ مشہور کر رکھاہے
‫کہ صلیبی اپنی لڑکیوں کو مصر میں جاسوسی کے لیے بھیجتے ہیں اور وہ بدکار عورتوں کو بھی یہاں بھیجتے ہیں جو قوم کا
‫اخالق تباہ کرتی ہیں۔میں اسی ملک کا باشندہ ہوں۔یہاں جتنے قحبہ خانے ہیں‪،وہاں مصری اور سوڈانی عورتیں ہیں‪ ،اگر کوئی
‫عیسائی عورت ہے تو وہ کسی کی جاسوس نہیں ‪،یہ اس کا پیشہ ہے''۔
‫مجھے حرم کی تین چار لڑکیوں نے بتایا ہے کہ سلطان ایوبی نے انہیں اپنے گھر بالیا اور خراب کیاتھا''…ا ُ ِم عرارہ نے ''
‫کہا۔
‫خلیفہ بھڑک ا ُٹھا اور کہا……''میرے حرم کی لڑکیاں ؟تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا''۔
‫اس لیے کہ آپ کی بیماری میں یہ خبر آپ کے لیے اچھی نہیں تھی''……ا ُ ِم عرارہ نے کہا……''اب بھی یہ بات میرے ''
‫منہ سے بے اختیار نکل گئی ہے۔ میں نے ایسا انتظام کردیاہے کہ اب کوئی لڑکی کسی کے بالنے پر باہر نہیں جاسکتی''۔
‫میں ا ُ سے ابھی بالکر ُد ّر ے لگوائوں گا''…… خلیفہ نے کہا……''میں انتقام لوں گا''۔''
‫انتقام لینے کے طریقے اور بھی ہیں ''……رجب نے کہا……''اس وقت عوام صالح الدین ایوبی کے ساتھ ہیں ۔یہ لوگ آپ ''
‫کے خالف ہوجائیں گے''۔
‫تو کیا میں اپنی یہ توہین برداشت کرلوں ؟''……خلیفہ نے کہا۔''
‫نہیں ''…… رجب نے کہا……''اگر آپ مجھے اجازت دیں اور میری مدد کریں تو میں صالح الدین ایوبی کو اسی طرح غائب''
‫کردوں گا جس طرح اس نے مصر کی پرانی فوج کے ساالروں کو گ ُم کردیاہے''۔
‫تم یہ کام کس طرح کروگے ؟''……خلیفہ نے پوچھا۔''
‫حشیشین یہ کام کردکھائیں گے '' ……رجب نے کہا……''وہ رقم بہت زیادہ طلب کرتے ہیں ''۔''
‫رقم کا مطالبہ جس قدر ہوگا‪ ،وہ میں دوں گا''……خلیفہ نے کہا……''تم انتظام کرو''۔''
‫عیس ی الہکاری فقہیہ نے کہہ دیا تھا کہ خطبے میں خلیفہ کانام نہ
‫دو روزبعد جمعہ تھا۔قاہرہ کی جامعہ مسجد کے خطیب کو
‫ٰ

‫لیا جائے ۔ یہ خطیب تُ رک تھے‪ ،جن کاپورا نام تاریخ میں محفوظ نہیں ۔وہ امیر العالم کے نام سے مشہور تھے ۔اس دور کے
‫دستاویزی ثبوت ایسے بھی ملے ہیں جن کے مطابق خطیب امیر العالم نے کئی بار اس بدعت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار
‫کیا تھا اوریہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ خلیفہ کا نام خطبے سے حذف کیاگیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ صالح الدین
‫عیسی
‫ایوبی کو امیر العالم نے ہی مشورہ دیا تھا کہ اس بدعت کے خاتمے کے احکام جاری کریں اور دو وقارنگار اس کا سہرا
‫ٰ
‫عیسی الہکاری فقہیہ کے
‫الہکاری فقہیہ کے سر باندھتے ہیں ۔ہوسکتاہے یہ منصوبہ خطیب امیر العالم اور مذہبی امور کے مشیر
‫ٰ
‫ِ
‫پیش نظر بھی ہو‪ ،لیکن صالح الدین ایوبی کی گفتگو کی جو دستاویر ات مل سکی ہیں‪،اُن سے پتہ چلتاہے کہ یہ دلیرانہ اقدام
‫سلطان ایوبی کا ہی تھا۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ اُس وقت سچے مسلمان موجود تھے۔
‫خطیب امیر العالم نے خطبے میں خلیفہ کانام نہ لیا۔ جامع مسجد میں صالح الدین ایو بی درمیانی صفوں میں موجود تھا۔علی
‫بن سفیان اس سے تھوڑی ُد ور کسی صف میں بیٹھا تھا۔سلطان ایوبی کے متعدد دیگر مشیر اور معتمد بکھر کر عوام میں بیٹھے
‫تھے تاکہ ان کا رد عمل بھانپ سکیں ۔علی بن سفیان کے مخبروں کی بہت بڑی تعداد مسجد میں موجود تھی۔ خلیفہ کانام
‫خطبے میں سے غائب کرنا ایک سنگین اقدام نہیں ‪،بلکہ خالفت کے احکام کے مطابق سنگین جرم تھا ۔اس کا ارتکاب
‫کردیاگیا۔ سربراہوں میں سے اگر کوئی مسجد میں نہیں تھا تو وہ خلیفہ العاضد تھا۔
‫نماز کے بعد سلطان ایوبی ا ُٹھا ۔ خطیب کے پاس گیا۔ ان سے مصافحہ کیا ۔ان کے چغے کا بوسہ لیا اور کہا……''اللہ آپ کا
‫حامی و ناصر ہے''۔ خطیب امیر العالم نے جواب دیا……''یہ حکم صادر فرماکر آپ نے جنت میں گھر بنالیا ہے''……واپس
‫چند قدم چل کر سلطان ایوبی ُر ک گیا اور خطیب کے قریب جاکر کہا……''اگر آپ کو خلیفہ کا بالوا آجائے تو اس کے پاس
‫جانے کے بجائے میرے پاس آجانا۔ میں آپ کے ساتھ چلوں گا''۔
‫امیر مصر گستاخی نہ سمجھیں ''……امیر العالم نے کہا……''تو عرض کروں کہ باطل اور شرک کے خالف عمل اور حق ''
‫اگر
‫ِ
‫گوئی اگر جرم ہے تو اس کی سزامیں اکیال بھگتوں گا۔میں آپ کا سہارا نہیں ڈھونڈوں گا۔ خلیفہ نے بالیا تو اکیال جاوں گا۔
‫میں نے خلیفہ کے نام کو آپ کے حکم سے نہیں ‪ ،خدا کے حکم سے حذف کیا ہے ۔ میں آپ کو مبارک باد پیش کرتاہوں
‫''۔
‫شام کے بعد صالح الدین ایوبی علی بن سفیان ‪ ،بہاوالدین شداد اور چند ایک اور مشیروں سے دن کی رپورٹ لے رہاتھا۔
‫سارے شہر میں شہریوں کے بھیس میں مخبر اور جاسوس پھیالدئیے گئے تھے ‪،جنہوں نے لوگوں کی رائے معلوم کر لی تھی ۔
‫علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ کہیں سے بھی اسے ایسی اطالع نہیں ملی ‪،جہاں کسی نے یہ کہا ہو کہ خطبے
‫میں خلیفہ کانام نہیں لیاگیا تھا۔علی بن سفیان کے بعض آدمیوں نے دو تین جگہوں پر یہ بھی کہا کہ جامع مسجد کے خطیب
‫نے آج خطبے میں خلیفہ کانام نہیں لیا تھا‪ ،یہ اُس نے بہت بُرا کیا ہے ۔اس پر کچھ آدمی اس طرح حیران ہوئے جیسے انہیں
‫معلوم ہی نہیں کہ خطبے میں خلیفہ کانام لیاگیا تھا یا نہیں ۔ ان میں سے چار پانچ نے اس قسم کے خیاالت کا اظہار کیا کہ
‫اس سے کیا فرق پڑ تا ہے ۔خلیفہ خدایا پیغمبر تو نہیں ۔ ان اطالعات سے سلطان ایوبی کو اطمینان ہوگیا کہ عوام کے جس
‫ردعمل سے اسے ڈرایاگیا تھا‪ ،اس کا کہیں بھی اظہار نہیں ہوا۔
‫ِّ
‫صالح الدین ایوبی نے اسی وقت سلطان نو رالدین زنگی کے نام پیغام لکھا ‪ ،جس میں اسے اطالع دی کہ اس نے جمعے کے
‫ہواہے۔لہذا آپ بھی مرکزی خالفت کو
‫رد عمل کا اظہار
‫خطبے میں سے خلیفہ کانام نکلوادیا ہے۔عوام کی طرف سے اچھے ِ ّ
‫ٰ
‫خطبے سے خارج کردیں ۔ اب ل ُِب لباب کا طویل پیغام لکھ کر اُس نے حکم دیا کہ قاصد کو علی الصبح روانہ کردیاجائے جو
‫یہ پیغام نور الدین زنگی کو دے کر واپس آجائے ۔اس کے بعد اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ خلیفہ کے محل میں
‫جاسوسوں کو چوکنا کردیاجائے۔وہاں ذراسی بھی مشکوک حرکت ہوتو فورا ً اطالع دیں ۔رجب کو سلطان ایوبی جانتاتھا۔ اسے یہ
‫بھی معلوم تھا کہ رجب خلیفہ کا منہ چڑھانائب ساالر ہے ۔سلطان ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا……''رجب کے ساتھ ایک
‫آدمی سائے کی طرح لگا رہنا چاہیے ''۔
‫ا ُس رات خلیفہ کی محفل عیش و طرب میں رجب نہیں تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے قتل کا انتظام کرنے چالگیا تھا۔ اسے حسن
‫بن صباح کے حشیشین سے ملنا تھا۔ خلیفہ روز مرہ کی طرح باہر کی ُدنیا سے بے خبر اور ا ُ ِم عرارہ کے طلسماتی حسن اور
‫ناز و ادا میں گم تھا۔ اسے کسی نے بتایا ہی نہیں تھا کہ خطبے میں سے اس کا نام حذف ہوچکا ہے ۔وہ خوش تھاکہ صالح
‫الدین ایوبی کے قتل کا انتظام ہونے واال ہے ۔ ا ُ ِم عرارہ نے اسے جلدی سال نے اور بے ہوش کرنے کے لیے زیادہ شراب
‫پالدی اور شراب میں خواب آور سفوف بھی مالدیا ۔ اس بوڑھے سے جلدی چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے وہ یہی نسخہ
‫استعمال کیا کرتی تھی۔ا ُسے سال کر اور قندیلیں بجھاکر وہ کمرے سے نکل گئی ۔وہ اپنے مخصوص کمرے کی طرف جارہی تھی
‫جس میں رجب رات کو چوری چھپے اس کے پاس آیا کر تا تھا
19:16
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪23۔ "ام عرارہ کا اغواہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫رجب رات کو چوری چھپے اس کے پاس آیا کرتاتھا۔
‫وہ کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ دروازے کے پیچھے سے کسی نے اس پر کمبل پھینکا ۔اس کی آواز بھی نہ نکلنے پائی
‫تھی کہ اس کے منہ پر جہاں پہلے ہی کمبل لپٹ گیاتھا‪ ،ایک اور کپڑا باندھ دیاگیا ۔ اسے کسی نے کندھوں پر ڈال لیا اور
‫کمرے سے نکل گیا۔ یہ دو آدمی تھے ۔وہ محل کی بھول بھلیوں اور چور راستوں سے واقف معلوم ہوتے تھے ۔ وہ اندھیری
‫سیڑھیوں پرچڑھ گئے ۔اوپر سے انہوں نے رسہ باندھ کر نیچے لٹکا یا۔ لڑکی کو کندھوں پر ڈالے ہوئے وہ آدمی رسے سے نیچے
‫اُتر گئے ۔اس کے پیچھے دوسرا ا ُترا اور دونوں اندھیرے میں غائب ہوگئے ۔ کچھ دور چار گھوڑے کھڑے تھے اور ان کے پاس
‫دوآدمی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اندھیرے میں آتے دیکھا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ایک نے کندھے پر کچھ
‫ا ُٹھا رکھاہے۔وہ گھوڑوں کو آگے لے گئے ۔سب گھوڑوں پر سوار ہوگئے ایک سوار نے لڑکی کو اپنے آگے ڈال لیا۔ ان میں سے
‫کسی نے کہا……''گھوڑوں کو ابھی دوڑانا نہیں ۔ٹاپوں سے سارے شہر کو جگادیں گے''……گھوڑے آہستہ آہستہ چلتے گئے اور
‫شہر سے نکل گئے ۔
‫یہ صالح الدین ایوبی کاکام ہے''۔''
‫امیر مصر کے سو ا ایسی جرٔات اور کوئی نہیں کرسکتا''۔''
‫ِ
‫اس کے سوا اور ہو ہی کون سکتا ہے''۔''

‫قصر خالفت میں یہی شور و غوغا بپاتھا کہ ا ُ ِّم عرارہ کو صالح الدین ایوبی نے اغوا کرایا ہے۔ رجب واپس آگیا تھا۔ محل کے
‫ِ
‫کونے کونے کی تالشی لی جاچکی تھی۔ محافظ دستہ کمان داروں کے عتاب کا نشانہ بناہواتھا۔ خود کمان دار بھی سپاہیوں کی
‫طرح تھر تھر کانپ رہے تھے۔ ایک لڑکی کا اغوا معمولی واردات نہیں تھی اور لڑکی بھی ایسی جسے خلیفہ حرم کا ہیرا
‫رسہ لٹک رہاتھا۔ زمین پر پاوں کے نشان تھے ۔ جو تھوڑی ُدور جا کر گھوڑوں کے
‫سمجھتاتھا ۔ محل کے پچھواڑے سے ایک ّ
‫رسے سے اُتارا گیا ہے ۔ اس شک کا اظہار بھی کیاگیا
‫کو
‫لڑکی
‫کہ
‫گیاتھا
‫مل
‫ثبوت
‫نشانات میں ختم ہوگئے تھے ۔ان سے یہ
‫ّ
‫کہ لڑکی اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ گئی ہے۔خلیفہ نے اس شک کو مسترد کردیاتھا ۔ وہ کہتاتھا کہ ا ُ ِّم عرارہ اس پر جان
‫چھڑکتی تھی۔
‫قصر خالفت میں ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ ہیں''
‫یہ صالح الدین ایوبی کاکام ہے ''……رجب نے العاضد سے کہا……''
‫ِ
‫کہ اس کے سوا اور کوئی بھی ایسی جرٔات نہیں کرسکتا''۔
‫ہر کسی کے کانوں میں یہ الفاظ رجب نے ہی ڈالے تھے۔اسے جونہی ا ُ ِّم عرارہ کی گمشدگی کی اطالع ملی تھی‪ ،اس نے
‫سارے محل میں گھوم پھر کر ہر کسی سے لڑکی کے متعلق پوچھا اور ہر کسی سے کہاتھا……''یہ سلطان ایوبی کاکام ہے
‫ادنی مالزم تک انہی الفاظ کو دہرائے چلے جارہے تھے اور رجب یہ الفاظ خلیفہ العاضد
‫اعلی حاکم سے
‫قصر صدارت کے
‫''…… ِ
‫ٰ
‫ٰ
‫کے کانوں میں پڑے تو ا ُس نے ذرہ بھر سوچنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ یہ الزام بے بنیاد ہوسکتاہے ۔اس کے کانوں میں یہ
‫تو پہلے ہی ڈاال جاچکاتھا کہ سلطان ایوبی عورتوں کا شیدائی ہے۔ ا ُ ِّم عرارہ نے اسے یہ بتایاتھا کہ صالح الدین ایوبی حرم کی
‫امیر مصر کے پاس جاو اور
‫چار لڑکیوں کو خراب کر چکاہے۔خلیفہ نے اسی وقت اپنے خصوصی قاصد کو بالیا اور اُسے کہا کہ
‫ِ
‫اسے کہوکہ پردے میں لڑکی واپس کردو‪،میں کوئی کاروائ نہیں کرونگا
‫جس وقت خلیفٔہ قاصد کو یہ پیغام دے رہاتھا‪ ،اس وقت قاہرہ سے دس بارہ میل ُدور تین شتر سوار قاہرہ کی طرف خراماں
‫خراماں آرہے تھے ۔ وہ مصرکی فوج کے گشتی سنتری تھے۔مصر کے سیاسی حاالت چونکہ اچھے نہیں تھے۔جاسوسوں اور
‫تخریب کاروں کی سرگرمیاں ُر کنے کی بجائے بڑھتی جارہی تھیں ۔سلطان ایوبی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ملک میں غداری
‫اور بغاوت کی چنگاریاں بھی سلگ رہی ہیں ۔ اُس سوڈانی فوج کی طرف سے جسے اُس نے بر طرف کردیاتھا‪ ،خطرہ پوری
‫طرح ٹالنہیں تھا۔ اس فوج کے کمان دار ‪ ،عہدے دار اور سپاہی تجربہ کار عسکری تھے۔کسی بھی وقت ملک کے لیے خطرہ
‫بن سکتے تھے ۔ سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ سلطان ایوبی کے مخالفین نے صلیبیوں سے دوستانہ کر رکھاتھا۔ان کے
‫جاسوسوں کو وہ پناہ ‪ ،اڈہ اور مدد مہیا کرتے تھے ۔ان خطرات کے ِ
‫پیش نظر دار الحکومت سے بہت ُدور ُدور اور ہر طرف
‫فوج کے چند ایک دستے رکھے گئے تھے۔ان کے گشتی سنتری دن رات صحرائوں اور ٹیلوں ٹیکریوں کے عالقوں میں گھوڑوں اور
‫اونٹوں پر گشت کرتے رہتے تھے ‪،تاکہ آنے والے خطرے کی اطالع قبل ازوقت دی جاسکے۔
‫وہ تین شتر سوار انہی دستوں کے گشتی سنتری تھے جو اپنی ذمہ داری کے عالقے میں گشت کرکے واپس آرہے تھے۔آگے مٹی
‫اور پتھروں کی پہاڑیوں اور چٹانوں کا وسیع عالقہ تھا۔وہ ایک وادی میں سے گزررہے تھے ‪،انہیں کسی عورت کی آہ و زار
‫سنائی دی۔ مردانہ آوازیں بھی سنائی دیں ۔ان سے صاف پتہ چلتاتھا کہ لڑکی پر زبردستی کی جارہی ہے۔ ایک شتر سوار اُترا
‫اور اس چٹان پر چڑھ گیا ‪ ،جس کی دوسری طرف آوازیں آرہی تھی اس نے چھپ کر دیکھا‪،اُدھر چار گھوڑے کھڑے تھے اور
‫چار آدمی بھی تھے۔ چاروں سوڈانی حبشی تھے……ایک بڑی ہی خوب صورت لڑکی تھی‪ ،جو دوڑی جارہی تھی۔ ایک حبشی نے
‫اسے پکڑلیا اور اسے بازوں میں دبوچ کر اُٹھا لیا اور ا ُسے اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑا کرکے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل
‫ہوگیا۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کرکہا''تم مقدس لڑکی ہو۔اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر ہمیں گناہ گار نہ کرو۔
‫دیوتاوں کا قہر ہمیں جال ڈالے گا یا ہمیں پتھر بنادے گا''۔
‫میں مسلمان ہوں''……لڑکی نے چال کر کہا……''تمہارے دیوتائوں پر لعنت بھیجتی ہوں‪ ،مجھے چھوڑ دو ورنہ میں تم سب ''
‫کو خلیفہ کے کتوں سے بوٹی بوٹی کرادوں گی''۔
‫تم اب خلیفہ کی ملکیت نہیں ''……ایک حبشی نے اسے کہا……''اب تم اس دیوتا کی ملکیت ہو جس کے ہاتھ میں ''
‫آسمان کی بجلیوں کا قہر‪ ،ناگوں کا زہر اور شیروں کی طاقت ہے ۔اس نے تمہیں پسند کرلیاہے۔ اب جوکوئی تمہیں اس سے
‫چھیننے کی کوشش کرے گا‪ ،اسے صحرا کی ریت جال کر راکھ کردے گی''۔
‫ایک حبشی نے دوسرے سے کہا……''میں نے تمہیں کہاتھا کہ یہاں نہ رکو‪ ،مگر تم آرام کرنا چاہتے تھے۔ اسے بندھا ہوا چلے
‫چلتے اور شام سے پہلے پہلے منزل پر پہنچ جاتے''۔
‫کیا ہمارے گھوڑے تھک نہیں گئے تھے؟''……حبشی نے جواب دیا……''ہم ساری رات کے جاگے ہوئے نہیں تھے؟اسے پھر ''
‫باندھ لو اور چلو''۔
‫اس نے لڑکی کو دبوچ لیا۔اچانک اس کی پیٹھ میں ایک تیر اُتر گیا۔اُس کی گرفت لڑکی سے ڈھیلی ہوگئی ۔لڑکی اُسے دھکادے
‫کر بھاگنے لگی تو دوسرے آدمی نے اسے پکڑ کر گھسیٹا اور گھوڑوں کی اوٹ میں ہوگیا۔ ایک اور تیر آیا جو ایک آدمی کی
‫گردن میں لگا۔ وہ آدمی بُ ری طرح تڑپنے لگا‪،جس آدمی نے لڑکی کو پکڑا تھا‪ ،و ہ گھوڑے کی باگ پکڑ کر لڑکی اور گھوڑے کو
‫نشیبی جگہ لے گیا‪ ،جو بالکل قریب تھی۔ایک حبشی اور بھی رہ گیاتھا‪ ،وہ بھی دوڑ کر نشیب میں اُترگیا……یہ تیر اُس شتر
‫سوار سنتری نے چالئے تھے جو چٹان پر چڑھ گیا تھا ۔اس نے بعد میں جو بیان دیا‪ ،اس میں اس نے کہاتھا کہ وہ دیوتائوں
‫کے نام سے ڈر گیا تھا‪ ،لیکن لڑکی نے جب یہ کہا کہ میں مسلمان ہوں اور میں دیوتائوں پر لعنت بھیجتی ہوں تو سنتری کا
‫ایمان بیدار ہوگیا۔ لڑکی نے جب خلیفہ کانام لیا تو سنتری سمجھ گیا کہ یہ حرم کی لڑکی ہے۔اس کالباس ‪ ،اس کی شکل و
‫صورت اور اس کی ڈیل ڈول بتارہی تھی کہ یہ معمولی درجے کی لڑکی نہیں ‪،اسے اغوا کیا جارہاہے اور اسے سوڈان میں لے
‫جاکر فروخت کیاجائے گا۔ سنتری کو یہ معلوم تھا کہ تھوڑے دنوں بعد سوڈانی حبشیوں کا ایک میلہ لگنے واال ہے ‪،جس میں
‫لڑکیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
‫فوج کو سلطان ایوبی نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ عورت کی عزت کی حفاظت کی جائے گی ۔ایک عورت کی عزت کو
‫بچانے کے لیے ایک درجن آدمیوں کے قتل کی بھی اجازت تھی۔ سنتری نے یہ ساری باتیں سامنے رکھ کر فیصلہ کرلیا کہ اس
‫لڑکی کو بچانا ہے۔اس نے دو تیر چالئے اور دو حبشی مار ڈالے ۔اس نے غلطی یہ کی کہ باقی دو حبشیوں کو پکڑنے کے لیے
‫نیچے ا ُتر آیا۔اپنے اونٹ پر سوار ہوا‪ ،اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ بردہ فروشوں کا تعاقب کرنا ہے۔وہ تینوں اونٹوں کو دوڑاتے
‫دوسری طرف گئے مگر انہیں چٹان کا چکر کاٹ کر جانا پڑا۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اونٹ گھوڑے کا تعاقب کر سکتاہے
‫یا نہیں۔ان تینوں میں سے تیر کمان صرف اسی سنتری کے پاس تھا ۔باقی دو کے پاس برچھیا ں اور تلواریں تھیں ۔
‫وہ اس جگہ پہنچے جہاں لڑکی اور حبشیوں کو دیکھا گیا تھا تو وہاں دو الشوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ سوڈانی حبشی لڑکی

‫کو بھی لے گئے اور اپنے مرے ہوئے ساتھیوں کے گھوڑوں کو بھی ۔شتر سواروں نے تعاقب میں اونٹ دوڑائے لیکن وہ ٹیلوں
‫اور چٹانوں کا عالقہ تھا۔راستہ گھومتا اور مڑتا تھا۔ انہیں بھاگئے گھوڑوں کے ٹاپ سنائی دے رہے تھے جو دورہوتے گئے اور
‫خاموش ہوگئے ۔شتر سواروں نے دونوں الشیں اونٹوں پر الدیں اور واپس آگئے ۔انہیں معلوم تھا کہ یہ الشیں کس کی ہیں۔یہ عام
‫قسم کے بردہ فروشوں کی بھی ہوسکتی تھیں‪،انہیں ا ُٹھا النا ضروری نہ تھا‪،لیکن لڑکی خلیفہ کی معلوم ہوتی تھی۔ اس لیے
‫‪.الشیں ا ُٹھانا ضروری سمجھا گیا تا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ اغو ا کرنے والے کون ہیں
‫صالح الدین ایوبی پریشانی اور غصے کے عالم میں ٹہل رہاتھا۔کمرے میں اس کے مشیر اور معتمد بیٹھے تھے۔یہ اس کے
‫دوست بھی تھے ۔وہ سرجھکائے بیٹھے تھے۔ سلطان ایوبی اپنے آپ کو ہمیشہ قابو میں رکھتاتھا۔ وہ کبھی جذباتی نہیں
‫ہواتھا‪،وہ غصہ پی جایا کرتاتھا اور ذہن کو پوری طرح قابو میں رکھ کر سوچا اور فیصلہ کیا کرتاتھا۔ایسے حاالت نے بھی اسے
‫آزمایاتھا‪ ،جن میں جابر جنگجو بھی ہتھیار ڈال دیا کرتے تھے ۔ وہ محاصروں میں بھی لڑا تھا اور اس حال میں بھی محاصرے
‫میں رہاتھا کہ اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے ‪،قلعے میں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہ رہاتھااور سپاہیوں کے
‫ترکش بھی خالی ہوگئے تھے۔ اس کے سپاہی اس انتظار میں تھے کہ وہ ہتھیار ڈال کر انہیں اس اذیت اور موت سے بچالے
‫گا‪ ،لیکن سلطان ایوبی نے صرف اپنا حوصلہ ہی مضبوط نہ رکھابلکہ سپاہیوں میں بھی نئی روح پھونک دی ‪ ،مگر اس روز
‫سلطان ایوبی کو اپنے اوپر قابو نہیں رہاتھا‪ ،چہرے پر غصہ بھی تھا اور گھبراہٹ بھی ۔ یہی وجہ تھی کہ سب خاموش بیٹھے
‫تھے ۔
‫آج پہلی بار میرا دماغ میرا ساتھ چھوڑ گیا ہے ''…… اس نے کہا۔''
‫کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ خلیفہ کے اس پیغام کو نظر انداز کردیں ؟''…… اس کے نائب ساالر الناصر نے کہا۔''
‫میں اسی کوشش میں مصروف ہوں ''……سلطان ایوبی نے کہا……''لیکن الزام کی نوعیت دیکھو جو مجھ پر عائد ''
‫کیاگیاہے ۔ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغوا کروائی ہے۔ استغفر اللہ ۔اللہ مجھے معاف کرے۔اس نے میری توہین میں
‫کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔پیغام بلکہ دھمکی قاصد کی زبانی بھیجی ہے‪،وہ مجھے بال لیتا ‪،میرے ساتھ برا ِہ راست بات کرتا''۔
‫میں پھر بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپنے آپ کو ٹھنڈا کیجئے ''……بہائوالدین شداد نے کہا۔''
‫میں سوچ یہ رہاہوں کہ کیا واقعی حرم سے کوئی لڑکی اغوا ہوئی ہے''……سلطان ایوبی نے کہا……''یہ جھوٹ معلوم ''
‫ہوتاہے ‪،اسے پتہ چل گیا ہوگا کہ میں نے خطبے سے اس کانام نکلوادیاہے۔اس کے جواب میں اس نے مجھ پر یہ الزام لگایا
‫عیسی الہکاری
‫کر کہ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغواکرائی ہے‪،انتقام لینے کی کوشش کی ہے''……سلطان ایوبی نے
‫ٰ
‫فقیہہ سے کہا ……''ایک حکم نامہ مصرکی تمام مسجدوں کے نام جاری کردو کہ آئندہ کسی مسجد میں خطبے میں خلیفہ کا
‫ذکر نہیں کیا جائے گا۔
‫آپ اس کے ہاں چلے جائیں اور اس سے بات کریں''……الناصر نے کہا……''اسے صاف الفاظ میں بتادیں کہ خلیفہ قوم کی''
‫ِ
‫صورت حال میں جب حاالت جنگی ہیں اور دشمن کا
‫عزت کا نشان ہوتاہے ‪،لیکن اس کا حکم نہیں چل سکتا‪ ،خصوصا ً اس
‫خطرہ باہر سے بھی ہے اور اندر سے بھی موجود ہے ۔میں تو یہاں تک مشورہ دوں گا کہ اس کے محافظ دستے کی نفری کم
‫کردیں ۔سوڈانی حبشیوں کی جگہ مصری دستہ رکھیں اور اس کے محل کے اخراجات کم کردیں ۔ میں اس کے نتائج سے آگاہ
‫ہوں ‪ ،ہمیں مقابلہ کرنا ہی پڑے گا‪ ،ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے''۔
‫میں نے ہمیشہ اپنے اللہ پر بھروسہ کیاہے''……سلطان ایوبی نے کہا……''خدائے ذوالجالل مجھے اس ذلت سے بھی بچالے ''
‫گا''۔
‫دربان اندر آیا‪ ،سب نے اس کی طرف دیکھا ۔اس نے کہا۔ ''صحرا کے گشتی دستے کا کمان دار اپنے تین سپاہیوں کے ساتھ
‫آیاہے ۔وہ سوڈانیوں کی الشیں الئے ہیں ''۔
‫سب نے دربان کی مداخلت کو اچھی نظر سے نہ دیکھا ۔اس وقت سلطان ایوبی بڑے ہی اہم اور خفیہ اجالس میں مصروف
‫تھا‪ ،لیکن سلطان نے دربان سے کہا۔''انہیں اندر بھیج دو''……سلطان ایوبی نے اپنے دربان سے کہہ رکھا تھا کہ جب بھی
‫اسے کوئی ملنے آئے ‪،وہ اسے اطالع دے اور اگر رات اسے جگانے کی ضرورت محسوس ہوتو فورا ً جگا لے۔ سلطان کوئی بات
‫اور کوئی مالقات التوا میں نہیں ڈاال کرتاتھا۔
‫عہدے دار اندر آیا۔ اس کا چہرہ گرد سے اٹا ہوا اور تھکا تھکا نظر آتاتھا۔سلطان ایوبی نے اسے بٹھایا اور دربان سے کہاکہ اس
‫کے لیے پینے کے لیے کچھ لے آئو۔عہدے دار نے سلطان کو بتایا کہ اس کے گشتی سنتریوں نے چار سوڈانی حبشیوں سے ایک
‫مغویہ لڑکی کو چھڑانے کی کوشش میں دو کو تیروں سے مار ڈاال ہے اور وہ لڑکی کو اُٹھا کر بھاگ گئے ہیں۔عہدے دار نے
‫بتایا کہ سنتریوں کے بیان کے مطابق لڑکی خانہ بدوش یا کسی عام گھرانے کی نہیں تھی۔ وہ بہت ہی امیر لگتی تھی اور اس
‫نے کہاتھا کہ وہ خلیفہ کی ملکیت ہے۔
‫معلوم ہوتاہے ''……سلطان ایوبی نے کہا……''خدائے ذوالجالل میری مدد کو آگیاہے''……وہ باہر نکل گئے ۔کمرے میں بیٹھے''
‫ہوئے سب حاکم اس کے پیچھے چلے گئے ۔
‫باہر زمین پر دو الشیں پڑی تھیں ۔ایک الش پیٹ کے بل تھی۔اس کی پیٹھ میں تیر اُترا ہواتھا۔ دوسری الش کی گردن میں
‫اعلی بھی تھا‪ ،شاید پہلی بار دیکھا تھا۔وہ
‫امیر مصرکو جو اُن کا ساالر
‫تیر پیوست تھا۔ پاس تین سپاہی کھڑے تھے۔انہوں نے
‫ِ
‫ٰ
‫فوجی انداز سے سالم کرکے پرے ہٹ گیا۔ سلطان ایوبی نے ان کے سالم کا صرف جواب ہی نہیں دیا‪ ،بلکہ ان سے ہاتھ مالیا
‫اور کہا……''یہ شکار کہاں سے مار الئے ہو مومنو؟'' ……اس سنتری نے جس نے چٹان سے تیر چال کر دو آدمیوں کو مارا تھا
‫۔سلطان ایوبی کو سارا واقعہ پوری تفصیل سے سنادیا۔
‫کیا یہ ممکن ہوسکتاہے کہ وہ لڑکی خلیفہ کی ہی داشتہ ہو؟''……سلطان ایوبی نے اپنے مشیروں سے پوچھا۔''
‫معلوم یہی ہوتاہے ''……علی بن سفیان نے کہا……''ان کے خنجر دیکھئے ''۔ اس نے دو خنجر سلطان ایوبی کو
‫دکھائے ‪،جس وقت سپاہی واقعہ سنارہاتھا۔ علی بن سفیان الشوں کی تالشی لے رہاتھا۔ انہوں نے سوڈان کا قبائلی لباس پہن
‫رکھاتھا۔ کپڑوں کے اندر ان کے کمربندتھے ‪،جن کے ساتھ ایک ایک خنجر تھا۔یہ خلیفہ کے حفاظتی دستے کے خاص ساخت
‫قصر خالفت کی مہریں لگی ہوئی تھی۔ علی بن سفیان نے کہا……''اگر انہوں نے یہ
‫کے خنجر تھے ۔ ان کے دستوں پر
‫ِ
‫قصر خالفت کے حفاظتی دستے کے سپاہی ہیں۔ یہ کہاجاسکتاہے کہ لڑکی وہی ہے جو
‫خنجر چوری نہیں کیے تو یہ دونوں
‫ِ
‫خلیفہ کے حرم سے اغواہوئی ہے اور اغوا کرنے والے خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں ''۔
‫الشیں اُٹھوائو اور خلیفہ کے پاس لے چلو''……سلطان ایوبی نے کہا ۔''
‫پہلے یقین کرلیاجائے کہ یہ واقعی خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں ''۔علی بن سفیان نے کہا اور وہاں سے چالگیا۔''

‫قصر خالفت کا ایک کمان دار آگیا۔ اسے دونوں الشیں دکھائی گئیں۔ اس
‫زیادہ وقت نہیں گزراتھا کہ علی بن سفیان کے ساتھ
‫ِ
‫نے فورا ً پہچان لیا اور کہا……''یہ دونوں محافظ دستے کے سپاہی ہیں ‪ ،گزشتہ تین روز سے ُچھٹی پر تھے ۔ ان کی ُچھٹی
‫سات دن رہتی تھی''۔
‫کو ئی اور سپاہی بھی ُچھٹی پر ہے ؟''……سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
‫دو اور ہیں ''۔''
‫''کیا وہ اِن کے ساتھ ُچھٹی پر گئے تھے؟''
‫اکٹھے گئے تھے'' ۔کمان دار نے جواب دیا اور ایک ایسا انکشاف کیا جس نے سب کو چونکادیا۔اس نے کہا……''یہ سوڈان ''
‫کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو خون خواری میں مشہور ہے۔ ان میں فرعونوں کے وقت کی کچھ رسمیں چلی آرہی ہیں ۔
‫یہ قبیلہ ہر تین سال بعد ایک جشن مناتا ہے ۔یہ ایک میلہ ہوتاہے جو تین دن اور تین راتیں رہتاہے۔دن ایسے مقرر کرتے ہیں
‫کہ چوتھی رات چاند پوراہوتاہے ۔میلے میں وہ لوگ بھی جاتے ہیں جن کا اس قبیلے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔وہ صرف
‫عیاشی کے لیے جاتے ہیں ۔میلے میں لڑکیوں کی خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ منڈی لگتی ہے ۔اس میلے سے ایک ماہ
‫پہلے ہی اِ رد گرد ‪،بلکہ قاہرہ تک کے لوگ جن کی بیٹیاں جوان ہوگئی ہیں ‪،ہوشیار اور چوکس ہوجاتے ہیں ۔ وہ لڑکیوں کو
‫باہر نہیں جانے دیتے ۔ ان دنوں خانہ بدوش بھی اس عالقے سے دور چلے جاتے ہیں۔ لڑکیاں اغواہوتی ہیں اور اس میلے میں
‫فروخت ہوجاتی ہیں ۔ یہ چاروں سوڈانی اسی میلے کیلئے ُچھٹی پر گئے تھے ۔ میلہ تین روز بعد شروع ہورہاہے ''۔
‫کیا ان کے متعلق یہ کہاجاسکتاہے کہ خلیفہ کے حرم کی لڑکی انہوں نے اغوا کی ہوگی؟''……علی بن سفیان نے پوچھا۔''
‫میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ''۔ کمان دار نے جواب دیا ……''یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان دنوں میں اس قبیلے کے لوگ ''
‫جان کا خطرہ مول لے کر بھی لڑکیا ں اغوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ خون خوار اتنے ہیں کہ اگر کسی لڑکی کے
‫وارث میلے میں چلے جائیں اور اپنی لڑکی لینے کی کوشش کریں تو انہیں قتل کردیاجاتا ہے۔لڑکیوں کے گاہکوں میں مصرکے
‫امیر‪ ،وزیر اور حاکم بھی ہوتے ہیں ۔ میلے میں ایسے قحبہ خانے بھی کھل جاتے ہیں ‪،جہاں جواء ‪ ،شراب اور عورت کے
‫شدائی دولت ل ُٹاتے ہیں ۔ اس جشن کی آخری رات بڑی پُر اسرار ہوتی ہے۔ کسی خفیہ جگہ ایک نوجوان اور غیر معمولی
‫طور پر حسین لڑکی کو قربان کیا جاتاہے ۔ یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ لڑکی کو کہاں اور کس طرح قربان کیاجاتاہے ۔یہ
‫کام ان کا ایک مذہبی پیشوا ‪ ،جسے حبشی خدابھی کہتے ہیں ‪،کرتاہے ۔ اس کے ساتھ بہت تھوڑے سے خاص آدمی اور چار
‫پانچ لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ لوگوں کو لڑکی کا کٹاہوا سر اور خون دکھایا جاتاہے ‪ ،جسے دیکھ کر یہ قبیلہ پاگلوں کی طرح ناچتا
‫اور شراب پیتاہے ۔
‫٭ ٭ ٭
‫خلیفہ نے محافظ دستے کے ناک میں دم کررکھا تھا۔تمام تر محافظ دستہ دھوپ میں کھڑا تھا۔ سورج غروب ہونے میں کچھ
‫دیر باقی تھی ۔ اس دستے کو صبح کھڑا کیا گیاتھا۔ کمان داروں اور عہدے داروں کو بھی کھانے کی اجازت دی گئی تھی‪،نہ
‫پانی پینے کی ۔رجب بار بار آتا اور اعالن کرتا تھا کہ لڑکی محافظوں کی مدد کے بغیر اغواء نہیں کی جاسکتی تھی۔جس
‫کسی نے اغوا میں مدددی ہے‪ ،وہ سامنے آجائے ‪،ورنہ تمہیں یہیں بھوکا اور پیاسا مار دیاجائے گا۔ اگر لڑکی خود باہر گئی ہوتی
‫تو تم میں سے کسی نہ کسی نے ضرور دیکھی ہوتی ……ان دھمکیوں کا کچھ اثر نہیں ہورہاتھا۔ سب کہتے تھے کہ وہ بے گناہ
‫ہیں ۔
‫خلیفہ رجب کو ٹکنے نہیں دے رہاتھا۔ اس نے رجب سے کہاتھا۔ ''مجھے لڑکی کا افسوس نہیں ‪ ،پریشانی یہ ہے کہ جو اتنے
‫کڑے پہرے سے لڑکی کو اغوا کر سکتے ہیں ‪،وہ مجھے بھی قتل کرسکتے ہیں ۔مجھے یہ ثبوت چاہیے کہ لڑکی کو صالح
‫الدین ایوبی نے اغوا کرایا ہے ''۔
‫رجب نے ہی اغواکا بہتان سلطان ایوبی کے سر تھوپا تھا‪ ،مگر خلیفہ اسے کہہ رہاتھا کہ ثبوت الو‪،رجب ثبوت کہاں سے
‫التا‪،اس کی جان پر بن گئی تھی۔وہ ایک بار پھر محافظ دستے کے سامنے گیا‪ ،غصے سے وہ بائوال ہوا جارہاتھا۔ وہ کئی بار
‫امیر
‫دی ہوئی دھمکی ایک بار پھر دینے ہی لگا تھا کہ دروازے پر کھڑے سنتریوں نے دروازے کھول دئیے اور اعالن کیا……'' ِ
‫مصر تشریف الرہے ہیں''۔
‫بڑے دروازے میں سلطان ایوبی کا گھوڑا داخل ہوا۔ اس کے آگے وہ محافظ سواروں کے گھوڑے تھے۔آٹھ سوار پیچھے تھے ۔
‫ایک دائیں اور بائیں تھا۔ ان کے پیچھے سلطان ایوبی کے حاکم اور مشیر تھے ۔ ان میں علی بن سفیان بھی تھا۔ رجب نے
‫خلیفہ کو اطالع بھیج دی کہ صالح الدین ایوبی آیاہے ۔ سب نے دیکھا کہ سلطان ایوبی کے اس جلوس کے پیچھے چار پہیوں
‫والی ایک گاڑی تھی۔جس کے آگے دو گھوڑے ُج تے ہوئے تھے ۔گاڑی پر دوالشیں پڑی تھیں ۔ ایک سیدھی اور دوسری اُلٹی ۔تیر
‫ابھی تک الشوں میں ا ُترے ہوئے تھے ۔ ان الشوں کے ساتھ وہ تین شترسوار تھے‪ ،جنہوں نے ان حبشیوں کو مارا تھا۔
‫خلیفہ باہر آگیا۔ سلطان ایوبی اور اس کے تمام سوار گھوڑوں سے اُترے ۔ سلطان ایوبی نے اسی احترام سے خلیفہ کو سالم کیا
‫جس احترام کا وہ حق دار تھا۔ جھک کر اس سے مصافحہ کیا اور ہاتھ چوما۔
‫مجھے آپ کا پیغام مل گیاتھا کہ میں آپ کے حرم کی لڑکی واپس کردوں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا……''میں آپ کے دو''
‫محافظوں کی الشیں الیاہوں ۔یہ الشیں مجھے بے گناہ ثابت کردیں گی اور میں حضور اقدس میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا
‫ہوں کہ صالح الدین ایوبی آپ کی فوج کا سپاہی نہیں ہے‪ ،جس خالفت کی آپ نمائندگی کررہے ہیں ‪،وہ اس کا بھیجا
‫ہواہے''۔
‫خلیفہ نے صالح الدین ایوبی کے تیور بھانپ لیے۔اس فاطمی خلیفہ کا ضمیر گناہوں کے بوجھ سے کراہ رہاتھا۔ وہ سلطان ایوبی
‫کی بارعب اور پُ ر جالل شخصیت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا۔اس نے سلطان ایوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر
‫کہا……''میں تمہیں اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز سمجھتا ہوں ‪،صالح الدین ایوبی اندر آو''۔
‫میری حیثیت ابھی ملزم کی ہے ''۔سلطان ایوبی نے کہا……''مجھے ابھی صفائی پیش کرنی ہے کہ میں اغوا کا ملزم نہیں''
‫ہوں ۔ خدائے ذوالجالل نے میری مددفرمائی ہے اور دوالشیں بھیجی ہیں ۔یہ الشیں بولیں گی نہیں ‪ ،ان کی خاموشی اور ان
‫قصر خالفت میں سرزد ہوا ہے۔میں
‫میں ا ُترے ہوئے تیر گواہی دیں گے کہ صالح الدین ایوبی اس جرم کا مجرم نہیں ہے ‪ ،جو
‫ِ
‫جب تک اپنے آپ کو بے گناہ ثابت نہ کرلوں گا‪ ،اندر نہیں جاوں گا''……وہ الشوں کی طرف چل پڑا۔
‫خلیفہ کھچا ہوا اُس کے پیچھے پیچھے گیا۔ تھوڑی ُد ور چار ساڑھے چار سو نفری کا محافظ دستہ کھڑا تھا ۔سلطان ایوبی نے
‫الشیں ا ُٹھوا کر اس دستے کے سامنے رکھ دیں اور بلند آواز سے کہا …… ''آٹھ آٹھ سپاہی آگے آئو اور الشوں کو دیکھ کر
‫بتاوکہ یہ کون ہیں ؟'' …… پہلے کمان دار اور عہدے دار آئے ۔انہوں نے الشیں دیکھ کر ان کے نام بتائے اور کہا…… ''یہ

‫ہمارے دستے کے سپاہی تھے''……ان کے بعد آٹھ سپاہی آئے ‪ ،انہوں نے بھی الشوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ ان کے ساتھی
‫تھے ۔آٹھ اور سپاہی آئے ‪ ،پھر آٹھ اور آئے ۔اسی طرح آٹھ آٹھ سپاہی آتے رہے اور بتاتے رہے کہ یہ الشیں ان کے فالں فالں
‫ساتھیوں کی ہیں ۔
‫قصر خالفت کے دو محافظوں کی ہیں ۔میں ''
‫صالح الدین ایوبی !'' ……خلیفہ نے کہا……''میں نے مان لیاہے کہ یہ الشیں
‫ِ
‫اس سے آگے سننا چاہتاہوں کہ انہیں کس نے ہالک کیا ہے ''۔
‫صالح الدین ایوبی نے اس گشتی سنتری سے ‪ ،جس نے انہیں ہالک کیا تھا ‪،کہا کہ اپنا بیان دہرائے ۔اُس نے سارا واقعہ خلیفہ
‫کو سنادیا۔ وہ ختم کرچکا تو سلطان ایوبی نے خلیفہ سے کہا……''لڑکی میرے پاس نہیں الئی گئی ۔وہ سوڈانی حبشیوں کے
‫میلے میں فروخت ہونے کے لیے گئی ہے''۔
‫خلیفہ کھسیانہ ہوا جارہاتھا۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا کہ وہ اندر چلے ۔سلطان ایوبی نے اندر جانے سے انکار کردیا اور
‫کہا……''میں اس لڑکی کو زندہ یا مردہ بر آمد کرکے آپ کے حضور حاضری دوںگا ۔ابھی میں اتنا ہی کہوں گا کہ حرم کی
‫ایک ایسی لڑکی اغوا ہوئ جو تحفے کے طور پر آئی تھی اور جو آپ کی منکوحہ بیوی نہیں داشتہ تھی ‪ ،میرے لیے ذرہ بھر
‫تعالی نے مجھے اس سے اہم فرائض سونپے ہیں ''۔
‫اہمیت نہیں رکھتی ۔خداوند
‫ٰ
‫میری پریشانی یہ نہیں کہ ایک لڑکی اغواہوگئی ہے ''۔ خلیفہ نے کہا……''اصل پریشانی یہ ہے کہ اس طرح لڑکیاں اغوا ''
‫ہونے لگیں تو ملک میں قانون کا کیا حشر ہوگا''۔
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ اغواہورہی ہے ''۔۔سلطان ایوبی نے کہا……''آپ زیادہ پریشان نہ ہوں ۔میرا ''
‫اور میری پریشانی یہ ہے کہ
‫شعبہ سراغ رسانی لڑکی کو برآمد کرنے کی پوری کوشش کرے گا''۔
‫خلیفہ سلطان ایوبی کو ذراپرے لے گیا اور کہا……''صالح الدین ! میں ایک عرصے سے دیکھ رہاہوں کہ تم مجھ سے کھچے
‫کھچے رہتے ہو۔ میں نجم الدین ایوب ) سلطان صالح الدین ایوبی کے والد محترم (کا بہت احترام کرتاہوں ‪،مگر تمہارے دل
‫میں میرے لیے ذرہ بھر احترام نہیں ہے اور مجھے آج بتایا گیا ہے کہ جامع مسجد کے خطیب امیر العالم نے یہ گستاخی کی
‫ہے کہ خطبے سے میرا نام ہٹادیاہے ۔مجھے رجب نے بتایا ہے کہ میں اسے اس گستاخی کی سزا دے سکتاہوں ۔ میں تم سے
‫''پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس نے تمہای شہ پر تو ایسا نہیں کیا؟
‫میری شہہ پر نہیں ‪ ،میرے حکم پر اس نے خلیفہ کانام خطبہ سے حذف کیاہے ''۔ سلطان ایوبی نے کہا……''صرف آپ ''
‫کانام نہیں ‪،بلکہ ہر اس خلیفہ کانام خطبے سے ہٹادیاگیاہے جو آپ کے بعد آئے گا اور جو اُس کے بعد آئے گا''۔
‫کیا یہ حکم فاطمی خالفت کمزور کرنے کے لیے جاری کیاگیاہے ؟''خلیفہ نے پوچھا……''مجھے شک ہے کہ یہاں عباسی ''
‫خالفت الئی جارہی ہے''۔
‫حضور بہت بوڑھے ہوگئے ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا ……''قرآن نے شراب کو اسی لیے حرام کہاہے کہ اس سے دماغ ''
‫مائوف ہوجاتاہے ''……سلطان نے ذرا سوچ کر کہا……''میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل سے آپ کے محافظ دستے میں ردوبدل
‫ہوگا اور رجب کو میں واپس لے کر آپ کو نیا کمان داردوں گا''۔
‫لیکن میں رجب کویہاں رکھنا چاہتا ہوں '' خلیفہ نے کہا۔''
‫میں حضور سے درخواست کرتاہوں کہ فوجی معامالت میں دخل دینے کی کوشش نہ کریں ۔ سلطان ایوبی نے کہا اور علی ''
‫بن سفیان کی طرف متوجہ ہوا جو پانچ حبشی محافظو کو ساتھ لیے آرہاتھا۔
‫یہ پانچوں ا ُسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں '' علی بن سفیان نے کہا…… ''میں نے اس دستے سے مخاطب ہو کر کہا ''
‫کہ اس قبیلے کے کوئی آدمی یہاں ہوں تو باہر آجائیں ۔یہ پانچ صفوں سے باہر آگئے ۔ ان کے متعلق مجھے ان کے کمان دار
‫نے بتایا ہے کہ پرسوں سے ُچ ھٹی پر جا رہے تھے ۔ میں انہیں اپنے ساتھ لے جارہاہوں ۔لڑکی کے اغوا میں ان کا ہاتھ
‫ہوسکتاہے ''۔
‫صالح الدین ایوبی نے رجب کو بال کر کہا…… ''کل یہاں دوسرا کمان دار آرہاہے ‪ ،آپ میرے پاس آجائیں گے ۔ میں آپ کو
‫منجنیقوں کی کمان دینا چاہتا ہوں۔
‫رجب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
‫ا ُ ّ ِم عرارہ کو گھوڑے پر ڈالئے ہوئے جب وہ دو حبشی اتنی ُدور نکل گئے ‪،جہاں انہیں تعاقب کا خطرہ نہ رہاتو انہوں نے
‫گھوڑے روک لیے ۔لڑکی ایک بار پھر آزاد ہونے کو تڑپنے لگی۔ حبشیوں نے اسے کہا کہ اس کا تڑپنا بے کار ہے۔اب اگر اُسے
‫وہ آزاد بھی کردیں تو وہ اس ریگستان سے زندہ نہیں نکل سکے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسے بے آبرو نہیں کرنا
‫چاہتے ۔ اگر ا ُن کی نیت ایسی ہوتی تو وہ اس کے ساتھ وحشیوں جیسا سلوک کر چکے ہوتے۔ ا ُ ِّم عرارہ حیران تھی کہ انہوں
‫نے اسے چھیڑا تک نہیں تھا۔ انہیں تو جیسے احساس ہی نہیں تھا کہ اتنی دلکش لڑکی ان کے رحم و کرم پر ہے۔ ان میں
‫سے ایک نے جو مارا جا چکاتھا‪ ،مرنے سے پہلے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر التجا کی تھی کہ وہ تڑپ تڑپ کر
‫اپنے آپ کو اذیت میں نہ ڈالے۔ا ُ ِّم عرارہ نے ان سے پوچھا کہ اسے کہاں لے جایا جارہاہے تو اسے جواب دیاگیا کہ وہ اسے
‫آسمان کے دیوتاکی ملکہ بنانے کے لیے لے جارہے ہیں۔
‫انہوں نے لڑکی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور ا ُٹھا کر گھوڑے پر بٹھا دیا ۔اس نے آزاد ہونے کی کوشش ترک کر دی۔ اس
‫نے دیکھ لیا تھا کہ یہ کوشش بے سود ہے ۔گھوڑے چل پڑے اورا ُ ِّم عرارہ ایک حبشی کے آگے گھوڑے پر بیٹھی محسوس کیا
‫کہ رات ہوگئی ہے ۔گھوڑے ُر ک گئے ۔اس وقت تک اس نازک لڑکی کا جسم مسلسل گھوڑ سواری سے ٹوٹ چکا تھا۔ دہشت
‫سے اس کا دماغ بے کار ہوگیاتھا۔ اسے گھوڑے ُرکتے ہی اپنے ارد گرد تین چار مردوں اور تین عورتوں کی ملی جلی آوازیں
‫سنائی دینے لگیں۔ یہ زبان اس کی سمجھ سے باال تھی۔ یہی حبشی راستے میں اس کے ساتھ عربی زبان میں باتیں کرتے
‫تھے۔ ان کا لہجہ عربی نہیں تھا۔
‫ابھی اس کی آنکھوں سے پٹی نہیں کھولی گئی تھی۔ اس کی تو جیسے زبان بھی بند ہوگئی تھی۔ اُسے کسی نے اُٹھا کر
‫کسی نرم چیز پر بٹھا دیا۔ یہ پالکی تھی ۔پالکی اوپر کو ا ُٹھی اور اس کا ایک اور سفر شروع ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی دف
‫کی ہلکی ہلکی گونج دار تھاپ سنائی دینے لگی اور عورتیں گانے لگیں۔اس گانے کے الفاظ تو وہ نہ سمجھ سکتی تھی‪ ،اس
‫کی ل َے میں جادو کا اثر تھا ۔یہ اثر ایسا تھا‪ ،جس نے ا ُ ِّم عرارہ کے خوف میں اضافہ کردیا‪ ،لیکن اس خوف میں ایسا تاثر
‫بھی پیدا ہونے لگا جیسے اس پر نشہ یا خمار طاری ہورہاہو۔ رات کی خنکی خمار میں لذت سی پیدا کررہی تھی۔ ا ُ ِّم عرارہ
‫نے یہ چاہتے ہوئے کہ وہ پالکی سے کود جائے اور بھاگ اُٹھے اور یہ لوگ اُسے جان سے ماردیں‪،اس نے ایسی جرٔات نہ
‫کی ۔وہ محسوس کررہی تھی کہ وہ ان انسانوں کے قبضے میں نہیں بلکہ کوئی اور ہی طاقت ہے جس نے اس پر قابو پالیا

‫ہے اور اب وہ اپنی مرضی سے کوئی حرکت نہیں کر سکے گی۔
‫وہ محسوس کرنے لگی کہ پالکی بردار سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں ‪ ،وہ چڑھتے گئے ۔کم و بیش تیس سیڑھیاں چڑھ کر وہ ہموار
‫چلنے لگے اور چند قدم چل کر ُرک گئے ۔پالکی زمین پر رکھ دی گئی۔ا ُ ِّم عرارہ کی آنکھوں سے پٹی کھول کر کسی نے اس
‫کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔تھوڑی دیر بعد ان ہاتھوں کی انگلیاں کھلنے لگی اور لڑکی کو روشنیاں دکھائی دینے لگی۔ آہستہ
‫آہستہ ہاتھ ا ُس کی آنکھوں سے ہٹ گئے ۔ وہ ایک ایسی عمارت میں کھڑی تھی جو ہزاروں سال پرانی نظر آتی تھی۔ گول
‫ستون اوپر تک چلے گئے تھے ۔ایک وسیع ہال تھا جس پر فرش روشنیوں میں چمک رہاتھا ۔دیواروں کے ساتھ ڈنڈے سے لگے
‫ہوئے تھے اور ڈنڈوں کے سروں پر مشعلو ں کے شعلے تھے ۔اندر کی فضا میں ایسی خوشبو تھی جس کی مہک اس کے لیے
‫نئی تھی۔ دف کی ہلکی ہلکی تھاپ اور عورتوں کا گیت اسے سنائی دے رہاتھا۔ یہ تھاپ اور یہ ل َے ہال میں ایسی گونج پیدا
‫کررہی تھی‪ ،جس میں خواب کا تاثر تھا۔
‫ا ُس نے سامنے دیکھا ۔ایک چبوترہ تھا جس کی آٹھ دس سیڑھیاں تھیں ۔چبوترے پر پتھر کے بُت کا منہ اور سر تھا۔اس کی
‫ٹھوڑی کے نیچے تھوڑی سی گردن تھی۔ٹھوڑی سے ماتھے تک یہ پتھر کا چہرہ قد آور انسان سے بھی ڈیڑھ دو فٹ اونچا تھا۔
‫منہ کھالہوا تھا جو اتنا چوڑا تھا کہ ایک آدمی ذراسا جھک کر اس میں داخل ہوسکتا تھا۔ منہ میں سفید دانت بھی تھے۔یوں
‫لگتا تھا جیسے یہ چہرہ قہقہے لگا رہاہو۔ اس کے دونوں کانوں سے ڈنڈے نکلے ہوئے تھے‪،جن کے باہر والے سروں پر مشعلیں
‫جل رہی تھی۔اچانک اس کی آنکھیں جو کم و بیش گز گز بھر چوڑی تھیں ‪،چمکنے لگیں ۔ان سے روشنی پھوٹنے لگی ۔
‫عورتوں کے گیت کی ل َے بدل گئی ۔ دف کی تھاپ میں جوش پیدا ہوگیا ۔ پتھر کے منہ کے اندر روشنی ہوگئی ۔لمبے لمبے
‫سفید چغے پہنے ہوئے دو آدمی جھک کر منہ سے باہر آئے۔منہ سے باہر آکر ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔
‫اس کے بعد پتھر کے منہ میں سے ایک اور آدمی نمودار ہوا۔وہ بھی جھک کر باہر آیا۔وہ ذرا بوڑھا لگتا تھا۔ اس کا چغہ سرخ
‫رنگ کاتھا اور اس کے سر پر تاج تھا۔ ایک سانپ جو مصنوعی تھا اسکے دائیں کندھے پر کنڈلی مارے اور پھن پھیالئے بیٹھا
‫تھا اور ایک بائیں کندھے پر ۔ دونوں سانپوں کے رنگ سیاہ تھے۔ ا ُ ِّم عرارہ پر ایسا رعب طار ی ہوا کہ وہ ُسن ہوکے کھڑی
‫رہی ۔یہ آدمی جو اس قبیلے کا مذہبی پیشوا یا پروہت تھا‪ ،چبوترے کی سیڑھیاں اُتر آیا۔ وہ آہستہ آہستہ ا ُ ِّم عرارہ تک آیا اور
‫دونوں گھٹنے فرش پر رکھ کر اس نے لڑکی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیے۔ اس نے لڑکی سے عربی زبان
‫میں کہا……''تم ہو وہ خوش نصیب لڑکی جسے میرے دیوتا نے پسند کیا ہے۔ہم تمہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں ''۔
‫ا ُ ِّم عرارہ بیدار ہوگئی ۔اس نے روتے ہوئے کہا……''میں کسی دیوتا کو نہیں مانتی ‪،اگر تم دیوتائوں کو مانتے ہوتو میں تمہیں
‫انہی کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے چھوڑ دو ۔مجھے یہاں کیوں الئے ہو''۔
‫یہاں جو بھی آتی ہے ‪،یہی کہتی ہے ''۔ پروہت نے کہا……''لیکن اُس پر اس مقدس جگہ کا راز کھلتا ہے تو کہتی ہے ''
‫کہ میں یہاں سے جانا نہیں چاہتی ۔میں جانتاہوں تم مسلمانوں کے خلیفہ کی محبوبہ ہو‪ ،مگر جس نے تمہیں پسند کیا ہے‪،،اس
‫کے آگے دنیا کے خلیفے اور آسمانوں کے فرشتے سجدے کرتے ہیں ۔تم جنت میں آگئی ہو''۔ اس نے چغے کے اندرسے ایک
‫پھول نکاال اور ا ُ ِّم عرارہ کی ناک کے ساتھ لگادیا۔ ا ُ ِّم عرارہ حرم کی شہزادی تھی۔اس نے ایسے ایسے عطر سونگے تھے جو
‫اس جیسی شہزادیوں کے سوا اور کوئی خواب میں بھی نہیں سونگ سکتاتھا‪ ،مگر اس پھول کی بو اس کے لیے انوکھی تھی۔
‫یہ بو اسکی روح تک ا ُتر گئی ۔اس کی سوچوں کا رنگ ہی بدل گیا۔اس کی نظروں کے زاویے ہی بدل گئے ۔پروہت نے
‫کہا……''یہ دیوتا کا تحفہ ہے''…… اور اس نے پھول اس کی ناک سے ہٹالیا۔
‫ا ُ ِّم عرارہ نے ہاتھ آہستہ آہستہ آگے کیا اور پروہت کا پھول واال ہاتھ پکڑ کر اپنی ناک کے قریب لے آئی۔پھول سونگھ کر خمار
‫''آلود آواز میں بولی۔''کتنا دل نشین تحفہ ہے۔آپ یہ مجھے دیں گے نہیں ؟
‫کیا تم نے تحفہ قبول کرلیاہے؟'' ۔پروہت نے پوچھا ۔اس کے ہونٹوں پر ُمسکراہٹ تھی۔''ہاں ا ُ ِّم عرارہ نے جواب ''
‫دیا……''میں نے یہ تحفہ قبول کرلیاہے ''……اس نے پھول کو ایک بار پھر سونگھا اور اس نے آنکھیں بند کرلیں جیسے مہک
‫کو ا پنے وجود میں جذب کرنے کی کوشش کررہی ہو۔
‫''دیوتانے بھی تمہیں قبول کرلیاہے''۔ پروہت نے کہا اور پوچھا……''تم اب تک کہاں تھیں ؟''
‫لڑکی سوچ میں پڑگئی جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہی ہو۔سر ہال کر بولی……''میں یہیں تھی……نہیں ۔میں ایک اورجگہ
‫تھی ……مجھے یاد نہیں کہ میں کہاں تھی''۔
‫''تمہیں یہاں کون الیاہے؟''
‫''کوئی بھی نہیں ''……ا ُ ِّم عرارہ نے جواب دیا……''میں خود آئی ہوں''
‫''تم گھوڑے پر نہیں آئی تھیں؟''
‫نہیں ''۔لڑکی نے جواب دیا……''میں اُڑتی ہوئی آئی ہوں''۔''
‫''کیا راستے میں صحرا اور پہاڑ اور جنگل اور ویرانے نہیں تھے؟''
‫نہیں تو!''۔ لڑکی نے جواب دیا……''ہر طرف سبزہ زار اور پھول تھے''۔''
‫''تمہای آنکھوں پر کسی نے پٹی نہیں باندھی تھی؟''
‫پٹی ؟……نہیں تو'' ۔لڑکی نے جواب دیا……''میری آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور میں نے رنگ برنگ پرندے دیکھے تھے‪،پیارے''
‫''پیارے پرندے۔
‫پروہت نے اپنی زبان میں بلند آواز سے کچھ کہا۔ا ُ ِّم عرارہ کے عقب سے چار لڑکیاں آئیں تمہیں دیوتا کے پسند کے کپڑے
‫پہنا ئے جائیں گے''……لڑکیوں نے اس کے کندھوں پر چادر سی ڈال دی جو اتنی چوڑی تھی کہ کندھوں سے پائوں تک اس
‫کا جسم مستور ہوگیا۔
‫جاری ھے
19:17
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪24.۔ "ام عرارہ کا اغواہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اس چادر کے کناروں پر رنگ دار رسیوں کے ٹکڑے تھے۔چادر آگے کرکے ان ٹکڑوں کا گانٹھیں دے دی گئیں اور چادر نہایت
‫موزوں چغہ بن گئی۔ ا ُ ِّم عرارہ کے بال ریشم جیسے مالئم اور سیاہی مائل بھور ے تھے۔ایک لڑکی نے اس کے بالوں میں
‫کنگھی کرکے اس کے شانوں پر پھیال دئیے ۔اسکا حسن اور زیادہ بڑھ گیا۔

‫پروہت نے اسے ُمسکراکر دیکھا اور گھوم کر پتھر کے مہیب چہرے کی طرف چل پڑا۔دولڑکیوں نے ا ُ ِّم عرارہ کے ہاتھ تھام لیے
‫اور پروہت کے پیچھے پیچھے چل پڑیں ۔ا ُ ِّم عرارہ شہزادیوں کی طرح چل پڑی ۔ اس نے اِدھر اُدھر نہیں دیکھاکہ ماحول کیسا
‫ہے۔اس کی چال میں اور ہی شان تھی۔عورتوں کاراگ اسے پہلے سے زیادہ طلسماتی اور پُر سوز معلوم ہونے لگا۔وہ پروہت کے
‫پیچھے ‪،ہاتھ لڑکیوں کے ہاتھوں پر رکھے چبوترے کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ پروہت پتھر کے پہاڑ جیسے چہرے کے منہ میں
‫داخل ہوگیا۔ ا ُ ِّم عرارہ بھی تین سیڑھیاں چڑھ کر بُت کے منہ میں جھک کر داخل ہوگئی۔ دونوں لڑکیاں وہیں کھڑی رہیں ۔ا ُ ِّم
‫عرارہ کا ہاتھ پروہت نے تھام لیا۔ منہ کی چھت اتنی اونچی تھی کہ وہ سیدھے چل رہے تھے ۔ حلق میں پہنچے تو آگے
‫سیڑھیاں تھیں۔ وہ سیڑھیاں ا ُتر گئے۔یہ ایک تہہ خانہ تھا جہاں قندیلیں روشن تھیں۔ایک کمرے میں بھی مہک تھی۔یہ کمرہ
‫کشادہ نہیں تھا‪،چھت اونچی نہیں تھی۔اس کی دیوار یں اور چھت درختوں کے پتوں اور پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ فرش پر
‫مالئم گھاس اور گھاس پر پھول بچھے ہوئے تھے۔ایک کونے میں خوشمنا صراحی اور پیالے رکھے تھے۔ پروہت نے صراحی سے
‫دو پیالے بھرے ۔ایک ا ُ ِّم عرارہ کو دیا ‪،دونوں نے پیالے ہونٹوں سے لگائے اور خالی کردئیے۔
‫دیوتا کب آئے گا؟'' ا ُ ِّم عرارہ نے پوچھا۔''
‫''تم نے ابھی اسے پہچانا نہیں ؟'' پروہت نے کہا……''تمہارے سامنے کون کھڑ اہے ؟''
‫ا ُ ِّم عرارہ اس کے پاوں میں بیٹھ گئی اور بولی……''ہاں ! میں نے اسے پہچان لیا ہے۔تم وہ نہیں ہو جسے میں نے اوپر
‫''دیکھا تھا۔ تم نے مجھے قبول کرلیا ہے؟
‫ہاں !'' پروہت نے کہا ……''آج سے تم میری دلہن ہو''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫میں آپ کو اور کچھ نہیں بتاسکتا ۔میرے باپ نے مجھے بتایا تھا کہ پروہت لڑکی کو پھول سونگھاتا ہے جس کی خوشبو ''
‫سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتاہے کہ وہ کیا تھی‪ ،کہاں سے آئی ہے اور کس طرح الئی گئی ہے۔وہ پروہت کی لونڈی بن
‫جاتی ہے اور اسے ُد نیا کی گندی چیز یں بھی خوب صورت دکھائی دیتی ہیں ۔پروہت تین راتیں اسے اپنے ساتھ تہہ خانے
‫میں رکھتا ہے''۔
‫یہ انکشاف ان پانچ سوڈانی حبشیوں میں سے ایک علی بن سفیان کے سامنے بیان کررہاتھا ‪،جنہیں اس نے خلیفہ کے محافظ
‫دستے میں سے نکاالتھا۔ یہ پانچوں اسی قبیلے میں سے تھے‪ ،جس قبیلے کے وہ چاروں تھے‪،جنہوں نے ا ُ ِّم عرارہ کو اغوا
‫کیاتھا۔ اپنے ساتھ لے جاکر علی بن سفیان نے ان پانچوں سے کہاتھا کہ چونکہ وہ اسی قبیلے کے ہیں جو تیسرے سال کے
‫آخر میں جشن مناتاہے اور وہ ُچ ھٹی پر جارہے تھے۔ اس لیے انہیں معلوم ہوگا کہ لڑکی کس طرح اغوا ہوئی ہے۔ ان پانچوں
‫نے کہا کہ انہیں اغوا کا علم ہی نہیں ۔علی بن سفیان نے انہیں یہ اللچ بھی دیا کہ وہ سچ بتادیں گے تو انہیں کوئی
‫سزانہیں دی جائے گی‪ ،پھر بھی وہ العلمی کا اظہار کرتے رہے ۔یہ قبیلہ وحشیانہ مزاج اور خون خواری کی وجہ سے مشہور
‫ذر ہ بھر ڈرنہ تھا۔ پانچوں بہت دلیری سے انکار کررہے تھے۔ آخر علی بن سفیان کو وہ طریقے آزمانے پڑے
‫تھا۔ا نہیں سزا کا ّ
‫جو پتھر کو بھی پگھالدیتے ہیں ۔
‫پانچوں کو الگ الگ کرکے علی بن سفیان انہیں اس جگہ لے گیا جہاں چیخیں اور آہ و بکا کوئی نہیں سنتاتھا۔ مسلسل اذیت
‫اور تشدد سے کوئی ملزم مرجائے تو کسی کو پروانہیں ہوتی تھی۔ یہ پانچوں سوڈانی بڑے ہی سخت جان معلوم ہوتے تھے۔ وہ
‫رات بھر اذیت سہتے رہے۔علی بن سفیان رات بھر جاگتا رہا ۔آخر انہیں اس امتحان میں ڈاال گیا جو آخری حربہ سمجھا جاتا
‫تھا‪ ،یہ تھا''چکر شکنجہ ''۔ رہٹ کی طرح چوڑے اور بہت بڑے پہئے پر ملزم کو اُلٹا ل ُٹا کر ہاتھ رسیوں سے چکر کے
‫ساتھ باندھ دئیے جاتے اور پائوں ٹخنوں سے رسیاں ڈال کر فرش میں گاڑے ہوئے کیلو ں سے کس دئیے جاتے تھے۔ پہئے کو
‫ذراسا آگے چالیا جاتا تو ملزم کے بازو کندھوں سے اور ٹانگیں کولہوں سے الگ ہونے لگتی تھیں۔ بعض اوقات ملزم کو کھینچ
‫کر پہئے کو ایک جگہ روک لیاجاتاتھا۔ اذیت کا یہ طریقہ ملزموں کو بے ہوش کر دیتا تھا۔
‫سحر کے وقت ایک ادھیڑ عمر حبشی نے علی بن سفیان سے کہا……''میں سب کچھ جانتاہوں ‪ ،لیکن دیوتا کے ڈر سے نہیں
‫بتایا۔ دیوتا مجھے بہت بُری موت ماریں گے''۔
‫کیا اس سے بڑھ کر کوئی بُری موت ہوسکتی ہے ‪،جو میں تمہیں دے رہاہوں؟''علی بن سفیان نے کہا……''اگر تمہارے ''
‫دیوتا سچے ہوتے تو وہ تمہیں اس شکنجے سے نکال نہ لیتے ؟تم اگر مرنے سے ڈرتے ہوتو موت یہاں بھی موجود ہے ۔تم
‫بات کرو۔ میرے ہاتھ میں ایک ایسا دیوتا ہے جو تمہیں تمہارے دیوتا سے بچالے گا''۔
‫یہ سوڈانی حبشی کئی باربے ہوش ہوچکاتھا۔ اسے دیوتا نہیں موت صاف نظر آرہی تھی۔علی بن سفیان نے اس کی زبان کھول
‫لی۔ اسے شکنجے سے کھول کر کھالیا اور پالیا اور آرام سے لٹا دیا۔اس نے اعتراف کیا کہ ا ُ ِّم عرارہ کو ا ُ ن کے قبیلے کے
‫چار آدمیوں نے اغوا کیا تھا۔ وہ چاروں ُچ ھٹی پر چلے گئے تھے۔انہوں نے اغوا کی رات اور وقت بتادیاتھا ۔یہ پانچ حبشی جو
‫علی بن سفیان کے قبضے میں ‪،ا ُس رات پہرے پر تھے۔اغوا کرنے والوں میں سے دو کو اندر آناتھا۔انہیں بڑے دروازے سے داخل
‫کرنے کا انتظام انہوں نے کیا تھا اور انہیں اغوا اور فرار میں پوری مدد دی تھی ۔اس حبشی نے بتایا کہ اس لڑکی کو دیوتا
‫کی قربان گاہ پر قربان کیا جائے گا۔ہر تین سال بعد ان کا قبیلہ چار روزہ جشن مناتا ہے ‪،لیکن لڑکی اپنے قبیلے کی نہیں
‫ہوتی۔شرط یہ ہے کہ لڑکی غیر ملکی ہو‪ ،سفید رنگ کی ہو‪،اونچے درجے کے خاندان کی اور اتنی خوب صورت ہو کہ لوگ
‫دیکھ کر ٹھٹھک جائیں ''۔
‫تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تین سال بعد تمہارا قبیلہ باہر سے ایک خوب صورت لڑکی اغوا کرکے التاہے''۔ علی بن ''
‫سفیان نے پوچھا۔
‫نہیں ۔یہ غلط ہے''۔ سوڈانی حبشی نے جواب دیا……''تین سال بعد صرف میلہ لگتا ہے ۔لڑکی کی قربانی پانچ میلوں کے''
‫بعد یعنی ہر پندرہ سال بعد دی جاتی ہے۔مشہور یہی ہے کہ ہر تین سال بعد لڑکی قربان کی جاتی ہے''۔
‫اس نے اپنے باپ کے حوالے سے وہ جگہ بتائی جہاں قربانی دی جاتی تھی۔ پروہت کو وہ دیوتا کا بیٹا کہتاتھا‪،جہاں میلہ لگتا
‫تھا ‪ ،اس سے ڈیڑ ھ ایک میل جتنی ُد ور ایک پہاڑی عالقہ تھا ‪،جہاں جنگل بھی تھا۔یہ عالقہ زیادہ وسیع اور عریض نہیں
‫تھا۔اس کے متعلق مشہور تھا کہ وہاں دیوتا رہتے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے جن اور پریاں بھی رہتی ہیں۔لوگ اس لیے
‫یہ باتیں مانتے تھے کہ ہر طرف صحرا اور اس میں جزیرے کی طرح کچھ عالقہ پہاڑی اور سر سبز تھاجو قدرت کا ایک
‫عجوبہ تھا۔یہ دیوتائوں کا مسکن ہی ہوسکتا تھا۔ اس عالقے میں فرعونوں کے وقتوں کے کھنڈر تھے‪،وہاں ایک جھیل بھی تھی
‫جس میں چھوٹے مگر مچھ رہتے تھے۔
‫قبیلے کا کوئی آدمی سنگین جرم کرے تو اسے پروہت کے حوالے کردیاجاتاتھا۔ پروہت اسے زندہ جھیل میں پھینک دیتا ‪،جہاں

‫مگر مجھ اسے کھاجاتے تھے۔پروہت انہی کھنڈروں میں رہتا تھا۔وہاں ایک بہت بڑا پتھر کا سر اور منہ تھا جس میں دیوتا رہتا
‫تھا۔ ہر پندرھویں سال کے آخری دنوں میں باہر سے ایک لڑکی اغوا کرکے الئی جاتی جو پروہت کے حوالے کردی جاتی تھی
‫پروہت لڑکی کو ایک پھول سونگھاتاتھا جس کی خوشبو سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتاتھاکہ وہ کیا تھی‪،کہاں سے آئی تھی
‫اور اسے کون الیا تھا۔اس پھول میں کوئی نشہ آور بوڈالی جاتی تھی ‪،جس کے اثر سے وہ پروہت کو دیوتا اور اپنا خاوند
‫سمجھ لیتی تھی۔اسے وہاں کی گندی چیزیں بھی خوب صورت دکھائی دیتی تھیں۔
‫لڑکی کی قربانی انہی کھنڈرات میں دی جاتی تھی۔لڑکی کو پروہت تہہ خانے میں اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ اس جگہ چار مرد اور
‫چار خوب صورت لڑکیاں رہتی تھیں۔ ان کے سوا اور کسی کو پہاڑوں کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔لڑکی کو جب قربان
‫گاہ پر لے جایا جاتا تو اسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ اس کی گردن کاٹ دی جائے گی۔وہ فخر اور خوشی سے مرتی
‫تھی۔ اس کا دھڑ مگر مچھوں کی جھیل میں پھینک دیاجاتا اور بال کاٹ کر قبیلے کے ہر گھر میں تقسیم کر دئیے جاتے
‫تھے۔ ان بالوں کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔لڑکی کا سر خشک ہونے کے لیے رکھ دیاجاتا تھا‪ ،جب گوشت ختم ہوکر صرف
‫کھوپڑی رہ جاتی تو ا ُسے ایک غار میں رکھ دیاجاتاتھا۔ لڑکی کسی کو دکھائی نہیں جاتی تھی۔
‫پندرہ سال پورے ہورہے ہیں ۔اب کے لڑکی کی قربانی دی جائے گی''……اس حبشی نے کہا……''ہم نو آدمی مصرکی فوج ''
‫میں بھرتی ہوئے تھے۔ہمیں چونکہ نڈر اور وحشی سمجھا جاتاہے۔اس لیے ہمیں خلیفہ کے محافظ دستے کے لیے منتخب
‫کرلیاگیا۔دو مہینے گزرے ہم نے اس لڑکی کو دیکھا۔ایسی خوب صورت لڑکی ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ہم سب نے فیصلہ کر
‫لیا کہ اس لڑکی کو ا ُٹھالے جائیں گے اور قربانی کے لیے پیش کریں گے۔ہمارے ایک ساتھی نے جو کل ماراگیاہے۔اپنے گائوں
‫جاکر قبیلے کے بزرگ کو بتادیاتھاکہ اس بار قربانی کے لیے ہم لڑکی الئیں گے۔ ہم نے لڑکی کو اغوا کرلیاہے''۔
‫یہ قصہ صالح الدین ایوبی کو سنایا گیا تو وہ گہری سوچ میں کھوگیا۔علی بن سفیان اس کے حکم کا منتظر تھا۔سلطان ایوبی
‫نے نقشہ دیکھا اور کہا……''اگر جگہ یہ ہے تو یہ ہماری عمل داری سے باہر ہے۔تم نے شہر کے پرانے لوگوں سے جو
‫معلومات حاصل کی ہیں ‪،ان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ فرعون تو صد یاں گزریں مرگئے ہیں ‪،لیکن فرعونیت ابھی باقی ہے۔
‫بحیثیت مسلمان ہم پر فرض عائد ہوتاہے کہ ہم اگر ُد ور نہ پہنچ سکیں تو قریبی پڑوس سے تو کفر اور شرک کا خاتمہ کریں۔
‫آج تک معلوم نہیں کتنے والدین کی معصوم بیٹیاں قربان کی جاچکی ہیں اور اس میلے میں کتنی بیٹیاں اغوا ہوکر فروخت
‫ہوجاتی ہیں۔ہمیں دیوتائوں کا تصور ختم کرنا ہے ۔لوگوں کو دیوتائوں کا تصور دے کر نام نہاد مذہبی پیشوا لڑکیاں اغوا کرواکے
‫بدکاری اور عیاشی کرتے ہیں''۔
‫میرے مخبروں کی اطالعات نے یہ بے ہودہ انکشاف کیا ہے کہ ہماری فوج کے کئی کمان دار اور مصر کے پیسے والے لوگ''
‫اس میلے میں جاتے اور لڑکیاں خریدتے یا چند دنوں کے لیے کرائے پر التے ہیں''……علی بن سفیان نے کہا……''کردار کی
‫تباہی کے عالوہ یہ خطرہ بھی ہے کہ سوڈانیوں کی برطرف فوج کے عسکری اس میلے میں زیادہ تعداد میں جاتے ہیں۔ہماری
‫فوج اور ہمارے دوسرے لوگوں کا سوڈانی سابقہ فوجیوں کے ساتھ ملنا جلنا اور جشن منانا ٹھیک نہیں۔یہ مشترکہ تفریح ملک
‫کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے''……علی بن سفیان نے ذراجھجک کر کہا……''اور لڑکی کو قربان ہونے سے پہلے بچانا اور
‫خلیفہ کے حوالے کرنا‪ ،اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسے معلوم ہوجائے کہ اس نے آپ پر اغوا کا جو الزام عائد کیاہے‪،وہ کتنا
‫بے بنیاد اور لغو ہے''۔
‫مجھے اس کی کوئی پروانہیں علی!''……سلطان ایوبی نے کہا……''میری توجہ اپنی ذات پر نہیں ۔مجھے کوئی کتنا ہی ''
‫حقیر کہے‪،میں اسالم کی عظمت کے فروغ اور تحفظ کو نہیں بھول سکتا ۔میری ذات کچھ بھی نہیں اور تم بھی یاد رکھو
‫علی!اپنی ذات سے توجہ ہٹا کر سلطنت کے استحکام اور فالح و بہبود پر مرکوز کردو۔اسالم کی عظمت کا امین خلیفہ ہوا
‫کرتاتھا‪ ،مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خلیفہ اپنی ذات میں گم ہوتے گئے اور اپنے نفس کا شکار ہوگئے ۔اب ہماری خالفت
‫اسالم کی بہت بڑی کمزوری بن گئی ہے۔صلیبی ہماری اس کمزوری کو استعمال کررہے ہیں ۔اگر تم کامیابی سے اپنے فرائض
‫نبھانا چاہتے ہوتو اپنی ذات اور اپنے نفس سے دست بردار ہوجائو…… خلیفہ نے مجھ پر جو الزام عائد کیاہے ‪،اسے میں نے
‫بڑی مشکل سے برداشت کیاہے ۔میں اوچھے وار کا جواب دے سکتاتھا‪ ،مگر میرا وار بھی اوچھا ہوتا۔پھر میں ذاتی سیاست
‫ِ
‫ملت اسالمیہ کسی دور میں جاکر اپنے ہی حکمرانوں کی ذاتی سیاست
‫بازی میں اُلجھ جاتا ۔مجھے خطرہ یہی نظر آرہاتھا کہ
‫بازیوں‪،خود پسندی ‪ ،نفس پرستی اور اقتدار کی ہوس کی نذر ہوجائے گی''۔
‫گستاخی کی معافی چاہتاہوں محترم امیر!''……علی بن سفیان نے کہا……''اگر آپ اس لڑکی کو قربان ہونے سے بچانا ''
‫چاہتے ہیں تو حکم صادر فر مائیے۔وقت بہت تھوڑا ہے ۔ پرسوں سے میلہ شروع ہورہاہے ''۔
‫فوج میں یہ حکم فورا ً پہنچا دو کہ اس میلے میں کسی فوجی کو شریک ہونے کی اجازت نہیں ''……سلطان ایوبی نے ''
‫نائب ساالر کو بالکر کہا……''خالف ورزی کرنے والے کو اس کے عہدے اور رتبے سے قطع نظر پچاس کوڑے سر عام لگائے
‫جائیں گے''۔
‫اس حکم کے بعد سکیم بننے لگی۔متعلقہ حکام کو سلطان ایوبی نے باللیاتھا۔ اس نے سب سے کہاتھا کہ ہمارا مقصد یہ ہے
‫زیر بحث آئی جو اس وجہ
‫کہ اس طلسم کو توڑنا ہے ۔ یہ جگہ فرعونیت کی آخری نشانی معلوم ہوتی ہے……پہلے فوج کشی ِ
‫سے خارج از بحث کردی گئی کہ اسے اس قبیلے کے لوگ اپنے اوپر باقاعدہ حملہ سمجھیں گے۔لڑائی ہوگی جس میں میلہ
‫دیکھنے والے بے گناہ لوگ بھی مارے جائیں گے اور عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کا خطرہ بھی ہے۔یہ حل بھی پیش
‫کیاگیا کہ اس سوڈانی حبشی کو ساتھ لے جانا پسند نہیں کیا‪ ،کیونکہ دھوکے کا خطرہ تھا۔اس وقت تک سلطان ایوبی کے حکم
‫کے مطابق چھاپہ ماروں اور شب خون مارنے والوں کا ایک دستہ تیار کیاجاچکاتھا۔ اسے مسلسل جنگی مشقوں سے تجربہ کار
‫بنادیا گیاتھا کہ وہ جانبازوں کا دستہ تھا‪ ،جنہیں جذبے کے لحاظ سے اس قدر پختہ بنادیاگیا تھا کہ وہ اس پر فخر محسوس
‫کرنے لگے کہ انہیں جس مہم پر بھیجاجائے گا‪ ،اس زندہ واپس نہیں آئیں گے۔
‫نائب ساالر الناصر اور علی بن سفیان کے مشوروں سے یہ طے ہوا کہ صرف بارہ چھاپہ مار اس پہاڑی جگہ کے اندر جائیں گے
‫‪،جہاں پروہت رہتاہے اور لڑکی قربان کی جاتی ہے ۔حبشی کی دی ہوئی معلومات کے مطابق اس رات میلے میں زیادہ رونق
‫ہوتی ہے‪،کیونکہ وہ میلے کی آخری رات ہوتی ہے ۔قبیلے کے لوگوں کے سوا کسی اور کو معلوم نہیں ہوتاکہ لڑکی قربان کی
‫جارہی ہے‪ ،جسے معلوم ہوتاہے وہ یہ نہیں جانتا کہ قربان گاہ کہاں ہے ۔ان معلومات کی روشنی میں یہ طے کیاگیا کہ پانچ
‫سو سپاہی میلہ دیکھنے والوں کے بھیس میں تلواروں وغیر ہ سے مسلح ہوکر اس رات میلے میں موجود ہوں گے۔ان میں سے
‫دوسو کے پاس تیر کمان ہوں گے۔ا ُس زمانے میں ان ہتھیاروں پر پابندی نہیں تھی۔چھاپہ ماروں کے ذہنوں میں واضح تصور کی
‫صورت میں جگہ نقش کردی جائے گی۔ وہ برا ِہ راست حملہ نہیں کریں گے۔ چھاپہ ماروں کی طرح پہاڑی عالقے میں داخل

‫ہوں گے ۔پہرہ داروں کو خاموشی سے ختم کریں گے اور اصل جگہ پہنچ کر اس وقت حملہ کریں گے جب لڑکی قربان گاہ
‫میں الئی جائے گی۔ اس سے قبل حملے کا یہ نقصان ہوسکتاہے کہ لڑکی کو تہہ خانے میں ہی غائب یا ختم کردیاجائے گا۔
‫یہ معلوم ہوگیا تھا کہ قربانی آدھی رات کے وقت پورے چاند میں ہی دی جاتی ہے۔پانچ سوسپاہیوں کو اس وقت سے پہلے
‫قربان گاہ والی پہاڑیوں کے اِ رد گرد پہنچنا تھا۔چھاپہ ماروں کے لیے گھیرے میں آجانے یا مہم ناکام ہونے کی صورت میں یہ
‫ہدایت دی گئی کہ وہ فلیتے واال ایک آتشیں تیراوپر کو چالئیں گے۔اس تیر کا شعلہ دیکھ کر یہ پانچ سو نفری حملہ کردے گی
‫۔
‫اسی وقت بارہ جانباز منتخب کر لیے گئے اور اس فوج میں سے جو دوسال پہلے نور الدین زنگی نے سلطان ایوبی کی مدد
‫کے لیے بھیجی تھی‪،پانچ سوذہین اور بے خوف سپاہی ‪،عہدے دار اور کمان دار منتخب کر لیے گئے ۔یہ لوگ عرب سے آئے
‫تھے ‪،مصر اور سوڈان کی سیاست بازیوں اور عقائد کا ان پر کچھ اثر نہ تھا۔وہ صرف اسالم سے آگاہ تھے اور یہی ان کا
‫عقیدہ تھا۔وہ ہر اس عقیدے کے خالف ا ُٹھ کھڑے ہوتے تھے‪ ،جسے وہ غیر اسالمی سمجھتے تھے۔انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک
‫باطل عقیدے کے خالف لڑنے جارے ہیں اور ہوسکتاہے کہ انہیں اپنے سے زیادہ نفری سے مقابلہ کرنا پڑے اور لڑائی خونریز ہو
‫اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ ا ُن کے سامنے کوئی ٹھہر ہی نہ سکے اور بغیر لڑائی کے مہم سر ہوجائے ۔انہیں سکیم سمجھادی
‫گئی اور ان کے ذہنوں میں پہاڑی عالقے کا اور ان پہاڑویوں کی بلندی‪ ،جو زیادہ نہیں تھی اور ان میں گھر ی ہوئی قربان گاہ
‫کا تصور بٹھادیا گیا۔بارہ جانبازوں کو بھی ان کے ہدف کا تصور دیاگیا۔انہیں ٹریننگ بڑی سختی سے دی گئی تھی۔پہاڑیوں پر
‫چڑھنا اور ریگستانوں میں دوڑنا‪،بھوک اور پیاس اونٹ کی طرح برداشت کرنا ‪،اُن کے لیے مشکل نہیں تھا۔
‫قربانی کی رات کو چھ روز باقی تھے ۔تین دن اور تین راتیں چھاپہ ماروں اور پانچ سوسپاہیوں کو مشق کرائی گئی۔ چوتھے
‫روز چھاپہ ماروں کو اونٹوں پر روانہ کردیاگیا۔اونٹوں کی میانہ چال سے ایک دن اور آدھی رات کا سفر تھا۔شتر بانوں کو حکم
‫دیاگیا تھا کہ چھاپہ ماروں کو پہاڑی عالقے سے ُدور جہاں وہ کہیں اُتار کر واپس آجائیں ۔پانچ سوکے دستے کو تماشائیوں کے
‫بھیس میں دو دو چارچار ٹولیوں میں گھوڑوں اور اونٹوں پر روانہ کیا گیا۔ انہیں جانور اپنے ساتھ رکھنے تھے۔ ان کے ساتھ ان
‫کے کمان دار بھی اسی بھیس میں چلے گئے ۔
‫٭ ٭ ٭
‫میلے کی آخری راتھی۔
‫پورا چاند ا ُبھر تا آرہاتھا ۔صحرا کی فضا شیشے کی طرح شفاف تھی ۔میلے میں انسانوں کے ہجوم کا کوئی شمار نہ تھا۔کہیں
‫نیم برہنہ لڑکیاں رقص کررہی تھیں اور کہیں گانے والیوں نے مجمع لگارکھا تھا۔سب سے زیادہ بھیڑ اس چبوترے کے اِردگرد تھی
‫‪،جہاں لڑکیاں نیالم ہورہی تھیں ۔ایک لڑکی کو چبوترے پر الیا جاتا ۔گاہک اسے ہر طرف سے دیکھتے ۔اس کا منہ کھول کر
‫دانت دیکھتے ‪،بالوں کو ا ُلٹا پلٹا کر دیکھتے ‪،جسم کی سختی اور نرمی محسوس کرتے اور بولی شروع ہوجاتی ۔وہاں جواء بھی
‫۔دور ُدور سے آئے ہوئے لوگوں کے خیمے میلے کے
‫تھا‪ ،شراب بھی تھی ‪،اگر وہاں نہیں تھا تو قانون نہیں تھا۔پوری آزادی تھی ُ
‫اِ رد گرد نصب تھے ۔تماشائی مذہب اور اخالق کی پابندیوں سے آزاد تھے ۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان سے تھوڑی ہی ُدور جو
‫پہاڑیاں ہیں ‪ ،ان میں ایک خوب صورت لڑکی کو ذبح کرنے کے لیے تیار کیاجارہاہے اور وہاں ایک انسان دیوتا بناہواہے۔وہ
‫اتناہی جانتے تھے کہ ان پہاڑیوں میں گھراہوا عالقہ دیوتائوں کا پایٔہ تخت ہے‪،جہاں جن اور بھوت پہرہ دیتے ہیں اور کوئی
‫انسان وہاں جانے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔
‫انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے درمیان اللہ کے پانچ سو سپاہی گھوم پھر رہے ہیں اور بارہ انسان دیوتائوں کے پایٔہ تخت کی
‫حدود میں داخل ہوچکے ہیں ……صالح الدین ایوبی کے بارہ چھاپہ ماروں کو بتایا گیا تھا کہ پہاڑیوں کے اندرونی عالقے میں
‫داخل ہونے کا راستہ کہاں ہے ‪،لیکن وہاں سے وہ داخل نہیں ہوسکتے تھے ‪،کیونکہ وہاں پہرے کا خطرہ تھا۔انہیں بہت دشوار
‫راستے سے اندر جاناتھا۔انہیں بتایا گیا تھا کہ پہاڑوں کے اِرد گرد کوئی انسان نہیں ہوگا‪ ،مگر وہاں انسان موجود تھے ‪،جس کا
‫مطلب یہ تھا کہ اس حبشی نے علی بن سفیان کو غلط بتایاتھا کہ اس عالقے کے گرد کوئی پہرہ نہیں ہوتا۔ پہاڑیوں کا خطہ
‫ایک میل بھی لمبا نہیں تھا اور اسی قدر چوڑا تھا۔وہ چونکہ تربیت یافتہ چھاپہ مارتھے ۔ اس لیے وہ بکھر کر اور احتیاط
‫سے آگے گئے تھے ۔ایک چھاپہ مار کو اتفاق سے ایک درخت کے قریب ایک متحرک سایہ نظر آیا۔چھاپہ مار چھپتا اور رینگتا
‫اس کے عقب میں چالگیا۔ قریب جاکر اس پر جھپٹ پڑا۔ اس کی گردن بازو کے شکنجے میں لے کر خنجر کی نوک اس کے
‫ِد ل پر رکھ دی ۔ گردن ڈھیلی چھوڑ کر اس سے پوچھا کہ تم یہاں کیا کررہے ہو اور یہاں کس قسم کا پہرہ ہے؟
‫وہ حبشی تھا۔چھاپہ مار عربی بول رہاتھا جو حبشی سمجھ نہیں سکتا تھا۔اتنے میں ایک اور چھاپہ مار آگیا۔اس نے بھی خنجر
‫حبشی کے سینے پر رکھ دیا‪،انہوں نے اشاروں سے پوچھا تو حبشی نے اشاروں میں جواب دیا‪ ،جس سے شک ہوتاتھا کہ یہاں
‫پہرہ موجود ہے ۔اس حبشی کی شہ رگ کاٹ دی گئی اور چھاپہ مار اور زیادہ محتاط ہوکر آگے بڑھے ۔یکلخت جنگل آگیا۔
‫آگے پہاڑی تھی۔چاند اوپر ا ُٹھتا آرہاتھا ‪،لیکن درختوں اور پہاڑیوں نے اندھیرا کررکھا تھا۔وہ پہاڑی پر ایک دوسرے سے ذرا ُدور
‫اوپر چڑھتے گئے ۔
‫اندر کے عالقے میں جہاں لڑکی کو پروہت کے حوالے کیاگیا تھااور ہی سرگرمی تھی۔ پتھر کے چہرے کے سامنے چبوترے پر
‫ایک قالین بچھا ہواتھا۔ اس پر چوڑے پھل والی تلوار رکھی تھی ۔ اس کے قریب ایک چوڑا برتن رکھاتھا اور قالین پر بھول
‫بکھرے ہوئے تھے ۔اس کے قریب آگ جل رہی تھی ۔ چبوترے کے چاروں کناروں پر دئیے جال کر چراغاں کیاگیا تھا۔وہاں چار
‫لڑکیاں گھوم پھر رہی تھیں ‪ ،ان کا لباس دودو چوڑے پتے تھے اور باقی جسم برہنہ ۔چار حبشی تھے ‪ ،جنہوں نے کندھوں سے
‫ٹخنوں تک سفید چادریں لپیٹ رکھی تھی۔ ا ُ ِّم عرارہ تہہ خانے میں پروہت کے ساتھ تھی ۔پروہت اس کے بالوں سے کھیل
‫رہاتھا اور وہ مخمور آواز میں کہہ رہی تھی ……''میں انگوک کی ماں ہو‪ ،تم انگوک کے باپ ہو‪،میرے بیٹے مصر اور سوڈان
‫کے بادشاہ بنیں گے۔میرا خون انہیں پالدو۔میرے لمبے لمبے سنہری بال ان کے گھروں میں رکھ دو ۔
‫انگوک غالبا ً اس قبیلے کانام تھا۔ایک عربی لڑکی کونشے کے خمار نے اس قبیلے کی ماں اور پروہت کی بیوی بنادیاتھا۔ وہ
‫قربان ہونے کے لیے تیار ہوگئی تھی ۔ پروہت آخری رسوم پوری کررہاتھا۔
‫بارہ چھاپہ مار رات کے کیڑوں کی طرح رینگتے ہوئے پہاڑیوں پر چڑھتے ‪،اُترتے اور ٹھوکریں کھاتے آرہے تھے ۔بہت ہی دشوار
‫گزار عالقہ تھا۔بیشتر جھاڑیاں خاردار تھیں ۔چاند سر پر آگیاتھا۔انہیں درختوں میں سے روشنی کی کرنیں دکھائی دینے لگیں ۔ان
‫کرنوں میں انہیں ایک حبشی کھڑا نظر آیا ‪ ،جس کے ایک ہاتھ میں برچھی اور دوسرے میں لمبوتری ڈھال تھی ۔وہ بھی
‫دیوتائوں کے پایٔہ تخت کا پہرہ دار تھا۔اسے خاموشی سے مارنا ضروری تھا ۔وہ ایسی جگہ کھڑا تھا‪،جہاں اس پر عقب سے
‫حملہ نہیں کیا جاسکتاتھا۔ آمنے سامنے کا مقابلہ موزوں نہیں تھا۔ ایک چھاپہ مار جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گیا ۔ دوسرے نے

‫اس کے سامنے ایک پتھر پھینکا ‪ ،جس نے گر کر اور لڑھک کر آواز پیدا کی ۔حبشی بدکا اور اس طرف آیا۔وہ جوں ہی
‫جھاڑی میں چھپے ہوئے چھاپہ مار کے سامنے آیا‪ ،اُس کی گردن ایک بازو کے شکنجے میں آگئی اور ایک خنجر اس کے ِدل
‫میں اُترگیا۔ چھاپہ مار کچھ دیر وہاں ُرکے اور احتیاط سے آگے چل پڑے ۔
‫ا ُ ِّم عرارہ قربانی کے لیے تیار ہوچکی تھی۔پروہت نے آخری بار اسے اپنے سینے سے لگایا اور اس کا ہاتھ تھام کر سیڑھیوں
‫کی طرف چل پڑا ۔باہر کے چار حبشی مردوں اور لڑکیوں کو پتھر کے سر اور چہرے کے منہ میں روشنی نظر آئی تو وہ منہ
‫کے سامنے سجدے میں گرگئے ۔پروہت نے اپنی زبان میں ایک اعالن کیا اور منہ سے اُترآیا ۔ا ُ ِّم عرارہ اس کے ساتھ تھی۔
‫اسے وہ قالین پر لے گیا۔مرد اور لڑکیا ں اس کے اِرد گرد کھڑی ہوگئیں ۔ا ُ ِّم عرارہ نے عربی زبان میں کہا……''میں انگوک کے
‫بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے اپنی گردن کٹوارہی ہوں ۔ میں ان کے گناہوں کا کفارہ ادا کررہی ہوں ۔میری گردن کاٹ دو۔ میرا سر
‫انگوک کے دیوتا کے قدموں میں رکھ دو۔ دیوتا اس سر پر مصر اور سوڈان کا تاج رکھیں گے''……چاروں آدمی اور لڑکیاں ایک
‫بار پھر سجدے میں گر گئیں ۔پروہت نے ا ُ ِّم عرارہ کو قالین پر دوزانو بٹھا کر اس کا سر آگے ُجھکا دیا اوروہ تلوار
‫اُٹھالی ‪،جس کا پھل پورے ہاتھ جتنا چوڑا تھا۔
‫ایک چھاپہ مار جو سب سے آگے تھا ‪ُ ،رک گیا۔اس نے سر گوشی کرکے پیچھے آنے والے کو روک لیا۔پہاڑی کی بلندی سے
‫انہیں چبوترہ اور پتھر کا سر نظر آیا……چبوترے پر ایک لڑکی دو زانو بیٹھی تھی ۔جس کا سر جھکاہواتھا۔شفاف چاندنی ‪،
‫چراغاں اور بڑی مشعلوں نے سورج کی روشنی کا سماں بنارکھاتھا۔ لڑکی کے پاس کھڑے آدمی کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ لڑکی
‫ماردور تھے اور بلندی پر بھی
‫دوزانو بیٹھی ہوئی تھی۔اس کے جسم کا رنگ بتارہاتھا کہ حبشی قبیلے کی لڑکی نہیں ۔چھاپہ
‫ُ
‫تھے‪ ،وہاں سے تیر خطاجانے کا خطرہ تھا‪ ،مگر وہ جس پہاڑی پر تھے ۔اس کے آگے ڈھالن نہیں تھی ‪ ،بلکہ سیدھی دیوار
‫تھی ‪ ،جس سے ا ُتر ناناممکن تھا۔وہ جان گئے کہ لڑکی قربان کی جارہی ہے اور اسے بچانے کے لیے وقت اتنا تھوڑاہے کہ وہ
‫ا ُڑ کر نہ پہنچے تو اسے بچانہیں سکیں گے ۔ انہوں نے چوٹی سے نیچے دیکھا۔چاندنی میں انہیں ایک جھیل نظر آئی ۔انہیں
‫بتایاگیا تھا کہ وہاں ایک جھیل ہے جس میں مگر مجھ رہتے ہیں ۔
‫دائیں طرف ڈھالن تھی ‪،لیکن وہ بھی تقریبا ً دیوار کی طرح تھی ۔وہاں جھاڑیاں اور درخت تھے ۔ انہیں پکڑ پکڑ کر اور ایک
‫دوسرے کے ہاتھ تھام کر دوہ ڈھالن ا ُترنے لگے ۔ان میں سے آخری جانباز نے اتفاق سے سامنے دیکھا۔چاندنی میں سامنے کی
‫چوٹی پر اسے ایک حبشی کھڑا نظر آیا۔اس کے ایک ہاتھ میں ڈھال تھی اور دوسرے ہاتھ میں برچھی ‪ ،جو اس نے تیر کی
‫طرح پھینکنے کے لیے تان رکھی تھی۔چھاپہ ماروں پر چاندنی نہیں پڑرہی تھی ۔حبشی ابھی شک میں تھا۔آخری چھاپہ مارنے
‫کمان میں تیر ڈاال ۔رات کی خاموشی میں کمان کی آواز سنائی دی ۔تیر حبشی کی شہ رگ میں لگا اوروہ لڑھکتا ہوا‪،نیچے
‫آرہا۔چھاپہ مار ڈھالن اُترتے گئے ۔گرنے کاخطرہ ہر قدم پر تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫پروہت نے تلوار کی دھار ا ُ ِّم عرارہ کی گردن پر رکھی اور اوپر اُٹھائی۔لڑکیوں اور مردوں نے سجدے سے اُٹھ کردو زانوں بیٹھتے
‫ہوئے پُ ر سوز اور دھیمی آواز میں کوئی گانا شروع کردیا۔یہ ایک گونج تھی جو اس ُدنیا کی نہیں لگتی تھی ۔ پہاڑیوں میں
‫گھری ہوئی اس تنگ سی وادی میں ایسا طلسم طاری ہوا جارہاتھا جو باہر کے کسی بھی انسان کو یقین ِدال سکتا تھا کہ یہ
‫انسانوں کی نہیں ‪،دیوتائوں کی سرزمین ہے ……پروہت تلوار کو اوپر لے گیا۔اب تو ایک دوسانسوں کی دیر تھی ۔تلوار نیچے کو
‫آنے ہی لگی تھی کہ ایک تیر پروہت کی بغل میں دھنس گیا۔اس کا تلوار واال ہاتھ ابھی نیچے نہیں گراتھا کہ تین تیر بیک
‫وقت اس کے پہلو میں ا ُتر گئے ۔لڑکیوں کی چیخیں سنائی دیں ۔مرد کسی کو آواز دینے لگے ۔تیروں کی ایک اور باڑ آئی جس
‫نے دو مردوں کو گرادیا۔لڑکیاں جدھر منہ آیا‪ ،دوڑ پڑیں ۔ ا ُ ِّم عرارہ اس شور و غل اور اپنے ارد گرد تڑپتے ہوئے اور خون میں
‫ڈوبے ہوئے جسموں سے بے نیاز سر جھکائے بیٹھی تھی۔
‫چھاپہ مار بہت تیز دوڑتے آئے ۔چبوترے پر چڑھے اورا ُ ِّم عرارہ کو ایک نے اُٹھا لیا۔وہ ابھی تک نشے کی حالت میں باتیں
‫کررہی تھی۔ایک جانباز نے اپنا کرتہ ا ُتا ر کر اسے پہنا دیا ۔اسے لے کر چلے ہی تھے کہ ایک طرف سے بارہ حبشی برچھیاں
‫اور ڈھالیں ا ُٹھائے دوڑتے آئے ۔چھاپہ مار بکھرگئے ۔ان میں چار کے پاس تیر کمانیں تھیں ۔انہوں نے تیر برسائے ۔باقی چھاپہ
‫مار ایک طرف چھپ گئے اور جب حبشی آگے آئے تو عقب سے ان پر حملہ کردیا۔ایک تیر انداز نے کمان میں فلیتے واال تیر
‫نکاال ۔فلیتے کو آگ لگائی اور کمان میں ڈال کر اوپر کو چھوڑدیا۔تیر ُدور اوپر جاکر ُرکا تو اس کا شعلہ جو رفتا ر کی وجہ
‫سے دب گیاتھا‪ ،رفتار ختم ہوتے ہی بھڑکا اور نیچے آنے لگا۔
‫میلے کی رونق ابھی ماند نہیں پڑی تھی ۔تماشایوں میں سے پانچ سو تماشائی میلے سے الگ ہوکر اس پہاڑی خطے کی طرف
‫دیکھ رہے تھے۔ انہیں ُد ور فضا میں ایک شعلہ سا نظر اآیا جو بھڑک کر نیچے کو جانے لگا۔ وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار
‫ہوئے ۔ان کے کمان دار ساتھ تھے ۔پہلے تو وہ آہستہ آہستہ چلے تاکہ کسی کو شک نہ ہو ۔ذرا ُدور جاکر انہوں نے گھوڑے
‫دوڑادئیے ۔ تماشائی میلے میں شراب ‪ ،جوئے اور ناچنے گانے والی لڑکیوں اور عصمت فروش عورتوں میں اتنے مگن تھے کہ
‫کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ ان کے دیوتائوں پر کیا قیامت ٹو ٹ پڑی ہے ۔
‫چھاپہ مارنے اس خطرے کی وجہ سے آتشیں تیر چالدیاتھا کہ حبشیوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ‪،مگر فوج وہاں پہنچی تو وہاں
‫بارہ تیرہ الشیں حبشیوں کی اور دو الشیں چھاپہ مار شہیدوں کی پڑی تھیں ۔وہ برچھیوں سے شہید ہوئے تھے۔کمان داروں نے
‫وہاں کاجائزہ لیا ۔پتھر کے منہ میں گئے اور تہہ خانے میں جاپہنچے ‪،وہاں انہیں جو چیزیں ہاتھ لگیں ‪،وہ اُٹھالیں۔اُن میں ایک
‫پھول بھی تھا جو قدرتی نہیں ‪ ،بلکہ کپڑے سے بنایا گیا تھا۔احکام کے مطابق فوج کووہیں رہنا تھا‪،لیکن پہاڑیوں میں چھپ
‫کر ۔چھاپہ ماروں نے ا ُ ِّم عرارہ کو گھوڑے پر ڈاال اور قاہرہ کی طرف روانہ ہوگئے۔
‫صبح طلوع ہوئی ۔
‫میلے کی رونق ختم ہوگئی تھی ۔بیشتر تماشائی رات شراب پی پی کر ابھی تک مدہوش پڑے تھے ۔دوکاندار جانے کے لیے مال
‫اسباب باندھ رہے تھے ۔لڑکیوں کے بیوپاری بھی جارہے تھے ۔صحرا میں روانہ ہونے والوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں ۔ میلے
‫کے قریب جو گاوں تھا وہاں کے لوگ بے تابی سے اس لڑکی کے بالوں کا انتظار کررہے تھے ‪،جسے رات قربان کیاگیاتھا۔اس
‫جود ور دراز دیہات کے رہنے والے تھے ‪،پہاڑی جگہ سے دور کھڑ ے دیوتائوں کے مسکن کی طرف دیکھ رہے
‫قبیلے کے لوگ
‫ُ
‫تھے۔ ان کے بڑے بوڑھے انہیں بتارہے تھے کہ ابھی پروہت آئے گا۔ وہ دیوتائوں کی خوشنودی کا پیغام دے گا اور ان میں بال
‫تقسیم کرے گا‪ ،مگر ابھی تک کوئی نہیں آیا تھا۔ دیوتاوں کے مسکن پر سکوت طاری تھا۔ اس منتظر ہجوم کو معلوم نہ تھا کہ
‫وہاں فوج مقیم ہے اور اب وہاں سے دیوتائوں کا کوئی پیغام نہیں آئے گا……دن گزرتاگیا۔قبیلے کے جن نوجوانوں نے قربانی کی
‫باتیں سنی تھیں ‪،انہیں شک ہونے لگا کہ یہ سب جھوٹ ہے ۔ ِد ن گزر گیا۔ سورج انہی پہاڑیوں کے پیچھے جا کر ڈوب گیا۔

‫کسی میں اتنی جرٔات نہیں تھی کہ وہ وہاں جاکر دیکھتا کہ پروہت کیوں نہیں آیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫طبیب کو بالالئو''……سلطان ایوبی نے کہا……''لڑکی پر نشے کا اثر ہے ''۔''
‫ا ُ ِّم عرارہ اس کے سامنے بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی ……''میں انگوک کی ماں ہوں ۔تم کون ہو؟تم دیوتا نہیں ہو۔ میرا شوہر
‫کہاں ہے ۔میرا سرکا ٹو اور دیوتا کو دے دو۔مجھے میرے بیٹوں پر قربان کردو''……وہ بولے جارہی تھی ‪،مگر اب اس پر
‫غنودگی بھی طاری ہورہی تھی ۔اس کا سرڈول رہاتھا۔
‫طبیب نے آتے ہی اس کی کیفیت دیکھی اور اسے کوئی دوائی دے دی ۔ذراسی دیر میں اس کی آنکھیں بند ہوگئیں ۔ اسے لٹا
‫دیاگیااور وہ گہری نیند سوگئی ۔سلطان ایوبی کو تفصیل سے بتایا گیا کہ پہاڑی خطے میں کیا ہوا اور وہاں سے کیا مالہے ۔اس
‫نے اپنے نائب ساال رالناصر اور بہائوالدین شداد کو حکم دیا کہ پانچ سوسوارلے جائیں ‪،ضروری سامان لے جائیں اور اس بُت کو
‫مسمار کردیں ‪ ،مگر اس جگہ کو فوج کے گھیرے میں رکھیں ۔حملے کی صورت میں مقابلہ کریں ۔اگر وہ لوگ دب جائیں اور
‫لڑنہ سکیں تو انہیں وہ جگہ دکھا کر پیار اور محبت سے سمجھائیں کہ یہ محض ایک فریب تھا۔
‫شداد نے اپنی ڈائری میں جو عربی زبان میں لکھی گئی تھی‪،اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے کہ وہ پانچ سو سواروں کے ساتھ
‫وہاں پہنچا ۔راہنمائی اس فوج کے کمان دار نے کی جو پہلے ہی وہاں موجود تھا۔سینکڑوں سوڈانی حبشی ُدور ُدور کھڑے تھے۔ان
‫میں سے بعض گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے ۔ان کے پاس برچھیاں ‪،تلواریں اور کمانیں تھیں ۔ہم نے اپنے تمام تر سواروں
‫کو اس پہاڑی جگہ کے اِ رد گرد اس طرح کھڑا کردیا کہ ان کے منہ باہر کی طرف اور ان کی کمانوں میں تیر تھے اور جن کے
‫پاس کمانیں نہیں تھیں ‪ ،ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں ۔خطرہ خون ریز لڑائی کاتھا۔ میں الناصر کے ساتھ اندر گیا۔بُت
‫کودیکھ کر میں نے کہا کہ فرعونوں کی یاد گار ہے ۔حبشیوں کی الشیں پڑی تھیں ۔ہر جگہ گھوم پھر کر دیکھا‪ ،دو پہاڑیوں کے
‫درمیان ایک کھنڈر تھا ‪،جوفرعونوں کے وقتوں کی خوشنما عمارت تھی ۔دیواروں پر اُس زمانے کی تحریریں تھیں ۔ الفاظ لکیروں
‫والی تصویروں کی مانند تھے ۔کوئی شبہہ نہ رہاکہ یہ فرعونوں کی جگہ تھی ……دیوار جیسی ایک پہاڑی کے دامن میں جھیل
‫تھی ‪ ،جس کے اندر اور باہر دو دو قدم لمبے مگر مچھ تھے ۔جھیل کا پانی پہاڑی کے دامن کو کاٹ کر پہاڑی کے نیچے
‫چالگیاتھا۔ پانی کے اوپر پہاڑی کی چھت تھی ۔جگہ خوف ناک تھی ۔ہمیں دیکھ کر بہت سارے مگر مچھ کنارے پر آگئے اور
‫ہمیں دیکھنے لگے۔
‫میں نے سپاہیوں سے کہا‪،حبشیوں کی الشیں جھیل میں پھینک دو‪ ،یہ بھوکے ہیں ۔وہ الشیں گھسیٹ کر الئے اور جھیل میں
‫پھینک دیں ‪،مگر مچھوں کی تعداداکا اندازہ نہیں ‪،پوری فوج تھی ۔الشوں کے سر باہر رہے اور یہ سر پانی میں دوڑتے پہاڑی
‫کے اندر چلے گئے ۔پھر پروہت کی الش آئی ۔اس نے دوسرے انسانوں کو مگر مچھوں کے آگے پھینکا تھا‪ ،ہم نے اسے بھی
‫جھیل میں پھینک دیا……وہ سپاہی چار سوڈانی لڑکیوں کو الئے ۔وہ کہیں چھپی ہوئی اور تھیں۔کمرکے ساتھ ایک پتہ آگے اور
‫پیچھے بندھاہواتھا۔میں نے اور الناصر نے منہ پھیر لیے ۔سپاہیوں سے کہاکہ انہیں مستور کرو۔ جب ان کے جسم کپڑوں میں
‫چھپ گئے تو دیکھا کہ وہ بہت خوب صورت تھیں ۔روتی تھیں ‪،ڈرتی تھیں۔ہمارے ترجمان کو انہوں نے وہاں کاحال اپنی زبان
‫میں بیان کیا جو بہت شرم ناک تھا۔مسلمان کو عورت ذات کا یہ حال برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ عورت اپنی ہو‪،کسی اور کی
‫ہو‪،کافر ہو ‪،اسالم اسے بیٹی کہتاہے ۔ان چار لڑکیوں کا بیان ظاہر کرتاتھا کہ وہ فرعونوں کو خدامانتی ہیں ۔ان کا قبیلہ انسان
‫کو خدامانتا ہے ۔
‫یہ جگہ خوش نما تھی ۔سارے صحرا میں سر سبز تھی ۔اندر پانی کا چشمہ تھا‪،جس نے جھیل بنائی ‪،درخت تھے‪،جنہوں نے
‫سایہ دیا۔کسی فرعون کو یہ مقام پسند آیا تو اسے تفریح کا مقام بنایا ۔اپنی خدائی کے ثبوت میں یہ بُت بنایا۔ اس میں تہہ
‫خانہ رکھا اور یہاں عیش کی ۔آسمان نے کوئی اور رنگ دکھایا۔ سورج اُدھر سے اِدھر ہوگیا۔فرعونوں کے ستارے ٹوٹ گئے اور
‫'' ال ٰہ االاللہ '' ُسنا اور خدا کے حضور
‫ال
‫مصر میں دوسرے باطل مذہب آئے ۔ آخر میں حق کی فتح ہوئی اور مصرنے کلمہ
‫سرخرو ہوا‪،لیکن کسی نے نہ جاناکہ باطل ان پہاڑیوں میں زندہ رہا۔الحمد للہ ‪،ہم نے خدائے عز وجل سے راہنمائی لی ۔ باطل
‫کا یہ نقش بھی اُکھاڑا اور اس کو پاک کیا۔
19:17
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪25.۔ "ام عرارہ کا اغواہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫باطل کا یہ نقش بھی اُکھاڑا اور اس جگہ کو پاک کیا۔
‫اس جگہ کو سواروں کے گھیرے میں لے کر فوج نے پتھر کے اس ہیبت ناک بُت کو مسمار کردیا‪ ،چبوترہ بھی گرادیا‪ ،تہہ خانہ
‫ملبے سے بھر دیا۔باہر سینکڑوں حبشی حیران اور خوف زدہ کھڑے تھے کہ یہ کیا ماجرہ ہے ۔ان سب کو بالکر اندر لے جایا
‫گیا کہ یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔چاروں لڑکیاں ا ُن کے حوالے کی گئیں ۔چاروں کے باپ اور بھائی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے
‫اپنی اپنی لڑکی لے لی ۔انہیں بتایا گیا کہ یہاں ایک بد کار آدمی رہتاتھا‪ ،وہ مگر مچھوں کو کھالدیاگیاہے ۔ان سینکڑوں حبشیوں
‫کو اکٹھا بٹھا کر ان کی زبان میں وعظ دیاگیا۔ وہ سب خاموش رہے ۔انہیں اسالم کی دعوت دی گئی ۔وہ پھر بھی خاموش
‫رہے ۔ کبھی کبھی شک ہوتاتھا‪ ،جیسے ان کی آنکھوں میں خون اُتر آیاہے ۔ انہیں یہ الفاظ دھمکی کے لہجے میں کہے
‫گئے……'' اگر تم سچے خدا کو دیکھنا چاہتے ہوتو ہم تمہیں دکھائیں گے ۔اگر تم اسی جگہ کو جہاں تم بیٹھے ہو‪،اپنے جھوٹے
‫خدائوں کا گھر کہتے رہو گے تو ہم ان پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کرکے ریت کے ساتھ مالدیں گے ‪،پھر تم دیکھو گے کہ کون
‫سا خدا سچاہے''۔
‫ا ُ دھر قاہرہ میں ا ُ ِّم عرارہ ہوش میں آچکی تھی ۔وہ اپنی داستان سناچکی تھی ‪،جو اوپر بیان کی گئی ہے ۔کبھی وہ کہتی
‫تھی کہ اس نے کوئی خواب دیکھا ہے ۔ا ُسے ساری باتیں یاد آگئیں تھیں ۔اس نے بتایا کہ پروہت اسے ِدن رات بے آبرو کرتا
‫تھا اور پھول کئی بار اس کی ناک کے ساتھ لگاتاتھا۔ ا ُ ِّم عرارہ کو بتایا گیا کہ اس کی گردن کٹنے والی تھی ‪ ،اگر چھاپہ مار
‫بروقت نہ پہنچ جاتے تو اس کا سر غار میں اور جسم مگر مچھوں کے پیٹ میں ہوتا۔نازک سی ‪ ،یہ حسین لڑک خوف سے
‫کانپنے لگی۔ اس کے آنسو نکل آئے اس نے سلطان ایوبی کے ہاتھ چوم لیے اور کہا……''خدانے مجھے گناہوں کی سزادی
‫ہے ‪،میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہتی ہوں ۔خدا کے لیے مجھے پناہ میں لے لیں ''……اس کی ذہنی کیفیت بہت ہی
‫بُری تھی ۔
‫اس نے شام کے ایک دولت مند تاجر کانام لے کر کہا کہ وہ اس کی بیٹی ہے ۔یہ مسلمان تاجر تھا ۔اس کا دوستانہ شام کے

‫امیروں کے ساتھ تھا۔ا ُس وقت کے امیر ایک ایک شہر یا تھوڑے تھوڑے رقبے کے خطوں کے حکمران ہواکرتے تھے ‪،جو مرکزی
‫امارت کے ماتحت تھے ۔مرکزی امارت ‪ ،مرکزی وزارت اور خالفت کے ماتحت ہوتی تھی ۔یہ امراء دسویں صدی کے بعد پوری
‫طرح عیاشیوں میں ڈوب گئے تھے ۔بڑے تاجروں سے دوستی رکھتے تھے ‪ ،ان کے ساتھ کاروبار بھی کرتے اور رشوت بھی لیتے
‫تھے ۔ ان کے حرموں میں لڑکیوں کی افراط رہتی اور شراب بھی چلتی تھی ۔ ا ُ ِّم عرارہ ایسے ہی ایک دولت مند تاجر کی
‫بیٹی تھی جو اپنے باپ کے ساتھ بارہ تیرہ سال کی عمر میں امراء کی رقص و سرور کی محفلوں میں جانے لگی تھی۔ باپ
‫غالبا ً دیکھ رہاتھا کہ لڑکی خوب صورت ہے ‪،اس لیے وہ اسے لڑکپن میں ہی امراء کی سوسائٹی کا عادی بنانے لگاتھا۔ ا ُ ِّم
‫عرارہ نے بتایا کہ وہ چودہ سال کی ہوئی تو امراء نے اس میں دلچسپی لینی شروع کردی تھی ۔دونے اسے بڑے قیمتی تحفے
‫بھی دئیے ۔وہ گناہوں کی اسی ُدنیا کی ہوکے رہ گئی۔
‫عمر کے سولہویں سال وہ باپ کو بتائے بغیر ایک امیر کی در پردہ داشتہ بن گئی ‪،مگر رہتی اپنے گھر میں تھی ۔ وہ دولت
‫میں جنی پلی تھی ‪،شرم و حیا سے آشنا نہیں تھی۔ دو تین سال بعد وہ باپ کے ہاتھ سے نکل گئی اور آزادی سے دو اور
‫امراء سے تعلقات پیدا کر لیے ۔ اس نے خوب صورتی ‪ ،چرب زبانی اور مردوں کو انگلیوں پر نچانے میں نام پیدا کرلیا ۔باپ
‫نے اس کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا۔گذشتہ چھ سال سے اسے ایک اور ہی قسم کی ٹریننگ ملنے لگی تھی ۔ یہ تین امراء نے
‫مل کر سازش کی تھی‪،جس میں اس کا باپ بھی شریک تھا۔اسے خالفت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی ٹریننگ دی جارہی
‫تھی ۔آگے چل کر اس سازش میں ایک صلیبی بھی شامل ہوگیا۔یہ امراء خود مختار حاکم بننے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔
‫صلیبیو ں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔ ا ُ ِّم عرارہ کو نورالدین زنگی اور خالفت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے
‫لیے بھی استعمال کیاگیا تھا۔ صلیبیوں نے اس مہم میں تین عیسائی لڑکیاں شامل کرکے ایک زمین دو محاذ بنالیا۔
‫انہوں نے جب دیکھا کہ مصر میں صالح الدین ایوبی نے نام پیدا کرلیاہے اور اس نے دو ایسے کارنامے کر دکھائے ہیں‪ ،جس
‫نے اسے مصر کا وزیر اور امیر نہیں ‪،بلکہ بادشاہ بنادیاہے تو ا ُ ِّم عرارہ کو خلیفہ العاضدکی خدمت میں تحفے کے طور پر
‫بھیجاگیا۔اسے مہم یہ دی گئی کہ خلیفہ کے ِدل میں صالح الدین ایوبی کے خالف دشمنی پیدا کرے اور سابق سوڈانی فوج کے
‫جو چند ایک حکام فوج میں رہ گئے ہیں ‪،انہیں العاضد کے قریب کرکے سوڈانیوں کو ایک اور بغاوت پر آمادہ کرے۔اسے
‫دوسری مہم یہ دی گئی تھی کہ خلیفہ العاضد کو آمادہ کرے کہ سوڈانی جب بغاوت کریں تو انہیں ہتھیاروں اور ساز و سامان
‫سے مدد دے اور اگر ممکن ہوسکے تو صالح الدین ایوبی کی فوج کا کچھ حصہ باغی کرکے سوڈانیوں سے مالدے ۔خلیفہ اور
‫کچھ نہ کرسکے تو اپنا محافظ دستہ سوڈانیوں کے حوالے کرکے خود سلطان ایوبی کے پاس جاپناہ لے اور اسے کہے کہ اس کے
‫محافظ باغی ہوگئے ہیں ۔مختصر یہ کہ صالح الدین ایوبی کے خالف ایسا محاذ قائم کرنا تھا جو اُسے مصر سے بھاگنے پر
‫مجبور کردے اور باقی عمر گمنامی میں گزاردے ۔
‫ا ُ ِّم عرارہ نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ مسلمان کے گھر پیدا ہوئی تھی ‪،لیکن باپ نے اسے مسلمانوں کی ہی جڑیں کاٹنے
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کے ا ُمراء نے اپنے دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی سلطنت کو تباہ کرنے کی کوشش کی
‫کی تربیت دی اور
‫۔اس لڑکی نے خلیفہ العاضد کا دماغ اپنے قبضہ میں لے لیااور سلطان ایوبی کے خالف کردیاتھا۔ رجب کو وہ سازش میں شریک
‫کرچکی تھی ۔رجب نے دو اور فوجی حکام کو اپنے ساتھ ماللیاتھا۔ رجب نے اس سلسلے میں یہ کام کیا کہ خلیفہ کے محافظ
‫دستے میں وہ مصریوں کی جگہ سوڈانی رکھتا جارہاتھا۔ ا ُ ِّم عرارہ کو خلیفہ کے پاس الئے ابھی دو اڑھائی مہینے ہوئے تھے ‪،وہ
‫قصر خالفت پر غالب آگئی تھی اور حرم کی ملکہ بن گئی تھی ۔اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ خلیفہ سلطان ایوبی کو قتل
‫ِ
‫کرانا چاہتا ہے اور رجب نے حشیشین سے مل کر قتل کا انتظام کردیاہے ۔
‫یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ سلطان ایوبی نے خلیفہ کے بے کار وجود اور عیش پرستی سے تنگ آکر اس کے خالف
‫کاروائی شروع کردی تھی اور یہ بھی اتفاق تھا کہ ا ُ ِّم عرارہ کو وہی لوگ اغوا کرکے لے گئے ‪،جنہیں وہ سلطان ایوبی کے
‫خالف لڑا نا چاہتی تھی اور یہ اتفاق تو بڑاہی اچھا تھا کہ سلطان ایوبی نے رجب سے محافظ دستے کی کمان لے لی اور
‫وہاں اپنی پسند کا ایک نائب ساالر بھیج دیا تھا‪ ،مگر ان اتفاقات نے حاالت کا دھارا موڑ کر سلطان ایوبی کے لیے ایک خطرہ
‫پیدا کردیا۔سلطان ایوبی نے ا ُ ِّم عرارہ کو اپنی پناہ میں رکھا۔لڑکی بُری طرح پچھتا رہی تھی اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتی
‫تھی۔ قدرت نے ایک ایسا دھچکہ دے کر اس کا دماغ درست کردیاتھا۔ سلطان ایوبی ٹھنڈے ِدل سے سوچنے لگا کہ اس سازش
‫میں جو حکام شامل ہیں ‪ ،ان کے ساتھ وہ کیا سلوک کرے۔
‫دوسرے دن النا صر اور بہائوالدین شداد فرعونوں کا آخری نشان مٹاکر فوج واپس لے آئے
‫‪.
‫……آٹھ ِدنوں بعد
‫رات کا پچھال پہر تھا۔سلطان ایوبی کے جاگنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی ۔ اُسے مالزم نے جگادیااور کہا کہ الناصر‪،علی بن
‫سفیان اور دو اور نائب آئے ہیں ۔سلطان اُچھل کر ا ُٹھا اور مالقات کے کمرے میں چالگیا۔ان حکام کے ساتھ ان دستوں میں
‫سے ایک کا کمان دار بھی تھا‪ ،جو شہر سے ُد ور گشت کرتے رہتے تھے ۔ سلطان ایوبی کو بتایاگیا کہ کم و بیش چھ ہزار
‫سوڈانی جن میں برطرف سوڈانی فوج کے افراد ہیں اور اس وحشی قبیلے کے بھی جس کے عقیدے کو ملیا میٹ کیاگیا تھا۔
‫مصرکی سرحد میں داخل ہوکر ایک جگہ پڑاو کیے ہوئے ہیں ۔اس کمان دار نے یہ عقل مندی کی کہ عام لباس میں دوشتر
‫سوار یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجے کہ اس لشکر کا کیا ارادہ ہے ۔ان شتر سواروں نے اپنے آپ کو مسافر ظاہر کیا اور معلوم
‫کرلیا کہ یہ لشکر قاہرہ پر حملہ کرنے جارہاہے۔ شتر سواروں نے لشکر کے سربراہوں سے مل کر صالح الدین ایوبی کے خالف
‫باتیں کیں اور کہا کہ وہ بہت سے آدمیوں کو اس لشکر میں شامل کرنے کے لیے الئیں گے۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہوآئے ۔ ان
‫کی اطالع کے مطابق یہ لشکر اِدھر ا ُدھر سے مزید نفری کا منتظر تھا اور اسے اگلے روز وہاں سے کوچ کرناتھا۔
‫سلطان ایوبی نے پہال حکم یہ دیا کہ خلیفہ کے محافظ دستے میں صرف پچاس سپاہی اور ایک کمان دار رہنے دو۔باقی تمام
‫دستے کو چھائونی میں باللو۔ اگر خلیفہ احتجاج کرے تو کہہ دینا کہ یہ میرا حکم ہے ۔سلطان نے علی بن سفیان سے کہاکہ
‫اپنے شعبے کے کم از کم سو آدمی جو سوڈانی زبان اچھی طرح بول سکتے ہیں ۔ سوڈانی باغیوں کے بھیس میں اس کمان
‫دار کے ساتھ ابھی روانہ کردو۔ کمان دار سے کہا کہ یہ سوآدمی ان دو شتر سواروں کے ساتھ سوڈانیوں کے لشکر میں شامل
‫ہوں گے ۔یہ دو شتر سوار سنتری بتائیں گے کہ وہ وعدے کے مطابق مدد الئے ہیں ۔ان کے لیے ہدایات یہ دیں کہ وہ لشکر
‫کی پیش قدمی کے متعلق اطالع دیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ رات کے وقت اس لشکر کے جانور اور رسد کہاں ہوتی ہے۔
‫سلطان ایوبی نے الناصر سے کہا کہ تیز رفتار گھوڑ سوار چھاپہ ماروں اور منجنیقوں کے دستے تیار رکھو۔
‫میں نے سوچاتھا کہ سیدھی ٹکر لے کر سوڈانیوں کو شہر سے دور ہی ختم کیاجائے ''۔الناصر نے کہا۔''

‫نہیں !'' ۔سلطان ایوبی نے کہا……''یاد رکھنا الناصر !اگر دشمن کو پہلو سے لو ۔عقب سے لو‪ ،ضرب لگائواور بھاگو‪'' ،
‫دشمن کی رسد تباہ کرو‪ ،جانور تباہ کرو‪ ،دشمن کو پریشان کرو‪ ،اس کے دستے بکھیر دو‪ ،اُسے آگے آنے کی مہلت نہ دو‪ ،اسے
‫دائیں بائیں پھیل جانے پر مجبور کردو‪،اگر سامنے سے ٹکر لینا چاہتے ہوتو یہ نہ بھولوکہ یہ صحرا ہے ۔سب سے پہلے پانی
‫کی جگہ پر قبضہ کو۔ سورج اور ہوا کے ُر خ کو دشمن کے خالف رکھو ۔اسے پریشان کرکے اپنی پسند کے میدان میں الئو۔میں
‫تمہیں عملی سبق دوں گا ۔اس لشکر کی یہ خواہش میں پوری نہیں ہونے دوں گا کہ وہ قاہرہ تک پہنچے یا میری فوج اس
‫کے آمنے سامنے جا کر لڑے ''……اس نے علی بن سفیان سے کہا……''تم جن ایک سو آدمیوں کو لشکر میں شامل ہونے کے
‫لیے بھیجو گے‪،انہیں کہنا کہ وہ سوڈانیوں میں یہ افواہ پھیالدیں کہ چھ ساتھ دنوں تک صالح الدین ایوبی فلسطین پر حملہ
‫کرنے کے لیے جارہاہے ۔ اس لیے قاہرہ پر حملہ ‪ ،اس کی غیر حاضری میں کیاجائے گا''۔
‫ایسی بہت سی ہدایات اور احکام دے کر سلطان ایوبی نے انہیں بتایا کہ وہ آج شام سے قاہرہ میں نہیں ہوگا۔اس نے انہیں
‫قاہرہ سے بہت ُد ور ایک جگہ بتائی ۔وہ اپنا ہیڈکوار ٹر دشمن کے قریب رکھنا چاہتا تھاتاکہ جنگ اپنی نگرانی میں لڑا سکے۔
‫سب نے مالقات کے کمرے میں ہی صبح کی نماز پڑھی اور سلطان ایوبی کے احکام پر کاروائی شروع ہوگئی۔
‫سلطان ایوبی تیاری کے لیے اپنے کمرے میں چالگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫سوڈانیوں کے لشکر میں اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ دوسال گزرے ‪،ان کی ایک بغاوت بُری طرح ناکام ہوچکی تھی۔ دوسری کوشش کی
‫تیاریاں اسی وقت شروع ہوگئی تھیں ۔صلیبیوں نے مدد کا وعدہ کررکھاتھا اور جاسوسوں کی بہت بڑی تعداد مصر میں داخل
‫کردی تھی۔سوڈانیوں کا حملہ ایک نہ ایک روز آنا ہی تھا‪،لیکن یہ اچانک آگیا۔وجہ یہ تھی کہ سلطان ایوبی نے ایک سوڈانی
‫قبیلے کے مذہب پر فوجی حملہ کیااور اس کے دیوتائوں کا مسکن تباہ کردیاتھا۔یہ وجہ معمولی نہیں تھی۔مصر میں جو سلطان
‫صالح الدین ایوبی کے مخالفین تھے‪ ،انہوں نے اس کے اس اقدام کو اس کے خالف استعمال کیا ۔سوڈانی فوج کے برطرف کیے
‫ہوئے باغی کمان داروں کو بھی موقع مل گیا۔یہ فورا ً حرکت میں آگئے ۔ان میں مصری مسلمان بھی تھے ۔انہوں نے اُس قبیلے
‫کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا اور انہیں کہاکہ ان کا مذہب سچاہے اور اگر وہ سلطان ایوبی کے خالف اُٹھیں گے تو ان کے
‫دیوتا اپنی توہین کا انتقام لینے کے لیے ان کی مدد کریں گے۔انہوں نے پانچ سات دنوں میں لشکر جمع کرلیاور قاہرہ پر حملے
‫کے لیے چل پڑے ۔جوں جوں اِدھر ا ُدھر کے لوگوں کو پتہ چلتاتھا‪ ،وہ اس لشکر میں شامل ہوتے جاتے تھے ۔
‫دوشتر سواروں کے ساتھ جب ایک سو مسلح آدمی اس لشکر میں شامل ہوئے ‪،یہ لشکر سرحد سے آگے آگیاتھااور ایک جگہ
‫پڑائو کیے ہوئے تھے۔ سلطان ایوبی رات کے وقت اتنا آگے چالگیا‪ ،جاں اسے اس لشکر کی نقل و حرکت کی اطالع جلدی مل
‫سکتی تھی ۔ ان سو آدمیوں نے حملہ آوروں کے سربراہوں کو بتایا کہ صالح الدین ایوبی چند دنوں تک فلسطین کی طرف کوچ
‫کررہاہے۔ سربراہ بہت خوش ہوئے ۔انہوں نے یہ پڑائو دو دن اور بڑھادیا۔ اگلی رات سلطان ایوبی کو اس لشکر کی پہلی اطالع
‫ملی ۔
‫اس سے اگلی رات اس نے پچاس سوار اور پانچ منجنیقیں بھیجیں ‪،جن کے ساتھ آتش گیر مادے والی ہانڈیاں تھیں۔ انہیں ایک
‫گھوڑا کھینچتا تھا۔آدھی رات کے وقت جب سوڈانی لشکر سویا ہوا تھا‪،ان کے اناج کے ذخیرے پر ہانڈیاں گرنے لگیں ۔ معا ً بعد
‫آتشیں تیر اآئے اور مہیب شعلے ا ُٹھنے لگے ۔لشکر میں بھگدڑ مچ گئی ۔منجنیقوں کو وہاں سے فورا ً پیچھے بھیج دیا گیا۔
‫پچاس سواروں نے تین چار حصوں میں تقسیم ہوکر گھوڑے سرپٹ دوڑائے اور لشکر کے پہلوئوں کے آدمیوں کو کچلتے اور
‫برچھیوں سے زخمی کرتے غائب ہوگئے ۔ لشکریوں کو سنبھلنے کا موقعہ نہ مال۔آگ کے شعلوں سے جہاں اناج کا ذخیرہ جل
‫رہاتھا‪ ،وہاں اونٹ اور گھوڑے بدک کر اِدھر ا ُدھر بھاگنے لگے۔سلطان ایوبی کے سوار ایک بار پھر آئے اور تیر برساتے گزر
‫گئے ۔ وہ اس کے بعد نہیں آئے۔
‫دوسرے دن اطالع ملی کہ سوڈانیوں کے کم و بیش چار سو آدمی آگ سے ‪،گھوڑوں اور اونٹوں کی بھگدڑ سے اور چھاپہ مار
‫سواروں کے حملوں سے مارے گئے ہیں ۔تمام تر اناج جل گیا اور تیروں کا ذخیرہ بھی نذر آتش ہوگیاتھا۔ لشکر نے وہاں سے
‫کوچ کیا اور رات ایسی جگہ پڑائو کیا‪،جہاں اِدھر ا ُدھر مٹی کے ٹیلے تھے ۔اس جگہ شب خون کا خطرہ نہیں تھا۔اب رات کو
‫گشتی دستے بھی پڑائوسے ُدور ُد ور گشت کرتے رہے ‪،مگر حملہ پھر بھی ہوا۔اس کا انداز بھی گزشتہ رات جیسا تھا۔لشکر کے
‫سربراہوں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے دوگشتی دستے سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں کی گھات میں آگئے تھے اور مارے گئے
‫ہیں ۔تیر اندازوں نے ٹیلوں سے آتشیں تیر چالئے اور غائب ہوگئے ۔سحر کا دھند لکہ نکھر نے تک یہ شب خون جاری رہے۔
‫ان سے گزشتہ رات کی نسبت زیادہ نقصان ہوا۔
‫شام کو علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کو اپنے جاسوسوں کی الئی ہوئی یہ اطالع دی کہ کل دن کے وقت سوڈانی لشکر
‫اس انداز سے پیش قدمی کرے گا کہ شب خون مارنے والوں کا ٹھکانہ معلوم کرکے اسے ختم کیاجائے ۔ سلطان ایوبی نے اپنے
‫قریب کچھ فوج رکھی تھی ۔اس نے رات کے وقت حملہ نہ کرایا۔ اسے معلوم تھا کہ اب دشمن چوکنا ہوگا۔ اگلے روز اس نے
‫چار سو پیادہ سپاہی سوڈانیوں کے لشکر کے دائیں طرف نصف میل دور بھیج دئیے اور چار سو بائیں طرف ۔انہیں یہ ہدایت
‫دی کہ وہ آگے کو چلتے جائیں ۔دونوں دستے جنگی ترتیب میں سوڈانیوں کے پہلو سے گزرے تو سوڈانیوں نے اس خطرے کے
‫پیش نظر اپنے پہول پھیالدئیے کہ یہ دستے پہلو پر یا عقب سے حملہ کریں گے ۔ سلطان ایوبی کی ہدایت کے مطابق اُس کے
‫کماندار اپنے دستوں کو پرے ہٹاتے گئے ۔سوڈانی دھوکے میں آگئے ۔ انہوں نے اپنے لشکر کو دائیں بائیں پھیالدیا۔اچانک سلطان
‫اعلی کمان تھی۔
‫ایوبی کے پانچ سو سواروں نے ٹیلوں کی اوٹ سے نکل کر سوڈانیوں کے وسط میں ہلہ بول دیا۔یہاں ان کی
‫ٰ
‫گھوڑ سواروں کا یہ حملہ اچانک اور بے حد شدید تھا۔سارے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔پہلوئوں سے پیادہ تیر اندازوں نے تیر
‫برسانے شروع کردئیے ۔اس طرح صرف تیرہ سو نفری کی فوج نے کم و بیش چھ ہزار لشکر کو بھگدڑ میں مبتال کرکے ایسی
‫شکست دی کہ صحرا الشوں سے ا َٹ گیا اور سوڈانی قید میں بھی آئے اور بھاگے بھی۔بھاگنے والوں کی تعداد تھوڑی تھی۔
‫یہ سوڈانیوں کی دوسری بغاوت تھی جو سلطان ایوبی نے انہی کے خون میں ڈبو دی۔ اب کے سلطان ایوبی نے ڈپلومیسی سے
‫کام نہیں لیا۔ اس نے جنگی قیدیوں سے معلومات حاصل کرکے ان تمام کمان داروں اور دیگر حکام کو قید میں ڈال دیا جو در
‫پردہ بغاوت کی سازش میں شریک تھے۔ تخریب کاروں کی بھی نشاندہی ہوگئی ۔انہیں سزائے موت دی گئی۔رجب جیسے نائب
‫ساالروں کو ہمیشہ کے لیے قید خانے میں ڈال دیاگیا۔ سلطان ایوبی حیران اس پر ہوا کہ بعض ایسے حکام اس سازش میں
‫شریک تھے‪،جنہیں وہ اپنا وفادار سمجھتاتھا۔ اس نے اپنے معتمد ساالروں اور دیگر حکام سے کہہ دیا کہ مصر کے دفاع اور
‫سلطنت کے استحکام کے لیے سوڈان پر حملہ اور قبضہ ضروری ہوگیاہے۔
‫ِ
‫خالفت عباسیہ کے تحت
‫اس نے خلیفہ العاضد سے محافظ دستہ واپس لے کر اسے معزول کردیا اور اعالن کر دیا کہ اب مصر

‫ہے اور یہ بھی کے خالفت کی گدی بغداد میں ہوگی۔ سلطان ایوبی نے ا ُ ِّم عرارہ کو آٹھ محافظوں کے ساتھ نورالدین زنگی کے
‫حوالے کرنے کے لیے روانہ کردیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫ام عرارہ کا اغوا کا قصہ بھی یہی ختم ھوا۔
19:18
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫قسط نمبر‪26.
‫"لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے کمرے میں ٹہلتے ہوئے آہ بھری اورکہا ……''قوم متحد ہو سکتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے ۔ قوم
‫کا شیرازہ امراء اور حکام بکھیرا کرتے ہیں یا وہ خود ساختہ قائد جو امیر‪ ،وزیر یا حاکم بننا چاہتے ہیں ۔ تم نے دیکھ لیا ہے
‫علی ! مصر کے لوگوں کی زبان پر ہمارے خالف کوئی شکایت نہیں ۔ غداری اور تخریب کاری صرف بڑے لوگ کر رہے
‫ہیں ۔ ان بڑے لوگوں کو میری ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں ۔ میں انہیں اس لیے برا لگتا ہوں کہ میں اس گدی پر بیٹھ
‫گیا ہوں جس کے وہ خواب دیکھ رہے تھے ''۔
‫سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا ۔ علی بن سفیان اور بہاو الدین شداد بیٹھے ُسن رہے تھے ۔ وہ ستمبر کے پہلے
‫ہفتے کی ایک شام تھی ۔جون اور جوالئی میں سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت کو کچال اور اس کے فورا ً بعد العاضد کو
‫خالفت کی گدی سے ہٹایا تھا ۔ اس سے پہلے اس نے سوڈانیوں کی بغاوت کو نہایت اچھی جنگی حکمت عملی سے دبا کر
‫سوڈانی فوج توڑ دی تھی ۔ مگر بغاوت کرنے والے کسی بھی قائد‪ ،کمانڈر یا عسکری کو سزا نہیں دی تھی ۔ ڈپلومیسی سے
‫کام لیاتھا ۔اس طرح اس کی جنگی اہمیت کی بھی دھاک بیٹھ گئی تھی اور ڈپلومیسی کی بھی ۔اب کے سوڈانیوں نے پھر
‫میدان جنگ میں سوڈانیوں کی الشوں
‫سر ا ُٹھایا تو سلطان ایوبی نے اس سر کو ہمیشہ کے لیے کچل دینے کے لیے پہلے تو
‫ِ
‫کے انبار لگا ئے‪ ،پھر جو بھی پکڑا گیا ‪ ،اس کے عہدے اور ُرتبے کا لحاظ کیے بغیر اسے انتہائی سخت سزا دی ۔ اکثریت
‫کو تو جالد کے حوالے کیا‪ ،باقی جو بچے انہیں لمبی قید میں ڈال دیا یا ملک بدر کر کے سوڈان کی طرف نکال دیا ۔
‫آج دو مہینے ہو گئے ''……سلطان ایوبی نے کہا ……''میں سلطنت کے انتظام اورقوم کی فالح و بہبود کی طرف توجہ نہیں''
‫دے سکا ۔ مجرم الئے جا رہے ہیں اور میں سوچ بچار کے بعد انہیں سزائے موت دیتا چال جا رہا ہوں ۔ یوں دل کو تکلیف
‫ہو رہی ہے جیسے میں قتل عام کررہاہوں ۔ میرے ہاتھوں مرنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے ''۔
‫محترم امیر!''…… بہائو الدین شداد نے کہا ۔ '' ایک کافر اور ایک مسلمان ایک ہی قسم کے گناہ کریں تو زیادہ ''
‫سزامسلمان کو ملنی چاہیے کیو نکہ اس تک اللہ کے سچے دین کی روشنی پہنچی پھر بھی اس نے گناہ گیا ۔ کافر تو عقل
‫کا بھی اندھا ہے ‪ ،مذہب کا بھی اندھا۔ آپ اس پر غم نہ کریں کہ آپ نے مسلمانوں کو سزا دی ہے۔ وہ غدار تھے۔ سلطنت
‫اسالمیہ کے باغی تھے‪ ،انہوں نے اسالم کا نام مٹی میں مالنے کے لیے کافروں سے اتحاد کیا ''۔
‫✔
‫میرا اصل غم یہ ہے شداد !''…… سلطان ایوبی نے کہا ……''کہ میں حکمران بن کے مصر نہیں آیا ۔ اگر مجھے ''
‫حکومت کرنے کا نشہ ہوتا تو مصر کی موجودہ فضا میرے لیے سازگار تھی ۔ جنہیں صرف امارت کی گدی سے پیار ہوتا ہے ‪،
‫وہ سازشی ذہن کے حاکموں کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ وہ قوم کو کچھ دئیے بغیر لوگوں کو دلکش مگر جھوٹے رنگوں کی
‫تصویریں دکھاتے رہتے ہیں ۔ اپنے ذاتی عملے میں شیطانی خصلت افراد کو رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے ماتحت حاکموں کو شہزادوں
‫کا درجہ دئیے رکھتے ہیں۔اورخود شہنشاہ بن جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ مجھ سے یہ گدی لے لو لیکن مجھ سے وعدہ کرو
‫کہ میرے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہو ۔ میں جو مقصد لے کر گھر سے نکال ہوں وہ مجھے پورا کر لینے دو ۔
‫نورالدین زنگی نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اور دریائے نیل کوعرب کے مجاہدوں کے خون سے سرخ کرکے شام اور مصر
‫کا اتحاد قائم کیا ہے ۔ مجھے اس متحد سلطنت کو وسعت دینی ہے ۔ سوڈان کو مصر میں شامل کرنا ہے ۔ فلسطین کو
‫صلیبیوں سے چھڑانا ہے ۔صلیبیوں کو یورپ کے وسط میں لے جا کر کسی گوشے میں گھنٹوں بیٹھانا ہے اور مجھے یہ فتوحات
‫اپنی حکمرانی کے لیے نہیں اللہ کی حکمرانی کے لیے حاصل کرنی ہیں مگر مصر میرے لیے دلدل بن گیا ہے ۔ وہ کون سا
‫گوشہ ہے جہاں سازش‪ ،بغاوت اور غداری نہیں ''۔
‫ان تمام سازشوں کے پیچھے صلیبی ہیں ''……سلطان ایوبی نے کہا ……'' میں حیران ہوں کہ وہ کس بے دردی سے ''
‫اپنی جوان لڑکیوں کو بے حیائی کی تربیت دے کر ہمارے خالف استعمال کر رہے ہیں ۔ان لڑکیوں کی خوبصورتی کا اپنا جادو
‫ہے ‪ ،ان کا طلسم ان کی زبان میں ہے ''۔
‫زبان کا وار تلوار کے وار سے گہرا ہوتا ہے ''……سلطان ایوبی نے کہا ……'' وہ عقل جو تمہاری کمزوریوں کو بھانپ ''
‫سکتی ہے علی ! وہ اپنی زبان سے ایسے انداز سے اور ایسے موقع پر ایسے الفاظ کہلوائے گی کہ تم اپنی تلوار نیام میں
‫ڈال کر دشمن کے قدموں میں رکھ دو گے۔ صلیبیوں کے پاس دو ہی تو ہتھیار ہیں ‪ ،الفاظ اور حیوانی جذبہ جسے انسانی جذبے
‫پر غالب کرنے کے لیے وہ اپنی جوان اور خوبصورت لڑکیوں کو استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مسلمان امراء اور حکام کے
‫دلوں سے مذہب تک نکال دیا ہے ''۔
‫صرف حکام نہیں امیر محترم !''…… علی بنی سفیان نے کہا ……'' مصر کے عام لوگوں میں بدکاری عام ہوگی ہے ۔ ''
‫یہ صلیبیوں کاکمال ہے۔ دولت مند مسلمانوں کے گھروں میں بھی بے حیائی شروع ہوگئی ہے ''۔
‫یہی سب سے بڑا خطرہ ہے '' …… علی بن سفیان نے کہا ……''میں صلیبیوں کے سارے لشکر کا مقابلہ کر سکتا ہوں ''
‫اور کیا ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ صلیبیوں کے اس وار کو نہیں روک سکوں گا اور جب میری نظریں مستقبل میں جھانکتی ہیں
‫‪ ،تو میں کانپ ا ُٹھتا ہوں۔مسلمان برائے نام مسلمان رہ جائیں گے ۔ ان میں بے حیائی صلیبیوں والی ہوگی اور ان کے تہذیب
‫و تمدان پر صلیبی رنگ چڑھا ہوا ہوگا ۔میں مسلمانوں کی کمزوریاں جانتا ہوں ۔ مسلمان اپنے دشمن کو نہیں پہچانتے ۔ اس
‫کے بچھائے ہوئے خوبصورت جال میں پھنس جاتے ہیں ۔میں صلیبیوں کی کمزوریاں بھی جانتا ہوں وہ بے شک مسلمان کے
‫خالف متحد ہو گئے ہیں لیکن ان کے اندر سے دل پھٹے ہوئے ہیں ۔ فرانسیسی اور جرمن ایک دوسرے کے خالف ہیں ۔
‫برطانوی اور اطالوی ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے ۔وہ مسلمان کو مشترک دشمن سمجھ کر اکھٹے ہیں لیکن ان میں عداوت
‫کی حد تک اختالف ہیں ۔ ان کا شاہ آگسٹس دوغال بادشاہ ہے ۔ باقی بھی ایسے ہی ہیں مگر انہوں نے مسلمان امراء کو
‫عورت کے حسن اور زرو جواہرات کی چمک دمک سے اندھا کر رکھا ہے ۔ اگر مسلمان امراء متحد ہو جائیں تو صلیبی چند

‫دنوں میں بکھر جائیں۔ اب فاطمی خالفت کو ختم کر کے میں نے اپنے دشمنوں میں اضافہ کر لیا ہے ۔ فاطمی اپنی گدی کی
‫بحالی کے لیے سوڈانیوں اور صلیبیوں کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں ''۔
‫ان کے شاعر کو کل سزائے موت دے دی گئی ہے '' …… علی بن سفیان نے کہا ۔ ''
‫جس کا مجھے بہت افسوس ہے ''…… سلطان ایوبی نے کہا ……'' عمارتہ المینی کی شاعری نے میرے دل پر بھی گہرا ''
‫اثر کیاتھا۔ مگر اس نے الفاظ اور ترنم کو چنگاریاں بنا کر اسالم کے خرمن کو جالنے کی کوشش کی ہے ''۔
‫عمارةالمینی اس دور کامشہور شاعر تھا۔اس دور میں اور اس سے پہلے بھی لوگ شاعروں کو پیروں اور پیغمبروں جتنا درجہ
‫دیتے تھے ۔ شاعر الفاظ اور ترنم سے فوجوں میں جذبے کی نئی روح پھونک دیا کرتے تھے ۔یہی درجہ اس مسلمان شاعر کو
‫حاصل تھا ۔ اس نے لوگوں جو مقام پیدا کر رکھا تھا ‪ ،اسے اس نے اس طرح استعمال کرنا شروع کر دیا تھا کہ ایک طرف
‫وہ لوگوں میں جہاد کا جذبہ پختہ کرتا تھا اور ساتھ ہی فاطمی خالفت کی عظمت کی دھاک لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا تھا ۔
‫اسے فاطمی خالفت کی اتنی پشت پناہی حاصل تھی کہ اس نے سلطان ایوبی کے خالف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے
‫آخری اشعار یہ تھے ……'' مجھے فاطمی خالفت کی محبت کا طعنہ دینے والو ! مجھ پر لعنت بھیجو ۔ میں تمہیں لعنت
‫کے الئق سمجھتا ہوں …… فاطمی محالت کی ویرانی پر آنسو بہائو ۔ ان میں رہنے والوں کو میرا پیغام دو کہ میں نے تمہارے
‫لیے جو زخم کھائے ہیں وہ کبھی مندمل نہ ہوں گے ''۔
‫اس کے گھر اچانک چھاپہ مارا گیا تھا۔ وہاں سے دستاویزی ثبوت مال تھا کہ وہ صرف فاطمی خالفت کا ہی خیر خواہ نہیں
‫بلکہ صلیبیوں کا وظیفہ خوار بھی ہے ۔ صلیبی اسے اس مقصد کے لیے وظیفہ دیتے تھے کہ وہ مصریوں کے دلوں پر فاطمی
‫خالفت کوغالب کرے اور سلطان ایوبی کے خالف نفرت پیدا کرتارہے۔ اسے سزائے موت دے دی گئی تھی ۔
‫جس قوم کے شاعر بھی دشمن کے وظیفہ خوار ہوں ‪ ،اس قوم کے لیے ذلت و رسوائی ہے ''…… سلطان ایوبی نے کہا۔ ''
‫دربان اندر آیا اور کہا کہ معزول خلیفہ العاضد کا قاصد آیا ہے ۔ سلطان ایوبی کے ماتھے کے شکن گہرے ہو گئے ۔ اس نے
‫کہا ……'' خالفت کے سوا یہ بوڑھا مجھ سے اور کیا مانگ سکتا ہے '' …… دربان سے کہا ……'' اسے اندر بھیج دو ''۔
‫العاضد کا قاصد اندر آیا اور کہا ……''خلیفہ کا سالم پیش کرتا ہوں ''۔
‫وہ خلیفہ نہیں ہے ''…… سلطان ایوبی نے کہا……'' دو مہینے ہو گئے ہیں اسے معزول ہوئے ۔ وہ اپنے محل میں قید ہے''
‫''۔
‫معافی چاہتاہوں قابل صد احترام امیر !''…… قاصد نے کہا …… ''عادت کے تحت منہ سے نکل گیا ہے ۔ العاضد نے ''
‫بعد از سالم کہا ہے کہ بیماری نے بستر پر ڈال دیا ہے اٹھنا محال ہے ۔ ملنے کی خواہش ہے ۔ اگر امیر محترم تشریف ال
‫سکیں تو احسان ہوگا ''۔
‫سلطان ایوبی نے بے قراری سے کہا اپنی ران پر ہاتھ مارا اور کہا ……'' وہ مجھے بال رہاہے کیونکہ وہ ابھی تک اپنے آپ
‫کو خلیفہ سمجھتا ہے ''۔
‫نہیں امیر مصر !''…… قاصد نے کہا ……'' ان کی حالت بہت خراب ہے ۔ محل کے طبیب نے خطرے کااظہار کیاہے ۔ ''
‫یہ ان کا دیرینہ مر ض ہے جو غم اور غصے میں تیز ہو جاتا ہے ‪ ،اب تو وہ اٹھنے سے معذور ہوگئے ہیں '' …… قاصد نے
‫ذرا جھجک کر کہا ۔……''انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ اکیلے تشریف الئیں ۔ راز کی دو چار باتیں ہیں جو کسی دوسرے
‫کی سامنے نہیں کی جاستکیں ''۔
‫انہیں بعد از سالم کہنا صال ح الدین ایوبی راز کی سب باتیں جانتا ہے '' …… سلطان ایوبی نے کہا ……''اب راز کی ''
‫باتیں خدا سے کہنا ۔ اللہ آپ کو معاف کرے ''۔
‫قاصد مایوس ہو کر چال گیا ۔ سلطان ایوبی نے دربان کو بال کر کہا کہ طبیب کو بالو ۔ اس نے علی بن سفیان اور بہائو
‫الدین شداد سے کہا ……'' اس نے مجھے اکیال آنے کو کہا ہے ۔ کیا اس میں کوئی چال نہیں ؟ کیا میرا خدشہ غلط ہے کہ
‫مجھے محل میں بال کر میرا کام تمام کرنا چاہتاہے ؟ اسے مجھ پر اوچھا وار کرنا چاہیے ۔ اسے حق حاصل ہے ''۔
‫آپ نے اچھا کیا نہیں گئے ''…… شداد نے کہا اور علی بنی سفیان نے تائید کی ۔''
‫طبیب آگیا تو سلطان ایوبی نے اسے کہا ……''آپ العاضد کے پاس چلے جائیں۔ میں جانتا ہوں وہ بہت مدت سے بیمار ہے۔
‫معلوم ہوتاہے کہ اس کا طبیب مایوس ہوگیا ہے۔ آپ جاکر دیکھیں اور اس کا عالج کریں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بیمار نہ
‫ہو ‪ ،اگر ایسا ہے تو مجھے بتائیں ''۔
‫سابق خلیفہ العاضدکو اسی محل میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی جو اس کی خالفت کی گدی تھی ۔ اس محل کو
‫اس نے جنت بنا رکھا تھا۔ حرم دیس دیس کی خوبصورت عورتوں سے پُر رونق تھا ۔ لونڈیوں کا ہجوم الگ تھا ۔ سینکڑوں
‫محافظوں کا دستہ مستعد رہتا تھا ۔ فوجی کماندار حاضری میں کھڑے رہتے تھے ۔ سلطان ایوبی کے الئے ہوئے انقالب نے اس
‫محل کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی ۔ خلیفہ اب خلیفہ نہیں تھا۔ محل میں عیش و عشرت کاتمام سامان جوں کا توں رہنے دیا
‫گیا‪ ،فوجی کمانداروں اور محافظ دستے کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ فوج کاایک دستہ اب بھی وہاں نظر آتا تھا ۔ مگر یہ
‫العاضد کا محافظ نہیں پہرہ دار تھا ۔ خالفت کامحل چونکہ سازشوں کامرکز تھا ‪ ،اس لیے وہاں اب پہرہ لگا دیا گیا تھا ۔
‫العاضد اب اپنے محل میں قید ی تھا ۔ وہ بوڑھا تھا اور دل کے مرض کا مریض تھا۔ خالفت چھن جانے کا غم‪ ،بڑھاپا‪ ،شراب
‫اور عیش و عشرت نے اسے بستر پر ڈال دیا تھا ۔
‫چند دنوں میں وہ الش کی مانند ہوگیا تھا ۔ اس کی تیمارداری کے لیے دو ادھیڑ عمر عورتیں اور ایک خادم اس کے کمرے
‫میں موجود تھا ۔ العاضد آنکھیں کھولتا ‪ ،انہیں دیکھتا اور آنکھیں بند کر لیتا تھا ۔ محل کا طبیب اسے دوائی پال گیاتھا ۔ دو
‫جوان لڑکیاں کمرے میں آئیں ۔ یہ العاضدکے حرم کی رونق تھیں ۔ ان میں سے ایک نے خلیفہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور
‫اس پر جھک کر صحت کا حال احوال پوچھا ۔ دوسری نے العاضد کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے صحت یابی کی
‫دعا دی ۔ دونوں لڑکیوں نے ایک دوسری کی آنکھوں میں دیکھا اور ایک نے کہا ……'' آپ آرام فرمائیں ۔ ہم آپ کو بے آرام
‫نہیں کریں گی ''……دوسری نے کہا ……'' ہم ہر وقت ساتھ والے کمرے میں موجود رہتی ہیں ۔ بال لیا کریں ''۔ اور دونوں
‫کمرے سے نکل گئیں ۔
‫العاضد نے کراہ کر لمبی آہ بھری اور اپنے پاس کھڑی ادھیڑ عمر عورتوں سے کہا ……''یہ دونوں لڑکیاں میری تیمارداری کے
‫لیے نہیں آئی تھیں ۔ یہ دیکھنے آئی تھیں کہ میں کب مر رہاہوں ۔ میں جانتا ہوں انہوں نے اپنی دوستیاں لگا رکھی ہیں ۔
‫یہ گدھ ہیں ۔ میرے مرنے کا انتظار کر رہی ہیں ۔ ان کی نظر میرے مال اور دولت پرہے۔ تم تینوں کے سوا یہاں میرا ہمدرد
‫کون ہے ؟ …… کوئی نہیں ۔کوئی بھی نہیں ۔ فاطمی خالفت کے نعرے لگانے والے کہاں گئے !'' ۔ اس نے دل پر ہاتھ رکھ

‫لیا اور کروٹ بدل لی ۔ وہ تکلیف میں تھا ۔
‫اتنے میں قاصد کمرے میں آیا اورکہا ……''امیر مصر نے آنے سے انکار کر دیا ہے ''۔
‫اوہ بد نصیب صالح الدین !''…… العاضد نے کراہنے والے لہجے میں کہا ……'' میرے مرنے سے پہلے ایک بار تو آجاتا ''
‫''…… صدمے نے اس کی تکلیف میں اضافہ کر دیا ۔ اس نے نحیف آواز میں ُرک ُرک کر کہا ……''اب تو میری لونڈیاں بھی
‫میرے بالنے پر نہیں آتیں ۔ امیر مصر کیوں آئے گا …… مجھے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ میرے خون کے رشتے بھی ٹوٹ
‫گئے ہیں ۔ ان میں سے بھی کوئی نہیں آیا ۔ وہ میرے جنازے پر آئیں گے اور محل میں جو ہاتھ لگا اُٹھا کر چلے جائیں گے
‫''۔
‫وہ کچھ دیر کراہتا رہا ۔ دونوں تیمادار عورتیں پریشانی کے عالم میں اس کی باتیں سنتی رہیں ۔ ان کے پاس تسلی اور حوصلہ
‫افزائی کے لیے بھی جیسے کوئی الفاظ نہیں رہے تھے ۔ ان کے چہروں پر خوف سا طاری تھا ‪ ،جیسے وہ خدا کے اس قہر
‫سے ڈر رہی تھیں ۔ جو بادشاہ کو گدا اور امیر کو فقیر بنا دیتا ہے۔
‫دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ ایک سفید ریش بزرگ کھڑا تھا ۔ وہ ذرا ُرک کر اندر آیا اور العاضد کی نبض پر
‫ہاتھ رکھ کر کہا ……'' السالم و علیکم ۔ میں امیر مصر کا طبیب خاص ہوں ۔ انہوں نے مجھے آپ کے عالج کے لیے بھیجا
‫ہے ''۔
‫کیا امیر مصر میں اتنی سی بھی مروت نہیں رہی کہ آکے مجھے دیکھ جاتا ؟'' …… العاضد نے کہا ……''میرے بالنے پر ''
‫بھی نہ آیا ''۔
‫اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا ''۔ طبیب نے کہا …… ''انہوں نے مجھے آپ کے عالج کے لیے بھیجا ہے ۔ ''
‫میں یہ کہنے کی جرأت نہیں کروں گا کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد جس میں باقاعدہ جنگ ہوئی اور ہزاروں جانیں ضائع ہوگئیں
‫‪ ،امیر مصر شاید یہاں نہیں آئیں گے ۔ انہیں آپ کی صحت کی فکرضرور ہے ۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ مجھے آپ کے عالج کا
‫حکم نہیں دیتے ۔ اس حالت میں آپ ایسی کوئی بات ذہن میں نہ الئیں جو آپ کے دل کو تکلیف دیتی ہے ورنہ عالج نہیں
‫ہوسکے گا ''۔
‫میرا عالج ہوچکا ''…… العاضد نے کہا ……''میرا ایک پیغام غور سے سن لو ۔ صالح الدین کو لفظ بہ لفظ پہنچا دینا ۔ ''
‫میری نبض سے ہاتھ ہٹا لو ۔ میں اب دنیا کی حکمت اور تمہاری دوائیوں سے بے نیاز ہوچکا ہوں ۔ سنو طبیب ! صالح
‫الدین سے کہنا کہ میں تمہارا دشمن نہ تھا ۔ میں تمہارے دشمنوں کے جال میں آگیاتھا ۔ یہ بدقسمتی میر ی ہے یا صالح
‫الدین کی کہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف اس وقت کر رہا ہوں ۔ جب میں ایک گھڑی کا مہمان ہوں …… صالح الدین سے
‫کہنا کہ میرے دل میں ہمیشہ تمہاری محبت رہی ہے اور تمہاری محبت کو ہی دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں ۔
‫میرا جرم یہ ہے کہ میں زر و جواہرات اور حکمرانی کی محبت بھی اپنے دل میں پیدا کرلی ۔ جو اسالم کے احترام پر
‫غالب آگئی۔ آج سب نشے ا ُتر گئے ہیں۔ وہ لوگ جو میرے پاوں میں بیٹھا کرتے تھے ‪ ،وہ بیگانے ہوگئے ہیں ۔ وہ لونڈیاں
‫بھی میرے مرنے کی منتظر ہیں جو میرے اشاروں پر ناچا کرتی تھیں ۔ میرے دربار میں عریاں رقص کرنے والی لڑکیاں مجھے
‫نفرت کی نگاہوں سے دیکھتی ہیں …… انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انسان کسی انسان کے گناہوں کابوجھ اُٹھا
‫سکتا ۔ ان کم بختوں نے مجھے خدا بنا ڈاال مگر آج جب حقیقی خدا کا بالواآیا ہے تو مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوئی ہے
‫''۔
‫میں نے اس کو نجات کاذریعہ سمجھا ہے کہ اپنے گناہوں کااعتراف کر لوں اور صالح الدین کو ایسے خطروں سے خبردار ''
‫کرتاجاوں جن سے شاید وہ واقف نہیں ۔ اسے کہنا کہ میرے محافظ دستے کا ساالر رجب زندہ ہے اور سوڈان میں کہیں روپوش
‫ہے ۔ وہ مجھے بتا کر گیا تھا کہ فاطمی خالفت کی بحالی کے لیے سوڈانیوں اور قابل اعتماد مصریوں کی فوج تیار کرے گا
‫اور وہ صلیبیوں سے جنگی اور مالی امداد لے گا …… صالح الدین سے کہنا کہ اپنے محافظ دستے پر نظر رکھے ۔ اکیال باہر نہ
‫جائے ۔ رات کو زیادہ محتاط رہے کیونکہ رجب نے فدائیوں کے ساتھ ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنالیاہے ۔ اسے کہنا کہ مصر
‫تمہارے لیے آگ ا ُگلنے واال پہاڑ ہے۔ تم جنہیں دوست سمجھتے ہو وہ بھی تمہارے دشمن ہیں اور وہ جو تمہاری آواز کے ساتھ
‫آواز مال کر وسیع سلطنت اسالمیہ کے نعرے لگاتے ہیں ‪ ،ان میں صلیبیوں کے پالے ہوئے سانپ موجود ہیں ''۔
19:20
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫""قسط نمبر‪" 27.لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
‫تمہارے جنگی شعبے میں فیض الفاطمی بڑا حاکم ہے مگر تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے مخالفین میں سے ہے۔ وہ رجب کا''
‫دست راست ہے۔ تمہاری فوج میں ترک‪ ،شامی اور دوسرے عربی نسل کے جو کماندار اور سپاہی ہیں ان کے سوا کسی پر
‫بھررسہ نہ کرنا ۔ یہ سب تمہارے وفادار اور اسالم کے محافظ ہیں ۔ مصری فوجیوں میں قابل اعتماد بھی ہیں اور بے وفا بھی
‫۔ تم نہیں جانتے کہ تم نے جب سوڈانی لشکر پر فیصلہ کن حملہ کیاتھا تو حملہ آور دستوں میں دو دستوں کے کماندار
‫تمہاری چال کو ناکام کرنے لیے تمہاری ہدایات اور احکام پر غلط عمل کرنا چاہتے تھے لیکن تمہارے ترک اور عرب سپاہیوں
‫میں جوش اور جذبہ ایسا تھا کہ اپنے کماندار کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہ سوڈانیوں پر قہر بن کر ٹوٹے ‪ ،ورنہ یہ دو
‫کماندار جنگ کا پانسہ پلٹ کر تمہیں ناکام کردیتے ''۔
‫العاضد مری مری آواز میں ُرک ُرک کر بولتا رہا۔ طبیب نے اسے ایک دو مرتبہ بولنے سے روکا تو اس نے ہاتھ کے اشارے
‫سے اسے چپ کرادیا ۔ اس کے چہرے پر پسینہ اس طرح آگیا تھاجیسے کسی نے پانی چھڑک دیا ہو۔ دونوں عورتوں نے اس
‫کا پسینہ پونچھا لیکن پسینہ چشمے کی طرح پھوٹتا آرہا تھا۔اس نے چند ایک اور انتظامیہ اور فوج کے حکام کے نام بتائے جو
‫سلطان ایوبی کے خالف سازشوں میں مصروف تھے۔ ان میں سے زیادہ خطرناک فدائی تھے جن کا پیشہ پُر اسرار قتل تھا ۔
‫وہ اس فن کے ماہر تھے۔ العاضد نے مصر میں صلیبیوں کے اثر و رسوخ کی بھی تفصیل سنائی اور کہا ……''انہیں مسلمان نہ
‫سمجھنا ۔ یہ ایمان فروخت کر چکے ہیں …… صالح الدین سے کہنا کہ اللہ تمہیں کامیاب کرے اور سرخرو کرے ‪ ،لیکن یہ یاد
‫رکھنا کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو چوری چھپے تمہیں دھوکہ دے رہے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو خوشامد سے تمہیں خدا
‫کے بعد کا درجہ دے دیں گ۔ یہ ان لوگوں سے زیادہ خطرناک ہیں جو چوری چھپے دھوکہ دیتے ہیں …… اس سے کہنا کہ
‫دشمنوں کو زیر کر کے جب تم اطمینان سے حکومت کی گدی پر بیٹھو گے تو میری طرح دونوں جہاں کے بادشاہ نہ بن
‫جانا ۔ سدا بادشاہی اللہ کی ہے۔ اسی مصر میں فرعونوں کے کھنڈر دیکھ لو ۔ میرا انجام دیکھ لو ۔ اپنے آپ کو اس انجام
‫سے بچانا ''۔

‫اس کی زبان لڑکھڑانے لگی ۔ اس کے چہرے پر جہاں کاکرب کاتاثر تھا ۔ وہاں سکون سا بھی نظر آنے لگا ۔ اس نے بولنے
‫کی کوشش کی مگر حلق سے خراٹے سے نکلے ۔ اس کا سر ایک طرف لڑھک گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش گیا۔
‫یہ واقعہ ستمبر ‪١١٧١ء کا ہے ۔
‫طبیب نے سلطان ایوبی کو اطالع بجھوائی ۔ محل میں العاضد کی موت کی خبر پھیل گئی ۔ محل کے کسی گوشے سے رونا
‫تو دورکی بات ہے ہلکی سی سسکی بھی نہ سنائی دی ۔ صرف ان دو عورتوں کے آنسو بہہ رہے تھے ۔ جو آخری وقت اس
‫کے پاس تھیں …… سلطان ایوبی چند ایک حکام کے ساتھ فورا ً محل میں آگیا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں برآمدوں اور غالم
‫گردشوں میں کچھ سرگرمی سی تھی ۔ اسے شک ہوا۔ اس نے محافظ دستے کے کماندار کو بال کر حکم دیاکہ محل کے تمام
‫کمروں میں گھوم جاو۔ تمام مردوں ‪ ،عورتوں اور لڑکیوں کوکمروں سے نکا ل کر باہر صحن میں بٹھا دو اور کسی کو باہر نہ
‫جانے دو ۔ کسی کو کیسی ہی ضرورت کیوں نہ ہو ‪ ،اصطبل سے کوئی گھوڑا نہ کھولے ۔سلطان ایوبی نے محل پر قبضہ کرنے
‫کا حکم دیا ۔ اس نے عجیب چیز یہ دیکھی کہ العاضد جو اپنے آپ کو بادشاہ بنائے بیٹھا تھا اور جس نے شراب اور عورت
‫کو ہی زندگی جانا تھا ‪ ،اس کی میت پر رونے واال کوئی نہ تھا۔ محل مردوں اور عورتوں سے بھراپڑا تھا ۔ مگر کسی کے
‫چہرے پر اداسی کا تاثر بھی نہیں تھا۔
‫طبیب سلطان ایوبی کو الگ لے گیا اور اسے العاضد کی آخری باتیں سنائیں۔ اس نے اپنی رائے ان الفاظ میں دی کہ آپ کو
‫آخری وقت میں اس کے بالوے پر آجانا چاہیے تھا ۔ سلطان ایوبی نے اسے بتایا کہ وہ اس خدشے کے ِ
‫پیش نظر نہیں آیاکہ
‫اس شخص کا کچھ بھروسہ نہ تھا اوردوسری وجہ یہ تھی کہ اسے ایمان فروشوں سے نفرت تھی مگر اب طبیب کی زبانی
‫العاضد کا آخری پیغام سن کر سلطان ایوبی کو سخت پچھتاوا ہونے لگا تھا ۔ وہ بہت بے چین ہوگیا تھا اور اس نے کہا
‫……''اگر میں آجاتا تو اس کے منہ سے کچھ اور راز کی باتیں نکلوا لیتا ۔ وہ کوئی راز سینے میں نہ لے گیا ہو ''۔
‫متعدد مورخین نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ العاضد بے شک عیاش اور گمراہ تھا ‪ ،اس نے سلطان ایوبی کے خالف
‫سازشوں کی پشت پناہی بھی کی لیکن اس کے دل میں سلطان ایوبی کی محبت بہت تھی ۔ دو مورخین نے یہ بھی لکھا ہے
‫کہ اگر سلطان ایوبی العاضد کے بالوے پرچال جاتا تو العاضد اسے اوربھی بہت سی باتیں بتاتا۔ بہرحال تاریخ ثابت کرتی ہے کہ
‫العاضد کے بالوے میں کوئی فریب نہ تھا ۔ اس نے اپنی روح کی نجات کے لیے اور سلطان ایوبی کی محبت کے لیے گناہوں
‫کی بخشش مانگنے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا ۔ بہت مدت تک سلطان ایوبی تاسف میں رہ گیا کہہ وہ آخری وقت العاضد کی
‫باتیں نہ سن سکا ۔بعد میں ان تمام افراد کے خالف الزامات صحیح ثابت ہوئے تھے جن کی العاضد نے نشاندہی کی تھی ۔
‫سلطان ایوبی نے ان تمام افراد کے نام علی بن سفیان کو دے کرحکم دیا کہ ان سب کے ساتھ اپنے جاسوس اور سراغرساں
‫لگا دو لیکن کسی کو مکمل شہادت اور ثبوت کے بغیر گرفتار نہ کرنا ۔ ایسے طریقے اختیار کرو کہ وہ عین موقعہ پر پکڑے
‫جائیں ‪ ،کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کے ساتھ بے انصافی ہوجائے ۔ یہ احکام دے کر اس نے کفن دفن کے انتظامات کرائے۔
‫اسی شام العاضد عام قبرستا ن میں دفن کر دیا گیا جہاں تھوڑے ہی عرصے بعد قبر کا نام و نشان مٹ گیا ۔ سلطان ایوبی
‫نے محل کی تالشی لی ۔ وہاں سے اس قدر سونا ‪ ،جواہرت اور بیش قیمت تحائف نکلے کہ سلطان ایوبی حیران رہ گیا ۔
‫اس نے حرم کی تمام عورتوں اور جوان لڑکیوں کوعلی بن سفیان کے حوالے کر دیا اور حکم دیا کہ معلوم کروکون کہاں کی
‫رہنے والی ہے۔ ان میں سے جو اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہیں انہیں اپنی نگرانی میں گھروں تک پہنچا دو اور ان میں جو
‫غیر مسلم اور فرنگی ہیں ان کے متعلق پوری طرح چھان بین کرکے معلوم کرو کو وہ کہاں سے آئی تھیں اور ان میں مشتبہ
‫کون کون سی ہیں ۔ مشتبہ کو آزاد نہ کیاجائے بلکہ اس سے معلومات حاصل کی جائیں۔
‫سلطان ایوبی نے محل سے برآمد ہونے واال مال و دولت ان تعلیمی اداروں ‪ ،مدرسوں اور ہسپتالوں میں تقسیم کر دیا جو اس
‫نے مصر میں کھولے تھے ۔
‫٭ ٭ ٭
‫العاضد نے مرنے سے پہلے اپنے محافظ دستے کے ساالر رجب کے متعلق بتایا تھا کہ وہ سوڈان میں روپوش ہے جہاں وہ
‫سلطان ایوبی کے خالف فوج تیار کر رہا ہے اور وہ صلیبیوں سے بھی مدد لے گا۔ علی بن سفیان نے چھ ایسے جانباز منتخب
‫کیے جو لڑاکا جاسوس تھے ۔ ان کا کماندار رجب کو پہچانتا تھا ۔ انہیں تاجروں کے بھیس میں سوڈان روانہ کر دیا گیا ۔
‫انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ممکن ہو سکے تو اسے زندہ پکڑ الئیں ورنہ وہیں قتل کر دیں ۔
‫جس وقت یہ پارٹی سوڈان کو روانہ ہوئی اس وقت رجب سوڈان میں نہیں بلکہ فلسطین کے ایک مشہور اور مضبوط قلعے
‫شوبک میں تھا ۔ فلسطین پر صلیبیوں کا قبضہ تھا ۔ انہوں نے اس خطے کو اڈہ بنا لیا تھا ۔ مسلمانوں پر انہوں نے عرصہ
‫حیات تنگ کر رکھا تھا ۔ مسلمان وہاں سے کنبہ در کنبہ بھاگ رہے تھے ۔ وہاں کسی مسلمان کی عزت محفوظ نہیں تھی ۔
‫صلیبی ڈاکووں کی صورت بھی اختیار کرتے جا رہے تھے ۔ وہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ کر فلسطین میں آجاتے تھے ۔
‫لڑکیوں کو بھی اغواکر کے التے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ سلطان ایوبی سب سے پہلے فلسطین کو فتح کرنا چاہتا تھاتا کہ
‫مسلمانوں کے جان و مال اور آبرو کو محفوظ کیا جا سکے ۔ اس سے بھی بڑی وجہ یہ تھی کہ قبلہ اول پر صلیبی قابض تھے
‫‪ ،مگر مسلمان امراء کا یہ عالم تھا کہ و ہ صلیبیوں کے ساتھ دوستی کرتے پھرتے تھے ۔ رجب بھی ایک مسلمان فوجی
‫سربراہ تھا ۔ وہ سلطان کے خالف مدد حاصل کرنے کے لیے صلیبیوں کے پاس پہنچ گیا تھا ۔
‫اس کے اعزاز میں قلعے میں رقص کی محفل گرم کی گئی تھی ۔ رجب نے یہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ
‫برہنہ ناچنے والیوں میں زیادہ تعداد مسلمان لڑکیوں کی تھی جنہیں صلیبیوں نے کمسنی میں اغوا کر لیا اور رقص کی تربیت
‫دی تھی ۔ اپنی قوم کی بیٹیوں کو وہ کافر کے قبضے میں ناچتا دیکھتا رہا اور ان کے ہاتھوں شراب پیتا رہا تھا ۔ اس کے
‫ساتھ وہ مسلمان کماندار بھی تھے ۔ رات بھر وہ شراب اور رقص میں بدمست رہے اور صبح صلیبیوں کے ساتھ بات چیت کے
‫لیے بیٹھے ۔ اس اجالس میں صلیبیوں کے مشہور بادشاہ گائی لوزینان اور کونارڈ موجود تھے ۔ ان کے عالوہ چند ایک صلیبی
‫فوج کے کمانڈر بھی تھے ۔ رات کو رجب انہیں بتا چکا تھا کہ سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کے حبشی قبیلے کے مبعد کو
‫مسمار کر کے ان کے پروہت کو ہالک کر دیا ہے ۔ اس پر سوڈانیوں نے حملہ کیا جسے سلطان ایوبی نے پسپا کیا اور اس
‫نے خلیفہ العاضد کی خالفت ختم کر کے عباسی کا اعالن کر دیا مگر مصر میں کوئی خلیفہ نہیں رہے گا۔ رجب نے انہیں
‫بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سلطان ایوبی مصر کا خود مختار حکمران بننا چاہتا ہے ۔ رجب نے صلیبیوں کو اس اجالس
‫میں بتایا کہ وہ ان سے جنگی اور مالی مدد لینے آیا ہے اور وہ سوڈان جا کر فوج تیا ر کرے گا ۔ مصر میں بد نظمی او
‫ابتری پھیالنے کے لیے بھی اس نے صلیبیوں سے مدد مانگی ۔
‫فوری طور پر دو پہلو سامنے آتے ہیں جن پر ہمیں توجہ مرکوز کرنی چاہیے ''…… کونارڈ نے کہا ……''جس حبشی قبیلے ''

‫کے مذہب میں صالح الدین ایوبی نے ظالمانہ دخل اندازی کی ہے اسے انتقام کے لیے بھڑکایا جائے ۔ اس کے ساتھ سارے
‫سوڈان میں جتنے بھی عقیدے اور مذہب ہیں ان کے پیرو کاروں کو صالح الدین کے خالف یہ کہہ کو مسلح کیا جائے کہ یہ
‫مسلمان بادشاہ لوگوں کی عبادت گاہیں اور اور ان کے دیوتائوں کے بت توڑتاپھر رہا ہے۔ پیشتر اس کے کہ وہ کسی اور عقیدے
‫پر حملہ آور ہو اسے مصر میں ہی ختم کردیا جائے ۔ اس طرح لوگوں کے مذہبی جذبات مشتعل کر کے انہیں مصر پر حملے
‫کے لیے آسانی سے تیار کیا جاسکتا ہے ''۔
‫ہم مصر کے مسلمانوں تک کو صالح الدین کے خالف کھڑا کر سکتے ہیں ۔ ''……ایک صلیبی کمانڈر نے کہا ……''اگر ''
‫محترم رجب برا نہ مانیں تو میں انہی کے فائدے کی بات کہہ دوں ۔مسلمان میں مذہبی جنون پیدا کر کے مسلمان کو مسلمان
‫کے ہاتھوں مروا دینا کوئی مشکل نہیں ۔ جس طرح ہمارے مذہب میں بعض پادریوں نے اپنے آپ کو گرجوں کا حاکم بنا کر
‫اپنا وجود انسان اور خدا کے درمیان کھڑا کر دیا ہے ‪ ،بالکل اسی طرح اسالم میں بھی بعض اماموں نے مسجد پر قبضہ کر کے
‫اپنے آپ کو خدا کا ایجنٹ بنا لیاہے ۔ ہمارے پاس دولت ہے جس کے ذور پر ہم مسلمان مولوی تیار کرکے مصر کی مسجدوں
‫میں بٹھا سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس ایسے عیسائی بھی موجود ہیں جو اسالم اور قرآن سے بڑی اچھی طرح واقف ہیں ۔ انہیں
‫ہم مسلمان اماموں کے روپ میں استعمال کریں گے ۔ صالح الدین کے خالف کسی مسجد میں کوئی کہنے کی ضرورت نہیں ۔
‫ان مولویوں کی زبان سے ہم مسلمانوں میں ایسی توہم پرستی پیدا کریں گے کہ ان کے دلو ں میں صالح الدین کی وہ عظمت
‫'' مٹ جائے گی جو اس نے پیدا کر رکھی ہے
‫یہ مہم فورا ً شرع کردینی چاہیے ''…… رجب نے کہا ……''سلطان ایوبی نے مصر میں مدرسے کھول دئیے ہیں جہاں ''
‫بچوں اور نوجوانوں کو مذہب کے صحیح ُرخ سے روشناس کیا جارہاہے ۔ اس سے پہلے وہاں کوئی ایسا مدرسہ نہیں تھا ۔ لوگ
‫مسجد میں خطبے سنتے تھے ‪ ،جن میں خلیفہ کی مدح سرائی زیادہ ہوتی تھی ۔ صالح الدین نے خطبوں سے خلیفہ کاذکر
‫ختم کرادیاہے۔ اگر لوگوں میں علم کی روشنی اور مذہبی بیداری پیدا ہوگئی تو ہمارا کام مشکل ہو جائے گا ۔ آپ جانتے ہیں
‫کہ حکومت کے استحکام کے لیے لوگوں کو ذہنی طور پر پسماندہ اور جسمانی طور پر محتاج رکھنا الزمی ہے ''۔
‫محترم رجب !''…… ایک صلیبی کمانڈر ُمسکرا کربوال ……''آپ کو اپنے ملک کے متعلق بھی علم نہیں کہ وہاں درپردہ ''
‫کیاہو رہاہے ۔ ہم نے یہ مہم اسی روز شروع کردی تھی جس روز صالح الدین نے ہمیں بحیرئہ روم میں شکست دی تھی ۔ ہم
‫کھلی تخریب کاری کے قائل نہیں ۔ ہم ذہنوں میں تخریب کاری کیا کرتے ہیں ۔ ذرا غور فرمائیں محترم! دو سال پہلے قاہرہ
‫میں کتنے قحبہ خانے تھے اور اب کتنے ہیں ؟ کیا ان میں بے پناہ اضافہ نہیں ہوگیا ؟ کیا دولت مند مسلمان گھرانوں میں
‫لڑکوں اور لڑکیوں میں قابل اعتراض معاشقے شروع نہیں ہوگئے ؟ ہم نے وہاں جو عیسائی لڑکیاں بھیجی تھیں وہ مسلمان
‫لڑکیوں کے روپ میں مسلمان مردوں کے درمیان رقابت پیدا کرکے خون خرابے کراچکی ہیں ۔ قاہرہ میں ہم نے نہایت دلکش
‫جواء بازی رائج کردی ہے دو مسجدوں میں ہمارے بھیجے ہوئے آدمی امام ہیں ۔ وہ نہایت خوبی سے اسالم کی شکل و
‫صورت بگاڑ رہے ہیں ۔ وہ جہاد کے معنی بگاڑ رہے ہیں ۔ ہم نے وہاں عالموں اور فاضلوں کے بھیس میں بھی کچھ آدمی
‫بھیج رکھے ہیں جو مسلمانوں کو جنگ و جدل کے خالف تیار کر رہے ہیں ۔ وہ دوست اور دشمن کا تصور بھی بدل رہے ہیں
‫۔ مجھے ذاتی طور پر یہ توقع ہے کہ مسلمان چند برسوں تک اس ذہنی کیفیت میں داخل ہو جائیں گے جہاں وہ اپنے آپ
‫کو بڑے فخر سے مسلمان کہیں گے مگران کے ذہنوں پر ان کے تہذیب و تمدن پر صلیب کا اثر ہوگا ''۔
‫صالح الدین کا جاسوسی کا نظا م بہت ہوشیار ہے ''…… رجب نے کہا …… ''اگر اس کے شعبہ جاسوس اور سراغرسانی''
‫کے سربراہ علی بن سفیان کو قتل کر دیا جائے تو صالح الدین اندھااور بہرہ ہوجائے ''۔
‫اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود کچھ بھی نہیں کر سکتے ''…… کونارڈ نے کہا …… ''آپ ایک حاکم کو قتل بھی نہیں''
‫کرا سکتے ۔ اگر آپ عقل کے لحاظ سے اتنے کمزور ہیں تو آپ ہمارے آدمیوں کو بھی پکڑوا کر مروائیں گے اور ہماری دولت
‫بھی برباد کر دیں گے ''۔
‫یہ کام میں خودکر الوں گا ''…… رجب نے کہا ……''میں نے فدائیوں سے بات کرلی ہے ۔ وہ تو صالح الدین ایوبی کے ''
‫قتل کے لیے بھی تیا ر ہیں ''۔
‫٭ ٭ ٭
‫آپ سوڈان کی طرف سے مصر کی سرحد پر بد امنی پیدا کرتے رہیں '' ۔ کونارڈ نے کہا ……''ملک کے اندر ہم ذہنی ''
‫اور دیگر اقسام کی تخریب کاری کر تے رہیں گے۔ ادھر عرب میں کئی ایک مسلمان امراء ہمارے قبضے میں آگئے ہیں ۔ ان
‫میں سے بعض کو ہم نے اس قدر بے بس کر دیا ہے کہ ان سے ہم جزیہ وصول کرتے ہیں ۔ ہم چھوٹے چھوٹے حملے کر کے
‫ان کی تھوڑی تھوڑی زمین پر قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں ۔ آپ سوڈان کی طرف سے یہی چال چلیں ۔ مسلمانوں میں صرف
‫دو شخص رہ گئے ہیں ۔ نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی ۔ان کے ختم ہوتے ہی اسالمی دنیا کا سورج غروب ہوجائے گا۔
‫بشرطیکہ آپ لوگ ثابت قدم رہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مصر آپ کا ہوگا '' ۔
‫اس قسم کی بنیادی گفت و شنید کے بعد بہت دیر تک ان میں طریقہ کار اور الئحہ عمل پر بحث ہوتی رہی ۔ آخر کار
‫رجب کو تین بڑی ہی دلکش اور بے حد چاالک لڑکیاں او سونے کے ہزار ہا سکے دئیے گئے ۔ اسے قاہرہ کے دو آدمیوں کے
‫پتے دئیے گئے ۔ ان میں کسی ایک تک ان لڑکیوں کو خفیہ طریقے سے پہنچانا تھا ۔ ان دو آدمیوں میں سے ایک سلطان
‫ایوبی کے جنگی شعبے کا ایک حاکم فیض الفاطمی تھا ۔ رجب کو یہ نہیں بتایا گیا کہ لڑکیوں کو کس طرح استعمال کیا جائے
‫گا ۔ اسے اتنا ہی بتایا گیا کہ فیض الفاطمی کے ساتھ ان کا رابطہ ہے ۔ وہ لڑکیوں کا استعمال جانتا ہے اور لڑکیوں کو بھی
‫معلوم ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے ۔یہ تینوں عرب اور مصر کی زبان روانی سے بول سکتی تھیں ۔
‫اسی روز تینوں لڑکیاں اور دس محافظ رجب کے ساتھ کرکے اسے روانہ کر دیا گیا۔ اسے سب سے پہلے سوڈان کے اسی پہاڑی
‫خطے میں جانا تھا جہاں لڑکی کی قربانی دی جاتی تھی اور جہاں سلطان ایوبی کے جانبازوں نے ا ُ ِّم عرارہ کو حبشیوں سے
‫چھڑا کر پروہت کو ہالک کیا اور فرعونوں کے وقتوں کی عمارتیں تباہ کی تھیں ۔ رجب نے سوڈانیوں کی شکست اور العاضد
‫کی خالفت سے معزولی کے بعد بھاگ کر اسی جگہ پناہ لی اور اسی جگہ کو اپنا اڈہ بنا لیا تھا ۔ اسے نے اپنے گرد
‫حبشیوں کا وہ قبیلہ جمع کر لیا تھا جس کے پروہت کو سلطان ایوبی نے ہالک کرایا تھا ۔ یہ لوگ ابھی تک اس جگہ کو
‫دیوتائوں کا مسکن کہتے تھے اور پہاڑیوں کے اندر نہیں جاتے تھے ۔ اندر صرف چار بوڑھے حبشی جاتے تھے ۔ ان میں ایک
‫اس قبیلے کا مذہبی پیشوا تھا ۔ اس نے اپنے آپ کو مرے ہوئے پروہت کا جانشیں بنالیا تھا ۔اس نے تین آدمی اپنے محافظوں
‫کے طور پر منتخب کر لیے تھے ۔ جو اس کے ساتھ پہاڑیوں کے اندر جاتے تھے ۔ رجب نے اسی چھوٹے سے خطے کے ایک
‫ڈھکے چھپے گوشے کو اپنا گھر بنا لیا تھا ۔فرار ہو کر وہاں گیا اور پھر مصر میں مقیم کسی صلیبی ایجنٹ کے ساتھ فلسطین

‫چال گیا تھا ۔
19:21
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫""قسط نمبر‪"28.لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
‫حبشیوں کا یہ قبیلہ جو انگوک کہالتا تھا ‪ ،خوفزدہ تھا ۔ ایک تو ان کے دیوتا کی قربانی پوری نہیں ہوئی ‪ ،دوسرے ان کا
‫پروہت مارا گیا ‪ ،تیسرے ان کے دیوتاکا بت اور مسکن ہی تباہ کر دیا گیا اور چوتھی مصیبت یہ نازل ہوئی کہ قبیلے کے
‫سینکڑوں جوان دیوتا کی توہین کا انتقام لینے گئے تو انہیں شکست ہوئی اور زیادہ تر مارے گئے ۔ اس قبیلے کے گھر گھر
‫میں ماتم ہورہا تھا ۔ان میں سے بعض لوگ یہ بھی سوچنے لگے تھے کہ جس نے ان کا دیوتا کا بت توڑا ہے وہ کوئی بہت
‫ہی بڑا دیوتا ہوگا ۔ مرے ہوئے پروہت کے جانشیں نے جب اپنے قبیلے کا یہ حال دیکھا تو اس نے پہلے یہ کہا کہ دیوتا کے
‫مگر مچھ بھوکے ہیں ‪ ،ان کے پیٹ بھرو۔ حبشیوں نے کئی ایک بکریاں مگر مچھوں کے لیے بھیج دیں ۔ ایک نے تو اونٹ
‫پروہت کے حوالے کر دیا ۔یہ جانور کئی دن تک مگر مچھوں کی جھیل میں پھینکے جاتے رہے مگر قبیلے سے خوف کم نہ
‫ہوا ۔
‫ایک رات نئے پروہت نے قبیلے کو پہاڑی جگہ سے باہر جمع کیا اور اس نے دیوتائوں تک رسائی حاصل کی ہے ۔ دیوتائوں
‫نے یہ اشارہ دیا ہے کہ چونکہ وقت پر لڑکی کی قربانی نہیں ہوئی اس لیے قبیلے پر یہ مصیبت نازل ہوئی ہے ۔ دیوتائوں نے
‫کہا کہ اب بیک وقت دو لڑکیوں کی قربانی دی جائے گی تو مصیبت ٹل سکتی ہے ۔ ورنہ دیوتاسارے قبیلے کو چین نہیں لینے
‫دیں گے ۔ پروہت نے یہ بھی کہا کہ لڑکیاں انگوک نہ ہوں اور سوڈان کی بھی نہ ہوں ۔ ان کا سفید فام ہونا ضروری ہے ……
‫اتنا سننا تھا کہ قبیلے کے بہت سے دلیر اور نڈر آدمی اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مصر سے دو فرنگی یا مسلمان
‫لڑکیاں اٹھا الئیں گے ۔
‫ادھر سے رجب فلسطین سے تین صلیبی لڑکیاں دس محافظوں کے ساتھ ال رہا تھا ۔ اس کا سفر بہت لمبا تھا اور یہ سفر
‫خطرناک بھی تھا ۔ وہ سلطان ایوبی کی فوج کا بھگوڑا اور باغی ساالر تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ سرحد کے ساتھ ساتھ سلطان
‫ایوبی نے کشتی پہرے کا انتظام کر رکھا ہے ‪ ،اس لیے وہ اپنے قافلے کو دور کا چکر کاٹ کر ال رہا تھا ۔ اس کے قافلے میں
‫تین اونٹ تھے جن پر پانی ‪ ،خوراک اور صلیبیوں کا دیا ہوا بہت سارا سامان لدا ہوا تھا ۔ باقی سب گھوڑوں پر سوار
‫تھے ۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد وہ دیوتائوں کے پہاڑی مسکن میں پہنچ گئے ۔ اس سے ایک ہی روز پہلے قبیلے کے
‫پروہت نے کہا تھا کہ وہ سفید فام اور سوڈان کے باہر کی لڑکیوں کی قربانی دینی ہے ۔ رجب سب سے پہلے پروہت سے
‫مال۔ پروہت نے اس کے ساتھ تین سفید فام اور بہت ہی حسین لڑکیاں دیکھیں تو اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں ۔ یہ لڑکیاں
‫قربانی کے لیے موزوں تھیں ۔ اس نے رجب سے لڑکیوں کے متعلق پوچھا تو رجب نے اسے بتایا کہ انہیں وہ خاص مقصد کے
‫لیے اپنے ساتھ الیا ہے ۔
‫رجب لڑکیوں کو پہاڑیوں کے اندر ایک ایسی جگہ لے گیا جو سر سبز اور خوشنما تھی او ر تین اطراف سے پہاڑیوں میں
‫گھری ہوئی تھی ۔ وہاں رجب نے خیمے گاڑ دئیے تھے ۔ لڑکیوں کو چوری چھپے موقع محل دیکھ کر قاہرہ میں ان دو آدمیوں
‫کے حوالے کرنا تھا ۔ جن کے اتے پتے اسے صلیبیوں نے دئیے تھے ۔ لڑکیوں کے آرام و آسائش کا پورا انتظام تھا ۔ رجب
‫نے وہاں شراب کا بھی انتظام کر رکھا تھا ۔ رات اس نے سفر سے کامیاب لوٹنے کی خوشی میں جشن منایا ۔ صلیبی
‫محافظوں کو بھی شراب پالئی ۔ لڑکیوں نے بھی پی ۔
‫آدھی رات کے بعد جب محافظ اور اس کے چند ایک ساتھی جو پہلے ہی وہاں موجود تھے سوگئے تو رجب ایک لڑکی کو
‫بازو سے پکڑکر اپنے خیمے میں جانے لگا ۔ لڑکی اس کی نیت پھانپ گئی ۔ اس نے اسے کہا ……'' میں طوائف نہیں
‫ہوں ۔ میں یہاں صلیب کا فرض لے کر آئی ہوں ۔ میں آپ کے ساتھ شراب پی سکتی ہوں مگر بدی قبول نہیں کروں گی
‫''۔
‫رجب نے اسے ہنستے ہوئے اپنے خیمے کی طرف گھسیٹا تو لڑکی نے اپنا بازو چھڑا لیا ۔ رجب نے دست درازی کی تو لڑکی
‫دوڑ کر اپنی ساتھی لڑکیوں کے پاس چلی گئی ۔ وہ دونوں بھی باہر آگئیں ۔ انہوں نے رجب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ
‫وہ انہیں غلط نہ سمجھے ۔
‫رجب کو غصہ آگیا ۔اس نے کہا …… '' میں جانتا ہوں تم کتنی پاک بازہو۔ بے حیائی تمہارا پیشہ ہے ''۔
‫اس پیشے کا استعمال ہم وہاں کرتی ہیں جہاں اپنے فرض کے لیے ضروری ہوتاہے ''۔ لڑکی نے کہا ……''ہم عیاشی کی ''
‫خاطر عیاشی نہیں کیا کرتیں ''۔
‫رجب ان کی کوئی بات نہیں سمجھنا چاہتاتھا ۔ آخر لڑکیوں نے اسے کہا ……''ہمارے ساتھ دس محافظ ہیں ۔ وہ ہماری
‫حفاظت کے لیے ساتھ آئے ہیں ۔ انہیں کل واپس چلے جانا ہے ۔اگر ہم نے ان کی ضرورت محسوس کی تو ہم انہیں یہاں
‫روک سکتی ہیں یا خود یہاں سے جاسکتی ہیں ''۔
‫رجب چپ ہوگیا مگر اس کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ لڑکیوں کو بخشے گا نہیں۔ وہ رات گزر گئی ۔ دوسرے دن رجب نے
‫فلسطین سے ساتھ الئے ہوئے محافظوں کو رخصت کر دیا …… دن گزر گیا۔ شام کے وقت رجب لڑکیوں کے ساتھ بیٹھا ادھر
‫ادھر کی باتیں کر رہا تھا کہ پروہت اپنے چارحبشیوں کے ساتھ آگیا۔اس نے سوڈانی زبان میں رجب سے کہا ……''ہمارے
‫دیوتاہم سے ناراض ہیں ۔ انہوں نے دو فرنگی یامسلمان لڑکیوں کی قربانی مانگی ہے۔ یہ لڑکیاں قربانی کے لیے موزوں ہیں ۔
‫ان میں سے دو لڑکیاں ہمارے حوالے کر دو ''۔
‫رجب چکر اگیا ۔ اس نے جواب دیا ……''یہ لڑکیاں قربانی کے لیے نہیں ہیں ۔ ان سے ہمیں بہت کام لینا ہے اور انہی کے
‫ہاتھوں ہمیں تمہارے دیوتائوں کے دشمن کو مروانا ہے ''۔
‫تم جھوٹ بولتے ہو ''…… پروہت نے کہا …… ''تم ان لڑکیوں کو تفریح کے لیے الئے ہو ''۔ ہم ان میں سے دو لڑکیوں''
‫کو قربان کریں گے ''۔
‫رجب نے بہت دلیلیں دیں مگر پروہت نے کسی ایک بھی دلیل کو قبول نہ کیا ۔ اس کے دماغ پر دیوتا سوار تھے۔ اس نے
‫ا ُٹھ کر دو لڑکیوں کے سروں پر باری باری ہاتھ رکھے اور کہا …… ''یہ دونوں دیوتا کے لیے ہیں ۔ انگوک کی نجات ان دو
‫لڑکیوں کے ہاتھ میں ہے ''…… یہ کہہ کر وہ چال گیا ۔ ُرک کر رجب سے کہا ……''لڑکیوں کو ساتھ لے کر بھاگنے کی
‫کوشش نہ کرنا ۔ تم جانتے ہو کہ ہم تمہیں فورا ً ڈھونڈ الئیں گے ''۔
‫لڑکیاں سوڈان کی زبان نہیں سمجھتی تھیں ۔حبشی پروہت نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا ۔ رجب کو پریشان دیکھا تو انہوں

‫نے رجب سے پوچھا کہ یہ حبشی کیا کہہ رہا تھا۔ رجب نے انہیں صاف صاف بتا دیا کہ وہ انہیں قربانی کے لیے مانگتا
‫ہے ۔ لڑکیوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ تمہارے سر کاٹ کر خشک ہونے کے لیے رکھ دیں گے اور جسم جھیل میں
‫پھینک دیں گے مگر مچھ جسموں کو کھا جائیں گے ۔ لڑکیوں کے رنگ فق ہوگئے ۔ انہوں نے رجب سے پوچھا کہ اس نے
‫انہیں بچانے کے لیے کیا سوچا ہے۔ رجب نے جوا ب دیا ……''میں نے اسے سمجھانے کی ساری دلیلیں دے ڈالی ہیں مگر
‫اس نے ایک بھی نہیں سنی ۔ میں ان لوگوں کے رحم و کرم پر ہوں ۔ میں تو انہیں ساتھ مالنا چاہتا ہوں ۔ یہ میری فوج
‫میں شامل ہونے کے لیے تیا ر ہیں ۔ لیکن اپنے عقیدے کے اتنے پکے ہیں کہ پہلے دیوتائوں کو خوش کریں گے ‪ ،پھر میری
‫بات سنیں گے ''۔
‫رجب کی باتوں اور انداز سے لڑکیوں کو شک ہو گیا کہ وہ انہیں بچا نہیں سکے گا ۔ یا انہیں خوش کرنے کے لیے بچانے
‫کی کوشش نہیں کرے گا ۔ انہوں نے گزشتہ رات رجب کی نیت کی ایک جھلک دیکھ بھی لی تھی ۔ اس لیے وہ اس سے
‫مایوس ہوگئی تھیں ۔ رجب نے انہیں رسمی طور پر بھی تسلی نہ دی کہ وہ انہیں بچا لے گا ۔ لڑکیاں خیمے میں چلی گئیں
‫ِ
‫صورت حال پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ وہ یہاں رجب کی عیاشی کا ذریعہ بننے یا حبشیوں کے
‫۔ انہوں نے
‫دیوتا کی بھینٹ چڑھنے کے لیے نہیں آئیں ۔ وہ بے مقصد موت نہیں مرنا چاہتی تھیں ۔ انہوں نے وہاں سے فرار کا ارادا کیا
‫۔ فرار ہو کر فلسطین خیریت سے پہنچنا آسان کام نہ تھا مگر کوئی چارہ کار بھی نہ تھا ۔ یہ لڑکیاں صرف خوبصورت اور
‫دلکش ہی نہیں تھیں ‪،گھوڑ سواری اور سپاہ گری کی بھی انہیں تربیت دی گئی تھی تا کہ ضرورت پڑے تو اپنا بچاو خود کر
‫سکیں ۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ یہاں سے بھاگ کر فلسطین چلی جائیں گی ۔
‫وہ رات خیریت سے گزر گئی ۔ دوسرے دن لڑکیوں نے اچھی طرح دیکھا کہ رات کو گھوڑے کہاں بندھے ہوتے ہیں اور وہاں
‫سے نکلنے کا راستہ کون سا ہے۔ حبشی پروہت دن کے وقت بھی آیا او رجب کے ساتھ باتیں کر کے چال گیا ۔ لڑکیوں نے
‫اس سے پوچھا کہ و کیا کہہ گیا ہے۔ رجب نے انہیں بتایا کہ وہ کل رات تمہیں یہاں سے لے جائیں گے ۔ وہ مجھے دھمکی
‫دے گیا ہے کہ میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو وہ مجھے قتل کر کے مگر مچھوں کی جھیل میں پھینک دیں گے ۔
‫لڑکیوں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ فرار کا فیصلہ کر چکی ہیں کیونکہ انہیں رجب کی نیت پر شک ہوگیا تھا ۔ وہ غیر
‫معمولی طور پر ذہین لڑکیاں تھیں ۔ انہوں نے رجب کے ساتھ ایسی باتیں کیں اور ایسی باتیں اس کے منہ سے کہلوائیں جن
‫سے پتہ چلتا تھا جیسے وہ انہیں بچانے کی بجائے حبشیوں کو خوش کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اسے وہیں چھپائے رکھیں اور اسے
‫سلطان ایوبی کے خالف فوج تیار کرنے میں مدد دیں ۔ لڑکیوں کو یہ بھی شک ہوا کہ رجب انہیں ایسی قیمت کے عوض
‫بچانے کی کوشش کرے گا جو وہ اسے دینا نہیں چاہتیں تھیں ۔
‫سارا دن اسی شش و پنچ میں گزر گیا ۔ رجب کو شک نہ ہواکہ لڑکیاں بھاگ جائیں گی ۔ اسے اس وقت بھی شک نہ
‫ہوا ۔ جب لڑکیوں نے اسے کہا کہ ایسے جہنم نما صحرا میں ایسا سر سبز خطہ قدرت کا عجوجہ ہے ‪ ،آو ذرا اس کی سیر
‫کرا دو ۔ رجب انہیں گھمانے پھرانے لگا ۔ آگے وہ بھیانک جھیل آگئی جس کے کنارے پر پانچ چھ مگر مچھ بیٹھے تھے۔
‫جھیل کا پانی غلیظ اور بدبودار تھا ۔ایک لڑکی نے کہا کہ یو معلوم ہوتا ہے جیسے پہاڑی کے اندر چشمہ ہے ۔ جب اس
‫نےپہاڑی کی اندر دیکھا تو ایک لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ پانی پہاڑی کے اندر ایک وسیع غار بنا چال گیا تھا ۔ رجب نے
‫کہا …… ''یہ ہیں وہ مگر مچھ جو یہاں کے مجرموں کو اور قربان کی ہوئی لڑکیوں کے جسموں کو کھاتے ہیں ''……ایسا
‫ہولناک منظر دیکھ کر لڑکیوں کے دلوں میں فرار کا ارادہ اور زیادہ پختہ ہوگیا ۔ انہوں نے سیر کے بہانے فرار کا راستہ اچھی
‫طرح دیکھ لیا اور ایسی نرم زمین دیکھ لی جس پر گھوڑوں کے قدموں کی آواز پیدا نہ ہو ۔ ان کی سیر کی خواہش کے
‫پیچھے یہی مقصد تھا ۔
‫ادھر حبشی پروہت قریبی بستی میں بیٹھا قبیلے کو یہ خوش خبری سنا رہا تھا کہ قربانی کے لیے لڑکیاں مل گئی ہیں اور
‫قربانی آج سے چوتھی رات دی جائے گی جو پورے چاند کی رات ہوگی ۔ اس نے کہا کہ قربانی دیوتائوں کے مسکن اور معبد
‫کے کھنڈروں پر دی جائے گی ۔ اس کے بعد ہم یہ معبد خود تعمیر کریں گے اور جب یہ معبد تعمیر ہوجائے گا تو ہم اس
‫قوم سے انتقام لیں گے جنہوں نے ہمارے دیوتا کی توہین کی ہے ۔
‫نصف شب کا وقت تھا ۔ رجب اور اس کے ساتھیوں کو لڑکیوں نے اپنے خصوصی فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتنی شراب پالدی
‫تھی کہ ان کی بیداری کا خطرہ ہی ختم ہوگیا تھا۔ وہ بے ہوش پڑے تھے۔ لڑکیوں نے سفر کے لیے سامان باندھ لیا ۔تین
‫گھوڑوں پر زینیں کسیں ‪ ،سوار ہوئیں اور اس نرم زمین پر گھوڑوں کو ڈال دیا جو انہوں نے دن کے وقت دیکھی تھی ۔ اس
‫خطے کے ایک حصے میں چار حبشی موجو د تھے لیکن وہ سوئے ہوئے تھے اور دور تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ یہاں سے کوئی
‫بھاگنے کی جرأت نہیں کر سکتا ۔ اگر بھاگے گا تو صحرا اسے راستے میں ہی ختم کردے گا ‪،مگر لڑکیاں اس سرسبز‪ ،خوشنما
‫اور ہولناک قید خانے سے نکل گئیں ۔ وہ اسی راستے سے فلسطین جانا چاہتی تھیں جس راستے سے رجب انہیں الیا تھا ۔
‫وہ تھیں تو غیر معمولی طور پر ذہین اور انہیں عسکری تربیت بھی دی گئی تھی مگر انہیں یہ علم نہیں تھا کہ صحرا میں
‫اس قدر فریب چھپے ہوئے ہیں جو دانش مندوں کو بھی عقل کا اندھا کردیا کرتے ہیں ۔ اتنے طویل صحرائی سفر پر لوگ
‫قافلوں کی صورت میں نکال کرتے تھے اور ان کے پاس صحراکی ہر آفت کا مقابلہ کرنے کا اہتمام ہوتا تھا ۔
‫رات کے وقت سو صحرا سرد تھا ۔ تینوں لڑکیوں نے اس جگہ سے کچھ دور تک گھوڑوں کو آہستہ آہستہ چالیا‪،پھر ایڑ لگا دی
‫۔ گھوڑے سرپت دوڑنے لگے۔ بہت دور جا کر انہوں نے گھوڑوں کی رفتار کم کر دی ۔ باقی رات گھوڑے اسی رفتار پر چلتے
‫رہے ۔ صبح طلوع ہوئی اور جب سورج اوپر آیا تو لڑکیوں کے اردگرد ریت کے گول گول ٹیلے تھے اور ان سے آگے ریتلی مٹی
‫کی اونچی اونچی پہاڑیاں کھڑی تھیں ۔ کوئی راستہ نہ تھا ۔ انہوں نے سورج سے اپنی سمت کا اندازہ کیا اور ٹیلوں کی بھول
‫بھلیوں میں داخل ہوگئیں ۔ گھوڑے پیاسے تھے۔ ہر گھوڑے پر پانی کا ایک ایک چھوٹا مشکیزہ تھا جو ایک دن کے لیے بھی
‫کافی نہیں تھا۔ گھوڑوں کو کہاں سے پانی پالیا جاتا ۔ لڑکیاں کسی نخلستان کی تالش میں چلتی چلی گئیں۔ سورج اوپر اُٹھتا
‫گیا اور صحرا کو دوزخ بناتا گیا ۔ نخلستان کا کہیں نشان اور تصور بھی نظر نہیں آتاتھا۔
‫رجب اور اس کے ساتھی سورج طلوع ہونے پر بھی نہ جاگے ۔ وہ تو بیہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ پروہت اپنے تین
‫حبشیوں کے ساتھ آیا۔ اس نے سب سے پہلے لڑکیوں کے خیمے دیکھے ۔ خیمہ خالی تھا ۔ اس نے رجب کو جگایا اورکہا
‫''دونوں لڑکیاں میرے حوالے کر دو ''…… رجب ہڑبڑا کر ا ُٹھا اور پروہت کو قائل کرنے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ ان لڑکیوں
‫کو ضائع نہ کرے۔ اس نے اسے تفصیل سے بتایا کہ ان لڑکیوں سے کیا کام لینا ہے مگر پروہت نے اس کی ایک بھی نہ
‫''مانی ۔ رجب نے اپنے ساتھیوں کو جگانا چاہا تو حبشیوں نے اسے پکڑ لیا ۔ پروہت نے پوچھا ……''لڑکیاں کہا ں ہیں ؟
‫رجب نے وہیں سے لڑکیوں کو پکارا تو اسے کوئی جواب نہ مال ۔ خیمے میں جا کر دیکھا۔ انہیں ادھر ادھر دیکھا ۔ وہ کہیں

‫نظر نہ آئیں ۔ اچانک نظر زینوں پر پڑی ۔ تین زینیں غائب تھیں۔ گھوڑے دیکھے تو تین گھوڑے غائب تھے۔ رجب نے پروہت
‫سے کہا …… ''وہ تمہارے ڈر سے بھاگ گئی ہیں ۔ تم نے بڑے کام کی لڑکیاکیوں کو بھگا دیا ہے ''۔
‫انہیں تم نے بھگایا ہے ''…… پروہت نے کہا اور اپنے تین حبشیوں سے رجب کے متعلق کہا ……'' اسے لے جا کر باندھ''
‫دو ۔ اس نے انگوک کے دیوتا کو پھر ناراض کر دیا ہے ۔ اچھے سواروں کو بالئو اور لڑکیوں کا پیچھا کرو ۔ وہ دور نہیں جا
‫سکتیں ''۔
‫رجب کے احتجاج اور منت سماجت کو نظر انداز کرتے ہوئے حبشی اسے اپنے ساتھ لے گئے اور ایک درخت کے ساتھ اس
‫طرح باندھ دیا کہ اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے ۔ اس کے سوئے ہوئے ساتھیوں کے ہتھیار اُٹھا لیے گئے ‪ ،پھر
‫انہیں جگا کر دھمکی دی گئی کہ وہ یہاں سے ہلے تو قتل ہوجائیں گے …… تھوڑی دیر بعد چھ گھوڑ سوار اور شتر سوار آگئے
‫۔ انہیں لڑکیوں کے تعاقب میں روانہ کر دیا گیا ۔ریت پر تین گھوڑوں کے قدموں کے نشان صاف تھے۔ اسی سمت کو یہ
‫حبشی سوار انتہائی رفتار سے روانہ ہوگئے ۔ لڑکیوں کو پکڑنا آسان نہیں تھا کیونکہ فرار اور تعاقب میں آٹھ دس گھنٹوں کا
‫فرق تھا ۔ حبشی سواروں کہ یہ سہولت حاصل تھی کہ و ہ صحرا کے بھیدی تھے اور مرد تھے۔ سختیاں جھیل سکتے تھے ۔
‫آگے جا کر انہیں یہ مشل پیش آئی کہ ہوا چل رہی تھی جس نے ریت اُڑاُڑا کر گھوڑوں کے قدموں کے نشان غائب کر دئیے
‫تھے ۔ پھر بھی وہ اندازے پر چلتے گئے ۔
‫تین چار گھنٹوں کے تعاقب کے بعد انہیں ایک طرف سے آسمان پر اُفق کے کچھ اُوپر تک مٹیالی سرخی دکھائی دی جو اُوپر
‫کو ا ُٹھتی اور آگے بڑھتی آرہی تھی ۔ سواروں نے گھبرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا ‪ ،گھوڑوں اور اونٹوں کو پیچھے کی
‫طرف موڑ کر سرپٹ دوڑا دیا ۔ یہ صحرا کی وہ آندھی تھی جو بڑے بڑے ٹیلوں کو ریت کے ذروں میں بدل کر اُڑا لے جاتی
‫ہے۔ کوئی انسان یا جانور کہیں ُرک کر کھڑا رہے یا بیٹھ جائے تو ریت اس کے جسم کے ساتھ ُرک ُرک کر اسے زندہ دفن کر
‫دیتی ہے اور اس پر ٹیال کھڑا ہو جاتا ہے ۔ وہاں آندھی سے بچنے کے لیے کوئی مضبوط ٹیال نہیں تھا ۔ وہ بھاگ کر اپنے
‫پہاڑی خطے تک پہنچنا چاہتے تھے جو بہت ہی دور تھا ……وہاں تک آندھی پہنچ گئی تھی ۔ اسے خطے کے درخت دوہرے ہو
‫ہو کر چیخ رہے تھے۔ جھیل کے مگر مچھ پہاڑی کے آبی غار میں جا چھپے تھے۔ پروہت ایک جگہ زمین پر گھٹنے ٹیکے
‫ہوئے ہاتھ ہوا میں بلند کرتا اور زور زور سے زمین پر مارتا تھا ۔ ہر بار بلند آواز سے کہتا تھا ……''انگوک کے دیوتا ! اپنے
‫قہر کو سمیٹ لے ۔ ہم دو بہت ہی خوبصورت لڑکیاں تیرے قدموں میں پیش کر رہے ہیں ''…… وہ اس آندھی کو دیوتا کا
‫قہر سمجھ رہا تھا ۔ صحرا اور آندھی کا چولی دامن کا ساتھ تھا ‪ ،لیکن سرخ اور ایسی تیز و تند آندھی کبھی کبھی چال
‫کرتی تھی ۔ و ہ حبشیوں کے خطرے سے تو بہت دور نکل گئی تھیں مگر صحرا کے ایسے خطرے میں آگئیں جو ان کے لیے
‫جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا ۔ ان کے لیے دوسری مصیبت یہ آئی کہ ریت کے بوچھاڑوں اور آندھی کے زناٹوں سے گھبرا کر
‫تینوں گھوڑے منہ زور اور بے لگام ہو کر دوڑ پڑے۔ وہ چوں کہ اکھٹے بدکے تھے ‪ ،اسے لیے اکھٹے ہی دوڑتے جا رہے تھے۔
‫اس سے یہ فائدہ تو ہوا کہ ریت میں دب جانے کا خطرہ نہ رہا مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ بے لگا م گھوڑے کہاں جا رکیں
‫گے اور وہ جگہ اصل راستے سے کتنی دور ہوگی ۔ لڑکیوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ گھوڑوں کو قابومیں کر لیتیں اور
‫گھوڑوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ زیادہ دوڑ سکتے۔ وہ پیاسے تھے اور آدھی رات سے مسلسل چل رہے تھے۔
‫تھکن اور پیاس گھوڑوں کے بے حال کرنے لگی۔ ایک گھوڑا منہ کے بل گرا ۔ اس کی سوار لڑکی ایسی گری کہ گھوڑا اُٹھا اور
‫جب پھر گرا تو لڑکی اس کے نیچے آگئی۔ اسے مرنا ہی تھا ۔ کچھ اور آگے گئے تو ایک گھوڑے کا تنگ ڈھیال ہوگیا ……
‫زین ایک طرف لڑھک گئی اس کی سوار اسی پہلو پر گری مگر بایاں پائوں رکاب میں پھنس گیا ۔ لڑکی زمین پر گھسیٹی
‫جانے لگی۔ تیسری لڑکی اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی ۔ اس کا اپنا گھوڑا بے قابو تھا ۔ وہ اپنی ساتھی کی چیخیں
‫سنتی رہی۔ پھر چیخیں خاموش ہوگئیں اور وہ لڑکی کی الش کو گھوڑے کے ساتھ زمین پر جاتا دیکھتی رہی ۔ اس پر دہشت
‫طاری ہوگئی ۔ وہ کتنی ہی دلیر کیوں نہ تھی ‪ ،آخر لڑکی تھی ۔ زور سے رونے لگی۔ ڈھیلی زین واال گھوڑا یکلخت ُرک
‫گیا ۔ تیسری لڑکی اپنا گھوڑا نہ روک سکی ۔ اس نے پیچھے دیکھا ۔ آندھی میں اسے کچھ نظر نہ آیا کہ اس گھوڑے کا کیا
‫حشر ہوا۔ لڑکی تو یقینا مر چکی تھی ۔
‫تیسری لڑکی اکیلی رہ گئی۔ اس نے رکابوں سے پائوں پیچھے کر لیے۔ اس کی دہشت زدگی کا یہ عالم تھا کہ اس نے گھوڑے
‫کی لگام چھوڑ کر ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کرجوڑ دئیے اور گال پھاڑ کر خدا کو پُکارنے لگی ……''میرے عظیم خدا! آسمانوں
‫کے خدا! میرے گناہ معاف کردے۔ میں گناہگار ہوں ۔ میرا بال بال گناہگار ہے ۔ میں گناہ کرنے آئی تھی ۔ میں نے گناہوں
‫میں پرورش پائی ہے۔ میرے خدا! میں اس وقت بہت چھوٹی تھی جب مجھے بڑوں نے گناہوں کے راستے پر ڈاال تھا۔ انہوں
‫نے مجھے گناہوں کے سبق دیتے جوان کیا اور کہا کہ جائو مردوں کو اپنے ُحسن اور اپنے جسم سے گمراہ کرو۔ ان کے ہاتھوں
‫انسانوں کو قتل کروائو۔ جھوٹ بولو۔ فریب دو اور بدکار بن جائو۔ انہوں نے بتایا تھا کہ یہ صلیب کا فرض ہے۔ تم پورا کرو
‫گی تو جنت میں جائو گی ''……وہ پاگلوں کی طرح چال رہی تھی اور اس کے گھوڑے کی رفتار گھٹتی جا رہی تھی ۔ زارو
‫قطار روتے ہوئے اس نے خدا سے کہا ۔ ''تیرا جو مذہب سچا ہے ‪ ،مجھے اسی کا معجزہ دکھا ''۔
‫اس کے عقیدے متز لزل ہوگئے تھے ۔گناہوں کے احساس نے اس کے دماغ پر قابوپالیا تھا ۔ موت کے خوف نے اسے فراموش
‫کرادیا تھا کہ اس کا مذہب کیا ہے ۔ اسے اپنا ماضی گناہوں میں ڈوبا ہوا نظر آرہا تھا او اس کے دل میں یہ احساس بیدار
‫ہوتا جا رہا تھا کہ وہ مردوں کے استعمال کی چیز ہے اور اسے دھوکے اور فریب کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور اب سزا
‫صرف اس اکیلی کو مل رہی ہے ۔
‫اسے غشی کی لہر آئی اور گزر گئی۔ اس نے دھاڑ ماری اور سر کو جھٹک کر بلند آواز سے کہا …… ''میری مدد کرو میرے
‫خدا! میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ''……اور اس کے ساتھ ہی اسے یاد آگیا کہ وہ یتیم بچی ہے ۔ موت کے سامنے انسان
‫ماضی کی طرف بھاگتا ہے جو انسانی فطرت کا قدرتی عمل ہے۔ اس جوان لڑکی نے بھی ماضی میں پناہ لینے کی کوشش کی
‫مگروہاں کچھ بھی نہ تھا ۔ ماں نہیں تھی ‪ ،باپ نہیں تھا ‪ ،کوئی بہن بھائی نہیں تھا ‪ ،اسے کچھ یادآیا کہ صلیبیوں نے اسے
‫پاال اس راہ پہ ڈاال ہے جہاں وہ ایک بڑاہی حسین دھوکہ بن گئی تھی ۔ اسے اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی۔ وہ اب بخشش
‫چاہتی تھی ‪ ،اسے غشی آنے لگی ‪ ،گھوڑے کی رفتار سست ہو گئی تھی کہ وہ بمشکل چل رہا تھا اور اس کے ساتھ آندھی
‫‪ .بھی تھمنے لگی تھی ۔ لڑکی ہوش کھو بیٹھی تھی
19:22
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫""قسط نمبر‪" 29.لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی

‫سلطان ایوبی نے سرحد کے ساتھ ساتھ گشتی پہرے کا انتظام کر رکھا تھا۔ ان میں سے تین دستوں کا ہیڈ کواٹر سوڈان اور
‫مصر کی سرحد سے چار پانچ میل اندر کی طرف تھا ۔ ہیڈ کواٹر کے خیمے ایسی جگہ نصب کیے گیے تھے جہاں آندھیوں
‫سے بچنے کی اوٹ تھی مگر اس آندھی نے ان کے خیمے ا ُکھاڑ پھینکے تھے ۔ گھوڑوں اور اونٹوں کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا
‫۔ آندھی ُر کی تو سپاہی خیمے وغیرہ سنبھالنے میں مصروف ہو گئے ۔ ان تین دستوں کا کمانڈر ایک تُرک احمد کمال تھا ۔
‫وہ ایک خوبرو اور گورے رنگ کا تنو مند مرد تھا ۔ وہ بھی آندھی ُرکتے ہی باہر آگیا اور ساز و سامان اور جانوروں کا جائزہ
‫لے رہا تھا۔ فضا گرد سے صاف ہوگئی تھی ۔ ایک سپاہی نے ایک طرف اشارہ کر کے اسے کہا …… ''کماندار! وہ گھوڑا اور
‫……''سوار ہمارا تو نہیں ؟
‫ہم نے ابھی لڑکیوں کو فوج میں شامل نہیں کیا''۔ احمد کمال نے جواب دیا …… وہ لڑکی معلوم ہوتی ہے۔ بال بکھرے ''
‫ہوئے صاف نظر آرہے تھے ۔
‫وہ اسی سپاہی کو ساتھ لے کر دوڑ پڑا ۔ ایک گھوڑا سر نیچے کیے نہایت ہی آہستی آہستی آرہا تھا ۔ اسے چارے کی بو
‫آئی تو ہیڈ کواٹر کے گھوڑوں کی طرف چل پڑا۔ گھوڑے پر ایک لڑکی اس طرح سوار تھی کہ اس کے بازو گھوڑے کی گردن
‫کے ادھر ادھر تھے اور لڑکی آگے کو اس طرح جھکی ہوئی تھی کہ اس کاسر گھوڑے کی گردن سے ذرا پیچھے تھا ۔ لڑکی کے
‫بال بکھر کر آگے آگئے تھے۔ احمد کمال کے پہنچنے تک گھوڑا وہاں بندھے ہوئے گھوڑوں کے پاس جا کر ان کا چارہ کھانے
‫لگا تھا ۔ احمد کمال نے لڑکی کے پائوں رکابوں سے نکا لے اور اسے گھوڑے سے اتار کر بازوں پر اُٹھا لیا ۔ سپاہی نے کہا
‫……'' زندہ ہے ۔ فرنگی معلوم ہوتی ہے ۔ اس کے گھوڑے کو پانی پالو ''…… وہ لڑکی کو اپنے خیمے میں لے گیا۔ لڑکی کے
‫بال ریت سے اٹے ہوئے تھے۔ احمد کمال نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے پھر منہ میں پانی کے قطرے ٹپکانے لگا
‫۔
‫لڑکی نے آنکھیں کھول دیں ۔ دو چار لمحے احمد کمال کو حیرت سے دیکھتی رہی اور اچانک اُٹھ کر بیٹھ گئی ۔ احمد کمال
‫کا رنگ گورا دیکھ کر اس نے انگریز ی میں پوچھا …… ''میں فلسطین سے ہوں ؟''…… احمد کمال نے سر ہال کر اسے
‫''سمجھانا چاہا کہ میں یہ زبان نہیں سمجھتا ۔ لڑکی نے عربی زبان میں پوچھا …… ''تم کون ہو ؟ میں کہا ں ہوں ؟
‫میں اسالمی فوج کا معمولی سا کماندار ہوں ''۔ احمد کمال نے جواب دیا ……''اور تم مصر میں ہو ''۔''
‫لڑکی کی آنکھیں ا ُبل پڑیں اور وہ اس قدر گھبرائی جیسے پھر بے ہوش ہوجائے گی ۔ احمد کمال نے کہا …… '' ڈرو نہیں ۔
‫سنبھالو اپنے آپ کو ''…… اس نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور کہا ……''میں جان گیا ہوں کہ تم فرنگی ہو ۔
‫میری مہمان ہو ۔ ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ''…… اس نے ایک سپاہی کو بالیا اور لڑکی کے لیے پانی اور کھانا منگوایا۔
‫لڑکی نے لپک کر پانی کا پیالہ ا ُٹھا لیا اور منہ سے لگا کر بے صبری سے پینے لگی۔ احمد کمال نے پیالہ اس کے ہونٹوں
‫سے ہٹا کر کہا ……''آہستہ ۔ پہلے کھانا کھا لو ۔ پانی بعد میں پینا ''…… لڑکی نے گوشت کا ایک ٹکڑا اُٹھالیا۔ پھر وہ
‫کھانا کھاتی رہی او پانی پیتی رہی ۔ ا س کے چہرے پر رونق واپس آگئی ۔
‫احمد کمال نے ایک خیمہ الگ لگوا رکھا تھا جو اس کا غسل خانہ تھا ۔ وہاں پانی کی کمی نہیں تھی ۔ خیمہ گاہ ایک
‫نخلستان کے قریب تھی ۔ احمد کمال نے کھانے کے بعد لڑکی کو غسل والے خیمے میں داخل کر کے پردے باندھ دئیے۔ لڑکی
‫نے غسل کرلی لیکن وہ بہت ہی خوف زدہ تھی کیونکہ وہ اپنے دشمن کی پناہ میں آگئی تھی جہاں اسے اچھے سلوک کی
‫توقع نہیں تھی ۔ اس کے ذہن میں بچپن سے یہ ڈاال جاتا رہا تھا کہ مسلمان وحشی ہوتے ہیں اور عورت کے لیے تو وہ
‫درندے ہیں ۔ اس خوف کے ساتھ اس پر حبشیوں کا ‪ ،مگر مچھوں کا اور صحرائی آندھی کا خوف طاری تھا۔ اپنے ساتھ کی
‫دونوں لڑکیوں کی موت اور و ہ بھی ایسی بھیانک موت ‪ ،اس کے رونگٹے کھڑے کر رہی تھی۔ اس نے غسل کرتے ہوئے بڑی
‫شدت سے محسوس کیا تھا کہ وہ اپنے ناپاک وجود کو دھونے کی کوشش کر رہی ہے جسے دنیا کا پانی پاک نہیں کر سکتا ۔
‫اس نے کسمپرسی کی حالت میں تنگ آ کر اپنے آپ کو صورت حال کے حوالے کر دیا ۔
‫احمد کمال نے دیکھ لیا تھا کہ ایسے حسن اور ایسے دلگداز جسم والی لڑکی معمولی لڑکی ۔ مصر کے اس حصے میں ایسی
‫فرنگی لڑکی کیسے آسکتی تھی ؟ اس نے لڑکی سے پوچھا تو لڑکی نے جواب دیا کہ وہ قافلے سے بچھڑ گئی ہے۔ آندھی
‫میں گھوڑا بے لگام ہوگیا تھا۔ احمد کمال ایسے جواب سے مطمئن نہیں ہوسکتا تھا ۔اس نے تین چار اور سوال کیے تو لڑکی
‫کے ہونٹ کانپنے لگے ۔ احمد کمال نے کہا ……''اگر تم یہ کہتی کہ تم اغوا کی ہوئی لڑکی ہو اور آندھی نے تمہیں چھڑا دیا
‫ہے تو شاید میں مان جاتا ۔ تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا ''۔
‫اتنے میں اس سپاہی نے جو احمد کمال کے ساتھ تھا ۔ خیمے کا پردہ اُٹھایا اور ایک تھیال اور ایک مشکیزہ احمد کمال کو
‫دے کر کہا کہ یہ اس لڑکی کے گھوڑے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ احمد کمال تھیال کھولنے لگا تو لڑکی نے گھبرا کر تھیلے
‫پر ہاتھ رکھ لیا ۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ احمد کمال نے تھیال اسے دے کر کہا …… ''لو اسے خود کھول کر
‫دکھاو''۔
‫لڑکی کی زبان جیسے گنگ ہوگئی تھی ۔ اس نے بچوں کے انداز سے تھیال پیٹھ پیچھے کر لیا ۔ احمد کمال نے کہا ''یہ تو
‫ہو نہیں سکتا کہ میں تمہیں کہہ دوں کہ جاو چلی جاو ۔ مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تمہیں روکوں‪ ،لیکن ایک ایسی
‫لڑکی کو آبادیوں سے دور اکیلی گھوڑے پر بے ہوشی کی حالت میں بھٹکتی ہوئی پائی گئی ہے اسے میں اکیال نہیں چھوڑ
‫سکتا ۔ یہ میرا انسانی فرض ہے ۔ مجھے اپنا ٹھکانہ بتادو۔ میں تمہیں اپنے سپاہیوں کے ساتھ حفاظت سے پہنچادوں گا ۔ اگر
‫نہیں بتاو گی تو تمہیں متشبہ لڑکی سمجھ کر قاہرہ اپنی حکومت کے پاس بھیج دوں گا۔ تم مصر ی نہیں ہو۔ تم سوڈانی بھی
‫نہیں ہو ''۔
‫لڑکی کے آنسو بہنے لگے۔ وہ جس مصیبت سے گزر کر آئی تھی اس کی دہشت اور ہولناکی اس پر پہلے ہی غالب تھی ۔
‫اس نے تھیال احمد کمال کے آگے پھینک دیا ۔ احمد نے تھیال کھوال تو اس میں سے کچھ کھجوریں ‪ ،دو چار چھوٹی موٹی
‫عام سی چیزیں نکلیں اور ایک تھیلی نکلی۔ یہ کھولی تو اس میں سے سونے کے بہت سے سکے اور ان میں سونے کی
‫باریک سی زنجیر کے ساتھ چھوٹی سی سیاہ لکڑی کی صلیب نکلی ۔ احمدکمال اس سے یہی سمجھ سکا کہ لڑکی عیسائی
‫ہے ۔ اسے غالبا ً معلوم نہیں تھا کہ جو عیسائی مسلمانوں کے خالف لڑنے کے لیے صلیبی لشکر میں شامل ہوتا ہے وہ ایک
‫صلیب پر حلف ا ُٹھاتا ہے اور چھوٹی سی ایک صلیب ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہے ۔ احمد کمال نے اسے کہا کہ اس تھیلے
‫میں میرے سوال کا جواب نہیں ہے ۔
‫اگر میں یہ سارا سونا تمہیں دے دوں تو میری مدد کرو گے ؟''لڑکی نے پوچھا ۔ کیسی مدد ؟''
‫مجھے فلسطین پہنچا دو ''۔ لڑکی نے جواب دیا ……''اور مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھو''۔''

‫میں فلسطین تک بھی پہنچا دوں گا لیکن سوال ضرور پوچھوں گا ''۔''
‫اگر مجھ سے کچھ بھی نہ پوچھو تو اس کا الگ انعام دوں گی ''۔''
‫''وہ کیا ہوگا ؟''
‫گھوڑا تمہیں دے دوں گی ''۔ لڑکی نے جواب دیا…… ''اور تین دنوں کے لیے مجھے اپنی لونڈی سمجھ لو ''۔''
‫احمد کمال نے اس سے پہلے ہاتھ میں کبھی اتنا سونا نہیں اُٹھایا تھا اور اس نے ایسا حیران کن حسن اور جسم بھی نہیں
‫دیکھا تھا ۔ اس نے اپنے سامنے پڑے ہوئے سونے کے چمکتے ہوئے ٹکڑوں کو دیکھا پھر لڑکی کے ریشمی بالوں کو دیکھا جو
‫سونے کی تاروں کی طرح چمک رہے تھے ‪ ،پھر اس کی آنکھوں کو دیکھا جن میں وہ طلسماتی چمک تھی جو بادشاہوں کو
‫ایک دوسرے کا دشمن بنادیا کر تی ہے ۔ وہ تنو مند مرد تھا کماندار تھا۔ ان دستوں کا حاکم تھا جو سرحد پر پہرہ دے رہے
‫تھے۔ اسے روکنے‪ ،پوچھنے اور پکڑنے واال کوئی نہ تھا مگر اس نے سکے تھیلی میں ڈالے‪ ،صلیب بھی تھیلی میں رکھی اور
‫تھیلی لڑکی کی گود میں رکھ دی ۔
‫''کیوں ؟''لڑکی نے پوچھا ……''یہ قیمت تھوڑی ہے؟''
‫بہت تھوڑی ''۔ احمد کمال نے کہا ……''ایمان کی قیمت خدا کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ''……لڑکی نے کچھ کہنا ''
‫چاہا لیکن احمد کمال نے اسے بولنے نہ دیا اور کہا …… ''میں اپنا فرض اور اپنا ایمان فروخت نہیں کر سکتا ۔ سارا مصر
‫میرے اعتماد پر آرام کی نیند سوتا ہے ۔ تین مہینے گزرے سوڈانیوں نے قاہرہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اگر میں
‫یہاں نہ ہوتا اور اگر میں ان کے ہاتھ اپنا ایمان فروخت کر دیتا تو یہ لشکر قاہرہ میں داخل ہو کر تباہی برپا کر دیتا ۔ تم
‫''مجھے اس لشکر سے زیادہ خطرناک نظر آتی ہو ۔ کیا تم جاسوس نہیں ہو ؟
‫''! نہیں''
‫تم یہی بتا دو کہ تمہیں آندھی نے کسی ظالم کے پنجے سے بچایا ہے یا تم آندھی سے بچ کر نکلی ہو ؟''……لڑکی نے ''
‫بے معنی سا جواب دیا تو احمد کمال نے کہا ……''مجھے تمہارے متعلق یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ کون ہو اور کہاں سے
‫آئی ہو ۔ میں تمہیں کل قاہرہ کے لیے روانہ کر دوں گا ۔ وہاں ہمارا جاسوسی اور سراغرسانی کا ایک محکمہ ہے وہ جانے
‫اور تم جانو ۔ میرا فرض پورا ہوجائے گا ''۔
‫اگر اجازت دو تو میں اس وقت ذرا آرام کرلوں ''۔ لڑکی نے کہا ……''کل جب قاہرہ کے لیے مجھے روانہ کرو گے تو ''
‫شاید تمہارے سوالوں کا جواب دے دوں''۔
‫لڑکی رات بھر کی جاگی ہوئی اور دن کے ایسے خوفناک سفر کی تھکی ہوئی تھی ۔ لیٹی اور سو گئی ۔ احمد کمال نے
‫دیکھا کہ وہ نیند میں بڑبڑاتی تھی۔ بے چینی میں سر ادھر ادھر مارتی تھی اور ایسے پتہ چلتا تھا جیسے خواب میں رو رہی
‫ہو ۔ احمد کمال نے اپنے ساتھیوں کو بتادیا کہ ایک مشکوک فرنگی لڑکی پکڑی گئی ہے جسے کل قاہرہ بھیجا جائے گا۔ اس
‫کے ساتھی احمد کمال کے کردار سے واقف تھے ۔ کوئی بھی ایسا شک نہیں کر سکتا تھا کہ اس نے لڑکی کو بد نیتی سے
‫اعلی نسل کا تھا اور جب اس نے
‫اپنے خیمے میں رکھا ہے۔ اس نے لڑکی کا گھوڑا دیکھا تو وہ حیران رہ گیا کیونکہ گھوڑا
‫ٰ
‫زین دیکھی تو اس کے شکوک رفع ہوگئے ۔ زین کے نیچے مصر کی فوج کا نشان تھا ۔ یہ گھوڑا احمد کمال کی اپنی فوج کا
‫تھا ۔
‫حبشیوں نے آندھی کی وجہ سے تعاقب ترک کردیا تھا ۔ وہ واپس زندہ پہنچ گئے تھے۔ پروہت نے فیصلہ دے دیا تھا کہ
‫لہ ذا تعاقب میں کسی کو بھیجنا بیکار ہے۔ وقت بھی بہت گزر گیا تھا ۔ لیکن رجب
‫لڑکیاں آندھی میں ماری گئی ہوں گی ۔ ٰ
‫پر آفت نازل ہو رہی تھی ۔ اس سے حبشی بار بار یہی ایک سوال پوچھتے تھے ۔ ''لڑکیاں کہاں ہیں ؟''…… اور قسمیں
‫کھا کھا کر کہتا تھا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ حبشیوں نے اسے اذیتیں دینی شروع کردیں ۔ تلوار کی نوک سے اس کے جسم
‫میں زخم کرتے اور اپنا سوال دہراتے تھے۔ حبشیوں نے اس کے ساتھیوں کو بھی درختوں کے ساتھ باندھ دیا اور ان کے ساتھ
‫بھی یہی ظالمانہ سلوک کر نے لگے۔ رجب کو خدا اپنی قوم اور ملک سے سے غداری کی سزا دے رہا تھا ۔رات کو بھی
‫اسے نہ کھوال گیا ۔ اس کا جسم چھلنی ہوگیا تھا ۔
‫احمد کمال کے خیمے میں لڑکی سوئی ہوئی تھی ۔ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے جاگی تھی ۔ احمد کمال نے اسے کھانا
‫کھالیا تھا ۔ اس کے بعد وہ پھر سو گئی تھی ۔ اس سے دو تین قدم دور احمد کمال سویا ہوا تھا۔ رات گزرتی جا رہی تھی
‫۔ خیمے میں دیا جل رہا تھا ۔ اچانک لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ احمد کمال کی آنکھ کھل گئی۔ لڑکی بیٹھ گئی تھی ۔ اس
‫کا جسم کانپ رہا تھا ۔ چہرے پر گھبراہٹ تھی ۔ احمد کمال اس کے قریب ہوگیا ۔ لڑکی تیزی سے سرک کر اس کے ساتھ
‫لگ گئی اور روتے ہوئے بولی ……''ان سے بچائو ۔ وہ مجھے مگر مچھوں کے آگے پھینک رہے ہیں ۔ وہ میرا سر کاٹنے
‫لگے ہیں ''۔
‫''کون؟''
‫وہ بھدے حبشی ''۔لڑکی نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا ……''وہ یہاں آئے تھے''۔ احمد کمال کو حبشیوں کی قربانی کا ''
‫علم تھا ۔اسے شک ہوا کہ اسے شاید قربانی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ اس نے لڑکی سے پوچھا تو لڑکی نے بازو احمد
‫کمال کے گلے میں ڈال دئیے ۔ کہنے لگی۔ '' مت پوچھو ۔ میں خواب دیکھ رہی تھی '' …… احمد کمال دیکھ رہا تھا کہ
‫وہ تو بہت ہی ڈری ہوئی تھی ۔اس نے اسے تسلیاں دیں اور یقین دالیا کہ یہاں سے اسے اُٹھانے کے لیے کوئی نہیں آئے
‫گا ۔ لڑکی نے کہا …… '' میں سو نہیں سکوں گی ۔ تم میرے ساتھ باتیں کرسکتے ہو ؟ میں اکیلی جاگ نہیں سکوں گی ۔
‫میں پاگل ہو جائوں گی ''۔
‫احمد کمال نے کہا …… ''میں تمہارے ساتھ جاگتا رہوں گا ''…… اس نے لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا ……''جب تک
‫میرے پاس ہو تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ''۔ اس نے اس پر عمل بھی کر کے دکھا دیا ۔ لڑکی کے ساتھ اس نے حبشیوں
‫کے معتلق یا اس کے متعلق کوئی بات نہ کی نہ پوچھی ۔ اس ترکی اور مصر کی باتیں سناتا رہا ۔ لڑکی اس کے ساتھ لگی
‫بیٹھی تھی ۔ احمد کمال کا لب و لہجہ شگفتہ تھا اس نے لڑکی کا خوف دور کر دیا اور لڑکی سو گئی۔
‫لڑکی کی آنکھ کھلی تو صبح طلوع ہو رہی تھی ۔ ان نے دیکھا کہ احمد کمال نماز پڑھ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھتی رہی احمد
‫کمال نے دعا کے لیے ہاتھ ا ُٹھائے اور آنکھیں بند کرلیں ۔ لڑکی اس کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھی رہی ۔ احمد کمال فارغ
‫''ہوا تو لڑکی نے پوچھا ……''تم نے خدا سے کیا مانگا تھا ؟
‫بدی کے مقابلے کی ہمت!''احمد کمال نے جواب دیا ۔''
‫''تم نے خدا سے کبھی سونا اور خوبصورت بیوی نہیں مانگی ؟''

‫یہ دونوں چیزیں خدا نے مانگے بغیر مجھے دے دی تھیں ''…… احمد کمال نے کہا ''لیکن ان پر میرا کوئی حق ''
‫نہیں ۔ شاید خدا نے میرا امتحان لینا چاہا تھا ''۔
‫''تمہیں یقین ہے کہ خدا نے تمہیں بدی کا مقابلہ کرنے کی ہمت دے دی ہے ؟''
‫تم نے نہیں دیکھا ؟''…… احمد کمال نے جواب دیا ۔ ''تمہارا سونا اور تمہارا حسن مجھے اپنی راہ سے ہٹا نہیں ''
‫سکے ۔ یہ میری کوشش اور اللہ کی دین ہے ''۔
‫کیا خدا گناہ معاف کردیا کرتا ہے ؟''لڑکی نے پوچھا ۔''
‫ہاں !ہمارا خدا گناہ معاف کر دیا کرتا ہے ''۔ احمد کمال نے جواب دیا ……''شرط یہ ہے کہ گناہ بار بار نہ کیا جائے ''
‫''۔
‫لڑکی نے سر جھکا لیا ۔ احمد کمال نے اس کی سسکیاں سنیں تو اس کا چہرہ اوپر اُٹھایا ۔ وہ رو رہی تھی ۔ لڑکی نے
‫احمد کمال کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے کئی بار چوما۔ احمد کمال نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ۔ لڑکی نے کہا…… ''آج ہم جدا
‫ہوجائیں گے ۔ تم مجھے قاہرہ بھیج دو گے ۔ میں اب آزادنہیں ہو سکوں گی ۔ میرا دل مجبور کر رہا ہے کہ تمہیں بتا دوں
‫کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آئی ہوں ۔ پھر تمہیں بتاوں گی کہ اب میں کیا ہوں ''۔
‫٭ ٭ ٭
19:22
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫""قسط نمبر‪" 30.لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫پھر تمہیں بتاوں گی کہ اب میں کیا ہوں ''۔
‫ہماری روانگی کا وقت ہوگیا ہے ''۔ احمد کمال نے کہا ……'' میں خود تمہارے ساتھ چلوں گا ۔ میں اتنی نازک اور اتنی''
‫خطرناک ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپ سکتا ''۔
‫یہ نہیں سنو گے کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آئی ہوں ''۔''
‫ا ُٹھو !''احمد کمال نے کہا ……''یہ سننا میرا کام نہیں''……وہ خیمے سے باہر نکل گیا ۔''
‫٭ ٭ ٭
‫کچھ دیر بعد قاہرہ کی سمت چھ گھوڑے جارہے تھے ۔ ایک پر احمد کمال تھا ۔ اس کے پیچھے دوسرے گھوڑے پر لڑکی تھی
‫۔ اس کے پیچھے پہلو بہ پہلو چار گھوڑے محافظوں کے تھے اور ان کے پیچھے ایک اونٹ جس پر سفر کا سامان ‪ ،پانی اور
‫خوراک وغیرہ جارہاتھا ۔ قاہرہ تک کم و بیش چھتیس گھنٹوں کا سفر تھا ۔ لڑکی نے دو مرتبہ اپنا گھوڑا اس کے پہلو میں کر
‫لیا اور دونوں مرتبہ احمد کمال نے اسے کہا کہ وہ اپنا گھوڑا اس کے اور محافظوں کے درمیان رکھے۔ اس کے سوا اس نے
‫لڑکی کے ساتھ کوئی بات نہ کی ۔ سورج غروب ہونے بعد احمد کمال نے قافلے کو روک لیا اور پڑاوکا حکم دیا ۔
‫رات لڑکی کو احمدکمال نے اپنے خیمے میں سالیا ۔ اس نے دیا جلتا رکھا ۔ وہ گہری نیند سویا ہوا تھا ۔ ا س کی آنکھ
‫کھل گئی ۔ کسی نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا تھا ۔ اس نے لڑکی کو اپنے پاس بیٹھے دیکھا ۔ لڑکی کا ہاتھ اس کے
‫ماتھے پر تھا۔ احمد کمال تیزی سے اُٹھ کر بیٹھ گیا ۔ اس نے دیکھا کہ لڑکی کے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے احمد کمال کا
‫ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور اسے چوم کر بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگی۔ احمد کمال اسے دیکھتا رہا۔ لڑکی
‫نے آنسو پونچھ کر کہا ……''میں تمہاری دشمن ہوں ۔ تمہارے ملک میں جاسوسی کے لیے اور تمہارے بڑے بڑے حاکموں کو
‫آپس میں لڑوانے کے لیے اور صالح الدین ایوبی کے قتل کا انتظام کرنے کے لیے فلسطین سے آئی ہوں ‪ ،لیکن اب میرے دل
‫سے دشمنی نکل گئی ہے ''۔
‫کیوں ؟''احمد کمال نے کہا …… ''تم بزدل لڑکی ہو ۔ اپنی قوم سے غداری کر رہی ہو ۔ سولی پر کھڑے ہو کر بھی ''
‫کہو کہ میں صلیب پر قربان ہو رہی ہوں ''۔
‫اس کی وجہ سن لو ''۔ اس نے کہا …… ''تم پہلے مرد ہو جس نے میرے حسن اور میری جوانی کو قابل نفرت چیز ''
‫سمجھ کر ٹھکرایا ہے ۔ ورنہ کیا اپنے کیا بیگانے ‪ ،مجھے کھلونہ سمجھتے رہے ۔ میں نے بھی اسی کو زندگی کا مقصد
‫سمجھا کہ مردوں کے ساتھ کھیلو‪ ،دھوکے دو اور عیش کرو۔ میری تربیت ہی اسی مقصد کے تحت ہوئی تھی۔ جسے تم لوگ
‫بے حیائی کہتے ہو وہ میرے لیے ایک فن ہے ‪ ،ایک ہتھیار ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ مذہب کیا ہے اور خدا کے کیا احکام
‫ہیں ۔ صرف صلیب ہے جس کے متعلق مجھے بچپن میں ذہن نشین کرایا گیا تھا کہ یہ خدا کی دی ہوئی نشانی ہے اور یہ
‫عیسائیت کی عظمت کی عالمت ہے اور یہ کہ ساری دنیا پر حکمرانی کا حق صرف صلیب کے پجاریوں کو حاصل ہے اور یہ
‫مسلمان صلیب کے دشمن ہیں ۔ انہیں اگر زندہ رہنا ہے تو صلیبیوں کے قدموں میں رہ کر زندہ رہیں ……ورنہ انہی چند ایک
‫باتوں کو مذہب کے بنیادی اصول سمجھتی رہی ۔ مجھے مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے کی تربیت دی گئی تو اسے بھی مذہبی
‫فریضہ کہا گیا ''۔
‫کیا تم اپنے ساالر رجب کو جانتے ہو ؟'' لڑکی نے پوچھا ۔''
‫وہ خلیفہ کے محافظ دستوں کا ساالر ہے ''۔ احمد کمال نے کہا ۔ ''وہ بھی سوڈانیوں کے حملے والی سازش میں شامل''
‫تھا ''۔
‫''اب کہاں ہے؟''
‫معلوم نہیں '' ۔ احمد کمال نے کہا …… ''مجھے صرف یہ حکم مال ہے کہ رجب فوج سے بھگوڑا ہوگیا ہے ۔ جہاں کہیں''
‫نظر آئے اسے پکڑ لو اور بھاگے تو تیر مارو اور اسے ختم کر دو ''۔
‫میں بتائوں وہ کہا ں ہے ؟''لڑکی نے کہا …… ''وہ سوڈان میں حبشیوں کے پاس ہے ۔ وہاں ایک خوشنما جگہ ہے ۔ ''
‫جہاں حبشی ‪،لڑکیوں کو دیوتا کے آگے قربان کرتے ہیں۔ رجب وہاں ہے۔ میں جانتی ہوں وہ فوج کا بھگوڑا ہے۔ ہم تین لڑکیاں
‫اس کے ساتھ فلسطین سے آئی تھیں ''۔
‫''باقی دو کہاں ہیں ؟''
‫لڑکی نے آہ بھری اور کہا …… ''وہ مر گئی ہیں ۔ انہی کی موت نے مجھے بدل ڈاال ہے ''…… لڑکی نے احمد کمال کو
‫ایک لمبی کہانی کی طرح سنایا کہ وہ کس طرح فلسطین سے رجب کے ساتھ آئی تھیں ۔ کس طرح حبشیوں نے ان میں سے
‫دو لڑکیوں کو دیوتا کے نام پر ذبح کرنا چاہا ‪ ،رجب انہیں بچا نہ سکا ‪ ،کس طرح وہ وہاں سے بھاگیں اور راستے میں دو

‫لڑکیاں کس طرح آندھی میں ماری گئیں ۔ اس نے کہا ……''میں اپنے آپ کو شہزادی سمجھتی تھی ۔ میں نے بادشاہوں کے
‫دلوں پر حکمرانی کی ہے ۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ خدا بھی ہے اور موت بھی ہے ۔ مجھے گناہوں میں ڈبویا
‫گیا اور میں ڈوبتی چلی گئی ۔ عجیب لذت تھی اس ڈوبنے میں ‪ ،مگر مجھے وہ مگر مچھ دکھائے گئے جن کے آگے ذبح کی
‫ہوئی لڑکیوں کے جسم پھینکے جاتے ہیں ۔ مگر مچھ پانی کے کنارے سوئے ہوئے تھے ۔ ان کے بھدے اور مردہ جسم دیکھ کر
‫میں کانپ گئی ۔ وہ میر ے اس جسم کو جس نے بادشاہوں کے سرجھکائے تھے ‪ ،ان مگر مچھوں کی خوراک بنانا چاہتے
‫تھے ۔ میں نے وہ بدصورت ‪ ،سیاہ کالے حبشی دیکھے جو میرا سر میرے جسم سے الگ کرنے کے لیے آگئے تھے ۔ موت
‫کے پروں کی آواز مجھے سنائی دینے لگی تھی ۔ میری رگ رگ بیدار ہوگئی ۔ میرے اندر سے مجھے آواز سنائی دی ۔ اپنے
‫حسن اور اتنے دل نشین جسم کا انجام دیکھ …… ہم جان کی بازی لگاکر اپنے گھر سے نکلی تھیں ۔ ہمیں یہ کہہ کر رجب
‫کے ساتھ فلسطین سے بھیجا گیا تھا کہ یہ شخص ہماری حفاظت کرے گا لیکن اس شخص نے میرے ساتھ دست درازی کی
‫……''
‫ہم وہاں سے بھاگیں ۔ آندھی میں گھوڑے بے قابو ہوکر بھاگ اُٹھے ۔ ہمارے لیے صحرا میں کوئی پناہ نہیں تھی ۔ ہم ''
‫آندھی اور گھوڑوں کے رحم و کرم پر تھیں ۔ پہلے ایک لڑکی گری ۔ میں نے اسے گھوڑے کے نیچے آتے دیکھا۔ پھر دوسری
‫لڑکی گھوڑے سے گری تو پاوں رکاب میں پھنس جانے کی وجہ سے گھوڑے نے اسے دو میل سے زیادہ فاصلے تک گھسیٹا ۔
‫اس کی چیخیں میرا جگر چاک کر رہی تھیں ۔ میں اب بھی اس کی چیخیں سن رہی ہوں ۔جب تک زندہ رہوں گی ‪ ،یہ
‫چیخیں سنتی رہوں گی۔ پھر وہ لڑکی الش بن گئی ۔ میرا گھوڑا ساتھ ساتھ دوڑ تا آرہا تھا ۔ مگر میرے قابومیں نہیں تھا ۔وہ
‫لڑکی بھی اپنے گھوڑے کے ساتھ پیچھے رہ گئی ۔ میں اب اکیلی تھی ۔ مجھے خدا نے ان دو لڑکیوں کو مار کر بتا دیا تھا
‫کہ میرا انجام کیا ہوگا ۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت اور شوخ تھیں۔ ان میں حسن کا غرور بھی تھا ۔ انہوں نے بھی
‫بادشاہوں کو انگلیوں پر نچایا تھا مگر ایسی بھیانک موت مریں کہ کسی کو خبر تک نہیں ہوئی ۔ اب وہ ریت کی گمنام
‫قبروں میں دفن ہو گئی ہیں ۔ میں اکیلی رہ گئی ۔ آندھی کے زناٹے موت کے قہقہے بن گئے ۔ مجھے اپنے سر کے اوپر ‪،
‫آگے ‪ ،پیچھے ‪ ،دائیں اور بائیں چڑیلیں‪ ،بدروحیں‪ ،بھوت اور موت کے قہقہے سنائی دے رہے تھے ۔ میں بدھو اور بیوقوف لڑکی
‫نہیں ہوں ۔ دماغ روشن ہے۔ میں نے جان لیاکہ خدا مجھے گناہوں کی سزا دے رہا ہے۔ ایسی ہیبت ناک موت اور ہولناک
‫آندھی ۔ وہ تم نے بھی دیکھی ہے۔ مجھے خدا یاد آگیا ۔میں نے خدا کو بلندآواز سے پکارا۔ رو رو کر گناہوں سے توبہ کی
‫……'' اور معافی مانگی‪ ،پھر میں بے ہوش ہوگئی
‫اور جب ہوش میں آئی تو میں تمہارے قبضے میں تھی ۔ تمہاری گوری رنگت دیکھ کر خوش ہوئی ہوں کہ تم یورپی ہو اور''
‫میں فلسطین میں ہوں ۔اسی دھوکے میں میں نے اپنی زبان میں پوچھا تھا کہ کیا میں فلسطین میں ہوں ۔ جب مجھے پتہ
‫چال کہ میں مسلمانوں کے قبضے میں ہوں تو میرا دل بیٹھ گیا ۔ میں آندھی سے بچ کر اپنے دشمن کے قبضے میں آگئی تھی
‫۔ مسلمانوں کے متعلق مجھے بتا دیا گیا تھا کہ عورتوں کے ساتھ درندوں جیسا سلوک کرتے ہیں لیکن تم نے میرے ساتھ وہ
‫سلوک کیا جس کی مجھے توقع نہیں تھی ۔ تم نے سونا ٹھکرادیا اور تم نے مجھے بھی ٹھکرادیا ۔ میں اس قدر خوف زدہ
‫تھی کہ میں کہتی تھی کہ خواہ کوئی مل جائے ‪ ،وہ مجھے پناہ دے دے اور مجھے سینے سے لگا لے ۔ تمہارے متعلق
‫مجھے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا کہ تمہارا کردار پاک ہے ۔ مجھے یہ توقع تھی کہ رات کو تم مجھے پریشان کرو گے ۔
‫میں خواب میں بھی مگر مچھوں‪ ،حبشیوں اور آندھی کی دہشت دیکھتی رہی ۔ میں ڈر کر اٹھی تو تم نے مجھے سینے سے
‫لگا لیا اور بچوں کی طرح مجھے کہانیاں سنا کر میرا خوف دور کر دیا اور جب رات گزر گئی تو میں نے جاگتے ہی تمہیں
‫خدا کے آگے سجدے میں دیکھا۔ تم نے جب دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے اور آنکھیں بند کر لی تھیں اس وقت تمہارے چہرے پر
‫مسرت ‪ ،سکون اور نور تھا ۔ میں اس شک میں پڑ گئی کہ تم انسان نہیں فرشتہ ہو‪ ،کوئی انسان سونے اور مجھ جیسی لڑکی
‫…… سے منہ نہیں موڑ سکتا
‫میں نے تمہارے چہرے پر جو سکون اور مسرت دیکھی تھی اس نے میرے آنسو نکال دئیے ۔ میں تم سے پوچھنا چاہتی ''
‫تھی کہ یہ سکون تمہیں کس نے دیا ہے ۔ میں تمہارے وجود سے اتنی متاثر ہوئی کہ میں نے تمہیں دھوکے میں رکھنا بہت
‫بڑا گناہ سمجھا۔ میں تمہیں یہ کہنا چاہتی تھی کہ میں تمہیں اپنے متعلق ہر ایک بات بتا دوں گی ۔ اس کے عوض مجھے
‫یہ کردار اور یہ سکون دے دو اور میرے دل سے وہ دہشت اُتار دو جو مجھے بڑی ہی تلخ اذیت دے رہی ہے مگر تم نے
‫میری بات نہ سنی ‪ ،تمہیں فرض عزیز تھا ''…… اس نے احمد کمال کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور کہا ……''تم شاید اسے
‫بھی دھوکہ سمجھو ‪ ،لیکن میرے دل کی بات سن لو ۔ میں تم سے جدا نہیں ہو سکوں گی ۔ میں نے کل تمہیں گناہ کی
‫دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے اپنی لونڈی سمجھو‪ ،مگر اب میں ساری عمر کے لیے تمہارے قدموں میں بیٹھی رہوں گی
‫۔ مجھے اپنی لونڈی بنا لو اور اس کے عوض مجھے وہ سکون دے دو جو میں نے نماز کے وقت تمہارے چہرے پر دیکھا تھا
‫''۔
‫میں تمہیں بالکل نہیں کہوں گا کہ تم مجھے دھوکہ دے رہی ہو''۔ احمد کمال نے کہا ۔ ''میری مجبوری یہ ہے کہ میں''
‫اپنی قوم کو اور اپنی فوج کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔ تم میرے پاس امانت ہو ‪ ،میں خیانت نہیں کر سکتا ۔ میں نے تمہارے
‫ساتھ جو سلوک کیا وہ میرا فرض تھا ۔ یہ فرض اس وقت ختم ہوگا جب میں تمہیں متعلقہ محکمے کے حوالے کر دوں گا اور
‫وہ مجھے حکم دے گا کہ احمد کمال تم واپس چلے جائو ''۔
‫وہ اسے دھوکہ نہیں دے رہی تھی ۔ اس نے روتے ہوئے کہا ……''تمہارے حاکم جب مجھے سزائے موت دیں گے تو تم میرا
‫ہاتھ پکڑے رکھنا ۔ اب یہی ایک خواہش ہے ۔ میں تمہیں ایسی بات نہیں کہوں گی کہ مجھے فلسطین پہنچا دو ۔ میں
‫تمہارے فرض کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنوں گی ۔ مجھے صرف اتنا کہہ دو کہ میں نے تمہارا پیار قبول کر لیا ہے ‪ ،میں
‫یہ بھی نہیں کہوں گی کہ مجھے اپنی بیوی بنا لو کیونکہ میں ایک ناپاک لڑکی ہو ں۔ مجھے تربیت دینے والوں نے پتھر بنا
‫دیا تھا ۔ میں یہ بھی سمجھتی تھی کہ میرے اندر انسانی جذبات نہیں رہے لیکن خدا نے مجھے بڑے ہی ُپر ہول طریقے سے
‫سمجھا دیا کہ انسان پتھر نہیں بن سکتا اور وہ ایک نہ ایک دن مجبور ہو کر کسی سے پوچھتا ہے کہ سیدھا راستہ کون سا
‫ہے ''۔
‫رات گزرتی جا رہی تھی اور وہ دونوں باتیں کر رہے تھے ۔ احمد کمال نے اس سے پوچھا ……''تم جیسی لڑکیوں کو ہمارے
‫ملک میں بھیج کر ان سے کیا کام لیا جاتا ہے ''۔
‫بہت سے کام کرائے جاتے ہیں ''۔ لڑکی نے جواب دیا ۔ ''بعض کو مسلمان امراء کے حرموں میں مسلمان کے روپ میں''
‫داخل کر دیا جاتا ہے جہاں وہ تربیت کے مطابق امراء اور وزراء پر غالب آجاتی ہیں ۔ ان سے صلیبیوں کی پسند کے افراد کو

‫عہدے دالتی ہیں ۔ جو حاکم صلیبیوں کے خالف ہو اس کے خالف کروائیاں کراتی ہیں ۔ مسلمان لڑکیاں اتنی چاالک نہیں
‫ہوتیں۔ انہیں خوبصورتی پر ناز ہوتا ہے ۔ وہ حرموں کے لیے منتخب تو ہوجاتی ہیں لیکن ایک عیسائی یا یہودی لڑکی انہیں
‫بیکار کر کے اپنا غالم بنا لیتی ہے ۔ اس وقت تک اسالمی حکومت کے امیروں اور وزیروں اور قلعہ داروں کی آدمی تعداد کے
‫فیصلے میری قوم کے حق میں ہوتے ہیں …… لڑکیوں کا ایک گروہ اوربھی ہے۔ یہ لڑکیاں اسالمی نام سے مسلمانوں کی بیویاں
‫بن جاتی ہیں ۔ ان کا کام یہ ہے کہ اچھے درجے کے مسلمان گھرانوں کی لڑکیوں کے دماغ اور کردار خراب کرتی ہیں ۔ ان
‫کے لڑکوں کو بدی کے راستے پر ڈالتی اور شریف گھرانوں کی لڑکیوں اور لڑکوں کے معاشقے کراتی ہیں ۔ مجھ جیسی صلیبی
‫لڑکیاں چوری چھپے تمہارے ایسے حاکموں کے پاس آتی ہیں جو ہمارے ہاتھ میں کھیل رہے ہوتے ہیں ۔ ان حاکموں کو سونے
‫کے سکے کی صورت میں معاوضہ ملتا رہتا ہے۔ وہ مجھ جیسی لڑکیوں کو حفاظت میں ایسے طریقے سے رکھتے ہیں ‪ ،جن
‫اعلی درجے کے حاکموں کے درمیان رقابت اور غلط فہمیاں پیدا کرتی اور صالح
‫سے ان پر ذرا سا شک نہیں ہوتا ۔ یہ لڑکیاں
‫ٰ
‫الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کے خالف نا پسند یدگی پیدا کرتی ہیں ۔ مجھے دو لڑکیوں کے ساتھ اسی کام کے لیے رجب
‫کے حوالے کیا گیا تھا ''۔
‫وہ اس صلیبیوں کی درپردہ کاروائیوں اور مسلمانوں کی ایمان فروشی کی تفصیل سناتی رہی ۔ احمد کمال سنتا رہا ۔
‫دوسرے دن سورج غروب ہونے سے بہت پہلے یہ قافلہ قاہرہ پہنچ گیا ۔ احمد کمال علی بن سفیان کے پاس گیا اور اسے
‫لڑکی کے متعلق تمام رپورٹ دے کر لڑکی اس کے حوالے کر دی ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ رجب حبشیو ں کے پاس ہے اور
‫اس نے اس جگہ کو اڈہ بنا رکھا ہے ۔جہاں حبشی لڑکی کی قربانی دیا کرتے تھے ۔ احمد کمال نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے
‫حکم دیا جائے تووہ رجب کو زندہ یامردہ وہاں سے ال سکتا ہے ۔ علی بن سفیان نے ایسا حکم نہ دیا کیونکہ اس مقصد کے
‫لیے اس کے پاس تربیت یافتہ فوجی تھے ۔ احمد کمال نے وہ طریقہ بتا دیا جس سے رجب تک پہنچا جا سکتا تھا ۔ اس
‫نے یہ طریقہ لڑکی کی سنائی ہوئی باتوں کے مطابق سوچا تھا ۔ علی بن سفیان پہلے ہی ایک پارٹی سوڈان بھیج چکا تھا ۔
‫اس نے لڑکی سے تفتیش کرنے سے پہلے چار نہایت ذہین کماندار بالئے اور انہیں احمد کمال کے حوالے کرکے حکم دیا کہ اس
‫کے مطابق وہ فورا ً سوڈان چلے جائیں اور رجب کو النے کی کوشش کریں ۔ اس نے احمد کمال کو واپسی سے پہلے آرام کے
‫لیے بھیج دیا اور لڑکی کو اپنے پاس بال یا۔
‫لڑکی سے اس نے پہال سوال کیا تو لڑکی نے جواب دیا ۔ ''احمد کمال میرے سامنے بیٹھا رہے گا تو جو پوچھو گے بتا دوں
‫گی ورنہ زبان نہیں کھولوں گی خواہ جالد کے حوالے کر دو ''۔
‫علی بن سفیان نے احمد کمال کو بال کر اس کے سامنے بٹھا دیا ۔ لڑکی نے مسکرا کر بولنا شروع کر دیا ۔ اس نے کچھ
‫بھی نہ چھپایا اور آخر میں کہا ۔''مجھے سزا دینی ہے تو میری ایک آخری خواہش پوری کر دو ۔ میں احمد کمال کے ہاتھ
‫سے مرنا چاہتی ہوں ''۔ اس نے تفصیل سے سنا دیا کہ وہ احمد کمال کی مرید کیوں بن گئی ہے ۔
‫علی بن سفیان نے لڑکی کو قید میں ڈالنے کی بجائے احمد کمال کی تحویل میں رہنے دیا اور سلطان ایوبی کے پاس چال گیا
‫۔ اسے لڑکی کا سارا بیان سنایا ۔ ا س نے کہا ……''آپ کا معتمد فیض الفاطمی ہمارا دشمن ہے ۔ لڑکیوں کو اس کے پاس
‫آنا تھا ''…… سلطان ایوبی کا فوری رد عمل یہ تھا ……''وہ جھوٹ بکتی ہے ۔ تمہیں گمراہ کر رہی ہے ۔ فیض الفاطمی
‫ایسا حاکم نہیں ''۔
‫امیر محترم !'' آپ بھول گئے ہیں کہ وہ فاطمی ہے ؟…… علی بن سفیان نے کہا ……''آپ شاید یہ بھی بھول گئے ہیں''
‫کہ فاطمی اور فدائیوں کا گہرا رشتہ ہے ۔ یہ لوگ آپ کے وفادار ہو ہی نہیں سکتے ''۔
‫سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھو گیا ۔ وہ غالبا ً سوچ رہا تھا کہ کس پر بھروسہ کرے ۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا ……''علی
‫! میں تمہیں یہ اجازت نہیں دوں گا کہ فیض الفاطمی کو گرفتار کر لو ۔ کوئی ایسی ترکیب کرو کہ وہ جرم کرتا ہوا پکڑا جائے
‫۔ میں اسے موقع پر پکڑنا چاہتا ہوں اور یہ موقع پیدا کرنا تمہارا کام ہے ۔ وہ جنگ جیسے اہم شعبے کا حاکم ہے ۔
‫سلطنت کے جنگی راز اس کے پاس ہیں ۔ مجھے بہت جلدی یہ ثبوت چاہیے کہ وہ ایسے گھنائونے جرم کا مجرم ہے یا نہیں
‫''۔
‫علی بن سفیان سراغرسانی کا ماہر تھا ۔ خدا نے اسے دماغ ہی ایسا دیا تھا ۔ اس نے ایک ترکیب سوچ لی اور سلطان
‫ایوبی سے کہا ……''لڑکی جن مراحل سے گزر کر آئی ہے ان کی دہشت نے اس کا دماغ ماوف کر دیا ہے اور وہ احمد کمال
‫کے لیے جذباتی ہو گئی ہے کیونکہ اس شخص نے اسے دہشت سے بچایا اور ایسا سلوک کیا ہے کہ لڑکی اس کے بغیر بات
‫ہی نہیں کرتی۔ مجھے امید ہے کہ میں اس لڑکی کو استعمال کر سکوں گا ''۔
‫کوشش کر دیکھو ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… ''لیکن یاد رکھو ‪ ،میں واضح ثبوت اور شہادت کے بغیر اجازت نہیں دوں ''
‫گا کہ فیض الفاطمی کو گرفتار کر لو ۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ وہ بھی دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے ''۔
‫علی بن سفیان لڑکی کے پاس گیا اور اسے اپنا مدعا بتایا ۔ لڑکی نے کہا ……''احمد کمال کہے تو میں آ گ میں بھی
‫کود جاوں گی ''…… احمد کمال نے اسے کہا ……''جیسے یہ کہتے ہیں ویسے کردو ۔ اس کی بات سمجھ لو ''۔
‫اس کا مجھے کیا انعام ملے گا ؟''…… لڑکی نے پوچھا ۔''
‫تمہیں پوری حفاظت کے ساتھ فلسطین کے قلعہ شوبک میں پہنچا دیا جائے گا ''…… علی بن سفیان نے کہا …… ''اور ''
‫یہاں تمہیں پوری حفاظت سے رکھا جائے گا ''۔
‫نہیں !'' ……لڑکی نے کہا ……''یہ انعام بہت تھوڑا ہے ۔ مجھے منہ مانگا انعام دو ۔ میں اسالم قبول کرلوں گی اور ''
‫احمد کمال میرے ساتھ شادی کر لے ''۔
‫احمدکمال نے صاف انکار کر دیا ۔ علی بن سفیان اسے باہر لے گیا ۔ احمد کمال نے اسے کہا کہ یہ بے شک اسالم قبول
‫کر لے لیکن میں اسے پھر بھی اسالم کا دشمن ہی سمجھوں گا ۔ علی بن سفیان نے اسے کہا …… ''ملک اورقوم کی
‫سالمتی کی خاطر تمہیں یہ قربانی دینی ہوگی ''……احمد کمال مان گیا ۔ اس نے اندر جا کر لڑکی سے کہا ……''میں تمہیں
‫چونکہ ابھی تک بے اعتبار لڑکی سمجھ رہا ہوں اس لیے شادی سے انکار کیا ہے ۔ اگر تم ثابت کر دو کہ تمہارے دل میں
‫میرے مذہب کے لیے قربانی کا جذبہ ہے تو میں تمام عمر تمہارا غالم رہوں گا ''۔
‫لڑکی نے علی بن سفیان سے کہا …… ''کہو مجھے کیا کرنا ہے ۔ میں بھی دیکھ لوں گی کہ مسلمان اپنے وعدے کے کتنے
‫پکے ہوتے ہیں ۔ میری ایک شرط یہ بھی ہے کہ احمد کمال میرے ساتھ رہے گا ''۔
‫علی بن سفیان نے اس کی یہ شرط بھی مان لی اور اپنے ایک اہلکار کو بال کر احمد کمال اور لڑکی کے لیے رہائش کے
‫انتظام کا حکم دے دیا ۔ اس نے دروازہ بند کر لیا اور لڑکی کو احمد کمال کی موجودگی میں بتانے لگا کہ اسے کیا کرنا

‫ہے ۔
‫٭ ٭ ٭
‫تیسرے دن علی بن سفیان کے بھیجے ہوئے آدمی حبشیوں کی اس مقدس جگہ پہنچ گئے جہاں سے لڑکیاں بھاگی تھیں اور
‫جہاں رجب حبشیوں کا قیدی تھا۔ یہ چھ آدمی تھے اور سب اونٹوں پر سوار تھے۔ انہوں نے بھیس نہیں بدال تھا ۔ وہ مصری
‫فوج کے لباس میں تھے ۔ ان کے پاس برچھیاں ‪ ،تیر و کمان اور تلواریں تھیں ۔ انہیں احمد کمال نے لڑکیوں کی روئیداد
‫سنادی تھی ۔ اس کے مطابق علی بن سفیان نے انہیں طریقہ کار سمجھا دیا تھا ۔ وہ پہاڑی خطے کے اندر گئے جسے پہاڑیوں
‫نے قلعہ بنا رکھا تھا ۔ ایک برچھی نہ جانے کہاں سے آئی اور زمین میں گڑ گئی ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ُرک جائو ‪ ،تم
‫گھیرے میں ہو ۔ وہ ُر ک گئے ۔ حبشی پروہت سامنے آیا ۔ اس کے ساتھ تین حبشی تھے جن کے پاس برچھیاں تھیں ۔
‫حبشی نے انہیں خبردار کیا کہ وہ اس کے چھپے ہوئے تیر اندازوں کی زد میں ہیں ۔ اگر انہوں نے کوئی غلط حرکت کی تو
‫ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا ۔
‫سب نے اپنے ہتھیار حبشیوں کے آگے پھینک دئیے اور اونٹوں سے اُتر آئے ۔ ان کے قائد نے حبشی پروہت سے ہاتھ مال کر
‫کہا ……''ہم تمہارے دوست ہیں ۔ محبت لے کر آئے ہیں ‪ ،تمہاری محبت لے کے جائیں گے …… کیا تم نے تینوں لڑکیوں کی
‫……''قربانی دے دی ہے ؟
‫ہم مصری فوج کے باغی ہیں ''…… جماعت کے قائد نے جواب دیا ……''ہم تمہاری اس فوج کے سپاہی ہیں جو مسلمانوں''
‫سے تمہارے دیوتا کی توہین کا انتقام لے گی ۔ ہمیں تمہارے آدمیوں نے بتایا تھا کہ انہیں شکست اس لیے ہوئی ہے کہ لڑکی
‫کی قربانی نہیں دی جا سکی ۔ ہم رجب کے ساتھ تھے ۔ ہم نے اسے کہا کہ ہم تین فرنگی لڑکیاں اغوا کر کے لے آئیں گے
‫اور ایک کی بجائے تین لڑکیاں قربان کریں گے اور دیوتا کے مگر مچھوں کو کھالئیں گے۔ ہم بڑی دور سے تین لڑکیاں ورغال
‫کر اور بہت سے اللچ دے کر لے آئے اور رجب کے حوالے کر دی تھیں ۔ وہ انہیں یہاں لے آیا تھا ۔ ہم یہ دیکھنے آئے ہیں
‫کہ لڑکیوں کی قربانی دی جاچکی ہے یا نہیں ''۔
‫حبشی پروہت دھوکے میں آگیا ۔ اس نے کہا ……''رجب نے ہمارے ساتھ کمینگی کی ہے ۔ وہ لڑکیاں لے آیا تھا مگر اس کی
‫نیت خراب ہو گئی تھی ۔ اس نے لڑکیوں کو یہاں سے بھگا دیا لیکن ہم نے اسے بھاگنے نہیں دیا ۔ اسے پوری سزا دی ہے
‫۔ لڑکیاں ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہیں ۔ کیا تم دو لڑکیوں کا بندوبست کر سکتے ہو؟ دیوتاوں کا قہر سخت ہوتا جا رہا ہے
‫''۔
‫ہم ضرور بندوبست کریں گے ''……قائد نے کہا …… ''تھوڑے دنوں تک ہم دو لڑکیاں لے آئیں گے ۔ہمیں رجب کے پاس لے''
‫''چلو ۔ ہم اس سے پوچھیں گے وہ لڑکیاں کہاں ہیں ؟
‫حبشی پروہت سب کو اپنے ساتھ لے گیا ۔ ایک جگہ مٹی کا ایک چوڑا اور گول برتن رکھا تھا جو ایسے ہی ایک برتن سے
‫ڈھکا ہوا تھا ۔ پروہت نے اوپر واال برتن ا ُٹھا کر نیچے والے برتن میں ہاتھ ڈاال۔ جب اس نے ہاتھ باہر نکاال تو اس کے ہاتھ
‫میں رجب کا سر تھا ۔ چہرے کا ہر ایک نقش بالکل صحیح اور سالمت تھا ۔ آنکھیں آدھی کھلی ہوئی تھیں ۔ منہ بند تھا۔
‫یہ سر اور چہرہ گردن سے کاٹ کر جسم سے الگ کر دیاگیا تھا ۔ اس سے پانی ٹپک رہاتھا۔ یہ کوئی دوائی تھی جس میں
‫حبشیوں نے سر ڈاال ہواتھا تا کہ خراب نہ ہو ۔پروہت نے کہا …… ''اس کا جسم مگر مچھوں کو کھال دیا گیا ہے ۔ اس کے
‫ساتھیوں کو ہم نے زندہ جھیل میں پھینک دیا تھا ۔ مگر مچھ بھوکے تھے ''۔
‫اگر ہمیں یہ سر دے دو تو ہم اپنے ساتھیوں کو دکھائیں گے ''۔ایک نے کہا …… ''اور انہیں بتائیں گے کہ جو انگوک کے''
‫دیوتا کی توہین کرے گا اس کا یہ انجام ہوگا ''۔
‫تم اس شرط پر لے جا سکتے ہو کہ کل سورج غروب ہونے سے پہلے واپس لے آئو گے ''……پروہت نے کہا ……''یہ ''
‫انگوک کے دیوتا کی ملکیت ہے ۔ اگر واپس نہیں الئوگے تو تمہارا سر جسم سے جدا ہوجائے گا ''۔
‫٭ ٭ ٭
‫تیسرے روز رجب کا سر سلطان صالح الدین ایوبی کے قدموں میں پڑا تھا اور سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا ۔
‫اسی رات کا واقعہ ہے …… احمد کمال اور لڑکی اس مکان کے برآمدے میں سوئے ہوئے تھے جو انہیں رہائش کے لیے دیا گیا
‫تھا ۔ اس مکان میں رہتے ہوئے انہیں چھ روز گزر گئے تھے ۔ اس دوران لڑکی احمد کمال سے کہتی رہی تھی کہ وہ فورا ً
‫مسلمان ہونے کو تیار ہے اور احمد کمال اس کے ساتھ شادی کر لے ‪ ،لیکن احمد کمال ایک ہی جواب دیتاتھا …… ''پہلے
‫فرض پورا کریں گے ''……لڑکی نے دو تین بار اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوگا ۔ احمد کمال
‫اسے ابھی ایک ہاتھ دور ہی رکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اس دوران لڑکی کے دل سے دہشت اُتر گئی تھی اور اب وہ
‫ہوشمندی سے سوچنے کے قابل ہو گئی تھی ۔
‫اس رات وہ اور احمد کمال برآمدے میں سوئے ہوئے تھے ۔ باہر ایک سپاہی پہرے پر کھڑا تھا ۔ آدھی رات سے کچھ دیر
‫پہلے پہرہ دار مکان کے اردگرد گھومنے کے لیے آہستہ آہستہ چال تو کسی نے پیچھے سے اس کی گردن بازو میں جکڑ لی ۔
‫فورا ً بعد اس کے منہ پر کپڑا باندھ دیا گا۔ ہاتھ اور پاوں بھی رسیوں میں جکڑے گئے۔ وہ چار آدمی تھے ۔ مکان کا دروازہ
‫اندر سے بند تھا ۔ ایک آدمی دیوار سے پیٹھ لگا کر کھڑا ہوگیا دوسرا اس کے کندھوں پر چڑھ کر دیوار پھالنگ گیا ۔ اندر
‫سے اس نے دروازہ کھول دیا ۔ باقی تین آدمی بھی اندر چلے گئے ۔ ایک جو سب سے زیادہ قوی ہیکل تھا ‪ ،اس نے لڑکی
‫کے منہ پر کپڑا باندھ دیا ۔ لڑکی کے جاگنے تک اس نے لڑکی کو دبوچ لیا اور اُٹھا کر کندھے پر ڈال لیا ۔ تین آدمیوں نے
‫احمد کمال کو رسیوں سے جکڑ کر اور منہ پر کپڑا باندھ کر پلنگ پر ہی پڑا رہنے دیا ۔ اسے مزاحمت کی مہلت ہی نہ ملی
‫۔ باہر جا کر انہوں نے لڑکی پر کمبل ڈال دیا تا کہ کوئی دیکھ لے تو اسے پتہ نہ چل سکے کہ اس آدمی کے کندھوں پر
‫لڑکی ہے ۔
‫شہر سے چار میل دور فرعونوں کے وقتوں کی ایک وسیع و عریض اور بھول بھلیوں جیسی عمارت کے کھنڈر تھے۔ ان کے
‫متعلق لوگ بہت سی ڈرائونی باتیں کیا کرتے تھے کہ عمارت کے اندر ایک بلند چٹان ہے ۔ اس چٹان کو کاٹ کر بہت سے
‫کمرے اور ان کمروں کے نیچے بھی کمرے بنے ہوئے تھے ۔ان کے اندر وہی جا کر واپس آ سکتا تھا جو ان سے واقف تھا ۔
‫بہت مدت سے کسی نے ان کھنڈروں کے اندر جانے کی جرٔات نہیں کی تھی ۔ مشہور ہو گیا تھا کہ اندر جنوں بھوتوں کا
‫بسیرا ہے۔ اندر سانپوں کا بسیرا تو ضرور ہی تھا ۔ سانپوں کے ڈر سے کوئی اس کھنڈر کے قریب سے بھی نہیں گزرتا تھا ۔
‫بڑی خوفناک کہانیاں سنائی جاتی تھیں۔ اس کے باوجود یہ چار آدمی جو لڑکی کو اغوا کر کے لے گئے تھے ۔ ان کھنڈروں
‫میں داخل ہوگئے اور داخل بھی اس طرح ہوئے جیسے یہی ان کا گھر ہے ۔

‫وہ غار نما کمروں گردشوں او ر اندھیری گلیوں میں سے بغیر رکے گزرتے گئے ۔ آگے مشعلوں کی روشنی تھی ۔ ان کے
‫قدموں کی آہٹوں سے چمگاڈر ا ُڑتے اور پھڑ پھڑاتے تھے ۔ چھپکلیاں اور رینگنے والی کئی چیزیں ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی
‫تھیں ۔ اندر مکڑیوں کے جالے اور کائی بھی تھی ……وہ چٹان میں بنے ہوئے ایک کمرے میں داخل ہوگئے۔ وہاں ایک آدمی
‫مشعل لیے کھڑا رہا تھا جو ان کے آگے آگے چل پڑا ۔ آگے سیڑھیاں تھیں جو نیچے اُترتی تھیں۔ وہ سب نیچے اُتر گئے اور
‫ایک طرف مڑ کر ایک وسیع کمرے میں داخل ہوگئے ۔ وہاں فرش پر بستر بچھا تھا ۔ اس کے ساتھ بڑی خوشنما دری تھی ۔
‫کمرہ سجا ہوا تھا ۔ لڑکی کو بستر پر ڈال کر اس کے منہ سے کپڑا کھول دیا گیا ……لڑکی غصے سے بولی ……''میرے ساتھ
‫یہ سلوک کیوں کیا گیا ہے ؟ میں مرجاوں گی کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دوں گی ''۔
‫اگر تمہیں وہاں سے ا ُٹھوا نہ لیا جاتا تو کل صبح تمہیں جالد کے حوالے کر دیا جاتا ''۔ ایک آدمی نے کہا ……''میرا ''
‫نام فیض الفاطمی ہے ۔ تمہیں میرے پاس آنا تھا ۔ باقی دو کہاں ہیں ؟ تم اکیلی کیسے پکڑی گئی ہو ؟ رجب کہاں
‫ہے ؟''۔
‫لڑکی مطمئن ہوگئی اور بولی …… '' میں خدا کا شکر بجا التی ہوں جس نے مجھے بڑی بڑی خوفناک مصیبتوں سے بچا
‫لیا ۔ میں منزل پر پہنچ گئی ہوں'' …… اس نے فیض الفاطمی کو رجب ‪ ،حبشیوں ‪ ،آندھی ‪ ،دولڑکیوں کی موت اور احمد
‫کمال کے ہتھے چڑھ جانے کی ساری روئیداد سنا دی ۔ فیض الفاطمی نے اسے تسلی دی اور ان چار آدمیوں کو جو لڑکی کو
‫ا ُٹھا الئے تھے ‪ ،سونے کے چھ چھ ٹکڑے دئیے اور کہا …… ''تم اب اپنی اپنی جگہ سنبھال لو ۔ میں تھوڑی دیر بعد چال
‫جاوں گا ۔ یہ لڑکی تین چار روز یہیں رہے گی ۔ میں رات کو آیا کروں گا ۔باہر جب اس کی تالش ختم ہو جائے گی تو
‫میں اسے لے جاوں گا ''۔
‫چاروں آدمی چلے گئے اور کھنڈر کے چاروں طرف ایسی جگہوں پر بیٹھ گئے جہاں سے باہر نظر رکھی جا سکتی تھی ۔ فیض
‫الفاطمی کے ساتھ ایک ہی آدمی اندر رہ گیا جو مصری فوج کا کماندار تھا ۔ اندر فیض الفاطمی اپنی کامیابی پر بہت خوش
‫تھا اور دو لڑکیوں کی موت کا اسے غم بھی تھا ۔ اسے رجب کے انجام کا بھی علم نہیں تھا ۔ اس نے کہا ……''رجب کو
‫وہاں سے نکالنا ضروری ہے ۔ اس نے علی بن سفیان اور صالح الدین ایوبی کے قتل کا کچھ انتظام کیا تھا جس کا مجھے
‫علم نہیں کہ کیا تھا ۔ اس نے غالبا ً فدائیوں سے معاملہ طے کیا ہے ۔ یہ دونوں قتل اب بہت ضروری ہوگئے ہیں ۔ اب ہمیں
‫کوئی نیا منصوبہ بنانا ہے ۔ میں دوسرے ساتھیوں سے بات کر کے تمہیں کل بتاوں گا ۔ ابھی آرام کرو۔ مجھے واپس جانا ہے
‫''۔
‫صالح الدین ایوبی کو آپ پر اعتماد ہے ؟'' ……لڑکی نے پوچھا ۔''
‫اتنا زیادہ کہ اپنی ذاتی باتوں میں بھی مجھ سے مشورہ لیتا ہے ''……فیض الفاطمی نے جواب دیا ۔''
‫اعلی حکام میں صالح الدین ایوبی کے وفاداروں کی تعداد بہت زیادہ ہے ''…… لڑکی نے کہا ''
‫مجھے پتہ چال ہے کہ
‫ٰ
‫……''اور فوج بھی اس کی وفادار ہے ''۔
‫یہ صحیح ہے ''……کماندار جووہاں موجود تھا بوال ……''اس کا سراغ رسانی کا محکمہ بہت ہوشیار ہے جہاں کوئی سر ''
‫اعلی حکام میں دو اور ہیں جو صالح الدین ایوبی کے خالف کام کر رہے ہیں ۔
‫اُٹھاتا ہے ۔ اس کی نشاندہی ہوجاتی ہے ۔
‫ٰ
‫ان کے نام آپ کو محترم فیض الفاطمی بتا سکیں گے ''۔
‫اعلی سطح پر ہی کام کرنا ہے ۔ صرف دو
‫فیض الفاطمی نے دونوں نام بتا دئیے اور مسکرا کر لڑکی سے کہا ……''تمہیں
‫ٰ
‫حکام کے درمیان چپقلش پیدا کرنی ہے اور دو کو زہر دینا ہے جو تم آسانی سے دے سکو گی مگر اب مشکل یہ پیدا ہوگئی
‫ہے کہ تمہیں کسی محفل میں نہیں لے جاسکیں گے۔ تم پر دہ نشین مسلمان لڑکی کے بھیس میں کام کرو گی ‪ ،ورنہ پکڑی
‫جاو گی۔ ہو سکتا ہے میں تمہیں واپس فلسطین بھیج دوں اور کسی اور لڑکی کو بال لوں جسے یہاں کوئی پہچان نہ سکے۔
‫میرا گروہ بہت ذہین اور سرگرم ہیں ۔ یہ ساالروں سے نیچے کمانداروں کی سطح کا گروہ ہے ۔ یہ چار آدمی جو تمہیں اتنی
‫دلیری سے ا ُٹھا الئے ہیں ‪ ،اسی گروہ کے افراد ہیں ۔ ہم نے ایوبی کی فوج میں بے اطمینانی پھیالنی شروع کر دی ہے ۔
‫قوم اور فوج کو ایک دوسرے سے منتظر کرنا ضروری ہے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ شامی اور ترک فوجی مصری عوام
‫میں اپنے اچھے سلوک ‪ ،کردار اور لڑنے کے جذبے کی بدولت بہت مقبول ہیں اور عزت کی
‫نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ سوڈانیوں کو شکست دے کر انہوں نے شہریوں کے دلوں میں عزت کا اضافہ کر لیا ہے ۔ ہمیں
‫فوج کی اس عزت کو مجروح کرنا ہے۔ ساالروں اور دیگر فوج حکام کو رسوا کرنا ہے ۔ اس کے بغیر ہم صلیبیوں اور سوڈانیوں
‫کی کوئی مدد نہیں کر سکتے ۔ باہر کا حملہ ناکام رہے گا ۔ فوج اسے کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔قوم فوج کا ساتھ دے گی
‫۔ اگر اس وقت ایک طرف سے صلیبی اور دوسری طرف سے سوڈانی حملہ کردیں تو قوم اور فوج مل کر قاہرہ کو ایسا قلعہ
‫بنا دے گی جسے فتح کرنا ناممکن ہوگا ۔ قاہرہ کو فتح کرنے کے لیے ہمیں زمین ہموار کرنی ہوگی ۔ لوگوں کے ذہنوں میں
‫وہم اور وسوسے اور نوجوانوں کے کردار میں جنس پرستی اور آوارگی پیدا کرنی ہوگی ''۔
‫مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ کام دو سال سے ہورہا ہے ''……لڑکی نے کہا ۔''
‫خاصی کامیابی بھی ہوئی ہے ''……فیض الفاطمی نے کہا ……''بدکاری میں اضافہ ہوگیا ہے مگر صالح الدین ایوبی نے ایک''
‫تو نئے مدرسے کھول دئیے ہیں ‪ ،دوسرے مسجدوں میں خطبے سے خلیفہ کا نام نکال کر کوئی اور ہی رنگ پیدا کر دیا ہے
‫اور لڑکوں کو عسکری تعلیم دینی شروع کر دی ہے ''۔
‫٭ ٭ ٭
‫بات یہی تک پہنچی تھی کہ ان چار آدمیوں میں سے ایک آیا اور فیض الفاطمی سے کہا …… ''ابھی باہر نہ جانا کچھ گڑبڑ
‫ہے ''۔
‫فیض الفاطمی گھبرایا ۔ اس آدمی کے ساتھ باہر چال گیا ۔ ایک اونچی جگہ چھپ کر دیکھا ۔ آدھی رات کے پورے چاند نے
‫باہر کے ماحول کو روشن کر رکھا تھا۔ اس نے کہا ……''تم لوگوں نے بے احتیاطی کی ہے ۔ یہ تو فوجی معلوم ہوتے ہیں ۔
‫گھوڑے بھی ہیں ۔ تم چاروں طرف سے دیکھو ‪ ،میں کدھر سے نکل جاوں ''۔
‫میں دیکھ چکا ہوں''……اس آدمی نے جواب دیا …… ''یوں نظر آتا ہے جیسے ہم مکمل گھیرے میں ہیں ۔ آپ وہیں چلے''
‫جائیں ۔مشعلیں بجھا دیں ۔ وہاں سے نکلنے کی غلطی نہ کریں ۔ وہاں تک کوئی نہیں پہنچ سکے گا ''۔
‫فیض الفاطمی کھنڈروں میں غائب ہوگیا اور یہ آدمی جو پہرہ دے رہا تھا ۔ بلند جگہ سے اُتر کر اندر کو جانے کی بجائے
‫دیواروں کے ساتھ ساتھ چھپتا باہر نکل گیا ۔ باہر کا یہ عالم تھا کہ پچاس کے قریب پیادہ فوجی تھے اور بیس پچیس گھوڑوں
‫پر سوار تھے ۔ انہوں نے سارے گھنڈر کو گھیرے میں لے لیا تھا ۔ یہ پہرہ دار ان تک گیا اور ایک فوجی سے پوچھا

‫……''علی بن سفیان کہاں ہیں ؟''……اسے بتایا گیا تو وہ دوڑتا ہوا گیا ۔ اس دستے کی کمان علی بن سفیان خود کر رہا
‫تھا ۔ اس کے ساتھ احمد کمال تھا ۔ پہرہ دا ر نے انہیں کہا ……''اندر کوئی ایسا خطرہ نہیں۔ آپ کے ساتھ دو آدمی بھی
‫کافی ہیں ۔ میرے ساتھ آئیں ''……یہ پہرہ دار ان چار آدمیوں میں سے تھا جنہوں نے لڑکی کو اغوا کیا تھا ۔
‫علی بن سفیان نے دو مشعلیں روشن کرائیں۔ احمد کمال اور چار عسکریوں کو ساتھ لیا۔ دو کے ہاتھوں میں مشعلیں دیں ۔
‫سب نے تلواریں نکال لیں اور اس آدمی کے ساتھ کھنڈر میں داخل ہوگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ کوئی آدمی کسی طرف سے
‫آیا اور دوڑتا ہوا اندر کی طرف چال گیا ہے …… علی بن سفیان کے راہنما نے کہا ……''یہ ان کا آدمی ہے وہ اندروالوں کو
‫خبردار کرنے چال گیاہے ۔ آپ تیز چلیں ''……وہ سب دوڑ پڑے ۔ اگر یہ لوگ راہنما کے بغیر ہوتے تو ان بھول بھلیوں میں
‫بھٹک جاتے یا ڈر کر وہاں سے بھاگ آتے ۔ راہنما کے ساتھ وہ بڑی اچھی رفتار سے جارہے تھے ۔ کسی طرف سے ایک اور
‫آدمی دوڑتا آیا ۔ اس کی انہیں یہ آواز سنائی دی ……''میں ادھر جارہا ہوں۔ تیز چلو ''……یہ راہنما کا ساتھی تھا ۔
‫وہ اس چٹانی کمرے میں پہنچ گئے جس سے سیڑھیاں نیچے اُترتی تھیں ۔ نیچے سے انہیں آوازیں سنائی دیں ۔ ''ہمارے
‫ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔ یہ دونوں ان کے آدمی ہیں ''……پھر تلواریں ٹکڑانے کی آوازیں سنائی دیں اور یہ بھی آواز آئی ……
‫''اسے بھی ختم کر دو ۔ یہ گواہی نہ دے سکے ''۔
‫علی بن سفیان اور احمدکمال مشعل برداروں کے پیچھے دوڑتے پھالنگتے نیچے اُترے۔ اس کمرے میں پہنچے تو وہاں خون بہہ
‫رہا تھا ۔ لڑکی پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بیٹھی ہوئی تھی۔ فیض الفاطمی کے ساتھی جو کماندار تھا وہ اور ایک اور
‫آدمی فیض الفاطمی اور ایک پہرہ دار سے لڑ رہے تھے ۔ علی بن سفیان نے فیض الفاطمی کو للکارا ۔ فیض الفاطمی نے جب
‫اپنے خالف بہت سی تلواریں دیکھیں تو اس نے تلوار پھینک دی ۔ احمد کمال نے دوڑ کر لڑکی کو سنبھاال ۔ اس کا پیٹ
‫چاک ہو چکا تھا ۔ احمد کمال نے فرش پر بچھے ہوئے بستر سے چادر اُٹھا کر لڑکی کے پیٹ پرکس کر باندھ دی اور علی
‫بنی سفیان سے کہا ……''مجھے اجازت ہو تو اسے باہر لے جائوں ؟''…… علی بن سفیان نے اسے اجازت دے دی۔ احمد
‫کمال نے لڑکی کو بازوں پر ا ُٹھا لیا ۔ وہ سخت تکلیف میں تھی ۔ پھر بھی اس نے مسکرا کر احمد کمال سے کہا ……''میں
‫نے فرض پورا کر دیا ہے ۔ تمہارے مجرم پکڑوا دئیے ہیں ''۔
‫فیض الفاطمی اور لڑکی کو اغوا کرنے والے چار میں سے دو آدمیوں کو گرفتار کر لیا گیا باقی دو آدمی اور ایک کماندار جو
‫فیض الفاطمی کے ساتھ تھے ‪،علی بن سفیان کے آدمی تھے ۔ یہ ایک ڈرامہ تھا جو فیض الفاطمی کو موقعہ پر گرفتار کرنے
‫کے لیے کھیال گیا تھا ۔ لڑکی نے پورا پورا تعاون کیا لیکن زخمی ہو گئی ۔ یہ ڈرامہ اس طرح تیار کیا گیا تھا کہ لڑکی سے
‫وہ خفیہ الفاظ معلوم کیے گئے جو اس کے گروہ کو ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے استعمال کرنے تھے ۔ لڑکی نے یہ بھی
‫بتا دیا کہ اسے فیض الفاطمی کے پاس جانا تھا ۔ علی بن سفیان نے اپنے تین ذہین جاسوس استعما ل کیے جن میں ایک
‫کماندار کے عہدے کا تھا ۔
19:25
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫""قسط نمبر‪31.۔ "لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫جاسوسوں کو کہا گیا کہ وہ فیض الفاطمی سے کہیں کہ لڑکی فالں مکان میں قید ہے جہاں سے اس نکاال جا سکتا ہے ۔
‫انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ فیض الفاطمی کو رجب کا جھوٹا پیغام دیں کہ اس لڑکی کو بچائو اور اپنی کاروائیاں تیز کردو۔
‫ان جاسوسوں نے تین دنوں کے اندر فیض الفاطمی تک رسائی حاصل کر لی اور اس پر ثابت کر دیا کہ وہ اس کے زمین دوز
‫گروہ کے افراد ہیں ۔ فیض الفاطمی کو یہ خطرہ بھی تھا کہ لڑکی چونکہ قیدمیں ہے اس لیے اذیت کے زیر اثر بتا دے گی کہ
‫لہذا اس نے لڑکی کے اغوا کا منصوبہ بنایا۔ اس
‫وہ بھی اس کے ساتھ ہے ۔ فیض الفاطمی کے لیے اپنا تحفظ ضروری تھا ۔ ٰ
‫میں اس نے کماندر کو اپنے ساتھ رکھا ۔دو آدمی علی بن سفیان کے بھیجے ہوئے اور دو اپنے مال کر ان کے سپرد یہ کام دیا
‫کہ وہ لڑکی کو ا ُٹھا الئیں گے اور کھنڈر میں پہنچا دیں ۔ اس کھنڈر کو انہوں نے کچھ عرصے سے اپنا خفیہ اڈہ بنا رکھا تھا۔
‫منصوبہ بن گیا تو علی بن سفیان تک پہنچ گیا ۔ پانچ چھ مردوں میں احمدکمال اورلڑکی کو بتایا گیا کہ وہ برآمدے میں
‫سوئیں گے اور رات کے وقت لڑکی اغوا ہوگی جس کے خالف وہ مزاحمت نہیں کریں گے۔ مکان کے باہر ہر وقت ایک سپاہی
‫پہرے پر رہتاتھا ۔ اس رات جو آدمی پہرے پر تھا وہ سپاہی نہیں بلکہ علی بن سفیان کے محکمے کا جاسوس تھا ۔ اسے
‫معلوم تھا کہ رات کو اس پر حملہ ہوگا اور حملہ کس طرح کا ہوگا ‪ ،حملہ کرنے واال علی بن سفیان کا آدمی تھا ۔ اگر فیض
‫الفاطمی کا آدمی ہوتا تو وہ اسے خنجر مار کر ہالک کردیتا ۔
‫اس رات فیض الفاطمی اور کماندار کھنڈر میں چلے گئے ۔ مقررہ وقت پر پہرے دار پرحملہ ہوا ۔ دیوار پھالنگی گئی۔ اس وقت
‫احمد کمال جاگ رہا تھا ۔ اس نے دیکھا کہ لڑکی کو ا ُٹھا لیا گیا ہے لیکن وہ آنکھیں بند کر کے لیٹا رہا ۔ اس نے تڑپنا اس
‫وقت شروع کیا جب وہ رسیوں میں بندھ چکا تھا ۔ لڑکی کو کھنڈر میں پہنچا دیا گیا ۔ یہ ڈرامہ اس لیے کھیال گیا تھا کہ
‫فیض الفاطمی نے اغوا کا منصوبہ بنایا اور اس میں اپنے دو آدمی شامل کر دئیے تھے۔ ان پر یہ ظاہرکرنا تھا کہ یہ حقیقی
‫اغواء ہے اور اس میں کوئی دھوکہ فریب نہیں ۔ آخر دم تک شک نہ ہوا ۔ اغواء کے بعد علی بن سفیان نے پہرہ دار اور
‫احمد کمال کی رسیاں کھولیں ۔ پیادہ سپاہی اور سوار تیارتھے ۔ تھوڑے سے وقفے کے بعدوہ کھنڈر کی طرف روانہ ہوگئے اور
‫کھنڈر کو گھیرے میں لے لیا ۔
‫انہیں سب سے پہلے علی بن سفیان کے ہی ایک آدمی نے دیکھا جس نے فیض الفاطمی کو جا کر اطالع دی ۔ اسے باہر ال
‫کر گھیرا دکھایا اور یہ مشورہ دیا کہ وہ اسی کمرے میں چال جائے ۔ اس ادھر بھیج کر یہ آدمی باہر نکل گیا اور علی بن
‫سفیان اور احمد کمال کو اندر لے گیا ۔ یہ اس آدمی کی دانشمندی تھی کہ اس نے فیض الفاطمی کو اسی کمرے میں چھپے
‫رہنے پر قائل کر لیا تھا۔ اگر وہ کھنڈر کے بھول بھلیوں جیسے کمروں ‪ ،برآمدوں ‪ ،گلیوں اور تہہ خانوں میں نکل جاتا تو اسے
‫پکڑنا آسان نہ ہوتا ۔ کھنڈربہت وسیع اور پیچیدہ تھا ۔ باہر تو چاندنی تھی لیکن اندر تاریکی تھی جس میں تعاقب کیا جاتا
‫تو اپنے آدمیوں کے مارے جانے کا بھی خطرہ تھا ۔ بالکل آخری وقت فیض الفاطمی کو پتہ چال کہ کماندار اور دو آدمی اس
‫کے ساتھی نہیں بلکہ اسے دھوکے میں یہاں الئے ہیں۔ لڑکی سے یہ غلطی ہوئی کہ اس کے منہ سے کچھ ایسے الفاظ نکل
‫گئے جس سے ظاہر ہوگیا کہ یہ بھی اس دھوکے میں شریک ہے ۔ فیض الفاطمی کے دو ساتھی اس کے پاس پہنچ گئے ۔دھوکہ
‫بے نقاب ہوگیا اورلڑائی شروع ہوگئی۔ فیض الفاطمی نے لڑکی کے پیٹ میں نوک کی طرف سے تلوار ماری اور اس کا پیٹ
‫چاک کر دیا۔ اس نے لڑکی کو غالبا ً اس لیے بھی قتل کرناضروری سمجھا تھا کہ وہ اس کے خالف گواہی دینے کے لیے بھی

‫زندہ نہ رہے۔
‫فیض الفاطمی اور اس کے ساتھیوں کو قید میں ڈال دیا گیا۔ علی بن سفیان نے تینوں کو الگ الگ قید میں رکھا اور تینوں کو
‫رجب کا سر دکھا کر کہا ……'' اپنے دوست کا انجام دیکھ لو ۔ اگر تمہیں یہ توقع ہے کہ تمہیں فورا ً سزا دے دی جائے گی
‫تو یہ خیال دماغوں سے نکال دو۔ جب تک اپنے پورے گروہ کو سامنے نہیں الو گے تمہیں چکر شکنجے میں باندھے رکھوں گا
‫۔ جینے بھی نہیں دوں گا مرنے بھی نہیں دوں گا ''۔
‫لڑکی کی حالت اچھی نہیں تھی ۔ طبیبوں اور جراحوں نے اسے بچانے کی پوری کوشش کر ڈالی مگر کٹی ہوئی انتڑیوں کا
‫کوئی عالج نہ ہو سکا۔ وہ پھر بھی مطمئن تھی جیسے اسے پیٹ کے مہلک زخم کی پروا ہی نہیں تھی ۔ اس کا ایک ہی
‫مطالبہ تھا کہ احمد کمال کو میرے پاس بیٹھا رہنے دو۔ سلطان ایوبی بھی اس کی عیادت کے لیے آیا ۔ احمد کمال امیر مصر
‫اعلی کو دیکھ کر تعظیم کے لیے اُٹھا تو لڑکی نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ احمد
‫اور اپنی فوج کے ساالر
‫ٰ
‫کمال سلطان ایوبی کی موجودگی میں بیٹھ نہیں سکتا تھا ۔ آخر سلطان نے اسے لڑکی کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دی ۔
‫سلطان ایوبی نے لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور شفقت سے صحت یابی کی دعا دی ۔
‫تیسری رات احمد کمال لڑکی کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا ۔ لڑکی نے انوکھے سے لہجے میں پوچھا …… ''احمد! تم نے میرے
‫ساتھ شادی کر لی ہے نا! …… میں نے اپنا وعدہ پورا کیا ‪ ،تم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔ خدا نے میرے گناہ بخش
‫دئیے ہیں ''…… اس کی زبان لڑکھڑانے لگی ۔ اس نے احمد کمال کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں مظبوطی سے پکڑ لیا مگر
‫گرفت فورا ً ڈھیلی پڑگئی ۔احمد کمال نے کلمہ شریف پڑھا اور لڑکی کوخدا کے سپرد کر دیا ۔ دوسرے دن سلطان ایوبی کے
‫حکم کے مطابق لڑکی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔
‫فیض الفاطمی نے اور اس کے ساتھیوں نے صرف دو دن اذیتیں سہیں اور اپنے گروہ کی نشاندہی کر دی ۔ ان لوگوں کو بھی
‫پکڑ لیا گیا ۔ مراکشی واقعہ نگار اسد اال سدی نے سلطان ایوبی کے وقت کے ایک کاتب کے حوالے سے لکھاہے کہ سلطان
‫ایوبی نے جب فیض الفاطمی کی سزائے موت پر دستخط کیے تو سلطان زار و قطار رونے لگے تھے ۔
‫‪.اس کے ساتهہ ہی قصہ"لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی" یہیں تمام ہوتا ہے
19:26
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪ "32.جب زہر نے زہر کو کاٹا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫یہ واقعہ ‪١١٧١ء کا ہے۔ "
‫قاہرہ میں ایک مسجد تھی جو اتنی بڑی نہیں تھی کہ لوگ وہاں جمعہ کی نماز پڑھتے اور اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی کہ
‫نمازیوں کی کمی ہوتی ۔ یہ قاہرہ کے اس عالقے میں تھی جو شہر کا قریبی مضافات یا شہر کے باہر کا عالقہ تھا جہاں
‫درمیانے اور اس سے کم درجے کے لوگ رہتے تھے ۔ مذہب کا احترام انہی لوگوں کے دلوں میں رہ گیا تھا مگر ان کی بد
‫نصیبی یہ تھی کہ تعلیم سے بے بہرہ تھے ۔ جذباتی استدالل اور دلکش الفاظ سے فورا ً متاثر ہوتے اور انہیں قبول کرلیتے تھے
‫۔صالح الدین ایوبی نے مصر میں آکر جو نئی فوج تیار کی تھی اس میں ان کنبوں کے افراد زیادہ بھرتی ہوئے تھے جس کی
‫دو وجوہات تھیں ۔ ایک تو یہ ذریعہ معاش تھا ۔ سلطان ایوبی نے فوج کی تنخواہ میں کشش پیدا کی تھی اور متعدد سہولتیں
‫بھی تھیں ۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ لوگ جہاد کو فرض سمجھتے تھے ۔وہ اسالم کے نام پرجان اور مال قربان کرنے کو تیار
‫رہتے تھے ۔اس دور میں اس جذبے کی شدید ضرورت تھی ۔ سرکاری طور پر انہیں بتایا گیاتھا کہ صلیبی دنیا عالم اسالم کا
‫نام و نشان مٹانے کے لیے اپنے تمام تر ذرائع اور ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ۔
‫چھ سات مہینوں سے یہ گمنام سی مسجد مشہور ہوگئی تھی ۔ یہ شہرت نئے امام کی بدولت تھی جو عشاء کی نماز کے
‫بعد درس دیا کرتا تھا ۔ پہال پیش امام صرف تین روز پہلے ایسی بیماری سے مر گیا تھا جسے کوئی حکیم اور سیانا سمجھ
‫ہی نہیں سکا ۔ وہ پیچش کے درد اور آنتوں کی سوزش کی شکایت کرتا تھا ۔ اسی روگ سے مر گیا۔ وہ عام سا ایک
‫مولوی تھا جو صرف نماز باجماعت پڑھاتا تھا ۔ اس کی وفات کے اگلے ہی روز سرخ و سفید چہرے اور بھوری داڑھی واال
‫ایک مولوی آیا جس نے امامت کے فرائض اپنے ذمے لینے کی پیشکش کی ۔لوگوں نے اسے قبول کر لیا ۔ و ہ کہیں جھونپڑے
‫میں رہتا تھا ۔ اس کی دو بیویاں تھیں ۔ اس نے لوگوں کو بتایا تھا کہ وہ علم کا شیدائی اور مذہب کے سمندر کا غوطہ خور
‫ہے۔ وہ خاطر و مدارت کا لوگوں سے نذرانے وصول کرنے کا قائل نہیں تھا ۔ اس کی ضرورت صرف یہ تھی کہ اسے کشادہ
‫اور اچھا مکان مل جائے جہاں وہ دو بیویوں کے ساتھ عزت سے اور پردے میں رہ سکے۔
‫لوگوں نے مسجد کے قریب ہی اسے ایک مکان خالی کر ادیا جس کے کئی ایک کمرے تھے ۔ لوگوں نے دیکھا ک وہ دونوں
‫بیویوں کے ساتھ اس مکان میں آیا۔ بیویاں سیاہ برقعوں میں مستور تھیں ۔ ان کے ہاتھ بھی نظر نہیں آتے تھے۔ پاوں تک
‫چھپے ہوئے تھے ۔ اسے لوگوں نے ضروری سامان وغیرہ دے کر آباد کر دیا ۔ لوگ ایک تو اس کی ظاہری شخصیت سے متاثر
‫ہوئے لیکن جس جادو نے انہیں اس کا گرویدہ کیا وہ اس کی آواز کا جادو تھا۔ اس مسجد میں اس نے پہلی اذان دی تو جہاں
‫جہاں تک اس کی آواز پہنچی سناٹا سا طاری ہوگیا ۔ ایک مقدس ترنم زمین و آسمان پر وجد طاری کر رہا تھا ۔ یہ ایک
‫طلسم تھا جو ان لوگوں کو بھی مسجد میں لے گیا جو گھروں میں نماز پڑھتے یا پڑھتے ہی نہیں تھے ۔ اسی رات اس نے
‫عشاء کی نماز کے بعد نمازیوں کو پہال درس دیا اور انہیں کہا کہ وہ ہر رات درس دیا کرے گا ۔ چھ سات مہینوں میں اس
‫نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ بعض لوگ تو اس کے مریدبن گئے ۔اس مسجد میں جمعہ کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ اس
‫پیش امام نے جو دراصل عالم تھا ۔ وہاں جمعہ کی نماز بھی شروع کر دی ۔
‫چھ سات مہینوں بعد اس مسجد اور اس پیش امام کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔ شہرکے بھی کچھ لوگ اس کے درس
‫میں جانے لگے ۔ وہ اسالم کے جن بنیادی اصولوں پر زیادہ زور دیتا تھا وہ تھے عبادت اور محبت ۔ وہ لڑائی جھگڑے اور
‫جنگ و جدل کے خالف سبق دیتا تھا ۔ اس نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ عقیدہ پختہ کر دیا تھا کہ انسان اپنی تقدیر خود
‫نہیں بنا سکتا ۔ جو کچھ ہے وہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ انسان کمزور سا ایک کیڑہ ہے ۔ اس عالم کا انداز بیان بڑا ہی پر
‫اثر ہوتا تھا ۔ وہ قرآن ہاتھ میں لے کر ہر بات قرآن کی کسی نہ کسی آیت سے واضح کرتا تھا ۔ صالح الدین ایوبی کی وہ
‫بے حد تعریف کیا کرتا اور اکثر کہا کرتا تھا کہ یہ مصر کی خوش بختی ہے کہ اس ملک کی امارت اسالم کے ایسے شیدائی
‫کے ہاتھ میں ہے ۔ اس نے جہاد کا فلسفہ اور مفہوم بھی پیش کیا تھا جو لوگوں کے لیے نیا تھا لیکن انہوں نے بال حیل و
‫حجت اسے تسلیم کر لیا۔

‫ایک رات عشاء کی نماز کے بعد وہ اپنا درس شروع کرنے لگا تو ایک آدمی نےاُٹھ کر عرض کی ……''عالم عالی مقام !
‫خدا آپ کے علم کی روشنی جنات تک اور اس مخلوق تک بھی پہنچائے جو ہمیں نظر نہیں آتی ۔ میں اپنے آٹھ دوستوں کے
‫ساتھ بہت دور سے آیا ہوں۔ ہم آپ کے علم کی شہرت سن کر آئے ہیں ۔ اگر گستاخی نہ ہو اور عالم عالی مقام کی خفگی
‫کا باعث نہ بنے تو ہمیں جہاد کے متعلق کچھ بتائیں ۔ ہم شک میں ہیں ۔ لوگوں نے بتایا ہے کہ ہمیں جہاد کا مطلب غلط
‫بتایا جا رہا ہے ''۔
‫سات آٹھ آوازیں سنائی دیں …… ''ہم نے یہ درس نہیں سنا تھا ''۔
‫ایک نے کہا …… ''یہ وقت کی آواز ہے جو ہمارے کانوں میں بگاڑ کر ڈالی گئی ہے ۔ ہم صحیح بات سننا چاہتے ہیں ''۔
‫عالم نے کہا …… ''یہ قرآن کی آواز ہے جسے کوئی نہیں بگاڑ سکتا ۔ میرا فرض ہے کہ صحیح آواز کو ایک ہزار بار دہراؤں
‫تا کہ یہ ہر ایک کان میں پہنچ جائے …… جہاد کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ان کی گردنیں
‫کاٹو ۔ جہاد کا مطلب قتل و غارت نہیں ‪ ،خون خرابہ نہیں ''۔ اس نے قرآن میں سے ایک آیت پڑھی اور اس کی تفسیر
‫یوں بیان کی ۔ ''یہ میرا علم نہیں ‪ ،یہ فرمان خداوندی ہے کہ تم بدی اور گناہ کے خالف لڑتے ہو تو اسے جہاد کہتے ہیں
‫جو ہم سب پر فرض کر دیا گیا ہے ۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ اسالم تلوار کے زور سے نہیں بلکہ پیار کے زور سے پھیال ہے
‫؟ جہاد کی شکل بعد میں آکر بگڑی ہے اور یہ انہوں نے بگاڑی ہے جو بادشاہی کے دلدادہ ہیں۔ عیسائی بھی دوسروں کے
‫ملکوں کو اپنی سلطنت بنانے کے لیے جنگ و جدل کو مقدس جنگ کہتے ہیں اور مسلمان بھی اسی ارادے سے قتل و غارت
‫کو جہاد کہتے ہیں ۔ یہ صرف حکومتیں اور بادشاہیاں قائم کرنے کے ڈھنگ ہیں ۔ لوگوں کو مذہب کے نام بھڑکاکر لڑایا جاتا
‫ہے اور اس طرح بادشاہوں کی بنیادیں مضبوط کی جاتی ہیں ''۔
‫تو کیا امیر مصر صالح الدین ایوبی ہمیں گمراہ کرکے لڑا رہا ہے ؟''اس آدمی نے پوچھا جس نے جہاد کا صحیح مطلب ''
‫سمجھنا چاہا تھا ۔
‫نہیں !''عالم نے جوا ب دیا ۔ ''صالح الدین ایوبی پر اللہ کی رحمت ہو ۔ ا سے بڑوں نے جو بتایا ہے وہ سچے ''
‫مسلمان کی حیثیت سے پوری نیک نیتی سے اس پر عمل کر رہاہے۔ اس کے دل میں عیسائیوں کے خالف نفرت ڈالی گئی
‫ہے ۔ وہ اس کے مطابق عمل کر رہاہے ذرا غور کروکہ عیسائی اور مسلمان میں کیا فرق ہے۔ دونوں کا نبی مشترک ہے۔ آگے
‫موسی محبت اور امن کا پیغام الئے تھے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علی وسلم بھی
‫آکر ذرا اختالف پیدا ہوگیا ہے ۔ حضرت
‫ٰ
‫محبت کا پیغام دے گئے ہیں۔ پھر تلوار اور زرہ بکتر کہاں سے آگئی ؟ یہ ان لوگوں کی الئی ہوئی چیزیں ہیں جو خدا کی
‫اتنی پیاری زمین پر جس پر صرف اسی کی ذات باری کی حکمرانی ہے ‪ ،وہ اپنی حکومت قائم کرتے اور خدا کے بندوں کو
‫اپناغالم بناتے ہیں ……میں امیر مصر کے دربار میں حاضری دوں گا اور اس کی خدمت اقدس میں جہاد کا صحیح نقطہ واضح
‫کروں گا ۔ امیر مصر صالح الدین ایوبی نے صحیح جہاد شروع کر رکھا ہے جو جہالت اور بے علمی کے خالف ہے ۔اس نے
‫خطبے سے خلیفہ کا نام نکال کر بہت بڑاجہاد کیا ہے۔ اس نے مدرسے کھول کر بھی جہاد کیا ہے لیکن مدرسوں میں یہ
‫خرابی ہے کہ جہاں مذہب اور معاشرت کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے ۔ بچوں کو خدا کے
‫نام پر غارت گری کے سبق دئیے جاتے ہیں ۔ انہیں تیغ زنی اور تیر اندازی سکھائی جاتی ہے ۔ جب تم اپنے بچوں کے
‫ہاتھوں میں تلوار اور تیر کمان دو گے تو انہیں یہ بھی بتاو گے کہ ان سے وہ کیسے ہالک کریں ۔ ظاہر ہے کہ تم انہیں کچھ
‫انسان دکھاو گے اور کہو گے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں انہیں ہالک کردو ''۔
‫عالم کی آواز میں ایسا تاثر تھا اور اس کے دالئل میں اتنی کشش تھی کہ سننے والے مسحور ہوتے جارہے تھے ۔ اس نے کہا
‫……''اپنے بچوں کو دوزخ کی آگ سے بچاو۔ ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جائو گے کیونکہ اپنے بچوں کو غلط راستے میں
‫ڈالنے والے تم تھے ۔ تمہیں جنت میں اپنے بادشاہ اورفوجوں کے ساالرنہیں لے جائیں گے‪ ،پیش امام اور وہ عالم دین لے
‫جائیں گے جن کے ہاتھ میں مذہب اور علم کی قندیل تھی ۔ تم دنیا میں ان کے پیچھے چلو گے تو وہ روز قیامت بھی
‫تمہیں اپنے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔ روز قیامت جس کے ہاتھ انسان کے خون سے الل ہوں گے اسے ساری عمر کے
‫زکو ة کو بیت
‫اچھے اعمال اور ساری عمر کی نمازوں کے باوجود دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک نقطہ اور سمجھ لو ۔ تم
‫ٰ
‫زکو ة غریبوں اور ناداروں کا حق ہے ۔ حاکم وقت غریب اورنادار نہیں
‫المال کو دیتے ہو۔ بیت المال وقت کا حاکم ہوتا ہے۔
‫ٰ
‫زکو ة جو بیت المال میں جاتی ہے اس سے گھوڑے اور ہتھیار خریدے جاتے ہیں جو انسانوں کو ہالک کرنے کے
‫ہوتا۔ تمہاری
‫ٰ
‫لہذا
‫ہو۔
‫بناتے
‫ٹھکانا
‫میں
‫دوزخ
‫تم
‫بھی
‫اداکرکے
‫فرض
‫وہ
‫ہو
‫جاسکتے
‫میں
‫جنت
‫تم
‫کے
‫کر
‫ادا
‫فرض
‫جو
‫ذا
‫۔لہ
‫ہیں
‫کام آتے
‫ٰ
‫ٰ
‫زکوة بیت المال میں نہ دو ''۔
‫ٰ
‫عالم نے موضوع بدال اورکہا ……''بہت سی باتیں عام ذہن کے انسانوں کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ انہیں بتاتا بھی کوئی نہیں
‫۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارے اندرایک حیوانی جذبہ ہے؟ کیا تم عورت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؟ کیا یہی جذبہ
‫نہیں جو تمہیں بدکاری کے اڈوں پر لے جاتا ہے ؟……یہ جذبہ خدا نے خود پیدا کیا ہے ۔ یہ کسی انسان کا پیدا کردہ نہیں ۔
‫تم اس کی تسکین کر سکتے ہو۔ اسی لیے تمہیں خدا نے حکم دیا ہے کہ بیک وقت گھر میں چار بیویاں رکھو۔ اگر تم غریب
‫ہو اور ایک بیوی بھی نہیں ال سکتے تو کسی عورت کو اجرت دے کر اس حیوانی جذبے کی تسکین کر سکتے ہو جو تم میں
‫خدانے پیدا کیا ہے اور انسان اسی جذبے کی پیداوار ہے ‪،مگر بدی سے بچو۔ایک ایک دو دو‪ ،تین تین ‪ ،چار چار بیویاں گھر
‫میں رکھو۔ ان بیویوں کو اور اپنی بیٹیوں کو گھروں میں چھپا کر رکھو۔ میں دیکھ رہاہوں کہ جوان لڑکیوں کو بھی عسکری
‫تربیت دی جارہی ہے اور انہیں بھی گھوڑ سواری اور شتری سواری سکھائی جا رہی ہے۔ زنانہ مدرسوں میں انہیں زخمیوں کی
‫میدان جنگ کے زخمیوں کو سنبھالیں اور اگر ضرورت
‫مرہم پٹی اور انہیں سنبھالنے کے طریقے سکھائے جارہے ہیں تا کہ وہ
‫ِ
‫پڑے تو لڑیں بھی ……یہ ایک بدعت ہے۔ اپنی لڑکیوں کو اس بدعت سے بچاو ۔ یہ باتیں اپنے ان دوستوں اور پڑوسیوں کو
‫بھی سناو جو مسجد میں نہیں آتے ۔ خدا کے احکام اور کارناموں میں مت دخل دو۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے‪.عالم نے درس ختم
‫کیا توسامعین جن کی تعداد اتنی ہو گئی تھی کہ بہت سے لوگ پیچھے کھڑے تھے ‪ ،مسجد میں بیٹھنے کو جگہ نہ تھی ‪،
‫ا ُٹھ کر عالم سے ہاتھ مالنے اور جانے لگے۔ بعض نے اس کے ہاتھ چومے ۔ جھک کر مصافحہ تو ہر کسی نے کیا ۔ ایک
‫ایک کر کے سب لوگ چلے گئے۔ صرف دو آدمی عالم کے سامنے بیٹھے رہے۔ ان میں سے ایک وہ آدمی تھا جس نے کہا
‫تھا کہ مجھے جہاد کے متعلق بتائیے ۔ اس آدمی نے لمبا چغہ پہن رکھا تھا ۔ سر پر چھوٹی سی پگڑی اور اس پر چوڑا
‫پھولدار رومال پڑا ہواتھا ۔ اس کی داڑھی لمبی اور سیاہ اور مونچھیں گھنی تھیں۔ لباس سے وہ درمیانہ درجے کا آدمی معلوم
‫ہوتا تھا ۔ اس کی ایک آنکھ پر ہرے رنگ کا پٹی نماکپڑا تھا جو دودھاگوں کی مدد سے اس کے سر کے ساتھ بندھا تھا ۔
‫اس کپڑے نے اس کی ایک آنکھ ڈھانپ رکھی تھی ۔ عالم کے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا کہ اس کی یہ آنکھ خراب ہے ۔

‫دوسرے آدمی کا لباس بھی معمولی سا تھا۔ اس کی بھی داڑھی لمبی اور گھنی تھی ۔ مسجد میں عالم کے پاس یہی دو آدمی
‫رہ گئے تھے۔ ان کے ساتھ چھ اور آدمی تھے جوجہاد کا درس لینے آئے تھے ۔ وہ مسجد کے دروازے کے باہر کھڑے تھے ۔
‫شاید اپنے ساتھیوں کے انتظار میں تھے ۔
‫کیوں تمہارا شک ابھی رفع نہیں ہوا؟''……عالم نے مسکرا کر ان دونوں سے پوچھا ۔''
‫میرا خیال ہے شک رفع ہوگیا ہے ''۔ آنکھ کی ہری پٹی والے نے جوا ب دیا ۔ ''ہم شاید آپ ہی کی تالش میں ''
‫ہیں ۔ ہم نے آدھا مصر چھان مارا ہے ۔ ہمیں مسجد کا محل و قوع اور نشانیاں غلط بتائی گئی تھیں''۔
‫''کیا آدھے مصر میں تمہیں مجھ سے بہتر کوئی عالم نہیں مال ؟''
‫تالش جو صرف آپ کی تھی ''۔اس آدمی نے جواب دیا ……''کیا ہم صحیح جگہ آگئے ہیں ؟ آپ کا درس بتاتا ہے کہ ''
‫ہم آپ کی ہی تالش میں تھے ''۔
‫''! عالم نے باہرکی طرف دیکھا اور بے توجہی کے اندازسے بوال ……''معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا
‫بارش آئے گی ''۔ہری پٹی والے نے جواب دیا ۔''
‫آسمان بالکل صاف ہے ''عالم نے کہا ۔''
‫ہم گھٹائیں الئیں گے ''۔ہری پٹی والے نے کہا اور قہقہہ لگایا ۔''
‫''عالم مسکرایا اور رازداری سے پوچھا ۔''کہاں سے آئے ہو؟
‫ایک مہینے سے ہم سکندریہ میں تھے ''۔اس آدمی نے جواب دیا ۔ ''اس سے پہلے شوبک میں تھے ''۔''
‫''مسلمان ہو ؟''
‫فدائی ''۔ہری پٹی والے نے کہا ……''ابھی مسلمان ہی سمجھو ''…… اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ بڑی زور سے ہنسا ۔''
‫میں آپ کو اس فن کا استاد مانتا ہوں ''۔دوسرے نے عالم سے کہا ……''مجھے بالکل یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ آپ ہیں''
‫۔ آپ ناکام نہیں ہو سکتے ''۔
‫اور کامیابی آسان بھی نہیں ''۔ عالم نے کہا ۔ ''صالح الدین ایوبی کوشاید تم نہیں جانتے ۔ بے شک میں نے ان تمام ''
‫لوگوں کے دلوں میں جہاد اور اس کے متعلق اسالمی نظریات کے خالف شکوک پیدا کر دئیے ہیں لیکن صالح الدین ایوبی نے
‫جو مدرسے کھولے ہیں وہ شاید ہماری کوششوں کو آسانی سے کامیاب نہ ہونے دیں ۔
‫''اس نے پوچھا۔ ''تم نے مجھے یہ کیوں کہاں تھا کہ میں جہاد پر درس دوں ؟
‫شوبک میں ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے ''…… ہری پٹی والے نے جواب دیا ……''یہ ''
‫تمام الفاظ جو آپ نے درس میں بولے ہیں ہمیں وہاں بتائے گئے تھے ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آپ جہاد کے بعد
‫‪ .جنسی جذبے کا ذکر ضرور کریں گے۔ آپ نے اپنا سبق بڑی محنت سے یاد کیا ہے
‫میرا نام کیا ہے''؟عالم نے پوچھا۔''
‫کیا آپ ہمارا امتحان لینا چاہتے ہیں ؟…… اس آدمی نے جواب دیا ۔''کیا آپ کو ہم پر شک ہے؟ہمیں ایک دوسرے کا نام''
‫نہیں صرف نشانیاں بتائی جاتی ہیں ''۔
‫تم کس کام سے آئے ہو ؟''……عالم نے پوچھا ۔''
‫فدائی کس کام سے آیا کرتے ہیں ؟''……ہری پٹی والے نے پوچھا ۔''
‫تمہیں میرے پاس کیوں بھیجا گیا ہے ؟''……عالم نے کہا ۔''
‫ایک اونٹنی کے لیے ''۔اس آدمی نے جواب دیا……''آپ کے پاس دو ہیں ۔ ہمیں آپ کے پاس نہ بھیجا جاتا مگر آپ کو''
‫اطالع مل گئی ہو گی کہ صالح الدین ایوبی کے ایک نائب ساالر رجب کے ساتھ شوبک سے تین اونٹنیاں روانہ کی گئی تھیں
‫۔ ان میں سے ایک ہمارے مقصد کے لیے تھی مگر معلوم نہیں کہ کیا ہوا کہ تینوں ماری گئی ہیں ۔ رجب کی کھوپڑی اور
‫ایک سب سے زیادہ خوبصورت اونٹنی صالح الدین کے پاس پہنچ گئی اوروہ بھی ختم ہوگئی ''۔
‫ہاں ''……عالم نے آہ بھر کر کہا ……''ہمیں بہت بڑا نقصان ہوا ہے …… صالح الدین ایوبی کا ایک بڑا ہی کارآمد ساالر ''
‫جو ہمارے قبضے میں تھا ‪ ،جالد کی نذر ہوگیا …… اندر چلو …… یہ جگہ محفوظ نہیں ہے ''۔
‫وہ دونوں عالم کے ساتھ ا ُٹھے اور باہر نکل گئے ۔ باہر جو چھ آدمی کھڑے تھے وہ اندھیرے میں بکھر گئے ۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ اب عالم کے گھر میں داخل ہوئے ۔ صاف ستھرا گھر تھا ۔ کئی کمرے تھے ۔ دو تین کمروں میں سے گزر کر وہ ایسے
‫کمرے میں چلے گئے جو زمین پر ہی تھا لیکن زیر زمین معلوم ہوتا تھا ۔ اس کے سامنے کوڑا کباڑ بکھرا ہوا تھا ۔ دروازے
‫کے باہر تاال لگا ہوا تھا ۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ یہ دروازہ برسوں سے نہیں کھوال گیا اور کھوال بھی نہیں جائے گا ۔ اس کے
‫پہلو میں کھڑکی تھی ۔ اسے ہاتھ لگایا تو کھل گئی ۔ عالم اندر گیا ۔ اس کے پیچھے یہ دونوں آدمی اندر چلے گئے ۔ اندر
‫عیسی کی دستی
‫سے کمرہ خوب سجا ہوا تھا ۔ دیوار کے ساتھ سنہری صلیب لٹک رہی تھی ۔ اس کے ایک طرف حضرت
‫ٰ
‫تصویر اور دوسری طرف حضرت مریم کی تصویر تھی ۔ عالم نے کہا ……''یہ میرا گرجا ہے اور پناہ گا ہ بھی ''۔
‫خطرے کی صورت میں آپ کے پاس کیا انتظام ہے ؟''آنکھ کی ہری پٹی والے نے پوچھا اور مشورہ دیا ……''آپ کو ''
‫صلیب اور یہ تصویریں اس طرح سامنے نہیں رکھنی چاہیے ''۔
‫یہاں تک کسی کے آنے کا خطرہ نہیں ''۔ عالم نے جواب دیا اور ہنس کر کہا …… ''مسلمان بڑی سیدھی اور جذباتی ''
‫قوم ہے ۔ یہ قوم جذباتی الفاظ اور سنسنی خیز دالئل پر مرتی ہے ۔ جنس انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ میں ان
‫لوگوں میں یہ کمزوری ا ُبھار رہا ہوں ۔ انہیں یہ سبق دے رہا ہوں کہ چار شادیاں فرض ہیں ۔ آہستہ آہستہ انہیں بدکاری کی
‫طرف راغب کر رہا ہوں ۔ مذہب کے نام پر تم مسلمان سے بدی بھی کرا سکتے ہو نیکی بھی ۔ ہاتھ میں قرآن رکھ کر بات
‫کرو تو یہ لوگ احمقانہ باتوں کے بھی قائل ہو جاتے ہیں اور جھوٹ کو بھی سچ مان لیتے ہیں ۔ میرا تجربہ کامیاب ہے۔
‫میں یہاں اپنے جیسا ایک گروہ پیدا کر لوں گا جو مسجد میں بیٹھ کر اور قرآن مجید ہاتھ میں لے کر ان لوگوں کے جذبہ
‫جہاد کو اور کردار کو قتل کردے گا ۔ عورت کے متعلق میں ان لوگوں کے نظریات بدل رہا ہوں ۔ صالح الدین ایوبی نے
‫عورتوں کو بھی عسکری تربیت دینی شروع کر دی ہے ۔ میں انہیں بتا رہا ہوں کہ عورت کو گھر میں قید رکھو ۔ میں اس
‫قوم کی نصف آبادی کو بیکار کردوں گا ''۔
‫فوج کے خالف نفرت پیدا کرنا ضروری ہے ''۔ہری پٹی والے کے ساتھی نے کہا …… ''صالح الدین ایوبی نے یہی کمال ''
‫کر دکھایا ہے کہ قوم اور فوج کو ایک کر دیا ہے ۔ وہ اس وقت اعالن کر دے کہ یروشلم فتح کرنا ہے تو مصر کی ساری

‫آبادی اس کے ساتھ چل پڑے گی ''۔
‫لیکن وہ ایسا اعالن نہیں کرے گا ''۔عالم نے کہا ……وہ دانشمند ہے ۔ وہ جذباتی لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ وہ صرف ایک''
‫تربیت یافتہ سپاہی کو ایک سو غیر تربیت یافتہ جوشیلے آدمیوں پر ترجیح دیتا ہے ۔ وہ کھوکھلے نعروں سے قوم کو بھڑکاتا
‫نہیں ۔ حقیقت کی بات کرتا ہے ۔ یہ ہمارا کام ہے کہ اس کی قوم کو حقیقت اور تربیت سے دور رکھیں اور اسے جذباتی
‫بنادیں ۔ اس قوم میں شعور کی بجائے جوش رہ جائے ۔ وہ جو ش جس میں حقیقت پسندی اور دانشمندی نہ ہو ‪ ،دشمن کے
‫پہلے تیر سے ہی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ۔ خواہ تیر قریب سے گزر جائے ۔ ہم ان میں صرف جوش رہنے دیں گے ۔ تم نے سنا
‫ہے کہ میں اپنے درس میں
‫صال ح الدین ایوبی کی بہت تعریفیں کر رہا تھا ''۔
‫یہ باتیں تو ہم بعد میں کر لیں گے ''۔اس آدمی نے جواب دیا …… ''دونوں اونٹنیاں دکھا دیں اور یہ بتائیں کہ ہمیں یہاں''
‫کس وقت اور کس طرح پناہ مل سکتی ہے اور یہاں اپنا کوئی اور آدمی رہتا ہے یانہیں ''۔
‫نہیں !''……عالم نے جواب دیا …… ''یہاں اورکوئی نہیں رہتا ''۔''
‫ان کے درمیان کوئی شک و شبہ نہیں رہا تھا ۔ وہ خفیہ الفاظ میں ایک دوسرے کو پہچان چکے تھے ۔ عالم کمرے سے نکل
‫گیا ۔ واپس آیا تو اس کے ساتھ دو بڑی ہی خوبصورت اور جوان لڑکیاں تھیں ۔ یہی وہ دو لڑکیاں تھیں جن کے متعلق اس نے
‫لوگوں کو بتایا تھا کہ اس کی بیویاں ہیں۔ انہیں وہ سر سے پاوں تک برقعے میں چھپا کر الیا تھا ۔ مگر ان دو آدمیوں کے
‫سامنے وہ بے پردہ آئیں ۔ عالم نے ان کا تعارف دونوں آدمیوں سے کرایا اور الماری میں سے شراب کی بوتل نکا لی ۔ ایک
‫لڑکی گالس لے آئی ۔ شراب گالسوں میں ڈالی گئی ۔ ان دونوں آدمیوں نے شراب کو ہاتھ کو نہ لگایا۔
‫پہلے کام کی باتیں کر لیں ''۔ ہری پٹی والے نے کہا ۔''
‫ہمیں دو آدمیوں کو قتل کرنا ہے ''۔ دوسرے نے کہا ……''صالح الدین ایوبی کو اور علی بن سفیان کو ۔ ہماری مجبوری ''
‫''یہ ہے کہ ہم نے دونوں آدمیوں کو نہیں دیکھا ہمیں دونوں آدمی دکھا دیں ۔ کیا آپ نے انہیں دیکھا ہے ؟
‫اتنا دیکھا ہے کہ دونوں کو اندھیرے میں بھی پہچان سکتا ہوں ''۔عالم نے کہا …… ''میں نے جو مہم شروع کر رکھی ''
‫ہے اس کے لیے ضروری تھا کہ دونوں کو اچھی طرح پہچان لوں ۔ علی بن سفیان اتنا ذہین اور گھاگ ہے کہ اپنے کسی
‫جاسوس کو یہاں بھیجنے کی بجائے خود یہاں آ سکتا ہے ۔ اگر وہ بھیس بدل کر میرے سامنے آئے تو بھی اسے پہچان لوں
‫گا ''۔
‫اور صالح الدین ایوبی کے متعلق کیا خیال ہے ؟''…… ہری پٹی والے نے کہا ۔''
‫اسے بھی خوب پہچانتا ہوں ''۔عالم نے جواب دیا۔''
‫ہری پٹی والے نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی کنپٹیوں پر رکھے۔ داڑھی کو پکڑا اور ہاتھوں کو نیچے کو جھٹکا دیا ۔ اس لمبی داڑھی
‫اور گھنی مونچھیں اس کے چہرے سے الگ ہوگئیں ۔ پیچھے چھوٹی سی داڑھی رہ گئی جو نہایت اچھی طرح تراشی ہوئی
‫تھی ۔ مونچھیں بھی تراشیدہ تھیں ۔ لمبی داڑھی اور گھنی مونچھیں مصنوعی تھیں ۔جو اب اس نے ہاتھ میں لے رکھی
‫تھیں۔ اس نے آنکھ سے ہری پٹی بھی نوچ کرپرے پھینک دی ۔ عالم جہاں تھا وہیں بت بن گیا ۔ اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں
‫اور اس کا منہ کھل گیا ۔ دونوں لڑکیاں حیران و ششدر کبھی اس آدمی کو دیکھتیں جس نے اپنا بہروپ اتار دیا تھا ‪ ،کبھی
‫عالم کو دیکھتیں جس کا رنگ الش کی طرح کا ہو گیا تھا ۔ عالم کے منہ سے حیرت اور گھبراہٹ میں ڈوبی ہوئی سرگوشی
‫''نکلی …… ''صالح الد ین ایوبی ؟
‫ہاں دوست !''اسے جواب مال …… ''میں صالح الدین ایوبی ہوں ۔ تمہاری شہرت سن کر تمہارا درس سننے آیا تھا ''
‫''…… سلطان ایوبی نے اپنے ساتھی کی داڑھی کو مٹھی میں لے کر جھٹکا دیا تواس کی داڑھی چہرے سے الگ ہوگئی ۔ اس
‫''نے عالم سے کہا …… ''آپ اسے بھی پہچانتے ہوں گے ؟
‫پہچانتا ہوں ''عالم نے ہارے ہوئے لہجے میں کہا …… ''علی بن سفیان ''۔''
‫علی بن سفیان کی صرف تھوڑی پر داڑھی تھی ۔ اچانک لڑکیاں اور عالم پیچھے کو دوڑے اور الماری میں سے چھرا نما
‫تلواریں نکال لیں ۔ مگر ادھر کو گھومے تو ان کی تلواریں جھک گئیں کیونکہ صالح الدین ایوبی اور علی بن سفیان نے چغوں
‫کے اندر سے اسی قسم کی تلواریں نکال لیں تھیں ۔ لڑکیوں کو تیغ زنی کی مشق تو کرائی گئی تھی لیکن دو پشہ ور تیغ
‫زنوں کے مقابلے میں نہ آسکیں ۔ ان سے تلواریں رکھوا لی گئیں ۔ علی بن سفیان باہر نکل گیا۔ ذرا سی دیر میں چھ آدمی
‫جو باہر کھڑے تھے اسی سائز کی تلواریں سونتے کھڑکی میں سے کود کر آگئے ۔
‫دوسرے دن مسجد کے سامنے اس عالقے کے لوگوں کا ہجوم تھا۔ وہاں چند ایک سرکاری اہل کار بھی تھے جو لوگوں کو باری
‫عیسی اور حضرت مریم کی تصویریں آویزاں تھیں ۔
‫باری عالم کے اس خفیہ کمرے میں لے جا رہے تھے جہاں صلیب ‪ ،حضرت
‫ٰ
‫لوگوں کو شراب کی بوتلیں بھی دکھائی گئیں ۔ اہل کار لوگوں کو عالم کی اصلیت بتا رہے تھے اور وہ جہاد کا جو نظریہ
‫پیش کرتا رہتاتھا ‪ ،اس کی وضاحت کر رہے تھے
‫سلطان ایوبی کی ہدایت پر علی بن سفیان نے سارے ملک میں جاسوسوں کا جال بچھا دیا تھا کیونکہ یہ ثابت ہوگیا تھا کہ
‫ملک میں ‪ ،خصوصا ً قاہر ہ میں صلیبیوں نے بہت سے جاسوس اور تخریب کار بھیج دئیے ہیں ۔ صلیبیوں نے مسلمانوں کے
‫کردار کشی کی جو زمین دوز مہم چالئی تھی وہ سلطان ایوبی کو زیادہ پریشان کر رہی تھی۔ اسے جب علی بن سفیان نے
‫اطالع دی تھی کہ ایک مسجد کا پیش امام ہر رات درس دیتا ہے اور اسالمی نظریات کو بگاڑ کر پیش کر رہا ہے تو سلطان
‫ایوبی نے فورا ً ہی یہ حکم نہیں دیا تھا کہ اس عالم کو گرفتار کر لو ۔ اس نے کہا تھا …… ''علی ! مذہب میں فرقہ بندی
‫شروع ہوگئی ہے ۔ یہ پیش امام کسی فرقے کا ہوگا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قرآن کی اپنی تفسیریں پیش کر رہا ہو۔ میں
‫مذہب میں دخل نہیں دینا چاہتا ۔ میں حاکم ہوں عالم نہیں ہوں۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ وہ کوئی تخریب کار ہے ‪ ،تو
‫گرفتاری سے پہلے اچھی طرح چھان بین کر لو ۔ پیش امام کا درجہ مجھ سے بہت زیادہ بلندہے ''۔
‫علی بن سفیان خود اس مسجد میں درس سننے نہیں گیا تھا کیونکہ اسے شک تھا کہ اگر یہ پیش امام واقعی دشمن کا بھیجا
‫ہوا تخریب کا ر ہے تو اسے پہچانتا ہوگا۔ اس نے اپنے ذہین سراغرساں مسجد میں بھیجے تھے ۔ جو دس بارہ مرتبہ وہاں
‫گئے اور انہوں نے جو درس سنے وہ من وعن علی بن سفیان کو سنادئیے۔ آخر ایک رات اس صلیبی ''عالم'' نے جہاد پر
‫درس دیا اور تاویل یہ پیش کی جو صالح الدین ایوبی نے بھی سنی ۔ سراغ رسانوں نے یہ درس علی بن سفیان کو سنایا تو
‫کوئی شک نہ رہا ۔ علی نے سلطان ایوبی کو بتایا اور یہ رائے دی کہ اگر یہ شخص صلیبیوں کا جاسوس اور تخریب کار نہیں
‫تو بھی اسے پکڑنا یا روکنا ضروری ہے کیونکہ وہ جہاد کا ایسا نظریہ پیش کر رہا ہے جو صرف وہ آدمی پیش کر سکتا ہے جو

‫دشمن کا آدمی ہو یا اس کا دماغ چل گیا ہو ۔
‫سلطان ایوبی نے یہ رپورٹ بڑی ہی غور سے سنی اور کہا کہ معاملہ بہر حال مذہب‪ ،مسجد اور پیش امام کا ہے ۔ اس نے
‫فیصلہ کیا کہ وہ علی بن سفیان کے ساتھ خود بہروپ میں درس سننے جائے گا اور خود یقین کرے گا کہ پیش امام کی نیت
‫اور اصلیت کیا ہے ۔ جہاد کے ساتھ حیوانی جذبے کے ذکر نے سلطان ایوبی کے کان کھڑے کر دئیے تھے ۔ اس نے علی بن
‫سفیان سے ساتھ صالح مشورہ کر کے یہ بہروپ تیار کرایا تھا جس میں وہ مسجد میں گئے تھے ۔
‫علی بن سفیان جاسوسی اور جاسوسی کے خالف دفاع کے فن کا ماہر تھا ۔ اس نے سلطان ایوبی کو اپنی ایک اور کامیابی
‫سے آگاہ کر دیا تھا ۔ وہ یہ تھی کہ فیض الفاطمی کو جس صلیبی لڑکی نے موقعہ پر گرفتار کرایا اور احمد کمال کے نام کے
‫ایک کماندار کی خاطر اسالم قبول کرنے اور اس کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی مگر ماری گئی تھی ۔ اس نے وہ
‫خفیہ الفاظ اور اشارے بتائے تھے جو صلیبی جاسوس ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس کی نشاندہی پر
‫چند ایک مسلمان بھی پکڑے گئے تھے جو صلیبیوں سے زر و جواہرات اور خوبصورت لڑکیاں لے کر ان کے لیے جاسوسی کرتے
‫تھے ۔ انہوں نے بھی علی بن سفیان کے تہہ خانے میں تصدیق کی تھی کہ یہ الفاظ اور اشارے استعمال ہوتے ہیں ۔ اشارے
‫یہ تھے کہ جاسوس جو ایک دوسرے سے پہلی بار ملتے اور ایک دوسرے کے متعلق یقین کرنا چاہتے تھے ان میں سے ایک
‫آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا تھا ……''معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا ''…… وہ ایسی بے پروائی کے سے لہجے میں کہتا
‫تھا جیسے یونہی اسے موسم کا خیا ل آگیا ہو۔
‫دوسرا کہتا تھا ……''بارش آئے گی''…… اسے جواب ملتا تھا ۔ ''آسمان بالکل صاف ہے ''…… دوسرا کہتا تھا ……''ہم
‫گھٹائیں الئیں گے''…… اور وہ قہقہہ لگاتا تھا ۔ قہقہے کی ضرورت یہ ہوتی تھی کہ یہ مکالمہ کوئی اور سن لے یا دوسرا آدمی
‫جاسوس نہ ہو تو وہ سمجھے کہ اس آدمی نے مذاق کیا ہے ۔ علی بن سفیان کو بتایا گیا تھا کہ یہ خفیہ مکالمہ اس وقت
‫بوال جائے گا جب یہ ظاہر ہوجائے گا ۔دوسری بات جو علی بن سفیان نے معلوم کی تھی وہ یہی تھی کہ جاسوس ایک
‫دوسرے کو اپنا نام نہیں بتاتے تھے ۔ ان کا ہیڈ کوارٹر فلسطین کا ایک قصبہ شوبک تھا جو ایک قلعہ تھا ۔ یہ صلیبیوں کا
‫جاسوسی کا مرکز تھا ۔
‫ان انکشافات کے سہارے سلطان ایوبی اور علی بن سفیان بہروپ میں مسجد میں چلے گئے ۔ انہوں نے جہاد کے درس کی
‫خواہش ظاہر کی تو عالم نے خواہش پوری کر دی ۔ پھر وہ اس کے پاس اکیلے رہ گئے اور ان خفیہ مکالموں کو بے نقاب کر
‫دیا ۔ اس نے بعد میں بیان دیا تھا کہ وہ اتنا کچا جاسوس نہیں تھا کہ وہ اجنبی آدمیوں کے آگے اپنا آپ ظاہر کر دیتا۔ اسے
‫اعلی درجے کا
‫ان خفیہ الفاظ نے پھنسایا ‪ ،کیونکہ یہ مکالمہ ہر ایک جاسوس کو بھی معلوم نہیں ہوتا ۔ یہ جاسوسوں کے
‫ٰ
‫مکاملہ ہے ۔ اس سے نیچے اس سے کوئی جاسوس واقف نہیں ہوتا ۔ اس مکالمے کے بعد کا قہقہہ خاص طور پر قابل ذکر
‫تھا ۔ اس کے بغیر ایک دوسرے پر اپنا راز فاش نہیں کیا جاتا تھا ۔ سلطان ایوبی نے قہقہہ لگایا تھا ۔ وہ اپنے ساتھ چھ
‫جانبازوں کو بھی لے
‫گیا تھا کہ بوقت ضرورت مدد دیں۔
‫علی بن سفیان نے اس جاسوس کو اور دونوں لڑکیوں کو اپنے تہہ خانے میں بند کر دیا اور سب سے پہلے اس عالقے میں
‫جا کر تفتیش کی کہ یہ شخص اس مسجد پر قابض کس طرح ہوا اور اسے سے پہلے وہ جس جھونپڑے میں رہتا تھا وہ اسے
‫کس نے دیا تھا ۔ وہاں کے مختلف لوگوں نے جو بیان دئیے ان سے پتہ چال کر یہ شخص دو بیویوں کے ساتھ اس آبادی میں
‫آیا ۔ پہلے ایک آدمی کے گھر مہمان رہا ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ تو کوئی عالم فاضل ہے تو انہوں نے اسے جھونپڑا
‫دے دیا ۔ وہ اس میں مسجد میں نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ وہاں بہت مدت سے ایک پیش امام تھا ۔ یہ شخص پیش امام کا
‫مرید بن گیا ۔ پندرہ سولہ روز بعد پیش امام نے مسجد میں پیٹ درد کی شکایت کی۔ یہ شکایت اتنی تیزی سے بڑھی کہ
‫اس کے بعد پیش امام مسجد میں نہ آسکا ۔ حکیموں نے گھر جا کر دیکھا۔ دوائیاں دیں مگر و ہ تیسرے روز مر گیا ۔اس کے
‫بعد اس عالم نے لوگوں سے بات کر کے مسجد سنبھال لی۔ اس نے ایسا تاثر پیدا کیا کہ لوگ اس کے عقیدت مند ہوگئے اور
‫اس کی ضرورت کے مطابق اسے مکان دے دیا ۔
‫علی بن سفیان کے پوچھنے پر لوگوں نے اسے بتا یا کہ انہوں نے کئی بار اس شخص کو پیش امام کے لیے کھانا لے جاتے
‫دیکھا تھا ۔ علی بن سفیان جان گیا کہ پیش امام کو اس آدمی نے زہر دیا ہے اور اسے راستے سے ہٹا کر مسجد پر قبضہ
‫کیا تھا ۔ اس جاسوس کے گھر کی تالشی میں بہت سے ہتھیار برآمد ہوئے تھے۔ جو مختلف جگہوں میں چھپائے ہوئے تھے۔
‫وہاں زہر بھی برآمد ہوا ۔ وہ ایک کتے کو دیا گیا تو کتا تین دن بے چین رہا اور گرتا رہا اور اُٹھتا رہا ۔تیسرے دن شام کے
‫بعد کتا مر گیا ۔
‫علی بن سفیان نے اپنی تفتیش سلطان ایوبی کے آگے رکھی تو سلطان نے اسے کہا ……''ان تینوں کو قید میں خوب پریشان
‫کرو اور انہیں خوفزدہ کیے رکھو ‪ ،لیکن میں انہیں جالد کے حوالے نہیں کروں گا اور انہیں قید میں بھی نہیں ڈالوں گا ''۔
‫پھر آپ کیا کریں گے ؟''…… علی بن سفیان نے پوچھا ۔''
‫میں انہیں حفاظت اور عزت سے واپس بھیج دوں گا ''۔ علی بن سفیان نے حیرت زدہ ہو کر سلطان ایوبی کے منہ کی ''
‫طرف دیکھا ۔ سلطان نے کہا …… ''میں ایک جوا کھیلنا چاہتا ہوں علی ! ابھی مجھ سے کچھ نہ پوچھنا ۔ میں سوچ رہا
‫ہوں کہ یہ بازی لگائوں یا نہیں '' …… اس نے ذرا توقف سے کہا …… ''کل دوپہر کے کھانے کے بعد نائب ساالروں‪ ،مشیروں
‫اعلی کمانداروں اور انتظامیہ کے ہر شعبے کے سربراہ کو میرے پاس لے آنا۔ تمہاری موجودگی بھی ضروری ہے
‫' ‪،
‫ٰ
‫علی بن سفیان نے اس رات پہلی بار اس ''عالم '' سے تفتیش کی لیکن وہ بڑا سخت آدمی نکال ۔ اس نے کہا ……
‫''غور سے میری بات سن لو علی بن سفیان ! ہم دونوں ایک ہی میدان کے سپاہی ہیں ۔ تم میرے ملک میں کبھی پکڑے
‫گئے تو مجھے امید ہے کہ تم جان دے دو گے ‪ ،اپنے ملک اور اپنی قوم کو دھوکہ نہیں دوگے ۔ تم یہی توقع مجھ سے رکھو
‫۔ مجھے معلوم ہے میرا انجام کیا ہوگا ۔ اگر میں تمہیں وہ ساری باتیں بتادوں جو تم مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو تو بھی تم
‫لوگ مجھے بخشو گے نہیں۔ مجھے اس تہہ خانے میں مرنا ہے خواہ تم جالد سے مروادو خواہ اذیت میں ڈال کر مار دو ۔
‫پھر میں کیوں اپنی قوم کو دھوکہ دوں ''۔
‫مجھے امید ہے تم اپنا ارادہ بدل دو گے ' '…… علی بن سفیان نے کا …… ''کیا تم ان دو لڑکیوں کی عزت بچانے کی'''
‫''خاطر یہ پسند نہیں کرو گے کہ میں جو پوچھوں وہ مجھے بتا دو ؟
‫تم ''کیسی عزت؟''…… اس نے جوا ب دیا …… ''ان لڑکیوں کے پاس صرف حسن اور ناز نخرے ہیں یا وہ استادی ہے
‫جس سے وہ پتھر کو بھی موم کر لیتی ہیں ۔ ان کے پاس عزت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ یہی تو انہیں سکھالیا جا تا ہے

‫کہ اپنی عزت سے دستبردار ہوجاو۔ ہم لوگ اپنی جان اور عزت بہت دور پھینک آتے ہیں۔ تم ان لڑکیوں کے ساتھ جیسا بھی
‫سلوک کرنا چاہو کرلو ۔
19:27
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪33.۔" جب زہر نے زہر کو کاٹا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫جیسا بھی سلوک کرنا چاہو کرلو ۔ انہیں میرے سامنے ذلیل کرلو‪ ،میں تمہیں کچھ نہیں بتائوں گا ۔ لڑکیاں بھی تمہیں کچھ
‫نہیں بتائیں گی ''۔
‫جاسوس لڑکیوں کو ہم سزائے موت د ے دیا کرتے ہیں انہیں ذلیل کبھی نہیں کیا ''۔ علی بن سفیان نے کہا ……''ہمارا ''
‫مذہب عورت کواذیت میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا ''۔
‫میرے دوست !'' جاسوس نے کہا ……''تم پیار کا حربہ استعمال کرو یا اذیت کا ہم میں سے کوئی بھی اپنے اس ''
‫ساتھیوں کی نشاندہی نہیں کرے گا جو تمہاری سلطنت کی جڑوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ تم نے لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک
‫کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ میں اس کے عوض تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ یہ میری اور تمہاری جنگ نہیں صلیب اور چاند تارے
‫کی جنگ ہے ۔ میں ان معمولی جاسوسوں میں سے نہیں ہوں جو ادھر کی خبریں ادھر بھیجتے اور تمہارے آئندہ کے ارادے
‫معلوم کرتے رہتے ہیں ۔ اس شعبے میں میرا ُرتبہ بہت اونچا ہے ۔میں عالم ہوں ۔ اپنے مذہب کا مطالعہ اتنا ہی گہرا کیا
‫جتنا تمہارے مذہب کا ۔ انجیل اور قرآن کی تہہ تک پہنچا ہوں۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ تمہار امذہب بہتر اور سادہ ہے ۔ یہ
‫ہر انسان کا مذہب ہے جس میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ اس کی مقبولیت کی وجہ بھی یہی ہے ‪ ،مگر میں تمہیں بتا دینا چاہتا
‫ہوں کہ تمہارے دشمنوں نے تمہارے مذہب کی اصلیت کو بگاڑ دیا ہے تا کہ اس کی مقبولیت ختم ہوجائے ۔ یہودیوں نے
‫مسلمان علماء کے بھیس میں اس میں بے شمار بے بنیاد روایات شامل کر دی ہیں ۔اسالم توہمات کے خالف تھا مگر اس
‫وقت سب سے زیادہ توہم پرست مسلمان ہیں ۔ میں نے چاند گرہن اور سورج گرہن کے وقت مسلمانوں کو سجدے کرتے اور
‫……'' نذرانے دیتے دیکھا ہے اور ایسی کئی ایک بدعتیں تمہارے مذہب میں شامل کر دی گئی ہیں
‫ہم ایک لمبی مدت سے تمہارے اصل نظریات کو بگاڑ رہے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں صرف دو مذہب رہ جائیں''
‫گے ۔ ایک عیسائیت‪ ،دوسرا اسالم ‪،اور یہ دونوں اس وقت تک معرکہ آراء رہیں گے جب تک دونوں میں سے ایک ختم نہیں
‫ہو جاتا ۔ کسی بھی مذہب کو تیروں اور تلواروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ کسی مذہب کو تبلیغ سے بھی ختم نہیں کیا
‫جا سکتا ۔ اس کایہی ایک طریقہ ہے جو میں نے اختیار کیا تھا ۔ میں تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ اس مہم میں ‪ ،میں اکیال
‫نہیں ۔ پورا ایک گروہ تمہارے نظریات پر حملہ آور ہوا ہے ''۔
‫علی بن سفیان اس کے سامنے ٹہل رہا تھا اور اس کی باتیں غور سے سن رہا تھا ۔ اس نے عالم جاسوس کے پاوں میں
‫بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال رکھی تھیں ۔ اس کا ارادہ تو یہ تھا کہ اس جاسوس کو بھی ہر جاسوس کی طرح اذیتوں
‫کے اسی مرحلے میں سے گزارے گا جہاں کسی بھی لمحے جاسوس سارے راز اُگل دیتے ہیں لیکن اس نے قید خانے کے ایک
‫محافظ کو بال کر اس آدمی کی بیڑیاں اور ہتھکڑیاں کھلوادیں اور اس کے لیے پانی اور کھانا منگوایا۔ اس نے کہا ……''میرے
‫اس سلوک کو ا ُگلوانے کا حربہ نہ سمجھنا ۔ ہم عالموں کی قدر کیا کرتے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ہوں۔ میں تم
‫سے کچھ نہیں پوچھوں گا ۔ جو کچھ بتانا پسند کرتے ہو بتا دو ''۔
‫اور میں تمہاری قدر کرتا ہوں علی !''…… عالم جاسوس نے کہا …… ''میں نے تمہاری بہت تعریف سنی ہے ۔ تم میں ''
‫فن کاکمال بھی ہے اور جذبے کی حرارت بھی ۔ تمہارے لیے سب سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ صلیبی بادشاہ تمہیں
‫قتل کرانا چاہتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کے ہم پلہ ہو …… میں تمہیں بتا رہا
‫تھا کہ میں نے علم سے یہ حاصل کیا ہے کہ کسی قوم کے تہذیب و تمدن اور مذہب کو بگاڑ دو تو فوجوں کے حملے اور
‫جنگ و جدل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ کسی قوم کو مارنا ہو تو اس میں جنسی آگ بھڑکادو ۔ یقین نہ آئے تو اپنے
‫مسلمان حکمرانوں کی حالت دیکھ لو ۔ تمہارے رسول ۖ نے کہا تھا کہ نفس کو مارو کہ یہی تباہی کی جڑ ہے ۔ تمہاری قوم
‫نے اس پر کب تک عمل کیا ؟ رسول ۖ کی زندگی تک۔ یہودیوں نے اپنی حسین لڑکیوں سے تمہاری قوم کو بھڑکایا۔ آج تمہاری
‫قوم نفس کی غالم ہو گئی ہے۔ تم میں جس کے پاس دولت آجاتی ہے تو وہ سب سے پہلے حرم کو عورتوں سے بھرتا
‫ہے ۔ ہر مسلمان خواہ وہ غریب ہی ہو‪ ،چار بیویاں ضرور رکھنا چاہتا ہے ۔یہودیوں کے روپ میں تمہارے نظریات میں جنسیت
‫ڈال دی ۔ اگر اپنے رسول ۖ کی ہدایت پر مسلمان عمل پیرا رہتے تو میں یہ یقین سے کہتا ہوں کہ آج دنیا کا تین چوتھائی
‫حصہ مسلمان ہوتا ‪ ،مگر اب یہ حال ہے کہ تین چوتھائی مسلمان برائے نام مسلمان ہیں اور تمہاری سلطنت سکڑتی سمٹتی
‫چلی جا رہی ہے ۔ تم نہیں سمجھتے کہ یہ اس حملے کا نتیجہ ہے جو مجھ جیسے عالموں نے تمہارے مذہب اور تہذیب و
‫تمدن پر کیا ہے ''۔
‫میرے دوست !یہ حملے جاری رہیں گے۔ میں پیشین گوئی کر سکتا ہوں کہ ایک روز اسالم اس دنیا میں نہیں رہے گا ۔ ''
‫اگر ہوگا تو ایک فرسودہ نظریے کی شکل میں موجود رہے گا اور اس کے پیروکار جنسی لذت میں مست ہوں گے۔ ہر کوئی
‫صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی نہیں بن سکتا ۔ انہیں کل پرسوں مر جانا ہے۔ ان کے بعد جو آئیں گے ‪ ،انہیں ہم نفس
‫پرستی میں مبتال کر دیں گے۔ مجھے قتل کر دو ۔میری مہم کو قتل نہیں کر سکوگے ۔ انسانوں کے مر جانے سے مقاصد نہیں
‫مر جا یا کرتے ۔ میر جگہ کوئی اور آئے گا ۔ ہم اسالم کو ختم کر کے اپنا غالم بنا کر دم لیں گے …… اب چاہو تو مجھے
‫جالد کے حوالے کر سکتے ہو ۔ میں اور کچھ نہیں بتائوں گا ''۔
‫علی بن سفیان نے اس سے اور پوچھا بھی کچھ نہیں ۔ وہ غالبا ً سوچ رہا تھا کہ اس کا کام کس قدر دشوار اور کتنا نازک
‫ہے۔ اس صلیبی تخریب کار نے جو کچھ کہا ۔ سچ تھا ۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ قوم میں اخالقی تباہی کے جراثیم پیدا ہوچکے
‫تھے۔ عرب کے امراء وزراء تو پوری طرح تباہ ہوچکے تھے۔ صالح الدین ایوبی میدان جنگ میں صلیبیوں کو شکست دے کر
‫سلطنت اسالمیہ کو وسیع تر کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا مگر صلیبیوں نے ایسے پہلو سے حملہ کیا تھا جسے روکنا سلطان
‫ایوبی کے بس سے باہر نظر آتا تھا …… علی بن سفیان عالم جاسوس کی کوٹھری بند کراکے ان کوٹھڑیوں کے سامنے جا کھڑا
‫ہوا جن میں لڑکیاں قید تھیں ۔ وہ ایک کوٹھڑی کے اندر چال گیا ۔ لڑکی فرش پر بیٹھی تھی ۔ اسے دیکھ کر اُٹھ کھڑی ہوئی
‫۔ عالی اسے خاموشی سے دیکھتا رہا اور کچھ کہے بغیر باہر نکل آیا ۔
‫٭ ٭ ٭

‫اگلے روز دوپہر کے کھانے کے بعد فوج اور انتظامیہ کے تمام حاکم اور عہد یدار اس کمرے میں جمع تھے جہاں صالح الدین
‫ایوبی انہیں احکامات اور ہدایات دیا کرتا تھا ۔ اس سب کو پتہ چل چکا تھا کہ ایک جاسوس اور دو لڑکیوں کے ہمراہ پکڑا
‫گیا ہے۔ وہ آپس میں چہ میگو ئیاں کر رہے تھے کہ سلطان ایوبی آگیا ۔ اس نے سب کو گہری نظر سے یو ں دیکھا جیسے
‫ان میں سے کسی کو تالش کر رہا ہو۔
‫میرے عزیز ساتھیو !''اس نے کہا ……''آپ نے سن لیا ہوگا کہ ہم نے ایک مسجد سے ایک صلیبی کو پکڑا ہے جو وہاں''
‫باقاعدہ امام بنا ہوا تھا ''۔ اس نے تفصیل سے بتایا کہ اسے کس طرح پکڑا گیا ہے ۔ پھر انہیں وہ باتیں سنائیں جو
‫جاسوس نے علی بن سفیان کے ساتھ قید خانے میں کی تھیں ۔علی بن سفیان یہ باتیں سلطان ایوبی کو سنا چکا تھا ۔
‫صالح الدین ایوبی نے کہا ……''میں نے آپ کو یہ وعظ سنانے کے لیے نہیں بالیا کہ جاسوسوں اور تخریب کاروں سے بچو۔
‫میں آپ کو یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اسالم دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے واال جہنم میں جائے گا ۔ میں صرف یہ کہوں گا
‫کہ کفار کے ساتھ دوستی کرنے والے کے لیے میں یہ دنیا جہنم بنا دوں گا ۔ میں اب کسی غدار کو سزائے موت نہیں دوں گا
‫۔ موت نجات کاذریعہ ہے ۔میں نے اب غدار کی یہ سز امقررکی ہے کہ اس کے گلے میں رسی ڈال کر ایک تختی آگے اور
‫ایک پیچھے لٹکا کر اسے ہر روز بازاروں میں گھما پھرا کر چوک میں کھڑا کر دیا جائے گا ۔ تختیوں پر لکھا ہوگا ……'میں
‫غدار ہوں ' …… اسے ہر روز صبح سے شام کھڑا رکھا جائے گا تا کہ وہ بھوکا پیاسا مر جائے گا اور اس کی الش شہر سے
‫باہر پھینک دی جائے گی۔ اس کے لواحقین کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ اس کا جنازہ پڑھیں یا اسے دفن کریں ''۔
‫لیکن میرے عزیز دوستو! اس سے دشمن کا کچھ نہیں بگڑ جائے گا ۔ وہ ایک اور غدار پیدا کرلے گا ۔جب تک اس کے ''
‫پاس عورت کے بے حیائی اور زروجواہرات کی فروانی اور ہمارے پاس ایمان کی کمی ہے ‪ ،وہ غدار پیدا کرتا رہے گا ۔ کیا یہ
‫آپ کی غیرت کے لیے چیلنج نہیں کہ آپ کا دشمن آپ کی مسجد میں بیٹھ کر آپ کا قرآن ہاتھ میں لے کر آپ کے رسولۖ
‫کے فرمان کو مسخ کرے؟ اس پہلو پر بھی غور کریں کہ صلیبی جو لڑکیاں یہاں جاسوسی کے لیے اور ہماری قوم کی کردار
‫کشی کے لیے بھیج رہے ہیں ‪ ،ان میں بہت سی لڑکیاں مسلمانوں کی بچیاں ہیں جنہیں ان کفار نے قافلوں سے اغوا کیا اور
‫انہیں بدکاری کے شرمناک تربیت دے کر جاسوسی کے لیے تیا ر کیا ہے ۔ فلسطین کفار کے قبضے میں ہے ۔ وہاں مسلمانوں
‫پر جو ظلم و تشدد ہو رہا ہے ۔وہ مختصرا ً یہ ہے کہ صلیبی ان کے گھروں کو لوٹتے رہتے ہیں۔ وہ فریاد کرتے ہیں تو قید
‫خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کی کمسن بچیوں کو غائب کر دیا جاتا ہے ۔ ان میں جو غیر معمولی طور پر خوبصورت
‫ہوتی ہیں ان کے ذہنوں سے مذہب اور قومیت نکا ل دی جاتی ہے اور انہیں بے حیائی کی تربیت دے کر مردوں کو انگلیوں
‫پر نچانا سکھا کر انہیں مسلمانوں کے عالقوں میں جاسوسی اور تخریب کاری کے لیے بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس گروہ میں ان
‫کی اپنی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں۔ ان میں تو شرم و حجاب اور عصمت کی کوئی قدر ہی نہیں ۔ وہ مسلمان بچیوں کو بھی
‫……'' بدی کے لیے استعمال کرتے ہیں
‫انہوں نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو وہ وہاں سب سے بڑا جو انقالب الئے وہ یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے لیے ''
‫جینا حرام کر دیا ۔ ان کا قتل عام کیا ‪ ،ان کے گھروں کو لوٹ لیا ‪ ،مسجدوں کو اصطبلوں اور گرجوں میں بدل دیا‪ ،مسلمان
‫بچیوں کا اغوا کر کے انہیں قحبہ خانوں میں بٹھا دیا گیا ‪ ،جو خوبصورت نکلیں انہیں تخریب کاری اور بدکاری کی تربیت دے
‫کر ہمارے امیروں اور وزیروں کے حرموں میں داخل کر دیا اور انہیں ہمارے خالف بھی استعمال کیا ۔ مسلمان گھرانوں کی
‫بچیوں کے گلوں میں انہوں نے صلیب لٹکا دی ۔ مسلمان جو فلسطین سے بھاگے اور ہمارے پاس پناہ لینے کے لیے قافلہ در
‫قافلہ چلے انہیں راستے میں شہیدکر دیا گیا۔ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی آبروریزی سرعام ہوئی اور میرے کلمہ گو بھائیو ! یہ
‫سلسلہ رکا نہیں۔ ابھی تک جاری ہے۔ صلیبیوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسالم کا کوئی نام لیوا زندہ نہ رہے اور مسلمان
‫لڑکیاں عیسائیوں کو جنم دیں ۔ ہم سب پر اللہ کی لعنت برس رہی ہے کہ ہم اپنے ان مسلمان بھائیوں اور ان کی بچیوں کو
‫فراموش کیے بیٹھے ہیں جو وہاں ذلت اور مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اس سے بڑا گناہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ
‫ہم ان شہیدوں کو بھی فراموش کیے بیٹھے ہیں جو صلیبیوں کی بربریت کا شکا ر ہوئے …… میں آپ کو کوئی حکم دینے سے
‫پہلے آپ سے پوچھتا ہوں کہ اس صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ آپ میں تجربہ کاری فوجی ہیں اور انتظامیہ کے
‫حاکم بھی ''۔
‫پرانی عمر کا ایک کماندار ا ُٹھا ۔ اس نے کہا ……''امیر مصر ! ہمیں آپ کے حکم کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ یہ حکم
‫خداوندی ہے کہ تمہارے پڑوس میں مسلمان نسل پر ظلم ہو رہا ہو اور وہاں کے مسلمان خدا کو مدد کے لیے پکا ر رہے ہوں
‫تو ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اس ملک پر فوج کشی کر کے اپنے کلمہ گو بھائیوں کو نجات دالئیں۔ ہمیں فلسطین پر فوج
‫کشی کرنی چاہیے ''۔
‫نائب ساالر کے رتبے کے ایک اور شخص نے ا ُٹھ کر جوش سے کہا ……''کفار پر فوج کشی سے پہلے آپ ان مسلمان حاکموں
‫اور امراء پر فوج کشی کریں جو در پردہ کفار کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں ۔ ہمارے لیے یہ صورت حال باعث شرم ہے کہ
‫ہماری صفوں میں غدار بھی ہیں ۔ فیض الفاطمی کے رتبے کا آدمی غدار ہو سکتا ہے تو چھوٹے عہدوں پر کیا بھروسہ کیا جا
‫سکتا ہے ۔ ایک مسلمان بچی کی آبروریزی کا انتقام لینے کے لیے ساری قوم کو فنا ہو جانا چاہیے مگر یہاں ہماری ایک
‫پوری نسل کی آبروریزی ہو رہی ہے اور ہم سوچ رہے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ صلیبیوں نے ہماری بچیوں کو بدکاری کے
‫لیے تیار کیا اور ہم سے ان کے ساتھ بدکرای کرا رہے ہیں۔ محترم امیر ! اگر میں جذباتی نہیں ہو گیا تو مجھے یہ تجویز
‫پیش کرنے کی
‫اجا زت دیں کہ ہمیں فلسطین لینا ہے ۔ صلیبیوں نے ہمارے قبلہ اول کو بدی کا مرکز بنا رکھا ہے ''۔
‫ایک اور آدمی ا ُٹھا لیکن سلطان ایوبی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بٹھا دیا اور کہا ……''میں یہی سننا چاہتا تھا ۔ آپ میں
‫سے جو میرے قریب رہتے ہیں جانتے ہیں کہ میرا اولین ہدف فلسطین ہے ۔ میں مصر کی امارت کے فرائض سنبھالتے ہی
‫فلسطین پر حملہ کرنا چاہتا تھا مگر دو سال سے زیادہ عرصہ گزرگیا ہے ‪ ،ایمان فروشوں نے مجھے مصر میں ایسا اُلجھایا ہے
‫جیسے میں دلدل میں پھنس گیا ہوں۔ ذرا ان دو سالوں کے واقعات پر غور کریں۔ آپ صلیبی تخریب کاروں اور غداروں کے
‫خالف لڑ رہے ہیں ۔ سوڈانیوں کہ ہمارے خالف لڑانے والے ہم میں سے ہی ہیں۔ سوڈانی حبشیوں سے مصر پر حملہ کرانے
‫والے ہمارے اپنے ساالر اور کماندار تھے ۔ وہ اس قومی خزانے سے تنخواہ لیتے تھے جس میں قوم کا پیسہ ہے اور جس میں
‫زکو ة کا پیسہ ہے۔ میں نے اس امید پر دو سال گزار دئیے ہیں کہ میں جاسوسوں‪ ،انہیں پناہ اور مدد
‫خدا کے نام پر دی ہوئی
‫ٰ
‫دینے والوں اور ایمان فروشوں کو ختم کر کے فلسطین پر حملہ کروں گا ‪ ،لیکن میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تخریب کاری
‫کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا ۔ کیوں نہ اس چشمے کو جا کر بند کیا جائے جہاں اسالم دشمنی کے سامان پیدا کیے جاتے

‫……'' ہیں ۔ ہم صلیبیوں کو خود موقع دے رہے ہیں کہ وہ ہماری صفوں میں غدار پیدا کریں
‫میں نے آج آپ کو اس لیے بالیا ہے کہ فلسطین پر حملے میں اب زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔ فوج کی جنگی مشقیں اور ''
‫تربیت تیز کردو۔ مجاہدین کو لمبے عرصے کا محاصرہ کرنے کی مشق کرائو۔ مجھے ترک اور شامی دستوں پر پورا اعتماد ہے ۔
‫مصریوں اور وفادار سوڈانیوں میں جذبہ اور پختہ کرو اور انہیں بتاو کہ وہ تمہاری ہی بہنیں اور بیٹیاں ہیں جو صلیبیوں کی
‫…… درندگی کا شکا ر ہو رہی ہیں
‫آپ میں انتظامیہ کے جو حضرات ہیں ان کے ذمے یہ فرض ہے کہ وہ مسجدوں کے پیش اماموں سے کہیں کہ لوگوں کو جہاد
‫کی غرض و غائیت واضح کریں اور نو عمر لڑکوں میں عسکری خیاالت پیدا کریں۔ کوئی بھی پیش امام یا خطیب اسالمی
‫نظریات کو غلطی سے یا دانستہ غلط رنگ میں پیش کرتا ہے تو اسے امامت کے فرائض سے سبکدوش کر دیں ۔ اگر کردار
‫مضبوط ہو تو کوئی کشش گمراہ نہیں کر سکتی۔ ذہنوں کو فارغ نہ رہنے دیں ‪ ،کھال نہ چھوڑیں۔ ورنہ دشمن انہیں استعمال
‫کرے گا …… فوجوں کے کوچ کے احکامات آپ کو جلدی مل جائیں گے ۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو
‫عالم جاسوس اور دونوں لڑکیوں کو سلطان ایوبی نے مالقات کے لیے بالیا ۔ انہیں الیا گیا تو سلطان ایوبی نے کہا انہیں دوسرے
‫کمرے میں بٹھا دو۔ ان کے پاو ں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں زنجیر یں تھیں۔انہیں جس کمرے میں بٹھایا گیا وہ سلطان ایوبی
‫کے خاص کمرے کے ساتھ تھا ۔ دونوں کا ایک دروازہ تھا ‪ ،جس کا ایک کواٹر کھال ہوا تھا ۔ سلطان ایوبی کمرے میں ٹہل
‫رہا تھا ۔ اس نے ٹہلتے ٹہلتے کہا ……''میں فوری طور پر کرک پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر چکا ہوں ''۔
‫کرک فلسطین کا ایک قلعہ نما قصبہ تھا ۔ دوسرا مشہورقلعہ شوبک تھا ۔یہ بھی ایک مضبوط قلعہ تھا ۔ شوبک کو صلیبیوں
‫اعلی کمانڈرشوبک میں ہی اکھٹے ہوا کرتے تھے۔ یہیں صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا
‫نے مرکز بنا رکھا تھا۔ صلیبی بادشاہ اور
‫ٰ
‫ہیڈ کوارٹر تھا اور یہ جاسوسوں کا ٹریننگ کیمپ تھا ۔ سلطان ایوبی کے فوجی اور شہری انتظامیہ کے حلقوں میں خیال یقین
‫کی حد تک تھا کہ سلطان ایوبی سب سے پہلے شوبک پر حملہ کرے گا کیونکہ اس جگہ کی اہمیت ہی ایسی تھی ۔ اگر
‫اس مضبوط اڈے کو سر کر لیا جاتا تو صلیبیوں کی کمر توڑی جا سکتی تھی ۔ مگر سلطان ایوبی کہہ رہا تھا کہ پہلے کرک
‫پر حملہ کیا جائے گا ۔ یہ تو ثانوی اہمیت کی جگہ تھی ۔ایک نائب ساالر نے کہا ……''محترم ! آپ کا حکم سر آنکھوں
‫پر ‪ ،میری ناقص رائے یہ ہے کہ پہلے شوبک سر کر لیا جائے۔ دشمن کی مرکزی کمان ختم کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم نے
‫شوبک لے لیا تو کرک لینا کوئی مشکل نہ ہوگا اور اگر ہم نے کرک پر طاقت ضائع کردی تو شوبک لینا نا ممکن ہوجائے گا
‫''۔
‫دوسرے کمرے میں جاسوس بیٹھے تھے۔ درمیانی دروازے کا ایک کواڑ کھال تھا ۔ سلطان ایوبی کے کمرے کی آوازیں اس کمرے
‫میں صاف سنائی دے رہی تھیں ۔ عالم جاسوس کے کان کھڑے ہوئے ۔ وہ آہستہ آہستہ سرک کر دروازے کے ساتھ ہوگیا ۔ اس
‫وقت سلطان ایوبی کہہ رہاتھا ……''میں درجہ بدرجہ پیش قدمی کرنا چاہتا ہوں۔ کرک شوبک کی نسبت آسان شکار ہے ۔ میں
‫اس پر قبضہ کرکے اسے اڈہ بنا لوں گا ۔ کمک منگوا کر اور فوج کو کچھ عرصہ آرام دے کر پوری تیاری کے بعد شوبک پر
‫حملہ کروں گا ۔اس قصبے کا دفاع ہمارے جاسوسوں کے کہنے کے مطابق‪ ،اتنا مضبوط ہے کہ ہمیں لمبے عرصے تک اسے
‫محاصرے میں رکھنا پڑے گا ۔ میرا خیال ہے کہ کرک پر ہماری زیادہ طاقت ضائع نہیں ہوگی۔ ہمیں پہلے ایک اڈا چاہیے اور
‫اایسی رسد گاہ جہاں سے ہمیں فوری طور پر رسد ملتی رہے ''۔
‫عالم جاسوس دروازے کے ساتھ بیٹھا سن رہا تھا ۔ دونوں لڑکیاں بھی اس کے پاس آ بیٹھیں۔ علی بن سفیان نے بھی دھیان
‫نہ دیا کہ ایسی راز کی باتیں جاسوسوں کے کانوں میں پہنچ رہی ہیں ۔ ہو سکتا ہے سلطان ایوبی اور علی بن سفیان نے اس
‫لیے احتیاط نہ کی ہو کہ ان جاسوسوں کو شوبک واپس تھوڑی ہی جانا تھا۔انہیں تو ساری عمر قید میں گزارنی تھی یا جالد
‫کے ہاتھوں مرنا تھا۔ عالم جاسوس نے لڑکیوں سے سرگوشی میں کہا ……'' کاش‪ ،ہم میں سے کوئی ایک یہاں سے نکل سکے
‫اور صالح الدین ایوبی کے اس ارادے کی اطالع شوبک اور کرک تک پہنچا دے۔ یہ کتنا قیمتی راز ہے ‪ ،اگر پہلے ہی وہاں
‫پہنچا دیا جائے تو مسلمان کی فوج کو کرک کے راستے میں ہی لڑائی میں اُلجھا کر اس کی طاقت ختم کی جاسکتی ہے۔ ان
‫کا حملہ کرک سے دور ہی پسپائی میں بدال جا سکتا ہے ''۔
‫ہمیں مکمل رازداری کی ضرورت ہے ''…… سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے کہہ رہا تھا ……''اگر صلیبیوں کو ''
‫ہمارے حملے کی خبر قبل از وقت ہوگئی تو ہم کرک تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ وہ ہمیں راستے میں ہی روک لیں گے ۔
‫ہمارے لیے خطرہ یہ ہے کہ صلیبیوں کے مقابلے میں ہماری فوج بہت کم ہے۔ صلیبیوں کی نفری زیادہ ہونے کے عالوہ ان کے
‫گھوڑے اور ہتھیار ہم سے بہتر ہیں ۔ان کے خول لوہے کے ہیں او وہ زرہ بکتر بھی پہنتے ہیں ۔ اس سے ہمارے تیر انداز
‫بیکار ثابت ہوئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ صلیبیوں کو بے خبری میں جالوں تا کہ انہیں کھلے میدان میں لڑنے کا موقعہ نہ
‫ملے۔ اگر وہ کھلے میدان میں لڑے تو ہمارے عقب میں آکر وہ ہماری رسد کا نظام روک دیں گے ۔ اس کا نتیجہ پسپائی اور
‫شکست کے سوا کچھ نہ ہوگا ۔ میں وہ راستہ اختیار کروں گا جو جاریب کے ٹیلوں میں سے گزرتا ہے۔ یہ بڑا وسیع اور
‫عریض عالقہ ہے ۔ مجھے خطرہ صرف یہ نظر آرہا ہے کہ صلیبی راستے میں آکر لڑے تو ہمیں شکست کے لیے تیار رہنا
‫چاہیے ''۔
‫اس کا عالج یہ ہے کہ فوج کو تین چار حصوں میں تقسیم کر کے صرف رات کے وقت کوچ کرایا جائے ۔ دن کے وقت ''
‫کوئی حرکت نہ کی جائے ''… علی بن سفیان نے کہا …… ''''راستے میں کوئی بھی اجنبی آدمی یا قافلہ نظر آئے تو
‫اسے روک لیا جائے اور کرک تک پہنچنے تک اسے اپنے ساتھ رکھا جائے ۔ جاسوسی کے خالف یہی اقدام کارگر ہوسکتا ہے
‫''۔
‫اس وقت جب عالم جاسوس اور دو لڑکیاں سلطان ایوبی کی زبان سے اس قدر نازک اور اہم منصوبہ سن رہی تھیں ‪ ،شوبک
‫کے قلعے میں صلیبیوں کی اہم شخصیتوں اور کمانڈروں کی کانفرنس بیٹھی ہوئی تھی ۔ وہ لوگ پریشان سے تھے۔ ان میں
‫حاتم االکبر نام کا ایک مصری مسلمان بھی بیٹھا تھا ۔ وہ انہیں یہ خبریں تفصیل سے سنا چکا تھا کہ خلیفہ العاضد معزولی
‫کے بعد مر چکا تھا ۔ مصر اب بغداد کے خلیفہ کے تخت تک آگیا تھا ۔ صلیبیوں کا وفادار مسلمان نائب ساالر رجب پر
‫اسرار طریقے سے مارا جا چکا تھا ۔ وہ جن تین لڑکیوں کو شوبک سے لے گیا تھا وہ ماری جا چکی ہیں اور صلیبیوں کا
‫ایک اور وفادار مسلمان فوجی حاکم فیض الفاطمی بھی جالد کے ہاتھوں مروا دیا گیا ہے۔ اب حاتم االکبر نے انہیں یہ خبر
‫بدسنائی کہ جس عالم جاسوس کو دو لڑکیوں کے ساتھ قاہرہ بھیجا گیا تھا وہ عین اس وقت لڑکیوں سمیت گرفتار ہوگیا ہے
‫جس وقت اس کا مشن کامیاب ہو رہا تھا ۔
‫یہ ثبوت ہے کہ صالح الدین ایوبی کا سراغرسانی کا نظام بہت ہوشیار ہے '' …… کونارڈ نے کہا …… کونارڈ صلیبیوں کا ''

‫مشہور حکمران اور فوجی کمانڈر تھا ۔ اس نے کہا ……''ان لڑکیوں کو وہاں سے آزاد کرانا ممکن نہیں ۔ نہایت اچھی لڑکیاں
‫ضائع ہوتی جا رہی ہیں ''۔
‫صلیب کی خاطر ہمیں یہ قربانی دینی پڑے گی ''…… صلیبیوں کے ایک اور بادشاہ اور فوجی کمانڈر گے آف لوزینان نے کہا''
‫……''ہمیں بھی مرنا ہے ۔ ہمارے جو آدمی پکڑے گئے ہیں انہیں بھول جاو۔ ان کی جگہ اور آدمی بھیجو۔ یہ دو لڑکیاں کہاں
‫''سے آئی تھیں ؟''…… اس نے پوچھا ……''اور وہ تین لڑکیاں کون تھیں جو رجب کے ساتھ ماری گی تھیں ؟
‫ان میں دو عیسائی تھیں ''…… ان کے انٹیلی جنس کے سربراہ نے جواب دیا ……''دونوں اطالوی تھیں اور تین مسلمان ''
‫تھیں ۔ انہیں بچپن میں اغوا کیا گیا تھا ۔ بہت خوبصورت تھیں ‪ ،جوانی تک انہیں یاد نہیں رہا تھا کہ وہ مسلمان
‫تھیں۔ ہم نے انہیں بچپن میں ہی اس فن کی تربیت دینی شروع کر دی تھی ۔ یہ شک بھی کیا جا سکتا ہے انہیں چونکہ
‫معلوم تھا کہ وہ مسلمان ہیں اس لیے انہوں نے ہمیں دھوکہ دیا ''۔
‫مسلمان تھیں تو کیا ؟''……کونارڈ نے کہا اور حاتم االکبر کی طرف اشارہ کر کے کہا ……''ہمارا پیارا دوست حاتم بھی تو ''
‫مسلمان ہے۔ کیا اسے اپنے مذہب کا پاس نہیں ؟''…… اس نے شراب کا گالس حاتم کے ہاتھ میں دے کر کہا ……''حاتم
‫جانتا ہے کہ صالح الدین ایوبی مصر کو غالمی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتا ہے اور وہ اسالم کے نام پر کھیل رہا ہے۔ ہم
‫مصر کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ صالح الدین ایوبی کو مصر میں چین سے بیٹھنے نہ دیا جائے ''۔
‫حاتم االکبر صلیبیوں کی شراب میں بدمست اس کی تائید میں سر ہال رہا تھا ۔ اس نے کہا …… ''میں اب وہاں ایسا انتظام
‫کروں گا کہ آپ کا کوئی آدمی وہاں پکڑا نہیں جائیگا ''۔
‫اگر ہم مصر میں یہ زمین دوز گڑبڑ جاری نہ رکھتے تو صالح الدین ایوبی ہم پر کبھی کا حملہ کر چکا ہوتا ''…… ایک ''
‫صلیبی کمانڈر نے کہا ……''یہ ہماری کامیابی ہے کہ ہم اس کی طاقت اس کے اپنے آدمیوں پر ضائع کر رہے ہیں''۔
‫کیا اس کے اور علی بن سفیان کے خاتمے کا ابھی کوئی انتظام نہیں ہوا؟''…… کونارڈ نے پوچھا ۔''
‫کئی بار ہوچکا ہے ''…… انٹیلی جنس کے سربراہ نے کہا ……''لیکن کامیابی نہیں ہوئی ۔ناکامی کی وجہ یہ ہے دونوں ''
‫پتھر قسم کے انسان ہیں ۔ نہ وہ شراب پیتے ہیں جو عورت کو پسند کرتے ہیں ۔ اس لیے نہ انہیں شراب میں کچھ دیا جا
‫سکتا ہے نہ عورت کے ہاتھوں مروایا جا سکتا ہے ۔اب کامیابی کی توقع ہے۔ ایوبی کے باڈی گارڈز میں چار آدمی فدائی
‫ہیں ۔ انہیں میں نے بڑی چابکدستی سے وہاں تک پہنچایا ہے ۔ جب بھی موقع مال وہ دونوں کو یا ایک کو ختم کر دیں
‫گے''۔
‫کیا ہمارے ہاں ایوبی کے بھیجے ہوئے جاسوس ہیں ؟''…… گے آف لوزینان نے پوچھا ۔''
‫یقینا ہیں ''……انٹیلی جنس کے سربراہ نے جوا ب دیا……''جب ہم نے مصر میں اور ادھر شام میں جاسوسی اور تباہ ''
‫کاری کا سلسلہ شروع کیا ہے صالح الدین نے بھی اپنے جاسوس ہمارے ہاں بھیج دئیے ہیں۔ ان میں سے دو پکڑے گئے ہیں ۔
‫وہ اذیتوں سے مر گئے ہیں مگر اپنے کسی تیسرے ساتھی کی نشاندہی نہیں کی ''۔
‫''ان کی کامیابی کس حد تک ہے ؟''
‫بہت حد تک ''……دوسرے نے جواب دیا……''کرک میں ہماری رسد کو جو آگ لگی تھی جس میں آدھی رسد جل گئی ''
‫اور گیارہ گھوڑے زندہ جل گئے تھے وہ ایوبی کے تباہ کار جاسوسوں کا کام تھا۔ میں آپ کو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ ہماری
‫جنگی کیفیت اور اہلیت کی پوری معلومات صالح الدین ایوبی کو ملتی رہتی ہے۔ اس کے جاسوسوں کو خراج تحسین پیش کرتا
‫ہوں کہ جان پر کھیل جاتے ہیں اور کام پوری دیانت داری سے کرتے ہیں ''۔
‫ان میں بہت دیر اس مسئلے پر بحث ہوتی رہی کہ مصر اور شام میں تخریبی کاروائیوں کو کس طرح تیز اور مزید تباہ کن کیا
‫جا سکتا ہے۔ حاتم اال کبر انہیں سلطان ایوبی کی حکومت کی کمزور رگیں اور مضبوط پہلو دکھا رہا تھا ۔ آخر فیصلہ ہوا کہ
‫حاتم االکبر کو کچھ آدمی اور دو تین لڑکیاں دی جائیں ۔
‫اس وقت سلطان ایوبی اپنے دو نائبین اور علی بن سفیان کے اپنے اس منصوبے سے آگاہ کر رہا تھا کہ وہ کرک پر حملہ
‫کرے گا ۔ اس نے بیس روز بعد کا دن بتایا جب اسے فوجوں کو کوچ کرانا تھا ۔ یہ تمام تر منصوبہ عالم جاسوس اور لڑکیاں
‫ساتھ والے کمرے میں سن رہی تھیں۔ عالم نے ایک بار پھر لڑکیوں کے ساتھ افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں ایک راز معلوم
‫ہوگیا ہے مگر وہ اسے شوبک تک نہیں پہنچا سکتے ۔ ایک لڑکی نے کہا ۔ ''میں کوشش کروں گی کہ صالح الدین ایوبی
‫مجھے پسند کر لے۔ اگر تھوڑی سی دیر کے لیے بھی وہ مجھے اپنے ساتھ تنہائی میں رکھ لے تو میں اس سے رہا ئی پالوں
‫گی۔ مجھے امید یہ ہے کہ میں اس کی عقل پر قبضہ کر لوں گی''۔
‫معلوم نہیں اس نے ہمیں کیوں بالیا ہے ؟''…… عالم جاسوس نے کہا …… ''تم دونوں یاد رکھو۔ اگر وہ تمہیں اکیلے اکیلے''
‫بالئے تو دونوں یہ کوشش کرنا کہ اسے حیوان بنا سکو ۔ اگر وہ شراب پیئے تو تم جانتی ہو کہ اسے کتنی پال کر بے ہوش
‫کیا جاسکتا ہے۔ وہ بیہوش ہوجائے تو فرار کا طریقہ تم جانتی ہو اور دونوں کو معلوم ہے تمہیں کس کے پاس پہنچنا ہے۔ اس
‫کا گھر مسجد کے با لمقابل ہے ''۔
‫میں جانتی ہوں ''……ایک لڑکی نے کہا …… ''مہدی ابادان''۔''
‫ہاں !''…عالم جاسوس نے کہا ……''اگر تم مہدی تک پہنچ گئیں تو وہ تمہیں شوبک تک پہنچا دے گا۔ میرے فرار تو ''
‫سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تم نے ایوبی کا منصوبہ سن لیا ہے ۔ کوچ کی تاریخ یاد رکھو۔ راستہ یاد کرلو۔ کوچ رات کے وقت
‫ہوا کرے گا۔ دن کے وقت اس کی فوج کوئی حرکت نہیں کرے گی ۔ حملہ کر ک پر ہوگا ۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ اطالع
‫قبل از وقت پہنچ گئی تو ہماری فوج ایوبی کو راستے میں روک لے گی۔ ایوبی اسی صورت حال سے ڈرتا ہے ۔ شوبک میں
‫جا کر یہ خاص طور پر بتانا کہ ایوبی کھلے میدان میں آمنے سامنے نہیں لڑنا چاہتا کیونکہ اس کے پاس فوج کم ہے''۔
‫سلطان ایوبی کے کمرے سے ایسی آوازیں آئیں جیسے اجالس ختم ہوگیا ہو اور نائبین باہر جارہے ہیں ۔ عالم اور لڑکیاں فورا ً
‫اس جگہ سرک گئیں جہاں انہیں بٹھایا گیا تھا ۔ عالم کے کہنے پر انہوں نے سر گھٹنوں میں دے لیے جیسے انہوں نے کچھ
‫بھی نہیں سنا اور گردو بیش کا کوئی ہوش نہیں ۔ انہیں اپنے کمرے میں قدموں کی آوازیں سنائی دی تو بھی انہوں نے اوپر
‫نہ دیکھا۔ عالم نے اس وقت اوپر دیکھا جب کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ……''اُٹھو۔ میرے ساتھ آئو ''……
‫وہ علی بن سفیان تھا ۔ علی نے لڑکیوں کو بھی اُٹھایا اور انہیں سلطان ایوبی کے کمرے میں لے گیا ۔
‫میں تمہارے علم اور تمہاری ذہانت کی داد دیتا ہوں''…… سلطان ایوبی نے عالم جاسوس سے کہا ……''ان کی زنجیریں ''
‫کھول دو …… تم تینوں بیٹھ جائو ''۔ علی بن سفیان باہر نکل گیا ۔ سلطان ایوبی نے عالم سے کہا ……''لیکن تم علم کو
‫کس شیطانی کام میں استعال کر رہے ہو۔ اس کی بجائے تم یہاں آکر اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے تو میں تمہاری قدر دل کی

‫گہرائیوں سے کرتا کہ تم اپنے مذہب اور اپنے نبی کی خدمت کر رہے ہو۔ کیا تمہارے مذہب میں یہ روا ہے کہ تم دوسرے
‫عیسی
‫مذہب کی عبادت گاہ میں اس کے مذہب میں جھوٹ شامل کرو ؟ کیا تمہارے دل میں اپنی مقدس صلیب کا ‪ ،حضرت
‫ٰ
‫''کا اور کنواری مریم کا یہ احترام ہے کہ جھوٹ اور ابلسیت جیسے کبیرہ گناہ کرکے تم ان کی عبادت کرتے ہو؟
‫یہ جھوٹ میرے فرائض میں شامل ہے ''…… عالم نے کہا …… ''میں نے جو کچھ کیا مقدس صلیب کے لیے کیا ''۔''
‫تم کہتے ہو کہ تم نے انجیل اور قرآن کا گہرا مطالعہ کیا ہے''…… سلطان ایوبی نے کا ۔ ''کیا ان دونوں میں سے کسی''
‫ایک کتاب میں بھی انسان کو اس کی اجازت دی گئی ہے کہ اس قسم کی نوخیز لڑکیوں کو بدکاری کی راہ پر ڈالو اور غیر
‫مردوں کے پاس بھیج کر اپنی مطلب براری کرو؟ کیا انجیل نے تمہیں کہا ہے کہ صلیب کی خاطر اپنی قوم کی بیٹیوں کی
‫عظمت دوسروں کے حوالے کر دو ؟ کیا تم نے کسی مسلمان لڑکی کو قرآن اور اسالم کے نام پر اپنی عصمت غیر مردوں کے
‫''حوالے کرتے کبھی دیکھا ہے ؟
‫اسالم کو میں عیسائیت کا دشمن سمجھتا ہوں''…… عالم نے کہا …… ''مجھے جو زہر ہاتھ آئے گا اسالم کی رگوں میں ''
‫ڈالوں گا''۔
‫تم اتنے میٹھے زہر سے چند ایک مسلمانوں کے کردار کو ہالک کرسکتے ہو''……سلطان ایوبی نے کہا …… ''اسالم کاتم ''
‫کچھ نہیں بگاڑ سکو گے ''……اس نے لڑکیوں سے کہا ……''تم کس خاندان کی بیٹیاں ہو ؟ معلوم ہے تمہیں ؟ اپنی اصلیت
‫جانتی ہو تو مجھے بتائو ؟ ''…… دونوں خاموش رہیں ۔سلطان ایوبی نے کہا ……''تم نے اپنی پاکیزگی ختم کرالی ہے ۔ اب
‫''بھی تم کسی باعزت گھر کی قابل احترام بیویاں بن سکتی ہو؟
‫میں قابل احترام بیوی بننا چاہتی ہوں ''……ایک لڑکی نے کہا ……''کیا آپ مجھے قبول کریں گے ؟ اگر نہیں تو مجھے ''
‫کوئی باعزت خاوند دے دیں ۔ میں اسالم قبول کرکے گناہوں سے توبہ کر لوں گی''۔
‫سلطان ایوبی مسکرایا اور ذرا سوچ کر کہا ……''میں نہیں چاہتا کہ اس عالم کا علم جالد کی تلوار سے خون میں ڈوب جائے
‫اور میں نہیں چاہتا کہ تم دونوں کی جوانی اور حسن میرے قید خانے میں گلتا سڑتا رہے …… سنو لڑکی ! تم اگر واقعی
‫گناہوں سے توبہ کرنا چاہتی ہو تو میں تمہیں تمہارے ملک بھیج دیتا ہوں ‪ ،لیکن وہ تمہارا نہیں ‪ ،ہمارا ملک ہے ۔ میں ایک
‫نہ ایک دن اپنا ملک تمہارے بادشاہوں سے لے لوں گا۔ تم جائو اورکسی کی بیوی بن جائو …… میں تم تینوں کو رہا کرتاہوں
‫''۔
‫تینوں یوں بدکے جیسے انہیں سوئیاں چبھودی گئی ہوں۔ اتنے میں علی بن سفیان لوہار کے ساتھ کمرے میں آیا اور تینوں کی
‫زنجیریں کھول دی گئیں۔ سلطان نے کہا ……''علی! میں نے انہیں رہا کر دیا ہے''…… علی بن سفیان کا رد عمل بھی وہی
‫تھا ۔ وہ کتنی ہی دیر سلطان ایوبی کے منہ کی طرف دیکھتا رہا …… سلطان نے کہا ……''انہیں تین اونٹ دو اور چار مسلح
‫محافظ ساتھ بھیجو جو گھوڑ سوار ہوں۔ نہایت ذہین اور دلیر محافظ جو انہیں شوبک کے قلعے میں چھوڑ کر واپس آجائیں ۔
‫راستے کے لیے سامان ساتھ دو اور آج ہی انہیں روانہ کر دو ''…… اس نے عالم سے کہا ……''وہاں جا کر یہ غلط فہمی نہ
‫پھیال دینا کہ صالح الدین ایوبی جاسوسوں کو بخش دیا کرتا تھا ۔ میں انہیں دانے کی طرح چکی میں پیس پیس کر مارا کرتا
‫ہوں۔ تمہیں صرف اس لیے رہا کر رہا ہوں کہ تم عالم ہو ۔ تمہیں موقع دے رہا ہوں کہ علم کا روشن پہلو دیکھو۔ تمہاری
‫نجات اسی میں ہے ''۔
‫سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا جب انہیں انٹوں پر سوار کرکے چار محافظوں کے ساتھ روانہ کر دیا گیا ۔ محافظ خاص طور پر
‫منتخب کیے گئے تھے ۔ اس انتخاب کی دو وجوہات تھیں ۔ ایک یہ کہ راستے میں ڈاکوئوں کا خطرہ تھا ۔ دوسری وجہ یہ
‫کہ انہیں صلیبی کمانڈروں کے سامنے جانا تھا ۔ وہ خوبرواور وجیہہ تھے ۔ اونٹ اور گھوڑے بھی نہایت اچھی قسم کے بھیجے
‫گئے تھے ‪ ،مگر سب حیران تھے کہ سلطان ایوبی نے یہ فیاضی کیوں کی ہے ۔ دشمن کو بخش دینا اس کا شیوہ نہیں تھا ۔
‫علی بن سفیان نے اس سے پوچھا تو اس نے اتنا ہی کہا …… ''علی ! میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں ایک جواء کھیلنا
‫چاہتا ہوں ۔ اگر میں بازی ہارگیا تو صرف اتنا ہی نقصان ہوگا جو میں پہلے ہی اُٹھا چکا ہوں کہ دشمن کے تین جاسوس
‫میرے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی نقصان نہیں ہوگا ''……علی بن سفیان نے اس جوئے کی وضاحت چاہی
‫لیکن سلطان ایوبی نے اسی پر بات ختم کردی کہ وقت آنے پر بتاوں گا ۔
‫باقی سب تو حیران تھے مگر رہا ہونے والے خوشی سے بائولے ہوئے جا رہے تھے ۔خوشی صرف رہائی کی نہیں تھی ۔ اصل
‫خوشی اس راز کی تھی جو وہ اپنے ساتھ لے جا رہے تھے۔ وہ قاہرہ شہر سے دورنکل گئے تھے ۔ ان کے اونٹ پہلو بہ پہلو
‫جا رہے تھے ۔ دو محافظ آگے تھے اور دو پیچھے ۔ عالم نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ ان کی زبان سمجھتے ہیں ؟چاروں
‫اپنی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتے تھے ۔ عالم اور لڑکیاں ان کی زبان بڑی روانی سے بولتی تھیں ۔ یہ انہیں خاص
‫طور پر سکھائی گئی تھی۔
‫عالم نے لڑکیوں سے اپنی زبان میں کہا ……''خدائے یسوع مسیح نے معجزہ دکھایا تھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے
‫ہمارے ساتھ پیار ہے اور اسے ہماری فتح منظور ہے ۔ یہ سچے مذہب کی نشانی ہے ۔ صالح الدین ایوبی اور علی بن سفیان
‫جیسے دانائوں کو خدا نے عقل کا ایسا اندھا کیا ہے کہ انتہائی خطرناک راز ہمارے کانوں میں ڈال کر ہمیں رہا کر دیا ہے ۔
‫ہم اپنی فوج کو ان کا سارا منصوبہ سنائیں گے اور ہماری فوج ایوبی کو صحرا میں گھیر کر ختم کردے گی ۔ اسے کرک تک
‫پہنچنے کی مہلت ہی نہیں ملے گی ۔ مجھے ا ُمید ہے کہ ہمارے کمانڈر جنگ کو حملے تک محدود نہیں رکھیں گے۔ وہ مصر
‫پر ضرور چڑھائی کریں گے ۔ مصر فوجوں سے خالی ہوگا ۔ یہ فتح بڑی آسان ہوگی ''۔
‫آپ عالم ہیں ‪ ،تجربہ کار ہیں ''…… ایک لڑکی نے کہا ……''مگر آپ جسے معجزہ کہہ رہے ہیں وہ مجھے ایک خطرہ ''
‫دکھائی دے رہا ہے …… خطرہ یہ چار محافظ ہیں ۔ کہیں آگے جا کر یہ ہمیں قتل کر کے واپس چلے جائیں گے ۔ صالح
‫الدین ایوبی نے ہمارے ساتھ مذاق کیا ہے ۔ جالد کے حوالے کرنے کی بجائے ہمیں ان کے حوالے کر دیا ہے ۔ یہ ہمیں جی
‫بھر کے خراب کریں گے اور قتل کر دیں گے''۔
‫اور ہم نہتے ہیں ''…… عالم نے یوں کہا جیسے اس کے ذہن سے خوش فہمیاں نکل گئی ہوں ۔ اس نے کہا …… ''تم ''
‫نے جو کہا ہے وہ درست ہو سکتا ہے ۔ کوئی حکمران اپنے دشمن کے جاسوس کو بخش نہیں سکتا اور مسلمان اس قدر
‫جنس پرست ہیں کہ تم جیسی حسین لڑکیوں کو چھوڑ نہیں سکتے ''۔
‫ہمیں راتوں کو چوکنا رہنا پڑ ے گا ''…… دوسری لڑکی نے کہا ……''رات کو یہ سوجائیں تو انہیں انہی کے ہتھیاروں سے''
‫ختم کر دیا جائے ۔ ذرا ہمت کی ضرورت ہے ''۔
‫ہمیں یہ ہمت کرنی پڑے گی ''……عالم نے کہا ……''یہ کام آج ہی رات ہوجائے تو اچھا ہے۔ صبح تک ہم بہت دور نکل''

‫جائیں گے ۔
19:32
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪34.۔" جب زہر نے زہر کو کاٹا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫دو محافظ آگے اور دو پیچھے اپنی گپ شپ لگاتے چلے جارہے تھے ۔ ان کے انداز سے ظاہر ہوتا تھا جیسے انہیں معلوم ہی
‫نہیں کہ دو اتنی دلکش لڑکیاں ان کی تحویل میں ہیں ۔ سورج غروب ہو رہا تھا ۔ ایک نے عالم سے کہا کہ ہم ابھی ُرکیں
‫گے نہیں۔رات کا پہال پہر چلتے گزاریں گے …… وہ چلتے گئے اور صحرا کی رات تاریک ہوتی گئی۔ عالم اور لڑکیاں اونٹوں کو
‫قریب کر کے محافظوں کے قتل کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔ بہت دیر بعد ایک سر سبز جگہ آگئی۔ محافظ ُرک گئے اور وہیں
‫پڑاو کیا ۔ انہوں نے دیکھا کہ تین محافظ لیٹ گئے تھے اور ایک ٹہل رہا تھا ۔ عالم لڑکیوں کے ساتھ محافظوں سے کچھ دور
‫لیٹا رہا ۔ ان تینوں کی نظریں محافظوں پر تھیں۔ وہ چوتھے محافظ کو دیکھتے رہے۔ وہ پڑاو کے اردگرد ٹہلتا رہا ۔ ایک کھٹکا
‫سا ہوا ۔ وہ دوڑ کر ادھر گیا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرکے آگیا ۔
‫تقریبا ً دو گھنٹے گزر گئے ۔ اس نے اپنے ایک اور ساتھی کو جگایا اور خود اس کی جگہ لیٹ گیا ۔ جو جاگا تھا وہ پڑاو کے
‫اردگرد ٹہلنے لگا ۔ کبھی جانوروں کے پاس جاکر انہیں دیکھتا اور کبھی سوئے ہوئے انسانوں کو دیکھتا ۔ عالم نے لڑکیوں سے
‫کہا …… ''ہم کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔ یہ کمبخت پہرہ دے رہے ہیں ‪ ،جو ہوگا ہو کے رہے گا ‪ ،سو جائو ''۔
‫رات گزر گئی ۔ صبح ابھی دھندلی تھی جب محافظوں نے انہیں جگایا اور روانہ ہونے کے لیے کہا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھر
‫اسی ترتیب میں چلے جا رہے تھے ۔ جس میں ایک روز پہلے تھے ۔ تین اونٹ پہلو بہ پہلو ‪ ،دو محافظ آگے اور دو اونٹوں
‫کے پیچھے ۔ وہ ایک بار پھر لڑکیوں سے ال تعلق ہوگئے ۔ انہوں نے کوئی ایسی بات بھی نہیں کی تھی جس سے شک ہوتا
‫کہ یہ لوگ اوباش یا بدمعاش ہیں۔ سورج ا ُبھرتا آیا ۔ پھر یہ قافلہ ٹیلوں کے عالقے میں داخل ہوگیا ۔ مٹی اور ریت کی
‫پہاڑیاں دیواروں کی طرح کھڑی تھیں ۔ ان میں گلیاں سی تھیں اور ان پر پہاڑیوں کا سایہ تھا ۔ لڑکیاں ڈرنے لگیں ۔ ڈر ان
‫کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا ۔ ان کی نگا ہ میں یہ جگہ جرم اور قتل وغیرہ کے لیے موزوں تھی مگر محافظ ان کی
‫طرف دیکھ نہیں رہے تھے ۔
‫اس سے کہو کہ ہمارے ساتھ باتیں کریں ''…… ایک لڑکی نے عالم سے کہا …… ''ان کی خاموشی اور ال تعلقی مجھے ''
‫ڈرا رہی ہے ۔ انہیں کہو کہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں توفورا ً مار دیں ۔ میں موت کا انتظار نہیں کر سکتی ''۔
‫عالم خاموش رہا ۔ وہ لڑکیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ تینوں ان محافظوں کے رحم و کرم پر تھے …… سورج سر
‫پر آگیا تو وہ ان ٹیلوں کے اندر ایسی جگہ ُرک گئے جہاں ریت کے سلوں والے ٹیلے تھے اور اُوپر جا کر آگے کو جھکے ہوئے
‫تھے ۔ ان کے سائے میں انہوں نے قیام کیا ۔ کھانے کے دوران عالم نے محافظوں سے پوچھا ……''تم لوگ ہمارے ساتھ باتیں
‫''کیوں نہیں کرتے ؟
‫جو باتیں ہمارے فرض میں شامل نہیں وہ ہم نہیں کیا کرتے ''…… محافظوں کے کمانڈر نے جواب دیا اور پوچھا ……''اگر ''
‫تم لوگ کوئی خاص بات کرنا چاہتے ہو تو ہم سنیں گے اور جواب دیں گے ''۔
‫کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہم کون ہیں ؟'' عالم نے پوچھا ۔''
‫تم تینوں جاسوس ہو''……محافظ نے جواب دیا …… ''یہ لڑکیاں بدکار ہیں ۔ یہ ان آدمیوں کے استعمال کے لیے ہیں ''
‫جنہیں تم لوگ ہمارے خالف استعمال کرنا چاہتے ہو۔ امیر مصر ‪ ،اللہ اس کے نیک ارادوں میں برکت دے ‪ ،تمہیں معلوم نہیں
‫کیوں بخش دیا ہے ۔ ہمیں حکم مال ہے کہ تمہیں قلعہ شوبک میں چھوڑ آئیں ۔ تم امانت ہو …… تم نے یہ بات مجھ سے
‫''کیوں پوچھی ہے؟
‫تمہارے ساتھ باتیں کرنے کو جی چاہ رہا تھا ''……عالم نے جواب دیا …… ''اتنا لمبا سفر اس التعلق اور بیگانگی سے بڑا''
‫کھٹن ہو رہا ہے ۔ ہمارے ساتھ باتیں کرتے چلو''۔
‫ہم ہمسفر ہیں ''……محافظ نے کہا …… ''لیکن ہماری منزلیں جدا ہیں ۔ دو روز بعد ہم جدا ہوجائیں گے ''۔''
‫عالم جاسوس نے جیسے محافظ کا جواب سنا ہی نہ ہو ۔ اس کی آنکھیں کسی دور کی چیز کو دیکھ رہی تھیں ۔ وہ صحرا
‫سے اچھی طرح واقف تھا ۔ صحرا کے خطروں سے واقف تھا ۔ اس کی آنکھیں حیرت اور اورغالبا ً ڈر سے پھٹی جا رہی تھیں
‫۔ محافظ نے اس طرف دیکھا جس طرف عالم دیکھ رہا تھا ۔ محافظ کی بھی آنکھیں کھل گئیں …… کوئی دو سو گز دور ایک
‫بلند جگہ دو اونٹ کھڑے تھے۔ ان پر دو آدمی سوار تھے جن کے چہروں اور سروں پر پگڑیاں لپٹی ہوئی تھیں ۔ اونٹوں کی
‫ٹانگیں نظر نہیں آرہی تھیں ۔ وہ بلندی کے پیچھے تھیں۔ سوار خاموشی سے کھڑے محافظوں اور جاسوسوں کے قافلے کو دیکھ
‫رہے تھے ۔ ان کا انداز اور لباس بتا رہا تھا کہ وہ کون ہیں ۔
‫جانتے ہو یہ کون ہیں ''…… محافظوں کے کمانڈر نے عالم سے پوچھا ۔''
‫صحرائی ڈاکو ''……عالم نے جواب دیا ۔ ''معلوم نہیں کتنے ہوں گے ''۔''
‫دیکھا جائے گا''……محافظ نے کہا ۔ اس نے اُٹھتے ہوئے اپنے ایک ساتھی سے کہا ……''میرے ساتھ آو ''۔''
‫وہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہو کر ڈاکووں کی طرف چلے گئے ۔ ان کے پاس تلواروں کے عالوہ برچھیاں بھی تھیں ۔ انہیں اپنی
‫طرف آتا دیکھ کر شتر سوار بلندی کے پیچھے غائب ہوگئے ۔دومحافظ جو پیچھے رہ گئے تھے ۔ قریب کے ٹیلے پر چڑھ گئے
‫۔ عالم نے لڑکیوں سے کہا……''میرا خیال ہے تمہارا خدشہ صحیح ثابت ہورہا ہے ۔ یہ ڈاکو نہیں ۔ یہ صالح الدین ایوبی کے
‫بھیجے ہوئے آدمی معلوم ہوتے ہیں ورنہ یہ محافظ اتنی دلیری سے ان کی طرف نہ چلے جاتے ۔ ایوبی تم دونوں کو بہت
‫زیادہ ذلیل کرانا چاہتا ہے ۔ میرے لیے تو موت لکھی ہوئی ہے۔ تمہیں بڑی خوفناک سزا دی جائے گی ''۔
‫اس کامطلب یہ ہے کہ ہم آزاد نہیں''…… ایک لڑکی نے کہا …… ''ہم ابھی تک قیدی ہیں ''۔''
‫یہی معلوم ہوتاہے ''……دوسری لڑکی نے کہا۔''
‫دونوں محافظ واپس آگئے تھے ۔ ان کے ساتھی اور جاسوس ان کے گرد جمع ہوگئے ۔ محافظ کے کمانڈر جس کا نام حدید تھا
‫انہیں بتانے لگا……''وہ صحرائی قزاق ہیں ۔ ہم ان سے مل آئے ہیں ۔ انہوں نے مجھے کہا ہے کہ تم فوج کے آدمی اور
‫مسلمان معلوم ہوتے ہو لیکن یہ لڑکیاں مسلمان نہیں ۔ یہ دونوں لڑکیاں ہمارے حوالے کردو ‪ ،ہم تمہیں پریشان نہیں کریں گے ۔
‫میں نے انہیں کہا ہے کہ یہ لڑکیاں کسی بھی مذہب کی ہوں‪ ،ہمارے پاس امانت ہیں۔ ہم جیتے جی تمہارے حوالے نہیں کریں
‫گے ۔ وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ ہم اپنی جانیں ضائع نہ کریں ۔ میں انہیں کہہ آیا ہوں کہ پہلے ہماری

‫جانیں ضائع کرو پھر لڑکیوں کو لے جانا ''…… اس نے عالم اور لڑکیوں سے پوچھا ……''تم کوئی ہتھیار استعمال کر سکتے
‫ہو؟''۔
‫ان لڑکیوں کو ہر ایک ہتھیار چالنے کی تربیت دی گئی ہے ''۔عالم نے کہا ……''تمہارے پاس برچھیاں ہیں ‪ ،تلواریں بھی''
‫ہیں اور تیر کمان بھی ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک ہتھیار ہمیں دے دو ''۔
‫ابھی نہیں ''……حدید نے سوچ کرکہا ……''میں قبل ازوقت تمہیں ہتھیار نہیں دے سکتا ۔ اگر ڈاکووں سے ٹکر ہوگئی تو ''
‫اس وقت دے دوں گا ……ہمیں اس عالقے سے فورا ً نکل جانا چاہیے ۔ ان سے گھوڑوں اوراونٹوں پر لڑائی ہوگئی تو یہ عالقہ
‫موزوں نہیں گھوڑے گھما پھرا کر لڑنے کے لیے یہ جگہ خراب ہے ''۔
‫وہ فورا ً وہاں سے چل پڑے۔ محافظوں نے کمانیں ہاتھوں میں لے لیں اور ترکش کھول لیے۔ حدید آگے تھا ۔ اسے اس کے
‫ساتھی نے کہا …… ''ان جاسوسوں کو ہتھیار دینا ٹھیک نہیں ۔ آخر ہمارے دشمن ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ڈاکوئوں کے ساتھ
‫مل کر ہمیں مار ڈالیں ''۔
‫عالم لڑکیوں سے کہہ رہا تھا ……''ان لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں ‪ ،انہوں نے ہمیں ہتھیار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکووں
‫ان کے اپنے آدمی ہیں۔ یہ تم دونوں کو ان کے حوالے کر دیں گے اور مجھے مروا دیں گے ''۔
‫دونوں کو ایک دوسرے پربھروسہ نہیں تھا اور دونوں پر ڈاکووں کا ڈر سوار ہوگیا تھا ۔ حدید نے اپنے محافظوں سے کہہ دیا تھا
‫کہ کوئی نقاب پوش نظر آئے تو مجھے بتائے بغیر اس پرتیر چال دو۔ ان کے ساتھ ضرور ٹکر ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب
‫ہوگی اور کہاں ہوگی …… وہ تیز رفتاری سے چلتے گئے ۔ گھوڑوں اور اونٹوں کو آرام‪ ،چارہ اور پانی ملتا رہا تھا ‪ ،اس لیے
‫تھکن کا ان پر کوئی اثر نہیں تھا ۔ ٹیلوں کا عالقہ بہت دور چال گیاتھا ۔ کئی جگہوں پر قافلہ اونچے ٹیلوں کے درمیان آجاتا
‫تھا ۔ حدید کو ڈریہ تھا کہ ڈاکو اوپر سے تیرنہ برسا دیں ۔ اس نے گھوڑوں کو ایڑ لگانے کو کہا اور جاسوسوں سے کہا کہ وہ
‫بھی اونٹوں کو گھوڑوں کی رفتار پر کر لیں اور اوپرکودیکھتے رہیں ۔
‫وہ اس عالقے سے نگل گئے ۔ کوئی ڈاکو نظر نہیں آیا ۔سورج نیچے جانے لگا تھا ۔ ایک بار دو اونٹ اسی سمت پر جاتے
‫نظر آئے ‪ ،جدھر یہ قافلہ چلتارہا ۔ راستے میں ایک جگہ پانی مل گیا ۔ انہوں نے جانوروں کو پانی پالیا‪ ،خود بھی پیا اورپل
‫پڑے۔ سورج نیچے جاتا رہا اور ا ُفق کے پیچھے چالگیا ۔ شام تاریک ہوئی تو حدید نے قافلے کو روک لیا ۔ کہنے لگا ……''یہ
‫جگہ لڑائی کے لیے اچھی ہے کیونکہ اردگرد کوئی رکاوٹ نہیں ''…… اس نے گھوڑوں کی زینیں کھولی نہیں‪ ،تاکہ ضرورت کے
‫وقت گھوڑے تیارملیں۔ اونٹوں کو بٹھا دیاگیا۔ کھانا کھا کر حدید نے لڑکیوں کو اپنے درمیان لٹایا اور انہیں کہا کہ وہ ہوشیار رہیں
‫‪.۔ محافظوں سے کہا کہ وہ کمانیں تیار رکھیں۔ سوئیں نہیں‪ ،لیٹے رہیں ۔ اسے یقین تھا کہ رات کوحملہ ضرور ہوگا
‫رات آدھی گزر گئی تھی ۔ صحرا پر سکون اور خاموش رہا ۔ پھر اچانک ان کے گرد سیاہ بھوتوں جیسے بڑے بڑے سائے
‫دوڑنے لگے ۔ اونٹوں کے قدموں کی دھمک دھمک سنائی دے رہی تھی اور زمین دہل رہی تھی۔ اونٹوں کی تعداد دس سے
‫زیادہ معلوم ہوتی تھی ۔ ان پر ایک ایک سوا رتھا ۔ وہ محافظوں وغیرہ کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ان کے اردگرد اونٹوں کو
‫دوڑا رہے تھے ۔ تین چا ر چکر پورے کرکے ایک نے للکارا ……'' لڑکیاں ہمارے حوالے کردو۔ تم سے کچھ اور لیے بغیر ہم
‫چلے جائیں گے ''۔
‫اس کے جواب میں حدید نے لیٹے لیٹے پہال تیر چالیا۔ جسے تیر لگا اس کی بڑی زور کی آواز سنائی دی ۔ دوسرے محافظوں
‫نے بھی لیٹے لیٹے ایک ایک تیر چالیا ۔ دو اونٹ بلبال کر بولے اوربے قابو ہوگئے ۔ حدید نے لڑکیوں سے کہا …… ''بھاگنا
‫نہیں ہمارے ساتھ رہنا''۔
‫شتر سواروں میں سے کسی نے کہا ……''ٹوٹ پڑو ۔ کسی کو زندہ نہ چھوڑو۔ لڑکیوں کو اُٹھالو''۔
‫صحرا کی رات اتنی شفاف ہوتی ہے کہ چاندنی نہ ہو تو بھی کچھ دور تک نظر آجاتا ہے۔ شتر سوار اونٹوں سے کود آئے ۔
‫پھر تلواریں اور برچھیاں ٹکرانے کااور دونوں فریقوں کی للکار کا شور رات کا جگر چاک کرنے لگا ۔ کسی کو ایک دوسرے کا
‫ہوش نہ رہا۔ حدید اورمحافظ نے لڑکیوں کو اس طرح اپنے درمیان کر لیا تھا کہ محافظوں کی پیٹھیں لڑکیوں کی طرف تھیں ۔
‫''…… لڑکیوں نے کئی بار کہا کہ ہمیں بھی کچھ دو ۔ حدید نے کہا
‫میر ی تلوار نکال لو '' …… وہ خود برچھی سے لڑ رہا تھا ۔ ایک لڑکی نے اس کی نیام سے تلوار نکال لی اور دونوں
‫محافظوں کے درمیان سے نکل گئی۔ حدید نے اسے کہا …… ''ہم سے جدا نہ ہونا لڑکی ''…… ڈاکوئوں کا زیادہ ہلہ لڑکیوں
‫پر تھا۔ عالم کی کوئی آواز سنائی نہ دی ۔
‫یہ معرکہ بہت دیر لڑاجاتا رہا ۔ آدمی بکھرتے چلے گئے ۔ محافظ ایک دوسرے کو پکارتے رہے پھر ان کی پکار ختم ہوگئی۔
‫معرکے کا شور بھی کم ہوتا گیا۔ حدید نے اپنے ساتھیوں کو پکارا لیکن اسے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا ۔ اسے ایک لڑکی
‫کی آواز سنائی دی ۔ وہ اسے پکار رہی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی ایک گھوڑے کے سرپٹ دوڑنے کی آواز سنائی دی ۔ حدید
‫سمجھ گیا کہ کوئی ڈاکو ایک لڑکی کو اونٹ کی بجائے کسی محافظ کے گھوڑے پر ڈال کر لے گیا ہے ۔ وہ دوڑ کر ایک
‫گھوڑے تک پہنچا ۔ زین کسی ہوئی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور بھاگنے والے گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز پرتعاقب میں
‫گیا ۔ دوسری لڑکی کے متعلق اسے معلوم نہیں تھا کہ کہاں ہے۔ اس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔ صحرا میں کوئی رکاوٹ ‪ ،کوئی
‫ندی نالہ نہیں تھا۔ گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا ۔ اگال گھوڑا بھی اچھی نسل کا تھا ۔ فرق یہ کہ اس گھوڑے پر دو سوا
‫رتھے ۔
‫کوئی ایک میل بعد حدید کو اگلے گھوڑے کا سایہ نظر آنے لگا ۔ اس نے تعاقب جاری رکھا ۔ فاصلہ کم ہو رہا تھا۔ حدید نے
‫محسوس کیا کہ اس کے پیچھے بھی ایک گھوڑا آرہا ہے جس کا سوار محافظ بھی ہو سکتا تھا اور ڈاکوبھی ۔ اس نے گھوم
‫کر دیکھا ۔ پچھال گھوڑا قریب آگیا تھا ۔ حدید نے پکارا ……''کون ہو ؟''…… اسے جواب نہ مال۔ اسنے تعاقب جاری رکھا
‫اور گھوڑے کو اور زیادہ تیز کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔ اگال گھوڑا سیدھا جا رہا تھا ۔ اس کی باگ شاید لڑکی کے ہاتھ میں
‫آگئی تھی کیونکہ حدید دیکھ رہا تھا کہ وہ گھوڑا دائیں بائیں ہو رہا تھا اور اس کی رفتار بھی گھٹتی جا رہی تھی …… وہ اس
‫تک پہنچ گیا ۔ اس کے پاس برچھی تھی ۔ اس نے اگلے سوار کو پہلو پر جاکر برچھی کا وار کیا لیکن وہ گھوڑا ایک طرف
‫ہوگیا۔ سوار تو بچ گیا برچھی گھوڑے کو لگی۔ حدید نے گھوڑا روکا اور گھمایا ۔ دوسرا سوار بھی گھوڑنے کو گھمانے کی کوشش
‫کر رہا تھا لیکن لڑکی جو اس کے آگے بیٹھی تھی ‪ ،باگیں ادھر ادھر کرکے گھوڑے کا رخ صحیح نہیں ہونے دیتی تھی۔ حدید
‫نے لڑکی کو پکارا تو لڑکی اورزیادہ دلیر ہوگئی۔
‫سوار لڑکی کو ساتھ لیے گھوڑے سے ا ُتر آیا اور اس نے اپنے گھوڑے کو ڈھال بنا لیا ۔ حدید اپنے گھوڑے کوگھما گھما کر التا
‫مگر جدھر سے بھی وار کرنے آتا ڈاکو لڑکی کو ساتھ لیے اپنے گھوڑے کی اوٹ میں ہوجاتا ۔ آخر حدید گھوڑے سے اُتر آیا۔

‫اتنے میں دوسرا سوار بھی آگیا۔ وہ محافظ نہیں ڈاکو تھا۔ وہ بھی گھوڑے سے اُتر آیا ۔ حدید نے انہیں للکارا۔ ''لڑکی کو
‫نہیں لے جاسکو گے ''…… ایک ڈاکو نے لڑکی کو دبوچے رکھا اور دوسرا حدید سے لڑنے لگا ۔ لڑکی کے پاس اب تلوار نہیں
‫تھی ۔ دوسرے ڈاکو نے لڑکی کو چھوڑ دیا اور وہ حدید پر ٹوٹ پڑا ۔ حدید نے لڑکی کو پکار کرکہا …… ''تم گھوڑے پر بیٹھو
‫اور شوبک کی طرف نکل جائو ۔ میں ان دونوں کو تمہارے پیچھے نہیں آنے دوں گا ''…… مگر لڑکی وہیں کھڑی رہی ۔
‫حدید نے دونوں کا خوب مقابلہ کیا ۔ ڈاکوں نے اسے بار بار کہا ……''ایک لڑکی کے لیے اپنی جان مت گنوائو '' …… حدید
‫نے ہر بار یہی جواب دیا …… ''پہلے میری جان لو پھر لڑکی کو لے جا نا''…… اور اس نے کئی بار لڑکی سے کہا……''تم
‫یہاں کیوں کھڑی ہو ۔ بھاگو یہاں سے ''آخر لڑکی نے کہا ……''میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جائوں گی ''…… حدید زخمی
‫ہونے لگا ۔ اس نے ایک بار پھر لڑکی سے کہا ……''میں زخمی ہو گیا ہوں ۔ میرے مرنے سے پہلے نکل جائو ''۔
‫ایک ڈاکو لڑکی کی طرف گھوما ۔ حدید کو موقع مل گیا۔ اس نے برچھی اس کے پہلو میں اُتار دی ‪ ،لیکن اس وقت دوسرے
‫ڈاکو کی تلوار اس کے کندھے پرلگی۔ لڑکی نے ایک ڈاکو کو گرتے دیکھ لیا تھا ۔ اس نے دوڑکر اس کی تلوار لے لی اور
‫پیچھے سے آکر دوسرے ڈاکو کی پیٹھ میں برچھی کی طرح اُتار دی ۔ وہ سنبھلنے لگا تو آگے سے حدید کی برچھی اس کے
‫سینے میں ا ُتر گئی۔ وہ ڈاکو بھی ختم ہوگیا مگر اس کے ساتھہی حدید بھی کھڑا رہنے کے قابل نہ رہا۔ لڑکی نے اسے سہارا
‫دیا تواس نے کہا …… ''تم ٹھیک ہونا ؟مجھے چھوڑدو۔ گھوڑے پر بیٹھو اور فورا ً شوبک کو روانہ ہوجائو ۔ اللہ تمہیں خیریت
‫سے پہنچا دے گا ۔ شوبک دور نہیں ۔ اپنے ساتھیوں کی طرف نہ جانا ۔ وہاں شاید کوئی زندہ نہیں ہوگا ''۔
‫زخم کہا ہیں؟''لڑکی نے اس سے پوچھا ۔''
‫مجھے مرنے دو لڑکی !''حدید نے کہا …… ''تم نکل جائو ۔ خداکے لیے میرا فرض تم خود ہی پورا کردو ۔ کہیں ایسا نہ''
‫ہو کہ کوئی اور قزاق ادھر آنکلے ''۔
‫لڑکی کی غلط فہمی اور شکوک رفع ہوچکے تھے۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس شخص نے اس کی خاطر جان خطرے میں ڈالی
‫ہے۔ اس نے اسے اکیال چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ۔ دوڑ کرگئی۔ گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھی ہوئی پانی کی چھاگل
‫کھول الئی اور حدید کے منہ سے ساتھ لگا دی ۔ اسے پانی پال کر چھاگل گھوڑے کے ساتھ باندھ دی اور اس سے پوچھنے
‫لگی کہ
‫اس کے زخم کہا ں ہیں ۔ حدید نے اسے زخم بتائے تواس نے اپنے پکڑے پھاڑے اور کچھ ٹکڑے حدید کے لباس سے پھاڑے۔
‫انہیں پانی میں بھگوکر اس نے حدید کے زخموں پرباندھ دیا۔ اسے اس کام کی ٹریننگ دی گئی تھی ۔ اس نے حدید کو سہارا
‫دے کر ا ُٹھایا اور گھوڑے تک لے گئی۔ بڑی مشکل سے اسے گھوڑے پر بٹھایا ۔ خود دوسرے گھوڑے پر بیٹھنے لگی تو حدید
‫نے کہا ۔ ''میں اکیال گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکوں گا ''۔وہاں تین گھوڑے تھے۔ لڑکی نے یہ دانشمندی کی کہ گھوڑے ضائع
‫کرنے مناسب نہ سمجھے۔ دو گھوڑوں کی باگیں ایک گھوڑے کی زین کے پیچھے باندھ دیں اور خود حدید کے پیچھے سوار
‫ہوگئی۔ اس نے حدید کی پیٹھ اپنے سینے سے لگالی اور اس کا سر اپنے کندھے پر ڈال لیا۔
‫شوبک کی سمت بتاسکتے ہو؟ ''…… لڑکی نے پوچھا۔''
‫حدید نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے دیکھے اور ایک طرف اشارہ کرکے کہا ……اس رخ کو چلو …… پھر اس نے لڑکی سے
‫کہا ……'' میں شاید زندہ نہیں رہ سکوں گا ۔ خون نکل رہا ہے۔ جہاں کہیں میری جان نکل جائے مجھے وہیں دفن کر دینا
‫اور اگر تمہیں میری نیت پر کوئی شبہ تھا تو وہ دل سے نکال کر مجھے بخش دینا۔ میں نے امانت میں خیانت نہیں کی ۔
‫خدا تمہیں زندہ و سالمت اپنے ٹھکانے پر پہنچا دے''۔
‫گھوڑا چال جا رہا تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی ۔
‫٭ ٭
‫صبح طلوع ہوئی تو حدید بے ہوشی کی حالت میں تھا اور اپنے آپ کوہوش میں رکھنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا تھا ۔ اس
‫کا خون ُر ک گیا تھا لیکن زیادہ ترخون بہہ جانے سے اس کا جسم بے جان ہوگیا تھا ۔ لڑکی نے اسے چھوٹے سے نخلستان
‫میں ا ُتارا‪ ،اسے پانی پالیا۔ گھوڑوں کے ساتھ کچھ کھانے کی چیزیں بندھی ہوئی تھیں ‪ ،وہ حدید کوکھالئیں ۔ اس سے اس کا
‫دماغ صاف ہونے لگا۔ اسے پہال خیال یہ آیا کہ وہ اس لڑکی کامحافظ تھا اب اس کا قیدی ہے۔ لڑکی نے اسے لٹادیا ۔ وہ
‫رات بھر گھوڑے پر سوار رہے تھے۔ کچھ دیر کے آرام سے حدید کا جسم ٹھکانے آگیا۔ اس نے لڑکی سے کہا …… ''شوبک
‫دور نہیں شاید ایک دن کی مسافت ہے۔ تم ایک گھوڑا لو اور اسے بھگاتی لے جائو‪ ،جلدی پہنچ جائو گی۔ میں واپس چال
‫'' جائوں گا
‫تم زندہ واپس نہیں پہنچ سکو گے ''۔ لڑکی نے کہا…… ''اگر یہیں سے واپس جانا ہے تو مجھے ساتھ لے چلو ۔ تم نے ''
‫مجھے اکیال نہیں چھوڑا‪ ،میں تمہیں اکیال نہیں چھوڑوں گی''۔
‫میں مرد ہوں ''۔ حدید نے کہا …… ''میرادل نہیں مان رہا کہ ایک لڑکی میری حفاظت کرے اس سے بہتر ہے کہ میں''
‫مر جائوں ''۔
‫میں ان معمولی سی لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جو گھروں میں پڑی رہتی ہیں ''…… لڑکی نے کہا …… ''اور جو مرد کی''
‫حفاظت کے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتیں ۔مجھے ایک فوجی مرد سمجھو ۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرا ہتھیار میری
‫خوبصورتی ‪ ،میری جوانی اور میری چرب زبانی ہے ۔ میں تمہاری طرح سختیاں برداشت کر سکتی ہوں ۔ میں شوبک تک
‫پیدل پہنچ سکتی ہوں ''۔
‫میں تمہارے جذبے کی قدر کرتا ہوں ''…… حدید نے کہا …… ''ڈاکو ہم دونوں کو کتنا قریب لے آئے ہیں مگر ہم ایک ''
‫دوسرے کے دشمن ہیں ۔ تم میرے ملک کی بنیادیں ہالنے کی کوشش کر رہی ہو اور ایک دین میں تمہارے ملک پر حملہ
‫کرنے آئوں گا ''۔
‫لیکن اس وقت میری دوستی قبول کر لو ''۔ لڑکی نے کہا …… ''دشمنی کی باتیں اس وقت سوچیں گے ۔ جب تم ''
‫تندرست ہو کر اپنے ملک چلے جائو گے''۔ اس نے حدید کی گردن کے نیچے بازو کر کے اسے اُٹھایا۔ حدید اب اُٹھ سکتا
‫تھا ۔ وہ ا ُٹھا اور آہستہ آہستہ چلتا گھوڑے تک پہنچ گیا ۔ لڑکی نے اس کا پائوں اُٹھا کر رکاب میں رکھا اور اُسے سہارا دے
‫کر گھوڑے پر سوار کر دیا ۔ لڑکی بھی اسی گھوڑے پر سوارہونے لگی تو حدید نے ہاتھ آگے کر کے اسے روک دیا اور کہا ……
‫''تم اب دوسرے گھوڑے پر بیٹھو میں اکیال سواری کر سکوں گا ''۔
‫اس کے باوجود میں اسی گھوڑے پر بیٹھوں گی ''……لڑکی نے کہا …… ''تمہیں اپنے ساتھ لگائے رکھوں گی ''۔''
‫حدید کی ضد کے باوجود لڑکی اس کے پیچھے سوار ہوگئی اور جب ایک بازو اس کے سینے پر رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگانے

‫لگی تو حدید نے مزاحمت کرتے ہوئے کہا ……''مجھے ذرا اپنے سہارے بیٹھنے دو ''…… لڑکی نے اسے زبردستی اپنے ساتھ
‫لگا کر اس کا سر اپنے کندھے پر ڈال دیا ۔ اس نے حدید سے پوچھا …… ''میں جانتی ہوں تم مجھے بدکار لڑکی سمجھ کر
‫مجھ سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہو ''۔
‫نہیں '' ۔ حدید نے کہا …… ''میں تمہیں صرف لڑکی سمجھ کر دور رہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر تمہیں اپنے قریب ''
‫کرنے کر خواہش ہوتی تو دو راتیں تم بے بسی کی حالت میں میری قید میں رہی ہو۔ میں تمہیں اپنی لونڈی بنا سکتا تھا
‫لیکن میں نے اپنے اوپر شیطان کا غلبہ نہیں ہونے دیا تھاتو ۔ اب تو مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میں امانت میں
‫خیانت کر رہا ہوں۔ میرے اندر گناہ کا احساس پیدا ہو رہا ہے ''۔
‫تم پتھر تو نہیں ہو؟'' لڑکی نے اس سے پوچھا ……''مجھے تو جس مرد نے بھی دیکھا ہے بھوکی نظروں سے دیکھا ''
‫ہے ۔ میں نے صرف اتنی سی قیمت دے کر تمہاری قوم کے دو مومنوں کے ایمان خرید لیے تھے ''۔
‫کتنی قیمت؟ ''…… حدید نے پوچھا ۔''
‫صرف اتنی سی کہ انہیں پاس بٹھایا اور سر اپنے کندھے پر رکھ لیا تھا ''۔''
‫ان کے پاس ایمان تھا ہی نہیں ''۔ حدید نے کہا ۔''
‫جو کچھ بھی تھا ''۔ لڑکی نے کہا …… ''وہ میں نے ان سے لے لیا تھا ۔ اس کی جگہ ان کے دلوں میں اپنی قوم ''
‫کے خالف غداری ڈال دی تھی ''۔
‫وہ کون ہیں ؟…… حدید نے پوچھا ۔''
‫ابھی نہیں بتائوں گی ''۔ لڑکی نے جواب دیا ……''جس طرح تم اپنے فرض کے پکے ہو اسی طرح مجھے بھی اپنا فرض''
‫عزیز ہے ''۔
‫حدید خاموش ہوگیا ۔ وہ لڑکی کے جسم کی حرارت اور ہلکی ہلکی بو محسوس کر رہا تھا ۔ لڑکی کے کھلے ہوئے ریشمی سے
‫بال ہوا سے لہرا کر اس کے گالوں پر پڑ رہے تھے اور گالوں کو سہال رہے تھے ۔ اسے اونگھ آگئی۔ گھوڑا چلتا رہا ۔ بہت
‫دور جا کر حدید کی آنکھ کھلی تو سورج سر پر آچکا تھا ۔ اس نے کہا …… ''گھوڑے کو ایڑ لگائو ۔ مجھے اُمید ہے کہ ہم
‫''سورج غروب ہونے کے بعد شوبک پہنچ جائیں گے ۔
‫لڑکی نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور صحرا تیزی سے پیچھے ہٹنے لگا ۔
‫٭ ٭ ٭
‫سورج غروب ہو چکا تھا۔ شوبک کے قلعے کے اس کمرے میں جہاں صلیبی حاکموں اور کمانڈروں کے اجالس ہوا کرتے تھے ‪،
‫وہاں حاکم اور کمانڈر بیٹھے تھے ۔ ان میں عالم جاسوس بھی بیٹھا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا ……''میں یہ نہیں بتا سکتا کہ
‫دونوں لڑکیوں کا کیا حشر ہوا یا ہورہا ہے ۔ میں نے انہیں بچانے بلکہ انہیں دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کی کیونکہ ان سے
‫زیادہ قیمتی یہ راز تھا جو مجھے آپ تک پہنچانا تھا ۔ جیسا کہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ ڈاکووں نے حملہ کیا تو میں
‫موقع دیکھ کر ایک طرف ہوگیا اور گھوڑے تک پہنچ گیا ۔ ایک تو میری رہائی معجزہ ہے۔ دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ میں اتنے
‫خونریز معرکے میں سے صاف بچ کرنکل آیا ۔ کوئی بھی میرے پیچھے نہیں آیا ۔ میرا خیال ہے کہ وہ ڈاکو نہیں تھے ‪،
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے بھیجے ہوئے آدمی تھے ۔ یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اس نے ہم تینوں کو خود سزائے موت کیوں
‫نہ دی اور لڑکیوں کو خراب کرانے کا یہ طریقہ کیوں اختیار کیا ۔ یہ ایک ڈھونگ تھا ۔ لڑکیاں اب ان لوگوں کے قبضے میں
‫ہوں گی اور ظالمانہ اذیتیں برداشت کر رہی ہوں گی''۔
‫انہیں چھڑانے کا ہم کوئی طریقہ نہیں سوچ سکتے''۔ایک صلیبی حاکم نے کہا ۔ ''یہ قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں ۔ ہمارے''
‫پاس لڑکیوں کی کمی نہیں ۔ ہمارا یہ طریقہ کامیاب ہے۔ اسے جاری رکھنے کے لیے اور لڑکیاں تیار کرو …… سب آگئے ہیں ۔
‫اب وہ راز بتائو جو تم اپنے ساتھ الئے ہو ''۔
‫عالم جاسوس انہیں سنا چکا تھا کہ وہ قاہرہ کی ایک مسجد سے کس طرح گرفتار ہوا تھا ۔ قید خانے میں اس کے ساتھ اور
‫لڑکیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا اور سلطان ایوبی نے انہیں کس طرح خالف توقع رہا کیا۔ اس نے یہ بھی سنایا کہ یہ راز
‫سلطان ایوبی نے اسے کس طرح دیا ہے۔ اس نے تاریخ بتا کر کہا ……''صالح الدین ایوبی اس روز اپنی فوج کو کوچ کرائے گا
‫۔ وہ کرک پر حملہ کرے گا۔ نائب ساالر کہہ رہے تھے کہ شوبک کو پہلے لینا چاہیے کیونکہ یہ مضبوط قلعہ ہے لیکن صالح
‫الدین شوبک پر اپنی طاقت نہیں ضائع کرنا چاہتا ۔وہ کرک کو کمزور سمجھ کر پہلے اسے لیناچاہتا ہے۔ وہاں وہ اپنی فوج اور
‫رسد وغیرہ کا اڈہ بنائے گا ۔ رسد جمع کر کے وہ کمک بالئے گا اور فوج کو کافی آرام دے کر شوبک پر حملہ کرے گا ۔
‫اس نے یہ خاص طور پر کہا تھا کہ وہ ہمیں بے خبری میں لینا چاہتاہے۔ اس کی وجہ اس نے یہ بتائی ہے کہ اس کی فوج
‫کم ہے اور ہماری فوج زیادہ بھی ہے اور ہمارے پاس گھوڑے بھی بہتر ہیں اور ہمارے پاس خود اور زرہ بکتر ہیں ۔ اس نے
‫صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اگر صلیبی فوج نے اسے راستے میں روک لیا تواسے شکست کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ وہ
‫کھلے میدان میں لڑنے سے ڈرتا ہے ''…… عالم جاسوس نے وہ تمام باتیں بتائیں جو اس نے سلطان ایوبی کی زبان سے سنی
‫تھیں ۔
‫اتنے قیمتی اور اہم راز کی تفصیل سن کر لڑکیوں کو سب بھول گئے اور اس مسئلے پر تبادلہ خیاالت کرنے لگے۔ وہ اس
‫نتیجے پر پہنچے کر سلطان ایوبی غیرمعمولی طور پر دانشمند جنگجو ہے۔ اس نے کرک پر حملے کا جو پالن بنایا ہے اس
‫میں اس کی جنگی فہم و فراست کا پتہ ملتاہے۔ راستے میں نہ لڑنے کا فیصلہ بھی اس کی دانائی کی دلیل ہے۔ وہ راستے
‫میں طاقت ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ یہ خدائے یسوع مسیح کا خاص کرم ہے کہ اس کے پالن کاعلم ہوگیا ہے‪ ،ورنہ وہ کرک کو
‫لے کر شوبک جیسے مضبوط دفاع کے لیے خطرہ بن سکتا تھا …… انہوں نے اسی وقت سلطان ایوبی کے پالن کے مطابق اپنی
‫فوجوں کی نقل و حرکت اور اوردفاع کا پالن بنانا شروع کر دیا ۔ پالن میں یہ اقدامات طے پائے۔
‫صلیبی افواج کی متحدہ مرکزی کمان شوبک میں ہی رہے گی۔ رسد گاہ بھی وہیں رکھی جائے گی۔ جنگ کو شوبک سے ہی
‫کنٹرول کیا جائے گا۔
‫کرک کی قلعہ بندی کواور زیادہ مضبوط کیا جائے گا ۔ کچھ اور فوج کرک منتقل کردی جائے گی۔
‫ایوبی کو کرک سے دور اس کی اپنی سرحد کے اندر کسی دشورا گزار عالقے میں روکا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے زیادہ سے
‫زیادہ فوج بھیجی جائے گی۔ اس فوج میں گھوڑ سوار اور شتر سوار زیادہ ہوں گے۔ کوشش کی جائے گی کہ ایوبی کی فوج کو
‫گھیرے میں لے لیا جائے۔ پانی کے چشموں پر پہلے سے قبضہ کر لیا جائے۔
‫ان اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد کے احکامات نافد کردئیے گئے۔ ہر کوئی خوش تھا۔ یہ پہال موقعہ تھا کہ سلطان

‫ایوبی کا کوئی راز قبل از وقت معلوم ہوگیا تھا ورنہ اس نے صلیبیوں کو ہمیشہ آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔ اس پر حیرت کا بھی
‫اظہار کیا گیا کہ سلطان ایوبی جیسے آدمی سے یہ لغزش سردز ہوئی کہ ان جاسوسوں کو دوسرے کمرے میں بٹھا کر جنہیں وہ
‫رہاکرنے کا فیصلہ کر چکا تھا ایسی نازک باتیں بلند آواز سے کیں جو اسے شکست فاش سے دو چار کر سکتیں تھیں۔ انہوں
‫نے ایک اہتمام یہ بھی کیا کہ فرانس کی فوج جو وہاں سے بہت دور تھی ۔ یہ پیغام بھیج دیا کہ فالں دن سے پہلے پہلے
‫ایسے مقام پرپہنچ جائے جہاں نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک کو روکاجا سکے۔
‫اتنے میں ایک صلیبی افسر اندر آیا اور انٹیلی جنس کے سربراہ کے کان میں کچھ کہا ۔ اس سربراہ نے سب کو بتایا کہ ان
‫دو میں سے ایک لڑکی جو ڈاکووں کے گھیرے میں آگئی تھی ابھی ابھی آئی ہے۔ اطالع ملی ہے کہ اس کے ساتھ ایک زخمی
‫مسلمان محافظ ہے۔ عالم جاسوس سب سے پہلے کمرے سے نکل گیا۔ اس کے پیچھے دوسرے لوگ بھی باہر چلے گئے۔ حدید
‫کو لڑکی نے برآمدے میں لٹادیا تھا اور خود اس کے پاس بیٹھی تھی ‪ ،گھوڑے کی اتنی لمبی سواری اور تیز رفتاری نے حدید
‫کے زخم کھول دئیے تھے۔ اس کا خون جو صبح بند ہو گیا تھا پھر بہنے لگا تھا اور اس پر غشی طاری ہوئی جا رہی تھی ۔
‫صلیبی کمانڈروں نے حدید کی طرف کوئی توجہ نہ دی کیونکہ انہیں بتایا گیاتھا کہ ڈاکوئوں کاحملہ ایک ڈھونگ تھا ۔ انہوں نے
‫لڑکی کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اسے اندر چلنے کو کہا۔ وہ بڑی قیمتی لڑکی تھی لیکن اس نے اس وقت تک اندر جانے کاارادہ
‫ملتوی کر دیا۔ جب تک حدید کی مرہم پٹی نہیں ہوجاتی ۔
‫انٹیلی جنس کا سرابراہ ہرمن نام کا جرمن تھا ۔ اس نے لڑکی کو پرے لے جاکر کہا …… ''کس سانپ کے بچے کی تم مرہم
‫پٹی کرانا چاہتی ہو۔ یہ تو تمہاری قسمت اچھی تھی کہ بچ کر آگئی ہو ‪ ،ورنہ یہ درندے تمہیں ان وحشیوں کے حوالے کرنا
‫چاہتے تھے جو ڈاکو بن کر آئے تھے ''۔
‫یہ جھوٹ ہے ''۔لڑکی نے جھنجھال کر کہا ۔ ''پہلے ہمیں بھی یہی شک تھا لیکن اس شخص نے میرے سارے شکوک ''
‫رفع کر دئیے ہیں۔ اس نے دو ڈاکوئوں کو ہالک کرکے مجھے بچایا ہے ''۔ اس نے ہرمن کو ساراواقعہ سنادیا اور یہ بھی بتایا
‫کہ یہ شخص اسے بار بار کہتاتھا کہ مجھے یہیں مرنے دو اور تم چلی جائو ۔
‫صلیبیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خالف نفرت اتنی گہری اُتری ہوئی تھی کے اتنے زیادہ افسروں میں سے کسی ایک نے
‫بھی نہیں کہا کہ اس زخمی کی مرہم پٹی کرو۔ عالم جاسوس تک نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ لڑکی ان کے ساتھ اندر
‫نہیں جارہی تھی ۔ آخر کسی نے کہا کہ زخمی کو کمرے میں لے چلو اور فورا ً مرہم پٹی کرو۔ اسے اُٹھوا کر لے گئے اور
‫لڑکی اپنے افسروں کے ساتھ چلی گئی۔ اسے کہا گیا کہ وہ بیان کرے کہ کس طرح زندہ بچی ہے۔ اس نے سب تفصیل سے
‫سنا دیا ۔ اس دوران وہیں کھانا اور شراب آگئی۔ اس نے کہا ……''اگر زخمی کو کھاناکھالیا جا چکا ہے تو میں کھائوں
‫گی ۔ میں ذرا اسے دیکھ آئوں ''……وہ جانے کے لیے اُٹھی ۔
‫ٹھہرو لوزینا!''……ہرمن نے اسے بڑے رعب سے کہا …… ''تم دوسری بار صلیب کی فوج کے احکامات کی خالف ورزی ''
‫کر رہی ہو۔ پہلے تمہیں اندر چلنے کو کہا گیا تو تم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ پہلے زخمی کو اُٹھائو ۔ اب تو بالاجازت
‫اعلی احکام ہیں اور یہاں دو صلیبی حکمران بھی بیٹھے ہیں۔جانتی
‫اور بدتمیزی سے باہر جارہی ہو۔ یہ سب صلیبی فوج کے
‫ٰ
‫ہوں اس حکم عدولی اور بدتمیزی کی سزاکیا ہے ؟…… دس سال سزائے قید …… اور جب تم یہ حکم عدولی دشمن کے ایک
‫معمولی سے عہدیدار کی خاطر کر رہی ہو‪ ،تو تمہیں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے''۔
‫کیا صلیبی حکمران اور کانڈر اس انسان کو اس کا صلہ نہیں دیں گے کہ اس نے ان کی ایک تجربہ کار جاسوسہ کی جان ''
‫اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچائی ہے ؟'' لڑکی نے کہا …… ''میں جانتی ہوں کہ وہ میرے دشمن کی فوج کا عہدیدار
‫ہے لیکن میں اسے دشمن اس وقت کہوں گی جب وہ اپنی فوج میں واپس چال جائے گیا ''۔
‫دشمن ہر حال میں اور ہر جگہ دشمن ہے ''……ایک صلیبی کمانڈر نے چال کر کہا ……''فلسطین میں ہم نے کتنے ''
‫مسلمانوں کو زندہ رہنے دیا ہے؟ اس کی نسل ہم کیوں ختم کرر ہے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ ہمارے دشمن ہیں بلکہ اس لیے کہ
‫وہ ہمارے مذہب کے دشمن ہیں ۔ دنیا پر صرف صلیب کی حکمرانی ہوگی۔ ایک زخمی مسلمان ہمارے لیے کوئی حیثیت نہیں
‫رکھتا ۔ بیٹھ جائو ''۔ لڑکی بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
‫اگلی صبح سے شوبک میں ایک نئی سرگرمی شروع ہوگئی۔ یہ فوجی نوعیت کی سرگرمی تھی شوبک کے شہر کے لوگ اس
‫سرگرمی سے بے نیاز اپنے کام کاج میں مصروف ہوتے جا رہے تھے۔ قلعے سے فوجیں نکل رہی تھیں۔ سامان بھی ادھر ادھر
‫کیا جا رہا تھا ۔ باہر سے آنی والی فوج کی عارضی خیمہ گاہ کے لیے جگہ خالی کی جا رہی تھی ۔ رسد اکٹھی کرنے کے
‫لیے اونٹوں کی قطاریں آرہی تھیں۔ فوجی ہیڈ کوارٹر میں بھی بھاگ دوڑ تھی۔ یہ ساری تیاری صالح الدین ایوبی کا حملہ
‫روکنے کے لیے کی جا رہی تھی اور ان احکامات پر عمل درآمد شروع ہوگیا تھا جو گزشتہ رات کے پالن کے مطابق دئیے
‫گئے تھے ۔ ہر ایک افسر اس افراتفری میں مصروف تھا۔ چند ایک بڑے افسر کرک روانہ ہوگئے تھے۔
‫صرف ایک لڑکی تھی جو اس سرگرمی اور بھاگ دوڑ سے ال تعلق تھی۔ یہ وہی لڑکی تھی جو زخمی حدید کو الئی تھی ۔
‫اس کے افسر نے اسے لوزینا کے نام سے پکارا تھا ۔ رات اسے کانفرنس کے کمرے سے آدھی رات کے بعد فراغت ملی تھی
‫۔ وہ جاسوسی کے خصوصی شعبے سے تعلق رکھتی تھی اس لیے کانفرنس میں اس کی ضرورت تھی ۔ اس سے قاہرہ کے ان
‫افراد کے متعلق رپورٹیں لینی تھیں جن کے پاس وہ جاتی رہی تھی ۔ آدھی رات کے بعد نیند اور گھوڑ سواری کی تھکن نے
‫اسے نڈھال کر دیا تھا ۔ کانفرنس کے بعد ایک افسر نے اسے کہا تھا …… ''اسے ڈاکٹر کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ تمہیں
‫اس کی اتنی زیادہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ تمہاری ڈیوٹی ایسی ہے جس میں ایسے جذبات کامیاب نہیں ہونے دیا کرتے
‫''…… اور اس کے اپنے شعبے کے بڑے افسر‪ ،ہرمن نے اسے کہا تھا ……''اگر آج رات میں نہ ہوتا تو نارڈ اور گے آف
‫لوزینان جیسے بادشاہ کسی کو بخشا نہیں کرتے تمہیں قید میں ڈال دیتے ۔ تمہارے محافظ کا انتظام کر دیا گیاہے اور تمہارے
‫لیے یہ حکم ہے کہ اسے تم نہیں ملو گی ''۔
‫''کیوں؟ '' …… لوزینا نے حیرت اور مایوسی سے پوچھا …… ''کیا میں اس کا شکریہ بھی ادا نہ کر سکوں گی؟''
‫نہیں ''۔ہرمن نے کہا …… ''کیونکہ وہ دشمن کا فوجی ہے۔ تم اپنا شعبہ جانتی ہو کیا ہے۔ ہم تمہیں اس سے ملنے کی''
‫اجازت نہیں دے سکتے ۔ تمہیں دشمن کے ساتھ ایسی وابستگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی ''۔
‫آپ مجھے صرف اتنا سا یقین دال دیں کہ اس کی مرہم پٹی ہوگئی ہے ''۔ لوزینا نے کہا ……''اور اسے صحیح و سالمت''
‫واپس بھیج دیا جائے گا ''۔
‫لوزینا !'' ہرمن نے جھنجھال کر کہا …… ''میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ تمہاری یہ خواہش پوری کر دی جائے گی اور ''
‫سنو۔ تم بڑے مشکل اور خطرناک مشن سے واپس آئی ہو اور تمہارا سفر زیادہ خطرناک تھا ۔ تمہیں آرام کے لیے دس دن

‫چھٹی دی جاتی ہے۔ مکمل آرام کرو ''۔
‫یہ باتیں رات کو ہوئی تھیں۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ جاسوس لڑکیوں کی رہائش ہائی کمان کے مین کوارٹر سے
‫اعلی درجے کی جاسوس لڑکیاں نہایت اچھے کمروں میں رہتی تھیں۔ جہاں انہیں شہزادیوں جیسی
‫بہت دور تھی۔ اس جیسی
‫ٰ
‫سہولتیں اور عیاشی میسر تھی۔ ان کی ڈیوٹی ایسی تھی کہ انہیں مسلمان ملکوں میں بھیجا جاتا تھا ۔جہاں پکڑے جانے کی
‫صورت میں انہیں ہر قسم کے اذیت اورذلت میں ڈاال جا سکتا تھا ۔ موت یا سزائے موت تو یقینی تھی ۔ ایسی ڈیوٹی کا
‫تقاضا تھا کہ ان لڑکیوں کو دنیا کی ہر آسائش مہیا کی جائے۔ لوزینا کمرے میں جاتے ہی سو گئی تھی۔ دوسرے دن اس کا
‫جسم ٹوٹ رہا تھا ۔ وہ اُٹھنا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ ا ُٹھی او ر ناشتہ کرکے باہر نکل گئی۔ اس کے ساتھ والے کمرے میں
‫لڑکیاں آگئیں ۔ وہ اس سے قاہرہ کی باتیں سننا چاہتی تھیں۔ اس نے بہت ہی مختصر سی بات سنا کر انہیں ٹال دیا اور
‫ہسپتال کی طرف چل پڑی۔
‫٭ ٭ ٭
19:34
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪35.۔" جب زہر نے زہر کو کاٹا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫وہ تھوڑی ہی دور گئی تھی کہ اس کی ایک ساتھی لڑکی جو اس کی ہمراز سہیلی تھی پیچھے سے جا ملی اور پوچھا ……
‫'' لوزینا !کہاں جارہی ہو ؟ اور تم پریشان ہو۔ یہ تھکن کا اثر ہے یا کو ئی خاص واقعہ ہوگیا ہے ؟ تمہیں چھٹی نہیں
‫''ملی؟
‫چھٹی مل گئی ہے ''۔اس نے جواب دیا …… ''ایک خاص واقعہ ہوگیا ہے جس نے مجھے پریشان کر دیا ہے''…… وہ ''
‫سہیلی کو ساتھ لیے ایک درخت کے نیچے جا بیٹھی اور اسے تمام واقعہ سنادیا ۔ اسے اپنے افسروں نے جو دھمکیاں دی
‫تھیں وہ بھی سنائیں اور اس نے کہا …… ''میں حدید سے ملنا چاہتی ہوں ۔ مجھے ڈر ہے کہ اس کی مرہم پٹی نہیں ہوئی
‫اورشہر سے نکال دیا گیا ہے یا اسے مرنے کے لیے کسی کوٹھری میں بند کر دیا گیا ہے ''۔
‫تم نے بتایا ہے کہ تمہیں اس سے ملنے سے منع کر دیا گیا ہے''۔ سہیلی نے اسے مشورہ دیا …… ''یہ خطرہ مول نہ ''
‫''لو ۔ تم اگر پکڑی گئیں تو جانتی ہو کہ کیا سزا ہے ؟
‫اس شخص کے لیے میں سزائے موت بھی قبول کر لوں گی''۔لوزینا نے کہا …… ''میں تمہیں سنا چکی ہوں کہ اس نے ''
‫میری خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی ہے ۔میری جان کو تو کوئی خطرہ نہ تھا۔ ڈاکو مجھے لے بھی جاتے تو چند دن
‫مجھے خراب کرکے کسی امیر کبیر کے ہاتھ فروخت کردیتے ۔ حدید میرے اس انجام سے آگاہ تھا ۔ ا س نے میری عزت کی
‫خاطر اپنی جان کی بازی لگا دی تھی۔ ڈاکوئوں نے کہا بھی تھا کہ لڑکیاں ہمیں دے دو اور چلے جائو۔ وہ یہ بھی جانتا تھا
‫کہ میں پاکباز لڑکی نہیں مگر اس نے مجھے امانت سمجھا ''۔
‫''تم اس کے لیے جذباتی ہوگئی ہو؟''
‫ہاں !'' لوزینا نے جواب دیا …… ''میں جذبات کااظہار ہرمن کے آگے نہیں کر سکتی تھی ‪ ،اپنا دل تمہارے آگے رکھ ''
‫سکتی ہوں۔ تم میری سہیلی ہو اور عورت کا دل رکھتی ہو۔ ہماری زندگی کیا ہے ؟ ہم ایک خوبصورت خنجر اور میٹھا زہر
‫ہیں ۔ ہمارا جسم مرد کی تفریح اورفریب کے لیے استعمال ہوتاہے۔ میں نے یہ باتیں پہلے کبھی نہیں سوچی تھیں۔ اپنے وجود
‫کو جذبات سے خالی سمجھا تھا مگر اس آدمی کے جسم کو میں نے اپنے جسم کے ساتھ لگایا تو میرے وجود میں وہ سارے
‫جذبات بیدار ہوگئے۔ جو میں سمجھتی تھی مجھ میں نہیں ہیں۔ میں ایک ہی بار ماں ‪ ،بہن ‪ ،بیٹی اور کسی کو چاہنے والی
‫لڑکی بن گئی۔ یہ شاید اس کااثر تھا کہ اپنے آپ کومیں بادشاہوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے والی شہزادی سمجھتی تھی
‫……''
‫مجھ میں اتنی تخریب کاری ڈالی گئی ہے کہ جابر حکمرانوں کو بھی انگلیوں پر نچا سکتی ہوں۔مگر ڈاکوئوں نے مجھے ''
‫بکنے والی چیز بنا دیا۔ مجھے اس سطح پر لے آئے جہاں مجھ جیسی لڑکیاں ہررات نئے گاہک کے ہاتھ فروخت ہوتی ہیں یا
‫کسی مسلمان امیر یا حاکم کے ہاتھ فروخت ہو کر اس کے حرم کی لونڈیاں بن جاتی ہیں۔اس آدمی جس کا نام حدید ہے‪،
‫مجھے اس سطح سے اُوپر ا ُٹھالیا۔ اس سے پہلے میں اس کی قیدی تھی۔ ا س نے مجھے قابل نہیں سمجھا کہ مجھے تفریح
‫کا ذریعہ بناتا۔ وہ ایسا کرسکتا تھا۔ اس نے مجھے نظر انداز کیا پھر اس نے میری عزت بچانے کے لیے اپنا جسم کٹوالیا تو
‫میں نے بے قابو ہو کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور اس سطح کی لڑکی بن گئی جس سے مجھے گرا دیا گیا ہے۔ مجھے
‫صالح الدین ایوبی کی بات یاد آئی۔ اس نے مجھے کہا کہ تم کسی باعزت آدمی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کر لیتی؟ میں نے
‫دل میں کہا تھا کہ یہ مسلمان احمق ہے۔ میں اب محسوس کر رہی ہوں کہ ہمارے دشمن نے کتنی عظیم بات کہی تھی ……
‫میں تمہیں صاف بتا دیتی ہوں کہ میں اب جاسوسی نہیں کر سکوں گی۔ میرے دماغ میں بچپن سے جو سبق ڈالے گئے تھے
‫وہ صحرا کی خوفناک رات نے ڈاکوئوں کے خطرے نے اور حدید کے جسم کی حرارت اور اس کے خون کی بو نے زائل کر
‫دئیے ہیں ''۔
‫تم اتنی لمبی بات نہ کرتی تو بھی جان گئی تھی کہ تم کیا محسوس کر رہی ہو ''۔ اس کی سہیلی نے کہا ……''لیکن''
‫میں حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتی ہوں ۔ اسے چلے جانا ہے۔ تم اس کے ساتھ نہیں جا سکو گی۔ وہ اگر یہاں
‫تکلیف میں ہے تو حکم ہے کہ تم اسے نہیں مل سکتیں۔ اگر پکڑی گئیں تو اپنے ساتھ اسے بھی مروائو گی''۔
‫تو تم میری مدد کرو''۔لوزینا نے منت کی ۔ ''یہ معلوم کروکہ وہ کہاں ہے۔ مجھے صرف یہ معلوم ہوجائے کہ وہ ٹھیک ''
‫ہوگیا ہے اور تندرستی کی حالت میں چالگیا ہے تو میرے دل کو چین آجائے گا ''۔
‫ہاں!'' سہیلی نے کہا …… ''میں یہ کام کر سکتی ہوں ۔ تم کمرے میں چلی جائو ۔ وہ کمرے میں چلی گئی اور اس ''
‫کی سہیلی کسی اور طرف نکل گئی ''۔
‫٭ ٭ ٭
‫قاہرہ میں بھی فوجوں میں بہت سرگرمی تھی ۔ فوج کی جنگی مشقیں کرائی جا رہی تھیں۔ چند ایک دستے الگ کر لیے
‫گئے تھے۔ انہیں شب خون مارنے ‪ ،تھوڑی تعداد میں دشمن کی کوئی گنا زیادہ نفری پرحملہ کرنے اور ''ضرب لگائواور
‫بھاگو'' کی مشقین اس طرح کرائی جارہی تھیں کہ رات کو بھی دستے چھاونی سے باہررہتے تے۔ سلطان ایوبی ذاتی طور پر
‫اعلی کمانڈروں اور دستوں کے کمانداروں تک کو لکچر دیتا اورانہیں نقشوں اور
‫یہ مشقیں دیکھتا تھا ۔ وہ تیسرے چوتھے روز
‫ٰ

‫خاکوں کی مدد سے جنگی چالیں سکھاتا تھا ۔ اس نے اس ٹریننگ کا بنیادی اصول یہ رکھا تھا …… ''کم تعداد سے دشمن
‫کا زیادہ نقصان کرنا۔ ہتھیار سے زیادہ عقل کو استعمال کرنا۔ آمنے سامنے کے معرکے سے گریز کرنا۔ سامنے سے حملہ نہ
‫کرنا۔دس بارہ آدمیوں کے شب خون سے اتنا نقصان کرنا جتنا ایک سو آدمی دن کے وقت ُدو بدو معرکے میں کر سکتے ہیں
‫''۔
‫اس کے عالوہ دشمن کے کسی قلعے یا شہر کو لمبے محاصرے میں رکھنے کے طریقے بتاتا اور قلعوں کی دیواروں میں نقب
‫لگانے کے سبق دیتا تھا ۔ اس نے تمام اونٹوں ‪ ،گھوڑوں اور خچروں کا معائنہ کر لیا تھا ۔ کمزور یا عمر خورد جانوروں کو
‫اس نے الگ کر دیا تھا …… حملے کی تاریخ طے ہوچکی تھی ۔ سلطان ایوبی نے فلسطین کی فتح کا جو منصوبہ بنایا تھا اس
‫کے پہلے مرحلے میں کامیابی سے داخل ہونے کی تیاری زور و شور سے کر رہا تھا ۔ ادھر اسے راستے میں ہی روکنے کے
‫اہتمام ہو رہے تھے۔
‫دونوں فوجوں کی تیاریاں ایسی تھیں جیسے ایک دوسرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ صلیبیوں کی تیاری کا دائرہ
‫شوبک سے کرک تک اور مصر کی سرحدوں تک تھا ۔ وہ اس وسیع دائرے کو سلطان ایوبی کے لیے ایسا پھندہ بنا رہے تھے
‫جس میں سے اس کے لیے ساری عمر نکلنے کا کوئی امکان نظر نہ آتا تھا ۔ ان کی تیاریاں سلطان ایوبی کے اس منصوبے
‫کی اس روشنی میں ہو رہی تھیں جو ان تک قبل از وقت پہنچ گیا تھا ۔
‫ان وسیع تیاریوں کے اندر شوبک میں ایک سرگرمی اور بھی تھی ‪ ،جس کا تعلق جنگ سے نہیں جذبات سے تھا اور یہ ایک
‫خفیہ سرگرمی تھی۔ لوزینا اپنے کمرے میں پڑی حدید کے لیے بے قرار ہو رہی تھی اور اس کی سہیلی دو روز سے حدید کو
‫ڈھونڈ رہی تھی ۔ وہ افسروں کے ہسپتال میں بھی نہیں تھا او وہ سپاہیوں کے ہسپتا ل میں بھی نہیں تھا ۔ وہ جاسوس لڑکی
‫تھی ۔ بڑے بڑے افسر بھی اس کی عزت کرتے تھے۔ لوزینا کو اور ہر جاسوس لڑکی کو وہاں اہمیت حاصل تھی ۔ اس کے
‫باوجود یہ سہیلی جس سے بھی پوچھتی کہ لوزینا کے ساتھ جو زخمی مسلمان آیا تھا وہ کہاں ہے تو اسے یہی ایک جواب
‫ملتا …… ''میں نے تو اسے نہیں دیکھا ''……تیسرے دن ایک افسر نے اسے رازداری سے بتایا کہ اس کی مرہم پٹی کر دی
‫گئی تھی اور اسے مسلمانوں کے کیمپ میں بھیج دیا گیا تھا ۔
‫سہیلی نے جب یہ خبر لوزینا کو سنائی تو اس پر سکتہ طاری ہوگیا …… ''مسلمانوں کا کیمپ ''ایک خوفناک جگہ تھی ۔
‫اس میں پہلی جنگوں کے مسلمان قیدی بھی تھے اور وہ مسلمان بچے بھی جنہیں کسی جرم کے بغیر صلیبیوں نے اپنے
‫مقبوضہ عالقے سے پکڑا تھا ۔ یہ مسلمان زیادہ تر ان قافلوں میں سے پکڑے جاتے تھے جنہیں صلیبی لوٹتے تھے۔ یہ کیمپ
‫قیدخانہ نہیں تھا ‪ ،یہ جنگی قیدی کیمپ کہالتا تھا ۔ یہ ایک بیگار کیمپ تھا جس پر کوئی ایسا کڑہ پہرا نہ تھا جیسا قید
‫خانوں میں ہوتا ہے۔ ان بد نصیب قیدیوں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈبھی نہ تھا ۔ یہ لوگ مویشی بنا دئیے گئے تھے ۔ جہاں
‫ضرورت ہوتی ان میں سے بہت سے آدمی ہانک کر لے جائے جاتے اور ان سے کام لیا جاتا تھا ۔ انہیں خوراک صرف اتنی
‫سی دی جاتی جس سے وہ زندہ رہ سکتے تھے۔ وہ خیموں میں رہتے تھے ۔ ان میں جو بیمار پڑ جاتا اس کا عالج اسی
‫صورت میں کیا جاتا تھا کہ بیماری معمولی ہو۔ اگر بیماری فورا ً زور پکڑلے تو اسے زہر دے کر مار دیا جاتا تھا ۔ یہ بد نصیب
‫مسلمانوں کا ایک گروہ تھا جو صرف اس جرم کی سزا بھگت رہے تھے کہ وہ مسلمان ہیں۔ سلطان ایوبی کو اس کے
‫جاسوسوں نے اس بیگار کیمپ کے متعلق خبریں دے رکھی تھیں ۔
‫حدید کو بھی کیمپ میں بھیج دیا گیا تھا ۔ لوزینا کے لیے حکم تھا کہ اسے نہ ملے ۔ ہرمن کو شک ہوگیا تھا کہ ایک
‫جذباتی وابستگی ہے ‪ ،لیکن لوزینا نے اس حکم کو قبول نہیں کیا تھا ۔ اس نے جب سنا کہ حدید ''مسلمانوں کے کیمپ''
‫میں ہے تو اس نے سہیلی سے کہا کہ وہ اسے آزاد کرائے گی۔ سہیلی نے اس کی جذباتی حالت دیکھ کر مدد کا وعدہ کیا
‫اور دونوں نے پالن بنالیا ۔
‫وہ اسی شہر میں گئی اور ایک پرائیویٹ ڈاکٹر سے ملی ۔ اسے کہا کہ وہ ایک زخمی کو ال رہی ہے جس کا عالج اسے اس
‫شرط پر کرنا پڑے گا کہ اس کے متعلق کسی کو کچھ نہ بتائے۔ ڈاکٹر نے اس رازداری کی وجہ پوچھی تو لوزینا نے کہا ……
‫''وہ ایک غریب سا مسلمان ہے جس نے میرے خاندان کی بہت خدمت کی ہے ۔ وہ کہیں لڑائی جھگڑے میں زخمی ہوگیا
‫ہے ۔ اس کے پلے کچھ بھی نہیں اس لیے کوئی ڈاکٹر اس کا عالج نہیں کرتا ۔ چونکہ یہاں تمام ڈاکٹر عیسائی ہیں اس لیے
‫وہ کسی مسلمان کا عالج بال اجرت نہیں کرتے ۔ رازداری کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر شہر کے منتظم تک یہ خبر پہنچ
‫گئی کہ ان مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا ہوا ہے تو وہ اسی کو بہانہ بنا کر انہیں مسلمانوں کے کیمپ میں بھیج دے گا ۔ انہیں
‫تو بہانہ چاہیے ۔ میں اس آدمی کو اس خدمت اور ایثار کا صلہ دینا چاہتی ہوں۔ جو اس نے میرے خاندان کے لیے کیا ہے ۔
‫میں اسے رات کے وقت الئوں گی ۔
‫آپ کتنی اُجرت لیں گے۔ میں رازداری کی بھی اُجرت دوں گی ''۔
‫اس دوران ڈاکٹر اسے سر سے پائوں تک دیکھتا رہا ۔ لوزینا نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کون ہے۔ یہی بتایا تھا کہ وہ
‫ایک معزز گھرانے کی لڑکی ہے۔ لڑکی کا غیر معمولی حسن دیکھ کر ڈاکٹر جو اُجرت لینا چاہتا تھا ‪ ،اسے وہ زبان پر نہیں ال
‫رہا تھا ۔ لوزینا اس میدان اور اس فن کی ماہر تھی ۔ و ہ مردوں کی نظریں پہنچانتی تھی ۔ اس نے اپنے فن کو استعمال
‫کیا تو ڈاکٹر موم ہوگیا ۔ لوزینا نے سونے کے چار سکے اس کے آگے رکھ دئیے اور جب ڈاکٹر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں
‫لے کر کہا کہ تم سے زیادہ قیمتی سکہ نہیں تو لوزینا نے مخصوص مسکراہٹ سے کہا …… ''آپ جو قیمت مانگیں گے دوں
‫گی۔ میرا کام کردیں ''۔
‫ڈاکٹر یہ سمجھ گیا کہ معاملہ خطرناک اور پر اسرار معلوم ہوتا ہے لیکن لوزینا کو دیکھ کر اس نے خطرہ قبول کر لیا اور کہا
‫…… ''لے آئو ۔ آج رات‪ ،کل رات‪ ،جب چاہو لے آئو۔ اگر میں سویا ہوا ملوں تو جگا لینا ''…… اس نے ایک ہاتھ میں
‫سونے کے سکے اور دوسرے ہاتھ میں لوزینا کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس مہم کا سب سے زیادہ نازک اور پر خطرہ مسئلہ تو یہ تھا کہ حدید کو کیمپ سے نکاال کس طرح جائے ۔ رات کو وہاں
‫پہرہ برائے نام ہوتا تھا ۔ ان بدنصیب قیدیوں میں بھاگنے کی سکت ہی نہیں تھی ۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے انہیں مشقت
‫پر لگایا جاتا اور سورج غروب ہونے کے بعد کیمپ میں الیا جاتا ۔ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ لوزینا کی سہیلی
‫نے کیمپ کے متعلق کچھ معلومات حاصل کرلیں جن میں ایک یہ بھی تھی کہ زخمی اور بیمار قیدیوں کو معمولی سی ایک
‫ڈسپنسری میں ہر روز بھیجا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ صرف ایک پہرہ دار ہوتا ہے ۔ دوسرے دن لوزینا اپنی سہیلی کے ساتھ
‫وہاں پہنچ گئی جہاں مریض قیدیوں کو لے جایا جا تا تھا۔ اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ پچیس تیس مریضوں کی ایک پارٹی

‫نہایت آہستہ آہستہ چلتی آرہی تھی اور پہرہ دار ہاتھ میں الٹھی لیے انہیں مویشیوں کی طرح ہانکتا ال رہا تھا ۔ جو تیز نہیں
‫چل سکتے تھے انہیں وہ الٹھی سے دھکیل دھکیل کر الرہا تھا ۔
‫دونوں لڑکیاں آگے چلی گئیں۔ ان کا انداز ایسا تھا جیسے تماشہ دیکھ رہی ہوں۔ جب مریضوں کا ٹولہ ان کے قریب سے گزر
‫رہا تھا تو وہ ہر ایک کو دیکھنے لگتیں۔ اچانک لوزینا کو دھچکا لگا۔ حدید اسے قہر بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ اس کے
‫اچھی طرح چال نہیں جا رہا تھا ۔ اس کے چہرے سے وہ رونق اور رمق بجھ گئی تھی جو لوزینا نے زخمی ہونے سے پہلے
‫دیکھی تھی ۔ حدید کے کندھے جھک گئے تھے۔ اس کے کپڑے خون سے الل تھے۔ خون خشک ہو چکا تھا ۔ لوزینا کی
‫آنکھوں میں آنسو آگئے مگر حدید کی آنکھوں میں نفرت تھی ۔ اس نے منہ پھیر لیا …… یہ مریض ٹولہ آگے نکل گیا تو لوزینا
‫اور اس کی سہیلی پہرہ دار سے باتیں کرنے لگیں جن میں ان مسلمان مریضوں کے خالف نفرت تھی ۔ انہوں نے زبان کے
‫جادو سے پہرہ دار کواپنا گرویدہ کرلیا اور کہا کہ وہ ازراہ مذاق ان قیدیوں کے ساتھ باتیں کرنا چاہتی ہیں ۔
‫ڈسپنسری میں دوسرے مریض بھی تھے۔ خاصا ہجوم تھا۔ قیدیوں کو ایک طرف بٹھادیا گیا ۔ لوزینا ان کے قریب چلی گئی اور
‫اس کی سہیلی نے پہرہ دار کوباتوں میں ا ُلجھا لیا۔ حدید دیوار کے سہارے بیٹھ گیا تھا ۔ اس کی حالت اچھی نہیں تھی ۔
‫لوزینا نے آنکھ کے اشارے سے اسے پرے بالیا ۔ وہ جب اس کے قریب گیا تو لوزینا نے آہستہ سے کہا …… ''مجھے حکم
‫مال ہے کہ تم سے کبھی نہ ملوں۔ بیٹھ جائو ۔ ہم یہ ظاہر نہیں ہونے دیں گے کہ ہم باتیں کر رہے ہیں ''۔
‫میں لعنت بھیجتا ہوں تم پر اور تمہارے حکم دینے والوں پر ''۔ حدید نے نحیف مگر غضبناک آواز میں کہا …… ''میں ''
‫نے تمہیں کسی صلے کے اللچ میں ڈاکوئوں سے نہیں بچایا تھا ۔ وہ میرا فرض تھا۔ کیا تم فرض ادا کرنے والوں کے ساتھ یہ
‫''سلوک کرتے ہو ؟
‫چپ رہو حدید !''……لوزینا نے رندھیائی ہوئی آواز میں کہا …… ''یہ باتیں بعد میں ہوں گی ۔ مجھے بتائو کہ رات تم ''
‫کس جگہ ہوتے ہو۔ آج رات تمہیں وہاں سے نکالنا ہے ''۔
‫حدید اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لوزینا نے اسے آنسوئوں سے اور بڑی مشکل سے یقین دالیا کہ وہ اسے دھوکہ نہیں
‫دے رہی ۔ حدید نے بتایا کہ وہ رات کو کہاں سوتا ہے ‪،وہاں سے نکلنا مشکل نہیں لیکن نکل کر وہ جائے گا کہاں ؟……
‫انہوں نے جلدی جلدی فرار کا منصوبہ بنالیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫مسلمانوں کا کیمپ'' ایسی نیند سویاہوا تھا جیسے یہ الشوں کی بستی ہو۔ پہرہ دار بھی سو گئے تھے۔ یہاں سے کبھی ''
‫کوئی بھاگا نہیں تھا ۔ بھاگ کر کوئی جاتا بھی کہاں ! اس کے عالوہ پہرہ داروں کو یہ بھی معلوم تھا کو کوئی ایک آدھا
‫بھاگ بھی گیا تو کون جواب طلبی کرے گا۔ رات پہال پہر ختم ہورہا تھا کہ پھٹے پرانے ایک خیمے سے ایک آدمی پیٹ کے
‫بل رینگتا ہوا خیموں کی اوٹ میں وہاں تک چال گیا۔ جہاں اسے کوئی پہرہ دار نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ آگے اسے اندھیرے میں
‫بھی کھجور کا درخت نظر آنے لگا جہاں تک اسے پہنچنا تھا ۔ ایک سایہ سر سے پائوں تک موٹے کپڑوں میں لپٹا ہوا کھڑا
‫تھا۔ رینگنے واال ا ُٹھ کھڑا ہوا اور کھجور کے تنے تک پہنچ گیا۔ وہ حدید تھا ۔ لوزینا اس کی منتظر تھی ۔
‫تیز چل سکو گے''…… لوزینا نے پوچھا۔''
‫کوشش کروں گا''…… حدید نے جواب دیا ۔''
‫وہ کیمپ سے دور نکل گئے۔ آگے وسیع عالقہ غیر آباد تھا ۔ مشکل یہ تھی کہ حدید تیز نہیں چل سکتا تھا ۔ لوزینا نے
‫اسے سہارا دے کر تیز چالنے کی کوشش کی اور اسے بتاتی گئی کہ اسے کیسے کیسے حکم اوردھمکیاں ملی ہیں۔ اس نے
‫حدید کی غلط فہمی رفع کردی ۔ آگے شہر کی گلیاں آگئیں اور پھر ڈاکٹر کا گھر آگیا۔ تین چار بار دستک دینے سے ڈاکٹر
‫باہر آگیا اور انہیں فورا ً اندر لے گیا۔ اس نے حدید کے زخم کھول کر دیکھے تو کہا کہ کم از کم بیس روز مرہم پٹی ہوگی۔ یہ
‫سن کر لوزینا کے سامنے ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ آگیا ۔ و ہ یہ تھا کہ اتنے دن حدید کو چھپائے گی کہاں؟ اسے بیگار
‫کیمپ میں واپس تو نہیں لے جانا تھا ۔ اس کی عقل جواب دے گئی۔ ڈاکٹر مرہم پٹی کر چکا تھا ‪ ،اس نے کہا کہ اسے
‫نہایت اچھی اور مقوی غزا کی ضرورت ہے۔
‫لوزینا اسے پرے لے گئی اورکہا …… ''یہ جہاں رہتا ہے وہاں اسے اچھی غذا نہیں مل سکتی ۔ میں گھر میں اسے اپنے پاس
‫نہیں رکھ سکتی۔ آپ اسے یہیں رکھیں اورجو چیز اس کے لیے فائدہ مند ہو و ہ کھالئیں۔ مجھ سے آپ جتنی قیمت اور
‫اُجرت مانگیں گے دوں گی ''۔
‫ڈاکٹر نے جو ا ُجرت بتائی وہ بہت ہی زیادہ تھی ۔ لوزینا نے کم کرنے کو کہا تو ڈاکٹر نے کہا ……''تم مجھ سے بہت ہی
‫خطرناک کام کرا رہی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ یہ شخص مسلمانوں کے کیمپ سے الیاگیا ہے۔ اور یہ مصری فوج کا سپاہی ہے ۔
‫تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ مجھے منہ مانگی ا ُجرت دو گی تو تمہارا یہ راز میرے گھر سے باہر نہیں جائے گا ''۔
‫مجھے منظور ہے''……لوزینا نے کہا …… ''اور یہ بھی سن لو ڈاکٹر! اگر یہ راز فاش ہوگیا تو آپ زندہ نہیں رہیں گے''۔''
‫ڈاکٹر نے حدید کو ایک کمرے میں لٹا دیا اور اسے بتایا کہ وہ ٹھیک ہونے تک یہیں رہے گا ۔ اس نے اندر سے اسے دودھ
‫اور پھل الدئیے اور لوزینا کوایک اور کمرے میں لے گیا …… دوسرے دن لوزینا اور اس کی سہیلی نے کیمپ کی جاسوسی کی ۔
‫ڈسپنسری میں گئیں۔ مریض قیدی وہاں لے جائے گئے ۔ دونوں لڑکیوں نے پہرہ دار کے ساتھ گپ شپ لگا ئی اور اپنے
‫خصوصی ڈھنگ سے باتیں کرکے معلوم کرلیا کہ حدید کی گمشدگی سے کیمپ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہاں کوئی ہلچل
‫نہیں ۔
‫دن گزرتے گئے۔ ڈاکٹر کو چونکہ منہ مانگی قیمت اور اُجرت مل رہی تھی ‪ ،اس لیے اس نے حدید کو چھپائے بھی رکھا اور
‫اس کا عالج پوری توجہ سے کرتا رہا۔ اسے مقوی غذا بھی دیتا رہا ۔ لوزینا شام کے بعد وہاں جاتی۔ کچھ دیر حدید کے
‫ساتھ بیٹھتی اور بہت دیر ڈاکٹر کے کمرے میں گزارتی ۔ اس روز مرہ کے معمول میں بیس روز گزر گئے اور حدید کے زخم
‫ٹھک ہو گئے۔ اس کی صحت بحال ہوگئی۔ لوزینا نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ کل رات کسی بھی وقت حدید کو لے جائے گی۔
‫دوسرے دن اس نے اپنی سہیلی کو استعمال کیا۔ چھوٹے عہدے کا ایک افسراس کی سہیلی کے پیچھے پڑا رہتا تھا۔ سہیلی نے
‫اس افسر کو جھانسہ دیا اور لوزینا نے اس کے ٹرنک سے اس کی وردی نکال لی جو اس نے حدید کو پہنادی۔گھوڑے کا انتظام
‫مشکل نہ تھا ۔ وہ بھی ہوگیا۔ یہ اہتمام اس لیے کیا جا رہا تھا کہ شہر کے اردگرد مٹی کی بہت اونچی دیوار تھی ۔ اس
‫کے چار دروازے تھے جو رات بند رہتے تھے۔ ان دنوں دن کے وقت یہ دروازے کھلے رکھے جاتے تھے کیونکہ سلطان ایوبی کے
‫آنے والے حملے کے لیے فوجوں اور ان کے سامان کی آمدو رفت جاری رہتی تھی ۔
‫سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے قلعے کے ایک بڑے دروازے کی طرف ایک صلیبی افسر گھوڑے پر جا رہا تھا ۔ اس کی

‫کمر سے لٹکی ہوئی تلوار مسلمانوں کی طرح ٹیڑھی نہیں سیدھی تھی اور اس کا دستہ صلیب کی شکل کا تھا۔ و ہ ہر لحاظ
‫سے صلیبی تھا۔ دروازہ کھال ہوا تھا جس سے اونٹوں کا ایک کارواں رسد سے لدا ہوا باہر جارہا تھا۔ ظاہر یہی ہو تا تھا
‫جیسے یہ گھوڑ سوار افسر اس کارواں کے ساتھ جارہا ہو۔ وہ کہیں باہر سے آرہا تھا ۔ اس نے افسر کو دیکھا اور مسکرایا ‪،
‫مگر اس افسر نے مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے نہ دیا۔ ہرمن چند قدم اندر کو آیا تو اس نے گھوڑا روک لیا۔ اسے دو
‫تین سو قدم دور لوزینا کھڑی نظر آئی جس نے ہرمن کو دیکھا تو وہاں سے تیز ی سے اپنے ٹھکانے کی طرف چلی گی۔
‫علی بن سفیان ک طرح ہرمن بھی جاسوس اور سراغرساں تھا۔ اس نے فورا ً گھوڑا دروازے کی طرف گھمایا اور ایڑ لگادی ۔ وہ
‫اپنا شک رفع کرنا چاہتاتھا۔ اس نے گھوڑے کوایڑ لگائی تو گھوڑا دوڑ پڑا۔ باہر جا کر ہرمن نے دیکھا کہ جو افسر اس کے پاس
‫سے گزرا تھا وہ اتنی دور نکل گیا تھا کہ اس کے تعاقب میں جانا بیکار تھا۔ اس گھوڑ سوار نے دروازے سے نکلتے ہی
‫گھوڑے کو ایڑ لگادی تھی ۔ گھوڑا بہت تیز رفتار تھا۔ ہرمن اسے دیکھتا رہا اور صحرا کی وسعت میں گم ہو گیا …… لوزینا نے
‫حدید کو آزاد کراکے صلہ دے دیا تھا ۔
‫٭ ٭ ٭
‫ہرمن نے اپنا گھوڑا موڑا اور تیزی سے اندر گیا ۔ وہ سب سے پہلے مسلمانوں کے کیمپ میں گیا اور وہاں کے انچارج سے
‫حدید کی نشانیاں بتا کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔ کچھ پتہ نہ چال۔ جس خیمے میں حدید کو رکھا گیا تھا وہاں کے رہنے والوں
‫نے بتایا کہ ایک صبح وہ یہاں سے غائب تھا۔ وہ سمجھے کہ اسے ادھر ادھرکر دیا گیا ہے۔ ہرمن کا شک یقین میں بدل
‫گیا۔ وہ حدید ہی تھا جسے اس نے صلیبی فوج کی وردی میں دروازے سے نکلتے دیکھا تھا ۔ وہ مزیدتفتیش سے پہلے لوزینا
‫کے کمرے میں گیا ۔ وہ سر ہاتھوں میں تھامے رو رہی تھی ۔
‫کیا تم نے اسے بھگایا ہے''……ہرمن نے گرج کر کہا۔ لوزینا نے آہستہ سے سر اُٹھایا۔ ہرمن نے کہا …… ''جھوٹ بولو گی''
‫تو میں تفتیش کرکے ثابت کردوں گا کہ اسے تم نے فرار میں مدد دی ہے ''۔
‫نہ آپ کو تفتیش کی ضرورت ہے نہ مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت''…… لوزینا نے کہا …… ''میری زندگی ایک شاہانہ ''
‫جھوٹ اور میرا وجود ایک خوبصورت دھوکہ ہے۔ اپنی روح کی نجات کے لیے میں سچ بول کر مر رہی ہوں ''۔ اس کی آواز
‫میں غنودگی تھی جو بڑھتی چلی جارہی تھی ۔ وہ ا ُٹھی تو اس کی ٹانگیں لڑکھڑا ئیں۔ اس کے قریب ایک گالس پڑا تھا
‫جس میں چند قطرے پانی تھا۔ اس نے گالس ا ُٹھا کر ہرمن کی طرف بڑھا کر کہا …… ''میں اپنے آپ کو سزائے موت دے
‫رہی ہوں ۔ اس گالس میں پانی کے چند قطرے گواہی دیں گے کہ میں نے اپنے ناپاک جسم کو سزائے موت اس لیے نہیں دی
‫کہ اپنی قوم سے غداری کی اور دشمن کو قید سے بھگادیا ہے بلکہ میرا جرم یہ تھا کہ میں ان انسانوں کو دھوکے دینے گئی
‫تھی جن کے ہاں کوئی دھوکہ اور فریب نہیں ۔ ان میں چار انسانوں نے میری عزت بچانے کے لیے جو میرے پاس تھی ہی
‫نہیں ‪ ،دس ڈاکوئوں کامقابلہ کیا۔ پھر ایک انسان نے مجھے اپنا جسم کٹوا کر ڈاکوئوں سے چھینا۔ مجھے نیکی اور بدی ‪،
‫'' محبت اور نفرت کا فرق معلوم ہوگیا تھا۔ میں سچ بول کر مر رہی ہوں ۔ یہ پر سکون موت ہے۔
‫وہ گرنے لگی تو ہرمن نے اس کے ہاتھ سے گالس لے کر اسے تھام لیا۔ لوزینا نے اپنے جسم کو جھٹکا دیا اور ہرمن کے
‫بازوئوں سے نکل کر پر ے ہوگئی۔ اونگھتی ہوئی آواز میں بولی …… ''میرے جسم کو ہاتھ نہ لگائو۔ یہ اب تمہارے کام کا
‫نہیں رہا۔ اس زہر نے اس میں سچ داخل کر دیا ہے۔ تمہیں ناپاک جسموں کی ضرورت ہے…… میں نے اسے بھگا یاہے۔ اسے
‫میں نے بیس روز چھپائے رکھا تھا۔ اسے میں نے فرنینڈس کی وردی چرا کر پہنائی تھی ۔ اسے میں نے گھوڑا دیا تھا۔ میں
‫اس کے ساتھ نہیں جا سکتی تھی۔ میں اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتی تھی‪ ،اس لیے میں نے زہر پی لیا ۔ اگر تم مجھے
‫پکڑ نہ لیتے تو بھی میں زہر پی لیتی ''…… وہ پلنگ پر لڑھک گئی ۔ ہرمن کو اس کی آخری سرگوشی سنائی دی ……
‫''سچ بول کر مرنے میں کتنا سکون ہے ''…… اس نے آخری سانس اس طرح لی جیسے سکون سے آہ بھری ہو۔
‫اسے جب دفن کرچکے تو اک افسر نے پوچھا …… ''اس کا کوئی خاندان تھا تو انہیں اس کی موت کی اطالع دے دو ''۔
‫اس کا خاندان ہم ہی تھے'' …… ہرمن نے جواب دیا …… ''اسے دس گیارہ سال کی عمر میں کسی قافلے سے اغوا ''
‫کرکے الئے تھے''۔
‫صالح الدین ایوبی کی فوج کو کوچ کیے تیسرا دن تھا۔ صلیبیوں نے اسے راستے میں روکنے کے لیے فوج بھیج دی تھی ۔
‫حملہ چونکہ کرک پر آرہا تھا ‪ ،اس لیے صلیبیوں نے شوبک سے زیادہ تر فوج کرک بھیج دی تھی ۔ اس کا ایک حصہ شام
‫کی طرف بھیج دیا گیا تھا تا کہ نورالدین زنگی مدد کے لیے آئے تو اسے کرک سے کچھ دور روکا جا سکے اور اس فوج کا
‫کچھ حصہ سلطان ایوبی کو راستے میں روکنے والی فو ج کو دیا گیا تھا ۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج کو تین
‫حصوں میں تقسیم کرکے کوچ کرایا تھا اور تینوں کو دوردور رکھا تھا ۔ وہ جب اس مقام پر پہنچ گیا جہاں صلیبیوں سے ٹکر
‫ہونی چاہیے تھی ‪ ،اس نے تینوں حصوں کے کمانڈروں اور ان کے ماتحت کمانڈروں کو اپنے خیمے میں بالیا۔
‫ہم اس مقام پر آگئے ہیں جہاں راز فاش کردینا چاہیے ''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''تم شاید حیران ہور ہے ہوگے کہ''
‫میں تمہیں یہ بتاتا رہا ہوں کہ میں کرک پر حملہ کروں گا مگر میں تمہیں کسی اور طرف لے آیا ہوں ۔ میں کرک پر حملہ
‫نہیں کر رہا ۔ ہماری منزل شوبک ہے۔ ایک سوال تم سب کو پریشان کر رہاہے کہ میں نے ان تین جاسوسوں کو جن میں
‫ایک عالم تھا اور دو لڑکیاں ‪ ،کیوں رہا کر دیا تھا اور انہیں محافظ کیوں دئیے تھے۔ اس سوال کا جواب سن لو ۔ میں نے
‫انہیں اپنے ساتھ والے کمرے میں بٹھا کر درمیان کا دروازہ کھال رکھا اور علی بن سفیان اوردو نائبین کو یہ بتانا شروع کردیا کہ
‫میں فالں تاریخ کو کرک پر حملہ کررہا ہوں۔ میں جانتا تھا کہ جاسوس سن رہے تھے۔ میں نے ان کے کانوں میں یہ بھی
‫……'' ڈاال کہ میں صلیبیوں سے کھلے میدان کی جنگ سے ڈرتا ہوں
‫اس قسم کی باتیں ان کے کانوں میں ڈال کر انہیں رہا کردیا اور انہیں محافظ دئیے تا کہ وہ صحیح و سالمت شوبک پہنچ ''
‫جائیں۔ مجھے اطالع ملی ہے کہ راستے میں ایک حادثہ ہوگیا ہے۔ ڈاکوئوں نے تین محافظوں اور ایک لڑکی کو مار ڈاال ہے۔
‫چوتھا محافظ کل رات شوبک سے واپس آگیا ہے۔ وہاں ہمارے جو جاسوس ہیں انہوں نے اطالع دی ہے کہ عالم جاسوس زندہ
‫شوبک پہنچ گیا تھا جس نے میرا دھوکہ کامیاب کردیا ہے۔ صلیبیوں نے اپنی فوج میری مرضی کے مطابق تقسیم کردی ہے۔ اس
‫وقت تمہاری فوج کا بائیں واال حصہ صلیبیوں کی بہت بڑی فوج کے بائیں پہلو سے چار میل دور ہے ''۔
‫اس نے بائیں حصے کے کمانڈر سے کہا …… ''آج سورج غروب ہونے کے بعد تم اپنے تمام گھوڑ سوار دستے سیدھے آگے دو
‫میل لے جائو گے۔ وہاں سے اپنے بائیں کو ہوجانا۔ چار میل سیدھا جانا پھر بائیں کو جانا اور دو میل پر تمہیں دشمن آرام
‫کی حالت میں ملے گا۔ حملہ کرنا تم جانتے ہو۔ یہ تیز ہلہ ہوگا۔ راستے میں جو کچھ آئے اسے کچلتے ہوئے نکل آئو اور
‫اپنی اسی جگہ پر آجائو جہاں سے چلے تھے۔ دوسرا حصہ شام کے بعد سیدھا آگے بڑھے گا۔ آٹھ نو میل جاکر بائیں کو

‫ہوجائے گا۔ تمہیں دشمن کی رسد اور قافلے ملیں گے۔ اس کے عالوہ تم دشمن کے عقب میں ہوگے۔ دن کے وقت دشمن
‫بائیں والے کے تعاقب میں آئے گا لیکن تم سامنے کی ٹکر نہیں لو گے ۔ دن کو بہت پیچھے آجائو گے۔ رات کو پھر حملہ
‫کرو گے اور رکو گے نہیں۔ صلیبی آگے بڑھیں گے تو درمیان واال حصہ عقب سے حملہ کرے گا اور دشمن کے سنبھلنے تک
‫بکھر جائے گا ۔ تیسرا حصہ جو میرے ساتھ ہے‪ ،آج رات کوچ کر رہا ہے۔ ہم کل دوپہر تک شوبک کا محاصرہ کر چکے ہوں
‫گے۔ باقی دو حصے صلیبیوں کو ان طریقوں سے جن میں تمہیں مشق کراتا رہا ہوں ‪ ،دشمن کو صحرا میں پریشان کیے رکھیں
‫گے۔ اس تک رسد نہیں پہنچنے دیں گے ۔وہ جوں ہی پانی کے چشمے سے ہٹے گا تم چشموں پر قبضہ کرلوگے۔ حملہ ہمیشہ
‫پہلو سے کروگے اور لڑنے کے لیے رکو گے نہیں ۔ جانباز دستے ہر رات دشمن کے مویشیوں پر آگ پھینکیں گے ''۔
‫یہ ‪١١٧١ء کے آخری دن تھے جب کرک والوں کو سلطان ایویبی کے لیے انتظار کے بعد پتہ چال کہ شوبک جیسا اہم قلعہ
‫سلطان ایوبی کے محاصرہ میں آگیا ہے جب کہ زیادہ ترفوج کرک میں اکھٹی کرلی گئی ہے اور صحرا میں بھیج دی گئی ہے۔
‫شوبک کو وہ کوئی مدد نہیں دے سکتے تھے۔ صحرا میں جو فوج گئی تھی ‪ ،مسلمان اس کا برا حشر کر رہے تھے۔ صلیبیوں
‫کی پریشانی یہ تھی کہ مسلمان سامنے آکر نہیں لڑتے تھے۔ وہ گوریال اور کمانڈو طرز کے حملے سے ان کا نقصان کر رہے
‫تھے۔ انہوں نے رسد روک لی تھی ۔ پانی پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ صلیبیوں کی یہ فوج نہ لڑنے کے قبل رہی تھی نہ
‫پیچھے ہٹ کر شوبک کو بچانے کے لیے پہنچ سکتی تھی۔
‫شوبک میں صلیبیوں نے قلعے اور شہر کی دیواروں سے تیروں اور برچھیوں سے بہت مقابلہ کیا لیکن سلطان ایوبی کے نقب
‫زن دستوں نے دیواریں توڑ لیں۔ یہ محاصرہ تقریبا ً ڈیڑھ مہینہ جاری رہا ۔ آخر سلطان ایوبی شوبک میں داخل ہوگیا۔ وہ سب
‫سے پہلے بیگار کیمپ میں گیا‪ ،جہاں کے بدنصیب قیدیوں نے شکرکے سجدے کیے۔ صلیبیوں کی صحرا والی فوج بے ترتیبی
‫میں پسپا ہو کر کرک کے قلعے میں چلی گئی جہاں بہت سی فوج بیکار بیٹھی صالح الدین ایوبی کا انتظار کر رہی تھی ۔
19:35
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪36.۔" جب ایونا عائشہ بنی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫‪ ١١٧٢ء کا دوسرا مہینہ گزر رہا تھا ۔ شوبک کا قلعہ تو سر ہو چکا تھا لیکن شہر میں ابھی بدنظمی اور افراتفری تھی ۔
‫عیسائی اپنے کنبوں سمیت وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ کچھ بھاگ بھی گئے تھے۔ انہیں ڈر یہ محسوس ہو
‫رہا تھا کہ جس طرح انہوں نے شوبک کے مسلمان باشندوں پر ظلم و تشدد روا رکھا تھا ‪ ،اسی طرح اب مسلمان ان کا جینا
‫حرام کردیں گے۔ اس انتقامی کاروائی سے وہ اتنے خوفزدہ ہوئے کہ انہوں نے جب اپنی فوج کو قلعے سے بھاگتے‪ ،سلطان
‫ایوبی کے تیر اندازوں کے تیروں سے مرتے اور ہتھیار ڈالتے دیکھا تو بال بچوں کو لے کر گھروں سے نکلنے لگے۔ مسلمان
‫سپاہ نے انہیں جانے نہیں دیا تھا۔ ساالروں اور کمانداروں نے اپنے طور پر حکم دے دیا تھا کہ شہر سے کسی شہری کو کہیں
‫جانے نہ دیا جائے ۔ چنانچہ سپاہی بھاگنے والے عیسائیوں کو ریگستان کے ُدور دراز راستوں‪ ،گوشوں اور ٹیلوں کے عالقوں سے
‫روک روک کر واپس بھیج رہے تھے۔
‫یہ لوگ دراصل اپنے اور اپنے حکمرانوں کے گناہوں کی سزا سے بھاگ رہے تھے۔ انہوں نے یہاں کے مسلمانوں کو کیڑے
‫مکوڑے بنا رکھا تھا ۔ ''مسلمانوں کا کیمپ '' اس کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔سلطان ایوبی کو اس کیمپ کا علم تھا ۔ وہ
‫شوبک میں داخل ہوتے ہی اس کیمپ میں پہنچا تھا ۔ ایک اندازے کے مطابق وہاں دو ہزار کے قریب مسلمان قید تھے۔ یہ
‫دو ہزار الشیں تھیں۔ ان سے مویشیوں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ ان سے غالظت تک اُٹھوائی جاتی تھی ۔ ان میں بہت سے
‫ایسے بھی تھے جو یہاں جوانی میں الئے گئے تھے اور بوڑھے ہو چلے تھے۔ وہ بھول گئے تھے کہ وہ انسان ہیں ۔ ان میں
‫پہلی لڑائیوں کے جنگی قیدی بھی تھے اور ان میں ا ُن بد نصیبوں کی تعداد زیادہ تھی جنہیں صلیبیوں نے قافلوں سے اور شہر
‫سے پکڑ کر کیمپ میں ڈاال تھا۔ یہ امیر کبیر تاجر تھے یا خوبصورت لڑکیوں کے باپ تھے۔ ان سے دولت‪ ،مال اور لڑکیاں
‫چھین لی گئی تھیں ۔ ان میں شہر کے وہ مسلمان بھی تھے جن کے خالف یہ الزام تھا کہ وہ سلطنت اسالمیہ کے وفادار
‫اور صلیب کے دشمن ہیں ۔ شہر میں جو مسلمان رہتے تھے وہ نماز اور قرآن گھروں میں چھپ چھپ کر پڑھتے تھے ‪ ،وہ
‫بھی اس طرح کہ آواز باہر نہ جائے …… وہ معمولی حیثیت کے عیسائیوں کو بھی جھک کر سالم کرتے تھے۔ اپنی جوان
‫بیٹیوں کو تو وہ پردے میں رکھتے ہی تھے۔ اپنی معصوم بچیوں کو بھی وہ باہر نہیں نکلنے دیتے تھے۔ عیسائی خوبصورت
‫بچیوں کو اغوا کرلیتے تھے۔
‫سلطان ایوبی نے جب ان دوہزار زندہ الشوں کو دیکھا تو اس کے آنسو نکل آئے تھے۔ اس نے کہا تھا …… ''ان مظلوموں کو
‫آزاد کرانے کے لیے میں پوری کی پوری سلطنت اسالمیہ کو داو پر لگا سکتا ہوں ''…… اس نے ان کی غذا اور اُن کی
‫صحت کے لیے فوری احکامات جاری کر دئیے تھے اور کہا تھا کہ ابھی انہیں اسی جگہ رکھا جائے اور انہیں بستر مہیا کیے
‫جائیں ۔ اس کے پاس ابھی ان کی کہانیاں سننے کے لیے وقت نہیں تھا۔ اسے ابھی باہر کی کیفیت کو قابو میں النا تھا۔
‫باہر کا یہ عالم تھا کہ جنگ ابھی جاری تھی جس کی نوعیت کھلی جنگ کی سی نہیں تھی ۔ صورت یہ تھی کہ صلیبی
‫فوج جو سلطان ایوبی کے دھوکے میں آکر کرک اور شوبک سے دور اُس فوج کو روکنے کے لیے چلی گئی تھی وہ بکھر کر
‫پسپا ہو رہی تھی ۔ مسلمان دستے اُس پر شب خون مار مار کر اور زیادہ بُرا حال کر رہے تھے ۔ سلطان ایوبی کو اطالعات
‫مل رہی تھیں کہ بعض جھڑپوں میں اس کے دستے گھیرے میں آکر نقصان اُٹھا رہے تھے۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ کرک کے
‫قلعے میں جو صلیبی فوج ہے ‪ ،وہ صحرا میں پھنسی اور بکھری ہوئی اپنی فوج کی مدد کے لیے بھیج دی جائے گی ۔
‫اس صورت حال کے لیے سلطان ایوبی کے پاس فوج کی کمی تھی ۔ مصر سے وہ کمک نہیں منگوانا چاہتا تھا کیونکہ وہاں
‫کی سازشیں دبی نہیں تھیں۔ معزول کی ہوئی فاطمی خالفت کے حامی درپردہ سازشوں میں مصروف تھے۔ سوڈانی حبشی الگ
‫طاقت جمع کر رہے تھے۔ ان دونوں کو صلیبی مدد
‫د ے کر سلطان ایوبی کے خالف متحد کر رہے تھے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ متعدد مسلمان سیاسی اور فوجی سربراہ
‫بھی سلطان ایوبی کے خالف درپردہ کاروائیوں میں مصروف تھے۔ یہ ایمان فروشوں کا ٹولہ تھا جواقتدار کے حصول کے لیے
‫اسالم کے دشمنوں کے ساتھ سازباز کر رہاتھا ۔ انہوں نے حشیشین کے پیشہ ور قاتلوں کی خدمات بھی حاصل کر لی تھیں ‪،
‫جنہوں نے سلطان ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنالیاتھا۔
‫صالح الدین ایوبی نے کئی بار کہا تھا کہ صلیبیوں کی یہ کتنی بڑی کامیابی ہے کہ وہ میرے ہاتھوں مسلمانوں کو قتل کرارہے
‫ہیں۔ وہ بیشک ایمان فروش ہیں جنہیں میں نے غداری کی پاداش میں سزائے موت دی ہے لیکن وہ مسلمان تھے‪ ،کلمہ گو

‫تھے‪ ،کاش‪ ،یہ لوگ اپنے دشمن کو پہچان لیتے
‫اب جب کہ شوبک کا قلعہ اس کے قدموں میں تھا اور وہ قلعے کی دیوار پر اپنے فوجی مشیروں وغیرہ کے ساتھ گھوم رہا
‫تھا اسے شہر کے مسلمان باشندے گروہ در گروہ ناچتے اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے نظر آرہے تھے۔ اونٹوں پر شہیدوں کی
‫ِ
‫دست راست بہائوالدین شداد اپنی
‫الشیں اور زخمی الئے جا رہے تھے‪ ،سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ اس کا
‫یاداشتوں میں لکھتا ہے …… ''صالح الدین ایوبی کے چہرے پر فتح و نصرت کا کوئی تاثر نہیں تھا۔ خوشیاں منانے والے
‫شوبک کے مسلمانوں کا ایک گروہ دف اور شہنائی کی تال پر ناچتا اس دیوار کے دامن میں آن رکا جہاں ہم کھڑے تھے۔صالح
‫الدین ایوبی انہیں دیکھتا رہا۔ لوگ اسے دیکھ کر پاگلوں کی طرح ناچنے لگے۔ ایوبی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تک نہ آئی۔ اس
‫نے ان لوگوں کے لیے ہاتھ تک نہیں ہالیا۔ بس دیکھ رہا تھا۔ گرہ میں سے کسی نے بلند آواز سے کہا …… صالح الدین بن
‫نجم الدین ! تم شوبک کے مسلمانوں کے لیے پیغمبر بن کر اُترے ہو …… وہ لوگ عربی نسل کے تھے۔ ایک دوسرے کو باپ
‫کے نام سے پہچانتے اور پکارتے تھے۔ اس لیے ان میں بیشتر صالح الدین ایوبی کو بن ایوب یا بن نجم کہتے تھے۔ سلطان
‫……'' ایوبی ک ُرد نسل سے تھا
‫ناچنے والوں میں کسی نے نعرہ لگایا …… ک ُر کے بچے ! ہم تیری پیغمبری کو سجدہ کرتے ہیں…… صالح الدین ایوبی ''
‫یکلخت بیدار ہوگیا۔ تڑپ کر بوال۔ انہیں کہو مجھے گناہگار نہ کریں۔ میں پیغمبروں کا غالم ہوں۔ سجدے کے الئق صرف اللہ
‫کی ذات ہے…… میں نے سلطان کے ایک محافظ سے کہا ‪ ،بھاگ کر جائو اور ان لوگوں سے کہو کہ ایسے نعرے نہ لگائیں
‫…… آرام سے کہنا۔ ان کا دل نہ دکھانا۔ انہیں ناچنے دو انہیں گانے دو۔ انہوں نے جہنم سے نجات حاصل کی ہے۔ میری
‫زندگی ان لوگوں کی خوشیوں کے لیے وقف ہے …… وہ اور کچھ نہیں کہہ سکا کیونکہ اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔ یہ جذبات
‫کا غلبہ تھا ۔ اس نے منہ پھیر لیا‪ ،،وہ ہم سب سے اپنے آنسو چھپا رہا تھا ۔ کچھ دیر بعد اس نے ہم سب کی طرف
‫دیکھا اور کہا …… ہم ابھی فلسطین کی دہلیز پر پہنچے ہیں ۔ ہماری منزل بہت ُدور ہے۔ ہمیں شمال میں وہاں تک جانا ہے
‫جہاں سے بحیرئہ روم کا ساحل گھوم کر مغرب کو جاتا ہے۔ ہمیں سرزمین عرب سے آخری صلیبی کو دھکیل کر بحیرئہ روم
‫میں ڈبونا ہے ''۔
‫وہیں سلطان ایوبی نے اپنے متعلقہ مشیر کو حکم دیا کہ سارے شہر میں منادی کرادو کہو کہ کوئی غیر مسلم اس خوف سے
‫شہر سے نہ بھاگے کہ مسلمان انہیں پریشان کریں گے۔ کسی کو کسی مسلمان فوجی یا شہری سے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ
‫قلعے کے دروازے پر شکایت کرے۔ اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ اس نے زوردے کر کہا کہ ہم کسی کے لیے تکلیف اور مصیبت کا
‫نہیں پیار اور محبت کا پیغام لے کر آئیں ہیں۔ اگر کسی نے اسالمی حکومت کے خالف کوئی بات یا حرکت کی تو اسے
‫اسالمی قانون کے تحت سزا دی جائے گی جو بہت سخت ہوگی اور یاد رکھو کہ اسالمی قانون سے نہ کوئی غیر مسلم بچ
‫سکتا ہے نہ مسلمان …… اس کے ساتھ ہی اس نے حکم دیا کہ شہر میں اگر کوئی صلیبی فوجی یا جاسوس چھپا ہوا ہے یا
‫اسے کسی نے اپنے گھر میں پناہ دے رکھی ہے تو وہ فورا ً اپنے آپ کو مسلمان فوج کے حوالے کردے۔
‫سلطان ایوبی کی فوج قلعے کی ایک دیوار توڑ کر اندر گئی تھی۔ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ قلعے کے اس حصے پر فورا ً
‫قبضہ کیا جائے جہاں صلیبیوں کا محکمہ جاسوسی کا مرکز تھا۔ اس کے جاسوسوں نے اسے اس مرکز کے متعلق بہت سی
‫معلومات دے رکھی تھیں اور راہنمائی بھی کی تھی مگر صلیبی اتنے اناڑی نہیں تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے اسی حصے کو
‫خالی کیا اور دستاویزات نکال لے گئے تھے۔ ان کی جاسوسی کا سربراہ ‪،ہرمن اور اس کے دیگر ماہرین وہاں سے غائب
‫ہوچکے تھے۔ البتہ آٹھ لڑکیاں پکڑی گئیں تھیں جو علی بن سفیان کے حوالے کر دی گئی تھیں۔ وہ ان سے معلومات لے رہا
‫تھا ۔ ان لڑکیوں نے بتایا تھا کہ کم و بیش بیس لڑکیاں وہاں سے نکل گئی ہیں۔ وہ سب اپنے طور پر بھاگی تھیں۔ ان کے
‫ساتھ کوئی مرد نہیں تھا۔ مرد جاسوس بھی نکل گئے تھے۔ ان آٹھ لڑکیوں میں سے ایک نے اپنی ساتھی لڑکی ‪ ،لوزینا کے
‫— متعلق بتایا تھا کہ اس نے ایک مسلمان فوجی )حدید( کو قلعے سے فرار کراکے خود کشی کر لی تھی ۔
‫شوبک میں امن اورشہری انتظامات بحال کرنے کی سرگرمیاں تھیں اور کرک میں شوبک پر حملے اور اسے سلطان ایوبی سے
‫چھڑانے کی اسکیمیں بن رہی تھیں لیکن صلیبی حملے کے لیے اتنی جلدی تیار نہیں ہو سکتے تھے جتنا وہ سمجھتے تھے۔
‫ان کے سامنے پہال سوال تو یہ تھا کہ ان کے عالم جاسوس نے بڑی پکی اطالع دی تھی کہ سلطان ایوبی کرک پر حملہ کرے
‫ناقابل تردید اطالعیں دی تھیں کہ سلطان
‫گا۔ اس کی فوجیں کرک کی طرف آرہی تھیں۔ ان کے قاہرہ کے جاسوسوں نے بھی
‫ِ
‫ایوبی کی فوج کرک پرحملہ کرے گی جس کی کمان وہ خود کرے گا مگر آدھے راستے سے اس کی فوجوں نے ُرخ بدل دیا
‫اور ایسی چالیں چلیں کہ صلیبی فوج جو مسلمانوں کو روکنے کے لیے گئی تھی ‪ ،شب خونوں کی زد میں آگئی اور سلطان
‫ایوبی نے کرک سے اتنی زیادہ ُدور شوبک پر حملہ کر دیا۔
‫اعلی افسر اور صلیبی حکمران موجود تھے۔ ان کے
‫یہ سوال ایک کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا جس میں صلیبی فوج کے
‫ٰ
‫محکمہ جاسوسی کا سربراہ ‪ ،جرمن نژاد ہرمن اور عالم جاسوس جسے سلطان ایوبی نے قاہرہ سے گرفتار کرکے رہا کردیاتھا‪،
‫ملزموں کی حیثیت سے کانفرنس میں پیش کیے گئے تھے۔عالم جاسوس شوبک کے قلعے سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
‫اسے کانفرنس میں ہتھکڑیوں میں پیش کیا گیاتھا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے غلط اطالع دے کر مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا
‫اور ان کی فتح کا باعث بنا ہے۔ اس نے ایک بار پھر بیان دیا کہ اسے یہ اطالع کس طرح ملی تھی کہ سلطان ایوبی کرک
‫پر حملہ کرے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اس کی اطالع میں کوئی شک تھا تو متعلقہ محکمے کو اس کے مطابق عمل
‫نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کے اس بیان پر ہرمن سے پوچھا گیا کہ اس نے جاسوسی کے ماہر کی حیثیت سے کیوں تسلیم کر
‫لیا تھا کہ اس جاسوس کی الئی ہوئی اطالع بالکل صحیح ہے۔
‫دعوی کر سکتا ہوں کہ میں جاسوسی اور ''
‫مجھے اس ضمن میں بہت کچھ کہنا ہے ''…… ہرمن نے کہا …… ''میں یہ
‫ٰ
‫سراغرسانی کا ماہر ہوں مگر کئی مواقع ایسے آئے ہیں جن میں میری مہارت اور میرے جاسوسوں کی محنت اور قربانی کو
‫نظر انداز کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری مہارت فوج کی مرکزی کمان کے حکم یا کسی بادشاہ کے حکم کی نذر
‫اعلی کمانڈر بھی موجود ہیں اور جبکہ ہم اتنی
‫ہوگئی۔ اس کانفرنس میں تین حکمران موجود ہیں اور ان کی متحدہ کمان کے
‫ٰ
‫بڑی شکست سے دوچار ہوئے ہیں جس میں شوبک جیسا قلعہ ہاتھ سے نکل گیا ہے ‪ ،اس کے ساتھ میلوں وسیع عالقے پر
‫مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ہے ‪ ،سال بھر کی رسد اور دیگر سازوسامان دشمن کے ہاتھ لگا ہے اور شوبک کی پوری آبادی
‫مسلمانوں کی غالم ہوگئی ہے‪ ،میں آپ کی خامیاں اور احمقانہ حرکتیں آپ کے سامنے رکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں اور میں
‫آپ سب کوبصد احترام یاد دالتاہوں کہ ہم نے صلیب پر حلف ا ُٹھایا ہے کہ صلیب کے وقار کے لیے اپنا آپ قربان کردیں گے۔
‫اگر آپ میں سے کسی کے ذاتی وقا ر کو ٹھیس پہنچے تو اسے صلیب کا وقار ِ
‫پیش نظر رکھنا چاہئے''۔

‫ہرمن کی حیثیت ایسی تھی کہ نارڈ‪ ،گے آف لوزینان اور شاہ آگسٹس جیسے خود سر بادشاہ بھی اس کی بات رد کرنے کی
‫جرٔات نہیں کرتے تھے۔ جاسوسی کا تمام تر نظام اس کے ہاتھ میں تھا۔ ان میں تباہ کار جاسوس بھی تھے۔ ہرمن کسی بھی
‫حکمران کو خفیہ طریقے سے قتل کرانے کی ہمت اور اہلیت رکھتا تھا۔ اسے اجازت دے دی گئی تھی کہ وہ اپنا تجزیہ پیش
‫کرے۔
‫میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ دشمن کے راز معلوم کرنے کے لیے اور اس کی کردار کشی کے لیے صرف لڑکیوں پر ''
‫کیوں بھروسہ کیا جا رہا ہے ''۔اُس نے پوچھا۔
‫اس لیے کہ عورت انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے ''…… کسی حکمران نے کہا …… ''کردار کشی کا بہترین ذریعہ عورت''
‫ہے ‪ ،خواہ وہ تحریر میں یا گوشت پوست کی صورت میں ہو۔ کیا تم اس سے انکار کر سکتے ہو کہ عرب میں بہت سے
‫''مسلمان امراء قلعہ داروں اور وزراء کو ہم نے عورت کے ہاتھوں اپنا غالم بنا لیا ہے ؟
‫لیکن آپ یہ نہیں سوچ رہے کہ اس وقت مسلمانوں کی حکومت فوج کے ہاتھ میں ہے ''۔ ہرمن نے کہا ۔ ''اُن کا ''
‫خلیفہ اپنا حکم نہیں منوا سکتا۔ فوجی امور میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ صالح الدین ایوبی کی مصر میں حیثیت ایک
‫گورنر کی سی ہے لیکن اس نے وہاں کے خلیفہ کو معزول کر دیا ہے ۔ اِدھر نورالدین زنگی ہے جس کی حیثیت ایک ساالر
‫لہذا یہ ِ
‫پیش
‫اور وزیر کی ہے لیکن جنگی امور میں اسے بغداد کے خلیفہ سے حکم اور اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ٰ
‫نظر رکھیے کہ آپ نے چند ایک امیروں‪ ،وزیروں اور قلعہ داروں کو ہاتھ میں لے لیا ہے تو ان کی حیثیت چند ایک غداروں
‫کی ہے۔ وہ آپ نے اپنے ملک کا ایک انچ عالقہ بھی نہیں دے سکتے۔ اسالمی سلطنت کے اصل حکمران فوجی ہیں۔
‫نورالدین زنگی اور سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوجوں کی تربیت ایسی کی ہے کہ آپ لڑکیوں سے اس فوج کا کردار
‫خراب نہیں کرسکتے اور نہ ہی کر سکیں گے ۔ اس فوج کے لیے شراب پینا سنگین جرم ہے۔ اسالم میں ہر کسی کے لیے
‫شراب حرام ہے۔ اس پابندی کا اثر یہ ہے کہ مسلمان فوجی ہو یا شہری وہ اپنے ہوش ٹھکانے رکھتا ہے۔ اگر صالح الدین
‫ایوبی شراب کا عادی ہوتا تو آج مصر ہمارا ہوتا اور صالح الدین ایوبی شوبک کے قلعے کا فاتح نہ ہوتا بلکہ اس قلعے میں
‫ہمارا قیدی ہوتا ''۔
‫ہرمن!'' …… ایک کمانڈر نے اسے ٹوک کر کہا …… ''اپنی بات لڑکیوں تک رکھو۔ ہمارے پاس مسلمانوں کے اوصاف ''
‫سننے کے لیے وقت نہیں ہے ''۔
‫میں یہ کہنا چاہتا ہوں ''…… ہرمن نے کہا …… ''کہ جاسوسی کے لیے لڑکیوں کا استعمال ناکام ہوچکا ہے ۔ گزشتہ دو ''
‫برسوں میں ہم بڑی قیمتی لڑکیاں مصر میں بھیج کر مسلمان فوجیوں کے ہاتھوں مروا چکے ہیں ۔ لڑکی کے معاملے میں یہ
‫بھی یاد رکھیے کہ عورت ذات جذباتی ہوتی ہے۔ آپ لڑکیوں کو کتنی ہی سخت ٹریننگ کیوں نہ دیں ‪ ،وہ مردوں کی طرح
‫پتھر نہیں بن سکتیں۔ ہم انہیں خطروں میں پھینک دیتے ہیں ۔ خطرہ بہر حال خطرہ ہوتا ہے اور دل و دماغ پر اثر کرتا
‫ہے ۔ بعض اوقات حاالت بہت ہی بگڑ جاتے ہیں ۔ ان حاالت میں مسلمان فوجی ہماری لڑکیوں کو تفریح کا ذریعہ بنانے کی
‫بجائے انہیں پناہ میں لے لیتے ہیں اور ان کے جسموں کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں ۔ لڑکیاں جذبات سے مغلوب ہو کے
‫رہ جاتی ہیں۔ حال ہی میں ہماری ایک لڑکی کو صالح الدین ایوبی کے ایک کمانڈر نے ڈاکوئوں سے بچایا اور زخمی ہوگیا۔
‫لڑکی اسے شوبک میں لے آئی۔ ہم نے اسے مسلمانوں کے کیمپ میں پھینک دیا ۔ لڑکی نے اسے ہماری فوج کے ایک افسر
‫کی وردی پہنا کر قلعے سے نکال دیا۔ اسے گھوڑا بھی دیا۔ میں نے لڑکی کو پکڑ لیا۔ لڑکی نے زہر کھا کر خود کشی کرلی۔
‫اس نے سزا کے خوف سے خود کشی نہیں کی تھی۔ اس نے محسوس کر لیا تھا کہ وہ گناہگار ہے اور اپنے جسم کو دھوکے
‫……'' کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ احساس اتنا شدید تھا کہ اس نے زہر پی لیا
‫لڑکیوں کے خالف میں ایک دلیل اور بھی دینا چاہتا ہوں۔ ہمارے پاس جو لڑکیاں ہیں‪ ،ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جنہیں''
‫ہم نے بچپن میں مسلمانوں کے قافلوں سے یا ان کے گھروں سے اغوا کیا تھا۔ انہیں ہم نے اپنا مذہب دیا اور اپنی ٹریننگ
‫دی ۔ وہ جوان ہوئیں اور اپنا بچپن اور اپنی اصلیت بھول گئیں۔ انہیں یاد بھی نہ رہا کہ وہ مسلمانوں کی بیٹیاں ہیں مگر ہم
‫نے صرف نام بدلے ‪ ،ان کا مذہب اور ا ُن کا کردا بدال‪ ،ان کے خون کو نہ بدل سکے۔ میں انسانی نفسیات کو سمجھتا ہوں۔
‫لیکن یہ میرا تجربہ ہے کہ مسلمان کی نفسیات دوسرے مذاہب کے انسانوں سے مختلف ہے۔ یہ لڑکیاں جب کسی مسلمان کے
‫سامنے جاتی ہیں تو جیسے انہیں اچانک یاد آجاتا ہے کہ ان کی رگوں میں بھی مسلمان باپ کا خون ہے۔ مسلمان کے خون
‫سے اس کامذہب نہیں نکلتا''۔
‫تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ کسی لڑکی کو جاسوسی کے لیے نہ بھیجا جائے ؟'' ایک کماندار نے اس سے پوچھا۔''
‫کسی ایسی لڑکی کو نہ بھیجا جائے جو کسی مسلمان کے گھر پیدا ہوئی تھی ''…… ہرمن نے جواب دیا …… ''اگر آپ ''
‫لڑکیوں کو میرے محکمے سے نکا ل ہی دیں تو صلیب کے لیے بہتر رہے گا۔ آپ مسلمان اُمراء کے حرموں میں لڑکیاں بھیجتے
‫میدان جنگ نہیں دیکھا۔
‫رہیں۔ آ پ انہیں پھانس سکتے ہیں ۔ وہ آسانی سے آپ کے ہاتھ میں آجاتے ہیں کیونکہ انہوں نے
‫ِ
‫ان کی تلواریں ہماری تلوار سے نہیں ٹکرائی۔۔ ہمیں ان کی صرف فوج پہچانتی ہے۔ دشمن کو صرف فوج جانتی ہے۔ اس لیے
‫وہ ہمارے جھانسے میں نہیں آسکتی''۔
‫صلیبیوں کا شاہ آگسٹس انتہا درجے کا شیطان فطرت حکمران تھا جو اسالم کی دشمنی کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس نے کہا
‫……''ہرمن ! تمہاری نگاہ محدود ہے۔ تم صرف صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کو دیکھ رہے ہو۔ ہم اسالم کو دیکھ رہے
‫ہیں ۔ ہمیں اس مذہب کی بیج کنی کرنی ہے۔ اس کے لیے کردار کشی اور نظریات میں شکوک پیدا کرنا الزمی ہے۔ مسلمانوں
‫میں ایسی تہذیب رائج کرو جس میں کشش ہو۔ ضروری نہیں کہ ہم اپنا مقصد اپنی زندگی میں حاصل کرلیں …… ہم یہ کام
‫اپنی اگلی نسل کے سپرد کردیں گے۔ کچھ کامیابی وہ حاصل کرے گی اور یہ مہم اس سے اگلی نسل ہاتھ میں لے لے گی
‫…… پھر ایک دور ایسا آہی جائے گا جب اسالم کانام و نشان نہیں رہے گا۔ اگر اسالم زندہ رہا بھی تو یہ مذہب کسی اور
‫صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کو جنم نہیں دے گا۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ مذہب مسلمانوں کااپنا ہوگا۔ لیکن یہ
‫مذہب ہماری تہذیب میں رنگا ہوا ہوگا۔ ہرمن ! آج سے سو سال بعد پر نظر رکھو۔ فتح اور شکست عارضی واقعات ہیں۔ ہم
‫شوبک پر دوبارہ قبضہ کرلیں گے۔ تم مصر میں سازشوں کو مضبوط کرو‪ ،فاطمیوں اور سوڈانی حبشیوں کو مدد دو۔ حشیشین کو
‫استعمال کرو''۔
‫کانفرنس کے کمرے میں ایک صلیبی افسر داخل ہوا۔گرد سے اٹاہوا اور تھکا ہوا تھا۔وہ اس فوج کے کمانڈروں میں سے تھا جو
‫ریگستان میں چلی گئی تھی اور آہستہ آہستہ کرک کی طرف پسپا ہو رہی تھی ۔وہ بہت پریشان تھا ۔اس نے کہا ……''فوج
‫کی حالت اچھی نہیں ۔میں یہ تجویز لے کے آیا ہوں کہ کرک کی تمام تر فوج کے ساتھ کافی کمک مال کر شوبک پر حملہ

‫کر دیا جائے اورمسلمانوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ آمنے سامنے کی جنگ لڑیں۔اس وقت جنگ کی کیفیت یہ ہے کہ ہمارے
‫دستے مرکزی کمان کے حکم کے مطابق کرک کی طرف پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔مسلمانوں کے شب خون مارنے والے دستے
‫تھوڑی سی نفری سے رات کو عقبی حصے پر شب خون مارتے اور غائب ہو جاتے ہیں دن کے وقت ان کے تیر انداز چند
‫ایک تیر برسا کر نقصان کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں ۔وہ نشانہ گھوڑے یا اونٹ کو بناتے ہیں ۔جس جانور کو تیر لگتا ہے‪،وہ
‫بھگدڑ مچا دیتا ہے ۔اسے دیکھ کر دوسرے گھوڑے اور اونٹ بھی ڈرتے اور بے قابو ہو جاتے ہیں ۔ہم نے رک کر ادھر ادھرکے
‫دستے اکٹھے کیے اور جوابی حملہ کرنے کی کوشش کی ‪،لیکن مسلمان آمنے سامنے نہیں آتے۔ہمارے کچھ دستون کو انہوں نے
‫صرف اس لیے مارا ہے کہ مسلمان انہیں اپنی مرضی کے میدان میں جا کر لڑاتے ہیں ۔سپاہ میں لڑنے کا جذبہ ماند پڑگیا ہے
‫۔جزبے کو بیدار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک شدیدجوابی حملہ کیا جائے''۔
‫اس مسئلے پر بحث شروع ہوگئی ۔صلیبیوں کے لیے مشکل یہ پیدا ہو گئی تھی کہ ان کی فوج کا بڑا حصہ جسے بہترین لڑاکا
‫سمجھا جاتا تھا ۔کرک سے دور ریگزار میں بکھر گیا تھا ۔سلطان ایوبی کی چال کامیاب تھی ۔اس کے کماندار اور دستوں کے
‫عہدیدار اس کی چال کو خوش اسلوبی سے عملی رنگ دے رہے تھے ۔وہ پانی پر قبضہ کر لیتے تھے۔بلندیوں پر پہنچ جاتے
‫تھے۔ٹیلوں کے عالقوں میں گھات لگاتے تھے اور دن کے وقت اگر ہوا تیز ہو تو ہوا کے رخ سے حملہ کرتے تھے ۔اس سے
‫یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ہوا اور گھوڑوں کی اڑائی ہوئی ریت صلیبیوں کی آنکھوں میں پڑتی اور انہیں اندھا کرتی تھی۔سلطان ایوبی
‫کے پاس اتنی نفری نہیں تھی کہ وہ شوبک کو بچا سکتا ۔اس نے جنگی فہم و فراست سے کام لیااور صلیبیوں پر اپنا رعب
‫قائم کر دیا تھا ۔شوبک کے شمال مشرق میں صلیبیوں کی خاصی نفری بیکار بیٹھی تھی ۔اسے اس لیے واپس نہیں بالیا جا
‫رہا تھا کہ نور الدین زنگی سلطان ایوبی کو کمک بھیج دے گا۔
‫صلیبی حکمران اور کمانڈرکرک کے قلعے میں بیٹھے ہوئے پیچ و تاب کھا رہے تھے ۔شوبک میں ایوبی کو یہ مسئلہ پریشان کر
‫رہا تھا کہ صلیبیوں نے حملہ کر دیا تو وہ کس طرح روکے گا۔
‫اس نے عیسائیوں کے بھیس میں اپنے جاسوس کرک بھجوادئیے تھے۔تاکہ صلیبیوں کے عزائم اور منصوبوں سے آگاہ کرتے رہیں ۔
‫اس نے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ اسے محاذکی خبریں تیزی سے مل رہی تھیں ۔اس نے شوبک سے اور گرد نواح کے
‫عالقے سے فوج کے لیے بھرتی شروع کر دی اور حکم دیا کہ قلعے میں فوری طور پر ان کی ٹریننگ شروع کر دی جائے۔
‫صلیبیوں کے بہت سے گھوڑے اور اونٹ قلعے میں رہ گئے تھے۔
‫باہر کے دستوں کو اس نے حکم بھیج دیا تھا کہ دشمن کے جانوروں کو مارنے کی بجائے انہیں پکڑیں اور قلعے میں بھیجتے
‫رہیں۔نئی بھرتی کی ٹریننگ کے سلسلے میں اس نے یہ حکم جاری کیا کہ انہیں شب خون مارنے کی اور متحرک جنگ لڑنے
‫کی ٹریننگ دی جائے۔
‫کرک میں جو کانفرنس ہو رہی تھی اس میں ہرمن کی اس تجویز کو رد کر دیا گیا تھا کہ جاسوسی کے لیے لڑکیوں کو
‫استعمال نہ کیا جائے ۔البتہ عالم جاسوس کو چھوڑ دیا گیا اور اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ مسلمانوں پر نظریاتی حملہ کرنے
‫کے لیے آدمی تیار کرے۔اس کے بعد یہ پوچھا گیا کہ شوبک میں کتنی جاسوس لڑکیاں اور مرد رہ گئے ہیں اور لڑکیوں کو وہاں
‫سے نکاال جا سکتا ہے؟ ہرمن نے انہیں بتایا کہ چند ایک لڑکیاں مسلمانوں کی قیدمیں ہیں۔کچھ نکل آئی ہیں اور کچھ الپتہ
‫ہیں ۔مرد جاسوسوں کے متعلق اس نے بتایا کہ چند ایک قیدہو گئے ہیں اور بہت سے وہیں ہیں ۔انہیں اطالع بھیج دی گئی
‫ہے کہ وہی رہیں اور اب مسلمان بن کر اپنا کام کریں…… ایک صلیبی حکمران نے کہا کہ جو لڑکیاں وہاں قید میں ہیں انہیں
‫نکاللنا شاید آسان نہ ہو لیکن ہو سکتا ہے کہ کچھ لڑکیاں وہاں عیسائیوں کے گھروں میں روپوش ہو گئی ہوں ۔انہیں وہاں سے
‫نکالنا الزمی ہے۔
‫تھوڑی دیر کے بحث مباحثے کے بعد یہ طے ہوا کہ ایک ایسا گروہ تیار کیا جائے جو سلطان ایوبی کے شب خون مارنے والے
‫آدمیوں کی طر ح جان پر کھیلنا جانتا ہو ۔اس گروہ کا ہر ایک آدمی ذہین اور پھرتیال ہو۔عربی یا مصری زبان بول سکتا ہو ۔
‫اس گروہ کو ایسے مسلمانوں کے بھیس میں شوبک بھیجا جائے جس سے پتہ چلے کہ کرک کے عیسائیوں کے ظلم وتشدد سے
‫بھاگ کر آئے ہیں۔نہیں یہ کام دیا جائے کہ شوبک میں رہ کر لڑکیوں کا سراغ لگائیں اور انہیں وہاں سے نکالیں۔اس کام کے
‫لیے جرائم پیشہ آدمی موزوں رہیں گے جنہیں ان کی خواہش کے مطابق جیلوں سے نکال کر فوج میں لیا گیا ہے۔فوج میں
‫پیشہ ور مجرموں کو تالش کرو اور انہیں چند دن کی ٹریننگ دے کرشوبک بھیج دو لیکن یہ خیال رکھو کہ ان میں وہی سپاہی
‫ہوں جو شوبک میں رہ چکے ہیں اور وہاں کے گلی کوچوں اور لوگوں سے واقف ہیں …… یہاں یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ یہ جرائم
‫پیشہ آدمی اس خطے کی زبان نہیں جانتے۔اس کا یہ حل پیش کیا گیا کہ زیادہ تر ایسے آدمی بھیجے جائیں جو وہاں کی زبان
‫جانتے ہوں ۔
‫متعدد مؤر خین نے شوبک کی فتح کو کئی ایک رنگ دئیے ہیں ۔ان میں صاف گو قسم کے مؤر خین نے جو ولیم آف ٹائر
‫کی طرح عیسائی ہیں ‪،صلیبیوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ان کے حکمران خوبصورت لڑکیوں کے ذریعے
‫مسلمان عالقوں میں جاسوسی‪،تخریب کاری اور کردار کشی پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔اس سے ان کے اپنے کردار کا پتہ ملتا ہے
‫کہ کیا تھا ۔یہ درست ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے چند ایک غیر فوجی سربراہوں کو اپنے زیر اثر لے لیا تھا لیکن ان کے
‫دماغ میں یہ نہ آئی کہ مسلمانوں کی ایک قوم بھی ہے اور ایک فوج بھی ہے ۔کسی قوم اور اس کی فوج کے قومی جذبے
‫کو مارنا آسان کام نہیں ہوتا اور اس صورت میں جب کہ صلیبیوں نے مسلمانوں کے نہتے قافلے لوٹے تھے‪،ا ن کی بچیاں اغوا
‫کی تھیں‪،مفتوحہ عالقوں میں وسیع پیمانے پر آبروریزی کی ‪،قتل عام کیا اور مسلمانوں کو بیگار کیمپوں میں ٹھونس کر جانور
‫بنا دیا ۔مسلمان قوم اور فوج کے جذبے کو مجروح کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔انہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں انتقام کا جذبہ
‫پید اکر دیا تھا ۔اسالم کی صفوں میں چند ایک غدارپیدا کرلینے سے اس مذہب کی عظمت کو مجروح نہیں کیا جا سکتا تھا۔
‫مؤر خین نے لکھا ہے کہ اس وقت جب شوبک پر حملے کی ضرورت تھی اور جب صالح الدین ایوبی جنگی لحاظ سے کمزور
‫تھا‪،صلیبیوں نے شوبک سے چند ایک لڑکیوں کو نکا ل النے پر توجہ مرکوز کر لی اور اس مہم کے لیے جانبازوں کا گروہ تیار
‫ہونے لگا ۔وہ لکھتے ہیں کہ صالح الدین ایوبی کی جنگی فہم و فراست کی داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے صلیبیوں پر رعب
‫طاری کر دیا تھا کہ اس نے ان کی فوج کو بکھیر دیا ہے ۔صلیبیو ں نے اس تاثر کو قبول کر لیا تھا ۔انہوں نے اس طرف
‫توجہ نہ دی کہ ایوبی کی اپنی فوج دستہ دستہ ٹو لہ ٹولہ ہو کے بکھر گئی ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ
‫سلطا ن ایوبی اس صورت حال سے کچھ پریشان بھی تھا ۔اس کے مشیر خاص شداد نے اس کی جس پریشانی کا ذکر کیا ہے
‫وہ یہی ہو سکتی ہے کہ اس کے دستے صلیبیوں کے تعاقب میں بکھر گئے تھے۔اس سے مرکزیت ختم ہو گئی تھی ۔یہ بھی
‫صحیح ہے کہ اس کے دستے ذاتی اور قومی جذبے کے تحت لڑ رہے تھے ۔ایسی مثالیں بھی ملی ہیں کہ بعض مسلمان دستے

‫صحرائی بھول بھلیوں میں بھٹک گئے اور خوراک اور پانی سے محروم رہے لیکن وہ ہر حال اور ہر کیفیت میں لڑتے رہے۔
‫یہ جذبے کی جنگ تھی جس سے صلیبی سپائی عاری تھے ۔انہوں نےاپنے کمانڈروں کو پسپا ہوتے دیکھاتو ان میں لڑنے کاجذبہ
‫ختم ہو گیا ۔اگر صلیبی ادھر توجہ دیتے تو ایوبی کی بکھرتی ہوئی فوج پر قابو پا سکتے تھے مگر وہ ذرا ذرا سی باتوں پر
‫اتنی زیادہ توجہ دیتے تھے جتنی اہم جنگی امور پر دی جاتی ہے۔
‫یہاں ایک اور وضاحت ضروری ہے ۔اس دور کے صلیبی و قائع نگاروں کے حوالے سے دو تین غیر مسلم مورخین نے اس قسم
‫کی غلط بیانی کی ہے کہ صالح الدین ایوبی نے مسلسل دو سال شوبک کومحاصرے میں رکھااور ناکام لوٹ گیا ۔انہوں نے
‫اسکی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نور الدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کے درمیان غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی ۔زنگی کو اس
‫کے مشیروں نے خبردار کیا تھا کہ ایوبی مصر کو اپنے ذاتی تسلط میں رکھ کر فلسطین کا بھی خود مختار حکمران بننا چاہتا
‫ہے ۔وہ فلسطین پر قبضہ کر کے زنگی کو معزول کر دے گا۔یہ مورخین لکھتے ہیں کہ نور الدین زنگی نے اس بہانے شوبک کو
‫اپنی فوج روانہ کر دی کہ یہ سلطان ایوبی کے لیے کمک ہے لیکن اس نے اپنے کمانڈروں کو خفیہ ہدایت دی تھی کہ وہ
‫شوبک کے جنگی امور اپنے قبضے میں لے لیں چنانچہ یہ فوج آئی۔سلطان ایوبی سے کسی نے کہا کہ نور الدین زنگی نے یہ
‫فوج اس کی مدد کے لیے نہیں بھیجی بلکہ اس کی مرکزی کمان پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجی ہے۔یہ سن کر سلطان ایوبی
‫دل برداشتہ ہو گیا اور وہ شوبک کا محاصرہ اٹھا کر مصر کوچ کر گیا ۔
‫عیسائی مؤر خین نے زنگی اور ایوبی کی اس مفروضہ چپقلش کو بہت اچھاال ہے لیکن ان
‫مؤر خین کی تعداد زیادہ ہے جنہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ سلطان ایوبی نے ڈیڑھ ماہ کے محاصرے کے بعد شوبک کا قلعہ
‫لے لیا تھا ۔البتہ یہ پتہ بھی ملتا ہے کہ صلیبی تخریب کاروں نے نور الدین زنگی کو سلطان ایوبی کے خالف بھڑکانے کی
‫کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ سلطان ایوبی کے والد نجم الدین ایوبی لمبی مسافت طے کر
‫کے شوبک پہنچے ۔انہیں شک ہو گیا تھا کہ ان کا بیٹا ایسی حماقت پر اتر ہی نہ آیا ہواور کہیں ایسا نہ ہو کہ تخریب کار
‫اس کے کان زنگی کے خالف بھر دیں۔
‫بہاالدین شداد اپنی یادداشتوں میں اقمطراز ہے ……اپنے والد بزرگوار کو دیکھ کر ایوبی بہت حیران ہوا۔ان کے گھٹنے چھو کر
‫مصافحہ کیا اور سمجھا کہ محترم والد اسے فتح کی مبارکباد دینے آئے ہیں مگر انہوں نے بیٹے کو پہلے الفاظ یہ کہے
‫……''کیا نور الدین زنگی جاہل ہے جس نے مجھ جیسے گمنام اور غریب آدمی کے بیٹے کو مصر کا حکمران بنا ڈاالہے ؟کیا
‫مجھے یہ سننا پڑے گا کہ تیرا بیٹا ذاتی اقتدار کی خاطر سلطنت اسالمیہ کے محافظ نورالدین زنگی کا دشمن ہو گیا ہے؟……جا
‫''اور زنگی سے معافی مانگو
‫بات کھلی تو معلوم ہوا کہ سلطان ایوبی کا ذہن صاف ہے اور وہ نور الدین زنگی سے کمک مانگنے واال ہے۔ نجم الدین ایوب
‫مطمئن ہو گئے اور واضح ہو گیا کہ یہ صلیبوں کو تخریب کاری اور عیاری ہے ۔سلطان ایوبی نے اپنے خصوصی قاصد اور معتمد
‫عیس ی الہکاری کو اپنے والدمحترم کے ساتھ رخصت کیا ور الہکاری کو نور الدین زنگی کے نام ایک تحریری پیغام دیا ۔
‫فقیہہ
‫ٰ
‫اس کے ساتھ شوبک کے کچھ تحفے بھی بھیجے۔اس نے لکھا۔''بیش قیمت تحفہ شوبک کا قلعہ ہے جو میں آپ کے قدموں
‫میں بیش کرتا ہوں ۔اس کے بعد خدائے عزو جل کی مدد سے کرک کا قلعہ پیش کروں گا''۔
‫اس پیغام میں سلطان ایوبی نے واضح کیا تھا کہ صلیبیوں کی تخریب کاری سے خبردار رہیں اور یہ نہ بھولیں کہ کچھ مسلمان
‫امرابھی اس تخریب کاری اور سازشوں میں صلیبیوں کا ہاتھ بٹارہے ہیں ۔ان کی سرکوبی کی جائے۔اس پیغام میں سلطان ایوبی
‫نے شوبک کی اس وقت کی صورت حال اور اپنی فوج کی کیفیت تفصیل سے لکھی اور کچھ انقالبی تجاویز پیش کیں۔اس نے
‫میدان جنگ میں ہمارے خالف سرگرم ہے
‫زنگی کو لکھا کہ ان حاالت میں جب دشمن ہماری سرزمین پر قلعہ بند ہے اور وہ
‫ِ
‫اور زمین دوز کاروائیوں سے بھی ہمارے درمیان غدارا پیدا کر رہا ہے‪،میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری غیر فوجی قیادت
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کے لئے خطرہ بن گئی ہے ۔ہم گھر سے دور بے رحم صحرا میں دشمن سے
‫نہ صرف ناکام ہو گئی ہے بلکہ
‫بر سر ِپیکار ہیں ۔ہمارے مجاہد لڑتے اور مرتے ہیں ۔وہ بھوکے اور پیاسے بھی لڑتے ہیں۔انہیں کفن نصیب نہیں ہوتے ۔ان کی
‫الشیں گھوڑوں کے تلے روندی جاتی اور صحرائی لومڑیوں اور گدھوں کی خوراک بنتی ہیں۔اسالم کی عظمت اور قوم کے وقار کو
‫جتنا وہ سمجھتے ہیں اتنا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ہمارے غیر فوجی حکام اور سربراہوں کے خون کا ایک قطرہ نہیں گرتا۔
‫میدان جنگ سے بہت دور محفوظ بیٹھے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ عیش و عشرت کے عادی ہوگئے ہیں ۔دشمن انہیں
‫وہ
‫ِ
‫نہایت حسین اور چلبلی لڑکیوں اور یورپ کو شراب سے اپنا مرید بنا لیتا ہے ۔ہم دین اور ایمان کی سر بلندی کے لیے مرتے
‫ہیں اور وہ ایمان کو دشمن کے ہاتھ بیچ کر عیش کرتے اور اس کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔
‫سلطان ایوبی نے لکھا کہ اب جبکہ میں فلسطین کی دہلیز پر آگیا ہوں اور میں نے فلسطین لیے بغیر واپس نہ جانے کاتہہ کر
‫لیا ہے‪،میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ) نور الدین زنگی (غیر فوجی قیادت پر کڑی نظر رکھیں۔امیر العلماء سے کہیں کہ وہ
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کا صرف ایک خلیفہ ہے اور یہ بغداد کی خالفت ہے۔ہر مسلمان پر
‫مساجد میں اور ہر جگہ اعالن کر دے کہ
‫اس واحد خالفت کی اطاعت فرض ہے لیکن خطبے میں اور کسی مسجد میں خلیفہ کا نام نہیں لیا جائے گا۔عظیم نام صرف
‫اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔یہ حکم بھی جاری کیا جائے کہ آئندہ جب خلیفہ یا کوئی حاکم کسی
‫دورے یا معائنے کے لیے باہر نکلے گا تو اس کے محافظ دستے کے سوا کوئی جلوس اس کے ساتھ نہیں ہوگااورلوگ راستے میں
‫رک کر اور جھک جھک اسے سالم نہیں کریں گے ……سلطان ایوبی نے سب سے زیادہ اہم بات یہ لکھی کہ شیعہ سنی تفرقہ
‫بڑھتا جا رہا ہے ۔فاطمی خالفت کی معزولی نے اس تفرقے میں اضافہ کر دیا ہے۔یہ تفریق ختم ہونی چاہیے۔بے شک خالفت
‫اور حکومت سنی ہے لیکن کسی سنی حاکم یا اہل کار کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ شیعوں کو اپنا غالم سمجھے۔حکومت اور
‫فوج میں شیعوں کو پوری نمائندگی دی جائے۔
‫اس قسم کی کچھ اور بھی انقالنی تجاویز تھیں جو سلطان ایونی نے نورالدین زنگی کو بھیجیں۔ مؤر خین اس پر متفق ہیں کہ
‫زنگی نے ان پر فوری طور پر عمل کیا ۔اپنے ہاں بھی سلطان ایوبی نے شیعہ سنی تفرقہ پیار ومحبت اور عقل و دانش سے
‫مٹانا شروع کر دیا ۔
‫٭ ٭ ٭
‫کرک میں صلیبی سلطان ایوبی پر جوابی وار کرنے پر غور کر رہے تھے۔ان کو مرکزی کمان نے قاصدوں کے زریعے اپنی بکھری
‫ہوئی فوج کو احکام بھیج دئیے کہ مسلمانوں سے لڑنے کوشش نہ کریں بلکہ نکلنے کی ترکیب کریں تاکہ جوابی
‫حملے کے لیے زیادہ سے زیادہ فوج بچ جائے۔ان احکام سے ساتھ ہی انہوں نے چالیس جانبازوں کا ایک گروہ تیار کر لیا جسے
‫مظلوم مسلمانوں کے بہروپ میں شوبک میں داخل ہوناا ور لڑکیوں کو وہاں سے نکالنا تھا ۔صلیبی حکمرانوں نے اس خیال سے

‫کہ سلطان ایوبی مصر سے غیر حاضر ہے وہاں اپنے تخریب کاروں میں اضافہ کر نے کا بھی فیصلہ کر لیا۔وہ سوڈانیوں اور
‫فاطمیوں کو جلد از جلد متحد کر کے قاہرہ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
‫شوبک اور کرک کے درمیانی عالقے میں بہت خون بہہ رہا تھا۔ وہ سارا عالقہ ہموار ریگستان نہیں تھا۔ کئی جگہوں پر مٹی
‫اور ریتلی ِسل ّوں کے ٹیلے تھے اور کہیں ریت کی گول گول ٹکریاں تھیں جن میں کوئی داخل ہوجائے تو باہرنکلنے کا راستہ
‫نہیں ملتا تھا ۔ ایسے عالقوں میں صلیبی بھی مر رہے تھے اور سلطان ایوبی کے مجاہدین بھی …… اور وہاں شوبک کے وہ
‫عیسائی بھی مر رہے تھے جو مسلمانوں کے ڈر سے شہر سے کرک کی سمت بھاگ اُٹھے تھے۔ فضا میں گدھوں کے غول اُڑ
‫رہے تھے ۔ ان کے پیٹ انسانی گوشت سے بھرے ہوئے تھے ۔
19:35
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪37.۔" جب ایونا عائشہ بنی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ان کے پیٹ انسانی گوشت سے بھرے ہوئے تھے ۔ صحرائی درندے الشوں کو چیرپھاڑ رہے تھے اور معرکہ آرائی کا یہ عالم تھا
‫جیسے اُفق سے ا ُفق تک انسان ایک دوسرے کا کشت و خون کر رہے ہوں۔ اس وسیع ریگزار میں کہیں کہیں نخلستان بھی
‫تھے جہاں پانی مل جاتا تھا۔ تھکے ہارے انسان‪ ،زخمی انسان اور پیاس کے مارے ہوئے انسان وہاں جا جا کر گرتے تھے۔
‫عماد ہاشم سلطان ایوبی کی فوج کے ایک چھوٹے سے دستے کا کمانڈر تھا۔ وہ شامی باشندہ تھا۔ اسی لیے وہ اپنا نام عماد
‫شامی بتایا کرتا تھا۔ صلیبیوں کے خالف جو جذبہ ہر مسلمان سپاہی کے دل میں تھا ‪ ،وہ عماد شامی میں بھی تھا لیکن اس
‫کے جذبے میں انتقام کا قہر اور غضب زیادہ تھا ۔ اس کے متعلق سب جانتے تھے کہ وہ یتیم ہے اور اس کا سگا عزیز رشتہ
‫دار کوئی نہیں لیکن ا ُسے یہ یقین نہیں تھا کہ وہ یتیم ہے یا نہیں کیونکہ اس کا باپ اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں مرا
‫تھا ۔ وہ تیرہ چودہ سال کی عمرمیں گھر سے بھاگا تھا ۔ اُس وقت اس کا گھر شوبک میں تھا۔ اُسے اچھی طرح یاد تھا کہ
‫اس کے بچپن میں شوبک پر صلیبیوں کا قبضہ ہو اتھا اور انہوں نے مسلمانوں کا کشت و خون شروع کر دیا تھا۔ اس کا بچپن
‫صلیبیوں کی دہشت میں گزرا تھا ۔ اس نے مسلمان جنگی قیدی بھی دیکھے جنہیں مار مار کر الیا جا رہا تھا اور اس کے
‫سامنے دو قیدیوں کے سر کاٹ دئیے گئے تھے کیونکہ وہ زخموں کی وجہ سے چل نہیں سکتے تھے۔ اس نے مسلمان گھروں
‫سے لڑکیاں اغوا ہوتے دیکھی تھیں اور اس نے مسلمانوں کو بیگار میں جاتے بھی دیکھا تھا ۔ شوبک کے مسلمان کہا کرتے
‫تھے کہ جب شہر میں عیسائی مسلمانوں کو بال وجہ پکڑ پکڑ کر کیمپ میں لے جانا شروع کریں اور ان کے گھروں پر حملے
‫کرنے لگیں تو سمجھ لو کہ انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں کہیں شکست ہوئی ہے۔
‫عماد شامی کا گھر بھی محفوظ نہ رہا ۔ اُس کی ایک بہن تھی جس کی عمر سات آٹھ سال تھی ۔ اُسے وہ بہن یاد تھی ۔
‫بہت خوبصورت اور گڑیا سی بچی تھی ۔ گھر میں اس کا باپ تھا ‪ ،ماں تھی اور ایک بڑا بھائی تھا ۔ ایک روز عماد کی
‫گڑیا سی بہن باہر نکل گئی اور ال پتہ ہوگئی۔ باپ نے تالش کی مگر کہیں نہ ملی ۔ ایک مسلمان پڑوسی نے اسے بتایا کہ
‫اسے عیسائی اٹھا کر لے گئے ہیں ۔ باپ شہرکے حاکم کے پاس فریاد لے کر گیا۔ جونہی اس نے بتایا کہ وہ مسلمان ہے‪،
‫حاکم اس پر برس پڑا او ر اس پر الزام عائد کیا کہ وہ حکمران قوم پراتنا گھٹیا الزام تھوپ رہا ہے
‫گھر آکر باپ نے اور عماد کے بڑے بھائی نے عیسائیوں کے خالف شور شرابا کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رات کو ان کے
‫گھر پر حملہ ہوا۔ عماد نے اپنی ماں اور بڑے بھائی کو قتل ہوتے دیکھا۔ وہ باہر بھاگ گیا اور ایک مسلمان کے گھر جا
‫چھپا۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر نہیں گیا کیونکہ اس مسلمان نے اس ڈر سے اُسے باہر نہ نکلنے دیا کہ عیسائی اسے بھی
‫قتل کر دیں گے ۔
‫تھوڑے دنوں بعد اس مسلمان نے اسے ایک اور آدمی کے حوالے کر دیا جو اسے چوری چھپے شہر سے باہر لے گیا۔ صبح کے
‫وقت وہ ایک قافلے کے ساتھ جا رہا تھا۔ بہت دنوں کی مسافت کے بعد وہ شام پہنچا۔ وہاں اُسے ایک امیر کبیر تاجر کے
‫گھر نوکری مل گئی۔ اب اس کی یہی زندگی تھی کہ نوکری کرے اور زندہ رہے۔ وہ ذہنی طور پر بالغ اور بیدار ہوگیا ۔ یہ
‫انتقام کا جذبہ تھا۔ اسی جذبے کے زیر اثر اسے فوجی اچھے لگتے تھے۔ اس نے تاجر کی نوکری چھوڑ کر کسی فوجی حاکم
‫کے گھر میں نوکری کرلی۔ عماد نے اسے بتایا کہ اس پر کیا بیتی ہے اور یہ بھی بتایا کہ وہ فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہے۔
‫اس حاکم نے اس کی پرورش کی اور سولہ سال کی عمر میں اسے شام کی فوج میں بھرتی کرادیا۔ وہ انتقام کیلئے بے تاب
‫تھا۔ اسے تین چار معرکوں میں شریک ہونے کا موقع مال جن میں اس کے جوہر سامنے آگئے۔ گیارہ بارہ سال بعد اُسے اس
‫فوج کے ساتھ مصر روانہ کر دیا گیا جو نورالدین زنگی نے سلطان ایوبی کے مدد کیلئے بھیجی تھی ۔ دو سال مصر میں گزر
‫گئے۔ پھر خدا نے اس کی یہ مراد بھی پوری کی کہ وہ شوبک پر حملہ کرنے والی شوج کے ساتھ گیا لیکن اُسے اُس فوج
‫میں رکھا گیا جسے ریگزار میں صلیبیوں کی فوج پر حملے کرنے تھے۔
‫وہاں وہ صلیبیوں کے لیے قہر بنا ہوا تھا ۔ اس کا چھاپہ مار دستہ مشہور ہوگیا تھا۔ عماد شامی اپنے سواروں کو ساتھ لیے
‫صحرا میں صلیبیوں کی مشک لیتا پھرتا اور بھیڑیوں اور چیتوں کی طرح ان پر چھپٹا تھا مگر اس کے سینے میں جو آگ لگی
‫ہوئی تھی وہ سرد نہیں ہوتی تھی …… ایک ماہ بعد اس دستے میں کل چار سوار رہ گئے تھے‪ ،باقی سب شہید ہو گئے ……
‫ایک رات اس نے ان چار سواروں سے صلیبیوں کے کم و بیش پچاس افراد کے دستے پر حملہ کر دیا۔ وہ سارا دن چھپ
‫چھپ کر اس کا پیچھا کرتا رہا تھا ۔ دن کے وقت وہ چار سپاہیوں سے پچاس سپاہیوں پر حملہ نہیں کر سکتا تھا۔ اُن کے
‫تعاقب میں وہ بہت دور نکل گیا ۔ رات کو صلیبی ُرک گئے اور انہوں نے پڑائو کیا لیکن بہت سے سنتری بیدار رکھے۔ عماد
‫نے آدھی رات کے وقت گھوڑوں کو ایڑ لگائی اور سوئے ہوئے صلیبیوں کے درمیان سے اس طرح گزرا کہ برچھی سے دائیں
‫بائیں وار کرتا گیا۔ اس کے چاروں جانبازوں کا بھی یہی انداز تھا ۔
‫انہیں جو چیز ہلتی نظر آئی اس پر برچھیوں یا تلواروں کے وار کرتے اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ کئی سوئے ہوئے صلیبی ان
‫کے گھوڑوں تلے روندے گئے ۔ سنتریوں نے تاریکی میں تیر چالئے جو خطا گئے۔ آگے جا کر عماد نے اپنے جانباز سواروں کو
‫روکا اور انہیں وہاں سے آہستہ آہستہ پیچھے الیا۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ دشمن بیدار ہوچکا ہے۔ وہ گھوڑسواروں کو پھر
‫قریب لے گیا اور ایڑ لگانے کا حکم دے دیا ۔ اندھیرے میں اُسے سائے گھومتے پھرتے نظر آرہے تھے ۔ پانچوں گھوڑے سرپٹ
‫دوڑتے ان کے درمیان سے گزرے مگر اب وہ دشمن پر وار کرکے آگے گئے تو وہ پانچ کی بجائے تین تھے۔ دو کو صلیبی تیر
‫اندازوں نے گرالیا تھا ۔
‫عماد کا خود او ر زیادہ جوش میں آگیا ۔ اس نے اپنے مجاہدوں سے کہا …… ''ابھی انتقام لیں گے ''…… یہ اس کی

‫حماقت تھی ۔ ا ُس نے اپنے دونوں مجاہدوں کو موڑا اور صلیبیوں کے قریب آہستہ آہستہ آکر حملے کا حکم دے دیا ۔ اب کے
‫وہ دشمن میں سے نکال تو اس کے ساتھ اپنے دو ساتھیوں کی بجائے دو صلیبی تھے جو اس کا تعاقب کر رہے تھے ۔
‫اندھیرے میں اس نے انہیں ان کی للکار سے پہچانا۔ورنہ وہ انہیں اپنے ساتھی سمجھ رہا تھا ۔
‫وہ اس کے سر پر پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس پر تلواروں سے حملہ کیا ۔ اس کے پاس لمبی برچھی تھی ۔ دوڑتے گھوڑے سے
‫اس نے دونوں کا مقابلہ کیا ۔ گھوڑا گھما کر آمنے سامنے آکر معرکہ لڑا۔ لڑائی خاصی لمبی ہوگئی اور وہ دور ہٹتے چلے گئے۔
‫آخر عماد نے دونوں صلیبیوں کو مار لیا اور دونوں کے گھوڑے شوبک بھیجنے کیلئے پکڑ لیے۔ ان کی تلواریں بھی لے لیں مگر
‫اسے یہ خیال نہ رہا کہ کہاں تک جا پہنچا ہے۔ اس نے گھوڑے کو اور اپنے آپ کو آرام دینے کے لیے ایک جگہ قیام کیا
‫لیکن وہ سونے سے ڈرتا تھا کیونکہ کسی بھی وقت اور کہیں بھی وہ دشمن کے نرغے میں آسکتا تھا ۔ اس نے رات جاگتے
‫گزار دی ۔ ستارے دیکھ کر اس نے یہ معلو م کر لیا کہ شوبک کس طرف اور کرک کس طرف ہے اور اسے صحرا میں کون
‫سی جگہ جانا ہے جہاں اسے اپنا کوئی دستہ مل جائے گا ۔
‫صبح ہوتے ہی وہ چل پڑا۔ وہ صحرائوں میں پلہ تھا۔ بھٹکنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ تجربہ کارچھاپہ مار تھا‪ ،خطرے کو
‫دور سے سونگھنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ اسے دور دور صلیبی چار چار یا پانچ پانچ کو ٹولیوں میں جاتے نظر آئے۔ اگر اس کے
‫پاس دو فالتو گھوڑے نہ ہوتے تو کسی ٹولی پر حملہ کر دیتا ۔ وہ بچتا بچاتا اپنی راہ چلتا گیا۔ راستے میں اسے کئی جگہ
‫گھوڑوں اور اونٹوں کے مردار اور صلیبی سپاہیوں کی الشیں پڑی نظر آئیں۔ جنہیں گدھ اور لومڑیاں کھا رہی تھیں۔ ان میں اس
‫کے اپنے ساتھیوں کی الشیں بھی ہوں گی۔ وہ چلتا گیا اور سورج اُفق پر چال گیا ۔ آگے ٹیلوں کا عالقہ آگیا جس میں راستے
‫ہر چند قدم پر گھومتے تھے۔ یہاں ڈر تھا کہ صلیبیوں کی کوئی ٹولی رات کے لیے قیام کرے گی۔ وہ سورج غروب ہونے سے
‫پہلے وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا ۔ یہ ڈر بھی تھا کہ کسی ٹیلے پرکوئی تیر انداز نہ بیٹھا ہو۔ وہ ہر طرف اور اوپر دیکھتا
‫چلتا گیا ۔
‫٭ ٭
‫آگے راستہ دو ٹیلوں کے درمیان سے مڑتا تھا۔ وہاں سے وہ مڑا تو اچانک اسے کسی کے دوڑتے قدموں کی آہٹ سنائی دی ۔
‫کوئی آدمی ساتھ والے ٹیلے کے پیچھے چھپ گیا تھا ۔ اس نے گھوڑے کی باگ کو جھٹکا دیا اور ایڑ لگائی۔ تیز رفتار سے وہ
‫ٹیلے کے پیچھے گیا تو آگے راستہ ایک اور ٹیلے نے بند کر رکھا تھا۔ یہ جگہ ایک وسیع کھڈ بنی ہوئی تھی ۔ عماد سے
‫کوئی بیس قدم دور میلے کچیلے سے چغے واال ایک آدمی ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل ٹیلے پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
‫عماد کی طرف اس کی پیٹھ تھی ۔ اس آدمی کا سرڈھکا ہوا تھا ۔ وہ آدمی نہتہ معلوم ہوتا تھا ۔ عماد نے اسے للکارا مگر
‫وہ ٹیلے پر چڑھنے کی کوشش کرتارہا۔ ٹیال مشکل قسم کا تھا۔ عماد آگے چال گیا۔ اس آدمی نے ایک کوشش اور کی مگر
‫کہیں ہاتھ نہ جما سکا۔ وہ نڈھال ہو چکا تھا ۔ ٹیلے سے اس کی گرفت ڈھیلی ہوگئی اور وہ لڑھکتا ہوا عماد کے گھوڑے کے
‫قدموں میں آن پڑا۔ اس کے سر سے چغے کی اوڑھنی واال حصہ اترگیا۔ عماد یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ایک جوان لڑکی
‫تھی اور خوبصورت اتنی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
‫عماد گھوڑے سے اترا۔ لڑکی خوفزدہ تھی ۔ اس کی رہی سہی قوت بھی خوف نے ختم کر دی ۔ وہ اٹھی مگر بیٹھ گئی ۔
‫عماد نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے ؟ اس نے جوا ب دیا …… ''پانی پالئو ''…… عماد نے ایک گھوڑے سے پانی کی
‫چھاگل کھول کر اسے دے دی ۔ اس نے بے تابی سے پانی پیا اور اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔ عماد نے اسے کھانے کے
‫لیے کچھ دیا جو اس کے پیٹ میں گیا تو اس کے چہرے پر زندگی کے آثار نظر آنے لگے۔ عماد نے اسے کہا …… ''مجھ
‫''سے ڈرو نہیں ‪ ،بتائو کو ن ہو ؟
‫شوبک سے اپنے خاندان کے ساتھ چلی تھی ''۔ اس نے تھکی ہاری زبان میں کہا …… ''سب مارے گئے ہیں ۔ میں ''
‫اکیلی رہ گئی ہوں ۔ مسلمانوں نے راستے میں حملہ کر دیا تھا ''۔
‫مجھے سچ کیوں نہیں بتا دیتی کہ تم کون ہو ؟''…… ''تم نے جو کچھ کہا ہے جھوٹ کہا ہے ''۔''
‫جھوٹ ہی سہی ''۔اس نے خوفزدہ لہجے میں کہا …… ''مجھ پر رحم کرو اور مجھے کرک تک پہنچا دو''۔''
‫شوبک تک ''۔ عماد نے کہا …… ''میں تمہیں شوبک لے جا سکتا ہوں۔ کرک نہیں۔ تم دیکھ رہی ہو کہ میں مسلمان ''
‫ہوں۔ میں راستے میں عیسائی فوج کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا ''۔
‫پھر مجھے ایک گھوڑا دے دو''۔ لڑکی نے کہا…… ''میں لڑکی ہوں۔ اگر راستے میں کسی کے قبضے میں آگئی تو جانتے ''
‫ہو کہ میرا انجام کیا ہوگا ''۔
‫میں تمہیں گھوڑا بھی نہیں دے سکتا۔ تمہیں یہاں سے اکیلے روانہ بھی نہیں کر سکتا ۔ عماد نے کہا …… یہ میرا فرض ''
‫ہے کہ تمہیں اپنے ساتھ شوبک لے جائوں ''۔
‫''وہاں مجھے کس کے حوالے کرو گے ؟''
‫اپنے حاکموں کے حوالے کروں گا ''۔ عماد نے کہا اور اسے تسلی دی …… ''تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوگا جس کا ''
‫تمہیں ڈر ہے''۔
‫لڑکی کرک جانے کی ضد کررہی تھی۔ عماد نے اسے بتایا کہ انہیں حکم مال ہے کہ شوبک کے کسی عیسائی باشندے کو وہاں
‫سے بھاگنے نہ دیا جائے۔ اس کے عالوہ اس نے لڑکی کو خبردار کیا کہ وہ کرک تک نہیں پہنچ سکے گی۔ وہ چونکہ گوری
‫رنگت کی خوبصورت لڑکی تھی اس لیے لڑکی کو یہ ڈر تھا کہ یہ مسلمان فوجی اسے بے آبرو کرے گا۔ اس نے سوچا کہ
‫کیوں نہ اس کے ساتھ آبرو کا ہی سودا کرکے اسے کہا جائے کہ وہ اسے گھوڑا دے دے۔ لڑکی نے اپنا رویہ بدل لیااور عماد
‫سے کہا ……''میں بہت تھکی ہوئی ہوں۔ آج رات یہیں قیام کیا جائے ۔ صبح شوبک کو روانہ ہوجائیں گے ''۔ عماد بھی
‫تھکا ہوا تھا ۔ گھوڑوں کا بھی یہی حال تھا۔ وہ لڑکی کی حالت بھی دیکھ رہا تھا ۔ اس نے وہیں رکنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس
‫سے پہلے لڑکی نے اسے غور سے نہیں دیکھاتھا ۔ اس نے یہی دیکھا کہ یہ بڑھی ہوئی داڑھی واال مسلمان فوجی ہے جو جسم
‫کی ساخت اور گرد سے اٹے ہوئے چہرے سے وحشی لگتا ہے۔ اس سے اسے رحم کی اُمید نہیں تھی ۔ اب جبکہ اس نے
‫کچھ اور ہی سوچ لیا تھا ‪ ،اس نے عماد کو گہری نظروں سے دیکھا ۔
‫اس وقت عماد بھی اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہاتھا کہ اس قدر حسین لڑکی کا اس صحرا میں اکیلے رہ
‫جانا جہاں صلیبی اور اسالمی سپاہی لمبے عرصے سے بھوکے بھیڑیوں کی طرح بھاگتے دوڑتے پھر رہے ہیں اس کے لیے کتنا
‫خطرناک ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس لڑکی پر سپاہی یا کماندار آپس میں ہی لڑ مریں۔ وہ خود بھی فرشتہ نہیں تھا۔
‫اس نے لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس وقت لڑکی اسے دیکھ رہی تھی ۔ عماد نے کوشش کی کہ وہ لڑکی سے نظریں

‫پھیر لے مگر لڑکی کی آنکھوں نے اس کی آنکھوں کو گرفتار کر لیا ۔ اس نے اپنے جسم کے اندرکوئی ایسا جذبہ محسوس کیا
‫جو اس کے لیے اجنبی تھا ۔ اس نے ایک بار نظریں جھکالیں مگر آنکھیں اپنے آپ اوپر اُٹھ گئیں اور وہ بے چین ساہونے
‫لگا۔ لڑکی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ عماد نے آہستہ سے کہا …… ''شاید تم کنواری ہو''۔
‫ہاں'' لڑکی نے جواب دیا اور ذرا سا بھی سوچے بغیر کہہ دیا …… ''میرادنیا میں کوئی نہیں رہا ۔ اگر میرے ساتھ کرک''
‫چلے چلو تومیں تمہارے ساتھ شادی کرلوں گی ''۔
‫عماد بیدار سا ہوگیا۔ اس نے کہا …… ''پھر تم مجھے کہو گی کہ اپنا مذہب تبدیل کرلو‪ ،جو میں نہیں کر سکوں گا۔ تم
‫شوبک چل کر میرے ساتھ شادی کرو اور مسلمان ہوجائو ''۔
‫مجھے بہرحال کرک جانا ہے ''۔لڑکی نے کہا …… ''اگر میرے ساتھ وہاں تک چلو گے تو تمہاری دنیا بدل جائے گی''۔''
‫لڑکی نے سودا بازی شروع کردی تھی لیکن عماد کچھ اور ہی سوچ رہا تھا ۔ یہ سوچ ایسی تھی جسے وہ سمجھ نہیں سکتا
‫تھا ۔ وہ بار بار لڑکی کے چہرے ‪ ،ا س کے ریشمی بالوں اور آنکھوں کو دیکھتا اور سر جھکا کر سوچ میں کھو جاتا تھا۔
‫لڑکی کی جیسے وہ کوئی بات سن ہی نہیں رہا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی کا چہرہ گہری شام کی تاریکی میں چھپ گیا۔
‫اس نے گھوڑے کے ساتھ بندھے ہوئے تھیلے میں سے کھانے کی دو تین چیزیں نکالیں۔ لڑکی کو دیں اور خود بھی کھائیں۔ اس
‫کا جسم اس قدر نڈھال تھا کہ جونہی لیٹا اس کی آنکھ لگ گئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫آدھی رات کے بہت بعد لڑکی نے کروٹ بدلی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے عماد کو دیکھا۔ وہ خراٹے لے رہا تھا ۔ ان
‫سے چند قدم دور گھوڑے کھڑے تھے ‪ ،رات کے پچھلے پہر کا چاند ٹیلوں کے اوپر آگیا تھا ۔ صحرائی چاندنی آئینے کی طرف
‫شفاف تھی ۔ لڑکی نے گھوڑوں کو دیکھا‪ ،عماد کو اتنا ہوش بھی نہ تھا کہ سونے سے پہلے گھوڑوں کی زینیں اتار دیتا۔ لڑکی
‫نے گھوڑے تیار دیکھے ‪ ،عماد کو گہری نیند سوئے دیکھا اور یہ بھی محسوس کیا کہ پیٹ میں خوراک اور پانی جانے اس کا
‫جسم تروتازہ ہوگیا ہے تو اس نے اپنے چغے کے اندر ہاتھ ڈاال۔ اس کا ہاتھ باہر آیا تو اس کی اتنی دلکش انگلیوں نے ایک
‫خنجر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔ چاندنی میں اسے عماد کا چہرہ نظر آرہا تھا ۔ وہ تو بیہوشی کی نیند سویا ہواتھا۔
‫لڑکی نے چاندنی میں چمکتے ہوئے خنجر کو دیکھا اور ایک بار پھر عماد کے چہرے پر نظر ڈالی۔ عماد آہستہ سے کچھ
‫بڑبڑایا۔ وہ نیند میں بول رہا تھا ۔ لڑکی یہی سمجھ سکی کہ وہ گھر والوں کو یاد کر رہا ہے۔
‫لڑکی نے عماد کے سینے کو غور سے دیکھا اور اندازہ کیا کہ اس کا دل کہاں ہے؟ وہ ایک سے دوسرا وار نہیں کرنا چاہتی
‫تھی ۔ یہ وار دل پر ہونا چاہیے تھا تا کہ عماد فورا ً مر جائے ورنہ وہ مرتے مرتے بھی اسے مار ڈالے گا۔ لڑکی نے خنجر کو
‫اور زیادہ مضبوطی سے پکڑ لیا اور گھوڑوں کو دیکھا ۔ اس نے دل ہی دل میں پوراعمل دہرایا ۔ وہ خنجر دل میں اتار دے گی
‫اور بھاگ کر ایک گھوڑے پر سوار ہوجائے گی اور گھوڑے کو ایڑ لگا دے گی۔ وہ سپاہی نہیں تھی ورنہ وہ بال سوچے سمجھے
‫خنجر مار کر عماد کو ختم کردیتی۔ یہی وجہ کافی تھی کہ عماد مسلمان ہے اور اس کا دشمن‪ ،مگر وہ بار بار عماد کے
‫چہرے پر نظریں گاڑ لیتی تھی اور جب اسے قتل کرنے کے لیے خنجر مضبوطی سے پکڑتی تھی تو اس کا دل دھڑکنے لگتا
‫تھا۔ عماد ایک بار پھر بڑبڑایا۔ اب کے اس کے الفاظ ذرا صاف تھے۔ وہ خواب میں اپنے گھر پہنچا ہوا تھا۔ اس نے ماں کا
‫نام لیا ‪ ،بہن کو بھی یاد کیا اور کچھ ایسے الفاظ کہے جیسے انہیں قتل کر دیا گیا اور عماد قاتلوں کو ڈھونڈتا رہا تھا۔
‫کوئی احساس یا جذبہ لڑکی کا ہاتھ روک رہا تھا ۔ خوف بھی ہو سکتا تھا۔ یہ قتل نہ کرنے کا جذبہ بھی ہو سکتا تھا ۔
‫لڑکی بے چین ہوگئی ۔ اس نے یہ ارادہ کیا کہ قتل نہ کرے ۔ آہستہ سے اُٹھے۔ گھوڑے پر بیٹھے اور آہستہ آہستہ اس کھڈ
‫سے نکل جائے ۔ وہ ا ُٹھی اور خنجر ہاتھ میں لیے گھوڑے کی طرف چل پڑی مگر ریت نے اس کے پائوں جکڑ لیے ۔ اس
‫کے رک کر عماد کو دیکھا تو اچانک اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس مرد نے اتنی بھی پرواہ نہیں کی کہ اسے ایک
‫جوان لڑکی تنہائی میں مل گئی ہے اور اس نے یہ بھی نہیں سوچا کو یہ لڑکی عیسائی ہے جو اسے سوتے میں قتل کر
‫سکتی ہے اور اس نے گھوڑے کی زینیں بھی نہیں اتاریں اور اس نے اپنی برچھی اور تلوار بھی احتیاط سے نہیں رکھی ۔
‫کیوں ؟ کیا اسے مجھ پر بھروسہ تھا ؟ کیا یااتنا ہی بے حس ہے کہ میری جوانی اس کے اندر کوئی جذبہ بیدار نہیں کر
‫سکی ؟ ……اسے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے اس آدمی نے اسے گھوڑے سے زیادہ قیمتی نہیں سمجھا ۔ وہ آہستہ آہستہ
‫ایک گھوڑے تک پہنچی ۔ گھوڑا ہنہنایا۔ لڑکی نے گھبرا کر عماد کو دیکھا ۔ گھوڑے کی آواز پر بھی اس کی آنکھ نہ کھلی ۔
‫وہ تین گھوڑوں کی اوٹ میں کھڑی ایک گھوڑے پر سوار ہونے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اسے اپنے عقب سے آواز سنائی دی۔
‫''کون ہو تم ؟''…… لڑکی نے چونک کر پیچھے دیکھا ۔ ایک آدمی نے منہ سے وسل بجائی اور کہا …… ''ہماری یہ
‫……''قسمت ؟
‫و ہ دو تھے ۔ دوسرا ہنسا۔ لڑکی زبان سے پہچان گئی کہ یہ صلیبی ہیں ۔ ایک نے لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اپنی طرف
‫کھینچا۔ لڑکی نے کہا …… ''میں صلیبی ہوں ''…… دونوں آدمی ہنس پڑے اور ایک نے کہا …… ''پھر تو تم سالم ہماری ہو
‫۔ آئو ''۔
‫ذرا ٹھہرو اور میری بات سنو ''…… اس نے کہا ……''میں شوبک سے فرار ہو کر آئی ہوں ۔ میرا نام ایونا ہے ۔ میں ''
‫جاسوسی کے شعبے کی ہوں۔ کرک جا رہی ہوں۔ وہ دیکھو ایک مسلمان سپاہی سویا ہوا ہے۔ اس نے مجھے پکڑ لیا تھا۔ میں
‫اسے سوتا چھوڑ کر بھاگ رہی ہوں۔ میری مدد کرو۔ یہ گھوڑے سنبھالو اور مجھے کرک پہنچا ئو''۔ اس نے انہیں اچھی طرح
‫سمجھایا کہ وہ صلیبی فوج کے لیے کتنی قیمتی اور کارآمد لڑکی ہے۔
‫ایک صلیبی نے اسے وحشیوں کی طرح بازوئوں میں جکڑ لیا اور کہا …… ''جہاں کہو گی پہنچا دیں گے ''۔ دوسرے نے ایک
‫بیہودہ بات کہہ دی اور دونوں اسے ایک طرف دھکیلنے لگے ۔ وہ صلیبی فوج کے پیادہ سپاہی تھے۔ جو مسلمان چھاپہ ماروں
‫سے بھاگتے پھر رہے تھے۔ رات کو وہ چھپ کر ذرا آرام کرنا چاہتے تھے۔ ایسی خوبصورت لڑکی نے انہیں حیوان بنا دیا ۔
‫لڑکی نے جب دیکھا کہ انہیں صلیب کا بھی کوئی خیال نہیں تو اس نے اس اُمید پر بلند آواز سے بولنا شروع کر دیا کہ
‫عماد جاگ اُٹھے گا۔ اسے سپاہیوں نے گھسیٹنا شروع کردیا۔
‫اچانک ایک نے گھبرائی ہوئی آواز میں اپنے ساتھی کا نام لے کر کہا …… ''بچو ''……مگر اس کے بچنے سے پہلے ہی
‫عماد کی برچھی اس کی پیٹھ میں اتر چکی تھی ۔ دوسرے نے تلوار سونت لی ۔ اس وقت لڑکی نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ
‫میں خنجر ہے۔ اس نے خنجر صلیبی سپاہی کے پہلو میں گھونپ دیا ۔ یکے بعد دیگرے دو اور وار کیے اور چال چال کر کہا
‫…… ''تمہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ تم صلیب کے نام پر غلیظ داغ ہو''۔
‫جب دونوں صلیبی ٹھنڈے ہوگئے تو لڑکی بے قابو ہو کر رونے لگی۔ عماد نے اسے بہالیا اور کہا …… ''اب یہاں ُرکنا ٹھیک

‫نہیں ۔ ہو سکتا ہے زیادہ سپاہی ادھر آنکلیں۔ ہم ابھی شوبک کو روانہ ہوجاتے ہیں ''۔ اس نے لڑکی سے پوچھا ……
‫''''انہوں نے تمہیں جگایا تھا ؟
‫نہیں ''۔لڑکی نے جواب دیا …… ''میں جاگ رہی تھی اور گھوڑوں کے پاس کھڑی تھی ''۔''
‫''وہاں کیوں ؟''
‫گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنے کے لیے ''۔لڑکی نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ۔ ''میں تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی ''
‫''۔
‫''تم نے خنجر کہاں سے لیا ؟''
‫میرے پاس تھا ''۔لڑکی نے جواب دیا …… ''میں نے پہلے ہی ہاتھ میں لے رکھا تھا ''۔''
‫پہلے ہی ہاتھ میں کیوں لے رکھا تھا ؟'' عماد نے پوچھا …… ''شاید اس لیے کہ میں جاگ اُٹھوں تو تم مجھے قتل کر''
‫دو ''۔
‫لڑکی نے جواب نہ دیا ۔ عماد کو دیکھتی رہی ۔ کچھ دیر بعد بولی …… ''میں تمہیں قتل کرکے بھاگنا چاہتی تھی۔ پیشتر
‫اس کے کہ تم مجھے قتل کرو‪ ،میں تمہیں بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں نے یہ خنجر تمہیں قتل کرنے کیلئے کھوال تھا لیکن
‫ہاتھ ا ُٹھا نہیں ۔ میں یہ نہیں بتا سکتی کہ میں نے تمہارے دل میں خنجر کیوں نہیں اُتارا۔ تمہاری زندگی میرے ہاتھ میں تھی
‫۔ میں بزدل نہیں ۔ پھر بھی میں تمہیں قتل نہ کر سکی۔ میں کوئی وجہ بیان نہیں کر سکتی ۔ شاید تم کچھ بتا سکو ''۔
‫زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ''۔عماد نے کہا ……''تمہارا ہاتھ میرے خدا نے روکا تھا اور تمہاری عزت خدا نے ''
‫بچائی ہے ۔ میرا وجود تو ایک بہانہ اور سبب تھا …… کسی گھوڑے پر سوار ہوجاو اور چلو ''۔
‫لڑکی نے خنجر عماد کی طرف بڑھا کر کہا ……''میرا خنجر اپنے پاس رکھ لو ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گی ''۔
‫تم میری تلوار بھی اپنے پاس رکھ لو ''۔ عماد نے کہا …… ''تم مجھے قتل نہیں کر سکو گی ''۔ یہ مذاق نہیں تھا ۔''
‫دونوں پر سنجیدگی طاری تھی ۔ وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اور تیسرا گھوڑا ساتھ لے کر چل پڑے ۔
‫سورج نکلنے تک وہ اس عالقے میں پہنچ چکے تھے جہاں کوئی صلیبی سپاہی نظر نہیں آتا تھا ۔ عماد کی اپنی فوج کے
‫چند سپاہی اسے نظر آئے جن کے ساتھ کچھ باتیں کیں اور چلتے گئے۔ اپریل کا سورج بہت ہی گرم تھا ۔ وہ منہ اور سر
‫لپیٹے ہوئے چلتے گئے۔ دور سے ریت پانی کے سمندر کی طرح چمکتی نظر آتی تھی اور بائیں سمت ریتلی سلوں کی پہاڑیاں
‫نظر آرہی تھیں۔ سفر کے دوران وہ آپس میں کوئی بات نہ کر سکے۔ گرمی کے عالوہ ان الشوں نے بھی ان پر خاموشی طاری
‫کر رکھی تھی۔ جو انہیں ادھر ادھر بکھری ہوئی نظر آرہی تھیں ۔ کوئی ایک الش سالم نہیں تھی ۔ گدھوں اور درندوں نے ان
‫کے اعضاء الگ الگ کر دئیے تھے۔ بعض الشوں کی صرف ہڈیاں اور کھوپڑیاں رہ گئی تھیں۔ عماد نے لڑکی سے کہا …… ''یہ
‫تمہاری قوم کے سپاہی ہیں ۔ یہ ان بادشاہوں کی خواہشوں کا شکار ہوگئے ہیں جو اسالمی سلطنت اسالمی کو ختم کرنے
‫برطانیہ‪ ،فرانس‪ ،جرمنی‪ ،اٹلی اور نہ جانے کہاں کہاں سے آئے ہیں''۔
‫لڑکی خاموش رہی ۔ وہ بار بار عماد کو دیکھتی تھی اور آہ بھر کر سر جھکا لیتی تھی۔ عماد نے سلوں کی پہاڑیوں کا رخ
‫کرلیا۔ اسے معلوم تھا کہ وہاں پانی ضرور ہوگا اور سایہ بھی ۔ سورج ان کے پیچھے جانے لگا تو وہ پہاڑیوں میں پہنچ گئے۔
‫تالش کے بعد انہیں ہری جھاڑیاں اور گھاس نظر آگئی۔ ایک جگہ سے پہاڑی کا دامن پھٹا ہوا تھا۔وہاں پانی تھا وہ گھوڑوں
‫سے ا ُترے۔ پہلے خود پانی پیا پھر گھوڑوں کو پانی پینے کے لیے چھوڑ دیا اور سائے میں بیٹھ گئے۔
‫''تم کون ہو؟''…… لڑکی نے اس سے پوچھا …… ''تمہارا نام کیا ہے ؟ کہاں کے رہنے والے ہو؟''
‫میں مسلمان ہوں ''۔ عماد نے جواب دیا …… ''میرا نام عماد ہے اور میں شامی ہوں''۔''
‫''رات خواب میں تم کسے یاد کر رہے تھے ؟''
‫یاد نہیں رہا '' ۔عماد نے کہا …… ''میں شاید خواب میں بول رہا ہوں گا۔ میرے ساتھی مجھے بتایا کرتے ہیں کہ میں ''
‫خواب میں بوال کرتا ہوں''۔
‫تمہاری ماں ہے؟بہن ہے ؟'' لڑکی نے پوچھا اور کہا …… ''تم شاید انہیں یاد کر رہے تھے ''۔''
‫تھیں کبھی !'' عماد نے آہ بھر کر کہا …… ''اب انہیں خواب میں دیکھا کرتا ہوں''۔''
‫لڑکی نے اس سے ساری بات پوچھنے کی بہت کوشش کی لیکن عماد نے اور کچھ نہیں بتایا۔ اس نے لڑکی سے کہا ……
‫'' تم نے اپنے متعلق جھوٹ بوال تھا ۔ مجھے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ تم کون ہو۔ میں تمہیں متعلقہ حاکم کے
‫حوالے کرکے واپس آجائوں گا۔ اگر سچ بول سکو تو اپنے متعلق کچھ بتا دو لیکن یہ نہ کہنا کہ تم ان صلیبی لڑکیوں میں سے
‫نہیں ہو جو ہمارے ملک میں جاسوسی کے لیے آتی ہیں ''۔
‫تم ٹھیک کہتے ہو ''۔ لڑکی نے کہا …… ''میں جاسوس لڑکی ہوں ۔ میرا نام ایونا ہے ''۔''
‫تمہارے ماں باپ کو معلوم ہے کہ تمہارا کام کس قسم کا ہے ؟''عماد نے پوچھا۔''
‫میرے ماں باپ نہیں ہیں ''۔ایونا نے جواب دیا …… ''میں نے ان کی صورت بھی نہیں دیکھی ۔ میرا محکمہ میری ماں''
‫اور اس محکمہ کا حاکم ہرمن میرا باپ ہے ''…… اس نے یہ بات یہیں ختم کر دی اور کہا …… ''میری ایک ساتھی لڑکی
‫نے ایک مسلمان سپاہی کو بچانے کے لیے زہر پی لیا تھا۔ میں اس وقت بہت حیران ہوئی تھی کہ کوئی صلیبی لڑکی ایک
‫مسلمان کے لیے اتنی بڑی قربانی کر سکتی ہے؟ میں آج محسوس کر رہی ہوں کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔ پتہ چال تھا کہ اس
‫مسلمان سپاہی نے بھی تمہاری طرح اس لڑکی کو ڈاکوئوں سے لڑکر بچایا ‪ ،خود زخمی ہوگیا اور لڑکی کو شوبک تک
‫پہنچایاتھا۔ تمہاری طرح اس نے بھی دھیان نہیں دیا تھا کہ وہ لڑکی کتنی خوبصورت ہے ۔ لوزینا بہت خوبصورت لڑکی تھی ۔
‫میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں تمہاری خاطر اپنی جان قربان کردوں گی''۔
‫میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ''۔ عماد نے کہا …… ''ہم لوگ حکم کے پابند ہوتے ہیں ''۔''
‫شاید یہ جذبات کا اثر ہے کہ میں ایسے محسوس کرتی ہوجیسے میں نے پہلے بھی تمہیں کہیں دیکھا ہے ''۔''
‫دیکھا ہوگا''۔ عماد نے کہا …… ''تم مصر گئی ہوگی ۔ وہاں دیکھا ہوگا''۔''
‫میں مصر ضرور گئی ہوں ''۔لڑکی نے کہا …… ''تمہیں نہیں دیکھا تھا ''۔اس نے مسکرا کر پوچھا …… ''میرے متعلق ''
‫تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا میں خوبصورت نہیں ہوں ''۔
‫تمہاری خوبصورتی سے میں انکار نہیں کر سکتا ''۔عماد نے سنجیدگی سے کہا …… ''میں سمجھ گیا ہوں تم نے یہ سوال''
‫کیا ہے۔ تم ضرور حیران ہوگی کہ میں نے تمہارے ساتھ وہ سلوک کیوں نہیں کیا ہے جو تمہاری صلیب کے دو سپاہیوں نے
‫تمہارے ساتھ کرنا چاہا تھا۔ ہو سکتا ہے تمہارے دل میں میرے لیے یہ خوف ابھی تک موجود ہو کہ میں تمہیں دھوکہ دے رہا

‫ہوں اور تمہیں شوبک لے جا کر خراب کروں گا یا تمہارے ساتھ تمہاری مرضی کے خالف شادی کر لوں گا یا تمہیں بیچ ڈالوں
‫گا۔ میں تمہارا یہ خوف دور کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ لڑکی میرے مذہب کی ہو یا کسی دوسرے مذہب کی میں کسی لڑکی کو
‫بری نظر سے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جب تیرہ چودہ سال کا تھا تو میری ایک چھوٹی سی بہن
‫اغوا ہوگئی تھی۔ اس کی عمر چھ سات سال تھی ۔ سولہ سال گزر گئے ہیں۔ اسے شوبک کے عیسائی اٹھا لے گئے تھے ۔
‫میں نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہے یا مر گئی ہے۔ اگر زندہ ہے تو کسی امیر کے حرم میں ہوگی یا تمہاری طرح جاسوسی کرتی
‫پھر رہی ہوگی۔ میں جس لڑکی کو دیکھتا ہوں اسے اپنی بہن سمجھ لیتا ہوں۔ اسے بری نظر سے اس لیے نہیں دیکھتا کہ وہ
‫میری گمشدہ بہن ہی نہ ہو۔ میں تمہیں صرف اس لیے شوبک لے جا رہا ہوں کہ محفوظ رہو۔ میں جانتا تھا کہ صحرا میں
‫اکیلے جانے اور پیدل چلنے سے تمہارا کیا حشر ہوتا اور تم کسی کے ہاتھ چڑھ جاتیں تو تمہارا حال وہی ہوتا جو تمہارے اپنے
‫صلیبی بھائی کرنے لگے تھے۔ مجھے اپنی خوبصورتی کا احساس نہ دالئو۔ میں اس احساس کے لحاظ سے مردہ ہوں۔ مجھے
‫لذت ان صحرائوں میں صلیبیوں کے تعاقب میں گھوڑا دوڑاتے اور ان کا خون بہاتے ملتی ہے ''۔
‫لڑکی اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں پیار کا تاثر تھا ۔اس کے ساتھ ایسی باتیں کسی نے
‫نہیں کی تھیں۔ اسے بے حیائی اور عیاری کے سبق دئیے گئے تھے اور اس کی باتوں اور چال ڈھال میں بڑی محنت سے
‫جنسی کشش پیدا کی گئی تھی۔ اسے ایک بڑا ہی خوبصورت فریب بنایاگیا تھا۔ اس پر حسن اور شراب کانشہ طاری کیا گیا
‫تھا ۔ اسے عصمت کے موتی سے محروم رکھا گیا تھا اور وہ اس ٹریننگ کے بعد اپنی ساتھی لڑکیوں کی طرح اپنے آپ کو
‫مردوں کے دلوں پر راج کرنے والی شہزادی سمجھنے لگی تھی۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ اس کا گھر کہاں ہے اور اس
‫کے ماں باپ کیسے تھے۔ عماد کی جذباتی باتوں نے اس کی ذات میں ایک عورت کے جذبات بیدار کردئیے۔ وہ گہری سوچ
‫کے عالم میں کھو گئی۔ جیسے و ہ بے تکلف ہوگئی ہو۔
‫اس نے گہری سوچ کے عالم میں کہا …… ''ایک ڈرائونے خواب کی طرح یاد آتا ہے کہ مجھے ایک گھر سے اُٹھایا گیا تھا۔
‫مجھے یاد نہیں آرہا کہ اس وقت میری عمرکیا تھی ''۔ اس نے اپنے بالوں میں دونوں ہاتھ پھیرے اور بالوں کو دونوں مٹھیوں
‫میں لے کر جھنجھوڑا جیسے پرانی یادوں کو بیدار کرنے کی کوشش کررہی ہوں۔ اس نے اُکتا کرکہا …… ''کچھ یاد نہیں آتا۔
‫میرا ماضی شراب اور عیش و عشرت اور حسین عیاریوں میں گم ہوگیا ہے۔ میں نے کبھی بھی نہیں سوچا کو میرے والدین
‫کون تھے اورکیسے تھے۔ مجھے کبھی ماں باپ کی ضرورت محسوس ہوئی ہی نہیں۔ میرے اندر جذبات تھے ہی نہیں۔ مجھے
‫معلوم ہی نہیں کہ مرد باپ اور بھائی بھی ہو سکتا ہے ۔ مرد مجھے اپنی تفریح کے استعمال کی چیز سمجھتے ہیں لیکن
‫میں مردوں کو استعمال کیا کرتی ہوں۔ جس پر میری خوبصورتی اور میری جوانی کانشہ طاری ہو اسے میں حشیش اور شراب
‫سے اپنا غالم بنا لیا کرتی ہوں ۔ مگر اب تم نے جو باتیں کیں ہیں انہوں نے مجھ میں وہ حسیں بیدار کردی ہیں جوماں‪،
‫باپ‪ ،بہن اور بھائی کا پیار مانگتی ہیں ''۔
‫اس کی بے چینی بڑھتی گئی ۔ وہ رک رک کر بولتی رہی پھر بالکل ہی چپ ہوگئی۔ کبھی عماد کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے
‫لگتی اور کبھی اپنے سر پرہاتھ رکھ کر اپنے بال مٹھی میں لے کرجھنجھوڑنے لگتی۔ وہ دراصل گم گشتہ ماضی اور حال کے
‫درمیان بھٹک گئی تھی ۔ عماد نے جب اسے کہا کہ ا ُٹھو چلیں‪ ،تو وہ بھولے بھالے معصوم سے بچے کی طرح اس کے ساتھ
‫چل پڑی ۔ ان کے گھوڑے انہیں پہاڑی عالقے سے بہت دور لے گئے تو بھی وہ عماد کو دیکھ رہی تھی ۔ صرف ایک بار اس
‫نے ہنس کرکہا …… ''مرد کی باتوں اور وعدوں پرمیں نے کبھی اعتبار نہیں کیا ۔ میں سمجھ نہیں سکتی کہ میں کیوں
‫محسوس کر رہی ہوں کہ مجھے تمہارے ساتھ جانا چاہیے'' …… عماد نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرادیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ جب شوبک کے دروازے پرپہنچے تو اگلے روز کا سورج طلوع ہو رہاتھا ۔ وہ صحرا میں ایک اوررات گزار آئے تھے۔ عماد
‫لڑکی کو جہاں لے جانا چاہتا تھا اس جگہ کے متعلق پوچھ کر وہ چل پڑا۔ گھوڑے شہر میں سے گزر رہے تھے ۔ لوگ ایونا
‫کو رک رک کر دیکھتے تھے۔ چلتے چلتے عماد نے ایک مکان کے سامنے گھوڑا روک لیا اور بند دروازے کو دیکھنے لگا۔ ایونا
‫نے اس سے پوچھا …… ''یہاں کیوں ُرک گئے؟'' ……اس نے جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ دروازے کے قریب جا کر گھوڑے پر
‫بیٹھے بیٹھے اس نے دروازے پر آہستہ آہستہ ٹھوکریں ماریں۔ ایک بزرگ صورت انسان نے دروازہ کھوال۔
‫یہاں کون رہتا ہے ؟'' عماد نے عربی زبان میں پوچھا۔''
‫کوئی نہیں '' ۔ بوڑھے نے جواب دیا …… ''عیسائیوں کا ایک خاندان رہتا تھا۔ ہماری فوج آگئی تو پورا خاندان بھاگ گیا ''
‫ہے ''۔
‫''اب آپ نے اس پر قبضہ کر لیا ہے؟''
‫بوڑھا ڈر گیا ۔ اس نے دیکھا کہ یہ سوار فوجی ہے اور اس سے باز پرس کررہا ہے کہ عیسائی کے مکان پر اس نے کیوں
‫قبضہ کر لیا ہے جبکہ سلطان ایوبی نے منادی کے ذریعے حکم جاری کیا ہے کہ کسی مسلمان کی طرف سے کسی عیسائی کو
‫کوئی تکلیف نہ پہنچے ورنہ سخت سزا دی جائے گی۔ بوڑھے نے کہا …… ''میں نے قبضہ نہیں کیا ۔ اس کی حفاظت کے
‫لیے یہاں آگیا ہوں ۔
‫میں اسے بالکل بند کردوں گا۔ اس کا مالک زندہ ہے ۔ وہ مسلمان ہے اور پندرہ سولہ سال سے بیگار کیمپ میں پڑا ہے
‫''۔
‫کیا امیرمصر نے انہیں کیمپ سے رہا نہیں کیا ؟'' عماد نے پوچھا۔''
‫وہاں کے سب مسلمان آزاد ہیں مگر ابھی کیمپ میں ہی ہیں ''۔ بوڑھے نے جواب دیا …… ''اس سب کی حالت اتنی ''
‫بری ہے کہ قابل احترام ساالر اعظم ایوبی نے ان کے لیے دودھ‪ ،گوشت‪ ،دوائیوں اور نہایت اچھے رہن سہن کا انتظام وہیں کر
‫دیا ہے ۔ بہت سے طبیب ان کی دیکھ بال کررہے ہیں ۔ ان میں جس کی صحت بحال ہوجاتی ہے اسے گھر بھیج دیا جاتا
‫ہے۔ وہاں جو رہتے ہیں انہیں ان کے رشتہ داروہیں ملنے جاتے ہیں۔ اس مکان کا مالک بھی وہیں ہے۔ ایک تو اس کابڑھاپا
‫ہے اور دوسرے کیمپ کی پندرہ سولہ سالوں کی اذیتیں۔ بے چارہ صرف زندہ ہے۔ میں اسے دیکھنے جایا کرتا ہوں۔ اُمید ہے
‫صحت یاب ہوجائے گا۔ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کا مکان خالی ہوگیا ہے''۔
‫اس کے رشتہ دار کہاں ہیں؟''عماد نے پوچھا ۔''
‫کوئی بھی زندہ نہیں ہے '' ۔ بوڑھے نے جواب دیا اور تین چار گھر چھوڑ کر ایک مکان کی طرف اشارہ کرکے کہا…… ''
‫''وہ میرا ذاتی مکان ہے۔ میں ان لوگوں کا صرف پڑوسی تھا ۔ آپ مجھے ان کا رشتہ دار بھی کہہ سکتے ہیں''۔
‫عماد یہ پوچھ کر کہ اندر مستورات نہیں ہیں‪ ،گھوڑے سے ا ُتر کر اندر چالگیا۔ کمروں میں گیا۔ دیواروں پر ہاتھ پھیرا۔ ا َیونا بھی

‫اندر چلی گئی۔ اس نے عماد کو دیکھا وہ آنسو پونچھ رہاتھا ۔ ا َیونا نے آنسوئوں کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا ……
‫''اپنے بچپن کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں اس گھر سے بھاگا تھا۔ یہ میرا گھر ہے '' …… اس کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے
‫''بوڑھے سے پوچھا …… ''ان کے رشتے دار مر گئے ہیں ؟ ان کی کوئی اوالد بھی تھی ؟
‫صرف ایک لڑکا بچا تھا‪ ،جو عیسائی ڈاکوئوں سے بچ کر میرے گھر آگیا تھا''۔ بوڑھے نے جواب دیا …… ''اسے میں نے''
‫شام کو روانہ کر دیا تھا ‪ ،اگر یہاں رہتا تو مارا جاتا''۔
‫عماد کو وہ رات یاد آگئی جب وہ اس گھر سے بھاگ کر پڑوسی کے گھر جا چھپا تھا ۔ وہ یہی پڑوسی تھا مگر اس نے
‫بوڑھے کو بتایا نہیں کہ وہ لڑکا جسے اس نے شوبک سے شام کو روانہ کر دیا تھا ‪ ،وہ یہی جوان ہے‪ ،جسے وہ یہ کہانی سنا
‫رہا ہے۔ عماد کے لیے جذبات پر قابوپانا محال ہوگیالیکن وہ سخت جان فوجی تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا …… ''میں اس
‫مکان کے مالک سے ملنا چاہتا ہوں۔ مجھے ان کا نام پتا بتادو''۔ بوڑھے نے اس کے باپ کا نام بتا دیا ۔ عماد کو اپنے
‫باپ کا نام اچھی طرح سے یاد تھا۔
‫اس لڑکے کی ایک بہن تھی ''۔ بوڑھے نے کہا …… ''بہت چھوٹی تھی ۔ اسے عیسائیوں نے اغوا کر لیا تھا۔اسی ضمن''
‫میں اس گھر کے سارے افراد عیسائیوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے ''۔
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
19:37
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪38.۔" جب ایونا عائشہ بنی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫''ا َیونا!''۔ عماد نے لڑکی سے کہا …… ''اپنی مقدس صلیب کے پرستاروں کی کرتوت سن رہی ہو؟''
‫ا َیونا نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چھت کو دیکھنے لگی۔ اُس نے کمرے کے دروازے کے ایک کواڑ کو بند کیا اور اس کی اُلٹی
‫طرف دیکھنے لگی۔ کواڑ پر تین چار چھوٹی چھوٹی اور گہری لکیریں کھدی ہوئی تھیں۔ وہ بیٹھ کر ان لکیروں کو بڑی غور
‫سے دیکھنے لگی۔ عماد اسے دیکھ رہا تھا۔ ا َیونا لکیروں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی ۔
‫''وہاں بھی کواڑوں پر ہاتھ پھیر کر کچھ ڈھونڈنے لگی۔ عماد نے جاکر اس سے پوچھا…… ''کیادیکھ رہی ہو؟
‫لڑکی ُم سکرائی اور بولی …… ''تمہاری طرح میں بھی اپنا بچپن ڈھونڈ رہی ہوں''۔ اس نے عماد سے پوچھا …… ''یہ تمہارا
‫''گھر تھا ؟ تم یہیں سے بھاگے تھے؟
‫یہیں سے''۔ عماد نے جواب دیا اور اسے سنا دیا کہ کس طرح اُن کے گھر پر عیسائیوں نے حملہ کیا اور اس کی ماں ''
‫اور بڑھے بھائی کو قتل کر دیاتھا۔ عماد بھاگ گیا اور وہ آج تک یہ سمجھتا رہا کہ اس کا باپ بھی قتل ہوگیا ہے لیکن یہ
‫بوڑھا بتارہا ہے کہ باپ کیمپ میں زندہ ہے۔
‫''تم نے اس بوڑھے کو بتادیا ہے کہ وہ لڑکے تم ہی ہو جسے اس نے پناہ دی تھی؟''
‫میں بتانا نہیں چاہتا''۔اس نے تذبذب کے عالم میں کہا ۔''
‫ا َیونا ا ُسے بڑی غور سے دیکھنے لگی اور بوڑھا ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ یہ دونوں یہاں کیا دیکھ رہے
‫''ہیں ۔ عماد بچپن کی یادوں میں گم ہوگیا تھا ۔ بوڑھے نے پوچھا …… ''میرے لیے کیا حکم ہے ؟
‫عماد چونکا اور حکم دینے کے لہجے میں بوال …… ''اس مکان کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔ یہ آپ کی تحویل میں ہے ''۔
‫اس نے ا َیونا سے کہا …… ''آو چلیں ''۔
‫کیا تم اپنے باپ سے نہیں ملو گے؟'' ۔ ایونا نے اس سے پوچھا۔''
‫پہلے اپنا فرض ادا کرلوں'' ۔ عماد نے جواب دیا …… ''مجھے ریگستان میں میرا کماندار ڈھونڈ رہا ہوگا۔ وہ مجھے مردہ ''
‫قرار دے چکے ہوں گے ۔ وہاں میری ضرورت ہے ‪ ،آو میرے ساتھ آو۔ میں یہ امانت کسی کے حوالے کردوں''۔
‫لڑکیاں ‪ ،لڑکیاں‪ ،لڑکیاں''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے شگفتہ سے لہجے میں علی بن سفیان سے کہا …… ''کیایہ ''
‫کمبخت صلیبی میرے راستے میں لڑکیوں کی دیوار کھڑی کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا وہ لڑکیوں کو میرے سامنے نچاکر مجھ سے
‫''شوبک کا قلعہ لے لیں گے؟
‫امیر محترم!'' علی بن سفیان نے کہا …… ''آپ اپنی ہی باتوں کی تردید کر رہے ہیں۔ یہ لڑکیاں دیوار نہیں بن سکتیں۔''
‫دیمک بن چکی ہیں اور دیمک کا کام کر رہی ہیں ۔ آپ کے اور محترم نورالدین زنگی کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنیکی
‫کوشش لڑکیوں کے ہاتھوں کرائی گئی ہے اور ان لڑکیوں نے حشیش اور شراب کے ذریعے ہمارے مسلمان حکام اور امراء کو
‫استعمال کیا ہے ''۔
‫یہ وہی موضوع ہے جس پر ہم سو بار بات کر چکے ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… ''مجھے ان لڑکیوں کے متعلق ''
‫کچھ بتاو ۔ یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ یہ آٹھوں جاسوس ہیں۔ انہوں نے اب تک کوئی نیا انکشاف کیا ہے یا نہیں ''۔
‫انہوں نے بتایا ہے کہ شوبک میں صلیبی جاسوس اور تخریب کار موجود ہیں ''۔ علی بن سفیان نے جواب دیا …… ''
‫'' لیکن ان میں سے کسی کی بھی نشاندہی نہیں ہوسکتی‪ ،کیونکہ ان کے گھروں اور ٹھکانوں کا علم نہیں ۔ ان میں سے تین
‫مصر میں کچھ وقت گزار کر آئی ہیں۔ وہاں انہوں نے جو کام کیا ہے وہ آپ کو بتا چکا ہوں''۔
‫کیا وہ قید خانے میں ہیں؟''سلطان ایوبی نے کہا۔''
‫نہیں ''۔علی بن سفیان نے جواب دیا …… ''وہ اپنی پرانی جگہ رکھی گئی ہیں۔ ان پر پہرہ ہے ''۔''
‫اتنے میں دربان اندر آیا۔ اس نے کہا …… ''عماد شامی نام کاایک عہدیدار ایک صلیبی لڑکی کو ساتھ الیا ہے۔ کہتاہے کہ
‫اسے اس نے کرک کے راستے پر پکڑا ہے اور یہ لڑکی جاسوس ہے''۔
‫دونوں کو اندر بھیج دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا ۔''
‫دربان کے جاتے ہی عماد اور ایونا اندر آئے۔ سلطان ایوبی نے عماد سے کہا ۔ ''معلوم ہوتا ہے بہت لمبی مسافت سے آئے
‫'' ہو۔ تم کس کے ساتھ ہو؟
‫میں شامی فوج میں ہوں'' ۔ عماد نے جواب دیا …… ''میرے کماندار کا نام احتشام ابن محمدہے اور میں البرق دستے کا ''
‫عہدیدار ہوں''۔
‫البرق کس حال میں ہے ؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا اور علی بن سفیان سے کہا …… ''البرق فی الواقع برق ہے۔ ہم نے''
‫جب سوڈانیوں پر شب خون مارے تھے تو البرق قیادت کر رہا تھا۔ صحرائی چھاپوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی ''۔

‫ساالر اعظم!'' عماد نے کہا …… ''آدھا دستہ اللہ کے نام پر قربان ہوچکا ہے ۔ میرے گروہ میں سے صرف میں رہ گیا ''
‫ہوں''۔
‫تم نے اتنی جانیں ضائع تو نہیں کیں؟ سلطان ایوبی نے سنجیدگی سے پوچھا۔ مرجانے اور قربان ہونے میں بہت فرق ہے ''
‫''۔
‫نہیں ساالر اعظم!'' عماد نے جواب دیا …… ''خدائے ذوالجالل گواہ ہے کہ ہم نے ایک ایک جان کے بدلے بیس بیس ''
‫جانیں لی ہیں۔ اگر صلیبیوں کی فوج اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئی ہے تو وہ صرف چند ایک زخمی ہوں گے۔ فلسطین کی ریت
‫کو ہم نے صلیبیوں کے خون سے الل کر دیا ہے ۔ ہمارے دستوں نے بھی دشمن پرپورا قہر برسایا ہے۔ دشمن میں اب اتنا دم
‫نہیں رہاکہ وہ تھوڑے سے عرصے میں اگلی جنگ کے لیے تیارہوجائے ''۔
‫'' اورتم؟'' سلطان ایوبی نے لڑکی سے پوچھا …… ''کیا تم پسند کروگی کہ اپنے متعلق ہمیں سب کچھ بتا دو؟''
‫سب کچھ بتادوں گی''۔ ا َیونا نے کہا اور اس کے آنسو بہنے لگے۔''
‫عماد شامی !'' سلطان ایوبی نے عماد سے کہا …… ''فوجی آرام گاہ میں چلے جاو۔ نہاو دھوو۔ آج کے دن اور آج کی ''
‫رات آرام کرو۔ کل واپس اپنے جیش میں چلے جانا ''۔
‫میں دشمن کے دو گھوڑے بھی الیا ہوں ''۔عماد نے کہا…… ''ان کی تلواریں بھی ہیں ''۔''
‫گھوڑے اصطبل میں اور تلواریں اسلحہ خانے میں دے دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا اور ذرا سوچ کر کہا …… ''اگر ان ''
‫''گھوڑوں میں کوئی تمہارے گھوڑے سے بہتر ہو تو بدل لو۔ باہر کے محاذ پر گھوڑے کی کیا حالت ہے؟
‫کوئی پریشانی نہیں '' ۔عماد نے بتایا …… ''اپنا ایک گھوڑا ضائع ہوتا ہے تو ہمیں صلیبیوں کے دو گھوڑے مل جاتے ہیں ''
‫''۔
‫عماد سالم کرکے باہر نکل گیا۔ اس نے امانت صحیح جگہ پہنچا دی تھی ۔ ادھر سے تووہ فارغ ہوگیا لیکن اس کے دل پر
‫بوجھ تھا۔ یہ جذبات کا بوجھ تھا۔ یہ بچپن کی یادوں کا بوجھ تھااور یہ اس باپ کی محبت کا بوجھ تھا جو کیمپ میں پڑا
‫تھا۔ وہ تذبذب میں مبتال تھا۔ جنگ ختم ہونے تک وہ باپ سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ ڈرتاتھا کہ باپ کی محبت اور دل کے
‫پرانے زخم اس کے فرض کے راستے میں حائل ہوجائیں گے …… وہ اپنے گھوڑے کے پیچھے دو گھوڑے باندھے اصطبل کی طرف
‫جارہا تھا۔ اسے ماحول کاکوئی ہوش نہیں تھا۔ گھوڑا اسے ایک گھاٹی پر لے گیا۔ اس نے سامنے دیکھا۔ شوبک کا قصبہ اسے
‫نظر آرہا تھا۔ وہ ُر ک گیا اور اس قصبے کو دیکھنے لگا جہاں وہ پیدا ہوا تھا اور جہاں سے جال وطن ہوا تھا۔ اس پر جذبات
‫نے رقت طاری کردی ۔
‫راستے سے ہٹ کر ُر کو سوار!'' اسے کسی کی آواز نے چونکا دیا۔ اس نے گھوم کردیکھا۔ پیچھے ایک گھوڑا سوار دستہ ''
‫آرہا تھا ۔ اس نے گھوڑے ایک طرف کر لیے ۔ جب دستے کا اگال سوار اس کے قریب سے گزرا توعماد سے پوچھا ……
‫''''باہر سے آئے ہو وہاں کی کیا خبر ہے ؟
‫اللہ کا کرم ہے دوستو!'' …… اس نے جواب دی …… ''دشمن ختم ہو رہا ہے ۔ شوبک کو کوئی خطرہ نہیں ''۔''
‫دستے آگے چال گیا تو عماد دائیں طرف چل پڑا۔
‫٭ ٭ ٭
‫میں نے آپ سے کچھ بھی نہیں چھپایا ''۔ا َیونا سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی۔ وہ بتا ''
‫چکی تھی وہ جاسوس ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ قاہر میں ایک مہینہ رہ چکی ہے۔ اس نے وہاں کے چند ایک
‫سرکردہ مسلمانوں کے نام بھی بتائے تھے جو سلطان ایوبی کے خالف سرگرم تھے اور اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ صلیبیوں کی
‫طرف سے سوڈانیوں کو بہت مدد مل رہی ہے اور صلیبی فوج کے تجربہ کار کمانڈر سوڈانیوں کو شب خون مارنے کی ٹریننگ
‫دے رہے ہیں …… ایونا نے کسی استفسار کے بغیرہی اتنی زیادہ باتیں بتا دیں جو جاسوس اذیتوں کے باوجود نہیں بتایا کرتے
‫کیونکہ ان میں ان کی اپنی ذات بھی ملوث ہوتی ہے۔ اس سے علی بن سفیان شک میں پڑ گیا۔
‫ایونا!''علی بن سفیان نے کہا…… ''میں بھی تمہارے فن کا فنکار ہوں۔میں تمہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کو تم ''
‫اونچے درجے کی فنکار ہو۔ ہمارے تشدد اور قید خانے سے بچنے اور ہمیں گمراہ کرنے کا تمہارا طریقہ قابل تعریب ہے مگر
‫''میں اس دھوکے میں نہیں آسکتا
‫آپ کا نام؟''…… ایونا نے پوچھا۔''
‫علی بن سفیان''۔ علی نے جواب دیا …… ''تم نے شاید ہرمن سے میرا نام سنا ہوگا''۔''
‫ایونا ا ُٹھی اور آہستہ آہستہ علی بن سفیان کے قریب جا کر دوزانو بیٹھ گئی۔ اس نے علی بن سفیان کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ
‫میں لیا اور ہاتھ چوم کر بولی …… ''آپ کو زندہ دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ آپ کے متعلق مجھے بہت کچھ بتایاگیا
‫تھا۔ ہرمن کہا کرتا تھا کہ علی بن سفیان مر جائے تو ہم مسلمانوں کی جڑوں میں بیٹھ کر انہیں جنگ کے بغیر ختم کرسکتے
‫ہیں ''…… لڑکی ا ُٹھ کر اپنی جگہ بیٹھ گئی …… ''میں نے قاہرہ میں آپ کو دیکھنے کی بہت کوشش کی تھی مگر دیکھ نہ
‫سکی ۔ میری موجودگی میں آپ کے قتل کا منصوبہ تیار ہوا تھا۔ پھر مجھے نہیں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ کامیاب ہوا تھا یا
‫نہیں۔ مجھے شوبک بال لیا گیا تھا''۔
‫ہم کس طرح یقین کرلیں کہ تم نے جو کچھ کہاہے سچ کہا ہے ؟''……علی بن سفیان نے پوچھا۔''
‫آپ مجھ پر اعتبار کیوں کرتے ؟''لڑکی نے جھنجھالکر کہا۔''
‫اس لیے کہ تم صلیبی ہو''۔ سلطان ایوبی نے کہا ۔''
‫اگر میں آپ کو یہ بتادوں کہ میں صلیبی نہیں مسلمان ہوں تو آپ کہیں گے کہ یہ بھی جھوٹ ہے''۔ لڑکی نے کہا …… ''
‫''میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔ سولہ سترہ سال گزرے‪ ،میں اسی قصبے سے اغوا ہوئی تھی۔ یہاں آکر مجھے پتہ چال کہ
‫میرا باپ کیمپ میں ہے '' ۔ اس نے اپنے باپ کا نام بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اسے اپنے باپ کا نام اب معلوم ہوا ہے۔
‫اس نے سنایا کہ عماد نے اسے کس طرح صحرا سے بچایا تھا اور وہ رات کو اسے قتل کرنے لگی مگر اس کا خنجر واال ہاتھ
‫ا ُٹھتا ہی نہیں تھا ۔ اس نے کہا …… ''میں نے دن کے وقت اس کے چہرے پر اور اس کی آنکھوں میں نظر ڈالی تو میرے
‫دل میں کوئی ایسا احساس بیدار ہوگیا جس نے مجھے شک میں ڈال دیا کہ میں عماد کو پہلے سے جانتی ہوں یا اسے کہیں
‫دیکھا ضرور ہے ۔ مجھے یاد نہیں آرہا تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا ایسے نہیں ہو سکتا …… رات کو دو
‫صلیبی سپاہیوں نے مجھ پر حملہ کر دیا تو عماد جاگ ا ُٹھا۔ اس نے ایک کو برچھی سے مار دیا۔ میں اس وقت تک اپنے
‫آپ کو صلیبی سمجھتی تھی۔ میری ہمدردیاں صلیبیوں کے ساتھ تھیں مگر میں نے دوسرے صلیبی سپاہی کو خنجر سے ہالک

‫کردیا اور مجھے خوشی اس پر نہیں ہوئی کہ میں نے ان سے اپنی عزت بچائی ہے بلکہ اس پر ہوئی کہ میں نے عماد کی
‫……'' جان بچائی ہے
‫اور جب راستے میں عماد نے میرے ساتھ اپنے متعلق کچھ جذباتی باتیں کیں تو زندگی میں پہلی بار میرے سینے میں بھی '
‫جذبات بیدار ہوگئے۔ میں تمام سفر عماد کو دیکھتی ہی رہی۔ مجھے صرف اتنا یاد آیا کہ مجھے بچپن میں اغوا کیا گیا تھا۔
‫مگر یہ یاد بھی ذہن میں دندھلی ہوگئی۔ آپ کو معلوم ہے کہ مجھ جیسی لڑکیوں کو کس طرح تیار کیا جاتا ہے ۔ بچپن کی
‫یادیں اور اصلیت ذہن سے ا ُتر جاتی ہے ۔ یہی میرا حال ہوا۔ لیکن مجھے یقین ہونے لگا کہ عماد کو میں جانتی ہوں۔ یہ
‫خون کی کشش تھی ۔ آنکھوں نے آنکھوں کو اور دل نے دل کو پہچان لیا تھا۔ شاید عماد نے بھی یہی کچھ محسوس کیا ہو
‫اور شاید اسی احساس کا اثر تھا کہ اس نے مجھ جیسی دلکش لڑکی کو اس طرح نظر انداز کیے رکھا جیسے میں اس کے
‫ساتھ تھی ہی نہیں۔ اس نے مجھے گہری نظروں سے بہت دفعہ دیکھا ضرورتھا''۔
‫ایونا نے تفصیل سے سنایا کہ شوبک میں داخل ہو کر عماد ایک مکان کے آگے ُرک گیااور ہم دونوں اندر چلے گئے …… اس
‫نے کہا ……''یہ گھر اندر سے دیکھ کر میری یادیں بیدار ہونے لگیں ۔ مجھے ذہن پر دبائو ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں
‫ہوئی۔ ذہن اپنے آپ ہی مجھے اس گھر میں گھمانے پھرانے لگا۔ میں نے ایک کواڑ کی الٹی طرف دیکھا۔ وہاں مجھے خنجر
‫کی نوک سے کھدی ہوئی لکیریں نظر آئیں۔ یہ میں نے بچپن میں بڑے بھائی کے خنجر سے کھودی تھیں۔ میرا ذہن مجھے
‫ایک اور کواڑ کے پیچھے لے گیا ۔ وہاں بھی ایسی ہی لکیریں تھیں۔ پھر میں نے عماد کو اور زیادہ غور سے دیکھا ۔ داڑھی
‫کے باوجود اس کی سولہ سترہ سال پرانی صورت یاد آگئی ۔ میں نے اپنے آپ کو بڑی مشکل سے قابو میں رکھا۔ میں نے
‫عماد کو بتایا نہیں کہ میں اس کی بہن ہوں۔ وہ اتنا پاک فطرت انسان اور میں اتنی ناپاک لڑکی۔ وہ اتنا غیرت مند اور میں
‫اتنی بے غیرت۔ اگر میں اسے بتادیتی تو معلوم نہیں وہ کیا کر گزرتا''۔
‫اس دوران علی بن سفیان نے کئی بار سلطان ایوبی کی طرف دیکھا ۔ وہ لڑکی کو ابھی تک شک کی نگاہوں سے دیکھ رہے
‫تھے۔ لیکن لڑکی کی جذباتی کیفیت ‪ ،اس کے آنسو اور بعض الفاظ کے ساتھ اس کی سسکیاں دونوں پر ایسا اثر طاری کر رہی
‫تھیں جیسے لڑکی کی باتیں سچ ہیں۔ لڑکی نے آخر انہیں اس پر قائل کر لیا کہ اس کے متعلق وہ چھان بین کریں۔ اس نے
‫کہا …… '' آپ مجھ پر اعتبار نہ کریں‪ ،مجھے قید خانے میں ڈال دیں‪ ،جو سلوک کرنا چاہتے ہیں کریں‪ ،مجھے اور کچھ نہیں
‫چاہیے۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی۔اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے کچھ کر کے مرنا چاہتی
‫ہوں''۔
‫کیا کرسکتی ہو؟''سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
‫اگر آپ مجھے کرک تک پہنچا دیں تو میں صلیب کے تین چار بادشاہوں اور اپنے محکمے کے سربراہ ہرمن کو قتل کر ''
‫سکتی ہوں''۔
‫ہم تمہیں کرک تک پہنچا سکتے ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… ''لیکن اس کام سے نہیں کہ تم کسی کو قتل کرو۔ ''
‫میں تاریخ میں اپنے متعلق یہ تہمت چھوڑ کر نہیں مرنا چاہتا کہ صالح الدین ایوبی نے اپنے دشمنوں کو ایک عورت کے
‫ہاتھوں مروا دیا تھا اور شوبک میں فوج لے کے بیٹھا رہا۔ اگر مجھے پتہ چلے گا کہ صلیبیوں کا کوئی بادشاہ کسی العالج
‫مرض میں مبتال ہے تومیں اس کے عالج کے لیے اپنے طبیب بھیجوں گا اور پھر ہم تم پرایسا بھروسہ کر بھی نہیں سکتے۔
‫البتہ تمہاری اس خواہش پر غورکر سکتے ہیں کہ تمہیں معاف کرکے کرک بھیج دیں ''۔
‫نہیں ''۔ایونا نے کہا…… ''میرے دل میں ایسی کوئی خواہش نہیں ۔ میں یہیں مروں گی ۔ میری اس خواہش کا ضرور ''
‫خیال رکھیں کہ عماد کو یہ نہ بتائیں کہ میں اس کی بہن ہوں۔ میں کیمپ اپنے باپ کو ضرور دیکھنے جائوں گی۔ لیکن اسے
‫بھی نہیں بتاوں گی میں اس کی بیٹی ہوں''۔وہ زاروقطار رونے لگی۔
‫علی بن سفیان نے اپنی ضرورت کے مطابق اس سے بہت سی باتیں پوچھیں پھر سلطان ایوبی سے پوچھا کہ اسے کہاں بھیجا
‫جائے۔ سلطان ایوبی نے سوچ کر کہا کہ اسے آرام اور احترام سے رکھو۔ فیصلہ سوچ کر کریں گے۔
‫علی بن سفیان اسے اپنے ساتھ لے گیا اور ان کمروں میں سے ایک اسے دے دیا جہاں جاسوس لڑکیاں رہا کرتی تھیں۔ لڑکی
‫نے وہاں رہنے سے انکار کر دیا اور کہا …… ''ان کمروں سے مجھے نفرت ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے اس گھر میں
‫''رکھا جائے جہاں سے میں اغوا ہوئی تھی ؟
‫''نہیں !''…… علی بن سفیان نے کہا …… ''کسی کے جذبات کی خاطر ہم اپنے قواعد و ضوابط نہیں بدل سکتے ۔''
‫وہاں کے پہرہ داروں اور مالزموں کو کچھ ہدایات دے کر علی بن سفیان لڑکی کو وہاں چھوڑ گیا ۔
‫عماد فوجی آرام گاہ میں گیا اور نہا کر سوگیا مگر اتنی زیادہ تھکن کے باوجود اس کی آنکھ کھل گئی۔ کوشش کے باوجود وہ
‫سو نہ سکا۔ اس کے ذہن میں یہی ایک سوال کلبالرہا تھا کہ باپ سے ملے یانہ ملے۔ تھک ہار کر وہ اُٹھا اور اس جگہ کی
‫طرف چل پڑا جو شوبک میں مسلمانوں کے کیمپ کے نام سے مشہور تھی ۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنے باپ کا نام لیا اور
‫پوچھتا پوچھتا باپ تک پہنچ گیا۔ اس کے سامنے ایک بوڑھا لیٹا ہوا تھا۔ عماد نے اس سے ہاتھ مالیا اور اپنے آپ کو قابو
‫میں رکھا۔ اس کاباپ ہڈیوں کا پنجرہ بن چکا تھا۔ اسے اچھی خوراک ‪ ،دوائیاں دی جارہی تھیں۔ عماد نے اپنا تعارف کرائے
‫بغیر اس سے حال پوچھا تو اس نے بتایا کہ سولہ برسوں کی اذیت ناک مشقت ‪ ،قید اور بچوں کے غم نے اس کا یہ حال
‫کردیا ہے کہ اتنی اچھی غذا اور اتنی اچھی دوائیں اس پرکوئی اثر نہیں کر رہیں ۔
‫باپ دھیمی آواز میں عماد کو اپنا حال سنا رہا تھا لیکن عماد سولہ سترہ سال پیچھے چال گیا تھا ۔ اسے باپ کی صورت
‫اچھی طرح یاد تھی۔ اب اس کے سامنے جو باپ لیٹا ہوا تھا اس کے چہرے کی ہڈیاں باہر نکل آئی تھیں۔ پھر بھی اسے
‫پہچاننے میں عماد کو ذرہ بھر دقت نہ ہوئی۔ اس نے کئی بار سوچا کہ اسے بتادے کہ وہ اس کا بیٹا ہے؟ اس نے عقل
‫مندی کی کہ نہ بتایا۔ اس نے دو خطرے محسوس کیے تھے۔ ایک یہ کہ باپ یہ خوشگوار دھچکہ برداشت نہیں کر سکے گا۔
‫دوسرا یہ کہ اس نے برداشت کرلی تو اس کے لیے رکاوٹ بن جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ محاذ پر جانے لگے تو
‫یہ صدمہ اسے لے بیٹھے …… وہ باپ سے ہاتھ مال کر چال گیا۔
‫آدھی رات کا وقت ہوگا۔ ایونا بستر سے ا ُٹھی۔ اس وقت تک اسے نیند نہیں آئی تھی۔ اس نے علی بن سفیان کے رویے سے
‫محسوس کر لیا تھاکہ اس پر اعتبار نہیں کیاگیا اور اب نہ جانے اس کا انجام کیاہوگا ۔وہ سوچ رہی تھی کہ وہ کس طرح یقین
‫دالئے کہ اس نے جو آپ بیتی سنائی ہے وہ جھوٹ نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کا خون انتقام کے جوش سے کھول رہا تھا۔
‫عمادکے ساتھ اپنے گھر میں جا کر اس نے ذہن میں بچپن کی یادیں ازخود جاگ اُٹھی تھیں اور خواب کی طرح اسے بہت
‫سی باتیں یاد آگئی تھیں۔ اسے یہ بھی یاد آگیا کہ اسے اغوا کے بعد بے تحاشا پیار‪ ،کھلونوں اور نہایت اچھی خوراک سے یہ

‫روپ دیا گیا تھا ۔ پھر اسے وہ گناہ یاد آئے جو اس سے کرائے گئے تھے اور وہ سراپا گناہ بن گئی تھی۔ وہ انتقام لینے کو
‫بیتاب ہوئی جا رہی تھی۔ اس جذباتی حالت نے اسے سونے نہیں دیا تھا۔ اس ذہنی کیفیت میں باپ سے ملنے کی خواہش
‫بھی شدت اختیار کرتی جا رہی تھی ۔ وہ باہر نہیں نکل سکتی تھی ۔ باہر دو پہرے دار ہر وقت ٹہلتے رہتے تھے ۔ اس کا
‫دماغ اب سوچنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ وہ اب جذبا ت کے ذیر اثر تھی۔
‫اس نے دروازہ ذرا سا کھول کر دیکھا۔ اسے باتوں کی آوازیں سنائی دیں۔ دائیں طرف کوئی بیس گز دور اسے دونوں پہرہ دار
‫باتیں کرتے ہوئے سائے کی طرح نظر آئے۔ لڑکی دروازے میں سے سر نکالے انہیں دیکھتی رہی۔ پہرے دار وہاں سے ذرا پرے
‫ہٹ گئے۔ لڑکی دبے پائوں باہر نکلی اور عمارت کی اوٹ میں ہوگئی۔ آگے گھاٹی اُترتی تھی۔ وہ بیٹھ گئی اور پائوں پر
‫سرکتی ہوئی گھاٹی ا ُتر گئی۔ اب اسے پہرہ دار نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ مسلمانوں کاکیمپ کہاں ہے اور
‫اسے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ اب یہ کیمپ قید خانے سے مہمان خانہ بن گیا ہے۔ اس لیے اسے یہ خطرہ نہیں تھا کہ
‫وہاں سے کوئی سنتری اسے روک لے گا۔ وہ باپ کو ملنے جارہی تھی جس کا اسے صرف نام معلوم تھا۔ وہ تیز تیز جارہی
‫تھی کہ اسے پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے پیچھے دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا۔ اس آہٹ کو وہ اپنے
‫قدموں کی آہٹ سمجھ کر چل پڑی لیکن یہ کسی اور کی آہٹ تھی۔ ایک تنومند آدمی وہیں سے اس کے پیچھے چل پڑا تھا
‫‪ ،جہاں سے وہ گھاٹی اُتری تھی۔
‫ایونا کو یہ آہٹ ایک بار پھر سنائی دی ۔ وہ ُرکی ہی تھی کہ اس کے سر اور منہ پر کپڑا آن پڑا۔ پلک جھپکتے کپڑا بندھ
‫گیا اور دو مضبوط بازوئوں نے اسے جکڑ کر ا ُٹھالیا۔ وہ تڑپی مگر تڑپنا بیکار تھا۔ رات تاریک تھی اور یہ عالقہ غیر آباد تھا ۔
‫ذرا آگے جا کر اسے ایک کمبل میں لپیٹ کر گٹھڑی کی طرح اُٹھالیا گیا۔ وہ ایک نہیں دو آدمی تھے …… نصف گھنٹے کے
‫بعد اسے اتار کر کھوال گیا ۔ وہ ایک کمرے میں تھی جس میں دو دئیے جل رہے تھے۔ وہاں چار آدمی تھے۔ اس نے سب
‫''کو باری باری حیرت سے دیکھا اورکہا …… ''تم لوگ ابھی یہاں ہو؟…… اور آپ گیرالڈ؟ آپ بھی یہیں ہیں ؟
‫ہم جاکر آئے ہیں ''…… گیرالڈ نے جواب دیا …… ''تم سب کو یہاں سے نکالنے کے لیے۔ اچھا ہوا کہ تم مل گئیں ''۔''
‫یہ وہ چار صلیبی تھے جنہیں کرک سے اس کام کے لیے بھیجا گیا تھا کہ جاسوس لڑکیاں جو مسلمانوں کے قبضے میں رہ
‫گئی ہیں انہیں وہاں سے نکالیں اور شوبک میں اپنے جو جاسوس رہ گئے ہیں انہیں وہاں منظم کریں اور اگر ممکن ہو تو وہاں
‫تخریب کاری بھی کریں۔ تخریب کاری میں ایک یہ کام بھی شامل تھا کہ اصطبل میں داخل ہو کر جانوروں کے چارے میں
‫زہر مالئیں‪ ،رسد کو آگ لگائیں اور فوجیوں کے لنگر خانے میں بھی زہر
‫مال نے کی کوشش کریں۔ اس گروہ کا کمانڈر گیرالڈ نام کا ایک برطانوی تھا جو تباہ کار جاسوسی کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
‫ایونا اسے بہت اچھی طرح جانتی تھی ۔ اسے دیکھ کر ایونا کاخون نفرت اور انتقام کے جوش سے کھول اُٹھا لیکن وہ فورا ً
‫سنبھل گئی۔ یہ موقع نفرت کے اظہار کا نہیں تھا۔ گیرالڈ تو ایسا گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایونا بالکل بدل گئی ہے۔
‫اس نے ایونا سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہی تھی؟ ایونا نے کہا کہ اسے فرار کا موقع مل گیا تھا۔ اس لیے وہ فرار ہو رہی
‫تھی ۔
‫گیرالڈ نے اسے بتایا کہ وہ چھاپہ مار جاسوسوں کا ایک گروہ کرک کے مظلوم مسلمانوں کے بہروپ میں یہاں الیاہے۔ ان دنوں
‫شوبک کے حاالت ایسے تھے کہ یہ گروہ آسانی سے ایک ہی گروہ کی صورت میں شہر میں آگیا تھا۔ جنگ کی وجہ سے
‫لوگ آ جارہے تھے ۔ اردگرد کے دیہات کے مسلمان بھی شہر میں آرہے تھے ۔ اسی دھوکے میں یہ گروہ بھی آگیا ۔ شہر میں
‫پہلے سے جاسوس موجود تھے۔ انہوں نے پورے گروہ کو پس پردہ کر لیا۔ گیرالڈ نے ایونا کو بتایا کو وہ دو راتوں سے اس
‫مکان کودیکھ رہا ہے جس میں لڑکیاں ہیں۔ اس جگہ سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ یہ انہی کی بنائی ہوئی تھی۔ رات کو وہ
‫دیکھنے جاتا تھا کہ پہرہ داروں کی حرکات اور معمول کیاہے۔ یہ بڑا اچھا اتفاق تھا کہ اسے ایونا مل گئی ۔ ایونا نے اسے
‫بتایا کہ لڑکیوں کو نکالنا آسان نہیں ‪ ،تاہم نکاال جا سکتا ہے ۔
‫رات کو ہی سکیم تیار ہوگئی ۔ ایونا نے گیرالڈ کو بتایا کہ لڑکیاں کھلے کمروں میں ہیں جو قید خانہ نہیں۔ پہرہ دار صرف دو
‫ہیں۔ اس قسم کی اور بھی بہت سی تفصیالت تھیں جو ایونا نے انہیں بتائیں۔ یہ بھی طے ہوگیا کہ لڑکیوں کو نکالنے کے لیے
‫کتنے آدمی جائیں گے اور باقی آدمی کون سے مکان میں جمع ہوں گے۔ اس سکیم کے بعد ایونا نے یہ تجویز پیش کی کہ
‫اسے واپس چلے جانا چاہیے ۔ کیونکہ اس کی گمشدگی سے لڑکیوں پر پہرہ سخت کر دیا جائے گا جس سے یہ مہم ناممکن
‫ہوجائے گی۔ گیرالڈ کو ایونا کی یہ تجویز پسند آئی اور اسے اپنے ساتھ لے جا کر اس کی رہائش گاہ کے قریب چھوڑ دیاگیا۔
‫ایونا کو باہر سے آتے دیکھ کر پہرہ داروں نے اس کی باز پرس کی ۔ اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ دور نہیں گئی تھی۔
‫پہرہ دار اس لیے چپ ہوگئے کہ یہ ان کی الپرواہی تھی لڑکی نکل گئی تھی ۔
‫دوسرے دن علی بن سفیان کسی اورکام میں مصروف تھا ۔ایونا نے پہرہ داروں سے کہا کہ وہ اسے علی بن سفیان کے پاس
‫لے چلیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہاں اس کے بالنے پر کو ئی نہیں آئے گا بلکہ اس کی جب ضرورت ہوگی تو
‫اسے بالیا جائے گا۔ ایونا نے بڑی مشکل سے پہرہ داروں کو قائل کیا کہ وہ کسی اور کو بتائے بغیر مرکزی کمان کے کسی فرد
‫تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ نہایت اہم اور نازک بات کرنی ہے۔ اس نے پہرہ داروں سے کہا کہ اگر انہوں نے اس کا پیغام نہ
‫پہنچایا تو اتنا زیادہ نقصان ہوگا کہ پہرہ دار اس کوتاہی کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے …… پہرہ داروں نے پیغام بجھوانے کا
‫بندوبست کردیا۔ علی بن سفیان نے پیغام ملتے ہی لڑکی کو بال لیا۔ اس کے بعدلڑکی کمرے میں واپس نہیں آئی ۔
‫رات کو جب شوبک کی سرگرمیاں سوگئیں اور شہر پر خاموشی طاری ہوگئی تو اس عمارت کے اردگرد آٹھ دس سائے سے
‫حرکت کرتے نظرآئے جہاں لڑکیوں کو رکھا گیا تھا ۔ عجیب بات یہ تھی کہ دونوں پہرہ دار غائب تھے۔ آٹھ دس چھاپہ مار
‫خوش ہونے کی بجائے حیران ہوئے ہوں گے کہ پہرہ دار نہیں ہیں۔ وہ آٹھوں پیٹ کے بل رینگ کر آگے آئے۔ ایونا نے انہیں
‫بتادیا تھا کہ لڑکیاں کون کون سے کمرے میں ہیں ۔ کمروں کے دروازوں اورکھڑکیوں سے یہ لوگ واقف تھے۔ دو چھاپہ مار ایک
‫کمرے میں داخل ہوئے ۔ باقیوں نے پرواہ نہیں کی کہ وہاں پہرہ دار ہیں یا نہیں ۔ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ پہرہ دار صرف دو
‫ہوتے ہیں۔ دو پردس کا قابو پانا مشکل نہیں تھا۔ وہ سب لڑکیوں کے کمروں میں گھس گئے مگر ان میں سے باہر کوئی بھی
‫نہ نکال ۔
‫گیرالڈ اسی مکان میں تھا جہاں وہ گذشتہ رات ایونا کو لے گیا تھا۔ اس مکان میں سکیم کے مطابق بیس آدمی تھے۔ باقی
‫کسی اور عیسائی کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ گیرالڈ بے صبری سے لڑکیوں کا انتظار کر رہا تھا۔ اب تک انہیں اس کے
‫آدمیوں کے ساتھ پہنچ جانا چاہیے تھا ۔ آخر دروازے پر دستک ہوئی۔ دستک کا یہ طے شدہ خاص انداز تھا۔ گیرالڈ نے خود
‫جا کر دروازہ کھوال ۔ یہ مکان پرنے دور کی قلعہ نما حویلی تھی جس میں ایک امیر کبیر عیسائی رہتا تھا۔ گیرالڈ نے جوں

‫ہی دروازہ کھوال اسے کسی نے باہر گھسیٹ لیا۔ فوجیوں کا ایک ہجوم دروازے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھوں میں لمبی
‫برچھیاں تھیں ۔ فوجی تیز اور تند سیالب کی طرح اندر چلے گئے ۔ ایک وسیع کمرے میں بیٹھے ہوئے صلیبی چھاپہ مار
‫جاسوسوں کو سنبھلنے کا موقع نہ مال۔ ان سے ہتھیار لے لیے گئے اور انہیں گھر کے مالک اور اس کے کنبے سمیت باہر لے
‫گئے۔
‫ایسا ہی ہلہ اس کمان پر بھی بوال گیا جہاں باقی صلیبی چھاپہ مار تیار بیٹھے تھے۔ یہ دونوں چھاپے بیک وقت مارے گئے۔
‫اسی رات دس گیا رہ مکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ یہ سرگرمی رات بھر جاری رہی۔ مکانوں کی تالشی لی گئی اور صبح کے
‫وقت علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے سامنے جو لوگ کھڑے کئے ان میں ایک تو گیرالڈ اور اس کے چالیس چھاپہ مار
‫تھے اور تقریبا ً اتنی ہی تعداد ان جاسوس اور تخریب کاروں کی تھی جنہیں دوسرے مکانوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مکانوں
‫سے جو سامان برآمد ہوا اس میں بے شمار ہتھیار‪ ،زہر کی بہت سی مقدار‪ ،تیروں کا ذخیرہ‪ ،آتش گیر مادہ اور بہت سی نقدی
‫برآمدہوئی۔ یہ کارنامہ ایونا کا تھا۔ اس نے گیرالڈ کے ساتھ سکیم بنائی تھی اور اس سے ان تمام جاسوسوں کے ٹھکانے معلوم
‫کر لیے تھے جو شوبک میں چھپے ہوئے تھے ۔ گیرالڈ کو اس پر اعتماد تھا۔ ایونا رات کو ہی واپس آگئی اور صبح اس نے
‫تمام تر سکیم علی بن سفیان کو بتادی اور جاسوسوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی بھی کردی ۔ علی بن سفیان کے جاسوس دن
‫کے وقت سارے ٹھکانے دیکھ آئے تھے۔ شام کے وقت سلطان ایوبی کے خصوصی چھاپہ مار دستوں کو ان ٹھکانوں پر چھاپے
‫مارنے کے لیے باللیا گیاتھا۔ لڑکیوں کو کمروں سے نکال کر کہیں اور چھپا دیا گیاتھا۔ ان کی جگہ ہر کمرے میں تین تین
‫چھاپہ ماروں نے انہیں پکڑ لیا۔ اس طرح شوبک میں صلیبیوں کے تقریبا ً تمام جاسوس اور چھاپہ مار پکڑے گئے ۔ ان میں سب
‫سے زیادہ قیمتی گیرالڈ تھا۔ تمام کو تفتیش اور اس کے بعد سزا کے لیے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔
‫ایونا نے ان تمام مسلمان سرکردہ شخصیتوں کی بھی نشاندہی کر دی جو قاہرہ میں سلطان ایوبی کے خالف سرگرم تھے۔
‫حشیشین کے ہاتھوں سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کو قتل کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا وہ بھی ایونا نے بے نقاب
‫کیا اور سلطان ایوبی سے کہا …… ''اب تو آپ کو مجھ پر اعتبار آجانا چاہیے ''۔
‫وہ بڑا ہی جذباتی اور رقت انگیز تھا جب عماد کو بتایا گیا کہ ایونا اس کی بہن ہے اور جب بہن بھائی کو ان کے باپ کے
‫سامنے کھڑا کیا گیا تو جذبات کی شدت سے بوڑھا باپ بے ہوش ہوگیا ۔ ہوش میں آنے کے بعد اس نے بتایا کہ اس کی
‫بیٹی کانام عائشہ ہے۔ سلطان ایوبی نے اس خاندان کے لیے خاص وظیفہ مقرر کیا اور علی بن سفیان کے محکمے کے لیے
‫حکم جاری کیا کہ تمام جاسوس لڑکیوں کے متعلق چھان بین کی جائے۔ صلیبیوں نے دوسری لڑکیوں کو بھی مسلمان گھرانوں
‫سے اغوا کیا ہوگا۔
‫سلطان ایوبی کی فوج بہت بڑے خطرے سے محفوظ ہوگئی …… شوبک سے دورمحاذ کی خبریں اُمید افزا تھیں لیکن فوری
‫ضرورت یہ تھی کہ بکھرے ہوئے دستوں کو یک جا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے سلطان ایوبی نے شوبک کا فوجی نظام اپنے
‫معاونوں کے حوالے کرکے اپنا ہیڈ کوارٹر شوبک سے دور صحرا میں منتقل کرلیا۔ اس نے برق رفتار قاصدوں کی ایک فوج اپنے
‫ساتھ رکھ لی۔ اس کے ذریعے اس نے ایک ماہ میں بکھرے ہوئے دستے ایک دوسرے کے قریب کرلیے۔ اس کے بعد انہیں تین
‫حصوں میں تقسیم کرکے شوبک کا دفاع اسی طرح منظم کردیا جس طرح قاہرہ کا کیا تھا۔ سب سے دور سرحدی دستے تھے
‫جس کے سوار گشت کرتے تھے۔ ان سے پانچ چھ میل دور فوج کا دوسرا حصہ خیمہ زن کردیا اور تیسرے حصے کو متحرک
‫رکھا۔
‫کرک میں اکٹھی ہونے والی فوج کی کیفیت ایسی تھی کہ فوری حملے کے قابل نہیں تھی۔ ادھر سلطان ایوبی نے بھرتی کی
‫رفتار تیز کردی اور نئی بھرتی کی ٹریننگ کا انتظام کھلے صحرا میں کردیا ‪ ،اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ کرک
‫میں اپنے جاسوس بھیجے جو وہاں کی اطالع النے کے عالوہ یہ کام بھی کریں کہ وہاں کے رہنے والے مسلمان نوجوانوں کو
‫کرک سے نکلنے اور یہاں آکر فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دیں ۔
‫جب ایونا عائشہ بنی کا قصہ یہی اختتام پزیر ہوا
19:38
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪39.۔" قاھرہ میں بغاوت اورسلطان ایوبی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫فلسطین ابھی صلیبیوں کے پائوں تلے کراہ رہا تھا۔ یروشلم صلیب پر لٹکا ہوا تھا۔ اس مقدس شہر سے خون ِرس رہا تھا ‪،
‫وہاں کے مسلمان جو صلیبیوں کے ظالمانہ شکنجے میں آئے ہوئے تھے‪ ،پس رہے تھے ‪ ،تڑپ رہے تھے اور صالح الدین ایوبی
‫کا انتظار کررہے تھے۔ ا ُن تک یہ اطالعات پہنچ چکی تھیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی فلسطین کی سرزمین میں داخل ہو
‫چکا ہے اور شوبک کاقلعہ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔یہ ان کے لیے خوشخبری تھی مگر یہ خوش خبری پیغا ِم اجل ثابت
‫ہوئی۔ صلیبیوں نے شوبک کی شکست کا انتقام یروشلم اور دیگر شہروں اور قصبوں کے مسلمانوں سے لینا شروع کردیا تھا۔ وہ
‫مسلمانوں کو مردہ کردینا چاہتے تھے تا کہ وہ جاسوسی نہ کر سکیں اور حملے کی صورت میں صالح الدین ایوبی کی مدد
‫کرنے کی جرٔات نہ کریں۔سب سے زیادہ مظالم کرک کے مسلمانوں پر توڑے جا رہے تھے۔ شوبک کے بعد کرک ایک بڑا قلعہ
‫تھا جس پر صلیبیوں کو بہت ناز تھا۔ ایسا ہی ناز انہیں شوبک پر بھی تھا‪ ،مگر اُس کے ناز کو سلطان صالح الدین ایوبی کی
‫نہایت اچھی چال اور اس کے مجاہدین کی شجاعت نے ریت کے ذروں کی طرح بکھیر دیا تھا۔ اب صلیبی کرک کو مضبوط کر
‫رہے تھے ‪ ،وہاں کے مسلمان باشندوں پر تشدد ایک احتیاطی تدابیر تھی۔ صلیبیوں کو یہ وہم ہوگیا تھا کہ مسلمان جاسوسی
‫کرتے ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی انہوں نے شوبک کی طرح مشتبہ مسلمانوں کو بیگار کیمپ میں پھینکنا شروع کردیا تھا۔
‫فلسطین کی فتح ہمارا ایک عظیم مقصد ہے مگر کرک سے مسلمانوں کو نکالنا اس سے بھی عظیم تر مقصد ہونا چاہیے''۔''
‫جاسوسوں کے ایک گروہ کا سربراہ سلطان صالح الدین ایوبی کو بتا رہا تھا ۔ وہ طلعت چنگیز نام کا ایک تُرک تھا جو چھ
‫جاسوسوں کو شوبک سے بھاگے ہوئے عیسائی باشندوں کے بہروپ میں کرک لے گیا تھا۔ وہ تین مہینوں بعد واپس آیا تھا۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو علی بن سفیان ِکی موجودگی میں وہاں کے حاالت بتا رہا تھا۔ صلیبی فوج جو بھاگ کر کرک
‫پہنچی تھی ‪،اس کے متعلق اس نے بتایا کہ خاصی بُری حالت میں ہے اور فوری طور پر لڑنے کے قابل نہیں۔ اس ہاری ہوئی
‫فوج نے کرک میں جاتے ہی مسلمانوں کا جینا حرام کردیا۔ اندھا ُد ھند گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ مسلمانوں عورتوں نے باہر نکلنا
‫چھوڑ دیا ہے‪ ،جہاں کسی مسلمان پر ذرا سا شک ہوتا ہے ‪ ،اُسے پکڑ کر بیگار کیمپ میں لے جاتے ہیں ‪ ،جہاں انسان ایسا
‫مویشی بن جاتا ہے جو بو ل نہیں سکتا۔ صبح کے اندھیرے سے رات کے اندھیرے تک کام کرتا‪ ،سوکھی روٹی اور پانی پر

‫زندہ رہتا ہے …… ''ہم نے وہاں زمین دوز مہم چالئی ہے کہ جتنے مسلمان جوان ہیں یا لڑنے کی عمرمیں ہیں ‪ ،وہ یہاں
‫سے نکل کر شوبک پہنچیں اور فوج میں بھرتی ہوجائیں ‪ ،تاکہ کمک کا انتظار کیے بغیر کرک پرحملہ کیا جاسکے ''……
‫چنگیز تُ ر ک نے کہا…… ''ہماری موجودگی میں کچھ لوگ وہاں سے نکل آئے تھے لیکن یہ کام ایک تو اس لیے مشکل ہے
‫کہ ہر طرف صلیبی فوج پھیلی ہوئی ہے اور دوسری مشکل یہ ہے کہ اپنے کنبوں‪ ،خصوصا ً عورتوں کو وہ عیسائیوں کے رحم
‫وکرم پر چھوڑ کر نہیں آسکتے ۔ فوری ضرورت یہ ہے کہ کرک پر حملہ کیا جائے اور مسلمانوں کو نجات دالئی جائے''۔
‫اس سے پہلے ایک اور جاسوس یہ اطالع دے چکا تھا کہ صلیبیوں کی اسکیم اب یہ ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کرک کا
‫محاصرہ کرے گا تو صلیبیوں کی ایک فوج‪ ،جو ایک صلیبی حکمران ریمانڈ کے زیر کمان ہے‪ ،عقب سے حملہ کرے گی ۔
‫ِ
‫صورت
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے پہلے ہی اپنے فوجی سربراہوں سے کہہ دیا تھا کہ صلیبی عقب سے حملہ کریں گے۔ اس
‫حال کے لیے ا ُسے زیادہ فوج کی ضرورت تھی ۔ اسنے چنگیز کو رخصت کرکے علی بن سفیان سے کہا …… ''جذبات کا
‫تقاضا یہ ہے کہ ہمیں فورا ً کرک پر حملہ کر دینا چاہیے۔ میں اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہوں کہ وہاں کے مسلمان کس جہنم
‫میں پڑے ہوئے ہیں‪ ،لیکن حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی صفوں کو مستحکم کیے بغیر ایک قدم آگے نہ اُٹھائو‪ ،ضرب اُس وقت
‫لگائو ‪ ،جب تمہیں یقین ہوکہ کاری ہوگی۔ ہم ان عورتوں اوربچوں کو نہیں بھول سکتے جو دشمن کے ہاتھوں ذلیل وخوار اور
‫قتل ہو رہے ہیں ۔ یہ ہمارے گمنام شہید ہیں ‪ ،یہ قوم کی عظیم قربانی ہے۔ میں انہی کی آبرو وقار کے لیے فلسطین لینا
‫چاہتاہوں‪ ،اگر میرا مقصد یہ نہ ہو تو جنگ کا مقصد ڈاکہ اور لوٹ مار رہ جاتا ہے۔ وہ قوم جو اپنی اُن بچیوں اور بچوں
‫کوبھول جائے جو دشمن کے اقتدار میں ذلیل وخوار اورقتل ہوئے ‪ ،وہ قوم ڈاکوئوں اور رہزنوں کا گروہ بن جاتی ہے ۔ اس قوم
‫کے افراد دشمن سے انتقام لینے کی بجائے ایک دوسرے کو لوٹتے‪ ،ایک دوسرے کودھوکہ اور فریب دیتے ہیں۔ اُن کے حاکم قوم
‫کو لوٹتے اورعیش و عشرت کرتے ہیں اور جب دشمن انہیں کمزور پا کر اُن کے سر پر آجاتا ہے تو کھوکھلے نعرے لگا کر
‫قوم کو بے وقوف بناتے ہیں اور دشمن کے ساتھ درپردہ سودا بازی کرتے ہیں۔وہ اپنے ملک کا کچھ حصہ اور اس حصے کی
‫آبادی نہایت راز دارانہ طریقے سے دشمن کے حوالے کرکے باقی ملک میں اپنی حکمرانی قائم رکھتے ہیں ‪ ،پھر وہ اورزیادہ
‫لہذا قوم
‫عیش اور لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں ‪ ،کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دشمن انہیں بخشے گا نہیں …… یہ عیش چند روزہ ہے ٰ
‫کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی جلدی جلدی نچوڑ لو ''۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے ایسی متعدد قوموں کے نام لیے اور کہا …… ''وہ توسیع پسند تھے ۔ اُن کے سامنے اس کے
‫سوا کوئی مقصد نہ تھا کہ ساری دنیا پر بادشاہی کریں اور ُدنیا بھر کی دولت سمیٹ کر اپنے قدموں میں ڈھیر لگا لیں۔ انہوں
‫نے دوسری قوموں کی عصمت دری کی اور ا ُن کی اپنی بیٹیاں اور بہنیں دوسروں کے ہاتھوں بے آبرو ہوئیں۔ ان قوموں کے
‫حکمران پرائی زمین پر ہالک ہوئے اور ا ُن کانام و نشان کس نے مٹایا؟ ان قوموں نے‪ ،جو غیرت مند تھیں اور جنہیں احساس
‫تھا کہ اُن کی زمین کو اور ا ُن کی عصمت کو دشمن نے ناپاک کیا ہے اور اس کا انتقام لیناہے۔ ہم بھی حملہ آور ہیں ‪،
‫صلیبی بھی حملہ آور ہیں لیکن ہم میں فرق ہے۔ وہ دور دراز ملکوں سے ہمارے مذہب کا نام و نشان مٹانے آئے ہیں ۔ وہ
‫اس لیے آئے ہیں کہ مسلمان عورتوں کو اپنی گرفت میں لے کر ان کے بطن سے صلیبی پیدا کریں۔ ہم اُن کی آبرو کے دفاع
‫کے لیے حملہ آور ہوئے ہیں ۔ اگر ہم کفر کے طوفان کونہ روکیں تو ہم بے غیرت ہیں اور ہم مسلمان نہیں اور اگر اسالم کا
‫دفاع اس انداز سے کریں کہ دشمن کے انتظار میں گھر بیٹھے رہیں اور جب وہ حملہ آور ہو تو اپنے گھر میں اُس کے خالف
‫لڑیں اورپھر فخر سے کہیں کہ ہم نے دشمن کا حملہ پسپا کردیا ہے تو یہ ثبوت ہے ہماری بزدلی کا۔ دفاع کا طریقہ یہ ہوتا
‫ہے کہ دشمن تمہیں مارنے کے لیے نیام سے تلوار نکالنے لگے توتمہاری تلوار اُس کی گردن کاٹ چکی ہو۔ وہ کل حملے کے
‫لیے آنے واال ہو تو آج اُس پر حملہ کردو ''۔
‫میرے پاس اس کا ایک ہی عالج ہے کہ محترم نورالدین زنگی سے کمک مانگی جائے''۔ علی بن سفیان نے کہا …… ''
‫''اور کرک پر حملہ کر دیا جائے ''۔
‫یہ بھی نقصان دہ ہوگا ''……سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا …… ''زنگی کے پاس اتنی فوج موجود رہنی چاہیے کہ ''
‫صلیبی اگر ہمارے عقب پر حملہ کریں تو زنگی ا ُن کے عقب پر حملہ کر سکے۔ میں مدد مانگنے کا قائل نہیں۔ اس کی
‫بجائے میں یہ بھی کر سکتا ہوں کہ کرک میں چھاپہ مار دستے بھیج کر صلیبیوں کا جینا حرام کیے رکھوں ۔ مجھے اُمید ہے
‫کہ ہمارے جاسوس چھاپہ مار صلیبیوں کی جڑیں چوہوں کی طرح کاٹتے رہیں گے مگر اس کی سزا وہاں کے بے گناہ مسلمان
‫باشندوں کو ملے گی۔ چھاپہ مار تو اپنا کام کرکے اِدھر اُدھر ہوجائیں گے ۔ وہ ہر قسم کی سختی اور مصیبت جھیل سکتے
‫ہیں ۔ ہمارے نہتے بہن بھائی کچلے جائیں گے ۔ البتہ اس تجویز پرغور کرو کہ وہاں سے مسلمان کنبوں کو نکالنے کا کوئی
‫خفیہ انتظام کیا جائے۔ حملے میں کچھ وقت لگے گا۔ ہمیں خاصی بھرتی مل گئی ہے۔ کرک کے جوان بھی آگئے ہیں اور
‫آرہے ہیں ''۔
‫٭ ٭ ٭
‫میں محسوس کرنے لگا ہوں کہ ہمیں یہاں کے باشندوں کے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی کرنے پڑے گی''۔ صلیبیوں کے ''
‫محکمہ جاسوسی اور سراغرسانی کے سربراہ ہرمن نے کہا۔ قلعہ کرک میں چند ایک صلیبی بادشاہ‪ ،اُن کے فوجی کمانڈر اور
‫انتظامیہ کے حکام جمع تھے۔ وہ جوں جوں اپنی ہاری ہوئی فوج کو دیکھ رہے تھے ‪ ،ان کی عقل پر غصہ اور انتقام غالب
‫آتا جا رہاتھا۔وہ شکست کوبہت جلدی فتح میں بدلنا چاہتے تھے۔ا ُن میں ان کی انٹیلی جنس کا سربراہ ہرمن ‪ ،واحد آدمی تھا
‫جو ٹھنڈے ِد ل سے سوچتا اور عقل کی بات کرتاتھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے صلیبی بھائی کرک کے مسلمان باشندوں کے
‫ساتھ کیسا وحشیانہ سلوک کر رہے ہیں۔ اس نے کہا …… ''آپ نے یہی سلوک شوبک کے مسلمانوں کے ساتھ روارکھا تھا۔
‫اس کا نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے وہاں ''مسلمانوں کے کیمپ''سے اُس مسلمان فوجی کو بھگا دیا جسے ہم نے خطرناک
‫جاسوس سمجھ کر قید میں ڈال دیا تھا ۔ مجھے یقین ہے کہ اُسے وہاں کے مسلمانوں نے پناہ دی تھی ۔ وہ قلعے کے
‫اندرونی حاالت اور دفاع کو دیکھ کر گیا تھا۔ اسکے عالوہ صالح الدین ایوبی نے ہمارے قلعے کی دیوار جوتوڑی تھی‪ ،اس میں
‫اندر کے مسلمانوں کا بھی ہاتھ تھا۔ وہ آپ کے سلوک سے اس قدر تنگ آئے ہوئے تھے کہ انہوں نے جان کی بازی لگا کر
‫مسلمان فوج کی مدد کی اور جب فوج کا ہر ّاول دستہ اندر آیا تو مسلمانوں نے اس کی رہنمائی کی ''۔
‫اس لیے ہم کرک کے مسلمانوں کا دم خم توڑ رہے ہیں کہ اُن میں جذبہ اور ہمت ہی نہ رہے ''…… ایک صلیبی ساالر ''
‫نے کہا ۔
‫اس کی بجائے اگر آپ انہیں اپنا دوست بنا لیں تو وہ آپ کی مدد کریں گے ''۔ ہرمن نے کہا …… ''اگر آپ مجھے ''
‫اجازت دیں تو میں پیار اور محبت سے انہیں ا ُن کا مذہب تبدیل کیے بغیر صلیب کا گرویدہ بنالوں گا۔ میں انہیں مسلمانوں کو

‫مسلمانوں کے خالف لڑادوں گا''۔
‫تم بھول رہے ہو ہرمن!''ایک مشہور صلیبی بادشاہ ریمانڈ نے کہا …… ''تم چند ایک مسلمانوں کو اللچ دے کر انہیں غدار''
‫بنا سکتے ہو‪ ،مگر ہرایک مسلمان کو اسالمی فوج کے خالف نہیں کر سکتے۔ پوری قوم غدار نہیں ہوسکتی۔ ہرمن! تم ان
‫لوگوں پر اتنا بھروسہ نہ کرو‪ ،ہم انہیں دوست نہیں بنانا چاہتے۔ ہم ان کی نسل ختم کر نا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی غیرمسلم
‫کسی مسلمان کے ساتھ محبت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسالم سے محبت کرتا ہے ‪،جبکہ ہمارا مقصد اسالم کا
‫خاتمہ ہے۔ کرک میں‪ ،یروشلم میں‪ ،عقہ اور عدیسہ میں جہاں بھی صلیب کی حکمران ہیں ‪ ،مسلمانوں کو اس قدر پریشان کرو
‫کہ وہ مر جائیں یا وہ صلیب کے آگے گھٹنے ٹیک دیں ''۔
‫مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ صالح الدین ایوبی کو باقاعدہ معلوم ہوتا جارہا ہے۔ ''ہرمن نے کہا …… ''آپ ''
‫اسے ا ُکسا رہے ہیں کہ وہ کرک پر جلدی حملہ کرے۔ آپ یہ بھول رہے ہیں کہ ہماری فوج فوری حملے کے آگے ٹھہرنے کے
‫قابل نہیں ''۔
‫اس کا حل یہ نہیں کہ ہم مسلمان باشندوں کو سر پر بٹھالیں ''۔ فلپ آگسٹس نے کہا …… ''آپ لوگ مسلمان جنگی ''
‫''قیدیوں کو ابھی تک پال رہے ہیں۔ انہیں قتل کیوں نہیں کردیتے؟
‫اس لیے کہ ایوبی ہمارے قیدیوں کو قتل کردے گا''۔ گے آف لوزینان نے جواب دیا …… ''ہمارے پاس مسلمانوں کے کل ''
‫تین سواِکسٹھ جنگی قیدی ہیں۔ مسلمانوں کے پاس ہمارے بارہ سو پچہتر قیدی ہیں''۔
‫کیاہم ایک مسلمان کو مارنے کے لیے چار صلیبی نہیں مروا سکتے؟'' …… آگسٹس نے کہا …… ''ہمارے وہ قیدی جو صالح''
‫الدین ایوبی کے پاس ہیں‪ ،بزدل تھے‪ ،وہ لڑنے کی بجائے قید ہوئے۔ وہ زندہ رہنا چاہتے تھے۔ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مرجائیں
‫تو اچھا ہے‪ ،تم اطمینان سے مسلمان قیدیوں کو ختم کردو''۔
‫کیا مسلمان باشندوں کے ساتھ درنوں جیسا سلوک کرکے اور مسلمان جنگی قیدیوں کو قتل کرکے تم صالح الدین ایوبی کو ''
‫شکست دے دو گے؟'' ساالر کے عہدے کے ایک صلیبی نے کہا …… ''اس وقت فوج کے سامنے یہ مسئلہ ہے کہ صالح
‫الدین ایوبی اگر پیش قدمی کر آیا تو اُسے کس طرح روکیں گے اور اُسے شوبک کا قلعہ واپس کس طرح لیا جاسکتا ہے۔ کرک
‫کے تمام مسلمانوں کو قتل کردو۔ پھر کیا ہوگا ؟ صالح الدین ایوبی کی طرح تم اپنی نظر میں وسعت پیدا کیوں نہیں کرتے۔
‫''کیا ہرمن بتا سکتا ہے کہ مصرمیں اس زمین دوزکاروائیاں کیا ہیں اور کامیابی کتنی ہے؟
‫توقع سے زیادہ'' ۔ہرمن نے جواب دیا۔ ''علی بن سفیان صالح الدین ایوبی کے ساتھ شوبک میں ہے۔ میں نے قاہرہ میں ''
‫اس کی غیرحاضری سے بہت فائدہ ا ُٹھایا ہے۔ قاہرہ کے نائب ناظم مصلح الدین کو فاطمیوں نے اپنے ساتھ ماللیا ہے۔ مصلح
‫الدین ایوبی کا معتمد خاص ہے‪ ،لیکن اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ فاطمیوں نے در پردہ اپنا ایک خلیفہ مقرر کردیا ہے۔ وہ قاہرہ
‫کے اندر سے بغاوت اور سوڈانیوں کے حملے کا انتظار کرہے ہیں۔ ہمارے فوجی افسر سوڈان کی فوج تیارکرہے ہیں۔ قاہرہ میں
‫صالح الدین ایوبی جو فوج چھوڑ آیا ہے‪ ،اس کے دو نائب ساالر ہمارے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں‪ ،اُدھر سے سوڈانی فوج حملہ
‫کریں گے۔ قاہرہ میں بغاوت ہوگی اور فاطمی اپنی خالفت کا اعالن کردیں گے''۔
‫مجھے سو فیصد ا ُمید ہے کہ قاہرہ میں جواس کی فوج ہے ‪ ،وہ اس کے کام نہیں آسکے گی ''۔ ہرمن نے کہا …… ''
‫مال غنیمت سے
‫''میرے آدمیوں نے فوج میں اس قسم کے شکوک پیدا کر دئیے ہیں کہ انہیں قاہرہ میں پیچھے چھوڑ کر
‫ِ
‫محروم کر دیا گیا ہے اور یہ بھی شوبک کی سینکڑوں عیسائی لڑکیاں صالح الدین ایوبی کے ہاتھ آئی ہیں جو اُس نے وہاں
‫فوج کے حوالے کردی ہیں۔ میری کامیابی یہ ہے کہ میں نے مسلمان فوجی حکام کے ہی منہ میں یہ افواہیں ڈال کر اُن کی
‫فوج میں پھیالئی ہیں۔ میں نے ایسے حاالت پیدا کر دئیے ہیں کہ قاہرہ کی تمام فوج سوڈانیوں کا ساتھ دے گی اور صالح
‫الدین ایوبی کو بغاوت کرنے کے لیے یہاں سے تمام فوج لے جانی پڑے گی ‪ ،مگر یہ فوج اُس وقت وہاں پہنچے گی جب
‫قاہرہ ایک بار پھر فاطمی خالفت کی گدی بن چکا ہوگا اور وہاں سوڈان کی فوج قابض ہوگی۔ ضروری نہیں کہ ہم یہاں صالح
‫الدین ایوبی پر حملہ کریں اور اُسے روکیں ۔ ہم اُسے بھٹکنے کے لیے کھال چھوڑ دیں گے۔ ہم اُسے مسلمانوں کے ہاتھوں
‫مروائیں گے''۔ ہرمن نے زور دے کر کہا…… ''آپ ابھی تک مسلمان کی نفسیات نہیں سمجھ سکے۔ یہی وجہ کہ آپ میری
‫بعض کارگر باتیں نظر انداز کردیتے ہیں ۔ مسلمان اگر فوجی ہو اور اس کے دماغ میں ٹریننگ کے دوران یہ بٹھا دیا جائے کہ
‫وہ ملک اور قوم کا محافظ ہے تو وہ ملک اور قوم کی خاطر جان قربان کر دیتا ہے۔ ُدنیا کی بادشاہی اس کے قدموں میں
‫رکھ دو‪ ،وہ سپاہی رہنا پسند کرے گا‪ ،قوم سے غداری نہیں کرے گا ۔ اگر اسی فوجی میں جنسی لذت‪ ،شراب نوشی اور
‫عہدوں کی خواہش پیدا کردو تو وہ اپنا مذہب بھی دائو پر لگا دیتا ہے۔ ہم نے جن مسلمان فوجی حکام کو اپنے ساتھ مالیا
‫……'' ہے ‪ ،اُن میں یہی خامیاں پیدا کی تھیں اور کر رہے ہیں
‫مگر فوجی کو غدار بنانا آسان نہیں جتنا انتظامیہ کے حکام کو اپنے ہاتھ میں لینا آسان ہے''۔ ہرمن نے کہا …… ''
‫'' انتظامیہ کے ہر حاکم میں امراء اور وزراء کی صف میں آنے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ ان لوگوں پر بادشاہ بننے کا خبط
‫سوار ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ دیکھیں۔ اس کے رسول )صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے بعد یہ لوگ خالفت پر ایک دوسرے
‫سے لڑتے رہے۔ ان کے جرنیلوں نے نہایت دیانت داری سے اپنا کام جاری رکھا۔ وہ دوسرے ملکوں کو بے تیغ کرتے رہے اور
‫اسالمی سلطنت کو وسیع کرنے کی کوشش کرتے رہے‪ ،لیکن ا ُن کے خلیفوں نے جہاں دیکھا کہ فالح جرنیل ایسا مقبول ہوگیا
‫ہے کہ اس کی فتوحات کی بدولت اُسے قوم خلیفہ سے زیادہ مقام دینے لگی ہے تو خلیفہ اور اُس کے حواریوں نے جرنیل کو
‫غلط احکام دے کر اُسے ذلیل اور ُر سوا کردیا۔ خود خلیفہ کی گدی مخالفین سے محفوظ نہ رہی ۔ مخالفین کی نگاہ اسالمی
‫سلطنت کی وسعت سے ہٹ کر خالفت کے حصول پر مرکوز ہوگئی۔ جرنیل ہارتے چلے گئے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم
‫عرب میں بیٹھے ہیں ۔ صالح الدین ایوبی انہیں جرنیلوں میں سے ہے جو سلطنت کو اُنہی سرحدوں تک لے جانا چاہتا ہے
‫جہاں یہ پہلے جرنیلوں نے پہنچائی تھیں۔ اس شخص میں خوبی یہ ہے کہ انتظامیہ اور خالفت کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس نے
‫مصر کی خالفت کو اپنے ارادوں کے سامنے رکاوٹ بنتے دیکھا تو خلیفہ کو ہی معزول کردیا۔ یہ دلیرانہ قدم اس نے فوجی
‫طاقت اور اپنی فہم و فراست کے بل بوتے پر اُٹھایا تھا''۔
‫ہرمن بولتا جا رہا تھا۔ تمام حکمران اور صلیبی کمانڈر انہماک سے ُسن رہے تھے۔ وہ کہہ رہا تھا …… ''صالح الدین ایوبی
‫اپنی قوم کی اس کمزوری کو سمجھ گیا ہے کہ غیر فوجی قیادت گدی کی خواہش مند ہے اور یہ خواہش ایسی ہے کہ جوزن
‫اور زرپرستی اور شراب نوشی جیسی عادتیں پیدا کرتی ہے۔ ہم نے صرف اُن فوجی افسروں کو ہاتھ میں لیا ہے جو اقتدار کے
‫خواہش مند ہیں۔ اسی لیے ہم زیادہ تر اثر انتظامیہ کے سربراہوں پر ڈال رہے ہیں ۔ فوج کو کمزور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ
‫اسے لوگوں کی نظروں میں رسوا کردیا جائے۔ یہ کام میرا ہے جو میں کر رہا ہوں۔ آپ شاید میری تائید نہ کریں ‪ ،لیکن میں

‫میدان جنگ میں آسانی سے شکست نہیں دے سکتے۔ وہ صرف لڑنے
‫آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ آپ صالح الدین ایوبی کو
‫ِ
‫کے لیے نہیں لڑتا۔ اس کے عزم کی بنیاد ایک ایسے منصوبے پر ہے جسے اس کی ساری فوج سمجھتی ہے۔ اس کی بنیادی
‫خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے خلیفہ سے یا غیر فوجی قیادت سے حکم نہیں لیتا۔ وہ کٹر مسلمان ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میں خدا
‫اور قرآن پاک سے حکم لیتا ہوں۔ میرے جو جاسوس بغداد میں ہیں‪ ،انہوں نے اطالع دی ہے کہ صالح الدین ایوبی نے نورالدین
‫زنگی کو ساتھ مالکر یہاں سے انقالبی تجاویز بھیجی ہیں جن پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔ ایک یہ ہے کہ امیر العلماء سے
‫فتوی صادر کرایا گیا ہے کہ خالفت صرف ایک ہی ہوگی اور یہ بغداد کی خالفت ہوگی۔ یہ خالفت دوسرے ممالک کے
‫یہ
‫ٰ
‫اعلی فوجی قیادت سے منظوری لے گی۔ جنگی امور
‫پہلے
‫سے
‫کرنے
‫چیت
‫بات
‫کی
‫سمجھوتوں
‫اور
‫کرنے
‫نافذ
‫احکام
‫متعلق
‫ٰ
‫فوجی حکام کے ہاتھ میں ہوں گے ۔ خلیفہ دور دراز عالقوں میں لڑنے والے جرنیلوں کو کوئی حکم نہیں بھیج سکتا۔ تیسرے یہ
‫کہ خلیفہ کا نام خطبے میں نہیں لیا جائے گا اور خالفت کا اثرورسوخ ختم کرنے کے لیے صالح الدین ایوبی نے حکم جاری
‫کرادیا ہے کہ خلیفہ یا اس کے نائب یا کوئی قلعہ دار وغیرہ جب دورے وغیرہ کے لیے باہر نکلیں گے تو لوگوں کو راستے
‫میں کھڑے ہونے‪ ،نعرے لگانے اور سالم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی''۔
‫صالح الدین ایوبی نے سب سے اہم کام یہ کیا ہے کہ '' ُسنی شیعہ تفرقہ مٹا دیا ہے''۔'ہرمن نے کہا …… ''اُس نے ''
‫شیعوں کو فوج اور انتظامیہ میں پوری نمائندگی دے دی ہے اور نہایت پُر اثر طریقوں سے شیعہ علماء کو قائل کر لیا ہے کہ
‫وہ ایسی رسمیں ترک کردیں جو اسالم کے منافی ہیں ''…… صالح الدین ایوبی کے یہ انقالبی اقدامات ہمارے لیے نقصان دہ
‫ہیں۔ ہم مسلمانوں کی انہی خامیوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے جو دراصل جاری ہے کہ
‫مسلمانوں کی انتظامی قیادت کو صالح الدین ایوبی اور اس کی فوج کے خالف کیا جائے ''۔
‫صرف آج نہیں‪ ،ہمیشہ کے لیے '' ۔ فلپ آگسٹس جو مسلمانوں کا کٹر دشمن تھا بوال ۔ ''ہماری عداوت صرف صالح الدین''
‫ایوبی سے نہیں ۔ ہماری جنگ اسالم کے خالف ہے۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ایوبی مرجائے تو یہ قوم کوئی دوسرا
‫ایوبی پیدا نہ کرسکے ۔ اس قوم کو عقیدوں‪ ،غلط اور
‫بے بنیاد عقیدوں کے ہتھیاروں سے مارو۔ ان میں بادشاہ بننے کا جنون طاری کردو۔ انہیں عیاش بنادو اور ایسی روایات پیدا
‫کردو کہ یہ لوگ خالفت کی گدی پر آپس میں لڑتے رہیں‪ ،پھر اس خالفت کو اس کی فوج پر سوار کردو۔ میں یقین سے کے
‫ساتھ کہتا ہوں کہ یہ قوم ایک نہ ایک دن صلیب کی غالفم ہوجائے گی۔ اس کا تمدن اور اس کا مذہب صلیب کے رنگ میں
‫رنگا ہوا ہوگا۔ وہ بادشاہی اور خالفت کے حصول کے لیے آپس میں دست و گریباں ہوں گے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے
‫لیے ہم سے پناہ مانگیں گے۔ ا ُس وقت ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہ ہوگا۔ ہماری روحیں دیکھیں گی کہ میں نے جو پیشین
‫گوئی کہ ہے ‪ ،وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہے۔ اسالم کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے یہودی تمہیں اپنی لڑکیاں پیش
‫کر رہے ہیں ‪ ،انہیں استعمال کرو۔ یہودیوں کو اس لیے اپنا دشمن سمجھو کہ وہ یروشلم کو اپنا مقدس شہر اور فلسطین کو اپنا
‫گھر سمجھتے ہیں۔ انہیں کہو کہ فلسطین تمہارا ہے۔ آخر میں یہ خطہ ہم تم کو ہی دیں گے ‪ ،ابھی ہمارا ساتھ دو ‪ ،لیکن یہ
‫احتیاط ضرور کرنا کہ یہودی بہت چاالک قوم ہے۔ ا ُسے جب تمہاری طرف سے خطرہ نظر آیا تو تمہارے ہی خالف ہوجائے گی۔
‫اس کی دولت اور اس کی لڑکیاں استعمال کرو اور اس کے عوض انہیں فلسطین پیش کرو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫قلعہ شوبک اور قلعہ کرک کے بہت دور ایک ایسا وسیع خطہ تھا جو مٹی‪ ،ریت اور ِسلوں کی پہاڑیوں اور اونچی نیچی چٹانوں
‫میں گھرا ہوا تھا ۔ یہ خطہ کم و بیش ڈیڑھ ایک میل وسیع اور چوڑا تھا ۔ اس میں بہت سا عالقہ ریتال میدانی تھا اور اس
‫میں کھڈ بھی تھے اور کم اونچی ٹیکریاں بھی۔ جب صلیبی حکمران اور کمانڈر اسالم کے خالف منصوبے بنا رہے تھے اور
‫میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ ہزاروں پیادہ عسکری‪ ،گھوڑ
‫نہایت پُر کشش اور خطرناک طریقے وضع کر رہے تھے‪ ،صحرا کا یہ خطہ
‫ِ
‫سوار اور شتر سوار بھاگ دوڑ رہے تھے۔ تلواریں اور پرچھیاں چمک رہی تھیں۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ سے گرد گہرے
‫بادلوں کی طرح آسمان کی طر ف اُٹھ رہی تھی ۔ اس گرد میں برچھیاں بھی اُڑ رہی تھیں ‪ ،تیر بھی۔ پیادہ سپاہی گھوڑوں
‫سے آگے نکل جانے کی رفتار سے دوڑنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ایک پہاڑی کے دامن میں آگ کے شعلے اُڑتے او پہاڑی
‫سے ٹکڑا کر بھڑکتے اور بجھ جاتے تھے۔ شوروغل آسمان کو ہال رہا تھا ۔ ایک پہاڑی کے دامن میں آگ کے شعلے اُڑتے اور
‫پہاڑی سے ٹکڑا کر بھڑکتے اور بجھ جاتے تھے۔ شوروغل آسمان کو ہال رہا تھا۔
‫صالح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ایک بلند چٹان پر کھڑا یہ نظارہ انہماک سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ بہت دیر سے اس میدان
‫کے اردگرد چٹانوں پر گھوم رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے دو نائب تھے۔
‫میں آپ کو یقین دال سکتا ہوں کہ جس رفتار سے سکھالئی ہو رہی ہے۔ نئے سپاہی چند دنوں میں تجربہ کار ہو جائیں ''
‫گے ''۔ ایک نائب نے کہا ۔ ''آپ نے جن سواروں کو اتنا چوڑا کھڈ پھالنگتے ہوئے دیکھا تھا ‪ ،وہ سب کرک سے آئے
‫ہوئے سوار ہیں۔ میں انہیں اناڑی سمجھتا تھا‪ ،تیر اندازوں کا معیار بھی اچھا ہو رہاہے''۔
‫میدان جنگ کا یہ منظر دراصل ٹریننگ تھی ‪ ،جس کے متعلق صالح الدین ایوبی نے بڑے سخت احکامات جاری کیے تھے۔
‫ِ
‫اردگرد سے بہت سے جوان فوج میں بھرتی کیے گئے تھے اور کرک سے بھی بہت سے مسلمان چوری چھپے نکل آئے تھے۔
‫یہ سلطان ایوبی کے جاسوسوں کا کمال تھا کہ کرک سے بھی جوان حاصل کر لیے تھے۔ شوبک کے وہ مسلمان جنہوں نے
‫صلیبیوں کا ظلم و تشدد برداشت کیا تھا‪ ،جوش و خروش سے صالح الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہوئے تھے۔ ان کی ٹریننگ
‫کا انتظام وہیں کر دیا گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اس میں ذاتی دلچسپی لے رہا تھا۔ اُسے اُس کے نائب یقین دال رہے
‫تھے کہ وہ نئی بھرتی کو تھوڑے سے عرصے میں پختہ کار بنادیں گے۔
‫سپاہی صرف ہتھیاروں کے استعمال اور جسمانی پھرتی سے تجربہ کار نہیں بن سکتا''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ''عقل ''
‫اور جذبے کا استعمال ضروری ہے۔ مجھے ایسی فوج کی ضرورت نہیں جو اندھا ُدھند دشمن پر چڑھ دوڑے اور صرف ہالک
‫کرے۔ مجھے ایسی فوج چاہیے ‪ ،جسے معلوم ہو کہ اس کا دشمن کون ہے اور اس کے عزائم کیا ہیں ؟ میری فوج کو علم
‫ہونا چاہیے کہ یہ خدا کی فوج ہے اور خدا کی راہ میں لڑ رہی ہے۔ جوش و خروش ‪ ،جو میں دیکھ رہا ہوں ‪ ،بہت ضروری
‫ہے مگر مقصد واضح نہ ہو ‪ ،اپنی حیثیت واضح نہ ہو تو یہ جو ش جلدی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ انہیں بتاواور ذہن نشین کراوکہ ہم
‫فلسطین کیوں لینا چاہتے ہیں۔ انہیں بتائو کہ غداری کتنا بڑا جرم ہے۔ انہیں سمجھاو کہ تم صرف فلسطین کے لیے نہیں ‪،
‫بلکہ اسالم کے تحفظ اور فروغ کے لیے لڑ رہے ہو اور تم آنے والی نسلوں کے وقار کے لیے لڑ رہے ہو۔ عملی سکھالئی کے
‫بعد انہیں وعظ دو اور ان پر ان کی قومیت واضح کرو ''۔
‫ساالر اعظم!'' ایک نائب نے کہا …… ''ہم انہیں صرف درندے اور وحشی نہیں بنا ''
‫انہیں ہر شام وعظ دئیے جاتے ہیں ‪،
‫ِ

‫رہے''۔
‫اور یہ خیال رکھو کہ ان کے دلوں میں قوم کی وہ بیٹیاں نقش کردو جو کفار کے ہاتھوں اغوا اور بے آبرو ہوئی ہیں اور ہو''
‫رہی ہیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ''انہیں قرآن پاک کے وہ ورق یاد دالتے رہنا ‪ ،جنہیں صلیبیوں نے پائوں تلے مسال
‫تھا اور انہیں وہ مسجدیں یاد دالتے رہنا‪ ،جن میں کفار نے گھوڑے اور مویشی باندھے تھے اور باندھ رہے ہیں۔ بیٹی کی عزت
‫اور مسجد کا احترام مسلمان کی عظمت کے نشان ہوتے ہیں ۔ انہیں بتاو کہ جس روز تم عصمت اور مسجدکو ذہن سے اُتار دو
‫گے ‪ ،اُس روز تم اپنے لیے اس ُد نیا کو جہنم بنالوگے اور آخرت میں جو عذاب ہے اس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے ''۔
‫پہاڑیوں پر جو دو دو چار چار سپاہی گھوم پھر رہے تھے ‪ ،وہ پہرہ دار تھے۔ صلیبیوں کے جوابی حملے کا خطرہ موجود تھا ۔
‫دور آگے تک فوج موجود تھی ‪ ،پھر بھی ٹریننگ کے اس عالقے کے گرد پہرے کی ضرورت تھی۔ ان پہرہ داروں میں سے دو
‫ایک چوٹی پر جارہے تھے ‪ ،وہ ُرک گئے ۔ انہیں نیچے ایک ٹیکری پر صالح الدین ایوبی کھڑا نظر آرہا تھا۔ اُن کی طرف اس
‫کی پیٹھ تھی۔ فاصلہ دو اڑھائی سو گز تھا۔ ایک پہرہ دار نے کہا …… ''کم بخت کی پوری پیٹھ ہمارے سامنے ہے‪ ،اگر یہا ں
‫''سے تیر چالئوں تو اس کے دل کے پار کر سکتا ہوں ۔ کیا خیا ل ہے؟
‫پھر بھاگ کر کہاں جاو گے؟'' اس کے ساتھی نے پوچھا۔''
‫ہاں!'' دوسرے نے کہا …… ''تم ٹھیک کہتے ہو۔ اگر یہ لوگ ہمیں پکڑ کر جان سے مار ڈالیں توبات نہیں۔ وہ زندہ پکڑ''
‫کر ایسے شکنجے میں جکڑیں گے کہ ہمیں اپنے تمام ساتھیوں کے نام بتانے پڑیں گے''۔
‫یہ کام اس کے محافظوں کو کرنے دو''۔ اس کے ساتھی نے کہا …… ''اگر صالح الدین ایوبی کوقتل کرنا اتنا آسان ہوتا تو''
‫یہ اب تک زندہ نہ ہوتا''۔
‫یہ کام اب ہوجانا چاہیے''۔ دوسرے نے کہا …… ''سنا ہے فاطمی کہتے ہیں کہ تم کچھ کیے بغیر ہم سے منہ مانگی رقم''
‫لیتے جا رہے ہو''۔
‫مجھے ا ُمید ہے کہ یہ کام جلدی ہوجائے گا''۔ اس کے ساتھی نے کہا …… ''سنا تھا کہ حشیشین بہت دلیر ہیں۔ قتل ''
‫کرنے کے لیے جان پر کھیل جاتے ہیں۔ ابھی تک انہوں نے کچھ کرکے تونہیں دکھایا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایوبی کے
‫محافظ دستے میں تین حشیشین ہیں۔ یہ تو ان کا کمال ہے کہ محافظ دستے تک پہنچ گئے ہیں اور کسی کو اُن کی اصلیت
‫کا علم نہیں ہوا‪ ،مگر وہ قتل کب کریں گے؟ کم بخت ڈرتے ہیں''۔
‫وہ باتیں کرتے آگے چلے گئے ۔
‫٭ ٭ ٭
‫مؤرخین لکھتے ہیں کہ مصر سے صالح الدین ایوبی کی غیر حاضری سے وہاں مخالفین کی زمین دوز سرگرمیاں اُبھر آئیں تو
‫ِ
‫صورت حال ایسی پیدا کر دی گئی جسے صرف معجزہ سنبھال سکتا تھا۔یہ ایک سازش تھی جو فاطمی خالفت کو معزول اور
‫تخریب کاروں کی گرفتاری کے بعد بظاہر دب گئی تھی‪ ،لیکن راکھ میں دبی ہوئی چنگاری کی طرح دہکتی رہتی تھی۔ اس کی
‫پشت پناہی کرنے والے صلیبی تھی اور اسے عملی جامہ پہنانے والے وہ مسلمان ُزعما تھے جن پر سلطان ایوبی کو بھروسہ
‫تھا۔ صلیبیوں نے یہودی لڑکیاں حاصل کر لی تھیں جو عرب اور مصر کی زبان روانی سے بولتی اور اپنے آپ کو ہر رنگ میں
‫ڈھال سکتی تھیں ۔ مصر کی انتظامیہ کے متعدد احکام اقتدار میں حصے یا ک ُلی طور پر خود مختاری کے خواہش مند تھے۔ ان
‫میں قومی وقار اور جذبہ ختم ہو چکا تھا۔ وہ حرموں کے بادشاہ تھے۔ ان لوگوں کا آلہ کار بنانے والوں میں فاطمیوں نے دانش
‫مندی کا ثبوت دیا اور انہوں نے حسن بن صباح کے حشیشین کی خدمات بھی حاصل کرلیں۔
‫ا ُس وقت کے واقعہ نگاروں نے جن میں اسد اال سدی‪ ،ابن االثیر‪ ،ابی الضر اور ابن الجوزی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ‪،
‫لکھتے ہیں کہ صلیبیوں نے سوڈانیوں کو مدد دے کر انہیں مصر پر حملے کے لیے تیار کر لیا تھا۔ مصر میں تھوڑی سی فوج
‫تھی ‪ ،وہ بغاوت کے لیے تیارکردی گئی تھی۔ صالح الدین ایوبی کے حامی سخت پریشان تھے کہ وہ قبل از وقت نہ پہنچا تو
‫مصر ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ ان واقعہ نگاروں اور دو گمنام کاتبوں کی تحریروں سے ایک کہانی کی کڑیاں ملتی ہیں ۔ ان
‫میں قاہرہ کے محکمہ مالیات کے ایک بڑے ناظم خضر الحیات کا ذکر ملتاہے۔ وہ خزانے کا بھی ذمہ دار تھا ۔ دوسرے عالقوں
‫ِ
‫نظامت مصر کا تمام تر
‫زکو ة‪ ،سزا کے طور پر وصول ہونے والے جرمانے‪ ،عطیات اور
‫کی جزئیے اور تاوان وغیرہ کی رقمیں ‪،
‫ٰ
‫حساب کتاب اور پیسہ مالیات کے محکمے میں آتا اور خرچ ہوتا تھا۔ یہ بڑا ہی اہم اور نازک محکمہ تھا۔ اس کے ناظم کا
‫قابل اعتماد ہونا بہت ضروری تھا۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کی خوش نصیبی تھی کہ ناظم خضر الحیات دیندار مسلمان تھا۔
‫ایک رات وہ باہر سے آیا۔ گھرمیں داخل ہوا تو اندھیرے کو چیرتا ہوا ایک تیر آیا جو خضر الحیات کی پیٹھ میں اُترا اور دل
‫تک پہنچا۔ ا ُس کی کربناک آواز سن کر مالزم باہر آیا‪ ،پھر گھرکے افراد باہر آئے۔ مشعل کی روشنی میں خضر کو اوندھے منہ
‫پڑے دیکھا۔ اتفاق سے کسی نے دیکھ لیا کہ خضر کے دائیں ہاتھ کی انگلی زمین پر تھی اور مٹی پر اس انگلی سے اس نے
‫کچھ لکھا تھا ‪ ،وہ مر چکا تھا ۔ زمین پر اس نے انگلی سے لکھا تھا …… ''مصلح ''……''ح'' پوری نہیں ہوتی تھی۔
‫اس حرف کی گوالئی کے نصف میں جا ن نکل گئی تھی ۔ ال ش اُٹھا لی گئی اور اس لفظ کو محفوظ رکھا گیا ۔ ایک آدمی
‫کو کوتوال غیاث بلبیس کو بالنے دوڑادیا گیا۔ یہی کہا جا سکتا تھا کہ خضر نے مرتے مرتے مٹی پر اپنے قاتل کا نام لکھا
‫اعلی بھی ۔ یہ بھی صالح الدین ایوبی کا قابل اعتماد
‫ہے۔ غیاث بلبیس کوتوال بھی تھا اور مصر کی تمام تر پولیس کا حاکم
‫ٰ
‫حاکم تھا۔ علی بن سفیان کی طرح شہری جرائم کا ماہر سراغرساں تھا۔
‫بلبیس نے آتے ہی زمین لکھے ہوئے لفظ ''مصلح'' کو غور سے دیکھا۔ اتنے میں شہر کا نائب ناظم مصلح الدین خضر کے
‫قتل کی خبر سن کر آگیا۔ بلبیس نے اُسے دیکھتے ہی زمین پر پائوں رگڑ کر ''مصلح'' کا لفظ مٹادیا۔ مصلح الدین چونکہ
‫شہر کا نائب تھا۔ اس لیے کوتوالی کا محکمہ اس کے ماتحت تھا۔ اس نے بلبیس کو حکم کے لہجے میں کہا …… ''قاتل کا
‫سراغ صبح سے پہلے مل جانا چاہیے۔ میں زیادہ انتظار نہیں کروں گا''…… بلبیس نے اُسے یقین دالیا کہ قاتل کو جلدی پکڑ
‫لیا جائے گا۔ وہ وہاں سے چال گیا ۔ رات کو ہی بلبیس نے خضر الحیات کے نائب معاون اور اس کے دفتر میں اُن افراد کو
‫بال لیا جو مقتول کے قریب رہتے تھے اور بتا سکتے تھے کہ قتل کے روز ان کی سرگرمیاں کیا رہیں۔ اِن لوگوں سے اُسے پتا
‫اعلی کا ایک اجالس تھا جس میں فوج کا کوئی نمائندہ نہیں تھا۔ خضر کا نائب اس کی
‫چال کہ آج شہری انتظامیہ کے حکا ِم
‫ٰ
‫مدد کے لیے اجالس میں شریک تھا۔ اجالس میں مالیات کے سلسلے میں فوج کے اخراجات زیربحث آئے تو خضر نے کہا کہ
‫مصر میں بعض اخراجات روکنے پڑیں گے ‪ ،کیونکہ امیر مصر صالح الدین ایوبی نے شوبک میں بہت سی فوج بھرتی کی ہے
‫جس کے لیے کثیر رقم کی ضرورت ہے۔
‫نائب ناظم مصلح الدین نے اس کی مخالفت کی اورکہا فوج کے اخراجات غیر ضروری ہیں۔ مزید فوج بھرتی کرنے کی بجائے

‫ہمیں توجہ اس فوج کے مسائل کی طرف دینی چاہیے جو پہلے ہی ہمارے لیے ایک مہنگا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اُس نے بتایا
‫مال غنیمت ہاتھ آیا ہے‪ ،اس
‫کہ مصر میں جو فوج ہے ‪ ،اس میں بے اطمینانی اور بدامنی پائی جاتی ہے۔ شوبک سے جو
‫ِ
‫میں سے اس فوج کے لیے کوئی حصہ نہیں بھیجا گیا ۔ خضر الحیات نے کہا …… ''کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر مصر نے
‫مال غنیمت کے اللچ سے لڑنے والی فوج کا
‫مال غنیمت تقسیم کرنے کی بدعت ختم کردی ہے؟ یہ نہایت اچھا فیصلہ ہے ۔
‫ِ
‫ِ
‫کوئی قومی جذبہ اور مذہبی نظریہ نہیں ہوتا''۔
‫اس مسئلے پر بحث ترش کالمی میں بدل گئی ۔ مصلح الدین نے یہاں تک کہہ دیا کہ امیر مصر مصری سپاہیوں کے ساتھ اتنا
‫اچھا سلوک نہیں کر رہا‪ ،جتنا شامی اور ترک سپاہیوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اُس نے غصے میں کچھ اور نادرا باتیں کہہ دیں ‪،
‫جن کے جواب میں خضر نے کہا …… ''مصلح! تمہاری زبان سے صلیبی اور فاطمی بول رہے ہیں '' …… اس پر اجالس نے
‫ہنگامے کی صورت اختیار کر لی اور برخاست ہوگیا۔ خضرالحیات نے معاون اور نائب نے بتایا کہ اجالس کے بعد مصلح الدین
‫خضرالحیات کے دفتر میں آیا ‪ ،وہاں پھر ان میں گرما گرمی ہوئی۔ مصلح الدین خضر کواس پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا
‫تھا کہ مصری فوج مطمئن نہیں ۔ ا ُس نے پھر وہی باتیں دہرائیں جو اس نے اجالس میں کہی تھیں۔ خضرالحیات نے کہا ……
‫''اگر ایسا ہی ہے تو میں یہ مسئلہ تمہاری طرف سے امیر مصر کے آگے رکھ دوں گا‪ ،لیکن میں یہ ضرور لکھوں گا کہ تم
‫نے اجالس میں تمام شرکاء کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ امیر مصر مصری فوج میں امتیازی سلوک کر رہا ہے اور
‫یہ میں یہ بھی لکھوں گا کہ تم نے ہمیں یہ یقین دالنے کی بھی کوشش کی کہ صالح الدین ایوبی نے شوبک کا مال غنیمت
‫شامیوں اور ترکوں میں تقسیم کر دیا ہے اور میں یہ را ئے ضرور دوں گا تم نے جو الزامات عائد کیے ہیں ‪ ،انہیں سچ ثابت
‫کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور فوج میں جو افواہیں دشمن پھیال رہاہے ‪ ،ان کے متعلق تم نے کہا ہے کہ یہ افواہیں نہیں ‪،
‫بلکہ سچ ہے ''۔
‫خضرالحیات کے نائب نے بیان دیا کہ مصلح الدین جب خضر کے کمرے سے نکال تو اس کے منہ سے یہ الفاظ سنے گئے تھے
‫…… ''اگر تم زندہ رہے تو سب کچھ لکھ کر صالح الدین ایوبی کے آگے رکھ دینا''۔
‫غیاث بلبیس نے فوری طور پر مصلح الدین سے کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ ایک تو اس کی حیثیت بہت اونچی تھی اور
‫دوسرے یہ کہ بلبیس اس کے خالف مزید شہادت جمع کرنا چاہتا تھا۔ اسے ڈر یہ تھا کہ اگر اس نے مصلح الدین پر بغیر
‫ٹھوس شہادت کے ہاتھ ڈاال تو یہ اقدام اس کے اپنے لیے مصیبت بن جائے گا‪ ،اگر صالح الدین ایوبی قاہرہ میں موجود ہوتا تو
‫بلبیس اس کی پشت پناہی حاصل کرلیتا۔ وہ اتنا سمجھ گیا تھا کہ یہ قتل ذاتی رنجش کا نتیجہ نہیں۔ خضر الحیات ذاتی
‫رنجش رکھنے واال حاکم نہیں تھا۔ رات کو اس نے چند ایک لوگوں کے دروازے کھٹکھٹائے اور تفتیش میں لگا رہا۔ اپنے خفیہ
‫آدمیوں کو بھی سرگرم کر دیا ‪ ،لیکن اُسے کوئی کامیابی نہ ہوئی۔
19:38
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪40.۔" قاھرہ میں بغاوت اورسلطان ایوبی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫لیکن ا ُسے کوئی کامیابی نہ ہوئی۔بعد کی شہادتوں اور واقعات سے جو واردات سامنے آئی ‪ ،وہ کچھ اس طرح بنتی ہے کہ
‫قتل کی رات سے اگلی رات مصلح الدین اپنے گھر گیا تو پہلی بیوی نے اُسے کمرے میں بالیا۔ اُس نے بیس اشرفیاں مصلح
‫الدین کے آگے کرتے ہوئے کہا …… ''خضر الحیات کا قاتل یہ بیس اشرفیاں واپس کر گیا ہے اور کہہ گیا ہے کہ تم نے پچاس
‫اشرفیاں اور سونے کے دو ٹکڑے کہے تھے۔ میں نے تمہارا کام کر دیا تو تم نے صرف بیس اشرفیاں بھیجی ہیں۔ یہ میں
‫تمہاری بیوی کو واپس دے چال ہوں ۔ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ اب ایک سو اشرفیاں اور سونے کے دو ٹکڑے لوں گا‪ ،اگر
‫دو دن تک مال نہ پہنچا تو ویسا ہی تیر جو خضر کے دل میں اُترا ہے ‪ ،تمہارے دل میں بھی اُتر جائے گا''۔
‫مصلح الدین کا رنگ ا ُڑگیا ‪ ،سنبھل کر بوال …… ''تم کیا کہہ رہی ہو؟ کون تھا وہ؟ میں نے کسی کو خضر الحیات کے قتل
‫''کے لیے یہ رقم نہیں دی تھی ؟
‫تم خضر کے قاتل ہو''۔ بیوی نے کہا …… ''مجھے معلوم نہیں کہ قتل کی کیا وجہ ہے ۔ اتنا ضرور معلوم ہے کہ تم نے''
‫اُسے قتل کرایا ہے''۔
‫یہ مصلح الدین کی پہلی بیوی تھی۔ ا ُس کی عمر زیادہ نہیں تھی ۔ بمشکل تیس سال کی ہوگی ۔ خاصی خوبصورت عورت
‫تھی۔ کوئی ایک ماہ قبل وہ گھر میں ایک غیر معمولی طور پر خوبصورت اور جوان لڑکی لے آیا تھا۔ ایک خاوند کے لیے دو
‫بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اُس زمانے میں زیادہ بیویاں رکھنے کارواج تھا۔ کوئی بیوی دوسری بیوی سے حسد
‫نہیں کرتی تھی‪ ،مگر مصلح الدین نے پہلی بیوی کو بالکل نظر انداز کر
‫د یا تھا۔ جب سے نئی بیوی آئی تھی اُس نے پہلی بیوی کے کمرے میں جانا ہی چھوڑ دیا تھا …… بیوی نے اُسے کئی بار
‫بالیا تو بھی وہ نہ گیا۔ بیوی کے اندر انتقامی جذبہ پیدا ہوگیاتھا۔ یہ آدمی جو اُسے بیس اشرفیاں دے گیا تھا۔ غالبا ً مصلح
‫الدین سے بڑاہی سنگین بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اسی لیے اس نے اس کی پہلی بیوی کو بتا دیا تھا کہ خضر الحیات کو مصلح
‫الدین نے قتل کرایا تھا۔
‫تم اپنی زبان بند رکھنا''۔ مصلح الدین نے بیوی کو بارعب لہجے میں کہا …… ''یہ میرے کسی دشمن کی چال ہے۔ وہ ''
‫میرے اور تمہارے درمیان دشمنی پیدا کرنا چاہتا ہے''۔
‫تمہارے دل میں میری دشمنی کے سوا اور رہا ہی کیا ہے؟'' بیوی نے پوچھا ……۔''
‫''میرے دل میں تمہاری پہلے روز والی محبت ہے''۔ مصلح الدین نے کہا …… ''کیا تم اس آدمی کو پہچانتی ہو؟''
‫ا ُس نے چہرے پر نقاب ڈال رکھا تھا''۔ بیوی نے کہا …… ''مگر تمہارا نقاب اُتر گیا ہے۔ میں نے تمہیں پہچان لیا ''
‫ہے''…… مصلح الدین نے کچھ کہنے کی کوشش کی‪ ،مگر بیوی نے اُسے بولنے نہ دیا۔ اُس نے کہا …… ''مجھے شک ہے تم
‫نے بیت المال کی رقم ہضم کی ہے‪ ،جس کا علم خضرالحیات کو ہوگیا تھا۔ تم نے کرائے کے قاتل سے اُسے راستے سے ہٹا
‫''دیا ہے؟
‫''مجھ پر جھوٹے الزام عائد نہ کرو''…… مصلح الدین نے کہا …… ''مجھے رقم ہضم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟''
‫تمہیں نہیں ‪ ،ا ُس فرنگن کو رقم کی ضرورت ہے‪ ،جسے تم نے نکاح کے بغیر گھر رکھا ہوا ہے''۔ بیوی نے جل کر کہا ''
‫…… '' تمہیں شراب کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔ اگر یہ الزام جھوٹا ہے تو بتاو کہ یہ چار گھوڑوں کی بگھی کہاں سے آئی
‫ہے؟ گھر میں آئے دن ناچنے والیاں جو آتی ہیں‪ ،وہ کیا مفت آتی ہیں؟ شراب کی جو دعوتیں دی جاتی ہیں‪ ،اُن کے لیے

‫''رقم کہاں سے آتی ہے؟
‫خدا کے لیے چپ ہوجاو''۔ مصلح الدین نے غصے اورپیار کے ملے جلے لہجے میں کہا …… ''مجھے معلوم کرلینے دو ‪'' ،
‫وہ آدمی کون تھا جو یہ خطرناک چال چل گیا ہے ۔ اصل حقیقت تمہارے سامنے آ جائے گی''۔
‫میں جب چپ نہیں رہ سکوں گی''۔ بیوی نے کہا …… ''تم نے میرا سینہ انتقام سے بھر دیا ہے۔ میں سارے مصر کو ''
‫بتائوں گی کہ میرا خاوند قاتل ہے۔ ایک مومن کا قاتل ہے۔ تم میری محبت کے قاتل ہو۔ اس قتل کا انتقام لوں گی''۔
‫مصلح الدین منت سماجت کرکے اُسے چپ کرانے لگا اور ا ُسے قائل کر لیا کہ وہ صرف دو روز چپ رہے ‪ ،تاکہ و اس آدمی
‫کو تالش کرکے ثابت کرسکے کہ وہ قاتل نہیں ہے۔ اُس نے بیوی کو یہ بھی بتایا کہ غیاث بلبیس نے چند ایک مشتبہ افراد
‫پکڑ لیے ہیں اور قاتل بہت جلدی پکڑا جائے گا۔
‫رات گزر گئی۔ اگال دن بھی گزر گیا۔ مصلح الدین گھر سے غائب رہا۔ اس کی دوسری بیوی یاداشتہ بھی کہیں نظر نہیں آئی۔
‫شام کے بعد مصلح الدین گھر آیا اور پہلی بیوی کے کمرے میں چالگیا۔ اُس کے ساتھ پیار محبت کی باتیں کرتا رہا۔ بیوی اُس
‫کے فریب میں نہیں آنا چاہتی تھی ‪ ،مگر پیار کے دھوکے میں آگئی۔ مصلح الدین نے اُسے کہا کہ وہ اس آدمی کو ڈھونڈرہا
‫ہے‪ ،جو بیس اشرفیاں دے گیا تھا …… کچھ دیر بعد بیوی سو گئی۔ اُس رات مصلح الدین نے مالزموں کو چھٹی دے دی تھی۔
‫گھر میں ایسی خاموشی تھی جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ مصلح الدین بہت دیر سوئی ہوئی بیوی کے کمرے میں رہا‪ ،پھر
‫اُٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔
‫آدھی رات کا وقت تھا ۔ ایک آدمی اس گھر کی باہر والی دیوارکے ساتھ پیٹھ لگا کر کھڑا ہوگیا۔ ایک آدمی اُس کے کندھوں
‫پر چڑھ گیا ۔ تیسرا آدمی ان دونوں کو سیڑھی بنا کر اوپر گیا اور دیوار سے لٹک کر اندرکی طرف کود گیا۔ اس نے اندر سے
‫بڑا دروازہ کھول دیا۔ اس کے دونوں ساتھی اندر آگئے۔ اس گھر میں رکھوالی کتا ہر رات کھال رہتا تھا‪ ،اس رات وہ بھی ڈربے
‫میں بند تھا۔ شاید مالزم جاتے ہوئے بھول گئے تھے کہ ا ُسے کھال رہناہے۔ تینوں آدمی برآمدے میں چلے گئے۔ اندھیرا گہرا
‫تھا۔ وہ دبے پاوں چلتے گئے۔ گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ایک نے اُس کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھا ‪،
‫جس میں مصلح الدین کی پہلی بیوی جسے وہ فاطمہ کے نام سے بالیا کرتا تھا‪ ،سوئی ہوئی تھی۔ کواڑ کھل گیا۔ کمرہ تاریک
‫تھا۔ تینوں آدمی اندر گئے اور اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے فاطمہ کے پلنگ تک پہنچ گئے۔ ایک آدمی کا ہاتھ فاطمہ کے منہ پر
‫لگا تو اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ سمجھی کہ مصلح الدین کا ہاتھ ہے۔ اس نے ہاتھ پکڑ لیا اور پوچھا …… ''کہا جارہے ہیں
‫''آپ؟
‫اس کے جواب میں ایک آدمی نے اس کے منہ پر کپڑا رکھ کر اس کا کچھ حصہ اُس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ فورا ً بعد تینوں
‫نے ا ُسے بازوئوں میں جکڑلیا۔ ایک نے منہ پر ایک اور کپڑا کس کر باندھ دیا ۔ ایک نے ایک بوری کی طرح کا تھیال کھوال۔
‫دوسرے دو آدمیوں نے فاطمہ کو دہرا کرکے رسیوں سے اُس کے ہاتھ اور پائوں باندھے اور اُسے تھیلے میں ڈال کر تھیلے کا
‫منہ بند کردیا۔ انہوں نے تھیال ا ُٹھایا اور باہر نکل گئے۔ بڑے دروازے سے بھی نکل گئے۔ گھرمیں کوئی مرد مالزم نہیں تھا۔
‫خادمائیں بھی اس رات چھٹی پر تھیں۔ تھوڑی دور ایک درخت کے ساتھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ تینوں آدمی گھوڑوں پر سوار
‫ہوئے۔ ایک نے تھیال اپنے آگے رکھ لیا۔ تینوں گھوڑے قاہرہ سے نکل گئے اور سکندریہ کا ُرخ کر لیا۔
‫صبح مالزم آگئے ۔ صلح الدین نے فاطمہ کے متعلق پوچھا ‪ ،دو خادمائوں نے اسے تالش کرکے بتایا کہ وہ گھر میں نہیں ہے۔
‫بہت دیر تک جب اس کا کوی سراغ نہ مال تو مصلح الدین ایک خادمہ کو الگ لے گیا۔ بہت دیر تک اُس کے ساتھ باتیں
‫کرتا رہا‪ ،پھر وہ اسے غیاث بلبیس کے پاس لے کر چال گیا۔ اُسے کہا کہ اُس کی بیوی الپتہ ہوگئی ہے۔ اس نے اس شک کا
‫اظہار کیا کہ خضرالحیات کو فاطمہ نے قتل کرایا ہے اور خضر مرتے مرتے انگلی سے ''مصلح ''جو لکھا تھا ‪ ،وہ دراصل
‫مصلح کی بیوی لکھنا چاہتا تھا‪ ،لیکن موت نے تحریر پوری نہ ہونے دی ۔ اس کے ثبوت میں اُس نے اپنی خادمہ سے کہا کہ
‫وہ بلبیس کو اس آدمی کے متعلق بتائے۔ خادمہ نے بیان دیا کہ پرسوں ایک اجنبی آیا‪ ،جس کے چہرے پر نقاب تھا۔ اُس
‫وقت مصلح الدین گھر پر نہیں تھا۔ ا ُس آدمی نے دروازے پر دستک دی تو یہ خادمہ باہر گئی۔ اجنبی نے کہا کہ وہ فاطمہ
‫سے ملنا چاہتا ہے۔ خادمہ نے کہا کہ گھر میں کوئی مرد نہیں‪ ،اس لیے وہ فاطمہ سے نہیں مل سکتا۔ اس نے کہا کہ فاطمہ
‫سے یہ کہہ دو کہ وہ اشرفیاں واپس کرنے آیا ہے‪ ،کہتا ہے کہ میں پوری رقم لوں گا۔ خادمہ نے فاطمہ کو بتایا تو اُس نے اس
‫آدمی کو اندر بال لیا۔
‫خادمہ نے بیان میں کہا کہ فاطمہ نے ا ُسے برآمدے میں کھڑا رہنے کوکہا اوریہ ہدایت دی کہ کوئی آجائے تو میں اسے خبردار
‫کردوں۔ خادمہ کمرے کے دروازے کے ساتھ کھڑ ی رہی۔ اندرکی باتیں جو اُسے سنائی دیں‪،ان میں اس آدمی کا غصہ اور فاطمہ
‫کی منت سماجت تھی۔ ان باتوں سے صاف پتا چلتا تھا کہ فاطمہ نے اس آدمی سے کہا تھا کہ علی بن سفیان کے نائب
‫حسن بن عبداللہ کو قتل کرنا ہے‪ ،جس کے عوض وہ اسے پچاس اشرفیاں اور دو ٹکڑے سونا دے گی۔ خادمہ کو یہ معلوم نہیں
‫ہوسکا کہ فاطمہ نے اس آدمی کو بیس اشرفیاں کس وقت اور کہاں بھیجی تھیں اور کون لے گیا تھا۔ وہ پوری پچاس اشرفیاں
‫مانگ رہا تھا۔ فاطمہ اُسے کہہ رہی تھی کہ اُس نے غلط آدمی کو قتل کیاہے۔ یہ نقاب پوش اجنبی کہہ رہا تھا کہ تم نے
‫یقین کے ساتھ بتایا تھا کہ حسن بن عبداللہ فالں وقت خضر الحیات کے گھر جائے گا۔ وہ گھات میں بیٹھ گیا۔ اُس نے ایک
‫آدمی کو خضر کے گھر کے دروازے کے قریب جاتے دیکھا۔ اُس کا قد بت حسن بن عبد اللہ کی طرح تھا۔ قتل کرتے وقت
‫اتنی مہلت نہ ملی کہ شکار کو اچھی طرح دیکھ کر یقین کر لیا جائے۔ تم نے جو وقت بتایا تھا ‪ ،یہ وہی وقت تھا۔ میں نے
‫تیر چال دیا اور وہاں سے بھاگنے کی کی ۔
‫وہ فاطمہ سے پچاس اشرفیاں مانگ رہا تھا۔ فاطمہ نے پہلے تو منت سماجت کی ‪ ،پھر وہ بھی غصے میں آگئی اور کہا کہ
‫اصل آدمی کو قتل کرو گے تو ان بیس اشرفیوں کے عالوہ پچاس اشرفیاں اور سونے کے دو ٹکڑے دوں گی۔ اس آدمی نے کا
‫کہ میں نے کام کر دیا ہے‪ ،اس کی پوری ا ُجرت لوں گا۔ فاطمہ نے انکار کردیا۔ وہ آدمی بڑے غصے میں یہ کہہ کر چال گیا
‫کہ میں پوری ا ُجرت وصول کرلوں گا ۔ فاطمہ نے خادمہ کو سختی سے کہا کہ وہ اس آدمی کے متعلق کسی سے ذکر نہ
‫کرے۔ ا ُس نے خادمہ کو دو اشرفی انعام دیا۔ آج صبح وہ اس کے کمرے میں گئی تو فاطمہ وہاں نہیں تھی۔ اُسے شک ہے کہ
‫اس آدمی نے انتقاما ً اسے اغوا کر لیا ہے۔
‫غیاث بلبیس نے کچھ سوچ کر مصلح الدین کو باہر بھیج دیا اور خادمہ سے پوچھا …… ''ٍ یہ بیان تمہیں کس نے پڑھایا ہے؟
‫''فاطمہ یا مصلح الدین نے ؟
‫فاطمہ تو یہاں نہیں ہے''۔ اُس نے کہا …… ''یہ میرا اپنا بیان ہے''۔''
‫مجھے سچ بتا دو''۔ بلبیس نے کہا …… ''فاطمہ''

‫کہا ں ہے؟ وہ کس کے ساتھ گئی ہے؟'' خادمہ گھبرانے لگی۔ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی ۔ بلبیس نے کہا ……
‫''کوتوالی کے تہہ خانے میں جانا چاہتی ہو؟ اب تم واپس نہیں جاسکو گی''۔
‫وہ غریب عورت تھی ۔ ا ُسے معلوم تھا کہ کوتوالی کے تہہ خانے میں جا کر سچ اور جھوٹ الگ الگ ہوجاتے ہیں اور اس
‫سے پہلے جسم کے جوڑ بھی الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ وہ رو پڑی اور بولی…… ''سچ کہتی ہوں تو آقا سزا دیتا ہے‪،جھوٹ
‫بولتی ہوں تو آپ سزا دیتے ہیں ''…… بلبیس نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اُسے تحفظ کا یقین دالیا۔ خادمہ نے کہا ……
‫'' میں نے قتل کے دوسرے روز صرف اتنا دیکھا تھا کہ ایک نقاب پوش آیا تھا۔ آقا مصلح الدین گھر نہیں تھے۔ نقاب پوش
‫نے فاطمہ کو باہر بالیا تھا۔ و ہ بڑے دروازے کے باہر اور فاطمہ اندر تھی ۔ وہ اس کے سامنے نہیں ہوئی۔ مالزموں نے اُسے
‫دیکھا تھا‪ ،لیکن کسی نے بھی قریب جا کر نہیں سنا کہ ان کے درمیان کیا باتیں ہوئیں۔ نقاب پوش چال گیا تو فاطمہ اندر
‫آئی۔ اُس نے چھوٹی سی ایک تھیلی ا ُٹھا رکھی تھی ۔ فاطمہ کا سر جھکا ہوا تھا ۔ وہ کمرے میں چلی گئی تھی ……
‫دوسری شام مصلح الدین نے چاروں مالزموں اور سائیس کو رات بھر کی چھٹی دے دی تھی۔ چار مالزموں میں دو مرد اور دو
‫عورتیں ہیں''۔
‫اس سے پہلے مالزموں کو کبھی رات بھر کے لیے چھٹی دی گئی ہے؟''…… بلبیس نے پوچھا۔''
‫کبھی نہیں''۔ اس نے جواب دیا…… ''کوئی ایک مالزم کبھی چھٹی لے لیتا ہے ‪ ،سب کو کبھی چھٹی نہیں دی گئی''۔''
‫خادمہ نے سوچ کر کہا …… ''عجیب بات یہ ہے کہ آقا نے کہا تھا کہ آج رات کتے کو بندھا رہنے دینا۔ اس سے پہلے ہر
‫رات کتاکھال رکھا جاتا تھا۔ بڑا خون خوار کتا ہے۔ اجنبی کی بُو پر چیر پھاڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے''۔
‫مصلح الدین کے تعلقات فاطمہ کے ساتھ کیسے تھے ؟''غیاث بلبیس نے پوچھا۔''
‫بہت دن ہوئے''۔ خادمہ نے بتایا…… ''آقا ایک بڑی خوبصورت اورجوان لڑکی الیا ہے جس نے آقا کو اپنا غالم بنا لیاہے۔ ''
‫فاطمہ کے ساتھ آقا کی بول چال بھی بند ہے''۔
‫غیاث بلبیس نے خادمہ کو الگ بٹھا کر مصلح الدین کو اندر بال لیا اور باہر نکل گیا۔ واپس آیا تو اس کے ساتھ دو سپاہی
‫تھے۔ انہوں نے مصلح الدین کو دائیں اور بائیں بازووں سے پکڑلیا اور باہر لے جانے لگے۔ مصلح الدین نے بہت احتجاج کیا ۔
‫بلبیس یہ حکم دے کر باہر نکل گیا کہ اسے قید میں ڈال دو۔ اُس نے دوسرا یہ حکم دیا کہ مصلح الدین کے گھر پر پہر ہ
‫کھڑا کردو‪ ،کسی کو باہر نہ جانے دو۔
‫٭ ٭ ٭
‫اُس وقت فاطمہ قاہرہ سے بہت ُدور شمال کی طرف ایک ایسی جگہ پہنچ چکی تھی جہاں اِرد ِگرد اونچے ٹیلے‪ ،سبزہ اور
‫پانی بھی تھا۔ یہ جگہ عام را ِہ گزر سے ہٹی ہوئی تھی۔ وہاں وہ سورج نکلنے کے وقت پہنچی تھی‪ ،گھوڑے ُرک گئے ۔ اُسے
‫تھیلے سے نکاالگیا‪ ،ا ُس کے منہ سے کپڑا ہٹا دیا گیا اور ہاتھ پاوں بھی کھول دئیے گئے۔ اُس کے ہوش ٹھکانے نہیں تھے۔ وہ
‫تین نقاب پوشوں کے نرغے میں تھی۔ تین گھوڑے کھڑے تھے۔ فاطمہ چیخنے چالنے لگی۔ نقاب پوشوں نے اُسے پانی پالیا اور
‫کچھ کھانے کو دیا۔ وہ ہاتھ نہیں آرہی تھی۔ ا ُس کے پیٹ میں پانی اورکھانا گیا اور تازہ ہوا لگی تو جسم میں طاقت آگئی۔ وہ
‫اچانک اٹھی
‫اور دوڑ پڑی۔ تینوں بیٹھے دیکھتے رہے۔ کوئی بھی اس کے تعاقب میں نہ گیا۔ ُدور جا کروہ ایک ٹیلے کی اوٹ میں چلی
‫گیء تو ایک نقاب پوش گھوڑے پر سوارہوا۔ ایڑ لگائی اور فاطمہ کو جا لیا۔ وہ دوڑ دوڑ کر تھک گئی‪ ،لیٹ گئی۔ نقاب پوش
‫نے اُسے ا ُٹھا کر گھوڑے پر ڈال لیا اور خود اس کے پیچھے سوار ہوکر واپس اپنے ساتھیوں کے پاس لے گیا۔
‫بھاگو''۔ایک نے ا ُسے تحمل سے کہا۔ ''کہاں تک بھاگو گی۔ یہاں سے توکوئی تنومند مرد بھی بھاگ کر قاہرہ نہیں پہنچ''
‫سکتا''۔ فاطمہ روتی ‪،چیختی اور گالیاں دیتی تھی۔ ایک نقاب پوش نے اُسے کہا…… ''اگر ہم تمہیں قاہرہ واپس لے چلیں تو
‫بھی تمہارے لیے کوئی پناہ نہیں ۔ تمہیں تمہارے خاوند نے ہمارے حوالے کیا ہے''۔
‫یہ جھوٹ ہے''۔ فاطمہ نے چال کر کہا ۔''
‫یہ سچ ہے''۔ اس نے کہا ۔ ''ہم نے تمہیں اُجرت کے طور پر لیا ہے۔ تم نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں تمہارے ہاتھ میں''
‫بیس اشرفیوں کی تھیلی دے آیا تھا۔ تم نے خاوند سے کہہ دیا کہ تم قاتل ہو اور تم نے بے وقوفی یہ کی کہ اُسے یہ بھی
‫کہہ دیا کہ تم کوتوال کو بتادوگی۔ وہ تم سے پہلے ہی تنگ آیاہوا تھا۔ اُس کی داشتہ نے اُس کے دل اور اس کی عقل پر
‫قبضہ کر لیا تھا۔ میں تمہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ لڑکی کون ہے اور کہاں سے آئی ہے اورکیا کرنے آئی ہے۔ دوسرے دن
‫تمہارا خاوند ہمارے ٹھکانے پر آیا۔ ایسا بے ایمان آدمی ہے کہ اس نے ہمیں خضرالحیات کے قتل کے عوض پچاس اشرفی اور
‫سونے کے دو ٹکڑے دینے کا وعدہ کیا تھا ‪ ،مگر کام ہوگیا تو صرف بیس اشرفی بھیجی۔ میں نے تمہیں استعمال کیا اور یہ
‫رقم تمہارے ہاتھ میں دے دی‪ ،تا کہ تمہیں بھی اس راز کا علم ہوجائے۔ ہمارا تیر نشانے پر بیٹھا۔ دوسرے دن وہ ہمارے
‫ٹھکانے پر آیا اور پچاس اشرفیاں دینے لگا۔ سونے کے ٹکڑے پھر بھی ہضم کر رہاتھا۔ میرے ان ساتھیوں نے کہا کہ اب ہم
‫بہت زیادہ ا ُجرت لیں گے۔ اگر وہ نہیں دے گا تو ہم کسی نہ کسی طرح کوتوال تک خبر پہنچا دیں گے۔ اسے اب خطرہ یہ
‫نظر آرہا تھا کہ تمہیں بھی پتا چل گیا تھا کہ قاتل وہی ہے اس کا عالج اس نے یہ سوچا کہ ہمیں کہا تم میری بیوی کو
‫ا ُٹھا لے جائو۔ میں تمہارے لیے راستہ صاف کردوں گا۔ ہم جان گئے کہ وہ اپنی داشتہ کے زیر اثر تم سے جان چھڑانا چاہتا
‫ہے اور اب وہ اس لیے تمہیں غائب کرنا چاہتاتھا کہ تم اس کے جرم کی گواہ بن گئی ہو اور اُسے کہہ بھی چکی ہو کہ تم
‫کوتوال کوخبر کردوں گی''۔
‫فاطمہ کے آنسو خشک ہو چکے تھے۔ وہ حیرت زدہ ہو کر اُن تینوں کو باری باری دیکھتی تھی۔ اُن کی صرف آنکھیں نظر آتی
‫تھیں۔ یہ آنکھیں ڈرائونی اور خوفناک تھیں۔ اُن کی زبان میں مٹھاس اور اپنائیت کی جھلک ضرور تھی ۔ انہوں نے اُسے
‫دھمکی نہیں دی ‪ ،بلکہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس کا تڑپنا‪ ،رونا اور بھاگنا بے کار ہے۔
‫میں نے تمہیں دیکھا تھا''۔ نقاب پوش نے اُسے کہا …… ''جب مصلح الدین نے کہا کہ میری بیوی کو اُجرت کے طور پر''
‫ا ُٹھالے جائو تو میں نے سکندریہ کی منڈی کے بھاو سے تمہاری قیمت کا اندازہ کیا۔ تم ابھی جوان ہو اور خوبصورت بھی ہو۔
‫تم بڑے اچھے داموں بک سکتی ہو۔ ہم مان گئے۔ اگر تمہارا خاوند ہمیں اتنی زیادہ اُجرت نہ دیتا توہم نے اسے بتا دیا تھا کہ
‫ا ُسے زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا اور اس کی داشتہ کو اغوا کر لیا جائے گا۔ اُس نے ہمیں بتایاکہ آج رات اُس کے گھر میں
‫کوئی مالزم نہیں ہوگا۔ کتا بھی بندھا ہوا ہواگا۔ البتہ بڑا دروازہ اندر سے بند ہوگا کہ تم دیکھ لو تو شک نہ کرو …… ہم تینوں
‫نے ایک دوسرے کے اوپڑ کھڑے ہو کر تمہارے گھر کی دیوار پھالنگی ۔ ہم نے ہاتھوں میں خنجر لے رکھے تھے اورہم سنبھل
‫سنبھل کر چل رہے تھے ‪ ،کیونکہ تمہارے خاوند پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ ہمیں مروا سکتا تھا ‪ ،لیکن ایسا نہ ہوا۔ ہمارے لیے

‫راستہ واقعی صاف تھا ۔ تمہیں اُٹھایا اور لے آئے''۔
‫اِ س نے یہ کہانی تمہیں اس لیے سنائی ہے کہ تم اپنے خاوند کے گھر کو دل سے نکال دو''…… دوسرے نقاب پوش نے ''
‫کہا …… ''ہم تمہیں یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ہم تین آدمی اکیلی عورت کی مجبوری کا فائدہ نہیں اُٹھائیں گے۔ ہم بیوپاری
‫ہیں۔ کرائے کا قتل اور اغوا ہمارا پیشہ ہے۔ ہم تمہارے جسم کے ساتھ کھیل کر خوش ہونے والے نہیں۔ تین مرد ایک عورت
‫کو اغوا اور مجبور کرکے تفریح کریں تو یہ کوئی فخر والی بات نہیں ''۔
‫تم سکندریہ کے بازار میں بیچو گے ؟''فاطمہ نے بے بسی کے لہجے میں پوچھا …… ''میری قسمت میں اب عصمت ''
‫''فروشی لکھی ہے؟
‫نہیں'' ۔ ایک نقاب پوش نے جواب دیا…… ''عصمت فروشی کے لیے جنگلی اور صحرائی لڑکیاں خریدی جاتی ہیں۔ تم ''
‫حرم کی چیز ہو۔ کسی باعزت امیر کے پاس جاو گی۔ ہمیں بھی تو اچھی قیمت چاہیے۔ ہم تمہیں مٹی میں نہیں پھینکیں
‫گے۔ تم اب رونا اور غم کرنا چھوڑ دو ‪ ،تاکہ تمہارے چہرے کی دلکشی اور رونق قائم رہے‪ ،ورنہ تم عصمت فروشی کے قابل
‫رہ جاو گی ۔ تھوڑی دیر کے لیے سوجاو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫یہ دیکھ کر ان لوگوں نے اس کے ساتھ کوئی بے ہودہ حرکت نہیں کی ‪ ،دست درازی نہیں کی ‪ ،فاطمہ کو کچھ سکون سا
‫محسوس ہوا۔ رات بھر وہ اذیت میں بھی رہی تھی ۔ تھیلے میں دہری کرکے اسے بند کیا گیاتھا‪ ،جسم درد کر رہا تھا۔ وہ
‫لیٹی اور اس کی آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد اُس کی آنکھ کھل گئی۔ اُس کا دل خوف اور گھبراہٹ کی گرفت میں
‫تھا۔ اس صورت حال کو وہ قبول نہیں کر سکتی تھی۔ ا ُس نے دیکھا کہ تینوں نقاب پوش سوئے ہوئے ہیں۔ وہ بھی رات بھر
‫کے جاگے ہوئے تھے۔ فاطمہ نے پہلے تو یہ سوچا کہ کسی ایک کا خنجر نکال کر تینوں کو قتل کردے‪ ،لیکن اتنی جرٔا ت
‫نہیں کر سکی۔ تینوں کو قتل کرنا آسان نہیں تھا۔ اُس نے گھوڑے دیکھے۔ ان لوگوں نے زینیں نہیں اُتاری تھیں۔ وہ آہستہ سے
‫ا ُٹھی اور دبے پائوں ایک گھوڑے تک پہنچی۔ سورج ٹیلوں کے پیچھے جاتا رہا تھا اور فاطمہ کو معلوم ہی نہ تھا کہ وہ قاہرہ
‫سے کسی طرف اور کتنی دورہے۔ اس نے یہ خطرہ مول لے لیا اور صحرا کی وسعت میں بھٹک بھٹک کر مرجائے گی ‪ ،ان
‫لوگوں کے ہاتھوں سے ضرور نکلے گی۔
‫ا ُسے نے گھوڑے پرسوارہوتے ہی ایڑ لگا دی ۔ ٹاپوئوں نے نقاب پوش کو جگادیا۔ انہوں نے فاطمہ کو ٹیلے کی اوٹ میں جاتے
‫دیکھ لیا تھا۔ دو نقاب پوش گھوڑوں پر سوار ہوئے اور تعاقب میں گھوڑے سرپت بھگا دئیے۔ فاطمہ کے لیے مشکل یہ تھی کہ
‫ا ُسے ٹیلوں کے قید خانے سے نکلنے کا راستہ معلوم نہیں تھا ۔ صحرائی ٹیلے بھول بھلیوں جیسے ہوتے ہیں ۔ صرف صحرا
‫کے بھیدی ان سے واقف ہوتے ہیں۔ فاطمہ ایسے ُرخ ہولی جہاں آگے ایک اور ٹیلے نے راستہ روک رکھا تھا۔اُس نے وہاں جا
‫کر پیچھے دیکھا تو نقاب پوش تیزی سے اس کے قریب آرہے تھے۔ اس نے گھوڑے کو ٹیلے پر چڑھایا اور ایڑ مارتی گئی‪،
‫گھوڑا اچھا تھا۔ اوپر جا کر پرے ا ُتر گیا۔ وہ ایک طرف کو گھوڑا موڑ لے گئی۔ آگے راستہ مل گیا۔ نقاب پوش بھی پہنچ گئے۔
‫فاصلہ کم ہو رہا تھا۔ فاطمہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا‪ ،جب اُس نے اپنے سامنے سمندر کی طرح کھال صحرا اور چار
‫شتر سوار اپنی سمت آتے دیکھے۔ اُس نے چالنا شروع کر دیا …… ''بچاو ‪ ،ڈاکوئوں سے بچائو''…… وہ اُن تک پہنچ گئی۔
‫ا ُس کے پیچھے دونوں نقاب پوشوں کے گھوڑے باہر آئے۔ شتر سواروں کو دیکھ کر انہوں نے گھوڑوں کی باگیں کھینچیں اور
‫گھوڑے موڑے بھی۔ شتر سواروں نے اونٹ دوڑادئیے۔ ایک نے کمان میں تیر رکھ کر چھوڑا تو تیر ایک گھوڑے کی گردن میں
‫اُتر گیا ۔ گھوڑا درد سے تڑپا‪ ،ا ُچھال اور بے قابو ہوگیا۔ سوار کود گیا۔ شتر سواروں نے انہیں للکارا تو دوسرے نے گھوڑا روک
‫لیا۔ انہیں معلوم تھا کہ چار شتر سوار تیر اندازوں کی زد میں ہیں۔ فاطمہ نے انہیں بتایا کہ ان کا ایک ساتھی اندرہے۔ ان
‫دونوں کو پکڑ لیا گیا…… یہ چاروں سلطان ایوبی کی فوج کے کسی گشتی دستے کے سپاہی تھے۔ سلطان ایوبی نے سارے صحرا
‫میں گشتی پہرے کا انتظام کر رکھا تھا ‪ ،تا کہ اچانک حملے کا خطرہ نہ رہے اور صلیبی تخریب کار مصر میں داخل نہ ہو
‫سکیں۔ ان گشتی دستوں کا بہت فائدہ تھا۔ انہوں نے کئی مشتبہ لوگ پکڑے تھے۔ اب یہ نقاب پوش اُن کے پھندے میں آگئے
‫۔ فاطمہ نے انہیں بتایا کہ اُسے کس طرح یہاں تک الیا گیا ہے ‪ ،وہ کس کی بیوی ہے۔ اُس نے یہ بھی بتایا کہ ناظم مالیات
‫خضرالحیات قتل ہوگیا ہے۔ قتل اس کے خاوند مصلح الدین نے کرایا ہے ‪ ،جو شہر کا ناظم ہے اور قاتل ان تینوں میں سے
‫ایک ہے۔
‫تیسرے نقاب پوش کو بھی پکڑ لیا گیا۔ ا ُن سے خنجر لے لیے گئے۔ ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ دئیے گئے۔ ان کاایک گھوڑا تیر
‫لگنے سے بھاگ گیا تھا۔ ایک گھوڑے پر دو نقاب پوشوں کو اور تیسرے پر ایک کو بٹھا کر سپاہی اپنے کمانڈر کے پاس لے
‫چلے۔ فاطمہ کو انہوں نے اونٹ پر بٹھالیا۔ اس اونٹ کا سوار اپنے ایک ساتھی کے پیچھے سوار ہوگیا۔ اس قافلے کے سامنے
‫چار میل کی مسافت تھی جو انہوں نے سورج غروب ہونے تک طے کرلی۔ وہ ایک نخلستان تھا ‪ ،جہاں خیمے بھی نصب
‫تھے۔ یہ اس دستے کا ہیڈ کواٹر تھا۔ فاطمہ کو اس کمان دار کے سامنے پیش کیا گیا۔ تینوں نقاب پوشوں کو پہرے میں بٹھا
‫دیا گیا ۔ انہیں اگلے روز قاہرہ بھیجنا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبیوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کرک میں بیٹھے بیٹھے صالح الدین ایوبی کا انتظار نہیں کریں گے۔ انہوں نے فوج کو
‫تقسیم کرنا شروع کردیا۔ فرانس کی فوج کو انہوں نے سلطان ایوبی کی فوج کو راستے میں روکنے کے لیے تیاری کا حکم دیا ۔
‫ریمانڈ کی فوج مسلمانوں کی فوج پر عقب سے حملے کے لیے مقرر ہوئی۔ کرک کے قلعے کے دفاع کے لیے جرمنی کی فوج
‫تھی‪ ،جس کے ساتھ فرانس اور انگلستان کے کچھ دستے تھے۔ انہیں جاسوسوں نے بتا دیا تھا کہ سلطان ایوبی نئی فوج تیار
‫کر رہا ہے۔ صلیبی حکمرانوں نے اس اقدام کا جائزہ لیا کہ وہ صالح الدین ایوبی کے ٹریننگ کیمپ پر حملہ کرکے پیچھے ہٹ
‫آئیں‪ ،لیکن ا ُن کی انٹیلی جنس نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ دلیل یہ دی کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے دفاع کی تین
‫تہیں بنا رکھی ہیں‪ ،جن میں ایک تہہ متحرک ہے۔ اس کے عالوہ اس کے دیکھ بھال کے دستے دور دورتک گھومتے پھرتے
‫ہیں اور صحرا میں ہلتی ہوئی ہر چیز کو قریب جا کر دیکھتے ہیں۔ ان دفاعی انتظامات کو دیکھ کر صلیبیوں نے اس حملے کا
‫خیال دل سے نکال دیا۔
‫ایک امریکی مصنف انٹینی ویسٹ نے متعدد مؤرخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ صلیبیوں کے پاس صالح الدین ایوبی کی نسبت
‫چار گناہ فوج تھی‪ ،جس میں زرہ پوش پیادہ اور سوار دستوں کی بہتات تھی۔ اگر یہ فوج صالح الدین ایوبی پر برا ِہ راست
‫حملہ کردیتی تو مسلمان زیادہ دیر جم نہ سکتے ‪ ،مگر صلیبی فوج کو شوبک کی شکست میں جو نقصان اُٹھانا پڑا‪ ،اس کی
‫میدان جنگ سے بھاگے ہوئے فوجیوں پر طاری تھی۔ صلیبیوں کامورال متز لزل تھا‪ ،جس کی ایک
‫ایک دہشت بھی تھی جو
‫ِ

‫وجہ تو یہ تھی کہ شوبک کو وہ لوہے کا قلعہ سمجھتے تھے۔ وہ اپنی فوج کو صحرا میں بھیج کر اس خوش فہمی میں مبتال
‫ہوگئے تھے کہ سلطان ایوبی کو قلعوں سے دور ہی ختم کردیں گے۔ وہ کرک کے دفاع میں بیٹھے رہے اور ایوبی نے شوبک
‫لے لیا اور صحرا میں صلیبیوں کو آمنے سامنے کی جنگ کا موقع دئیے بغیر انہیں چھاپہ ماروں سے مروا دیا ۔ اس کی ''آگ
‫کی ہانڈیوں'' نے گھوڑوں اور اونٹوں کو اتنا دہشت زدہ کیا کہ خاصے عرصے تک جانور معمولی سی آگ دیکھ کر بھی بدک
‫جاتے تھے۔ انٹینی ویسٹ نے یہ ثبوت بھی مہیا کیا ہے کہ صلیبی فوج مختلف بادشاہوں اور ملکوں کی مرکب تھی جوبظاہر
‫اعلی کمانڈر ملک گیری اور بادشاہی کی توسیع
‫متحد تھی ‪ ،لیکن یہ اتحاد برائے نام تھا کیونکہ ہر بادشاہ او اس کی فوج کا
‫ٰ
‫کا خواہش مند تھا۔ ان میں صرف یہ جذبہ مشترکہ تھا کہ مسلمان کو ختم کرنا ہے‪ ،مگر ان کے دلوں میں جو اختالفات تھے‪،
‫وہ اُن کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے تھے۔
‫مورخ لکھتے ہیں کہ صلیبی سازشوں کے ماہر تھے اور مسلمانوں کے جس عالقے پر قابض ہوجاتے تھے‪ ،وہاں قتل عام اور
‫آبروریزی شروع کردیتے تھے۔ اس کے برعکس صالح الدین ایوبی محبت اور اخالقی قدروں کو ایسی خوبی سے استعمال کرتا تھا
‫کہ دشمن بھی اس کے گرویدہ ہوجاتے تھے۔ اس کے عالوہ اُس نے اپنی فوج میں یہ خوبی پیدا کردی تھی کہ دس سپاہیوں کا
‫چھاپہ مار دستہ ایک ہزار نفری کے فوجی کیمپ کو تہس نہس کرکے غائب ہوجاتا تھا۔ یہ لوگ جان قربان کرنے کو معمولی
‫میدان جنگ میں تھوڑی سی فوج کو ترتیب دیتا تھا ‪ ،وہ
‫سی قربانی سمجھتے تھے۔ سلطان صالح الدین ایوبی جس اندازسے
‫ِ
‫بڑی سے بڑی فوج کو بھی بے بس کردیتی تھی۔ شوبک اور کرک کے میدان میں بھی اس نے اسی جنگی دانشمندی کامظاہرہ
‫کیا تھا۔ صلیبیوں نے اس کا جائزہ لیا‪ ،اپنی فوج کی جسمانی اور جذباتی کیفیت دیکھی تو انہوں نے براہ راست حملے کا
‫خیال چھوڑ دیا اور کوئی دوسرا ڈھونگ لیا‪ ،لیکن اس ڈھنگ کے متعلق بھی انہیں شک تھا۔ اس کاعالج انہوں نے یہ کیا کہ
‫مصر میں بغاوت بھڑکانے اور سوڈانیوں کو مصر پر حملہ کرنے پر اُکسانے کا اہتمام کرلیا۔
‫مصر کے نائب ناظم امور شہری مصلح الدین کی طرف سے انہیں اُمید افزا رپورٹیں مل رہی تھیں‪ ،وہاں ابھی یہ اطالع نہیں
‫پہنچی تھی کہ مصر کا ناظم خضرالحیات قتل ہوگیا ہے اور مصلح الدین پکڑا گیا ہے۔ کرک تک یہ اطالع پہنچنے کے لیے کم
‫از کم پندرہ دن درکار تھے‪ ،کیونکہ راستے میں سلطان صالح الدین کی فوج تھی۔ قاصد بہت ُدور کا چکر کاٹ کر اور قدم
‫پھونک پھونک کر کر ک جاسکتے تھے۔ بہت دنوں کا چال ہواایک قاصد اُس رات وہاں پہنچا ‪ ،جس رات فاطمہ اغوا ہوئی
‫تھی۔ ا ُس نے رپورٹ دی کہ بغاوت کے لیے فضا سازگار ہے‪ ،لیکن سوڈانی ابھی حملے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے ہاں
‫گھوڑوں کی کمی ہے‪ ،ان کے پاس اونٹ زیادہ ہیں۔ انہیں کم و بیش پانچ سو اچھے گھوڑوں کی ضرورت ہے۔ اتنی ہی زینیں
‫درکار ہیں۔ فرانسیسی فوج کے کمانڈر نے کہا کہ پانچ سو گھوڑے فورا ً روانہ کر دئیے جائیں اور ان کے ساتھ صلیبی فوج کے
‫پانچ سات افسروں کو بھی بھیج دیا جائے جو سوڈانیوں کی جنگی اہلیت اور کیفیت کا جائزہ لے کرحملہ کرائیں۔
‫صلیبیوں کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی ۔ انہوں نے کرک میں اعالن کردیاکہ مصر پر حملے کے لیے پانچ سو گھوڑوں کی
‫فوری ضرورت ہے۔ عیسائی باشندوں نے تین دنوں میں گھوڑے مہیا کردئیے جو ایسے راستے سے روانہ کر دئیے گئے‪ ،جس کے
‫متعلق یقین تھا کہ پکڑے نہیں جائیں گے۔ اس کا راہنما وہی جاسوس تھا جو گھوڑے مانگنے آیاتھا۔ وہ سوڈانی تھا اور تین
‫سال سے جاسوسی کر رہا تھا۔ ان گھوڑوں کے ساتھ آٹھ صلیبی فوج کے افسر تھے‪ ،جنہیں سوڈانی حملے کی قیادت کرنی
‫تھی۔ انہیں یقین دالیا گیاتھا کہ صالح الدین ایوبی کی فوج کویہاں سے نکلنے نہیں دیاجائے گا…… سلطان صالح الدین ایوبی کو
‫صرف یہ معلوم تھا کہ مصر کے حاالت ٹھیک نہیں ‪ ،لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ حاالت آتش فشاں پہاڑ بن چکے ہیں
‫جو پھٹنے واال ہے۔ علی بن سفیان نے اسے یہ تسلی دے رکھی تھی کہ اُس نے جاسوسی کا جو جال بچھایا ہے‪ ،وہ خطروں
‫سے قبل از وقت خبردار کردے گا۔ انہیں خضرالحیات کے قتل اور مصلح الدین کی گرفتاری کا بھی علم نہیں تھا۔ غیاث بلبیس
‫کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ سلطان صالح الدین ایوبی کو اطالع بجھوادے ‪ ،لیکن اُس نے یہ کہہ کر اس مشورے پر عمل نہیں
‫کیا تھا کہ تفتیش مکمل کرکے اصل صورت حال سے سلطان ایوبی کو آگاہ کرے گا۔
‫فاطمہ کو گشتی دستے کے کمانڈر نے رات الگ خیمے میں رکھا۔ سحر کا ُدھندلگا ابھی صاف نہیں ہوا تھا۔ اب اُسے اور تینوں
‫نقاب پوشوں کو آٹھ محافظوں کے ساتھ قاہرہ کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ یہ قافلہ سورج غروب ہونے کے بعد قاہرہ پہنچا اور
‫سیدھا کوتوالی گیا۔ غیاث بلبیس اس واردات کی تفتیش میں مصروف تھا۔ اُس وقت وہ تہہ خانے میں تھا۔ اُس نے مصلح الدین
‫کے گھر کی تالشی لی اور وہاں سے ا ُس کی داشتہ کو برآمد کیاتھا۔ وہ اپنے آپ کو ازبک مسلمان بتاتی تھی۔ اُس نے بلبیس
‫کو گمراہ کرنے کی بہت کوشش کی۔ اس کے جواب میں بلبیس نے اُسے اُس کوٹھری کی جھلک دکھائی ‪ ،جہاں بڑے بڑے
‫سخت جان مرد بھی سینے کے راز ا ُگل دیا کرتے تھے۔ لڑکی نے اعتراف کرلیا کہ وہ یروشلم سے آئی ہے اورعیسائی ہے۔ اُس
‫نے اعتراف کے ساتھ بلبیس کو اپنے جسم اوردولت کے اللچ دینے شروع کردئیے۔ بلبیس نے مصلح الدین کے گھرکی تالشی میں
‫جو دولت برآمد کی تھی‪ ،اس نے ا ُس کا دماغ ہال دیا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ مصلح الدین کیوں صلیبیوں کے جال میں
‫پھنس گیا تھا۔ خود لڑکی اس قدر پر کشش اورچرب زبان تھی کہ اُسے ٹھکرانے کے لیے پتھر دل کی ضرورت تھی۔
‫بلبیس نے اپنا ایمان ٹھکانے رکھا۔ ا ُس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ تو کوئی بہت بڑی سازش تھی جس کی کڑیاں یروشلم سے جا
‫ملتی ہیں۔ ا ُس نے لڑکی سے کہاکہ وہ ہر ایک بات بتا دے۔ لڑکی نے جواب میں کہا …… ''میں جو کچھ بتا سکتی تھی ‪،
‫بتا دیا ہے۔ اس سے آگے کچھ بتائوں گی تو یہ صلیب کے ساتھ دھوکا ہوگا۔ میں صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف اُٹھا چکی ہوں
‫کہ اپنے فرض کی ادائیگی میں جان دے دوں گی۔ میرے سا تھ جو سلوک کرنا چاہو کرلو‪ ،کچھ نہیں بتائوں گی۔ اگر مجھے
‫آزاد کرکے یروشلم یاکرک پہنچا دو گے تو منہ مانگی دولت تمہارے قدموں میں رکھ دی جائے گی۔ مصلح الدین تمہاری قید میں
‫ہے۔ اس سے پوچھ لو‪ ،وہ تمہارا بھائی ہے۔ شاید کچھ بتا دے''۔
‫بلبیس نے ا ُس سے مزید کچھ بھی نہ پوچھا۔ وہ مصلح الدین کے پاس چال گیا۔ مصلح الدین بڑی بری حالت میں تھا۔ اسے
‫چھت کے ساتھ اس طرح لٹکایا گیا تھا کہ رسہ کالئیوں سے بندھا تھا اوراس کے پائوں فرش سے اوپر تھے۔ بلبیس نے جاتے
‫ہی ا ُس سے پوچھا …… ''مصلح دوست! جو پوچھتا ہوں ‪ ،بتادو۔ تمہاری بیوی کہاں ہے؟ اور اسے کس نے اغوا کرایا ہے؟
‫اب تمہیں کچھ اور باتیں بھی بتانی پڑیں گی۔ تمہاری داشتہ اپنے آپ کو بے نقاب کرچکی ہے''۔
‫کھول دے مجھے ذلیل انسان!''…… مصلح الدین نے غصے اور درد سے دانت پیس کر کہا …… ''امیر مصر کو آنے دے۔ ''
‫میں تیرا یہی حشر کراوں گا''۔
‫اتنے میں بلبیس کے ایک اہل کار نے آکر اس کے کان میں کچھ کہا۔ حیرت سے اُس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔ وہ دوڑتا ہوا تہ
‫خانے سے نکال اور اوپر چال گیا۔ وہاں مصلح الدین کی بیوی اور اُسے اغوا کرنے والے تین آدمی بیٹھے تھے۔ فاطمہ نے اُسے
‫بتایا کہ وہ کس طرح اغوا ہوئی اور تینوں کس طرح پکڑے گئے ہیں۔ بلبیس فاطمہ اور تین مجرموں کو تہ خانے میں لے گیااور

‫مصلح الدین کے سامنے جا کھڑا کیا۔ مصلح الدین نے انہیں دیکھا اور آنکھیں بند کرلیں۔ بلبیس نے پوچھا …… ''ان تینوں میں
‫سے قاتل کون ہے؟''…… مصلح الدین خاموش رہا۔ بلبیس نے تین دفعہ پوچھا۔ وہ پھربھی خاموش رہا۔ بلبیس نے تہ خانے کے
‫ایک آدمی کواشارہ کیا۔ وہ آدمی آگے گیا اور مصلح الدین کی کمر کے گرد بازو ڈال کراس کے ساتھ لٹک گیا۔ اس آدمی کاوزن
‫مصلح الدین کی کالئیاں کاٹنے لگا جو رسے سے بندھے ہوئی تھیں۔ اُس نے درد سے چیختے ہوئے کہا …… ''درمیان واال''۔
‫بلبیس تینوں کو الگ لے گیا اور انہیں کہا کہ وہ بتادیں کہ وہ کون ہیں اور یہ سارا سلسلہ کیا ہے‪ ،ورنہ یہاں سے زندہ نہیں
‫نکل سکیں گے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور بولنے پر رضا مند ہوگئے۔ بلبیس نے انہیں الگ الگ کر دیا اور فاطمہ کو
‫اوپر لے گیا۔ فاطمہ نے اُسے وہی بات سنائی جو سنائی جا چکی ہے۔ اُس نے اپنے متعلق یہ بتایا کہ اس کی ماں سوڈانی
‫اورباپ مصر ی ہے۔ تین سال گزرے‪ ،وہ اپنے باپ کے ساتھ مصر آئی۔ مصلح الدین نے اُسے دیکھ لیا اور اس کے باپ کے
‫پاس آدمی بھیجے۔ اسے یہ معلوم نہیں کہ رقم کتنی طے ہوئی۔ اب اسے مصلح الدین کے گھر چھوڑا گیا اور ایک تھیلی لے
‫کر چال گیا۔ مصلح الدین نے ایک عالم اور چند ایک آدمیوں کو بال کرباقاعدہ نکاح پڑھوایا اور وہ اس کی بیوی بن گئی۔ اُسے
‫شک تھاکہ باپ اُسے یہاں بیچنے کے لیے ہی الیاتھا۔ مصلح الدین کے خالف اُسے کبھی بھی شک نہیں ہوا تھا کہ وہ اتنا برا
‫آدمی ہے۔ وہ شراب نہیں پیتا تھا۔ اس کی باہر کی سرگرمیوں کے متعلق فاطمہ کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔
‫صالح الدین ایوبی نے شوبک کی طرف کوچ کیا تواس کے فورا ً بعد مصلح الدین میں ایک تبدیلی آئی ۔ وہ رات بہت دیر تک
‫باہر رہنے لگا۔ ایک رات فاطمہ نے دیکھا کہ وہ شراب پی کر آیاہے۔ فاطمہ کا باپ شرابی تھا۔ وہ شراب کی بواور شرابی کو
‫پہچان سکتی تھی ۔ ا ُس نے مصلح الدین کی محبت کی خاطر یہ بھی برداشت کیا۔ پھر گھر میں رات کے وقت اجنبی سے
‫آدمی آنے لگے۔
‫٭ ٭ ٭
‫داستان ایمان فروشوں کی ‪ 19:39
‫قسط نمبر‪41.۔
‫"قاھرہ میں بغاوت اورسلطان ایوبی "
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫پھر گھر میں رات کے وقت اجنبی سے آدمی آنے لگے۔ مصلح الدین نے ایک رات فاطمہ کو اشرفیوں کی دو تھیلیاں اور سونے
‫کے چند ایک ٹکڑے دکھا کر گھرمیں رکھ لیے اور ایک رات جب وہ شراب میں بدمست ہو کر آیا تو اُس نے فاطمہ سے کہا
‫…… ''اگر مصر کا شمالی عالقہ جو بحیرئہ روم کے ساحل کے ساتھ ملتا ہے‪ ،مجھے مل جائے تو تم پسند کروگی یا سوڈان
‫کی سرحد کے ساتھ کا عالقہ؟ تم جو پسند کرو اس کی تم ملکہ ہوگی اور میں بادشاہ''…… فاطمہ اتنے اونچے دماغ کی لڑکی
‫نہیں تھی کہ اس سلسلے میں اس کے کچھ پوچھتی۔ وہ سمجھی کہ اس کا خاوند زیادہ شراب پی کر بہک گیاہے۔ ہوش میں
‫وہ ایسی باتیں نہیں کرتا تھا‪ ،پھر ایک روز ایک بڑی حسین لڑکی اس کے گھر الئی گئی۔ ساتھ دو آدمی تھے ۔ یہ لڑکی اس
‫کے گھر میں ہی رہی۔ نکاح نہیں پڑھایا گیا۔ اس لڑکی نے فاطمہ کو دوست بنانے کی بہت کوشش کی ‪ ،لیکن اُسے اس لڑکی
‫سے نفرت ہوگئی۔ اس لڑکی نے اُس سے ا ُس کا خاوند چھین لیا۔ اس کے بعد خضرالحیات کے قتل کا واقعہ ہوا۔
‫تینوں نقاب پوشوں نے بلبیس کو غلط باتیں بتانے کی کوشش کی‪ ،لیکن بلبیس انہیں راستے پر لے آیا۔ تینوں نے الگ الگ جو
‫بیان دئیے ‪ ،ان سے یہ انکشاف ہوا کہ تینوں حشیشین کے گروہ کے آدمی ہیں۔ انہیں صلیبیوں کی طرف سے مصلح الدین کے
‫ساتھ لگایا گیا تھا۔ مصلح الدین کو بے شمار دولت‪ ،ایک عیسائی لڑکی دی گئی تھی اور یہ وعدہ کہ صالح الدین ایوبی کے
‫خالف بغاوت کامیاب کرادے تو مصر کی سرحد کے ساتھ اسے ایک الگ ریاست بناکردی جائے گی‪ ،جس کی حکمرانی اس کے
‫اعلی حکام کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیا تھا‪،
‫ہاتھ میں اور اس عیسائی لڑکی کے ہاتھ میں ہوگی۔ مصلح الدین نے
‫ٰ
‫مگرخضرالحیات اس کے ہاتھ میں نہیں آرہاتھا۔ مالیات اور بیت المال پر قبضہ ضروری تھا جو خضرالحیات کی موجودگی میں
‫ممکن نہ تھا۔ خزانے کا محافظ دستہ جانبازوں کا منتخب گروہ تھا۔ مصلح الدین خضرالحیات کو قتل کروا کے اس دستے کو
‫تبدیل کرانا چاہتاتھا۔ اس میں باغی افراد رکھنے تھے اور دو حشیشین ۔ ان تینوں کے ذمے ہر اُس حاکم کا قتل تھا جس کا
‫فیصلہ مصلح الدین کو کرنا تھا۔ انہیں اس کا م کی اُجرت صلیبیوں کی طرف سے باقاعدہ مل رہی تھی۔ وہ چونکہ یہ کام
‫کاروبار اور پیشے کے طور پر کرتے ہیں ‪ ،اس لیے فالتواُجرت لینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے مصلح الدین
‫سے پچاس اشرفیاں اور سونا الگ مانگا جو اُس نے خضرالحیات کے قتل کے بعد انہیں نہیں دیا۔ اُس نے کہا تھا کہ تمہیں
‫پوری ا ُجرت مل رہی ہے۔انہوں نے اسے قتل کی دھمکی دی تو اس نے انہیں اپنی بیوی پیش کی اورکہا کہ تمہیں اس کی
‫اچھی قیمت مل جائے گی۔ فاطمہ اس کے ساتھ تعاون نہیں کررہی تھی۔
‫مصلح الدین ابھی تک چھت کے ساتھ لٹکاہوا تھا۔ اُسے بیان لینے کے لیے اُتارا گیا تو وہ بے ہوش ہوچکا تھا۔ جاسوس لڑکی
‫کی کوٹھڑی میں گئے تو وہ مری پڑ ی تھی۔ اُس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی ۔ طبیبوں نے آکر دیکھا اورکہا کہ اس نے
‫زہر کھا لیاہے۔ اس کے پاس چھوٹا سا ایک کپڑا پڑا ہوا تھا‪ ،صاف پتا چلتا تھا کہ اس میں زہر بندھان ہواتھا جو لڑکی نے
‫اپنے کپڑوں میں کہیں چھپا رکھا تھا…… بہت دیر بعد مصلح الدین ہوش میں آیا‪ ،لیکن وہ بہکی بہکی باتیں کرتا تھا۔ بولتے
‫بولتے چپ ہوجاتا اور پھٹی پھٹی نظروں سے سب کو دیکھنے لگتا۔ پھر بے معنی باتیں شروع کردیتا۔ طبیبوں نے اسے دوائیاں
‫کھالئیں‪ ،لیکن اس کا دماغ اذیت اور پکڑے جانے کے صدمے سے بگڑ گیا تھا۔
‫ا ُسی رات غیاث بلبیس کے پاس ایک معزز شخصیت آئی۔ اس کانام زین الدین علی بن نجاالواعظ تھا۔ اس نے بلبیس سے کہا
‫کہ ا ُسے پتا چال ہے کہ کچھ جاسوس اور تخریب کار پکڑے گئے ہیں اور وہ بھی کچھ انکشاف کرنا چاہتا ہے۔زین الدین مذہب‪،
‫سیاست اور معاشرت کے میدان کا بزرگ قائد تھا۔ وہ پیرومرشد تو نہیں تھا لیکن بڑے بڑے حاکم بھی اس کے مرید تھے۔
‫چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی اسے پیروں کی طرح مانتا تھا۔ ا ُسے حاکموں اور معاشرت میں اونچی حیثیت کے دو چار افراد
‫سے پتا چال تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی اور اس کی فوج کی غیر حاضری سے دشمن فائدہ اُٹھا رہا ہے اور ایسی
‫چابکدستی سے سازش اور بغاوت کا زہر پھیال رہا ہے کہ کسی کو پکڑنا آسان نہیں۔ زین الدین نے غیاث بلبیس اور علی بن
‫سفیان کے نائب حسن بن عبداللہ کو بتانے کی بجائے اپنے طور پر اس تخریب کاری کی جاسوسی شروع کردی تھی۔ فوج کے
‫چھوٹے بڑے افسر بھی اس کی محفل میں آتے تھے۔ اُس نے ان سے بہت سی باتیں معلوم کرلی تھیں اور متعدد زمہ دار
‫افراد کے نام اور ان کی سرگرمیاں بھی معلوم کر لی تھیں۔ اُس نے دراصل ذاتی طور پر تخریب کاروں کے خالف اپنا ایک
‫گروہ تیا ر کر لیا تھا‪ ،جس نے نہایت نازک راز حاصل کر لیے تھے۔
‫ایک مصری وقائع نگار محمد فرید ابو حدید نے اپنی تصنیف ''سلطان صالح الدین ایوبی'' میں سازش اور بغاوت کے انکشاف

‫کا سہرا زیان الدین علی کے سر باندھا ہے اور تین چار مؤرخین کے حوالے دئیے ہیں‪ ،لیکن اُس دور کی جو تحریریں محفوظ
‫ہیں ‪ ،ان سے پتا چلتا ہے کہ محکمہ مالیات کے ناظم کے قتل سے صلیبیوں کی یہ سازش بے نقاب ہوئی تھی‪ ،جس کے آلہ
‫کار وہ مسلمان تھے جن پر سلطان صالح الدین ایوبی کو اعتماد تھا۔ بہرحال اس بزرگ شخصیت کی ذاتی کاوش اور اس کا
‫خراج تحسین پیش کیاہے۔ اس نے بلبیس
‫جو حاصل تھا ‪ ،وہ قومی سطح کا ایسا کارنامہ تھا جسے مؤرخین نے بجا طور پر
‫ِ
‫سے کہا کہ وہ ابھی کچھ دن اور اپنی جاسوسی جاری رکھنا چاہتاتھا تاکہ ہر ایک سازشی کی نشاندہی ہوجائے‪،لیکن ان تخریب
‫کاروں کی گرفتاری کی خبر شہر میں مشہور ہوگئی ہے‪ ،جس سے ان کے ساتھی روپوش ہوجائیں گے۔ اُس نے نام اور پتے
‫وغیرہ بتا دئیے۔ اپنے آدمی بھی بلبیس کے حوالے کر دئیے۔ حسن بن عبد اللہ کو بال لیا گیا۔
‫حسن اوربلبیس نے فیصلہ کیا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو فوری طور پر اطالع دے دی جائے۔ اس کے لیے زین الدین کو
‫ہی منتخب کیا گیا اور اُسی روز ا ُسے بارہ سواروں کے محافظ دستے کے ساتھ شوبک روانہ کردیا گیا۔
‫تیسری شام یہ قافلہ شوبک پہنچ گیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے جب زین الدین کو دیکھا تو حیران بھی ہوا اور خوش بھی
‫۔ وہ اس شخصیت سے واقف تھا۔ بغل گیر ہو کر مال۔ زین الدین نے کہا …… ''میں کوئی اچھی خبر نہیں الیا۔ ناظم مالیات
‫خضرالحیات قتل ہوچکا ہے اور اس کا قاتل آپ کا نائب مصلح الدین کوتوالی پاگل ہوگیا ہے''…… سلطان کا رنگ پیال پڑ
‫گیا۔ زین الدین نے اُسے تسلی دی اور تفصیالت بتائیں۔ اُس فوج کے متعلق جو مصر میں تھی‪ ،اُس نے بتایا کہ اس میں بے
‫اطمینانی پھیالدی گئی ہے۔ اس قسم کی افواہیں پھیالئی گئی ہیں کہ شوبک کو سر کرنے والی فوج کو سونے چاندی سے ماال
‫مال کردیا گیا ہے اور اسے عیسائی لڑکیاں بھی دی گئی ہیں۔ مصر والی فوج میں یہ دہشت بھی پیدا کردی گئی ہے کہ
‫سوڈانیوں کا بہت بڑا لشکر مصر پر حملہ کرنے واال ہے‪ ،جسے مصر کی یہ تھوڑی سی فوج نہیں روک سکے گی۔ اس فوج کے
‫ہر ایک سپاہی کو قتل کردیا جائے گا اور صالح الدین ایوبی چاہتا ہی یہی ہے کہ یہ فوج قتل ہوجائے۔ اس کے عالوہ یہ افواہ
‫بھی پھالئی گئی ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی محاذ پر شدید زخمی ہوگیا ہے ‪ ،شاید زندہ نہیں رہے گا۔ اس کے کمانڈر
‫وہاں من مانی کر رہے ہیں۔ زین الدین نے تایا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے زخمی ہونے کی خبر پر یقین کر لیا گیاہے ۔
‫اسی لے مصلح الدین جیسے حاکم مصر کو صلیبیوں کی مدد سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے اور اپنی اپنی خود
‫مختار ریاستوں کے قیام کے انتظامات کر رہے ہیں۔
‫سلطان ایوبی نے وقت ضائع کیے بغیر برق رفتار قاصد بالیا اور نورالدین زنگی کے نام ایک پیغام میں مصر کے یہ سارے حاالت
‫لکھے اور اس سے فوجی مدد مانگی۔ ا ُس نے لکھا کہ میں یہاں رہتا ہوں تو مصر ہاتھ سے جاتا ہے‪ ،چال جاتا ہوں تو شوبک
‫کی فتح شکست میں بدل جائے گی۔ لیا ہوا عالقہ کسی قیمت پرواپس نہیں دیا جائے گا۔ میں ابھی فیصلہ نہیں کر سکا کہ
‫یہاں رہوں یا مصر چال جائوں …… اُس نے قاصد سے کہا کہ وہ ِد ن اوررات گھوڑا بھگاتا رہے۔ گھوڑا تھک جائے تو جو کوئی
‫سوار سامنے آئے‪ ،اس سے گھوڑا بدل لے۔ کوئی انکار کرے تواُسے قتل کردے۔ رفتار کم نہ ہو اور اُسے یہ ہدایت بھی دی کہ
‫اگر وہ دشمن کے گھیرے میں آجائے تو نکلنے کی کوشش کرے اور اگر پکڑا جائے تو پیغام منہ میں ڈال کر نگل لے ۔ دشمن
‫کے ہاتھ پیغام نہ لگے۔ قاصد روانہ ہوگیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ایسا ہی ایک اور قاصد بالیا اور اُسے اپنے بھائی تقی
‫الدین کے نام پیغام لکھ کر ا ُسے وہی ہدایات دیں جو پہلے قاصد کو دی تھیں۔ اس پیغام میں اُس نے بھائی کو لکھا کہ
‫تمہارے پاس جوکچھ بھی ہے ‪ ،جتنے لڑاکا آدمی اکھٹے کر سکتے ہو‪ ،گھوڑوں پر سوار ہوجائو اور قاہرہ پہنچو۔ راستے میں بال
‫ضرورت ُر کنا نہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں تمہیں کہاں ملوں گا۔ ملوں گا بھی یا نہیں۔ اگر قاہرہ میں ہماری مالقات نہ ہو
‫ِ
‫اماررت مصر سنبھال لینا۔ مصر بغداد کی خالفت کی مملکت ہے اور خدائے ذوالجالل نے اس
‫سکی اور اگر میں زندہ نہ رہا تو
‫مملکت کی ذمہ داری ایوبی خاندان کو سونپی ہے۔ روانگی سے قبل قبلہ والد محترم )نجم الدین ایوب( کے آگے جھکنا
‫اورانہیں کہنا کہ وہ تمہاری پیٹھ پر ہاتھ پھیریں‪ ،پھر محترمہ والدہ کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر اُن کی روح سے دعائیں لے کر
‫آنا۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ میں جہاں ہوں‪ ،وہاں اسالم کا پرچم سرنگوں نہیں ہوگا۔ تم مصر میں اس پرچم کو سر بلند رکھو۔
‫یہ قاصد بھی روانہ ہوگیا۔
‫ان دونوں میں سے جو قاصد نورالدین زندگی کے پاس پہنچا‪ ،اس کی جسمانی حالت یہ تھی کہ اس کا بایاں بازو تلواروں کے
‫زخموں سے قیمہ بنا ہوا تھااور اس کی پیٹھ میں ایک تیر ا ُترا ہوا تھا۔ وہ زنگی کے قدموں میں گرا۔ اتنا ہی کہہ سکا کہ
‫راستے میں دشمن مل گیا تھا ۔ اس حال میں پیغام لے کے نکال ہوں۔
‫ا ُس نے پیغام زنگی کے ہاتھ میں دیا اور شہید ہوگیا۔ نورالدین زنگی کی فوج جب شوبک کے قریب پہنچی تو قلعے اور شہر
‫میں اعالن ہوگیا کہ صلیبیوں کا بہت بڑا حملہ آرہا ہے۔ گرد آسمان تک جارہی تھی۔ پتا نہیں چلتا تھا کہ گرد میں کیا
‫ہے‪،امکان یہی ہے کہ یہ صلیبی فوج ہے۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر شوبک کی فوج مقابلے کے لیے تیار ہوگئی ‪،لیکن گرد میں
‫جو جھنڈے نظر آئے۔ وہ اسالمی تھے‪ ،پھر گرد میں تکبیر کے نعرے سنائی دئیے۔قلعے سے سلطان صالح الدین ایوبی کے نائبین
‫استقبال کے لیے آگے چلے گئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫تین چار روز بعد صبح سویرے قاہرہ میں جو فوج تھی ا ُسے میدان میں جمع ہونے کا حکم مال۔ فوجی چہ میگوئیاں کرنے لگے
‫کہ انہیں تیاری کا حکم مال ہے۔ بعض نے کہا کہ بغاوت ہوگی۔ کسی نے کہا کہ سوڈانیوں کا حملہ آرہا ہے ۔ ان کے کمانڈروں
‫تک کو علم نہیں تھا کہ اس اجتماع کا مقصد کیا ہے؟یہ حکم فوج کی مرکزی کمان سے جاری ہوا تھا…… جب تمام فوج اپنی
‫ترتیب سے میدان میں آگئی تو ایک طرف سے چھ سات گھوڑے دوڑتے آئے۔ سب دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سب سے آگے
‫صالح الدین ایوبی تھا۔سب جانتے تھے کہ وہ شوبک میں ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ایک عجیب حرکت کی۔ اُس نے
‫تہ بند کے سوا تمام کپڑے ا ُتار کر پھینک دئیے۔ سر بھی ننگا کر دیا اور فوج کی تمام صفوں کے سامنے سے گھوڑا ُدلکی چال
‫چالتا گزرگیا۔ پھر سامنے آکر بلندآواز سے کہا …… ''میرے جسم پر کسی نے کوئی زخم دیکھا ہے؟ کیا میں زندہ ہوں یا
‫''مردہ؟
‫امیر مصر کا اقبال بلندہو''…… ایک شترسوار نے کہا…… ''ہمیں بتایا گیا تھا کہ آپ زخمی ہیں او جانبر نہیں ہوسکیں ''
‫گے''۔
‫اگر یہ خبر جھوٹی ہے تو وہ افواہیں بھی جھوٹی ہیں جو تمہارے کانوں میں ڈالی گئی ہیں''…… سلطان صالح الدین ایوبی''
‫نے اتنی بلند آواز سے کہا کہ آخری صف تک اس کی آواز پہنچتی تھی۔ اُس نے کہا …… ''جن مجاہدین کے متعلق تمہیں
‫بتایا گیاہے کہ وہاں سونا اور چاندی لوٹ رہے ہیں اور عیسائی لڑکیوں کے ساتھ عیش کر رہے ہیں۔ وہ ریگستان میں اگلہ قلعہ
‫اور اس کے اگال قلعہ اور اس سے اگال قلعہ سرکرنے کی تیاریوں میں پاگل ہو رہے ہیں ۔ وہ کیوں بھوکے پیاسے مررہے ہیں ؟

‫صرف اس لیے کہ تمہاری مائوں‪ ،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کو صلیبی درندوں سے بچا سکیں۔ شوبک میں ہم نے مسلمان
‫بچیوں اوران کی مائوں اور ان کے باپوں کا یہ حال دیکھا ہے کہ بچیاں عیسائیوں کے پاس اور ان کی مائیں اور اُن کے باپ
‫عیسائیوں کی بیگار کر کرکے مر رہے تھے۔ اب کرک‪ ،یروشلم اور فلسطین کی ہر بستی میں جو عیسائیوں کے قبضے میں ہے۔
‫‪ ،مسلمانوں کایہی حال ہو رہا ہے۔ مسجدیں اصطبل بنا دی گئی ہیں اور قرآن کے مقدس ورق گلیوں میں عیسائیوں کے قدموں
‫تلے مسلے جا رہے ہیں''۔
‫یہ تقریر اتنی جوشیلی اور سنسنی خیز تھی کہ ایک کمان دار نے چال کر کہا …… ''پھر ہم یہاں کیاکر رہے ہیں ؟ ہمیں
‫''بھی محاذ پر کیوں نہیں لے جایا جاتا؟
‫تمہیں یہاں اس لیے بٹھایا گیا ہے کہ دشمن کی پھیالئی ہوئی افواہیں سنو اور ان پریقین کرو''۔ سلطان صالح الدین ایوبی''
‫نے کہا …… '' تم یہاں اپنے پرچم کے تلے بغاوت کرو‪ ،تاکہ سوڈانیوں کے ساتھ صلیبی اس سرزمین پر قبضہ کرلیں اور تمہاری
‫بیٹیوں کی عصمت دری کریں۔ تم قرآن کے ورق اپنے ہاتھوں باہر کیوں نہیں بکھیر دیتے؟ کیا تم قرآن کی توہین صلیبیوں سے
‫کرانا چاہتے ہو؟ تم جو اپنے ایمان کی حفاظت نہیں کرسکتے‪ ،قوم کی آبرو کی کیا حفاظت کیا کرو گے''…… تمام فوج میں
‫ہلچل سی پیدا ہوگئی۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا …… ''تمہیں چند ایک کمان دارنظر نہیں آرہے۔ وہ میں تمہیں دکھاتا
‫ہوں''۔
‫ا ُس نے اشارہ کیا تو ایک طرف سے دس گیارہ آدمی گردنوں میں رسیاں پڑی ہوئی اور ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے‪ ،آگے الئے
‫گئے۔ انہیں صفوں کے آگے سے گزارا گیا ۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اعالن کیا …… ''یہ تمہارے کماندار تھے‪ ،لیکن یہ
‫ا ُس قوم کے دوست ہیں جو تمہارے رسول ۖ اور تمہارے قرآن کی دشمن ہے۔ یہ پکڑے گئے ہیں ''…… سلطان صالح الدین
‫ایوبی نے فوج کو خضرالحیات کے قتل اور مصلح الدین کی گرفتاری کا پورا واقعہ سنایا اور مصلح الدین کو سامنے الیا گیا۔ وہ
‫ابھی تک پاگل پن کی حالت میں تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی گزشتہ رات کوتوالی کے تہہ خانے میں اُسے دیکھ آیا تھا۔
‫ا ُس نے سلطان صالح الدین ایوبی کو نہیں پہچانا تھا۔ وہ اپنی ریاست اور خود مختارحکمرانی کی باتیں کر رہا تھا۔ اب سلطان
‫صالح الدین ایوبی نے ا ُسے گھوڑے پر بٹھا کر فوج کے سامنے کھڑا کردیا۔ اس نے فوج کو دیکھا اور بلند آواز سے بوال ……
‫'' یہ میری فوج ہے ۔ مصر کی حکومت کے خالف بغاوت کردو۔ میں تمہارا بادشاہ ہوں۔ صالح الدین ایوبی مصر کادشمن ہے۔
‫تم اُسے قتل کردو''۔
‫وہ بولے جا رہا تھا ۔ ا ُس کے منہ سے پاگل پن کی جھاگ نکل رہی تھی۔ فوج کی صفوں سے ''پنگ'' کی آواز آئی اور
‫ایک تیر مصلح الدین کی شہہ رگ میں اُتر گیا۔ وہ گر رہا تھا ‪ ،جب کئی اور تیراس کے جسم میں اُتر گئے۔ سلطان صالح
‫الدین ایوبی نے چال کر تیر اندازوں کو روکا۔ کمان داروں نے تیر چالنے والوں کو آگے آنے کو کہا۔ اُن میں سے ایک نے کہا
‫…… ''ہم نے غدار کو مارا ہے۔ اگر یہ قتل ہے تو گردنیں حاضر ہیں''…… سلطان صالح الدین ایوبی نے انہیں معاف کردیا۔
‫اُس کے جسم پر ابھی تک صرف تہ بند تھا۔ باقی جسم ننگا تھا۔ اُس نے جالد کو وہیں بالیا اور ان غداروں کو جنہیں فوج
‫کے سامنے الیا گیا تھا‪ ،جالد کے حوالے کرکے اُن کے سر جسموں سے الگ کرادئیے۔
‫اُس نے ایک اور حکم دے کر سب کو حیران کر دیا ۔ اُس نے حکم دیاکہ یہ فوج یہیں سے محاذ کو کوچ کرے گی۔ تمہارا
‫ذاتی اور دیگر سازوسامان اور رسد تمہارے پیچھے آئے گی …… فوج کوچ کر گئی جس کا مطلب یہ تھا کہ مصر فوج کے بغیر
‫رہے گا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے غداروں کے کٹے ہوئے سر دیکھے ۔ وہ کسی سے کوئی بات کرنے لگا تو اسے ہچکی
‫سی آئی اور اس کے آنسو بہہ نکلے ۔ ا ُس نے کپڑے پہنے اور ایک سمت چل پڑا۔ اس نے اپنے ساتھ کے حکام سے کہا ……
‫''مجھے خطرہ یہ نظر آرہا ہے کہ دشمن ملت اسالمیہ میں اسی طرح غدار پیدا کرتارہے گا اور وہ ِدن آجائے گا‪ ،جب
‫غداروں کی گردنیں مارنے والے بھی دشمن کو دوست کہنے لگیں گے۔ میرے دوستو! اسالم کو سر بلند دیکھنا چاہتے تو دوست
‫اور دشمن کو پہچانو''۔
‫مصرکے جن حاکموں کو معلوم نہیں تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے فوج کو کیوں کوچ کرادیا ہے‪ ،انہیں اُس نے بتایا کہ
‫یہ فوج یہاں فارغ بیٹھی تھی ۔میں یہ حکم دے گیا تھا کہ اسے فارغ نہ رہنے دیاجائے۔ جنگی مشقین جاری رہیں اور شہر
‫سے ُدور لے جاکر اس فوج کو وقتا ً فوقتا ً جنگی حالت میں رکھا جائے اور ذہنی تربیت بھی جاری رہے‪ ،مگر میرے حکم پر
‫عمل نہیں کیا گیا۔ میں نے دو ذمہ دار حاکموں کو سزائے موت دے دی ہے۔ انہوں نے ایک سازش کے تحت فوج کو فارغ
‫رکھا۔سپاہی جوئے اور نشے سے دل بہالنے لگے اور ان کے ذہن افواہوں کو قبول کرنے لگے۔ تم شاید سوچ رہے ہو کہ مصرمیں
‫فوج نہیں رہی ۔ گھبرائو نہیں۔ فوج آرہی ہے‪ ،جس فوج نے شوبک فتح کیا ہے ‪ ،وہ قاہرہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اُس نے
‫میرے پیچھے پیچھے کوچ کیا تھا۔ وہ فوج دشمن کو اور دشمن کے گناہوں کو بہت قریب سے دیکھ کر آئی ہے۔ اسے کوئی
‫باغی نہیں کر سکتا۔ اس کے سپاہی شہیدوں کو دھوکہ نہیں دیں گے اور یہ فوج جو یہاں سے جارہی ہے ۔ یہ کرک پر حملہ
‫کرے گی یا دشمن اس پر حملہ کرے گا۔ پھر یہ بھی دشمن کو جان جائے گی ‪ ،جو سپاہی ایک بار دشمن کی آنکھوں میں
‫آنکھیں ڈال کر لڑے‪ ،اُسے کوئی اللچ غداری پر آمادہ نہیں کر سکتا۔
‫یہ انقالب اس طرح آیا ھتا کہ نورالدین زنگی اور اپنے بھائی تقی الدین کی طرف قاصد بھیج کر سلطان صالح الدین ایوبی
‫خفیہ طور پرقاہرہ کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔ اپنے نائبین کو کمان دے کر اُس نے سخت ہدایت دی تھی کہ اُس کی غیرحاضری
‫کی کسی کو خبر نہ ہو۔ا ُس نے کہا کہ زنگی مدد ضرور بھیجے گا۔ جونہی اس کی مدد آئے ‪ ،اتنی ہی اپنی فوج یہاں سے
‫قاہرہ بھیج دی جائے ‪ ،لیکن راستے میں پڑائو زیادہ نہ کرے۔ اس سے سلطان صالح الدین ایوبی کے دومقاصد تھے۔ ایک یہ کہ
‫اگر مصر کی فوج باغی ہو گئی تو محاذ سے آنے والی فوج بغاوت فرد کرے گی اور اگر حاالت ٹھیک ہوئے تومصر کی فوج
‫محاذ پر آجائے گی اور محاذ کی فوج مصر میں رہے گی۔ سلطان صالح الدین ایوبی قاہرہ پہنچا تو اس کی موجودگی خفیہ
‫رکھی گئی۔ رات ہی رات ا ُس نے زین الدین کی نشاندہی کے مطابق تمام غداروں کوسوتے ہی پکڑوادیا۔ کئی اور جگہوں پر
‫چھاپے پڑوائے۔ تین حشیشین نے بھی بعض افراد کے نام بتائے تھے۔ انہیں بھی پکڑا گیا ۔ کسی کے عہدے اور ُرتبے کا لحاط
‫نہ کیا گیا۔
‫فاطمہ کو سلطان صالح الدین ایوبی کے حکم کے مطابق زین الدین کے حوالے کر دیا گیا اور اُسے کہا گیا کہ کسی موزوں جگہ
‫اس کی شادی کردی جائے ۔ اب سلطان صالح الدین ایوبی تقی الدین کا انتظار کرنے لگا۔ اُسے تین دن انتظار کرنا پڑا ۔ تقی
‫الدین کم و بیش دوسو سواروں کے ساتھ آگیا۔ سلطان ایوبی نے اُسے مصر کے حاالت اور واقعات اور آئندہ الئحہ عمل بتا کر
‫قائم مقام امیر مصر مقرر کر دیا اور یہ اجازت بھی دی کہ وہ سوڈان پر نظر رکھے اور جب ضرورت سمجھے حملہ کردے
‫یہ ہدایات اور احکامات دے کر سلطان صالح الدین ایوبی شوبک کو روانہ ہونے لگا تو علی بن سفیان جو اُس کے ساتھ آیا تھا

‫‪ ،بوال …… ''کرک کے صلیبیوں نے آپ کے لیے ایک تحفہ بھیجا ہے۔ اگرکچھ دیر اور انتظار کریں تو تحفہ دیکھتے
‫جائیں''…… علی بن سفیان ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی کو حیرت میں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ اس نے سلطان ایوبی کو باہر
‫چلنے کو کہا۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ہو کرعلی بن سفیان کے ساتھ چال گیا۔ تھوڑی ُدور میدان میں پانچ سو گھوڑے کھڑے
‫تھے۔ ہر گھوڑے پر زین تھی ۔ ان گھوڑوں سے ذرا پرے سات آٹھ صلیبی رسیوں سے بندھے ہوئے کھڑے تھے اور اپنی فوج کا
‫ایک سرحدی دستہ بھی مستعد کھڑا تھا۔ سلطان ایوبی نے پوچھا کہ یہ گھوڑے کہاں سے آئے ہیں ؟ علی بن سفیان نے ایک
‫آدمی کو بال کر سلطان کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا …… ''یہ میرا جاسوس ہے۔ یہ تین سال سے صلیبیوں کے لیے جاسوسی
‫کر رہاہے۔یہ صلیبیوں اور سوڈانیوں کے درمیان رابطے کا کام کرتاہے۔ وہ اسے اپنا جاسوس سمجھتے ہیں ‪ ،لیکن یہ میرا جاسوس
‫ہے۔ یہ کر ک گیا تھا اور صلیبی بادشاہوں کو سوڈانیوں کا یہ پیغام دیا تھا کہ انہیں پانچ سو گھوڑوں اور زینوں کی ضرورت
‫ہے۔ انہوں نے گھوڑے دے کر اپنے یہ فوجی افسر بھی بھیج دیئے۔ یہ اُس سوڈانی فوج کی قیادت کرنے جارہے تھے‪ ،جسے
‫مصر پر حملے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ میرا شیر انہیں شمال کی طرف سے گھما کر ایک پھندے میں لے آیا او اپنے اس
‫سرحدی دستے کوبال لیا ۔ اپنی شناخت بتائی اور یہ دستہ پانچ سو گھوڑوں اور ان صلیبی فوجی افسروں کو قاہرہ ہانک الیا''۔
‫صلیبی افسروں کو معلومات حاصل کرنے کے لیے علی بن سفیان نے اپنے نایئب حسن بن عبداللہ کے حوالے کردیا اور خود
‫سلطان کے ساتھ شوبک کو روانہ ھوگیا۔
‫اسکے ساتھ ھی قاہرہ میں بغاوت اور سلطان ایوبی کا قصہ بھی ختم ھوا۔۔
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫داستان ایمان فروشوں کی ‪ 19:40
‫قسط نمبر‪42.۔
‫" کھنڈروں کی آواز "
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫سازش اور غداری کے مجرموں کا خون قاہرہ کی ریت نے ابھی اپنے اندر جذب نہیں کیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا
‫بھائی تقی الدین ا ُس کے بالوے پر دو سو منتخب سواروں کے ساتھ قاہرہ پہنچ گیا۔ سازش کے مجرموں کی گردنیں کاٹی جا
‫چکی تھیں اور یوں نظر آتا تھا جیسے قاہرہ کی ریت ان مرے ہوئے مسلمانوں کا خون اپنے اندر جذب کرنے سے گزیز کر رہی
‫ہے جو صلیبیوں کے ساتھ مل کر سلطنت اسالمیہ کے پرچم کو سرنگوں کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔سلطان صالح
‫الدین ایوبی نے ان سب کی الشیں دیکھیں۔ ان کے کٹے ہوئے سر ان کے بے جان جسموں کے سینوں پر رکھ دئیے گئے تھے۔
‫صرف ایک الش تھی جو سب سے بڑے غدار کی تھی اور جس پر سلطان صالح الدین ایوبی کو کلی طور پر اعتماد تھا۔ اس
‫الش کا سر اس کے ساتھ ہی تھا۔ ایک تیر ا ُس کی شہہ رگ میں داخل ہو کر دوسری طرف نکال ہوا تھا۔ یہ قاہرہ کا نائب
‫مصلح الدین تھا۔ فوج کے سامنے جب اس کاجرم سنایا جا رہا تھا تو ایک جوشیلے اور محب اسالم سپاہی نے کمان میں تیر
‫ڈال کر مصلح الدین کی شہہ رگ سے پار کردیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے سپاہی کی اس غیر قانونی حرکت کو
‫ڈسپلن کے خالف تھی‪ ،صرف اس لیے نظر انداز کرکے معاف کر دیا تھا کہ کوئی بھی صاحب ایمان اسالم کے خالف غداری
‫برداشت نہیں کرسکتا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ہی اپنی فوج میں ایمان کی یہ قوت پیدا کی تھی۔
‫ان الشوں کو دیکھ کر سلطان ایوبی کے چہرے پر ایسی خوشی کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی کہ اُس کی صفوں اور
‫نظام حکومت میں سے اتنے زیادہ غدار اور سازشی پکڑے گئے اور انہیں سزائے موت دے دی گئی ہے۔ اُس کے چہرے پر
‫ا ُداسی اور آنکھیں گہری سرخ تھیں ‪ ،جیسے وہ آ نسو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ غصہ تو تھا ہی جس کا اظہار اس نے ان
‫الفاظ میں کیا …… ''ان میں سے کسی کا جنازہ نہیں پڑھایا جائے گا۔ ان کی الشیں ان کے رشتہ داروں کو نہیں دی جائیں
‫گی‪ ،تا کہ انہیں کفن بھی نہ پہنائے جائیں۔ رات کے اندھیرے میں انہیں ایک ہی گہرے گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دو اور
‫زمین ہموار کر دو۔ اس ُدنیا میں ان کانشان بھی باقی نہ رہے''۔
‫امیر محترم !'' …… سلطان صالح الدین ایوبی کے ایک رفیق اور معتمد خاص بہائوالدین شداد نے سلطان صالح الدین ایوبی''
‫سے کہا …… '' کوتوال اور شاہدوں کے بیان اور قاضی کا فیصلہ تحریر میں الکردستاویز میں محفوظ کرلینا ضروری ہیں ‪ ،تاکہ یہ
‫اعتراض نہ رہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک فرد کا تھا۔ آپ کا فیصلہ برحق ہے۔ انصاف کر دیا گیا ہے‪ ،مگر قانون کا تقاضا کچھ
‫اورہے''۔
‫دین ال ٰہی کی جڑیں کفار کے ساتھ مل کر کاٹنے والے کو یہ حق دیا جائے کہ وہ قانون ''
‫کیا قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ
‫ِ
‫کے سامنے کھڑا ہو کردین داروں سے اللہ و رسول ۖ کی عظمت کے پاسبانوں کو جھوٹا ثابت کرے '' …… سلطان صالح الدین
‫ایوبی نے ایسے تحمل سے کہا جس میں ایک دین دار مسلمان کا عتاب صاف جھلک رہاتھا۔ اُس نے ان تمام حاکموں کو جو
‫وہاں موجود تھے ‪ ،مخاطب ہو کرکہا …… ''اگر میں نے بے انصافی کی ہے تو مجھے اتنے زیادہ انسانوں کے قتل کے جرم
‫میں سزائے موت دے دو اور میری الش شہر سے ُد ور پھینک دو‪ ،جہاں صحرائی لومڑیاں اور گدھ میری کوئی ہڈی بھی اس زمین
‫پر نہ رہنے دیں‪ ،لیکن میرے رفیقو! مجھے سزا دینے سے پہلے قرآن پاک الف الم میم سے والناس پڑھ لینا‪ ،اگر قرآن مجھے
‫سزا دیتا ہے تو میری گردن حاضر ہے''۔
‫بے انصافی نہیں ہوئی ساالر اعظم؟''…… کسی اور نے کہا …… ''قاضی شداد کا مقصد یہ ہے کہ قانون کی بے حرمتی نہ ''
‫ہو''۔
‫میں سمجھ گیا ہوں''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''ان کا مقصد آئینے کی طرح صاف ہے۔ میں آپ سب کو صرف یہ ''
‫بتانا چاہتا ہوں کہ حاکم وقت ذاتی طور پرجانتا ہے کہ جسے غداری کے جرم میں سامنے الیاگیا ہے‪ ،وہ غداری کا مجرم ہے
‫تو حاکم وقت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ شہادتوں اور قانون کے دیگر جھمیلوں میں پڑے بغیر غدار کو وہیں سزا دے ‪،
‫جس کا وہ حق دار ہے‪ ،اگر وہ سزادینے سے گریز کرتا‪ ،ڈرتا ‪ ،ہچکچاتا ہے تو وہ حاکم وقت خود بھی غدار ہے یا کم از کم
‫نا اہل اور بے ایمان ضرورہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ قاضی کے سامنے جاکر مجرم اُسے بھی مجرم کہہ دیں گے۔ میرا سینہ صاف
‫رب کعبہ کے نور
‫ہے۔ مجھے غداروں کی صف میں کھڑا کردو۔ خدا کا ہاتھ مجھے اُس سے الگ کردے گا۔ اگر تمہارے سینے ِ
‫سے منور ہیں تومجرموں کا سامنا کرنے سے مت ڈرو۔ تا ہم میرے عزیز دوست بہائو الدین شداد نے جو مشورہ دیا ہے اس
‫پرعمل کرو۔ کاغذات تیارکرکے محترم قاضی سے فیصلہ تحریر کرالو۔ ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں ہوگا۔ تحریر کر دیا جائے
‫اعلی بھی ہے‪ ،نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان مجرموں کو سزائے موت
‫افواج مصرکا ساالر
‫کہ امیر مصر جو
‫ِ
‫ٰ

‫دی ہے‪ ،جن کا جرم بالشک و شبہہ ثابت ہوگیا تھا''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کی طرف دیکھا۔
‫وہ بڑے لمبے سفر سے آیاتھا‪ ،تھکا ہوا تھا۔ سلطا ن ایوبی نے اسے کہا …… ''میں تمہارے چہرے پر تفکر اور تھکن دیکھ
‫رہاہوں ‪ ،لیکن تم آرام نہیں کر سکو گے۔ تمہارا سفر ختم نہیں ہوا‪ ،بلکہ شروع ہوا ہے۔ مجھے شوبک جلدی جانا ہے تمہارے
‫ساتھ کچھ ضروری باتیں کرکے چال جاوں گا''۔
‫جانے سے پہلے ایک حکم اور صادر فرماجائیے'' …… ناظم شہر نے کہا …… ''جنہیں سزائے موت دی گئی ہے‪ ،ان کی ''
‫بیوائوں اور بچوں کا کیا بنے گا''۔
‫ان کے لیے بھی میرے اسی حکم پر عمل کرو جو میں ان سے پہلے غداروں کے اہل و عیال کے متعلق دے چکا ہوں ''
‫''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''بیوائوں کے متعلق یہ چھان بین کرلو کہ اپنے خاوندوں کی طرح اُن میں سے کسی کا
‫تعلق دشمن کے ساتھ نہ ہو۔ ہمارے َز ن پرستی نے بھی غدار پیدا کیے ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا ہے کہ صلیبیوں نے ہمارے
‫بھائیوں کو خوبصورت لڑکیاں دے کر ان کے عوض ان کا ایمان خریدا ہے۔ ان میں سے جو بیوائیں نیک اورمومن ہیں ‪ ،ان کی
‫شادیاں ان کی منشا کے مطابق کردو۔ کسی پر اپنا فیصلہ ٹھونسنے کی کوشش نہ کرنا۔ خیال رکھنا کہ کوئی عورت بے سہارا نہ
‫رہے اور باعزت روٹی سے محروم نہ رہے اور اس میں محتاجی کا احسا س نہ پیدا ہو۔ یہ بھی خیال رکھنا کہ ان کے کانوں
‫میں کو ئی یہ نہ پھونک دے کہ ان کے خاوندوں کو بے گناہ سزائے موت دی گئی ہے انہیں ذہن نشین کرادو کہ تم خوش
‫قسمت ہو کہ ایسے گناہ گار خاوندوں سے نجات مل گئی ہے اور اُس کے بچوں کی تعلیم و تربیت خصوصی انتظامات کے
‫تحت کرو۔ تمام اخراجات بیت المال سے لو۔ غداروں کے بچے غدار نہیں ہوا کرتے ‪،بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت صحیح
‫ہو۔ یہ سب مسلمانوں کے بچے ہیں ۔ ان کی تعلیم و تربیت ایسی ہو کہ ان میں محرومی کا احساس پیدا نہ ہو‪ ،کہیں ایسا
‫نہ ہو کہ باپ کے گناہ کاکفارہ بچے کو ادا کرنا پڑے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی کو واپسی کی جلدی تھی ‪ ،ا ُسے فکر یہ تھی کہ اس کی غیر حاضری میں صلیبی کوئی جنگی کاروائی نہ کردیں۔
‫نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک تو وہاں )کرک اورشوبک کے عالقہ میں(پہنچ گئی تھی ۔ قاہرہ کی فوج ابھی اُدھر
‫جارہی تھی ‪ ،لیکن ان دونوں فوجوں کو اس عالقے سے روشناس کرانا تھا۔ اُس نے اپنے دفتر میں جا کر اپنے بھائی تقی
‫الدین ‪ ،علی بن سفیان ‪ ،اس کے نائب حسن بن عبدا للہ ‪ ،کوتوال غیاث بلبیس اورچند ایک نائبین اور حکام کو باللیا ‪ ،وہ
‫زیادہ تر ہدایات تقی الدین کو دینا چاہتا تھا۔ اُس نے اجالس میں اعال ن کیا کہ اُس کی غیر حاضری میں اُس کا بھائی تقی
‫اعلی ہوگا اور اسے اتنے ہی اختیارات حاصل ہوں گے جو سلطان ایوبی کے
‫الدین قائم مقام امیر مصر اوریہاں کی فوج کا ساالر
‫ٰ
‫اپنے تھے۔
‫تقی الدین !''…… سلطان ایوبی نے اپنے بھائی سے کہا …… ''آج سے دل سے نکال دو کہ تم میرے بھائی ہو۔ نااہلی ‪''،
‫بددیانتی ‪ ،کوتاہی ‪ ،غداری یا سازش اور بے انصافی کا ارتکاب کرو گے تو اُسی سزا کے مستحق سمجھے جائو گے جو شریعت
‫کے قانون میں درج ہے''۔
‫میں اپنی ذمہ داریوں کواچھی طرح سمجھتا ہوں‪ ،امیر مصر!''…… تقی الدین نے کہا …… ''اور ان خطرات سے بھی آگاہ ''
‫ہوں جومصر کو درپیش ہیں''۔
‫صرف مصر کو نہیں''……سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا …… ''یہ خطرے سلطنت اسالمیہ کو درپیش ہیں اور اسالم کے ''
‫فروغ اور سلطنت کی توسیع کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہمیشہ یادرکھو کہ کوئی بھی خطہ‪ ،جو سلطنت اسالمیہ کہالتا ہے‪،
‫وہ کسی ایک فرد یا گروہ کی جاگیر نہیں ۔ وہ خدائے عزوجل کی سرزمین ہے اور تم سب اس کے پاسبان اور امین ہو۔ اس
‫مٹی کا ذرہ ذرہ تمہارے پاس امانت ہے۔اس کی مٹی بھی جب اپنے کام میں النا چاہو تو سوچ لو کہ تم کسی دوسرے انسان
‫کاحق تونہیں مار رہے؟ خدا کی امانت میں خیانت تو نہیں کر رہے؟…… میری باتیں غور سے سنو لو تقی الدین ! اسالم کی
‫سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اس کے پیروکاروں میں غداروں اورسازش پسندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کسی قوم نے اتنے
‫غدار پیدا نہیں کیے‪ ،جتنے مسلمانوں نے کیے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری تاریخ جو جہاد اور اللہ کے نام پر جنگ و جدل کی
‫قابل فخر تاریخ ہے‪ ،غداری کی بھی تاریخ بن گی ہے اور اپنی قوم کے خالف سازش گری ہماری روایت بن گی ہے …… علی
‫ِ
‫بن سفیان سے پوچھو تقی ! ہمارے وہ جاسوس جو صلیبیوں کے عالقوں میں سرگرم رہتے ہیں ‪ ،بتاتے ہیں کہ صلیبی حکمران‪،
‫مذہبی پیشوا اور دانش ور اسالم کی اس کمزوی سے واقف ہیں کہ مسلمان َزن ‪ ،زر اور اقتدارکے اللچ میں اپنے مذہب‪ ،اپنے
‫ملک اور اپنی قوم کا تختہ اُلٹ دینے سے بھی گریز نہیں کرتا''۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے اجالس کے شرکاء پر نگاہ دوڑائی اور کہا …… ''ہمارے جاسوسوں نے ہمیں بتایا ہے کہ صلیبیوں
‫نے اپنے جاسوسوں کو ذہن نشین کرایا ہے کہ مسلمان کی تاریخ جتنی فتوحات کی ہے‪ ،اتنی ہی غداری کی تاریخ ہے۔
‫مسلمانوں نے اتنی فتوحات حاصل نہیں کیں‪ ،جتنے غدار پیدا کیے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے
‫فورا ً بعد مسلمان خالفت پرایک دوسرے کے خالف لڑنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کو
‫قتل کیا۔ ایک خلیفہ یا امیر مقرر ہوا تو خالفت اور امارت کے دوسرے امیدواروں نے اُس کے خالف یہاں تک
‫سازشیں کیں کہ اسالم کے دشمنوں تک سے درپردہ مدد لی اور جس کے ہاتھ میں خالفت اورامارت آگئی ‪ ،اُس نے ہر اُس
‫قائد کو قتل کرایا جس سے اقتدار کو خطرہ محسوس ہوا۔ قومی وقار ختم ہوتا گیا اور ذاتی اقتدار رہ گیا۔ پھر تحفظ اسی کا
‫ہوتا رہا۔ سلطنت کی توسیع ختم ہوئی‪ ،پھر سلطنت کا دفاع ختم ہوا اور پھر سلطنت سکڑنے لگی۔ صلیبی ہماری اس تاریخی
‫کمزوری سے آگاہ ہیں کہ ہم لوگ ذاتی اقتدار کے تحفظ اور استحکام کے لیے سلطنت کا بہت بڑا حصہ بھی قربان کرنے کو
‫تیار ہوجاتے ہیں۔ یہی ہماری تاریخ بنتی جارہی ہے''۔
‫تقی الدین اور میرے رفیقو! میں جب ماضی پر نگاہ ڈالتا ہوں اور جب اپنے موجودہ دور میں غداروں کی بھرمار اور ''
‫سازشوں کے جال کو دیکھتا ہوں تو یہ خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ ایک وقت آئے گا کہ مسلمان تاریخ کی تحریروں کے ساتھ
‫بھی غداری کریں گے۔ وہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لکھیں گے کہ وہ بہادر ہیں اور انہوں نے دشمن کو ناک چنے
‫چبوا دئیے ہیں‪ ،مگر درپردہ دشمن کو دوست بنائے رکھیں گے۔ اپنی شکستوں پرپردے ڈالے رکھیں گے۔ سلطنت اسالمیہ سکڑتی
‫چلی جائے گی اور ہمارے خود ساختہ خلیفے اس کا الزام کسی اور پر تھوپیں گے۔ مسلمانوں کی ایک نسل ایسی آئے گی
‫جس کے پاس صرف نعرہ رہ جائے گا ''اسالم زندہ باد''۔ وہ نسل اپنی تاریخ سے آگاہ نہیں ہوگی۔ اس نسل کو یہ بتانے
‫واال کوئی نہ ہوگا کہ اسالم کے پاسبان اور علم بردار وہ تھے جو وطن سے ُدور ریگزاروں میں‪ ،پہاڑوں میں ‪ ،وادیوں میں اور
‫اجنبی ملکوں میں جا کر لڑے۔ وہ دریا اور سمندر پھالنگ گئے۔ انہیں کڑکتی بجلیاں ‪ ،آندھیاں اور اولوں کے طوفان بھی نہ

‫روک سکے۔ وہ ا ُن ملکوں میں لڑے جہاں کے پتھر بھی ان کے دشمن تھے۔ وہ بھوکے لڑے‪ ،پیاسے لڑے‪ ،ہتھیاروں اور گھوڑوں
‫کے بغیر بھی لڑے۔ وہ زخمی ہوئے تو کسی نے ان کے زخموں پر مرہم نہ رکھا‪ ،وہ شہید ہوگئے تو ان کے رفیقوں کو ان کے
‫ایوان خالفت میں شراب بہتی
‫لیے قبریں کھودنے کی مہلت نہ ملی۔ وہ خون بہاتے گئے‪ ،اپنا بھی اوردشمن کا بھی۔ پیچھے
‫ِ
‫رہی۔ برہنہ لڑکیوں کے ناچ ہوتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سونے سے اور اپنی بیٹیوں کے حسن سے ہمارے خلیفوں اور ہمارے
‫امیروں کو اندھا کرتے گئے۔ جب خلیفوں نے دیکھا کہ قوم ان تیغ زنوں کی پجاری ہوتی جا رہی ہے ‪ ،جنہوں نے یورپ اور
‫مجاہدین اسالم پر لوٹ مار اور زناکاری جیسے الزام تھوپنے
‫ہندوستان میں اسالم کے جھنڈے گاڑدئیے ہیں تو خلیفوں نے ان
‫ِ
‫شروع کردئیے۔ انہیں کمک اور رسد سے محروم کردیا۔ مجھے قاسم اور وہ کمسن اور خوبرو بیٹا یاد آتا ہے ‪ ،جس نے اس حال
‫میں ہندوستان کے ایک طاقتور حکمران کو شکست دی اور ہندوستان کے اتنے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا کہ اُس نے کمک
‫نہیں مانگی‪ ،رسد نہیں مانگی۔ مفتوحہ عالقوں کا ایسا انتظام کیا کہ ہندو اُس کے غالم ہوگئے اور اُس کی شفقت سے متاثر ہو
‫کر مسلمان ہوگئے۔ مجھے جب یہ لڑکا یاد آتا ہے تو دل میں درد اُٹھتا ہے۔ اُس وقت کے خلیفہ نے اس کے ساتھ کیا
‫سلوک کیا تھا؟ ا ُس پر زنا کا الزام عائد کیا اور مجرم کی حیثیت سے واپس بالیا'' …… سلطان صالح الدین ایوبی کو ہچکی
‫سے آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔
‫بہائو الدین شداد اپنی یاداشتوں میں لکھتاہے …… ''میرا عزیز دوست صالح الدین ایوبی اپنی فوج کے سینکڑوں شہیدوں کی
‫الشیں دیکھتا تو اس کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر رونق آجایا کرتی تھی ‪ ،مگر صرف ایک غدار کو سزائے موت دے کر
‫جب ا ُس کی الش دیکھتا تو اس کا چہرہ بجھ جاتا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے''…… محمد بن قاسم کا ذکر کرتے
‫کرتے ا ُسے ہچکی آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ وہ آنسو روک رہا ہے۔ کہنے لگا …… ''دشمن اُس کا کچھ
‫نہ بگاڑ سکا۔ اپنوں نے اسے شہید کر دیا۔ دشمن نے اُسے فاتح تسلیم کیا۔ اپنوں نے اُسے زانی کہا…… صالح الدین ایوبی نے
‫زیاد کے بیٹے طارق کا بھی ذکر کیا اور ا ُ س روز وہ اتنا جذباتی ہوگیاتھا کہ اس کی زبان رکتی ہی نہیں تھی ‪ ،حاالنکہ وہ کم
‫گو تھا۔ حقیقت پسند تھا۔
‫ہم سب پر خاموشی طاری تھی اور ہم سب جسم کے اندر عجیب سا اثر محسوس کر رہے تھے۔ صالح الدین ایوبی بالشک و
‫شبہ عظیم قائد تھا ۔ وہ ماضی کو نہیں بھولتا تھا۔ حال کے خطروں اور تقاضوں سے نبردآزما رہتا اور اُس کی نظریں صدیوں
‫بعد آنے والے مستقبل پر لگی رہتی تھیں ''۔
‫صلیبیوں کی نظریں ہمارے مستقبل پر لگی ہوئی ہیں''…… سلطان ایوبی نے کا …… ''صلیبی حکمران اور فوجی حکام کہتے''
‫ہیں کہ وہ اسالم کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ وہ ہماری سلطنت پر قابض نہیں ہونا چاہتے۔ وہ ہمارے دلوں کو نظریات
‫کی تلوار سے کاٹنا چاہتے ہیں۔ میرے جاسوسوں نے مجھے بتایا ہے کہ صلیبیوں کا سب سے زیادہ اسالم دشمن بادشاہ فلپ
‫آگسٹس کہتاہے کہ انہوں نے اپنی کو ایک مقصد دے دیا ہے اور ایک روایت پیدا کر دی ہے ۔ اب صلیبیوں کی آنے والی
‫نسلیں اس مقصد کی تکمیل کے لیے سرگرم رہیں گی۔ ضروری نہیں کہ وہ تلوار کے زور سے اپنا مقصدحاصل کریں گے۔ان کے
‫پاس کچھ حربے اوربھی ہیں …… تقی الدین !جس طرح ان کی نظر مستقبل پرہے‪ ،اسی طرح ہمیں بھی مستقبل پر نظر رکھنی
‫چاہیے‪ ،جس طرح انہوں نے ہم میں غدار پیدا کرنے کی روایت قائم کی ہے‪ ،اسی طرح ہمیں ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں
‫کہ غداری کے جراثیم ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں۔ غداوں کو قتل کرتے چلے جانا کوئی عالج نہیں ‪ ،غداری کا رحجان ختم
‫ب رسول ۖ پیدا کرنی ہے۔ یہ اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے کہ قوم کی آنکھوں میں
‫کرنا ہے۔اقتدار کی ہوس ختم کرکے ُح ِّ
‫رسول ۖ کے دشمن کا تصور موجود ہو۔ مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ صلیبیوں کی تہذیب میں ایسی بے حیائی ہے‪ ،جو پُر
‫کشش ہے۔ قوم ان کی تہذیب میں جذب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اُن کے ہاں شراب بھی جائز ہے‪ ،عورتوں کا غیر مردوں کے
‫ساتھ ناچنا ‪ ،کودنا اورتنہا رہنا بھی جائز ہے۔ہمارے اور ا ُن کے درمیان یہی سب سے بڑا فرق ہے کہ ہم عصمتوں کے پاسبان
‫ہیں اوروہ عصمتوں کے بیوپاری۔ یہی وہ فرق ہے جو ہمارے مسلمان بھائی مٹادیتے ہیں۔ تقی الدین ! تمہارا ایک محاذ زمین
‫کے اوپر ہے ‪ ،دوسرا زمین کے نیچے۔ ایک محاذ دشمن کے خالف ہے اور دوسرا اپنوں کے خالف۔ اگر اپنوں میں غدار نہ
‫ہوتے تو ہم اس وقت یہاں نہیں یورپ کے قلب میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور صلیبی ہمارے خالف اپنی حسین بیٹیوں کی بجائے
‫کوئی بہتر ہتھیار استعمال کرتے اور اچھی قسم کی جنگی چالیں چلتے۔ ایمان کی حرارت تیز ہوتی تو اس وقت تک صلیب
‫ایندھن کی طرح جل چکی ہوتی''۔
‫مجھے آپ کی بہت سی دشواریوں کا یہاں آکر علم ہوا ہے''…… تقی الدین نے کہا …… ''محترم نورالدین زنگی بھی ''
‫پوری طرح آگاہ نہیں کہ مصرمیں آپ غداروں کی ایک فوج کے گھیرے میں آئے ہوئے ہیں ۔ آپ اُن سے کمک مانگ لیتے۔
‫انہیں مدد کے لیے کہتے''۔
‫تقی بھائی!''…… سلطان ایوبی نے جواب دیا…… ''مدد صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔ مدد اپنوں سے مانگی جائے یا ''
‫غیروں سے ‪ ،اپنا ایمان کمزور کر دیتی ہے۔ صلیبیوں کی فوج زرہ بکتر میں ہے۔ میرے سپاہی معمولی سی کپڑوں میں ملبوس
‫ہیں‪ ،پھر بھی انہوں نے صلیب کو شکست دی ہے۔ ایمان لوہے کی طرح مضبوط ہو تو زرہ بکتر کی ضرورت نہیں رہتی۔ زرہ
‫بکتر اور خندقیں تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں اور سپاہی کو اپنے اندرقید کر لیتی ہیں ۔ یاد رکھو‪ ،میدان میں خندق سے
‫باہر رہو‪ ،گھوم پھر کر لڑو‪ ،دشمن کے پیچھے نہ جائو۔ اسے اپنے پیچھے الئو۔ مرکز کو قائم رکھو‪ ،پہلوئوں کو پھیالدو اور دشمن
‫کو دونوں بازوئوں میں جکڑ لو۔ محفوظ وہاں رکھوجہاں سے وہ دشمن کے عقب میں جا سکے۔ چھاپہ ماروں کے بغیر کبھی
‫جنگ نہ لڑنا۔ چھاپہ ماروں سے دشمن کی رسد تباہ کرائو۔ وہ رسد جو پیچھے سے آئے اور وہ بھی جو دشمن اپنے ساتھ
‫رکھے۔ چھاپہ ماروں کو دشمن کے
‫جانوروں کو مارنے یا ہراساں کرنے کے لیے استعمال کرو۔ آمنے سامنے کی ٹکڑ سے بچو۔ جنگ کو طول دو۔ دشمن کو پریشان
‫کیے رکھو…… میں جو فوج چھوڑ چالہوں‪ ،یہ محاذ سے آئی ہے۔ اس میں جان پر کھیل جانے والے چھاپہ مار دستے بھی ہیں۔
‫اسے صرف اشارے کی ضرورت ہے۔ میں نے اس فوج میں ایمان کی حرارت پیدا کر رکھی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے
‫آپ کو بادشاہ سمجھ کر اس فوج کا ایمان سرد کردو۔ ہم پر جو حملہ ہو رہاہے ‪ ،وہ ہمارے ایمان پر ہورہا ہے۔ صلیبی تمدن
‫کے اثرات بڑی تیزی سے مصر میں آرہے ہیں''۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کو پوری تفصیل سے بتایا کہ سوڈان میں مصر پر حملے کی تیاریاں ہورہی
‫ہیں۔ سوڈانیوں میں اکثریت وہاں کے حبشیوں کی ہے‪ ،جو مسلمان ہیں ‪ ،نہ عیسائی۔ ان میں مسلمان بھی ہیں‪ ،جن میں مصر
‫کی ا ُس فوج کے بھگوڑے بھی ہیں ‪ ،جسے بغاوت کے جرم میں توڑ دیا گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ……
‫'' لیکن گھر بیٹھے دشمن کا انتظار نہ کرتے رہنا۔ جاسوس تمہیں خبر دیتے رہیں گے۔ حسن بن عبد اللہ تمہارے ساتھ ہے‪،

‫جہاں محسوس کرو کہ دشمن کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور وہ اب حملے کے لیے اجتماع کر رہا ہے‪ ،تم وقت ضائع کیے
‫بغیر حملہ کردو اور دشمن کوتیاری کی حالت میں ہی ختم کردو‪ ،لیکن پیچھے کے انتظامات مضبوط رکھنا۔ قوم کو محاذ کے
‫حاالت سے بے خبر نہ رکھنا۔ اگر خدانخواستہ شکست ہوجائے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرلینا اور قوم کو بتادینا
‫کہ شکست کے اسباب کیا تھے۔ جنگ قوم کے خون اور پیسے سے لڑی جاتی ہے۔ بیٹے قوم کے شہید اور اپاہج ہوتے ہیں ۔
‫لہ ذا قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جنگ کو بادشاہوں کا کھیل نہ سمجھنا۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ اس میں قوم کو
‫ٰ
‫اپنے ساتھ رکھنا …… میں نے جس فاطمی خالفت کو معزول کیاتھا‪ ،اس کے حواری ہمارے خالف سرگرم ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ
‫انہوں نے درپردہ خلیفہ مقرر کر رکھا ہے۔ ان کا خلیفہ العاضد تو مر گیا ہے ‪ ،لیکن وہ خالفت کو اس اُمید پر زندہ رکھے
‫ہوئے ہیں کہ سوڈانی مصر پر حملہ کریں گے۔ ہماری فوج بغاوت کرے گی اور صلیبی چپکے سے اندر آکر فاطمی خالفت بحال
‫کردیں گے۔ فاطمیوں کو حسن بن صباح کے قاتل گروہ کی حمایت حاصل ہے۔ میں علی بن سفیان کے اپنے ساتھ لے جا رہا
‫ہوں۔ اس کا نائب حسن بن عبداللہ اور کوتوال غیاث بلبیس تمہارے ساتھ رہیں گے۔ یہ اس زمین دوز گروہ پر نظر رکھیں
‫گے…… فوج کی بھرتی تیزکر دو اورانہیں جنگی مشقیں کراتے رہو ''۔
‫تھوڑے ہی عرصے سے ہمیں اطالعات مل رہی ہیں کہ مصر کے جنوب مغربی عالقے سے فوج کے لیے بھرتی نہیں مل ''
‫رہی ''……حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ''یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہاں کے لوگ فوج کے خالف ہوتے جارہے ہیں ''۔
‫معلوم کرایا ہے کہ باعث کیا ہے؟'' …… علی بن سفیان نے پوچھا۔''
‫میرے دو مخبر اس عالقے میں قتل ہو چکے ہیں''…… حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ''وہاں سے خبر لینا آسان نہیں ‪''،
‫تاہم میں نے نئے مخبر بھیج دئیے ہیں''۔
‫میں اپنے ذرائع سے معلوم کر رہا ہوں''……غیاث بلبیس نے کہا …… ''مجھے شک ہے کہ اس وسیع عالقے کے لوگ نئے''
‫وہم میں مبتال ہو گئے ہیں۔ یہ عالقہ دشوار گزار ہے۔ لوگ سخت جان ہیں ‪ ،لیکن عقیدوں کے ڈھیلے اور توہمات پرست
‫ہیں''۔
‫توہم پرستی بہت بڑی لعنت ہے''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''اُس عالقے پر نظر رکھو اور وہاں کے لوگوں کو توہمات''
‫سے بچائو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫تین چار روز بعد کرک کے قلعے میں بھی ایک اجالس منعقد ہوا۔ وہ صلیبی حکمرانوں میں اور فوج کے اعلی کمانڈروں کا
‫اجالس تھا۔ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ صالح الدین ایوبی فلسطین کاایک قلعہ )شوبک( لے چکا ہے اور اب کرک پر حملہ
‫کرے گا۔ انہیں اس احساس نے پریشان کررکھا تھا کہ اگر مسلمانوں نے کرک کو بھی شوبک کی طرح فتح کرلیا تو یروشلم کو
‫بچانا مشکل ہوجائے گا۔ صلیبی جان گئے کہ سلطان صالح الدین ایوبی سنبھل سنبھل کر آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ ایک جگہ لیتا
‫ہے فوج کی کمی نئی بھرتی سے پوری کرتا ہے اسے پوری فوج کے ساتھ ٹریننگ دیتا ہے اور جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ
‫وہ اگلی ٹکر لینے کے قابل ہوگیا ہے تو آگے بڑھتا ہے۔ چنانچہ وہ کرک کے دفاع کو مضبوط کررہے تھے اور باہر آکر لڑنے کی
‫بھی سکیم بنا چکے تھا مگر اس اجالس میں انہیں اپنی سکیم میں ردوبدل کی ضرورت محسوس ہورہی تھی کیونکہ ان کے
‫انٹیلی جنس کے سربراہ ہرمن نے انہیں سلطان ایوبی اس کی فوج اور مصر کے تازہ حاالت کے متعلق انقالبی خبریں دی تھیں۔
‫صلیبی جاسوسوں نے بہت ہی تھوڑے وقت میں کرک میں ایہ اطالع پہنچا دی تھی کہ سلطان صالح الدین ایوبی اس فوج کو
‫قاہرہ لے گیا ہے جو اس محاذ پر لڑی اور شوبک کا قلعہ لیا تھا اور قاہرہ میں جو فوج ہے اسے عجلت میں محاذ پر بھیج
‫دیا گیا ہے اور نورالدین زنگی نے اپنی بہترین فوج کی کمک اس محاذ پر بھیج دی ہے اور سلطان ایوبی کا بھائی تقی الدین
‫دمشق سے قاہرہ پہنچ گیا ہے جہاں وہ سلطان ایوبی کا قائم مقام ہوگا اور سلطان ایوبی قاہرہ چال گیا ہے۔ جہاں وہ سازشیوں
‫کو سزائے موت دے کر محاذ کی طرف روانہ ہوگیا ہے۔ صلیبیوں کے لیے یہ خبر اچھی نہ تھی کہ قاہرہ کا نائب ناظم مصلح
‫الدین بھی پکڑا گیا اور غداری کے جرم میں مارا گیا ہے۔ مصلح الدین صلیبیوں کا کارآمد اور اہم ایجنٹ تھا۔ صلیبی نظام
‫جاسوسی کا سربراہ ہرمن اجالس کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کررہا تھا۔ اس نے کہا… ''مصلح الدین کے مارے جانے سے ہمیں
‫نقصان تو ہوا ہے لیکن تقی الدین کا تقرر ہمارے لیے امید افزا ہے۔ وہ بے شک صالح الدین ایوبی کا بھائی ہے لیکن وہ
‫سلطان ایوبی نہیں ہے‪ ،میرے تخریب کار جاسوس اسے چکر دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ بھی امید افزا ہے کہ صالح
‫الدین ایوبی اور علی بن سفیان قاہرہ سے غیر حاضر ہیں''۔
‫میں حیران ہوں کہ تمہارے حشیشین کیا کررہا ہے؟''… ریمانڈ نے پوچھا… ''کیا وہ دوہرا کھیل تو نہیں کھیل رہے؟ ''
‫کمبخت ابھی تک صالح الدین ایوبی کو قتل نہیں کرسکے۔ ہم بہت رقم ضائع کرچکے ہیں''۔
‫رقم ضائع نہیں ہورہی'… ہرمن نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ صالح الدین ایوبی محاذ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس کے ''
‫ساتھ چوبیس باڈی گارڈ قاہرہ گئے ہیں۔ ان میں چار حشیشین ہیں ان کے لیے موقع آگیا ہے۔ میں نے انتظام کردیا ہے۔ وہ
‫صالح الدین کو راستے میں قتل کردیں گے''۔
‫ہمیں خوش فہمیوں میں مبتال نہیں رہنا چاہیے''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''یہ فرض کرکے سوچو کہ صالح الدین ایوبی ''
‫قتل نہیں ہوسکا اور وہ زندہ سالمت محاذ پر موجود ہے۔ اس کے پاس اب تازہ دم فوج ہے۔ اس نے نئی بھرتی کو ٹریننگ
‫لہذا اب
‫دے لی ہے اور اسے نورالدین زنگی کی کمک مل گئی ہے۔ اس نے شوبک جیسا مضبوط اڈہ بھی حاصل کرلیا ہے۔ ٰ
‫اس کی رسد قاہرہ سے نہیں آئے گی۔ شوبک میں اس نے بے شمار رسد جمع کرلی ہے۔ اس صورت میں ہمیں کیا کرنا
‫چاہیے؟ میں اسے موقع نہیں دینا چاہتاکہ وہ کرک کا محاصرہ کرلے اور ہم محاصرے میں لڑیں''۔
‫اب ہم محاصرے تک نوبت نہیں آنے دیں گے''… ایک اور صلیبی حکمران نے کہا… ''ہم باہر لڑیں گے اور اس انداز سے''
‫لڑیں گے کہ شوبک کا محاصرہ کرلیں''۔
‫صالح الدین ایوبی لومڑی ہے'' … فلپ آگسٹس نے کہا… ''اسے صحرا میں شکست دینا آسان نہیں۔ وہ ہمیں شوبک کے ''
‫محاصرے کی اجازت دے دے گا مگر ہمارا محاصرہ کرلے گا۔ میں اس کی چالیں سمجھ چکا ہوں اگر تم اسے آمنے سامنے الکر
‫لڑا سکتے ہوتو تمہیں فتح کی ضمانت میں دے سکتا ہوں مگر تم اسے سامنے نہیں السکو گے''۔۔
‫بہت دیر کے بحث ومباحثے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ نصف فوج کو قعلے سے باہر بھیج دیا جائے اور سلطان صالح الدین
‫ایوبی کی فوج کے قریب خیمہ زن کردیا جائے اور اس کی فوج کی نقل وحرکت پر گہری نظر رکھی جائے۔ اس سکیم میں
‫باہر لڑنے والی فوج کی تعداد کے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج سے تین گنا نہ ہوتو دگنی ضرور
‫ہو۔ عقب سے حملے کے لیے الگ فوج مقرر کی گئی اور پالن میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ مسلمان فوج کی کمک اور رسد

‫لہ ذا شوبک اور مسلمان کے درمیانی فاصلے کو چھاپہ مار وں کی زد میں رکھنے کا انتظام کیا جائے۔
‫شوبک سے آئے گی۔ ٰ
‫فوجی کمانڈروں نے کہا کہ سامنے اتنی زیادہ قوت سے حملہ کیا جائے کہ صالح الدین ایوبی جم کر لڑنے پر مجبو رہوجائے۔
‫صلیبیوں کو دراصل اپنی بکتر فوج پر بھروسہ تھا۔ ان کی بیشتر فوج زرہ پوش تھی‪ ،سروں پر آہنی خود تھے‪ ،پیشیانیوں سے
‫ناک اور منہ تک چہرے آہنی خودوں کے مضبوط نقابوں میں ڈھکے ہوئے تھے۔ انہوں نے اونٹوں کو بھی زرہ پوش کرلیا تھا‪،
‫اونٹوں کے سروں پر آہنی غالف چڑھا دئیے گئے تھے اور پہلوئوں کے ساتھ لوہے کی پتریاں لٹکتی تھیں جو تیروں کو روک
‫لیتی تھیں۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ بہتر قسم کے گھوڑے حاصل کرسکیں۔ یورپی ممالک سے الئے ہوئے گھوڑے صحرا میں
‫جلدی تھک جاتے اور پیاس سے بے حال ہوجاتے تھے۔ صلیبیوں نے عربی عالقوں سے گھوڑے خریدے تھے مگر ان کی تعداد
‫اتنی زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کے قافلوں سے گھوڑے چھیننے شروع کردیئے تھے۔ گھوڑے چرائے بھی تھے‪ ،سلطان
‫ایوبی کے گھوڑے بہتر تھے۔ عربی نسل کے یہ صحرائی گھوڑے پیاس سے بے نیاز میلوں بھاگ سکتے تھے۔
‫ان جنگی تیاریوں اور اہتمام کے عالوہ صلیبیوں نے نظریاتی جنگ کا محاذ جو کھوال تھا‪ ،اس کے متعلق ان کے انٹیلی جنس
‫کے ڈائریکٹر‪ ،ہرمن نے رپورٹ پیش کی کہ صالح الدین ایوبی کو مصر کے جنوب کے سرحدی عالقے سے بھرتی نہیں ملے گی۔
‫یہ وہی عالقہ تھا جس کے متعلق سلطان صالح الدین ایوبی کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ حسن بن عبداللہ نے رپور ٹ
‫دی تھی کہ وہاں کے لوگ اب فوج میں بھرتی نہیں ہوتے بلکہ بعض لوگ فوج کے خالف بھی ہوگئے ہیں۔ یہ جفاکش اور
‫جنگجو قبائل کا عالقہ تھا جس نے سلطان ایوبی کو نہایت اچھے سپاہی دیئے تھے مگر اب ہرمن کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا
‫تھا کہ صلیبی تخریب کار اس عالقے میں پہنچ گئے ہیں‪ ،وہاں نوبت یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ حسن بن عبداللہ نے یہ
‫معلوم کرنے کے لیے اس عالقے کے لوگ فوج کے خالف کیوں ہوگئے ہیں‪ ،دو مخبر بھیجے تھے‪ ،دونوں قتل ہوگئے تھے۔ ان
‫کی الشیں نہیں ملی تھیں۔ پراسرار سی ایک اطالع ملی تھی کہ ہمیشہ کے لیے غائب کردیئے گئے ہیں۔ وہ عالقہ جو بہت
‫وسیع وعریض تھا‪ ،جاسوسوں اور مخبروں کے لیے بہت ہی مضبوط قلعہ بن گیا تھا‪ ،وہاں سے کوئی معلومات حاصل ہوتی ہی
‫نہیں تھی‪ ،اتنا ہی پتہ چال تھا کہ وہاں کے لوگ ہیں تو مسلمان لیکن تو ہم پرست اور عقیدے کے بہت ڈھیلے ہیں۔
‫ہرمن نے تفصیالت بتائے بغیر کہا کہ اس کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ وہ اب مصر کے تمام سرحدی عالقے میں اس طریقے کار
‫کو پھیالئے گا۔ پھر ان اثرات کو مصر کے اندر لے جانے کی کوشش کرے گا۔ اس نے امید ظاہر کی کہ وہ مصر کے قصبوں اور
‫شہروں کو بھی اپنے اثر میں لے لے گا۔ اس نے کہا … ''میں مسلمانوں کی ایک ایسی خامی کو ان کے خالف استعمال
‫کررہا ہوں‪ ،جسے وہ اپنی خوبی سمجھتے ہیں۔ مسلمان درویشوں‪ ،فقیروں‪ ،وظیفے اور چلے کرنے والوں عاملوں اور
‫مولویوں اور کٹیا میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتے رہنے والے مجذوب قسم کے لوگوں کے فورا ً مرید بن جاتے ہیں۔ درویشوں وغیرہ کا
‫یہ گروہ اسالمی فوج کے ان ساالروں کے خالف ہے جنہوں نے ہمارے خالف جنگیں لڑ کر شہرت حاصل کی ہے۔ یہ درویش
‫اپنے متعلق لوگوں کو یقین دالتے ہیں کہ خدا ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ خدا کے خاص بندوں میں سے ہیں۔ وہ صرف نام
‫لہذا وہ گھر بیٹھے وہی شہرت حاصل کرنا
‫پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں میدان جنگ میں جانے کی ہمت اور جرأت نہیں‪ٰ ،
‫چاہتے ہیں جو ساالروں نے جہاد میں حاصل کی ہے۔ اگر دیانت داری اور غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے
‫یہ فوجی لیڈر جن میں صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی بھی شامل ہیں۔ قابل تحسین انسان ہیں۔ ان میں سے جنہوں نے
‫یورپ تک اسالم پھیال دیا اور سپین کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا تھا‪ ،بجا طور پر حق رکھتے ہیں کہ قوم اپنی عبادت
‫میں بھی ان کا نام لے مگر ان کے خلیفوں نے اپنا نام عبادت میں شامل کرکے فوجی لیڈروں کی اہمیت گھٹا دی… اس کے
‫ساتھ مسلمانوں میں نام نہاد عالموں اور اماموں کا ایک گروہ پیدا ہوا جو عمل سے گھبراتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہیں
‫وہ عالم اور امام ہیں۔ یہ گروہ خلیفوں کی آڑ میں جہاد کے معنی مسخ کررہا ہے تاکہ لوگ جہاد میں جانے کے بجائے ان کے
‫گرد جمع ہوں اور انہیں خدا کے برگزیدہ انسان مانیں۔ ان کے پاس پراسرار سی باتیں اور باتیں کرنے کا ایسا طلسماتی انداز ہے
‫کہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان برگزیدہ انسانوں کے سینے میں وہ راز چھپا ہوا ہے جو خدا نے ہر بندے کو نہیں بتایا۔
‫چنانچہ سیدھے سادھے مسلمان ان کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔ میں مسلمانوں کو اسالم کی ہی باتیں سنا سنا کر اسالم
‫کی بنیادی روح سے دور لے جارہا ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے نظریاتی تخریب کاری کرکے اسالم کو کافی حد تک
‫''کمزور کردیا ہے۔ میں انہی کے اصولوں پر کام کررہا ہوں۔
‫یہی وہ محاذ تھا جس کے متعلق سلطان صالح الدین ایوبی پریشان رہتا تھا۔ پریشانی کا اصل باعث یہ تھا کہ اس محاذ پر
‫اپنی ہی قوم کے افراد اس کے خالف لڑ رہے تھے اور یہ محاذ اسے نظر نہیں آتا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫تقی الدین اور اپنے ان حکام کو جنہیں قاہرہ میں رہنا تھا‪ ،ہدایات دے کر سلطان صالح الدین ایوبی محاذ کی طرف روانہ
‫ہوگیا۔ اس کے ساتھ چوبیس ذاتی محافظوں کا دستہ تھا۔ صلیبیوں کو باڈی گارڈز کی نفری کا علم تھا اور انہیں یہ بھی علم
‫تھا کہ اس دستے میں چار حششین ہیں جو نہایت کامیاب اداکاری سے اور بہادری کے کارناموں سے محافظ دستے کے لیے
‫منتخب ہوگئے تھے۔ ان کا مقصد صالح الدین ایوبی کا قتل تھا لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا تھا کیونکہ محافظ دستے کی
‫نفری چوبیس سے کہیں زیادہ رہتی اور ان کی ڈیوٹی بدلتی رہتی تھی‪ ،کبھی بھی ایسا نہ ہوا کہ ان چاروں کی ڈیوٹی اکٹھی
‫لگی ہو۔ محافظوں کے کمانڈر بہت ہوشیار اور چوکس رہتے تھے۔ انہیں یہ تو علم تھا کہ ان کے درمیان قاتل بھی موجود ہیں‪،
‫وہ بیدار رہتے تھے کہ کوئی محافظ کوتاہی نہ کرے۔ اب سلطان ایوبی سفر میں تھا۔ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ محافظوں
‫کی پوری فوج کو ساتھ نہیں رکھے گا‪ ،چوبیس کافی ہیں‪ ،حاالنکہ راستے میں صلیبی چھاپہ ماروں کا خطرہ تھا۔
‫سلطان ایوبی قاہرہ سے دن کے پچھلے پہر روانہ ہوا تھا۔ آدھی رات سفر میں اور باقی آرام میں گزری۔ سحر کی تاریکی میں
‫اس نے کوچ کا حکم دیا۔ دوپہر کا سورج گھوڑوں کو پریشان کرنے لگا تو ایک ایسی جگہ یہ قافلہ رک گیا جہاں پانی بھی تھا‪،
‫درخت بھی اور ٹیلوں کا سایہ بھی تھا۔ ذرا سی دیر میں سلطان ایوبی کے لیے خیمہ نصب کردیا گیا۔ اس کے اندر سفر ی
‫چارپائی اور بستر بچھا دیا گیا۔ کھانے پینے سے فارغ ہوکر سلطان ایوبی اونگھنے کے لیے لیٹ گیا۔ دو محافظ خیمے کے آگے
‫اورپیچھے کھڑے ہوگئے۔
‫دستے کے باقی محافظ قریب ہی سایہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔ کچھ گھوڑوں کو پانی پالنے کے لیے لے گئے۔ علی بن سفیان اور
‫دیگر حکام جو سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ تھے‪ ،ایک درخت کے نیچے جاکر لیٹ گئے۔ انہوں نے خیمے نصب نہیں
‫کرائے تھے۔ اس جگہ کے خدوخال ایسے تھے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا خیمہ ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔ صحرا کا
‫سورج زمین وآسمان کو جال رہا تھا جس کسی کو جہاں چھائوں ملی وہاں بیٹھ یا لیٹ گیا۔
‫یہ پہال موقعہ تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے پر جن دو محافظوں کی ڈیوٹی لگی‪ ،وہ دونوں حشیشین تھے‪ ،جو

‫ایک عرصہ سے ایسے ہی موقع کی تالش میں تھے۔ اس موقع کو پوری طرح موزوں بنانے کے لیے یہ صورت پیدا ہوگئی کہ
‫محافظوں کی زیادہ تر نفری گھوڑوں کو پانی پالنے چلی گئی تھی۔ پانی ایک ٹیلے کے دوسری طرف تھا۔ قافلے کا سامان
‫اٹھانے والے اونٹوں کے شتربان بھی اونٹوں کو پانی کے لیے لے گئے تھے جو محافظ ڈیوٹی والوں کے عالوہ پیچھے رہ گئے
‫تھے۔ ان میں دو اور حشیشین تھے۔ انہوں نے اشاروں اشاروں میں طے کرلیا۔ صالح الدین ایوبی کے خیمے کے سامنے کھڑے
‫محافظ نے خیمے کا پردہ ذ را سا ہٹا کر اندر دیکھا اور باہر والوں کو اشارہ کیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اس حالت میں
‫گہری نیند سویا ہوا تھا کہ اس کے پیٹھ خیمے کے دروازے کی طرف تھی۔ محافظ دبے پائوں اندر چال گیا۔ اس نے خنجر نہیں
‫نکاال‪ ،تلوار نہیں نکالی‪ ،بلکہ اس کے ہاتھ میں جو برچھی تھی وہ بھی اس نے خیمے کے باہر رکھ دی تھی۔ ہر محافظ کی
‫طرح وہ قوی ہیکل جوان تھا۔ دیکھنے میں وہ سلطان ایوبی کی نسبت دگنا نہیں تو ڈیڑھ گنا طاقتور ضرور تھا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ‪ 19:40
‫قسط نمبر‪43.۔
‫" کھنڈروں کی آواز "
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫دیکھنے میں وہ سلطان ایوبی کی نسبت دگنا نہیں تو ڈیڑھ گنا طاقتور ضرور تھا۔وہ دبے پائوں سلطان ایوبی تک گیا اور بجلی
‫کی تیزی سے سلطان کی گردن دونوں ہاتھوں میں جکڑ لی۔ سلطان ایوبی جاگ اٹھا۔ اس نے کروٹ بھی بدل لی لیکن جس
‫شکنجے میں اس کی گردن آگئی تھی اس سے گردن چھڑانا ممکن نہیں تھا۔ اسالم کے اس جری جرنیل کی زندگی صرف دو
‫منٹ رہ گئی تھی۔ وہ اب پیٹھ کے بل پڑا تھا۔ حملہ آور نے اس کے پیٹ پر گھٹنہ رکھ کر ایک ہاتھ اس کی گردن سے ہٹا
‫دیا‪ ،دوسرے ہاتھ سے سلطان صالح الدین ایوبی کی شہ رگ کو دبائے رکھا۔ اس نے اپنے کمر بند سے ایک پڑیا سی نکالی۔
‫اسے ایک ہی ہاتھ سے کھوال اور صالح الدین ایوبی کے منہ میں ڈالنے لگا۔ وہ سلطان کو زہر دے کر مارنا چاہتا تھا کیونکہ
‫گال دبا کر مارنے سے صاف پتا چل جاتا ہے کہ گال دبایا گیا ہے۔ سلطان ایوبی بے بس تھا۔ پیٹ پر اتنے قوی ہیکل جوان کا
‫گھٹنہ اور بوجھ تھا۔ شہ رگ دشمن کے شکنجے میں تھی اور سانس رک گیا تھا۔ اس کا منہ کھال ہوا تھا جو اس نے پڑیا
‫دیکھ کر بند کرلیا۔ اس نے ہوش ٹھکانے رکھے‪ ،موت سر پر آگئی تھی۔ سلطان ایوبی نے اپنے کمر بند سے تلوار نما خنجر
‫نکال لیا جو وہ زیور کی طرح اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ حملہ آور اس کے منہ میں زہر ڈالنے کی کوشش میں مگن تھا‪ ،دیکھ نہ
‫سکا کہ سلطان نے خنجر نکال لیا ہے۔ سلطان ایوبی نے خنجر اس کے پہلو میں اتار دیا۔ کھینچا اور ایک بار پھر خنجر حملہ
‫آور کے پہلو میں اتر گیا۔ حملہ آور سانڈ جیسا آدمی تھا۔ اتنی جلدی مر نہیں سکتا تھا۔ سلطان ایوبی سپاہی تھا‪ ،وہ خنجر
‫کے وار اور ہدف سے آگاہ تھا۔ اس نے خنجر حملہ آور کے پہلو سے نکاال نہیں‪ ،وہیں خنجر کو گھمایا اور نیچے کو جھٹکا
‫دیا۔ حملہ آور کی انتڑیاں اور پیٹ کا اندروں حصہ باہر آگیا۔
‫حملہ آور کے ہاتھ سے سلطان صالح الدین ایوبی کی گردن چھوٹ گئی۔ دوسرے ہاتھ سے زہر کی پڑیا گر پڑی۔ سلطان صالح
‫الدین ایوبی نے جسم کو جھٹکا دیا‪ ،حملہ آور کو دھکا دیا اور حملہ آور چار پائی سے نیچے جاپڑا۔ وہ اب اٹھنے کے قابل
‫نہیں تھا۔ یہ معرکہ بمشکل آدھے منٹ میں ختم ہوگیا مگر خیمے سے باہر دوسرا محافظ کھڑا تھا۔ اسے نے اندر دھمک سی
‫سنی تو پردہ اٹھا کر جھانکا وہاں کچھ اور ہی نقشہ دیکھا۔ وہ تلوار سونت کر آیا اور سلطان صالح الدین ایوبی پروار کیا مگر
‫سلطان خیمے کے درمیانی بانس کے پیچھے ہوگیا۔ تلوار بانس پر لگی‪ ،صالح الدین ایوبی تو جیسے پیدائشی تیغ زن تھا۔ ادھر
‫تلوار بانس میں لگی ادھر
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے جھپٹا مارنے کے انداز سے حملہ آور پر خنجر کا وار کیا۔ حملہ آور بھی لڑاکا تھا۔ اسی لیے تو
‫وہ محافظ دستے کے لیے چنا گیا تھا۔ وہ وار بچا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سلطان صالح الدین ایوبی نے محافظ دستے کے کمانڈر
‫کو آواز دی۔ حملہ آور نے دوسرا وار کیا تو سلطان صالح الدین ایوبی آگے سے ہٹ گیا مگر ایسا ہٹا کہ حملہ آور کے پہلو
‫میں چال گیا۔ اب کے حملہ آور سلطان کے خنجر کے وار سےنہ بچ سکا۔ سلطان ایوبی کی پکار پر دو محافظ خیمے میں آئے۔
‫دونوں نے سلطان ایوبی پر حملہ کردیا۔ اتنے میں سلطان ایوبی دوسرے محافظ کو بھی زخمی کرچکا تھا مگر وہ ابھی تک لڑ
‫رہا تھا۔ اس کے دو اور ساتھی آگئے تھے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے حوصلہ قائم اور دماغ حاضر رکھا۔ اللہ نے مدد کی کہ دستے کا کمانڈر اندر آگیا۔ اس نے دوسرے
‫محافظوں کو آوازیں دیں اور سلطان صالح الدین ایوبی کے کہنے پر وہ حملہ آور سے الجھ گیا۔ اتنے میں چار پانچ محافظ
‫آگئے۔ ادھر سے علی بن سفیان اور دوسرے حکام بھی شور سن کر آگئے۔ خیمے میں دیکھا تو ان کے رنگ اڑ گئے چار
‫محافظ لہولہان ہوکے پڑے تھے‪ ،دو مرچکے تھے۔ تیسرا مر رہا‪ ،وہ ہوش میں نہیں تھا۔ اس کا پیٹ اوپر سے نیچے تک پھٹا
‫ہوا اور سینے پر دو گہرے زخم تھے۔ چوتھے کے پیٹ میں ایک زخم تھا اور دوسرا زخم ران پر۔ وہ زمین پر بیٹھا ہاتھ جوڑ
‫کر چال رہا تھا… میں زندہ رہنا چاہتا ہوں‪ ،مجھے میری بہن کے لیے زندہ رہنے دو'' …سلطان ایوبی نے اپنے محافظوں کو
‫روک دیا۔ محافظ اتنے بھڑکے ہوئے تھے کہ انہوں نے تیسرے محافظ کو بے ہوشی میں سانس لیتے دیکھا تو اس کی شہ رگ
‫کاٹ دی۔ چوتھے کو سلطان ایوبی نے بچا لیا۔ یہ رحم کا جذبہ بھی تھا اور یہ ضرورت بھی کہ اس سے بیان لینے تھے اور
‫اس سازش کی کڑیاں بھی مالنی تھیں۔
‫صالح الدین ایوبی کا طبیب بھی اس کے قافلے کے ساتھ تھا۔ وہ جراح بھی تھا‪ ،ہر جگہ اس کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ سلطان
‫صالح الدین ایوبی نے اسے کہا کہ اس زخمی کو ہر قیمت پر زندہ رکھنے کی کوشش کرے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو
‫خراش تک نہیں آئی تھی‪ ،وہ ہانپ رہا تھا لیکن جذباتی طور پر بالکل مطمئن تھا۔ غصے کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس نے مسکرا
‫کرکہا… ''میں حیران نہیں ہوا ایسا ہونا ہی تھا''… علی بن سفیان کی جذباتی حالت بگڑی ہوئی تھی۔ یہ اس کی ذمہ داری
‫تھی کہ محافظ دستے کے لیے جسے منتخب کیا جائے‪ ،اس کے متعلق چھان بین کرے کہ وہ قابل اعتماد ہے۔ اب یہ دیکھنا
‫تھا کہ دستے کے باقی سپاہیوں میں کوئی ان کا ساتھی رہ گیا ہے یا باقی دیانت دار ہیں… سلطان صالح الدین ایوبی کے بستر
‫پر وہ پڑیا پڑی ہوئی تھی جو حملہ آور اس کے منہ میں ڈالنا چاہتا تھا۔ ایک سفید سا سفوف تھا جس میں سے کچھ بستر
‫پر بکھر گیا تھا۔ طبیب نے یہ سفوف دیکھا اور جب سنا کہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے منہ میں ڈ اال جارہا تھا تو
‫طبیب کا رنگ اڑ گیا۔ اس نے بتایا کہ یہ ایسا زہر ہے کہ جس کا صرف ایک ذرہ بھی حلق سے نیچے اتر جائے تو تھوڑی
‫سی دیر میں انسان نہایت اطمینان سے مرجاتا ہے۔ وہ تلخی محسوس نہیں کرتا اور نہ وہ اپنے اندر کوئی اور تبدیلی محسوس
‫کرتا ہے۔ طبیب نے سلطان صالح الدین ایوبی کا بستر اٹھوا کر باہر بھجوایا اور صاف کرادیا۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے زخمی کو اٹھوا کر اپنے بستر پر لٹا دیا۔ اس کے پیٹ میں تلوار لگی تھی اور دوسرا زخم ران پر

‫تھا۔ پیٹ کا زخم مہلک نظر نہیں آتا تھا‪ ،ترچھا تھا۔ ران کا زخم لمبا تھا اور گہرا بھی‪ ،وہ ہاتھ جوڑ کر سلطان صالح الدین
‫ایوبی سے زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ سلطان کے خالف اس کے دل میں کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ کوئی نظریاتی
‫عداوت بھی نہیں تھی۔ وہ کرائے کا قاتل تھا۔ اپنی شکست کے ساتھ اسے اپنی ایک غیرشادی شدہ بہن کا غم کھائے جارہا
‫تھا۔ وہ بار بار اس کا نام لیتا اور کہتا تھا کہ میں مسلمان ہوں‪ ،میرا گناہ بخش دو‪ ،ایک مسلمان بہن کی خاطر مجھے بخش
‫دو۔
‫زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے''… سلطان ایوبی نے ایسے لہجے میں کہا کہ جس میں تحمل تھا مگر رعب اور ''
‫جالل بھی تھا۔ سلطان نے کہا… ''تم نے دیکھ لیا ہے کہ کون مارتا اور کون زندہ رکھتا ہے لیکن میرے دوست اس وقت
‫تمہاری جان جس کے ہاتھ میں ہے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اپنا گناہ دیکھو‪ ،اپنی بے بسی دیکھو میں تمہیں تمہارے ساتھیوں
‫کی الش کے ساتھ زندہ باہر صحرا میں پھینک دوں گا۔ صحرا کی لومڑیاں اور بھیڑئیے تمہیں اس حال میں نوچ نوچ کر کھائیں
‫گے کہ تم زندہ رہو گے‪ ،ہوش میں ہوگے مگر بھاگ نہیں سکو گے۔ بوٹی بوٹی ہوکر مرو گے اور اپنے گناہ کی سزا پائو
‫گے''۔
‫زخمی تڑپ اٹھا‪ ،اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور دھاڑیں مارمار کر رونے لگا… سلطان ایوبی نے
‫پوچھا… '' تم کون ہو؟کہاں سے آئے ہو؟ میرے ساتھ تمہاری کیا دشمنی ہے؟''۔
‫میں فاطمیوں کا آدمی ہوں''… اس نے جوا ب دیا… ''ہم چاروں حشیشین تھے‪ ،کوئی دو سال اور کوئی تین سال پہلے ''
‫آپ کی فوج میں بھرتی ہوا تھا‪ ،ہمیں سکھایا گیا تھا کہ آپ کے محافظ دستے میں کس طرح پہنچا جاسکتا ہے''۔ اس نے
‫بولنا شروع کردیا اور راز کی باتیں بتانے لگا‪ ،اس نے بتایا کہ محافظ دستے میں یہی چار قاتل تھے۔ اس کے بیان کے دوران
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے طبیب سے کہا کہ وہ اس کی مرہم پٹی کرتا رہے۔ طبیب نے اسے ایک دوا پال دی اور خون
‫روکنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے زخمی کو تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ زخمی انکشاف کرتا گیا۔ اس نے معزول
‫فاطمی خالفت اور حشیشین کے معاہدے کو بے نقاب کیا۔ فاطمیوں نے صلیبیوں سے جو مدد لی تھی اور لے رہے تھے‪ ،اس
‫کی تفصیل بتائی… خاصا وقت صرف کرکے طبیب نے اس کی مرہم پٹی مکمل کردی۔ اصل مرہم تو سلطان ایوبی کی شفقت
‫تھی جس میں انتقام کا ذرا سا بھی شک نہیں ہوتا تھا۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا کہ الشیں باہر پھینک دو اور اس زخمی کے متعلق اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ
‫وہیں سے اسے قاہرہ لے جائے اور اس نے جو نشاندہیاں کی ہیں ان کے خالف کارروائی کرے۔ زخمی نے نہایت کارآمد سراغ
‫دیئے‪ ،جن میں کچھ ایسے خطرناک تھے جن کی تفتیش علی بن سفیان ہی اچھی طرح کرسکتا تھا۔ اسے اسی وقت اونٹ پر
‫خاص طریقے سے لٹا کر علی بن سفیان واپسی کے سفر پر چل پڑا۔
‫صالح الدین ایوبی پر متعدد بار قاتالنہ حملے ہوئے تھے‪ ،تاریخ میں ان تمام کا ذکر نہیں آیا۔مندرجہ باال طرز کے دو حملوں کا
‫ذکر ملتا ہے۔ ایک بار ایک فدائی قاتل نے سلطان صالح الدین ایوبی پر اسی طرح سوتے میں خنجر کا وار کیا تھا۔ خنجر
‫پگڑی میں لگا اور سلطان ایوبی جاگ اٹھا تھا۔ یہ قاتل سلطان ایوبی کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کے محافظ دستے کے چند
‫ایسے محافظ پکڑے گئے تھے جو کرائے کے قاتل تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫مصر کے جنوب مغربی عالقے میں جو سوڈان کی سرحد کے ساتھ ملتا تھا صدیوں پرانی کسی پیچ در پیچ عمارت کے کھنڈر
‫تھے۔ اس زمانے میں مصر کی سرحد کچھ اور تھی۔ صالح الدین ایوبی کہا کرتا تھا کہ مصر کی کوئی سرحد ہے ہی نہیں۔ تاہم
‫سوڈانیوں نے ایک خیالی سی سرحد بنا رکھی تھی۔ کھنڈروں کے اردگرد کا عالقہ دشوار گزار تھا۔ غالبا ً فرعونو ں کے وقتوں
‫میں یہ عالقہ سرسبز تھا اور وہاں پانی کی بہتات تھی۔ خشک جھیلیں اور دو ندیوں کے گہرے اور خشک پاٹ بھی تھے۔
‫ریتیلی چٹانیں بھی تھیں اور ریتیلی مٹی کے ٹیلے بھی۔ ان کی شکلیں کسی بہت بڑی عمارت کے کھنڈروں کی مانند تھیں‪،
‫کہیں ٹیلہ ستون کی طرح دور اوپر تک چال گیا تھا اور کہیں ٹیلے دیواروں کی طرح کھڑے تھے‪ ،جہاں جہاں جگہ ہموار تھی‪،
‫لہذا درخت تھے اور وہاں
‫وہاں ریت تھی۔ چٹانیں اونچی بھی تھیں‪ ،نیچی بھی۔ اس عالقے کے اردگرد کہیں کہیں پانی تھا‪ٰ ،
‫کے رہنے والے کھیتی باڑی کرتے تھے۔ کم وبیش چالیس میل لمبا اور دس بارہ میل چوڑا یہ عالقہ آباد تھا۔ یہ آبادی مسلمان
‫تھی۔ ان میں کچھ لوگ مسلمان نہیں تھے۔ ان کے عجیب وغریب سے عقیدے تھے۔
‫فرعونوں کی عمارت کے کھنڈروں سے لوگ ڈرا کرتے تھے۔ ان کے اردگرد کا عالقہ بھی ایسا تھا کہ دیکھنے والے پر ہیبت
‫طاری ہوجاتی تھی‪ ،وہاں سے کوئی گزرتا ہی نہیں تھا‪ ،لوگ کہتے تھے کہ وہاں فرعونوں کی بدروحیں رہتی ہیں جو دن کے
‫دوران بھی جانوروں کی صورت میں گھومتی پھرتی رہتی ہیں اور کبھی اونٹوں پر سوار سپاہیوں کے بھیس میں اور کبھی
‫خوبصورت عورتوں کے روپ میں نظرآتی ہیں اور رات کو وہاں سے ڈرائونی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ کوئی ایک سال سے
‫یہ کھنڈر لوگوں کی دلچسپیوں کا مرکز بن گیا تھا۔ اس سے پہلے سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج کے لیے بھرتی کی مہم
‫شروع ہوئی تھی تو بھرتی کرنے والے اس عالقے کے ارد گرد بھی گھومتے پھرتے رہے تھے۔ وہاں کے باشندوں نے انہیں
‫خبردار کیا تھا کہ وہ ٹیلوں کے اندر نہ جائیں‪ ،انہیں پراسرار آوازوں‪ ،ڈرائونی چیزوں اور بدروحوں کی کہانیاں سنائی گئی تھیں۔
‫اس عالقے سے فوج کو بہت بھرتی ملی تھی‪ ،مگر اس کے بعد بھرتی کرنے والے گئے تو لوگوں کا رحجان بدال ہوا تھا۔
‫سرحد پر گشت کرنے والے دستوں نے رپورٹ دی تھی کہ گشتی سنتری بھی اس عالقے کے اندر نہیں جایا کرتے تھے اور
‫انہوں نے کبھی کسی انسان کو ادھر جاتے نہیں دیکھا تھا مگر اب وہ لوگوں کو اندر جاتا دیکھتے ہیں اور وہاں سے آنے والے
‫ڈرے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ مطمئن سے نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد یہ اطالع ملی کہ ہر جمعرات کے روز رات تک اندر میلہ
‫سا لگتا ہے اور اس کے بعد اس قسم کا واقعہ ہوا کہ سرحدی دستوں کے چار پانچ سپاہی الپتہ ہوگئے۔ ان کے متعلق یہ
‫رپورٹ دی گئی تھی کہ بھگوڑے ہوگئے ہیں۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے جہاں دشمن کے ملکوں میں جاسوس بھیج رکھے تھے وہاں اس نے اپنے ملک میں بھی
‫جاسوسوں کا جال بچھا رکھا تھا۔ غیر مسلم مورخوں نے سلطان صالح الدین ایوبی کو خاص طور پر خراج تحسین پیش کیا ہے
‫کہ اس نے آج کے انٹیلی جنس نظام اور کمانڈر وطریقۂ جنگ کو خصوصی اہمیت دے کر ٹرینگ کے نئے طریقے دریافت کیے
‫اور یہ ثابت کردیا تھا کہ صرف دس افراد سے ایک ہزار نفری کی فوج کا کام لیا جاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان
‫ہونے کی وجہ سے یورپی مورخوں نے سلطان صالح الدین ایوبی کے اس فن کو تاریخ میں اتنی جگہ نہیں دی جتنی دینی
‫چاہیے تھی لیکن اس دور کے وقائع نگاروں نے جو تحریریں قلمبند کی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اسالم کا یہ عظیم پاسبان
‫انٹیلی جنس‪ ،گوریال اور کمانڈو آپریشن کا کس قدر ماہر تھا۔ اندرون ملک اس کی انٹیلی جنس گوشے گوشے پر نظر رکھتی اور

‫اعلی کارکردگی کا ثبوت تھا کہ مصر کے دور دراز کے
‫فوج کی مرکزی کمان کو رپورٹیں دیتی رہتی تھی۔ یہ اسی نظام کی
‫ٰ
‫ایسے عالقے کی سرگرمیوں کی بھی اطالع مرکز کو پہنچا دی گئی تھی جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس چھوٹے سے خطے
‫کو تو خدا نے بھی فراموش کررکھا ہے مگر مخبروں نے وہاں کے لوگوں کی صرف ذہنی تبدیلی دیکھی اور اس کی اطالع دی
‫تھی‪ ،انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اندر کیا ہوتا ہے۔ اس اطالع کے بعد دو مخبر قتل یا الپتہ ہوگئے تھے۔
‫وہاں کے لوگوں نے نہ صرف ٹیلوں کے ڈرائونے عالقے کے اندر جانا شروں کردیا‪ ،بلکہ وہ فرعونوں کی اس پیچ درپیچ عمارت
‫کے کھنڈروں میں بھی جانے لگے تھے‪ ،جہاں جانے کے تصور سے ہی ان کے رونگٹے کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے
‫اس کی ابتداء اس طرح ہوئی تھی کہ ایک گائوں میں ایک شتر سوار آیا۔ یہ اجنبی مسلمان اور مصری تھا‪ ،اس کا اونٹ اچھی
‫نسل کا اور تندرست تھا‪ ،اس مسافر نے گائوں والوں کواکٹھا کرکے یہ قصہ سنایا کہ وہ غربت سے تنگ آچکا تھا۔ اب وہ
‫رہزنی اور چوری کے ارادے سے گھر سے نکل کھڑا ہوا‪ ،وہ پیدل تھا‪ ،وہ اس امید پر اس عالقے میں آگیا کہ یہاں کوئی آبادی
‫نہیں ہے اس لیے رہزنی کرتے پکڑا نہیں جائے گا۔ وہ بہت دن پیدل چلتا رہا مگر اسے کوئی شکار نہ مال۔ آخر ٹیلوں کے اس
‫عالقے میں جہاں کوئی نہیں جاتا‪ ،وہ جاکر گر پڑا۔ اس کے جسم میں طاقت نہیں رہی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف ہاتھ
‫بلند کرکے خدا سے مدد مانگی۔ اسے ایک گونج دار آواز سنائی دی… ''تم خوش قسمت ہو کہ تم نے ابھی گناہ نہیں کیا‪،
‫گناہ کی صرف نیت کی ہے۔ اگر تم کسی کو لوٹ کر یہاں آتے تو تمہارا جسم ہڈیوں کا پنجر بن جاتا اور شیطان کے چھوڑے
‫ہوئے درندے تمہارا گوشت جو تمہارے سامنے پڑا ہوا ہوتا‪ ،تمہیں دکھا دکھا کر کھاجاتے''۔
‫اس آواز نے اجنبی پر غشی طاری کردی۔ اس نے محسوس کیا کہ کوئی اسے اٹھا رہا ہے‪ ،اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ بیٹھا
‫ہوا تھا اور اس کے سامنے ایک سفید ریش بزرگ کھڑا تھا جو دودھ کی مانند سفید اور آنکھوں سے نور شعاعیں نکلتی تھیں۔
‫وہ جان گیا کہ یہ آواز جو اس نے سنی تھی‪ ،اسی بزرگ کی تھی۔ اجنبی کی زبان بند ہوگئی اور وہ کانپنے لگا۔ بزرگ نے
‫اسے اٹھا کر کہا… ''مت ڈر مسافر‪ ،یہ سب لوگ جو یہاں آنے سے ڈرتے ہیں‪ ،بدنصیب ہیں۔ انہیں شیطان ادھر آنے نہیں
‫موسی علیہ السالم کی مملکت ہے۔
‫دیتا۔ تم جائو اور لوگوں سے کہو کہ یہاں اب فرعونوں کی خدائی نہیں رہی۔ یہ حضرت
‫ٰ
‫عیسی علیہ السالم بھی یہیں آسمان سے اترنے والے ہیں۔ اب اسالم کی قندیلیں اسی کھنڈر سے روشن ہوں گی۔ جن
‫حضرت
‫ٰ
‫کی روشنی ساری دنیا کو منور کردے گی۔ جائو لوگوں کو ہمارا پیغام دو‪ ،انہیں یہاں الئو''… اجنبی نے کہا کہ وہ اٹھ نہیں
‫سکتا‪ ،چل نہیں سکتا‪ ،جسم سوکھ گیا ہے۔ سفید ریش بزرگ نے کہا… '' تم اٹھو اور پچاس قدم شمال کی طرف جائو۔
‫پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا‪ ،ڈرنا نہیں۔ لوگوں تک پیغام پہنچا دینا ورنہ نقصان اٹھائو گے۔ تمہیں ایک اونٹ بیٹھا ہوا نظر آئے گا۔
‫اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہوگا اور اس کے ساتھ جو کچھ ہوگا وہ تمہارا ہوگا''۔
‫اجنبی نے گائوں والوں کو سنایا کہ وہ اٹھ کر چلنے لگا تو اس کے جسم میں طاقت آگئی تھی۔ وہ ڈر رہا تھا کہ یہ کسی
‫فرعون کی بدروح ہے۔ اس نے پیچھے نہیں دیکھا۔ بدروح کے ڈر سے قدم گنتا رہا اور راستہ گھوم گیا۔ پچاس قدم پر یہ اونٹ
‫بندھا ہوا تھا‪ ،اس کے ساتھ کھانا بندھا ہوا تھا جو اس نے کھا لیا اور پانی پی لیا۔ اس کے جسم میں ایسی طاقت آگئی جو
‫پہلے اس کے جسم میں نہیں تھا۔ اس نے لوگوں کو ایک تھیلی کھول کر دکھائی جس میں سونے کی اشرفیاں تھیں۔۔ یہ
‫تھیلی اونٹ کے ساتھ بندھی ہوئی تھی‪ ،اجنبی اونٹ پر سوار ہوا اور اس گائوں میں آگیا جس میں بیٹھا وہ قصہ سنا رہا تھا۔
‫اس کے بعد اس نے گائوں والوں کو سفید ریش بزرگ کا پیغام دیا اور چال گیا۔ اس کا سنانے کا انداز ایسا پراثر تھا کہ لوگوں
‫کے دلوں میں ٹیلوں کے عالقے میں جانے کا اشتیاق پیدا ہوگیا لیکن گائوں کے بوڑھوں نے کہا کہ یہ اجنبی انسان نہیں بلکہ
‫کھنڈر کے شرشرار کا حصہ ہے… انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ چھپے ہوئے کو بے نقاب کرنے کی اور بھید کو پالینے
‫کی کوشش کرتی ہے جن جسموں میں جوانی کا خون ہوتا ہے وہ خطرے مول لے لیتے ہیں۔ گائوں کے جوانوں نے ارادہ کرلیا
‫کہ وہ وہاں جائیں گے۔ اشرفیوں کا جادو بڑا سخت تھا جس سے وہ لوگ بچ نہیں سکتے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس چالیس میل لمبے اور دس میل چوڑے خطے میں جتنے گائوں تھے‪ ،ان سب سے اطالع ملی کہ ایک اجنبی مسافر یہی
‫قصہ سنا گیا ہے۔ کچھ لوگ تذبذب میں تھے اور کچھ تذبذب اور فیصلے کے درمیان بھٹک رہے تھے مگر ادھر جانےسے ڈرتے
‫تھے‪ ،بعض آدمی گئے بھی لیکن ٹیلوں کے پراسرار عالقے کو دور سے دیکھ کر واپس آگئے۔ کچھ روز بعد دو جوان شتر سوار
‫تمام عالقے میں گھوم گئے۔ انہوں نے بھی ایسا ہی قصہ سنایا جو ذرا مختلف تھا۔ وہ بہت دور کے سفر پر گھوڑوں پر جارہے
‫تھے۔ ان کے ساتھ دو ٹٹو تھے جن پر قیمتی مال تھا۔ یہ تجارت کا مال تھا جو وہ سوڈان لے جارہے تھے۔ راستے میں انہیں
‫ڈاکوئوں نے لوٹ لیا۔ مال کے ساتھ گھوڑے اور ٹٹو بھی چھین لیے اور انہیں زندہ چھوڑ دیا۔ یہ دونوں ٹیلوں کے عالقے میں
‫آکر تھکن ‪ ،بھوک‪ ،پیاس اور غم سے گر پڑے۔ انہیں بھی سفید ریش بزرگ نظر آیا۔ اس نے انہیں وہی پیغام دیا اور کہا…
‫'' تمہیں شیطان کے درندوں نے لوٹا ہے‪ ،تم اللہ کے نیک بندے ہو‪ ،جائو تمہیں پچاس قدم پر دواونٹ کھڑے ملیں گے اور ان
‫کے ساتھ جو کچھ بندھا ہوگا وہ تمہارا ہوگا لیکن مال وزر دیکھ کر آپس میں لڑ نہ پڑنا ورنہ ہمیشہ کے لیے اندھے ہوجائو
‫گے''… انہیں بھی اس بزرگ نے کہا کہ گائوں گائوں جا کر لوگوں کو پیغام دیں کہ ان کھنڈروں سے ڈریں نہیں۔
‫اس کے بعد ایسی ہی بہت سی روائتیں سنی اور سنائی جانے لگیں۔ ان میں ڈر اور خوف کا کوئی تاثر نہیں تھا بلکہ ایسی
‫کشش تھی کہ لوگوں نے ٹیلوں کے اردگرد پھرنا شروع کردیا۔ انہوں نے بعض لوگوں کو اندرونی عالقے سے باہر جاتے اور آتے
‫بھی دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ اندر ایک درویش بزرگ ہے جو غیب کا حال بتاتا اور آسمانوں کی خبر دیتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا
‫عیسی علیہ السالم کہتا تھا۔ ایک
‫موسی علیہ السالم ہیں اور کوئی حضرت
‫کہ وہ امام مہدی ہے۔ کسی نے کہا کہ حضرت
‫ٰ
‫ٰ
‫بات وثوق سے کہی جاتی تھی کہ وہ جو کوئی بھی ہے‪ ،خدا کا بھیجا ہوا ہے اور گناہ گاروں سے نہ ملتا ہے‪ ،نہ انہیں نظر
‫آتا ہے۔ اس کے پاس جانے کے لیے نیت صاف ہونی چاہیے۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ مردوں کو بھی زندہ کرتا ہے… یہ طلسماتی
‫اور پراسرار روائتیں اور حکائتیں لوگوں کو اندرونی عالقے میں لے جانے لگیں۔ آگے جاکر انہوں نے پہلی بار وہ کھنڈر دیکھے
‫جن سے وہ ڈرتے تھے۔ وہ ان کے اندر بھی گئے۔ یہ کمروں‪ ،غالم گردشوں اور غاروں جیسے راستوں کی بھول بھلیاں تھیں۔
‫ایک کمرہ بہت ہی وسیع اور اس کی چھت اونچی تھی۔ جالے لٹک رہے تھے اور ماحول پر ہیبت طاری تھی لیکن وہاں
‫خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ کہیں سیڑھیاں فرش سے نیچے جاتیں اور تہہ خانوں میں جاکر ختم ہوتی تھیں۔
‫یہ عمارت ان فرعونوں کی تھی جو اپنے آپ کو خدا کہتے تھے۔ وہ کسی کسی کو نظر آتے تھے۔ لوگوں کو اس عمارت میں
‫اکٹھا کرلیا کرتے اور لوگوں کو ان کی صرف آواز سنائی دیتی تھی۔ یہ آواز ایسی سرنگوں میں سے گزر کر آتی تھی جن کے
‫دہانے بڑے کمرے میں تھے مگر نظر نہیں آتے تھے بولنے واال سرنگ کے دوسرے سرے پر ہوتا تھا جس کے متعلق کوئی جان
‫نہیں سکتا تھا کہ کہاں ہے۔ وہ اسے خدا کی آواز سمجھتے تھے جو عام آدمی کو نظر نہیں آتا۔ ان بڑے کمروں میں روشنیوں

‫کا ایسا انتظام ہوا کرتا تھا کہ مشعلیں نظر نہیں آتی تھی‪ ،کمرے ر وشن رہتے تھے۔ آئینے کی طرح چمکیلی دھات کی چادریں
‫استعمال کی جاتی تھیں جن سے چھپی ہوئی مشعلوں کی روشنی منعکس ہوتی تھی… وہ تو صدیوں پرانی بات تھی۔ اب
‫صالح الدین ایوبی کے دور میں اس عمارت میں پھر وہی آوازیں گونجنے لگیں‪ ،جنہیں لوگ خدا کی آوازیں سمجھا کرتے تھے۔
‫ذرا سے وقت میں لوگوں کے دلوں سے کھنڈروں کی ہیبت نکل گئی۔ وہ جب بڑے کمرے میں جاتے تو اس سے پہلے انہیں
‫اندھیری اور فراغ سرنگوں میں سے گزرنا پڑتا تھا۔ آگے بہت ہی فراغ اور اونچی چھت واال کمرہ آجاتا‪ ،جس میں روشنی ہوتی
‫مگر کوئی مشعل نظر نہیں آتی تھی۔ وہاں گونج کی طرح آواز آتی تھی… ''ہم نے تمہیں اندھیروں میں سے نکال کر روشنی
‫موسی
‫دکھائی ہے۔ کو ِہ طور کی روشنی ہے۔ اس نور کو دلوں میں داخل کرلو۔ فرعونوں کی بدروحیں بھی مرگئی ہیں۔ اب یہاں
‫ٰ
‫عیسی علیہ السالم اور زیادہ منور کرے گا۔ خدا کو یاد کرو‪ ،کلمہ پڑھو''۔ اور لوگ
‫علیہ السالم کا نور ہے اور اس نور کو
‫ٰ
‫حیرت سے منہ کھولے آنکھیں پھاڑے ایک دوسرے کو دیکھتے اور کلمہ طیبہ گنگنانا شروع کردیتے تھے۔ اگر اس آواز میں خدا‪،
‫عیسی علیہ السالم اور کلمہ طیبہ کا ذکر نہ ہوتا تو لوگ شاید اس کا یہ اثر قبول نہ کرتے
‫موسی علیہ السالم حضرت
‫حضرت
‫ٰ
‫ٰ
‫جو وہ کررہے تھے۔ وہ سب مسلمان تھے۔ اپنے مذہب کے نام پر وہ اس اثر کو قبول کرتے تھے… اور جب انہیں یہ آواز
‫سنائی دی… '' رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا نے غار حرا کے اندھیرے میں رسالت عطا کی تھی۔ تمہیں بھی
‫ان غاروں کے اندھیرے میں خدا کا نور نظر آئے گا''… تو لوگوں نے سرجھکا لیے اور اس آواز کو جس کی گونج میں
‫طلسماتی اثر تھا‪ ،اپنے دل پر نقش کرلیا لیکن لوگ اس ہستی تک پہنچنا چاہتے تھے جس کی یہ آواز تھی اور جو مسافروں
‫کو اونٹ‪ ،کھانا‪ ،پانی اور اشرفیاں دیتی اور مردوں کو زندہ کرتی تھی۔ لوگوں کی بیتابیاں بڑھتی جارہی تھیں۔ وہ اپنے گھروں کو
‫جاتے تو انہیں عورتیں بتاتیں کہ ایک اجنبی آیا تھا جو کھنڈر والے درویش کی کرامات سنا گیا ہے۔ وہ کہتا تھا کہ اس نے
‫درویش کی زیارت کی ہے۔ ایک روز ان دیہات میں جو سب سے بڑا گائوں ہے‪ ،وہاں کی مسجد کے پیش امام سے لوگوں نے
‫استفسار کیا۔ اس نے کہا… ……وہ مقدس انسان ہے صرف نیک لوگوں سے ملتا ہے‪ ،نیک وہ ہوتا ہے جو خون خرابہ نہ کرے‪،
‫عیسی علیہ السالم کا پیغام الیا ہے۔ اس پیغام میں محبت ہے‪،
‫صلح اور امن کی زندگی بسر کرے۔ یہ مقدس درویش حضرت
‫ٰ
‫جنگ وجدل نہیں۔ اس پیغام میں یہ نصیحت ہے کہ کسی کو زخمی نہ کرو بلکہ زخمی کے زخموں پر مرہم رکھو… اگر تم
‫لوگ ان اصولوں پر زندگی بسر کرو گے تو یہ درویش تمہاری کایا پلٹ دے گا''۔
‫جب ایک امام مسجد نے بھی اس مقدس درویش کو اور اس کی آواز کو برحق کہہ دیا تو کسی شک و شبے کی گنجائش نہ
‫رہی۔ لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ کھنڈروں میں جانے لگے تو اعالن ہوا کہ ہر جمعرات کے روز اندر جانے کی اجازت ہوگی اور
‫شام کو میلہ لگا کرے گا۔ چنانچہ اس روز سے جمعرات کا دن مخصوص ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی عورتوں کو بھی وہاں جانے
‫کی اجازت مل گئی۔ اب کھنڈروں کے اندر اپنی مرضی سے کوئی نہیں جاسکتا تھا۔ جمعرات کے روز ان کے اردگرد میلے کا
‫سماں ہوتا تھا۔ دوردور سے لوگ اونٹوں‪ ،گھوڑوں اور خچروں پر اور پیدل بھی آتے اور شام کو کھنڈروں میں جانے کے وقت کا
‫انتظار کرتے تھے… اندر کی سنسنی خیز دنیا میں انقالب آگیا‪ ،وہاں اب لوگوں کو گناہ اور نیکی کے‪ ،تاریکی اور روشنی کے
‫تصورات ایسی صورت میں نظر آتے تھے کہ لوگ انہیں مجسم اور متحرک صورت میں دیکھتے اور حیرت زدہ ہوتے تھے۔ کسی
‫کو کوئی الٹا سیدھا سوال اور شک کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی وہ کسی سوال اور شک کی ضرورت محسوس
‫کرتے تھے۔
‫سورج غروب ہوتے ہی اندھیری سرنگ کا منہ کھل جاتا جو اندر لے جاتی تھی۔ یہ دراصل اس عمارت کے درمیان سے گزرنے
‫واال راستہ تھا۔ اس کی دیواریں بہت بڑے بڑے بالکوں کی تھیں۔ اوپر ایسی ہی چھت تھی۔ یہ سرنگ ہر دس بارہ قدموں بعد
‫دائیں یا بائیں کو مڑتی تھی۔ اس کے دروازے یا دہانے سے باہر چند ایک آدمی کھڑے ہوتے تھے۔ ان کے پاس کھجوروں کے
‫انبار لگے ہوتے تھے۔ یہ کھجوریں لوگوں کی الئی ہوئی ہوتی تھیں‪ ،جسے نذرانہ کہا جاتا تھا۔ زائرین کھجوریں ایک جگہ ڈھیر
‫کردیتے تھے۔ کھجوروں کے پاس پانی کے مشکیزے رکھے ہوتے تھے۔ شام کو جب زائرین کو اندر جانے کی اجازت ملتی تھی
‫تو دروازے پر ہر ایک کو تین کھجوریں کھال کر چند گھونٹ پانی پالیا جاتا اور اندر بھیج دیا جاتا۔ تاریک سرنگ سے گزر کر
‫جب یہ لوگ روشن ہال کمرے میں پہنچتے تو وہاں انہیں آوازیں سنائی دیتیں… ''کلمہ طیبہ پڑھو‪ ،اپنے اللہ کو یاد کرو‪،
‫عیسی علیہ السالم کا ظہور ہونے واال ہے۔ دل سے بدی اور دشمنی
‫موسی علیہ السالم تشریف لے آئے ہیں‪ ،حضرت
‫حضرت
‫ٰ
‫ٰ
‫نکال دو‪ ،لڑائی جھگڑا ختم کردو اور دیکھو ان کا حشر جنہیں جنت کا دھوکہ دے کر لڑایا گیا تھا''۔
‫اس آواز کے ساتھ ہی لوگوں کی آنکھوں میں نہایت تیز روشنی پڑتی۔ انہیں ایک طرف منہ کرکے کھڑا کیا جاتا تھا۔ ان کی
‫آنکھیں خیرہ ہونے لگتیں تو روشنی ذرا مدھم ہوجاتی۔ اس کے بعد روشنی کبھی تیز ہوتی‪ ،کبھی مدھم اور لوگوں کے سامنے
‫والی دیوار پر ستارے چمکتے نظر آتے۔ ان ستاروں میں جنبش ہوتی اور انتہائی مکروہ اور بھدی شکلوں والے انسان جاتے نظر
‫آتے۔ گونج دار آواز سنائی دیتی… ''یہ سب تمہاری طرح جوان اور خوبصو رت تھے۔ انہوں نے خدا کا پیغام نہ سنا۔ یہ کمر
‫کے ساتھ تلواریں سجا کر گھوڑوں پر سوار ہوئے اور اپنے جیسے خوبصورت جوانوں کو قتل کیا۔ انہیں دھوکہ دیا گیا کہ تم لڑو‪،
‫مرجائو گے تو جنت میں جائوں گے۔ دیکھ لو ان کا انجام‪ ،خدا نے انہیں شیطان کے درندے بنا کر کھال چھوڑ دیا ہے''… ان
‫آوازوں کے ساتھ بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک سنائی دیتی‪ ،کچھ اور آوازیں بھی سنائی دیتیں جو مختلف درندوں کی معلوم
‫ہوتی تھیں۔ روشنی اتنی تیز ہوجاتی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چندھیا جاتیں‪ ،پھر لمبے لمبے دانتوں والے درندے دائیں سے
‫بائیں جاتے نظر آتے۔ یہ بھی انسان تھے لیکن ان کی شکلیں بڑے ہی ڈرائونے بھیڑیوں جیسی تھیں۔ انہوں نے بازوئوں پر برہنہ
‫لڑکیاں اٹھا رکھی تھیں۔ یہ لڑکیاں جوان اور خوبصورت تھیں‪ ،لڑکیاں تڑپتی تھیں‪ ،بادل کی گرج اور زیادہ بلند سنائی دیتی اور
‫آواز آتی… ''انہیں اپنے حسن پر ناز تھا‪ ،انہوں نے خدا کے حسن کو ناپاک کیا تھا''… ان ڈرائونی اور بھیانک شکلوں کے
‫بعد بڑے ہی خوبرو مرد اور خوبصورت عورتیں گزرتیں‪ ،یہ سب ہنستے کھیلتے جاتے تھے‪ ،یہ نیک اور پاک لوگ تھے جن کے
‫متعلق بتایا جاتا تھا کہ انہوں نے کبھی لڑائی جھگڑے کی بات نہیں کی تھی۔ وہ سراپا محبت‪ ،پیار اور خلوص تھے۔
‫اس کے بعد زائرین کو ایک تہہ خانے میں لے جایا جاتا‪ ،جہاں انسانی ہڈیوں کے پنجر ےبھی تھے اور خوبصورت لڑکیاں بھی
‫عیسی علیہ السالم کا ظہور
‫گھومتی پھرتی اور مسکراتی نظر آتی تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد آواز سنائی دیتی… ''حضرت
‫ٰ
‫ہونے واال ہے… جنگ وجدل اور خون خرابہ دل سے نکال دو''… تہہ خانے کا ایک راستہ اور تھا جس سے لوگوں کو باہر
‫نکال دیا جاتا۔ لوگوں پر ایسا تاثر طاری ہوتا تھا جیسے وہ سو گئے تھے اور انہوں نے بڑا ہی عجب خواب دیکھا ہو‪ ،جو
‫ڈرائونا تھا اور خوبصورت بھی۔ وہ ایک بار پھر اندر جانے کو بے تاب ہوتے تھے لیکن کسی کو اس طرف جانے نہیں دیا جاتا
‫تھا‪ ،جدھر سے لوگ اندر جاتے تھے‪ ،وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جانا چاہتے تھے۔ رات وہیں کھنڈروں کے قریب ہی گزار
‫دیتے تھے۔ وہاں کچھ لوگ ان کے پاس بیٹھ کر انہیں اندر کے راز بتاتے تھے۔ ایک راز یہ تھا کہ اندر جس کی آواز سنائی

‫عیسی علیہ السالم دنیا میں آرہے ہیں اور خلیفہ العاضد
‫دیتی ہے وہ خدا کی طرف سے یہ پیغام لے کر آیا ہے کہ حضرت
‫ٰ
‫بھی دنیا میں واپس آگیا ہے۔
‫العاضد فاطمی خالفت کا خلیفہ تھا جس کی گدی مصر میں تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اسے معزول کرکے مصر کو
‫بغداد کی خالفت عباسیہ کے تحت کردیا تھا۔ العاضد اس کے فورا ً بعد مرگیا تھا۔ یہ وہ اڑھائی سال پہلے کا واقعہ تھا۔
‫فاطمیوں نے صلیبیوں اور حشیشین کے ساتھ سازباز کرکے ایک سازش تیار کی تھی جس کے تحت سلطان صالح الدین ایوبی کا
‫تختہ الٹنا اور مصر میں فاطمی خالفت بحال کرنا تھا۔ اس سازش کی کامیابی کے لیے سوڈانیوں کو تیار کیا جارہا تھا کہ وہ
‫مصر پر حملہ کردیں۔
‫کھنڈر کے مریدوں کی تعداد میں اور اس کی عقیدت مندی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اور جنوب مغربی عالقے کے لوگ قائل
‫عیسی علیہ السالم خلیفہ العاضد کو واپس بھیج چکے ہیں اور خود بھی واپس آرہے ہیں۔ ان
‫ہوتے جارہے تھے کہ حضرت
‫ٰ
‫لوگوں نے فوج میں بھرتی ہونے سے توبہ کرلی تھی۔ کیونکہ وہ جنگ وجدل کو گناہ سمجھنے لگے تھے۔ صالح الدین ایوبی کو
‫ایک گناہ گار بادشاہ قرار دے دیا گیا تھا جو اپنی بادشاہی کو وسعت دینے کے لیے جوانوں کو یہ دھوکہ دے کر فوج میں
‫بھرتی کرتا تھا کہ وہ شہید ہوں گے اور سیدھے جنت میں جائیں گے۔ کھنڈر وں کے اندر کی دنیا لوگوں کے لیے عبادت گاہ
‫بن گئی تھی۔
‫بعض نے تو ٹیلوں کے عالقے میں ہی ڈیرے ڈال دیئے تھے‪ ،وہ اس مقدس درویش کی زیارت کے لیے بے قرار رہتے تھے‪ ،جس
‫کی آواز کھنڈروں میں سنائی دیتی تھی‪ ،مگر وہ انہیں نظر نہیں آتا تھا۔ ایک نیا فرقہ جنم لے رہا تھا۔
‫اس زخمی حشیش کو جو سلطان صالح الدین ایوبی پر قاتالنہ حملے میں زخمی ہوا تھا‪ ،علی بن سفیان قاہرہ لے گیا‪ ،جہاں
‫اسے ایک الگ تھلگ مکان میں رکھا گیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے حکم کے مطابق اس کے عالج کے لیے ایک جراح
‫مقرر کردیا گیا۔ وہ آخر مجرم تھا‪ ،اسے جس مکان میں رکھا گیا اس کے دروازے پر ایک سنتری کھڑا رہتا تھا۔ وہ ابھی بھاگنے
‫کے قابل نہیں تھا‪ ،کھنڈروں کی نشاندہی اسی نے کی تھی۔ فیصلہ ہوا تھا کہ یہ ٹھیک ہوجائے تو اس کی رہنمائی میں
‫جاسوس بھیج کر کھنڈروں کے اندر کے حاالت دیکھے جائیں گے۔ ہوسکتا تھا کہ یہ زخمی جھوٹ بول رہا ہو۔ علی بن سفیان
‫نے قاہرہ آتے ہی اپنے نائب حسن بن عبداللہ اور کوتوال غیاث بلبیس سے کہہ دیا تھا کہ وہ اس عالقے میں اپنا کوئی مخبر
‫اور جاسوس نہ بھیجیں جس کے متعلق انہیں رپورٹ ملی ہے کہ وہاں کے لوگ فوج کے خالف ہوگئے ہیں۔ علی کو کسی بہت
‫بڑے اور کارآمد انکشاف کی توقع تھی۔
‫زخمی کو معلوم نہیں کیوں یہ وہم ہوگیا تھا کہ وہ زندہ نہیں رہے گا۔ وہ روتا تھا اور باربار اپنے گائوں کا نام بتا کر کہتا تھا
‫کہ میری بہن کو بال دو میں اسے دیکھ نہیں سکوں گا۔ علی بن سفیان اس کی اسی کمزوری کو اس سے مزید راز اگلوانے
‫کے لیے استعمال کررہا تھا۔ زخمی اپنی بہن کے متعلق غیر معمولی طور پر جذباتی تھا۔ علی کو جب یقین ہوگیا کہ زخمی
‫کے سینے میں اب اور کوئی بات نہیں رہ گئی تو اس نے دو پیامبر بال کر انہیں زخمی کا گائوں اور عالقہ بتایا اور کہا کہ
‫اس کی بہن کو اپنے ساتھ لے آئیں۔ یہ عالقہ مصر کے جنوب مغرب میں ہی تھا… پیامبر اسی وقت روانہ ہوگئے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی محاذ پر پہنچ گیا اور شوبک کے قلعے میں چال گیا۔ اس کے چہرے پر قاتالنہ حملے کا کوئی تاثر
‫نہیں تھا‪ ،جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس کے محافظ دستے کا کمانڈر اور دیگر حکام جو اس کے ساتھ تھے بہت پریشان اور
‫شرمسار تھے۔ وہ ڈرتے بھی تھے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کسی نہ کسی مقام پر ان پر برس پڑے گا اور جواب طلبی بھی
‫کرے گا مگر اس نے اس طرف اشارہ بھی نہیں کیا۔ البتہ اپنی مرکزی کمان کے فوجی حکام سے کہا… ''آپ نے دیکھ لیا
‫ہے کہ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں‪ ،آپ میری جنگی چالیں غور سے دیکھتے رہا کریں۔ دشمن نے جو دوسرا محاذ کھول
‫رکھا ہے اس پر گہری نظر رکھیں اور تخریب کاروں کی پکڑ دھکڑ اور سرکوبی کرتے رہیں''… اس نے کسی سے اتنا بھی نہ
‫کہا کہ محافظ دستے کی چھان بین کی جائے۔ اس نے اتنے بڑے حاد ثے کا کوئی اثر ہی نہ لیا۔ شوبک کے قلے میں پہنچا
‫اور سب سے پہلے پوچھا کہ کوئی جاسوس واپس آیا ہے یا نہیں؟ اسے بتایا گیا کہ دو جاسوس کارآمد معلومات الئے ہیں۔ اس
‫نے دونوں کو باللیا اور صلیبیوں کے ارادوں کے متعلق رپورٹیں لیں۔ اسے تقریبا ً وہ تمام پالن بتا دیا گیا جو صلیبیوں نے تیار
‫کیا تھا۔ اس نے نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک کے ساالر اور مصر سے آئی ہوئی فوج کے ساالر اور دونوں کے نائبین کو
‫بال بھیجا اور گہری سوچ میں کھو گیا۔
‫چوتھے روز زخمی حشیش کی بہن آگئی۔ اس کے ساتھ چار آدمی تھے جن کے متعلق بتایا گیا کہ زخمی کے چچا اور تایا زاد
‫بھائی ہیں۔ بہن جوان اور پرکشش تھی اور اپنے بھائی کے لیے بہت ہی پریشان تھی۔ زخمی اس کا اکیال بھائی تھا۔ ان کے
‫ماں باپ مرچکے تھے‪ ،اسے اور اس کے ساتھ آئے ہوئے چار آدمیوں کو زخمی کے پاس لے جانے کے لیے علی بن سفیان کی
‫اجازت کی ضرورت تھی۔ علی بن سفیان نے بہن کو اجازت دے دی‪ ،اس کے ساتھ آئے ہوئے آدمیوں کو نہ ملنے دیا۔ انہوں
‫نے منت سماجت کی اور کہا کہ وہ اتنی دور سے آئے ہیں‪ ،انہیں صرف اتنی اجازت دی جائے کہ زخمی کو دیکھ لیں۔
‫وہ کوئی بات نہیں کریں گے۔ علی بن سفیان نے اس طرح اجازت دی کہ خود ان کے ساتھ ہوگا اور انہیں فورا ً باہر نکال دے
‫گا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اسی وقت ان سب کو زخمی کے پاس لے گیا۔ بہن نے بھائی کو دیکھا تو اس کے اوپر گر پڑی۔
‫بھائی کا منہ چومنے لگی اور زاروقطار رونے لگی۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ‪ 19:41
‫قسط نمبر‪44.
‫" کھنڈروں کی آواز "
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫دوسرے آدمیوں کے متعلق علی بن سفیان نے زخمی سے کہا کہ ان سے ہاتھ مال لو‪ ،یہ واپس جارہے ہیں۔ اس نے چاروں سے
‫ہاتھ مالیا تو علی بن سفیان نے انہیں باہر چلے جانے کو کہا اور یہ بھی کہہ دیا کہ وہ آئندہ اسے نہیں مل سکیں گے‪ ،وہ
‫چلے گئے۔
‫بہن نے علی بن سفیان کے قدموں میں بیٹھ کر اس کے پائوں پکڑ لیے اور رو رو کر منت کی کہ اسے بھائی کی خدمت کے
‫لیے وہیں رہنے دیا جائے۔ علی بن سفیان ایک بہن کی ایسی جذباتی التجا کو ٹھکرا نہ سکا۔ اس نے لڑکی کی جامہ تالشی
‫کی اور اسے وہیں رہنے کی اجازت دے دی اور وہاں سے چال گیا۔
‫بہن بھائی اکیلے رہ گئے تو بہن نے بھائی سے پوچھا کہ اس نے کیا کیا ہے؟ بھائی نے بتا دیا۔ بہن نے پوچھا کہ اس کے
‫ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ بھائی نے جواب دیا… ''امیر مصر پر قاتالنہ حملے کا جرم بخشا تو نہیں جائے گا اگر ان لوگوں نے

‫مجھ پر رحم کیا تو سزائے موت نہیں دیں گے‪ ،ساری عمر کے لیے تہہ خانے کی قید میں ڈال دیں گے''۔
‫پھر میں ساری عمر تمہیں نہیں دیکھ سکوں گی؟'' بہن نے پوچھا۔''
‫نہیں شارجا''… بھائی نے رندھیائی ہوئی آواز میں کہا… ''پھر میں مر بھی نہیں سکوں گا۔ جی بھی نہیں سکوں گا‪ ،وہ ''
‫جگہ بڑی خوفناک ہے‪ ،جہاں ہمیشہ کے لیے قید کردیں گے''۔
‫بہن جس کا نام شارجا تھا‪ ،بچوں کی طرح بلبال اٹھی۔ اس نے کہا …''میں نے تمہیں اس وقت بھی روکا تھا کہ ان لوگوں
‫کے چکر میں نہ پڑو مگر تم نے کہا کہ صالح الدین ایوبی کا قتل جائز ہے‪ ،تم اللچ میں آگئے تھے‪ ،تم نے میری بھی پروا نہ
‫کی‪ ،میرا کیا بنے گا؟ تم نہ ہوئے تو میرا آسر ا کون ہوگا؟''۔
‫زخمی بھائی کا ذہن تقسیم ہوگیا تھا‪ ،کبھی وہ پچھتاوے کی باتیں کرتا اور کہتا کہ وہ ان لوگوں کے جھانسے میں آگیا تھا‪ ،اس
‫نے یہ بھی کہا… ''صالح الدین ایوبی انسان نہیں‪ ،خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ ہے۔ ہم چار ہٹے کٹے جوان مل کر اتنا بھی نہ
‫کرسکے کہ اس کے جسم پر خنجر کی نوک سے خراش ہی ڈال دیتے۔ اس پر زہر نے بھی اثر نہیں کیا۔ اس اکیلے نے تین
‫کو جان سے مار دیا اور مجھے موت کے منہ میں ڈال دیا''۔
‫یہ کہنے والے جھوٹ تو نہیں کہتے تھے کہ صالح الدین ایوبی کا ایمان اتنا مضبوط ہے کہ اسے کوئی گناہ گار قتل نہیں ''
‫کرسکتا''۔ بہن نے کہا… ''تم چاروں مسلمان تھے‪ ،اتنا بھی نہ سوچا کہ وہ بھی مسلمان ہے؟''۔
‫اس نے خدا کے خلیفہ کی گدی کی توہین کی ہے''۔ زخمی بھائی کا دماغ الٹی طرف چل پڑا‪ ،اس نے جوشیلے لہجے ''
‫میں کہا… ''تم نہیں جانتی کہ خلیفہ العاضد خدا کے بھیجے ہوئے خلیفہ تھے''۔
‫جو کوئی جوکچھ بھی تھا'' … بہن نے کہا… ''میں یہ جانتی ہوں کہ تم میرے بھائی ہو اور مجھ سے ہمیشہ کے لیے ''
‫''جدا ہورہے ہو۔ کیا تمہارے بچنے کی کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے؟
‫شاید پیدا ہوجائے''۔ بھائی نے جواب دیا… ''میں نے اس شرط پر انہیں سارے راز بتا دیئے ہیں کہ میرا گناہ بخش دیں ''
‫مگر میرا گناہ اتنا سنگین ہے جو شاید نہ بخشا جائے''۔
‫اس وقت زخمی کو سوجانا چاہیے تھا اور اسے اتنا زیادہ بولنا نہیں چاہیے تھا کیونکہ پیٹ کے زخم کھل جانے کا ڈر تھا مگر
‫وہ بولتا جارہا تھا اور بہن رو رہی تھی۔ بولتے بولتے اسے پیٹ کے زخم میں ٹیسیں محسوس ہونے لگیں اور وہ بے حال ہوگیا
‫اس نے بہن سے کہا … ''شارجا باہر جائو‪ ،کوئی آدمی ملے تو اسے کہو کہ طبیب یا جراح کو بال دے۔ میں مر رہا ہوں''۔
‫شارجا دوڑتی باہر گئی‪ ،باہر سنتری کھڑا تھا۔ اس نے اسے بھائی کی حالت بتائی تو اس نے شارجا کو اس جراح کے گھر کا
‫راستہ بتا دیا جسے زخمی کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ اسے سختی سے حکم دیا گیا تھا کہ دن ہو یا رات‪،
‫زخمی کو زندہ رکھنے کی پوری کوشش کرے۔ وہ شاہی جراح تھا۔
‫شارجا دوڑتی گئی‪ ،جراح کا گھر بالکل قریب تھا۔ شارجا نے جراح کو بھائی کی حالت بتائی تو وہ بھاگم بھاگ آیا اور زخمی
‫کو دیکھا۔ اس کے پیٹ کی پٹی خون سے الل ہوگئی تھی۔ جراح نے فورا ً پٹی کھولی۔ خون بند کرنے کے لیے اس میں
‫سفوف ڈالے اور بہت سا وقت صرف کرکے پٹی باندھی‪ ،خون بند ہوگیا۔ اس نے زخمی کو دوائی پال دی جس کے اثر سے
‫اسے نیند آگئی اور وہ سوگیا۔ شارجا اس جواں سال جراح کو حیرت اور دلچسپی سے دیکھتی رہی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ
‫اتنی رات گئے کوئی اس کے مجرم بھائی کو دیکھنے آجائے گا لیکن جراح دوڑتا آیا اور اس نے اتنے انہماک سے زخمی کی
‫مرہم پٹی کی کہ شارجا کو حیران کردیا۔ زخمی کی آنکھ لگ گئی تو جراح نے آنکھیں بند کرکے اور ہاتھ اوپر اٹھا کر
‫سرگوشی کی… '' زندگی اور موت تیرے ہاتھ میں ہے‪ ،میرے خدا! اس بدنصیب کے حال پر کرم کرو‪ ،اسے زندگی عطا کرو‪،
‫خدائے عزوجل''۔
‫شارجا کے آنسو نکل آئے‪ ،اس پر جراح کا تقدس طاری ہوگیا۔ اس نے جراح کے قریب دو زانو ہوکر اس کا ایک ہاتھ پکڑا اور
‫چوم لیا۔ جراح کے پوچھنے پر شارجا نے بتایا کہ وہ زخمی کی بہن ہے۔ اس نے جراح سے پوچھا… ''کیا آپ کے دل میں
‫اتنا زیادہ رحم ہے کہ میرے بھائی کو آپ تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے یا اسے اس لیے زندہ رکھنا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کو
‫''راز کی ساری باتیں بتا دے؟
‫مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ اس کے پاس کوئی راز ہے یا نہیں''۔ جراح نے کہا… ''میرا فرض ہے کہ اسے ''
‫زندہ رکھوں اور اس کے زخم بالکل ٹھیک کردوں۔ میری نگاہ میں مومن اور مجرم میں کوئی فرق نہیں''۔
‫آپ کو شاید معلوم نہیں کہ اس کا جرم کیا ہے''۔ شارجا نے کہا… ''اگر معلوم ہوتا تو آپ اس کے زخم پر مرہم رکھنے''
‫کے بجائے اس میں نمک بھر دیتے''۔
‫مجھے معلوم ہے''۔ جراح نے جواب دیا… ''لیکن میں اسے زندہ رکھنے کی پوری کوشش کروں گا''۔''
‫شارجا اتنی متاثر ہوئی کہ اس نے جراح کے ساتھ اپنی باتیں شروع کردیں۔ اسے بتایا کہ اس کے ماں باپ بچپن میں مرگئے
‫تھے۔ اس وقت اس کا بھائی دس گیارہ سال کا تھا۔ اس نے شارجا کو پاال پوسا اور جوان کیا اگر اس کا بھائی نہ ہوتا تو
‫کوئی نہ کوئی اسے اغوا کرکے لے جاتا۔ بھائی نے زندگی بہن کے لیے وقف کردی تھی۔ جراح انہماک سے اس کی باتیں سنتا
‫رہا اور اسے اس خیال سے باہر صحن میں لے گیا کہ زخمی کی آنکھ نہ کھل جائے۔ جراح ایسے انداز سے شارجا کی باتیں
‫سن رہا تھا جیسے وہ رات یہیں گزارے گا مگر وہ جانے لگاتو شارجا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا… ''آپ چلے جائیں گے تو
‫مجھے ڈر آئے گا''… جراح نے اسے بتایا کہ وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا اور اس کے ساتھ بھی نہیں رہ سکتا۔ جراح
‫گھر میں اکیال رہتا تھا۔ وہ شارجا کی خاطر کچھ دیر اور رک گیا اور رات کے پچھلے پہر گیا… دوسرے دن کا سورج ابھی
‫طلوع نہیں ہوا تھا کہ وہ زخمی کو دیکھنے آگیا۔ اس نے رات والے انہماک سے اس کی مرہم پٹی کی۔ زخمی کو دودھ پالیا
‫اور ایسا کھانا دیا جو شارجا نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔
‫اس دوران علی بن سفیان آیا‪،زخمی کی حالت دیکھ کر چال گیا لیکن جراح نہ گیا۔ وہ شارجا کے ساتھ باتیں کرتا
‫اوراس کی باتیں سنتا رہا۔ اس روز شام تک وہ تین بار زخمی کو دیکھنے آیا۔ حاالنکہ وہ صرف دوپہر کو آیا کرتا تھا۔ شام
‫کو وہ چال گیا تو زخمی نے اپنی بہن سے کہا… ''شارجا! میری ایک بات غور سے سن لو‪ ،میری زندگی اس جراح کے ہاتھ
‫میں ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں دیکھ کر یہ میرا عالج پہلے سے زیادہ اچھے طریقے سے کرنے لگا ہے۔ میں موت
‫قبول کرلوں گا مگر اسے اتنی زیادہ قیمت نہیں دوں گا جو اس نے دل میں رکھ لی ہے… مجھے شک نہیں یقین ہے کہ یہ
‫مجھے زندہ رکھنے کے لیے تمہاری عزت کا نذرانہ لینا چاہتا ہے''۔
‫میں تو اسے فرشتہ سمجھتی ہوں''۔ شارجا نے کہا… ''اس نے ابھی تک کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں کیا اور میں بچی ''
‫بھی تو نہیں لیکن میں اسے ایسا سمجھتی نہیں''۔

‫شارجا کا اندازہ ایسا تھا جس نے بھائی کو شک میں ڈال دیا کہ وہ جراح میں دلچسپی لیتی ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس رات جراح آیا‪ ،زخمی سوگیا تھا‪ ،شارجا جاگ رہی تھی۔ وہ جراح کے ساتھ صحن میں چلی گئی۔ کچھ دیر باتیں ہوتی
‫رہیں‪ ،جراح نے اسے کہا کہ اس کا بھائی دوائی کے اثر سے اتنی گہری نیند سو گیا ہے کہ صبح تک اس کی آنکھ شاید نہیں
‫کھلے گی۔ آئو میرے گھر چلو… شارجا کچھ جھجکی لیکن جراح کی پیشکش ٹھکرانہ سکی۔ اس کے ساتھ چلی گئی۔ یہ خوبرو‪،
‫جواں سال اور حلیم طبع جراح اکیال رہتا تھا۔ شارجا بالغ دماغ لڑکی تھی۔ اسے توقع تھی کہ آج رات یہ آدمی اس کے
‫سامنے بے نقاب ہوجائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ وہ اس کے ساتھ ہمدرد دوستوں کی طرح باتیں کرتا رہا۔ لڑکی کو اس کے اتنے
‫مشفقانہ سلوک نے پریشان کردیا۔ اس نے بے اختیار اس سے پوچھا… ''میں صحرا کے دور دراز عالقے کی غریب سی لڑکی
‫ہوں اور ایک ایسے مجرم کی بہن ہوں جس نے مصر کے بادشاہ پر قاتالنہ حملہ کیا ہے۔ اس کے باوجود آپ میرے ساتھ ایسا
‫سلوک کیوں کررہے ہیں جس کی میں حق دار نہیں ہوں''… جراح نے مسکراہٹ کے سوا کوئی جواب نہ دیا۔ لڑکی نے صاف
‫کہہ دیا… ''مجھ میں اس خوبی کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ میں جوان لڑکی ہوں اور شاید میری شکل
‫وصو رت بھی اچھی ہے''۔
‫تم میں ایک خوبی اور بھی ہے جس کا تمہیں علم نہیں''۔ جراح نے کہا… ''تمہاری عمر اور تمہاری ہی شکل وصورت ''
‫کی میری ایک بہن تھی جس طرح تم بہن بھائی اکیلے ہو‪ ،اسی طرح میں اور میری بہن اکیلے رہ گئے تھے۔ میں نے تمہارے
‫بھائی کی طرح اپنی بہن کو پاال پوسا اور اپنی زندگی اور ساری خوشیاں اس کے لیے وقف کردی تھیں۔ وہ بیمار ہوئی اور
‫میرے ہاتھوں میں مرگئی۔ میں اکیال رہ گیا۔ تمہیں دیکھا تو شک ہوا کہ جیسے میری بہن مجھے مل گئی ہے اگر تم اپنے
‫آپ کو جوان اور خوبصورت لڑکی سمجھتی ہو اور میری نیت پر شک ہے تو اس کا یہی عالج ہے کہ میں تم میں ایسی
‫دلچسپی کا اظہار نہیں کروں گا جو اب تک کیا ہے۔ تمہارے بھائی میں پوری دلچسپی لیتا رہوں گا‪ ،اسے ٹھیک کرنا میرا فرض
‫ہے''۔
‫شارجا رات دیر سے وہاں سے واپس آئی‪ ،جراح اس کے ساتھ تھا۔ لڑکی کے شکوک رفع ہوچکے تھے۔ دوسرے دن جراح زخمی
‫کو دیکھنے آیا۔ اس نے شارجا کے ساتھ کوئی بات نہ کی۔ وہ جانے لگا تو شارجا نے باہر جاکر اسے روک لیا‪ ،وہ رو رہی
‫تھی۔ اسے ڈر تھا کہ جراح اس سے ناراض ہوکر چال گیا ہے۔ جراح نے اسے بتایا کہ وہ ناراض نہیں لیکن وہ اسے کسی اور
‫شک میں نہیں ڈالنا چاہتا… رات کو جب زخمی سو گیا تو شارجا وہاں سے نکل گئی اور جراح کے گھر چلی گئی۔یہ اس کی
‫بیتابی تھی جس پر وہ قابو نہ پاسکی۔ بہت دیر تک جراح کے پاس رہی۔ اس کے ذہن میں کچھ گانٹھیں پڑی ہوئی تھیں
‫''جنہیں وہ کھولنا چاہتی تھی۔ اس نے جراح سے پوچھا… ''کیا خلیفہ خدا کے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں؟
‫خلیفہ انسان ہوتا ہے''۔ جراح نے جواب دیا… ''خدا کے بھیجے ہوئے نبی اور پیغمبر تھے‪ ،یہ سلسلہ رسول اکرم صلی ''
‫اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہوگیا ہے''۔
‫صالح الدین ایوبی خدا کا بھیجا ہوا ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
‫نہیں'' ۔ جراح نے جواب دیا… ''وہ بھی انسان ہے لیکن عام انسانوں سے اس کا رتبہ بلند ہے کیونکہ وہ خدا اور خدا ''
‫کے بھیجے ہوئے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم پیغام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچانا چاہتا ہے''۔
‫ایسے اور بہت سے سوال تھے جو شارجا نے پوچھے اور جراح نے اس کے شکوک رفع کیے‪ ،اس نے کہا …''پھر میرا بھائی
‫بہت بڑا گناہ گار ہے اگر اسے کوئی یہ باتیں بتا دیتا جو آپ نے مجھے بتائی ہیں تو وہ اس گناہ سے بچا رہتا۔ اب تو اس
‫کی جاں بخشی نہیں ہوگی''۔
‫ہوجائے گی'' جراح نے اسے بتایا… ''اگر صالح الدین ایوبی نے کہہ دیا ہے کہ اسے زندہ رکھنے کی کوشش کرو تو اس ''
‫کا مطلب یہ ہے کہ اسے سزا نہیں دی جائے گی۔ اسے چاہیے کہ گناہوں سے توبہ کرلے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اسے کوئی
‫سزا نہیں دی جائے گی''۔
‫میں ساری عمر صالح الدین ایوبی کی اور آپ کی خدمت میں گزار دوں گی''۔شارجا نے روتے ہوئے کہا… ''اور میرا ''
‫بھائی آپ سب کا غالم رہے گا''… وہ جذباتی ہوگئی۔ اس نے جراح کے ہاتھ پکڑ کر کہا… ''آپ مجھ سے جو قیمت وصول
‫کرنا چاہیں میں دوں گی۔ آپ مجھے اپنی لونڈی بنا لیں‪ ،اس کے عوض میرے بھائی کو ٹھیک کردیں اور اسے سزا سے
‫بچالیں''۔
‫قیمت اللہ سے وصول کی جاتی ہے''۔ جراح نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''بھائی کے گناہ کی سزا بہن کو ''
‫نہیں دی جائے گی اور بھائی کی صحت کی قیمت بہن سے وصول نہیں کی جائے گی۔ سب کا پاسبان اللہ ہے۔ اس کی ذات
‫باری نے مجھے تمہاری عصمت کی پاسبانی اور تمہارے بھائی کی صحت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ دعا کروکہ میں اس امانت
‫میں خیانت نہ کروں۔ بہن کی دعا عرش کو بھی ہال دیا کرتی ہے۔ دعا کرو… دعا کرو… اس خدا کی عظمت کو یاد رکھو
‫جس کے خالف تمہیں گمراہ کیا جارہا ہے''۔
‫جراح نے اس لڑکی پر طلسم طاری کردیا‪ ،ایک تو باتیں ہی ایسی تھیں جو جراح نے اسے بتائی تھیں۔ تاثر تو جراح کے
‫سلوک نے پیدا کیا تھا۔ جراح کے متعلق تو اسے کچھ اور ہی شک ہوگیا تھا لیکن وہ کچھ اور نکال۔ اسے جیسے احساس ہی
‫نہیں تھا کہ ایسی تنہائی میں اور رات کے وقت اتنی حسین اور جوان لڑکی اس کے رحم وکرم پر ہے… رات آدھی گزر گئی
‫تھی‪ ،جراح نے اسے کہا… ''اٹھو تمہیں وہاں تک چھوڑ آئوں اور تمہارے بھائی کو بھی دیکھ آئوں''۔
‫دونوں گھر سے نکلے اور آہستہ آہستہ چل پڑے۔ رات تاریک تھی‪ ،وہ دونوں مکان کے پچھواڑوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔
‫یہ چھوٹی سی ایک گلی تھی جس میں گزرتے ہی وہ مکان آجاتا تھا جہاں زخمی حشیش قید میں پڑا تھا اور اس کے دروازے
‫پر سنتری کھڑا رہتا تھا وہ دونوں اس گلی میں داخل ہوئے ہی تھے کہ پیچھے سے دونوں کو مضبوط بازوئوں میں جکڑ لیا گیا۔
‫دونوں کے منہ کپڑوں میں بندھ گئے۔ ان کی آواز بھی نہ نکل سکی‪ ،جراح جسمانی لحاذ سے کمزور نہیں تھا مگر وہ بے
‫خبری میں جکڑا گیا تھا۔ حملہ آور چار پانچ معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے دونوں کو اٹھا لیا اور تاریکی میں غائب ہوگئے۔ کچھ
‫دور گھوڑے کھڑے تھے۔ جراح کے ہاتھ پائوں رسیوں سے باندھ دیئے گئے اور اسے گھوڑے پر ڈال کر ایک آدمی
‫گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ اسے کسی کی آواز سنائی دی جو شارجا سے مخاطب تھی… ''شور نہ کرنا شارجا! تمہارا کام ہوگیا
‫ہے۔ گھوڑے پر سوار ہو جائو۔ یہ تمہارے لیے الئے ہیں''۔
‫شارجا کے منہ سے کپڑا اتار دیا گیا تھا‪ ،جراح کو اس کی آواز سنائی دی… ''اسے چھوڑ دو‪ ،اس کا کوئی قصور نہیں‪ ،یہ
‫بہت اچھا آدمی ہے''۔

‫اس کی تو ہمیں ضرورت ہے'' کسی نے کہا۔''
‫شارجا!''… کسی نے حکم کے لہجے میں کہا… 'خاموشی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوجائو''۔''
‫''اوہ!'' شارجا کی آواز سنائی دی۔ ''یہ تم ہو؟''
‫سوار ہوجائو'' کسی نے پھر حکم دیا۔ ''وقت ضائع نہ کرو''۔''
‫اور گھوڑے سرپٹ دوڑ پڑے۔ ذرا سی دیر میں قاہرہ سے نکل گئے۔ شارجا نہایت اچھی سوار تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫صبح سنتری بدلنے کا وقت ہوا‪ ،نیا سنتری آیا تو رات واال سنتری وہاں نہیں تھا۔ اس نے اندر جاکے دیکھا تو وہاں زخمی سویا
‫ہوا تھا۔ اس کے اوپر کمبل پڑا ہوا تھا‪ ،اس کا منہ بھی ڈھکا ہوا تھا۔ نیا سنتری باہر والے دروازے پر جاکر کھڑا ہوگیا۔ اسے
‫معلوم تھا کہ ابھی جراح زخمی کو دیکھنے آئے گا اور علی بن سفیان بھی آئے گا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ زخمی کی
‫بہن زخمی کے ساتھ رہتی ہے اور اس کے سوا اندر جانے کی کسی کو اجازت نہیں مگر بہن بھی اسے کہیں نظر نہیں آئی
‫تھی۔ سورج طلوع ہوا تو علی بن سفیان آیا۔ اس نے سنتری سے پوچھا کہ جراح آچکا ہے یا زخمی کو دیکھ کر چال گیا ہے؟
‫سنتری نے اسے بتایا کہ جراح نہیں آیا۔ پہال سنتری یہاں نہیں تھا اور اندر زخمی کی بہن بھی نہیں ہے۔ علی بن سفیان یہ
‫سوچ کر اندر گیا کہ زخمی کی تکلیف بڑھ گئی ہوگی اور اس کی بہن جراح کو بالنے چلی گئی ہوگی۔ علی بن سفیان کے
‫لیے ہی نہیں‪ ،یہ زخمی سلطنت اسالمیہ کے لیے مصر جتنا قیمتی تھا۔ اس کے صحت یاب ہونے کا انتظار تھا اور ایک بڑی
‫خطرناک سازش کے بے نقاب ہونے کی توقع تھی۔
‫وہ تیزی سے اندر گیا‪ ،زخمی کے سر سے پائوں تک کمبل پڑا تھا۔ علی بن سفیان کو تازہ خون کی بو محسوس ہوئی۔ اس
‫نے زخمی کے منہ سے کمبل ہٹایا تو یوں بدک کر پیچھے ہٹ گیا جیسے وہ زخمی نہیں اژدہا تھا۔ اس نے وہیں سے باہر
‫کھڑے سنتری کو آواز دی۔ سنتری دوڑتا ہوا اندر گیا۔ علی بن سفیان نے اسے زخمی کا چہرہ دکھاتے ہوئے پوچھا… ''یہ رات
‫واال سنتری تو نہیں؟''… نئے سنتری نے چہرہ دیکھ کر حیرت اور گھبراہٹ سے بوجھل آواز میں کہا… ''یہی تھا‪ ،یہ اس
‫''بستر میں کیوں سویا ہوا ہے حضور؟ … زخمی کہاں ہے؟
‫یہ سویا ہوا نہیں''۔ علی بن سفیان نے اسے کہا… ''مرا ہوا ہے''۔''
‫اس نے کمبل اٹھا کر پرے پھینک دیا۔ بستر خون سے الل تھا۔ وہ زخمی حشیش نہیں بلکہ رات والے سنتری کی الش تھی۔
‫علی بن سفیان نے دیکھا‪ ،الش کے دل کے قریب خنجر کے دو زخم تھے۔ زخمی حشیش غائب تھا۔ علی بن سفیان نے کمرے
‫میں‪ ،صحن میں اور باہر زمین کو غور سے دیکھا۔ کہیں خون کا قطرہ بھی نظر نہ آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ سنتری کو
‫زندہ اٹھا کر اندر الیا گیا اور بستر پر لٹا کر اس کے دل میں خنجر مارے گئے۔ اسے تڑپنے نہیں دیا گیا ورنہ خون کے چھینٹے
‫بکھرے ہوئے ہوتے۔ وہ مر گیا تو اس پر کمبل ڈال دیا گیا اور قاتل زخمی قیدی کو اٹھا کر لے گئے اور اس کی بہن کو بھی
‫لے گئے۔ صاف ظاہر تھا کہ زخمی کی بہن نے زخمی کے فرار میں مدد دی ہے۔ وہ جوان اور حسین لڑکی تھی۔ اس نے
‫سنتری کو پھانس لیاہوگا۔
‫اسے اندر لے گئی ہوگی‪ ،لڑکی کے ساتھیوں نے سنتری کو بے خبری میں پکڑ لیا ہوگا علی بن سفیان کو اپنی اس غلطی پر
‫تاسف ہوا کہ اس نے زخمی کے چار ساتھیوں کو زخمی سے ملنے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ زخمی کے
‫چچا زاد اور تایا زاد بھائی ہیں۔ وہ اندر آکر دیکھ گئے تھے کہ یہاں کے حفاظتی اقدامات کیا ہیں۔ اسے بہن کو بھی یہاں
‫رہنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔ اس نے یہ بھی یقین نہیں کیا تھا کہ یہ لڑکی زخمی کی بہن تھی یا اس گروہ کی
‫فرد تھی۔
‫علی بن سفیان کو غصہ آیا اور وہ اپنی بھول پر پچھتایا بھی لیکن اس نے دل ہی دل میں زخمی اور اس کے ساتھیوں کے
‫اتنے کامیاب فرار کو سراہا۔ علی بن سفیان جیسے سراغ رساں کو دھوکہ دینا آسان نہیں تھا۔ وہ لوگ اسے بھی دھوکہ دے
‫گئے تھے۔ اس نے نئے سنتری سے کچھ باتیں پوچھیں تو اس نے بتایا کہ اس سے پہلے وہ رات کو بھی پہرے پر کھڑا رہ
‫چکا ہے۔ اس نے لڑکی کو جراح کے ساتھ اس کے گھر جاتے اور رات بہت دیر بعد دونوں کو واپس آتے دیکھا تھا۔ اس سے
‫علی بن سفیان کو شک ہوا کہ لڑکی نے جراح کو بھی اپنے حسن وجوانی کے زیر اثر کرلیا تھا۔ علی نے سنتری سے کہا کہ
‫دوڑ کر جائے اور جراح کو بال الئے۔ سنتری کے جانے کے بعد وہ سراغ ڈھونڈنے لگا۔ باہر گیا۔ زمین دیکھی۔ اسے پائوں کے
‫نشان نظر آئے لیکن نشان اس کی مدد نہیں کرسکتے۔ زخمی شہر میں تو روپوش نہیں ہوسکتا تھا۔ ایک ہی طریقہ رہ گیا تھا‪،
‫زخمی کے گائوں پر جہاں سے اس کی بہن کو الیا گیا تھا‪ ،چھاپہ مارا جائے۔ وہ گائوں بہت دور تھا۔
‫سنتری نے واپس آکر بتایا کہ جراح گھر نہیں ہے۔ علی بن سفیان اس کے گھر گیا۔ اس کے مالزم نے بتایا کہ جراح رات
‫بہت دیر بعد ایک لڑکی کے ساتھ باہر نکال تھا‪ ،پھر واپس نہیں آیا۔ اس لڑکی کے متعلق اس اس نے بتایا کہ پہلے بھی جراح
‫کے ساتھ آچکی ہے اور دونوں بہت دیر تک اندر بیٹھے رہے تھے۔ علی بن سفیان کو یقین ہوگیا کہ جراح بھی زخمی کے فرار
‫میں شریک ہے اور یہ لڑکی کے حسن کے جادو کا کمال ہے۔ علی نے اپنے محکمے کے سراغ رسانوں کو بالیا اور انہیں فرار
‫کے متعلق بتایا۔ وہ سب ادھر ادھر بکھر گئے۔ ایک جگہ انہیں بہت سے گھوڑوں کے کھروں کے نشان نظر آئے۔ اردگرد کے
‫رہنے والوں میں سے تین چار آدمیوں نے بتایا کہ رات انہوں نے بہت سے گھوڑے دوڑنے کی آوازیں سنی تھیں ۔ سراغ رساں
‫کھروں کو دیکھتے شہر سے نکل گئے مگر آگے جانا بے کار تھا۔ رات کے بھاگے ہوئے گھوڑوں کو اب کھرے دیکھ دیکھ کر
‫پکڑنا کسی پہلو ممکن نہیں تھا۔ انہیں صرف اتنا پتا چال کہ مفرور اس سمت کو گئے ہیں۔ علی بن سفیان کے کرنے کا کام
‫اب یہی رہ گیا تھا کہ قائم مقام امیر مصر تقی الدین کو اطالع دے دے کہ زخمی حشیش کو اس کے ساتھی اغوا کر کے لے
‫گئے ہیں۔ اسے یہ خیال بھی آیا کہ زخمی نے راز کی جو باتیں بتائی تھیں وہ بے بنیاد تھیں اور اس نے اپنی جان بچانے
‫اور فرار کا موقع پیدا کرنے کے یے یہ چال چلی تھی۔ وہ سلطان صالح الدین ایوبی کو بھی علی بن سفیان کو بھی الو بنا
‫گیا تھا۔
‫آدھا دن گزر گیا تھا جب علی بن سفیان تقی الدین کو اطالع دینے کے لیے چال گیا۔ اس وقت اس کا زخمی قیدی جو کھڑا
‫ہونے کے بھی قابل نہیں تھا‪ ،وہ قاہرہ سے بہت دور ایک ویرانے میں پہنچ چکا تھا مگر وہ زندہ نہیں تھا۔ جراح کے ہاتھ
‫پائوں بندھے ہوئے تھے اور وہ ایک گھوڑے پر بے جان چیز کی طرح پڑا تھا۔ اس کی ٹانگیں گھوڑے کے ایک طرف اوپر کا
‫دھڑ اور بازو دوسری طرف تھے۔ رات بھر وہ اسی حالت میں رہا تھا۔ صبح کا اجاال صاف نہیں ہوا تھا جب گھوڑے رکے۔
‫جراح کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ اسے پٹی باندھنے واال آدمی نظر نہ آسکا کیونکہ اس کا سر نیچے تھا۔ پٹی بندھ
‫جانے کے بعد اس کے پائوں کھول دیئے گئے اور اسے گھوڑے پر بٹھا دیا گیا۔ اس کے ہاتھ بندھے رہے۔ اس کے پیچھے ایک

‫آدمی گھوڑے پر سوار ہوگیا اور گھوڑے ذرا سے آرام کے بعد پھر چل پڑے۔ اسے اتنا ہی پتا چل سکتا تھا کہ اس کے پیچھے
‫…چند اورگھوڑے آرہے ہیں اور سوار آہستہ آہستہ باتیں کررہے ہیں
‫گھوڑے چلتے گئے اور سورج اوپر اٹھتا گیا پھر جراح نے محسوس کیا کہ گھوڑا چڑھائی چڑھ رہا ہے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر
‫دائیں بائیں مڑ رہا ہے۔ یہ نیچے اتر رہا ہے۔ اس سے وہ اندازہ کررہا تھا کہ یہ عالقہ ٹیلوں اور کھائیوں کا ہے۔
‫بہت دیر بعد جب سورج سر پر آگیا تھا‪ ،اسے پیچھے سے بلند آوازیں سنائی دیں جن سے اسے پتا چال کہ کوئی سوار گر پڑا
‫ہے۔ اس کا گھوڑا رک گیا اور پیچھے کو مڑا۔ اسے اس طرح کی آوازیں سنائی دیں… ''اٹھا لو… سائے میں لے چلو‪ ،بے ہوش
‫ہوگیا ہے‪ ،اوہ خدایا اس کا خون بہہ رہا ہے''… اسے شارجا کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی… جراح کی آنکھیں اور ہاتھ
‫کھول دو۔ وہ خون روک لے گا ورنہ میرا بھائی مر جائے''گا… یہ زخمی حشیش تھا جو گھوڑے سے گر پڑا تھا۔ رات بھر کی
‫گھوڑ سواری سے اور گھوڑا اتنی تیز بھگانے سے اس کے پیٹ کا زخم کھل گیا تھا اور ران کے زخم سے بھی خون جاری
‫ہوگیا تھا۔ وہ درد کو برداشت کرتا رہا تھا‪ ،خون نکلتا رہا۔ آخر یہاں آکر خون اتنا نکل گیا کہ اس پر غشی طاری ہوگئی اور
‫وہ گھوڑے سے گر پڑا۔ اسے اٹھا کر ایک ٹیلے کے سائے میں لے گئے اس کے منہ میں پانی ڈاال لیکن پانی حلق سے نیچے
‫نہ گیا۔ اس کے کپڑے خون سے تر ہوگئے تھے۔
‫جراح کی آنکھیں کھول دی گئی اور اسے کہا گیا کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ اس نے اپنی پیٹھ میں خنجر کی نوک محسوس
‫کی۔ وہ آگے آگے چل پڑا۔ ٹیلے کے دامن میں زخمی پڑا تھا اور شارجا اس کے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے جراح سے کہا…
‫''خدا کے لیے میرے بھائی کو بچائو''… جراح نے سب سے پہلے زخمی کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ اس کے لیے حکم تھا کہ
‫وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ وہ بیٹھ گیا تھا اور زخمی کی نبض دیکھ رہا تھا۔ اس کی پیٹھ میں خنجر کی نوک چبھ رہی تھی‪،
‫زخمی کی نبض محسوس کرکے وہ تیزی سے اٹھا اور پیچھے کو مڑا‪ ،اس کے سامنے چار آدمی کھڑے تھے جن کے چہرے سیاہ
‫نقابوں میں تھے۔ ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ جراح نے غصے سے کہا…
‫''تم سب پر اللہ کی لعنت برسے۔ تم نے اسے بچانے کے بجائے اس کی جان لے لی ہے۔ تم سب اس کے قاتل ہو۔ یہ
‫مر چکا ہے۔ ہم نے اسے چارپائی سے ہلنے بھی نہیں دیا تھا اور تم اسے گھوڑے پر بٹھا کر الئے۔ اس کے زخم کھل گئے اور
‫جسم کا تمام خون ضائع ہوگیا'۔
‫شارجا بھائی کی الش پر گر پڑی اور چیخیں مار مار کر ر ونے لگی۔ نقاب پوشوں اور جراح کو شارجا کے رونے اور چالنے کی
‫جگر سوز آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ جراح کے گھوڑے پر جو سوار تھا اس سے جراح نے کہا کہ یہ زخمی بالکل ٹھیک ہوسکتا
‫تھا مگر تم لوگوں نے اسے مار دیا۔ اسے کوئی سزا نہ ملتی‪ ،سوار نے کہا… ''ہم اسے زندہ رکھنے کے لیے نہیں الئے تھے‪،
‫ہم نے دراصل وہ راز اغوا کیا ہے جو اس کے پاس تھا۔ اس کے مرنے کا ہمیں کوئی غم نہیں‪ ،ہم خوش ہیں کہ تم اور
‫تمہاری حکومت اس راز سے بے خبر ہے جو اس کے سینے میں تھا''۔
‫مجھے تم لوگ کس جرم کی سزا دے رہے ہو؟'' جراح نے پوچھا۔''
‫ہم تمہیں پیغمبروں کی طرح رکھیں گے''۔ سوار نے جواب دیا… ''تمہیں گرم ہوا بھی نہیں لگنے دی جائے گی۔ ہم تمہیں''
‫اس لیے الئے تھے کہ راستے میں زخمی کو تکلیف ہوگئی تو اس کی مرہم پٹی کرو گے مگر ہم نے یہ نہیں سوچا کہ تمہارے
‫پاس نہ کوئی دوائی ہے نہ مرہم۔ تمہیں اغواء کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ہم اس لڑکی کو بھی ساتھ النا چاہتے تھے۔ ہم
‫اسے ہی التے تو تم جو اس کے ساتھ تھے ہمارے تعاقب میں پوری فوج بھگا دیتے۔ اس لیے تمہیں بھی اٹھا النا ضروری تھا۔
‫تیسری وجہ یہ
‫ہے کہ ہمیں ایک جراح کی ضرورت ہے۔ تمہیں ہم اپنے ساتھ رکھیں گے''۔
‫میں ایسے کسی آدمی کا عالج نہیں کروں گا جو میری حکومت کے خالف ہوگا''… جراح نے کہا… ''تم سب صلیبیوں اور''
‫سوڈانیوں اور فاطمیوں کے دوست ہو اور ان کے اشاروں پر سلطنت اسالمیہ کے خالف تخریب کاری کررہے ہو‪ ،میں تمہارے
‫کسی کام نہ آسکوں گا''۔
‫پھر تم قتل ہوجاو گے''۔ سوار نے کہا۔''
‫یہ میرے لیے بہتر ہوگا''۔ جراح نے جواب دیا۔''
‫پھر ہم تمہارے ساتھ وہ سلوک کریں گے جو تمہارے لیے بہتر نہیں ہوگا''… سوار نے جواب دیا… ''پھر تم ہمارا ہر حکم ''
‫مانو گے لیکن میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ برے سلوک کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ تم نے صالح الدین ایوبی کی
‫بادشاہی دیکھی ہے۔ ہماری بادشاہی دیکھو گے تو اپنی زبان سے کہو گے کہ میں یہیں رہنا چاہتا ہوں‪ ،یہ تو جنت ہے اگر تم
‫نے ہماری جنت کو ٹھکرا دیا تو ہم تمہیں اپنا جہنم دکھائیں گے''۔
‫گھوڑے چلتے رہے‪ ،جراح آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی کے اندھیرے میں اپنے مستقبل کو دیکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ وہ فرار
‫کی ترکیبیں بھی سوچتا رہا۔ اسے باربار شارجا کا خیال آتا مگر وہ یہ سوچ کر مایوس ہوجاتا تھا کہ یہ لڑکی بھی اسی گروہ
‫کی ہے وہ اس کی مدد نہیں کرے گی۔
‫٭ ٭ ٭
‫ان کا سفر اتنا لمبا نہیں تھا لیکن سرحدی دستوں اور ان کے گشتی سنتریوں کے ڈر سے مجرموں کا یہ قافلہ بچ بچ کر‪،
‫چھپ چھپ کر اور بڑی دور کا چکر کاٹ کر جارہا تھا۔ شام کے بعد بھی یہ قافلہ چلتا رہا اور رات گزرتی رہی۔ آدھی رات
‫سے ذرا پہلے قافلہ رک گیا۔ جراح کو گھوڑے سے اتار کر اس کے ہاتھ کھول دئیے اور چونکہ اندھیرا تھا اس لیے اس کی
‫آنکھوں سے پٹی بھی کھول دی گئی۔ اسے کھانے کو کچھ دیا گیا‪ ،پانی بھی پالیا گیا۔ اس کے بعد اس کے ہاتھ بھی باندھ
‫دیئے گئے اور پائوں بھی اور اسے سوجانے کو کہا گیا۔ سوار تھکے ہوئے تھے‪ ،اس سے ایک رات پہلے کے جاگے ہوئے تھے۔
‫لیٹے اور سوگئے۔ گھوڑوں کو زینیں اتار کر ذرا پرے باندھ دیا گیا تھا۔ جراح کے بھاگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ وہ
‫بندھا ہوا تھا وہ بھی سوگیا۔
‫کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھل گئی وہ سمجھا کہ اسے روانگی کے لیے جگایا جارہا ہے لیکن کوئی اس کے پائوں کی رسی
‫کھول رہا تھا۔ وہ چپ چاپ پڑا رہا۔ وہ مرنے کے لیے بھی تیار ہوگیا‪ ،اسے یہ بھی توقع تھی کہ اسے قتل کرکے پھینک
‫جائیں گے لیکن پائوں کی رسی کھلنے کے بعد جب یہ سایہ اس کے ہاتھوں کی رسی کھولنے لگا تو اس نے جھک کر جراح
‫کے کان میں کہا… ''میں نے دو گھوڑوں پر زینیں کس دی ہیں‪ ،خاموشی سے میرے پیچھے آئو‪ ،میں تمہارے ساتھ چلوں گی۔
‫وہ بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے ہیں''… یہ شارجا کی آواز تھی۔
‫جراح آہستہ سے اٹھا اور شارجا کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ ریت پر پائوں کی آہٹ پیدا ہی نہیں ہوتی تھی۔ آگے دو گھوڑے

‫کھڑے تھے۔ ایک پر شارجا سوار ہوگئی‪ ،دوسرے پر جراح سوار ہوگیا۔ شارجا نے کہا…'' اگر تم اچھے سوار نہیں ہو تو ڈرنا
‫نہیں‪ ،گروگے نہیں ایڑی لگائو اور لگام ڈھیلی چھوڑ دو۔ گھوڑے دائیں کو دائیں بائیں موڑنا تو جانتے ہوگے''… جراح نے جواب
‫دیئے بغیر گھوڑے کو ایڑی لگائی۔ شارجہ کا گھوڑا بھی اس کے ساتھ ہی دوڑا۔ دوڑتے گھوڑے سے شارجا نے کہا…''میرے
‫پیچھے رہو۔ میں راستہ جانتی ہوں۔ اندھیرے میں مجھ سے الگ نہ ہوجانا''۔
‫سرپٹ بھاگتے گھوڑوں نے مجرموں کو جگا دیا لیکن تعاقب آسان نہیں تھا۔ انہیں پہلے تو دیکھنا تھا کہ یہ کس کے گھوڑے
‫ہیں‪ ،انہیں شارجا کے بھاگنے کا خطرہ ہی نہیں تھا۔ کچھ وقت دیکھنے میں لگ گیا کہ وہ کون تھے اور ذرا دیر بعد ہی انہیں
‫پتا چال کہ شارجا اور جراح بھاگ گئے ہیں۔ پھر انہیں اپنے گھوڑوں پر زینیں ڈالنی تھیں۔ اس میں اتنا وقت صرف ہوگیا کہ
‫بھاگنے والے دو اڑھائی میل دور نکل گئے … شارجا اور جراح نے باربار پیچھے دیکھا‪ ،آوازیں سننے کی بھی کوشش کی۔ انہیں
‫یقین سا ہورہا تھا کہ ان کے تعاقب میں کوئی نہیں آرہا۔ وہ ابھی گھوڑوں کی رفتار کم کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے
‫تھے۔ اس لیے ایڑی لگاتے چلے گئے۔ آخر وہ حد آگئی جہاں گھوڑے خود ہی آہستہ ہونے لگے لیکن وہ بہت دور نکل گئے
‫تھے۔ جراح نے شارجا سے کہا کہ یہاں کہیں نہ کہیں کوئی سرحدی دستہ ہونا چاہیے مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ کہاں ہوگا۔
‫شارجا کو بھی معلوم نہیں تھا اس نے جراح کو بتایا کہ وہ ان دستوں سے بچنے کے لیے دور کے راستے سے گئے تھے ورنہ
‫اس کا گائوں دور نہیں تھا۔ اس نے اسے یہ یقین دالیا کہ وہ قاہرہ کی صحیح سمت کو جارہے ہیں اور قاہرہ دور نہیں۔
‫اگال دن آدھا گزر گیا تھا جب علی بن سفیان قائم مقام امیر مصر تقی الدین کے سامنے بیٹھا تھا۔ تقی الدین کہہ رہا تھا…
‫''میں اس پر حیران نہیں کہ آپ جیسے تجربہ کار حاکم نے یہ غلطی کی تھی کہ مشکوک لڑکی کو زخمی قیدی کے پاس
‫رہنے کی اجازت دے دی اور چار مشکوک افراد کو بھی زخمی کے پاس لے گئے۔ میں اس پر حیران ہوں کہ یہ گروہ اتنا زیادہ
‫دلیر اور منظم ہے۔ زخمی کو اٹھالے جانا‪ ،سنتری کو قتل کرکے زخمی کے بستر پر ڈال جانا‪ ،دلیرانہ اقدام بھی ہے اور یہ ایک
‫منظم جرم ہے''۔
‫میرا خیال ہے کہ اس جرم کو جراح اور لڑکی نے آسان بنایا ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''اس جرم میں بھی ہماری''
‫قوم کی اسی کمزوری نے کام کیا ہے جس کے متعلق صالح الدین ایوبی پریشان رہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ عورت اور
‫اقتدار کا نشہ ملت اسالمیہ کو لے ڈوبے گا۔ جراح کو میں نیک اور صاحب کردار سمجھتا تھا مگر ایک لڑکی نے اسے بھی
‫اندھا کردیا۔ بہرحال زخمی قیدی کے گائوں کا پتا چل گیا ہے میں نے ایک دستہ روانہ کردیا ہے''۔
‫اور جنوب مغربی عالقے کے جس کھنڈر کا زخمی قیدی نے ذکر کیا تھا اس کے متعلق آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟'' تقی ''
‫الدین نے پوچھا۔
‫مجھے شک ہے کہ اس نے جھوٹ بوال تھا''… علی بن سفیان نے جواب دیا۔ ''اس نے اپنی جان بچانے کے لیے یہ بے''
‫بنیاد قصہ گھڑا تھا‪ ،تاہم اس عالقے کی سراغ رسانی کی جائے گی''۔
‫وہ اسی مسئلے پر باتیں کررہے تھے کہ دربان نے اندر آکر ایسی اطالع دی جس نے دونوں کو سن کردیا۔ انہوں نے ایک
‫دوسرے کی طرف دیکھا‪ ،ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے ان کی زبانیں بولنے سے معذور ہوگئی ہوں۔ علی بن سفیان اٹھا اور یہ
‫کہہ کر باہر نکل گیا۔ ''کوئی اور ہوگا''… اس کے پیچھے تقی الدین بھی باہر نکل گیا مگر وہ کوئی اور نہیں ان کا اپنا
‫جراح ان کے سامنے کھڑا تھا اور اس کے ساتھ زخمی قیدی کی بہن شارجا تھی۔ ان کے گھوڑے بری طرح ہانپ رہے تھے‪،
‫جراح اور شارجا کے چہرے اور سر گرد سے اٹے ہوئے تھے۔ ہونٹ خشک اور منہ کھلے ہوئے تھے۔ علی بن سفیان نے ذرا
‫غصے سے پوچھا… '' قیدی کو کہاں چھوڑ آئے؟''… جراح نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ہمیں ذرا دم لینے دو۔ دونوں کو اندر لے
‫گئے۔ ان کے لیے پانی اور کھانا وغیرہ منگوایا گیا۔
‫جراح نے تفصیل سے بتایا کہ وہ کس طرح اغوا ہوا تھا اور سفر میں زخمی قیدی مرگیا ہے۔ اسے بالکل علم نہیں تھا کہ
‫زخمی قیدی کو بھی اغوا کیا گیا ہے۔ یہ اسے اگلے روز سفر میں پتا چال جب زخمی گھوڑے سے گرا اور زخم کھل جانے کی
‫وجہ سے مرگیا۔ جراح کو جس طرح شارجا نے آزاد کرایا اور اس کے ساتھ بھاگی وہ بھی تفصیل سے سنایا… شارجا نے اپنا
‫بیان دیا تو علی بن سفیان جان گیا کہ یہ صحرائی لڑکی ہے‪ ،اجڈ اور دلیر ہے اور یہ اتنی چاالک نہیں جتنا سمجھا گیا تھا۔
‫اس نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی کے سہارے اور اسی کی خاطر زندہ تھی۔ اس بھائی کی خاطر وہ جان دینے کے لیے بھی تیار
‫رہتی تھی۔ جراح نے جس خلوص سے اس کے بھائی کا عالج کیا اس سے وہ اتنی متاثر ہوئی کہ اس کی مرید بن گئی۔
‫جراح کو وہ فرشتہ سمجھنے لگی۔ پہلے روز اس کے ساتھ جو چار آدمی آئے تھے وہ اس کے کچھ نہیں لگتے تھے۔ وہ اس
‫اعلی حاکموں کو قتل
‫کے چچا اور تایا زاد بھائی نہیں تھے۔ وہ اسی گروہ کے آدمی ہیں جو صالح الدین ایوبی کو اور اس کے
‫ٰ
‫کرنا چاہتا ہے۔ جب علی بن سفیان کے آدمی شارجا کے گائوں سے اسے ساتھ النے گئے تھے اس وقت یہ چاروں آدمی گائوں
‫میں تھے۔ انہیں پتا چال کہ شارجا کا بھائی زخمی ہوکر قید ہوگیا ہے تو وہ اس ارادے سے ساتھ چل پڑے کہ زخمی کو اغوا
‫کریں گے۔ انہیں ڈر یہ تھا کہ زخمی کے پاس جو راز ہے وہ فاش نہ ہو۔ وہ جانتے تھے کہ زخمی کہاں اور کس کارروائی میں
‫زخمی ہوا ہے۔
‫شارجا کے بیان کے مطابق اس کا ارادہ بھی یہی تھا کہ بھائی کو اغوا کرائے گی۔ اس نے بھائی کے پاس رہنے کی جو التجا
‫کی تھی اس سے اس کے دو مقصد تھے۔ ایک یہ کہ بھائی کی خدمت اور دیکھ بھال کرے گی اور دوسرا یہ کہ موقع مال تو
‫اسے اغوا کرائے گی۔ وہ چاروں آدمی زخمی سے مل کر واپس نہیں گئے بلکہ قاہرہ میں ہی رہے تھے۔ وہ شارجا کے اشارے
‫کے منتظر تھے لیکن جراح نے لڑکی کو اتنا متاثر کیا کہ اس کی سوچ ہی بدل گئی۔ جراح نے اسے یقین دالیا کہ اس کے
‫بھائی کو کوئی سزا نہیں ملے گئی۔ اس کے عالوہ جراح نے اسے ایسی باتیں بتائیں جو اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔
‫اعلی کردار کا مظاہرہ کرکے اسے اپنا مرید بنا لیا تھا۔ وہ ہر
‫جراح نے اس کے اندر اسالم کی عظمت بیدار کردی تھی اور
‫ٰ
‫وقت جراح کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سننے کے لیے بیتاب رہنے لگی۔ ایک روز وہ جراح کے گھر جارہی تھی تو اسے
‫ان چاروں میں سے ایک آدمی راستے میں مل گیا۔ اس نے شارجہ سے کہا کہ زخمی کے اغوا میں اب دیر نہیں ہونی
‫چاہیے۔ شارجا نے اسے کہا کہ وہ ارادہ بدل چکی ہے۔ اس کا بھائی یہیں رہے گا۔ اس آدمی نے شارجا سے کہا کہ اگر اس
‫نے شہر میں آکر اپنا دماغ خراب کرلیا ہے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ‪ 19:41
‫قسط نمبر‪45.۔
‫" کھنڈروں کی آواز "
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

‫اس کا بھائی یہیں رہے گا۔ اس آدمی نے شارجا سے کہا کہ اگر اس نے شہر میں آکر اپنا دماغ خراب کرلیا ہے تو اسے قتل
‫کردیا جائے گا۔ زخمی یہاں نہیں رہے گا۔
‫شارجا کو توقع نہیں تھی کہ یہ چاروں اتنی دلیری سے اس کے بھائی کو اغوا کرلیں گے۔ اس نے انہیں فیصلہ سنا دیا کہ وہ
‫ان کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔ اس آدمی نے اسے کہا… ''ہم تمہاری ہر ایک حرکت کو دیکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھ رہے
‫''تھے کہ تم نے جراح کو پھانس لیا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تم خود اس کے جال میں پھنس گئی ہو۔
‫شارجا نے اسے دھتکار دیا۔ اسے چونکہ توقع نہیں تھی کہ وہ لوگ اتنی دلیری کا مظاہرہ کرسکیں گے۔ اس لیے اس نے ''
‫جراح کے ساتھ بھی ذکر نہ کیا کہ اس کے زخمی بھائی کے اغواء کا خطرہ ہے۔ اسی رات شارجا اور جراح ان چاروں کے
‫چنگل میں آگئے۔ انہیں جب گھوڑوں پر سوار کرانے کے لیے اٹھالے گئے تو اس نے دیکھا کہ ایک گھوڑے پر اس کا زخمی
‫بھائی بیٹھا تھا۔ اس وقت وہ کچھ خوش ہوئی کہ اس کا بھائی آزاد ہوگیا ہے۔ وہ فرار پر آمادہ ہوگئی لیکن جراح کو ان
‫لوگوں کی قید میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس نے انہیں کہا بھی کہ اسے چھوڑ دو لیکن وہ نہ مانے۔ اس کے ہاتھ اور پائوں
‫باندھ کر گھوڑے پر ڈال لیا۔ راستے میں شارجا کو بتایا گیا کہ اس کے بھائی کو کس طرح اغواء کیا گیا ہے۔ وہاں صرف دو
‫آدمی گئے تھے۔ ایک نے سنتری سے کہیں کا راستہ پوچھنے کے بہانے اسے باتوں میں لگا لیا دوسرے نے پیچھے سے اس
‫کی گردن جکڑلی اور دونوں اسے اٹھا کر اندر لے گئے۔
‫زخمی انہیں دیکھ کر اٹھ بیٹھا‪ ،اس کے بستر پر سنتری کو لٹا دیا گیا اور اس کے دل پر خنجر کے دو گہرے وار کرکے اسے
‫ختم کردیا گیا پھر اس پر کمبل ڈال دیا گیا۔ دونوں نے زخمی قیدی کو اٹھایا اور نکل گئے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شارجا
‫جراح کے گھر میں ہے۔ انہیں ڈر تھا کہ وہ نہیں مانے گی اور اغواء ناکام بنا دے گی لیکن اسے بھی وہاں سے غائب کرنا
‫ضروری تھا کیونکہ اس کے پاس بھی ایک راز تھا۔ دو آدمی گھات میں بیٹھے تھے جونہی جراح اور شارجا تنگ اور تاریک
‫گلی میں آئے تو انہیں جکڑ لیا گیا اور اغواء کامیاب ہوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫علی بن سفیان جیسا گھاگھ سراغ رساں کوئی اور تجربہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے جراح اور شارجا کے بیان پر فوری
‫اعتبار نہ کیا۔ یہ بھی سازش کی ایک کڑی ہوسکتی تھی۔ اس نے دونوں کو الگ کردیا اور ان سے اپنے انداز سے پوچھ گچھ
‫کی۔ جراح دانشمند آدمی تھا‪ ،اس نے علی بن سفیان کو قائل کرلیا کہ اس نے جو بیان دیا ہے وہ لفظ بہ لفظ درست ہے۔
‫اس نے کہا کہ ایک تو جذباتی پہلو تھا‪ ،اس لڑکی کی شکل وصورت اس کی مری ہوئی بہن سے ملتی جلتی تھی‪ ،اس لیے
‫وہ اسے اچھی لگی اور وہ اسے اپنے گھر بھی لے جاتا اور زخمی کے مکان میں بھی اس کے ساتھ زیادہ وقت بیٹھا رہتا تھا۔
‫جراح نے بتایا کہ اس کے اس سلوک سے لڑکی اتنی متاثر ہوئی کہ اس نے اپنے کچھ شکوک اس کے سامنے رکھ دئیے۔ یہ
‫اس لڑکی کا دوسرا پہلو تھا جس پر جراح نے زیادہ توجہ دی۔ لڑکی مسلمان تھی لیکن معلوم ہوتا تھا کہ اس پر بڑے ہی
‫خطرناک اثرات جو باہر سے آئے تھے‪ ،کام کررہے تھے۔ جراح نے اس کے ذہن سے یہ اثرات صاف کردئیے۔ لڑکی چونکہ
‫پسماندہ ذہن کی تھی‪ ،صحرا کے دوردراز گوشے کی رہنے والی تھی اس لیے اس کے ذہن میں جو کچھ ڈاال گیا وہ اسی کو
‫صحیح سمجھتی تھی۔ اس کی باتوں سے یہ انکشاف ہوا کہ اس عالقے میں اسالم کے منافی اثرات اور صالح الدین ایوبی کے
‫خالف تخریب کاری زورشور سے اور بال روک ٹوک جاری ہے۔
‫شارجا سے علی بن سفیان نے کوئی بیان نہیں لیا‪ ،اس پر سوال کرتا رہا اور اس کے جوابوں سے ایک بیان مرتب ہوگیا۔ اس
‫نے فرعونوں کے اس کھنڈر کے متعلق وہی انکشاف کیا جو بیان کیا جاچکا تھا۔ وہ بھی اس کھنڈر کے اس پراسرار آدمی کی
‫معتقد تھی جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ گناہ گاروں کو نظر نہیں آتا اور اس کی صرف آواز سنائی دیتی ہے۔ شارجا نے بتایا
‫کہ اس کا بھائی فوج میں تھا اور وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ اسے گائوں کے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ وہ اس کھنڈر میں
‫چلی جائے کیونکہ وہ مقدس انسان خوبصورت کنواریوں کو بہت پسند کرتا ہے۔ شارجا پر علی بن سفیان کی ماہرانہ جرح سے
‫لڑکی کے سینے سے یہ راز بھی نکل آیا کہ اس کے گائوں کی تین کنواری لڑکیاں اس کھنڈر میں چلی گئیں تھیں پھر واپس
‫نہیں آئیں۔ ایک بار اس کا بھائی گاوں آیا تھا‪ ،شارجا نے اس سے پوچھا کہ وہ کھنڈر چلی جائے؟ بھائی نے اسے منع کردیا
‫تھا۔ شارجا اچھی طرح بیان تو نہ کرسکی لیکن یہ پتا چل گیا کہ مصر کے جنوب مغربی عالقے میں کیا ہورہا ہے۔ جراح کے
‫متعلق لڑکی نے بتایا کہ اسے اگر گاوں میں لے جاتے اور قید میں ڈ ال دیتے تو وہاں سے بھی وہ اسے اپنی جان کی بازی
‫لگا کر آزاد کرادیتی۔ اس کا جب بھائی مر گیا تو اس نے گاوں تک جانے کا ارادہ ترک کردیا اور تہیہ کرلیا کہ وہ جراح کو
‫یہیں سے آزاد کرائے گی۔ ان چاروں مجرموں کو وہ اپنا ہمدرد سمجھا کرتی تھی لیکن جراح نے اسے بتایا تھا کہ یہ اللہ کے
‫بہت بڑے مجرم ہیں۔ ان کے متعلق اسے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ انہیں اس کے بھائی کیساتھ ہمدردی نہیں بلکہ اس راز
‫سے دلچسپی تھی جو اس کے پاس تھا۔ اسی لیے انہوں نے اسے مار دیا۔
‫علی بن سفیان نے اس سے پوچھا کہ وہ اب کیا کرنا چاہتی ہے اور اپنے متعلق اس نے کیا سوچا ہے۔
‫اس نےجواب دیا کہ وہ ساری عمر جراح کے قدموں میں گزار دے گی اور اگر جراح اسے آگ میں کود جانے کو کہے گا تو وہ
‫کود جائے گی۔ اس نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا کہ وہ کھنڈر تک جانے والوں کی رہنمائی کرے گی اور اپنے عالقے کے
‫ہر اس فرد کو پکڑوائے گی جو مصر کی حکومت کے خالف کام کررہا ہے۔
‫اعلی حکام کا اجالس بالیا گیا اور صورت حال تقی الدین کے سامنے
‫علی بن سفیان کے مشورے پر فوج اور انتظامیہ کے
‫ٰ
‫رکھی گئی۔ سب کا یہ خیال تھا کہ تقی الدین مصر میں نیا نیا آیا ہے اور اتنی بڑی ذمہ داری بھی اس کے سر پر پہلی بار
‫پڑی ہے‪ ،اس لیے وہ محتاط فیصلے کرے گا اور شاید کوئی خطرہ مول نہ لینا چاہے۔ اجالس میں بیشتر حکام نے اس پر اتفاق
‫کیا کہ چونکہ اتنے وسیع عالقے کی اتنی زیادہ آبادی گمراہ کردی گئی ہے‪ ،اس لیے اس آبادی کے خالف کارروائی نہ کی
‫جائے۔ مسئلہ یہ تھا کہ کھنڈرات کے اندر کے جو حاالت معلوم ہوئے تھے ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہاں سے ایک نیا عقیدہ
‫لہ ذا یہ لوگ اپنے معبد اورعقیدے پر فوجی حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ اس کا
‫نکال ہے جسے لوگوں نے قبول کرلیا ہے۔ ٰ
‫حل یہ پیش کیا گیا کہ اس عالقے میں اپنے معلم‪ ،عالم اور دانشور بھیجے جائیں جو لوگوں کو راہ راست پر الئیں۔ ان کے
‫جذبات کو مجروح نہ کیا جائے… اجالس میں ایک مشورہ یہ بھی پیش کیا گیا کہ سلطان ایوبی کو صورت حال سے آگاہ کیا
‫جائے اور ان سے حکم لے کر کارروائی کی جائے۔
‫اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ انسانوں سے ڈرتے ہیں''… تقی الدین نے کہا… ''اور آپ کے دل میں خدا اور اس کے ''
‫اعلی کو خبر
‫رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ڈر نہیں جن کے سچے مذہب کی وہاں توہین ہورہی ہے۔ امیر مصر اورساالر
‫ٰ
‫تک نہیں دی جائے گی کہ مصر میں کیا ہورہا ہے۔ کیا آپ اس سے بے خبر ہیں کہ وہ میدان جنگ میں کتنے طاقتور دشمن

‫کے مقابلے میں سینہ سپر ہیں؟ کیا آپ صالح الدین ایوب کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ہم سب دوچار ہزار گناہ گاروں اور
‫دشمنان دین سے ڈرتے ہیں؟ میں براہ راست کارروائی کا اور بڑی ہی سخت کارروائی کا قائل ہوں''۔
‫گستاخی معاف امیر محترم!''… ایک نائب ساالر نے کہا…'' صلیبی ہم پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اسالم تلوار کے زور''
‫سے پھیالیا گیا ہے۔ ہم اس الزام کی تردید عملی طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ ہم پیار اور خلوص کا پیغام لے کر جائیں گے''۔
‫تو پھر اپنی کمر کے ساتھ تلوار کیوں لٹکائے پھرتے ہو؟'' …تقی الدین نے طنزیہ لہجے میں کہا… ''فوج پر اتنا خرچ ''
‫کیوں کررہے ہو؟ کیا اس سے یہ بہتر نہیں کہ ہم فوج کو چھٹی دے دیں اور ہتھیار دریائے نیل میں پھینک کر مبلغوں کا ایک
‫گروہ بنا لیں اور درویشوں کی طرح گائوں گائوں‪ ،قریہ قریہ دھکے کھاتے پھریں؟'' … تقی الدین نے جذباتی لہجے میں کہا۔
‫''اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کے خالف صلیب کی تلوار نکلے گی تو اسالم کی شمشیر نیام میں نہیں
‫پڑی رہے گی اور جب شمشیر اسالم نیام سے نکلے گی تو ہر اس سر کو تن سے جدا کرے گی جو کلمہ رسول صلی اللہ
‫علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے‪ ،وہ ہر اس زبان کو کاٹے گی جو کلمہ حق کو جھٹالتی ہے۔ صلیبی اگر
‫یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ہم نے اسالم تلوار کے زور پر پھیالیا ہے تو میں ان سے معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
‫سلطنت اسالمیہ کیوں سکڑتی چلی آرہی ہے؟ خود مسلمان کیوں اسالم کے دشمن ہوئے جارہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ صلیبیوں
‫نے عورت اور شراب سے‪ ،زروجواہرات اور ہوس اقتدار سے اسالم کی تلوار کو زنگ آلود کردیا ہے۔ وہ ہم پر جنگ پسندی اور
‫تشدد کا الزام عائد کرکے ہماری عسکریت روایات کو ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے خالف لڑ نہیں سکتے۔ ان کے بری
‫لشکر اور بحری بیڑے ناکام ہوگئے ہیں۔ وہ ہمارے درمیان تخریب کاری کررہے ہیں‪ ،اللہ کے سچے دین کی جڑیں کاٹ رہے ہیں
‫اور آپ کہتے ہیں کہ ان کے خالف تلوار نہ اٹھائو۔
‫غور سے سنو میرے دوستو! صلیبی اور آپ کے دوسرے دشمن آپ کو محبت کا جھانسہ دے کر آپ کے ہاتھ سے تلوار لینا''
‫چاہتے ہیں۔ وہ آپ کی پیٹھ پر وار کرنا چاہتے ہیں‪ ،ان کا یہ اصول محض ایک فریب ہے کہ کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ
‫مارے تو دوسرا گال آگے کردو۔ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے یہ معلوم نہیں کہ کرک میں وہ مسلمان آبادی کا کیا حشر
‫کررہے ہیں؟ کیا آپ نے شوبک فتح کرکے وہاں مسلمانوں کا بیگار کیمپ نہیں دیکھا تھا؟ وہاں مسلمان عورتوں کی جو انہوں
‫‪،نے عصمت دری کی‪ ،وہ نہیں سنی تھیں؟ مقبوضہ فلسطین میں مسلمان خوف اور ہراس کی
‫بے آبر وئی اور مظلومیت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ صلیبی مسلمانوں کے قافلے لوٹتے اور عورتوں کو اغوا کرکے لے جاتے
‫ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ اسالم کے نام پر تلوار اٹھانا جرم ہے۔ اگر یہ جرم ہے تو میں اس جرم سے شرمسار نہیں۔
‫صلیبیوں کی تلوار نہتوں کو کاٹ رہی ہے‪ ،صرف اس لیے کہ وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لیوا ہیں۔
‫صلیب اور بتوں کے پجاری نہیں… تمہاری تلوار صرف وہاں ہاتھ سے گر پڑنی چاہیے‪ ،جہاں سامنے نہتے ہوں اور ان تک خدا
‫کا پیغام نہ پہنچا ہو۔ ہمیں اس اصول کا قائل نہیں ہونا چاہیے کہ لوگوں کے جذبات پر حملہ نہ کرو۔ میں نے دیکھا ہے کہ
‫عرب میں چھوٹے چھوٹے مسلمان حکمران اور نااہل امراء لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بڑے دلکش اور دلوں کو موہ لینے والے
‫الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ان کے غلط جذبات اور احساسات کو اور زیادہ بھڑکا کر انہیں خوش رکھتے ہیں تاکہ لوگ انہیں
‫عیش وعشرت سے اور غیر اسالمی طرز زندگی سے روک نہ سکیں۔ ان امراء کا طریقہ کار یہ ہے کہ انہوں نے خوشامدیوں کا
‫ایک گروہ پیدا کرلیا ہے جو ان کی ہر آواز پر لبیک کہتا ہے اور رعایا میں گھوم پھر کر ثابت کرتا رہتا ہے کہ ان کے امیر
‫نے جو بات کہی ہے وہ خدا کی آواز ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کے بندے‪ ،بدکار اور عیاش انسانوں کے غالم ہوتے
‫چلے جارہے ہیں۔ قوم حاکم اور محرم میں تقسیم ہوتی چلی جارہی ہے''۔
‫ہم دیکھ رہے ہیں کہ دشمن ہماری جڑیں کاٹ رہا ہے اور ہماری قوم کے ایک حصے کو کفر کی تاریکیوں میں لے جارہا ہے''
‫اگر ہم نے سخت رویہ اختیار نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم کفر کی تائید کررہے ہیں۔ میرے بھائی صالح الدین ایوبی
‫نے مجھے کہا تھا کہ غداری ہماری روایت بنتی جارہی ہے لیکن میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ یہ بھی روایت بنتی جارہی ہے
‫کہ ایک ٹولہ حکومت کیا کرے گا اور قوم محکوم ہوگی۔ حکمران ٹولہ قوم کا خزانہ شراب میں بہائے گا اور قوم پانی کے
‫گھونٹ کو بھی ترسے گی۔ میرے بھائی نے ٹھیک کہا تھا کہ ہمیں قوم اور مذہب کے مستقبل پر نظر رکھنی ہے۔ ہمیں قوم
‫میں وقار اور کردار کی بلندی پیدا کرنی ہے۔ آنے والی نسلیں ہماری قبروں سے جواب مانگیں گی۔ اس مقصد کے لیے ہمیں
‫ایسی کارروائی سے گریز نہیں کرنا چاہیے جو ملک اور مذہب کے لیے سود مند ہو اگر یہ برحق اقدام قوم کے چند ایک افراد
‫کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ہم قوم کا مفاد اور وقار چند ایک افراد کی
‫خوشنودی پر قربان نہیں کرسکتے۔ ہم ملک کے ایک اتنے بڑے حصے کو صرف اس لیے دشمن کی تخریب کاری کے سپرد نہیں
‫کرسکتے کہ وہاں کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ وہاں کے لوگ سیدھے سادے اور بے علم ہیں۔
‫انہیں اپنے وہ مسلمان بھائی جو قبیلوں کے سردار ہیں اور مذہب کے اجارہ دار ہیں‪ ،دشمن کا آلۂ کار بن کر گمراہ رہے
‫ہیں''۔
‫اجالس میں کسی کو توقع نہیں تھی کہ تقی الدین کا ردعمل اتنا شدید اور فیصلہ اتنا سخت ہوگا۔ اس نے جو دالئل پیش
‫کیے‪ ،ان کے خالف کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ کوئی مشور ہی پیش کرتا۔ اس نے کہا …''مصر میں جو فوج ہے‪ ،یہ محاذ
‫سے آئی ہے اور اس سے پہلے بھی لڑ چکی ہے۔ اس فوج کے صرف پانچ سو گھوڑ سوار‪ ،دو سو شتر سوار اور پانچ سو پیادہ
‫آج شام اس عالقے کی طرف روانہ کردو جہاں وہ مشکوک کھنڈرات ہیں۔ یہ فوج اس عالقے سے اتنی دور رہے گی کہ ضرورت
‫پڑے تو فوری طور پر محاصرہ کرسکے۔ میرے ساتھ دمشق سے جو دو سو سوار آئے ہیں‪ ،وہ عالقے کے اندر جاکر کھنڈروں پر
‫حملہ کریں گے۔ ایک چھاپہ مار دستہ کھنڈروں کے اندر جائے گا‪ ،دوسو سوار کھنڈروں کو محاصرے میں رکھیں گے۔ اگر باہر
‫سے حملہ ہوا یا مزاحمت ہوئی تو فوج کا بڑا حصہ مقابلہ کرے گا اور محاصرہ تنگ کرتا جائے گا۔ اس کارروائی میں فوج کو
‫سختی سے حکم دیا جائے کہ کسی نہتے کو نہیں چھیڑا جائے گا''۔
‫اس فیصلے کے فورا ً بعد فوجی حکام کوچ‪ ،حملے اور محاصرے وغیرہ کا منصوبہ تیار کرنے میں مصروف ہوگئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی مصر کی تازہ صورت حال سے بے خبر کرک اور شوبک قلعوں کے درمیان میل ہا میل وسیع صحرا میں جہاں
‫ریتلی چٹانوں‪ ،ٹیلوں اور گھاٹیوں کے عالقے بھی تھے اور جہاں کسی کسی جگہ پانی اور سائے کی بھی افراط تھی‪ ،صلیبیوں
‫کے نئے جنگی منصوبے کے مطابق اپنی افواج کی صف بندی کررہا تھا۔ جاسوسوں نے اسے بتایا تھا کہ صلیبی دگنی طاقت
‫سے جو زیادہ تر زرہ پوش اور بکتر بند ہوگی۔ قلعے سے باہر آکر حملہ کریں گے۔ یہ فوج سلطان ایوبی کی فوج کو آمنے
‫سامنے کی جنگ میں الجھالے گی اور دوسری فوج عقب سے حملے کرے گی۔ سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو دور دور تک

‫پھیال دیا۔ سب سے پہال کام یہ کیا کہ جہاں جہاں پانی اور سبزہ تھا‪ ،وہاں فورا ً قبضہ کرلیا۔ ان جگہوں کے دفاع کے لیے اس
‫نے بڑے سائز کی کمانوں والے تیر انداز بھیج دیئے۔ ان کے تیر بہت دور تک جاتے تھے۔ وہاں منجنیقیں بھی رکھیں جو آگ
‫کی ہانڈیاں پھینکتی تھیں۔ یہ اہتمام اس لیے کیا گیا تھا کہ دشمن قریب نہ آسکے۔ بلندیوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ سلطان
‫ایوبی نے تمام دستوں کو حکم دیا کہ دشمن سامنے سے حملہ کرے تو وہ اور زیادہ پھیل جائیں تاکہ دشمن بھی پھیلنے پر
‫مجبور ہوجائے۔ اس نے اپنی فوج کو ایسی ترتیب میں کردیا کہ دشمن یہ فیصلہ ہی نہیں کرسکتا تھا کہ مسلمان فوج کے پہلو
‫کدھر اور عقب کس طرف ہے۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ‪ 19:43
‫قسط نمبر‪46.۔
‫" کھنڈروں کی آواز "
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫سلطان ایوبی نے فوج کا ایک بڑا حصہ ریزرو میں رکھ لیا تھا‪ ،ایک حصے کو اس طرح متحرک رکھا کہ جہاں کمک کی
‫ضرورت پڑے‪ ،فورا ً کمک دے سکے۔ اس کا سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار اس کے چھاپہ مار دستے تھے اور اس سے زیادہ
‫خطرناک اس کا جاسوسی کا نظام تھا جو اسے صلیبیوں کی نقل وحرکت کی خبریں دے رہا تھا۔ شوبک کا قلعہ سلطان ایوبی
‫سرکرچکا تھا۔ صلیبیوں کے منصوبے میں یہ بھی تھا کہ ان کے لیے حاالت سازگار ہوئے تو وہ شوبک کو محاصرے میں لے کر
‫فتح کرلیں گے۔ انہیں توقع تھی کہ ان کا اتنا زیادہ لشکر سلطان ایوبی کی قلیل تعداد فوج کو صحرا میں ختم کردے گا یا اتنا
‫کمزور کردے گا کہ وہ شوبک کو باہر سے مدد نہیں دے سکے گی۔ ان کے اس منصوبے کے پیش نظر سلطان ایوبی نے شوبک
‫کی وہ طرف جس طرف سے صلیبی اس قلعے پر حملہ کرسکتے تھے‪ ،خالی چھوڑ دی۔ اس نے صلیبیوں کے لیے موقعہ پیدا
‫کردیا کہ وہ راستہ صاف دیکھ کر شوبک پر حملہ کریں۔ اس طرف سے اس نے دیکھ بھال والی چوکیاں بھی ہٹا دیں اور دور
‫دور تک عالقہ خالی کردیا۔
‫صلیبیوں کے جاسوسوں نے کرک میں فورا ً اطالع پہنچائی کہ سلطان ایوبی نے صلیبیوں کے ساتھ صحرا میں لڑنے کے لیے فوج
‫شوبک سے دوراکٹھی کرلی ہے اور شوبک کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ صلیبیوں نے فورا ً اپنی اس فوج کو جو سلطان ایوبی کے
‫سامنے سے حملہ کرنے کے لیے باہر نکالی تھی‪ ،حکم دے دیا کہ رخ بدل کر شوبک کی طرف چلی جائے۔ چنانچہ یہ فوج
‫ادھر کو ہولی۔ اس کے پیچھے رسد کے ذخیرے جارہے تھے‪ ،فوج جب شوبک سے چار میل دور رہ گئی تو اسے روک لیا گیا۔
‫یہ اس فوج کا عارضی پڑائو تھا۔ رسد کی گھوڑا گاڑیاں‪ ،اونٹ اور خچر ہزاروں کی تعداد میں چلے آرہے تھے۔ انہیں کوئی
‫خطرہ نہ تھا کیونکہ مسلمانوں کی فوج کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا۔ صلیبی حکمران بہت خوش تھے۔ انہیں شوبک کا
‫قلعہ اپنے قدموں میں پڑا نظر آرہا تھا مگر رات کو انہیں اپنے پیچھے پانچ چھ میل دور آسمان الل سرخ نظر آیا۔ شعلے اتنے
‫بلند تھے کہ اتنی دور سے بھی نظر آئے تھے‪ ،صلیبیوں نے سوار دوڑادیئے۔ جہاں سے شعلے اٹھ رہے تھے‪ ،وہاں ان کی رسد
‫تھی۔ سوار وہاں پہنچے تو انہیں صحرا میں بے لگام گھوڑے اور بے مہار اونٹ ہر طرف دوڑتے بھاگتے نظر آئے۔
‫یہ تباہی سلطان ایوبی کے ایک چھاپہ مار دستے کی بپا کی ہوئی تھی‪ ،رسد میں گھوڑوں کے لیے خشک گھاس سے لدی ہوئی
‫سینکڑوں گھوڑا گاڑیاں تھیں۔ انہیں رسد کے کیمپ کے اردگرد کھڑا کیا گیا تھا۔ صلیبی خوش فہمیوں میں مبتال تھے۔ انہیں
‫معلوم نہیں تھا کہ ان کی ہر ایک حرکت پر سلطان ایوبی کی نظر ہے۔ رات کو جب رسد کا کیمپ سو گیا تو مسلمان چھاپہ
‫ماروں نے اونٹوں پر جاکر خشک گھاس میں آتشیں فلیتوں والے تیر چالئے۔ گھاس فورا ً جل اٹھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کیمپ
‫شعلوں کے گھیرے میں آگیا۔ ان کے نرغے میں آئے ہوئے انسان جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر دوڑے تو ان میں سے بہت
‫سے تیروں کا شکار ہوگئے جو جانور رسیاں توڑ سکے وہ تو بھاگ گئے اور جو کھل نہ سکے وہ زندہ جل گئے۔ دور دور تک
‫پھیال ہوا کیمپ جہنم بن گیا۔ چھاپہ ماروں نے کئی ایک اونٹ اور گھوڑے پکڑ لیے اور واپس چلے گئے۔
‫صبح طلوع ہوئی۔ صلیبی کمانڈروں نے جاکر رسد کا کیمپ دیکھا‪ ،وہاں کچھ نہیں بچا تھا۔ ان کی ایک ماہ کی رسد تباہ
‫ہوچکی تھی۔ وہ سمجھ گئے کہ شوبک کا راستہ جو صاف تھا‪ ،یہ سلطان ایوبی کی ایک چال تھی۔ انہوں نے بغیر دیکھے کہہ
‫دیا کہ کرک سے شوبک تک ان کی رسد اور کمک کا راستہ محفوظ نہیں۔ چنانچہ انہوں نے شوبک کا محاصرہ ملتوی کردیا۔
‫رسد کے بغیر محاصرہ ناممکن تھا اور جب انہیں اطالع ملی کہ گزشتہ رات اس فوج کی بھی رسد تباہ ہوگئی ہے جو سلطان
‫ایوبی کی فوج پر سامنے سے حملہ کرنے کے لیے جمع تھی تو انہوں نے اپنے تمام تر جنگی منصوبے پر نظرثانی کرنے کا
‫فیصلہ کرلیا۔ انہیں کہیں بھی سلطان ایوبی کی فوج نظر نہیں آرہی تھی۔ انہیں جاسوس یہ بھی نہیں بتا سکے تھے کہ
‫مسلمانوں کی فوج کا اجتماع کہاں ہے۔ دراصل یہ اجتماع کہیں بھی نہیں تھا۔
‫سلطان ایوبی کو اطالع ملی کہ صلیبیوں نے دونوں محاذوں پر پیش قدمی روک دی ہے تو اس نے اپنے کمانڈروں کو بال کر
‫کہا… ''صلیبیوں نے جنگ ملتوی کردی ہے لیکن ہماری جنگ جاری ہے۔ وہ دونوں فوجوں کے آمنے سامنے کے تصادم کو
‫جنگ کہتے ہیں۔ میں چھاپوں اور شب خونوں کو جنگ کہتا ہوں۔ اب چھاپہ مارو کو سرگرم رکھو۔ صلیبی دونوں طرف سے
‫پیچھے ہٹ رہے ہیں‪ ،انہیں اطمینان سے پیچھے نہ ہٹنے دو۔ انتہائی عقب یا پہلو پر شب خون مارو اور غائب ہوجائو۔ صلیبی
‫آپ کو اپنے سامنے الکر لڑنا چاہتے ہیں لیکن میں آپ کو اس میدان میں ان کے سامنے لے جائوں گا جو آپ کی مرضی کا
‫ہوگا اور جہاں کی ریت بھی آپ کی مدد کرے گی''۔
‫سلطان ایوبی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا‪ ،وہ اپنے عملے اور محافظ دستے کے ساتھ خانہ بدوش تھا‪ ،کسی ایک جگہ نہ ٹھہرنے
‫کے باوجود معلوم ہوتا تھا‪ ،جیسے ہر جگہ موجود ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫مصر میں سلطان ایوبی کا بھائی تقی الدین صلیبیوں کے دوسرے محاذ پر حملہ آور ہورہا تھا‪ ،یہ مصر کا جنوب مغربی عالقہ
‫عیسی علیہ السالم آسمان سے واپس آنے والے
‫تھا‪ ،جہاں کے ڈرائونے ٹیلوں کے اندر فرعونوں کے ہولناک کھنڈرات میں حضرت
‫ٰ
‫تھے۔ تمام تر عالقہ ایک نئے عقیدے کا پیرو کار ہوگیا تھا… جمعرات کی شام تھی۔ زائرین کا ہجوم کھنڈر کے غار نما دروازے
‫میں داخل ہورہا تھا۔ اندر بڑے کمرے میں پراسرار آواز گونج ر ہی تھی۔ لوگوں کو دیوار پر گناہ گار اور نیکو کارجاتے نظر آرہے
‫تھے۔ وہاں وہی سماں تھا جو ہر جمعرات کے روز ہوا کرتا تھا۔ اچانک اس پراسرار مقدس انسان کی آواز خاموش ہوگئی جس
‫کے متعلق مشہور تھا کہ گناہ گاروں کو نظر نہیں آتا۔ اس کے بجائے ایک اور آواز سنائی دی۔ ''گمراہ انسانو! آج کی رات
‫گھروں کو نہ جانا۔ کل صبح تم پر وہ راز فاش ہوجائے گا جس کے لیے تم بیتاب ہو۔ یہاں سے فورا ً باہر نکل جائو۔ حضرت
‫عیسی علیہ السالم تشریف الرہے ہیں۔ اس کھنڈر سے دور جاکر سوجائو''… بڑے کمرے میں حیرت زدہ لوگوں کو دیوار پر جو
‫ٰ

‫چمکتے ہوئے ستارے نظر آتے تھے‪ ،وہ ماند پڑگئے۔ اس وقت ان ستاروں میں سے حسین لڑکیاں اور خوبرو مرد ہنستے کھیلتے
‫گزر رہے تھے۔ لوگوں نے دیکھا کہ فوجی قسم کے کچھ آدمی انہیں پکڑ پکڑ کر لے جارہے ہیں۔ کہیں سے چیخیں بھی سنائی
‫دے رہی تھیں۔ بادل جو گرجتے تھے وہ بھی خاموش ہوگئے‪ ،لوگوں کے لیے یہ جگہ بڑی ہی مقدس تھی۔ وہ خوف زدہ ہوکے
‫باہر کو بھاگے اور کھنڈر خالی ہوگیا۔
‫یہ انقالب تقی الدین اور علی بن سفیان الئے تھے۔ ان کے ساتھ فوج کی وہی نفری تھی جو تقی الدین نے اپنے حکم میں
‫بتائی تھی۔ یہ دستے شام کے بعد ٹیلوں والے عالقے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ان کی رہنمائی شارجا کررہی تھی جو گھوڑے
‫پر سوار تھی۔ وہ انہیں جمعرات کی شام وہاں لے گئی تھی کیونکہ اس روز وہاں میلہ لگتا تھا اور دور دور سے لوگ آتے
‫تھے۔ فوج کے بڑے حصے کو جس میں پانچ سو گھوڑ سوار‪ ،دوسو شتر سوار اور پانچ سو پیادہ تھے۔ اس عالقے سے ذرا دور
‫رکھا گیا تھا۔ انہیں نہتے لوگوں کے خالف استعمال نہیں کرنا تھا۔ ان کے ذمہ یہ فرض تھا کہ سوڈان کی سرحد پر نظر رکھیں
‫چونکہ کھنڈروں کے اندر کی تخریب کاری صلیبیوں اور سوڈانیوں کی پشت پناہی پر ہورہی تھی۔ اس لیے یہ خطرہ تھا کہ وہاں
‫فوجی کارروائی کی گئی تو سوڈانی حملہ کردیں گے۔ تقی الدین نے اس عالقے کے قریب کے سرحدی دستوں کو جو سرحدوں
‫کی حفاظت کے لیے وہیں رہتے تھے قریب بال کر اپنے تحت کرلیا تھا۔
‫دوسو گھوڑ سوار جو تقی الدین کے ساتھ دمشق سے آئے تھے وہ وہاں کے چنے ہوئے اور دیوانگی کی حد تک دلیر سوار تھے۔
‫دوڑتے گھوڑوں سے تیر اندازی ان کا خصوصی کمال تھا۔ پیادہ سپاہیوں میں سلطان ایوبی کے اپنے ہاتھوں تیار کیے ہوئے چھاپہ
‫مار بھی تھے۔ انہیں ایسی ٹریننگ دی گئی تھی کہ انتہائی دشوار ٹیلوں اور درختوں پر حیران کن رفتار سے چڑھتے اور اترتے
‫تھے۔ چند گز پھیلی ہوئی آگ سے گزر جانا ان کا معمول تھا۔ ان چھاپہ مار جانبازوں کو اس وقت کھنڈر کی طرف روانہ کیا
‫گیا‪ ،جب لوگ اندر جارہے تھے‪ ،وہاں تک انہیں شارجا لے گئی تھی۔ علی بن سفیان ان کے ساتھ تھا۔ تیز رفتار قاصد بھی
‫ساتھ تھے‪ ،تاکہ پیغام رسانی میں تاخیر نہ ہو۔ کھنڈر کے دروازے کے باہر دو آدمی کھڑے اندر جانے والوں کو تین تین کھجوریں
‫کھال رہے تھے۔ دروازے کے اندر گپ اندھیرا تھا۔ اس اندھیرے سے لوگ گزر کر اندر روشن کمرے میں جاتے تھے‪ ،باہر صرف
‫ایک مشعل جل رہی تھی جس کی روشنی معمولی سی تھی۔
‫چھ آدمی جن کے سر چادروں میں ڈھکے ہوئے تھے‪ ،زائرین کے ساتھ دروازے تک گئے اور ہجوم سے ہٹ کر کھجوریں کھالنے
‫والوں کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ انہیں کہا گیا کہ وہ سامنے سے گزریں لیکن وہ سن ہوکے رہ گئے کیونکہ ان کی پیٹھوں
‫میں خنجروں کی نوکیں رکھ دی گئی تھیں۔ یہ چھ آدمی چھاپہ مار تھے۔ انہوں نے ایک ایک آدمی کے پیچھے ہو کر خنجر
‫ان کی پیٹھوں سے لگا کر آہستہ سے کان میں کہا تھا… ''زندہ رہنا چاہتے ہوتو یہاں سے باہر چلے جائو‪ ،تم سب فوج کے
‫گھیرے میں ہو'' … کھجوریں کھالنے اور پانی پالنے والے آدمی ذرا سی بھی مزاحمت کے بغیر باہر نکل گئے۔ چھاپہ ماروں
‫نے خنجر اس طرح چغوں میں چھپالیے کہ لوگوں میں سے کوئی دیکھ نہ سکا۔ یہ چار آدمی جونہی باہر کو آئے‪ ،وہاں دس
‫بارہ چھاپہ مار دیہاتیوں کے لباس میں کھڑے تھے۔ انہوں نے چاروں کو گھیر لیا اور دھکیلتے ہوئے دور لے گئے۔ وہاں انہیں
‫رسیوں سے باندھ دیا گیا۔ چھ چھاپہ مار جو کھجوروں اور پانی کے مشکیزوں کے پاس رہ گئے تھے‪ ،انہوں نے اندر جانے والے
‫لوگوں سے کہنا شروع کردیا کہ کھجوروں اور پانی کے بغیر اندر جائو کیونکہ اندر سے نیا حکم آیا ہے۔ سیدھے سادے دیہاتی
‫اندر جاتے رہے۔
‫ان کے ساتھ اب چھاپہ مار بھی اندر جارہے تھے اور مشعلیں بھی اندر جارہی تھیں۔ لوگ حیران تھے کہ مشعلیں کیوں لے
‫جائی جارہی ہیں۔ کم وبیش پچاش مشعلیں اور دو سو چھاپہ مار اندر چلے گئے۔ وہ روشن کمرے میں نہ گئے بلکہ ان تاریک
‫راستوں اور غالم گردشوں میں چلے گئے جن میں باہر کے لوگ نہیں جاسکتے تھے۔ ان میں سے بعض کے پاس خنجر اور
‫خنجر نما تلواریں تھیں اور بعض کے پاس چھوٹی کمانیں۔ اس دروازے سے بھی جس سے لوگ باہر نکلتے تھے‪ ،چھاپہ مار
‫داخل ہوگئے۔ وہ ہدایت کے مطابق تاریک بھول بھلیوں میں جارہے تھے۔ تقی الدین کے دو سو گھوڑے سوار آگے گئے اور انہوں
‫نے پورے کھنڈر کو گھیرے میں لے گیا۔ ان کے ساتھ پیادہ دستہ بھی تھا جس کے سپاہیوں نے اندر سے نکلنے والوں کو روک
‫کر ایک طرف اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ چھاپہ مار مشعل برداروں کے ساتھ اندر گئے تو انہیں ایسے محسوس ہونے لگا جیسے
‫کسی کے پیٹ میں چلے گئے ہوں۔ اندر کے راستے اور کمرے انتڑیوں کی مانند تھے… یہ راستے انہیں ایک ایسے طلسم میں
‫لے گئے جسے دیکھ کر چھاپہ مار بدک کرر ک گئے۔ یہ ایک بہت کشادہ کمرہ تھا جس کی چھت تو اونچی تھی‪ ،اندر بہت
‫سے مرد اور عورتیں تھیں۔ ان میں کچھ ایسے تھے جن کے چہرے بھیڑیوں کی طرح تھے بعض تھے تو انسان لیکن وہ اس
‫قدر بدصورت اور بھیانک چہروں والے تھے کہ دیکھ کر ڈر آتا تھا‪ ،وہ جن اور بھوت لگتے تھے اور ان کے درمیان خوبصورت اور
‫جوان لڑکیاں بھڑکیلے اور چمکیلے کپڑے پہنے ہنس کھیل رہی تھیں۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ چند ایک خوبصورت لڑکیاں
‫خوبرو مردوں کے ساتھ مٹک مٹک کر چل رہی تھیں۔ ادھر چھت سے فرش تک پردے لٹکے ہوئے تھے جو دائیں بائیں ہٹتے‪،
‫کھلتے اور بند ہوتے تھے۔ دوسری طرف آنکھوں کو خیرہ کردینے والی روشنی چمکتی اور بجھتی تھی۔
‫اگر چھاپہ ماروں کو یہ یقین نہ دالیا گیا ہوتا کہ کھنڈر کے اندر جو کوئی بھی ہے اور جس حلیے میں بھی ہے وہ انسان ہوگا
‫اور اندر کوئی بدروح‪ ،روح یا بھوت پریت نہیں‪ ،تو چھاپہ مار وہاں سے بھاگ جاتے۔ وہاں خوبصورت لڑکیاں اور خوبرو مرد تھے‪،
‫…وہ بھی ڈرائونے لگتے تھے
‫اس عجیب وغریب مخلوق نے جب مشعل بردار چھاپہ ماروں کو دیکھا تو انہیں ڈرانے کے لیے ڈرائونی آوازیں نکالنے لگے جو
‫آدمی بدصورت‪ ،چڑیلوں اور بھیڑیوں کے چہروں والے تھے ان کی آوازیں زیادہ خوفناک تھیں۔ اس دوران ایک دو آدمیوں نے شاید
‫ڈر کر اپنے چہرے بے نقاب کردیئے۔ یہ بھیڑیوں کے چہرے تھے جو انہوں نے اتارے تو اندر سے انسانوں کے چہرے نکلے۔
‫چھاپہ ماروں نے سب کو گھیر کر پکڑ لیا اور سب کے نقاب اتار دیئے‪ ،وہاں شراب بھی پڑی تھی۔ ان سب کو باہر لے گئے۔
‫کھنڈر کے دوسرے حصوں کی تالشی میں ایک آدمی پکڑا گیا جو ایک تنگ سی سرنگ کے منہ میں منہ ڈالے بھاری آواز میں
‫عیسی علیہ السالم آنے والے ہیں…'' اور ایسے کئی الفاظ تھے جو وہ بول رہا
‫کہہ رہا تھا …''گناہوں سے توبہ کرو‪ ،حضرت
‫ٰ
‫تھا۔ یہ سرنگ گھوم پھر کر اس روشن کمرے میں جاتی تھی‪ ،جہاں زائرین کو یہ پراسرار‪ ،ڈرائونی اور خوبصورت مخلوق دکھا
‫کر حیرت زدہ کیا جاتا تھا۔ اس آدمی کو وہاں سے ہٹا کر چھاپہ ماروں کے ایک کمان دار نے سرنگ میں منہ ڈال کر کہا کہ
‫اے گمراہ لوگوں آج رات گھروں کو نہ جانا کل صبح تم پر وہ راز فاش ہوجائے گا جس کے لیے تم بیتاب ہو۔
‫کھنڈرات کے اندر کسی نے بھی مزاحمت نہ کی۔ خنجروں اور تلواروں کے آگے سب اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کرتے
‫چلے گئے۔ چھاپہ مار ان آدمیوں کی نشاندہی پر جنہیں گرفتار کرلیا گیا تھا ان جگہوں تک پہنچے جہاں بجلی کی طرح
‫چمکنے والی روشنیوں کا انتظام تھا۔ ڈھکی چھپی جگہوں میں مشعلیں جل رہی تھی۔ ان کے پیچھے لکڑی کے تختے تھے جن

‫پر ابرق چپکایا ہوا تھا۔ ان تختوں کے زاویے بدلتے تھے تو ابرق کی چمک لوگوں کی آنکھوں میں پڑتی اور چندھیا دیتی تھی۔
‫کمرہ تاریک کرنے کے لیے مشعلوں کو پیچھے کرلیا جاتا تھا۔ بادل گرجنے کی آوازیں دھات کی چادروں کو جھٹکے دے کر پیدا
‫کی جاتی تھی۔ پردوں پر جگہ جگہ ابرق کے ٹکڑے چپکا دیئے گئے تھے جن پر روشنی پڑتی تو ستاروں کی طرح چمکتے
‫تھے۔ اس طرف پردوں کا رنگ ایسا تھا کہ کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ کپڑا ہے۔ وہ اسے پھٹی ہوئی دیوار سمجھتے تھے۔
‫عقل اور ہوش والے انسان کے لیے یہ کوئی معمہ نہیں تھا۔ بے شک یہ روشنیوں کے خاص انتظام کا جادو تھا جو لوگوں کو
‫مسحور کرلیتا تھا لیکن اندر جو جاتا تھا اس کی عقل اور ہوش پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا تھا۔ انہیں اندر جاتے وقت
‫دروازے پر جو تین کھجوریں کھالئی جاتی اور پانی پالیا جاتا تھا‪ ،ان میں نشہ آور آمیزش ہوتی تھی۔ اس کا اثر فورا ً ہوجاتا
‫تھا۔ اس اثر کے تحت زائرین کے ذہنوں پر جو بھی تصور بٹھایا جاتا اور کانوں میں جو بھی آوازیں ڈالی جاتی‪ ،وہ اسے سو
‫فیصد صحیح اور برحق سمجھ لیتے تھے۔ اسی نشے کا اثر تھا کہ لوگ باہر جاکر دوبارہ اندر آنے کی خواہش کرتے تھے۔ انہیں
‫معلوم نہیں تھا کہ یہ اس عقیدے کا تاثر نہیں بلکہ اس نشے کا اثر ہے جو انہیں کھجوروں اور پانی میں د یا جاتا ہے۔
‫کھجوروں کے انبار اور پانی کے مشکیزوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا تھا۔ اندر پکڑ دھکڑ اور تالشی کا سلسلہ جاری تھا۔ باہر دو
‫سو سپاہیوں نے کھنڈروں کا محاصرہ کررکھا تھا۔ ہر طرف مشعلوں کی روشنی تھی‪ ،فوج کا بڑا حصہ اور دو سرحدی دستے
‫سوڈان کی سرحد کے ساتھ ساتھ گھوم پھر رہے تھے… رات گزرگئی۔ سوڈان کی طرف سے کوئی حملہ نہ ہوا۔ کھنڈرات میں
‫بھی کوئی مزاحمت نہ ہوئی۔ صبح کے اجالے نے اس عالقے کو روشن کیا تو وہاں ہراساں دیہاتیوں کا ہجوم تھا۔ کچھ لوگ
‫ادھر ادھر سوگئے تھے۔ گھوڑ سواروں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫کچھ دیر بعد تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے بٹھا دیا گیا ۔ ان کی تعداد تین اور چار ہزار کے درمیان تھی۔ ایک طرف
‫سے ایک جلوس آیا جسے فوجی ہانک کر ال رہے تھے۔ اس جلوس میں بھیڑیوں اور چڑیلوں کے چہروں والے انسان تھے۔ اس
‫میں مکروہ اور بڑی بھیانک شکلوں والے انسان بھی تھے اور اس جلوس میں وہ تمام مخلوق تھی جو لوگوں کو کھنڈر کے اندر
‫دکھائی جاتی تھی اور بتایا جاتا تھا کہ یہ آسمان ہے جہاں یہ لوگ مرنے کے بعد گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا
‫سب سے بڑا گناہ یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ جنگ وجدل کے عادی تھے یعنی یہ فوجی تھے۔ اس جلوس سے الگ دس بارہ
‫لڑکیوں کو بھی لوگوں کے سامنے الیا گیا۔ یہ بہت ہی خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ ان کے ساتھ خوبرو مرد تھے۔ ان دونوں جلوسوں
‫کو لوگوں کے ہجوم کے سامنے ایک اونچی جگہ پر کھڑا کردیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ لوگوں کو اپنے چہرے دکھائو۔ سب نے
‫بھیڑیوں اور چڑیلوں کے مصنوعی چہرے اتار دیئے۔ ان کے اندر سے اچھے بھلے انسانی چہرے نکل آئے جو آدمی مکروہ اور
‫بھیانک چہروں والے تھے‪ ،وہ بھی مصنوعی چہرے تھے۔ یہ چہرے بھی اتار دیئے گئے۔
‫لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ان آدمیوں اور ان لڑکیوں کے قریب سے گزرتے جائیں اور انہیں پہنچانیں‪ ،لوگ تو اسی پر حیران
‫ہوگئے کہ یہ آسمان کی مخلوق نہیں‪ ،اسی زمین کے انسان ہیں۔ لڑکیاں بھی پہچان لی گئیں‪ ،ان میں زیادہ تر اسی عالقے کی
‫رہنے والی تھیں اور تین چار یہودی تھیں۔ جنہیں صلیبی اسی مقصد کے لیے الئے تھے۔ لوگ انہیں دیکھ چکے تو ان مجرموں
‫کو سامنے الیا گیا جنہوں نے یہ طلسماتی اہتمام کررکھا تھا۔ ان میں چھ صلیبی تھے جو مصر کے اس عالقے کی زبان بولتے
‫اور سمجھتے تھے۔ انہوں نے بہت سے آدمی اس عالقے سے اپنے ساتھ مال لیے تھے۔ رات گرفتاری کے بعد ان سے اعتراف
‫کرالیا گیا تھا کہ انہوں نے تین چار مسجدوں میں اپنے امام رکھ دیئے تھے جو لوگوں کو مذہب کے پردے میں غیر اسالمی
‫نظریات کے معتقد بنا رہے تھے۔ اس گروہ کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو قائل کیا جائے کہ فوج میں بھرتی نہ ہوں کیونکہ یہ
‫بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ گروہ اس مقصد میں کامیاب ہوچکا تھا۔ ان تخریب کاروں نے یہ کامیابی بھی حاصل کرلی تھی کہ اس
‫عالقے کے لوگوں میں سوڈانیوں کی محبت پیدا کردی تھی اور ان کا مذہب تبدیل کیے بغیر انہیں بے مذہب کردیا تھا۔
‫لوگوں سے کہا گیا کہ اب وہ کھنڈروں کے اندر جاکر گھومیں پھریں اور اس فریب کاری کا ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
‫لوگ اندر چلے گئے جہاں جگہ جگہ فوجی کھڑے تھے اور لوگوں کو دکھا رہے تھے کہ انہیں کیسے کیسے طریقوں سے دھوکہ
‫دیا جاتا رہا ہے۔ بہت دیر بعد جب تمام لوگ اندر سے گھوم پھر آئے تو تقی الدین نے ان سے خطاب کیا اور انہیں بتایا کہ
‫کھجوروں اور پانی میں انہیں نشہ دیا جاتا ہے۔ اندر جوجنت اور جہنم تھا‪ ،وہ اس نشے کے زیراثر نظر آتا تھا۔ میں ان
‫موسی علیہ السالم کہاں اور
‫مجرموں سے کہتا ہوں کہ اندر چل کر مجھے آسمان کی مخلوق چلتی پھرتی دکھائیں کہ حضرت
‫ٰ
‫مرا ہوا خلیفہ العاضد کہاں ہے؟ یہ سب فریب تھا۔ یہ وہ نشہ ہے جو حشیشین کا پیر استاد حسن بن صباح لوگوں کو پال کر
‫انہیں جنت دکھایا کرتا تھا۔ وہ تو ایک وقت میں چند ایک آدمیوں کو نشہ پالتا تھا مگر یہاں اسالم کے ان دشمنوں نے اتنے
‫وسیع عالقے کی پوری آبادی پر نشہ طاری کردیا ہے۔
‫تقی الدین نے لوگوں کو اصلیت دکھا کر انہیں بتایا کہ ابتداء میں ایک درویش کی کہانی سنائی گئی تھی جو مسافروں کو اونٹ
‫اور اشرفیاں دیا کرتا ہے۔ یہ محض بے بنیاد کہانیاں تھیں اور بے سروپا جھوٹ۔ کہانیاں سنانے والوں کو تمہارے دین وایمان کے
‫دشمن بے دریغ مال ودولت دیتے تھے… تقی الدین نے اس فریب کاری کے تمام پہلو بے نقاب کیے اور جب اس نے مجرموں
‫کی اصلیت کو بے نقاب کیا تو لوگ جوش میں آکر اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے مجرموں پر ہلہ بول دیا۔ اس وقت لوگوں کا
‫وہ نشہ اتر چکا تھا جو رات کو انہیں کھجوروں اور پانی میں دیا گیا تھا۔ فوج نے ہجوم پر قابو پانے کی بہت کوشش کی
‫لیکن انہوں نے تمام مجرموں اور لڑکیوں کو جان سے مار کر چھوڑا۔
‫تقی الدین نے فوج کو اسی عالقے میں پھیال دیا اور فوج کی نگرانی میں وہاں ایک تو تخریب کاروں کے ایجنٹوں کو گرفتار
‫کیا اور دوسرے یہ کہ مسجدوں میں قاہرہ کے عالم متعین کردیئے جنہوں نے لوگوں کو مذہبی اور عسکری تعلیم وتربیت شروع
‫کردی۔ فرعونوں کے کھنڈروں کو لوگوں کے ہاتھوں مسمار کرادیا گیا۔
‫تقی الدین نے قاہرہ جاکر پہال کام یہ کیا کہ جراح اور شارجا کی خواہش کے مطابق انہیں شادی کی اجازت دے دی اور دوسرا
‫کام یہ کیا کہ اس نے فوج کی مرکزی کمان کو حکم دیا کہ سوڈان پر حملے کی تیاری کی جائے۔ اس نے کھنڈروں کی مہم
‫میں دیکھ لیا تھا کہ پڑوسی سوڈانیوں نے مصر کے اتنے وسیع عالقے کو اپنے اثر میں لے لیا تھا اور یہ اثر شدید جوابی
‫کارروائی کے بغیر ختم نہیں ہوگا۔ اس پر انکشاف بھی ہوا تھا کہ سوڈانی صلیبیوں کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں اور وہ باقاعدہ
‫لہ ذا ضروری سمجھا گیا کہ سوڈان پر حملہ کیا جائے۔ اس سے اگر سوڈان کا کچھ عالقہ
‫حملے کی تیاری بھی کررہے ہیں۔ ٰ
‫قبضے میں آئے یا نہ آئے‪ ،اتنا فائدہ ضرور ہوگا کہ دشمن کی تیاریاں درہم برہم ہوجائیں گی اور ان کا منصوبہ لمبے عرصے لیے
‫تباہ ہوجائے گا۔ تقی الدین کو سلطان ایوبی کی پشت پناہی حاصل تھی۔
‫٭ ٭

‫کھنڈروں کی آواز کا قصہ بھی یھیں ختم ھوا۔"
‫داستان ایمان فروشوں کی ‪ 19:43
‫قسط نمبر‪47.۔
‫"رینی الیگزینڈر کا آخری معرکہ "
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫مصر کے قائم مقام امیر تقی الدین نے صلیبیوں کی نظریاتی یلغار کو بروقت فوجی کارروائی سے روک دیا اور اس خفیہ اور
‫پراسرار اڈے کو ہی مسمار کردیا جہاں سے یہ فتنہ اٹھا تھا مگر وہ مطمئن نہیں تھا کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ یہ اسالم کش
‫زہر قوم کی رگوں میں اتر گیا ہے۔ اس صلیبی تخریب کاری کو سوڈان سے پشت پناہی مل رہی تھی اور سوڈانیوں کو صلیبیوں
‫کی پشت پناہی حاصل تھی۔ تقی الدین نے اس اڈے کو بھی تباہ کرنے کے لیے سوڈان پر حملے کی تیاریاں تیز کردیں۔
‫سلطان ایوبی نے وہاں بھی جاسوس بھیج رکھے تھے جن کی جانبازانہ کوششوں سے وہاں کے بڑے نازک رازمل رہے تھے مگر
‫ان رازوں سے جو فائدہ سلطان ایوبی اٹھا سکتا تھا‪ ،وہ اس کے بھائی تقی الدین کے بس کی بات نہیں تھی۔ دونوں بھائیوں کا
‫جذبہ تو ایک جیسا تھا لیکن دونوں کی ذہانت میں بہت فرق تھا۔ دونوں بھائی جس کارروائی کا فیصلہ کرتے تھے وہ شدید
‫ہوتی تھی۔ فرق یہ تھا کہ سلطان ایوبی محتاط رہتا تھا اور تقی الدین بے صبر ہوکر احتیاط کا دامن چھوڑ دیتا تھا۔ اسے جب
‫فوجی مشیروں نے کہا کہ سوڈان پر حملے کا فیصلہ دانشمندانہ ہے لیکن محترم ایوبی سے مشورہ لے لینا ضروری ہے تو تقی
‫الدین نے اپنے مشیروں کے اس مشورے کو مسترد کرتے ہوئے کہا… ''کیا آپ لوگ امیر محترم کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ
‫آپ ان کے بغیر کچھ سوچ نہیں سکتے اور کچھ کرنہیں سکتے؟ کیا آپ بھول گئے ہیں کہ مصر سے اتنی دور محترم ایوبی
‫کس طوفان میں گھرے ہوئے ہیں؟ اگر ہم نے ان سے مشورے اور فیصلے کا انتظار کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سوڈانی
‫حملے میں پہل کرکے ہم پر سوار ہوجائیں گے''۔
‫آپ ابھی حملے کا حکم دیں''۔ ایک نائب ساالر نے کہا… ''فوج اسی حالت میں رسد کے بغیر کوچ کرجائے گی لیکن ''
‫اتنی بڑی اور اتنی اہم مہم کے لیے گہری سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ ہم کوچ کی تیاری کے تمام تر انتظامات بہت تھوڑے
‫وقت میں کرلیں گے۔ آپ محترم ایوبی کو اطالع ضرور دے دیں تاکہ وہ اور محترم نورالدین زنگی ادھر بھی دھیان رکھیں''۔
‫تقی الدین چند ایسے عناصر اور کوائف کو نظر انداز کررہا تھا جو اس کے حملے کو ناکام کرسکتے تھے۔ ایک یہ کہ صلیبیوں
‫اور سوڈانیوں کے جاسوس مصر میں موجود تھے جو یہاں کی نقل وحرکت دیکھ رہے تھے۔ تقی الدین کی کمزوری یہ بھی تھی
‫کہ اس کے دشمن کے جاسوس مسلمان بھی تھے جو انتظامیہ اور فوج میں اونچے عہدوں پر فائز تھے۔ اس کے مقابلے میں
‫تقی الدین کے جاسوس سوڈانیوں کے پالیسی سازوں اور حکام تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ سلطان ایوبی نے
‫‪ ١١٦٩ء میں مصر کی جس سوڈانی فوجی کو بغاوت کے جرم میں توڑ دیا تھا۔ اس کے کئی ِایک کمان دار اور عہدے دار سوڈان
‫میں تھے۔ وہ سلطان ایوبی کی جنگی چالوں سے واقف تھے۔ انہوں نے انہی چالوں کے مطابق اپنی فوج کی تربیت کی تھی۔
‫صلیبیوں نے انہیں نہایت اچھا اسلحہ اور ضرورت سے زیادہ جنگی سامان دے رکھا تھا۔ یہ گھر کے بھیدی تھے تقی الدین نے
‫یہ بھی نہ سوچا کہ وہ سوڈان کے جس عالقے میں پیش قدمی کرنے جارہا ہے۔ وہ ایک وسیع صحرا ہے جہاں پانی خطرناک
‫حد تک کم ہے اور وہ مقام جہاں حملہ کرنا ہے‪ ،اتنا دور ہے جہاں تک رسد کو خطرے میں ڈالے بغیر رواں رکھنا ممکن نہیں
‫ہوگا۔ مصر کے اندرونی حاالت کو قابو میں رکھنے اور تخریب کاری کے انسداد کے لیے بھی فوج درکار تھی مگر تقی الدین اس
‫قدر بھڑکا ہوا تھا کہ اس نے مکمل طور پر نیک نیتی اور اسالمی جذبے کی شدت کے زیر اثر حملے کی تیاریاں شروع کردیں
‫اور سلطان ایوبی کو اطالع نہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔
‫اس کی اس خودمختاری میں وہی جذبہ تھا جو سلطان ایوبی میں تھا۔ اسے احساس تھا کہ سلطان ایوبی کا مقابلہ تند اور تیز
‫طوفان سے ہے اور صلیبی فیصلہ کن جنگ لڑنے کا اہتمام کیے ہوئے ہیں۔ اس نے جو کچھ سوچا تھا درست تھا۔ اس وقت
‫سلطان ایوبی کرک سے آٹھ نو میل دور ایک چٹانی عالقے میں اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کیے ہوئے تھے۔ یہ اس کا عارضی قیام
‫تھا۔ وہ اپنے ہیڈکوارٹر کو خانہ بدوش رکھا کرتا تھا جس مقام پر اسے حملہ کرانا یا شب خون مروانا ہوتا‪ ،وہ اس کے قریب
‫رہتا اور حملہ کرنے والے دستے کے کمانڈر کو بتا دیا کرتا تھا کہ وہ ان کی واپسی کے وقت کہاں ہوگا‪ ،اس کے چھاپہ
‫مار ) کمانڈو جانباز( صلیبی فوج کی تمام تر کمک تباہ کرچکے تھے۔ چھاپہ ماروں کے چھوٹے چھوٹے گروہ اس صلیبی فوج کے
‫لیے ناگہانی مصیبت بنے ہوئے تھے جو صحرا میں پھیلی ہوئی تھی۔ صلیبیوں کا نقصان تو بہت ہورہا تھا لیکن چھاپہ ماروں کی
‫شہادت غیرمعمولی طور پر زیادہ تھی۔ دس جانباز جاتے تو تین چار واپس آتے تھے۔ یہ رپورٹیں بھی ملنے لگی تھیں کہ
‫لہذا اب چھاپہ ماروں کو جان
‫صلیبیوں نے ایسے انتظامات کرلیے ہیں جو شب خون اور چھاپے کو کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ ٰ
‫کی بازی لگانی پڑتی تھی۔ سلطان ایوبی اب اپنی چالیں اور فوجوں کا پھیالئو بدلنے کی سوچ رہا تھا۔
‫معلوم ہوتا ہے کہ صلیبی مجھے آمنے سامنے آنے پر مجبور کررہے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے اپنے فوجی نائبین سے کہا… ''
‫''میں انہیں کامیاب نہیں ہونے دوں گا اور میں اب اپنے اتنے زیادہ جوان مروانے سے بھی گریز کروں گا''۔
‫میں چھاپہ مار دستوں کی نفری میں اضافہ کرنے کا مشورہ دوں گا''۔ ایک نائب نے کہا… ''اور میں یہ بھی مشورہ دوں ''
‫گا کہ ہمیں دشمن کی قوت کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہماری فوج میں جذبہ زیادہ ہے۔ جذبہ سپاہی کو
‫بے جگری سے لڑا کر مروا سکتا ہے‪ ،فتح کا ضامن نہیں ہوسکتا۔ صلیبیوں کے مقابلے میں ہماری نفری بہت کم ہے۔ ہمیں یہ
‫بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ صلیبی فوج کا بیشتر حصہ زرہ پوش ہے''۔
‫سلطان ایوبی مسکرایا اور بوال… ''لوہا جو انہوں نے پہن رکھا ہے‪ ،وہ انہیں نہیں ہمیں فائدہ دے گا۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں
‫کہ صلیبی کوچ کرتے ہیں تو رات کو کرتے ہیں یا صبح کے وقت؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دھوپ سے بچنے کی کوشش
‫کرتے ہیں‪ ،سورج اوپر اٹھتا ہے تو اس کی تمازت زرہ بکتر کو انگاروں کی طرح گرم کردیتی ہے۔ زرہ پوش سپاہی اور سوار
‫لوہے کے خود اور آہنی سینہ پوش اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ اس کے عالوہ لوہے کا وزن ان کی حرکت کی تیزی ختم کردیتا
‫ہے۔ میں انہیں دوپہر کے وقت لڑائوں گا۔ جب ان کے سروں پر رکھا ہوا لوہا ان کا پسینہ نکال کر ان کی آنکھوں میں ڈالے
‫گا اور وہ اندھے ہوجائیں گے۔ آپ نفری کی کمی کو متحرک طریقۂ جنگ سے اور جذبے سے پورا کریں''۔
‫اتنے میں سلطان ایوبی کے انٹیلی جنس کے سربراہ علی بن سفیان کا ایک نائب زاہد ان آگیا۔ اس کے ساتھ دو آدمی تھے۔
‫سلطان ایوبی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ان دونوں آدمیوں کو اس نے بٹھایا اور پوچھا… ''کیا خبر ہے؟'' دونوں نے اپنے اپنے
‫گریبان کے اندر ہاتھ ڈالے اور لکڑی کی بنی ہوئی وہ صلیبیں باہر نکالیں جو ان کی گردنوں سے بندھی ہوئی تھیں۔ وہ صلیبی
‫نہیں مسلمان تھے۔ اپنے آپ کو صلیبی ظاہر کرنے کے لیے وہ صلیبیں گلے میں لٹکا لیتے تھے۔ دونوں نے صلیبیں اتار کر

‫نیچے پھینک دیں۔ ان میں سے ایک نے اپنی رپورٹ پیش کی۔
‫یہ دونوں جاسوس تھے جو کرک سے واپس آئے تھے۔ پہلے بھی ذکر آچکا تھا کہ کرک فلسطین کا ایک قلعہ بند شہر تھا
‫جس پر صلیبیوں کا قبضہ تھا۔ صلیبی شوبک نام کا ایک قلعہ سلطان ایوبی کے ہاتھ ہار چکے تھے۔ وہ کرک کسی قیمت پر
‫دینا نہیں چاہتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے دفاعی انتظامات بڑے ہی سخت کردیئے تھے جن میں ایک بندوبست یہ تھا کہ
‫وہ قلعہ بند ہوکر نہیں لڑنا چاہتے تھے۔ شوبک سے جب عیسائی اور یہودی باشندے مسلمانوں کے ڈر سے کرک بھاگ رہے
‫تھے‪ ،اس وقت سلطان ایوبی نے اپنی فوج اور انتظامیہ کو یہ حکم دیا تھا کہ بھاگنے والے غیر مسلموں کو روکیں اور انہیں
‫واپس الکر ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں لیکن سلطان ایوبی نے ایک خفیہ حکم یہ بھی دیا تھا کہ زیادہ تر باشندوں کو جانے
‫دیں۔ اس حکم میں راز یہ تھا کہ غیر مسلم باشندوں میں سلطان کے جاسوس بھی جارہے تھے۔ اپنے جاسوس دشمن کے اس
‫شہر میں اور مضافات میں جس پر تھوڑے عرصے بعد حملہ کرنا تھا بھیجنے کا یہ موقع نہایت اچھا تھا۔ مسلمان جاسوس
‫عیسائی اور یہودی پناہ گزینوں کے بھیس میں کرک چلے گئے تھے۔ وہاں کے مسلمان باشندوں کو ساتھ مال کر انہوں نے خفیہ
‫اڈے بنا لیے تھے۔ وہ وہاں سے اطالعات بھیجتے رہتے تھے۔ سلطان ایوبی ذاتی طور پر ان کی رپورٹیں سنا کرتا تھا۔
‫اس روز دو جاسوس آئے تو سلطان ایوبی نے انہیں فورا ً اپنے خیمے میں بال لیا اور باقی سب کو باہر نکال دیا۔ جاسوسوں کی
‫رپورٹ میں صلیبیوں کی فوج کی نقل وحرکت اور ترتیب کے متعلق اطالعات تھیں۔ سلطان ایوبی ان کے مطابق نقشہ بناتا رہا۔
‫اس دوران اس کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جاسوسوں نے جب کرک کے مسلمان باشندوں کی بے بسی اور مظلومیت
‫کی تفصیل سنائی تو سلطان کے چہرے پر نمایاں تبدیلی آگئی۔ ایک بار تو وہ جوش میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور خیمے میں ٹہلنے
‫لگا۔ جاسوسوں نے اسے بتایا کہ شوبک سے صلیبی شکست کھا کرکرک پہنچے تو انہوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کردیا۔
‫سلطان ایوبی کو بہت سے حاالت کا تو پہلے سے علم تھا‪ ،ان دو جاسوسوں نے اسے بتایا کہ اب وہاں بازار میں جن
‫مسلمانوں کی دکانیں ہیں‪ ،وہ بہت پریشان ہیں۔ غیر مسلم تو ان کی دکانوں پر جاتے ہی نہیں‪ ،مسلمانوں کو بھی ڈرادھمکا کر
‫ان کی دکانوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ وہاں مسلمانوں کے خالف نفرت کی باقاعدہ مہم شروع کی گئی ہے۔ عیسائی اور یہودی
‫مسجدوں کے سامنے اونٹ‪ ،گھوڑے اور دیگر مویشی باندھ دیتے ہیں۔ اذان اور نماز پر کوئی پابندی نہیں لیکن جب اذان ہوتی
‫ہے تو غیر مسلم شور مچاتے‪ ،ناچتے اور مذاق اڑاتے ہیں۔
‫جاسوسوں نے بتایا کہ مسلمانوں کا قومی جذبہ ختم کرنے کے لیے وہاں اس قسم کی افواہیں زوروشور سے پھیالئی جارہی ہیں
‫کہ صالح الدین ایوبی اتنا شدید زخمی ہوکر دمشق چال گیا ہے کہ اب تک مرچکا ہوگا اور یہ بھی کہ سلطان ایوبی کی فوج
‫کمان کی کمزوری کی وجہ سے صحرا میں بکھر گئی ہے اور سپاہی مصر کی طرف بھاگ رہے ہیں اور یہ بھی کہ مسلمان اب
‫کرک پر حملہ کرنے کے قابل نہیں رہے اور بہت جلدی شوبک بھی صلیبیوں کو واپس ملنے واال ہے اور یہ بھی کہ سوڈانی
‫فوج نے مصر پر حملہ کردیا ہے اور مصر کی فوج سوڈانیوں کے ساتھ مل گئی ہے۔ جاسوسوں نے بتایا کہ اب علی الصبح
‫پادری‪ ،مسلمان محلوں میں گھومتے پھرتے اور ہر مسلمان گھر کے دروازے پر گھنٹیاں بجاتے‪ ،اپنے مذہبی گیت گاتے اور
‫مسلمانوں کو دعائیں دیتے ہیں۔ وہ اپنے مذہب کا اور کوئی پرچار نہیں کرتے۔ یہ پرچار وہاں کی عیسائی اور یہودی لڑکیاں
‫کرتی ہیں جو مسلمان نوجوانوں کو جھوٹی محبت کا جھانسہ دے کر ان کے ذہن تباہ کررہی ہیں۔ یہ لڑکیاں مسلمان لڑکیوں کی
‫سہیلیاں بن کر انہیں اپنی آزادی کی بڑی ہی دلکش تصویر دکھاتی اور انہیں بتاتی ہیں کہ مسلمان فوج جو عالقہ فتح کرتی ہے
‫وہاں مسلمان لڑکیوں کو بھی خراب کرتی ہے۔
‫ان رپورٹوں میں سلطان ایوبی کے لیے کوئی بات نئی نہیں تھی۔ ابتداء میں اس کے جاسوس اسے کرک کے مسلمانوں کی
‫حالت زار بتا چکے تھے‪ ،وہاں کے مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ وہ سلطان ا یوبی اور اس کی فوج کے خالف کوئی حوصلہ
‫شکن افواہ نہیں سننا چاہتے تھے لیکن وہاں جو بھی بات ان کے کانوں میں پڑتی تھی حوصلہ شکن ہوتی تھی۔ وہ ڈرتے بات
‫نہیں کرتے تھے۔ ان کے گھروں کی دیواروں کے بھی کان تھے۔ وہ اکٹھے بیٹھنے سے بھی ڈرتے تھے۔ جنازے اور بارات کے
‫ساتھ بھی جاسوس ہوتے تھے اور مسجدوں میں بھی جاسوس ہوتے تھے۔ ان کی بد نصیبی تو یہ تھی کہ جاسوسی ان کے
‫اپنے مسلمان بھائی کرتے تھے۔ وہ اپنے گھروں میں بھی سرگوشیوں میں باتیں کرتے تھے۔ کسی مسلمان کے خالف صرف یہ
‫کہہ دینا کہ وہ صلیبی حکومت کے خالف ہے‪ ،اسے بیگار کیمپ میں بھیجنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔
‫لیکن ساالر اعظم!'' ایک جاسوس نے کہا… ''اب وہاں ایک اورچال چلی جارہی ہے‪ ،وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ''
‫اچھا سلوک ہونے لگا ہے۔ صلیبی حکومت نے اس کی ایک مثال یہ پیش کی ہے کہ ایک عیسائی حاکم نے ایک مسجد کو
‫بوسیدہ حالت میں دیکھا تو اس کی مرمت کا حکم دیا اور اپنی نگرانی میں مرمت کرادی۔ انہوں نے بیگار کیمپ کے مسلمانوں
‫کو رہا تو نہیں کیا لیکن کچھ سہولتیں دے دی ہیں۔ روزمرہ مشقت کا وقت بھی کم کردیا ہے لیکن ان کے کانوں میں یہی ڈاال
‫جاتا ہے کہ تم نے صلیب کے خالف بہت بڑا جرم کیا ہے پھر بھی تم پر رحم کیا جارہا ہے۔ یہ پیار اور محبت کا ہتھیار بڑا
‫ہی خطرناک ہے۔ اس جھوٹے پیار سے غیرمسلم مسلمان نوجوانوں کو نشے اور جوئے کا عادی بناتے جارہے ہیں اگر ہم نے
‫حملے میں وقت ضائع کیا تو کرک کے مسلمان اگر مسلمان ہی رہے تو برائے نام مسلمان ہوں گے ورنہ وہ قرآن سے منہ موڑ
‫کر گلے میں صلیب لٹکا لیں گے۔ اس صورت میں وہ اس وقت ہماری کوئی مدد نہیں کریں گے جب ہم کرک کا محاصرہ کریں
‫گے۔ اس پیار کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے خالف جاسوسی پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے اور گرفتاریاں ہوتی رہتی ہیں۔ ابھی تک
‫مسلمانوں کا جذبہ قائم ہے اور وہ ثابت قدم رہنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ابھی تک غیر مسلموں کے پیار کو قبول
‫نہیں کیا مگر وہ زیادہ دیر تک ثابت قدم نہیں رہ سکیں گے''۔
‫یہی وہ صورت حال تھی جس کی تفصیل سن کر سلطان ایوبی پریشان ہوگیا تھا۔ اسے یہ اطالع بہت تکلیف دے رہی تھی کہ
‫مسلمان مسلمانوں کے خالف جاسوسی کررہے ہیں۔ اس کے لیے پریشانی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ مقبوضہ عالقے میں
‫صلیبیوں نے مسلمانوں کے خالف پیار کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا تھا اور اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کی کردار کشی کا
‫بھی عمل شروع ہوگیا تھا۔ ان دونوں سے زیادہ خطرناک وہ افواہیں تھیں جو وہاں کے مسلمانوں میں اسالمی فوج کے خالف
‫پھیالئی جارہی تھیں۔ اس نے اپنے نظام جاسوسی کے نائب زاہدان کو بالیا اور پوچھا… ''کیا تم نے ان کی باتیں سن لی
‫''ہیں؟
‫ایک ایک لفظ سنا اور انہیں آپ کے پاس الیا ہوں''۔ زاہدان نے جواب دیا۔''
‫علی بن سفیان کو قاہرہ سے بال لوں؟''۔ سلطان ایوبی نے پوچھا … ''یا تم اس کی جگہ پر کرسکو گے؟ یہ معاملہ ''
‫نازک ہے۔ دشمن کے شہر میں مسلمانوں کو افواہوں اور دشمن کے زہریلے پیار سے بچانا ہے''۔
‫علی بن سفیان کو قاہرہ سے بالنے کی ضرورت نہیں'' … زاہدان نے جواب دیا… ''حسن بن عبداللہ کو بھی ان کے ''

‫ساتھ رہنے دیں۔ مصر کے حاالت اچھے نہیں‪ ،ملک تخریب کاروں اور غداروں سے بھرا پڑا ہے۔ کرک کے مسئلے کو میں
‫سنبھال لوں گا''۔
‫تم نے کیا سوچا ہے؟'' … سلطان صالح الدین ایوبی نے اس سے پوچھا۔ وہ دراصل زاہدان کا امتحان لے رہا تھا۔ وہ جانتا''
‫تھا کہ زاہدان مخلص اور محنتی سراغ رساں ہے اور اپنے شعبے کے سربراہ علی بن سفیان کا شاگرد ہے۔ اس پر سلطان کو
‫پورا پورا اعتماد تھا پھر بھی وہ یقین کرنا ضروری سمجھتا تھا کہ یہ شاگرد اپنے استاد کی کمی پوری کرے گا۔ اس نے زاہدان
‫کا جواب سنے بغیر کہا… ''زاہدان! میں نے میدان جنگ میں شکست نہیں کھائی‪ ،یہ خیال رکھنا کہ میں اس محاذ پر بھی
‫شکست نہیں کھانا چاہتا جس پر صلیبیوں نے حملہ کیا ہے۔ میں کرک کے مسلمانوں کو اخالقی اور نظریاتی تباہی سے بچانا
‫چاہتا ہوں''۔
‫آپ جانتے ہیں کہ کرک میں ہمارے جاسوس موجود ہیں''… زاہدان نے کہا … ''میں انہیں اس مقصد کے لیے استعمال ''
‫کروں گا۔ وہ وہاں کے مسلمانوں کو آپ کے متعلق اور ہماری فوج اور مصر کے متعلق صحیح خبریں سناتے رہیں گے اور انہیں
‫آپ کا پیغام دیں گے''۔
‫وہاں کی مسلمان عورتوں میں قومی جذبے کی کمی نہیں''۔ ایک جاسوس بول پڑا‪ ،اس نے کہا… ''ہم جوان لڑکیوں سے ''
‫کہیں گے کہ وہ گھر گھر جاکر عورتوں کے ذہن صاف کرتی رہیں گی۔ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ وہاں کی لڑکیاں لڑنے کے لیے
‫بھی تیار ہیں''۔
‫عورتیں اگر گھر اور بچوں کی تربیت کا محاذ سنبھالے رکھیں تو اسی سے اسالم کے فروغ اور سلطنت اسالمیہ کی توسیع ''
‫میں بہت مدد ملے گی'' … سلطان ایوبی نے کہا۔ ''انہیں اس مقصد کے لیے استعمال کرو کہ مسلمان گھرانوں میں اور
‫بچوں میں غیراسالمی اثرات داخل نہ ہونے دیں۔ میں اس کوشش میں مصروف ہوں کہ کرک پر جلدی حملہ کردوں اور شوبک
‫کی طرح وہاں کے بھی مسلمانوں کو آزاد کراوں'' … اس نے زاہدان سے پوچھا … ''اس مقصد کے لیے کسے کرک بھیجو
‫''گے؟
‫انہی دونوں کو'' ۔ زاہدان نے جواب دیا …''یہ آنے جانے کے راستوں اور طریقوں سے واقف ہوچکے ہیں اور وہاں کے ''
‫حاالت اور ماحول سے مانوس ہیں''۔
‫یہ دونوں آدمی غیر معمولی طور پر ذہین جاسوس تھے۔ سلطان ایوبی نے انہیں ہدایات دینی شروع کردیں۔
‫٭ ٭ ٭
‫کرک میں مسلمان باشندوں پر پیار کا جو ہتھیار چالیا جارہا تھا وہ صلیبیوں کی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جرمن نژاد ہرمن کی
‫چال تھی۔ وہ شوبک کی شکست کے بعد صلیبی حکمرانوں پر زور دے رہا تھا کہ کرک کے مسلمانوں کو پیار کا دھوکہ دے کر
‫صلیب کا وفا دار بنایا جائے یا کم از کم صالح الدین ایوبی کے خالف کردیا جائے۔ صلیبی حکمران مسلمانوں سے اتنی زیادہ
‫نفرت کرتے تھے کہ ان کے ساتھ جھوٹا پیار بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تشدد اور درندگی سے مسلمانوں کا قومی جذبہ اور
‫وقار ختم کرنے کے قائل تھے۔ ہرمن اپنے فن کا ماہر تھا۔ انسانوں کی نفسیات سمجھتا تھا۔ اس نے صلیبی حکمرانوں کو بڑی
‫مشکل سے اپنا ہم خیال بنایا اور یہ پالیسی مرتب کرالی کہ شہر اور مضافات کے اس عالقے کے مسلمانوں کو جو صلیبی
‫استبداد میں ہے‪ ،جسے مشتبہ اور جاسوس سمجھا جائے اورجس مسلمان کے خالف ذرا سی بھی شہادت ملے اسے گرفتار کرکے
‫غائب کردیا جائے لیکن ہر مسلمان شہری کو دہشت زدہ نہ کیا جائے۔ اس پالیسی کی بنیادی شق یہ تھی کہ لڑکیوں کے
‫ذریعے مسلمان لڑکیوں کو بے پردہ کیا جائے اور مسلمان لڑکیوں کو ذہنی عیاشی اور نشے کا عادی بنا دیا جائے۔ مختصر یہ ہے
‫لہ ذا اس پالیسی پر عمل شروع کردیا گیا تھا۔ ابتداء افواہوں سے کی گئی تھی۔
‫کہ ان کی کردار کشی کا انتظام کیا جائے۔ ٰ
‫ہرمن نے یہ منظوری بھی لے لی تھی کہ مسلمانوں میں غداری کے جراثیم پیدا کرنے کے لیے خاصی رقم خرچ کی جائے۔ چند
‫ایک مسلمانوں کو خوبصورت اور تندرست گھوڑوں کی بگھیاں دے کر انہیں شہزادہ بنا دیا جائے اور انہیں مسلمانوں کے خالف
‫مخبری اور ان میں افواہیں پھیالنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہیں شاہی دربار میں وقتا ً فوقتا ً مدعو کرکے ان کے ساتھ
‫شاہانہ سلوک کیا جائے۔ ان کی مستورات کو بھی مدعو کرکے ان کی عزت کی جائے کہ وہ اپنی اصلیت اور اپنا مذہب ذہن
‫سے اتار دیں۔ ہرمن نے کہا تھا … ''اگر آپ مسلمان کو اپنا غالم بنانا چاہتے ہیں تو اس کے دماغ میں بادشاہی کا کیڑا ڈال
‫دیں۔ انہیں گھوڑے اور بگھیاں دے کر اس کے دامن میں چند ایک اشرفیاں ڈال دیں۔ پھر وہ بادشاہی کے نشے میں آپ کے
‫اشاروں پر ناچے گا۔ شراب بھی پئے گا اور اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں برہنہ کرکے آپ کے حوالے کردے گا۔ اگر آپ مسلمان
‫کا مستقبل تاریک کرنا چاہتے ہیں تو یہ نسخہ آزمائیں۔ میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں اور اب پھر بتاتا ہوں کہ یہودیوں
‫نے مسلمانوں کی اخالقی تباہی کے لیے اپنی لڑکیاں پیش کی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلمان کا سب سے پرانا اور سب سے
‫بڑا دشمن یہودی ہے۔ اسالم کی جڑیں تباہ کرنے کے لیے یہودی اپنی بیٹیوں کی عزت اور اپنی پونجی کا آخری سکہ بھی
‫قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں''۔
‫یہودیوں میں خطرہ یہ تھا کہ وہ اسی خطے کے رہنے والے تھے‪ ،اس لیے مسلمانوں کی زبان بولتے تھے اور ان کے رسم ورواج
‫اور گھریلو زندگی سے بھی واقف تھے۔ ان کی شکلیں اور کئی دیگر کوائف ملتے جلتے تھے۔ کوئی یہودی لڑکی مسلمانوں کا
‫لباس پہن کر کسی مسلمان گھر میں جا بیٹھے تو اسے بالشک وشبہ مسلمان سمجھ لیا جاتا تھا۔ اس مشابہت سے یہودی پورا
‫پورا فائدہ اٹھا رہے تھے اور اسالمی معاشرت میں غیر اسالمی زہر داخل ہونا شروع ہوگیا تھا۔
‫جس روز سلطان ایوبی نے دو جاسوسوں کو ہدایات دیں اور زاہدان سے کہا تھا کہ وہ کرک میں جاسوسوں کے ذریعے مسلمانوں
‫کو صحیح خبریں پہنچائے اس سے بیس روز بعد کرک میں ایک پاگل اور مجذوب اچانک کہیں سے نمودار ہوا۔ اس نے ہاتھ
‫میں لکڑی کی بنی ہوئی گز بھر لمبی صلیب اٹھا رکھی تھی‪ ،جسے وہ اوپر کرکے چالتا تھا… ''مسلمانوں کی تباہی کا وقت
‫قریب آگیا ہے‪ ،شوبک میں مسلمان اپنی بیٹیوں کی عصمت دری کررہے ہیں۔ مصر میں مسلمانوں نے شراب پینا شروع کردی
‫ہے۔ خدائے یسوع مسیح نے کہا ہے کہ اب یہ قوم روئے زمین پر زندہ نہیں رہ سکتی۔ مسلمانو! نوح کے دوسرے طوفان سے
‫بچنا چاہتے ہوتو صلیب کے سائے میں آجائو۔ اگر صلیب پسند نہیں تو خدائے یہودہ کے آگے سجدہ کرو۔ مسجدوں میں تمہارے
‫سجدے بے کار ہیں''۔
‫لباس اور شکل وصورت سے وہ اچھا بھال لگتا تھا لیکن باتوں اور انداز سے پگال معلوم ہوتا تھا۔ اس کی داڑھی بھی تھی‪،
‫لمبا چغہ پہن رکھا تھا‪ ،سرپر پگڑی اور اس پر رومال ڈاال ہوا تھا جو کندھوں پر بھی پھیال ہوا تھا۔ اس کے چہرے اور کپڑوں
‫پر گرد تھی جس سے پتا چلتا تھا کہ وہ سفر سے آیا ہے۔ اس کے پائوں گرد آلود تھے۔ اسے کوئی روکتا اور بات کرتا تھا تو
‫وہ رک جاتا تھا لیکن کوئی جواب نہیں د یتا تھا۔ کوئی بات جیسے سنتا سمجھتا ہی نہیں تھا۔ سوال کوئی بھی پوچھو وہ

‫اپنا اعالن دہرانے لگتا تھا… ''مسلمانوں کی تباہی کا وقت قریب آگیا ہے وغیرہ''… کسی نے بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش
‫نہ کی کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔ عیسائی اس لیے خوش تھے کہ اس نے ہاتھ میں صلیب اٹھا رکھی تھی اور خدا
‫یسوع مسیح کا نام لیتا تھا۔ یہودی اس لیے خوش تھے کہ وہ خدائے یہودہ کا نام لیتا تھا اور دونوں کی یہ خوشی مشترک
‫تھی کہ وہ مسلمانوں کی تباہی کی خوشخبری سنا رہا تھا۔ صلیبی فوج کے چند ایک سپاہیوں نے اس کی للکار سنی تو انہوں
‫نے قہقہہ لگایا۔ شہری انتظامیہ کی فوج ) جو بعد میں پولیس کہالئی( نے اسے دیکھا تو اسے پاگل کہہ کر نظر انداز کردیا۔
‫مسلمانوں میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ اس کا منہ بند کرتے۔ مسلمان اس کے منہ سے اپنی تباہی کا اعالن سن کر ڈر بھی
‫گئے تھے اور انہیں غصہ بھی آیا تھا مگر کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔
‫یہ مجذوب شہر کی گلیوں اور بازاروں میں گھوم رہا تھا اور اس اعالن کو دہراتا جارہا تھا … ''مسلمانو! صلیب کے سائے
‫میں آجائو‪ ،تمہاری تباہی کا وقت آگیا ہے۔ مسجدوں میں تمہارے سجدے بے کار ہیں''۔ کہیں کہیں وہ یہ بھی کہتا تھا…
‫''کرک میں مسلمانوں کی فوج نہیں آئے گی۔ ان کا صالح الدین ایوبی مرچکا ہے''۔ بعض اوقات وہ اوٹ پٹانگ اور بے
‫معنی فقرے سے بولتا تھا جو ثابت کرتے تھے کہ وہ پاگل ہے۔ بچے اس کے پیچھے پیچھے چلے جارہے تھے۔ بڑے عمر کے
‫آدمی بھی کچھ دور تک اس کے پیچھے پیچھے چلتے اور رک جاتے تھے۔ وہاں سے چند اور آدمی اس کے پیچھے چل پڑتے
‫تھے۔ مسلمان اسے غصے کی نگاہ سے بھی دیکھتے تھے اور اپنے بچوں کو اس کے پیچھے جانے سے روکتے تھے۔ صرف ایک
‫مسلمان تھا جو اس پاگل کے پیچھے پیچھے جارہا تھا۔ وہ پاگل سے دس بارہ قدم دور تھا۔ یہ ایک جواں سال مسلمان تھا۔
‫راستے میں دو عیسائی نوجوانوں نے اسے طعنے دیئے‪ ،ایک نے اسے کہا …''عثمان بھائی تم بھی صلیب کے سائے میں
‫آجائو'' ۔ اس نے انہیں قہر بھری نظروں سے دیکھا اور چپ رہا۔ ان عیسائیوں کو معلوم نہیں تھا کہ عثمان کے پاس ایک
‫خنجر ہے اور وہ اس پاگل کو قتل کرنے کے لیے اس کے پیچھے پیچھے جارہا ہے۔
‫اس کا پورا نام عثمان صارم تھا۔ اس کے ماں باپ زندہ تھے اور اس کی ایک چھوٹی بہن بھی تھی جس کا نام النور صارم
‫تھا۔ اس لڑکی کی عمر بائیس تئیس سال تھا۔ عثمان اس سے تین چار سال بڑا تھا جو جوشیال جوان تھا۔ اسالم کے نام پر
‫جان نثار کرتا تھا۔ صلیبی حکومت کی نظر میں وہ مشتبہ بھی تھا کیونکہ وہ مسلمان نوجوانوں کو صلیبی حکومت کے خالف
‫زمین دوز کارروائیوں کے لیے تیار کرتا رہتا تھا۔ وہ ابھی کوئی جرم کرتا پکڑا نہیں گیا تھا۔ اس نے جب اس پاگل کی آواز
‫سنی تو باہر نکل آیا۔ پاگل اتنی بڑی صلیب بلند کیے مسلمانوں کے خالف بلند آواز میں واہی تباہی بکتا جارہا تھا۔ عثمان
‫صارم نے یہ بھی نہ دیکھا یہ تو کوئی پاگل ہے۔ اس نے صلیب دیکھی اور پاگل کے الفاظ سنے تو اس پر دیوانگی طاری
‫ہوگئی۔ اپنے گھر جاکر اس نے خنجر لیا اور ک ُرتے کے اندر ناف میں اڑس کر پاگل کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ وہ اسے ایسی
‫جگہ قتل کرنا چاہتا تھا جہاں اسے کوئی پکڑ نہ سکے۔ وہ صلیبیوں کے خالف مزید کارروائیوں کے لیے زندہ رہنا چاہتا تھا۔ وہ
‫پاگل سے دس بارہ قدم پیچھے چلتا گیا اور اس کا اعالن سنتا گیا۔ جب دو عیسائیوں نے اسے طعنے دیئے اور ایک نہ کہا
‫کہ عثمان بھائی تم بھی صلیب کے سائے میں آجائو تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اس کے دل میں قتل کا ارادہ اور
‫زیادہ پختہ ہوگیا۔
‫پاگل کے پیچھے اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں اور بچوں کا جلوس جمع ہوگیا تھا۔ قتل کا یہ موقعہ اچھا نہیں تھا۔ دن گزرتا
‫گیا اور پاگل کی آواز دھیمی پڑتی گئی۔ اس کے پیچھے چلنے والے کم ہوتے گئے۔ سورج غروب ہونے میں ابھی کچھ دیر باقی
‫تھی۔ ایک مسجد آگئی۔ پاگل مسجد کے دروازے میں بیٹھ گیا اور اس نے صلیب اوپر کرکے کہا… ''اب یہ گرجا ہے‪ ،مسجد
‫نہیں ہے'' … اس وقت عثمان صارم اس کے قریب جاکھڑا ہوا۔ اسے اچھی طرح احساس تھا کہ یہ بے شک پاگل ہے لیکن
‫اس کے قتل کی سزا بھی موت ہوگی کیونکہ اس نے صلیب اٹھا رکھی ہے اور یہ مسلمانوں کے خالف نعرے لگا رہا ہے۔
‫عثمان صارم نے پاگل کے قریب ہوکر دھیمی آواز میں کہا … ''یہاں سے فورا ً اٹھو اور اپنی صلیب کے ساتھ غائب ہوجائو
‫ورنہ صلیبی یہاں سے تمہاری الش اٹھائیں گے''۔
‫پاگل نے اسے نظر بھر کر دیکھا‪ ،اس کے سامنے بہت سے بچے کھڑے تھے‪ ،اس نے عثمان صارم کی دھمکی کا جواب دیئے
‫بغیر بچوں کو ڈانٹ کر بھاگ جانے کو کہا۔ بچے ڈر کر بھاگ گئے تو پاگل مسجد کے اندر چال گیا۔ عثمان صارم کے لیے یہ
‫موقعہ بہت اچھا تھا۔ اس نے کچھ سوچے بغیر چوکڑی بھری‪ ،دروازے کے اندر گیا اور دروازہ بند کردیا۔ اس نے بہت تیزی سے
‫خنجر نکاال مگر وار کرنے لگا تو پاگل نے گھوم کر دیکھا۔ عثمان کے خنجر کا وار اپنی طرف آتا دیکھ اس نے صلیب آگے
‫کرکے وار صلیب پر لیا اور کہا… ''رک جائو جوان‪ ،اندر چلو‪ ،میں مسلمان ہوں''۔
‫عثمان صارم نے دوسرا وار نہ کیا۔ پاگل جوتے اتار کر مسجد کے اندرونی کمرے میں چال گیا۔ اس نے صلیب اپنے ہاتھ میں
‫رکھی۔ اندر جاکر اس نے عثمان صارم سے نام پوچھا اور کہا … '' میں مسلمان ہوں‪ ،میری باتیں غور سے سن لو۔ مجھے
‫''بتائو کہ تم کب سے میرے پیچھے آرہے ہو؟
‫میں سارا دن تمہارے پیچھے پھرتا رہا ہوں''۔ عثمان صارم نے جواب دیا… ''مگر مجھے قتل کا موقعہ نہیں مل رہا ''
‫تھا''۔
‫تم مجھے قتل کیوں کرنا چاہتے ہو؟'' پاگل نے پوچھا۔''
‫کیونکہ میں اسالم اور صالح الدین ایوبی کے خالف کوئی بات برداشت نہیں کرسکتا''۔ عثمان صارم نے جواب دیا… ''تم ''
‫پاگل ہویا نہیں‪ ،میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا''۔
‫پاگل نے اس سے کئی اور باتیں پوچھیں‪ ،آخر اس نے کہا… ''مجھے تم جیسے ایک جوان کی ضرورت تھی۔ اچھا ہوا کہ تم
‫خود ہی میرے پیچھے آگئے۔ میرا خیال تھا کہ مجھے اپنے مطلب کا کوئی مسلمان بڑی مشکل سے ملے گا۔ میں صالح الدین
‫ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہوں۔ میں نے یہ ڈھونگ صلیبیوں کو دھوکہ دینے کے لیے رچایا ہے۔ میں نے اس بھیس میں سفر
‫کیا ہے۔ مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔ یاد رکھو کہ مسجد میں کوئی صلیبی آگیا تو میں پھر وہی بکواس شروع کردوں
‫گا جو دن بھر کرتا رہا ہوں۔ تم غور سے سنتے رہنا جیسے تم مجھ سے متاثر ہورہے ہو۔ میں بہت تیزی سے بولوں گا۔ شام
‫کی نماز کا وقت ہورہا ہے۔ مسلمانوں میں صلیبیوں کے بھی جاسوس ہیں۔ میں نمازیوں کے آنے تک اپنی بات ختم کرنا چاہتا
‫ہوں''۔
‫عثمان صارم نے کبھی جاسوس نہیں دیکھا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ غیرمعمولی طور پر ذہین جاسوس ہے جس نے اسے
‫چند سوال پوچھ کر پہچان لیا ہے کہ یہ جوان قابل اعتماد ہے۔ جاسوس نے اسے کہا… ''اپنے جیسے چند ایک جوان اکٹھے
‫کرو اور کچھ مسلمان لڑکیوں کو بھی تیار کرو۔ تمہیں ہر ایک مسلمان گھرانے میں یہ پیغام پہنچانا ہے کہ صالح الدین ایوبی
‫زندہ ہے اور وہ اپنی فوجوں کے ساتھ یہاں سے صرف آدھے دن کی مسافت جتنا دور ہے۔ اس کی تمام فوج کرک پر حملہ

‫کرنے کے لیے نہ صرف تیار ہے بلکہ اس فوج نے صلیبی فوج کے ناک میں دم کررکھا ہے۔ مصر میں حاالت پر سکون ہیں‪،
‫وہاں صلیبیوں نے جو تخریب کاری کی تھی وہ جڑ سے اکھاڑ دی گئی ہے''۔
‫صالح الدین ایوبی کب حملہ کرے گا؟''… عثمان صارم نے پوچھا۔ ''ہم اس کی راہ دیکھ رہے ہیں‪ ،ہم تمہیں یقین دالتے ''
‫ہیں کہ تم باہر سے حملہ کرو گے تو ہم صلیبیوں پر اندر سے حملہ کریں گے۔ خدا کے لیے جلدی آئو''۔
‫تحمل سے کام لو جوان!'' …جاسوس نے کہا… ''پہلے صالح الدین ایوبی کا پیغام سن لو اور یہ ہر ایک نوجوان کے ذہن''
‫پر نقش کردو۔ ایوبی نے کہا ہے کہ کرک کے مسلمان نوجوانوں سے کہنا کہ تم ملک اور مذہب کے پاسبان ہو۔ میں نے پہلی
‫جنگ لڑکپن میں لڑی تھی اور محاصرے میں لڑی تھی۔ فوج کی کمان میرے چچا کے پاس تھی‪ ،اس نے مجھے کہا تھا کہ
‫محاصرے میں گھبرانہ جانا۔ اگر تم اس عمر میں گھبرا گئے تو تمہاری ساری عمر گھبراہٹ اور خوف میں گزرے گی۔ اگر اسالم
‫علم بردار بننا چاہتے ہو تو یہ علم آج ہی اٹھا لو اور دشمن کی دیواریں توڑ کر نکل جائو پھر گھوم کر آئو اور دشمن پر
‫جھپٹ پڑو۔ میں گھبرایا نہیں۔ تین مہینوں کے محاصرے نے ہمیں فاقہ کشی بھی کرائی لیکن ہم محاصرہ توڑ کر نکل آئے اور
‫ہم نے جس خوراک سے پیٹ بھرے وہ دشمن کی رسد سے چھینی ہوئی خوراک تھی۔ ہمارے جو گھوڑے محاصرے میں بھوک
‫سے مر گئے تھے‪ ،ہم نے ان کی کمی دشمن کے گھوڑوں سے پوری کی۔
‫صالح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ میری قوم کے بیٹوں سے کہنا کہ تم پر دشمن نے پیار کے ہتھیار سے حملہ کیا ہے۔ ''
‫ہمیشہ یاد رکھنا کہ کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ صلیبی میدان جنگ میں ٹھہر نہیں سکے‪ ،ان کے
‫منصوبے خاک میں مل گئے ہیں‪ ،اس لیے وہ اب مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی نسل کے ذہن سے قومیت اور مذہب نکالنے کے
‫جتن کررہے ہیں۔ انہوں نے جو ہتھیار استعمال کیا ہے وہ بڑا ہی خطرناک ہے۔ یہ ہے ذہنی عیاشی‪ ،کاہلی اور کوتاہی۔ تم میں
‫یہ تینوں خرابیاں پیدا کرنے کے لیے عیسائی اور یہودی ایک ہوگئے ہیں۔ یہودی اپنی لڑکیوں کے ذریعے تم میں حیوانی جذبہ
‫بھڑکا رہے ہیں اور تمہیں نشے کا عادی بنا رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ حیوانی جذبے اور نشے سے تمہاری عاقبت
‫خراب ہوگی اور موت کے بعد تم جہنم میں جائو گے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کردار کی یہ خرابیاں تمہارے لیے اس دنیا کو
‫ہی جہنم بنا دیں گی۔ تم جسے جنت کی لذت سمجھتے ہو وہ جہنم کا عذاب ہے۔ تم صلیبیوں کے غالم ہوجائو گے جو
‫تمہاری بہنوں کو بے آبرو کرتے پھریں گے۔ تمہارے قرآن کے ورق گلیوں میں اڑیں گے اور تمہاری مسجدیں اصطبل بن جائیں
‫گی۔
‫صالح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ باوقار قوم کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہو تو اپنی روایات کو نہ بھولو۔ صلیبی ایک طرف تم''
‫پر تشدد کررہے ہیں اور دوسری طرف تمہیں دولت اور گھوڑا گاڑیوں کا اللچ دے رہے ہیں۔ مسلمان ان عیاشیوں کا قائل نہیں
‫ہوتا… تمہاری دولت تمہارا کردار اور ایمان ہے۔ یہ صلیبیوں کی شکست کا ثبوت ہے کہ وہ تمہاری تلوار سے خوف زدہ ہوکر
‫اتنے اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو بے حیا بنا کر تمہیں اپنا غالم بنانے کے جتن کررہے ہیں۔ میری قوم
‫کے بیٹو! اپنے کردار کو محفوظ رکھو‪ ،آپنے آپ کو قابو میں رکھو‪ ،ظالم حکمران دراصل کمزور حکمران ہوتا ہے۔ وہ اپنے
‫مخالفین میں سے کسی کو ظلم وتشدد سے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کسی کو دولت کا اللچ دے کر۔ تم ظلم وتشدد
‫سے بھی نہ ڈرو اور کسی اللچ میں بھی نہ آئو۔ تم قوم کا مستقبل ہو۔ ہم قوم کا ماضی ہیں۔ دشمن تمہارے ذہنوں سے تمہارا
‫اور رخشندہ ماضی نکال کر اس میں اپنے نظریات اور مفادات کی سیاہی بھرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ اسالم کا مستقبل
‫تاریک ہوجائے۔ اپنی اہمیت پہچانو۔ دشمن تمہیں صرف اس لیے اپنے تابع کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ تم سے خائف
‫ہے۔ اپنی نظر آج پر نہیں کل پر رکھو کیونکہ تمہارے دشمن کی نظر تمہارے مذہب کے کل پر ہے۔ تم نے د یکھ لیا ہے کہ
‫کفار تمہارا کیا حال کررہے ہیں۔ اگر تم ذہنی عیاشی میں پڑ گئے تو تمام تر ملت اسالمی کا یہی حشر ہوگا''۔
‫جاسوس نے سلطان ایوبی کا پیغام بہت تیزی سے عثمان صارم کو سنا دیا اور اسے عمل کے طریقے بتانے لگا۔ اس نے کہا
‫…'' ساالر اعظم نے خاص طور پر کہا ہے کہ اپنے اوپر جوش اور جذبات کا غلبہ طاری نہ کرنا۔ عقل پر جذبات کو غالب نہ
‫آنے دینا۔ اشتعال سے بچنا‪ ،اپنے آپ پر قابو رکھنا۔ احتیاط الزمی ہے۔ جاسوس نے اسے بتایا کہ وہ اور اس کے دو ساتھی
‫کسی نہ کسی روپ میں اسے خود ہی ملتے رہیں گے اور یہ رابطہ قائم رہے گا۔ فوری طور پر ضرورت یہ ہے کہ مسلمان اپنے
‫گھروں میں چوری چھپے کمانیں‪ ،تیر اور برچھیاں بنائیں اور گھروں میں چھپا کر رکھیں‪ ،عورتوں کو گھروں کے اندر ہی خنجر
‫اور برچھی مارنے اور وار سے بچنے کے لیے طریقہ سکھائیں۔ یہودی لڑکیوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں‪ ،ان کے ساتھ ایسی
‫کوئی بات نہ کریں جس سے انہیں کوئی شک پیدا ہو۔ اپنے طور پر کوئی جنگی کارروائی نہ کریں۔ پہلے منظم ہوجائیں پھر
‫قیادت بنائیں۔ ہر ایک فرد کا ذرا سا بھی عمل قائد کی نظر میں ہونا چاہیے اور کسی فرد کا کوئی اقدام قائد کی اجازت کے
‫بغیر نہ ہو''۔
‫سورج غروب ہونے لگا تھا۔ مسجد کا پیش امام آگیا۔ اسے دیکھتے ہی جاسوس نے صلیب اٹھائی اور دوڑتا ہوا باہرنکل گیا۔ باہر
‫سے پھر وہی اعالن سنائی دینے لگا… ''مسلمانو! صلیب کے سائے میں آجائو‪ ،تمہارا اسالم مر گیا ہے''… امام نے عثمان
‫صارم کو قہر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا… ''یہ یہاں کیا کررہا تھا؟ اور تم نے اسے اندر کیوں بٹھا رکھا تھا؟ اسے
‫ہالک کیوں نہ کردیا؟ تمہاری رگوں میں مسلمان باپ کا خون جم گیاہے؟ میں اتنا بوڑھا نہ ہوتا تو یہاں سے اسے زندہ باہر نہ
‫جانے دیتا''۔
19:44
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪48.۔
‫" رینی الیگزینڈر کا آخری معرکہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اسے زندہ باہر نہ جانے دیتا''۔میں اس کے پیچھے اسی لیے آیا تھا کہ یہ یہاں سے زندہ نہ نکل سکے''۔ عثمان صارم ''
‫نے کہا اور امام کو اپنا خنجر دکھا کر کہنے لگا… ''خدا کا شکر ہے کہ اس نے میرا خنجر صلیب پر روک لیا تھا۔ یہ آدمی
‫پاگل نہیں‪ ،عیسائی اور یہودی بھی نہیں‪ ،یہ مسلمان ہے۔ صالح الدین ایوبی کا پیغام الیا ہے''… اس نے بوڑھے امام کو
‫سلطان ایوبی کا پیغام سنایا اور کہا… ''میں اس پیغام پر عمل کروں گا۔ آج شام سے ہی بسم اللہ کررہا ہوں لیکن ہمیں
‫ایک امیر کی ضرورت ہے۔ کیا آپ ہماری قیادت کریں گے؟ یہ سوچ لیں کہ صلیبی حکومت کو خبر مل گئی تو سب سے
‫پہلے امیر کی گردن اڑائی جائے گی''۔
‫کیا مسجد میں کھڑے ہوکر میں کہنے کی جرٔات کرسکتا ہوں کہ میں قوم سے الگ رہوں گا؟''۔ امام نے جواب دیا۔ ''

‫'' لیکن یہ فیصلہ قوم کرے گی کہ میں امیر اور قائد بننے کے قابل ہوں یا نہیں‪ ،میں خدا کے گھر میں کھڑا یہ عہد کرتا
‫ہوں کہ میری دانش‪ ،میرا مال میری اوالد اور میری جان اسالم کے تحفظ اور فروغ کے لیے اور صلیب کو روبہ زوال کرنے کے
‫لیے وقف ہوگئی ہے… میرے عزیز بیٹے صالح الدین ایوبی کے پیغام کا ایک ایک لفظ ذہن میں بٹھا لو۔ اس نے ٹھیک کہا ہے
‫کہ نوجوان قوم اور مذہب کا مستقبل ہوتے ہیں۔ وہ اسے روشن بھی کرسکتے ہیں اور وہ آوارہ ہوکر اسے تاریک بھی کرسکتے
‫ہیں۔ جب کوئی نوجوان صلیبیوں اور یہودیوں کی بے حیائی کا دلدارہ ہوکر لڑکیوں کو بری نظر سے دیکھتا ہے تو وہ محسوس
‫نہیں کرتا کہ اس کی اپنی بہن بھی اس جیسے نوجوانوں کی بری نظر کا شکار ہورہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قومیں تباہ
‫ہوتی ہیں… میرے نوجوان بیٹے! خدا کے اس گھر میں عہد کرو کہ تم صالح الدین ایوبی کے پیغام پر عمل کرو گے''۔
‫عثمان صارم نے گھر جاکر اپنی بہن النور کو الگ بٹھا کر سلطان ایوبی کا پیغام سنایا اور کہا… ''النور! ہمارا مذہب اور ہمارا
‫قومی وقار تم سے بہت بڑی قربانی مانگ رہا ہے۔ آج سے اپنے آپ کو پردہ نشین لڑکی سمجھنا چھوڑ دو۔ مسلمان لڑکیوں
‫تک یہ پیغام پہنچا کر انہیں اس جہاد کے لیے تیار کرلو۔ میں تمہیں خنجر‪ ،تیر کمان اور برچھی کا استعمال سکھا دوں گا۔
‫احتیاط یہ کرنی ہے کہ کسی کو شک بھی نہ ہو کہ ہم لوگ کیا کررہے ہیں''۔
‫میں ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار ہوں''۔ النور نے کہا …''میں اور میری تمام سہیلیاں تو پہلے ہی سوچ رہی ہیں کہ''
‫ہم اپنی آزادی اور اپنی قوم کے لیے کیا کرسکتی ہیں۔ ہم تو مردوں کے منہ کی طرف دیکھ رہی ہیں''۔
‫عثمان صارم نے اسے بتایا کہ صالح الدین ایوبی اور اس کی فوج کے متعلق جتنی خبریں یہاں مشہور کی جاتی ہیں‪ ،وہ سب
‫جھوٹی ہوتی ہیں۔ تمام مسلمان گھرانوں میں جاکر عورتوں کو صحیح خبریں سنائو۔ عثمان صارم نے اسے صحیح خبریں سنائیں
‫اور یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں میں غدار اور صلیبیوں میں مخبر بھی ہیں۔ اس نے بہن کو ایسے تین چار گھرانے بتائے اور کہا
‫کہ ان عورتوں کو ہاتھ میں لو اور انہیں بتائو کہ ان کے آدمی غدار ہیں۔ انہیں یہ بھی کہو کہ عیسائی اور یہودی لڑکیوں کے
‫پیار سے بچو۔ ان کا پیار محض دھوکہ ہے۔
‫کیا میں رینی کو یہاں آنے سے روک دوں؟'' …عثمان صارم نے کہا … ''وہ بہت تیز اور ہوشیار لڑکی ہے''۔''
‫رینی ایک نوجوان عیسائی لڑکی تھی‪ ،عثمان صارم کے گھر سے تھوڑی ہی دور اس کا گھر تھا۔ اس کا باپ شہری انتظامیہ
‫کے کسی اونچے عہدے پر فائز تھا۔ لڑکی کا پورا نام رینی الیگزینڈر تھا۔ وہ النور کی سہیلی بنی ہوئی تھی‪ ،عثمان صارم کے
‫ساتھ بھی اس نے گہرے مراسم پیدا کرلیے تھے۔ اسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوتی تھی۔ عثمان صارم ابھی اس کے قریب
‫نہیں ہوا تھا‪ ،یہ وجیہہ جوان سمجھتا تھا کہ یہ عیسائی لڑکی ہے اور یہاں جاسوسی کرنے آتی ہے۔ اس نے رینی کو کبھی
‫ناپسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا تھا بلکہ اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرلیتا تھا تاکہ اسے شک نہ ہو۔ اب جب اسے
‫یہ ضرورت پیش آئی کہ رینی اس کے گھر نہ آیا کرے تو رینی کو یہ کہنا اس کے لیے مشکل ہوگیا کہ اب ہمارے گھر نہ آیا
‫کر و مگر اسے روکنا ضروری تھا کیونکہ وہ گھر میں اپنی بہن کو جنگی ٹرینگ دینا چاہتا تھا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ اس
‫گھر میں اب کیا کیا راز آئیں گے۔ اس نے سوچ سوچ کر یہ طریقہ پسند کیا کہ النور سے کہا کہ رینی جب کبھی آئے تم یہ
‫کہہ کر باہر چلی جایا کرو کہ کسی سہیلی کے گھر جا رہی ہوں۔ اس طرح اسے ٹالتی رہو‪ ،وہ خود ہی آنا چھوڑ دے گی۔
‫کرک شہر کے لوگ اس پاگل کی باتیں کررہے تھے جو مسلمانوں کی تباہی کی پیشن گوئی کرتا پھر رہا تھا۔ غیر مسلموں کو
‫وہ بہت ہی اچھا لگا تھا۔ سب اسے ڈھونڈتے پھرتے تھے لیکن وہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ سرکاری طور پر بھی اسے تالش
‫کیا جارہا تھا
‫کیونکہ مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے اور ان کا جذبہ سرد کرنے کے لیے اس پاگل کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
‫کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں چال گیا ہے۔ وہ اسی رات کہیں الپتہ ہوگیا تھا۔ دس بارہ روز اس کی تالش ہوتی رہی۔
‫صلیبی حکام نے شہر کے باہر بھی گھوڑ سوار دوڑا دیئے۔ انہیں توقع تھی کہ وہ اس شہر سے کہیں دوسرے شہر جارہا ہوگا
‫مگر وہ کسی کو نہ مال اور دس بارہ دن گزر گئے۔
‫ان دس بارہ دنوں میں عثمان صارم نے النور اور اس کی تین سہیلیوں کو ہتھیاروں کا استعمال سکھا دیا۔ اس نے انہیں تیغ
‫زنی بڑی محنت سے سکھائی۔ اس کے عالوہ اس نے مسلمان نوجوانوں کو درپردہ سلطان ایوبی کا پیغام سنا کر زمین دوز محاذ
‫پر جمع کرلیا۔ ان نوجوانوں نے ان مسلمان کاریگروں کو تیار کرلیا جو برچھیاں اور تیرکمان وغیرہ بناتے تھے۔ یہ سب صلیبیوں
‫کے مالزم تھے۔ وہ اپنے لیے کوئی ہتھیار نہیں بنا سکتے تھے۔ مسلمانوں کو کوئی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان
‫کاریگروں نے گھروں میں چوری چھپے ہتھیار بنانے شروع کردیئے۔ یہ بہت ہی خطرناک کام تھا۔ پکڑے جانے کی صورت میں
‫صرف سزائے موت ہی نہیں تھی بلکہ مرنے سے پہلے صلیبی درندوں کی بھیانک اذیتیں تھیں۔ وہاں کوئی مسلمان کوئی معمولی
‫سے جرم میں یامحض شک میں پکڑا جاتا تو اس سے پوچھا جاتا تھا کہ مسلمان گھرانوں کے اندر کیا ہورہا ہے اور جاسوس
‫کہاں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کے جسم کو روئی کی طرح دھننا شروع کردیتے تھے۔ کاریگر جو ہتھیار بناتے تھے وہ عثمان
‫صارم جیسے نوجوان رات کو مختلف گھروں میں چھپا دیتے تھے۔ دن کے وقت لڑکیاں برقعہ نما لبادوں میں خنجر اور تیرکمان
‫چھپا کر مسلمانوں کے گھروں میں لے جاتی رہتی تھی مگر ہتھیار بنانے اور گھروں میں پہنچانے کی رفتار بہت سست تھی۔
‫ادھر سلطان ایوبی کو ایک جاسوس نے اطالع دے دی کہ کرک اور مضافات کے مسلمانوں تک اس کا پیغام پہنچ گیا ہے اور
‫وہاں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے زمین دوز محاذ بنا لیاہے۔ یہ اطالع النے واال بھی ایک ذہین اور نڈر جاسوس تھا۔ اس
‫نے بتایا کہ وہ جاسوس جس نے سلطان ایوبی کا پیغام عثمان صارم تک پہنچایا تھا پاگل کے روپ میں کامیاب رہا ہے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی اس اطالع پر بہت خوش تھا۔ اس نے کہا … ''جس قوم کے نوجوان بیدار ہوجائیں اسے کوئی طاقت
‫شکست نہیں دے سکتی''۔
‫اس کامیابی نے میرا حوصلہ بڑھا دیا ہے''۔ شعبہ جاسوسی کے نائب زاہدان نے کہا …''اگر آپ اجازت دیں تو میں ''
‫مقبوضہ عالقے کے نوجوانوں کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے اتنا بھڑکا سکتا ہوں کہ وہ شعلے بن کر کرک اور یروشلم کو آگ
‫لگا دیں گے''۔
‫اور اس آگ میں وہ خود بھی جل مریں گے''۔ سلطان ایوبی نے کہا …''میں نوجوانوں کو شعلے نہیں بنانا چاہتا۔ میں ان''
‫کے سینوں میں ایمان کی چنگاری سلگانا چاہتا ہوں۔ نوجوانوں کو بھڑکانا کوئی مشکل کام نہیں ۔ ان میں سے کوئی اشرفی
‫کی چمک اور اللچ سے تمہارے ہاتھ میں کھیلنے لگے گا اور زیادہ تعداد ان کی ہے جو جذباتی الفاظ اور جوشیلے نعروں سے
‫بھڑک اٹھتے ہیں پھر تم ان سے جو کچھ کرانا چاہتے ہو کرالو۔ انہیں آپس میں بھی لڑا سکتے ہو۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ
‫وہ جاہل اور گنوار ہیں اور ان کا اپنا دماغ ہی نہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے کہ خون کا جوش کچھ
‫کر گزرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس عمر میں ذہن عیاشی کی طرف مائل ہوتا ہے اور عمل صالح کی طرف بھی۔ تم نوجوان

‫ذہن کو جو بھی تحریک اور اشتعال دے دو وہ اسی کا اثر قبول کرلے گا۔ تمہارے دشمن ہماری قوم کے ابھرتے ہوئے ذہن میں
‫عیاشی اور جنسی لذت کے جراثیم ڈال رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم انہیں جہاد کی طرف مائل کرکے دشمن کے
‫خالف استعمال نہ کرسکیں۔ تم یہ کوشش کرو کہ نوجوان بھڑکیں نہیں بلکہ سردر ہیں اور سوچیں‪ ،رسول مقبول صلی اللہ علیہ
‫وآلہ وسلم کی اس حدیث کو سمجھیں کہ اپنے آپ کو جانو اپنے دشمن کو پہچانو۔ ان کی سوچیں بدل دو۔ ان میں قومیت کا
‫احساس پیدا کرو۔ یہ نوجوان قوم کا بڑا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں بھڑکا کر جلنے سے بچائو۔ انہیں مردانہ دانشمندی نہیں‪،
‫دانائی یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں دشمن کو مروائو لیکن دشمن کا تصور واضح کرو۔ کوئی مسلمان مجھے برا بھال کہے تو وہ نہ
‫اسالم کا دشمن ہے‪ ،نہ غدار ہے‪ ،وہ میرا دشمن ہے۔ میں اسے قانون کا سہارا لے کر سزا نہیں دوں گا جو اسالم در سلطنت
‫اسالمیہ کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ ملت کا قانون ملت کے امیر کے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہوتا۔ غداری کی سزا
‫اسے دی جاتی ہے جو ملک اور قوم کی جڑیں کاٹے اور دین کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرے۔
‫خواہ حکمران خود ہی اس کا مجرم ہو۔ وہ غدار ہے اور سزا کا مستحق''۔
‫اس صورت میں جبکہ وہاں نوجوان تیار ہوگئے ہیں ہم انہیں کس طرح استعمال کریں''۔ زاہدان نے پوچھا۔''
‫انہیں جوش میں نہ آنے دو''۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا… ''ان کی سوچیں بیدار کرو‪ ،وہاں کے حاالت کے مطابق وہ ''
‫خود فیصلہ کریں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ وہ جذبات کے غلبے کے تحت نہ سوچیں‪ ،وہاں اور زیادہ ذہین جاسوس بھیجو اور
‫یہ یاد رکھو زاہدان کہ دشمن ہمیں نہیں ہمارے نوجوان بچوں کا کردار بگاڑنے کی کوشش کررہا ہے یا ہمارے ان حاکموں کا جن
‫کے ذہن بچوں کی طرح خام ہیں۔ کسی بھی قوم کو جنگ کے بغیر شکست دینا چاہو تو اس کے نوجوانوں کو ذہنی عیاشی
‫میں ڈال دو۔ یہ قوم اس حد تک تمہاری غالم ہوجائے گی کہ اپنی مستورات تمہارے حوالے کرکے اس پر فخر کرے گی۔
‫صلیبی اور یہودی ہماری قوم کو اسی سطح پر النے کی کوشش کررہے ہیں'' … سلطان ایوبی کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا
‫ہو۔ اس نے زاہدان سے کہا … ''میں نے کسی سے کہا تھا کہ کرک کے ان مسلمانوں تک جو ہتھیار بنا رہے ہیں‪ ،آتش گیر
‫مادہ پہنچا دو یا انہیں بتا دو کہ یہ کس طرح بنتا اور استعمال ہوتا ہے''۔
‫وہ انہیں بتا دیا گیا ہے''۔ زاہدان نے جواب دیا … ''اطالع ملی ہے کہ مسلمانوں نے یہ مادہ تیار کرنا شروع کردیا ''
‫ہے''۔کرک میں ایسے حاالت فورا ً ہی پیدا ہوگئے جن میں وہاں کے نوجوانوں کو خود ہی سوچنا اور عمل کرنا پڑا۔مقبوضہ
‫عالقوں میں صلیبیوں نے قافلے لوٹنے کا بھی سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ قافلے اتنے عام نہیں تھے۔ تاجر اور دیگر سفر کرنے
‫والے اکٹھے ہوتے رہتے تھے۔ ان کی تعداد ڈیڑھ دو سو ہوجاتی تو قافلے کی صورت میں چلتے تھے۔ یہ ایک حفاظتی اقدام
‫ہوتا تھا۔ قافلے کے ساتھ لڑنے والے مسلح افراد بھی ہوتے تھے۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی افراط ہوتی تھی۔ تاجروں کا بے شمار
‫مال اور دولت ہوتی تھی۔ قافلے میں چند ایک کنبے بھی ہوتے تھے۔ یہ لوگ نقل مکانی کرتے تھے۔ صلیبی استبداد میں آئے
‫ہوئے مسلمان اکثر وہاں سے ہجرت کرکے مسلمانوں کی حکمرانی کے عالقوں میں جاتے رہتے تھے۔ اتنے بڑے قافلے کو چند
‫ایک ڈاکو نہیں لوٹ سکتے تھے۔ قافلے والے مقابلہ کرتے تھے۔ صلیبیوں نے یہ کام اپنی فوج کے سپرد کیا تھا۔ انہیں اگر
‫کسی قافلے کی اطالع مل جاتی تو اپنی فوج کے ایک دو دستوں کو صحرائی لوگوں کے بھیس میں بھیج کر اسے لوٹ لیتے
‫تھے۔ قافلوں میں صرف مسلمان ہوتے تھے۔ یہ جرم ان صلیبی بادشاہوں نے بھی کرایا اور لوٹے ہوئے مال سے حصہ وصول کیا‪،
‫جنہیں آج تاریخ میں صلیبی جنگوں کا ہیرو بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔
‫اس جرم میں مسلمان امراء بھی شامل تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی اسالمی ریاستوں کے حکمران تھے۔ ان کے پاس فوج بھی
‫تھی۔ لٹے ہوئے قافلوں کے دوچار آدمی فریاد لے کر ان حکمرانوں کے دربار میں جاتے تھے تو ان کی سنوائی نہیں ہوتی تھی
‫کیونکہ ان حکمرانوں کو بھی صلیبی لڑکیوں‪ ،شراب اور تھوڑے سے سونے کی صورت میں حصہ دیا کرتے تھے۔
‫اگر یہ حکمران چاہتے تو صلیبی ڈاکوئوں کا قلع قمع کرسکتے تھے مگر انہوں نے صلیبی ڈاکوئوں کو ایسی کھلی چھٹی دے
‫رکھی تھی کہ یہ ڈاکو ان کی ریاستوں کے اندر بھی آکر لوٹ مار کر جاتے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں اندھا کرکے یہ فائدہ بھی
‫اٹھایا کہ ان کی ریاستوں کے سرحدی عالقے ہڑپ کرتے گئے۔ انہوں نے بعض چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو مسلسل ڈاکوئوں سے
‫پریشان کرکے جزیہ بھی وصول کرنا شروع کردیا تھا۔ اس طرح سلطنت اسالمیہ سکڑتی چلی جارہی تھی۔ نورالدین زنگی اور
‫صالح الدین ایوبی ان مسلمان ریاستوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ ان حکمرانوں کو وہ صلیبیوں سے زیادہ خطرناک سمجھتے
‫تھے۔ ایک بار نورالدین زنگی نے صالح الدین ایوبی کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں کئی اور باتوں کے عالوہ ان چھوٹے
‫چھوٹے مسلمان حکمرانوں کے متعلق لکھا تھا… ''ان مسلمان حکمرانوں نے اپنی عیش وعشرت کے لیے اپنی ریاستیں صلیبیوں
‫کے پاس گروی رکھ دی ہیں۔ وہ کفار سے تحفے اور زروجواہرات اور اغوا کی ہوئی مسلمان لڑکیاں لیتے اور اسالم کا نام ڈبوتے
‫جارہے ہیں۔ یہ مسلمان کفار سے زیادہ ناپاک اور خطرناک ہیں۔ وہ بادشاہی کے نشے میں بدمست ہیں اور صلیبی ان کی جڑوں
‫میں داخل ہوگئے ہیں۔ صلیبیوں کو شکست دینے سے پہلے ضروری ہوگیا ہے کہ ان مسلمان ریاستوں پر قبضہ کرکے انہیں
‫سلطنت اسالمیہ میں مدغم کیا جائے اور خالفت بغداد کے تحت الیا جائے۔ اس کے بغیر اسالم کا تحفظ ممکن نہیں''۔
‫ان خطروں کے باوجود کبھی کبھی کوئی بہت بڑا قافلہ صحرا میں جاتا نظر آجاتا تھا۔ کرک سے چند میل دور سے ایک قافلہ
‫گزر رہا تھا۔ اس میں ایک سو سے زیادہ اونٹ تھے۔ بہت سے گھوڑے بھی تھے‪ ،قافلے میں تاجروں کا مال تھا اور چند ایک
‫کنبے تھے۔ ایک کنبہ ایسا بھی تھا جس میں دو جوان لڑکیاں تھیں‪ ،یہ بہنیں تھیں۔ قافلہ حسب معمول مسلمانوں کا تھا۔ کرک
‫کے عالقے سے قافلہ گزر رہا تھا تو صلیبیوں کو پتا چل گیا۔
‫انہوں نے اپنی فوج کا ایک دستہ بھیج دیا جس نے دن دہاڑے قافلے پر جا حملہ کیا۔ قافلے کے گھوڑ سواروں نے مقابلہ تو
‫بہت کیا مگر صلیبیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہاں ریت خون سے الل ہوگئی۔ صلیبیوں نے بچوں تک کو کاٹ ڈاال۔ پندرہ سولہ
‫جواں سال مسلمان رہ گئے۔ انہیں قیدی بنا لیا گیا۔ دونوں لڑکیوں کو پکڑ لیا۔ اونٹوں اور گھوڑوں کو مال واسباب سمیت کرک
‫لے گئے۔
‫یہ قافلہ جب کرک میں داخل ہوا تو آگے آگے قیدی تھے۔ ان کے پیچھے دو گھوڑوں پر دو لڑکیاں سوار تھیں جن کا لباس
‫بتاتا تھا کہ مسلمان ہیں۔ ان کے پیچھے صلیبی تھے جن کے چہروں پر نقاب تھے اور ان کے پیچھے مال واسباب سے لدے
‫ہوئے اونٹوں کی قطار تھی۔ لڑکیاں رو رہی تھیں۔ کرک کے شہری تماشا دیکھنے کے لیے باہر نکل آئے‪ ،وہ تالیاں پیٹتے اور
‫قہقہے لگاتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ لٹا ہوا یہ قافلہ مسلمانوں کا ہے اور قیدی بھی مسلمان ہیں۔ ان قیدیوں میں ایک
‫جواں سال قیدی آفاق نام کا تھا۔ دونوں مغویہ لڑکیاں اس کی بہنیں تھیں۔ آفاق زخمی بھی تھا‪ ،اس کی پیشانی اور کندھے
‫سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ لٹے ہوئے قافلے کے آگے آگے شہر میں داخل ہوا تو تماشائیوں کو دیکھ کر اس نے بلند آواز سے
‫کہا… ''کرک کے مسلمانو! ہمارا تماشا دیکھ رہے ہو؟ ڈوب مرو۔ ان لڑکیوں کو دیکھو‪ ،یہ میری نہیں تمہاری بہنیں ہیں۔ یہ

‫مسلمان ہیں''۔
‫ایک صلیبی نے پیچھے سے اس کی گردن پر گھونسہ مارا‪ ،وہ منہ کے بل گرا۔ اس کے ہاتھ رسیوں سے پیٹھ پیچھے بندھے
‫ہوئے تھے۔ ایک قیدی نے اسے اٹھایا تو آفاق پھر چالیا… ''کرک کے مسلمانو! یہ تمہاری بیٹیاں ہیں''… اسے دو تین نقاب
‫پوشوں نے پیٹنا شروع کردیا۔ اس کی بہنیں چیخ چیخ کر رو رہی تھیں اور فریادیں کرتی تھیں… ''خدا کے لیے ہمارے بھائی
‫کو نہ مارو‪ ،ہمارے ساتھ جو سلوک کرنا چاہو کرلو‪ ،اسے نہ مارو''… ایک بہن چال رہی تھی… ''آفاق خاموش ہوجائو‪ ،تم ان
‫کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے''… مگر آفاق چپ نہیں ہورہا تھا۔ تماشائیوں میں مسلمان بھی تھے جو اپنا خون پی رہے تھے مگر
‫بے بس تھے۔ ان کی غیرت ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتی جارہی تھی اور وہ دیکھ رہے تھے۔ ان میں نوجوان مسلمان
‫بھی تھے اور ان میں عثمان صارم بھی تھا۔ اس نے اپنے نوجوان دوستوں کی طرف دیکھا۔ سب کی آنکھیں الل تھیں اور دل
‫زور زور سے دھڑک رہے تھے۔
‫عثمان صارم تھوڑی دور تک اس قافلے کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ آگے ایک غریب سا موچی بیٹھا تھا جو لوگوں کے جوتے
‫مرمت کیا کرتا تھا۔ اسے کسی مسلمان نے اپنی گھر کی ڈیوڑھی میں سونے کی جگہ دے رکھی تھی۔ دن بھر وہ باہر بیٹھا
‫جوتے مرمت کرتا رہتا تھا۔ بدقسمت قافلہ اس کے سامنے سے بھی گزرا۔ اس نے بھی آفاق کی للکار اور لڑکیوں کی آہ وزاری
‫سنی۔ آفاق کے چہرے کو خون سے الل دیکھا‪ ،اس پر صلیبیوں کا ظلم ہوتا بھی دیکھا لیکن اس طرح دیکھا جیسے اس نے
‫کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اس موچی کو نہ کبھی کسی نے مسجد میں جاتے دیکھا تھا‪ ،نہ گرجے میں۔ وہ یہودیوں کی عبادت گاہ
‫میں بھی کبھی نہیں گیا تھا۔ اس کی طرف وہی توجہ دیتا تھا جسے جوتا مرمت کرانا ہوتا تھا۔ اسے کبھی کسی نے بولتے
‫نہیں سنا تھا‪ ،وہ خلق کا راندہ ہوا انسان تھا جسے صلیبیوں کے ساتھ بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اسالمیوں کے ساتھ
‫بھی کوئی واسطہ نہیں تھا۔
‫عثمان صارم چلتے چلتے اس موچی کے قریب سے گزرنے لگا تو رک گیا۔ قیدی آگے نکل گئے تھے‪ ،اونٹ جارہے تھے۔ جب
‫آخری اونٹ گزر گیا تو عثمان صارم نے دونوں جوتے اتار کر موچی کے آگے رکھ دیئے اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ موچی
‫کسی کا جوتا مرمت کررہا تھا‪ ،اس نے عثمان صارم کو سر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ عثمان نے ادھر ادھر دیکھ کر سرگوشی
‫میں کہا… ''ان دونوں لڑکیوں کو آج رات آزاد کرانا ہے''۔
‫جانتے ہو‪ ،یہ لڑکیاں رات کو کہاں ہوں گی؟'' … موچی نے سراٹھائے بغیر اتنی دھیمی آواز میں پوچھا کہ عثمان صارم کے''
‫سوا کوئی اور نہیں سن سکتا تھا۔
‫جانتا ہوں''۔ عثمان صارم نے جواب دیا… ''صلیبی بادشاہوں کے پاس ہوں گی لیکن ہم میں سے کسی نے بھی وہ جگہ ''
‫اندر سے نہیں دیکھی''۔
‫میں نے دیکھی ہے''۔ موچی نے اپنے کام میں مگن رہ کر کہا… ''وہاں سے لڑکیوں کو نکالنا ممکن نہیں''۔''
‫تم کس مرض کی دوا ہو؟''… عثمان صارم نے ایسے لہجے میں کہا جس میں جذبات کا لرزہ اور غصہ تھا۔ کہنے لگا ''
‫''ہماری رہنمائی کرو اگر ہم لڑکیوں تک پہنچ گئے اور پکڑے گئے تو لڑکیوں کی گردنیں کاٹ دیں گے۔ انہیں صلیبیوں کے پاس
‫نہیں رہنے دیں گے''۔
‫کتنے جوانوں کی قربانی دے سکتے ہو؟'' موچی نے پوچھا''۔''
‫جتنے جوان مانگو گے''۔''
‫کل رات''۔''
‫آج رات''۔ عثمان صارم نے دبدبے سے کہا… ''آج ہی رات برجیس! آج ہی رات''۔''
‫امام کے پاس پہنچو''۔ موچی نے کہا۔''
‫''کتنے جوان؟''
‫برجیس موچی نے سوچ کر کہا… ''آٹھ… ہتھیار سن لو۔ خنجر۔
‫برجیس موچی نے سوچ کر کہا… ''آٹھ… ہتھیار سن لو۔ خنجر۔ آتش گیر مادہ''۔
‫عثمان صارم نے اپنے جوتے پہنے اور چال گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا۔ عثمان صارم نے راستے میں اپنے سات ہم جولیوں کو گھروں سے بال کر انہیں امام کے گھر
‫پہنچنے کو کہا اور خود امام کے گھر چال گیا۔ یہ اسی مسجد کا امام تھا جس میں عثمان صارم کی مالقات ''پاگل'' سے
‫ہوئی تھی۔ عثمان نے ہی امام کو اپنی زمین دوز جماعت کی امامت پیش کی تھی جسے جماعت کے ہر فرد نے قبول کرلیا
‫تھا۔ یہ لوگ کسی نہ کسی کے گھر میں مل بیٹھتے اور الئحہ عمل تیار کرتے تھے۔ اب ان دو مغویہ لڑکیوں کا مسئلہ سامنے
‫آگیا تو عثمان صارم نے ان کی رہائی کا ارادہ کرلیا جو دراصل خودکشی کا ارادہ تھا۔ وہ موچی کے کہنے کے مطابق امام کے
‫گھر چال گیا۔ امام بے چینی سے اپنی ڈیوڑھی میں ٹہل رہا تھا۔ عثمان صارم کو دیکھ کر رک گیا اور پوچھا …''عثمان! تم
‫نے اس قیدی کی للکار سنی تھی؟ معلوم ہوتا تھا‪ ،وہ لڑکیاں اس کی بہنیں تھیں''۔
‫میں اسی للکار پر لبیک کہنے آیا ہوں محترم امام!'' عثمان صارم نے کہا… ''برجیس آرہا ہے اور میرے سات دوست ''
‫بھی آرہے ہیں''۔
‫تم کیا کرو گے؟'' امام نے پوچھا… ''تم کرہی کیا سکو گے؟… میں جانتا ہوں کہ ہماری بے شمار لڑکیاں کافروں کے قبضے''
‫میں ہیں مگر ان دو لڑکیوں نے مجھے امتحان میں ڈال دیا ہے''۔ اس نے منہ اوپر کرکے گہری آہ بھری اور کہا… ''یاخدا
‫مجھے صرف ایک رات کے لیے جوان کردے یا آج ہی رات میری جان لے لے۔ اگر میں زندہ رہا تو تمام عمر ان لڑکیوں کی
‫آہ وزاری مجھے سنائی دیتی رہے گی اور میں پاگل ہوجائوں گا''۔
‫ہمیں اپنی دانش کی روشنی دکھائیں''۔ عثمان صارم نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ ہم آپ کو ایک رات سے زیادہ بے ''
‫چین نہیں رہنے دیں گے''۔
‫عثمان صارم کے دو ساتھی اندر آئے‪ ،امام نے انہیں بیٹھنے کو کہا اور تینوں سے مخاطب ہوکر کہا… ''آج یوں معلوم ہوتا ہے
‫جیسے میری دانش جواب دے گئی ہے۔ مجھے اس طرح بے قابو نہیں ہونا چاہیے لیکن کوئی غیرت کو للکارے تو جذبے بھڑک
‫اٹھتے ہیں۔ جنہیں مطمئن کرنے کے لیے جوان ہونا ضروری ہوتا ہے… لیکن میرے بچو! میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں‪ ،مجھ میں
‫اب برداشت کی قوت نہیں رہی تم جو کچھ کرنے کا ارادہ کرو سنبھل کر کرنا''۔
‫ایک ایک کرکے سات نوجوان جمع ہوگئے اور ان کے فورا ً بعد موچی آگیا۔ اس نے بوری اٹھا رکھی تھی جس میں پرانے جوتے

‫اور اوزار تھے۔ اس نے بوری پھینکی اور کمر سیدھی کی۔ وہ ہنس پڑا۔ وہ جب سیدھا کھڑا ہوا تو کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ
‫یہ وہ موچی ہے جو دنیا کی گہما گہمی سے رشتہ توڑے ہوئے راستے میں بیٹھا جوتے مرمت کرتا رہتا ہے۔ اس وقت جب وہ
‫امام کے گھر میں تھا اور دروازہ بند ہوچکا تھا وہ موچی نہیں برجیس تھا… علی بن سفیان کے محکمہ جاسوسی کے ایک
‫خفیہ شعبے کا تجربہ کار اور نہایت عقل مند جاسوس… اس نے امام سے کہا … ''یہ لڑکے آج ہی ان دونوں لڑکیوں کو
‫صلیبیوں کی قید سے آزاد کرانے پر تلے ہوئے ہیں‪ ،اس کام میں صرف پکڑے جانے کا یا ناکامی کا ہی خطرہ نہیں بلکہ یقینی
‫موت کا خطرہ ہے''۔
‫ہم یہ خطرہ قبول کرتے ہیں محترم برجیس!''… ایک نوجوان نے کہا… ''آپ اس فن کے استاد ہیں‪ ،ہماری رہنمائی ''
‫کریں''۔
‫اگر عقل کی بات سنیں تو میں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں''… برجیس نے کہا … ''صلیبیوں کے پاس بہت سی مسلمان ''
‫لڑکیاں ہیں‪ ،ان میں سے بعض کو انہوں نے بچپن میں قافلوں اور گھروں سے اغوا کیا تھا اور انہیں اپنی تعلیم وتربیت دے کر
‫ہمارے خالف جاسوسی اور تمہاری کردار کشی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ تم لوگ ایک ایک لڑکی کو تو آزاد نہیں کراسکتے
‫اگر تم سب میرے فن سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہوتو میں کہوں گا کہ دو لڑکیوں کی خاطر تم جیسے آٹھ جوان قربان کردینا عقل
‫مندی نہیں۔ بربادری اور تحمل ضروری ہے''۔
‫میں تحمل کو کس طرح قبول کرسکتا ہوں؟''… عثمان صارم نے بھڑک کر کہا۔''
‫میری طرح''۔ برجیس نے کہا… ''کیا میں پیشے کا موچی ہوں؟ میں جب مصر میں ہوتا ہوں تو میری سواری کے لیے ''
‫عربی گھوڑا تیار رہتا ہے اور میرے گھر میں دو مالزم ہیں مگر یہاں تین مہینوں سے راستے میں بیٹھا لوگوں کے غلیظ جوتے
‫مرمت کرتا رہتا ہوں… میں تمہیں دو لڑکیوں کی آزادی کے لیے پورے کرک اور اس سے آگے کے بہت وسیع عالقے کو آزاد
‫کرانے کے لیے زندہ رکھنا چاہتا ہوں‪ ،برداشت کرو‪ ،انتظار کرو''۔
‫عثمان صارم اور اس کے ساتوں دوست برداشت کی حدوں سے نکل چکے تھے۔ ان کی باتوں سے پتا چلتا تھا کہ ان میں
‫انتظار کی بھی ہمت نہیں رہی۔ وہ کسی کی رہنمائی کے بغیر ہی اس جگہ پر حملہ کرنے کو تیار تھے جہاں توقع تھی کہ
‫لڑکیاں ہوں گی( ۔ انہوں نے امام کی بھی باتیں سننے سے انکار کردیا۔
‫آخر برجیس نے انہیں بتایا کہ اس کے دو جاسوس اس جگہ معمولی مالزم ہیں جہاں صلیبی حکمران رات کو اکٹھے ہوتے ہیں
‫اور شراب پیتے ہیں۔ یہ دونوں جاسوس عیسائیوں کے بھیس میں شوبک کی فتح کے بعد وہاں سے بھاگنے والے عیسائیوں کے
‫ساتھ آئے تھے۔ انہیں یہاں نوکری مل گئی تھی اور وہ کامیاب جاسوسی کررہے تھے۔
‫تم سب نے وہ عمارت دیکھی ہے جہاں وہ صلیبی حکمران جو ہماری فوج کے خالف لڑنے کے لیے برطانیہ‪ ،اٹلی‪ ،فرانس ''
‫اور جرمنی وغیرہ سے آئے ہوئے ہیں‪ ،رہتے ہیں۔ اس عمارت میں ایک بڑا کمرہ ہے جہاں وہ شام کے بعد اکٹھے ہوتے‪ ،شراب
‫پیتے اور ناچتے ہیں۔ ان کی تفریح کے لیے لڑکیاں موجود ہوتی ہیں۔ وہ آدھی رات تک وہاں ادھم مچاتے رہتے ہیں۔ تم نے
‫دیکھا ہے کہ وہ جگہ ذرا بلندی پر ہے جہاں سے پورا شہر نظر آتا ہے۔ وہاں فوج کا پہرہ بھی ہوتا ہے۔ اس عمارت تک
‫پہنچنا ممکن نہیں۔ کوئی عام آدمی بلکہ کوئی خاص شہری بھی اس عمارت کے قریب نہیں جاسکتا۔ میں یہ معلوم کرسکتا
‫ہوں کہ یہ دو لڑکیاں کہاں ہوں گی مگر ان تک رسائی کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ہماری فوج باہر سے ابھی حملہ کردے۔ اس
‫صورت میں تمام حکمران اور فوجی حکام اس عمارت سے چلے جائیں گے اور حملہ روکنے میں لگ جائیں گے مگر آج رات
‫حملہ نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ صالح الدین ایوبی کب حملہ کریں گے''۔
‫ضرورت حملے کی ہے''۔ امام نے برجیس سے وضاحت چاہی… ''دوسرے لفظوں میں ضرورت یہ ہے کہ اس عمارت میں ''
‫جو لوگ ہیں وہ وہاں سے چلے جائیں اور لڑکیاں وہیں رہ جائیں۔ اس صورت میں آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اس
‫عمارت میں داخل ہوکر لڑکیوں کو اٹھا الئیں''۔
‫جی ہاں!'' برجیس نے اپنے تجربے کی بناء پر خود اعتمادی سے کہا۔ ''اگر شہر کے اندر کوئی بڑا ہی شدید اور ''
‫خطرناک قسم کا ہنگامہ ہوجائے‪ ،کہیں آگ لگ جائے اور آگ جنگی سازوسامان کو لگے تو شاید حکمران اور دیگر لوگ وہاں
‫سے نکل کر موقع واردات پر چلے جائیں''۔ برجیس گہری سوچ میں کھوگیا۔ اس نے عثمان صارم اور اس کے ساتھیوں کو
‫باری باری دیکھا اور کچھ دیر بعد کہا… ''ہاں میرے مجاہدو! اگر ایک جگہ آگ لگا سکتے ہو تو لڑکیوں کی رہائی کی صورت
‫پیدا ہوسکتی ہے''۔
‫جلدی بتائو محترم!'' … عثمان صارم نے بے صبر ہوکر پوچھا… ''کہاں آگ لگانی ہے‪ ،کہو تو سارے شہر کو آگ ''
‫لگادیں''۔
‫تم سب نے وہ جگہ دیکھی ہے جہاں صلیبیوں کی فوج کے گھوڑے بندھے رہتے ہیں؟'' برجیس نے کہا… ''وہاں اس وقت''
‫کم وبیش چھ سو گھوڑے ایک جگہ بندھے ہوئے ہیں‪ ،باقی مختلف جگہوں پر ہیں۔ ان کے قریب اتنی ہی تعداد میں اونٹوں کی
‫بندھی ہوئی ہے۔ ان سے ذرا ہی پرے گھوڑوں کے خشک گھاس کے پہاڑ کھڑے ہیں۔ اس سے تھوڑا ہٹ کر فوج کے خیموں
‫کے ڈھیر پڑھے ہیں‪ ،وہاں گھوڑا گاڑیاں بھی کھڑی ہیں اور ایسا سامان بے شمار پڑا ہے‪ ،جسے فورا ً آگ لگ سکتی ہے مگر
‫اس کے اردگرد سنتری گھوم پھر رہے ہوتے ہیں وہاں سے رات کے وقت کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں۔ اگر تم اس گھاس
‫اور خیموں کے انباروں کو آگ لگا سکو تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ صلیبی حکمران ساری دنیا کو بھول کر وہاں پہنچ جائیں
‫گے۔ گھاس‪ ،کپڑے اور لکڑی کے شعلے آسمان تک جائیں گے۔ سارے شہر پر خوف طاری ہوجائے گا۔ آگ لگانے کے ساتھ ہی
‫اگر تم زیادہ سے زیادہ گھوڑوں کو کھول دو تو وہ ڈر کر ایسا بھاگیں گے کہ لوگوں کو کچلتے پھریں گے مگر سوچنا یہ ہے کہ
‫''آگ کون لگائے گا؟ گھوڑے کون کھولے گا؟ اور آگ لگانے کے لیے وہاں پہنچا کس طرح جائے گا؟
‫فرض کرلو‪ ،آگ لگ گئی'' ایک نوجوان نے کہا… ''اس عمارت میں تم میرے بغیر نہیں جاسکو گے وہاں میرے دو ساتھی''
‫موجود ہیں۔ وہ مجھے بتا دیں گے کہ لڑکیاں کہاں ہیں مگر یہ بھی سوچ لو کہ لڑکیوں کو اٹھا الئیں گے تو انہیں کہیں چھپانا
‫بھی ہوگا اور اس کے بعد کرک کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ صلیبی یقین ہی نہیں کریں گے کہ یہ مسلمان کے سوا
‫کسی اور کا کام ہوسکتاہے''۔
‫مسلمان پہلے کتنے کچھ آرام میں ہیں؟''… امام نے کہا… ''میں مشورہ دیتا ہوں کہ ہم یہ کام کر گزریں۔ صلیبیوں کو ''
‫معلوم ہوجانا چاہیے کہ مسلمان کتنا ہی مجبور اور بے بس کیوں نہ ہو وہ غالم نہیں رہ سکتا اور اس کا وار جگر چاک کردیا
‫کرتا ہے''۔
‫برجیس تو تھا ہی کمانڈو قسم کا جاسوس‪ ،وہ کئی راز معلوم کرکے سلطان ایوبی تک پہنچا چکا تھا لیکن اسے اس قسم ‪:

‫کی تخریب کاری کا کوئی موقع نہیں مال تھا۔ وہ ایسی شدید کارروائی کو ضروری سمجھتا تھا تاکہ صلیبیوں کو معلوم ہوجائے
‫کہ مسلمان کیا کرسکتا ہے۔ اس نے عثمان صارم اور اس کے ساتھیوں کو سمجھانا شروع کردیا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اس
‫اعلی فوجی
‫سلسلے کی دو کڑیاں بہت نازک تھیں۔ ایک یہ کہ آگ لگانے کے لیے تین چار لڑکیاں جائیں‪ ،وہ سنتری سے کسی
‫ٰ
‫حاکم کا پتہ پوچھیں اور سنتری کو مارڈالیں‪ ،برجیس نے لڑکیوں کو بھیجنے کی اس لیے سوچی تھی کہ عورت‪ ،خصوصا ً نوجوان
‫لڑکی‪ ،جو تاثر پیدا کرسکتی ہے‪ ،وہ کوئی مرد نہیں کرسکتا۔ مرد شک پیدا کرسکتا ہے۔ دوسرا خطرناک مرحلہ یہ آیا کہ کتنے
‫نوجوان صلیبی حکمرانوں کی عمارت پر حملہ آور ہوں۔ برجیس اور امام نے متفقہ طو رپر کہا کہ زیادہ نہ ہوں۔ یہی آٹھ ہوں
‫تو بہتر ہے کیونکہ زیادہ ہجوم نظر آسکتا ہے اور کسی نہ کسی کے پکڑے جانے کا خطرہ زیادہ ہوگا۔
‫پھر یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ اتنی دلیر لڑکیاں کہاں سے ملیں گی۔ عثمان صارم نے کہا کہ ایک اس کی بہن النور ہوگی‪ ،ایک اور
‫نوجوان نے کہا کہ دوسری اس کی بہن ہوگی۔ باقی چھ نوجوانوں میں کسی کی بہن نہیں تھی۔ امید ظاہر کی گئی کہ یہ دو
‫لڑکیاں اپنی اپنی ایک سہیلی کو ساتھ لے لیں گی۔ برجیس نے ان لڑکیوں کو ان کا کام سمجھانے کی ذمہ داری اپنے اوپر
‫لی۔ سورج غروب ہوگیا تھا۔ امام مسجد ایک طرف چال گیا‪ ،باقی سب ایک ایک کرکے باہر نکلے۔ سب سے آخر میں برجیس
‫باہر نکال۔ وہ پھر وہی موچی تھا جسے کچھ خبر نہیں تھی کہ اس کے اردگرد کیا ہورہا ہے۔ وہ جھکا جھکا اس طرح مری
‫ہوئی چال چال جارہا تھا جیسے ساری دنیا کے رنج وغم کا بوجھ اس کے کندھوں پر گر پڑا ہو۔
‫٭ ٭ ٭
‫عثمان صارم اپنے گھر سے ابھی کچھ دور تھا کہ اسے رینی الیگزینڈر مل گئی۔ وہ عثمان کی بہن النور کی گہری سہیلی بنی
‫ہوئی تھی۔ دونوں بہن بھائی چاہتے تھے کہ وہ ان کے گھر نہ آیا کرے لیکن عثمان صارم اسے اچانک گھر آنے سے روک کر
‫کسی شک میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ رینی اس کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش کیا کرتی تھی جس سے عثمان کو یہ
‫خیال بھی آتا تھا کہ وہ اس کا کردار خراب کرکے اس کا قومی جذبہ مارنا چاہتی ہے۔ اس شام رینی راستے میں مل گئی۔
‫اس نے مسکرا کر دیکھا اور رکنا نہ چاہا مگر رینی رک گئی اور اس کا راستہ روک لیا۔ عثمان صارم کو ایسا کوئی ڈر نہیں
‫تھا کہ وہ مسلمان ہے اور ایک عیسائی لڑکی کے ساتھ رازونیاز کی باتیں کرتا پکڑا گیا تو سزا پائے گا۔ وہ جانتا تھا کہ صلیبی
‫اور یہودی انہیں دیکھ کر خوش ہوں گے کہ ان کی ایک لڑکی مشتبہ مسلمان نوجوان کو اپنا گرویدہ بنا رہی ہے۔ وہ بھی رک
‫گیا اور بوال… ''میں ذرا جلدی میں ہوں رینی''۔
‫تمہیں کوئی جلدی نہیں عثمان!''… رینی نے دوستانہ لہجے میں کہا… ''کیا تم اتنی آسانی سے مجھ سے پیچھا چھڑا ''
‫سکو گے؟''۔
‫میں تم سے پیچھا چھڑانے کی تو نہیں سوچ رہا''۔''
‫جھوٹ نہ بولو عثمان!'' رینی نے مسکرا کر کہا… ''میں تمہارے گھر سے آرہی ہوں‪ ،تمہاری بہن نے مجھے صاف کہہ دیا''
‫ہے کہ یہاں اب کم آیا کرو‪ ،عثمان ناراض ہوتا ہے… کیوں عثمان! یہ بات تم نے خود کیوں نہ کہہ دی؟''۔
‫عثمان صارم کی ذہنی حالت کچھ اور تھی‪ ،وہ جلدی میں تھا اور اس کے جذبات بھڑکے ہوئے تھے۔ وہ ٹالنے کے لیے کوئی
‫موزوں جواب نہ سوچ سکا۔ اس کے منہ سے وہی بات نکل گئی جو اس کے دل میں تھی۔ اس نے کہا… ''رینی! معلوم
‫نہیں میں خود کیوں نہ تمہیں کہہ سکا کہ ہمارے گھر نہ آیا کرو۔ اب سن لو۔ ہماری آپس میں کتنی ہی محبت کیو نہ ہو ہم
‫قومی لحاظ سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ تم ذاتی محبت کی بات کرو گی مگر میں قومی محبت کا قائل ہوں جو صلیب
‫اور قرآن مجید میں کبھی پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہ میرا وطن ہے۔ تمہاری قوم یہاں کیا کررہی ہے؟… جب تک تمہاری قوم کے
‫آخری آدمی کا بھی وجود یہاں رہے گا ہم ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکتے… میرے دل میں جو کچھ تھا‪ ،وہ تمہیں بتا
‫دیا ہے''۔
‫اور میرے دل میں جو کچھ ہے وہ بھی سن لو''۔ رینی نے کہا… ''میرے دل سے تمہاری محبت نہ صلیب نکال سکتی ''
‫ہے‪ ،نہ قرآن مجید۔ میں جب تک تمہیں دیکھ نہ لوں مجھے چین نہیں آتا۔ تمہیں مسکراتا دیکھتی ہوں تو میری روح بھی
‫مسکرا اٹھتی ہے۔ سن لو عثمان ! اگر تم نے مجھے اپنے گھر آنے سے روکا تو ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا''۔
‫تم مجھے دھمکی دے سکتی ہو‪ ،تم حکمران قوم کی لڑکی ہونا!'' عثمان صارم نے تحمل سے کہا۔''
‫اگر میرے دماغ میں حکمرانی کا نشہ ہوتا تو تم یہاں نہ کھڑے ہوتے‪ ،قید خانے میں گل سڑ رہے ہوتے''۔ رینی نے کہا… ''
‫'' تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ مجھے تمہارے متعلق کچھ معلوم نہیں؟ کہو تو تمہاری زمین دوز کارروائیوں کی تفصیل سنا دوں۔
‫کہو تو تمہارے گھر سے وہ سارے خنجر‪ ،تیروکمان اور آتش گیر مادہ برآمد کرادوں جو تم نے اپنے گھر میں میری قوم اور
‫میری حکومت کے خالف استعمال کرنے کے لیے چھپا رکھا ہے اور جو تمہیں گھر میں رکھنے کی اجازت نہیں۔ النور کو تم
‫تیغ زنی سکھا رہے ہو اور تمہارے ساتھ جو دوست ہمارے خالف کام کررہے ہیں‪ ،ان میں سے کئی ایک کو جانتی ہوں لیکن
‫عثمان! تم نہیں جانتے کہ تمہارے اور قید خانے کے درمیان میرا وجود حائل ہے۔ تم جانتے ہوکہ میرا باپ کون ہے اور وہ کیا
‫نہیں جانتا اور کیا نہیں کرسکتا۔ وہ پانچ مرتبہ گھر میں بتا چکا ہے کہ عثمان کی گرفتاری ضروری ہوگئی ہے۔ میں نے پانچوں
‫مرتبہ باپ سے منت کرکے کہا ہے کہ عثمان کی بہن میری بڑی پیاری سہیلی ہے اور اس کا باپ ایک ٹانگ سے معذور ہے۔
‫دو تین بار میرے باپ نے مجھے ڈانٹ کر کہا ہے کہ میں تم لوگوں کے ساتھ تعلق توڑ دوں‪ ،مجھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ
‫مسلمان اس قابل نہیں کہ ان کے ساتھ ا تنی زیادہ محبت اور مروت کی جائے لیکن میں ماں باپ کی اکیلی اوالد ہوں‪ ،وہ
‫''مجھے ناراض نہیں کرنا چاہتے
19:54
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫" قسط نمبر‪49.۔" رینی الیگزینڈر کا آخری معرکہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ناراض نہیں کرنا چاہتے'' ۔سورج غروب ہوگیا تھا‪ ،شام تاریک ہونے لگی تھی۔ عثمان صارم خاموش رہا۔ اس کا ذہن کسی اور
‫طرف تھا۔ وہ کچھ جواب دئیے بغیر چل پڑا۔ ابھی دو ہی قدم اٹھائے تھے کہ رینی نے آگے ہوکر روک لیا
‫مجھے آزاد کردو رینی!''عثمان صارم نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا… ''مجھے پتھر بن جانے دو‪ ،میرا راستہ کوئی اور ''
‫ہے۔ ہم اکھٹے نہیں چل سکیں گے''۔
‫محبت قربانی مانگتی ہے''۔ رینی نے نشیلی آواز میں کہا… ''کہو کیا قربانی مانگتے ہو‪ ،میں وعدہ کرتی ہوں کہ تم جو ''
‫جی میں آئے کرو میں تمہیں قید نہیں ہونے دوں گی''۔

‫اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں''۔ عثمان صارم نے طنزیہ کہا۔ ''کہ میں تمہیں بتاوں گا ہی نہیں کہ میرے جی میں کیا ''
‫آئی ہے اور میں کیا کرنے واال ہوں۔ میں تمہارے اس حسین جسم اور ریشمی بالوں کے جادو میں نہیں آوں گا''۔
‫تو پھر مجھے ثابت کرنا پڑے گا کہ میں تمہارے لیے قربانی کرسکتی ہوں''۔ رینی نے کہا… ''جاو عثمان! تم جلدی میں''
‫ہو لیکن میں تمہارے گھر آنے سے باز نہیں آوں گی''۔
‫عثمان صارم دوڑ پڑا۔ رینی اسے دیکھتی رہی اور آہ بھر کر چلی گئ‫عثمان صارم گھر میں داخل ہوا تو برجیس وہاں پہنچ چکا تھا۔ عثمان اندر چال گیا اور اپنے باپ‪ ،ماں اور النور کو تفصیل سے
‫بتایا کہ صلیبیوں نے مسلمانوں کا ایک قافلہ لوٹا ہے اور دو لڑکیوں کو بھی ساتھ لے آئے ہیں۔ اس نے تمام تر واقعہ سنا کر
‫کہا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان لڑکیوں کو آزاد کرانے جارہا ہے اور اس مہم میں النور کی بھی ضرورت ہے۔ عثمان صارم
‫کے باپ کی ٹانگ صلیبیوں کے خالف لڑتے ہوئے جوانی میں کٹ گئی تھی اور وہ باقی عمر اس افسوس میں کاٹ رہا تھا کہ
‫وہ جہاد کے قابل نہیں رہا۔ اس نے عثمان سے کہا … ''بیٹا! تم نے اگر اتنے خطرناک کام کا ارادہ کرلیا ہے تو مجھے یہ
‫سننا نہ پڑے کہ تم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ غداری کی ہے۔ اس کام میں پکڑے جانے کا امکان زیادہ ہے اگر تم پکڑے گئے
‫اور تمہارے ساتھی نکل آئے تو جان دے دینا اپنے ساتھیوں کے نام پتے نہ بتانا۔ میں تمہیں صالح الدین ایوبی کی فوج کے
‫لیے جوان کررہا تھا لیکن تمہاری بہن کی شادی کرکے تمہیں رخصت کرنے کا سوچا تھا۔ جاو اور میری روح کو مطمئن کردو۔
‫ایک بار پھر سن لو میں کسی سے یہ نہیں کہلوانا چاہتا کہ تمہاری رگوں میں صارم کا خون نہیں تھا''۔
‫باپ نے بیٹی کو بھی اجازت دے دی‪ ،عثمان صارم نے اسے بتایا کہ برجیس ڈیوڑھی میں بیٹھا ہے اور وہ اس مہم کی کمان
‫اور رہنمائی کرے گا۔ باپ ڈیوڑھی میں برجیس کے پاس چال گیا۔ عثمان نے النور سے کہا کہ وہ فورا ً اپنی ایک یا دو ایسی
‫سہیلیوں کو بال الئے جو اس کام میں شامل ہونے کی جرٔات رکھتی ہیں۔ النور اسی وقت باہر نکل گئی اور ذرا سی دیر میں
‫دو سہیلیوں کو بال الئی۔ اتنے میں عثمان صارم کا ایک ساتھی اپنی بہن کے ساتھ آگیا۔ ایک ایک کرکے ساتوں جوان آگئے۔
‫برجیس نے لڑکیوں کو بتایا کہ وہ کس راستے کہاں جائیں گی۔ راستے میں انہیں ایک سنتری روکے گا‪ ،لڑکیاں اس سے پوچھیں
‫گی کہ اوپر کو کون سا راستہ جاتا ہے۔ وہ کہیں گی کہ شاہ رینالڈ نے انہیں بالیا ہے لیکن وہ غلط راستے پر آگئی ہیں۔ ان
‫میں سے ایک لڑکی نوکرانیوں کے بھیس میں ہوگی جس کے سر پر سامان ہوگا۔ سنتری کو ختم کرنا ہوگا‪ ،پھر آگ لگانی
‫ہوگی۔ آگ لگانے واال سامان ''نوکرانی'' کے سر پر ہوگا۔ گھوڑے اس طرح بندھے ہوں گے کہ لمبے لمبے رسوں کے سرے
‫زمین میں دبائے ہوئے ہوں گے اور گھوڑوں کی پچھلی ایک ایک ٹانگ سے زنجیر یا رسی بندھی ہوگی جو رسوں سے گزاری
‫ہوئی ہوگی۔ ان لمبے رسوں کو خنجروں سے کاٹ دینا ہوگا اور چند ایک گھوڑوں کو خنجر بھی مارنے ہوں گے تاکہ وہ منہ
‫زور ہوکر بھاگ اٹھیں۔
‫برجیس نے لڑکیوں کو فورا ً لباس اور حلیہ درست کرنے کو کہا اور ایک کو نوکرانی بنا دیا۔ اس کے منہ اور ہاتھوں پر مٹی اور
‫سیاہی سی مل دی۔ پھر وہ عثمان صارم اور اس کے ساتھیوں کو ہدایات دینے لگا۔ وہ خود اس کے ساتھ جارہا تھا۔ عثمان
‫صارم کے باپ نے بھی انہیں کچھ مشورے دیئے۔ پھر سب کو خنجر دیئے گئے۔ خاصا وقت گزر گیا تھا لیکن برجیس کہہ رہا
‫تھا کہ ابھی شہر جاگ رہا ہے۔ اس جگہ کی رونق اس وقت جاگتی تھی جب شہر سو جاتا تھا۔ تیاریوں میں وقت گزرتارہا
‫اور روانگی کا وقت ہوگیا۔
‫سب کو اکیلے اکیلے جانا اور ایک طے شدہ مقام پر ملنا تھا۔ لڑکیوں کا راستہ الگ تھا۔ انہیں اندازا ً وقت بتا دیا گیا تھا جب
‫انہیں آگ لگانی تھی۔ اس وقت برجیس کی جماعت کو حملے کے مقام پر ہونا چاہیے… یہ بے حد نازک اور خطرناک مہم
‫تھی جس میں وقت کی غلطی اور کسی کی کوئی بے احتیاطی سب کو ایسے قید خانے میں ڈال سکتی تھی جو جہنم سے
‫کم نہیں تھا۔ سب سے زیادہ خطرہ لڑکیوں کا تھا کیونکہ وہ لڑکیاں تھیں۔ تصور کیا جاسکتا تھا کہ ان کے پکڑے جانے کی
‫صورت میں ان کا کیا حشر ہوگا۔ النور نے کہا کہ پکڑے جانے کا خطرہ ہوا تو لڑکیاں اپنے خنجروں سے خودکشی کرلیں گی۔
‫وہ کفار کے ہاتھ زندہ نہیں آئیں گی۔
‫شہر پر خاموشی طاری ہوتے ہوتے سارا شہر خاموش ہوگیا۔ کہیں کوئی روشنی نظر نہیں آتی تھی۔ صرف ایک جگہ تھی جہاں
‫رات کے سکوت کا ذرہ بھر اثر نہیں تھا۔ یہ وہ عمارت تھی جہاں صلیبیوں کی متحدہ کمان کا ہیڈکوارٹر تھا۔ وہیں صلیبی
‫اعلی کمانڈروں کی رہائش بھی تھی۔ یہ لوگ اس ہال میں ایک ایک کر کے آچکے تھے‪ ،جہاں وہ ہر رات
‫حکمرانوں اور
‫ٰ
‫شراب نوشی اور رقص کی محفل جمایا کرتے تھے۔ اس رات ان کا موضوع دو نئی مسلمان لڑکیاں اور مال واسباب تھا جو
‫قافلے سے لوٹا گیا تھا… کسی نے پوچھا کہ یہ لڑکیاں کسی اور کام بھی آسکتی ہیں؟ اس کا جواب ایک فوجی کمانڈر نے یہ
‫دیا کہ لڑکیاں بالغ ذہن کی ہیں‪ ،اس لیے انہیں جاسوسی وغیرہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ایک کی عمر سولہ سترہ
‫سال ہے اور دوسری بائیس تئیس سال۔ کچھ عرصہ تفریح کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔
‫اعلی کمانڈر نے کہا… ''وہ ان کے ساتھ شادی کرلیں''
‫اس کے بعد انہیں اپنے دو فوجی افسروں کے حوالے کردینا''… ایک
‫ٰ
‫گے''۔
‫یہ لڑکیاں ان کے ہنسی مذاق اور غلیظ باتوں کا موضع بنی رہیں اور وہ مسلمانوں کے خالف نفرت کا اظہار کرتے رہے۔ اس
‫وقت لڑکیاں دو الگ الگ کمروں میں تھیں‪ ،وہ رو رو کر بے حال ہورہی تھیں۔ دونوں کے ساتھ ایک ایک خادمہ تھی‪ ،یہ ادھیڑ
‫عمر عورتیں بڑی خرانٹ اور اس فن کی ماہر تھیں۔ وہ لڑکیوں کو نہال چکی تھیں اور انہیں رات کا لباس پہنا رہی تھیں۔
‫لڑکیوں نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا‪ ،ان کے آگے ایسے ایسے کھانے رکھے گئے تھے جو انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں
‫دیکھے تھے لیکن انہوں نے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ دونوں کو ایک دوسرے کے متعلق معلوم نہیں تھا کہ کہاں ہے
‫اور اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ دونوں عورتیں انہیں بڑے ہی حسین سبز باغ دکھا رہی تھیں۔ ایک کو بتایا جارہا تھا کہ
‫اسے فرانس کے بادشاہ نے پسند کیا ہے جو اسے
‫زر و جواہرات سے الد دے گا۔ دوسری کو جرمن کے بادشاہ کی ملکہ بننے کے خواب دکھائے جارہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی
‫انہیں بڑے پیار سے دھمکیاں بھی دی جارہی تھیں کہ انہوں نے اگر ان بادشاہوں کو ناراض کیا تو وہ انہیں فوجی سپاہیوں کے
‫حوالے کردیں گے۔
‫یہ لڑکیاں صحرائی دیہات کی رہنے والی تھیں‪ ،کوئی ایسی بزدل بھی نہیں لیکن بے بس ہوگئی تھیں۔ اپنے تحفظ میں کچھ
‫بھی کرنے کے قابل نہیں رہی تھیں۔ ان کے ماں باپ اور بڑے بھائی نے ان کی عصمت کی خاطر صلیبی استبداد کے عالقے
‫سے ہجرت کی تھی مگر صلیبیوں کے پھندے میں آگئے۔ لڑکیاں پکڑی گئیں۔ ماں باپ مارے گئے اور بھائی قید ہوگیا۔ خدا کے
‫سوا ان کی مدد کرنے واال کوئی نہ تھا۔ وہ قید سے نکل بھاگنے کے بھی قابل نہیں تھیں۔ وہ روتی تھیں تو صرف خدا کو یاد

‫کرتی اور خدا کو ہی مدد کے لیے پکارتی تھیں۔ اپنی عزت کے عالوہ اپنے بھائی آفاق کے لیے وہ بہت پریشان تھیں۔ اس
‫وقت آفاق بیگار کیمپ میں تڑپ رہا تھا۔ وہ زخمی تھا اور اسے پیٹا بھی بہت گیا تھا۔ پہلے کے قیدی شام کے وقت روز مرہ
‫کی مشقت سے آئے تھے۔ انہوں نے ان نئے قیدیوں کو دیکھا ان کی بپتا سنی۔ ان میں صرف آفاق زخمی تھا۔ کسی نے اس
‫کی مرہم پٹی نہیں کی تھی۔ تین چار قیدیوں نے مرہم اور کچھ دیسی دوائیاں چھپا کررکھی ہوئی تھی۔ رات کو انہوں نے آفاق
‫کے زخم صاف کیے اور مرہم بھر کر اوپر کپڑے باندھ دئیے۔
‫آفاق کو اپنے زخموں کا درد محسوس نہیں ہورہا تھا۔ اس کا دھیان اپنی بہنوں کی طرف تھا۔ قیدیوں سے وہ پوچھتا تھا کہ
‫اس کی بہنیں کہاں ہوں گی اور ان کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہوگا۔ اسے بتایا گیا کہ اس قید خانے کی کوئی دیوار نہیں اور
‫انہیں بیڑیاں بھی نہیں ڈالی گئیں‪ ،پھر بھی وہ یہاں سے بھاگ نہیں سکتا کیونکہ سنتری گھوم پھر رہے ہیں اور اگر وہ یہاں
‫سے نکل بھی جائے تو جائے گا کہاں‪ ،کہیں نہ کہیں پکڑا جائے گا۔ اس کی سزا اتنی اذیت ناک موت ہوگی جس کا وہ تصور
‫بھی نہیں کرسکتا۔ اسے بتایا گیا کہ یہاں کئی کئی سالوں سے قیدی پڑے ہیں جو کرک ہی کے رہنے والے ہیں لیکن بھاگنے
‫کی جرٔات نہیں کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ پکڑے نہ گئے تو صلیبی ان کے پورے خاندان کو قید میں ڈال دیں گے۔ ان تمام
‫مجبوریوں اور خطروں کے باوجود آفاق فرار اور بہنوں کو رہا کرانے کی سوچ رہا تھا۔ اس کا جسم چلنے کے بھی قابل نہیں
‫تھا۔ قیدی دن بھر کے تھکے ماندے بے ہوشی کی نیند سوگئے اور آفاق جاگ رہا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫لڑکیاں پکڑی نہ گئی ہوں''۔ عثمان صارم نے سرگوشی میں کہا۔''
‫خدا کو یاد کرو عثمان!'' برجیس نے کہا… ''ہم اس وقت موت کے منہ میں ہیں۔ دل سے تمام خوف نکال دو اور خدا ''
‫کو دل میں بٹھا لو… تمہیں دوسرے لڑکوں پر بھروسہ ہے؟''۔
‫پورا بھروسہ''۔ عثمان نے کہا… ''ان کی فکر نہ کرو۔ مجھے لڑکیوں کی فکر ہے''۔''
‫خدا کو یاد کرو''۔ برجیس نے کہا… ''ہم چوری کرنے نہیں آئے‪ ،اللہ مدد کرے گا''۔''
‫اس وقت عثمان صارم اور برجیس گھر میں نہیں تھے۔ وہ اس عمارت سے جس میں مغویہ لڑکیاں تھیں‪ ،اتنی دور جھاڑیوں
‫میں چھپے ہوئے تھے جہاں سے عمارت انہیں اپنے سر پر کھڑی نظر آرہی تھی۔ ان کے سات ساتھی ان سے تھوڑی ہی دور
‫بکھر کر انہی کی طرح چھپے ہوئے تھے۔ برجیس نے انہیں اچھی طرح بتا دیا تھا کہ کون سے اشارے پر انہیں کیا کرنا ہے۔
‫عثمان صارم کو ان چار لڑکیوں کا غم تھا جو فوجی سامان اور گھاس کو آگ لگانے کے لیے لے گئی تھیں۔ ان میں اس کی
‫اپنی بہن النور بھی تھی۔ اس وقت تک آگ لگ جانی چاہیے تھی۔ توقع یہ تھی کہ اگر سکیم کامیاب رہی تو آگ کے شعلے
‫اٹھیں گے‪ ،پھیلیں گے۔ اس عمارت سے تمام کمانڈر وغیرہ آگ کی طرف بھاگیں گے جو ایک قدرتی ردعمل تھا کیونکہ فوجی
‫سامان کو آگ لگنے کی صورت میں وہ اپنی محفل عیش وطرب میں مگن نہیں رہ سکتے تھے۔ ان کے جاتے ہی ان نوجوانوں
‫کو عمارت پر ٹوٹ پڑنا تھا مگر لڑکیوں کو گئے بہت وقت ہوگیا تھا۔ شاید سنتری نے انہیں روک کر واپس بھیج دیا ہوگا۔
‫لڑکیاں ابھی سنتری تک ہی نہیں پہنچی تھی کیونکہ وہاں سنتری تھا ہی نہیں۔ سنتری کا نہ ہونا خطرہ تھا کیونکہ زندہ رہنے
‫کی صورت میں وہ انہیں آگ لگاتے پکڑ سکتا تھا۔ لڑکیوں نے سنتری کو ڈھونڈنا شروع کردیا۔ وہ خشک گھاس کے پہاڑوں
‫جیسے ڈھیروں کے پاس سے گزر رہی تھیں۔ اندھیرے میں انہیں خیموں کے انبار نظر نہیں آرہے تھے۔ وہ اکٹھی جارہی تھیں۔
‫انہیں ایک جگہ ڈنڈے سے بندھی ہوئی مشعل کا شعلہ نظر آیا۔ وہ ادھر چلی گئیں۔ سنتری سامنے آگیا۔ مشعل کا ڈنڈا زمین
‫میں گڑھا ہوا تھا۔ سنتری نے مشعل اٹھالی اور لڑکیوں کے قریب آکر انہیں روکا۔ وہ لڑکیوں کا بھڑکیال لباس اور سج دھج دیکھ
‫کر مرعوب ہوگیا۔ ان کے ساتھ ایک نوکرانی تھی جس نے سر پر گٹھڑی سی اٹھا رکھی تھی۔ سنتری نے ان سے پوچھا کہ
‫وہ کون ہیں اور کہاں جارہی ہیں۔
‫معلوم ہوتا ہے ہم غلط راستے پر آگئی ہیں''۔ النور نے بڑی شوخ ہنسی سے کہا… ''شاہ رینالڈ کا دعوت نامہ آیا تھا۔ ہم''
‫نے رات کو آنے کا وعدہ کیا تھا۔ ذرا دیر ہوگئی تو کسی نے بتایا کہ یہ راستہ چھوٹا ہے۔ یہاں تو آگے معلوم ہوتا ہے کہ
‫''گھوڑے وغیرہ بندھے ہوئے ہیں‪ ،ہم کدھر جائیں؟
‫ایک معمولی سے سنتری پر رعب طاری کرنے کے لیے شاہ رینالڈ کا نام ہی کافی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ صلیبی بادشاہ کس
‫قماش کے لوگ ہیں۔ رینالڈ نے ان لڑکیوں کو عیش وعشرت اور ناچ گانے کے لیے بالیا ہوگا۔ لڑکیوں کے لباس‪ ،عمریں اور ان
‫اعلی حکام کے مطلب کی
‫کی شکل وصورت اور النور کے بات کرنے کا نڈر اور کھلنڈر سا انداز بتا رہا تھا کہ یہ اس کے
‫ٰ
‫لڑکیاں ہیں۔ اس نے انہیں راستہ بتانا شروع کردیا۔ ایک لڑکی اس کے پیچھے ہوگئی اور اتنی زور سے خنجر اس کی پیٹھ میں
‫گھونپا کہ دل کو چیرتا آگے نکل گیا۔ اس کے ہاتھ سے مشعل گر پڑی۔ النور نے مشعل پر دونوں پائوں رکھ کر اس کا شعلہ
‫بجھا دیا۔ باقی لڑکیوں نے بھی سنتری کے جسم میں اپنا خنجر داخل کردیا۔ سنتری کی آوازبھی نہ نکلی۔ برجیس نے انہیں
‫بتایا تھا کہ گھاس کو آگ لگے گی تو اس کی روشنی میں انہیں خیموں کے ڈھیر اور گاڑیاں نظر آجائیں گی۔ گھاس کے پہاڑ
‫تو انہیں اندھیرے میں بھی نظر آرہے تھے جو لڑکی نوکرانی بنی ہوئی تھی‪ ،اس نے جلدی سے سر سے گٹھڑی اتاری۔ اس
‫میں آتش گیر مادہ اور آگ لگانے کا سامان تھا۔
‫انہوں نے گھاس کے ایک ڈھیر کو آگ لگا دی۔ پھر دوسرے اور تیسرے کو اور ذرا سی دیر میں تمام ڈھیروں کو آگ لگ گئی۔
‫اب خطرہ بڑھ گیا تھا کیونکہ روشنی ہوگئی تھی۔ تھوڑی دور انہیں لپٹے ہوئے خیموں کے ڈھیر نظر یہ کپڑا تھا۔ اسے آگ لگانا
‫مشکل نہ تھا۔ خیمے بھی جلنے لگے۔ خالی گھوڑا گاڑیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی تھیں۔ لڑکیوں میں غیرمعمولی پھرتی
‫آگئی تھی۔ انہوں نے تین چار گاڑیوں پر آتش گیر مادہ پھینکا اور آگ لگا دی۔ اتنی دیر میں گھاس کے شعلے آسمان تک
‫پہنچنے لگے۔ لڑکیاں گھوڑوں کی طرف بھاگیں۔ ابھی تک کوئی بیدار نہیں ہوا تھا۔ لڑکیوں نے خنجروں سے وہ لمبے لمبے رسے
‫کاٹ دیئے جن کے سرے زمین میں دبے ہوئے تھے اور ہر رسے کے ساتھ چالیس سے پچاس گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ لڑکیوں
‫نے چند ایک گھوڑوں کو خنجر مارے۔ وہ بدک کر اور شعلوں کے ڈر سے ہیبت ناک آوازسے ہنہنانے لگے اور اندھا دھند
‫بھاگنے لگے۔ جو گھوڑے کھل نہ سکے‪ ،انہوں نے اودھم بپا کردیا۔ معلوم نہیں کتنے گھوڑے کھل کر ادھر ادھر دوڑنے اور ہنہنانے
‫لگے۔ اونٹ کھلے تھے اور آرام سے بیٹھے تھے۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اندھا دھند بھاگنے لگے۔
‫چاروں لڑکیاں بے لگام گھوڑوں اور بے مہار اونٹوں کے نرغے میں آگئیں۔ دوسری طرف شعلے تھے جن کی تپش دور سے بھی
‫جسموں کو جالتی تھی اور جانوروں کے اس قدر زیادہ شوروغل اور دھماکوں جیسے ٹاپوئوں سے فوج بیدار ہوگئی۔
‫مغویہ لڑکیوں کو دلہنیں بنا دیا گیا تھا‪ ،دونوں کے کمروں میں بیک وقت ایک ایک آدمی داخل ہوا۔ یہ صلیبیوں کے جنگجو
‫حکمران تھے۔ وہ شراب میں بدمست تھے‪ ،خادمائیں باہر نکل گئیں‪ ،لڑکیاں کمروں میں بھاگ دوڑ کر پناہیں ڈھونڈنے لگیں۔ ان

‫کی عصمت کا پاسبان خدا کے سوا کوئی نہ تھا۔ ایک لڑکی دوزانو گر پڑی اور ہاتھ جوڑ کر رو کر خدا کو مدد کے لیے پکارا۔
‫صلیبی نے قہقہہ لگایا اور اس کی طرف بڑھا… باہر اسے شوروغل سنائی دیا۔ یہ غیرمعمولی شور تھا۔ اس نے دروازہ کھول کر
‫دیکھا تو ایسے لگا جیسے پورے شہر کو آگ لگ گئی ہو۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی خوف زدگی کا یہ عالم کہ کچھ گھوڑے اس
‫بلندی پر بھی چڑھ آئے جس پر یہ عمارت تھی۔ اس کا نشہ فورا ً اتر گیا۔ دوسرا بھی باہر نکل آیا۔ دو تین آدمی دوڑتے آئے
‫اور گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا کہ گھاس‪ ،خیموں اور گاڑیوں کو آگ لگ گئی ہے۔ دوڑتے ہوئے جانوروں نے کئی آدمیوں کو
‫کچل دیا ہے۔
‫اگر آگ شہر کو لگتی تو یہ حکام پروانہ کرتے‪ ،وہاں فوج کا سامان جل رہا تھا اور فوج کے سینکڑوں جانور کھل گئے تھے۔
‫ذرا سی دیر میں تمام حکمران اور کمانڈر اور وہاں جو کوئی بھی تھا دوڑتے نکل گئے۔ وہ اپنی نگرانی میں آگ بجھانے کا
‫بندوبست کرنا چاہتے تھے۔ اس عمارت کے اردگرد جو مسلح پہرہ تھا وہ بھی وہاں سے ہٹ گیا۔ باڈی گارڈز بھی اپنے حکام
‫کے پیچھے دوڑتے گئے۔ برجیس نے بلند آواز سے پکارا… ''تم بھی چلو''… اور وہ عمارت کی طرف اٹھ دوڑا۔ اس کے آٹھ
‫جوان بھی دوڑ پڑے۔ ان کے ہاتھو ں میں خنجر تھے۔ عمارت کے برآمدوں میں جاکر اس نے اپنے ان دو ساتھیوں کو پکارنا
‫شروع کردیا جو وہاں عیسائیوں کے بھیس میں مالزم تھے۔ ان میں سے ایک مل گیا۔ اس نے برجیس کو پہچان لیا۔ برجیس
‫نے اس سے پوچھا کہ آج جو لڑکیاں یہاں الئی گئی ہیں۔ وہ کہاں ہیں۔ اسے معلوم نہیں تھا۔ اس نے کمرے دکھا دئیے اور
‫خود بھی ساتھ ہولیا۔ وہاں اب سہولت یہ پیدا ہوگئی تھی کہ کوئی ذمہ دار آدمی موجود نہ تھا۔ پیچھے نوکر چاکررہ گئے تھے
‫جو آگے جاکر بلندی سے آگ کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔ برجیس کی سکیم پوری طرح کامیاب تھی۔
‫وہ مالزم کی رہنمائی میں ان کمروں میں جانے لگے جہاں لڑکیاں ہوتی تھیں‪ ،وہاں برآمدوں میں کچھ لڑکیاں کھڑی تھی۔ ان
‫میں بعض نیم برہنہ تھیں‪ ،ان سے پوچھا گیا کہ آج جو لڑکیاں آئی ہیں وہ کہاں ہیں؟ انہیں بھی معلوم نہ تھا۔ آخر ایک
‫کمرے میں گئے تو ایک لڑکی مل گئی۔ وہ کمرے میں دبکی ہوئی تھی۔ عثمان صارم اور اس کے بعض ساتھیوں نے اسے دن
‫کے وقت دیکھا تھا۔ جب ان دونوں کو لٹے ہوئے قافلے کے ساتھ لے جایا جارہا تھا۔ برجیس کی پارٹی کے تمام آدمی نقاب
‫پوش تھے۔ انہیں دیکھ کر لڑکی نے چیخ ماری۔ برجیس نے اسے بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اور اسے رہا کرانے آئے ہیں۔ مگر وہ
‫لڑکی اتنی ڈری ہوئی تھی کہ ان کے ہاتھ نہیں آرہی تھی۔ انہوں نے اسے زبردستی اٹھا لیا۔ دوسرے کمرے میں اس کی بہن
‫مل گئی اس کا ردعمل بھی یہی تھا۔ اسے بھی زبردستی اٹھایا گیا۔ دوسری لڑکیاں جو ایک عرصے سے صلیبیوں کے پاس
‫تھیں یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ وہ آدمیوں کو ڈاکو سمجھ کر ادھر ادھر بھاگ گئیں۔ مغویہ بہنیں چیخ وپکار کررہی تھیں۔ انہیں
‫برجیس نے غصے سے کہا کہ وہ سب مسلمان ہیں انہیں مسلمان گھرانوں میں لے جاکر چھپائیں گے۔ بڑی ہی مشکل سے
‫انہیں خاموش کیا گیا اور جانبازوں کی یہ جماعت وہاں سے نکل گئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫آگ کا منظر بے حد خوفناک تھا‪ ،شعلے توقع سے کہیں زیادہ اونچے جارہے تھے اور دوردور تک پھیل گئے اور پھیلتے ہی
‫چلے جارہے تھے۔ گھوڑوں اور اونٹوں نے سارے شہر میں قیامت بپا کرکھی تھی۔ سارا شہر جاگ اٹھا تھا۔ گلیوں میں‪ ،سڑکوں
‫پر اور میدانوں میں ان جانوروں نے اس قدر دہشت گردی پھیال دی تھی کہ لوگ دبک کر گھروں میں بیٹھ گئے تھے اور آگ
‫نے جو دہشت پھیالئی تھی‪ ،اس سے بعض لوگ گھروں سے بھاگنے کی تیاریاں کرنے لگے تھے۔ افراتفری اور بھگدڑ مچی ہوئی
‫تھی۔
‫سلطان ایوبی کے جاسوس بھی وہاں موجود تھے۔ وہ عقلمند اور موقع شناس تھے۔ انہوں نے آگ‪ ،بھاگتے دوڑتے جانور اور
‫افراتفری دیکھی تو یہ معلوم کیے بغیر کہ یہ معاملہ کیا ہے‪ ،یہ مشہور کردیا کہ صالح الدین ایوبی کی فوجیں شہر میں داخل
‫ہوگئی ہیں اور شہرکو آگ لگا رہی ہیں۔ یہ افواہ مسلمانوں کے لیے حوصلہ افزا تھی۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے ہوش اڑ گئے۔
‫یہ افواہ آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی۔ غیرمسلموں نے بھاگنا شروع کردیا۔
‫اعلی حکام آگے کی جگہ پہنچے تو وہاں کوئی انسان نہیں تھا۔ انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ مسلمانوں
‫صلیبی حکمران اور
‫ٰ
‫کی فوج قلعے میں کہیں نقب لگا کر اندر آگئی ہے۔ انہوں نے فوج کو قلعے کے دفاع کے لیے جنگی ترتیب میں فورا ً چلے
‫جانے کا حکم دیا اور اسی فوج کے کچھ حصے کو قلعے کے باہر جانے کو کہا۔ دو تین کمانڈر دوڑ کر قلعے کی دیوار پر
‫چڑھے اور باہر دیکھا۔ باہر خاموشی تھی۔ کسی طرف سے حملہ نہیں ہوا تھا۔ قلعے کا عقبی دروازہ کھول دیا گیا تاکہ فوج
‫باہر جاسکے۔ رات کے وقت قلعے کا دروازہ نہیں کھوال جاتا تھا لیکن اس خیال سے دروازہ کھول دیاگیا کہ سلطان ایوبی کا
‫کوئی جانباز دستہ اندر آگیا ہے جس نے بھگدڑ مچا دی ہے۔ یہ باہر کے حملے کا پیش خیمہ ہے‪ ،فوج آرہی ہوگی۔ اس فوج
‫کو شہر سے دور روکنے کے لیے صلیبیوں نے رات کو ہی فوج باہر بھیج دی اور دروازہ کھولنے کا خطرہ مول لے لیا۔ یہ فیصلہ
‫دراصل گھبراہٹ میں کیا گیا تھا اور یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ بعض غیرمسلموں نے جو عقب دروازے کے قریب تھے‪ ،دیکھ لیا
‫کہ وہ دروازہ کھل گیا ہے۔ وہ اندھا دھند دروازے کی طرف بھاگے۔ انہیں دیکھ کر دوسرے شہری بھی ان کے پیچھے گئے۔ وہاں
‫سے فوج گزر رہی تھی۔ شہریوں کا سیالب آگیا جسے کوئی نہ روک سکا۔
‫آگ پھیلتی جارہی تھی‪ ،گھوڑا گاڑیوں کے قریب ہی رسد کی بوریوں کے انبار تھے۔ بہت سا دیگر اقسام کا سامان بھی پڑا
‫تھا۔ آگ پر قابو پانا ضروری تھا۔ شہری گھروں میں چھپ گئے تھے یا بھاگ رہے تھے۔ یہ کام فوج کرسکتی تھی۔ فوج کی
‫کچھ نفری کو بال لیا گیا اور اس کے ساتھ ہی کسی کو ان مسلمان قیدیوں کا خیال آگیا جو بیگار کیمپ میں پڑے ہوئے تھے۔
‫فورا ً حکم دیا گیا کہ قیدیوں کو اس اعالن کے ساتھ لے آئو کہ وہ آگ پر قابو پالیں تو انہیں صبح کے وقت رہا کردیا جائے
‫گا۔ قیدی باہر کے شور سے جاگ اٹھے تھے اور سنتری انہیں ڈنڈے مار مار کر سوجانے کو کہہ رہے تھے۔ اتنے میں حکم آگیا
‫کہ قیدیوں کو پانی النے اور آگ پر پھینکنے کے لیے لے چلو۔ رہا کا اعالن بھی کیا گیا‪ ،ان میں آفاق بھی تھا۔ اس کا جسم
‫ٹھنڈا ہوکر اور زیادہ دکھنے لگا تھا۔ اس نے ایک قیدی سے کہا… ''صلیبیوں کی ساری سلطنت جل جائے میں آگ بجھانے
‫نہیں جائوں گا''۔
‫پاگل نہ بنو''… ایک قیدی نے اسے کہا… ''ان لوگوں نے کہہ دیا ہے کہ آگ بجھائو اور کل رہا ہوجائو لیکن یہ دھوکہ ''
‫ہے۔ یہ کافر جھوٹ بولتے ہیں‪ ،تم ہمارے ساتھ چلو اور بھاگ نکلو۔ ہم نہیں بھاگ سکتے کیونکہ یہ لوگ ہمارے گھروں سے
‫واقف ہیں‪ ،تم نکل جانا''۔
‫جائوں گا کہاں''۔''
‫قیدی نے اسے اپنے گھر کا پتہ بتا کر کہا… ''میں کوشش کروں گا کہ موقع محل دیکھ کر تمہیں اپنے گھر پہنچا دوں لیکن
‫وہاں زیادہ دن نہ رکنا کیونکہ صلیبی میرے سارے کنبے کو سزا دیں گے''۔

‫قیدیوں کو صلیبی لے گئے اور انہیں تقسیم کرکے مختلف کنوئوں پر لے جایا گیا۔ فوجی پانی نکال رہے تھے‪ ،قیدیوں نے
‫مشکیزے اٹھانے شروع کردیئے۔ وہ دوڑ دوڑ کر جاتے اور آگ پر پانی پھینکتے تھے۔ ایک دو چکروں میں سنتری ان کے ساتھ
‫رہے مگر یہ ممکن نہیں تھا۔ قیدی اور فوجی گڈ مڈ ہوگئے۔ کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا۔ صلیبی کمانڈر گھبراہٹ میں سب
‫کو گالیاں دے رہے تھے۔ اتنے میں گھوڑوں کا ڈرا ہوا ریوڑ دوڑتا ہوا آیا۔ آگ بجھانے والے قیدی اور فوجی ان کی زد میں
‫آگئے۔ سب ادھر ادھر بھاگ اٹھے۔ بعض کچلے بھی گئے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آفاق کو وہ پرانا قیدی اپنے ساتھ لے
‫گیا۔ مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہ تھا۔ وہ خوش تھے کہ مسلمان فوج آگئی ہے۔ قیدی اپنے گھر میں د اخل ہوا۔ اس کا سارا
‫خاندان جاگ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر سب بہت مسرور ہوئے لیکن اس نے آفاق کو ان کے حوالے کرکے کہا… ''اسے چھپالو
‫اور جلدی شہر سے نکال دینا۔ میں نہیں رک سکتا۔ صلیبیوں نے کل رہائی کا وعدہ کیا ہے۔ اسے ابھی کوئی نہیں جانتا‪ ،اگر
‫میں یہاں رک گیا تو شاید کبھی بھی رہائی نہیں ملے گی''۔
‫کیا یہ سچ ہے کہ صالح الدین ایوبی کی فوج اندر آگئی ہے؟''… قیدی کے باپ نے پوچھا۔'' ‪:
‫کچھ پتا نہیں''… قیدی نے جواب دیا… ''آگ بہت زور کی ہے‪ ،معلوم نہیں کب بجھے گی''۔''
‫اگر ہماری فوج نہیں آئی تو پھر ہم یہ خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں؟''… قیدی کے باپ نے کہا۔''
‫یہ آدمی خود ہی نکل جائے گا''… قیدی نے کہا… ''یہ کل یہاں سے نکل جائے گا''۔''
‫اس کا ہمیں کوئی خطرہ نہیں''… قیدی کے باپ نے کہا… ''ابھی ابھی تمہارا چھوٹا بھائی دو مسلمان لڑکیوں کو الیا ہے۔''
‫انہیں اس نے اور صارم کے بیٹے عثمان نے اور ان کے دوستوں نے صلیبیوں کے شاہی خانے سے اغوا کیا ہے۔ دونوں کو ہم
‫نے گھر میں چھپا لیا ہے''۔
‫کون ہے وہ لڑکیاں؟ ''… قیدی نے پوچھا۔''
‫کہتے ہیں انہیں کل ایک قافلے سے صلیبیوں نے اغوا کیا تھا''… باپ نے جواب دیا… ''ان کا بھائی سنا ہے‪ ،قید میں ''
‫ہے''۔
‫''آفاق نے تڑپ کر پوچھا… ''کہاں ہیں وہ لڑکیاں؟
‫ذرا سی دیر میں آفاق اپنی بہنوں کو گلے لگا رہا تھا‪ ،خدا نے ان کی فریادیں سن لی تھیں‪ ،یہ بڑا ہی جذباتی منظر تھا۔ ان
‫کے ماں باپ مارے گئے تھے۔ وہ لٹ گئے تھے۔ انہیں ایسی معجزہ نما مالقات کی توقع نہیں تھی… جس قیدی کا یہ گھر
‫تھا‪ ،وہ دوڑ کر باہر نکل گیا۔ وہ قید سے بھاگنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی‪ ،برجیس اور عثمان صارم کے ساتھ تھا۔
‫وہ لڑکیوں کو گھر چھوڑ کر کہیں چال گیا تھا۔
‫وہ اچانک آگیا‪ ،اس نے لڑکیوں سے کہا… ''فورا ً اٹھو شہر سے نکلنے کا موقع پیدا ہوگیا ہے''… آفاق کے متعلق اسے بتایا
‫گیا کہ ان لڑکیوں کا بھائی ہے اور قید سے فرار ہوکر آیا ہے۔ اس نے آفاق کو بھی اپنے ساتھ لیا اور باہر لے گیا۔ باہر تین
‫گھوڑے تھے۔ یہ برجیس کا انتظام تھا۔ اس نے دونوں بہنوں کو گھوڑوں پر سوار کیا اور جب تیسرے گھوڑے پر خود سوار ہونے
‫لگا تو اسے آفاق کے متعلق بتایا گیا۔ اس نے آفاق کو تیسرے گھوڑے پر سوار کیا اور خود چل پڑا اس نے اتنا ہی کہا…
‫'' خدا حافظ دوستو! زندہ رہے تو پھر ملیں گے''… اور وہ دوڑ پڑا۔ وہ شہر کے عقبی دروازے کی طرف جارہا تھا‪ ،جہاں سے
‫ڈرے ہوئے شہریوں کا جلوس باہر کو بھاگا جارہا تھا۔ یہ دروازہ برجیس نے پہلے سے دیکھ رکھا تھا۔ شہر سے نکلنے کا موقع
‫پیدا ہوگیا تھا۔ اس نے کہیں سے تین گھوڑے پکڑے اور لے آیا۔ کسی صلیبی کمانڈر نے دیکھ لیا کہ شہری تو بھاگ رہے ہیں
‫اس نے ذروازہ بند کرنے کا حکم دے دیا۔ برجیس جب وہاں پہنچا تو دروازہ آہستہ آہستہ بند ہورہا تھا اور شہریوں کا ایک
‫ہجوم دروازے میں پھنس گیا تھا۔ ایک واویال بپا تھا‪ ،برجیس نے چالنا شروع کردیا… ''پیچھے سے فوج آرہی ہے‪ ،دروازہ کھول
‫دو‪ ،بھاگو۔ مسلمان آرہے ہیں'' ۔ ہجوم نے آگے کو زور لگایا تو بند ہوتے ہوتے دروازہ کھل گیا۔ انسان رکے ہوئے دریا کی طرح
‫بند توڑ کر نکل گئے۔
‫باہر نکل کر برجیس نے آفاق سے کہا کہ کسی ایک بہن کے پیچھے سوار ہوجائو اگر میں تمہارے ساتھ سوار ہوا تو ایک
‫گھوڑے پر دو مردوں کا وزن زیادہ ہوجائے گا۔ ہمارا سفر لمبا ہے۔ آفاق ایک بہن کے پیچھے سوار ہوگیا۔ دوسری سے اس نے
‫کہا کہ وہ سواری سے ڈرے نہیں‪ ،گھوڑا اسے گرائے گا نہیں۔ انہوں نے گھوڑے دوڑادئیے۔ برجیس کو معلوم تھا کہ راستے میں
‫صلیبی فوج خیمہ زن ہے‪ ،اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کون سی جگہ فوج نہیں ہے۔ وہ اس سمت ہولیا۔ کرک کے بھاگے ہوئے
‫لوگ ادھر ادھر بکھرتے جارہے تھے۔ شعلوں کی روشنی دور دور تک جارہی تھی۔ آفاق اور لڑکیوں کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں
‫کس طرح رہا کرایا گیا ہے۔ برجیس خاموش تھا۔ وہ اگر بولتا تو صرف اتنا کہ آفاق سے اس کی خیریت پوچھتا تھا اور اس
‫کی جو بہن گھوڑے پر اکیلی سوار تھی اس سے پوچھ لیتا تھا کہ وہ ڈر تو نہیں رہی۔ کرک کے شعلے پیچھے ہٹتے جارہے
‫تھے اور رات گھوڑوں کی رفتار کے ساتھ گزرتی جارہی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫صبح طلوع ہوئی تو برجیس سلطان ایوبی کی فوج کے عالقے میں داخل ہوچکا تھا‪ ،اس نے ایک کمان دار سے اپنا تعارف
‫کرایا اور سلطان ایوبی کے متعلق پوچھا کہ کہاں ہوگا۔ کمان دار اسے اپنے دستوں کے کمان دار کے پاس لے گیا‪ ،جس نے
‫اسے بتا دیا کہ سلطان ایوبی کہاں ہوسکتا ہے۔ برجیس اپنی اس کامیابی پر بے حد خوش تھا۔ اس نے صرف لڑکیوں کو
‫صلیبیوں سے آزاد نہیں کرایا تھا بلکہ کرک میں آتش زنی جیسی تخریبی کارروائی کرکے صلیبی فوج کے غیرمسلم شہریوں کو
‫جذبے پر خوف طار ی کرآیا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کو یہ مشورہ دینا چاہتا تھا کہ کرک پر فورا ً حملہ کردیا جائے۔
‫کرک کی صبح بڑی بھیانک تھی۔ شعلوں کی بلندی اورتندی ختم ہوگئی تھی لیکن آ گ ابھی تک سلگ رہی تھی۔ صلیبی فوج
‫کی رسد اور جانوروں کا تمام تر خشک چارہ جل گیا تھا۔ خیموں کے عالوہ بے شمار جنگی سامان نذر آتش ہوگیاتھا۔ کچھ
‫اونٹ زندہ جل گئے تھے۔ تمام گھوڑے اور اونٹ رات بھر دوڑ دوڑ کر تھک گئے اور اب سارے شہر میں آوارہ پھر رہے تھے۔
‫جگہ جگہ ان لوگوں کی الشیں پڑی تھیں جو بے لگام گھوڑوں اور بے مہار اونٹوں کی زد میں آکر کچلے گئے تھے۔ فوجی اور
‫قیدی ابھی تک کنوئوں سے پانی الال کر آگ پر پھینک رہے تھے۔ صلیبی حکام ابھی تک یہ سمجھ رہے تھے کہ سلطان ایوبی
‫کی فوج اندر آگئی ہے لیکن وہاں ایسے کوئی آثار نہیں تھے۔ انہوں نے قلعے کی دیواروں پر جاکر ہر طرف دیکھا۔ باہر صلیبیوں
‫کی اپنی فوج قلعے کے اردگرد موجود تھی۔ اسالمی فوج کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا۔ اب یہ تفتیش کرنی تھی کہ آگ
‫کس طرح لگی۔
‫اس سنتری کی الش ملی جسے لڑکیوں نے خنجروں سے ہالک کیا تھا لیکن گھوڑوں اور اونٹوں نے اسے ایسی بری طرح روندا
‫تھا کہ خنجروں کے زخم پہچانے نہیں جاتے تھے۔ اس سے تھوڑی دور چار زنانہ الشیں ملیں۔ یہ اس میدان میں پڑی ہوئی

‫تھیں جہاں گھوڑے اور اونٹ باندھے جاتے تھے۔ یہ تفتیش کرنے واال حاکم کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ صلیبیوں کی انٹیلی
‫جنس کا ڈائریکٹر ہرمن تھا۔ اس میدان میں الشیں تو اور بھی پڑی تھیں لیکن اسے چار عورتوں کی الشیں ملیں۔ ان کے
‫چہرے گھوڑوں کے پائوں تلے آ آ کر مسخ ہوگئے تھے۔ جسم کا کوئی حصہ سالمت نہیں تھا۔ یہ الشیں ایک دوسری سے دور
‫دور پڑی تھیں۔ ان کے کپڑے تارتار ہوگئے تھے۔ خاک وخون میں ان کا اصل رنگ نظر نہیں آتا تھا۔ اتنا ہی پتا چلتا تھا کہ
‫یہ زنانہ کپڑے ہیں۔ الشیں دیکھ کر بھی یہ ثبوت ملتا تھا کہ یہ عورتوں کی ہیں۔ سب کے جسموں سے کھال اکھڑی ہوئی اور
‫کئی جگہوں سے گوشت باہر آیا ہوا تھا۔ کئی ہڈیاں ننگی ہوگئی تھیں اور ٹوٹی ہوئی بھی تھیں۔ ہر الش کے گلے میں زنجیر
‫اور زنجیر کے ساتھ ایک چھوٹی صلیب بندھی ہوئی تھی۔ یہ صلیبیں اس امر کا ثبوت تھا کہ عورتیں عیسائی تھیں۔
‫ہرمن اور فوجی افسر حیران تھے کہ عورتوں کی الشیں یہاں کیوں پڑی ہیں۔ یہ فوجی عالقہ تھا اور اس طرف سے کسی
‫شہری کو گزرنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی یہ عام گزرگاہ تھی۔ یہ تو جانوروں اور رسد وغیرہ کی جگہ تھی‪ ،وہاں چند
‫اور الشیں بھی پڑی تھیں وہ فوجیوں کی تھیں۔ عورتیں رات کے وقت ادھر کیوں آئیں؟… اس سوال کا جواب دینے واال کوئی
‫نہ تھا۔ صرف قیاس آرائی کی جاسکتی تھی جو کی گئی۔ کہا گیا کہ فوجی پیشہ ور عورتوں کو ادھر لے آئے ہوں گے مگر
‫اصل مسئلہ تو یہ تھا کہ آگ کس طرح لگی۔ شہر کے مسلمانوں پر شک کیا جاسکتا تھا لیکن مجرموں کا سراغ لگانا آسان
‫نہیں تھا۔ حکم دے دیا گیا کہ خفیہ پولیس اور فوج کے سراغ رساں شہر میں مشتبہ مسلمانوں کی چھان بین کریں اور جس پر
‫ذرا بھی شک ہو اسے قید میں ڈال کر تحقیقات کریں۔
‫النور اور اس کی تینوں لڑکیوں کے گھر والے بہت پریشان تھے۔ لڑکیاں واپس نہیں آئی تھیں‪ ،ڈر یہ تھا کہ پکڑی نہ گئی ہوں۔
‫انہوں نے اپنا فرض مکمل کامیابی سے ادا کیا تھا لیکن وہ ابھی تک الپتہ تھیں۔ عثمان صارم اور اس کے دوست ان
‫تماشائیوں کے ہجوم میں جاکھڑے ہوئے جو آتش زدہ جگہ کھڑے تھے۔ وہاں انہیں پتا چال کہ چار عورتوں کی الشیں ملی ہیں۔
‫تھوڑی دیر بعد اعالن ہوا کہ چار عورتوں کی الشیں فالں جگہ رکھ دی گئی ہیں۔ تمام شہری انہیں دیکھ کر پہچاننے کی
‫کوشش کریں۔ تماشائیوں کا ہجوم ادھر چال گیا۔ عثمان صارم اور اس کے دوستوں نے اکٹھی رکھی ہوئی چار الشوں کو دیکھا۔
‫ان کی صلیبیں ان کے سینوں پر رکھ دی گئی تھیں۔ کوئی بھی کسی الش کو نہ پہچان سکا۔ پہچاننے کے لیے وہاں کچھ تھا
‫ہی نہیں۔ چہروں سے بھی کھال اتری ہوئی تھی‪ ،بعض کے چہرے اندر کو پچک گئے تھے۔
‫عثمان صارم کے آنسو نکل آئے‪ ،وہ تماشائیوں میں سے نکل گیا۔ اس کے دوست بھی اس سے جاملے۔ ان سب کو معلوم تھا
‫کہ یہ الشیں کن کی ہیں۔ ان میں ایک عثمان صارم کی بہن النور کی الش تھی۔ باقی تین الشیں اس کی سہیلیوں کی تھیں۔
‫چاروں رات کو اپنا فرض ادا کر کے شہید ہوگئی تھیں۔ ان کی شہادت کا عینی شاہد کوئی بھی نہیں تھا۔ الشوں کی حالت
‫جو کہانی بیان کرتی تھی وہ کچھ ا س طرح ہوسکتی تھی کہ ان لڑکیوں نے سنتری کو ہالک کرکے آگ لگائی۔ بعد میں
‫گھوڑوں کے رسے کاٹے اور انہی گھوڑوں کی بھگدڑ کی زد میں آگئیں۔ معلوم نہیں کتنے سو گھوڑے اور اونٹ الشوں کو روندتے
‫رہے۔ دو لڑکیوں کی عصمت بچانے کے لیے چار لڑکیاں قربان ہوگئیں۔ برجیس نے اپنے ہاتھوں ان لڑکیوں کے گلوں میں صلیبیں
‫لٹکائی تھیں تاکہ بوقت ضرورت وہ صلیبیں دکھا کر ظاہر کرسکیں کہ وہ عیسائی ہیں۔
‫ان لڑکیوں کا جنازہ نہیں پڑھایاگیا۔ انہیں صلیبیوں نے عیسائی سمجھ کر اپنے قبرستان میں کہیں دفن کردیا۔ ان کے لواحقین نے
‫ماتم نہیں کیا۔ ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔ گھروں میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ چاروں لڑکیوں کے باپوں
‫نے ایک ہی جیسے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسالم کے نام پر وہ چار بیٹے قربان کرنے کو تیار ہیں مگر ان سے
‫جو قربانی لی جانے لگی وہ بڑی ہی اذیت ناک تھی۔ صلیبی فوج نے تمام مسلمان گھروں کی خانہ تالشی شروع کردی۔ خطرہ
‫تھا کہ جو ہتھیار انہوں نے گھروں میں چھپا رکھے ہیں‪ ،وہ پکڑے جائیں گے۔ سب نے ہتھیار اندرونی کمروں کے فرش کھود کر
‫دبا دئیے۔ دوسرا خطرہ یہ تھا کہ جو چار لڑکیاں شہید ہوگئی تھیں‪ ،ان کے متعلق جواب دینا مشکل تھا کہ کہاں چلی گئی
‫ہیں۔ آگ کی رات کے دوسرے ہی دن امام کو جب لڑکیوں کی شہادت کی خبر سنائی گئی تو اس نے پہلی بات یہ کہی…
‫'''' تمہارے غیرمسلم پڑوسی اور مسلمان مخبر ضرور پوچھیں گے کہ لڑکیاں کہاں ہیں تو کیا جواب دو گے؟
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
19:55
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫" قسط نمبر‪50.۔" رینی الیگزینڈر کا آخری معرکہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫لڑکیاں کہاں ہیں تو کیا جواب دو گے؟'' امام دانشمند اور دوراندیش انسان تھا‪ ،اس نے گہری سوچ کے بعد کہا… ''چاروں
‫لڑکیوں کے باپ اور بھائی میرے ساتھ آئیں''… وہ آگئے تو اس نے سب کو ایک طریقہ بتایا اور کچھ باتیں ذہن نشین کرائیں۔
‫وہ سب کو صلیبیوں کی انتظامیہ کے دفتر میں لے گیا اور وہاں کے سب سے بڑے حاکم سے مالقات کی اجازت لے کر بڑے
‫غصے اور جذباتی لہجے میں کہا… ''میں ان لوگوں کا امام ہوں‪ ،یہ میرے پاس فریاد لے کر آئے ہیں کہ رات آگ لگی تو یہ
‫سب آگ بجھانے کے لیے اٹھ دوڑے۔ یہ رات بھر کنوئوں سے پانی نکالتے رہے‪ ،شہر میں بھگدڑ مچ گئی۔ کسی کو کسی کا
‫ہوش نہ رہا۔ یہ لوگ صبح کے وقت گھروں کو گئے تو انہیں پتا چال کہ آپ کی فوج کے کچھ آدمی ان کے گھروں میں گھس
‫گئے اور ان کی کنواری لڑکیاں اٹھا کر لے گئے۔ ہماری چار لڑکیاں الپتہ ہیں''۔
‫ہماری فوج پر الزام لگانے سے پہلے سوچ لو''… صلیبی حاکم نے رعب سے کہا۔''
‫جناب! میں مذہبی پیشوا ہوں''… امام نے کہا… ''میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں دھتکار سکتے ہیں اور اپنی''
‫فوج کو بے گناہ کہہ سکتے ہیں لیکن خدا سے آپ کوئی اچھا برا عمل نہیں چھپا سکتے۔ آپ ہمارے حاکم ہیں۔ خدا تو
‫نہیں۔ ان لوگوں نے آپ کی فوج کو نقصان سے بچانے کے لیے ساری رات آگ سے لڑائی لڑی۔ آپ انہیں یہ صلہ دے رہے
‫ہیں کہ یہ بھی تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ ان کی لڑکیوں کو آپ کے فوجی اٹھالے گئے ہیں''۔
‫کچھ دیر بحث کے بعد حاکم نے انہیں کہا کہ ان لڑکیوں کو تالش کیا جائے گا۔ امام اس سے یہی کہلوانا چاہتا تھا۔ باہر آکر
‫جب وہ واپسی کے لیے چلے تو امام نے سب سے کہا کہ اب یہی مشہور کردو کہ رات ان کی لڑکیاں اغوا ہوگئی ہیں۔
‫چنانچہ یہی مشہور کردیا گیا۔ ان کے پڑوس میں رہنے والے غیرمسلموں نے یقین کرلیا۔ رات شہر کی حالت ہی ایسی تھی کہ
‫لوٹ مار اور اغواء آسانی سے کی جاسکتی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫برجیس سلطان ایوبی کے خیمے میں بیٹھا تھا‪ ،آفاق کی مرہم پٹی سلطان ایوبی کا جراح کرچکا تھا۔ آفاق کی دونوں بہنیں بھی

‫خیمے میں بیٹھی تھیں۔ برجیس رات کا کارنامہ سنا چکا تھا۔ سلطان ایوبی بار بار لڑکیوں کو دیکھتا تھا۔ ہر بار اس کی
‫آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں۔ برجیس نے کہا کہ وہ کرک کو ایسی افراتفری اور بھگدڑ میں چھوڑ آیا ہے کہ فوری طور پر حملہ
‫کیا جائے تو حملہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ شہر میں فوجوں کے لیے رسد نہیں رہی۔ جانوروں کے لیے چارہ نہیں رہا‪ ،جانور ڈرے
‫ہوئے ہیں‪ ،شہر پر خوف طاری ہے۔ فوجی بھی ڈری ہوئی ہے۔
‫سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھوگیا۔ بہت دیر بعد اس نے سراٹھایا اور اپنے نائبین اور مشیروں کو بالیا۔ اس نے پہال حکم یہ
‫دیا کہ ان لڑکیوں اور ان کے بھائی کو قاہرہ روانہ کردیا جائے اور ان کی رہائش اور وظیفے کا انتظام کیا جائے۔
‫آپ میری بہنوں کو اپنی عافیت میں لے لیں''… آفاق نے کہا… ''میں آپ کے ساتھ رہوں گا‪ ،مجھے اپنی فوج میں ''
‫شامل کرلیں۔ مجھے اپنی ماں اور باپ کے خون کا انتقام لینا ہے۔ اگر آپ مجھے کرک میں داخل کرسکیں تو میں اندر تباہی
‫مچا دوں گا''۔
‫جنگ جذبات سے نہیں لڑی جاتی''… سلطان ایوبی نے کہا… ''بڑی لمبی تربیت کی ضرورت ہے۔ تم صرف اپنی ماں اور ''
‫اپنے باپ کے خون کا انتقام لینے کو بیتاب ہو‪ ،مجھے ان تمام باپوں اور تمام بیٹیوں کے خون کا انتقام لینا ہے جو صلیبی
‫درندوں کا شکار ہوئی ہیں۔ اپنے آپ کو ٹھنڈا کرو''۔
‫آفاق کی جذباتی حالت ایسی تھی کہ سلطان ایوبی اسے زبردستی قاہرہ بھیجنے سے گریز کرنے لگا۔ اسے کہا کہ پہلے اپنا
‫اعلی کمان دار آگئے۔
‫عالج کرائے‪ ،صحت یاب ہوجائے پھر اس کی خواہش پوری کردی جائے گی… اتنے میں نائب ساالر اور
‫ٰ
‫ان میں زاہدان بھی تھا۔ سلطان ایوبی نے آفاق اور اس کی بہنوں کو باہر بھیج دیا۔ اس نے اجالس میں یہ مسئلہ پیش کیا کہ
‫کیا کرک کو فورا ً محاصرے میں لے لیا جائے؟… اس نے سب کو کرک کی اس وقت کی کیفیت بتائی۔ اس مسئلے پر بحث
‫شروع ہوگئی۔ زاہدان نے اپنے جاسوسوں اور رپورٹوں کی روشنی میں کہا کہ صلیبی فوج صرف کرک میں نہیں باہر بھی ہے اور
‫اس کا ایک حصہ ایسی پوزیشن میں ہے جو ہماری فوج کا محاصرہ باہر سے توڑ دے گا۔ انہوں نے ایسا انتظام کررکھا ہے کہ
‫رسد کی آمدورفت کی حفاظت کے لیے ان کی پوری فوج موجود ہے اگر ان کے پاس وقتی طور پر رسد کی کمی آگئی ہے تو
‫یہ سمجھ کر حملہ کرنا کہ ہمارا محاصرہ کامیاب ہوگا محض خوش فہمی ہے۔ ان کے پاس صرف وہی رسد اور سامان نہیں تھا
‫جو جل گیا ہے۔ ان کی ہر ایک فوج کے ساتھ اپنی اپنی رسد اور سامان موجود ہے اور ان کی نفری ہم سے پانچ چھ گنا
‫ہے۔
‫اجالس کے دوسرے شرکاء نے اپنے اپنے مشور ے پیش کیے۔ ان کی اکثریت فوری حملے کے حق میں تھی اور بعض نے انتظار
‫کی تجویز پیش کی۔ تجاویز اور مشورے جیسے کیسے بھی تھے سلطان ایوبی نے سنے۔ اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ
‫کمانڈروں کا جذبہ شدید تھا۔ ان میں بیشتر نے کہا کہ حملہ جلدی کریں یا دیر سے‪ ،یہ پیش نظر رکھیں کہ ایک بار حملہ
‫کرکے یہ نہ سننا پڑے کہ محاصرہ اٹھالو کیونکہ ہم کمزور ہیں۔ سلطان ایوبی خاموشی سے سنتا رہا‪ ،اس نے آخر میں فوج کے
‫جذبے اور دیگر کوائف کے متعلق پوچھا‪ ،اسے تسلی بخش جواب مال۔
‫میں جلدی حملہ کرنا چاہتا ہوں''… آخر میں سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''لیکن میں جلد بازی کا قائل نہیں‪'' ،
‫میرے سامنے صرف کرک کا قلعہ بند شہر نہیں بلکہ صلیبیوں کی وہ تمام فوج ہے جو انہوں نے باہر پھیال رکھی ہے۔ زاہدان
‫نے ٹھیک کہا ہے کہ کرک کے اندر تباہی سے ہمیں خوش فہمی میں مبتال نہیں ہونا چاہیے تاہم حملہ جلدی ہوگا۔ فاصلہ زیادہ
‫نہیں۔ ایک ہی رات میں ہمارے دستے کرک تک پہنچ سکتے ہیں ا گر انہیں ایک جنگ قلعے سے باہر لڑنی پڑے گی۔ کوچ
‫سے بیشتر ہمیں کرک کے مسلمانوں کو تیار کرنا پڑے گا۔ مجھے اندر کی جو تازہ اطالع ملی ہیں‪ ،وہ یہ ہیں کہ وہاں کے
‫مسلمان درپردہ ایک جماعت کی صورت میں منظم ہوچکے ہیں‪ ،امید کی جاسکتی ہے کہ وہ محاصرے کی صورت میں شہر میں
‫تخریب کاری کریں گے۔ ان کی لڑکیاں بھی میدان میں نکل آئی ہیں۔ صرف چار لڑکیوں نے صلیبیوں کو جو نقصان پہنچایا ہے
‫وہ پچاس پچاس نفری کے چار دستے بھی نہیں پہنچا سکتے۔ ہم کوشش کریں گے کہ شہر میں اپنے چھاپہ مار بھی داخل
‫کردیں''۔
‫مداخلت کی معافی چاہتا ہوں''… برجیس نے کہا… ''اگر چھاپہ مار بھیجنے ہیں تو فورا ً بھیجئے۔ کرک کے جو شہری ''
‫بھاگ گئے ہیں وہ یقینا واپس جائیں گے۔ ان کے پردے میں چھاپہ مار داخل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد ممکن نہیں ہوگا۔
‫آتش زنی کے واقعہ کے بعد صلیبی محتاط ہوجائیں گے اور شہر کے تمام دروازے بند کردیں گے۔ مجھے اجازت دیں کہ میں ان
‫کے ساتھ آج ہی روانہ ہوجاوں۔ وہ اپنے ساتھ کوئی ہتھیار نہ لے جائیں۔ وہاں سے ہتھیار مل جائیں گے''۔
‫آخر فیصلہ یہ ہوا کہ آج ہی رات چھاپہ مار برجیس کی قیادت میں روانہ کردیئے جائیں۔ جہاں تک گھوڑے لے جاسکتے ہیں‪،
‫وہاں تک گھوڑوں پر جائیں۔ آگے پیدل جائیں۔ گھوڑے واپس النے کے لیے کچھ آدمی ساتھ بھیج دیئے جائیں۔ اسی وقت زاہدان
‫سے کہا گیا کہ وہ برجیس کی ہدایات کے مطابق چھاپہ ماروں کو شہری لباس مہیا کرے اور شام کے بعد روانہ کردے۔ سلطان
‫ایوبی نے اپنے فوجی کمانڈروں کو جنگی نوعیت کی ہدایات دیں اور خاص طور پر کہا … ''یہ یاد رکھنا کہ جس فوج سے ہم
‫حملہ کرارہے ہیں‪ ،یہ وہ فوج نہیں جس نے شوبک فتح کیا تھا۔ یہ فوج مصر سے آئی ہے جس میں دشمن نے بے اطمینانی
‫پھیالئی تھی۔ اس فوج کو محاصرے میں لڑنے کا تجربہ نہیں۔ کمان داروں کو چوکنا رہنا پڑے گا۔ مجھے شک ہے کہ اس فوج
‫میں تخریبی ذہن کے سپاہی بھی ہیں۔ میں نے جو دستے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں وہ ترک اور شامی ہیں اور نورالدین زندگی
‫کی بھیجی ہوئی کمک کو بھی اپنے پاس محفوظ میں رکھوں گا۔ حاالت تمہارے خالف ہوگئے تو گھبرا کر پیچھے نہ ہٹ آنا۔
‫میں تمہارے پیچھے موجود رہوں گا… اور یہ بھی یاد رکھو کہ کرک کے مسلمانوں کے ساتھ امیدیں وابستہ نہ کیے رکھنا۔ ان کے
‫لیے جو ہدایات بھیج رہا ہوں‪ ،وہ ایسی ہرگز نہیں ہوں گی کہ یہ اپنے آپ کو ایسے خطرے میں ڈال لیں کہ ان کی مستورات
‫کی عزت بھی محفوظ نہ رہے۔ میں ان سے اتنی زیادہ قربانی نہیں مانگوں گا۔ وہ محکوم اور مجبور ہیں۔ ظلم وتشدد کا شکار
‫ہیں۔ ہم ان کی آزادی اور نجات کے لیے جارہے ہیں‪ ،ان کے بھروسے پر نہیں جارہے''۔
‫چار پانچ دنوں تک کرک میں یہ کیفیت رہی کہ مسلمانوں کے گھروں پر چھاپے پڑ رہے تھے۔ کئی مسلمان محض شک میں
‫گرفتار کرلیے گئے تھے۔ بیگار کیمپ کے جن قیدیوں کو اس وعدے پر آگ بجھانے کے لیے لے گئے تھے کہ انہیں رہا کردیا
‫جائے گا‪ ،انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا۔ صلیبیوں نے مظالم کا ایک نیا دور شروع کردیا تھا۔ ان کا نقصان معمولی نہیں تھا۔ وہ
‫جانتے تھے کہ مسلمانوں کے سوا یہ دلیرانہ تخریب کاری اور کوئی نہیں کرسکتا۔ گرفتار ہونے والوں میں عثمان صارم کے دو
‫دوست بھی تھے جو لڑکیوں کو رہا کرانے کے لیے ان کے ساتھ تھے۔ انہیں درندوں کی طرح اذیتیں دی جارہی تھیں۔ صلیبی
‫بربریت کی حدوں سے بھی آگے نکل گئے تھے مگر انہیں کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ صرف یہ دو کم عمر لڑکے تھے جن
‫کے سینوں میں سراغ تھا لیکن ان کی زبانیں بند تھیں۔ ان کے جسموں میں کچھ نہیں تھا۔ چکر شکنجے میں کس کس کر

‫اور جھٹکے دے دے کر ان کے جوڑ الگ کردئیے گئے تھے لیکن لڑکے خاموش تھے۔
‫آخر ہرمن خود قید خانے میں گیا‪ ،اس کی توجہ بھی ان دو لڑکوں پر تھی۔ اسے مسلمان مخبروں نے بتایا تھا کہ آتش زنی
‫میں ان دو لڑکوں کا بھی ہاتھ ہے۔ مخبر دو مسلمان تھے‪ ،دونوں ان لڑکوں کے پڑوسی تھے۔ وہ معمولی سی حیثیت کے آدمی
‫ہوا کرتے تھے لیکن اب گھوڑا گاڑیوں میں سواری کرتے تھے اور صلیبیوں کے درباری بن گئے تھے۔ وہ صلیبی حاکموں کو
‫گھروں میں بھی مدعو کرتے تھے اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ بٹھاتے اور فخر کرتے تھے۔ ان کی دو دو تین تین بیویاں تھیں اور
‫وہ شراب بھی پیتے تھے۔ انہوں نے ان دو لڑکوں کو آتش زنی کی رات کہیں مشکوک حالت میں دیکھا تھا اور انہیں گرفتار
‫کرادیا۔ ہرمن نے قید خانے میں ان دونوں نوجوانوں کی حالت دیکھی تو اس نے محسوس کیا کہ نزع کی حالت میں پہنچ کر
‫بھی انہوں نے کچھ نہیں بتایا تو یہ کچھ بھی نہیں بتائیں گے۔ ان کے جسم عادی ہوچکے ہیں۔ وہ انہیں اپنے ساتھ لے گیا۔
‫انہیں بڑا اچھا کھانا کھالیا‪ ،پیار شفقت سے پیش آیا۔ ڈاکٹروں کو بال کر انہیں دوائی پالئی اور تشدد کے زخموں اور چوٹوں کا
‫عالج کرایا۔ پھر انہیں سال دیا۔ وہ فورا ً ہی گہری نیند سوگئے۔
‫ہرمن دونوں کے درمیان بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ان میں سے ایک نوجوان صاف الفاظ میں بڑبڑانے لگا۔ ''میں کیا جانوں؟ میرا
‫جسم کاٹ دو‪ ،مجھے کچھ بھی معلوم نہیں اگر کچھ معلوم ہوگا تو کبھی نہیں بتائوں گا‪ ،تم گردن کے ساتھ صلیب باندھتے ہو
‫میں نے قرآن کی ایک آیت باندھی ہوئی ہے''۔
‫تم نے آگ لگائی تھی''… ہرمن نے کہا… ''تم نے صلیبیوں کی کمر توڑ دی ہے‪ ،تم بہادر ہو‪ ،مرگئے تو شہید کہالئو ''
‫گے''۔
‫اگر مرگیا تو''… نوجوان بڑبڑایا… ''اگر مرگیا تو‪ ،جب تک جسم میں جان ہے‪ ،اس جان میں ایمان بھی رہے گا‪ ،جان نکل''
‫جائے گی‪ ،ایمان نہیں نکلے گا''۔
‫ہرمن نے اس کے سوئے ہوئے ذہن میں اپنے مطلب کی باتیں ڈالنے کی بہت کوشش کی لیکن نوجوان کے ذہن نے قبول نہ
‫کیں۔ اتنے میں دوسرا لڑکا بھی بڑبڑانے لگا۔ ہرمن نے اس کی طرف توجہ دی۔ اسی طرح اس کے ذہن میں بھی باتیں ڈالیں
‫جو اس نوجوان نے اگل دیں۔ ہرمن کے ساتھ اس کے تین چار سراغ رساں بھی تھے۔ اس نے بہت دیر کی کوشش کے بعد
‫آہ بھری اور کہا … ''مزید کوشش بے کار ہے‪ ،ان کی زبان سے تم کوئی راز نہیں اگلوا سکو گے۔ یہ بے گناہ معلوم ہوتے
‫تھے مگر میں تمہیں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ اپنے عقیدے اور جذبے کے پکے ہیں۔ میں نے انہیں مرغن کھانوں میں
‫اتنی زیادہ حشیش کھالئی ہے جتنی گھوڑے کو کھال دو تو وہ بھی باتیں کرنے لگے مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کا
‫مطلب یہ ہے کہ ان کا قومی جذبہ جسے یہ لوگ ایمان کہتے ہیں ان کی روحوں میں اترا ہوا ہے۔ تم ان کی روحوں پر کوئی
‫نشہ طاری نہیں کرسکتے۔ دوسری صورت یہی ہے کہ یہ بے گناہ ہوں گے''۔
‫وہ بے گناہ نہیں تھے‪ ،وہ آتش زنی اور لڑکیوں کو آزاد کرانے کی مہم میں شریک تھے۔ صلیبی جسے گناہ اور جرم کہہ رہے
‫تھے وہ مسلمان کے لیے عظیم نیکی اور جہاد تھا جو ان لڑکوں نے روح اور ایمان کی قوت سے کیا تھا۔ حشیش نے انہیں بے
‫ہوش کردیا تھا۔ ان کی عقل کو سال دیا تھا مگر ان کی روحیں بیدار تھیں۔ صلیبی ان کی زبان سے ہلکا سا اشارہ بھی نہ
‫لے سکے۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ لڑکے بے قصور ہیں۔ یہ صلیبیوں کی مجبوری تھی … ان لڑکوں کی آنکھ کھلی تو باہر
‫ویرانے میں پڑے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں دور لے جاکر پھینک دیا۔ وہ اٹھے‪ ،ایک دوسرے کو دیکھا
‫اور گھروں کو چل دیئے۔
‫جو عیسائی اور یہودی باشندے آتش زنی کی رات شہر سے نکل گئے تھے‪ ،وہ یہ دیکھ کر کہ کوئی حملہ نہیں ہوا اور امن
‫وامان ہے تو واپس آنے لگے۔ صلیبیوں کی فوج جو باہر خیمہ زن تھی‪ ،اس نے بھی انہیں یقین دالیا کہ کوئی حملہ نہیں ہوا۔
‫وہ چلے جائیں۔ چنانچہ ایک حکم کے تحت شہر کے دو دروازے ان لوگوں کے لیے کھلے رکھے گئے جو واپس آرہے تھے۔ لوگ
‫کنبہ در کنبہ داخل ہوگئے۔ کرک کے لوگوں نے دیکھا کہ وہ چپ چاپ اور غریب سا موچی جو دنیا کے ہنگاموں سے بے خبر
‫راستے میں بیٹھا جوتے مرمت کیا کرتا تھا‪ ،تین دنوں کی غیرحاضری کے بعد پھر راستے میں آبیٹھا ہے۔ اس نے رات ہی
‫رات پندرہ چھاپہ ماروں کو عثمان صارم اور اس کے نوجوان ساتھیوں کی مدد سے مسلمان گھرانوں میں چھپا دیا تھا۔ ان میں
‫اب کوئی کسی دکان میں مالزم تھا‪ ،کوئی صلیبیوں کے اصطبل کا سائیس بن گیا تھا‪ ،کوئی مذہب کے طالب علم کے روپ میں
‫مسجد میں جھاڑو دیتا تھا۔
‫انہیں اب یہ دیکھنا تھا کہ سلطان ایوبی کے حملے کی صورت میں وہ اندر سے کیا کرسکتے ہیں۔ کرنے واال کام صرف یہ تھا
‫کہ کہیں سے قلعے کی دیوار میں اتنا بڑا شگاف پیدا کریں کہ اس میں سے گھوڑے بھی اندر آسکیں یا قلعے کا کوئی دروازہ
‫کھول سکیں۔ وہ انہی کاموں کے لیے زمین ہموار کررہے تھے۔ عثمان صارم نے اپنی نوجوان جماعت میں اضافہ کرلیا تھا۔
‫لڑکیاں بھی تیار ہوگئی تھیں مگر رینی الیگزینڈر سائے کی طرح عثمان کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ اسے راستے میں روک لیتی
‫''تھی‪ ،اس کے گھر چلی جاتی تھی اور ایک روز اس نے عثمان صارم سے پوچھا… ''عثمان! النور کہاں ہے؟
‫تمہاری قوم کے کسی گناہ گار کے پاس''… عثمان صارم نے جل کر جواب دیا… ''اس پر اللہ کی لعنت''۔''
‫رحمت کہو عثمان!''… رینی نے کہا… ''تم ہمارے خالف لڑ کر مرنے والوں کو شہید کہا کرتے ہو۔ النور شہید ہوگئی ''
‫ہے''۔
‫عثمان صارم چکرا گیا‪ ،اسے کوئی جوا ب نہ بن پڑا''۔''
‫اور ان دو لڑکیوں کوا ٹھانے والوں میں تم بھی تھے''۔ رینی نے کہا… ''لیکن تم ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔ میں نے کہا''
‫تھا کہ تمہاری قید اور آزادی کے درمیان میرا وجود حائل ہے… کہو اور کتنی قربانی مانگتے ہو''۔
‫عثمان صارم آخر نوجوان تھا‪ ،جسم میں جتنا جوش اور جذبہ تھا‪ ،اتنی عقل نہیں تھی۔ وہ دانشمند نہیں تھا۔ رینی کی باتوں
‫''نے اسے پریشان کردیا۔ اس نے جھنجھال کر پوچھا… ''رینی! تم کیا چاہتی ہو؟
‫ایک یہ کہ میری محبت قبول کرلو''… رینی نے جواب دیا… ''دوسرا یہ کہ ان زمین دوز حرکتوں سے باز آجاو''۔''
‫تم اپنی قوم اور اپنی حکومت سے محبت کرتی ہو''۔ عثمان صارم نے کہا… ''اگر تمہارے دل میں میری محبت اتنی ہی''
‫''شدید ہے تو میری قوم سے ہمدردی کیوں نہیں کرتی؟
‫مجھے نہ اپنی قوم سے محبت ہے نہ تمہاری قوم سے''۔ رینی نے کہا… ''میں تمہیں خطرناک کارروائیوں سے صرف اس''
‫لیے روک رہی ہوں کہ تم مارے جاو گے۔ حاصل کچھ بھی نہ ہوگا۔ میں جذباتی نہیں‪ ،حقیقت کی بات کررہی ہوں کہ سلطان
‫ایوبی کرک فتح نہیں کرسکے گا۔ اپنے باپ کی بتائی ہوئی باتوں کے مطابق بات کررہی ہوں۔ جنگ محاصرے کی نہیں ہوگی‪،
‫باہر کرک سے دور ہوگی۔ ہمارے کمانڈر سلطان ایوبی کی چالیں سمجھ گئے ہیں۔ شوبک کی شکست سے انہوں نے سبق

‫حاصل کرلیا ہے۔ اب کرک کے محاصرے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ اگر تم لوگوں نے شہر کے اندر سے کوئی کارروائی کی
‫تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ مارے جاو گے یا گرفتار ہوکر باقی عمر ناقابل برداشت اذیتوں میں گزارو گے۔ میں تمہیں صرف
‫زندہ اور سالمت دیکھنا چاہتی ہوں''۔
‫عثمان صارم سرجھکائے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔ اسے رینی کی آواز سنائی دی… ''سوچوعثمان! سوچو۔ میری باتیں ایک
‫غیرقوم کی لڑکی کی باتیں سمجھ کر ذہن سے اتار نہ دینا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫میں آپ سب کو ایک بار پھر بتا دیتا ہوں کہ یہ کرک ہے شوبک نہیں''۔ سلطان ایوبی نے اپنے کمانڈروں کو آخری ''
‫ہدایات دیتے ہوئے کہا… ''صلیبی چوکنے اور بیدار ہیں‪ ،میری جاسوسی مجھے بتا رہی ہے کہ ہمیں ایک جنگ کرک سے باہر
‫لڑنی پڑے گی۔ شہر کے اندر سے مسلمانوں نے کوئی زمین دوز کارروائی کی تو شاید وہ ہمارے کام نہیں آسکے گی۔ اس کا
‫نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بے چارے مارے جائیں۔ میں انہیں اتنے بڑے امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ انہیں بچانے کی
‫ایک ہی صورت ہے کہ حملہ تیز اور بہت سخت کرو''… ایسے ہی چند اور ضروری احکامات کے بعد سلطان ایوبی نے اس
‫فوج کو کوچ کا حکم دے دیا جسے کرک کا محاصرہ کرنا تھا۔
‫کوچ سورج غروب ہونے کے بعد کیا گیا‪ ،فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ صبح طلوع ہونے تک فوج کرک کے مضافات میں پہنچ گئی
‫جہاں سے محاصرے کی ترتیب میں آگے بڑھی۔ اس فوج کے ساالر کے لیے یہ ایک عجوبہ تھا کہ راستے میں اسے صلیبیوں کا
‫کوئی ایک دستہ بھی نظر نہ آیا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ صلیبیوں نے باہر بھی فوج خیمہ زن کررکھی ہے۔ اسے ایسے راستے
‫سے بھیجا گیا تھا جس طرف صلیبیوں کی فوج نہیں تھی۔ پھر بھی مزاحمت ضروری تھی جو بالکل ہی نہ ہوئی۔ مسلمانوں
‫کی اس فوج نے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔ قلعے کی دیواروں سے تیروں کی بارش برسنے لگی۔ سلطان ایوبی کی فوج نے اس
‫کے جواب میں کوئی شدید کارروائی نہ کی۔ اس کے کمان دار ادھر ادھر سے دیواروں پر چڑھنے یا نقب لگانے یا کسی دروازے
‫کو توڑ کر اندر جانے کے امکانات دیکھتے پھر رہے تھے۔ انہوں نے تیر اندازوں کو بھی خاموش رکھا۔ ان کے ساتھ وہ جاسوس
‫تھے جو شہر سے واقف تھے۔ وہ انہیں بتا رہے تھے کہ اندر کون سی اہم جگہ کہاں ہے۔
‫شہر کے اندر ابھی کسی کو خبر نہیں ملی تھی کہ سلطان ایوبی کی فوج نے قلعے کا محاصرہ کرلیا ہے لیکن یہ محاصرہ ‪:
‫ابھی مکمل نہیں تھا۔ عقب ابھی خالی تھا جہاں دو دروازے تھے۔ اچانک قلعے کے اندر فوجی عالقے میں آگ برسنے لگی۔
‫یہ آتش گیر مادے والی ہانڈیاں تھیں جو سلطان ایوبی کی ایجاد تھی۔ یہ منجنیقوں سے اندر پھینکی جارہی تھیں۔ شہر کے
‫لوگوں نے دیکھا کہ ان کی فوج قلعے کی دیوار پر چڑھ گئی اور باہر کو تیر پہ تیر چال رہی تھی۔ شہر میں خوف وہراس
‫پھیل گیا۔ عیسائی اور یہودی باشندے گھروں میں دبک گئے۔ مسلمان باشندے دعائوں میں مصروف ہوگئے۔ وہ سلطان ایوبی کی
‫فتح کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچھ مسلمان ایسے تھے جو دعائوں کے ساتھ بڑی خطرناک سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ یہ
‫وہاں کے نوجوان تھے جن میں لڑکیاں بھی تھیں اور ان میں سلطان ایوبی کے پندرہ چھاپہ مار بھی تھے۔ شہر کی افراتفری
‫سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کہیں اکٹھے ہوگئے اور قلعے کے بڑے دروازے کو اندر سے کھولنے یا توڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔
‫دروازہ بہت مضبوط اور موٹی لکڑی کا تھا جس پر لوہے کی موٹی موٹی پتریاں بھی مڑی ہوئی تھیں۔ اسے توڑنا آسان نہیں تھا‪،
‫باہر سے مسلمان فوج نے دروازے پر منجنیقوں سے ہانڈیاں پھینکیں‪ ،یہ دوسری قسم کی تھیں۔ یہ ٹوٹتی تھیں تو ان میں سے
‫سیال مادہ بکھر جاتا تھا۔ اس پر فلیتے والے آتشیں تیر چالئے جاتے تو سیال مادہ کو آگ لگ جاتی تھی۔ اس طریقے سے
‫دروازے کو آگ لگائی گئی لیکن لوہے نے لکڑی کو نہ جلنے دیا۔ دروازہ بہت ہی مضبوط تھا۔ اوپر سے صلیبیوں نے وہ تیر
‫برسانے شروع کردیئے جو بہت دور تک جاتے تھے۔ یہ منجنیقوں تک پہنچ گئے جن سے کئی آدمی زخمی اور شہید ہوگئے۔
‫اس خطرے سے بچنے کے لیے منجنیقیں پیچھے کرلی گئیں اور آگ پھینکنے کا طریقہ ناکام ہوگیا۔
‫آخر مسلمان تیر اندازوں کو حکم دیا گیا کہ قلعے کی دیواروں پر جو دشمن کے سپاہی ہیں ان پر تیر برسائیں۔ سارا دن دونوں
‫طرف سے تیر اندازی ہوتی رہی۔ ہوا میں صرف تیر اڑتے نظر آتے تھے۔ صلیبی دفاعی پوزیشنوں میں تھے اور دیواروں کی
‫بلندی پر بھی تھے‪ ،اس لیے زیادہ نقصان مسلمان فوج کا ہورہا تھا۔ مسلمانوں کے نقب زن جو قلعوں کی دیواریں توڑنے کے
‫ماہر تھے‪ ،ہر طرف گھوم پھر کر دیکھ رہے تھے کہ دیوار میں کہاں شگاف ڈاال جاسکتا ہے۔ وہاں چاروں طرف سے اتنے تیر
‫آرہے تھے کہ دیوار کے قریب جانا خودکشی کے برابر تھا۔ شام سے کچھ دیر پہلے نقب زنوں کی آٹھ آدمیوں کی ایک جماعت
‫آگے بڑھی۔ یہ جانباز جب دیوار سے تھوڑی دور رہ گئے تو اوپر سے ان پر اس قدر تیر برسے اور تیروں کے ساتھ اتنی زیادہ
‫برچھیاں آئیں کہ آٹھوں جانباز وہیں شہید ہوگئے۔ ایک ایک کے جسم میں کئی کئی تیر اور برچھیاں لگیں۔
‫رات کا پہال پہر تھا‪ ،رینی اپنے گھر میں تھی۔ اس کا باپ تھکا ہوا آیا تھا۔ یہ کہہ کر سوگیا کہ جلدی جاگ اٹھے گا کیونکہ
‫رات کو بھی اسے کام پر جانا ہے۔ اس نے کہا تھا کہ شہر کے مسلمانوں کے متعلق اطالع ملی ہے کہ وہ اندر سے کوئی
‫بڑی خطرناک کارروائی کرنے والے ہیں۔ ہمیں ہر ایک مسلمان گھرانے پر نظر رکھنی پڑے گی۔ یہ کہہ کر وہ سو گیا تھا۔
‫دروازے پر دستک ہوئی تو کسی مالزم کے بجائے رینی نے دروازہ کھوال۔ باہر ایک مسلمان کھڑا تھا جو بڑی اونچی حیثیت کا
‫مالک تھا۔ صلیبیوں کی طرف سے اسے خوب انعام واکرام ملتا تھا۔ رینی نے اسے بتایا کہ اس کاباپ سویا ہوا ہے‪ ،وہ پیغام
‫دے دے۔ تھوڑی دیر بعد وہ جاگے گا تو اسے بتا دیا جائے گا۔ مسلمان نے کہا کہ وہ خود بات کرنا چاہتا ہے۔ بات بہت اہم
‫اور نازک ہے۔
‫آج رات مسلمان کے بہت سے لڑکے اور لڑکیاں اندر سے قلعے کی دیوار توڑ دیں گے''… رینی کے پوچھنے پر اس نے ''
‫مختصرا ً بتایا اس نے کہا… ''میں نے ان کا ہمدرد اور ساتھی بن کر یہ راز حاصل کیا ہے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ ان میں
‫باہر سے آئے ہوئے چھاپہ مار بھی ہیں اور نیا انکشاف یہ ہے کہ وہ غریب موچی جو راستے میں بیٹھا رہتا ہے وہ سلطان
‫ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہے اور اس کا نام برجیس ہے… میں تمہارے والد کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں تاکہ ان لوگوں کو
‫پھانسنے کے لیے گھات لگائی جائے''۔
‫رینی نے چند ایک مسلمان نوجوانوں کے نام لے کر عثمان صارم کا بھی نام لیاا ور پوچھا… ''کیا یہ لڑکے بھی اس مہم میں
‫''شامل ہیں؟
‫صارم کا بیٹا عثمان تو اس گروہ کا سرغنہ ہے''… مسلمان مخبر نے بتایا… ''اور ان کا سب سے بڑا سرغنہ امام رازی ''
‫ہے''۔
‫آپ تھوڑی دیر تک آجائیں''… رینی نے اسے کہا… ''باپ کو ذرا سی دیر سونے دیں''۔''
‫مگر وہ جانا نہیں چاہتا تھا۔ صلیبیوں کو خوش کرنے اور ان سے انعام وصول کرنیکا اسے نہایت موزوں موقع مل گیا تھا۔ اس

‫کے متعلق مسلمانوں کو معلوم نہیں تھا کہ قرآن کے بجائے صلیب کا وفادار ہے۔ اسی روز مسلمان نوجوانوں اور چھاپہ ماروں
‫نے دیوار توڑنے کی سکیم بنائی تھی۔ اس خفیہ اجتماع میں تین چار بزرگ‪ ،امام اور یہ مسلمان بھی تھا جس نے لڑکوں کو
‫اچھے مشورے دیئے اور سب سے زیادہ جذبے کا اظہار کیا تھا۔ مسلمانوں کو شک تک نہ ہوا کہ وہ صلیبیوں کا پاال ہوا سانپ
‫ہے‪ ،سبھی اسے شہر کا امیر اور معزز تاجر سمجھتے تھے جس کے حسن سلوک کی بدولت صلیبی بھی اس کی عزت کرتے
‫تھے۔
‫وہ واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔ رینی گہری سوچ میں کھوگئی۔ اس نے اسے اندر بٹھانے کے بجائے یہ کہا کہ وہ اسے پوری بات
‫سنائے اور یہ بھی کہا کہ آئو ذرا باہر ٹہل لیتے ہیں‪ ،اتنی دیر میں باپ جاگ اٹھے گا۔ وہ تو صلیبیوں کا غالم تھا۔ اتنے بڑے
‫افسر کی بیٹی کے ساتھ خراماں خراماں چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ کنویں تک پہنچ ) یہ کنواں شہریوں کے لیے کھودا گیا تھا۔
‫بہت ہی دور سے پانی نکال تھا۔ رینی کنویں کے منہ پر رک گئی۔ مسلمان مخبر اسے بات سنا رہا تھا وہ بھی کنویں کے
‫قریب کھڑا تھا۔ رینی نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اور پوری طاقت سے دھکا دیا۔ مسلمان پیچھے کو گرا اور سیدھا کنویں
‫میں گیا۔ اس کی چیخ سنائی دی جو ''دھڑام''کی آواز میں ختم ہوگئی۔
‫رینی اس مسرت کے ساتھ گھر آگئی کہ اس نے ایک ایسا راز کنویں میں ڈبو دیا ہے جو عثمان صارم کی یقینی موت کا
‫باعث بن سکتا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہاں سے وہ ڈرتی ہوئی عثمان صارم کے گھر گئی۔
‫ا س کی ماں کے پاس بیٹھی‪ ،النور کی باتیں کرتی رہی۔ اس نے عثمان کے متعلق پوچھا تو اس کی ماں نے بتایا کہ وہ شام
‫کے بعد ہی گھر سے نکل گیا تھا۔ رینی کو خیال آگیا کہ وہ دیوار توڑنے کی مہم پر چال گیا ہوگا۔ وہ اسے روکنا چاہتی تھی۔
‫اسے ڈر یہ تھا کہ ان کےاجتماع میں کوئی اور مخبر بھی ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی اور نے فوج کو اطالع دے دی ہو۔
‫وہ باہر نکل گئی اور اس طرف چل پڑی جس طرف سے ان لوگوں نے دیوار توڑنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس مسلمان نے جیسے
‫اس نے کنویں میں پھینک دیا تھا‪ ،بتا دیا تھا کہ چھاپہ مار دیوار کے اوپر جاکر صلیبی تیر اندازوں کو ایسے طریقے سے ختم
‫کریں گے کہ کسی کو پتا نہ چل سکے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نیچے سے دیوار کھودیں گے۔ اس کی کھدائی مشکل نہیں‪،
‫وقت طلب تھی۔ اس پارٹی نے بوقت ضرورت لڑائی کا انتظام بھی کررکھا تھا۔ ان کے پاس خنجر اور برچھیاں بھی تھیں۔ یہ
‫ایک غیرمعمولی طور پر دلیرانہ مہم تھی جس کی ناکامی کے امکانات زیادہ تھے۔ انہوں نے جگہ ایسی منتخب کی تھی جہاں
‫پکڑے جانے کا امکان ذرا کم تھا۔
‫یہ گروہ مقررہ جگہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ رینی اس طرف دوڑی جارہی تھی‪ ،وہ عثمان صارم کو روکنا چاہتی تھی۔ اسے شاید
‫علم ہوگیا تھا کہ یہ لوگ پکڑے جائیں گے اور عثمان صارم مارا جائے گا۔ ان جانبازوں کا جانے کا طریقہ اور راستہ کچھ اور
‫تھا۔ رینی پہلے وہاں پہنچ گئی جہاں سے دیوار توڑنی تھی۔ وہاں ابھی کوئی نہیں پہنچا تھا۔ اس نے اندھیرے میں ادھر ادھر
‫دیکھا۔ اچانک پیچھے سے اسے کسی نے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر پرے لے گیا۔ یہ ایک فوجی تھا۔ پرے لے جا کر فوجی نے
‫اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے۔ اس نے باپ کا نام لیا‪ ،اسے کہا گیا کہ وہ وہاں سے چلی جائے مگر وہ وہاں سے نہیں ہٹنا
‫چاہتی تھی۔ وہاں دراصل فوج کا ایک پورا دستہ چھپا ہوا تھا۔ اس کے کمانڈر نے رینی کو بتایا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ
‫یہاں نقب لگانے آرہا ہے اور اسے پکڑنے کے لیے گھات لگائی گئی ہے… یہ اطالع ایک اور مسلمان مخبر نے فوج کو دی
‫تھی۔
‫رینی انہیں یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ گھات سے اٹھ جائیں‪ ،وہ تو صرف عثمان صارم کو بچانا چاہتی تھی۔ اس مسلمان
‫نوجوان کی محبت نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔ اتنے میں ایک فوجی نے کہا… ''اطالع غلط نہیں تھی‪ ،وہ آرہے
‫ہیں''… رینی تڑپ اٹھی۔ اس نے چال کر کہا… ''عثمان! واپس چلے جائو''… دستے کے کمانڈر نے اس کے منہ پر ہاتھ
‫رکھ دیا اور کہا …''یہ بدبخت جاسوس معلوم ہوتی ہے‪ ،اسے گرفتار کرلو''… لیکن گرفتاری کی انہیں مہلت نہ ملی کیونکہ
‫کچھ دور سے شورشرابہ سنائی دینے لگا تھا۔
‫جانبازوں کی یہ پارٹی سیدھی گھات میں آگئی تھی۔ صلیبیوں کے دستے کی تعداد زیادہ تھی۔ پیشتر اس کے کہ جانباز
‫سنبھلتے‪ ،وہ گھیرے میں آچکے تھے۔ مشعلیں جل اٹھیں جن کی روشنی میں جانباز صاف نظر آنے لگے۔ ان کے پاس کھدائی
‫کا سامان‪ ،برچھیاں اور خنجر تھے۔ بھاگ نکلنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ ان میں گیارہ لڑکیاں تھیں‪ ،صلیبی کمانڈر نے
‫بلندآواز سے کہا… ''لڑکیوں کو زندہ پکڑو''… چھاپہ ماروں میں سے کسی نے کہا… ''مجاہدو! بھاگنا نہیں۔ ایک ایک لڑکی
‫کو ساتھ رکھو''۔
‫اور جو معرکہ لڑا گیا‪ ،وہ بڑا ہی خون ریز تھا۔ چھاپہ مار تو تربیت یافتہ لڑاکے تھے‪ ،خوب لڑے لیکن لڑکوں اور لڑکیوں نے
‫صلیبیوں کو حیران کردیا۔ لڑکیاں ڈرنے کے بجائے نوجوانوں کو للکار رہی تھیں۔ انہیں زندہ پکڑنے کی کوشش میں متعدد صلیبی
‫ان کے خنجروں کا شکار ہوگئے مگر صلیبی تعداد میں زیادہ تھے چونکہ یہ معرکہ قلعے میں لڑا جارہا تھا اس لیے صلیبی فوج
‫کے دو دستے اور آگئے۔ اس معرکے میں ایک نسوانی آواز باربار سنائی دیتی تھی… ''عثمان نکل جائو… عثمان! تم نکل
‫جائو''… یہ رینی کی آوازتھی۔ اس وقت تک عثمان لڑ رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک صلیبی آیا‪ ،عثمان کے پاس خنجر تھا
‫اور صلیبی کے پاس تلوار اچانک اس صلیبی کی پیٹھ میں ایک خنجر داخل ہوگیا۔ یہ رینی کا خنجر تھا۔ ایک اور صلیبی نے
‫اسے للکارا‪ ،اس نے مرے ہوئے صلیبی کی تلوار اٹھا لی اور مقابلے پر اتر آئی۔
‫عثمان صارم اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا لیکن کسی صلیبی کی تلوار نے اسے شہید کردیا۔ کچھ دیر بعد جانبازوں میں صرف
‫دو لڑکیاں زندہ رہیں۔ وہ اکٹھی تھیں اور بہت سے صلیبیوں کے گھیرے میں آگئیں۔ گھیرا تنگ ہورہا تھا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ
‫خنجر پھینک دیں‪ ،دونوں نے ایک دوسری کی طرف دیکھا۔ دونوں نے بیک وقت اپنا اپنا خنجر اپنے اپنے دل پر رکھا اور
‫دوسرے لمحے انہوں نے خنجر اپنے دلوں میں اتار دیئے۔ رینی کو زخمی کرکے پکڑ لیا گیا تھا۔ اس نے بعد میں پاگل پن کی
‫کیفیت میں بیان دیا کہ وہ اس سکیم کو ناکام کرکے عثمان صارم کو بچانا چاہتی تھی۔
‫قلعے کی دیوار توڑنے کی امید ختم ہوگئی۔ شہر کے اندر مسلمانوں کی تخریب کاری بھی ختم ہوگئی۔ مسلمانوں کی قیادت
‫کرنے والے جانباز شہید ہوچکے تھے۔ برجیس بھی شہید ہوچکا تھا لیکن سلطان ایوبی کی امیدیں صرف ان کے ساتھ وابستہ
‫نہیں تھیں۔ وہ قلعے سر کرنا جانتا تھا۔ ابھی تو محاصرے کا دوسرا دن تھا مگر اب کے صلیبیوں نے بھی قسم کھالی تھی کہ
‫وہ کرک کا قلعہ سلطان ایوبی کو نہیں دیں گے۔
‫‪ ،جاری ھے

19:56
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫قسط نمبر‪51.۔" میرےفلسطین میں آوں گا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫صالح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے غیر معمولی طور پر مستحکم کرک پر ایسی بے خبری میں حملہ کیا تھا کہ صلیبیوں کو
‫اس وقت خبر ہوئی جب سلطان ایوبی کی فوج کرک کو محاصرے میں لے چکی تھی لیکن محاصرہ مکمل نہیں تھا۔ یہ سہ
‫طرفہ محاصرہ تھا۔ جاسوسوں نے سلطان ایوبی کو یقین دالیا تھا کہ کرک شہر کے مسلمان باشندے ان چھاپہ ماروں کے ساتھ
‫جنہیں سلطان ایوبی نے پہلے ہی شہر میں داخل کردیا تھا‪ ،اندر سے قلعے کی دیوار توڑ دیں گے۔ محاصرے کے چوتھے
‫پانچویں روز اندر سے ایک جاسوس نے باہر آکر سلطان ایوبی کو یہ اطالع دی کہ تمام چھاپہ مار اور چند ایک مسلمان شہری
‫دیوار توڑنے کی کوشش میں شہید ہوگئے ہیں۔ ان میں مسلمان لڑکیاں بھی تھیں اور ان میں ایک عیسائی لڑکی بھی شامل
‫ہوگئی تھی۔ سلطان ایوبی کو یہ بھی بتایا گیا کہ کسی ایمان فروش مسلمانوں کے اس جانباز جماعت میں شامل ہوکر دشمن
‫کو اطالع دے دی تھی جس کے نتیجے میں دشمن نے گھات لگائی اور ساری کی ساری جماعت کو شہید کردیا۔ یہ اطالع
‫بھی دی گئی کہ اب اندر سے دیوار توڑنے کی امیدیں ختم ہوچکی ہیں۔
‫امیدیں ختم ہونی ہی تھیں‪ ،صلیبیوں نے جب دیکھا کہ دیوار توڑنے والوں میں کرک کے مسلمان نوجوانوں اور لڑکیوں کی الشیں
‫تھیں تو انہوں نے مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ اندھا دھند شروع کردی۔ لڑکیوں تک کو نہ بخشا۔ جوانوں کو بیگار کیمپ میں‪،
‫بوڑھوں کو ان کے اپنے گھروں میں اور جوان لڑکیوں کو قلعے کی فوجی بارکوں میں قید کردیا۔ ان میں سے کچھ لڑکیوں نے
‫خودکشی بھی کرلی تھی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ کفار ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ صالح الدین ایوبی کو بھی یہی غم
‫کھانے لگا کہ کرک کے مسلمانوں کو یہ قربانی بہت مہنگی پڑے گی۔ اس نے جب ان جانبازوں کی خبر سنی تو اپنے نائبین
‫سے کہا… ''یہ کارستانی صرف ایک ایمان فروش مسلمان کی ہے۔ اس ایک غدار نے اسالم کی اتنی بڑی فوج کو بے بس
‫کردیا ہے۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے نام پر جانیں قربان کردیں‪ ،ایک یہ مسلمان ہیں جنہوں نے اللہ کا ایمان کفار کے
‫قدموں میں رکھ دیا ہے۔ یہ غدار اسالم کی تاریخ کا رخ پھیر رہے ہیں''… سلطان ایوبی غصے سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی ران
‫پر گھونسہ مار کر بوال… ''میں کرک کو بہت جلدی فتح کروں گا اور ان غداروں کو سزا دوں گا''۔
‫سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کا افسر زاہدان خیمے میں داخل ہوا‪ ،اس وقت سلطان ایوبی کہہ رہا تھا کہ … ''آج رات کو
‫محاصرہ مکمل ہوجانا چاہیے۔ میں آپ کو ابھی بتاتا ہوں کہ کون سے دستے کرک کے پیچھے بھیجے جائیں''۔
‫مداخلت کی معافی چاہتا ہوں امیر مصر!''… زاہدان نے کہا… ''اب شاید آپ محاصرہ مکمل نہیں کرسکیں گے۔ ہم نے ''
‫کچھ وقت ضائع کردیا ہے''۔
‫کیا تم کوئی نئی خبر الئے ہو؟''… سلطان صالح الدین ایوبی نے اس سے پوچھا۔''
‫آپ نے جس کامیابی سے دشمن کو بے خبری میں آن لیا تھا‪ ،اس سے آپ پورا فائدہ نہیں اٹھا سکے''۔ زاہدان نے ''
‫جواب دیا۔ وہ ایسے بے دھڑک انداز سے بول رہا تھا جیسے اپنے سے چھوٹے عہدے کے آدمی کو ہدایات دے رہا ہو۔ سلطان
‫ایوبی نے اپنے تمام سینئر اور جونئیر کمانڈروں اور تمام شعبوں کے سربراہوں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ اسے بادشاہ سمجھ کر
‫فرشی سالم نہ کیا کریں‪ ،مشورے دلیری اور خوداعتمادی سے دیں اور نکتہ چینی کھل کر کیا کریں۔ زاہدان انہی ہدایات پر
‫عمل کررہا تھا۔ اس کے عالوہ وہ انٹیلی جنس کا سربراہ تھا۔ اس کی حیثیت ایسی آنکھ کی سی تھی جو اندھیروں میں بھی
‫دیکھ لیتی تھی اور وہ ایسا کان تھا جو اپنے جاسوسوں کے ذریعے سینکڑوں میل دور دشمن کی سرگوشیاں بھی سن لیا کرتا
‫تھا۔ سلطان ایوبی کو اس کی اہمیت کا احساس تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کامیاب جاسوسی کے بغیر جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔
‫خصوصا ً اس صورتحال میں جہاں صلیبیوں نے سلطنت اسالمی میں جاسوسوں اور تخریب کا جال بچھا رکھا تھا۔ سلطان ایوبی
‫اعلی اور غیرمعمولی طور پر ذہین اور تجربہ کار جاسوسوں کی ضرورت تھی۔ اس میدان میں وہ پوری طرح کامیاب
‫کو نہایت
‫ٰ
‫تھا۔ اس کی انٹیلی جنس کے تین افسر علی بن سفیان اور اس کے دو نائب حسن بن عبداللہ اور زاہدان جانباز قسم کے
‫سراغ رساں اور جاسوس تھے۔ انہوں نے اس محاذ پر صلیبیوں کے کئی وار بے کار کیے تھے۔
‫آپ کو معلوم تھا کہ صلیبیوں نے جہاں کرک کا دفاع مضبوط کررکھا ہے وہاں بہت سی فوج کرک سے دور خیمہ زن ''
‫کررکھی ہے''۔ زاہدان نے کہا… ''آپ کو یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ اس فوج کو باہر سے محاصرہ توڑنے کے لیے استعمال
‫کیا جائے گا۔ جاسوسوں کی اطالع صاف بتا رہی تھیں کہ اب صلیبی قلعے سے باہر لڑیں گے پھر بھی آپ نے فوری طور پر
‫محاصرہ مکمل نہیں کیا۔ اس سے دشمن نے فائدہ اٹھا لیا ہے''۔
‫تو کیا انہوں نے حملہ کردیا ہے؟'' سلطان صالح الدین ایوبی نے بیتابی سے پوچھا۔''
‫آج شام تک ان کی فوج اس مقام پر آجائے گی جہاں ہماری کوئی فوج نہیں''۔ زاہدان نے جواب دیا… ''میرے جاسوس ''
‫جو اطالع الئے ہیں وہ یہ ہیں کہ صلیبی فوج گھوڑ سوار اور شتر سوار ہوگی۔پیادہ دستے بہت کم ہیں‪ ،وہ محاصرے کی جگہ
‫پر آجائیں گے اور دائیں بائیں حملے کریں گے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہمارا محاصرہ ٹوٹ جائے گا۔
‫صلیبیوں کی تعداد بھی زیادہ بتائی جاتی ہے''۔
‫میں تمہیں اور تمہارے جاسوسوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو یہ اطالع الئے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں ''
‫جانتا ہوں یہ کام کتنا دشوار اور خطرناک ہے۔ میں تم سب کو یقین دالتا ہوں کہ صلیبی ہمارے محاصرے کا جو خال پر کرنے
‫اور محاصرے توڑنے آرہے ہیں میں انہیں اسی خال میں گم کردوں گا۔ مجھے اللہ کی مدد پر بھروسہ ہے اگر تم میں کوئی غدار
‫نہیں تو اللہ تمہیں فتح عطا فرمائے گا''۔
‫ابھی وقت ہے''۔ ایک نائب ساالر نے کہا… ''اگر آپ حکم دیں تو ہم تین چار دستے صلیبیوں کے پہنچنے سے پہلے ''
‫بھیج دیتے ہیں۔ محاصرے کا خال پر ہوجائے گا اور صلیبیوں کا حملہ ناکام ہوجائے گا''۔
‫سلطان ایوبی کے چہرے پر پریشانی یا اضطراب کا ہلکا سا تاثر بھی نہیں تھا۔ اس نے زاہدان سے پوچھا… ''اگر تمہاری
‫''اطالع بالکل صحیح ہے تو کیا تم بتا سکتے ہو کہ صلیبی فوج کس وقت حملے کے مقام پر پہنچے گی؟
‫ان کی پیش قدمی خاصی تیز ہے''۔ زاہدان نے جواب دیا… ''ان کے ساتھ خیمے اور رسد نہیں آرہی۔ پیچھے آرہی ہے ''
‫اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ راستے میں کوئی پڑائو نہیں کریں گے اگر وہ اسی رفتار پر آتے رہے تو رات گہری ہونے تک
‫پہنچ جائیں گے''۔
‫خدا کرے کہ وہ راستے میں نہ رکیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''مگر وہ تھکے ہوئے اور بھوکے پیاسے گھوڑوں اور اونٹوں ''

‫کے ساتھ حملہ نہیں کریں گے۔ حملے کے مقام پر آکر جانوروں کو آرام اور خوراک دیں گے۔ اس دوران وہ دیکھیں گے کہ ہم
‫نے جو محاصرہ کررکھا ہے اس میں خال ہے یا نہیں۔ صلیبی اتنے کوڑھ مغز نہیں کہ ایسی پیش بینی اور پیش بندی نہ
‫کریں''… سلطان ایوبی نے اپنے عملے کے دو تین حکام کو بالیا اور انہیں نئی صورتحال سے آگاہ کرکے کہا… ''صلیبی ہمارے
‫جال میں آرہے ہیں‪ ،قلعے کے عقب میں ہم نے محاصرے میں جو خال چھوڑ دیا ہے اسے اور زیادہ کھال کردو۔ دائیں اور بائیں
‫کے دستوں سے کہہ دو کہ ان پر عقب سے حملہ آرہا ہے۔ اپنے پہلوئوں کو مضبوط کرلیں اور دشمن کو اپنے درمیان آنے دیں۔
‫کوئی تیرانداز حکم کے بغیر کمان سے تیر نہ نکالے''۔
‫اس قسم کے احکام کے بعد سلطان ایوبی نے پیادہ اور سوار تیراندازوں کے چند ایک دستوں کو جو اس نے ریزرو میں رکھے
‫ہوئے تھے‪ ،سورج غروب ہوتے ہی ایسے مقام پر چلے جانے کو کہا جو صلیبیوں کے حملے کے ممکنہ مقام کے قریب تھا۔ وہ
‫عالقہ میدانی نہیں تھا اور صحرا کی طرح ریتال بھی نہیں تھا۔ وہ ٹیلوں‪ ،چٹانوں اور گھاٹیوں کا عالقہ تھا۔ سلطان ایوبی نے
‫چھاپہ مار دستوں کے کمانڈر کو بھی بال لیا تھا۔ اسے اس نے یہ کام سونپا کہ صلیبیوں کی فوج کے پیچھے فالں راستے سے
‫یہ رسد آرہی ہے جو رات کو راستے میں تباہ کرنی ہے۔ ایسے اور کئی ایک ضروری احکامات دے کر سلطان ایوبی خیمے سے
‫نکال‪ ،اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ اپنے عملے کے ضروری افراد کو ساتھ لیا اور محاذ کی طرف روانہ ہوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صالح الدین ایوبی خوش فہمیوں میں مبتال ہونے واال انسان نہیں تھا۔ اس نے دور سے محاصرے کا جائزہ لیا اور اپنے عملے
‫سے کہا… ''صلیبیوں سے یہ قلعہ لینا آسان نہیں۔ محاصرہ بڑے لمبے عرصے تک قائم رکھنا پڑے گا''۔ اس نے دیکھا کہ
‫قلعے کی سامنے والی دیوار سے تیروں کا مینہ برس رہا ہے۔ قلعے کے دروازے تک پہنچانا ناممکن تھا… سلطان ایوبی کی فوج
‫تیروں کی زد سے دور تھی۔ جوابی تیر اندازی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ سلطان ایوبی قلعے کے پہلو کی طرف گیا وہاں اسے
‫ایک ولولہ انگیز منظر نظر آیا۔ اس کا ایک دستہ حیران کن تیزی سے قلعے کی دیوار پر تیر برسا رہا تھا۔ چھ منجنیقیں آگ
‫پھینک رہی تھیں۔ دیوار پر جہاں تیر اور آگ کے گولے جارہے تھے وہاں کوئی صلیبی نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ دبک گئے تھے۔
‫سلطان ایوبی دور کھڑا دیکھتا رہا۔ اس کے تقریبا ً چالیس سپاہی ہاتھوں میں برچھیاں اورکدالیں اٹھائے دیوار کی طرف سرپٹ دوڑ
‫پڑے اور دیوار تک پہنچ گئے۔ قلعے کی دیوار پتھروں اور مٹی کی تھی۔ انہوں نے دیوار توڑنی شروع کردی۔ اسی مقصد کے لیے
‫اوپر تیر اور آگ کے گولے برسائے جارہے تھے کہ اوپر سے دشمن ان پر دیوار توڑتے وقت تیر نہ چال سکے۔
‫سلطان ایوبی کے منہ سے بے اختیار نکال… ''آفرین''… مگر اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔ قلعے کی دیوار پر للکار سنائی دی۔
‫عین اس جگہ کے اوپر سے جہاں سلطان ایوبی کے جانبز دیوار توڑ رہے تھے۔ بہت سے صلیبیوں کے سر اور کندھے نظر آئے۔
‫پھر بڑے بڑے ڈول اور ڈرم نظر آئے۔ یہ الٹا دئیے گئے۔ ان میں جلتی ہوئی لکڑیاں اور انگارے نکلے جو ان مجاہدین پر گرے
‫جو نیچے دیوار توڑ رہے تھے۔ مجاہدین نے آگے جاکر تیر برسانے شروع کردیئے جن میں متعدد صلیبی گھائل ہوگئے۔ دیوار کی
‫کسی اور طرف سے تیر آئے جنہوں نے مجاہدین تیر اندازوں کو زخمی اور شہید کردیا پھر دونوں طرف سے اس قدر تیر برسنے
‫لگے کہ ہوا میں اڑتے ہوئے تیروں کا جال تن گیا۔ جانباز دیوار توڑ رہے تھے۔ یہ کام آسان نہیں تھا کیونکہ دیوار بہت ہی
‫چوڑی تھی۔ نیچے سے اس کی چوڑائی اوپر کی نسبت زیادہ تھی۔ ان جانبازوں پر اوپر سے تیر نہیں چالیا جاسکتا تھا مگر
‫ان پر جلتی لکڑیاں اور دہتے انگارے پھینکے جارہے تھے۔ آگ کے ڈول اور ڈرم پھینکنے والوں میں بظاہر کوئی بھی مسلمان تیر
‫اندازوں سے بچ کر نہیں جاتا تھا لیکن وہ تیر کھا کر گرنے سے پہلے آگ انڈیل دیتے تھے۔
‫نیچے یہ عالم تھا کہ آگ بھڑک رہی تھی اور دیوار توڑنے والے شعلوں اور انگروں میں بھی دیوار توڑ رہے تھے۔ تیروں کا
‫تبادلہ ہورہا تھا۔ آخر دیوار توڑنے والے جھلس گئے اور ان میں سے چند ایک اس حالت میں پیچھے کو دوڑے کہ ان کے
‫کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ دیوار سے ہٹے ہی تھے کہ اوپر سے تیر آئے جو ان کی پیٹھوں میں اتر گئے۔ اس طرح ان
‫میں سے کوئی زندہ واپس نہ آسکا۔ دس اور مجاہدین دیوار کی طرف دوڑے اور دشمن کے تیروں میں سے گزرتے ہوئے دیوار
‫تک پہنچ گئے۔ انہوں نے بڑی پھرتی سے دیوار کے بہت سے پتھر نکال لیے۔ اوپر سے ان پر بھی آگ کے ڈرم اور ڈول انڈیل
‫دیئے گئے۔ آگ پھینکنے والوں سے دو اتنا اوپر اٹھ گئے تھے کہ مجاہدین کے تیر سینوں میں کھا کر وہ پیچھے گرنے کے
‫بجائے آگے کو گرے اور دیوار سے سیدھے نیچے اپنی ہی پھینکی ہوئی آگ میں جل گئے مگر دیوار توڑنے والوں میں سے بھی
‫کوئی زندہ نہ بچا۔
‫سلطان ایوبی نے اپنے گھوڑے کو ایڑی لگائی اور اس دستے کے کمانڈر کے پاس جاکر کہا… ''تم پر اور تمہارے جانبازوں پر
‫اللہ کی رحمت ہو۔ اسالم کی تاریخ ان سب کو ہمیشہ یاد رکھے گی جو اللہ کے نام پر جل گئے ہیں۔ اب یہ طریقہ چھوڑ
‫دو‪ ،پیچھے ہٹ آئو۔ اتنی تیزی سے انسان اور تیر ختم نہ کرو۔ صلیبی اس قلعے کے لیے اتنی زیادہ قربانی دے رہے ہیں جس
‫کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا''۔
‫اور ہم بھی اتنی زیادہ قربانی دیں گے جس کا صلیبی تصور نہیں کرسکتے''۔ کمانڈر نے کہا… ''دیوار یہیں سے ٹوٹے گی ''
‫اور ہم آپ کو یہیں سے اندر لے جائیں گے''۔
‫تعالی تمہاری آرزو پوری کرے''۔ صالح الدین ایوبی نے کہا… ''اپنے مجاہدین کو بچا کر رکھو‪ ،صلیبی باہر سے حملہ ''
‫اللہ
‫ٰ
‫کررہے ہیں‪ ،تمہیں شاید باہر لڑنا پڑے گا۔ محاصرہ مضبوط رکھو۔ ہم صلیبیوں کو اندر بھوکا ماریں گے''۔
‫اس دستے کو پیچھے ہٹا لیا گیا مگر کمانڈر نے سلطان ایوبی سے کہا… ''ساالراعظم کی اجازت ہو تو میں شہیدوں کی الشیں
‫اٹھوا لوں؟ اس مقصد کے لیے مجھے پھر یہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا''۔
‫ہاں!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''اٹھوا لو۔ کسی شہید کی الش باہر نہ پڑی رہے''۔''
‫سلطان ایوبی وہاں سے چال گیا۔ اس جانباز دستے نے جس طرح اپنے ساتھیوں کی الشیں اٹھائیں وہ ایک ولولہ انگیز منظر تھا۔
‫جتنی الشیں اٹھانی تھیں‪ ،اتنے ہی مجاہدین شہید ہوگئے۔ سلطان ایوبی دور نکل گیا تھا۔ جنگ کے دوران وہ اپنا پرچم ساتھ
‫نہیں رکھا کرتا تھا تاکہ دشمن کو معلوم نہ ہوسکے کہ وہ کہاں ہے۔ وہ اپنی فوج سے دور ہٹ گیا اور بہت دور جا کر وہ
‫ٹیلوں‪ ،چٹانوں اور گھاٹیوں کے عالقے میں چال گیا۔ وہ گھوڑے سے اترا اور ایک ٹیلے پر جاکر لیٹ گیا تاکہ اسے دشمن نہ
‫دیکھ سکے۔ اسے قلعہ اور شہر کی دیوار نظر آرہی تھی اور کم وبیش ایک میل لمبا وہ عالقہ بھی نظر آرہا تھا جہاں ابھی
‫اس کی فوج نہیں پہنچی تھی۔ اس نے ٹیلوں کے عالقے کا جائزہ لیا‪ ،ہر جگہ گھوما پھرا۔
‫اسی جائزے اور دیکھ بھال میں سورج غروب ہوگیا۔ وہ وہیں رہا۔ شام گہری ہوئی تو اسے اطالع دی گئی کہ اس کے حکم کے
‫مطابق پیادہ اور سوار تیراندازوں کے دستے آرہے ہیں۔ اس نے اپنے قاصد سے کہا کہ کمانڈروں کو بالیا جائے… جب کمانڈر اس
‫کے پاس آئے تو چھاپہ مار دستے کا کمانڈر بھی ان کے ساتھ تھا۔ اسے سلطان ایوبی نے راستہ بتا کر اپنے ہدف پر چلے

‫جانے کو کہا‪ ،پھر وہ دوسرے کمانڈروں کو ہدایات دینے لگا۔
‫٭ ٭ ٭
‫آدھی رات گزری تھی کہ دور سے گھوڑوں کی آوازیں اس طرح سنائی دینے لگیں جیسے سیالب بند توڑ کر آرہا ہو۔ چاند پورا
‫تھا‪ ،چاندنی شفاف تھی۔ صلیبیوں کے گھوڑ سوار ٹیلوں اور چٹانوں سے کچھ دور تک آگئے۔ ان کے پیچھے شتر سوار تھے۔ ان
‫کی تعداد کے متعلق مورخوں میں اختالف پایا جاتا ہے۔ غیر مسلم مورخوں نے تعداد تین ہزار سے کم بیان کی ہے۔ مسلمان
‫مورخ پانچ سے آٹھ ہزار تک بتاتے ہیں۔ اس وقت کے واقعہ نگاروں کی جو تحریریں دستیاب ہوسکی ہیں وہ کم سے کم
‫تعداد دس ہزار اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہزار بتاتے ہیں۔ ان کا کمانڈر ایک مشہور صلیبی حکمران ریمانڈ تھا۔ دو مورخوں نے
‫کمانڈر کا نام رینالٹ لکھا ہے لیکن وہ ریمانڈ تھا۔ وہ اسی حملے کے لیے لمبے عرصے سے وہاں سے دور خیمہ زن تھا۔ اسے
‫اب رات کو یہ صبح ہوتے ہی سلطان ایوبی کی اس فوج پر حملہ کرنا تھا جس نے کرک کو محاصرے میں لے رکھا تھا۔
‫صلیبی سوار گھوڑوں اور اونٹوں سے اترے‪ ،گھوڑوں کے ساتھ دانے کی تھیلیاں تھیں جو گھوڑوں کے آگے لٹکا دی گئیں۔ سواروں
‫کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے جانور کے ساتھ رہیں اور زیادہ دیر کے لیے سو نہ جائیں۔ جانوروں کے لیے چارہ اور پانی
‫کے مشکیزے پیچھے آرہے تھے۔ صلیبیوں نے یہ سوچا تھا کہ مسلمانوں پر عقب سے اچانک حملہ کرکے گھوڑوں کو قلعے کے
‫اندر سے پانی پالئیں گے۔ سلطان ایوبی کے دیدبان صلیبیوں کو بڑی اچھی طرح دیکھ رہے تھے اور گھبرا بھی رہے تھے کیونکہ
‫صلیبیوں کی طاقت بہت زیادہ تھی۔ اتنی زیادہ طاقت سے وہ محاصرہ توڑ سکتے تھے۔
‫صحرا بھی دھنلی تھی‪ ،صلیبیوں کو سوار ہونے‪ ،برچھیاں اور تلواریں تیار رکھنے کا حکم مال۔ یہ دراصل حملے کا حکم تھا۔ وہ
‫ایک بڑی ہی لمبی صف کی صورت میں آگے بڑھے‪ ،جونہی اگلی صف نے ایڑی لگائی‪ ،عقب سے تیروں کی بوچھاڑیں آنے
‫لگیں‪ ،جن سواروں کو تیر لگے‪ ،وہ گھوڑوں پر ہی اوندھے ہوگئے یا گر پڑے اور جن گھوڑوں کو تیر لگے وہ بے قابو ہوکر بھاگ
‫اٹھے۔ اونٹ بھی چلے ہی تھے کہ ان میں بھگدڑ مچ گیا۔ صلیبی کمانڈر سمجھ نہ سکے کہ یہ ہوا کیا ہے اور ان کی ترتیب
‫بکھرتی کیوں جارہی ہے۔ انہوں نے غصے کی حالت میں چالنا شروع کردیا۔ زخمی گھوڑوں اور اونٹوں نے جو واویال بپا کیا اس
‫نے ساری فوج پر دہشت طاری کردی۔ صبح کا اجاال صاف ہوا تو ریمانڈ کو معلوم ہوا کہ وہ سلطان ایوبی کے گھیرے میں آگیا
‫ہے۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔ وہ اسے بہت زیادہ سمجھ رہا تھا۔ ایسی صورتحال کے لیے وہ
‫تیار نہیں تھا۔ اس نے حملہ رکوا دیا لیکن اس کے سواروں کی اگلی صف اس خالکے قریب پہنچ چکی تھی جہاں اس پورے
‫لشکر کو پہنچنا تھا۔
‫محاصرے والی فوج کو پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا۔ وہ اسے حملے کے استقبال کے لیے تیار تھی۔ اس کے مجاہدین نے گرد
‫کے بادل زمین سے اٹھتے اور اپنی طرف آتے دیکھے تو وہ تیار ہوگئے۔ گرد قریب آئی تو اس میں سے گھوڑ سوار نمودار
‫ہوئے۔ مجاہدین نے اپنے آپ کو حملہ روکنے کی ترتیب میں کرلیا۔ وہ دائیں اور بائیں تھے جونہی گھوڑے ان کے درمیان
‫آئے‪ ،مجاہدین پہلوئوں سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ تب صلیبی سواروں کو احساس ہوا کہ وہ اپنے لشکر سے کٹ گئے ہیں اور ان کا
‫لشکر اپنی جگہ سے چال ہی نہیں۔ سلطان ایوبی اس معرکے کی کمان اور نگرانی خود کررہا تھا۔ صلیبی پیچھے کو مڑے تاکہ
‫مقابلہ کریں لیکن سلطان ایوبی نے انہیں یہ چال چل کر بہت مایوس کیا کہ صلیبیوں کا کوئی دستہ سرپٹ رفتار سے کسی
‫طرف حملہ کرتا تھا تو آگے مزاحمت نہیں ملتی تھی۔ البتہ پہلوئوں اور عقب سے اس پر تیر برستے تھے۔ صلیبی کمانڈروں
‫نے اپنے لشکر کو چھوٹے چھوٹے دستوں میں تقسیم کردیا۔ سلطان ایوبی کے کمانڈروں نے اس کی ہدایت کے مطابق آمنے
‫سامنے کے مقابلے کی نوبت ہی نہ آنے دی۔ صلیبیوں کے گھوڑے تھکے ہوئے تھے۔ بھوکے اور پیاسے بھی تھے۔ انہیں جنگ
‫روکنی پڑی۔ وہ چارے اور پانی کے منتظر تھے۔ رسد کو صبح تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔
‫دوپہر تک رسد نہ پہنچی۔ چند ایک سوار دوڑے گئے لیکن وہ مسلمان تیر اندازوں کا شکار ہوگئے۔ اگر وہ زندہ پیچھے چلے
‫بھی جاتے تو انہیں رسد نہ ملتی۔ وہ رات کو ہی سلطان ایوبی کے چھاپہ مار دستے کی لپیٹ میں آگئی تھی۔ اس دستے نے
‫بڑی کامیابی سے شب وخون مارا اور رسد تباہ کردی تھی۔ سلطان ایوبی نے اپنے محفوظہ میں سے مزید دستے بال لیے اور
‫ریمانڈ کے لشکر کو گھیرے میں لے لیا۔ اگر مسلمانوں کی تعداد صلیبیوں جتنی ہوتی تو وہ حملہ کرکے صلیبیوں کو ختم
‫کردیتے۔ سلطان ایوبی اپنی نفری ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اس لشکر کو لڑاتے لڑاتے ٹیلوں اور گھاٹیوں کے عالقے میں
‫لے جا کر گھیرے میں لے لیا۔ اسے معلوم تھا کہ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا صلیبی بے کار ہوتے جائیں گے مگر صلیبیوں
‫کو بڑی کامیابی سے گھیر ے میں لے کر اسے خود بھی نقصان ہورہا تھا۔ اس نے جہاں صلیبیوں کی اتنی بڑی قوت کو باندھ
‫لیا تھا وہاں اس کے اپنے بہت سے ریزور دستے بھی بندھ گئے تھے۔ انہیں اب وہ کسی اور طرف استعمال نہیں کرسکتا تھا۔
‫اس عالقے کے اندر پانی موجود تھا‪ ،جو جانوروں کو کچھ عرصے کے لیے زندہ رکھنے کے لیے کافی تھا۔ فوج کوزندہ رکھنے
‫کے لیے زخمی گھوڑوں اور اونٹوں کا گوشت کافی تھا۔ سلطان ایوبی نے شہر کا محاصرہ مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ صلیبی
‫چین سے نہیں بیٹھے۔ ہر روز کسی نہ کسی جگہ جھڑپ ہوتی تھی اور دن گزرتے جارہے تھے۔ سلطان ایوبی نے قلعے اور
‫شہر کے گرد گھومنا شروع کردیا۔ کہیں سے بھی دیوار توڑنے کی صورت نظر نہیں آر ہی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫محاصرے کا سولہواں سترھواں روز تھا‪ ،شام کے وقت سلطان ایوبی اپنے خیمے میں بیٹھا اپنے نائبین وغیرہ کے ساتھ اس
‫مسئلے پر باتیں کررہا تھا کہ قلعے کو توڑنے کی کیا صورت اختیار کی جائے۔ محافظ نے اندر آکر اطالع دی کہ سوڈان کے
‫محاذ سے قاصد آیا ہے۔ سلطان ایوبی تڑپ کر بوال… ''اسے فورا ً اندر بھیج دو''… اور اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے
‫نکل گیا… ''اللہ کرے یہ کوئی اچھی خبر الیا ہو''۔
‫قاصد اندر آیا تو سلطان ایوبی نے فورا ً پہچان لیا کہ یہ قاصد نہیں‪ ،کسی دستے کا کمانڈر ہے۔ سلطان ایوبی نے بیتابی سے
‫پوچھا… ''کوئی اچھی خبر الئے ہو؟… بیٹھ جائو''۔
‫کمانڈر نے نفی میں سر ہالیا اور بوال… ''جس رنگ میں ساالر اعظم دیکھیں‪ ،خبر اس لیے اچھی نہیں کہ ہم سوڈان میں فتح
‫حاصل نہیں کرسکے اور اس لحاظ سے خبر اچھی ہے کہ ہم نے ابھی شکست نہیں کھائی اور پسپا نہیں ہوئے''۔
‫اس کا مطلب یہ ہوا کہ شکست اور پسپائی کے آثار بھی نظر آرہے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
‫صاف نظر آرہے ہیں'' ۔ کمانڈر نے جواب دیا… ''میں آپ کا حکم لینے آیا ہوں کہ ہم کیا کریں۔ ہمیں کمک کی شدید ''
‫ضرورت ہے۔ اگر ہماری یہ ضرورت پوری نہ ہوئی تو پسپائی کے بغیر چارہ نہیں''۔
‫سلطان ایوبی نے پورا پیغام سننے سے پہلے اس کے لیے کھانا منگوایا اور کہا کہ کھائو اور پیغام سناتے جائو۔ سلطانایوبی کی
‫غیرحاضری میں اس کا بھائی تقی الدین مصر کا قائم مقام امیر مقرر ہوا تھا۔ اس نے سوڈان اور مصر کی سرحد کے قریب

‫فرعونوں کے زمانے کے کھنڈروں میں صلیبیوں کا پیدا کردہ ایک بڑا ہی خطرناک نظریہ اور ڈرامہ پکڑا تھا اور اس کے فورا ً بعد
‫اس نے یہ سوچ کر سوڈان پر حملہ کردیا تھا کہ وہاں مصر پر حملے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ مشیروں اور ساالروں نے اسے
‫کہا تھا کہ وہ سلطان ایوبی سے اجازت لے کر حملہ کریں مگر تقی الدین نے یہ کہہ کر سوڈان پر حملہ کردیا تھا کہ وہ اپنے
‫بھائی کو اس لیے پریشان نہیں کرنا چاہتے کہ وہ صلیبیوں کے اتنے طاقتور لشکر کے خالف لڑ رہا ہے۔ اس نے جوش میں آکر
‫حملہ تو کردیا تھا لیکن یہ کمانڈر پیغام الیا تھا کہ سوڈان میں شکست صاف نظر آرہی ہے۔ عام قاصد کے بجائے تقی الدین
‫نے ایک کمانڈر کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ سلطان ایوبی کو محاذ کی صحیح صورتحال فنی نقطہ نگاہ سے سنا سکے۔ اس
‫سے پہلے سلطان ایوبی کو صرف یہ اطالع ملی تھی کہ تقی الدین نے سوڈان پر حملہ کردیا ہے۔
‫کمانڈر نے جو واقعات سلطان ایوبی کو سنائے وہ مختصرا ً یہ تھے کہ تقی الدین نے حقائق پر نظر ر کھنے کے بجائے جذبے
‫اور جذبات سے مغلوب ہوکر حملے کا حکم دے دیا۔ اس کا جذبہ وہی تھا جو اس کے بھائی سلطان ایوبی کا تھا لیکن دونوں
‫بھائیوں کی جنگی فہم وفراست میں فرق تھا۔تقی الدین نے جو فیصلہ کیا نیک نیتی اور اسالمی جذبے کے تحت کیا مگر وہ
‫اس حقیقت کو نظر انداز کرگیا کہ دشمن پر سوچے سمجھے بغیر ٹوٹ پڑنے کو جہاد یا جنگ نہیں کہتے۔ اس نے سوڈان میں
‫پھیالئے ہوئے اپنے جاسوسوں کی رپورٹوں پر بھی پوری طرح غور نہ کیا۔ ان کی صرف اس اطالع پر توجہ مرکوز رکھی کہ
‫سوڈانیوں کو صلیبی کمانڈر ٹریننگ دے رہے ہیں اور وہاں حملے کی تیاریاں تقریبا ً مکمل ہوچکی ہیں۔ تقی الدین نے دشمن کو
‫تیاری کی حالت میں دبوچ لینے کا فیصلہ کرلیا مگر اس قسم کی انتہائی اہم معلومات حاصل نہ کیں کہ سوڈانیوں کی جنگی
‫طاقت کتنی ہے؟ وہ کتنی طاقت لڑائیں گے اور کتنی ریزو میں رکھیں گے؟ ان کے ہتھیار کیسے ہیں؟ سوار کتنے اور پیادہ کتنے
‫ہیں؟ اور سب سے زیادہ اہم مسئلہ یہ تھا کہ میدان جنگ کس قسم کا اور مصر سے کتنی دور ہوگا اور رسد کے انتظامات کیا
‫ہوں گے؟
‫وہ خرابیاں تو ابتداء میں ہی سامنے آگئیں‪ ،ایک یہ کہ سوڈانیوں نے بلکہ صلیبی کمانڈروں نے تقی الدین کو سرحد پر روکا
‫نہیں۔ اسے بہت دور تک سوڈان کے اس عالقے تک جانے کے لیے راستہ دے دیا جو بڑا ہی ظالم صحرا تھا اور جہاں پانی
‫نہیں تھا۔ دوسرا نقصان یہ سامنے آیا کہ تقی الدین کی
‫فوج دراصل صالح الدین ایوبی کی چالوں پر لڑنے والی فوج تھی جو انتہائی کم تعداد میں دشمن کے بڑے بڑے دستوں کو ‪:
‫تہس نہس کردیا کرتی تھی۔ اس فوج کو صرف سلطان ایوبی استعمال کرسکتا تھا۔ سلطان ایوبی آمنے سامنے کی ٹکر سے
‫ہمیشہ گریز کرتا تھا۔ وہ متحرک قسم کی جنگ لڑتا تھا۔ تقی الدین لشکر کشی کا قائل تھا۔ اس فوج میں تجربہ کار اور
‫جانباز چھاپہ مار دستے بھی تھے لیکن ان کا صحیح استعمال سلطان ایوبی جانتا تھا۔ سوڈان میں جاکر یوں ہوا کہ فوج ایک
‫لشکر کی صورت میں بندھی رہی اور دشمن اپنی چال چل گیا۔ دشمن تقی الدین کو اپنی پسند کے عالقے میں لے گیا اور
‫اس کی فوج پر سلطان ایوبی کے انداز کے شب وخون مارنے شروع کردیئے۔ تقی الدین کے جانوروں اور جوانوں کو پانی کی
‫ایک بوند بھی نہیں ملتی تھی۔ چھاپہ مار دستوں کے کمانڈروں نے اسے کہا کہ وہ انہیں صحرا میں آزاد چھوڑ دے مگر تقی
‫الدین نے اسے خدشے کے پیش نظر انہیں کوئی کارروائی نہ کرنے دی کہ جمعیت اور مرکزیت ختم ہوجائے گی۔
‫جب رسد کا مسئلہ سامنے آیا تو یہ تکلیف دہ احساس ہوا کہ وہ اتنی دور چلے آئے ہیں جہاں تک رسد کو پہنچتے کئی دن
‫لگیں گے اور رسد کا راستہ محفوظ بھی نہیں۔ ہوا بھی ایسے ہی کہ رسد کے پہلے ہی قافلے کی اطالع ملی کہ دشمن نے
‫اسے تباہ نہیں کیا بلکہ تمام تر رسد اور جانور اڑالے گیا ہے۔ اس حادثے کی اطالع پر چھاپہ مار دستوں کے ایک سینئر
‫کمانڈر اور تقی الدین میں گرما گرمی ہوگئی۔ کمانڈر نے کہا کہ وہ لڑنے آئے ہیں اور لڑیں گے لیکن اس طرح نہیں کہ دشمن
‫شب وخون مار رہا ہے۔ رسد لوٹ کر لے گیا ہے اور ہم مرکزیت کے پابند بیٹھے رہیں۔ تقی الدین نے حکم کے لہجے میں
‫سخت کالمی کی تو کمانڈر نے کہا… ''آپ تقی الدین ہیں‪ ،صالح الدین نہیں۔ ہم اس عزم اور اس طریقے سے لڑیں گے جو
‫ہمیں صالح الدین ایوبی نے
‫سکھایا ہے۔ ہم چھاپہ مار ہیں۔ ہم دشمن کے پیٹ کے اندر جاکر اس کا پیٹ چاک کیا کرتے ہیں۔ آپ کا یہ لشکر بھوکا
‫مرررہا ہے اور رسد دشمن لے گیا ہے۔ ہم دشمن کی رسد لوٹ کر اپنی فوج کو کھالنے کے عادی ہیں''۔
‫واقعہ نگار لکھتے ہیں کہ تقی الدین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ جانتا تھا کہ چھاپہ ماروں کا یہ کمانڈر کس جذبے سے
‫تعالی کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ میں ان جانبازوں کو
‫پاگل ہوا جارہا ہے۔ اس نے جذباتی لہجے میں کہا… ''میں ذات باری
‫ٰ
‫جو فلسطین میں لڑتے ہوئے آئے ہیں‪ ،ناحق موت کے منہ میں نہیں دھکیلنا چاہتا''۔
‫پھر آپ کو حملہ بھی نہیں کرنا چاہیے تھا''۔ کمانڈر نے کہا… ''ہم میں کون ہے جو اللہ کے نام پر جان دینے کے یے ''
‫تیار نہیں‪ ،ہم موت کے منہ میں آچکے ہیں اور یہی مسلمان کی شان ہے کہ وہ موت کے منہ میں جاکر اپنے آپ کو اللہ کے
‫قریب محسوس کرتا ہے۔ آپ جذبات سے نکلیں‪ ،ہم دشمن کے جال میں آچکے ہیں''۔
‫تقی الدین کوئی ایسا اناڑی بھی نہیں تھا‪ ،اسے سلطان ایوبی کے یہ الفاظ یاد تھے کہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ کر کسی کو
‫حکم نہ دینا اور میدان جنگ میں جاکر اپنی غلطیوں سے چشم پوشی نہ کرنا۔ اس نے اس کمانڈر کی سخت کالمی کو
‫اعلی کمانڈروں کو بال کر جنگ کی صورتحال اور آئندہ اقدام کے متعلق بات چیت کی۔
‫گستاخی نہ سمجھا اور اسی وقت تمام
‫ٰ
‫فیصلہ ہوا کہ چھاپہ ماروں کو جوابی کارروائیاں کرنے کے لیے پھیال دیا جائے۔ رسد کے راستے کو بھی چھاپہ مار اپنی حفاظت
‫میں لے لیں۔ فوج کے متعلق یہ فیصلہ ہوا کہ اسے تین حصوں میں تقسیم کرکے دشمن پر تین اطراف سے حملہ کیا جائے۔
‫تقی الدین نے اپنے پاس جو محفوظہ رکھا وہ خاصا کم تھا۔ اس تقسیم ا ور ترتیب سے یہ فائدہ ہوا کہ فوج اس عالقے سے
‫نکل گئی جہاں پانی نہیں تھا۔ ریت اور ٹیلوں کا سمندر تھا مگر فوج بکھر گئی۔ دشمن نے تینوں حصوں پر حملے کرکے انہیں
‫اور زیادہ بکھیر دیا۔ جانی نقصان بہت ہونے لگا‪ ،نہایت تیزی سے کمانڈروں نے اپنے اپنے دستوں کو الگ الگ کرکے اسی
‫نوعیت کی جنگ شروع کردی جو انہیں سلطان ایوبی نے سکھائی تھی مگر صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ جیت نہیں سکیں
‫گے۔ انہوں نے جذبہ قائم رکھا۔ رسد اور کمک کا سوال ہی ختم ہوگیا تھا۔ وہ شب وخون مارتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ
‫حاصل کرلیتے تھے۔ چھاپہ مار دستے نہایت جانبازی سے شب وخون مارتے دشمن کا نقصان کرتے اور جو ہاتھ لگتا وہ مختلف
‫دستوں تک پہنچا دیتے تھے۔
‫مرکزی کمان ختم ہوچکی تھی‪ ،تقی الدین اپنے عملے کے ساتھ بھاگتا دوڑتا رہتا تھا۔ جذبے کی حد تک وہ مطمئن تھا۔ اسے
‫کہیں سے بھی ایسی اطالع نہ ملی کہ کسی دستے یا جماعت نے ہتھیار ڈال دیئے ہوں۔ جنگ چھوٹے چھوٹے معرکوں اور
‫فرد فردا ً یہ فیصلہ کرلیا
‫جھڑپوں میں تقسیم ہوتے ہوتے آدھے سوڈان تک پھیل گئی۔ مسلمان کمانڈروں نے
‫ً
‫کہ وہ چھاپہ مار قسم کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ سوڈان سے نکلیں گے نہیں۔ دشمن کا نقصان بھی ہورہا تھا۔ ایک وقت

‫آگیا‪ ،جب دشمن پریشان ہوگیا کہ مسلمانوں کو سوڈان سے کس طرح نکاال جائے۔ مسلمان فوجی صحرائوں‪ ،بیابانوں اور دیہاتی
‫آبادیوں میں پھیل گئے تھے۔ اب مرکز کو یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ جانی نقصان کتنا ہوچکا ہے اور کتنی نفری باقی ہے۔
‫یہ اندازہ ضرور ہورہا تھا کہ دشمن بھی مصیبت میں مبتال ہے اور اب وہ مصر پر حملہ نہیں کرسکے گا مگر اس طریقہ جنگ
‫سے کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کوئی عالقہ فتح نہیں کیا جاسکتا تھا۔ فوج مرتی جارہی تھی۔
‫ان حاالت میں تقی الدین نے سلطان ایوبی کو اپنے ایک کمانڈر کی زبانی پیغام بھیجا۔ اس نے کہا کہ سوڈان کی مہم صرف
‫اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے کہ اسے کمک مل جائے۔ اس کی تمام فوج چھاپہ مار پارٹیوں میں بٹ گئی تھی۔ ان
‫پارٹیوں کی کارروائیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مزید فوج کی ضرورت تھی۔ تقی الدین نے سلطان ایوبی سے پوچھا تھا کہ
‫کمک نہ مل سکے تو کیا وہ سوڈان میں بکھری ہوئی فوج کو یکجا کرکے مصر واپس آجائے؟ مصر میں جو فوج تھی وہ مصر
‫کے اندرونی حاالت اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھی ناکافی تھی۔ اسے محاذ پر لے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
‫تھا۔ سلطان ایوبی پسپائی کا قائل نہیں تھا۔ اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ وہ اپنے بھائی کو پسپائی کا حکم دے
‫یا نہیں لیکن حقائق اسے مجبور کررہے تھے۔ وہ کمک نہیں دے سکتا تھا۔ وہ خود کمک کی ضرورت محسوس کررہا تھا۔ وہ
‫گہری سوچ میں کھوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫تقی الدین کے اس قاصد نے سلطان ایوبی کو صورتحال تو بتا دی لیکن صلیبیوں اور سوڈانیوں نے وہاں جو ایک اور محاذ کھول
‫دیا تھا‪ ،وہ نہ بتایا۔ غالبا ً اس کمانڈر کو معلوم نہ ہوگا۔ ایسے انکشافات بہت بعد میں ہوئے تھے۔ تقی الدین کی فوج دس دس
‫بارہ بارہ کی ٹولیوں میں بکھر کر لڑ رہی تھی۔ بعض عالقوں میں خانہ بدوشوں کے جھونپڑے اور خیمے بھی تھے۔ بعض جگہیں
‫ہری بھری اور سرسبز بھی تھیں اور بیشتر عالقے بنجر‪ ،ویران اور ریگستان تھے۔ ایک شام تین چھاپہ مار مجاہدین واپس اپنے
‫ایک سینئر کمانڈر کے پاس آئے۔ ان میں دو زخمی تھے۔ انہوں نے سنایا کہ ان کی پارٹی میں اکیس افراد تھے اور بائیسواں
‫پارٹی کمانڈر تھا۔ دن کے وقت یہ پارٹی ایک جگہ چھپی ہوئی تھی۔ پارٹی کمانڈر ادھر ادھر اس طرح ٹہل رہا تھا جیسے پہرہ
‫دے رہا ہو یا کسی کی راہ دیکھ رہا ہو۔ ایک سوڈانی شتر سوار گزرا اور پارٹی کمانڈر کو دیکھ کر رک گیا۔ کمانڈر اس کے
‫پاس گیا اور معلوم نہیں اس کے ساتھ کیا باتیں کیں۔ شتر سوار چال گیا تو پارٹی کمانڈر نے اپنے اکیس جانبازوں کو یہ
‫خوشخبری سنائی کہ دو میل دور ایک گائوں ہے جہاں مسلمان رہتے ہیں۔ اس شتر سوار نے پارٹی کو اپنے گائوں میں مدعو
‫کیا ہے۔ رات کو گائوں والے پارٹی کو اپنا مہمان رکھیں گے اور دشمن کی ایک جمعیت کی جگہ بھی بتائیں گے۔
‫تمام جانباز بہت خوش ہوئے۔ کھانا دانہ ملنے کے عالوہ دشمن پر حملے کا موقع بھی مل رہا تھا۔ سورج غروب ہوتے ہی یہ
‫سب اس گائوں کی طرف چل دیئے۔ وہاں جا کے دیکھا کہ صرف تین جھونپڑے تھے۔ادھر ادھر درخت تھے اور پانی بھی تھا۔
‫سپاہیوں کو جھونپڑوں کے باہر ڈیرے ڈالنے کو کہاگیا۔ پارٹی کمانڈر ایک جھونپڑے میں چالگیا۔ باہر مشعلیں جال دی گئیں اور
‫سب کو کھانا دیا گیا۔ پارٹی کمانڈر نے کہاکہ سب سو جائو‪ ،حملے کے وقت انہیں جگالیا جائے گا۔ تھکے ہوئے سپاہی سو
‫گئے۔ یہ تین جو واپس آئے ان میں سے ایک سو نہ سکا یا اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسے ایک جھونپڑے میں عورتوں کے
‫قہقہوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے جھانک کر دیکھا۔ جھونپڑے میں پارٹی کمانڈر دو نہایت حسین لڑکیوں کے ساتھ ہنس
‫کھیل رہا تھا اور شراب چل رہی تھی۔ لڑکیاں صحرائی لباس میں تھیں لیکن صحرائی لگتی نہیں تھیں۔ اس سپاہی کو باہرکچھ
‫دبی دبی آوازیں سنائی دیں۔ چاندنی میں اس نے دیکھا کہ بہت سے آدمی آرہے تھے جن کے ہاتھوں میں برچھیاں اور تلواریں
‫تھیں۔ سپاہی جھونپڑے کی اوٹ میں ہوگیا اور دیکھتارہا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ جھونپڑے میں کوئی داخل ہوا۔ اس کی آواز
‫سنائی دی… ''کیوں بھائی کام کردیں؟''… پارٹی کمانڈر نے کہا… ''تم آگئے؟ سب سوئے ہوئے ہیں‪ ،ختم کردو''… اور لڑکیوں
‫کے قہقہے سنائی دیئے۔
‫وہ آدمی جو آرہے تھے سوئی ہوئی پارٹی پر ٹوٹ پڑے۔ کچھ تو سوتے میں ختم ہوگئے اور جو جاگ اٹھے انہوں نے مقابلہ
‫کیا۔ یہ سپاہی چھپاہوا دیکھتا رہا۔ اسے اپنے دو ساتھی بھاگتے نظر آئے۔ موقعہ دیکھ کر یہ سپاہی بھی بھاگ اٹھا اور اپنے دو
‫ساتھیوں سے جامال۔ وہ دونوں زخمی تھے۔ کسی نے ان کا تعاقب نہ کیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکاکہ پارٹی کمانڈر شتر سوار کے
‫دیئے ہوئے اللچ میں آگیا تھا یا وہ پہلے سے ہی دشمن کا ایجنٹ تھا اور اپنے آدمیوں کو مروانے کا موقعہ دیکھ رہا تھا۔
‫بہرحال یہ انکشاف ہوا کہ دشمن نے بکھرے ہوئے مسلمان دستوں کو ختم کرنے یا اپنے ہاتھ میں کرنے کے لیے لڑکیوں کو
‫استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ دشمن انسانی فطرت کی کمزوریوں کو استعمال کررہا تھا۔ ان حاالت میں لڑنے والے سپاہی کو
‫پیٹ اور جنس کی بھوک بہت پریشان کیاکرتی ہے۔ دشمن مجاہدین کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر حملے الگ کررہا تھا ور نفسیاتی ہتھیار
‫بھی استعمال کررہا تھا۔ ایسے چند اور واقعات ہوئے۔ مجاہدین کو خبردار کیا گیا کہ کسی کے جھانسے میں نہ آئیں۔
‫ایسے بہت سے واقعات میں ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ چھاپہ مار دستے کا ایک کمانڈر عطاالہاشم ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا‪ ،اس
‫کا دستہ تین چار پارٹیوں میں بکھراہوا تھا۔ یہ مصر سے آنے والی رسد کا راستہ تھا۔
19:56
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪52.۔" میرےفلسطین میں آوں گا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫یہ مصر سے آنے والی رسد کا راستہ تھا۔ عطاالہاشم نے اپنے صرف ایک دستے سے جس کی نفری ایک سو سے کچھ کم
‫تھی‪ ،رسد کے تمام تر راستے کو محفوظ کردیا تھا۔ رسد پر چھاپہ مارنے والے دشمن کا اس نے بہت نقصان کیا تھا۔ اس کے
‫جانباز اچانک جھپٹ پڑے تھے۔ سوڈانیوں نے انہیں ختم کرنے کے بہت جتن کیے لیکن پانچ چھ جانبازوں کو شہید کرنے کے
‫سوا کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ عطاالہاشم ٹیلوں میں ڈھکی ہوئی ایک جگہ پر بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ چھ سات جانباز
‫تھے۔ یہ اس نے ہیڈکوارٹر بنا رکھا تھا۔ اسے صحرائی خانہ بدوشوں کے لباس میں دو لڑکیاں ایک ادھیڑ عمر آدمی کے ساتھ
‫نظر آئیں۔ عطاالہاشم کو دیکھ کر تینوں اس کے پاس آگئے۔ لڑکیاں سوڈانی معلوم ہوتی تھیں لیکن انہوں نے جو لباس پہن رکھا
‫تھا وہ بہروپ لگتا تھا۔ ان کے چہروں پر گرد تھی‪ ،چہرے اداس تھے اور تھکن بھی معلوم ہوتی تھی۔ لڑکیاں ادھیڑ عمر آدمی
‫کے پیچھے ہوگئیں۔ یہ جھجک اور شرم کا اظہار تھا۔
‫اس آدمی نے کچھ مصری اور کچھ سوڈانی زبان میں کہا کہ وہ مسلمان ہے اور یہ دونوں اس کی بیٹیاں ہیں۔ وہ بھوک سے
‫مررہے ہیں۔ اس نے کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ عطاالہاشم سوڈان کی زبان جانتا تھا۔ وہ چھاپہ مار تھا۔ سوڈانی عالقے میں
‫کمانڈو کارروائیوں کی کامیابی کے لیے اس نے سوڈانی زبان سیکھی تھی۔ اس کے پاس خوراک کی کمی نہیں تھی۔ وہ رسد کا

‫محافظ تھا۔ دو تین بار رسد گزری تھی جس میں سے اس نے اپنے دستے کے لیے بہت سارا راشن پانی اپنے پاس رکھ لیا
‫تھا۔ اس نے ان تینوں کو کھانا دیا اور پوچھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں؟ اور کہاں جارہے ہیں؟۔ اس آدمی نے کسی گاوں کا
‫نام لے کر کہا کہ ان کا گاوں جنگ کی زد میں آگیا ہے۔ کبھی سوڈانی آجاتے تھے تو کبھی مسلمان۔ دونوں گھر میں کھانے
‫کی کوئی چیز نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ ان لڑکیوں کو فوجیوں سے چھپاتا پھرتا تھا‪ ،آخر تنگ آکر گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ وہ
‫لڑکیوں کی عزت بچانا چاہتا تھا۔ اس نے بتایا کہ چونکہ وہ مسلمان ہے‪ ،اس لیے اس کوشش میں ہے کہ مصر چال جائے مگر
‫ممکن نظر نہیں آتا۔ اس نے عطاالہاشم سے کہا کہ وہ انہیں مصر پہنچا دے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے پوچھا … ''تم لوگ
‫''اس جگہ کب تک رہو گے؟
‫جب تک رہوں‪ ،تم تینوں کو اپنے ساتھ رکھوں گا''… عطاالہاشم نے جواب دیا۔''
‫آپ ان دونوں لڑکیوں کو اپنی پناہ میں لے لیں''… ادھیڑ عمر آدمی نے کہا… ''میں چال جاتا ہوں''۔''
‫میں یہ دیکھ کر حیران ہورہی ہوں کہ آپ کی زندگی کتنی دشوار ہے''… ایک لڑکی نے معصوم لہجے میں کہا اور پوچھا…''
‫''''آپ کو اپنا گھر اور بیوی بچے یاد نہیں آتے؟
‫سب یاد آتے ہیں''… عطاالہاشم نے جواب دیا… ''لیکن میں اپنے فرض کو نہیں بھول سکتا''۔''
‫یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کھانا کھا کر پانی پی کر ان کے جسموں میں نئی جان اور نئی روح پیدا ہوگئی ہو۔ ایک لڑکی تو
‫خاموش رہی‪ ،دوسری کی زبان رواں ہوگئی۔ اس نے جتنی بھی باتیں کیں ان میں عطاالہاشم اور اس کے جانبازوں کے لیے
‫ہمدردی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ آپ لوگ وطن سے اتنی دور آکر اپنی جانیں کیوں ضائع کرتے ہیں؟
‫عطاالہاشم اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے تینوں کو اٹھایا اور اپنے آدمیوں کو بالیا۔ انہیں کہا کہ اس سوڈانی کے پاوں رسیوں سے باندھ
‫کر میرے گھوڑے کے پیچھے باندھ دو۔ انہوں نے اسے گرا کر پاوں باندھ دیئے اور گھوڑا کھول الئے۔ رسی کا ایک سرا گھوڑے
‫کی زین کے ساتھ باندھ دیا۔ عطاالہاشم نے ایک سپاہی سے کہا کہ گھوڑے پر سوار ہوجائے۔ وہ سوار ہوگیا۔ عطاالہاشم نے
‫لڑکیوں کو اکٹھا کھڑا کرکے دو تیر انداز بالئے۔ انہیں کہا کہ میرے اشارے پر لڑکیوں کی آنکھوں کے درمیان ایک ایک تیر چال
‫دیں اور گھوڑ سوار گھوڑے کو ایڑی لگا دے۔ گھوڑے کے پیچھے سوڈانی بندھا ہوا زمین پر پڑا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ گھوڑا
‫دوڑے گا تو اس کا کیا حشر ہوگا۔ تیر اندازوں نے ایک ایک تیر کمانوں میں ڈال لیا اور گھوڑ سوار نے باگیں تھام لیں۔
‫عطاالہاشم نے سوڈانی لڑکیوں اور آدمی سے کہا… ''میں تم تینوں کو صرف ایک بار کہوں گا کہ اپنی اصلیت بتا دو جس
‫مقصد کے لیے آئے ہو‪ ،صاف بتا دو‪ ،ورنہ اپنے انجام کے لیے تیار ہوجاو''۔
‫خاموشی طاری ہوگئی۔ لڑکیوں نے گھوڑے کے پیچھے بندھے ہوئے اپنے ساتھی کو دیکھا۔ وہ بھی خاموش تھا۔ انہوں نے آنکھوں
‫ہی آنکھوں میں آپس میں مشورہ کرلیا۔ سوڈانی نے کہا کہ وہ اپنا آپ ظاہر کردے گا۔ عطاالہاشم اس کے پاس بیٹھ گیا اور کہا
‫کہ وہ سچ بولے گا تو اسے کھوال جائے گا۔ اس آدمی نے کہا… ''اوپتھر دل انسان! تیرے پاس اتنی خوبصورت لڑکیاں الیا ہوں
‫اور تو انہیں تیروں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہیں اپنے پاس رکھ اور اپنے دستے کو سمیٹ کر یہاں سے چال جا۔
‫اگر یہ قیمت تھوڑی ہے تو اپنی قیمت بتا۔ سونے کے سکے مانگ‪ ،کچھ اور مانگ۔ شام سے پہلے الدوں گا''۔ ‪:
‫عطا الہاشم اٹھا اور سوار سے کہا… ''گھوڑا دلکی چال پندرہ بیس قدم چالو''۔
‫گھوڑا چل پڑا۔ چند قدم آگے گیا تو سوڈانی بلبال اٹھا۔ عطاالہاشم نے کہا… ''رک جاو''… گھوڑا رکا تو عطاالہاشم نے اس کے
‫پاس جاکر کہا کہ وہ سیدھی باتیں کرنے پر آجائے۔ وہ مان گیا۔ اس نے بتا دیا کہ وہ سوڈانی جاسوس ہے اور صلیبیوں نے
‫اسے ٹریننگ دی ہے۔ لڑکیوں کے متعلق اس نے بتایا کہ مصر کی پیدائش ہیں اور صلیبیوں نے انہیں تخریب کاری کے فن کا
‫ماہر بنا رکھا ہے۔ عطاالہاشم نے اس کے پائوں کھول دیئے اور اسے اپنے پاس بٹھا کر باتیں پوچھیں۔ اس نے بتایا کہ اسے یہ
‫کام دیا گیا ہے کہ سوڈان میں پھیلے ہوئے مسلمان کمانڈروں کو لڑکیوں یا سونے چاندی کا چکمہ دے کر انہیں اور ان کے
‫سپاہیوں کو ختم یا قید کرادیا جائے یا انہیں اپنے ہاتھ میں لیا جائے۔ اس نے بتایا کہ عطاالہاشم نے رسد کا راستہ ایسی خوبی
‫سے محفوظ کررکھا تھا کہ صلیبی اور سوڈانی چھاپہ ماروں کا جانی نقصان بھی ہوا اور رسد بھی نکل گئی۔ اسے یہ مشن دے
‫کر بھیجا گیا تھا کہ عطاالہاشم کو ان لڑکیوں سے اندھا کرکے اسے قتل کردے یا اسے ایسے پھندے میں لے آئے کہ اسے قتل
‫یا قید کرلیا جائے اور اگر وہ ایمان کا کچا ثابت ہوا تو اسے اپنے ساتھ مال لیا جائے گا۔ یہ سوڈانی حیران تھا کہ عطاالہاشم
‫نے اتنی خوبصورت لڑکیوں کو قبول نہیں کیا۔ اس نے جب عطاالہاشم سے پوچھا کہ اس نے لڑکیوں اور زرو جواہرات کی
‫پیشکش کو کیوں ٹھکرا دیا ہے تو عطاالہاشم نے مسکرا کر کہا۔ ''کیونکہ میں ایمان کا کچا نہیں''۔
‫عطاالہاشم نے لڑکیوں کو بھی اپنے پاس بال لیا۔ زیادہ باتیں کرنے والی نے پوچھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ عطاالہاشم
‫اعلی تقی الدین کے پاس لے جائے گا یا بھیج دے گا۔ اس نے
‫نے بتایا کہ انہیں وہ کل صبح اپنے ہیڈکوارٹر میں ساالر
‫ٰ
‫سوڈانی کو لڑکیوں سمیت اس ہدایت کے ساتھ اپنے آدمیوں کے حوالے کردیا کہ انہیں الگ الگ رکھا جائے۔ ان کی تالشی لی
‫گئی۔ تینوں کے پاس ایک ایک خنجر تھا۔ آدمی کے پاس ایک پوٹلی تھی جس میں حشیش بندھی ہوئی تھی۔
‫سورج غروب ہونے واال تھا جب اس کے دستے کی ایک ٹولی واپس آگئی۔ اس نے ٹولی کو کچھ دور تک پھیال دیا۔ اس نے
‫ہر کسی کو بتا دیا کہ یہ تینوں جاسوس اور تخریب کار ہیں۔ ہوسکتا ہے ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوکہ یہ یہاں ہیں اور انہیں
‫چھڑانے کے لیے حملہ کریں۔ ان انتظامات کے بعد وہ آرام کے لیے لیٹ گیا۔ وہ جگہ نشیب وفراز کی تھی۔ اس نے لیٹنے
‫سے پہلے دیکھ لیا تھا کہ اس کے سپاہیوں نے لڑکیوں اور مرد کو کس طرح لٹایا ہے۔ وہ خود ایک ٹیلے کے ساتھ لیٹا جہاں
‫وہ اپنے سپاہیوں کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے ذہن میں یہ
‫دو لڑکیاں آگئیں۔ وہ اس سوچ میں کھو گیا کہ یہ کتنی خوبصورت اور بظاہر کیسی معصوم سی لڑکیاں ہیں اور ان سے کتنا
‫غلیظ اور کتنا خطرناک کام کرایا جارہا ہے اگر یہ کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی ہوتیں تو کسی باعزت گھرانے میں
‫دلہنیں بن کر جاتیں۔ اسے اپنی بیوی یاد آگئی جو دلہن بن کر اس کے گھر آئی تھی تو انہی کی طرح جوان اور دلکش تھی۔
‫اپنی بیوی کی یاد اسے رومان انگیز تصورت میں لے گئی۔ اس ویران صحرا میں جہاں وہ موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا
‫تھا‪ ،ان تصوروں نے اس پر نشہ طاری کردیا۔ میدان جنگ میں سپاہی ایسے ہی تصوروں اور بڑی ہی دلکش یادوں سے دل بہالیا
‫کرتے ہیں۔
‫چاندنی نکھر آئی تھی‪ ،صحرا کی چاندنی بڑی ہی شفاف اور خنک ہوا کرتی ہے۔ اس کی خنکی میں ایسا تاثر ہوتا ہے جو
‫ذہن اور دل سے موت کے خوف کو دھو ڈالتا ہے۔ عطاالہاشم اٹھا اور اس انداز سے خراماں خراماں اس جگہ گیا جہاں لڑکیاں
‫سوئی ہوئی تھیں‪ ،جیسے وہ حفاظتی انتظام کا معائنہ کرنے جارہا ہو۔ وہ اکٹھی سورہی تھیں۔ ان کے اردگرد سپاہی سوئے ہوئے
‫تھے۔ سوڈانی آدمی کچھ دور تین سپاہیوں کے نرغے میں سویا ہوا تھا۔ عطاالہاشم نے ایک لڑکی کے پائوں کو اپنے پائوں سے

‫دبایا۔ لڑکی کی آنکھ کھل گئی۔ عطاالہاشم کو چاندی میں پہچان کر وہ اٹھ بیٹھی۔ عطاالہاشم نے اسے اٹھنے اور ساتھ چلنے کا
‫اشارہ کیا۔ لڑکی اس مسرت کے ساتھ اٹھی کہ اس پتھر جیسے کمانڈر پر اس کی جواں نسوانیت کا جادو چل گیا ہے۔ وہ اس
‫کے ساتھ چل پڑی۔ عطاالہاشم نے دیکھا کہ اس کے سپاہی کیسی بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے ہیں کہ انہیں یہ خبر بھی
‫نہیں کہ کوئی آدمی ان کے درمیان سے لڑکی کو اٹھا کر لے جارہا ہے۔ اسے اپنے سپاہیوں پر غصے کے بجائے ترس آگیا جو
‫ایک غیر یقینی سے جنگ لڑرہے تھے۔ کسی باقاعدہ کمان اور کنٹرول کے باوجود وہ نظم وضبط کی پابندی کررہے تھے۔
‫لڑکی کو وہ اپنی جگہ لے گیا۔ لڑکی کے سر پر اب اوڑھنی نہیں تھی۔ چاندنی اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو سونے کے تاروں
‫کا رنگ دے رہی تھی
‫وہ کچھ دیر لڑکی کو دیکھتا رہا اور لڑکی اسے دیکھتی رہی۔ لڑکی نے نشیلی سے آواز میں مسکرا کر کہا… ''میں حیران ‪:
‫ہوں کہ آپ ڈر کیوں رہے ہیں۔ مجھے آپ کے پاس آپ ہی کے لیے الیا گیا ہے۔ کیا آپ میری ضرورت محسوس نہیں
‫کرتے؟''… وہ اسے چپ چاپ دیکھتا رہا جیسے بت بن گیا ہو۔ لڑکی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں کے ساتھ لگا لیا
‫''اور بولی… ''میں جانتی ہوں آپ نے مجھے کیوں بالیا ہے‪ ،آپ کیا سوچ رہے ہیں؟
‫میں سوچ رہاں ہوں کہ تمہارا باپ میری طرح کا ایک مرد ہوگا''… عطاالہاشم نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر کہا…''
‫'' میں بھی باپ ہوں۔ ہم دونوں باپوں میں زمین اور آسمان جتنا فرق ہے۔ وہ باپ کتنا بے غیرت ہے اور میں ہوں کہ غیرت
‫کی پاسبانی کے لیے اپنے بچوں کو یتیم کرنے کی کوشش کررہا ہوں''۔
‫میرا کوئی باپ نہیں''… لڑکی نے کہا… ''دیکھا ہوگا‪ ،اس کی صورت یاد نہیں''۔''
‫''مرگیا تھا؟''
‫یہ بھی یاد نہیں''۔''
‫''اور ماں؟''
‫کچھ بھی یاد نہیں''… لڑکی نے کہا… ''یہ بھی یاد نہیں کہ میں کس گھر میں پیدا ہوئی تھی یا کسی خانہ بدوش کے ''
‫خیمے میں … مگر یہ وقت ایسی بے مزہ باتیں کرنے کا نہیں''۔
‫ہم سپاہی یادوں سے مزے حاصل کیا کرتے ہیں''… عطاالہاشم نے کہا… ''میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ذہن میں بھی تمہارے''
‫ماضی کی چند ایک یادیں تازہ کردوں''۔
‫میں خود ایک حسین یاد ہوں''… لڑکی نے کہا… ''جس کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزار جاتی ہوں‪ ،وہ ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔''
‫میری اپنی کوئی یاد نہیں''۔
‫اپنے آپ کو حسین نہیں‪ ،ایک غلیظ یاد کہو''… عطاالہاشم نے کہا… ''مجھے تمہارے جسم سے صلیبیوں کے سوڈانیوں کے''
‫مسلمانوں کے اور بڑے ہی غلیظ انسانوں کے گناہوں کی بو آرہی ہے۔ تم میرے قریب آئوگی تو مجھے متلی آجائے گی۔ تمہیں
‫کوئی مرد یاد نہیں رکھتا۔ تم جیسی لڑکیوں کے شکاری آج یہاں اور کل وہاں ہوتے ہیں۔ دوسرا شکار مل جاتا ہے تو پہلے کو
‫بھول جاتے ہیں۔ تمہارا یہ حسن چند دنوں کا مہمان ہے۔ تم میری قید میں ہو۔ میں تمہارا یہ چہرہ اسی وقت سزا کے طور
‫پر زخمی کرکے ہمیشہ کے لیے مکروہ بنا سکتا ہوں مگر ایسی ضرورت نہیں۔ یہ صحرا شراب‪ ،حشیش اور بدکاری تمہیں سال
‫کے اندر اندر مرجھایا ہوا پھول بنا دے گی جسے لوگ اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں۔ یہ صلیبی اور یہ سوڈانی تمہیں بھیک
‫مانگنے کے لیے باہر نکال دیں گے۔ تم بڑے ہی گھٹیا انسانوں کے لیے تفریح کا ذریعہ بن جائو گی''… ''میری ایک بیٹی ہے
‫جو تم سے دو تین سال چھوٹی ہوگی۔ اس کی شادی ایک باعزت جوان کے ساتھ ہوگی جو میری طرح کمر سے تلوار لٹکا کر
‫بڑی اچھی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوا کرے گا۔ وہ میری طرح میدان جنگ کا شہزادہ ہوگا۔ میری بیٹی دلہن بنے گی۔ اپنے
‫خاوند کے دل میں اور اس کے گھر میں راج کرے گی۔ لوگ میری بیٹی کو ایک نظر دیکھنا چاہیں گے مگر دیکھ نہیں سکیں
‫گے۔ میں بھی اس پر فخر کیا کروں گا اور اس کا خاوند اس کے ساتھ اتنی محبت کرے گا کہ وہ بوڑھی ہوجائے گی تو بھی
‫محبت ختم نہیں ہوگی۔ تمہیں دیکھنے کے لیے کوئی بھی بیتاب نہیں ہوتا کیونکہ تم ایک ننگا بھید ہو‪ ،تمہاری عزت کسی کے
‫دل میں نہیں اور کوئی بھی نہیں جو تمہیں محبت کے قابل سمجھے گا''۔
‫آپ میرے ساتھ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں؟''… لڑکی نے ایسی آواز میں پوچھا جو اس کی اپنی نہیں لگتی تھی۔''
‫میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم جیسی بیٹیاں مقدس ہوتی ہیں''… عطاالہاشم نے جواب دیا… ''ہم مسلمان لوگ بیٹی ''
‫کو اللہ کا پیغام سمجھتے ہیں اگر تم عصمت اور مذہب کے معنی سمجھ لو تو تم پر اللہ کی رحمت برس جائے گی مگر تم
‫سمجھ نہیں سکو گی کیونکہ تم اس محبت سے واقف نہیں جو روح کی گہرائیوں تک پہنچا کرتی ہے۔ تم بدنصیب ہو۔ تم نے
‫مردوں کی ہوس دیکھی ہے‪ ،محبت نہیں دیکھی''۔
‫عطاالہاشم آہستہ آہستہ بولتا رہا۔ اس کے لب ولہجے اور انداز کا اپنا ایک تاثر تھا لیکن لڑکی اس پر حیران ہورہی تھی کہ یہ
‫بھی دوسرے مردوں کی طرح مرد ہے مگر اس نے اس کے حسن کو زرہ بھر اہمیت نہیں دی۔ عطاالہاشم جذباتی لحاظ سے
‫پتھر بھی نہیں تھا۔ وہ تو سرتاپا جذبات میں ڈوبا ہوا تھا۔ لڑکی نے بیتاب سا ہوکر کہا… ''آپ کی باتوں میں ایسا نشہ اور
‫خمار ہے جو میں نے شراب اور حشیش میں نہیں پایا۔ مجھے آپ کی کوئی بھی بات سمجھ نہیں آرہی لیکن ہر ایک بات
‫دل میں اترتی جارہی ہے''… لڑکی ذہین تھی۔ اس قسم کی تخریب کاری کے لیے ذہین ہونا الزمی تھا۔ مردوں کو انگلیوں پر
‫نچانے کی اسے بچپن سے ٹرینگ دی گئی تھی مگر اس مرد نے اس ناگن کا زہر مال دیا۔ اس نے عطاالہاشم سے بہت سی
‫باتیں پوچھیں جن میں کچھ مذہب سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس کے لہجے اور انداز میں اب پیشہ وارانہ اداکاری نہیں رہی
‫''تھی۔ وہ اپنے قدرتی رنگ میں باتیں کررہی تھی۔ اس نے پوچھا… ''مجھے آپ لوگ کیا سزا دیں گے؟
‫میں تمہیں کوئی سزا نہیں دے سکتا''… عطاالہاشم نے کہا… ''کل صبح تمہیں اپنے ساالر اعظم کے حوالے کردوں گا''۔''
‫''وہ میرے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟''
‫جو ہمارے قانون میں لکھا ہے''۔''
‫''آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں؟''
‫نہیں''۔''
‫میں نے سنا ہے کہ مسلمان ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں''… لڑکی نے کہا… ''اگر آپ مجھے اپنی بیوی بنا لیں تو ''
‫میں آپ کا مذہب قبول کرکے ساری عمر آپ کی خدمت کروں گی''۔
‫میں تمہیں بیٹی بنا سکتا ہوں‪ ،بیوی نہیں''… عطاالہاشم نے کہا… ''کیونکہ تم میرے ہاتھوں میں مجبور ہو‪ ،تم میری پناہ ''
‫میں بھی ہو اور میری قید میں بھی''۔

‫وہ باتوں میں مصروف تھے۔ لڑکی کا ساتھی مرد تین سپاہیوں کے نرغے میں لیٹا ہوا تھا مگر وہ جاگ رہا تھا۔ اس نے
‫عطانالہاشم کو دیکھ لیا تھا کہ وہ لڑکی کو جگا کر لے گیا ہے۔ وہ خوش تھا کہ لڑکی عطاالہاشم کو چکمہ دے کر قتل کردے
‫گی یا اسے یہاں سے کہیں دور لے جائے گی۔ وہ لیٹا ہوا لڑکی کی واپسی کا انتظار کرتا رہا۔ بہت دیر بعد اس نے سپاہیوں
‫کو دیکھا‪ ،وہ بے ہوش ہوکے سوئے ہوئے تھے۔ انہیں بے ہوش ہونا ہی تھا کیونکہ اس سوڈانی نے شام کے بعد ان سپاہیوں کے
‫ساتھ گپ شپ شروع کردی تھی اور انہیں ہنستے کھیلتے حشیش پال دی تھی۔ اس حشیش کی ایک پوٹلی تو برآمد کرلی گئی
‫تھی لیکن اس نے تھوڑی سی حشیش اپنے چغے میں کہیں رکھی تھی۔ وہاں نکال کر اس نے تین سپاہیوں کو پال دی وہ
‫چونکہ اس نشے کے عادی نہیں تھے‪ ،اس لیے بے ہوشی کی نیند سوگئے۔ یہ سوڈانی رات کو بھاگنے کے جتن کررہا تھا۔
‫اس نے دیکھا کہ لڑکی عطاالہاشم کے پاس بیٹھی ہوئی ہے اور بہت دیر گزر گئی ہے تو وہ سمجھا کہ لڑکی اس مسلمان
‫لہ ذا اس شخص کو یہیں ختم کردیا جائے۔ وہ واپس گیا اور سوئے ہوئے سپاہیوں میں سے ایک
‫کمانڈر کو دور نہیں لے جاسکی‪ٰ ،
‫کی کمان اور ترکش میں سے تین چار تیر لے آیا۔ راستے میں چند فٹ اونچی جگہ تھی جس کی اوٹ میں وہ عطاالہاشم کو
‫نظر نہیں آسکتا تھا۔ وہ اس لیے بھی نظر نہیں آسکتا تھا کہ اس طرف عطاالہاشم کی پیٹھ تھی۔ لڑکی کا منہ ادھر ہی تھا
‫لیکن وہ اپنے آدمی کو دیکھ نہیں سکی تھی۔ وہ آدمی تیروکمان لے کر آیا تو لڑکی کو چاندنی میں اس کا سر اور کندھے نظر
‫آئے پھر اسے کمان نظر آئی۔ عطاالہاشم اپنی موت سے بے خبر بیٹھا تھا۔ اس کا خنجر نیام میں پڑا ہوا تھا ور نیام قریب
‫ہی رکھی تھی۔ لڑکی نے نیام اٹھا کر خنجر نکال لیا۔ عطاالہاشم جھپٹ کر اس سے خنجر چھیننے ہی لگا کہ لڑکی نے نہایت
‫تیزی سے گھٹنوں کے بل ہوکر اپنے آدمی کی طرف پوری طاقت سے خنجر پھینکا۔
‫فاصلہ چند گز تھا۔ ادھر سے آہ کی آواز سنائی دی۔ خنجر سوڈانی کی شہ رگ میں اتر گیا تھا اور اس نے زخمی ہوتے ہی
‫تیر چال دیا تھا۔ نشانہ چونک جانا ضروری تھا۔ تیر عطاالہاشم کے قریب سے گزرا اور دھک کی آواز سنائی۔دی یہ اس نے
‫دیکھا کہ تیر لڑکی کے سینے میں اتر گیا تھا۔ وہ دوڑ کر اس کی طرف گیا جس طرف خنجر گیا اور تیر آیا تھا۔ وہاں سوڈانی
‫اپنی شہ رگ سے خنجر نکال رہ اتھا۔ اس نے خنجر نکال لیا اور اٹھا۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ حملہ کرے گا۔
‫عطاالہاشم نے اچھل کر اس کے پہلو میں دونوں پائوں جوڑ کر مارے۔ سوڈانی دور جاپڑا۔ عطاالہاشم بھی گرا اور فورا ً اٹھ کھڑا
‫ہوا۔ سوڈانی نہ اٹھ سکا۔ اس کی شہ رگ سے خون ابل ابل کر نکل رہا تھا۔ عطاالہاشم نے خنجر اٹھایا اور لڑکی کے پاس
‫گیا۔ لڑکی سینے میں اپنے ہی ساتھی اور محافظ کا تیر لیے اطمینان سے پڑی تھی۔ وہ ابھی زندہ تھی۔ تیر نکالنے کا کوئی
‫انتظام نہیں تھا۔
‫لڑکی نے عطاالہاشم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کراہتی ہوئی آواز میں بولی… ''میں نے تمہاری جان بچائی ہے‪ ،اس کے عوض اپنے
‫خدا سے کہنا کہ میری روح کو اپنی پناہ میں لے لے۔ میرے جسم کی طرح میری روح بھی ان صحرائوں میں نہ بھٹکتی رہے۔
‫میری عمر گناہوں میں گزری ہے‪ ،مجھے یقین دالئو کہ خدا اس ایک نیکی کے بدلے میرے سارے گناہ بخشش دے گا۔ میرے
‫سر پر اسی طرح ہاتھ پھیرو جس طرح اپنی بیٹی کے سر پر پھیرا کرتے ہو''۔
‫عطاالہاشم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا…''اللہ تیرے گناہ بخش دے‪ ،تجھ سے گناہ کروائے گئے ہیں تو بے گناہ ہے۔
‫تجھے کسی نے نیکی کی روشنی دکھائی ہی نہیں''۔
‫لڑکی نے درد کی شدت سے کراہتے ہوئے عطاالہاشم کا ہاتھ بڑی مضبوطی سے پکڑ لیا اور بڑی تیزی سے بولنے لگی۔ اس نے
‫کہا… ''یہاں سے تین کوس دور سوڈانیوں کا ایک اڈا ہے‪ ،وہ لوگ آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور غور سے سنو۔ آپ
‫کی فوج اتنی زیادہ پھیل گئی ہے کہ اس کی قسمت میں اب موت یا قید ہے۔ آپ کے ہر ایک کمانڈر اور ہر ایک ٹولی کے
‫پیچھے مجھ جیسی لڑکیاں یا مرد لگے ہوئے ہیں۔
‫میں اس لڑکی کے ساتھ آپ کے چار کمانڈروں کو پھانس کر ختم کراچکی ہوں۔ مصر کی فکر کرو۔ صلیبیوں نے وہاں بڑے ‪:
‫ہی خطرناک اور خوبصورت جال بچھا دیئے ہیں۔ آپ کی قوم اور فوج میں ایسے مسلمان حاکم موجود ہیں جو صلیبیوں کے
‫تنخواہ دار جاسوس اور ان کے وفادار ہیں۔ انہیں مجھ جیسی لڑکیاں اور بے پناہ دولت دی جارہی ہے۔ مصر کو بچائو۔ سوڈان
‫سے نکل جائو۔ اپنے غداروں کو پکڑرو۔ میں کسی کا نام نہیں جانتی جو معلوم تھا‪ ،بتا دیا ہے۔ آپ پہلے مرد ہیں جس نے
‫مجھے بیٹی کہا ہے۔ آپ نے مجھے باپ کا پیار دیا ہے۔ میں اس کا معاوضہ یہی دے سکتی ہوں کہ آپ کو خطروں سے آگاہ
‫کردوں۔ اپنے بکھرے ہوئے دستے کو اکٹھا کرلو اور حملہ روکنے کے لیے تیار ہوجائو۔ دو تین دنوں میں آپ پر حملہ ہوگا۔
‫فاطمیوں اور فدائیوں سے بچو۔ انہوں نے مصر میں بہت سے ایسے حاکموں کے قتل کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جو صالح الدین
‫ایوبی اور اپنی قوم کے وفادار ہیں''۔
‫لڑکی کی آواز ڈوبتی اور رکتی گئی اور ایک لمبے سانس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ صبح طلوع ہوئی تو
‫عطاالہاشم دونوں الشوں اور زندہ لڑکی کو ساتھ لے کر تقی الدین کے پاس چال گیا۔ اسے سارا واقعہ سنایا اور لڑکی کی آخری
‫باتیں بھی سنائیں۔ تقی الدین پہلے ہی پریشان تھا۔ وہ سٹپٹا اٹھا۔ اس نے کہا… ''اپنے بھائی کی اجازت اور ہدایت کے بغیر
‫میں پسپا نہیں ہونا چاہتا۔ میں نے ایک ذمہ دار ذہین کمانڈر کو کرک بھیجا ہے۔ اس کی واپسی تک ثابت قدم رہو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی نے قاصد کمانڈر کی بیان کی ہوئی جنگی صورتحال پر غور کیا تو اپنے مشیروں کو بال کر انہیں بھی تفصیل
‫سنائی۔ اس نے کہا…''بکھری ہوئی فوج کو یکجا کرکے پیچھے ہٹانا آسان کام نہیں۔ دشمن انہیں یکجا نہیں ہونے دے گا۔
‫پسپائی سے اس فوج کے جذبے پر بھی برا اثر پڑے گا جو مصر میں ہے اور جو یہاں میرے ساتھ ہے اور قوم کا دل ٹوٹ
‫جائے گا مگر حقائق سے فرار بھی ممکن نہیں۔ اپنے آپ کو فریب دینا بھی خطرناک ہے۔ حقائق کا تقاضہ یہ ہے کہ تقی
‫الدین اپنی فوج کو واپس لے آئے۔ ہم اسے کمک نہیں دے سکتے۔ ہم کرک کا محاصرہ اٹھا کر اس کی مدد کو نہیں پہنچ
‫سکتے۔ میرے بھائی نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ بڑی ہی قیمتی فوج ضائع ہورہی ہے''۔
‫اعلی حکام نے کہا… ''ہمیں سوڈان کی جنگ سے دست بردار ہونے کا ''
‫یہ ذاتی وقار کا مسئلہ نہیں بننا چاہیے''… ایک
‫ٰ
‫فیصلہ کرنا چاہیے۔ قائدین اور حکام کے غلط فیصلوں سے فوج بدنام ہورہی ہے۔ ہمیں قوم کو صاف الفاظ میں بتا دینا چاہیے
‫کہ سوڈان میں ہماری ناکامی کی ذمہ داری فوج پر عائد نہیں ہوتی''۔
‫بالشبہ یہ میرے بھائی کی غلطی ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اور یہ میری غلطی بھی ہے کہ میں نے تقی الدین کو ''
‫اجازت دی تھی کہ حاالت کے مطابق وہ جو کارروائی مناسب سمجھے مجھ سے پوچھے بغیر کر گزرے۔ اس نے اتنی بڑی
‫کارروائی حقائق کا جائزہ لیے بغیر کردی اور اپنے آپ کو دشمن کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ میں اپنی اور اپنے بھائی کی
‫لغزشوں کو اپنی قوم سے اور نورالدین زنگی سے چھپاوں گا نہیں۔ میں تاریخ کو دھوکہ نہیں دوں گا۔ میں اپنے کاغذات میں

‫تحریر کراوں گا کہ اس شکست کی ذمہ دار فوج نہیں‪ ،ہم تھے۔ ورنہ ہماری تاریخ کو آنے والے حکمران ہمیشہ دھوکہ دیں گے۔
‫میں سلطنت اسالمیہ کے آنے والے حکمرانوں کے لیے یہ مثال قائم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی لغزشوں پر پردہ ڈال کر بے
‫گناہوں کو تاریخ میں ذلیل نہ کریں۔ یہ ایسی غلطی اور ایسا فریب ہے کو کرٔہ ارض پر اسالم کو پھیلنے کے بجائے سکڑنے پر
‫مجبور کرے گا''۔
‫سلطان ایوبی کا چہرہ الل ہوگیا‪ ،اس کی آواز کانپنے لگی۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنی زبان سے پسپائی کا لفظ کہنا
‫نہیں چاہتا۔ وہ کبھی پسپا نہیں ہوا تھا۔ اس نے بڑے ہی مشکل حاالت میں جنگیں لڑی تھیں مگر اب حاالت نے اسے مجبور
‫کردیا تھا۔ اس نے تقی الدین کے بھیجے ہوئے کمانڈر سے کہا… ''تقی الدین سے کہنا کہ اپنے دستوں کو سمیٹو اور انہیں
‫تھوڑی تھوڑی نفری میں پیچھے بھیجو‪ ،جہاں دشمن تعاقب میں آئے وہاں جم کر لڑو اور اس انداز سے لڑو کہ دشمن تمہارے
‫تعاقب میں مصر میں داخل نہ ہوجائے۔ دستے جو مصر میں پہنچ جائیں‪ ،انہیں اکٹھا رہنے کا حکم دو تاکہ مصر پر دشمن حملہ
‫کرے تو اسے روک سکو۔ محفوظ پسپائی کے لیے چھاپہ ماروں کو استعمال کرو۔ کسی دستے کو دشمن کے گھیرے میں چھوڑ
‫کر نہ آنا۔ میں پسپائی بڑی مشکل سے برداشت کررہا ہوں۔ میں یہ خبر برداشت نہیں کرسکوں گا کہ تمہارے کسی دستے نے
‫ہتھیار ڈال دیئے۔ پسپائی آسان نہیں ہوتی۔ پیش قدمی کی نسبت محفوظ اور باعزت پسپائی بہت مشکل ہے۔ حاالت پر نظر
‫رکھنا‪ ،تیز رفتار قاصدوں کی ایک فوج اپنے ساتھ رکھنا۔ میں تحریری پیغام نہیں بھیج رہا ہوں کیونکہ خطرہ ہے کہ تمہارا قاصد
‫راستے میں پکڑا گیا تو دشمن کو معلوم ہوجائے گا کہ تم پسپا ہورہے ہو''۔
‫سلطان ایوبی نے قاصد کمانڈر کو بہت سی ہدایات دیں اور رخصت کردیا۔ اس کے گھوڑے کے قدموں کی آواز ابھی سنائی ‪:
‫دے رہی تھی کہ زاہدان خیمے میں داخل ہوا اور کہا کہ قاہرہ سے ایک قاصد آیا ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے اندر بال لیا۔ وہ
‫انٹلی جنس کا عہدیدار تھا۔ وہ مصر کے اندرونی حاالت کے متعلق حوصلہ شکن خبر الیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہاں دشمن کی
‫تخریب کاری بڑھتی جارہی ہے۔ علی بن سفیان اپنے پورے محکمے کے ساتھ شب و روز مصروف رہتا ہے۔ حاالت ایسے ہوگئے
‫ہیں کہ فوجی بغاوت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
‫سلطان ایوبی کے چہرے کا رنگ ایک بار تو اڑ ہی گیا۔ اگر صرف مصر کا غم ہوتا تو وہ پرواہ نہ کرتا۔ اس نے مصر کو بڑے
‫ہی خطرناک حاالت سے بچایا تھا۔ صلیبیوں اور فاطمیوں کی تخریب کاری کی بڑی ہی کاری ضربیں بے کار کی تھیں۔سمندر
‫کی طرف سے صلیبیوں کا بڑا ہی شدید حملہ روکا تھا۔ خلیفہ تک کو معزول کرکے نتائج کا سامنا دلیری اور کامیابی سے کیا
‫تھا مگر اب کرک سے اس کی غیرحاضری میدان جنگ کا پانسہ اس کے خالف پلٹ سکتی تھی۔ کرک کے محاصرے کے
‫عالوہ اس نے قلعے کے باہر صلیبیوں کی فوج کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ یہ فوج گھیرا توڑنے کی کوشش میں حملے پہ
‫حملہ کیے جارہی تھی‪ ،وہاں خون ریز جنگ لڑی جارہی تھی۔ سلطان ایوبی اپنی خصوصی چالوں سے دشمن کے لیے آفت بنا
‫ہوا تھا۔ ایسی جنگ اس کی نگرانی کے بغیر نہیں لڑی جاسکتی تھی۔
‫ادھر سوڈان کی صورتحال نے بھی مصر کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ یہ ایک اضافی مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ سلطان ایوبی کو یہ
‫خطرہ نظر آرہا تھا کہ تقی الدین نے بھاگنے کے انداز سے پسپائی کی تو دشمن کی فوج اس کی فوج کو وہیں ختم کردے گی
‫اور سیدھی مصر میں داخل ہوجائے گی۔ مصر میں جو فوج تھی وہ حملہ روکنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ ادھر کرک کے
‫محاصرے کی کامیابی یا جلدی کامیابی مخدوش نظر آرہی تھی۔ دونوں محاذوں کی کیفیت میں مصر میں بغاوت کے خطرے کی
‫خبر ایسی تھی جس نے سلطان ایوبی کے پائوں ہال دئیے۔ وہ کچھ دیر سرجھکائے ہوئے خیمے میں ٹہلتا رہا‪ ،پھر اس نے
‫کہا… '' میں صلیبیوں کی تمام تر فوج کا مقابلہ کرسکتا ہوں۔ اس فوج کا بھی جو انہوں نے یورپ میں جمع کر رکھی ہے
‫مگر میری قوم کے یہ چند ایک غدار مجھے شکست دے رہے ہیں۔ کفار کے یہ حواری اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہالتے ہیں؟
‫وہ غالبا ً جانتے ہیں کہ انہوں نے مذہب تبدیل کرلیا تو عیسائی انہیں یہ کہہ کر دھتکار دیں گے کہ تم غدار ہو‪ ،ایمان فروش
‫ہو‪ ،اپنے مذہب میں رہو‪ ،ہم سے اجرت لو اور اپنی قوم سے غداری کرو''… وہ خاموش ہوگیا۔ اس کے خیمے میں جو افراد
‫موجود تھے وہ بھی خاموش تھے۔ سلطان ایوبی نے سب کو باری باری دیکھا اور کہا… ''خدا ہم سے بڑا ہی سخت امتحان
‫لینا چاہتا ہے۔ اگر ہم سب ثابت قدم رہے تو ہم خدا کے حضور سرخرو ہوں گے''۔
‫اس نے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے یہ بات کہہ دی لیکن اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ اس پر گھبراہٹ طاری ہے
‫جسے وہ چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی کو اتنا ہی بتایا گیا تھا کہ مصر میں بغاوت کا خطرہ ہے اور صلیبیوں کی تخریب کاری بڑھتی جارہی ہے۔ اسے
‫تفصیالت نہیں بتائی گئی تھیں۔ تفصیالت بڑی ہی خوفناک تھیں۔ اس کی غیرحاضری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمان حکام میں
‫سے تین چار صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے۔ تقی الدین نے سوڈان پر حملہ کیا تو چند دن بعد اس نے رسد
‫مانگی۔ قاصد نے کہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ رسد فورا ً بھیج دی جائے مگر دو روز تک کوئی انتظام نہ کیا گیا جو حاکم رسد
‫کی فراہمی اور ترسیل کا ذمہ دار تھا‪ ،اس سے بازپرس ہوئی تو اس نے یہ اعتراض کیا کہ بیک وقت دو محاذ کھول دئیے
‫گئے ہیں۔ دو محاذوں کو رسد کہاں سے دی جاسکتی ہے۔ ایک یہ طریقہ ہے کہ مصر میں جو فوج ہے اسے بھوکا رکھا جائے‪،
‫بازار سے سارا اناج اٹھا کر قاہرہ کے باشندوں کے لیے قحط پیدا کیا جائے اور محاذوں کا پیٹ بھرا جائے۔
‫اعلی رتبے کا حاکم تھا‪ ،مسلمان تھا اور سلطان ایوبی کے مصاحبوں میں سے بھی تھا۔ اس کی نیت پر شک نہیں کیا
‫یہ ایک
‫ٰ
‫جاسکتا تھا۔ اس کی بات سچ مان لی گئی کہ اناج وغیرہ کی واقعی کمی ہے تاہم اسے کہا گیا کہ جس طرح ہوسکے محاذ
‫پر لڑنے والے فوجیوں کی رسد ضرور پہنچے۔ اس حاکم نے انتظام کردیا مگر دو اور دن ضائع کردئیے۔ پانچویں روز رسد کا قافلہ
‫روانہ ہوا۔ یہ اونٹوں اور خچروں کا بڑا ہی لمبا قافلہ تھا۔ مشورہ دیا گیا کہ قافلے کے ساتھ فوج کا ایک گھوڑا دستہ حفاظت
‫کے لیے بھیجا جائے۔ اسی حاکم نے جو رسد فراہم کرنے کا ذمہ دار تھا‪ ،فوج کا دستہ بھیجنے پر اعتراض کیا اور جواز یہ
‫پیش کیا کہ تمام راستہ محفوظ ہے۔ اس کے عالوہ مصر میں فوج کی ضرورت ہے۔ چنانچہ رسد حفاظتی دستے کے بغیر بھیج
‫دی گئی۔ روانگی کے چھ روز بعد اطالع آگئی کہ رسد راستے میں ہی )سوڈان میں
‫دشمن کے گھات میں آگئی ہے۔ سوڈانی‪ ،رسد بمعہ جانوروں کے لے گئے ہیں اور انہوں شتربانوں کو قتل کردیا ہے۔ ( ‪:
‫قاہرہ ہیڈکوارٹر کے باالئی حکام پریشان ہوگئے۔ رسد کا ضائع ہوجانا‪ ،معمولی سی چوٹ نہیں تھی۔ سوڈانی میدان جنگ میں
‫فوج کی ضرورت کا احساس ان کی پریشانی میں اضافہ کررہا تھا۔ انہوں نے ذمہ دار حاکم سے کہا کہ وہ فوری طور پر اتنی
‫ہی رسد کا انتظام کرے۔ اس نے کہا کہ منڈی میں اناج کی قلت ہوگئی ہے۔ تاجروں سے کہا جائے کہ اناج مہیا کریں۔ تاجروں
‫سے بات ہوئی تو انہوں نے اپنے گودام کھول کر دکھا دئیے‪ ،سب خالی تھے۔ گوشت کے لیے ایک بھی دنبہ‪ ،بکرا‪ ،بیل‪ ،گائے

‫یا کوئی اور جانور نظر نہیں آتا تھا۔ معلوم ہوا کہ مصر میں جو فوج ہے‪ ،اسے بھی پورا راشن نہیں مل رہا جس سے فوجوں
‫میں بے اطمینانی پھیل رہی ہے۔ تاجروں نے بتایا کہ دیہات سے مال آہی نہیں رہا۔ علی بن سفیان کی جاسوسی کا انتظام بڑا
‫اچھا تھا۔ یہ انکشاف جلدی ہوگیا کہ باہر کے لوگ دیہات میں آتے ہیں اور وہ اناج اور بکرے وغیرہ منڈی کی نسبت زیادہ دام
‫دے کر خرید لے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اناج وغیرہ ملک سے باہر جارہا تھا۔ تب سب کو یاد آیا کہ تین چار
‫سال قبل سلطان ایوبی نے مصر کی پہلی فوج کو جس میں سوڈانی باشندوں کی اکثریت تھی‪ ،بغاوت کے جرم میں توڑ کر اس
‫کے افسروں اور سپاہیوں کو سرحد کے ساتھ ساتھ قابل کاشت اراضی دے کر کاشتکار بنا دیا تھا۔ وہ لوگ اب مصری حکومت
‫کو اور منڈیوں کو اناج دیتے ہی نہیں تھے۔ یہ سوڈان پر حملے کا ردعمل تھا۔ یہ انقالب چھ سات دنوں میں آگیا تھا۔ اناج
‫کی فراہمی کا کام فوج کو سونپا گیا۔ دن رات کی باگ دوڑ سے تھوڑا سا اناج ہاتھ آیا جو فوج کی حفاظت میں سوڈان کے
‫محاذ کو روانہ کردیا گیا۔
‫باالئی حکام کے لیے رسد کا مسئلہ بہت ٹیڑھا ہوگیا۔ اس سے پہلے ایسی قلت کبھی نہیں ہوئی تھی۔ انہیں یہ ڈر بھی تھا کہ
‫سلطان ایوبی نے رسد مانگ لی تو کیا جواب دیں گے۔ سلطان ایوبی کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا کہ مصر میں اناج کا قحط
‫پیدا ہوگیا ہے۔ اس مسئلے کا حل تالش کرنے کے لیے تین حکام کی ایک کمیٹی بنائی گئی۔ ان میں انتظامیہ کے بڑے عہدے
‫کا ایک حاکم‪ ،سلیم االدریس تھا۔ اس دور کی تحریروں کے مطابق االدریس اس کمیٹی کا سربراہ تھا۔ دوسرے دو اس سے ایک
‫ہی درجہ کم عہدے کے غیر فوجی یعنی شہری انتظامیہ کے حاکم تھے۔ رات کے وقت یہ تینوں پہلے اجالس میں بیٹھے تو دو
‫نے االدریس سے کہا کہ سلطان ایوبی نے دو محاذ کھول کر سخت غلطی کی ہے اور تقی الدین ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے۔
‫فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے''… سلیم االدریس نے کہا۔''
‫ہم سے حقیقت چھپائی جارہی ہے''۔… دوسرے نے کہا… ''صالح الدین ایوبی قابل قدر شخصیت ہے لیکن آپس میں سچ ''
‫بات کرنے سے ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ ایوبی کو ملک گیری کی ہوس چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی۔ وہ ایوبی خاندان کو
‫شاہی خاندان بنانا چاہتا ہے۔ صلیبیوں کی فوج ایک طوفان ہے۔ ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اگر صلیبی ہمارے دشمن ہوتے
‫تو وہ فلسطین کے بجاے مصر پر قبضہ کرتے۔ ان کے پاس اتنی زیادہ فوج ہے کہ ہماری اس چھوٹی سی فوج کو اب تک
‫کچل چکے ہوتے۔ وہ ہمارے نہیں صالح الدین ایوبی کے دشمن ہیں''۔
‫آپ کی باتیں میرے لیے ناقابل برداشت ہیں''… االدریس نے کہا… ''بہتر ہے کہ ہم جس مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں ''
‫اس کے متعلق بات کریں''۔
‫یہ باتیں میرے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں''… ایک نے کہا…''لیکن ایک آدمی کی خواہشات پر ہمیں پوری قوم کے مفاد''
‫کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ آپ دونوں محاذوں کے لیے رسد کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ رسد کی حالت آپ نے دیکھ لی ہے کہ
‫نہیں مل رہی۔ سوڈان کا محاذ ٹوٹ رہا ہے۔ میں نے یہ سوچا ہے کہ ہم اس محاذ کی رسد روک لیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا
‫کہ تقی الدین پیچھے ہٹ آئے گا اور فوج مرنے سے بچ جائے گی''۔
‫یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم رسد نہ بھیجیں تو تقی الدین مجبوری کے عالم میں گھیرے میں آجائے''… االدریس نے کہا۔ ''
‫''ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہماری فوج دشمن کے آگے ہتھیار ڈال دے''۔
‫آپ کیا سوچ کر یہ باتیں کررہے ہیں؟'' سلیم االدریس نے پوچھا۔''
‫میری سوچ بڑی صاف ہے'' ۔ اس نے جواب دیا۔ ''صالح الدین ایوبی ہم پر فوجی حکومت ٹھونسنا چاہتا ہے۔ وہ صلیبیوں''
‫سے مسلسل محاذ آرائی کرکے قوم کو بتانا چاہتا ہے کہ قوم کی سالمتی کی ضامن صرف فوج ہے اور قوم کی قسمت فوج
‫کے ہاتھ میں ہے اگر ایوبی امن پسند ہوتا تو صلیبیوں اور سوڈانیوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے اور صلح جوئی سے رہنے کا
‫معاہدہ کرلیتا''۔
‫االدریس سٹپٹا اٹھا۔ وہ سلطان ایوبی کے خالف اور صلیبیوں کی حمایت میں کوئی بات سننا نہیں چاہتا تھا۔ اجالس میں گرما
‫گرمی ہوگئی۔ کمیٹی کے دو ممبر اسے بات بھی نہیں کرنے دے رہے تھے۔ اس نے آخر تنگ آکر کہا… ''میں اجالس
‫برخواست کرتا ہوں۔ کل ہی میں آپ کی رائے اور تجاویز قلم بند کرکے محاذ پر امیر مصر کو بھیج دوں گا''… وہ غصے میں
‫اٹھ کھڑا ہوا
‫اسالم اور انسان ‪ 19:57
‫صالح الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫" قسط نمبر‪53.۔"میرےفلسطین میں آوں گا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫وہ غصے میں اٹھ کھڑا ہوا۔ایک ممبر وہاں سے چال گیا‪ ،دوسرا جس کا نام ارسالن تھا‪ ،االدریس کے ساتھ رہا۔ ارسالن کا …
‫شجرٔہ نسب سوڈانیوں سے ملتا تھا۔ اس نے االدریس سے کہا… ''آپ شخصیت پرست اور جذباتی مسلمان ہیں‪ ،میں نے
‫حقیقت بیان کی اور آپ ناراض ہوگئے۔ میں اب آپ کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ میرے خالف صالح الدین ایوبی کو کچھ نہ
‫لکھنا۔ آپ کے لیے اچھا نہ ہوگا''… اس کے لہجے میں چیلنج اور دھمکی تھی۔ االدریس نے اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے
‫دیکھا تو ارسالن نے کہا… ''اگر آپ پسند فرمائیں تو میں آپ کے ساتھ علیحدہ میں بات کروں گا''۔
‫یہیں کرلو''۔ االدریس نے کہا۔''
‫میرے گھر چلیں''۔ ارسالن نے کہا… ''کھانا میرے ساتھ کھائیں مگر یہ خیال رکھیں کہ یہ مالقات ایک راز ہوگی''۔''
‫االدریس اس کے ساتھ اس کے گھر چال گیا۔ اندر گیا تو اسے یوں لگا جیسے کسی بادشاہ کے محل میں آگیا ہو۔ ارسالن اتنی
‫زیادہ اونچی حیثیت کا حاکم نہیں تھا۔ دونوں کمرے میں بیٹھے ہی تھے کہ ایک خوبصورت لڑکی نہایت خوبصورت صراحی اور
‫چاندی کے دو پیالے چاندی کے گول تھال میں رکھے ہوئے اندرآئی اور ان کے آگے رکھ دیا۔ االدریس نے بو سے جان لیا کہ یہ
‫شراب ہے۔ اس نے پوچھا … ''ارسالن! تم مسلمان ہو اور شراب پیتے ہو؟''… ارسالن مسکرا دیا اور بوال… ''ایک گھونٹ
‫پی لیں آپ اس حقیقت کو سمجھ جائیں گے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں''۔
‫دو سوڈانی حبشی اندر آئے۔ ان کے ہاتھوں میں چمکتی ہوئی طشتریوں میں کھانا تھا۔ کھانا لگ چکا تو االدریس حیرت سے
‫ارسالن کو دیکھنے لگا۔ ارسالن نے کہا… ''حیران نہ ہوں محترم االدریس! یہ شان وشوکت آپ کو بھی مل سکتی ہے‪ ،میں
‫بھی آپ کی طرح پارسا ہوا کرتا تھا مگر اب اس طرح کی دو لڑکیاں میرے گھر میں ہیں۔ دمشق اور بغداد کے امیروں اور
‫وزیروں کے گھروں میں جاکر دیکھو۔ انہوں نے اس طرح کی حسین اور جوان لڑکیوں سے حرم بھر رکھے ہیں وہاں شراب بہتی

‫ہے''۔
‫یہ لڑکیاں‪ ،یہ دولت اور یہ شراب صلیبیوں کی کرم نوازیاں ہیں''۔ االدریس نے کہا… ''عورت اور شراب نے سلطنت ''
‫اسالمیہ کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں''۔
‫آپ صالح الدین ایوبی کے الفاظ میں باتیں کرتے ہیں''۔ ارسالن نے کہا… ''یہی آپ کی بدنصیبی ہے''۔''
‫تم کیا کہنا چاہتے ہو؟''… االدریس نے جھنجھال کر پوچھا۔ ''مجھے شک ہے کہ تم صلیبیوں کے جال میں آگئے ہو''۔''
‫میں فوج کا غالم نہیں بننا چاہتا''۔ ارسالن نے کہا ''میں فوج کو غالم بنانا چاہتا ہوں‪ ،اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ''
‫سوڈان میں تقی الدین کو رسد اور کمک نہ دی جائے۔ اسے دھوکہ دیا جائے کہ کمک آرہی ہے۔ اسے جھوٹی امیدوں پر لڑاتے
‫حتی کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے۔ ظاہر ہے سوڈانی اسے قتل کردیں گے اور اس کی فوج ہمیشہ کے لیے ادھر
‫رہو‪،
‫ٰ
‫ہی ختم ہوجائے گی۔ ہم فوج کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرا کر اسے قوم کی نظروں میں ذلیل کردیں گے۔ پھر قوم صالح الدین
‫ایوبی کی فوج سے بھی متنفر ہوجائے گی… آپ میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کررہے۔ آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
‫اس کا آپ کو اتنا اور ایسا معاوضہ ملے گا جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے''۔
‫میں تمہارا مطلب سمجھ گیا ہوں''۔ االدریس نے کہا… ''تم اتنی خطرناک باتیں اتنی دلیری سے کس طرح کررہے ہو؟ کیا ''
‫تم نہیں جانتے کہ میں تمہیں گرفتار کرکے غداری کی سزا دال سکتا ہوں''۔
‫کیا میں یہ نہیں کہہ سکوں گا کہ آپ مجھ پر جھوٹا الزام عائد کررہے ہیں''۔ ارسالن نے کہا… ''صالح الدین ایوبی میرے''
‫خالف ایک لفظ نہیں سنے گا''۔
‫االدریس سٹپٹا اٹھا۔ وہ حیران تھا کہ اتنے بڑے عہدے کا حاکم کس قدر شیطان ہے اور وہ کتنی دلیری سے باتیں کررہا ہے۔
‫دراصل االدریس خود مردمومن تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں سکتا تھا کہ ایمان کو نیالم کردینے والے ذلت کی کن پستیوں تک پہنچ
‫سکتے ہیں۔ اس کے پاس ارسالن کو پابند کرنے اورراہ راست پر النے کا ایک ہی ذریعہ تھا۔ وہ ارسالن کے عہدے سے زیادہ
‫بڑے عہدے کا حاکم تھا۔ اس نے ارسالن سے کہا… ''میں جان گیا ہوں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو اور تم کیا کررہے ہو تم
‫جس جرم کے مرتکب ہورہے ہو‪ ،اس کی سزا موت ہے۔ میں تمہیں یہ رعایت دیتا ہوں کہ سات روز کے اندر اپنا رویہ درست
‫کرلو اور دشمن سے تعلقات توڑ کر مجھے یقین دال دو کہ تم خالفت بغداد اور اپنی قوم کے وفادار ہو۔ میں تمہیں رسد کی
‫ذمہ داری سے سبکدوش کرتا ہوں۔ یہ انتظام ہم خود کرلیں گے۔ اگر مجھے ضرورت محسوس ہوئی تو میں تمہیں اس محل میں
‫جو تمہیں صلیبیوں نے بنا دیا ہے‪ ،نظر بند کردوں گا۔ سات دن بڑی لمبی رعایت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آٹھویں روز تمہیں
‫جالد یہاں سے نکالے''۔
‫االدریس اٹھ کھڑا ہوا‪ ،اس نے دیکھا کہ ارسالن مسکرا رہا تھا۔ ارسالن نے کہا… ''محترم االدریس! آپ کے دو بیٹے ہیں‪: ،
‫دونوں جوان ہیں''۔
‫''ہاں!''االدریس نے کہا اور پوچھا ''کیا ہے میرے بیٹوں کو؟''
‫کچھ نہیں!'' ارسالن نے کہا ''میں آپ کو یاد دال رہا ہوں کہ آپ کے دو جوان بیٹے ہیں اور یہی آپ کی کل اوالد ''
‫ہے''۔
‫االدریس اس اشارے کو سمجھ نہ سکا۔ اس نے کہا… ''شراب نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے''… اور وہ باہر نکل گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫ارسالن کے گھر سے نکل کر االدریس علی بن سفیان کے گھر چال گیا اور اسے ارسالن کی باتیں سنائیں۔ علی بن سفیان نے
‫اسے بتایا کہ ارسالن اس کی مشتبہ فہرست میں ہے لیکن اس کے خالف کوئی ثبوت نہیں مل رہا تاہم وہ جاسوسوں کی نظر
‫میں ہے۔ االدریس بہت پریشان تھا اور حیران بھی کہ ارسالن اتنی دلیری سے غداری کا مرتکب ہورہا ہے۔ علی بن سفیان نے
‫اسے بتایا کہ وہ اکیال نہیں‪ ،غداری منظم طریقے سے ہورہی ہے۔ اس کے جراثیم فوج میں بھی پھیال دئیے گئے ہیں۔ اس وقت
‫سب سے بڑا مسئلہ سوڈان کے محاذ کے لیے رسد کا تھا۔ االدریس نے اسے بتایا کہ اس نے ارسالن کو اس ذمہ داری سے
‫سبکدوش کردیا ہے اور رسد کا انتظام اب خود کرنا ہے۔ علی بن سفیان نے اسے بتایا کہ ایک سازش کے تحت دیہات سے
‫اناج اور بکرے وغیرہ سرحد سے باہر بھجوائے جارہے ہیں۔ منڈی میں غلے اور دیگر سامان خوردونوش کا مصنوعی قحط پیدا
‫کردیا گیا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے جاسوسوں اور مخبروں کو یہ کام دے رکھا ہے کہ رات کو ادھر ادھر گھومتے رہا
‫کریں۔ جہاں کہیں انہیں اناج کی ایک بوری بھی جاتی نظر آئے‪ ،پکڑ لیں۔ طویل بات چیت کے بعد انہوں نے رسد کے انتظام
‫کا کوئی طریقہ سوچ لیا۔
‫سلیم االدریس اس قومی مہم اور اپنے فرائض میں اس قدر مگن تھا کہ اس کے ذہن سے ارسالن کا یہ اشارہ نکل گیا کہ
‫تمہارے دو جوان بیٹے ہیں اور یہی تمہاری کل اوالد ہے۔ االدریس کو اپنے بیٹوں کے کردار پر بھروسہ تھا مگر جوانی اندھی
‫ہوتی ہے۔ قاہرہ میں سلطان ایوبی کی غیرحاضری میں بدکاری کی ایک لہر آئی تھی جس نے نوجوان ذہن کو لپیٹ میں لینا
‫شروع کردیا تھا۔ دو تین سال پہلے بھی ایسی ہی ایک لہر آئی تھی جس پر جلدی ہی قابو پالیا گیا تھا۔ اب یہ لہر زمین
‫کے نیچے سے آئی اور کام کرگئی۔ یہ مختلف کھیل تماشوں کی صورت میں آئی جن میں شعبدہ بازی اور کھیلوں کی صورت
‫میں جؤا بازی شامل تھی۔ یہ لوگ خیمے اور شامیانے تان کر تماشہ دکھاتے تھے جس میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں تھا
‫مگر شامیانوں کے اندر خفیہ خیمے تھے۔ جہاں اکیلے اکیلے نوجوان کو اشارے سے بالیا جاتا تھا۔ ان سے پیسے لے کر کپڑوں
‫پر بنی ہوئی دستی تصویریں دکھانے کا کام لڑکیاں کرتی تھیں جن کی مسکراہٹ اور انداز دعوت گناہ ہوتی تھی۔
‫وہیں نوجوانوں کو تھوڑی تھوڑی حشیش پالئی جاتی تھی۔ یہ شرمناک اور خطرناک سلسلہ زمین کے اوپر چل رہا تھا مگر اسے
‫پکڑ کوئی نہیں سکتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جو کوئی یہ تصویریں دیکھ کر یا حشیش کا ذائقہ چکھ کر آتا تھا وہ اپنے گناہ کو
‫چھپائے رکھتا تھا۔ اس گناہ میں لذت ایسی تھی کہ جانے والے باربار جاتے تھے۔ وہ اس لیے بھی باہر کسی سے ذکر نہیں
‫کرتے تھے کہ حکومت تک بات پہنچ گئی تو انہیں نشہ آور لذت سے محروم کردیا جائے گا۔ اس لذت پرستی کا شکار نوجوان
‫اورفوجی ہورہے تھے۔ ان کے لیے در پر وہ وہ قحبہ خانے بھی کھول دئیے گئے۔ کردار کشی کی یہ مہم کس قدر کامیاب تھی؟
‫… اس کا جواب کرک کے قلعے میں صلیبیوں کی انٹیلی جنس اور نفسیاتی جنگ کا ماہر جرمن نژاد ہرمن اپنے حکمرانوں کو
‫ان الفاظ میں دے رہا تھا۔
‫سپین کے مصوروں نے جو تصویریں بنائی ہیں‪ ،یہ لوہے کے بنے ہوئے مردوں کو بھی مٹی کے بت بنا دیتی ہیں''۔ اس نے''
‫ایک مرد اور ایک عورت کی ایک فحش تصویر حاضرین کو دکھائی۔ یہ بڑے سائز کی تصویر تھی جو برش سے دلکش رنگوں
‫میں بنائی گئی تھی۔ صلیبی حکمرانوں نے تصویر دیکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ ننگے مذاق شروع کردئیے۔ ہرمن نے کہا…

‫''میں نے ایسی بے شمار تصویریں بنوا کر مصر کے بڑے بڑے شہروں میں ان کی خفیہ نمائش کا انتظام کردیا ہے۔ وہاں سے
‫ہماری کامیابی کی اطالعات آرہی ہیں۔ میں نے قاہرہ کی نوجوان نسل میں حیوانی جذبہ بھڑکا دیا ہے۔ یہ ایسا طاقتور جذبہ
‫ہے جو مشتعل ہوجائے تو انسانی جذبوں کو جن میں قومی جذبہ خاص طور پر شامل ہے‪ ،تباہ کردیتا ) یہ ان تصویروں نے
‫مصر میں مقیم مسلمان فوج کو ذہنی اور اخالقی لحاظ سے بے کارکرنا شروع کردیا ہے۔ ان تصویروں کی لذت نشہ بھی مانگتی
‫ہے۔ اس کا انتظام بھی کردیا ہے۔ میرے تخریب کاروں اور جاسوسوں کے گروہ نے صحرائی لڑکیوں کی پوری فوج قاہرہ اور
‫دوسرے قصبوں میں داخل کردی ہے۔ ۔ یہ لڑکیاں دیمک کی طرح صال الدین ایوبی کی قوم اور فوج کو کھا رہی ہیں۔ وہ
‫وجوہات کچھ اور تھیں جب میری مہم قاہرہ میں پکڑی گئی تھی۔ اب میں نے کچھ اور طریقے آزمائے ہیں جو کامیاب ہورہے
‫ہیں۔ اب وہاں کے مسلمان خود میری مہم کی حفاظت کریں گے اور اسے تقویت دیں گے۔ وہ اس ذہنی عیاشی کے عادی
‫ہوگئے ہیں‪ ،تھوڑے ہی عرصے بعد میں ان کے ذہنوں میں ان کی اپنی ہی قوم اور اپنے ہی ملک کیخالف زہر بھر نا شروع
‫کردوں گا ۔
‫صالح الدین ایوبی بہت ہوشیار آدمی ہے''۔ حاضرین سے کسی نے کہا۔ ''وہ جونہی مصر پہنچا تمہاری اس مہم کو جڑ ''
‫سے اکھاڑ دے گا''۔
‫اگر وہ مصر پہنچا تو…'' ہرمن نے کہا… ''اس سوال کا جواب آپ ہی دے سکتے ہیں کہ آپ اس کا محاصرہ کامیاب ''
‫ہونے دیں گے یا نہیں۔ بے شک اس نے ریمانڈ کی فوج کو قلعے سے باہر گھیرے میں لے رکھا ہے اور قلعہ اس کے محاصرے
‫میں ہے لیکن یہ گھیرا اور یہ محاصرہ اسی کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ آپ یہاں فیصلہ کن جنگ نہ لڑیں۔ ایوبی
‫کا محاصرہ کیے رکھنے دیں تاکہ وہ یہیں پابند رہے اور مصر نہ جاسکے۔ سوڈان میں ہمارے کمانڈروں نے تقی الدین کی فوج کو
‫نہایت کامیابی سے بکھیر دیا ہے۔ وہ اب نہ لڑ سکتا ہے‪ ،نہ وہاں سے نکل سکتا ہے۔ مصر کی منڈیوں کا اور وہاں کی
‫کھیتیوں کا غلہ میں نے غائب کرادیا ہے۔ آپ کی دی ہوئی دولت آپ کو پورا صلہ دے رہی ہے۔ ایوبی کا ایک وفادار حاکم
‫ارسالن دراصل آپ کا وفادار ہے۔ وہ ہمارے ساتھ پورا تعاون کررہا ہے۔ اس کے کچھ اور ساتھی بھی ہمارے ساتھ ہیں''۔
‫ارسالن کو کتنا معاوضہ دیا جارہا ہے؟''۔ فلپ آگسٹس نے پوچھا۔''
‫جتنا ایک مسلمان حاکم کا دماغ خراب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے''۔ ہرمن نے جواب دیا… ''عورت اور شراب‪ ،دولت ''
‫اور حکومت کا نشہ کسی بھی مسلمان کا ایمان خرید سکتا ہے۔ وہ میں نے خرید لیا ہے… میں آپ کو یہ بتا رہا تھا کہ اب
‫صالح الدین ایوبی مصر جائے گا تو اسے وہاں کی دنیا بدلی ہوئی نظر آئے گی وہ جس نوجوان نسل کی بات فخر سے کیا
‫کرتا ہے وہ مسلمان ہوتے ہوئے اسالم کے لیے بے کار ہوگی۔ اس کی سوچیں اور اس کا کردار ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ یہ نسل
‫جنسی جذبے کی ماری ہوگی۔ یہی حال اس فوج کا ہوگا جسے وہ مصر چھوڑ آیا ہے۔ اس فوج میں میرے تخریب کاروں نے
‫دعوی وثوق سے کرسکتا ہوں کہ
‫اتنی زیادہ بے اطمینانی پھیال دی ہے کہ وہ بغاوت سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ میں آج یہ
‫ٰ
‫آپ سے
‫پہلے میں اپنا محاذ ختم کرچکا ہوں گا۔ دشمن کے کردار اور اخالق کو تباہ کردینے سے فوجوں کے حملوں کی ضرورت باقی
‫نہیں رہتی''۔
‫ہرمن کی اس حوصلہ افزا رپورٹ پر صلیبی حکمران بہت خوش ہوئے‪ ،فلپ آگسٹس نے وہی عزم دہرایا جس کا اظہار وہ کئی
‫بار کرچکا تھا۔ اس نے کہا …''ہماری لڑائی صالح الدین ایوبی سے نہیں اسالم سے ہے۔ ایوبی بھی مرجائے گا‪ ،ہم بھی
‫مرجائیں گے لیکن ہمارا جذبہ اور عزم زندہ رہنا چاہیے تاکہ اسالم بھی مرجائے اور دنیا پر صلیب کی حکمرانی ہو۔ اس کے
‫لیے یہ ضروری تھا کہ ایسا محاذ کھوال جائے جہاں سے مسلمانوں کے نظریات اور کردار پر حملہ کیا جائے۔ میں ہرمن کو خراج
‫تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس نے محاذ نہ صرف کھول دیا ہے بلکہ حملہ کرکے ایک حد تک کامیابی بھی حاصل کرلی
‫ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلیم االدریس کے بھی دو بیٹے جوان تھے۔ ایک کی عمر سترہ سال اور دوسرے کی اکیس سال تھی۔ کہا نہیں جاسکتا کہ وہ
‫بھی لذت پرستی کے اس طوفان کی لپیٹ میں آگئے تھے یا نہیں‪ ،جو صلیبی تخریب کار قاہرہ میں الئے تھے۔ البتہ یہ ثبوت
‫بعد میں مال کہ بڑے بیٹے کے در پردہ تعلقات ایک جوان اور خوبصورت لڑکی کے ساتھ تھے۔ یہ لڑکی اپنے آپ کو مسلمان
‫ظاہر کرتی تھی اور بے پردہ رہتی تھی۔ کسی بڑے خاندان کی لڑکی تھی۔ ان کی مالقاتیں خفیہ ہوتی تھیں جس روز ارسالن
‫نے االدریس سے کہا تھا کہ تمہارے دو بیٹے جوان ہیں اس سے اگلے روز اس لڑکی نے االدریس کے بڑے بیٹے سے کہا کہ ایک
‫نوجوان اسے بہت پریشان کرتا ہے۔ وہ جدھر جاتی ہے اس کا پیچھا کرتا ہے اور اسے اغوا کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔ اس
‫بڑے بیٹے نے لڑکی سے پوچھا کہ نوجوان کون ہے تو لڑکی نے نہ بتایا۔ بات گول کرگئی کہنے لگی کہ اس نے زیادہ پریشان
‫کیا تو اسے بتا دے گی۔
‫بعد کے انکشافات سے پتا چال کہ اسے کوئی نوجوان پریشان نہیں کرتا تھا بلکہ وہ خود نوجوانوں کو پریشان اور خراب کرتی
‫پھر رہی تھی۔ اس نے جس شام بڑے بیٹے سے یہ شکایت کی کہ اس سے اگلے ہی روز اس نے االدریس کے چھوٹے بیٹے کو
‫جس کی عمر سترہ سال تھی‪ ،اپنے جال میں پھانس لیا اور ایسی والہانہ اور بیتابانہ محبت کا اظہار زبانی اور عملی طور پر
‫کیا کہ لڑکا اپنا آپ اس کے حوالے کربیٹھا۔ دو درپردہ مالقاتوں کے بعد اس نے اسے بھی بتایا کہ ایک نوجوان اسے بہت
‫پریشان کرتا ہے اور اسے اغوا کی دھمکیاں دیتا ہے۔ لڑکے کا خون جوش میں آگیا۔ اس نے پوچھا کہ وہ کون ہے تو لڑکی نے
‫کہا کہ اگر اس نے زیادہ پریشان کیا تو بتائوں گی۔ اسی شام وہ اس لڑکے کے بڑے بھائی سے ملی اور اسے کہا کہ وہ
‫نوجوان مجھے زیادہ پریشان کرنے لگا ہے۔ وہ تمہارے متعلق کہتا ہے کہ اسے میں ایسے طریقے سے قتل کروں گا کہ کسی کو
‫پتا ہی نہیں چل سکے گا۔ لڑکی نے کہا… ''تم خنجر اپنے پاس رکھا کرو''۔
19:57
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی
‫"قسط نمبر‪54.۔" میرےفلسطین میں آوں گا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫تم خنجر اپنے پاس رکھا کرو''۔دوسری شام کی مالقات میں اس نے چھوٹے بھائی کو اسی طرح مشتعل کیا اور اسے کہا ''
‫کہ وہ خنجر اپنے پاس رکھا کرے۔ چنانچہ دونوں بھائی اس حقیقت سے بے خبر رہے کہ وہ ایک ہی لڑکی کے جال میں
‫پھنسے ہوئے ہیں۔ خنجر اپنے پاس رکھنے لگے۔ لڑکی دونوں سے الگ الگ ملتی رہی۔ صرف پانچ دنوں میں لڑکی نے دونوں

‫بھائیوں کو پہلے حیوان‪ ،پھر درندہ بنا دیا۔ اس شام اس نے بڑے بھائی کو شہر سے ذرا باہر ایک اندھیری جگہ ملنے کو کہا۔
‫چھوٹے بھائی کو بھی اس نے وہی وقت اور وہی جگہ بتائی اور دونوں سے یہ بھی کہا کہ وہ نوجوان جو مجھے پریشان کیا
‫کرتا ہے۔ آج کہہ گیا ہے کہ شام کو جہاں بھی جاو گی مجھے وہاں پاو گی۔ میں تمہارے چاہنے والے کو تمہارے سامنے قتل
‫کروں گا۔ لڑکی نے کہا… ''میں نے اسے کہا ہے کہ اگر تم اتنے دلیر ہو تو شام کو اس جگہ آجانا۔ اگر تم نے اسے قتل
‫کردیا تو میں تمہاری ہوجاوں گی''۔ دونوں بھائی خون ریز معرکہ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔
‫شام کو بڑا بھائی خنجر لیے اس جگہ پہنچ گیا جو اس لڑکی نے بتائی تھی۔ اس نے ایسی استادی کا مظاہرہ کیا کہ جگہ
‫اندھیری کا انتخاب کیا اور یہ بھی خیال رکھا کہ دونوں بھائی اس کے پہنچنے سے پہلے ہی اکٹھے ہوکر ایک دوسرے کو
‫پہچان نہ لیں۔ وہ وہاں پہنچی تو بڑے بھائی کو وہاں موجود پایا۔ اسے بتایا کہ وہ نوجوان میرے پیچھے آرہا ہے۔ بڑے بھائی
‫نے خنجر نکال لیا اور فورا ً ہی بعد چھوٹا بھائی آگیا۔ لڑکی نے بڑے بھائی سے کہا کہ وہ آگیا ہے لیکن میں نہیں چاہتی کہ
‫خون خرابہ ہو میں اسے کہتی ہوں کہ وہ چال جائے۔ یہ کہہ کر وہ چھوٹے بھائی کے پاس گئی اور اسے کہا کہ وہ پہلے سے
‫موجود ہے اور اس کے ہاتھ میں خنجر ہے۔ چھوٹے بھائی کی عقل پر جوانی کا تازہ خون سوار تھا۔ اس نے خنجر نکاال اور
‫اندھیرے میں اپنے بھائی کی طرف دوڑا۔ بڑے بھائی نے حملہ آور کو اتنی تیزی سے آتے دیکھا تو وہ بھی تیزی سے آگے
‫بڑھا۔ بھائیوں نے ایک دوسرے پر رقابت کے جوش میں بڑے گہرے وار کیے۔ وہ گر کر اٹھے اور ایک دوسرے کو لہولہان کرتے
‫رہے۔ لڑکی انہیں بھڑکاتی رہی۔
‫علی بن سفیان کے شعبے کے آدمی رات کو گشت پر رہتے تھے۔ اتفاق سے ایک گھوڑ سوار گشت پر ادھر آنکال۔ لڑکی بھاگ
‫اٹھی۔ گھوڑ سوار نے اسے دور نہ جانے دیا اور پکڑ کر واپس لے گیا۔ وہاں دونوں بھائی زمین پر پڑے‪ ،آخری سانسیں لے رہے
‫تھے۔ لڑکی نے ان سے التعلقی کے اظہار کی بہت کوشش کی لیکن اس آدمی نے اسے نہ چھوڑا۔ لڑکی کے دئیے ہوئے اللچ
‫کو بھی اس نے قبول نہ کیا۔ اس نے پکار پکار کر گشتی پہرہ داروں کو بال لیا۔ اس وقت تک دونوں بھائی مرچکے تھے۔
‫لڑکی کو اسی وقت علی بن سفیان کے پاس لے گئے۔ الشیں بھی الئی گئیں۔ روشنی میں دیکھا تو دونوں بھائی تھے۔ سلیم
‫االدریس کو اطالع دی گئی۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے جوان بیٹوں کی الشیں دیکھ کر اس کا کیا حشر ہوا ہوگا۔ لڑکی
‫نے الٹے سیدھے بیان دئیے مگر وہ اس سوال کا جواب دینے سے گریز کررہی تھی کہ وہ کس کی بیٹی ہے اور کہاں رہتی
‫ہے۔ االدریس بہت بری ذہنی حالت میں تھا۔ اس نے غصے سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا… ''اسے شکنجے میں ڈالو علی‪،
‫اس طرح یہ کچھ نہیں بتائے گی''۔
‫بتانے کے لیے ہے ہی کیا''۔ لڑکی نے بھی غصے میں کہا۔ بڑے بھائی کی الش کی طرف اشارہ کرکے بولی۔ ''اس نے ''
‫مجھے بالیا تھا‪ ،میں چلی گئی۔ اوپر سے ) چھوٹا بھائی( آگیا۔ دونوں نے خنجر نکال لیا اور لڑ پڑے۔ میں ڈر کے مارے بھاگ
‫اٹھی اور ایک گھوڑ سوار نے مجھے پکڑ لیا۔ میں اپنے باپ کا نام اس لیے نہیں بتاتی کہ اس کی بھی رسوائی ہوگی''۔
‫علی بن سفیان کا دماغ حاضر تھا۔ اسے یاد آگیا کہ ارسالن اور االدریس کی آپس میں ترش کالمی ہوئی تھی۔ ارسالن اس کے
‫مشتبہ کی فہرست میں تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس کے گھر کے اندر کیا ہورہا ہے۔ اس نے االدریس کو آنکھ سے اشارہ
‫کرکے کہا… ''یہ لڑکی کوئی بھی ہے‪ ،یہ قاتل نہیں‪ ،یہ دو جوانوں کو اکیلے قتل نہیں کرسکتی۔ اس نے سچ بات بتا دی ہے۔
‫میں اس کے خالف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا''۔ اس نے لڑکی سے کہا… ''جائو تم آزاد ہو‪ ،آئندہ کسی کے ساتھ اتنی دور
‫نہ جانا‪ ،ورنہ قتل ہوجاو گی''۔
‫لڑکی بڑی تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ علی بن سفیان نے اپنے دو مخبروں سے کہا کہ ان میں سے ایک لڑکی کا راستہ
‫دیکھ کر دوسرے راستے سے ارسالن کے گھر کے بڑے دروازے سے ذرا دور چھپ جائے اور دوسرا ایسے طریقے سے لڑکی کا
‫تعاقب کرے کہ لڑکی کو پتا نہ چلے اور وہ جہاں بھی جائے فورا ً اطالع دی جائے۔ دونوں آدمی چلے گئے۔ لڑکی تیز تیز قدم
‫اٹھاتی جارہی تھی اور اس کا تعاقب ہورہا تھا۔ علی بن سفیان کا شک ٹھیک ثابت ہوا۔ لڑکی ارسالن کے گھر چلی گئی۔
‫وہاں ایک آدمی موجود تھا۔ اس نے آکر اطالع دی کہ لڑکی اس گھر میں داخل ہوئی ہے۔ جب االدریس کو معلوم ہوا کہ لڑکی
‫کا تعلق ارسالن کے گھر سے ہے تو اس نے علی بن سفیان کو بتایا کہ ارسالن نے اسے کہا تھا کہ تمہارے دو جوان بیٹے
‫ہیں مگر االدریس یہ اشارہ نہیں سمجھ سکا تھا۔ صاف ظاہر ہوگیا کہ یہ ارسالن کی کارستانی ہے۔ دونوں بھائیوں کو اسی نے
‫اعلی کو اطالع دی۔ پولیس کا سربراہ
‫اس عجیب وغریب طریقے سے ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرایا ہے۔ االدریس نے حاکم
‫ٰ
‫غیاث بلبیس بھی آگیا۔ علی بن سفیان کو بھی خصوصی اختیارات حاصل تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ارسالن کے گھر چھاپہ
‫مار کر اسے گھر میں ہی نظر بند کردیا جائے۔
‫اب میں سلیم االدریس کو بتائوں گا کہ میں کیوں اتنی دلیری سے باتیں کرتا ہوں''۔ ارسالن نے اس لڑکی کی کامیابی کی''
‫روئیداد سن کر کہا… ''میں اسے بتائوں گا کہ میں کیا کرسکتا ہوں''۔ اس نے لڑکی کو شراب پیش کی اور دونوں کامیابی کا
‫جشن منانے لگے۔
‫ان کا جشن ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ بغیر اطالع کے کوئی اندر آگیا۔ یہ االدریس تھا۔ اس نے ارسالن اور لڑکی کو نشے اور
‫عریانی کی حالت میں دیکھا اور لڑکی کو پہچان لیا۔ ارسالن نے نشے کی حالت میں کہا… ''اپنے بیٹوں کو قتل کراکے تم
‫''میرے ہاتھوں قتل ہونے آئے ہو؟… دربان کہاں ہے؟ یہ شخص میری جنت میں بغیر اجازت کیوں کر آگیا ہے؟
‫اعلی اندر آیا جس کے پاس امیر مصر کے اختیارات تھے۔ اس کے ساتھ غیاث بلبیس اور علی بن
‫اتنے میں شہر کا وہ حاکم
‫ٰ
‫سفیان تھے۔ لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا۔ ارسالن کے تمام مالزموں اور گھر کے دیگر افراد کو باہر نکال کر اس کے محل جیسے
‫مکان کے اندر اور باہر فوج کا پہرہ کھڑا کردیا گیا۔ اس کے گھر میں ایک تہہ خانہ برآمد ہوا جو بہت ہی وسیع اور گہرا تھا۔
‫وہاں سے تیر کمانوں اور برچھیوں کے انبار نکلے۔ ایک ڈھیر خنجروں کا تھا‪ ،آتش گیر مادہ بھی تھا۔ ایک صندوق میں حشیش
‫اور زہر برآمد ہوئے۔ ایک اور کمرے میں سونے کی اینٹیں اور اشرفیوں کی تھیلیاں برآمد ہوئیں۔ اس نے اپنی پرانی دو بیویوں
‫اور ان کے بچوں کو کہیں اور بھیج رکھا تھا۔ گھر میں تین لڑکیاں تھیں۔ تینوں ایک سے ایک بڑھ کر خوبصورت تھیں اور
‫تینوں غیرمسلم تھیں۔ رات ہی رات مالزموں کی چھان بین کرلی گئی۔ ان میں تین صلیبیوں کے جاسوس نکلے۔
‫اعلی نے ارسالن سے پوچھا… ''یہ مال ودولت اور اسلحہ کے یہ ''
‫کیا تم خود بتائو گے کہ تمہارے عزائم کیا ہے؟'' حاکم
‫ٰ
‫انبار تمہیں سزائے موت دالنے کے لیے کافی ہیں''۔
‫پھر سزائے موت دے دو''۔ اس نے نشے کی حالت میں کہا… ''اگر مجھے جان ہی دینی ہے تو خاموشی سے کیوں نہ ''
‫''مرجائوں؟
‫اعلی ''
‫خدا کی نگاہ میں یہ بہت بڑی نیکی ہوگی کہ تم ہمیں اور اس کے نام لیوائوں کو خطروں سے آگاہ کردو''۔ حاکم
‫ٰ

‫نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ اسی نیکی کے بدلے خدا تمہارے اتنے گناہ بخش دے گا''۔
‫تم لوگ تو مجھے نہیں بخشو گے''۔ ارسالن نے کہا۔''
‫سلطان ایوبی اس سے بھی بڑے گناہ بخش دیا کرتا ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''آپ کے بچنے کی صورت پیدا ''
‫ہوسکتی ہے۔ آپ بتا دیں کہ یہاں کس قسم کی تخریب کاری ہورہی ہے۔ کچھ اور لوگ گرفتار کرادیں''۔
‫وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ باقی لوگ ادھر ادھر بیٹھے تھے۔ االدریس نے اپنی خنجر نما تلوار کمر سے باندھ رکھی تھی۔
‫ارسالن خاموشی سے ٹہلتے ٹہلتے اس کے قریب گیا اور بڑی ہی تیزی سے اس کی میان سے تلوار نکال کر اپنے سینے اور
‫پیٹ کے درمیان رکھی‪ ،پیشتر اس کے ہاتھ سے تلوار چھینی جاتی‪ ،اس نے دستے پر دونوں ہاتھ رکھ کر پوری طرقت سے تلوار
‫اپنے پیٹ میں گھونپ لی۔ وہ اپنے بستر پر گرا۔ دوسرے آدمی تلوار اس کے پیٹ سے نکالنے لگے تو اس نے کہا… ''رہنے
‫دو‪ ،میری دو تین باتیں سن لو۔ مرجائوں گا تو تلوار نکال لینا۔ میں نے اپنے آپ کو سزا دے دی ہے۔ میں زندہ صالح الدین
‫ایوبی کے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ مجھے اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا… میں تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں
‫دوں گا۔ تلوار اپنا کام کرچکی ہے۔ ہوش کرو‪ ،مصر سخت خطرے میں ہے۔ مصر میں جو فوج ہے وہ بغاوت کے لیے تیار ہے۔
‫فوجوں کی رسد کو میں نے ناپید کیا ہے۔ سپاہیوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا۔ صلیبی تخریب کاروں نے فوج میں یہ
‫بات پھیال دی ہے کہ محاذوں پر بکرے‪ ،اناج اور شراب جارہی ہے اور وہاں کے سپاہیوں کو مال غنیمت سے ماال مال کرکے
‫کرکے عیاشی کرائی جارہی ہے… میرے گروہ میں اچھے عہدوں کے لوگ ہیں۔ میں کسی کا نام نہیں بتائوں گا۔ فاطمی اور
‫فدائی تباہ کاری کی پوری تیاری کرچکے ہیں۔ تم بغاوت کو روک نہیں سکو گے۔ نئی فوج الئو‪ ،حاالت تمہاری قابو سے…''۔
‫وہ فقرہ مکمل کیے بغیر مرگیا۔
‫اس کے گھر سے جو تین لڑکیاں برآمد ہوئی تھیں وہ بھی اس کے فقرے کو مکمل نہ کرسکیں۔ انہوں نے اپنے متعلق بتا دیا
‫کہ انہیں اخالقی تخریب کاری اور مردوں کو پھانس کر استعمال کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ارسالن کے گھر راتوں کو محفلیں
‫جما کرتی تھیں‪ ،جس میں فوج اور انتظامیہ کے افسر آیا کرتے تھے۔ ان کی خفیہ مالقاتیں اور اجالس ان لڑکیوں کے بغیر
‫ہوتے تھے۔ لڑکیوں نے یہ تصدیق کردی کہ مصر میں بغاوت کے لیے زمین ہموار کردی گئی ہے جس لڑکی نے دونوں بھائیوں کو
‫ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرادیا تھا اس نے قتل کی ساری کہانی سنا دی جو بیان کی گئی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ
‫االدریس کے بڑے بیٹے کو پہلے ہی اپنے جال میں محبت کا جھانسہ دے کر لے چکی تھی۔ اسے ارسالن اپنے باپ االدریس
‫کے خالف استعمال کرنا چاہتا تھا لیکن ارسالن نے منصوبہ بدل دیا اور لڑکی سے کہا کہ دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے کے
‫ہاتھوں قتل کرادو۔
‫ایک ہی رات میں تقریبا ً اڑھائی سو اونٹ مرکزی دفتر کے سامنے الئے گئے۔ ان پر غلہ اور خوردونوش کا دیگر سامان لدا ہوا
‫تھا۔ یہ اونٹ تین چار قافلوں کی صورت میں مختلف جگہوں سے پکڑے گئے تھے۔ اناج وغیرہ کو سرحد سے باہر جانے سے
‫روکنے کے لیے گشتی پارٹیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ ان کی پہلی کامیابی تھی۔ ان قافلوں کے ساتھ جو آدمی تھے‪ ،انہوں
‫نے شہر کے چند ایک بیوپاریوں کے نام بتائے۔ ان بیوپاریوں نے تمام غلہ اور دیگر سامان زیرزمین کرلیا تھا۔ آدھی رات کے
‫بعد وہ یہ سامان باہر کے اجنبی تاجروں کے ہاتھ بیچتے تھے۔ ان آدمیوں نے دیہاتی عالقوں میں بھی چند ایک جگہوں کی
‫نشاندہی کی جہاں اجنبی سے تاجر موجود رہتے اور تمام تر رسد اکٹھی کرکے لے جاتے تھے۔ شتر بانوں میں سے بعض نے
‫سرحد کی ایک جگہ بتائی جہاں سے یہ قافلے سوڈان جایا کرتے تھے۔ وہاں ایک سرحدی دستہ موجود تھا۔ انکشاف ہوا کہ اس
‫دستے کا کمانڈر دشمن سے باقاعدہ معاوضہ یا رشوت لیتا اور قافلے گزار دیتا تھا۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہ اہتمام ارسالن کی
‫زیرکمان ہورہا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫یہ ان سینکڑوں میں سے چند ایک واقعات ہیں جو سلطان ایوبی کی غیرحاضری میں مصر کو لپیٹ میں لیے ہوئےتھے۔
‫اعلی حکام نے ارسالن کی غداری اور االدریس کے بیٹوں کی موت اور دیگر واقعات پر غور کرنے کے لیے
‫االدریس اور دیگر
‫ٰ
‫اجالس منعقد کیا۔ علی بن سفیان اور غیاث بلبیس نے یہ مشورہ پیش کیا کہ حاالت اتنے بگڑ گئے ہیں کہ ان کے بس میں
‫اعلی شخصیت قتل ہوجائے۔
‫نہیں رہے۔ پیشتر اس کے کہ مصر میں بغاوت ہوجائے یا فاطمیوں کے اور فدائیوں کے ہاتھوں کوئی
‫ٰ
‫سلطان ایوبی کو مکمل حاالت سے آگاہ کردیا جائے اور انہیں مشورہ دیا جائے کہ ممکن ہوسکے تو وہ کرک کا محاصرہ اپنے
‫نائبین کے سپرد کرکے قاہرہ آجائیں۔ ایک قاصد کو تو پہلے ہی بھیج دیا گیا تھا مگر اسے تفصیالت نہیں بتائی گئی تھیں۔ اب
‫سنگین وارداتیں ہوگئیں تو اجالس میں فیصلہ ہوا کہ علی بن سفیان محاذ پر سلطان ایوبی کے پاس جائے۔
‫کرک کے محاصرے کو دو مہینے گزر گئے تھے مگر کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ صلیبیوں نے دفاع کے
‫غیرمعمولی انتظامات کررکھے تھے۔ ایک انتظام یہ تھا کہ شہر میں سامان خوردونوش کا ذخیرہ کافی تھا۔ ایک جاسوس نے اندر
‫سے تیر کے ساتھ پیغام باندھ کر باہر پھینکا تھا جس میں تحریر تھا کہ اندر خوراک کی کمی نہیں۔ مسلمان باشندوں پر اتنی
‫سخت پابندیاں عائد کردی گئی تھیں کہ ان کے گھروں کی دیواریں بھی ان کے خالف مخبری اور جاسوسی کرتی تھیں۔ اس
‫لیے اندر تخریب کاری ممکن نہیں ہورہی تھی ورنہ خوراک کا ذخیرہ تباہ کردیا جاتا۔ شہر میں سلطان ایوبی کے جاسوسوں کی
‫بھی کمی تھی۔ وہ کبھی کبھی رات کے وقت تیر کے ساتھ پیغام باندھ کر اور موقع محل دیکھ کر باہر کو تیر چال دیتے
‫تھے۔ فوجوں کو حکم تھا کہ ایسا تیر نظر آئے تو وہ اپنے کمانڈر تک پہنچا دیں۔ صلیبیوں نے محاصرہ توڑنے کی کوششیں ترک
‫کردی تھیں۔ وہ سلطان ایوبی کی طاقت زائل کرتے جارہے تھے۔ سلطان ایوبی ان کی چال سمجھ گیا تھا۔ اس کے جواب میں
‫اس نے بھی اپنا طریقہ بدل دیا تھا۔
‫صلیبیوں کی یہ کوشش ناکام ہوچکی تھی کہ انہوں نے باہر سے حملہ کیا تھا۔ سلطان ایوبی اس حملے کے لیے تیار تھا۔ اس
‫نے نہایت اچھی چال سے اس فوج کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اس فوج کو گھیرے میں آئے ڈیڑھ مہینہ گزر گیا تھا۔ گھیرے
‫میں آئی ہوئی فوج گھیرا توڑنے کے لیے ہر طرف حملے کرتی تھی۔ سلطان ایوبی اس کا کوئی حملہ کامیاب نہیں ہونے دے
‫رہا تھا۔ البتہ گھیرا کئی میلوں پر پھیل گیا تھا۔ وہ عالقہ سرسبز تھا‪ ،اس لیے صلییوں کو پانی اور جانوروں کو چارہ مل
‫جاتا تھا۔ ان کے جانور مرتے تھے تو اسے وہ کھالیتے تھے‪ ،مگر یہ کافی نہیں تھا۔ ہزاروں گھوڑوں اور اونٹوں کے لیے یہ چارہ
‫کافی نہیں تھا۔ پانی کے لیے وہاں کوئی ندی یا دریا نہیں تھا۔ تین چار چشمے تھے جن میں سے دو ڈیڑھ مہینے میں ہی
‫خشک ہوگئے تھے۔ صلیبی سپاہیوں میں بددلی پیدا ہوگئی تھی۔ انہیں غذا بہت کم ملتی تھی اور پانی کے لیے بہت دور جانا
‫پڑتا تھا۔ رات کو سلطان ایوبی کے چھاپہ مار گروہ ان پر شب وخون مارتے اور نقصان کرتے رہتے تھے۔ ڈیڑھ ماہ میں یہ فوج
‫آدھی رہ گئی تھی۔ ان کے جانوروں میں بھی دم نہیں رہا تھا۔ صلیبی حکمران ریمانڈ جو اس فوج کا کمانڈر تھا‪ ،سخت

‫پریشانی کے عالم میں انتظار کررہا تھا کہ صلیبی حملہ کرکے اسے سلطان ایوبی سے چھڑائیں گے مگر اس کی مدد کو کوئی
‫نہیں آرہا تھا۔
‫سلطان ایوبی چاہتا تو چاروں طرف سے حملہ کرکے اس فوج کو شکست دے سکتا تھا لیکن اس سے اپنا جانی نقصان بھی
‫ہونا الزمی تھا اور جنگ کا پانسہ پلٹ جانے کا خطرہ بھی تھا۔ سلطان ایوبی اپنی طاقت زائل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ صلیبیوں
‫کو آہستہ آہستہ مار رہا تھا۔ اسے یہ نقصان ضرور ہورہا تھا کہ اس کی فوج کا تیسرا حصہ اس صلیبی فوج کو گھیرے میں
‫رکھنے میں الجھ گیا تھا۔ اسے وہ شہر کے محاصرے کی کامیابی کے لیے استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے پاس ابھی ریزرو
‫دستے موجود تھے اور وہ سوچ رہا تھا کہ قلعہ توڑنے کے لیے وہ انہیں استعمال کرے۔ وہ اب محاصرے کو اور زیادہ طول دینا
‫نہیں چاہتا تھا۔ اس دور میں محاصرے عموما ً طویل ہوا کرتے تھے۔ ایک ایک شہر کو دو دو سال تک بھی محاصرے میں رکھا
‫گیا ہے۔ چھ سات ماہ کا محاصرہ طویل نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن سلطان ایوبی محاصرے کو طول دینے کا قائل نہیں تھا۔ وہ
‫ان حملہ آوروں میں سے بھی نہیں تھا جو کسی ملک کے دارالحکومت کا محاصرہ کرکے اندر والوں کو پیغام بھیجا کرتے تھے
‫کہ اتنی مقدار زر وجواہرات کی‪ ،اتنے ہزار گھوڑے اور اتنی عورتیں باہر بھیج دو‪ ،ہم چلے جائیں گے۔ سلطان ایوبی عرب کی
‫سرزمین سے صلیبیوں کو نکالنا چاہتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ یہ سرزمین اسالم کا سرچشمہ ہے جو ساری دنیا کو سیراب کرے
‫گا اور وہ اپنی عمر کو بہت کم سمجھا کرتا تھا۔ یہ الفاظ اس نے بارہا کہے تھے کہ میں یہ کام اپنی مختصر سی عمر میں
‫پورا کردینا چاہتا ہوں ورنہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مسلمان امراء اس مقدس خطے کو صلیبیوں کے ہاتھ بیچتے چلے جارہے ہیں۔
‫ایک رات وہ اپنے خیمے میں گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ اس نے یہاں تک سوچا تھا کہ قلعے کے اردگرد اتنی فراغ
‫سرنگیں کھدوائی جائیں جن میں پیادہ سپاہی گزر سکیں۔ کچھ اور طریقے بھی اس کے ذہن میں آئے وہ اب چند دنوں میں
‫کرک پر قبضہ کرلینا چاہتا تھا۔ اس کیفیت میں علی بن سفیان اس کے خیمے میں داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر سلطان ایوبی
‫خوش نہیں ہوا کیونکہ اسے اطالع مل چکی تھی کہ مصر کے حاالت خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ چہرے پر تشویش
‫کے آثار لیے سلطان ایوبی علی بن سفیان سے بغل گیر ہوکر مال اور کہا… ''تم میرے لیے یقینا کوئی خوشخبری نہیں
‫الئے''۔
‫بظاہر خیریت ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''مگر خوشخبری والی بات بھی کوئی نہیں''۔ اس نے مصر کے حاالت اور''
‫واقعات سنانے شروع کردیئے۔ علی بن سفیان جیسا ذمہ دار حاکم سلطان ایوبی سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتا تھا۔ نہ ہی وہ
‫اسے خوش فہمیوں میں مبتال کرسکتا تھا۔ حاالت کا تقاضا یہ تھا کہ لگی لپٹی رکھے بغیر بات کی جائے۔ علی بن سفیان نے
‫تقی الدین کی غلطیوں اور سلطان ایوبی کی بھی ایک دو غلطیوں کا کھل کر ذکر کیا۔ ارسالن کی غداری کا قصہ اور االدریس
‫کے جوان بیٹوں کی موت کا حادثہ سن کر سلطان ایوبی کے آنسو نکل آئے۔ اگر ارسالن مرنہ چکا ہوتا تو سلطان ایوبی کبھی
‫یقین نہ کرتا کہ اس کا یہ حاکم جسے وہ اپنا وفادار سمجھتا ہے‪ ،غداری کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ دوست اس سے
‫غداری کرچکے تھے۔
‫اگر ارسالن ذرا سی دیر اور زندہ رہتا تو باقی راز بھی بے نقاب کردیتا۔'' علی بن سفیان نے کہا… ''اس کے آخری فقرے''
‫سے جو موت نے پورا نہ ہونے دیا‪ ،صاف ثبوت ملتا ہے کہ مصر میں بغاوت ہونے ہی والی ہے۔ مصر میں ہماری جو فوج ہے‪،
‫اسے ذہنی لحاظ سے پست کردیا گیا ہے۔ میری جاسوسی بتاتی ہے کہ کمان دار تک غلط فہمیوں اور بے اطمینانی کا شکار
‫ہوگئے ہیں۔ فوج کے لیے غلے اور گوشت کی قلت پیدا کرکے یہ بے بنیاد بات پھیال دی گئی ہے کہ تمام تر رسد محاذوں پر
‫بھیجی جارہی ہے اور یہ بھی کہ فوج کا مال حاکم بیچ کر کھارہے ہیں۔ دشمن کی سازش پوری طرح کامیاب ہے''۔
‫دشمن کی سازش اسی ملک میں کامیاب ہوتی ہے جہاں کے چند ایک افراد دشمن کا ساتھ دینے پر اتر آتے ہیں''۔ ''
‫سلطان ایوبی نے کہا۔ ''اگر ہمارے اپنے بھائی دشمن کا آلٔہ کار بن جائیں تو ہم دشمن کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔
‫جس طرح اللہ کے ان شیروں کے جذبے کے زور پر اور ان کی جانیں قربان کرکے صلیبیوں کو میدان جنگ میں ناکوں چنے
‫چبوا رہا ہوں‪ ،اسی طرح میرے حاکم بھی پکے مسلمان ہوتے تو آج قبلہ اول آزاد ہوتا اور ہماری اذانیں یورپ کے کلیسائوں میں
‫گونج رہی ہوتی مگر میں مصر میں قید ہوکے رہ گیا ہوں‪ ،میرے جذبے اور میرا عزم زنجیروں میں جکڑے گئے ہیں''۔ اس نے
‫کچھ دیر کی گہری خاموشی اور سوچ کے بعد کہا… ''مجھے سب سے پہلے ان غداروں کو ختم کرنا ہوگا ورنہ یہ قوم کو
‫دیمک کی طرح کھاتے رہیں گے''۔
‫میں یہ مشورہ لے کر آیا ہوں کہ اگر محاذ آپ کو اجازت دے تو مصر چلئے''۔''
‫میں حقائق سے چشم پوشی نہیں کرسکتا علی!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''لیکن میں یہ اظہار کیے بغیر بھی نہیں رہ ''
‫سکتا کہ میرے ہاتھوں سے صلیبیوں کی گردن اور فلسطین چھڑانے والے میرے بھائی ہیں۔ علی بن سفیان! اگر میں نے غداروں
‫کو اسالم کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے والے مسلمانوں کو ابھی ختم نہ کیا تو یہ کبھی ختم نہ ہوں گے اور ہماری تاریخ
‫کو یہ گروہ ہمیشہ شرمسار کرتا رہے گا۔ قوم میں ہر دور میں یہ گروہ موجود رہے گا جو دین اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ
‫وسلم کے دشمنوں سے دوستی کرکے اسالم کی جڑیں کھوکھلی کرتا رہے گا''۔ اس نے پوچھا سوڈان کے محاذ کی کیا خبر
‫ہے؟ میں نے تقی الدین کو پیغام بھیج دیا کہ اس محاذ کو سمیٹنا شروع کردو۔
‫مصر میں کسی کو بھی معلوم نہیں کہ آپ نے یہ حکم دیا ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا۔''
‫اور کسی کو معلوم ہونا بھی نہیں چاہیے''۔ سلطان ایوبی نے کہا اس نے دربان کو بالیا اور کہا۔ ''کاتب کو فورا ً بال ''
‫الئو''۔
‫'…کاتب کاغذ اور قلمدان لے کر آیا تو سلطان ایوبی نے کہا۔ ''لکھو… قابل صد احترام نورالدین زنگی
‫وہ قاصد بڑا ہی تیز رفتار تھا جس نے سلطان ایوبی کا پیغام اگلی رات کے آخری پہر بغداد میں نورالدین زنگی تک پہنچا دیا۔
‫سلطان ایوبی نے اسے کہا تھا کہ راستے میں ہر چوکی پر اسے تازہ دم گھوڑا مل جائے گا لیکن وہ گھوڑا صرف تبدیل کرے
‫خود آرام اور کھانے کے لیے نہ رکے۔ کہیں بھی گھوڑا آہستہ نہ چلے۔ اگر رات کو نورالدین زنگی کے پاس پہنچے تو دربان
‫سے کہہ دے کہ انہیں جگا دے۔ اگر زنگی خفگی کا اظہار کرے تو کہہ دینا کہ صالح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ ہم سب جاگ
‫رہے ہیں۔ قاصد جب نورالدین زنگی کے دروازے پر پہنچا تو محافظ دستے نے اسے روک دیا اور کہا کہ پیغام صبح دیا جائے
‫گا۔ قاصد نے گھوڑے تو کئی بدلے تھے مگر کہیں پانی کا ایک گھونٹ پینے کے لیے بھی نہیں رکا تھا۔ تھکن‪ ،بھوک‪ ،پیاس
‫اور دو راتوں کی بیداری سے وہ الش بن گیا تھا۔ زبان پیاس سے اکڑ گئی تھی۔ وہ پائوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا تھا اور اس کے
‫منہ سے بات نہیں نکلتی تھی۔ اس نے اشاروں میں بتایا کہ پیغام بہت ضروری ہے۔ نورالدین زنگی نے بھی سلطان ایوبی کی
‫طرح اپنے خصوصی عملے‪ ،دربان اور اپنے باڈی گارڈز کے کمانڈر کو کہہ رکھا تھا کہ کوئی ضروری بات یا پیغام ہو تو اس کی

‫نیند اور آرام کی پروا نہ کی جائے۔
‫قاصد کی حالت دیکھ کر باڈی گارڈز نے اندر جاکر نورالدین زنگی کی خواب گاہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ باہر آگیا اور پیغام اور
‫قاصد کو مالقات کے کمرے میں لے گیا۔ قاصد کمرے میں داخل ہوتے ہی گر پڑا۔ زنگی نے اپنے مالزموں کو بالیا اور قاصد کی
‫دیکھ بھال کرنے کو کہا۔ اس نے پیغام پڑھنا شروع کیا۔ سلطان ایوبی نے لکھا تھا۔
‫تعالی کی رحمت ہو‪ ،میرا پیغام آپ کو خوش نہیں کرے گا۔ آپ کے لیے خوشی اور اطمینان کی بات صرف یہ''
‫آپ پر اللہ
‫ٰ
‫ہے کہ میں نے حوصلہ نہیں چھوڑا۔ آپ کے ساتھ کیا ہوا عہد پورا کررہا ہوں۔ آپ میرے پاس تشریف الئیں گے تو تمام حاالت
‫سنائوں گا۔ میں نے کرک کو محاصرے میں لے رکھا ہے‪ ،ابھی کامیابی نہیں ہوئی۔ اتنی کامیابی حاصل کرچکا ہوں کہ صلیبیوں
‫کی ایک فوج نے شاہ ریمانڈ کی سرکردگی میں باہر سے مجھ پر حملہ کیا تھا۔ میں نے محفوظہ سے اسے گھیرے میں لے لیا
‫ہے۔ اب تک اس کی آدھی فوج ختم کرچکا ہوں۔ بھوکے صلیبی اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو کھا رہے ہیں جو انہیں اتنی دور
‫سے یہاں الئے تھے۔ میں اس کوشش میں ہوں کہ ریمانڈ کو زندہ پکڑ لوں مگر کرک کا محاصرہ لمبا ہوتا جارہا ہے۔ صلیبیوں
‫کا دماغ اور طریقہ جنگ پہلے سے بہت بہتر ہے۔ میں محاصرے کو کامیاب کرنے کے طریقے سوچ رہا تھا اور مجھے امید تھی
‫کہ میرے جانباز مجاہد قلعہ توڑ لیں گے وہ جس جذبے سے لڑ رہے ہیں وہ آپ کو حیران کردے گا مگر سوڈان میں میرا
‫بھائی تقی الدین ناکام ہوگیا ہے۔ اس کی غلطی کہ اس نے اجنبی صحرا میں جاکر فوج کو پھیال دیا ہے۔ وہ مدد مانگ رہا
‫ہے۔ میں نے اسے محاذ سمیٹنے اور واپس آنے کو کہہ دیا ہے۔ مصر سے آئی ہوئی خبریں اچھی نہیں‪ ،غداروں اور ایمان
‫فروشوں نے دشمن کا آلٔہ کار بن کر مصر میں بغاوت اور صلیبی یلغار کے لیے راستہ صاف کردیا ہے۔ علی بن سفیان کو آپ
‫اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ خود میرے پاس آیا ہے۔ میں اس کے مشورے کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ میں مصر چال جائو…
‫محترم! میں کرک کا محاصرہ اٹھا نہیں سکتا ورنہ صلیبی کہیں گے کہ صالح الدین پسپا بھی ہوسکتا ہے۔ دشمن کی گردن
‫میرے ہاتھ میں ہے۔ آئیے اور یہ گردن آپ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیں‪ ،اپنی فوج ساتھ الئیں‪ ،میں اپنی فوج مصر لے جائوں گا۔
‫ورنہ مصر بغاوت کا شکار ہوجائے گا۔ امید ہے کہ آپ میرے دوسرے پیغام کا انتظار نہیں کریں گے''۔
‫نورالدین زنگی نے ایک لمحہ بھی انتظار نہ کیا۔ شب خوابی کے لباس میں ہی مصروف کار ہوگیا۔ فوجی حکام کو بال لیا۔
‫انہیں احکام دیئے اور دن ابھی آدھا بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کی فوج کرک کی سمت کوچ کرچکی تھی۔ زنگی وہ مرد مجاہد
‫تھا جس کا نام سن کر صلیبی بدک جاتے تھے۔ اس کے سینے میں ایمان کی شمع روشن تھی۔ وہ فن حرب وضرب کا ماہر
‫تھا۔ اس نے راستے میں کم سے کم پڑائو کیے اور اتنی جلدی محاذ پر پہنچا کہ سلطان ایوبی حیران رہ گیا۔ اگر قاصد پہلے
‫سے اسے اطالع نہ دے دیتا کہ زنگی اپنی فوج کے ساتھ آرہا ہے تو دور سے گرد کے بادل دیکھ کر سلطان صالح الدین
‫سمجھتا کہ صلیبیوں کی فوج آرہی ہے۔ سلطان ایوبی گھوڑا سرپٹ بھگاتا استقبال کے لیے گیا۔ نورالدین زنگی اسے دیکھ کر
‫گھوڑے سے کود آیا۔ اسالم کی عظمت کے یہ دونوں پاسبان جب گلے ملے تو جذبات کی شدت سے سلطان ایوبی کے آنسو
‫نکل آئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی نے نورالدین زنگی کو تمام تر حاالت اور غداروں کی ساری کارستانیاں سنائیں۔ زنگی نے کہا… ''صالح الدین!
‫تمہاری عمر ابھی اتنی نہیں گزری کہ چند ایک حقائق کو قبول کرسکو۔ یہ اسالم کی بدنصیبی ہے کہ غدار ہماری قوم کا
‫الزمی حصہ بن گئے ہیں اور قوم ان سے کبھی پاک نہیں ہوگی۔ مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب غدار
‫قوم پر باقاعدہ حکومت کریں گے۔ دشمن کے خالف باتیں کریں گے۔ بلند دعوے کریں گے‪ ،دشمن کو کچل دینے کے نعرے
‫لگائیں گے‪ ،مگر قوم جان نہیں سکے گی کہ ان کے حکمران دراصل اس کے اور اس کے دین کے دشمن کے ساتھ درپردہ
‫دوستی کرچکے ہیں۔ دشمن انہی کو ڈھال اور انہی کو تلوار بنائے گا اور ان کے ہاتھوں قوم کو مروائے گا… پریشان نہ ہو صالح
‫الدین! ہم حاالت پر قابو پالیں گے۔ تم مصر پہنچو اور تقی الدین کو مدددے کر سوڈان سے نکالو۔ دائیں بائیں حملے کرکے
‫دشمن کو الجھائے رکھو تاکہ تقی الدین کا کوئی دستہ کہیں گھیرے میں نہ آجائے۔ مصر میں فوجوں کو یکجا کرو اور مصر میں
‫جو فوج ہے‪ ،اسے میرے پاس بھیج دو۔ میں اس کے دماغ سے بغاوت کا کیڑا نکال دوں گا''۔
‫شام کے بعد زنگی نے اپنی فوج کو کرک کے محاصرے پر لگا دیا اور سلطان ایوبی کی فوج پیچھے ہٹ آئی۔ اسے فورا ً قاہرہ
‫کے لیے کوچ کا حکم دے دیا گیا۔ کچھ غلطی وہاں ہوگئی جہاں سلطان ایوبی نے ریمانڈ کی فوج کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔
‫زنگی نے جب وہاں اپنے دستے اس ہدایت کے ساتھ بھیجے کہ سلطان ایوبی کی فوج کی بدلی کرتی ہے تو احکام اور ہدایات
‫پر کسی غلط فہمی کی بنا پر عمل نہ ہوسکا۔ ریمانڈ نے اتفاق سے اس سمت حملہ کیا جہاں اسے توقع تھی کہ مسلمانوں
‫کا دستہ کمزور ہے۔ اس نے وہاں کسی کو بھی حملہ روکنے کے لیے تیار نہ پایا۔ وہ اس طرف سے نکل گیا اور کچھ فوج
‫بھی نکل گئی۔ صلیبیوں کی بچی کھچی فوج پھنسی رہ گئی‪ ، ،جسے اگلے روز پتا چال کہ ان کا حکمران کمانڈر بھاگ گیا ہے
‫تو اس نے بھی اندھا دھند بھاگنے کی کوشش کی۔ صلیبی اپنی جانیں بچانے کے لیے لڑے۔ کچھ مارے گئے اور بعض پکڑے
‫گئے۔ نقصان یہ ہوا کہ ریمانڈ نکل گیا۔ فائدہ یہ ہوا کہ گھیرا کامیاب رہا اور نورالدین زنگی کی فوج کا یہ حصہ کرک کے
‫محاصرے کو کامیاب کرنے کے لیے فارغ ہوگیا۔
‫سلطان ایوبی جب قاہرہ کو روانہ ہونے لگا تو حسرت بھری نظروں سے کرک کو دیکھا۔ اس نے زنگی سے کہا ''تاریخ یہ تو
‫نہیں کہے گی کہ صالح الدین ایوبی پسپا ہوگیا تھا؟ میں نے محاصرہ اٹھایا تو نہیں!''۔
‫نہیں صالح الدین!''… نورالدین زنگی نے اس کا گال تھپکا کر کہا… ''تم نے شکست نہیں کھائی‪ ،تم جذباتی ہوگئے ہو‪'' ،
‫جنگ جذبات سے نہیں لڑی جاتی''۔
‫میں آئوں گا میر ے فلسطین!''… سلطان ایوبی نے کرک کو دیکھتے ہوئے کہا… ''میں آئوں گا''۔ اس نے گھوڑے کو ''
‫ایڑی لگا دی پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
‫نورالدین زنگی اسے دیکھتا رہا۔ وہ جب اپنے گھوڑے سمیت دور جاکر گرد میں چھپ گیا تو زنگی نے اپنے ایک نائب سے
‫کہا… ''اسالم کو ہر دور میں ایک صالح الدین ایوبی کی ضرورت ہوگی''۔
‫یہ واقعہ ‪١١٧٣ئ)‪٥٦٩ہجری( کے وسط کا ہے۔
19:58
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪55۔ وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

‫مصر کےدیہاتی اس کی راہ دیکھ رہے تھے۔ ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ تھے… ''وہ آسمان سے آیا ہے‪ ،خدا کا دین الیا
‫ہے۔ دل کی بات بتاتا ہے اور آنے والے وقت کے اندھیروں کو روشن کرکے دکھاتا ہے۔ مرے ہوئوں کو اٹھا دیتا ہے''۔
‫وہ کون تھا؟… جنہوں نے اسے دیکھا تھا‪ ،وہ اس کی کرامات سے اس قدر مسحور ہوگئے تھے کہ یہ جاننے کی ضرورت ہی
‫محسوس نہیں کرتے تھے کہ وہ کون ہے۔ وہ تسلیم کرلیتے تھے کہ وہ آسمان سے آیا ہے‪ ،خدا کا دین الیا ہے اور جو لوگ
‫اس کی راہ دیکھ رہے تھے وہ اس سوال سے بے نیاز تھے کہ وہ کون ہے۔ قافلے گزرتے تھے تو اسی کی کرامات سناتے
‫تھے۔ کوئی اکیال دھکیال مسافر کسی گائوں میں جاتا تھا تو اسی کے معجزوں کا ذکر کرتا تھا۔ بعض لوگ اسے نبی اور پیغمبر
‫بھی کہتے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو اسے بارش کا دیوتا مانتے تھے اور اس کی خوشنودی کے لیے انسانی جان کی
‫قربانی دینے کے لیے بھی تیار تھے۔ ان میں سے کوئی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا تھا کہ اس کا مذہب کیا ہے اور
‫وہ کیسا عقیدہ ساتھ الیا ہے۔ لوگ ابھی پسماندگی کے دور میں تھے۔ علم سے بے بہرہ تھے اور قدرت کے ستم کا شکار رہتے
‫تھے۔ انہیں جہاں امید بندھتی تھی کہ ان کے مصائب کا حل موجود ہے‪ ،وہاں جا کر سجدے کرتے تھے۔ ان کی اکثریت
‫مسلمان تھی۔ اسالم کی روشنی وہاں تک پوری آب وتاب سے پہنچی تھی۔ مسلمانوں نے مسجدیں بھی بنا رکھی تھی۔ رب
‫کعبہ کے حضور پانچوں وقت سجدے بھی کرتے تھے مگر اسالم کے سچے عقیدے کو پختہ کرنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ان
‫کے امام بے علم تھے جو اپنی امامت کو برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کو عجیب وغریب باتیں بتاتے رہتے تھے۔ قرآن کو
‫انہوں نے ( نعوذباللہ) کالے علم کی ایک کتاب بنا ڈاال تھا اور ایسا تاثر پیدا کررکھا تھا کہ قرآن کو صرف امام سمجھ سکتا
‫ہے۔ چنانچہ یہ مسلمان قرآن کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتے تھے۔
‫ان اماموں نے لوگوں کے دلوں میں ''غیب'' کا ایک لفظ بٹھا دیا تھا اور انہیں باور کرادیا تھا کہ جو کچھ بھی ہے وہ
‫غیب میں ہے اور غیب میں جھانکنے کی قدرت صرف امام کو حاصل ہے۔ اماموں نے انسان کو ایک کم زور چیز بنا دیا تھا۔
‫اس مقام سے وسوسے اور توہمات پیدا ہوئے۔ صحرائی آندھیوں کی چیخوں میں انہیں اس مخلوق کی آوازیں سنائی دینے لگیں
‫جو امام کہتے تھے کہ انسانوں کو نظر نہیں آسکتی۔ بیماریاں جنات اور شرشرار بن گئیں۔ امام معالج اور عامل بن گئے جنہوں
‫دعوی کیا کہ ان کے قبضے میں جنات ہیں۔ انسان ''غیب کی سزا'' سے اتنے خوف زدہ رہنے لگے کہ ان کے دلوں
‫نے
‫ٰ
‫میں اسالم کا عقیدہ کمزور پڑ گیا اور وہ ہر اس آواز پر لبیک کہنے لگے جو انہیں غیب کی مخلوق اور غیب سے سزا سے
‫بچانے کا یقین دالتی تھی… یہی وجہ تھی کہ لوگ بیتابی سے اس کی راہ دیکھ رہے تھے جو آسمان سے آیا ہے اور مرے
‫ہوئوں کو اٹھا دیتا ہے۔
‫وہ مصر کے اس دیہاتی عالقے میں وارد ہوا تھا جو جنوب مغرب کی سرحد کے ساتھ تھا۔ اس زمانے میں سرحد کا کوئی
‫واضح وجود نہیں تھا۔ صالح الدین ایوبی نے کاغذوں پر ایک لکیر کھینچ رکھی تھی لیکن وہ بھی کہا کرتا تھا کہ دین اسالم
‫کی اور سلطنت اسالمیہ کی کوئی سرحد نہیں۔ دراصل سرحد عقیدوں کے درمیان تھی جہاں تک اسالم کی گرفت تھی‪ ،وہ
‫اسالمی سلطنت تھی اور جہاں سے غیراسالمی نظریات شروع ہوتے تھے‪ ،وہ عالقہ غیر کہالتا تھا۔ مصر کے جس آخری گائوں
‫میں مسلمانوں کی غالب اکثریت تھی‪ ،وہ امارت مصر کا آخری اور سرحدی گائوں سمجھا جاتا تھا۔ اسی باعث صلیبی ملت
‫اسالمی کے نظریات پر حملے ِک رتے اور اسالمی عقیدوں کو کمزور کرکے وہاں اپنے عقائد ِکا غلبہ پیدا کرتے تھے۔ اس سے ثابت
‫ہوتا تھا کہ اس وقت سرحدوں کی حیثیت جغرافیائی کم اور نظریاتی زیادہ تھی۔ اس دور کے واقعات سے یہ بھی ثابت ہوتا
‫ہے کہ غیرمسلموں نے غلبٔہ اسالم کے ساتھ ہی مسلمانوں پر نظریاتی حملے شروع کردیئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مسلمان
‫جنگ کو جہاد کہتے ہیں اور قرآن نے مسلمانوں پر جہاد فرض کردیا ہے۔ یہاں تک کہ حاالت کے تقاضے کے پیش نظر جہاد کو
‫نماز پر فوقیت حاصل ہے اور یہ بھی کہ کسی غیرمسلم سلطنت میں مسلمان باشندوں پر ظلم وستم ہورہا ہو تو دوسری
‫سلطنتوں کے مسلمانوں پر یہ اقدام فرض ہو جاتا ہے کہ مظلوم رعایا کو غیرمسلموں کے ظلم وستم سے بچائیں‪ ،خواہ اس مقصد
‫کے لیے جنگی کارروائی کرنی پڑے۔
‫انہی قرآنی احکام نے مسلمانوں میں عسکری جذبہ پیدا کیا
‫جس کا اثر یہ تھا کہ مسلمان جس ملک پر فوج کشی کرتے یا جس میدان میں بھی لڑتے تھے ان کے ذہن میں جنگ کا ‪:
‫مقصد واضح ہوتا تھا۔ گو ان پر مال غنیمت حالل قرار دیا گیا تھا لیکن ان کے ہاں لوٹ مار جنگ کے مقاصد میں شامل نہیں
‫ہوتی تھی‪ ،نہ ہی وہ مال غنیمت کے اللچ سے لڑتے تھے۔ اس کے برعکس صلیبیوں کی جنگ ملک گیری کی ہوس کی آئینہ
‫دار ہوتی اور وہ لوٹ مار پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹنے کا
‫کام بھی صلیبی فوج کے حوالے کردیا گیا تھا۔ صلیبیوں کو اس کا یہ نقصان اٹھانا پڑتا تھا کہ ہر میدان میں ان کی جنگی
‫طاقت مسلمانوں کی نسبت پانچ سے دس گنا ہوتی تھی مگر وہ مٹھی بھر مسلمانوں سے شکست کھا جاتے تھے۔ شکست نہ
‫کھائیں تو فتح بھی حاصل نہ کرسکتے تھے۔ وہ جان گئے تھے کہ قرآن کے احکام نے مسلمانوں میں جنگی جنون پیدا کررکھا
‫تعالی کے نام پر لڑتے اور جانیں قربان کرتے ہ یں۔ صلیبیوں کے جرنیلوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو مسلمانوں
‫ہے‪ ،وہ اللہ
‫ٰ
‫پر مذہبی جنون کی گرفت کمزور کرنے کی ترکیبیں سوچتے اور ان پر عمل کرتے تھے‪ ،وہ جان گئے تھے کہ ایک مسلمان جو
‫دس غیر مسلموں کا مقابلہ کرتا ہے‪ ،وہ کوئی فرشتہ اور جن بھوت نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے اندر اللہ کی طاقت اور اپنے عقیدے
‫کی قوت محسوس کرتا ہے جو اسے کسی اللچ سے اور اپنی جان سے بھی بے نیاز کردیتی ہے۔ چنانچہ صالح الدین ایوبی
‫سے بہت پہلے ہی یہودی اور صلیبی عالموں اور مفکروں نے مسلمانوں کی عسکری روح کو مردہ کرنے کے لیے ان کی کردار
‫کشی شروع کردی تھی اور ان کے مذہبی عقائد میں پرکشش مالوٹ کرکے ان کے ایمان کو کمزور کرنا شروع کردیا تھا۔
‫صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کی بدنصیبی یہ تھی کہ وہ جب صلیبیوں کے خالف اٹھے تو اس وقت تک صلیبیوں کی
‫نظریاتی یلغار بہت حد تک کامیاب ہوچکی تھی۔ اسالم کے دشمنوں نے اس یلغار کو دو طرفہ استعمال کیا تھا۔ اوپر کے طبقے
‫کو جس میں حکمران‪ ،امراء اور وزراء وغیرہ تھے۔ دولت‪ ،عورت اور شراب کا دلدادہ بنا دیا تھا اور نیچے یعنی پسماندہ لوگوں
‫میں توہم پرستی اور مذہب کے خالف وسوسے پیدا کردیئے تھے جس طرح زنگی اور ایوبی نے فن حرب وضرب میں نئے
‫تجربے کیے اور نئی چالیں واضع کیں‪ ،اسی طرح صلیبیوں نے درپردہ کردار کشی کے میدان میں نئے طریقے دریافت کیے۔ تین
‫چار یورپی مورخین نے یہاں تک لکھا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بعض صلیبی حکمرانوں نے میدان جنگ کو اہمیت
‫دینی ہی چھوڑ دی تھی۔ وہ اس نظریئے کے قائل ہوگئے تھے کہ جنگ اس طریقے سے لڑو کہ مسلمانوں کی جنگی طاقت
‫زائل ہوتی رہے۔ زور دار حملہ ان کے مذہبی عقائد پر کرو اور ان کے دلوں میں ایسے وہم پیدا کردو جو مسلمان قوم اور فوج
‫کے درمیان بداعتمادی اور حقارت پیدا کردیں۔ اس مکتبہ فکر کے صلیبی مفکروں میں فلپ آگسٹس سرفہرست تھا۔ یہ صلیبی
‫حکمران اسالم دشمنی کو اپنے مذہب کا بنیادی اصول سمجھتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہماری جنگ صالح الدین ایوبی اور

‫نورالدین زنگی سے نہیں‪ ،یہ صلیب اور اسالم کی جنگ ہے جو ہماری زندگی میں نہیں تو کسی نہ کسی وقت میں ضرور
‫کامیاب ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی اٹھتی ہوئی نسل کے ذہن میں قومیت کے بجائے جنسیت بھر دو اور
‫انہیں ذہنی عیاشی میں ڈبو دو۔
‫آگسٹس اپنے مشن کی کامیابی کے لیے میدان جنگ میں مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح کرلینے سے بھی گریز نہیں
‫کرتا تھا۔ ہم جس دور یعنی ‪١١٦٩ء کے لگ بھگ کی کہانی سنا رہے ہیں‪ ،اس وقت وہ نورالدین زنگی کے ہاتھوں شکست کھا
‫کر مفتوحہ عالقے واپس کرچکا تھا۔ اس نے زنگی کو تاوان بھی دیا تھا اور جنگ نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کرکے جزیہ
‫دے رہا تھا مگر جنگی قیدیوں کے تبادلے میں اس نے چند ایک معذور مسلمان سپاہی واپس کیے۔ تندرست قیدیوں کو اس نے
‫قتل کردیا تھا اور اب وہ کرک کے قلعے میں اسالم کی بیخ کنی کے منصوبے بنا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں اسالم دشمنی
‫خبط کی صورت اختیار کرگئی تھی۔ اس کی بعض چالیں ایسی خفیہ ہوتی تھیں کہ اس کے اپنے صلیبی حکمران اور جرنیل
‫بھی اسے شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے۔ ) اس پر اپنے ساتھیوں نے یہ الزام عائد کیا کہ وہ اندر سے مسلمانوں کا
‫دوست ہے اور ان کے ساتھ سودا بازی کررہا ہے۔ ایک یورپی مورخ آندرے آزون کے مطابق اس الزام کے جواب میں ایک بار
‫آگسٹس نے کہا تھا… ''ایک مسلمان حکمران کو پھانسنے کے لیے میں اپنی کنواری بیٹیوں کو بھی اس کے حوالے کرنے سے
‫گریز نہیں کروں گا۔ تم مسلمانوں کے ساتھ صلح نامے اور دوستی کے معاہدے کرنے سے گھبراتے ہو‪ ،کیونکہ اس میں تم اپنی
‫توہین کا پہلو دیکھتے ہو‪ ،تم یہ نہیں سوچتے کہ مسلمان کو میدان جنگ کی
‫نسبت صلح کے میدان میں مارنا آسان ہے۔ ضرورت پڑے تو اس کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح نامہ کرو‪ ،معاہدہ کرو اور گھر
‫آکر معاہدے اور صلح نامے کے الٹ ردعمل کرو۔ کیا میں ایسا نہیں کررہا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میرے خون کے رشتے کی دو
‫لڑکیاں‪ ،دمشق کے ایک شیخ کے حرم میں ہیں؟ کیا اس شیخ سے تم لڑے بغیر بہت سارا عالقہ لے نہیں چکے؟ کیا اس نے
‫دوستی کا حق ادا نہیں کیا؟ وہ مجھے اپنا دوست سمجھتا ہے اور میں اس کا جانی دشمن ہوں۔ میں ہر ایک غیرمسلم سے
‫کہوں گا کہ مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کرو اور انہیں دھوکہ دے کر مارو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫یہ تھی وہ صلیبی ذہنیت جو ایک کامیاب سازش کے تحت سلطنت اسالمیہ کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھا رہی تھی۔ اسی
‫سازش کا یہ نتیجہ تھا کہ مصر میں بغاوت کی چنگاری شعلہ بننے لگی تھی جسے سرد کرنے کے لیے سلطان صالح الدین
‫ایوبی کو کرک کا محاصرہ اس حالت میں اٹھانا پڑا‪ ،جب وہ صلیبیوں کی ایک سوار فوج کو قلعے سے باہر شکست دے چکا
‫تھا۔ اسے محاصرہ نورالدین زنگی کے حوالے کرکے اپنی فوج سمیت قاہرہ جانا پڑا۔ وہ دل برداشتہ تو نہیں تھا لیکن دل پر
‫ایسا بوجھ تھا جو اس کے چہرے پر صاف نظرآرہا تھا۔ اس کی فوج کے سپاہی اس خیال سے مطمئن تھے کہ انہیں آرام کے
‫لیے قاہرہ لے جایا جارہا ہے لیکن دستوں کے وہ کمان دار جو سلطان ایوبی کے عزم اور لڑنے کے طریقے کار کو سمجھتے
‫تھے‪ ،حیران تھے کہ اس نے نورالدین کو فوج سمیت کیوں بالیا اور محاصرہ کیوں اٹھایا ہے۔ وہ تو فتح یا شکست تک لڑنے
‫کا قائل تھا۔ اس کے ہیڈکوارٹر کے دو تین ساالروں کے سوا کسی کو علم نہیں تھا کہ مصر کے حاالت بہت خراب ہوگئے ہیں
‫اور سوڈان میں تقی الدین کا حملہ ناکام ہوگیا ہے اور اسے خیریت سے پیچھے ہٹانا ہے۔ سلطان ایوبی کے ساتھ علی بن
‫سفیان بھی تھا۔ وہی مصر کے اندرونی حاالت کی رپورٹ لے کر آیا تھا۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے کرک سے کوچ کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیا تھا کہ راستے میں بہت کم پڑائو کیے جائیں
‫گے اور کوچ بہت تیز ہوگا۔ اس حکم سے سب کو شک ہوا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ سفر کی پہلی شام آئی۔ فوج رات بھر کے
‫اعلی کمانڈروں اور اپنی مرکزی کمان کے عہدیداروں کو بالیا۔
‫لیے رک گئی۔ سلطان ایوبی کا خیمہ نصب ہوگیا تو اس نے اپنے
‫ٰ
‫اس نے کہا… '' آپ میں زیادہ تعداد ان کی ہے جنہیں معلوم نہیں کہ میں نے محاصرہ کیوں اٹھایا ہے اور میں آپ کو قاہرہ
‫کیوں لے جارہا ہوں۔ بے شک محاصرہ ٹوٹا نہیں‪ ،آپ میں کوئی بھی پسپا نہیں ہوا لیکن میں اسے اگر شکست نہیں تو پسپائی
‫ضرور کہوں گا۔ میرے رفیقو! ہم پسپا ہورہے ہیں اور آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ آپ کو پسپا کرنے والے آپ کے اپنے
‫بھائی ہیں‪ ،اپنے رفیق ہیں‪ ،وہ صلیبیوں کے رفیق بن چکے ہیں اور انہوں نے بغاوت کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اگر علی بن سفیان
‫اس کے نائب اور غیاث بلبیس چوکس نہ ہوتے تو آج آپ مصر نہ جاسکتے۔ وہاں صلیبیوں اور سوڈانیوں کی حکمرانی ہوتی۔
‫ارسالن جیسا حاکم صلیبیوں کا آلٔہ کار نکال‪ ،وہ االدریس کے دو جوان بیٹے مروا کر خودکشی کرچکا ہے۔ اگر ارسالن غدار تھا تو
‫''آپ اور کس پر بھروسہ کریں گے؟
‫حاضرین پر سناٹا طاری ہوگیا۔ بے چینی اور اضطراب ان کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔ سلطان ایوبی نے خاموش ہوکر سب کو
‫دیکھا۔ اس دور کا ایک واقعہ نگار قاضی بہائوالدین شداد کسی غیرمطبوعہ تحریر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ دو قندیلوں کی
‫کانپتی ہوئی روشنی میں سب کے چہرے اس طرح نظر آرہے تھے جیسے وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں۔ وہ آنکھ بھی
‫نہیں جھپکتے تھے۔ سلطان ایوبی کے الفاظ سے زیادہ اس کا لب ولہجہ اور انداز ان پر اثر انداز ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی کی
‫آواز میں روز واال جوش نہیں بلکہ لرزہ سا تھا جو سب کو ڈرا رہا تھا۔ اس نے کہا… ''میں یہ کہہ کر کہ آپ میں بھی
‫غدار ہیں‪ ،معافی نہیں مانگوں گا۔ میں آپ کو یہ بھی نہیں کہوں گا کہ قرآن پر حلف اٹھائو کہ آپ اسالم اور سلطنت
‫اسالمیہ کے وفادار ہیں۔ ایمان بیچنے والے قرآن ہاتھ میں لے کر بھی وفاداری کا یقین دالیا کرتے ہیں۔ میں آپ کو صرف یہ
‫بتانا چاہتا ہوں کہ ہر وہ انسان جو مسلمان نہیں وہ آپ کا دشمن ہے۔ دشمن جب آپ کے ساتھ محبت اور دوستی کا اظہار
‫کرتا ہے تو اس میں اس کی دشمنی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ آپ کو آپ کے بھائیوں کے خالف اور آپ کے مذہب کے
‫خالف استعمال کرتا ہے اور جہاں اسے مسلمانوں پر حکومت کرنے کا موقع ملتا ہے‪ ،وہ مسلمان مستورات کی عصمت دری اور
‫اسالم کی بیخ کنی کرتا ہے۔ یہی اس کا مقصد ہے‪ ،ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں یہ ہماری ذاتی جنگ نہیں۔ یہ ذاتی حکمرانی
‫قائم کرنے کے لیے کسی ملک پر قبضے کی کوشش نہیں۔ یہ دو عقیدوں کی جنگ ہے۔ یہ کفر اور اسالم کی جنگ ہے۔ یہ
‫جنگ اس وقت تک لڑی جاتی رہے گی جب تک کفر یا اسالم ختم نہیں ہوجاتا''۔
‫گستاخی معاف ساالراعظم!'' ایک ساالر نے کہا… ''اگر ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم غدار نہیں ہیں تو ہمیں مصر کے ''
‫حاالت سے آگاہ کریں۔ ہم عمل سے ثابت کریں گے کہ ہم کیا ہیں۔ ارسالن فوج کا نہیں انتظامیہ کا حاکم تھا۔ آپ کو غدار
‫انتظامی شعبوں میں ملیں گے‪ ،فوج میں نہیں۔ کرک قلعے کا محاصرہ آپ نے اٹھایا ہے‪ ،ہم نے نہیں۔ محترم زنگی کو آپ نے
‫بالیا ہے‪ ،ہم نے نہیں۔ ہمارا امتحان میدان جنگ میں ہوسکتا ہے‪ ،پرامن کوچ میں نہیں… مصر میں کیا ہورہا ہے''۔
‫صالح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کی طرف دیکھا اور کہا… ''علی! انہیں بتائو وہاں کیا ہورہا ہے''۔
‫علی بن سفیان نے کہا… ''غداروں نے دشمن کے ساتھ مل کر سوڈان کے محاذ کے لیے رسد روک لی ہے۔ منڈیوں سے غلہ

‫غائب کردیا ہے۔ دیہاتی عالقوں میں اجنبی لوگ آکر غلہ اور خوردونوش کی دیگر اشیاء خرید کر لے جاتے ہیں‪ ،گوشت ناپید
‫کردیا گیا ہے۔ رسد اگر بھیجی جاتی ہے تو دانستہ تاخیر کی جاتی ہے۔ یوں بھی ہوا کہ رسد بھیج کر دشمن کو اطالع دے
‫دی گئی۔ دشمن نے رسد کے قافلے کو راستے میں روک لیا۔ شہر میں بدکاری عام ہوگئی ہے۔ جوئے بازی کے ایسے دلچسپ
‫طریقے رائج ہوگئے ہیں جن کے ہمارے لڑکے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ دیہاتی عالقوں سے فوج کو بھرتی نہیں ملتی اور جانور
‫بھی نہیں ملتے۔ فوج میں بے اطمینانی پیدا ہوگئی ہے‪ ،ہمارے قومی کردار کو تباہ کرنے کے سامان پیدا کردیئے گئے ہیں۔
‫انتظامیہ کے حکام چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہیں یہ اللچ صلیبیوں نے دے رکھی
‫ہے۔ ان حاکموں کو باہر سے بے دریغ دولت مل رہی ہے چونکہ سلطنت اور امارت کا انتظام انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے‪،
‫اس لیے انہوں نے ایسی فضا پیدا کردی ہے جو دشمن کے لیے سازگار ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک صورت یہ پیدا ہوگئی ہے
‫کہ دیہاتی عالقوں میں عجیب وغریب عقیدے پھیل رہے ہیں۔ لوگ غیراسالمی اصولوں کے قائل اور پابند ہوتے جارہے ہ یں۔
‫اس میں خطرہ یہ ہے کہ ہمیں فوج انہی عالقوں سے ملتی ہے اور ہماری موجودہ فوج انہی عالقوں سے آئی ہے۔ بے بنیاد
‫اور غیراسالمی عقیدے فوج میں بھی آگئے ہیں''۔
‫کیا آپ نے اس کا تدارک نہیں کیا؟'' حاضرین میں سے کسی نے پوچھا۔''
‫جی ہاں!'' علی بن سفیان نے کہا… ''میرا تمام ترشعبہ مجرموں کے سراغ لگانے اور انہیں پکڑنے میں مصروف ہے۔ میں''
‫نے اپنے جاسوس اور مخبر دیہاتی عالقوں میں بھی پھیال رکھے ہیں مگر دشمن کی تخریب کاری اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ
‫اس کے آدمیوں کو پکڑنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی دشمن کے جاسوسوں اور تخریب کاروں
‫کو پناہ اور تحفظ دیتے ہیں۔ کیا آپ یہ سن کر حیران نہیں ہوں گے کہ دیہاتی عالقوں کی بعض مسجدوں کے امام بھی دشمن
‫کی تخریب کاری میں شامل ہوگئے ہیں''۔
‫یہ تو ہونہیں سکتا کہ میں انتظامیہ فوج کے سپرد کردوں''… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''فوج جس مقصد کے لیے''
‫تیار کی گئی ہے‪ ،یہ اسی کی تکمیل کا فرض ادا کرتی رہے تو سلطنت کے لیے بھی بہتر ہوتا ہے اور فوج کے لیے بھی۔
‫جس طرح ایک کوتوال ساالر کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتا۔ البتہ ہر ساالر کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ کوتوال کیا
‫کررہے ہیں۔ ہر ساالر کو باخبر رہنا چاہیے کہ انتظامیہ کیا کررہی ہے۔ کیا واقعی فرائض میں کوتاہی تو نہیں ہورہی؟… میرے
‫رفیقو! ہمیں خدا نے تاریخ کی سب سے زیادہ کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ مصر کے حاالت آپ نے سن لیے ہیں۔ سوڈان کا
‫حملہ ناکام ہوگیا ہے۔ تقی الدین اپنی غلطیوں کی بدولت سوڈان کے صحرا میں پھنس کے رہ گیا ہے۔ اس کی فوج چھوٹی
‫چھوٹی ٹولیوں میں بکھر گئی ہے۔ اس کی پسپائی بھی ممکن نظر نہیں آتی۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ محترم زنگی کرک فتح
‫کرلیں گے یا نہیں لیکن اسے بھی میں اپنی ناکامی کہتا ہوں۔ آپ انتہائی مشکل حاالت میں بھی میدان جنگ میں دشمن کو
‫شکست دے سکتے ہیں مگر دشمن نے جس محاذ پر حملہ کیا ہے‪ ،اس پر دشمن کو شکست دینا آپ کے لیے بظاہر آسان
‫نظر نہیں آتا۔ آپ تیغ زن ہیں۔ صحرائوں کا سینہ چیر سکتے ہیں مگر مجھے خطرہ نظر آرہا ہے کہ صلیبیوں کے اس محاذ پر
‫آپ ہتھیار ڈال دیں گے''۔
‫حاضرین میں چند ایک جوشیلی اور پرعزم آوازیں سنائی دیں۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اس وقت جو فوج مصر میں ہے وہ
‫جب شوبک اور کرک کے محاذ سے مصر گئی تھی تو اس کے کمان داروں اور عہدیداروں کا جذبہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا آج
‫آپ کا ہے مگر قاہرہ پہنچ کر جب انہوں نے د شمنوں کے سبز باغ دیکھے تو بغاوت کے لیے تیار ہوگئے۔ اب اس فوج کی
‫کیفیت یہ ہے کہ آپ اس پر بھروسہ نہیں کرسکتے''۔
‫ہم ایسے ایک ایک کمان دار اور عہدیدار کو قتل کرکے دم لیں گے''۔ ایک ساالر نے کہا۔''
‫ہم سب سے پہلے اپنی صفوں کو غداروں سے پاک کریں گے''۔ ایک اور نے کہا۔''
‫اگر میرا بیٹا''
‫صلیبیوں کا دوست نکال تو میں اپنی تلوار سے اس کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں رکھ دوں گا''۔ ایک بوڑھے نائب
‫ساالر نے کہا۔
‫میں اس قسم کی جوشیلی اورجذباتی باتوں کا قائل نہیں''… سلطان ایوبی نے کہا۔''
‫حاضرین کا جوش غضب ناک ہوگیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو سلطان ایوبی کے سامنے بات کرنے سے ڈرا کرتے تھے مگر اب یہ
‫سن کر کہ ان کی فوج کی وہ نفری جو مصر میں ہے‪ ،دشمن کی تخریب کاری کا شکار ہوکر اپنی سلطنت کے خالف بغاوت
‫پر اتر آئی ہے تو وہ لوگ آگ بگولہ ہوگئے۔ ایک نے سلطان ایوبی کو یہاں تک کہہ دیا… ''آپ ہمیں ہمیشہ تحمل سے
‫سوچنے اور بردباری سے عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر بعض حاالت ایسے ہوتے ہیں جنہیں تحمل اور بردباری اور زیادہ
‫بگاڑ دیتی ہے۔ ہمیں اجازت دیں کہ قاہرہ تک ہم ایک بھی پڑائو نہ کریں۔ ہم آرام اور خوراک کے بغیر متواتر سفر کریں گے۔
‫ہم اس فوج کو نہتہ کرکے قید کرلیں گے''۔
‫صالح الدین ایوبی کے لیے ان حکام پر قابو پانا محال ہوگیا۔ اس نے کچھ اور باتیں کہہ سن کر مجلس برخواست کردی۔ علی
‫الصبح فوج نے کوچ کیا۔ یہ کوچ ترتیب سے ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی اپنے عملے کے ساتھ الگ تھلگ جارہا تھا۔ اس نے دیکھا
‫کہ علی بن سفیان اس کے ساتھ نہیں تھا۔ شام تک فوج کو دو مرتبہ کچھ دیر کے لیے روکا گیا۔ شام گہری ہونے کے بعد
‫بھی فوج چلتی رہی۔ رات کا پہال پہر ختم ہورہا تھا‪ ،جب سلطان ایوبی نے رات کے قیام کے لیے فوج کو روکا۔ سلطان کھانے
‫سے فارغ ہوا تو علی بن سفیان آگیا۔
‫سارا دن کہاں رہے علی؟''… سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
‫گزشتہ رات میرے دل میں ایک شک پیدا ہوگیا تھا''… علی بن سفیان نے جواب دیا… ''اس کی تصدیق یا تردید کے لیے''
‫سارا دن فوج میں گھومتا پھرتا رہا''۔
‫''کیسا شک؟''
‫آپ نے رات دیکھا نہیں تھا کہ تمام ساالر‪ ،کمان دار اور عہدیدار کس طرح اس فوج کے خالف بھڑک اٹھے تھے جو مصر ''
‫میں ہے؟''… علی بن سفیان نے کہا… ''مجھے شک ہونے لگا تھا کہ یہ اپنے اپنے دوستوں کو بھی اسی طرح بھڑکائیں گے۔
‫میرا شک صحیح ثابت ہوا۔ انہوں نے تمام تر فوج کو مصر کی فوج کے متعلق ایسی باتیں بتائی ہیں کہ تمام فوج انتقامی
‫جذبے سے مشتعل ہوگئی ہے۔ میں نے سپاہیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم محاذوں پر زخمی اور شہید ہوتے ہیں اور ہمارے
‫ہی ساتھی قاہرہ میں عیش کرتے اور اسالمی پرچم کے خالف علم بغاوت بلند کرنا چاہتے ہیں۔ ہم جاتے ہی انہیں ختم کریں
‫گے۔ پھر سوڈان میں پھنسی ہوئی فوج کی مدد کو پہنچیں گے۔ قابل صد احترام امیر! اگر ہم نے کوئی پیش بندی نہ کی تو

‫قاہرہ میں پہنچتے ہی خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔ ہماری یہ فوج انتقامی جذبے کے زیراثر غصے میں ہے اور ہماری مصر
‫والی فوج پہلے ہی بغاوت کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے''۔
19:59
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪56۔ وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫فوج پہلے ہی بغاوت کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے''۔ مجھے اس پر تو خوشی ہے کہ مسلسل معرکوں کی تھکی ہوئی اس فوج
‫میں یہ جذبہ پیدا ہوگیا ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''مگر ہمارا دشمن یہی چاہتا ہے کہ ہماری فوج دو حصوں میں بٹ کر
‫آپس میں ٹکرا جائے''۔ وہ گہری سوچ میں پڑ گیا‪ ،پھر کہنے لگا… ''جب ہم قاہرہ سے خاصا دور ہوں گے تو میں ذمہ دار
‫اور ذہین قاصد بھیج کر مصر والی فوج کو کسی دوسرے راستے سے کرک کی سمت کوچ کا حکم دے دوں گا۔ شاید میں خود
‫آگے چال جائوں اور اس فوج کو کوچ کرادوں تاکہ یہ فوج جو ہمارے ساتھ ہے جب وہاں پہنچے تو وہاں اسے اس فوج کا کوئی
‫سپاہی نظر نہ آئے۔ تم نے اچھا کیا ہے علی! میری توجہ ادھر نہیں گئی تھی''۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ پراسرار غیب دان جس کے متعلق سرحد کے دیہاتی عالقوں میں مشہور ہوگیا تھا کہ آسمان سے آیا ہے‪ ،خدا کا دین الیا
‫ہے اور مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے‪ ،اپنے مصاحبوں کے قافلے کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ جنہوں نے اسے دیکھا تھا وہ کہتے تھے
‫کہ وہ بوڑھا نہیں‪ ،اس کی داڑھی بھورے رنگ کی اور چہرے کی رنگت گوری بتائی جاتی تھی۔ اس نے سر کے بال بڑھا رکھے
‫تھے۔ لوگ بتاتے تھے کہ اس کی شربتی آنکھوں میں پورے چاند جیسی چمک ہے اور اس کے دانت ستاروں کی طرح سفید
‫اور شفاف ہیں۔ اس کا قد اونچا اور جسم گٹھا ہوا بتایا جاتا تھا اور وہ بولتا تھا تو سننے والے مسحور ہوجاتے تھے۔ اس کے
‫ساتھ بہت سے مصاحب اور بہت سے اونٹ تھے۔ سامان والے اونٹ الگ تھے جن میں سے بعض پر بڑے بڑے مٹکے لدے
‫ہوتے تھے۔ اس کا قافلہ آبادی سے دور رکتا اور وہ وہیں لوگوں سے ملتا تھا۔ کسی آبادی میں نہیں جاتا تھا۔ وہ ایک جگہ
‫سے کوچ کرتا تو اس کے آگے آگے کچھ لوگ اونٹ اور گھوڑے بھگا دیتے اور راستے میں آنے والے لوگوں اور بستیوں میں خبر
‫کردیتے تھے کہ وہ آرہا ہے‪ ،یہ لوگ ہر کسی کو اس کی کرامات اور روحانی قوتوں کے کرشمے سناتے تھے۔ لوگ کئی کئی
‫دن اس کے راستے میں بیٹھے رہتے تھے۔
‫جس رات علی بن سفیان صالح الدین ایوبی کو بتا رہا تھا کہ محاذ سے قاہرہ کو جانے والی فوج مصر میں مقیم فوج کے
‫خالف مشتعل ہوگئی‪ ،اس رات وہ غیب دان قاہرہ سے بہت دور ایک نخلستان میں خیمہ زن ہوا۔ اس کا ایک اصول یہ تھا
‫کہ چاندنی راتوں میں کسی سے نہیں ملتا تھا۔ دن کے دوران کسی کے ساتھ بات نہیں کرتا تھا۔ اندھیر راتیں اسے پسند تھیں۔
‫اس کی محفل ایسی قندیلوں سے روشن ہوتی تھی جن میں سے ہر ایک کا رنگ دوسری سے مختلف تھا۔ ان روشنیوں کا
‫بھی ایک تاثر تھا جو حاضرین محفل کے لیے طلسماتی تھا۔ وہ جہاں خیمہ زن ہوا تھا اس کے کچھ دور ایک بستی تھی جس
‫میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سوڈانی حبشی رہتے تھے۔ اس بستی میں ایک مسجد بھی تھی جہاں کا امام ایک خاموش
‫طبیعت انسان تھا۔ ایک جواں سال آدمی کوئی ڈیڑھ دو مہینوں سے اس کے پاس دینی تعلیم حاصل کرنے آیا کرتا تھا۔ یہ
‫آدمی جو اپنا نام محمود بن احمد بتاتا تھا کسی دوسری بستی سے مسجد میں جایا کرتاتھا۔ اس کی دلچسپی امام مسجد اور
‫اس کے علم کے ساتھ تھی مگر اس کی ایک دلچسپی اور بھی تھی۔ یہ ایک جوان لڑکی تھی جس نے اسے اپنا نام سعدیہ
‫بتایا تھا۔ سعدیہ کو محمود اتنا اچھا لگا کہ وہ اسے کئی بار اپنی بکریوں کا دودھ پال چکی تھی۔
‫ان کی پہلی مالقات بستی سے دور ایک ایسی جگہ ہوئی تھی جہاں سعدیہ اپنی چار بکریاں اور دو اونٹ چرانے اور انہیں
‫پانی پالنے کے لیے لے گئی تھی۔ محمود وہاں پانی پینے کے لیے رکا تھا۔ سعدیہ نے اس سے پوچھا تھا کہ کہاں سے آیا
‫ہے اور کہاں جارہا ہے؟ محمود نے کہا تھا کہ نہ کہیں سے آرہا ہوں‪ ،نہ کہیں جارہا ہوں۔ سعدیہ سادگی سے ہنس پڑی تھی۔
‫جواب ہی کچھ ایسا تھا۔ سعدیہ نے محمود سے قدرتی سا سوال پوچھا… ''مسلم یا سوڈانی؟''… محمود نے جواب دیا کہ وہ
‫مسلمان ہے تو سعدیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی تھی۔ محمود نے اسے اپنا صحیح ٹھکانہ نہیں بتایا تھا۔ اس کے ساتھ کچھ
‫ایسی باتیں کیں جو سعدیہ کو اچھی لگی تھیں۔ سعدیہ اس سے سوڈان کی جنگ کے متعلق پوچھنے لگی۔ اس کے انداز سے
‫پتا چلتا تھا کہ اسے اسالمی فوج کے ساتھ دلچسپی ہے۔ اس نے جب صالح الدین ایوبی کے متعلق پوچھا تو محمود نے اس
‫کی ایسی تعریفیں کیں جیسے سلطان صالح الدین ایوبی انسان نہیں‪ ،خدا کا اتارا ہوا فرشتہ ہے۔ سعدیہ نے پوچھا… ''کیا
‫''صالح الدین ایوبی اس سے زیادہ مقدس اور برگزیدہ ہے جو آسمان سے اترا ہے اور مرے ہوئوں کو زندہ کردیتا ہے؟
‫صالح الدین ایوبی مرے ہوئوں کو زندہ نہیں کرسکتا''۔ محمود نے جواب دیا۔''
‫ہم نے سنا ہے کہ جو لوگ زندہ ہوتے ہیں‪ ،انہیں صالح الدین ایوبی مار ڈالتا ہے''۔ سعدیہ نے شکی لہجے میں کہا… ''
‫''لوگ یہ بھی بتاتے ہیں
‫''کہ وہ مسلمان ہے اور ہماری طرح کلمہ اور نماز پڑھتا ہے؟
‫''تمہیں کس نے بتایا ہے کہ وہ لوگوں کو مار ڈالتا ہے؟''
‫ہمارے گائوں میں سے مسافر گزرتے رہتے ہیں اور وہ بتا جاتے ہیں کہ صالح الدین ایو بی بہت برا آدمی ہے''۔ سعدیہ نے''
‫کہا۔
‫تمہاری مسجد کا امام کیا بتاتا ہے؟'' محمود نے بتایا۔''
‫وہ بہت اچھی باتیں بتاتا ہے''۔ سعدیہ نے کہا… ''وہ سب کو کہتا ہے کہ صالح الدین ایوبی اسالم کی روشنی سارے ''
‫مصر اور سوڈان میں پھیالنے آیا ہے اور اسالم ہی خدا کا سچا دین ہے''۔
‫محمود اس کے ساتھ اسی موضوع پر باتیں کرتا رہا تھا۔ سعدیہ سے اسے پتا چال کہ اس کے گائوں میں ایسے آدمی آتے رہتے
‫ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں مگر باتیں ایسی کرتے ہیں کہ کئی لوگوں کے دلوں میں اسالم کے خالف شکوک پیدا
‫ہوگئے ہیں۔ محمود نے سعدیہ کے شکوک رفع کردیئے اور اپنی ذات‪ ،میٹھی زبان اور شخصیت کا اس پر ایسا اثر پیدا کیا کہ
‫سعدیہ نے بیتابی سے کہا کہ وہ اکثر یہیں بکریاں چرانے آیا کرتی ہے اور محمود جب کبھی ادھر سے گزرے تو اسے ضرور
‫ملے۔ محمود اسے جذبات اور حقائق کے درمیان بھٹکتا چھوڑ کر اس کے گائوں کی طرف چال گیا۔ سعدیہ یہ سوچتی رہ گئی
‫کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اور کہاں جارہا ہے؟ اس کا لباس اسی عالقے کا تھا مگر اس کی شکل وصورت اور اس
‫کی باتیں بتاتی تھیں کہ وہ اس عالقے کا رہنے واال نہیں… سعدیہ کے شکوک صحیح تھے۔ محمود بن احمد دیہاتی عالقے کا

‫رہنے واال نہیں تھا۔ سکندریہ شہر کا باشندہ تھا اور علی بن سفیان کی داخلی جاسوسی (انٹیلی جنس) کا ایک ذہین کارکن
‫تھا۔ وہ کئی مہینوں سے اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے سرحدی دیہات میں گھوم پھر رہا تھا۔ اس نے کھانے پینے اور رہنے
‫کا انتظام خفیہ رکھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ چند اور جاسوس بھی تھے جو اس عالقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ وہ کبھی کبھی
‫اکٹھے ہوتے اور ان کے جو مشاہدات ہوتے تھے‪ ،وہ اپنے کسی ایک ساتھی کے سپرد کرکے اسے قاہرہ بھیج دیتے تھے۔ اس
‫طرح علی بن سفیان کے شعبے کو پتا چلتا رہتا تھا کہ سرحدی عالقے میں کیا ہورہا ہے۔
‫محمود بن احمد کو سعدیہ مل گئی تو اس نے اس لڑکی کے ساتھ بھی ایسی باتیں کیں جن سے اسے گائوں اور گردوپیش کے
‫عالقے کے لوگوں کے خیاالت کا علم ہوسکتا تھا۔ اس نے سعدیہ کے گائوں کی مسجد کے امام کے متعلق خاص طور پر پوچھا
‫تھا۔ وجہ یہ تھی کہ دو گائوں میں اس نے ایسے امام مسجد دیکھے تھے جو اسے مشکوک سے لگتے تھے۔ وہاں کے لوگوں
‫سے اسے پتا چال تھا کہ یہ دونوں امام نئے نئے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ان مسجدوں میں امام تھے ہی نہیں۔ دونوں جہاد
‫کے خالف وعظ سناتے اور قرآن کی آیات پڑھ کر غلط تفسیریں بیان کرتے تھے اور یہ دونوں پراسرار غیب دان کو برحق بتاتے
‫اور لوگوں میں اس کی زیارت کا اشتیاق پیدا کرتے تھے۔ محمود اور اس کے دو ساتھیوں نے ان دونوں اماموں کے متعلق
‫رپورٹ قاہرہ کو بھیج دی تھی اور اب وہ سعدیہ کے گائوں جارہا تھا۔ اسے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ اس گائوں
‫کا امام سلطان ایوبی کا مرید اور اسالم کا علمبردار ہے۔ اس نے اسی مسجد کو اپنا ٹھکانہ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔
‫وہ مسجد میں گیا اور امام سے مال۔ اپنا جھوٹا تعارف کراکے اس نے کہا کہ وہ مذہبی علم کی تالش میں مارا مارا پھر رہا
‫ہے۔ امام نے اسے تعلیم دینے کا وعدہ کیا اور اسے مسجد میں رہنے کی پیشکش کی۔ محمود مسجد میں قید نہیں ہونا چاہتا
‫تھا۔ اس نے امام سے کہا کہ وہ دوتین روز بعد اپنے گھر جایا کرے گا۔ اس نے امام کو بھی اپنا نام نہیں بتایا تھا۔ امام نے
‫اس سے نام پوچھا تو اس نے کچھ اور نام بتادیا۔ یہ پوچھا کہ وہ کہاں کا رہنے واال ہے تو اس نے اور کسی سرحدی گائوں
‫کا نام بتا دیا۔ امام مسکرایا اور آہستہ سے بوال… ''محمود بن احمد! مجھے خوشی ہوئی ہے کہ تم اپنے فرائض سے بے خبر
‫نہیں۔ سکندریہ کے مسلمان فرض کے پکے ہوتے ہیں''۔
‫محمود ایسا چونکا جیسے بدک اٹھا ہو۔ وہ سمجھا کہ یہ امام صلیبیوں کا جاسوس ہے لیکن امام نے اسے زیادہ دیر تک شک
‫میں نہ رہنے دیا اور کہا… ''میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے کم از کم تمہارے سامنے اپنے آپ کو بے نقاب کردینا چاہیے۔
‫میں تمہارے ہی محکمے کا آدمی ہوں۔ میں تمہارے تمام ساتھیوں کو جو اس عالقے میں ہیں‪ ،جانتا ہوں۔ مجھے تم میں سے
‫کوئی بھی نہیں جانتا۔ میں محترم علی بن سفیان کے اس عملے کا آدمی ہوں جو دشمن پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے
‫جاسوسوں پر بھی نظر رکھتا ہے۔ میں امام بن کر جاسوسی کا کام کررہا ہوں''۔
‫پھر میں آپ کو دانشمند آدمی نہیں کہوں گا؟''۔ محمود بن احمد نے کہا… ''آپ نے جس طرح میرے سامنے اپنے آپ ''
‫کو بے نقاب کیا ہے‪ ،اس طرح آپ دشمن کے کسی جاسوس کے سامنے بھی بے نقاب ہوسکتے ہیں''۔
‫مجھے یقین تھا کہ تم میرے آدمی ہو''۔ امام نے کہا… ''ضرورت ایسی آپڑی ہے کہ تمہیں اپنا اصلی روپ بتانا ضروری ''
‫سمجھا۔ میرے ساتھ دو محافظ ہیں جو یہاں کے باشندوں کے بہروپ میں گائوں میں موجود رہتے ہیں۔ مجھے زیادہ آدمیوں کی
‫ضرورت ہے۔ اچھا ہوا کہ تم آگئے ہو۔ اس گائوں میں دشمن کے تخریب کار آرہے ہیں۔ تم نے اس آدمی کے متعلق سنا ہوگا
‫جس کے متعلق مشہور ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل کے اندھیرے کی خبر دیتا ہے اور مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے۔ یہ گائوں بھی
‫اس کی ان دیکھی کرامات کی زد میں آگیاہے۔ میں نے گائوں والوں کو شروع میں بتایا تھا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور الشوں
‫میں کوئی انسان جان نہیں ڈال سکتا مگر اس کی شہرت کا جادو اتنا سخت ہے کہ لوگ میرے خالف ہونے لگے ہیں۔ میں
‫سنبھل گیا کیونکہ میں اس مسجد سے نکلنا نہیں چاہتا۔ مجھے ایک اڈے اور ٹھکانے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے گمراہ کیے
‫ہوئے لوگوں کو اسالم کا سیدھا راستہ بھی دکھانا ہے۔ پندرہ بیس روز گزرے‪ ،رات کو دو آدمی میرے پاس آئے۔ میں اکیال تھا۔
‫ان دونوں کے چہروں پر نقاب تھے۔ انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ میں یہاں سے چال جائوں۔ میں نے انہیں کہا کہ میرا اور
‫کوئی ٹھکانہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں رہنا چاہتے ہو تو درس بند کردو اور اس کی باتیں کرو جو آسمان سے آیا ہے اور
‫خدا کا سچا مذہب الیا ہے۔ میں دونوں کا مقابلہ کرسکتا تھا۔ ہتھیار ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہوں لیکن میں لڑ کر قتل کرکے
‫یا قتل ہوکر اپنا فرض پورا نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے عقل سے کام لیا اور انہیں یہ تاثر دیا کہ آج سے وہ مجھے اپنا آدمی
‫سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ان کی باتوں پر عمل کرے گا تو اسے ایک انعام یہ ملے گا کہ اسے قتل نہیں کیا جائے
‫گا اور دوسرا یہ کہ اسے اشرفیاں دی جائیں گی''۔
‫پھر آپ نے اپنے وعظ اور خطے کا رنگ بدل دیا ہے؟'' محمود نے پوچھا۔''
‫کسی حد تک'' ۔ امام نے جواب دیا… ''میں اب دونوں قسم کی باتیں کرتا ہوں۔ مجھے اشرفیوں کی نہیں۔ اپنی جان کی''
‫ضرورت ہے۔ میں اپنا فرض ادا کیے بغیر مرنا نہیں چاہتا۔ میں گائوں سے باہر جاکر تمہیں یا تمہارے کسی ساتھی کو ڈھونڈنا
‫بھی نہیں چاہتا کیونکہ اس کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی۔ خدا نے خود ہی تمہیں میرے پاس بھیج دیا ہے۔ میرے محافظ
‫اس رات میرے پاس نہیں تھے۔ اب تم ہی میرے ساتھ رہو۔ تم میرے شاگرد کی حیثیت سے میرے ساتھ رہوگے۔ تم سیدھی
‫سادی گنواروں کی سی باتیں کیا کرنا۔ گائوں میں چار پانچ آدمی ایسے ہیں جو ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اگر ہمیں قریب
‫کوئی سرحدی دستہ مل جائے تو ہمارا مقصد پورا ہوسکتا ہے مگر ہمارے سرحدی دستوں کے کسی کمان دار پر بھروسہ کرنا بڑا
‫خطرناک ہے۔ دشمن نے اشرفیوں اور عورتوں سے انہیں اپنے ساتھ مال لیا ہے۔ وہ تنخواہ ہمارے خزانے سے لیتے اور کام
‫دشمن کا کرتے ہیں''۔
‫محمود بن احمد اس کے پاس رک گیا۔ اسی روز امام نے اسے اپنے دونوں محافظوں سے مال دیا۔
‫شام کو جب سعدیہ مسجد میں امام کے لیے کھانا لے کر آئی تو محمود کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی اور مسکرائی۔ محمود نے
‫پوچھا… ''میرے لیے کھانا نہیں الئو گی؟'' سعدیہ کھانا امام کے حجرے میں رکھ کر دوڑی گئی اور روٹی کے ساتھ ایک
‫پیالے میں بکریوں کا دودھ بھی لے آئی۔ وہ چلی گئی تو امام نے محمود سے کہا… ''یہ عالقے کی سب سے زیادہ خوبصورت
‫لڑکی ہے۔ ذہین بھی ہے اور کم عمر بھی۔ اس کا سودا ہورہا ہے''۔
‫''سودا یا شادی؟''
‫سودا''… امام نے کہا… '' تم جانتے ہو کہ ان لوگوں کی شادی دراصل سودا ہوتا ہے مگر سعدیہ کا سیدھا سودا ہورہا ہے۔''
‫ہمیں اس کے متعلق پریشان نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن خریدار مشکوک لوگ ہیں۔ وہ یہاں کے رہنے والے نہیں۔ یہ وہی لوگ
‫معلوم ہوتے ہیں جو مجھے دھمکی دے گئے ہیں۔ تم اچھی طرح سمجھ سکتے ہو کہ وہ اس لڑکی کو اپنے رنگ میں رنگ کر
‫ہمارے خالف استعمال کریں گے۔ اس لیے اسے بچانا ضروری ہے اور اس لیے بھی اسے بچانا ضروری ہے کہ یہ لڑکی مسلمان

‫ہے۔ ہمیں سلطنت کے ساتھ ساتھ سلطنت کی بچیوں کی عصمت کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ سودا نہیں
‫ہوسکے گا۔ سعدیہ کے باپ کو میں نے اپنا مرید بنا رکھا ہے لیکن وہ غریب اور تنہا آدمی ہے اور رسم ورواج سے بھاگ بھی
‫نہیں سکتا۔ بہرحال سلطنت اور سعدیہ کی عصمت کے محافظ ہمارے سوا اور کوئی نہیں''۔
‫اس کے بعد محمود امام کا شاگرد بن گیا۔ دن گزرنے لگے اور اس کی مالقاتیں سعدیہ کے ساتھ ہونے لگیں۔ لڑکی چراگاہ میں
‫چلی جاتی اور محمود وہاں پہنچ جاتا تھا۔ ان کی بے تکلفی بڑھ گئی تو محمود نے سعدیہ سے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں
‫جو اسے خریدنا چاہتے ہیں۔ سعدیہ انہیں نہیں جانتی تھی۔ اس کے لیے وہ اجنبی تھے۔ انہوں نے اس طرح آکر دیکھا تھا
‫جس طرح گائے‪ ،بھینس کو خریدنے سے پہلے دیکھا جاتا ہے۔ سعدیہ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ کسی کی بیوی نہیں بنے
‫گی۔ اسے عرب کا کوئی دولت مند تاجر یا کوئی امیر یا وزیز اپنے حرم میں رکھ کر قید کرلے گا۔ جہاں وہ اپنا گھر بسائے
‫بغیر بوڑھی ہوکر مر جائے گی یا اسے ناچنا سکھا کر تفریح کی چیز بنا لیا جائے۔ اس نے اپنے گائوں کے فوجیوں سے ایسی
‫لڑکیوں کے بہت قصے سنے تھے۔ وہ اتنے پسماندہ عالقے میں رہتے ہوئے بھی ذہین تھی اور اپنا برا بھال سوچ سکتی تھی۔
‫اس نے محمود کو دیکھا تو اسے دل میں بٹھا لیا اور اس نے جب یہ دیکھا کہ محمود اسے چاہنے لگا ہے تو اس نے دل
‫میں یہ ارادہ پختہ کرلیا کہ وہ فروخت نہیں ہوگی۔ وہ جانتی تھی کہ خریداروں سے بچنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ ایک روز
‫''اس نے محمود سے پوچھا… ''تم مجھے خرید نہیں سکتے؟
‫خرید سکتا ہوں''… محمود نے کہا… ''لیکن میں جو قیمت دوں گا وہ تمہارے باپ کو منظور نہیں ہوگی''۔''
‫''کتنی قیمت دوگے؟''
‫میرے پاس دینے کے لیے اپنے دل کے سوا کچھ بھی نہیں''… محمود بن احمد نے جواب دیا… ''معلوم نہیں تم دل کی ''
‫قیمت جانتی ہو یا نہیں''۔
‫اگر تمہارے دل میں میری محبت ہے تو میرے لیے یہ قیمت بہت زیادہ ہے''… سعدیہ نے کہا… ''تم ٹھیک کہتے ہو کہ ''
‫میرے باپ کو یہ قیمت منظور نہیں ہوگی لیکن میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میرا باپ مجھے بیچنا بھی نہیں چاہتا‪ ،اس کی
‫مجبوری یہ ہے کہ وہ غریب ہے اور اکیال ہے۔ میراکوئی بھائی نہیں‪ ،میرے خریداروں نے میرے باپ کو دھمکی دی ہے کہ اس
‫نے ان کی قیمت قبول نہ کی تو وہ مجھے اغوا کرلیں گے''۔
‫تمہارا باپ اتنی زیادہ قیمت کیوں قبول نہیں کرتا؟''… محمود نے پوچھا… ''لڑکیوں کو بیچنے کا تو یہاں رواج ہے''۔''
‫باپ کہتا ہے کہ وہ لوگ مسلمان نہیں لگتے''… سعدیہ نے کہا… ''میں نے بھی باپ سے کہہ دیا ہے کہ میں کسی ''
‫غیرمسلم کے پاس نہیں جائوں گی''… اس نے بیتاب ہوکر کہا… ''تم اگر مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے تیار ہوتو میں
‫ابھی تمہارے ساتھ چل پڑوں گی''۔
‫میں تیار ہوں''… محمود نے کہا۔''
‫توچلو''… سعدیہ نے کہا… ''آج ہی رات چلو''۔''
‫نہیں''… محمود کے منہ سے نکل گیا… ''میں اپنا فرض پورے کیے بغیر کہیں بھی نہیں جاسکتا''۔''
‫کیسا فرض؟''… سعدیہ نے پوچھا۔''
‫محمود بن احمد چونکا۔ وہ سعدیہ کو نہیں بتا سکتا تھا کہ اس کا فرض کیا ہے۔ اس نے منہ سے نکلی ہوئی بات پر پردہ
‫ڈالنے کی کوشش کی مگر سعدیہ اس کے پیچھے پڑ گئی۔ محمود کو اچانک یاد آگیا۔ اس نے کہا … ''میں امام سے مذہبی
‫''تعلیم لینے آیا ہوں۔ اس کی تکمیل کے بغیر میں کہیں نہیں جائوں گا
‫اس وقت تک مجھے معلوم نہیں کہاں پہنچا دیا جائے گا''… سعدیہ نے کہا۔''
‫محمود فرض کو ایک لڑکی پر قربان کرنے پر آمادہ نہ ہوسکا۔ اس کے دل میں یہ شک بھی پیدا ہوا کہ یہ لڑکی دشمن کی
‫لہذا اس نے سعدیہ کے متعلق چھان بین
‫جاسوس بھی ہوسکتی ہے جسے اسے بے کار کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ٰ
‫کرنا ضروری سمجھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صالح الدین ایوبی کی فوج قاہرہ سے آٹھ دس میل دور تھی۔ اسے بتا دیا گیا تھا کہ فوج مشتعل ہے اور مصر کی فوج پر
‫ٹوٹ پڑے گی۔ سلطان ایوبی نے وہاں پڑائو کا حکم دے دیا اور سپاہیوں میں گھومنے پھرنے لگا۔ وہ خود سپاہیوں کے جذبات کا
‫جائزہ لینا چاہتا تھا۔ وہ ایک سوار کے پاس رکا تو کئی سوار اور پیادہ اس کے گرد جمع ہوگئے۔ اس نے ان کے ساتھ
‫غیرضروری سی باتیں کیں تو ایک سوار بول پڑا۔ اس نے پوچھا… ''گستاخی معاف ساالراعظم! یہاں پڑائو کی ضرورت نہیں
‫تھی۔ ہم شام تک قاہرہ پہنچ سکتے تھے''۔
‫تم لوگ لڑتے لڑتے آئے ہو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں تمہیں اس کھلے صحرا میں آرام دینا چاہتا ہوں''۔''
‫ہم لڑتے آئے ہیں اور لڑنے جارہے ہیں''… سوار نے کہا۔''
‫لڑنے جارہے ہیں؟''… سلطان ایوبی نے انجان بنتے ہوئے پوچھا… ''میں تو تمہیں قاہرہ لے جارہا ہوں‪ ،جہاں تم اپنے ''
‫دوستوں سے ملوگے''۔
‫وہ ہمارے دشمن ہیں''… سوار نے کہا… ''اگر یہ سچ ہے کہ ہمارے دوست بغاوت کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو وہ ہمارے ''
‫دشمن ہیں''۔
‫صلیبیوں سے بدترین دشمن''… ایک اور سپاہی نے کہا۔''
‫کیا یہ سچ نہیں ساالراعظم کہ قاہرہ میں غداری اور بغاوت ہورہی ہے؟''… کسی اور نے پوچھا۔''
‫کچھ گڑبڑ سنی ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں مجرموں کو سزا دوں گا''۔''
‫آپ پوری فوج کو کیا سزا دیں گے؟''… ایک سوار نے کہا… ''سزا ہم دیں گے‪ ،ہمیں کمان داروں نے قاہرہ کے سارے '' ‪:
‫حاالت بتا دیئے ہیں۔ ہمارے ساتھی شوبک اور کرک میں شہید ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں کے اندر ہماری بیٹیوں اور بہنوں کی
‫عصمت دری ہوئی ہے اور کرک میں ابھی تک ہورہی ہے۔ ہمارے ساتھی قلعے کی دیواروں سے دشمن کی پھینکی ہوئی آگ
‫میں زندہ جل گئے ہیں۔ قبلہ اول پر کافروں کا قبضہ ہے اور ہماری فوج قاہرہ میں بیٹھی عیش کررہی ہے۔ آپ کے خالف
‫بغاوت کی تیاری کررہی ہے‪ ،جنہیں شہیدوں کا پاس نہیں‪ ،اپنی بیٹیوں کی عصمتوں کا خیال نہیں‪ ،انہیں زندہ رہنے کا بھی حق
‫نہیں۔ ہم جانتے ہیں وہ اسالم کے دشمن کے دوست بن گئے ہیں۔ ہم جب تک غداروں کی گردنیں اپنے ہاتھوں نہیں کاٹیں
‫گے ہمیں شہیدوں کی روحیں معاف نہیں کریں گے۔ ذرا ان زخمیوں کودیکھئے‪ ،جنہیں ہم اپنے ساتھ الرہے ہیں کسی کی ٹانگ
‫نہیں‪ ،کسی کا بازو نہیں۔ کیا یہ اس لیے ساری عمر کے لیے اپاہج ہوگئے ہیں کہ ہمارے ساتھی اور ہمارے دوست دشمن کے

‫ہاتھ میں کھیلیں؟''۔
‫ہم انہیں اپنے ہاتھوں سزا دیں گے''… اور پھر ایسا شور سپا ہوگیا کہ ساری فوج وہاں جمع ہوگئی۔ صالح الدین ایوبی کے''
‫لیے اس جوش وخروش پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔ وہ سپاہیوں کے جوش اور جذبے کو سرد کرکے ان کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتا
‫تھا۔ اس نے انہیں صبرو تحمل کی تلقین کی۔ کوئی حکم نہ دیا۔ اپنے خیمے میں گیا۔ مشیروں اور نائبین کو بال کر کہا کہ یہ
‫فوج اگلے حکم تک یہیں پڑائو کرے گی۔ اس نے کہا… ''میں نے دیکھ لیا ہے کہ خانہ جنگی ہوگی‪ ،فوج کا آپس میں ٹکرا
‫جانا دشمن کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ میں آج رات قاہرہ جارہا ہوں۔ کسی کو معلوم نہ ہوسکے کہ میں یہاں نہیں ہوں۔
‫سپاہیوں کے جوش کو سرد کرنے کی بھی کوشش نہ کی جائے''۔
‫اس نے ضروری احکام اور ہدایات دے کر کہا۔ ''ہماری قاہرہ والی فوج جو بغاوت پر آمادہ ہے‪ ،میری نظر میں بے گناہ ہے
‫اور ہماری قوم کے وہ نوجوان جو جوئے اور ذہنی عیاشی کے عادی ہوتے جارہے ہیں‪ ،وہ بھی بے گناہ ہیں۔ فوج کو ہمارے
‫اعلی حکام نے غلط باتیں بتا کر بھڑکایا ہے۔ انہی حکام کے ایماء پر دشمن نے ہمارے ملک کے سب سے بڑے شہر میں
‫ٰ
‫ذہنی عیاشی کے سامان پھیالئے ہیں۔ اس اخالقی تباہ کاری کو فروغ صرف اس لیے حاصل ہوا ہے کہ ہماری انتظامیہ کے وہ
‫حکام جنہیں اس تخریب کاری کو روکناتھا‪ ،وہ اسے پھیالنے میں شریک ہیں۔ دشمن انہیں اجرت دے رہا ہے‪ ،جب کسی قوم
‫کے سربراہ اور امراء دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتے ہیں تو اس قوم کا یہی حشر ہوتا ہے۔ ہماری فوج سوڈان کے ظالم
‫صحرا میں بکھری ہوئی لڑرہی ہے‪ ،کٹ رہی ہے‪ ،سپاہی بھوکے اور پیاسے مرررہے ہیں اور ہمارے حاکم ان کی کمک‪ ،رسد اور
‫ہتھیار روکے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ دشمن کی سازشیں نہیں جسے ہمارے اپنے بھائی کامیاب کررہے ہیں؟ اس سے دشمن ایک
‫فائدہ اٹھا رہا ہے کہ تقی الدین اور اس کے وہ عسکری جو جذبہ جہاد سے لڑ رہے ہیں‪ ،وہ مررہے ہیں اور نوبت ہتھیار ڈالنے
‫تک آگئی ہے اور دوسرا فائدہ یہ کہ ہماری قوم کو بتایا جائے گا کہ یہ دیکھو تمہاری فوج شکست کھا گئی ہے کیونکہ یہ اسی
‫قابل تھی۔ ہمارے بعض بھائی مصر کی امارت پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ سب سے پہلے فوج کو قوم کی
‫نظروں میں رسوا اور ذلیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ من مانی کرسکیں۔ مجھے امارت کے ساتھ چپکے رہنے کی کوئی خواہش
‫نہیں اگر میرے مخالفین میں سے کوئی مجھے یہ یقین دال دے کہ وہ میرے عزم کو پایٔہ تکمیل تک پہنچائے گا تو میں اس
‫کی فوج میں سپاہی بن کر رہوں گا مگر ایسا کون ہے؟ یہ لوگ اپنی باقی زندگی بادشاہ بن کر گزارناچاہتے ہیں‪ ،خواہ دشمن
‫کے ساتھ سازباز کرکے بادشاہی ملے اور میں اپنی زندگی میں قوم کو اس مقام پر النا چاہتا ہوں‪ ،جہاں وہ اپنے دین کے
‫دشمنوں کے سرپر پائوں رکھ کر بادشاہی کرے۔ ہمارے ان اللچی اور غدار حاکموں کی نظر اپنے حال پر اپنے آج پر ہے۔ میری
‫نظر قوم کے مستقبل پر ہے''۔
‫اس نے بولتے بولتے توقف کیا اور کہا… ''میرا گھوڑا فورا ً تیار کرو''… اس نے ان افراد کے نام لیے جنہیں اس کے ساتھ
‫جانا تھا۔ اس نے کہا … ''نہایت خاموشی سے ان سب کو بالئو اور انہیں قاہرہ چلنے کے لیے کہو۔ میرا خیمہ یہیں لگا
‫رہنے دو تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ میں یہاں نہیں ہوں''… اس نے گہرا سانس لیا اور کہا… ''میں آپ کو سختی سے
‫ذہن نشین کراتا ہوں کہ جو فوج بغاوت کے لیے تیار ہے‪ ،میں اس کے خالف
‫کوئی کارروائی نہیں کروں گا۔ تم میں سے کوئی بھی اس فوج کے خالف کدورت نہ رکھے۔ اسی طرح اپنے نوجوانوں کو بھی
‫قابل نفرت نہ سمجھنا۔ میں ان کے خالف کارروائی کروں گا جو فوج اور قوم کو گمراہ اور ذلیل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہی
‫فوج جب اپنے دشمن کے سامنے آئے گی اور دشمن اس کا تیروں سے استقبال کرے گا تو فوج کو یاد آئے گا کہ وہ اللہ کی
‫فوج ہے۔ دماغ سے بغاوت کے کیڑے نکل جائیں گے۔ آپ جب اپنے بچوں کو اپنے دین کا دشمن دکھائیں گے تو ان کا ذہن
‫ازخود جوئے سے ہٹ کر جہاد کی طرف آجائے گا۔ میں آپ کو صاف الفاظ میں بتا دیتا ہوں کہ اسالم اور سلطنت اسالمیہ کی
‫بقاء اور وقار فوج کے بغیر ممکن نہیں۔ میں صلیبیوں اور یہودیوں کے عزائم اور ان کے طرز جنگ اور ان کی زمین دوز
‫کارروائیوں کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ اسالم کی فوج کو کمزور کرکے اسالم کا خاتمہ کریں گے جس روز اور جس دور
‫میں کسی بھی مسلمان ملک کی فوج کمزور ہوگئی‪ ،وہ ملک اپنی آزادی اور اپنا وقار کھو بیٹھے گا۔ کسی بھی دور میں کوئی
‫مسلمان مملکت مضبوط اور باوقار فوج کے بغیر زندہ نہیں رہ سکے گی۔ ہمارا آج کا غلط اقدام اسالم کے مستقبل کو تاریک
‫کردے گا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ آنے والی نسلیں ہماری لغزشوں‪ ،ناکامیوں اور کامیابیوں سے فائدہ اٹھائیں گی یا نہیں''۔
‫امیرمصر!''… ایک مشیر نے کہا… ''اگر ہمارے بھائی غداری کے فن میں ہی مہارت حاصل کرتے رہے تو آنے والی نسلیں''
‫غالم ہوں گی۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوگا کہ آزادی کسے کہتے ہیں اور قومی وقار کیا ہے۔ کیا ہمارے پاس اس کا کوئی عالج
‫''ہے؟
‫قوم کا ذہن بیدار کرو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''قوم کو رعایا نہ کہو‪ ،قوم کا ہر فرد اپنی جگہ بادشاہ ہوتا ہے۔ کسی ''
‫بھی فرد کو قومی وقار سے محروم نہ کرو۔ ہمارے امراء اور حاکموں میں چونکہ بادشاہ اور خلیفہ بننے کا جنون سوار ہے۔ اس
‫لیے وہ قوم کو رعایا بنا کر اسے اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھو‪ ،قوم جسموں کا
‫مجموعہ نہیں‪ ،جسے تم مویشیوں کی طرح ہانکتے پھرو۔ قوم میں دماغ بھی ہے‪ ،روح بھی ہے اور قومی وقار بھی ہے۔ قوم کی
‫ان خوبیوں کو ابھارو تاکہ قوم خود سوچے کہ اچھا کیا اور برا کیا ہے۔ اچھا کون اور برا کون ہے۔ اگر قوم محسوس کرے کہ
‫صالح الدین ایوبی سے بہتر امیر موجود ہے جو سلطنت اسالمیہ کے تحفظ کے ساتھ اسے سمندروں سے پار بھی وسعت دے
‫سکتا ہے تو قوم کا کوئی بھی فرد مجھے راستے میں روک لے اور جرٔات سے کہے کہ صالح الدین ایوبی! تم یہ مسند خالی
‫کردو‪ ،ہم نے تم سے بہتر آدمی ڈھونڈ لیا ہے۔ قوم میں یہ سوچ بھی اور جرٔات بھی اور مجھ میں فرعونیت نہ ہو کہ اپنے
‫خالف بات کرنے والے کی گردن مار دوں۔ مجھے یہی خطرہ نظر آرہا ہے کہ ملت اسالمیہ ایسے ہی فرعونوں کی نذر ہوجائے
‫گی۔ قوم کو رعایا اور مویشی بنادیا جائے گا پھر مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے یا برائے نام مسلمان ہوں گے۔ مذہب تو شاید
‫ان کا یہی رہے گا مگر تہذیب وتمدن صلیبیوں کا ہوگا''۔
‫اتنے میں ایک محافظ نے اندر آکر بتایا کہ گھوڑا تیار ہے اور جن تین چار نائب ساالروں کو بالیا گیا تھا‪ ،وہ بھی آگئے ہیں۔
‫سلطان ایوبی نے اپنے ساتھ چار محافظ لیے۔ باقی محافظ دستے سے کہا کہ وہ اس کے خالی خیمے پر پہرہ دیتے رہیں اور
‫کسی کو پتا نہ چلنے دیں کہ وہ یہاں نہیں ہے۔ اس نے اپنے ساتھ جانے والے عملے سے کہا کہ وہ خاموشی سے فالں جگہ
‫پہنچ جائیں‪ ،وہ ان سے آملے گا۔ اس نے اپنا قائم مقام مقرر کیا اور باہر نکل گیا
‫٭ ٭ ٭
‫صحرا تاریک تھا۔ چودہ گھوڑے سرپٹ دوڑے جارہے تھے۔ صالح الدین ایوبی تاریکی چھٹنے سے پہلے قاہرہ پہنچ جانا چاہتا تھا۔
‫علی بن سفیان کو اس نے اپنے ساتھ رکھا تھا۔ اس کی فوج پڑائو میں گہری نیند سوگئی تھی۔ جاگنے والے سنتریوں کو بھی

‫اعلی نکل گیا ہے۔ قاہرہ والوں کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ سلطان
‫علم نہیں ہوسکتا تھا کہ ان کا ساالر
‫ٰ
‫ایوبی مصر میں داخل ہوچکا ہے… رات کا پچھال پہر تھا‪ ،جب سلطان ایوبی کا قافلہ قاہرہ میں داخل ہوا۔ اسے کسی سنتری
‫نے نہ روکا‪ ،وہاں کوئی سنتری تھا ہی نہیں۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساتھیوں سے کہا… ''یہ ہے بغاوت کی ابتدائ۔ شہر میں
‫کوئی سنتری نہیں۔ فوج سوئی ہوئی ہے‪ ،بے پروا‪ ،بے نیاز‪ ،حاالنکہ ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں اور دشمن کے حملے کا
‫خطرہ ہر لمحہ موجود ہے''۔
‫اعلی کو بال لیا۔ االدریس کو بھی بال
‫اپنے ٹھکانے پر پہنچتے ہی ایک لمحہ آرام کیے بغیر اس نے مصر کے قائم مقام ساالر
‫ٰ
‫اعلی سلطان
‫ساالر
‫مقام
‫قائم
‫تھا۔
‫کرادیا
‫لیا جس کے دونوں جوان بیٹوں کو غداروں نے دھوکے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل
‫ٰ
‫ایوبی کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ سلطان ایوبی نے االدریس سے افسوس کا اظہار کیا۔ االدریس نے کہا… ''میرے بیٹے میدان جنگ
‫میں جانیں دیتے تو مجھے خوشی ہوتی۔ وہ دھوکے میں مارے گئے ہیں''… ''یہ وقت میرے بیٹوں کے ماتم
‫کرنے کا نہیں‪ ،آپ نے مجھے کسی اور مقصد کے لیے بالیا تھا۔ حکم فرمائیں''۔
‫اعلی محب اسالم تھا۔ ان دونوں سے سلطان ایوبی نے قاہرہ کے اندرونی حاالت کے متعلق تفصیلی رپورٹ لی
‫قائم مقام ساالر
‫ٰ
‫اور پوچھا کہ ان کی نظر میں کون کون سے حاکم مشتبہ ہیں۔ وہ فوجی حکام کے متعلق خاص طور پر پوچھ رہا تھا۔ اسے
‫چند ایک نام بتائے گئے۔ اس نے احکام دینے شروع کردیئے جن میں اہم یہ تھے کہ مشتبہ حکام کو قاہرہ میں مرکزی کمان
‫میں رہنے دیا جائے اور تمام فوج کو سورج نکلنے سے پہلے کوچ کی تیاری میں جمع کرلیا جائے اور بھی بہت سی ہدایات
‫دے کر سلطان ایوبی نے ایک پالن تیار کرنا شروع کردیا۔ کچھ ہدایات علی بن سفیان کو دے کر اسے فارغ کردیا۔ کچھ دیر
‫بعد فوج کے کیمپ میں ہڑبونگ مچ گئی۔ فوج کو قبل از وقت جگا لیا گیا تھا۔ فوج اور انتظامیہ کے مشتبہ حکام کو صالح
‫الدین ایوبی کے ہیڈکوارٹر میں بال لیا گیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ انہیں اتنا ہی پتا چال تھا کہ سلطان ایوبی
‫آگیا ہے۔ انہوں نے اس کا گھوڑا بھی دیکھ لیا تھا لیکن انہیں سلطان ایوبی نظر نہیں آرہا تھا اور سلطان ایوبی انہیں ابھی ملنا
‫بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس نے انہیں کوچ تک فوج سے الگ رکھنے کا بندوبست کردیا تھا۔ یہی اس کا مقصد تھا۔
‫ابھی صبح کی روشنی صاف نہیں ہوئی تھی۔ فوج ترتیب سے کھڑی کردی گئی۔ پیادوں اور سواروں کی صفوں کے پیچھے رسد
‫اور دیگر سامان سے لدے ہوئے اونٹ تھے۔ سلطان ایوبی نے فوج کو یہ ٹریننگ خاص طور پر دی تھی کہ جب بھی فوج کوچ
‫کا حکم ملے تو فوج ایک گھنٹے کے اندر اندر مع رسد اور دیگر سامان کے قافلے کے ساتھ تیار ہوجائے۔ اسی ٹریننگ اور
‫مشق کا کرشمہ تھا کہ فوج طلوع صبح کے ساتھ ہی کوچ کے لیے تیار ہوگئی تھی۔ سلطان ایوبی اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا۔
‫اعلی بھی تھا۔ سلطان ایوبی نے فوج کو ایک نظر دیکھا اور ایک صف کے سامنے سے
‫اس کے ساتھ مصر کا قائم مقام ساالر
‫ٰ
‫گزرنے لگا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور اس کے منہ سے باربار یہ الفاظ نکلتے تھے… ''آفرین‪ ،صد آفرین۔ اسالم کے
‫پاسبانو تم پر اللہ کی رحمت ہو''… صالح الدین ایوبی کی شخصیت کا اپنا ایک اثر تھا جسے ہر ایک سپاہی محسوس کررہا
‫تھا۔ اس کے ساتھ اس کی مسکراہٹ اور دادو تحسین کے کلمے سپاہیوں پر اس اثر کو اور زیادہ گہرا کررہے تھے۔ امیر اور
‫اعلی کا سپاہیوں کے اتنا قریب جانا ہی کافی تھا۔
‫ساالر
‫ٰ
‫تمام فوج کا معائنہ کرکے سلطان صالح الدین ایوبی نے مکمل طور پر بلند آواز سے فوج سے خطاب کیا۔ اس وقت کی
‫تحریروں میں اس کے جو الفاظ محفوظ ملتے ہیں وہ کچھ اس طرح تھے… ''اللہ کے نام پر کٹ مرنے والے مجاہدو! اسالم
‫کی ناموس تمہاری تلواروں کو پکار رہی ہے۔ تم نے شوبک کا مضبوط قلعہ جو کفر کا سب سے زیادہ مضبوط مورچہ تھا‪ ،ریت
‫کا ٹیلہ سمجھ کر توڑ ڈاال تھا۔ تم نے صلیبیوں کو صحرائوں میں بکھیر کر مارا اور جنت الفردوس میں جگہ بنا لی ہے۔ تمہارے
‫ساتھ‪ ،تمہارے عزیز دوست تمہارے سامنے شہید ہوئے۔ تم نے انہیں اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔ ان چھاپہ مار شہیدوں کو یاد کرو
‫جو دشمن کی صفوں کے پیچھے جاکر شہید ہوئے۔ تم ان کا جنازہ نہ پڑھ سکے۔ ان کی الشیں بھی نہ دیکھ سکے۔ تم تصور
‫کرسکتے ہو کہ دشمن نے ان کی الشوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا۔ شہیدوں کے یتیم بچوں کو یاد کرو۔ ان کی بیویوں کو
‫یاد کرو جن کے سہاگ خدا کے نام پر قربان ہوگئے ہیں۔ آج شہیدوں کی روحیں تمہیں للکار رہی ہیں۔ تمہاری غیرت کو اور
‫تمہاری مردانگی کو پکار رہی ہیں۔ دشمن نے کرک کے قلعے کو اتنا مضبوط کرلیا ہے کہ تمہارے کئی ساتھی دیواروں سے
‫پھینکی ہوئی آگ میں جل گئے ہیں‪ ،تم اگر وہ منظر دیکھتے تو سر کی ٹکروں سے قلعے کی دیواریں توڑ دیتے۔ وہ آگ میں
‫''…جلتے رہے اور دیوار میں شگاف ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔ موت نے انہیں مہلت نہ دی
‫عظمت اسالم کے پاسبانو! کرک کے اندر تمہاری بیٹیوں اور تمہاری بہنوں کی عصمت دری ہورہی ہے۔ بوڑھوں سے مویشیوں''
‫کی طرح مشقت لی جا رہی ہے۔ جوانوں کو قید میں ڈال دیا گیا ہے۔ مائوں کو بچوں سے الگ کردیا گیا ہے مگر میں جس
‫نے پتھروں کے قلعے توڑے ہیں‪ ،مٹی کا قلعہ سر نہیں کرسکا۔ میری طاقت تم ہو‪ ،میری ناکامی تمہاری ناکامی ہے''… اس کی
‫آواز اور زیادہ بلند ہوگئی۔ اس نے بازو اوپر کرکے کہا… ''میرا سینہ تیروں سے چھلنی کردو‪ ،میں ناکام لوٹا ہوں مگر میری
‫جان لینے سے پہلے میرے کان میں یہ خوشخبری ضرور ڈالنا کہ تم نے کرک لے لیا ہے اور اپنی عصمت بریدہ بیٹیوں کو
‫سینے سے لگا لیا ہے''۔
‫اس وقت کا ایک واقعہ نگار االسدی لکھتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے گھوڑے اپنے سواروں کی جذباتی کیفیت کو
‫سمجھتے تھے۔ سوار خاموش تھے لیکن کئی گھوڑے بڑی زور سے ہنہنائے‪ ،تڑاخ تڑاخ کی آوازیں سنائی دیں۔ سوار باگوں کو زور
‫زور سے جھٹک کر اپنی بیتابی اورجذبہ انتقام کی شدت کا اظہار کررہے تھے۔ ۔ ان کی زبانیں خاموش تھیں۔ ان کے چہرے
‫الل سرخ ہوکر ان کے جذبات کی ترجمانی کررہے تھے۔ سلطان ایوبی کے الفاظ تیروں کی طرح ان کے دلوں میں اترتے جارہے
‫تھے۔ بغاوت کی چنگاریاں بجھ چکی تھیں۔ سلطان ایوبی کامقصد پورا ہورہا تھا۔
‫سلطنت اسالمیہ کی عصمت کے محافظو! تم کفار کے لیے دہشت بن گئے ہو‪ ،تمہاری تلواروں کو کند کرنے کے لیے آج ''
‫صلیبی اپنی بیٹیوں کی عصمت اور حشیش استعمال کررہے ہیں۔ تم نہیں سمجھتے کہ صلیبی اپنی ایک بیٹی کی عصمت لٹا
‫کر ایک ہزار مجاہدین کو بے کار کردیتے ہیں اور اپنے عالقوں میں اپنی ایک بیٹی کے بدلے ہماری ایک ہزار بیٹیوں کو بے
‫آبرو کرتے ہیں۔ تمہارے درمیان ایک فاحشہ عورت بھیج کر ہماری سینکڑوں بیٹیوں کو فاحشہ بنا لیتے ہیں۔ جائو اور اپنی
‫بیٹیوں کی عصمتوں کو بچائو۔ تم کرک جارہے ہو جس کی دیواروں کے گھیرے میں قرآن کے ورق بکھرے ہوئے ہیں اور جہاں
‫کی مسجدیں صلیبیوں کے لیے بیت الخال بن گئی ہیں۔ وہ صلیبی جو تمہارے نام سے ڈرتے ہیں‪ ،آج تم پر قہقہے لگا رہے
‫ہیں۔ شوبک تم نے لیا تھا اور کرک بھی تم ہی لوگے''۔
‫سلطان ایوبی نے فوج پر یہ الزام عائد نہیں کیا کہ وہ گمراہ ہوگئی ہے اور بغاوت پر آمادہ ہے۔ اس نے کسی کے خالف شک
‫وشبے کا اشارہ بھی نہیں کیا۔

20:00
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪57۔ وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا
‫اس نے کسی کے خالف شک وشبے کا اشارہ بھی نہیں کیا۔ اس کے بجائے فوج کے جذبے اور غیرت کو ایسا للکارا کہ فوج
‫جو حیران تھی کہ اسے اتنی سویرے کیوں جگایا گیا ہے۔ اب اس پر حیران تھی کہ اسے کرک کی طرف کوچ کا حکم کیوں
‫ادنی کمانڈروں کو بالیا اور انہیں کوچ کے متعلق
‫اعلی اور
‫نہیں دیا جاتا۔ تمام تر فوج مشتعل ہوگئی تھی۔ سلطان ایوبی نے
‫ٰ
‫ٰ
‫ہدایات دیں۔ کوچ کے لیے کوئی اور راستہ بتایا۔ راستہ اس راستے سے بہت دور تھا جس پر محاذ کی فوج آرہی تھی۔ کوچ
‫کرنے والی فوج کے ساتھ سلطان ایوبی نے اپنے وہ کمانڈر بھیج دیئے جنہیں وہ اپنے ساتھ الیا تھا۔ انہیں نے خفیہ طور پر
‫ہدایات دے دی تھیں۔ فوج کو جب کوچ کا حکم مال تو سپاہیوں کے نعرے قاہرہ کے درودیوار کو ہالنے لگے۔ سلطان ایوبی کا
‫چہرہ جذبات کی شدت سے دمک رہا تھا۔
‫جب فوج اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تو اس نے ایک قاصد کو پیغام دے کر اس پڑائو کی طرف روانہ کردیا جہاں محاذ
‫سے آنے والی فوج رکی ہوئی تھی۔ قاصد کو بہت تیز جانے کو کہا گیا۔ پیغام یہ تھا کہ پیغام ملتے ہی فوج کو قاہرہ کے لیے
‫کوچ کرادیا جائے۔ فاصلہ آٹھ دس میل تھا۔ قاصد جلدی پہنچ گیا۔ اسی وقت کوچ کا حکم مل گیا۔
‫غروب آفتاب کے بعد فوج کے ہر اول دستے قاہرہ میں داخل ہوگئے۔ ان کے پیچھے باقی فوج بھی آگئی۔ اسے رہائش کے لیے
‫وہی جگہ دی گئی جہاں گزشتہ رات تک کوچ کرجانے والی فوج قیام پذیر تھی۔ سپاہیوں کو کمانڈروں نے بتانا شروع کردیا کہ
‫پہلی فوج کو محاذ پر بھیج دیا گیا ہے۔ آنے والی فوج بھڑکی ہوئی تھی۔ علی بن سفیان نے انہیں ٹھنڈا کرنے کا انتظام
‫کررکھا تھا۔ سلطان ایوبی نے دانشمندی سے فوجی بغاوت کا خطرہ بھی ختم کردیا اور خانہ جنگی کا امکان بھی نہ رہنے دیا۔
‫اعلی کمانڈروں کو بال لیا اور اس فوجی حاکم کو بھی بالیا جو سرحدی دستوں کا ذمہ دار تھا۔ اس نے یہ معلوم کرکے
‫اس نے
‫ٰ
‫کہ سرحد پر کتنے دستے ہیں اور کہاں کہاں ہیں‪ ،اتنی ہی نفری کے دستے تیار کرکے علی الصبح مطلوبہ جگہوں کو بھیجنے کا
‫حکم دیا۔ اسے بتایا جا چکا تھا کہ سرحدی دستے ملک سے غلہ اور فوجی ضروریات کا دیگر سامان باہر بھیجنے میں دشمن
‫کی مدد کررہے ہیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ان دستوں کے کمانڈروں کو خصوصی احکامات دئیے اور سرحد سے واپس آنے
‫والے پرانے دستوں کے متعلق اس نے حکم دیا کہ انہیں قاہرہ میں النے کے بجائے باہر سے ہی محاذ پر بھیج دیا جائے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سعدیہ دونوں وقت مسجد میں امام کو کھانا دینے جاتی تھی۔ محمود بن احمد شاگرد کی حیثیت سے مذہب کی تعلیم حاصل
‫کررہاتھا۔ وہ اس چراگاہ میں بھی چالجایا کرتا تھا جہاں سعدیہ بکریاں چرایا کرتی تھی۔ وہاں ٹیلے بھی تھے۔ جگہ سرسبز
‫تھی‪ ،کیونکہ وہاں پانی تھا۔ جگہ گائوں سے ذرا دور تھی۔ سعدیہ اب محمود کو اپنا محافظ سمجھنے لگی تھی اور اسے یقین
‫ہوگیا تھا کہ محمود اسے کافروں کے قبضے میں جانے سے بچا لے گا مگر محمود اس کی یہ بات نہیں مانتا تھا کہ اسے فورا ً
‫گائوں سے لے جائے۔ سعدیہ نے اسے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اسے اپنے گائوں چھوڑ آئے اور یہاں آکر تعلیم مکمل کرلے۔
‫محمود اسے بتا نہیں سکتا تھا کہ اس کا گاوں مصر کے دوسرے سرے پر ہے جہاں وہ اتنی جلدی نہیں جاسکتا۔ اس نے اپنے
‫جاسوسی کے فن کے مطابق یہ یقین کرلیا تھا کہ سعدیہ دشمن کی آلٔہ کار نہیں۔ اگر محمود کے راستے میں فرض حائل نہ
‫ہوتا تو وہ کبھی کا سعدیہ کو وہاں سے لے جاچکا ہوتا۔ فرض کے عالوہ امام مسجد اس کے محکمے کا افسر تھا جس کی
‫موجودگی میں وہ اپنے فرض میں کوتاہی نہیں کرسکتا تھا۔ امام نے اسے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ رہے۔ اس کا
‫کہنا حکم کی حیثیت رکھتا تھا۔
‫ایک روز اچانک گاوں میں رونق آگئی۔ کچھ اجنبی صورتیں نظر آنے لگیں۔ ہر کسی کی زبان پر ایک ہی کلمہ تھا… ''وہ آرہا
‫ہے‪ ،وہ آسمان سے آیا ہے… مرے ہووں کو زندہ کرنے واال آرہا ہے''… گاوں کا ہر فرد بہت ہی خوش تھا۔ وہ کہتے تھے کہ
‫ان کی مرادیں پوری کرنے واال آرہا ہے۔ سعدیہ دوڑتی آئی اور محمود بن احمد سے کہا… ''تم نے بھی سنا ہے کہ وہ آرہا
‫ہے؟ تم جانتے ہو میں اس سے کیا مانگوں گی؟ میں اسے کہوں گی کہ محمود مجھے فورا ً یہاں سے لے جائے‪ ،پھر تم مجھے
‫لے جاو گے''۔
‫محمود کچھ بھی جواب نہ دے سکا۔ اس نے ابھی تک اس پراسرار آدمی کو نہیں دیکھا تھا جسے لوگ پیغمبر تک کہتے
‫تھے… محمود کی ڈیوٹی کے عالقے میں وہ پہلی بار آرہا تھا۔ اس کی کرامات اور معجزوں کی کہانیاں اس عالقے میں کب
‫کی پہنچ رہی تھیں۔ محمود باہر نکل گیا تو اجنبی لوگوں میں اسے اپنے دو ساتھی جاسوس نظر آئے۔ ان کا عالقہ کوئی اور
‫تھا۔ محمود نے ان سے پوچھا کہ وہ اس کے عالقے میں کیوں آگئے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس غیب دان کو دیکھنے
‫آئے ہیں مگر وہ جاسوسوں کی حیثیت سے نہیں آئے تھے بلکہ اس سے پوری طرح متاثر تھے۔ انہوں نے اس کی کرامات
‫کسی جگہ دیکھی تھیں جو انہوں نے محمود کو ایسے انداز سے سنائی کہ وہ مرعوب ہوگیا۔ یہ دونوں اس غیب دان کو برحق
‫سمجھنے لگے تھے۔ محمود نے سوچا کہ علی بن سفیان کی تربیت یافتہ جاسوس جس سے متاثر ہوجائیں وہ برحق ہوسکتا
‫ہے۔
‫محمود اس سرسبز جگہ کی طرف چال گیا جہاں سعدیہ بکریاں اور اونٹنی چرانے کے بہانے اسے مال کرتی تھی مگر وہاں کچھ
‫اور ہی گہما گہمی تھی۔ اسے دور ہی دو آدمیوں نے روک دیا اورکہا کہ خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر آرہا ہے۔ یہ جگہ اس کے
‫لیے صاف کی جارہی ہے۔ وہ یہیں قیام کرے گا۔ اس نے دور سے دیکھا کہ ایک ٹیلے میں غار سا بنایا جارہا تھا اور جگہ
‫ہموار کی جارہی تھی۔ اب وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ گاوں کے لوگ کام دھندا چھوڑ کر وہاں جمع ہورہے
‫تھے۔ اجنبی آدمی جو اس جگہ صفائی وغیرہ کا کام کرتے تھے‪ ،باری باری آکر لوگوں کو اس کے معجزے سناتے تھے۔ لوگ
‫مسرور اور مسحور ہوئے جارہے تھے۔ رات کو بھی لوگ وہاں کھڑے رہے۔ ان کی عقیدت مندی کا یہ عالم تھا کہ مسجد میں
‫کوئی بھی نہ گیا۔ دوسرے دن کی ابھی صبح طلوع ہوئی تھی کہ لوگ پھر وہیں پہنچ گئے۔ انہیں دور ہی روک لیا گیا۔ رات
‫کے دوران اجنبی چہروں میں اضافہ ہوگیا تھا۔ یہ لوگ وہاں گڑھے بھی کھود رہے تھے۔ ان کے ساتھ چند اونٹ تھے جن پر
‫بہت سارا سامان لدا ہوا تھا۔ یہ سامان کھوال جانے لگا تو انہیں بہت سے خیمے نظر آئے جو کھول کر نصب کیے جارہے
‫تھے۔
‫شام گہری ہونے لگی۔ راتیں تاریک ہوا کرتی تھیں۔ چاند رات کے پچھلے پہر ابھرتا تھا۔ اس غیب دان کے متعلق بتایا جاتا
‫تھا کہ صرف تاریک راتوں میں لوگوں کو اپنا آپ دکھاتا ہے۔ شام کے بعد بھی گاوں کے لوگ وہاں موجود رہے۔ ایک طرف
‫گاوں کی عورتیں بھی کھڑی تھیں‪ ،جن میں سعدیہ بھی تھی جو جگہ آنے والے کے لیے صاف کی جارہی تھیں۔ وہاں مشعل

‫جل رہی تھیں۔ دو آدمی ان چند لڑکیوں کے پیچھے سے آئے‪ ،جن میں سعدیہ تھی۔ لڑکیاں انہیں دیکھ نہ سکیں۔سامنے سے
‫تین چار آدمی آئے۔ یہ اجنبی لوگوں میں سے تھے۔ لڑکیوں کے قریب آکر انہوں نے لڑکیوں سے کہا… ''تم یہاں سے جاتی
‫کیوں نہیں؟''… اور وہ لڑکیوں کو ڈرانے کے لیے ان کی طرف دوڑے‪ ،لڑکیاں بھاگ اٹھیں اور بکھر گئیں۔ کسی نے پیچھے سے
‫سعدیہ کے اوپر کمبل پھینکا۔ دو مضبوط بازوئوں نے اسے کمر سے دبوچ لیا۔ ایک ہاتھ سے کسی نے اس کا منہ بند کردیا۔
‫اسے کندھے پر اٹھا کر کوئی دوڑ پڑا۔ ایک تو تاریکی تھی اور دوسرے لڑکیاں بھاگ گئی تھیں۔ اس لیے کوئی بھی نہ دیکھ
‫سکا کہ سعدیہ کو کوئی اٹھا لے گیا ہے۔
‫دوسری صبح جیسے طوفان آگیا ہو۔ گاوں کے لوگ چراگاہ کی طرف دوڑ پڑے۔ ایک ہجوم چال آرہا تھا۔ اس کے آگے آگے سولہ
‫سترہ اونٹ تھے۔ ہر اونٹ پر نہایت خوبصورت پالکی تھی۔ ہر پالکی کے پردے گرے ہوئے تھے۔ ''وہ'' ان میں سے کسی
‫پالکی میں تھا۔ آگے آگے ڈف اور شہنائیاں بج رہی تھیں۔ بعض لوگ وجد آفریں گونج میں کچھ گنگناتے آرہے تھے اونٹوں کی
‫گردنوں سے لٹکتی ہوئی بڑی بڑی گھنٹیوں کا ترنم اسی موسیقی کا حصہ معلوم ہوتا تھا۔ ہجوم میں کوئی شورشرابہ نہیں تھا۔
‫ہر کسی پر تقدس کا رعب طاری تھا۔ یہ مریدوں اور عقیدت مندی کا جلوس تھا جو معلوم نہیں کہاں کہاں سے اس کے ساتھ
‫چلے آرہے تھے۔ ایسی فضا پیدا ہوگئی تھی جیسے پالکیوں والے اونٹ آسمان سے اتر رہے ہوں۔ یہ قافلہ سرسبز جگہ چال گیا۔
‫وہاں ٹیلے زیادہ تھے۔ ایک جگہ بہت سے خیمے نصب کردئیے گئے تھے۔ ان میں ایک خیمہ خاصا بڑا تھا۔ تمام لوگوں کو دور
‫ہٹا دیا گیا پھر کوئی نہ دیکھ سکا کہ پالکیوں میں سے کون کون نکال اور کہاں غائب ہوگیا۔ عقیدت مندوں کا ہجوم دور ہٹ
‫کر بیٹھ گیا۔ سعدیہ کے گائوں کے لوگ ان سے اس مقدس انسان کی باتیں سننے لگے۔ انسانی فطرت کی یہ خاصیت ہے کہ
‫انسان جس قدر گنوار اور پسماندہ ہوتا ہے وہ اتنا ہی سنسنی پسند ہوتا ہے۔ وہ باتوں میں سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کرتا
‫ہے۔ یہی کیفیت وہاں پیدا ہوگئی تھی۔
‫امام بھی اس ہجوم کو دیکھ رہا تھا اور محمود بھی۔ وہ ابھی کوئی رائے قائم نہیں کرسکتے تھے۔ انہیں قاہرہ سے یہ ہدایت
‫ملی تھی کہ سرحدی عالقے میں کوئی نیا عقیدہ پھیالیا جارہا ہے۔ اس کے متعلق تفصیالت معلوم کرکے بتائو کہ یہ کیا ہے
‫اور اس کی پشت پناہی میں کون لوگ ہیں۔ قاہرہ کو ابھی کوئی تفصیلی اطالع نہیں ملی تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ
‫یہ کہ جن عالقوں میں پراسرار آدمی جاچکا تھا وہاں کے جاسوس بھی اس کے معجزوں سے مرعوب ہوگئے تھے۔ وہ اس کے
‫خالف کوئی بات منہ سے نکالنے سے ڈرتے تھے۔ سرحدی دستوں نے بھی ایسا ہی اثر قبول کرلیا تھا۔ اب اس امام کی باری
‫تھی۔ اسے دیکھنا تھا کہ یہ سب کوئی ڈھونگ ہے‪ ،شعبدہ بازی ہے یا کیا ہے۔ اس نے یہ دیکھ لیا تھا کہ لوگ اس کی
‫صرف باتیں سن سن کر اتنے متاثر اور مرعوب ہوگئے تھے کہ انہوں نے مسجد میں جانا چھوڑ دیا تھا۔ وہ اس کی جھلک
‫دیکھنے کو اس جگہ کے گرد بیٹھے تھے جہاں وہ اونٹ سے اتر کر کسی خیمے میں غائب ہوگیا تھا۔
‫امام اور محمود وہاں کھڑے تھے۔ سعدیہ کا باپ ان کے پاس آن رکا۔ اس نے پریشانی کے عالم میں بتایا کہ سعدیہ رات سے
‫غائب ہے۔ لڑکیوں نے اسے بتایا تھا کہ انہیں چند آدمیوں نے سامنے سے آکر ڈرایا اور وہاں سے بھگا دیا تھا۔ ایک لڑکی نے
‫بتایا کہ اس نے وہاں سے پیچھے دو آدمی دیکھے تھے۔ اس سے آگے کسی کو کچھ علم نہ تھا۔ باپ سعدیہ کی تالش میں
‫چل پڑا۔ محمود بھی اس کے ساتھ ہولیا۔ وہاں اسے سعدیہ کہاں مل سکتی تھی مگر وہ باپ تھا۔ بے چینی سے ادھر ادھر
‫گھومنے پھرنے لگا۔ محمود اس کے ساتھ رہا۔ انہیں ایک اجنبی نے روک لیا اور پوچھا… ''کیا تم لوگ کسی کو ڈھونڈ رہے
‫ہو؟''… سعدیہ کے باپ نے اسے بتایا کہ گزشتہ رات اس کی لڑکی الپتہ ہوگئی ہے۔
‫مجھے ابھی ابھی کسی نے بتایا ہے کہ تم اس لڑکی کے باپ ہو''… اجنبی نے سعدیہ کا حلیہ بتا کر کہا… ''اگر تم اس''
‫لڑکی کو ڈھونڈ رہے ہو تو وہ تمہیں یہاں نہیں ملے گی۔ اب تک وہ مصر کی سرحد سے باہر اور بہت دور جاچکی ہوگی۔
‫گزشتہ شام میں نے ایک گھوڑا دیکھا تھا۔ ایک نوجوان اور بڑی خوبصورت لڑکی دوسری لڑکیوں سے ہٹ کر گھوڑے کے پاس
‫گئی۔ سوار گھوڑے کے قریب کھڑا تھا۔ لڑکی نے اس کے ساتھ کچھ باتیں کیں‪ ،سوار گھوڑے پر سوار ہوکر چند قدم پرے چال
‫گیا۔ لڑکی ادھر ادھر دیکھتی اس کے پیچھے گئی۔ آگے جاکر وہ خود ہی سوار کے آگے گھوڑے پر بیٹھ گئی۔ سوار گھوڑا دوڑا
‫لے گیا۔ میں دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکی کون ہوسکتی ہے جو ایک سوار کے ساتھ اپنی مرضی سے چلی گئی
‫ہے۔ آج کسی نے بتایا کہ وہ تمہاری بیٹی تھی۔ اسے اب ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرو''۔
‫وہ آدمی چال گیا۔ سعدیہ کے باپ کے آنسو نکل آئے۔ محمود کا ردعمل کچھ اور تھا۔ وہ جاسوس تھا۔ اس نے یہ سوچا کہ یہ
‫آدمی سفید جھوٹ بول گیا ہے۔ اس کی اطالع اور تمام تر بیان جھوٹ تھا۔ کوئی اسے کیسے بتا سکتا تھا کہ اس شخص کی
‫بیٹی ایک سوار کے ساتھ بھاگ گئی ہے‪ ،جب اسے دیکھنے واال یہ اکیال شخص تھا۔ جاسوس کو یہ ٹریننگ خاص طور پر دی
‫جاتی تھی کہ کسی کی بات پر فورا ً اعتبار نہ کرو اور ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھو۔ محمود نے اس اجنبی کا پیچھا
‫کیا۔ وہ ہجوم میں سے ہوتا ہوا ٹیلوں کے پیچھے چال گیا اور خیموں میں کہیں غائب ہوگیا۔ محمود کو یقین ہوگیا کہ سعدیہ
‫انہی خیموں میں ہے اور اس کے اغوا میں اس آدمی کا ہاتھ ہے۔ یہ سعدیہ کے خریداروں میں سے ہوسکتا ہے جنہوں نے
‫سودا نہ ہونے پرسعدیہ کے باپ کو لڑکی کے اغوا کی دھمکی دی تھی۔ سعدیہ کے باپ نے اسے نہیں پہچانا تھا۔ یہ اجنبی
‫سعدیہ کے باپ کو یہ جھوٹا بیان دے کر گمراہ کرنے آیا تھا تاکہ باپ اپنی بیٹی کو یہاں تالش نہ کرے۔
‫محمود بن احمد کے دل میں سعدیہ کی اتنی شدید محبت تھی کہ اس نے سعدیہ کو وہاں سے نکالنے کا تہیہ کرلیا۔ اس نے
‫امام کو جا کر یہ ساری بات سنائی۔ امام سراغ رسانی کے شعبے کا ذہین حاکم تھا۔ اس نے بھی یہی رائے دی کہ اس
‫غریب باپ کو دھوکا دیا جارہا ہے کہ اس کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ محمود نے امام کے ان دونوں جاسوسوں
‫سے جو گائوں میں موجود رہتے تھے‪ ،ذکر کیا اور کہا کہ وہ سعدیہ کو وہاں سے نکالے گا اور اسے ان کی مدد کی ضرورت
‫ہے مگر یہ کام آسان نہیں تھا۔ ٹیلوں کے اندر اب کوئی نہیں جا سکتا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫نورالدین زنگی نے کرک کے محاصرے میں اپنی فوج لگا دی تھی اور قلعہ توڑنے کے طریقے سوچ رہا تھا۔ اس نے پہلے روز
‫ہی اپنے کمانڈروں سے کہہ دیا تھا کہ جو قلعہ صالح الدین ایوبی سر نہیں کرسکا وہ تم بھی آسانی سے سر نہیں کرسکو گے۔
‫صالح الدین ایوبی تو ناممکن کو ممکن کردکھانے واال آدمی ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے تفصیل سے بتا دیا تھا کہ یہاں کون کون
‫سے طریقے آزما چکا ہے۔ یہ بھی بتایا تھا کہ قلعے کے اندر کیا کیا ہے۔ رسد اور جانور کہاں ہیں اور آبادی کس طرف ہے۔
‫اسے یہ معلومات جاسوس نے دی تھیں۔ وہ اندر آگ پھینکنا چاہتا تھا مگر اس کی منجنیقیں چھوٹی تھیں۔ اس کے عالوہ
‫صلیبیوں کے پاس بڑی کمانیں تھیں جن کے تیر بہت دور تک چلے جاتے تھے۔ یہ تیر منجنیقوں کو قریب نہیں آنے دیتے
‫تھے۔ اسی لیے قلعے کے دروازے پر بھی آگ نہیں پھینکی جاسکتی تھی۔ مجاہدین کہیں سے قلعے کی دیوار تھوڑنے کی

‫کوشش کرتے تھے تو اوپر سے صلیبی جلتی ہوئی لکڑیوں اور دہکتے کوئلوں کے ڈرم انڈیل دیتے تھے۔
‫نورالدین زنگی نے اپنے نائبین کا اجالس بال کر انہیں کہا… ''صالح الدین ایوبی نے مجھے کہا تھا کہ وہ بڑی منجیقیں بنوا کر
‫اندر آگ پھینک سکتا ہے لیکن اندر مسلمانوں کی آبادی بھی ہے اگر ایک بھی مسلمان جل گیا تو یہ ساری عمر کا پچھتاوا
‫ہوگا۔ میں اب ایوبی کی سوچ کے خالف فیصلہ کررہا ہوں۔ ۔ میں نے اتنی بڑی منجنیقیں بنانے کا انتظام کرلیا ہے جن کی
‫پھینکی ہوئی آگ اور وزنی پتھر دور تک جاسکیں گے۔ آپ کو یہ حقیقت قبول کرنی پڑے گی کہ آپ کی پھینکی ہوئی آگ
‫سے اندر چند ایک مسلمانوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ میرے دوستو! اگر تم اندر کے مسلمانوں کی حالت جانتے ہوتو کہو گے
‫کہ وہ مر ہی جائیں تو اچھا ہے۔ وہاں کسی مسلمان کی عزت محفوظ نہیں۔ مسلمان بچیاں صلیبیوں کے پاس ہیں اور مرد
‫کھلے قید خانے میں بڑے بیگار کررہے ہیں۔ وہ تو دعائیں مانگ رہے ہوں گے کہ خدا انہیں موت دے دے۔ آپ کا محاصرہ
‫جس قدر لمبا ہوتا جائے گا اندر کے مسلمانوں کی اذیت بھی اسی قدر زیادہ اور اذیتوں کی مدت لمبی ہوتی جائے گی اور پھر
‫یہ ضروری تو نہیں کہ ہر ایک مسلمان جل مرے گا۔ اگر چند ایک مر گئے تو ہمیں یہ قربانی دینی ہی پڑے گی۔ آپ بھی تو
‫مرنے کے لیے آئے ہیں۔ اسالم کو زندہ رکھنا ہے تو ہم میں سے کئی ایک کو جانیں قربان کرنی ہوں گی۔ میں آپ کو یہ
‫اطالع اس لیے دے رہا ہوں کہ آپ میں سے مجھ پر کوئی یہ الزام عائد نہ کرے کہ میں نے ایک قلعہ سر کرنے کے لیے بے
‫گناہ مسلمانوں کو جال دیا ہے''۔
‫ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں سوچے گا''… ایک ساالر نے کہا… ''ہم یہاں اپنی بادشاہی قائم کرنے نہیں آئے۔ فلسطین''
‫مسلمانوں کا ہے۔ ہم یہاں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بادشاہی بحال کرنے آئے ہیں۔ قبلہ اول ہمارا ہے‪ ،صلیبیوں
‫اور یہودیوں کا نہیں''۔
‫ہم یہودیوں کے اس دعوے کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتے کہ فلسطین یہودیوں کا وطن ہے''۔ ایک اور نے کہا… ''ہم سب ''
‫جل مرنے کے لیے تیار ہیں‪ ،ہم اپنے بچوں کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں''۔
‫نورالدین زنگی کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ آگئی جس میں مسرت نہیں تھی اس نے کہا… ''تم جانتے ہی ہوگے کہ فلسطین
‫کو اپنا وطن بنانے کے لیے یہودی کس میدان میں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی دولت اور اپنی بیٹیوں کی عصمت صلیبیو ں کے
‫حوالے کردی ہے اور انہیں ہمارے خالف لڑا رہے ہیں۔ اپنی دولت اور اپنی لڑکیوں کے ہی ذریعے ہماری صفوں میں غدار پیدا
‫کررہے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا نشانہ صالح الدین ایوبی اور مصر ہے۔ مصر کے بڑے بڑے شہروں میں فاحشہ عورتوں کی تعداد
‫بڑھتی جارہی ہے۔ یہ سب یہودی عورتیں ہیں‪ ،افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مسلمان امراء اور دولت مند تاجر یہودیوں
‫کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ ان میں نفاق اور تفرقہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ اب کفار انہیں آپس میں لڑائیں گے۔ اگر ہم ہوش
‫میں نہ آئے تو یہودی ایک نہ ایک دن فلسطین کو اپنا وطن بنا کر قبلہ اول کو اپنی عبادت گاہ بنا لیں گے اور مسلمان
‫مملکتیں آپس میں لڑتی رہیں گی۔ انہیں محسوس تک نہ ہوگا کہ ان کی آپس کی چپقلش کے پیچھے یہودیوں اور صلیبیوں کا
‫ہاتھ ہے۔ یہ ہوگا دولت‪ ،عورت اور شراب کا کرشمہ جو شروع ہوچکا ہے۔ اگر ہمیں آنے والی نسلوں کو باوقار زندگی دینی ہے
‫تو ہمیں آج کی نسل کے کچھ بچے قربان کرنے پڑیں گے۔ میں نیا چاند نکلنے تک کرک لے لینا چاہتا ہوں۔ خواہ مجھے اس
‫کے کھنڈر ملیں اور اندر مسلمانوں کی جلی ہوئی الشیں ملیں۔ ہم انتظار نہیں کرسکتے۔ ہمیں صلیبیوں اور یہودیوں کو بحیرٔہ روم
‫میں ڈبونا ہے۔ یہ کام ہمیں اپنی زندگی میں کرنا ہے‪ ،مجھے نظر آرہا ہے کہ ہمارے بعد اسالم کا پرچم غداروں اور صلیب
‫نوازوں کے ہاتھوں میں آجائے گا''۔
‫نورالدین زنگی نے کاریگروں کی بھی ایک فوج ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ اس نے متعلقہ کاریگروں کو بتا دیا تھا کہ کھجوروں کے
‫بہت لمبے لمبے درخت کاٹ کر منجنیقیں تیار کریں۔ اس نے کاریگروں کے مشوروں سے کچھ اور قسم کے بھی درخت کٹوالیے
‫تھے اور حکم دیا کہ ان کے تنے اور ٹہنیاں خشک ہونے سے پہلے کام میں الئے جائیں تاکہ ان میں لوہے والی سختی پیدا نہ
‫ہوجائے۔ کاریگر دن رات مصروف رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی زنگی نے وزنی پتھروں کے ڈھیر لگوا دئیے تھے۔ اس کے پاس
‫صالح الدین ایوبی کا چھوڑا ہوا آتش گیر مادے کا ذخیرہ بھی تھا۔ بہت سا سیال مادہ زنگی اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ اس نے
‫آگ کے گولے تیار کرلیے تھے۔ اسی دوران مصر سے سلطان ایوبی کی بھیجی ہوئی فوج بھی پہنچ گئی۔ نورالدین زنگی کو اس
‫فوج کے متعلق بتایا گیا تھا کہ بغاوت کے لیے تیار رہے لیکن زنگی نے جب اس کا معائنہ کیا تو اسے بغاوت کا شائبہ تک
‫نظر نہ آیا۔ زنگی سلطان ایوبی کی طرح دانشمند اور دوراندیش انسان تھا۔ اس نے اس فوج کو چند ایک پرجوش الفاظ سے اس
‫سے زیادہ بھڑکا دیا جتنا سلطان ایوبی نے بھڑکا کر بھیجا تھا۔
‫اعلی فوجی کمانڈر قلعے کے اندر ایک کانفرنس بیٹھے تھے۔ ان کی باتوں
‫ایک روز سورج غروب ہوچکا تھا۔ صلبی حکمران اور
‫ٰ
‫سے معلوم ہوتا تھا کہ انہیں محاصرے کے متعلق کوئی پریشانی نہیں۔ انہیں یہ بھی پتا چل چکا تھا کہ سلطان ایوبی مصر جا
‫چکا ہے اور نورالدین زنگی آگیا ہے۔ کانفرنس والے دن کی صبح انہیں یہ اطالع ملی کہ مصر سے تازہ دم فوج آگئی ہے۔ اس
‫صورتحال پر غور کرنے کے لیے یہ سب اکٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ابھی بات شروع کی ہی تھی کہ دھماکے کی طرح آواز
‫سنائی دی اور ملبہ گرنے کا شور بھی اٹھا۔ صلیبی کمانڈر اور حکمران دوڑتے باہر نکلے۔ ساتھ والے کمرے کی منڈیر پھٹ گئی
‫تھی۔ اور وہاں ایک وزنی پتھر پڑا تھا۔ دیوار میں شگاف نہیں ہواتھا۔ زناٹہ سا سنائی دیا جو قریب آکر دھماکہ بن کر خاموش
‫ہوگیا۔ اسی جگہ کے قریب ایک اور پتھر گرا۔ صلیبی وہاں سے بھاگے وہ سمجھ گئے کہ مسلمان منجنیقوں سے پتھر پھینک
‫رہے ہیں۔ وہ قلعے کی دیوار پر گئے مگر شام اندھیری ہوچکی تھی۔ کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
‫یہ نورالدین زنگی کی تیار کرائی ہوئی ایک منجنیق تھی جسے تجرباتی طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ یہ ضرورت کے عین
‫مطابق دور مار تھی مگر اسے چالنا بہت مشکل تھا۔ ایک لمبے ٹہن کے وسط میں مضبوط رسے باندھے گئے تھے جنہیں
‫گھوڑوں کے زور سے کھینچ کر خم دیا جاتا اور خم کی جگہ پتھر رکھا جاتا تھا۔ انتہائی خم میں لے جا کر رسہ تلواروں سے
‫کاٹ دیا جاتا تھا۔ اس طریقے سے نقصان یہ ہوتا تھا کہ رسہ کٹ جاتا اور اسے گانٹھ دے کر دوبارہ استعمال کے لیے تیار کیا
‫جاتا تھا۔ دوسری تکلیف یہ ہوتی تھی کہ جب آٹھ گھوڑوں کو کھچا تنا ہوا رسہ کٹتا تو گھوڑے دور آگے کو اس طرح چلے
‫جاتے تھے جیسے کسی بے پناہ قوت نے دھکا دیا ہو۔ دو تین بار یوں ہوا کہ دو گھوڑے آگے جاکر گھٹنوں کے بل گر پڑے اور
‫پچھلے گھوڑے ان کے اوپر گرے۔ دو سوار ایسے زخمی ہوئے کہ محاذ کے قابل نہ رہے۔ زنگی نے پھر بھی آدھی رات کے بعد
‫تک یہ عمل جاری رکھا جس سے یہ نقصان ہوا کہ صلیبیوں کے ہیڈکوارٹر کی دو چھتیں گر پڑیں اور چند ایک کمروں کی
‫دیواروں میں لمبے چوڑے شگاف پڑ گئے۔ یہ نقصان کچھ زیادہ تو نہیں تھا لیکن صلیبیوں کی حوصلہ شکنی کی صورت پیدا
‫ہوگئی تھی۔ چند ایک دیواروں کے شگافوں نے ہیڈکوارٹر کے محافظوں اور دیگر عملے کو وہاں سے بھگا دیا تھا اور صبح تک
‫اس دور کی پہلی ''بمباری'' کی دہشت ناک خبر سارے شہر میں پھیل گئی تھی۔

‫مگر آدھی رات کے بعد نورالدین زنگی کی پہلی دور مار منجنیق بے کار ہوگئی تھی۔ پتھر پھینکنے واال حصہ جسے خم دیا جاتا
‫تھا زیادہ استعمال سے یا زیادہ زور دینے سے ٹوٹ گیا۔ آخری پتھر قلعے کے اندر جانے کے بجائے دیوار کے باہر لگا۔ زنگی
‫نے اگال پتھر پھینکنے سے روک دیا۔ تاہم یہ تجربہ ناکام نہیں تھا۔ کاریگروں میں دو خاص طور پر دانشمند تھے۔ انہوں نے
‫بنیادی اصول دیکھ لیا تھا۔ اس اصول پر انہیں کامیاب دور مار منجنیق تیار کرنی تھی۔ انہوں نے اس پر غور کرنا شروع کردیا
‫کہ رسے کاٹے بغیر پتھر نکلے اور اگر رسے کاٹنے ہی پڑیں تو گھوڑے اس سے پہلے تنے ہوئے رسوں سے آزاد کردئیے جایا
‫کریں۔ نورالدین زنگی نے انہیں کہا کہ وہ جو کچھ بھی کریں‪ ،وقت ضائع کیے بغیر کریں۔ دن رات سوچیں اور کام کریں۔ انہوں
‫نے کام شروع کردیا۔ اس کے ساتھ ہی زنگی نے تیروکمان بنانے والے کاریگروں سے کہا کہ وہ دور مار کمانیں تیار کریں۔ اس
‫نے اپنے کمانڈروں سے کہا کہ اپنے دستوں میں سے غیرمعمولی طور پر طاقتور سپاہی الگ کرلیں جو بڑی کمانوں سے تیر
‫پھینک سکیں۔
‫٭ ٭ ٭
‫سعدیہ کے گائوں کے باہر جہاں وہ بکریاں چراتی اور محمود بن احمد سے مال کرتی تھی‪ ،ایک ایسی دنیا آباد ہوگئی جس کی
‫رونق وہاں کے لوگوں کے لیے روئے زمین کی نہیں‪ ،آسمان سے اتری ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ بہت دیر گزری سورج غروب
‫ہوچکا تھا۔ رات تاریک تھی‪ ،لوگوں کو ٹیلوں کے اندر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی لیکن ا نہیں ایک طرف بٹھا دیا گیا
‫تھا۔ کسی کو کسی ٹیلے کے اوپر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ لوگوں کو جہاں بٹھایا گیا وہاں سے کسی کو اٹھنے کی اجازت
‫نہیں تھی۔ انہیں کوئی حکم نہیں دیا جارہا تھا بلکہ ''اس'' سے ڈرایا جارہا تھا۔ کہتے تھے کہ وہ کسی کی ذرا سی بھی
‫حرمت سے ناراض ہوگیا تو سب پر مصیبت نازل ہوگی۔ لوگ دم بخود بیٹھے دیکھ رہے تھے۔ ان سے کچھ دور بڑی خوبصورت
‫دریاں اور ان پر دو قالین بچھے ہوئے تھے۔ پیچھے لمبے لمبے پردے لٹکے ہوئے تھے جن پر ستارے سے چمکتے تھے۔ یہ
‫چمک ان مشعلوں اور قندیلوں سے پیدا ہوتی تھی جو ایک خاص ترکیب سے رکھی جل رہی تھیں۔ پردوں کے پیچھے عمودی
‫ٹیال تھا جس کے دامن میں اجنبی لوگ غار کھود رہے تھے۔ اس ٹیلے کے پیچھے کچھ جگہ ہموار تھی‪ ،وہاں رنگارنگ خیمے
‫نصب تھے۔
‫تماشائیوں پر ایسا رعب طاری تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی میں بھی بات نہیں کرتے تھے۔ یہ رات اس سے
‫اگلی تھی جس رات سعدیہ اغوا ہوئی تھی۔ سامنے لٹکے ہوئے پردے آہستہ آہستہ ہلنے لگے تھے۔ ستارے آسمان کے ستاروں
‫کی طرح ٹمٹمانے لگے اور ایسے سازوں کا ترنم سنائی دینے لگا جن کے نام سے بھی کوئی واقف نہیں تھا۔ یہ ایک گونج
‫سی تھی جس میں طلسماتی سا تاثر تھا۔ صحرا کی خاموش رات میں یہ تاثر روحوں تک اترتا محسوس ہوتا تھا۔ یہ احساس
‫بھی ہوتا تھا جیسے اس ترنم کی لہریں لوگوں کے اوپر سے گزر رہی ہوں‪ ،جنہیں وہ دیکھ سکیں گے‪ ،چھو بھی سکیں گے‪،
‫یہی وجہ تھی کہ لوگ باربار اوپر ادھر ادھر دیکھتے تھے لیکن انہیں نظر کچھ بھی نہیں آتا تھا۔ سازوں کے ترنم میں ایک اور
‫گونج شامل ہوگئی۔ صاف پتا چلتا تھا کہ بہت سے آدمی مل کر ایک ہی نغمہ گنگنا رہے ہیں۔ اس میں لڑکیوں کی آواز بھی
‫تھی۔ اس کے ساتھ جب ٹیلے کے سامنے اتنے لمبے لمبے پردے ہلتے تھے تو یہ لگتا تھا جیسے رات فضا اور ماحول پر وجد
‫طاری ہوگیا ہو۔
‫لوگ پوری طرح مسحور ہوگئے تو کہیں سے گونج دار آواز اٹھی… ''وہ آگیا ہے‪ ،جسے خدا نے آسمان سے اتارا ہے۔ اپنے دل
‫اور دماغ خیالوں سے خالی کردو۔ وہ تمہارے دلوں اور دماغوں میں خدا کی سچی باتیں اتار دے گا''۔
‫پردوں میں جنبش ہوئی۔ پردوں میں سے ایک انسان نمودار ہوا۔ وہ تھا تو انسان ہی لیکن اس مترنم اورمرعوب ماحول میں ان
‫روشنیوں میں وہ کسی بلندوباال جہان کی مخلوق لگتا تھا۔ اس کے سر کے بال بھورے ریشمی اور لمبے تھے جو اس کے شانوں
‫پر پڑتے تھے۔ بالوں میں چمک تھی۔ چہرہ بھرا بھرا اور سرخ وسپید‪ ،داڑھی سلیقے سے تراشی ہوئی تھی۔ یہ بھی بھورے
‫رنگ کی تھی۔ جسم گٹھا ہوا اور اس پر سبز چغہ تھا۔ چغے پر پردوں کی طرح ستارے تھے جو روشنیوں میں چمکتے تھے۔
‫ایسی ہی چمک اس کی آنکھوں میں تھی۔ اس کے سراپا میں ایسا تاثر تھا جس نے لوگوں کو مبہوت کردیا۔ اس کے ساتھ
‫سازوں کا گونج دار ترنم اور بہت سی آوازوں کے گنگنانے کی گونج جس نے لوگوں کو دم بخود کیا تھا وہ ان کی کہانیوں کا
‫اثر تھا جو وہ کبھی سے سن رہے تھے۔ ان معجزاتی کہانیوں کی سنسنی خیزی نے ان کی سوچوں پر غلبہ پا رکھا تھا۔ اس
‫رات اسے اپنے سامنے دیکھ کر انہوں نے پہلے تو سرجھکائے پھر ہاتھ اس طرح پیٹ پر باندھ لیے جس طرح نماز میں باندھے
‫جاتے ہیں۔
‫اس نے پردوں کے سامنے کھڑے ہوکر بازو اوپر کو پھیالئے اور کہا… ''تم پر اس خدا کی رحمت نازل ہو جس نے تمہیں دنیا
‫میں اتارا جس نے تمہیں آنکھیں دیں تاکہ تم دیکھ سکو جس نے تمہیں کان دئیے تاکہ تم سن سکو۔ جس نے تمہیں دماغ دیا
‫کہ تم سوچ سکو جس نے تمہیں زبان دی تاکہ تم بول سکو‪ ،تم ہی جیسے انسانوں نے جن کی آنکھیں تمہاری طرح ہیں‪،
‫زبانیں تمہاری طرح ہیں‪ ،تمہیں غالم بنا کر خدا کی نعمتوں سے اور دنیا کی آسائشوں سے محروم کردیا ہے۔ اس لیے تمہارا
‫یہ حال ہے کہ تمہاری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں مگر تمہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ تمہارے کان سن سکتے ہیں مگر یہ سچ بات
‫نہیں سنتے۔ تمہارا دماغ سوچ سکتا ہے مگر اس میں وہم اور جھوٹے قصے بھرے ہوئے ہیں۔ تمہاری زبانیں بول سکتی ہیں مگر
‫ان کے خالف ایک کلمہ نہیں کہہ سکتیں جنہوں نے تمہیں غالم بنا لیا ہے۔ انہوں نے تمہیں تمہارے گھوڑے اور اونٹوں کو اور
‫تمہارے جوان بیٹوں کو خرید لیا ہے۔ وہ تمہارے بیٹوں کو اس طرح لڑاتے ہیں جس طرح کتوں کو لڑایا جاتا ہے۔ وہ تمہارے
‫گھوڑوں اور اونٹوں کو تیروں اور برچھیوں سے چھلنی کروا کر مرواتے ہیں۔ تمہارے بیٹوں کو مروا کر ریگستانوں میں پھینک دیتے
‫ہیں جہاں انہیں مردے کھانے والے پرندے اور درندے کھا جاتے ہیں… میں وہ آنکھ ہوں جو آنے والے وقت کو دیکھ سکتی ہے
‫اور دیکھ سکتی ہے کہ انسانوں کے دلوں میں کیا ہے۔ میں وہ کان ہوں جو خدا کی آواز سن سکتا ہے‪ ،میں وہ دماغ ہوں جو
‫بنی نوع انسان کی بھالئی کی سوچتا ہے اور میں وہ زبان ہوں جو خدا کا پیغام سناتی ہے۔ میں خدا کی زبان ہوں''۔
‫''تم آزمالو''… اس نے کہا… ''میرے سینے میں تیر مارو''
‫اس کی آواز میں اور انداز میں جادو کا اثر تھا۔ اس نے پھر کہا… ''یہاں کوئی تیر انداز ہے تو میرے سینے پر تیر
‫چالئے''… ہجوم پر سناٹا طاری ہوچکا تھا۔ اس نے غصیلی اور بلند آواز سے کہا… ''میں حکم دیتا ہوں کہ یہاں جس کسی
‫کے پاس تیروکمان ہے وہ سامنے آجائے''۔
‫چار تیرانداز جو سعدیہ کے گائوں کے رہنے والے نہیں تھے‪ ،آہستہ آہستہ آگے آئے۔ وہ ڈرے سہمے ہوئے تھے… اس نے کہا…
‫''تیس قدم گن کر چاروں میرے سامنے کھڑے ہوجاو''… انہوں نے تیس قدم گنے اور اس کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوگئے۔
‫کمانوں میں تیر ڈالو''۔''

‫چاروں نے ترکشوں میں سے ایک ایک تیر نکال کر کمانوں میں ڈال لیا۔
‫میرے دل کا نشانہ لے لو''۔''
‫انہوں نے کمانیں سیدھی کرکے نشانہ لے لیا۔
‫یہ سوچے بغیر کہ میں مرجاوں گا‪ ،پوری طاقت سے کمانیں کھینچو اور تیر چال دو''۔''
‫انہوں نے کمانیں جھکالیں‪ ،انہوں نے یہی سوچا تھا کہ وہ مرجائے گا۔
‫میرے دل کا نشانہ لے کر تیر چالو''… اس نے گرج کرکہا… ''ورنہ جہاں کھڑے ہو وہیں شعلے بن کر بھسم ہوجاو گے''۔''
‫تیر اندازوں نے اپنی موت کے ڈر سے فورا ً کمانیں اوپر کرلیں اور اس کے دل کا نشانہ لیا۔ دیکھنے واال ہجوم اس طرح خاموش
‫تھا جیسے وہاں کوئی بھی زندہ نہیں تھا۔ سازوں کا ترنم اس سکوت پر کچھ زیادہ ہی سحر اور پرسوز ہوگیا تھا۔ اس کے
‫ساتھ ایسے انسانوں کی مترنم گونج پھر ابھری جو نظر نہیں آتے تھے… اس سحر آور موسیقی میں چار کمانوں کی ''پنگ‪،
‫پنگ'' کی آوازیں بڑی صاف سنائی دیں۔ چار تیر اس مقدس انسان کے دل کے مقام میں پیوست ہوگئے۔ وہ کھڑا رہا۔ اس
‫کے بازو اوپر اور کچھ دائیں بائیں پھیلے ہوئے تھے۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
‫''چار خنجروں والے آگے آجائیں''… اس نے کہا… ''تیر انداز چلے جائیں''
‫تیر انداز حیران وپریشان چلے گئے اور چار آدمی ایک طرف سے سامنے آئے۔ اس حکم پر کہ خنجر ہاتھ میں لے لو اور مجھ
‫سے پندرہ قدم گن کر میرے سامنے کھڑے ہوجائو۔ وہ اس سے پندرہ قدم دور جاکر کھڑے ہوئے اس نے پوچھا… ''تم نشانے پر
‫خنجر پھینکنا جانتے ہو؟''… چاروں نے جواب دیا کہ وہ جانتے ہیں۔ اس نے کہا… ''چاروں اکٹھے میرے سینے میں خنجر
‫مارو''۔
‫چاروں نے پوری طاقت سے خنجر اس پر پھینکے۔ چاروں خنجر اس کے سینے میں لگے اور وہیں رہے۔ خنجروں کی نوکیں اس
‫کے سینے میں اتری ہوئی تھیں اور وہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔ ہجوم سے آوازیں سنائی دینے لگیں…''آفریں… اس کے قبضے میں
‫موت کے فرشتے ہیں''۔
‫کیا اسے جواب مل گیا ہے جس نے پوچھا کہ میں الفانی ہوں؟''… اس نے پوچھا۔''
‫ایک آدمی جو صحرائی لباس میں تھا‪ ،دوڑتا ہوا گیا اور اس کے قدموں میں سجدہ ریز ہوگیا۔ ''اس'' نے جھک کر اسے
‫اٹھایا اور کہا… ''جا تجھ پر خدا کی رحمت ہو''۔
‫تو پھر تو مردے میں بھی جان ڈال سکتا ہے'' … ایک بوڑھے دیہاتی نے آگے آکر کہا… ''خدا نے مجھے ایک ہی بیٹا ''
‫دیا تھا وہ جوانی میں مر گیا ہے۔ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ تو مرے ہوئوں کو زندہ کردیتا ہے۔ میں اپنے بیٹے کی الش
‫اٹھا کر بہت دور سے آیا ہوں۔ میرے بڑھاپے پر رحم کر اسے زندہ کردے''… بوڑھا دھاڑیں مار کر رونے لگا۔
‫چار آدمی کفن میں لپٹی ہوئی ایک الش آگے الئے۔ الش درخت کی ٹیڑھی ٹہنیوں کے بنے ہوئے سٹریچر پر پڑی تھی۔ انہوں
‫نے الش اس کے آگے رکھ دی۔ اس نے کہا… ''ایک مشعل لو‪ ،الش کو اٹھائو اور تمام لوگوں کو دکھائو۔ کوئی یہ نہ کہے کہ
‫یہ پہلے ہی زندہ تھا''۔
‫الش سب کے سامنے سے گزاری گئی۔ اس کے منہ سے کفن ہٹا دیا گیا تھا۔ ایک آدمی ہاتھ میں مشعل لیے ساتھ ساتھ تھا۔
‫سب نے دیکھا کہ اس کا چہرہ الش کی طرح سفید تھا۔ آنکھیں آدھی کھلی ہوئیں اور منہ بھی آدھا کھال ہوا تھا۔ سب نے
‫الش دیکھ لی تو اسے اس مقدس انسان کے سامنے رکھ دیا گیا۔ موسیقی کی لے بدل گئی اور پہلے سے زیادہ پرسوز ہوگئی۔
‫''اس''نے بازو آسمان کی طرف کیے اور بلند آواز سے پکارا… ''زندگی اور موت تیرے ہاتھ میں ہے‪ ،میں تیرے بیٹے کا بیٹا
‫ہوں تو نے اپنے بیٹے کو سولی سے اتارا اور مجھے صلیب کا تقدس عطا کیا تھا اگر تیرا بیٹا اور اس کی صلیب سچی ہے
‫تو مجھے قوت دے کہ میں اس بدنصیب بوڑھے کے بیٹے کو زندگی دے سکوں''… اس نے جھک کر الش کے کفن پر ہاتھ
‫پھیرا‪ ،منہ سے کچھ بڑبڑایا‪ ،پھر الش کے اوپر ہوا میں اس طرح دونوں ہاتھ پھیرے کہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ کفن
‫پھڑپھڑانے لگا۔ مقدس انسان ہوا میں اس پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ کفن اور زور سے پھڑپھڑایا۔ بعض لوگ اس قدر ڈر گئے کہ ایک
‫دوسرے کے قریب ہوگئے۔ عورتوں میں سے کسی عورت کی چیخ بھی سنائی دی۔ یہ منظر اس لیے بھی بھیانک بن گیا تھا
‫کہ مردے کو زندہ کرنے والے کے سینے میں چار تیر اور چار خنجر اترے ہوئے تھے۔
‫کفن میں کچھ اور ہی حرکت ہوئی۔ الش بیٹھ گئی۔ اس نے ہاتھ کفن سے باہر نکالے۔ ہاتھوں سے کفن میں سے چہرہ ننگا
‫''کیا اور آنکھیں مل کر کہا… ''کیا میں عالم پاک میں پہنچ گیا ہوں؟
‫نہیں!'' اسے زندہ کرنے والے نے سہارا دے کر اٹھایا اور کہا… ''تم اسی دنیا میں ہو جہاں تم پیدا ہوئے تھے جائو اپنے''
‫باپ کے سینے سے لگ جائو''۔
‫باپ نے دوڑ کر اپنے بیٹے کو بازوئوں میں لے لیا۔ بیتابی سے اس کا منہ چوم چوم کر اس نے زندہ کرنے والے کے آگے
‫سجدہ کیا۔ لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ آپس میں کھسر پھسر کررہے تھے۔ ان کے سامنے کفن میں لپٹی
‫ہوئی الش اپنے پائوں پر چل رہی تھی۔ مردہ زندہ ہوگیا تھا۔ باپ نے اسے سارے ہجوم کے سامنے سے گزارا تاکہ سب دیکھ
‫لیں کہ وہ زندہ ہوگیا ہے۔
‫…لیکن میں اور کسی مردہ کو زندہ نہیں کروں گا''۔ اس نے کہا''
‫زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے‪ ،تم لوگوں کو صرف یہ دکھانے کے لیے کہ میں خدا کا ایلچی بن کر آیا ہوں ابھی'' …
‫ابھی خدا سے اجازت لی ہے کہ تھوڑی سی دیر کے لیے مجھے طاقت دے دے کہ میں مرے ہوئے انسان میں جان ڈال
‫سکوں۔ خدا نے مجھے طاقت دے دی''۔
‫کیا تم جنگ میں مرے ہوئے سپاہی کو زندہ کرسکتے ہو؟''… مجمع میں سے کسی نے پوچھا۔''
‫نہیں'' ۔ اس نے جواب دیا… ''جنگ میں مرنے والوں سے خدا اتنا زیادہ ناراض ہوتا ہے کہ انہیں دوسری زندگی نہیں دیتا۔''
‫اگلے جہان وہ انہیں دوزخ کی آگ میں پھینک دیتا ہے۔ ہر مرد کسی کو قتل کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس لیے
‫پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح اسے ایک باپ نے پیدا کیا ہے اسی طرح وہ بھی کسی کا باپ بنے۔ اسی لیے تمہیں کہا گیا
‫ہے کہ چارچار بیویاں رکھو۔ مرد اور عورت کا یہی کام ہے کہ بچے پیدا کریں اور جب بچے بڑے ہوجائیں تو ان سے بچے
‫پیدا کریں۔ یہی عبادت ہے''۔
‫‪ ،جاری ھے
20:00
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔

‫قسط نمبر۔‪58۔ وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫جس وقت وہ معجزے دکھا رہا تھا اس وقت دو آدمی ٹیلے کے پیچھے اس جگہ چھپے ہوئے تھے جہاں رنگ برنگ خیمے
‫نصب تھے۔ کسی خیمے میں سے لڑکیوں کی باتیں اور ہنسی سنائی دے رہی تھی۔ یہ دو آدمی امام اور محمود بن احمد تھے۔
‫محمود کو یقین تھا کہ سعدیہ یہیں کہیں ہے۔ محمود میں اتنی مذہبی سوجھ بوجھ نہیں تھی۔ وہ خدا کے اس ایلچی کے
‫متعلق کوئی رائے قائم کرنے کے قابل نہیں تھا۔ امام نے کہا تھا کہ کوئی انسان مرے ہوئے کو زندہ نہیں کرسکتا۔ اس نے
‫توجہ ہی نہیں دی تھی کہ پراسرار آدمی لوگوں کو کیا کچھ کرکے دکھا رہا ہے۔ اس نے اس سے یہ فائدہ اٹھایا تھا کہ لوگ
‫اس کی کرامات دیکھنے میں مگن ہیں اس لیے پیچھے جا کر یہ دیکھا جائے کہ اس میں راز کیا ہے۔ اس کی توجہ صرف
‫سعدیہ پر تھی۔ محمود صرف سعدیہ کو ڈھونڈ رہا تھا۔ خیموں کی جگہ اندھیرا تھا۔ صرف تین خیموں میں روشنی تھی۔ تینوں
‫کے پردے دونوں طرف سے بند تھے۔ وہاں پہرے کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا۔ دوتین مرد کہیں باتیں کررہے تھے۔ یہ خطرہ
‫صاف نظر آرہا تھا کہ وہ دونوں کسی کو نظر آگئے تو وہ زندہ نہیں رہیں گے۔ ٹیلے کی دوسری طرف سے ''اس'' کی آواز
‫سنائی دے رہی تھی اور سازوں کا ترنم بھی سنائی دے رہا تھا لیکن یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ سازندے کہاں ہیں۔
‫امام اور محمود نے روشنی والے ایک خیمے کے قریب جاکر لڑکیوں کی باتیں سننے کی کوشش کی۔ ان کی باتوں نے ان کا
‫حوصلہ بڑھا دیا۔ ایک نسوانی آواز کہہ رہی تھی… ''یہاں بھی تماشہ کامیاب رہا ہے''… ایک اور لڑکی نے کہا… ''بڑی ہی
‫جاہل قوم ہے''۔
‫مسلمان کو تباہ کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ اسے شعبدے دکھا کر تو ہم پرست بنا دو''… یہ ایک اور عورت کی آواز تھی۔''
‫''معلوم نہیں وہ کس حال میں ہے؟''
‫نئی چڑیا!''… ایک لڑکی نے کہا… ''تم سب کو ماننا پڑے گا کہ وہ ہم سب سے زیادہ خوبصورت ہے''۔''
‫وہ آج دن کو بھی روتی رہی تھی''۔ کسی لڑکی نے کہا۔''
‫آج رات اس کا رونا بند ہوجائے گا''… ایک لڑکی نے کہا… ''اسے خدا کے بیٹے کے لیے تیار کیا جارہا ہے''۔''
‫لڑکیوں کا قہقہہ سنائی دیا۔ ایک نے کہا… ''خدا بھی کیا یاد کرے گا کہ ہم نے اسے کیسا بیٹا دیا ہے۔ کمال انسان ہے''۔
‫اس کے بعد لڑکیوں نے آپس میں فحش باتیں شروع کردیں۔ امام اور محمود سمجھ گئے کہ نئی چڑیا سعدیہ ہی ہوسکتی ہے۔
‫انہیں بہرحال یقین ہوگیا کہ یہ سب شعبدہ بازی ہے اور یہ ڈھونگ پسماندہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے رچایا جارہا ہے۔
‫امام نے محمود کے کان میں کہا…''ان لڑکیوں کی عریاں باتیں اور شراب کی بو بتا رہی ہے کہ یہ کون لوگ ہیں اور یہ کیا
‫ہورہا ہے… ہم ویسے ہی نہیں بھٹک رہے''۔
‫وہ دونوں بڑے خیمے کے قریب چلے گئے۔ یہ خیمہ ایک ٹیلے کے ساتھ تھا اور یہ ٹیال تقریبا ً عمودی تھا۔ ٹیلے اور خیمے کے
‫پچھلے دروازے کے درمیان ایک آدھ گز فاصلہ تھا۔ انہوں نے اس جگہ جا کر دیکھا۔ خیمے کے پردے درمیان سے رسیوں سے
‫بندھے ہوئے تھے۔ ایک آنکھ سے اندر جھانکنے کی جگہ تھی۔ انہوں نے جھانکا تو ان کے شکوک رفع ہوگئے۔ اندر ایک لمبی
‫مسند تھی جس پر خوش نما مسند پوش بچھا ہوا تھا۔ فرش پر قالین بچھا تھا اور دو قندیلیں جل رہی تھیں۔ ایک طرف
‫شراب کی صراحی اور پیالے رکھے تھے۔ اندر کی سجاوٹ اور شانوشوکت سے پتا چلتا تھا کہ اس مشتبہ قافلے کے سردار کا
‫خیمہ ہے۔ سعدیہ کے پاس ایک عورت اور ایک مرد تھا۔ سعدیہ کو دلہن کی طرح سجایا جارہا تھا۔
‫آج سارا دن تم روتی رہی ہو''… عورت اسے کہہ رہی تھی… ''تھوڑی دیر بعد تم ہنسو گی اور اپنے آپ کو پہچان بھی ''
‫نہیں سکو گی۔ تم خوش نصیب ہو کہ اس نے جو خدا کی طرف سے زمین پر اترا ہے‪ ،تمہیں پسند کیا ہے۔ وہ صرف تمہارے
‫لیے یہاں آیا ہے۔ اس نے تمہیں بیس روز کی مسافت جتنی دور سے غیب کی آنکھ سے دیکھا تھا۔ تمہارے گائوں میں اسے
‫خدا الیا ہے اگر یہ نہ آتا تو تم کسی صحرائی گڈرئیے کے ساتھ بیاہ دی جاتیں یا تمہیں بردہ فروشوں کے ہاتھ بیچ دیا
‫جاتا''۔
‫سعدیہ پر ان باتوں کا جادو سوار ہوتا جارہا تھا۔ وہ خاموشی سے سن رہی تھی۔ محمود جوش میں آچال تھا۔ امام نے اسے
‫روک لیا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ سعدیہ کو کس کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ٹیلے کی دوسری
‫طرف سے کسی نے اعالن کیا… ''وہ جو خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہے اور جس کے ہاتھ میں ہم سب کی زندگی اور موت
‫ہے اور جس کی آنکھ غیب کے بھید دیکھ سکتی ہے‪ ،تاریک رات میں آسمان پر جارہا ہے جس کے ستارے خدا کی آنکھ کی
‫طرح روشن ہیں۔ تم میں سے کوئی آدمی اس طرف نہ دیکھے جہاں خیمے لگے ہوئے ہیں۔ ٹیلوں کے اوپر کوئی نہ جائے جس
‫کسی نے اس طرف جانے یا دیکھنے کی کوشش کی ‪ :وہ ہمیشہ کے لیے اندھا ہوجائے گا۔ کل رات وہ تم سب کی مرادیں
‫سنے گا''۔
‫امام اور محمود وہیں کھڑے رہے۔ خیمے کے اندر جو مرد عورت تھے‪ ،انہوں نے سعدیہ کو ایک بار پھر نصیحت کی کہ وہ آرہا
‫ہے اس کے سامنے کوئی بدتمیزی نہ کرنا… وہ آگیا۔ وہ سامنے کی طرف سے خیمے میں داخل ہوا۔ امام اور محمود یہ دیکھ
‫کر حیران رہ گئے کہ ''اس'' کے سینے میں چارتیر اور چار خنجر اترے ہوئے تھے۔ سعدیہ نے تیر اور خنجر دیکھے تو اس
‫نے خوف سے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ اس کی ہلکی سی چیخ سنائی دی۔ مقدس انسان مسکرایا اور بوال… ''ڈر مت لڑکی!
‫یہ معجزہ مجھے خدا نے دیا ہے کہ میں تیروں اور خنجروں سے مر نہیں سکتا''… وہ سعدیہ کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔
‫میں نے یہ شعبدہ ایک بار قاہرہ میں دیکھا تھا''۔ امام نے محمود کے کان میں کہا… ''تم بھی ڈر نہ جانا میں جانتا ''
‫ہوں تیر اور خنجر کہاں پھنسے ہوئے ہیں''۔
‫وہ'' اٹھا اور خیمے کا پردہ رسیوں سے باندھ دیا۔ ادھر محمود اور امام نے اپنی طرف سے خیمے کا پردہ کھول دیا۔ انہوں''
‫نے نتائج کی پروا نہ کی۔ دبے پائوں اندر گئے جونہی وہ شخص مڑا وہ امام اور محمود کے شکنجے میں آچکا تھا۔ محمود نے
‫دبی آواز میں سعدیہ سے کہا… ''جس پر تم بیٹھی ہو اس کا کپڑا اس کے اوپر ڈال دو''۔ سعدیہ تو جیسے سن ہوگئی
‫تھی۔ اس نے مسند پوش اتار کر اس آدمی پر ڈال دیا۔ اس کا جسم طاقتور نظر آتا تھا مگر امام اور محمود نے اسے بری
‫طرح جکڑ لیا تھا پھر اس کے اوپر کپڑا ڈال کر باندھ دیا۔ قندیلیں بجھا دی گئیں۔ امام کے کہنے پر پہلے سعدیہ باہر نکلی۔
‫اپنے قیدی کو محمود نے اپنے کندھوں پر پھینک لیا۔ امام ہاتھ میں خنجر لیے آگے آگے چال۔ وہ سب جس طرف سے خیمے
‫میں داخل ہوئے تھے اسی طرف سے باہر نکل گئے۔ پکڑے جانے کا خطرہ ہر قدم پر تھا لیکن انہوں نے ایسا راستہ اختیار کیا
‫جو انہیں فورا ً خطرے سے باہر لے گیا۔ اندھیرے نے اس کی بہت مدد کی۔
‫٭ ٭ ٭

‫انہیں دور کا چکر کاٹ کر گاوں میں داخل ہونا پڑا۔ وہ مسجد میں چلے گئے۔ حجرے میں لے جا کر شعبدہ باز کو کھوال گیا۔
‫ابھی تک تیر اور خنجر اس کے سینے میں اترے ہوئے تھے۔ اسے اٹھانے کی وجہ سے وہ ٹیڑے ہوگئے تھے۔ سعدیہ کو بھی
‫انہوں نے حجرے میں ہی رکھا کیونکہ خطرہ تھا کہ لڑکی کی گمشدگی کا پتا چل گیا تو وہ لوگ اس کے باپ پر حملہ کریں
‫گے۔ دراصل حملہ کرنے والے اب یہ دیکھنے کی حالت میں بھی نہیں تھے کہ ان کے ''خدا'' کا بیٹا کہاں ہے۔ وہ کامیاب
‫جشن منا کر شراب اور بدکاری میں بدمست ہوگئے تھے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کا آقا مع نئی چڑیا کے اغوا
‫بھی ہوسکتا ہے۔
‫امام اور محمود نے اسے چغہ اتارنے کو کہا۔ اس نے پہلے تیر اور خنجر کھینچ کر نکالے۔ چغہ اتارا پھر اس سے اندر والے
‫کپڑے بھی اتروا لیے گئے۔ ان کپڑوں میں کارک کی طرح نرم لکڑی چھپی ہوئی تھی جس پر چمڑہ لگا ہوا تھا۔ یہ لکڑی کچھ
‫دوہری ہوجاتی تھی اور اتنی لمبی چوڑی تھی جس سے اس کا سینہ ڈھک جاتا تھا۔ تیر اور خنجر اس میں اترے ہوئے تھے۔
‫اس نے امام اور محمود سے کہا… ''اپنی قیمت بتائو۔ سونے کی صورت میں گھوڑوں اور اونٹوں کی صورت میں‪ ،ابھی ادا
‫کروں گا۔ مجھے ابھی آزاد کردو''۔
‫تم اب آزاد نہیں ہوسکو گے''۔ امام نے کہا… ''ہم بھی لوگوں کی طرح تمہارے انتظار میں بیٹھے تھے''۔ امام نے ''
‫محمود سے کہا… ''تمہیں معلوم ہوگا کہ قریبی چوکی کہاں ہے‪ ،وہاں کے پورے دستے کو ساتھ لے آئو''… اس نے چوکی کا
‫فاصلہ اور سمت بتائی اور وہ خفیہ الفاظ بھی بتائے جن سے امام سراغ رساں اور جاسوس کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔
‫اپنے دو جاسوسوں کے نام اور ٹھکانہ بتا کر محمود سے کہا… ''انہیں میرے پاس بھیجتے جانا''۔
‫محمود نے امام کے گھوڑے پر زین ڈالی اور سوار ہوکر نکل گیا۔ اسے امام کے دونوں جاسوس مل گئے۔ انہیں مسجد میں
‫جانے کو کہہ کر وہ چوکی کی سمت روانہ ہوگیا۔ گاوں سے کچھ دور جاکر اس نے گھوڑے کو ایڑی لگائی۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹے
‫کی مسافت تھی مگر وہ شش وپنج میں مبتال تھا۔ وہ اس چوکی کے کمانڈر کو جانتا تھا۔ وہ الپروا آدمی تھا۔ صلیبیوں اور
‫سوڈانیوں نے اسے رشوت دے دے کر اپنے ساتھ مال رکھا تھا۔ محمود نے قاہرہ کو اس کی رپورٹ بھیج دی تھی مگر ابھی
‫تک اس کے خالف کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ محمود کویہی نظر آرہا تھا کہ وہ اپنے دستے کو اس کے ساتھ نہیں بھیجے
‫گا یا وقت ضائع کرے گا تا کہ دشمن نکل جائے۔ محمود سوچ رہا تھا کہ اگر چوکی سے اسے دستہ نہ مال تو وہ کیا کرے
‫گا۔ صبح سے پہلے دستے کو گائوں میں پہنچنا ضروری تھا۔ دستہ نہ ملنے کی صورت میں امام اور ان کے جاسوسوں کی
‫جانیں خطرے میں آسکتی تھیں کیونکہ اس شعبدہ باز کے ساتھ بہت سارے آدمی تھے۔ اس کے مریدوں کا ہجوم بھی اسی کا
‫حامی تھا۔
‫امام کے پاس خنجر تھا۔ اس کے جاسوس بھی اس کے پاس آگئے تھے۔ وہ بھی خنجروں سے مسلح تھے۔ انہوں نے شعبدہ
‫باز کو گرفتار کیے رکھا۔ وہ رہائی کی اتنی زیادہ قیمت پیش کررہا تھا جو امام اور اس کے جاسوس خواب میں بھی نہیں
‫دیکھ سکتے تھے۔ امام نے اسے کہا… ''میں مسجد میں بیٹھا ہوں‪ ،یہ اسی خدا کا گھر ہے جس نے تمہیں سچا دین دے کر
‫زمین پر اتارا ہے۔ کیا یہ ہے تمہارا سچا دین؟… دیکھو دوست! میں قاہرہ کی حکومت کا اہلکار ہوں‪ ،میں تمہیں چھوڑ نہیں
‫سکتا اور میں ایمان بھی نہیں بیچ سکتا''۔
‫محمود بن احمد چوکی کے خیموں میں داخل ہوا تو کمانڈر کے خیمے میں اس نے روشنی دیکھی۔ گھوڑے کے قدموں کی آواز
‫سن کر کمانڈر باہر آگیاہ محمود نے اپنا تعارف کرایا اور کمانڈر کے ساتھ خیمے میں چال گیا۔ محمود کے لیے یہ کمانڈر اجنبی
‫تھا۔ اسے کمانڈر نے بتایا کہ گزشتہ شام پرانے دستے کو یہاں سے بھیج دیا گیا ہے یہ دستہ نیا آیا ہے۔ یہ تبدیلی صالح
‫الدین ایوبی کے ساتھ محاذ سے آئی تھی۔ محمود نے کمانڈر کو تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے بہت بڑا شکار پکڑا ہے اور اس
‫کے تمام گروہ کو پکڑنے کے لیے چوکی کے پورے دستے کی فوری طور پر ضرورت ہے‪ ،تاکہ ان لوگوں کو رات ہی رات میں
‫گھیرے میں لے لیا جائے۔
‫کمانڈر نے فورا ً پورے دستے کو جس کی تعداد پچاس سے زیادہ تھی‪ ،گھوڑوں پر سوار ہونے کا حکم دیا۔ ان کے پاس برچھیاں
‫اور تلواریں تھیں اور ان میں تیرانداز بھی تھے۔ آٹھ دس سپاہیوں کو چوکی پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ دستہ کرک کے محاصرے سے
‫آیا تھا۔ جذبہ قائم تھا۔ کمانڈر نے سرپٹ گھوڑے دوڑا دئیے۔ مجرم خبر ہونے کی حالت میں نہیں تھے۔ شراب اور نیند نے
‫انہیں بے ہوش کررکھا تھا۔ کمانڈر نے محمود کی رہنمائی میں گھیرا مکمل کرلیا اور کارروائی صبح تک ملتوی رہی۔ محمود نے
‫امام کو اطالع دے دی کہ دستہ آگیا ہے۔ سعدیہ ابھی امام کے حجرے میں ہی تھی۔ امام نے ایک جاسوس بھیج کر سعدیہ
‫کے باپ کو بھی بال لیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫جو معتقد‪ ،مرید اور زائرین بڑی دور دور سے ''اس'' کی زیارت کو آئے تھے‪ ،وہ رات کے معجزے دیکھ کر کھلے آسمان تلے
‫سو گئے تھے۔ ان کے مقدس انسان نے انہیں کہا تھا کہ اگلی رات وہ ان کی مرادیں سنے گا۔ یہ ہجوم صبح اس وقت جاگ
‫اٹھا جب اجاال ابھی دھندال تھا۔ اس دھندلکے میں انہیں بہت سے گھوڑے نظر آئے۔ ان پر سوار جو تھے وہ فوجی تھے۔ لوگ
‫کچھ سمجھ نہ سکے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ جو مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے‪ ،وہ مسجد کے حجرے میں ہاتھ پائوں بندھے
‫بیٹھا ہے۔ وہ اب مسلمانوں کے سچے خدا کی گرفت میں آچکا تھا۔ دستے کا کمانڈر دمشق کا رہنے واال رشد بن مسلم جس
‫کا عہدہ معمولی تھا لیکن سرحد پر آکر اس نے اپنے دستے سے کہا تھا… ''ساری سلطنت صرف تمہارے بھروسے پر سوتی
‫ہے۔ صالح الدین ایوبی ہر وقت تمہارے ساتھ ہے۔ اگر وہ تمہیں نظر نہیں آتا تو اسے میری آنکھوں میں دیکھ لو۔ ہم سب
‫سلطان صالح الدین ایوبی ہیں مگر کسی نے یہاں پرانے دستے کے آدمیوں کی طرح ایمان فروخت کیا تو میں اس کے پائوں
‫باندھ کر ریگستان میں زندہ پھینک دوں گا۔ میں اس سزا کا حکم قاہرہ سے نہیں لوں گا۔ میں خدا سے حکم لیا کرتا ہوں''۔
‫رشد بن مسلم نے صبح کے وقت دیکھا کہ خیموں کے اندر کوئی حرکت نہیں تھی۔ اندر والے اتنی جلدی اٹھنے والے نہیں
‫تھے۔ رشد نے لوگوں سے کہا کہ وہ دور پیچھے ہٹ جائیں اور وہیں موجود رہیں۔ انہیں مقدس انسان قریب سے دکھایا جائے
‫گا۔ لوگوں کو دور ہٹا کر رشد نے تین چار سوار مختلف ٹیلوں کے اوپر کھڑے کردیئے تاکہ مجرموں میں سے کوئی بھاگنے کی
‫کوشش نہ کرے۔ باقی سواروں کو اس نے گھوڑوں سے اتار کر چاروں طرف سے پیدل اندر جانے کو کہا اور حکم دیا کہ کوئی
‫مزاحمت کرے تو اسے فورا ً ہالک کردو۔ کوئی بھاگے تو اسے تیر مار دو… وہاں بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ رشدنے
‫ننگی تلوار کی نوک چبھو کر تینوں کو جگایا۔ جاگنے کے بجائے انہوں نے جگانے والے کو گالیاں دیں اور کروٹ بدل کر سوئے
‫رہے۔ تلوار کی نوک اب کے ان کی کھال میں اتر گئی۔ تینوں ہڑبڑا کر اٹھے۔ انہیں باہر نکال لیا گیا۔ دوسرے خیموں میں
‫بھی جو لڑکیاں اور مرد ملے وہ اسی حالت میں تھے۔ خیموں میں بے شمار سامان تھا۔ ایک خیمے میں بہت سے ساز پڑے

‫تھے۔
‫سب کو باہر لے جا کر ان پر پہرہ کھڑا کردیا گیا۔ ان کے اونٹوں اور تمام تر سامان پر قبضہ کرلیا گیا۔ امام رشد بن مسلم
‫کے ساتھ تھا۔ وہ اس آدمی کو اپنے حجرے میں سے لے آیا جو اپنے آپ کو خدا کے بیٹے کا بیٹا کہتا تھا۔ اس کے ہاتھ
‫پیٹھ پیچھے بندھے تھے۔ اسے اسی جگہ کھڑا کیا گیا جہاں رات اس نے معجزے دکھائے تھے۔ پیچھے پردے لگے ہوئے تھے۔
‫اس کے گروہ کو اس کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ ان سب کے ہاتھ پیچھے باندھ دیئے گئے۔ وہ ایک خیمے سے برآمد ہوئے تھے۔
‫امام نے لوگوں کو آگے آنے کو کہا۔ ہجوم آگے آیا تو امام نے کہا… ''اسے کہو کہ یہ خدا کا ایلچی ہے یا اس کا بیٹا ہے تو
‫اپنے ہاتھ رسیوں سے آزاد کرلے۔ ‪ :ہاتھ رسیوں سے آزاد کرلے۔ یہ مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے۔ میں اس کے گروہ کے ایک
‫آدمی کو ہالک کروں گا۔ تم اسے کہو کے اسے میرے ہاتھ سے چھڑالے یا وہ مرجائے تو اسے زندہ کردے''… امام نے اس کے
‫گروہ کے ایک آدمی کو اٹھایا اور رشد کی تلوار لے کر اس کی طرف بڑھا تو وہ آدمی چال اٹھا… ''مجھے بخش دو‪ ،یہ آدمی
‫مجھے زندہ نہیں کرسکے گا۔ یہ بہت بڑا پاپی ہے۔ خدا کے لیے مجھے قتل نہ کرنا''۔
‫لوگوں نے یہ تماشا دیکھا مگر ان کے وہم ابھی دور نہیں ہوئے تھے۔ امام اس آدمی کا چغہ اور کپڑے بھی ساتھ لے آیا تھا۔
‫نرم لکڑی بھی ساتھ تھی۔ امام نے یہ کپڑے پہن لیے۔ کسی کو دکھائے بغیر لکڑی اندر رکھ لی۔ اوپر چغہ پہن لیا۔ اس نے
‫رشد سے کہا کہ اپنے چار تیرانداز میرے سامنے الئو۔ تیر انداز آئے تو اس نے انہیں کہا… ''تیس قدم دور کھڑے ہوکر میرے
‫دل کا نشانہ لو اور تیر چالئو''… تیر اندازوں نے رشد بن مسلم کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ رات کو محمود نے رشد
‫کو تیروں اور خنجروں کے سینے میں اترنے کی حقیقت بتا دی تھی۔ رشد نے اپنے تیراندازوں کو حکم دیا کہ وہ تیر چال دیں۔
‫انہوں نے نشانہ لے کر تیر چال دئیے۔ چاروں تیر امام کے دل کے مقام میں پیوست ہوگئے۔ امام نے کہا… ''اب آگے آکر
‫میرے سینے پر چار خنجر پوری طاقت سے پھینکو''… خنجر پھینکے گئے جو امام کے سینے میں جاکر اٹک گئے۔
‫امام نے تیر اندازوں سے کہا۔ ''ایک ایک تیر اور کمانوں میں ڈالو''… اس نے مقدس انسان کو ذرا آگے لیا اور لوگوں سے
‫مخاطب ہوکر بلند آواز میں کہا… ''یہ شخص اپنے آپ کو الفانی کہتا ہے۔ میں تمہیں دکھاتا ہوں کہ یہ اصل میں کیا ہے''…
‫اس نے تیر اندازوں سے کہا… ''اس کے دل کا نشانہ لے کر تیر چالئو''۔
‫جونہی کمانیں اوپر اٹھیں‪ ،وہ آدمی دوڑ کر امام کے پیچھے ہوگیا۔ وہ موت کے ڈر سے تھرتھر کانپ رہا تھا اور بھکاریوں کی
‫طرح جان کی بخشش مانگ رہا تھا۔ امام نے اسے کہا… ''آگے آو اور لوگوں کو بتاو کہ تم صلیبیوں کے بھیجے ہوئے تخریب
‫کار ہو اور تم شعبدہ باز ہو''… امام نے تلوار کی نوک اسے کے پہلو سے لگا دی۔
‫لوگو!''… اس آدمی نے آگے جاکر بلند آواز سے کہا… ''میں الفانی نہیں ہوں‪ ،میں تمہاری طرح انسان ہوں۔ مجھے ''
‫صلیبیوں نے بھیجا ہے کہ تمہارا ایمان خراب کردوں۔ اس کی مجھے اجرت ملتی ہے''۔
‫اور شمعون کی بیٹی سعدیہ کو اسی نے اغوا کرایا تھا''۔ امام نے کہا۔ ''ہم نے لڑکی رہا کرالی ہے''۔''
‫امام نے چغہ اتارا‪ ،اندر کے کپڑے اتارے۔ لکڑی الگ کی اور رشد کے ایک سپاہی کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ یہ تمام مجمعے
‫میں گھما الئو۔ امام نے لوگوں سے کہا کہ تیر اور خنجر اس لکڑی میں لگتے ہیں… تمام لوگوں نے یہ بھید دیکھ لیا تو انہیں
‫آگے بال کر کہا گیا کہ ہر جگہ گھومو اور ہر ایک چیز دیکھو۔ لوگ ڈرتے ہوئے ہر جگہ پھیل گئے۔ پردوں کے پیچھے ایک غار
‫بنایا گیا تھا۔ وہاں رات کو سازندے بیٹھ کر ساز بجاتے تھے… لوگ خیموں میں گئے تو وہاں شراب کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔
‫لوگ ہر جگہ گھوم پھر چکے تھے تو انہیں ایک جگہ بٹھا کر بتایا گیا کہ یہ سب ڈھونگ کیا تھا۔ امام نے معلوم کرلیا تھا
‫کہ جسے اس نے رات کو زندہ کیا تھا‪ ،وہ کون ہے‪ ،وہ اسی کے گروہ کا ایک آدمی تھا جو رسیوں میں بندھا ہوا قیدیوں میں
‫بیٹھا تھا۔ اسے لوگوں کے سامنے کھڑا کیا گیا۔ ایک اور آدمی لوگوں کو دکھایا گیا جو رات کو بوڑھے کا بہروپ دھار کر اس
‫آدمی کا باپ بنا تھا۔ چار تیر انداز بھی سامنے آگئے جنہوں نے رات تیر چالئے تھے۔ و ہ بھی اس گروہ کے آدمی تھے۔
‫غرض تمام تر ڈھونگ لوگوں کو دکھایا گیا۔
‫اسالم کے بیٹو! غور سے سنو''۔ امام نے لوگوں سے کہا… ''یہ سب صلیب کے پجاری ہیں اور تمہارا ایمان خراب کرنے''
‫آئے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ کوئی انسان کسی انسان کو زندہ نہیں کرسکتا۔ خود خدا کسی مرے ہوئے کو زندہ نہیں کرتا کیونکہ
‫خدائے ذوالجالل اپنے بنائے ہوئے قانون کا پابند ہے۔ اس کی ذات واحدہ الشریک ہے۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ یہ صلیبی اسالم
‫کی آواز کو دبانے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ یہ باطل کے پجاری تمہارے ایمان اور جذبے سے اور تمہاری تلوار
‫سے ڈرتے ہیں۔ تمہارا مقابلہ میدان میں نہیں کرسکتے اس لیے دلکش طریقے اختیار کرکے تمہارے دلوں میں وہم اور وسوسے
‫ڈال رہے ہیں تاکہ تم اسالم کے تحفظ کے لیے صلیب کے خالف تلوار نہ اٹھائو۔ اسی مصر میں فرعون نے اپنے آپ کو خدا
‫موسی علیہ السالم نے اس کی خدائی کو دریائے نیل میں ڈبو دیا تھا۔ اپنی عظمت کو پہچانوں میرے دوستو!
‫کہا تھا۔ حضرت
‫ٰ
‫اپنے دشمن کو بھی اچھی طرح پہچان لو''۔
‫لوگ جو سب کے سب مسلمان تھے‪ ،مشتعل ہوگئے۔ وہ چونکہ پسماندہ اور علم سے بے بہرہ تھے‪ ،اس لیے انتہا پسند تھے۔
‫انہوں نے گناہ گار انسان کی شعبدہ بازی دیکھ کر اسے ''خدا کا بیٹا'' تسلیم کرلیا اور جب اس کے خالف باتیں سنیں تو
‫ایسے مشتعل ہوگئے کہ غیض وغضب سے نعرے لگاتے اس آدمی پر اور اس کے گروہ پر ٹوٹ پڑے۔ امام ان مجرموں کو زندہ
‫قاہرہ لے جانا چاہتا تھا لیکن اتنے بڑے ہجوم سے انہیں زندہ نکالنا ناممکن ہوگیا۔ رشد نے تشدد سے ہجوم پر قابو پانے کا
‫مشورہ دیا جو امام نے تسلیم نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ تمہاری تلواروں سے یہ سیدھے سادے مسلمان کٹ جائیں گے۔ انہیں
‫دعوی کیا ہے‪ ،وہ
‫اپنے ہاتھوں ان لوگوں کو ہالک کرنے دو تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ جس نے خدا کا ایلچی اور بیٹا ہونے کا
‫ٰ
‫ایک گناہ گار انسان ہے جسے کوئی بھی انسان قتل کرسکتا ہے۔
‫امام‪ ،رشد بن مسلم اور محمود ایک طرف گئے‪ ،رشد نے ایک ٹیلے پر جاکر اپنے سپاہیوں کو للکارا اور کہا…''تم جہاں ہو
‫وہیں رہو‪ ،ان لوگوں کو مت روکو''۔
‫تھوڑی ہی دیر بعد امام‪ ،محمود‪ ،رشد بن مسلم اور اس کے دستے کے سپاہی رہ گئے۔ تمام ہجوم غائب ہوچکا تھا۔ رات جہاں
‫شعبدے دکھائے گئے تھے‪ ،وہاں شعبدہ باز اور اس کے گروہ کی الشیں پڑی تھیں۔ لڑکیوں کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ کوئی الش
‫پہچانی نہیں جاتی تھی۔ سب قیمہ ہوچکی تھیں۔ لوگ خیمے‪ ،پردے اور تمام تر سامان لوٹ کر لے گئے تھے۔ مجرم گروہ کے
‫اونٹ بھی کھول کر لے گئے اور رشد کے دستے کے نو گھوڑے بھی الپتہ ہوگئے۔ ان کے سوار پیادہ تھے اور گھوڑوں سے دور
‫تھے۔ لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ یہ اپنی فوج کے گھوڑے ہیں۔ یوں لگتا تھا جیسے آندھی آئی ہے اور سب کو اپنے ساتھ
‫اڑا لے گئی ہے۔
‫ہمیں اب قاہرہ چلنا پڑے گا''۔ امام نے رشد اور محمود سے کہا… ''یہ واقعہ حکومت کے سامنے رکھنا ہوگا''۔''

‫٭ ٭ ٭
‫ان چند ہی دنوں میں صالح الدین ایوبی نے جو احکام نافذ کیے اور جو اقدام کیے‪ ،وہ انقالبی تھے۔ اتنے انقالبی کہ اس کے
‫قریبی دوست اور مرید بھی چونک اٹھے۔ اس نے سب سے پہلے ان افسروں کے گھروں پر چھاپے پڑوائے اور تالشی لی جو
‫اعلی حاکم تھے۔ ان کے
‫علی بن سفیان اور غیاث بلبیس کی مشتبہ فہرست میں تھے۔ ان میں دو تین مرکزی کمان کے
‫ٰ
‫گھروں پر زروجواہرات‪ ،دولت اور بڑی خوبصورت غیرملکی لڑکیاں برآمد ہوئیں۔ بعض کے گھروں میں ایسے مالزم تھے جو سوڈان
‫کے تجربہ کار جاسوس تھے اور بھی کئی ایک ثبوت مل گئے۔ ان سب کو سلطان صالح الدین ایوبی نے عہدے اور رتبے کا
‫لحاظ کیے بغیر غیرمعین مدت کے لیے قید خانے میں ڈال دیا اور حکم دیا کہ ان کے ساتھ اخالقی مجرموں جیسا سلوک کیا
‫جائے۔ اس اقدام سے اس کی مرکزی کمان اور مجلس مشاورت کی چند ایک اہم آسامیاں خالی ہوگئیں۔ اس نے ذرہ بھر پروا
‫نہ کی۔
‫سلطان ایوبی نے دوسرا حملہ اس گروہ پر کیا جو اپنے آپ کو مذہب کا اجارہ دار بنائے ہوئے تھا۔ سلطان ایوبی کو مشیروں
‫نے خلوص نیت سے مشورہ دیا کہ مذہب ایک نازک معاملہ ہے۔ لوگ مسجدوں کے اماموں کے مرید ہیں‪ ،رائے عامہ خالف
‫ہوجائے گی۔ سلطان ایوبی نے پوچھا… ''ان میں کتنے ہیں جو مذہب کی روح کو سمجھتے ہیں؟ لوگ ان کے مرید صرف اس
‫لیے بن گئے ہیں کہ ان کی ساری کوششیں اسی پر مرکوز ہیں کہ لوگ ان کے مرید بن جائیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ امام
‫اپنی عظمت قائم کرنے کے لیے لوگوں کو اصل مذہب سے بے بہرہ رکھتے ہیں۔ قوم کی بہترین درس گاہ مسجد ہے۔ مسجد
‫کی چاردیواری میں بٹھا کر کسی کے کان میں ڈالی ہوئی کوئی بات روح تک اتر جاتی ہے۔ یہ مسجد کے تقدس کا اثر ہے
‫مگر یہاں مسجد کا استعمال غلط ہورہا ہے۔ مسجدوں میں امام پیر اور مرشد بنتے جارہے ہیں۔ اگر میں نے مسجدوں میں
‫باعمل عالم نہ رکھے تو کچھ عرصے بعد لوگ اماموں‪ ،پیروں اور مرشدوں کی پرستش کرنے لگیں گے۔ یہ بے علم اور بے
‫عمل عالم اپنے آپ کو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا لیں گے اور اسالم کے زوال کا باعث بنیں
‫گے''۔
‫سلطان ایوبی نے اپنے ایک مفکر اور باعمل عالم زین الدین علی نجاالواعظ کو مشورے کے لیے بالیا۔ اس عالم نے اپنا
‫جاسوسی کا ایک ذاتی نظام قائم کررکھا تھا ور ایک بار اس نے صلیبیوں کی ایک بڑی ہی خطرناک سازش بے نقاب کرکے
‫بہت سے آدمی گرفتار کرائے تھے۔ وہ مذہب کو اور مذہب میں جو تخریب کاری ہورہی ہے‪ ،اسے بہت اچھی طرح سمجھتا
‫تھا۔ اس نے یہ کہہ کر سلطان ایوبی کا حوصلہ بڑھا دیا کہ اگر آج آپ مذہب کو تخریب کاری سے آزاد نہیں کریں گے تو کل
‫آپ کو یہ حقیقت قبول کرنی پڑے گی کہ قوم آپ کی رہنمائی اور حکم کو قبول کرنے سے پہلے نام نہاد مذہبی پیشوائوں سے
‫اجازت لیا کرے گی۔ اس وقت تک صلیبی مسلمانوں کے مذہبی نظریات میں توہم پرستی اور رسم ورواج کی مالوٹ کرچکے
‫ہیں… سلطان ایوبی نے فوری طور پر تحریری حکم نافذ کردیا کہ زین الدین علی بن نجاالواعظ کی زیرنگرانی ملک کی تمام
‫مسجدوں کے اماموں کی علمی اور معاشرتی جانچ پڑتال ہوگی اور نئے امام مقرر کیے جائیں گے۔ نئے اماموں کے تقرر کے لیے
‫سلطان ایوبی نے جو شرائط لکھیں‪ ،ان میں امام کا عالم ہونے کے عالوہ فوجی یا سابق فوجی یا عسکری تربیت یافتہ ہونا
‫ضروری قرار دے دیا۔
‫۔ سلطان صالح الدین ایوبی فلسفٔہ جہاد اور عسکری جذبے کو مذہب اور مسجد سے الگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ‪:
‫اس نے ملک میں ایسے تمام کھیل تماشے اور تفریح کے ذرائع اور طریقے جرم قرار دے دئیے جن میں جوئے بازی اور تخریبی
‫سکون کا پہلو نکلتا تھا۔ اس کے حکم سے علی بن سفیان کے محکمے نے تفریح گاہوں اور ان کے زیرزمین حصوں پر چھاپے
‫مارے‪ ،جہاں سے اٹلی کے مصوروں کی بنائی ہوئی ننگی تصویریں برآمد ہوئیں۔ بہت سے لوگ گرفتار کیے گئے‪ ،جنہیں ملک
‫دشمنی اور دشمن کا آلٔہ کار بننے کے الزام میں تمام عمر کے لیے تہہ خانوں میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بجائے سلطان ایوبی
‫نے تیغ زنی‪ ،تیر اندازی ‪ ،گھوڑ سواری‪ ،بغیر ہتھیار لڑائی‪ ،کشتی جسے پنجہ آزمائی کہتے تھے اور ایسے ہی چند ایک کھیلوں
‫اعلی نسل کے گھوڑے تک انعام میں
‫کے مقابلوں کا سرکاری انتظام کردیا۔ پہلے مقابلے میں خود گیا اور اول آنے والوں کو
‫ٰ
‫دئیے۔ اس نے درس گاہوں اور مسجدوں میں تعلیمی مقابلوں کا اہتمام کیا۔
‫سرحدی دستوں پر اس نے زیادہ توجہ دی تھی۔ اسے معلوم ہوچکا تھا کہ شہروں اور دارالحکومت سے دور رہنے والے لوگ
‫نظریاتی تخریب کاری کا شکار جلدی ہوتے ہیں اور وہی سب سے پہلے دشمن کے حملے یا سرحدی جھڑپوں کی زد میں آتے
‫ہیں۔ ان لوگوں کے نظریاتی اور جسمانی تحفظ کے لیے اس نے خصوصی انتظام کیے۔ اس نے سرحدوں پر جو دستے بھیجے
‫تھے‪ ،ان کے کمانڈروں کو اس نے خود ہدایات دیں اور بڑے ہی سخت احکام دئیے تھے۔ یہ تمام کمانڈر جذبے اور ذہانت کے
‫لحاظ سے ساری فوج میں منتخب کیے گئے تھے۔ رشد بن مسلم انہی میں سے تھا‪ ،جسے محمود کا اشارہ مال کہ ایک
‫تخریب کار پکڑا ہے تو وہ پورے کا پورا دستہ لے کر اٹھ دوڑا تھا۔ اگر پرانا کمانڈر ہوتا تو اس وقت صلیبیوں یا سوڈانیوں کی
‫دی ہوئی شراب میں بدمست ہوتا اور تخریب کار اپنے سرغنہ کی رہائی کے لیے گائوں میں تباہی پھیال کر غائب ہوچکے
‫ہوتے۔
‫اب رشد بن مسلم‪ ،محمود بن احمد اور امام جس کا نام یوسف بن آذر تھا۔ اس کے کمرے میں بیٹھے‪ ،اس شعبدہ باز کی
‫کہانی سنا رہے تھے‪ ،جسے لوگ قتل کرچکے تھے۔ علی بن سفیان بھی موجود تھا۔ اس نے تینوں سے ساری واردات سن لی
‫تھی اور سلطان ایوبی کے پاس لے گیا تھا۔ سلطان ایوبی خاموش تھا کہ اتنی خطرناک نظریاتی یلغار کو ہمیشہ کے لیے ختم
‫کردیا گیا ہے مگر علی بن سفیان نے کہا… ''صرف یلغار ختم ہوئی ہے‪ ،اس کے اثرات ختم کرنے کے لیے لمبا عرصہ
‫درکارہے۔ مجھے جو تفصیل معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ سرحدی دیہات سے ہمیں فوجی بھرتی نہیں مل رہی۔ سرحد کے
‫ساتھ ساتھ رہنے والے لوگ سوڈانیوں کے دوست بن گئے ہیں۔ وہ امارت مصر کے خالف ہوگئے ہیں۔ جہاد کا جذبہ ختم ہوچکا
‫ہے۔ وہ لوگ غلہ اور مویشی ہمیں نہیں دیتے۔ سوڈانیوں کو بخوشی دیتے ہیں۔ مسجدیں ویران ہوگئی ہیں‪ ،لوگ توہم پرست
‫ہوکر شعبدہ بازوں پیروں وغیرہ کی پرستش کرنے لگے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کے ذہنوں کو اپنے صحیح راستے پر النے کے لیے
‫باقاعدہ مہم شروع کرنی پڑے گی۔ اگر اس صلیبی شعبدہ باز اور اس کے گروہ کو لوگ قتل نہ کردیتے تو ہم اسے سارے
‫عالقے میں گھماتے پھراتے ''۔
‫سلطان ایوبی نے اپنے انقالبی احکامات میں سرحدی عالقوں کو خاص طور پر شامل کررکھا تھا۔ اب اس نے اس طرف اور
‫زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے سب سے زیادہ شدید سردردی یہ تھی کہ تقی الدین اور اس کی فوج کو سوڈان
‫سے نکالنا تھا۔ قاہرہ پہنچتے ہی وہ منصوبہ بندی میں مصروف ہوگیا تھا۔ راتوں کو سوتا بھی نہیں تھا۔ وہ خود سوڈان کے
‫محاذ پر نہیں جاسکتا تھا کیونکہ مصر کے اندرونی حاالت اس کی توجہ کے محتاج تھے۔ اس نے قاہرہ میں آکر تقی الدین کو

‫یہ اطالع دینے کے لیے کہ وہ قاہرہ آگیا ہے‪ ،ایک قاصد بھیج دیا تھا۔ قاصد واپس آچکا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ تقی الدین کا
‫جانی نقصان خاصا ہوچکا ہے اور کچھ نفری دشمن کے جھانسے میں آکر یا جنگ کی صورتحال سے گھبرا کر ادھر ادھر بھاگ
‫گئی ہے۔ قاصد نے بتایا کہ تقی الدین اپنی باقی مادہ فوج کو یکجا کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے مگر دشمن اس کے سر پر
‫موجود رہتا ہے۔ تقی الدین کو جوابی حملہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اسے اتنی سی مدد کی ضرورت ہے کہ دشمن پر حملے
‫کرنے کے لیے چند دستے مل جائیں تاکہ وہ اپنی فوج کو واپس السکے۔
‫سلطان ایوبی نے اسی وقت اپنے تین چار چھاپہ مار دستے اور چند ایک وہ دستے جنہیں جوابی حملہ کرنے اور گھوم پھر کر
‫لڑنے کی خصوصی مشق کرائی گئی تھی‪ ،سوڈان بھیج دیئے تھے۔ وہ ہر حملہ دشمن کے عقب میں جاکر کرتے اور دشمن کا
‫نقصان کرکے اور اسے بکھیر کر ادھر ادھر ہوجاتے تھے۔ چھاپہ ماروں نے دشمن کو زیادہ پریشان کیا۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ
‫دشمن کو تقی الدین کے تعاقب سے ہٹایا جائے۔ وہ خالف توقع بہت جلدی کامیاب ہوگئے۔ ان کی اہلیت اور شجاعت کے
‫عالوہ ان کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ دشمن کی فوج تھکی ہوئی تھی اور صحرا بڑا ہی دشوار اور گرم تھا۔ گھوڑے اور
‫اونٹ جواب دے رہے تھے۔
‫سوڈان کا حملہ بری طرح ناکام ہوا۔ کامیابی صرف یہ ہوئی کہ تقی الدین کو‪ ،اس کی مرکزی کمان کے ساالروں وغیرہ اور
‫دستوں کو اور بچی کھچی فوج کو ایسی تباہی سے بچا لیا گیا جو ان کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی۔ تقی الدین جب
‫مصر کی سرحد میں داخل ہوا تو اسے پتا چال کہ وہ سوڈان میں آدھی فوج ضائع کرآیا ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫ادھر کرک جل رہا تھا‪ ،نورالدین زنگی کے کاریگروں نے ضرورت کے مطابق دور مار منجنیقیں بنا لی تھیں‪ ،جن سے قلعے کے
‫اندر پتھر کم اور آگ زیادہ پھینکی جارہی تھی۔ صالح الدین ایوبی اندر کے چند ایک ہدف بتا آیا تھا۔ ان میں رسد کا ذخیرہ
‫بھی تھا۔ آگ کے پہلے گولے قلعے کی اس طرف پھینکے گئے جس طرف سے رسد کا ذخیرہ ذرا قریب تھا۔ خوش قسمتی
‫سے گولے ٹھکانے پر گئے۔ اندر سے شعلے جو اٹھے انہوں نے زنگی کی فوج کا حوصلہ بڑھا دیا۔ مسلمانوں نے دور مار
‫تیروکمان بھی تیار کرلیے تھے۔ انہیں استعمال کرنے کے لیے غیرمعمولی طور پر طاقتور سپاہی استعمال کیے جارہے تھے لیکن
‫آٹھ دس تیر پھینک کر سپاہی بے حال ہوجاتا تھا۔ زنگی نے ایک اور دلیرانہ کارروائی کی۔ اس نے نہایت دلیر سپاہی چن لیے
‫اور انہیں حکم دیا کہ قلعے کے دروازے پر ٹوٹ پڑیں۔ انہیں دروازہ توڑنے کے موزوں اوزار دئیے گئے۔
‫جانبازوں کا یہ دستہ دروازے کی طرف دوڑا تو اوپر سے صلیبیوں نے تیروں کا مینہ برسا دیا۔ کئی جانباز شہید اور زخمی
‫ہوگئے۔ زنگی نے دور مار تیر اندازوں کو وہاں اکٹھا کیا اور عام تیر اندازوں کا بھی ایک ہجوم بال لیا۔ ان سب کو مختلف
‫زاویوں پر مورچہ بند کرکے دروازے کے اوپر والی دیوار کے حصے پر مسلسل تیر پھینکنے کا حکم دیا۔ حکم کی تعمیل شروع
‫ہوئی تو اتنے تیر برسنے لگے جن کے پیچھے دیوار کا باالئی حصہ نظر نہیں آتا تھا۔ جانبازوں کی ایک اور جماعت دروازے کی
‫طرف دوڑی۔ زنگی نے تیروں کی بارش اور تیز کرادی۔ ذرا دیر بعد دیوار پر لکڑیوں سے بندھے ہوئے ڈرم نظر آئے۔ یہ جلتی
‫لکڑیوں اور کوئلوں سے بھرے ہوئے تھے‪ ،جونہی انہیں باہر کو انڈیلنے والوں کے سر نظر آئے وہ سر تیروں کا نشانہ بن گئے۔
‫ایک دو ڈرم باہر کو گرے باقی دیوار پر ہی الٹے ہوگئے۔ وہاں سے شعلے اٹھے جن سے پتا چلتا تھا کہ آگ پھینکنے والے
‫اپنی آگ میں جل رہے ہیں۔
‫زنگی کے کسی کمانڈر نے زنگی کے حملے کا یہ طریقہ دیکھ لیا۔ وہ گھوڑا سرپٹ دوڑا کر قلعے کے پچھلے دروازے کی طرف
‫چال گیا اور وہاں کے کمانڈر کو بتایا کہ سامنے والے دروازے پر کیا ہورہا ہے۔ ان دونوں کمانڈروں نے وہی طریقہ پچھلے دروازے
‫پر آزمانا شروع کردیا۔ پہلے ہلے میں مجاہدین کا جانی نقصان زیادہ ہوا لیکن جوں جوں مجاہدین گرتے تھے‪ ،ان کے ساتھی قہر
‫بن کر دروازے کی طرف دوڑتے تھے۔ تیر اندازوں نے صلیبیوں کو اوپر سے آگ نہ پھینکنے دی۔ زنگی نے حکم دیا کہ منجنیقیں
‫قلعے کے اندر آگ پھینکیں۔ زنگی کی فوج نے دونوں دروازوں پر دلیرانہ حملے دیکھے تو فوج کسی کے حکم کے بغیر دو
‫حصوں میں بٹ گئی۔ ایک حصہ قلعے کے سامنے چال گیا اور دوسرا عقبی دروازے کی طرف۔ دونوں طرف دیوار پر تیروں کی
‫ایسی بارش برسائی گئی کہ اوپر کی مزاحمت ختم ہوگئی۔ دونوں دروازے توڑ لیے گئے۔ زنگی کی فوج اندر چلی گئی۔ شہر میں
‫خون ریز جنگ ہوئی‪ ،وہاں کے باشندوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
‫اس بھگدڑ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صلیبی حکمران اور کمانڈر قلعے سے نکل گئے۔ شام تک صلیبی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے۔
‫زنگی نے قیدی مسلمانوں کو کھلے اور بند قید خانوں سے نکاال پھر صلیبی حکمرانوں کو سارے شہر میں تالش کیا مگر کوئی
‫ایک بھی نہ مال۔
‫یہ ‪ ١١٧٣ء کی آخری سہ ماہی تھی‪ ،جب کرک کا مضبوط قلعہ سر کرلیا گیا اور مسلمانوں کو بیت المقدس نظر آنے لگا۔
20:01
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪59۔ جب خزانہ مل گیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫صلیبیوں کی یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی ہنگامہ خیز کانفرنس تھی۔ وہ ہر شکست کے بعد ہر فتح کے بعد‪ ،ہر پسپائی
‫اور کامیاب پیش قدمی کے بعد مل بیٹھتے تھے۔ تبادلٔہ خیاالت کرتے اور شراب پیتے تھے۔ عورت اور شراب کے بغیر وہ
‫سمجھتے تھے کہ جنگ جیتی ہی نہیں جاسکتی۔ اپنی بیٹیوں کو مسلمانوں کے عالقوں میں جاسوسی‪ ،تخریب کاری اور مسلمان
‫حکام کی کردار کشی کے لیے بھیج دیتے تھے اور خود اپنے قبضے میں لیے ہوئے عالقوں سے مسلمان لڑکیاں اغوا کرکے انہیں
‫تفریح کا ذریعہ بناتے تھے۔ جاسوسوں نے جب انہیں یہ بتایا تھا کہ صالح الدین ایوبی کہتا ہے کہ صلیبی عصمتوں کے بیوپاری
‫اور مسلمان عصمتوں کے محافظ ہیں تو صلیبی حکمران اور کمانڈر بہت ہنستے تھے‪ ،ان میں سے کسی نے سلطان ایوبی کا
‫مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شخص اتنی سی بات نہیں سمجھ سکتا کہ جس طرح صلیب کے بیٹے سپاہی بن کر جسم
‫استعمال کرتے ہیں‪ ،اسی طرح صلیب کی بیٹیاں بھی مسلمانوں کو بے کار کرنے کے لیے اپنا جسم استعمال کرتی ہیں۔ کسی
‫اور نے کہا تھا کہ صالح الدین ایوبی کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ اس کی قوم کے بے شمار چھوٹے چھوٹے حکمرانوں‪،
‫قلعہ داروں اور ساالروں کو ہماری ایک ایک لڑکی اور سونے کے سکوں کی ایک ایک تھیلی ایسی شکست دے چکی ہے جس
‫پر وہ لوگ فخر کررہے ہیں اور اس شکست سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ صالح الدین ایوبی ہم سے اسالم کی عصمت کس طرح
‫بچائے گا؟
‫یہ صلیبیوں کی پہلی کانفرنس کی باتیں ہیں مگر ‪١١٧٣ء کے آخر میں بیت المقدس میں صلیبی سربراہ اکٹھے ہوئے تو ان پر

‫کچھ اور ہی موڈ طاری تھا۔ انہوں نے سلطان ایوبی کا مذاق نہ اڑایا۔ کسی کے ہونٹوں پر بھولے سے بھی مسکراہٹ نہ آئی اور
‫کسی کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ جب مل بیٹھتے ہیں تو شراب کا دور بھی چال کرتا ہے۔ کرک سے وہ بڑے ہی شرمناک
‫طریقے سے پسپا ہوئے تھے۔ ان میں ریجنالڈ بھی تھا جو کرک کا قلعہ دار بلکہ مالک تھا۔ وہ جنگجو تھا‪ ،فن حرب وضرب کا
‫ماہر تھا۔ سلطان ایوبی کی فوج کے ساتھ اس نے اپنے زرہ پوش لشکر سے متعدد بار لڑائیاں لڑی تھیں۔ اس محفل میں ریمانڈ
‫بھی تھا جس نے کرک کے محاصرے کے دوران صالح الدین ایوبی کی فوج کو محاصرے میں لے لیا تھا۔ ان دونوں نے ایسا
‫پالن بنایا تھا جس کے متعلق وہ بجا طور پر خوش فہمیوں میں مبتال تھے مگر سلطان ایوبی نے کرک کا محاصرہ قائم رکھا‪،
‫ریمانڈ کا محاصرہ ایسے انداز میں توڑا کہ ریمانڈ کا لشکر محاصرے میں آگیا۔ اس کی رسد تباہ ہوگئی اور اس کی فوج اپنے
‫زخمی گھوڑوں اور اونٹوں کو مار مار کر کھاتی رہی۔ آخر اس کی آدھی سے زیادہ فوج کٹ گئی‪ ،کچھ گرفتار ہوئی اور باقی
‫پسپا ہوگئی۔
‫ریجنالڈ خوش نصیب تھا کہ نورالدین زنگی کے سرفروشوں نے قلعہ سرکرلیا تو اندر کی بھگدڑ میں ریجنالڈ بچ کر نکل گیا‪ ،ورنہ
‫وہ اس کانفرنس میں شمولیت کے لیے زندہ نہ ہوتا۔ اس محفل میں صلیبیوں کے ان جنگجو سرداروں کی تعداد بھی خاصی
‫تھی۔ جنہیں ''نائٹ'' کہا جاتا تھا۔ یہ ایک خطاب تھا جو بادشاہ کی طرف سے عطا کیا جاتا اور اس کے ساتھ سر سے
‫پائوں تک زرہ بکتری دی جاتی تھی۔ اس کانفرنس میں عکرہ کا پادری بھی تھا اور ان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن
‫فلپ آگسٹس بھی تھا۔ نائٹوں اور دیگر کمانڈروں کے ساتھ ساتھ اس کانفرنس میں صلیبیوں کی متحدہ انٹیلی جنس کا سربراہ
‫ہرمن اور اس کے دو تین معاون بھی تھے۔ ابتداء میں اس ہجوم پر خاموشی چھائی رہی جیسے وہ ایک دوسرے کے سامنے
‫بات کرتے گھبراتے ہوں۔ آخر فلپ آگسٹس نے زبان کھولی جس سے محفل میں زندگی کے آثار نظر آنے لگے۔ اس نے
‫''محافظ صلیب اعظم'' کو کانفرنس کی صدارت پیش کرکے اسی سے درخواست کی کہ وہ خطاب کرے۔
‫ان لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہورہی ہے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں‪ ،عہد توڑے اور بیت ''
‫المقدس میں ز ندہ اور تندرست آبیٹھے''۔ عکرہ کے پادری نے کہا… ''میں یسوع مسیح کے آگے شرمسار ہوں اور میں صلیب
‫کو دیکھتا ہوں تو میری نظریں جھک جاتی ہیں۔ کیا تم سب نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلفیہ عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے
‫دشمنوں کا خاتمہ کرو گے‪ ،خواہ اس میں تمہیں جانیں بھی قربان کرنی پڑیں؟ کیا تم نے حلف نہیں اٹھایا تھا کہ اسالم کا نام
‫ونشان مٹانے کے لیے جان اور مال کی اور اپنے جسموں کے اعضا کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرو گے؟ تم میں کتنے ہیں
‫جن کے جسموں پر ہلکی سی خراشیں بھی آئی ہوں؟ کوئی ایک بھی نہیں۔ تم شوبک مسلمانوں کو دے کر بھاگے۔ اب تم
‫کرک دے کر بھاگ آئے ہو۔ میں اس حقیقت سے بھی بے خبر نہیں کہ جو میدان میں اترتے ہیں‪ ،وہ شکست بھی کھاسکتے
‫ہیں۔ دو فتوحات کے بعد ایک شکست کوئی معنی نہیں رکھتی مگر یکے بعد دیگرے شکستیں اور دو پسپائیاں مجھے یقین دال
‫رہی ہیں کہ صلیب یورپ میں قید ہوگئی ہے اور وہ وقت بھی آنے واال ہے جب یورپ کے کلیسائوں میں مسلمانوں کی اذانیں
‫گونجیں گی''۔
‫ایسا کبھی نہیں ہوگا''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''صلیب اعظم کے محافظ! ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ شکست کے کچھ اسباب''
‫''تھے جن پر ہم غور کرچکے ہیں اور اب آپ کی موجودگی میں مزید غور کریں گے؟
‫اور شاید تم اس پر غور نہ کرو کہ اب مسلمانوں کی منزل بیت المقدس ہوگی''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''ہم نے ''
‫مسلمانوں میں اتنے غدار پیدا کرلیے ہیں جو صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کو بیت المقدس کے راستے پر ڈال کر انہیں
‫راستے میں ہی پیاسا مار ڈالیں گے''۔
‫پھر یہ کون سے مسلمان ہیں جنہوں نے تم سے دو اتنے مضبوط قلعے لے لیے ہیں؟''… صلیب اعظم کے محافظ نے کہا… ''
‫'' اس حقیقت کو مت بھولو کہ مسلمان انتہا پسند قوم ہے۔ مسلمان غداری پر آتا ہے تو اپنے بھائیوں کی گردن پر چھری
‫چال دیتا ہے مگر اس میں جب قومی جذبہ بیدار ہوجاتا ہے تو اپنی گردن کاٹ کر گناہوں کا کفارہ ادا کردیا کرتا ہے۔ مسلمان
‫اگر غدار بھی ہوجائے تو اس پر اعتماد نہ کرو‪ ،دور نہ جائو‪ ،گزرے ہوئے صرف دس سالوں کے واقعات پر نظر ڈالو۔ اسالم کے
‫غداروں نے تمہیں کتنے عالقے دلوائے ہیں؟ کیا تم میں ہمت ہے کہ مصر میں قدم رکھو؟ آج مسلمان فلسطین میں بیٹھے ہیں‪،
‫کل تمہارے سینے پر بیٹھے ہوں گے۔ یاد رکھو میرے دوستو! اگر صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی نے تم سے بیت المقدس
‫لے لیا تو وہ تم سے یورپ بھی لے لے گا لیکن سوال فلسطین اور یورپ کا نہیں‪ ،سوال زمین کے ٹکڑوں کا نہیں‪ ،اصل مسئلہ
‫صلیب اور اسالم کا ہے۔ یہ دو مذہبوں اور نظریوں کی جنگ ہے۔ دو میں سے ایک کو ختم ہونا ہے۔ کیا تم صلیب کا خاتمہ
‫''پسند کرو گے؟
‫نہیں مقدس باپ‪ ،ایسا کبھی نہیں ہوگا''… محفل میں جوش وخروش پیدا ہوگیا… ''اتنی زیادہ مایوسی کی کوئی وجہ ''
‫نہیں''۔
‫پھر تم ان وجوہات پر غور کرو جو تمہاری پسپائی کا باعث بنی ہیں''… محافظ صلیب اعظم نے کہا… ''میں تمہیں جنگ''
‫کے متعلق کوئی سبق نہیں دے سکتا۔ میں نظریات کے محاظ کا سپاہی ہوں۔ میں کلیسا کا محافظ ہوں۔ مجھے کلیسا کی
‫کنواریوں کی قسم دس کٹر مسلمان میرے سامنے لے آئو‪ ،انہیں صلیب کا پجاری بنالوں گا۔ ذرا اس پر غور کرو کہ تمہارے اتنے
‫بڑے لشکر جو زرہ پوش بھی ہیں‪ ،مسلمانوں کی مختصر سی فوج کا مقابلہ کیوں نہیں کرسکتے؟ تمہارے پانچ سو سواروں کو
‫ایک سو پیادہ مسلمان شکست دے دیتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ مسلمان مذہب کے جنون سے لڑتے ہیں۔ وہ تمہارے مقابلے
‫میں آتے ہیں تو قسم کھا لیتے ہیں کہ فتح یا موت۔ میں نے سنا ہے کہ ان کے چھاپہ مار تمہارے عقب میں چلے جاتے ہیں
‫اور تمہاری کمر توڑ کر تمہارے تیروں سے چھلنی ہوجاتے ہیں یا نکل جاتے ہیں۔ ذرا سوچو کہ دس دس بارہ بارہ آدمی تمہارے
‫ہزاروں کے لشکر میں کس طرح گھس آتے ہیں؟ یہ محض مذہبی جنون ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا بھی ان کے ساتھ ہے اور
‫خدا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ہے۔ ایسی دلیرانہ کارروائیوں میں وہ اپنے کمانڈروں سے نہیں قرآن سے
‫حکم لیتے ہیں۔ میں نے قرآن کا مطالعہ بہت غور سے کیا ہے۔ ہمارے خالف جنگ کو قرآن جہاد کہتا ہے اور ہر مسلمان پر
‫حتی کہ جہاد کو نماز یعنی عبادت پر فوقیت حاصل ہے… تم بھی جب تک اپنے آپ میں یہی
‫جہاد فرض کردیا گیا ہے۔
‫ٰ
‫جنون پیدا نہیں کرو گے‪ ،اسالم کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫کچھ ایسے ہی جذباتی اور حقیقی الفاظ تھے جن سے عکرہ کے پادری نے اپنے شکست خوردہ حکمرانوں اور کمانڈروں کو
‫بھڑکانے اور ان میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کی اور وہ یہ کہہ کر چال گیا کہ اب آپس میں بحث ومباحثہ کرو کہ تمہاری
‫شکست کے اسباب کیا تھے اور اس کی ذمہ داری کس کس پر عائد ہوتی ہے اور اس شکست کو فتح میں کس طرح بدلنا

‫ہے۔ بیت المقدس کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنالو۔ صالح الدین ایوبی فرشتہ نہیں۔ تمہاری طرح ایک انسان ہے۔ اس کی
‫طاقت صرف اس میں ہے کہ اس کا ایمان پکا ہے۔
‫پادری کے جانے کے بعد کانفرنس میں جو گرما گرمی پیدا ہوئی‪ ،وہ اس لحاظ سے تاریخی نوعیت کی تھی کہ اس میں کچھ
‫فیصلے کیے گئے۔ ان میں ایک فیصلہ یہ تھا کہ جوابی حملہ نہ کیا جائے بلکہ ایوبی اور زنگی کے لیے انگیخت پیدا کی جائے
‫کہ وہ پیش قدمی کریں اور حملے جاری رکھیں۔ انہیں مرکز سے دور الیا جائے اور بکھیر کر لڑایا جائے۔ اس طرح ان کی
‫کہ یونانیوں‪ ،بازنطینیوں اور فرینکوں کو فوری
‫رسد کے راستے لمبے اور غیر محفوظ ہوجائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ فیصلہ ہوا
‫طور پر تیار کیا جائے کہ سمندر کی طرف سے مصر پر بحری حملہ کریں اور ساحل پر فوج اتار کر مصر کے شمال مشرق کے
‫اتنے سے عالقے پر قبضہ کرلیں جسے مضبوط (اڈا) بنا لیا جائے۔ اسے فلسطین کے دفاع اور مصر پر جارحیت کے لیے
‫استعمال کیا جائے گا۔ اہم فیصلہ یہ ہوا کہ اسالمی عالقوں میں اخالق کی تخریب کاری تیز کردی جائے اور نظریاتی حملے اور
‫شدید کردئیے جائیں۔
‫جیسا کہ پچھلے باب میں بیان کیا جاچکا ہے کہ مصر میں صلیبیوں کی اہم مہم تباہ کردی گئی تھی جو سرحدی عالقے میں
‫توہمات پیدا کرنے کے لیے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ صلیبی جاسوسوں نے وہاں سے آکر اطالع دے دی تھی کہ وہ مہم ناکام
‫ہوچکی ہے اور جن مسلمانوں کو زیراثر لے لیا گیا تھا‪ ،انہوں نے ہی مہم کے افراد کو ہالک کردیا ہے… اس کانفرنس میں یہ
‫انکشاف پیش کیا گیا کہ مقبوضہ عالقوں میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ وہ مجبور ہوکر قافلوں کی صورت میں
‫ترک وطن کرتے ہیں تو راستے میں ان کے قافلے لوٹ لیے جاتے ہیں۔ مال اور مویشی چھین لیے جاتے ہیں اور لڑکیوں کو
‫اغوا کرلیا جاتا ہے۔ کانفرنس میں اس اقدام کو ضروری سمجھا گیا۔ مسلمانوں کو ختم کرنے کا یہ بھی ایک اچھا طریقہ تھا۔ یہ
‫نسل کشی کی مہم تھی جو صلیبیوں نے بہت عرصے سے جاری کررکھی تھی۔ پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ مسلمان کی
‫کمسن اور خوبصورت بچیوں کو اغوا کرکے صلیبی انہیں بے حیائی اور چرب زبانی کی تربیت دے کر انہیں پالیتے پوستے اور
‫جب وہ جوان ہوجاتیں‪ ،انہیں مسلمانوں میں غداری کے جراثیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
‫کانفرنس میں یہ بھی طے ہوا کہ مسلمانوں میں عیسائیت کی تبلیغ کی جائے۔ اس کے لیے بے شمار دولت کی ضرورت تھی
‫جو خرچ تو کی جارہی تھی لیکن کچھ دشواریاں پیدا ہوگئی تھی۔ ایک یہ تھی کہ رقم اونٹوں کے ذریعے بھیجی جاتی تھی۔
‫کئی بار ایسے ہوا کہ مصر کے کسی سرحدی دستے نے پکڑ لیا یا اونٹ لوٹ لیے گئے۔ ضرورت یہ محسوس کی گئی تھی کہ
‫کوئی ایسا ذریعہ مل جائے جس سے رقم اور انعامات کی دیگر قیمتی اشیاء اسی ملک سے دستیاب ہوجائیں‪ ،جہاں استعمال
‫کرنی ہوں۔ خاصے عرصے سے اس مسئلے پر سوچ وبچار ہورہا تھا۔ صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا کمانڈو‪ ،ہرمن‪ ،علی بن سفیان
‫کی طرح غیرمعمولی ذہانت کا مالک تھا۔ اس نے کبھی کا سوچ رکھا تھا کہ مصر کی زمین اپنے اندر اس قدر خزانے چھپائے
‫ہوئے ہے جس سے ساری دنیا کو خریدا جاسکتا ہے مگر ان خزانوں تک پہنچنا آسمان سے ستارے توڑ النے کے برابر تھا۔ یہ
‫خزانے فرعونوں کے مدفنوں میں محفوظ تھے۔ تاریخ فرعونوں کی اس رسم سے کبھی بھی بے خبر نہیں رہی کہ جب کوئی
‫فرعون مرتا تھا تو اس کے ساتھ شاہانہ ضروریات کا تمام سامان اس کے ساتھ دفن کردیا جاتا تھا۔
‫مرے ہوئے فرعون کو قبر چند گز چوڑی نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ زمین کے نیچے ایک محل تعمیر ہوجاتا تھا۔ فرعون اپنی
‫زندگی میں اپنا مدفن تیار کرالیا کرتے تھے اور جگہ ایسی منتخب کرتے تھے جس تک اس کی موت کے بعد کوئی رسائی
‫حاصل نہ کرسکے۔ مرنے کے بعد مدفن کو اس طرح بند کردیا جاتا تھا کہ معماروں کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ
‫اسے کھوال کس طرح جاسکتا ہے۔ مرنے والے کے لواحقین معماروں کو قتل کردیا کرتے تھے۔ فرعونوں کا ایک عقیدہ تو یہ تھا
‫کہ وہ خدا ہیں اور دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد انہیں یہی جاہ وجالل حاصل ہوگا۔ چنانچہ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر اور پھر پہاڑ
‫کے نیچے زمین کی کھدائی کرکے محل جیسے ہال اور دیگر کمرے بنوا کر اس محل میں زیادہ سے زیادہ ہیرے جواہرات رکھوا
‫دئیے جاتے تھے۔ اس کے عالوہ بگھیا مع گھوڑوں اور بگھی بانوں کے اور کشتیاں مع مالحوں کے اندر رکھ دی جاتی تھیں۔
‫خدمت کے لیے کنیزیں اور غالم اور بیویاں بھی ساتھ ہوتی تھیں۔ اس طرح صورتحال یہ بن جاتی تھی کہ ایک انسان کی الش
‫کے ساتھ جہاں بے انداز مال ودولت دفن ہوجاتا تھا وہاں بہت سے انسان زندہ اندر بھیج کر باہر سے مدفن کا منہ بند کردیا
‫جاتا تھا۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ دم گھٹنے سے کس طرح مرتے ہوں گے۔ فرعونوں کی الشوں کو مصالحے وغیرہ لگا کر
‫حنوط کیا جاتا تھا۔ ہزاروں سال گزر جانے کے بعد آج بھی ان کی الشیں محفوظ ہیں‪ ،جن میں کچھ لندن کے عجائب خانے
‫میں پڑی ہیں۔
‫فرعونوں کا دور ختم ہوا تو مصر کی حکومت جس کے بھی ہاتھ آئی اس نے فرعونوں کے مدفن تالش کرنے کی کوشش کی۔
‫یہ مہم ناممکن کی حد تک مشکل ثابت ہوئی۔ مدفنوں کو تالش کرنا ہی ایک مسئلہ تھا۔ اس کے بعد آج تک یہ مہم جاری
‫ہے۔ مصر نے تاریخ میں بہت سی بادشاہت دیکھیں۔ ہر بادشاہ نے مدفن تالش کیے جسے جو ہاتھ لگا لے اڑا۔ سب سے زیادہ
‫حصہ انگریزوں کے ہاتھ آیا کیونکہ انگریزوں نے وہاں موجودہ دور میں اپنا اثر قائم کیا تھا جب سائنس ترقی کرچکی تھی۔
‫سائنس نے اور کھدائی کے مشینی طریقوں نے انگریزوں کی بہت مدد کی۔ ۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ مصر کی زمین فرعونوں
‫کے خزانوں سے ابھی تک ماالمال ہے اور مصر کی تاریخ میں اگر غور سے جھانکیں تو اس میں ایسے پراسرار اور خوفناک
‫واقعات ملتے ہیں کہ وہ رونگٹے کھڑے کردیتے ہیں۔ کچھ ذاتی طور پر کسی فرعون کی تالش میں نکلے۔ ان میں سے بعض
‫مدفن میں داخل ہوبھی گئے مگر معلوم نہ ہوسکا کہ کہاں غائب ہوگئے۔ ان میں سے جو بچ کر نکلے وہ دوسرے کے لیے
‫سراپا عبرت بن گئے۔ اسی لیے یہ عقیدہ آج بھی قائم ہے کہ فرعون خدا تو نہیں تھے لیکن ان کے پاس مرکر بھی کوئی
‫ایسی طاقت موجود ہے جو ان کے مدفنوں میں جانے والوں کو عبرتناک سزا دیتی ہے۔ لوگوں نے اس عقیدے کو اس لیے
‫تسلیم کیا ہے کہ جس بادشاہ نے بھی کسی فرعون کے مدفن میں ہاتھ ڈاال‪ ،اس کی بادشاہی کوزوال آیا۔ بعض نے فرعونوں کو
‫نحوست کا حامل کہا ہے۔
‫صالح الدین ایوبی کے دور سے پہلے ہی صلیبیوں کو معلوم تھا کہ مصر خزانوں کی سرزمین ہے۔ یہ وجہ بھی تھی کہ وہ مصر
‫پر قابض ہونا چاہتے تھے۔ سلطان ایوبی کو شکست دینا آسان نظر نہ آیا تو انہوں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ ان مدفنوں کی
‫تالش مصریوں سے کرائی جائے اور خزانے نکلوا کر استعمال کیے جائیں۔ انہیں کسی طرح یہ پتا چل گیا تھا کہ مصری
‫حکومت کے پرانے کاغذات میں ایسی تحریریں اور نقشے موجود ہیں جن میں بعض مدفنوں کے متعلق معلومات درج ہیں۔ ان
‫کاغذات تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ صلیبیوں نے مصر میں بڑے ذہین جاسوس بھیجے تھے‪ ،جو صرف یہ معلوم کرسکتے تھے کہ
‫یہ کاغذات کہاں ہیں اور کس طرح اڑائے جاسکتے ہیں مگر اس شعبے کے سربراہ کو اپنی گرفت میں لینا ممکن نہ تھا۔ ان
‫دنوں جب سلطان ایوبی شوبک اور کرک کی جنگوں میں الجھا ہوا تھا اور اس کی غیرحاضری میں مصر سازشوں کی زرخیز

‫زمین اور بغاوت کا آتش فشاں بن چکا تھا‪ ،صلیبیوں کے ماہر سراغ رساں ہرمن نے کامیابی حاصل کرلی تھی کہ سلطان ایوبی
‫اعلی کمانڈر احمر درویش کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ احمر سوڈانی تھا‪ ،اس کے خالف کوئی ایسی
‫کی فوج کے ایک
‫ٰ
‫شکایت نہیں تھی کہ وہ غدار ہے۔ سلطان ایوبی کو اس پر اعتماد تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کی زیرکمان لڑائیاں لڑی تھیں اور
‫کمانڈروں کی صف میں نام پیدا کیا تھا۔
‫بعد کے انکشافات سے معلوم ہوا کہ یہ کمال میر یا ایستھینا نام کی ایک صلیبی لڑکی کا تھا کہ اس نے احمر کے دماغ میں
‫سوڈان کی محبت‪ ،سلطان ایوبی کی مخالفت اور سوڈان میں مصر کے سرحدی عالقے میں سے کچھ حصے کی خودمختار
‫ریاست کا اللچ پیدا کیا تھا۔ وہ تھا تو مسلمان لیکن صلیبیوں نے اس کے دماغ میں ڈ ال دیا تھا کہ وہ پہلے سوڈانی بعد میں
‫مسلمان ہے۔ اب جبکہ نورالدین زنگی نے کرک کا قلعہ توڑ لیا تھا اور سلطان ایوبی مصر میں غداروں کا قلع قمع کررہا تھا۔
‫احمر درویش نے صلیبی جاسوسوں کے ساتھ کئی ایک مالقاتیں کرلی تھیں۔ اس نے کسی کو شک تک نہیں ہونے دیا تھا ک
‫وہ دشمن کے ساتھ سازباز کررہا ہے۔ اس نے مرکزی دفاتر میں اتنا اثرورسوخ پیدا کررکھا تھا کہ وہ پرانی دستاویزات تک پہنچ
‫گیا۔ وہاں سے اس نے جو کاغذات چوری کرائے‪ ،ان میں بظاہر اوٹ پٹانگ سی لکیروں کا ایک نقشہ تھا۔ دراصل یہ کاغذات
‫نہیں کپڑے اورکاغذ کے درمیان کی کوئی چیز تھی۔ ایسے ہی چند ایک اور کپڑے یا کاغذ تھے جن پر فرعونوں کے وقتوں کی
‫عجیب وغریب تحریریں تھیں‪ ،جنہیں پڑھنا اور سمجھنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ یہ کسی کو دکھائی بھی نہیں جاسکتی تھی۔
‫بہر حال کسی طرح ان تحریروں کے معنی واضح کرلیے گئے۔ انکشاف یہ ہوا کہ قاہرہ سے تقریبا ً اٹھارہ کوس دور ایک پہاڑی
‫عالقہ ہے جو خوفناک ہے‪ ،بے کار ہے اور جس کے اندر شاید درندے بھی نہیں جاتے ہوں گے۔ اس کے اندر کہیں ایک فرعون
‫کا مدفن ہے۔
‫یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ یہ تحریر کہاں تک صحیح اور بامعنی ہے۔ اس میں لکیروں میں ہاتھ سے بنی ہوئی چند ایک
‫تصویریں بھی تھیں۔ کہانی کا کچھ حصہ ان تصویروں میں چھپا ہوا تھا۔ احمر نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس فرعون
‫کا نام ریمینس دوم تھا۔ اس کے مدفن کی تالش اور کھدائی کے لیے صلیبیوں نے قاہرہ میں چند ایک ہوشیار‪ ،دانشمند اور
‫جفاکش جاسوس بھیج دئیے تھے۔ ان کا سربراہ مارکونی اطالوی تھا جسے سیاحت اور کوہ پیمائی کا تجربہ تھا۔ احمر نے ان
‫آدمیوں کو کامیابی سے بہروپ چڑھا دئیے تھے کہ قاہرہ میں انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ دو کو تو اس نے اپنے گھر
‫میں مالزم رکھ لیا تھا۔ اس کے عوض احمر درویش سے یہ سودا ہوا تھا کہ وہ مدفن سے زروجواہرات نکالے‪ ،انہیں اپنے پاس
‫رکھے۔ سلطان ایوبی کے خالف تخریب
‫کاری میں استعمال کرے‪ ،فدائیوں کو منہ مانگی اجرت دے۔ سلطان ایوبی کوقتل کرائے اور جب مصر صلیبیوں یا سوڈانیوں کے
‫قبضے میں آجائے گا تو اسے ایک خودمختار ریاست بنا دی جائے گی‪ ،جس میں کچھ حصہ سوڈان کا کچھ مصر کا شامل ہوگا۔
‫اسے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس تالش کے دوران اگر سلطان ایوبی صلیبیوں پر یا سوڈانیوں پر حملہ کرے تو احمر اپنے
‫زیرکمان دستوں کو سلطان ایوبی کی جنگی چالوں کے الٹ استعمال کرے۔
‫احمر درویش کا دماغ اتنے بڑے اللچ کے جادو کی گرفت میں آچکا تھا اور اس نے مارکونی کو ان دو صلییوں کے ساتھ جو اس
‫کے نوکروں کے بہروپ میں اس کے گھر میں تھے‪ ،نقشہ دے کر مدفن کی تالش کی مہم پر روانہ کردیا تھا۔ ایک جاسوس کی
‫وساطت سے اس نے ہرمن کو اطالع بھیج دی تھی کہ تالش شروع ہوچکی ہے۔ ہرمن نے اس کانفرنس میں صلیبی حکمرانوں
‫وغیرہ کو بتا دیا کہ اگر یہ مدفن بے نقاب ہوگیا تو اس سے برآمد ہونے والی دولت سے مصر کی جڑیں مصریوں کے ہی
‫ہاتھوں کھوکھلی کی جاسکیں گی۔
‫٭ ٭ ٭
‫‪ ١١٧٤ء کی پہلی سہ ماہی کے آخری دن تھے‪ ،قاہرہ سے اٹھارہ کوس دور ایک جگہ تین اونٹ کھڑے تھے۔ ہر اونٹ پر ایک
‫آدمی سوار تھا۔ ان کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے‪ ،ایک سوار نے چغے کے اندر سے ایک گول کیا ہوا چوڑا کاغذ نکاال۔ اسے
‫کھول کر غور سے دیکھا اور اپنے ساتھیوں سے کہا… ''جگہ یہی ہے'' … اس کے اشارے پر تینوں اونٹ آگے چل پڑے۔ وہ
‫ٹیلے آمنے سامنے دیواروں کی طرح کھڑے تھے۔ ان کے درمیان ایک اونٹ گزرنے کا راستہ تھا۔ تینوں ایک قطار میں اندر چلے
‫گئے۔ اندر کی پہاڑیوں کی شکل وصورت ایسی تھی جیسے کوئی بہت ہی وسیع عمارت ہو جس کی چھتیں غائب ہوں۔ ریت
‫کے المحدود سمندر میں یہ پہاڑی عالقہ تین چار میلوں میں پھیال ہوا تھا۔ باہر ٹیلے اور چٹانیں تھیں۔ ان کے پیچھے سخت
‫مٹی کی پہاڑیاں اور ان کے پیچھے ٹوٹی پھوٹی دیواروں کی طرح پہاڑیاں تھیں جن میں بعض بہت چوڑے اور گول ستونوں کی
‫طرح ایک ہزار فٹ بلندی تک گئی ہوئی تھیں۔ سورج غروب ہونے کے بعد جب شام ابھی گہری نہیں ہوتی تھی‪ ،یہ عالقہ
‫بہت سے بھوتوں کی طرح نظر آیا کرتا تھا۔ اس کے اندر جانے کی کسی نے کبھی جرٔات نہیں کی تھی۔ کوئی جرٔات کرتا
‫بھی تو کیوں کرتا۔ اندر جانے کی کسی کو کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔ صحرا کے مسافروں کی ضرورت صرف پانی ہوا
‫کرتی تھی۔ ایسے خشک پہاڑوں اور چٹانوں کے اندر جو دن کے وقت دور سے شعلوں کی طرح نظر آتے تھے‪ ،پانی کا ذرا سا
‫دھوکہ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔
‫یہ جگہ کسی راستے میں بھی نہیں پڑتی تھی‪ ،میلوں دور سے نظر آنے لگتی تھی۔ لوگ اس کے متعلق کچھ ڈرائونی سی
‫کہانیاں سنایا کرتے تھے جن میں ایک یہ تھی کہ یہ شیطان بدروحوں کا مسکن ہے۔ خدا نے جب آسمان سے شیطان کو
‫دھتکارا تھا تو شیطان یہیں اترا تھا۔ اس عالقے کی چونکہ فوجی اہمیت بھی نہیں تھی‪ ،اس لیے فوجوں نے بھی کبھی اس
‫کے اندر جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ ایسے عالقے کے اندر ریت‪ ،موت اور صحرائی درندوں کے سوا اور ہو ہی
‫کیا سکتا تھا۔ اس کے ہولناک خطے کی تاریخ میں غالبا ً یہ پہلے تین انسان تھے جو اس کے اندر چلے گئے تھے۔ انہیں وہیں
‫جانا تھا کیونکہ ہزاروں سال پرانا نقشہ اسی جگہ کی نشاندہی کررہا تھا۔ صرف ایک لکیر شک پیدا کرتی تھی۔ یہ ایک ندی
‫کی لکیر تھی مگر وہاں کوئی ندی نہیں تھی۔ اس جگہ اب ایک بڑا ہی لمبا نشیب نظر آتا تھا جس کی چوڑائی بارہ چودہ گز
‫تھی۔ اس کے اندر کی ریت کی شکل وصورت بتاتی تھی کہ صدیوں پہلے یہاں سے پانی گزرتا رہا ہے۔ اسی نشیب نے جو
‫قریب ہی کہیں ختم ہونے کے بجائے دریائے نیل کی طرف چال گیا تھا‪ ،شتر سواروں کو یقین دالیا تھا کہ وہ جس جگہ کی
‫تالش میں ہیں‪ ،وہ یہی ہے۔
‫ان سواروں میں ایک مارکونی اطالوی تھا اور دو اس کے ساتھی تھے‪ ،تینوں صلیبی تھے۔ انہیں سلطان ایوبی کے ایک کمانڈر
‫احمر درویش نے فرعون ریمینس دوم کے مدفن کی تالش کے لیے بھیجا تھا۔ نقشے کے مطابق وہ صحیح جگہ پر آگئے تھے۔
‫اب اندر جاکر یہ دیکھنا تھا کہ یہ جگہ کس حد تک صحیح ہے۔ مارکونی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اپنے آپ کو خدا
‫سمجھنے والے فرعون اپنی آخری آرام گاہ ایسے جہنم میں بنانے کی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ احمر اور ہرمن نے ہمیں

‫ایک بے کار آزمائش میں ڈ ال دیا ہے۔ اس کے ساتھیوں نے اسے اپنا کمانڈر سمجھتے ہوئے کوئی مشورہ نہ دیا۔ وہ حکم کے
‫پابند تھے۔ مارکونی سخت جان صلیبی تھا۔ ہمت ہارنے کا قائل نہ تھا۔ وہ آگے آگے چلتا رہا۔ وہ جوں جوں اندر جارہے تھے‪،
‫چٹانوں کی شکلیں بدلتی جارہی تھیں۔ ان کا رنگ گہرا بادامی بھی تھا‪ ،کہیں بھی اور کہیں کہیں ان کا رنگ مٹیاالل بھی تھا۔
‫ان میں ریتلی سلوں کی چٹانیں تھیں اور مٹی کے سیدھے کھڑے ٹیلے بھی۔ ڈھالنوں سے ریت بہتی نظر آتی تھی۔
‫بہت آگے جاکر یہ وادی بند ہوگئی۔ مارکونی نے دائیں طرف دیکھا‪ ،ایک ٹیال درمیان سے اس طرف پھٹا ہوا تھا جیسے ‪:
‫زلزلے نے دیوار میں شگاف کردیا ہو۔ شگاف میں سے جھانکا‪ ،یہ ایک گلی تھی جو دور تک چلی گئی تھی۔ اونٹ کا گزرنا
‫مشکل نظر آتا تھا۔ مارکونی نے اپنا اونٹ شگاف کی گلی میں داخل کردیا۔ اس کے گھٹنے دونوں طرف ٹیلوں کی دیواروں سے
‫لگتے تھے۔ اس نے ٹانگیں سمیٹ کر اونٹ کی کوہان پر رکھ دیں۔ پچھلے سواروں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اونٹوں کے پہلو دائیں
‫بائیں لگتے تھے تو مٹی نیچے گرتی تھی۔ ٹیال دو حصوں میں کٹ کر دور تک چال گیا تھا۔ اونٹوں کے ہچکولوں سے یوں لگتا
‫تھا جیسے ٹیلے کے دونوں حصے مل رہے ہوں اور دونوں مل کر اونٹوں کو سواروں سمیت پیس ڈالیں گے۔ آگے جاکر اوپر دیکھا
‫تو دور اوپر ٹیلے کے دونوں حصوں کی چوٹیاں آپس میں مل گئی تھیں۔ آگے اندھیرا سا تھا لیکن دور آگے روشنی سی نظر
‫آتی تھی جس سے امید بندھ گئی کہ وہ گلی وہاں ختم ہوجائے گی اور آگے جگہ فراخ ہے۔
‫گلی نے اب سرنگ کی صورت اختیار کرلی تھی جس میں اونٹوں کے پائوں کی آوازیں ڈرائونی سے گونج پیدا کرتی تھیں۔
‫مارکونی بڑھتا گیا۔ وہاں یہی ایک راستہ تھا اس لیے غلطی کا امکان کم تھا۔ سامنے روشنی کا جو دھبہ تھا‪ ،وہ پھیل رہا تھا‪،
‫سرنگ ختم ہورہی تھی… اور جب وہ سرنگ کے دہانے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ اونٹ سواروں سمیت نہیں گزر سکیں گے۔
‫سوار اونٹوں کی گردنوں پر آکر نیچے اتر کیونکہ پہلوئوں سے نہیں اترا جاسکتا تھا۔ اونٹوں کو بڑی مشکل سے باہر نکاال گیا۔
‫آگے دیکھا تو چاروں طرف کسی پرانے قلعے کی بڑی ہی بلند دیواریں نظر آئیں مگر یہ قلعہ قدرتی تھا۔ پہاڑیوں کی شکل
‫ایسی تھی کہ تین چار سو گز تک ڈھالن تھی اور وہاں سے پہاڑیاں سیدھی اوپر کو اٹھ گئی تھیں‪ ،بعض اونچی تھیں‪ ،بعض کم
‫بلند۔ معلوم ہوتا تھا جیسے ہر جگہ ہر طرف سے بند ہو۔ گھوم پھر کر دیکھا تو ایک پہاڑی کے ساتھ اتنی جگہ تھی جس پر
‫پیدل چال جاسکتا تھا۔
‫مارکونی نے اونٹوں کو بٹھا دیا اور پیدل چل پڑے۔ پہاڑی گوالئی میں ہوگئی تھی۔ پائوں جما کر رکھنا پڑتا تھا کیونکہ ریت اور
‫مٹی تھی جس سے پائوں ڈھالن کی طرف ہوکر گر سکتا تھا۔ یہ دراصل کوئی باقاعدہ راستہ نہیں تھا۔ چلنے کی صرف جگہ
‫تھی۔ زمین اور ٹیلے بتا رہے تھے کہ صدیوں سے یہاں کسی انسان نے قدم نہیں رکھا۔ یہ چلنے کی جگہ یا راہ آگے گئی تو
‫مارکونی اور اس کے ساتھیوں کے دل اچھل کر حلق تک آگئے۔ ڈھالن سخت ہوگئی تھی اور نیچے جا کر کسی بڑی ہی
‫اونچی دیوار کی منڈیر بن گئی تھی۔ دائیں طرف پہاڑی تھی جس کے پہلو میں وہ قدم جما جما کر چل رہے تھے مگر بائیں
‫طرف زمین دور نیچے چلی گئی تھی۔ یہ ایک وسیع اور بہت ہی گہری کھائی تھی۔ وہاں سے گرنے کا نتیجہ صرف موت تھا۔
‫کھائی کے دوسرے کناروں پر اسی طرح کے پہاڑ تھے جس کے ساتھ ساتھ وہ چل رہے تھے۔
‫ایسے خطرناک مقام پر آکر مارکونی کے ایک ساتھی نے اس سے پوچھا… ''کیا تمہیں یقین ہے کریمینس فرعون کا جنازہ اس
‫''جگہ سے گزارا گیا ہوگا؟
‫احمر درویش نے یہی راستہ بتایا ہے''… مارکونی نے کہا… ''جہاں تک میں نقشے کو سمجھ سکا ہوں‪ ،ہمارے گزرنے کا ''
‫یہی راستہ ہے۔ ریمینس کا تابوت کسی اور طرف سے گزارا گیا تھا۔ ہمیں وہ راستہ معلوم کرنا ہے۔ وہ کوئی خفیہ راستہ تھا
‫جو صدیوں کی آندھیوں اور زمین کی تبدیلیوں نے بند کردیا ہوگا۔ اگر وہ راستہ مل گیا تو ہم مدفن تک پہنچ جائیں گے''۔
‫اگر زندہ رہے تو!''۔''
‫میں اس کے متعلق یقین تو نہیں دال سکتا''… مارکونی نے کہا… ''یہ یقین دال سکتا ہوں کہ مدفن مل گیا تو تم دونوں ''
‫کو ماال مال کردوں گا''۔
‫راستہ چوڑا ہوگیا اور کھائی ختم ہوگئی۔ اب وہ دو ایسی پہاڑیوں کے درمیان جارہے تھے جن کے دامن ملے ہوئے تھے مگر
‫کچھ ہی دور آگے پہاڑیاں مل گئی تھیں۔ وہ وہاں تک پہنچے تو انہیں بائیں طرف اوپر چڑھنا پڑا۔ کوئی ایک سو گز اور اوپر
‫جاکر انہیں ایک گلی سی نظر آئی جو نیچے کو جارہی تھی۔ وہاں سے اردگرد دیکھا تو دور دور تک پہاڑیوں کے ستون اوپر کو
‫گئے ہوئے تھے۔ منظر ہیبت ناک تھا۔ وہ نیچے اترتے گئے۔ یہ گلی کئی ایک موڑ مڑ کر انہیں ایک فراخ جگہ لے گئی جو
‫گوالئی میں تھی۔ یہاں کی گرمی ناقابل برداشت تھی۔ چوٹیوں کے قریب پہاڑیوں میں چمک سی تھی۔ وہاں کی مٹی میں
‫کسی دھات کی آمیزش تھی۔ اس کی تپش سے گرمی زیادہ تھی۔ ہر طرف پہاڑیاں تھیں‪ ،سوائے چند گز جگہ کے۔ وہاں گئے
‫تو خوف سے تینوں پیچھے ہٹ گئے۔ وہ بہت گہرا نشیب تھا۔ وسعت بھی زیادہ تھی۔ اس کی تہہ پر ریت چمک رہی تھی
‫اور سورج کی تپش اتنی زیادہ تھی کہ ریت سے دھواں سا اٹھتا اور لرزتا نظر آتا تھا۔ اس سے اس کی گہرائی کا اندازہ نہیں
‫ہوتا تھا۔
‫اس اتنے گہرے نشیب کے آمنے سامنے کے کناروں کو ایک قدرتی دیوار مالتی تھی۔ یہ نیچے سے اوپر تک تھی۔ یہ دراصل ‪:
‫مٹی اور ریت کا دیوار نما ٹیال تھا جو نیچے سے بھی اتنا ہی چوڑا تھا جتنا اوپر سے۔ اس کی چوڑائی ایک گز سے کم
‫تھی۔ کہیں سے گوالئی میں تھی جس پر چلنا خطرناک تھا۔ اگر مارکونی کو پار جانا ہی تھا تو یہی ایک راستہ تھا جو پل
‫صراط کی مانند تھا۔ اس کی لمبائی پچاس گز سے زیادہ ہی تھی۔ مارکونی کے ایک ساتھی نے اسے کہا… ''میرا خیال ہے
‫اس دیوار پر چلنے کے بجائے تم خودکشی کا کوئی بہتر طریقہ اختیار کروگے''۔
‫خزانے راستے میں پڑے نہیں مال کرتے''… مارکونی نے کہا… ''ہمیں اس راستے سے پار جانا ہے''۔''
‫اور پھسل کر نیچے جہنم کی آگ میں گرنا ہے''… دوسرے ساتھی نے کہا۔''
‫کیا ہم نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف نہیں اٹھایا کہ صلیب کی عظمت اور اسالم کی بیخ کے لیے جانیں قربان کردیں ''
‫گے؟''… مارکونی نے کہا… ''کیا میدان جنگ میں ہمارے ساتھی صلیب پر جانیں قربان نہیں کررہے؟ میں بزدلوں کی طرح
‫یہیں سے واپس ہوکر احمر درویش کو یقین دال سکتا ہوں کہ اتنی صدیاں گزر جانے کے بعد اب تمام راستے بند ہوچکے ہیں‪،
‫جہاں ندی تھی‪ ،وہاں چٹانیں ہیں اور جہاں نقشہ چٹانیں دکھاتا ہے وہاں کچھ بھی نہیں ہے مگر میں بزدل نہیں بنوں گا‪،جھوٹ
‫نہیں بولوں گا۔ میرے دل پر خوف طاری ہوچکا ہے۔ میں اس کے خالف لڑ رہا ہوں‪ ،میرے خوف میں اضافہ نہ کرو دوستو! اگر
‫تم میرا ساتھ نہیں دو گے تو صلیب سے دھوکہ کرو گے اور اس کی سزا بڑی اذیت ناک ہوگی۔ میں تمہارے آگے آگے چلتا
‫ہوں‪ ،جہاں پھسلنے کا خطرہ محسوس کرو وہاں اس طرح بیٹھ جانا جس طرح گھوڑے پر بیٹھتے ہیں۔ پھر آگے سرکتے رہنا''۔
‫٭ ٭ ٭

20:01
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪60۔ جب خزانہ مل گیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اچانک گرم ہوا کہ جھونکے تیز ہونے لگے‪ ،ریت اڑنے لگی اور اس کے ساتھ عورتوں کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ دو
‫یا تین عورتیں اونچی آواز میں رو رہی تھیں۔ مارکونی کے ساتھی گھبرا گئے۔
‫مارکونی نے کان کھڑے کیے۔ ایک ساتھی نے کہا… ''اس دوزخ میں کوئی عورت زندہ نہیں ہوسکتی۔ یہ بدروحیں ہیں''۔
‫یہ کچھ بھی نہیں ہے''… مارکونی نے کہا… ''بدروحیں بھی نہیں‪ ،زندہ عورتیں بھی نہیں۔ یہ ہوا کی پیدا کی ہوئی آوازیں''
‫ہیں۔ اس عالقے میں بعض ٹیلوں میں لمبے لمبے سوراخ ہیں جو دونوں طرف کھلتے ہیں اور بعض چٹانوں کی شکل ایسی ہے
‫کہ ان سے تیز ہوا کے جھونکے گزرتے ہیں تو اس قسم کی آوازیں پیدا ہوتی ہیں جو تم سن رہے ہو۔ نیچے اتنی گہری اور
‫اتنی وسیع کھائی ہے اس پر یہ ننگے پہاڑ کھڑے ہیں۔ یہ آوازوں میں گونج پیدا کرتے ہیں۔ یہ گونج ہر طرف بھٹکتی رہتی ہے‪،
‫ڈرو نہیں''۔
‫مگر اس کے ساتھیوں پر ایسا خوف طاری ہوگیا تھا جس پر وہ قابو نہیں پاسکتے تھے۔ یہ آوازیں ہوا کی نہیں تھیں۔ قریب
‫ہی کہیں عورتیں یا بدروحیں رو رہی تھیں۔ انہوں نے مارکونی کا پیش کیا ہوا فلسفہ تسلیم نہ کیا۔ آوازیں ہی ایسی تھیں۔ ہوا
‫تیز ہوتی جارہی تھی۔ ٹیلوں سے اور زمین سے ریت کے ہلکے ہلکے بادل اڑنے لگے تھے جن سے اب زیادہ دور تک نظر
‫نہیں آسکتا تھا۔ مارکونی نے اس قدرتی دیوار پر پہال قدم رکھا جو اس بھیانک نشیب میں کھڑی تھی۔ وہاں جگہ اتنی کچی
‫تھی کہ ریت اور مٹی میں پائوں دھنس گیا۔ اس نے دوسرا پائوں آگے رکھا اور نیچے دیکھا۔ گہرائی دیکھ کر وہ سر سے پائوں
‫تک کانپ گیا۔ اب اس گہرائی کی تہہ بالکل ہی نظر نہیں آتی تھی کیونکہ ریت اڑ رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کی
‫تہہ ہے ہی نہیں۔ مارکونی چند قدم آگے چال گیا۔ وہاں اس کے دائیں یا بائیں کوئی ٹیال نہیں تھا۔ وہ تو جیسے ہوا میں کھڑا
‫تھا۔ ہوا کے تیز جھونکوں نے اس کے جسم کو دھکیل دھکیل کر اس کا توازن بگاڑ دیا۔ رونے کی آوازیں اور بلند ہوگئیں۔
‫اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا… '' آرام آرام سے پائوں جماتے آئو۔ نیچے بالکل نہ دیکھنا۔ یہ تصور کرتے آنا کہ تم زمین پر
‫چل رہے ہو''۔
‫اس کے دونوں ساتھیوں پر پہلے ہی خوف طاری تھا۔ دیوار پر تین چار قدم آگے گئے تو ہوا کی تندی نے ان کے پائوں اکھاڑ
‫دئیے۔ ان کے جسم ڈولنے لگے۔ مارکونی ان کی حوصلہ افزائی کررہا تھا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ وسط میں پہنچ
‫گئے اور وہاں مارکونی نے دیکھا کہ دیوار ٹوٹی ہوئی ہے اور ذرا نیچے چلی گئی ہے۔ وہاں چوڑائی اتنی کم تھی کہ کھڑے ہوکر
‫چال نہیں جاسکتا تھا۔ مارکونی بیٹھ گیا اور گھوڑے کی سواری کی پوزیشن میں ٹانگیں ادھر ادھر کرکے آگے کو سرکنے لگا۔
‫دیوار کی چوڑائی کم اور گول ہوتی جارہی تھی۔ مارکونی نیچے کو سرک گیا۔ اس کے پیچھے اس کا ایک ساتھی بھی آگے
‫چال گیا۔ اچانک تیسرے ساتھی کی بے حد گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی… ''مارکونی مجھے پکڑنا''… مگر اس تک کوئی نہ
‫پہنچ سکا۔ وہ ایک طرف لڑھک گیا تھا۔ کوئی سہارا نہ ہونے کی وجہ سے وہ گر پڑا۔ اس کی چیخیں سنائی دیتی رہیں جو
‫دور ہی دور ہوتی گئیں۔ پھر دھمک کی آواز آئی‪ ،چیخیں بند ہوگئیں۔ انجام ظاہر تھا۔ مارکونی نے نیچے دیکھا۔ کچھ بھی نظر
‫نہیں آتا تھا۔ گر کر مرنے والے کی چیخوں کی گونج ابھی تک اس دہشت ناک ویرانے میں بھٹک رہی تھی۔
‫مجھے اپنے ساتھ رکھو مارکونی!''… دوسرے ساتھی نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی… ''میں ایسی موت نہیں مرنا ''
‫چاہتا''۔
‫مارکونی نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور آگے بڑھنے لگا۔ دیوار اوپر اٹھ رہی تھی۔ مارکونی بیٹھے بیٹھے آگے بڑھتا گیا۔
‫رونے کی آوازیں بدستور آرہی تھیں اور ان کے تیسرے ساتھی کی چیخوں کی گونج اس طرح بھٹک رہی تھی جیسے چیخ اوپر
‫جاکر ان کے اوپر منڈال رہی ہو… دیوار کچھ چوڑی ہوگئی۔ مارکونی نے گھوم کر اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اوپر کرلیا۔
‫آگے وہ ذرا اطمینان سے چل سکتے تھے لیکن ہوا کے جھونکے اتنے تیز تھے کہ ان کے لیے توازن قائم رکھنا ذرا مشکل تھا۔
‫وہ آہستہ آہستہ بڑھتے گئے اور دیوار ختم ہوگئی۔ آگے زمین اور پہاڑیاں کچھ سخت تھیں۔ دو چٹانوں کے درمیان تنگ سا راستہ
‫تھا۔ وہ اس میں داخل ہوگئے۔ مارکونی کے ساتھی نے اس سے پوچھا… ''جیفرے مرچکا ہوگا؟ اسے بچایا یا دیکھا نہیں
‫''جاسکتا؟
‫مارکونی نے اس کی طرف دیکھا۔ آہ بھری اور نفی میں سرہالیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے کچھ کہے بغیر اپنے
‫ساتھی کے کندھے پر تھپکی دی اور آگے چل پڑا۔ یہ بھی ایک گلی سی تھی جو فراخ ہوتی جارہی تھی۔ مارکونی نے اپنے
‫ساتھی سے کہا… ''ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم جہاں جاتے ہیں وہاں ایک ہی راستہ ملتا ہے۔ ایک سے زیادہ راستے ہوں تو
‫بھٹک جانے کا خطرہ ہوتا ہے''۔
‫یہ گلی ختم ہوگئی۔ آگے جگہ کشادہ ہوتے ہوتے بہت ہی کھل گئی اور زمین اوپر کو اٹھتی گئی۔ ہوا ابھی تک تیز تھی۔
‫مارکونی کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس ہیبت ناک عالقے میں کتنی دور اور اندر پہنچ گیا ہے۔ اسے صرف یہ احساس رہ
‫گیا تھا کہ دنیا سے اس کا رشتہ منقطع ہوچکا ہے۔ وہ صلیب کے نام پر دیوانہ ہوا جارہا تھا۔ فرعون کا مدفن تالش کرنے کا
‫مقصد اس کے سامنے یہی تھا کہ اس سے نکلے ہوئے خزانوں سے مسلمانوں کو خرید کر انہیں سلطنت اسالمیہ کے ہی خالف
‫استعمال کیا جائے گا اور دنیا میں صلیب کی حکمرانی ہوگی۔ وہ اپنے ڈرے ہوئے ساتھی کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ ہوا اسی
‫طرف سے آرہی تھی‪ ،پہاڑوں کی چوٹیاں دائیں بائیں کوہٹ گئی تھیں اور سامنے آسمان نظر آرہا تھا۔ مارکونی چڑھائی چڑھ رہا
‫تھا‪ ،وہ رک گیا اور ہوا کو سونگھ کر بوال… ''تم بھی سونگھو‪ ،ہوا میں جو بو ہے وہ صحرا کی نہیں''۔
‫تمہارا دماغ جواب دے رہا ہے''۔ اس کے ساتھی نے کہا… ''صحرا میں صحرا کی بو نہیں ہے تو اور کس کی ہے؟ تم ''
‫اطالوی ہو شاید؟ شاید تمہیں اپنے گھر کی بو آرہی ہے''۔
‫مارکونی کے چہرے پر کچھ اور تاثر تھا‪ ،وہ ہوا کو سونگھ رہا تھا۔ اس نے اپنے ساتھی سے کہا… ''تم شاید ٹھیک کہتے ہو‪،
‫میرے دماغ پر صحرا کی صحبت کا اثر ہوگیا ہے۔ یہاں پانی نہیں ہوسکتا۔ میں شاید خیالوں میں کھجوروں‪ ،سبزے اور پانی کی
‫بو سونگھ رہا ہوں۔ میں اس بو سے اچھی طرح واقف ہوں۔ یہ میرا تجربہ ہے مگر میرے سونگھنے کی حس مجھے دھوکہ دے
‫رہی ہے۔ اس جہنم میں پانی کی بوند بھی نہیں ہوسکتی''۔
‫مارکونی!'' اس کے ساتھی نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روک لیا اور کہا… ''میں بھی ایک بو سونگھ رہا ہوں‪ ،موت کی''
‫بو۔ مجھے موت اپنی طرف بڑھتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ آئو دوست! جدھر سے آئے ہیں‪ ،ادھر ہی لوٹ چلیں اگر تم

‫سمجھتے ہو کہ میں بزدل ہوں تو مجھے میدان جنگ میں بھیج دو۔ ایک سو مسلمانوں کو کاٹنے سے پہلے نہیں مروں گا''۔
‫مارکونی زیادہ باتیں کرنے واال آدمی نہیں تھا۔ اس نے اپنے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا… ''ہم ایک سو
‫نہیں‪ ،ایک ہزار مسلمانوں کو کاٹیں گے اور مریں گے نہیں۔ میرے ساتھ آئو''۔
‫وہ ساتھی کو لے کر چڑھائی چڑھنے لگا۔ چڑھائی زیادہ اونچی نہیں تھی‪ ،زمین آہستہ آہستہ اوپر اٹھ رہی تھی۔ سورج آگے نکل
‫گیا تھا۔ سائے لمبے ہوتے جارہے تھے‪ ،ان دونوں کو تھکن نے چور کردیا تھا… وہ آگے کو جھکے ہوئے بڑھتے گئے اور اوپر
‫اٹھی ہوئی انتہائی بلندی تک پہنچ گئے۔ ریت نے اس کی آنکھیں بھر دی تھیں۔ مارکونی نے آنکھیں مل کر دیکھا۔ آگے ڈھالن
‫تھی اور چھوٹی چھوٹی ٹیکریاں۔ وہ ایک نیکری پر چڑھ گیا۔ اس نے اپنے ساتھی کو آواز دی اور بیٹھ گیا۔ اس نے کہا… ''تم
‫اگر ریگستان سے اچھی طرح واقف ہو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ سامنے دیکھو اور بتائو کہ یہ سراب
‫''تو نہیں؟
‫اس کے ساتھی نے دیکھا‪ ،آنکھیں بند کیں‪ ،کھولیں اور غور سے دیکھا۔ اس نے کہا… ''یہ سراب نہیں ہوسکتا''۔ وہ واقعی
‫سراب نہیں تھا۔ انہیں کھجوروں کے کئی ایک درختوں کی چوٹیاں نظر آرہی تھیں۔ پتے ہرے تھے۔ درخت نشیبی جگہ میں
‫معلوم ہوتے تھے اورکچھ دور بھی تھے۔ مارکونی ٹیکری سے آگے چال گیا۔ وہ اب دوڑ رہا تھا‪ ،اس کا ساتھی اس کے پیچھے
‫پیچھے جارہا تھا‪ ،وہاں عجیب وغریب شکلوں کی ٹیکریاں تھیں۔ بعض ایسی جیسے کوئی انسان گھنٹوں میں سردے کر بیٹھا
‫ہو۔ کچھ بڑی تھیں‪ ،کچھ چھوٹی۔ مارکونی ان میں سے راستہ تالش کرتا دوڑتا جارہا تھا۔ سورج پہاڑیوں کی چوٹیوں کے قریب
‫چال گیا۔ ۔ مارکونی کا سانس پھولنے لگا۔ اس کا ساتھی قدم گھسیٹتا جارہا تھا۔ مارکونی اچانک رک گیا اور آہستہ آہستہ یوں
‫پیچھے ہٹنے لگا جیسے اس نے کوئی ڈرائونی چیز دیکھ لی ہو۔ اس کا ساتھی اس سے جامال اور حیرت سے اسے دیکھنے
‫لگا۔
‫٭ ٭ ٭
‫ان دونوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ انہیں ایک نشیب نظر آرہا تھا۔ یہ کم وبیش ایک میل وسیع اور عریض تھا۔
‫اس کے اردگرد مٹی اور ریت کی اونچی اونچی قدرتی دیواریں تھیں۔ گہرائی کا یہ عالقہ سرسبزتھا۔ کچھ اونچا نیچا بھی تھا‪،
‫وہاں کھجوروں کے بہت سے درخت تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہاں پانی کی بہتات تھی۔ ایسے جہنم میں ایسا سرسبز گوشہ
‫فریب نگاہ نہیں تھا۔ وہ اسی خطے کی بو تھی جو مارکونی نے سونگھی تھی۔ مارکونی کو اس جگہ سے کچھ آگے ایسی
‫پہاڑیاں نظر آرہی تھیں جو ریت اور مٹی کی نہیں بلکہ پتھروں اور پتھریلی سلوں کی تھیں۔ ان کا رنگ سیاہی مائل تھا۔ اس
‫جہنمی خطے کے باہر سے یہ پہاڑیاں نظر نہیں آتی تھیں اور اس سرسبز جگہ کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔
‫مارکونی نے تیزی سے بیٹھ کر اپنے ساتھی کو بھی بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا۔ انہیں ایک اور عجیب وغریب چیز نظر آگئی
‫تھی۔ یہ دو انسان تھے جو نشیب میں اسی طرف آرہے تھے۔ وہ سر سے پائوں تک ننگے تھے‪ ،ان کے رنگ گہرے بادامی اور
‫ان کے چہرے اچھے خاصے تھے۔ کہیں سے ایک عورت نکلی۔ وہ کسی اور طرف جارہی تھی‪ ،اس کے بال بکھرے ہوئے اور
‫کمر تک لمبے تھے۔ شکل وصورت سے یہ لوگ حبشی اور جنگی نہیں لگتے تھے۔
‫یہ بدروحیں ہیں'' ۔ مارکونی کے ساتھی نے کہا… ''یہ انسان نہیں ہوسکتے۔ مارکونی! سورج غروب ہونے واال ہے‪ ،اٹھو‪'' ،
‫پیچھے کو بھاگ چلیں۔ رات کو یہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے''۔
‫مارکونی انہیں بدروحیں سمجھتے ہوئے بھی کہہ رہا تھا کہ یہ انسان ہوسکتے ہیں۔ وہ یقین کرنا چاہتا تھا کہ یہ کون لوگ
‫ہیں۔ وہ ہوا میں اڑ نہیں رہے تھے‪ ،زمین پر چل رہے تھے۔ دور انہیں تین بچے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے دوڑتے نظر
‫آئے۔ ان سب کی حرکتیں ایسی تھیں جن سے یقین ہوتا تھا کہ یہ انسان ہیں۔ مارکونی پیٹ کے بل سرکتا آگے چال گیا۔ اس
‫کا ساتھی بھی اس کے پہلو میں جالیٹا۔ وہ جہاں لیٹ کر دیکھ رہے تھے‪ ،وہاں کی دیوار عمودی نہیں کچھ ڈھالنی تھی اور
‫ریت زیادہ تھی۔ مارکونی کے ساتھی نے غالبا ً اور آگے ہونے کی کوشش کی یا جانے کیا ہوا‪ ،وہ نیچے کو سرک گیا اور لڑھکتا
‫ہوا نیچے جاپڑا۔ وہاں سے اوپر آنا ممکن نہیں تھا۔ مارکونی پیچھے کو سرک کر ایک ایسی ٹیکری کی اوٹ میں ہوگیا جہاں
‫سے وہ نیچے دیکھ سکتا تھا۔ یہ ڈھالن جہاں سے صلیبی گرا تھا‪ ،تیس چالیس گز اونچی ہوگی۔ مارکونی نے اپنے ساتھی کو
‫اٹھتے دیکھا‪ ،وہ ڈھالن پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ مارکونی اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا تھا۔
‫وہ دو ننگے آدمی جو اسی طرف آرہے تھے‪ ،دوڑ پڑے۔ مارکونی نے انہیں اوپر سے دیکھ لیا۔ اس کے ساتھی نے نہ دیکھا‪،
‫مارکونی اسے آواز نہیں دے سکتا تھا کیونکہ وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہاں کوئی اور انسان بھی ہے۔ ان دو آدمیوں نے
‫مارکونی کے ساتھی کو پیچھے سے دبوچ لیا۔ اس کے پاس خنجر تھا اور ایک چھوٹی تلوار بھی مگر ہتھیار نکالنے کا موقع نہ
‫مال۔ ان آدمیوں نے اسے نیچے گرالیا۔ وہ عورت جو کہیں جارہی تھی‪ ،دوڑتی آئی۔ ادھر سے بچے بھی آگئے۔ انہوں نے اپنی
‫زبان میں کسی کو پکارا۔ معلوم نہیں کہاں سے دس بارہ آدمی سب ننگے تھے‪ ،دوڑتے آئے۔ ایک نے مارکونی کے ساتھی کی
‫کمر سے تلوار نکال لی۔ اسے گرالیا گیا اور مارکونی نے دیکھا کہ تلوار سے اس کے ساتھی کی شہ رگ کاٹ دی۔ سب آدمی
‫ناچنے لگے۔ وہ کچھ گا بھی رہے تھے اور ہنس بھی رہے تھے۔ اتنے میں ایک ضعیف العمر انسان آگیا۔ اس کے ہاتھ میں
‫اپنے قد جتنا لمبا عصا تھا۔ اسے دیکھ کر سب ایک طرف ہٹ گئے۔
‫یہ بوڑھا بھی ننگا تھا۔ اس کے عصا کے اوپر والے سرے پر دو سانپوں کے پھن بنے ہوئے تھے۔ یہ فرعونوں کا امتیازی نشان
‫ہوا کرتا تھا۔ بوڑھے نے مارکونی کے ساتھی کے جسم کو ہاتھ لگایا۔ وہ اب تڑپ نہیں رہا تھا‪ ،مرچکا تھا۔ بوڑھے نے ایک ہاتھ
‫ہوا میں بلند کیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر کچھ کہا۔ تمام ننگے انسان جن میں چند ایک عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی‪،
‫سجدے میں گر پڑے۔ بوڑھا ابھی تک کچھ بول رہا تھا۔ اس نے ہاتھ پھر اوپر کیا اور سب سجدے سے سراٹھا کر اٹھ کھڑے
‫ہوئے۔ بوڑھے کو ڈھالن کی طرف اشارے کرکے بتایا جارہا تھا کہ یہ آدمی ادھر سے نیچے آیا ہے۔ بوڑھے کے اشارے پر وہ
‫لوگ مارکونی کے ساتھی کی الش کو اٹھا لے مارکونی کو یہ خطرہ نظر آنے لگا کہ یہ پراسرار انسان اوپر آکر ہر طرف دیکھیں
‫گے کہ نیچے گرنے والے کے ساتھی بھی اوپر ہوں گے وہ کچھ دیر وہیں سے نیچے دیکھتا رہا۔
‫پھر سورج غروب ہوگیا۔ مارکونی نے موت کو قبول کرلیا اور فیصلہ کرلیا کہ وہ اس جگہ اور ان لوگوں کے بھید کو پانے کی
‫کوشش کرے گا۔ اس نے ایک ہاتھ میں خنجر اور دوسرے ہاتھ میں چھوٹی تلوار لے لی اور ادھر ادھر دیکھتا ایک اور سمت
‫چل پڑا۔ شام اندھیری ہوتی جارہی تھی۔ وہ اوپر ہی اوپر سے اس طرف جارہا تھا جس طرف وہ اس کے ساتھی کو لے گئے
‫تھے۔ وہاں کوئی آہٹ اور کوئی آواز نہیں تھی۔ ڈرائونا ساسکوت تھا۔ وہ دائیں بائیں اور پیچھے دیکھتا آگے ہی آگے چلتا گیا۔
‫وہ نشیب کی گوالئی کے ساتھ ساتھ جارہا تھا۔ اسے دھیمی دھیمی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ جب یہ آوازیں بلند ہوگئیں تو یہ
‫ناچنے اور گانے کا ترنم اور ہنگامہ تھا۔ وہ ان آوازوں کی سمت گیا تو اسے ایک اور منظر نظر آیا۔ بائیں طرف ایک اور وسیع

‫نشیبی جگہ تھی۔ کئی مشعلیں جل رہی تھیں‪ ،وہاں بھی سبزہ تھا‪ ،جہاں کم وبیش پچیس مرد‪ ،عورتیں اور بچے آہستہ آہستہ
‫ناچ اور گا رہے تھے۔ ان کے درمیان بہت سی آگ جل رہی تھی۔ اس کے ذرا اوپر ایک انسانی الش سر اور پائوں سے باندھ
‫کر زمین کے متوازی لٹکائی ہوئی تھی۔ اسے گھمایا جارہا تھا۔ یہ مارکونی کا ساتھی تھا جسے بھونا جارہا تھا۔ مارکونی یہ
‫ہولناک منظر دیکھتا رہا… اور اس نے یہ منظر بھی دیکھا کہ بوڑھے نے اس کے ساتھی کے جسم سے گوشت کاٹ کر سب
‫میں تقسیم کرنا شروع کردیا۔
‫مارکونی کے دل پر ایسا گہرا اثر ہوا کہ وہاں سے ادھر کو واپس چل پڑا‪ ،جدھر سے آیا تھا۔ اسے راستہ یاد تھا۔ وہ چوکنا
‫ہوکر چال جارہا تھا۔ وہ اس دیوار پر پہنچا جو تصوروں سے زیادہ گہرے نشیب میں کھڑی تھی۔ یہیں اس کا ایک ساتھی گرا
‫تھا۔ وہ جب دیوار کے درمیان اس جگہ پہنچا جہاں سے اس کا ساتھی گرا تھا‪ ،اسے دور نیچے غرانے اور بھونکنے کی دبی
‫دبی آوازیں سنائی دیں۔ وہ سمجھ گیا کہ صحرائی لومڑیاں اس کے ساتھی کو کھا رہی ہیں۔ اس کے دوسرے ساتھی کو تو
‫انسان کھا گئے تھے۔ اب ہوا تیز نہیں تھی۔ وہ تاریکی میں سنبھل سنبھل کر چلتا اور سرکتا دیوار سے گزر گیا… رات کے
‫پچھلے پہر وہ اس جگہ پہنچا‪ ،جہاں تین اونٹ بیٹھے تھے۔ اس نے اتنا بھی انتظار نہ کیا کہ اونٹوں کے ساتھ بندھا ہوا پانی
‫پی لیتا۔ وہ ایک اونٹ پر بیٹھا۔ دو اونٹوں کو ساتھ لیا اور چل پڑا۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ اگلے دن کی شام تھی جب مارکونی ایک معزز مصری سودا گر کے روپ میں احمر درویش کے گھر میں داخل ہوا۔ احمر
‫''نے اسے دیکھتے ہی پوچھا… ''تم اکیلے ہو‪ ،وہ دونوں کہاں ہیں؟
‫مارکونی جواب دینے کے بجائے بیٹھ گیا۔ اس کے تو ہوش ہی ٹھکانے معلوم نہیں ہوتے تھے۔ اس نے احمر کو اپنے سامنے
‫بٹھا لیا اور اسے ایک ایک لمحے لمحے اور ایک ایک قدم کی رواداد سنائی۔ احمر کو مارکونی کے دو ساتھیوں کے مرنے کا
‫ذرہ بھر افسوس نہ ہوا۔ اس نے جب سنا کہ ایک ساتھی کو ننگے آدم خوروں نے کھا لیا ہے تو اس نے خوشی سے اچھل
‫کر پوچھا… ''کیا تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ ان میں سے کسی کے بھی جسم پر کپڑا نہیں تھا؟… بوڑھے کے عصا
‫پر دو سانپوں کے پھن تم نے دیکھے تھے؟… تم نے اچھی طرح دیکھا تھا کہ ان لوگوں نے ہمارے آدمی کا گوشت کھالیا
‫''تھا؟
‫میں خواب کی باتیں نہیں سنا رہا''۔ مارکونی نے جھنجھال کر کہا… ''مجھ پر جو بیتی ہے‪ ،میں وہ سنا رہا ہوں۔ میں ''
‫نے یہ اپنی آنکھوں دیکھا ہے جو سنا رہا ہوں''۔
‫فرعون بھی یہی سنا رہے ہیں جو تم نے سنایا ہے''۔ احمر درویش نے اٹھ کر مارکونی کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اسے ''
‫مسرت کی شدت سے جھنجھوڑتے ہوئے کہا… ''تم نے بھید پالیا ہے۔ مارکونی! یہی ہیں وہ لوگ جن کی مجھے تالش تھی۔
‫یہ قبیلہ سولہ صدیوں سے وہاں آباد ہے۔ یہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ زمانہ انہیں انسان کا گوشت کھانے پر مجبور
‫کردے گا۔ تم یہ تحریریں نہیں پڑھ سکتے۔ میں نے پڑھ لی ہیں۔ لکھا ہے کہ خزانوں کی حفاظت سانپ کیا کرتے ہیں لیکن
‫میرے مدفن کی حفاظت انسان کریں گے جو صدیوں بعد سانپ اور درندے بن جائیں گے۔ میرے مدفن کی حدود میں کوئی
‫انسان داخل ہوگا اسے میرے محافظ کھاجایا کریں گے۔ وقت اور زمانہ انہیں ننگا کردے گا لیکن میں نے جہاں اپنا دوسری دنیا
‫کا گھر بنایا ہے وہ جگہ اس کی ستر پوشی کرے گی۔ باہر کا کوئی مردان کی عورت پر نظر نہیں ڈال سکے گا جو نظر ڈالے
‫گا وہ وہاں سے زندہ نہیں جاسکے گا''۔
‫میں زندہ واپس آگیا ہوں''۔ مارکونی نے کہا۔''
‫اس لیے کہ تم نیچے نہیں گئے''۔ احمر نے کہا… ''تم نے جن سیاہ رنگ کے پتھریلے پہاڑوں کا ذکر کیا ہے‪ ،وہ پہاڑ ''
‫اپنے دامن میں کہیں ریمینس کی حنوط کی ہوئی الش اور خزانے چھپائے ہوئے ہیں… اور یہ ننگے لوگ؟… ان کے آبائو اجداد
‫اور ریمنس کے وقت سے وہاں پہرہ دے رہے ہیں۔ اور پندرہ سولہ صدیاں گزر گئیں۔ میں بتا نہیں سکتا کہ وہ زندہ کس طرح
‫رہتے ہیں۔ شاید درندوں کی طرح صحرا کے مسافروں کے شکار میں رہتے اور انہیں بھون کر کھالیتے ہیں‪ ،وہاں پانی کی افراط
‫ہے۔ کھجوروں کی کمی نہیں۔ ان کا زندہ رہنا حیران کن نہیں‪ ،وہ آج بھی فرعونوں کو خدا سمجھتے ہیں اگر ان کے عقیدے
‫''ٹوٹ چکے ہوتے تو وہ وہاں نہ ہوتے… تم نے ان کے پاس کوئی ہتھیار دیکھے تھے؟
‫نہیں!''۔''
‫ان کی تعداد کا کچھ اندازہ''۔''
‫رات کو جب اکٹھے تھے تو پچیس تھے''۔''
‫وہ اس سے زیادہ ہو بھی نہیں سکتے''۔ احمر درویش نے کہا۔''
‫ہاں!'' مارکونی نے کہا… ''میں نے ان کے پاس دو اونٹ بھی دیکھے تھے۔ اونٹ زیادہ بھی ہوسکتے ہیں مگر میں نے ''
‫صرف دو دیکھے تھے''۔
‫پھر وہ باہر آتے ہوں گے''۔ احمر درویش نے کہا… ''وہ باہر ضرور آتے ہوں گے۔ مسافروں کو پکڑنے کے لیے انہیں باہر ''
‫آنا ہی پڑتا ہو گا… سنو مارکونی! غور سے سنو۔ وہاں کوئی ایسا سیدھا راستہ ضرور ہے جس سے وہ باہر آتے اور اندر جاتے
‫ہوں گے۔ یہ پہاڑوں کا کوئی خفیہ راستہ ہوگا۔ میں نے تمہیں جو راستہ بتایا تھا۔ وہ آنے جانے کا ایسا راستہ نہیں جس سے
‫بار بار آیا جایا جاسکے۔ وہاں کوئی اور راستہ ہے جو ان ننگے آدم خوروں سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ میں اس کی ترکیب
‫سوچ چکا ہوں۔ ترکیب یہ ہے کہ وہاں باقاعدہ حملہ کیا جائے۔ ہوسکتا ہے ہمیں اس دیوار نما ٹیلے سے جس سے تمہارے
‫ایک ساتھی گر کر مرا ہے اور آدمی گرا کر مارنے پڑیں لیکن یہ قربانی ضروری ہے۔ بتائو پچیس تیس نہتے آدمیوں کو جن
‫میں بچے اور عورتیں بھی ہیں مارنے کے لیے اور ان میں دو تین کو زندہ پکڑنے کے لیے تمہیں کتنے آدمی درکار ہیں؟ کم
‫سے کم بتائو۔ تم ان آدمیوں کے رہنما اور سربراہ ہوگے''۔
‫میں ترکیب سمجھ گیا ہوں''۔ مارکونی نے کہا… ''ایک ترکیب میرے دماغ میں بھی آئی ہے۔ ہم انہیں قتل کرسکتے ہیں۔''
‫دو تین کو زندہ پکڑ سکتے ہیں لیکن میں آپ کو یہ یقین نہیں دال سکتا کہ وہ اس جگہ کے تمام بھید ہمیں بتا دیں گے۔
‫اپنے قبیلے کو مرتا دیکھ کر وہ بھی مرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے لیکن بتائیں گے کچھ نہیں۔ میں ایسی ترکیب کروں گا کہ
‫ان میں سے ایک دو آدمی باہر کو بھاگ اٹھیں اور ان کا تعاقب کیا جائے۔ راستہ معلوم ہوجائے گا''۔
‫''تم دانشمند ہو مارکونی!'' … احمر درویش نے کہا… ''بتائو کتنے آدمی ہوں؟''
‫پچاس!'' مارکونی نے جواب دیا اور کہا… ''زیادہ تر آدمی میرے منتخب کیے ہوئے ہوں گے۔ میں انہیں تالش کرلوں گا ''
‫مگر مہم کے آغاز سے پہلے میں اپنی شرطیں پیش کرنا چاہتا ہوں''۔

‫تمہیں منہ مانگا انعام ملے گا''۔ احمر نے کہا۔''
‫مجھے خزانے سے حصہ ملنا چاہیے''۔ مارکونی نے کہا… ''اتنی خطرناک مہم میرے فرائض میں شامل نہیں۔ میں جاسوس''
‫اور تخریب کار ہوں۔ مجھے خزانے کی تالش کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ یہ آپ کی ذاتی مہم ہے۔ میں انعام نہیں منہ مانگا
‫حصہ لوں گا۔ اگر آپ کا منصوبہ کامیاب ہوگیا تو آپ کو ایک ریاست کی حکمرانی مل جائے گی۔ میں جاسوس کا جاسوس
‫رہوں گا''۔
‫یہ مہم اور یہ منصوبہ ذاتی نہیں''۔ احمر درویش نے کہا… ''یہ مصر‪ ،صلیب اور سوڈان کی حکمرانی کا منصوبہ ہے''۔''
‫مارکونی اپنے مطالبہ پر قائم رہا۔ احمر مجبور ہوگیا۔ اسے احساس تھا کہ مارکونی کے سوا ریمینس کے مدفن تک کوئی اور
‫نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے مطالبے ماننے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مارکونی نے کہا… ''معلوم نہیں مجھے کتنے دن صحرا
‫میں رہنا پڑے۔ میں ایسی سخت اور خشک خوراک پسند نہیں کروں گا۔ مجھے دو تین اونٹ فالتو دئیے جائیں جو میں اور
‫میرے ساتھی بھون کر کھا سکیں اور مجھے قدومی دی جائے''۔
‫اعلی درجے کی رقاصہ کو تمہارے ساتھ ایسی خطرناک''
‫قدومی؟'' احمر درویش نے حیرت سے کہا… ''اتنی نازک اور ایسی
‫ٰ
‫مہم میں روانہ کردوں؟ وہ جانے پر بھی راضی نہیں ہوگی''۔
‫اسے زیادہ معاوضہ پیش کریں‪ ،وہ راضی ہوجائے گی''۔ مارکونی نے کہا… ''میں اس کے لیے ایسا انتظام کروں گا کہ وہ ''
‫محسوس ہی نہیں کرسکے گی کہ وہ صحرا میں ہے اور کسی خطرناک مہم میں شریک ہے۔ میں اس کی قدروقیمت سے واقف
‫ہوں''۔
‫یہ اس دور کا واقعہ ہے جب دولت مند تاجر اپنی چہیتی بیویوں کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ اپنی بیویوں میں سے
‫کوئی پسند نہ ہوتو کسی من پسند طوائف یا رقاصہ کو منہ مانگا معاوضہ دے کرہمسفر بنا لیتے تھے۔ فوجوں کے کمانڈر بھی
‫جنگ کے دوران اپنی بیویوں یا کرائے کی خوبصورت عورتوں کو ساتھ رکھا کرتے تھے۔ اس دور میں خوبصورت اور جوان عورت
‫کوسونے سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ صلیبیوں اور یہودیوں نے سلطنت اسالمی کی جڑیں کھوکھلی کرنے
‫کے لیے عورت کا استعمال کیا تھا
‫مار کونی کا یہ مطالبہ کہ وہ ایک رقاصہ کو اپنے ساتھ رکھے گا‪ ،کوئی عجیب یا غیرمعمولی مطالبہ نہ تھا۔ البتہ قدومی کو
‫اپنے ساتھ لے جانا کچھ عجیب سا تھا۔ قدومی ایک جواں سال رقاصہ تھی جو صرف امراء اور دولت مند افراد کے ہاں جاتی
‫تھی۔ وہ سوڈان کی رہنے والی تھی اور مسلمان تھی۔ وہ خوبصورت تو تھی ہی مگر اس کے ناز
‫و ادا میں جو جادو تھا‪ ،اس نے بڑے بڑے لوگوں کے دماغ خراب کررکھے تھے۔ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ قدومی مارکونی
‫کے ساتھ صحرا میں چلی جائے گی۔ مارکونی اس کے بغیر جانے پر راضی نہیں ہورہا تھا۔ احمر درویش کو آخر یہ وعدہ کرنا
‫پڑا کہ وہ قدومی کو اس کے ساتھ بھیج دے گا۔
‫اسی روز پچاس آدمیوں کی تالش شروع ہوگئی۔ قاہرہ میں صلیبی جاسوسوں اور تخریب کاروں کی کمی نہیں تھی۔ مارکونی
‫زیادہ تر آدمی انہی میں سے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ اس کے اعتماد کے آدمی تھے۔ احمر بھی اسی گروہ کے
‫آدمیوں کا انتخاب کرنا چاہتا تھا۔ سلطان ایوبی کے اس جرنیل نے اپنا ایک تخریب کار گروہ تیار کررکھا تھا۔ یہ سب مسلمان
‫تھے۔ ان کے اغراض ومقاصد صلیبیوں والے تھے۔ احمر درویش نے اپنا ایمان نیالم کرکے ان چند ایک مسلمانوں کو بھی ایمان
‫فروش بنا دیا تھا۔ یہ سب صالح الدین ایوبی کے دشمن بن گئے تھے اور ان کا اٹھنا بیٹھنا حسن بن صباح کے فدائیوں کے
‫ساتھ شروع ہوگیا تھا۔
‫قدومی کے پاس مارکونی خود احمر درویش کا پیغام لے کر گیا۔ احمر معمولی حیثیت کا آدمی نہیں تھا‪ ،وہ فوجی حاکم تھا اور
‫مصر پر عمال ً فوج کی حکومت تھی۔ ویسے بھی قدومی احمر کے زیراثر تھی۔ اس نے بادل نخواستہ ہاں کردی لیکن مارکونی
‫نے اسے یہ بتا کر کہ وہ فرعون کے مدفن میں سے ہیرے جواہرات نکالنے جارہا ہے‪ ،قدومی پر ایسا نشہ طاری کردیا کہ وہ
‫فورا ً روانہ ہونے کو تیار ہوگئی۔ مارکونی منجھا ہوا چاالک اور ہوشیار آدمی تھا۔ اس نے قدومی کو ملکہ قلوپطرہ بنا دیا۔ قدومی
‫ایک رقاصہ تھی جس کے کوئی جذبات نہیں تھے۔ اسے اپنے جسم‪ ،اپنے حسن‪ ،اپنے فن اور زروجواہرات سے پیار تھا۔ وہ ان
‫عورتوں میں سے تھی جو اس خوش فہمی میں مبتال ہوتی ہیں کہ ان کے حسن وجوانی کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ مارکونی
‫نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ فرعون کے مدفن سے برآمد ہونے واال خزانہ کہاں اور کیوں صرف کیا جائے گا۔
‫پچاس آدمیوں کی تالش میں پندرہ بیس دن لگ گئے۔ ان میں زیادہ تعداد صلیبی تخریب کاروں کی تھی۔ باقی مسلمان تھے۔
‫وہ بھی صلیبیوں کے ہی تخریب کار تھے۔ سب اونٹوں پر سوار ہوکر قاہرہ سے نکل گئے تھے لیکن وہ اکٹھے روانہ نہ ہوئے۔
‫تین تین چار چار کی ٹولیوں میں مسافروں اور تاجروں کے روپ میں نکلے۔ قدومی کو ایک پردہ دار بیوی کے بہروپ میں لے
‫جایا گیا۔ مارکونی اس کا خاوند بنا‪ ،ان دونوں کے ساتھ دو آدمی تھے۔ ایک صلیبی تھا اور دوسرا مسلمان جس کا نام اسماعیل
‫تھا۔ یہ احمر کے خاص آدمیوں میں سے تھا۔ اپنی ضرورت پر اور کرائے پر بھی ہر جرم کر گزرتا تھا۔ کرائے کے قاتلوں میں
‫سے بھی تھا۔ معاشرے میں اس کی کوئی حیثیت اور عزت نہیں تھی لیکن حیثیت والے لوگ اسے سالم کرتے تھے۔
‫مارکونی بھی اسے اچھی طرح جانتا تھا اور اس مہم میں اسے قابل اعتماد سمجھتا تھا۔ یہ سب الگ الگ راستوں سے روانہ
‫ہوئے تھے۔ انہیں اٹھارہ کوس دور وہ جگہ بتا دی گئی تھی جہاں انہیں اکٹھا ہونا تھا۔ ان کے پاس تیروکمان اور تلواریں تھیں۔
‫رسے اور کھدائی کا سامان تھا۔
‫سب سے پہلے مارکونی‪ ،اسماعیل‪ ،قدومی اور ان کا ایک صلیبی ساتھی وہاں پہنچے تھے۔ مارکونی انہیں اس پہاڑی عالقے کے
‫اندر لے گیا تھا۔ سورج غروب ہوچکا تھا اور انہوں نے خیمے لگا لیے تھے۔ اسی رات ان کے ساتھیوں کو پہنچ جانا تھا۔
‫اسماعیل قدومی کو جانتا تھا۔ قدومی اس سے واقف نہیں تھی
‫٭ ٭ ٭
‫ایک وہ محاذ تھا جس پر نورالدین زنگی لڑ رہا تھا۔ اس نے کرک کا قلعہ فتح کرکے وہاں کے اور مضافات کے عالقوں میں
‫انتظامات مکمل کرلیے تھے۔ اس کے گشتی دستے دور دور تک گشت کرتے تھے تاکہ صلیبی کسی طرف سے جوابی حملے کے
‫لیے آئیں تو قبل از وقت اطالع مل جائے۔ ان دستوں کا تصادم صلیبی دستوں سے ہوتا رہتا تھا۔ زنگی تمام انتظامات سلطان
‫ایوبی کی فوج کے حوالے کرکے بغداد واپس جانے کی تیاریاں کرنا چاہتا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے انتظار میں تھا مگر سلطان
‫ایوبی دوسرے محاظ پر لڑ رہا تھا جو صلیبیوں اور ان کے پیدا کردہ غداروں نے مصر میں کھول رکھا تھا۔ یہ محاذ زیادہ
‫خطرناک تھا۔ سلطان ایوبی اس زمین دوز محاذ پر لڑنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ وہ خوب مقابلہ کررہا تھا مگر اسے ابھی پتا
‫نہیں چال تھا کہ ایک محاذ اور بھی کھل گیا ہے۔ یہ تھا ''فرعونوں کے مدفون کی تالش''۔

‫شام کے کھانے کے بعد سلطان ایوبی اس کمرے میں گیا‪ ،جہاں وہ اپنے ساالروں اور دیگر حکام کو اکٹھا کرکے احکامات اور
‫اعلی کمانڈروں کے عالوہ علی بن سفیان اور غیاث بلبیس بھی تھے۔ سلطان ایوبی کو اسی
‫ہدایات دیا کرتا تھا۔ وہاں فوج کے
‫ٰ
‫روز نورالدین زنگی کا ایک طویل تحریری پیغام مال۔ اس نے اس پیغام کے ضروری حصے کمانڈروں کو سنائے۔ زنگی نے لکھا
‫تعالی تمہیں زندہ سالمت رکھے۔ اسالم کو تمہاری بہت ضرورت ہے۔ کرک اور گردوپیش کے
‫تھا… ''عزیز صالح الدین اللہ
‫ٰ
‫عالقے دشمن سے صاف ہوچکے ہیں۔ گشتی دستے جاتے ہیں تو صلیبیوں کا کوئی دستہ کبھی
‫ہمارے کسی دستے سے الجھ پڑتا ہے۔ صلیبی مجھ پر یہ رعب ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ابھی یہیں ہیں۔ تمہارے
‫تیار کیے ہوئے چھاپہ مار دستے تعریف کے قابل ہیں۔ یہ بہت دور تک چلے جاتے ہیں تم نے ان پر جو محنت کی ہے وہ
‫اس کا صلہ دے رہے ہیں۔ تمہارے جاسوس ان سے بھی دلیر اور عقل مند ہیں۔ ان کی نظروں سے میں اتنی دور بیٹھا ہوا
‫''دشمن کی ہر ایک حرکت دیکھ رہا ہوں۔
‫تازہ اطالع یہ ہے کہ صلیبی شاید جوابی حملہ نہ کریں۔ وہ ہمیں اشتعال دال رہے ہیں کہ ہم آگے جاکر ان پر حملہ کریں۔ '
‫تم جانتے ہو کہ بیت المقدس جو ہماری منزل ہے اور قبلٔہ اول جو ہمارا مقصود ہے کتنی دور ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم ان
‫فاصلوں سے اور ان مسافتوں سے گھبرانے والے انسان نہیں ہو لیکن فاصلے زیادہ نہیں‪ ،دشواریاں اور رکاوٹیں زیادہ ہیں۔ بیت
‫المقدس تک ہمیں بہت سے قلعے سرکرنے ہوں گے۔ ان میں چند ایک قلعے تو بہت مضبوط ہیں۔ صلیبیوں نے قبلٔہ اول کا
‫دفاع دور دور کی قلعہ بندیوں کی صورت میں بہت مضبوط کررکھا ہے۔ جاسوسوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ صلیبی اس کوشش
‫میں ہیں کہ یونانیوں‪ ،بازنطینیوں اور اطالویوں کا بحری بیڑہ متحدہ ہوجائے اور مصر پر حملہ آور ہوکر شمالی عالقے میں فوجیں
‫اتار دے۔ تمہیں اس صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پیش بندی کرلو۔ تمہارے پاس دور مار آتشیں‪ ،گولے پھینکنے والی
‫منجنیقیں زیادہ ہونی چاہئیں۔ میں یہ مشورہ دوں گا کہ شمالی عالقے کی زمین اجازت دے تو دشمن کے بحری بیڑے کو ساحل
‫تک آنے دو۔ وہاں مزاحمت نہ کرو‪ ،دشمن کو اس خوش فہمی میں مبتال کردو کہ اس نے تمہیں بے خبری میں آن دبوچا ہے۔
‫…''فوجیں اتر آئیں تو جہازوں پر آگ برسائو اور صلیبی فوج کو اپنی پسند کے میدان میں گھسیٹ الئو
‫میں تمہاری مجبوریوں سے بے خبر نہیں ہوں۔ تمہارے قاصد نے تمام حاالت بتائے ہیں۔ رب کعبہ کی قسم‪ ،صلیبیوں کی ساری
‫بادشاہیاں طوفان کی طرح آجائیں تو بھی امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ امت لہو دینا
‫جانتی ہے۔ یہ سرفروشوں کی امت ہے مگر ایمان فروشوں نے ہمیں زنجیریں ڈال رکھی ہیں۔ تم قاہرہ میں قید ہوگئے ہو میں
‫بغداد سے نہیں نکل سکتا۔ عورت‪ ،شراب اور زرو دولت نے ہماری صفوں میں شگاف کرڈالے ہیں۔ اگر ہمارے گھر میں سکون
‫اور اعتماد ہوتا تو ہم دونوں صلیب کا مقابلہ کرتے مگر کفار نے ایسا طلسم پیدا کیا ہے کہ مسلمان بھی کافر ہوگئے ہیں۔ یہ
‫کافر مسلمان اتنے مردہ ہوچکے ہیں کہ یہ احساس بھی نہیں رکھتے کہ ان کا دشمن ان کی بیٹیوں کی عصمت سے کھیل رہا
‫ہے۔ کرک کے مسلمان بہت بری حالت میں تھے۔ صلیبیوں نے ان پر جو مظالم ڈھائے‪ ،وہ سنو تو لہو کے آنسو روئو۔ میں
‫…اپنی قوم کے غداروں کو کیسے سمجھائوں کہ دشمن کی دوستی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے
‫تم نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ تمہارے اپنے بھائی اور اچھے اچھے حاکم اور کمان دار تمہارے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔''
‫صالح الدین ایوبی! افسوس اس پر نہیں کہ وہ تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے‪ ،افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ غدار ہوئے اور یہ بھی
‫افسوسناک ہے کہ صلیبی خوش ہورہے ہوں گے کہ وہ مسلمانوں کو مسلمان کے ہاتھوں قتل کرا رہے ہیں۔ تم غداروں کو بخش
‫نہیں سکتے۔ غدار کی سزا قتل ہے… میں تمہار انتظار کررہا ہوں۔ تم جب آئو تو تمہارے ساتھ فوج زیادہ ہونی چاہیے۔ صلیبی
‫تمہیں قلعہ بندیوں میں لڑا کر تمہاری طاقت زائل کرنا چاہتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیت المقدس کے راستے میں ہی تم
‫بے دست پا ہوجاو۔ تم جب آئو تو مصر کے اندرونی حاالت کو پوری طرح قابو میں کرکے آنا۔ سوڈانیوں کی طرف سے چوکنا
‫رہنا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سامنے کچھ مالی مسائل بھی ہیں۔ میں تمہاری مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔ بہتر ہے
‫کہ اپنے مسائل خود ہی حل کرنے کی کوشش بھی کرو کہ قاہرہ سے جلدی نکل آئو لیکن اندر اور باہر کے حاالت دیکھ کر
‫وہاں سے نکلنا۔ اللہ تمہارا حامی ہے''۔
‫صالح الدین ایوبی نے مجلس کے حاضرین کو یہ پیغام پڑھ کر سنایا اور انہیں یہ امید افزا خبریں سنائیں کہ فوج میں شامل
‫ہونے کے لیے دیہاتی عالقے سے لوگ آنے لگے ہیں۔ توہم پرستی کی جو مہم دشمن نے شروع کی تھی وہ ختم کردی گئی
‫ہے لیکن کہیں کہیں اس کے اثرات باقی ہیں۔ ایک فتور مسجدوں سے بھی اٹھا تھا۔ اسے بھی دبا لیا گیا ہے۔ تین چار
‫اماموں نے انہیں توہمات کو جو صلیبیوں نے ہمارے مذہب میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی‪ ،لوگوں کے ذہنوں میں ڈالنا
‫شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو خدا کا ایلچی بنا لیا تھا۔ ہمارے سامنے ایسے لوگ آئے ہیں جو کسی مصیبت کے
‫وقت براہ راست خدا سے دعا مانگنے کے بجائے اماموں کو نذرانے دیتے رہے کہ وہ ان کے لیے دعا کریں۔ یہ وہم پھیال دیا
‫گیا تھا کہ عام آدمی خدا سے کچھ نہیں مانگ سکتا‪ ،نہ خدا اس کی سنتا ہے۔ سلطان ایوبی نے کہا…… ''میں نے ان
‫اماموں کو مسجدوں سے نکال دیا ہے اور مسجدیں ایسے اماموں کے حوالے کردی ہیں جن کے نظریات اور عقیدے قرآن کے
‫عین مطابق ہیں۔ وہ اب لوگوں کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ مسلمان کا خدا عالم اور بے علم کے لیے‪ ،امیر اور غریب کے
‫لیے‪ ،حاکم اور رعایا کے لیے ایک جیسا ہے۔ وہ ہر کسی کی دعا سنتا ہے۔ اچھے عمل کی جزا اور برے عمل کی سزا دیتا
‫ہے۔ میں اپنی قوم میں یہی قوت اور یہی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اور خدا کو سمجھنے کی
‫کوشش کریں۔ میرے دوستو! تم نے دیکھ لیا ہے کہ تمہارا دشمن صرف میدان جنگ میں نہیں لڑ رہا۔ وہ تمہارے دلوں میں نئے
‫عقیدے ڈال رہا ہے۔ یہودی اس مہم میں پیش پیش ہے۔ یہودی اب کبھی تمہارے آمنے سامنے آکر نہیں لڑے گا۔ وہ تمہارے
‫ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس عمل میں اتنی جلدی کامیاب نہیں ہوسکتا لیکن وہ ناکام بھی نہیں ہوگا۔ وہ
‫وقت آئے گا جب خدا کی دھتکاری ہوئی یہ قوم مسلمانوں کو کمزور دیکھ کر ایسی چال چلے گی کہ اپنے مقصد کو پالے گئی۔
‫اس کا خنجر سلطنت اسالمیہ کے سینے میں اتر جائے گا۔ اگر اپنی تاریخ کو اس ذلت سے بچانا چاہتے ہو تو آج ہی پیش
‫بندی کرلو۔ اپنی قوم کے قریب جاو۔ اپنے آپ کو حاکم اور قوم کو محکوم سمجھنا چھوڑ دو۔ ان میں اتنا وقار پیدا کرو کہ یہ
‫قومی وقار پر جانیں قربان کردیں''۔سلطان ایوبی نے بتایا کہ صلیبیوں کے پاس عورت اور دولت ہے اور ہمارے ہاں ان دونوں
‫کا اللچ موجود ہے۔ ہمارے سامنے ایک مہم یہ بھی ہے کہ قوم کے دل سے عورت اور دولت کا اللچ نکال دیں۔ اس کے لیے
‫اعلی کمانڈر نے کہا… ''ہمیں دولت کی ضرورت بھی ہے‪،
‫ایمان کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ ''امیر محترم!'' ایک
‫ٰ
‫اخراجات پورے کرنے مشکل ہورہے ہیں۔ ہمیں بعض کاموں میں مشکل پیش آتی ہے''۔ ''میں یہ مشکل آسان کردوں گا''۔
‫سلطان ایوبی نے کہا… ''تمہیں یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے قبول کرنی پڑے گی کہ مسلمانوں کے پاس دولت کی اور فوج کی
‫کمی رہی ہے اور رہے گی۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علی و آلہ وسلم نے پہلی جنگ تین سو تیرہ مجاہدین کی طاقت سے

‫لڑی تھی۔ اس کے بعد مسلمان جہاں بھی لڑے‪ ،اسی تناسب سے لڑے۔ مسلمانوں کے پاس دولت کی کمی کبھی نہیں رہی۔
‫دولت چند ایک افراد کے گھروں میں چلی گئی۔ اب بھی ہماری قوم کا یہی حال ہے۔ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے جو مالک
‫مسلمان ہیں‪ ،ان کے پاس دولت کے ڈھیر پڑے ہیں''۔ ''دولت کے ڈھیر یہاں بھی پڑے ہیں‪ ،ساالراعظم''۔ غیاث بلبیس نے
‫کہا… ''اگر آپ اجازت دیں تو ہم ایک نئی مہم شروع کرسکتے ہیں… آپ کو معلوم ہے کہ مصر خزانوں کی سرزمین ہے۔
‫یہاں جو فرعون بھی مرا وہ اپنا تمام تر خزانہ اپنے ساتھ زمین کے نیچے لے گیا۔ وہ خزانے کس کے تھے؟ یہ اس غریب
‫مخلوق کی دولت تھی جسے بھوکا رکھ کر اس سے سجدے کرائے گئے۔ اس دور کے انسان نے فرعون کو خدا صرف اس لیے
‫کہا تھا کہ وہ انسان بھوکا تھا۔ اس کی قسمت فرعونوں کے ہاتھ میں تھی۔ اس کی زندگی اور موت بھی فرعونوں نے اپنے
‫ہاتھ میں لے لی تھی۔ انسانوں سے زمین کھدوا کر اور پہاڑ کٹوا کر فرعونوں نے اپنے زمین دوز مقبرے بنائے‪ ،تو وہ ایسے
‫جیسے ان کے محل تھے۔ ان میں انہوں نے وہ دولت ڈھیر کرلی جو لوگوں کی تھی۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم فرعونوں کے
‫زمین دوز مقبروں اور مدفنوں کی تالش شروع کردیں اور خزانے ملک اور قوم کی خاطر استعمال کریں''۔غیاث بلبیس کی تائید
‫میں کئی آوازیں اٹھیں…'' یہی صحیح ہے امیر محترم! ہم نے اس سے پہلے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا''… ہم اس مہم
‫میں فوج کو استعمال کرسکتے ہیں… ''شہری آبادی سے ایک لشکر جمع کیا جاسکتا ہے''… ہاں ہاں‪ ،غیر فوجیوں کو
‫استعمال کیا جائے اور انہیں اجرت دی جائے''۔مجلس میں ہنگامہ سا بپا ہوگیا۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا اگر کوئی
‫خاموش تھا تو وہ صالح الدین ایوبی تھا۔ مجلس میں بہت دیر بعد یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کا امیر اور ساالر اعظم خاموش
‫ہے۔ مجلس پر بھی خاموشی طاری ہوگئی۔ سلطان ایوبی نے سب پر نگاہ ڈالی اور کہا…''میں اس مہم کی اجازت نہیں دے
‫سکتا جس کی تجویز غیاث بلبیس نے پیش کی ہے''… مجلس پر سناٹا طاری ہوگیا۔ کسی کی توقع نہیں تھی کہ سلطان
‫ایوبی اس تجویز کو ٹھکرا دے گا۔ اس نے کہا… ''میں نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد تاریخ مجھے قبر چور اور مقبروں کا ڈاکو
‫کہے۔ تاریخ نے مجھے ذلیل کیا تو اس میں تمہاری بھی ذلت ہوگی۔ آنے والی نسلیں کہیں گی کہ صالح الدین ایوبی کے مشیر
‫اور وزیر بھی قبر چور تھے۔ صلیبی اس الزام کو خوب اچھالیں گے اور تمہاری قربانیوں اور جذبٔہ اسالم کو ڈکیتی اور راہزنی کا
‫نام دے کر تمہیں تمہاری ہی نسلوں میں رسوا کردیں گے اور تم ہی نہیں‪ ،ہماری تاریخ ذلیل اور رسوا ہوجائے گی''۔
‫''گستاخی معاف امیر محترم!''… علی بن سفیان نے کہا… ''تھوڑے سے عرصے کے لیے مصر صلیبیوں کے قبضے میں آیا
‫تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے یہاں کے خزانوں کی تالش شروع کی تھی۔ ۔ قاہرہ کے مضافات میں ہم نے جن کھنڈروں سے
‫صلیبی تخریب کاروں اور فدائیوں کا ایک گروہ پکڑا تھا‪ ،وہ کسی فرعون کا مدفن تھا۔ وہاں سے وہ سب کچھ لے گئے تھے۔
‫صلیبیوں کی حکومت زیادہ دیر قائم نہ رہی‪ ،ورنہ وہ یہاں کے تمام خزانے نکال کر لے جاتے۔ محترم غیاث بلبیس نے ٹھیک
‫کہا ہے کہ یہ خزانے اگر کسی کی ملکیت ہیں تو وہ فرعون نہیں تھے۔
20:03
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪61۔ جب خزانہ مل گیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫تو وہ فرعون نہیں تھے۔ان کے مالک اس وقت کے انسان تھے۔ میں یہ مشورہ پیش کرنے کی جرٔات ضرور کروں گا کہ یہ
‫خزانے نکال کر آج کے انسان کی فالح وبہبود اور وقار کے لیے استعمال کیے جائیں''۔ ''اور میں تمہیں یہ بھی بتا دوں''…
‫سلطان ایوبی نے کہا… ''کہ یہ خزانے تمہارے سامنے آئے تو تم بھی فرعون بن جاو گے۔ انسان کو یہ جرٔات کس نے دی
‫تھی کہ وہ اپنے آپ کو خدا سمجھے؟… دولت اور دولت کی ہوس نے۔ انسان کو انسان کے آگے سجدہ کس نے کرایا تھا؟…
‫مفلسی اور بھوک نے۔ تم صلیبیوں کی بات کرتے ہو کہ انہوں نے فرعونوں کے ایک مدفن کو لوٹا۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ
‫جب پہلے فرعون کی الش تمام تر خزانے کے ساتھ زمین میں دبائی گئی تھی‪ ،قبر چوری اسی وقت شروع ہوگئی تھی۔ انسان
‫وحشیوں اور درندوں کی طرح پہلے فرعون کے مدفن پر ٹوٹ پڑے تھے۔ ان کا دین اور ایمان صرف دولت بن گیا تھا پھر
‫فرعون مرکز اپنے خزانے زمین میں لے جاتے رہے اور قبر چوری باقاعدہ پیشہ بن گئی۔ اس کے بعد ہر فرعون نے اپنی زندگی
‫میں ہی اپنا مدفن کسی ایسی جگہ تیار کرایا کہ کوئی اسے کھول نہ سکے اور جب فرعونوں کا دور ختم ہوگیا تو مصر جس
‫کے قبضے میں بھی آیا اس نے اس چھپے ہوئے خزانوں کی تالش شروع کردی۔ میں جانتا ہوں کہ فرعونوں کے بہت سے
‫مدفن ایسے ہیں جن کے متعلق کوئی جانتا ہی نہیں کہ کہاں ہیں۔ وہ زمین دوز محل ہیں۔ قیامت تک مصر کے حکمران اور
‫حملہ آور ان مدفنوں کو ڈھونڈتے رہیں گے''… ''ان تمام حکومتوں کو زوال کیوں آیا؟ صرف اس لیے کہ ان کی توجہ خزانوں
‫پر مرکوز ہوگئی تھی۔ رعایا کو یہ تاثر دیا گیا کہ دولت ہے تو عزت ہے۔ ہاتھ خالی ہے تو تم بھی اور تمہاری بیٹیاں بھی ان
‫کی ہیں جن کے پاس دولت ہے…میرے رفیقو! صالح الدین ایوبی کو اس قطار میں کھڑا نہ کرو۔ میں اپنی قوم کو یہ تاثر دینا
‫چاہتا ہوں کہ اصل دولت قومی وقار اور ایمان ہے لیکن یہ تاثر صرف اس صورت میں پیدا کیا جاسکتا ہے کہ میں خود اور تم
‫سب جو حکومت کے ستون ہو‪ ،دل سے دولت کا اللچ نکال دو''۔ ''ہم ان خزانوں کی تالش ذاتی اللچ کے لیے نہیں کرنا
‫چاہتے'' ۔ ایک کمانڈر نے کہا… ''ہم قومی ضروریات کے پیش نظر یہ مہم شروع کرنا چاہتے ہیں''۔ ''میں جانتا ہوں میرا
‫انکار تم میں سے کسی کو پسند نہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میری بات سمجھنے کے لیے تمہیں اپنے ذہن بالکل خالی
‫کرنے ہوں گے۔ میری عقل مجھے بتا رہی ہے کہ باہر سے آئی ہوئی دولت جو قومی ضروریات کے لیے آئی ہو‪ ،حاکموں کے
‫ایمان متزلزل کرتی ہے۔ یہ دولت کی لعنت ہے اگر میرے پاس گھوڑا خریدنے کے لیے رقم نہیں ہوگی تو میں فوج کے ساتھ
‫پیدل بیت المقدس جاوں گا۔ گھوڑا خریدنے کے لیے مردوں کے کفن اتار کر نہیں بیچوں گا۔ میرا مقصد بیت المقدس کو صلیبیوں
‫سے آزاد کرانا ہے۔ گھوڑا خریدنے کے لیے رقم کا حصول میرا مقصد نہیں۔ تم جب خزانوں کی تالش کرنے لگو گے تو قوم میں
‫ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے طور پر چوری چھپے مقبروں کو اکھاڑنے لگیں گے۔ مصر میں ایسا ہوتا آیا ہے اور جب یہ
‫خزانے تمہارے سامنے آئیں گے تو تم ایک دوسرے کے اگر دشمن نہ ہوئے تو ایک دوسرے کو شک کی نگاہوں سے ضرور دیکھو
‫گے۔ جہاں خزانے آجاتے ہیں‪ ،وہاں انسانی محبت ختم ہوجاتی ہے۔ حقوق العباد کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ ان زروجواہرات نے
‫انسان کو خدا بنایا تھا۔ وہ عذاب کہاں ہیں؟ آسمانوں پر نہیں‪ ،زمین کے نیچے ہے۔ میرے رفیقو! میں ایک نئے جرم کی بنیاد
‫نہیں ڈالنا چاہتا۔ ان خزانوں سے بچو۔ یہ خزانوں کے اللچ کا ہی کرشمہ ہے کہ تمہاری صفوں میں غدار بھی موجود ہیں۔ تم
‫دو غداروں کو قتل کرتے ہو تو چار اور پیدا ہوجاتے ہیں۔ اپنی تقدیر‪ ،اپنی تدابیر سے بنائو۔ تم مسلمان ہو‪ ،اپنی قسمت کفار
‫کے ہاتھوں میں نہ دو۔ ورنہ سب غدار ہوجائو گے۔ فرعون مرچکے ہیں۔ انہیں زمین کی تہوں میں دبا رہنے دو''۔ ''آپ کے
‫حکم کے بغیر ہم ایسی کوئی مہم شروع نہیں کریں گے''۔ کسی نے کہا۔ ''غیاث!'' سلطان ایوبی نے غیاث بلبیس سے

‫مسکرا کر پوچھا… ''آج تمہیں ان پوشیدہ خزانوں کا خیال کیسے آگیا ہے؟ مجھے یہاں آئے چار سال ہوگئے ہیں۔ اس سے
‫پہلے یہ تجویز کیوں پیش نہ کی''۔ ''میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا امیر محترم!'' غیاث بلبیس نے کہا… ''تقریبا ً دو
‫مہینے ہوئے کتب خانے کے محرر نے مجھے بتایا تھا کہ پرانے کاغذات میں سے کچھ کاغذات گم ہوگئے ہیں۔ میں نے ان
‫کاغذات کی نوعیت اور اہمیت پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ ایسے اہم نہیں تھے کہ تالش ضروری سمجھی جائے۔ یہ کچھ
‫نقشے سے تھے اور فرعونوں کے وقتوں کی تحریریں تھیں۔ بہت ہی بوسیدہ اور کرم خوردہ کاغذات اور کپڑے تھے۔ محرر نے
‫جب فرعونوں کا نام لیا تو مجھے خیال آیا کہ ان تحریروں اور نقشوں میں فرعونوں
‫کے خفیہ مقبروں کے متعلق معلومات ہوسکتی ہیں۔ میں نے وہ پلندے دیکھے‪ ،جن میں سے کاغذات گم ہوئے تھے۔ میں نے
‫یہ سوچ کر زیادہ توجہ نہیں دی کہ ان تحریروں کو آج کون پڑھ اور سمجھ سکتا ہے''۔ ''تم نے صحیح نہیں سوچا غیاث
‫بلبیس!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''مصر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان تحریروں اور اشاروں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان
‫کاغذوں اورنقشوں کی چوری حیران کن نہیں۔ یہ چوری خزانے کے کسی اللچی نے کی ہوگی۔ ان کاغذوں کے ساتھ مجھے کوئی
‫دلچسپی نہیں‪ ،مجھے چور کے ساتھ دلچسپی ہے۔ وہ کوئی تمہارا ہی رفیق نہ ہو۔ اس چور کا سراغ لگائو''۔ ''مجھے شبہ
‫ہونے لگا ہے کہ ان کاغذوں کی کچھ اہمیت ضرور ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''میں محترم غیاث بلبیس کے ساتھ بات
‫کرچکا ہوں۔ بہت دنوں سے ہمارے مخبر اور شہر کے اندر کے جاسوس ہمیں کسی پراسرار سرگرمی کی اطالع دے رہے ہیں۔
‫قدومی یہاں کی ایک مشہور رقاصہ ہے‪ ،جسے امیروں کی محفلوں کی شمع کہا جاتا ہے‪ ،پانچ چھ دنوں سے غائب ہے۔ ایک
‫رقاصہ کا شہر سے غیرحاضر ہوجانا کوئی اہم واقعہ نہیں ہوا کرتا لیکن قدومی کو میں نے خاص طور پر نظر میں رکھا ہوا ہے۔
‫میرے مخبروں نے بتایا ہے کہ اس کے ہاں اجنبی اور مشکوک سے دو آدمی آتے رہے ہیں۔ پھر قدومی کے گھر سے ایک روز
‫ایک پردہ پوش عورت کو نکلتے دیکھا گیا۔ وہ ایک اجنبی تاجر مسافر کے ساتھ جارہی تھی۔ مجھے شک ہے کہ قدومی بھیس
‫بدل کر نکل گئی ہے۔ دوسرے مخبروں کی اطالعوں سے پتا چلتا ہے کہ کچھ آدمی جنوب کی طرف مشکوک حالت میں جاتے
‫دیکھے گئے ہیں۔ ان سرگرمیوں سے مجھے شک ہوتا ہے کہ ان کا تعلق ان گمشدہ کاغذات کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور یہ
‫شبہ بھی ہے کہ یہ صلیبی تخریب کار ہوں گے۔ جو کچھ بھی ہے ہم ان سرگرمیوں کا کھوج لگا رہے ہیں''۔ ''ضرور کھوج
‫لگائو'' ۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اور ان خزانوں کو اپنے ذہنوں سے اتار دو۔ میں جانتا ہوں کہ قوم کی فالح وبہبود کے لیے
‫اور صلیبیوں سے فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے ہمیں مالی استحکام کی ضرورت ہے مگر میں کسی سے مدد نہیں مانگوں گا۔
‫محترم نورالدین زنگی نے مالی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ میں یہ امداد بھی قبول نہیں کروں گا۔ مالی امداد سگے بھائی سے ملے
‫تو بھی انسانی صالحیتوں کے لیے محنت اور دیانت داری کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے پھر انسان خزانوں کی تالش میں مارا
‫مارا پھرنے لگتا ہے۔ مصر کی زمین بانجھ نہیں ہوگئی۔ محنت کرو کہ یہ زمین تمہیں ثمر دے۔ قوم کو بتاو کہ حکومت پر اس
‫کے حقوق کیا ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو رعایا سمجھنا چھوڑ دے اور قوم کو یہ بھی بتائو کہ اس کے فرائض کیا ہے اگر قوم
‫نے فرائض سے نگاہیں پھیر لیں تو حقوق پامال ہوجائیں گے۔ تم جس زمین کی پاسبانی میں خون نہیں بہائو گے اور جس کے
‫وقار کے لیے پسینہ نہیں بہائو گے‪ ،وہ تمہارا حق کبھی ادا نہیں کرے گی۔ پھر اس ملک کے حکمران باہر کے خزانوں کی
‫''تالش میں نکل کھڑے ہوں گے اور قوم افراد میں منتشر ہوکر کفار کی غالم ہوجائے گی
‫۔٭ ٭ ٭جن خزانوں کو سلطان صالح الدین ایوبی ہاتھ لگانے سے بھی گریز کرتا تھا‪ ،ان تک اس کے اپنے ہی ایک جرنیل کے
‫بھیجے ہوئے پچاس آدمی پہنچ گئے تھے۔
‫مارکونی‪ ،اسماعیل‪ ،قدومی اور ایک اور صلیبی شام کو پہنچے۔ ان کے باقی ساتھی جو الگ الگ ٹولیوں میں روانہ ہوئے تھے‪،
‫اسی رات پہنچنا شروع ہوئے اور آدھی رات کے بعد پورے پچاس آدمی پہنچ گئے۔ جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے‪ ،یہ جگہ ایسی
‫تھی جس کے قریب سے کبھی کوئی مسافر نہیں گزرا تھا۔ جگہ ڈرائونی ہونے کے عالوہ کسی راستے پر پڑتی ہی نہیں تھی۔
‫یہ چونکہ سرحد سے دور تھی‪ ،اس لیے سرحدی دستوں کی نظر میں بھی نہیں تھی۔ مارکونی نے رات کو ہی سب کو اس
‫خطے کے اندر پہنچا دیا تاکہ باہر سے کوئی دیکھ ہی نہ سکے اور انہیں مکمل آرام دینے کے لیے کہا کہ وہ جتنی دیر سو
‫سکتے ہیں‪ ،سوجائیں۔ یہاں سے آگے پیدل جانا ہوگا اور یہ سفر جسم کے بجائے اعصاب کو زیادہ تھکائے گا۔ مارکونی خود
‫قدومی کے ساتھ اپنے خیمے میں چال گیا۔وہ سب اس وقت جاگے جب سورج ان ٹیلوں کے اوپر آگیا جس کے دامن میں سب
‫سوئے ہوئے تھے۔ مارکونی نے انہیں بتایا کہ وہ کون کون سا سامان‪ ،اوزار اور ہتھیار وغیرہ اپنے ساتھ لیں۔ ان میں مضبوط
‫رسے‪ ،کدالیں اور موٹی موٹی سالخیں تھیں اور ہتھیاروں میں تیروکمان اور تلواریں۔ راستے کی مشکالت کے متعلق بھی اس نے
‫سب کو بتا دیااس دیوار کے متعلق بھی انہیں ذہنی طور پر تیار کردیا‪،کہ اس سے اس کا ایک ساتھی گر کر ہمیشہ کے لیے
‫الپتہ ہو گیا
‫اس نے انہیں رونے کی آوازوں سے بھی خبردار کردیا جو اس عالقے میں سنائی دیتی تھیں۔ اونٹوں کو ساتھ نہیں لے جایا
‫جاسکتا ان کی دیکھ بھال کے لیے اس نے صرف ایک آدمی پیچھے رہنے دیا۔ قدومی کو بھی وہ ساتھ نہیں لے جاسکتا تھا۔
‫اسے توقع تھی کہ کہیں کوئی راستہ اندر جانے کے لیے مل ہی جائے گا اور وہ قدومی کو اس راستے سے لے جائے گا۔
‫قدومی کی حفاظت کے لیے بھی ایک آدمی کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے صرف اسماعیل موزوں آدمی تھا۔مارکونی نے
‫اسماعیل سے کہا… ''تم قدومی کے لیے یہیں رہو گے لیکن یہ خیال رکھنا کہ تمہاری حیثیت اس لڑکی کے مقابلے میں کچھ
‫بھی نہیں۔ اس کے آرام اور حفاظت کے تم ذمہ دار ہوگے۔ میں بہت جلدی واپس آرہا ہوں‪ ،تم دونوں کو ساتھ لے جاوں گا''۔
‫وہ اپنی پارٹی کو ساتھ لے کر چل پڑا۔ اس راستے سے وہ واقف ہوچکا تھا۔ بے خوف وخطر چلتا گیا‪ ،جوں جوں یہ آدمی
‫آگے بڑھتے جارہے تھے ان پر خوف مسلط ہوتا جارہا تھا۔ وہ صحرائوں سے پوری طرح واقف تھے مگر ایسا خطہ اور اس قسم
‫کے پہاڑ انہوں نے کبھی نہیں دیکھے تھے اور وہ جب اس جگہ پہنچے جہاں رونے کی آوازیں آتی تھیں تو سب بدک کر
‫خالئوں میں دیکھنے لگے۔ بالشک وشبہ عورتیں رو رہی تھیں۔ ان آدمیوں میں دو تین ایسے بھی تھے جنہوں نے اس عالقے
‫کے متعلق وہ تمام ڈرائونی کہانیاں سن رکھی تھی جو بہت مدت سے مشہور تھیں۔ انہوں نے اپنے صلیبی ساتھیوں کو بھی یہ
‫کہانیاں سنا کر ڈرا دیا۔ وہ سب ڈر کی گرفت میں پہلے ہی تھے لیکن انہیں جو انعام بتایا گیا تھا‪ ،اس میں اتنی طاقت تھی
‫جو ان کے خوف کو دبا رہی تھی۔ اس کے عالوہ وہ صلیب کے تنخواہ دار مالزم بھی تھے اور مارکونی ان کا افسر تھا۔ وہ
‫انعام اور حکم کی پابندی کے تحت چلے جارہے تھے۔رونے کی آوازوں پر وہ بدکے تو مارکونی نے انہیں بتایا کہ یہ عورتیں یا
‫عورتوں کی بدروحیں نہیں‪ ،یہ ہوا کی آوازیں ہیں مگر وہ ڈرتے رہے اور ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر آگے بڑھتے گئے۔اس
‫وقت سورج غروب ہورہا تھا‪ ،جب وہ اس وسیع اور بے انتہا گہرے نشیب تک پہنچے جو انہیں قدرتی دیوار پر چل کر پار کرنا
‫تھا۔ مارکونی کو وہاں کچھ مشکل پیش آئی۔ دیوار پر پاوں رکھنے سے سب گھبراتے تھے۔ مارکونی آگے آگے چال۔ وہ ایک بار

‫اس خطرے سے گزر چکا تھا۔ اس کے پیچھے دوسرے آدمی نے دیوار پر قدم رکھا اور پھر باقی بھی چل پڑے۔ سورج اس
‫جہنم میں ہی روپوش ہوگیا تھا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ کھائی کی گہرائی نظر نہیں آتی تھی۔ مارکونی دیوار عبور کرگیا۔ اسے
‫ایسی چیخ سنائی دی جو تہہ کی طرف جارہی تھی۔ ذرا دیر بعد ایک اور ہیبت ناک چیخ سنائی دی۔ یہ بھی دور نیچے جاکر
‫ایک دھیمی سی دھمک میں خاموش ہوگئی۔ ایسی پانچ چیخیں سنائی دیں… یہ گروہ جب دیوار سے گزر کر کچھ آگے جا کر
‫جمع ہوا تو اس میں پانچ آدمی نہیں تھے۔ مارکونی نے انہیں بتایا کہ اس سے آگے کوئی ایسا خطرہ نہیں ہے اور وہ منزل
‫کے قریب آگئے ہیں۔ اس نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ان کی واپسی اس راستے سے نہیں ہوگی بلکہ سیدھا اور آسان
‫راستہ مل جائے گا۔رات بہت گہری ہوچکی تھی‪ ،جب وہ اس جگہ پہنچے جس کے نیچے وسیع سرسبز خطہ تھا‪ ،مارکونی نے
‫تمام آدمیوں کو وہاں سے تھوڑی دور چھپا دیا۔ دو آدمی اپنے ساتھ لیے اور باقی سب سے کہا کہ ان کے پاس جو کچھ ہے
‫وہ کھا کر سوجائیں۔ انہیں ضرورت کے وقت جگایا جائے گا۔ مارکونی دو آدمیوں کو ساتھ لے کر اس جگہ کی دیکھ بھال کے
‫لیے چال گیا۔ نیچے موت کا سکوت تھا۔ کہیں ہلکی سی روشنی بھی نظر نہیں آتی تھی۔ وہ اور زیادہ قریب جانے سے ڈرتا
‫تھا۔ اس نے حملہ صبح کے لیے ملتوی کردیا اور اپنے آدمیوں کے پاس واپس آگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫قدومی اور اسماعیل اکیلے رہ گئے تھے۔ قدومی ان ہنگامہ خیز محفلوں کی عادی تھی جن میں شراب اور دولت پانی کی
‫طرح بہتی تھی۔ مارکونی اسے اس ہولناک ویرانے میں لے آیا تھا اور اسے ایک آدمی کے ساتھ تنہا چھوڑ گیا تھا۔ اسماعیل
‫اسے جانتا تھا۔ وہ اسماعیل سے واقف نہیں تھی۔ اسماعیل جرم وگناہ کی دنیا کا انسان تھا۔ اس کی شکل وصورت اتنی
‫اچھی اور طبیعت اتنی شگفتہ تھی کہ قدومی نے اسے کوئی عام آدمی نہ سمجھا لیکن اسماعیل اس کے ساتھ بات کرنے سے
‫گریز کررہا تھا۔ شام کے وقت اس نے قدومی کو بھنا ہوا گوشت گرم کرکے دیا اور شراب بھی اس کے آگے رکھ کر کہا کہ
‫کھانا کھا کر سوجانا۔ کوئی ضرورت ہوتو خیمے سے بال لینا۔ وہ باہر نکل گیا۔ قدومی نے کھانا کھالیا۔ شراب بھی حسب عادت
‫پی لی لیکن تنہائی اسے پریشان کرنے لگی۔ اسے اپنے حسن اور نازو ادا پر چونکہ فخر تھا اس لیے اسے توقع تھی کہ
‫اسماعیل اس کے قریب ہونے کی کوشش کرے گا۔ اس فخر میں تکبر اور غرور زیادہ تھا مگر اسماعیل نے اس کی طرف ایسی
‫کوئی توجہ نہ دی جس کی اسے توقع تھی کہ اسماعیل اس پر ڈورے ڈالے گا مگر اس نے اسے ذرا بھی اہمیت نہ دی۔ اس
‫کے بجائے اسے یہ تاثر دے دیا کہ اس کی اہمیت دو روز کی مہمان ہے۔ قدومی تو اپنے حسن کی تعریفیں سننے کی عادی
‫تھی۔ اپنے آپ کو قلوپطرہ کاثانی سمجھتی تھی۔ اسماعیل نے ایساتاثر پیدا کیا جسے قدومی دھتکار نہ سکی۔ اسماعیل کا انداز
‫ہی ایسا تھا کہ اس کا پیدا کیا ہوا تاثر اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔ رات گزرتی جارہی تھی اور قدومی کی آنکھوں
‫سے نیند غائب ہوتی جارہی تھی۔ وہ اسماعیل کے ساتھ باتوں میں رات گزارنا چاہتی تھی۔ اس خواہش کو وہ دبا نہ سکی۔
‫اسماعیل نے اسے مایوس نہ کیا۔ رات کا آخری پہر تھا‪ ،جب قدومی کی آنکھ لگ گئی۔اس کی آنکھ کھلی تو وہ اسماعیل کے
‫خیمے میں تھی اور اسماعیل خیمے سے باہر کمبل میں لپٹا سویا ہوا تھا۔ قدومی نے اسے جگایا اور کہا… ''میں نے خواب
‫دیکھا ہے۔ عجیب سا خواب تھا۔ پوری طرح یاد نہیں رہا‪ ،کوئی مجھے کہہ رہا تھا کہ سلیمان سکندر کے خزانے کی نسبت
‫اسماعیل کی باتیں زیادہ قیمتی ہیں''… وہ ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی میں رقاصہ کا عکس نہیں‪ ،ایک معصوم لڑکی کی سادگی
‫تھی۔
‫سورج نکلنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ مارکونی اپنے آدمیوں کو اس سرسبز نشیب کے اوپر اپنی سکیم کے مطابق موزوں
‫جگہوں پر چھپا چکا تھا۔ صبح روشن ہوئی تو نیچے ننگے آدمی اور عورتیں نظر آنے لگیں۔ مارکونی نے اپنے ایک دلیر اور
‫نڈرآدمی کو نیچے جانے کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ اسی ڈھالن سے جس سے اس کا ایک ساتھی لڑھک کر نیچے گرا اور اس
‫پراسرار قبیلے کی ضیافت بن گیا تھا۔ مارکونی نے اپنے اس آدمی کو نیچے لڑھک جانے کو کہا۔ وہ ڈھالن کے اوپر بیٹھا اور
‫نیچے سرک گیا۔ کچھ آگے جاکر وہ قالبازیاں کھانے لگا اور زمین پر جاپڑا۔ وہ اٹھ کر چل پڑا۔ تین چار ننگے آدم خوروں نے
‫اسے دیکھ لیا اور اسے پکڑنے کے لیے دوڑے۔ وہ خوشی سے چال رہے تھے۔ وہ جب اس آدمی کے قریب آئے تو اوپر سے
‫چار تیر نکلے اور ان کے سینوں میں اتر گئے۔ ادھر سے دو اور ننگے مرد دوڑے آئے‪ ،وہ بھی تیروں کا نشانہ بن گئے۔ مارکونی
‫نے اوپر ایک چٹان کے ساتھ رسہ بندھوا دیا تھا جسے اس نے ڈھالن سے نیچے پھینک کر اپنے آدمیوں سے کہا کہ اسے پکڑ
‫کر سب ایک دوسرے کے پیچھے نیچے اتر جائیں۔سب نیچے چلے گئے۔ مارکونی نے اوپر سے رسہ کھول کر نیچے پھینک دیا
‫اور ڈھالن سے لڑھکتا ہوا نیچے چال گیا۔ یہ سارا گروہ تلواریں نکال کر آگے کو دوڑ پڑا۔ چند اور ننگے مرد سامنے آئے‪ ،انہیں
‫بھی کاٹ دیا گیا۔ جو ذرا دور تھے‪ ،وہ الٹے پاوں بھاگے۔ نیچے سے سرسبز عالقے کے کئی ایک حصے تھے۔ مارکونی نے
‫دیکھا کہ بھاگنے والے ایک حصے میں چلے گئے تھے۔ وہ ان کے پیچھے گیا۔ اسے ان آدمیوں کا واویال سنائی دے رہا تھا۔ ان
‫کی چیخ وپکار پر وہ ان کے تعاقب میں گیا۔ اس کے باقی آدمی خون خرابہ کررہے تھے۔ وہ خود ان دو آدمیوں کے تعاقب
‫میں رہا… تھوڑی ہی دور اسے آدمی نظر آگئے۔ وہ اب دو نہیں تین تھے۔ وہ تینوں ایک چٹان پر چڑھ رہے تھے۔ مارکونی نے
‫ان کے پیچھے دوڑتے کچھ فاصلہ رکھا۔ وہ تینوں چٹان کی دوسری طرف اتر گئے۔ وہ بھی چٹان پر چڑھ گیا۔ دوسری طرف
‫اسے سیاہ پہاڑی کا دامن نظر آیا۔ وہاں ایک غار کا دہانہ تھا جس میں جھک کر گزرا جاسکتا تھا۔ مارکونی اس غار میں چال
‫گیا۔ اس نے تلوار ہاتھ میں لے رکھی تھی۔اندر سے غار کھلتا جارہا تھا۔ اسے اس میں کسی کے دوڑنے کی ہلکی ہلکی آہٹ
‫سنائی دے رہی تھی۔ وہ دوڑتا گیا۔ یہ غار نہیں سرنگ تھی جو معلوم نہیں قدرتی تھی یا فرعون ریمینس نے مرنے سے پہلے
‫بنوائی تھی۔ سرنگ کے کئی موڑ تھے اور اندر گھپ اندھیرا۔ اسے بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ دوڑتا گیا اور اسے دور
‫سامنے روشنی کا ایک گوال نظر آیا۔ اس میں اسے تین آدمی دوڑتے دکھائی دئیے۔ وہ غار کا دوسرا دہانہ تھا۔ وہ انہیں قتل
‫نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کی سکیم کامیاب ہورہی تھی۔ وہ تینوں غار سے نکل گئے۔ وہ بھی غار سے نکل گیا۔ تینوں میں
‫ایک آدمی گر پڑا۔ مارکونی نے جاکر دیکھا۔ یہ وہی بوڑھا آدمی تھا جس نے اسے اس روز دیکھا تھا جس روز اس کا ساتھی
‫نیچے گر پڑا اور آدم خوروں کے ہاتھوں میں مارا گیا تھا۔ وہ بہت ہی بوڑھا تھا۔ زیادہ دوڑ نہیں سکتا تھا۔ غار سے باہر ریتلے
‫اور پتھریلے ٹیلے اور چٹانیں تھیں۔ ایک طرف سیاہ پہاڑ دور اوپر تک چال گیا تھا۔ مارکونی نے بوڑھے کو سہارا دے کر اٹھایا
‫اور اس کے بھاگتے ہوئے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کرکے اشاروں میں اسے سمجھایا کہ ان آدمیوں کو واپس بالئو۔بوڑھے نے
‫انہیں پکارا۔ وہ رکے تو انہیں اپنی طرف بالیا۔ اس نے مارکونی کے ساتھ مصری زبان میں بات کرتے ہوئے کہا… ''میں
‫تمہاری زبان بولتا اور سمجھتا ہوں۔ مجھے قتل کرکے تمہیں کچھ حاصل نہ ہوگا''۔مارکونی بھی مصری زبان بولتا اور سمجھتا
‫تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا… ''میں تمہیں قتل نہیں کرنا چاہتا‪ ،تمہارے ان آدمیوں کو بھی قتل نہیں کروں گا۔ مجھے باہر
‫جانے کا راستہ بتا دو''۔ ''کیا تم یہاں سے نکلنا چاہتے ہو؟''… بوڑھے نے پوچھا۔ ''ہاں''… مارکونی نے جواب دیا…

‫'' میں تمہاری بادشاہی سے نکل جانا چاہتا ہوں''۔بوڑھے نے اپنے آدمیوں سے کچھ کہا۔ وہ دونوں بہت ہی ڈرے ہوئے تھے۔
‫بوڑھے نے مارکونی سے کہا… ''اس کے ساتھ جاو۔ یہ تمہیں سیدھے راستے پر ڈال دیں گے''۔بوڑھا ساتھ چل پڑا۔ وہ ٹیلوں
‫کے درمیان سے گزرے‪ ،ایک ٹیلے کے اوپر گئے اور ایسی ہی کچھ بھول بھلیوں میں سے گزر کر وہ کھلے صحرا میں پہنچ
‫گئے۔ مارکونی نے دیکھا کہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ یہاں کوئی راستہ ہے جو اندر کی پراسرار دنیا
‫میں لے جاتا ہے۔ بوڑھے نے اسے کہا… ''تم اب چلے جائو‪ ،ورنہ خدا کا قہر تمہیں بھسم کردے گا''… مارکونی نے تینوں کو
‫ساتھ لیا اور یہ کہہ کر اپنے ساتھ واپس لے گیا کہ وہ اپنے آدمیوں کو بھی باہر الئے گا۔ مارکونی کے ہاتھ میں ننگی تلوار
‫تھی جس سے وہ تینوں ڈر رہے تھے۔ وہ اس کے ساتھ واپس چل پڑے۔مارکونی نے راستہ اور اس کے موڑ اچھی طرح دیکھ
‫لیے۔ وہ پھر غار کے دہانے میں داخل ہوئے اور اس میں گزرتے سرسبز دنیا میں پہنچ گئے۔ بوڑھا اسے اس جگہ لے گیا جہاں
‫مارکونی کے ساتھی کو آگ پر بھون کر کھایا گیا تھا۔ مارکونی کے ساتھی اسے ڈھونڈ رہے تھے۔ کئی ایک ننگی الشیں پڑی
‫تھیں۔ بچوں کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ بوڑھے نے یہ قتل عام شاید پہلے نہیں دیکھا تھا۔ وہ رک گیا اور بڑے تحمل سے
‫''مارکونی سے پوچھا… ''ان بے گناہوں کو کاٹ کر تم نے کیا پایا؟
‫اور تم ہمارے آدمی کو بھون کر کھا گئے تھے''… مارکونی نے پوچھا… ''اس نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟''۔ ''وہ گناہ گار ''
‫دنیا کا انسان تھا''… بوڑھے نے کہا… ''اس نے ہماری مقدس سلطنت میں آکر اسے ناپاک کردیا تھا''۔ ''تم لوگ یہاں
‫کیوں رہتے ہو؟''… مارکونی نے پوچھا… ''فرعون ریمینس دوم کا مدفن کہاں ہے؟'' ''میں ان دونوں سوالوں کا جواب نہیں
‫دوں گا''… بوڑھے نے جواب دیا۔مارکونی نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ ان کی عورتوں کو لے آئو۔ اس نے حملے سے پہلے
‫اپنے آدمیوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ کسی عورت کو قتل نہ کریں اور نہ چھیڑیں۔ انہیں یرغمال کے طور پر پکڑ لیں۔ مارکونی
‫کے ساتھی دس گیارہ عورتوں کو سامنے لے آئے۔ ان میں دو تین بوڑھی‪ ،باقی جوان‪ ،نوجوان اور تین کمسن بچیاں تھیں۔ ان
‫کے رنگ گندمی اور صاف تھے۔ شکل وصورت بھی سب کی اچھی تھی۔ ان کے بال کمر تک گئے ہوئے تھے اور ان میں
‫چمک تھی۔ ''کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری عورتوں کو تمہارے سامنے بے عزت کرکے انہیں قتل کردیا جائے؟''… مارکونی
‫نے بوڑھے سے پوچھا۔ ''کیا تم اس سے پہلے مجھے قتل نہیں کردو گے؟… بوڑھے نے پوچھا''۔ ''نہیں!''… مارکونی نے
‫جواب دیا۔ '' سنو گناہ گار دنیاکے انسان!''… بوڑھے نے کہا… ''تمہاری عورتیں کپڑوں میں ڈھکی رہتی ہیں۔ تم انہیں پردوں
‫میں چھپا چھپا کر رکھتے ہو مگر وہ بے حیائی سے باز نہیں آتیں۔ تم عورت کی خاطر سلطنتیں قربان کردیتے ہو۔ عورت کو
‫نچاتے ہو اور انہیں گناہوں کا ذریعہ بناتے ہو۔ ہماری عورتیں بے حیائی نہیں کرتیں۔ کوئی مرد کسی دوسرے مرد کی عورت
‫کو اس نظر سے نہیں دیکھتا جس نظر سے تم نے میری دنیا کی عورتوں کو دیکھا ہے۔ میں تو تمہاری نظر بھی برداشت نہیں
‫کرسکتا۔ تم خدائے مقدس ریمینس کے خزانے لوٹ لو‪ ،میری بیٹیوں کی عزت پر ہاتھ نہ ڈالنا''۔ ''میں وعدہ کرتا ہوں کہ
‫مجھے ان پہاڑوں کا بھید بتا دو''… مارکونی نے کہا… ''میں تمہاری عزت تمہارے حوالے کردوں گا''۔ ''ڈاکو کے وعدے پر
‫اعتبار نہیں کیا جاسکتا''… بورڑھے کے ہونٹوں پر طنز کی مسکراہٹ آگئی۔ اس نے کہا ''جس آدمی کے دل میں دولت کی
‫اللچ ہوتی ہے اس کی آنکھ میں غیرت نہیں ہوتی۔ اس زبان پر وعدے آتے ہیں اور اسی زبان سے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ تم
‫اس دنیا کے انسان ہو جہاں دولت پر اپنی بیٹیاں قربان کی جاتی ہیں اور سنو میرے اجنبی دوست! تم مصری نہیں ہو۔
‫تمہاری آنکھوں میں سمندر کی چمک ہے‪ ،نیل کے پانی کی نہیں۔ تمہارے جسم سے مجھے سمندر پار کی بو آتی ہے''۔
‫''میں ریمینس کے مدفن کی تالش میں آیا ہوں''… مارکونی نے اسے غصے سے کہا… ''مجھے وہ مدفن بتا دو''۔ ''میں
‫بتا دوں گا''… بوڑھے نے کہا… ''اس سے پہلے میں تمہیں یہ بتا دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مدفن کے اندر جاکر تم
‫زندہ باہر نہیں آسکو گے''۔ ''کیا تمہارے آدمی اندر چھپے ہوئے ہیں جو مجھے قتل کردیں گے؟'' ''نہیں!''… بوڑھے نے
‫جواب دیا… ''تمہیں قتل کرنے کے لیے میرے پاس کوئی آدمی نہیں رہا۔ تمہارے اپنے آدمی تمہیں قتل کریں گے۔
‫۔ تمہاری الش یہاں سے کوئی نہیں لے جائے گا''۔ ''تم غیب دان ہو؟''… مارکونی نے پوچھا… ''آنے والے وقت کی خبر
‫دے سکتے ہو؟'' ''نہیں!''… بوڑھے نے جواب دیا… ''میں نے گزرا ہوا وقت دیکھا ہے جس نے گزرے ہوئے وقت کو عقل
‫اور دل کی نظر سے دیکھا ہو وہ آنے والے وقت کی خبر دے سکتا ہے۔ موت تمہاری آنکھوں میں آکر بیٹھ گئی ہے''۔مارکونی
‫نے قہقہہ لگا کر کہا… ''تم جنگلی ہو بڈھے! مجھے بتائو وہ مدفن کہاں ہے جس کی تالش میں میں اتنی دور سے آیا
‫ہوں'' ۔ ''تمہارے سامنے ہے''… بوڑھے نے کہا… ''وہ اوپر‪ ،آئو''۔مارکونی نے کچھ سوچا اور اپنے آدمیوں سے کہا… ''ان
‫عورتوں کو عزت سے رکھو۔ اس بوڑھے کے ساتھ گپ شپ لگاتے رہو اور اس کے ان دونوں آدمیوں کو بھی کچھ نہ کہنا۔ ان
‫کے ساتھ دوستی پیدا کرلو۔ میں قدومی اور اسماعیل کو لینے جارہا ہوں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫مارکونی اس راستے سے باہر نکل گیا جو اسے بوڑھے نے دکھایا تھا۔ اس اس سمت کا اندازہ تھا جدھر سے وہ اس ہولناک
‫عالقے میں داخل ہوا تھا۔ وہ اس طرف چل پڑا۔ اس نے کم وبیش دو میل سفر طے کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ
‫اس مقام پر پہنچ گیا ہے‪ ،جہاں سے وہ اپنے گروہ کے ساتھ اندر گیا تھا وہ اپنے خیمے تک گیا۔ اس نے اسماعیل اور قدومی
‫کو ایک ہی خیمے میں اکٹھے بیٹھے دیکھا۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ حکم کے لہجے میں اسماعیل سے کہا… ''میں
‫''نے تمہیں کہا تھا کہ اپنی حیثیت میں رہنا۔ اس کے پاس بیٹھے تم کیا کررہے ہو؟
‫کیا میں اس ویرانے میں اکیلی بیٹھی رہتی؟''… قدومی نے کہا… ''میں نے خود اسے اپنے پاس بالیا ہے''۔ ''تمہیں ''
‫میں اپنے ساتھ صرف اور صرف اپنے لیے الیا ہوں''… مارکونی نے غصے سے کہا… ''میں تمہیں اپنی اجرت دے رہا ہوں۔
‫میں تمہیں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔ اپنے گھر میں اپنے پاس سو آدمیوں کو بالو۔ یہاں تم میری لونڈی ہو''۔گزشتہ
‫رات اسماعیل نے اس پرخلوص دل سے ایسا تاثر طاری کردیا تھا کہ اس کے دل میں مارکونی کے خالف شک اور ناپسندیدگی
‫پیدا ہوگئی تھی۔ اسے وہ اب اپنا ایک گاہک سمجھنے لگی تھی۔ اب مارکونی نے اسے اپنی لونڈی کہہ دیا تو اس کے دل
‫میں مارکونی کے خالف نفرت پیدا ہوگئی۔ اس نے اچھے اور برے انسان میں فرق دیکھ لیا تھا۔ حاالنکہ اسماعیل نے اسے
‫بالکل نہیں کہا تھا کہ وہ اچھا آدمی ہے بلکہ یہ کہا تھا کہ وہ کرائے کا گناہ گار اور اجرت لے کر قتل کرنے واال آدمی ہے۔
‫قدومی مارکونی کو دھتکار نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ اپنی طے کی ہوئی اجرت پر آئی تھی جو وہ وصول کرکے گھر رکھ آئی
‫تھی۔ آگے خزانے کے کچھ حصے کا وعدہ تھا جو مشکوک نظر آتا تھا۔ اس نے برداشت نہ کیا کہ مارکونی اسماعیل کے ساتھ
‫بدتمیزی سے بات کرے۔اسماعیل مارکونی کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے مارکونی کو بازو سے پکڑا اور ذرا پرے لے
‫جاکر دھیمی سی آواز میں کہا… ''احمر درویش نے تمہیں شاید میرے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا۔ میرے متعلق تم کچھ بھی
‫نہیں جانتے۔ میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم میرے ملک اور میری قوم کی جڑیں کاٹنے آئے ہو۔ میں اتنا بڑا گناہ گار

‫ہوں کہ کرائے پر تمہارا ساتھ دے رہا ہوں۔ میں تمہیں اپنا بادشاہ تسلیم نہیں کرسکتا۔ اپنی پوری اجرت لوں گا اور اگر خزانہ
‫برآمد ہوگیا تو اپنا حصہ الگ وصول کروں گا''۔ ''تم ایسی باتیں احمر درویش کے ساتھ کرنا''… مارکونی نے اسے کمانڈروں
‫کی طرح کہا… ''یہاں تم میرے ماتحت ہو۔ خزانہ جو نکلے گا وہ میری تحویل میں ہوگا۔ میں اسے جہاں چاہوں لے
‫جائوں''۔ ''سنو سلیمان سکندر!''… اسماعیل نے پہلے کی طرح دھیمی آواز اور ہلکے سے تبسم سے کہا… ''میں جانتا
‫ہوں تم مارکونی ہو‪ ،سلیمان سکندر نہیں ہو۔میں ایک عادی مجرم ہوں۔ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تمہاری باتیں مجھے
‫مجرم سے مصری مسلمان بنا دیں گی اور میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ مسلمان قومی جذبے کا اتنا اندھا ہوتا ہے کہ اگر
‫مسلمان کی الش میں یہ جذبہ پیدا ہوجائے تو الش بھی اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ مجھے مجرم رہنے
‫دو''۔مارکونی نے محسوس کرلیا کہ یہ شخص بہت گہرا ہے اور پیچیدہ بھی‪ ،اس لیے اس سے اس موقع پر دشمنی مول لینی
‫اچھی نہیں۔ اس نے اسماعیل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اور دوستوں کی طرح مسکرا کر کہا… ''تم بالوجہ کسی غلط فہمی
‫میں پڑ گئے ہو۔ میں دراصل یہ نہیں چاہتا کہ یہ طوائف تمہارے یا میرے دماغ پر سوار ہوجائے۔ یہ بہت چاالک عورت ہے۔ یہ
‫ہم دونوں میں غلط فہمی پیدا کرکے خزانے پر ہاتھ مارنا چاہتی ہے۔ مجھے اپنا دشمن نہ سمجھو۔ احمر درویش نے تمہیں بتایا
‫نہیں کہ اس نے تمہارے متعلق کیا سوچ رکھا ہے''۔ ''کیا تمہیں امید ہے کہ خزانہ مل جائے گا؟'' ''مل گیا ہے''…
‫مارکونی نے جواب دیا… ''میں تم دونوں کو لینے آیا ہوں''۔اسماعیل اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھتا رہا۔ قدومی بھی اسے
‫دیکھتی رہی۔
‫اس کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار بڑے نمایاں تھے۔ مارکونی نے اس آدمی کو آواز دی جسے وہ اونٹوں کی دیکھ بھال ‪:
‫کے لیے چھوڑ گیا تھا۔ اسے کہا کہ وہ اونٹوں کو ایک دوسرے کے پیچھے باندھ کر لے آئے۔ خیمے بھی لپیٹ لیے گئے۔
‫مارکونی انہیں وہاں لے گیا جہاں اس کے دوسرے آدمی تھے اور جہاں فرعون ریمینس کا خفیہ مدفن تھا۔ قدومی نے ایسی
‫سرسبز جگہ دیکھی تو بہت حیران ہوئی۔ ایک اونچی پہاڑی کے دامن میں ننھی سی جھیل تھی۔ پہاڑی کے نیچے سے پانی
‫پھوٹتا تھا۔ یہ قدرت کا کرشمہ تھا۔ مارکونی قبیلے کے بوڑھے سردار کے پاس چال گیا۔ اسے مدفن کا سراغ لگانا تھا۔ قدومی
‫اسماعیل کے ساتھ ادھر ادھر ٹہلنے لگی۔ اسے ایک چھوٹے سے بچے کی الش پڑی دکھائی دی۔ بچہ ننگا تھا اور اس کا جسم
‫خون میں نہایا ہوا تھا۔
20:03
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 62جب خزانہ مل گیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫قدومی خوف سے کانپنے لگی۔ کچھ اور آگے گئے تو دو الشیں اکٹھی پڑی تھیں۔ یہ بڑی عمرکے آدمیوں کی تھیں۔ دونوں میں
‫تیر پیوست تھے اور جب وہ اسماعیل کے ساتھ فراخ جگہ گئی جہاں مارکونی کے آدمی اوپر سے اترے تھے‪ ،وہاں اسے کئی
‫اور الشیں نظر آئیں۔ ان میں پانچ چھ الشیں بچوں کی بھی تھیں۔ تمام الشوں کے منہ اور آنکھیں کھلی ہوئیں اور چہروں پر
‫اذیت اور کرب کے بھیانک تاثرات تھے۔ قدومی کسی بڑی ہی حسین دنیا کی عورت تھی۔ اس نے ایسا ہیبت ناک منظر کبھی
‫خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ ایک بہت ہی چھوٹے سے بچے کی الش دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی۔مارکونی کے تین
‫چار آدمی چیخ سن کر دوڑے آئے۔ قدومی کو چکر آگیا تھا اور اسماعیل نے اسے تھام لیا تھا۔ مارکونی کے آدمیوں کو بتایا گیا
‫کہ وہ الشیں دیکھ کر ڈر گئی ہے۔ ایک آدمی اس کے لیے پانی لینے کو دوڑا۔ قدومی جلدی سنبھل گئی۔ اس نے پوچھا کہ یہ
‫مرنے والے کون تھے اور انہیں کیوں قتل کیا گیا ہے؟ قدومی نے اسماعیل کی طرف دیکھا۔ اس کا رنگ پیال پڑ گیا تھا۔
‫اسماعیل نے کہا… ''ہم سے یہ لوگ اچھے تھے جو اس خزانے کی رکھوالی کررہے تھے۔ یہ آدم خور دیانت دار تھے جنہوں
‫نے جان دے دی‪ ،خزانے کا بھید نہ بتایا۔ اگر یہ فرعون کا مدفن اکھاڑ کر مال ودولت نکال لے جاتے تو انہیں کون پکڑ سکتا
‫تھا مگر یہ دیانت دار تھے۔ ہم ڈاکو اور قاتل ہیں جو اپنے آپ کو مہذب سمجھتے ہیں۔ یہ مارکونی کی کارستانی ہے''۔
‫''میں اس خزانے میں سے کچھ بھی نہیں لوں گی جس کی خاطر ان معصوم بچوں اور بے گناہ آدمیوں کو اس بے دردی
‫سے قتل کیا گیا ہے''… قدومی نے کہا… ''ان کے پاس کوئی ہتھیار نظر نہیں آتا۔ یہ نہتے تھے''۔اس وقت مارکونی بوڑھے
‫کے ساتھ ایک چٹان کے پیچھے گیا ہوا تھا۔ بوڑھے نے اسے کہا… ''اوپر چلے جائو‪ ،وہاں تمہیں ایک بہت بڑا پتھر جو یہیں
‫سے نظر آرہا ہے‪ ،اسے تم چٹان ہی سمجھ رہے ہو اگر اسے وہاں سے ہٹا سکو تو تمہیں اس دنیا کا دروازہ نظر آئے گا جس
‫میں ریمینس دوم کا تابوت اور اس کا خزانہ رکھا ہے۔ اس چٹان کو اس وقت سے کسی نےنہیں ہالیا جب سے یہاں رکھی
‫گئی ہے۔ پندرہ صدیوں سے اس چٹان کو کسی نے چھوا بھی نہیں۔ ہم پندرہ صدیوں سے اس کی رکھوالی کررہے ہیں۔ میں
‫تمہیں ریمینس کی موت کے واقعات اس طرح سنا سکتا ہوں جیسے وہ کل میرے سامنے مرا ہو۔ یہ مجھے باپ اور دادا نے
‫سنائے تھے۔ دادا کو اس کے باپ اور دادا نے سنائے تھے اور اس طرح پندرہ صدیوں کی باتیں میرے سینے میں آئیں جو میں
‫نے اپنے قبیلے کو سنا دی ہیں ''۔ ''میں یہ باتیں بعد میں سنوں گا''… مارکونی نے بیتاب ہوکر کہا اور وہ چٹان پر چڑھ
‫گیا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اوپر کی مخروطی چٹان الگ ہے یا الگ کی جاسکتی ہے۔ اس نے ادھر ادھر سے دیکھنے کی
‫کوشش کی مگر اسے کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئی جس سے یہ چٹان الگ معلوم ہوتی ہے۔ وہ نیچے اتر آیا۔ ''میں جانتا
‫ہوں‪ ،تم یقین نہیں کرو گے کہ اس چٹان کے دو حصے ہیں''… بوڑھے نے کہا… ''اوپر کا حصہ جو پیچھے پہاڑ کے ساتھ مال
‫ہوا ہے‪ ،پہاڑ اور چٹان کا حصہ معلوم ہوتا ہے‪ ،لیکن ایسا نہیں۔ یہ انسانی ہاتھوں کا کمال ہے۔ اس کی ساخت قدرتی لگتی
‫ہے لیکن یہ انسانوں کی کاریگری ہے۔ ریمینس نے یہ اپنی نگرانی میں بنوایا تھا۔ اس کے نیچے اور پہاڑ کے سینے میں جو
‫دنیا آباد ہے‪ ،وہ ریمینس نے اپنی زندگی میں تیار کرائی تھی اور اسے باہر کی دنیا کے انسانوں سے تاقیامت چھپائے رکھنے
‫کے لیے اس نے یہ چٹان بنوائی‪ ،اور ان آدمیوں کو قید میں ڈال دیا تھا جنہوں نے اس کا مدفن اور چٹان تیار کی تھی۔ وہ
‫مرگیاتو اس کا تابوت یہاں الیا گیا۔ اس کا ضرورت کا سامان اندر رکھا گیا۔ کاریگروں کو قید سے نکال کر اوپر چٹان رکھوائی
‫گئی اور ان تمام آدمیوں کو قتل کردیا گیا۔ بارہ آدمیوں کو یہاں غاروں میں آباد کیا گیا۔ انہیں مصر کی بارہ خوبصورت عورتیں
‫دی گئیں۔ انہیں غاروں میں رہنے کو کہا گیا۔ ان کے ذمے اس جگہ کی رکھوالی تھی۔ آج تم نے جنہیں قتل کردیا اور میں جو
‫زندہ ہوں‪ ،انہی بارہ آدمیوں اور بارہ عورتوں کی نسل سے ہیں''۔ ''اس چٹان کو ہم وہاں سے ہٹا کس طرح سکتے ہیں؟
‫مارکونی نے پوچھا۔ ''تمہاری آنکھیں کہاں ہیں؟''… بوڑھے نے پوچھا… ''تمہاری عقل کہاں ہے؟''… اور اس نے کہا… …''
‫'' چٹان کی چوٹی دیکھو۔ کیا تم اسے رسے کے ساتھ سے نہیں باندھ سکتے؟ اگر تمہارے آدمیوں میں طاقت ہے تو مل کر
‫رسے کو کھینچیں تو چٹان نیچے آسکتی ہے''۔مارکونی مدفن کو بہت جلد بے نقاب کرنے کے لیے بیتاب تھا۔ اس نے اپنے

‫آدمیوں کو بالیا۔ رسے منگوائے اور دو رسے اوپر والی چٹان کی ابھری ہوئی چوٹی کے ساتھ بندھوا دئیے۔ اس نے تمام آدمیوں
‫سے کہا کہ نیچے سے رسہ پوری طاقت سے کھینچیں۔ وہ خود اوپر چال گیا۔ نیچے سے جب سب نے زور لگایا تو اس نے
‫دیکھا کہ بڑی چٹان ہل رہی تھی۔ ایک بار یہ اتنی زیادہ ہل گئی کہ اسے اس کے نیچے خال نظر آگیا۔ اس کا حوصلہ بڑھ
‫گیا۔ اس نے نعرے لگانے شروع کردیئے۔ اس کے آدمیوں نے اور زور لگایا تو چٹان سرک گئی۔ مارکونی نے اپنے آدمیوں کو ذرا
‫آرام کرنے کو کہا۔سورج سیاہ پہاڑ کے پیچھے چال گیا تھا۔ مارکونی کے پاس شراب کا ذخیرہ تھا۔ اس نے شراب کا مشکیزہ
‫منگوا کر کہا پیو اور اس چٹان کو کنکر کی طرح نیچے پھینک دو۔سب شراب پر ٹوٹ پڑے۔ مارکونی نے پرجوش لہجے میں
‫کہا… '' میں آج رات تمہیں دو اونٹ بھون کر کھالئوں گا''… تھوڑی دیر بعد شراب نے سب کی تھکن دور کردی اور ان میں
‫نئی تازگی آگئی۔ اتنے میں سورج افق سے بھی نیچے چال گیا تھا۔ مشعلیں جال کررکھ لی گئیں اور سب نے ایک بار پھر زور
‫لگانا شروع کیا۔ مارکونی اوپر کھڑا تھا۔ اسے مشعلوں کی ناچتی روشنی میں چٹان کا باالئی حصہ آگے کو جھکتا اور کچھ سرکتا
‫نظر آیا۔ اس نے اور زیادہ جوش سے نعرے لگانے شروع کردئیے۔ اچانک چٹان مہیب آواز کے ساتھ سرک گئی اور الٹ کر
‫نیچے کو لڑھک گئی جہاں مارکونی کے آدمی تھے وہ جگہ تنگ تھی۔ ان کے پیچھے بھی ایک پتھریلی ٹیکری تھی۔ اوپر سے
‫چٹان اتنی تیزی سے آئی کہ نیچے سے آدمی بھاگ نہ سکے۔ روشنی بھی کم تھی۔ پہاڑوں اور چٹانوں میں گھری ہوئی یہ دنیا
‫بیک وقت کئی ایک چیخوں سے لرز اٹھی اور سکوت طاری ہوگیا۔ مارکونی دوڑتا نیچے آیا۔ ایک مشعل اٹھا کر دیکھا۔ گری
‫ہوئی چٹان کے نیچے سے خون بہہ رہا تھا۔ کسی کا ہاتھ نظر آرہا تھا‪ ،کسی کی ٹانگ اور کسی کا سر اورکچھ ایسے بھی
‫تھے جو درمیان میں نیچے آگئے تھے۔مارکونی کو کسی کے دوڑنے کی آہٹیں سنائی دیں۔ کوئی بچ بھی گئے تھے‪ ،وہ بھاگ گئے
‫تھے۔ اس نے ٹیکری پر دیکھا‪ ،وہاں چار انسان کھڑے تھے۔ ایک بوڑھا تھا‪ ،دوسرا اسماعیل‪ ،تیسرا مارکونی کا ایک ساتھی جو
‫ہانپ رہا تھا۔ وہ بھاگا نہیں تھا اور چوتھا انسان قدومی تھی جو سراپا خوف بنی کھڑی تھی۔ مارکونی آہستہ آہستہ ٹیکری پر
‫آیا۔ اس نے چاروں کو باری باری دیکھا۔ سب خاموش تھے۔ سب سے پہلے بوڑھا بوال۔ اس نے کہا… ''میں نے تمہیں خبردار
‫کردیا تھا کہ مجھے تمہاری آنکھوں میں موت نظر آرہی ہے۔ میں نے اپنے فرض کو نظر انداز کرکے تمہیں یہ بھید بتا دیا تھا
‫''کہ یہ موت کا بھید ہے اور موت میرا فرض پورا کردے گی… کیا تم واپس چلے جاو گے؟
‫نہیں!''… مارکونی نے آہستہ سے کہا… ''میرے یہ ساتھی میرے ساتھ ہیں‪ ،یہ میرا ساتھ دیں گے''۔ اس نے ان سے ''
‫پوچھا… ''معلوم ہوتا ہے‪ ،کوئی زندہ نکل گئے ہیں‪ ،کون کون بھاگا ہے؟'' ''مجھ سے پوچھو''… بوڑھے نے کہا… ''تمہارے
‫چار آدمی میرے دو آدمیوں کے ساتھ بھاگ گئے ہیں۔ میرے آدمی انہیں باہر کا راستہ نہیں بتائیں گے۔ انہیں اب اندر بھٹک
‫بھٹک کر مرنا ہے۔ بہتر ہوتا کہ وہ چٹان کے نیچے آکر مرجاتے۔ یہ موت آسان تھی۔ آج رات کے لیے یہ کام بند کردو۔ میں
‫صبح تمہیں اندر لے جائوں گا''۔٭ ٭ ٭
‫مارکونی پر اس حادثے کا کوئی اثر معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اس نے بوڑھے کو اپنے ساتھ کھانا کھالیا۔ اسماعیل نے بوڑھے کو
‫ایک چادر دی جو اس نے اپنے اوپر ڈال لی۔ قدومی پر خاموشی طاری تھی۔ وہ ان عورتوں کو بھی دیکھ چکی تھی جنہیں
‫مارکونی نے یرغمال بنا کے رکھا ہوا تھا۔ وہ اب کسی اور جگہ تھیں۔ ''تم میرے ایک آدمی کو کھا گئے تھے''۔ مارکونی
‫''نے کہا۔ ''اس سے پہلے تم نے کتنے انسان کھائے ہیں؟'' ''جتنے ہاتھ لگ سکے
‫بوڑھے نے جواب دیا… ''میں بتا نہیں سکتا کہ ہمارے نسل میں انسانی گوشت کب داخل ہوا جو تاریخ میرے کانوں میں …'
‫ڈالی گئی ہے اس میں پندرہ صدیوں پرانی ایک پیشن گوئی شامل ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ جو لوگ خدائے ریمینس کے مدفن
‫کی حفاظت کریں گے‪ ،انہیں ریگزار اپنی ٹھنڈی آغوش میں رکھے گا۔ انہیں پانی اور خواہش سے آزاد کردے گا۔ انہیں یہ بھی
‫ضرورت نہیں رہے گی کہ وہ اپنے ستر ڈھانپیں۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ہوگی۔ ان میں کوئی اللچ نہیں ہوگا۔
‫اللچ ہی انسان کو قاتل‪ ،ڈاکو اور بددیانت بناتا ہے۔ وہ کبھی دولت کا اللچ کرتا ہے اور کبھی عورت کا۔ اس کا دین نہیں رہتا۔
‫اللچ فساد کی جڑ ہے۔ ہمیں اس لعنت سے آزاد کردیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ ریمینس کے محافظ
‫انسان کا گوشت کھائیں گے۔ یہاں سے باہر جائیں گے۔ انسان کا شکار کھیلیں گے اور کوئی جانور ملے تو اسے بھی کھائیں
‫گے اگر نہیں کھائیں گے تو ان کی نسل ختم ہوجائے گی''۔ ''کیا تم آج بھی فرعونوں کو خدا سمجھتے ہو؟''… قدومی نے
‫بوڑھے سے پوچھا۔ ''انسان بڑی کمزور چیز ہے۔ اپنے خدا بدلتا رہتا ہے''… بوڑھے نے کہا… ''اور کبھی انسان خود ہی خدا
‫بن جاتا ہے۔ اس وقت تم لوگ میرے خدا ہو کیونکہ میری جان اور میری بچیوں کی عزت جو تمہاری قید میں ہیں‪ ،تمہارے
‫ہاتھ میں ہے۔ میں نے تم پر یہ راز تمہیں خدا سمجھ کر فاش کردیا ہے کیونکہ میں مرنے سے ڈرتا ہوں اور اپنی بچیوں کو
‫بے آبرو کرنے سے ڈرتا ہوں۔ فرعون نے بھی تمہاری طرح اپنے وقت کی مخلوق کی گردن پر بھوک اور بیگار کی چھری رکھ
‫کر کہا تھا کہ میں خدا ہوں۔ انسان نے مجبور ہوکر کہا… ''ہاں! تم ہی خدا ہو''… بھوک اور مفلسی انسان کو حقیقت سے
‫بہت دور لے جا کر پھینک دیتی ہے۔ اس کے اندر کا انسان مرجاتا ہے۔ جسے حقیقی خدا نے اشرف المخلوقات کہا تھا‪ ،اس
‫کا صرف جسم رہ جاتا ہے جسے پیٹ کی آگ جالتی ہے تو وہ اس انسان کے آگے سجدے کرنے لگتا ہے جو اس کے پیٹ
‫کی آگ ٹھنڈی کرتا ہے۔ انسان کی اسی کمزوری نے بادشاہ پیدا کیے۔ ڈاکو اور راہزن پیدا کیے۔ انسان کو حاکم اور محکوم‪،
‫ظالم اور مظلوم بنایا۔ لوگ کہتے ہیں کہ انسان کو بھوک نے بدی سے آشنا کیا۔ یہ غلط ہے۔ انسان کو بدکار زروجواہرات نے
‫بنایا ہے… تم کون ہو؟ کیا ہو؟''۔ اس نے قدومی سے پوچھا… ''ان میں سے کس کی بیوی ہو؟ ان میں سے کسے اپنا آدمی
‫کہہ سکتی ہو؟''… بوڑھے کو معلوم ہوچکا تھا کہ قدومی قاہرہ کی رقاصہ ہے۔قدومی اس کے سوال سے پریشان ہوگئی۔ وہ
‫پہلے پریشان تھی۔ بوڑھے کے سوال نے اس کا پسینہ نکال دیا۔ بوڑھے نے اسے خاموش دیکھ کر کہا… ''تم اپنے حسین
‫چہرے اور جوانی کی بدولت اپنے آپ کو خدا سمجھتی ہو اور تمہاری خواہش کرنے والے تمہیں خدا کہتے ہیں۔ مجھے جنگلی
‫اور وحشی نہ سمجھو۔ میرے پاس کپڑے ہیں جو میں پہن کر کبھی کبھی قاہرہ جایا کرتا ہوں… تمہاری مہذب دنیا کو دیکھتا
‫ہوں‪ ،پھر واپس آکر کپڑے اتار دیتا ہوں۔ ) میں نے تمہاری دنیا میں بگھیوں پر شہزادے سیر کرتے دیکھے ہیں۔ تمہاری طرح
‫شہزادیاں دیکھی ہیں۔ ناچنے اور گانے والی بھی دیکھی ہیں اور انہیں جو نچاتے ہیں‪ ،انہیں بھی دیکھا ہے۔ میں نے فرعونوں
‫کے وقتوں کی باتیں سنی ہیں اور آج کے وقت کے فرعون بھی دیکھے ہیں۔ ان سب کا انجام بھی دیکھا ہے۔ تمہارا انجام
‫بھی جو تمہیں ابھی نظر نہیں آرہا‪ ،دیکھ رہا ہوں۔ تم نے خزانے کی اللچ میں اتنے بے گناہ انسانوں کا خون کیا۔ اس گناہ کی
‫سزا سے بچ نہیں سکو گے۔ فرعون بھی نہیں بچ سکے تھے۔ میں صبح تمہیں اندر لے جائوں گا۔ ان کا انجام دیکھنا۔ وہ خدا
‫ہوتے تو ان کا یہ انجام نہ ہوتا۔ خدا وہ ہوتا ہے جو انجام تک پہنچایا کرتا ہے‪ ،انجام تک پہنچا نہیں کرتا۔ میں نے اس
‫انسان کو کبھی خدا نہیں مانا جو آج پہاڑی کے نیچے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا ہے۔ میں اور میرا قبیلہ اس کی حفاظت نہیں
‫کررہے۔ ہم نے دنیا کے اللچ سے بچنے کے لیے اپنا ایک عقیدہ بنالیا ہے۔ ہم اس عقیدے کی حفاظت کررہے ہیں

‫بوڑھا ٹھہری ٹھہری آواز میں بولتا جارہا تھا۔ قدومی اسے دیکھ رہی تھی اور بوڑھے کی باتوں میں اسے اپنا انجام نظر آرہا
‫تھا۔ مارکونی کے ہونٹوں پر طنزیہ سی مسکراہٹ تھی۔ وہ شراب پی رہا تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا… ''تم اپنی عورتوں کے
‫پاس جائو‪ ،صبح جلدی اٹھنا۔ ہمیں اندر جانا ہے''۔بوڑھا چال گیا تو مارکونی نے قدومی سے کہا… ''آئو ہم بھی سوجائیں''۔
‫'' میں تمہارے ساتھ نہیں جائوں گی''… قدومی نے کہا۔مارکونی اس کی طرف لپکا۔ قدومی پیچھے ہٹ گئی۔ مارکونی نے اسے
‫دھمکی دی۔ اسماعیل اس کے آگے آگیا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ مارکونی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور مارکونی
‫پیچھے ہٹ گیا۔ وہ جب چال گیا تو قدومی اسماعیل کے سینے پر سر پھینک کر بچوں کی طرح رونے لگی۔
‫٭ ٭ ٭
‫صبح جاگے تو مارکونی نے بوڑھے کو ڈھونڈا‪ ،بوڑھا وہاں نہیں تھا۔ عورتوں کو دیکھا‪ ،وہ بھی غائب تھیں۔ انہیں آوازیں دیں۔
‫ادھر ادھر دیکھا۔ ان میں سے کوئی بھی نظر نہ آیا۔ مارکونی کو اب ان کی اتنی ضرورت نہیں تھی۔ مدفن کا دہانہ کھل چکا
‫تھا۔ بوڑھا اگر وہاں ہوتا بھی تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اندر کیا ہے۔ مارکونی نے اسماعیل‪ ،اپنے ساتھی اور قدومی کو اپنے
‫ساتھ لیا اور وہ سب اس چٹان پر چڑھ گئے جہاں مدفن کے اندر جانے کا دہانہ تھا۔ مارکونی نیچے اترا۔ یہ ایک کشادہ گڑھا
‫تھا‪ ،جو سرنگ بن کر ایک طرف چال گیا تھا۔ وہ مشعلیں ساتھ لے گئے تھے‪ ،جو جالئی گئیں۔ کچھ دور آگے جاکر سرنگ بند
‫ہوگئی۔ مارکونی نے وہاں الٹی کدال ماری تو ایسی آوازیں آئی جیسے اس کے پیچھے جگہ کھوکھلی ہے۔یہ پتھر کا چوکور دروازہ
‫تھا۔ اس پر ضربیں لگائی گئیں تو کناروں سے خال نظر آنے لگی۔ سالخوں اور ہتھوڑوں وغیرہ کی مدد سے اس تراشے ہوئے
‫پتھر کو ہال لیا گیا اور بہت سی محنت اور مشقت کے بعد اس چوکور پتھر نے اس طرح راستہ دے دیا کہ پیچھے کو گرا۔
‫اس کے وزن کا یہ عالم تھا کہ اس کے گرنے سے زلزلے کا جھٹکا محسوس ہوا۔ اندر سے پندرہ سولہ صدیوں کی بدبو جھکڑ
‫کی طرح باہر آئی۔ سب پیچھے کو بھاگے اور انہوں نے ناک منہ پر کپڑے لپیٹ لیے۔ ذرا دیر بعد مشعلوں کے ساتھ اندر گئے۔
‫چند قدم آگے سیڑھیاں نیچے جاتی تھیں۔سیڑھیوں پر انسانی کھونپڑیاں اور ہڈیوں کے پنجر پڑے تھے۔ ان کے ساتھ برچھیاں اور
‫ڈھالیں بھی تھیں۔ یہ پہرہ داروں کی ہڈیاں تھیں۔ انہیں اندر زندہ پہرے پر کھڑا کرکے مدفن کے منہ پر اتنی وزنی سل جما
‫دی گئی تھی۔ سیڑھیاں انہیں دور نیچے لے گئیں۔ یہ ایک وسیع کمرہ تھا۔ یہ زمین پتھریلی تھی۔ کاریگروں نے لمبی مدت
‫صرف کرکے دیواریں اور چھت اس طرح تراشی تھی کہ یہ بیسیویں صدی کی عمارت معلوم ہوتی تھی۔ وہاں ایک بڑی ہی
‫خوش نما کشتی رکھی تھی جس کے بادبان لپٹے ہوئے تھے۔ کشتی میں بھی انسانی کھونپڑیاں اور ہڈیاں پڑی تھیں۔ یہ مالحوں
‫کی تھیں۔ ایک تاریک راستہ جو کا ریگری سے تراشا گیا تھا‪ ،ایک اور کمرے میں لے گیا۔ وہاں ایک سجی سجائی گھوڑا گاڑی
‫کھڑی تھی۔ اس کے آگے آٹھ گھوڑوں کی کھونپڑیاں اور ہڈیاں بکھری ہوئی تھی اور بگھی کی آگلی سیٹ پر انسانی ہڈیوں کا
‫ڈھیر تھا۔ اس کمرے میں کئی اور ہڈیوں کے پنجر تھے۔ اس سے آگے ایک اور کمرہ تھا جو صحیح معنوں میں شیش محل
‫تھا۔ چھت اونچی اور دیواروں پر چتر کاری کی گئی تھی۔ ایک دیوار کے ساتھ سیڑھیاں اور ان پر ایک پتھر کی کرسی اور
‫کرسی پر ریمینس کا بت بیٹھا ہواتھا۔ یہ بھی پتھر کا تھا۔سیڑھیوں پر ہڈیوں کے پنجرہ اور کھونپڑیاں پڑی تھیں۔ قدومی نے
‫ایک کھونپڑی کے ساتھ موتیوں کا ایک ہار دیکھا جس کے ساتھ ایک نیال ہیرا تھا۔ کانوں میں ڈالنے والے زیورات تھے اور
‫انگوٹھیاں بھی چند اور ڈھانچوں کے ساتھ اس نے ہار اور زیورات دیکھے۔ مارکونی نے ایک ہار اٹھایا‪ ،ڈیڑھ ہزار سال گزر جانے
‫کے بعد بھی ان موتیوں اور ہیروں کی چمک مانند نہیں پڑی تھی۔ مشعل کی روشنی سے ہیرے رنگا رنگ شعاعیں دیتے تھے۔
‫مارکونی ہار قدومی کے گلے میں ڈالنے لگا تو قدومی چیخ کر اسماعیل کے پیچھے ہوگئی۔ مارکونی نے قہقہہ لگا کر کہا…
‫''میں نے کہا تھا کہ تمہیں ملکہ قلوپطرہ بنائوں گا۔ ڈرو مت قدومی! یہ سب ہار تمہارے ہیں''۔ ''نہیں!''… قدومی نے
‫…لرزتی کانپتی آواز میں کہا
‫نہیں! میں نے ان کھونپڑیوں اور ہڈیوں میں اپنا انجام دیکھ لیا ہے۔ یہ بھی مجھ جیسی تھیں۔ یہ اس ''خدا'' کی '' …
‫محبوبہ کا ہار ہے جو یہیں کہیں مرا پڑا ہے۔ میں نے ان کا انجام دیکھ لیا ہے جنہیں تکبر نے ''خدا'' بنایا ہے۔ میں نے
‫اپنا خدا دیکھ لیا ہے''… وہ اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کہ اس نے اسماعیل کو گھسیٹتے ہوئے کہا… ''مجھے یہاں سے لے
‫چلو۔ مجھے لے چلوں یہاں سے۔ میں ہڈیوں کا پنجر ہوں''… اس کے گلے میں اپنا ہار تھا۔ اس نے یہ ہار اتار کر ہڈیوں پر
‫پٹخ دیا۔ انگلیوں سے بیش قیمت انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں اور چالنے لگی… ''میں نے اپنا انجام دیکھ لیا ہے۔ میں نے
‫خدا دیکھ لیا ہے‪ ،مجھے یہاں سے لے چلو''۔مارکونی ایک اور کمرے میں جاچکا تھا۔ اسماعیل نے قدومی سے کہا… ''ہوش
‫میں آئو‪ ،ہم چلے گئے تو یہ سارا خزانہ دونوں صلیبی اٹھالے جائیں گے''… اسماعیل کو ایک اور راستہ نظر آگیا۔ مشعل اس
‫کے ہاتھ میں تھی۔ وہ قدومی کو اس طرف لے گیا اور وہ ایک اور فراخ کمرے میں داخل ہوئے۔ وسط میں ایک چبوترے پر
‫تابوت رکھا تھا‪ ،چہرہ ننگا تھا۔ یہ فرعون ریمینس دوم جس کے آگے لوگ سجدے کرتے تھے۔ الش حنوط کی ہوئی تھی۔ چہرہ
‫بالکل صحیح تھا۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھی۔ اسماعیل اس چہرے کو بہت دیر تک دیکھتا رہا۔ قدومی نے بھی دیکھا‪ ،پھر انہوں
‫نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ انہوں نے ادھر دھر دیکھا تو وہاں بھی ہڈیوں کے پنجر نظر آئے اور وہیں انہیں بڑے خوش
‫نما بکس بھی دکھائی دئیے۔ ایک بکس کا ڈھکنا کھال تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس میں سونے کے زورات اور ہیرے پڑے تھے۔
‫ان پر ایک انسانی بازو کی ہڈی اور ایک ہاتھ کی ہڈیاں پھیلی ہوئی تھی۔ بکس کے ساتھ کھونپڑی اور باقی ہڈیاں پڑی تھیں۔
‫''آہ انسان!''… اسماعیل نے کہا… ''اس شخص نے مرنے سے پہلے یہ زیورات اور ہیرے اٹھانے کی کوشش کی۔ اسے امید
‫ہوگی کہ یہاں سے نکل بھاگے گا مگر دم گھٹنے سے خزانے کے اوپر مرگیا۔ بوڑھے نے ٹھیک کہا تھا کہ انسان کی دشمن
‫بھوک نہیں ہوس ہے''۔ اس نے بکس کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا… ''قدومی! تم بھی ہوس لے کے آئی ہو‪ ،میں تمہیں کچھ
‫دے دوں''۔ ''نہیں اسماعیل!''… قدومی نے اس کا ہاتھ روکتے ہوئے کہا… ''میری ہوس مرچکی ہے‪ ،قدومی مرچکی
‫ہے'' ۔اسماعیل نے پھر بھی بکس میں ہاتھ ڈاال۔ قدومی نے چال کر کہا… بچواسماعیل!۔اسماعیل استاد تھا۔ وہ ایک طرف گر
‫کر لڑھک گیا اور اٹھا‪ ،اس نے دیکھا کہ مارکونی تلوار سونپے اس پر حملے آور ہوا تھا۔ اس کی تلوار کا وار بکس پر پڑا۔
‫مارکونی کی آواز سنائی دی… ''یہ میرا خزانہ ہے''… اتنے میں مارکونی کا ساتھی بھی آگیا۔ اسماعیل کے پاس خنجر تھا‪،
‫جس سے وہ تلوار کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ قدومی کو قریب ہی ایک برچھی پڑی نظر آگئی۔ مارکونی اسماعیل پر وار کررہا
‫تھا جو وہ مشعل سے روک رہا تھا۔ مارکونی کے ساتھی نے بھی اسماعیل پر حملہ کیا۔ دونوں صلیبی خزانہ دیکھ کر پاگل
‫ہوچکے تھے۔ قدومی کو انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ کیا کررہی ہے۔ جوں ہی مارکونی کی پیٹھ قدومی کی طرف ہوئی‪ ،قدومی
‫نے پوری طاقت سے برچھی اس کے پہلو میں اتار دی۔ برچھی نکال کر ایک اور وار کیا اور اسے لڑھکا دیا۔ اس کا ایک ہی
‫ساتھی رہ گیا۔ وہ قدومی پر تلوار کا وار کرنے کو لپکا تو اسماعیل نے خنجر سے اس کے پہلو سے پیٹ چیر ڈاال۔قدومی جو
‫خزانے میں سے حصہ لینے گئی تھی‪ ،اپنے گلے کا ہار بیش قیمت دو انگوٹھیاں اور کانوں کے زیورات وہاں پھینک کر اسماعیل

‫کے ساتھ باہر نکل آئی۔ دہانے والے دروازے سے نکلتے ہوئے اسماعیل نے جلتی ہوئی مشعل اندر ہی پھینک دی۔ وہ دونوں ان
‫اشیاء کے عالوہ بہت کچھ اندر ہی پھینک آئے تھے۔ قدومی کو جب باہرکی تازہ ہوا لگی تو اس نے اسماعیل سے کہا…
‫''''ہم کہاں سے آئے ہیں؟ کیا تم مجھے پہچان سکتے ہو؟ میں کون ہوں؟
‫میں بھی کچھ ایسے ہی محسوس کررہا ہوں''۔ اسماعیل نے کہا۔ ''ہم شاید سارے گناہ اندر ہی پھینک آئے ہیں''۔'' ‪:
‫اس عالقے سے باہر نکلنے کا راستہ انہیں معلوم تھا۔ وہ باہر نکل گئے
‫باہر تھوڑے سے اونٹ کھڑے تھے‪ ،باقی معلوم نہیں کہا غائب ہوگئے تھے۔ وہ دو اونٹوں پر بیٹھے اور قاہرہ کی سمت روانہ
‫ہوگئے۔
‫٭ ٭ ٭ وہ اگلی رات تھی۔ آدھی رات گزر گئی تھی‪ ،جب غیاث بلبیس نے قدومی اور اسماعیل کی ساری داستان ہر ایک
‫تفصیل کے ساتھ سن کر لمبی آہ بھری اور کہا… ''مجھے صالح الدین ایوبی کی باتیں اب صحیح معلوم ہورہی ہیں۔ اس نے
‫کہا تھا ان خزانوں سے دور رہو'' ۔غیاث بلبیس شہری امور کا کوتوال تھا۔ اسماعیل اور قدومی اسے اچھی طرح جانتے تھے۔
‫وہ گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ وہ صحرا سے لوٹ کر احمر درویش کے پاس جانے کے بجائے غیاث بلبیس کے پاس
‫چلے گئے اور اسے ساری واردات سنا کر بتایا کہ اس کا اصل سرغنہ احمر درویش ہے۔ غیاث بلبیس نے اسی وقت علی بن
‫سفیان کو اپنے پاس بال لیا۔ اسے یہ واردات سنائی۔ احمر معمولی حیثیت کا آدمی نہیں تھا۔ ان دونوں نے سلطان ایوبی کو
‫جگایا اور اجازت مانگی کہ وہ احمر درویش کو گرفتار کرلیں۔ انہیں اجازت مل گئی۔ انہوں نے فوج کے کچھ آدمی ساتھ لیے
‫اور احمر درویش کے گھر چھاپہ مارا۔ سارے گھر کی تالشی لی۔ وہاں سے وہ نقشے اور کاغذات برآمد ہوئے جو پرانی
‫دستاویزات کے پلندے سے غائب تھے۔صبح علی بن سفیان اور غیاث بلبیس کے ساتھ فوج کے ایک بڑے دستے کو اس پراسرار
‫عالقے کی طرف بھیجاگیا‪ ،جہاں ریمینس کا مدفن تھا۔ سلطان ایوبی نے حکم دیا تھا کہ ثبوت وغیرہ دیکھ کر مدفن کو اس
‫طرح بند کردیا جائے جس طرح پہلے تھا۔ کسی کو اندر نہ جانے دیا جائے۔ اسماعیل رہنمائی کررہا تھا۔ وہاں گئے تو وہ جگہ
‫خونچکاں کہانی بیان کررہی تھی۔ فوج کی مدد سے مدفن کے دہانے کو اسی وزنی چوکور پتھر سے بند کردیا گیا۔ جو نیچے
‫پڑی تھی۔ اسے فوج کی ایک بڑی جمعیت نے رسوں اور زنجیروں سے اوپر کیا اور فرعون ایک بار پھر نظروں سے اوجھل
‫ہوگیا مگر اب وہ اپنے جیسے دو اور گناہ گاروں کی الشیں اپنے مدفن میں لے گیا۔
‫یہ قصہ یہی ختم ہوا
20:03
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 63اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫صلیبیوں کا سن ‪١١٧٤ء دنیائے اسالم کے لیے اچھا ثابت نہ ہوا۔ یہ مسلمانوں کا سن ‪٥٦٩ہجری تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی
‫کو علی بن سفیان نے سال کے آغاز میں یہ خبر سنائی کہ عکرہ میں اپنا ایک جاسوس شہید ہوگیا ہے اور دوسرا پکڑا گیا
‫ہے۔ یہ اطالع ایک اور جاسوس الیا تھا جو ان دونوں کے ساتھ تھا۔ یہ جاسوس کچھ قیمتی معلومات بھی الیا تھا لیکن ایک
‫جاسوس کی شہادت اور دوسرے کی گرفتاری نے سلطان ایوبی کو پریشان کردیا۔ علی بن سفیان بھانپ گیا کہ سلطان ایوبی کچھ
‫زیادہ ہی پریشان ہوگیا ہے۔ فوجی سراغ رسانی اور جاسوسی کا یہ ماہر سربراہ جانتا تھا کہ سلطان ایوبی نے سینکڑوں فوجیوں
‫کی شہادت پر بھی کبھی پریشانی اور افسوس کا اظہار نہیں کیا لیکن ایک چھاپہ مار یا کسی ملک میں بھیجے ہوئے ایک
‫جاسوس کی شہادت کی خبر سن کر اس کا چہرہ بجھ جایا کرتا تھا۔
‫اب ایک جاسوس کی شہادت اور ایک کی گرفتاری کی اطالع پر علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے چہرے پر رنج کا تاثر
‫دیکھا تو اس نے کہا… ''امیر محترم! آپ کا چہرہ اداس ہوتاہے تو لگتا ہے سارا عالم اسالم ملول ہوگیا ہے۔ اسالم کی آبرو
‫جانوں کی قربانی مانگتی ہے۔ ایک دن ہم دونوں کو بھی شہید ہونا ہے۔ ہمارے دو جاسوس ضائع ہوگئے ہیں تو میں دو اور
‫بھیج دوں گا۔ یہ سلسلہ رک تو نہیں جائے گا''۔
‫یہ سلسلہ رک جانے کا مجھے خدشہ نہیں علی!'' سلطان ایوبی نے رنجیدہ سی مسکراہٹ سے کہا… ''کسی چھاپہ مار ''
‫کی شہادت میرے ذہن میں یہ سوچ بیدار کردیتی ہے کہ ایک یہ سرفروش ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل‪ ،وطن سے دور‪،
‫اپنے بیوی بچوں‪ ،بہن بھائیوں اور ماں باپ سے دور دشمن کے ملک میں تن تنہا اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور جان کی قربانی
‫دیتے ہیں اور ایک یہ ایمان فروش ہیں جو گھروں میں بادشاہوں کی طرح رہتے‪ ،عیش وعشرت کرتے اور اسالم کی جڑیں کاٹنے
‫میں اپنے دشمن کا ہاتھ بٹاتے ہیں''۔
‫کیا آپ پسند فرمائیں گے کہ ساالروں‪ ،نائب ساالروں اور تمام کمان داروں کو باقاعدہ وعظ دئیے جایا کریں؟'' علی بن ''
‫سفیان نے کہا… ''آپ انہیں مہینے میں ایک بار اسالم کی عظمت اور صلیبیوں کے عزائم کے متعلق وعظ دیا کریں۔ میرا
‫خیال ہے کہ جن کا رجحان دشمن پروری کی طرف ہے‪ ،انہیں بتایا جائے کہ ان کا دشمن کون ہے اور کیسا ہے تو وہ اپنے
‫خیاالت میں تبدیلی پیدا کرلیں گے''۔
‫نہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''جب انسان ایمان بیچنے پر آتا ہے تو اس کے آگے قرآن رکھ دو تو وہ اس مقدس کتاب''
‫کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دے گا۔ ایک طرف صرف الفاظ ہوں اور دوسری طرف دولت‪ ،عورت اور شراب تو انسان الفاظ سے
‫متاثر نہیں ہوتا۔ الفاظ نشہ دے سکتے ہیں‪ ،بادشاہی نہیں دے سکتے۔ ہماری قوم کے غدار بچے نہیں‪ ،وہ گنوار اور جاہل نہیں۔
‫وہ سب حاکم ہیں۔ فوج اور حکومت کے اونچے عہدے کے لوگ ہیں۔ وہ سپاہی نہیں۔ دشمن کے ساتھ سازباز حاکم ہی کیا
‫کرتے ہیں۔ سپاہی لڑتے اور مرتے ہیں۔ انہیں جھانسے دے کر بغاوت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ میں کسی کو وعظ اور خطبہ نہیں
‫دوں گا۔ خطبے دینے والے حکمران دراصل کمزور اور بددیانت ہوتے ہیں۔ وہ قوم کا دل الفاظ سے اور جوشیلے خطبوں سے
‫رچایا کرتے ہیں۔ خطبے اور تقریریں کمزوری کی عالمت ہوتی ہیں۔ میں فوج اور قوم سے یہ نہیں کہوں گا کہ ہم فاتح اور
‫خوشحال ہیں۔ میں حاالت کو بدلوں گا پھر حاالت بتائیں گے کہ ہم امیر ہیں یا غریب‪ ،فاتح ہیں یا شکست خوردہ۔ قوم اور
‫فوج مجھے سے اناج مانے گی تو میں انہیں الفاظ کی خوراک نہیں دوں گا۔ غداروں کو میں سزا دوں گا۔ انہیں جینے کے حق
‫سے محروم کردوں گا۔ علی بن سفیان! مجھے الفاظ میں نہ الجھائو۔ اگر مجھے بولنے کی عادت پڑ گئی تو میں جھوٹ بولنا
‫بھی شروع کردوں گا''۔
‫اعلی عہدوں کے چند ایک حاکم پکڑے گئے اور سزا پاچکے
‫مصر میں بغاوت کا جو خطرہ پیدا ہوگیا تھا‪ ،وہ ختم کردیا گیا تھا۔
‫ٰ
‫تھے۔ دو نے خود ہی سلطان ایوبی کے پاس آکر اقبال جرم کیا اور معافی لے لی تھی۔ سلطان ایوبی کا یہ کہنا بالکل صحیح

‫تھا کہ غداری اور بے اطمینانی پیدا کرنے کے ذمہ دار مفادپرست حاکم ہوتے ہیں۔ فوج اور قوم کو گمراہ کرکے سبز باغ دکھائے
‫جاتے اور بغاوت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ مصر میں ‪١١٧٤ء کے آغاز تک فوج میں بغاوت کا نام ونشان تک نہ رہا تھا۔ البتہ
‫صلیبی جاسوسی اور تخریب کاری میں بدستور مصروف تھے۔ صلیبیوں کے جاسوس اور تخریب کار مصر میں موجود اور سرگرم
‫تھے۔ یہ سلسلہ روکا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ سلطان ایوبی نے بھی اپنے جاسوس ان عالقوں میں بھیج رکھے تھے جو صلیبیوں
‫کے قبضے میں تھے۔ سلطان ایوبی اس زمین دوز جنگ کا ماہر تھا۔
‫پاک فلسطین کی سرزمین کا ایک مقام تھا جو اس لحاظ سے اہم تھا کہ وہاں صلیبیوں کا سب سے بڑا پادری ہے جسے ‪:
‫صلیب اعظم کا محافظ کہا جاتا تھا‪ ،رہتا تھا۔ وہیں سے صلیبی کمانڈر ہدایات اور حوصلہ افزائی حاصل کرتے تھے اور عکرہ اس
‫دور میں صلیبیوں کی ہائی کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر بن گیا تھا۔ جب نورالدین زنگی نے کرک کا قلعہ فتح کرلیا تو صلیبی عکرہ کو
‫ہیڈکوارٹر بنا کر بیت المقدس کو سلطان ایوبی اور نورالدین زنگی سے بچانے کی سکیمیں بنا رہے تھے۔ وہاں کے حاالت معلوم
‫کرنے اور دشمن کی سکیم کی اطالع کرک میں زنگی کو یا قاہرہ میں سلطان ایوبی کو پہنچانے کے لیے تین جاسوس بھیج
‫دئیے گئے تھے۔ ان کا کمانڈر عمران نام کا ایک نڈر اور ذہین جاسوس تھا۔ یہ علی بن سفیان کا انتخاب تھا۔
‫یہ تینوں نہایت خوبی سے عکرہ میں داخل ہوگئے تھے۔ جیسا کہ پہلے سنایا جاچکا ہے کہ سلطان ایوبی نے شوبک کا قلعہ
‫اور شہر فتح کیا تو وہاں سے بے شمار عیسائی اور یہودی کرک کی طرف بھاگ گئے تھے۔ مسلمانوں نے کرک پر چڑھائی
‫کرکے یہ شہر بھی لے لیا تو وہاں سے بھی غیرمسلم بھاگے اور مختلف مقامات پر چلے گئے۔ ان دونوں مفتوحہ جگہوں کے
‫اردگرد کے عالقوں کے بھی عیسائی اور یہودی بھاگ گئے تھے۔ سلطان ایوبی کا انٹیلی جنس کا محکمہ بھی اپنی فوج کے
‫ساتھ تھا۔ علی بن سفیان کی ہدایت کے مطابق کئی جاسوس عیسائیوں کے بہروپ میں عیسائیوں کے عالقوں میں بھیج دئیے
‫گئے۔ ان میں سے تین کو یہ مشن دیا گیا کہ وہ عکرہ سے جنگی معلومات حاصل کرکے قاہرہ بھیجیں۔ انہیں وہاں صلیبی
‫فوج کی نقل وحرکت پر نظر رکھنی تھی۔ غیرمسلم آبادی میں مسلمان فوج کی دہشت بھی پھیالنی تھی اور یہ اطالع بھی
‫دینی تھی کہ وہاں کس قسم کی تباہ کاری (سبوتاژ) کی جاسکتی ہے۔
‫یہ تینوں لٹے پٹے عیسائیوں کے بہروپ میں عکرہ داخل ہوگئے۔ ان دنوں وہاں یہ حالت تھی کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا تانتا
‫بندھا رہتا تھا۔ وہ سب ہراساں تھے اور پناہیں ڈھونڈ رہے تھے۔ پناہ کےبعد روزگار کا مسئلہ تھا۔ عمران اور ان کے دونوں
‫جاسوسوں کو وہاں عیسائیوں کی حیثیت سے پناہ مل گئی۔ تینوں ذہین اور تربیت یافتہ تھے۔ عمران سیدھا بڑھے پادری کے
‫پاس چال گیا۔ اپنے آپ کو کسی ایسے عالقے کا پناہ گزین ظاہر کیا جس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ اس نے اس طرح
‫باتیں کیں جیسے اس پر مذہب کا جنون طاری ہے اور وہ خدا کی تالش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کی
‫بیوی اور بچے مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ اسے ان بچوں کا اور بیوی کا کوئی غم نہیں‪ ،اس نے بیتابی سے یہ
‫خواہش ظاہر کی کہ وہ کلیسا کی خدمت کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس نے سنا ہے کہ خدا اور روحانی سکون کلیسا میں ہے۔ اس
‫نے اپنانام جان گنتھر بتایا۔
‫اور میں نے تو اسالم قبول کر ہی لیا تھا''۔ عمران نے پادری سے کہا… ''ان کے ایک مولوی نے کہا تھا کہ خدا …''
‫مسجد میں ہے‪ ،میری بیوی اور میرے بچے مجھ سے ناالں اور شاکی تھے کہ میں کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا۔ خدا اور
‫روحانی سکون کی تالش میں مارا مارا پھرتا رہتا تھا۔ میں خدا کے وجود پر یقین رکھتا ہوں۔ وہ خدا ہی تھا جس نے میری
‫بیوی کو مسلمانوں کے ہاتھوں مروا کر اپنی پناہ میں لے لیا کیونکہ جو اس کا خاوند تھا‪ ،اسے روٹی نہیں دیتا تھا۔ وہ خدا ہی
‫تھا جس نے میرے بچوں کو بھی سنبھال لیا کیونکہ وہ ماں کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے اور میں جو ان کا باپ تھا‪ ،ان کی
‫طرف سے بے پروا تھا۔ میں مسلمان ہوچال تھا مگر مسلمانوں نے میرے معصوم بچوں کو مار ڈاال۔ انہوں نے ہم پر بہت مظالم
‫ڈھائے۔ میں جان گیا کہ خدا مسلمان کے سینے میں نہیں ہے‪ ،کہیں اور ہے''۔
‫اس نے اچانک پادری کے کندھے تھام کر اسے جھنجھوڑا اور دانت پیس کر پوچھا… ''مقدس باپ! مجھے بتاو میں پاگل تو
‫نہیں ہوگیا؟ میں اپنی جان اپنے ہاتھوں لے لوں گا۔ میں اگلے جہان تمہارا گریبان پکڑ کر خدا کے سامنے لے جاوں گا اور
‫کہوں گا کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہیں‪ ،ایک ڈھونگ تھا۔ اس نے مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکے دئیے ہیں''۔
‫اس کی ذہنی کیفیت ایسی ہوگئی کہ صلیب اعظم کا محافظ چونک پڑا۔ اس نے عمران کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''تم
‫میرے غمزدہ بیٹے ہو۔ خدا تمہارے اپنے سینے میں ہے جو تمہیں خدا کے بیٹے کے معبد میں نظر آئے گا۔ تم عیسائی ہو
‫جان گنتھر! تم اسی مذہب اور اسی روپ میں خدا کو پالو گے۔ تم جائو‪ ،ہر صبح میرے پاس آجایا کرو۔ میں تمہیں خدا دکھا
‫دوں گا''۔
‫میں کہیں نہیں جائوں گا مقدس باپ!''۔ عمران نے کہا… ''میرا کوئی گھر نہیں‪ ،دنیا میں میرا کوئی نہیں رہا۔ مجھے'' ‪:
‫اپنے پاس رکھیں۔ میں آپ کی اور خدا کے بیٹے کی معبد کی اتنی خدمت کروں گا‪ ،جتنی آپ نے بھی نہیں کی''۔
‫عمران نے علی بن سفیان سے تربیت لی تھی۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو چونکہ صلیبیوں کے راز معلوم کرنے کے لیے
‫تیار کیا گیا تھا‪ ،اس لیے انہیں عیسائیت کے متعلق گرجوں کے اندر کے آداب اور طور طریقوں کے متعلق نہ صرف معلومات
‫دی گئیں بلکہ ریہرسل کو ایسی خوبی سے عملی شکل دی کہ بڑا پادری اور اس کے چیلے اس سے بہت متاثر ہوئے اور
‫اسے گرجے میں رکھ لیا۔ عمران نے پادری کی خدمت ایسا والہانہ انداز سے شروع کردی کہ وہ پادری کا خصوصی مالزم بن
‫گیا چونکہ وہ ذہین بھی تھا‪ ،اس لیے اس نے پادری کے دل پر قبضہ کرلیا۔ پادری نے تسلیم کرلیا کہ یہ شخص غیرمعمولی طور
‫پر ذہین ہے لیکن اس پر مذہب کا جنون اتنی شدت سے طاری ہوگیا ہے کہ اس کی ذہانت بے کار ہورہی ہے۔ پادری نے اس
‫کی تعلیم وتربیت شروع کردی۔
‫٭ ٭ ٭
‫عمران کا ایک ساتھی ایک عیسائی تاجر کے پاس گیا اور بتایا کہ وہ کرک سے بھاگا ہوا عیسائی ہے جہاں اس کا سارا
‫خاندان مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ اس نے اپنی داستان غم ایسے جذباتی انداز سے سنائی کہ تاجر نے اسے اپنے پاس
‫مالزم رکھ لیا۔ وہ رحیم ہنگورہ نام کا سوڈانی مسلمان تھا۔ عمران کی طرح ذہین‪ ،دلیر اور خوبرو۔ اس نے اس تاجر کا انتخاب
‫سوچ سمجھ کرکیا تھا۔ اس نے چند دن صرف کرکے دیکھا تھا کہ وہاں صلیبی فوج کے افسر آتے ہیں اور فوج کے لیے
‫سامان خریدتے ہیں۔ ٹریننگ اور اپنی عقل کے زور پر وہ تاجر کا قابل اعتماد مالزم بن گیا۔ چند دنوں بعد تاجر نے اسے گھر
‫کے کام بھی دینے شروع کردئیے۔ رحیم نے ایلی مور نام کے عیسائی سے تاجر کے گھر والوں پر بھی اپنا اثر قائم کرلیا۔ اس
‫کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ اس نے تاجر کی بیوی‪ ،اس کی جوان بیٹی اور بیٹے کو ایسے انداز سے اپنی تباہی کی کہانی
‫سنائی تھی کہ ان سب کے آنسو نکل آئے تھے۔ اس نے انہیں بتایا کہ اس کا مکان انہی کے مکان جیسا تھا‪ ،ایسی ہی

‫اعلی نسل کا ایک گھوڑا تھا۔ تاجرکی بیٹی جیسی خوبصورت جوان بہن تھی۔ اس کے گھر
‫سجاوٹ تھی‪ ،ایسا ہی سامان تھا۔
‫ٰ
‫میں حاجت مندوں کو نوکر رکھا جاتا اور بھوکوں کو کھانا کھالیا جاتا تھا۔ اب خدا نے یہ دن دکھایا ہے کہ میں نوکری کررہا
‫ہوں۔
‫تاجرکی بیٹی ایلس اس سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوئی۔ وہ رحیم سے اس کی بہن کے متعلق ہی پوچھتی رہی۔ رحیم نے کہا…
‫'' وہ بالکل تمہاری طرح تھی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے بہن اور زیادہ یاد آنے لگی ہے اگر وہ مرجاتی تو اتنا غم نہ ہوتا۔ غم
‫یہ ہے کہ مسلمان اسے اٹھا لے گئے ہیں۔ تم سمجھ سکتی ہو کہ اس کا کیا حال ہورہا ہوگا۔ مجھے اب یہی غم کھائے جارہا
‫ہے کہ اسے مسلمانوں سے کس طرح رہائی دالئوں۔ کبھی دل میں زیادہ ابال اٹھا تو شاید میں پاگلوں کی طرح وہیں جا
‫پہنچوں‪ ،جہاں بہن کو چھوڑ آیا ہوں۔ بہن تو نہیں ملے گی‪ ،مجھے موت مل جائے گی۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا''۔
‫ماں بیٹی نے ضرور سوچا ہوگا کہ اتنا خوبرو جوان جوانی کی عمر میں ہی غم میں گھلنے لگا ہے اور اس کی جذباتی حالت
‫بتا رہی ہے کہ اس کا غم ہلکا نہ کیا گیا تو یہ پاگل ہوجائے گا یا خودکشی کرلے گا۔ ایلس جو تاجر کی جوان اور غیرشادی
‫شدہ بیٹی تھی‪ ،رحیم کے درد کو اپنے دل میں محسوس کرنے لگی۔ یہاں تک کہ رحیم جب باہر نکال تو ایلس نے کسی بہانے
‫باہر جاکر رحیم کو راستے میں روک لیا اور کہا وہ ان کے گھر آتا رہا کرے۔ اس نے رحیم سے کچھ جذباتی باتیں کرکے اس
‫کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کی۔ ماں بیٹی نے تاجر سے بھی کہا کہ اس آدمی کا خیال رکھے۔ دراصل رحیم کی شکل
‫وصورت اور ڈیل ڈول ایسی تھی کہ وہ کسی اونچے اور کھاتے پیتے خاندان کا بیٹا لگتا تھا۔ اس تاثر میں اگر کوئی کسر تھی
‫تو وہ اس کی زبان اور اداکاری سے پوری ہوجاتی تھی جس کی اسے ٹریننگ دی گئی تھی۔
‫تین چار روز بعد وہ تاجر کے پاس بیٹھا تھا کہ اسے اپنا ایک ساتھی جاسوس رضا الجاوہ نظر آگیا۔ رحیم اس کے پیچھے
‫پیچھے گیا اور اس کے ساتھ ساتھ چلتے اس سے پوچھا کہ وہ کیا کررہا ہے۔
‫معلوم ہوا کہ اسے کوئی ٹھکانہ نہیں مال۔ رضا تجربہ کار گھوڑ سوار تھا اور گھوڑے پالنے اور سنبھالنے کی مہارت رکھتا تھا۔ ‪:
‫رحیم اسے تاجر کے پاس لے آیا اور اس کا تعارف فرانسس کے نام سے کراکے کہا کہ یہ بھی کرک کا لٹا پٹا عیسائی ہے۔
‫اسے کہیں نوکر کرادیا جائے۔ رحیم نے کہا یہ گھوڑوں کے سائیسوں کا انچارج تھا۔ یہی کام کرسکتا ہے۔ تاجر نے کہا کہ اس
‫کے پاس بڑے بڑے فوجی افسر آتے رہتے ہیں۔ ان کی وساطت سے وہ فرانسس کو مالزمت دال دے گا… دو تین روز بعد رضا کو
‫اس اصطبل میں مالزمت مل گئی جہاں فوج کے بڑے افسروں کے گھوڑے رہتے تھے۔
‫تاجر کے پاس فوج کے افسر آتے رہتے اور وہ ان کے پاس جاتا رہتا تھا۔ رحیم نے دیکھا کہ تاجر ان افسروں کو شراب اور
‫حشیش کے عالوہ چوری چھپے عورتیں بھی دیا کرتا تھا‪ ،اس طرح اس نے ان سب کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا۔ رحیم
‫تاجر کو صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کے خالف بڑھکاتا رہتا اور اس خواہش کا اظہار کرتا رہتا تھا کہ صلیبی فوج پورے
‫عرب اور مصر پر قابض ہوجائے اور کوئی مسلمان زندہ نہ رہے۔ اس خواہش میں وہ بعض اوقات اتنا بیتاب اور بے قابو نظر آتا
‫تھا جیسے عکرہ کے مسلمانوں کا خون پی لے گا۔ تاجر اسے تسلی دیتا رہتا تھا کہ صلیبی فوج اس کی خواہش پوری کردے
‫گی۔ وہ صلیبی فوج کے ان افسروں کو بھی برا بھال کہنے لگتا تھا جو عکرہ میں بیٹھے عیش کررہے تھے۔ ان جذباتی باتوں
‫کے ساتھ ساتھ رحیم عقلمندی کی باتیں بھی کرتا تھا اور مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے ایسے جنگی نقشے اور منصوبے
‫بناتا تھا کہ تاجر اسے غیرمعمولی طور پر دانشمند سمجھتا تھا۔ ایسے ہی جذبات اور دانشمند باتوں کا نتیجہ تھا کہ تاجر نے
‫اسے وہ فوجی راز دینے شروع کردئیے جو اسے فوجی افسروں سے حاصل ہوتے تھے۔
‫اس کے ساتھ ہی ایلس رحیم کی گرویدہ ہوگئی۔ رحیم نے ابتدا میں اسے بھی اپنے فرض کی ایک کڑی سمجھا لیکن ایلس کے
‫والہانہ پن نے رحیم کے دل میں اس کی محبت پیدا کردی۔ رحیم نے دل میں فیصلہ کرلیا کہ اپنا فرض پورا کرکے وہ ایلس کو
‫اپنے ساتھ قاہرہ لے جائے گا اور اسے مسلمان کرکے اس کے ساتھ شادی کرلے گا مگر ابھی دونوں کو معلوم نہیں تھا کہ
‫صلیبی فوج کا ایک بڑا افسر اس لڑکی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
‫رضا الجاوہ بھی تربیت یافتہ جاسوس تھا۔ اصطبل میں اسے فوج کے کسی بڑے افسر کا گھوڑا مل گیا تھا۔ اس افسر نے
‫محسوس کیا کہ رضا عام قسم کا سائیس نہیں بلکہ عقل ودانش بھی رکھتا ہے۔ وہ باتیں ہی ایسی کرتا تھا‪ ،جب کبھی یہ
‫افسر اصطبل میں آتا تو رضا اس سے پوچھتا۔ ''صالح الدین ایوبی کو آپ کب شکست دے رہے ہیں؟'' اور پھروہ بتاتا کہ
‫سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں کیا خوبیاں اور صلیبی فوج میں کیا خامیاں ہیں۔ ایک روز اس نے کوئی ایسی بات کہہ
‫دی جو اگر کوئی جنگی امور کا ماہر نہ کہے تو کم از کم ایک سائیس کے دماغ میں نہیں آسکتی۔ اس افسر نے اسے کہا۔
‫''تم کون ہو؟ تمہارا پیشہ سائیسی نہیں ہوسکتا''۔
‫آپ کو کس نے بتایا ہے کہ میرا پیشہ سائیسی ہے؟ ''رضا نے کہا ''میں کرک میں گھوڑوں کا مالک تھا۔ میں خود تو ''
‫فوج میں نہیں تھا‪ ،میرے دو گھوڑے جنگ میں گئے تھے۔ یہ تو زمانے کے انقالب ہیں کہ گھوڑوں کا مالک آج اصطبل میں
‫سائیس ہے۔ مجھے اس کا کوئی غم نہیں‪ ،اگر آپ صالح الدین ایوبی کو شکست دے دیں تو میں باقی عمر آپ کے جوتے
‫صاف کرتے گزار دوں گا''۔
‫'
‫صالح الدین ایوبی کی قسمت میں شکست لکھ دی گئی ہے فرانسس!'' اس نے رضا سے کہا۔'' ‪:
‫لیکن کیسے؟'' رضا نے کہا… ''اگر ہمارے بادشاہوں نے کرک اور شوبک پر حملہ کیا اور مسلمانوں کو اسی طرح محاصرے''
‫میں لے کر شکست دینے کی کوشش کی جس طرح انہوں نے ہمیں محاصرے میں لیا تھا تو آپ کامیاب نہیں ہوں گے۔ صالح
‫الدین ایوبی اور نورالدین زنگی جنگ کے استاد ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ انہوں نے ہماری فوج کو قلعوں سے دور روکنے کا
‫اہتمام کررکھا ہے۔ عقل مندی اس میں ہوگی کہ حملہ کسی ایسی سمت سے کیا جائے جو ایوبی کے وہم وگمان میں بھی نہ
‫ہو۔ ایوبی اور زنگی قلعوں میں بیٹھے رہیں اور آپ مصر پر چھا جائیں''۔
‫ایسے ہی ہوگا''۔ افسر نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا… ''سمندر میں کوئی قلعہ نہیں ہوتا‪ ،مصر کے ساحل پر کوئی ''
‫قلعہ نہیں۔ مصر پر اب صلیب کی حکمرانی ہوگی''۔
‫یہ ابتدا تھی۔ اس کے بعد رضا نے اس افسر سے کئی ایک راز کی باتیں معلوم کرلیں۔ دشمن اپنا جنگی راز تفصیل سے بیان
‫نہیں کیا کرتا۔ ہوشیار جاسوس اشاروں میں باتیں اگلوا لیتا اور ان اشاروں کو اپنے فن کے مطابق جوڑ کر وہ کہانی بنا لیتا ہے
‫جسے راز کہتے ہیں۔
‫٭ ٭ ٭
‫رحیم اور رضا ہر اتوار کو صبح گرجے میں جاتے اور عمران سے مالقات کرلیتے اور اسے اپنی رپورٹیں بھی دیا کرتے تھے۔

‫رحیم نے عمران کو بتا دیا تھا کہ تاجر کی بیٹی ایلس اسے بڑی شدت سے چاہنے لگی ہے۔ عمران نے اسے کہا کہ وہ اس
‫کی محبت کو ٹھکرائے نہیں‪ ،ورنہ اسے اس جگہ سے نکال دیا جائے اور یہ احتیاط بھی کرے کہ اس کی محبت میں ہی نہ
‫گم ہوجائے مگر رحیم ایلس کے حسن وجوانی میں گم ہوتا چال جارہا تھا۔ لڑکی نے اسے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ان کی شادی
‫صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے کہ وہ عکرہ سے بھاگ چلیں کیونکہ کوئی فوجی افسر لڑکی کے باپ کے ساتھ دوستانہ
‫گانٹھ رہا تھا۔ رحیم نے عمران کو یہ صورتحال نہ بتائی۔
‫عمران نے پادری کا قرب اور اعتماد اس حد تک حاصل کرلیا تھا کہ اس کا ہمراز درباری بن گیا تھا۔ وہ پادری سے ایسے
‫سوال پوچھتا تھا جن میں ذہانت کی پختگی اور علم کی تشنگی ہوتی تھی۔ پادری اپنی فراغت کے اوقات میں اسے مذہب
‫کے سبق دیا کرتا تھا۔ وہ عمران کو یہ ذہن نشین کرا رہا تھا کہ عیسائیت کا یہ فرض ہے کہ کرٔہ ارض سے اسالم کا وجود
‫ختم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جنگ کی جائے اور جو بھی ذریعہ کامیاب ہوسکتا ہے‪ ،استعمال کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ
‫مسلمانوں کو قتل کیا جائے۔ انہیں ہر ذریعے سے عیسائیت میں النے کی کوشش کی جائے۔ اگر وہ عیسائیت قبول نہ کریں تو
‫ان کے ذہنوں سے اسالم بھی نکال دیا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان میں بدی کا بیج بو دیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ
‫یہ ہے کہ اپنی عورتوں کو استعمال کیا جائے۔ یہ عورتیں مسلمان عورتوں میں بدکاری پیدا کریں اور جوان لڑکیاں مسلمان
‫نوجوانوں اور ان کے حکمرانوں اور حاکموں کا کردار تباہ کریں۔ چونکہ یہودی بھی مسلمانوں کے دشمن ہیں اور وہ اپنی عورتوں
‫کو استعمال کرتے ہیں‪ ،اس لیے مسلمانوں کو تباہ کاری کے لیے یہودی عورتوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مقصد یہ سامنے
‫رکھا جائے کہ مسلمانوں کا نام ونشان مٹانا ہے۔ پھر ہر طریقہ اختیار کیا جائے‪ ،وہ خواہ دوسروں کی نظر میں ناجائز‪ ،ظالمانہ
‫اور شرمناک ہی کیوں نہ ہو۔
‫عمران پادری سے ایسی باتیں سنتا اور اطمینان کا اظہار کرتا رہتا تھا۔ وہاں فوجی افسر اور حکومت کے افسر بھی آتے رہتے
‫تھے۔ ان دنوں چونکہ صلیبیوں کو یکے بعد دیگرے دو میدانوں میں شکست کھا کر بھاگنا پڑا تھا‪ ،اس لیے عکرہ میں ہر کسی
‫کی زبان پر یہی سوال تھا کہ جوابی حملہ کب کیا جائے گا۔ پادری کی ذاتی محفل میں تو اور کوئی بات ہوتی ہی نہیں
‫تھی۔ عمران وہاں سے قیمتی راز حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا جارہا تھا۔ اس نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ صلیبی حکمرانوں
‫میں اتفاق اور اتحاد نہیں ہے۔ ان کی اپنی بادشاہیاں اور سلطنتیں تھیں‪ ،وہ چونکہ ہم مذہب تھے‪ ،اس لیے صلیب پر ہاتھ رکھ
‫کر انہوں نے اسالم کے خاتمے کی جنگ شروع کردی تھی مگر اندر سے وہ پھٹے ہوئے تھے۔ ان میں ایسے بھی تھے جو
‫درپردہ مسلمانوں کے ساتھ صلح اور معاہدہ کرکے اپنی صلیبی بھائیوں کے ساتھ مل کر جنگ کی تیاریاں بھی کرتے رہتے تھے۔
‫ان میں قابل ذکر سیزر مینوئل تھا جس نے ایک میدان میں نورالدین زنگی کے ساتھ صلح کرکے تاوان ادا کیا اور مسلمانوں کے
‫جنگی قیدی رہا کردئیے تھے۔ اب سیزر مینوئل دوسرے حکمرانوں کو بڑھکا رہا تھا کہ وہ سب مل کر زنگی پر حملہ کریں۔
‫حملے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ ایک زنگی پر اور دوسرا مصر پر۔ اس وقت زنگی کرک میں تھا۔
‫بہر حال پادری ان کے نفاق پر پریشان رہتا تھا۔ عمران نے اسے یہ نہ کہا کہ جو قوم اپنی لڑکیوں کو بھی اپنے مقاصد کے ‪:
‫لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی‪ ،اس کے افراد ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے کیوں گریز کریں گے۔ میدان میں ہار
‫کر زمین دوز جنگ لڑنے والی قوم کی اخالقی حالت یہی ہوسکتی ہے کہ اپنے بھائیوں سے بھی دغا اور فریب کریں۔ عمران
‫نے اپنے ذہن میں یہ بات سلطان ایوبی کو بتانے کے لیے محفوظ کرلی کہ اگر اسالم کی صفوں میں غدار نہ ہوں تو صلیبیوں
‫کو فیصلہ کن شکست دے کر ان سے یورپ بھی لیا جاسکتا ہے۔ غدار مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری بن گئے تھے۔
‫عکرہ کا پادری اور صلیبی حکمران مسلمانوں کی اس کمزوری پر بہت خوش تھے۔ عمران کو وہاں پتا چال کہ صلیبیوں نے
‫مسلمانوں کے کردار میں تخریب کاری کی مہم اور تیز کردی ہے۔ اسے مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں کے
‫نام بھی معلوم ہوگئے جو درپردہ صلیبیوں کے اتحادی بن چکے تھے۔ انہیں صلیبی بے دریغ یورپ کی شراب‪ ،دولت اور جوان
‫لڑکیاں سپالئی کررہے تھے۔
‫عمران اور رضا تو اپنے فرائض میں مگن تھے مگر رحیم فرض کے راستے سے ہٹتا جارہا تھا۔ اس کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ
‫اسے تاجر کے گھر کا ہی کوئی کام دیا جائے۔ ایلس کی محبت نے اسے اندھا کرنا شروع کردیا تھا۔ چند دنوں بعد ایلس نے
‫اسے بتایا کہ اس کی شادی ایک ایسے فوجی افسر کے ساتھ کی جارہی ہے جو عمر میں اس سے بہت بڑا ہے۔ بڑا نہ بھی
‫ہوتا تو ایلس رحیم کے سوا کسی اور کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اپنی ماں سے منوا چکی تھی کہ اس افسر
‫کے ساتھ شادی نہیں کرے گی۔ اس کا باپ نہیں مانتا تھا۔ وہ ان فوجی افسروں سے ہی دولت کما رہا تھا۔ اپنی لڑکی دینے
‫سے انکار نہیں کرسکتا تھا۔ ایلس نے ایک روز اپنے گلے میں ڈالی ہوئی صلیب رحیم کے ہاتھ پر رکھ کر اس پر اپنا ہاتھ رکھا
‫اور صلیب کی قسم کھائی تھی کہ وہ رحیم کے سوا کسی اور کو قبول نہیں کرے گی۔ رحیم نے بھی صلیب پر ایسی ہی قسم
‫کھائی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫ایک روز پادری کے پاس چار پانچ فوجی افسر آئے اور اس کے خاص کمرے میں جابیٹھے۔ عمران نے ان کے چہروں کے
‫تاثرات سے محسوس کیا کہ کوئی خاص بات ہے۔ عمران پادری کے کمرے میں چال گیا۔ ایک فوجی افسر بات کرتے چپ
‫ہوگیا۔ پادری نے عمران سے کہا… ''جان گنتھر! تم کچھ دیر باہر ہی رہو۔ ہم کوئی ضروری باتیں کررہے ہیں''۔
‫عمران دوسرے کمرے میں چال گیا اور دروازے کے ساتھ کان لگا دئیے۔ وہ لوگ آہستہ آہستہ بول رہے تھے‪ ،پھر بھی کام کی
‫باتیں عمران کی سمجھ میں آگئیں۔ جب فوجی افسر چلے گئے تو عمران وہاں سے ادھر ادھر ہوگیا تاکہ پادری کو شک نہ ہو۔
‫اس نے یہ ارادہ بھی کیا کہ اسی وقت بھاگ جائے اور کہیں رکے بغیر قاہرہ پہنچے اور سلطان ایوبی کو اطالع کردے کہ حملہ
‫روکنے کی تیاری کرلے مگر پادری نے اسے بال کر ایسے کام پر لگا لیا کہ وہ فوری طور پر بھاگ نہ سکا۔ اس کے عالوہ اسے
‫رحیم اور رضا سے بھی رپورٹیں لینی تھیں۔ ممکن تھا کہ ان کے کانوں میں بھی یہ خبر پہنچی ہو ‪ ،جو اس نے سنی ہے۔
‫اس نے سوچا کہ ان سے تصدیق ہوجائے تو تینوں اکٹھے عکرہ سے نکل جائیں۔ اس کام کے لیے وہ تین چار روز انتظار
‫کرسکتا تھا لیکن اس کی بیتابی اسے ٹکنے نہیں دے رہی تھی۔
‫دوسرے دن رضا کے پاس گیا۔ رضا اسے اصطبل میں مال۔ اس نے پوچھا کہ اسے کوئی نئی خبر ملی ہے؟ رضا نے بتایا کہ
‫کچھ غیرمعمولی سی سرگرمی نظر آرہی ہے اور اس نے اڑتے اڑتے سنی ہے کہ صلیبی جوابی حملہ خشکی کے راستے نہیں
‫کریں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمندر کی طرف سے آئیں گے۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ ان کے حملے کی تفصیل کیا ہے۔
‫عمران نے اسے بتایا کہ اس حملے کو صلیبی فیصلہ کن بنانا چاہتے ہیں۔ا س نے جو کچھ سنا تھا‪ ،وہ رضا کو سنا دیا اور
‫اسے یہ مشن دیا کہ وہ اس حملے کی تفصیالت معلوم کرے۔ عمران صرف تصدیق کرنا چاہتا تھا‪ ،ورنہ وہ تفصیل سے تو آگاہ

‫ہو ہی چکا تھا۔ اس نے رضا سے کہا کہ اب وہ ایک آدھ دن میں یہاں سے روانگی کی تیاری کرے۔ ان کا فرض پورا ہوچکا
‫ہے۔ واپسی کے لیے انہیں گھوڑوں یا اونٹوں کی بھی ضرورت تھی‪ ،جو انہیں کہیں سے چوری کرنے تھے۔
‫عمران رحیم سے ملنا چاہتا تھا تاکہ اسے بھی چوکنا کرکے واپسی کی تیاری کے لیے کہہ دے لیکن رات ہوچکی تھی اور وہ
‫اس کے ٹھکانے پر جانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ تاجر نے اسے رہنے کے لیے جو جگہ دے رکھی تھی وہاں جانا ٹھیک نہیں تھا۔
‫عمران گرجے چال گیا۔
‫وہ اگر رحیم کے پاس جاتا بھی تو وہ اسے نہ ملتا۔ وہ اپنے ٹھکانے میں بھی نہیں تھا اور وہ عکرہ میں بھی نہیں تھا۔ ‪:
‫جب عمران اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے پریشان ہورہا تھا۔ اس وقت ایلس نے رحیم کو کسی اور ہی پریشانی میں ڈال
‫رکھاتھا۔ ہوا یوں تھا کہ صلیبیوں نے رقص اور کھانے کی محفل منعقد کی تھی۔ ایلس کے امیدوار نے اسے اپنے ساتھ رقص کے
‫لیے کہا تو ایلس نے اسے ٹھکرا دیا اور وہ اس سے کم عمر کے افسروں کے ساتھ ناچتی رہی۔ اس کے امیدوار نے اس کے
‫باپ سے شکایت کی۔ اس کا باپ بھی اس محفل میں موجود تھا‪ ،جہاں شراب کی صراحیاں خالی ہورہی تھیں۔ باپ نے
‫ایلس کو ڈانٹ کر کہا کہ وہ اپنے منگیتر کی توہین نہ کرے اور اس کے ساتھ ناچے۔ ایلس ناراض ہوکر گھر چلی گئی اور باپ
‫کو یہ فیصلہ سنا آئی کہ وہ اس بوڑھے کے ساتھ شادی نہیں کرے گی۔
‫اس کا باپ اور امیدوار اس کے پیچھے گئے۔ وہ دور جاچکی تھی۔ گھر جاکر دیکھا‪ ،وہ وہاں نہیں تھی۔ تالش کرتے کرتے وہ
‫رحیم کے کمرے سے برآمد ہوئی۔ باپ نے اس سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کررہی ہے۔ اس نے تنک کر جواب دیا کہ وہ جہاں
‫چاہے جاسکتی ہے اور جہاں چاہے بیٹھ سکتی ہے۔ اس کے امیدوار کو شک ہوا کہ یہاں معاملہ گڑبڑ ہے۔ ایلس کو باپ گھر
‫لے گیا۔ امیدوار نے رحیم سے پوچھا کہ یہ لڑکی یہاں کیوں آئی تھی… رحیم نے جواب دیا کہ وہ پہلے بھی یہاں آیا کرتی ہے
‫اور آئندہ بھی آئے گی۔ امیدوار بڑا افسر تھا‪ ،اس نے رحیم کو دھمکی دی کہ وہ یہاں سے چال جائے ورنہ اسے زندہ نہیں
‫رہنے دیا جائے۔ رحیم کے جسم میں جوانی کا خون تھا۔ اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ معاملہ بگڑ گیا۔ تاجر نے آکر بیچ
‫بچائو کرادیا۔ ایلس کے امیدوار نے کہا کہ وہ اس آدمی کو یہاں دیکھنا نہیں چاہتا۔
‫دوسرے دن تاجر نے رحیم سے کہا کہ وہ اسے مالزمت میں نہیں رکھ سکتا کیونکہ فوج کے اتنے بڑے افسر کو ناراض کرکے وہ
‫اپنا کاروبار تباہ نہیں کرنا چاہتا۔ اس نے رحیم کو یہ نصیحت کی کہ وہ وہاں سے چال جائے کیونکہ فوجی افسر اسے کسی
‫جرم کے بغیر قید خانے میں ڈال سکتا ہے۔ رحیم بھول چکا تھا کہ وہ کس مقصد کے لیے یہاں آیا ہے۔ اس نے ایلس کو اپنے
‫ذاتی وقار کامسئلہ بنا لیا۔ اس کے امیدوار کی دھمکی کا وہ عملی جواب دینا چاہتا تھا۔ تاجر اپنی دکان میں تھا۔ رحیم اس
‫کے گھر گیا۔ ایلس سے مال اور اسے بتایا کہ اس کے باپ نے اسے نوکری سے نکال دیا ہے۔ ایلس اس کے ساتھ بھاگ جانے
‫کو تیار ہوگئی۔ بھاگنے کا وقت شام کے بعد کا مقرر کیا گیا‪ ،جب اس کا باپ گھر نہیں ہوتا تھا۔
‫رات کو اس وقت جب عمران رضا کے پاس بیٹھا اس راز کے متعلق باتیں کررہا تھا‪ ،جس کے لیے انہوں نے جان کا خطرہ
‫مول لے رکھا تھا۔ رحیم ایلس کے انتظار میں شہر سے باہر اس جگہ کھڑا تھا جو اسے ایلس نے بتائی تھی۔ ایلس نے اسے
‫کہا تھا کہ وہ باپ کے گھوڑے پر آئے گی اور وہ دونوں ایک ہی گھوڑے پر بھاگیں گے۔ وہ بے صبری سے ایلس کا انتظار
‫کررہا تھا اور ڈر رہا تھا کہ وہ باپ کا گھوڑا کس طرح چرا کر السکے گی… لڑکی نے گھوڑا چرا لیا تھا۔ اس پر زین ڈال کر
‫کس لی تھی اور وہ گھوڑے پر سوار ہوکر نکل بھی آئی تھی۔ رحیم نے جب اسے دیکھا تو اسے یقین نہ آیا کہ یہ ایلس ہے۔
‫اس کی آواز پر وہ گھوڑے پر اس کے پیچھے سوار ہوگیا۔ کچھ دور تک انہوں نے گھوڑے کی رفتار آہستہ رکھی۔ شہر سے دور
‫جاکر رحیم نے گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ کچھ دیر بعد وہ عکرہ سے کافی دور جاچکے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫آدھی رات کے وقت وہ ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں پانی تھا۔ رحیم نے اس خیال سے گھوڑا روک لیا کہ اسے پانی پال لیا
‫جائے اور آرام بھی کرلے۔ اسے معلوم تھا کہ آگے بہت دور تک پانی نہیں ملے گا۔ اسے یہ یقین ہوگیا تھا کہ وہ پکڑے نہیں
‫جائیں گے۔ کسی کو کیا خبر کہ وہ کس طرف گئے ہیں۔ اس نے ایلس سے کہا کہ آرام کرلیں۔ سحر کی تاریکی میں روانہ
‫ہوجائیں گے۔
‫تم بیت المقدس کا راستہ جانتے ہو؟'' ایلس نے پوچھا۔''
‫انہوں نے عکرہ سے بھاگتے وقت یہ طے کیا ہی نہیں تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے۔ اب لڑکی نے بیت المقدس کا نام لیا تو
‫رحیم نے کہا… ''بیت المقدس کیوں؟ میں تمہیں وہاں لے جاوں گا جہاں تمہارے تعاقب میں کوئی آنے کی جرٔات ہی نہیں
‫کرے گا''۔
‫کہاں؟'' ایلس نے پوچھا۔''
‫مصر''۔ رحیم نے جواب دیا۔''
‫''
‫مصر؟'' ایلس نے حیرت زدہ ہوکے پوچھا… ''وہ تو مسلمانوں کا ملک ہے‪ ،وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے''۔''
‫مسلمانوں کو تم نہیں جانتی ایلس!'' رحیم نے کہا۔ ''مسلمان بڑی رحم دل قوم ہے۔ تم چل کے دیکھنا''۔''
‫نہیں!'' ایلس نے بدک کر کہا… ''مجھے مسلمانوں سے ڈر آتا ہے۔ بچپن سے مجھے مسلمانوں کے متعلق بڑی غلیظ ''
‫باتیں بتائی گئی ہیں۔ ہمارے ہاں مائیں اپنے بچوں کو مسلمانوں سے ڈرایا کرتی ہیں۔ مجھے مسلمانوں سے نفرت ہے''۔وہ
‫ڈررہی تھی اور رحیم کے ساتھ لگ گئی تھی۔ اس نے کہا… ''مجھے بیت المقدس لے چلو۔ وہاں ہم شادی کرلیں گے۔ بیت
‫المقدس کدھر ہے؟ میں سمت بھول گئی ہوں''۔
‫میں مصر کی طرف جارہا ہوں''۔ رحیم نے کہا۔''
‫ایلس بگڑ گئی اور پھر رونے لگی۔
‫''تم مسلمانوں سے نفرت کرتی ہو؟''
‫''!بہت زیادہ''
‫''اور مجھے سے تمہیں محبت ہے؟''
‫''!بہت زیادہ''
‫''اور اگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میں مسلمان ہوں تو تم کیا کرو گی؟''
‫میں ہنسوں گی''۔ ایلس نے کہا… ''مجھے تمہارے لطیفے اور مذاق بہت اچھے لگتے ہیں''۔''
‫میں مذاق نہیں کررہا ایلس!'' رحیم نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ میں مسلمان ہوں اور ذرا اس قربانی پر غور کرو جو مجھ''

‫سے تمہاری محبت نے کرائی ہے۔ میں یہ قربانی بخوشی دے رہا ہوں''۔
‫کیسی قربانی؟'' ایلس نے کہا… ''تم تو پہلے ہی بے گھر تھے۔ اب ہم اپنا گھر بنائیں گے''۔''
‫نہیں ایلس!'' رحیم نے کہا… ''میں اب بے گھر ہوا ہوں۔ تم اپنے گھر سے بھاگی ہو۔ میرے ساتھ شادی کرکے تم اپنا ''
‫گھر بسا لوگی لیکن میرا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا۔ میں اپنے فرض کا بھگوڑا ہوں۔ میں اپنی فوج کا بھگوڑا ہوں… میں جاسوس
‫ہوں۔ عکرہ میں جاسوسی کرنے آیا تھا مگر تمہاری محبت پر میں نے اپنا فرض قربان کردیا ہے''۔
‫تم مجھے ڈرا رہے ہو''۔ ایلس نے ہنستے ہوئے کہا۔ ''چلو سو جائو۔ میں تمہیں جلدی جگا دوں گی''۔''
‫میں تمہیں ڈرا نہیں رہا ایلس!'' رحیم نے کہا… ''میرا نام رحیم ہنگور ہے‪ ،ایلی مور نہیں۔ میں تمہیں دھوکے میں نہیں ''
‫رکھنا چاہتا۔ میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ تمہیں جہاں رکھوں گا‪ ،پورے آرام میں رکھوں گا۔ تمہیں تمہارے باپ کے گھر والی
‫بادشاہی نہیں دے سکوں گا لیکن تکلیف بھی نہیں ہونے دوں گا۔ تمہاری زندگی آرام سے گزرے گی''۔
‫مجھے اسالم قبول کرنا پڑے گا؟'' ایلس نے پوچھا۔''
‫تو اس میں کیا ہرج ہے؟'' رحیم نے کہا… ''تم ایسی باتیں نہ سوچو‪ ،وقت ضائع ہورہا ہے۔ سوجائو۔ ہمارا سفر بڑا لمبا ''
‫ہے۔ باتوں کے لیے بہت وقت ہے''۔
‫وہ لیٹ گیا۔ ایلس بھی لیٹ گئی۔ ذرا سی دیر بعد ایلس کو رحیم کے خراٹے سنائی دینے لگے۔ اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ وہ
‫گہری سوچوں میں کھو گئی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫رحیم کی آنکھ کھلی تو صبح کا اجاال سفید ہوچکا تھا۔ وہ گھبرا کر اٹھا۔ اسے اتنی دیر نہیں سونا چاہیے تھا‪ ،آنکھیں مل کر
‫ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں گھوڑا بھی نہیں تھا۔ ایلس بھی نہیں تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا‪ ،ایک ٹیلے پر چڑھ کر دیکھا۔ صحرا
‫کی ویرانی کے سوا اسے کچھ بھی نہیں نظر نہ آیا۔ اس نے ایلس کو آواز دی۔ کوئی جواب نہ مال۔ وہ سوچوں میں کھوگیا‪،
‫ایک خیال یہ آیا کہ ان کے تعاقب میں کوئی آگیا ہوگا اور وہ ایلس کو سوتے میں اٹھا کر لے گیا ہے۔ اس صورت میں رحیم
‫کو زندہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اسے وہ لوگ قتل کر جاتے یا اسے اغوا کے جرم میں پکڑ لے جاتے۔ حیرت اس پر تھی کہ
‫وہ ایلس کو ایسی خاموشی سے اٹھا کر لے گئے کہ رحیم کی آنکھ ہی نہ کھلی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ ایلس خود بھاگ
‫گئی ہے کہ اس نے رحیم کو صرف اس لیے ٹھکرا دیا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:04
‫قسط نمبر۔‪64
‫اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫۔ ایلس جہاں کہیں بھی گئی اور اسے جو کوئی بھی لے گیا‪ ،رحیم کو اب یہ سوال پریشان کرنے لگا کہ وہ کہاں جائے‪ ،عکرہ
‫واپس جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ قاہرہ جانے سے بھی ڈرتا تھا۔ اس نے اپنا فرض پورا نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنے کمانڈر
‫عمران کو نہیں بتایا تھا کہ وہ جارہا ہے۔ سوچ سوچ کر اس نے ایک بہانہ گھڑ لیا۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اب قاہرہ کے
‫بجائے کرک چال جائے اور وہاں بتائے کہ اسے پہچان لیا گیا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور جاسوس ہے۔ وہ بڑی مشکل سے بھاگ
‫کر وہاں سے نکال ہے۔ اسے مہلت نہیں ملی کہ عمران یا رضا کو اطالع دے سکتا کہ اس کی گرفتاری کا خطرہ پیدا ہوگیا
‫ہے… یہ اچھا بہانہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے کوئی یہ تو نہیں کہے گا کہ کوئی ثبوت اور شہادت الئو۔
‫وہ پانی پی کر کرک کی سمت چل پڑا۔ اسے ایلس کی گمشدگی پریشان کررہی تھی اور اسے افسوس ہورہا تھا کہ اسے کبھی
‫بھی پتا نہ چل سکے گا کہ ایلس کہاں غائب ہوگئی ہے۔
‫وہ بمشکل تین میل چال ہوگا کہ اسے دوڑتے گھوڑوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے پیچھے دیکھا‪ ،گرد کا بادل اڑا
‫آرہا تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا‪ ،چھپنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ سوار کون ہیں۔ اسے یہی معلوم
‫تھا کہ وہ خود کون ہے۔ یہی خطرناک پہلو تھا۔ وہ گھوڑوں کے راستے سے ہٹ کر چلتا گیا۔ گھوڑے قریب آگئے‪ ،تب اس نے
‫دیکھا کہ وہ صلیبی تھے اور انہوں نے گھوڑے اس کی طرف موڑ لیے تھے۔ وہ نہتا تھا۔ بھاگنے کی بھی کوئی صورت نہیں
‫تھی۔ سواروں نے اسے گھیر لیا۔ اس نے ان میں سے ایک کو پہچان لیا۔ وہ ایلس کا امیدوار تھا۔ اس نے رحیم سے کہا…
‫''مجھے پہلے ہی شک تھا کہ تم عیسائی نہیں ہو''۔
‫اسے پکڑ لیا گیا اور اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ کر اسے ایک سوار نے الش کی طرح گھوڑے پر ڈال لیا۔ گھوڑے عکرہ کی
‫سمت روانہ ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران رحیم سے ملنے گیا تو وہ اسے نہ مال۔ تاجر کے ایک نوکر نے اسے بتایا کہ
‫اسے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ عمران شش وپنج میں پڑ گیا۔ رحیم جا کہاں سکتا تھا۔ اس کے پاس کیوں نہیں آیا؟…
‫عمران گرجے میں واپس چال گیا۔ رضا سے وہ شام کے بعد مل سکتا تھا۔ انہیں رحیم کو ڈھونڈنا تھا۔ یہ خطرہ بھی محسوس
‫کیا گیا کہ وہ گرفتار نہ ہوگیا ہو۔ اس صورت میں یہ خطرہ تھا کہ اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کی نشاندہی نہ کردی ہو۔
‫عمران کو یہ سوچ پریشان کررہی تھی کہ رحیم اگر پکڑا گیا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اور رضا بھی پکڑے جائیں۔ پکڑے
‫جانے اور مارے جانے کا انہیں فکر نہ تھا۔ فکر یہ تھا کہ انہوں نے وہ راز حاصل کرلیا تھا جس کے لیے وہ یہاں آئے تھے
‫اور اب انہیں یہاں سے نکلنا تھا۔
‫سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر باقی تھی۔ رضا اصطبل سے باہر کہیں کھڑا تھا۔ چار گھوڑے اصطبل کے دروازے پر رکے‪،
‫ایک سوار نے اپنے آگے کسی کو الش کی طرح ڈال رکھا تھا‪ ،اسے اتارا گیا۔ یہ دیکھ کر رضا کا خون خشک ہوگیا کہ وہ رحیم
‫تھا۔ اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ سواروں میں ایک بڑا افسر تھا۔ رضا اسے اچھی طرح جانتا پہچانتا تھا۔
‫دوسروں سے بھی وہ واقف تھا۔ رحیم کو وہ لے جانے لگے تو بڑے افسر نے رضا کو دیکھ لیا۔ اسے ''فرانسس''کے نام سے
‫بالیا۔ رضا دوڑا گیا لیکن اس کے پاوں نہیں اٹھ رہے تھے۔ وہ سمجھ گیا کہ اسے بھی گرفتار کیا جائے گا۔
‫چاروں گھوڑے اندر لے جائو''۔ اس افسر نے رضا سے کہا… ''ہمارے سائیسوں کے حوالے کردینا''… اس نے رحیم کے ''
‫متعلق حکم دیا… ''اسے اس کمرے میں لے چلو''۔
‫رضا کو چونکہ فرانسس کے نام سے بالیا گیا تھا‪ ،اس لیے وہ جان گیا کہ رحیم نے اس کی نشاندہی نہیں کی۔ یہ صلیی افسر
‫اسے ابھی تک سائیس فرانسس سمجھ رہے تھے۔ اس نے ایک افسر سے پوچھا۔ ''یہ کون ہے؟ اس نے چوری کی ہوگی''۔
‫یہ صالح الدین ایوبی کا جاسوس ہے''۔ ایک فوجی نے جواب دیا اور طنزیہ لہجے میں کہا… ''اب یہ تہہ خانے میں ''
‫جاسوسی کرے گا‪ ،جاو گھوڑے لے جاو''۔

‫اس دوران رضا اور رحیم نے ایک دوسرے کو گہری نظروں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تھا۔ انہوں نے آنکھوں کے
‫کچھ اشارے مقرر کررکھے تھے۔ اگر ایسی صورتحال میں دو جاسوسوں کا سامنا ہوجائے تو وہ ایک اشارہ تو یہ کرتے تھے کہ
‫بھاگ جاو‪ ،دوسرا یہ کہ کوئی خطرہ نہیں۔ رحیم نے رضا کو ایسا ہی ایک اشارہ کیا جس سے اسے تسلی ہوگئی کہ اس نے
‫کسی کی نشاندہی نہیں کی۔ تاہم ان کے لیے یہ خوشی کی بات نہیں تھی۔ اس کا ساتھی پکڑا گیا تھا اور وہ جانتا تھا کہ
‫تہہ خانے میں اس کا کیا حشر کیا جائے گا۔ رحیم کو اب مرنا تھا مگر بڑی ہی اذیت ناک موت مرنا تھا۔ رضا کو معلوم تھا
‫کہ رحیم کو کون سے کمرے میں لے جایا جارہا ہے اور اس کے بعد اسے کہاں لے جائیں گے۔
‫٭ ٭ ٭
‫عمران گرجے کے ساتھ اپنے کمرے میں پریشانی کی حالت میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ رحیم کہاں غائب ہوگیا ہے۔ اس کے
‫کمرے کا دروازہ کھال‪ ،وہ رضا تھا۔ اندر آکر اس نے دروازہ بند کر دیا اور گھبرائی ہوئی سرگوشی میں کہا۔ ''رحیم پکڑا گیا
‫ہے''… اس نے جو دیکھا تھا وہ عمران کو سنا دیا۔ رضا نے اسے یہ بھی بتا دیا کہ رحیم نے اشارے سے اسے بتا دیا ہے
‫کہ اس نے ہماری نشاندہی نہیں کی۔
‫اگر نہیں کی تو تہہ خانے میں جاکر کردے گا''۔ عمران نے کہا… ''اس دوزخ میں زبان بند رکھنا آسان نہیں ہوتا''۔ ان ''
‫دونوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا محال ہوگیا کہ وہ فورا ً نکل جائیں یا ایک آدھ دن انتظار کرلیں۔ ایسے نازک
‫وقت میں ان سے ایک غلطی سرزد ہوگئی۔ وہ یہ تھی کہ وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے۔ چھاپہ ماروں (کمانڈو) اور جاسوسوں
‫کے لیے یہ ہدایت تھی کہ وہ تحمل‪ ،بردباری اور صبر سے کام لیں۔ عجلت اور جذبات سے بچیں۔ اگر ان کا کوئی ساتھی
‫ایسے طریقے سے کہیں پھنس جائے کہ اس کی مدد کرنے میں دوسروں کے پھنسنے کا بھی خطرہ ہو تو اس کی مدد نہ کی
‫جائے۔ رضا جذبات میں آگیا۔ اس نے کہا… ''میں رحیم جیسے خوبصورت اور دلیر دوست کو قید سے نکالنے کی کوشش کروں
‫گا''۔
‫ناممکن ہے''۔ عمران نے کہا اور اسے ایسے خطرناک ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔''
‫میں چونکہ وہیں رہتا ہوں جہاں رحیم کو لے گئے ہیں۔ اس لیے دیکھوں گا کہ اسے وہاں سے نکالنا ممکن ہوسکتا ہے یا ''
‫نہیں''۔ رضا نے کہا… ''میں نے وہاں اتنی دوستی پیدا کررکھی ہے کہ مجھے معلوم ہوجائے گا کہ رحیم کہاں ہے۔ اگر میں
‫اس تک پہنچ گیا تو رحیم آزاد ہوجائے گا یا میں اس کے ساتھ ہی جائوں گا اور اگر میں بھی پکڑا گیا تو تم نکل جانا۔ راز
‫تمہارے پاس ہیں۔ میں رحیم کے بغیر واپس نہیں جائوں گا''۔
‫ناممکن تھا کہ رضا رحیم کو وہاں سے آزاد کرلیتا لیکن اس کے جذبات اتنے شدید تھے کہ عمران بھی اس کاہمنوا ہوگیا اور
‫وہ حقائق کو بھول گیا۔ رضا اسے یہ کہہ کر چال گیا کہ رات کو کسی وقت آکر اسے بتائے گا کہ رحیم کی رہائی کی کوئی
‫صورت ہے یا نہیں۔ اگر کوئی صورت نہ ہوئی تو وہ رات کو نکل جائیں گے۔ عمران کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ گھوڑوں کا
‫انتظام کرلے۔ گھوڑوں کا انتظام آسان نہیں تھا۔ پادری کے باڈی گاڈوں کے گھوڑے وہاں موجود رہتے تھے۔ انہی میں سے دو یا
‫تین گھوڑے چوری کرنے تھے۔
‫اس وقت تک رحیم کو قید خانے میں نہیں ڈاال گیا تھا۔ اسے انٹیلی جنس کے دو وحشی قسم کے افسروں کے حوالے کردیا گیا
‫تھا۔ جاسوس جب پکڑا جاتا ہے تو سزا کا مرحلہ سب سے آخر میں ہوتا ہے۔ پہلے اس سے معلومات لی جاتی ہیں۔
‫جاسوس اکیال نہیں ہوتا‪ ،پورا گروہ ہوتا ہے۔ گرفتار کیے ہوئے جاسوس سے یہی ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ اس کے ساتھی
‫کہاں ہیں اور دوسرا سوال یہ پوچھا گیا کہ اس نے یہاں سے کوئی خفیہ بات معلوم کی ہے تو وہ بتا دے۔ رحیم نے جواب
‫دیا کہ اس کے پاس کوئی راز نہیں۔ تاجر کی بیٹی ایلس کے ساتھ تعلقات کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ ایک
‫دوسرے کو چاہتے تھے۔ ایلس کی شادی ایک بوڑھے افسر کے ساتھ کی جارہی تھی‪ ،اس لیے وہ گھرسے بھاگنے پر مجبور
‫ہوگئی۔
‫''کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کس طرح پکڑے گئے ہو؟''
‫نہیں''… رحیم نے جواب دیا… ''میں اتنا جانتا ہوں کہ میں پکڑا گیا ہوں''۔''
‫تم اور بھی بہت کچھ جانتے ہو''… ایک افسر نے اسے کہا… ''وہ سب کچھ بتا دو جو تم جانتے ہو‪ ،تمہیں کوئی تکلیف''
‫نہیں دی جائے گی''۔
‫میں یہ جانتاہوں کہ میں اپنا فرض بھول گیا تھا''… رحیم نے کہا… ''میں اس سزا کو خوشی سے قبول کروں گا۔ مجھے ''
‫جس قدر تکلیف اور جتنی اذیت دے سکتے ہو دو۔ میں اسے اپنے گناہ کی سزا سمجھ کر قبول کروں گا''۔
‫''کیا تمہارے دل میں ابھی تک ایلس کی محبت ہے؟''
‫ابھی تک ہے''… رحیم نے کہا… ''اور ہمیشہ رہے گی۔ میں اسے اپنے ساتھ قاہرہ لے جارہا تھا۔ اسے مسلمان کرکے اس''
‫کے ساتھ شادی کرنی تھی''۔
‫''اگر ہم یہ کہیں کہ اس نے تمہارے ساتھ دھوکہ کیا ہے تو تم مان لو گے؟''
‫نہیں''… رحیم نے کہا… ''جس نے میرے لیے اپنا گھر اور اپنے عزیز چھوڑ دئیے تھے‪ ،وہ دھوکہ نہیں دے سکتی‪ ،اس کے''
‫ساتھ کسی نے دھوکہ کیا ہے''۔
‫اگر ہم ایلس تمہارے حوالے کردیں تو کیا تم ہمیں بتا دو گے کے عکرہ میں تمہارے کتنے ساتھی ہیں اور وہ کہاں ہیں؟''…''
‫''اس سے پوچھا گیا… ''اور یہ بھی بتا دو گے کہ تم نے یہاں سے کون سا راز حاصل کیا ہے؟
‫رحیم کا سرجھک گیا۔ ایک افسر نے اس کا سر اوپر اٹھایا تو رحیم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ افسروں کے باربار پوچھنے پر
‫بھی وہ خاموش رہا‪ ،جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کے اندر ایسی کشمکش پیدا ہوگئی ہے جس میں وہ فیصلہ نہیں کرسکتا
‫اس کا رویہ اور ردعمل کیا ہونا چاہیے۔ اس کی یہ کیفیت ظاہر کرتی تھی کہا س کے دل میں ایلس کی محبت بہت گہری
‫اتری ہوئی ہے۔
‫تمہیں آخر کار ہمارے تمام سوالوں کا جواب دینا ہوگا''… ایک افسر نے کہا… ''اس وقت تک تم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن ''
‫چکے ہوگے‪ ،تم جیو گے نہ مرو گے۔ اگر پہلے ہی جواب دے دو تو ایلس تمہارے پاس ہوگی اور تم آزاد ہوگے۔ اس وقت تم
‫قید خانے میں نہیں‪ ،یہ ایک افسر کا کمرہ ہے۔ اگر تم سوچنے کی مہلت چاہتے ہو تو آج رات تمہیں اسی کمرے میں رکھا
‫جائے گا''۔
‫رحیم خاموش رہا اور خالی نظروں سے افسروں کو دیکھتا رہا۔ افسروں کو ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ وہ اس کمرے سے بھاگ
‫جائے گا۔ برآمدے میں پہرہ تھا۔ گشتی پہرہ بھی تھا۔ رحیم بھاگ کر جا بھی کہاں سکتا تھا۔ ایک افسر نے باہر آکر اپنے

‫ساتھی افسر سے کہا… ''تم وقت ضائع کررہے ہو‪ ،اسے تہہ خانے میں لے چلو۔ لوہے کی الل گرم سالخ اس کے جسم کے
‫ساتھ لگائو‪ ،ساری باتیں اگل دے گا۔ نہیں بولے گا تو بھوکا اور پیاسا پڑا رہنے دو''۔
‫میرا تجربہ مختلف ہے میرے دوست!''… دوسرے افسر نے کہا… ''یہ نہ بھولو‪ ،یہ مسلمان ہے۔ تم نے اب تک کتنے ''
‫مسلمان جاسوسوں سے راز اگلوائے ہیں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ یہ کمبخت ایک بار ڈٹ جائیں تو مرجاتے ہیں‪ ،زبان نہیں
‫کھولتے۔ یہ شخص کہہ چکاہے کہ ہماری ہر اذیت اپنے گناہ کی سزا سمجھ کر قبول کرلے گا۔ یہ کٹر مسلمان معلوم ہوتا ہے۔
‫یہ تہہ خانے میں جاکر بھی کہہ دے گا کہ وہ کچھ بھی نہیں بتائے گا۔ ہمارا مقصد اسے جان سے مارنا نہیں‪ ،یہ معلوم کرنا
‫ہے کہ اس کے ساتھی کہاں ہیں اور یہ معلوم کرنا ہے کہ انہیں اس حملے کا پتا تو نہیں چل گیا جو مصر پر کرنے والے
‫''ہیں؟
‫ان کے باپ کو بھی پتا نہیں چل سکتا''… دوسرے افسر نے کہا… ''ہائی کمانڈ کے افسروں کے سواکسی کو حملے کے ''
‫متعلق علم ہی نہیں۔ یہ جاسوس تاجر کی بیٹی کے عشق میں الجھا ہوا تھا۔ اسے تو دنیا کی ہوش نہیں تھی‪ ،اسے تو یہ
‫بھی معلوم نہیں کہ اسے ایلس نے گرفتار کرایا ہے۔ یہ ابھی تک اس کی محبت میں گرفتار ہے''۔
‫میں ایلس کو ہی استعمال کرنا چاہتا ہوں''… ایک نے کہا… ''اسے آج رات اسی کمرے میں رہنے دیتے ہیں‪ ،مجھے امید''
‫ہے کہ جو راز ہم کئی دنوں میں بھی نہیں اگلوا سکیں گے وہ ایلس جیسی دلکش لڑکی چند منٹوں میں اگلوائے گی''۔
‫''کیا اس لڑکی پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟''
‫کیا تمہیں ابھی تک شک ہے؟''… دوسرے نے کہا… ''تم نے شاید پوری بات نہیں سنی۔ ایلس نے واپس آکر جو بیان دیا''
‫ہے‪ ،وہ تم نے پورا نہیں سنا۔ اب چونکہ تفتیش ہم دونوں کے سپرد کی گئی ہے۔ اس لیے تمہارے ذہن میں ہر ایک بات
‫واضح ہونی چاہیے۔ ایلس اس شخص کو بری طرح چاہتی تھی۔ وہ اسے ایلی مور نام کا عیسائی سمجھتی رہی۔ ایلس کا باپ
‫اس کی شادی کمانڈر ولیسٹ میکاٹ کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔ وہ دراصل اپنی بیٹی رشوت کے طور پر دے رہا تھا۔ ایلس اس
‫جاسوس کے ساتھ بھاگ گئی۔ راستے میں اس نے ایلس کو بتا دیا کہ وہ ایلی مور نہیں‪ ،رحیم ہے اور وہ مسلمان ہے۔ ایلس
‫نے اسے مذاق سمجھا مگر رحیم نے اسے یقین دالیا کہ وہ مذاق نہیں کر
‫‪..رھا
‫رحیم نہیں جانتاتھا کہ ایلس کے دل میں مسلمانوں کی کتنی دہشت اور حقارت بچپن سے بیٹھی ہوئی ہے اور رحیم کو یہ بھی
‫معلوم نہیں تھا کہ ایلس مذہب کی پکی ہے۔ ہر وقت صلیب گلے میں ڈالے رکھتی ہے۔ اس نے جان لیا کہ اس مسلمان نے
‫اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور وہ قاہرہ جاکر نہ صرف خود اسے خراب کرے گا بلکہ دوسروں سے بھی خراب کرائے گا اور
‫آخر میں کسی کے ہاتھ فروخت کردے گا۔ ہم نے اپنے بچوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کا جو گھنائونا تصور پیدا کررکھا ہے‪ ،وہ
‫ایلس کے سامنے آگیا''۔
‫ایلس کے دل میں مذہب کی محبت پیدا ہوگئی اور یہ محبت مسلمان کی محبت پر ایسی غالب آئی کہ اسے حقارت میں''
‫بدل دیا۔ وہ سب کچھ بھول گئی۔ وہ یہ بھی بھول گئی کہ عکرہ واپس آکر اسے بوڑھے کمانڈر کے ساتھ بیاہ دیا جائے گا۔
‫اسے صلیب کا یہ فرض یاد آگیا کہ مسلمان کو ہرحال میں دشمن سمجھنا اور اسالم کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے۔ لڑکی
‫چونکہ ہوشیار اور دلیر ہے‪ ،اس لیے اس نے بھاگنے کا نہایت اچھا طریقہ سوچا۔ رحیم پر ظاہر نہ ہونے دیا اور لیٹ گئی۔ رحیم
‫اطمینان سے سوگیا تو ایلس گھوڑے پر سوار ہوئی اور ایسی خاموشی سے نکل آئی کہ رحیم کو خبر تک نہ ہوئی۔ راستے سے
‫واقف تھی۔ عکرہ پہنچ گئی اور اپنے باپ کے سامنے اقبال جرم کرکے اسے رحیم کے متعلق بتایا۔ باپ نے اسی وقت کمانڈر
‫ولیسٹ میکاٹ کو جگایا اور اسے یہ واقعہ سنایا۔ کمانڈر نے تین سپاہی ساتھ لیے اور رحیم کے تعاقب میں گیا۔ رحیم پیدل
‫کہاں جاسکتا تھا‪ ،پکڑا گیا اور اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے''۔
‫رحیم کو معلوم نہیں کہ اسے ایلس نے دھوکہ دیا ہے''۔''
‫نہیں''… دوسرے نے کہا… ''میں اب ایلس کو استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ رحیم کو ہم نہایت اچھا کھانا کھالئیں گے''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫وہاں کے مالزموں اور دوسرے لوگوں کی زبان پر یہی موضوع تھا کہ ایک مسلمان جاسوس پکڑا گیاہے۔ رضا بھی فرانسس کے
‫روپ میں ان مالزموں میں شامل تھا۔ وہ بھی مسلمان کو برا بھال کہہ رہا تھا اور دوسروں کی طرح خواہش ظاہر کررہا تھا کہ
‫جاسوس کو سرعام پھانسی دی جائے یا اسے گھوڑے کے پیچھے باندھ کر بھگا دیا جائے۔ رضا کو معلوم ہوچکا تھا کہ رحیم
‫ابھی تک اسی کمرے میں ہے۔ سب حیران تھے کہ اسے قید خانے میں کیوں نہیں لے گئے اور جب باورچی خانے کے ایک
‫مالزم نے انہیں بتایا کہ قیدی کے لیے افسروں کا سا کھانا گیا ہے اور وہ خود کھانا دے آیا تو سب حیرت سے ایک دوسرے
‫کا منہ دیکھنے لگے۔ رضا باتوں باتوں میں باورچی خانے کے اس آدمی کو الگ لے گیا اور پوچھا… ''کیا تم مذاق کررہے ہو
‫کہ مسلمان جاسوس کو اتنا اچھا کھانا دیا گیا ہے جو افسر کھاتے ہیں‪ ،پھر وہ جاسوس نہیں ہوگا''۔
‫بڑا خطرناک جاسوس ہے''… مالزم نے کہا… ''جو افسر تفتیش کررہے ہیں‪ ،میں نے ان کی باتیں سنی ہیں۔ وہ ابھی اسے''
‫کھال پال کر اس سے باتیں پوچھیں گے‪ ،پھر وہ کسی لڑکی کی باتیں کررہے تھے جو اس قیدی کو پھانس کر اس سے باتیں
‫اگلوائے گی''۔
‫رحیم کھانا کھا چکا تو اس کے کمرے میں ایلس داخل ہوئی‪ ،دونوں افسر چلے گئے تھے۔ انہوں نے ایلس کو بال کر اچھی طرح
‫سمجھا دیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور قیدی سے کیا پوچھنا ہے۔ ایلس کو دیکھ کر رحیم بہت حیران ہوا۔ اسے خواب کا
‫دھوکہ ہوا ہوگا۔
‫''تم؟''… اس نے ایلس سے پوچھا… ''کیا تمہیں بھی گرفتار کرکے یہاں الیا گیا ہے؟''
‫ہاں!''… ایلس نے کہا… ''میں کل رات سے قید میں ہوں''۔''
‫''تم وہاں سے غائب کس طرح ہوئی تھی؟''… رحیم نے کہا… ''میں مان نہیں سکتا کہ تم خود بھاگ آئی تھی؟''
‫میں کیوں کر بھاگ سکتی تھی''… ایلس نے کہا… ''میرا تو جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے‪ ،تم سوگئے تھے مگر مجھے نیند ''
‫نہیں آرہی تھی۔ میں اٹھ کر ٹہلنے لگی اور کچھ دور نکل گئی۔ کسی نے پیچھے سے میرا منہ ہاتھ سے بند کردیا اور اٹھا کر
‫گھوڑے پر ڈال لیا۔ وہ دو آدمی تھے۔ ایک نے ہمارا گھوڑا بھی لے لیا‪ ،میرا منہ بند تھا۔ تمہیں پکار نہیں سکتی تھی‪ ،وہ
‫مجھے یہاں لے آئے''۔
‫انہیں کس نے بتایا ہے کہ میں ایلی مور نہیں‪ ،رحیم ہوں؟''… رحیم نے پوچھا… ''اور جنہوں نے تمہیں وہاں جاپکڑا تھا ''
‫''وہ مجھے بھی کیوں نہ پکڑ الئے؟ انہوں نے مجھے قتل کیوں نہ کردیا؟

‫میں ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکتی''… ایلس نے کہا… ''میں خود مجرم ہوں''۔''
‫تم جھوٹ بول رہی ہوایلس''… رحیم نے کہا… ''تمہیں دھمکا کر میرے متعلق پوچھا گیا ہے اور تم نے ڈر کے مارے بتا ''
‫دیا ہے کہ میں کون ہوں۔ مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں‪ ،میں کبھی برداشت نہیں کرسکتا کہ تمہیں کوئی تکلیف ہو''۔
‫اگر تمہیں میری تکلیف کا خیال ہے تو یہ لوگ تم سے جو کچھ پوچھتے ہیں‪ ،وہ انہیں بتا دو''… ایلس نے کہا… ''انہوں''
‫نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہیں رہا کردیں گے''۔
‫بات پوری کرو ایلس''… رحیم نے طنزیہ لہجے میں کہا… ''یہ بھی کہو کہ میں سب کچھ بتا دوں تو مجھے رہا کردیں ''
‫گے اور تم میرے ساتھ شادی کرلوگی''۔
‫شادی بھی ہوسکتی ہے''… ایلس نے کہا… ''بشرطیکہ تم عیسائی ہوجائو''۔''
‫کیا تم یہ امید لے کے آئی ہو کہ میں رہائی کی خاطر اپنا مذہب چھوڑ دوں گا؟''… رحیم نے کہا… ''ایلس! میں فوج کا''
‫معمولی سا سپاہی نہیں‪ ،جاسوس ہوں۔ عقل رکھتا ہوں‪ ،میں اس گناہ کی سزا بھگت رہا ہوں کہ عقل پر تمہاری محبت کو
‫سوار کرلیا تھا۔ تم جھوٹ بول رہی ہو‪ ،جس صلیب کی تم قسمیں کھا رہی ہو‪ ،وہ گلے میں ڈال کر جھوٹ بول رہی ہو۔ کیا
‫یہ غلط ہے کہ تم خود وہاں سے بھاگی ہو؟ کیونکہ تمہارے دل میں مسلمانوں کے خالف نفرت بھری ہوئی ہے۔ تمہیں مجھ پر
‫اعتماد نہ رہا اور مجھے سوتا چھوڑ کر بھاگ آئیں۔ یہاں آکر تم نے اپنے بوڑھے منگیتر کو میرے پیچھے بھیج دیا۔ میرے دل
‫میں بھی تمہاری قوم کے خالف نفرت ہے۔ میں تمہاری قوم کو اپنا دشمن سمجھتا ہوں۔ میں نے اپنی جان تمہاری قوم کو
‫تباہ کرنے کے لیے دائو پر لگائی ہے لیکن تمہاری محبت‪ ،محبت ہی رہے گی۔ اس پر نفرت غالب نہیں آسکے گی۔ میں نے
‫تمہاری خاطر اپنا فرض فراموش کیا۔ اپنا مستقبل تباہ کیا مگر تم نے ناگن کی طرح ڈنگ مارا''۔
‫وہ ایسے انداز سے بول رہا تھا کہ ایلس کی زبان بند ہوگئی۔ اس کے دل میں رحیم کی محبت موجود تھی۔ رحیم نے جب
‫اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھیمے اور پر اثر انداز میں باتیں کیں تو یہ جوان لڑکی اپنے سینے سے اٹھتے ہوئے
‫جذبات کے بگولے کی لپیٹ میں آگئی۔ پہلے تو اس کے آنسو پھوٹے پھر اس نے بیتابی سے رحیم کے دونوں ہاتھ تھام لیے
‫اور روتے ہوئے کہا… '' مجھے تم سے نفرت نہیں۔ تم اپنا فرض بھول گئے تھے‪ ،میں نہ بھول سکی۔ میں مجرم ہوں‪ ،میں نے
‫تمہیں پکڑوایا ہے۔ اس جرم کی سزا مجھے سخت ملے گی۔ مجھے چند دنوں میں اس بوڑھے کمانڈر کی بیوی بنا دیا جائے گا
‫جو وحشی ہے اور شراب پی کر درندہ بن جاتا ہے۔ مجھے کچھ نہ بتائو ایلی مور''۔
‫میں ایلی مور نہیں ہوں''… رحیم نے کہا… ''میں رحیم ہوں''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫تفتیش کرنے والے دونوں افسر کہیں اور بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ وہ مطمئن تھے کہ یہ خوبصورت لڑکی رحیم کو موم کرلے
‫گی اور صبح سے پہلے پہلے ہمارا کام پورا کردے گی۔ وہاں صرف ایک پہرہ دار تھا جو برآمدے میں بیٹھ گیا تھا۔ کمرے کے
‫پچھواڑے اندھیرا تھا اور اس اندھیرے میں ایک سایہ اتنی آہستہ آہستہ آگے کو سرک رہا تھا جیسے ہوا کا جھونکا رک رک کر
‫آگے بڑھ رہا ہو۔ ادھر عمران گرجے سے ملحق اپنے کمرے میں جاگ رہا تھا۔ ذرا سی آہٹ سنائی دیتی تھی تو وہ اٹھ کر
‫دروازے میں آجاتا تھا۔ اسے ہر آہٹ رضا کی آہٹ لگتی تھی۔ اس نے کمال ہوشیاری سے تین گھوڑے منتخب کرلیے تھے جو
‫آٹھ گھوڑوں کے ساتھ بندھے تھے۔ اس کے زینیں بھی چوری چھپے الگ کرلی تھیں۔ اسے امید تھی کہ رضا اور رحیم آجائیں
‫گے مگر جوں جوں رات گزرتی جارہی تھی۔ امید بھی تاریک ہوتی جارہی تھی۔ یہ حقیقت نکھرتی آرہی تھی کہ اس نے رضا
‫کو یہ اجازت دے کر کہ رحیم کو آزاد کرائے‪ ،سخت غلطی کی تھی۔ یہ ناممکن تھا۔ وہ اب سوچ رہا تھا کہ ایک گھوڑے
‫کھولے اور نکل جائے مگر اسے رضا کا خیال آجاتا تھا۔ رضا نے اسے کہا تھا کہ وہ رات کو آئے گا ضرور خواہ اکیال آئے۔
‫اس وقت رضا موت کے منہ میں جاچکا تھا۔ وہ ایک سیاہ سایہ بن کر اس کمرے کے ایک دریچے کے پاس پہنچ گیا‪ ،جس
‫میں رحیم بند تھا۔ اس نے کان لگا کر اندر کی باتیں سنیں۔ اسے کسی کے یہ الفاظ سنائی دئیے۔ میں تمہیں رہا نہیں
‫کراسکتی۔ یہ لوگ جو کچھ پوچھتے ہیں‪ ،وہ بتا دو پھر میں اپنے باپ سے کہہ کر تمہارے لیے کچھ کرسکتی ہوں۔ مجھے
‫اسی مقصد کے لیے تمہارے پاس الیا گیا ہے کہ میری محبت تم سے راز اگلوائے گی۔
‫دریچے کے کواڑ پر نہایت آہستہ سے کسی نے تین بار دستک دی۔ رحیم اس اشارے کو سمجھتا تھا۔ وہ حیران ہوا کہ یہ اس
‫کا کون سا ساتھی ہوسکتا ہے۔ ایلس کچھ نہ سمجھ سکی۔ رحیم ٹہلتے ٹہلتے دریچے تک گیا اور کواڑ کھول دیا۔ رضا باہر کھڑا
‫تھا‪ ،کود کر اندر آگیا۔ اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ایلس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور خنجر
‫اس کے دل میں اتار دیا۔ اسے قتل کرنا ضروری تھا‪ ،ورنہ وہ شور مچا کر انہیں پکڑا سکتی تھی۔ رضا اور رحیم دریچے سے
‫کود کر باہر گئے اور اندھیرے سے بھاگ اٹھے۔ رضا اس جگہ سے واقف تھا۔ اس نے راستہ تو اچھا اختیار کیا تھا لیکن
‫برآمدے میں جو پہرہ دار تھا‪ ،اس نے کسی طرف سے دو سائے بھاگتے دیکھ لیے۔ اس کے شور پر دوسرے سنتری ہوشیار
‫ہوگئے۔ جانے کہاں سے ایک تیر آیا جو رحیم کے پہلو میں اتر گیا۔ وہ جوان اور توانا آدمی تھا‪ ،گرا نہیں۔ رضا کے ساتھ
‫بھاگتا چال گیا مگر زیادہ دور تک نہ جاسکا۔ اس کے قدم ڈگمگانے لگے تو رضا نے اسے اپنی پیٹھ پر ڈال لیا۔ تیر پہلو سے
‫نکالنا ممکن نہیں تھا۔
‫رحیم رضا سے کہنے لگا کہ وہ اسے وہین پھینک کر بھاگ جائے۔ وہ اب زندہ نہیں رہ سکتا تھا لیکن رضا اپنے دوست کو
‫اس وقت تک اپنے آپ سے جدا نہیں کرنا چاہتا تھا‪ ،جب تک وہ زندہ تھا۔ اس نے رحیم کی ایک نہ سنی اور تاریک
‫راستوں میں چھپتا چھپاتا چلتا گیا۔ اسے خیال آگیا کہ وہ اس جگہ سے گزر رہا ہے۔ جہاں تمام مکان مسلمانوں کے ہیں۔
‫اسے دور دور بھاگ دوڑ اور شور شرابہ سنائی دے رہا تھا۔ ان کا تعاقب کرنے والے کہیں اور تھے۔ رضا کو معلوم تھا کہ عکرہ
‫کے مسلمان کیڑوں مکوڑوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں اور صلیبیوں کی نگاہ میں ہر مسلمان جاسوس اور مشتبہ ہے۔ ذرا سے
‫شک پر کسی بھی مسلمان کو قید خانے میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس کے گھر کی تالشی توہین آمیز طریقے سے لی جاتی
‫تھی۔ رضا کسی مسلمان کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا مگر وہ رحیم کے بوجھ تلے شل ہوچکا تھا اور اسے یہ امید بھی
‫تھی کہ شاید رحیم کی زندگی بچانے کا کوئی بندوبست ہوجائے۔
‫اس نے ایک دروازے پر دستک دی۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھال۔ رضا تیزی سے اندر چال گیا جس نے دروازہ کھوال تھا‪ ،گھبرا گیا۔
‫رضا نے مختصر الفاظ میں اپنا تعارف کرایا وہاں تو صرف یہ کہہ دینا ہی کافی تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ رضا کو پناہ مل گئی
‫مگر رحیم شہید ہوچکا تھا۔ رضا کے کپڑے خون سے لتھڑ گئے تھے۔ اس نے گھر والوں کو سارا واقعہ سنایا اور عمران کے
‫متعلق بھی بتایا۔ گھر میں تین مرد تھے‪ ،وہ جوش میں آگئے۔ انہوں نے رضا کے کپڑے تبدیل کردئیے۔ رحیم کی الش کے
‫متعلق فیصلہ ہوا کہ اسے گھر کے کسی کمرے میں دفن کردیا جائے گا۔ رضا عمران کو بالنے کے لیے چال گیا۔

‫٭ ٭ ٭
‫رات کے اس وقت جب دنیائے اسالم گہری نیند سوئی ہوئی تھی‪ ،قوم کے غدار دشمن کی بھیجی ہوئی عورتوں اور شراب
‫میں بدمست پڑے تھے‪ ،ان سے دور‪ ،بہت دور ایک مسلمان اسالم کی ناموس پر اپنی جان پر کھیل گیا تھا اور دو جان کی
‫بازی لگا کر اس راز کے ساتھ عکرہ سے نکل کر قاہرہ پہنچنے کی کوشش کررہے تھے‪ ،جس پر مصر کی عزت اور اسالم کی
‫آبرو کا دارومدار تھا۔ اس راز کو وہ خدا کی امانت سمجھتے تھے‪ ،وہاں انہیں دیکھنے واال کوئی نہ تھا کہ وہ اپنا فرض ادا
‫کرتے ہیں یا عیش کررہے ہیں لیکن انہیں یہ احساس تھا کہ انہیں خدا دیکھ رہا ہے اور وہ خدا کے حکم کی تعمیل کررہے
‫ہیں۔
‫عمران کا سر اس تذبذب اور اضطراب میں دکھنے لگا تھا کہ رحیم آجائے گا یا نہیں‪ ،رضا آجائے گا یا نہیں؟؟ قاہرہ تک یہ
‫خبر پہنچا سکے گا یا نہیں کہ مصر پر حملے کے لیے بحیرۂ روم میں صلیبیوں کا بہت بڑا بیڑہ آرہا ہے۔ عمران اس لیے بھی
‫قاہرہ یا کم از کم کرک جلدی پہنچنا چاہتا تھا کہ نورالدین زنگی یا سلطان ایوبی یا دونوں کسی اور طرف حملے یا پیش قدمی
‫کی سکیم نہ بنا لیں۔ ایسی صورت میں انہیں روکنا تھا‪ ،اگر ان کی فوج کسی اور طرف نکل گئی تو مصر کا خدا ہی حافظ
‫تھا۔ عمران کو ان سوچوں نے اس قدر پریشان کیا کہ اس نے دروازہ اندر سے بند کرکے نفل پڑھنے شروع کردئیے۔ اس شہر
‫کی خاموشی میں کوئی سرگرمی سنائی دے رہی تھی۔ کچھ بھاگ دوڑ سی تھی۔ یہ اس کی پریشانی میں اضافہ کررہی تھی۔
‫اس نے دو چار نفل پڑھ کر ہاتھ خدا کے حضور پھیال دئیے اور گڑگڑایا… ''یا خدا! مجھے اپنے فرض کی تکمیل تک زندگی
‫عطا کر۔ میں یہ امانت ٹھکانے پر پہنچا دوں تو مجھے میرے خاندان سمیت ختم کردینا''۔
‫اس کے دروازے پر ویسی ہی دستک ہوئی جیسی رحیم کے دریچے پر ہوئی تھی۔ عمران نے دروازہ کھوال۔ رضا کھڑا تھا۔ اسے
‫اندر بال کر عمران نے دروازہ بند کردیا۔ رضا ہانپ رہا تھا۔ اس نے عمران کو بتایا کہ اس پر کیا گزری ہے اور رحیم شہید
‫ہوچکا ہے۔ عمران نے جب یہ سنا کہ رحیم کی الش ایک مسلمان گھرانے میں ہے جو اسے گھر میں دفن کردیں گے تو
‫عمران پریشان ہوگیا۔ وہ عکرہ کے کسی مسلمان کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ رضا نے اسے بتایا کہ اس گھر میں تین
‫مرد اور باقی عورتیں ہیں۔ انہوں نے فورا ً ایک کمرے کے کونے میں کھدائی شروع کردی تھی۔ عمران اس گھر جانا چاہتا تھا
‫تاکہ دیکھ لے کہ ان کے پکڑے جانے کا کوئی خطرہ تو نہیں۔ رضا نے اسے یقین دالیا کہ وہ ہوشیار لوگ معلوم ہوتے ہیں‪،
‫سنبھال لیں گے۔
‫عکرہ سے نکلنا دشوار ہوگیا تھا۔ شہر کی ناکہ بندی کرلی گئی تھی۔ ایک لڑکی کا قتل اور ایک جاسوس کا فرار معمولی سی
‫واردات نہیں تھی۔ نکلنا رات کو ہی تھا۔ ان دونوں نے یہ طے کیا کہ اکٹھے نکلیں گے اور دونوں میں سے کوئی پکڑا گیا یا
‫دونوں پکڑے گئے تو اور جو کچھ بھی کہیں‪ ،یہ نہیں بتائیں گے کہ رحیم کی الش کہاں ہے یا وہ مارا گیا ہے۔ اگلہ مسئلہ
‫گھوڑوں کا تھا۔ عمران رضا کو اس جگہ لے گیا جہاں آٹھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے مگر دور سے دیکھا کہ محافظوں میں سے
‫ایک وہاں ٹہل رہا تھا۔ عمران رضا کو ایک جگہ چھپا کر آگے گیا اور اس سنتری کے پاس چال گیا۔ اس سے پوچھا کہ آج
‫اسے پہرہ دینے کی کیا ضرورت پیش آگئی ہے۔ سنتری عمران کو جان گنتھر کے نام سے اچھی طرح جانتا تھا اور بڑے پادری
‫کے خصوصی خادم کی حیثیت سے اس کا احترام بھی کرتا تھا۔ اس نے عمران کو بتایا کہ آج ایک مسلمان جاسوس کو پکڑا
‫گیا تھا۔ وہ کسی لڑکی کو قتل کرکے فرار ہوگیا ہے۔ اس لیے حکم آیا ہے کہ ہوشیار رہا جائے۔
‫اس سنتری کی موجودگی میں گھوڑے کھولنا ممکن نہیں تھا۔ عمران نے اسے باتوں میں لگا لیا اور پیچھے ہوکر اس کی گردن
‫بازو کے گھیرے میں لے لی۔ سنتری کا دم گھٹنے لگا۔ عمران نے اس کے پہلو سے خنجر نما تلوار کھینچ لی اور اس کے
‫پیٹ میں گھونپ دی۔ مرنے تک اس کی گردن بازو کے شکنجے میں دبائے رکھی۔ اسے مار کر عمران نے رضا کو بالیا۔ دو
‫گھوڑوں پر زینیں ڈالیں اور سوار ہوگئے۔ گرجے کے باقی محافظ کمرے میں کہیں سوئے ہوئے تھے۔ عمران اور رضا چل پڑے۔
‫شہر سے نکلنے کے کئی راستے تھے۔ وہ ایک طرف چل پڑے اور شہر سے نکل گئے۔ اچانک وہ گھیرے میں آگئے اور انہیں
‫للکارا گیا۔
‫ہم شہری ہیں دوستو!''… عمران نے کہا… ''ہم بھی تمہاری طرح ڈیوٹی دے رہے ہیں''۔''
‫تین چار مشعلیں جل اٹھیں جن کی روشنی میں انہوں نے دیکھا کہ وہاں گھوڑ سواروں کا ایک دستہ تھا جو ادھر ادھر پھیال
‫ہوا تھا تب انہیں احساس ہوا کہ شہر کی ناکہ بندی ہوچکی ہے۔ عمران نے اپنے کپڑے نہیں دیکھے تھے۔ اس کے کپڑوں پر
‫سنتری کا خون تھا۔ مشعل کی روشنی میں یہ خون صلیبی سواروں کو نظر آگیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ خون کس کا ہے تو
‫عمران نے لگام کو جھٹکا دے کر گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ رضا نے بھی ایسا ہی کیا مگر اس نے ذرا دیر کردی۔ عمران نکل
‫گیا۔ رضا گھیرے میں آگیا۔ عمران کے پیچھے بھی تین سوار گئے۔ اسے رضا کی بلند پکار سنائی دینے لگی… ''عمران رکنا
‫نہیں‪ ،نکل جائو۔ خدا حافظ''… عمران بہت دور تک یہ پکار سنتا رہا۔ پتا چلتا تھا جیسے وہ گھیرے سے نکلنے کی کوشش
‫کررہا ہے۔ عمران کا گھوڑا بڑا اچھا تھا۔ اس کے دائیں بائیں سے تیر گزرنے لگے لیکن وہ تعاقب کرنے والوں کو پیچھے ہی
‫پیچھے چھوڑتا چال گیا۔ وہ راستے سے واقف تھا۔ اس نے کرک کا رخ کرلیا۔ گھوڑا بدلنے کی ضرورت تھی۔
‫جب صبح کی روشنی سفید ہورہی تھی‪ ،اس کا گھوڑا دوڑنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اس نے پانی کی تالش کرنے کی کوشش
‫ہی نہ کی۔ آگے ریتلی چٹانوں کا عالقہ آگیا۔ وہ اس میں داخل ہوا ہی تھا کہ اس کے سامنے چٹان میں دو تیرلگے جس کا
‫مطلب تھا کہ رک جائو۔ وہ رک گیا اور یہ دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی کہ اسے روکنے والے اس کی اپنی فوج کے
‫آدمی تھے۔ اسے اپنے کمانڈر کے پاس لے گئے۔ کمانڈر نے اس کی بات سن کر اسے تازہ دم گھوڑا دیا اور دو سپاہی اس کے
‫ساتھ کرکے اسے کرک کے راستے پر ڈال دیا۔ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ نورالدین زنگی سے مل کر قاہرہ جائے گا۔ عکرہ
‫سے جو خبر الیا تھا وہ زنگی تک بھی پہنچنی چاہیے تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫عمران جب کرک کے قلعے میں نورالدین زنگی کے سامنے بیٹھا اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ زنگی اسے ایسی نظروں سے دیکھ
‫رہا تھا جیسے اس خوبرو جوان کو دل میں بٹھا لینا چاہتا ہو۔ اس نے اٹھ کر بیتابی سے عمران کو سینے سے لگا لیا اور اس
‫کے دونوں گال چوم کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور پھر نیام میں ڈال کر نیام کو چوما۔ اسے دونوں
‫ہاتھ پر رکھ کر عمران سے کہا… ''اس وقت جب صلیب ایک خوفناک گدھ کی طرح چاند ستارے پر منڈال رہی ہے‪ ،ایک
‫مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو تلوار سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ نہیں دے سکتا۔ تم بغداد میں کہو‪ ،دمشق میں کہو‪ ،کہیں بھی
‫کہو‪ ،میں تمہیں ایک محل دے سکتا ہوں۔ تم نے جو کارنامہ کر دکھایا ہے۔ اس کے صلے میں تم دولت کے انبار کے حق دار
‫ہو لیکن میرے عزیز دوست! میں تمہارے لیے محل کھڑا نہیں کروں گا۔ تمہیں دولت کی شکل میں صلہ نہیں دوں گا کیونکہ

‫یہی وہ چیزیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو اندھا اور اپاہج کردیا ہے۔ یہ قبول کرو‪ ،میری تلوار! اور یاد رکھو اس تلوار نے بڑے
‫بڑے جابر صلیبیوں کا خون پیا ہے۔ اس تلوار نے بہت سے قلعوں پر اسالم کا جھنڈا لہرایا ہے اور یہ تلوار اسالم کی پاسبان
‫ہے''۔
‫عمران نورالدین زنگی کے آگے دوزانو بیٹھ گیا اور اس کے ہاتھوں سے تلوار لے کر چومی‪ ،آنکھوں سے لگائی اور کمر سے باندھ
‫لی۔ وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ اس پر رقت طاری ہوگئی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
‫اور اپنی قدروقیمت جان لو میرے دوست!''… زنگی نے کہا… ''ایک جاسوس دشمن کے لشکر کو شکست دے سکتا ہے ''
‫اور ایک غدار اپنی پوری قوم کو شکست کی ذلت میں ڈال سکتا ہے۔ تم نے دشمن کو شکست دے دی ہے۔ تم جو خبر الئے
‫ہو یہ دشمن کی شکست کی خبر ہے۔ صلیبی انشاء اللہ مصر اور فلسطین کے ساحل سے آگے نہیں آسکیں گے اور ان کا
‫بحری بیڑہ واپس نہیں جاسکے گا۔ یہ تمہاری فتح ہوگی اور اس کا صلہ تمہیں خدا دے گا''۔
‫مجھے قاہرہ کے لیے جلدی روانہ ہوجانا چاہیے''… عمران نے کہا… ''دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ امیر مصر کو بہت دن پہلے''
‫اطالع جانی چاہیے''۔
‫تم ابھی روانہ ہوجاو''… نورالدین زنگی نے کہا… ''میں تمہیں بڑی اچھی نسل کا گھوڑا دے رہا ہوں''۔ اس نے عمران کو''
‫قاہرہ تک کا وہ راستہ بتا دیا جس پر کئی چوکیاں تھیں۔ ان پر قاصدوں کے گھوڑے بدلنے کا انتظام تھا… ''اور صالح الدین
‫ایوبی سے پہلی بات یہ کہنا کہ رحیم اور رضا کے خاندانوں کو اپنے خاندان میں جذب کرلو۔ ان کے خاندانوں کی کفالت کا
‫انتظام بیت المال سے کرو''… اس نے عمران سے پوچھا… ''تم صرف جاسوسی کرسکتے ہو یا جنگ کو بھی سمجھ سکتے
‫''ہو؟
‫کچھ سوجھ بوجھ رکھتا ہوں''… عمران نے جواب دیا… ''آپ حکم دیں''۔''
‫پیغام لکھنے کا وقت نہیں''… زنگی نے کہا… ''صالح الدین ایوبی سے کہہ دینا کہ مجھے کرک تمہارے حوالے کرکے بغداد''
‫جلدی واپس جانا تھا۔ اطالع مل رہی ہیں کہ ان عالقوں میں صلیبیوں کی تخریب کاری بڑھتی جارہی ہے اور ہمارے چھوٹے
‫چھوٹے حکمران ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں لیکن اس تازہ خبر نے مجھے رکنے پر مجبور کردیا ہے۔ چار پانچ سال
‫پہلے تم نے بحیرۂ روم میں صلیبیوں کا بیڑہ غرق کیا تھا۔ وہ تمہارے پھندے میں آگئے تھے۔ اب وہ محتاط ہوکر آئیں گے۔
‫اسی لیے انہوں نے سکندریہ کے شمالی ساحل کو منتخب کیا ہے۔ اگر تم ان سے سمندر میں براہ راست ٹکر لینے کا فیصلہ
‫کرو تو یہ تمہاری غلطی ہوگی۔ تمہارے پاس صلیبیوں جتنی بحری طاقت نہیں ہے۔ ان کے جہاز بڑے ہیں اور ہر جہاز میں
‫بادبانوں کے عالوہ بے شمار چپو ہیں۔ چپو چالنے کے لیے ان کے پاس غالموں کی بے انداز تعداد ہے۔ تم اتنی تعداد سے
‫محروم ہو۔ تمہارے جہازوں کے چپو چالنے والے مالح ہیں اور سپاہی بھی۔ سمندری جنگ میں وہ دونوں کام نہیں کرسکیں گے۔
‫صلیبیوں کو ساحل پر آنے دو۔ سکندریہ کو بحری لوگوں کا خطرہ ہوگا۔ آتشیں گولے شہر کو آگ لگا دیں گے۔ اس کا کوئی
‫انتظام کرلینا''۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:04
‫قسط نمبر۔‪65
‫اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ــــــــــــــــ
‫اس کا کوئی انتظام کرلینا''۔''اگر دشمن نے اسی انداز سے حملہ کیا جیسا کہ عمران خبر الیا ہے تو میں دشمن کے پہلو
‫پر ہوں گا۔ یہ اس کا بایاں پہلو ہوگا۔ تم دائیں پہلو کو سنبھالو گے اور تمہارے ذمے ایک کام یہ ہوگا کہ صلیبیوں کا کوئی
‫جہاز واپس نہ جائے۔ آگ لگا دینا اگر تمہارے پاس سمندری چھاپہ مار ہوں تو تم جانتے ہو کہ ان سے کیا کام لیا جاسکتا
‫ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سوڈان کی طرف سے چوکنا رہنا۔ وہ سرحد خالی نہ رہے۔ مجھے احساس ہے کہ تمہارے
‫پاس فوج کم ہے۔ میں یہ کمی پوری کرنے کی کوشش کروں گا۔ سب سے بڑی ضرورت راز داری کی ہے۔ راز داری کی خاطر
‫میں پیغام تحریری نہیں بھیج رہا۔ فتح کی صورت میں‪ ،میں کرک فوج کے حوالے کرکے بغداد چال جائوں گا''۔
‫یہ پیغام ذہن نشین کرکے عمران قاہرہ روانہ ہوگیا۔
‫صلیبیوں کے سن ‪١١٧٤ء کے ابتدائی دن تھے جب علی بن سفیان نے صالح الدین ایوبی کو اطالع دی کہ عکرہ میں ایک
‫جاسوس شہید ہوگیا ہے اور دوسرا پکڑا گیا اور ان کا کمانڈر عمران واپس آگیاہے تو جان لینے کے باوجود کہ عمران بڑا ہی
‫قیمتی راز الیا ہے‪ ،سلطان ایوبی بجھ سا گیا۔ اس نے علی بن سفیان کے ساتھ چندایک باتیں کرکے عمران کو اندر بالیا اور
‫اٹھ کر اسے گلے لگا لیا‪ ،پھر کہا… ''پہلے مجھے یہ بتائو کہ تمہارا ایک ساتھی شہید کس طرح ہوا اور دوسرا پکڑا کس طرح
‫''گیا ہے؟
‫عمران نے پوری تفصیل سے ساری کہانی بیان کردی اور جب اس نے وہ راز بیان کیا جو وہ عکرہ سے الیا ہے تو سلطان
‫ایوبی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ عمران نے یہ بھی بتایا کہ وہ نورالدین زنگی کو اطالع دے آیا ہے۔ اس نے سلطان ایوبی کو
‫زنگی کا پیغام سنایا۔ اس سے سلطان ایوبی کا بہت سا وقت بچ گیا تھا۔ اس نے پہال کام یہ کیا کہ رحیم اوررضا کے
‫خاندانوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا اور ان خاندانوں کے متعلق معلومات پیش کرنے کا کہا تاکہ اس کے مطابق ان کی مزید مدد
‫کی جائے۔ اس کے بعد اس نے عمران سے بہت سی باتیں پوچھیں۔ عمران نے اسے بتایا کہ صلیبیوں کا بحری بیڑہ چار پانچ
‫سال پہلے کی نسبت زیادہ ہوگا۔ حملہ ایک ماہ کے اندر اندر ہوگا۔ یورپ سے تازہ دم فوج الئی جائے گی جسے سکندریہ کے
‫شمال میں اترنے والی فوج سکندریہ پر قبضہ کرکے اسے اڈہ اور رسد گاہ بنائے گی اور شمال کی طرف سے مصر پر حملہ
‫آورہوگی۔ عمران کے کہنے کے مطابق صلیبیوں کی یہ توقع ہے کہ وہ سلطان ایوبی کو بے خبری میں جالیں گے اور نورالدین
‫زنگی اسے مدد اور کمک نہیں دے سکے گا کیونکہ راستے میں صلیبیوں کی بیت المقدس والی فوج حائل ہوگی۔
‫یہ ایسا طوفان تھا جو بے خبری میں آجاتا تو مصر پر صلیبیوں کا قبضہ یقینی تھا۔ سلطان ایوبی نے اسی وقت اپنے تمام
‫سینئر کمانڈروں کو بال لیا۔ علی بن سفیان کو اس نے یہ ہدایت دی کہ وہ دشمن کے جاسوسوں کے خالف اپنی سرگرمیاں اور
‫تیز کردے تاکہ اپنی فوجوں کی نقل وحرکت کے متعلق کوئی خبر باہر نہ جاسکے۔ سکندریہ کے متعلق اس نے خصوصی ہدایات
‫دیں۔
‫٭ ٭ ٭
‫برطانیہ ابھی اس جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتا تھا۔ انگریزوں کو غالبا ً یہ توقع تھی کہ کسی وقت وہ اکیلے ہی مسلمانوں

‫کو شکست دے کر ان کے عالقوں پر قابض ہوجائیں گے لیکن پوپ (سب سے بڑے پادری) کے کہنے پر انگریزوں نے صلیبیوں
‫کو اپنے کچھ جنگی جہاز دئیے تھے۔ سپین کا تمام بیڑہ اس حملے میں شرکت کے لیے تیار تھا‪ ،فرانس‪ ،جرمنی اور بیلجیم
‫کے جہاز بھی آگئے تھے اور اس متحدہ بیڑے میں یونان اور سسلی کی جنگی کشتیاں بھی شامل تھیں۔ رسد اور اسلحہ کے
‫لیے ماہی گیروں سے بادبانی کشتیاں لے لی گئی تھیں۔ ان میں بعض خاصی بڑی تھیں۔ اس بیڑے میں ان تمام ممالک سے
‫تازہ دم فوج آرہی تھی جس سے صلیب پر حلف لیا گیا تھا کہ فتح حاصل کیے بغیر واپس نہیں آئے گی۔
‫اگر صالح الدین ایوبی نے ہمارا مقابلہ اپنے بحری بیڑے سے کیا تو اس کی اسے مصر جتنی قیمت دینی پڑے گی''۔''
‫فرانسیسی بحریہ کے کمانڈر نے کہا… ''ہم جانتے ہیں کہ اس کے بحری بیڑے کی کتنی کچھ طاقت ہے''… وہ بحیرۂ روم کے
‫دوسرے کنارے پر ایک کانفرنس میں بیٹھا کہہ رہا تھا… ''صالح الدین ایوبی اور نورالدین خشکی پر لڑنے والے لوگ ہیں۔ ہمیں
‫یہ توقع رکھنی چاہیے کہ اس حملے کی خبر مسلمانوں کو قبل از وقت نہیں ہوگی اورصالح الدین ایوبی کو اس وقت خبر
‫ہوگی جس وقت ہم قاہرہ کو محاصرے میں لے چکے ہوں گے۔ نورالدین زنگی اس کی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکے گا اور
‫ہمارا یہ حملہ فیصلہ کن ہوگا''۔
‫میں ایک بارپھر کہتا ہوں کہ سوڈانیوں کا استعمال کرنا ضروری ہے''… رینالٹ نے کہا… ''رینالٹ ایک مشہور صلیبی ''
‫حکمران اور جنگجو تھا۔ اسے بیت المقدس کی طرف سے خشکی پر آنا اور حملہ کرنا تھا۔ وہ شروع سے زور دے رہا تھا کہ
‫''وہ مصر پر شمال اورمشرق سے حملہ کریں تو جنوب سے سوڈانی بھی مصر پر حملہ کردیں گے۔
‫آپ پچھلے تجربوں کو بھول جاتے ہیں''… اسالم کے سب سے بڑے دشمن فلپ آگسٹس نے کہا… ''‪١١٦٩ء میں ہم نے ''
‫سوڈان کو بے دریغ مدد دی تھی اور اس توقع پر ہم نے سمندر سے حملہ کیاتھا کہ سوڈانی جنوب سے حملہ کریں گے اور
‫صالح الدین ایوبی کی فوج میں جو سوڈانی ہیں و ہ بغاوت کردیں گے مگر انہو ںنے کچھ بھی نہ کیا۔ دو سال بعد پھر انہیں
‫مدد دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی ضائع کردی۔ اب کے پھر انہوں نے ہمیں مایوس کیا‪ ،ہم کیوں انہیں اپنے منصوبے میں شریک
‫کریں؟ اگر مصر ہم نے اپنی طاقت سے لے لیا تو سوڈانی ہم سے حصہ مانگیں گے۔ آپ یہ بھول رہے ہیں کہ سوڈانیوں میں
‫مسلمانوں کی تعداد کم نہیں۔ مسلمان پر بھروسہ کرنا غلطی ہے۔ اگر آپ سچے دل سے اسالم کا نام ونشان مٹانا چاہتے ہیں
‫تو کسی مسلمان کو اپنا دوست نہ سمجھیں۔ انہیں خرید کر اپنا دوست ضرور بنائیں لیکن دل میں اس کی دشمنی قائم
‫رکھیں''۔
‫آپ ٹھیک کہتے ہیں''… ایک اور صلیبی بادشاہ نے کہا… ''آپ لوگوں نے فاطمیوں کو دوست بنایا۔ وہ صالح الدین ایوبی ''
‫کے دشمن ہوتے ہوئے بھی اسے ابھی تک قتل نہیں کرسکے۔ ہم نے انہیں بڑے بڑے قابل جاسوس اور تخریب کار دئیے جو
‫انہوں نے اپنی غلطیوں سے پکڑوا کر مروا دئیے۔ اب ہم کسی پربھروسہ نہیں کریں گے‪ ،ہمیں اپنی جنگی طاقت پر بھروسہ کرنا
‫چاہیے اور اب ہم کامیاب ہوں گے''۔
‫ان کی جنگی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ وہ اس سے زیادہ تکبر کرنے میں حق بجانب بیڑے کا تو کوئی حساب ہی نہ تھا۔
‫بیت المقدس کی طرف سے جو فوج آرہی تھی۔ وہ سمندر کی طرف سے آنے والی نفری سے دگنی تھی۔ یورپی مورخوں میں
‫تعداد کے متعلق اختالف پایا جاتا ہے۔ بعض نے تو اس حملے کا صلیبی جنگوں میں ذکر ہی نہیں کیا‪ ،جیسے اس کی کوئی
‫اہمیت ہی نہیں تھی۔ اس حملے میں کم و بیش صلیبیوں کی چھ بادشاہیاں شامل تھیں۔ کچھ چھوٹے چھوٹے حکمران بھی
‫تھے‪ ،جو اپنی فوجیں لے آئے تھے۔ ان میں خامی یہ تھی کہ انکی کمان متحد نہیں تھی‪ ،تاہم یہ لشکر نورالدین زنگی اور
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو آسانی سے شکست دے سکتا تھا۔ سلطان ایوبی کی کمزوری یہ تھی کہ اس کی فوج کم تھی۔
‫اس کے عالوہ مصر میں غداروں نے بدامنی پھیال رکھی تھی اورسب سے بڑا خطرہ یہ کہ سوڈانی بھی حملہ کرسکتے تھے۔
‫نورالدین زنگی کو بھی کچھ ایسی ہی دشواریوں کا سامنا تھا۔ دنیائے اسالم چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹی ہوئی تھی اور یہ
‫حکمران عیش وعشرت کے عادی ہوچکے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں اپنے زیراثر لے رکھاتھا۔ وہ آپس میں بٹے ہوئے تھے اور
‫انہیں اسالم کی ناموس کا ذرہ بھر احساس نہ تھا۔
‫سلطان ایوبی نے اپنے سینئرکمانڈروں کو بال کر اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک حصے کو اس نے سوڈان کی
‫سرحد پر چلے جانے کو کہا۔ اس کے کمانڈر کو یہ ہدایت دی کہ وہ سرحد سے خاصا پیچھے خیمہ زن رہے لیکن فوج کو
‫مختلف جگہوں پر اس طرح متحرک رکھے کہ گرد اڑتی رہے اور یہ ظاہر ہو کہ فوج کی تعداد بے حساب ہے۔ سلطان ایوبی
‫نے خصوصی
‫حکم دیا کہ کسی بھی وقت فوج آرام کی حالت میں نہ رہے۔ دوسرے حصے کو سکندریہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا گیا
‫لیکن اس ہدایت کے ساتھ کہ کوچ رات کو ہوگا اور تمام پڑائو دن کے وقت ہوں گے۔ اس کے کمانڈر کو بتایا گیا کہ اسے یہ
‫حکم بعد میں ملے گا کہ اس کی منزل کیا ہے اور آخری خیمہ گاہ کہاں ہوگی۔ تیسرے حصے کو سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھ
‫میں رکھا۔ اس نے کسی بھی کمانڈرکو نہ بتایا کہ یہ احکام کیوں دیئے جارہے ہیں۔ یہ سب نے دیکھا کہ تمام تر منجنیقیں
‫اس فوج کو دی گئی تھیں جو سکندریہ کی طرف جارہی تھیں۔
‫اس کے ساتھ آٹھ روز بعد سلطان ایوبی قاہرہ میں نہیں تھااور نورالدین زنگی کرک میں نہیں تھا۔ وہ دونوں سکندریہ کے مشرق
‫میں گھوم پھر رہے تھے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ دونوں کسی ملک کے حکمران اور فوجوں کے کمانڈر ہیں اور یہ
‫وہ انسان ہیں جو صلیبیوں کے لیے سراپا دہشت بنے ہوئے ہیں۔ وہ غریب سے دوشتربان تھے جو معلوم نہیں کہاں سے آئے
‫تھے اور کہاں جارہے تھے۔ انہوں نے ساحل پر جاکر بحیرۂ روم کی وسعت کو نظروں سے بھانپا اور ناپا۔ وہ تین چار دن میں
‫دور دور گھوم گئے۔ سلطان ایوبی سکندریہ اور نورالدین زنگی کرک چالگیا۔ سلطان ایوبی نے اپنے امیر البحر کو کچھ احکام
‫دئیے اور وہ چال گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبیوں کا بیڑہ مکمل خاموشی اور راز داری سے آیا۔ بیت المقدس سے صلیبیوں کی فوج چل پڑی۔ دونوں کی روانگی کے
‫اوقات میں مطابقت تھی۔ صلیبیوں نے بڑے اچھے موسم کا انتخاب کیاتھا۔ اس موسم میں سمندر خاموش رہتا ہے۔ تالطم اور
‫طوفان کا خطرہ نہیں ہوتا۔ صلیبی جہازوں کے کپتانوں کو مصر کا ساحل نظر آنے لگا لیکن انہیں سلطان ایوبی کا کوئی جہازنظر
‫نہیں آرہا تھا۔ سب سے اگلے جہاز کے کپتان نے سمندر میں ماہی گیروں کی ایک کشتی دیکھی۔ اس نے جہاز ان کے قریب
‫کرکے اوپر سے جھک کر پوچھا… ''جنگی جہاز کہاں ہیں؟ اگر غلط بتاو گے تو تمہیں ڈبو کر مار ڈالیں گے''۔
‫ماہی گیروں نے کہا… ''مصر کے جہاز اس طرح نہیں رکھے جاتے۔ یہاں سے بہت دور ہیں''۔
‫جہاز روک کر رسہ پھینکا گیا۔ دو ماہی گیر رسے کے ذریعے جہاز پر چلے گئے۔ انہوں نے کپتان کو مصر کے جنگی جہازوں

‫کے متعلق جو معلومات دیں‪ ،وہ یہ تھیں کہ کئی جہاز مرمت ہورہے ہیں۔ جو جہاز اچھی حالت میں ہیں وہ اتنی دور ہیں کہ
‫سکندریہ تک پہنچتے دو دن لگیں گے کیونکہ بادبانوں اور چپوئوں کے لحاظ سے وہ کمزور اور کم رفتار ہیں۔ ماہی گیر نے جو
‫سب سے زیادہ قیمتی بات بتائی‪ ،وہ یہ تھی کہ چونکہ سلطان ایوبی بحریہ کی طرف توجہ نہیں دیتا‪ ،اس لیے جنگی مالح
‫عیش وعشرت میں پڑے رہتے ہیں۔ ساحل کے ساتھ جو دیہات ہیں‪ ،وہاں چلے جاتے ہیں۔ ماہی گیروں سے مچھلیاں چھین
‫لیتے ہیں۔
‫صلیبی بحریہ کے رہنما کے لیے یہ معلومات خوشخبری سے کم نہ تھیں۔ اس نے اپنا جہاز روک لیا اور ایک کشتی کے ذریعے
‫اس بیڑے کے کمانڈر کے جہاز تک گیا۔ اسے اس نے یہ معلومات دیں جو اس نے دو ماہی گیروں سے لی تھیں۔ا ن کے لیے
‫میدان صاف تھا۔ کمانڈر نے بیڑے کو وہیں روک لیا۔ وہ شام کے بعد اندھیرے میں ساحل تک پہنچنا چاہتاتھا۔ اسے وہ جگہ بتا
‫دی گئی تھی جہاں ساحل کے ساتھ پانی اتنا گہرا تھا کہ جہاز ریت میں پھنسے بغیر ساحل تک آسکتے تھے۔ وہاں فوج کو
‫آسانی سے اتارا جاسکتا تھا… سکندریہ کی بندرگاہ سے ایک کشتی کھلے سمندر کی طرف چلی گئی جو بظاہر ماہی گیروں کی
‫تھی۔ ابھی سور ج غروب نہیں ہوا تھا جب یہ کشتی بیڑے تک پہنچ گئی۔ کم وبیش اڑھائی سو جنگی جہاز سمندر میں دور
‫دور تک بکھرے ہوئے تھے۔ ماہی گیر اپنی کشتی کو بیڑے کے درمیان لے گئے اور پوچھ کر کمانڈر کے جہاز تک پہنچ گئے۔
‫انہوں نے کمانڈر کو بتایا کہ سکندریہ کے اندر کوئی فوج نہیں ہے۔ صرف شہری آبادی ہے اور مصری بیڑے کے جنگی جہاز یہاں
‫سے بہت دور ہیں… یہ ماہی گیر مسلمانوں کے جاسوس تھے۔
‫رات کا پہال پہر تھا۔ جب اگلی صف کے جنگی جہاز ساحل کی طرف بڑھے اور کسی دشواری کے بغیر ساحل پر لنگر انداز
‫ہوگئے۔ پچھلی صف کے جہاز ان کے قریب‪ ،عقب میں آئے اور لنگر ڈال دئیے۔ تیسری صف بھی قریب آگئی۔ فوج اتارنے کا
‫انتظام غالبا ً یہ تھا کہ ہر ایک جہاز کو ساحل پر نہیں آنا تھا بلکہ تمام جہازوں کو ساتھ مال کر ان میں سے فوج کو گزر کر
‫اترنا تھا۔ سکندریہ پر خاموشی سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اطالع کے مطابق وہاں چونکہ فوج نہیں تھی‪ ،اس لیے قبضہ
‫مشکل نہ تھا۔ اگلے جہازوں سے جو فوج اتری‪ ،اسے سکندریہ میں داخل ہونے کا حکم دے دیاگیا اور سپاہیوں کو بتایا گیا کہ
‫شہر ان کا اپنا ہے‪ ،کوئی مزاحمت نہیں ہوگی۔ سپاہی دوڑ پڑے۔ انہیں شہر کو لوٹنا تھا اور ان کی نظر عورتوں پر بھی تھی۔
‫جونہی سپاہیوں کا یہ ہجوم شہر کے قریب آیا‪ ،شہر کے باہر دائیں اور بائیں سے شعلے اٹھے جن سے رات روشن ہوگئی۔ یہ
‫گھاس‪ ،لکڑیوں اور کپڑوں کے انبار تھے جن پر تیل ڈاال گیا تھا۔ ان سے روشنی کا کام لینا تھا۔ شہر کی گلیوں میں بھی
‫مشعلیں جل اٹھیں اور مکانوں کی چھتوں سے تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ صلیبی پیچھے کو بھاگے تو دائیں اور بائیں سے ان
‫پر تیر برسنے لگے۔ ان کے لیے سنبھلنا مشکل ہوگیا۔ زخمیوں کی چیخ وپکار سے رات لرزنے لگی۔ ان صلیبیوں کی تعداد کم
‫وبیش دو ہزار تھی۔ ان میں سے شاید ہی کوئی زندہ پیچھے گیا ہوگا۔ صلیبی فوج جو ابھی جہازوں میں تھی‪ ،اسے آگے آنے
‫کا حکم مال۔ جہازوں میں صلیبیوں کی منجنیقیں آتشیں گولے پھینکنے لگیں اور دور مار تیر بھی آنے لگے۔
‫سب سے پیچھے والے دو تین جنگی جہازوں میں سے شعلے اٹھے۔ صلیبی کپتانوں نے پیچھے دیکھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا
‫جیسے سمندر سے آگے کے گولے اٹھتے ہیں اور ان کے جہازوں میں آکر گرتے ہیں۔ صلیبیوں نے خوش فہمیوں میں مبتال ہوکر
‫جہازوں کو ہجوم کی صورت میں اکٹھا کردیا تھا اور وہ سلطان ایوبی کے پھندے میں آگئے تھے۔ دن کے وقت اگلے جہاز کو
‫جو ماہی گیر ملے تھے‪ ،وہ علی بن سفیان کے محکمے کے آدمی تھے۔ یہ قدرتی سی بات تھی کہ سمندر میں ماہی گیر ملے
‫تو صلیبی کپتان نے ان سے معلومات حاصل کیں۔ ماہی گیروں نے غلط معلومات دیں۔ انہوں نے صرف یہ بات ٹھیک بتائی
‫تھی کہ مصری بیڑہ یہاں سے دور ہے۔ وہ واقعی دور تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے امیر البحر کو بتا دیا تھا کہ وہ سمندر پر
‫نظر رکھے۔ کسی بھی وقت حملہ آجائے گا۔ امیر البحر نے دیکھ بھال کا اچھا انتظام کررکھا تھا۔ اسے قبل از وقت پتا چل
‫گیا تھا کہ صلیبی بیڑہ سمندر کے وسط تک آگیا ہے۔ چنانچہ امیر البحر اپنے چند ایک جنگی جہاز جن میں آتشیں گولے
‫پھینکنے والی منجنیقیں تھیں‪ ،ایک طرف دور لے گیا تھا۔ اس نے بادبان بھی اتار لیے تھے اور مستول بھی‪ ،تاکہ دور سے جہاز
‫نظر نہ آسکیں۔ ان کے بجائے اس نے ایک ایک چپو پر دو دو آدمی لگا دئیے تاکہ رفتار تیزرہے۔
‫شام کے بعد جب صلیبی بیڑہ ساحل کے قریب گیا تو امیر البحر نے مستول بھی چڑھا دئیے اور بادبان بھی اور چپوئوں کی
‫رفتار بھی تیز رکھی اور اس طرح وہ صلیبی بیڑے کے عقب میں عین اس وقت پہنچ گیا جب صلیبیوں نے اپنے جہاز ایک
‫دوسرے کے ساتھ مال دئیے تھے۔ صلیبیوں کو د وسرا دھوکہ ان ''ماہی گیروں'' نے دیا تھا جو سکندریہ سے روانہ ہوئے تھے۔
‫انہوں نے صلیبی کمانڈر سے کہا تھا کہ وہا ں کے جاسوس ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ سکندریہ میں کوئی فوج نہیں۔ حقیقت
‫یہ تھی کہ شہر کے ان مکانوں میں جو سمندر کی طرف تھے‪ ،وہاں صرف فوج تھی۔ شہریوں کو محفوظ حصے میں بھیج دیا
‫گیا تھا۔
‫سلطان ایوبی کا امیر البحر بہت تھوڑے جہاز لے کر گیا تھا۔ انہوں نے نقصان تو بہت کیا لیکن دشمن کے کئی ایک جہاز بچ
‫کر نکل گئے۔ دوسروں نے مقابلہ کیا۔ جلتے جہازوں نے رات کو دن بنا دیا تھا۔ اس روشنی میں سلطان ایوبی کے جہاز بھی
‫نظر آنے لگے تھے۔ ان میں سے ایک جہاز صلیبیوں کی منجنیقوں کی زد میں آگیا۔ امیر البحر نے اپنے جہازوں کو پیچھے
‫ہٹانا شروع کردیا کیونکہ دشمن جہازوں کی افراط کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھیرا ڈالنے کی کوشش کررہا تھا۔ سکندریہ
‫میں سلطان ایوبی کے جانبازوں نے جوش میں آکر ساحل پرہلہ بول دیا اور جہازوں پر آتشیں تیر پھینکنے لگے۔ یہ جانباز مصر
‫کی فوج کے اس تیسرے حصے کے تھے جسے سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھ میں رکھا تھا۔ انہیں غیر فوجی لباس میں سکندریہ
‫میں مکانوں میں مورچہ بند کیا گیا تھا اور نہایت خاموشی سے شہریوں کو دوسرے مکانوں میں منقل کردیاگیا تھا۔ صالح الدین
‫ایوبی عقل اور دھوکے کی جنگ لڑ رہا تھا اور کم سے کم طاقت استعمال کررہا تھا۔ اس نے ابھی خاصی نفری اپنے زیر کمان
‫ریزرو میں رکھی ہوئی تھی۔
‫رات بھر یہ جنگ جاری رہی۔ سمندر میں کئی جہاز جل رہے تھے‪ ،وہاں قیامت کا منظر بنا ہوا تھا۔ صلیبی بیڑہ چونکہ زیادہ
‫تھا بلکہ سلطان ایوبی کے جہازوں کی نسبت بہت ہی زیادہ اس لیے صلیبی جہاز تباہی سے نکل کر مسلمانوں کے جہازوں کو
‫گھیرنے کی کوشش کررہے تھے۔ صورت گھیرے والی بن گئی تھی۔ رات کو پتا نہیں چلتا تھا کہ اپنے جہازوں کی کیفیت کیا
‫ہے۔سلطان ا یوبی وہاں موجود تھا۔ اس نے اپنے ان جہازوں کو جنہیں اس نے محفوظہ کے طور پر رکھا ہوا تھا‪ ،حکم بھیج دیا
‫کہ صلیبی جہازوں کو دور کا چکر کاٹ کر الجھائیں۔ رات کے پچھلے پہر باقی جہاز بھی معرکے میں شریک ہوگئے۔ اس میں
‫بہادری تو ان مالحوں کی تھی جو چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں اپنے جہازوں کو تیر‪ ،آتش گیر مادہ اور گولے پہنچا رہے تھے۔
‫اپنے جہازوں کو ڈھونڈنا بہت ہی مشکل کام تھا۔
‫صبح طلوع ہورہی تھی۔ جب امیر البحر ایک کشتی میں ساحل پر آیا۔ اس کے ساتھ چند ایک بحری سپاہی تھے۔ امیر البحر

‫کے کپڑے خون سے الل تھے اور اس کی ایک ٹانگ جھلسی ہوئی تھی۔ اس کا جہاز نذرآتش ہوگیا تھا اور وہ چند ایک جوانوں
‫کو سمندر سے نکال الیا تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو بڑی عجلت میں معرکے کی صورتحال بتائی جو مختصر یہ تھی کہ اس
‫کے آدھے جہاز تباہ ہوچکے تھے لیکن صلیبیوں کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا جاچکا تھا کہ وہ زیادہ دیر لڑنے کے قابل نہیں تھے۔
‫سلطان ایوبی نے اسے بتایا کہ باقی جہازوں کو بھی بھیج دیا گیا ہے۔ یہ اقدام امیر البحر کی خواہش اور ضرورت کے عین
‫مطابق تھا۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا… ''صلیبیوں کو سب سے زیادہ نقصان وہ بوجھ دے رہا ہے جو انہوں نے جہازوں
‫میں الد رکھا ہے۔ رسد کے عالوہ ان کے جہازوں میں فوج بھی ہے اور بعض جہازوں میں گھوڑے ہیں۔ اس بوجھ کی وجہ سے
‫ان کے جہاز رفتار میں نہیں آتے اور گھومنے میں دیر لگاتے ہیں۔ میرے جہاز خالی ہیں''۔
‫امیر البحر اتنا زیادہ زخمی تھا کہ اس کا سر ڈول رہا تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے طبیب اور جراح کو بالیا مگر امیر البحر نے
‫پروانہ کی۔ سلطان ایوبی کا ہیڈکوارٹر ساحل کے چٹانی عالقے میں تھا۔ وہ ایک اونچی چٹان پر کھڑے تھے۔ سورج کی پہلی
‫کرنوں نے سمندر اور ساحل کا جومنظر دکھایا وہ ہیبت ناک تھا۔ جہاں تک نظر جاتی تھی‪ ،سمندر میں جہازمست سانڈوں کی
‫طرح سمندر کو چیر رہے تھے۔ بہت سے جہاز جل رہے تھے۔ بعض مستول ٹوٹ جانے اور بادبان بے کار ہوجانے سے ایک ہی
‫جگہ کھڑے ہچکولے کھا رہے تھے۔سمندر میں بہت سے انسان تیرتے نظر آرہے تھے اور موجیں الشوں کو ساحل پر پٹخ رہی
‫تھیں‪ ،اپنے جہازوں کا کچھ پتا نہیں چلتا تھا۔ دور مغرب کی طرف سمندر سے مستولوں کے باالئی حصے ابھرے‪ ،پھر بادبان
‫نظرا ئے۔ جہاز ایک صف میں ایک دوسرے سے دور دور معرکے کی طرف بڑھے آرہے تھے۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''تمہارے
‫جہاز آرہے ہیں''… اس نے ادھر دیکھا‪ ،وہاں امیر البحر نہیں تھا۔
‫امیر البحر اپنے جہازوں کو آتا دیکھ کر سلطان کو بتائے بغیر چٹان سے اتر گیا تھا۔ سلطان ایوبی کو وہ اس وقت نظر آیا
‫جب وہ ایک کشتی میں بیٹھ چکا تھا اور کشتی کا بادبان کھل چکا تھا۔ یہ دس چپوئوں کی کشتی تھی۔ سلطان ایوبی نے
‫چال کر اسے پکارا… ''سعدی! تم واپس آجاو۔ میں نے تمہاری جگہ ابوفرید کو بھیج دیا ہے''۔
‫امیر البحر دور نکل گیا تھا۔ اس نے بلند آواز سے کہا… ''یہ میری جنگ ہے۔ خدا حافظ''… اور اس کی کشتی دور ہی دور
‫ہٹتی گئی پھر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
‫قاصد نے سلطان ایوبی کو اطالع دی کہ سکندریہ سے شمال مشرق کی طرف تین میل دور صلیبیوں کی کچھ فوج اتر آئی ہے
‫اور وہاں خون ریز معرکہ لڑا جارہا ہے۔ سلطان ایوبی نے وہاں جانے کے بجائے کچھ احکام جاری کردئیے اور سمندری جنگ کو
‫دیکھتا رہا… اور اس نے یہ منظر بھی دیکھا کہ صلیبیوں کا ایک جہاز ساحل کے ذرا قریب آگیا تھا۔ سلطان ایوبی کے بیڑے کا
‫ایک جہاز اس کے قریب آنے کی کوشش کررہا تھا۔ صلیبیوں نے تیروں کی بوچھاڑ ماری لیکن مسلمان مالحوں نے پرواہ نہ
‫کی۔ وہ اپنے جہاز کو صلیبی جہاز کے اتنا قریب لے آئے کہ کود کر اس میں چلے گئے اور دست بدست لڑ کر جہاز پر قبضہ
‫کرلیا مگر یہ معرکہ اتنا سہل نہ تھا۔ جیسا بیان کیا گیا ہے۔ مسلمان بحریہ کے سرفروشوں نے خون اور جان کی بے دریغ
‫قربانی دی۔ وہ تین تین چار چار جہازوں کے گھیرے میں لڑے۔ دشمن کے جہازوں میں کود کود کر لڑے۔ تیروں سے چھلنی
‫ہوئے مگر اس طرح معرکے میں سے نکلنے کی نہ سوچی‪ ،جس طرح صلیبی اپنے جہاز نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔
‫صلیبیوں کی کمر رات کو ہی ٹوٹ گئی تھی۔ ان کے کمانڈر صلیب کا حلف پورا کررہے تھے اور انہیں صبح تک یہ امید لڑاتی
‫رہی کہ وہ سلطان ایوبی کی قلیل سی بحری قوت پر قابو پالیں گے لیکن اگلے دن کے پچھلے پہر تک ان کی کیفیت اتنی
‫بگڑ چکی تھی کہ جہاز بکھر کر ادھر کو ہی جارہے تھے‪ ،جدھر سے آئے تھے۔ وہ اپنی زیادہ تر قوت مسلمانوں کے ہاتھوں
‫تباہ کرگئے تھے اور ان کی جو تھوڑی سی فوج ساحل پر اتری تھی‪ ،وہ سکندریہ سے تین چار میل دور شمال مشرق میں
‫کچھ کٹ گئی تھی‪ ،باقی نے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ سلطان ایوبی کی فوج کا دوسرا حصہ ابھی جنگ میں شریک ہی نہیں ہوا
‫تھا۔ سلطان ایوبی کے پاس قاصد آرہے تھے‪ ،جارہے تھے اور جب اسے یقین ہوگیا کہ صلیبی ناکام ہوگئے ہیں تو اس نے فوج
‫کے دوسرے حصے کو ایک اور محاذ دے دیا۔ عمران کی اطالع کے مطابق بیت المقدس کی طرف سے بھی صلیبی فوج کو آنا
‫تھا۔ اس کے لیے نورالدین زنگی گھات میں تھا‪ ،تاہم پیش بندی کے طور پر سلطان ایوبی نے دفاع مضبوط کرلیا۔ تیسرے حصے
‫کو جو اس نے اپنے زیرکمان ریزرو میں رکھا تھا‪ ،ان صلیبیوں کو پکڑنے پر لگا دیا جو سمندر سے نکل رہے تھے۔
‫سورج کی آخری کرنوں نے سلطان ایوبی کو یہ منظر دکھایا کہ صلیبیوں کے وہی جہاز نظر آرہے تھے جو جل چکے تھے اور
‫ابھی ڈوبے نہیں تھے یا وہ جنہیں پکڑ لیا گیا تھا یا ان جہازوں کے بادبان نظر آرہے تھے جو واپس جاتے ہوئے دور ہی دور
‫ہٹتے جارہے تھے۔ اس کی اپنی بحریہ کے جہاز جو بچ گئے تھے‪ ،ساحل کی طرف آرہے تھے۔ دیکھنے والوں نے اندازہ لگایا
‫کہ سلطان کی آدھی بحریہ مصر پر قربان ہوگئی تھی۔ کشتیاں ساحل پر آرہی تھیں۔ ان میں اپنے بحری سپاہی آتے تھے جو
‫زخمی تھے یا سمندر سے نکالے گئے تھے۔ ان کے جہاز تباہ ہوگئے تھے۔ ایک کشتی اس چٹان کے قریب آکے ساحل سے
‫لگی جس پر سلطان ایوبی کھڑا تھا۔ اس میں کسی کی الش تھی۔ سلطان ایوبی نے بلند آواز سے پوچھا… ''یہ کس کی الش
‫''ہے؟
‫امیرالبحر سعدی بن سعد کی''۔ ایک مالح نے جواب دیا۔''
‫سلطان ایوبی دوڑ کر نیچے اترا۔ الش سے کپڑا ہٹایا۔ اس کے امیر البحر کی الش خون سے الل ہوچکی تھی۔ مالحوں نے بتایا
‫کہ امیر البحر نے ایک جہاز تک پہنچ کر بحریہ کی کمان لے لی تھی اور جنگ لڑتے رہے۔ انہوں نے اس جہاز پر اپنی کمان
‫کا جھنڈا چڑھا دیا تھا۔ غالبا ً یہی وجہ تھی کہ صلیبیوں کے چار جہازوں نے انہیں گھیر لیا۔ا ن میں سے دو تباہ ہوئے اور
‫امیرالبحر کا جہاز بھی تباہ ہوگیا۔ اس وقت تک معرکہ ختم ہوچکا تھا… سلطان ایوبی نے امیرالبحر کی الش کا ہاتھ چوما اور
‫کہا… ''تم سمندر کے فاتح ہو‪ ،میں کچھ بھی نہیں''۔
‫اس نے جہاں یہ حکم دیا کہ دشمن کے جو جہاز پیچھے رہ گئے ہیں‪ ،ان سے سامان نکاال جائے‪ ،وہاں جذباتی لہجے میں
‫کہا… ''تمام کشتیاں سمندر میں ڈال دو اور کسی شہید کی الش سمندر میں نہ رہنے دو۔ انہیں یہیں دفن کرنا جہاں بحیرۂ
‫روم کی ہوائیں ان کی قبروں کو ٹھنڈی رکھیں''۔
‫بحری شہیدوں کی تعداد کم نہیں تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫بیت المقدس سے صلیبیوں کی فوج کوچ کرچکی تھی اور آدھا راستہ طے کرآئی تھی۔ انہیں کچھ خبر نہیں تھی کہ ان کی
‫بحریہ اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ اس کے قلب میں صلیبیوں کا مشہور جنگجو حکمران ریجنالٹ تھا۔ اس فوج کے بھی تین
‫حصے تھے۔ ایک آگے تھا‪ ،دوسرا کچھ دور پیچھے درمیان میں اور تیسرا بہت دائیں کو ہٹ کر آرہا تھا۔ اس کی متحدہ کمان
‫ریجنالٹ کے پاس تھی اور اسے یہ توقع تھی کہ وہ سلطان ایوبی کو بے خبری میں جالے گا۔ تصوروں میں اسے قاہرہ نظر آرہا

‫تھا۔ گھوڑا گاڑیوں کے قافلے‪ ،رسد بھی ساتھ ال رہے تھے۔ سکندریہ سے بہت دور شمال مشرق میں ایک وسیع خطہ ریت اور
‫مٹی کے ٹیلوں اور نشیب وفراز کا ہوا کرتا تھا۔ آٹھ صدیوں نے اس خطے کو اب ویسا نہیں رہنے دیا۔ اس کے قریب باقی
‫عالقہ صحرا تھا اور اس صحرا میں پانی بھی تھا۔ ریجنالٹ نے ایک پڑائو وہاں کیا۔ اس کی فوج کا اگالحصہ آگے نکل گیا
‫تھا۔ دائیں طرف واال حصہ دور تھا۔ آدھی رات کا وقت ہوگا۔ ریجنالٹ کے کیمپ میں قیامت بپا ہوگئی۔ اس کے کچھ بھی پلے
‫نہ پڑا کہ یہ قیامت آسمان سے ٹوٹی ہے یا اس کی اپنی فوج نے بغاوت کردی ہے۔
‫اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ نورالدین زنگی کی گھات میں آگیا ہے۔ زنگی نے کئی دنوں سے اپنی فوج کو ٹیلوں
‫اور نشیب وفراز کے اس عالقے میں الکے بٹھا رکھا تھا۔ اس نے یہ سوچا تھا کہ یہاں پانی قریب ہے‪ ،اس لیے صلیبی یہاں
‫پڑائو کریں گے۔ صلیبی فوج کا اگال حصہ آگے نکل گیا تو زنگی کے کمانڈروں کو مایوسی ہوئی۔ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ
‫رات کو پڑائو پر حملہ کرنا ہے۔ وہاں پڑائو نہ ہوا۔ بہت دیر بعد انہیں دور سے گرد کے بادل نظر آئے تو وہ سمجھے کہ
‫آندھی آرہی ہے۔ صحرائی آندھی بڑی خوفناک ہوا کرتی ہے لیکن یہ آندھی نہیں صلیبی فوج کا درمیانی حصہ تھا جو اسی جگہ
‫آکر رک گیا‪ ،جہاں نورالدین زنگی کو توقع تھی۔ صلیبیوں نے خیمے نہ لگائے کیونکہ انہیں صبح کوچ کرنا تھا۔ جانوروں کو الگ
‫باندھ دیا گیا اور پھر سورج ڈوب گیا۔
‫آدھی رات کو زنگی کے دستے جو گھات میں تھے‪ ،باہر آئے‪ ،یہ سب سوار تھے۔ انہوں نے پہلے تو اندھیرے میں تیروں کا
‫مینہ برسایا اور جب سوئے ہوئے سپاہیوں میں بھگدڑ مچی تو سواروں نے گھوڑے سرپٹ دوڑا دئیے۔ وہ اندھا دھند برچھیاں اور
‫تلواریں چالتے گئے اور آگے نکل گئے۔ صلیبی سنبھلنے نہ پائے تھے کہ سواروں نے پھر ہلہ بول دیا۔ صلیبیوں کے بندھے ہوئے
‫گھوڑوں کی رسیاں کھول دی گئیں۔ یہ سب بھاگ اٹھے۔ ریجنالٹ وہاں سے بھاگ گیا اور دائیں حصے والی فوج میں جاپہنچا۔
‫یہ حصہ کہیں دور پڑائو کیے ہوئے تھا۔ نورالدین زنگی اسی طرف تھا۔ اس ساری فوج کی رسد پیچھے آرہی تھی۔ زنگی نے
‫اس کے لیے الگ دستے مقرر کررکھے تھے۔ انہوں نے صبح تک رسد پر قبضہ کرلیا۔ دائیں واال حصہ رات کو ہوشیار ہوگیا تھا۔
‫ریجنالٹ اسے اپنے حصے کی طرف النے لگا کیونکہ وہ اسی جگہ کو میدان جنگ سمجھتا تھا۔ صبح کے دھندلکے میں یہ فوج
‫چل پڑی۔ نورالدین زنگی نے عقب سے اس کے پہلو پر حملہ کردیا۔ اس کے بعد اس فوج کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ اس پر
‫کس طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ سلطان ایوبی کی طرح زنگی بھی جم کر نہیں لڑتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے دستوں سے حملے
‫کراکے صلیبیوں کو بکھیرتا جارہا تھا۔
‫اس نے رات کو سلطان ایوبی کی طرف قاصد بھیج دیا تھا۔ ان دونوں نے سکیم پہلے ہی بنا رکھی تھی۔ زنگی کا ہر عمل اور
‫اقدام اور دشمن کا ردعمل ان کی سکیم کے عین مطابق تھا۔ ریجنالٹ نے اپنی فوج کے اگلے حصے کو پیچھے آنے کا پیغام
‫بھیجا۔ چار روز ریجنالٹ اور زنگی میں المحدود وسعت میں معرکے ہوتے رہے۔زنگی نے صلیبیوں کو بکھیر لیا تھا اور ''ضرب
‫لگاو اور بھاگو'' کے اصول پر لڑ رہا تھا۔ صلیبیوں کی فوج کا آگے واال حصہ واپس ہوا تو رات کو اس کے عقب پر حملہ
‫ہوا۔ یہ سلطان ایوبی کے چھاپہ مار تھے۔ انہوں نے دو تین شب خون مارے اور غائب ہوگئے۔ پھر یہ سلسلہ چلتا رہا۔ صلیبی
‫آمنے سامنے کی جنگ لڑنے کی کوشش کررہے تھے لیکن سلطان ایوبی انہیں کامیاب نہیں ہونے دے رہا تھا۔ یہ طریقہ آسان
‫نہیں تھا۔ چھاپہ مار اگر ایک سو کی تعداد میں جاتے تھے تو بمشکل ساٹھ واپس آتے تھے۔ اس کے لیے خصوصی مہارت‪،
‫دلیری اور تیزی کی ضرورت تھی جو سلطان ایوبی نے اپنے چھاپہ مار دستوں میں پیدا کررکھی تھی۔
‫جنگ بہت دور دور تک پھیل گئی۔ صلیبی فوج میں نہ جمعیت رہی‪ ،نہ مرکزیت۔ انکی رسد زنگی کے قبضے میں آگئی تھی۔
‫میدان جنگ میں نہ کوئی سامنا‪ ،نہ عقب۔ صلیبی اس جنگ کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے تھے جو مسلمان لڑ رہے تھے۔ پھر
‫کیفیت یہ ہوگئی کہ جو صلیبی سپاہی بھاگ سکے‪ ،بھاگ گئے اور جن میں تاب نہ رہی‪ ،وہ ہتھیار ڈالنے لگے۔ ریجنالٹ ہار
‫ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے کسی اور جگہ کچھ فوج اکٹھی کرلی اور اسے یہ بھی پتا چل گیا کہ زنگی کہاں ہے۔ اس نے
‫نہایت اچھی سکیم سے وہاں حملہ کردیا۔ یہ ایک بڑاہی سخت معرکہ تھا۔ صلیبی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے۔
‫ریجنالٹ کی چالیں اور اپنی فوج پر کنٹرول بہت اچھا تھا مگر چوتھی پانچویں رات زنگی کے شب خون مارنے والے ایک
‫دستے کے چند ایک جانبازوں نے جان کی بازی لگا دی اور ریجنالٹ کی ذاتی خیمہ گاہ پر جا کر شب خون مارا۔ یہ زنگی
‫کی سکیم کے تحت اقدام کیا گیا تھا۔ زنگی نے چھاپہ ماروں کی للکار پر حملہ کردیا۔ اس دور میں رات کے وقت لڑائی نہیں
‫لڑی جاتی تھی۔ یہ رسم مسلمانوں نے ڈالی تھی کہ رات کو بھی حملے جاری رکھتے تھے۔
‫صبح طلوع ہوئی تو صلیبیوں کا سپریم کمانڈر ریجنالٹ قیدی کی حیثیت سے نورالدین زنگی کے سامنے کھڑا تھا اور زنگی اسے
‫اپنی شرائط بتا رہا تھا۔ یہ صلیبی کمانڈر ہر شرط ماننے پر آمادہ تھا لیکن بات جب بیت المقدس پر آئی تو ریجنالٹ نے
‫انکار کردیا۔ زنگی نے اسے کہا تھا کہ بیت المقدس ہمارے حوالے کردو اور آزاد ہوجاو… شام تک سلطان ایوبی بھی آگیا۔
‫ریجنالٹ کو پورے احترام کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ سلطان ایوبی اسے بغل گیر ہوکر مال۔
‫آپ عظیم سپاہی ہیں''۔ ریجنالٹ نے سلطان ایوبی سے کہا۔''
‫یوں کہو کہ اسالم عظیم مذہب ہے''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''سپاہی وہی عظیم ہوتے ہیں جن کا مذہب ''
‫عظیم ہوتا ہے''۔
‫محترم ریجنالٹ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ ان کا بحری بیڑہ نہیں آیا تھا؟'' نورالدین زنگی نے سلطان ایوبی سے کہا… ''
‫''انہیں صحیح جواب تم ہی دے سکتے ہو۔ میں تو یہاں تھا''۔
‫آپ کا بحری بیڑہ پورے طمطراق سے آیا تھا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اور واپس بھی چال گیا ہے۔ آپ کے بہت سے ''
‫جہاز سمندر کی تہہ میں ہوں گے اور جو ڈوبے نہیں‪ ،ان کے جلے ہوئے ڈھانچے سمندر پر تیر رہے ہیں جو فوج جہازوں سے
‫اتر آئی تھی‪ ،وہ واپس نہیں جاسکی۔ ہم نے آپ کی تمام الشیں پورے احترام سے دفن کردی ہیں''… سلطان ایوبی اسے
‫جنگ کی صورتحال سنا رہا تھا کہ ریجنالٹ کی آنکھیں اور منہ کھلتا جارہا تھا۔ اسے یقین بھی نہیں آرہا تھا کہ یہ روئیداد
‫سچی ہے۔
‫اگریہ سچ ہے تو آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہوا؟''… ریجنالٹ نے پوچھا۔''
‫یہ راز اس روز آپ پر فاش کروں گا جس روز فلسطین سے صلیب کا آخری سپاہی بھی نکل جائے گا''… نورالدین زنگی ''
‫نے کہا… ''آپ کی یہ شکست آخری نہیں‪ ،کیونکہ آپ اس سرزمین سے نکلنے پر آمادہ نظر نہیں آتے''۔
‫میں آپ کو اپنے عالقے دے دوں گا''۔ ریجنالٹ نے کہا… ''مجھے رہا کردیں۔ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ بھی کروں گا۔ ''
‫آپ کی سلطنت بہت وسیع ہوجائے گی''۔
‫ہمیں اپنی سلطنت کی ضرورت نہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''ہمیں خدا کی سلطنت قائم کرنی ہے۔ اسالم کی سلطنت''

‫جس کی وسعت کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ آپ کا مقصود اسالم کی بیخ کنی ہے جو ممکن نہیں۔ آپ نے فوجیں
‫استعمال کردیکھی ہیں۔ بحری بیڑہ بھی آزمالیا ہے۔ اپنی بیٹیوں کو استعمال کردیکھا ہے۔ آپ نے ہماری قوم میں غدار بھی
‫''پیدا کیے ہیں۔ گزشتہ ایک صدی میں آپ نے کتنی کامیابی حاصل کی ہے؟
‫کیا یہ میں آپ کو یاد دالئوں کہ ہم نے اسالم کو کہاں کہاں سے نکاال ہے؟'' ریجنالٹ نے کہا… ''اسالم تو بحیرۂ روم ''
‫کے پاس پہنچ گیاتھا۔ سپین سے اسالم کی پسپائی کیوں ہوئی؟ روم آپ کے ہاتھ سے کیوں نکال؟ سوڈان آپ کا کیوں دشمن
‫ہوا؟ صرف اس لیے کہ ہم نے تمہارے اسالم کے محافظوں کو خرید لیا تھا۔ آج بھی تمہارے حکمران بھائی ہمارے زر خرید
‫غالم ہیں۔ ان کی ریاستوں میں مسلمان رہ گئے ہیں‪ ،اسالم ختم ہوگیا ہے''۔
‫ہم وہاں اسالم کو زندہ کریں گے دوست!''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔''
‫آپ خواب دیکھ رہے ہیں‪ ،صالح الدین ایوبی!'' ریجنالٹ نے کہا… ''آپ دونوں کب تک زندہ رہیں گے؟ کب تک لڑنے ''
‫کے قابل رہیں گے؟ اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے؟ میں آپ دونوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ سچے دل
‫سے اپنے مذہب کے پاسبان اور خیر خواہ ہیں لیکن آپ کی قوم میں مذہب کو نیالم کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اورہم
‫خریدار ہیں۔ اگر آپ ہمارے ساتھ جنگ وجدل کے بجائے اپنی قوم کو زرپرستی‪ ،لذت پرستی اور تعیش پسندی سے بچانے کی
‫مہم چالئیں تو ہم یہاں ایک دن نہ ٹھہر سکیں گے مگر میرے دوستو! آپ اس مہم میں کامیاب نہیں ہوں گے جس کی وجہ
‫یہ ہے کہ عیاشی آپ کی قوم میں نہیں آئی بلکہ قوم کے سربراہ اورحکمران عیاش ہوگئے ہیں۔ اس حقیقت سے آپ چشم
‫پوشی نہ کریں کہ جو برائی حکمرانوں کی طرف سے شروع ہوتی ہے وہ قوم میں رواج کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ اسی
‫لیے ہم نے آپ کے حکمرانوں کو اپنے جال میں پھانسا ہے اور میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کے مجھے قتل کردیں۔ مجھ
‫جیسے چند اور صلیبی حاکموں کو قتل کردیں‪ ،اسالم کو بہرحال ختم ہونا ہے۔ ہم نے جس مرض کا زہر آپ کی قوم کی رگوں
‫میں ڈال دیا ہے‪ ،وہ بڑھے گا‪ ،کم نہیں ہوگا''۔
‫وہ ایسی حقیقت بیان کررہا تھا جس سے نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی انکار نہیں کرسکتے تھے۔ تاہم وہ صلیبیوں پر
‫بہت بڑی فتح حاصل کرچکے تھے اور ایک صلیبی بادشاہ جو صلیبیوں کا سپریم کمانڈر تھا‪ ،ان کے پاس جنگی قیدی تھا۔ اس
‫کے عالوہ اور بھی بہت سے قیدی ہاتھ آئے تھے۔ یہ صرف ایک جاسوس کا کارنامہ تھا جو عکرہ سے اس حملے کی خبر
‫بروقت لے آیا تھا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:05
‫قسط نمبر۔‪66
‫اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اس حملے کی خبر بروقت لے آیا تھا۔ ریجنالٹ اور دوسرے تمام جنگی قیدیوں کو نورالدین زنگی کرک لے گیا اور سلطان ایوبی
‫اس سے رخصت ہوکر قاہرہ چال گیا۔ اس نے سوچا تک نہ تھا کہ وہ ا ب نورالدین زنگی سے کبھی نہیں مل سکے گا۔ وہ
‫اس مسرت کے ساتھ قاہرہ گیا کہ زنگی ریجنالٹ جیسے قیمتی قیدی کو بڑی سخت شرائط منوائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔
‫نورالدین زنگی نے بھی ذہن میں کچھ منصوبے بنائے ہوں گے مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مارچ ‪١١٧٤ء کے ابتدائی دن
‫تھے کہ بغداد کے کسی عالقے میں شدید زلزلہ آیا جس نے چھ سات دیہات کو تباہ کردیا۔ بغداد میں بھی نقصان ہوا۔ مورخوں
‫نے اسے تاریخ کا سب سے زیادہ تباہ کن زلزلہ کہا ہے۔ نورالدین زنگی کے دل میں اپنے عوام کے ساتھ اتنی محبت تھی کہ
‫ان کی امداد کے احکام جاری کرنے کے بجائے خود کرک سے چل پڑا۔ وہ ان کی دستگیری اپنی نگرانی میں کرنا چاہتا تھا‪،
‫ویسے بھی اسے کرک سے جانا تھا۔ بغداد اور اردگرد کے حاالت اچھے نہیں تھے۔ وہ کرک سے ریجنالٹ اور دوسرے صلیبی
‫قیدیوں کو بھی ساتھ لیتا گیا۔
‫بغداد پہنچ کر اس نے سب سے پہلے زلزلے کا شکار ہونے والے لوگوں کی طرف توجہ دی۔ دارالخالفے سے باہر رہنے لگا۔ وہ
‫دل وجان سے اپنے لوگوں کی مدد کرتا رہا۔ جہاں رات آتی وہیں رک جاتا۔ اس نے کھانے کی پروا نہ کی کہ کیسا ملتا ہے
‫اور کس کے ہاتھ کا پکا ہوتا ہے۔ اسے تباہ حال لوگوں کی خوش حالی کا غم کھائے جارہا تھا۔ اپریل کے آخر تک اس نے
‫تمام متاثرین کو آباد کردیا۔ جب ذرا فرصت ملی تو اس نے اپنے طبیب کو بتایا کہ وہ اپنے گلے کے اندر درد محسوس کرتا
‫ہے۔ طبیب نے دوا دارو کیا لیکن حلق میں سوزش بڑھتی گئی۔ طبیبوں نے بہت عالج کیا لیکن مرض کا یہ عالم ہوگیا کہ وہ
‫جان آفرین کے سپرد کردی۔
‫بات کرنے سے بھی معذور ہوگیا اور مئی ‪ ١١٧٤کے پہلے ہفتے میں خاموشی سے جان
‫ِ
‫یورپی مورخوں نے لکھا ہے کہ زنگی کو خناق کا عارضہ الحق ہوگیا تھا لیکن بعض مورخوں نے وثوق سے لکھا ہے کہ زنگی کو
‫حسن بن صباح کے فدائیوں نے زہر دیا تھا۔ ان دنوں جب زنگی زلزلے سے تباہ کیے ہوئے دیہات میں بھاگتا دوڑتا رہتا اور اس
‫کے کھانے کے اوقات اور پکانے کے طورطریقے بے قاعدہ ہوگئے تھے۔فدائیوں نے اسے کھانے میں ایسا زہر دینا شروع کردیا تھا
‫جس کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ یہ زہر حلق کی ایسی سوزش کا باعث بنا‪ ،جسے طبیب سمجھ ہی نہ سکے۔ جنرل
‫محمد اکبر خان ( رنگروٹ) نے اپنی انگریزی کتاب ''گوریال وارفیئر'' میں کئی بڑے بڑے اور مستند مورخوں کے حوالے سے
‫اسی کی تصدیق کی ہے کہ نورالدین زنگی فدائیوں کا شکار ہوا تھا۔
‫زنگی کوئی وصیت نہ کرسکا۔ سلطان ایوبی کو کوئی پیغام نہ بھیج سکا۔ سلطان ایوبی کو اس وقت اطالع پہنچی جب زنگی
‫دفن ہوچکا تھا۔ دوسرے ہی دن بغداد سے ایک اور قاصد یہ اطالع لے کے آیا کہ نورالدین زنگی کی وفات کے ساتھ ہی موصل‪،
‫حلب اور دمشق کے امراء نے خودمختاری کا اعالن کردیا ہے ا ور سلطان ایوبی کو یہ اطالع بھی ملی کہ بغداد کے امراء وزاء
‫نے نورالدین زنگی کے بیٹے الملک الصالح کو جس کی عمر صرف گیارہ سال تھی‪ ،سلطنت اسالمیہ کا خلیفہ مقرر کردیاہے۔
‫سلطان ایوبی سمجھ گیا کہ یہ امراء نابالغ خلیفہ کو کس راستے پر ڈالیں گے اور وہ کیا گل کھالئیں گے۔
‫سلطان ایوبی نے علی بن سفیان کو بالیا اور کہا… ''تم نے پانچ مہینے گزرے‪ ،مجھے اطالع دی تھی کہ عکرہ میں اپنا ایک
‫جاسوس شہید ہوگیا اور دوسرا پکڑا گیا ہے تو میرا دل بیٹھ گیا تھا اور مجھے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے صلیبیوں کا یہ
‫سال دنیائے اسالم کے لیے اچھا نہیں ہوگا… بیٹھ جائو۔ میری باتیں غورسے سنو۔ اب ہمیں اپنے بھائیوں کے خالف لڑنا پڑے
‫''گا
‫اسالم کی بقا کچے دھاگے سے لٹک رہی تھی
‫مئی ‪ ١١٧٤ء کا دن دنیائے اسالم کا ایک تاریک دن تھا۔ نورالدین زنگی کی میت کو ابھی غسل بھی نہیں دیا گیا تھا کہ بہت
‫سے انسانوں کے چہرے مسرت سے چمک اٹھے تھے۔ یہ صلیبی نہیں تھے‪ ،یا یوں کہیے کہ صرف صلیبی نہیں تھے جو زنگی

‫کے انتقال پر پرسرور تھے‪ ،ان میں مسلمان بھی تھے جو صلیبیوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی خوش نظر آتے تھے۔ یہ مسلمان
‫ریاستوں اور جاگیروں کے امراء اور حاکم تھے۔ وہ سب زنگی کے گھر جمع ہوگئے تھے۔ وہ جنازے کے لیے آئے تھے۔ ان میں
‫سے بعض بے چین تھے جیسے زنگی کے انتقال سے غم زدہ ہوں مگر بے چینی یہ تھی کہ وہ زنگی کو شام سے پہلے پہلے
‫دفن کردینا چاہتے تھے۔ وہ اکٹھے تو ہوگئے تھے لیکن ان کے دل پھٹے ہوئے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو شکی نگاہوں سے دیکھ
‫رہے تھے۔ ان لوگوں کا مذہب ایک‪ ،خدا ایک‪ ،رسول ایک‪ ،قرآن ایک اور دشمن ایک تھا مگر ہر ایک کا دل دوسرے سے
‫الگ اور جدا تھا۔ ان کی مثال ایک درخت کی ٹہنیوں کی سی تھی جو ٹوٹ کر درخت سے الگ ہوگئی ہوں اور اب الگ
‫الگ اپنے آپ کو ہرا بھرا رکھنے کی توقع لیے ہوئے ہوں۔
‫وہ دور دراصل جاگیرداری اور نوابی کا تھا۔ بعض مسلمان ریاستیں ذرا وسیع تھیں اور باقی چھوٹی چھوٹی… ان کے حکمران امیر
‫کہالتے تھے۔ یہ لوگ مرکزی خالف کے تحت تھے۔ اسالم کے کسی بھی دشمن کے خالف جنگ ہو تو یہ امراء خالفت کو
‫مالی اور فوجی مدد دیتے تھے مگر یہ مدد صرف مدد تک محدود رہتی تھی‪ ،اس میں کوئی ملی جذبہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ امن
‫اور سکون سے عیش وعشرت کرنے کی خاطر خالفت کا مطالبہ پورا کردیتے تھے۔ عیش وعشرت کی خاطر وہ اپنے سب سے
‫بڑے ( بلکہ واحد) دشمن صلیبیوں سے درپردہ دوستی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ ان میں سے بعض نے صلیبیوں کے
‫ساتھ درپردہ معاہدے کر بھی رکھے تھے لیکن نورالدین زنگی کا وجود صلیبیوں کے راستے میں ایک چٹان تھا۔ وہ مسلمان امراء
‫کو کئی بار شرمسار کرچکا تھا اور اس نے انہیں ذہن نشین کرانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی کہ صلیبی انہیں اسالمی وحدت
‫سے توڑ کر ہڑپ کرتے جائیں گے مگر صلیبیوں کی مہیا کی ہوئی یورپی شراب‪ ،نوجوان لڑکیوں اور سونے کی اینٹوں میں اتنی
‫قوت تھی‪ ،جس نے ان کے کان بند اور عقل پرمہر کررکھی تھی۔ زنگی کی آواز جیسے پتھروں سے ٹکرا کر واپس آجاتی تھی۔
‫وہ سب سے پہلے جاگیردار اور نواب تھے‪ ،امیر اور حاکم تھے اور ان کے بعد اگر مذہب کی بات چل نکلے تو وہ اپنے آپ
‫کو مسلمان کہتے تھے۔ ان کا اگر دین تھا تو وہ ان کی ریاستیں اور جاگیریں تھیں۔ یہی ان کا ایمان تھا۔ وہ اسالمی وحدت
‫کے قائل نہیں تھے۔ جنگ کے سخت خالف تھے کیونکہ انہیں خطرہ محسوس ہونے لگتا تھا کہ صلیبی ان کی جاگیروں پر
‫قبضہ کرلیں گے۔ ان کے عالوہ ان کے دلوں میں یہ ڈر بھی تھا کہ ان کی رعایا نے اپنے دشمن کو پہچان لیا تو اس میں
‫روحانی بیداری اور قومی وقار بیدار ہوجائے گا‪ ،پھر رعایا ان کی نوابی کے لیے خطرہ بن جائے گی۔ حقیقت یہ تھی کہ رعایا
‫ان کے لیے مستقل خطرہ تھی۔ لوگوں میں قومی وقار موجود تھا۔ زنگی کی فوج انہیں لوگوں کی فوج تھی۔ اس کے مجاہدوں
‫لہذا وہ زنگی
‫نے دس گنا دشمن کا مقابلہ بھی کیا تھا۔ یہ جذبے کا کرشمہ تھا۔ امراء کو یہ جذبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ ٰ
‫کو بھی پسند نہیں کرتے تھے اور صالح الدین ایوبی کو تو وہ اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ اب زنگی فوت ہوگیا تو وہ خوش
‫تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس قوم میں اب کوئی زنگی نہیں رہا اور جہاد بھی زنگی کے ساتھ ہی دفن ہوجائے گا۔
‫زنگی دفن ہوگیا‪ ،صلیبیوں پر مسلمانوں کی جو دہشت طاری تھی‪ ،وہ ختم ہوگئی۔ ان کے دل میں اب صالح الدین ایوبی کا
‫کانٹا رہ گیا تھا جس کے متعلق اب وہ اتنے فکر مند نہیں تھے‪ ،جتنے زنگی کی زندگی میں تھے۔ اب سلطان ایوبی اکیال رہ
‫گیا تھا۔ اسے مدد اور کمک دینے واال زنگی مرگیا تھا۔ صلیبیوں کو اصل خوشی تو اس پر ہوئی کہ زنگی کے بعد سرکردہ امراء
‫وزاء نے زنگی کے کمسن بیٹے الملک الصالح کو گدی پر بٹھا دیا تھا جس کی عمر گیارہ سال تھی۔ یہ انتخاب ان امراء نے
‫کیا تھا جو در پردہ صلیبیوں کے دوست تھے۔ ان کی طرح سلطان کی گدی صلیبیوں کے ہاتھ آگئی تھی۔ ان امراء میں
‫گمشتگین نام کا ایک امیر جو دراصل قلعہ دار ( قلعے کا گورنر) تھا اور دوسرا سیف الدین والئی موصل تھا۔ دمشق کا حاکم
‫شمس الدین بن عبدالمالک تھا۔ الجزیرہ اور نواحی عالقوں پر نورالدین زنگی کے بھتیجے کا راج تھا۔ ان کے عالوہ کئی اور
‫جاگیر دار تھے۔ ان سب نے خود مختاری کا اعالن کردیا۔ وہ بظاہر خالفت کے ماتحت تھے لیکن عمال ً آزاد ہوگئے تھے۔ وہ
‫اپنی اپنی جگہ بہت مسرور تھے مگر محسوس نہ کرسکے کہ وہ ذروں کی طرح بکھر کر صلیبیوں کا آسان شکار بن گئے ہیں۔
‫زنگی کی وفات سے عالم اسالم کو جو نقصان پہنچا تھا‪ ،اسے زنگی کی بیوی نے محسوس کیا۔ سلطان ایوبی نے محسوس کیا
‫اور ان لوگوں نے محسوس کیا جن کے دلوں میں اسالم کی عظمت زندہ تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس حادثے کو بہت دن گزر چکے تھے۔ سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ کمرے میں مصطفی جودت نام کا ایک
‫اعلی فوجی افسر بیٹھا بول رہا تھا۔ مصطفی ترک تھا۔ وہ نورالدین زنگی کی فوج میں منجنیقوں کا کمانڈر تھا۔ زنگی کی وفات
‫ٰ
‫کے بعد اس نے عالم اسالم میں جو تباہ کن انقالب دیکھا‪ ،اس نے اسے تڑپا دیا۔ اس نے یہ کہہ کر لمبی چھٹی لے لی کہ
‫لہ ذا وہ ترکی اپنے گھر جانا چاہتا ہے۔ وہ دمشق سے روانہ ہوا‪ ،قاہرہ پہنچ گیا اور
‫اسے ترکی گئے کئی سال گزر گئے ہیں‪ٰ ،
‫سلطان ایوبی کے پاس چال گیا۔ مصطفی ان فوجی افسروں میں سے تھا جو افسر کم اور مسلمان زیادہ ہوتے ہیں۔ اسے معلوم
‫تھا کہ زنگی کے بعد صرف سلطان ایوبی ہے جو عظمت اسالم کی پاسبانی کرسکتا ہے اور کرے گا۔ اسے ڈر تھا کہ سلطان
‫ایوبی کو اس طرف کے حاالت کا علم نہیں ہوگا۔ چنانچہ وہ سلطان ایوبی کو وہاں کے حاالت سنا رہا تھا۔
‫اور فوج کس حال میں ہے؟'' سلطان ایوبی نے اس سے پوچھا۔…''
‫محترم زنگی مرحوم نے فوج میں جو جذبہ پیدا کیا تھا‪ ،وہ زندہ ہے''… مصطفی نے جواب دیا… ''مگر یہ جذبہ زیادہ دیر''
‫زندہ نہیں رہ سکے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ صلیبیوں کے سیالب کو صرف فوج نے روک رکھا ہے۔ محترم زنگی مرحوم کی
‫زندگی میں عمال ً فوج حکومت کررہی تھی۔ جنگی منصوبے اور فیصلے فوج کے ہاتھ میں تھے لیکن یہ اقدام خالفت کے احکام
‫کے خالف تھا۔ اب ہم خالفت کے پابند ہوگئے ہیں۔ ہم اپنے آپ کوئی کارروائی نہیں کرسکتے اگر خلیفہ کوئی جنگی منصوبہ
‫بنائے گا ہی نہیں تو فوج کیا کرے گی؟ صلیبی جانتے ہیں کہ مسلمان امراء میں وہ غیرت ہی نہیں جو قومی عظمت کی
‫خاطر لڑاتی اور مرواتی ہے اور لوگ جانیں قربان کرتے ہیں۔ صلیبیوں نے امراء کی غیرت خرید لی ہے اور اب وہ ساالروں کو
‫خریدنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کی تخریبی سرگرمیاں فوج میں بھی اور قوم میں بھی شروع ہوگئی ہیں اگر یہ عمل جلدی
‫نہ روکا گیا تو صلیبی فوجی حملے کے بغیر ہی سلطنت اسالمیہ کے مالک بن جائیں گے۔ سلطنت اسالمیہ جاگیروں میں تقسیم
‫ہوگئی ہے۔ امراء کو اب راہ راست پر نہیں الیا جاسکتا۔ وہ صلیبیوں کی شراب میں ڈوب گئے ہیں۔ انہوں نے وہاں لڑکیوں کی
‫فوج اتار دی ہے۔ آپ سن کر حیران ہوں گے کہ یہ لڑکیاں امراء کے حرموں میں رہتی ہیں۔ ان کے کہنے پر جشن منائے
‫جاتے ہیں‪ ،جن میں سرکردہ فوجی افسروں کو مدعو کرکے یہ لڑکیاں انہیں بے حیائی سے اپنے جال میں پھانس رہی ہیں''۔
‫اور اس کے بعد میں جانتا ہوں کیا ہوگا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''فوجیوں کو نشے اور بدکاری کا عادی بنایا جائے ''
‫گا''۔
‫بنایا جارہا ہے'' ۔ مصطفی نے کہا… ''حشیشین بھی اپنی کارروائیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اب یوں ہوگا کہ جو ساالر یا''

‫نائب ساالر صلیبیوں کی دشمنی دل سے نہیں نکالے گا اور جہاد کا قائل رہے گا‪ ،حشیشین کے پیشہ ور قاتلوں کے ہاتھوں
‫پراسرار طریقے سے قتل کرادیا جائے گا''۔
‫مصطفی نے سلطان ایوبی کو تفصیل سے بتایا کہ کون سا امیر کیا کررہا ہے۔ اس تفصیل کا لب لباب یہ تھا کہ امراء جہاں
‫خودمختار ہوگئے تھے‪ ،وہاں انہوں نے ایک دوسرے کو دشمن سمجھنا شروع کردیا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کے خالف فوجی
‫تیاریاں شروع کردی تھیں۔ صلیبی اس نفاق اور چپقلش کو ہوا دے رہے تھے۔
‫آپ نے اچھا کیا ہے جو مجھے وہاں کے حاالت بتانے آگئے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اگر آپ نہ آتے تو مجھے ان''
‫تفصیالت کا علم نہ ہوتا‪ ،البتہ یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ گیارہ سال کے بچے کو سلطان بنا کر وہ لوگ کیا کرنا چاہتے
‫ہیں''۔
‫اور آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟'' مصطفی نے پوچھا… ''اگر آپ نے فوری کارروائی نہ کی تو سمجھ لیں کہ سلطنت اسالمیہ''
‫کا سورج ڈوب چکا ہے۔ آپ کی کارروائی صرف جنگی ہونی چاہیے''۔
‫یہ دن بھی مجھے دیکھنا تھا کہ میں بھائیوں کے خالف جنگی کارروائی کی سوچوں گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں ''
‫اس سے ڈرتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد غدار تاریخ میں یہ نہ لکھ دیں کہ صالح الدین ایوبی خانہ جنگی کا مجرم تھا''۔
‫اگر آپ اس ڈر سے قاہرہ میں بیٹھے رہے تو تاریخ آپ پر یہ شرمناک الزام عائد کرے گی کہ نورالدین زنگی مرگیا تھا تو ''
‫سلطان صالح الدین ایوبی کا بھی دم نکل گیا تھا۔ اس نے مصر پر اپنی گرفت مضبوط ر کھنے کے لیے سلطنت اسالمیہ کو
‫قربان کردیا تھا''۔
‫ہاں!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''یہ الزام زیادہ شرمناک ہوگا۔ میں ہر پہلو پر غور کرچکا ہوں‪ ،مصطفی! اگر میں جہاد فی''
‫سبیل اللہ کے لیے نکلتا ہوں تو میں یہ نہیں دیکھوں گا کہ میرے گھوڑے تلے کون روندا جاتا ہے۔ میری نگاہ میں وہ کلمہ گو
‫کفار سے بدتر ہے جو کافر کو دوست سمجھتا ہے… آپ واپس چلے جائیں۔ میں نے علی بن سفیان کو وہاں بھیج رکھا ہے
‫لیکن یاد رہے کہ وہ جاسوسوں کے بھیس میں گیا ہے۔ وہاں کسی کو معلوم نہیں ہوسکے گا کہ علی بن سفیان ان کے درمیان
‫گھوم پھر رہا ہے اور جائزہ لے رہا ہے کہ وہاں کس قسم کی کارروائی کی ضرورت ہے۔ آپ جاکر یہ دیکھیں کہ کون کون سا
‫ساالر مشکوک ہے۔ علی بن سفیان کے ساتھ بہت سے آدمی گئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں وہاں کیا کرنا ہے۔ اس کے
‫ساتھ ہی میں نے تمام امراء کی طرف اس پیغام کے ساتھ ایلچی بھیجے ہیں کہ امراء ان حاالت میں جبکہ صلیبی ان کے سر
‫پر بیٹھے ہیں‪ ،ایک محاذ پر مورچہ بند ہوجائیں اور آپس کے اختالفات مٹانے کی کوشش کریں۔ مجھے امید نہیں کہ وہ پیغام
‫کو سمجھنے کی کوشش کریں گے لیکن میں انہیں صرف ایک بار بتا دینا چاہتا ہوں کہ سیدھا راستہ کون سا ہے‪ ،میں انہیں
‫یہ نہیں بتائوں گا کہ انہوں نے میرے کہے پر عمل نہ کیا تو میں کیا کروں گا''۔
‫مصطفی جودت کو رخصت کرکے سلطان ایوبی نے اپنے دربان کو چند ایک ساالروں اور انتظامیہ کو حکام کے نام لے کر کہا کہ
‫انہیں جلدی سے اس کے پاس بھیجا جائے۔ یہ اس کی ہائی کمانڈ تھی‪ ،جسے اس نے بالیا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اعلی
‫قاضی بہائوالدین شداد جو صالح الدین ایوبی کا دست راست اور ہمراز دوست تھا اور جو اس کی مجلس مشاورت میں
‫ٰ
‫رتبہ اور مقام رکھتا تھا‪ ،اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے… ''صالح الدین ایوبی کو خدا نے فوالد کے اعصاب عطا کیے تھے۔ اس
‫نے اپنی شخصیت اور کردار کو اس قدر مضبوط بنا رکھا تھاکہ پہاڑوں جیسے صدمے ہنس کھیل کر برداشت کرلیتا تھا۔ عزم کا
‫ضدی اور مستقل مزاج تھا۔ امیر ہو یا غالم وہ ہر کسی کا یکساں احترام کرتا تھا۔ البتہ کسی کو دوسروں سے ممتاز سمجھتا
‫تو صرف بہادری اور شجاعت کی بنا پر سمجھتا تھا۔ اس کے قریب رہنے والے اس سے دو طرح کا تاثر لیتے تھے۔ ایک
‫رعب کا دوسرا محبت کا۔ اس کے سپاہی جب میدان جنگ میں اسے دیکھتے تھے تو دشمن پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ ایک بار یوں
‫ہوا کہ ایک خادم نے دوسرے خادم پر جوتا اتار کر پھینکا۔ صالح الدین ایوبی کمرے سے نکل رہا تھا۔ جوتا اسے جالگا۔ دونوں
‫خادم تھرتھر کانپنے لگے لیکن صالح الدین ایوبی نے دونوں طرف سے منہ پھیر لیا اور آگے نکل گیا۔ یہ کردار کی عظمت کا
‫مظاہرہ تھا۔ دوست تو دوست‪ ،دشمن اس کے سامنے آتے تو اس کے مرید بن جاتے تھے''۔
‫نورالدین زنگی کی موت نے سلطنت اسالمیہ کو تاریخ کے سب سے بڑے خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس خطرے کا سب سے
‫زیادہ خطرناک پہلو یہ تھا کہ اپنے ہی امیر اور وزیر صلیبیوں کے دوست اور اسالم کے دشمن ہوگئے تھے۔ مصر کے اندرونی
‫حاالت ابھی پوری طرح نہیں سنبھلے تھے‪ ،صالح الدین ایوبی مصر سے نہیں نکل سکتا تھا۔ ایسے حاالت میں وہ یہی کرسکتا
‫تھا کہ سلطنت اسالمیہ کے دفاع کا ارادہ دل سے نکال دے اور صرف مصر کے دفاع کو مضبوط رکھے لیکن میرا یہ دوست ذرہ
‫بھر نہ گھبرایا۔ اس ضمن میں میرے ساتھ بات کرتے ہوئے اس نے کہا… ''اگر میں اسالم کی پاسبانی سے دستبردار ہوجائوں
‫تو روز محشر صلیبیوں کے ساتھ اٹھایا جاوں گا''… اسالم کی پاسبانی اور فروغ کو وہ فرمان خداوندی سمجھتا تھا۔ اس نے
‫اپنے آپ کو کبھی حاکم یا حکمران نہیں سمجھا۔ مجھے صالح الدین ایوبی کی نوجوانی بھی یاد ہے۔ جب وہ پوری طرح عیش
‫وعشرت میں ڈوب گیا تھا۔ وہ شراب بھی پیتا اور رقص کے سرور کا دلدادہ تھا۔ موسیقی اور رقص کی باریکیوں اور گہرائیوں کو
‫سمجھتا اور نسوانی حسن کو دل کھول کر خراج تحسین پیش کرتا اور تعیش کے لیے حسین ترین لڑکی کا انتخاب کرتا تھا۔
‫کبھی کسی کے وہم وگمان میں نہیں آیا تھا کہ یہ نوجوان چند ہی سال بعد اسالم کا سب سے بڑا علمبردار اور اسالم کے
‫دشمنوں کے لیے برق اور طوفان بن جائے گا۔ اپنے چچا کے ساتھ وہ صلیبیوں کے خالف پہلے ہی معرکے میں گیا تو اس نے
‫سب کو حیران کردیا اور جب وہ اس معرکے سے واپس آیا تو اس نے پہال کام یہ کیا کہ عیش وعشرت پر لعنت بھیجی اور
‫اپنی زندگی اسالم کے لیے وقف کردی۔ اس نے قوم کو اور اپنی فوج کو یہ نعرہ دیا کہ سلطنت اسالمیہ کی کوئی سرحد
‫…نہیں
‫اسے اس بدلی ہوئی کیفیت میں دیکھنے والے تسلیم نہیں کرتے تھے کہ وہ کبھی عیاش بھی ہوا کرتا تھا۔ کردار کی بلندی اور
‫پختگی اس کو کہتے ہیں کہ اپنے نفس اور نفسانی خواہشات کو مار دیا جائے۔ یہ پختگی صالح الدین ایوبی کے کردار میں
‫تھی۔ دونوں کی محفلوں میں وہ کہا کرتا تھا… ''مجھے کافروں نے مسلمان بنایا ہے اگر ہم اپنے ان نوجوانوں کو جو مذہب
‫سے منحرف ہوگئے ہیں‪ ،کافر کی ذہنیت دکھا دیں تو وہ راہ راست پر آجائیں گے۔ دشمن کے ساتھ انہیں پیار کے جو سبق
‫دئیے جارہے ہیں‪ ،وہ انہیں قومی وقار سے محروم کررہے ہیں۔ میں اپنی قوم کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ
‫حدیث یاد کرانا چاہتا ہوں کہ ''اپنے آپ کو جان لو کہ تم کون ہو اور کیا ہو اور اپنے دشمن کو اچھی طرح پہچان لو کہ وہ
‫کون ہے اور کیا ہے اور تمہارے متعلق وہ کیا ارادے رکھتا ہے''… اس کے کردار کا رخ دشمن نے ہی بدال تھا… صالح الدین
‫ایوبی اپنے مقصد اور عزم میں اس حد تک مگن رہا کہ اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ وہ عالم اسالم کا سب سے بڑا

‫قائد ہے۔ مصر کا حاکم کل ہے اور فن حرب وضرب کا ایسا استاد کہ صلیبیوں کے کمانڈر متحد ہوکر بھی‪ ،اس سے خائف رہتے
‫ہیں۔ اس کی مالی حالت یہ تھی کہ وہ حج نہیں کرسکا۔ جہاد نے اسے مہلت نہ دی۔ آخری عمر میں اس کی یہی ایک
‫خواہش رہ گئی تھی کہ حج پر جائے مگر اب اس کے پاس اتنی رقم نہیں تھی۔ وہ جب فوت ہوا تو اس کی ذاتی متاع
‫صرف سنتالیس درہم چاندی کے اور ایک ٹکڑا سونے کا تھا۔ اس کی جائیداد صرف ایک مکان تھا جو اس کے باپ دادا کا تھا۔
‫یہ اس کے کردار کی پختگی کا حیران کن مظاہرہ تھا کہ اس نے جب اپنے ساالروں وغیرہ کو کانفرنس کے لیے بالیا تو اس
‫کے چہرے پر گھبراہٹ یا پریشانی کا شائبہ تک نہ تھا۔ کانفرنس کے حاضرین پر خاموشی طاری تھی۔ انہیں یہ توقع تھی کہ
‫سلطان ایوبی گھبرایا ہوا ہوگا مگر اس نے مسکرا کر سب کو دیکھا اور کہا… ''میرے رفیقو! تم نے بڑے ہی دشوار اور پیچیدہ
‫حاالت میں میرا ساتھ دیا ہے۔ آج ایسے حاالت نے ہمیں للکارا ہے جو بظاہر ہمارے قابو میں آنے والے نہیں لیکن یاد رکھو اگر
‫ہم نے ان حاالت پر قابو نہ پایا تو ہم سب کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور خدا کے حضور بھی رسوائی۔ دنیا میں
‫تاریخ ہماری قبروں پر لعنت بھیجے گی اور روز محشر وہ شہید ہمیں شرمسار کریں گے جنہوں نے اسالم کی آبرو پر جانیں
‫اعلی حکام کو ہر ایک
‫قربان کی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب جانیں قربان کردیں''… اس تمہید کے بعد اس نے اپنے
‫ٰ
‫تفصیل بتائی اور کہا کہ اب انہیں اپنے بھائیوں کے خالف لڑنا پڑے گا۔ اس نے سب کے چہروں کا جائزہ لیا‪ ،کچھ دیر خاموش
‫رہا۔ سب کے چہروں کے رنگ بدل گئے تھے۔ اسے اطمینان ہوگیا کہ یہ حکام ہر صورتحال میں اس کا ساتھ دیں گے۔ اس نے
‫کہا… '' میرا پہال اقدام یہ ہے کہ میں اپنی خودمختاری کا اعالن کرتاہوں‪ ،میں اب مرکزی خالفت کا پابند نہیں رہناچا ہتا
‫لیکن میں یہ اعالن تم سب کی اجازت کے بغیر نہیں کروں گا۔ مجھے اجازت دینے یا نہ دینے سے پہلے ایک دو پہلوئوں پر
‫غور کرلو۔ ایک یہ کہ خالفت عمال ً ختم ہوچکی ہے‪ ،جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا کہ خلیفہ گیارہ سال کا بچہ ہے۔ اس پر
‫لہذا آپ کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے کہ
‫تین چار امراء نے قبضہ کررکھا ہے۔ یہ امراء صلیبیوں کے دوست ہیں‪ٰ ،
‫خالفت صلیبیوں کی گود میں چلی گئی ہے۔ اب ہماری فکر خالفت کے خالف ہے اگر تم خودمختار اور آزاد نہیں ہوتے تو
‫تمہیں خلیفہ کے حکم ماننے پڑیں گے اور یہ حکم سلطنت اسالمیہ کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ کیا ان حاالت میں یہ اقدام
‫صحیح نہیں ہوگا کہ میں مصر کو خالفت سے آزاد کردوں اور اس کے بعد تمہارا ہر قدم ایسا آزادانہ ہو جو اسالم کی بقا کے
‫''لیے ضروری ہو؟
‫کیا آپ خالفت کے خالف کارروائی کرنا چاہتے ہیں؟'' ایک ساالر نے پوچھا۔''
‫میں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا''۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا… ''کل پرسوں تک میرے وہ ایلچی واپس آجائیں گے جنہیں ''
‫میں نے امراء کی طرف بھیج رکھا ہے۔ اگر مجھے جنگی کارروائی کا فیصلہ کرنا پڑا تو گریز نہیں کروں گا''۔
‫آپ مصر کو خودمختار مملکت قرار دے دیں''۔ ایک حاکم نے کہا… ''ہم گیارہ سال کے بچے کو خلیفہ تسلیم نہیں ''
‫کرسکتے''۔
‫تو کیا تم سب مجھے سلطان مصر تسلیم کروگے؟'' صالح الدین ایوبی نے پوچھا۔''
‫تمام حاضرین نے بیک زبان کہا کہ وہ اسے سلطان مصر تسلیم کرتے ہیں۔ صالح الدین ایوبی نے اسی وقت خودمختاری کا
‫اعالن کردیا اور مصر کو آزاد مملکت قرار دے دیا۔ اس اعالن کے ساتھ ہی اسے اسی وقت قانون کے مطابق سلطان کا خطاب
‫مل گیا۔
‫میں امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہیں‪ ،میدان جنگ کا بادشاہ ہوں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''تم نے ''
‫دیکھا ہے کہ میں صلیبیوں کے لشکر کے درمیان گھومتا پھرتا رہا ہوں۔ میں نے دس دس جانبازوں سے دس دس ہزار لشکروں
‫کو تہہ وباال کیا ہے مگر اپنے بھائیوں کے خالف جنگ کی سوچتا ہوں تو تمام جنگی چالیں ذہن سے نکل جاتی ہیں۔ میری
‫تلوار نیام سے باہر نہیں آتی۔ مجھے اور تم سب کو یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ ہم آپس میں لڑیں اور صلیبی تماشا دیکھیں''۔
‫یہ تماشہ ہمیں دکھانا ہی پڑے گا‪ ،سلطان محترم!'' ایک ساالر نے کہا… ''اگر اپنے بھائیوں پر الفاظ کا اثر نہ ہو تو تلوار''
‫استعمال کرنی ہی پڑے گی۔ ہم میں سے کوئی بھی خالفت کی گدی کا خواہشمند نہیں۔ ہم جو کچھ کریں گے اسالم کی
‫خاطر کریں گے‪ ،ذاتی مفاد کی خاطر نہیں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی نے اس سے پہلے دو ایلچی دمشق‪ ،حلب‪ ،موصل اور دوتین اور ریاستوں کے امراء کی طرف بھیج رکھے تھے۔ اس
‫نے سب کو طویل پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے سب کو صلیبی خطرے سے آگاہ کیا اور انہیں متحدہ ہونے کی تلقین کی
‫تھی۔ وہ انہیں اسالمی وحدت کا قائل کرنا چاہتا تھا۔ دونوں ایلچی مایوس واپس آگئے۔ کسی ایک بھی امیر نے اس کے پیغام
‫کو قبول نہیں کیا تھا بلکہ بعض نے مذاق اڑایا تھا۔ ایلچیوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ سب سے پہلے خلیفہ کے دربار
‫میں گئے۔ پیغام پیش کیا تو خلیفہ نے خود پڑھنے کے بجائے ان امراء کے حوالے کردیا جن کے ہاتھوں میں وہ کٹھ پتلی بنا
‫ہوا تھا۔ انہوں نے ہی اسے خالفت کی گدی پر بٹھایا تھا۔ ان امراء نے سلطان ایوبی کا پیغام پڑھا۔ آپس میں کھسر پھسر کی
‫اور ایک نے خلیفہ سے کہا کہ صالح الدین ایوبی صلیبیوں کے خالف جنگ کا بہانہ کرکے تمام مسلمان ریاستوں کو ایک
‫ریاست بنانے کی سوچ رہا ہے۔ اس کے بعد وہ اس ریاست کا حکمران بنے گا۔ دوسرا امیر بول پڑا۔ اس نے بھی گیارہ سال
‫کی عمر کے خلیفہ کو سلطان ایوبی کے خالف بھڑکایا اور کہا… ''آپ اسے حکم دے سکتے ہیں کہ جنگ کرنے یا نہ کرنے
‫کا فیصلہ صرف خلیفہ کرسکتا ہے۔ اگرصالح الدین ایوبی خلیفہ کی حکم عدولی کرے تو آپ اسے معزول کرکے واپس بال سکتے
‫ہیں۔ مصر کی امارت کسی اور کے حوالے کی جاسکتی ہے''۔
‫کمسن خلیفہ نے ایلچیوں کو یہی حکم دیا اور کہا… ''صالح الدین ایوبی سے کہنا کہ وہ ہمارے حکم کا انتظار کرے۔ یہ فیصلہ
‫ہم کریں گے کہ اسالمی وحدت کی ضرورت ہے یا نہیں''۔
‫صالح الدین ایوبی کے پاس فوج ہے‪ ،اس میں زنگی مرحوم کے بھیجے ہوئے بہت سے دستے ہیں''۔ ایک امیر نے خلیفہ ''
‫سے کہا… ''اسے حکم بھیجا جائے کہ وہ دستے واپس بھیج دے۔ اسے اپنی مرضی سے فوج کے استعمال کی اجازت نہیں
‫ملنی چاہیے''۔
‫اسے کہنا کہ وہ دستے‪ ،سوار اور پیادہ‪ ،جو اسے خالفت کی طرف سے دئیے گئے تھے‪ ،وہ واپس کردے''۔ خلیفہ نے کہا… ''
‫''اور تم لوگ اب جاسکتے ہو''۔
‫اور ایوبی سے کہنا کہ آئندہ خلیفہ کو اس قسم کے پیغام بھیجنے کی جرأت نہ کرے''۔ ایک اور امیر نے کہا۔''
‫ایلچیوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ دوسرے امراء کے پاس گئے۔ سب نے پیغام کا مذاق اڑایا‪ ،بعض نے سلطان ایوبی کے
‫خالف توہین آمیز الفاظ بھی کہے۔ ایلچی واپس آگئے۔ سلطان ایوبی کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہ آئی جیسے اسے ایسے ہی

‫جواب کی توقع تھی۔ اسے دراصل علی بن سفیان کا انتظار تھا جسے اس نے خفیہ دمشق بھیج رکھا تھا۔ فوجی جاسوسی اور
‫سراغ رسانی کا یہ ماہر اپنے ساتھ کم وبیش ایک سو لڑاکا جاسوس لے کر دمشق گیا تھا۔ یہ لوگ تاجروں کے قافلے کی
‫صورت میں تاجروں کے بھیس میں گئے تھے۔ سلطان ایوبی کو ان کی بھی کوئی اطالع نہیں ملی تھی۔ نورالدین زنگی کی
‫وفات کی اطالع کے فورا ً بعد سلطان ایوبی کو یہ اطالع ملی کہ امیروں نے خودمختاری کا اعالن کردیا ہے۔ یہ اطالع بھیجنے
‫واال کوئی معمولی سا انسان نہیں تھا‪ ،بلکہ نورالدین زنگی کی بیوی تھی جو نئے خلیفہ کی ماں تھی۔ اس نے خفیہ طور پر
‫اپنا ایک قاصد قاہرہ کی طرف دوڑا دیا تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو وہی حاالت بتائے جو زنگی کی وفات کے بعد وہاں پیدا
‫ہوگئے تھے۔
‫اس نے سلطان ایوبی کو کہال بھیجا تھا… ''اسالم کی آبرو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میرے کمسن بیٹے کو خلیفہ بنا دیا گیا ہے۔
‫لوگ میرااحترام کرنے لگے ہیں کیونکہ میں خلیفہ کی ماں ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں خوش قسمت ماں ہوں مگر میرا دل
‫خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے بیٹے کو خلیفہ نہیں بنایا گیا بلکہ مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا گیا ہے۔ سیف الدین امیر
‫موصل نے اور دوسرے تمام امیروں نے میرے بیٹے کے گرد گھیرا ڈال لیا ہے۔ میرے خاوند کے بھتیجوں نے بھی خودمختاری
‫کااعالن کردیا ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں اپنے ہاتھوں اپنے بیٹے کو قتل کردوں لیکن اس کے نتائج سے ڈرتی ہوں‪ ،آپ آجائیں۔
‫یہ آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ آپ کس طرح آئیں گے اور کیا کریں گے۔ میں آپ کو خبردار کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے اس
‫طرف توجہ نہ دی یا وقت ضائع کیا تو قبلۂ اول پر تو صلیبی قابض ہیں ہی‪ ،خانہ کعبہ پر بھی ان کا قبضہ ہوجائے گا۔ کیا
‫ان الکھوں شہیدوں کا خون رائیگاں جائے گا جنہوں نے زنگی کی اور آپ کی قیادت میں جانیں قربانی کی ہیں؟ آپ مجھ سے
‫پوچھیں گے کہ میں اپنے بیٹے کو اپنے زیراثر کیوں نہیں رکھتی؟ میں اس کا جواب دے چکی ہوں۔ امراء نے میرا بیٹا مجھ
‫سے چھین لیا ہے۔ اپنے باپ کی وفات کے بعد وہ صرف ایک بار میرے پاس آیا تھا۔ وہ میرا بیٹالگتا ہی نہیں تھا۔اسے شاید
‫حشیش پالئی گئی تھی۔ وہ بھول چکا ہے کہ میں اس کی ماں ہوں… بھائی صالح الدین ایوبی! جلدی آئو۔ دمشق کے لوگ
‫''آپ کا استقبال کریں گے۔ مجھے اسی قاصد کی زبانی جواب دیں کہ آپ کیا کریں گے یا کچھ بھی نہیں کریں گے؟
‫سلطان ایوبی نے قاصد کو اسی وقت بھیج دیا تھا۔ اس نے زنگی کی بیوہ کو یقین دالیا تھا کہ وہ بڑا سنگین اقدام کرے گا
‫لیکن سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے گا۔ قاصد کو واپس بھیجنے کے فورا ً بعد سلطان ایوبی علی بن سفیان کو دمشق‪ ،موصل‪،
‫حلب‪ ،یمن اور تمام تر اسالمی عالقوں میں جاکر وہاں کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔ یہ کوئی سرکاری نوعیت کا دورہ نہیں تھا۔
‫علی بن سفیان کو جاسوسوں کے انداز سے بہروپ میں وہاں جانا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ معلوم کرے کہ مسلمان امراء جو
‫خودمختاری کا اعالن کرچکے ہیں‪ ،کیا ارادے رکھتے ہیں۔ صلیبیوں کے ساتھ ان کا رابطہ ہے یا نہیں۔ خلیفہ کی فوج کا رجحان
‫کیا ہے۔ کیا اس فوج کو خلیفہ کے ایسے احکام کی خالف ورزی کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے جو اسالم کے لیے نقصان دہ اور
‫دشمن کے لیے سود مند ہوں؟ اور علی بن سفیان کو یہ بھی معلوم کرنا تھا کہ ان عالقوں کے عوام کے جذبات اور نظریات
‫کیا ہیں اور کیا فدائی بھی خلیفہ کے ساتھ مل گئے ہیں؟ یہ جائزہ بھی لینا تھا کہ سلطان ایوبی دمشق یا کسی اور مسلمان
‫عالقے پر فوج کشی کرے تو وہاں کے عوام کا ردعمل کیا ہوگا۔
‫سلطان ایوبی کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ وہ اندھیرے میں نہیں چلتا تھا۔ اسے جہاں جانا ہوتا‪ ،اپنے جاسوسی کے نظام کے
‫ذریعے وہاں کے احوال وکوائف‪ ،دشواریوں اور خطروں کا جائزہ لے لیتا تھا۔ جیسا کہ پہلی کہانیوں میں بتایا جاچکا ہے کہ اس
‫کا جاسوسی کا نظام بہت تیز اور ہوشیار تھا۔ اس کے جاسوس جہاں اداکاری اور بہروپ دھارنے کی مہارت رکھتے تھے‪ ،وہاں وہ
‫ماہر چھاپہ مار ( گوریلے اور کمانڈو) بھی تھے۔ اسی لیے انہیں لڑاکا جاسوس کہا جاتا تھا۔ وہ بغیر ہتھیاروں کی لڑائی کے بھی
‫ماہر تھے۔ علی بن سفیان کو خدا نے جاسوسی اور سراغ رسانی کا وصف پیدائش کے ساتھ ہی عطا کیا تھا۔ اب زنگی کی
‫وفات کے بعد اسالمی ممالک کے حاالت مخدوش ہوگئے اور صلیبی خطرہ سر پر آگیا تو اسے سلطان ایوبی کے اس حکم کو
‫سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی کہ ان بدلے ہوئے حاالت کا جائزہ لینا ہے اور یہ جائزہ کس طرح لینا ہے۔ اسے معلوم
‫تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی اس کی الئی ہوئی رپورٹ کے مطابق کوئی کارروائی کرے گا اور یہ کارروائی بقائے اسالم کے
‫لیے بے حد ضروری ہوگی۔
‫٭ ٭ ٭
‫یہاں ہم کہانی کو کچھ دن پیچھے لے جاتے ہیں۔ جب علی بن سفیان قاہرہ سے روانہ ہوا تھا‪ ،اس نے ایک لمحہ بھی ضائع
‫کیے بغیر اپنے لڑاکا جاسوسوں میں سے کم وبیش ایک سو افراد کو منتخب کیا۔ انہیں مشن بتایا اور کہا کہ اسالم کی آبرو ان
‫سے بہت بڑی قربانی مانگ رہی ہے اور اس مشن میں انہیں اپنی مہارت کا پورا پورا استعمال کرنا ہے۔ ان ایک سو آدمیوں
‫کو تاجروں کا لباس پہنایا گیا۔ علی بن سفیان مصنوعی داڑھی کے ساتھ قافلے کا سردار بنا۔ انہوں نے اونٹوں پر مختلف اقسام
‫کا سامان الد لیا جو انہیں دمشق وغیرہ کی منڈیوں میں بیچنا اور اس کے بدلے وہاں سے سامان النا تھا۔ ان کے ساتھ بہت
‫سے اونٹ اور چند ایک گھوڑے تھے۔ تجارتی سامان میں اس پارٹی نے تلواروں اور برچھیوں جیسے ہتھیار چھپا رکھے تھے۔
‫اس میں آتش گیر مادہ بھی تھا اور آگ لگانے کا دیگر سامان بھی۔ یہ قافلہ رات کے وقت قاہرہ سے روانہ ہوا اور طلوع سحر
‫تک بہت دور نکل گیا۔
‫کچھ دیر آرام کرکے قافلہ پھر روانہ ہو۔ علی بن سفیان بہت جلدی منزل پر پہنچنا چاہتا تھا۔ سورج غروب ہوگیا تو بھی اس
‫نے قافلے کو نہ روکا۔ رات خاصی گزر چکی تھی جب ایک بڑی موزوں جگہ آگئی‪ ،یہ سرسبز خطرہ تھا اور وہاں اونچی نیچی
‫چٹانیں بھی تھیں۔ ظاہر ہے کہ وہاں پانی بھی تھا۔ قافلہ آرام اور پانی کے لیے رک گیا۔ یہ لوگ تاجر نہیں فوجی تھے۔ ان
‫کی ہر حرکت میں ڈسپلن تھا‪ ،احتیاط تھی اور ٹریننگ کے مطابق وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اونٹ اور گھوڑے بھی
‫ایسے تربیت یافتہ تھے کہ انسانوں کی طرح خاموش تھے۔ علی بن سفیان نے چٹانوں اور ٹیلوں کے اندر جانے کے بجائے باہر
‫ہی پڑائو کیا۔ فوجی دستوں کے مطابق دو آدمیوں کو پانی کی تالش کے لیے بھیجا گیا۔ سب نے ہتھیار نکال لیے تھے کیونکہ
‫ان دنوں سفر میں دو خطرے تھے۔ ایک خطرہ صحرائی ڈاکوئوں کا تھا اور دوسرا صلیبیوں کے چھاپہ مار دستوں کا۔ ان کے یہ
‫دستے دراصل ڈاکو ہی تھے جو مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹتے پھرتے تھے۔
‫دو آدمی اس خطے کے اندر چلے گئے‪ ،انہیں یہ بھی دیکھنا تھا کہ یہاں دشمن کے چھاپہ ماروں یا گشتی دستوں نے قیام نہ
‫کررکھا ہو۔ کچھ دور اندر گئے تو کہیں روشنی کا دھوکہ سا ہوا۔ وہ آگے گئے اور ایک ٹیلے پر چڑھ گئے۔ انہیں بڑی اچھی
‫جگہ نظر آئی جو میدانی سی تھی‪ ،وہاں پانی بھی تھا۔ ہریالی بھی تھی اور کھجور کے درخت بھی تھے‪ ،وہاں دو مشعلیں جل
‫رہی تھیں۔ ان کی روشنی میں انہیں چھ سات آدمی اور چار لڑکیاں نظر آئیں۔ بہت خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ انہوں نے آگ بھی
‫جال رکھی تھی جس پر وہ گوشت بھون رہے تھے اور پیالوں میں وہ کچھ پی رہے تھے جو شراب ہی ہوسکتی تھی۔ ذرا پرے

‫گھوڑے اور تین چار اونٹ بندھے تھے۔ بہت سارا سامان بھی ایک طرف پڑا تھا۔ علی بن سفیان کے دونوں آدمی چھپ کر
‫قریب چلے گئے۔ رات کے سکوت میں ان لوگوں کی باتیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ ان کا ہنسی مذاق بتا رہا تھا کہ یہ
‫لوگ مسلمان نہیں۔ لڑکیاں بے حیائی کی حرکتیں بھی کررہی تھیں۔ ان دونوں آدمیوں نے انہیں نظرانداز نہ کیا۔ واپس آکر علی
‫بن سفیان کو بتایا۔
‫علی بن سفیان گیا اور چھپ کر قریب سے دیکھا۔ ان آدمیوں اور لڑکیوں کی زبان کچھ اور تھی جو علی بن سفیان سمجھتا
‫تھا۔ وہ عیسائی تھے۔ علی بن سفیان سوچ رہا تھا کہ وہ ان لوگوں کے پاس چال جائے اور معلوم کرے کہ وہ کون ہیں اور
‫کہاں جا رہے ہیں یا ان کی نقل وحرکت دیکھتا رہے۔ اس کے ساتھ ایک سو لڑاکا جاسوس تھے۔ اسے ان چھ سات آدمیوں
‫اور چار لڑکیوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن وہ انہیں سراغ رساں نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اسے شک ہوگیا تھا کہ یہ
‫صلیبی جاسوس اور تخریب کار ہیں اور کسی اسالمی مملکت میں جارہے ہیں۔ اگر ایسا ہی تھا تو یہ اس کے مطلب کے لوگ
‫تھے۔ وہ اور زیادہ قریب ہونے کے لیے ٹیلے کے اوپر اوپر سرکتا ہوا آگے گیا تو ٹھٹھک کر رک گیا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:05
‫قسط نمبر۔‪67
‫اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫تو ٹھٹھک کر رک گیا۔ وہاں ٹیلہ ختم ہوجاتا تھا۔ اسے اپنے بالکل نیچے دو آدمی نظر آئے جن کے منہ اور سر سیاہ کپڑوں
‫میں لپٹے ہوئے تھے۔ وہ ٹیلے کی اوٹ سے ان آدمیوں اور لڑکیوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہ بالشک وشبہ صحرائی ڈاکو تھے اور
‫ان کی نظر لڑکیوں پر تھی۔ یہ دو نقاب پوش پیچھے ہٹ آئے۔ انہوں نے آپس میں جس زبان میں باتیں کیں‪ ،وہ علی بن
‫سفیان کی مادری زبان تھی۔
‫ان کے پاس ہتھیار ہیں''… ایک ڈاکو نے کہا۔''
‫ہاں''… دوسرے نہ کہا…''میں نے دیکھ لیا ہے۔ ان کی تلواریں سیدھی ہیں۔ یہ عیسائی ہیں''۔''
‫یہ عام قسم کے مسافر معلوم نہیں ہوتے''۔''
‫انہیں سوجانے دو‪ ،سب کو بال التے ہیں''۔''
‫ہم آٹھ آدمی انہیں سوتے میں ہی پکڑ سکتے ہیں''۔''
‫پکڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ آدمیوں کو سوتے میں ختم کردیں گے اور لڑکیوں کو گھوڑوں پر ڈال لیں گے''۔''
‫وہ دونوں اپنے ساتھیوں کو بالنے کے لیے چل پڑے۔ علی بن سفیان نے چھپ چھپ کر ان کا تعاقب کیا۔ وہ کسی اور راستے
‫سے باہر نکل گئے۔ وہاں ان کے گھوڑے کھڑے تھے۔ وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اور اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ علی بن سفیان
‫کا قافلہ اسی طرف قیام کیے ہوئے تھے جدھر ڈاکو نہیں گئے تھے۔ علی بن سفیان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ وہ
‫ان لوگوں کو خبردار کردے یا انہیں اپنے قافلے میں لے جائے۔ گہری سوچ بچار کے بعد اس نے ایک طریقہ سوچ لیا۔ اپنے
‫آدمیوں میں واپس آیا۔ بیس بائیس آدمیوں کو برچھیوں سے مسلح کرکے اپنے ساتھ لے گیا۔ انہیں موزوں جگہوں پر تیار کھڑا
‫کردیا اور اچھی طرح سمجھا دیا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ وہ خود بھی چوکس اورہوشیار رہا اور ادھر ادھر گھومتا رہا۔ اسے معلوم
‫نہیں تھا کہ ڈاکو کس وقت آئیں گے۔ اس نے دیکھا کہ لڑکیاں اور ان کے ساتھ آدمی سو گئے ہیں۔ صرف ایک آدمی برچھی
‫ہاتھ میں لیے ٹہلتا رہا۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ تربیت یافتہ ہیں۔ اس آدمی کو انہوں نے سنتری کھڑا کیا تھا۔
‫مشعلیں جلتی رہیں۔
‫٭ ٭ ٭
‫سحر ہوچلی تھی جب ٹیلوں کے اندر گھوڑوں کے چلنے کی آہٹ سنائی دی۔ سب ہوشیار ہوگئے۔ لڑکیوں کا سنتری بدل گیا
‫تھا۔ اب دوسرا آدمی پہرہ دے رہا تھا۔ ڈاکو ٹیلوں کے درمیان تھے اور علی بن سفیان اور اس کے آدمی ٹیلوں کے اوپر تھوڑی
‫دیر بعد آٹھ نو ڈاکو اس جگہ داخل ہوئے جہاں ان کا شکار سویا ہوا تھا۔ سنتری گھبرا گیا۔ اس نے جلدی سے اپنے ساتھیوں
‫کو جگایا۔ ڈاکوئوں نے ان کے گرد گھیرا ڈال لیا اور گھوڑوں سے کود آئے۔ لڑکیوں کے ساتھ آدمی جاگ اٹھے مگر ڈاکوئوں نے
‫انہیں ہتھیار اٹھانے کی مہلت نہ دی۔ ایک نے للکار کر کہا… ''اپنا سامان اور لڑکیاں ہمارے حوالے کردو اور اپنی جانیں
‫بچائو''… اس نے لڑکیوں سے کہا… ''تم اس طرف آجائو‪ ،ماری جائو گی''… دو ڈاکوئوں نے انہیں دھکیل کر ایک طرف
‫کردیا۔ ان کے آدمی نہتے تھے۔ پھر بھی دو نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ واقعی تربیت یافتہ تھے۔ بے جگری سے لڑے۔
‫علی بن سفیان کی آواز پر جو اس نے پہلے مقرر کررکھی تھی‪ ،اس کے آدمی عقابوں کی طرح ٹیلوں سے اترے اور ڈاکو ابھی
‫سمجھ ہی نہ پائے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں‪ ،ایک ایک برچھی ایک ایک ڈاکو کے جسم میں داخل ہوچکی تھی۔ اس سے
‫پہلے ڈاکوئوں کے ہاتھوں لڑکیوں کے ساتھ کے دو آدمی مارے جا چکے تھے‪ ،جس کا علی بن سفیان کو کوئی افسوس نہیں تھا‪،
‫وہ غالبا ً یہی چاہتا تھا کہ ان میں سے دو آدمیوں کا خون ہوجائے تاکہ دوسروں پر‪ ،خصوصا ً لڑکیوں پر دہشت طاری ہوجائے۔
‫علی بن سفیان نے اپنے آدمیوں کو ٹیلوں پر چڑھا دیاا ور ان لوگوں کے پاس بیٹھ گیا۔ لڑکیاں بہت ہی ڈری ہوئی تھیں۔ ان
‫کے سامنے دو الشیں اپنے ساتھیوں کی اور نو الشیں ڈاکوئوں کی پڑی تھیں۔ علی بن سفیان نے ان کی زبان میں ان آدمیوں
‫اور لڑکیوں سے باتیں شروع کردیں۔ وہ لوگ اس کے اس قدر ممنون تھے جیسے اس کے مرید بن گئے ہوں۔ اس نے انہیں
‫موت کے منہ سے نکاالتھا۔ ان سے اس نے پوچھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جارہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا تو
‫علی بن سفیان مسکرایا اور بوال… ''اگر تم لوگ مجھ سے یہ سوال پوچھتے تو میں بھی ایسا ہی غلط جواب دیتا۔ میں
‫تمہاری تعریف کروں گا کہ اتنی خوفزدگی میں بھی تم نے اپنا پردہ نہیں اٹھایا''۔
‫''تم کہاں سے آئے ہو؟''… ایک نے اس سے پوچھا… ''اور کہاں جارہے ہو؟''
‫جہاں سے تم آئے ہو''… علی بن سفیان نے جواب دیا… ''اور وہیں جارہا ہوں جہاں تم جارہے ہو۔ہمارے کام مختلف ہیں‪''،
‫منزل ایک ہی ہے''۔
‫انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا‪ ،حیران سے ہوئے اور علی بن سفیان کو دیکھنے لگے۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ اس نے کہا…
‫''کیا تم نے دیکھا تھا کہ میں نے کیسی چال سے ان ڈاکوئوں کو ختم کردیا ہے؟ کیا کوئی مسافر یا کوئی قافلہ ایسی چال
‫''چل سکتا ہے؟ کیا یہ ایک تربیت یافتہ کمانڈر کی استادی نہیں جو میں نے دکھائی ہے؟
‫''تم مسلمان فوجی بھی ہوسکتے ہو؟''
‫میں صلیب کا سپاہی ہوں''… علی بن سفیان نے جواب دیا۔''

‫''کیا تم اپنی صلیب دکھا سکتے ہو؟''
‫کیا تم اپنی اپنی صلیب مجھے دکھا سکتے ہو؟''… علی بن سفیان نے پوچھاا ور سب کی طرف دیکھ کر کہا… ''تم نہیں''
‫دکھا سکتے۔ تمہارے پاس صلیبیں نہیں ہیں‪ ،کیونکہ جس کام کے لیے تم جارہے ہو‪ ،اس میں صلیب ساتھ نہیں رکھی جاسکتی۔
‫میں تم سے تمہارے نام نہیں پوچھوں گا۔ اپنا نام بھی نہیں بتاوں گا۔ اپنا کام بھی نہیں بتاوں گا۔ صرف یہ بتا دینا ضروری
‫سمجھتا ہوں کہ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں اور ہم سے معلوم نہیں کون کون اپنے وطن کو واپس لوٹ سکے گا۔ ہم
‫ضرور کامیاب ہوں گے۔ خداوند یسوع مسیح نے جس طرح مجھے اور میرے آدمیوں کو تمہاری مدد کے لیے بھیجا ہے‪ ،یہ نشانی
‫ہے کہ تم صحیح راستے پر ہو اور تم کامیاب ہوگے۔ نورالدین زنگی کی موت اس حقیقت کی نشانی ہے کہ دنیا پر صلیب کی
‫حکومت ہوگی۔ مسلمانوں کا کون سا امیر رہ گیا ہے جو ہمارے جال میں نہیں آگیا؟ میں تمہیں یہی نصیحت کروں گا کہ ثابت
‫قدم رہنا''… اس نے لڑکیوں کی طرف دیکھ کر کہا… ''تمہارا کام سب سے زیادہ خطرناک اور نازک ہے۔ خداوند یسوع مسیح
‫تمہارے قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ ہم جو مرد ہیں‪ ،وہ اپنی جان دے کر دنیا کی مشکالت سے آزاد ہوجاتے ہیں۔
‫تمہاری کوئی جان نہیں لیتا۔ تم سے آبرو کی قربانی لی جاتی ہے اور یہی سب سے بڑی قربانی ہے''۔
‫علی بن سفیان استاد تھا۔ اس کی زبان میں ایسا طلسم تھا کہ وہ سب دم بخود ہوگئے۔ تھوڑی سی دیر میں اس نے ان سے
‫کہلوالیا کہ وہ صلیبی ہیں اور تخریب کاری کے لیے دمشق اور دیگر عالقوں میں جارہے ہیں۔ وہ بھی تاجروں کے بھیس میں
‫تھے۔ علی بن سفیان صلیبیوں کے نظام جاسوسی کی خفیہ باتیں اور اصطالحیں جانتا تھا۔ اس وقت تک وہ بے شمار صلیبی
‫جاسوس پکڑ کر ان سے اقبال جرم کروا چکا تھا۔ اس نے جب ان اصطالحوں میں باتیں کیں تو لڑکیوں اور ان کے ساتھ
‫آدمیوں کو نہ صرف یہ یقین ہوگیا کہ وہ صلیبی جاسوس ہے بلکہ وہ اسے جاسوسوں کا کمانڈر سمجھنے لگے۔ اس نے انہیں
‫اعلی
‫بتایا کہ اس کے ساتھ ایک سو آدمی ہیں۔ا ن میں لڑاکا جاسوس بھی ہیں اور فدائی بھی جو دمشق وغیرہ میں ان
‫ٰ
‫افسروں کو قتل کرنے یا غائب کرنے جارہے ہیں جو صالح الدین ایوبی کے مکتب فکر کے پیروکار ہیں۔ اس نے انہیں بتایا کہ
‫وہ لمبے عرصے سے مصر میں کام کررہا تھا۔ اب اسے ادھر بھیجا جارہا ہے۔
‫اس گروہ نے علی بن سفیان کے سامنے اپنا پردہ اٹھا دیا ور ایک مشکل پیش کی۔ وہ یہ تھی کہ ان کا کمانڈر ڈاکوئوں کے
‫ہاتھوں مارا گیا تھا۔ وہ ان عالقوں میں پہلے بھی آچکا تھا‪ ،جہاں وہ جارہے تھے۔ اس کے مارے جانے کے بعد وہ اندھے
‫ہوگئے تھے۔ انہیں ایک رہنما کی ضرورت تھی۔ علی بن سفیان نے انہیں تسلی دی کہ وہ اپنے مشن سے ہٹ کر ان کی
‫رہنمائی کرے گا‪ ،وہ اسے اپنا مشن بتا دیں۔ انہوں نے بتادیا۔ انہیں چند ایک ساالروں کے نام بتا کر کہا گیا تھا کہ ان تک
‫تحفے پہنچانے ہیں اور لڑکیوں کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ ایسے ساالروں اور امیروں تک رسائی حاصل کرنی ہے
‫جو صلیبیوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ انہیں صلیبیوں کا دوست بنانا ہے۔
‫اس مرحلے میں آکر میرا اور تمہارا کام ایک ہوجاتا ہے''… علی بن سفیان نے کہا… ''مجھے ان ساالروں اور قائدین کو ''
‫''ختم کرنا ہے جو دل سے صلیب کی دشمنی نہیں نکال رہے… تم دمشق میں کہاں قیام کرو گے؟
‫تم دیکھ رہے ہو کہ ہم تاجر بن کر جارہے ہیں''… ایک نے جواب دیا… ''دمشق کے قریب جا کر یہ لڑکیاں باپردہ ''
‫مسلمان عورتیں بن جائیں گی۔ ہم سرائے میں قیام کریں گے۔ وہاں سے تاجروں کے بھیس میں ساالروں وغیرہ تک جائیں
‫گے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫اگلی صبح علی بن سفیان کا قافلہ دمشق کی سمت جارہا تھا۔ یہ صلیبی آدمی اور لڑکیاں بھی اس قافلے میں شامل ہوگئی
‫تھیں۔ جانوروں میں ڈاکوئوں کے گھوڑوں کا اضافہ ہوگیا تھا۔ صلیبیوں نے علی بن سفیان کو اپنا لیڈر بنا لیا تھا۔ ان کی نظر
‫میں وہ صلیبی تھا۔ اس نے انہیں کہا تھا کہ وہ اس کے کسی آدمی کے ساتھ بات نہ کریں کیونکہ ان میں مسلمان بھی ہیں
‫جو بیشک فدائی اور تخریب کار ہیں لیکن ان کا کوئی بھروسہ نہیں۔ راستے میں علی بن سفیان نے ان صلیبیوں کو اپنے
‫ساتھ رکھا اور ان سے باتیں پوچھتا رہا۔ اسے کام کی بہت سی باتیں معلوم ہوگئیں۔
‫اگلے روز قافلہ دمشق میں داخل ہوا۔ علی بن سفیان کی ہدایت پر سرائے میں جانے کے بجائے قافلے نے ایک میدان میں
‫خیمے گاڑ دئیے۔ لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ باہرسے جب تاجروں کے قافلے آتے تھے تو لوگ ان کے گرد جمع ہوجایا کرتے
‫تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ مال دکانوں میں جانے سے پہلے قافلے سے ہی خرید لیا جائے‪ ،وہاں سے کم قیمت پر
‫اشیاء مل جاتی تھیں۔ علی بن سفیان نے اعالن کیا کہ دس گھوڑے بھی بکائو ہیں۔ اس ہجوم میں دمشق کے تاجر اور دکاندار
‫بھی تھے۔ دوچار گھنٹوں میں وہاں میلہ لگ گیا۔ علی بن سفیان نے اپنے آدمیوں سے کہہ دیا کہ وہ مال روکے رکھیں اور
‫جلدی فروخت نہ کریں۔ اتنا زیادہ ہجوم دیکھ کر اس نے اپنے چند ایک ذہین آدمیوں سے کہا کہ وہ لوگوں میں گھل مل
‫جائیں اور ان کے خیاالت معلوم کریں۔ یہ آدمی اس کام کے ماہر تھے۔ وہ چغے اتار کر ہجوم میں شامل ہوگئے۔ ان میں سے
‫دو تین شہر میں چلے گئے۔
‫علی بن سفیان اور اس کے تمام آدمیوں نے مغرب کی نماز مختلف مسجدوں میں تقسیم ہوکر پڑھی۔ صلیبیوں کو وہ خیمہ گاہ
‫میں چھوڑ گئے تھے۔ مسجدوں میں انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ قاہرہ سے آئے ہیں اور تاجر ہیں۔ لوگوں کے ساتھ گپ شپ
‫کے انداز میں انہوں نے ان کے خیاالت معلوم کرلیے۔ لوگوں کے خیاالت اور جذبات امید افزا تھے۔ ان میں کچھ بھڑکے ہوئے
‫بھی تھے۔ وہ نئے خلیفہ اور امراء کے خالف باتیں کرتے تھے اور ان میں اونچی حیثیت کے لوگ بھی تھے جو جانتے تھے
‫اور سمجھتے تھے کہ دنیائے اسالم کو صلیب للکار رہی ہے اور اپنی خالفت عیاش امراء کے ہاتھ آگئی ہے۔ وہ بہت پریشان
‫تھے اور کہتے تھے کہ زنگی کے بعد صرف صالح الدین ایوبی ہے جو اسالم کا نام زندہ رکھ سکتا ہے۔
‫علی بن سفیان نے اپنے آدمیوں کو بتا دیا تھا کہ یہ لڑکیاں اور آدمی صلیبی ہیں اور ان پر یہی ظاہر کرتے رہیں کہ ہم سب
‫صلیب کے مشن پر آئے ہیں۔ انہیں کوئی شک نہیں ہوا تھا۔ علی بن سفیان نے انہیں بتایا تھا کہ وہ ا ج رات آرام کریں اور
‫اس کی ہدایت کا انتظار کریں۔ رات کو وہ ایک ساالر توفیق جواد کے گھر چال گیا۔ وہ تاجروں کے بھیس میں تھا اور مصنوعی
‫داڑھی لگا رکھی تھی۔ اس نے دربان سے کہا کہ اندر اطالع دو کہ قاہرہ سے آپ کا ایک دوست آیا ہے۔ دربان نے اندر اطالع
‫دی تو علی بن سفیان کو اندر بال لیا گیا۔ توفیق جواد اسے پہچان نہ سکا۔ علی بن سفیان نے بات کی تو توفیق جواد نے
‫اسے پہچان لیا اور گلے لگا لیا۔ علی بن سفیان کو اس شخص پر بھروسہ تھا۔ اس نے اپنے آنے کا مقصد بتایا اور یہ بھی
‫بتایا کہ وہ کچھ صلیبی جاسوسوں اور لڑکیوں کو پھانس الیا ہے اور اب یہ سوچنا ہے کہ انہیں کس طرح استعمال کیا جائے۔
‫اس سے پہلے مجھے یہ بتائو کہ یہاں کے اندرونی اور بیرونی حاالت کیا ہیں؟'' … علی بن سفیان نے اس سے پوچھا… ''
‫''قاہرہ میں بڑی تشویشناک خبریں پہنچی ہیں''۔

‫توفیق جواد نے ان تمام خبروں کی تصدیق کی جو قاہرہ پہنچی تھیں۔ اس نے کہا… ''علی بھائی! تم اسے خانہ جنگی کہو
‫گے لیکن صلیبی خطرے کو روکنے کے لیے صالح الدین ایوبی کو خالفت کے خالف فوج کشی کرنی پڑے گی''۔
‫اگر ہم قاہرہ سے فوج الئیں تو کیا یہاں کی فوج ہمارا مقابلہ کرے گی؟'' علی بن سفیان نے پوچھا۔''
‫تم لوگ حملے کے انداز سے نہ آئو''… توفیق جواد نے کہا… ''صالح الدین ایوبی یہ ظاہر کریں کہ وہ خلیفہ سے ملنے ''
‫آئے ہیں اور خلیفہ کی تعظیم کے لیے فوج کے کچھ دستے ساتھ الئے ہیں اگر امراء کی نیت ٹھیک ہوئی تو وہ استقبال کریں
‫گے‪ ،دوسری صورت میں ان کا ردعمل سامنے آجائے گا۔ جہاں تک یہاں کی فوج کا تعلق ہے‪ ،میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ
‫فوج تمہارا مقابلہ نہیں کرے گی بلکہ تمہارا ساتھ دے گی مگر یہ بھی ذہن میں رکھو کہ تم جتنا وقت ضائع کرو گے یہ فوج
‫اتنی تم سے دور ہٹتی جائے گی۔ اس فوج کا وہ جذبہ مارنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں جو اسالمی فوج کی اصل قوت
‫ہے۔ تم جانتے ہو علی بھائی! حکمران جو عیش وعشرت کے دلدادہ ہوتے ہیں‪ ،وہ سب سے پہلے دشمن کے ساتھ سمجھوتہ
‫کرتے ہیں تاکہ جنگ وجدل کا خطرہ ٹل جائے۔ پھر وہ فوج کو کمزور کرتے ہیں اور ایسے ساالروں کو منظور نظر بناتے ہیں جو
‫‪ ،خدائی احکام کے بجائے ان کی خواہشات کے پابند ہوں۔ وہ صالح الدین ایوبی جیسے ساالروں کو پسند نہیں کرتے
‫اعلی رتبوں کے چند ایک فوجی افسر اپنے جذبے اور ایمان سے دست بردار ہوچکے
‫یہ عمل یہاں شروع ہوچکا ہے۔ ہمارے
‫ٰ
‫ہیں۔ ابھی مجھ جیسے ایسے ساالر بھی ہیں جو صلیبیوں کو کبھی دوست نہیں کہیں گے اور نورالدین زنگی کے جذبہ جہاد کو
‫''زندہ رکھیں گے مگر وہ اپنے طور پر خالفت کے احکام کے بغیر کیا کرسکتے ہیں؟
‫کیا میں سلطان ایوبی سے یہ کہہ دوں کہ یہاں کی فوج ہمارا ساتھ دے گی؟''… علی بن سفیان نے پوچھا۔''
‫ضرور کہہ دو''… توفیق جواد نے جواب دیا… ''البتہ خلیفہ کے محافظ دستے (باڈی گارڈز) اور امراء کے محافظ دستے ''
‫تمہارے خالف لڑیں گے۔ ان دستوں کی نفری کم نہیں اور ان میں چنے ہوئے سپاہی ہیں۔ جب سے زنگی فوت ہوئے ہیں‪ ،ان
‫دستوں کی خاطر ومدارت پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہے۔ انہیں غالبا ً جنگ کے لیے تیار کیا جارہا ہے''۔
‫یہاں کے لوگوں میں مجھے جو قومی جذبہ نظر آیا ہے‪ ،اس سے مجھے توقع ہے کہ ہم یہاں آئے تو کامیاب ہوں گے''… ''
‫علی بن سفیان نے کہا۔
‫قوم اتنی جلدی بے حس نہیں ہوسکتی''… توفیق جواد نے کہا… ''جس قوم نے اپنے بیٹے شہید کرائے ہوں‪ ،وہ اپنے ''
‫دشمن کو کبھی نہیں بخشتی اور جس فوج نے دشمن سے دو دو ہاتھ کیے ہوں‪ ،اسے اتنی جلدی سرد نہیں کیا جاسکتا مگر
‫حکمرانوں کے پاس ایسے ایسے ہتھکنڈے ہوتے ہیں جو قوم اور فوج کو مردہ کردیا کرتے ہیں۔ اب قوم اور فوج میں نفاق پیدا
‫کیا جارہا ہے۔ قوم کی نظر میں فوج کو گرایا جارہا ہے''۔
‫میں محترم نورالدین زنگی کی بیوہ سے ملنا چاہتا ہوں''… علی بن سفیان نے کہا… ''وہ خلیفہ کی والدہ بھی ہیں۔ انہوں''
‫نے سلطان ایوبی کی خدمت میں پیغام بھیجا تھا کہ وہ اسالم کی آبرو کو بچائیں… کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ انہیں یہاں بال
‫''لیا جائے؟
‫کل ہی ان سے مالقات ہوئی تھی''… توفیق جواد نے کہا… ''میں انہیں بال سکتا ہوں۔ تمہارا نام سن کر وہ فورا ً آجائیں''
‫گی''۔
‫توفیق جواد نے اپنی خادمہ کو بال کر کہا کہ خلیفہ کی والدہ کے ہاں جاو‪ ،میرا سالم کہنا ور ان کے کان میں کہنا کہ قاہرہ
‫سے کوئی آیا ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫جب علی بن سفیان توفیق جواد کے پاس بیٹھا تھا‪ ،اس وقت اس کی خیمہ گاہ میں رونق تھی۔ رات خاصی گزر گئی تھی۔
‫خریداروں کا ہجوم بہت دیر ہوئی جاچکا تھا۔ علی بن سفیان کے ایک سو آدمیوں نے لمبا سفر طے کیا تھا۔ وہ بازار سے
‫دنبے اور بکرے لے آئے تھے‪ ،جنہیں ذبح کرکے وہ کھا رہے تھے اور ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔ لڑکیاں ایک خیمے میں
‫تھی۔ صلیبی مرد علی بن سفیان کے آدمیوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے شراب نکال لی‪ ،تاکہ محفل کی رونق دوباال
‫ہوجائے۔ انہوں نے سب کو شراب پیش کی تو سب نے انکار کردیا۔ صلیبی حیران ہوئے۔ علی بن سفیان نے انہیں بتایا تھا کہ
‫ان میں مسلمان بھی ہیں اور عیسائی بھی جو مسلمان تھے‪ ،ان کے متعلق بتایا گیا تھا کہ فدائی ہیں‪ ،یعنی وہ برائے نام
‫مسلمان ہیں۔ اصل میں وہ حسن بن صباح کے فرقے کے تھے جو شراب کو حرام نہیں سمجھتے تھے۔ صلیبیوں کو کچھ شک
‫ہوا۔ وہ آخر تربیت یافتہ جاسوس تھے۔ انہوں نے دو چار اور ایسی نشانیاں دیکھ لیں جن سے ان کا شک پختہ ہوگیا۔ وہ ایک
‫ایک کرکے وہاں سے اس طرح اٹھنے لگے جیسے خیمے میں سونے جارہے ہوں۔
‫انہوں نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ اپنے فن کا مظاہرہ کریں اور دیکھیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔ ایک لڑکی نے یہ کام اپنے ذمے
‫لے لیا۔ وہ یہ کہہ کر باہر نکلی کہ یہ خیمہ خالی کردو۔ وہ کچھ دیر ادھر ادھر گھومتی پھرتی رہی۔ بہت دیر بعد علی بن
‫سفیان کا ایک آدمی اٹھ کر اس کی طرف آیا۔ وہ معلوم نہیں کیوں اٹھا تھا۔ لڑکی نے اسے روک لیا اور کہا کہ خیمے میں
‫بیٹھے بیٹھے اس کا دل گھبرا رہا تھا۔ اس لیے باہر نکل آئی۔ وہ مردوں کو انگلیوں پر نچانا جانتی تھی۔ اس آدمی کو اس
‫نے ایسی باتوں میں جکڑ لیا کہ وہ بھول ہی گیا کہ وہ کس طرف جارہا تھا۔ لڑکی نے کہا… ''یہ آدمی جو ہمارے ساتھ ہیں‪،
‫بہت برے آدمی ہیں‪ ،ہم تمہاری طرح یہاں کسی اورکام سے آئی ہیں لیکن یہ ہمیں بہت پریشان کرتے ہیں۔ کیا ایسے ہوسکتا
‫ہے کہ میرے خیمے میں آکر سوئو؟ میں ان سے بچی رہوں گی''… اور اس نے ایسی اداکاری کی کہ یہ آدمی موم ہوگیا اور
‫اس کے ساتھ اس کے خیمے میں چال گیا۔
‫خیمے میں چھوٹی قندیل جل رہی تھی۔ لڑکی نے روشنی میں اس آدمی کو دیکھا تو بڑی ہی پرکشش اور جذباتی مسکراہٹ
‫سے کہا… ''اوہ! تم تو بہت خوبصورت آدمی ہو۔ تم میری حفاظت کرسکو گے''۔ اس نے شراب کی چھوٹی سی صراحی اٹھا
‫''کر کہا…''تھوڑی سی پیوو گے؟
‫''!نہیں''
‫''کیوں؟''
‫میں مسلمان ہوں''۔''
‫''اگر اتنے پکے مسلمان ہو تو صلیب کے لیے مسلمانوں کے خالف جاسوسی کرنے کیوں آئے ہو؟''
‫وہ آدمی چونکا۔ اس نے کہا… ''اس کی مجھے اجرت ملتی ہے''۔
‫لڑکی جتنی خوبصورت تھی‪ ،اس سے کہیں زیادہ چاالک تھی۔ اپنے یہ دونوں ہتھیار استعمال کرکے اس نے علی بن سفیان کے
‫اس آدمی کے دل ودماغ پر قبضہ کرلیا۔ اس نے کہا… ''شراب نہ پیو‪ ،شربت پی لو''۔ وہ دوسرے خیمے میں چلی گئی اور

‫ایک پیالہ اٹھا الئی۔ اس آدمی نے پیالہ ہاتھ میں لے کر منہ سے لگایا تو مسکرا کر پیالہ رکھ دیا۔ لڑکی سے پوچھا… ''اس
‫''میں کتنی حشیش ڈالی ہے؟
‫لڑکی کو دھچکہ سا لگا لیکن سنبھل گئی اور بولی… ''زیادہ نہیں۔ اتنی سی ڈالی ہے جتنی تمہیں ذرا سی دیر کے لیے بے
‫خود کردے''۔
‫''کیوں؟''
‫کیونکہ میں تم پر قبضہ کرنا چاہتی ہوں''… اس نے سنجیدگی سے کہا… ''اگر تمہیں میری باتیں بری لگیں تو اپنا خنجر ''
‫میرے دل میں اتار دینا۔ میں تمہیں اتفاقیہ نہیں ملی تھی۔ میں نے تمہیں اٹھتے اور ادھر آتے دیکھ لیا تھا۔ میں تمہارے
‫راستے میں کھڑی ہوگئی تھی۔ سفر کے دوران میں تمہیں بڑی غور سے دیکھتی رہی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے ہم کبھی
‫اکٹھے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ تم میرے دل میں اتر گئے ہو۔ تم نے دیکھا ہے کہ میں نے تمہیں شراب
‫پیش کی تھی‪ ،خود نہیں پی تھی۔ میں شراب نہیں پیتی کیونکہ میں مسلمان ہوں۔ یہ لوگ مجھے زبردستی پالتے ہیں''۔
‫''وہ چونک کر بوال… ''تم ان کافروں کے ساتھ کیسے آگئیں؟
‫بارہ سال سے ان کے ساتھ ہوں''… لڑکی نے جواب دیا۔ ''میں یروشلم کی رہنے والی ہوں۔ اس وقت میری عمرہ بارہ ''
‫سال تھی۔ جب مجھے باپ نے فروخت کیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے خریدار عیسائی ہیں۔ انہوں نے مجھے اس
‫کام کی ٹریننگ دی جس کے لیے میں آئی ہوں۔ میں دمشق اور بغداد کا نام سنا کرتی تھی اور یہ نام مجھے اچھے لگتے
‫تھے۔ اس سرزمین پر قدم رکھا ہے تو اس کی ہوائوں نے میرے اندر میرا مذہب بیدار کردیا ہے۔ میں مسلمان ہوں۔ مسلمانوں
‫کی تباہی کے لیے میں کوئی کام نہیں کرسکوں گی''… اس نے جذباتی لہجے میں کہا… ''میرا دل رو رہا ہے‪ ،میری روح رو
‫رہی ہے''… اس نے اس آدمی کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیے اور کہا… ''تم بھی مسلمان ہو‪ ،آئو بھاگ
‫چلیں۔ مجھے جہاں لے جاو گے‪ ،چلوں گی۔ ریگستان میں لیے پھرو گے تو خوشی سے تمہارے ساتھ رہوں گی۔ تم بھی اپنی
‫قوم کو دھوکہ دینے سے باز آجاو۔ ہمارے پاس سونے کے بہت سے سکے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہاں پڑے ہیں۔ آسانی سے
‫چراالئوں گی''۔
‫علی بن سفیان کا یہ آدمی تھا تو عقل مند لیکن لڑکی کے جھانسے میں آگیا۔ اسے اپنی ڈیوٹی یاد آگئی تھی۔ اسی لیے اس
‫نے حشیش نہیں پی تھی۔ وہ حشیش کی بو سے واقف تھا۔ اس نے لڑکی سے پوچھا کہ وہ اور اس کی پارٹی یہاں کیا کرنے
‫آئی ہے۔ لڑکی نے بتادیا۔ اس آدمی نے کہا… ''میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ تم یہاں مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکو گی۔
‫اگر تم سچے دل سے اس کام سے متنفر ہوگئی ہو تو تم خوش قسمت ہو کہ تم ہمارے دھوکے میں آگئی ہو۔ اب تم ہمارے
‫ساتھ رہو گی۔ ہم میں سے کوئی بھی صلیب کا جاسوس نہیں۔ہم سب مصر کی فوج کے لڑاکا جاسوس ہیں''… لڑکی جوش
‫مسرت سے اس کے ساتھ لپٹ گئی۔ اس آدمی نے کہا… ''میں اپنے کمانڈر سے کہوں گا کہ تمہیں دوسری لڑکیوں سے الگ
‫رکھے اور کسی امیر وغیرہ کے حوالے نہ کرے''۔
‫لڑکی بیتابی سے اس کے ہاتھ چومنے لگی۔ اس کا فریب کامیاب ہوگیا۔ علی بن سفیان کا اتنا ہوشیار جاسوس ایک لڑکی کے
‫فریب کا شکار ہوگیا۔
‫ذرا ٹھہرو''… لڑکی نے کہا… ''میں دیکھ آئوں کہ میرے ساتھی سو گئے ہیں یا نہیں''… وہ خیمے سے نکل گئی۔''
‫٭ ٭ ٭
‫علی بن سفیان ساالر توفیق جواد کے گھر بیٹھا نورالدین زنگی کی بیوہ کا انتظار کررہا تھا۔ اسالم کے عظیم مجاہد کی بیوہ نے
‫قاصد کے ذریعے صالح الدین ایوبی تک اپنے جذبات پہنچا دیئے تھے پھر بھی اس سے ملنا ضروری تھا۔ بہت سی معلومات
‫لینی اور اقدام طے کرنے تھے۔ کچھ دیر بعد یہ پرعظمت عورت آگئی۔ وہ سیاہ اوڑھنی میں تھی۔ علی بن سفیان کو پہچان
‫نہ سکی کیونکہ وہ مصنوعی داڑھی میں تھا۔ جب پہچان لیا تو اس کے آنسو بہنے لگے۔ کہنے لگی… ''یہ وقت بھی ہماری
‫قسمت میں لکھا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو یوں چھپ کر اور بہروپ دھار کر ملیں گے۔ تم یہاں سراونچا کرکے آیا کرتے تھے۔
‫اب اس حال میں آئے ہو کہ کوئی تمہیں پہچان نہ لے اور میں گھر سے اس احتیاط سے نکلی ہوں کہ کوئی میرے پیچھے یہ
‫دیکھنے کے لیے نہ آئے کہ میں کہاں جارہی ہوں''۔
‫علی بن سفیان کے آنسو بہہ رہے تھے۔ جذبات کا ایسا غلبہ ہوا کہ وہ بہت دیر بول ہی نہ سکا۔ زنگی کی بیوہ نے کہا…
‫''علی بن سفیان! میں نے یہ لباس اپنے خاوند کے ماتم کے لیے نہیں پہنا‪ ،میں اس غیرت کے ماتم میں ہوں جو میری قوم
‫کا زیور ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے حکمرانوں نے میرے بیٹے کو آلۂ کار بنا کر قومی غیرت صلیبیوں کے قدموں میں ڈال دی ہے۔
‫تمہیں شاید معلوم نہ ہو‪ ،کل خلیفہ کے حکم سے اس صلیبی بادشاہ کو جسے میرے خاوند نے جنگی قیدی بنایا تھا‪ ،رہا کردیا
‫گیا ہے۔ یہ رینالڈ تھا جسے چند ہی مہینے پہلے نورالدین زنگی نے بے شمار صلیبی سپاہیوں کے ساتھ ایک لڑائی میں پکڑا
‫تھا۔ اسے اور دوسرے قیدیوں کو زنگی کرک سے یہاں لے آئے تھے۔ زنگی بہت خوش تھے۔ کہتے تھے کہ میں صلیبیوں کے
‫اعلی کمان دار
‫ساتھ ایسی سودا بازی کرکے اس صلیبی حکمران کو چھوڑ دوں گا جو ان کی کمر توڑ دے گی۔ ایک بادشاہ اور
‫ٰ
‫کی گرفتاری معمولی سی بات نہیں ہوتی۔ ہم اس کے بدلے صلیبیوں سے اپنی شرائط منوا سکتے تھے مگر کل میرا بیٹا میرے
‫پاس آیا اور بڑی خوشی سے کہا۔
‫ماں! میں نے صلیبی حکمران کو اور اس کے ساتھ تمام صلیبی قیدیوں کو رہا کردیا ہے''… میرے دل پر ایسی چوٹ پڑی ''
‫کہ میں بہت دیر اپنے آپ سے باہر رہی۔ بیٹے سے پوچھا کہ ان جنگی قیدیوں کے عوض تم نے اپنے جنگی قیدی رہا کرا
‫لیے ہیں؟ بیٹے نے بچوں کا سا جوا دیا۔ کہنے لگا کہ ہم ان قیدیوں کو لے کے کیا کریں گے۔ ہم آئندہ کسی سے لڑائی نہیں
‫کریں گے''۔
‫میں نے بیٹے سے کہا کہ تم آئندہ اپنے باپ کی قبر پر نہ جانا۔ تم جب مرو گے تو میں تمہیں اس قبرستان میں دفن ''
‫نہیں کروں گی جس میں تمہارا باپ دفن ہے۔ اس قبرستان میں وہ شہید بھی دفن ہیں جو صلیبیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے
‫تھے۔ تمہیں وہاں دفن کرکے میں ان کی توہین نہیں کرنا چاہتی… لیکن میرا بیٹا بچہ ہے۔ وہ کچھ نہیں سمجھتا۔ صلیبیوں نے
‫اپنے حکمران اور جنگی قیدیوں کو رہا کراکے اسالم کے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ میں حیران ہوں کہ سلطان صالح الدین ایوبی
‫قاہرہ میں بیٹھا ہوا کیا کررہا ہے۔ وہ کیوں نہیں آتا؟ علی بن سفیان! صالح الدین ایوبی کیا سوچ رہا ہے؟ اسے کہنا تمہاری
‫ایک بہن تمہاری غیرت کا ماتم کررہی ہے۔ اسے کہنا کہ وہ سیاہ لباس اس روز اتارے گی جس روز تم دمشق میں داخل ہوکر
‫مجھے دکھا دو گے کہ تم نے ملت اسالمیہ کی آبرو ان عیاش اور ایمان فروشوں سے چھین لی اور اسے بچا لیا ہے ورنہ میں
‫اسی لباس میں مرجائوں گی اور وصیت کرجائوں گی کہ مجھے اسی لباس میں دفن کیا جائے۔ کفن نہ پہنایا جائے۔ میں روز

‫قیامت اپنے خاوند اور خدا کے سامنے سفیدکفن میں نہیں جانا چاہتی''۔
‫میں ان جذبات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں''… علی بن سفیان نے کہا… ''آئیے‪ ،حقیقت کی بات کریں۔ سلطان ایوبی آپ''
‫کی ہی طرح بیتاب اور بے چین ہیں۔ آپ جانتی ہیں کہ ہمیں کوئی کارروائی جذبات اور اشتعال کے زیراثر نہیں کرنی چاہیے۔
‫یہاں کے حاالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہم اس کوشش میں ہیں کہ خانہ جنگی نہ ہو۔ اس کی ایک ہی صورت ہے‪ ،وہ یہ
‫کہ قوم ہمارا ساتھ دے۔ فوج کے متعلق توفیق جواد مجھے یقین دال چکے ہیں کہ ہماری فوج کے خالف نہیں لڑے گی۔ البتہ
‫محافظ دستے مقابلہ کریں گے''۔
‫قوم آپ کے ساتھ ہے''… زنگی کی بیوہ نے کہا… ''میں عورت ہوں‪ ،میدان جنگ میں نہیں جاسکی۔ میں ایک اورمحاذ ''
‫پر لڑتی رہی ہوں۔ میں نے قوم کی عورتوں میں ملی جذبہ اس حد تک پیدا کررکھا ہے کہ آپ کسی بھی وقت انہیں میدان
‫جنگ میں لے جاسکتے ہیں۔ میرے انتظامات کے تحت یہاں کی تمام نوجوان لڑکیاں تیغ زنی اور تیز اندازی کی مہارت رکھتی
‫ہیں۔ عورتوں نے اپنے بچوں‪ ،بھائیوں‪ ،باپوں اور خاوندوں کو شعلے بنا رکھا ہے۔ میں نے جن عورتوں کے ہاتھوں انہیں تربیت
‫دی ہے‪ ،وہ میرے ہاتھ میں ہیں۔ اگر نوبت خانہ جنگی تک آگئی تو ہر گھر کی عورتیں خلیفہ کی فوج کے خالف مورچہ بنا
‫لیں گی۔ اگر صالح الدین ایوبی فوج لے کے آئے تو میرا خلیفہ بیٹا اور اس کے حاشیہ بردار اپنے آپ کو تنہا پائیں گے۔ تم
‫جائو علی بھائی! فوج الئو۔ یہاں کے حاالت مجھ پر چھوڑو۔ قوم کی طرف سے تم پر ایک بھی تیر نہیں چلے گا۔ اگر تم
‫ضرورت سمجھو کہ میرے بیٹے کو قتل کردیا جائے تو بھول جانا کہ وہ نورالدین زنگی کا اور میرا بیٹا ہے۔ میں اپنے بیٹے کے
‫جسم کے ٹکڑے کرالوں گی‪ ،سلطنت اسالمیہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھ سکوں گی''۔
‫توفیق جواد نے بھی علی بن سفیان کو یقین دالیا کہ خانہ جنگی نہیں ہوگی۔ اس کے بعد انہوں نے سکیم بنائی کہ سلطان
‫ایوبی کس طرح آئے گا اور یہاں کیا ہوگا۔ یہ طے ہوا کہ سلطان ایوبی خاموشی سے آئے گا اور خلیفہ اور اس کے حاشہ
‫برداروں کو بے خبری میں آن لے گا۔
‫وہ صلیبی لڑکی جس نے علی بن سفیان کے ایک آدمی سے معلوم کرلیا تھا کہ یہ ایک سو آدمی صلیب کے آدمی نہیں‪ ،اسے
‫خیمے میں اکیال چھوڑ کر اور اسے یہ کہہ کر چلی گئی کہ وہ دیکھنے جارہی ہے کہ اس کے ساتھ سو گئے ہیں یا نہیں۔ اس
‫نے اپنے ساتھیوں کو یہ بتایا کہ وہ دھوکے میں آگئے ہیں۔ یہ سب مصری فوج کے لڑاکا جاسوس ہیں اور ان کا کمانڈر علی
‫بن سفیان ہے جو سراغ رسانی اور جاسوسی کا ماہر سربراہ ہے۔ اس انکشاف نے ان صلیبیوں کو چونکا دیا اور وہ سوچنے
‫لگے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ ان کے لیے وہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ لڑکی اس مصری جاسوس کے پاس چلی گئی
‫تاکہ اسے پھانسے رکھے۔ ایک صلیبی باہر نکال اور علی بن سفیان کو ڈھونڈنے لگا مگر وہ اسے نہ مال۔ اس وقت علی بن
‫سفیان توفیق جواد کے گھر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ صلیبی یہی معلوم کرنا چاہتا تھا کہ علی بن سفیان یہاں ہے یا کہیں گیا ہوا ہے۔
‫اسے غیر حاضر دیکھ کر صلیبی نے خطرہ محسوس کیا کہ علی بن سفیان ان کی گرفتاری کا انتظام کرنے گیا ہے۔ اس نے
‫اپنے ساتھیوں کوجاکر بتایا کہ وہاں سے فورا ً نکلنے کی ترکیب کریں۔ رات آدھی گزر گئی تھی۔ یہ لوگ شہر سے ناواقف تھے۔
‫دن کے وقت وہ اپنی منزل ڈھونڈ سکتے تھے۔ رات کو لڑکیوں کو ساتھ ساتھ لیے پھرنا مناسب نہیں تھا۔
‫ایک نے مشورہ دیا کہ سرائے میں چلتے ہیں۔ وہاں جاکر کہیں گے کہ ہم قاہرہ کے تاجر ہیں‪ ،باہر کھلے میدان میں سو نہیں
‫سکتے۔ اس لیے سرائے میں رات گزارنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک آدمی کو چوری چھپے اس کام کے لیے بھیج دیا کہ سرائے
‫تالش کرے اور وہاں سے معلوم کرے کہ رات کے وقت چار آدمیوں اور چار عورتوں کو جگہ مل سکتی ہے یا نہیں اگر جگہ
‫مل جائے تو وہ یہاں سے اکیلے اکیلے نکلیں اور سرائے میں پہنچ جائیں۔ ان کے لیے سامان ایک مسئلہ تھا۔ یہ بظاہر تجارتی
‫سامان تھا لیکن اس میں زروجواہرات اور تحفے تھے جو وہ صلیبیوں کی طرف سے امراء کے لیے الئے تھے۔ وہ چونکہ امراء
‫کے پاس جانے کے لیے آئے تھے‪ ،اس لیے انہیں ایسا کوئی خطرہ نہ تھا کہ پکڑے جائیں گے۔ انہوں نے بہروپ اس لیے دھار
‫رکھا تھا کہ امراء کے سوا اور کوئی انہیں نہ پہچان سکے۔ امراء سے مل کر انہیں وہیں رہنا اور تخریب کاری کرنی تھی‪ ،اس
‫لیے وہ اپنی اصلیت چھپائے رکھنا چاہتے تھے۔
‫ان کا بھیجا ہوا آدمی سرائے کی تالش میں جارہا تھا۔ گلیاں اور بازار ویران تھے۔ اسے کوئی آدمی نظر نہیں آرہاتھا‪ ،جس سے
‫وہ پوچھتا کہ سرائے کہاں ہیں‪ ،کچھ دیر ادھر ادھر مارے مارے پھرنے کے بعد اسے سامنے سے ایک آدمی آتا دکھائی دیا۔
‫اندھیرے میں اتنا ہی پتا چلتا تھا کہ وہ کوئی انسان ہے۔ وہ قریب آیا تو صلیبی نے اس سے سرائے کے متعلق پوچھا۔ اس
‫نے سر اور آدھے چہرے پر چادر سی ڈال رکھی تھی۔ اس نے صلیبی کو بتایا کہ سرائے شہر کے دوسرے سرے پر ہے۔ پھر
‫اس سے پوچھا کہ وہ اتنی رات گئے سرائے کیوں ڈھونڈ رہا ہے۔ ایسے وقت میں اس کے لیے سرائے کا دروازہ نہیں کھلے گا۔
‫صلیبی نے اسے بتایا کہ وہ آج تاجروں کے قافلے کے ساتھ آئے ہیں۔ ان کے ساتھ چار عورتیں ہیں جنہیں وہ خیموں میں نہیں
‫رکھنا چاہتے۔
‫ہاں‪ ،یہ ایک مسئلہ ہے''… اس آدمی نے کہا… ''تمہیں شام سے پہلے بندوبست کرلینا چاہیے تھا۔ آئو‪ ،میں تمہاری کچھ ''
‫مدد کرتا ہوں۔ تم پردیسی ہو۔ یہاں سے جاکر یہ نہ کہو کہ دمشق میں تمہاری مستورات کھلے میدان میں پڑی رہی تھیں۔
‫مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ مستورات کو ساتھ لے آئو۔ میں سرائے کھلوا کر جگہ دلوا دوں گا''۔
‫وہ آدمی صلیبی کے ساتھ چل پڑا اور دونوں قافلے کی خیمہ گاہ تک پہنچ گئے۔ صلیبی نے اسے ایک جگہ روک کر کہا…
‫''تم یہیں ٹھہرو۔ میں انہیں لے کر آتا ہوں''… یہ کہہ کر وہ خیمہ گاہ کے ایک طرف سے گھوم کر کہیں غائب ہوگیا۔
‫صلیبیوں کے خیمے دوسری طرف اور ذرا ہٹ کر تھے۔ اس آدمی نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ایک آدمی اس کے ساتھ آیا ہے
‫جو انہیں سرائے میں جگہ دال دے گا۔ اس کے ساتھی کچھ گھبرائے۔ یہ آدمی بھی دھوکہ دے سکتا تھا لیکن وہ ایسے جال
‫میں پھنس گئے تھے جس سے نکلنے کے لیے انہیں کوئی نہ کوئی تو خطرہ مول لینا ہی تھا۔ مصری جاسوس جو صلیبی لڑکی
‫کے جھانسے میں آگیا تھا‪ ،اس نے لڑکی کو یہاں تک بتا دیا تھا کہ خلیفہ اور امراء صلیبیوں کے زیراثر آگئے ہیں‪ ،اس لیے
‫علی بن سفیان بہروپ میں ایک سو لڑاکا جاسوسوں کے ساتھ آیا ہے اور ان کا مشن یہ ہے کہ یہاں کا جائزہ لیں کہ صلیبی
‫اثرات کہاں تک پہنچے ہیں اور کیا صالح الدین ایوبی کے لیے جنگی کارروائی ضروری ہے یا نہیں۔
‫لڑکی نے علی بن سفیان کا یہ مشن اپنے ساتھیوں کو بتادیا تھا۔ یہ بڑی ہی کارآمد اطالع تھی جو صلیبی جاسوس رات ہی
‫کٹھ پتلی خلیفہ تک پہنچا کر خراج تحسین حاصل کرنا چاہتے تھے اور یہ اطالع وہ اپنے صلیبی حکمرانوں تک بھی پہنچانا
‫چاہتے تھے تاکہ وہ صالح الدین ایوبی کا راستہ روکنے کا بندوبست کرلیں۔ ان صلیبی جاسوسوں نے یہ ارادہ بھی کیا کہ وہ
‫علی بن سفیان اور اس کی پوری جماعت کو خلیفہ کے حکم سے گرفتار کرادیں۔ انہوں نے اس لڑکی کو بہت ہی خراج
‫تحسین پیش کیا جس نے مصری جاسوس کے سینے سے یہ راز نکلوا لیا تھا۔ یہ مصری اب لڑکی کے خیمے میں گہری نیند

‫سویا ہوا تھا اور لڑکی خیمے میں نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کے پاس تھی۔
‫انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ علی بن سفیان کے تمام آدمی سوئے ہوئے ہیں۔ سب اکٹھے نکل چلیں۔ سامان اور جانوروں کو یہیں
‫رہنے دو۔ کل صبح ہوتے ہی وہ مصری جاسوسوں کو پکڑا دیں گے پھر ان کا سامان انہیں مل جائے گا۔ وہ خیمہ گاہ سے
‫بھاگنا اس لیے چاہتے تھے کہ انہیں ڈر تھا کہ علی بن سفیان رات کو لڑکیاں غائب کردے گا یا ان سب کو مروا دے گا یا
‫کوئی دھوکہ دے گا۔ بہرحال رکنا ٹھیک نہیں تھا۔ وہ سب خیمہ گاہ سے پرے پرے دبے پائوں چل پڑے اور اس جگہ پہنچے
‫جہاں ان کا ایک ساتھی ایک آدمی کو کھڑا کرگیا تھا مگر وہ آدمی وہاں نہیں تھا۔ وہ سب ادھر ادھر دیکھ ہی رہے تھے کہ
‫بیٹھے ہوئے اونٹوں کی اوٹ میں سے بہت سے آدمی اٹھے اور صلیبیوں کو گھیرے میں لے لیا۔ انہیں ایک طرف لے گئے اور
‫مشعلیں جالئی گئیں۔ علی بن سفیان نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔ انہوں نے جھوٹ بولے‪ ،علی بن سفیان نے
‫''پوچھا… ''وہ آدمی کون تھا جو سرائے کی سرائے کی تالش میں مارا مارا پھر رہا تھا؟
‫ایک صلیبی نے کہا… ''وہ میں تھا''۔
‫اور جس سے تم نے سرائے کا راستہ پوچھا تھا''… علی بن سفیان نے کہا… ''وہ میں تھا''۔''
‫یہ محض اتفاق تھا اور اللہ کا کرم کہ علی بن سفیان توفیق جواد کے گھر سے واپس آرہا تھا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:06
‫قسط نمبر۔‪68
‫اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اور اللہ کا کرم کہ علی بن سفیان توفیق جواد کے گھر سے واپس آرہا تھا۔ یہ صلیبی سرائے کی تالش میں جارہا تھا۔ اس
‫نے علی بن سفیان سے ہی سرائے کا راستہ پوچھا۔ اگر روشنی ہوتی تو صلیبی اسے پہچان لیتا۔ ایک تو اندھیرا تھا‪ ،دوسرے
‫علی بن سفیان نے سر پر رومال یا چادر ڈال رکھی تھی۔ صلیبی کی ایک بات سن کر وہ جان گیا کہ انہیں کسی طرح پتا
‫لہ ذا اب بھاگنے کی فکر میں ہیں۔ علی بن سفیان کو معلوم تھا کہ یہ صلیبی بے
‫چل گیا ہے کہ وہ دھوکے میں آگئے ہیں۔ ٰ
‫شک جاسوس ہیں لیکن انہیں یہاں امراء میں سے کوئی نہ کوئی پناہ میں لے لے گا۔ چنانچہ اس نے صلیبی کو خوش اخالقی
‫کا جھانسہ دے کر پھانس لیا اور اس کے ساتھ خیمہ گاہ تک چال گیا۔ وہ سوچتا رہا کہ اب اسے کیا کارروائی کرنی چاہیے۔
‫صلیبی نے اس پر یہ کرم کیا کہ اسے اپنے خیموں سے دور کھڑا کرگیا۔
‫علی بن سفیان نے فورا ً اپنے دو تین آدمیوں کو جگالیا اور نہایت عجلت سے انہیں بتایا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ ہدایات دے کر
‫وہ خود صلیبیوں کے خیموں تک گیا۔ وہ سب لڑکیوں سمیت ایک خیمے میں جمع ہوگئے تھے۔ علی بن سفیان نے دبے پائوں
‫قریب جاکر ان کی باتیں سنیں۔ وہ صرف یہ جان سکا کہ صلیبی جاسوسوں کو اس کا مشن معلوم ہوگیا ہے لیکن یہ معلوم نہ
‫ہوسکا کہ یہ راز فاش کس طرح ہواہے۔ اتنی دیر میں اس کے بہت سے آدمی اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق برچھوں
‫سے مسلح ہوکر اونٹوں کی اوٹ میں جاکر بیٹھ چکے تھے۔ صلیبیوں کو وہیں آنا تھا۔ وہ جوں ہی وہاں پہنچے‪ ،علی بن سفیان
‫بھی آگیا اور سب کو گھیر کر پکڑ لیا گیا۔
‫دوستو!''… علی بن سفیان نے انہیں کہا… ''تمہاری جاسوسی بہت کمزور ہے‪ ،تمہیں ابھی بہت سی تربیت کی ضرورت ''
‫ہے۔ کیا جاسوس اس طرح سنسان گلیوں میں پھرا کرتے ہیں؟ اور کیا جاسوس کسی اجنبی کو پہچانے بغیر بات کیا کرتے ہیں؟
‫یہ فن مجھ سے سیکھو''۔
‫اگر آپ یہ فن اپنے آدمیوں کو سیکھادیں تو زیادہ بہتر ہوگا''… ایک صلیبی نے کہا… ''کیا آپ ہماری اس مہارت کی ''
‫تعریف نہیں کریں گے کہ ہم نے آپ کے ایک آدمی سے آپ کی اصلیت معلوم کرلی ہے؟ یہ تو قسمت کا کھیل ہے۔ آپ
‫جیت گئے‪ ،ہم ہار گئے۔ اگر ہمارا قائد مارا نہ جاتا تو ہم یوں بھٹک نہ جاتے''۔
‫مجھے وہ آدمی بتاو گے جس نے راز فاش کیا ہے؟''… علی بن سفیان نے پوچھا۔''
‫اس خیمے میں سویا ہوا ہے''… ایک لڑکی نے ایک خیمے کی طرف اشارہ کرکے جواب دیا… ''وہ میرے دھوکے میں آگیا''
‫تھا''۔
‫یہ باتیں اب قاہرہ میں چل کر ہوں گی''… علی بن سفیان نے کہا۔''
‫صبح طلوع ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ تاجروں کا قافلہ جارہا تھا۔ اونٹوں پر جہاں تجارتی سامان لدا ہوا تھا‪ ،وہاں خیمے بھی
‫لدے ہوئے تھے۔ علی بن سفیان اور اس کے ایک سو آدمیوں کے سوا کسی کو علم نہ تھا کہ لپٹے ہوئے خیموں میں چار
‫لڑکیاں اور چار آدمی لپٹے ہوئے ہیں۔ علی بن سفیان نے روانگی سے کچھ دیر پہلے سحر کی تاریکی میں ایک ایک صلیبی کو
‫ایک ایک خیمے میں لپیٹ کر اونٹوں پر الد کر باندھ دیا تھا۔ اسے کوئی فکر نہیں تھی کہ وہ دم گھٹنے سے مرجائیں گے یا
‫زندہ رہیں گے۔ قافلہ دمشق سے نکل گیا اور جب شہر اتنی دور پیچھے رہ گیا کہ نظر بھی نہیں آتا تھا‪ ،اس نے صلیبیوں کو
‫خیموں سے نکاال۔ سب زندہ تھے۔ لڑکیوں کو اونٹوں پر اور مردوں کو گھوڑوں پر سوار کرلیا گیا۔ صلیبیوں نے رہائی کے لیے وہ
‫تمام زروجواہرات اور سونے کے ٹکڑے پیش کیے جو وہ خلیفہ اور امراء کے لیے الئے تھے۔ علی بن سفیان نے کہا… ''یہ
‫ساری دولت تو میرے ساتھ ہی جارہی ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس وقت ریمانڈ نام کا ایک صلیبی تریپولی کا حکمران تھا۔ یہ وہی عالقہ ہے جو آج لبنان کہالتا ہے۔ دوسرے صلیبی حکمران
‫یروشلم اور گردونواح میں تھے۔ نورالدین زنگی کی وفات پر وہ سب بہت خوش تھے۔ وہ ایک کانفرنس کرچکے تھے۔ انہوں نے
‫اپنے منصوبوں پر نظرثانی کرلی تھی‪ ،اس کے مطابق فرنگیوں کا ایک کمانڈر سیرز اپنی فوج حلب تک لے گیا۔ حلب کا امیر
‫شمس الدین تھا۔ سیرز نے اسے پیغام بھیجا کہ وہ حلب اس کے حوالے کردے یا صلح نامے پر دستخط کرکے تاوان ادا کرے۔
‫شمس الدین نے اس ڈر سے صلیبیوں کے آگے ہتھیار ڈال دئیے کہ دمشق اور موصل کے امراء سے جنگ میں الجھا ہوا دیکھ
‫کر اس کی مملکت پر قبضہ کرلیں گے۔ اس ایک ہی کامیابی سے صلیبی دلیر ہوگئے۔وہ جان گئے کہ یہ مسلمان امراء ایک
‫دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے دشمن ہیں‪ ،چنانچہ انہوں نے جنگ کے بغیر ہی مسلمانوں کہ بے تیغ کرنے
‫کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ انہیں خطرہ صرف سلطان صالح الدین ایوبی سے تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے کردار سے آگاہ تھے۔انہیں ڈر
‫یہ تھا کہ سلطان ایوبی دمشق یا ان عالقوں میں کہیں بھی آگیا تو وہ تمام امراء کو متحدہ کرلے گا۔ چنانچہ وہ امراء کو بہت
‫جلدی اپنے اتحادی بنا لینے کی کوشش کررہے تھے۔ ریمانڈ نے خلیفہ المالک الصالح کو ایک ایلچی کے ذریعے تحائف کے ساتھ
‫یہ پیشکش بھی بھیج دی تھی کہ وہ اسے ضرورت کے وقت فوجی مدد دے گا۔

‫اسالم کی بقا اور آبرو کچے دھاگے سے لٹک رہی تھی۔ اس کا دارومدار سلطان صالح الدین ایوبی کے اقدام پر تھا۔ ایک
‫ساعت جو گزر جاتی تھی‪ ،اسالم کو تباہی کے قریب لے جاتی تھی۔ سلطان ایوبی قاہرہ میں علی بن سفیان کا انتظار کررہا
‫تھا۔ اسے علی بن سفیان کی رپورٹ کے مطابق کچھ فیصلہ کرنا تھا۔ وہ بغداد‪ ،دمشق اور یمن وغیرہ پر فوج کشی کے لیے
‫ذہنی طور پر تیار ہوچکا تھا۔ اس کے لیے مشکل یہ تھی کہ مصر کے اندرونی حاالت ٹھیک نہیں تھے اور فوج کم تھی۔ وہ
‫مصر سے زیادہ سے زیادہ نہیں بلکہ کم سے کم فوج اپنے ساتھ لے جاسکتا تھا اور یہی ایک خطرہ تھا جو اسے پریشان کررہا
‫تھا کہ اتنی کم فوج سے وہ کیا کامیابی حاصل کرسکے گا۔ اس کے باوجود اس نے فوج کشی کے سوا دوسرا کوئی اقدام سوچا
‫ہی نہیں۔ وہ دن میں ایک دو بار اپنے مکان کی چھت پر جاکر اس سمت دیکھا کرتا تھا جس سمت سے علی بن سفیان کو
‫آنا تھا۔ وہ افق پر نظریں گاڑ دیتا تھا۔
‫ایک روز اسے افق پر گرد کے بادل نظر آئے جو زمین سے اٹھے اور اوپر ہی اوپر اٹھتے اور پھیلتے گئے۔ سلطان ایوبی اوپر
‫ہی کھڑا رہا۔ گرد کا بادل آگے ہی آگے آتا گیا‪ ،پھیلتا گیا… اور پھر اس میں سے گھوڑوں اور اونٹوں کے ہیولے نظر آنے لگے۔
‫وہ علی بن سفیان کا قافلہ تھا۔ اس نے راستے میں بہت تھوڑے پڑائو کیے تھے۔ اسے جب قاہرہ کے مینار نظر آنے لگے تو
‫اس نے اونٹ اور گھوڑے دوڑادئیے۔ اسے احساس تھا کہ گزرتے ہوئے لمحوں کی قیمت کیا ہے اور اس کے انتظار میں سلطان
‫صالح الدین ایوبی رات کو سوتا بھی نہیں ہوگا۔
‫پھر وہ لمحہ آگیا جب گرد سے اٹا ہوا علی بن سفیان سلطان ایوبی کے سامنے کھڑا تھا۔ سلطان ایوبی نے اسے نہانے دھونے
‫کی مہلت نہ دی۔ وہ خبریں سننے کے لیے بیتاب تھا۔ اس کے لیے کھانا وغیرہ وہیں النے کا حکم دے کر اسے دفتر میں لے
‫گیا۔ علی بن سفیان نے اسے تفصیلی رپورٹ دی۔ نورالدین زنگی کی بیوہ کا پیغام‪ ،اس کے جذبات اور تاثرات سنائے۔ ساالر
‫توفیق جواد سے جو بات چیت ہوئی تھی وہ سنائی اور آخر میں بتایا کہ وہ دمشق سے ایک تحفہ الیا ہے۔ یہ تحفہ چار
‫صلیبی جاسوس مرد اور چار لڑکیاں تھیں۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا… ''میں شام سے پہلے پہلے کچھ قیمتی معلومات ان
‫لوگوں سے حاصل کرلوں گا''۔
‫تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں فوجی طاقت استعمال کرنی پڑے گی''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔''
‫کرنی پڑے گی اور ہم ضرور کریں گے''… علی بن سفیان نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ خانہ جنگی نہیں ہوگی''۔''
‫سلطان ایوبی نے اپنے دو ایسے فوجی مشیروں کو بالیا جن پر اسے کلی طور پر اعتماد تھا۔ وہ آئے تو اس نے انہیں کہا…
‫'' میں تم سے اب جو بھی بات کروں‪ ،وہ اپنے سینے میں اتار لینا۔ تم دونوں کے عالوہ علی بن سفیان تیسرا آدمی ہوگا جو
‫اس راز سے واقف ہوگا''… اس نے انہیں دمشق اور دیگر تمام اسالمی ریاستوں اور جاگیروں کے احوال وکوائف سنائے۔ علی
‫بن سفیان کی الئی ہوئی رپورٹ سنائی اور کہا… ''اللہ کی فوج اللہ کے حکم کی تعمیل کیا کرتی ہے۔ امیر اور خلیفہ کی
‫اطاعت ہم پر فرض ہے لیکن امیر اور خلیفہ ہی اللہ کے عظیم مذہب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس
‫کے دشمن ہوجائیں تو اللہ کے سپاہی پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امت
‫رسول اللہ کی ناموس کو بچائیں۔ اور میرا وجود ملک وملت کے لیے خطرے اور بدنامی کا باعث بنے تو تمہارا فرض ہے کہ
‫میرا سر میرے دھڑ سے جدا کردو یامجھے بیڑیاں پہنا کر قید خانے میں پھینک دو اور ملک میں احکام خداوندی نافذ کرو۔ آج
‫یہی فرض ہم پر عائد ہوگیا ہے۔ ہمارا خلیفہ قومی غیرت اور وقار سے دستبردار ہوکر اسالم کے دشمنوں کے ہاتھوں میں چال
‫گیا ہے۔ ان سے مدد مانگ رہا ہے۔ ان کے جاسوسوں کو پناہ دے رہا ہے۔ اس کے حاشیہ بردار عیش وعشرت میں ڈوب گئے
‫ہیں۔ سلطنت اسالمیہ کے حصے بخرے کررہے ہیں۔ شمس الدین والی حلب نے صلیبیوں کے آگے ہتھیار ڈال کر تاوان ادا کیا
‫اور صلح کرلی ہے اور صلیبی عالم اسالم پر حاوی ہوتے جارہے ہیں تو کیا ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہوگیا کہ ہم فوجی
‫''طاقت سے خلیفہ کو اس مقدس گدی سے اٹھائیں اور اسالم کی آبرو بچائیں؟
‫بالکل فرض ہوگیا ہے''۔ دونوں مشیروں نے بیک زبان کہا۔''
‫اب ہمارا اقدام جو کچھ بھی ہوگا وہ ہم چاروں کے درمیان راز ہوگا''۔ سلطان ایوبی نے کہا اور ان کے ساتھ اپنے سوچے ''
‫ہوئے اقدام کی منصوبہ بندی شروع کردی۔
‫صلیبی جاسوسوں اور لڑکیوں کو علی بن سفیان اپنے مخصوص تہہ خانے میں لے گیا اور انہیں کہا… ''تم ایسے جہنم میں
‫داخل ہوگئے ہو جہاں تم زندہ بھی نہیں رہو گے اور مرو گے بھی نہیں۔ اپنے جسموں کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کر جو باتیں تم
‫میرے سامنے اگلو گے وہ اسی صحتمندی کی حالت میں بتا دو اور اس جہنم سے رہائی حاصل کرو۔ میں تمہیں سوچنے کا
‫موقعہ دیتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد آئوں گا''۔
‫وہ جب انہیں بیڑیاں ڈالنے کا حکم دے رہا تھا تو ایک صلیبی نے کہا… ''ہم ساری باتیں بتا دیں گے‪ ،ہمیں سزا دینے سے
‫پہلے یہ درخواست سن لیں کہ ہم تنخواہ پر کام کرنے والے مالزم ہیں۔ سزا حکم دینے والوں کو ملنی چاہیے۔ ہم جو مرد
‫ہیں‪ ،سختیاں برداشت کرلیں گے‪ ،ہم ان لڑکیوں کو اذیت سے بچانا چاہتے ہیں''۔
‫انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''تم میرا کام آسان کردو گے تو لڑکیاں تمہارے ساتھ رہیں ''
‫گیں۔ اس تہہ خانے سے تم سب کو نکال لیا جائے گا اور باعزت نظربندی میں رکھا جائے گا''۔
‫انہوں نے جو انکشاف کیے ان سے ان تمام حاالت کی تصدیق ہوگئی جو نورالدین زنگی کی وفات کے بعد پیدا ہوگئے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫…تین روز بعد
‫مصر کی سرحد سے بہت دور شمال مشرق کی سمت مٹی کے اونچے نیچے ٹیلوں اور گھاٹیوں کا وسیع خطہ تھا‪ ،جس میں
‫کہیں کہیں سبزہ بھی تھا اور پانی بھی۔ یہ خطہ قافلوں اور فوجوں کے عام راستوں سے ہٹ کر تھا۔ اس کے اندر ایک جگہ
‫بے شمار گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ ان سے ذرا پرے سوار سوئے ہوئے تھے اور ان سے الگ ہٹ کر چھوٹا سا ایک خیمہ لگا
‫ہوا تھا جس کے اندر ایک آدمی سویا ہوا تھا۔ تین چار آدمی ٹیلوں کے اوپر ٹہل رہے تھے اور تین چار آدمی اس خطے کے
‫باہر بکھر کر گھوم پھر رہے تھے… خیمے میں سویا ہوا آدمی سلطان صالح الدین ایوبی تھا۔ ٹیلوں پر اور ٹیلوں کے باہر
‫گھومنے پھرنے والے آدمی سنتری تھے اور جو سوار سوئے ہوئے تھے‪ ،وہ سلطان ایوبی کے سوار تھے۔ ان کی تعداد سات سو
‫تھی۔
‫صالح الدین نے بڑی گہری سوچ وبچار کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ کم سے کم فوج اپنے ساتھ لے کر دمشق جائے گا۔ اگر
‫اس کا استقبال ایک سلطان کی حیثیت سے ہوا تو زبانی بات چیت کرے گا اور اگر مزاحمت ہوئی تو وہ اسی نفری سے
‫مقابلہ کرے گا۔ علی بن سفیان نے اسے یقین دالیا تھا کہ خلیفہ اور امراء کے محافظ دستوں نے مزاحمت کی تو ساالر توفیق

‫جواد اپنی فوج سلطان ایوبی کے حوالے کردے گا۔ زنگی کی بیوہ نے یقین دالیا تھا کہ شہر کے لوگ سلطان ایوبی کا استقبال
‫کریں گے لیکن سلطان ایوبی نے اپنے آپ کو خوش فہمیوں میں کبھی مبتال نہیں ہونے دیا تھا۔ اس نے یہ فرض کرکے فیصلہ
‫کیا تھا کہ وہ سات سو سواروں کے ساتھ جہاں جارہا ہے‪ ،وہاں کا ہر ایک سپاہی اور بچہ بچہ اس کا دشمن ہے۔ اس نے
‫اپنے رسالے ( گھوڑ سوار دستوں) میں سے وہ سات سو سوار منتخب کیے تھے جو بہت سے معرکے لڑ چکے تھے‪ ،ان میں
‫چھاپہ مار سوار بھی تھے جو دشمن کے عقب میں معرکے لڑنے کا تجربہ رکھتے تھے۔ جنگی مہارت کے عالوہ یہ سوار جذبے
‫کے جنونی تھے جن کی آنکھیں صلیب کا نام سن کر الل سرخ ہوجایاکرتی تھیں۔ آج کی فوجی زبان میں یہ ''کریک
‫ٹروپس'' تھے۔
‫قاہرہ سے ان سواروں کو سلطان ایوبی نے رات کے وقت خفیہ طریقے سے نکاال تھا۔ وہ ایک ایک دو دو کرکے نکلے تھے اور
‫قاہرہ سے بہت دور ایک پہلے سے بتائی ہوئی جگہ اکٹھے ہوئے تھے۔ سلطان ایوبی بھی خفیہ طریقے سے قاہرہ سے نکال تھا۔
‫صرف علی بن سفیان اور دو خصوصی فوجی مشیروں کو اس کا علم تھا۔ سلطان ایوبی کا محافظ دستہ بدستور قاہرہ میں اس
‫کے گھر اور ہیڈکوارٹر میں مستعد رہتا تھا۔ اس سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ سلطان ایوبی یہیں ہے۔
‫تمام یورپی اور مسلمان مورخین اس پر متفق ہیں کہ سلطان ایوبی نے سات سو سوار منتخب کیے۔ خفیہ طریقے سے شہر سے
‫نکال اور دمشق کو روانہ ہوا۔ قاہرہ اور گردونواح میں صلیبی جاسوس موجود تھے۔ ان میں مصری مسلمان بھی تھے جن میں
‫کچھ سرکاری مالزمت میں بھی تھے مگر کسی کو خبر تک نہ ہوئی کہ قاہرہ سے سلطان ایوبی اور سات سو سوار غائب ہیں۔
‫مورخین لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی دمشق میں داخل ہونے تک اپنی نقل وحرکت کو راز میں رکھنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے
‫لیے وہ رات کو سفر کرتا اور دن کو کہیں چھپ جاتا تھا۔ سات سو گھوڑوں اور سواروں کو چھپانا ممکن نہیں تھا لیکن سلطان
‫ایوبی ریگزار کا بھیدی تھا۔ ایسے راستے سے جارہا تھا جدھر سے کوئی قافلہ نہیں جایا کرتا تھا اور وہ چھپنے کی جگہ ڈھونڈ
‫لیتا تھا۔ دو یورپی مورخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس خفیہ سفر کے دوران وہ سواروں کے ساتھ عام سپاہیوں کی طرح گھال
‫مال‪ ،گپ شپ لگاتا اور باتوں باتوں میں انہیں آگ کے بگولے بناتا رہا۔ اس کے ساتھ انہیں سمجھاتا رہا کہ آگے حاالت کیا
‫ہیں اور کیا ہوسکتے ہیں۔ اس نے سواروں کو کسی خوش فہمی میں مبتال نہیں کیا‪ ،کوئی جھوٹی امید نہیں دالئی‪ ،انہیں خطروں
‫سے آگاہ کرتا رہا۔ سلطان ایوبی کی شخصیت اورکردار میں جو جالل تھا‪ ،وہ ہر ایک سوار کی روح میں اتر گیا اور سوار اڑ
‫کر دمشق پہنچنے کے لیے بیتاب ہوگئے۔
‫مورخہ میں البتہ یہ اختالف پایا جاتا ہے کہ یہ ‪١١٧٤٤ء کا کون سا مہینہ تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ جوالئی کامہینہ تھا‪ ،بعض
‫نے نومبر لکھا ہے۔ بہرحال یہ واقعہ نورالدین زنگی کی وفات کے بعد کا ہے۔ اگر واقعہ نگاروں کی تحریروں میں چھوٹے
‫چھوٹے واقعات غور سے پڑھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سلطان ایوبی ستمبر کے ابتدائی دنوں میں دمشق کے لیے روانہ ہوا
‫تھا۔ اس نے مصر کی ہائی کمانڈ خفیہ طور پر اپنے دو مشیروں کے سپرد کردی تھی۔ سوڈان کی طرف کی سرحد پر مورچہ
‫بندی اور دفاعی انتظامات مزید مضبوط کردئیے تھے۔ شمال کی طرف بحریہ کو حکم دیا گیا تھا کہ ہر وقت‪ ،دن رات‪ ،سمندر
‫میں دور دور تک کشتیاں گشت کرتی رہیں اور جنگی جہاز بحری سپاہیوں کے ساتھ ہر لمحہ تیاری کی حالت میں رہیں۔
‫سلطان ایوبی نے اپنے جانشینوں سے کہہ دیا تھا کہ کسی بھی طرف سے حملہ آئے تو وہ اس کے حکم کا انتظار نہ کریں۔
‫اس نے یہ بھی حکم دے دیا تھا کہ سرحد پر دشمن ذرا سی بھی گڑ بڑ کرے تو شدید قسم کی جوابی کارروائی کرو۔ ہر وقت
‫جارحیت کے لیے تیار رہو۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو سوڈان کے اندر جاکر مصر کا دفاع کرو۔
‫سلطان ایوبی مصر کو اپنی فوج اور خدا کے حوالے کرکے چوری چھپے سات سو سواروں کے ساتھ دمشق جارہا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫دمشق کے قلعے سنتری پر گھوم پھر رہے تھے۔ انہیں دور افق پر گرد کے گھنے بادل اٹھتے نظر آئے جو دمشق کی طرف آرہے
‫تھے۔ وہ کچھ دیر دیکھتے رہے۔ شاید تاجروں اور مسافروں کا کوئی بڑا قافلہ ہوگا مگر اونٹ اتنی گرد نہیں اڑاتے۔ یہ گھوڑے
‫معلوم ہوتے تھے… گرد بہت قریب آگئی تو اس میں ذرا ذرا گھوڑے نظر آنے لگے اور پھر اوپر اٹھی ہوئی برچھیوں کی انیاں
‫نظر آنے لگیں۔ ہر برچھی کے ساتھ کپڑے کی لمبوتری جھنڈی تھی۔ یہ بالشک وشبہ کوئی فوج تھی اور یہ فوج خلیفہ کی
‫نہیں ہوسکتی تھی۔ ایک سنتری نے نقارہ بجا دیا۔ قلعے کی دوسری دیواروں پر بھی نقارے بج اٹھے۔ قلعے میں جو فوج تھی
‫وہ تیاری کی پوزیشنوں میں آگئی۔ دیواروں کے اوپر تیر اندازوں نے کمانوں میں تیر ڈال لیے۔ قلعے کا کمانڈر بھی اوپر آگیا۔
‫گرد اڑاتے ہوئے سوار قلعے کے قریب آگئے اور حملے کی ترتیب میں آکر رک گئے۔ قلعہ کے کمانڈر نے سواروں کے کمانڈر کا
‫جھنڈا دیکھا تو وہ ٹھٹھک گیا۔ یہ صالح الدین ایوبی کا جھنڈا تھا۔ قلعہ دار کو سرکاری طور پر بتایا جاچکا تھا کہ سلطان
‫ایوبی نے خودمختاری کااعالن کردیا ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر وہ اس طرف آئے تو اسے بالروک ٹوک شہر میں داخل
‫نہ ہونے دیا جائے۔
‫آپ کس ارادے سے آئے ہیں؟'' قلعہ دار نے پوچھا… ''اگر خلیفہ سے ملنا ہے تو اپنے سوار دور پیچھے لے جائیں اور ''
‫اکیلے آگے آئیں''۔
‫خلیفہ سے کہہ دو کہ صالح الدین ایوبی باہر بال رہا ہے''۔ سلطان ایوبی نے بلند آواز سے کہا… ''اور تم سن لو‪ ،میرے ''
‫سوار پیچھے نہیں جائیں گے‪ ،شہر میں جائیں گے۔ خلیفہ کو اطالع دو کہ وہ باہر نہ آیا تو بہت سے مسلمانوں کا خون اس
‫کی گردن پر ہوگا''۔
‫صالح الدین بن نجم الدین ایوب!'' قلعے کے کمان دار نے کہا… ''میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تمہارا ایک بھی سوار ''
‫زندہ واپس نہیں جائے گا۔ میں خلیفہ کے حکم کا پابند ہوں۔ تمہارے لیے شہر کا کوئی دروازہ نہیں کھلے گا''۔
‫قلعے کے باہر جو سپاہی پہرے پر تھے‪ ،انہوں نے خلیفہ کی طرف ایک سپاہی دوڑا دیا تھا۔ یہ ان لوگوں کی ڈیوٹی تھی کہ
‫خلیفہ کو خطرے سے آگاہ کردیں تاکہ فوج کو تیاری کا حکم دیا جائے۔ ادھر سلطان ایوبی نے اپنے سواروں کو کچھ حکم دیا۔
‫سواروں نے بجلی کی تیزی سے حرکت کی‪ ،وہ اور زیادہ پھیل گئے۔ سواروں نے کمانیں نکال لیں اور ان میں تیر ڈال لیے۔
‫ادھر دمشق شہر کابڑا دروازہ بند کردیا گیا اور شہر کی فصیل پر بھی تیر انداز تیار ہوگئے۔
‫قلعہ دار یعنی قلعے کا کمانڈر غالبا ً خلیفہ کے حکم کا یا شاید اندر سے آنے والی فوج کا انتظار کررہا تھا۔ اس نے کوئی
‫کارروائی نہ کی۔ مقابلے کے لیے وہ تیار تھا۔ خلیفہ کو باہر کی صورتحال کی اطالع مل گئی‪ ،وہ بچہ تھا۔ ایک بار تو جوش
‫میں آگیا پھر گھبرا گیا۔ اس کے مشیروں نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور اس سے حکم دلوایا کہ فوج باہر نکل کر سلطان ایوبی
‫کو گھیرے میں لے لے اور ہتھیار ڈلوا کر سلطان ایوبی کو گرفتار کرلے۔ اس اثناء میں شہر کے لوگوں کو بھی پتا چل گیا کہ
‫سلطان ایوبی فوج لے کر آیا ہے۔ نورالدین زنگی کی بیوہ حرکت میں آگئی۔ اس نے عورتوں کو جو زمین دوز جماعت بنا

‫رکھی تھی‪ ،وہ بھی سرگرم ہوگئی۔ گھر گھر اطالع پہنچ گئی کہ سلطان ایوبی آیا ہے۔ عورتیں باہر نکل آئیں اور ''خوش آمدید
‫صالح الدین ایوبی'' کے نعرے لگانے لگیں۔ بعض نے پھول بھی اکٹھے کرلیے۔ مرد بھی نکل آئے۔ نعروں سے دمشق گونجنے
‫لگا۔ خلیفہ کے حاشیہ برداروں کو شہریوں کا یہ رویہ پسند نہ آیا مگر شہریوں کا سیالب شہر کے دروازے پر ٹوٹ پڑا تھا۔
‫لوگ شہر کی فصیل پر بھی چڑھ گئے تھے اور سلطان ایوبی کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔
‫خلیفہ اور اس کے حواریوں کو سب سے بڑی چوٹ یہ پڑی کہ انہیں یہ اطالع ملی کہ فوج نے سلطان ایوبی کے مقابلے میں
‫آنے سے انکار کردیا ہے۔ سپاہیوں تک تو حکم ہی نہیں پہنچا تھا۔ انکار کرنے والے ساالر اور دیگر کمانڈر تھے۔ کمانڈروں میں
‫کچھ ایسے تھے جو امراء کے پروردہ تھے۔ وہ اپنے دستوں کو تیاری کا حکم دینے لگے تو خلیفہ کے مخالف کمانڈروں نے
‫انہیں خبردار کردیا کہ انہوں نے سلطان ایوبی کے خالف ہتھیار اٹھائے تو انہیں گھوڑوں کے پیچھے باندھ کر شہر میں گھسیٹا
‫جائے گا۔ تین چار کمانڈروں نے ایک دوسرے کے خالف تلواریں نکال لیں۔ معاملہ خون خرابے تک پہنچنے واال تھا کہ زنگی
‫کی بیوہ آن پہنچی۔ یہ عورت پاگلوں کی طرح بھاگ دوڑ رہی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار تھی۔ گھوڑا بری طرح ہانپ رہا تھا۔
‫وہ دیکھنے آئی تھی کہ فوج کیا کررہی ہے۔ کہیں خانہ جنگی کی صورت تو پیدا نہیں ہوگئی؟ اس نے یہ منظر دیکھا کہ تین
‫چار کمانڈر تلواریں نکالے ایک دوسرے کو للکار رہے تھے اور دوسرے بیچ بچائو کررہے تھے۔ ان میں توفیق جواد بھی تھا۔
‫''زنگی کی بیوہ کو دیکھتے ہی وہ دوڑ کر اس تک گیا اور کہا… ''آپ یہاں کیا کررہی ہیں؟
‫یہاں کیا ہورہا ہے؟'' اس عظیم مجاہدہ نے پوچھا… ''کیا فوج صالح الدین ایوبی کے استقبال کے لیے جا رہی ہے یا ''
‫''مقابلے کے لیے؟
‫زنگی کی بیوہ گھوڑے سے کود کر اتری اور ان کمانڈروں کے درمیان آگئی جو ایک دوسرے کو للکار رہے تھے۔ اس عورت نے
‫اپنا سرنگا کردیا اور ان سے چال کر کہا… ''بے غیرتو! پہلے اس سر کو تن سے جدا کرو‪ ،اپنی ماں کا سر اس مٹی میں
‫پھینکو پھر کافروں کی حمایت میں لڑنا۔ تم ان بیٹیوں کو بھول گئے ہو جنہیں کافر اٹھا کر لے گئے تھے‪ ،تم اپنی ان بچیوں
‫کو بھول گئے ہو جو کافروں کی درندگی سے مرچکی ہیں۔ تم کس کی حمایت میں ایک دوسرے کے خالف تلواریں نکالے ہوئے
‫ہو۔ میرے بیٹے کے وفادار کافر ہیں‪ ،آئو پہلے میری گردن اڑائو پھر ایوبی کے مقابلے میں جانا''۔
‫زنگی کی بیوہ کے آنسو بہہ رہے تھے‪ ،منہ سے جھاگ پھوٹ رہی تھی۔ کمانڈروں نے تلواریں نیاموں میں ڈال لیں اور سرجھکا
‫کر ادھر ادھر ہوگئے۔
‫کیا فوج نے حکم عدولی کی ہے؟'' یہ خلیفہ کے ایک مشیر کی گھبرائی ہوئی آواز تھی جس نے خلیفہ کے دربار میں ''
‫سناٹا طاری کردیا۔
‫محافظوں کے دستے باہر نکالو''۔ ایک امیر نے غصے سے کہا۔ ''جم کر مقابلہ کرو''۔''
‫تھوڑی ہی دیر بعد محافظوں کے دستے تیار ہوگئے۔ اس وقت شہریوں کا ہجوم اور زیادہ بڑھ گیا تھا۔ عورتیں چال رہی تھیں…
‫'' دروازے کھول دو۔ ہماری عصمتوں کا پاسبان آیا ہے''۔ مرد نعرے لگا رہے تھے۔ محافظ دستوں کو آگے بڑھنے کا راستہ نہیں
‫مل رہا تھا۔ اس وقت خالفت کا قاضی‪ ،کمال الدین سامنے آگیا۔ وہ خلیفہ کے دربار میں گیا۔ قاضی کی حیثیت سے سب سے
‫اونچی اور قابل احترام سمجھی جاتی تھی۔ اس نے خلیفہ سے کہا کہ ''اگر اس نے صالح الدین ایوبی کے مقابلے کے لیے
‫اپنی فوج بھیجی تو شہری اس فوج پر ٹوٹ پڑیں گے۔ اس سے زیادہ تر نقصان شہریوں کا ہوگا۔ خانہ جنگی ہوگی۔ اپنے
‫ہاتھوں اپنے بچوں اور عورتوں کو مروانے کے عالوہ سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ صلیبی فوج جو یہاں سے دور نہیں کسی
‫مزاحمت کے بغیر اندر آجائے گی۔ پھر آپ رہیں گے نہ آپ کی خالفت۔ اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ شریعت کا حکم یہ
‫''ہے کہ بھائی بھائی کے خالف نہیں لڑ سکتا۔ ذرا باہر آکر لوگوں کی بیتابیاں دیکھیں۔ کیاآپ اس طوفان کو روک لیں گے؟
‫شہر کی چابی میرے حوالے کردیں''۔ قاضی کمال الدین نے کہا۔''
‫چابی قاضی کے حوالے کردی گئی۔ اس نے اپنے ہاتھوں شہر کا دروازہ کھوال۔ شہریوں کا ہجوم رکے ہوئے سیالب کی طرح باہر
‫نکال۔ قاضی کمال الدین نے چابی سلطان ایوبی کے حوالے کی۔ سلطان ایوبی نے دوزانو ہوکر قاضی کے ہاتھ چومے اور اس کے
‫ساتھ شہر میں داخل ہوا اور جب نورالدین زنگی کی بیوہ سامنے آئی تو سلطان ایوبی کی سسکیاں نکل گئیں۔ زنگی کی بیوہ
‫اس سے لپٹ گئی اور بچوں کی طرح بلبالنے لگی۔ اس کی ہچکیاں تھم نہیں رہی تھیں۔ سلطان ایوبی کے سواروں پر عورتوں
‫نے پھول پھینکے‪ ،بالئیں لیں اور انہیں جلوس میں اندر لے گئیں۔
‫قلعے کی چابی بھی سلطان ایوبی کے حوالے کردی گئی۔ وہ سب سے پہلے اپنے گھر گیا۔ وہ دمشق کا رہنے واال تھا۔ بڑے
‫جذباتی انداز سے اس پرانے سے مکان میں داخل ہوا‪ ،جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔
‫کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اس نے فوج کے چھوٹے بڑے کمانڈروں کو اپنے مکان میں بال لیا۔ ان کے ساتھ باتیں کرکے معلوم
‫کیا کہ ان پر کس حد تک اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ فوج کی حالت اور کیفیت پوچھی اور اپنے احکام جاری کیے۔ اسی دوران
‫اعلی حکام بھی
‫اسے اطالع ملی کہ خلیفہ اپنے وفادار مشیروں‪ ،وزیروں اور امیروں کے ساتھ الپتہ ہوگیا ہے۔ فوج کے دو تین
‫ٰ
‫اس کے ساتھ فرار ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی فورا ً اٹھا اور فرار ہونے والوں کے گھروں پر چھاپے پڑوائے۔ یہ گھر دراصل محل
‫تھے۔ بھاگنے والے اپنی جانیں بچا کر بھاگے تھے۔ ان کا مال ودولت پیچھے رہ گیا تھا۔ حرم کی عورتیں‪ ،رقاصائیں اور عیش
‫وعشرت کا سارا سامان پیچھے رہ گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے اس تمام دولت پر قبضہ کرکے اس میں سے کچھ بیت المال میں
‫دے دیا اور زیادہ تر غریبوں اور اپاہجوں میں تقسیم کردیا۔
‫اس نے خلیفہ اور مفرور امراء وغیرہ کے تعاقب کی ضرورت محسوس نہ کی۔ اس نے مصر اور شام کی وحدت یعنی ایک
‫سلطنت کا اعالن کردیا اور اپنے بھائی تقی الدین کو دمشق کا امیر (گورنر) مقرر کردیا۔ دوسرے حصوں کے نئے گورنر مقرر
‫کیے اور اس سلطنت کے استحکام اور دفاع کے انتظامات میں مصروف ہوگیا مگر اس کی انٹیلی جنس کی رپورٹیں اسے بتا
‫رہی تھیں کہ اس کے امراء جو الملک الصالح کے وفادار تھے‪ ،اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ یورپی ممالک سے آئی
‫ہوئی اطالعات سے پتا چال کہ صلیبی بہت بڑا لشکر تیار کررہے ہیں جس سے وہ عالم اسالم پر فیصلہ کن حملہ کریں گے۔
‫اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ اس کے اپنے امراء اسے شکست دینے کے لیے صلیبیوں کی راہ دیکھ رہے تھے۔
‫لہ ذا اس کے لیے ضروری تھا کہ پہلے ان باغیوں کو ٹھکانے لگائے۔ یہ معمولی سی مہم نہیں تھی۔ دمشق کی فوج کی اہلیت
‫ٰ
‫سے وہ واقف نہ تھا۔ اس نے فوری طور پر اس فوج کی ٹریننگ شروع کردی۔ اسے جہاں لڑنا تھا‪ ،وہ پہاڑی عالقہ تھا۔ موسم
‫سرما میں ان پہاڑوں پر برف بھی پڑتی تھی اور موسم سرما آرہا تھا۔
‫قاہرہ اور دمشق میں اسے ایک فرق نمایاں طور پر نظر آرہا تھا۔ قاہرہ میں صلیبی اور سوڈانی جاسوسوں اور تخریب کاروں کے
‫کئی خفیہ اڈے تھے اور وہاں کے لوگوں پر سلطان ایوبی کو پوری طرح بھروسہ نہیں تھا۔ دمشق میں صلیبی تخریب کار موجود

‫تھے لیکن یہاں قوم کا بچہ بچہ اس کے ساتھ تھا بلکہ اس کے اشارے پر آگ میں کود جانے کو تیار تھا۔ اس لیے یہاں کے
‫لوگوں کے متعلق یہ خطرہ بہت کم تھا کہ وہ دشمن کے جاسوسوں اور تخریب کاروں کے آلۂ کار بن جائیں گے۔ دمشق اور
‫شام کے لوگوں نے نورالدین زنگی کے زمانے میں پروقار زندگی گزاری تھی۔ اس کی وفات کے فورا ً بعد ان کا ذاتی وقار ختم
‫ہوگیا تھا۔ نئے حکمرانوں نے انہیں رعایا بنا لیا تھا۔ امیر وزیر عیش وعشرت اور ذاتی سیاست بازیوں میں مصروف ہوگئے اور
‫انتظامیہ کے حاکم لوگوں کے لیے وبال جان بن گئے تھے۔ قانون کا احترام ختم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ قحبہ خانے اور شراب
‫خانے بھی کھل گئے تھے۔ چار پانچ مہینوں میں لوگوں کا جینا حرام ہوگیا تھا۔ اناج تک کی کمی ہوگئی تھی۔ لوگوں کو پتا
‫چال کہ اناج باہر جارہا ہے۔ امراء اور وزراء نے اناج درپردہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور درپردہ باہر کہیں بھیج دیتے تھے۔
‫بازاروں میں ہر چیز کے بھائو چڑھ گئے اور لوگ تنگدستی محسوس کرنے لگے تھے۔
‫وہاں کے لوگ تنگدستی اور فاقہ کشی تک برداشت کرنے کو تیار تھے لیکن وہ قومی سطح سے گرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ
‫صلیبیوں کے ساتھ دوستی کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکتے تھے۔ وہ محسوس کرنے لگے تھے کہ ان کے حکمران انہیں دشمن کی
‫جھولی میں ڈال رہے ہیں۔ نورالدین زنگی کے دور حکومت میں جھونپڑیوں اور پھٹے پرانے خیموں میں رہنے والوں کو بھی
‫معلوم ہوتا تھا کہ سرکاری سطح پر کیا ہورہا ہے۔ جنگ کی صورت میں وہ میدان جنگ کی صورتحال سے آگاہ ہوتے تھے۔
‫زنگی کے مرتے ہی لوگوں کو اچھوت قرار دے دیا گیا تھا۔ انہیں بتا دیا گیا تھا کہ حکومت کے امور کے متعلق کسی کو
‫استفسار کی جرأت نہیں ہونی چاہیے۔ دو مسجدوں کے اماموں کو صرف اس لیے مسجدوں سے نکال دیا گیا تھا کہ وہ لوگوں
‫کو غیرت اور حریت کا وعظ سنا رہے تھے۔ خلیفہ کے محل اور دیگر سرکاری عمارتوں کے قریب آنا عوام کے لیے جرم قرار
‫دے دیا گیا تھا۔ وہی لوگ جو نورالدین زنگی کو بھی راستے میں روک لیا کرتے اور محاذوں کی خبریں سنا کرتے تھے‪ ،اب
‫معمولی سے سرکاری اہلکار کو بھی دیکھ کر ہٹ جایا کرتے تھے۔
‫لوگ گھٹن محسوس کرنے لگے تھے‪ ،جہاد کے نعرے بھی مرتے جارہے تھے۔ نعرے تو مرسکتے ہیں‪ ،جذبے اتنی جلدی نہیں مرا
‫کرتے۔ لوگوں نے چوری چھپے مل بیٹھ کر سوچنا شروع کردیا تھا کہ وہ کیا کریں۔ نورالدین زنگی کی بیوہ نے عورتوں کی ایک
‫جماعت بنا لی تھی۔ ان حاالت اور اس گھٹن میں انہیں اطالع ملی کہ صالح الدین ایوبی آگیا ہے اور فوج ساتھ الیا ہے تو
‫وہ استقبال کے لیے باہر نکل آئے اور جب انہیں پتا چال کہ خلیفہ سلطان ایوبی کو اپنی فوج کے زور سے روکنا چاہتا ہے تو
‫لوگ فوج پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ خلیفہ کے محافظ دستوں کی انہوں نے بہت بے عزتی کی تھی۔ یہی وجہ تھی
‫کہ خلیفہ المالک الصالح اور اس کے حواری امیر چوروں کی طرح دمشق سے بھاگ گئے تھے… اور اب لوگ سلطان ایوبی پر
‫جانیں فدا کرنے کو بیتاب تھے۔ لوگوں کی اس جذباتی کیفیت نے سلطان ایوبی کا کام آسان کردیا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫عورتوں میں قومی جذبہ پہلے سے ہی تھا‪ ،اب یہ جذبہ دہکتے انگارے بن گیا۔ جواں سال لڑکیوں کا ایک وفد سلطان ایوبی
‫کے پاس گیا اور یہ عرض داشت پیش کی کہ لڑکیوں کو محاذ پر فوج کے ساتھ بھیجا جائے اور انہیں عسکری تربیت دی
‫جائے۔ وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کے عالوہ لڑنا بھی چاہتی تھیں۔ سلطان ایوبی نے ان کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا…
‫'' مجھے جس روز تمہاری ضرورت پڑی‪ ،تمہیں گھروں سے نکال لوں گا۔ ابھی تمہارا محاذ گھر ہے۔ میں تمہیں گھروں کا قیدی
‫نہیں بنانا چاہتا۔ اگر تم مائیں ہو تو بچوں کو مجاہد بنائو‪ ،اگر تم بہنیں ہو تو بھائیوں کو اسالم کے پاسبان بنائو۔ میں تمہاری
‫عسکری تربیت کا بندوبست کروں گا مگر یہ نہ بھولنا کہ تمہیں گھروں کا نظام سنبھالنا ہے''… ایسی چند اور باتیں کرکے
‫اسے جیسے کچھ یاد آگیا ہو۔ اس نے کہا… ''ایک محاذ اور ہے جس پر تم کام کرسکتی ہو۔ تم نے سنا ہوگا کہ ہم نے
‫خلیفہ کے محل اور امیروں‪ ،وزیروں اور حاکموں کے گھروں سے بہت سی لڑکیاں برآمد کی ہیں۔ ان کی تعداد دو تین نہیں دو
‫تین سو ہے۔ ہم نے انہیں آزاد کردیا تھا۔ وہ یہیں کہیں شہر میں یا گردونواح میں ہوں گی۔ معلوم نہیں کہ وہ کہاں کہاں کی
‫رہنے والی تھیں اور اب کہاں کہاں خراب ہوتی پھر رہی ہیں۔ میں ان ذرا ذرا سے مسئلوں کی طرف توجہ نہیں دے سکتا۔
‫میرے سامنے بڑے بڑے اونچے پہاڑ کھڑے ہیں۔ میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں کہ لڑکیوں کو تالش کرو۔ ان میں بہت سی
‫ایسی ہوں گی جنہیں خرید کر یا اغوا کرکے حرموں میں داخل کیا گیا ہوگا۔ اب ان کا مستقبل یہی ہے کہ وہ خفیہ قحبہ
‫خانوں میں چلی جائیں گی۔ سرائے میں مسافروں کی خدمت کریں گی اور ذلیل وخوار ہوتی پھریں گی۔ ان کے ساتھ کوئی
‫شادی نہیں کرے گا۔ انہیں ڈھونڈو اور ان میں کھوئی ہوئی عزت ازسرنو پیدا کرکے ان کی شادیوں کا انتظام کرو''۔
‫لڑکیوں نے اس مہم کا آغاز کردیا۔انہوں نے اپنے گھروں کے مردوں کی مدد حاصل کرلی اور چند دنوں میں کئی ایک لڑکیاں
‫برآمد کرکے انہیں اپنے گھروں میں رکھ کر ان کی تربیت شروع کردی۔ ان بدنصیب لڑکیوں میں سحر نام کی ایک لڑکی تھی
‫جسے زبردستی رقاصہ بنایا گیا تھا۔ اسے ایک امیر کے گھر سے برآمد کرکے رہا کیا گیا تھا۔ اس نے ایک غریب سے گھرانے
‫میں پناہ لے رکھی تھی۔ اتفاق سے لڑکیوں کو پتا چال تو اسے وہاں سے لے آئیں۔ اس نے جب دیکھا کہ دمشق کی لڑکیاں
‫باقاعدہ فوج کی طرح کام کرہی ہیں تو اس کی سوئی ہوئی غیرت بیدار ہوگئی اور اس میں جذبہ انتقام بھی پیدا ہوگیا۔ اس
‫نے لڑکیوں کو بتایا کہ اس کے ساتھ ایک رقاصہ سرائے کے مالک کے پاس ہے۔ سحر سرائے کے مالک کو جانتی تھی۔ اس
‫نے بتایا کہ یہ آدمی صلیبیوں کا جاسوس ہے اس نے ایک تہہ خانہ بنا رکھا ہے جہاں فدائی (حشیشین) اور صلیبی جاسوس
‫راتوں کو جاتے ہیں۔ رقص ہوتا ہے اور شراب کے مٹکے خالی ہوتے ہیں۔ سحر کو بھی ایک رات وہاں لے جایا گیا تھا۔ اس
‫نے کہا… '' میں ان جاسوسوں کو پکڑوا سکتی ہوں لیکن میں انہیں پکڑوانا نہیں چاہتی۔ سرائے کے مالک کو ان کے ساتھ
‫اپنے ہاتھوں قتل کرنا چاہتی ہوں مگر یہ کام میں اکیلی نہیں کرسکتی۔ تم میرا ساتھ دو''۔
‫لڑکیاں تیار ہوگئیں۔ انہوں نے ایک منصوبہ تیار کرلیا۔ اس کے مطابق ایک شام سحر پردے میں سرائے کے مالک کے پاس چلی
‫گئی۔ وہ اسے دیکھ کر خوش ہوا۔ سحر نے کہا… ''میں فورا ً تمہارے پاس پہنچ جاتی لیکن شہر میں پکڑ دھکڑ ہورہی تھی۔
‫مجھے ڈر تھا کہ میں تمہارے پاس آئی تو تم بھی پکڑے جائو گے۔ میں ایک غریب سے گھرانے میں یتیم لڑکی بن کر چھپی
‫رہی۔ اب حاالت صاف ہوگئے ہیں۔ تم پر کسی نے شک نہیں کیا‪ ،اس لیے تمہارے پاس آگئی ہوں''۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:06
‫قسط نمبر۔‪69
‫اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫تم پر کسی نے شک نہیں کیا‪ ،اس لیے تمہارے پاس آگئی ہوں''۔ سرائے کا مالک اسے اپنی رقاصہ کے پاس لے گیا۔ وہ بھی
‫بہت خوش ہوئی۔ اس شام کے بعد وہ چند راتیں وہیں رہی۔ اس نے دیکھا کہ خلیفہ اور عیاش امراء کے چلے جانے اور

‫سلطان ایوبی کے اتنے سخت احکام کے باوجود سرائے کے تہہ خانے میں رونق وہی تھی۔ اس میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
‫مسافر اپنے کمروں میں سو جاتے تھے تو تہہ خانے کی دنیا آباد ہو جاتی تھی۔ وہاں اب بھی صلیبی جاسوس اور فدائی آتے
‫تھے۔ سحر ان کا دل لبھاتی رہی اور راتوں کو ناچتی اور انہیں شراب پالتی رہی۔ یہ لوگ مسافروں کے بہروپ میں سرائے
‫میں آتے تھے۔ سحر نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ رات کو سرائے کے باہر پہرے کا انتظام بھی ہوتا ہے تاکہ کوئی خطرہ نظر
‫آئے تو تہہ خانے تک قبل از وقت اطالع پہنچا دی جائے۔ سحر کو وہاں قید کرلیا گیا تھا۔ وہ اکیلی باہر نہیں جاسکتی تھی۔
‫وہ دل پر پتھر رکھ کر وہاں ناچتی رہی۔ وہ مایوس ہوگئی تھی کہ وہ انتقام لینے آئی تھی مگر قید ہوگئی۔ اس نے کسی پر
‫اپنی مایوسی کا اظہار نہ ہونے دیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ وہ لوگ اس پر اعتبار کرنے لگے۔ بعض راز کی باتیں بھی اس
‫کے سامنے کرگزرتے تھے۔
‫ایک رات تہہ خانے کی محفل میں ایک صلیبی جاسوس نے سرائے کے مالک سے کہا… ''ہم ان دو لڑکیوں سے اکتا گئے
‫ہیں‪ ،کوئی نئی چیز الئو''۔
‫سحر اور دوسری رقاصہ بھی وہیں تھی۔ دوسری رقاصہ کو تو افسوس ہوا ہوگا‪ ،سحر کو امید کی ایک کرن نظر آگئی۔ سرائے
‫کے مالک نے کہا کہ ''صالح الدین ایوبی نے ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ ا ب دمشق میں کوئی رقاصہ یا کوئی نئی چیز
‫نہیں مل سکے گی''۔
‫مل کیوں نہیں سکے گی؟'' سحر نے کہا… ''جن ناچنے گانے والیوں کو امیروں کے گھروں سے پکڑ کر آزاد کردیا گیا تھا‪''،
‫وہ ابھی یہیں ہیں۔ میری طرح وہ بھی چھپی ہوئی ہیں اگر تم لوگ مجھے دو تین روز کے لیے باہر جانے دو تو میں انہیں
‫پردہ دار خواتین کے بھیس میں یہاں لے آئوں گی''۔
‫سحر کو اس وقت تک قابل اعتماد سمجھ لیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے اجازت دے دی اور کچھ رقم بھی دے دی۔ صبح ہوئی
‫تو سحر پردے میں باہر نکل گئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫چار پانچ روز بعد سرائے کے چور دروازے سے آٹھ مستورات داخل ہوئیں اور سرائے کے مالک کے کمرے میں چلی گئیں۔
‫مستورات نے برقعہ نما لبادے اوڑھ رکھے تھے جن میں ان کے چہرے چھپے ہوئے تھے۔ کمرے میں آکر سب نے نقاب اٹھا
‫دئیے۔ سرائے کے مالک نے آنکھیں مل کر انہیں دیکھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب جوان لڑکیاں تھیں اور ایک سے
‫ایک بڑھ کر خوبصورت۔ ان کے ساتھ سحر تھی۔ اس نے بتایا کہ ان میں سے کون کس کے پاس تھی اور یہ بھی بتایا کہ
‫رقص دیکھ کر اور گانا سن کر تم پر مدہوشی طاری ہوجائے گی۔ اس نے کہا… ''آج رات اپنے تمام دوستوں کو تہہ خانے میں
‫بالئو''۔
‫سرائے کا مالک پاگلوں کی طرح اٹھ دوڑا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو رات تہہ خانے میں آنے کو کہنے گیا تھا۔ سحر لڑکیوں کو
‫دوسری رقاصہ کے پاس لے گئی۔ وہ رقاصہ انہیں دیکھ کر حیران ہوئی کہ وہ ان میں سے کسی کو بھی نہیں جانتی تھیں۔ اس
‫رقاصہ نے ایک لڑکی کے ساتھ اپنی مخصوص اصطالحوں میں بات کی تو وہ لڑکی ذرا جھینپ گئی۔ سحر نے اسے کہا… ''یہ
‫ڈری ہوئی ہیں‪ ،میں انہیں زمین کے نیچے سے نکال کر الئی ہوں۔ رات کو ان کا فن دیکھ کر تم سمجھ جائو گی کہ یہ کون
‫ہیں اور کہاں سے آئی ہیں''۔
‫وہ رقاصہ مطمئن نہ ہوئی۔ اسے کچھ شک ہوتا یا نہ ہوتا‪ ،اسے یہ افسوس ضرور تھا کہ ان لڑکیوں کے سامنے اس کی
‫قدروقیمت ختم ہوگئی ہے۔ اس نے سحر کو اپنے کمرے میں لے جا کر کہا… ''معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا دماغ خراب ہوگیا
‫ہے۔ یہ نئی لڑکیاں ہیں اور خوبصورت بھی۔ ان کے مقابلے میں ہم دونوں بہت ہی پرانی نظر آئیں گی۔ ہماری قیمت اتنی گر
‫جائے گی کہ یہ لوگ ہمیں پرانے سامان کی طرح اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔ تم انہیں کہاں سے لے آئی ہو؟ کیوں لے آئی
‫ہو تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے''۔
‫میں دراصل اپنی مشقت کم کرنا چاہتی ہوں''۔ سحر نے جواب دیا… ''ان کے آجانے سے ہم دونوں کا کام کم ہوجائے ''
‫گا''۔
‫دوسری رقاصہ اس کی یہ دلیل نہیں مان رہی تھی۔ سحر کے پاس اور کوئی دلیل نہیں تھی جس سے وہ اسے مطمئن کرتی۔
‫دونوں میں تکرار ہوگئی۔ دوسری رقاصہ غصے میں آگئی اور بولی… ''میں سرائے کے مالک سے کہوں گی کہ یہ لڑکیاں ناچنے
‫والی نہیں‪ ،یہ عصمت فروش لڑکیاں ہیں جنہیں اس نازک جگہ نہیں آنا چاہیے‪ ،کیونکہ یہ تہہ خانے کے راز کو خطرے میں ڈال
‫سکتی ہیں۔ ان نوجوان لڑکیوں کا کیا بھروسہ؟''… یہ رقاصہ بہت تجربہ کار اور چاالک تھی۔ اس نے سحر کی زبان بند کردی
‫پھر بھی سحر اس کی بات نہیں مان رہی تھی۔ اس رقاصہ نے آخر یہ دھمکی دی… ''اگر تم انہیں یہاں سے چلتا نہیں کرو
‫گی تو میں یہاں آنے والوں کو یہ کہہ کر یہاں آنے سے روک دوں گی کہ تم انہیں گرفتار کرانے کے لیے ان لڑکیوں کا جال
‫پھیال رہی ہو''۔
‫سحر پریشان ہوگئی۔ دوسری رقاصہ غصے میں باہر جانے کو اٹھی اور دروازے کی طرف چلی۔ سحر نے بڑی پھرتی سے اپنی
‫قمیض کے نیچے ہاتھ ڈاال اور کمر بند سے خنجر نکال کر دوسری رقاصہ کی پیٹھ میں گھونپ دیا۔ وہ زخم کھا کر گھومی تو
‫سحر نے خنجر اس کے دل میں اتار دیا اور دانت پیس کر کہا… ''میں تجھے قتل نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بدبخت تجھے بھی
‫میرے ہی ہاتھوں مرنا تھا''… اس نے اسی کے کپڑوں سے خنجر صاف کیا۔ رقاصہ کی الش پر اس کے پلنگ سے بستر اٹھا
‫کر پھینک دیا اور دروازہ باہر سے بند کرکے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اپنے خون آلود کپڑے بدلے اور خنجر کمربند میں اڑس
‫کر قمیض کے نیچے چھپا دیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫رات سرائے کے مالک کے عالوہ چھ آدمی تہہ خانے کے اس کمرے میں آئے جہاں رقص اور شراب کا دور چال کرتا تھا۔
‫سرائے کے مالک نے سحر سے دوسری رقاصہ کے متعلق پوچھا تو سحر نے نفرت کے لہجے میں کہا… ''وہ ان لڑکیوں کو
‫دیکھ کر جل بھن گئی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ان سب سے زیادہ حسین سمجھتی ہے۔ آج رات وہ یہاں نہ ہی آئے تو اچھا
‫ہے‪ ،محفل کے رنگ میں بھنگ ڈالے گی''۔
‫لعنت بھیجو!'' سرائے کے مالک نے کہا… ''کل اس سے نمٹ لوں گا۔ اسے پڑی رہنے دو‪ ،اپنے کمرے میں''۔''
‫سحر نے ان چھ آدمیوں سے کہا… ''ان لڑکیوں کے پاس اچھے کپڑے نہیں ہیں۔ ان کا لباس تم سب کے ذمے ہیں۔ آج رات
‫وہ جن کپڑوں میں ہیں‪ ،انہی میں تمہارے سامنے آئیں گی''۔
‫انہوں نے جب لڑکیوں کو دیکھا تو بھول گئے کہ انہوں نے کیسے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ لڑکیاں چہروں سے پیشہ ور ناچنے

‫والیاں لگتی ہی نہیں تھیں۔ ان کے چہرے تروتازہ اور معصوم سے تھے۔ ان کے بالوں کو بھی نہیں سجایا گیا تھا۔ ان کی
‫کوئی حرکت ظاہر نہیں کرتی تھی کہ یہ پیشہ ور ہیں۔ ان کا انداز سیدھا سادا سا تھا۔ سحر نے انہیں کہا کہ اپنے مہمانوں
‫کو شراب پیش کرو۔ وہ جب صراحیوں سے پیالوں میں شراب انڈیلنے لگیں تو ایک آدمی نے ایک لڑکی کو چھیڑا۔ لڑکی بدک
‫کر پیچھے ہٹ گئی۔ اس کا چہرہ الل سرخ ہوگیا۔
‫''سحر!'' اس آدمی نے کہا… ''انہیں کہاں سے الئی ہو؟ یہ کس کے پاس تھیں؟''
‫سحر نے قہقہہ لگایا اور بولی… ''اپنا فن بھول گئی ہیں۔ یہ صالح الدین ایوبی کا خوف ہے جو ان سب پر طاری ہے۔ ابھی
‫کھل جائیں گی''۔
‫صالح الدین ایوبی!'' ایک نے طنزیہ کہا… ''ہمارے جال میں وہ اب آیا ہے۔ ہم اسے اسی کے امیروں اور ساالروں سے ''
‫مروائیں گے''… اس نے اپنے ایک ساتھی کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا… ''اس کا خنجر صالح الدین ایوبی کے خون کا
‫پیاسا ہے۔ جانتی ہونا اسے؟ یہ حسن بن صباح کی امت سے ہے۔ فدائی!'' اس نے ایک لڑکی کے گال پر ہلکی سی تھپکی
‫دے کر کہا… ''ایوبی کا خوف دل سے اتار دو۔ وہ چند دنوں کا مہمان ہے''۔
‫تھوڑی سی دیر بعد شراب رنگ دکھانے لگی اوررقص کی فرمائش ہوئی۔ لڑکیاں صراحیوں اور پیالوں کو ادھر ادھر
‫کرتی اور بھرتی ان چھ آدمیوں کے پیچھے ہوگئیں۔ اچانک سب نے قمیضوں کے نیچے ہاتھ ڈالے‪ ،خنجر نکالے‪ ،سحر نے بھی
‫خنجر نکال لیا تھا۔ اس نے سرائے کے مالک پر وار کیا اور دوسریوں نے چھ آدمیوں کو پے در پے وار کرکے لڑھکا دیا۔ کسی
‫‪..کو بھی سنبھلنے کی مہلت نہ ملی۔ سحر ہر ایک پر وار پہ وار کیے جارہی تھی‪ ،جیسے پاگل ہوگئی ہو
‫اس نے انتقام لے لیا۔
‫یہ لڑکیاں شریف گھرانوں کی بیٹیاں تھیں جو سلطان ایوبی کے پاس عرض داشت لے کر گئی تھیں کہ وہ مردوں کے دوش
‫بدوش لڑنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ہی سحر کو ایک غریب گھرانے سے برآمد کیا تھا۔ اس نے جب لڑکیوں کو جنگی پیمانے پر
‫کام کرتے دیکھا تو اسے سرائے کے مالک کا خیال آگیا تھا۔ اس نے لڑکیوں کو بتا دیا تھا کہ سرائے کا تہہ خانہ جاسوسوں
‫اور تخریب کاروں کا اڈا ہے۔ ان لڑکیوں کی مدد سے وہ انہیں پکڑوانا چاہتی تھی مگر وہاں گئی تو سرائے کے مالک نے اس
‫کا باہر نکلنا بند کردیا۔ جاسوسوں کی اس فرمائش پر کہ نئی لڑکیاں الئو‪ ،اسے موقع مل گیا۔ اسے نئی لڑکیاں النے کی اجازت
‫مل گئی۔ اس نے ان لڑکیوں سے ذکر کیا اور کہا کہ وہ نئی لڑکیاں بن کر چلیں اور ان آدمیوں کو ختم کیا جائے۔ لڑکیاں تیار
‫ہوگئیں‪ ،انہوں نے سکیم بنائی اور اس کے ساتھ چلی گئیں۔ انہوں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ ان آدمیوں کو اپنے جال میں
‫پھانس کر گرفتار کرایا جائے۔ اگر انہیں گرفتار کرایا جاتا تو ان سے بڑی قیمتی معلومات حاصل کی جاسکتی تھی اور ان سے
‫نشاندہی کروا کے ان کے کئی اور ساتھی پکڑائے جاسکتے تھے مگر لڑکیاں جوشیلی اور جذباتی تھیں۔ وہ اتنا ہی جانتی تھیں
‫کہ دشمن کو ہالک کیا جاتا ہے۔ وہ جذبۂ جہاد کی تسکین کرنا چاہتی تھیں اور سحر کا سینہ جذبۂ انتقام سے پھٹ رہا تھا۔
‫وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کو بیتاب تھی۔ اس نے دوسری رقاصہ کو اسی لیے قتل کیا تھا کہ ان لڑکیوں کی اصلیت
‫بے نقاب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ ان کی اصلیت تو بے نقاب ہو ہی چلی تھی۔ انہیں اس قسم کی غلیظ محفل کے طور
‫طریقوں اور شراب پالنے کے انداز سے واقفیت ہی نہیں تھی۔ انہوں نے بروقت خنجر نکال لیے اور اپنے مقصد میں کامیاب
‫ہوگئیں۔
‫وہ سب چور دروازے سے نکلیں اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئیں۔ ان کی رپورٹ پر کچھ دیر بعد فوج نے سرائے پر چھاپہ مارا
‫اور تہہ خانے میں گئے‪ ،وہاں الشیں پڑی تھیں۔ تہہ خانے کے کمروں کی تالشی لی گئی۔ ایک کمرے سے دوسری رقاصہ کی
‫الش برآمد ہوئی اور سرائے کے مالک کے کمرے سے کئی ایک ثبوت ملے کہ یہ لوگ جاسوس اور تخریب کار تھے… مگر آنے
‫واال وقت سلطان صالح الدین ایوبی اور سلطنت اسالمیہ کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے خطرے الرہا تھا اور سلطان ایوبی دن
‫رات جنگی منصوبہ بندی اور فوج کی ٹریننگ میں مصروف رہتا تھا۔
‫یہ قصہ یہی ختم ہوا
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:06
‫قسط نمبر۔‪70‫ناگوں والے قلعے کے قاتل
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫دمشق میں جب سلطان صالح الدین ایوبی داخل ہوا تھا تو اس کے ساتھ سات سو سوار تھے۔ تمام مورخین نے یہی تعداد
‫لکھی ہے لیکن تاریخ سلطان ایوبی کے ان جانباوزں سے بے خبر ہے جن میں سے کوئی تاجروں کے بہروپ میں‪ ،کوئی بے
‫ضرر مسلمانوں کے بھیس میں اور کوئی شامی فوج کے معمولی معمولی سپاہیوں کے لباس میں ایک ایک بھی‪ ،دو دو اور چار
‫چار کی ٹولیوں میں بھی دمشق میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں زیادہ تر سلطان ایوبی کے خاموش حملے سے پہلے ہی یہاں
‫آگئے تھے اور کچھ اس وقت داخل ہوئے تھے جب دمشق کے دروازے سلطان ایوبی کے لیے کھل گئے تھے۔ یہ جاسوسوں کا
‫دستہ تھا جنہیں جانباز جاسوس کہا جاتا تھا‪ ،کیونکہ ہر قسم کی لڑائی‪ ،ہر ہتھیار کے استعمال‪ ،ہر طرح کی تباہ کاری کے ماہر
‫تھے اور دماغی لحاظ سے مستعد اور ذہین۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ جان کی پروا نہیں کرتے تھے۔ ایسے
‫ایسے خطرے مول لیتے تھے جن کے تصور سے ہی عام سپاہی بدک جاتے تھے۔ ایسا جذبہ صرف ٹریننگ سے پیدا نہیں ہوتا۔
‫اس کام کے لیے ایسے جوان منتخب کیے جاتے تھے جن کے دلوں میں اپنے مذہب کا عشق اور دشمن کی نفرت بھری ہوتی
‫تھی۔ یہ جانباز جنونی قسم کے مسلمان ہوتے تھے۔ سلطان ایوبی نے ایسے جانبازوں کے کئی دستے تیار کررکھے تھے۔
‫سلطان ایوبی جب سات سو سواروں کے ساتھ دمشق کو روانہ ہوا تھا تو اس نے منتخب لڑاکا جاسوسوں کا ایک دستہ خصوصی
‫ہدایات کے ساتھ دمشق کو روانہ کردیا تھا۔ ان میں ایک ہدایت یہ تھی کہ اگر دمشق کی فوج مقابلے پر اتر آئے تو یہ
‫جاسوس شہرکے اندر اپنی سمجھ اور ضرورت کے مطابق تخریب کاری کریں اور وہ دروازے کھولنے کی بھی کوشش کریں۔ ان
‫میں ایسے بھی تھے جنہیں شہریوں میں دہشت‪ ،بھگدڑ‪ ،افراتفری اور افواہیں پھیالنے کی ٹریننگ دی گئی تھی۔ ان تمام
‫جانبازوں کی تعداد دو اور تین سو کے درمیان تھی۔ اس وقت کے واقعہ نگاروں نے صحیح تعداد نہیں لکھی۔ صرف یہ لکھا ہے
‫کہ سلطان ایوبی کی آمد کے وقت دمشق میں دو تین سو جاسوس اور تباہ کار موجود تھے۔ ایک فرانسیسی واقعہ نگار نے
‫صلیبی جنگوں کے حاالت اور واقعات قلم بند کرتے ہوئے سلطان ایوبی کے لڑاکا جاسوسوں کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔ اس
‫نے ان جانبازوں کے اسالمی جذبے کو مذہبی جنون بھی کہا ہے کہ یہ بھی کہا کہ یہ جاسوس نفسیاتی مریض تھے۔ اس
‫فرانسیسی نے تو مذہبی جنون کی توہین کی ہے کہ اسے نفسیاتی مریض کہا ہے لیکن یہ نفسیاتی کیفیت ہی تھی۔ مسلمان

‫صاحب ایمان صرف اس صورت میں بنتا ہے۔ جب مذہب اس کی نفسیات کا جز بن جاتا ہے۔
‫ان جانبازوں کو جاسوسی اور تباہ کاری کی ٹریننگ علی بن سفیان اور اس کے دو نائبین حسن بن عبداللہ اور زاہدان نے دی
‫تھی اور معرکہ آرائی کی ٹریننگ تجربہ کار فوجیوں کے ہاتھوں ملی تھی۔ اب جبکہ سلطان ایوبی دمشق میں تھا اور علی بن
‫سفیان قاہرہ میں تھا‪ ،وہاں کے اندرونی حاالت پوری طرح نہیں سنبھلے تھے۔ سلطان ایوبی کی غیرحاضری‪ ،دمشق پر اس کے
‫قبضے اور خالفت کی معزولی میں مصر میں صلیبی تخریب کاری کا خطرہ بڑھ گیا تھا‪ ،اس لیے علی بن سفیان کو وہیں رہنے
‫دیا گیا تھا۔ دمشق میں اس کا ایک نائب حسن بن عبداللہ آیا تھا۔ وہی جاسوس جانبازوں کے دستے کا کمانڈر تھا۔ دمشق پر
‫سلطان ایوبی نے قبضہ کرلیا تو وہاں کی بیشتر فوج ساالر توفیق جواد کی زیرکمان سلطان ایوبی سے مل گئی تھی۔ باقی فوج
‫اور خلیفہ کے باڈی گارڈ دستے‪ ،خلیفہ اور اس کے حواری امراء کے ساتھ دمشق سے بھاگ گئے تھے۔ توقع تھی کہ سلطان
‫ایوبی انہیں گرفتار کرنے کے لیے فوج ان کے تعاقب میں بھیجے گا لیکن اس نے ایسی کوئی حرکت نہ کی۔ دو تین ساالروں
‫نے اسے کہا بھی کہ ان امراء وغیرہ کو پکڑنا ضروری ہے جو بھاگ گئے ہیں۔ وہ کہیں اکٹھے ہوجائیں گے اور اطمینان سے
‫سلطان ایوبی کے خالف جنگی تیاری کریں گے۔
‫اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ صلیبیوں سے بھی مدد مانگیں گے جو انہیں مل جائے گی''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''
‫''لیکن میں اندھیرے میں کبھی نہیں چال۔ پہلے یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ گئے کہاں ہیں اور ان کا مرکز کون سا بنے گا۔ آپ
‫لوگ پریشان نہ ہوں‪ ،میری آنکھیں اور میرے کان بھاگنے والوں کے ساتھ ہی چلے گئے ہیں۔ وہ بدبخت اتنی جلدی حملہ کرنے
‫کے لیے تیار نہیں ہوسکتے۔ میں صرف یہ دیکھ رہا ہوں کہ صلیبی کیا کریں گے۔ وہ مصر پر بھی یلغار کرسکتے ہیں۔ وہ شام
‫پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ وہ شاید اس انتظار میں ہیں کہ میں کیا کروں گا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ میری چال کے بعد اپنی چال
‫چلنا چاہتے ہوں۔ آپ فوج کو میری بتائی ہوئی تنظیم میں الکر ان کی تربیت اور جنگی مشقیں جاریں رکھیں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی نے جنہیں اپنی آنکھیں اور کان کہا تھا وہ یہی جاسوس تھے جو مصر سے یہاں آئے تھے۔ ان میں سے کچھ
‫ایسے بھی تھے جو انہی عالقوں کے رہنے والے تھے‪ ،جب الملک الصالح اور اس کے امراء اور وزراء دمشق سے بھاگے تو ان
‫کے ساتھ سلطان ایوبی کے بہت سے جاسوس بھی چلے گئے تھے۔ بھاگنے والوں کی تعداد کم نہیں تھی۔ تمام امراء اور وزراء
‫اور کئی ایک جاگیرداروں اور حاکموں کا عملہ بھی تھا‪ ،فوج کی بھی کچھ نفری تھی اور بڑوں کے خوشامدی لوگ بھی تھے۔
‫یہ تتر بتر ہوکر بھاگے تھے۔ ان کے ساتھ جاسوسوں کا چلے جانا آسان تھا۔ یہ جاسوس اس مشن پر ساتھ گئے تھے کہ
‫دیکھیں الصالح اور اس کے پالنے والے امراء کیا جوابی کارروائی کریں گے اور انہیں صلیبیوں کی کتنی‪ ،کچھ اور کیسی مدد
‫حاصل ہوگی۔ یہ جاسوس جو دمشق سے باہر گئے تھے حسن بن عبداللہ کے خصوصی منتخب افراد تھے۔ وہ اس صورتحال کے
‫سیاسی پس منظر کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔
‫ان میں ایک ماجد بن محمد حجازی تھا۔ خوبرو جوان‪ ،جسم نہایت موزوں اور گٹھا ہوا اور اسے خدا نے زبان کی ایسی
‫چاشنی دی تھی جس میں طلسماتی اثر تھا۔ تقریبا ً ہر جاسوس کی شکل وصورت اور اوصاف ایسے ہی تھے لیکن ماجد بن
‫محمد ان سب سے برتر لگتا تھا۔ ان جاسوسوں کی اتنی اچھی صحت کا راز غالبا ً یہ تھا کہ انہیں کسی قسم کے نشے کی
‫عادت نہیں تھی اور وہ عیاشی کو بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کے اخالق میں جو پختگی تھی‪ ،اس نے ان میں فوالد
‫جیسی قوت ارادی پیدا کررکھی تھی۔ ان کا قول وفعل مذہب کا پابند تھا۔ ماجد حجازی اپنے ساتھیوں کی طرح اس فوالدی
‫کردار کا نمونہ تھا اور روح کی جو پاکیزگی تھی اس نے اس کے چہرے کو حسین بنا رکھا تھا۔ وہ دمشق سے بھاگا جارہا تھا۔
‫اعلی نسل کا گھوڑا تھا۔ اس کے پاس تلوار تھی اور گھوڑے کی زین کے ساتھ چمکتی ہوئی انی والی
‫اس کے نیچے عرب کی
‫ٰ
‫برچھی تھی۔
‫وہ ویرانے میں اکیال جارہا تھا۔ اس نے حلب کی سمت جاتے ہوئے بہت سے لوگوں کو دیکھا تھا۔ اسے کوئی ایک بھی ایسا
‫نظر نہیں آیا تھا جس کے ساتھ وہ جائے۔ وہ اپنے لیے کوئی ہمسفر ڈھونڈ رہا تھا جو اس کے مشن کے لیے سود مند ہوسکے۔
‫اعلی افسر ہوسکتا تھا یا کوئی ایسا امیر جسے الملک الصالح کا قرب حاصل ہوتا۔ اس کی سراغ
‫ایسا ہمسفر فوج کا کوئی
‫ٰ
‫رساں آنکھیں الصالح کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اس نے چند ایک لوگوں سے پوچھا بھی تھا کہ وہ کس طرف گیا ہے مگر اسے
‫الصالح کا کوئی سراغ نہیں مال تھا۔ اسے معلوم تھا کہ الملک الصالح نورالدین زنگی مرحوم کی عمر یا اس کی خوبیوں جیسا
‫کوئی آدمی نہیں بلکہ وہ گیارہ سال کی عمر کا بچہ ہے جسے مفادپرست امراء نے اپنے مقاصد کے لیے سلطنت کی گدی پر
‫بٹھایا ہے اور عمال ً حکمران یہ امراء خود بنے ہوئے ہیں۔ وہ تصور میں السکتا تھا کہ وہ بچہ اکیال نہیں جارہا ہوگا۔ اس کے
‫ساتھ امیروں‪ ،وزیروں اور درباریوں کا قافلہ ہوگا اور اس قافلے کے ساتھ زروجواہرات اور مال ودولت سے لدے ہوئے اونٹ ہوں
‫گے۔
‫ماجد حجازی نے سوچا تھا کہ یہ قافلہ اسے نظر آگیا تو وہ الملک الصالح کا مرید بن کر قافلے میں شامل ہوجائے گا۔ یہ
‫کامیابی حاصل ہونے کی صورت میں اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور سینوں سے راز کس طرح نکالنے ہیں
‫مگر اسے اپنے شکار کا کوئی سراغ نہ مال۔ آگے چٹانی عالقہ آگیا۔ جہاں ہریالی بھی تھی۔ ذرا سستانے کے لیے وہ چٹانوں
‫کے اندر چال گیا… ایک جگہ اسے دو گھوڑے نظر آئے۔ ان سے ذرا پرے ہری بھری گھاس پر ایک آدمی لیٹا ہوا تھا اور اس
‫کے ساتھ ایک عورت تھی۔ وہ سوئے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ وہ ذرا فاصلے پر رک گیا اور گھوڑے سے اتر کر ایک درخت کے
‫نیچے لیٹ گیا۔ ایک گھوڑا ہنہنایا تو وہ آدمی اٹھ بیٹھا۔ لباس سے وہ اونچے درجے کا فرد معلوم ہوتا تھا۔ اس نے ماجد
‫حجازی کو دیکھا تو اسے اپنے پاس بالیا۔ ماجد اس کے پاس چال گیا اور اس سے ہاتھ مالیا۔ عورت بھی اٹھ بیٹھی۔ وہ
‫عورت نہیں‪ ،جوان لڑکی تھی اور بہت خوبصورت تھی۔ اس کے گلے کا ہار بتا رہا تھا کہ یہ لوگ معمولی حیثیت کے نہیں۔
‫اس آدمی کی عمر چالیس کے لگ بھگ تھی اور لڑکی پچیس سال سے کم لگتی تھی۔ ماجد نے ان دونوں کو ایک نظر میں
‫بھانپ لیا۔
‫''تم کون ہو؟'' اس آدمی نے ماجد سے پوچھا… ''دمشق سے آئے ہو؟''
‫میں دمشق سے ہی آیا ہوں'' ماجد نے جواب دیا… ''لیکن میں یہ نہیں بتا سکتا کہ میں کون ہوں۔ آپ کیسے سفر میں''
‫''ہیں؟
‫غالبا ً ہم ایک ہی سفر کے مسافر ہیں''۔ اس آدمی نے مسکرا کر کہا… ''تم شریف آدمی معلوم ہوتے ہو''۔''
‫کیا آپ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ میں شریف ہوں یا بدمعاش؟'' ماجد حجازی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس نے کہا… ''
‫'' جس کے ساتھ اتنی حسین لڑکی ہو اور لڑکی کے گلے میں اتنا قیمتی ہار ہو اور ساتھ مال اور دولت بھی ہو‪ ،وہ ہر راہی

‫کو بدمعاش اور ڈاکو سمجھتا ہے۔ میں ڈاکو نہیں ہوں۔ آپ کو ڈاکوئوں سے بچا ضرور سکتا ہوں‪ ،خواہ میری جان چلی
‫جائے''… اس کے دماغ میں اچانک ایک بات آگئی ہو جو اس نے تیر کی طرح منہ سے نکال دی۔ اس نے کہا… ''دمشق
‫سے بھاگے ہوئے کچھ لوگ ڈاکوئوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ میں نے راستے میں دو الشیں بھی دیکھی ہیں۔ یہ موقعہ ڈاکوئو ں
‫کے لیے نہایت اچھا ہے کہ لوگ مال ودولت کے ساتھ دمشق سے بھاگ رہے ہیں''۔
‫لڑکی کا اتنا دلکش رنگ اڑ گیا۔ وہ اپنے آدمی کے ساتھ لگ گئی۔ کچھ ایسی ہی حالت آدمی کی ہوگئی۔ ماجد حجازی جان
‫گیا کہ یہ کون ہیں اور کیا ہیں۔ ان پر خوف وہراس غالب کرکے اس نے اپنی زبان کے کرشمے دکھانے شروع کردئیے۔ اس نے
‫صالح الدین ایوبی کو برا بھال کہا اور سلطان الملک الصالح کی مدح سرائی یوں کی جیسے وہ زمین وآسمان کا واحد برگزیدہ
‫انسان ہو۔ ماجد نے اس پر دہشت کا غلبہ اور زیادہ پختہ کرنے کے لیے کہا… ''صالح الدین ایوبی نے دمشق سے بھاگے ہوئے
‫آپ جیسے لوگوں کو لوٹنے اور ان سے جوان بیٹیاں اور بیویاں چھیننے کے لیے اپنی فوج کے دستے ادھر بھیج دئیے ہیں… یہ
‫''لڑکی آپ کی کیا لگتی ہے؟
‫یہ میری بیوی ہے''۔''
‫اور دمشق میں آپ کتنی بیویاں چھوڑ آئے ہیں؟'' ماجد حجازی نے پوچھا۔''
‫چار''۔''
‫خدا کرے یہ پانچوں خیریت سے آپ کے ساتھ منزل پر پہنچ جائیں''۔ ماجد نے کہا۔''
‫''ایوبی کی فوج کتنی دور ہے؟'' اس آدمی نے پوچھا… ''تم نے سپاہیوں کو لوٹ مار کرتے دیکھا ہے؟''
‫ہاں دیکھا ہے''۔ ماجد حجازی نے کہا… ''اگر میں آپ سے کہوں کے میں بھی صالح الدین ایوبی کی فوج کا سپاہی ہوں''
‫''تو آپ کیا کریں گے؟
‫وہ کانپنے لگا۔ مسکرایا بھی مگر مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ اس نے کہا… ''میں تمہیں کچھ دے دوں گا اور تم سے التجا کروں
‫گا کہ مجھے کنگال نہ کرو اور میں تم سے یہ التجا بھی کروں گا کہ اس بے چاری کو میرے ساتھ رہنے دو''۔
‫ماجد حجازی نے قہقہہ لگایاا ورکہا… ''دولت اور عورت سے زیادہ محبت انسان کو بزدل اور کمزور بنا دیتی ہے اگر مجھے
‫کوئی کہے کہ جو کچھ پاس ہے‪ ،وہ میرے حوالے کردو تو میں تلوار کھینچ کر اسے کہوں گا کہ پہلے مجھے قتل کرو‪ ،پھر
‫میری الش سے تمہیں جو کچھ ملے وہ لے جانا… محترم! مجھے یہ بتائیں کہ آپ کو ن ہیں؟ دمشق میں آپ کیا تھے؟ اور
‫اب آپ کہاں جارہے ہیں؟ اگر آپ نے سچ بتا دیا تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو مجھ سے زیادہ مخلص اور جانباز محافظ نہ ملے۔
‫معلوم ہوتا ہے کہ ہماری منزل ایک ہے۔ میں ایوبی کی فوج کا سپاہی ضرور ہوں لیکن بھگوڑا ہوں''۔
‫اس آدمی نے اپنے متعلق سب کچھ بتا دیا۔ دمشق کے مضافاتی عالقے کا جاگیردار تھا۔ اسے سرکار کے دربار میں ایسی
‫سرکاری حیثیت بھی حاصل تھی کہ سلطنت کی شہری اور جنگی پالیسیوں میں بھی اس کا عمل دخل تھا۔ سلطان کے باڈی
‫گارڈ دستے کے زیادہ تر سپاہی اسی کے دئیے ہوئے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ وہ سلطنت کے باالئی حلقے کا
‫اہم قسم کا درباری تھا۔ اسے گھر سے نکلتے ذرا دیر ہوگئی تھی۔ الصالح نے اپنے تمام حاشیہ برداروں سے کہا تھا کہ وہ
‫حلب پہنچ جائیں۔ چنانچہ یہ جاگیردار حلب جارہا تھا۔ اس نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ بہت سے زروجواہرات ساتھ لے جارہا
‫ہے۔ چار بیویاں پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ یہ چونکہ سب سے چھوٹی اور خوبصورت تھی اس نے بڑے افسوس کے ساتھ ذکر کیا کہ
‫اس کے محافظ اور تمام مالزم دمشق میں ہی اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ انہوں نے اس کا گھر لوٹ لیا ہوگا۔ یہ اس کی
‫اپنی ہمت تھی… کہ وہ بروقت اپنا بیش قیمت خزانہ لے کر نکل آیا۔ وہ اب الصالح کے پاس جارہا تھا۔
‫ماجد حجازی کو اس کی داستان سن کر خوشی ہوئی۔ یہ جاگیردار اس کے کام کا آدمی تھا۔ اس کے ساتھ وہ حلب کے دربار
‫تک پہنچ سکتا تھا۔ اس نے اپنے متعلق بتایا کہ وہ اس سوار دستے کا کمان دار تھا جو سلطان الدین ایوبی اپنے ساتھ دمشق
‫الیا تھا لیکن وہ الصالح کا مرید ہے۔ اس لیے وہ اس کے خالف ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس عقیدت مندی کا نتیجہ ہے کہ وہ
‫ایوبی کی فوج سے بھاگ آیا ہے اور سلطان کے دربار میں جارہا ہے۔ اگر اس نے پسند کیا تو وہ اس کے محافظ دستے میں
‫شامل ہوجائے گا۔
‫اگر میں ابھی سے تمہیں اپنا محافظ بنا لوں تو تمہاری اجرت کی شرائط کیا ہوں گی؟'' اس نے ماجد حجازی سے پوچھا۔''
‫'' میں جیسے دمشق میں بادشاہ تھا‪ ،اسی طرح وہاں بھی بادشاہ ہوں گا‪ ،جہاں جارہا ہوں۔ میرے محافظ بن کر تمہیں افسوس
‫نہیں ہوگا''۔
‫اگر آپ مجھے اپنا محافظ بنائیں گے تو آپ کو فوجی مشیر کی ضرورت نہیں پڑے گی''۔ ماجد حجازی نے اسے ''
‫کہا…''میری اجرت آپ میری قابلیت دیکھ کر خود ہی مقرر کردیں گے۔ میں ابھی کچھ نہیں بتائوں گا''۔
‫ماجد حجازی اس کا باڈی گارڈ بن گیا۔ یوں کہیے کہ ایک درباری جاگیردار کے ساتھ سلطان ایوبی کا ایک جاسوس لگ گیا۔
‫اس جاگیردار کے پاس بے اندازہ زروجواہرات تھے جو اس نے ایسے سامان میں چھپا رکھے تھے جو بظاہر معمولی سا تھا۔
‫اسے فوری طور پر ایک محافظ کی ضرورت تھی۔ ماجد کے ڈرانے سے یہ ضرورت اور شدید ہوگئی تھی۔ اس وقت سورج غروب
‫ہورہا تھا اور فضا خنک ہونے لگی تھی۔ ماجد کے مشورے پر انہوں نے وہیں قیام کیا… رات گزر گئی تو جاگیردار کو یقین آگیا
‫کہ ماجد قابل اعتماد آدمی ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫لمبی مسافت کے بعد وہ حلب پہنچے۔ اس وقت حلب کا امیر شمس الدین تھا جس نے تھوڑا ہی عرصہ پہلے صلیبیوں کو
‫تاوان دے کر ان سے صلح کرلی تھی۔ الملک الصالح دمشق سے بھاگ کر وہاں پہنچ چکا تھا۔ اس کے تمام امراء وزراء اس
‫کے ساتھ تھے اور اس کے باڈی گارڈ کے دستے بھی وہاں پہنچ رہے تھے۔ الصالح نے حلب کی امارت پر قبضہ کرلیا تھا اور
‫اس کے امراء وغیرہ فوج کو نئے سرے سے منظم کرنے لگے تھے۔ صورتحال ایسی تھی کہ فوج کو ہر اس آدمی کی ضرورت
‫تھی جس میں تھوڑی سی جنگی سوجھ بوجھ ہو۔ الملک الصالح کے پاس سونے اور خزانے کی کمی نہیں تھی‪ ،کمی فوج‪،
‫کمانڈروں اور مشیروں کی تھی۔ وہ اور اس کا ٹولہ سلطان ایوبی کے خالف لڑنے اور خالفت بحال کرنے کو بیتاب تھا۔ ان کی
‫بیتابیوں سے یوں پتا چلتا تھا جیسے ان کے دشمن صلیبی نہیں سلطان ایوبی ہے۔ انہوں نے خلیفہ کی مہر کے ساتھ ادھر ادھر
‫کے امراء میں حمص‪ ،حماة اور موصل کے حکمران خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کسی کی طرف سے امید افزا جواب مال اور
‫کسی نے تعاون کا صرف وعدہ کیا۔
‫یہ جاگیردار حلب پہنچا تو الصالح نے اسے خوش آمدید کہا۔ وہ بھی الصالح کی جنگی مجلس مشاورت کا اہم رکن تھا۔ اسے
‫حلب میں ایک مکان دے دیا گیا۔ وہ آتے ہی اس قدر مصروف ہوگیا کہ صبح کا گیا‪ ،آدھی رات کو گھر آتا تھا۔ اس کی

‫غیرحاضری میں اس کی بیوی ماجد حجازی میں دلچسپی لینے لگی۔ ماجد نے اس کے ساتھ ایسی بے تکلفی پیدا کرلی جس
‫میں بدنیتی کا شائبہ تک نہ تھا۔ ماجد نے پروقار انداز اختیار کیے رکھا جس سے لڑکی متاثر ہوئی اور وہ جیسے بھول ہی
‫گئی ہو کہ ماجد اس کے خاوند کا محافظ ہے۔ ماجد اپنے مشن پر کام کررہا تھا۔ اس نے دوتین دنوں میں لڑکی کے دل پر
‫قبضہ کرلیا۔ اس نے لڑکی سے پوچھا کہ اس کے خاوند کی باقی چار بیویاں کیسی تھیں۔ اس نے بتایا کہ کوئی ایسی بری تو
‫نہیں تھی۔ اس شخص نے انہیں پرانی سمجھ کر دھوکہ دیا اور اس لڑکی کو ساتھ لے کر بھاگ آیا۔
‫اور ایک روز یہ تمہیں بھی چھوڑ کر کسی اور کو لے آئے گا''… ماجد حجازی نے کہا… ''ان امیروں کا یہ شغل ہے''۔''
‫اگر تمہیں دل کی بات بتا دوں تو میرے خاوند کو تو نہیں بتا دو گے؟''… لڑکی نے پوچھا… ''مجھے دھوکہ تو نہیں دو ''
‫''گے؟
‫اگر میری فطرت میں دھوکہ اور فریب ہوتا تو میں تمہارے خاوند کو وہیں جہاں میں تمہیں مال تھا‪ ،آسانی سے قتل کرکے ''
‫تم پر اور تمہارے مال ودولت پر ہاتھ صاف کرسکتا تھا''۔ ماجد نے کہا… ''میں مرد ہوں‪ ،عورت کو فریب دینا مرد کی شان
‫کے خالف ہے''۔
‫میں اب اس راز کو اپنے دل میں زیادہ دیر نہیں رکھ سکتی کہ مجھے تم سے ایسی محبت ہے جس پر میرا قابو نہیں ''
‫رہا''۔ لڑکی نے کہا… ''اور یہ بھی ایک راز ہے کہ مجھے اس خاوند سے نفرت ہے۔ میں بکی ہوئی لڑکی ہوں۔ کئی بار دل
‫میں آیا ہے کہ اپنے آپ کو ختم کردوں۔ میں شاید بزدل ہوں۔ اپنی جان لینے سے ڈرتی ہوں۔ میرے ارادے کچھ اور تھے‪،
‫میرے خیاالت کچھ اور تھے۔ تم نے میرے ارادوں اور خیالوں پر مٹی ڈال دی ہے اور میرا یہ ارادہ پکا کردیا ہے کہ اپنے آپ
‫کو ختم کردوں''۔
‫''کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے‪ ،اس لیے خودکشی کرنا چاہتی ہو؟''
‫نہیں!'' لڑکی نے کہا… ''میرے ذہن میں صالح الدین ایوبی کا تصور نورالدین زنگی سے زیادہ مقدس اور پیارا تھا۔ تم نے ''
‫''اس تصور کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔ کیا صالح الدین ایوبی اتنا ہی برا ہے‪ ،جتنا تم نے بتایا ہے؟
‫میں تمہارے راز کو اپنا راز سمجھوں گا''۔ ماجد حجازی نے کہا… ''اس کے عوض تمہیں اپنا ایک راز دیتا ہوں۔ میں تم ''
‫سے کوئی وعدہ نہیں لوں گا کہ میرے راز کی حفاظت کرنا۔ اگر میرا راز فاش ہوگیا تو نہ تم زندہ ہوگی‪ ،نہ تمہارا خاوند… میں
‫صالح الدین ایوبی کا جاسوس ہوں۔ میں نے دوچار دنوں میں پھانپ لیا ہے کہ تم اصل میں کیا ہو۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ
‫صالح الدین ایوبی کا تصور اس سے کہیں زیادہ مقدس ہے جو تم نے اپنے ذہن میں بنا رکھا ہے۔ وہ ان امیروں اور بادشاہوں
‫کا دشمن ہے جنہوں نے لڑکیوں کو اپنے حرموں میں قید کررکھا ہے۔ وہ اس کے سخت خالف ہے کہ مرد عورت کو صرف
‫تفریح اور عیاشی کا ذریعہ بنائے۔ وہ مرد اور عورت کی برابری کا اور ایک خاوند اور ایک بیوی کا قائل ہے۔ وہ عورتوں کو
‫فوجی تربیت دینا چاہتا ہے۔ میں نے تمہارے خاوند کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بوال تھا کہ ایوبی نے اپنی فوج کے
‫چند دستوں کو دمشق سے بھاگنے والوں کو لوٹنے اور ان کی لڑکیوں کو اٹھا النے کے لیے بھیجا ہے۔ وہ سچے اسالم کا
‫علمبردار ہے۔ میں اسی اسالم کی خاطر اور اسی صالح الدین ایوبی کی خاطر یہاں ایک کام کے لیے آیا ہوں''۔
‫لڑکی کی آنکھوں میں چمک سی پیدا ہوئی۔ اس نے ماجد حجازی کا ایک ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر چوم لیا اور
‫کہا… '' تمہارا یہ راز کبھی فاش نہ ہوگا۔ مجھے مت بتائو کہ تم یہاں کیوں آئے ہو اور میں تمہاری کیا مدد کرسکتی ہوں؟
‫مجھے مت بتائو کے صالح الدین ایوبی اصل میں کیا ہے اور تم نے میرے خاوند کو کیا بتایا تھا۔ میں عورتوں کی اس
‫جماعت کی لڑکی تھی جو نورالدین زنگی کی زندگی میں ہم نے بنائی تھی۔ ہم صلبیوں کے خالف اپنا محاذ قائم کررہی تھیں۔
‫زنگی کی بیوہ ہماری سرپرست اور نگران تھی۔ میرا باپ پسند نہیں کرتا تھا کہ میں اس جماعت میں رہوں۔ وہ اللچی اور
‫خوشامدی انسان ہے۔ اس کے لیے صلیب اور ہالل میں کوئی فرق نہیں۔ وہ اسی کا غالم ہے جس سے اسے کچھ رقم ہاتھ
‫آجائے۔ اس نے مجھے اس آدمی کے ہاتھ بیچ دیا۔ اس سودے کو لوگ شادی کہتے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ مسلمان کی بچی
‫میدان جنگ میں ہو یا اسے کوئی بھی جنگی اور قومی کام دے دو تو وہ مردوں کو حیران کردیتی ہے اور دشمن کا منہ پھیر
‫سکتی ہے مگر یہی بچی جب حرم میں قید کرلی جاتی ہے تو چینٹی بن جاتی ہے۔ یہی حالت میری ہوئی۔ اگر میرا یہ
‫خاوند معمولی حیثیت کا ہوتا تو میں بغاوت کرتی۔ اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتی مگر اس آدمی کے پاس
‫طاقت ہے‪ ،دولت ہے اور الصالح کا جو محافظ دستہ ہے‪ ،اس کے آدھے سپاہی اس کے عالقے کے ہیں جو اس کے بھرتی
‫…کرائے ہوئے ہیں
‫میں چونکہ اس کی پہلی بیویوں سے زیادہ جوان اور خوبصورت ہوں‪ ،اس لیے میں ہی اس کا کھلونا بن گئی۔ میری روح
‫مرگئی‪ ،میرا صرف جسم زندہ رہا۔ باہر کی دنیا سے میرا رشتہ ٹوٹ چکا تھا اور میں جس دنیا میں قید تھی‪ ،وہاں شراب اور
‫ناچ گانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اگر کچھ اور تھا تو وہ نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کے قتل کے منصوبے تھے''… وہ
‫بولتے بولتے چپ ہوگئی۔ اس نے ماجد حجازی کو جھنجھوڑ کر کہا… ''کیا تم میری باتیں سن رہے ہو؟ میں نے یہ یقین کیے
‫بغیر کہ تم صالح الدین ایوبی کے جاسوس ہو یا میرے خاوند کے‪ ،تمہیں اپنے دل کی باتیں سنا رہی ہوں۔ اگر میرے خاوند کے
‫جاسوس ہو تو اسے یہ ساری باتیں سنا دینا جو میں تمہیں سنا رہی ہوں۔ وہ مجھے سزا دے گا۔ میں اب ہر قسم کی سزا
‫برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میرے پاس اب جسم رہ گیا ہے۔ یہ جسم پتھر بن گیا ہے۔ روح مرگئی ہے''۔
‫تمہاری روح زندہ ہے''۔ ماجد حجازی نے کہا… ''میری نگاہیں گہرائیوں سے زیادہ گہرائی تک دیکھ لیا کرتی ہیں۔ میں نے''
‫دیکھ لیا تھا کہ تمہاری روح زندہ ہے‪ ،ورنہ میں اپنا راز کبھی تمہارے آگے نہ کھولتا۔ میں حسن اور جوانی سے مغلوب ہونے
‫واال انسان نہیں ہوں‪ ،مرد ہوں۔ اپنی جان اسالم کے نام پر وقف کردی ہے۔ تم بولو۔ اپنا دل ہلکا کرتی جائو‪ ،میں سن رہا
‫ہوں‪ ،تمہاری داستان میرے لیے نئی نہیں۔ یہ ہر مسلمان عورت کی داستان ہے۔ اسالم کا زوال اسی روز شروع ہوگیا تھا جس
‫روز ایک مسلمان نے حرم کھوال اور اس میں خوبصورت لڑکیاں خرید کر قید کی تھیں۔ صلیبیوں نے کہا کہ اب اس قوم کو
‫عورت کے ہاتھوں مروائو۔ انہوں نے ہمارے بادشاہوں کے حرم اپنی بیٹیوں سے بھر دئیے ہیں''۔
‫یہ میرے خاوند کے گھر میں بھی ہوا''۔ لڑکی نے کہا… ''میں نے اپنی آنکھوں سے صلیبی لڑکیوں کو اپنے خاوند کے ''
‫پاس آتے اور شراب پیتے دیکھا ہے۔ میں سوائے رونے کے اور کرہی کیا سکتی تھی۔ میں اس لیے نہیں روتی تھی کہ ان
‫لڑکیوں نے مجھ سے میرا خاوند چھین لیا ہے‪ ،بلکہ اس لیے کہ مجھ سے میرا اسالم چھن گیا تھا‪ ،وہ اسالم جس کی خاطر
‫میں نے تمہاری طرح اپنی جان وقف کی تھی''۔
‫آئو جذباتی باتوں سے ہٹ کر اس کام کی باتیں کریں جس کے لیے میں یہاں آیاہوں''۔ ماجد نے کہا اور اس سے پوچھا…''
‫''''اپنے خاوند پر تمہاراکتنا کچھ اثر ہے؟ کیا تم اس کے دل سے راز کی باتیں نکال سکتی ہو؟

‫شراب کے دو پیالے پال کر اور اس کا سر اپنے سینے سے لگا کر میں اس سے ہر راز لے سکتی ہوں''۔ لڑکی نے جواب''
‫دیا… ''تم کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟''… اس نے کچھ سوچ کر اور مسکرا کر کہا… ''میری ایک ذاتی شرط مان لو گے؟…
‫''اگر میں تمہارا کام کردوں تو مجھے یہاں سے لے جائو گے؟ میری محبت کو ٹھکرا تو نہیں جائو گے؟
‫ماجد حجازی نے اس کا دل رکھ لیا اور اس کی شرط مان لی۔ اس نے اسے بتایا کہ ''الصالح گیارہ سال کا بچہ ہے۔ وہ
‫امیروں کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔ یہ امیر اور وزیر صالح الدین ایوبی کو ختم کرکے سلطنت اسالمیہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا
‫چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوگیاتو ان ٹکڑوں کو صلیبی ہضم کرجائیں گے اور اسالم کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ سلطان صالح الدین
‫ایوبی کہتا ہے کہ جس قوم نے اپنے ملک کے ٹکڑے کیے‪ ،وہ کبھی زندہ نہیں رہیں۔ ہمارے یہ امیر صلیبیوں تک سے مدد
‫لینے کو تیار ہیں۔ صلیبی انہیں ضرور مدد دیں گے اور اس کے عوض وہ انہیں اپنا محکوم بنائیں گے۔ میں یہ معلوم کرنے آیا
‫ہوں کہ خلیفہ کے ہاں کیا منصوبے بن رہے ہیں اور صلیبی انہیں کیا مدد دے رہے ہیں۔ مجھے یہ خبر جلدی صالح الدین ایوبی
‫تک پہنچانی ہے تاکہ اس کے مطابق کارروائی کی جائے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ سلطان ایوبی بے خبری میں صلیبیوں کے
‫حملے کی زد میں آجائے''۔
‫کیا صالح الدینایوبی مسلمان امیروں پر حملہ کرے گا؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
‫اگر ضرورت پڑی تو وہ دریغ نہیں کرے گا''۔''
‫لڑکی بہت ہی جذباتی تھی اور وہ ذہین بھی تھی۔ اس کے آنسو نکل آئے۔ اس نے کہا… ''اسالم کو یہ دن بھی دیکھنے
‫تھے کہ ایک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آپس میں لڑے گی''۔
‫تعالی کا سپاہی ہے۔ وہ''
‫اس کے سوا کوئی اور عالج نہیں''۔ ماجد حجازی نے کہا… ''صالح الدین ایوبی بادشاہ نہیں‪ ،اللہ
‫ٰ
‫کہتا ہے کہ ملک اور قوم کو خطروں اور تباہی سے بچانے کا فرض فوج کے سپرد ہے۔ یہ خطرہ باہر کے دشمن کا ہو یا اندر
‫کے غداروں اور مفادپرست حکمرانوں کا‪ ،ان سے ملک اور قوم کو بچانا سپاہی کا فرض ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ فوج کو
‫حکمرانوں کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بننے دے گا۔ فوج حکمرانوں کی آلۂ کار بنی ہوئی ہے۔ وہ مسلمان کافروں سے زیادہ
‫خطرناک ہوتا ہے جو کافروں کو دوست سمجھ کر انہیں اپنی جڑوں میں بٹھاتا ہے… اب تمہارا کام یہ ہے کہ اپنے خاوند سے
‫یہ راز لو کہ یہاں کیا منصوبہ بن رہا ہے''۔
‫میں راز بھی دوں گی اور دعا بھی کروں گی کہ جب تم یہاں سے دمشق جائو تو تمہارے ساتھ یہ راز بھی ہو اور میں ''
‫بھی ہوں'' ۔ لڑکی نے کہا۔ ''تریپولی کے صلیبی بادشاہ ریمانڈ کی طرف ایک ایلچی اس درخواست کے ساتھ بھیج دیا گیا ہے
‫کہ وہ الصالح کی مدد کو آئے''۔ دوسرے ہی دن لڑکی نے ماجد حجازی کو بتایا…''میں نے رات کو شراب پال کر صالح
‫الدین ایوبی کے خالف بہت باتیں کیں اور اس سے کہا کہ تم لوگ بزدل ہو جو دمشق سے بھاگ کر حلب میں آن پناہ لی
‫ہے۔ کوئی مسلمان حکمران کی یہ توہین برداشت نہیں کرسکتا جو صالح الدین ایوبی نے کی ہے''… ایسی بہت باتیں کیں تو
‫بھڑک اٹھا اور بوال… ''ایوبی چند دنوں کا مہمان ہے‪ ،فدائی قاتلوں کے مرشد شیخ سنان سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ
‫وہ صالح الدین ایوبی کے قتل کا بندوبست کرے اور منہ مانگا انعام لے۔ وہ اپنے تجربہ کار آدمی دمشق بھیج رہا ہے''… اس
‫نے یہ بھی بتایا کہ اپنی فوج کی تیاری کے لیے بہت وقت مل جائے گا کیونکہ سردیوں کا موسم شروع ہوگیا ہے۔ پہاڑی
‫عالقوں میں برف پڑنے لگے گی۔ سلطان صالح الدین ایوبی صحرائی فوج کو اتنی سردی اور برف میں نہیں لڑا سکے گا۔
‫یہ ابتداء تھی۔ شراب اور عورت ایک مرد کے سینے سے راز نکلوا رہی تھی۔ لڑکی نے ہر رات خاوند سے دن بھر کی
‫کارگزاری معلوم کرنی شروع کردی اور یہ راز ماجد حجازی کے سینے میں محفوظ ہوتے گئے۔ ایک روز خاوند نے ماجد سے
‫کہا… '' مجھے مالزموں نے تمہارے متعلق ایک قابل اعتراض بات بتائی ہے''… ماجد کانپ اٹھا۔ وہ سمجھا کہ اس کا بھانڈہ
‫پھوٹ گیا ہے مگر خاوند نے کہا… ''تم میری بیوی کو ورغال رہے ہو‪ ،میری غیرحاضری میں تم اس کے پاس بیٹھے رہتے ہو۔
‫میں جانتا ہوں کہ میرے مقابلے میں تم خوبرو ہو اور جوان بھی ہو۔ میری بیوی تمہیں پسند کرسکتی ہے مگر میں تمہیں زندہ
‫نہیں چھوڑوں گا''۔
‫ماجد حجازی نے اسے یقین دالنے کی کوشش کی کہ یہ اس کی غلط فہمی ہے لیکن اس کے دل میں وہم پیدا ہوچکا تھا۔
‫اس نے اپنی بیوی سے بھی یہی بات کہی اور اس پر پابندی عائد کردی کہ وہ ماجد حجازی سے نہیں مل سکتی۔
‫ماجد حجازی ابھی وہاں سے نکلنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اسے ابھی وہاں کا پورا منصوبہ نہیں مال تھا۔ اس نے لڑکی کے خاوند
‫کی ڈانٹ ڈپٹ سہہ لی اور اس کی دھمکیوں سے اپنے اوپر مصنوعی خوف کی کیفیت بھی طاری کرلی۔ اس کی منت سماجت
‫بھی کی۔ اس شخص نے اسے معاف تو کردیا لیکن اسی روز چھ باڈی گارڈ لے آیا۔ اس دور میں امیر کبیر لوگ اپنے گھر میں
‫باڈی گارڈ رکھنے کو عزت کی نشانی سمجھتے تھے۔ اس آدمی نے ماجد حجازی سمیت سات باڈی گارڈ رکھ لیے اور ان میں
‫سے ایک کو کمانڈر بنا دیا۔ اس کمانڈر نے ماجد کو یہ خصوصی حکم سنایا کہ وہ چونکہ آقا کی نظروں میں مشتبہ ہے‪ ،اس
‫لیے وہ مکان کے دروازے تک بھی نہیں جاسکتا اور رات کو تھوڑی سی دیر کے لیے بھی غیرحاضر نہیں ہوسکتا۔ ماجد نے اس
‫حکم کے آگے بھی سر تسلیم خم کردیا اور اس نے ایسا رویہ اختیار کرلیا جیسے مرگیا ہو۔
‫دو تین راتیں ہی گزری ہوں گی‪ ،آدھی رات کے وقت یہ لڑکی باہر نکلی۔ بڑے دروازے پر ایک باڈی گارڈ پہرے پر کھڑا تھا۔
‫لڑکی نے اس سے آقائوں کے جالل اور رعب سے پوچھا… ''تم یہیں کھڑے رہتے ہو یا مکان کے اردگرد چکر بھی لگاتے
‫ہو؟''… اس نے کچھ جواب دیا تو لڑکی نے کہا… ''تم نئے آدمی ہو۔ ہمارے دمشق والے محافظ بہت ہوشیار اور چوکس تھے۔
‫تم اگر یہاں نوکری کرنا چاہتے ہو تو تمہیں اسی طرح ہوشیار اور چوکس بننا پڑے گا۔ آقا بڑی سخت طبیعت کے مالک
‫ہیں''۔ پہرہ دار نے احترام سے سر جھکا لیا۔
‫لڑکی باڈی گارڈوں کو دیکھنے نکلی تھی۔ وہ ان دو خیموں کی طرف چل پڑی جن میں دوسرے باڈی گارڈ سوئے ہوئے تھے۔
‫دروازے والے پہرہ دار نے دوڑ کر کمانڈر کو جگا دیا اور بتایا کہ مالکہ معائنے کے لیے آئی ہے۔ کمانڈر گھبرا کر اٹھا اور لڑکی
‫کے آگے جھک گیا۔ لڑکی نے اسے بھی ہدایات دیں اور ایک خیمے کے آگے رک کر بلند آواز سے باتیں کرنے لگی۔ ماجد
‫حجازی اسی خیمے میں سویا ہوا تھا۔ اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ باہر آگیا۔ لڑکی نے اس سے یوں بات کی جیسے اسے
‫اچھی طرح جانتی ہی نہ ہو۔ اس سے پوچھا… ''تم شاید پہلے والے محافظ ہو؟''… ماجد نے تعظیم سے جواب دیا تو لڑکی
‫نے کمانڈر سے کہا… ''اس آدمی کو جلدی تیار کرو‪ ،یہ میرے ساتھ قصر سلطنت تک جائے گا۔ دو گھوڑے فورا ً تیار کرو''۔
‫اگر آقا آپ کے متعلق پوچھیں تو میں کیا جواب دوں؟'' کمانڈر نے پوچھا۔''
‫میں سیر سپاٹے کے لیے نہیں جارہی''۔ لڑکی نے تحکمانہ لہجے میں کہا… ''آقا کے ہی کام سے جارہی ہوں۔ حکومت ''
‫کے کاموں میں مت دخل دو‪ ،جائو گھوڑے تیار کرو''۔

‫کمانڈر نے ایک آدمی کو اصطبل کی طرف دوڑا دیا۔ ماجد حجازی تلوار سے مسلح ہوکر تیار ہوگیا تھا۔ لڑکی اسے اصطبل کی
‫طرف لے گئی۔ کمانڈر کو اس لڑکی کے خاوند نے بتا رکھا تھا کہ ماجد پر نظر رکھے اور اسے گھر کے اندر نہ جانے دے۔ اب
‫لڑکی نے ماجد کو ہی اپنے ساتھ لے جانے کے لیے منتخب کیا تھا۔ کمانڈر نے دیکھا کہ وہ دونوں اصطبل کی طرف چلے گئے
‫ہیں تو وہ دوڑ کر اندر لڑکی کے خاوند کو اطالع دینے چال گیا۔ وہ یقین کرنا چاہتا تھا کہ خاوند کو معلوم ہے کہ اس کی
‫بیوی مشتبہ باڈی گارڈ کے ساتھ جارہی ہے۔ وہ لڑکی کو روک بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ اس کی مالکن تھی… وہ اندر گیا
‫اور ڈرتے ڈرتے اپنے آقا کے کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھا۔ دروازہ کھل گیا۔ اندر قندیل جل رہی تھی اور کمرہ شراب کی
‫بدبو سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے اپنے آقا کو دیکھا‪ ،وہ بستر پر اس طرح پڑا تھا کہ اس کا سر اور بازو پلنگ سے لٹک رہا
‫تھا۔ ایک خنجر اس کے سینے میں اترا ہوا تھا۔ اس کے سینے پر خنجر کے کئی زخم تھے۔ کمانڈر نے اس کی نبض دیکھی‪،
‫وہ مرا ہوا تھا۔ اس کے کپڑے خون سے الل ہوگئے تھے۔
‫ماجد حجازی کو لڑکی بتا چکی تھی کہ اس نے اپنے خاوند سے سارا منصوبہ معلوم کرلیا ہے اور اب اس منصوبے پر عمل
‫شروع ہورہا ہے۔ اس نے خاوند کو روزمرہ کی طرح شراب پالئی اور اتنی پالئی کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔ لڑکی اسے بے ہوشی
‫کی حالت میں چھوڑ کر آسکتی تھی لیکن انتقام کے جذبے نے اسے پاگل کردیا۔ اس نے اسی کے خنجر سے اس کا سینہ
‫چھلنی کردیا اور خنجر اس کے سینے میں ہی رہنے دیا… ماجد حجازی گھبرایا نہیں۔ وہ تو ہر لمحہ کسی نہ کسی اچانک پیدا
‫ہونے والی صورتحال کے لیے تیار رہتا تھا۔ اس نے لڑکی کے اس اقدام کو سراہا اور اسے کہا کہ وہ اطمینان سے گھوڑے پر
‫سوار ہوجائے۔
‫وہ جونہی گھوڑوں پر سوار ہونے لگے‪ ،رات کی خاموشی میں ایک آواز بڑی ہی بلند سنائی دینے لگی… ''گھوڑے مت دینا‪،
‫انہیں روک لو‪ ،وہ آقا کو قتل کرکے جارہی ہے''۔
‫چھ کے چھ باڈی گارڈ تلواریں اور برچھیاں اٹھائے باہر آگئے۔ ماجد اور لڑکی گھوڑوں پر سوار ہوچکے تھے۔ انہیں اسی راستے
‫سے گزرنا تھا جہاں باڈی گارڈ تھے۔ ماجد نے لڑکی سے کہا کہ وہ گھوڑ سواری نہیں کرسکتی تو اس کے گھوڑے پر پیچھے
‫بیٹھ جائے۔ گھوڑا سرپٹ دوڑانا پڑے گا۔ لڑکی نے خوداعتمادی سے کہا کہ وہ گھوڑا دوڑا سکتی ہے۔ ماجد نے اسے کہا کہ وہ
‫گھوڑا اس کے پیچھے رکھے‪ ،ماجد نے تلوار نکال لی۔ ادھر باڈی گارڈوں کا شور بڑھتا جارہا تھا اور وہ اصطبل کی طرف دوڑتے
‫آرہے تھے۔ ماجد نے گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ اس کے پیچھے لڑکی نے بھی گھوڑا دوڑا دیا۔ کمانڈر کی آواز گرجی… ''رک جائو‪،
‫مارے جائو گے''… چاندنی رات تھی‪ ،ماجد نے دیکھ لیا کہ باڈی گارڈ برچھیاں اوپر کیے اس کی طرف آرہے ہیں۔ اس نے
‫گھوڑے کا رخ ان کی طرف کردیا اور آگے ہوکر تلوار گھمانے لگا۔ گھوڑے کی رفتار اس کی توقع سے زیادہ تیز تھی۔ دو باڈی
‫گارڈ اس کے سامنے آگئے اور گھوڑے تلے کچلے گئے۔ ایک برچھی اس کی طرف آئی جو اس نے تلوار کے وار سے بے کار
‫کردی۔
‫کمانیں نکالو'' ۔ کمانڈر نے چال کر کہا۔ باڈی گارڈ تجربہ کار معلوم ہوتے تھے۔ ذرا سی دیر میں دو تیر ماجد حجازی کے ''
‫قریب سے گزر گئے۔ اس نے گھوڑا دائیں بائیں گھمانا شروع کردیا تاکہ تیر انداز نشانہ نہ لے سکیں‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:07
‫قسط نمبر۔‪71‫ناگوں والے قلعے کے قاتل
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫تیر انداز نشانہ نہ لے سکیں‪ -اتنے میں وہ تیروں کی زد سے نکل گئے۔ اب یہ خطرہ تھا کہ باڈی گارڈ گھوڑوں پر تعاقب
‫کریں گے لیکن اسے پکڑے جانے کا ڈر نہیں تھا کیونکہ گھوڑوں پر زینیں کسنے کے لیے جو وقت صرف ہونا تھا‪ ،وہ اس کے
‫لیے دور نکل جانے کے لیے کافی تھا اور ہوا بھی یہی۔ آبادی سے دور نکل جانے تک اسے تعاقب میں آتے گھوڑوں کی
‫آوازیں سنائی نہ دیں۔ اس نے لڑکی سے کہا کہ اب گھوڑا اس کے پہلو میں کرلے۔
‫لڑکی کا گھوڑا جب اس کے پہلو میں آیا تو ماجد نے لڑکی سے پوچھا کہ وہ گھبرائی یا ڈری تو نہیں؟ لڑکی نے جواب دیا کہ
‫وہ بالکل ٹھیک ہے۔ لڑکی نے اسے دوڑتے گھوڑوں کے ساتھ بلند آواز سے سنانا شروع کردیا کہ اس نے کون سا راز اپنے
‫خاوند سے حاصل کیا ہے۔ ماجد نے اسے کہاکہ آگے چل کر رکیں گے تو ساری بات سنو گا لیکن لڑکی بولتی رہی۔ ماجد نے
‫جب باربار اسے کہا کہ چب ہوجائے‪ ،اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے تو لڑکی نے کہا… ''پھر رک جائو‪،
‫میں زیادہ دیر انتظار نہیں کرسکوں گی''… ماجد ابھی رکنا نہیں چاہتا تھا اور لڑکی بولتی جارہی تھی۔ آخری لڑکی نے ہاتھ
‫لمبا کرکے ماجد کے گھوڑے کی باگیں پکڑ لیں۔ اس کے لیے اسے آگے جھکنا پڑا۔ تب ماجد نے دیکھا کہ لڑکی کے دوسرے
‫پہلو میں تیر اترا ہوا ہے۔ ماجد نے فورا ً گھوڑا روک لیا۔
‫یہ تیر مجھے وہیں لگ گیا تھا''… لڑکی نے کہا… ''میں اسی لیے تمہیں دوڑتے گھوڑے سے اصل بات سنا رہی تھی کہ ''
‫مرنے سے پہلے یہ راز تمہیں دے دوں''… ماجد حجازی نے اسے گھوڑے سے اتارا اور زمین پر بیٹھ کر اسے اپنی آغوش میں
‫لے لیا۔ اس نے تیر کو ہاتھ لگایا۔ وہ خاصا اندر چال گیا تھا‪ ،نکاال نہیں جاسکتا تھا۔ یہ جراح کا کام تھا جو پٹھا چیر کر تیر
‫نکال سکتا تھا… ''اسے رہنے دو‪ ،میری بات سن لو''… لڑکی نے کہا… اور اس نے ماجد کو سارا منصوبہ سنادیا جو اس نے
‫خاوند سے سنا تھا… ''میرا خیال ہے کہ یہ شک کسی کو نہیں ہوگا کہ ہم کوئی راز لے کر حلب سے بھاگے ہیں۔ وہ
‫منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ محافظوں تک کو معلوم ہے کہ میرے خاوند کو شک ہے کہ میرے اور تمہارے درپردہ
‫تعلقات ہیں۔ وہ یہی کہیں گے کہ میں تمہارے ساتھ محبت کی خاطر بھاگی ہوں''۔
‫لڑکی ساری بات سنا چکی تو اس نے ماجد کا ماتھا چوم کر کہا… ''اب سکون سے مرسکوں گی''… اور اس پر غشی طاری
‫ہونے لگی۔
‫ماجد نے دوسرے گھوڑے کو اپنے گھوڑے کے پیچھے باندھ دیا۔ لڑکی کو اپنے گھوڑے پر ڈال کر اس کے پیچھے بیٹھ گیا اور
‫اسے ایسی پوزیشن میں ساتھ لگا لیا کہ تیر اسے تکلیف نہ دے‪ ،مگر تیر اپنا کام کرچکا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ جب دمشق میں اپنے کمانڈر حسن بن عبداللہ کے پاس پہنچا‪ ،اس وقت لڑکی کو شہید ہوئے کم وبیش بارہ گھنٹے گزر گئے
‫تھے۔ اس نے قصر حلب کا تمام تر منصوبہ سنا کر بتایا کہ یہ کارنامہ اس لڑکی کا ہے۔ حسن بن عبداللہ اسی وقت ماجد
‫حجازی کو اور لڑکی کی الش کو صالح الدین ایوبی کے پاس لے گیا۔ ماجد حجازی نے بتایا کہ لڑکی کیا تھی اور اسے باپ
‫نے کس طرح ایک جاگیردار کے ہاتھ فروخت کیا تھا۔ ماجد نے لڑکی کی ساری باتیں سلطان ایوبی کو سنائیں۔ بعد میں معلوم

‫ہوا کہ لڑکی کا باپ بھی دمشق سے بھاگ گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے لڑکی کی الش نورالدین زنگی کی بیوہ کے حوالے کردی
‫اور حکم دیا کہ لڑکی کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے۔
‫لڑکی نے مرنے سے پہلے ماجد حجازی کو جو منصوبہ بتایا تھا‪ ،وہ مختصرا ً یوں تھا کہ سلطان الملک الصالح تمام مسلمان
‫مملکتوں کے امراء کو سلطان ایوبی کے خالف متحد کررہا تھا اور ان کی فوجوں کو ایک کمانڈر کے تحت النا چاہتا تھا۔
‫تریپولی کے صلیبی حکمران ریمانڈ کو مدد کے لیے آمادہ کرلیا گیا تھا۔ یہ لڑکی جو نئی خبر الئی تھی‪ ،یہ تھی کہ ریمانڈ اپنی
‫فوج کو اس طرح استعمال کرے گا کہ مصر اور شام کے درمیان سلطان ایوبی کے لیے رسد اور کمک کے راستے روک دے گا۔
‫اس نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ سلطان ایوبی جنگ کی صورت میں مصر سے کمک منگوائے گا۔ اس کے عالوہ ریمانڈ سلطان
‫ایوبی کو گھیرے میں لینے کے لیے اپنے تیز رفتار سوار دستے حرکت میں رکھے گا۔ ضرورت محسوس ہوئی تو ریمانڈ دوسرے
‫صلیبی حکمرانوں کو بھی مدد کے لیے باللے گا۔ حسن بن صباح کے پیروکار فدائیوں کے ساتھ صالح الدین ایوبی کے قتل کا
‫سودا طے کرلیا گیا تھا۔ فدائی فوری طور پر دمشق پہنچ رہے تھے۔ اس تمام ترمنصوبے کا ہر حصہ اہم تھا لیکن سلطان ایوبی
‫نے اس کے جس حصے پر زیادہ توجہ دی وہ یہ تھا کہ دشمن سردیوں کا موسم گزرجانے کے بعد جنگ شروع کرے گا۔ ان
‫عالقوں میں سردی زیادہ پڑتی تھی‪ ،بارشیں ہوتی تھیں اور بعض جگہوں پر برف بھی پڑتی تھی۔ ایسے موسم میں جنگ نہیں
‫لڑی جاسکتی تھی اور نہ ہی کبھی لڑی گئی تھی۔ یہاں جس نے بھی حملہ کیا‪ ،کھلے موسم میں کیا۔
‫لڑکی کی حاصل کی ہوئی معلومات کے مطابق منصوبے میں شامل کیا گیا تھا کہ فوجیں قلعہ بند ہوجائیں۔ فوجوں کی نفری
‫میں اضافہ کیا جائے اور حملے کی تیاری کی جائے۔ موسم کھلتے ہی ان فوجوں کو شام پر حملہ کرنا تھا۔ صلیبی حکمران
‫ریمانڈ کو جنگی مدد کا معاوضہ پیش کیا گیا تھا جو سونے کے سکوں کی صورت میں تھا۔ ریمانڈ نے شرط پیش کی تھی کہ
‫اسے یہ معاوضہ پہلے ادا کردیا جائے۔ الصالح کے حواری امراء نے فیصلہ کیا کہ معاوضہ فورا ً بھیج دیا جائے۔
‫مسلمانوں کی بدنصیبی''… سلطان ایوبی نے آہ لے کر کہا… ''آج مسلمان کفار کے کندھے سے کندھا مال کر اسالم کے ''
‫خالف اٹھے ہیں۔ میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح کو اس سے زیادہ اور اذیت کیا ملے گی''۔
‫قاضی بہائوالدین شداد اپنی یادداشتوں کی دوسری جلد میں لکھتے ہیں… ''میرا عزیز دوست صالح الدین ایوبی اتناجذباتی کبھی
‫نہیں ہوا تھا‪ ،جتنا اس وقت ہوا جب اسے بتایا گیا کہ سلطان الصالح جسے اسالم کی عظمت کی نشانی سمجھا جاتا ہے اور
‫مسلمان امراء مل کر اس کے اس عزم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں کہ صلیبیوں کو سرزمین عرب سے نکال کر سلطنت اسالمیہ کو
‫وسعت دی جائے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھی آگئے تھے۔ وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا۔رک گیا اور ایسے جوش میں بوال جس
‫میں جذباتیت زیادہ تھی‪ ،کہنے لگا۔ ''یہ ہمارے بھائی نہیں‪ ،ہمارے دشمن ہیں‪ ،اگر مرتد بھائی کا قتل گناہ ہے تو میں یہ
‫گناہ کروں گا۔ اگلے جہان دوزخ کی آگ قبول کرلوں گا لیکن اس جہان میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مذہب
‫کو رسوا نہیں ہونے دوں گا۔ میرا ضمیر پاک ہے۔ اس حکومت پر لعنت‪ ،اس حکمران پر لعنت جو کفار سے دوستی کے
‫معاہدے کرے اور کفار سے مدد مانگے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سب دولت اور حکومت کااللچ ہے۔ یہ لوگ ایمان نیالم کرکے
‫حکومت کا نشہ پورا کرنا چاہتے ہیں''… اس نے تلوار کے دستے پر ہاتھ مار کر کہا… ''وہ سردی میں نہیں لڑنا چاہتے‪ ،وہ
‫…''برفانی دیواروں میں لڑنے سے ڈرتے ہیں۔ میں سردی میں لڑوں گا‪ ،برف سے لدی چوٹیوں پر اور یخ دریائوں میں لڑوں گا
‫صالح الدین ایوبی حقیقت پسند تھا‪ ،جذبات سے مغلوب ہوکر اس نے کبھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ جنگ کے متعلق اس''
‫نے کبھی نعرہ نہیں لگایا تھا۔ وہ دوٹوک ہدایات دیا کرتا تھا۔ ہر دستے کے کمان دار کو دفتر میں کاغذ پر لکیریں ڈال کر اور
‫میدان جنگ میں زمین پر انگلی سے لکیریں کھینچ کر ہدایات دیا کرتا تھا مگر اس دن اسے اپنے اوپر قابو نہیں رہا۔ اس نے
‫ایسی باتیں بھی کہہ دیں جو وہ عام محفل میں نہیں کہا کرتا تھا۔ وہ شاید یہ جانتا تھا کہ اس محفل میں فوج کے قابل
‫اعتماد ساالروں اور میرے سوا اور کوئی نہیں''۔
‫توفیق جواد!''… سلطان ایوبی نے دمشق کی فوج کے ساالر جواد سے کہا… ''میں ابھی تک نہیں جان سکا کہ تمہاری ''
‫فوج سردیوں میں لڑ سکے گی یا نہیں۔ جواب دینے سے پہلے یہ سوچ لو کہ میں رات کو چھاپہ ماروں کو ایسی جگہوں پر
‫چھاپے مارنے کے لیے بھیجوں گا جہاں انہیں دریا میں سے گزر کر جانا پڑے گا۔ بارش بھی ہوگی اور برف بھی ہوسکتی
‫ہے''۔
‫میں آپ کو یہ یقین دال سکتا ہوں کہ میری فوج میں جذبہ ہے''… ساالر توفیق جواد نے کہا… ''اس کا ثبوت یہ ہے کہ ''
‫یہ فوج میرے ساتھ ہے۔ الصالح کے ساتھ بھاگ نہیں گئی۔ میرے سپاہی جنگ کی غرض وغایت کو سمجھتے ہیں''۔
‫اگر سپاہی میں جذبہ ہو اور وہ جنگ کی غرض وغایت کو سمجھتا ہوتو وہ جلتے ہوئے ریگستان میں بھی لڑسکتا ہے اور ''
‫جمی ہوئی برف پر بھی''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اللہ کے سپاہی کو نہ ریگزار کی تپش روک سکتی ہے نہ برف کی یخ
‫سردی''… اس نے محفل کے حاضرین پر نگاہ دوڑائی اور کہا… ''تاریخ شاید مجھے پاگل کہے گی لیکن میں اس فیصلے سے
‫ٹل نہیں سکتا کہ میں دسمبر کے مہینے میں جنگ شروع کروں گا۔ اس وقت موسم سرما کا عروج ہوگا۔ پہاڑیوں کا رنگ سفید
‫''ہوگا‪ ،یخ جھکڑ چلتے ہوں گے اور راتیں ٹھٹھر رہی ہوں گی۔ کیا تم سب میرے اس فیصلے کو قبول کرو گے؟
‫سب نے بیک زبان کہا کہ وہ اپنے سلطان کا ہر حکم بجا الئیں گے۔ تب اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی اور وہ ایسے
‫احکام دینے لگا جن میں جذبات کا عمل دخل نہیں تھا۔ اس نے کہا… ''آج ہی رات سے تمام فوج اس حالت میں جنگی
‫مشقیں کرے گی کہ ہر ایک فرد‪ ،ساالر سے سپاہی تک‪ ،کپڑوں کے بغیر ہوگا۔ صرف کمر جامہ پہنا جائے گا جس کی لمبائی
‫گھٹنوں تک ہوگی۔ باقی جسم ننگا ہوگا۔ عشاء کی نماز کے فورا ً بعد تمام فوج کپڑے اتار کر باہر نکل جایا کرے گی۔ یہاں
‫قریب ہی جھیلیں ہیں۔ فوج کو ان میں سے گزارا جائے گا۔ میں تمہیں اس تربیتی منصوبے کی تفصیالت دوں گا۔ تمام طبیب
‫فوج کے ساتھ ہوں گے۔ ابتداء میں سپاہی ٹھنڈ سے بیمار پڑ جائیں گے۔ طبیب فوراً‪ ،اسی جگہ انہیں گرم کپڑوں میں لپیٹ کر
‫اور آگ کے قریب لٹا کر عالج کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ بیماروں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی۔ دن کے وقت طبیب سپاہیوں
‫کا معائنہ کرتے رہیں گے۔ اگر طبیبوں کی تعداد کم ہو تو مصر سے بال لو۔ یہاں سے یہ ضرورت پوری کرلو''۔
‫یہ نومبر ‪ ١١٧٤ء کا آغاز تھا۔ رات کو سردی خاصی زیادہ ہوجاتی تھی۔ سلطان ایوبی نے راتوں کو ٹریننگ کا پروگرام مرتب
‫کرلیا اور اپنے ساالروں اور جونیئر کمانڈروں کو بالیا۔ اس نے مختصر سا لیکچر دیا… ''اب تم جس دشمن سے لڑو گے‪ ،اسے
‫دیکھ کر تمہاری تلواریں نیاموں سے باہر آنے سے گریز کریں گی کیونکہ تمہار دشمن بھی ''اللہ اکبر'' کے نعروں سے
‫تمہارے سامنے آئے گا۔ اس کے علم پر بھی وہی چاند تارا ہے جو تمہار ے علم پر ہے۔ وہ بھی وہی کلمہ پڑھتا ہے جو تم
‫پڑھتے ہو۔ تم انہیں مسلمان سمجھو گے مگر وہ مرتد ہیں۔ وہ اپنی نیاموں میں صلیب کی تلواریں ال رہے ہیں۔ ان کی ترکش
‫میں صلیب کے تیر ہیں‪ ،تم ایمان کے پاسبان ہو‪ ،وہ ایمان کے بیوپاری ہیں۔ خود ساختہ سلطان الصالح بیت المال کا سونا اور

‫خزانہ ساتھ لے گیا ہے اور اس نے قوم کو یہ دولت تریپولی کے صلیبی حکمران کو اس مقصد کے لیے دے دی ہے کہ وہ اسے
‫جنگی مدد دے کر تمہیں شکست دے۔ یہ شکست تمہاری نہیں‪ ،اسالم کی شکست ہوگی۔ یہ خزانہ قوم کا ہے‪ ،قوم کی دی
‫زکو ة کا ہے۔ یہ خزانہ شراب اور عیاشی میں بہہ رہا ہے اور اسی خزانے سے کفار کے ساتھ دوستانے گانٹھے جارہے
‫ہوئی
‫ٰ
‫''ہیں۔ کیا تم قومی خزانے کے چور کو اپنا سلطان تسلیم کرو گے؟
‫نہیں نہیں'' کے ساتھ کچھ آوازیں ''لعنت لعنت'' کی بھی سنائی دیں۔ سلطان ایوبی نے کہا…''میں نے جن اصولوں پر''
‫مصر کی فوج تیار کرلی ہے‪ ،وہی اصول تمہیں بتانا چاہتا ہوں۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ دشمن کے انتظار میں اپنے گھروں میں
‫نہ بیٹھے رہو۔ یہ کوئی اصول نہیں کہ دشمن حملہ کرے تو تم حملہ روکو۔ تمہیں یہ اصول قرآن نے دیا ہے کہ جنگ ہو تو
‫لڑو‪ ،جنگ نہ ہو تو جنگ کی تیاری میں مصروف رہو۔ جوں ہی تمہیں پتا چلے کہ دشمن تم پر حملہ کرنے کی تیاری کررہا
‫ہے‪ ،اس پر حملہ کردو۔ یاد رکھو جو مسلمان نہیں‪ ،وہ تمہارا دوست نہیں۔ کافر تمہارے قدموں میں آکر سجدہ کرے تو بھی
‫اسے اپنا دوست نہ سمجھو۔ دوسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ سلطنت اسالمیہ اور قوم کی آبرو کے پاسبان تم ہو۔ اگر تمہارے
‫حکمران بے غیرت ہو جائیں‪ ،قوم بدکاری میں تباہ ہوجائے اور دشمن غالب آجائے تو آنے والی نسلیں کہیں گی کہ اس قوم
‫کی فوج نااہل اور کمزور تھی۔ یہ ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا کہ حکمرانوں کی بداعمالیاں فوج کے حساب میں لکھی جاتی
‫ہیں کیونکہ فتح وشکست کا فیصلہ میدان جنگ میں ہوتا ہے۔ حکمرانوں کی عیش پسندی اور مفاد پرستی فوج کو کمزور کرچکی
‫…''ہوتی ہے۔ پھر شکست کی ذمہ داری فوج کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے
‫پھر کیوں نہ تم ابھی سے اپنے خلیفہ اور حکمرانوں کو ٹھکانے لگا دو جو تمہاری اور قوم کی ذلت ورسوائی کا باعث بن ''
‫رہے ہیں۔ میں نہیں بتا سکتا کہ میں جس جنگ کی تیاری کررہا ہوں وہ کیسی ہوگی۔ صرف یہ جانتا ہوں کہ وہ بڑی ہی
‫سخت جنگی ہوگی۔ سخت ان معنوں میں کہ میں تمہیں انتہائی دشوار حاالت میں لڑا رہا ہوں۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ
‫تمہاری تعداد کم ہوگی۔ اس کمی کو تم جذبے اور ایمان کی قوت سے پورا کرو گے''۔
‫سلطان ایوبی نے انہیں یہ بھی بتایا کہ دشمن کے جاسوس ان کے درمیان موجود ہیں اور ان جاسوسوں کا طریقہ کار کیا ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫اور تم یہ مت سوچو کہ صالح الدین ایوبی مسلمان ہے۔ خلیفہ کا درجہ پیغمبر جتنا ہوتا ہے۔ نجم الدین ایوب کے اس مرتد''
‫بیٹے نے خلیفہ کو قصر خالفت سے نکال دیا ہے اور شام پر غاصبانہ قبضہ کرکے مصر اور شام کا بادشاہ بن گیا ہے۔ اگر تم
‫خدا کے قہر سے بچنا چاہتے ہو‪ ،زلزلوں اور طوفانوں سے محفوظ رہنا چاہتے ہو تو صالح الدین ایوبی کو شرمناک شکست دے
‫کر سلطنت کی گدی بحال کرو''… یہ آواز ایک امیر کی تھی جو حلب میں اپنی فوج کو سلطان ایوبی کے خالف بھڑکا رہا
‫تھا۔ اس نے کہا… '' سردیوں کا موسم نکل جائے گا تو ہم دمشق پر حملہ کریں گے۔ اس دوران ہم فوج میں اضافہ کریں گے
‫اور تم جنگ کی تیاری کرتے رہو گے''۔
‫ذہنی تخریب کاری کے بغیر جنگ جیتنا بہت مشکل ہے''… یہ آواز صلیبی فوج کے ایک مشیر کی تھی جسے ریمانڈ نے ''
‫الصالح کے پاس بھیجا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا… ''ہم تمہارے کسی شہر میں آکر نہیں لڑیں گے۔ ہم مصر سے آنے والی کمک کو
‫روکیں گے اور موقع دیکھ کر سلطان ایوبی کو کہیں گھیرے میں لے لیں گے۔ آپ کی فوج دمشق پر حملہ کرے گی۔ سردیوں
‫کے موسم میں نہ آپ حملہ کرسکتے ہیں‪ ،نہ صالح الدین ایوبی۔ آپ اس وقت سے فائدہ اٹھائیں۔ مجھے جو خطرہ نظر آرہا
‫ہے‪ ،وہ یہ ہے کہ آپ کی قوم آپس میں لڑنے سے گریز کرے گی۔ آپ ان عالقوں میں جو آپ کے قبضے میں ہیں‪ ،اپنی قوم
‫کو صالح الدین ایوبی کے خالف بھڑکائیں۔ اس کا بہترین حربہ آپ کا مذہب اور قرآن ہے۔اس مقصد کے لیے مذہب‪ ،قرآن اور
‫مسجد کواستعمال کریں۔ ہم نے مسلمانوں میں یہ کمزوری دیکھی ہے کہ مذہب کے نام پر جلدی بھڑکتے ہیں۔ اگر آپ ہماری
‫مدد کریں تو ہم آپ کو یہ تخریب کاری دمشق میں بھی کرکے دکھا دیں گے''۔
‫یہ دیکھ کر میرا سرشرم سے جھک جاتا ہے کہ پانچ سال گزر گئے ہیں‪ ،ہم سے ابھی صالح الدین ایوبی قتل نہیں ہوا''…''
‫یہ آواز فدائی قاتلوں ( حشیشین) کے مرشد شیخ سنان کی تھی۔ وہ ان فدائیوں سے جنہیں سلطان ایوبی کے قتل کے لیے
‫بھیجا جارہا تھا کہہ رہا تھا۔ ایوبی پر ہمارے چار حملے ناکام ہوچکے ہیں۔ ناکام بھی ایسے کہ ہمارے آدمی مارے گئے اور زندہ
‫بھی پکڑے گئے۔ حسن بن صباح کی روح مجھ سے جواب مانگ رہی ہے۔ کیا تم اسے زہر نہیں دے سکتے؟ کہیں چھپ کر
‫اسے تیر کا نشانہ نہیں بنا سکتے؟ کیا تم اپنی موت سے خوفزدہ ہوگئے ہو؟ اپنے حلف کے الفاظ بھول گئے ہو؟ میں اب یہ
‫نہیں سننا چاہتا کہ صالح الدین ایوبی ابھی زندہ ہے۔
‫وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہے گا''… ایک فدائی نے کہا اور اس کے ساتھیوں نے اس کی تائید کی۔''
‫سلطان ایوبی کی جو فوج مصر میں تھی‪ ،اس کی کمان سلطان ایوبی کے بھائی العادل کے پاس تھی۔ سلطان ایوبی اسے یہ
‫حکم دے آیا تھا کہ بھرتی تیز کردے اور جنگی مشقیں جاری رکھے۔ اس نے العادل کو سوڈان کی طرف سے خبردار کیا تھا اور
‫اسے بتا آیا تھا کہ سوڈان کی طرف سے معمولی سی بھی فوج حرکت کرے تو وسیع پیمانے پر جنگی کارروائی کرے اور
‫سلطان ایوبی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کمک اور رسد تیار رکھے۔ دمشق کی مہم کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ
‫کیسی صورتحال پیدا کردے۔ اب اس نے جو منصوبہ بنایا تھا‪ ،اس کے لیے اسے کمک کی ضرورت تھی۔ جاسوس اور لڑکی نے
‫اسے بتادیا تھا کہ ریمانڈ مصر اور شام کے درمیان حائل ہوکر سلطان ایوبی کی کمک اور رسد روک لے گا۔ اس اطالع کے پیش
‫نظر اس نے کمک قبل از وقت منگوا کر اپنے ہاتھ میں رکھ لینا ضروری سمجھا۔ اس کمک کو سردیوں کی جنگ کی ٹریننگ
‫کی بھی ضرورت تھی۔ اس نے ایک طویل پیغام کے ساتھ ایک قاصد قاہرہ بھیج دیا۔
‫اس نے العادل کو پیادہ اور سوار دستوں کی تعداد لکھی جو اسے درکار تھی اور یہ ہدایت بھیجی کہ تمام فوج اکٹھی کوچ نہ
‫کرے بلکہ چھوٹے چھوٹے دستے رات کے وقت ایک دوسرے سے دور دور نقل وحرکت کریں۔ دن کے وقت سفر نہ کیا جائے۔
‫حتی االمکان کمک کے کوچ کو خفیہ رکھا جائے… العادل اپنے بھائی کا ہی تربیت یافتہ تھا۔ اس نے پیغام ملتے ہی کمک
‫روانہ کردی اور اسے خفیہ رکھنے کا یہ انتظام کیا کہ فوج کے چند افراد کو عام مسافروں کے لباس میں اونٹوں پر سوار کرکے
‫اس ہدایت کے ساتھ کمک کے راستے میں بھیج دیا کہ وہ دائیں بائیں‪ ،دور دور چلتے رہیں اور کوئی مشکوک آدمی نظر آئے تو
‫اس کی چھان بین کریں اور ضرورت محسوس ہو تو اسے پکڑ لیں۔
‫کمک کے دستے چند دنوں بعد دمشق پہنچنے لگے اور سلطان ایوبی نے انہیں بھی رات کی ٹریننگ میں شامل کردیا۔ اس کے
‫ساتھ نئی بھرتی کا حکم بھی دے دیا۔
‫دمشق کے مضافات میں اس دور میں جنگل اور کھڈنالوں کا عالقہ ہوا کرتا تھا۔ وہاں ایک صدیوں پرانے قلعے کے کھنڈر تھے۔
‫اس کے اندر کبھی کوئی نہیں گیا تھا۔ رات کو لوگ اس کے قریب سے بھی نہیں گزرتے تھے۔ یہ چونکہ فوجی استعمال کے

‫قابل نہیں رہا تھا ابھی بے موقعہ اس لیے فوج نے اس کی طرف کبھی توجہ نہیں دی تھی۔ سلطان ایوبی کے دور میں دمشق
‫کے دفاع کے لیے ایک اور جگہ قلعہ تعمیر کرلیا گیا تھا۔ وہ پرانا قلعہ ناگوں واال قلعہ کہالتا تھا۔ مشہور تھا کہ اس میں
‫ناگوں کا ایک جوڑا رہتا ہے۔ ناگ اور ناگن کی عمر ایک ہزار سال ہوچکی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ یہ قلعہ سکندراعظم
‫نے بنایا تھا اور یہ بھی کہ یہ دارا ایرانی کا بنایا ہوا ہے۔ بعض اسے بنی اسرائیل کی تعمیر کہتے تھے۔
‫اس میں تو اختالف پایا جاتا ہے کہ یہ کس کی تعمیر تھی۔ ایک روایت کو سب سچ مانتے تھے۔ کہتے تھے کہ صدیاں گزریں
‫یہاں فارس کا ایک بادشاہ آیا تھا۔ یہ جگہ اسے اتنی پسند آئی کہ یہاں اس نے یہ قلعہ تعمیر کیا۔ اس کے اندر اپنے لیے
‫ایک خوش نما محل بنایا مگر اسے آباد کرنے کو اس کی بیوی نہیں تھی۔ اسے کسی گڈریئے کی بیٹی پسند آگئی۔ اس لڑکی
‫کا منگیتر بھی تھا۔ بادشاہ نے لڑکی کے ماں باپ کو بے بہا دولت دی اور ان سے لڑکی لے لی۔ منگیتر نے بادشاہ سے کہا
‫کہ وہ اس قلعے میں کبھی آباد نہیں ہوسکے گا۔ بادشاہ نے اسے قلعے میں لے جا کر قتل کردیا اور الش اندر ہی کہیں دفن
‫کردی۔ لڑکی نے بادشاہ سے کہا کہ اس نے اس کا جسم خرید لیا ہے‪ ،اس کی روح آزاد ہوگئی ہے۔ پہلے روز ہی بادشاہ جب
‫گڈریئے کی بیٹی کو شاہانہ لباس پہنا کر محل میں داخل ہوا تو فرش بیٹھ گیا اور دیواروں کے ساتھ چھت نیچے آرہی۔ بادشاہ
‫اور لڑکی ملبے میں دفن ہوگئے۔ بادشاہ کی فوج ملبہ ہٹانے لگی تو ملبے میں دو ناگ نکلے۔ فوج نے انہیں برچھیوں‪ ،تیروں اور
‫تلواروں سے مارنے کی کوشش کی لیکن ناگوں کو برچھی لگتی تھی نہ تلوار۔ تیر بھی ان کے قریب جاکر رخ بدل لیتے تھے۔
‫فوج ڈر کر بھاگ گئی۔ یہ بھی مشہور تھا کہ اب بھی رات کو قلعے کے قریب سے گزرو تو ایک لڑکی گڈریوں کے لباس میں
‫بھیڑ بکریاں چراتی نظر آتی ہے۔ کبھی کبھی ایک جوان آدمی بھی نظر آتا ہے۔ بہرحال سب مانتے تھے کہ اب قلعے میں
‫جن اور پریاں رہتی ہیں۔
‫جن دنوں سلطان ایوبی خلیفہ اور امراء کے خالف جنگ کی تیاریاں کررہا تھا‪ ،دمشق میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ ناگوں والے
‫قلعے میں ایک بزرگ نمودار ہوا ہے جو دعا کرتا ہے تو سب روگ دور ہوجاتے ہیں اور وہ آنے والے وقت کی خبریں بھی دیتا
‫ہے۔ شہر میں کسی نے اس کی کرامات سنائی تھیں جو فورا ً مشہور ہوگئیں۔ بعض نے اسے امام مہدی بھی کہا تھا۔ لوگ وہاں
‫جانے کو بے چین ہونے لگے لیکن ڈرتے تھے کہ یہ گڈریئے کی بیٹی اور اس کی منگیتر یا فارس کے بادشاہ کی بدروح ہی نہ
‫ہو اور یہ جنوں اور بھوتوں کا فریب بھی ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں نے ذرا دور کھڑے ہوکر قلعے کو دیکھا تھا۔ تین چار آدمیوں
‫نے بتایا کہ انہوں نے سیاہ داڑھی اور سفید چغے والے ایک آدمی کو قلعے سے باہر آتے اور فورا ً ہی اندر جاتے دیکھا تھا۔
‫لوگوں کو اس بزرگ کی کرامات تو سنائی دیتی تھیں مگر ایسا کوئی آدمی نہیں ملتا تھا جس نے یہ کہا ہو کہ وہ قلعے کے
‫اندر گیا اور اس کے لیے بزرگ نے دعا کی تھی۔
‫ایک روز سلطان ایوبی کے محافظ دستے کا ایک سپاہی ڈیوٹی کا وقت پورا کرکے کہیں گھوم پھر رہا تھا‪ ،وہ وجیہہ اور خوبرو
‫جوان تھا۔ محافظ دستے کے تمام جوان ایسے ہی تھے۔ سامنے سے نورانی چہرے واال ایک آدمی آرہا تھا جس کی سیاہ داڑھی
‫تھی اور سلیقے سے تراشی ہوئی تھی۔ اس کا چغہ سفید تھا اور سر پر نہایت دلکش عمامہ‪ ،اس کے ہاتھ میں تسبیح تھی۔
‫محافظ سپاہی کے سامنے آکر وہ رک گیا۔ سپاہی کی تھوڑی کو تھام کر ذرا اوپر اٹھایا اور دھیمی آواز میں کہا… ''مجھے
‫''غلطی نہیں لگ سکتی‪ ،تم کہاں کے رہنے والے ہو دوست؟
‫''بغداد کا''… سپاہی نے بڑے میٹھے لہجے میں کہا… ''آپ مجھے پہچانتے ہیں؟''
‫ہاں دوست! میں تمہیں پہچانتا ہوں''… سیاہ داڑھی والے نے حیرت کے لہجے میں کہا… ''مگر تم شاید اپنے آپ کو ''
‫نہیں پہچانتے''۔
‫سپاہی اس کی حیرت پر حیران ہوا اور اس کے بولنے کے انداز سے متاثر بھی ہوا‪ ،اگر اس آدمی کا چہرہ ایسا نورانی‪ ،اس
‫کی داڑھی اتنی اچھی اور چغہ اتنا سفید نہ ہوتا تو سپاہی اسے کوئی دیوانہ یا مجذوب سمجھ کر ٹال دیتا لیکن اس شخص
‫کی آنکھوں‪ ،حال‪ ،حلیے اور سراپا نے اسے رکے رہنے پر مجبور کردیا۔
‫اپنے پردادا کو جانتے ہو‪ ،کون تھا اور کیا تھا؟''… اس شخص نے سپاہی سے پوچھا۔۔''
‫نہیں''… سپاہی نے جواب دیا۔''
‫''اور دادا کو؟''
‫''نہیں''
‫''تمہارا باپ زندہ ہے؟''
‫نہیں''… سپاہی نے جواب دیا… ''میں دودھ پینے کی عمر میں تھا‪ ،جب وہ مرگیا تھا''۔''
‫''ان میں بادشاہ کون تھا؟''… سیاہ داڑھی والے نے پوچھا… ''پردادا؟ دادا؟ یا باپ؟''
‫کوئی بھی نہیں''… سپاہی نے جواب دیا… ''میں کسی شاہی خاندان کا فرد نہیں ہوں۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے ''
‫محافظ دستے کا سپاہی ہوں۔ آپ کو شاید غلط فہمی ہوئی ہے۔میری شکل وصورت شاید آپ کے کسی پرانے دوست سے ملتی
‫جلتی ہے''۔
‫اس شخص نے اس کی بات جیسے سنی ہی نہ ہو۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی دائیں ہتھیلی کی لکیروں کو غور سے دیکھنے
‫لگا۔ پھر اس کی آنکھوں میں چہرہ اس کے قریب کرکے جھانکا اور بڑی سنجیدہ اور کسی قدر حیرت زدہ آواز میں بوال…
‫''مجھے یہ تخت کس کا نظر آرہا ہے۔ یہ تاج کس کا نظر آرہا ہے! تمہار آنکھوں میں وہ جاہ وجالل محفوظ ہے جو تم نے
‫نہیں دیکھا۔ تمہارے دادا کے محافظ دستے میں چالیس جوان تم جیسے تھے۔ آج تم اس انسان کے محافظ دستے کے سپاہی ہو
‫جو تمہارے دادا کے تخت پر بیٹھا ہے۔ تمہیں کس نے بتایا ہے کہ تم شاہی خاندان کے فرد نہیں ہو؟ میرا علم مجھے دھوکہ
‫''نہیں دے سکتا۔ میری آنکھیں غلط نہیں دیکھ سکتیں… تم نے شادی کرلی ہے؟
‫نہیں!''… سپاہی نے مرعوب ہوکر جواب دیا… ''اپنے خاندان کی ایک لڑکی کے ساتھ منگنی ہوگئی ہے''۔''
‫نہیں ہوگی''… اس شخص نے کہا… ''یہ شادی نہیں ہوگی''۔''
‫کیوں؟''… سپاہی نے گھبرا کر پوچھا۔''
‫تمہاری روح کا مالپ کہیں اور ہے''… سیاہ داڑھی والے نے کہا… ''مگروہ کہیں اور قید ہے… سنو دوست! تم مظلوم ہو‪'' ،
‫کسی کے فریب کا شکار ہو۔ تم گمراہ ہو‪ ،تمہارے خزانے پر سانپ بیٹھا ہے۔ وہ شہزادی ہے جو تمہاری راہ دیکھ رہی ہے‪،
‫تمہیں کوئی بتا دے کہ وہ کہاں ہے تو تم جان کی بازی لگا کر اسے آزاد کرالو گے''۔ وہ چل پڑا۔
‫سپاہی نے اس کے پیچھے جاکر اسے روکا اور کہا… ''مجھے بتا کر جائو کہ آپ نے میرے ہاتھ اور میری آنکھوں میں کیا
‫دیکھا ہے۔ آپ کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ آپ مجھے گمراہ اور پریشان کرچکے ہیں''۔

‫میں کچھ بھی نہیں'' اس شخص نے جواب دیا… ''جو کچھ ہے وہ میرے اللہ کی ذات ہے۔ تین چار بڑی پاک روحیں ''
‫میرے ہاتھ میں ہیں۔ یہ خدا کے ان برگزیدہ لوگوں کی روحیں ہیں جو ماضی کو جانتے اور مستقبل کو پہچانتے تھے۔ میں کچھ
‫ورد وظیفے کیا کرتا ہوں۔ا یک رات مجھے اشارہ مال کہ ناگوں والے قلعے میں چلے جائو‪ ،تمہیں کوئی ملنے کو بیتاب ہے۔
‫وہی ورد وظیفے کرنا۔ میں وہاں جانے سے ڈرتا تھا لیکن اشارہ خدا کا ہو تو ڈر کیسا! میں چال گیا اور پہلی رات ہی وظیفے
‫کے دوران مجھے یہ روحیں مل گئیں۔ انہوں نے مجھے یہ طاقت دے دی کہ انسان کا چہرہ اور آنکھیں دیکھ کر اس کے دادا‪،
‫پردادا تک کی تصویریں نظر آجاتی ہیں مگر یہ کیفیت مجھ پر کبھی کبھی طاری ہوتی ہے۔ تمہیں دیکھا تو میں اس عالم میں
‫تھا۔ کان میں ایک روح کی سرگوشی سنائی دی۔ اس جوان کو دیکھو‪ ،شہزادہ ہے مگر اپنی لوح تقدیر سے بے خبر ہے اور
‫سپاہیوں کے لباس میں دوسروں کی حفاظت کے لیے پہرہ دیتا رہتا ہے''… یہ کیفیت گزر گئی ہے۔ اب تم مجھے صرف سپاہی
‫نظر آتے ہو۔
‫یہ انسانی فطرت کی کمزوری ہے کہ ہر کوئی خزانے اور جاہ وحشمت کے خواب دیکھتا ہے۔ یہ سپاہی تھا۔ اسے خزانے اور
‫شہزادی کا اشارہ مال تو سیاہ ریش کی منت کی کہ اسے اس کے متعلق کچھ بتائے۔ سیاہ ریش نے مسکرا کر کہا… ''میرے
‫پاس نجوم کاعلم نہیں‪ ،غیب دان بھی نہیں ہوں۔ اللہ اللہ کرنے واال درویش ہوں۔ کوشش کروں گا کہ تمہیں کچھ بتا سکوں
‫لیکن جہاں تمہیں بالئوں گا‪ ،وہاں تم آئو گے نہیں''۔
‫جہاں آپ کہیں گے‪ ،آجائوں گا''۔''
‫''ناگوں والے قلعے میں آجائو گے؟''
‫ضرور آئوں گا''۔''
‫آج رات''… سیاہ داڑھی والے نے کہا… ''غسل کرکے ذہن کو دنیا کے خیالوں سے خالی کرکے آجانا اور یاد رکھو‪ ،کسی ''
‫سے ذکر نہ کرنا۔ کسی کو نہ بتانا کہ میں تمہیں مال تھا اور تم رات کہیں جارہے ہو یا نہیں… چوری چوری آنا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫اگر خزانے کا‪ ،شہزادی اور تخت وتاج کا خیال نہ ہوتا تو یہ سپاہی کتنا ہی دلیر کیوں نہ ہوتا‪ ،رات کے وقت ناگوں کے قلعے
‫میں نہ جاتا۔ سلطان ایوبی کے مکان کے پچھلے دروازے پر اس کا پہرہ رات کے آخری پہر تھا۔ اس وقت سے پہلے وہ گھوم
‫پھر سکتا تھا۔ وہ جب قلعے کے دروازے پر پہنچا تو خوف نے اس کے دل پر قبضہ کرلیا۔ اس نے بلند آواز سے کہا… ''میں
‫آگیا ہوں۔ آپ کہاں ہیں؟''… اسے زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا۔ ایک مشعل کہیں سے آئی اور اس کی طرف بڑھنے لگی۔ اس
‫کے دل پر خوف کا شکنجہ اورزیادہ مضبوط ہوگیا۔ مشعل ایک آدمی نے اٹھا رکھی تھی۔ اس نے قریب آکر سپاہی سے پوچھا…
‫''تم ہی ہو جسے حضرت نے آج راستے میں کہیں دیکھا تھا؟''… سپاہی نے بتایا کہ وہی ہے تو مشعل بردار نے کہا…
‫''میرے پیچھے آئو''۔
‫تمہیں جو کچھ نظر آرہاہوں‪ ،وہی ہوں''… اسے جواب مال… ''دل سے خوف نکال دو۔ ذہن سے ہر خیال نکال دو۔ ''
‫خاموشی سے چلتے آئو''… مشعل بردار چلتا اور بولتا جارہا تھا۔ ''حضرت سے کوئی سوال نہ پوچھنا‪ ،وہ جیسے حکم دیں
‫ویسے کرنا''۔
‫تاریک غالم گردشوں اور چھتوں سے ڈھکے کئی ایک راستوں سے گزر کر مشعل بردار ایک دروازے کے آگے رک گیااور بلند
‫آواز سے بوال… ''یاحضرت! اجازت ہو تو اسے پیش کروں‪ ،جسے آپ نے بالیا ہے''… اندر سے جانے کیا جواب آیا۔ مشعل
‫بردار ایک طرف ہٹ گیا اور سپاہی کو اشارہ کیا کہ اندر چال جائے۔ سپاہی اندر آگیا تو اس قدر ہیبت ناک کھنڈر میں ایسے
‫خوش نما سامان سے آراستہ کمرے کو دیکھ کر وہ حیران بھی ہوا اور ڈرا بھی۔ یہ انسانوں کی نظر نہ آنے والی مخلوق کا
‫مسکن ہوسکتا تھا۔ قالین بچھا ہوا تھا جس پر گائو تکیے سے پیٹھ لگائے سیاہ ریش بیٹھا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے تسبیح کررہا
‫تھا۔اسی حالت میں اس نے سپاہی کو بیٹھے کا اشارہ کیا۔ وہ بیٹھ گیا۔ کمرے میں خوشبو تھی۔
‫سیاہ داڑھی والے حضرت نے آنکھیں کھولیں۔ سپاہی کو دیکھا اور تسبیح اس کی گود میں پھینک کر کہا۔ ''گلے میں ڈال
‫لو''… سپاہی نے تسبیح کو چوما اور گلے میں ڈال لی۔ کمرے میں ایک قندیل جل رہی تھی۔ حضرت نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ
‫مارا تو دوسرے کمرے سے جس کا دروازہ اس کے کمرے میں کھلتا تھا‪ ،ایک لڑکی نکلی۔ اس کے بال کھلے ہوئے اور شانوں
‫پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے اتنی خوبصورت لڑکی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک خوش نما پیالہ تھا
‫جو اس نے سپاہی کے ہاتھ میں دے دیا۔ سیاہ داڑھی واال اٹھا اور دوسرے کمرے میں چال گیا۔ سپاہی پیالہ ہاتھ میں لیے کبھی
‫لڑکی کو اور کبھی پیالے کو دیکھتا تھا۔ لڑکی نے اسے کہا۔ ''حضرت کچھ دیر بعد آئیں گے‪ ،یہ پی لو''… لڑکی کے ہونٹوں
‫پر ایسی مسکراہٹ تھی جس میں اپنائیت اور بے تکلفی تھی۔ سپاہی نے پیالہ ہونٹوں سے لگایا اور ایک گھونٹ پی کر لڑکی
‫کو دیکھا۔
‫مجھے تم جیسا خوبصورت جوان کبھی کبھی نظر آتا ہے''… لڑکی نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا…''پیو۔ میں یہ ''
‫شربت بڑے پیار سے الئی ہوں۔ حضرت نے کہا تھا کہ آج تمہاری پسند کا ایک نوجوان آرہا ہے‪ ،جسے معلوم نہیں کہ وہ کون
‫ہے''۔
‫سپاہی نے دو تین گھونٹ شربت پی لیا۔ اس کے بعد شربت گھونٹ گھونٹ اس کے حلق سے اترتا رہا اور لڑکی اس کے
‫قریب ہوتی گئی اور پھر سپاہی نے یوں محسوس کیا جیسے لڑکی اپنے طلسماتی حسن اور سحر آگیں جسم کے ساتھ شربت
‫کی طرح اس کے حلق میں اتر گئی اور رگ رگ میں سما گئی ہو۔ سیاہ ریش حضرت آگیا۔ اس کے ہاتھ میں شیشے کا ایک
‫گولہ تھا جس کا سائز ناشپاتی جتنا تھا۔ اس نے گولہ سپاہی کے ہاتھ میں دے کر کہا… ''اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو اور
‫اس میں سے قندیل کی لو کو دیکھو اور دیکھتے رہو''۔
‫سپاہی نے شیشے کے گولے میں سے قندیل کو دیکھا تو اسے اپنی آنکھوں کے سامنے کئی رنگ شعلوں کی طرح تھرکتے نظر
‫آنے لگے۔ لڑکی کے ریشمی بال اس کے گالوں کو چھو رہے تھے اور لڑکی نے اس طرح اسے اپنی بازوئوں کے گھیرے میں لے
‫رکھا تھا کہ وہ لڑکی کے جسم کی حرارت اور خوشبو کو محسوس کررہا تھا۔ اس کے کانوں میں ایک سریلی اور پراسرار آواز
‫پڑنے لگی… ''مجھے تخت سلیمان نظر آرہا ہے‪ ،مجھے تخت سلیمان نظر آرہا ہے''… ذرا سی دیر اس کا یہ احساس زندہ
‫رہا کہ یہ آواز سیاہ داڑھی والے کی ہے۔ پھر یہ اس کی اپنی آواز بن گئی اور پھر وہ اس دنیا کا حصہ بن گیا جو اسے
‫شیشے میں نظر آنے لگی تھی۔ اسے تخت سلیمان نظر آرہا تھا جس پر نورانی چہرے واال ایک بادشاہ بیٹھا تھا۔ اس کے
‫دائیں بائیں اورپیچھے چار پانچ لڑکیاں کھڑی تھیں۔ وہ اتنی خوبصورت تھیں کہ وہ پریاں ہوسکتی تھیں۔
‫ہاں‪ ،ہاں'' سپاہی نے کہا… ''مجھے تخت سلیمان نظر آرہا ہے''۔''

‫لڑکی کے بکھرے ہوئے بال اس کے اوپر پھیل گئے۔ سپاہی کو شیشے میں سے نظر آتے ہوئے تخت کے قریب کھڑے ایک
‫آدمی کی آواز سنائی دی… '' یہ بادشاہ تمہارا دادا ہے جو ہفت اقلیم کا بادشاہ ہے۔ شاہ سلیمان کی پریاں اور جنات اس دربار
‫میں سجدے کرتے ہیں۔ اپنے دادا کو پہچانو۔ یہ تمہارا ورثہ ہے۔ تخت جارہا ہے''۔
‫سپاہی نے ہڑبڑا کر کہا… ''وہ تخت لے جارہے ہیں‪ ،یہ دیو ہیں‪ ،بہت بڑ بڑے‪ ،بہت ڈرائونے۔ انہوں نے تخت اٹھا لیا ہے''۔
‫اور شیشے کے گولے میں کئی رنگوں کے شعلے رہ گئے جو تھرک رہے تھے‪ ،جیسے وجد میں آئے ہوئے رقص کررہے ہوں۔
‫سپاہی نے محسوس کیا جیسے کوئی چیز اس کی ناک کے ساتھ لگی ہوئی ہو۔ شیشے کا گولہ اس کی آنکھوں کے آگے سے
‫خود ہی ہٹ گیا اور اس پر غنودگی طاری ہوگئی۔ وہ اس وقت اپنے آپ میں آیا جب لڑکی اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی
‫تھی۔ اس نے آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو قالین پر پڑے پایا۔ لڑکی کا ایک بازو اس کے سر کے نیچے تھا اور لڑکی اس کے
‫پاس نیم دراز تھی۔ سپاہی اٹھ بیٹھا۔ وہ حیران تھا اور پریشان بھی۔ اس کے منہ سے پہلی بات یہ نکلی… ''وہ کہتے تھے
‫کہ تخت تمہارے دادا کا ہے اور یہ تمہارا ورثہ ہے''۔
‫حضرت نے بھی یہی فرمایا ہے''۔ لڑکی نے بڑی پیاری آواز میں کہا۔''
‫حضرت کہاں ہیں؟'' سپاہی نے کہا۔''
‫وہ اب نہیں مل سکیں گے''۔ لڑکی نے جواب دیا… ''تم نے کہا تھا کہ رات کے آخری پہر تمہارا پہرہ ہے‪ ،اس لیے ''
‫میں نے تمہیں جگا دیا ہے۔ رات آدھی گزر گئی ہے‪ ،تم اب چلے جائو''۔
‫وہ وہاں سے نکلنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ پوچھ رہا تھا کہ اس نے خواب دیکھا تھا یا یہ حقیقت تھی۔ لڑکی نے اسے بتایا کہ یہ
‫خواب نہیں تھا۔ یہ حضرت کی خصوصی کرامات تھی۔ ان کے لیے حکم ہے کہ وہ اس کاکوئی راز اپنے پاس نہ رکھیں۔ یہ اس
‫تک پہنچا دیں جس کا یہ راز ہے مگر یہ کیفیت حضرت پر کسی کسی وقت طاری ہوتی ہے۔ اب معلوم نہیں کب ہو۔ سپاہی
‫نے لڑکی کی منت سماجت شروع کردی۔ لڑکی نے اسے کہا۔ ''تم میرے دل میں اتر گئے ہو۔ میں نے اپنی روح تمہارے
‫حوالے کردی ہے۔ تمہارے لیے اپنی جان بھی قربان کردوں گی۔ میں تمہیں کبھی جانے نہ دوں لیکن تمہارے فرض کی ادائیگی
‫ضروری ہے۔ اب چلے جائو۔ کل رات آجانا‪ ،میں حضرت سے درخواست کروں گی کہ وہ تمہارا راز تمہیں دے دیں''۔
‫ِ
‫تخت سلیمان غالب تھا اور دل پر
‫وہ جب قلعے سے نکال تو اس کے قدم اٹھ نہیں رہے تھے۔ اس کے ذہن پر اپنے دادا کا
‫لڑکی کا قبضہ تھا۔ تاریک رات میں قلعے کے کھنڈر اسے محل کی طرح خوش نما نظر آرہے تھے۔ وہ مسرور بھی تھا۔ دل
‫میں کوئی خوف اور کوئی پریشانی نہیں تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫صالح الدین ایوبی کی تمام تر توجہ فوج کی ٹریننگ اور منصوبہ بندی پر مرکوز تھی۔ اس نے اپنے لیے اور مرکزی کمان کے
‫اعلی فوجی حکام کے لیے آرام حرام کررکھا تھا۔ انٹیلی جنس کا انچارج حسن بن عبداللہ جہاں اپنے کاموں میں مصروف تھا‪،
‫ٰ
‫وہاں اسے یہ بھی فکر تھا کہ سلطان ایوبی اپنی حفاظت کا خیال نہیں رکھتا تھا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:07
‫قسط نمبر۔‪72‫ناگوں والے قلعے کے قاتل
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫کا خیال نہیں رکھتا تھا۔ اس کے باڈی گارڈ کے کمانڈر نے حسن بن عبداللہ سے کئی بار شکایت کی تھی کہ سلطان اسے
‫بتائے بغیر پچھلے دروازے سے نکل جاتے ہیں اور وہ ان کے خالی کمرے کا پہرہ اس خیال سے دیتا رہتا ہے کہ سلطان اندر
‫ہے۔ کمانڈر سلطان ایوبی کے ساتھ اپنے دو چار گارڈ سائے کی طرح لگائے رکھنا چاہتا تھا۔ کمانڈر کو یہ بھی بتا دیا گیا تھا
‫کہ اب فدائی پوری تیاری سے سلطان ایوبی کو قتل کرنے آرہے ہیں۔ اس اطالع نے کمانڈر کو اور زیادہ پریشان کردیا تھا مگر
‫سلطان ایوبی کی بے پروائی کا یہ عالم تھا کہ حسن بن عبداللہ نے اسے کہا کہ وہ باڈی گارڈز کے بغیر باہر نہ نکل جایا
‫تعالی کے ہاتھ میں ہے‪،
‫کریں تو سلطان ایوبی نے مسکرا کر اس کے گال پر تھپکی دی اور کہا… ''ہم سب کی جان اللہ
‫ٰ
‫محافظوں کی موجودگی میں مجھ پر چار قاتالنہ حملے ہوچکے ہیں۔ اللہ کو منظور تھا کہ میں زندہ رہوں‪ ،میں اللہ کی راہ پر
‫چل رہا ہوں اگر اس کی ذات باری مجھے اس سے سبکدوش کرنا چاہے گی تو اس کی رضا کو نہ میں روک سکوں گا‪ ،نہ
‫میرے محافظ''۔
‫سلطان محترم!'' حسن بن عبداللہ نے کہا… ''میرے اور محافظ دستے کے فرائض ایسے ہیں کہ آپ کے عقیدوں''
‫پھر بھی
‫ِ
‫اور جذبے سے میں متاثر نہیں ہوسکتا۔ مجھے فدائیوں کے متعلق جو اطالع مل رہی ہیں‪ ،ان کے پیش نظر مجھے رات کو
‫بھی آپ کے سرہانے کھڑا رہنا چاہیے''۔
‫میں تمہارے اور محافظوں کے فرائض کا احترام کرتا ہوں حسن!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''مگر میں محافظوں کے ساتھ ''
‫باہر نکلتاہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ جیسے مجھے اپنی قوم پر بھروسہ نہیں۔ عموما ً حکمران اپنی قوم سے ڈرا کرتے ہیں‪ ،وہ
‫دیانت دار اور مخلص نہیں ہوتے''۔
‫ڈر قوم کا نہیں''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا…''میں فدائیوں کی بات کررہا ہوں''۔''
‫میں احتیاط کروں گا''۔ سلطان ایوبی نے ہنس کر کہا۔''
‫ناگوں والے قلعے سے آکر محافظ سپاہی اپنی ڈیوٹی پر چال گیا۔ اس نے وہ دن اس ذہنی کیفیت میں گزارا کہ وہ تصوروں میں
‫تخت سلیمان اور لڑکی کو د یکھتا رہا۔ شام گہری ہوتے ہی وہ قلعے کی طرف چل پڑا۔ اس کے دل پر کوئی خوف نہیں تھا۔
‫وہ دروازے میں داخل ہوکر اندھیرے میں کچھ دور اندر چال گیا اور رک گیا۔ اس نے گزشتہ رات کی طرح پکارا… ''میں آگیا
‫ہوں‪ ،کیا میں آگے آسکتا ہوں؟''… اسے زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا۔ مشعل کی روشنی نظر آنے لگی اور مشعل اس سے کچھ
‫دور آکر رک گئی۔ مشعل بردار نے کہا… ''حضرت کے قدموں میں سجدہ ضرور کرنا۔ آج کسی سے ملنا نہیں چاہتے‪ ،تم
‫آجائو''۔
‫گزشتہ رات کی طرح وہ غالم گردشوں وغیرہ سے گزرتا مشعل بردار کے ساتھ حضرت کے دروازے پر رکا۔ حضرت نے اندر آنے
‫کی اجازت دے دی۔ سپاہی نے اس کے قدموں میں جاکر سر رکھا اور التجا کی… ''یا حضرت! مجھے میرا راز دے دو۔ میں
‫''کون ہوں؟ مجھے آپ کیا دکھائیں گے؟
‫سیاہ ریش حضرت نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا تو وہی لڑکی دوسرے کمرے سے آئی۔ وہ سپاہی کو دیکھ کر مسکرائی۔ سپاہی
‫اسے اپنے پاس بٹھانے کو بیتاب ہوگیا۔ سیاہ ریش نے لڑکی سے کہا… ''یہ آج پھر آگیا ہے۔ کیا میں یہاں تماشہ دکھانے کے

‫''لیے بیٹھا ہوں؟
‫اس گناہ گار کو بخش دیں یا حضرت!'' لڑکی نے کہا… ''بڑی دور سے امید لے کر آیا ہے''۔''
‫تھوڑی دیر بعد کل واال شیشہ اس کے ہاتھ میں تھا۔ لڑکی نے پہلے اسے شربت پالیا تھا اور اس کے پیچھے بیٹھ کر اس
‫کی پیٹھ اپنے سینے سے لگا لی اور بازو اس کے گرد پلیٹ دیئے جیسے ماں نے اپنے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ سپاہی
‫کو سیاہ ریش حضرت کی سریلی آواز سنائی دینے لگی… ''مجھے شاہ سلیمان کا محل نظر آرہا ہے۔ مجھے شاہ سلیمان کا
‫محل نظر آرہا ہے''… یہ آواز دبتی چلی گئی جیسے بولنے واال دور ہی دور ہوتا جارہا ہو۔
‫اوہ!''… سپاہی نے چونک کر کہا… ''ایسا محل اس دنیا کے کسی بادشاہ کا نہیں ہوسکتا''۔''
‫میں اس محل میں پیدا ہوا تھا''۔ اسے کسی کی آواز سنائی دینے لگی جو یہی الفاظ دہرا رہی تھی۔ ''میں اس محل ''
‫میں پیدا ہوا تھا''… پھر یہ اس کی اپنی آواز بن گئی اور پھر اس نے یوں محسوس کیا جیسے اس کے وجود کے اندر یہی
‫ایک آواز گونجنے لگی ہے۔ ''میں اس محل میں پیدا ہوا تھا''۔ پھر وہ آوازوں سے التعلق ہوگیا۔ اسے ایک محل نظر آرہا
‫تھا اور وہ خود اس کے باہر ایک باغ میں گھوم پھر رہا تھا۔ اب یہ اسے شیشے کے گولے میں نظر نہیں آرہا تھا بلکہ یہ
‫محل حقیقت بن گیا تھا جس کی ہر چیز کو‪ ،باغ کو‪ ،پودوں اور پھولوں کو ہاتھ لگا کر محسوس کرسکتا تھا اور سونگھ سکتا
‫تھا۔ وہ وہاں سپاہی نہیں شہزادہ تھا۔
‫یہ محل فضا میں تحلیل ہوگیا اور سپاہی نے بہت دیر بعد اپنے آپ کو لڑکی کی آغوش میں پایا۔ اس نے لڑکی سے بہت
‫کچھ پوچھا۔ لڑکی نے اسے بتایا کہ حضرت کہہ گئے ہیں کہ یہ شخص شہزادہ تھا اور یہ اب بھی شہزادہ بن سکتا ہے۔
‫حضرت یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ سپاہی کے تخت وتاج پر کس کا قبضہ ہے۔ لڑکی نے اسے کہا… ''حضرت
‫کہہ گئے ہیں کہ تم اگر سات آٹھ روز یہیں رہو تو وہ سب کچھ معلوم کرسکیں گے اور تمہیں سب کچھ دکھا دیں گے''۔
‫اگلی رات وہ پھر قلعے کے اسی کمرے میں بیٹھا تھا۔ اس نے چار روز کی چھٹی لے لی تھی۔ اسے لڑکی نے اسی پیالے
‫میں شربت پالیا اور اس کے ہاتھ میں شیشے کا گولہ دے دیا گیا۔ اس نے کسی کے بتائے بغیر گولہ اپنی آنکھوں کے آگے رکھ
‫لیا اور قندیل کی لو دیکھتا رہا۔ اسے اس میں رنگا رنگ شعلے ناچتے نظر آئے۔ سیاہ ریش نے اپنے طلسماتی انداز سے کچھ
‫بولنا شروع کردیا۔ اس سے پہلے وہ دوبار اس عمل سے گزر چکا تھا۔ دونوں بار ایسے ہوا تھا کجہ اسے شیشے کے گولے میں
‫تخت سلیمان اور اگلی رات شاہ سلیمان کا محل نظر آیا تھا مگر اس کے بعد گولہ اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا تھا۔ اس جب
‫گولے میں کوئی منظر نظر آنے لگتا تھا تو سیاہ ریش یا لڑکی سپاہی کے ہاتھ سے گولہ لے کر الگ رکھ دیتی تھی۔ اب
‫تیسری رات بھی یہی ہوا۔ سیاہ ریش اس کے سامنے بیٹھ گیا ور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پراثر لہجے میں جو
‫دھیما دھیما سا تھا کہہ رہا تھا… ''یہ پھول ہیں‪ ،یہ باغ ہیں‪ ،میں باغ میں موجود ہوں''… وہ یہی الفاظ دہرا رہا تھا اور
‫لڑکی سپاہی کے ساتھ لگی بیٹھی‪ ،اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔
‫سپاہی کو ایک باغ نظر آگیا۔ زمین اونچی نیچی تھی اور ہریالی سے ڈھکی ہوئی۔ ہر طرف رنگ برنگے پھول تھے اور ان کی
‫مہک نشہ طاری کرتی تھی۔ سپاہی نے باغ میں ایک ایسی لڑکی کو ٹہلتے اور گنگناتے دیکھا جو اس لڑکی سے بہت ہی زیادہ
‫خوبصورت تھی جو اس کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔ اس کا لباس ایک ہی رنگ کا تھا اور یہ رنگ ان رنگوں میں سے نہیں تھا
‫جو وہ اس دنیا میں دیکھا کرتا تھا۔ سپاہی اب ناگوں والے قلعے کے کمرے میں نہیں تھا۔ سیاہ ریش حضرت اور اس کے ساتھ
‫کی لڑکی سے وہ بے خبر اور التعلق ہوچکا تھا۔ وہ قلعے سے نکل ہی گیا تھا۔ اس نے باغ میں لڑکی کو دیکھا تو اس کی
‫طرف دوڑ پڑا۔ لڑکی بھی دوڑی اور اس کے گلے کا ہار بن گئی۔ لڑکی کے جسم سے پھولوں کی مہک اٹھ رہی تھی۔ سپاہی
‫شاہ سلیمان کے خاندان کا شہزادہ تھا۔ وہ دونوں باغ کے اس گوشے میں چلے گئے جو ایک غار کی مانند تھا لیکن یہ غار
‫رنگا رنگ بیلوں اور ان کے پھولوں نے بنا رکھا تھا۔ اس کے فرش پر مخمل جیسی گھاس تھی۔
‫لڑکی نے پھولوں کے اس غار کے ایک کونے سے ایک خوش نما صراحی اٹھائی اور پیالہ بھر کر سپاہی کے ہاتھ میں دے دیا۔
‫یہ میٹھی شراب تھی۔ سپاہی پر لڑکی کے حسن اور محبت کا نشہ تو پہلے ہی طاری تھا۔ شراب کے نشے نے اسے اس سے
‫بھی زیادہ حسین اور طلسماتی دنیا میں پہنچا دیا اور پھر لڑکی نے اسے کہا کہ وہ ابھی آتی ہے۔ وہ چلی گئی۔ سپاہی کو
‫اس کی چیخیں سنائی دیں۔ وہ باہر کو دوڑا۔ اسے لڑکی کہیں نظر نہ آئی۔ وہ دوڑتا ہی رہا۔ اسے لڑکی کی دلدوز چیخیں
‫سنائی دیتی رہیں مگر وہ سپاہی کو کہیں نظر نہیں آتی تھی۔ اس نے غصے سے پاگل ہوکر تلوار نکال لی اور لڑکی کی تالش
‫میں بائوال ہوتا رہا۔ آخر اسے ایک بڑھیا ملی۔ اس نے اسے بتایا کہ لڑکی اب تمہیں نہیں مل سکے گی۔ وہ جو لڑکی کو لے
‫گیا ہے وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے۔ تم اب اسے کبھی نہیں دیکھ سکو گے۔ وہ جو لڑکی لے گیا ہے‪ ،اب اس تخت پر بیٹھے
‫گا جس پر تمہیں بیٹھنا تھا۔ اس کے پیچھے مت بھاگو۔ زندہ رہو اور کبھی موقع پا کر اسے قتل کردینا۔ لڑکی تمہاری یاد میں
‫ہلکان ہوتی رہے گی۔
‫وہ کون تھا جو اس لڑکی کو لے گیا ہے؟'' سپاہی جب ناگوں والے قلعے کے اس کمرے میں لوٹ کر آیا تو اس نے ''
‫''پوچھا… ''اور میں نے یہ کیا دیکھا تھا؟
‫تم نے اپنی گزری ہوئی زندگی دیکھی ہے''۔ سیاہ ریش نے اسے بتایا… ''میں تمہیں واپس لے آیا ہوں''۔''
‫میں وہاں سے واپس نہیں آنا چاہتا''۔ سپاہی نے بیتابی اور بے چینی سے کہا… ''مجھے وہیں بھیج دو''۔''
‫کیا کرو گے وہاں جاکر؟'' سیاہ ریش نے اس سے پوچھا… ''جس کی خاطر جانا چاہتے ہو وہ تو کسی اور کے قبضے میں''
‫ہے۔ اسے جب تک قتل نہیں کرو گے وہ تمہیں نہیں مل سکے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ تم کسی کو قتل کرو اور میں یہ بھی
‫جانتا ہوں تم اس انسان کو قتل کر بھی نہیں سکو گے''۔
‫یاحضرت!'' سپاہی نے کہا… ''اگر قتل کرنے سے مجھے میرا ورثہ اور میری بیوی مل سکتی ہے تو میں سلطان صالح ''
‫الدین ایوبی سے بھی اونچے رتبے کے آدمی کو قتل کردوں گا''۔
‫پھر یہ خون میری گردن پر ہوگا میرے دوست!''… درویش نے کہا۔''
‫سپاہی اس کے قدموں میں گر پڑا اور اس کے پائوں پر سر رگڑنے لگا۔ وہ ''یاحضرت‪ ،یاحضرت'' کا ورد کیے جارہا تھا اور
‫وہ رونے بھی لگا تھا۔
‫سیاہ ریش حضرت نے اسے پھر اسی دنیا میں پہنچا دیا جہاں تخت سلیمانی تھا۔ محل اور باغ تھا۔ اس کے کانوں میں آوازیں
‫پڑتی رہیں… '' یہ ہے تمہارے دادا کا قاتل‪ ،تمہارے باپ کا قاتل‪ ،تمہارے تخت وتاج کا غاصب اور اس لڑکی کو جو تمہیں
‫چاہتی ہے‪ ،اس کی قید میں ہے''۔
‫نہیں نہیں''۔ سپاہی نے گھبرا کر کہا… ''یہ نہیں ہوسکتا‪ ،یہ سلطان صالح الدین ایوبی ہے''۔''

‫یہی تمہاری قسمت کا قاتل ہے''۔ اس کے کانوں میں آوازیں پڑ رہی تھیں۔ ''یہ تمہارا سلطان نہیں ہوسکتا۔ یہ کرد ہے‪'' ،
‫تم عرب ہو'' ۔ کہو… ''صالح الدین ایوبی میرے دادا کا قاتل ہے۔ میرے باپ کا قاتل ہے۔ میرے تخت وتاج کا غاصب ہے…
‫اب راز کھل گیا ہے۔ انتقام لو‪ ،غیرت مند مرد انتقام لیا کرتے ہیں''۔
‫اور سپاہی طلسماتی ماحول میں گھومتے پھرتے یہی ورد کرتا رہا… ''صالح الدین ایوبی میرے دادا کا قاتل ہے۔ میرے باپ کا
‫قاتل ہے۔ میرے تخت وتاج کا غاصب ہے۔ میری محبت کا قاتل ہے۔ میری قسمت کا قاتل ہے''۔
‫پھر یوں ہوا کہ اس کی نظروں کے آگے صرف صالح الدین ایوبی رہ گیا۔ وہ اسے چلتا پھرتا نظر آتا تھا۔ سپاہی ہاتھ میں
‫خنجر لیے اس کے پیچھے پیچھے جارہا تھا مگر قتل کا موقع نہیں ملتا تھا۔ سپاہی کو لڑکی نظر آگئی۔ وہ پنجرے میں بند
‫تھی۔ صالح الدین ایوبی پنجر کے پاس کھڑا قہقہے لگا رہا تھا۔ لڑکی سپاہی کو ادا اور مظلوم نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
‫سلطان ایوبی کے چہرے پر سفاکی اور بربریت کے سائے گہرے ہوئے جارہے تھے۔ سپاہی کی زبان خاموش ہوتی تھی تو اسے
‫فضا سے سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں… ''صالح الدین ایوبی میرے دادا کا قاتل ہے۔ میرے باپ کا قاتل…'' سلطان صالح
‫اعلی فوجی حکام سے جنگ کی باتیں کررہا تھا۔ جاسوس جو نئی اطالع الئے
‫الدین ایوبی اپنے کمرے میں اپنے مشیروں اور
‫ٰ
‫تھے‪ ،جن کے مطابق اپنے پالن پر نظرثانی کررہا تھا اور اس وقت یہی محافظ سپاہی باہر پہرے پر کھڑا تھا جسے سیاہ ریش
‫بزرگ نے نئی دنیا دکھائی تھی۔ مشیروغیرہ بہت دیر بعد کمرے سے نکلے اور سلطان ایوبی اکیال رہ گیا۔ سپاہی کمرے میں
‫چال گیا ور اس نے تلوار سونت کر کہا… ''تم میرے دادا کے قاتل ہو‪ ،میرے باپ کے قاتل ہو''… سلطان ایوبی نے چونک
‫کر اسے دیکھا… ''اسے آزاد کردو‪ ،وہ میری ہے''… اور اس کے ساتھ ہی اس نے قہر اور غضب سے سلطان ایوبی پر تلوار
‫کا وار کیا۔ سلطان خالی ہاتھ تھا۔ وہ پھرتی سے وار بچا گیا۔ اس نے باڈی گارڈز کے کمانڈر کو آواز دی اور لپک کر اپنی
‫تلوار اٹھالی۔ سپاہی نے اور زیادہ غضب ناک ہوکر اس پر حملہ کیا۔ اگر اس کے مقابلے کا تیغ زن سلطان ایوبی نہ ہوتا تو
‫اس تجربہ کار سپاہی کا وار خالی نہ جاتا۔ سلطان ایوبی نے اس کے وار صرف روکے اور وار ایک بھی نہ کیا اور جب کمانڈر
‫دوڑتا اندر آیا تو سلطان ایوبی نے اسے کہا… ''اس پر وار نہ کرنا‪ ،زندہ پکڑو''۔
‫سپاہی نے گھوم کرکمانڈر پر وار کیا۔ اتنے میں تین چار باڈی گارڈز اندر آگئے۔ سپاہی کے قہر کا یہ عالم تھا کہ اس نے تلوار
‫کے وار پہ وار کرکے کسی کو قریب نہ آنے دیا۔ وہ چونکہ سلطان ایوبی کو قتل کرنا چاہتا تھا‪ ،اس لیے وہ اسی کی طرف
‫لپکتا اور للکارتا تھا… ''تم میرے دادا کے قاتل ہو‪ ،میرے باپ کے قاتل ہو‪ ،میرے تخت وتاج کے غاصب ہو''… آخر اس کو
‫پکڑ لیا گیا۔ اس سے تلوار چھین لی گئی۔
‫زندہ باد میرے محافظ''… سلطان ایوبی نے غصے کا اظہار کرنے کے بجائے اسے خراج تحسین پیش کیا اور کہا… ''سلطنت''
‫اسالمیہ کو تم جیسے تیغ زنوں کی ضرورت ہے''… باڈی گارڈ کمانڈر اور دوسرے سپاہی حیران تھے کہ یہ قصہ کیا ہے۔ سلطان
‫ایوبی نے کمانڈر سے کہا… ''طبیب کو اور حسن بن عبداللہ کو فورا ً بالئو''۔
‫سپاہی کو چار باڈی گارڈز نے جکڑ رکھا تھا اور وہ چال رہا تھا… ''یہ میری محبت کا قاتل ہے‪ ،یہ میری قسمت کا قاتل
‫ہے''۔
‫ایک باڈی گارڈ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا لیکن سلطان ایوبی نے کہا… ''اسے بولنے دو‪ ،ہاتھ ہٹا لو''۔ اس نے سپاہی
‫''سے کہا… ''بولو میرے دوست! بتائو تم مجھے کیوں قتل کرنے لگے تھے؟
‫اسے آزاد کردو''۔ سپاہی نے چال کر کہا… ''تم نے اسے پنجرے میں بند کررکھا ہے۔ حضرت نے مجھے کہا تھا کہ میں ''
‫تمہیں قتل نہیں کرسکوں گا۔ آئو‪ ،میرا مقابلہ کرو۔ بزدلوں کی طرح اپنے آدمیوں کو اپنی جان بچانے کے لیے تم نے بال لیا
‫ہے‪ ،تلوار نکالو‪ ،میری تلوار مجھے دو‪ ،میدان میں آئو''۔
‫سلطان ایوبی اسے بڑی غور سے دیکھتا رہا۔ باڈی گارڈ سلطان ایوبی کے اس حکم کا انتظار کررہے تھے کہ اس سپاہی کو قید
‫خانے میں ڈال دیا جائے۔ اس کا جرم معمولی نہیں تھا۔ اس نے قاتالنہ حملہ کیا تھا۔ اگر سلطان ایوبی بے خبری میں بیٹھا
‫ہوتا یا وہ اس محافظ کو اندر آتے دیکھ نہ لیتا تو اس کا قتل ہوجانا یقینی تھا مگر سلطان ایوبی نے اسے قید میں ڈالنے کا
‫حکم نہ دیا۔ محافظ ہذیانی کیفیت میں بول رہا تھا… اتنے میں طبیب آگیا اور اس سے ذرا بعد حسن بن عبداللہ آگیا۔ اندر کا
‫منظر دیکھ کر وہ گھبرا گیا۔
‫اسے لے جائیں''۔ سلطان ایوبی نے طبیب سے کہا… ''یہ غالبا ً اچانک پاگل ہوگیا ہے''۔''
‫یہ آج ہی چار روز چھٹی کاٹ کر آیا ہے''۔ باڈی گارڈ کمانڈر نے کہا۔ ''جب سے آیا ہے‪ ،خاموش ہے''۔''
‫اسے گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ طبیب بھی ساتھ چال گیا۔ سلطان ایوبی نے حسن بن عبداللہ کو بتایا کہ اس سپاہی نے اس پر
‫قاتالنہ حملہ کیا ہے۔ حسن بن عبداللہ نے اس شک کا اظہار کیا کہ یہ فدائی ہوگا۔ سلطان ایوبی نے کہا کہ یہ سپاہی کسی
‫وجہ سے دماغی توازن کھو بیٹھا ہے۔ حسن بن عبداللہ کو سلطان ایوبی نے کہا کہ اس کے متعلق اچھی طرح چھان بین کی
‫جائے۔
‫٭ ٭ ٭
‫بہت دیر بعد طبیب سلطان ایوبی کے پاس آیا اور انکشاف کیا کہ اس سپاہی کو کئی روز مسلسل نشے کی حالت میں رکھا گیا
‫ہے اور اس پر عمل تنویم ( ہپناٹزم) کیا گیا ہے۔ طبیب نے اس کی سانس سونگھ کر معلوم کرلیا تھا کہ اسے نشہ آور چیزیں
‫کھالئی یا پالئی گئی ہیں۔ اس نے سلطان ایوبی کو بتایا… ''یہ عمل طب کے لیے کوئی عجوبہ نہیں۔ اس کا موجد حسن بن
‫صباح ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اس نے ایک نشہ آور شربت تیار کیا تھا جس میں یہ اثر تھا کہ جو پی لے اسے نہایت
‫حسین اور دل نشیں مناظر نظر آتے تھے۔ اس کیفیت میں اس کے کان میں جو بات ڈالی جائے وہ اسی کو حقیقی روپ میں
‫دیکھنے لگتا تھا جو دراصل تصور ہوتا تھا۔ حسن بن صباح نے اسی نشے اور عمل تنویم کی بنیادوں پر ایک جنت بنائی تھی
‫جس میں داخل ہونے والے وہاں سے نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ وہ منہ میں مٹی اور کنکریاں ڈال کر سمجھتے تھے کہ
‫مرغن کھانے کھا رہے ہیں۔ کانٹوں پر چلتے تو سمجھتے تھے کہ مخمل پر چل رہے ہیں۔ حسن بن صباح تو مرگیا‪ ،اس کا یہ
‫شربت اور عمل پیچھے رہ گیا۔ اس کا گروہ قاتلوں کا گروہ بن گیا۔ اپنے مقاصد کے لیے یہ گروہ حسین لڑکیوں اور اس شربت
‫کا استعمال کرتا ہے۔ اس سپاہی کو آپ کے قتل کے لیے اس عمل کا شکار بنایا گیا ہے''۔
‫طبیب نے یہ تشخیص کرکے سپاہی کو دوائیاں پال دی تھیں‪ ،جنہوں نے اس کی ہذیانی کیفیت پر قابو پالیا تھا اور وہ گہری
‫نیند سو گیا تھا۔ حسن بن عبداللہ نے پہلے ہی طبیب سے معلوم کرلیا تھا کہ یہ سپاہی اپنی حقیقی حالت میں نہیں‪ ،وہ
‫سراغ رساں تھا۔ اس نے باڈی گارڈوں سے معلوم کرلیا کہ یہ سپاہی چار روز کی چھٹی پر گیا تھا لیکن کسی کو یہ معلوم
‫نہیں کہ اس نے چھٹی کہاں گزاری ہے۔ شہر میں ناگوں والے قلعے کے متعلق جو باتیں مشہور ہوگئی تھیں وہ حسن بن

‫عبداللہ تک اس کے جاسوسوں کے ذریعے پہنچی تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ قلعے میں ایک بزرگ نمودار ہوا ہے جو غیب کا
‫حال بتاتا اور مرادیں پوری کرتا ہے۔ حسن بن عبداللہ نے ان باتوں کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔ اس قسم کے بزرگوں اور
‫پیروں پیغمبروں کی آمدورفت لگی رہتی تھی۔ مذوب اور دیوانے آدمی کو بھی لوگ برگزیدہ انسان کہہ کر ان سے مرادیں پوری
‫کرانے لگتے تھے۔ حسن بن عبداللہ کو ایک جاسوس نے بتایا کہ اس نے ایک سیاہ ریش آدمی کو دوبار قلعے کے اندر جاتے
‫دیکھا ہے۔
‫قلعے کے اردگرد گھومنے پھرنے والوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو ایک آدمی نے بتایا کہ سیاہ داڑھی اور سفید چغے واال ایک
‫آدمی قلعے کے اندر آتا جاتا دیکھا گیا ہے۔ ایسی چند شہادتیں حاصل کرکے حسن بن عبداللہ نے سورج غروب ہونے سے پہلے
‫فوج کے ایک دستے سے چھاپہ مارا۔ مشعلیں ساتھ تھیں۔ قلعہ اندر سے کچھ پیچیدہ سا تھا۔ گری ہوئی دیواروں اور چھتوں کا
‫ملبہ بھی تھا۔ کئی کمرے سالمت تھے۔ فوجیوں کو ہر طرف پھیال دیا گیا۔ کسی گوشے سے شور اٹھا۔ کچھ سپاہی ادھر دوڑے
‫گئے‪ ،وہاں دو سپاہی پڑے تڑپ رہے تھے۔ ان کے سینوں میں تیر اترے ہوئے تھے‪ ،کہیں سے تین چار تیر آئے۔ تین چار
‫سپاہی اور گر پڑے۔ بعض سپاہی اس ڈر سے پیچھے ہٹ آئے کہ یہاں کوئی انسان نہیں ہوسکتا‪ ،یہ جن بھوت ہوں گے۔ حسن
‫بن عبداللہ حقیقت پسند انسان تھا۔ اس نے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھایا اور انہیں بتایا کہ یہ تیر انسانوں کے چالئے ہوئے ہیں۔
‫اس نے گھیرے کی ترتیب بدل دی اور گھیرا تنگ کرنے لگا‪ ،وہاں کوئی انسان نظر نہیں آرہا تھا‪ ،کہیں سے دو چار تیر آتے
‫اور دو چار سپاہی زخمی ہوجاتے تھے۔
‫حسن بن عبداللہ نے فوج کا ایک اور دستہ منگوا لیا۔ رات گہری ہوگئی تھی۔ بے شمار مشعلیں منگوالی گئیں۔ ایک دستے کا
‫کمانڈر اس کمرے تک پہنچ گیا جہاں سپاہی آتا رہا تھا۔ اس ڈرائونے کھنڈر میں ایسے سجے سجائے کمرے کو دیکھ کر سپاہی
‫ڈر گئے۔ یہ جنوں کا ہی مسکن ہوسکتا تھا۔ حسن بن عبداللہ کو بالیا گیا۔ اس نے اندر جاکر سامان دیکھا تو اس پر راز
‫کھلنے لگے۔ اتنے میں چند ایک سپاہیوں نے سیاہ ریش والے آدمی کو کہیں سے پکڑ لیا۔ اس کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی
‫تھی۔ ان کے بعد چھ اور آدمی کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے پکڑے گئے۔ ان کے پاس کمانیں اور تیر تھے۔ سیاہ ریش نے
‫خدا کا برگزیدہ انسان اور تنہائی میں چلہ کاٹنے واال تارک الدنیا بننے کی بہت کوشش کی لیکن اتنی حسین اور جوان لڑکی
‫اور تیروکمان سے مسلح افراد اور ان کا فوج کے ساتھ مقابلہ اسے جھٹال رہا تھا۔ اس کے سامان پر قبضہ کرلیا گیا اور ان
‫سب کو لے گئے۔
‫تین چار مرتبان‪ ،صراحیاں اور پیالے بھی برآمد ہوئے تھے۔ یہ چیزیں رات کو طبیب کو دے دی گئیں۔ اس نے مرتبانوں اور
‫صراحیوں کو سونگھ کر ہی بتا دیا کہ ان میں وہ شربت ہے جو حسن بن صباح کی ایجاد تھا… ان تمام آدمیوں اور لڑکی کو
‫قید خانے میں لے گئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫صبح طلوع ہورہی تھی۔ جب لڑکی نے اذیتوں کے پہلے مرحلے میں ہی بتا دیا کہ یہ گروہ فدائیوں کا ہے اور یہ لوگ نیا حلف
‫لے کر آئے تھے کہ سلطان ایوبی کو قتل کرکے لوٹیں گے‪ ،ورنہ مرجائیں گے۔ لڑکی نے بتایا کہ اس محافظ سپاہی کو سیاہ
‫ریش نے پھانسا تھا اور اسے نشہ پال کر اس پر عمل تنویم کیا جاتا تھا۔ سپاہی کے ذہن میں اس نشے اور عمل کے ذریعے
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ایسی نفرت پیدا کی گئی کہ وہ سلطان کو قتل کرنے کے لیے چل پڑا۔ ان لوگوں کو توقع
‫تھی کہ سلطان ایوبی اس سپاہی کے ہاتھوں قتل ہوجائے گا‪ ،اس لیے وہ اطمینان سے قلعے میں بیٹھے رہے۔ سیاہ ریش
‫جاسوسی کے لیے گیا تھا لیکن اسے کچھ پتا نہیں چل سکا‪ ،نہ اسے وہ سپاہی کہیں نظر آیا۔ شام کے وقت اچانک فوج
‫آگئی۔
‫سیاہ ریش بڑا سخت جان نکال۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ اس لڑکی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ اس کھنڈر میں ایک
‫وظیفے کا چلہ کرنے آیا تھا۔ اس کے دوسرے ساتھیوں نے بھی پہلے انکار کیا لیکن حسن بن عبداللہ نے جب انہیں تہہ خانے
‫میں لے جا کر اذیت رسانی کے عمل میں ڈاال تو انہوں نے باری باری اپنے جرم کا ا عتراف کرلیا۔ سیاہ ریش کو جب ان
‫کے سامنے کھڑا کیا گیا تو اس کے لیے انکار کی کوئی صورت نہ رہی۔ اس نے جب اپنے ساتھیوں کی حالت دیکھی تو اس
‫پر لرزہ طاری ہوگیا۔ اسے کہا گیا کہ وہ تمام تر واقعات پوری تفصیل سے سنا دے تو اسے باعزت طریقے سے رکھا جائے گا‪،
‫ورنہ اسے مسلسل اذیتوں میں ڈال کر مرنے بھی نہیں دیا جائے گا اور زندہ رہنے کے قابل بھی نہیں رہنے دیا جائے گا۔ اس
‫نے تہہ خانے میں اذیت رسانی کا سامان اور طریقے دیکھے تو وہ سب کچھ بتانے پر رضا مند ہوگیا۔
‫اس کے بیان کے مطابق وہ فدائی قاتلوں کے گروہ کا آدمی تھا۔ فدائیوں نے سرغنہ شیخ سنان کا وہ خصوصی تجربہ کار قاتل
‫تھا لیکن وہ اپنے ہاتھوں قتل نہیں کرتا تھا۔ اس کا طریقۂ کار اسی قسم کا تھا جو اس نے اس واردات میں استعمال کیا تھا۔
‫یہ حسن بن صباح کی ایجاد تھی۔ اگر اس فرقے کے متعلق کتابیں پڑھی جائیں تو ان میں اس طریقے کی تفصیالت واضح
‫ہوجاتی ہیں۔ تمام مصنفین نے رائے دی ہے کہ حسن بن صباح کو خدا نے غیر معمولی عقل عطا کی تھی جو اس نے
‫شیطانی کاموں میں استعمال کی۔ اس سپاہی کو جس طرح سلطان ایوبی کے قتل کے لیے استعمال کیا گیا‪ ،وہ اسے فرقے کا
‫ایک عام طریقہ قتل تھا۔ اس سپاہی کی مثال سے اس انوکھے طریقۂ قتل کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ اگر انسانی نفسیات کا
‫مطالعہ کیا جائے تو کسی کو یوں اپنا آلۂ کار بنانا حیران کن نہیں لگتا۔ اس سپاہی کے الشعور پر قبضہ کرکے اس پر سلطان
‫ایوبی کے خالف نفرت ڈالی گئی‪ ،پھر اسے جذبہ انتقام میں بدال گیا۔
‫سیاہ داڑھی والے نے بتایا کہ چونکہ سلطان ایوبی پر پہلے چار قاتالنہ حملے ناکام ہوچکے تھے۔ اس لیے اس شخص کو بھیجا
‫گیا تھا کہ وہ اپنا خصوصی طریقہ استعمال کرے۔ سلطان ایوبی پر پہلے چار حملے براہ راست کیے گئے تھے۔ یہ دیکھ لیا گیا
‫تھا کہ سلطان ایوبی کو سیدھے طریقے سے قتل نہیں کیا جاسکتا۔ سیاہ ریش (جس کا نام واقعہ نگاروں کے ہاں محفوظ نہیں)
‫اپنے گروہ کے چھ تجربہ کار آدمیوں اور ایک لڑکی کو دمشق لے گیا۔ اس نے ناگوں والے ویران قلعے کو اپنا مسکن بنایا۔ اس
‫میں یہ گروہ رات کے اندھیرے میں داخل ہوا۔ انہوں نے اپنا سامان بھی رات کو وہاں پہنچایا
‫اس گروہ کے آدمیوں نے شہر میں یہ افواہ پھیالئی کہ قلعے میں ایک درویش نمودار ہوا ہے جس کے ہاتھ میں غیبی طاقت
‫ہے اور وہ مستقبل کی باتیں بتاتا ہے۔ ان افواہوں کا مقصد یہ تھا کہ لوگ قلعے میں آئیں اور سیاہ ریش کو غیب سے نمودار
‫ہونے واال درویش یا پیغمبر تسلیم کرلیں۔ اپنی یہ حیثیت منوا کر وہ کسی ایک یا ایک سے زیادہ آدمیوں کو قبضے میں لے کر
‫سلطان ایوبی کے قتل کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا مگر خالف توقع لوگ قلعہ میں نہ آئے جس کی وجہ یہ تھی کہ قلعے
‫کے متعلق بڑی ہی ڈرائونی روایات مشہور تھیں۔ ان میں یہ روایت سب سے زیادہ خطرناک تھی کہ دونوں ناگوں کی عمر ایک
‫ہزار سال ہوچکی ہے اور اب انسانوں کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں اور کوئی ان کے قریب جائے تو اسے نگل جاتے ہیں۔

‫گروہ کا سرغنہ منجھا ہوا قاتل تھا۔ اس کے دماغ میں یہ سکیم آئی کہ سلطان ایوبی کے دستے کے کسی سپاہی کو استعمال
‫کیا جائے۔ چنانچہ وہ کئی روز یہ دیکھتا رہا کہ محافظ دستے کے سپاہی کہاں رہتے ہیں اور ان کی ڈیوٹی کس طرح لگتی ہے۔
‫وہ سلطان ایوبی کے دفتر تک اور گھر تک نہ پہنچ سکا کیونکہ ان دونوں جگہوں کے قریب کوئی شہری یا فوجی نہیں جاسکتا
‫تھا۔ یہ ممنوعہ عالقہ تھا۔ تاہم اس استاد نے اس محافظ سپاہی کو دیکھ لیا اور کسی طرح یہ بھی معلوم کرلیا کہ وہ سلطان
‫ایوبی کے دفتر کے محافظوں میں سے ہے‪ ،یعنی یہ آسانی سے سلطان ایوبی تک پہنچ سکتا تھا۔ اس نے اس سپاہی پر نظر
‫رکھی۔ ایک روز یہ سپاہی اسے باہر جاتا نظر آگیا۔ سیاہ ریش نے اسے راستے میں روک لیا اور اس کے ساتھ ایسی باتیں
‫کیں جنہیں کوئی انسان خواہ وہ کتنی ہی مضبوط شخصیت کا ہو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ان باتوں کے لیے جو لب ولہجہ
‫اختیار کیا گیا اور جواداکاری کی گئی‪ ،وہ انسانی فطرت پر طلسماتی اثر کرتی ہے۔ یہ سپاہی معمولی سے ذہن کا پسماندہ آدمی
‫تھا‪ ،جال میں آگیا اور رات کو قلعے میں پہنچ گیا۔
‫قلعے کے ایک کمرے میں جو اہتمام کیا گیا تھا وہ پتھروں کو موم کرنے کے لیے کافی تھا۔ ایک تو کمرے کی سجاوٹ تھی
‫اور بیش قیمت قالین‪ ،دوسرے یہ لڑکی تھی جس کے حسن میں اور جسمانی ساخت میں جادو تھا۔ اس کا لباس ایسا تھا
‫جس میں و ہ نیم عریاں تھی اور اس کے کھلے ہوئے ریشمی بالوں کا تاثر نشہ طاری کرتا تھا۔ سیاہ ریش کے کہنے کے
‫مطابق یہ لڑکی‪ ،اس کا لباس اور انداز زاہدوں اور پرہیزگاروں میں بھی حیوانی جذبہ بیدار کردیتا ہے۔ تیسری اور اصل چیز وہ
‫شربت تھا جو وہ لوگ اپنے شکار کو پالتے تھے۔ شیشے کا گوال فریب نظر پیدا کرنے کے لیے تھا۔ اس سپاہی کے ذہن میں
‫یہ ڈاال گیا کہ وہ شاہی خاندان کا فرد ہے اور اس کا خاندان تخت سلیمان کا وارث ہے۔ تخت سلیمان کا وجود تھا یا نہیں‪،
‫دلچسپ کہانیوں میں اس کا بہت ذکر آتا ہے اور ایسے انداز سے آتا ہے کہ یہ ایک حسین اور پراسرار تصور کی طرح لوگوں
‫کے ذہنوں پر سوار ہوجاتا ہے۔
‫یہ سپاہی جب اس کمرے میں داخل ہوا تو کمرے کی زیبائش اور قیمتی سامان نے اسے متاثر کیا۔ سیاہ ریش مراقبے کی
‫حالت میں تھا۔ اس کا بھی اثر تھا۔ اس نے جب اتنی حسین لڑکی دیکھی تو مرعوب ہوگیا۔ لڑکی نے اسے جو شربت پالیا‪،
‫اس میں نشہ تھا۔ اس نشے کا اثر یہ تھا کہ انسان حقیقی دنیا سے التعلق ہوکر حسین تصورات کی دنیا میں چال جاتا ہے۔
‫اس کیفیت میں اس پر عمل تنویم کیا جاتا یعنی اسے ہپناٹائز کرلیا جاتا اور اس کے ذہن میں اپنے مطلب کے تصورات ڈالے
‫جاتے تھے۔ اس کے ہاتھ میں شیشے کا جو گولہ دیا جاتا تھا‪ ،اس میں سے قندیل کی لو کے کئی رنگ نظر آتے تھے۔ جو
‫کوئی عجوبہ نہیں تھا۔ شیشے کی ساخت ایسی تھی کہ اس میں سے گزرتی روشنی اپنے ساتوں رنگوں میں نظر آتی تھی۔ ان
‫رنگوں کا ذہن پر اثر ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ایک انتہائی حسین لڑکی سپاہی کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتی اور باتوں میں یہ
‫ظاہر کرتی تھی کہ وہ اسے دل وجان سے چاہتی ہے۔ سیاہ ریش سریلی اور پراسرار آوازمیں بولنے لگتا تھا۔ اس کے الفاظ
‫سپاہی کے کان میں پڑتے اور اس کے ذہن میں مطلوبہ تصور آراستہ کرتے تھے۔ سیاہ ریش بھانپ لیتا تھا کہ سپاہی اپنے آپ
‫میں نہیں رہا۔ اس وقت وہ اس کے ہاتھ سے شیشے کا گولہ لے کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیتا اور اس سے ہپناٹائز
‫کرلیتا تھا۔
‫سپاہی جسے اپنی آواز سمجھتا تھا وہ سیاہ ریش کی آواز ہوتی تھی‪ ،پھر وہ اسے مرحلے میں داخل ہوجاتا تھا‪ ،جہاں وہ اپنے
‫تصور کو حقیقی سمجھ کر اس کا حصہ بن جاتا تھا۔ کمزور شخصیت کے سپاہی نے یہ اثرات قبول کرلیے۔ سیاہ ریش اسے
‫حقیقی دنیا میں واپس لے آیا۔ اس مقصد کے لیے اسے کچھ سونگھایا جاتا تھا۔ سیاہ ریش دوسرے کمرے میں چال جاتا اور
‫لڑکی سپاہی کے ساتھ اکیلی رہ جاتی۔ وہ سپاہی کے اعصاب اور دماغ پر غالب آجاتی۔ اس مقصد کے لیے وہ ایسی حرکات
‫اور ایسی باتیں کرتی تھیں جس کے اثر سے کم از کم یہ سپاہی بچ نہیں سکتا تھا۔ سپاہی کو صرف تخت سلیمان دکھا کر
‫رخصت کردیا گیا اور اس کے ذہن میں ڈال دیا گیا کہ راز ابھی باقی ہے۔ سپاہی کے دل میں تجسس پیدا ہوگیا۔ دوسری بار
‫اس پر یہی عمل کیا گیا اور اسے کچھ اور دکھا دیا گیا۔ انہوں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ سپاہی پوری طرح ان کے جال میں آگیا
‫اور وہ اس کے ذہن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہ اب ان کی منت سماجت کرتا تھا کہ اسے سارا راز بتایا
‫جائے۔ اسے کہا گیا کہ وہ کئی روز ان کے پاس رہے۔ اس نے چھٹی لے لی۔ وہ یہی چاہتے تھے۔
‫ان چار دنوں اور چار راتوں کے عرصے میں اسے مسلسل نشے اور ہپناٹزم کے زیراثر رکھا گیا اور اس کے ذہن الشعور میں
‫صالح الدین ایوبی کا تصور پیدا کرکے یہ بات ڈال دی گئی کہ سلطان ایوبی سپاہی کے دادا اور باپ کا قاتل ہے اور اس کے
‫تخت پر بھی اس نے قبضہ کررکھا ہے۔ سپای کو ایک حسین لڑکی کا تصور دکھایا گیا پھر یہ دکھایا گیا کہ سلطان ایوبی نے
‫اس لڑکی کو پنجرے میں بند کردیا ہے۔ چار روز بعد اسے اسی حالت میں قلعے سے نکال دیا گیا‪ ،وہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر
‫ہوگیا۔ اسے جوں ہی موقع مال‪ ،اس نے سلطان ایوبی پر حملہ کردیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫سپاہی بے ہوش پڑا تھا۔ طبیب نے اس کے ذہن سے نشہ آور شربت کا اثر زائل کرنے کے لیے دوائی دی تھی۔ وہ حقیقت
‫اور تصورات کے درمیان بھٹک رہا تھا۔ معلوم نہیں اس کے اعصاب پر کیسے کیسے اثرات تھے کہ اثرات اترتے ہی اعصاب
‫جواب دے گئے۔ طبیب نے اسے ہوش میں النے کے کچھ اور طریقے اختیار کیے اور دو روز بعد سپاہی نے آنکھ کھولی۔ وہ اس
‫طرح اٹھا جیسے گہری نیند سوگیا تھا اور خواب دیکھتا رہا تھا۔ اپنے ارد گرد کھڑے آدمیوں کو حیرت سے دیکھنے لگا۔ طبیب
‫نے اسے پوچھا کہ وہ کہاں تھا؟… اس نے کہا کہ وہ سویا ہوا تھا۔ بہت دیر بعد وہ اپنے آپ میں آیا تو وہ زیادہ کچھ نہ بتا
‫سکا۔ اس نے بتایا کہ سیاہ داڑھی اور چغے واال ایک آدمی اسے قلعے میں لے گیا تھا‪ ،وہاں اس نے کچھ اور باتیں بھی
‫بتائیں لیکن اسے بالکل یاد نہیں تھا کہ اس نے تخت سلیمانی وغیرہ دیکھا ہے۔ اسے یہ بھی یاد نہیں تھا کہ اس نے سلطان
‫ایوبی پر تلوار سے حملہ کیا تھا۔
‫یہ یقین کرنے کے لیے سپاہی دھوکہ نہیں دے رہا‪ ،اسے سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا۔ اس نے فوجیوں کی طرح سلطان
‫کو سالم کیا۔ سلطان ایوبی نے اس کے ساتھ شفقت اور پیار سے بات کی مگر وہ حیران تھا کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے
‫اور یہ کیا کررہے ہیں۔ آخر اسے بتایا گیا کہ اس نے کیا کیا ہے وہ چال اٹھا… ''یہ جھوٹ ہے۔ میں اپنے سلطان پر حملہ
‫نہیں کرسکتا''… سلطان ایوبی نے کہا کہ یہ بے گناہ ہے۔ اسے یاد ہی نہیں کرایا جائے کہ اس نے کیا کیا ہے۔
‫یہ قصہ یہی ختم ہوتا ہے
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:07
‫قسط نمبر۔‪73‫صلیب کے سائے میں

‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫قتل کا یہ طریقہ صالح الدین ایوبی کے فوجی حاکموں وغیرہ کے لیے بڑا ہی عجیب تھا کہ سلطان ایوبی پر جان قربان کرنے
‫والے ایک محافظ کے ذہن کو اپنے قبضے میں لے کر سلطان ایوبی پر ہی قاتالنہ حملہ کرایا۔ اللہ نے کرم کیا کہ سلطان ایوبی
‫بال بال بچ گیا۔ اس واقعہ کے فورا ً بعد سلطان ایوبی نے جو کانفرنس بالئی اس میں دمشق کی انتظامیہ اور فوج کے حکام
‫بالئے گئے تھے۔ ان سب کے مزاج اکھڑے ہوئے تھے۔ سب غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ سب الصالح اور اس کے امراء اور
‫وزراء سے بہت جلد انتقام لینے کو بیتاب ہوئے جارہے تھے جنہوں نے سلطان ایوبی کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ وہ
‫سمجھتے تھے کہ سلطان نے انہیں قاتالنہ حملے پر غوروخوض کرنے کے لیے بالیا ہے لیکن سلطان آیا تو اس نے اس واقعہ کا
‫ذکر ہی نہ کیا جیسے اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ اسے اس وقت تک جاسوسوں نے دشمن کی سرگرمیوں کی جو
‫اطالعات دی تھی‪ ،وہ ان کے مطابق اپنے پالن کی تبدیلی کے متعلق سب کو آگاہ کررہا تھا۔ اس کا رویہ اور انداز سردسا تھا۔
‫جونہی اس نے اپنا لیکچر ختم کیا‪ ،سب بھڑک اٹھے۔ وہ انتقام کی باتیں کررہے تھے۔ سلطان ایوبی نے بے نیازی سے مسکرا
‫کر وہی بات کہی جو وہ پہلے بھی کئی با کرچکا تھا۔ ''اشتعال‪ ،غصے اور جذبانیت سے بچو۔ دشمن آپ کو مشتعل کرکے
‫ایسی کارروائی پر مجبور کرنا چاہتا ہے جس میں عقل کے بجائے جذبات اور غصہ ہو۔ میرا تمام تر منصوبہ ایک قسم کی
‫انتقامی کارروائی سے بڑھ کر کوئی اہمیت نہیں کہ تم اسالم او ر سلطنت اسالمیہ کے پاسبان ہو۔ تم سب کو جانیں قربانی
‫کرنی ہیں۔خواہ میدان جنگ میں مارے جائو خواہ دھوکے میں دشمن کے ہاتھوں قتل ہوجائو۔ حکمران اور مجاہد میں یہی فرق
‫ہے۔ حکمران اپنی حکومت کی اور اپنی ذات کی حفاظت کرتا ہے اور مجاہد اپنے ملک وملت پر قربان ہوتا ہے۔ الصالح اور
‫اس کے امیر وزیر اپنی بادشاہی کی حفاظت کررہے ہیں۔ احکام خداوندی کی خالف ورزی ہے اس لیے وہ ناکام ہوں گے''۔
‫اس نے اپنی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ حسن بن عبداللہ سے کہا کہ وہ ایسے تمام کھنڈروں اور پرانی عمارتوں کو جن کا
‫کوئی مصرف نہیں مسمار کرادے۔ اس نے یہ ہدایات بھی جاری کیں کہ مسجدوں میں اس موضوع پر خطبے دئیے جائیں کہ
‫دونوں جہاں کا حاکم خدا ہے اور غیب کا حال اس کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ خدا کا کوئی بندہ خدا اور بندوں کے درمیان
‫رابطے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ خدا ہر کسی کی سنتا ہے اور کسی انسان کے آگے سجدہ ناجائز ہی نہیں گناہ ہے۔ توہم
‫پرستی سے لوگوں کو بچائو۔ اس نے کہا ''اپنے سپاہیوں کو سمجھائو کہ جس طرح میدان جنگ میں اپنے جسم کو دشمن کی
‫تلوار سے بچاتے ہو اور روکتے ہو‪ ،اس طرح ذہن اور دل کو بھی دشمن کے وار سے بچائو۔ یہ وار تلوار کا نہیں زبان کا ہوتا
‫ہے۔ جس کے زخم مل جاتے ہیں‪ ،جسم زخمی ہوکر بھی لڑتا رہتا ہے مگر ذہن اور دل پر زخم آجائے تو جسم بیکار ہوجاتا
‫ہے۔ تم نے نشے کا اثر دیکھ لیا ہے۔ میرے اپنے محافظ نے مجھ پر ہی حملہ کردیا۔ جب نشہ اترا تو وہ مان نہیں رہا تھا
‫کہ اس نے مجھ پر حملہ کیا ہے۔ اس نشے میں ایک خوبصورت لڑکی کا نشہ بھی شامل تھا۔ یہ بھی یاد رکھو کہ یہ حالت
‫صرف ان لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں تم اپنا غالم اور مویشی بنا لیتے ہو۔ ان میں ذمہ داری کا اور مسلمان کی عظمت کا
‫احساس بیدار کرو۔ ان پر ذمہ داریوں اور قومی وقار کا نشہ طاری کردو۔ ملک وملت کا وقار اور اس وقار کا دفاع ان کے ایمان
‫میں شامل کردو‪ ،پھر ان پر کوئی اور نشہ طاری نہیں ہوسکے گا''۔
‫سلطان ایوبی نے حملے کا جو پالن بنایا تھا اس کے مطابق قلعہ بہ قلعہ آگے بڑھنا تھا۔ مضبوط اور مشہور قلعے حمص اور
‫حماة کے تھے۔ حلب شہر الگ تھا‪ ،اس کے دفاعی انتظامات مضبوط تھے اور شہر سے کچھ دور قلعہ تھا جسے قلعہ حلب
‫کہا جاتا تھا۔ ان کے عالوہ کئی اور قلعہ بندیاں تھیں جن میں زیادہ تر پہاڑی اور دشوار گزار عالقے میں تھیں۔ سب سے بڑی
‫دشواری اس عالقے کی سردی تھی۔ پہاڑیوں پر برف باری بھی ہوتی تھی جو سردی میں اضافہ کردیتی تھی۔ چونکہ وہاں
‫سردیوں میں کبھی لڑائی نہیں ہوئی تھی اس لیے مخالفین نے اپنی فوج جو مختلف امراء کے زیرکمان تھی قلعہ بند کردی
‫تھی۔ اس کے صلیبی مشیروں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا۔ ادھر سلطان ایوبی نے سردیوں میں ہی لڑنے کا تہیہ کرلیا
‫تھا۔ اسے جاسوس مسلسل خبریں دے رہے تھے۔
‫ان خبروں میں ایک اطالع یہ بھی تھی کہ حلب کی مسجدوں میں امام اور خطیب لوگوں کو اس موضوع پر وعظ اور خطبے
‫دے رہے ہیں کہ صالح الدین ایوبی وہ گناہ گار انسان ہے جس نے بادشاہی کے اللچ اور نشے میں اور جنگی طاقت کے گھمنڈ
‫میں خلیفہ کا نام خطبے سے نکال دیا ہے۔ سلطان ایوبی کو عیاش اور بدکار کہا جارہا تھا اور یہ بھی کہ خطبے میں خلیفہ کا
‫نام نہ لیا جائے تو خطبہ مکمل نہیں ہوتا اور نامکمل خطبہ گناہ ہے۔ سرائوں‪ ،مسافر خانوں اور بازاروں میں بھی یہی الفاظ
‫سنے اور سنائے جارہے تھے کہ صالح الدین ایوبی عیاش اور بدکار ہے اور نام کا مسلمان۔ اس کے ساتھ ہی جاسوسوں کی
‫اطالعوں کے مطابق لوگوں میں صالح الدین ایوبی کے خالف جنگی جنون پیدا کیا جارہا تھا۔ الصالح کی فوج تھوڑی تھی۔ آدھی
‫لہذا الصالح کے مفاد پرست مسلمان امراء اور
‫فوج سپہ ساالر توفیق جواد کے زیرکمان سلطان ایوبی کے ساتھ مل گئی تھی۔ ٰ
‫حکمران شہریوں کو لڑنے کے لیے تیار کررہے تھے۔ ان منصوبوں میں صلیبیوں نے اس طرح جان ڈال دی تھی کہ جن عالقوں
‫پر ان کا قبضہ تھا وہاں کے صلیبی باشندوں کی خاصی تعداد کو حلب موصل اور دیگر قصبوں اور دیہات میں ان ہدایات کے
‫ساتھ آباد کر دیا تھا کہ وہ وہاں کے مسلمان کو صالح الدین ایوبی کے خالف بھڑکاتے اور اکساتے رہیں۔
‫جاسوسوں نے بتایا تھا کہ حلب میں شہریوں نے جنگی تربیت کا انتظام کرلیا ہے۔ ہر کوئی ہتھیاروں کی زبان میں بات کررہا
‫تھا۔ جنگی جنوں کے ساتھ لوگوں پر اضطراری اور ہیجانی کیفیت بھی طاری ہوئی جارہی تھی۔ البتہ پرانی عمر کے مسلمان
‫بہت ہی پریشان تھے اور کہتے تھے کہ یہ قیامت کی نشانی ہے کہ مسلمان مسلمان سے ٹکرائے گا مگر ان کی آواز صالح
‫الدین ایوبی کے خالف نعروں اور بہتان تراشی کے شوروغوغا میں دبتی جارہی تھی۔ یہ آواز صلیبیوں کے عزائم کے خالف تھی
‫اس لیے انہوں نے اسے دبانے کا خاص اہتمام کیا تھا۔ یہ سارا منصوبہ دراصل تھا ہی صلیبیوں کا۔ کئی ایک مسجدوں سے
‫پرانے اماموں اور خطیبوں کو نکال دیا گیا تھا کیونکہ وہ منبر پر کھڑے ہوکر مسلمان کو مسلمان کے خالف بھڑکانے کا گناہ نہیں
‫کرنا چاہتے تھے۔
‫جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ الصالح نے تریپولی کے صلیبی حکمران ریمانڈ کو زروجواہرات اور بے انداز خزانہ اس کام کی
‫اجرت کے لیے بھیج دیا تھا کہ صالح الدین ایوبی کے ساتھ جنگ کی صورت میں وہ اسے جنگی مدد دے گا۔ ریمانڈ نے یہ
‫اجرت وصول کرکے اپنے چند ایک فوجی کمانڈر مشیروں کی حیثیت سے حلب بھیج دیئے تھے۔ ان میں انٹیلی جنس کا ایک
‫ماہر بھی تھا جو تخریب کاری میں بھی مہارت رکھتا تھا‪ ،ان مشیروں نے آتے ہی حلب میں مسلمان فوجوں کی مشترکہ ہائی
‫کمانڈ بنا دی تھی۔ فوجیں مختلف قلعوں میں تھیں۔ ان فوجوں کے کمانڈروں میں سیف الدین والی موصل‪ ،ایک قلعہ دار
‫گمشگین جسے گورنر کا درجہ حاصل تھا۔ سلطان الملک الصالح اور عزالدین قابل ذکر ہیں۔ ریمانڈ نے انہیں یقین دالیا تھا کہ
‫جنگ کی صورت میں وہ مصر سے صالح الدین ایوبی کی کمک اور رسد کو روکے رکھے گا اور وہ جہاں کہیں محاصرہ کرے گا

‫صلیبی فوج باہر سے حملے کرکے محاصرہ توڑ دے گی۔
‫٭ ٭ ٭
‫دمشق میں سلطان ایوبی دوسرے تیسرے دن تمام کمانڈروں کی کانفرنس بالتا تھا۔ فوجوں کی ٹریننگ خود بھی دیکھتا اور
‫کمانڈروں سے رپورٹیں بھی لیتا تھا۔ راتوں کو کپڑوں کے بغیر ٹریننگ دے کر اس نے اپنی فوج کو سردیوں میں لڑنے کے لیے
‫تیار کرلیا تھا۔ قریب چٹانیں تھیں اس نے صحرا میں بھاگنے دوڑنے والے گھوڑوں کو چٹانوں پر چڑھنے اور اترنے کا عادی بنا
‫دیا تھا۔ ادھر حلب میں بھی دو تین کانفرنسیں ہوچکی تھیں۔ وہاں کے کمانڈروں کو یہ اطالع مل چکی تھی کہ سلطان ایوبی
‫کی فوج رات کو جنگی مشقیں کرتی ہے لیکن انہوں نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ایوبی کا دماغ
‫خراب ہوگیا ہے۔ ہمارے سامنے آئے گا تو اس کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ ان کمانڈروں میں کوئی ایک بھی انٹیلی جنس کی
‫سوجھ بوجھ نہیں رکھتا تھا۔ یہ اہتمام بھی صلیبیوں نے کیا تھا کہ دمشق میں جاسوس بھیجے تھے اور شیخ سنان نے فدائی
‫قاتل اور تخریب کار بھیجے تھے مگر ریمانڈ نے اپنا ایک ماہر بھیج دیا تو اس نے اس اطالع پر توجہ دی کہ سلطان ایوبی
‫راتوں کو کیوں جنگی مشقیں کرا رہا ہے اس نے حلب کے کمانڈروں کی کانفرنس میں بھی یہ مسئلہ پیش نہیں کیا تھا۔ وہ
‫ابھی اس کی وجہ معلوم نہیں کرسکا تھا۔
‫سلطان ایوبی نے تو حلب اور موصل وغیرہ میں جاسوسوں کا جال بچھا دیا تھا۔ ان کی زمین دوز مرکزی کمانڈ حلب میں تھی
‫اور کمانڈر ایک عالم فاضل کے بہروپ میں تھا جو تمام جاسوسوں سے خبریں لیتا اور دمشق بھیجنے کا انتظام کرتا تھا۔ وہ
‫اپنے جاسوسوں کی حفاظت کا اور انہیں خطرے کے وقت روپوش کرنے کا بندوبست بھی کرتا تھا۔ صالح الدین ایوبی کو برا
‫بھال کہنے میں وہ پیش پیش تھا۔ جہاں لوگ اس کا احترام کرتے تھے‪ ،وہاں امیر‪ ،وزیر اور اونچی حیثیت کے شہری بھی اسے
‫عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس کے جاسوسوں کا گروہ ہر ضروری جگہ موجود تھا۔ الملک الصالح کے محل کے باڈی
‫گارڈز میں بھی جاسوس موجود تھے۔ دو جاسوس خصوصی پہرہ داروں کی حیثیت سے خلیفہ کی مرکزی کمانڈ کی اس عمارت
‫تک بھی پہنچ گئے تھے جہاں ان کی جنگی کانفرنسیں منعقد ہوتی تھیں۔ صلیبی جاسوسوں کے کمانڈر نے آتے ہی ایک تو اس
‫پر توجہ دی کہ دمشق میں جاسوسی کے نظام کو مضبوط اور کارگر بنایا جائے اور حلب میں سلطان ایوبی کے جو جاسوس ہیں
‫ان کا سراغ لگایا جائے۔
‫سلطان ایوبی کے ان دو جاسوسوں میں جو حلب کی ہائی کمانڈ کے پہرہ داروں میں شامل ہوگئے تھے ایک خلت نام کا
‫جاسوس تھا۔ ایک عمارت کے کئی چھوٹے کمرے تھے اور اس میں ایک ہال تھا جو ضیافتوں‪ ،ناچ گانے اور دربار منعقد کرنے
‫کے کام آتا تھا۔ خوب سجا ہوا تھا۔ جب سے حلب کے امیروں وزیروں نے صلیبیوں کے ساتھ دوستانہ گانٹھا تھا اس ہال کو
‫اور زیادہ سجا دیا گیا تھا۔ ناچ گانے کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔ ناچنے والیاں جو رکھی گئی تھیں وہ چنی ہوئی خوبصورت‪،
‫جوان اور فن کی ماہر تھیں۔ ان رقاصائوں میں صلیبیوں نے اپنی لڑکیوں کا اضافہ کردیا تھا۔ یہ پیشہ ور لڑکیاں تھیں جو الصالح
‫اعلی
‫کے امیروں وزیروں کو انگلیوں پر نچاتی رہتی تھیں۔ ان کا کام یہ تھا کہ اس کے خصوصی درباریوں‪ ،امراء اور فوج کے
‫ٰ
‫اعلی
‫کمانڈروں پر نظر رکھیں اور بھانپتی رہیں کہ ان میں کوئی سلطان ایوبی کا وفادار تو نہیں۔ اس کے عالوہ یہ لڑکیاں ان
‫ٰ
‫حکام وغیرہ کے دلوں میں صلیبیوں کی محبت اور صلیب کی وفاداری پیدا کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔
‫کبھی کبھی اس ہال میں ضیافت ہوتی تھی جس میں شراب کے مٹکے خالی ہوتے‪ ،رقص ہوتا اور جب شراب اپنا
‫رنگ دکھاتی تو بدکاری انتہا کو پہنچ جاتی تھی۔ اس بڑے کمرے میں جنگی کانفرنسیں بھی ہوتی تھیں۔ اس کے بڑے دروازے
‫پر باڈی گارڈز کے دو پہرے دار کمر سے تلواریں اور ہاتھوں میں برچھیاں لیے مستعد کھڑے رہتے تھے۔ تین چار گھنٹوں بعد
‫پہرے دار بدلتے تھے۔ خلت سلطان ایوبی کا جاسوس تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور پہرے دار بھی جاسوس تھا۔ ان دونوں کا پہرہ
‫اکٹھا لگا کرتا تھا۔ انہوں نے یہاں سے بہت سی معلومات حاصل کیں اور دمشق بھیجی تھیں۔ ایک شام ایک نئی رقاصہ آئی۔
‫اس شام ہال میں ضیافت تھی۔ مہمان بھی آرہے تھے۔ ناچنے گانے والیاں اور دوسری لڑکیاں بھی آرہی تھیں۔ یہ ریمانڈ کا
‫بھیجا ہوا جاسوس کا کمانڈر تھا۔ خلت نے معلوم کرلیا تھا کہ یہ کون ہے۔ اسے اب اس کی سرگرمیاں دیکھنی تھیں۔
‫اس کے عالوہ اس نے ایک اور نیا چہرہ دیکھا۔ یہ ایک لڑکی تھی جسے وہ تین چار دنوں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ نئی آئی
‫تھی۔ خلت اپنے ساتھی کے ساتھ ڈیوٹی ختم کرکے جارہا تھا کہ یہ لڑکی سامنے آگئی۔ وہ ٹھٹھک گیا۔ یہ چہرہ اسے جانا
‫پہچانا لگا مگر وہ سمجھا کہ چہروں میں مشابہت بھی ہوتی ہے۔ اس نے توجہ ہٹالی لیکن اس لڑکی نے اسے کچھ زیادہ ہی
‫غور سے دیکھا ور اسے دیکھتی آگے نکل گئی۔ خلت نے گھوم کر دیکھا تو لڑکی رک کر اسے دیکھ رہی تھی۔ دوسرے دن
‫بھی ایسے ہی ہوا۔ خلت نے یہ معلوم کرلیا تھا کہ یہ رقاصہ ہے۔ وہ کوئی شہزادی معلوم ہوتی تھی‪ ،خلت سپاہی تھا۔ اس کا
‫ایسی لڑکی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوسکتا تھا۔ شہزادی قسم کی رقاصہ تو امیروں کی ملکیت تھی۔ البتہ خلت کو ایک اور
‫لڑکی یاد آگئی تھی جس کی شکل وصورت اس رقاصہ سے ملتی جلتی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ گیارہ بارہ سال پہلے کی بات تھی جس کی یاد بھی خلت کے ذہن سے محو ہوتی جارہی تھی۔ اس وقت خلت سترہ
‫اٹھارہ سال کا نوجوان تھا۔ وہ دمشق سے تھوڑی ہی دور ایک گائوں میں رہتا تھا اور اپنے باپ کے ساتھ کھیتی باڑی کیا کرتا
‫تھا۔ وہ خوبرو بھی تھا اور اس کی طبیعت بہت شگفتہ تھی۔ ہنسی مذاق زیادہ کرتا تھا اور حاضر جواب بھی تھا۔ اس لیے
‫گائوں میں بچے سے بوڑھے تک اسے سب بہت چاہتے تھے۔ ہجرت کا سلسلہ تو چلتا ہی رہتا تھا جن عالقوں پر صلیبی
‫قابض تھے وہاں سے مسلمان کنبے صلیبیوں کے ظلم و ستم سے تنگ ا کر مسلمانوں کی حکمرانی کے عالقوں میں آتے رہتے
‫تھے۔ مقامی لوگ ان کی مدد امداد کرتے اور انہیں آباد کرلیتے تھے۔ ایسا ہی ایک کنبہ کہیں سے ہجرت کرکے خلت کے
‫گائوں میں آگیا۔ اس میں حمیرہ نام کی ایک بچی تھی جس کی عمر اس وقت گیارہ بارہ سال تھی۔ خوبصورت بچی تھی۔
‫گائوں والوں نے اس کنبے کو آباد کرلیا اور کھیتی باڑی کے لیے زمین اور سامان بھی مہیا کردیا۔ حمیرہ کے بہن بھائی چھوٹے
‫تھے۔ کام کرنے کے قابل صرف باپ تھا۔ خلت نے اس کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔ حمیرہ کو خلت کی باتیں اچھی لگتی تھیں
‫اور خلت کو یہ بچی اچھی لگتی تھی۔ وہ خلت کے گھر آجایا کرتی‪ ،گھر ہو یا کھیت حمیرہ اس سے کہانیاں ضرور سنتی
‫تھی۔ خلت دلچسپ قصے گھڑ لیا کرتا تھا۔ دو چار ماہ بعد حمیرہ کے باپ نے کھیتی باڑی ختم کردی۔ کسی کو معلوم نہیں
‫تھا کہ اس نے کون سا ذریعہ معاش اختیار کرلیا ہے۔ البتہ اس کنبے کی حالت بہتر ہوتی جارہی تھی۔
‫حمیرہ خلت میں کھل مل گئی تھی۔ وہ کھیتوں میں کام کرنے جاتا تو حمیرہ وہاں چلی جاتی۔ گھر میں ہوتا تو وہاں آتی۔
‫اب وہ تیرہ سال کی ہوگئی تھی اور اچھا برا سمجھنے لگی تھی۔ ایک روز خلت نے اس سے پوچھا کہ اس کا باپ کیا کام
‫کرتا ہے۔ حمیرہ نے بتایا کہ اسے یہ تو معلوم نہیں کہ وہ کیا کرتا ہے اور پیسے کہاں سے التا ہے۔ اسے صرف یہ پتا ہے کہ

‫اس کا باپ اچھا آدمی نہیں۔ وہ شہر سے کوئی نشہ کرکے آتا ہے۔ حمیرہ نے ایک نئی بات بتائی۔ اس نے کہا… ''یہ
‫شخص میرا باپ نہیں ہے‪ ،میرے ماں باپ مرگئے تھے۔ میں پانچ چھ سال کی تھی۔ اس نے مجھے سنبھال لیا اور اپنے گھر
‫لے آیا۔ پھر میں اسی کو اپنا باپ کہنے لگی۔ میرے ساتھ یہ اپنی بیٹیوں جیسا سلوک کرتا ہے مگر اچھا آدمی نہیں''۔
‫ڈیڑھ دو سال گزر گئے۔ خلت میں حمیرہ کی بچپنے کی دلچسپی محبت میں بدل گئی۔ شباب نے حمیرہ کے چہرے پر بڑا ہی
‫دلکش نکھار پیدا کردیا تھا اور قد بھی بڑھ کر جاذب نظر ہوگیا تھا۔ ایک روز وہ خلت سے ملی‪ ،بہت پریشان تھی۔ اس نے
‫خلت کو بتایا کہ اسے شک ہے کہ اس کا باپ اسے شادی کے بہانے کسی اجنبی کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔ یہ شک اسے
‫اس طرح ہوا تھا کہ اس کے باپ کے ساتھ ایک آدمی آیا تھا۔ باپ نے اس آدمی کو بہت خاطر تواضع کی تھی اور کچھ دیر
‫بعد حمیرہ کو اپنے پاس بالیا تھا۔ اس اجنبی نے حمیرہ کو بڑی غور سے دیکھا تھا۔ حمیرہ نے باپ سے پوچھا کہ اس نے
‫کیوں بالیا ہے تو باپ نے کوئی ایسا بہانہ پیش کیا تھا جس نے حمیرہ کے دل میں شک پیدا کردیا تھا۔ حمیرہ نے خلت سے
‫کہا کہ وہ اس کے سوا کسی اور کے پاس نہیں جانا چاہتی۔ خلت نے اسے کہا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بات کرکے اس
‫کے ساتھ شادی کی کوشش کرے گا۔
‫لہذا اس شخص کو حمیرہ کے مستقبل کے متعلق
‫یہ تو الگ بات ہے کہ حمیرہ جسے باپ کہتی تھی وہ اس کا باپ نہیں تھا ٰ
‫کوئی فکر نہیں تھا لیکن اس دور میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ بہت سی رقم لے کر لڑکیوں کو کسی کے ساتھ بیاہ
‫دینے کا رواج عام تھا۔ امیر کبیر لوگوں نے حرم بنا رکھے تھے جن کے لیے وہ نئی سے نئی لڑکیاں خریدتے رہتے تھے۔ اگر
‫حمیرہ کو اس کا باپ فروخت کررہا تھا تو یہ کوئی جرم یا کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا۔ خلت امیر ماں باپ کا بیٹا نہیں تھا۔
‫وہ یہی کرسکتا تھا کہ حمیرہ کو بھگا لے جائے اور کہیں غائب ہوجائے۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کرے۔ حمیرہ کے ساتھ
‫اسے محبت اتنی زیادہ تھی کہ وہ آسانی سے اس سے نظریں نہیں پھیر سکتا تھا۔
‫اس نے سوچنے میں زیادہ ہی وقت صرف کردیا۔ تیسرے دن وہ کھیتوں میں تھا کہ حمیرہ اسے پکارتی اور دوڑتی آرہی تھی۔
‫اس نے دیکھا کہ تین آدمی اس کے پیچھے دوڑے آرہے تھے جن میں ایک حمرہ کا باپ تھا۔ دوسرے دونوں کو وہ نہیں
‫پہچانتا تھا۔ گائوں کے بہت سے آدمی باہر آگئے تھے مگر وہ سب تماشائی تھے‪ ،وہ اس لیے حمیرہ کی مدد کو آگے نہیں
‫آتے تھے کہ اس کے پیچھے بھاگنے والوں میں اس کا باپ بھی تھا۔ حمیرہ خلت کے پیچھے ہوگئی۔ اس نے روتے ہوئے اسے
‫بتایا کہ یہ دو آدمی اسے اپنے ساتھ لے جانے آئے ہیں اور اس کے باپ نے ان کے ساتھ سودا کرلیا ہے۔
‫حمیرہ کے باپ نے خلت کے پیچھے سے حمیرہ کو پکڑنے کی کوشش کی تو خلت نے اسے دھکا دے کر کہا۔
‫خبردار‪ ،اسے ہاتھ نہ لگانا۔ پہلے میرے ساتھ بات کرو''۔''
‫''یہ میری بیٹی ہے''… باپ نے کہا… ''تم کون ہو مجھے روکنے والے؟''
‫یہ تمہاری بیٹی نہیں ہے''۔ خلت نے کہا۔''
‫دوسرے دو آدمی حمیرہ کی طرف بڑھے۔ ایک نے تلوار نکال لی تھی۔ خلت کے ہاتھ میں کدال کی قسم کی کوئی چیز تھی۔
‫اس نے گھما کر ماری تو یہ ہتھیار تلوار والے کے سر پر پڑا۔ اس کی تلوار گر پڑی پھر وہ خود بھی چکرا کر گرا۔ خلت نے
‫تلوار اٹھا لی۔ دوسرے آدمی نے بھی تلوار نکال لی۔ خلت کو تیغ زنی کی کوئی مشق نہیں تھی پھر بھی اس نے وار روکے۔
‫دوسرا آدمی تیغ زن معلوم ہوتا تھا۔ خلت کو لڑنے کا زیادہ موقعہ نہ مال۔ اس کے سر پر کوئی وزنی چیز پڑی۔ اس کی
‫آنکھوں کے آگے اندھیرا آگیا اور وہ گر پڑا… اس کے ہوش ٹھکانے آئے تو وہ اپنے گھر میں تھا۔ وہ جوش میں آکر اٹھا لیکن
‫اس کے باپ اور دو تین آدمیوں نے اسے جکڑ لیا۔ اسے بتایا گیا کہ وہ بہت دیر سے بے ہوش پڑا ہے اور حمیرہ اس گائوں
‫سے رخصت ہوچکی ہے۔ خلت چالنے لگا کہ لڑکی کو فروخت کیا جارہا ہے اوراسے بتایا گیا کہ اس کا نکاح پڑھا کر رخصت
‫کردیا گیا ہے۔
‫خلت کے سر کی حالت یہ تھی کہ وہ اٹھتا تھا اس تو اس کا سر چکرا جاتا تھا۔ اسے شدید چوٹ آئی تھی۔ بڑوں نے اسے
‫نصیحت کی کہ حمیرہ کے معاملے میں اس کا بولنا جائز نہیں کیونکہ اگر بیچا بھی گیا ہے تو اس کا باقاعدہ نکاح کیا گیا
‫ہے۔ بہرحال خلت کے لیے یہ حادثہ تھا۔ وہ جب ٹھیک ہوکر باہر نکال تو حمیرہ کا باپ اپنے سارے کنبے کے ساتھ گائوں
‫سے ہمیشہ کے لیے جاچکا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫خلت پر دیوانگی سی طاری ہوگئی۔ اسے حمیرہ کی محبت اور انتقام کا جذبہ پریشان رکھتا تھا۔ کام کاج سے اس کا دل
‫اچاٹ ہوگیا۔ وہ کبھی کبھی دمشق چال جاتا اور حمیرہ کے باپ کو ڈھونڈتا رہتا۔ ماں باپ نے اسے اچھی اچھی لڑکیاں دکھائیں
‫لیکن اس نے کسی کو بھی قبول نہ کیا اس کے دل ودماغ پر حمیرہ غالب رہی… ڈیڑھ ایک سال تک اس کی یہی حالت
‫رہی۔ ایک روز دمشق میں گھومتے پھرتے اسے پتا چال کہ فوج کی بھرتی ہورہی ہے۔ اس نے اس خیال سے کہ اس بہانے وہ
‫گائوں سے دور رہے گا فوج میں بھرتی ہوجانا بہتر سمجھا اور بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹریننگ دی گئی۔ گھوڑ سواری سکھائی گئی‪،
‫تیراندازی اور مختلف ہتھیاروں کا استعمال سکھایا گیا۔ اس کے ذہن کو مصروفیت مل گئی تو اس کے دل سے حمیرہ کا دکھ
‫کم ہونے لگا۔ اپنے جیسے ہزاروں سپاہیوں کے ساتھ رہتے‪ ،گپ شپ لگاتے اور ہنستے کھیلتے اس کے دل کی زندگی عود کرآئی
‫اور وہ ایک بار پھر شگفتہ مزاج جوان بن گیا۔
‫یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب صالح الدین ایوبی کا نام ابھی مشہور نہیں ہوا تھا۔ لوگ ابھی نورالدین زنگی کو جانتے تھے۔
‫اسے ایک بار جنگ میں جانے کا موقعہ مال۔ یہ ایک خونریز لڑائی تھی۔ اس نے پہلی بار اپنے دشمن کو دیکھا۔ اس نے وہ
‫لٹے پٹے مسلمان کنبے دیکھے جو صلیبیوں کے ظلم وستم کا نشانہ بنے تھے۔ اسے یہ بھی بتایا گیا کہ صلیبی بہت سی
‫مسلمان لڑکیوں کو اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ سن کر اس کے اندر قومی جذبہ اور اسالم کی لگن
‫بیدار ہوگئی۔ اس جذبے اور لگن نے جنون کی صورت اختیار کرلی اور اس جنون نے اسے ان سپاہیوں کی صف میں کھڑا کردیا
‫✔جو تنخواہ اور مال غنیمت کی خاطر نہیں اللہ کے نام پر لڑا اور جانیں قربان کیا کرتے ہیں۔
‫تین چار سال بعد جب صالح الدین ایوبی کو مصر کا امیر بنا کر قاہرہ بھیجا گیا تو صلیبیوں نے سوڈانیوں کے ساتھ خفیہ
‫معاہدہ کرکے سمندر کی طرف سے مصر پر حملہ کیا تو سلطان ایوبی نے نورالدین زنگی سے کمک مانگی۔ زنگی نے اپنے
‫منتخب دستے قاہرہ روانہ کردئیے۔ ان میں خلت بھی تھا‪ ،اس کا شمار ان ذہین عسکریوں میں ہوتا تھا جو تلوار کے ساتھ
‫دماغ بھی استعمال کرتے تھے۔ اسے پچاس سپاہیوں کے ایک جیش کا کمان دار بنا دیا گیا۔ مصر میں اس کا ذہن پوری طرح
‫بیدار ہوگیا۔ سلطان ایوبی نے اپنی انٹیلی جنس کے سربراہ علی بن سفیان سے کہا کہ وہ لڑاکا (کمانڈو) جاسوسوں کا انتخاب
‫کرے تو خلت کو حاضر دماغی‪ ،ذہانت‪ ،جسم اور زبان کی مستعدی اور پھرتی‪ ،جسم اور شکل وصورت کی دلکشی کی بدولت

‫لڑاکا جاسوسوں میں لے لیا گیا۔ اسے کمانڈو اور گوریال قسم کے شنجون مارنے کے لیے چند بار بھیجا گیا تھا لیکن جاسوسی
‫کے لیے ملک سے باہر نہ بھیجا گیا۔ ملک کے اندر جاسوسوں کی سراغ رسانی‪ ،تعاقب اور گرفتاری کے لیے اسے استعمال کیا
‫جاتا رہا۔ جاسوسوں کو وہ خوب پہچانتا تھا۔
‫اب ‪ ١١٧٤ء میں جب سلطان ایوبی نورالدین زنگی کی وفات کے بعد سات سو سوار لے کر دمشق پر قبضہ کرنے اور الملک
‫الصالح کی معزولی کی مہم پر روانہ ہوا تو اس نے اپنے جاسوسوں کو پہلے ہی دمشق بھیج دیا تھا جو مختلف بہروپ دھار کر
‫دمشق میں داخل ہوئے اور پھیل گئے تھے اور جب دمشق پر سلطان ایوبی کا قبضہ ہوگیا اور الصالح‪ ،اس کے امیر وزیر اور اس
‫کے باڈی گارڈز دمشق سے بھاگے تو علی بن سفیان کے معاون حسن بن عبداللہ نے جو جاسوسوں کے ساتھ دمشق گیا تھا‪،
‫کئی ایک جاسوس دمشق سے اس طرف روانہ کیے جس طرف الصالح اور اس کے باڈی گارڈز دستے گئے تھے۔ ان جاسوسوں کو
‫خصوصی ہدایات اور مختلف مشن دئیے گئے تھے۔ خلت کو بھی ان کے ساتھ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور ساتھی بھی تھا۔
‫حلب میں پہنچے تو وہاں افراتفری کا عالم تھا۔ الصالح کے حواریوں کو فوری طور پر فوج کی ضرورت تھی۔ انہیں خطرہ تھا
‫کہ سلطان ایوبی ان کا تعاقب کرے گا اور حملہ کرے گا۔ اس صورتحال میں انہیں جیسا کیسا سپاہی مال انہوں نے رکھ لیا۔
‫خلت اور اس کے ساتھی نے اپنے آپ کو اس کی فوج کے سپاہی ظاہر کیا جو دمشق سے بھاگ آئے تھے۔ کمانڈروں میں سے
‫کسی کو ہوش نہیں تھی کہ چھان بین کرتے کہ کوئی مشکوک افراد فوج میں نہ آگئے ہوں۔ سلطان ایوبی کے جاسوسوں نے
‫بھی اہم جگہیں سنبھال لیں اور حلب میں زمین دوز اڈہ بھی قائم کرلیا۔ خلت چونکہ خوبرو اور تنومند جوان تھا اور زبان کی
‫چاشنی سے بھی ماال مال تھا اس لیے اسے قصر سلطنت کے محافظوں کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ اس نے اپنے ایک ساتھی
‫کو بھی اپنے ساتھ رکھا۔ اسالم کا عسکری جذبہ اس کی روح میں اتر گیا تھا۔ اس نے حمیرہ کو کبھی یاد نہیں کیا تھا۔اسے
‫اتنی مہلت ہی نہیں ملتی تھی مگر اس نئی رقاصہ نے اسے حمیرہ یاد دال دی۔ حمیرہ سے جدا ہوئے سات آٹھ سال گزر گئے
‫تھے۔ اس وقت حمیرہ پندرہ سولہ سال کی تھی۔ یہ رقاصہ بہت خوبصورت تھی۔ اس کے چہرے پر حمیرہ والی معصومیت اور
‫سادگی نہیں تھی۔ یہ ناممکن تھا کہ یہ رقاصہ حمیرہ ہو۔ تیسری بار رقاصہ اس کے قریب سے گزری تو بھی خلت نے اسے
‫ٹکٹکی باندھ کر دیکھا۔ رقاصہ بھی اسے دیکھ رہی تھی۔ اب کے وہ رک گئی۔
‫تمہارا نام کیا ہے؟'' رقاصہ نے پوچھا۔''
‫''خلت نے اپنا وہ فرضی نام بتایا جو اس نے وہاں لکھوا رکھا تھا اور پوچھا… ''آپ نے نام کیوں پوچھا ہے؟
‫تم مجھے گھور گھور کر دیکھا کرتے ہو اس لیے نام پوچھ رہی ہوں''۔ حمیرہ نے ایسے لہجے میں کہا جس میں شریف ''
‫عورتوں والی ذرا سی بھی جھلک نہیں تھی۔ کہنے لگی… ''تم سپاہی ہو۔ اپنے کام پر توجہ رکھا کرو''۔
‫خلت کو کوفت ہوئی لیکن اسے خوشی بھی ہوئی کہ یہ حمیرہ نہیں‪ ،حمیرہ تو بھولی بھالی لڑکی تھی۔
‫اسی شام ہال میں ضیافت تھی۔ ریمانڈ کے جاسوسوں کا کمانڈر تین چار روز پہلے آیا تھا۔ اس کا نام ونڈ سر تھا۔ یہ ضیافت
‫اسی کے اعزاز میں دی جارہی تھی۔ خلت نے معلوم کرلیا تھا کہ یہ جاسوسی کا ماہر ہے اور جاسوسی کے نظام کو بہتر
‫بنانے کے لیے آیا ہے۔ شام کا اندھیرا گہرا ہوگیا تھا۔ ہال میں مہمان آرہے تھے۔ کھانے چنے جارہے تھے اور شراب کے دور
‫چل رہے تھے۔ ابھی ونڈ سر نہیں آیا تھا۔ خلت اور کے ساتھی کی ڈیوٹی ہال کے دروازے پر تھی۔ کچھ دیر بعد ونڈ سر آگیا۔
‫اس نے دونوں پہرے داروں کو غور سے دیکھا پھر اس نے خلت کے چہرے پر نظریں گاڑدیں۔
‫تم خلیفہ کے محافظ دستے میں کب آئے ہو؟'' ونڈسر نے خلت کی زبان میں پوچھا۔''
‫یہاں آکر مجھے محافظ دستے میں لیا گیا ہے''۔ خلت نے جواب دیا… ''اس سے پہلے میں دمشق کی فوج میں تھا''۔''
‫تم مصر بھی گئے تھے؟'' ونڈسر نے پوچھا۔''
‫''!نہیں''
‫''ونڈسر نے دوسرے پہرہ دار سے خلت کے متعلق پوچھا۔ ''تم اسے کب سے جانتے ہو؟
‫ہم دونوں دمشق کی فوج میں اکٹھے رہے ہیں''… اس نے جواب دیا… ''ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں''۔''
‫اور میں شاید تم دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں''۔ ونڈسر نے مسکرا کر کہا…''ذرا میرے ساتھ آئو''۔''
‫وہ انہیں پہرے سے ہٹا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ وہ گھاگھ سراغ رساں اور جاسوس تھا۔ یہاں پہنچتے ہی اس نے باڈی گارڈز کی
‫خفیہ چھان بین شروع کردی تھی۔ خلت کو دیکھتے ہی اسے کچھ یاد آگیا تھا اور اس نے جب اس کے ساتھی کو دیکھا تو
‫اس کا شک پکا ہوگیا۔ شک غلط بھی نہیں تھا۔ خلت اور اس کا ساتھی تین چار سال سے انٹیلی جنس میں تھے اور وہ
‫اکٹھے رہتے تھے۔ ان کی جوڑی پکی ہوگئی تھی۔ ونڈسر انہیں اپنے کمرے میں لے گیا جو اسی عمارت میں بڑے ہال سے
‫تھوڑی ہی دور تھا۔ کمرے میں لے جا کر اس نے مشعل کی روشنی میں دونوں کو ایک بار پھر غور سے دیکھا۔
‫اگر تم مجھے یقین دال دو کہ تم یہاں کے وفادار ہو اور صالح الدین ایوبی کو اپنا دشمن سمجھتے ہو تو میں تمہیں چھوڑوں''
‫گا ہی نہیں بلکہ ایسے کام پر لگائوں گا جہاں عیش کرو گے''۔ ونڈسر نے کہا۔ ''جھوٹ نہ بولنا۔ پچھتائو گے''۔
‫ہم یہیں کے وفادار ہیں''۔ خلت نے کہا۔''
‫''تم نے وفاداری کب سے بدلی ہے؟'' ونڈسر نے پوچھا ''اور کیوں بدلی ہے؟''
‫''خدا اور رسولۖ کے بعد خلیفہ کا رتبہ ہے''۔ خلت نے کہا۔ ''صالح الدین ایوبی کا کوئی رتبہ نہیں۔''
‫مصر سے کب آئے ہو؟'' ونڈسر نے پوچھا اور جواب کا انتظار کیے بغیر کہا۔ ''تم شاید مجھے نہیں جانتے میں بھی ''
‫''تمہاری طرح جاسوس ہوں۔ نام شاید بھول جائوں چہرے نہیں بھوال کرتا۔ علی بن سفیان کہاں ہے؟ مصر میں یا دمشق میں؟
‫ہم اسے نہیں جانتے''۔ خلت کے ساتھی نے جواب دیا۔ ''ہم سیدھے سادے سپاہی ہیں''۔''
‫ونڈسر نے دروازے میں جاکر دیکھا اور کسی مالزم کو آواز دی۔ مالزم آیا تو اس نے کسی لڑکی کا نام لے کر مالزم سے کہا
‫کہ اسے بال الئو۔ وہ لڑکی قریب ہی کسی کمرے میں تھی۔ ذرا سی دیر میں ایک بڑی ہی حسین لڑکی آگئی۔ خلت کو معلوم
‫تھا کہ یہ صلیبی لڑکی ہے۔ اس کے ساتھ نئی رقاصہ تھی جسے دیکھ خلت کو حمیرہ یاد آجایا کرتی تھی۔ ونڈسر نے صلیبی
‫لڑکی سے عربی زبان میں بات کی اس سے ہنس کر پوچھا کہ ''اس رقاصہ کو کیوں ساتھ لے آئی ہو۔لڑکی نے جواب دیا کہ
‫یہ میرے کمرے میں تیار ہوکر آگئی تھی اور میں تیار ہورہی تھی۔ آپ کا بالوا آیا تو سمجھی کہ آپ نے مجھے ضیافت میں
‫ساتھ چلنے کے لیے بالیا ہے۔ میں اسے بھی ساتھ لے آئی''۔
‫کوئی بات نہیں''… ونڈسر نے کہا… ''اچھا ہوا یہ بھی آگئی ہے۔ تماشہ دیکھ لے گی''۔ اس نے صلیبی لڑکی سے کہا۔ ''
‫''میں نے تمہیں کسی اور کام کے لیے بالیا ہے''۔ دونوں پہرہ داروں کی طرف اشارہ کرکے اس نے لڑکی سے کہا… ''ان
‫دونوں کے چہروں کو دیکھو۔ شاید تمہیں کچھ یاد آجائے''۔

‫لڑکی نے دونوں کو بڑی غور سے دیکھا۔ ماتھے پر شکن ڈال کر سوچا۔ پھر دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس
‫''نے خلت اور اس کے ساتھی سے پوچھا… ''تم کس وقت ہوش میں آئے تھے؟
‫دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا‪ ،پھر لڑکی کو دیکھا۔ خلت حاضر دماغ تھا۔ وہ جان گیا کہ انہیں پہچان لیا گیا ہے۔ وہ
‫بچنے کے طریقے سوچنے لگا۔ یہ اب عقل اور ہوش کا کھیل تھا۔ اس نے بھوال بن کر کہا… ''میں سمجھ نہیں سکتا کہ
‫پہرے سے ہٹا کر آپ نے ہمارے ساتھ کیوں مذاق شروع کردیا ہے۔ ہمارے کمان دار نے دیکھ لیا تو ہمیں سزا دے گا''۔
‫تم پہرہ دار نہیں ہو''۔ ونڈسر نے کہا… ''تم دونوں کو وہاں کھڑا کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ وہاں کوئی بھی کھڑا نہ ہو۔''
‫وہاں تمہاری کوئی ضرورت نہیں''۔ اس نے خلت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''یہاں آکر اپنا حلیہ ذراسا تو بدل لیا
‫ہوتا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اورعلی بن سفیان جاسوسی کے ماہر ہیں لیکن ہم بھی اناڑی نہیں۔ اپنے آپ کومصیبت میں نہ
‫ڈالو۔ فورا ً بتا دو کہ تم دونوں مصر سے آئے ہوئے جاسوس ہو۔ تمہارے ساتھ میری اور اس (صلیبی) لڑکی کی مالقات پہلے
‫بھی ہوچکی ہے۔ تم مجھے نہیں پہچان سکے کیونکہ میں بگاڑے ہوئے حلیے میں تھا۔ میں نے تمہیں پہچان لیا ہے کیونکہ تم
‫آج بھی اسی حلیے میں ہو جس میں اڑھائی سال پہلے تھے۔ ذرا ذہن پر زور دو۔ تمہیں یاد آجائے گا۔ مصر کے شمال میں تم
‫دونوں ایک قافلے کے ساتھ چل پڑے تھے کیونکہ تمہیں شک تھا کہ یہ قافلہ مشکوک ہے۔ تم نے ایک قافلے کے ساتھ سفر
‫کیا تھا۔ ایک رات بھی قافلے کے ساتھ گزاری تھی مگر تمہاری بدقسمتی کہ تمہاری جب آنکھ کھلی تو تم صحرامیں اکیلے
‫پڑے تھے۔ قافلہ بہت دور نکل گیا تھا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫ونڈسر نے انہیں یاد دالیا
‫خلت اور اس کا یہی ساتھی جاسوسوں کی سراغرسانی کی ڈیوٹی پر تھے۔ یہ اڑھائی تین سال پہلے کا واقعہ ہے… سوڈانیوں
‫کو شکست تو دی جاچکی تھی لیکن وہ صلیبیوں کی مدد سے مصر پر حملے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ مصر کے اندر
‫صلیبی جاسوس اور تخریب کار سرگرم تھے۔ ان کے سراغ رسانی کے لیے علی بن سفیان کا جاسوسی نظام کام کررہا تھا۔
‫سرحدوں پر گشتی دستے بھی تھے۔ مصر کے اپنے جاسوس مسافروں وغیرہ کے بھیس میں سرحدی عالقوں میں گھومتے پھرتے
‫رہتے تھے۔ ایک بار خلت اپنے اس ساتھی کے ساتھ مصر کے شمال میں گشت پر تھا۔ دونوں اونٹوں پر سوار تھے اور دونوں
‫غریب سے صحرائی مسافروں کے بھیس میں تھے۔ انہیں ایک قافلہ جاتا نظر آیا جس میں بہت سے اونٹ اور چند ایک گھوڑے
‫تھے۔ قافلے والوں میں بوڑھے بھی تھے‪ ،جوان بھی تھے‪ ،بچے اور عورتیں بھی تھیں۔
‫خلت اور اس کا ساتھی جاسوس تھے۔ وہ قافلے کو روک کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انہیں ہدایت یہ تھی کہ آتے جاتے قافلوں
‫کو دیکھیں اور ذرا سا بھی شک ہو تو قریبی سرحدی چوکی کو اطالع دیں۔ یہ چوکی والوں کا فرض تھا کہ قافلے کو روک کر
‫چھان بین کریں اور سامان کی تالشی بھی لیں۔ سرحدی دستے فوجی طاقت کے زور پر یہ کام کرسکتے تھے۔ دو جاسوسوں
‫سے اتنی زیادہ تعداد کا قافلہ نہیں رک سکتا تھا۔ خلت اور اس کے ساتھی نے ہدایات اور ٹریننگ کے مطابق قافلے والوں پر
‫یہ ظاہر کیا کہ وہ مسافر ہیں اور آگے جارہے ہیں۔ا س زمانے میں یہی طریقہ تھا کہ مسافر اکٹھے چال کرتے تھے کیونکہ سفر
‫بہت طویل اور لوٹ مار کا خطرہ زیادہ تھا۔ قافلے والوں نے ان کو اپنے ساتھ مال لیا۔
‫ان دونوں نے گپ شپ کے انداز سے معلوم کرنا شروع کردیا کہ یہ قافلہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جارہا ہے۔ انہیں معلوم
‫تھا کہ اگلی سرحدی چوکی کہاں ہے مگر انہوں نے دیکھا کہ قافلہ ایسی سمت کو جارہا تھا جس طرف کوئی چوکی نہیں
‫تھی۔ وہ عالقہ ہی ایسا تھا کہ گشتی پہرے اور چوکی سے بچ کر نکال جاسکتا تھا۔ اونٹوں پر جو سامان لدا ہوا تھا وہ بھی
‫مشکوک سا معلوم ہوتا تھا۔ پتا نہیں چلتا تھا کہ ان بڑے بڑے مشکوں اور لپٹے ہوئے خیموں وغیرہ میں کیا ہے۔ بہرحال سامان
‫معمولی نہیں تھا۔ خلت اور اس کے ساتھی صحرائی خانہ بدوشوں کے انداز سے معلوم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ قافلے
‫میں چار جوان لڑکیاں بھی تھیں۔ ان کے لباس تو خانہ بدوشوں بلکہ بدوئوں کی طرح تھے۔ ان کے بالوں کا انداز بھی بتاتا تھا
‫کہ تہذیب وتمدن سے دور رہنے والی لڑکیاں ہیں لیکن ان کے چہروں اور آنکھوں کے رنگ اور خدوخال کی دلکشی بتا رہی تھی
‫کہ معاملہ کچھ اور ہے اور یہ بہروپ ہے۔
‫قافلے میں ایک بوڑھا آدمی تھا۔ اس کا رنگ گورا تھا اور چہرے پر جھریاں مگر اس کے دانت بتاتے تھے کہ اس کی عمر
‫اتنی زیادہ نہیں جتنی چہرہ بتا رہا تھا۔ اس بوڑھے نے خلت اور اس کے ساتھی کو اپنے ساتھ کرلیا اور بڑے پیارے انداز سے
‫ان سے پوچھنے لگا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔ خلت اپنے متعلق غلط باتیں بتاتا رہا اور اس سے معلوم
‫کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ قافلہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جارہا ہے اور سامان کیا ہے۔ وہ بوڑھا اتنی اچھی باتیں کرتا تھا
‫کہ خلت اور اس کا ساتھی اس کی باتوں میں الجھ گئے۔ چلتے چلتے شام ہوگئی پھر رات گہری ہوگئی اور قافلہ چلتا رہا۔
‫خلت نے قافلے کا رخ بدلنے کے لیے بوڑھے سے کہا کہ فالں طرف سے چلیں تو منزل قریب آجائے گی۔ اس کا مقصد تھا کہ
‫قافلے کو چوکی کے قریب سے گزارا جائے۔ صاف پتا چل راہ تھا کہ قافلہ چوکی سے بچنے کی کوشش میں ہے۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:08
‫قسط نمبر۔‪74
‫صلیب کے سائے میں
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫بچنے کی کوشش میں ہے۔ شکوک پختہ ہوتے گئے۔‪ ،کچھ اور آگے گئے تو پڑائو کرنے لیے نہایت موزوں جگہ آگئی۔ قافلہ رک
‫گیا اور پڑائو کرلیا گیا۔ خلت اور اس کا ساتھی ذرا الگ ہٹ کر بیٹھے اور سوچنے لگے کہ سب سوجائیں تو سامان کی تالشی
‫لیں یا ان دونوں میں سے ایک خاموشی سے نکل جائے اور کسی قریبی سرحدی چوکی کو اطالع کردے تاکہ قافلے پر چھاپہ
‫مارا جائے مگر خطرہ یہ تھا کہ قافلے والوں کو شک ہوجائے گا اور وہ پیچھے رہنے والے اکیلے جاسوس کو قتل کرکے یا اغوا
‫کرکے تیز رفتاری سے غائب ہوجائیں گے۔ انہوں نے سونے کی نہیں بلکہ جاگتے رہنے کی کوشش کی۔ قافلے والے کھاپی کر
‫سوگئے۔
‫اتنے میں دو لڑکیاں جو قافلے کے ساتھ تھیں اس طرح ان کے پاس آئیں جیسے چوری چھپے آئی ہوں۔ وہ اس عالقے کی
‫صحرائی زبان بول رہی تھیں۔ انہوں نے خلت اور اس کے ساتھی سے کہا کہ اگر وہ انہیں راز کی ایک بات بتائیں تو کیا وہ
‫ان کی مدد کریں گے؟… '' راز'' ایک ایسا لفظ تھا جس نے صالح الدین ایوبی کے ان دونوں جاسوسوں کو چونکا دیا۔ وہ راز
‫حاصل کرنے کے لیے ہی ریگزاروں میں مارے مارے پھر رہے تھے اور اس قافلے کے ساتھ وہ راز کی خاطر ہی چلے تھے۔
‫انہوں نے بتایا کہ یہ قافلہ بردہ فروشوں کا ہے اور یہ چاروں لڑکیاں اغوا کرکے الئی جارہی ہیں۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ انہیں

‫کہاں لے جایا جارہا ہے۔ لڑکیوں نے بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اور ان لوگوں سے آزاد ہونا چاہتی ہیں۔
‫باتوں باتوں میں ایک لڑکی خلت کو الگ لے گئی۔ لڑکی کی باتوں میں سادگی بھی تھی اور جاذبیت بھی۔ اس نے خلت سے
‫کہا کہ وہ اگر اسے اپنے ساتھ لے جائے تو اس کے ساتھ شادی کرے گی اور ساری عمر اس کی وفادار رہے گی۔ اس نے کچھ
‫ایسی باتیں بھی کیں جسے وہ خلت کو دل دے بیٹھی ہو۔ اس نے محبت اور مظلومیت کا اظہار ایسے الفاظ میں اور ایسے
‫انداز سے کیا کہ خلت اس کی اور باقی لڑکیوں کی رہائی کے متعلق سوچنے لگا۔ دوسری لڑکی خلت کے ساتھی کے ساتھ
‫الگ بیٹھی تھی اور وہ بھی اس قسم کی باتیں کررہی تھی۔ کسی عورت کا محض عورت ہونا اس کی قوت ہوتی ہے اور جب
‫عورت خوبصورت اور جوان ہو اور وہ مظلوم بھی ہو تو مرد پگھل جاتے ہیں۔ یہ کیفیت ان دونوں مردوں کی ہوگئی۔ دونوں میں
‫جوانی کا جوش تھا۔ ان میں غیرت بھی تھی اور اپنی فوج کا یہ اصول بھی کہ عورت کی پاسبانی کرنی ہے خواہ وہ اپنی
‫ہو خواہ کسی اور کی۔
‫دونوں لڑکیوں نے الگ الگ ان دونوں مصری جاسوسوں کو خوش کرنے کے لیے انہیں کوئی بڑی ہی لذیذ چیز کھانے کو دی۔
‫ایک لڑکی دبے پائوں گئی اور چھوٹا سا ایک مشکیزہ اٹھا الئی۔ اس میں سے اس نے دونوں کو کچھ پالیا جو کوئی شربت
‫تھا۔ اس کا ذائقہ اتنا اچھا تھا کہ دونوں خاصا زیادہ پی گئے۔ تھوڑی ہی دیر بعد دونوں کی آنکھ لگ گئی اور جب ان کی
‫آنکھ کھلی تو اگلے دن کا سورج افق سے تھوڑا ہی اوپر رہ گیا تھا۔ وہ ساری رات اور سارا دن سوئے رہے۔ ریگزار کی جھلس
‫دینے والی تپش بھی انہیں نہیں جگا سکی تھی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھے۔ وہاں قافلہ بھی نہیں تھا اور ان دونوں کے اونٹ بھی نہیں
‫تھے اور وہ اس جگہ بھی نہیں تھے جہاں انہوں نے رات پڑائو کیا تھا۔ یہ کوئی اور جگہ تھی۔ اردگرد مٹی اور ریت کے ٹیلے
‫تھے۔ دونوں دوڑتے ہوئے ایک بلند ٹیلے پر چڑھے۔ ادھرادھر دیکھا‪ ،انہیں ٹیلوں کی چوٹیوں اور ان سے دور صحرا کی ریت کے
‫سوا کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ بوڑھا آدمی میں تھا جس کے ساتھ تم سفر کے دوران باتیں کرتے رہے تھے''… ریمانڈ کے جاسوسوں کے کمانڈر ونڈسر ''
‫نے انہیں کہا… '' میں تمہاری باتوں سے جان گیا تھا کہ تم جاسوس ہو اور معلوم کرنا چاہتے ہو کہ ہم کون ہیں اور کہاں
‫جارہے ہیں''۔
‫وہ تم نہیں تھے''… خلت نے کہا… ''وہ تو کوئی بوڑھا آدمی تھا''۔''
‫وہ میرا بہروپ تھا''… ونڈسر نے کہا… ''مجھے خوشی ہے کہ تم مان گئے ہو کہ تم دونوں جاسوس تھے اور اب بھی ''
‫جاسوس ہو اور میں تمہیں یہ بھی بتا دوں کہ تمہیں بے ہوش کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک یہ تھی''۔
‫ہم اب جاسوس نہیں ہیں''… خلت نے کہا… ''اب ہم خلیفہ کے وفادار ہیں''۔''
‫تم بکواس کرتے ہو''… ونڈسر نے کہا… ''علی بن سفیان کی میں نے ہمیشہ تعریف کی ہے مگر تمہاری تربیت مکمل ''
‫نہیں۔ تم نے ابھی تک اپنے آپ کو چھپانا اور اپنا حلیہ بدلنا نہیں سیکھا''۔
‫ونڈسر نے انہیں بتایا کہ وہ جنگی سامان اور بہت سی رقم سوڈان لے جارہے تھے۔ قافلے میں جو افراد صحرائی لباس میں
‫تھے‪ ،وہ فوجی مشیر تھے۔ وہ سب صلیبی تھے اور سوڈان جارہے تھے۔ انہوں نے ہی سوڈانی فوج تیار کی اور صالح الدین
‫ایوبی کے بھائی تقی الدین کو ایسی بری شکست دی تھی کہ وہ اپنی آدھی فوج وہیں چھوڑ آیا تھا۔ اگر صالح الدین ایوبی
‫عقل استعمال نہ کرتا تو تقی الدین باقی فوج وہاں سے نہیں نکال سکتا تھا۔ ان لڑکیوں نے بھی تمہاری شکست میں بہت
‫کام کیا تھا۔ ونڈسر نے انہیں بتایا کہ ان کی مالقات جب مصر کے شمال میں ہوئی تھی تو رات پڑائو کے دوران ان میں سے
‫کوئی بھی نہیں سویا تھا اور ان دونوں لڑکیوں کو اسی مقصد کے لیے خلت اور اس کے ساتھی کے پاس بھیجا گیا تھا کہ
‫انہیں باتوں میں الجھا کے بے ہوش کردیں۔ ان کی ترکیب کامیاب رہی۔ ان کے بے ہوش ہوتے ہی قافلہ روانہ ہوگیا۔
‫خلت کو وہ واقعہ اچھی طرح یاد تھا اور یہ واقعہ اس کے دل میں کانٹے کی طرح اترا ہوا تھا۔ اتنے خطرناک جاسوسوں کا
‫قافلہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایسے کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔ اس خلش کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اس
‫نے اس واقعہ کی رپورٹ اپنے ہیڈکوارٹر کو دی ہی نہیں تھی کیونکہ اسے دشمن کے جاسوس دھوکہ دے گئے تھے۔ اس میں
‫اس کی اور اس کے ساتھی کی بے عزتی تھی۔ انہیں دو لڑکیاں بے وقوف بنا گئی تھیں۔ اب ان میں سے ایک لڑکی اور ایک
‫آدمی اس کے سامنے کھڑا تھا۔ خلت اپنے ساتھی سمیت اس کا قیدی تھا۔ اب وہ ہتھیار ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے یہاں
‫سے نکلنے یا مرجانے کو فیصلہ کرلیا۔
‫میری ایک پیشکش قبول کرلو''… ونڈسر نے انہیں کہا… ''میں تم پر ایسا رحم کررہا ہوں جو میں نے کبھی کسی پر نہیں''
‫کیا۔ تم دونوں میرے گروہ میں شامل ہوجائو۔ جتنی اجرت مانگو گے دوں گا‪ ،کہو گے تو دمشق بھیج دوں گا اور اگر قاہرہ جانا
‫چاہو تو وہاں بھیج دوں گا۔ وہاں تم دونوں صالح الدین ایوبی کے جاسوس بنے رہنا لیکن کام ہمارے لیے کرنا۔ تمہارا کام یہ
‫ہوگا کہ ہمارے جو جاسوس وہاں کام کررہے ہیں ان کی مدد کرو۔ اگر کوئی ان کی نشاندہی کردے تو انہیں قبل از وقت خبردار
‫کرکے ادھرادھر کردینا''… وہ بولتا جارہا تھا اور یہ دونوں خاموشی سے سن رہے تھے۔ اسے توقع تھی کہ یہ دونوں مان جائیں
‫گے۔ اس نے کہا… ''یہ پیشکش قبول کرنے سے پہلے میری یہ شرط ہے کہ یہاں تمہارے جتنے جاسوس ہیں وہ پکڑواو اور یہ
‫''بتا دو کہ وہ کہاں کہاں ہیں؟
‫ہمیں تمہاری پیشکش کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں''… خلت نے کہا… ''ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہاں کوئی جاسوس ''
‫ہے یا نہیں''۔
‫تمہیں شاید معلوم نہیں کہ میں تمہارے جسموں کی کیا حالت بنا دوں گا''… ونڈسر نے کہا… ''اگر تمہیں یہ توقع ہے کہ''
‫تمہیں فورا ً قتل کردیا جائے گا تو تمہاری یہ توقع پوری نہیں ہوگی۔ میں تمہیں جس تنور میں پھینکوں گا اس میں سے اتنی
‫جلد نجات حاصل نہیں کرسکوں گے''… اس نے مسکرا کر کہا… ''کیا تم مجھ سے منوالو گے کہ تم جاسوس نہیں ہو؟ کیا
‫میں ابھی شک میں ہوں؟ تم میں اتنی عقل نہیں کہ مجھے دھوکہ دے سکو۔ تم میں اتنی عقل ہوتی تو اس لڑکی کے ہاتھوں
‫بے وقوف نہ بنتے۔ اس نے تمہیں اپنی جوانی اور خوبصورتی کے جال میں پھانس لیا تھا''۔
‫سنو میرے صلیبی دوست''… خلت کھری باتوں پر آگیا۔ بوال… ''ہم دونوں جاسوس ہیں مگر یہ جھوٹ ہے کہ میں یا میرا''
‫یہ رفیق لڑکیوں کے حسن کے فریب میں آگیا تھا۔ میں پتھر ہوں لیکن مجھ میں ایک کمزوری ہے۔ بہت عرصہ گزرا پندرہ
‫سولہ سال کی عمر کی ایک لڑکی میرے سامنے فروخت ہوگئی تھی۔ میں نے اسے بچانے کی کوشش میں ایک آدمی کی تلوار
‫چھین لی تھی… اور ایک کو زخمی بھی کردیا تھا۔ وہ تین تھے اور میں اکیال۔ انہوں نے مجھے گرا لیا اگر میں بے ہوش نہ
‫ہوجاتا تو اس لڑکی کو بچا لیتا۔ وہ اسے لے گئے اور مجھے لوگ بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر گھر لے گئے''۔

‫تم کہاں کے رہنے والے ہو؟''… ونڈسر نے پوچھا۔''
‫دمشق سمجھ لو''… خلت نے جواب دیا… ''میں اب کچھ نہیں چھپائوں گا۔ دمشق کے قریب ایک گائوں ہے۔ میں وہاں ''
‫کا رہنے واال ہوں اور میرا ساتھی بغدادی ہے۔ میں یہ باتیں تمہارے ڈر سے نہیں بتا رہا۔ تم مجھے اتنی آسانی سے پکڑ نہیں
‫سکو گے۔ ہمت ہے تو ہمارے ہاتھوں سے برچھیاں لے لو۔ ہم سے تلوا لو جس تنور کا تم ذکر کرتے ہو‪ ،اس میں ہماری الشیں
‫جائیں گی''۔
‫ونڈسر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ صلیبی لڑکی نے ہنس کر کہا… ''انہیں خوش فہمی مروائے گی''۔ اور نئی رقاصہ
‫خلت کو گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
‫میں تمہیں بتا رہا تھا کہ میں اس لڑکی کو نہیں بچا سکا تھا''… خلت نے کہا… ''اس لڑکی کی یاد کانٹا بن کر میرے ''
‫دل میں اتر گئی۔ اس رات جب ہم دونوں تمہارے قافلے کے ساتھ تھے تو تمہاری دولڑکیوں نے مجھے کہا کہ انہیں بیچنے کے
‫لیے اغوا کرکے لے جایا جارہا ہے تو میری آنکھوں کے سامنے وہ لڑکی آگئی جسے میں بچا نہیں سکا تھا۔ میں نے ان دونوں
‫لڑکیوں کے چہروں پر اسی لڑکی کا چہرہ دیکھا۔ میرے دل میں جو کانٹا تھا اس نے میری عقل پر پردہ ڈال دیا۔ اگر مجھے
‫وہ لڑکی یاد نہ آتی تو میں کبھی بے وقوف نہ بنتا''۔
‫نئی رقاصہ کا جسم بڑی زور سے کانپا۔ وہ پیچھے ہٹ گئی اور پلنگ پر بیٹھ گئی۔ اس کا رنگ زرد ہوگیا تھا۔
‫اور اب تو موت بھی مجھے بے وقوف نہیں بنا سکتی''… خلت نے کہا… ''اور تمہارا کوئی اللچ مجھے اپنے فرض سے ''
‫گمراہ نہیں کرسکتا''۔
‫ادھر ضیافت کے ہال میں ونڈسر کا انتظار ہورہا تھا جنہیں پتا چل چکا تھا کہ کوئی نئی رقاصہ آئی ہے وہ رقاصہ کے انتظار
‫میں تھے۔ یہ تو کسی نے بھی نہ دیکھا کہ دروازے کے باہر جو وہ سنتری مستنعد کھڑے رہتے تھے‪ ،وہ کہاں چلے گئے ہیں۔
‫برچھیاں اور تلواریں ابھی تک خلت اور اس کے ساتھی کے پاس تھیں۔ ونڈسر نے جب دیکھا کہ وہ اس کی پیشکش ٹھکرا
‫چکے ہیں اور دونوں اپنے عقیدے اور فرض کے پکے معلوم ہوتے ہیں تو اس نے انہیں کہا کہ ہتھیار اس کے حوالے کردیں۔
‫دونوں نے صاف انکار کردیا۔ ونڈسر ان سے زبردستی ہتھیار لینے کے لیے دروازے کی طرف بڑھا۔ وہ باڈی گارڈ ز کو بالنا چاہتا
‫ہوگا۔ خلت نے تیزی سے دروازہ بند کردیا اور زنجیر چڑھا کر برچھی کی نوک ونڈسر کی طرف کرکے کہا… ''جہاں ہو وہیں
‫کھڑے رہو''… اس نے آگے بڑھ کر برچھی کی نوک ونڈسر کی شہ رگ پر رکھ دی۔
‫خلت کے ساتھی نے اپنی برچھی کی نوک صلیبی لڑکی کی شہ رگ پر رکھی۔ ونڈسر اور لڑکی پیچھے ہٹتے ہٹتے دیوار کے
‫ساتھ جالگے۔ خلت اور اس کے ساتھی نے دونوں کو وہیں دبا لیا۔ خلت نے نئی رقاصہ سے کہا… ''تم ان کے ساتھ کھڑی
‫ہوجائو۔ اگر تم نے شور مچایا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گی''۔
‫اگر تم خلت ہو تو میرا نام حمیرہ ہے''… نئی رقاصہ نے کہا… ''میں نے تمہیں پہلے دن ہی پہچان لیا تھا اور تم ''
‫مجھے پہچاننے کی کوشش کررہے تھے''۔
‫تھوڑی دیر پہلے خلت نے اپنے نام کے سوا باقی نشانیاں بتا دی تھیں۔ حمیرہ جب سے یہاں آئی تھی وہ خلت کو دیکھ رہی
‫تھی مگر خلت کی طرح وہ بھی شک میں تھی۔ وہ بھی یہی سوچتی تھی کہ انسانوں کی صورتیں ایک جیسی بھی ہوسکتی
‫ہیں۔
‫کیا تم بھی جاسوس ہو؟'' خلت نے پوچھا۔''
‫نہیں''… حمیرہ نے جواب دیا… ''میں صرف رقاصہ ہوں مجھ پر کوئی شک نہ کرنا خلت۔ میں تمہارے ساتھ ہوں اور ''
‫تمہارے ساتھ جائوں گی مرنا ہے تو تمہارے ساتھ مروں گی''۔
‫الصالح ضیافت میں آگیا۔ اس کے تمام امراء وزراء اور دوسرے مہمان بھی آگئے۔ ان میں صلیبی فوج کے افسر بھی تھے جو
‫مشیروں کی حیثیت سے یہاں آئے تھے۔ ان کا انداز بادشاہوں جیسا تھا۔ ان میں ریمانڈ کا فوجی نمائندہ بھی تھا۔ وہ سب
‫ونڈسر کو ڈھونڈرہے تھے۔ وہ ابھی تک غیر حاضر تھا۔ تمام صلیبی لڑکیاں ہال میں پہنچ گئی تھیں۔ صرف ایک نہیں تھی۔
‫ناچنے والیاں بھی آگئی تھیں‪ ،نئی رقاصہ غیرحاضر تھی۔ الصالح کے آجانے سے سب کی بیتابی بڑھ گئی۔ ایک مالزم سے کہا
‫گیا کہ وہ ونڈسر اور دونوں لڑکیوں سے کہے کہ سب آگئے ہیں۔
‫انہیں باندھ کر یہیں پھینک چلتے ہیں''… خلت کے ساتھی نے کہا۔''
‫کیا تم سانپوں کو زندہ رکھنا چاہتے ہو؟''… خلت نے کہا اور برچھی جس کی نوک ونڈسر کی شہ رگ کو چھو رہی تھی ''
‫پوری طاقت سے دبائی۔ ونڈسر کا سر دیوار کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ برچھی کی انی اس کی شہ رگ میں داخل ہوکر پیچھے
‫نکل گئی۔ ونڈسر کا ہلکا سا خراٹہ سنائی دیا۔
‫اس کے فورا ً بعد ایسا ہی ایک خراٹہ صلیبی لڑکی کے منہ سے نکال۔ اس کی شہرگ کو چیرتی ہوئی برچھی کی انی خلت
‫کے ساتھی نے پار کردی تھی۔ دونوں نے برچھیاں نکالیں۔ ونڈسر اور لڑکی گر کر تڑپنے لگے۔ خلت اور اس کے ساتھی نے
‫دونوں کے دلوں پر برچھیاں رکھ کر اوپر سے پورا وزن ڈاال۔ دونوں کے دل چیر گئے۔ اور وہ ٹھنڈے ہوگئے۔ دونوں کی الشوں
‫کو پلنگ کے نیچے پھینک دیا گیا۔ یہ کمرہ ونڈسر کا تھا۔ دیوار کے ساتھ اس کا چغہ لٹک رہا تھا جس کے ساتھ سر کو
‫ڈھانپنے واال حصہ بھی تھا۔ حمیرہ نے خود ہی یہ چغہ پہن لیا اور سر بھی ڈھانپ لیا۔ وہیں سے کپڑے اٹھا کر اس نے رقص
‫واال گھگھرا اتار دیا اور مردانہ لباس کمر سے نیچے تک چڑھا لیا۔ پاپوش بھی بدل لیے اور چہرہ بھی چھپا لیا۔ اسے اب ایک
‫نظر میں کوئی نہیں پہچان سکتا تھا کہ یہ لڑکی ہے۔
‫خلت نے دروازہ کھوال۔ باہر دیکھا برآمدے میں مالزموں کی آمدورفت اور بھاگ دوڑ تھی۔ وہ تینوں باہر نکلے۔ دروازہ بند کیا اور
‫ایک طرف چل پڑے۔ فورا ً بعد وہ اندھیرے میں ہوگئے۔ ادھر ایک کھائی تھی‪ ،اس سے اترے اور خطرے کے عالقے سے نکل
‫گئے۔ خلت اور اس کے ساتھی کو معلوم تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے۔ ان کا کمانڈر ایک عالم فاضل کے روپ میں جہاں رہتا
‫تھا وہاں چھپنے کی جگہ بھی تھی اور وہاں نکلنے کا بندوبست بھی ہوسکتا تھا۔ اس وقت شہر سے نکلنا خطرے سے خالی
‫نہ تھا۔ گھوڑے بھی نہیں تھے۔ انہیں حلب سے فرار ہوکر دمشق پہنچنا تھا۔ انہیں یہ اندازہ بھی تھا کہ قتل کا پتا چلتے ہی
‫شہر میں کیا ہنگامہ برپا ہوگا۔
‫قتل کا انکشاف ہوتے زیادہ دیر نہیں لگی۔ کسی نے ونڈسر کے کمرے کا دروازہ کھوال۔ پلنگ کے نیچے سے جو خون بہہ رہا
‫تھا وہ فرش پر پھیلتا ہوا دروازے تک پہنچ گیا تھا۔ ہنگامہ بپا ہوگیا۔ وہاں ایک نہیں دو الشیں تھیں‪ ،دونوں کے زخم ایک
‫جیسے تھے۔ فوری طور پر پہرہ داروں کا خیال آیا۔ ان کی موجودگی میں بیک وقت دو قتل کون کرسکتا تھا؟ جن سنتریوں کی
‫ڈیوٹی تھی انہیں بالیا گیا۔ دونوں غائب تھے۔ اس عمارت میں کسی کا بغیر اجازت داخلہ ممنوع تھا۔ یہاں چیدہ چیدہ لوگ

‫جو حاکم یا معزز شہری تھے‪ ،آسکتے تھے۔ ان کی بھی چیکنگ ہوتی تھی۔ باڈی گارڈز کے کمانڈر کے لیے مصیبت کھڑی
‫ہوگئی۔ یہ قتل پیشہ وروں کا کام تھا یا سلطان ایوبی کے جاسوسوں کا اور یہ کام فدائی قاتلوں کا بھی ہوسکتاتھا۔ کسی نے
‫کہا کہ کرائے کے یہ قاتل کسی سے بھی اجرت لے کر قتل کرسکتے ہیں۔
‫دروازے کے دونوں سنتری نہ ملے تو یہ شک پختہ ہوگیا کہ وہ سلطان ایوبی کے آدمی ہوں گے اور انہوں نے ونڈسر کو اس
‫وجہ سے قتل کیا ہے کہ وہ جاسوسوں کا سربراہ بن کے آیا تھا۔ رات دیر تک خلت اور اس کا ساتھی نہ ملے تو شہر میں
‫ان کی تالش شروع ہوگئی۔ یہ انکشاف بہت دیر بعد ہوا کہ نئی رقاصہ بھی غائب ہے۔ شہر کی ناکہ بندی کردی گئی۔
‫خلت‪ ،اس کا ساتھی اور حمیرہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے اپنے کمانڈر کو اپنا کارنامہ سنایا تو اس نے انہیں
‫چھپا لیا اور کہا کہ وہ باہر کے حاالت کے مطابق انہیں بتائے گا کہ وہ کب یہاں سے نکلیں۔ اس پر کسی کو شک نہیں
‫ہوسکتا تھا کیونکہ اسے لوگ عالم اور برگزیدہ انسان سمجھتے تھے۔اداکاری میں اسے مہارت حاصل تھی۔ اس نے اپنے جو دو
‫شاگرد اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھے وہ بھی جاسوس تھے۔ حلب سے دمشق تک وہی اطالعات پہنچاتے تھے۔ اس نے دونوں
‫شاگردوں کو حکم دیا کہ وہ باہر کی خبر رکھیں کہ کیا ہورہا ہے۔
‫حمیرہ نے اس ''عالم'' کے سامنے خلت کو سنایا کہ اس پر کیا گزری تھی۔ وہ واقعہ تو سات آٹھ سال پرانا ہوچکاتھا۔ اس
‫نے سنایا کہ خلت جب حمیرہ کو اس کے باپ ( جو دراصل اس کا باپ نہیں تھا) اور ان دو آدمیوں سے بچانے کے لیے لڑا
‫تھا تو حمیرہ کے باپ نے پیچھے سے کدال خلت کے سر پر ماری تھی۔ اس سے وہ بے ہوش ہوگیا تھا۔ وہ تینوں حمیرہ کو
‫گھر لے گئے۔ ایک نکاح خواں کو بالیا جس نے اس سے پوچھے بغیر نکاح پڑھ دیا اور وہ دونوں آدمی حمیرہ کو اپنے ساتھ
‫گھر لے گئے۔ ایک رات وہ دمشق میں ٹھہرے پھر اسے ان عالقوں میں لے گئے جو صلیبیوں کے قبضے میں تھے۔ اسے ناچ
‫کی تربیت دی جانے لگی۔ ابتداء میں اس نے مزاحمت کی مگر اس پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ بے ہوش ہوجاتی تھی۔
‫اس دوران اسے خوراک نہایت اچھی دی جاتی تھی۔ اسے کوئی بڑا ہی لذیذ شربت پالیا جاتا تھا جس کے اثر سے وہ ہنسنے
‫اور ناچنے لگتی تھی۔
‫تشدد اور نشے سے اسے رقاصہ بنالیا گیا۔ بہت اونچے درجے کے لوگ اسے داد دینے لگے۔ وہ ایسے قیمتی تحفے التے تھے کہ
‫وہ دنگ رہ جاتی تھی۔ اسے یروشلم بھی لے جایا گیا تھا جہاں دو آدمیوں نے اس کے مالکوں سے کہا تھا کہ وہ منہ مانگی
‫قیمت لے لیں اور یہ لڑکی انہیں دے دیں۔ انہوں نے صاف بتا دیا تھا کہ وہ اسے جاسوسی وغیرہ کے لیے استعمال کرنا
‫چاہتے ہیں۔ اس کے مالکوں نے سودا قبول نہیں کیا تھا۔ اسے اغوا کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی جو ناکام بنا دی گئی
‫تھی۔ اب اسے حلب میں کسی اور امیر کی فرمائش پر بالیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ پہلے دن اس نے خلت کو دیکھا تو اس
‫نے بالشک وشبہ دل سے کہا تھا کہ یہ خلت ہے لیکن یہ شک بھی ہوتا تھا کہ ہوسکتا ہے یہ خلت کی شکل وصورت کا
‫کوئی اور آدمی ہو۔ وہ اسے غور سے دیکھتی تھی۔ آخر یہ اتفاق ہوا کہ ونڈسر نے خلت اور اس کے ساتھی کو پہچان لیا۔
‫ونڈسر نے اپنی لڑکی کو بالیا تو حمیرہ بھی اس کے ساتھ چلی گئی۔ خلت نے جب اپنے متعلق چند ایک باتیں بتائیں تو
‫حمیرہ کے شکوک رفع ہوگئے۔
‫اس نے کہا ''میں اس ذلیل زندگی کی عادی ہوگئی تھی۔ میرے دل میں جذبات مرگئے تھے۔ میں ایک پتھر کی طرح ادھر
‫دھر لڑھکتی پھر رہی تھی لیکن خلت کو دیکھا تو میرے سارے جذبات زندہ ہوگئے۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ خلت ہی ہے
‫مگر اس کی صورت نے مجھے وہ وقت یاد دال دیا جب میرے دل میں اس کی محبت تھی ۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ
‫کسی وقت اس سے پوچھوں گی کہ تم خلت ہو؟ اگر یہ خلت نکال تو اسے کہوں گی کہ آئو بھاگ چلیں اور صحرا کے خانہ
‫بدوشوں کی طرح زندگی بسر کریں گے''۔
‫اسے خلت تو مل گیا اور وہ اس کے ساتھ بھاگ بھی آئی لیکن حلب سے بچ کر نکلنا ایک مسئلہ تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫خلیفہ کی ضیافت اور رقص کی محفل ویران ہوچکی تھی۔ وہاں ونڈسر کا انتظار ہورہا تھا مگر ونڈسر کی الش پہنچی۔ وہاں
‫اعلی افسر تھے وہ سخت غصے میں تھے۔ ریمانڈ کا فوجی نمائندہ تو سب سے زیادہ بھڑکا ہوا تھا۔ ونڈسر
‫صلیبی فوج کے جو
‫ٰ
‫بہت قیمتی افسر تھا۔ فوجی نمائندہ الملک الصالح اور اس کے امراء اور اس کے فوجی کمانڈروں پر ٹوٹ ٹوٹ پڑتا تھا اور
‫سب اس سے دبک رہے تھے۔ ان کے دلوں میں صالح الدین ایوبی کی دشمنی اتنی زیادہ تھی کہ وہ صلیبی افسروں کو فرشتے
‫لہذا ان کی خوشامد کو وہ ضروری سمجھتے تھے۔
‫سمجھے بیٹھے تھے۔ انہیں کی مدد سے وہ جنگ کی تیاری کررہے تھے‪ٰ ،
‫فوجی نمائندہ جو کچھ کہتا تھا سب اس کے آگے سر جھکا لیتے اور ہاں میں ہاں مالتے تھے۔ اس نے کہا… ''قاتل رات ہی
‫رات شہر سے نہیں نکل سکتے۔ صبح سویرے حلب کے ایک ایک گھر کی تالشی لی جائے۔ یہاں کی ساری فوج کو اس پر
‫الگادو۔ فوج لوگوں کے جاگنے سے پہلے گھروں میں داخل ہوجائے۔ یہاں کے باشندوں کو اتنا پریشان کیا جائے کہ وہ قاتلوں کو
‫خود ہی ہمارے حوالے کردیں''۔
‫ایسا ہی ہوگا''… ایک مسلمان امیر نے کہا… ''ہم فوج کو ابھی حکم دے دیتے ہیں کہ سحر کے اندھیرے میں شہر میں ''
‫پھیل جائے''۔
‫ایسا نہیں ہوگا''… یہ آواز ایک مسلمان قلعہ دار کی تھی‪ ،اس نے ایک بار پھر گرج کر کہا… ''ایسا نہیں ہوگا‪ ،تالشی ''
‫صرف اس گھر کی لی جائے گی جس پر پختہ شک اور کوئی واضح شہادت ہوگی''۔
‫اعلی حکام کے ہجوم پر اس گرج دار آواز نے سناٹا طاری کردیا۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ ریمانڈ کے فوجی
‫اتنے سارے
‫ٰ
‫نمائندے کے حکم کو کوئی مسلمان ایسے جوش سے ٹوکے گا۔ سب نے دیکھا کہ یہ کون ہے‪ ،وہ حماة کا قلعہ دار تھا جس کا
‫نام جوردیک تھا لیکن واقعہ نگاروں کے مطابق اس واقعہ تک وہ صالح الدین ایوبی کے مخالف کیمپ میں تھا اور الصالح کے
‫وفاداروں میں سے تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ صرف اس ضیافت میں ہی شریک نہیں تھا بلکہ جنگی کانفرنسوں میں
‫شریک ہوتا تھا۔ سلطان ایوبی کے خالف جنگ کا جو منصوبہ بنا تھا‪ ،وہ اس میں بھی شریک تھا۔
‫اس نے جب ایک صلیبی کے منہ سے یہ الفاظ سنے کہ حلب کے ہر گھر کی تالشی لی جائے گی تو اس میں اسالمی وقار
‫بیدار ہوگیا۔ اس نے کہا… ''یہاں مسلمان گھرانے ہیں جن میں پردہ نشین خواتین بھی ہیں۔ ہم ان کی بے عزتی برداشت
‫نہیں کریں گے۔ شریف گھرانوں میں فوجی داخل نہیں ہوگے''۔
‫قاتل اسی شہر کے تھے''… ایک صلیبی افسر نے کہا… ''ہم تمام شہریوں سے انتقام لیں گے۔ ونڈسر جیسا قابل افسر ''
‫قتل ہوگیا ہے۔ ہمیں کسی کی عزت اورکسی کے پردے کی پروا نہیں''۔
‫اور مجھے تمہارے ایک افسر کے قتل کی پروا نہیں''… جوردیک نے قہر سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔''

‫جوردیک! خاموش رہو!'' نوعمر اورناتجربہ کار سلطا ن نے حکم کے لہجے میں کہا… ''یہ لوگ اتنی دور سے ہماری مدد''
‫کے لیے آئے ہیں‪ ،کیا تم مہمان نوازی کے آداب سے ناواقف ہو؟ احسان فراموش نہ بنو۔ ہمیں قاتل کو پکڑنا ہے''۔خلیفہ کی
‫تائید میں کئی آوازیں سنائی دیں۔
‫میں صالح الدین ایوبی کے خالف ہوسکتا ہوں اور ہوں بھی''… جوردیک نے کہا… ''لیکن اپنی قوم کے خالف نہیں ''
‫ہوسکتا۔ محترم سلطان! اگر آپ نے شہریوں کو پریشان کیا تو سب آپ کے خالف ہوجائیں گے۔ آپ صالح الدین ایوبی کے
‫خالف جو محاذ بنا رہے ہیں وہ کمزور ہوجائے گا''۔
‫ہم نے قوم کی کبھی پروا نہیں کی''… ریمانڈ کے فوجی نمائندے نے کہا… ''ہم قاتلوں کو ڈھونڈیں گے۔ وہ کسی گھر میں''
‫ہی ہوں گے۔ ہم انہیں باہر نکال لیں گے۔ یہ قتل صالح الدین ایوبی نے کرایا ہے''۔
‫میرے دوست!''… جوردیک نے کہا… ''تمہارے ایک افسر کا قتل کوئی بڑی بات نہیں۔ تم صالح الدین ایوبی کو قتل ''
‫کرانے کی کتنی بار کوشش کرچکے ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ تم اسے قتل نہیں کرسکے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ تم نے کوئی
‫جرم کیا تھا۔ دشمن ایک دوسرے کو ہر جائز ناجائز طریقے سے مارنے اور مروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ا گر تمہارے ونڈسر کو
‫ایوبی نے قتل کرایا ہے تو فرق صرف یہ پڑا ہے کہ تم اسے قتل کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور وہ تمہارے ایک اہم
‫افسر کو قتل کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ تم اس کے کئی ایک اہم افسروں کو قتل کراچکے ہو۔ اس نے شہریوں کو کبھی
‫پریشان نہیں کیا''۔
‫تمام مسلمان امراء اور حکام جوردیک کے خالف بولنے لگے۔ وہ صلیبیوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جوردیک نے
‫سب کا مقابلہ کیا ور اسی بات پر ڈٹا رہا کہ شہر کے کسی گھر کی تالشی نہیں لی جائے گی۔
‫تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ تم بھی اس قتل میں شریک ہو؟'' ایک صلیبی مشیر نے کہا… ''مجھے شک ہے کہ تم صالح''
‫الدین ایوبی کے دوست ہو''۔
‫اگر حلب کے مسلمان گھرانوں کو پریشان کیا گیاتو میں کسی کے بھی قتل میں شریک ہوسکتا ہوں''۔ جوردیک نے کہا… ''
‫''اورمیں ایوبی کا دوست بھی ہوسکتا ہوں''۔
‫ہم جب تک یہاں ہیں ہمارا حکم چلے گا''۔ صلیبی نمائندے نے کہا۔''
‫تم یہاں اجرت پر آئے ہو''۔ جوردیک نے کہا… ''یہاں ہمارا حکم چلے گا۔ ہم مسلمان ہیں۔ حاالت ہمیں آپس میں لڑا ''
‫رہے ہیں۔ مسلم اور غیرمسلم کی کبھی دوستی نہیں ہوسکتی اگر تم بال اجرت آئے ہو تو میں تمہاری مدد سے دستبردار
‫ہوتاہوں۔ میں قلعہ داری کے عہدے سے بھی دستبردار ہوتا ہوں اور میں تم سب کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ میری قوم
‫کے کسی ایک بھی بے گناہ فرد کو تکلیف دی گئی تو میں انتقام لوں گا''۔
‫کسی کے اشارے پر دو آدمی جوردیک کو باہر لے گئے۔ اس کی غیرحاضری میں صلیبی نمائندے نے سب سے کہا کہ حاالت
‫ایسے ہیں کہ قلعہ دار کو ناراض نہیں کیا جاسکتا۔ یہ شخص اتنی دلیری سے باتیں کررہا ہے تو اس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ
‫اس کے قلعے میں جو فوج ہے وہ اس کی مرید ہے اگر ایسا ہے تو یہ صورتحال اچھی نہیں۔ آپس میں صالح مشورہ کرکے
‫جوردیک کو اندر بالیا گیا اور اسے بتایا گیا کہ شہریوں کو پریشان نہیں کیا جائے گا مگر قاتلوں کو تالش ضرور کیا جائے گا۔
‫جوردیک نے کہاکہ وہ تین چار دن وہیں رہے گا۔
‫٭ ٭ ٭
‫تین چار دنوں بعد جوردیک حلب سے روانہ ہوا۔ وہ اپنے قلعے حماة کو جارہا تھا۔ اس کی موجودگی میں قاتلوں کی تالش اور
‫سراغ رسانی ہوتی رہی۔ اس کی خواہش کے مطابق کسی گھر کی تالشی نہیں لی گئی تھی۔ وہ مطمئن ہوکر جارہا تھا مگر
‫صلیبیوں کو اس کے متعلق اطمینان نہیں تھا۔ اس کے ساتھ دس بارہ محافظ تھے۔ جوردیک سمیت سب گھوڑوں پر سوار تھے۔
‫راستے میں ٹیلوں اور چٹانوں کا عالقہ آتا تھا۔ جوردیک اس عالقے میں داخل ہوا تو بیک وقت کہیں سے دو تیر آئے۔ دونوں
‫اس کے گھوڑے کے سر میں پیوست ہوگئے۔ تیر اندازوں نے تیر جوردیک پر چالئے ہوں گے۔ گھوڑا بے لگام ہوکر دوڑ پڑا۔ دو
‫تیر اور آئے۔ وہ بھی گھوڑے کو لگے۔ اب کے نشانہ خطا ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ گھوڑا بدک کر ادھر ادھر دوڑ رہا
‫تھا۔
‫جوردیک شاہسوار تھا‪ ،و دوڑتے گھوڑے سے کود کر ایک چٹان کی اوٹ میں ہوگیا۔ اس کے محافظ ادھر ادھر بکھر گئے۔ وہ تیر
‫اندازوں کے تعاقب میں گئے تھے۔ عالقہ ایسا تھا کہ کسی کو پکڑنا آسان نہیں تھا۔ جوردیک سمجھ گیا کہ یہ کرائے کے قاتل
‫ہیں جنہیں صلیبیوں نے اسے قتل کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ انہیں یہ شک تھا کہ جوردیک سلطان ا یوبی کا دوست ہے۔ وہ
‫جنگجو تھا۔ چٹان کی اوٹ سے نکل کر اوپر چالگیا۔ اسے صرف چٹانیں نظرا ئیں یا اپنے محافظ جو ادھر ادھر تیر اندازوں کو
‫ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔
‫ادھر آجائو''۔ کسی نے چال کر کہا… ''ادھر آجائو۔ پکڑ لیے ہیں''۔''
‫محافظ ادھر کو بھاگے محافظوں نے تین آدمیوں کو گھیرے میں لے رکھاتھا۔ تینوں نقاب پوش تھے مگر ان کے پاس کمانیں نہیں
‫تھیں۔ترکش بھی کسی کے پاس نہیں تھی۔ ان کے ساتھ گھوڑے تھے۔ انہیں اس حالت میں پکڑا گیا تھا کہ وہ گھوڑوں پر سوار
‫ہورہے تھے۔ تینوں نے چہرے چھپا رکھے تھے۔ ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں انہیں پکڑ کر جوردیک کے پاس لے گئے۔
‫تمہاری کمانیں اور ترکش کہاں ہیں؟'' جوردیک نے ا ن سے پوچھا۔''
‫ہمارے پاس صرف تلواریں ہیں''۔ ایک نے جواب دیا۔''
‫سنو بھائیو!'' جوردیک نے بڑے تحمل سے کہا… ''تمہارے چاروں تیر خطا گئے۔ تم مجھے قتل نہیں کرسکے۔ تم پکڑے ''
‫بھی گئے ہو۔ تم ہار گئے ہو‪ ،اب جھوٹ سے بچو''۔
‫کیسے تیر؟'' ایک نے حیرت زدہ ہوکر کہا… ''ہم نے کسی پر تیر نہیں چالئے۔ ہم مسافر ہیں۔ ذرا آرام کرنے کے لیے ''
‫رکے تھے۔ اب جارہے تھے کہ ان لوگوں نے پکڑ لیا''۔
‫جوردیک ہنس پڑا اور جواب دینے والے نقاب پوش سے کہنے لگا… ''میں تمہیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔ اگر ایسا ہوتا تو
‫اب تک میں تم تینوں کی گردنیں اڑا چکا ہوتا۔ تم کرائے کے قاتل ہو۔ صرف یہ بتا دو کہ میرے قتل کے لیے تمہیں کس نے
‫بھیجا ہے؟ صاف صاف بتا دو اور جائو''۔
‫دو نقاب پوشوں نے قسمیں کھائیں‪ ،تیسرا خاموش رہا۔
‫اپنے آپ کو عذاب میں نہ ڈالو''۔ جوردیک نے کہا… ''کسی کے لیے اپنی جانیں ضائع نہ کرو‪ ،میں تمہیں کوئی سزا ''
‫نہیں دوں گا۔ فورا ً آزاد کردوں گا''۔

‫نقاب پوشوں نے پھر پس وپیش کی۔
‫ان کے نقاب اتار دو'' جوردیک نے اپنے محافظوں سے کہا… ''ان سے تلواریں لے لو''۔''
‫دو نقاب پوشوں نے نیاموں سے تلواریں نکال لیں اور پھرتی سے پیچھے ہٹ گئے۔ تیسرا نقاب پوش ان دونوں کے پیچھے
‫ہوگیا۔ اس کے پاس تلوار نہیں تھی۔ جوردیک نے قہقہہ لگا کر کہا… ''کیا تم اتنے سارے محافظوں کا مقابلہ کرسکو گے جبکہ
‫تمہارے تیسرے ساتھی کے پاس تلوار ہی نہیں ہے؟ میں تمہیں ایک اور موقع دیتا ہوں۔ میں نے ابھی اپنے محافظوں کو حکم
‫نہیں دیا کہ وہ تمہاری بوٹیاں اڑا دیں''… محافظوں نے ان کے گرد گھیرا ڈال لیا تھا۔
‫اور میں تمہیں آخری بار کہتا ہوں کہ ہم میں سے کسی نے تیر نہیں چالئے''۔ ایک نقاب پوش نے کہا۔''
‫محافظوں کا کمانڈر ان تینوں کے پیچھے کھڑا تھا۔ اسے جانے کس طرح کچھ شک ہوا۔ اس نے اس تیسرے نقاب پوش جس
‫کے پاس تلوار نہیں تھی کا چغہ اوپر سے کھینچا تو اس کے سر کا حصہ پیچھے کو ہوگیا۔ اس نے اس کا نقاب بھی نوچ لیا
‫اور جب چہرہ بے نقاب ہوا تو سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ جوردیک نے کہا کہ اسے
‫اس کے پاس الیا جائے۔ دونوں نقاب پوشوں نے حیران کن پھرتی سے پیچھے کو مڑ کر لڑکی کو پکڑنے والے محافظ کے سینے
‫میں تلواریں رکھ دیں۔ ایک نے للکار کر کہا… ''جب تک ہمیں پوری بات نہیں بتائو گے اور ہماری نہیں سنو گے اس لڑکی
‫کو ہاتھ نہیں لگا سکو گے۔ ہم جانتے ہیں ہمیں تمہارے ہاتھوں مرنا ہے لیکن ہم ان میں سے آدھے محافظوں کو مار کر مریں
‫گے۔ تمہیں یہ لڑکی زندہ نہیں مل سکتی''۔
‫جوردیک ایک ٹھنڈے مزاج کا آدمی معلوم ہوتا تھا۔ اس نے محافظوں کو پیچھے ہٹا دیا اور نقاب پوشوں سے کہا… ''تم مجھ
‫سے اور کیا بات سننا چاہتے ہو؟ بات اتنی سی ہے کہ تم کرائے کے قاتل ہو اور یہ لڑکی تمہیں انعام کے طور پر ملی
‫ہے''۔
‫دونوں باتیں غلط ہیں''۔ ایک نقاب پوش نے کہا… ''ایک صلیبی حاکم اور ایک جاسوس صلیبی لڑکی کو قتل کرنا گناہ ''
‫نہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم فرار میں پکڑے گئے ہیں لیکن ہم خوش ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ یہ لڑکی
‫مسلمان ہے‪ ،مظلوم ہے اسے ہم صلییبوں کے پنجے سے چھڑا کر ال رہے ہیں اور دمشق جارہے ہیں''۔
‫کیا ونڈسر اور صلیبی لڑکی کو تم نے قتل کیا ہے؟'' جوردیک نے پوچھا۔''
‫ہاں!'' ایک نقاب پوش نے جواب دیا۔ ''ہم نے ان دونوں کو قتل کیا ہے''۔''
‫اور کیا تم نے مجھ پر اس لیے تیر چالئے ہیں کہ ہم سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن ہیں''۔ جوردیک نے پوچھا۔''
‫ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم سلطان ایوبی کے دشمن ہو لیکن تمہیں قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ ہمارے ''
‫ساتھ ہے اس کی مدد سے ہم بہت جلد تم سے ہتھیار ڈلوا کر تمہیں تمہاری فوج سمیت اپنا قیدی بنا لیں گے۔ سلطان صالح
‫الدین ایوبی‪ ،حسن بن صباح اور شیخ سنان نہیں‪ ،وہ للکار کر لڑا کرتا ہے‪ ،چوروں کی طرح قتل نہیں کرایا کرتا۔ ونڈسر اور
‫لڑکی کا قتل ہمارا ذاتی فعل تھا۔ حاالت کا تقاضا تھا کہ وہ قتل کردئیے جائیں۔ ہم نے قتل کا ارتکاب کیا۔ یہ سلطان ایوبی
‫کا حکم اور منشا نہیں تھی''… اس نے جوردیک کے گھوڑے کی طرف دیکھا جو کچھ دور مرا پڑاتھا۔ دو تیر اس کی پیشانی
‫میں اور دو پہلو میں اترے ہوئے تھے۔ نقاب پوش نے کہا… ''گھوڑے پر سوار ہوجائو۔ ہم دونوں میں سے کسی کو تیروکمان
‫دو۔ تم گھوڑا دوڑائو جس طرح بھی دوڑا سکتے ہو دوڑائو۔ دائیں بائیں ہوتے جائو‪ ،ہم دونوں میں سے کوئی ایک گھوڑے پر سوار
‫ہوکر تم پر تیر چالئے گا۔ اگر پہال تیر خطا جائے تو تیر انداز کی گردن اڑا دینا۔ یہ تیر ہمارے چالئے ہوئے نہیں تھے۔ جو
‫تمہاری بجائے تمہارے گھوڑے کو لگے''۔
‫''تم معمولی سپاہی نہیں لگتے؟'' جوردیک نے کہا ''کیا تم سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج کے آدمی ہو؟''
‫اور تم کون ہو؟ '' نقاب پوش نے کہا… ''کیا تم صالح الدین ایوبی کی فوج کے آدمی نہیں ہو؟ کیا تم اسالم کے سپاہی''
‫نہیں ہو؟… تم ا پنی اصلیت کو بھول گئے ہو۔ قلعہ داری کے عہدے نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے۔ تم نے اس سے زیادہ
‫رتبہ حاصل کرنے کے لیے کافروں سے دوستانہ گانٹھ لیا ہے''۔
‫تم درخت سے ٹوٹی ہوئی وہ ٹہنی ہو جس کی قسمت میں سوکھ کرتنکا تنکا ہوجانا لکھ دیا گیا ہے'' دوسرے نقاب پوش ''
‫نے کہا… ''تم اتنے اہم انسان نہیں ہو کہ سلطان ایوبی تمہارے قتل کی ضرورت محسوس کرے۔ تم اپنے کیے کی سزا بھگتنے
‫کے لیے زندہ رہو گے۔ تم مرو گے تو صلیبیوں کے ہاتھوں مرو گے''۔
‫تم حلب شراب پینے اور عیش کرنے گئے تھے''۔ پہلے نقاب پوش نے کہا… ''تم اس لڑکی کے ناچ سے لطف اندوز ہونے''
‫گئے تھے''۔
‫میں مسلمان لڑکی ہوں''۔ لڑکی بولی… ''مجھے صلیبیوں کی محفلوں میں نچایا گیا اور وہ میرے جسم کے ساتھ کھیلتے ''
‫رہے۔ ذرا سی دیر کے لیے تصور کرو کہ میں تمہاری بیٹی ہوں۔ میں نے وہاں مسلمانوں کی بیٹیوں کو ناچتے دیکھا ہے۔ تم
‫اتنے بے غیرت ہوگئے ہو کہ اپنی بیٹیوں کی آبروریزی بھی تم میں غیرت بیدار نہیں کرسکتی۔ میں صلیبیوں میں سات آٹھ
‫سال گزار کر آئی ہوں۔ میں نے ان صلیبی حاکموں کے ساتھ بھی وقت گزارا ہے جنہیں تم نے اپنا دوست بنا کر یہاں بالیا
‫ہے۔ میں نے ان کی باتیں سنی ہیں وہ دوستی کا فریب دے کر مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں''۔
‫جوردیک پر خاموشی طاری ہوگئی تھی۔ اس کے محافظ حیران تھے کہ اتنا خود سر اور دلیر قلعہ دار ان تینوں کی اتنی
‫سخت باتیں برداشت کررہا ہے۔ وہ گہری سوچ میں کھو گیا تھا۔ اسے وہ جھڑپ یاد آرہی تھی جو اس نے ریمانڈ کے فوجی
‫نمائندے سے اس مسئلے پر کی تھی کہ حلب کے باشندوں کے گھروں کی تالشی لی جائے گی۔ اسے یہ خیال آیا کہ اس پر
‫تیر چالنے والے صلیبیوں کے آدمی ہوں گے۔ اس نے نرم سے لہجے میں نقاب پوشوں سے کہا… ''میں تمہیں اپنے قلعے میں
‫لے جانا چاہتا ہوں''۔
‫قیدی بنا کر؟''۔''
‫نہیں!'' جوردیک نے یہ کہہ کر سب کو حیران کردیا… ''مہمان بنا کر۔ مجھے پر بھروسہ رکھو۔ اپنی تلواریں اپنے پاس ''
‫رکھو''۔
‫سب گھوڑوں پر سوار ہوگئے۔ جوردیک کا گھوڑا مرچکا تھا۔ اس نے ایک محافظ کا گھوڑا لے لیا اور یہ قافلہ چل پڑا۔
‫وہ چٹانی عالقے سے نکلنے والے تھے کہ سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دئیے۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:08
‫قسط نمبر۔‪75‫صلیب کے سائے میں

‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫وہ چٹانی عالقے سے نکلنے والے تھے کہ سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دئیے۔ سب نے اپنے گھوڑوں کو ایڑی لگائیں
‫اور نظر آگیا کہ دو گھوڑ سوار پوری رفتار سے حلب کی سمت بھاگے جارہے تھے۔ ان کی کمانیں اور ترکش صاف نظر آرہے
‫تھے۔ وہ یقینا یہاں سے بھاگے تھے۔
‫یہ ہوسکتے ہیں تمہارے قاتل!'' ایک نقاب پوش نے کہا اور گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ دوسرے نقاب پوش نے بھی گھوڑا دوڑا''
‫دیا۔ دونوں نے تلواریں نکال لیں۔ لڑکی وہیں رہی۔
‫تمام محافظوں نے گھوڑے تعاقب میں ڈال دئیے۔ ان میں سب سے زیادہ تیز گھوڑے نقاب پوشوں کے تھے۔ آگے کچھ عالقہ
‫ریت کی ڈھیر یوں اور گھاٹیوں کا تھا۔ بھاگنے والے سواروں نے گھوڑے موڑے‪ ،نقاب پوش تجربہ کار سوار معلوم ہوتے تھے۔
‫انہوں نے گھوڑوں کا رخ موڑ کر فاصلہ کم کرلیا۔ بھاگنے والوں نے کندھوں سے کمانیں اتار لیں اور ان میں ایک ایک تیر ڈال
‫لیا۔ گھوڑوں کے رخ بدل کر انہوں نے تعاقب کرنے والوں پر تیر چالئے۔ تیر خطا گئے مگر تعاقب میں خطرہ پیدا کرگئے۔
‫نقاب پوش پہنچ گئے۔ فاصلہ چند گز رہ گیا تو بھاگنے والوں نے تیر چالنے کی کوشش کی مگر نقاب پوشوں نے انہیں مہلت
‫نہ دی۔ ایک نے بھاگنے والے گھوڑے کے پیچھے حصے میں تلوار دی‪ ،گھوڑا بے قابو ہوگیا۔ دوسرے نے دوسرے بھاگنے والے پر
‫تلوار کا وار کیا تو اس کا ایک بازو صاف کاٹ دیا۔ دوسرے کا گھوڑا زخمی ہوکر بے لگام ہوگیا تھا۔ اسے محافظوں نے پکڑ
‫لیا۔
‫انہیں جب جوردیک کے سامنے لے جایا گیا تو اصل صورت واضح ہوگئی۔ نقاب پوشوں نے نقاب اتار دئیے اور انہوں نے بتایا
‫دیا کہ وہ سلطان ایوبی کے جاسوس ہیں۔ ان میں ایک خلت تھاا ور دوسرا اس کا ساتھی اور جو بھاگتے ہوئے پکڑے گئے تھے
‫وہ مسلمان ہی تھے لیکن جو جوردیک کو قتل کرنے آئے تھے۔ ان میں سے جس کا بازو کٹ گیا تھا‪ ،اسے بڑی بے رحمی
‫سے کچھ دور پھینک دیا گیا۔ دوسرے سے کہا گیا کہ وہ زندہ واپس جانا چاہتا ہے تو بتا دے کہ اسے کس نے بھیجا تھا‪ ،ورنہ
‫اس کا بھی بازو کاٹ کر یہیں پھینک دیا جائے گا۔ اس نے بتایا کہ ان دونوں کو ریمانڈ کے فوجی نمائندے نے دو مسلمان
‫امراء کی موجودگی میں کہا تھا کہ فالں دن اور فالں وقت جوردیک حلب سے روانہ ہورہا ہے اور وہ فالں وقت چٹانی عالقے
‫میں سے گزرے گا۔ ان دونوں کو بے تحاشہ انعام پیش کیا گیا تھا۔ انہیں جوردیک کے قتل کی یہ ترکیب بتائی گئی تھی کہ
‫چٹانی عالقے میں چھپ جائیں اور جوردیک کو تیروں کا نشانہ بنا کر بھاگ آئیں۔
‫مقررہ وقت پر دونوں اس عالقے میں پہنچ گئے اور گزرنے والے راستے کو دیکھ کر ایک بلند چٹان پر چھپ گئے۔ بہت سے
‫انتظار کے بعد جوردیک آگیا۔ دو محافظ گھوڑ سوار آگے تھے۔ ایک اس کے دائیں اور دوسرا بائیں۔ باقی پیچھے تھے۔ تیر
‫اندازوں نے نشانے تو ٹھیک لیے تھے لیکن پہلو واال محافظ آگے آجاتا تھا۔ جوردیک اور قریب آیا تو تیر چالتے وقت آگے واال
‫محافظ آگے آگیا۔ تیر چال دئیے گئے لیکن نشانہ ذرا نیچے ہوگیا تھا۔ دونوں تیر گھوڑے کی پیشانی میں لگے۔ دوسرے دو تیر
‫اس لیے خطا گئے کہ گھوڑا دو تیر کھا کر بدک گیا تھا اور جب تیر چالئے گئے تو وہ بہت زور سے اچھل پڑا تھا۔ اس سے
‫تیر جوردیک کو لگنے کے بجائے گھوڑے کے پہلو میں لگے۔
‫وہاں چھپنے کی جگہیں بہت تھیں اور موزوں بھی تھیں۔ انہوں نے گھوڑے ایسی ہی ایک جگہ چھپا دئیے تھے اور ان کے منہ
‫باندھ دئیے تھے تاکہ ہنہنا نہ سکیں۔ تیرانداز بھاگ کر کہیں چھپ گئے۔ انہوں نے محافظوں کو دیکھا جو بکھر کر انہیں ڈھونڈ
‫رہے تھے۔ وہ چھپ کر انہیں دیکھتے رہے پھر ایک طرف سے شور اٹھا کہ ادھر آجائو‪ ،پکڑ لیے ہیں۔ تیر اندازوں نے دیکھا کہ
‫محافظ تین نقاب پوشوں کو پکڑ کر لے جارہے تھے۔ تیر انداز بہت خوش ہوئے کہ ان کی جان بچی مگر وہ ابھی وہاں سے
‫بھاگنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ ابھی پکڑے جانے کا خطرہ تھا۔ ایک محافظ ایک چٹان پر کھڑا رہا۔ اسے وہاں دیکھ بھال کے
‫لیے کھڑا کیا گیا تھا‪ ،بہت دیر بعد اس محافظ کو وہاں سے بالیا گیا۔ دونوں تیر انداز اپنے گھوڑوں کے پاس گئے۔ ان کے منہ
‫کھولے اور سوار ہوکر فرار ہوئے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ جوردیک اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں سے چل پڑا ہے۔
‫اس تیر انداز کو جوردیک نے اپنے ساتھ لے لیا اور سب حماة کی سمت روانہ ہوگئے۔ دوسرا تیر انداز کٹے ہوئے بازو سے
‫خون بہہ جانے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مرچکا تھا۔ راستے میں خلت نے اسے حمیرہ کے متعلق ساری بات سنائی اور یہ
‫بھی سنایا کہ اس نے ونڈسر کو کس طرح قتل کیا تھا۔ جوردیک کے لیے حیران کن یہ تھا کہ وہ حلب سے نکل کر کس
‫طرح آئے۔ خلت نے اسے بتایا کہ وہاں ان کا ایک کمانڈر بھی تھا جس کا وہ نام اور حلیہ نہیں بتانا چاہتا تھا۔ اس نے یہ
‫طریقہ اختیار کیا کہ کپڑے وغیرہ لپیٹ کر نوزائیدہ بچے کے قدبت کی شکل بنا دی اور اس پر کفن چڑھا دیا۔ چار پانچ
‫جاسوسوں نے ادھر ادھر بتایا کہ فالں کا بچہ مرگیا ہے کفن میں لپٹے ہوئے کپڑوں کو کمانڈر نے ہاتھوں پر اٹھایا۔ خلت‪ ،اس
‫کا ساتھی‪ ،حمیرہ ( مردانہ لباس میں) اور چار پانچ آدمی جنازے کی شکل میں ساتھ چل پڑے۔ قبرستان شہر سے باہر تھا۔
‫وہاں تین گھوڑے کھڑے تھے۔ یہ گھوڑے ایک ایسا جاسوس الیا تھا جو حلب کی فوج میں تھا۔ یہ چرائے ہوئے گھوڑے تھے۔
‫'' جنازہ'' فوجیوں کے سامنے سے گزرا اور قبرستان میں گیا۔ وہاں قبر کھودی گئی۔ جنازہ پڑھا گیا‪ ،خلت‪ ،اس کا ساتھی اور
‫حمیرہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اور نکل گئے۔
‫قلعے میں جوردیک کا قافلہ رات کو پہنچا۔ خلت وغیرہ کو اس نے باعزت مہمانوں کی طرح رکھا۔ اس نے خلت سے پوچھا…
‫'' مجھے اب اپنا دوست سمجھو۔ مجھے یہ بتائو کہ صالح الدین ایوبی کیا کررہا ہے تمہیں ضرور معلوم ہوگا۔ اس نے الصالح
‫کا تعاقب کیوں نہیں کیا تھا''۔
‫میں اگر سلطان کا منصوبہ جانتا بھی ہوں تو آپ کو نہیں بتائوں گا''۔ خلت نے جواب دیا۔ ''اور میں آپ کو یہ بھی ''
‫نہیں بتائوں گا کہ میں نے حلب سے کیا کیا معلومات حاصل کی ہیں''۔
‫صالح الدین ایوبی کے ساتھ میری ذاتی دشمنی تھی''۔ جوردیک نے کہا… ''پھر میں اس کے خالف ہوگیا۔ اس کی وجہ ''
‫جو کچھ بھی تھی‪ ،میں غلطی پر تھا۔ مجھے اس غلطی کا احساس دشمن نے دالیا ہے۔ میں نے صلیبیوں کی نیت معلوم
‫کرلی ہے۔ ایک طرف وہ میری فوج اور میرے قلعے کو استعمال کرنا چاہتے ہیں‪ ،دوسری طرف انہوں نے مجھے قتل کرانے کی
‫کوشش کی۔ مجھے نورالدین زنگی مرحوم اور صالح الدین ایوبی کی باتیں اور اصول یاد آگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ
‫ہالل اور صلیب کی ہے۔ یہ کسی عیسائی بادشاہ کی کسی مسلمان بادشاہ کے خالف جنگ نہیں۔ ایوبی کہا کرتا ہے کہ جب
‫تک دنیا میں ایک بھی مسلمان زندہ ہے‪ ،صلیبی اسے ختم کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے۔ غیر مسلم خواہ کسی بھی
‫مذہب کا ہو مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ غیر مسلم دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے تو اس میں دشمنی کا زہر مال ہوا ہوگا۔
‫نورالدین زنگی بھی اسی اصول کا پابند تھا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ جس روز مسلمان کسی غیر مسلم سے دوستی کریں گے‪،
‫اس روز اسالم کا خاتمہ شروع ہوجائے گا''۔

‫تو کیا آپ صالح الدین ایوبی کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے ہیں؟'' خلت نے پوچھا اور یہ بھی کہا… ''میں ایک چھوٹا ''
‫سا آدمی ہوں۔ معمولی سا سپاہی ہوں۔ مجھے ایسی جرأت نہیں کرنی چاہیے کہ ایک قلعہ دار سے یہ پوچھوں کہ وہ کیا
‫سوچ رہا ہے اور اس کے ارادے کیا ہیں لیکن مسلمان کی حیثیت سے مجھے یہ حق حاصل ہے کہ کوئی مسلمان گمراہ
‫ہوجائے تو اسے اتنا کہہ سکوں کہ تم گمراہ ہوگئے ہو''۔
‫ہاں!'' جوردیک نے کہا… ''تمہیں یہ حق حاصل ہے۔ میں تمہیں ایک پیغام دینا چاہتا ہوں‪ ،یہ سلطان ایوبی کے کانوں ''
‫میں ڈال دینا۔ میں تحریری پیغام نہیں دینا چاہتا ہوں‪ ،میں اپنا کوئی ایلچی بھی نہیں بھیجنا چاہتا۔ تم ایوبی سے کہنا کہ
‫حماة کے قلعے کو اپنا سمجھو مگر اپنے کسی معتمد ساالر کو بھی پتا نہ چلنے دینا کہ میں نے یہ پیشکش کی ہے۔ یہ ایک
‫بڑا ہی نازک راز ہے۔ اسے کہنا کہ صلیبی دوستی کے پردے میں ہمارے عالقوں میں قدم جماتے جارہے ہیں۔ تم سردیوں کے
‫بعد شاید حملہ کرو مگر یہ خیال رکھنا کہ ادھر سے تم پر پہلے ہی حملہ نہ ہوجائے۔ اگر تم نے پیش قدمی کی تو حماة کے
‫راستے سے آنا۔ میں انشاء اللہ پرانی دوستی کا حق ادا کروں گا''۔
‫دوسرے دن جوردیک نے خلت‪ ،اس کے ساتھی اور حمیرہ کو رخصت کردیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبی انٹیلی جنس کے کمانڈر ونڈسر کا قتل بے شک اتفاقیہ تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کے دو جاسوسوں کے لیے ایسے حاالت
‫پیدا کردئیے تھے کہ وہ ان کے ہاتھوں قتل ہوگیا لیکن یہ بہت بڑا کارنامہ تھا۔ اس کے قتل سے سلطان ایوبی کو فائدہ پہنچا
‫کہ اس کے دشمن کی انٹیلی جنس جو پہلے ہی کمزور تھی منظم نہ ہوسکتی۔ اس کے مقابلے میں سلطان ایوبی کا نظام
‫جاسوسی زیادہ منظم اور ذہین تھا۔ اس کے جاسوس صرف جاسوس نہیں تھے جو پکڑے جائیں تو خاموشی اختیار کرلیں۔ اس
‫نے جاسوسوں کو بڑی ہی سخت کمانڈو ٹریننگ دے رکھی تھی تاکہ وہ پکڑے جانے کی صورت میں لڑ کر نکلیں اور جسے قتل
‫کرنا ضروری ہواسے قتل بھی کریں اور ان کے جسم اتنے سخت ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اذیت بھوک‪ ،پیاس اور تھکن برداشت
‫کرسکیں۔ یہ خوبیاں خلت اور اس کے ساتھیوں میں بھی تھیں۔ انہوں نے نہ صرف صلیبیوں کے اتنے ہم افسر کو مار کر
‫دشمن کو اندھا کردیا بلکہ جوردیک جیسے سخت مزاج قلعہ دار کے ساتھ ایسی باتیں کیں کہ اسے سلطان ایوبی کا حامی بنا
‫آئے۔
‫خلت نے سلطان ایوبی کو جب جوردیک کا پیغام دیا تو سلطان کو یوں سکون سا محسوس ہوا جیسے صحرا میں ٹھنڈی ہوا کا
‫ایک جھونکا بھولے بھٹکے سے آیا ہو۔ اسے ہر طرف دشمن ہی دشمن نظر آتے تھے۔ اپنے بھی دشمن پرائے بھی دشمن۔
‫لہذا اس نے
‫جوردیک کے پیغام نے اسے سکون تو دیا لیکن وہ کسی خوش فہمی میں مبتال نہ ہوا۔ یہ دھوکہ بھی ہوسکتا تھا۔ ٰ
‫اپنے حملے کے پالن میں کوئی ردوبدل نہ کیا۔ اتنا ہی پیش نظر رکھا کہ حماة سے حمایت کی توقع ہے۔
‫اب دشمن کے کیمپ ( حلب) سے جو اطالعات آرہی تھی ان میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی
‫تھی۔ وہاں کے کمانڈروں اور مشیروں کو یہی توقع تھی کہ سردیوں میں جنگ کا امکان نہیں۔ ایک اطالع یہ بھی ملی تھی کہ
‫صلیبی بظاہر سب کے دوست بنے ہوئے ہیں مگر وہ درپردہ بڑے بڑے امراء کو ایک دوسرے کے خالف اکسا رہے ہیں۔ یہ تو
‫سلطان ایوبی کو معلوم ہی تھا کہ الصالح کے تمام حواری ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ وہ اکٹھے صرف اس لیے ہوگئے تھے
‫کہ سلطان ایوبی کو وہ اپنا مشترکہ دشمن بنا بیٹھے تھے اور اس دشمنی کی وجہ یہ تھی کہ سلطان ایوبی انہیں عیش
‫وعشرت کی اور من مانی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ انہیں سلطان ایوبی کا یہ مشن بھی اچھا نہیں لگتا تھا کہ
‫سلطنت اسالمیہ کی توسیع اور استحکام کو جنون یا صحیح الفاظ میں ایمان بنا لیا جائے۔ وہ ان حکمرانوں میں سے نہیں تھا
‫جو آرام اور سکون سے حکومت اورعیش کرنے کی خاطر دشمن کو دوست بنا لیا کرتے تھے۔
‫اسے جنگی نوعیت کی جن معلومات کی ضرورت تھی وہ اس نے حاصل کرلی تھیں۔ اس کی فوج سردی میں لڑنے کے لیے
‫تیار ہوگئی تھی۔ اب رات کی ٹریننگ میں کوئی سپاہی بیمار نہیں ہوتا تھا۔ ‪١١٧٤ء کا دسمبر شروع ہوچکا تھا۔ سلطان ایوبی
‫نے اپنے فوجی کمانڈروں کی آخری کانفرنس بالئی۔ اس میں مرکزی کمان کے تمام افسر شامل تھے اور دستوں کے کمانڈروں کو
‫بھی بالیا گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے انہیں پہال حکم یہ دیا کہ اس لمحے سے فوج کی نقل وحرکت کے متعلق کوئی بات وہ
‫کتنی ہی بے ضرر کیوں نہ ہو باہر کے کسی آدمی کے ساتھ نہیں کی جائے گی جو عسکری اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے
‫ہیں‪ ،وہ گھروں میں بھی کوئی بات نہیں کریں گے۔ فوج کے کوچ کا وقت آگیا ہے۔ یہ ظاہر کیا جائے گا کہ فوج روزمرہ کی
‫طرح تربیت اور مشق کے لیے جارہی ہے۔
‫ان ہدایات کے بعد اس نے کہا… ''ہمارے عیش پرست اور ایمان فروش بھائی اسالم کی تاریخ کو اس موڑ پر لے آئے ہیں
‫جہاں تمہارا اپنے ہی عزیزوں کے خالف لڑنا تم پر فرض ہوگیا ہے۔ کیا کسی نے کبھی یہ بھی سوچا تھا کہ میں اپنے
‫پیرومرشد نورالدین زنگی مرحوم کے بیٹے کے خالف لڑوں گا؟ مگر صورت یہ پیدا ہوگئی ہے کہ بیٹے کی ماں بھی مجھ پر
‫لعنت بھیج رہی ہے کہ اس کا مرتد بیٹا ابھی زندہ کیوں ہے۔ میرے رفیقو! تم جس فوج سے لڑنے جارہے ہو‪ ،اس میں تمہارے
‫چچازاد بھائی بھی ہوں گے‪ ،ماموں زاد اور خالہ زاد بھی ہوں گے۔ مجھے دو بھائی ایسے بھی اپنی فوج میں نظر آئے ہیں جن
‫کا ایک بھائی ایمان فروشوں کی فوج میں ہے۔ اگر تم خون کے رشتوں کو دل میں جگہ دو گے تو اسالم کے ساتھ جو تمہارا
‫رشتہ ہے وہ ٹوٹتا ہے۔ کوچ سے پہلے تمہیں عہد کرنا ہوگا کہ تم یہ نہیں دیکھو گے کہ تمہارا مدمقابل کون ہے۔ تمہاری نظریں
‫اپنے علم پر رہیں گی۔ دل میں یہ حقیقت بٹھا لو کہ تمہارے سامنے کلمہ گو بھائی ہیں مگر ان کی پیٹھ پر صلیبی ہیں۔ میں
‫اس بھائی کو بھائی نہیں سمجھتا جو اپنے مذہب کے دشمن کو دوست سمجھتا ہے''۔
‫ایک واقعہ نگار کی تحریر سے پتا چلتا ہے کہ اس لیکچر کے دوران صالح الدین ایوبی کی آواز بھر آئی۔ اس نے خاموش ہوکر
‫سرجھکا لیا۔ یہ دیکھنا کسی کے لیے مشکل نہ تھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ وہ کچھ دیر سرجھکا کر خاموش
‫بیٹھا رہا۔ کانفرنس کے شرکاء پر سکوت طاری ہوگیا۔ سلطان ایوبی نے سراٹھایا اور دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے اور آسمان
‫کی طرف منہ کرکے گڑگڑایا… ''خداے عزوجل میں تیرے نام کی خاطر‪ ،تیرے رسولۖ کی ناموس کی خاطر اپنے بھائیوں کے
‫خالف تلوار اٹھا رہا ہوں۔ اگر یہ گناہ ہے تو مجھے بخش دینا میرے خدا! مجھے تیری رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مجھے اشارہ
‫دو۔ میں گمراہ ہوں‪ ،گناہ گار ہوں''… اس نے سر پھر جھکا لیا اور جانے اسے اپنی ذات سے کوئی اشارہ مال یا خدا نے
‫اسے کوئی اشارہ دے دیا‪ ،اس نے گرج دار آواز میں کہا… ''ہمیں قبلہ اول کو آزاد کرانا ہے‪ ،تمہیں بیت المقدس پکار رہا ہے۔
‫میرے راستے میں میرا باپ آیا تو اسے بھی قتل کردوں گا۔ میرے بچے راستے میں حائل ہوئے انہیں بھی قتل کردوں گا''۔
‫اس کا چہرہ دمکنے لگا۔ جذباتیت کا غلبہ ختم ہوچکا تھا۔ وہ پھر وہی صالح الدین بن گیا جو صرف حقائق کے متعلق مختصر
‫سی بات کیا کرتا تھا۔ اس نے کمانڈروں کو بتایا کہ دو روز بعد رات کو کوچ ہوگا۔ اس نے پالن کے مطابق فوجوں کی جو

‫تقسیم کی تھی وہ سب کو بتائی اور ہر حصے کے کمانڈر کو کوچ کا وقت بتایا۔ ہر اول کے کمانڈر کو ضروری ہدایات دیں۔
‫چھاپہ مار ( کمانڈو) جیشوں کی تقسیم بتائی‪ ،پہلوئوں پر جن دستوں کو رکھنا تھا‪ ،ان کے کمانڈروں کو کوچ کا انداز‪ ،راستہ اور
‫وقت بتایا اور اس نے سب کو یہ بھی بتایا کہ اس کا اپنا ہیڈکوارٹر گھومتا پھرتا رہے گا۔ اس سے پہلے اس نے مصر کے
‫راستے پر متحرک رہنے والے چھاپہ مار دستے بھیج دئیے تھے اور مسافروں اور خانہ بدوشوں کے بہروپ میں اس نے اپنی
‫انٹیلی جنس کی بہت سی نفری ان عالقوں میں بھیج دی تھی جہاں ریمانڈ کی فوج کے آنے کی توقع تھی۔
‫رسد کے متعلق اسے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ کم وبیش ایک سال تک مصر سے رسد اور کمک منگوانے کی ضرورت نہیں
‫تھی۔ اسلحہ اور جانوروں کا سٹاک بھی اس نے دمشق میں جمع کرلیا تھا۔ اس نے گھوڑ سوار چھاپہ ماروں کو مصر کے راستے
‫کے اردگرد کے عالقوں میں اس ہدایت کے ساتھ بھیج دیا تھا کہ ریمانڈ کی فوج ادھر آئے تو اس پر شب خون مارنے ہیں اور
‫اگر ضرورت محسوس ہو تو فورا ً اطالع دیں تاکہ صلیبیوں کو گھیرے میں لینے کا انتظام کیا جائے۔
‫٭ ٭ ٭
‫‪ ٧/٦دسمبر ‪ ١١٧٤ء کی رات کو ہر اول دستے نے دمشق سے کوچ کیا۔ وہ رات بہت ہی سرد تھی۔ یخ جھکڑ چل رہے تھے
‫جو جسم کو کاٹتے تھے۔ سپاہی اور گھوڑے ان جھکڑوں کے عادی ہوچکے تھے۔ ہر اول کے کمانڈر کو بتا دیا گیا تھا کہ دیکھ
‫بھال ( ریکی) کا جیش پہلے روانہ ہوچکا ہے۔ اس کے سپاہی وردی میں نہیں تھے۔ وہ مسافروں کے بھیس میں گئے تھے۔
‫سلطان ایوبی نے انہیں یہ ہدایت دی تھی کہ تیز رفتار قاصد پیچھے آکر ہر اول کے کمانڈر کو آگے کی اطالعات دیتے رہیں۔
‫ہر اول کو حماة کے قلعے تک جانا تھا جہاں قلعہ دار جوردیک تھا۔ کمانڈر کو سلطان ایوبی نے بتایا تھا کہ حماة کا قلعہ
‫بغیر لڑے ملنے کا امکان ہے لیکن وہ کسی دھوکے میں نہ آئے۔وہ قلعے سے موزوں فاصلے پر رک جائے اور دیکھے کہ قلعے
‫والوں کا رویہ کیا ہے۔ اگر جوردیک صلح کرنا چاہے تو اسے قلعے سے باہر بالیا جائے اور سلطان ایوبی کے آنے تک اس کے
‫ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
‫سلطان ایوبی نے دیواریں توڑنے والے تجربہ کار آدمیوں کی ایک جماعت کو آگے بھیج دیا تھا۔ ہر اول کی روانگی سے تین
‫چار گھنٹوں بعد دوزیادہ نفری کے دستے اس طرح روانہ کیے گئے کہ ایک کو ہر اول کے دائیں اور دوسرے کو بائیں رہنا تھا۔
‫ان کے لیے ہدایت یہ تھی کہ اگر حماة کے قلعے سے ہر اول کا مقابلہ ہوجائے تو یہ دونوں دستے دونوں طرف سے آگے بڑھ
‫کر قلعے کا محاصرہ کرلیں اور اس پر اس قدر تیر برسائیں کہ دیوار توڑنے والی جماعت دیوار تک پہنچ جائے۔
‫ان دونوں حصوں کے درمیان سلطان ایوبی جارہا تھا۔ ہر اول اور دونوں پہلوئوں کے دستے سلطان ایوبی کی فوج کا چوتھا حصہ
‫تھے۔ اس نے باقی تمام فوج پیچھے رکھی تھی۔ اس نے کم سے کم نفری سے دشمن سے جھڑپ لینے کا پالن بنایا تھا۔
‫رسد کے لیے اس نے چھاپہ مار دستے پھیال دئیے تھے۔ ایسے چھوٹے چھوٹے دستے حماة سے بہت آگے بھی بھیج دئیے
‫تھے… تاکہ حماة سے کوئی قاصد حلب تک نہ جاسکے اورا گر کہیں سے کمک آجائے تو چھاپہ مار اسے شب خون سے
‫پریشان کرتے رہیں اور پیش قدمی روکے رکھیں۔
‫اگال دن گزر گیا۔ رات گہری ہوچکی تھی۔ جب ہر اول کے دستے حماة سے دو تین میل دور تک پہنچ چکے تھے۔ ‪٩دسمبر
‫‪ ١١٧٤ء کی صبح طلوع ہوئی تو قلعے پر کھڑے سنتریوں کو کہر اور دھند میں ایسے سائے سے نظر آئے جیسے بہت سے انسان
‫اور گھوڑے ہوں۔ کوئی قافلہ ہوسکتا تھا۔ جوں جوں سورج اوپر اٹھتا گیا دھند چھٹتی گئی اور سائے نکھرتے گئے۔ سنتریوں نے
‫دیکھا کہ یہ فوج ہے۔ انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ قلعے کے دائیں اور بائیں بھی فوج موجود ہے جو انہیں نظر نہیں
‫آسکتی۔ نقارہ بجا دیا گیا۔ ایک کمانڈر دوڑتا اوپر آیا‪ ،اس نے فوج دیکھی تو دوڑتا گیا اور قلعہ دار جوردیک کو اطالع دی۔
‫گھبرا نہیں''… جوردیک نے کمانڈر سے کہا… ''یہ کسی حملہ آور کی فوج نہیں ہوسکتی۔ صلیبی مجھے قتل نہیں کراسکے''
‫انہوں نے کوئی اور سازش کی ہوگی۔ انہوں نے الصالح سے یہ حکم لے لیا ہوگا کہ حماة کا قلعہ مجھ سے لے کر کسی اور
‫کو دے دیا جائے۔ یہ فوج قلعے کے لیے آئی ہوگی۔ تم باہر جائو اور دیکھو کہ یہ کس کا دستہ ہے اور یہ لوگ کیا چاہتے
‫ہیں''۔
‫کمانڈر گھوڑے پر سوار باہر نکال اور سلطان ایوبی کے ہر اول دستے کی طرف گیا۔ اس نے علم دیکھا تو یہ سلطان ایوبی کا
‫تھا۔ وہ ذرا پیچھے ہی رک گیا۔ ہر اول دستے کا کمانڈر اس تک گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ دونوں نورالدین
‫زنگی کی فوج میں اکٹھے رہ چکے تھے۔
‫ایسا بھی ہونا تھا کہ ہم آپس میں لڑیں گے''… ہر اول دستے کے کمانڈر نے اس کے ساتھ ہاتھ مال کر کہا… ''زنگی زندہ''
‫تھا تو ہم دوست اور رفیق تھے‪ ،وہ مر گیا تو ہم دشمن بن گئے''۔
‫تم کیوں آئے ہو؟'' قلعے کے کمانڈر نے پوچھا۔''
‫تم قلعے کو نہیں بچا سکو گے''… ہر اول کے کمانڈر نے کہا… ''میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ قلعہ دار سے کہو کہ ''
‫قلعہ ہمارے حوالے کردے اور خون خرابہ نہ ہونے دے ہم تمہیں زیادہ مہلت نہیں دیں گے۔ تھوڑی دیر میں قلعہ محاصرے میں
‫آچکا ہوگا۔ تمہاری کمک وغیرہ کے راستے بند کیے جاچکے ہیں۔ہتھیار ڈال دو''۔
‫قلعے کا کمانڈر کوئی جواب دئیے بغیر واپس چال گیا اور جوردیک کو بتایا کہ صالح الدین ایوبی نے حملہ کردیا ہے اور وہ
‫ہتھیار ڈالنے کو کہہ رہے ہیں۔ یہ دستے اس کے ہیں… جوردیک نے چال کر کہا… ''قلعے سے جھنڈا اتار لو‪ ،سفید جھنڈا چڑھا
‫دو‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی آیا ہے''۔
‫وہ دوڑتا باہر نکال گھوڑے پر بیٹھا اور قلعے سے نکل گیا۔ ہر اول دستے کے کمانڈر کے پاس پہنچا۔ سلطان ایوبی بہت پیچھے
‫تھا۔ جوردیک ایک رہنما اور اپنے محافظوں کو ساتھ لے کر سلطانایوبی کے ہیڈکوارٹر کی طرف روانہ ہوگیا۔ سلطان ایوبی نے
‫جوردیک کو گلے لگا لیا جوردیک نے اس سے معافی مانگی۔ کچھ جذباتی باتیں کیں اور قلعہ اپنی فوج سمیت سلطان ایوبی
‫کے حوالے کردیا۔ سلطان ایوبی اپنی مرکزی کمان کے ساتھ قلعے میں داخل ہوا تو اس نے سفید جھنڈے کی جگہ اپنا جھنڈا
‫چڑھانے کا حکم دیا۔ جوردیک نے قلعے میں مقیم فوج کے چھوٹے بڑے کمانڈروں کو سلطان ایوبی کے سامنے بالیا اور کہا کہ
‫تم سے ہتھیار نہیں ڈلوائے گئے۔ تمہیں کسی نے شکست نہیں دی۔ اپنے سپاہیوں سے بھی کہہ دو کہ اپنے آپ کو شکست
‫خوردہ نہ سمجھیں۔ہم سب مسلمان ہیں‪ ،اب ہم صلیبیوں اور ان کے دوستوں کے خالف لڑیں گے۔
‫سلطان ایوبی جس مہم پر نکال تھا‪ ،اس کی پہلی منزل اسے کسی کاوش کے بغیر مل گئی۔ وہ خدا کے حضور سجدے میں گر
‫گیا۔ اس کے بعد اس نے جوردیک کے ساتھ آگے کا پالن بنانا شروع کردیا۔ مشکل ایک ہی تھی کہ جوردیک کے دستوں کو
‫سردی میں لڑنے کی مشق نہیں کرائی گئی تھی۔ تاہم اس قلعے کو اڈہ (بیس) بنالیا گیا۔ جوردیک کے دستوں کو ایسے طریقے
‫سے تقسیم کیا گیا جس سے یہ دشواری ختم ہوگئی کہ وہ سردی میں نہیں لڑ سکیں گے مگر سپاہی کو پتا چال تو انہوں نے

‫احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ سلطان ایوبی کی فوج کے ساتھ آگے جائیں گے اور لڑیں گے۔
‫آگے حمص کا قلعہ تھا۔ سلطان ایوبی نے کوچ کا وقت ایسا رکھا کہ حمص تک رات کو پہنچا جائے۔ اس نے اسی وقت ہر
‫اول کو آگے بھیجا لیکن اب کے اس نے ڈیپالئے میں کچھ ردوبدل کردیا کیونکہ حمص میں اسے کوئی توقع نہیں تھی کہ قلعہ
‫بغیر لڑے اس کے حوالے کردیا جائے گا۔ اس نے دیکھ بھال کے لیے ایک پارٹی آگے بھیج دی تھی جس نے راستے میں اطالع
‫دی تھی کہ قلعے کا محل وقوع کیا ہے اور گردوپیش کے احوال وکوائف کیا ہیں۔سلطان ایوبی نے چند دستے اس طرف بھیج
‫دئیے‪ ،جدھر سے مدد وغیرہ آنے کی توقع تھی۔ اس نے اپنی رسد حماة کے قلے میں جمع کرلی اور رسد آگے لے جانے کے
‫راستے کو کئی گشتی پارٹیوں اور چھاپہ ماروں کے ذریعے محفوظ کرلیا۔ اس کے ساتھ حماة کا ایک دستہ بھی تھا۔ سلطان
‫ایوبی کی کوشش یہ تھی کہ حلب تک اس کے حملے کی خبر نہ پہنچے تاکہ وہ دشمن کو بے خبری میں جادبوچے۔ اس نے
‫اس کا انتظام کردیا تھا۔ اپنے آدمی حلب کے راستے پر پھیال دئیے تھے جن کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ کسی بھاگے ہوئے
‫فوجی کو یا کسی ایسے غیر فوجی کو جسے یہ معلوم ہوکہ حملہ شروع ہوچکا ہے‪ ،روک لیں۔
‫رات گہری ہوچکی تھی۔ قلعہ دار اور اس کے کمانڈر ایک وسیع کمرے میں شراب سے دل بہال رہے تھے۔ انہوں نے دو ناچنے
‫والیاں بال رکھی تھیں۔ کمرے میں طبل وسارنگ اور رقص وسرور کا پررونق ہنگامہ بپا تھا۔ سپاہی بے فکری کی نیند سو گئے
‫تھے اور جو ڈیوٹی پر تھے وہ سردی سے بچنے کے لیے کسی نہ کسی اوٹ میں کھڑے تھے۔ رات یخ تھی۔ کمانڈروں نے
‫سب کو بتا رکھا تھا کہ سردیوں کے موسم میں جنگ کاکوئی خطرہ نہیں۔
‫ہم اسی لیے نورالدین زنگی کے مرنے کی دعائیں کرتے تھے کہ اسی دنیا میں جنت دیکھ لیں''… قلعہ دار نے شراب کا ''
‫پیالہ اوپر کرکے کہا… ''اب صالح الدین ایوبی آیا ہے‪ ،خدا اسے بھی جلدی اٹھالے گا''۔
‫اسے ہم اٹھائیں گے''… ایک کمانڈر نے کہا… ''ذرا موسم کھل جانے دو''۔''
‫قلعے کی دیوار پر کھڑے ایک سنتری نے اپنے ساتھی سے کہا… ''وہ دیکھو‪ ،آگ جل رہی ہے''۔
‫جلنے دو''… اس کے ساتھی نے کہا… ''کوئی قافلہ ہوگا''۔''
‫اتنے میں آگ کے تین چار گولے ہوا میں بلند ہوئے جو قلعے کی طرف آئے اور ان دونوں سنتری کے اوپر سے گزر کر قلعے
‫کے اندر جاگرے۔ ان کے پیچھے اورگولے آئے یہ شعلوں کے گولے تھے۔ پھر کئی اور گولے آئے۔ ان میں سے کچھ سامان پر
‫پڑے اور آگ لگ گئی۔ نقارے اور گھڑیال بج اٹھے۔ قلعہ دار کی محفل میں اودھم بپا ہوگیا۔ سب دوڑتے قلعے کی دیوار پر
‫گئے۔ ان پر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ دروازے کے سنتریوں نے شور بپا کردیا کہ دروازہ جل رہا ہے۔ سلطان ایوبی کے حملہ
‫آور دستے نے دروازے پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگا دی تھی۔ چیخ چال کر قلعے کے اندر کی فوج کو بیدار کیا گیا۔
‫قلعے سے بھی مزاحمت شروع ہوگئی لیکن باہرسے اتنے تیر آرہے تھے کہ سر اٹھانا محال ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی کی
‫منجنیقوں نے قلعے کو جہنم بنا دیا تھا۔ قلعے کے کمان دار چال چال کر اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ سپاہی اندھا
‫دھند تیر چال رہے تھے۔
‫ہتھیار ڈال دو''… سلطان ایوبی کی طرف سے کوئی للکار رہا تھا… ''ہتھیار ڈال دو‪ ،تمہیں کہیں سے بھی مدد نہیں مل ''
‫سکتی۔ جانیں بچائو''… یہ اعالن بھی کیا گیا… ''سلطان صالح الدین ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال دو‪ ،کسی کو جنگی قیدی
‫نہیں بنایا جائے گا۔ اطاعت قبول کرلو۔ ہماری فوج میں شامل ہوجائو''۔
‫رات بھر اعالن ہوتے رہے اور تیروں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ صبح کی روشنی پھیلی تو قلعہ دار نے باہرکا منظر اور قلعے کی
‫دیوار پر اپنے سپاہیوں کی الشیں دیکھ کر سفید جھنڈا چڑھانے کا حکم دے دیا۔ یہ قلعہ بھی سر کرلیا گیا۔ قلعہ دار اور
‫کمانڈروں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ سلطان ایوبی قلعے میں گیا تو قلعہ دار اور کمانڈروں سے اتنا ہی کہا… ''خدا تمہیں معاف
‫کرے'' اور حکم دیا کہ ان سب کو ان کے سپاہیوں کے ساتھ دمشق بھیج دیا جائے۔ سلطان ایوبی انہیں اپنی فوج میں شامل
‫نہیں کرسکتا تھا کیونکہ ان کی وفاداری ابھی مشکوک تھی۔ اس قلعے میں اسلحہ اور سد کا خاصا ذخیرہ تھا۔ وہاں شراب بھی
‫تھی اور دو ناچنے والیاں بھی۔ شراب باہر انڈیل دی گئی اور ناچنے والیوں کو بھی ان کے آدمیوں کے ساتھ دمشق بھیج دیا
‫گیا۔ سلطان ایوبی نے حمص کے قلعے کو دوسرا اڈہ بنا لیا اور حماة کے قلعہ کا ایک دستہ وہاں لگا دیا۔
‫اگال قلعہ حلب کا تھا جو حلب شہر سے ذرا ہی دور تھا وہاں بھی وہی ہوا جو حمص میں ہوا تھا۔ سلطان ایوبی کا حملہ
‫ناگہانی تھا۔ اس نے قلعے والوں کو بے خبری میں جالیا تھا۔ اس کے سپاہیوں کا مورال دو قلعے سرکر لینے سے اور زیادہ
‫مضبوط ہوگیا تھا۔ انہوں نے حلب کا قلعہ بھی سرکر لیا اور اس کے دستوں کو کمانڈروں سمیت دمشق بھیج دیا گیا مگر اس
‫مرحلے پر آکر راز داری ختم ہوگئی۔ ہتھیار ڈالنے والے سپاہیوں میں سے کوئی فرار ہوگیا یا کسی اور نے حلب اطالع دے دی
‫کہ سلطان ایوبی نے حماة‪ ،حمص اور حلب کے قلعے لے لیے ہیں اور وہ حلب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سلطان ایوبی کو معلوم
‫نہ ہوسکا کہ اس کا رازداری واال حربہ بیکار ہوچکا ہے۔ اس نے پیش قدمی کی رفتار بھی ختم کردی جس کی وجہ یہ تھی کہ
‫جو دستے حمص اور حلب کے قلعوں کو محاصرے میں لے کر راتوں کو لڑے تھے‪ ،انہیں آرام کے لیے پیچھے بھیجنا اور ان
‫کی جگہ تازہ دم دستے آگے النا ضروری تھا۔ اسے اب فوج کو بدلی ہوئی ترتیب میں آگے بڑھانا تھا کیونکہ حلب شہر کی
‫لڑائی قلعے کے محاصرے سے مختلف تھی۔ نئی ترتیب میں بھی کچھ وقت لگ گیا۔ سلطان ایوبی بہت محتاط تھا کیونکہ
‫اصل لڑائی تو اب آرہی تھی اور صلیبی فوج کے آنے کا امکان بھی تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫حلب اطالع جلدی پہنچ گئی تھی‪ ،صلیبی مشیر وہاں موجود تھے۔ پہلے تو وہ اس پر حیران ہوئے کہ سلطان ایوبی نے سردیوں
‫میں حملہ کیا ہے۔ پھر وہ خوش ہوئے کہ اس کی فوج صحرائی جنگوں کی عادی ہے۔وہ ان چٹانوں میں لڑ نہیں سکے گی۔
‫انہیں یہ احساس تھا کہ حلب کی فوج بھی اس عالقے میں نہیں لڑ سکے گی۔ انہوں نے دوترکیبیں سوچیں۔ ایک یہ کہ
‫سلطان ایوبی کو اپنی پسند کے میدان میں لڑائیں اور دوسری یہ کہ یہاں صلیبیوں کی وہ فوج الئی جائے جو یورپ سے آئی
‫ہے۔ ریمانڈ کی فوج میں ایسے سپاہیوں کی اکثریت تھی۔ چنانچہ فوری طور پرریمانڈ کو تیز رفتار قاصدوں کے ذریعے اطالع
‫بھیج دی گئی کہ سلطان ایوبی حلب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے عقب سے گھیرے میں لیا جائے۔
‫وقت حاصل کرنے کے انہوں نے یہ انتظام کیا کہ سلطان ایوبی کو حلب کے محاصرے میں زیادہ سے زیادہ دیر تک الجھائے
‫رکھا جائے تاکہ ریمانڈ کو اپنی فوج النے کے لیے وقت مل جائے۔ صلیبی مشیروں نے رازداری پر پوری توجہ دی۔ انہیں معلوم
‫تھا کہ شہر میں سلطان ایوبی کے جاسوس موجود ہیں۔ چنانچہ انہوں نے شہر کی ناکہ بندی کردی۔ فورا ً اعالن کردیا گیا کہ
‫شہر سے باہر کوئی نکلے گا تو اسے خبردار کیے بغیر تیر مار دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مسجدوں میں اعالن کیا گیا کہ
‫سلطان ایوبی جنگی طاقت اور بادشاہی کے نشے میں حملہ آور ہوا ہے۔ صلیبی ذہنی تخریب کاری کے ماہر تھے۔ انہوں نے

‫پروپیگنڈے کی نئی مہم چال دی۔ گھرگھر‪ ،گلی گلی‪ ،مسجد مسجد اس قسم کی افواہیں پھیال دیں کہ سلطان ایوبی کی فوج جس
‫شہر کو فتح کرتی ہے‪ ،وہاں کی تمام لڑکیوں کو جمع کرکے آبروریزی کرتی ہے۔ شہر کو لوٹ کر آگ لگا دیتی ہے اور یہ بھی
‫کہ سلطان ایوبی کے خالف نفرت پیدا کرنے کا عمل تو چھ مہینوں سے جاری تھا۔ لوگوں میں سلطان ایوبی کے خالف جنگی
‫جنون پیدا کردیا گیا تھا۔ آخر کار ان تازہ افواہوں نے لوگوں کو آگ بگوال کردیا اور وہ مرنے مارنے کے لیے تیار ہوگئے۔
‫شہر کی ناکہ بندی نے سلطان ایوبی کے جاسوسوں کو بیکار کردیا۔ انہوں نے شہر کے باشندوں میں جو قہر اورغضب دیکھا‪ ،اس
‫کے سامنے وہ بھی بے بس ہوگئے۔ ایک جاسوس شہر سے نکلنے کی کوشش میں مارا گیا۔ وہ سلطان ایوبی کو اطالع دینا
‫چاہتاتھا کہ شہر کی کیفیت کیا ہے اور وہ کسی خوش فہمی میں مبتال ہو کر نہ آئے۔ جاسوس نے سرپٹ گھوڑا بھگایا مگر دو
‫تیروں نے اسے گرا دیا۔ جاسوسوں کے کمانڈر نے ( جو عالم کے بہروپ میں تھا) شہریوں میں صلیبی پروپیگنڈے کے خالف مہم
‫چالئی مگر اس کے آدمیوں نے جہاں بھی بات کی‪ ،منہ کی کھائی۔
‫الصالح نے صلیبی مشیروں کے مشورے پر والئی موصل سیف الدین کو بھی اطالع بھیج دی کہ مدد کے لیے آئے۔ حسن بن
‫صباح کے فدائیوں کے پیرومرشد شیخ سنان کو اطالع بھیج دی گئی کہ وہ اجرت مانگے گا‪ ،اسے دی جائے گی۔ صالح الدین
‫ایوبی کو قتل کرادے‪ ،خواہ اس کے کتنے ہی آدمی کیوں نہ مارے جائیں۔ شیخ سنان کا ایک حملہ ناکام ہوچکا تھا جو اس نے
‫سلطان ایوبی کے ایک محافظ پر نشہ طاری کرکے اس سے کرایا تھا۔ اب اس نے ان فدائیوں کو بالیا جو زندگی اور موت کو
‫کچھ سمجھتے ہی نہیں تھے۔ وہ برائے نام انسان تھے‪ ،مرجانا اور کسی کو مار دینا ان کے لیے کوئی مطلب نہیں رکھتا تھا۔
‫ان میں مفرور قاتل بھی تھے۔ شیخ سنان نے انہیں کہا کہ انہیں منہ مانگی اجرت ملے گی‪ ،وہ سلطان ایوبی کو قتل کردیں۔
‫ان میں سے نو آدمی تیار ہوگئے۔ الصالح کے حامیوں میں سب سے زیادہ کینہ پرور اور شیطان فطرت آدمی گمشتگین تھا جسے
‫گورنر کا درجہ حاصل تھا۔ وہ بظاہر سلطان ایوبی کے خالف تھا مگر وہ دوست کسی کا بھی نہیں تھا۔ الصالح کو خوش کرنے
‫کے لیے اس نے اس کی حمایت کی اور صلیبیوں کے ساتھ دوستی کا اظہار اس طرح کیا کہ اس کے قلعے میں بہت سے
‫صلیبی جنگی قیدی تھے‪ ،ان سب کو رہا کردیا۔ اب حلب کی اس اطالع پر کہ سلطان ایوبی کی فوج آگئی ہے‪ ،اس نے اپنی
‫فوج بھیج دی اور خود بھی لڑنے کا وعدہ کیا۔
‫یہ ایک طوفان تھا جو سلطان ایوبی کے خالف اٹھ کھڑا ہوا۔ اتنے زیادہ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی نفری تھوڑی تھی اور
‫اب اس کے جاسوس بے کار ہوجانے کی وجہ سے اسے پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ دشمن کے کیمپ میں کیا ہورہا ہے۔ وہ
‫ابھی تک اس خوش فہمی میں مبتال تھا کہ وہ حلب والوں کو بے خبری میں جا لے گا۔ تاہم وہ معمولی قسم کا جنگجو نہیں
‫تھا۔ اس نے عقب اور پہلوئوں کی حفاظت کا انتظام کررکھاتھا۔ اس نے کم سے کم تعداد سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس
‫کے دیکھ بھال کے دستے آگے چلے گئے۔ آگے عالقہ چٹانی‪ ،پتھریال اور نشیب وفراز کا تھا اور راستے میں ایک درمیانہ سا
‫دریا بھی تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫جنوری ‪ ١١٧٥ء کا مہینہ شروع ہوچکا تھا۔ سردی اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ سلطان ایوبی نے فوج کی ایک چوتھائی نفری حملے
‫کے لیے منتخب کی۔ محفوظہ میں اس نے زیادہ دستے رکھے۔ اس نے جب پیش قدمی کی تو دیکھ بھال کرنے والے دستوں
‫نے اطالع دی کہ دریا کے اس طرف ایک وسیع وعریض نشیب ہے‪ ،وہاں دشمن کی فوج تیاری کی حالت میں موجود ہے۔ یہی
‫وہ مقام تھا۔ جہاں سے دریا عبور کیا جاسکتا تھا۔ سردیوں کے موسم میں دریا میں پانی گہرا نہیں تھا۔ اس مقام پر پاٹ
‫پھیل جانے سے پانی اور بھی کم تھا۔ گھوڑے اور انسان آسانی سے گزر سکتے تھے۔ یہیں دشمن نے اپنی فوج پھیال رکھی
‫تھی۔ سلطان ایوبی کو بتایا گیا کہ رات کو اس فوج کے چند ایک سنتری بیدار ہوتے ہیں اور دن کے دوران گشتی پارٹیاں ہر
‫طرف گھومتی پھرتی رہتی ہیں۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:08
‫قسط نمبر۔‪76‫صلیب کے سائے میں
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫سلطان ایوبی کو بتایا گیا کہ رات کو اس فوج کے چند ایک سنتری بیدار ہوتے ہیں اور دن کے دوران گشتی پارٹیاں ہر طرف
‫گھومتی پھرتی رہتی ہیں۔ اس اطالع سے شک ہوا کہ حلب والوں کو اس کی آمد کی اطالع مل گئی ہے اور وہ انہیں بے
‫خبری میں نہیں لے سکے گا۔ اس نے دیکھ بھال کے لیے اس مقام سے دور کے عالقے میں اپنے آدمی بھیجے تاکہ معلوم کیا
‫جاسکے کہ دریا کسی اور جگہ سے عبور کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔اس کے ساتھ ہی اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ نشیب میں
‫دشمن کی فوج کو دھوکہ دے کہ حملہ اور پیش قدمی اسی طرح سے ہوگی۔ اس نے اسی رات چھاپہ مار روانہ کردئیے۔ اس
‫کا اپنا ہیڈکوارٹر وہاں سے پانچ چھ میل دور تھا۔ دریا کے کنارے دشمن کی جو فوج تھی وہ بھی اس خوش فہمی میں مبتال
‫تھی کہ اتنی یخ راتوں کو حملہ نہیں ہوسکتا۔
‫نصف شب کے قریب سپاہی خیموں میں دبکے پڑے تھے۔ کمانڈر بے خبر سو رہے تھے۔ صرف سنتری جاگ رہے تھے۔ ایک
‫سنتری سردی میں ٹھٹھرا کھڑا تھا۔ پیچھے سے کسی نے اس کی گردن دبوچ لی۔ کسی اور نے اسے اٹھایا۔ یہ سلطان ایوبی
‫کے دو چھاپہ مار تھے۔ وہ سنتری کو اٹھا کر لے آئے اور اس سے پوچھا کہ گھوڑے کہاں بندھے ہوئے ہیں۔ اس کے سینے پر
‫دو تلواروں کی نوکیں رکھی ہوئی تھیں۔ سنتری کو معلوم تھا کہ یہ سلطان کے سپاہی ہیں۔ اس نے ان سے التجا کی کہ میں
‫تمہارا مسلمان بھائی ہوں۔یہ بادشاہوں کے جھگڑے ہیں‪ ،ہم ایک دوسرے کا خون کیوں بہائیں۔ اس نے بتایا کہ گھوڑے ایک جگہ
‫نہیں بندھے ہوئے۔ چونکہ فوج تیاری کی حالت میں ہے اس لیے گھوڑے‪ ،سواروں کے خیمے کے ساتھ دو دو‪ ،تین تین کرکے
‫بندھے ہوئے ہیں۔ چھاپہ مار اسے اس کے کیمپ کے قریب لے گئے اور پوچھا دستوں کے کمانڈر کہاں ہیں۔ اس نے اندازہ
‫کرکے ان خیموں کی سمتیں بتا دیں۔
‫اسے ساتھ ہی پیچھے لے آئے اور اسے کہا کہ یہاں کھڑے رہو اور تماشہ دیکھو‪ ،وہاں چھوٹے سائز کی ایک منجنیق رکھی
‫تھی۔ اس میں چھاپہ ماروں نے ایک ہانڈی سی رکھی۔ چار آدمیوں نے اسے پیچھے کھینچا اور چھوڑ دیا۔ ہانڈی غلیلے کی
‫طرح اڑ گئی۔ دوسری ہانڈی کسی اور طرف پھینکی گئی پھر دو اور پھینکی گئیں۔ یہ سب دشمن کے کیمپ میں گریں۔
‫سنتریوں نے ''کون ہے‪ ،کون ہے'' کی صدائیں لگائیں۔ کہیں سے جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر آئے جو زمین پر لگے۔ ہانڈیاں
‫وہیں گر کر ٹوٹی تھیں۔ ان کے اندر سے سیال مادہ نکل کر بکھر گیا تھا۔ تیروں کے فلیتوں نے اسے آگ لگا دی۔ دو خیموں
‫کو بھی آگ لگ گئی۔ زمین شعلے اگل رہی تھی۔ کیمپ میں بھگدڑ مچ گئی۔ گھوڑے رسیاں تڑانے لگے۔ سپاہی اٹھ کر ادھر

‫ادھر دوڑے تو چھاپہ ماروں نے تیر برسانے شروع کردئیے۔ یہ خیمہ گاہ ایک میل سے زیادہ لمبے چوڑے عالقے میں تھی۔
‫پیشتر اس کے کمانڈر جوابی کارروائی کرتے چھاپہ مار تباہی مچا کر غائب ہوچکے تھے۔
‫صحرا بھی نیم تاریک تھی‪ ،کیمپ کی حالت خاصی بری تھی۔ آگ نے بھی نقصان کیاتھا لیکن چھاپہ ماروں کے تیروں سے اور
‫بدکے ہوئے گھوڑوں تلے آکر بہت سے سپاہی ہالک اور زخمی ہوئے تھے۔ سحر تک انہیں اٹھاتے اور سنبھالتے رہے۔ا چانک
‫ایک طرف سے کسی نے چال کرکہا… ''ہوشیارہوشیار''… ایک بار پھر قیامت آگئی مگر اب کے چھاپہ مار نہیں تھے۔ یہ
‫سلطان ایوبی کے ایک دستے کا باقاعدہ حملہ تھا۔ دشمن اس جگہ ہر لمحہ تیاری کی حالت میں رہتا تھا لیکن رات کو چھاپہ
‫مار اس کی حالت ایسی بدل آئے تھے کہ تیاری ختم ہوگئی تھی۔ دشمن کے سپاہیوں نے جم کر لڑنے کی بہت کوشش کی
‫لیکن ان کے پائوں جم نہ سکے۔ سلطان ایوبی ان کا دم خم پہلے ہی ختم کراچکا تھا۔ پھر بھی دونوں فریقوں کا خاصا نقصان
‫ہوا۔ دشمن کے سپاہی پسپا ہونے لگے۔ کمانڈروں نے انہیں بہت للکارا مگر دوسری طرف کی للکار ان کے لڑنے کے جذبے کو
‫تباہ کررہی تھی۔ سلطان ایوبی کے سپاہی ان پر چال رہے تھے… ''تم کافروں کے دوست ہو‪ ،خدا ہمارے ساتھ ہے‪ ،اپنا حشر
‫دیکھو‪ ،تم پر خدا کا قہر نازل ہورہا ہے''۔
‫سلطان ایوبی نے اپنی فوج کے نہایت معمولی سے سپاہی کے ذہن میں بھی اتار دیا تھا کہ تم حق پر ہو اور کفار کے دوست
‫مرتد ہیں۔ اس کے مقابلے میں خلیفہ کی فوج کے پاس ایسا کوئی مقصد اور کوئی نعرہ نہیں تھا۔
‫دشمن کے سپاہی بکھر گئے۔ بہت سے پسپا ہوکر دریا پار کرگئے اور کچھ ادھر ادھر وادیوں اور نشیبی جگہوں میں جا چھپے۔
‫سلطان ایوبی نے حملہ آور دستے کے کمانڈر کو حکم دے رکھا تھا کہ دشمن کی پسپائی کی صورت میں اپنا کوئی دستہ جیش
‫یا کوئی سپاہی دریا پار نہ کرے۔ اس نے اس کیمپ پر حملہ کرکے دراصل دشمن کو دھوکہ دیا تھا۔ وہ تعاقب نہیں کرنا چاہتا
‫تھا۔ وہ آگے کے تفصیلی جائزے اور مشاہدے کے بغیر کبھی پیش قدمی نہیں کرتا تھا۔ وہ دریا کہیں دور سے پار کرنا چاہتا تھا
‫لیکن دشمن نے یہیں سے اسے راستہ دے دیا تو اس نے یہیں سے دریا پار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ خود آگے گیا۔ اس کے
‫سپاہی ادھر ادھر چھپے ہوئے دشمن کو ڈھونڈ کر ختم کررہے تھے۔ہتھیار ڈالنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ اس نے ایک بلند
‫چٹان پر جا کر میدان جنگ کامنظر دیکھا تو خوشی کے بجائے اس کے چہرے پر اداسی چھاگئی۔
‫یہ نظارہ دیکھ کر خدا بھی رو رہا ہوگا''۔ سلطان ایوبی نے اپنے پاس کھڑے نائبین سے کہا… ''دونوں طرف کس کا خون ''
‫بہہ گیا ہے؟… مسلمان کا۔ یہ ہے اسالم کے زوال کی نشانی اگر مسلمان ہوش میں نہ آئے تو کفار انہیں اسی طرح لڑالڑا کر
‫ختم کردیں گے۔ میرے رفیقو! مجھے کوئی یقین دال دے کہ میں حق پر نہیں تو میں اپنی تلوار الصالح کے قدموں میں رکھ
‫دوں گا''۔
‫آپ حق پر ہیں‪ ،سلطان محترم!'' کسی نے کہا… ''ہم حق پر ہیں‪ ،دل سے اب وسوسے نکال دیں''۔''
‫حلب شہر میں ہر آدمی آگ کا شعلہ بنا ہوا تھا۔ سلطان ایوبی کے دستے دریا پار کرگئے تھے۔ حلب سامنے نظر آرہا تھا۔
‫سلطان ایوبی نے شہر کودیکھا۔ اس کی وسعت‪ ،ساخت اور دفاعی انتظامات دیکھے اور جائزہ لیا کہ محاصرہ کیا جائے یا سیدھا
‫حملہ کرکے شہر کے اندر لڑا جائے۔ اسے ابھی تک معلوم نہیں تھا کہ شہر کے اندر کی جذباتی کیفیت کیا ہے۔ اسے توقع
‫تھی کہ شہری چونکہ مسلمان ہیں‪ ،اس لیے وہ دونوں مسلمان فوجوں کی جنگ کے خالف ہوں گے۔ غالبا ً اسی توقع نے اس
‫سے وہ کارروائی کرائی جس نے اسے پریشان کردیا۔ اس نے نفری سے نیم محاصرے کی ترتیب میں اپنے دستے آگے بڑھائے۔
‫لڑائی کی ابتداء تیروں کے تبادلے سے ہوئی لیکن کچھ ہی دیر بعد اس نے محسوس کیا جیسے اس کے دستے پیچھے ہٹ رہے
‫ہیں۔ حلب کے دفاع میں لڑنے والوں کا یہ عالم تھاکہ ایک طرف سے کم وبیش دو سو گھوڑ سوار نکلے۔ انہوں نے سلطان
‫ایوبی کے ایک دستے کے ایک پہلوپر حملہ کردیا۔یہ بڑا ہی تیز اور دلیرانہ حملہ تھا جو پیادہ دستے پر کیا گیا تھا۔
‫اس کے سواروں نے جوابی ہلہ بول کر اپنے پیادہ دستے کو بچانے کی نہایت اچھی کوشش کی لیکن گھوڑوں کے تصادم میں
‫اپنے ہی پیادے کچلے گئے۔ پھر یوں ہونے لگا کہ شہر سے ایک حبش پیادہ یا سوار نکلتا۔ ان کے پیچھے سے شہر کی
‫منڈیروں اور بلند جگہوں سے تیروں کی بوچھاڑیں آتیں اور حملہ کرنے والے حبش سلطان ایوبی کی صفوں میں گھس جاتے۔
‫حلب کا یہ معرکہ بڑاہی خون ریز تھا۔
‫اس کیفیت میں سلطان ایوبی کے دو تین جاسوس باہر نکل آئے اور سلطان ایوبی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس تک پہنچ گئے۔
‫انہوں نے بتایا کہ شہریوں کو کس طرح اس کے خالف بھڑکایا گیا ہے اور شہر کے دفاع میں لڑنے والے اتنے فوجی نہیں جتنے
‫شہری ہیں۔ سلطان ایوبی کو یہ تو پہلے ہی معلوم تھا کہ حلب کے باشندوں پر اس کے خالف جنگی جنون طاری کیا جارہا
‫ہے لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ شہری اس پاگل پن سے لڑیں گے۔ وہ ان کی دلیری پر عش عش کر اٹھا لیکن بڑے
‫افسوس کے ساتھ کہنے لگا… ''یہ ہے مسلمان کی شان‪ ،ان کا عسکری جذبہ دیکھو‪ ،کفار مسلمان کے اسی جذبے کو ختم
‫کررہے ہیں''۔
‫سلطان ایوبی نے اپنے دستوں کو پیچھے ہٹا لیا۔ اسے کسی نائب نے مشورہ دیا کہ شہر پر منجنیقوں سے آگ پھینکی جائے۔
‫سلطان ایوئی نے یہ مشورہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس نے کہا کہ شہریوں کے گھر تباہ ہوجائیں گے۔ ان کی عورتیں اور
‫بچے مارے جائیں گے۔ اسی لیے میں نے تباہ کار چھاپہ ماروں کو نہیں بھیجا۔ اگر یہ شہر صلیبیوں کا ہوتا تو اب تک شعلوں
‫کی لپیٹ میں اور میرے چھاپہ ماروں کی زد میں ہوتا جو مسلمان میدان جنگ میں آکر لڑتے اور مرتے ہیں انہیں میں روک
‫نہیں سکتا اور جو گھروں میں بیٹھے ہیں انہیں مارنا نہیں چاہتا۔ اس نے چند اور دستے آگے بال کر شہر کو مکمل محاصرے
‫میں لے لیا اور حکم دیا کہ دفاع میں لڑا جائے۔ حملہ ہو تو روکا جائے‪ ،حملہ نہ کیا جائے اور محاصرے کو مضبوط رکھا جائے۔
‫نفری کی بھی کمی تھی اور شہر کو تباہی سے بچانے کا خیال بھی تھا۔
‫جنوری ‪ ١١٧٥ء کا پورا مہینہ محاصرہ جاری رہا۔ حلب کی فوج اور شہریوں نے محاصرہ توڑنے کے لیے حملے کیے لیکن اب وہ
‫کامیاب نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ سلطان ایوبی نے اپنے دستوں کی ترتیب اور سکیم بدل دی تھی۔ یکم فروری ‪١١٧٥ء کی صبح
‫سلطان کو اطالع ملی کہ تریپولی کا صلیبی حکمران ریمانڈ حماة کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے ریمانڈکی فوج کی نفری (پیادہ اور
‫سوار) کی اطالع بھی دی گئی۔ سلطان ایوبی کو پہلے ہی توقع تھی کہ یہ صورت بھی پیدا ہوگی۔ اس کے لیے وہ تیار تھا۔
‫اس نے اس کے لیے دستے محفوظ رکھے ہوئے تھے اور ایسی جگہ رکھے ہوئے تھے جہاں سے وہ ریمانڈ کے استقبال کے لیے
‫بروقت پہنچ سکتے تھے۔ اس نے یہ اطالع ملتے ہی اپنے قاصد کو اس پیغام کے ساتھ ان دستوں کی طرف دوڑایا کہ جس قدر
‫جلدی ہوسکے الرستان کے عالقے میں پہنچ کر بلندیوں پر تیر انداز بٹھا دو۔ سوار دستے پیچھے رکھو‪ ،میں آرہا ہوں اگر صلیبی
‫فوج مجھ سے پہلے آجائے تو سامنے کی ٹکر نہ لینا۔ گھات لگانا اور شب خون مارنا۔
‫الرستان ایک پہاڑی سلسلے کا نام تھا۔ ریمانڈ کو اس میں سے گزر کر آنا تھا۔ ریمانڈ کی پیش قدمی کا راستہ اس کے پالن

‫کے مطابق موزوں تھا۔ وہ حماة تک پہنچ کر سلطان کے عقب کے لیے اور رسد وغیرہ کے راستوں کے لیے خطرہ بن سکتا
‫تھا۔ پھر صورت یہ ہوجاتی کہ سلطان ایوبی حلب کی فوج اور ریمانڈ کی فوج (جو یقینا برتر اورزیادہ تھی) کے درمیان پس
‫جاتا۔ اس نے دوسرا اقدام یہ کیا کہ حلب کا محاصرہ اٹھا دیا اور اسی نے ان دستوں کو کسی اور سمت روانہ کردیا۔ خود
‫الرستان کی طرف چال گیا۔ وہاں کی چوٹیوں پر برف پڑی ہوئی تھی۔ ریمانڈ خوش تھا کہ اس موسم میں سلطان ایوبی کے
‫صحرائی سپاہی اس کے یورپی اور اسی عالقے کے رہنے والی عیسائی سپاہیوں سے نہیں لڑ سکیں گے مگر وہ آگے آیا تو برف
‫پوش پہاڑی سلسلہ کوہ سے اس پر تیر برسنے لگے۔ یہ اس کے لیے بالئے ناگہانی تھی۔
‫اس نے لڑے بغیر اپنی فوج پیچھے ہٹا لی۔ اسے ہر جگہ گھات کا خطرہ تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے لڑنے کے انداز سے اچھی
‫طرح واقف تھا۔ اس نے بہت پیچھے ہٹ کر پڑائو ڈال دیا۔ وہ اپنے راستے پر نظرثانی کرنا چاہتا تھا۔ موسم بگڑ گیا۔ بارشیں
‫شروع ہوگئیں۔سات آٹھ دنوں میں گھوڑوں کا خشک چارہ ختم ہوگیا۔ اناج کی بھی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس نے رسد کا
‫انتظام نہایت اچھا رکھا تھا۔ وہاں تک اسے باقاعدگی سے رسد پہنچ رہی تھی مگر کئی دن پیچھے سے نہ رسد آئی‪ ،نہ کوئی
‫اطالع۔ اس نے قاصد بھیجا جو واپس آگیا اور پیغام الیا کہ سلطان ایوبی کی فوج نے راستہ روک رکھاہے۔ ریمانڈ بہت حیران
‫ہوا کہ سلطان ایوبی اتنی جلدی یہاں کیسے پہنچ گیا؟… اس نے اپنے دو افسروں کو پیچھے کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا۔
‫یہ دو افسر تین چار روز بعد واپس آئے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ سلطان ایوبی نے رسد کا راستہ روک لیا ہے اور یہ بھی کہ
‫اس نے حلب کامحاصرہ اٹھا لیا ہے۔
‫اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا فرض ادا ہوگیا ہے''۔ ریمانڈ نے کہا… ''فوج کو واپس تریپولی لے چلو''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫یہ اطالع سلطان ایوبی کے لیے حیران کن تھی کہ ریمانڈ لڑے بغیر واپس کوچ کر گیا ہے۔ ریمانڈ نے واپسی کا جو راستہ
‫اختیار کیا تھا‪ ،وہ دشوار گزار تھا لیکن وہ اس راستے سے نہیں جانا چاہتا تھا جس سے آیا تھا۔ وہ سلطان ایوبی سے لڑنے کا
‫ارادہ ترک کرچکا تھا۔ یورپی مورخوں نے لکھا ہے کہ وہ لڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ سلطان ایوبی نے اسے
‫لڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہنے دیا تھا۔ وہ اسی سے گھبرا گیا تھا کہ مسلمان فوج اتنی سردی میں ایسی خوبی سے لڑ رہی
‫ہے جیسے صحرا میں لڑتی ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ سلطان ایوبی اس کے عقب میں اور رسد کے راستے میں جا بیٹھا
‫تھا۔ تیسری اور سب سے بڑی وجہ کچھ اور تھی جس کا انکشاف بعد میں ہوا۔ وہ دراصل الصالح اور اس کے امراء کو دھوکہ
‫دے گیاتھا۔ اس نے بے بہا خزانے کی شکل میں اجرت لے لی تھی۔ اسے اب لڑنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس کا یہ
‫مقصد ( جو صلیبیوں کا بنیادی مقصد تھا) پورا ہوچکاتھا کہ مسلمان آپس میں ٹکرا جائیں۔ صلیبی مسلمان قوم کی فوج کو دو
‫حصوں میں کاٹ چکے تھے اور ان دونوں حصوں میں جنگ شروع ہوچکی تھی۔
‫اس کی نیت کا پتا اس وقت چال جب تریپولی سے اس کا ایلچی الصالح کے نام یہ پیغام لے کر آیا۔ ''میں نے وعدہ کیا
‫تھا کہ صالح الدین ایوبی نے آپ کو محاصرے میں لیا تو میں محاصرہ توڑ دوں گا۔ مجھے جونہی اطالع ملی کہ صالح الدین
‫ایوبی نے حملہ کردیا ہے‪ ،میں فوج لے کر آپ کی مدد کو آگیا۔ صالح الدین ایوبی نے فورا ً حلب کا محاصرہ اٹھا لیا۔ میں نے
‫لہ ذا ہمارا وہ فوجی معاہدہ ختم ہوگیا جس کے تحت آپ نے مجھے سونا وغیرہ بھیجا تھا اور اس کے عوض
‫وعدہ پورا کردیاہے ٰ
‫میں نے آپ کو محاصرے سے بچایا۔ میرے فوجی نمائندے اور مشیروں کو فورا ً واپس بھیج دیا جائے''۔
‫حلب والے سرپکڑ کر بیٹھ گئے۔ صلیبی انہیں ڈنک ماررہے تھے۔ دو مورخوں نے لکھا ہے کہ ریمانڈ کو یہ خطرہ بھی نظر آنے
‫لگا تھا کہ سلطان ایوبی اس کے دارالحکومت تریپولی پر حملہ کرے گا۔ چنانچہ اس نے اپنا دفاع مضبوط کرنا شروع کردیا۔
‫الصالح ابھی ناتجربہ کار تھا۔ اس کے ایک دو مشیروں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ سلطان ایوبی سے صلح کرلے مگر سیف الدین
‫اور گمشتگین وغیرہ نے اسے مدد کا یقین دال کر سمجھوتے اور صلح پر آمادہ نہ ہونے دیا۔ انہی میں سے کسی نے اسے بتایا
‫کہ صالح الدین ایوبی چند روز کامہمان ہے۔ نو فدائی آچکے ہیں‪ ،وہ مذہبی پیشوائوں اور صوفیوں کے بہروپ میں صالح الدین
‫ایوبی کے پاس یہ درخواست لے کر جارہے ہیں کہ وہ آپس میں نہ لڑیں اور صلح کرلیں۔ سلطان ایوبی ان کے احترام کے لیے
‫انہیں اپنے پاس بٹھائے گا۔ اکیلے ان کی بات سنے گا اور فدائی اسے نہایت اطمینان سے قتل کرکے نکل جائیں گے۔
‫انہوں نے الصالح کو یہ خبر سنا کر جھانسہ نہیں دیا تھا جس وقت سلطان ایوبی الرستان کے سلسلۂ کوہ میں بیٹھا‪ ،اپنے اگلے
‫‪ .حملے کا پالن بنا رہا تھا تو پیشہ ور فدائی قاتل یہ سوچ رہے تھے کہ اسے کہاں قتل کیا جائے
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:11
‫قسط نمبر۔‪77‫جب خدا زمین پر اتر آیا
‫مصر میں جہاں آج اسوان ڈیم ہے‪ ،آٹھ سو سال پہلے وہاں ایک خونریز معرکہ لڑا گیا تھا۔ مورخوں نے سلطان صالح الدین
‫ایوبی کے دور کی اس لڑائی کا ذکر کیا ہی نہیں اگر کیا ہے تو اتنا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا ایک جرنیل باغی ہوگیا
‫تھا۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی ڈائری میں اس جرنیل کا نام بھی لکھا ہے۔ نام القنض تھا جس کا تلفظ القند ہے۔ وہ
‫مصری مسلمان تھا۔ اس کی ماں سوڈانی تھی۔ شاید یہ سوڈانی خون تھا جس نے اسے سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف
‫بغاوت پر اکسایا تھا۔ اس دور کے واقعہ نگاروں اور کاتبوں کی غیر مطبوعہ تحریریں ملی ہیں‪ ،ان سے اس کی بغاوت کا پس
‫منظر خاصی حد تک واضح ہوجاتا ہے۔
‫یہ ‪١١٧٤ء کے آخر اور ‪١١٧٥ء کے اوائل کا عرصہ تھا جب سلطان صالح الدین ایوبی مصر سے غیرحاضر تھا۔ اس سے پہلے
‫پوری تفصیل سے سنایا جاچکا ہے کہ نورالدین زنگی مرحوم کی وفات کے فورا ً بعد شام کے حاالت اس صورت میں بگڑ گئے
‫تھے کہ مفادپرست امراء نے زنگی مرحوم کے گیارہ سالہ بیٹے کو سلطنت کی گدی پر بٹھا دیا اور صلیبیوں سے گٹھ جوڑ کرکے
‫خود مختاری کے راستے پر چل پڑے تھے۔ سلطنت اسالمیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر صلیبیوں کے پیٹ میں جارہی تھی۔ سلطان صالح
‫الدین ایوبی دمشق پہنچا۔ تھوڑی سی معرکہ آرائی اور دمشق کے شہریوں کے تعاون سے اس نے دمشق پر قبضہ کرلیا۔ خلیفہ
‫اور اس کے حواری امراء اور جرنیل حلب کو بھاگ گئے جہاں انہوں نے صلیبیوں سے جنگی مدد حاصل کی۔ صلیبیوں نے مدد
‫کا جھانسہ دے کر مسلمان فوج کو مسلمان فوج سے ٹکرا دیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے حمص اور حماة کے قلعے
‫سرکرلیے۔ حلب کے محاصرے میں اسے غیرمتوقع مزاحمت کا سامنا ہوا۔ اس کے ساتھ ہی تریپولی کے صلیبی حکمران ریمانڈ
‫نے حملہ کردیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو حلب کا محاصرہ اٹھا کر پیچھے آنا پڑا تاکہ صلیبی فوج کو راستے میں روکا
‫جاسکے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے دستوں کی برق رفتاری نے اس کی چال کو کامیاب کیا اور ریمانڈ لڑائی سے منہ پھیر گیا مگر

‫یہاں لڑائی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اصل جنگ تو یہیں سے شروع ہوئی تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی الرستان سلسلہ کوہ میں
‫اپنی فوج کو پھیالئے ہوئے تھا۔ اس کا مقابلہ تین دشمنوں کے ساتھ تھا۔ ایک الصالح اور اس کے حواری امراء کی فوج تھی‪،
‫دوسرے صلیبی فوج اور تیسرا موسم۔ یہ جنوری فروری ‪١١٧٥ء کے دن تھے جب پہاڑیوں کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی
‫تھیں۔ یخ جھکڑ چلتے تھے اور وادیاں ٹھٹھر رہی تھیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی وہاں اس طرح الجھ گیا تھا جیسے زنجیروں
‫میں جکڑا گیا ہو۔
‫مصر کے متعلق وہ مطمئن نہیں تھا۔ وہاں کی فوج کی کمان وہ اپنے بھائی العادل کے سپرد کرآیا تھا۔ اس فوج میں سے
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے کمک بھی منگوالی تھی۔ مصر پر سمندر کی طرف سے صلیبیوں کا اور جنوب سے سوڈانیوں کے
‫حملے کا خطرہ تو تھا لیکن زیادہ خطرہ صلیبیوں اور سوڈانیوں کی زمین دوز تخریب کاری کا تھا جو مصر میں جاری تھی۔
‫دشمن کی جاسوسی اور تخریب کاری کو بہت حد تک دبایا جاچکا تھا مگر یہ کہنا غلط تھا کہ دشمن اس زمین دوز میدان
‫سے بھاگ گیا ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے انہی خطروں سے نبردآزما ہونے کے لیے اپنی انٹیلی جنس کے ماہر سربراہ
‫علی بن سفیان کو قاہرہ میں رہنے دیا تھا۔ اس نے العادل کو بھی اس ضمن میں بہت سی ہدایات دے دی تھیں مگر جو
‫جگہ سلطان صالح الدین ایوبی کی غیرحاضری سے خالی ہوگئی تھی۔ اسے العادل اور علی بن سفیان مل کر بھی پر نہیں
‫کرسکتے تھے۔
‫مصر کی سرحدوں اور ساحل کی دیکھ بھال کے لیے سرحدی دستوں کی چوکیاں اور ان کے پہرے تھے۔ سلطان صالح الدین
‫ایوبی نے العادل کے متعلق یہ حکم دے دیا تھا کہ سوڈانی سرحد پر ذرا سی بھی گڑ بڑ کریں تو شدید جنگی نوعیت کی
‫جوابی کارروائی کرو اور سوڈان کے اندر جا کر لڑو… مگر ایک ضرورت ایسی تھی جس کی طرف کسی نے بھی توجہ نہ دی۔
‫یہ تھی سرحدی دستوں کی بدلی۔ ان دستوں میں بیشتر سپاہی اور بعض کمانڈر ایسے تھے جو دو سال سے زیادہ عرصہ سے
‫لہذا ان کے دلوں میں دشمن کے خالف
‫سرحد کی ڈیوٹی پر تھے۔ یہ وہ سپاہی تھے جنہوں نے دشمن سے معرکے لڑے تھے ٰ
‫نفرت بھری ہوئی تھی۔ سوڈانیوں کو تو وہ کچھ سمجھتے ہی نہیں تھے۔ ان سے پہلے جو دستے سرحد پر تھے وہ اچھے
‫ثابت نہیں ہوئے تھے۔ ان کی موجودگی میں مصر کی منڈی سے اناج اور دیگر ضروری اشیاء سمگل ہوکر سوڈان چلی جاتی
‫تھیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے محاذ سے واپس آکر ان دستوں کو بدل دیا اور وہ دستے بھیجے تھے جو محاذ سے آئے
‫تھے۔ ان دستوں نے سرحد پر پہنچ کر اودھم بپا کردیا تھا۔ گشتی پہرے والوں کو کوئی چیز ہلتی نظر آتی تھی تو اسے
‫جادبوچتے تھے۔ وہ تیز رفتار تھے اور ان کی نظریں عقابی تھیں۔ انہوں نے سرحد صحیح معنوں میں مقفل کردی تھی۔
‫یہ دو اڑھائی سال پہلے کی بات تھی۔ ابتداء میں ان دستوں میں جوش اور جذبہ تھا اور کرنے کو ایک کام بھی تھا جو ایک
‫مہم تھی۔ وہ جانفشانی سے اس میں مگن رہے۔ چند مہینوں میں ہی انہوں نے یہ مہم سرکرلی اور فارغ ہوگئے۔ یہ فراغت ان
‫کے جذبے کو دیمک کی طرح کھانے لگی۔ سلطان صالح الدین ایوبی ہر پہلو‪ ،ہر گوشے اور ہر عنصر پر نظر رکھتا تھا لیکن
‫سرحدی دستوں کی بدلی اتنی معمولی سی بات تھی جس پر وہ ذاتی توجہ نہ دے سکا۔ سرحدی دستوں کا شعبہ الگ تھا
‫جس کا کمانڈر ساالر ( جرنیل) کے عہدے کا ایک فرد تھا اور یہ القند تھا۔ یہ اس کے فرائض میں شامل تھا کہ وہ سال میں
‫تین بار نہیں تو دوبار سرحدی دستوں کی بدلی کرتارہتا۔ اس نے یہ بے حد ضروری کارروائی نہ کی۔ اس کوتاہی کے اثرات
‫سامنے آنے لگے۔
‫سپاہی ایک ہی قسم کے ماحول اور فضا میں اور ایک ہی قسم کی زمین پر رہتے اور پہرے دیتے اکتاہٹ محسوس کرنے لگے۔
‫سوڈان خاموش تھا۔ سمگلنگ بند ہوچکی تھی۔ فراغت اور کاہلی سپاہیوں کی نفسیات پر تخریبی اثرات ڈال رہی تھی۔ اس کے
‫لیے کام بھی نہیں تھا اور ان کے لیے تفریح بھی کوئی نہیں تھی۔ موسم میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی۔ ریت کا
‫سمندر اور ریت کے ٹیلے ایک ہی جیسے تھے جیسے صدیوں سے چلے آرہے تھے۔ آسمان کا رنگ ایک ہی جیسا رہتا تھا۔
‫اس کیفیت اور سپاہیوں کی اکتاہٹ کا پہال اثر یہ دیکھنے میں آیا کہ وہ گشتی پہرے پر جاتے تو راہ جاتے مسافروں سے یہ
‫پوچھنے کے بجائے کہ وہ کون ہیں اور کہاں جارہے ہیں اور ان کے پاس کیا ہے‪ ،وہ انہیں روک کر ان سے گپ شپ لگاتے
‫اور ان سے ادھر ادھر کی باتیں پوچھتے۔ یہ دل بہالنے کا ایک ذریعہ تھا۔
‫جن چوکیوں کی ذمہ داری کے عالقے میں کوئی گائوں تھا‪ ،سپاہی وہاں چلے جاتے اور گپ بازی سے دل بہال آتے۔ سرحد کے
‫رکھوالوں کا یہ انداز ملک کے لیے خطرناک تھا مگر وہ سپاہی تھے اور اکتائے ہوئے بھی تھے۔ انسانی فطرت کا تقاضہ تھا کہ
‫وہ کہیں نہ کہیں سے تسکین حاصل کرتے۔ وہاں آتے جاتے مسافر تھے‪ ،رات بھر کے لیے پڑائو کرنے والے قافلے تھے یا کہیں
‫کوئی آباد گائوں تھا۔ وہ ہر کسی کے ساتھ گھل مل گئے۔ مصر کے سرحدی لوگوں پر ان کا جو ڈر تھا وہ دور ہوگیا۔ ان کے
‫کمانڈر بھی سپاہیوں جیسے ہی انسان تھے۔ وہ بھی وقت گزارنے کے اور تفریح کے ذرائع ڈھونڈنے لگے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫جب سلطان صالح الدین ایوبی دمشق کے لیے روانہ ہونے لگا تو اتنی عجلت میں تھا کہ سرحدوں کے متعلق تمام تر ہدایات
‫دینے کے باوجود اس کے ذہن میں یہ نہ آئی کہ پرانے دستوں کی بدلی کے احکام بھی دے دیتا۔ اسے غالبا ً اطمینان ہوگا کہ
‫ان کا کمانڈر‪ ،القند تمام تر ضروریات پوری کرتا رہتا ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے جانے کے بعد العادل نے فوجوں کی
‫کمان لی تو اس نے القند سے پوچھا کہ سرحد پر جو دستے ہیں وہ کب سے اس ڈیوٹی پر ہیں۔ القند نے جواب دیا کہ وہ
‫بہت عرصے سے وہیں ہیں۔
‫کیا سرحد پرمزید دستے بھیجنے کی ضرورت ہے؟'' العادل نے پوچھا… ''اور کیا پرانے دستوں کو قاہرہ بال کر نئے دستے ''
‫''بھیجنے کی ضرورت ہے؟
‫نہیں'' القند نے جواب دیا… ''یہی وہ دستے ہیں جنہوں نے ملک سے اناج‪ ،مویشی اورہتھیار وغیرہ کے چوری چھپے باہر''
‫جانے کو روکا تھا۔ وہ اب سرحد اور ارگرد کے عالقوں کے عادی ہوگئے ہیں۔ وہ اب دور سے مشتبہ انسان کی بو سونگھ کر
‫اسے پکڑ لیتے ہیں۔ ان کی جگہ اگر نئے دستے بھیجے گئے تو پرانے دستوں جیسا تجربہ حاصل کرتے انہیں ایک سال سے
‫زیادہ عرصہ چاہیے۔ ہمیں ایسا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے''۔
‫العادل اس جواب سے مطمئن ہوگیا تھا۔ اسے بتانے واال کوئی نہ تھا کہ یہی القند رات کو اپنے گھر میں بیٹھا کہہ رہا تھا۔
‫''یہ سرحدی دستے بیکار ہوچکے ہیں‪ ،میری یہ کوشش کامیاب ہے کہ میں نے ان کی بدلی نہیں ہونے دی۔ انہوں نے سرحد
‫کے لوگوں کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات پیدا کرلیے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ان کے پیٹ تو بھرے رہتے ہیں‪،
‫کھانے پینے کی انہیں کوئی شکایت نہیں‪ ،میں ان کے لیے ضرورت سے زیادہ خوراک بھیجتا ہوں لیکن ان کی حالت بھوکے
‫بھیڑیوں کی سی ہوگئی ہے۔ کوئی قافلہ گزرتا ہے تو وہ قافلے والوں کی عورتوں کو منہ کھول کر دیکھتے رہتے ہیں۔ اب ہم

‫اپنا کام کرسکتے ہیں''۔
‫وہ جس کے ساتھ باتیں کررہا تھا وہ کوئی سوڈانی تھا جو اس کے ہاں مہمان کے روپ میں آیا ہوا تھا۔ وہ سوڈان سے اس
‫کے لیے تحفے الیا تھا اور ان تحفوں کے ساتھ ایک پیغام بھی تھا۔ اس نے القند کو بتایا تھا کہ سوڈانی تیار ہیں مگر نفری
‫ابھی اتنی زیادہ نہیں ہوئی۔ یہ آدمی پیغام لے کر آیا تھا کہ اس نفری کو کسی طرح مصر میں داخل کرکے چھپا لیا جائے۔
‫اس کے لیے پہلی مشکل یہ تھی کہ انہیں سرحد پار کس طرح کرائی جائے۔ اسی کے جواب میں القند نے کہا تھا کہ مصر
‫کے سرحدی دستے بیکار ہوچکے ہیں… القند ان چند ایک ساالروں میں سے تھا جن پر سلطان صالح الدین ایوبی کو بھروسہ
‫تھا۔ القند نے کبھی شک بھی نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ مصر کی امارت کا وفادار نہیں۔علی بن سفیان تک کو اس نے دھوکے
‫میں رکھا ہوا تھا۔ اس کا یہ کارنامہ کہ اس نے دو اڑھائی سال پہلے سمگلنگ روک دی اور سرحدیں سربمہر کردی تھیں۔ اسے
‫بہت فائدہ دے رہا تھا۔ کوئی بھی نہ جان سکا کہ وہ سرحدوں کا بھیدی بن چکا ہے۔
‫اب سلطان صالح الدین ایوبی مصر سے چال گیا تو القند نے العادل کو یقین دال دیا کہ وہ سوڈان کی طرف سے بے فکر
‫ہوجائے۔ سوڈان کا کوئی پرندہ بھی مصر میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ایسا ہی یقین وہ علی بن سفیان کو بھی دالتا رہا اور سوڈان
‫میں حبشیوں کی ایک فوج مصر پر اس انداز سے حملہ کرنے کے لیے تیار ہوتی رہی کہ حبشی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں
‫مصر میں داخل ہوں گے‪ ،چوری چھپے قاہرہ کے قریب جائیں گے اور ایک رات حملہ کرکے رات ہی رات مصر کی امارات کو
‫قبضے میں لے لیں گے۔
‫٭ ٭ ٭
‫دریائے نیل سوڈان سے گزرتا مصر میں داخل ہوتا ہے۔ آگے مصر کے عالقے میں ایک وسیع جھیل کی صورت اختیار کرلیتا
‫ہے۔ اس کے آگے ایسے عالقے میں داخل ہوتا ہے جو پہاڑی ہے۔ اس سے آگے آبشار کی طرح گرتا ہے۔ اس کے قریب اسوان
‫ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے دور میں اسوان کے گردونواح کی جغرافیائی کیفیت کچھ اور تھی۔ دور دور تک چٹانیں اور
‫پہاڑیاں تھیں۔ ان پر فرعونوں کی خصوصی نظر کرم رہی تھی۔ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر بت بتائے تھے۔ ان میں
‫سب سے بڑے بت ابو سمبل کے تھے بعض چٹانوں کی چوٹیاں تراش کر کسی معبدے گنبد کی شکل کی یا کسی فرعون کا
‫چہرہ بنا دی گئی تھیں۔ پہاڑیوں کے دامن میں غاریں بنائی گئی تھیں جو اندر سے وسیع وعریض تھیں۔ کچھ ایسی تھیں جن
‫کے اندر کمرے‪ ،سرنگوں جیسے راستے اور بھول بھلیاں سی بنا دی گئی تھیں۔
‫کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ فرعونوں نے یہ پراسرار سی دنیا کیوں آباد کی تھی۔ یہ بت تراشتے اور غاریں کھود کر اندر کمرے
‫وغیرہ بناتے تین نسلیں ختم ہوگئی ہوں گی۔ فرعون اس دور کے ''خدا'' تھے۔ رعایا کا کام صرف یہ تھا کہ ان کے آگے
‫سجدے کرے اور ان کا ہر حکم بجا الئے۔ یہ پہاڑ اسی مظلوم اور فاقہ کش رعایا سے کٹوائے گئے تھے۔ آج وہاں کوئی بت
‫نہیں‪ ،کوئی غار نہیں‪ ،کوئی پہاڑ نہیں۔ وہاں اسوان ڈیم کی میل ہا میل وسیع جھیل ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے پہلے
‫ابوسمبل کے اتنے بڑے بڑے بت جو بجائے خود پہاڑ تھے مشینری سے وہاں سے اٹھائے گئے اور فرعونوں کے دور کی یادگاروں
‫کے طور پر کہیں محفوظ کرلیے گئے ہیں۔ ڈائنامیٹ سے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے زمین بوس کردیا گیا تھا۔ اگر فرعون انسان
‫کے ہاتھوں پہاڑوں کو یوں اڑاتا اور زمین سے ملتا دیکھتے تو خدائی کے دعوے سے دستبردار ہوجاتے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے دور میں اس عالقے کے خدوخال کچھ اور تھے۔ ان پہاڑوں کی وادیوں اور غاروں میں ساری دنیا
‫کی فوج کو چھپایا جاسکتا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ذاتی طور پر سرحد کے اس عالقے پر زیادہ توجہ دی تھی جہاں
‫سے دریائے نیل مصر میں داخل ہوتا تھا۔ سوڈانی کشتیوں کے ذریعے مصر میں داخل ہوسکتے تھے۔ اس دریائی راستے پر نظر
‫رکھنے کے لیے ایک چوکی قائم کی گئی تھی جو دریا سے دور تھی۔ چوکی سے دریا نظر نہیں آتا تھا اور دریا سے چوکی نظر
‫نہیں آتی تھی۔ یہ فاصلہ دانستہ رکھا گیا تھا تاکہ دریا سے چوری چھپے گزرنے والے اس خوش فہمی میں مبتال رہیں کہ انہیں
‫دیکھنے اور پکڑنے واال کوئی نہیں۔ دریا پر گشتی پہرے کے ذریعے نظر رکھی جاتی تھی۔ دو گھوڑ سوار ہر وقت گشت پر رہتے
‫تھے اور ان کی ڈیوٹی بدلتی رہتی تھی۔
‫مصر سے سلطان صالح الدین ایوبی کی غیر حاضری کے دنوں کا واقعہ ہے کہ دن کے وقت دریا کی دیکھ بھال والی سرحدی
‫چوکی کے دو گھوڑ سوار گشت پر نکلے اور معمول کے مطابق دور تک نکل گئے۔ ایک جگہ دریا کے کنارے سبزہ زار تھا۔
‫سایہ دار درخت تھے اور یہ جگہ بہت ہی خوبصورت تھی۔ گشت والے سنتری اس جگہ آکر آرام کیا کرتے تھے۔ ایک عرصہ
‫سے انہوں نے کسی سوڈانی کو دریا سے آتے نہیں دیکھا تھا۔ ابتداء میں انہوں نے بہت سے آدمی پکڑے تھے جن میں بعض
‫تخریب کار اور جاسوس تھے۔ اس کے بعد یہ دریائی راستہ ویران ہوگیا تھا۔ اب سنتری صرف ڈیوٹی پوری کرنے آتے اور چوکی
‫کی نظروں سے اوجھل ہوکر بیٹھ جاتے تھے۔
‫ان دوسواروں کا بھی ہی یہ معمول تھا۔ اس معمول سے اب وہ تنگ آگئے تھے۔ دریا کے کنارے اتنی سرسبز جگہ بھی انہیں
‫اچھی نہیں لگتی تھی۔ ہر روز دریا کو دیکھ دیکھ کر وہ اس کے حسن سے اکتا گئے تھے۔ یہاں انہیں باہر کی دنیا کی اگر
‫کوئی چیز نظر آتی بھی تھی تو وہ صحرائی لومڑی تھی جو دریا سے پانی پیتی اور سنتریوں کو دیکھ کر بھاگ جاتی تھی یا
‫ماہی گیروں کی ایک آدھ کشتی نظر آتی تھی۔ وہ ماہی گیروں سے پوچھتے کہ وہ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے یہ
‫پوچھنا بھی بھی چھوڑ دیا تھا اور اس کے بعد ماہی گیروں نے بھی وہاں جانا چھوڑ دیا تھا… اس رورز وہ سنتری گشت کے
‫عالقے میں گئے تو وہ اکتائی ہوئی سی باتیں کررہے تھے۔ جن کا لب لباب یہ تھا کہ اس کے ساتھی قاہرہ‪ ،سکندریہ اور
‫دوسرے شہروں میں عیش کررہے ہیں اور وہ اس جنگل بیابان میں پڑے ہیں۔ ان کے لب ولہجے میں احتجاج تھا اور بے
‫اطمینانی بھی۔
‫وہ اس سرسبز جگہ سے کچھ دور تھے تو انہیں وہاں چار پانچ اونٹ بندھے ہوئے نظر آئے۔ آٹھ دس آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور
‫چار آدمی دریا میں نہا رہے تھے۔ دونوں سوار آگے چلے گئے مگر رک گئے۔ وہ کوئی انسان نہیں ہوسکتے تھے۔ انہیں جس
‫چیز نے حیرت سے زیادہ خوف میں مبتال کردیا تھا وہ یہ تھی کہ دریا میں چار آدمی نہیں بلکہ چار جوان لڑکیاں نہا رہی
‫تھیں۔ وہ قہقہے لگارہی تھیں‪ ،گھوڑ سوار یہ سمجھ کر ڈر گئے کہ یہ جل پریاں ہیں یا آسمان سے اتاری ہوئی پریاں یا
‫فرعونوں کی شہزادیوں کی بدروحیں وہ دونوں رکے رہے اور انہیں دیکھتے رہے۔ انہوں نے وہیں سے واپسی کا ارادہ کرلیا لیکن
‫جو آدمی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ان کی طرف دیکھا۔
‫دو آدمی اٹھ کر ان کی طرف آئے۔ لڑکیوں نے بھی انہیں دیکھ لیا تھا۔ وہ چاروں دریا سے نکل کر کنارے کی خشک اوٹ میں
‫چلی گئیں۔ گھوڑ سواروں کا خوف ذرا کم ہوا۔ وہ آخر فوجی تھے۔ قریب جاکر انہوں نے ان دو آدمیوں سے پوچھا کہ وہ کون
‫ہیں اور یہاں کیا کررہے ہیں۔ دونوں آدمیوں نے جھک کر سالم کیا۔ وہ صحرائی لباس میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قاہرہ

‫کے تاجر ہیں‪ ،بہت سے سرحدی دیہات میں مال فروخت کرکے واپس جارہے ہیں۔
‫قاہرہ جانے کا یہ راستہ تو نہیں''۔ ایک سوار نے کہا۔''
‫لڑکیوں کا شوق ہے کہ دریا کے کنارے کنارے جائیں گے''۔ ایک نے جواب دیا… ''ہم اپنے کام سے فارغ ہوگئے ہیں‪'' ،
‫واپسی کی کوئی جلدی نہیں۔ دو تین راتیں یہیں قیام کریں گے… اگر آپ کو شک ہو تو چل کر ہمارا سامان دیکھ لیں۔ ہمارے
‫پاس بہت ساری رقم ہے۔ وہ بھی دیکھ لیں‪ ،تاکہ آپ کو یقین ہوجائے کہ ہم واقعی مصر کے تاجر ہیں''۔
‫دونوں گھوڑ سوار ان کے ساتھ چل پڑے اور قیام کی جگہ پہنچے تو سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ سب نے جھک کر سالم کیا پھر
‫دونوں کے ساتھ مصافحہ کیا۔ ایک آدمی نے پوچھا کہ وہ ان کا سامان نہیں دیکھیں گے؟ گھوڑ سوار سنتری گھوڑوں سے اتر
‫چکے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا کہ وہ سامان نہیں دیکھیں گے۔ ایک آدمی نے سلطان صالح الدین
‫ایوبی کی فوج کی تعریفیں شروع کردیں۔ پھر انہوں نے ان دونوں کی جوانی‪ ،دلیری اور فرض کی تعریفیں کیں۔ا نہوں نے ایسی
‫کوئی بات نہ کی جس سے ان دونوں کو کوئی شک ہوتا۔ اس دوران چاروں لڑکیاں کپڑے پہن کر اور بال جھاڑ کر آگئی تھیں
‫لیکن وہ شرمائی شرمائی سی پرے ہٹ کر کھڑی رہیں۔ اس ویرانے میں ان سپاہیوں نے دو اڑھائی سال بعد باہر کے چند
‫آدمیوں کی محفل دیکھی اور انہیں عورت ذات نظر آئی۔ ان لڑکیوں میں انہوں نے عورت کا ہر ایک روپ دیکھا… ماں‪ ،بہن‪،
‫بیوی اور وہ عورت بھی جو ماں ہوتی ہے نہ بہن نہ بیوی… دونوں کی نظریں ان لڑکیوں نے گرفتار کرلیں۔ لڑکیاں انہیں دیکھ
‫دیکھ کر شرماتی اور منہ چھپا کر مسکراتی تھیں۔ ان کے شرم وحجاب سے پتا چلتا تھا کہ یہ سب اچھے خاندان کے لوگ
‫ہیں۔
‫یہ دونوں سرحدی سپاہی ان آدمیوں کی باتوں اور خصوصا ً لڑکیوں میں ایسے محو ہوئے کہ اپنی ڈیوٹی بھول گئے۔ سرحدی
‫عالقے میں اتنی مدت سے پڑے رہنے اور فارغ ہونے کے جو برے اثرات تھے‪ ،وہ بڑی خطرناک نفسیاتی تشنگی بن کر ان پر
‫غالب آگئے۔ ایک آدمی دریا کے کنارے برچھی لیے کھڑا مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔ وہ پانی پر دانے سے پھینکتا تھا۔ مچھلیاں اوپر
‫آجاتی تھیں‪ ،وہ اوپر سے برچھی مارتا تو ایک مچھی برچھی کی انی میں پروئی ہوئی باہر آجاتی۔ وہ بہت سی مچھلیاں پکڑ
‫چکا تھا۔ کسی نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ مچھلیاں بھونیں۔ چاروں لڑکیاں دوڑی گئیں۔ انہوں نے آگ جالئی اور مچھلیوں کو
‫کاٹ کر آگ پر رکھ دیا۔گھوڑ سوار سرحدی سپاہی اپنے کھانے سے بھی اکتائے ہوئے تھے۔ ان کا کھانا اچھا ہوتا تھا مگر ہر
‫روز ایک ہی قسم کا کھانا کھا کھا کر وہ اس کھانے سے بھی اکتائے ہوئے تھے۔ دریائے نیل کے کنارے ان کے سامنے بھنی
‫ہوئی مچھلی اور خشک پکا ہوا گوشت رکھا گیا تو دیکھ کر ہی ان پر نشہ طاری ہوگیا۔ سب مل کر کھانے لگے تو کھانا اور
‫زیادہ لذیذ ہوگیا۔ کھانے کے دوران دونوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی ان کے ایک گھوڑے کی گردن اور زین پر ہاتھ پھیرتی اور
‫گھوڑے کو اشتیاق سے دیکھتی تھی۔ لڑکیاں مردوں کے ساتھ کھانے پر نہیں بیٹھی تھیں۔ گھوڑے واال سپاہی لڑکی کو دیکھ رہا
‫تھا جو گھوڑے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ لڑکی نے ادھر دیکھا تو مسکرا کر اس نے منہ پھیر لیا کیونکہ اس گھوڑے کا سوار اسے
‫دیکھ رہا تھا۔ ان سپاہیوں نے اتنی خوبصورت لڑکیاں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔
‫ایک بوڑھے نے سپاہیوں سے کہا… ''ان لڑکیوں نے کبھی گھوڑے کی سواری نہیں کی اور یہ جو لڑکی گھوڑے کے قریب کھڑی
‫ہے گھوڑ سواری کی شوقین ہے لیکن اسے گھوڑے پر بیٹھنے کا کبھی موقع نہیں مال''۔
‫ہم ان چاروں کا شوق پورا کردیں گے''… ایک سپاہی نے کہا۔''
‫کھانے کے بعد وہ سپاہی اٹھا اور اپنے گھوڑے کے پاس چال گیا۔ لڑکی جھینپ کر پرے ہوگئی۔ سپاہی نے اسے کہا… ''آئو۔
‫میں تمہیں سواری کراتا ہوں۔ باری باری چاروں کو گھوڑے پر بٹھا دوں گا''۔
‫کسی نے لڑکی سے کہا… ''ان سے شرمائو نہیں۔ یہ تو تمہاری عزت اور ملک کے رکھوالے ہیں‪ ،یہ نہ ہوں تو صلیبی اور
‫سوڈانی معلوم نہیں تمہارا کیا حشر کریں''۔
‫لڑکی جھجکتی شرماتی گھوڑے کے قریب گئی۔ سپاہی نے اس کا پائوں اٹھا کر رکاب میں ڈاال اور اسے اٹھا کر گھوڑے پر بٹھا
‫دیا۔ سپاہی کو کسی نے آواز دی اور کچھ کہا۔ سپاہی اس طرف متوجہ ہوا۔ اچانک گھوڑا دوڑ پڑا۔ لڑکی کی چیخیں سنائی
‫دیں۔ سپاہی نے گھوم کر دیکھا۔ گھوڑا سرپٹ دوڑا جارہا تھا۔ اس کے اوپر لڑکی ادھر ادھر گرتی اور سنبھلنے کی کوشش کرتی
‫تھی۔ سب نے شور بپا کردیا کہ گھوڑا بے لگام ہوگیا ہے۔ لڑکی گر کر مرجائے گی۔ سپاہی کے قریب اس کے ساتھی کا گھوڑا
‫کھڑا تھا۔ وہ اچھل کر اس گھوڑے پر سوار ہوا اور ایڑی لگا دی۔ لڑکی واال گھوڑا ایک چٹان سے گھوم کر نظروں سے اوجھل
‫ہوگیا۔ سپاہی نے اپنے گھوڑے کی رفتار انتہا تک پہنچا دی۔ اسے معلوم تھا کہ لڑکی گری اور اس کا پائوں رکاب میں پھنسا
‫رہ گیا تو اس کی ہڈیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گی اور گھوڑا اسے گھسیٹ گھسیٹ کر ہڈیوں سے گوشت اتار دے گا۔
‫سپاہی نے گھوڑا چٹان سے موڑا۔ آگے کھلی وادی تھی۔ لڑکی کو گھوڑا اٹھائے دوڑا جارہا تھا۔ کچھ آگے جاکر گھوڑا مڑا اور پھر
‫نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ سپاہی کو لڑکی کی چیخیں اور گھوڑے کے ٹاپو سنائی دے رہے تھے۔ وہ آگے جا کر مڑا۔ اسے گھوڑا
‫نظر نہ آیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اسے اب کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔ نہ گھوڑے کے ٹاپوں نہ لڑکی کی چیخیں۔
‫وہ سمجھا گھوڑا کسی کھڈ میں جاگرا ہے۔ اس نے گھوڑے کی رفتار کم کردی۔ کچھ اور آگے گیا تو ایک اوٹ سے اسے لڑکی
‫کی آواز سنائی دی… ''ادھر… جلدی سے میرے پاس آجائو''۔
‫سپاہی نے ادھر دیکھا تو اس پر خوف طاری ہوگیا۔ گھوڑا کھڑا تھا اور لڑکی اطمینان سے اس پر سوار تھی۔ اس کے چہرے پر
‫ڈر یا گھبراہٹ نہیں بلکہ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ سپاہی نے ایک بار تو ارادہ کرلیا کہ گھوڑے کو ایڑی لگائے اور بھاگ
‫جائے۔ اسے یقین ہوگیا تھا کہ یہ لڑکی شرشراریا بدروح ہے اور اسے دھوکے سے اس ڈھکی چھپی جگہ لے آئی ہے اور اب
‫اس کا خون پی جائے گی لیکن وہ جیسے جکڑ لیا گیا ہو۔ لڑکی کی مسکراہٹ اور اس کے سراپا میں کوئی ایسی قوت تھی
‫جس نے سپاہی کے گھوڑے کا رخ لڑکی کی طرف کردیا۔
‫تم سپاہی ہو‪ ،مرد ہو''۔ لڑکی نے اسے کہا… ''مجھ سے ڈررہے ہو؟''… وہ اس کے قریب گیا تو لڑکی نے اس کا ہاتھ ''
‫اپنے ہاتھ میں لے کر کہا… ''گھوڑا بے لگام نہیں ہوا تھا۔ میں نے اسے خود ایڑی لگائی اور بھگایا تھا اور چیخیں مار کر یہ
‫ظاہر کیا تھا کہ گھوڑا بے لگام ہوگیا ہے اور میں گر پڑوں گی۔ مجھے امید تھی کہ تم میرے پیچھے آئو گے۔ میں اناڑی نہیں
‫شاہ سوار ہوں''۔
‫تم نے یہ دھوکہ کیوں دیا ہے؟'' سپاہی نے پوچھا۔''
‫مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے''۔ لڑکی نے کہا… ''میں یہ باتیں سب کے سامنے نہیں کرسکتی تھی۔ تم نے ان ''
‫آدمیوں میں ایک بوڑھا دیکھا ہے۔ وہ میرا خاوند ہے۔ اس کی عمر دیکھو اور میری جوانی دیکھو۔ میرے ساتھ جو لڑکیاں ہیں۔
‫ان میں سے ایک میری طرح ایک بوڑھے آدمی کی بیوی بنا دی گئی ہے۔ تم جانتے ہو کہ لڑکی کو جس کے ساتھ باندھ دو

‫وہ بول نہیں سکتی۔ یہ بوڑھا مجھے خوش کرنے کے لیے اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ یہ سب تاجر ہیں۔ ہمیں بھی اپنے ساتھ
‫لیے پھرتے ہیں''۔
‫دوسری دو لڑکیاں کون ہیں؟'' سپاہی نے پوچھا۔''
‫وہ دونوں شادی شدہ ہیں''… لڑکی نے جواب دیا… ''ان کے خاوند جوان ہیں وہ انہیں سیر سپاٹے کے لیے ساتھ التے ''
‫ہیں‪ ،تم میری مدد کرو''۔
‫اگر یہ لوگ تمہیں اغوا کرکے الئے ہوتے تو میں ان سب کو چوکی لے جاتا''… سپاہی نے کہا… ''تم اس کی بیوی ''
‫ہو''۔
‫میں نے اسے اپنا خاوند تسلیم نہیں کیا''… لڑکی نے کہا… ''تمہیں دیکھا ہے تو میرے دل میں اس بوڑھے کی نفرت اور ''
‫زیادہ گہری ہوگئی ہے''… اس نے جذباتی لہجے میں کہا… ''تمہیں پہلی نظر میں دیکھ کر میرے دل سے آواز آئی کہ یہ ہے
‫تمہارا خاوند‪ ،خدا نے تمہیں اس خوبرو جوان کے لیے پیدا کیا ہے''۔
‫میں اتنا خوبصورت نہیں جتنا تم نے کہا ہے''… سپاہی نے کہا… ''تم مجھے کیوں دھوکہ دے رہی ہو؟ تمہارے دل میں کیا''
‫''ہے؟
‫خدا جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے''… لڑکی نے مایوس سے لہجے میں کہا… ''وہی تمہارے دل میں رحم ڈالے گا۔ ''
‫اگر تم میرے دل کی آواز کو دھوکہ سمجھتے ہوتو میں اپنے خاوند کے پاس نہیں جائوں گی۔ گھوڑے کو ایڑی لگائوں گی اور
‫سیدھی دریا میں گھوڑے سمیت کود جائوں گی۔ خدا سے جاکر کہوں گی کہ تم میرے قاتل ہو''۔
‫وہ ایک تشنہ سپاہی تھا۔ سرحد کی ڈیوٹی سے اکتایا ہوا تھا۔ وہ سلطان صالح الدین ایوبی‪ ،علی بن سفیان یا العادل نہیں
‫تھا۔ وہ سپاہی تھا‪ ،جوان تھا اور یہی اس کی شخصیت تھی۔ لڑکی کے حسن وشباب اور اس کے انداز اور اس کی باتوں نے
‫اسے موم کردیا۔ البتہ اس احساس کا اس نے اظہار کردیا… ''میں کمتر سپاہی ہوں اور تم شہزادیوں سے کم نہیں۔ تم مخمل
‫سے نکل کر میرے ساتھ اس ریت پر اور ان چٹانوں میں زندہ نہیں رہ سکو گی''۔
‫اگر خواہش مخمل اور دولت کی ہوتی تو اس بوڑھے خاوند سے بہتر میرے لیے کوئی خاوند نہیں ہوسکتا تھا''۔ لڑکی نے ''
‫کہا… ''اس نے اپنی دولت میرے قدموں میں ڈال رکھی ہے لیکن میں کسی سپاہی کی بیوی بننا چاہتی ہوں۔ میرا باپ بھی
‫سپاہی ہے‪ ،دو بڑے بھائی بھی سپاہی ہیں۔ وہ دمشق اور شام کے محاذ پر سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں ہیں۔ مجھے
‫اس بوڑھے کے حوالے میری ماں نے کیا ہے۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ میری خوبصورتی میری بدنصیبی کا باعث بنی ہے۔ میں شاہ
‫سوار ہوں‪ ،یہ میرے خاوند کو معلوم نہیں۔ ہمارے خاندان کی دولت یہی عسکری روایات ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ خواہش کی ہے
‫کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہوجائوں اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی سپاہی کے ساتھ شادی کرلوں۔ تم ریت
‫اور چٹانوں کی باتیں نہ کرو۔ میں اس ریت کی پیداوار ہوں اور جب میرا خون اسی ریت میں جذب ہوجائے گا تو میری روح
‫مطمئن ہوکر خدا کے حضور جائے گی''۔
‫''میں تمہاری مدد کس طرح کرسکتا ہوں؟''
‫آئو'' لڑکی نے کہا… ''آہستہ آہستہ واپس چلتے ہیں۔ وہ لوگ ہمارے پیچھے آرہے ہوں گے۔ راستے میں تمہیں بتائوں گی ''
‫کہ میں نے کیا سوچا ہے''… و ہ چل پڑے۔ لڑکی نے کہا… ''میں تمہیں یہ نہیں کہوں گی کہ مجھے اپنے ساتھ لے چلو‪،
‫یہ جرم ہوگا۔ میرا خاوند قاضی کے پاس چال جائے گا اور ہم دونوں سزا پائیں گے۔ پہلے اس خاوند سے آزاد ہونا ہے۔ اس کا
‫ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے ایسے طریقے سے قتل کیا جائے کہ یہ قتل نہ لگے۔ قتل تم نہیں کرو گے‪ ،میں کروں گی۔ ہوسکتا
‫ہے اسے شراب میں کچھ مال کر پال دوں اور رات کو دریا کے کنارے لے جا کر دھکا دے دوں اور کہوں کہ وہ نشے میں دریا
‫میں اتر گیا تھا۔ اس کے لیے دوچار روز انتظار کرنا پڑے گا۔ میں اسے یہیں رکھوں گی''۔
‫تمہارے پاس کوئی زہر ہے؟''… سپاہی نے پوچھا۔''
‫لڑکی نے قہقہہ لگایا اور کہا… ''تم بدھو سپاہی ہو۔ میں قاہرہ کے دور اپور کے عالقے کی رہنے والی ہوں جس میں سے یہ
‫دریا گزرتا ہے۔ ہماری خوراک مچھلی ہے۔ مچھلی کا پتہ زہر سے بھرا ہوتا ہے۔ تم نے دیکھا ہے کہ ہم یہاں بھی مچھلیاں
‫پکڑتے ہیں۔ میں مچھلی کا پتہ الگ کرکے چھپالوں گی اور اس میں سے چند قطرے بوڑھے کی شراب میں مال دوں گی پھر
‫اسے سیر کے بہانے دریا کے کنارے لے جائوں گی''۔
‫''پھر میں تمہیں کس طرح لے جائوں گا؟''
‫وہ مرگیا تو میں آزاد ہوں گی''۔ لڑکی نے جواب دیا… ''میں سب سے کہہ دوں گی کہ تم میں سے کوئی بھی میرا ''
‫وارث نہیں جو مجھے اپنی مرضی کی شادی سے روکے۔ میں تمہارے ساتھ چلی جائوں گی۔ تم مجھے اپنے گھر بھیج دینا… اور
‫''سنو تم مجھے ملتے رہنا۔ اب چلے جائو گے تو پھر کب آئو گے؟
‫میں صرف گشت پر آسکتا ہوں''… سپاہی نے جواب دیا… ''چوکی دور ہے۔ گشت کے بغیر ہم گھوڑا استعمال نہیں ''
‫کرسکتے۔ میری گشت اسی ساتھی کے ساتھ کل رات کے دوسرے پہر ہوگی۔ میں یہیں آجائوں گا''۔
‫ذرا دور رہنا''… لڑکی نے کہا… ''میں تمہیں راستے میں ملوں گی۔ کہیں چھپ کر بیٹھ جائیں گے''۔ لڑکی نے اس کا ''
‫ہاتھ پکڑ لیا۔ سپاہی نے اس کی طرف دیکھا تو لڑکی نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ سپاہی کے تمام شکوک رفع
‫ہوگئے۔ اس نے لڑکی کا ہاتھ دل پر رکھ کر دبایا۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ جب اس جگہ پہنچے جہاں سے لڑکی کا گھوڑا چٹان کی اوٹ میں ہوگیا تھا‪ ،انہیں تمام آدمی نظر آئے۔ وہ اسی طرف
‫دیکھ رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر وہ ان کی طرف دوڑ پڑے۔ دونوں گھوڑوں سے اترے۔ لڑکی کا بوڑھا خاوند سپاہی کے ساتھ لپٹ
‫گیا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ دوسرے آدمیوں نے بھی والہانہ انداز سے اس کا شکریہ ادا کیا۔ لڑکی نے انہیں جھوٹ موٹ
‫کی کہانی سنا دی اور کہا کہ اس سپاہی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے بچایا ہے‪ ،ورنہ گھوڑا اسے کسی پتھریلے کھڈ
‫میں گرا کر مار دیتا۔
‫دونوں سپاہی چوکی کو واپس روانہ ہوئے۔ راستے میں اس سپاہی نے اپنے ساتھی کو بتایا کہ اصل واقعہ کیا ہوا ہے۔ اس کے
‫ساتھی کے دل میں رشک سا پیدا ہوا لیکن اس نے بتایا کہ اس کی غیرحاضری میں ایک لڑکی عجیب سی نظروں سے اسے
‫دیکھتی تھی۔ یہ سپاہی اپنے ساتھی کے پیچھے جانا چاہتا تھا مگر پیدل پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ باقی آدمی پیچھے کھڑے
‫رہے۔ وہ بہت آگے چال گیا۔ دو لڑکیاں بھی آگے گئیں جن میں سے ایک اس کے ساتھ باتیں کرنے لگی۔ باتوں باتوں میں
‫لڑکی نے اس سپاہی کے ساتھ محبت کا اظہار کیا اور اس سے پوچھا کہ وہ اسے پھر کب ملے گا۔ اس نے لڑکی کو بتایا کہ

‫وہ کل رات کے دوسرے پہر گشت پر آئے گا۔ اس لڑکی نے اسے بتایا کہ اسے ایک بوڑھے کے ساتھ بیاہ دیا گیا ہے اور وہ
‫اس کے ساتھ بھاگنا چاہتی ہے۔
‫دونوں کی کہانی ایک جیسی تھی۔ انہوں نے اس مسئلہ پر غور کرنا شروع کردیا کہ وہ لڑکیوں کو کس طرح اپنے ساتھ لے
‫جائیں گے۔ وہ دونوں اس پر بھی غور کرنے لگے کہ اگر لڑکیاں اپنے خاوندوں کو قتل نہ کرسکیں تو وہ انہیں قتل کریں اور
‫کس طرح کریں گے… دونوں سپاہی بڑے ہی حسین تصورات میں خمار کی کیفیت میں اپنی چوکی پر پہنچے۔ انہوں نے اپنے
‫کمانڈر کو رپورٹ دی کہ فالں جگہ قاہرہ کے تاجروں کا قافلہ رکا ہوا ہے جس کے سامان کی تالشی لی گئی ہے اور ہر طرح
‫اطمینان کرلیا گیا ہے کہ وہ مشتبہ اور مشکوک لوگ نہیں۔ ان سپاہیوں نے لڑکیوں کا ذکر بھی کیا۔ چوکی کے کمانڈر نے رپورٹ
‫کے پہلے حصے کو توجہ سے نہیں سنا تھا۔ جب لڑکیوں کا ذکر آیا تو اس نے دلچسپی لینی شروع کردی۔ لڑکیوں کی تعداد‪،
‫عمر‪ ،شکل وصورت‪ ،قدبت‪ ،رنگ روپ غرض اس نے کوئی بات نہ رہنے دی۔ سپاہیوں نے اس کے اس رویے کو محسوس کیا
‫اور خاموش رہے۔
‫چوکی میں ایک اور چوکی کا سپاہی بیٹھا تھا۔ وہ چوکی وہاں سے آٹھ دس میل دور تھی۔ اس کے کمانڈر نے اس سپاہی کو
‫اس پیغام کے ساتھ بھیجا تھا کہ آج شام کے بعد میری چوکی میں آنا‪ ،ضروری کام ہے۔ کمانڈر نے یہ پیغام النے والے سپاہی
‫کو یہ کہہ کر روک لیا تھا کہ اکٹھے چلیں گے۔
‫سورج غروب ہوتے ہی کمانڈر سپاہی کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ دوسری چوکی پر پہنچا تو شام گہری ہوچکی تھی۔ یہ چوکی ہری
‫بھری جگہ تھی۔ وہاں اس شام کچھ اور ہی رونق تھی۔ چوکی کے تمام سپاہی جو ڈیوٹی پر نہیں تھے‪ ،چوکی کے باہر گول
‫دائرے میں بیٹھے تھے۔ مشعلیں جل رہی تھیں۔ چوکی کا کمانڈر وہاں نہیں تھا۔ اس کے خیمے میں گئے۔ وہاں دو لڑکیاں
‫بیٹھی تھیں اور تین صحرائی آدمی بھی تھے۔ ان کے قریب ساز اور دف پڑے تھے۔ مہمان کمانڈر کے آتے ہی کھانا چنا گیا…
‫سب کھا چکے تو چوکی کے کمانڈر کے کہنے پر سازندے اور لڑکیاں باہر چلی گئیں۔ دوسری چوکی کے کمانڈر نے پوچھا کہ یہ
‫کون لوگ ہیں اور باہر کیا ہورہا ہے۔
‫یہ لڑکیاں ناچنے والی ہیں''۔ کمانڈر نے جواب دیا… ''اور ان کے ساتھ سازندے ہیں‪ ،یہاں سے گزر رہے تھے۔ پانی پینے ''
‫کے لیے رکے تو میں نے انہیں بٹھا لیا۔ لڑکیاں اچھی لگیں‪ ،میں نے انہیں کھانابھی کھالیا۔ یہ کہیں جارہے تھے‪ ،میرے کہنے
‫پر رک گئے۔ آج رات انہیں یہیں رکھوں گا''۔
‫مجھے یہ سلسلہ اچھا نہیں لگا''۔ دوسرے کمانڈر نے کہا… ''سرحد پر آکر یہ عیاشی سپاہیوں کو خراب کرے گی''۔''
‫اس کے بغیر سپاہی زیادہ خراب ہورہے ہیں''۔ میزبان کمانڈر نے کہا… ''ایک ہمارے وہ ساتھی ہیں جو شہروں میں عیش''
‫کررہے ہیں‪ ،ایک ہم ہیں جو معلوم نہیں کب سے یہاں بو گیر کتوں کی طرح آوارہ پھر رہے ہیں۔ کیا تمہیں سپاہیوں نے کبھی
‫''پریشان نہیں کیا کہ ان کی جگہ دوسرے دستے الئے جائیں؟
‫میری چوکی میں تو دو سپاہی آپس میں لڑ بھی چکے ہیں''۔ مہمان کمانڈر نے کہا… ''اب تو سپاہیوں کو معمولی سی ''
‫بات پر غصہ آجاتا ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سپاہی انہیں چیخ چیخ کر داد دے رہے تھے‪ ،تین چار سپاہیوں نے لڑکیوں کی طرف پیسے پھینکے جو لڑکیوں نے یہ کہہ کر
‫واپس کردئیے کہ وہ وطن کے محافظوں سے پیسے نہیں لیں گی۔ ان کے سازندوں نے بھی سپاہیوں سے کہا کہ اگر وہ ناچ
‫گانے سے خوش ہوتے ہیں تو انہیں جب بھی بالیا جائے گا وہ بال اجرت آجایا کریں گے… ان تماشائیوں میں دو کمانڈر تھے۔
‫ان کے عہدے کوئی زیادہ اونچے تو نہیں تھے پھر بھی وہ ذمہ دار افراد تھے اور وہ دونوں اپنی ذمہ داریوں کو بھول چکے
‫تھے۔ انہوں نے یہ معلوم کرنے کی بھی کوشش نہ کی کہ ناچنے گانے والی یہ پارٹی آئی کہاں سے ہے اور جا کہاں رہی ہے
‫اور جو کچھ سازندوں نے اپنے متعلق بتایا ہے‪ ،وہ صحیح بھی ہے یا نہیں۔ کمانڈروں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ تماشائیوں میں
‫مصر کے صحرائی لباس میں جو چند ایک آدمی بیٹھے ہیں وہ کون ہے اور کہاں سے آئے ہیں… اور ان کمانڈروں نے یہ بھی
‫نہ دیکھا کہ چوکی کے چار سپاہی گشتی پہرے سے جلدی واپس آگئے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے چار سپاہی پہرے کے لیے
‫گئے ہی نہیں۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:12
‫قسط نمبر۔‪78‫جب خدا زمین پر اتر آیا
‫دوسرے چار سپاہی پہرے کے لیے گئے ہی نہیں۔ چوکی سے کچھ دور رات کی طرح سیاہ چہروں والے کم وبیش پچاس آدمی
‫ایک دوسرے کے پیچھے سوڈان کی طرف سے آرہے تھے۔ دو آدمی ان سے بہت آگے تھے۔ پیچھے والے تھوڑا سا چل کر رک
‫جاتے تھے۔ آگے والے دو آدمی اندھیرے میں ادھر ادھر دیکھتے‪ ،رات کی آوازوں کو سننے کی کوشش کرتے اور گیڈروں کی طرح
‫بولتے‪ ،پیچھے والے اس آواز پر آگے چل پڑتے۔ دور چوکی سے سازوں کے دھیمے دھیمے نغمے سرحد کی خاموش فضا میں
‫بکھر رہے تھے… آگے چٹانی عالقہ آگیا۔ سیاہ چہروں والے کالے کالے سائے چٹانوں میں غائب ہوگئے۔ ان کے پاس برچھیاں
‫تھیں‪ ،تلواریں اور خنجر بھی تھے اور ہر ایک نے چار چار پانچ پانچ کمانیں اور تیروں کا وزنی خزانہ اٹھا رکھا تھا۔
‫ان کے استقبال کے لیے وہاں تین چار آدمی موجود تھے۔ ان میں سے کسی نے آنے والی پارٹی کے سردار سے ہنس کر کہا…
‫''لڑکیوں نے کام کردیا ہے''۔
‫ہاں!''… سردار نے کہا… ''ہم ان کے سازوں کے نغمے سنتے آئے ہیں۔ میں نے دس بارہ آدمی وہاں تماشائیوں کے بھیس''
‫میں بھیج دئیے تھے۔ ان میں سے ایک نے آکر اطالع دی تھی کہ محفل گرم ہوگئی ہے اور راستہ صاف ہے۔ گشتی سنتری
‫بھی ناچ گانے میں چلے گئے ہیں''۔
‫نیل سے بھی اچھی اطالع ملی ہے''… استقبال کرنے والوں میں سے ایک نے کہا… ''ان لوگوں نے لڑکیوں سے صحیح ''
‫کام لیا ہے۔ دو سپاہیوں کو جوکل رات اس طرف پہرے پر ہوں گے‪ ،پھانس لیا گیا ہے۔ میں نے اطالع بھیج دی ہے۔ کل رات
‫کم از کم تین بڑی کشتیاں آجائیں گی''۔
‫وہ آگے چل پڑے۔ چٹانیں اونچی ہوتی گئیں۔ آگے پہاڑیاں آگئیں۔ سردار رک گیا اور اس نے ساری پارٹی کو بھی روک دیا۔ اس
‫نے استقبال کرنے والوں سے سرگوشی میں کہا… ''یہ نہ بھولنا کہ یہ سب حبشی ہیں‪ ،ان کا مذہب عجیب وغریب ہے اور
‫ان کی عادتیں اور رسومات تمہیں حیران کردیں گی۔ احتیاط کرنی ہے کہ یہ جیسی کیسی مضحکہ خیز حرکت کریں اسے
‫احترام کی نگاہ سے دیکھنا۔ ہم انہیں مذہب کے نام پر الئے ہیں۔ انہیں جھانسہ دیا ہے کہ انہیں اس جگہ لے جارہے ہیں

‫جہاں خدا رہتا ہے۔ وہ خدا جو ریت کو پیاسا رکھتا‪ ،سورج کو آگ دیتا اور آسمان سے بجلی اور پانی برساتا ہے۔ ایک مشکل
‫پیش آئے گی۔ یہ لوگ جنگ سے پہلے انسانی قربانی دینے کے قائل ہیں''۔
‫یہ ان کا سردار بتائے گا کہ قربانی مرد کی دینی ہے یا عورت کی یا ایک مرد اور ایک عورت کی۔ اگر ہم نے ان کی یہ
‫رسم پوری کردی تو پھر انہیں لڑائی میں دیکھنا‪ ،قاہرہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کی یہ فوج
‫ان کے سامنے ایک دن سے زیادہ نہ ٹھہر سکے گی۔
‫سردار نے سب سے کہا… ''سجدے میں گر پڑو‪ ،تم خدا کے گھر میں آگئے ہو''… سب سجدے میں گر پڑے۔ سردار کے
‫کہنے پر اٹھے اور سردار کے پیچھے چل پڑے۔
‫یہ سوڈانی حبشی تھے جنہیں مصر میں داخل کیا جارہا تھا۔ انہیں چھپانے کے لیے اس پہاڑی خطے کا انتخاب کیا گیا تھا۔
‫فرعونوں کے وقتوں کی غار جو دراصل زمین دوز عمارتیں تھیں‪ ،بہت بڑی فوج کو گھوڑوں اور اونٹوں سمیت چھپا سکتی تھیں۔
‫سوڈان میں خونخوار حبشیوں کو ان کے مذہب اور توہم پرستی کے ذریعے اکٹھا کرکے فوجوں کے خالف لڑنے کی ٹریننگ دی
‫جارہی تھی۔ لڑنے کے تو وہ ماہر تھے۔ ان کے قبیلوں کی جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ تیر اندازی اور نشانے پر برچھی پھینکنے
‫کے وہ ماہر تھے۔ سوڈان کے حکمرانوں نے صلیبیوں سے معاہدہ کرکے بہت سے صلیبی فوجی افسروں کو بال لیا تھا۔ وہ ان
‫حبشیوں کو منظم اور باقاعدہ کمانڈ کے تحت لڑنے کی ٹریننگ دے رہے تھے‪ ،اس سے پہلے سوڈانی فوج دوبار شکست کھا
‫چکی تھی۔ تیسری جنگ اس وقت ہوئی تھی جب سلطان صالح الدین ایوبی کے بھائی تقی الدین نے سوڈان پر حملہ کیا تھا۔
‫سوڈانیوں نے یہ حملہ ناکام کرکے تقی الدین کی فوج کو بری طرح بکھیر دیا تھا۔ تقی الدین سلطان صالح الدین ایوبی کی مدد
‫سے اپنی بچی کھچی فوج واپس لے آیا تھا۔ اس میں سوڈانیوں کی ناکامی یہ تھی کہ انہوں نے تقی الدین کا تعاقب نہ کیا
‫اور مصر پر حملہ نہ کیا۔ اگر سوڈانی تعاقب کرتے تو تقی الدین کی فوج اتنی تھکی ہاری تھی کہ مصر کو سوڈانیوں سے بچا
‫نہ سکتی۔
‫ان ناکامیوں کو دیکھتے ہوئے صلیبیوں نے سلطان صالح الدین ایوبی کا طریقہ جنگ آزمانے کی سکیم بنائی تھی۔ انہوں نے دیکھ
‫لیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کم سے کم نفری سے زیادہ سے زیادہ فوج پر شب خون قسم کا حملہ کرتا اور جم کر
‫لڑنے کے بجائے اپنے دستوں کو گھما پھرا کرلڑاتا اور بڑی سے بڑی گٹھی ہوئی فوج کو بکھیر دیتا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم
‫تھا کہ اس قسم کے حملے کے لیے بڑی ہی سخت ٹریننگ اور خاص قسم کے سپاہیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام قسم کی
‫فوج صرف ہجوم کی صورت میں لڑ سکتی ہے چنانچہ انہوں نے حبشی قبائل میں جنگی جنون پیدا کرکے تھوڑی سی فوج تیار
‫کرلی تھی اور انہیں شب خون کی ٹریننگ دی تھی۔ وہ قاہرہ والوں کو بے خبری میں دبوچ لینا چاہتے تھے۔ اب سلطان صالح
‫الدین ایوبی مصر میں نہیں تھا۔ انہیں یقین تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی غیر حاضری میں وہ میدان مار لیں گے۔
‫انہیں اس حملے کی کمان کے لیے ایک ایسے جرنیل کی ضرورت تھی جو مصر کی فوج کا ہوتا کہ وقت اور قوت کم سے کم
‫صرف ہو اور حملہ صحیح ٹھکانوں پر ہو۔ ان کی یہ ضرورت سلطان صالح الدین ایوبی کے ساالر القند نے پوری کردی تھی۔
‫سوڈان کے حبشیوں کی فوج کو چھپانے کے انتظامات القند نے ہی کیے تھے۔ اس نے مصری فوج کے چار پانچ جونیئر کمانڈر
‫بھی اپنے ساتھ مال لیے تھے۔ جاسوسوں کے ذریعے اس کا رابطہ سوڈان کے ساتھ تھا۔ اب یہ فوج مصر میں داخل ہورہی
‫تھی۔
‫رات گئے تک چوکی پر ناچ گانا ہوتا رہا۔ دوسری چوکی کا کمانڈر وہاں سے اپنی چوکی کے لیے روانہ ہونے لگا تو اس نے
‫اس چوکی کے کمانڈر سے کہا کہ وہ ان لوگوں سے کہے کہ کل رات اس کی چوکی پر آئیں۔ سازندے مان گئے۔ انہیں اورجانا
‫ہی کہاں تھا۔ وہ تو سوڈانیوں بلکہ القند کے بھیجے ہوئے لوگ تھے۔ یہ تو انہوں نے جھوٹ بوال تھا کہ وہ کسی کے بالوے پر
‫اس کے گائوں جارہے تھے۔ ان کے ذمے یہی کام تھا کہ ان دو چوکیوں پر پانی پینے کے بہانے رکیں اور ایسی باتیں کریں کہ
‫چوکیوں کے کمانڈر ان کے جال میں آجائیں۔ ناچنے والی لڑکیاں دل کش تھیں‪ ،کمانڈر ان کے جال میں آگیا۔ اس نے دریا والی
‫چوکی کے کمانڈر کو بھی بال لیا… اور پچاس حبشی سرحد پار کرکے پہاڑیوں کے پیٹ میں غائب ہوگئے۔
‫اگلی رات دونوں رقاصائیں دریا والی چوکی پر جا پہنچیں اور وہاں بھی رونق پیدا کی گئی جو اس چوکی پر کی گئی تھی۔
‫رات کے دوسرے پہر دریا کے ساتھ ساتھ گشت کرنے والے دو سپاہی واپس آگئے۔ ان کی جگہ دوسرے دو سپاہی روانہ ہونے
‫لگے۔ انہیں ساتھیوں نے کہا کہ وہ یہ رونق چھوڑ کر نہ جائیں۔ کمانڈر اس وقت لڑکیوں اور ان کے رقص میں مست ہے لیکن
‫وہ دونوں یہ کہہ کر چل پڑے کہ وہ اپنے فرض میں کوتاہی نہیں کرنا چاہتے۔ یہ وہی دوسپاہی تھے جنہیں دو لڑکیوں نے
‫محبت کا اظہار کرکے کہا تھا کہ وہ اپنے بوڑھے خاوندوں سے نجات حاصل کرکے ان کے ساتھ جانا چاہتی ہیں۔ انہیں فرض کا
‫اتنا خیال نہیں تھا جتنا ان لڑکیوں کے پاس پہنچنے کا اشتیاق تھا۔ لڑکیوں نے انہیں کہا تھا کہ وہ انہیں ملیں گی۔
‫اس سے پہلے وہ آہستہ آہستہ چلتے‪ ،رکتے اور چلتے تھے مگر اس رات چوکی سے ذرا دور ہوتے ہی انہوں نے گھوڑے دوڑا
‫دئیے۔ ایک جگہ گھوڑے روک کر اترے اور آہستہ آہستہ چلتے الگ الگ ہوگئے۔ دونوں لڑکیوں مختلف جگہوں پر ان کا انتظار
‫کررہی تھیں۔ وہ دونوں کو دریا سے دور چٹانوں میں لے گئیں۔ دونوں نے ان پر اپنے حسن وجوانی اور محبت کا طلسم طاری
‫کردیا اورخاوندوں کے قتل کی سکیمیں بنتی رہیں۔ دونوں نے کہا کہ وہ اپنے خاوندوں کو شراب میں خواب آور سفوف پال کر
‫سال آئی ہیں۔ دونوں سپاہی ایک چٹان کے اس طرف دوسرا کہیں اور‪ ،صرف فرض کو ہی نہیں گردوبیش کو اور دنیا کو بھی
‫فراموش کیے بیٹھے تھے۔
‫اس جگہ سے تھوڑی دور آگے جہاں ان سپاہیوں نے تاجروں کے قافلے کو بیٹھے دیکھا تھا۔ دریا کے کنارے چار سائے ادھر ادھر
‫حرکت کررہے تھے۔ دریا کی ہلکی ہلکی لہریں جلترنگ بجا رہی تھیں۔ یہ آدمی پانی کی سطح پر تاریکی میں دور دیکھنے کی
‫کوشش کررہے تھے۔ وہ بے چین ہوئے جارہے تھے۔ ایک نے کہا… ''انہیں اس وقت تک آجانا چاہیے تھا''… دوسرے نے کہا…
‫''انہیں اطالع تو دے دی گئی تھی''۔ ایک نے آنکھیں سکیڑ کر کہا… ''وہ بادبان معلوم ہوتے ہیں''… اس نے ایک دیا
‫جال کر آہستہ آہستہ دائیں بائیں ہالنا شروع کردیا۔ دریا میں دور دو دیئے جلتے نظر آئے اور بجھ گئے۔
‫تھوڑی دیر بعد ایک بادبانی کشتی کنارے کے ساتھ آلگی۔ کنارے پر کھڑے ایک آدمی نے کہا… ''کسی کی اونچی آواز نہ
‫نکلے''… مکمل خاموشی سے سیاہ کالے حبشی کشتی سے کنارے پر کودنے لگے۔ اس کے پہلو میں ایک اور کشتی
‫آرکی۔ اس میں سے بھی حبشی اترے۔ یہ بہت بڑی کشتیاں تھیں۔ ان میں سے کم وبیش دو سو حبشی اترے۔ پھر ان میں
‫سے سامان اترنے لگا۔ یہ سب جنگی سامان تھا۔ جونہی کشتیاں خالی ہوئیں مالحوں سے کہا گیا کہ بہت تیزی سے کشتیاں
‫واپس لے جائیں۔ مالحوں نے بادبانوں کے رسے کھینچے‪ ،رخ بدلے اور کشتیاں ساحل سے ہٹ کر اندھیرے میں غائب ہوگئیں…
‫اور حبشیوں کی یہ کھیپ بھی چٹانوں میں سے ہوتی ہوئی پہاڑیوں میں گئی اور غائب ہوگئی۔

‫٭ ٭ ٭
‫یہ دونوں سپاہی واپس آئے تو چوکی پر ناچ گانے کی محفل ختم ہوگئی تھی۔ سپاہی اپنے اپنے خیموں کو جارہے تھے۔ ناچنے
‫گانے والوں کے لیے کمانڈر نے الگ خیمہ کھڑا کردیا تھا۔ اسے ایک لڑکی کچھ زیادہ ہی اچھی لگی۔ وہ چہرے مہرے سے
‫معصوم سی لگتی تھی۔ کمانڈر نے یہ سوچ کر کہ یہ پیشہ ور لوگ ہیں۔ سازندوں سے کہا کہ اس لڑکی کو وہ اس کے خیمے
‫میں بھیج دیں۔ یہ لوگ دراصل جاسوس اور تخریب کار تھے۔ ان کا مشن ہی یہی تھا کہ ان دو چوکیوں کو اپنے جال میں
‫الجھائے رکھیں اور ان کے کمانڈروں کو اپنے ساتھ رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اس کی خواہش فورا ً پوری کردی گئی۔
‫رقاصہ اس کے ساتھ خیمے میں چلی گئی۔
‫کمانڈر ادھیڑ عمر تھا ور لڑکی نوجوان۔ خیمے میں جاکر لڑکی کی شوخی ختم ہوگئی۔ وہ تو ناچنے کودنے والی اور بڑی ہی
‫پیاری مسکراہٹ سے تماشائیوں کا دل بہالنے والی رقاصہ تھی۔ باہر کی مشعلیں بجھ چکی تھیں۔ خیمے میں دیا جل رہا تھا۔
‫لڑکی ایک طرف بیٹھ کر کمانڈر کو گہری نظروں سے دیکھنے لگی۔
‫میں نے کبھی شراب نہیں پی''… کمانڈر نے کہا۔''
‫میرے باپ نے بھی کبھی شراب نہیں پی تھی''… رقاصہ نے کہا… ''تم نے شراب کا نام کیوں لیا ہے؟ میں نے تو نہیں''
‫کہا تھا کہ شراب پیو۔ تم شاید یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہمارے پاس شراب بھی ہوگی اور میں الکر تمہیں پالئوں گی''۔
‫کہتے ہیں شراب کے بغیر عورت اور عورت کے بغیر شراب بے مزہ اور پھیکی ہوتی ہے''… کمانڈر نے مسکرا کر کہا… ''
‫''میں شراب کے ذائقے سے واقف نہیں اور میں غیرعورت کی چاشنی سے بھی آشنا نہیں''۔
‫پھر تم اناڑی گناہ گار ہو''… رقاصہ نے سنجیدگی سے کہا… ''میں تم سے کوئی نقد اجرت نہیں لوں گی۔ میری ایک بات''
‫مان لو تو میں اسی کو ساری رات تمہارے ساتھ گزارنے کی اجرت سمجھوں گی… بات یہ ہے کہ گناہ میں وہ چاشنی نہیں
‫جو گناہ نہ کرنے میں ہے۔ تم مرد ہو۔ اس تنہائی میں جب ایک جوان لڑکی تمہارے پاس ہے تمہیں میری یہ بات عجیب
‫لگے گی۔ تم میری بات مانو گے نہیں۔ ذرا غور کرو۔ تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کہ تم نے آج پہلی بار گناہ کا ارادہ کیا ہے۔
‫رات اتنی سرد ہے مگر تمہارے ماتھے پر مجھے پسینے کے قطرے سے نظر آرہے ہیں''۔
‫تم ٹھیک کہہ رہی ہو''… ادھیڑ عمر کمانڈر نے کہا… ''ہمیں جب فوجی تربیت دی گئی تھی تو گناہوں سے بچنے کے ''
‫طریقے بھی بتائے گئے تھے۔ جنگی اور جسمانی تربیت کے ساتھ روحانی اور اخالقی تربیت بھی شامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے
‫کہ سلطان صالح الدین ایوبی ایک سو سپاہیوں سے ایک ہزار صلیبیوں کو خون میں نہال دیتا ہے''۔
‫لیکن ایک کمزور سی لڑکی نے تم سے ہتھیار ڈلوا لیے ہیں''… رقاصہ نے کہا… ''تم اتنی لمبی روحانی اور اخالقی تربیت''
‫سے دستبردار ہوگئے ہو''۔
‫کمانڈر پریشان ہوگیا۔ اس نے بے اختیار سا ہوکر کہا… ''مجھے بالکل امید نہیں تھی کہ تم یہاں آکر اس قسم کی باتیں
‫کروگی۔ میں نے سوچا تھا کہ تنہائی میں آکر تم شوخ ادائوں اور نازو انداز سے مجھے دیوانہ بنا دو گی۔ تمہارے ہونٹوں کی وہ
‫مسکراہٹ کہاں ہے جس نے مجھے مجبور کردیا تھا کہ تمہارے آدمیوں سے تمہاری بھیک مانگوں؟ میں تمہارے عوض عربی
‫نسل کے دو گھوڑے دینے کے لیے تیار ہوں''۔
‫اپنی تلوار بھی دو گے؟''… لڑکی نے گردن کو خم دے کر پوچھا… ''اپنی برچھی‪ ،اپنی ڈھال اور اپنا خنجر بھی دے دو ''
‫''گے؟
‫ہاں!''… لیکن و ہ چپ ہوگیا۔ بے چینی کے عالم میں بوال… ''نہیں۔ سپاہی اپنے ہتھیار سے دستبردار نہیں ہوا کرتا''…''
‫وہ خیمے میں تیزتیز قدم اٹھا کر ذرا سی دیر ٹہال اور اچانک غصے میں پوچھا… ''ایک رقاصہ کے منہ سے یہ باتیں مجھے
‫''اچھی نہیں لگ رہیں۔ کیا تم مجھ سے بچنا چاہتی ہو؟ کیا تم اس کوشش میں ہو کہ میں تمہارے جسم کو ہاتھ نہ لگائوں؟
‫ہاں!''… رقاصہ نے کہا… ''میں تم سے اپنا جسم بچانا چاہتی ہوں''۔''
‫''کیا تم اپنے جسم کو پاک سمجھتی ہو؟''
‫نہیں''… رقاصہ نے کہا… ''میں اپنے جسم کو ناپاک سمجھتی ہوں‪ ،میں تمہارے جسم کو ناپاک نہیں کرنا چاہتی''۔''
‫کمانڈر کی عقل میں یہ بات نہ پڑی۔ وہ احمقوں کی طرح منہ کھولے ہوئے رقاصہ کو دیکھنے لگا۔ رقاصہ نے کہا… ''کوئی
‫بیٹی اپنے باپ کے جسم کو ناپاک نہیں کرنا چاہتی''۔
‫اوہ!''… کمانڈر نے آہ بھر کر کہا… ''میں بوڑھا ہوں‪ ،تم جوان ہو''… و ہ بیٹھ گیا اور اس نے سرجھکا لیا۔''
‫رقاصہ نے آگے بڑھ کر اس کے گال ہاتھوں میں تھام کر اس کا سر اوپر اٹھایا اور کہا… ''اتنا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں‪،
‫میں کہیں بھاگ نہیں چلی۔ تمہیں کوئی دھوکہ نہیں دے رہی۔ اگر تم صرف مرد کے روپ میں رہنا پسند کرتے ہو تو میں
‫رقاصہ اور فاحشہ بنی رہوں گی۔ پھر میں کہوں گی کہ ایک اور مرد سے واسطہ پڑا تھا جس پر خدا نے لعنت بھیجی تھی۔
‫میں تمہیں باپ کے روپ میں دیکھ رہی ہوں۔ میری ایک دو باتیں سن لو پھر جو جی میں آئے کرنا۔ میں پتھر بن جائوں
‫''گی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے رہنا… تمہاری بیٹی ہے؟
‫ایک ہے''… کمانڈر نے جواب دیا۔''
‫''اس کی عمر کتنی ہے؟''
‫بارہ سال''۔''
‫اگر تم مرجائو اور تمہاری بیوی غربت سے تنگ آکر تمہاری بیٹی کو ناچنے گانے والوں کے ہاتھ فروخت کردے تو تمہاری ''
‫''روح کا کیا حشر ہوگا؟… ان صحرائوں میں اور ان پہاڑوں میں بھٹکتی اور چیختی نہیں رہے گی؟
‫کمانڈر پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے کئی اور قطرے پھوٹ آئے۔ رقاصہ نے اس کی آنکھوں
‫کو گرفتار کرلیا۔
‫…ذرا تصور میں الئو''… رقاصہ نے کہا''
‫تم مرگئے ہو اور تمہاری بیٹی ایک گناہ گار مرد کے ساتھ خیمے میں بیٹھی ہے اور وہ مرد اسے کہہ رہا ہے کہ شراب ''
‫الئو‪ ،شراب کے بغیر عورت بے مزہ اور پھیکی ہوتی ہے''۔
‫کمانڈر کے ہونٹ تھرکے‪ ،اس نے اچانک گرج کر کہا… ''نکل جائو یہاں سے‪ ،فاحشہ‪ ،بدکار!''۔
‫لڑکی نے آہ بھری اور کہا… ''اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو وہ مجھے تمہارے خیمے میں دیکھ کر مجھے بھی اور تمہیں بھی
‫قتل کردیتا''… اس کے آنسو نکل آئے۔ کمانڈر اٹھ کر خیمے میں ٹہلنے لگا تھا۔ رقاصہ نے اس کی ذہنی کیفیت اور غصے کو
‫نظر انداز کرتے ہوئے کہا… ''میں تمہیں بوڑھا جان کر تم سے نفرت نہیں کررہی۔ میں نے تو ایسے ضعیف العمر آدمیوں کے

‫خیموں میں بھی راتیں گزاری ہیں جنہیں عمر نے اندر سے کھوکھال کردیا تھا۔ وہ دولت سے اپنی الشوں میں جان ڈالنا چاہتے
‫تھے… میں نے تمہیں اتنا بوڑھا نہیں سمجھا۔ بات اتنی سی ہے کہ تمہاری شکل وصورت میرے باپ سے اتنی زیادہ ملتی ہے
‫کہ میں رقاصہ سے بیٹی بن گئی اور میں نے جو باتیں تمہیں کہی ہیں یہ میرے دماغ میں پہلے کبھی نہیں آئی تھیں۔ میں
‫صرف ناچنا اور انگلیوں پر نچانا جانتی ہوں۔ تم ذرا سوچو تو سہی‪ ،مجھ جیسی فاحشہ رقاصہ کے دماغ میں اتنی باتیں اور
‫''ایسی باتیں کیوں آگئی ہیں جنہوں نے صرف تمہیں نہیں مجھے بھی حیران کردیا ہے؟
‫کمانڈر نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کا غصہ بجھ گیا تھا۔ رقاصہ نے کہا… ''مجھے اپنے ماں باپ کا چہرہ اور جسم اچھی
‫طرح یاد ہے۔ مجھے اس کے جسم کی بو بھی یاد ہے۔ تمہاری بیٹی کی عمر بارہ سال ہے میری عمر نو دس سال تھی۔
‫جب وہ مرگیا تھا۔ وہ میرے ساتھ بہت پیار کرتا تھا۔ وہ مصر کی فوج میں سپاہی تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے آنے سے
‫پہلے ہی مر گیا تھا۔ میری ماں جوان تھی اور بہت غریب۔ اس نے مجھے ایک آدمی کے حوالے کردیا۔ اس نے میرے سامنے
‫رقم لی تھی اور اس آدمی نے میری ماں سے کہا تھا کہ اس کی شادی ایک بڑے اچھے آدمی سے کرا دے گا۔ میں رو پڑی
‫تو ماں نے مجھے کہا تھا کہ یہ تمہارا چچا ہے اور یہ تمہیں تمہارے باپ کے پاس لے جارہا ہے… میں بارہ سال سے اپنے
‫باپ کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ انہی وعدوں پر مجھے ناچ سکھایا گیا کہ مجھے باپ کے پاس لے جائیں گے۔ وہ تو ذرا بڑی ہوئی تو
‫میں نے حقیقت کو قبول کیا کہ میرا باپ تو مرچکا ہے۔ اس وقت تک رقص میری عادت بن چکا تھا۔ مجھے کسی نے مارا
‫پیٹا نہیں‪ ،میں نے باپ کے نام پر رقص کی تربیت لی تھی۔ میرے استاد اور میرے آقا میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے
‫تھے۔ بہت اچھے اچھے کھانے کھالتے تھے۔ پھر میں جوان ہوگئی تو مجھے اپنی قیمت کا اندازہ ہوا۔ اس قیمت نے میرے
‫جذبات مار دئیے اور میں خوبصورت پتھر بن گئی مگر تمہیں دیکھ کر مرے ہوئے جذبات جاگ اٹھے ہیں''۔
‫اس کے آنسو نکل آئے۔ آہ لے کر کہنے لگی… ''یوں معلوم ہوتا ہے جیسے میرے باپ کی روح اسی خیمے کے اردگرد گھوم
‫پھر رہی ہے۔ اس خیمے میں آنے سے پہلے میں نے ایسا کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ کبھی یوں لگتا ہے‪ ،جیسے میرا وجود
‫میرے باپ کی روح ہے جو بھٹکتی پھر رہی ہے''۔
‫تم اگر قیمتی رقاصہ تھی تو ان صحرائوں میں کیا لینے آئی ہو؟'' کمانڈر نے پوچھا۔''
‫میں اجرت پر آئی ہوں''۔ رقاصہ نے جواب دیا… ''میں ان لوگوں کو نہیں جانتی۔ دوسری رقاصہ کو بھی میں اس سے ''
‫پہلے نہیں جانتی تھی۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سرحد پر جانا ہے اور وہاں جو چوکی والے خواہش کریں‪ ،انہیں بال اجرت ناچ
‫گانے سے خوش کرنا ہے۔ مجھے اجرت کی اتنی خوشی نہیں تھی جتنی اس کی کہ مصر کی عزت کی حفاظت کرنے والے
‫مجاہدوں کا دل بہالنے جارہی ہوں۔ میرا باپ بھی سپاہی تھا۔ میں دل کو دھوکہ دیتی ہوں کہ میرے رقص سے میرے مجاہد
‫باپ کی روح بھی بہل جاتی ہوگی… میں ایک دھوکہ ہوں۔ اپنے لیے بھی اور دوسرے کے لیے بھی لیکن میں وطن کے
‫مجاہدوں کو ناپاک نہیں کرسکتی۔ پچھلی چوکی والے کمانڈر نے مجھے اپنے خیمے میں بالیا تھا۔ میں نے انکار کردیا تھا۔
‫تمہارے پاس صرف اس لیے آگئی ہوں کہ تمہارے چہرے مہرے اور قد کاٹھ میں مجھے اپنا باپ نظر آیا تھا''۔
‫رقاصہ اس کے سامنے دو زانو بیٹھ گئی۔ کمانڈر کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر آنکھوں سے لگایا پھر چوما۔ کمانڈر نے دوسرا
‫''ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا اور پوچھا… ''تمہارا نام کیا ہے؟
‫میرے آقا مجھے برق کہتے ہیں''۔ رقاصہ نے جواب دیا… ''باپ مجھے زہرہ کہا کرتا تھا''۔''
‫جائو زہرہ!'' کمانڈر نے ایسے پیار سے کہا جس میں شفقت تھی۔ ''اپنے خیمے میں چلی جائو''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫رات گزرتی جارہی تھی۔ سازندوں میں سے دو اپنے خیموں میں جاگ رہے تھے۔ دوسری رقاصہ اور باقی سازندے گہری نیند
‫سوئے ہوئے تھے۔ جاگنے والوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا… ''ہمارا طریقہ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ ہم ان لڑکیوں کو
‫یہ کہہ کر ساتھ لے آئے ہیں کہ ناچ گانے سے فوجیوں کا دل بہالنے جارہے ہیں‪ ،ضرورت یہ تھی کہ ان لڑکیوں کو بتا دیتے
‫کہ ہمارا اصل مقصد کیا ہے''۔
‫کسی رقاصہ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا''… دوسرے نے کہا… ''یہ لڑکی جو کمانڈر کے خیمے میں ہے‪ ،جذبات میں آکر ''
‫الگ تھلگ انعام لے کر اسے بتا سکتی ہے کہ ہم سرحدی چوکیوں کے لیے دھوکہ اور فریب بن کر آئے ہیں۔ ہمیں اپنا راز
‫کسی رقاصہ کونہیں دینا چاہیے۔ ان دونوں کو اپنی اجرت سے غرض ہے۔ ہم انہیں منہ مانگی اجرت دے چکے ہیں۔ہمارا کام
‫ہوگیا ہے''۔
‫اگر ہم نے اسے بتادیا ہوتا کہ ہمارا مقصد کیا ہے تو یہ لڑکی اس کمانڈر کو اچھی طرح اندھا کرلیتی اور یہ بھی ممکن تھا''
‫کہ وہ اسے اس حد تک پھانس لیتی کہ اسی کی مدد سے ہم حبشیوں کو اندر لے آتے''۔
‫ہمارے استاد ہم سے زیادہ عقل رکھتے ہیں۔ یہ لڑکیاں ہمارے ہتھیار ہیں۔ ہتھیاروں کو کبھی کسی نے ہمراز نہیں بنایا''۔''
‫کمانڈر کے خیمے میں یہ حالت تھی کہ کمانڈر اس اطمینان کے ساتھ سوگیا تھا کہ رقاصہ نے اسے گناہ سے صاف بچا لیا اور
‫اس کے سینے میں باپ کو بیدار کردیا تھا۔ رقاصہ اسے بہت دیر دیکھتی رہی۔ کمانڈر کا چہرہ جب رقاصہ کے آنسوئوں میں
‫چھپ گیا تو وہ خیمے سے نکل گئی۔ اپنے خیمے میں گئی اور سو گئی۔ رات کی ایک ہی ساعت رہتی تھی جو گزر گئی۔
‫ناچنے گانے والے جاگے تو سورج اوپر آگیا تھا۔ لڑکیوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے۔ سازندے انہیں اپنے ساتھ
‫لے جانے لگے تو کمانڈر باہر کھڑا تھا۔ زہرہ دوڑ کر اس تک گئی اور کہا… ''میرے سر پر ہاتھ رکھو''۔ کمانڈر نے اس کے
‫سر پر ہاتھ رکھا تو زہرہ نے اسی کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر آنکھوں سے لگایا اور وہ بھیگی آنکھوں سے اس سے رخصت ہوئی۔
‫وہ دریا کی طرف چلے گئے۔ کہیں سے دو شتر سوار آئے۔ وہ اونٹوں سے اترے۔ اونٹوں کو بٹھایا۔ دونوں لڑکیوں کو سوار کیا اور
‫چل پڑے۔ یہ شتر سوار اسی گروہ کے افراد تھے جو قریب ہی کہیں ان کے انتظار میں چھپے ہوئے تھے۔ یہ گروہ اس جگہ
‫پہنچا جہاں تاجروں کا قافلہ چار لڑکیوں کے ساتھ خیمہ زن تھا۔ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کو یوں ملے جیسے اجنبی ہوں۔
‫لڑکیاں ناچنے والی لڑکیوں کو مردوں سے الگ دریا کے کنارے لے گئیں۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ انہیں مردوں سے الگ کردیا
‫جائے۔ چاروں لڑکیوں نے زہرہ اور اس کی ساتھی رقاصہ کو اپنے متعلق بتایا کہ وہ ان آدمیوں کو بہو بیٹیاں ہیں اور سیر کے
‫لیے ان کے ساتھ آئی ہیں۔
‫ادھر مردوں کی منڈلی میں اصل مشن پر گفتگو ہورہی تھی۔ سازندوں نے اپنی دو راتوں کی کارگزاری سنائی۔ دوسرے گروہ نے
‫انہیں بتایا کہ ان کے دو راتوں کے ناچ گانے سے کم وبیش ایک سو حبشی اندر آگئے ہیں اور ان لڑکیوں نے دو سپاہیوں کے
‫ساتھ جو کھیل کھیال ہے اس سے دو سو سے زائد حبشی آگئے ہیں… اپنی اپنی کارگزاری سنانے کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ
‫کیا کہ ناچ گانے سے حبشیوں کی زیادہ تعداد اندر نہیں آسکتی۔ دریا کا راستہ زیادہ بہتر ہے۔ کشتیوں میں زیادہ آدمی اندر

‫آسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے طے کیا کہ لڑکیاں ان دو سپاہیوں کے عالوہ دو یا چار اور گشتی سنتریوں کے ساتھ
‫یہی کھیل کھیلیں تاکہ ہر رات کشتیاں آسکیں۔ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ زہرہ اور اس کی ساتھی رقاصہ کو یہیں کہیں قریب رکھا
‫جائے لیکن اس راز میں شامل نہ کیا جائے۔
‫سازندوں نے بعد میں زہرہ اور اس کی ساتھی سے کہا کہ ان کا کام ختم ہوچکا ہے۔ یہ جگہ بہت خوبصورت ہے اس لیے
‫چند دن یہیں فارغ گزارے جائیں۔ انہوں نے لڑکیوں کو ایسے انداز سے اکسایا کہ وہ رک گئیں۔ دوسرے گروہ کی لڑکیوں نے
‫انہیں اپنے ساتھ بے تکلف کرلیا لیکن ان کے قیام کی جگہ ذرا دور بنائی… اس رات زہرہ سو نہ سکی۔ اسے کمانڈر یاد آرہا
‫تھا۔ اس کی شخصیت زہرہ کے دل میں اتر گئی تھی۔ ایک تو اس لیے کہ کمانڈر میں اسے اپنے باپ کی تصویر نظر آرہی
‫تھی اور دوسرے اس لیے کہ یہ پہال مرد تھا جس نے اسے کھلونا سمجھنے کے بجائے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور
‫تیسرے اس لیے کہ کمانڈر نے اسے زہرہ کہا برق نہیں کہا تھا۔
‫اس کی ساتھی رقاصہ سو گئی تھی اور اس کے گروہ کے سازندے بھی سو گئے تھے۔ وہ اٹھی اور خیمے سے باہر نکل گئی۔
‫اس نے راستہ دیکھا ہوا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی چوکی کی طرف چل پڑی۔ وہ اتنی تیز اورا تنا زیادہ چلنے کی عادی نہیں
‫تھی لیکن اس کے جذبات اسے قوت دے رہے تھے۔ وہ چوکی تک پہنچ گئی۔ کمانڈر کے خیمے سے واقف تھی۔ وہ خیمے
‫میں چلی گئی۔ کمانڈر گہری نیند سویا ہوا تھا… اس کی آنکھ کھل گئی۔ اندھیرے میں اس نے وہ ہاتھ پکڑ لیا جو کوئی اس
‫''کے منہ پر پھیر رہا تھا۔ ہاتھ چھوٹا سا تھا جو مردانہ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس نے ہڑبڑا کر پوچھا… ''کون ہو؟
‫زہرہ''۔''
‫وہ اٹھ بیٹھا۔ زہرہ نے کہا… ''تمہیں دیکھنے آئی ہوں… سو جائو۔ میں جارہی ہوں''۔
‫کمانڈر نے دیا جالیا اور پوچھا کہ وہ کہاں سے آئی ہے۔ زہرہ نے بتایا تو کمانڈر باہر نکال۔ دو گھوڑے تیار کیے اور زہرہ کو
‫باہر جا کر ایک گھوڑے پر اسے سوار کرایا‪ ،دوسرے پر خود سوار ہوا اورگھوڑے چل پڑے۔ راستے میں زہرہ جذباتی باتیں کرتی
‫رہی اور کمانڈر شفقت اور پیار سے سنتا رہا۔ اپنے ٹھکانے سے کچھ دور ہی تھے کہ زہرہ نے اسے روک کر واپس چلے جانے
‫کو کہا۔کمانڈر نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور واپس آگیا۔
‫زہرہ جب اپنے ٹھکانے پر پہنچی تو اس کے ساتھ کا ایک آدمی جاگ رہا تھا۔ اس نے زہرہ سے پوچھا کہ وہ کہاں گئی تھی۔
‫زہرہ نے بتایا کہ وہ ویسے ہی گھومنے پھرنے نکل گئی تھی۔ اس آدمی نے کریدنا شروع کردیا۔ اسے شک تھا‪ ،زہرہ نہیں بتانا
‫چاہتی تھی کہ وہ کہاں گئی تھی۔
‫تم ہماری اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاسکتی''۔ اس آدمی نے حکم دیا۔''
‫میں تمہاری زرخرید نہیں ہوں''۔ زہرہ نے کہا… ''میں نے جو اجرت لی تھی اس کے عوض کام پورا کرچکی ہوں۔ میں ''
‫کسی کے حکم کی پابند نہیں''۔
‫تم اپنے مالکوں کے پاس شاید زندہ نہیں پہنچنا چاہتی''۔ اس آدمی نے کہا… ''اب ہم سے پوچھے بغیر کہیں جاکے ''
‫دیکھو'' ۔دونوں سپاہی اپنی گشت کے دوران دریا کے کنارے جاتے رہے۔ دونوں لڑکیاں انہیں الگ الگ لے جاتیں اور اس دوران
‫حبشیوں سے لدی ہوئی دوبادبانی کشتیاں تاریکی میں کنارے آلگتیں اور حبشیوں کو پہاڑیوں میں اگل کر تاریکی میں غائب
‫ہوجاتیں۔ ان چار لڑکیوں نے دو اور سپاہیوں کو ''بوڑھے خاوندوں کی نوجوان بیویاں'' بن کر اور ان کے ساتھ بھاگ جانے کا
‫جھانسہ دے کر اپنے جال میں پھانس لیا تھا۔پہاڑی خطے میں اتنے زیادہ حبشی جمع ہوچکے تھے جو رات کے وقت سرحدی
‫چوکیوں پر حملہ کرکے وہاں کی نفری کو سوتے میں آسانی سے ختم کرسکتے تھے لیکن ان کے کمانڈروں نے عقل کی بات
‫سوچی تھی۔ سرحدی چوکیوں پر حملے کی خبر قاہرہ پہنچ سکتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ قاہرہ سے فوج آجاتی اور
‫صلیبیوں کی یہ سکیم تباہ ہوجاتی کہ قاہرہ پر اچانک اور بے خبری میں حملہ کریں گے۔
‫پہاڑیوں میں حبشیوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی تھی اور سوڈان میں صلیبی مشیروں نے وہ صلیبی کمانڈر جنہیں قاہرہ
‫پر حملہ کرنا تھا مقرر کردئیے۔ انہیں چند دنوں بعد مصر کی سرحد میں داخل ہوکر ان پہاڑیوںمیں آنا اور حملے کی تیاری
‫کرنی تھی۔ ساالر القند ابھی تک قاہرہ میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ اس کی کسی حرکت سے کسی کو شک نہیں
‫ہوتا تھا کہ وہ بہت بڑی غداری کامرتکب ہونے واال ہے۔ اسے رات کو گھر میں پوری رپورٹ مل جاتی تھی کہ کتنے حبشی
‫گزشتہ رات آچکے ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہوگئی ہے۔ حملے کی قیادت اسی کو کرنی تھی۔ اس نے پالن تیار کرلیاتھا۔
‫حبشی ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہوگئے تو انہوں نے اپنے مذہب کامسئلہ کھڑا کردیا۔ پہلے وہ آپس میں کھسر پھسر کرتے
‫رہے۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انسان کی قربانی دی جائے۔ القند نے وہاں جو آدمی بھیج رکھے تھے انہوں نے انہیں ٹالنے کی
‫کوشش کی لیکن حبشی اپنے ساتھ جو مذہبی پیشوا الئے تھے وہ ٹلتے نظر نہیں آتے تھے۔ حبشیوں نے انہیں پریشان کرنا
‫شروع کردیا تھا کہ انسان کی قربانی دو‪ ،ورنہ وہ واپس چلے جائیں گے۔ مذہبی پیشوائوں سے کہا گیا کہ وہ انہی حبشیوں میں
‫سے کسی کو پکڑ کر ذبح کردیں لیکن وہ کہتے تھے کہ یہ قربانی قبول نہیں ہوتی۔ قربانی کے لیے اسی خطے کا انسان ہونا
‫چاہیے۔ جس پر حملہ کرنا ہے‪ ،لڑنے والے لوگ اپنی قربانی نہیں دیا کرتے۔
‫آخر انہیں کہا گیا کہ حملے سے ایک دن پہلے مصر کا ایک آدمی ان کے حوالے کردیا جائے گا۔ حبشیوں کے پروہت نے کہا…
‫''ہمیں وہ انسان ابھی چاہیے‪ ،ہم بہت دنوں تک اسے خاص غذا دے کر پالیں گے۔ اس پر اپنا خاص عمل کریں گے۔ اپنی
‫عبادت بھی کریں گے… اور ابھی ہمیں یہ حساب بھی کرنا ہے کہ قربانی مرد کی دینی ہے یا عورت کی یا دونوں کی''۔
‫اسی رات القند کو اطالع دی گئی کہ حبشی قربانی کے لیے انسان مانگتے ہیں۔ القند نے کہا… ''تو اس میں سوچنے کی کیا
‫بات ہے۔ کوئی آدمی پکڑو اور ان کے حوالے کردو''۔
‫لیکن وہ ابھی بتائیں گے کہ انہیں ایک آدمی چاہیے یا ایک عورت یا دونوں''۔''
‫ان کا جو بھی مطالبہ ہے پورا کرو''… القند نے کہا… ''چند دنوں بعد جب ہم قاہرہ پر حملہ کریں گے تو معلوم نہیں ''
‫قاہرہ کے کتنے لوگ ہمارے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ دو کو اگر پہلے ہی مار دو گے تو کیا قیامت آجائے گی''۔
‫القند گہری سوچ میں گم ہوگیا۔ اتنے میں ایک صلیبی اندر آیا۔ اس نے مصری لباس پہن رکھا تھا۔ اندر آتے ہی اس نے
‫مصنوعی داڑھی اتار کر رکھ دی۔ اس نے القند سے پوچھا کہ کیوں پریشان نظر آتا ہے۔
‫حبشی اپنی رسم پوری کرنا چاہتے ہیں''۔ القند نے جواب دیا۔ ''وہ ابھی سے انسانی قربانی کا مطالبہ کررہے ہیں''۔''
‫''تو آپ کیا سوچ رہے ہیں؟''
‫میں سوچ رہا ہوں کہ حملے سے ایک دن پہلے ایک آدمی ان کے حوالے کردیں گے''۔ القند نے جواب دیا۔''
‫نہیں''۔ صلیبی نے کہا… ''وہ ابھی قربانی دینا چاہتے ہیں تو ابھی ان کی رسم پوری کرنے کا انتظام کریں۔ آپ سوڈان ''

‫نہیں گئے۔ ہم ان کے مذہب کے ساتھ کھیل کر انہیں یہاں الرہے ہیں۔ا پ شاید انسانوں کو استعمال کرنا نہیں جانتے۔ آپ کو
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے صرف لڑنا سکھایا ہے۔ انسانوں کو تلوار کے بغیر مارنا ہم صلیبیوں سے سیکھیں۔ دوسروں کے
‫مذہب کو استعمال کریں۔ ان پر انہی کے مذہب کا جنون غالب کرکے ان کی عقل کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ ان کی بے
‫ہودہ اور بے معنی رسموں کی مخالفت کرنے کے بجائے ان کی پیروی کرو بلکہ اپنے ہاتھوں یہ رسمیں ادا کرائو۔ عام انسان کا
‫ذہن مذہب اور توہم پرستی سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ہم نے جتنے مسلمانوں کو اپنے ساتھ مالیا اور سلطان صالح الدین ایوبی
‫کے خالف استعمال کیا ہے‪ ،وہ مذہب اور توہم پرستی کے ہتھیاروں سے کیا ہے۔ مسلمان مذہب کے نام پر جلدی ہمارے جال
‫میں آتا ہے۔ یہ حبشی تو جنگلی ہیں‪ ،انہیں ہم ایک سال سے زیادہ عرصے سے بے وقوف بنا رہے ہیں۔ سوڈان سے روانگی
‫سے پہلے ہم نے دو سوڈانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کیا اور بتایا تھا کہ یہ مصری ہیں۔ انہوں نے انہیں ذبح کیا تب وہ
‫مصر کی طرف روانہ ہوئے تھے''۔
‫ان سے پوچھو کہ انہیں قربانی کے لیے مرد چاہیے یا عورت''۔ القند نے پوچھا۔''
‫اور آپ کا وہاں چلنا بہت ضروری ہے''۔ صلیبی نے کہا… ''لیکن آپ کو میں کسی اور طریقے سے ان کے سامنے لے ''
‫جائوں گا۔ میں آپ کو یقین دالتا ہوں کہ ان حبشیوں سے بڑھ کر آپ کو کوئی وحشی اور خونخوار جنگجو نہیں ملے گا۔ اس
‫وقت ان کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے۔ اگر ہم نے ان پر ان کے مذہب کا بھوت سوار کیے رکھا اور انہیں یہ یقین دالئے
‫رکھا کہ یہ ہماری نہیں ان کی اپنی جنگ ہے تو ان میں سے صرف ایک ہزار اس تمام فوج کو جو قاہرہ میں ہے‪ ،کٹی
‫الشوں میں بدل دیں گے۔ ہم نے انہیں یہ بتایا ہے کہ ان کے خدا کے گھر لے جارہے ہیں اور یہ کہ ان کے خدا کی زمین پر
‫ان کے دشمن نے قبضہ کررکھا ہے''۔
‫میں چلوں گا''۔ القند نے کہا۔''
‫القند مصر پر سوڈانیوں کی حکومت چاہتا تھا‪ ،کچھ عرصے پہلے وہ کسی غدار سے اس خواہش کا اظہار کر بیٹھا تو اس نے
‫اس کی خواہش کو عزم بنا دیا اور اس کی مالقات صلیبیوں سے کرادی تھی۔ صلیبیوں نے اس کے ساتھ یہ سودا طے کیا تھا
‫کہ مصر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ اسے دے دیا جائے گا اور باقی نصف سوڈان کو جیسا کہ کہا جاچکا ہے کہ
‫حبشیوں کی فوج کا اہتمام صلیبیوں نے کیا تھا مورخوں نے القند کی بغاوت کو تفصیل سے بیان نہیں کیا۔ اس دور کی عظیم
‫شخصیت قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی ڈائری بےعنوان ''سوانح صالح الدین سلطان… یوسف پر کیا افتاد پڑی؟'' میں تفصیل
‫سے لکھا ہے کہ القند نے صلیبیوں اور سوڈانی لیڈروں کی مدد سے تہذیب وتمدن سے دور جانوروں اور درندوں کی سی زندگی
‫بسر کرنے والے حبشیوں پر ان کے مذہب کا بھوت سوار کرکے ان پر جنگی جنون طاری کیا اور القند خود ان کا پیرومرشد بنا۔
‫حبشیو ں کو بتایا گیا کہ یہ ان کے خدا کا وہ ایلچی ہے جو صدیوں سے خدا کے پاس گیا ہوا تھا (سلطان یوسف سے مراد
‫سلطان صالح الدین ایوبی ہے۔ اس مجاہد اعظم کا پورا نام یوسف صالح الدین تھا۔ قاضی بہائوالدین شداد اسے پیار اور شفقت
‫سے یوسف کہا کرتا تھا)۔
‫وہ رات تاریک تھی۔ مصر کا آسمان آئینے کی طرح شفاف تھا۔ ستارے ہیروں اور سچے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔
‫قاہرہ شہر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ چند دنوں بعد ان پر کیا قیامت ٹوٹنے والی ہے۔
‫مصر کے سرحدی دستے بھی سوئے ہوتے تھے۔ صرف گشتی سنتری جاگ رہے تھے لیکن وہ صرف جاگ رہے تھے۔ بیدار نہیں
‫تھے۔ دریائے نیل کے ساتھ کی چوکی جو دریائی راستہ بند کرنے کے لیے بنائی گئی تھی اور اس سے چند میل دور دوسری
‫چوکی جو پہاڑیوں کے عالقے کو سربمہر رکھنے کے لیے قائم کی گئی تھی‪ ،کے گشتی سنتری چار لڑکیوں کے حسین اور
‫رومانی جال میں الجھے ہوئے تھے۔ لڑکیاں انہیں الگ الگ لے گئی تھیں۔ اس رات یہ گروہ بہت زیادہ چوکنا تھا۔
‫زہرہ اور اس کی ساتھی رقاصہ اس گروہ سے کچھ دور خیمے میں سوئی ہوئی تھیں۔سازندے بظاہر سوئے ہوئے تھے لیکن وہ
‫بیدار تھے انہیں بتا دیا گیا تھا کہ آج رات بہت اہم ہے اور وہ بیدار رہیں۔ ان دنوں گروہوں کے لیے یہ حکم تھا کہ کوئی باہر
‫کا آدمی دریا کے کنارے اور اس پہاڑی سلسلے کے قریب نہ آئے۔ کوئی آئے تو اسے پکڑ کر اندر لے آئو۔
‫کچھ دیر بعد ایک سازندہ اٹھا۔ پہلے وہ باہر گھوما پھر اس نے چھوٹے خیمے میں جھانکا جس میں دونوں لڑکیاں سوئی ہوئی
‫تھیں۔ اندھیرے میں اسے کچھ نظر نہ آیا۔ اندر جا کر ٹٹوال۔ اسے کچھ شک ہوا۔ دیا جال کے دیکھا تو زہرہ غائب تھی۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:12
‫قسط نمبر۔‪79‫جب خدا زمین پر اتر آیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫دیا جال کے دیکھا تو زہرہ غائب تھی۔ دوسری گہری نیند سوئی ہوئی تھی‪ ،سازندے نے اسے نہ جگایا۔ اسے معلوم تھا کہ
‫زہرہ کہاں گئی ہے۔ وہ چوکی کے کمانڈر کے پاس ہی جاسکتی تھی۔ اس میں خطرہ یہ تھا کہ کمانڈر اس کے ساتھ آگیا تو
‫اپنے سنتریوں کو غائب پا کر انہیں ڈھونڈے گا اور یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ دریا کے کنارے اس جگہ بھی پہنچ جائے جس
‫جگہ کو اس رات باہر کی دنیا سے چھپا کر رکھنا تھا… سازندے نے اپنے دو ساتھیوں کو جگایااور انہیں بتایا کہ ان کی ایک
‫لڑکی غائب ہے۔ وہ چوکی پر ہی گئی ہوگی۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ دریا سے دور گھات لگائی جائے اور اگر کمانڈر لڑکی
‫کے ساتھ واپس آرہا ہو تو دونوں کو پکڑ کر اپنے کمانڈر کے حوالے کردیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو دونوں کو قتل کرکے
‫الشیں دریا میں پھینک دی جائیں۔
‫پہاڑیوں کے اندر کی دنیا جاگ رہی تھی۔ یہ وسیع وعریض عالقہ تھا جہاں کوئی نہیں جاتا تھا۔ ایک اس لیے کہ یہ جگہ دور
‫دراز اور راستوں سے ہٹ کر تھی اور دوسرا اس لیے مشہور تھا کہ اندر فرعونوں کی بھی بدروحیں رہتی ہیں اور ان کی بھی
‫جو فرعونوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ بدروحیں آپس میں لڑتی رہتی ہیں اور اگر کوئی انسان اس
‫عالقے میں چال جائے تو اس کے جسم کا گوشت غائب ہوجاتا ہے اور پیچھے ہڈیوں کا پنجر رہ جاتا ہے… یہ بتایا جاچکا ہے
‫کہ اس پہاڑی خطے کے وسط میں فرعونوں کے بہت بڑے بڑے بت پہاڑیوں کو تراش کر بنائے گئے تھے۔ پہاڑیوں کو اندر سے
‫کھوکھال کرکے اندر محل جیسے کمرے اور غالم گردشیں بنائی گئی تھیں۔
‫اس رات ان زمین دوز محالت میں روشنی ہی روشنی تھی۔ ہزاروں حبشی باہر اس میدان میں جمع تھے‪ ،جسے ہر طرف سے
‫پہاڑیوں نے گھیر رکھا تھا۔ حبشیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اونچی بات نہ کریں۔ انہیں ان کا خدا دکھایا جانے واال ہے۔ حبشیوں
‫پر خوف اور عقیدت مندی کے جذبات سوار تھے۔ ڈر کے مارے وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی میں بھی بات نہیں کرتے
‫تھے۔ وہ ان پہاڑیوں اور چٹانوں سے اچھی طرح واقف ہوچکے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ جس پہاڑی کی طرف وہ منہ کرکے

‫بیٹھے ہیں اس کی نصف بلندی پر ایک بہت بڑا بت ہے۔ یہ ابوسمبل کا بت تھا جس کے متعلق ان حبشیوں کو بتایا گیا تھا
‫کہ ان کے خدا کا بت ہے اور ایک رات یہ خدا ایک انسان کے روپ میں ان کے سامنے آئے گا۔
‫اچانک ایسی گرج دار آواز آئی جیسے گھٹائیں گرجی ہوں۔ حبشی پہلے ہی خاموش تھے‪ ،اس گرج نے ان کی سانسیں بھی
‫روک دیں۔ اس کے ساتھ ہی انہیں ایک آواز سنائی دی… ''خدا جاگ رہا ہے‪ ،سامنے پہاڑی پر دیکھو… اوپر دیکھو''… یہ آواز
‫بڑی بلند تھی جو پہاڑیوں اور چٹانوں کے درمیان گونج بن کر کچھ دیر سنائی دیتی رہی۔ فضا میں دو شرارے اڑتے نظر آئے جو
‫سامنے والی پہاڑی کی طرف گئے اور پہاڑی سے جہاں ٹکرائے وہاں سے ایک شعلہ اٹھا۔ ابو سمبل کا بت اس شعلے کے
‫پیچھے اور کچھ اوپر تھا۔ شعلے کی ناچتی تھرکتی ہوئی روشنی بت کے مہیب چہرے پر پڑی تو ایسے نظر آنے لگا جیسے
‫بت آنکھیں جھپک رہا ہو۔ اس کا منہ کھلتا اور بند ہوتا نظر آتا تھا اور یوں بھی لگتا تھا جیسے اس کا چہرہ دائیں بائیں ہل
‫رہا ہو۔
‫حبشیوں کا یہ سیاہ کاال ہجوم سجدے میں گر پڑا۔ ان کے مذہبی پیشوا سجدے سے اٹھے۔ سب نے بازو پھیال دئیے۔ ان میں
‫جو سب سے بڑا تھا اس نے بت سے بڑی ہی بلند آواز سے کہا… ''آگ اور پانی کے خدا ریگستانوں کو جالنے اور دریائوں
‫کو پانی دینے والے خدا! ہم نے تجھے دیکھ لیا ہے۔ ہمیں بتا کہ ہم تیرے قدموں میں کتنے انسان قربان کریں‪ ،مرد الئیں یا
‫عورت''۔
‫ایک مرد ایک عورت''۔ پہاڑیوں میں سے آواز آئی… ''تم نے ابھی مجھے نہیں دیکھا‪ ،میں انسان کے روپ میں تمہارے ''
‫سامنے آرہا ہوں‪ ،اگر تم نے میرے دشمنوں کا خون نہ بہایا تو تم سب کو ان پہاڑیوں کے پتھروں کی طرح پتھر بنا دوں گا
‫پھر تم دھوپ میں ہمیشہ جلتے رہو گے۔ تم میں سے جو لڑائی سے بھاگے گا اسے صحرائی ریت چوس لے گی… انتظار کرو‪،
‫میرا انتظار کرو''۔
‫خاموشی اور گہری ہوگئی۔ شعلہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔ پہاڑیوں میں سے حبشیوں کے مذہبی ترانے کی آواز آنے لگی۔ یہ
‫ان کا وہ گیت تھا جو مذہیب تہواروں پر عبادت کے دوران گایا کرتے تھے۔ بہت سے آدمی مل کر گا رہے تھے اور ساتھ دف
‫بج رہے تھے۔ نیچے بیٹھے ہوئے ہزاروں حبشیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں گا رہا تھا۔ یہ
‫غیب کی آواز معلوم ہوتی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫زہرہ چوکی کے کمانڈر کے خیمے میں تھی۔ اس کی باتیں پہلے سے زیادہ جذباتی ہوگئی تھیں۔ اس نے کمانڈر سے کہا…
‫'' اگر میں تمہیں نہ دیکھتی تو باقی عمر ناچتے اور دوسروں کا دل بہالتے گزار دیتی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے یاد آگیا ہے کہ
‫میں بیٹی ہوں رقاصہ اور فاحشہ نہیں۔ یا تم اپنے آپ کو مار لو تاکہ مجھے یقین ہوجائے کہ میرا باپ مرگیا ہے یا مجھے قتل
‫کردو اگر یہ نہیں کرسکتے تو مجھے پناہ میں لے لو۔ اپنے گھر بھیج دو۔ آج مجھے واپس نہ جانے دو''۔
‫تم آج چلی جائو'' ۔ کمانڈر نے جواب دیا… ''میں تمہیں چوکی میں نہیں رکھ سکتا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں اپنے ''
‫گھر بھیجنے کا انتظام کردوں گا… اور اگر تم یہاں سے چلی گئی تو مجھے قاہرہ میں اپنا ٹھکانہ بتا دو۔ وہاں آکر تمہیں لے
‫جائوں گا''۔
‫تھوڑی دیر بعد کمانڈر نے دو گھوڑے تیار کیے اور زہرہ سے کہا کہ چلو چلیں۔ دونوں گھوڑوں پر سوار ہوئے اور چل پڑے۔
‫''راستے میں زہرہ نے کمانڈر سے پوچھا… ''رات کو کشتیاں یہاں کیوں آیا کرتی ہیں؟
‫''کشتیاں؟'' کمانڈر نے حیران سا ہوکر پوچھا… ''کدھر سے آتی ہیں؟''
‫ادھر سے''۔ اس نے سوڈان کی طرف اشارہ کرکے کہا… ''مجھے اب رات کو نیند کم آتی ہے۔ آدھی رات کو اٹھ کر ''
‫خیمے سے باہر بیٹھ جاتی ہوں۔ میں نے دو راتیں دیکھا ہے۔ ایک رات تین اور ایک رات دو بادبانی کشتیاں آئیں۔ ان کے
‫سفید بادبان اندھیرے میں بھی نظر آتے تھے۔ آگے جاکر کشتیاں کنارے لگیں۔ مجھے اس طرح کی آوازیں سنائی دیتی رہیں
‫جیسے ان سے بہت سے لوگ اتر رہے ہوں۔ مجھے کچھ دور درختوں کے پیچھے سائے سے جاتے اور پہاڑیوں میں غائب ہوتے
‫نظر آئے''۔
‫تم نے ہمارے دو سپاہیوں کو کبھی نہیں دیکھا؟'' کمانڈر نے پوچھا… ''دو گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں۔ انہیں دریا کے کنارے''
‫موجود رہنا چاہیے''۔
‫نہیں'' ۔ زہرہ نے جواب دیا… ''میں نے کبھی کوئی سپاہی نہیں دیکھا۔ دن کے دوران سپاہی آتے ہیں۔ آگے ایک قافلہ اترا''
‫ہوا ہے۔ ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں‪ ،ایک روز میں نے ایک سپاہی کو ایک لڑکی کے ساتھ بے تکلفی سے چٹانوں کے
‫پیچھے جاتے دیکھا تھا''۔
‫زہرہ کو تو علم ہی نہیں تھا کہ سرحدوں پر کیا ہوتا ہے اورکیا ہوسکتا ہے اور سرحدی دستوں کے فرائض کیا ہیں۔ اسے یہ
‫بھی معلوم نہیں تھا کہ رات کو یا دن کو سوڈان کی طرف سے کشتیوں کو آنا چاہیے یا نہیں۔ اس نے تو ایسے ہی پوچھ لیا
‫تھا لیکن کمانڈر کے لیے یہ اہم خبر تھی۔ زہرہ اگر صحیح کہہ رہی تھی تو وہ اسے راز کی بات بتا رہی تھی۔ وہ بے شک
‫اس ڈیوٹی اور سرحدی ماحول سے اکتا گیا تھا مگر زہرہ کی باتوں نے اسے بیدار کردیا۔ اس نے زہرہ سے کہا… ''آئو آج دریا
‫کے کنارے چلتے ہیں''… اس نے گھوڑے کا رخ موڑ دیا۔
‫وہ دریا تک پہنچے اور کنارے کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ کمانڈر کی نظریں دریا پر تیر رہی تھیں۔ کچھ وقت گزرا تو اسے دریا
‫میں دور ایک لو نظر آئی جو دئیے کی معلوم ہوتی تھی۔ پھر ایک اور لو نظر آئی اور پھر دونوں روشنیاں بجھ گئیں۔ ادھر
‫کنارے پر بھی ایک دیا جال اور بجھ گیا۔ کمانڈر نے ان گشتی سنتریوں کو آواز دی جنہیں وہاں گشت پر ہونا چاہیے تھا۔ اسے
‫کوئی جواب نہ مال۔ اس نے اور بلند آواز سے پکارا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ مال۔ اس نے اور زور سے پکارا۔ اسے اب دریا
‫میں دو کشتیوں کے بادبان دکھائی دئیے‪ ،وہ پریشان ہوگیا۔ وہ زہرہ کی موجودگی کو بھول گیا اور گھوڑے کو کنارے کے ساتھ
‫آگے چال دیا۔ زہرہ بھی اسی کے پیچھے گئی۔ کمانڈر سنتریوں کو پکار رہا تھا۔
‫سنتریوں کو اس کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں لیکن وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ چٹانوں کی اوٹ میں ''بوڑھے
‫خاوندوں کی نوجوان بیویوں'' کے جال میں پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے کمانڈر کی آواز پہچان لی اور وہاں سے اٹھے۔
‫وہ جب وہاں جاکر اکٹھے ہوئے جہاں وہ اپنے گھوڑے باندھ گئے تھے تو دیکھا کہ دونوں گھوڑے غائب ہیں۔ وہ وہیں رکے رہے۔
‫انہیں دور دو گھوڑے جاتے دکھائی دئیے۔
‫کمانڈر آگے جارہا تھا‪ ،زہرہ کا گھوڑا اس کے پہلو میں تھا۔ انہیں آواز سنائی دی… ''تم جنہیں پکار رہے ہو وہ بہت دور آگے
‫ہیں''۔

‫تم کون ہو؟''… کمانڈر نے پوچھا۔ ''آگے آئو''۔''
‫ہم مسافر ہیں''… اسے جواب مال اور دو گھوڑے کمانڈر کی طرف بڑھنے لگے۔ پھر ایک اور آواز آئی… ''آگے چلیں ہم آپ''
‫کے ساتھ چلیں گے''۔
‫کمانڈر نے تلوار نکال لی۔ رات کے وقت مسافروں کا گھوڑوں پر سوار ہونا اور اس عالقے میں ہونا مشکوک تھا۔ وہ دونوں ان
‫کے قریب آگئے۔ ایک نے کمانڈر سے کہا… ''ادھر دیکھو‪ ،و ہ آرہے ہیں''۔ جونہی کمانڈرنے ادھر دیکھا کسی آدمی نے ایک
‫بازو کمانڈر کی گردن کے گرد لپیٹ کر بازو کا شکنجہ تنگ کردیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی تلوار والی کالئی پکڑ لی۔
‫دوسرے نے لڑکی کو دبوچ لیا۔ کمانڈر کو جس نے پکڑ رکھا تھا‪ ،اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑی لگا دی۔ گھوڑا تیز چال تو کمانڈر
‫اپنے گھوڑے سے گرنے لگا۔ اندھیرے سے دو اور آدمی دوڑے آئے۔ انہوں نے کمانڈر کو بے بس کرلیا۔
‫یہ سازندے تھے جو دراصل تربیت یافتہ چھاپہ مار سپاہی تھے۔ ان میں سے دو تین زہرہ کے پیچھے گئے تھے اور انہیں
‫راستے میں دیکھ کر اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے تعاقب میں آرہے تھے۔ سنتریوں کے گھوڑوں پر سوار ہوکر آنے
‫والے ان کے ساتھی تھے۔ ان میں سے کسی نے کہا… ''انہیں زندہ لے چلو یہی حکم مال تھا ک کوئی مشتبہ آدمی نظر آئے
‫تو اسے زندہ لے آئو''۔
‫کمانڈر اور زہرہ کو جب پہاڑیوں کی طرف لے جایا جارہا تھا تو انہوں نے دیکھا کہ کشتیوں میں سے حبشی سامان اتار رہے
‫تھے۔ یہ جنگی سامان اوررسد تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫پہاڑیوں میں دور اندر ہزاروں حبشیوں کا ہجوم ابھی تک خاموش بیٹھا تھا۔ شعلہ کبھی کا بجھ چکا تھا۔ مذہبی گیت کی آوازیں
‫سنائی دے رہی تھی۔ حبشیوں پر طلسم طاری تھا۔ ان کی جذباتی کیفیت کچھ اور ہوئی جارہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو ان
‫حبشیوں سے برتر سمجھنے لگے تھے جو سوڈان میں رہ گئے تھے… گیت گانے والے خاموش ہوگئے۔ اچانک سامنے پہاڑی پر
‫چمک نظر آئی تھی جیسے بجلی چمکی ہو۔ چمک پھر پیدا ہوئی جو مستقل روشنی بن گئی۔ یہ روشنی ابوسمبل کے چہرے
‫پر پڑ رہی تھی۔ کچھ پتا نہیں چلتا تھا کہ روشنی کہاں سے آرہی ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ابو سمبل کا چہرہ اپنی روشنی
‫سے روشن ہوگیا ہو۔
‫روشنی بجھ گئی۔ ذرا سی دیر بعد روشنی پھر نظر آئی۔ سب نے دیکھا کہ ابوسمبل کے پہاڑ جیسے بت کی گود میں سے
‫ایک آدمی اترا اور آگے چل پڑا۔ بت کے پیچھے سے چار آدمی نمودار ہوئے۔ سب ایک ایک سفید چادر میں ملبوس تھے۔
‫جنہوں نے کندھوں سے پائوں تک جسم کو ڈھانپ رکھے تھے جو آدمی بت کی گود سے آیا تھا وہ کوئی بادشاہ معلوم ہوتا
‫تھا۔ اس کے سر پر تاج تھا اور تاج پر ایک مصنوعی سانپ کے پھن کا سایہ تھا۔ اس کا چغہ الل رنگ کا تھا۔ روشنی جو
‫معلوم نہیں کہاں سے آرہی تھی۔ اس آدمی پر پڑ رہی تھی۔ اس کے چغے پر ستارے تھے جو روشنی میں چمکتے اور ٹمٹماتے
‫تھے اس کے ہاتھ میں برچھی اور دوسرے میں ننگی تلوار تھی‪ ،تلوار بھی چمکتی تھی۔ سفید چادروں والے آدمی اس کے
‫پیچھے آئے۔
‫وہ ڈھالن سے اتر رہے تھے اور روشنی ان کے ساتھ ساتھ آرہی تھی۔ اگال آدمی جو بادشاہ لگتا تھا رک گیا۔ پیچھے والے
‫چاروں آدمیوں نے اکٹھے بڑی بلند آواز سے کہا… ''خدا زمین پر اتر آیا ہے‪ ،سجدہ کرو۔ اٹھو اور غور سے دیکھو''… سارا
‫ہجوم سجدے میں گر پڑا۔ سب نے سر اٹھائے اور ''خدا'' کو دیکھا۔ اس وقت ''خدا'' نے تلوار اوپر اٹھا لی تھی۔ وہ
‫ڈھالن سے اترنے لگا۔ سناٹا ایسا طاری ہوگیا جیسے وہاں ایک بھی انسان نہ ہو۔ وہ اترتے اترتے ایسی جگہ آن کھڑا ہوا جو
‫بلند تھی اور ہجوم کے قریب بھی تھی‪ ،یہ جگہ چوڑی تھی۔ روشنی صرف اس پر اور ان چار آدمیوں پر پڑ رہی تھی جو اس
‫کے ساتھ تھے۔ اچانک اس روشنی میں چار لڑکیاں داخل ہوئیں۔ ان کے لباس اتنے سے ہی تھے کہ صرف ستر ڈھانپے ہوئے
‫تھے۔ ان کے جسموں کے رنگ گورے تھے۔ ان کی پیٹھوں پر کندھوں سے ذرا نیچے پرندوں کی طرح پر پھیلے ہوئے تھے۔ ان
‫کے بال کھلے تھے‪ ،وہ یوں حرکت کرتی تھیں جیسے اڑ رہی ہوں۔ وہ رقص کی ادائوں سے اس بادشاہ (حبشیوں کے
‫'' خدا'') کے اردگرد گھوم کر وہیں کہیں غائب ہوگئیں شاید چٹان کے پیچھے اتر گئی تھیں۔
‫اس وقت چار آدمی کمانڈر اور زہرہ کو وہاں ایک غار میں لے گئے اور ایک کمرے میں داخل کردیا۔ ایک آدمی باہر چال گیا۔
‫وہ واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا۔ اسے بتا دیا گیا کہ یہ چوکی کا کمانڈر ہے اور یہ رقاصہ ہے اور انہیں دریا
‫کے کنارے سے اس وقت پکڑا گیا ہے جب کشتیاں سامان اور مزید حبشیوں کو اتار رہی تھیں۔
‫تم انہیں بڑے اچھے وقت الئے ہو''۔ اس نے کہا… ''یہ بدبخت حبشی انسانی قربانی مانگ رہے تھے۔ ہم نے القند کے ''
‫کہنے پر خدا کی آواز میں اعالن کردیا تھا کہ ایک مرد اور ایک عورت کی قربانی دی جائے گی ہمیں کہیں سے ایک مرد اور
‫ایک عورت کو اغواء کرکے ان کے حوالے کرنا تھا۔ تم نے ہمارا مسئلہ حل کردیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔
‫ہر کام پوری کامیابی سے ہورہا ہے۔ قربانی کے لیے اپنے آپ ہی دو انسان آگئے ہیں''۔
‫حبشیوں نے خدا دیکھ لیا ہے؟'' ایک نے پوچھا۔''
‫اگر تم وہاں تھے تو دیکھتے کہ ہم نے کیسی استادی سے انہیں خدا دکھایا ہے''۔ اس نے جواب دیا… ''بت کی سامنے ''
‫والی پہاڑی سے جلتے ہوئے فلیتے والے دو تیر چالئے گئے۔ تیر اندازوں نے اندھیرے میں ایسا نشانہ باندھا کہ صحیح جگہ پر
‫تیر گرے۔ ہم نے تیل اور مادہ زیادہ جگہ پھیال دیا تھا۔ پہلے ہی دو تیروں نے اسے آگ لگا دی۔ اینڈرسن تجربہ کار آدمی
‫ہے۔ اس نے کہا تھا کہ شعلے میں بت ہنستا‪ ،مسکراتا اور جھپکتا نظر آئے گا۔ یہ شعلے کا کرشمہ تھا کہ خود ہمیں یقین
‫ہونے لگا تھا کہ بت نہ صرف آنکھوں اور ہونٹوں کو حرکت دے رہا ہے بلکہ اس کا چہرہ دائیں بائیں حرکت کررہا ہے''۔
‫''اور حبشیوں کا ردعمل کیا تھا؟''
‫سجدے میں گر پڑے تھے'' ۔ اس نے جواب دیا… ''ہمارے آدمیوں کی آوازیں بڑی گونج دار تھیں۔ پہاڑیوں میں ان کی گونج''
‫کچھ دیر تک سنائی دیتی رہی۔ میں اندھیرے میں دیکھ نہیں سکا۔ مجھے یقین ہے کہ حبشی خوف سے کانپ رہے ہوں گے۔
‫القند کا ناٹک تو بہت ہی کامیاب رہا۔ شعلہ بجھا تو ہم نے اسے پوشاک پہنا کر بت کی گود میں بٹھا دیا اور چار آدمی
‫پہلے ہی وہاں چھپے بیٹھے تھے۔ بت پر سامنے کی پہاڑی سے روشنی پھینکنے کا سلسلہ بھی کامیاب رہا۔ ساتھ والی پہاڑی
‫پر جو آگ جالئی گئی تھی وہ نیچے کسی کو نظر نہیں آئی تھی۔ اس کے قریب بڑا آئینہ رکھ کر بت پر عکس پھینکا تو
‫یوں لگتا تھا جیسے یہ بت کے چہرے کا نور ہے۔ اس میں سے القند ''خدا'' بن کر اترا تو ہماری لڑکیوں نے سب کو
‫یقین دال دیا کہ یہ خدا ہے اور وہ پریاں ہیں۔ ہم کسی قدم پر ناکام نہیں ہوئے اب القند کو اندر بٹھا کر تمام حبشیوں کو ان
‫کے سامنے سے گزارا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا ''خدا'' جو جنگ میں تمہارے ساتھ ہوگا''۔

‫ان دونوں (کمانڈر اور زہرہ) کو آج ہی قربان کردیں گے''۔''
‫اس کا فیصلہ حبشی کریں گے۔ وہ شاید انہیں تین چار روز پالیں پوسیں گے اور اپنی کچھ رسمیں ادا کریں گے''۔''
‫انہیں کسی کی آواز سنائی دی… ''مجھے معلوم نہیں تھا کہ لڑنے والے ساالر کو یہ سوانگ بھی بھرنا پڑے گا''… تین چار
‫آدمیوں کی ہنسی سنائی دی۔ کسی اور نے کہا… ''اس کے بغیر ان حبشیوں کو لڑانا آسان نہیں تھا۔ بہرحال آپ کو اس
‫سوانگ کی بہت زیادہ قیمت مل رہی ہے''… ''پورا مصر''۔
‫یہ القند اور اس کے ساتھیوں کی آوازیں تھیں۔ وہ قریب آئے تو ان دونوں نے بتایا کہ ایک مرد اور ایک عورت اتفاق سے ہاتھ
‫آگئی ہے۔ انہیں حبشیوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ القند نے یہ پوچھا کہ یہ دونوں کون ہیں‪ ،وہ سر سے تاج اتار کر اس
‫کمرے میں چال گیا جہاں کمانڈر اور زہرہ کو رکھا گیا تھا۔ القند کمانڈر کو نہ پہچان سکا۔ کمانڈر نے اسے پہچان لیا۔ کمانڈر
‫کے کانوں میں وہ باتیں بھی پڑ گئی تھیں جو باہر ایک آدمی دوسرے کو سنا رہا تھا۔ اس نے اس کے منہ سے کئی بار القند
‫کا نام سنا تھا اور اسے یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ اسے اور زہرہ کو قربان کیا جائے گا۔ القند اس کے سامنے آیا تو اسے
‫اس پر حیرت نہ ہوئی کہ اس کا ساالر یہاں کیسے آگیاہے۔
‫القند یہ کہہ کر باہر نکل گیا کہ ان دونوں کو حبشیوں کے مذہبی پیشوائوں کے حوالے کردو۔
‫٭ ٭ ٭
‫تین چار روز بعد قاہرہ میں العادل نے علی بن سفیان کو بالیا اور کہا… ''تین چار دنوں سے ساالر القند نہیں مل رہا۔ میں
‫اسے جب بھی بالتا ہوں
‫''جو اب آتا ہے کہ وہ نہیں ہے۔ اس کے گھر سے بھی یہی جواب مال ہے۔ وہ کہاں جاسکتا ہے؟
‫اگر سرحدی دستوں کے معائنے کے لیے سرحد کے دورے پر جاتا تو آپ سے اجازت لے کر جاتا''… علی بن سفیان نے ''
‫جواب دیا… ''فوری طور پر میرے ذہن میں یہی آتا ہے کہ اسے تخریب کاروں نے اغوا یا قتل کردیاہوگا''۔
‫یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تخریب کاروں سے ہی جا مال ہو''… العادل نے کہا۔''
‫کبھی ایسا شک ہوا نہیں تھا''… علی بن سفیان نے کہا… ''میں اس کے گھر سے پتہ کراتا ہوں''۔''
‫وہ خوداس کے گھر چال گیا القند کے بارہ باڈی گارڈ موجود تھے۔ ان کے کمانڈر سے پوچھا کہ ساالر القند کہاں ہیں؟ اس نے
‫العلمی کا اظہار کیا۔ کسی بھی باڈی گارڈ کو معلوم نہیں تھا۔ مالزمہ کو باہر بال کر کہا گیا کہ القند کی بیویوں سے پوچھے
‫کہ القند کہاں گیا ہے۔ مالزمہ اسے اندر لے گئی۔ الگ کمرے میں بٹھایا‪ ،وہ بوڑھی عورت تھی۔ اس نے علی بن سفیان سے
‫کہا۔ ''اس گھر سے آپ کو پتا نہیں چلے گا کہ ساالر القند کہاں چلے گئے ہیں۔ میں ایک عرصے سے یہاں جو کچھ دیکھ
‫رہی ہوں‪ ،وہ بتا دیتی ہوں لیکن میری جان کی حفاظت آپ کے ذمہ ہوگی۔ اگر میں مرگئی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
‫خاوند مدت ہوئی مرگیا تھا۔ ایک ہی بیٹا تھا وہ سوڈان کی لڑائی میں شہید ہوگیا ہے۔ میں نے یہاں نوکری کرلی ہے۔ یہ لوگ
‫مجھے غریب اور سیدھی سادی عورت سمجھتے رہے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ شہید کی ماں اس ملک اور اس مذہب کے
‫خالف کوئی بات برداشت نہیں کرسکتی جس کی خاطر اس نے اپنا بیٹاشہید کرایا ہو… اس گھر میں مشکوک سے لوگ آتے
‫رہتے ہیں۔ میں نے ایک رات آدمی کو اندر آتے دیکھا۔ وہ عربی لباس میں تھا اور اس کی داڑھی تھی۔ مجھے اندر بال کر
‫کہا گیا کہ میں شراب النے کا انتظام کروں۔ شراب ایک نئی بیگم پالیا کرتی ہے جو مصری یا عربی معلوم نہیں ہوتی۔ میں
‫نے دیکھا کہ داڑھی واال مہمان داڑھی اتار رہا تھا۔ اس کی داڑھی اور مونچھیں مصنوعی تھیں۔ اس سے پہلے بھی یہاں ایسے
‫لوگ آتے رہے ہیں جن پر مجھے شک ہے کہ یہ نیک نیت لوگ نہیں۔ میرے کانوں میں اس قسم کے الفاظ بھی پڑے ہیں…
‫آدھا مصر سوڈان کا… مصر کی امارت… ایک ہی رات میں کام ہوجائے گا… ساالر رات کو نکلے تھے۔ ان کے ساتھ دو اجنبی
‫صورت آدمی تھے‪ ،میں نے یہ بھی دیکھا تھا کہ ساالر نے محافظوں کے کمان دار سے کچھ باتیں کی تھیں''۔
‫بوڑھی مالزمہ نے کچھ اور باتیں بتا کر علی بن سفیان پر یہ ثابت کردیا کہ ساالر القند نہ اغوا کیا گیا ہے نہ قتل اور نہ ہی
‫وہ کسی سرکاری ڈیوٹی پر گیا ہے۔ مصر میں تخریب کاری اور غداری اتنی زیادہ ہوئی تھی اور ہورہی تھی کہ کسی شریف
‫انسان پر بھی شک نہ کرنا بہت بڑی لغزش تھی۔ القند نے کبھی شک پیدا نہیں ہونے دیا تھا لیکن علی بن سفیان بال کی
‫کھال اتارنے واال سراغ رساں تھا۔ اس کے لیے مشکل یہ تھی کہ کسی ساالر کے رتبے کے آدمی کے گھر کی تالشی کسی
‫شہادت کے بغیر نہیں لے سکتا تھا۔ اس کے لیے مصر کے قائم مقام سپریم کمانڈر العادل کی اجازت کی ضرورت تھی۔ اس نے
‫فوری طور پر یہ کارروائی کی کہ اپنے محافظ کو بھیج کر اپنے شعبے کے تین چار سراغ رساں بال لیے اور انہیں القند کے
‫مکان پر نظر رکھنے کے لیے ادھر ادھر چھپا دیا۔ انہیں ہدایت دی کہ کوئی مرد یا عورت مکان سے باہر آئے تو چوری چھپے
‫اس کا تعاقب کیا جائے۔
‫باہر آکر اس نے باڈی گارڈ کے کمانڈر کو حکم دیا کہ اپنے اور تمام محافظوں کے ہتھیار اندر رکھ دو اور سب میرے ساتھ چلو۔
‫بارہ آدمیوں کی گارڈ کو نہتہ کرکے علی بن سفیان اپنے ساتھ لے گیا اور العادل کو تفصیل رپورٹ دی۔ العادل نے اسے القند
‫کے گھر پر چھاپہ مارنے کی اجازت دے دی… وقت ضائع کیے بغیر سپاہیوں کی ایک ٹولی الئی گئی۔ ادھر القند کے گھر میں
‫کوئی اور ہی صورت پیدا ہوگئی تھی۔ علی بن سفیان جب وہاں سے نکال تھا تو القند کی ایک بیوی جو جوان تھی مالزمہ کو
‫اپنے کمرے میں لے گئی اور اس سے پوچھا کہ علی بن سفیان نے اس سے کیا پوچھا اور اس نے کیا بتایا ہے۔ بڑھیا نے
‫جواب دیا کہ وہ ساالر کے متعلق پوچھ رہا تھا میں نے بتایا تھا کہ میں غریب سی مالزمہ ہوں مجھے کچھ خبر نہیں کہ وہ
‫کہاں ہیں۔
‫تمہیں بہت کچھ معلوم ہے''… بیگم نے اسے کہا… ''اور تم نے بہت کچھ بتایا ہے''۔''
‫بڑھیا اپنی بات پر قائم رہی۔ بیگم نے ایک مالزم کو بالیا اور اسے ساری بات بتا کر کہا… ''اس نامراد بڑھیا کی زبان کھولو۔
‫کہتی ہے میں نے کچھ نہیں بتایا''۔
‫مالزم نے بڑھیا کے بال مٹھی میں لے کر مروڑے اور ایسا جھٹکا دیا کہ وہ چکرا کر گری۔ مالزم نے اس کی شہ رگ پر پائوں
‫رکھ کر دبا دیا۔ بڑھیا کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔ مالزم نے دانت پیس کر کہا… ''بتا اسے کیا بتایا ہے''… اس نے پائوں اٹھا
‫لیا۔
‫بڑھیا میں اٹھنے کی ہمت کم رہ گئی تھی۔ وہ خاموش رہی۔ مالزم نے اس کی پسلیوں میں الت ماری۔ بڑھیا تڑپنے لگی۔ اس
‫کے بعد مالزم نے اسے طرح طرح کی اذیتیں دے دے کر ادھ موا کردیا۔ تب اس نے کہا… ''جان سے مار ڈالو۔ اپنے شہید
‫بیٹے کی روح کے ساتھ غداری نہیں کروں گی۔ تم غدار ہو۔ تم ایمان فروش کی بدکار بیوی ہو''۔
‫اسے تہہ خانے میں لے جاکر ختم کردو''… بیگم نے کہا… ''رات کو الش غائب کردینا۔ ہمارے سر سے ابھی خطرہ ٹال نہیں۔

‫وہ ہمارے محافظ کو نہتہ کرکے اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ اس بدبخت بڑھیا کو بہت کچھ معلوم ہے۔ اسے راز سمیت زمین میں
‫دبا دو''۔
‫بڑھیا فرش پر پڑی تھی۔ اس پر نیم غشی کی کیفیت طاری تھی۔ مالزم نے اسے ہلکی سی گٹھڑی کی طرح اٹھا کر کندھے پر
‫ڈال دیا۔ کمرے سے نکل کر وہ برآمدے میں جارہا تھا کہ آواز آئی… ''رک جائو''… اس نے گھوم کر دیکھا۔ سپاہی دوڑے
‫آرہے تھے۔ علی بن سفیان کے حکم پر وہ سب بکھر کر کمروں اور برآمدوں وغیرہ میں پھیل گئے۔ مالزم بھاگ نہ سکا۔ اس
‫کے کندھے پر بڑھیا کو اتارا گیا۔ بڑھیا کے منہ سے خون نکل رہا تھا۔ اس نے آنکھیں کھولیں‪ ،علی بن سفیان کو دیکھا تو
‫اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ اس نے کہا… ''اس سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس گھر میں کیا ہورہا ہے۔ تم
‫آئے تو میرا شک پختہ ہوگیا کہ یہ تو گڑبڑ ہے''… اس کی آواز اکھڑ رہی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے بتایا کہ نئی بیگم
‫اور اس کے اس مالزم نے اس سے یہ اگلوانے کے لیے کہ اس نے علی بن سفیان کو کیا بتایا ہے اسے بہت مارا ہے۔
‫علی بن سفیان نے ایک سپاہی سے کہا کہ بڑھیا کو فورا ً طبیب کے پاس لے جائو… بڑھیا نے روک دیا اور کہا ''مجھے کہیں
‫نہ بھیجو‪ ،میں اپنے شہید بیٹے کے پاس جارہی ہوں۔ مجھے نہ روکو''… اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
‫سپاہیوں نے القندکے گھر کا کونہ کونہ چھان مارا تہہ خانے میں گئے تو یہ اسلحہ خانہ بنا ہوا تھا۔ گھر سے سونے کے ٹکڑوں
‫اور نقدی کے انبار برآمد ہوئے۔ ایک مہر بھی برآمد ہوئی جس پر القند کا پورا نام اور اس کے ساتھ ''سلطان مصر'' کندہ
‫تھا۔ القند کو اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ اس نے اپنے نام کی مہر بھی بنوالی تھی۔ اس مہر نے شکوک کو یقین میں بدل
‫دیا۔ القند کے گھر میں چھ بیویاں تھیں اور شراب کا ذخیرہ بھی تھا۔ القند کے متعلق مشہور تھا کہ شراب نہیں پیتا۔ اب اس
‫کے گھر سے پتا چال کہ رات کو پیا کرتا تھا۔ علی بن سفیان نے اس کی تمام بیویوں سے پوچھ گچھ کی تو اور کارآمد
‫معلومات حاصل ہوئیں۔ اہم شہادت نئی بیگم کی تھی جس نے مالزم کے ہاتھوں بڑھیا کو مروا دیا تھا۔ باقی تمام بیویوں نے
‫کہا کہ سارا راز نئی بیگم کے سینے میں ہے۔ اس کے متعلق یہ بھی بتایا گیا کہ اس کی زبان مصری نہیں‪ ،سوڈانی ہے اور
‫جب باہرکے آدمی آتے ہیں تو صرف یہی لڑکی ان میں اٹھتی بیٹھتی اور ان کے ساتھ شراب پیتی ہے۔ ان بیویوں کے انداز
‫سے پتا چلتا تھا کہ انہیں اورکچھ بھی معلوم نہیں۔
‫نئی بیگم کو الگ کرلیا گیا۔ علی بن سفیان نے کہا کہ ''وہ اب کچھ چھپانے کی کوشش نہ کرے‪ ،اس کے متعلق جو کچھ
‫جانتی ہو بتا دو''۔
‫نئی بیگم کو علی بن سفیان نے اپنے دو آدمیوں کے ساتھ اپنے مخصوص تہہ خانے میں بھیج دیا اور خود کچھ اور تفتیش
‫کرکے اور القند کے گھر پر پہرہ لگا کر اپنے دفتر میں چال گیا جہاں القند کے باڈی گارڈ نہتے بیٹھے تھے۔ ان سب کو علی
‫بن سفیان نے کہا… ''تم مصر اور شام کی متحدہ سلطنت کے فوجی ہو کچھ چھپائو گے تو اس کی سزا موت ہے اور اگر تم
‫نے حکم کی پابندی کرتے ہوئے ساالر القند کی سرگرمیوں پر پردہ ڈال رکھا ہے تو شاید میں تمہیں کوئی سزا نہ دوں گا''۔
‫گارڈ کا کمانڈر بول پڑا۔
‫وہ جانتا تھا کہ وہ کچھ نہیں بتائے گا تو اس کا کیا حشر کیا جائے گا۔ اس نے یہ کہہ کر وہ حکم کا پابند اور انعام واکرام
‫کا طلب گار تھا‪ ،علی بن سفیان کو بتایا کہ ا لقند کا مسلسل رابطہ صلیبیوں اور سوڈانیوں کے ساتھ تھا اور وہ انہی کے ساتھ
‫گیا ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ ایک گھریلو مالزم کو ایک ساالر کے خفیہ پالن کا علم ہوتا۔ مالزم نے بتایا کہ القند نے
‫جاتے ہوئے کہا تھا کہ بہت دنوں کے بعد آئے گا اور جب تک ممکن ہوسکا اس کی غیر حاضری کے متعلق العلمی کا اظہار
‫کرتے رہیں۔ مالزم کو یہ معلوم نہیں تھا کہ القند گیا کہاں ہے۔
‫اس نے جوبیان دیا‪ ،اس سے اس کی تصدیق ہوگئی کہ القند کے پاس صلیبی اور سوڈانی آتے تھے اور القند غداری کا مرتکب
‫ہورہا تھا۔ انہیں بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ القند گیا کہاں ہے۔
‫آدھی رات کے قریب علی بن سفیان تہہ خانے میں گیا القند کی نئی بیگم تنگ سی ایک کوٹھڑی میں بند تھی۔ اسے دہشت
‫زدہ کرنے کے لیے اس کی کوٹھڑی میں ایک ایسے قیدی کو ڈال دیا گیا تھا جو مسلسل اذیتوں سے تڑپتا اور کراہتا تھا۔ وہ
‫صلیبیوں کا جاسوس تھا۔ اپنے ساتھیوں کی نشاندہی نہیں کرتا تھا۔ نئی بیگم دوپہر سے اس کے ساتھ بند تھی اور اسے تڑپتا
‫دیکھ رہی تھی۔ اب آدھی رات ہوگئی تھی۔ وہ تو شہزادی تھی‪ ،تہہ خانے اور کوٹھڑی کی صرف بدبو ہی اسے پاگل کرنے کو
‫کافی تھی۔ اس آدمی کی حالت دیکھ دیکھ کر اس کا خون خشک ہوگیا تھا۔
‫علی بن سفیان جب اس کے سامنے گیا تو لڑکی چیخنے چالنے لگی اسے باہر نکال کر علی بن سفیان ایک اور کوٹھڑی کے
‫سامنے لے گیا۔ سالخوں کے پیچھے تنگ سی کوٹھڑی میں ایک سیاہ کاال حبشی بند تھا۔ہیبت ناک شکل اور جسم بھینسے
‫جیسا۔ اس نے سرحدی دستے کے ایک کمانڈر کو قتل کیا تھا۔ علی بن سفیان نے لڑکی سے کہا کہ باقی رات اسے اس کے
‫ساتھ بند کیا جائے گا۔ لڑکی چیخ کر علی بن سفیان کے پائوں پر گر پڑی۔
‫پوچھو مجھ سے کیا پوچھتے ہو!''… اس نے علی بن سفیان کی ٹانگوں سے لپٹ کر کہا۔''
‫القند کہاں گیا ہے؟ کیوں گیا ہے؟ اس کے ارادے کیا ہیں؟''… علی بن سفیان نے پوچھا۔''
‫نازک سی لڑکی نے سب کچھ ہی بتا دیا۔ اسے بھی یہ معلوم نہ تھا کہ القند کہاں گیا ہے۔
‫اس نے بتایا کہ سوڈان سے حبشیوں کی فوج الئی جارہی ہے جو کسی رات قاہرہ پر حملہ کرکے سارے مصر پر قابض ہوجائے
‫گی یہ لڑکی چونکہ شراب پالنے کا فرض ادا کرتی تھی‪ ،اس لیے القند کے گھر میں آئے ہوئے صلیبی اور سوڈانی مہمان اسے
‫اپنا سمجھ کر اس کے سامنے بھی باتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لڑکی سوڈان کے کسی بڑے آدمی کی بیٹی تھی۔ اسے القند کے
‫لیے تحفے کے طور پر بھیجا گیا تھا۔ القند نے اس کے ساتھ شادی کرلی تھی۔ لڑکی بہت ہوشیار اور تیز تھی وہ سوڈان کے
‫مقصد کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔ اس کے بتانے کے مطابق یہ سونا اور نقدی جو اس کے گھر سے برآمد ہوئی تھی‪ ،سوڈان
‫سے آئی تھی۔ یہ جنگ کے اخراجات کے لیے اور مصری کی فوج سے غدار خریدنے کے لیے تھی۔ اس لڑکی کو اس مقام کا
‫علم نہیں تھا جہاں حبشیوں کی بہت سی فوج آچکی تھی‪ ،اس نے بتایا کہ فوج کہیں دریا کے کنارے ہے اور اس کا حملہ
‫شب خون کی قسم کا ہوگا۔
‫جس قدر معلومات حاصل کی جاسکتی تھیں کرلی گئیں۔ علی بن سفیان نے العادل کو تفصیلی رپورٹ دی اور تجویز پیش کی
‫کہ دو دو چار چار سپاہی دیکھ بھال کے لیے ہر طرف پھیال دئیے جائیں جو یہ دیکھیں کہ سوڈانی فوج کا اجتماع کہاں ہے
‫اوریہ بھی معلوم کیا جائے کہ حبشیوں کی فوج اگرواقعی اندر آگئی ہے تو کدھر سے آئی ہے۔ اس نے یہ تجویز بھی پیش کی
‫کہ سلطان صالح الدین
‫ا یوبی کو اطالع نہ دی جائے کیونکہ وہ سوائے پریشان ہونے کے کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ العادل سلطان صالح الدین ایوبی

‫کو اطالع دینا ضروری سمجھتا تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ حاالت زیادہ بگڑ سکتے ہیں۔ اس صورت میں سلطان صالح الدین ایوبی
‫لہ ذا مکمل رپورٹ لکھ کر ایک سینئر کمانڈر کو چار محافظوں کے ساتھ دی گئی اور اسے یہ
‫کی ضرورت پیدا ہوسکتی ہے۔ ٰ
‫حکم دیا گیا کہ ہر چوکی پر گھوڑے تبدیل کریں اورکہیں رکیں نہیں۔
‫٭ ٭ ٭
‫میدان جنگ میں سلطان صالح الدین ایوبی کا ہیڈکوارٹر کسی ایک جگہ نہیں رہتا تھا۔ وہ دن کو کہیں اور رات کو کہیں اور
‫ہوتا اور خود گھومتا پھرتا رہتا تھا لیکن اس نے ایسا انتظام کررکھا تھا کہ اس تک پہنچتے وقت دقت نہیں ہوتی تھی۔ جگہ
‫جگہ رہنما موجود تھے۔ جنہیں خبر پہنچا دی جاتی تھی کہ سلطان صالح الدین ایوبی کہاں ہے۔ یہ ایک راز ہوتا تھا‪ ،اس لیے
‫رہنما ذہین قسم کے افراد ہوتے تھے جس دن تین دنوں کی مسافت کے بعد پیغام لے جانے واالکمانڈر چار محافظوں کے ساتھ
‫دمشق پہنچا اس وقت سلطان صالح ا لدین ایوبی الرستان کے سلسلہ کوہ میں تھا۔ سردی کا عروج تھا۔ کمانڈر اس کے
‫محافظوں کی یہ حالت تھی کہ بھوک‪ ،نیند اور مسلسل سواری سے ان کے چہرے الشوں کی طرح سوکھ گئے تھے۔ زبانیں باہر
‫نکلی ہوئیں اورسر ڈول رہے تھے۔ پھر بھی وہ فورا ً روانہ ہونے کے لیے تیار ہورہے تھے۔ انہیں زبردستی کھالیا پالیا گیااور وہ
‫الرستان کے لیے روانہ ہوگئے۔
‫تریپولی کاصلیبی حکمران ریمانڈ الملک الصالح کی مدد کے لیے آیا اور بغیر لڑے واپس چال گیا تھا کیونکہ سلطان صالح الدین
‫ایوبی نے آگے گھات لگائی اور عقب سے اس کی رسد روک لی تھی۔ عقب میں بھی سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج دیکھ
‫کر ریمانڈ اپنی فوج کو کسی اور طرف سے نکال کر لے گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اس کا تعاقب مناسب نہ
‫سمجھا کیونکہ اس سے وقت اور طاقت ضائع ہوتی تھی۔ اس نے زیادہ نفری کے چھاپہ مار دستے ریمانڈ کی رسد کو پکڑ النے
‫یا دوسری صورت میں تباہ کردینے کے لیے بھیج دیئے۔ موسم سرما کی بارشیں بھی شروع ہوگئی تھیں۔ صلیبیوں کی رسد کا
‫قافلہ بہت ہی بڑا تھا۔ رات کے وقت رسد کے محافظ گھوڑا گاڑیوں کے نیچے اور خیموں میں پڑے تھے۔ انہیں رسد واپس لے
‫جانی تھی۔ اگلی صبح انہیں کوچ کرنا تھا۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ دن کے وقت پہاڑیوں اور چٹانوں کی اوٹ سے چند آنکھیں
‫انہیں دیکھتی رہی تھیں۔ انہیں غالبا ً توقع تھی کہ اتنی سردی میں اور بارش کے دوران ان پر کوئی حملہ نہیں کرنے آئے گا۔
‫رات کو اچانک ان کے کیمپ کے ایک طرف شور اٹھا۔ شعلے بھی اٹھے۔ خیمے جل رہے تھے۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی
‫کے چھاپہ ماروں کا شب خون تھا۔ انہوں نے پہلے چھوٹی منجنیقوں سے آتش گیر مادے کی ہانڈیاں پھینکیں‪ ،پھر جلتے ہوئے
‫فلیتوں والے تیر چالئے تھے۔ شعلوں کی روشنی میں انہوں نے حملہ کردیا۔ برچھیوں اور تلواروں سے بہت سے صلیبیوں کو
‫ختم کرکے چھاپہ مار پہاڑیوں میں غائب ہوگئے۔ کچھ دیر تک قریبی چٹانوں سے رسد کے کیمپ پر تیر برستے رہے۔ اس کے
‫بعد چھاپہ ماروں کی دوسری پارٹی نے حملہ کیا۔ صبح تک ڈیڑھ دو میل عالقے میں پھیلے ہوئے کیمپ میں رسد رہ گئی تھی
‫یا الشیں یا ایسے زخمی جو چلنے کے قابل نہیں تھے۔ بہت سے گھوڑوں کو صلیبی بھگالے گئے تھے۔ بہت سے پیچھے بھی
‫رہ گئے تھے۔ چھاپہ ماروں کے شب خونوں کے درمیانی وقفے میں صلیبی کچھ گھوڑا گاڑیاں نکال لے جانے میں کامیاب ہوگئے
‫تھے۔ جو رسد اور گھوڑے رہ گئے وہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج نے قبضے میں لے لیے۔
‫حلب کا محاصرہ اٹھا لیا گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اس اہم شہر کو ایک بار پھر محاصرے میں لینے کی سکیم بنا رہا
‫تھا۔ دن کے وقت جب چھاپہ ماروں کا کمانڈر سلطان صالح الدین ایوبی کے شب خونوں کی رپورٹ دے رہا تھا۔ دربان خیمے
‫میں داخل ہوا۔ اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کو اطالع دی کہ قاہرہ سے ایک کمان دار ایک پیغام الیا ہے۔ پیغام قاصد
‫الیا لے جایا کرتے تھے۔ کمان دار کا نام سن کر سلطان صالح الدین ایوبی دوڑ کر باہر آیا اور اس کے منہ سے
‫''نکال…''خیریت؟… تم کیوں آئے ہو؟
‫پیغام اہم ہے''… کمان دار نے کہا… ''خدائے ذوالجالل سے خیریت کی امید رکھنی چاہیے''۔''
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے پیغام لیا اور کمان دار کو اندر لے گیا۔ اس نے پیغام پڑھا اور گہری سوچ میں کھوگیا۔
‫ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سوڈانیوں کی فوج مصر میں داخل ہوکر کہاں خیمہ زن ہوئی ہے؟''… سلطان صالح الدین ''
‫ایوبی نے پوچھا۔
‫دیکھ بھال کے دستے بھیج دئیے گئے ہیں''… کمان دار نے جواب دیا۔''
‫مجھے توقع تھی کہ میری غیرحاضری میں کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہوگی''… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''میرے ''
‫بھائی ( العادل) سے کہنا کہ گھبرائے نہیں۔ قاہرہ کے دفاع کو مضبوط کرلے لیکن صرف دفاعی لڑائی نہ لڑے۔ زیادہ تر دستے
‫اپنے پاس رکھے اور ان میں سے جوابی حملے کے لیے تجربہ کار دستے الگ کرلے لیکن انہیں شہر ہی میں رہنے دے۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:12
‫قسط نمبر۔‪80‫جب خدا زمین پر اتر آیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫زیادہ تر دستے اپنے پاس رکھے اور ان میں سے جوابی حملے کے لیے تجربہ کار دستے الگ کرلے لیکن انہیں شہر ہی میں
‫رہنے دے۔ فوج کی کوئی نقل وحرکت نہ کرے تاکہ دشمن کو یہ امید رہے کہ وہ تمہیں بے خبری میں لے لے گا۔ ظاہر یہ
‫کرتے رہنا کہ قاہرہ کی فوج کو علم نہیں کہ قاہرہ پر حملہ ہونے واال ہے۔ شہر کو محاصرے میں نہ آنے دینا۔ اس سے پہلے
‫ہی جوابی حملہ کردینا۔ کوشش یہ کرو کہ دشمن کے حملے سے پہلے ہی ڈھونڈ لو۔ اگر پتا چل جائے کہ وہ کہاں ہے تو
‫زیادہ نفری سے حملہ نہ کرنا۔ شب خون مارنا۔ سرحدی دستوں کی نفری زیادہ کردو تاکہ دشمن بھاگ کر نہ جاسکے۔ میں
‫حیران ہوں کہ اتنی فوج سرحد پار کس طرح آئی ہے۔ کسی نہ کسی سرحدی چوکی کی مدد یا کوتاہی کے بغیر یہ ممکن
‫نہیں ہوسکتا۔ اللہ تمہیں کامیابی عطا فرمائے گا۔ دشمن رسد اور کمک کے بغیر نہیں لڑ سکے گے۔ سرحد کو مضبوطی سے بند
‫کردینا۔ لڑائی کو طول دینا تاکہ دشمن بھوک سے مرے۔ میں تمہیں عمال ً بتا چکا ہوں کہ دشمن کو بکھیر کر کس طرح لڑایا
‫جاتا ہے۔ زیادہ نفری کے خالف زیادہ نفری سے آمنے سامنے آکر لڑنا قطعا ً ضروری نہیں''۔
‫مجھے توقع نہیں تھی کہ القند بھی غدار نکلے گا پھر بھی میں حیران نہیں۔ ایمان کی نیالمی میں کوئی دیر نہیں لگتی۔''
‫بادشاہی کا صرف تصور ہی انسان کو ایمان سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیتاہے۔ اقتدار کا نشہ قرآن کو بند کرکے الگ رکھ
‫دیتا ہے۔ مجھے افسوس القند پر نہیں‪ ،میں اسالم کے مستقبل کے متعلق پریشان ہوں۔ ہمارے بھائی صلیبیوں کے ہاتھوں فروخت
‫ہوتے جارہے ہیں۔ا دھر میرے بھائی میرے خالف لڑ رہے ہیں‪ ،میرا پیرومرشد نورالدین زنگی اس دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ کل
‫پرسوں ہم بھی اٹھ جائیں گے۔ا س کے بعد کیا ہوگا؟ یہی سوال مجھے پریشان رکھتا ہے۔ کوشش کرنا کہ جب تک زندہ رہو

‫اسالم کا پرچم سرنگوں نہ ہونے پائے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ مجھے باخبر رکھنا''۔
‫اس نے پیغام النے والے کمان دار کو بہت سی ہدایات دے کر رخصت کردیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫مصری فوج کے چند ایک دستوں کو دودو چار چار کی ٹولیوں میں تقسیم کرکے بھیج دیا گیا کہ وہ گھوم پھر کر دشمن کے
‫اجتماع کو ڈھونڈیں۔ا س دوران اس سرحدی چوکی سے جس کا کمانڈر زہرہ کے ساتھ الپتہ ہوگیا تھا‪ ،ایک سپاہی نے قاہرہ آکر
‫رپورٹ دی کہ چوکی کا کمانڈر چند دنوں سے الپتہ ہے۔ سپاہی نے یہ نہ بتایا کہ ان کی چوکی پر ناچ گانا ہوا تھا اور ایک
‫رقاصہ کمانڈر کے خیمے میں گئی تھی۔ اس اطالع سے شک ہوا کہ وہ دشمن کے ساتھ مل گیا ہے اور اسی کی مدد سے
‫دشمن اندر آیا ہے۔ علی بن سفیان نے رائے دی کہ چونکہ وہ چوکی دریائی راستے کی نگرانی کے لیے ہے‪ ،اس لیے دشمن
‫دریا کے راستے آیا ہوگا۔ فیصلہ ہوا کہ کسی ذہین کمانڈر کو اس چوکی پر محافظوں کے ایک دستے کے ساتھ بھیجا جائے۔
‫چوکی کا کمانڈر اور زہرہ حبشیوں کے قبضے میں تھے لیکن قید ہوتے ہوئے بھی وہ قیدی نہیں تھے۔
‫ا نہیں جو لباس پہنایا گیا تھا وہ پرندوں کے رنگ برنگ پروں کا بنا ہوا تھا جس کمرے میں انہیں رکھاگیا تھا‪ ،اسے پروں اور
‫پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ انہیں خاص قسم کی غذ ا کھالئی جارہی تھی۔ حبشیوں کے مذہبی پیشوا ان کے آگے سجدے کرتے
‫اور کچھ بڑبڑا کر چلے جاتے تھے۔ کسی اور کو ان کے قریب آنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک بار انہیں درختوں کی مضبوط
‫ٹہنیوں اور پتوں کی بنی ہوئی پالکیوں پر اٹھا کر دریا میں نہالنے کے لیے لے جایا گیا تھا۔ دونوں کو معلوم تھا کہ انہیں ذبح
‫کیا جائے گا۔ رات کو وہ تنہا ہوتے تھے لیکن باہر آٹھ دس حبشی موجود رہتے تھے۔ کمانڈر نے کئی بار اٹھ کر دیکھا تھا کہ
‫فرار کی کوئی صورت بن سکتی ہے یا نہیں۔ فرار ممکن نظر نہیں آتا تھا۔
‫ایک رات حبشیوں کے دو مذہبی پیشوا آئے۔ کمانڈر اور زہرہ سوئے ہوئے تھے۔ انہیں جگایا گیا‪ ،وہ سمجھے کہ ان کی موت آن
‫پہنچی ہے۔ مذہبی پیشوائوں نے ان کے آگے سجدہ کیا اور دونوں کو باہر لے گئے۔ باہر پالکیاں رکھی تھیں۔ ایک پر کمانڈر اور
‫دوسرے پر زہرہ کو بٹھایا گیا۔ دو دو حبشیوں نے ایک ایک پالکی اٹھالی۔ مذہبی پیشوا آگے آگے چل پڑے۔ وہ دونوں مل کر
‫کچھ گنگنانے لگے۔ پالکیوں کے پیچھے دو اور حبشی تھے جن کے پاس برچھیاں تھیں۔ وہ محافظ تھے۔ کمانڈر اور زہرہ خاموش
‫تھے۔ پہاڑیوں سے نکل کر وہ لوگ دریا کی طرف چل پڑے۔ کمانڈر نے دیکھا کہ چاند افق سے نکل رہا تھا۔ اس سے اس نے
‫اندازہ کیا کہ رات آدھی گزر گئی ہے۔ اس وقت سے پہلے چاند نہیں ہوتا تھا۔
‫دریا کے کنارے لے جا کر پالکیاں اتاری گئیں۔ مذہبی پیشوا آگے بڑھ کر کمانڈر اور زہرہ کا لباس اتارنے لگے۔ چاند کی روشنی
‫میں کمانڈر نے دیکھا کہ برچھیوں والے دونوں محافظ اور پالکیاں اٹھانے والے دونوں حبشی ان کی طرف پیٹ کرکے پہلو بہ پہلو
‫کھڑے ہوگئے تھے۔ ان کے لیے شاید یہی حکم تھا۔ کمانڈر نے چیتے کی طرح جست لگائی اور ایک حبشی سے برچھی چھین
‫لی۔ وہ تجربہ کار سپاہی تھا۔ اس نے پیچھے ہٹ کر دوسرے حبشی کے پہلو میں برچھی اتار دی۔ اس حبشی کی برچھی گر
‫پڑی۔ کمانڈر نے چال کر کہا… ''زہر ہ بھاگ کر آئو‪ ،یہ برچھی اٹھالو''۔
‫زہرہ دوڑی۔ کمانڈر نے گری ہوئی برچھی کو ٹھڈا مارا تو وہ زہرہ تک پہنچ گئی۔ کمانڈر نے کہا… ''اب مرد بن جائو''…
‫حبشیوں نے خالی ہاتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ برچھیوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔ مذہبی پیشوا بھاگ اٹھے۔ کمانڈر نے
‫انہیں دور نہیں جانے دیا۔ زہرہ بھی ادھر کو ہی دوڑ پڑی۔ دونوں پیشوا ختم ہوگئے۔ باقی بھی مرنے سے پہلے زور زور سے
‫کراہ اور چال رہے تھے۔ کمانڈر کی برچھی نے سب کو خاموش کردیا اور وہ چوکی کی طرف دوڑ پڑے۔ بہت آگے گئے تو انہیں
‫دو گشتی سنتری گھوڑوں پر سوار آتے نظر آئے۔ کمانڈر نے انہیں پکار کر کہا کہ جلدی آگے آئو۔
‫سنتریوں نے اپنے کمانڈر کو پہچان لیا۔ کمانڈر نے انہیں کہا… ''گھوڑے ہمیں دو‪ ،ہم قاہرہ جارہے ہیں‪ ،تم دونوں واپس چوکی
‫میں چلے جائو۔اگر کوئی ہماری تالش میں آئے تو کہنا کہ تم نے ہمیں نہیں دیکھا''۔
‫سپاہی پیدل واپس چلے گئے‪ ،کمانڈر نے زہرہ کو گھوڑے پر سوار کیا اور خود دوسرے گھوڑے پر سوار ہوکر زہرہ سے کہا کہ اگر
‫تم نے کبھی گھوڑ سواری نہیں کی توگھبرانا نہیں۔ گھوڑا تمہیں گرائے گا نہیں۔ ڈرنا مت۔ اس نے گھوڑے کو ایڑی لگائی۔
‫گھوڑے سرپٹ دوڑنے لگے اور اس کے ساتھ ہی زہرہ نے ڈر کے مارے چیخنا شروع کردیا۔ کمانڈر نے گھوڑا روک لیااور زہرہ کو
‫اپنے گھوڑے پر اپنے پیچھے بٹھا لیا اور دوسرے گھوڑے کی باگیں اپنے گھوڑے کے پیچھے باندھ کر زہرہ سے کہا کہ وہ اس
‫کی کمر کے گرد بازو ڈال لے۔
‫گھوڑا پھر دوڑ پڑا۔ کمانڈر خطے سے دورہٹ کر اور چکر کاٹ کر جارہا تھا۔ اسے سمت اور راستے کاعلم تھا۔ وہ ابھی دو میل
‫بھی نہیں گیا ہوگا کہ ایک طرف سے اسے آوازسنائی دی… ''ٹھہر جائو کون ہو؟''… کمانڈر رکا نہیں۔ بیک وقت چار گھوڑے
‫اس کے تعاقب میں دوڑ پڑے۔ کمانڈر نے اپنے گھوڑے کی رفتار اور تیز کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا گھوڑا تھک گیا تھا۔
‫اس نے کوشش کی کہ دوسرے گھوڑے کو اپنے پہلو میں کرکے اس پر سوار ہوجائے وہ گھوڑا بغیروزن کے بھاگ رہا تھا۔ اس
‫لیے زیادہ تھکا ہوا نہیں تھا مگرزہرہ کے ساتھ بھاگتے گھوڑے سے دوسرے گھوڑے پر سوار ہونا ممکن نہیں تھا۔ چاند اوپر آگیا
‫تھا جس سے دور تک نظر آسکتا تھا۔ چاروں گھوڑے بہت قریب آگئے تھے۔
‫دو تیر آئے جو کمانڈر کے قریب سے گزر گئے۔ ان کے ساتھ آواز آئی… ''اگر نہ رکے تو اب تیر کھونپڑی میں اتر جائیں
‫گے''۔
‫کمانڈر کو معلوم تھا کہ وہ رکا تو بھی موت ہے۔ یہ لوگ حبشیوں کے حوالے کرکے آج ہی رات ذبح کردیں گے۔ بھاگتے رہنے
‫میں بچ نکلنے کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس نے گھوڑا دائیں بائیں گھما گھما کر دوڑانا شروع کردیا تاکہ تیر نشانے پر نہ
‫آئیں۔ یہ اس کی غلطی تھی۔ اس کے تعاقب میں آنے والے سیدھے آرہے تھے جس سے فاصلہ کم ہوگیا اور وہ گھیرے میں
‫آگیا۔ اس کے جسم پر پروں کا لباس تھا جس سے وہ پرندہ لگتا تھا۔ یہی حالت زہرہ کی تھی کمانڈر نے ان چاروں کو دیکھا
‫تو اسے شک ہوا۔ ان میں سے ایک نے پوچھا… ''تم کون ہو؟''… دوسرے نے کہا… ''پوچھتے کیا ہو‪ ،سوڈانی ہے یہ‪ ،دیکھو
‫تو انہوں نے پہن کیا رکھا ہے''۔
‫کمانڈر ہنس پڑا اور بوال… ''میرے دوستو‪ ،میں تمہاری فوج کا ایک کمان دار ہوں''… اس نے زہرہ کا تعارف کرایا اور ساری
‫واردات سنا دی۔
‫یہ چار سوار دیکھ بھال کے کسی دستے کے تھے۔ وہ یہی دیکھتے پھر رہے تھے کہ سوڈان کی فوج کہاں ہے اور کہیں ہے
‫بھی یا نہیں۔ وہ کمانڈر اور زہرہ کو ساتھ لے کر قاہرہ کی سمت چل پڑے۔
‫٭ ٭ ٭
‫بڑی ہی لمبی مسافت طے کرکے وہ اگلی رات قاہرہ پہنچے۔ انہیں سب سے پہلے علی بن سفیان کے پاس لے جایا گیا اور

‫رات کو ہی العادل کو جگا کر بتایا گیا کہ چار ہزار سے زیادہ حبشی فوج فالں جگہ چھپی ہوئی ہے اور اس کی قیادت ساالر
‫القند کررہا ہے۔ العادل نے اسی وقت اپنی فوج کو کوچ کا حکم دے دیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے طریقہ جنگ کے مطابق
‫اس نے ہر اول میں سوار دستے رکھے‪ ،جن کی نفری خاصی تھوڑی تھی۔ دو حصے پہلوئوں میں پیچھے رکھے۔ درمیان میں اپنا
‫مین کوارٹر اپنے پیچھے زیادہ سے زیادہ دستے ریزرو میں رکھے۔ اسے معلوم تھا کہ وہ خطہ پہاڑی ہے۔ اس نے فوج کو قلعے
‫کا محاصرہ کرنے کی تربیت میں رکھااور کمانڈروں کو وہ جگہ سمجھا کر محاصرے کی ہی ہدایات دیں۔ پہاڑوں پر چڑھنے کے
‫لیے اس نے چھاپہ مار دستے الگ کرلیے جنہیں اس نے اپنی کمان میں رکھا۔
‫ادھر صبح کے وقت کسی نے دیکھا کہ مذہبی پیشوائوں اور چار حبشیوں کی الشیں دریا کے کنارے پڑی ہیں۔ القند اور اس کے
‫صلیبی مشیروں کو اطالع دی گئی۔ کسی حبشی کو پتا نہ چلنے دیا گیا۔ القند کو یہ بھی بتایا گیا کہ جس مرد اور عورت کو
‫قربانی کے لیے رکھا گیا تھا وہ الپتہ ہیں۔ تب القند نے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا۔ اسے جب بتایا گیا کہ وہ اس قریبی
‫چوکی کا کمانڈر تھا تو وہ چونکا۔ اسے یاد آگیا کہ اس کمانڈر نے اسے دیکھا تھا۔
‫وہ سیدھا قاہرہ گیا ہوگا'' القند نے کہا… ''اسے چوکی میں جاکر دیکھنا اور پکڑنا بیکار ہے۔ اب ایک لمحہ بھی ضائع ''
‫نہیں کرنا چاہیے۔ ہم قاہرہ پر بے خبری میں ہلہ بولنا چاہتے تھے لیکن ہم نے وقت ضائع کیا۔ اب ہم بے خبری میں مارے
‫جائیں گے۔ میں اپنی فوج کو جانتا ہوں۔ خبر ملتے ہی اڑ کر پہنچے گی… اور ایک کام فورا ً کرو۔ حبشیوں کی الشیں دریا میں
‫بہا دو۔ اگر ان حبشیوں کو پتا چل گیا کہ ان کے مذہبی پیشوا اور ان کے محافظ مارے گئے اور جنہیں قربان کرنا تھا وہ
‫بھاگ گئے ہیں تو یہ ہجوم قاہرہ کے بجائے خرطوم کی طرف چل پڑے گا''۔
‫فورا ً ہی اعالن کردیا گیا کہ دریا کے کنارے قربانی دے دی گئی ہے۔ خدا نے حکم دیا ہے کہ میرے دشمنوں پر فورا ً حملہ
‫کردو… ان کے جو کمانڈر مقرر کیے گئے تھے انہوں نے حبشیوں کو تعداد کے مطابق الگ الگ کردیا۔ تیر انداز الگ ہوگئے‪،
‫جنگی سکیم کے مطابق انہیں ترتیب میں کرلیا گیا۔ انہیں پہاڑیوں کے اندر سے نکال کر دریا کے کنارے اس جگہ کے قریب
‫سے گزارا گیا جہاں حبشیوں کا خون بکھرا ہوا تھا اور پالکیاں پڑی تھیں۔ وہاں ایک آدمی کھڑا اعالن کررہا تھا… ''یہ خون
‫اس مرد اور عورت کا ہے جنہیں قربان کیا گیا ہے''۔
‫یہ فوج دریا کے کنارے قاہرہ کی سمت روانہ ہوئی۔ حبشی جنگی ترانہ گاتے جارہے تھے۔ دن چلتے گزر گیا رات آئی تو پڑائو
‫کیا گیا۔ اگلی صبح پھر کوچ ہوئی۔پہاڑی خطہ بہت پیچھے رہ گیا۔ یہ دن بھی گزر گیا اور ایک اور رات آئی۔ حبشیوں کو پڑائو
‫کرنے کو کہا گیا۔ وہ کھا پی کر صحرا میں بکھر گئے اور بے سدھ سوگئے… آدھی رات کے وقت ان کے پچھلے حصے پر
‫العادل کے ایک چھاپہ مار گروہ نے شب خون مارا۔ گھوڑے سرپٹ دوڑتے آئے اور غائب ہوگئے۔ حبشیوں میں ہڑبونگ مچ گئی۔
‫بہت دیر بعد ایسا ہی ایک اور ہلہ آیا جو بہت سے حبشیوں کو روندتا کچلتا نکل گیا۔ القند سب سے آگے تھا۔ اسے اطالع
‫ملی تو اس نے اگلے روز کی پیش قدمی روک دی۔
‫یہ شب خون بتاتے ہیں کہ ہم مصری فوج کی نظر میں آگئے ہیں''۔ اس صلیبی اور سوڈانی کمانڈروں سے کہا… ''یہ ''
‫سلطان صالح الدین ایوبی کا خصوصی طریقہ جنگ ہے۔ ہم اب آگے نہیں بڑھ سکتے۔ تم ہزار جتن کرو مصری فوج سے تم
‫کھلے صحرا میں لڑ نہیں سکتے اور اب تم بھاگ بھی نہیں سکتے۔ اب پیچھے چلو اور پہاڑیوں میں لڑو۔ ہمارا تمام تر منصوبہ
‫ناکام ہوچکا ہے۔ قاہرہ والے نہ صرف بیدار ہوگئے ہیں بلکہ انہوں نے فوج بھیج دی ہے''۔
‫کیا ہم صحرا میں مصری فوج کو ڈھونڈ کر اس سے لڑ نہیں سکتے؟'' ایک صلیبی نے کہا۔''
‫اگر تم لوگ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج کو سامنے الکر لڑا سکتے تو آج مصر تمہارا ہوتا''۔ القند نے کہا… ''میں ''
‫اسی فوج کا ساالر ہوں۔ تم مجھ سے بہتر نہیں سمجھتے کہ اس فوج سے کیسے لڑنا ہے''۔
‫سحر کے وقت حبشیوں کی فوج واپس چل پڑی۔ ہر طرف حبشیوں کی الشیں بکھری ہوئی تھیں۔ القند ٹھیک کہتا تھا کہ اس
‫کی فوج مصری فوج کی نظر میں آگئی ہے۔ مصری فوج کا دیکھ بھال کا انتظام القند کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا تھا۔ وہ
‫حبشیوں کی فوج کو پیچھے لے چال تو العادل فورا ً سمجھ گیا کہ القند پہاڑیوں میں لڑنا چاہتا ہے۔ اس نے اسی وقت سوار تیر
‫انداز دستے دور کے راستے سے پہاڑی خطے کی طرف روانہ کردئیے۔ پیادہ دستے بھی بھیجے گئے اور اس نے زیادہ تر دستے
‫اپنے پاس روکے رکھے۔ ان دستوں کے ساتھ وہ حبشی فوج سے بہت فاصلہ رکھ کر پیچھے پیچھے چل پڑا۔
‫راستے میں رات آئی۔ حبشیوں کا پڑائو ہوا۔ رات کو العادل کے چھاپہ مار دستے حرکت میں آئے۔ حبشیوں کے ایک جیش کو
‫بیدار رکھا گیا تھا۔ یہ تیر انداز تھے۔ انہوں نے بہت تیر چالئے جن سے کچھ سوار چھاپہ مار شہید ہوئے لیکن وہ جو نقصان
‫کرگئے وہ بہت زیادہ تھا۔ سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ حبشیوں کا لڑنے کا جذبہ مجروح ہوگیا تھا۔ وہ کچھ اور سوچ کر آئے
‫تھے۔وہ آمنے سامنے لڑنے کے عادی تھے مگر یہاں دشمن انہیں نظر ہی نہیں آتا تھا‪ ،وہ تباہی بپا کرجاتا تھا۔ اس کے عالوہ
‫آگے بڑھتے بڑھتے پیچھے ہٹ رہے تھے۔
‫اگلے دن حبشیوں نے اپنے ساتھیوں کی الشیں دیکھیں اور پیچھے کو چل پڑے… سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر باقی
‫تھی۔ جب وہ پہاڑی خطے میں داخل ہوئے لیکن اب انہیں پہلے کی طرح ایک جگہ جمع نہیں کرنا تھا بلکہ پہاڑیوں کے اوپر‪،
‫نیچے اور وادیوں میں لڑنے کی ترتیب میں رکھنا تھا ان کی آدھی نفری پہاڑیوں میں پہنچ چکی تھی۔ جب ان پر بلندیوں سے
‫تیر برسنے لگے۔ العادل کے برق رفتار دستے پہلے ہی وہاں پہنچ کر مورچہ بند ہوگئے تھے۔ حبشیوں کے کمانڈروں نے چیخ
‫چال کر انہیں اوٹ میں کہا اور تیر اندازی کا حکم دیا۔ باقی نصف فوج ابھی باہر تھی۔ اسے پیچھے ہٹایا گیا۔ القند نے اس
‫نفری کو پہاڑیوں پر چڑھا کر آگے جانے اور اوپر سے تیر چالنے کی چال چلی مگر حبشی ابھی پہاڑوں پر چڑنے ہی والے تھے
‫کہ ادھر سے العادل کی فوج جو ان کے عقب میں جارہی تھی‪ ،پہنچ گئی۔
‫حبشیوں کی خاصی نفری بلندیوں پر جانے میں کامیاب ہوگئی۔ جہاں سے حبشیوں نے نہایت کارگر تیر اندازی کی۔ العادل کو
‫نقصان اٹھانا پڑا مگر اس کی سکیم اچھی تھی۔ اس نے ادھر سے دستے پیچھے ہٹا لیے۔ اس کی پہلی ہدایات کے مطابق
‫دوسری طرف سے تیر انداز اور دیگر دستے پہاڑی خطے کی بلندیوں پر جارہے تھے۔سوار دستوں میں ایک کو دریا کے کنارے
‫بھیج دیا گیا۔
‫اسوان کے اس سلسلہ کوہ میں خونریز معرکہ لڑا گیا۔ وادیوں پر تیر برس رہے تھے۔ پھر سوار دستوں کو وادیوں میں ہلہ بولنے
‫کا حکم مال۔ رات کو حبشی تو دبک گئے لیکن العادل نے منجنیقوں کے دستوں کو حکم دیا کہ وہ جگہ جگہ آتش گیر مادے
‫کی ہانڈیاں پھینک کر آگ کے گولے پھینکیں۔ تھوڑی دیر بعد پہاڑیوں کی ڈھالنوں پر آگ کے شعلے اٹھے اور ہر طرف روشنی
‫ہوگئی۔ اس روشنی میں رات کو بھی معرکہ جاری رہا۔ صبح کے وقت حبشی خاموش ہوچکے تھے۔ ان میں سے کچھ زمین دوز
‫محالت میں چلے گئے تھے۔ انہیں بڑی مشکل سے باہر نکاال گیا۔

‫دن کے وقت القند کی الش مل گئی۔ وہ کسی کے تیر سے یا تلوار سے نہیں اپنی تلوار سے مرا تھا۔ اس کی اپنی تلوار اس
‫کے دل کے مقام پر اتری ہوئی تھی۔ صاف پتا چلتا تھا کہ اس نے خودکشی کی ہے۔ چند ایک صلیبی اور سوڈانی کمانڈر زندہ
‫پکڑے گئے اور حبشی جنگی قیدیوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔
‫العادل نے وہیں سے قاصد کو سلطان صالح الدین ایوبی کے نام کامیابی کا پیغام دے کر روانہ کردیا اور اسے حکم دیا کہ بہت
‫جلدی سلطان صالح الدین ایوبی تک پہنچو‪ ،وہ بہت پریشان ہوں گے۔
‫یہ قصہ یہہی ختم ہوا
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:12
‫قسط نمبر۔‪81‫یہ چراغ لہو مانگتے ہیں
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫عالم اسالم کے اسی خطے میں جہاں آج شامی مسلمان لبنانی صلیبیوں کے ساتھ مل کر فلسطینی حریت پسندوں کو پوری
‫جنگی قوت سے کچل رہے ہیں‪ ،وہیں آٹھ سو سال پہلے بہت سے مسلمان امراء اور حاکم اور مسلمان زنگی مرحوم کا نوعمر
‫بیٹا صلیبیوں سے مدد لے کر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف صف آرا ہوگئے تھے۔ مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا تھا۔
‫اس وقت فلسطین صلیبیوں کے قبضے میں تھا اور سلطان صالح الدین ایوبی قبلۂ اول کے اس خطے کو کفار سے آزاد کرانے کا
‫عزم لے کر نکال تھا۔ صلیبی اس سے فلسطین کو نہیں بچا سکتے تھے مگر مسلمان ہی اس کے راستے میں حائل ہوگئے۔ آج
‫بھی فلسطین پر کفار کا قبضہ ہے اور فلسطینی حریت پسند جو قبلۂ اول کو آزاد کرانے کے لیے اٹھے تھے‪ ،شامی مسلمانوں کی
‫توپوں اور ٹینکوں سے بھسم کیے جارہے ہیں۔
‫مارچ ‪ ١١٧٥ء میں سلطان صالح الدین ایوبی اسی خطے کے الرستان سلسلۂ کوہ میں کسی جگہ اپنے کوارٹر میں بیٹھا اپنے
‫مشیروں اور کمانڈروں کے ساتھ اگلے اقدام کے متعلق باتیں کررہا تھا‪ ،جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ اس نے حلب کا
‫محاصرہ اس لیے اٹھا لیا تھا کہ ملک الصالح نے صلیبی بادشاہ ریمانڈ کے ساتھ جو جنگی معاہدہ کیا تھا‪ ،اس کے مطابق ریمانڈ
‫سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج پر عقب سے حملہ کرنے کے لیے آگیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے بروقت محاصرہ
‫اٹھا لیا اور ایسی چال چلی کہ ریمانڈ کی فوج کے عقب میں چال گیا اور ریمانڈ نے لڑے بغیر بھاگ جانے میں عافیت
‫سمجھی۔ حلب مسلمانوں کا شہر تھا جو سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن مسلمان امراء اور الملک الصالح کا جنگی مرکز
‫بن گیا تھا۔ حلب کے مسلمانوں نے خلیفہ اور امراء کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر سلطان صالح الدین ایوبی کا مقابلہ بے
‫جگری سے کیا تھا۔
‫وہ حلب پر ایک بار پھر حملہ کرکے غداروں اور ایمان فروشوں کے اس مرکز کو ختم کرنے کی سکیم بنا رہا تھا کہ اسے مصر
‫سے اطالع ملی کہ مصر میں اس کے ایک جرنیل القند نے صلیبیوں کی مدد سے سوڈانی حبشیوں کی فوج اس مقصد کے لیے
‫تیار کرلی ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی غیرحاضری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر پر حملہ کیا جائے اور مصر کی امارت
‫سلطان صالح الدین ایوبی سے چھین لی جائے لیکن سلطان صالح الدین ایوبی کے بھائی العادل نے حبشیوں کو اسوان کے مقام
‫پر شکست دی اور القند نے خودکشی کرلی۔ اس کی اطالع ابھی سلطان صالح الدین ایوبی تک نہیں پہنچی تھی‪ ،اس لیے وہ
‫الرستان میں پریشان بیٹھا تھا۔
‫عظمت اسالم کا یہ پاسبان ہر طرف سے خطروں میں گھرا ہوا تھا۔ کئی ایک مسلمان امراء کی فوجیں اس کے خالف متحد
‫تھیں اور صلیبیوں کا خطرہ الگ تھا۔ ان سب کے مقابلے میں سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس بہت تھوڑی فوج تھی۔ اس
‫نے ایسا اقدام کردکھایا تھا جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ اس کے دشمنوں کو یہ توقع تھی کہ اس پہاڑی خطے
‫میں سردیوں میں کوئی جنگ کی سوچ ہی نہیں سکتا۔ پہاڑیاں جو بلند تھیں وہاں برف پڑتی تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی
‫نے اپنی فوج کو ٹریننگ دے کر اس وقت حملہ کیا جب سردی عروج پر تھی۔ اس دلیرانہ اور غیر متوقع اقدام سے اس نے
‫قلیل فوج سے سب کو خوفزدہ کردیا اور ایسی پوزیشن حاصل کرلی کہ دشمن کی کسی بھی فوج کو اپنی پسند کی جگہ
‫گھسیٹ کر لڑا سکتا تھا۔ اس کی فوج اتنی تھوڑی تھی کہ اسے کبھی کبھی ناکامی کا خطرہ بھی محسوس ہونے لگتا تھا
‫لیکن سبھی اس سے ڈر رہے تھے۔ اسے یہ ڈر تھا کہ ریمانڈ سکیم اور راستہ بدل کر اس پر حملہ کرے گا لیکن ریمانڈ کی
‫حالت یہ تھی کہ اس نے اپنے عالقے تریپولی کا دفاع اس ڈر سے مضبوط کرلیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی حملہ کرے
‫گا۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے جس طرح اسے بھگایا تھا اس سے سلطان صالح الدین ایوبی اسی صورت میں فائدہ اٹھا سکتا
‫تھا کہ صلیبیوں کا تعاقب کرتا مگر فوج کی قلت نے اسے آگے نہ جانے دیا ور بڑی وجہ یہ تھی کہ مصر میں القند کی
‫بغاوت نے اسے روک دیا تھا۔ اسے خطرہ نظر آرہا تھا کہ مصر کے حاالت بگڑ جائیں گے۔ اس صورت میں اسے مصر چلے
‫جانا تھا۔ وہ اس صورتحال سے ڈرتا تھا اگر اسے مصر جانا پڑتا تو مسلمان امراء عالم اسالم کو صلیبیوں کے ہاتھ بیچ ڈالتے۔
‫اس کا دارومدار اس پر تھا کہ مصر سے اسے کیا اطالع ملتی ہے۔
‫اپنے مشیروں اورکمانڈروں سے وہ مصر کے متعلق ہی پریشانی کا اظہار کررہا تھا جب اسے اطالع ملی کہ قاہرہ سے قاصد آیا
‫ہے‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی نے بادشاہوں کی طرح یہ نہ کہا کہ اسے اندر بھیج دو۔ وہ اٹھا اور دوڑتا خیمے سے باہر نکل
‫گیا۔ قاصد اتنے لمبے سفر کی تھکن سے چور گھوڑے سے اتر کر خیمے کی طرف آرہا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے
‫''گھبراہٹ کے لہجے میں پوچھا… ''کوئی اچھی خبر الئے ہو؟
‫بہت اچھی سلطان عالی مقام!''… اس نے جواب دیا… ''محترم العادل نے حبشیوں کے لشکر کو اسوان کی پہاڑیوں میں ''
‫ایسی شکست دی ہے کہ اب سوڈان کی طرف سے لمبے عرصے تک کوئی خطرہ نہیں رہا''۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے دونوں ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف دیکھا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ خیمے سے دوسرے لوگ بھی
‫باہر آگئے تھے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے انہیں یہ خوشخبری سنائی اورقاصد کو خیمے میں لے گیا۔ اس کے لیے کھانا
‫''وہیں النے کو کہا اور اس سے اسوان کے معرکے کی تفصیل سن کر پوچھا۔ ''اپنی فوج کی شہادت کتنی ہے؟
‫تین سو ستائیس شہید''۔ قاصد نے جواب دیا… ''پانچ سو سے کچھ زیادہ زخمی دشمن کا تمام تر جنگی سامان ہمارے ''
‫ہاتھ لگا ہے۔ ایک ہزار دو سو دس حبشی قیدی پکڑے ہیں۔ صلیبی اور سوڈانی سردار اور کمانڈر جو قید کیے گئے ہیں الگ
‫ہیں''۔ قاصد نے پوچھا… ''محترم العادل نے پوچھا ہے کہ قیدیوں کے متعلق کیا حکم ہے''۔
‫صلیبی اور سوڈانی ساالروں اور کمانڈروں کو قید خانے میں ڈال دو''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا اور گہری سوچ میں''

‫پڑ گیا۔ کچھ دیر بعد کہنے لگا… ''اور وہ جو ایک ہزار اور کچھ حبشی قیدی ہیں انہیں اسوان کی پہاڑیوں میں لے جائو۔ وہ
‫جن غاروں میں چھپے تھے‪ ،وہ ان سے پتھروں سے بھروائو۔ وہاں فرعونوں کے جو زمین دوز محل ہیں انہیں بھی پتھروں سے
‫بھرا دو۔ یہ کام ان حبشیوں سے کرائو۔ اگر پہاڑ کھودنے پڑیں تو ان حبشیوں سے کھدوائو۔ وہاں کوئی غار اور پہاڑیوں کے اندر
‫کوئی محل نہ رہے۔ العادل سے کہنا کہ قیدیوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کرنا۔ روزانہ ان سے اتنا کام لینا جتنا ایک
‫انسان کرسکتا ہے۔ کوئی قیدی بھوکا اور پیاسا نہ رہے اور کسی پر صرف اس لیے تشدد نہ ہو کہ وہ قیدی ہے۔ وہیں اسوان
‫کے قریب کھال قید خانہ بنا لو اور کھانے کا انتظام وہیں کرو۔ اس کام میں کئی سال لگیں گے۔ اگر تمہارے سامنے کوئی اور
‫کام ہو تو وہ ان قیدیوں سے کرائو اور اگر سوڈانی اپنے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کریں تو مجھے اطالع دینا۔ میں خود ان
‫کے ساتھ سودا کروں گا''۔
‫اس پیغام کے بعد سلطان صالح الدین ایوبی نے قاصد سے کہا۔ ''العادل سے کہنا کہ مجھے کمک کی شدید ضرورت ہے‪،
‫اپنی ضرورت کا بھی خیال رکھنا۔ بھرتی اور تیز کردو۔ جنگی مشقیں ہر وقت جاری رکھو۔ جاسوسی کا جال اور زیادہ پھیال دو
‫اگر القند جیسا قابل اعتماد ساالر غداری کا مرتکب ہوسکتا ہے تو تم بھی غدار ہوسکتے ہو اور میں بھی۔ اب کسی پر بھروسہ
‫نہ کرنا۔ علی بن سفیان سے کہنا کہ اور تیز اور چوکنا ہوجائے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫مصر سے کمک آنے تک میں کوئی جارحانہ کارروائی نہ کروں تو بہتر ہوگا''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے قاصد کو واپس ''
‫روانہ کرکے اپنے ساالروں وغیرہ سے کہا۔ ''ابھی ہم ان کامیابیوں کے دفاع میں رہیں گے جو ہم حاصل کرچکے ہیں۔ا پنی
‫موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالو۔ تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا اپنا بھائی ہے۔ تمہارے طاقتور دشمن تین ہیں۔ حلب میں
‫الملک بیٹھا ہے۔ دوسرا اس کا قلعہ دار گمشتگین ہے جو حران میں فوج تیار کیے ہوئے ہے اور تیسرا سیف الدین ہے جو
‫موصل کا حاکم ہے۔ یہ تینوں فوجیں اکٹھی ہوگئیں تو ہمارے لیے ان کامقابلہ آسان نہیں ہوگا۔ ریمانڈ کو تم نے پسپا کردیا ہے
‫لیکن وہ اس انتظارمیں ہے کہ مسلمان فوجیں آپس میں الجھ جائیں تووہ ہمارے عقب میں آجائے۔ میں محصور ہوکر بھی لڑ
‫سکتا ہوں لیکن لڑنا چاہو ں گا نہیں''۔
‫کیا ایک کوشش اور نہ کی جائے کہ ملک الصالح‪ ،سیف الدین اور گمشتگین کو اسالم اور قرآن کا واسطہ دے کر راہ راست''
‫پر الیا جائے؟'' ایک ساالر نے کہا۔
‫نہیں'' ۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''جو لوگ اپنے دل اور دماغ حق کی آواز کے لیے سربمہر کرلیا کرتے ہیں‪ ،وہ''
‫خدا کے قہر اورعذاب کے بغیر اپنے دل اور دماغ نہیں کھوال کرتے۔ کیا میں کوشش کر نہیں چکا؟ اس کے جواب میں مجھے
‫دھمکیاں ملیں۔ اگر اب میں صلح اورسمجھوتے کے لیے ایلچی بھیجوں گا تو وہ لوگ کہیں گے کہ سلطان صالح الدین ایوبی
‫لڑنے سے گھبراتا اور ڈرتا ہے۔ اب میں ان پر خدا کا وہ عذاب اور قہر بن کر گرنا چاہتا ہوں جو ان کے دل اور دماغ کی
‫مہریں توڑ دے گا۔ یہ قہر تم ہو اور تمہاری فوج''۔ اس نے آہ بھری اور کہا۔ ''تم نے حلب کا محاصرہ کیا تو حلب کے
‫مسلمان جس دلیری سے لڑے وہ تم کبھی نہیں بھولو گے۔ وہ بے شک ہمارے خالف لڑے لیکن میں ان کی تعریف کرتا ہوں۔
‫ایسی بے جگری سے صرف مسلمان لڑ سکتا ہے۔ کاش یہ جذبہ اور یہ طاقت اسالم کے لیے استعمال ہوتی۔ تم جانتے ہو کہ
‫میں بادشاہ نہیں بننا چاہتا۔ میرا مقصد یہ ہے کہ عالم اسالم متحد ہو اور یہ قوت جو بکھر گئی ہے مرکوز ہوکر صلیبی عزائم
‫کے خالف استعمال ہو اور فلسطین آزاد کراکے ہم سلطنت اسالمیہ کی توسیع کریں''۔
‫ہم مایوس نہیں''۔ ایک ساالر نے کہا۔ ''نئی بھرتی آرہی ہے‪ ،اس عالقے میں جوان خاصی تعداد میں بھرتی ہورہے ہیں۔ ''
‫مصر سے بھی کمک آرہی ہے۔ ہم آپ کی ہر توقع پوری کریں گے''۔
‫لیکن میں کب تک زندہ رہوں گا''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''تم کب تک زندہ رہو گے؟ ابلیسی قوتیں زور پکڑ''
‫رہی ہیں۔ ان کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ میرے وہ عزیز دوست جن پر مجھے بھروسہ اور اعتماد تھا‪ ،صلیبیوں کے ہاتھوں
‫میں کھیلے اور میرے ہاتھوں قتل ہوئے۔القند تمہارے ساتھ کامعتمد ساالر تھا۔ کیا تم سن کر حیران نہیں ہوئے کہ القند نے
‫سوڈان سے حبشیوں کی فوج بالئی اور مصر پر قابض ہونے کی کوشش کی؟ اس نے مجھ پر یہ کرم کیا ہے کہ شکست کھا کر
‫اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لی ہے۔ میں نے اسے سزائے موت نہیں دی۔ حکومت کا نشہ‪ ،دولت اور عورت اچھے اچھے
‫انسانوں کو اندھا کردیتی ہیں۔ ایمان میں کیا رکھا ہے؟ ایمان سونے کی طرح چمکتا نہیں‪ ،عورت کی طرح عیاشی کا ذریعہ
‫نہیں بنتا اور ایمان بادشاہ اور فرعون نہیں بننے دیتا۔ ایک بار روح کے دروازے بند کرلو تو ایمان بیکار شے بن جاتا ہے‪ ،پھر
‫عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں''۔
‫سپین سے تمہارا پرچم کیوں اترا؟ تاریخ کہتی ہے کہ یہ کفار کی سازش کا نتیجہ تھا مگر ان کی سازشیں کیوں کامیاب ''
‫ہوئیں؟ کیونکہ خود مسلمانوں نے اپنے آپ کو کفار کا آلۂ کار بنایا اور
‫ا جرت وصول کی۔ سپین ان کا تھا جنہوں نے سمندر پار جاکر کشتیاں جال ڈالی تھیں تاکہ واپسی کا خیال ہی دل سے نکل
‫جائے۔ سپین کی قیمت وہی جانتے ہیں جنہوں نے یہ قیمت دی تھی۔ سپین شہیدوں کا تھا‪ ،یہ ہوتا آیا ہے اور مجھے ڈر ہے
‫کہ یہی ہوتا چال جائے گا کہ خون کے نذرانے دے کر ملک حاصل کرنے والے دنیا سے اٹھ جاتے ہیں تو وہ لوگ بادشاہ بن
‫جاتے ہیں جن کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہا تھا۔ انہیں چونکہ ملک مفت ہاتھ آجاتا ہے اس لیے اسے وہ عیاشی کا
‫ذریعہ بناتے ہیں اور اپنے تخت وتاج کی سالمتی کے لیے دین وایمان والوں اور دل میں قوم کا درد رکھنے والوں کی زبانیں
‫بند کرتے اور ان کا گال گھونٹ دیتے ہیں۔ انہیں افالس اور فاقوں کی چکی میں پیس کر ان کے جذبوں کو ختم کردیتے
‫ہیں''۔
‫سپین میں یہی ہوا۔ کفار نے ہمارے بادشاہوں کو زور جواہرات اور یورپ کی حسین لڑکیوں سے اپنے ہاتھ میں لیا۔ انہیں ''
‫انہی کی فوج کے خالف کیا۔ مجاہدین کو مجرم بنایا اور سپین کی اسالمی مملکت کو دیمک کھا گئی۔ ہمارے رسول اکرم
‫صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانوں نے لہو کے چراغ جال کر آدھی دنیا کو حق کی آواز سے منور کیا۔ کہاں ہیں وہ چراغ؟
‫ایک ایک کرکے بجھتے جارہے ہیں‪ ،یہ چراغ لہو مانگتے ہیں مگر لہو دینے والے صلیبیوں کی شراب اور عورت کے طلسم میں
‫گم ہوگئے ہیں۔ان لوگوں کو یہ سلطنت مفت ہاتھ آئی ہے۔ وہ ان شہیدوں کو بھول چکے ہیں جن کے خون کے عوض خدا نے
‫قوم کو یہ سلطنت عطا کی تھی اور خدا نے یہ سلطنت بادشاہیاں قائم کرنے اور عیاشی کے لیے عطا نہیں کی تھی بلکہ اس
‫لیے کہ اسے مرکز بنا کر اسالم کا نور ساری دنیا میں پھیالیا جائے اور بنی نوع انسان کو شر کی قوتوں سے نجات دالئی
‫جائے مگر شر کا جادو چل گیا اور آج جب قبلۂ اول پر کفار کا قبضہ ہے ہم ایک دوسرے کاخون بہا رہے ہیں''۔
‫کافر سے پہلے غدار کا قتل ضروری ہے''۔ ایک مشیر نے کہا۔ ''اگر ہم حق پر ہیں تو ہم ناکام نہیں ہوں گے''۔''

‫مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ یہ خطہ خون میں ہی ڈوبا رہے گا''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''حکومت شاید ''
‫مسلمانوں کی ہی رہے مگر ان کے دلوں پر صلیبیوں کی حکمرانی ہوگی''۔
‫٭ ٭ ٭
‫جنگی نقطہ نگاہ سے سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج کو ایسی پوزیشنوں میں تقسیم کررکھا تھا کہ کسی بھی ایسے
‫قلعے پر جو وہ فتح کرچکا تھا دشمن براہ راست حملہ نہیں کرسکتا تھا۔ ان قلعہ میں اس نے مختصر سی نفری رکھی تھی۔
‫کیونکہ وہ قلعہ بند ہوکر لڑنے کا قائل نہیں تھا۔ پہاڑی عالقے میں اس نے تمام راستوں اور وادیوں کی بلندیوں پر تیر انداز
‫بٹھا دئیے تھے جو راستے تنگ تھے ان کے اوپر پہاڑیوں پر اس نے بہت بڑے بڑے پتھر رکھ کر کچھ آدمی بٹھا دئیے تھے
‫تاکہ دشمن گزرے تو اوپرسے پتھر لڑھکا دئیے جائیں۔ دمشق سے آنے والے راستے کو اس نے کمانڈو قسم کے گشتی دستوں سے
‫محفوظ کررکھا تھا تاکہ رسد دشمن سے محفوظ رہے۔ ایک جگہ ایسی تھی جسے ''حماة کے سینگ'' کہا جاتا تھا۔ یہ ایک
‫وسیع وادی تھی جس میں ایک نیکری جو خاصی بلند تھی آگے جا کر سینگوں کی طرح دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔
‫اسے سلطان صالح الدین ایوبی نے پھندے کی حیثیت دے رکھی تھی۔ اس نے اپنے ساالروں کو تکنیکی لحاظ سے سمجھا دیا
‫تھا کہ دشمن باہر آکر لڑا تو اسے اس وادی میں گھسیٹ کر لڑایا جائے گا۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے تمام عالقے میں ایسی جگہوں پر پوزیشنیں قائم کرلی تھیں جن سے وہ دشمن کو کسی بھی جگہ
‫النے پر مجبور کرسکتا تھا۔ اس اہتمام کے عالوہ اس کے چھاپہ مار جو ان چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں دور دور تک گھومتے
‫پھرتے رہتے تھے۔ جاسوسی ( انٹیلی جنس) کا نظام ایسا تھا کہ دشمن کے قلعوں کے اندر بھی سلطان صالح الدین ایوبی کے
‫جاسوس موجود تھے جو خبریں بھیجتے رہتے تھے۔ا سے یہاں تک معلوم ہوگیا تھا کہ سلطانی کے نام نہاد دعویدار الملک
‫الصالح نے اپنے گورنر ( حران کے قلعہ دار) گمشتگین کو اور موصل کے حاکم سیف الدین کو مدد کے لیے بالیا ہے اور معلوم
‫ہوتا ہے کہ یہ دونوں کچھ شرائط کے بدلے مدد دیں گے‪ ،صرف بالوے پر نہیں جائیں گے۔ جاسوسوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ
‫یہ مسلمان حکمران اور امراء بظاہر اتحادی ہیں لیکن ان کے دل آپس میں پھٹے ہوئے ہیں۔ ہر ایک اپنی جنگ لڑ کر زیادہ
‫سے زیادہ عالقے پر قابض ہونے کی فکر میں ہے اور صلیبی انہیں مدد کم اور شہ زیادہ دے رہے ہیں اورا ن کی باہمی چپقلش
‫کو ہوا بھی دے رہے ہیں۔
‫شمس الدین اور شاہ بخت کی کوئی اطالع نہیں آئی؟'' سلطان صالح الدین ایوبی نے حسن بن عبداللہ سے پوچھا۔''
‫کوئی تازہ اطالع نہیں'' ۔ حسن بن عبداللہ نے جواب دیا۔ ''وہ بڑی کامیابی سے اپنا کام کررہے ہیں۔ گمشتگین نے کوئی ''
‫بھی قدم اٹھایا یہ دونوں ساالر اپنا پورا کام کریں گے۔ ان کا پیغام بھی یہی تھا کہ حاالت کے مطابق وہ کارروائی کریں
‫گے''۔
‫حسن بن عبداللہ سلطان صالح الدین ایوبی کی انٹیلی جنس کا سربراہ تھا۔ وہ علی بن سفیان کا نائب تھا۔ علی بن سفیان
‫مصر میں تھا کیونکہ دشمن کی جاسوسی اور تخریب کاری کا زیادہ خطرہ مصر میں تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی حسن بن
‫عبداللہ کے ساتھ باہر ٹہل رہا تھا۔ اس نے شمس الدین اور شاہ بخت کا نام لیا تھا۔ یہ دونوں گمشتگین کے جرنیل تھے۔
‫گمشتگین کے متعلق بتایا جاچکا ہے کہ شیطان فطرت مسلمان تھا۔ عہدے اور رتبے کے لحاظ سے وہ گورنر تھا اور حران کے
‫قلعے میں مقیم تھا۔ اس قلعے میں اورباہر اس نے خاصی فوج جمع کررکھی تھی۔ وہ خالفت کے تحت تھا اور خلیفہ کے
‫احکام کا پابند لیکن اس نے ذاتی سیاست بازی اورچالبازیوں سے فوجی اور سیاسی لحاظ سے ایسی پوزیشن حاصل کرلی تھی
‫جہاں وہ کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا۔ اس نے صلیبیوں کے ساتھ درپردہ گٹھ جوڑ کررکھا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے قلعے میں
‫نورالدین زنگی کے پکڑے ہوئے صلیبی قیدی تھے جن میں کمانڈر بھی تھے۔ زنگی فوت ہوگیا تو گمشتگین نے کسی کے حکم
‫کے بغیر تمام قیدی رہا کردئیے۔ اس نے یہ اقدام صلیبیوں کی خوشنودی کے لیے کیا تھا کیونکہ وہ اب صلیبیوں کے خالف
‫نہیں بلکہ ان سے مدد حاصل کرکے سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کی تیاریاں کررہا تھا۔
‫اس کے دو ساالر تھے جو ذہانت اور جنگی اہلیت کی بدولت اس کے معتمد تھے۔ یہ دونوں بھائی تھے۔ ایک کا نام شمس
‫الدین علی اور دوسرے کا شاد بخت علی تھا۔ یہ دونوں ہندوستانی مسلمان تھے۔عراق کے اس وقت کے ایک مورخ کمال الدین
‫نے عربی میں ''تاریخ حلب'' کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی۔ اس نے ان کا اتناہی ذکر کیا ہے کہ یہ دونوں سگے
‫بھائی تھے اور نورالدین زنگی کی زندگی میں ہندوستان سے اس کے پاس آئے تھے۔زنگی نے انہیں فوج میں اچھا رتبہ دے کر
‫حران بھیج دیا تھا۔قاضی بہائوالدین ابن شداد نے بھی ان کا اپنی ڈائری میں ذکر کیا ہے۔ عرب میں چونکہ نام کے ساتھ باپ
‫کا نام بھی لکھا اور بوال جاتا ہے اس لیے ان دونوں بھائیوں کے نام تحریروں میں اس طرح آتے ہیں۔ ''شمس الدین علی بن
‫الضیا اورشاد بخت علی بن الضیا''۔ یہ اشارہ کہیں بھی نہیں ملتا کہ ضیا کون تھا۔ تاریخ میں ان دونوں کے نام آنے کا
‫باعث ایک واقعہ ہے جسے اس دورکے واقعہ نگاروں نے قلمبند کیا ہے۔
‫واقعہ اس طرح ہے کہ گمشتگین من مانی کا قائل تھا۔ حران میں عمال ً اسی کی حکومت تھی۔ اس نے اپنے ایک خوشامدی
‫اور بدطینت افسران بن الخاشب ابو الفضل کو قاضی کا رتبہ دے دیا تھا۔ اسالم کے قاضی انصاف اور دانش کی وجہ سے مشہور
‫تھے لیکن ابو الفضل بے انصافی اور گمشتگین کی خوشنودی کی وجہ سے مشہور ہوا۔اس کی بے انصافی کے قصے شمس اور
‫شاد بخت تک بھی پہنچتے رہتے تھے لیکن وہ خاموشی اختیار کیے رکھتے تھے۔ وہ فوج کے جرنیل تھے قاضی کے فیصلوں
‫اور شہری امور کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ طبعا ً بھی وہ خاموش رہنے والے انسان تھے۔ یہ مشہور تھا کہ گمشتگین پر
‫ان کا بہت اثر ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ انہوں نے گمشتگین پر اپنا اثر پیدا کررکھا تھا۔
‫ان دنوں جب سلطان صالح الدین ایوبی نورالدین زنگی کی وفات کے بعد سات سو سواروں کے ساتھ آیا اور شام اور مصر کی
‫وحدت کا اعالن کیا تھا‪ ،اس نے اپنے بہت سے جاسوس ان اسالمی عالقوں میں بھیج دئیے تھے جو خالفت کے تحت ہوتے
‫ہوئے ذاتی ریاستوں کی صورت اختیار کرگئے تھے ( ان جاسوسوں کے چند ایک کارنامے سنائے جاچکے ہیں) ان میں سلطان
‫صالح الدین ایوبی کا بھیجاہوا انطانون نام کا ایک ترک جاسوس حران چال گیا۔وہ خوبرو اور وجیہہ جوان تھا۔ ترکی کے عالوہ
‫عربی زبان روانی سے بولتا تھا۔ اس نے گمشتگین تک رسائی حاصل کرلی اور یہ کہانی سنائی کہ اس کا خاندان یروشلم میں
‫آباد ہے جو اس وقت صلیبیوں کے قبضے میں تھا۔ اس نے بتایا کہ صلیبی وہاں مسلمانوں پر بے رحمی سے ظلم وتشدد کرتے
‫ہیں اور بالوجہ جسے چاہتے ہیں بیگار پرلگادیتے ہیں۔ انہوں نے اس کی دو جوان بہنوں کو اغوا کرلیا اور
‫ا س کے بھائیوں اور باپ کو بیگار کے لیے پکڑ لیا ہے۔ وہ فرار ہوکر یہاں تک پہنچا ہے اور صلیبیوں سے انتقام لینے کے
‫لیے سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
‫اس نے اپنا حال حلیہ بگاڑ رکھا تھا اور پتا چلتا تھا کہ وہ یروشلم سے پیدل آیا ہے اور بھوک اور تھکن نے اسے ادھ موا

‫کررکھا ہے۔ گمشتگین نے اسے فوجی نظروں سے دیکھا تو اس کا قد بت اسے پسند آیا۔ اس سے پوچھا کہ و ہ گھوڑ سواری
‫اور تیر اندازی جانتا ہے یا نہیں۔ اس نے کہا کہ اسے ذرا آرام اور کھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد دکھائے گا کہ وہ کیا
‫کرسکتا ہے۔ گمشتگین نے اسے کھال پال کر سال دیا۔ وہ بہت دیر بعد اٹھا تو اسے گمشتگین کے دربار میں پیش کیا گیا۔ ایک
‫گھوڑا منگوایا گیا۔ باہر لے جاکر ایک باڈی گارڈ کی کمان اور ایک تیر اسے دے کر کہا گیا کہ خود ہی کہیں نشانے پر تیر چال
‫کر دکھائو پھر گھوڑا دوڑائو۔
‫قریب ایک درخت تھا جس پر پرندے بیٹھے تھے۔ ان میں سب سے چھوٹا پرندہ ایک چڑیا تھی۔ اس نے اس کا نشانہ لیا اور
‫تیر چالیا۔ تیر چڑیا کے جسم میں اتر کر اسے اپنے ساتھ ہی لے گیا۔ اس نے ایک اور تیر مانگا جو لے کر وہ گھوڑے پر
‫سوار ہوا اور کہا کہ وہ قریب آئے تو کوئی چیز اوپر پھینکی جائے۔ وہاں گمشتگین کے باڈی گارڈ کھڑے تھے۔ ایک دوڑا گیا اور
‫اپنے کھانے کی پلیٹ اٹھا الیا جو مٹی کی تھی۔ انطانون گھوڑے کو دور لے گیا۔ وہاں سے موڑ کر ایڑی لگائی تو گھوڑا سرپٹ
‫دوڑا۔ انطانون نے کمان میں تیر ڈاال۔ ایک باڈی گارڈ نے پلیٹ ہوا میں اچھالی۔ انطانون دوڑتے گھوڑے سے تیر چالیا اور پلیٹ
‫کے ٹکڑے ہوا میں بکھیر دئیے۔ اس نے گھوڑا موڑ کر سواری کے کچھ اور کرتب دکھائے۔ یہ تو کسی کو بھی نہ معلوم تھا کہ
‫وہ تجربہ کار جاسوس اور چھاپہ مار ( کمانڈو) ہے اور اسے ہر ایک ہتھیار کے استعمال اور گھوڑ سواری کا ماہر بنایا گیا ہے۔
‫اس کے قدبت‪ ،گھٹے ہوئے جسم‪ ،گورے چٹے رنگ اورکرتب دیکھ کر گمشتگین بہت متاثر ہوا اور اسے اپنے باڈی گارڈز میں رکھ
‫لیا۔ دو باڈی گارڈز گمشتگین کے گھر بھی ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔ کچھ دنوں بعد انطانون گھر کی ڈیوٹی پر گیا جہاں اسے آٹھ
‫دن اور آٹھ راتیں رہنا تھا۔ مسلمان حکمرانوں کی طرح گمشتگین کا حرم بھی بارونق تھا۔ اس میں بارہ چودہ لڑکیاں تھیں۔
‫انطانون نے پہلے دن جاکر گھر کے تمام دروازوں اور کونوں کھدروں کو دیکھا۔ اس نے وہاں کے تمام مالزم مردوں اور عورتوں
‫سے کہا کہ وہ چونکہ گھر کی حفاظت کے لیے آیا ہے اس لیے سارے گھر سے واقفیت حاصل کرناضروری سمجھتا ہے۔ اس نے
‫کمرے تک دیکھ ڈالے۔ وہ بہت چاالک تھا۔ باتوں کا جادو چالنا جانتا تھا۔ حرم میں جانے کی اسے جرأت نہ ہوئی۔ ایک
‫جوان لڑکی اسے برآمدے میں مل گئی۔ یہ بھی حرم کی ملکیت تھی۔ اس نے انطانون سے شہزادیوں والے رعب سے پوچھا
‫کہ وہ کون ہے اور یہاں کیا کررہاہے؟
‫محافظ ہوں''۔ اس نے گردن تان کر جواب دیا۔ ''دیکھ رہا ہوں کہ اس محل جیسے مکان میں آنے اور جانے کے راستے ''
‫کتنے ہیں اور کہاں کہاں ہیں اور یہ بھی دیکھ رہاں ہوں کہ آپ کے عالوہ یہاں کون رہتا ہے''۔
‫محافظ تو پہلے بھی یہاں رہتے ہیں۔ کبھی کوئی اندر نہیں آیا''۔ لڑکی نے کہا۔ ''یہ طریقہ ہمیں پسند نہیں''۔''
‫یہ میرا فرض ہے''۔ اس نے جواب دیا۔ ''اگر حرم سے کوئی ایک بھی حسینہ غائب ہوگئی تو محترم قلعہ دار اس کی ''
‫جگہ میری بہن کو اٹھا الئیں گے''۔
‫تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم اپنی بہن کی حفاظت کے لیے آئے ہو''۔ لڑکی نے مسکرا کر کہا۔''
‫اگر میں اس کی حفاظت کرسکتا تو آج ایک لڑکی سے یہ نہ کہلواتا کہ تم کون ہو اوریہاں کیا کررہے ہو''۔ اس نے چہرے''
‫پر اداسی کا تاثر پیدا کرکے کہا۔ ''میں اپنی بہن کی حفاظت نہیں کرسکا تھا‪ ،اس لیے آپ کی حفاظت میں پوری پوری
‫احتیاط کررہا ہوں''۔ اس نے آہ بھر کر کہا۔ ''وہ بھی آپ جیسی تھی۔ بالکل آپ جیسی… مجھے روکنے کی کوشش نہ کریں
‫کہ میں کیا کررہاہوں''۔
‫اس نے اندھیرے میں جو تیر چالیا تھا وہ نشانے پر لگا۔ اس نے عورت کی جذباتیت پر تیر چالیا تھا۔ وہ بھی جوان لڑکی
‫تھی۔ پوچھے بغیر نہ رہ سکی کہ وہ اپنی بہن کی حفاظت نہیں کرسکتا تھا تو کیا ہوا تھا؟ کیا اس کی بہن اغوا ہوگئی
‫تھی؟
‫اگر اغوا کرنے والے مسلمان ہوتے یا وہ خود کسی مسلمان کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی تو مجھے اتنا افسوس نہ ہوتا''۔''
‫اس نے کہا۔ ''دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتا کہ کوئی اس سے شادی کرلے گا یا اسے کسی مسلمان امیر کے حرم میں
‫دے دیا جائے گا۔ اسے صلیبیوں نے اغوا کیا ہے۔ ایک نہیں دو بہنوں کو۔ میں ان کی حفاظت نہیں کرسکا''۔
‫لڑکی نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں سے اور کس طرح اغوا ہوئی ہیں۔ اس نے وہی یروشلم والی کہانی سنا دی اور اپنے فرار
‫کی کہانی ایسی سنسنی خیز بنا کر سنائی کہ لڑکی کا چہرہ بتاتا تھا جیسے یہ تیر اس کے دل میں اتر گیا ہے۔ اس نے
‫کہا… ''میں وہاں سے پیدل یہ ارادہ لے کر آیا ہوں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہوکر صرف اپنی بہنوں
‫کا ہی نہیں ان تمام بہنوں کا انتقام لوں گا جنہیں صلیبیوں نے اغوا کیا ہے۔ قلعہ دار نے مجھے اپنے محافظ دستے میں رکھ
‫لیا ہے''۔ اس نے اور بھی بہت سی جذباتی باتیں کیں جو لڑکی کے دل میں اترتی گئیں۔
‫انطانون اچھی طرح جانتا تھا کہ حرم کی لڑکیوں کے جذبات نازک ہوتے ہیں لیکن اخالقی لحاظ سے وہ کمزور ہوتی ہیں۔ وجہ
‫دعوی نہیں کرسکتی کہ یہ آدمی اسی کو
‫صاف ہے۔ ایک آدمی کی ایک درجن یا اس سے بھی زیادہ بیویاں ہوں تو کوئی بھی
‫ٰ
‫چاہتا ہے اور جب بیویاں بغیر نکاح کے حرم میں قید رکھی ہوئی ہوں تو انہیں محبت کا اشارہ بھی نہیں ملتا۔ جوان لڑکی
‫کے کچھ جذبات بھی ہوتے ہیں۔ حرم کی جوان لڑکی یہ بھی جانتی ہے کہ چند سال بعد اس کی قدروقیمت ختم ہوجائے گی۔
‫انطانون کو معلوم تھا کہ حرم کی لڑکیوں نے اپنے خوابوں اور رومانوں کو دبا کررکھا ہوتا ہے اور وہ چوری چھپے اپنے خاوند یا
‫آقا کے کسی جوان دوست یا کسی جوان اور خوبرو مالزم کے ساتھ عشق ومحبت کا نشہ پورا کرلیتی ہیں۔
‫انطانون کے سامنے چونکہ یہی لڑکی اتفاق سے آگئی تھی اس لیے اس نے اسی کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی۔ اپنے
‫جاسوسی کے مقاصد کے لیے اسے حرم کی ایک لڑکی کے دوستانے کی ضرورت تھی۔ اسے ٹریننگ میں بتایا گیا تھا کہ
‫گمشتگین جیسے عیاش گورنر اور امراء رقص اور شراب کی محفلیں جماتے ہیں جن میں حرم کی لڑکیاں بھی شریک ہوتی
‫لہذا راز انہی محفلوں اور ضیافتوں میں بے
‫ہیں۔ شراب اور عورت کے نشے میں ان لوگوں کی زبانیں بے قابو ہوجاتی ہیں ٰ
‫نقاب ہوتے ہیں۔ انطانون اور اس کے ساتھی جاسوس علی بن سفیان کے تربیت یافتہ تھے اور سلطان صالح الدین ایوبی نے
‫انہیں بے دریغ مالی اور دیگر مراعات دے رکھی تھیں۔ کوئی جاسوس دشمن کے عالقے میں پکڑا یا مارا جاتا تو سلطان صالح
‫الدین ایوبی اس کے خاندان کو اتنا زیادہ مستقل وظیفہ دیا کرتا تھا کہ مالی لحاظ سے اس خاندان کو کسی کی محتاجی
‫محسوس نہیں ہوتی تھی۔
‫انطانون نے اس لڑکی پر ایسا اثر پیدا کردیا جو اس کے چہرے سے عیاں تھا۔ اسے امید نظر آنے لگی کہ یہ لڑکی اس کے
‫جال میں آجائے گی۔ وہ وہاں سے ہٹنے لگا تو لڑکی نے اسے دبی زبان میں کہا۔
‫پچھلی طرف ایک باغیچہ ہے‪ ،رات کے دوسرے پہر وہاں بھی آکر دیکھ لینا۔ مکان میں کوئی ادھر سے بھی داخل ہوسکتا ''
‫ہے'' ۔ لڑکی کے ہونٹوں پر جو مسکراہٹ تھی اس نے دل کی بات کہہ دی۔باڈی گارڈز کے فرائض میں رات کو پہرہ دینا نہیں

‫ہوتا تھا۔ وہ بڑے دروازے کے سامنے نہایت اچھے لباس میں چمکتی ہوئی برچھیاں تھامے نمائش کے لیے موجود رہتے تھے اور
‫جب باڈی گارڈز اپنے آقا کے ساتھ ہوتے وہ اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ ان کا اصل کام میدان جنگ میں سامنے
‫آتا تھا جب و ہ اپنے آقا کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ انطانون رات کے دوسرے پہر باغیچے میں چال گیا اورٹہلتا رہا۔ یہ مکان
‫محل جیسا تھا۔ اندر سے گانے بجانے اورناچنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ انطانون نے ان مہمانوں کو بڑے غور سے دیکھا تھا جو
‫آئے تھے۔ ان میں دو تین صلیبی بھی تھے۔ وہ باغیچے میں کچھ دیر ٹہال تو پچھلے دروازے سے لڑکی نکلی اور اس کے پاس
‫آگئی۔
‫آپ کیوں آئی ہیں؟'' انطانون نے انجان بن کر پوچھا۔''
‫اور تم کیوں آئے ہو''؟ لڑکی نے پوچھا۔''
‫آپ کا حکم بجا النے''… انطانون نے جواب دیا۔ ''آپ نے حکم دیا تھا کہ رات کے دوسرے پہر باغیچے میں آکر دیکھ ''
‫لینا۔ کوئی ادھر سے بھی داخل ہوسکتا ہے''… اس نے پوچھا۔ ''آپ اتنی گرما گرم محفل چھوڑ کر باہر کیوں آگئی ہیں''۔
‫وہاں دم گھٹتا ہے''… لڑکی نے جواب دیا… ''شراب کی بو سے متلی آنے لگتی ہے''۔''
‫''آپ شراب کی عادی نہیں؟''
‫نہیں''۔ لڑکی نے جواب دیا… ''میں یہاں کی کسی بھی چیز کی عادی نہیں ہوسکی… بیٹھ جائو''۔ اس نے پتھر کے ''
‫ایک بنچ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
‫میں مالکہ کی برابری کی جرأت نہیں کرسکتا''… انطانون نے کہا… ''کسی نے دیکھ لیا تو''۔''
‫دیکھنے والے شراب میں بدمست ہیں''… لڑکی نے کہا… ''بیٹھو اور اپنی بہنوں کی باتیں سنائو''۔''
‫انطانون نے اپنے فن کے کماالت دکھانے شروع کردئیے اور لڑکی اس کے قریب ہوتی گئی۔ وہ بات کو بہنوں سے پھیر کر اپنے
‫آپ پر لے آئی۔ اس میں جو جھجک تھی وہ انطانون نے ختم کردی۔ یہ انطانون تھا جس نے کہا کہ اسے اب چلے جانا
‫چاہیے‪ ،کہیں ایسا نہ ہو کہ قلعہ دار لڑکی کی تالش کے لیے نوکروں کو دوڑا دے اور وہ پکڑی جائے۔ لڑکی نے کہا کہ اس کی
‫غیرحاضری کو کوئی بھی محسوس نہیں کرے گا۔وہاں لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ انطانون نے اگلی رات پھر ملنے کا وعدہ
‫کیا اور چال گیا۔ لڑکی نے اسے اپنے متعلق جو کچھ بتایا تھا وہ یہ تھا کہ اسے شراب سے نفرت ہے۔ اسے جس طرح
‫عیاشی کا ذریعہ بنایا گیا ہے اس سے بھی اسے نفرت ہے۔ وہ حلب کی رہنے والی تھی۔ اس کے باپ کے ایک دوست نے
‫اسے گمشتگین کے لیے منتخب کیا اور برائے نام نکاح پڑھا کر باپ نے اسے رخصت کردیا تھا۔ا س کا مطلب یہ تھا کہ لڑکی
‫پیار کی پیاسی تھی۔
‫دوسری رات ان کی وہیں مالقات ہوئی۔ لڑکی انطانون کے انتظار میں بے حال ہوگئی تھی۔ وہ آیا تو لڑکی نے اسے پہلی بات
‫یہ کہی۔ ''اگر تم مجھے ایک خوبصورت لڑکی سمجھ کر کسی اور نیت سے آئے ہو تو واپس چلے جائو۔ مجھے تم سے ایسی
‫کوئی غرض نہیں''۔
‫جس روز میں نے بدنیتی کا اظہار کیا اس روز میرے منہ پر تھوک کر اندر چلی جانا''۔ انطانون نے کہا… ''میں تمہیں ''
‫اپنی بہنوں جیسی پاکیزہ لڑکی سمجھتا ہوں''۔
‫لیکن مجھے ابھی بہن نہ کہنا''۔ لڑکی نے سنجیدگی کو مسکراہٹ میں بدل کر کہا۔ ''معلوم نہیں میں کسی وقت کیا ''
‫فیصلہ کر بیٹھوں''۔
‫یعنی تم میرے ساتھ کہیں بھاگ چلنے کا فیصلہ کرو گی؟''۔''
‫یہ تم پر منحصر ہے''۔ لڑکی نے کہا۔ ''ساری عمر چوری چھپے ملتے تو نہیں گزرے گی۔ تم یہاں آٹھ یا دس دنوں کے ''
‫لیے آئے ہو۔ چلے جائو گے تو میں تمہاری صورت کو بھی ترستی رہوں گی''۔
‫اس رات وہ ایک دوسرے کے دل میں اتر گئے۔ اگلے دن لڑکی اتنی بے قابو ہوئی کہ اس نے انطانون کو دن کے وقت اپنے
‫کمرے باللیا۔ اس دن گمشتگین حران سے کہیں باہر چال گیا تھا۔ یہ مالقات دونوں کے لیے خطرناک تھی۔ لڑکی جذبات کے
‫جادو میں بھول گئی تھی کہ ان محالت میں سازشیں بھی ہوتی ہیں اور حرم کی لڑکیاں ایک دوسرے کو خاوند کی نظروں میں
‫گرانے کے مواقع ڈھونڈتی رہتی ہیں۔ انطانون کی شخصیت اور اس کی باتوں کے طلسم نے اسے اندھا کردیا تھا۔ یہ محبت کی
‫تشنگی کا نتیجہ تھا۔ انطانون نے اسے شک نہ ہونے دیا کہ اسے اس کے جسم کے ساتھ کوئی دلچسپی ہے۔ وہ لڑکی کے لیے
‫سراپا خلوص اور پیار بن گیا تھا۔ وہ جب اس کے کمرے سے نکال تو لڑکی کی یہ کیفیت تھی جیسے اس کے ساتھ ہی نکل
‫جائے گی۔ رات کے دوسرے پہر انہیں پھر ملنا تھا۔
‫وہ جب وہاں سے نکالتو حرم کی ایک اور لڑکی اسے دیکھ رہی تھی۔ اس لڑکی نے اسے کمرے میں جاتے بھی دیکھا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫گمشتگین رات کو بھی غیر حاضر تھا۔ لڑکی باغیچے میں چلی گئی۔ انطانون بھی آگیا۔اب ان کے درمیان نہ کوئی حجاب رہا
‫تھا اور نہ کوئی پردہ۔ لڑکی نے اسے کہا۔ ''تم نے کہا تھا کہ تم اپنی بہنوں کا انتقام لینے کے لیے سلطان صالح الدین
‫''ایوبی کی فوج میں شامل ہونے آئے تھے پھر تم اس فوج میں کیوں بھرتی ہوگئے؟
‫کیا یہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج نہیں؟'' انطانون نے ایسے پوچھا جیسے اسے کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ اس نے ''
‫''کہا۔ ''یہ اسالمی فوج ہے اور یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے سوا اور کس کی ہوسکتی ہے؟
‫یہ فوج اسالمی ہے لیکن اسے سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے''۔ لڑکی نے کہا۔''
‫یہ تو بہت بری بات ہے''۔ انطانون نے کہا۔ ''تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا مجھے ایسی فوج میں رہنا چاہیے جو سلطان ''
‫صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کے لیے تیار ہورہی ہے؟ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یروشلم میں ان تمام عالقوں میں جہاں
‫صلیبیوں کا قبضہ ہے‪ ،مسلمان سلطان صالح الدین ایوبی کو امام مہدی بھی کہتے ہیں۔ وہ صلیبیوں کے مظالم سے خوفزدہ رہتے
‫ہیں۔ مسجدں میں امام بھی کہتے ہیں کہ یہ قوم کو گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ دمشق سے امام مہدی صالح الدین ایوبی
‫''کے روپ میں نجات دالنے آرہے ہیں… مجھے بتائو میں کیاکروں؟
‫اگر تم میں ہمت ہے تو مجھے ساتھ لو۔ یہاں سے نکلو''۔ لڑکی نے کہا۔ ''میں تمہیں سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج''
‫تک پہنچا دو گی۔ تمہیں اس فوج میں نہیں رہناچاہیے لیکن میں یہ نہیں چاہوں گی کہ تم مجھے یہاں چھوڑ کر بھاگ
‫جائو''۔
‫کیا تم اپنے خاوند سے اس لیے بھاگنا چاہتی ہو کہ اس نے تمہیں زرخرید لونڈی بنا رکھا ہے یا وہ بوڑھا ہے یا اس لیے کہ''
‫''وہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ہے؟

‫مجھے اس شخص سے نفرت ہے''۔ لڑکی نے جواب دیا۔ ''وجوہات تم نے خود ہی بتا دی ہیں۔ اس نے مجھے لونڈیوں ''
‫کی طرح حرم میں قید کررکھا ہے۔ وہ بوڑھا بھی ہے اور نفرت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی
‫کا دشمن اور صلیبیوں کا دوست ہے۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:13
‫قسط نمبر۔‪82‫یہ چراغ لہو مانگتے ہیں
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫کہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کا دشمن اور صلیبیوں کا دوست ہے۔ اس کے حرم میں آنے سے پہلے جوانی کی امنگوں کے
‫ساتھ میرے دل میں ایک اور جذبہ بھی تھا جو مجھے مجبور کرتا تھا کہ میں شادی نہ کروں اور نورالدین زنگی کے پاس جاکر
‫کہوں کہ مجھے کوئی سا جنگی فرض سونپ دیں۔ میں صلیب کے خالف لڑنا چاہتی تھی۔ میں نے سلطان صالح الدین ایوبی
‫کا نام سن رکھا تھا۔ میں نے تیر اندازی سیکھی اور نشانے پر برچھی پھینکنے کی بھی مشق کی مگر میرے جذبے کو اس
‫بدبخت کے حرم میں قید کرکے اسے شراب سے مار دیا گیا۔ سچ پوچھو تو میں اس قلعے میں آئی تو خوش ہوئی تھی کہ
‫ایک جنگجو کی بیوی بن کر آئی ہوں اور یہ جنگجو صلیبیوں کے خالف لڑے گا لیکن سلطان نورالدین زنگی کی وفات کے فورا ً
‫بعد اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف جنگی تیاریاں شروع کردیں''۔
‫یہ ابھی تک سلطان صالح الدین ایوبی کے مقابلے میں آیا ہے یا نہیں؟''۔ انطانون نے پوچھا۔''
‫مقابلے میں آنے کو تیار ہے'' ۔ لڑکی نے جواب دیا۔''لیکن یہ بہت گہرا آدمی ہے‪ ،خلیفہ الملک الصالح اور اس کے درباری''
‫امراء کا دوست ہے۔ وہ سب سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑ رہے ہیں۔ گمشتگین نے انہیں وعدہ دے رکھا ہے کہ وہ
‫انہیں اپنی فوج دے گا مگر یہ صلیبیوں کے ساتھ یارانہ گانٹھ کر آزادانہ طور پر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کا
‫ارادہ رکھتا ہے۔ اسے امید ہے کہ وہ بہت سے عالقے پر قبضہ کرلے گا۔ اگر ایسا ہوا تو وہ حران اور مفتوحہ عالقوں کا
‫بادشاہ بن جائے گا''۔
‫''تم نے اس کے ساتھ کبھی اس مسئلے پر بات کی ہے؟''
‫کی تھی''۔ لڑکی نے جواب دیا۔ ''اس نے میرے دل میں سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف باتیں ڈالنے کی کوشش ''
‫کی۔ میں سلطان صالح الدین ایوبی کو اپنا پیر اور پیغمبر مانتی ہوں۔گمشتگین کی کسی بات نے بھی مجھ پر اثر نہ کیا تو
‫اس نے میرے ساتھ تعلق توڑ لیا۔ مجھے مارتا پیٹتا بھی رہا۔ اس کے بعد اس نے مجھے کہا کہ تم سلطان صالح الدین ایوبی
‫کے عالقے میں چلی جائو۔ تم بہت خوبصورت ہو اور نوجوان بھی ہو۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے تین چار ساالروں کو اپنے
‫جال میں پھانس کر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف کردو۔ اس نے یہ بھی کہا کہ تمہارے ساتھ دو بہت ہوشیار اور بہت
‫خوبصورت صلیبی لڑکیاں ہوں گی۔ تم تینوں مل کر پہاڑوں کو بھی اپنا مرید بنا سکتی ہو۔ اس نے مجھے طریقے بتائے اور کہا
‫کہ میں جاکر جاسوسی بھی کروں اور اگر میں اس کے یہ سارے کام کردوں تو وہ میرے خاندان کو بے اندازہ زر وجواہرات دے
‫گا اور مجھے آزاد کرکے میری پسند کے آدمی کے ساتھ میری شادی کردے گا۔میں نے کوئی بھی شرط نہ مانی''۔
‫تم مان لیتی''… انطانون نے کہا۔ ''یہاں سے نکل کر سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس چلی جاتی''۔''
‫اس مردود نے اس کے صلیبی دوستوں نے ایسا انتظام کررکھا ہے کہ ان کے دشمنوں کے عالقے میں جاکر کوئی لڑکی یا ''
‫جاسوس غداری کرے تو اسے اغوا کرکے لے آتے ہیں یا وہیں قتل کردیتے ہیں۔ ان کا تعلق حسن بن صباح کے قاتل فدائیوں
‫کے ساتھ بھی ہے۔ میری روح مر گئی تھی‪ ،یہ جسم رہ گیا تھا۔ میں نے یہ سوچا تھا کہ ایسا ہی کروں جیسے تم نے کہا
‫ہے لیکن ہمت نہیں پڑتی تھی۔ تمہیں دیکھا اور تم میرے قریب آئے تو میری روح جاگ اٹھی۔ میں تمہارا احسان ساری عمر
‫نہیں بھولوں گی کہ تم نے مجھے اپنے دل میں بٹھایا لیکن اتنا ہی کافی نہیں‪ ،آئو یہاں سے نکل چلی''۔
‫تم یہیں‪ ،اسی قلعے میں صلیب کے خالف اور سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمنوں کے خالف لڑ سکتی ہو''۔''
‫''وہ کیسے؟''
‫جس طرح تمہارا آقا گمشتگین تمہیں سلطان صالح الدین ایوبی کے عالقے میں جاسوسی کے بھیجنا چاہتا ہے‪ ،اسی طرح ''
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو بھی جاسوسوں کی ضرورت ہے جو یہاں رہ کر اسے ان لوگوں کے ارادوں اور دوسرے رازوں سے
‫آگاہ کرتے رہیں''۔
‫تمہیں کیسے پتا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو جاسوسوں کی ضرورت ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
‫میں خود سلطان صالح الدین ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہوں''۔ انطانون نے کہا۔ لڑکی اس طرح چونکی جیسے اسے کسی''
‫نے خنجر گھونپ دیا ہو۔ ''کیوں؟ تم حیران کیوں ہوگئی ہو؟ میں یروشلم سے نہیں‪ ،قاہرہ سے آیا ہوں۔ میری کوئی بہن اغوا
‫نہیں ہوئی''۔
‫تم نے جہاں اتنے جھوٹ بولے ہیں وہاں یہ بھی جھوٹ ہوگا کہ تم نے مجھے دلی محبت دی ہے''۔ لڑکی نے کہا۔ ''
‫''تمہارا پیار اور تمہارے وعدے بھی جھوٹے ہوں گے''۔
‫میری محبت کا ثبوت یہ ہے کہ میں نے تمہیں اپنا راز دے دیا ہے''۔ انطانون نے کہا۔ ''یوں سمجھو کہ میں نے اپنی ''
‫زندگی تمہارے قدموں میں رکھ دی ہے۔ تم گمشتگین کو میری اصلیت بتا کر مجھے مروا سکتی ہو۔ کوئی جاسوس اپنا آپ ظاہر
‫نہیں کیا کرتا۔ مجھے تمہارے جذبے اور تمہاری محبت نے اتنا مجبور کیا کہ میں نے اپنا آپ تم پر ظاہرکردیا ہے۔ محبت کا
‫دوسرا ثبوت اس وقت دوں گا جب یہاں سے اپنا کام کرکے واپس جائوں گا۔ میں اکیال نہیں جائوں گا‪ ،تم میرے ساتھ ہوگی
‫لیکن ایک بات صاف صاف سن لو اگر تمہاری محبت اور میرا فرض اکٹھے میرے سامنے آگئے اور خدا نے میرا امتحان لینا
‫چاہا کہ میں کسے پسند کرتا ہوں تو میں فرض کا انتخاب کروں گا۔ تمہاری محبت کو قربان کردوں گا۔ دھوکہ نہیں دوں گا۔ تم
‫نہیں جانتی کہ جاسوس سے اس کا فرض کیسی کیسی قربانیاں مانگتا ہے۔ سپاہی میدان جنگ میں لڑتا اور مرتا ہے‪ ،اس کے
‫دوست اس کی الش گھر لے جاتے ہیں اور بڑی عزت سے دفن کرتے ہیں۔ جاسوس مارا نہیں پکڑا جاتا ہے۔ دشمن اسے قید
‫خانے میں لے جا کر ایسی ایسی اذیتیں دیتا ہے جو تم سن کر ہی بے ہوش ہوجائو۔ جاسوس مرتا بھی نہیں زندہ بھی نہیں
‫رہتا۔ جاسوس کے لیے فوالد جیسے مضبوط ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں ایسا ہی ایمان لے کر آیا ہوں۔ تم سے محبت کی
‫ہے تو فوالد کی طرح مضبوط رہوں گا مگر ایمان کا حکم نہیں ٹال سکوں گا''۔
‫لڑکی نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا اور چوم کر اپنے منہ پر پھیرا۔ اس نے کہا۔ ''تم مجھے بھی اتنا ہی
‫''مضبوط پائو گے۔ بتائو میں کیا کروں؟

‫انطانون نے اسے بتانا شروع کردیا کہ وہ کیا کرے۔ اس کے لیے ضروری ہدایت یہ تھی کہ وہ گانے بجانے اور پینے پالنے کی
‫ان محفلوں سے غیر حاضر نہ ہوا کرے جس میں صلیبی بھی شریک ہوتے ہیں۔ اگر اسے شراب کے دوگھونٹ پینے پڑیں تو
‫پی لیا کرے اور ان لوگوں میں گھل مل کر ان کی باتیں سنے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو برا بھال کہے اور ان ساالروں کے
‫سینوں سے یہ راز نکلوائے کہ ان کے جنگی ارادے کیا ہیں۔ صلیبیوں کی باتیں غور سے سنے۔ انطانون نے اس سے ان دو
‫ساالروں کے متعلق پوچھا جن کے متعلق بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے رہنے والے ہیں۔
‫شمس الدین علی اور شادبخت کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ گمشتگین ان کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔ وہ اکثر یہاں ''
‫آتے ہیں۔ راگ رنگ میں بھی شریک ہوتے ہیں لیکن شراب نہیں پیتے''۔
‫تم ان کے قریب ہوجائو'' ۔ انطانون نے کہا۔ ''باتوں باتوں میں ان سے پوچھنا۔ ''کیا ارستان میں برف پگھل رہی ہے؟ ''
‫''… وہ تم سے پوچھیں گے۔ کیا تم ارستان جارہی ہو؟ تم مسکرا کر کہنا… ارادہ تو یہی ہے۔ اس کے بعد وہ تمہارے ساتھ
‫کچھ باتیں کریں گے اور شاید یہ بھی پوچھیں کہ ادھر سے کون آیا ہے۔ تم بتا دینا کہ وہ تمہیں مل جائے گا''۔
‫میں کچھ سمجھی نہیں''۔ لڑکی نے کہا۔''
‫سب سمجھ جائو گی'' ۔ انطانون نے کہا۔ ''فاطمہ! میں تمہیں کبھی ان جھمیلوں میں نہ ڈالتا لیکن فرض کا تقاضا ہے کہ''
‫ہم اپنی عزیز ترین شے کو بھی اپنے فرض پر قربان کردیں۔ تم مجھے قربان کردو‪ ،میں تمہیں قربان کردوں۔ گھبرانہ جانا
‫فاطمہ! آنے واال وقت معلوم نہیں ہمارے لیے کیسے کیسے مصائب اور کیسی کیسی آزمائشیں ال رہا ہے۔ اگر ہم دونوں قید خانے
‫کے جہنم میں چلے گئے یا مارے بھی گئے تو ہمارا خون ضائع نہیں ہوگا۔ خدائے ذوالجالل ہمیں فراموش نہیں کرے گا۔ اسالم
‫کی عظمت کی پاسبانی خون دئیے بغیر نہیں ہوسکتی''۔
‫تم مجھے ثابت قدم پائو گے''۔ فاطمہ نے کہا… ''تم نے میرے اس جذبے کو بھی زندہ کردیا ہے جو میں سمجھتی تھی ''
‫کہ مرگیا ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫انطانون چال گیا۔ فاطمہ اسے دیکھتی رہی۔ وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا تو فاطمہ نے محسوس کیا کہ وہ اکیلی نہیں۔
‫اس کے پاس کوئی کھڑا تھا۔ اس نے بدک کر دیکھا۔ حرم کی ہی ایک لڑکی کھڑی تھی۔ وہ بھی فاطمہ کی ہی طرح جوان
‫اور خوبصورت تھی۔ اس نے کہا… ''فاطمہ! اس محبت کا انجام سوچ لو۔ تم آزاد نہیں ہو۔ میرے جذبات بھی تم جیسے ہیں۔
‫میں بھی پنجرہ توڑ کر اڑ جانا چاہتی ہوں لیکن یہ ممکن نہیں۔ ہماری قسمت میں جو لکھا تھا وہ ہمیں مل گیا ہے۔ دل کو
‫کچل ڈالو۔ اگر دل کی تسکین کا سامان کرنا ہی ہے تو اور بہت ہیں۔ اپنے محافظ کو اتنا بڑا درجہ نہ دو''۔
‫''کون محافظ؟'' فاطمہ نے حیران سا ہوکر پوچھا۔ ''تم کیا کہہ رہی ہو؟''
‫میں نے ابھی وہ نہیں کہا جو میں نے سنا ہے''۔ دوسری لڑکی نے کہا… ''مجھ سے اب کچھ چھپانے کی کوشش نہ ''
‫کرو۔ تم نے اس کے ساتھ جو سودا کیا ہے وہ تمہیں بہت مہنگا پڑے گا''۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور فاطمہ وہیں کھڑی
‫اندھیرے خالئوں میں گھورتی رہی۔
‫اسے یاد آگیا کہ انطانون اسے کہہ گیا تھا کہ اپنا کام آج ہی سے شروع کردو۔اسے یہ بھی یاد آگیا کہ اس نے انطانون سے
‫کہا تھا کہ تم مجھے ثابت قدم پائو گے۔ اس نے دل ہی دل میں اس لڑکی پر لعنت بھیجی اور اپنے آپ سے کہا کہ حرم
‫میں ایسی باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ کوئی لڑکی کسی لڑکی کو ہمدردی سے کچھ سمجھاتی ہے اور بعض آقا کی نظر میں
‫ایک دوسری کو گرانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسے اب ایک سہارا اور قومی جذبے کی تسکین کا ذریعہ مل گیا تھا مگر وہ
‫ناتجربہ کار تھی اسے معلوم نہیں تھا کہ حرم میں کچھ بھی کسی سے چھپایا نہیں جاسکتا اور یہ بھی کہ اس ماحول میں
‫اخالق اور کردار ناپید ہے اور یہاں کسی بھی وقت کوئی بھی انہونی ہوسکتی ہے۔ گناہوں کی اس پراسرار دنیا میں وہ بہت
‫خطرہ مول لے رہی تھی۔
‫دو تین روز بعد اس کی مالقات شمس الدین اور شاد بخت سے ہوگئی۔ اس رات بھی گمشتگین نے بزم عیش وطرب منعقد
‫اعلی افسروں کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے وہ انہیں خوب عیش کراتا تھا۔ ان
‫کی تھی۔ اپنے ساالروں‪ ،صلیبی مشیروں اور
‫ٰ
‫دو تین دنوں کی مالقاتوں میں انطانون نے فاطمہ کو ٹریننگ دے دی تھی۔ فاطمہ اس ضیافت میں خوب دلچسپی لے رہی
‫تھی۔ گمشتگین حیران ہوتا ہوگا اور خوش بھی کہ اس لڑکی میں تبدیلی آگئی ہے۔ وہ ہر کسی کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں
‫کررہی تھی۔ وہ شمس الدین کے پاس جا رکی اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے اس نے کہا… ''کیا الرستان میں برف
‫''پگھل رہی ہے؟
‫ساالر شمس الدین چونک اٹھا۔ گمشتگین جیسے چاالک اور سخت مزاج قلعہ دار کے حرم کی کسی لڑکی کی زبان سے ایسے
‫الفاظ نکلنے کی اسے توقع نہیں تھی کیونکہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کے خفیہ الفاظ تھے جو بول کر
‫جاسوس ایک دوسرے کو پہچانتے تھے۔ ان الفاظ سے جاسوسوں کے سوا اور کوئی واقف نہیں ہوسکتا تھا۔ شمس الدین کو یہ
‫بھی معلوم تھا کہ اس قلعے میں کوئی جاسوس قید نہیں تھا جس نے یہ الفاظ بتا دئیے ہوں۔ اس نے کوڈ کا اگال مکالمہ
‫''بوال… ''کیا تم الرستان جارہی ہو؟
‫فاطمہ نے مسکرا کر کہا۔''ارادہ تو یہی ہے''۔
‫شمس الدین باتیں کرتے کرتے فاطمہ کو الگ لے گیا۔ دوسرے لوگ شراب اور رقص میں محو تھے۔ شمس الدین نے اس سے
‫پوچھا۔ ''تم جانتی ہو میں ساالر ہوں''۔
‫میں کچھ اور بھی جانتی ہوں''۔ فاطمہ کی مسکراہٹ میں طنز نہیں اپنائیت اور ایک مطلب تھا۔''
‫کون آیا ہے؟'' شمس الدین نے راز داری سے پوچھا۔''
‫وہ آپ کو مل جائے گا''۔ فاطمہ نے جواب دیا۔''
‫''تم جانتی ہو کہ مجھے دھوکہ دے کر تمہارا انجام کیا ہوگا؟''
‫دھوکہ نہیں''۔ فاطمہ نے جواب دیا۔ ''آپ ٹہلتے ٹہلتے بڑے دروازے تک چلے جائیں۔ وہاں دو محافظ کھڑے ہیں۔ پوچھا ''
‫کہ یروشلم سے کون آیا ہے''۔
‫شمس الدین دروازے پر چال گیا۔ وہاں دو محافظ کھڑے تھے جنہیں وہ جانتا تھا۔ اس نے پوچھا۔ ''تم میں سے یروشلم سے
‫کون آیا ہے؟'' انطانون نے آگے بڑھ کر بتایا کہ وہ یروشلم سے آیا ہے۔ شمس الدین نے پوچھا۔ ''تم اگر الرستان کی طرف
‫سے آئے ہو تو وہاں برف پگھل رہی ہوگی''۔
‫کیا آپ الرستان جارہے ہیں؟'' انطانون نے پوچھا۔''

‫ارادہ تو یہی ہے''۔ شمس الدین نے مسکرا کر کہا۔''
‫''جب اسے یقین ہوگیا کہ انطانون واقعی جاسوس ہے تو اس نے پوچھا۔ ''وہ لڑکی دھوکہ تو نہیں دے رہی؟
‫نہیں''۔ انطانون نے جواب دیا۔ ''مالقات کا موقع دیں۔ ساری بات بتائوں گا''۔''
‫مالقات کا موقع پیدا کرلیا گیا۔ شمس الدین آخر ساالر تھا۔ وہ موقع پیدا کرسکتا تھا۔ اس نے انطانون سے پوچھا کہ اس نے
‫فاطمہ کو کس طرح اپنے جال میں پھانسا ہے اور اسے وہ کس طرح اتنا قابل اعتماد سمجھتا ہے کہ اسے خفیہ (کوڈ) الفاظ
‫تک بتا دئیے ہیں۔ انطانون نے اسے شروع سے آخر تک سنا دیا کہ یہ لڑکی کس طرح اسے ملی اور ان کے درمیان کیا کیا
‫باتیں ہوئی تھیں۔
‫میں ایک خطرہ محسوس کررہا ہوں'' ۔ شمس الدین نے کہا۔ ''تم جوان ہو‪ ،خوبرو اور تنومند ہو‪ ،لڑکی جوان ہے اور اس ''
‫کی خوبصورتی غیر معمولی ہے۔ جذبات فرض پر غالب آنے کے امکانات مجھے صاف نظر آرہے ہیں۔ تمہارا دن کے دوران اس
‫کے کمرے میں جانا جذبات کے تحت تھا۔ تم نے احتیاط نہیں کی۔ لڑکی میں محبت اور خلوص کی تشنگی ہے۔ تم نے اسے
‫محبت بھی دی خلوص بھی دیا۔ ایسی لڑکیوں کے جذبات نازک اور خطرناک ہوتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ تم اپنے فرض کو
‫رومانی جذبات کے غلبے سے تباہ کردو گے۔ جوانی اور تشنگی مل کر بارود بن جاتی ہیں… کیا تم مجھے یقین دال سکتے ہو
‫کہ تمہارے دل میں اس لڑکی کی محبت پیدا نہیں ہوگی؟ میں تمہارے ایمان کا متحان لینا چاہتا ہوں''۔
‫میں نے اسے اپنے کام کے لیے گرویدہ بنایا ہے''۔ انطانون نے کہا… ''لیکن میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ یہ لڑکی میرے ''
‫دل میں اتر گئی ہے۔ میں آپ کو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم کھا کر یقین دالتا ہوں کہ یہ
‫محبت میرے فرض پر غالب نہیں آئے گی''۔
‫پھر ان کے درمیان اپنے کام کی کچھ باتیں ہوئیں اور شمس الدین نے اسے کچھ ہدایات دے کر رخصت کردیا۔ اسی روز شمس
‫الدین نے اپنے بھائی شاد بخت کو بتایا کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے یہاں ایک اور آدمی بھیج دیا ہے جس کا نام انطانون
‫ہے اور و ہ محافظ دستے میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ان دونوں بھائیوں کے دو ذاتی محافظ‪ ،ان کے اردلی اور دو
‫مالزم بھی سلطان صالح الدین ایوبی کے لڑاکا جاسوس تھے۔ شمس الدین اور اس کے بھائی نے انہیں بھی بتایا کہ ان کا ایک
‫اور ساتھی آگیا ہے جس نے یہاں آکر اپنے آپ کو ایک خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ اس کا کارنامہ ہے کہ اس نے قلعہ دار
‫کی ذاتی رہائش گاہ میں سے ایک مچھلی پکڑ لی ہے مگر اس میں خطرہ بھی ہے۔ شمس الدین نے اپنے آدمیوں کو یہ خطرہ
‫تفصیل سے بتایا اور کہا… ''ابھی تک حران میں ہمارا کوئی جاسوس نہیں پکڑا گیا۔ مجھے ڈر ہے کہ انطانون پکڑا جائے گا۔
‫ہم اس پر نظر رکھیں گے تاہم تم سب کو تیار رہنا ہوگا۔ اگر وہ پکڑا گیا تو ہماری بے عزتی ہوگی۔ یہ ڈر بھی ہے کہ اذیتوں
‫سے گھبرا کر وہ ہم سب کی نشاندہی کردے لیکن مجھے سلطان صالح الدین ایوبی کا خیال آتا ہے وہ کہیں گے کہ دو ساالر
‫اور چھ لڑاکا جاسوس ایک آدمی کی حفاظت نہ کرسکے''۔
‫آپ اور ہم موجود تھے تو ایک اور آدمی کے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟'' ایک نے پوچھا۔''
‫یہی ضرورت تھی جو اس نے پوری کرلی ہے''۔ شمس الدین نے جواب دیا… ''گمشتگین کے حرم تک رسائی ضروری ''
‫تھی۔ تم ان بحثوں میں نہ پڑو۔ میں جانتا ہوں یہ حسن بن عبداللہ کا فیصلہ ہے جو صحیح ہے۔ میں تمہیں اس کے خطروں
‫سے آگاہ کررہا ہوں۔ تیار رہنا ہوسکتا ہے اس لڑکی کو اغوا کرکے غائب کرنا پڑے۔ اس کے لیے بھی تیار رہو''۔
‫ہم تیار ہیں''۔ سب نے کہا… ''لیکن ہمیں بروقت اطالع ملنی چاہیے''۔''
‫یہ ممکن نہیں کہ اطالع بروقت ملے''۔ شمس الدین نے کہا… ''ہوسکتا ہے مجھے بھی اس وقت پتہ چلے جب انطانون ''
‫شکنجے میں جکڑا ہوا ہو اور اس کی ہڈیاں توڑی جارہی ہوں''۔
‫کیا تم دونوں بھائی پسند کرو گے کہ ہم کسی سے مدد لیے بغیر اپنی جنگ آزادی سے لڑیں؟'' گمشتگین ساالر شمس ''
‫الدین اور سادبخت سے پوچھ رہا تھا۔ ''آپ دونوں جانتے ہیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ہم کئی ایک لوگ
‫ہیں۔ ہم سب نے بظاہر متحدہ محاذ بنا رکھا ہے لیکن ہم دل سے ایک دوسرے کے ساتھ نہیں۔ الملک الصالح بچہ ہے۔ وہ
‫جن امراء کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے‪ ،وہ سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دے کر الصالح کو باہر پھینک دیں گے اور
‫خودمختار حاکم بن جائیں گے۔ موصل کا حاکم سیف الدین بھی ہمارا دوست ہے اور سلطان صالح الدین ایوبی کا دشمن لیکن
‫وہ بھی اپنی ریاست الگ بنانا چاہتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں نے حران کے گردونواح سے کافی فوج تیار کرلی ہے۔ میں
‫نے صلیبی حکمران ریجنالڈ کو اور اس کے تمام جنگی قیدیوں کو اس معاہدے کے تحت آزاد کردیا تھا کہ میں سلطان صالح
‫الدین ایوبی کے مقابلے میں آئوں تو صلیبی اگر میری مدد براہ راست نہ کریں تو عقب سے یا پہلو سے سلطان صالح الدین
‫ایوبی پر حملہ کردیں یا اسے حملے کا دھوکہ دے کر اس کی توجہ مجھ سے ہٹا دیں۔ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ایک وسیع
‫وعریض عالقہ آپ کی عمل داری میں ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ ہم سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دے سکیں گے۔ وہ
‫صلیبیوں کو پسپا کرسکتا ہے۔ صلیبی اس کی جنگی چالوں سے واقف نہیں۔ ہم واقف ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں اگر اس کی
‫فوج بے جگری سے لڑسکتی ہے تو ہم اس سے زیادہ بہادری کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی پہلی بار
‫حلب میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تھا۔ حلب والوں نے اس کے چھکے چھڑا دئیے۔ اس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی
‫ہے''۔
‫شمس الدین اور شادبخت نے اسے بالکل نہ کہا کہ مسلمان کو مسلمان کے خالف نہیں لڑنا چاہیے اور صلیبی جو ہم سب کے
‫دشمن ہیں ہمیں مدد کا دھوکہ دیں گے‪ ،مدد نہیں دیں گے۔ ان دونوں بھائیوں نے اسے یہ بھی یاد نہ دالیا کہ الملک الصالح
‫نے صلیبی حکمران ریمانڈ کو سونے کی شکل میں معاوضہ دیا اور یہ معاہدہ کیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف
‫جنگ کی صورت میں ریمانڈ اس پر عقب سے حملہ کرے گا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے حلب کا محاصرہ کیا تو ریمانڈ
‫فوج لے کر آگیا مگر سلطان صالح الدین ایوبی کے صرف چھاپہ مار دستوں نے اسے روک دیا اور ریمانڈ لڑے بغیر واپس چال
‫گیا تھا۔ شمس الدین اور شادبخت نے گمشتگین کے ساتھ کسی بھی نکتے پر بحث نہ کی۔ اس کی تائید کی اور اسے مشورہ
‫دیا کہ اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی الرستان کی پہاڑیوں میں بیٹھا ہے۔ اس سلسلۂ کوہ ''حماة کے سینگ'' نام کی
‫جو وادی ہے اسے میدان جنگ بنایا جائے تو سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے یہ مشورہ بھی
‫دیا کہ اپنی جنگ آزادی سے لڑی جائے اور صلیبیوں سے مدد لی جائے۔
‫مجھے کچھ ایسی اطالعات مل رہی ہیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوس ہمارے درمیان موجود ہیں اور وہ ہر ایک''
‫خبر اسے پہنچا رہے ہیں''۔ گمشتگین نے کہا… ''آپ دونوں محتاط اور چوکنے رہیں اور چھان بین کریں''۔
‫کہنے کی ضرورت نہیں''۔ ساالر شہ بخت نے کہا… ''ہم جانتے ہیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا نظام جاسوسی بہت ''

‫مضبوط تیز ہے ہم نے یہاں اپنے جاسوس چھوڑ رکھے ہیں جو ہمیں مشتبہ اور مشکوک افراد سے آگاہ کرتے رہتے ہیں''۔
‫میں اس معاملہ میں بہت سخت ہوں''۔ گمشتگین نے کہا… ''اگر مجھے اپنے بیٹے کے متعلق بھی شک ہوا کہ جاسوس''
‫ہے تو میں اسے بھی شکنجے میں ڈال دوں گا۔ ذرہ بھر رحم نہیں کروں گا''۔
‫گمشتگین کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ جن دو ساالروں سے اتنے نازک مشورے لے رہا ہے وہ سلطان صالح الدین
‫ایوبی کے جاسوس ہیں۔ یہ دونوں بھائی تو بہت ہی خطرناک جاسوس تھے۔ کیونکہ وہ دونوں اس کی فوج کے جرنیل تھے اور
‫فوجوں کی کمان انہی کے پاس تھی۔ گمشتگین سے فارغ ہوکر وہ جب اکیلے بیٹھے تو انہوں نے آپس میں یہ سکیم بنائی کہ
‫وہ جب فوج لے کر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف جائیں گے تو اسے اپنی پیش قدمی کے متعلق پہلے اطالع دے دیں
‫گے۔ وہ ان کی فوج کو گھیرے میں لے لے گا اور ہتھیار ڈال دئیے جائیں گے۔ دونوں بھائی دیر تک سکیم بناتے اورہر پہلو پر
‫غورکرتے رہے۔ انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ گمشتگین کب حملہ کرنا چاہتا ہے۔ انہیں اسے اس پر آمادہ کرناتھا کہ وہ
‫جلدی حملہ کرے۔
‫٭ ٭ ٭
‫انطانون اب گمشتگین کی رہائش گاہ کی ڈیوٹی سے ہٹ گیا تھا کیونکہ اس کی ڈیوٹی کے آٹھ دن پورے ہوچکے تھے۔ فاطمہ
‫نے اسے کام کی کچھ باتیں بتائی تھیں۔ اب اس کا فاطمہ سے ملنا مشکل ہوگیا تھا۔ وہ ہر لمحے اسے ملنے کے لیے بیتاب
‫رہتا تھا جس کی ایک وجہ تو اپنے فرض کی ادائیگی تھی اور دوسری وجہ جذباتی اوررومانی تھی۔ فاطمہ نے ایک خادمہ کو
‫ہاتھ میں لے لیا تھا۔ ایک شام اس خادمہ کے ذریعے فاطمہ نے انطانون کو اطالع بھجوائی کہ رات اسی وقت وہ باغیچے میں
‫آجائے۔ بڑے دروازے سے اندر جانا ناممکن تھا۔ باغیچے کے پیچھے اونچی دیوار تھی۔ فاطمہ نے کہال بھیجا تھا کہ دیوار کے
‫باہر رسہ لٹک رہا ہوگا۔ اس رات وہاں بہت بڑی ضیافت تھی۔ گمشتگین نے ایسے تمام بڑے بڑے لوگوں کو مدعو کیا تھا جو
‫جنگ میں اس کے مددگار ہوسکتے تھے۔ ان میں صلیبی کمانڈر بھی تھے اور چند ایک مسلمان فوجی افسر بھی جو موصل
‫سے چوری چھپے آئے تھے۔ گمشتگین نے ایسے غیرفوجی آدمیوں کو بھی مدعو کیا تھا جن کے پاس بے انداز دولت تھی۔ اب
‫سب مہمانوں سے وہ جنگ کے لیے مدد لینا چاہتا تھا۔ ان میں شمس الدین اور شاہ بخت بھی تھے اور ان میں گمشتگین کا
‫قاضی ابن الخاشب ابو الفضل بھی تھا۔
‫یہ اجتماع فاطمہ کے لیے بہت اچھا تھا۔ اسے اس کی اہمیت کا علم ہوگیا تھا۔ اس نے اپنے مزاج کے خالف اپنا بنائو سنگار
‫ایسے طریقے سے کیا تھا جس میں مردوں کے لیے بے پناہ کشش تھی۔ اس کی جوانی اور خوبصورتی کی کشش الگ تھی۔ وہ
‫پھدکتی پھر رہی تھی۔ ہر مہمان کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتی تھی۔ اسے جہاں بھی کوئی صلیبی اور اپنی فوج کا کوئی
‫اعلی افسر باتیں کرتا نظر آتا وہاں اس طرح پیٹھ کرکے کھڑی ہوجاتی کہ انہیں شک نہ ہوتا۔ وہ اس کی طرف کان لگا دیتی۔
‫ٰ
‫وہ شمس الدین اور شاہ بخت کے پاس بھی گئی۔ دونوں نے اسے کہا کہ وہ بہت محتاط رہے اور اس کے کان میں کوئی راز
‫کی بات پڑے تو انہیں بتا دے۔ انطانون سے زیاہ مالقاتیں نہ کرے لیکن اس نے یہ راز ان سے چھپائے رکھا کہ اس نے آج
‫رات انطانون کو بال رکھا ہے اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ اس سے باغیچے میں ملنے جائے گی پھر واپس آکر اپنا کام کرے گی۔
‫اس نے شام کا اندھیرا گہرا ہوتے ہی خادمہ سے رسہ دیوار کے اوپر بندھوا کر پچھلی طرف لٹکوا دیا تھا۔ دیوار کی اندر کی
‫طرف ایک درخت تھا۔ انطانون کو باہر سے رسے کے ذریعے اوپر آنا اور اسی رسے کو اندر کی طرف لٹکا کر درخت کی اوٹ
‫میں اترنا تھا۔
‫اعلی درجے کی ناچنے والیاں بالئی گئی تھیں۔ ان کے عالوہ لڑکیوں جیسے خوبصورت نوعمر
‫اس ضیافت میں باہر سے نہایت
‫ٰ
‫لڑکے بھی بالئے گئے تھے۔ جو نیم عریاں ہوکر خاص قسم کا رقص کرتے تھے۔ حرم کی ساری لڑکیاں گمشتگین کی اس ہدایت
‫یا حکم کے ساتھ موجود تھیں کہ مہمانوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کریں۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس
‫اجتماع کا مقصد کیا ہے۔ شراب کے مٹکوں کے منہ کھول دئیے گئے تھے۔ فاطمہ بھی اس میں آزاد تھی کہ مہمانوں میں سے
‫کسے ملتی ہے اور اس کے ساتھ کیسی باتیں اور حرکتیں کرتی ہے۔
‫محفل کی رونق اور سازوں کے ہنگامے میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اور فاطمہ بے چین ہوتی جارہی تھی کیونکہ انطانون کے آنے
‫کا وقت ہوگیا تھا۔ اس وقت وہ ایک صلیبی کمانڈر کے ساتھ باتیں کررہی تھی۔ یہ صلیبی روانی سے عربی زبان بولتا تھا۔
‫فاطمہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف باتیں کررہی تھی تاکہ یہ صلیبی اپنے دل کی باتیں اگل دے۔ ایسا ہی ہوا۔ وہ
‫فاطمہ کو بتانے لگا کہ وہ کس طرح سلطان صالح الدین ایوبی کو ختم کریں گے۔ ان باتوں کے دوران اس نے فاطمہ کے ساتھ
‫بے تکلفی پیدا کرلی۔ فاطمہ نے مزاحمت نہ کی۔ اسے کچھ قیمتی راز حاصل ہورہے تھے۔ صلیبی اسے باتوں میں لگائے محفل
‫سے پرے لے گیا۔ چلتے چلتے وہ اندر والے باغیچے میں چلے گئے۔ وہاں روشنی نہیں تھی۔ وہاں جاکر فاطمہ نے محسوس کیا
‫کہ انطانون آگیاہوگا اوراس کے انتظار میں پریشان ہورہا ہوگا۔ اس نے صلیبی سے کہا کہ آئو واپس چلیں لیکن صلیبی ابھی واپس
‫نہیں جانا چاہتا تھا۔ فاطمہ کوئی جھوٹ موٹ وجہ بتائے بغیر بھاگ بھی نہیں سکتی تھی مگر بھاگنے کے سوا چارہ بھی کوئی
‫نہ تھا۔ بھاگنے کی بظاہر وجہ بھی کوئی نہیں تھی۔
‫صلیبی نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ گھاس پر بٹھا لیا اور اس کے حسن کی تعریفیں شروع کردیں۔ فاطمہ نے اسے
‫ٹالنے کی کوشش کی۔ صلیبی نشے میں بھی تھا۔ اس نے دست درازی کی تو فاطمہ نے ہنس کر کہا… ''یہ سوچ لو کہ میں
‫کس کی بیوی ہوں''۔
‫اسی کی اجازت سے یہ جرأت کررہا ہوں''۔ اس نے کہا اور فاطمہ کو اپنے قریب گھسیٹ لیا۔ کہنے لگا… ''تم جسے اپنا''
‫خاوند کہہ رہی ہو وہ تمہارا خاوند نہیں ہے''۔ صلیبی نے کہا… ''اس حقیقت سے تم بھی واقف ہو‪ ،اگر وہ تمہارا خاوند ہی
‫ہے تو اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دینے اور بادشاہ بننے کے لیے اپنی تمام بیویاں آج رات کے لیے ہم پر
‫حالل کردی ہیں''۔
‫وہ بے غیرت ہے''۔ فاطمہ نے غصے کو ہنسی میں دبا کر کہا حاالنکہ وہ جانتی تھی کہ یہ صلیبی جو کچھ کہہ رہا ہے ''
‫ٹھیک کہہ رہا ہے۔
‫جو آدمی اپنا ایمان بیچ ڈالتا ہے وہ اپنی بیوی‪ ،اپنی بہن اور اپنی بیٹی کی عزت سے بھی دستبردار ہوجاتا ہے۔ تم بے ''
‫وقوف لڑکی ہو۔ عیش وعشرت سے کیوں بیزار ہو؟ کہتی ہو میں شراب بھی نہیں پیتی''۔
‫فاطمہ کو دو باتیں پریشان کررہی تھیں۔ پہلی یہ کہ انطانون آگیا ہوگا اور دوسری یہ کہ گمشتگین اگر غیرت مند ہوتا تو وہ
‫دوڑتی اس کے پاس جاتی اور اسے بتاتی کہ یہ آدمی مجھ سے دست درازی کرتا ہے مگر وہاں صورت یہ پیدا کردی گئی تھی
‫کہ کسی مہمان کو خصوصا ً کسی صلیبی کمانڈر کو ناراض کرنا گمشتگین کے حکم کی خالف ورزی تھی۔ وہ اپنی بیویوں کی

‫عصمت کے عوض سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف جنگی مدد لے رہا تھا۔ فاطمہ جال میں الجھ کے رہ گئی۔ وہ اس
‫صلیبی کے منہ پر تھوک نہیں سکتی تھی اور اسے دھتکار بھی نہیں سکتی تھی۔ ان مجبوریوں کے باوجود اپنی عزت سے
‫بھی دستبردار نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کیا کرے۔
‫اس نے اسے ذرا سلجھے ہوئے طریقے سے ٹالنے کی کوشش کی جو محض بے کار ثابت ہوئی۔ اسے بڑی شدت سے خیال آیا
‫کہ انطانون آگیا ہوگا۔ وہ پیچ وتاب کھانے لگی۔ اس ذہنی کیفیت میں فاطمہ بھڑک اٹھی۔ وہ گھاس پر بیٹھے تھے۔ اس نے
‫صلیبی کو بڑے زور سے دھکا دیا۔ وہ پیٹھ کے بل گرا۔ عورت میں غیرت بیدار ہوجائے تو وہ چٹان کو بھی دھکا دے کر گرا
‫سکتی ہے۔ یہ صلیبی تو نشے میں تھا۔ اس نے اسے فاطمہ کا مذاق سمجھا اور قہقہہ لگایا۔ قریب ہی مٹی کا ایک بڑا گمال
‫رکھا تھا۔ فاطمہ کو غصے نے پاگل کردیا۔ اس نے گمال اٹھایا‪ ،یہ بہت وزنی تھا۔ گمال اوپر کو اٹھا کر اس نے صلیبی کے منہ
‫پر دے مارا۔ وہ پیٹھ کے بل لیٹا قہقہے لگا رہا تھا۔گمالا س کی پیشانی پر گرا اور اس کے قہقہے خاموش ہوگئے۔ فاطمہ نے
‫گمال پھر اٹھایا۔ صلیبی بے ہوش ہوکر پہلو کے بل ہوگیا تھا۔ فاطمہ نے گمال اپنے سر سے اوپر لے جاکر اس کے سر پر
‫پھینکا اور وہاں سے غالم گردش میں چلی گئی۔ کسی کمرے میں داخل ہوئی اور اندھیرے میں پچھلے باغیچے میں چلی گئی۔
‫محفل پر شراب کا نشہ طاری ہوچکا تھا۔ رقص عروج پر تھا۔ شرابیوں کی ہائو ہونے اس قلعہ نما محل کو سر پر اٹھا رکھا
‫تھا۔ کسی کو ہوش نہ تھا کہ کون زندہ ہے اور قتل ہوگیا ہے۔ اس ہنگامے سے التعلق ہوکر فاطمہ پچھلے باغیچے میں گئی۔
‫انطانون کی محبت کے جوش اور نشے میں اسے ابھی یہ احساس نہیں تھا کہ وہ ایک انسان کو قتل کرآئی ہے اور مقتول
‫صلیبی ہے۔ وہ انطانون کو فخر سے سنانا چاہتی تھی کہ اس نے اپنی عزت کی حفاظت میں ایک صلیبی کو قتل کردیا ہے
‫مگر انطانون وہاں نہیں تھا۔ فاطمہ کا دل اس خیال سے ڈوبنے لگا کہ وہ آکر چال گیا ہے۔ اس نے درخت کے پیچھے جاکر
‫دیکھا کہ رسہ باہر ہے یا رسہ اندر تھا۔ اس کا مطالبہ یہ تھا کہ انطانون آیا ہے۔ اسی لیے رسہ اندر ہے مگر وہ کہاں ہے؟
‫واپس گیا ہوتا تو رسہ باہر کو ہوتا۔
‫وہ وہاں کھڑی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ اسے اندھیرے میں ایک سایہ سا حرکت کرتا نظر آیا۔ اس نے غور سے دیکھا۔ اس
‫کی خادمہ معلوم ہوتی تھی۔ فاطمہ نے اسے آہستہ سے آواز دی۔ وہ خادمہ ہی تھی۔ فاطمہ کی طرف دوڑی گئی۔ اس نے
‫فاطمہ سے کہا… ''اسے یہاں نہ ڈھونڈو۔ وہ آیا تھا۔ میں اس کے انتظار میں چھپ کر کھڑی تھی۔ میں نے اسے دیوار پر
‫دیکھا۔ اس نے رسہ اندر پھینکا اور اترنے لگا۔ ادھر سے دو آدمی آتے نظر آئے۔ اس وقت وہ رسے سے اتر رہا تھا۔ دونوں
‫آدمی قریب آگئے۔ میں اسے خبردار نہ کرسکی۔ وہ دونوں درخت کے تنے سے لگ گئے۔ وہ جونہی اترا ان دونوں نے اسے
‫ایسا جکڑا کہ وہ ان سے آزاد نہ ہوسکا۔ میں آپ کو ڈھونڈتی رہی لیکن میں مہمانوں میں نہیں جاسکتی تھی''۔
‫فاطمہ کو چکر آگیا اور جب اسے یہ خیال آیا کہ
‫لیلی کی پراسرار اور طلسماتی دنیا تھی جسے فاطمہ
‫و ہ ایک صلیبی کو قتل کرآئی ہے تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ یہ الف
‫ٰ
‫جیسی لڑکی نہیں سمجھ سکتی تھی۔ اسے حرم کی ایک لڑکی نے خبردار بھی کیا تھا کہ وہ ایک محافظ سپاہی کے ساتھ
‫محبت کا کھیل کھیل کر غلطی کررہی ہے۔ اسے اب یہ مسئلہ پریشان کرنے لگا کہ انطانون کو کس نے گرفتار کرایا ہے۔ ان
‫دونوں آدمیوں کو پہلے سے معلوم ہوگا کہ وہ آرہا ہے۔ اب فاطمہ کو یہ خدشہ نظر آنے لگا کہ اسے بھی گرفتار کیا جائے گا۔
‫اسے اپنی خادمہ پر بھی شک تھا۔ وہ بھی تو مخبری کرسکتی تھی۔
‫وہ کچھ بھی نہ سمجھ سکی۔ خادمہ کو ساتھ لے کر اس نے اوپر سے رسہ کھلوایا اور اسے کہا کہ اسے کہیں چھپا دے۔ وہ
‫خود انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں ساالر شمس الدین اور شاہ بخت کی طرف دوڑ گئی۔ رقص اور شراب کی محفل گرم تھی۔
‫فاطمہ کو شادبخت نظر آگیا۔ اسے محفل کے اندر سے معلوم ہوا کہ صلیبی کے قتل کا کسی کو پتا نہیں چال‪ ،وہ خراماں
‫خراماں شادبخت تک گئی اور اسے اشارے سے بالیا۔ الگ جاکر اسے بتایا کہ وہ ایک صلیبی کو قتل کر آئی ہے۔ اس نے
‫قتل کی وجہ بھی بتائی۔
‫شادبخت نے یہ خطرہ محسوس کرتے ہوئے کہ فاطمہ کو کسی نے اس صلیبی کے ساتھ ادھر جاتے دیکھا ہوگا جہاں اس کی
‫الش پڑی ہے اور اس کے پکڑے جانے کا امکان بڑا واضح ہے۔ اس نے کہا… ''تمہیں اب یہاں نہیں رہنا چاہیے تم اگر گرفتار
‫ہوگئی تو میں ہی بہتر جانتا ہوں کہ گمشتگین تم جیسی خوبصورت لڑکی کا قید خانے میں کیا حال کرائے گا۔ اگر اس کا باپ
‫مارا جاتا تو و ہ پروا نہ کرتا۔ وہ ایک صلیبی کمان دار کے قتل کا بڑا بھیانک انتقام لے گا''۔
‫میں کہاں جائو؟'' فاطمہ نے پوچھا۔''
‫تھوڑی دیر یہیں گھومو پھرو''… شاد بخت نے کہا… ''میرا بھائی شمس الدین آجائے تو اس سے بات کروں گا''۔''
‫وہ کہاں چلے گئے ہیں؟'' فاطمہ نے خوف سے کانپتی آواز میں پوچھا۔''
‫کچھ دیر گزری انہیں اطالع ملی تھی کہ پچھواڑے کی دیوار سے رسے سے پھالنگ کر ایک آدمی اندر آگیا تھا۔ معلوم نہیں''
‫وہ کون ہے اور کس ارادے سے اندر آیا تھا۔ شمس الدین اسے دیکھنے اور اسے قید خانے میں ڈالنے یا جو بھی کارروائی
‫مناسب سمجھے گا کرنے کے لیے گیا ہے‪ ،اگر تھوڑی دیر تک نہ آیا تو میں خود چال جائوں گا۔ دل مضبوط رکھنا۔ ہم تمہیں
‫چھپا لیں گے''۔
‫فاطمہ کے ذہن میں خیال آیا کہ پکڑا جانے واال انطانون ہی ہوگا۔ اسے اطمینان سا ہوا کہ انطانون کو ساالر شمس الدین کے
‫حوالے کیا گیا ہے اور وہ اسے بچانے کی کوشش کرے گا۔
‫وہ انطانون ہی تھا۔ اسے دو سپاہیوں نے پکڑا تھا۔ چونکہ یہ شمس الدین کے شعبے کی ذمہ داری تھی کہ اس قسم کے
‫مجرموں سے پوچھ گچھ کرکے کارروائی کرے اس لیے اسی کو اطالع دی گئی کہ ایک آدمی دیوار پھالنگ کر اندر آتے پکڑا گیا
‫ہے۔ شمس الدین محفل سے اٹھ کر باہر گیا تو سپاہیوں نے انطانون کو پکڑ رکھاتھا۔ شمس الدین نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ
‫وہ اس مجرم کو نہیں جانتا اس سے پوچھا… ''تم تو شاید محافظ دستے کے جوان ہو۔ دیوار کیوں پھالنگی ہے؟ سچ سچ بتا
‫دو ورنہ سزائے موت سے کم سزا نہیں دوں گا''۔
‫انطانون خاموش رہا۔ شمس الدین کو اس خیال سے غصہ آرہا تھا کہ اسے اس نے کہا بھی تھا کہ محتاط رہے اور فرض پر
‫جذبات کو غالب نہ آنے دے۔ اس نے اس ہدایت پر عمل نہ کیا۔ ایک طرف تو اس نے فن کا یہ کمال دکھایا تھا کہ ایک
‫ہی کوشش میں محافظ دستے میں بھی شریک ہوگیا اور فورا ً بعد اس نے حرم تک رسائی حاصل کرلی مگر دوسری طرف اس
‫نے ایسی حماقت کی کہ ایک ہی ہلے میں پکڑا گیا۔ جاسوس کی حیثیت سے یہ اس کا جرم تھا لیکن اس کی سزا اسے
‫یہاں نہیں دی جاسکتی تھی۔ یہاں سے اسے بچانا اور نکالنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی فاطمہ کو بھی وہاں سے نکالنا ضروری تھا
‫کیونکہ اس انکشاف کا بھی خطرہ تھا کہ انطانون کو فاطمہ نے بالیا تھا اور رسہ لٹکانے کا انتظام اسی نے کیا تھا۔

‫شمس الدین نے دونوں سپاہیوں کو ایک جگہ بتا کر کہا کہ اسے وہاں لے جائیں اوروہ اسے قید خانے میں لے جانے کا انتظام
‫کرنے جارہا ہے۔ سپاہی اسے لے گئے تو شمس الدین کسی اور طرف چالگیا۔ اس نے اپنے باڈی گارڈ کو بالیا۔ جو وہیں کہیں
‫موجود تھا۔ باڈی گارڈ چال گیا۔ اس کے بعد شمس الدین اندر چال گیا اور اپنے بھائی شادبخت کو اپنے پاس بالیا۔ رقص ہورہا
‫تھا۔ مہمان عش عش کررہے تھے۔ شراب بہہ رہی تھی۔ مشعلوں کے شعلوں اور فانون کی رنگ برنگی روشنیوں نے ناچنے
‫لیلی کا طلسم تھا۔ سب مدہوش اور
‫والیوں کے رنگا رنگ لباسوں سے مل کر ایسی رونق پیدا کررکھی تھی جس میں الف
‫ٰ
‫مخمور ہوئے جارہے تھے۔ صلیبی کی الش ابھی وہیں پڑی تھی۔ اس طلسماتی ماحول اور فضا میں شمس الدین اور شادبخت کے
‫درمیان انطانون اور فاطمہ کے متعلق باتیں ہوئی۔ شادبخت نے شمس الدین کو بتایا کہ فاطمہ ایک صلیبی کو قتل کرچکی ہے۔
‫انہوں نے فاطمہ کو اپنے پاس بالیا اور اسے اپنے کمرے میں جاکر لباس اور حلیہ بدل کر وہاں سے نکلنے کی ترکیب اچھی
‫طرح سمجھا دی۔ وہ خراماں خراماں وہاں سے غائب ہوگئی۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:13
‫قسط نمبر۔‪83‫یہ چراغ لہو مانگتے ہیں
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫وہ خراماں خراماں وہاں سے غائب ہوگئی۔ کچھ دیر بعد دربان نے اندر آکر شمس الدین کو اطالع دی کہ باہر فالں کمانڈر کھڑا
‫ہے۔ شمس الدین باہر گیا۔ ایک کمانڈر گھبرایا ہوا کھڑا تھا۔ اس نے رپورٹ دی۔ ''انطانون نام کے جس محافظ کو دیوار
‫پھالنگتے پکڑا گیا تھا‪ ،وہ فرار ہوگیا ہے''۔
‫کیا وہ دو سپاہی مرگئے تھے جن کے حوالے میں انہیں کرکے آیا تھا؟''… کمانڈر نے بتایا ''دونوں سپاہی وہاں بے ہوش ''
‫پڑے ہیں۔ ان کے سروں پر ضربوں کے نشان ہیں''۔
‫معلوم ہوتا ہے یہ اکیلے انطانون کا نہیں ایک سے زیادہ آدمیوں کا کام ہے''… کمانڈر نے بتایا۔ ''دونوں سپاہی وہاں بے ''
‫ہوش پڑے ہیں۔ ان کے سروں پرضربوں کے نشان ہیں''۔
‫شمس الدین نے موقعہ واردات پر جاکر دیکھا۔ دونوں سپاہی ہوش میں آچکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں کھڑے تھے۔
‫اندھیرے میں پیچھے سے ان کے سروں پر کسی نے ایک ایک ضرب لگائی اور وہ بے ہوش ہوگئے۔ شمس الدین نے بھاگ دوڑ
‫شروع کردی۔ اس وقت ایک عورت جس نے سر سے پائوں تک برقعے کی طرز کا سیاہ ریشمی لبادہ لے رکھا تھا اور اس میں
‫سے اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں‪ ،گمشتگین کی رہائش گاہ کے بڑے دروازے سے نکلی اور جانے کہاں چلی گئی۔ اس
‫رات مہمانوں کا آنا جانا تو جاری تھا۔ دربان اور محافظوں نے یہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ یہ کون ہے جو
‫مستور ہوکر جارہی ہے۔
‫آدھی رات کے بعد جب مہمان رخصت ہوئے تو قلعے کا دروازہ کھول دیا گیا۔ گھوڑے اور بگھیاں گزرنے لگیں۔ انہی میں ایک
‫گھوڑ سوار گزرا جس کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا‪ ،اس کے ساتھ دوسرے گھوڑے پر وہی مستور عورت تھی جو گمشتگین کے گھر سے
‫اکیلی نکلی تھی۔ یہ انتظام شمس الدین اور شادبخت نے کیا تھا۔ اس نے ان دو سپاہیوں کو ایک جگہ بتا کر کہا کہ انطانون
‫کو وہاں لے جا کر میرا نتظار کریں۔ اس نے اپنے باڈی گارڈ سے کہا تھا کہ وہ انطانون کو آزاد کرائیں اور اس کے گھر میں
‫چھپا دیں۔ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ شمس الدین اور شادبخت کے باڈی گارڈ‪ ،دواردلی اور دو مالزم سلطان صالح الدین ایوبی کے
‫کمانڈو جاسوس تھے۔ انہوں نے بروقت حرکت کی اور انطانون کو چھڑا کر لے گئے۔ ادھر سے فاطمہ بھی کامیابی سے نکل
‫گئی اور شمس الدین کے گھر پہنچ گئی۔ وہاں انتظامات مکمل تھے۔ جب مہمان نکلے تو انہیں گھوڑے دے کر وہاں سے نکال
‫دیا گیا۔
‫یہ رات تو رقص اور شراب کی مدہوشی میں گزر گئی۔ اگلی صبح صلیبی کی الش دیکھی گئی اور گمشتگین کو یہ اطالع بھی
‫ملی کہ اس کا ایک محافظ اور اس کے حرم کی ایک لڑکی الپتہ ہے‪ ،اس نے یہ حکم دے دیا کہ جن دو سپاہیوں کی
‫حراست سے انطانون بھاگا ہے ان دونوں کو عمر بھر کے لیے قید خانے میں ڈال دیا جائے۔
‫انطانون اور فاطمہ کا فرار سب کو بھول ہی گیا کیونکہ گمشتگین کے صلیبی دوستوں نے اپنے ایک کمانڈرکے قتل پر اودھم بپا
‫کردیا تھا۔ا نہیں دراصل اپنے کمانڈر کے مارے جانے پر اتنا افسوس نہیں تھا جتنا انہوں نے غل غپاڑہ مچایا تھا۔ وہ دراصل
‫گمشتگین کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کرکے اس سے کچھ اور مراعات لینا چاہتے تھے اور یہ شہ دینا چاہتے تھے کہ وہ سلطان
‫صالح الدین ایوبی پر حملہ کردے۔ صلیبی جانتے تھے کہ مسلمانوں کے حرموں میں ایسے ڈرامے کھیلے ہی جاتے رہتے ہیں جن
‫میں لڑکیاں اغواء بھی ہوتی ہیں۔ از خود بھی غائب ہوتی ہیں اور وہاں پر اسرار قتل بھی ہوتے ہیں لیکن وہ گمشتگین کو
‫مجبور کردینا چاہتے تھے کہ سر ان کے قدموں میں رکھ دے۔ جن سے مدد مانگی جاتی ہے وہ اپنی ہر شرط منواتے اور غالم
‫بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صلیبیوں کی تونیت ہی کچھ اور تھی۔
‫یہ صورتحال چھپائی نہ جاسکی۔ حلب تک اس کی خبر پہنچ گئی۔ وہاں کے درباری امراء جو سلطان صالح الدین ایوبی کے
‫خالف لڑ رہے تھے۔ گمشتگین کو بھی اپنا اتحادی بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے الملک الصالح کی طرف سے گمشتگین کی طرف
‫ایک ایلچی بھیجا۔ اس کے ساتھ رواج کے مطابق بیش قیمت تحائف تھے۔ ان تحائف میں دو جوان لڑکیاں بھی تھیں۔
‫گمشتگین آرام کررہا تھا۔ ایلچی اور لڑکیوں کو شمس الدین کے پاس لے گئے کیونکہ گمشتگین کے بعد وہی ساالر تھا جو
‫سرکاری امور کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ اپنے گھر میں لڑکیوں کو الگ بٹھا کر اس نے ایلچی سے پوچھا کہ وہ کیا پیغام الیا
‫ہے۔ اس نے جو طویل پیغام دیا وہ مختصرا ً یوں تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے حلب کا محاصرہ کیا تو ریمانڈ صلیبی
‫فوج لے کر آیا تھا جس سے سلطان صالح الدین ایوبی نے محاصرہ اٹھا دیا مگر ریمانڈ بغیر لڑے فوج واپس لے گیا۔ صلیبی
‫آئندہ بھی ہمیں دھوکہ دیں گے۔ ہم اگر الگ الگ ہوکر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑیں گے تو ہم سب شکست
‫کھائیں گے۔ ہمیں متحد ہوجانا چاہیے تاکہ سلطان صالح الدین ایوبی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرسکیں۔
‫اس پیغام کے ساتھ متحد محاذ بنانے کا ایک منصوبہ تھا جو کچھ اس طرح تھا کہ الرستان کی پہاڑیوں کی برف پگھل رہی
‫ہے۔ جاسوسوں نے بتایا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے سپاہی بلندیوں پر نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ وہاں پگھلتی برف کا
‫پانی ان کے لیے رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ ہمارے لیے یہ موقع اچھا ہے۔ ہم سب اپنی فوجوں کو اکٹھا کرلیں تو سلطان صالح
‫الدین ایوبی کی فوج کو گھیرے میں لے کر اسے شکست دے سکتے ہیں۔ اس منصوبے میں یہ بھی تھا کہ صلیبی حکمران
‫ریجنالڈ کو اپنے ساتھ مالیا جاسکتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ (گمشتگین) اسے اپنا منصوبہ بتائیں اور اسے
‫اپنا معاہدہ یاد دالئیں جس کے تحت اسے جنگی قید سے رہا کیا گیا تھا۔

‫شمس الدین نے یہ پیغام شادبخت کو سنایا۔ دونوں بھائیوں نے آپس میں صالح مشورہ کیا اور سوچنے لگے کہ یہ پیغام
‫گمشتگین تک نہ پہنچنے پائے۔ وہ دونوں اس کوشش میں تھے کہ گمشتگین اکیال سلطان صالح الدین ایوبی سے لڑے کیونکہ
‫اس طرح اس کی شکست کا امکان تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس فوج تھوڑی ہے۔ اس سے وہ
‫اکیلے اکیلے غدار حکمران کو آسانی سے ختم کرسکتا تھا… یہ دونوں بھائی اپنی اصلیت کو چھپانے کے لیے پوری پوری احتیاط
‫کرتے تھے مگر اس موقع پر ان پر جذبات کا غلبہ ہوگیا۔ جذبات کو مشتعل ان لڑکیوں نے کیا۔ وہ اس طرح کہ انہوں نے
‫لڑکیوں سے ان کا مذہب پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مسلمان ہیں۔ عمر کے لحاظ سے وہ نوجوان تھیں۔ شمس الدین اور
‫شادبخت نے افسوس سا محسوس کیا کہ ایک تو مسلمانوں نے اپنے آپ میں یہ کمزوری پیدا کرلی ہے کہ خوبصورت لڑکی کے
‫عوض اپنا ایمان تک الگ پھینک دیتے ہیں اور دوسرے یہ کہ جن مسلمان لڑکیوں کو شریف گھرانوں میں آباد ہونا ہوتا ہے
‫انہیں اللچی والدین امراء کے حرموں میں دے دیتے ہیں۔
‫تم کہاں کی رہنے والی ہو اور ان لوگوں کے ہاتھ کس طرح لگی ہو؟''… شادبخت نے پوچھا۔ ''تمہارے باپ زندہ ہیں؟ ''
‫''بھائی نہیں ہیں؟
‫لڑکیوں نے انہیں جو جواب دیا اس سے دونوں بھائیوں کے جذبات بھڑک اٹھے۔ جن عالقوں پر صلیبی قابض تھے وہاں کے
‫مسلمانوں کا جینا حرام ہورہا تھا۔ کسی مسلمان کی عزت محفوظ نہیں تھی۔ پہلے بھی سنایا جاچکا ہے کہ وہاں کے مسلمان
‫باشندے قافلوں کی صورت میں نقل مکانی کرتے تھے۔ ان کے ساتھ تاجر بھی چل پڑتے تھے۔ اس طرح ہر قافلے کے ساتھ
‫لڑکیاں بھی ہوتی تھیں اور مال ودولت بھی۔ صلیبیوں نے قافلوں کو لوٹنے کا انتظام بھی کررکھا تھا۔ یہ تو یورپی مؤرخوں نے
‫وسطی میں کسی نہ کسی عالقے پر قابض تھے‪ ،ان قافلوں کو اپنی فوج کے
‫بھی لکھا ہے کہ بعض صلیبی حکمران جو مشرق
‫ٰ
‫ہاتھوں لٹواتے تھے۔ لوٹنے والے کمسن لڑکیوں‪ ،جانوروں اور مال ودولت کو اڑالے جاتے تھے۔ لڑکیوں کو وہ منڈی میں نیالم کرتے
‫یامسلمان امراء کے ہاتھ فروخت کرتے تھے۔ ان میں کچھ لڑکیاں صلیبی اپنے لیے رکھ لیتے اور انہیں جاسوسی اور اخالقی
‫تخریب کاری کے لیے تیار کرتے تھے۔ انہیں مسلمانوں کے عالقوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔
‫ان دونوں لڑکیوں کو قافلے سے چھینا گیا تھا اس وقت دونوں تیرہ چودہ سال کی تھیں۔ وہ فلسطین کے کسی مقبوضہ عالقے
‫سے اپنے کنبوں کے ساتھ کسی محفوظ عالقے کو جارہی تھیں۔ یہ بہت بڑا قافلہ تھا جس پر صلیبی ڈاکوئوں نے رات کے وقت
‫حملہ کیا اور بہت سی لڑکیوں کو اٹھا لے گئے۔ یہ دونوں چونکہ غیرمعمولی طور پر خوبصورت تھیں‪ ،اس لیے انہیں الگ کرکے
‫ان کی خصوصی پرورش اور تربیت شروع کردی گئی۔ ان پر غیرانسانی تشدد کیا گیا پھر ان کے ساتھ ایسا اچھا سلوک ہونے
‫لگا جیسے وہ شہزادیاں ہوں۔ انہیں فی الواقع شہزادیاں بنایا گیا۔ شراب پالئی گئی اور نہایت خوبی سے ان کے ذہنوں کو
‫صلیبیوں نے اپنے رنگ میں ڈھال لیا۔ چار پانچ سال بعد جب سلطان نورالدین زنگی فوت ہوگیا تو صلیبیوں کی طرف سے ان
‫دونوں لڑکیوں کو تحفے کے طور پر دمشق بھیجا گیا۔ انہیں صلیبیوں کا ایک مسلمان ایلچی ساتھ الیا تھا۔ یہ صلیبیوں کی
‫خیرسگالی کا تحفہ تھا۔ وہ الملک الصالح اور اس کے امراء کو سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف اور اپنے حق میں کرنا
‫چاہتے تھے۔
‫ان لڑکیوں نے بتایا۔ ''ہمارے ذہنوں سے مذہب اور کردار نکال دیا گیا تھا۔ ہم خوبصورت کھلونے بن گئی تھیں لیکن ہمیں
‫جب دمشق بھیجا گیا تو ہمارے ذہنوں میں اپنا مذہب اور کردار بیدار ہوگیا۔ ہمارے خون میں جو اسالمی اثرات تھے‪ ،وہ امڈ کر
‫ہماری روحوں پر چھاگئے۔ ہمیں اپنے ماں باپ اور بہن بھائی تو نہیں مل سکتے تھے۔ ہم ان مسلمان حاکموں اور بادشاہوں کو
‫اپنے باپ اور بھائی سمجھ لیا لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی ہمیں بیٹی اور بہن نہیں سمجھا۔ صلیبیوں کے ہاتھوں بے
‫آبرو ہوکر ہمیں اتنا دکھ نہیں ہوا تھا‪ ،جتنا مسلمان بھائیوں کے پاس آکر ہوا کیونکہ صلیبیوں سے ہمیں ایسے ہی سلوک کی
‫توقع تھی۔ ہم نے ہر اس مسلمان حاکم کے پائوں پکڑے جن کے حوالے ہمیں کیا گیا۔ ہاتھ جوڑے‪ ،اسالم‪ ،خدا اور رسول صلی
‫اللہ علیہ وسلم کے واسطے دئیے کہ ہم ان کی بیٹیاں ہیں‪ ،مظلوم ہیں‪ ،ان کی عزت ہیں مگر ان کی آنکھوں میں شراب اور
‫شیطان نے صلیب اور ستارے میں کوئی فرق نہیں رہنے دیا تھا''۔
‫ہمارے اندر انتقام کا جذبہ بیدار ہوگیا۔ جب سلطان صالح الدین ایوبی دمشق میں آیا تو ہم بہت خوش ہوئیں۔صلیبیوں کے ''
‫عالقوں میں مسلمان سلطان صالح الدین ایوبی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ اسے وہ امام مہدی بھی کہتے ہیں۔ وہ دمشق میں آیا تو
‫ہم نے تہیہ کرلیا کہ اس کے پاس چلی جائیں گی اور اسے کہیں گی کہ ہمیں اپنی فوج میں رکھ لے اور کوئی سا کام ہمیں
‫دے دیں مگر ہمیں وہاں سے زبردستی بھگا کر حلب لے آئے۔ اب انہوں نے ہمیں آپ کے پاس بھیج دیا ہے۔ ہم آپ سے
‫بھی توقع نہیں رکھتیں کہ آپ ہمیں بیٹیاں سمجھیں گے۔ ہم اتنا ضرور کہیں گی کہ ہماری عصمت تو ہمارے ہاتھ سے نکل
‫گئی ہے‪ ،اسالم ہاتھ سے نہ جائے۔ ہم صلیبیوں کے ہاں رہیں تو وہاں بھی سلطان صالح الدین ایوبی اور اسالم کے خالف
‫منصوبے بنتے دیکھے۔ مسلمانوں کے پاس رہیں تو وہاں بھی سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ہی باتیں سنیں۔ آپ ہمیں
‫آزمائیں۔ ہم نے سنا ہے کہ صلیبی لڑکیاں یہاں جاسوسی کے لیے آتی ہیں۔ آپ ہمیں اسالم کے دفاع اور فروغ کے لیے اور
‫صلیبیوں کی شکست کے لیے کچھ کرنے کا موقع دیں''۔
‫ان لڑکیوں کی یہ روائیداد ایسی تھی جس نے شمس الدین اور شادبخت کو شدید جذباتی جھٹکا دیا۔ انہوں نے لڑکیوں سے کہا
‫کہ انہیں اب کسی عیش پرست حکمران کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ باتیں کرہی رہے تھے کہ باڈی گارڈ نے اندر آکر انہیں اطالع دی کہ قاضی صاحب آئے ہیں۔ دونوں بھائی مالقات والے کمرے
‫میں چلے گئے۔ وہاں حران کا قاضی ابن الخاشب ابوالفضل بیٹھا تھا۔ وہ ادھیڑ عمر آدمی تھا۔ اس نے کہا… ''سنا ہے حلب
‫سے ایلچی آیا ہے اور پیغام کے ساتھ تحفے بھی الیا ہے''۔
‫ہاں!''… شادبخت نے کہا۔ ''قلعہ دار سوئے ہوئے ہیں‪ ،میں نے ایلچی کو اپنے پاس روک لیا ہے''۔''
‫میں وہ دو تحفے دیکھنے آیا ہوں''… ابن الخاشب نے آنکھ مار کر کہا۔ ''ان کی ایک جھلک دکھادو''۔''
‫دونوں بھائی جانتے تھے کہ یہ قاضی کس قماش کا انسان ہے۔ وہ گمشتگین پر چھایا ہوا تھا۔ شمس الدین نے دونوں لڑکیوں کو
‫اس کمرے میں بالیا۔ قاضی نے انہیں دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹنے لگیں۔ اس کے منہ سے حیرت زدہ سرگوشی نکلی۔
‫''''آفرین… ایسا حسن؟
‫شمس الدین نے لڑکیوں کو دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔ قاضی نے کہا ''انہیں میرے حوالے کردو۔ میں خود قلعہ دار کے
‫سامنے لے جائوں گا''۔ اس کی آنکھوں سے شیطان جھانک راہ تھا۔
‫آپ قاضی ہیں''… شمس الدین نے اسے کہا۔ ''قوم کی نظروں میں آپ کا مقام گمشتگین سے زیادہ بلند ہے۔ آپ کے ''

‫ہاتھ میں عدل اور انصاف ہے''۔
‫قاضی نے قہقہہ لگایا اور کہا۔ ''تم فوجی احمق ہوتے ہو‪ ،تم شہری امور کو نہیں سمجھ سکتے۔ وہ قاضی مرگئے ہیں جن کے
‫ہاتھ میں اللہ کا قانون اور عدل وانصاف ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے حکمران سے نہیں خدا سے ڈرا کرتے تھے بلکہ حکمران بھی ان
‫کے ڈر سے کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کرتے تھے۔ اب حکمران اسے قاضی بناتے ہیں جو ان کی بے انصافیوں کو جائز
‫قرار دے اور جو قانون کو نہیں حکمرانوں کو خوش رکھیں۔ میں اپنے خدا کا نہیں اپنے حکمران کا قاضی ہوں''۔
‫اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ کفار تمہارے دلوں پر قابض ہوگئے ہیں''۔ شادبخت نے کہا۔ ''ایمان فروش حکمران کا قاضی ''
‫بھی ایمان فروش ہوتا ہے۔ تم جیسے قاضیوں اور منصفوں نے امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں تک پہنچا دیا ہے
‫جہاں ہمارے امراء اور حکمران اپنی ہی بیٹیوں کی عصمتوں سے کھیل رہے ہیں۔ یہ آپ کی مسلمان بچیاں ہیں جنہیں آپ
‫اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں''۔
‫قاضی پر شیطان کا اتنا غلبہ تھا کہ اس نے شمس الدین اور شادبخت کی باتوں کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی اور ہنس
‫''کر کہا۔ ''ہندی مسلمان مردہ دل ہوتے ہیں۔ تم ہندوستان سے یہاں کیوں چلے آئے تھے؟
‫غور سے سنو میرے دوست!''… شمس الدین نے کہا۔ ''میں تمہاری عزت صرف اس لیے کرتا رہا کہ تم قاضی ہو‪ ،ورنہ ''
‫تمہاری اصلیت اتنی سی ہے کہ تم میرے ماتحت کمانڈر تھے۔ تم نے خوشامد اور چاپلوسی سے یہ مقام حاصل کرلیا ہے۔ میں
‫تمہاری غیرت کو بیدار کرنے کے لیے تمہیں بتاتا ہوں کہ ہم ہندوستان سے کیوں آئے تھے‪ ،چھ سو سال گزرے‪ ،محمد بن قاسم
‫نام کا ایک نوجوان جرنیل ایک لڑکی کی پکار اور فریاد پر اس سرزمین سے جاکر ہندوستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ تم جانتے ہو
‫ہندوستان کتنی دور ہے۔تم اندازہ کرسکتے ہو کہ اس لڑکے نے فوج کسی طرح وہاں پہنچائی ہوگی۔ تم خود فوجی ہو۔ اچھی
‫طرح سمجھ سکتے ہو کہ اس نے مرکز سے اتنی دور جاکر رسد اور کمک کے بغیر جنگ کس طرح لڑی ہوگی۔ جذبات سے
‫نکل کر اس کے عملی پہلو پر غور کرو''۔
‫اس نے ایسی مشکالت میں فتح حاصل کی جن میں شکست کے امکانات زیادہ تھے۔ اس نے صرف فتح ہی حاصل نہیں ''
‫کی‪ ،ہندوستانیوں کے دلوں پر قبضہ کیا اور کسی ظلم وتشدد کے بغیر اس کفرستان میں اسالم پھیالیا۔ پھر وہ نہ رہا۔ جنہوں نے
‫اتنی دور جاکر ایک لڑکی کی عصمت کا انتقام لیا اور اسالم کا نور پھیالیا تھا‪ ،دنیا سے اٹھ گئے اور وہ ملک ان بادشاہوں کے
‫ہاتھ آیا جو مجاہدین کے قافلے میں تھے ہی نہیں۔ انہیں وہ ملک مفت مل گیا۔ انہوں نے وہاں وہی حرکتیں شروع کردیں جو
‫آج یہاں ہورہی ہیں۔ ہندو اسی طرح مسلمانوں پر غالب آتے گئے جس طرح یہاں صلیبی غالب آرہے ہیں۔ سلطنت اسالمیہ
‫سکڑنے لگی اور جب ہم جوان ہوئے تو اس سلطنت کی جڑیں بھی خشک ہوچکی تھیں جسے محمد بن قاسم اور اس کے
‫غازیوں نے خون سے سینچا تھا۔ مسلمان حکمرانوں نے عرب سے رشتہ توڑ لیا۔ ہم دونوں بھائی جن کے خاندان کو عسکری
‫روایات سے پہچانا جاتا تھا وہاں سے مایوس ہوکر یہاں آگئے۔ ہم ہندی مسلمانوں کے ایلچی بن کر آئے تھے۔ ٹوٹے ہوئے رشتے
‫جوڑنے آئے تھے''۔
‫سلطان نورالدین زنگی سے ملے تو اس نے بتایا کہ وہ ہندوستان کا رخ کس طرح کرسکتا ہے۔ عرب کی سرزمین غداروں ''
‫سے بھری پڑی ہے۔ زنگی مرحوم دور کے کسی محاذ پر اس لیے نہیں جاتا تھا کہ اس کی غیرحاضری میں ادھر بغاوت
‫ہوجائے گی جس سے صلیبی فائدہ اٹھائیں گے۔ ہمیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کے کردار پر
‫غالب آگیا اور یہاں صلیبی غالب آگیا۔ زنگی نے ہمیں اپنی فوج میں رکھ لیا اور جب گمشتگین سیف الدین اور عزالدین وغیرہ
‫نے صلیبیوں کے ساتھ درپردہ گٹھ جوڑ شروع کردیا تو سلطان زنگی مرحوم نے ہم دونوں کو گمشتگین کی فوج میں اس مقصد
‫کے لیے بھیج دیا کہ ہم اس پر نظر رکھیں کہ اس کی خفیہ سرگرمیاں کیا ہیں''۔
‫یعنی تم دونوں جاسوس ہو''۔ قاضی ابن الخاشب نے طنزیہ کہا۔''
‫میری بات سمجھنے کی کوشش کرو''… شمس الدین نے کہا… ''تم دیکھ رہے ہو کہ ہمارے مسلمان امراء اس مرد مجاہد ''
‫کے خالف لڑ رہے ہیں جو اسالم کو صلیب کے عزائم سے محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ آج کا ایلچی بہت خطرناک پیغام الیا
‫ہے''… اس نے پیغام سنا کر کہا… ''گمشتگین پر تمہارا اثر ہے۔ تم اسے روک سکتے ہو تم اگر ہمارا ساتھ دو تو آئو
‫گمشتگین کو اس پر قائل کریں کہ وہ غداروں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بجائے‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ مل جائے۔
‫ورنہ اسے ایسی شکست ہوگی جو اسے ساری عمر قید خانے میں بند رکھے گی''۔
‫اس سے پہلے میں تم دونوں کو قیدخانے میں بند کرواتا ہوں''… ابن الخاشب نے کہا… ''دونوں لڑکیاں میرے حوالے ''
‫کردو''۔
‫وہ اٹھ کر اس کمرے کی طرف جانے لگا جس میں لڑکیاں تھیں۔ شادبخت نے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا۔ اس نے
‫شادبخت کو دھکا دیا۔ شادبخت نے اسے منہ پر اتنی زور سے گھونسہ مارا کہ وہ پیچھے کو گرا۔ شمس الدین وہاں کھڑا تھا۔
‫اس نے اپنا ایک پائوں اس کی شہ رگ پر رکھ کر دبایا اور ایسا دبایا کہ تڑپ کر بے حس ہوگیا۔ دیکھا وہ مرچکا تھا۔ ان
‫بھائیوں کا ارادہ قتل کا تھا یا نہیں‪ ،وہ مرگیا۔ انہوں نے سوچا کہ اب پکڑے تو جانا ہی ہے۔ انہوں نے اپنے دونوں اردلیوں کو
‫تلواریں اور تیروکمان دے کر دوسرے گھوڑوں پر سوار ہونے کو کہا۔ وہ اور شادبخت ان کے ساتھ گئے اور قلعے کا دروازہ کھلوا
‫کر ان چاروں کو بھاگ جانے کو کہا۔ انہیں انہوں نے یہ ہدایت دی تھی کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج تک پہنچ جائیں
‫انہوں نے ان اردلیوں کو تفصیل سے بتا دیا تھا کہ گمشتگین کا منصوبہ کیا ہے۔
‫چاروں گھوڑے باہر نکلتے ہی سرپٹ دوڑ پڑے۔ دونوں بھائیوں کو بھی نکل جانا چاہیے تھا۔ معلوم نہیں کیا سوچ کر وہ واپس
‫آئے۔ گمشتگین جاگ کر آچکا تھا۔ اس نے ایلچی کو دیکھا تو اس نے پوچھا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔ اس نے بتا
‫دیا مگر وہاں لڑکیاں نہیں تھیں جو وہ تحفے کے طور پر الیا تھا۔ شمس الدین اور شادبخت نے کہا کہ لڑکیاں جاچکی ہیں
‫کیونکہ مسلمان تھیں۔ ہم نے انہیں وہاں بھیج دیا ہے جہاں ان کی عزت محفوظ رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ قاضی
‫کی الش اندر پڑی ہے۔
‫گمشتگین نے الش دیکھی۔ ایلچی دوسرے کمرے میں ان دونوں بھائیوں کی وہ باتیں سن رہا تھا جو وہ قاضی ابن الخاشب سے
‫کررہے تھے۔ گمشتگین جل اٹھا۔ اس نے ساالر شمس الدین اور ساالر شادبخت علی کو قید خانے میں ڈال دیا۔
‫حران کے قلعے سے دوچار گھوڑ سوار سرپٹ گھوڑے دوڑاتے نہایت قیمتی راز سلطان صالح الدین ایوبی کے لیے لے جارہے تھے
‫اور اس وقت الرستان کی پہاڑیوں میں سلطان صالح الدین ایوبی حسن بن عبداللہ سے پوچھ رہا تھا کہ ان دونوں بھائیوں کی
‫طرف سے کوئی اطالع نہیں آئی؟
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:13

‫قسط نمبر۔‪84‫جب سلطان ایوبی پریشان ہوگیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ساالر شمس الدین اورساالر شادبخت کو جب قاضی ابن الخاشب کے قتل اور تحفے کے طور پر آئی ہوئی دو لڑکیوں کو قلعے
‫سے بھگا دینے کے جرم میں قید خانے میں ڈاال جارہا تھا۔ اس وقت ایسا ہی ایک ایلچی جو اس قلعے میں آیا تھا‪ ،موصل
‫میں غازی سیف الدین کے پاس پہنچا۔ غازی سیف الدین خالفت کے تحت موصل اور اس کے گردونواح کے عالقے کا گورنر
‫مقرر کیا گیا لیکن نورالدین زنگی کی وفات کے بعد اس نے اپنے آپ کو والئی موصل کہالنا شروع کردیا تھا۔ وہ سلطان صالح
‫الدین ایوبی کے خاندان کا ہی فرد تھا مگر کردار اور ذہنیت کے لحاظ سے سلطان ایوبی کے الٹ تھا۔ موصل اسالمی سلطنت
‫کا حصہ تھا مگر سیف الدین وہاں کا آزاد حکمران بن گیا تھا اور سلطان ایوبی کے مخالفانہ محاذ میں شامل ہوگیا تھا۔ اس کا
‫اعلی کمانڈ اسی کے پاس تھی۔ سیف الدین چونکہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا
‫بھائی عزالدین تجربہ کار جرنیل تھا۔ فوج کی
‫ٰ
‫تھا‪ ،اس لیے اس کی عادات بادشاہوں جیسی تھیں۔ اس نے حرم میں ملک ملک کی لڑکیاں اور ناچنے والیاں بھررکھی تھیں۔
‫اس کا دوسرا شوق پرندے رکھنے کا تھا‪ ،جس طرح اس نے حرم میں ایک سے ایک خوبصورت لڑکی رکھی ہوئی تھی ‪ ،اسی
‫طرح اس نے رنگ برنگے پرندے بھی پنجروں میں بند کررکھے تھے۔ اس کی ذاتی دلچسپیاں حرم اور پرندوں کے ساتھ تھیں۔
‫اسے اپنے بھائی عزالدین کی عسکری اہلیت پر اعتماد تھا اور اسے توقع تھی کہ وہ سلطان ایوبی کو شکست دے کر اپنی
‫ریاست الگ بنائے رکھے گا۔ اس مقصد کے لیے اس نے حران کے قعہ دار گمشتگین کی طرح اور نام نہاد سلطان الملک الصالح
‫کی طرح اپنے پاس صلیبی مشیر رکھے ہوئے تھے جنہوں نے اسے امید دال رکھی تھی کہ سلطان ایوبی کے خالف جنگ کی
‫صورت میں صلیبی اسے جنگی مدد دیں گے۔ اس طرح سلطان ایوبی کے لیے صورت یہ پیدا ہوگئی تھی کہ مسلمانوں کی تین
‫فوجیں اس کے خالف لڑنے کو تیار تھیں۔ ایک حلب میں‪ ،دوسری حران میں اور تیسری موصل میں۔ یہ تو بڑے بڑے مسلمان
‫حکمران اور امراء تھے۔ چھوٹے چھوٹے شیخ اور چھوٹی چھوٹی مسلمان ریاستوں کے نواب جن کی تعداد کا علم نہیں‪ ،ان تین
‫بڑے حکمرانوں کے حامی‪ ،اور معاون تھے۔ انہوں نے ان تینوں کو فوجی اور مالی مدد دینے کا وعدہ کررکھا تھا اور مدد دے
‫بھی کر رہے تھے۔ انہیں کہا گیا تھا کہ اگر سلطان ایوبی چھا گیا تو جس طرح اس نے شام اور مصرکا الحاق کرکے ایک
‫سلطنت بنا لی ہے‪ ،اسی طرح وہ ہر ایک مسلمان ریاست کو اپنی سلطنت میں مدغم کرکے سب کو غالم بنا لے گا۔
‫وہ بظاہر متحد تھے لیکن اندر سے پھٹے ہوئے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک دوسرے سے کمزور رہیں۔ ان کی حالت
‫چھوٹی بڑی مچھلیوں کی مانند تھی۔ ہر چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی سے خائف تھی اور خواہشمند کہ وہ بھی بڑی مچھلی بن
‫جائے۔ سلطان ایوبی اپنے انٹیلی جنس کے نظام کے ذریعے اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے مخالفین میں نفاق ہے‪ ،تاہم وہ
‫کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا۔ وہ ہر لمحہ اس حقیقت کو سامنے رکھتا تھا کہ تین بڑی فوجیں اس کے خالف محاذ آرا
‫ہیں۔ فوج آخر فوج ہوتی ہے۔ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ نہیں ہوتی۔ اسے یہ احساس بھی تھا کہ تینوں افواج کے کمانڈر اور جوان
‫مسلمان ہیں اور فن سپاہ گری اور شجاعت جو مسلمان کے حصے میں آئی ہے‪ ،وہ خدا نے کسی اور قوم کو عطا نہیں کی۔
‫صلیبی چار پانچ گنا طاقتور لشکر لے کر آئے تو مسلمان سپاہ نے قلیل تعداد میں انہیں شکست دی اور ان احوال وکوائف میں
‫بھی شکست دی کہ صلیبیوں کا اسلحہ برتر تھا ور فوجیں زرہ پوش تھیں۔ گھوڑوں کو پیشانیاں اور پچھلے حصے بھی زرہ پوش
‫تھے۔
‫سلطان ایوبی نے حلب کا محاصرہ کرکے دیکھ لیا تھا۔ یہ پہال موقع تھا کہ مسلمان فوج مسلمان فوج کے مقابلے میں آئی
‫تھی۔ حلب کی مسلمان فوج اور وہاں کے شہریوں نے جس بے جگری سے حلب کا دفاع کیا تھا اس سے سلطان ایوبی کے
‫پائو اکھڑنے لگے تھے۔ وہ اس معرکے کو ذہن سے اتار نہیں سکتا تھا۔ سلطان ایوبی پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ
‫مسلمانوں پر فوج کشی کررہا ہے۔ یہ الزام عائد کرنے والے اسی عباسی خالفت کے حامی تھے جسے اس نے مصر میں معزول
‫کیا تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ مسلمان حکمران اور امراء سلطان ایوبی کے اس عزم کے راستے میں آگئے تھے کہ وہ
‫فلسطین کو آزاد کرائے گا۔ اسے یہ خیال چین نہیں لینے دیتا تھا کہ قبلۂ اول پر کفار کا قبضہ ہے اور وہ یہودیوں کے عزائم
‫دعوی لیے پھرتے ہیں کہ فلسطین ان کا وطن ہے اور قبلۂ اول مسلمانوں
‫سے بھی بے خبر نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہودی یہ
‫ٰ
‫کی نہیں‪ ،یہودیوں کی عبادت گاہ ہے۔ یہودی فوج لے کر سامنے نہیں آرہے تھے‪ ،وہ صلیبیوں کو مالی امداد دے رہے تھے اور
‫انہوں نے جو سب سے زیادہ خطرناک مدد صلیبیوں کو دے رکھی تھی‪ ،وہ غیر معمولی طور پر خوبصورت‪ ،جوان اور نہایت
‫ہوشیار اور چاالک لڑکیوں کی صورت میں تھی۔ ان لڑکیوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور مسلمانوں کی کردار
‫اعلی
‫کشی کے لیے بھی۔ سلطان ایوبی کو یہ حقیقت اور زیادہ پریشان کرتی تھی کہ صلیبی فوجیں بھی موجود ہیں‪ ،جن کے
‫ٰ
‫کمانڈر اور حکمران اس کے مسلمان مخالفین کو شہ دے رہے ہیں۔ ان حاالت میں سلطان ایوبی چوکنا تھا۔ وہ اپنی فوج کو
‫نہایت اچھے طریقے سے ڈیپالئے کیے ہوئے تھا اور اس نے انٹیلی جنس کے نظام کو دشمنوں کے عالقے میں بھیج رکھا تھا۔
‫اس کا جو جنگی پالن تھا‪ ،اس میں اس نے زیادہ تر بھروسہ چھاپہ مار (کمانڈو) ٹولیوں اور جاسوسوں پر کیا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫موصل میں بھی حلب کا ایلچی پہنچا۔ الملک الصالح اور اس کے درباری امراء نے والئی موصل کے لیے پیغام کے ساتھ جو
‫تحفے تھے‪ ،ان میں اسی طرح کی دو لڑکیاں تھیں جس طرح حران کے قلعہ دار گمشتگین کو بھیجی گئی تھیں۔ حران میں تو
‫دو ہندوستانی جرنیلوں‪ ،شمس الدین اور شادبخت نے ان لڑکیوں کو فرار کرادیا۔ قاضی کو قتل کیا اور قید خانے میں بند ہوگئے
‫تھے لیکن موصل میں جو لڑکیاں گئیں‪ ،انہیں وہاں کے والی سیف الدین نے بسرو چشم قبول کیا۔ اس کے حرم میں یہ نہایت
‫دل نشیں اضافہ تھا۔ حلب کے ایلچی نے وہی پیغام دیا جو گمشتگین کو دیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ صلیبی حلب والوں کو مدد کے
‫معاملے میں دھوکہ دے چکے ہیں‪ ،اس لیے ان پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور ان کی دوستی سے ہمیں دستبردار بھی
‫نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی مدد حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم آپس میں متحد ہوکر سلطان ایوبی پر حملہ کردیں۔ وہ
‫قرون حماة ( حماخ کے سینگ) کے مقام پر خیمہ زن ہے۔ ہم حملہ کریں گے تو صلیبی اس پر
‫الرستان کے سلسلۂ کوہ میں
‫ِ
‫عقب سے حملہ کردیں گے۔
‫اس پیغام میں ایک پالن بھی تھا جس میں کچھ اس قسم کی وضاحت کی گئی تھی کہ وہاں برف پگھل رہی ہے۔ جاسوسوں
‫کی اطالعات کے مطابق سلطان ایوبی کی مورچہ بندیاں برف کے بہتے پانی کی وجہ سے تہس نہس ہوگئی ہیں۔ ہم تین
‫فوجوں سے اسے انہیں وادیوں میں محاصرے میں لے کر آسانی سے شکست دے سکتے ہیں۔ پیغام میں کہا گیا تھا کہ
‫گمشتگین کو بھی پیغام بھیجا گیا ہے۔ امید ہے کہ وہ متحدہ محاذ میں اپنی فوج کو شامل کردے گا۔ آپ (سیف الدین) بھی

‫مزید وقت ضائع کیے بغیر اپنی فوج کو مشترکہ کمان میں لے آئیں‪ ،تاکہ صالح الدین ایوبی کو فیصلہ کن شکست دی جائے۔
‫سیف الدین نے پیغام ملتے ہی اپنے بھائی عزالدین کو‪ ،دو سینئر جرنیلوں کو اور موصل کے ایک نامی گرامی خطیب ابن
‫الخدوم ککبوری کو بالیا۔ سب آگئے تو اس نے ایلچی کا یہ پیغام سب کو سنا کر کہا… ''آپ سب میرے اس فیصلے اور
‫ارادے سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ میں صالح الدین ایوبی کی اطاعت قبول نہیں کروں گا۔ میری رگوں میں بھی وہی خون ہے
‫جو اس کی رگوں میں ہے۔ آپ لوگ مجھے یہ مشورہ دیں کہ میں فوری طور پر اپنی فوج مشترکہ کمان میں دے دوں یا
‫نہیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ ہماری فوج ظاہری طور پر مشترکہ کمان میں رہے لیکن آپ لوگ اسے الگ تھلگ لڑائیں تاکہ جو
‫عالقہ ہماری فوج فتح کرے اس کا مالک میرے سوا اور کوئی نہ بن سکے''۔
‫ایک ساالر نے کہا… ''آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اس سے بہتر اور کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ا پ کے ارادے اتنے بلند ہیں جو
‫کسی اور کے نہیں ہوسکتے''۔
‫صالح الدین ایوبی صلیبیوں اور سوڈانیوں کو شکست دے سکتا ہے ہمیں نہیں''۔ دوسرے ساالر نے کہا… ''آپ اپنی فوج ''
‫متحدہ محاذ میں شامل کردیں لیکن کمان اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ ہم اپنی فوج کو اس طرح لڑائیں گے کہ ہماری کامیابیاں حلب
‫اور حران کی فوج سے الگ تھلگ نظر آئیں گی''۔
‫'' …ہم آپ کے حکم پر جانیں قربان کردیں گے‪ ،شہنشاہ موصل!'' پہلے ساالر نے کہا''
‫آپ اپنی فوج متحدہ محاذ میں شامل کردیں لیکن کمان اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ ہم اپنی فوج کو اس طرح لڑائیں گے کہ ''
‫ہماری کامیابیاں حلب اور حران کی فوج سے الگ تھلگ نظر آئیں گی''۔
‫ہم آپ کے حکم پر جانیں قربان کردیں گے‪ ،شہنشاہ موصل!'' پہلے ساالر نے کہا… ''ہم آپ کو سلطنت اسالمیہ کا ''
‫شہنشاہ بنائیں گے جس کے خواب صالح الدین ایوبی دیکھ رہا ہے''۔
‫صالح الدین ایوبی کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں رکھوں گا''۔ دوسرے نے کہا… ''اس کی فوج الرستان کی وادیوں سے''
‫زندہ نہیں نکل سکے گی۔ آپ فوری طور پر کوچ کا حکم دیں۔ فوج تیار ہے''۔
‫دونوں ساالر ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنی وفاداری اور ایثار کا اظہار کررہے تھے۔ عزالدین خاموش بیٹھا اپنی باری کا
‫انتظار کررہا تھا اور خطیب الن المخدوم کبھی ان ساالروں کو اور کبھی سیف الدین کو دیکھتا اور سرجھکا لیتا تھا۔
‫عزالدین تمہارا کیا خیال ہے؟'' سیف الدین نے اپنے بھائی سے پوچھا۔''
‫مجھے آپ کے اس فیصلے سے اتفاق ہے کہ ہمیں سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنا ہے''۔ عزالدین نے کہا… ''
‫'' لیکن ہمارے ساالروں کو اس قسم کی جذباتی باتیں زیب نہیں دیتیں‪ ،جیسی ان دونوں نے کی ہیں۔ صرف یہ کہہ دینے سے
‫کہ ایوبی صلیبیوں اور سوڈانیوں کو شکست دے سکتا ہے‪ ،ہمیں نہیں۔ ایوبی کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ میں یہ کہوں گا کہ
‫جس نے کم تعداد میں صلیبیوں کی کئی گناہ زیادہ فوج کو شکست دی ہے‪ ،وہ آپ کو بھی شکست دے سکتا ہے۔ جس نے
‫صحرائی فوج برفانی وادیوں میں لڑا کر چار قلعے فتح کرلیے اور ریمانڈ کی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے‪ ،وہ برف پگھل
‫جانے کے بعد زیادہ اچھی طرح لڑے گا‪ ،ہمیں کسی خوش فہمی میں مبتال نہیں ہونا چاہیے۔ دشمن کو کمتر نہیں سمجھنا
‫چاہیے۔ آپ یہ سوچیں کہ وہ حاالت کیسے ہیں جن میں آپ کو لڑنا ہے۔ اس میدان کی بات کریں جہاں آپ لڑیں گے اور
‫اس دشمن کی فوج کی بات کریں جو آپ کے مقابل ہیں''۔
‫عزالدین نے سلطان ایوبی کی فوج کی خوبیاں بیان کیں‪ ،پھر سلطان ایوبی کے لڑنے کے طریقے بیان کیے اور جس میدان میں
‫لڑائی متوقع تھی اس کے کوائف پر روشنی ڈال کر کہا… ''برف پگھل رہی ہے اور بہار کی بارشیں اس سال تاخیر سے برس
‫رہی ہیں۔ صالح الدین ایوبی کی فوج خیموں میں ہے لیکن گھوڑوں کو خیموں میں نہیں رکھا جاسکتا۔ اس وقت اس کی فوج
‫کے جانور درختوں کے نیچے یا کھوہوں اور غاروں میں رہتے ہیں۔ گھوڑے اور اونٹ اس حالت میں زیادہ دیر تندرست نہیں رہ
‫سکتے۔ یہ توقع بھی رکھنی چاہیے کہ ایوبی کے سپاہی پہاڑی عالقے سے اکتا چکے ہوں گے۔ یہ بھی پیش نظر رکھ لیں کہ
‫ہم نے اپنی فوج حلب اور حران کی فوج سے مال دی تو ایوبی محاصرے میں لیا جاسکے گا لیکن یہ بھی نہ بھولیں کہ
‫مسلمان سپاہی جب مسلمان سپاہی کے آمنے سامنے آئے گا تو اسالم کا ابدی رشتہ انہیں گتھم گتھا کرنے کے بجائے انہیں
‫بغل گیر بھی کرسکتا ہے۔ تلواریں جو وہ ایک دوسرے کے خالف نکالیں گے‪ ،جھک بھی سکتی ہیں اور خون بہائے بغیر نیاموں
‫میں واپس جاسکتی ہیں''۔
‫عزالدین!'' سیف الدین نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا… ''تم صرف فوجی ہو‪ ،تم صرف خون‪ ،تلوار اور نیام کی باتیں ''
‫سوچ سکتے ہو۔ یہ چالیں مجھ سے سیکھو کہ مسلمان سپاہی کے خالف کس طرح لڑایا جاسکتا ہے۔ پرسوں ماہ رمضان شروع
‫ہورہا ہے۔ صالح الدین ایوبی نماز روزے کا جس قدر خود پابند ہے‪ ،اتنی ہی پابندی اپنی فوج سے کراتا ہے۔ اس کی تمام فوج
‫روزے سے ہوگی۔ ہم اپنی فوج سے کہہ دیں گے کہ جنگ میں روزے کی کوئی پابندی نہیں۔ محترم خطیب تمہارے پاس بیٹھے
‫ہیں۔ میں ان کی جانب سے اعالن کرادوں گا کہ جنگ میں روزے معاف ہیں۔ ہم حملہ دوپہر کے بعد کریں گے۔ علی الصبح
‫حملہ کیا تو ایوبی کے سپاہی تروتازہ ہوں گے۔ دوپہر کے بعد ہمارے سپاہیوں کے پیٹ میں کھانا ہوگا اور صالح الدین ایوبی کے
‫سپاہی بھوکے اور پیاسے ہوں گے۔ میں صرف یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میرا یہ فیصلہ غلط تو نہیں کہ ہمیں صالح الدین
‫ایوبی کے خالف لڑنا ہے''۔
‫آپ کا یہ فیصلہ برحق ہے''۔ ایک ساالر نے کہا۔''
‫آپ کے فیصلے کو ہم عملی شکل دے کر ثابت کریں گے کہ یہ فیصلہ ہر لحاظ سے صحیح ہے''۔ دوسرے ساالر نے کہا۔''
‫آپ کے فیصلے کے خالف میں نے کوئی بات نہیں کی''۔ عزالدین نے کہا… ''ایک مشورہ اور دوں گا۔ مجھے آپ محفوظہ''
‫میں رکھیں۔ اگر ضرورت پڑی تو میں بعد میں حملہ کروں گا۔ پہلے تصادم کی کمان آپ اپنے ہاتھ میں رکھیں''۔
‫ایساہی ہوگا''… سیف الدین نے کہا… ''فوج کو دو حصوں میں تقسیم کرلو اور فوری تیاری کا حکم دے دو۔ محفوظہ میں ''
‫جو حصہ رکھنا چاہتے ہو‪ ،اسے اپنے پاس رکھو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہاں خطیب ابن المخدوم بھی موجود تھا۔ سیف الدین نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا… ''قابل صد احترام خطیب!
‫آپ نے کئی بار قرآن سے فال نکال کر مجھے خطروں سے آگاہ کیا ہے۔ آپ نے میری کامیابی اور سالمتی کے وظیفے کیے
‫اور خدا کے حضور میرے لیے دعا بھی کی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ آپ سے بڑھ کر میں کسی کو برگزیدہ نہیں سمجھتا۔ اگر
‫کسی انسان کے آگے سجدے کی اجازت ہوتی تو میں آپ کے آگے سجدہ کرتا۔ اب ایسی مہم پر جارہا ہوں جس کی کامیابی
‫مخدوش ہے۔ میں ایک طاقت ور دشمن کے مقابلے میں جارہا ہوں۔ جنگ میں فتح ہوتی ہے یا شکست‪ ،مجھے قرآن سے فال

‫نکال کر بتائیے کہ میری قسمت میں فتح لکھی ہے یا شکست''۔
‫امیرمحترم!'' خطیب اٹھ کھڑا ہوا۔ کہنے لگا… ''یہ صحیح ہے کہ آپ نے کئی بار مجھ سے قرآن میں سے فال نکلوائی ''
‫ہے۔ سلطان نورالدین زنگی مرحوم ومغفور کی زندگی میں آپ ڈاکوئوں کے بہت بڑے گروہ کے تعاقب میں گئے تھے تو میں نے
‫قرآن میں سے فال نکال کر آپ کو کامیابی کا مژدہ سنایا اور آپ کامیاب لوٹے تھے۔ صلیبیوں کے خالف آپ جب بھی گئے‪،
‫میں نے فال نکالی اور آپ کو خطروں سے خبردار کیا اور کامیابی کی خبر دی۔ اللہ کا شکر کہ میری نکالی ہوئی ہر فال
‫صحیح نکلی مگر ''… خطیب نے پہلے عزالدین کی طرف پھر دونوں ساالروں کو دیکھا اور کہا… ''مگر موصل کے امیر! اب
‫بغیر فال نکالے میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ جس مہم پر آپ فوج لے جارہے ہیں‪ ،اس میں کامیاب لوٹیں گے یا ناکام''۔
‫جلدی بتائیے‪ ،میرے محترم استاد!'' سیف الدین نے بیتاب ہوکر کہا۔''
‫آپ کو ایسی بری شکست ہوگی جس میں آپ وقت پر نہ بھاگے تو آپ ہالک ہوجائیں گے''۔ خطیب نے کہا… ''اس مہم''
‫پر نہ خود جائیں نہ اپنے بھائی کو بھیجیں‪ ،نہ اپنی فوج کو بھیجیں''۔
‫سیف الدین کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ یہ بتانا مشکل تھا کہ وہ گھبرایا ہے یا ڈرا ہوا ہے۔ عزالدین اور ساالروں پر بھی
‫خاموشی طاری ہوگئی۔ خطیب سیف الدین پر نظریں گاڑے ہوئے تھا۔
‫آپ نے قرآن تو کھوال نہیں''۔ سیف الدین نے کہا… ''قرآن کے بغیر آپ نے فال کیسے نکالی؟ میں کیسے مان لوں کہ ''
‫''آپ نے مجھے جو بری خبر سنائی ہے‪ ،وہ صحیح ہے؟
‫سنو موصل کے امیر!'' خطیب ابن المخدوم نے کہا… ''میں آج آپ کو بتاتا ہوں کہ قرآن سے جو فالیں نکال کر میں ''
‫آپ کو کامیابی کے مژدے سناتا رہا‪ ،ان کا قرآن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ قرآن کسی جادوگر کی لکھی ہوئی کتاب نہیں۔
‫قرآن صرف یہ فال بتاتا ہے کہ جو اس مقدس کتاب میں احکامات خاوندی تحریر ہیں‪ ،ان پر جو عمل نہیں کرے گا‪ ،وہ ناکام
‫اور نامراد رہے گا۔ اس سے پہلے آپ صلیب کے پرستاروں کے خالف لڑنے گئے تو آپ کے کہنے پر میں نے قرآن کی فال
‫آپ کو بتائی کہ آپ کامیاب لوٹیں گے۔ اس کے بعد آپ جس مہم پر گئے میں نے آپ کو کامیابی کا مژدہ سنایا اور کہا کہ
‫یہ قرآن کی فال ہے۔ ہر فال نیک تھی جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کی ہر مہم اور ہر کام خدا کے حکم کے عین
‫مطابق تھا مگر یہ مہم جس پر آپ جارہے ہیں‪ ،خدائی احکام کی صریح خالف ورزی ہے۔ آپ کفار کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔
‫ان سے مدد مانگ کر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس پر فدا ہونے والوں کے خالف لڑنے جارہے ہیں''۔
‫آپ کیسے کہکہ سکتے ہیں کہ صالح الدین ایوبی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس پر فدا ہونے آیا ہے؟''''
‫سیف الدین نے بھڑک کر کہا… ''میں کہتا ہوں‪ ،وہ ایک وسیع سلطنت کی سلطانی کا خواب دیکھ کر آیا ہے۔ ہم اس کا یہ
‫خواب پورا نہیں ہونے دیں گے۔ اسے موت یہاں لے آئی ہے۔ اسے موت کے حوالے کرکے ہم صلیب کے پرستاروں کو ختم
‫کریں گے''۔
‫آپ مجھے کھوکھلے لفظوں کا فریب دے سکتے ہیں‪ ،خدا کو نہیں''۔ خطیب نے کہا… ''خدا وہ سب کچھ جانتا ہے جو ''
‫ہم سب نے اپنے اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے۔ فتح اس کی ہے جس نے اپنے نفس پر فتح پالی۔ میں آج آخری پیشنگوئی
‫کررہا ہوں۔ شکست آپ کا مقدر ہوچکی ہے اگر آپ اسالم کے پرچم تلے چلے جائیں اور اللہ کی راہ میں قتال اور جہاد کے
‫لیے نکل کھڑے ہوں تو آپ کے مقدر کا لکھا ٹل سکتا ہے''۔
‫محترم خطیب!'' عزالدین بول پڑا… ''آپ اپنے مذہب اور اپنی مسجد سے سروکار رکھیں۔ جنگی امور اور سلطنتوں کے ''
‫معامالت کو آپ نہیں سمجھ سکتے۔ آپ ہمارا دل اور ہمارا جذبہ توڑنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم ان عناصر سے ماال مال ہیں
‫جن سے جنگ جیتی جاسکتی ہے''۔
‫اگر آپ جنگ کو مذہب او ر مسجد سے الگ کرکے لڑیں گے تو نہ آپ کا دل ساتھ دے گا نہ جذبہ''۔ خطیب نے کہا… ''
‫'' آپ نے صحیح فرمایا کہ میں جنگی امور سمجھنے سے قاصر ہوں لیکن میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ جنگ صرف ہتھیاروں اور
‫گھوڑوں سے نہیں جیتی جاسکتی ہے اور جنگ اس عسکری قابلیت سے بھی نہیں جیتی جاسکتی جس پر آپ کو ناز ہے اور
‫جس کے بھروسے پر آپ قرآن کے احکام کی خالف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ایک عنصر اوربھی ہے جو فتح کو شکست
‫میں بدل دیا کرتا ہے''۔
‫سب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا… ''جس قوم کا حکمران خوشامد پسند ہوجائے وہ اپنے ساتھ قوم اور
‫ملک کو بھی لے ڈوبتا ہے۔ وہ حکومت کے امور خوشامدیوں اور غالمانہ ذہنیت رکھنے والوں کے حوالے کردے تو وہ ایک آزاد
‫اور خود دار قوم کو بھوکی‪ ،ننگی اور غالم رعایا میں بدل دیتے ہیں اور جب یہ حکمران فوج کی کمان خوشامدی ساالروں کو
‫دے دیتے ہیں تو ملک کو دشمن کھا جاتا ہے۔ خوشامدی ساالر اپنے ماتحتوں سے خوشامد کرواتے ہیں پھر ان کا مقصد قوم اور
‫ملک کے لیے لڑنا نہیں بلکہ حکمران کی خوشنودی حاصل کرنا بن جاتا ہے۔ میں نے آپ کے اس دربار میں دیکھا ہے کہ
‫دونوں ساالروں نے آپ کی ہاں میں ہاں مالئی ہے اور ایسی جذباتی باتیں کیں ہیں جو جنگجو نہیں کیا کرتے۔ دونوں نے آپ
‫کے فیصلے اور ارادے کی تعریف تو کردی ہے لیکن آپ کو خطروں سے خبردار نہیں کیا۔ انہوں نے آپ کو یہ مشورہ نہیں دیا
‫لہذا ان حاالت میں بہتر یہ ہوگا کہ آپ‪،
‫کہ صلیبی تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔ مسجد
‫ٰ
‫اقصی پر کفار کا قبضہ ہے۔ ٰ
‫گمشتگین اور حلب کے امراء وغیرہ صالح الدین ایوبی کے پاس جائیں اور اگر آپ ہی سچے ہیں تو اسے جھوٹا اور سلطنت کا
‫اللچی ثابت کریں''۔
‫مگر آپ کے ساالروں نے آپ کو ایسا کوئی مشورہ نہیں دیا۔ آپ کے ساالروں نے آپ کو یہ بھی نہیں بتایا کہ صالح الدین ''
‫ایوبی نے الرستان کے پہاڑی عالقے کو اڈہ بنا کر اپنے دستے دور دور تک اس طرح پھیال دئیے ہیں کہ آپ اسے محاصرے میں
‫لینے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ آپ اس کے چھاپہ ماروں سے اچھی طرح واقف ہیں لیکن آپ کے ساالروں نے آپ کی
‫آنکھوں پر پٹی باندھ کر یہ پہلو آپ کی نظروں سے اوجھل کردیا ہے کہ ایوبی کے جاسوس اور چھاپہ مار آپ کے سینے سے
‫راز نکال کر لے جاسکتے ہیں اور آپ کے حرم کی لڑکیوں کو اٹھا کر لے جاسکتے ہیں۔ آپ کی فوج یہاں سے کوچ کرے گی
‫تو صالح الدین ایوبی کو آپ کی فوج کی رفتار‪ ،تعداد اور کوچ کی سمت کا علم ہوجائے گا''۔
‫سلطان موصل!'' ایک ساالر نے غصے میں آکر کہا… ''کیا ہم اپنی توہین برداشت کرتے رہیں؟ مسجد میں دن رات بیٹھ ''
‫کر اللہ ہو‪ ،اللہ ہو کا ورد کرنے واال ہمارا استاد بننے کی جسارت کررہا ہے۔ یہ آپ کے فیصلے کی مخالفت کرکے ہمارے
‫سامنے آپ کی توہین کررہا ہے''۔
‫مجھے سن لینے دو''۔ سیف الدین نے کہا… ''میں محترم خطیب کو ابھی تک احترام کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہوں''۔''
‫بولیے محترم خطیب!'' عزالدین نے طنزیہ کہا… ''اس کے بعد آپ کو یہ بتانا ہوگا کہ آپ کی وفاداریاں کس کے ساتھ ''

‫ہیں۔ ہمارے ساتھ یا صالح الدین ایوبی کے ساتھ''۔
‫میری وفاداریاں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہیں''۔ خطیب نے عزالدین سے کہا… ''
‫'' میں آپ کی تعریف اتنی سی کروں گا کہ آپ نے اپنے بھائی کو دوچار باتیں تو حقیقت کے رنگ میں بتائی ہیں۔ باقی
‫آپ نے بھی دماغ اور آنکھیں بند کرکے بات کی ہے۔ عماد الدین بھی تو آپ کا بھائی ہے کبھی سوچا آپ نے کہ وہ صالح
‫''الدین ایوبی کا دوست کیوں ہے اور آپ کی حمایت کے لیے کیوں نہیں آتا؟
‫آپ ہمارے خاندانی معامالت میں دخل نہ دیں''۔ عزالدین نے کہا… ''آپ دراصل ہم پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ''
‫سلطان صالح الدین ایوبی خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہے اور ہم سب کو اس کے آگے سجدے کرنے چاہئیں۔ آپ کو صرف یہ کہا
‫گیا تھا کہ قرآن سے فال نکال کر بتائیں کہ ہماری یہ مہم کامیاب رہے گی یا ناکام''۔
‫قرآن اپنا حکم صادر کرچکا ہے''۔خطیب نے آواز میں جوش پیدا کرتے ہوئے کہا… ''اب میں آپ کے سامنے حقیقت پوری''
‫طرح بے نقاب کرتا ہوں۔ صالح الدین ایوبی خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر نہیں‪ ،وہ ایک طوفان ہے‪ ،ایک سیالب ہے جو کفر کو
‫گھاس کی سوکھی ہوئی پتیوں کی طرح بہالے جانے کے لیے دمشق سے اٹھا ہے۔ آپ سب درخت سے ٹوٹ کر گری ہوئی
‫ٹہنیاں ہیں۔ آپ کے پتے مرجھا رہے ہیں جو جھڑ کر اس طوفان کے ساتھ غائب ہوجائیں گے۔ ایوبی نے آپ پر چڑھائی نہیں
‫کی۔ آپ اس کے راستے میں آگئے ہیں۔ آپ کا حشر وہی ہوگا جو سیالب کے راستے میں آنے والوں کا ہوتا ہے''۔
‫خطیب!'' سیف الدین نے گرج کر کہا… ''میرے دل سے اپنا احترام نہ نکالو''۔''
‫تم!… سیف الدین!''… خطیب نے بارعب آواز میں کہا… ''تم زمین کے اس ذرا سے خطے کے بادشاہ ہو‪ ،ڈرو اس کی ''
‫ذات سے جو دونوں جہان کا بادشاہ ہے۔ میرا احترام نہ کرو‪ ،میرے منہ پر تھوک دو مگر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
‫کے راستے سے نہ ہٹو۔ تم پر بادشاہی کا نشہ طاری ہے۔ ان بے وقار ساالروں نے تمہاری حکومت کے عہدیداروں نے تمہیں
‫خوش رکھنے کے لیے تمہیں بادشاہ بنا ڈاال ہے۔ تم نہیں سمجھتے کہ یہ محض خوشامد ہے اور تم بادشاہ نہیں ہو۔ تم نہیں
‫جانتے کہ یہ بے وقار خوشامدی تمہارے دشمن ہیں‪ ،اپنی قوم کے اور اپنے ملک کے دشمن ہیں۔ تم پر زوال آئے گا تو یہ
‫تمہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیں گے اور اس کے پاپوش چاٹیں گے جو تمہاری گدی پر بیٹھے گا۔ مجھے غصے سے نہ
‫دیکھ سیف الدین۔ اپنا گھر دوزخ میں نہ بنا۔ تاریخ سے عبرت حاصل کر۔ ان غالموں کی ذہنیت والوں نے ایک سے ایک
‫جابر بادشاہ کو گدا کیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ہوتا رہے گا۔ افسوس اس پر ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
‫کی امت بھی اس تباہی کے راستے پر چل پڑی ہے۔ تیرے جیسے بادشاہ امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تاریخ
‫کی نظروں سے اوجھل کرکے ہی دم لیں گے''۔
‫لے جائو اسے یہاں سے''۔ سیف الدین غصے سے کانپتی آواز میں گرجا… ''اسے وہاں بند کردو جہاں سے اس کی آواز ''
‫میرے کانوں تک نہ پہنچ سکے''۔
‫ایک ساالر کے پکارنے پر دو باڈی گارڈ اندر آئے۔ انہیں حکم دیا گیا کہ خطیب کو قید خانے میں لے جائیں۔ اسے جب دونوں
‫بازوئوں سے پکڑ کر لے جارہے تھے تو سیف الدین کو اس کی آوازیں سنائی دیتی رہیں… ''بادشاہی کا اللچ مذہب سے بیگانہ
‫کرتا ہے‪ ،خوشامد پسند حکمران ملک اور قوم کو بیچ کھاتا ہے۔ کافر کی دوستی دشمنی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ فلسطین
‫ہمارا ہے‪ ،فلسطین میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے۔ تمہیں کافر اس لیے آپس میں لڑا رہا ہے کہ فلسطین پر اس
‫کا قبضہ رہے۔ آپس میں لڑتے رہو گے تو قبلۂ اول تم پر لعنت بھیجتا رہے گا''۔
‫خطیب المخدوم کو گھسیٹ کر لے جارہے تھے اور وہ بلند آواز سے بولتا جارہا تھا۔ بہت سے فوجی باہر نکل آئے اور آن کی
‫آن میں یہ خبر تمام تر موصل میں پھیل گئی… ''خطیب المخدوم پاگل ہوگیا ہے… خطیب کو قید خانے میں بند کردیا گیا
‫ہے''… یہ آوازیں شہر میں گھومتے پھرتے خطیب کے گھر کے دروازے میں داخل ہوگئیں۔ اس گھر میں خطیب کی نوجوان
‫بیٹی تھی۔ اس گھر میں یہی دو افراد تھے۔ یہ لڑکی اور اس کا باپ خطیب۔ خطیب کی یہ واحد اوالد تھی۔ اس کی بیوی
‫عرصہ گزرا مرگئی تھی۔ خطیب نے دوسری شادی نہیں کی تھی۔ وہ اس بیٹی کے سہارے جی رہا تھا اور بیٹی اس کی خاطر
‫زندہ تھی۔
‫بہت سی عورتیں اس کے گھر میں چلی گئیں۔ یہ گھر سب کے لیے بڑا قابل احترام تھا کیونکہ یہ خطیب کا گھر تھا۔
‫عورتوں نے لڑکی سے پوچھا کہ اس کے باپ کو اچانک کیا ہوگیا ہے؟ کیا واقعی وہ پاگل ہوگیا ہے؟
‫ایسا ہونا ہی تھا'' ۔ لڑکی نے کہا… ''ایسا ہونا ہی تھا''… اس کے انداز میں ٹھہرائو سا تھا۔ افسوس اور گھبراہٹ نہیں ''
‫تھی۔ اس کے بعد اس کے پاس جو بھی عورت آئی لڑکی نے یہی کہا… ''ایسا ہونا ہی تھا''۔
‫موصل میں خطیب کو قید خانے میں ڈال دیا گیا‪ ،حران میں دو ساالروں شمس الدین اور شادبخت کو گمشتگین نے قید ''
‫خانے میں ڈال دیا تھا۔ گمشتگین کو پہلی بار پتہ چال کہ اس کے یہ دونوں ساالر دراصل صالح الدین ایوبی کے آدمی ہیں اور
‫جاسوس ہیں۔ ان دونوں کو قید خانے میں ڈال کر گمشتگین رات کے وقت قید خانے میں گیا۔ شمس الدین اور شادبخت کو ان
‫کی کال کوٹھریوں سے نکلوا کر انہیں اس جگہ لے گیا جہاں قیدیوں سے راز اگلوانے کے لیے کئی ایک وحشیانہ طریقے اختیار
‫کیے جاتے تھے‪ ،وہاں دو آدمی اس طرح لٹکے ہوئے تھے کہ چھت کے ساتھ بندھی ہوئی رسیوں سے ان کی کالئیاں بندھی
‫ہوئی تھیں۔ ان کے پائوں زمین سے کوئی دوفٹ اوپر تھے اور ٹخنوں کے ساتھ کم وبیش دس دس سیر وزن کے لوہے کے
‫ٹھوس گولے بندھے ہوئے تھے۔ موسم سرد ہونے کے باوجود ان کے جسموں سے پسینہ اس طرح پھوٹ رہا تھا جیسے ان پر
‫پانی انڈیال گیا ہو۔ ان کے بازو کندھوں سے الگ ہوئے جارہے تھے‪ ،وہاں خون کی بدبو تھی اور گلی سڑی الشوں کا تعفن
‫بھی''۔
‫انہیں دیکھ لو''۔ گمشتگین نے دونوں بھائیوں سے کہا… ''اس قید خانے میں آنے تک تم میری فوجوں کے مالک تھے‪'' ،
‫شہزادے تھے۔ اب تم بے کار جذبات میں الجھ کر اس دوزخ میں آگئے ہو۔ تم غدار ہو۔ تم میری آستین میں سانپوں کی طرح
‫پلتے رہے ہو۔ میں تمہیں اب بھی بخش دینے کے لیے تیار ہوں۔مجھے صرف یہ بتا دو کہ جن لڑکیوں کو تم نے یہاں سے
‫بھگایا اور جو دو آدمی ان کے ساتھ گئے ہیں‪ ،وہ کہاں گئے ہیں اور یہاں سے کیا کیا راز لے کر گئے ہیں''… شمس الدین
‫اور شاد بخت مسکرا دئیے اور خاموش رہے۔ گمشتگین نے کہا… ''وہ صالح الدین ایوبی کے پاس گئے ہیں‪ ،کیا یہ جھوٹ
‫ہے؟'' دونوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ گمشتگین نے کہا… ''ان دونوں کو دیکھ لو۔ یہ تو جوان ہیں‪ ،اس لیے ابھی برداشت
‫کررہے ہیں۔ تم دونوں کو میں نے ان کی طرح لٹکا کر پائوں کے ساتھ وزن باندھ دیا تو تم تھوڑی سی دیر میں اپنا سینہ
‫کھول کر میرے سامنے رکھ دو گے۔ اس کے بغیر ہی مجھے سب کچھ بتا دو''۔
‫وہ کوئی راز نہیں لے گئے''… شمس الدین نے کہا… ''یہاں کوئی راز نہیں۔ تمہارے متعلق سلطان ایوبی اچھی طرح جانتا ''

‫ہے کہ تم صلیبیوں کی مدد سے اس کے خالف لڑنے کی تیاری میں ہو۔ ایوبی پوری تیاری کرکے تمہاری سرکوبی کے لیے آیا
‫ہے۔ یہاں سے کوئی کیا راز لے جائے گا۔ راز صرف یہ فاش ہوا ہے کہ ہم دونوں بھائی تمہاری فوج کے ساالر تھے۔ تم ہمیں
‫معتمد سمجھتے رہے لیکن ہم دراصل سلطان ایوبی کے آدمی ہیں''۔
‫میں دوسرا راز بھی تمہیں بتا دیتا ہوں''… شمس الدین کے بھائی شادبخت نے کہا… ''یہ اتفاق ایسا ہوگیا ہے کہ دو ''
‫مسلمان لڑکیاں تمہارے پاس تحفے کے طور پر آگئیں۔ ہمیں پتہ چل گیا کہ وہ مظلوم ہیں اور مسلمان ہیں۔ تمہارا بنایا ہوا
‫قاضی ابو الخاشب تم سے پہلے ان لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ ہم نے لڑکیوں کو اپنی بیٹیاں سمجھ کر بھگا دیا
‫اور ابو الخاشب نے ہمارے لیے ایسے حاالت پیدا کردئیے کہ ہم نے اسے قتل کردیا اور تمہیں پتہ چل گیا۔ تم نے ہمیں قید
‫کردیا اگر ہم قید نہ ہوتے تو ہمارا ارادہ یہ تھا کہ جب تم سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ہمیں بھیجو گے تو ہم پوری
‫فوج کو سلطان ایوبی کے گھیرے میں لے جا کر ہتھیار ڈال دیں گے۔ ہماری یہ آرزو پوری نہ ہوسکی''۔
‫ہم پھر بھی کامیاب ہیں''… شمس الدین نے کہا… ''تم ہمیں سزائے موت دے دو‪ ،ہمیں چھت سے لٹکا کر ہمارے پائوں ''
‫کے ساتھ بیس بیس سیر وزن باندھ دو‪ ،ہمارے بازو کندھوں سے الگ کردو‪ ،ہمیں اذیت کا کچھ احساس نہیں ہوگا۔ اللہ کی راہ
‫پر چلنے والوں کے لیے تیر پھول بن جاتے ہیں۔ جسم فنا ہوجاتے ہیں‪ ،روحیں نہیں مرا کرتیں۔ اللہ کی راہ میں قربان ہونے
‫والوں کی روحیں اللہ کو عزیز ہوتی ہیں''۔
‫مجھے وعظ نہ سنائو''… گمشتگین نے کہا… ''مجھے وہ راز بتائو غدارو‪ ،جو تم نے صالح الدین ایوبی کو بھیجا ہے''۔''
‫تم ہمیں غدار کہتے ہو؟''… شمس الدین نے کہا… ''یہی راز ہے جسے تم چھپانا چاہتے ہو کہ غدار کون ہے۔ تم یہ راز ''
‫آنے والی نسلوں سے اور تاریخ سے بھی نہیں چھپا سکو گے کہ تم غدار ہو۔ تاریخ پکار پکار کر کہے گی کہ صالح الدین
‫ایوبی فلسطین کو صلیبیوں سے آزاد کرانے کے لیے نکال تھا مگر گمشتگین نام کا ایک مسلمان قلعہ دار اس کے راستے میں
‫حائل ہوگیا تھا''۔
‫تم اگر اتنے پکے مسلمان ہوتے تو ہندوستان ہندوئوں کے حوالے کرکے نورالدین زنگی کے پاس نہ بھاگے آتے''… گمشتگین ''
‫نے طنزیہ کہا… ''تم غالم ملک سے آئے ہو''۔
‫ہندوستان کو ہم نے ہندوئوں کے حوالے نہیں کیا تھا''… شادبخت نے جواب دیا… ''وہاں بھی تم جیسے مسلمان موجود ''
‫تھے‪ ،جنہوں نے ہندوئوں سے دوستی کی اور تمہاری طرح اپنی ذاتی بادشاہی کے خواب دیکھے۔ بادشاہی کا نشہ انہیں لے بیٹھا
‫اور ہندو سارے ملک پر ہاتھ صاف کرگیا اگر ملک کی قسمت ساالروں کے ہاتھ میں ہوتی تو آج ہندوستان عرب کی سرزمین
‫کے ساتھ مال ہوا تھا مگر وہاں کی فوج کو بادشاہوں نے اپنا غالم بنا لیا تھا''۔
‫میں تمہیں دو دن اور سوچنے کا موقع دیتا ہوں''… گمشتگین نے کہا… ''اگر میرے سوالوں کے جواب مجھے دے دو گے ''
‫تو ہو سکتا ہے تمہیں اس جہنم سے نکال کر تمہارے گھروں میں تمہیں نظر بند کردوں اگر مجھے مایوس کرو گے تو میں
‫تمہیں سزائے موت نہیں دوں گا۔ انہی کال کوٹھڑیوں میں پڑے گلتے سڑتے رہو گے‪ ،سوچ لو''… اور وہ حکم دے کر کہ انہیں
‫کوٹھڑیوں میں بند کردیا جائے‪ ،چال گیا۔ گمشتگین نے اپنے قلعے میں صلیبی مشیر رکھے ہوئے تھے۔ اس نے ان پر واضح کردیا
‫کہ ان کا ایک ساتھی جو قتل ہوگیا ہے وہ کسی سازش کا شکار نہیں ہوا‪ ،بلکہ وہ حرم کی ایک لڑکی کے ہاتھوں قتل ہوا
‫ہے۔ گمشتگین نے انہیں یہ بھی بتایا کہ اس نے اپنے دو ساالروں کو قاضی کے قتل اور غداری کے جرم میں قید خانے میں
‫ڈال دیا ہے۔ اس نے ان سے مشورہ لیا کہ وہ فوری طور پر سلطان ایوبی کے خالف فوج بھیجنا چاہتا ہے۔
‫مجھے معلوم نہیں کہ ان دونوں ساالروں نے کیسے کیسے راز صالح الدین ایوبی کو بھیج دئیے ہیں''۔ گمشتگین نے کہا… ''
‫'' پیشتر اس کے کہ وہ ان رازوں سے فائدہ اٹھائے‪ ،ہمیں حملہ کردینا چاہیے۔ اس صورت میں مجھے آپ کی مدد کی ضرورت
‫ہوگی''۔
‫صلیبی مشیروں نے مدد کا وعدہ کیا اور کہا کہ وہ اپنے ایک آدمی کو آج ہی رات صلیبیوں کے کیمپ کو روانہ کردیتے ہیں۔
‫اسی رات ایک صلیبی روانہ ہوگیا۔
‫موصل میں خطیب المخدوم قید خانے کی ایک کوٹھری میں بند تھا اور اس کی نوجوان بیٹی جس کا نام صاعقہ تھا‪ ،گھر میں
‫اکیلی بیٹھی تھی۔ دن بھر عورتیں اس کے پاس جاتی رہی تھیں اور صاعقہ سب سے یہی کہتی رہتی تھی… ''ایسا ہی ہونا
‫تھا''… عورتوں نے غور نہیں کیا تھا کہ اس سے اس کا مطلب ہے۔ دو جوان لڑکیوں نے اس کے ان الفاظ اور انداز کو نظر
‫انداز نہ کیا۔ انہیں کچھ شک ہوا۔ رات جب صاعقہ گھر میں اکیلی تھی۔ یہ دونوں لڑکیاں اس کے گھر میں داخل ہوئیں۔
‫صاعقہ انہیں اچھی طرح نہیں جانتی تھی۔
‫تم سارا دن یہ کیوں کہتی رہی ہو کہ ایسا ہونا ہی تھا؟''… ایک لڑکی نے پوچھا۔''
‫خدا کو ایسے ہی منظور تھا''… صاعقہ نے جواب دیا… ''اس کے سوا میں اور کیا کہہ سکتی ہوں''۔''
‫کچھ دیر خاموشی طاری رہی۔ آخر دوسری لڑکی نے کہا… ''اگر اس سے تمہارا مطلب کچھ اور ہے تو صاف بتا دو۔ ہوسکتا
‫ہے کہ ہم کچھ مدد کرسکیں''۔
‫خدا کے سوا میری کوئی مدد نہیں کرسکتا''… صاعقہ نے کہا… ''میرے والد محترم نے کوئی اخالقی جرم نہیں کیا۔ انہوں ''
‫نے امیر موصل کو کوئی کھری بات کہہ دی ہوگی۔ وہ ہمیشہ حق بات کہا کرتے ہیں۔ اسی لیے میں کہتی ہوں کہ ایسا ہونا
‫ہی تھا کیونکہ وہ خوشامد کرنے والے انسان نہیں''۔
‫یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے کیا کہا اور کیا کیا ہے''… دوسری لڑکی نے کہا… ''ہم یہ کہنا چاہتی ہیں کہ ''
‫انہوں نے صالح الدین ایوبی کی حمایت میں کوئی بات کہہ دی ہوگی۔ یہ تو تم ہی بتا سکتی ہو کہ وہ موصل کے والی کے
‫حامی تھے یا صالح الدین ایوبی کے''۔
‫''تم جسے سچا سمجھتی ہو‪ ،وہ اسی کے حامی تھے''… صاعقہ نے مسکرا کر پوچھا… ''تم کس کی حامی ہو؟''
‫صالح الدین ایوبی کی''… دونوں لڑکیوں نے جواب دیا۔''
‫وہ بھی ایوبی کے حامی تھے''… صاعقہ نے جواب دیا… ''سیف الدین کو پتہ چل گیا ہوگا''۔''
‫وہ زبانی حمایت کرتے تھے یا عمال ً بھی؟''… ایک لڑکی نے پوچھا۔''
‫''کیا تم جاسوسی کرنے آئی ہو؟''… صاعقہ بھڑک کر بولی… ''کیا موصل کا نوجوان خون بھی کفار کا حامی ہوگیا ہے؟''
‫ہاں!''… ایک لڑکی نے جواب دیا… ''ہم دونوں جاسوسی کرنے آئی ہیں اور تمہیں یہ یقین دالنے آئی ہیں کہ موصل کا ''
‫نوجوان خون کفار کا حامی نہیں بلکہ کفار کے پائوں تلے سے عرب کی زمین نکالنے کے لیے بیتاب ہے اور اس عزم پر عمل
‫کرکے دکھانے کو ابل رہا ہے۔

‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:14
‫قسط نمبر۔‪85
‫جب سلطان ایوبی پریشان ہوگیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫تم ہماری ذہانت کا اندازہ اس سے کرو کہ تمہارے ان الفاظ کو کہ ایسا ہونا ہی تھا‪ ،ہمارے سوا کوئی بھی نہیں سمجھ سکا۔
‫ہم سمجھ گئی تھیں کہ تمہارے والد محترم سلطان ایوبی کے حامی ہوں گے اور ان کی سرگرمیوں کا علم والئی موصل کو
‫ہوگیا ہوگا''۔
‫۔ کچھ دیر کے تبادلۂ خیاالت اور بحث کے بعد صاعقہ کو یقین ہوگیا کہ یہ دونوں لڑکیاں اسے دھوکہ نہیں دے رہیں۔ اس ''
‫نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہیں اور وہ کر کیا سکتی ہیں۔
‫سب سے پہلے یہ معلوم کرنا ہے کہ محترم خطیب کو قید خانے پریشان تو نہیں کیا جارہا؟''… ایک لڑکی نے کہا… ''اگر''
‫پریشان کیا جارہا ہے تو انہیں قید خانے سے غائب کرنے کا انتظار کیا جائے گا''۔
‫یہ کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ قید خانے میں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے۔ تم والئی موصل کے پاس جائو اور''
‫اپنے والد سے ملنے کی عرض کرو۔ اگر اس نے اجازت نہ دی تو ہم کچھ کریں گی''۔
‫''میں کل صبح جائوں گی''… صاعقہ نے کہا… ''اور یہ بھی پوچھوں گی کہ میرے باپ کا جرم کیا ہے؟''
‫لڑکیاں جانے کے لیے اٹھیں تو خیال آگیا کہ صاعقہ گھر میں اکیلی ہے۔ انہوں نے اسے کہا کہ وہ رات اس کے ساتھ گزاریں
‫گی لیکن صاعقہ تنہائی میں کوئی ڈر یا خطرہ محسوس نہیں کررہی تھی۔ لڑکیوں نے اپنے گھر والوں کو جاکر بتایا کہ وہ
‫صاعقہ کے پاس رہیں گی کیونکہ وہ اکیلی ہے۔ وہ اس کے پاس چلی گئیں… سردیوں کا موسم تھا۔ وہ کمرے میں سوئیں۔ آدھی
‫رات کے وقت ایک لڑکی بیت الخالء میں جانے کے لیے باہر نکلی تو صحن سے آگے جو برآمد تھا‪ ،وہاں اسے ایک سیاہ سا
‫حرکت کرتا نظر آیا اور وہ کہیں غائب ہوگیا۔ لڑکی ڈری نہیں‪ ،وہ کمرے میں چلی گئی۔ اپنی سہیلی کو جگایا اور اسے بتایا‪،
‫دونوں کے پاس خنجر تھے‪ ،خنجر ہاتھ میں لے کر وہ برآمدے میں گئیں‪ ،ادھر ادھر دیکھا۔ انہیں کچھ بھی نظر نہ آیا۔
‫وہ صحن میں آئیں۔ انہوں نے صاعقہ کو نہیں جگایا تھا لیکن صاعقہ کی آنکھ کھل گئی۔ دونوں سہیلیوں کو کمرے سے
‫غیرحاضر دیکھ کر وہ باہر چلی گئی۔ سہیلیوں کو پکارا۔ وہ آئیں تو انہوں نے اسے بتایا کہ برآمدے میں ایک سایہ حرکت کررہا
‫تھا‪ ،کسی انسان کا معلوم ہوتا تھا۔
‫چلو چل کر سوجائو''… صاعقہ نے ان سے کہا… ''تم جب بھی باہر نکلو گی‪ ،تمہیں ایک سایہ ہلتا جلتا نظر آئے گا‪'' ،
‫آگے جاکر کسی سائے کو خنجر نہ مار دینا''۔
‫''یہ سائے کیسے ہیں؟''… ایک لڑکی نے پوچھا… ''انسان نہیں یہ؟''
‫مگر اب دونوں لڑکیاں ڈرنے لگی تھیں‪ ،وہ صرف انسانوں سے نہیں ڈرتی تھیں۔ یہ سائے صاعقہ کے کہنے کے مطابق انسانوں
‫کے نہیں تو پھر یہ جن ہی ہوسکتے تھے۔ صاعقہ نے کہا… ''یہ میرے والد محترم کے عقیدت مندوں کے سائے ہیں۔ انہیں
‫جن ہی سمجھ لو۔ میں ان کے قریب کبھی نہیں گئی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ میری حفاظت کے لیے یہاں گھومتے پھرتے رہتے
‫ہیں''۔
‫محترم خطیب برگزیدہ شخصیت ہیں''… ایک لڑکی نے کہا… ''ان کے عقیدت مند جن بھی ہوں گے''۔''
‫کچھ ایسی ہی بات ہے''… صاعقہ نے کہا… ''ان سے ڈرنا نہیں اور ان کے قریب بھی نہ جانا''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫اس رات خطیب کوٹھڑی میں بند تھا۔ اسے ابھی کچھ علم نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔ ایک سنتری
‫اس کی کوٹھڑی کے سامنے سے گزرا۔ خطیب نے اسے روک کر کہا… ''مجھے قرآن کی ضرورت ہے‪ ،قید خانے میں قرآن تو
‫ضرور ہوگا''۔
‫یہاں؟… قرآن؟''… سنتری نے طنزیہ لہجے میں کہا… ''یہاں قرآن پاک پڑھنے والے نہیں آیا کرتے۔ یہ جہنم ہے۔ یہاں گناہ''
‫گار آتے ہیں۔ سوجائو''… سنتری آگے چال گیا۔
‫خطیب حافظ قرآن نہیں تھا۔ اسے بہت سی صورتیں اور آیتیں یاد تھیں۔ اس نے سورۂ الرحمن کی تالوت بلند آواز سے شروع
‫کردی۔ ایک تو سورۂ الرحمن کا اپنا تاثر ہے جو پہاڑوں کا بھی جگر چاک کرڈالتا ہے۔ اس کے ساتھ خطیب ابن المخدوم کی
‫سریلی آواز کا سحر انگیز سوز۔ قید خانے کے مقید ماحول پر جیسے وجد طاری ہوگیا ہو۔ اس نے یہ سورۂ مبارکہ ختم کی تو
‫اسے محسوس ہوا کہ وہ اکیال نہیں۔ دروازے کی طرف دیکھا۔ وردی میں جیل کا کوئی عہدے دار کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں سے
‫آنسو بہہ رہے تھے۔
‫تم کون ہو؟''… عہدے دار نے خطیب سے پوچھا… ''میں چھ سال سے اس قید خانے میں نوکری کررہا ہوں۔ قرآن کی ''
‫آواز پہلی بار سنی ہے اور ایسی آواز بھی پہلی بار سنی ہے جو میرے دل میں اتر گئی ہے۔ میں نے قرآن نہیں پڑھا حاالنکہ
‫یہ میری مادری زبان میں لکھا گیا ہے''۔
‫میں موصل کا خطیب ہوں''… خطیب نے جواب دیا۔''
‫اور آپ کا جرم؟''… عہدے دار نے حیرت سے چونک کر پوچھا۔''
‫صرف یہ کہ میں قرآن کی زبان میں بات کیا کرتا ہوں''… خطیب نے جواب دیا… ''میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنے ''
‫بادشاہ کا حکم نہ مانا اور قرآن کے حکم کو مقدم جانا''۔
‫پھر پڑھو''… عہدیدار نے التجا کے لہجے میں کہا… ''میرے اندر ایک زہر ہے جو قرآن کے الفاظ نے اور آپ کی آواز نے''
‫نکالنا شروع کردیا ہے۔ میں آپ کو حکم نہیں دے رہا‪ ،التجا ہے''۔
‫خطیب نے پہلے سے زیادہ وجد آفریں آواز میں سورۂ الرحمن پڑھی۔ عہدے دار کوٹھڑی کی موٹی موٹی سالخوں کو پکڑے کھڑا
‫رہا اور اس کے آنسو بہتے رہے۔ خطیب خاموش ہوا تو عہدے دار نے آنکھیں بند کرکے دھیمی آواز میں سورۂ الرحمن کی بعض
‫آیات دہرانی شروع کردیں۔
‫اگر آپ کی آواز میں یہ جادو ہے تو آپ کے معتقدوں میں جنات بھی ہوں گے''… عہدے دار نے کہا… ''میں ایک بات ''
‫پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ قرآن سے فال نکالی جاتی ہے۔ کوئی سوال پوچھو تو جنات قرآن کے لفظوں میں
‫جواب دیتے ہیں''۔
‫لیکن سوال یہ ہے کہ تمہارا سوال کیا ہے!''… خطیب نے کہا… ''قرآن صرف ایمان والوں کو مژدہ سنایا کرتا ہے''۔''

‫''اور جس کا ایمان پختہ نہ ہو؟''
‫''اس کے سینے میں ایمان کی قندیل روشن کرتا ہے''… خطیب نے کہا… ''تمہارا سوال کیا ہے؟''
‫میری ایک آرزو ہے''۔ عہدے دار نے کہا… ''میرے سینے میں آگ جل رہی ہے۔ معلوم نہیں‪ ،یہ ایمان کی قندیل کا ''
‫شعلہ ہے یا یہ آگ انتقام کی ہے۔ میں اس فوج میں شامل ہونا چاہتا ہوں جو یروشلم کو فتح کرے گی۔ مجھے انتقام لینا
‫ہے''۔
‫اگر یروشلم کی فتح کو تم ایمان کہو تو وہاں جلدی پہنچو گے''… خطیب نے کہا… ''انتقام ذاتی فعل ہے‪ ،ایمان اللہ کا ''
‫حکم ہے… تم انتقام کیوں کہہ رہے ہو؟ اور یروشلم کیوں کہہ رہے ہو؟ بیت المقدس کہو''۔
‫میں نے کسی قیدی کے ساتھ ایسی باتیں بھی نہیں کی تھیں''… عہدے دار نے کہا… ''آپ خطیب ہیں۔ آپ کے سامنے ''
‫میں اپنا دل کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔ میری روح کو تسکین کی ضرورت ہے۔ میں بیت المقدس کا رہنے واال ہوں‪ ،وہاں
‫صلیبیوں کی حکمرانی ہے۔ مسلمانوں کو وہاں بھیڑ بکریاں اور جانور سمجھا جاتا ہے۔ صلیبی جس مسلمان کو چاہیں قتل
‫کردیں‪ ،جسے چاہیں قید خانے میں ڈال دیں۔ بیگار کا رواج تو عام ہے جس گھر میں لڑکی جوان ہو‪ ،ان کا دم تو خشک رہتا
‫ہے۔ وہاں کے مسلمان سلطان ایوبی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ سات سال گزرے‪ ،ایک روز ایک صلیبی نے مجھے پکڑ لیا اور ساتھ
‫لے گیا۔ اس کا کوئی سامان اٹھا کر اس کے گھر تک لے جانا تھا۔ اس نے مجھے سامان اٹھانے کو کہا تو میں نے انکار
‫کردیا۔ اس نے میرے منہ پر تھپڑ مار کر کہا کہ مسلمان ہوکر میرا حکم نہ ماننے کی جرأت کررہے ہو؟ میں نے اس کے منہ
‫پر گھونسہ مارا۔ وہ اگرا تو میں نے اس کے سر کے بال مٹھی میں لے کر اسے اٹھایا اور دوسرا گھونسہ مار کر اسے پھر گرا
‫دیا''۔
‫اتنے میں مجھے پیچھے سے کسی نے جکڑ لیا‪ ،پھر صلیبیوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ سپاہی بھی آگئے اور مجھے بیگار کیمپ ''
‫میں لے گئے۔ میں نے وہاں تین دن گزارے اور تیسری رات میں نے ایک سنتری کو پیچھے سے دبوچا اور اسی کے خنجر
‫سے اس کا پیٹ چاک کرکے بھاگ نکال۔ میں گھر پہنچا تاکہ رات ہی رات سارے کنبے کو بیت المقدس سے بھگا لے جائوں‪،
‫ورنہ سب کے پکڑے جانے کا خطرہ تھا مگر میرا گھر کھنڈر بن چکا تھا۔ اندر گیا تو گھر جال ہوا تھا۔ میں نے ایک مسلمان
‫پڑوسی کے دروازے پر دستک دی۔ وہ ڈرتا ڈرتا باہر آیا۔ میں نے پوچھا کہ میرے گھر والے کہاں بھاگ گئے ہیں؟ اس نے یہ
‫خبر سنا کر میرے پائوں تلے سے زمین نکال دی کہ گھر کے مردوں کو صلیبی پکڑ کر لے گئے ہیں اور میری دونوں کنواری
‫بہنوں کو صلیبی فوجی لے گئے تھے پھر انہوں نے گھر کو آگ لگا دی''۔
‫میرے دل پر جو گزری اس کا تصور آپ کرسکتے ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے بہنیں واپس نہیں مل سکتیں اور میں ''
‫یہاں رکا رہا تو پکڑا جائوں گا اور صلیبی مجھے قتل کردیں گے یا قید خانے میں بند کرکے ساری عمر اذیتیں دیتے رہیں گے۔
‫میں کسی مسلمان کے گھر چھپنے کی غلطی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ پورا گھرانہ مارا جاتا۔ میں رات کو ہی بیت المقدس
‫سے نکل آیا۔ خون کھول رہا تھا مگر میں بے بس تھا۔ میں نے اس طرف کا رخ کرلیا۔ صبح طلوع ہوئی تو میں نے ایک
‫صلیبی کو دیکھا جو گھوڑے پر سوار میرے راستے پر سامنے سے آرہا تھا۔ وہ سپاہی نہیں تھا۔ میں نے اسے روک لیا ور اسے
‫باتوں میں الجھا کر گھوڑے سے اتار لیا۔ اس کا ایک پائوں رکاب میں دوسرا زمین پر تھا کہ میں نے پیچھے سے اس کی
‫گردن اپنے بازو کے گھیرے میں لے لی۔ اس کے کمر بند کے ساتھ چھوٹی تلوار تھی۔ وہ کھینچ لی اور اسے قتل کردیا۔ اس
‫کے گھوڑے پر سوار ہوکر میں نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی''۔
‫یہ دوسرا صلیبی تھا جسے میں نے قتل کیا۔ اس سے پہلے میں ایک سنتری کو قتل کر آیا تھا لیکن میرے دل کو اطمینان''
‫نہ ہوا۔ میں تمام صلیبیوں کو قتل کرنے کے لیے پاگل ہوا جارہا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کتنے دن اور کتنی راتیں
‫سفر کیا اور کہاں کہاں مارا مارا پھرتا رہا۔ مجھے بھوک محسوس نہ ہوئی‪ ،پیاس کا احساس تک نہ رہا۔ بہنیں یاد آتی تھیں
‫اور میں گھوڑا روک کر صلیبی سے چھینی ہوئی تلوار ہاتھ میں لے کر بیت المقدس کی طرف دیکھنے لگتا تھا۔ میرا جسم
‫کانپنے لگ جاتا تھا۔ میں نے کئی بار خدا کو پکارا اور خدا سے پوچھا کہ اس نے مجھے کون سے گناہ کی سزا دی ہے‪ ،اگر
‫میں گناہ گار تھا تو سزا مجھے ملنی چاہیے تھی‪ ،میری بہنیں اور میرا کمسن چھوٹا بھائی بے گناہ تھے۔ مجھے خدا نے کوئی
‫جواب نہ دیا۔ میں نے سجدے میں گر کر خدا کو پکارا اور مایوس ہوا۔ میں نے خدا سے یہ التجا بھی کی کہ مجھے سکون
‫مل جائے یا میرے اندر انتقام کی آگ بجھ جائے۔ میرا احساس مردہ ہوجائے''۔
‫میں موصل کے ایک گائوں میں پہنچ گیا جہاں یہ خطرہ نہیں تھا کہ صلیبی مجھے پکڑ لیں گے لیکن میرے دل کو کسی ''
‫بے رحم کے ہاتھوں نے ایسا جکڑ رکھا تھا کہ میں ہر لمحہ بے قرار اور بے چین رہتا تھا۔ میں مسجد میں چال گیا۔ امام سے
‫کہا کہ وہ مجھے دکھا دے کہ خدا کہاں ملے گا‪ ،میری روح کو سکون کہاں ملے گا۔ اس نے میری کوئی مدد نہ کی۔ میں وہاں
‫سے ایک اور گائوں چال گیا پھر وہاں سے بھی چال گیا۔ اس کے بعد یہی یاد آتا ہے کہ میں مسجدوں میں خدا کو ڈھونڈتا
‫پھرتا رہا۔ اماموں سے روحانی سکون مانگتا رہا مگر کسی نے میری دستگیری نہ کی۔ مجھے کسی نے خدا کا اتا پتہ نہ بتایا۔
‫کسی نے کوئی طریقہ نہ بتایا جس سے میں خدا سے ہم کالم ہوسکوں اور اس سے روحانی سکون مانگ سکوں۔ راتوں کو اکثر
‫بہنوں کو خواب میں دیکھتا تھا۔ وہ روتی نظر آتی تھیں۔ مجھے اس کی سسکیاں اور ہچکیاں اس وقت بھی سنائی دیتی تھیں
‫جب جاگ اٹھتا تھا۔ روز بروز میرے اندر یہ احساس پیدا ہوتا گیا کہ میری بہنیں مجھ پر لعنت بھیج رہی ہیں''۔
‫کسی نے بتایا کہ صلیبیوں سے انتقام لینا ہے تو فوج میں بھرتی ہوجائو۔ سلطان نورالدین زنگی فلسطین کو آزاد کرانے کے ''
‫لیے لڑ رہا ہے۔ یہ تو مجھے معلوم تھا کہ مسلمانوں اور صلیبیوں کی لڑائیاں ہورہی ہیں۔ہمیں بیت المقدس میں معلوم ہوجاتا
‫تھا کہ کون سی جنگ میں کسے شکست ہوئی ہے۔ بیت المقدس میں صلیبی جب وہاں کے مسلمان باشندوں پر ظلم وستم
‫اچانک زیادہ کردیتے تھے تو ہم سمجھ جاتے تھے کہ کسی میدان میں انہیں شکست ہوئی ہے جس کا انتقام وہ یہاں کے نہتے
‫اور بے بس مسلمانوں سے لے رہے ہیں پھر ہمیں وہاں صالح الدین ایوبی کا نام سنائی دینے لگا۔ یہ نام اتنا مشہور ہوا کہ
‫وہاں کے صلیبی باشندے اس نام سے ڈرتے تھے اور اس سے نفرت کرتے تھے۔ یہ بھی پتہ چال کہ صالح الدین ایوبی طوفان
‫کی طرح آرہا ہے مگر وہ نہ آیا۔ اس کے بجائے میں یہاں سینے میں ایک گہرا زخم لے کر آگیا۔ میں فوج میں بھرتی ہوگیا
‫لیکن محاذ پر بھیجنے کے بجائے مجھے اس قید خانے میں بھیج دیا گیا‪ ،یہاں مجھے ترقی بھی مل گئی''۔
‫یہاں میں نے انسانوں پر ظلم ہوتے دیکھا‪ ،اس سے میں کانپ کانپ اٹھتا تھا۔ یہاں انسانوں کی ہڈیاں توڑی جاتی ہیں۔ بیت''
‫المقدس میں صلیبی مسلمانوں کا یہی حشر کرتے تھے‪ ،یہاں مسلمانوں کو مسلمانوں پر وہی ظلم کرتے دیکھا۔ مجھے بتایا گیا کہ
‫یہاں بے گناہوں کو بھی الیا اور اذیت میں ڈاال جاتا ہے۔ ان کا گناہ وہی ہے جو آپ نے کیا ہے۔ میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ
‫کو یہاں الکر کیوں بند کیا گیا ہے۔ یہ کام مجھے بھی کرنا پڑا۔ میں نے بھی انسانوں کو ایسی ایسی اذیتیں دیں جو آپ کو

‫سنائوں تو آپ بے ہوش ہوجائیں۔ میرے ساتھی پوری طرح وحشی درندے بن گئے ہیں۔ ان میں انسانیت صرف اتنی سی رہ
‫گئی ہے کہ وہ انسانوں کی طرح چلتے پھرتے اور باتیں کرتے ہیں۔ میں ان سے اس لحاظ سے مختلف ہوں کہ میں چوری
‫چھپے قیدیوں کے ساتھ ہمدردی کی دو چار باتیں کرلیتا ہوں۔ ان سے پوچھتا ہوں کہ ان کا جزم کیا ہے مگر ہمدردی کے اس
‫جذبے نے میری روح سے بوجھ اتارنے کے بجائے نہ جانے کیسا بوجھ ڈال دیا ہے۔ مجھے سکون نہیں ملتا۔ مجھے خدا نظر
‫نہیں آتا‪ ،میری آنکھوں کے سامنے سے میری بہنیں ہٹتی نہیں۔ میں پھر یہی محسوس کرتا ہوں کہ جب تک صلیبیوں سے
‫انتقام نہیں لوں گا‪ ،میں اسی طرح بے چین رہوں گا''۔
‫آج آپ کی آواز میں قرآن کے یہ الفاظ سنے… ''گناہ گار اپنے چہروں ہی سے پہچان لیے جائیں گے‪ ،پھر وہ بالوں اور ''
‫پائوں سے پکڑ لیے جائیں گے… تم اپنے پرور دگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹالئو گے۔ یہی وہ جہنم ہے جسے گناہگار
‫لوگ جھٹالتے تھے۔ وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے''۔ تو معلوم نہیں میرے دل میں کیا
‫ہلچل بپا ہوگئی۔ مجھے ایسے محسوس ہونے لگا ہے جیسے وہ راز انہی لفظوں میں ہے جو ڈھونڈتا پھر رہا ہوں''… اس نے
‫سالخوں میں سے ہاتھ اندر کرکے خطیب الن المخدوم کا چغہ پکڑ لیا ور بیتاب ہوکر بوال… ''مجھے بتائو یہ راز کیا ہے۔ کیا
‫میرے دماغ پر خون سوار ہے؟ اگر ایسا ہے تو میں انتقام کس طرح لوں گا؟ میں پاگل تو نہیں ہوجائوں گا؟ اگر خدا ہے تو
‫''اس سے پوچھ کر مجھے بتائو کہ میرے سوالوں کا جواب کیا ہے؟
‫تمہارے دماغ پر خون سوار ہے''… خطیب نے کہا۔ ''تم نے خدا کی آواز سن لی ہے۔ میری آواز میں خدا بول رہا تھا۔ ''
‫تم انتقام لینے کو بیتاب ہو لیکن یہاں تم اسی طرح بے حال اور بے چین رہو گے۔ تم جس فوج کے مالزم ہو‪ ،وہ کبھی بیت
‫المقدس نہیں جائے گی''۔
‫''کیوں؟''
‫کیونکہ یہ فوج پہلے سلطان ایوبی کو شکست دے گی''۔ خطیب نے جواب دیا۔ ''پھر سلطان ایوبی کو قتل کیا جائے گا ''
‫اور پھر صلیبیوں کے ساتھ دوستی کی جائے گی''۔
‫عہدے دار کی آنکھیں کھلتی گئیں۔ خطیب اسے بتاتا رہا کہ مسلمان حکمران کیا کررہے ہیں۔ عہدے دار نے کہا۔ ''میں کچھ
‫عرصے سے اس قسم کی باتیں سن رہا تھا لیکن یقین نہیں آتا تھا۔ میں تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا کہ ہمارے حکمران قوم
‫کی ان بیٹیوں کو بھول جائیں گے جو صلیبیوں کی بربریت کا نشانہ بنی ہیں اور جنہیں انہوں نے اغوا کرکے نہ جانے کہاں
‫سے کہاں پہنچا دیا ہے''۔
‫وہ بھول چکے ہیں''۔ خطیب نے کہا۔ ''وہ اس حد تک بھول چکے ہیں کہ اغوا کی ہوئی مسلمان لڑکیاں انہیں تحفوں ''
‫کے طور پر پیش کی جاتی ہیں اور یہ انہیں اپنے حرموں کی زینت بناتے ہیں۔ اس لیے سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن
‫بن گئے ہیں کیونکہ وہ قرآن کے احکام کا پابند ہے اور قوم کی عصمت کا انتقام لینا چاہتا ہے۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ
‫اس کا کوئی گھر ہے یا نہیں۔ اس کی عمر صحرائوں اور پہاڑوں میں گزر رہی ہے۔ میرا بھی جرم یہی ہے کہ میں نے والئی
‫موصل کو قرآن کے احکام یاددال دئیے تھے اور اسے کہا تھا کہ ایک مرد مجاہد کے خالف لڑو گے تو شکست کھائو گے۔ قرآن
‫کے جن مقدس الفاظ نے ابھی ابھی تم پر جادو کیا ہے‪ ،میں نے یہی الفاظ موصل کے بادشاہ سیف الدین کو یاد دالئے تھے۔
‫میں نے اسے کہا تھا کہ تم جیسے گناہ گار چہروں سے پہچانے جائیں گے اور بالوں اور پائوں سے پکڑ لیے جائیں گے۔میں نے
‫اسے قرآن کا یہ حکم بھی سنایا تھا کہ تم دماغ سے بادشاہی کا نشہ نہیں اتارو گے تو دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں
‫گھومو پھرو گے مگر اس نے خدا کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اپنے نفس کا حکم مانا۔ اس نے مجھے قید خانے میں بند
‫کرادیا''۔
‫یہ دنیاوی اور جسمانی اذیتیں مجھے کوئی تکلیف نہیں دے سکتیں''۔ خطیب نے کہا۔ ''تم نے میری آواز میں جو سوز اور''
‫تاثر محسوس کیا ہے‪ ،وہ میری روح کی آواز تھی۔ دنیا کے اس جہنم میں مطمئن ہوں۔ میری آواز اللہ کی آواز ہے۔ میری بیوی
‫مدت ہوئی مرگئی تھی۔ میں نے اس بچی کی خاطر دوسری شادی نہیں کی۔ ہم ایک دوسرے کی خاطر زندہ ہیں‪ ،وہ گھر میں
‫اکیلی ہے''۔
‫میں اس کی حفاظت کروں گا''۔ عہدے دا ر نے کہا۔''
‫سب کی حفاظت کرنے واال خدا ہے''۔ خطیب نے کہا۔ ''میں تمہیں اپنے گھر کا پتہ بتا دیتا ہوں۔ میری بیٹی صاعقہ ''
‫سے کہہ دینا کہ ثابت قدم رہے اور میرے متعلق کوئی فکر نہ کرے۔ اگر یہاں قرآن پڑھنے کی اجازت ہو تو میری بیٹی سے
‫میرا قرآن لے آنا''۔
‫عہدے دار علی الصبح خطیب کے گھر چال گیا اور اس کی بیٹی کو تسلی دی کہ اپنے باپ کے متعلق وہ پریشان نہ ہو۔ اس
‫نے صاعقہ کو بتایا کہ وہ اس کے باپ سے بہت متاثر ہوا ہے‪ ،اس کی جو مدد وہ کرسکتا ہے کرے گا لیکن اوپر کے حکم
‫ادنی مالزم ہے۔ اس نے لڑکی سے کہا کہ محترم خطیب کا قرآن
‫کے خالف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ قید خانے کا
‫ٰ
‫دے دے۔ لڑکی نے قرآن دینے سے پہلے عہدے دار کے ساتھ بہت باتیں کرکے یقین کرلیا کہ وہ تہہ دل سے اور جذبے کے
‫تحت اس کے باپ کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ وہ جذباتی لگتا تھا۔ اس نے جب یہ کہا کہ وہ اس کی خاطر اور اس کے باپ
‫کی خاطر جان پر بھی کھیل جائے گا تو صاعقہ نے اسے کہا۔ ''آپ کو یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ میرے والد کو کس جرم
‫میں قید کیا گیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ سیف الدین انہیں اذیت خانے میں ڈال دے گا تاکہ ان کے دل سے صالح الدین ایوبی
‫کی حمایت نکل جائے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہوسکتا کہ آپ انہیں قید خانے سے فرار ہونے میں مدد دیں؟ ہم دونوں موصل سے
‫غائب ہوجائیں گے''۔
‫عہدے دار مسکرایا اور بوال۔ ''جو اللہ کو منظور ہوگا‪ ،میں نے تمہارے والد کی آواز میں اللہ کی آواز سنی ہے اور ان کی
‫آنکھوں میں ایمان کا نور دیکھا ہے۔ اللہ کی آواز اور ایمان کے نور کو کوئی انسان قید خانے میں محبوس نہیں کرسکتا۔ ہوسکتا
‫ہے کہ اس آواز اور اس نور کو آزاد کرانے کا نیک کام خدا نے میری قسمت میں لکھ دیا ہو اور اس کے عوض میرے سینے
‫کی آگ سرد ہوجائے۔ میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ میں کیا کروں گا کیونکہ تم عورت ذات ہو اور نوجوان ہو۔ شاید راز کو راز
‫نہ رکھ سکو''۔
‫میں والد محترم کے لیے قرآن لے آتی ہوں''۔ وہ اندر چلی گئی اور بہت دیر بعد آئی۔ اس کے ہاتھ میں قرآن تھا جو ''
‫عہدے دار کو دے کر اس نے کہا۔ ''میں والئی موصل کے پاس جارہی ہوں کہ وہ مجھے اپنے باپ سے ملنے کی اجازت دے
‫دے''۔
‫ہاں!'' عہدے دار نے کہا۔ ''مالقات کا یہی طریقہ ہے''… اور وہ قرآن لے کر چال گیا۔''

‫٭ ٭ ٭
‫صاعقہ تیار ہوکر سیف الدین کے دربار میں چلی گئی۔ اسے باہر روک دیا گیا۔ سیف الدین‪ ،صالح الدین ایوبی نہیں تھا کہ ہر
‫کسی کو ملنے کی کھلی اجازت تھی۔ سیف الدین تو بادشاہ تھا اور اس کے طور طریقے شاہانہ تھے۔ اسے شراب بھی پینی
‫ہوتی تھی‪ ،حرم کے لیے بھی وقت نکالنا ہوتا تھا۔ رقص کی محفلیں بھی منعقد کرنی ہوتی تھیں اور جو وقت بچتا تھا‪ ،وہ
‫اپنی بادشاہی کو سلطان ایوبی سے بچانے کے منصوبے بناتے صرف ہوتا تھا۔ اسے اپنی رعایا کا کوئی علم نہ تھا۔ حکومت کے
‫نشئی رعایا کو استعمال کیا کرتے ہیں‪ ،ان کے نیک وبد کی انہیں کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ رعایا کے پیٹ میں صرف اتنا سا
‫اناج جانے دیتے ہیں جس سے رعایا صرف زندہ رہے اور ان کے آگے سجدہ ریز رہے۔
‫صاعقہ اسی رعایا کی ایک لڑکی تھی۔ دربان نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے تو اس نے بتایا کہ موصل کے خطیب ابن
‫المخدوم ککبوری کی بیٹی ہے۔ دوسروں کی طرح دربان کو بھی یہ معلوم تھا کہ خطیب اچانک پاگل ہوگیا ہے اور اسے قید
‫خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ خطیب کا احترام ہر کسی کے دل میں تھا اور اس کے پاگل ہوجانے کی وجہ سے سب کے دلوں
‫میں ہمدردی بھی پیدا ہوگئی تھی۔ دربان نے کسی سے کہہ کر سیف الدین سے اجازت لے لی کہ صاعقہ کو اس کے پاس
‫بھیجا جائے۔
‫صاعقہ جب سیف الدین کے سامنے گئی تو وہ اس لڑکی کی خوبصورتی دیکھ کر چونک اٹھا۔ وہ لڑکیوں کا شکاری تھا۔ اس نے
‫صاعقہ کو دلچسپی سے اپنے پاس بٹھایا۔ وہ سمجھ گیا ہوگا کہ لڑکی اپنے باپ کی رہائی کی درخواست لے کر آئی ہے۔
‫سنو لڑکی!'' اس نے صاعقہ کی بات سنے بغیر کہا۔ ''میں جانتا ہوں تم کیوں آئی ہو‪ ،لیکن میں نے بہت مجبور ہوکر ''
‫تمہارے باپ کو قید میں ڈاال ہے اگر اسے ایک دو دنوں بعد ہی رہا کرنا ہوتا تو میں اسے گرفتار ہی نہ کرتا۔ میں اسے رہا
‫نہیں کرسکوں گا''۔
‫ان کا جرم کیا ہے؟'' صاعقہ نے پوچھا۔''
‫غداری''۔ سیف الدین نے جواب دیا۔''
‫''کیا انہوں نے آپ کے خالف صلیبیوں کے حق میں غداری کی ہے؟''
‫ریاست کا دشمن صلیبی ہو یا مسلمان''۔ سیف الدین نے جواب دیا۔ ''اس کے ساتھ مل کر ریاست کو نقصان پہنچانا ''
‫''جرم ہے۔ کیا تمہارا باپ صالح الدین ایوبی کا حامی نہیں تھا؟
‫مجھے کچھ علم نہیں'' ۔ صاعقہ نے جواب دیا۔ ''میرا خیال یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی کا حامی ہونا جرم نہیں''۔''
‫یہی بات تمہارا باپ بھی نہیں سمجھ سکتا''۔ سیف الدین نے کہا۔ ''میں حیران ہوں کہ بہت سے لوگ صالح الدین ''
‫ایوبی کو فرشتہ سمجھتے ہیں‪ ،وہ عورت کے معاملے میں درندہ ہے‪ ،دمشق اور قاہرہ میں اس نے اپنا حرم تم جیسی سینکڑوں
‫لڑکیوں سے بھر رکھا ہے۔ ہر لڑکی تین چار مہینوں بعد اپنے ساالروں کے حوالے کردیتاہے۔ اس کی فوج جہاں حملہ کرتی ہے‪،
‫وہاں نہ مسلمان گھرانہ دیکھتی ہے‪ ،نہ غیرمسلم۔ ہر گھر کو لوٹتی اور ہر لڑکی کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ تم جیسی حسین
‫لڑکی اس سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ یہ میرا فرض ہے کہ تمہاری عزت کی حفاظت کروں‪ ،خواہ مجھے تمیں اپنے گھر
‫میں رکھنا پڑے''۔
‫میری حفاظت خدا کرے گا''۔ صاعقہ نے کہا۔ ''میں صرف یہ التجا کرنے آئی ہوں کہ مجھے تھوڑی سی دیر کے لیے ''
‫اپنے باپ سے ملنے کی اجازت دی جائے''۔
‫جب تک قاضی اسے سزا نہیں دیتا‪ ،اجازت نہیں دی جاسکتی''۔''
‫سزا کیا ہوگی؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
‫موت''۔''
‫صاعقہ کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے لڑکی کو اور زیادہ خوفزدہ کرنے کے لیے کہا۔ ''لیکن یہ موت اتنی آسان نہیں ہوگی کہ
‫تلوار سے سر تن سے جدا کردیا جائے گا۔ اسے آہستہ آہستہ اذیتیں دے دے کر مارا جائے گا۔ پہلے اس کی آنکھیں نکالی
‫جائیں گی پھر اس کا ایک ایک دانت زنبور سے کھینچ کر نکاال جائے گا پھر اس کے ہاتھوں اور پائوں کی انگلیاں کاٹی جائیں
‫گی اور پھر وہ زندہ ہی ہوگا تو اس کی کھال اتاری جائے گی''۔
‫لڑکی کا جسم بڑی زور سے کانپا۔ اس نے ہونٹ دانتوں میں دبا لیے اور اس کا رنگ پیال پڑ گیا۔ اس نے لرزتی ہوئی آواز میں
‫پوچھا۔ ''کیا آپ ان پر یہ رحم نہیں کرسکتے کہ ان کا سر تلوار سے کاٹ دیا جائے؟ اگر انہیں سزائے موت ہی دینی ہے تو
‫''ایک ثانیے میں انہیں کیوں نہیں ختم کردیتے؟
‫اگر تمہیں اپنی قیامت خیز جوانی پر رحم آجائے تو میں تمہارے باپ پر رحم کرسکتا ہوں''۔''
‫صاعقہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو سیف الدین نے کہا۔ ''باپ کے مرجانے کے بعد تم ایک عام سی اور غریب
‫سی لڑکی بن کے رہ جائو گی۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ تم میرے عقد میں آجائو جس سے تمہارے باپ کو بھی فائدہ پہنچے گا
‫''اور تمہاری حیثیت موصل کی ملکہ کی ہوجائے گی؟
‫اگر میرے باپ نے مجھے خودداری کی تعلیم نے دی ہوتی تو ملکہ بننا تو بہت بڑی بات ہے‪ ،میں آپ کے ساتھ ایک رات''
‫گزارنے پر بھی فخر محسوس کرتی''۔ صاعقہ نے کہا۔ ''میرا باپ میری عصمت کی حفاظت میں اپنی کھال ہنستے کھیلتے
‫اتروالے گا۔ یہ سودا میرے باپ کے ساتھ کریں۔ اس سے پوچھیں کہ تم جالد کے پاس جانا چاہتے ہو یا اپنی بیٹی کو میرے
‫پاس بھیجنا چاہتے ہو۔ میرا باپ یقینا ً یہ کہے گا… ''مجھے جالد کے حوالے کردو''… میں صرف یہ درخواست لے کر آئی
‫تھی کہ تھوڑی سی دیر کے لیے مجھے اپنے باپ سے ملنے دیا جائے۔ اب میں اپنی درخواست میں یہ اضافہ کرتی ہوں کہ
‫اس کے لیے میں کوئی سودا قبول نہیں کروں گی''۔
‫کیا تمہارا یہ فیصلہ ہے کہ تم میرے پاس نہیں آئو گی؟'' سیف الدین نے پوچھا۔''
‫اٹل فیصلہ'' ۔ صاعقہ نے جواب دیا۔ ''آپ موصل کے مالک ہیں۔ مجھے زبردستی اپنے حرم میں داخل کرلیں''۔''
‫میں نے ایسا جرم کبھی نہیں کیا''۔ سیف الدین نے کہا۔''
‫صاعقہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے دراصل مالقات کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ وہ تو یہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ اس کے باپ کے
‫ساتھ قید خانے میں کیا سلوک ہورہا ہے۔ وہ اسے قید خانے کے ایک عہدے دار سے معلوم ہوگیا تھا اور اسے یہ امید بھی
‫تھی کہ یہ عہدے دار اس کے باپ کو فرار میں مدد دے گا۔ اس نے سیف الدین کو سالم کیا اور چل پڑی۔ سیف الدین نے
‫اسے جاتے دیکھا تو بوال۔ ''ٹھہرو‪ ،یہ نہ کہنا کہ والئی موصل نے ایک لڑکی کی تمنا پوری نہیں کی تھی۔ تم آج رات اپنے
‫باپ سے مالقات کرنے کے لیے جاسکتی ہو۔ ایک آدمی تمہارے گھر آئے گا‪ ،وہ تمہیں اپنے ساتھ قید خانے میں لے جائے گا‪،

‫تم جتنی دیر چاہو اپنے باپ سے باتیں کرسکتی ہو''۔
‫صاعقہ شکریہ ادا کرکے چلی گئی۔ سیف الدین کے پیچھے ایک باڈی گارڈ کھڑا تھا۔ صاعقہ چلی گئی تو سیف الدین نے اپنے
‫باڈی گارڈ سے کہا۔ ''اتنا خوبصورت پرندہ پنجرے میں آنا چاہیے‪ ،میں نے اسے خوفزدہ کرنے کے لیے کہا تھا کہ اس کے
‫باپ کو کس طرح اذیتیں دے کر مارا جائے گا مگر لڑکی دل گردے کی پکی معلوم ہوتی ہے۔ جانتے ہو میں نے اسے کیوں کہا
‫''ہے کہ ایک آدمی تمہارے گھر آئے گا‪ ،وہ تمہیں قید خانے میں باپ سے مالقات کرانے لے جائے گا؟
‫کیا میں ابھی تک آپ کے اشارے سمجھنے کے قابل نہیں ہوا؟'' باڈی گارڈ نے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ التے ہوئے ''
‫کہا۔ ''وہ آدمی میں ہی ہوں گا جو اسے شام کے بعد گھر سے قید خانے لے جانے کے بہانے لے آئوں گا''۔
‫اور تم جانتے ہو کہ اسے کہاں لے جانا ہے؟'' سیف الدین نے پوچھا۔ ''اسے یہ شک نہیں ہوناچاہیے کہ میں نے اسے ''
‫اغوا کرایا ہے''۔
‫سب جانتا ہوں'' ۔ باڈی گارڈ نے کہا… ''یہ کام پہلی بار تو نہیں کررہا۔ میں اسے جن بھول بھلیوں سے گزار کر اور اس''
‫کی جو حالت کرکے آپ کے پاس پہنچائوں گا‪ ،اس سے وہ یہ سمجھے گی کہ دنیا میں آپ واحد انسان ہیں جو اس کے
‫محسن وغم خوار ہیں۔ آگے آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کے پرندے کو پنجرے میں کس طرح بند کرتے ہیں''۔
‫سیف الدین نے اپنے باڈی گارڈ کے کان میں کچھ کہا۔ باڈی گارڈ کی آنکھوں میں شیطان مسکرانے لگا۔ قیدخانے کا جو عہدے
‫دار صاعقہ کے پاس آیا اور اسے تسلی دے کر اور قرآن لے کر چال گیا تھا‪ ،رات کی ڈیوٹی پر تھا۔ شام کے بعد وہ قید خانے
‫میں داخل ہوا۔ دن کی ڈیوٹی والے کو رخصت کیا اور خطیب ابن المخدوم کی کوٹھڑی کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ ادھر ادھر دیکھ
‫کر اس نے قرآن خطیب کو دے کر کہا… ''اپنی بیٹی کے متعلق آپ کوئی غم نہ کریں۔ وہ ہر لحاظ سے مطمئن ہے۔ محفوظ
‫ہے اور خیریت سے ہے۔ اس نے مجھے ایک بات کہی ہے۔ دعا کریں کہ اللہ مجھے بچی کی تمنا پوری کرنے کی توفیق عطا
‫فرمائے''۔
‫وہ کیا بات ہے؟'' خطیب نے پوچھا۔''
‫عہدے دار نے ادھر ادھر دیکھا اور منہ سالخوں کے ساتھ لگا کر کہا… ''فرار… آپ میں اتنی ہمت ہے؟… میں مدد کروں
‫گا''۔
‫جس کام میں اللہ کی خوشنودی شامل ہو‪ ،اس کے لیے اللہ ہمت بھی دے دیتا ہے''۔ خطیب نے کہا۔ ''لیکن میں ''
‫تمہاری مدد سے فرار نہیں ہوں گا۔ اس کے بجائے یہاں مرجانا پسند کروں گا''۔
‫''کیوں؟'' عہدے دار نے حیران ہوکر پوچھا… ''کیا آپ مجھے گناہ گار سمجھ کر میری مدد قبول نہیں کرنا چاہتے؟''
‫نہیں'' ۔ خطیب نے جواب دیا۔ ''میں تمہاری مدد اس لیے قبول نہیں کرنا چاہتا کہ تم گناہ گار نہیں ہو۔ میں تو تمہاری ''
‫مدد سے یہاں سے نکل جائوں گا۔ تم پیچھے رہ جائو گے اور پکڑے جائو گے۔ میرے جرم کی اور تمہاری نیکی کی سزا تمہیں
‫ملے گی جو بہت ہی بھیانک ہوگی''۔
‫میں بھی آپ کے ساتھ ہی جائوں گا'' عہدے دار نے کہا… ''آپ کی کل رات کی باتوں نے یہاں سے میرا دل اچاٹ ''
‫کردیا ہے۔ میں صالح الدین ایوبی کی فوج میں جارہا ہوں۔ میں چونکہ قیدی نہیں‪ ،اس لیے آسانی سے فرار ہوسکتا ہوں لیکن
‫اب آپ کو ساتھ لے کے جائوں گا۔میرا اس دنیا میں کوئی نہیں۔ ویسے بھی میرے دل میں آگ ہے جو گزشتہ رات آپ کو
‫دکھائی تھی‪ ،اسی آگ کو سرد کرنا ہے''۔
‫ہاں''۔ خطیب نے کہا… ''میں اس صورت میں تمہاری مدد قبول کرسکتا ہوں''۔''
‫آپ کی بیٹی نے مجھے بتایا تھا کہ وہ والئی موصل کے پاس جارہی ہے''۔ عہدے دار نے کہا… ''وہ آپ سے مالقات ''
‫کی اجازت مانگے گی''۔
‫نہیں'' ۔ خطیب نے گھبرا کر کہا… ''اسے سیف الدین جیسے شیطان فطرت انسان کے پاس نہیں جانا چاہیے‪ ،تم اسے کہو''
‫کہ وہاں نہ جائے''۔
‫میں تو صبح جاسکوں گا''۔ عہدے دار نے کہا۔''
‫عہدے دار کوٹھڑی سے ہٹ کر چال گیا۔ خطیب نے قرآن کو چوما‪ ،پھر سینے سے لگا کر اپنے آپ سے کہا… ''اب میں اس
‫کال کوٹھڑی میں تنہا نہیں ہوں''۔ اس نے غالف اتارا اور دئیے کی روشنی میں بیٹھ کر قرآن کھوال۔ ورق الٹتے الٹتے قرآن
‫میں سے ایک کاغذ نکال۔ اس کی بیٹی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا… ''خدا ساتھ ہے‪ ،جنات موجود ہیں‪ ،پیغمبر برحق ہے۔
‫پیغمبر کا فرمان سنیں۔ ایمان تروتازہ ہے''۔ خطیب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے کاغذ کا یہ ٹکڑا دئیے کی لو
‫پر رکھا اور جالڈاال۔ وہ پیغام سمجھ گیا تھا۔ پیغمبر سے اس کی مراد قید خانے کا یہ عہدے دار تھا۔ وہ کہنا یہ چاہتی تھی
‫کہ یہ آدمی سچا معلوم ہوتا ہے۔ اس کی بات ( فرار) پر عمل کریں۔ ''جنات موجود ہیں'' سے مراد یہ تھی کہ صاعقہ
‫کی حفاظت کے لیے آدمی موجود ہیں۔
‫جس وقت خطیب یہ پیغام جال رہا تھا‪ ،اس وقت اس کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ صاعقہ نے دروازہ کھوال۔ اس کے
‫ہاتھ میں قندیل تھی۔ باہر جو آدمی کھڑا تھا‪ ،اسے اس نے پہچان لیا۔ وہ سیف الدین کا باڈی گارڈ تھا جو صاعقہ کی مالقات
‫کے وقت وہاں موجود تھا۔ اس نے صاعقہ سے کہا کہ وہ اسے باپ کی مالقات کے لیے قید خانے لے جانے آیا ہے اور وہ
‫اسے گھر واپس بھی الئے گا۔
‫صاعقہ تیار تھی۔ چلنے لگے تو باڈی گارڈ نے صاعقہ سے کہا… ''باپ کے ساتھ صرف خیرخیریت اور گھر کی باتیں کرنے کی
‫اجازت ہوگی۔ کوٹھڑی کی سالخوں سے تمہیں تین قدم دور کھڑا کیا جائے گا۔ کوئی ایسی بات نہ کرنا جو والئی موصل غازی
‫سیف الدین کے وقار کے خالف ہو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫باڈی گارڈ آگے آگے جارہا تھا۔ صاعقہ اس سے دو تین قدم پیچھے تھی۔ دونوں خاموشی سے چلے جارہے تھے‪ ،رات تاریک
‫تھی۔ وہ اندھیری گلیوں سے گزرتے جارہے تھے۔ وہ ایک گلی کا موڑ مڑے تو باڈی گارڈ رک گیا۔ اس نے پیچھے دیکھا۔ صاعقہ
‫''نے پوچھا… ''کیا بات ہے؟
‫تم نے اپنے پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ نہیں سنی تھی؟'' باڈی گارڈ نے اس سے پوچھا۔''
‫نہیں''۔ صاعقہ نے کہا… ''میں ہی تمہارے پیچھے پیچھے آرہی ہوں''۔''
‫میں نے کوئی اور آواز سنی تھی''۔ باڈی گارڈ نے زیرلب کہا اور آگے چل پڑا۔''
‫اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟'' صاعقہ نے پوچھا… ''کوئی اگر پیچھے سے آتا ہے تو آتا رہے''۔''

‫باڈی گارڈ نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہ گلی ختم ہوگئی۔ اس سے آگے آبادی نہیں تھی۔ زمین اونچی نیچی تھی۔ کھڈ نالے بھی
‫تھے۔ قید خانہ اسی طرف آبادی سے کچھ دور تھا۔ دونوں کھڈوں سے بچتے جارہے تھے‪ ،وہاں جھاڑیاں اور درخت تھے۔ باڈی
‫گارڈ ایک بار پھر رک گیا اور پیچھے کو دیکھا۔ اسے پیچھے آہٹ سنائی دی تھی۔ اس نے تلوار نکال لی اور پیچھے کو گیا۔
‫دو تین جھاڑیوں کے اردگرد گھوم کر دیکھا‪ ،وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
‫اب تم نے پیچھے کسی کے پائوں کی آواز سنی ہوگی''۔ باڈی گارڈ نے صاعقہ سے کہا۔ ''یہ آواز بڑی صاف تھی''۔''
‫صاعقہ نے یہ آہٹ سنی تھی لیکن اس نے جھوٹ بوال۔ کہنے لگی… ''تمہارے کان بجتے ہیں اگر یہ کسی کی آہٹ تھی ہی
‫''تو خرگوش یا کسی ایسے ہی جنگی جانور کی ہوگی۔ تم ان آہٹوں سے کیوں ڈرتے ہو؟
‫میں تمہیں جو بات کہنے سے جھجکتا تھا وہ اب کہہ دیتا ہوں''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا… ''تم بہت ہی خوبصورت اور''
‫جوان لڑکی ہو۔ تمہیں اپنی قیمت کا اندازہ نہیں۔ تمہیں کسی نے اغوا کرکے کسی امیر یا حاکم کے پاس بیچ ڈاال تو وہ ماال
‫مال ہوجائے گا۔ تم میری ذمہ داری میں ہو۔ کسی نے تمہیں مجھ سے چھین لیا تو والئی موصل میرا سرتن سے جدا کردے
‫گا۔ تم میرے ساتھ چلو‪ ،میرے پیچھے نہ رہو''۔
‫صاعقہ اس کے ساتھ ہوگئی۔ کچھ آگے جاکر پگڈنڈی شروع ہوتی تھی۔ وہ وہاں تک چلے گئے اور پگڈنڈی پر چلنے لگے۔ تھوڑا
‫آگے اس پگڈنڈی سے ایک اور راستہ نکلتا تھا جو کسی اور طرف جاتا تھا۔ باڈی گارڈ صاعقہ کو اس راستے پر لے گیا۔ چند
‫ہی قدم آگے گئے ہوں گے کہ انہیں کسی کے دوڑتے قدموں کی صاف آواز سنائی دی جو فورا ً ہی خاموش ہوگئی۔ کوئی پیچھے
‫سے دوڑتا آیا اور دائیں کو چال گیا۔ باڈی گارڈ نے ایک سایہ ایک درخت کے پیچھے غائب ہوتا دیکھ لیا تھا۔ وہ تلوار سونت
‫کر اس درخت کی طرف دوڑا۔ پیچھے اسے صاعقہ کی گھٹی ہوئی چیخ سنائی دی۔ کسی نے صاعقہ کے اوپر بوری کی طرح کا
‫تھیال ڈال دیا اور اس سے پہلے اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا تھا۔ باڈی گارڈ کو اندھیرے میں اتنا ہی نظر آیا کہ جہاں
‫صاعقہ اکیلی تھی‪ ،وہاں دو سائے اچھل کود رہے ہیں۔
‫وہ اس کی طرف دوڑنے ہی لگا تھا کہ عقب سے کسی نے اسے بازوئوں میں جکڑ لیا۔ اس کے بھی منہ میں کپڑا ٹھونس دیا
‫گیا اور اوپر بوری کی طرح کا تھیال اس پر چڑھا دیا گیا۔ وہ تنومند جنگجو تھا لیکن اسے جکڑنے والے تعداد میں زیادہ تھے
‫اور وہ بھی طاقتور اور اپنے فن کے استاد تھے۔ ادھر صاعقہ کو دوہرا کرکے تھیلے کا منہ بند کردیا گیا۔ ادھر باڈی گارڈ کو
‫اسی طرح تھیلے میں بند کردیا گیا۔ انہیں پکڑنے والے انہیں اٹھا کر چل پڑے۔ آگے جاکر ایک ایک تھیال پیٹھ پر اٹھا لیا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:14
‫قسط نمبر۔‪86‫جب سلطان ایوبی پریشان ہوگیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫آگے جاکر ایک ایک تھیال پیٹھ پر اٹھا لیا۔ اندھیرے میں پاس سے گزرنے والوں کو بھی شک نہیں ہوتا تھا کہ دو انسانوں کو
‫اغوا کرکے لے جایا جارہا ہے۔ وہ ایک اندھیری گلی میں چلے گئے اور کچھ
‫دور جاکر ایک تنگ وتاریک مکان میں داخل ہوگئے۔
‫اندر جاکر وہ صاعقہ کو ایک کمرے میں اور باڈی گارڈ کو دوسرے کمرے میں لے گئے۔ الگ الگ کمروں میں تھیلوں کے منہ
‫کھول دئیے گئے۔ صاعقہ تھیلے سے نکلی تو اس کے منہ میں سے کپڑا نکال دیا گیا۔ کمرے میں دیا جل رہا تھا۔ صاعقہ کو
‫''دو آدمی کھڑے نظر آئے۔ اس نے غصے سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا… ''تم نے یہ کیا طریقہ اختیار کیا ہے؟
‫محفوظ طریقہ یہی تھا''۔ کمرے میں کھڑے دو آدمیوں میں سے ایک نے جواب دیا… ''راستے میں کوئی بھی تمہیں ہمارے''
‫ساتھ چلتا دیکھ سکتا تھا۔ یہ ضروری تھا کہ تمہیں بھی چھپا کر الیا جائے''۔
‫مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ تم یہ طریقہ اختیار کرو گے''۔ صاعقہ نے پوچھا… ''میں تو یہ سمجھی تھی کہ یہ تم نہیں''
‫ہو‪ ،کوئی ڈاکو ہیں اور مجھے سچ مچ اغوا کیا جارہا ہے''۔
‫ہمارے طریقے کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں''۔ دوسرے آدمی نے کہا۔''
‫کیا تمہیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ مجھے کہیں اور لے جارہا تھا؟'' صاعقہ نے پوچھا۔''
‫یہ یقین تو ہمیں اسی وقت ہوگیا تھا جب تم اس کے ساتھ گھر سے نکلی تھیں''۔ ایک آدمی نے جواب دیا… ''اگر وہ ''
‫تمہیں واقعی قید خانے میں لے جارہا تھا تو چھوٹا اور سیدھا راستہ دوسری طرف تھا۔ وہ کھڈنالوں کے ویرانے میں تمہیں لے
‫گیا اور پگڈنڈی سے ہٹ کر ایک راستے پر چل پڑا۔ ہمیں پختہ یقین ہوگیا کہ وہ تمہیں کہیں اور لے جارہا ہے''۔
‫اس نے کئی بار تمہارے قدموں کی آہٹ سنی تھی''۔ صاعقہ نے کہا… ''ایسی بے احتیاطی نہیں کرنی چاہیے''۔''
‫اندھیرے میں فاصلے کا اندازہ نہیں ہوتا تھا''۔ اسے بتایا گیا۔ ''ہم تم دونوں کے تعاقب میں دور نہیں تھے‪ ،دور تک نظر ''
‫نہیں آتا تھا‪ ،اس لیے تمہارے قریب رہنا ضروری تھا''۔
‫صاعقہ کے چہرے پر اطمینان تھا۔ وہ باڈی گارڈ کے ہاتھوں الپتہ اور ذلیل وخوار ہونے سے بال بال بچ گئی تھی۔ دوسرے
‫کمرے میں باڈی گارڈ کو تھیلے میں سے نکال کر اس کے منہ سے کپڑا نکاال گیا۔ اس کے سامنے تین نقاب پوش کھڑے تھے۔
‫اس کی تلوار انہی نقاب پوشوں کے پاس تھی۔
‫کون ہو تم؟'' اس نے بڑے رعب سے نقاب پوشوں سے کہا… ''میں والئی موصل کا خصوصی محافظ ہوں۔ تم سب کو ''
‫سزائے موت دالئوں گا۔ مجھے جانے دو''۔
‫والئی موصل کی حفاظت اب خدا ہی کرے تو کرے''… ایک نقاب پوش نے کہا… ''تم اپنی حفاظت کی فکر کرو۔ اس ''
‫''لڑکی کو تم کہاں لے جارہے تھے؟
‫قید خانے میں اس کے باپ سے مالقات کرانے لے جارہا تھا''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا… ''یادرکھو جس لڑکی کو تم نے''
‫اغوا کیا ہے اسے تم ہضم نہیں کرسکو گے۔ یہ خطیب ابن المخدوم کی بیٹی ہے اور والئی موصل غازی سیف الدین نے اپنا
‫خصوصی محافظ اس کے لیے بھیجا تھا۔ اس سے تم اندازہ کرسکتے ہو کہ یہ لڑکی الپتہ ہوگئی تو والئی موصل شہر کے گھر
‫گھر کی تالشی لے گا۔ تم شہر سے نکل نہیں سکو گے۔ تھوڑی دیر بعد غازی سیف الدین کو پتہ چل جائے گا کہ اس کا
‫''محافظ اور خطیب کی بیٹی الپتہ ہیں۔ شہر کی ناکہ بندی فورا ً کردی جائے گی۔ لڑکی کہا ں ہے؟
‫سنو دوست!'' ایک نقاب پوش نے کہا… ''لڑکی یہیں ہے۔ اسے اغوا نہیں کیا گیا۔ اسے اغوا ہونے سے بچایا گیا ہے۔ ''
‫ہم جانتے ہیں کہ والئی موصل سیف الدین کے لیے یہ لڑکی اہم ہے اور وہ اس کی تالش میں اپنی پوری فوج لگا دے گا
‫کیونکہ لڑکی خوبصورت اور نوجوان ہے اور اس کا باپ قید خانے میں بند ہے۔ وہ سیف الدین کو دھتکار آئی تھی پھر اس نے

‫لڑکی کو مالقات کے لیے اجازت دے دی اور کہا کہ اسے ایک آدمی اپنے ساتھ قید خانے میں لے جائے گا۔ مالقات کا وقت
‫رات کا رکھا گیا۔ تم بتا سکتے ہو کہ مالقات دن کو کیوں نہ کرائی گئی؟ لڑکی نے ہمیں بتایا۔ ہم نے اس کی حفاظت کا
‫انتظام کرلیا۔ تم اسے گھر سے ہی غلط راستے پر لے چلے تو ہم تمہارے تعاقب میں چل پڑے۔ تم نے دو تین بار رک کر
‫پیچھے دیکھا تھا۔ وہ ہم ہی تھے۔ تم نے جنہیں جھاڑیوں میں تالش کرنے کی کوشش کی تھی‪ ،وہ بھی ہم ہی تھے۔ ہم تو
‫دن کی روشنی میں بھی کسی کو نظر نہیں آتے''۔
‫تم نے اس لڑکی پر ظلم کیا ہے''۔ باڈی گارڈ نے کہا… ''میں اسے اس کے باپ کے پاس لے جارہا تھا''۔''
‫تم اسے اغوا کرکے لے جارہے تھے''۔ ایک نقاب پوش نے تلوار کی نوک اس کی شہ رک پررکھ کر ذرا سی دبائی اور ''
‫کہا… ''تم اسے سیف الدین کے لیے لے جارہے تھے۔ ہم جانتے ہیں تمہارا والئی موصل کتنا کچھ رحم دل ہے جس نے
‫خطیب تک کو قید کرنے سے گریز نہ کیا اور اب اس کی بیٹی کو مالقات کی اجازت دے رہا ہے۔ تم اچھی طرح جانتے ہو
‫کہ محترم خطیب کا جرم ہے مگر تم یہ نہیں جانتے کہ یہ عالم موصل میں تنہا نہیں۔ وہ قید خانے میں ہے اور اس کی
‫بیٹی تنہا نہیں۔ میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ ہم سیف الدین کا تختہ الٹ دیں گے۔ اس کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ ہم
‫اسے کسی بھی وقت قتل کرسکتے ہیں لیکن صالح الدین ایوبی نے ہمیں سختی سے حکم دے رکھا ہے کہ کسی کو حسن بن
‫صباح کے فدائیوں کی طرح قتل نہ کرنا۔ ہم میدان میں للکارتے اور قتل کرتے ہیں''۔
‫تم صالح الدین ایوبی کے آدمی ہو؟'' باڈی گارڈ نے پوچھا۔''
‫ہاں!'' نقاب پوش نے جواب دیا…''ہم جانباز دستے کے سپاہی ہیں''… اس نے تلوار کی نوک اس کی شہ رگ پر ''
‫اورزیادہ دبائی تو باڈی گارڈ کی پیٹھ دیوار کے ساتھ جالگی۔ نقاب پوش نے کہا… ''تم سیف الدین کے خصوصی محافظ ہو اور
‫ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہو۔ تم اس کے راز دان ہو۔ لڑکیاں اغوا کرکے اسے دیتے ہو۔ پوری تفصیل سے بتائو کہ سلطان
‫ایوبی کے خالف اس کے ارادے کیا ہیں‪ ،اگر بتانے سے انکار کرو گے یا کہو گے کہ تمہیں کچھ علم نہیں تو تمہارا حال وہی
‫کیا جائے گا جو سیف الدین قید خانے میں اپنے مخالفین کا کرتاہے''۔
‫اگر تم سپاہی ہو تو اچھی طرح جانتے ہوگے کہ حاکم اور بادشاہ کے سامنے ایک محافظ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی''۔ ''
‫باڈی گارڈ نے جواب دیا… ''میں اس کے ارادوں کے متعلق کیا بتا سکتا ہوں''۔
‫ایک نقاب پوش نے اس کا سرننگا کرکے اس کے بال مٹھی میں لے کر مروڑے اور جھٹکا دے کر اسے ایک طرف جھکا دیا۔
‫دوسرے نے اسے ٹانگوں سے گھسیٹ کر گرا دیا۔ ایک نقاب پوش اس کے پیٹ پر کھڑا ہوگیا۔ وہ دو تین بار اس کے پیٹ پر
‫اچھال تو باڈی گارڈ کے دانت بجنے لگے۔ پھر اسے مختلف اذیتوں کا ذرا ذرا ذائقہ چکھایا گیا اور اسے کہا گیا کہ وہ وہاں
‫سے زندہ نہیں نکل سکے گا۔
‫مجھے اٹھنے دو''۔ اس نے کراہتے ہوئے کہا۔''
‫اسے اٹھایا گیا۔ اس نے کہا… ''سیف الدین سلطان ایوبی کے خالف لڑنا چاہتا ہے''۔
‫یہ کوئی راز نہیں''۔ ایک نقاب پوش نے کہا۔ ''ہمیں بتائو وہ کب اور کس طرح لڑنا چاہتا ہے۔ کیا وہ حلب اور حرن ''
‫کی فوجوں کے ساتھ اپنی فوج شامل کرے گا یا الگ لڑے گا''۔
‫فوج دوسری فوجوں میں شامل کرے گا''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا… ''لیکن ایسی چال چلے گا کہ اس کی فوج کی فتح''
‫الگ تھلگ نظر آئے۔ حلب اور حرن والوں پر اسے بھروسہ نہیں''۔
‫اپنے ساالروں کو اس نے کیا ہدایات دی ہیں؟'' ایک نقاب پوش نے پوچھا۔''
‫اس کا منصوبہ یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی کو پہاڑی عالقے میں محصور کرلیا جائے''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا۔''
‫''صلیبی کتنی مدد دے رہے ہیں؟''
‫صلیبیوں نے مدد کا وعدہ کیا ہے''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا۔ ''لیکن سیف الدین انہیں بھی دھوکہ دے گا۔ صلیبی فوج ''
‫کے چند ایک کمانڈر موصل کی فوج کو تربیت دے رہے ہیں''۔
‫یہ نقاب پوش اور دو آدمی جو دوسرے کمرے میں صاعقہ کے ساتھ تھے‪ ،سلطان ایوبی کے چھاپہ مار جاسوس تھے۔ ان کا
‫رابطہ خطیب ابن المخدوم کے ساتھ تھا بلکہ خطیب ان کا نگران اور سربراہ تھا۔ یہ گروہ سلطان ایوبی کے لیے آنکھوں اور
‫کانوں کا کام کرتا تھا۔ موصل سے جو بھی اطالع وہ حاصل کرتے تھے۔ سلطان ایوبی کے جنگی ہیڈکوارٹر کو بھیج دیتے تھے۔
‫موصل میں وہ مختلف کام دھندا‪ ،مالزمت اور دکان داری کرتے تھے۔ خطیب قید ہوگیا تو یہ رات کو باری باری خطیب کے گھر
‫کا پہرہ دیتے تھے۔ ان لڑکیوں نے جو صاعقہ کے گھر اسے تنہا سمجھ کر سونے آئی تھیں‪ ،انہی کے سائے حرکت کرتے
‫دیکھے تھے۔ صاعقہ نے ان لڑکیوں کو یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ سائے نہیں انسان ہیں۔ اس نے ایسا تاثر دیا تھا جیسے یہ
‫جنات ہیں۔ ان آدمیوں کو معلوم تھا کہ صاعقہ سیف الدین کے پاس باپ سے مالقات کی اجازت لینے گئی ہے۔ واپس آکر اس
‫نے ان میں سے ایک آدمی کو بتا دیا تھا کہ رات کو ایک آدمی اسے قید خانے میں لے جانے کے لیے آئے گا۔ اس نے یہ
‫بھی بتا دیا تھا کہ سیف الدین نے اس کے ساتھ ناروا باتیں کیں اور اسے اپنے عقد میں لینے کی پیشکش کی تھی۔
‫اس آدمی نے اپنے گروہ کو بتایا۔ یہ سب بہت ذہین تھے‪ ،انہیں شک ہوا کہ صاعقہ کو کسی اور طرف لے جا کر اسے غائب
‫کردیا جائے گا۔ چنانچہ سورج غروب ہونے کے بعد پانچ آدمی صاعقہ کے گھر میں جاکر چھپ گئے تھے۔ صاعقہ باڈی گارڈ کے
‫ساتھ گئی تو یہ آدمی ان کے تعاقب میں چل پڑے۔ آگے جاکر ان کا شک صحیح ثابت ہوا۔ انہوں نے کامیابی سے صاعقہ کو
‫بچالیا اور باڈی گارڈ کو بھی پکڑ الئے جو سیف الدین کا راز دان تھا۔ انہوں نے فوجی اہمیت کے بہت سے راز اگلوا لیے۔ ان
‫میں یہ راز اہم تھا کہ سیف الدین کے بھائی عزالدین نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصے کو اپنی کمان میں
‫رکھا ہے۔ یہ حصہ محفوظہ کے طور پر استعمال ہوگا‪ ،یعنی اسے بعد میں ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ پہلے
‫حملے کی قیادت سیف الدین کو کرنی تھی۔ دوسری اہم بات جو معلوم ہوئی وہ یہ تھی کہ حلب سے گمشتگین اور سیف
‫الدین کے ہاں ایلچی یہ پیغام لے کر گئے ہیں کہ تینوں فوجوں کو مشترکہ کمان میں رکھا جائے اور صلیبیوں کی مدد پر زیادہ
‫بھروسہ نہ کیا جائے۔ باقی معلومات بھی اہم تھیں۔
‫باڈی گارڈ نے یہ معلومات اگل کر کہا کہ اسے رہا کردیا جائے۔ نقاب پوشوں نے اسے رہائی کے وعدے پر ٹال دیا۔ صاعقہ کو
‫اسی کمرے میں رہنے دیا گیا۔ اس کے گھر رکھنا مناسب نہیں تھا۔ باڈی گارڈ کو اس مکان کی ایک اندھیری کوٹھڑی میں بند
‫کردیا گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫حرن اور حلب سے تقریبا ً پچاس میل دور صلیبی فوج کا جنگی ہیڈ کوارٹر تھا جہاں زیادہ سرگرمیاں جاسوسی کے متعلق تھیں‪،

‫وہاں جو صلیبی حکمران اور کمانڈر تھے۔ وہ سلطان ایوبی کے خالف کھلی جنگ لڑنے کے بجائے اس کے مسلمان مخالفین کو
‫متحد کرکے اس کے خالف لڑانے کی سکیمیں بنا رہے تھے اور ان پر عمل بھی کررہے تھے۔ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ انہوں
‫نے مسلمانوں کے بڑے بڑے امراء کو اپنے فوجی مشیر دے رکھے تھے جو انہیں جنگی مشورے دینے کے عالوہ فوجوں کو جنگی
‫تربیت بھی دیتے تھے۔ اپنی اصل نیت پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے وہ مسلمان امراء کو عیش وعشرت کا سامان بھی مہیا
‫کرتے رہتے تھے۔ ان کے جاسوس بھی ان امراء کے درباروں میں موجود رہتے اور اپنے ہیڈکوارٹر کو خبریں بھیجتے رہتے تھے۔
‫حرن سے گمشتگین کا ایک صلیبی مشیر اپنے اس جنگی ہیڈکوارٹر میں پہنچا۔ اس وقت صلیبی کے دو مشہور جنگجو حکمران
‫ریمانڈ اوریجنالٹ وہاں موجود تھے۔ ریمانڈ وہ حکمران تھا جسے حال ہی میں سلطان ایوبی نے ایک بروقت اور برق رفتار چال
‫چل کر بھگا دیا تھا ور یجنالٹ وہ مشہور صلیبی حکمران تھا جسے نورالدین زنگی نے ایک معرکے میں جنگی قیدی بنا لیا
‫تھا۔ اسے اور دیگر صلیبی قیدیوں کو حرن میں گمشتگین کے حوالے کردیا گیا تھا۔ اس وقت گمشتگین خالفت بغداد کا ایک
‫قلعہ دار تھا۔ز نگی فوت ہوگیا تو اس قلعہ دار نے خودمختاری کا اعالن کردیا اور صلیبیوں کے ساتھ دوستی گہری کرنے کے
‫لیے ریجنالٹ جیسے قیمتی قیدی کو تمام صلیبی قیدیوں سمیت رہا کردیا… نورالدین زنگی نے کہا تھا کہ ریجنالٹ کے عوض وہ
‫صلیبیوں سے اپنی شرطیں منوائے گا۔ زنگی مرگیا تو امراء نے عیاشی اور حکومت کے نشے میں اس کے تمام تر منصوبے الٹ
‫کردئیے اور صلیبی سلطنت اسالمیہ کی بنیادوں پر اترنا شروع ہوگئے۔
‫حرن سے صلیبی مشیر جو دراصل جاسوس تھا۔ ریمانڈ اور ریجنالٹ کے پاس پہنچا اور حرن کے تازہ واقعات کی تفصیلی رپورٹ
‫دی۔ اس نے کہا۔ ''حلب سے الملک الصالح نے گمشتگین اور سیف الدین کو تحفوں کے ساتھ پیغام بھیجے ہیں کہ وہ اپنی
‫فوجیں اس کی فوج کے ساتھ مشترکہ کمان میں دے دیں۔ وہاں یہ عجیب واقعہ ہوا ہے کہ گمشتگین کے دو ساالروں نے حرن
‫کے قاضی کو قتل کردیا اور دو لڑکیوں کو جو حلب سے الملک الصالح نے پیغام کے ساتھ تحفے کے طور پر بھیجی تھیں‪ ،بھگا
‫دیا پھر انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کے حامی ہیں اور وہ اسی کے لیے زمین ہموار کررہے تھے۔ یہ
‫دونوں ساالر سگے بھائی ہیں اور ہندوستان سے آئے ہیں۔ دونوں کو گمشتگین نے قید خانے میں ڈال دیا ہے۔ اس سے ایک ہی
‫روز پہلے ہمارا ایک ساتھی مشیر گمشتگین کے گھر میں ایک دعوت کے دوران پراسرار طریقے سے قتل ہوگیا ہے۔ اگلے دن
‫معلوم ہوا کہ گمشتگین کے حرم کی ایک لڑکی اور اس کا ایک باڈی گارڈ الپتہ ہیں''۔
‫صلیبیوں کی اس کانفرنس میں قہقہہ بلند ہوا اور کچھ دیر تک سب ہنستے رہے۔ ریمانڈ نے کہا۔ ''یہ مسلمان قوم اس قدر
‫جنسیت پسند ہوگئی ہے کہ اس کے حکمران‪ ،امراء اور وزراء جنگ اور سیاست کے فیصلے بھی جنسی لذت پرستی سے مغلوب
‫اعلی کمان جن دو ساالروں کے پاس
‫ہوکر کرتے ہیں۔ ذرا غور کرو کہ گمشتگین جیسے جابر اور جنگجو قلعہ دار کی فوج کی
‫ٰ
‫تھی وہ دونوں اس کے دشمن صالح الدین ایوبی کے کیمپ کے ساالر تھے۔ مجھے یقین ہے کہ ان دونوں نے تحفے میں آئی
‫ہوئی لڑکیوں کی خاطر قاضی کو قتل کیاہوگا اور لڑکیوں کو صالح الدین ایوبی کے پاس بھیج دیا ہوگا اور خود قید ہوگئے۔
‫گمشتگین کے حرم کی جو لڑکی الپتہ ہوگئی ہے وہ اس محافظ نے بھگائی ہوگی اور ہمارا آدمی معلوم نہیں کس چکر میں قتل
‫ہوگیا۔ مسلمان امرائ‪ ،قلعہ داروں اور حاکموں کی مقید دنیا بڑی ہی پراسرار دنیا ہے۔ میں آپ کو یقین دالتا ہوں کہ یہ قوم
‫عیش وعشرت اور لذت پرستی سے تباہ ہوگی''۔
‫میں دو باتیں کہوں گا''۔ ایک اور صلیبی نے کہا۔ یہ صلیبی اپنی افواج کی انٹیلی جنس کا سربراہ تھا۔ اس نے کہا۔ ''
‫''آپ نے کہا ہے کہ تحفے میں آئی ہوئی لڑکیاں حرن سے بھگا کر صالح الدین ایوبی کے پاس بھیج دی گئی ہوں گی۔
‫میں یہ تسلیم نہیں کرتا۔ میں جاسوسی کا ماہر ہوں‪ ،دشمن کے فوجی راز حاصل کرنے کے عالوہ میرے شعبے کا کام یہ بھی
‫اعلی حکام کے ذاتی کردار اور جنگی چالوں کے متعلق بھی معلومات حاصل کرے
‫ہوتا ہے کہ دشمن کے فوجی قائدین اور دیگر
‫ٰ
‫اور اپنی فوج کو آگاہ کرے۔ میں آپ کو پورے وثوق سے بتاتا ہوں کہ عورت اور شراب کے معاملے میں صالح الدین ایوبی
‫پتھر ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ آپ اسے زہر دے کر نہیں امار سکتے‪ ،نہ اسے کسی حسین لڑکی کے جال میں پھانس کر
‫فدائیوں سے قتل کراسکتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت کا اٹل اصول ہے کہ جو انسان ذہنی عیاشی کا عادی نہ ہو‪ ،اس کا عزم
‫پختہ ہوتا ہے اور جو مہم ہاتھ میں لیتا ہے‪ ،اسے سر کرکے ہی دم لیتا ہے۔ آپ کے دشمن صالح الدین ایوبی میں یہی خوبی
‫ہے۔ یہ اسی کا اثر ہے کہ اس کا دماغ پورا کام کرتا ہے۔ وہ ایسی ایسی چالیں چلتا ہے جو آپ کے وہم وگمان میں بھی
‫نہیں ہوتی اور آپ کے پائوں اکھڑ جاتے ہیں‪ ،جہاں تک میں نے اس کے متعلق معلومات حاصل کی ہیں‪ ،ان سے معلوم
‫ہوتاہے کہ وہ جسمانی ضروریات سے بے نیاز ہے۔ اس نے یہی خوبی اپنی فوج میں پیدا کررکھی ہے‪ ،ورنہ صحرا میں لڑنے
‫والے سپاہی برف پوش وادیوں میں اور پہاڑوں پر اس یخ موسم میں کبھی نہ لڑ سکتے۔ جب تک آپ اپنے ہاں بھی یہی
‫خوبی پیدا نہیں کریں گے‪ ،اپنے اس دشمن کو جسے آپ صالح الدین ایوبی کہتے ہیں‪ ،کبھی شکست نہیں دے سکتے''۔
‫اوردوسری بات یہ ہے کہ دوسرے مسلمان امرائ‪ ،وزراء اور حکمرانوں میں جو زن پرستی پیدا ہوگئی ہے‪ ،وہ میرے شعبے کا ''
‫کمال ہے۔ یہودی دانشوروں نے ایک صدی سے زیادہ عرصے سے مسلمانوں کی کردار کشی کی مہم چال رکھی ہے۔ یہ دراصل
‫ان کی کامیابی ہے کہ ہم نے لڑکیوں اور زروجواہرات کے ذریعے مسلمان سربراہوں کا کردار ختم کیا ہے۔ ہم تو انہیں اخالقی
‫لحاظ سے تباہ کرنے کے لیے حسین اور تیز طرار لڑکیاں باقاعدہ تربیت کے ساتھ ان کے ہاں تحفے کے طور پے بھیجتے ہیں۔
‫ان بدبختوں نے آپس میں بھی لڑکیوں کو بطور تحفہ بھیجنا شروع کردیا ہے۔ ان کے ہاں قومی کردار ختم ہوچکا ہے۔ یہ ہماری
‫کامیابی ہے کہ ہم نے ان کے درمیان تفرقہ اور بادشاہی کا اللچ پیدا کردیا ہے''۔
‫اس قوم کو ہم اسی طرح ختم کریں گے''۔ ریجنالٹ نے کہا ۔ ''اور یہ قوم اپنے کردار کے ہاتھوں تباہ ہوگی۔ صالح ''
‫الدین ایوبی خوش ہورہاہوگا کہ اس نے ہمارے بھائی ریمانڈ کو پسپا کر دیا ہے ۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ ریمانڈ جنگ سے پسپا
‫ہوا ہے ۔ یہ تو اس کی کی قوم کے سینے میں گھس گیا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم میدان میں ہی شکست دیں‪ ،ہم کسی
‫دوسرے محاذ پر بھی لڑ سکتے ہیں ''۔
‫اس مہم کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے''۔ اس مشیر نے کہا جو حرن سے آیاتھا۔ ''میں نے آپ کو گمشتگین کے ''
‫اندرون خانہ کے واقعات سنائے ہیں۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہاں صالح الدین ایوبی کے جاسوس اور تخریب کار صرف
‫اعلی کمان میں پوری طرح سرگرم ہیں۔ ہمیں ان کے خالف کوئی
‫موجود ہی نہیں بلکہ گمشتگین کے گھر کے اندر اس کی
‫ٰ
‫کاروائی کرنی چاہیے''۔
‫ہمیں کیا ضرورت ہے کہ گمشتگین اور سیف الدین اور الملک الصالح اور ان کے متحدہ محاذ کے دوسرے امراء وغیرہ کو ''
‫صالح الدین ایوبی کی جاسوسی اور تباہ کاری سے بچائیں''۔ ایک صلیبی کمانڈر نے کہا… ''ہم تو ان کی تباہی کے عمل کو
‫تیز کریں گے۔ یہ تباہی ہمارے ہاتھوں ہو یا ان کے اپنے ہی کسی بھائی کے ہاتھوں‪ ،کیا آپ ان مسلمانوں کو صالح الدین

‫ایوبی کے خالف لڑا رہے ہیں‪ ،سچے دل سے اپنا دوست سمجھ بیٹھے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ
‫سچے صلیبی نہیں۔ آپ شاید ابھی تک یہ نہیں سمجھے کہ ہماری دشمنی نورالدین زنگی کے ساتھ نہیں تھی‪ ،نہ ہی صالح
‫الدین ایوبی کے ساتھ۔ اگر صالح الدین ایوبی کبھی میرے سامنے آگیا تو میں اس کا احترام کروں گا۔ وہ جنگجو ہے‪ ،میدان
‫جنگ کا بادشاہ ہے‪ ،تیغ زن ہے‪ ،ہماری دشمنی اس مذہب کے خالف ہے‪ ،جسے اسالم کہتے ہیں۔ ہم ہر اس آدمی کے خالف
‫لڑیں گے جو اس مذہب کا دفاع کرے گاا ور جو اسے فروغ دے گا‪ ،ہمارے اور صالح الدین ایوبی کے مرنے کے بعد یہ جنگ
‫ختم نہیں ہوجائے گی۔ اسی لیے ہم مسلمانوں میں ایسی بری عادتیں پیدا کررہے ہیں جو ان کی آئندہ نسلوں میں بھی منتقل
‫ہوں گی۔ ہم ایسے طریقے اختیار کررہے ہیں کہ مسلمان اپنی روایات کو بھول جائیں اور ہماری پیدا کردہ خوبیوں کے دلدادہ
‫ہوجائیں''۔
‫ہمیں ان کے اصل تہذیب وتمدن کو بگاڑنا ہے''۔ ریمانڈ نے کہا۔ ''ہم اس دور میں زندہ نہیں ہوں گے۔ ہم دیکھ نہیں ''
‫سکیں گے۔ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ ہم نے کردار کی تباہ کاری کی مہم جاری رکھی تو وہ دور آئے گا کہ اسالم اگر
‫زندہ رہا تو یہ اسالم کی بدروح ہوگی جو بھٹکتی پھرے گی۔ مسلمان نام کے مسلمان ہوں گے۔ ان کی کوئی آزاد اسالمی
‫مملکت رہ بھی گئی تو وہ گناہوں اور بدی کا گھر ہوگی۔ یہودی اور عیسائی دانشوروں نے اس قوم میں بدی کی محبت پیدا
‫کردی ہے''۔
‫بہرحال اب ضرورت یہ ہے کہ وہ لوگ ہماری مدد کی توقع لیے بیٹھے ہیں''۔ صلیبی مشیر نے کہا۔ ''گمشتگین نے ''
‫مجھے اسی لیے بھیجا ہے''۔
‫بہت دیر اس مسئلے پر تبادلۂ خیاالت ہوتا رہا۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ فوجوں کی صورت میں انہیں کوئی مدد نہ دی جائے۔ مدد
‫کا جھانسہ دیا جائے۔ انہیں یہ یقین دالیا جائے کہ وہ صالح الدین ایوبی پر حملہ کرکے اسے الرستان کے اندر ہی لڑاتے رہیں
‫اور ہم اپنی فوجیں اس کے کسی نازک مقام پر لے جا کر اسے مجبور کردیں گے کہ وہ الرستان سے پسپا ہوجائے۔ یہ فیصلہ
‫بھی کیا گیا کہ حلب‪ ،حرن اور موصل کی فوجوں کے لیے اس مشیر کے ہمراہ کمانوں اور تیروں کا اور آتش گیر مادے کا
‫ذخیرہ بھیج دیا جائے۔ اس کے عالوہ پانچ سو گھوڑے بھی بھیج دئیے جائیں لیکن یہ خیال رکھا جائے کہ زیادہ تعداد ایسے
‫گھوڑوں کی ہو جو ہماری فوج کے کام کے نہیں رہے۔ بظاہر تندرست ہوں۔
‫اور آئندہ یوں کیا جائے کہ ان امراء وغیرہ کو تھوڑا تھوڑا اسلحہ دیا جاتا رہے''۔ ریجنالٹ نے کہا۔ ''اس کے ساتھ ساتھ ''
‫انہیں عیاشی کی طرف مائل کیا جائے۔ انہیں یہ تاثر دیا جائے کہ انہیں جب کبھی اسلحہ اور گھوڑوں کی ضرورت ہوگی‪ ،وہ
‫ہم پوری کردیں گے۔ اس طرح وہ خود اپنی ضرورت پوری کرنے سے غافل ہوجائیں گے اور ہماری محتاج رہیں گے۔ اس مددسے
‫اور اپنے مشیروں کی سے ہم ان کے دلوں اور دماغوں پر غالب آجائیں گے''۔
‫انتہائی ضروری بات تو رہ گئی ہے ''۔ ایک کمانڈر نے کہا ۔ '' شیخ سنان کے بھیجے ہوئے نو فدائی چلے گئے ''
‫ہیں ۔ اب کے اُمید ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کو قتل کردیں گے۔ وہ جو حلف اُٹھا کر گئے ہیں اس میں انہوں نے یہ بھی
‫کہا ہے کہ و ہ جان پر کھیل کر اُسے قتل کریں گے ورنہ وہ زندہ واپس نہیں آئیں گے''۔
‫اسی روز پانچ سو گھوڑے‪ ،ہزار ہا کمانیں اور الکھوں تیر اور آتش گیر مادے کے سربمہر مٹکے حلب کو اس پیغام کے ساتھ
‫روانہ کردئیے گئے کہ اس ٹھوس مدد کا سلسلہ جاری رہے گا اور صالح الدین ایوبی پر فورا ً حملہ کردیا جائے۔ سلطان صالح
‫الدین ایوبی اپنے ہیڈکوارٹر میں بٹھا تھا۔ اس کے پاس سب سے پہلے انطانون اور فاطمہ پہنچے۔ فاطمہ گمشتگین کے حرم کی
‫وہ لڑکی تھی جس نے ایک صلیبی مشیر کو قتل کیا اور انطانون نام کے محافظ کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ انطانون سلطان
‫ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس تھا جو جذبات سے مغلوب ہوگیا تھا‪ ،اسی لیے وہ گرفتار ہوا تھا۔ یہ تو ساالر شمس الدین اور
‫ساالر شاد بخت کی بدولت تھا کہ اسے دھوکے سے بھگا دیا گیا تھا۔ سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کا سربراہ حسن بن
‫عبداللہ تھا جو انطانون اور فاطمہ کو سالح الدین ایوبی کے پاس لے گیا تھا۔ انطانون نے اپنی واردات من وعن سنا دی جو
‫سلطان ایوبی کو پسند نہ آئی لیکن اسے اس لیے معاف کردیا گیا کہ وہ کامیابی سے گمشتگین کے محافظ دستے میں شامل
‫ہوگیا تھا۔ اس نے دوسرا کارنامہ یہ کیا تھا کہ اس نے فاطمہ کے ساتھ تعلقات پیدا کرکے حرم تک رسائی حاصل کرلی تھی۔
‫سلطان ایوبی نے انطانون کے متعلق حکم دیا کہ اسے فوج میں بھیج دیا جائے کیونکہ جاسوسی کے نازک کام کے لیے اس کے
‫جذبات پختہ نہیں ہیں۔ فاطمہ کو دمشق بھیج دینے کا حکم دیاگیا۔
‫میں انطانون کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں''۔ فاطمہ نے کہا۔''
‫ایسا ہی ہوگا''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''لیکن شادی دمشق میں ہوگی۔ میدان جنگ شہادت کے لیے ہے‪ ،شادی کے لیے ''
‫نہیں''۔
‫سلطان محترم!'' انطانون نے کہا۔ ''میں نے آپ کو ناراض کیا ہے۔ میں اپنے لیے یہ سزا تجویز کرتا ہوں کہ میں جب ''
‫تک سلطان کو خوش نہ کرلوں‪ ،میں شادی نہیں کروں گا''۔ اس نے فاطمہ سے کہا ''تم سلطان کے حکم کے مطابق دمشق
‫چلی جائو۔ وہاں تمہارے رہنے کا اچھا انتظام ہے۔ تمہاری شادی میرے ساتھ ہی ہوگی''۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا۔
‫''میری یہ عرض مانی جائے کہ میں آپ کے کسی چھاپہ مار دستے میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے شب خون مارنے کی
‫تربیت حاصل کررکھی ہے''۔
‫اسے ایک چھاپہ مار دستے میں بھیج دیا گیا۔ وہاں سے رخصت ہوتے وقت اس نے فاطمہ کی طرف دیکھا بھی نہیں۔دوسرے
‫دن جب فاطمہ کو دمشق بھیجا جانے لگا تو وہ لڑکیاں پہنچ گئیں جو الملک الصالح نے گمشتگین کو تحفے کے طور پر بھیجی
‫تھیں۔ ان کے ساتھ ساالر شمس الدین اور شاد بخت کے بھیجے ہوئے دو آدمی تھے۔ انہوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ حرن
‫میں کیا ہورہا ہے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ دونوں ساالروں کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ لڑکیوں نے سلطان ایوبی کو اپنی کہانی
‫سنائی۔
‫کیا آپ کو معلوم ہے کہ فلسطین کے مسلمان آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں؟'' ایک لڑکی نے کہا۔ ''وہاں کی لڑکیاں آپ ''
‫کے گیت گاتی ہیں۔ مسجدوں میں آپ کی دعائیں مانگی جاتی ہیں''۔ اس نے پوری تفصیل سے سنایا کہ مقبوضہ عالقوں میں
‫صلیبیوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کررکھا ہے ارو ان کے لیے دنیا جہنم بنا ڈالی ہے۔
‫وہاں ہماری بچیوں کی نہیں‪ ،ہماری عظمت کی عصمت دری ہورہی ہے''۔ دوسری لڑکی نے کہا۔ ''میں تو یہ کہوں گی ''
‫کہ قوم کی عظمت کی عصمت دری ہمارے اپنے حکمران کررہے ہیں۔ ہمیں ان کے پاس تحفے کے طور پر بھیجا گیا ہے۔ ہم
‫نے انہیں خدا کے واسطے دئیے اور بتایا کہ ہم ان کی بیٹیاں ہیں مگر انہوں نے ایک نہ سنی۔ انہوں نے ہمیں ایک دوسرے
‫کی طرف تحفے کے طور پر بھیجنا شروع کردیا''۔

‫فلسطین کے راستے میں بھی وہی حائل ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''میں گھر سے فلسطین پہنچنے کے لیے ہی نکال ''
‫تھا مگر میرے بھائی میرا راستہ روک کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ تم اب محفوظ ہو۔ ایک لڑکی پہلے بھی یہاں آئی ہے‪ ،اسے دمشق
‫بھیجا جارہا ہے‪ ،تم بھی اسی کے ساتھ دمشق جارہی ہو''۔
‫ہم اپنی عصمت کا انتقام لینا چاہتی ہیں''۔ ایک لڑکی نے کہا۔ ''ہمیں یہیں رکھا جائے اور ہمیں کوئی فرض سونپا جائے۔''
‫ہم اب کسی حرم میں یا کسی گھر میں قید نہیں ہونا چاہتیں''۔
‫ابھی ہم زندہ ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''تم دمشق چلی جائو۔ وہاں تمہیں کوئی قید نہیں کرے گا‪ ،وہاں لڑکیاں کئی ''
‫اور طریقوں سے ہماری مدد کررہی ہیں‪ ،وہاں تمہیں کوئی فرض سونپ دیا جائے گا''۔
‫لڑکیوں کو رخصت کرکے سلطان ایوبی بے چینی سے ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔ اس وقت حسن بن عبداللہ اس کے ساتھ تھا۔
‫سلطان ایوبی نے کہا ۔ ''مصر سے ابھی کمک نہیں پہنچی‪ ،اگر تینوں فوجیں ہم پر حملے کے لیے آگئیں تو ہمارے لیے
‫مشکل پیدا ہوجائے گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کو معلوم نہیں کہ میرے پاس فوج کم ہے اور میں کمک کا انتظار کررہا ہوں
‫اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو میں فورا ً حملہ کردیتا اور دشمن کی کمک اور رسد کا راستہ بھی روک لیتا''۔
‫مصر سے کمک آہی رہی ہوگی''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''محترم العادل ایسے تو نہیں کہ وقت ضائع کریں گے۔ ''
‫مجھے یہ بھی یقین ہے کہ دشمن نے ہماری کمک کا راستہ روکا ہوا نہیں''۔
‫تمام مورخ لکھتے ہیں کہ اس موقع پر سلطان ایوبی بڑی نازک اور پرخطر صورتحال میں تھا۔ وہ مصر سے کمک کا انتظار
‫کررہا تھا اگر اس وقت الملک الصالح‪ ،سیف الدین اور گمشتگین کی مشترکہ فوج اس پر حملہ کردیتی تو اسے آسانی سے
‫شکست دی جاسکتی تھی کیونکہ اس کے پاس فوج تھوڑی تھی۔ پہاڑی عالقے میں وہ صحرا کی چالیں نہیں چل سکتا تھا
‫لیکن اس کے دشمن نہ جانے کیا سوچتے رہے۔ صلیبی اس پر حملہ کرنے کے بجائے مسلمان امراء کو اس کے خالف لڑانا
‫چاہتے تھے۔ انہوں نے بھی نہ دیکھا کہ سلطان ایوبی مجبوری کی حالت میں بیٹھا اللہ سے دعائیں مانگ رہا ہے کہ اس
‫حالت میں دشمن اس پر ہال نہ بول دے۔ وہ تو اس قابل بھی نہیں تھا کہ پانی کی اس ندی کی حفاظت کرسکتا جس سے
‫اس کی فوج کے گھوڑے اور اونٹ پانی پیتے تھے۔ صلیبی یا اس کے مسلمان دشمن اگر عقل سے کام لیتے تو چھاپہ ماروں
‫کے ذریعے اس کی کمک اور رسد کا راستہ روک سکتے تھے یا کمک کی رفتار سست کرسکتے تھے۔ سلطان ایوبی نے اس
‫راستے کو گشتی چھاپہ ماروں کے ذریعے محفوظ رکھا ہوا تھا۔
‫قاضی بہائوالدین شداد جو اس وقت کا عینی شاہد اور مبصر ہے‪ ،اپنی یادداشتوں ''سلطان یوسف (صالح الدین ایوبی) پر کیا
‫افتاد پڑی'' میں لکھتا ہے۔ '' اگر خدا انہیں ( دشمنوں) کو فتح دینا چاہتا تو وہ سلطان ایوبی پر اس وقت حملہ کردیتے مگر
‫خدا جسے ذلیل کرنا چاہتا ہے‪ ،وہ ذلیل ہوکے رہتا ہے۔ (قرآن ‪)٤٣/٨۔ انہوں نے سلطان ایوبی کو اتنا وقت دے دیا کہ مصر
‫سے کمک پہنچ گئی۔ سلطان نے اسے اپنی فوج میں مدغم کرکے اپنی مورچہ بندی کو نئی ترتیب دے لی اور حملے سے
‫پہلے اس نے تمام تر گھوڑوں کو پانی پالیا اور پانی کا ذخیرہ بھی کرلیا''۔
‫سلطان ایوبی کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ رات کو سوتا بھی نہیں تھا۔ اس نے جہاں جہاں اپنی مختصر سی فوج مورچہ
‫بند کررکھی تھی‪ ،وہاں جاتا‪ ،غور کرتا اور اپنی سکیم کے مطابق یقین کرلیتا تھا کہ اس کے یہ تھوڑے سے سپاہی دشمن کا
‫قرون حماة میں جہاں ایک پہاڑی سینگوں کی طرح دو حصوں میں بٹ جاتی تھی‪ ،اس نے دشمن کے
‫حملہ روک لیں گے۔
‫ِ
‫لیے پھندا تیار رکھا ہوا تھا مگر اس کا مسئلہ یہ تھا کہ اس جگہ اتنی تھوڑی نفری سے وہ صرف دفاعی جنگ لڑ سکتا تھا۔
‫جوابی حملہ جو جنگ کا پانسہ پلٹنے کے لیے ضروری ہوتا ہے ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے جاسوسوں نے اسے یہ بھی
‫بتا دیا تھا کہ صلیبی کوشش کریں گے کہ مسلمان امراء کو سلطان ایوبی کے خالف اس طرح لڑایا جائے کہ جنگ طول پکڑ
‫جائے تاکہ سلطان ایوبی پہاڑی عالقے سے باہر نہ نکل سے اور محصور ہوکر دفاعی جنگ لڑتا لڑتا ختم ہوجائے۔
‫اس کے جاسوس اسے یہ نہیں بتا سکے تھے کہ نو فدائی اسے قتل کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ اس کی نظر اپنی جان پر نہیں
‫میدان جنگ پر تھی۔ اس نے دیکھ بھال کے لیے دور دور تک آدمی پھیال رکھے تھے۔
‫اس سے دوسرے ہی دن حرن سے سلطان ایوبی کا ایک جاسوس آیا جس نے اطالع دی کہ ساالر شمس الدین اور ساالر شاد
‫بخت کو قید خانے میں ڈال دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے قاضی ابن الخاشب کو قتل کردیا ہے۔ جاسوس کو قتل کی وجہ کا
‫علم نہیں تھا۔ سلطان ایوبی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ان دونوں بھائیوں کے ساتھ اس نے بہت سی امیدیں وابستہ کررکھی
‫تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ گمشتگین کی فوج کی کمان ان دونوں کے ہاتھ ہوگی اور ان کی فوج لڑے بغیر تتر بتر کردی جائے
‫گی۔ جاسوس نے یہ اطالع بھی دی کہ اب میدان جنگ میں فوج کی کمان گمشتگین خود کرے گا اور یہ بھی کہ وہ اپنی
‫فوج مشترکہ کمان میں دے رہا ہے۔
‫حسن بن عبداللہ!'' سلطان ایوبی نے کہا۔ ''یہ دونوں بھائی زیادہ دن قید میں نہ رہیں۔ اس آدمی (جاسوس) سے معلوم''
‫کرو کہ حرن میں اپنے کتنے آدمی ہیں اور کیا وہ ان دونوں ساالروں کو قید خانے سے فرار کراسکتے ہیں؟ مجھے ڈر ہے کہ
‫ان دونوں کوگ مشتگین قتل کرادے گا۔ اسے پتہ چل گیا ہوگا کہ یہ دونوں ساالر میرے جاسوس ہیں۔ میں انتظار نہیں کرسکتا
‫کہ حرن کو جاکر محاصرے میں لوں اور قلعہ سر کرکے انہیں رہا کروائوں۔ پیشتر اس کے کہ گمشتگین کوئی اوچھا فیصلہ
‫کربیٹھے‪ ،انہیں اس کے قید خانے سے آزاد کرائو۔ میں دو ساالروں کے لیے اپنے دو سو چھاپہ ماروں کو مروانے کے لیے تیار
‫ہوں۔ حرن میں اپنے آدمیوں کی کمی ہو تو یہاں سے چھاپہ مار بھیجو''۔
‫بندوبست ہوجائے گا''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔''
‫٭ ٭ ٭
‫حلب چونکہ سلطان ایوبی کے مخالفین کا مرکز بن گیا تھا‪ ،اس لیے صلیبیوں نے جو تیروکمان‪ ،آتش گیر مادے کے مٹکے اور
‫گھوڑے مدد کے طور پر بھیجے تھے‪ ،وہ حلب لے جائے گئے۔ حلب والوں میں صلیبیوں نے یہ خوبی بھی دیکھی تھی کہ انہوں
‫نے سلطان ایوبی کے محاصرے کا مقابلہ بڑے ہی بے جگری سے کیا تھا۔ اس کے عالوہ حلب سلطنت کی گدی بھی بن گیا
‫تھا۔ صلیبی مشیروں نے موصل میں سیف الدین کو اور حرن میں گمشتگین کو پیغام بھیجے کہ ان کی مشترکہ فوج کے لیے
‫مدد آگئی ہے اور وہ فورا ً حلب میں آجائیں۔ مورخین کے مطابق ان کی مالقات حلب شہر سے باہر ایک ہرے بھرے مقام پر
‫ہوئی جہاں تینوں میں ایسا معاہدہ ہوا جو تحریر میں نہ الیا گیا۔ معاہدے کو آخری شکل صلیبی مشیروں نے دی۔
‫اس وقت موصل کے قید خانے میں خطیب ابن المخدوم حسب معمول دئیے کی روشنی میں بیٹھا قرآن پڑھ رہا تھا۔ اس کی
‫بیٹی صاعقہ اسی مکان کے ایک کمرے میں تھی جہاں اسے تھیلے میں ڈال کر لے جایا گیا تھا‪ ،جس باڈی گارڈ کو اس کے
‫ساتھ پکڑا گیا تھا‪ ،وہ دوسرے کمرے میں بند تھا۔ اس مکان میں ان کے صرف دو آدمی تھے جو صاعقہ اور باڈی گارڈ کو اٹھا

‫الئے تھے۔ ان کے باقی ساتھی قید خانے کی دیوار باہر کی طرف لگے کھڑے تھے۔ دیوار کا باالئی حصہ قلعے کی دیوار کی
‫طرح تھا جس میں مورچے سے بنے ہوئے تھے۔ دیوار پر سنتری گھوم پھر رہے تھے۔ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی‪ ،وہ عہدے
‫دار جس نے خطیب کو فرار کرانے کا وعدہ کیا تھا‪ ،دیوار پر چال گیا۔ وہ سنتریوں کو دیکھتا پھر رہا تھا۔ اس نے اس دیوار
‫والے سنتری کو جس کے نیچے آدمی کھڑے تھے‪ ،بالیا اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
‫اس نے کوئی اشارہ کیا۔ نیچے چھپے ہوئے آدمیوں نے رسہ اوپر پھینکا۔ اسے کا سرا ایک مضبوط ڈنڈے کے درمیان بندھا ہوا
‫تھا اور ڈنڈے پر کپڑے لپیٹ دئیے گئے تھے تاکہ اوپر دیوار پر گر کر زیادہ آواز نہ پیدا کرے۔ ڈنڈا اوپر جاکر اٹک گیا۔ ایک تو
‫اندھیرا تھا‪ ،دوسرے عہدے دار سنتری کو دور لے گیا تھا۔ چار آدمی رسے کے ذریعے اوپر چڑھ گئے۔ یہی رسہ اوپر کھینچ کر
‫اندر کی طرف نیچے گرا دیا گیا۔ چاروں نے خنجر نکال کر اپنے اپنے منہ میں پکڑ لیے اور رسے سے نیچے اتر گئے۔ انہیں
‫عہدے دار نے اندر کا نقشہ سمجھا رکھا تھا۔ اندر کچھ روشنی تھی۔ کہیں کہیں مشعلیں جل رہی تھیں۔ کوٹھڑی کی ایک قطار
‫کے آگے برآمدہ تھا جس میں ایک سنتری ٹہل رہا تھا۔ یہ چاروں چھپ گئے۔ سنتری ان کی طرف آیا تو ایک آدمی نے کہا۔
‫'' ادھر آنا بھائی'' ۔ وہ جونہی ادھر گیا‪ ،دو آدمیوں کی گرفت میں آگیا۔ دل پر خنجر کے دو وار کام کرگئے۔
‫چاروں آدمی چھپ چھپ کر آگے بڑھ رہے تھے۔ ایک خاصا آگے تھا۔ باقی تین بکھر کر چھپتے چھپاتے اس کے پیچھے جارہے
‫تھے۔ قید خانے کے اس حصے میں پہنچ گئے جو گوالئی میں تھا۔ خطیب کی کوٹھڑی اسی حصے میں تھی۔ آگے جانے واال
‫آدمی اس کوٹھڑی تک پہنچ گیا۔ خطیب نے دروازے کی طرف دیکھا۔ اس نے قرآن بند کیا اور اٹھ کر دروازے کی طرف آیا۔
‫اس آدمی کے ہاتھ میں بڑی سی ایک چابی تھی۔ یہ عہدے دار نے ایک لوہار سے بنوائی تھی۔ اسے قید خانے کی چابیوں
‫سے پوری طرح واقفیت تھی۔ اس آدمی نے تالے میں چابی لگائی تو تاال کھل گیا۔ د وسرے لمحے خطیب کوٹھڑی سے باہر
‫تھا۔ وہ واپس چل پڑے۔
‫دوڑتے قدموں کی آہٹ سنائی دی اور یہ آواز… ''ٹھہر جا‪ ،کون ہے؟''… ادھر سے اسے کہا گیا… ''بھاگ کے آئو دوست''۔
‫یہ آواز اندھیرے سے ابھری تھی۔ وہ جوں ہی اس جگہ پہنچا ایک خنجر اس کے دل میں اتر گیا۔ وہ آگے کو جھکا تو اس
‫کی پیٹھ کی طرف سے ایک اور خنجر اس کے دل تک جا پہنچا۔ خطیب کو رسے تک لے آئے۔ سب سے پہلے ایک آدمی
‫اوپر چڑھا‪ ،پھر خطیب اوپر آیا۔ عہدے دار نے سنتری کو ابھی تک کہیں دور باتوں میں الجھا رکھا تھا۔ وہ سب اوپر آئے پھر
‫رسہ کھینچ کر باہر کی طرف پھینکا اور سب نیچے اتر گئے۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:14
‫قسط نمبر۔‪87‫جب سلطان ایوبی پریشان ہوگیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫وہ سب اوپر آئے پھر رسہ کھینچ کر باہر کی طرف پھینکا اور سب نیچے اتر گئے۔ عہدے دار کو قید خانے کے باہرسے ایک
‫گیڈر کے بولنے کی آواز سنائی دی۔ اس نے سنتری کو دوسری طرف بھیج دیا اور خود وہاں آیا جہاں رسہ لٹک رہا تھا۔ وہ
‫تیزی سے رسہ اتر گیا۔
‫یہ سب اس مکان میں چلے گئے جہاں صاعقہ اور باڈی گارڈ تھے۔ اپنے باپ کو دیکھ کر صاعقہ کے جذبات بے قابو ہوگئے۔
‫جب صبح طلوع ہوئی تو موصل سے میلوں دور چار گھوڑے جارہے تھے۔ ایک پر خطیب سوار تھا‪ ،دوسرے پر صاعقہ‪ ،تیسرے پر
‫قید خانے کا عہدے دار اور چوتھے پر ایک اور آدمی۔ یہ آدمی سلطان ایوبی کے جاسوسوں میں سے تھا۔ وہ باڈی گارڈ کو پکڑ
‫کر النے والی پارٹی میں بھی تھا۔ اس نے باڈی گارڈ سے بڑے قیمتی راز اگلوائے تھے۔ وہ جب موصل سے بہت دور پہنچ گئے
‫تھے‪ ،اس وقت باڈی گارڈ کی الش اسی مکان میں کہیں دفن کی جاچکی تھی۔ رات کو جب یہ پارٹی فرار ہوئی تھی‪ ،باڈی
‫گارڈ کو قتل کردیا گیا تھا۔
‫اس وقت قید خانے میں بھی قیامت بپا ہوچکی تھی۔ اندر دو سنتریوں کی الشیں پڑی تھیں۔ خطیب غائب تھا۔ عہدے دار کا
‫بھی کسی کو علم نہ تھا کہ کہاں چال گیا ہے اور دیوار کے ساتھ باہر کی طرف ایک رسہ لٹک رہا تھا۔ والئی موصل کے ہاں
‫تو ایک روز پہلے سے ہی یہ قیامت بپا ہوچکی تھی کہ سیف الدین نے یہ حکم دے دیا تھا کہ اس کا باڈی گارڈ صاعقہ کو
‫قید خانے کے بہانے کسی اور جگہ لے جانے اور اس تک پہنچانے کے لیے گیا تھا لیکن لڑکی اتنی خوبصورت تھی کہ باڈی
‫گارڈ کی نیت خراب ہوگئی اور وہ اسے کہیں بھگا لے گیا۔ یہ تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ باڈی گارڈ کو لڑکی سمیت
‫پکڑ لیا گیا ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫حرن کے قید خانے میں ساالر شمس الدین اور شادبخت قید تھے۔ سلطان ایوبی نے حکم دے دیا تھا کہ انہیں وہاں سے نکالنے
‫کا بندوبست کیا جائے لیکن انہوں نے حرن میں اپنا جوگروہ تیار کررکھا تھا‪ ،وہ پہلے ہی بندوبست کرچکا تھا۔ ان ساالروں نے
‫فوج اور انتظامیہ کی ہر سطح پر ایک دو آدمی داخل کررکھے تھے۔ ساالروں کے فرار میں دشواری یہ تھی کہ انہیں قید خانے
‫کے تہہ خانے میں رکھا گیا تھا۔ وہاں سے نکالنے کے لیے کوئی خصوصی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت تھی۔ خدا نے ان کی
‫اعلی حکام‪ ،مشیروں اور محافظوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگا۔ شمس
‫مدد کی۔ گمشتگین کو حلب سے بالوا آگیا اور وہ اپنے
‫ٰ
‫الدین اور شادبخت کی گرفتاری کے متعلق صرف گمشتگین کے قریبی حلقوں کو علم تھا۔ قاضی کے قتل کو بھی شہرت نہیں
‫اعلی کمانڈروں کو قید خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔
‫دی گئی تھی۔ فوج تک کو ابھی معلوم نہ تھا کہ ان کے دو
‫ٰ
‫گمشتگین کے جانے کے ایک روز بعد قید خانے کے داروغہ نے دیکھا کہ تین گھوڑ سوار گھوڑے دوڑاتے آرہے ہیں۔ وہ گرد سے
‫باہر آئے تو اس نے دیکھا کہ ان کے ساتھ دو گھوڑے خالی ہیں۔ دن کا وقت تھا۔ گھوڑے قید خانے کے دروازے پر آکر رک
‫اعلی کے ساتھ ہوتا تھا۔ ان
‫گئے۔ ایک سوار نے حرن کی فوج کا جھنڈا بھی اٹھا رکھا تھا۔ یہ جھنڈا میدان جنگ میں ساالر
‫ٰ
‫سواروں میں ایک کمان دار تھا اور
‫دوسرے دو سوار سپاہی تھے۔ وہ محافظ دستے کے معلوم ہوتے تھے۔ قید خانے کا داروغہ جو بڑے دروازے کی سالخوں میں
‫سے دیکھ رہا تھا۔ اس کمان دار کو جانتا تھا‪ ،وہ باہر آگیا۔ کمان دار سے پوچھا کہ وہ کیوں آئے ہیں؟
‫بادشاہوں کے حکم نرالے ہوتے ہیں''… کمان دار نے کہا… ''شراب کے نشے میں ان ساالروں کو قید میں ڈال دیا جن کے''
‫بغیر فوج ایک قدم نہیں چل سکتی۔ اب حکم مال ہے کہ دونوں کو قید خانے سے نکاال جائے''۔
‫آپ دونوں ساالروں کو لینے آئے ہیں؟''… داروغہ نے پوچھا۔''
‫ہاں!'' کمان دار نے کہا… ''انہیں جلدی لے جانا ہے''۔''

‫آپ کے پاس قلعہ دار امیر گمشتگین کا تحریری حکم نامہ ہے؟''… داروغہ نے کہا… ''وہ تو کہیں باہر چلے گئے ہیں''۔''
‫میں وہیں سے آیاہوں''… کمان دار نے کہا… ''میں رات کو ہی آگیا تھا‪ ،انہیں اب تحریری حکم نامہ جاری کرنے کا ہوش''
‫نہیں رہا۔ ہماری فوج حلب اور موصل کی فوجوں کے ساتھ مل کر سلطان ایوبی پر حملہ کرنے جارہی ہے۔ اگر ہم نے وقت
‫ضائع کردیا تو ایوبی حملہ کردے گا۔ خطرہ بڑھ گیا ہے۔ گمشتگین اسی سلسلے میں حلب گیاہے۔ اسے جو خطرہ نظر آرہا ہے‪،
‫اس نے اس کے ہوش ٹھکانے کردئیے ہیں۔ اسے احساس ہوگیاہے کہ ان دو ساالروں کے بغیر وہ لڑ نہیں سکے گا۔ اس نے
‫مجھے حلب کے راستے پر واپس دوڑا دیا کہ ان دونوں کو ان کے جھنڈے کے ساتھ پورے اعزاز سے الئو۔ اسی حکم کے تحت
‫ہم ان کا جھنڈا اور گھوڑے الئے ہیں''۔
‫داروغہ اسے اندر لے گیا۔ دونوں سپاہی بھی ساتھ چلے گئے۔ وہ تہہ خانے میں گئے۔ ساالر دو مختلف کوٹھڑیوں میں بند تھے۔
‫پہلے ایک ساالر کو نکاالگیا۔ کمان دار نے اسے فوجی انداز سے سالم کرکے کہا… ''امیر حرن گمشتگین نے آپ کی رہائی کا
‫حکم بھیجا ہے۔ آپ کا گھوڑا اور آپ کا ذاتی محافظ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ کے لیے حکم ہے کہ تیار ہوکر فورا ً حلب
‫پہنچیں''۔
‫معلوم ہوتا ہے شراب کا نشہ اتر گیا ہے''… ساالر نے کہا۔''
‫میری حیثیت ایسی نہیں کہ آپ کی رائے کی تائید یا تردید کرسکوں''… کمان دار نے کہا… ''میرا کام حکم پہنچانے اور ''
‫آپ کے ساتھ جانے تک محدود ہے''۔
‫داروغہ نے ان کی باتیں غور سے سنیں۔ اسے یقین ہوگیا کہ یہ کوئی گڑ بڑ نہیں لیکن دوسرے ساالر کو نکالنے لگے تو داروغہ
‫کو شک ہوگیا۔ اس ساالر نے کمان دار کو دیکھا تو جذبات سے مغلوب ہوکر بوال… ''تم آگئے؟ سب ٹھیک ہے؟''… اس نے
‫داروغہ کی موجودگی کو نظر انداز کردیا تھا۔ داروغہ اناڑی نہیں تھا۔ اس کی عمر قید خانے میں گزری تھی۔ اس نے کوٹھڑی
‫کا تاال کھول دیا تھا۔ دروازہ کھلنا باقی تھا۔ اس نے تاال پھر چڑھا دیا اور بوال۔ ''تحریری حکم نامہ کے بغیر میں انہیں رہا
‫نہیں کروں گا''۔
‫کمان دار نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور اس سے چابی چھین لی۔ دو سپاہی جو ساالروں کے باڈی گارڈ بن کے آئے تھے‪،
‫داروغہ کی پیٹھ کے ساتھ لگ گئے۔ دونوں نے خنجر نکال کر ان کی نوکیں اس کی پیٹھ پر رکھ دیں۔ کمان دار نے اسے
‫سرگوشی میں کہا… ''تم سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار جانبازوں کے قبضے میں ہو۔ تم جانتے ہو سلطان ایوبی کے
‫چھاپہ مار کیا کیا کرتے ہیں۔ اونچی آواز نہ نکلے''۔
‫کمان دار نے دروازہ کھوال۔ داروغہ کو دھکیل کر اس طرح کوٹھڑی میں لے گئے کہ قریب سے گزرنے والوں کو بھی شک نہیں
‫ہوسکتا تھا کہ یہاں کوئی جرم ہورہا ہے۔ اندر لے جا کر اسے سالخوں والے دروازے سے پرے کرلیا گیا۔ ایک سپاہی نے بڑی
‫تیزی سے ایک رسی جو بمشکل پون گز لمبی تھی‪ ،اس کی گردن کے گرد لپیٹ کر رسی کو مروڑا اور دو تین جھٹکے دئیے۔
‫داروغہ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔ وہ ٹھنڈا ہوگیا تو اسے پتھر کے اس چوڑے بنچ پر ڈال دیا گیا جس پر قیدی سویا کرتے
‫تھے۔ الش پر کمبل ڈال دیا گیا۔ اس ساالر نے بے موقع جذباتی ہوکر یہ مشکل پیدا کردی تھی۔
‫ان لوگوں نے باہر نکل کر دروازے پر تاال چڑھا دیا اور چابی اپنے ساتھ لے گئے۔ باہر کے دروازے کی چابیاں داروغہ کے پاس
‫تھیں۔ وہ بھی اس سے چھین لی گئی تھیں۔ یہ پارٹی وہاں سے چلی۔ تہہ خانے سے اوپر آئی تو نیچے کے سنتری نے جاکر
‫خالی کوٹھڑیوں کو دیکھنا چاہا۔ وہ دور سے دیکھ رہا تھا کہ قید خانے کا داروغہ دو قیدیوں کو رہا کررہا تھا۔ سنتری یہ دیکھ
‫کر حیران رہ گیا کہ اس نے دونوں قیدی ساالروں کو باہر جاتے دیکھا ہے لیکن ایک کوٹھڑی میں ایک قیدی پڑا ہے۔ اس پر
‫چونکہ کمبل پڑا تھا‪ ،اس لیے وہ پہچان نہ سکا کہ وہ کون ہے۔ دوسری کوٹھڑی خالی تھی۔ اس نے کمبل میں لپٹے ہوئے
‫قیدی کو آوازیں دیں مگر وہ نہ بوال۔ دروازہ مقفل تھا۔ سنتری نے سالخوں میں سے برچھی اندر کی۔ اس کی نوک قیدی تک
‫پہنچ گئی۔ اس نے نوک قیدی کو چبھوئی۔ وہ پھر بھی نہ اٹھا۔ برچھی سے اس نے کمبل ہٹا کر اس کا چہرہ ننگا کردیا۔ یہ
‫دیکھ کر گھبرا گیا کہ وہ تو قید خانے کا داروغہ تھا۔ آنکھوں اور چہرے سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ مرا ہوا ہے۔
‫اس نے وہیں سے چالنا شروع کردیا… ''خبردار‪ ،خبردار‪ ،قیدی نکل گئے''… وہ اوپر کو دوڑا۔ اس کی پکار پر نقارہ بجنے لگا۔
‫یہ االرم تھا۔ اس وقت فرار ہونے والی پارٹی بڑے دروازے پر پہنچ گئی تھی۔ سنتری دوڑا آرہا تھا۔ بڑے گیٹ کی چابیاں کمان
‫دار کے پاس تھیں۔ انہوں نے قدم تیز کردئیے اور اندرونی تالے کو چابی لگائی۔ سنتری نے دور سے کہا… ''انہیں روک لو۔
‫داروغہ کوٹھڑی میں مرے ہوئے ہیں''۔
‫نقارے کی آواز پر قید خانے کے تمام سنتری اپنی اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے۔ باہر کی گارڈ دوڑی آئی۔ دروازہ کھول دیا گیا
‫چونکہ یہ خطرے کا االرم تھا۔ اس لیے باہر سے آنے والی گارڈ کی نفری ٹریننگ کے مطابق بہت تیزی سے دروازے میں داخل
‫ہوئی۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہوا کرتا تھا کہ قیدیوں نے بغاوت کردی ہوگی یا کہیں آگ لگ گئی ہوگی۔ وہ سنتری جو چیختا
‫چالتا آرہا تھا‪ ،باہر سے آنے والی گارڈ کے سیالب میں گم ہوگیا۔ اس ہڑ بونگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے والے باہر
‫نکل گئے۔ گھوڑے باہر کھڑے تھے۔ وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے لیکن گھوڑے گھوم کر چلے تو کسی نے انہیں للکارا… ''رک
‫جائو‪ ،مارے جائو گے''… انہوں نے گھوڑوں کو ایڑی لگادی۔ پیچھے سے ایک ہی بار تیروں کی بوچھاڑ آئی۔ دوتیر کمان دار کی
‫پیٹھ میں اتر گئے اور ایک تیر ایک ساالر کے گھوڑے کے پیچھے حصے میں لگا۔ کمان دار نے جسم میں دو تیر لے کر بھی
‫اپنے آپ کو سنبھالے رکھا۔ ساالر شمس الدین کا گھوڑا تیر کھا کر بدکا۔ شمس الدین نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی اور
‫اسے کمان دار کے گھوڑے کے قریب لے جاکر اس کے گھوڑے پر کود گیا۔ کمان دار آگے کو جھک گیا۔ شمس الدین نے اس
‫کے ہاتھ سے باگیں لے لیں۔ پیچھے سے اور تیر آئے لیکن گھوڑوں کی رفتار اچھی تھی‪ ،زد سے نکل گئے۔
‫انہوں نے پیچھے دیکھا‪ ،قید خانہ دور رہ گیا تھا لیکن دس بارہ گھوڑ سوار ان کے تعاقب میں گھوڑے دوڑا چکے تھے۔ آگے
‫عالقہ کھال تھا۔ آبادی دوسری طرف تھی۔ فرار ہونے والوں نے گھوڑوں کو انتہائی رفتار پر ڈال دیا۔ ان کے پاس ہتھیاروں کی
‫کمی تھی۔ دونوں ساالر نہتے تھے۔ کمان شہید ہورہا تھا۔ وہ مقابلہ کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔ آگے چٹانیں اور ٹیلے آگئے۔
‫ایک ساالر نے کہا… ''بکھر جائو‪ ،اکیلے اکیلے ہوجائو''… وہ منجھے ہوئے سوار تھے۔ تعاقب کرنے والے ابھی دور تھے۔ انہوں
‫نے دیکھا کہ فرار ہونے والے ایک دوسرے سے دور دور ہوکر چٹانوں میں غائب ہوگئے ہیں۔ وہ سست پڑ گئے اور نکلنے والے
‫نکل گئے۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:15
‫قسط نمبر‪88
‫گناہوں کا کفارہ

‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اس وقت حلب کے باہر تینوں مسلمانوں امراء کی جو کانفرنس منعقد ہوئی تھی برخاست ہوئی۔ انہوں نے سلطان پرحملے کا
‫پالن بنا لیا تھا۔ زیادہ تر عقل صلیبی مشیروں کی استعمال کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی طے کیا تھا کہ تینوں فوجوں کی
‫ترتیب کیا ہوگی۔ حملے کے لیے گمشتگین کی فوج کو آگے رکھنا تھا۔ اس کے پہلوئوں کی حفاظت کی ذمہ داری حلب کی
‫فوج کی تھی اور پہلے حملے کے بعد دوسرا حملہ جو سلطان صالح الدین ایوبی کے جوابی حملے کو روکنے کے لیے کرنا تھا‪،
‫سیف الدین کے سپرد کیا گیا تھا۔ سیف الدین نے اس متحدہ محاذ کو یہ دھوکہ دیا کہ وہ اپنی فوج کا ایک حصہ اپنے بھائی
‫عزالدین مسعود کی کمان میں چھوڑ آیا تھا۔ مشترکہ کمان کو اس نے یہ بتایا تھا کہ یہ محفوظ ہے جسے وہ ہنگامی حاالت
‫میں استعمال کرے گا مگر اپنے بھائی کو اس نے کہا تھا کہ وہ حلب اور حرن کی فوجوں کی کیفیت دیکھ کر آگے آئے اگر
‫جنگ کی حالت ہمارے خالف ہوگئی تو محفوظہ کو موصل کے دفاع میں استعمال کیا جائے اور اگر جوابی حملے میں شریک
‫ہونا ہی پڑا تو یہ شرکت ایسی ہو کہ موصل کاا ور اپنے مفاد کا زیادہ خیال رکھا جائے۔
‫ماہ رمضان شروع ہوچکا تھا۔ ان تینوں فوجوں میں اعالن کردیا گیا تھا کہ جنگ کے دوران روزے کی کوئی پابندی نہیں۔ تین
‫چار روز بعد تینوں افواج اپنے اپنے شہر سے کوچ کرگئیں۔ انہیں قرون حماة کے قریب آکر اکٹھے ہونا اور حملے کی ترتیب
‫میں آنا تھا۔
‫اس کوچ سے دو روز پہلے سلطان صالح الدین ایوبی اپنی مورچہ بندی دیکھ رہا تھا اسے اطالع ملی کہ حرن سے دو ساالر
‫مفرور ہوکر آئے ہیں اور ان کے ساتھ ایک الش ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی۔ وہاں جاکر وہ
‫گھوڑے سے کود کر اترا اور دونوں ساالروں کو گلے لگایا۔ پھر دونوں سپاہیوں سے گلے مال۔ یہ دونوں اس کے نامور چھاپہ
‫مارجاسوس تھے۔ کمان دار ابھی اس کا جاسوس تھا اور ایک عرصے سے گمشتگین کی فوج میں تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی
‫نے الش کے گالوں کا بوسہ لیا اور حکم دیا کہ الش دمشق بھیج دی جائے اور شہیدوں کے قبرستان میں دفن کی جائے۔
‫آپ یہاں بیٹھے کیا سوچ رہے ہیں؟''… ساالر شمس الدین نے اپنی بپتا سنانے سے پہلے جنگی باتیں شروع کردیں۔''
‫میں کمک کا انتظار کررہا ہوں''… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا کہ ''گزشتہ رات اطالع ملی ہے کہ کمک آج رات ''
‫پہنچ جائے گی۔ اسے قاہرہ سے آنا تھا‪ ،اس لیے اتنے دن لگ گئے ہیں''۔
‫سلطان ایوبی نے دونوں بھائیوں کو تفصیل سے بتایا کہ اس کی نفری کتنی ہے اور اسے اس نے کس طرح ڈیپالئے کررکھا ہے۔
‫اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے تمام دستوں کے کمانڈروں کو بالیا اور شمس الدین اور شادبخت سے مالیا۔ پرانے
‫افسر دونوں کو جانتے تھے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے دونوں سے کہا کہ وہ اس کے کمانڈروں کو بتائیں کہ جو افواج حملہ
‫کرنے آرہی ہیں ان کی جنگی اہلیت کیسی اور جذباتی کیفیت کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوج بہرحال فوج ہوتی ہے۔ دشمن کو
‫اناڑی اور کمزور سمجھنا ایک جنگی لغزش تصور کی جاتی ہے۔ یہ نہ بھولیں کہ یہ مسلمان افواج ہیں جن کے سپاہی پیٹھ
‫دکھانے کے عادی نہیں۔ سپاہیوں میں عسکری روح موجود ہے۔ وہ پورے جوش وخروش سے لڑیں گے۔ ان کے ذہنوں میں یہ ڈاال
‫گیا ہے کہ آپ لوگ درندے‪ ،وحشی اور عورتوں کے شکاری ہیں اور سلطان صالح الدین ایوبی اپنی سلطنت کو وسعت دینے آیا
‫ہے۔ صلیبیوں نے ان کے دلوں میں آپ کے خالف نفرت بھر رکھی ہے۔
‫ساالروں نے بتایا کہ جہاں تک ان کی قیادت کا تعلق ہے‪ ،وہ قابل تعریف نہیں۔ ان میں کوئی بھی سلطان صالح الدین ایوبی
‫نہیں… سیف الدین اور گمشتگین اپنے ذاتی مفاد کے لیے لڑنے آرہے ہیں۔ دونوں اپنے حرم اور شراب کے مٹکے ساتھ الئیں گے۔
‫ہماری جگہ گمشتگین اپنی فوج کی کمان خود کرے گا۔ یہ قیادت فوج کو طریقے سے لڑا نہیں سکے گی پھر بھی آپ کو
‫محتاط ہوکر لڑنا پڑے گا۔ وہ آپ کو ان پہاڑیوں میں محاصرے میں لینا چاہتے ہیں۔ تینوں فوجوں کی کمان مشترک ہوگئی ہے
‫لیکن وہ دل سے متحد نہیں۔
‫یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ خطیب ابن المخدوم‪ ،صاعقہ قید خانے کا عہدے دار اور ایک جاسوس پہنچ گئے۔ وہ راستہ بھول
‫گئے تھے اس لیے دیر سے پہنچے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو معلوم تھا کہ خطیب اس کا حامی ہے اور وہ موصل میں اس
‫کے جاسوسوں کی رہنمائی اور نگرانی کرتا رہا ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اسے بھی اجالس میں شامل کرلیا اور اسے
‫کہا کہ وہ موصل کی فوج کے متعلق کچھ بتائے۔
‫وہ امیر اپنی فوج کو کس طرح لڑائے گا جو شراب اور عورت کا رسیا ہو اور قرآن سے فال نکال کر فیصلے کرتا ہو''… ''
‫خطیب نے کہا… ''جس کے سینے میں ایمان ہی نہیں وہ میدان جنگ میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا۔ اس نے مجھ سے کہا
‫کہ میں قرآن سے فال نکال کر بتائوں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف جنگ میں اسے فتح ہوگی یا شکست۔ میں نے
‫اسے بتایا کہ چونکہ ا س کا یہ اقدام قرآنی احکام کے خالف ہے اس لیے اسے شکست ہوگی۔ اس نے مجھے قید میں ڈال
‫دیا۔ وہ قرآن کو جادو کی کتاب سمجھتا ہے۔ میں آپ کو قرآن کی کرامات سناتا ہوں۔ میرا فرار قرآن کی بدولت ممکن ہوا
‫ہے۔ سیف الدین نے میری بیٹی کو اغوا کرنے کی کوشش کی لیکن میری بیٹی بال بال بچ گئی۔ میں آپ سب کو یہ مژدہ
‫سناتا ہوں کہ اگر آپ قرآنی احکام کے پابند رہے اور جنگ کو قومی اور مذہبی سطح پر رہنے دیا تو فتح آپ کی ہوگی۔ یہ
‫جنگ کامذہبی پہلو ہے۔ فنی پہلو کے متعلق میں یہ مشورہ دوں گا کہ چھاپہ ماروں کو زیادہ استعمال کریں۔ آپ کا تو طریقہ
‫ہی یہی ہے لیکن ان مسلمان بھائیوں کے خالف یہ طریقہ زیادہ استعمال کریں۔ انہیں راتوں کو بھی چین نہ لینے دیں''۔
‫خطیب کو جس عہدے دار نے فرار کرایا تھا وہ بھی ساتھ تھا۔ اس کی درخواست پر اسے فوج میں شامل کرلیا گیا اور خطیب
‫کو اس کی بیٹی صاعقہ کے ساتھ دمشق بھیج دیا گیا۔ ساالر شمس الدین اور ساالر شادبخت کو سلطان صالح الدین ایوبی نے
‫اپنے ساتھ رکھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫حلب‪ ،حرن اور موصل کی افواج کوچ کرتی آرہی تھی۔ ادھر سلطان صالح الدین ایوبی کے لیے مصر سے جو کمک آرہی تھی
‫وہ قریب آگئی تھی۔ تاریخ یہ دیکھ رہی تھی کہ سلطان ایوبی تک دشمن کی فوج پہلے پہنچتی ہے یا کمک۔ وہ بہت پریشان
‫تھا۔ وہ محاصرے سے ڈرتا تھا۔ کمک کے بغیر محاصرہ توڑنا آسان نہیں تھا۔ اس نے دماغی قوت کا آخری ذرہ بھی اس
‫مسئلے پر صرف کرڈاال کہ وہ محاصرے میں آگیا تو اتنی تھوڑی نفری سے محاصرہ کس طرح توڑے گا۔ وہ اس قدر پریشان ہوگیا
‫اعلی کمان کے ساالروں سے بھی اس کا اظہار کردیا۔ اس نے کہا… ''چھاپہ مار دستوں کو مکمل طور پر
‫کہ اس نے اپنی
‫ٰ
‫اپنے قابو میں اور اپنی نظر میں رکھنا۔ کمک کا کچھ پتہ نہیں۔ محاصرے کا خطرہ ہے۔ محاصرہ صرف چھاپہ ماری ہی توڑ
‫سکیں گے''۔
‫اللہ کو جو منظور ہوگا وہ ہوکر رہے گا''… ایک ساالر نے کہا… ''یہ قلعہ تو نہیں جس میں محصور ہوکر ہم لڑ نہیں ''

‫سکیں گے۔ ان چٹانوں پر ہم گھوم پھر کر لڑیں گے''۔
‫اس رات بھی وہ اچھی طرح سو نہ سکا۔ اس کے خیمے میں قندیل جلتی رہی۔ اس نے میدان جنگ اور اس عالقے کا جو
‫نقشہ بنایا تھا اس کو دیکھتا اور اس پر نشان لگاتا رہا اگر اسے کوئی غیرفوجی دیکھتا تو یہی کہتا کہ وہ شطرنج کھیلنے کی
‫مشق کررہا ہے۔ سحری کھانے کے لیے جب نقارے بجے اور اس کی فوج جاگ اٹھی تو اس کی بھی آنکھ کھلی۔ اسے دو
‫خبریں اکٹھی ملیں۔ ایک یہ کہ کمک پہنچ گئی ہے اور دوسری یہ کہ دشمن کی افواج آٹھ کوس تک آگئی ہیں اور شاید کل
‫ہمارے سر پر آجائیں گی۔ یہ دیکھ بھال کی کسی پارٹی کا کمانڈر تھا۔ اس نے بتایا کہ دشمن کی پیش قدمی تین حصوں میں
‫ہورہی ہے۔ ایک حصہ آگے ہے دوسرا پیچھے اور تیسرا اس سے پیچھے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے جو معلومات لینی تھیں لے لیں۔ اس نے یہ اطالعات النے والوں کو بھیج دیا اور دربان سے کہا
‫اعلی کمانڈروں کو فورا ً بال الئے اور انہیں کہے کہ وہ سحری اس کے ساتھ
‫کہ وہ چھاپہ مار دستوں کے کمانڈر اور کمک کے
‫ٰ
‫کھائیں۔ اس نے جلدی جلدی وضو کیا اور کمک آجانے پر شکرانے کے نفل پڑھے پھر خدا سے کامیابی کی التجا کی… تھوڑی
‫ہی دیر میں چھاپہ ماروں کا کمانڈر آگیا اور اس کے بعد کمک کے چار کمانڈر آگئے۔ سحری کا کھانا بھی آگیا۔ کمک اس کی
‫توقع سے کم تھی لیکن ان حاالت میں یہی کافی تھی۔ العادل نے اسلحہ جو بھیجا تھا اس سے سلطان صالح الدین ایوبی
‫مطمئن ہوگیا۔ اسلحہ میں چھوٹی اور بڑی منجنیقیں زیادہ تھیں اور آتش گیر مادہ بھی بہت زیادہ تھا۔ کمک نفری کے لحاظ
‫سے تھوڑی تھی لیکن یہ نفری چونکہ تجربہ کار تھی اس لیے کارگر تصور کی جاتی تھی۔ البتہ یہ دشواری نظر آرہی تھی کہ
‫اس فوج اور گھوڑوں کو پہاڑی لڑائی کا تجربہ نہیں تھا۔ اتنے میں انٹیلی جنس کا سربراہ حسن بن عبداللہ بھی آگیا۔ اس نے
‫بتایا کہ حلب سے اپنا ایک جاسوس آیا ہے جس نے یہ معلومات دی ہیں کہ صلیبیوں نے اس مشترکہ لشکر کو تیروں اور
‫کمانوں کا ذخیرہ‪ ،آتش گیر مادے کے مٹکے اور پانچ سو گھوڑے بھیجے ہیں۔ جاسوس نے یہ بھی بتایا کہ وہ پیش قدمی کے
‫بعد آیا ہے‪ ،اس لیے اس نے دیکھا ہے کہ یہ مٹکے اونٹوں پر الد کر الئے گئے ہیں۔ یہ قافلہ الگ تھلگ فوج کے ساتھ ہے۔
‫منجنیقیں بھی ساتھ ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن منجنیقوں سے آگ کے گولے پھینکے گا اور فلیتے والے آتشیں تیر
‫چالئے گا۔
‫اعلی کمانڈر سے کہا… ''تمہیں سب کچھ بتایا جاچکا ہے۔ اپنا کام تم
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے چھاپہ مار دستوں کے
‫ٰ
‫جانتے ہو۔ اب پہلے منصوبے میں یہ ترمیم کرلو کہ جب تک دشمن حملہ نہ کرے اس پر کہیں بھی شب خون نہ مارنا۔
‫اطالع کے مطابق وہ سیدھا قرون حماة کی طرف آرہا ہے۔ شب خون مارو گے تو اس کی رفتار سست ہوجائے گی۔ حملے کے
‫بعد تمہیں معلوم ہے کہ میں جوابی حملہ نہیں کروں گا۔ دشمن کو میرے حملے کی توقع ہوگی اور میں حملہ سامنے سے
‫نہیں عقب سے کروں گا۔ تمہارا کام اس وقت شروع ہوگا جب دشمن عقب کے حملے سے گھبرا کر ادھر ادھر نکلنے کی
‫کوشش کرے گا۔ ان پہاڑیوں میں سے دشمن کا ایک بھی سپاہی نکل کر نہ جائے۔ زیادہ سے زیادہ قیدی پکڑو۔ وہ مسلمان
‫سپاہی ہیں۔ تمہاری قید میں آئیں گے تو حق اور باطل کو سمجھ جائیں گے۔ یہی میری منشا ہے۔ ہمارے مقابلے میں آکر
‫ہمارے تیروں سے اور ہماری تلواروں سے جو مرتا ہے اسے مرنے سے میں روک نہیں سکتا''۔
‫تمہارے سامنے یہ اطالع آئی ہے کہ دشمن آتش گیر مادے کے مٹکے ال رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ صحیح حالت میں ''
‫ہمارے قبضے میں آجائیں لیکن ان سے تم ایک فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ اپنے کسی دستے کے دس بارہ منتخب چھاپہ ماروں کو یہ
‫کام سونپو کہ وہ حملے کے دوران شب خون مار کر ان مٹکوں کو توڑ دیں اور آگ لگا دیں۔ دن کے وقت وہ دیکھ لیں کہ
‫مٹکوں کا قافلہ کہاں ہے۔ سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ دشمن ابھی ندی تک نہیں پہنچا۔ گھوڑوں کو پانی پال لو اور
‫مشکیزے بھرلو۔ موسم سرد ہے اوریہ صحرا نہیں‪ ،پیاس سے کوئی مرے گا نہیں پھر بھی یہ جنگ ہے اور پیاس پریشان کرے
‫گی''۔
‫اسے رخصت کرکے اس نے کمک کے کمانڈروں سے کہا… ''تم لوگ صرف یہ ذہن میں رکھنا کہ یہ مصر کا صحرا نہیں پہاڑی
‫عالقہ ہے اور ٹھنڈ ہے۔ دھوپ نکلے گی اور بھاگو دوڑو گے توگرمی آجائے گی۔ یہاں تمہیں ضرب لگائو اور کسی اور طرف نکل
‫جائو‪ ،کا موقعہ ضرور ملے گا۔ تمہیں اس کی تربیت دی گئی ہے لیکن یہاں خیال رکھنا کہ تمہارے لیے زمین محدود ہے۔ صحرا
‫میں تو کئی کئی کوس کا چکر کاٹ کر دشمن کے اوپر آسکتے ہو اور تمہیں اپنی چال دہرانے کے لیے المحدود میدان مل
‫سکتا ہے۔ یہاں میں نے دشمن کو جس جگہ گھسیٹ کر النے کا بندوبست کیا ہے۔ وہ میدان ہی ہے لیکن محدود ہے۔ وقت
‫نہیں کہ تمہیں چٹانوں اورٹنیکریوں سے متعارف کرایا جائے۔ اس لیے اپنی عقل استعمال کرنا۔ تیر اندازوں کو چٹانوں پر رکھنا۔
‫گھوڑوں کوٹیکریوں پر نہ لے جانا‪ ،جلدی تھک جائیں گے۔ ہمارے گھوڑے کچھ عادی ہوگئے ہیں''۔
‫اعلی کمان کے ساالروں کے سپرد کردیا۔ ان ساالروں کو
‫اس نے کمک کو محفوظہ کے طور پر رکھ لیا اور کمانڈروں کو اپنی
‫ٰ
‫جنگ کا پالن دیا جاچکا تھا۔
‫وادیوں میں صبح کی اذان کی کئی مقدس آوازیں گونج رہی تھیں۔ سلطان ایوبی نے غسل کیا۔ اپنی تلوار نیام سے نکالی۔ اس
‫کی چمک اور دھار دیکھی اور جذبات اچانک ابل پڑے۔ اس نے تلوار دونوں ہاتھوں پر رکھی‪ ،قبلے رو ہوکر ہاتھ اٹھائے‪ ،آنکھیں
‫بند کرکے اس نے خدا کو پکارا… ''خدائے عزوجل ! تیری خوشنودی اس میں ہے کہ مجھے شکست دے تو میں اس ذلت
‫کے لیے تیار ہوں‪ ،فتح دے تو تیری ذات باری کا شکر ادا کروں گا۔ آج میں تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام
‫لیوائوں کے خالف لڑ رہا ہوں اگر یہ گناہ ہے تو مجھے اشارہ دے کہ میں اپنی تلوار اپنے پیٹ میں اتار دوں میں ان بچیوں
‫کی روح کی پکار پر آیا ہوں جن کی عصمتیں صرف اس لیے لٹ گئی ہیں کہ وہ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت
‫سے تھیں۔ مجھے تیرے وہ بے بس بندے پکار رہے ہیں جو مسلمان ہونے کی وجہ سے کفار کے ظلم وتشدد کا نشانہ بنے ہوئے
‫ہیں۔ میں تیرے عظیم مذہب کی عظمت اور عصمت کی حفاظت کے لیے صحرائوں‪ ،جنگلوں اور پہاڑوں میں بھٹکتا پھر رہا
‫ہوں۔ میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقبول! میرے سچے رب ذوالجالل! میں
‫آپ کے قبلہ اول کو آزاد کرانے چال تھا۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میرے راستے میں آگئی ہے۔ مجھے اشارہ
‫دو کہ ان کا خون بہانا مجھ پر حالل ہے یا نہیں۔ میں گمراہ تو نہیں ہوگیا؟ مجھے اپنے نور کی روشنی دکھا‪ ،اگر میں حق
‫پر ہوں تو ہمت واستقالل عطا فرما''۔
‫اس نے سرجھکا لیا اور بہت دیر اسی حالت میں کھڑا رہا۔ پھر اچانک تلوار نیام میں ڈال لی اور باہر نکل گیا۔ اس کے
‫اعلی کمان کے کمانڈر اور دیگر افراد
‫قدموں میں کچھ اور ہی شان تھی۔ وہ اس جگہ چال جارہا تھا جہاں اس کے مرکز اور
‫ٰ
‫باجماعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ جماعت کھڑی ہورہی تھی۔ وہ پچھلی صف میں کھڑا ہوگیا۔اس کے ایک طرف اس کا باورچی
‫اور دوسری طرف اس کے کسی کمان دار کا اردلی کھڑا تھا۔

‫٭ ٭ ٭
‫نماز سے فارغ ہوکر سلطان صالح الدین ایوبی قرون حماة کی طرف روانہ ہوگیا۔ راستے میں اسے باری باری چار قاصد ملے اور
‫زبانی پیغام دئیے۔ یہ دیکھ بھال کی پارٹیوں کے قاصد تھے جو حرن‪ ،حلب اور موصل کی مشترکہ فوجوں کی نقل وحرکت اور
‫سرگرمیوں کی خبریں الئے تھے۔ یہ سلسلہ دن رات چلتا رہتا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے قاصدوں کو رخصت کردیا اس
‫کے ساتھ ساالر شمس الدین تھا۔ یہ سلسلہ دن رات چلتا رہتا تھا۔ اس کے بھائی ساالر شادبخت کو اس نے کسی اور طرف
‫متعین کردیا تھا۔
‫دشمن کے متعلق جو خبریں مل رہی ہیں ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟'' شمس الدین نے پوچھا… ''کیا ہم اتنی ''
‫''تھوڑی فوج سے اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کرسکیں گے؟
‫میرے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ دشمن کتنا لشکر الیا ہے اور میرے پاس کیا ہے''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے جواب''
‫دیا۔ '' میں پریشان اس پر ہوں کہ دشمن حملہ کیوں نہیں کرتا۔ میرے ان مسلمان بھائیوں کے پاس صلیبی جاسوس ہیں۔ کیا
‫صلیبی اتنے اناڑی ہوگئے ہیں کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ مصر سے میری کمک آرہی ہے اور میں کمک کے بغیر لڑ
‫نہیں سکتا؟ اگر دشمن سرگرم ہوتا تو میرے تمام مسئلے حل ہوجاتے۔ دشمن کا یوں آکے بیٹھ جانا اور مجھے اتنا وقت دے
‫دینا کہ میں کمک حاصل کرلوں‪ ،اسے ٹھکانے بھی لگا لوں۔ تمام تر فوج کے گھوڑوں کو پانی پال کر پانی کا ذخیرہ بھی
‫کرلوں‪ ،میرے لیے پریشان کن ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ دشمن کوئی ایسی چال چلے گا جو کبھی میرے دماغ میں نہیں آئی۔
‫یہ لوگ کھیل تماشے کے لیے تو نہیں آئے''۔
‫جہاں تک ان لوگوں کو جانتا ہوں''۔ شمس الدین نے کہا۔ ''ان کے پیش نظر کوئی ایسی چال نہیں۔ مجھے اپنے اللہ پر''
‫بھروسہ ہے۔ خدا نے ان کے دماغوں پر مہر ثبت کردی ہے کیونکہ وہ باطل کی انگیخت اور مدد سے حق کے خالف لڑنے آئے
‫ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ میں کسی گہری اور خطرناک چال کا خدشہ محسوس نہیں کررہا''۔
‫شمس بھائی!'' سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''مجھے بھی اللہ پر ہی بھروسہ ہے لیکن میں جذبات اور فلسفے کے''
‫بجائے حقیقت کو دیکھا کرتا ہوں۔ حق پر باطل نے بھی کئی بار فتح پائی ہے کیونکہ حق والے اللہ کے بھروسے ہاتھ پر ہاتھ
‫دھر کے بیٹھ گئے تھے۔ حق خون اور جان کی قربانی مانگتا ہے۔ اگر ہم یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہیں تو حق کی فتح
‫ہوگی۔ باطل میں جو قوت ہے اس کا مقابلہ ہمیں میدان میں کرنا ہے۔ ہمیں حقائق پر نظر رکھنی ہے۔ اپنی پوری صالحیتیں
‫اور جسم کی تمام تر طاقت استعمال کرنی ہے۔ اس کے بعد کے نتائج اللہ پر چھوڑ دو۔ اپنے آپ کو خوش فہمیوں میں مبتال
‫نہ کرو''۔
‫وہ گھوڑے سے اترا۔ ساالر شمس الدین‪ ،دو اور مشیر اور محافظ جو اس کے ساتھ تھے‪ ،گھوڑوں سے اترے۔ سلطان صالح الدین
‫ایوبی‪ ،شمس الدین اور دونوں مشیروں کو ایک بلند چٹان پر لے گیا۔ ان کے سامنے چٹانوں میں گھرا ہوا وسیع میدان تھا جو
‫سینگوں کی شکل کی چٹانوں سے آگے پھیلتا چال گیا تھا۔ اس طرف جہاں سلطان صالح الدین ایوبی کھڑا تھا دو چٹانیں آگے
‫پیچھے تھیں۔ ان کے درمیان وادی یا گلی تھی جو میدان میں کھلتی تھیں۔ یہ گھوم پھر کر اس طرف باہر نکل جاتی تھی۔
‫میدان میں چٹانوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں چھوٹے بڑے خیمے کھڑے تھے۔ ایک طرف اس فوج کے گھوڑے بندھے تھے جو
‫خیموں میں تھی۔ سپاہی گھوم پھر رہے تھے‪ ،کچھ ایسے بھی تھے جو دھوپ میں لیٹے ہوئے یا سوئے ہوئے تھے۔ا نہیں دیکھ
‫کر معلوم ہوتا تھا جیسے انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان پر ایک بہت بڑا لشکر کسی بھی وقت حملہ کرنے کے لیے ان کے سر
‫پر بیٹھا ہے۔ اگر وہ جنگی تیاری میں ہوتے تو ان کے خیمے کھڑے رہنے کے بجائے لپٹے ہوئے کہیں اور رکھے ہوئے ہوتے
‫اوران کے گھوڑوں پر زینیں کسی ہوئی ہوتیں۔
‫ان دستوں کے ساالروں اور کمانڈروں کو میں نے جو ہدایات دی ہیں وہ تم تینوں ایک بار پھر سن لو''… سلطان صالح ''
‫الدین ایوبی نے کہا۔ ''ہوسکتا ہے میں تم سے پہلے مارا جائوں اور جنگ شروع ہوتے ہی مارا جائوں۔ میرے بعد میدان کی
‫ذمہ داریاں تم سنبھالو گے۔ میں نے انہیں بتایا ہے کہ خیمے لگے رہنے دو۔ گھوڑے زینوں کے بغیر بندھے رہنے دو۔ فراغت کی
‫حالت میں گھومو پھرو اور ادھر ادھر بیٹھے اور لیٹے رہو لیکن خیموں میں اپنے ہتھیار اور گھوڑوں کی زینیں تیاررکھو۔ دشمن
‫کے جاسوس تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ انہیں یہ تاثر دو کہ تمہیں دشمن کی کچھ خبر نہیں۔ جب دشمن کا لشکر آئے تو گھبراہٹ
‫کا مظاہرہ کرو۔ ہتھیار اٹھالو۔ خیمے پھر بھی کھڑے رہنے دینا۔ آگے بڑھ کر مقابلہ نہ کرنا۔ دشمن اوپر چڑھ آئے تو لڑتے ہوئے
‫اتنی تیزی سے پیچھے ہٹنا کہ دشمن کے حملہ آور دستے تمہارے ساتھ ہی ان چٹانوں کے گھیرے میں آجائیں۔ دشمن کو
‫پسپائی کا تاثر دو''۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے دو متوازی چٹانوں کے درمیان گلی کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ''میں نے ان دستوں کو بتا دیا
‫ہے کہ اس گلی میں آکر پیچھے کو نکل جائیں۔ انہیں جہاں اکٹھا ہونا ہے وہ جگہ بھی انہیں بتا دی ہے''۔ اس نے وہ جگہ
‫اپنے رفیقوں کو بتا کر کہا۔ '' ان دستوں کو دشمنوں کے عقب میں جانا ہوگا۔ ان چٹانوں پر میں نے دشمن کے استقبال کا
‫جو بندوبست کررکھاہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ یاد رکھو میرے دوستو! ہمیں یہاں کوئی عالقہ اور کوئی قلعہ فتح نہیں کرنا۔ ہمیں
‫دشمن کو بے بس اور بے کار کرنا ہے تاکہ وہ ہمارے راستے سے ہٹ جائے‪ ،مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کو دشمن کہتے ہوئے
‫شرم آتی ہے مگر حاالت کا تقاضا یہی ہے میں انہیں ہالک نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے احکام جاری کردئیے ہیں کہ زیادہ افراد
‫کو زندہ پکڑو اور جنگی قیدی بنائو۔ میں انہیں تلوار سے زیر کرکے اخالق سے ذہن نشین کرائوں گا کہ تم مسلمان سپاہی ہو
‫اور تمہارے بادشاہ تمہارے مذہب کے دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں''۔
‫کسی قوم کو مارنا ہوتو اس میں خانہ جنگی کرادو''۔ ساالر شمس الدین نے کہا… ''صلیبیوں نے کامیابی سے یہ حربہ ''
‫استعمال کیا ہے''۔
‫مسلمان قوم کی مثال بارود کی سی ہے''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''یہ قوم جذباتی ہوتی چلی جارہی ہے۔ ''
‫بارود کے اس ڈھیر میں کہیں سے بھی چنگاری آن گرے یہ دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔ یہ چنگاری مسجد کے امام سے ملے
‫یا عیش پرست حکمران سے یا دشمن ہمارے ہی بھائیوں کے ہاتھوں یہ چنگاری پھینکے‪ ،جذبات بارود کی طرح پھٹتے ہیں۔ اگر
‫قوم کی یہ کمزوری جڑ پکڑ گئی تو قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ قوم اگر زندہ رہی تو کفار اسے دھڑوں میں تقسیم کرکے لڑاتے
‫رہیں گے اور قوم کے سربراہ اکٹھے ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو دھوکہ فریب دے کر
‫سلطنت اسالمیہ کا بادشاہ بننا چاہتے ہیں۔ میں ان لوگوں کے دماغوں سے بادشاہی کا کیڑا نکال کر قوم کو راہ راست پر النے
‫کی فکر میں ہوں۔ میرے پیش نظر اسالم کا تحفظ اور فروغ ہے''۔
‫٭ ٭ ٭

‫قرون حماة سے تھوڑی ہی دور حرن کا قلعہ دار گمشتگین جس نے خودمختاری کا اعالن کردیا تھا‪ ،اپنے ساالروں اور چھوٹے
‫بڑے کمانڈروں کو اکٹھا کرکے کہہ رہا تھا… ''صالح الدین ایوبی صلیبیوں کو شکست دے سکتا ہے۔ وہ جب تمہارے سامنے آئے
‫گا تو لومڑی کی ساری چالیں بھول جائے گا۔ وہ ہم میں سے نہیں‪ ،وہ کرد ہے۔ تم پکے مسلمان ہو دین دار اور پرہیز گار ہو۔
‫وہ صرف نام کا مسلمان‪ ،مکار اور عیار ہے۔ وہ یہاں اپنی سلطنت قائم کرکے اس کا بادشاہ بننے کی کوشش میں ہے۔ میں
‫تمہیں اس کی جنگی کیفیت بھی بتا دیتا ہوں۔ اس کے پاس فوج بہت تھوڑی ہے اور وہ پہاڑیوں میں گھرا بیٹھا ہے۔ تھوڑی
‫ہی دیر پہلے جاسوسوں نے مجھے اطالع دی ہے کہ اس کی فوج خیموں میں آرام کررہی ہے اور اس کے گھوڑے بھی تیاری
‫کی حالت میں نہیں۔ اس کی وجوہات دو ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اسے یقین ہے کہ اسے ہم شکست نہیں دے سکتے۔دوسری
‫یہ کہ اسے یہ خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے کہ ہم اس پر حملہ نہیں کریں گے۔ وہ شاید صلح کے لیے ہمارے پاس ایلچی
‫بھی بھیجے گا۔ اب ہم اس کے ساتھ کوئی صلح یا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وہ اب ہمارا قیدی ہے۔ اگر زندہ ہمارے ہاتھ نہ
‫آیا تو میں تمہیں اس کی الش دکھائوں گا۔ اپنے سپاہیوں سے کہہ دو کہ صالح الدین ایوبی امام مہدی یا پیغمبر نہیں اور اس
‫کی فوج میں کوئی جن بھوت نہیں۔ ہم اس کی فوج کو بے خبری میں جا پکڑیں گے''۔
‫اپنے سامعین کو اشتعال دال کر اور ان کا حوصلہ بڑھا کر اس نے انہیں رخصت کردیا اور اپنے ان خیموں میں چال گیا جنہوں
‫نے جنگل میں منگل بنا رکھا تھا۔ اس کا اپنا خیمہ بہت بڑا تھا جس کے اندر قالین بچھے ہوئے تھے اور بیش قیمت پلنگ
‫تھا۔ شراب کی صراحی اور نہایت دلکش پیالے رکھے تھے۔ اندر سے خیمہ کسی محل کا کمرہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کے ارد گرد
‫کئی اور خیمے تھے جو فوجی خیموں سے مختلف اور خوبصورت تھے۔ ان میں حرم کی لڑکیاں اور ناچنے گانے والیاں رہتی
‫تھیں۔ خیموں سے دور دور پہرہ دار کھڑے تھے۔ گمشتگین کے خیمے کے باہر نو آدمی اس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ انہیں
‫دیکھ کر گمشتگین تیز چل پڑا اور قریب جاکر انہیں اندر چلنے کو کہا۔ اندر جاتے ہی لڑکیوں کی ایک قطار ہاتھوں میں
‫طشتریاں اٹھائے خیمے میں داخل ہوئی۔ کھانا چن دیا گیا اور شراب کی صراحیاں بھی آگئیں۔ گمشتگین ان نو آدمیوں کے ساتھ
‫کھانے پر بیٹھ گیا۔
‫یہ نو آدمی کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے بھنے ہوئے گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے ہاتھوں میں لے کر مردار خو درندوں کی
‫طرح کھانا شروع کردیا۔ ساتھ ساتھ وہ شراب پانی کی طرح پی رہے تھے۔ ان کی آنکھیں الل سرخ تھیں جن سے وہ وحشی
‫اور خونخوار لگتے تھے۔ تین چار خوبصورت لڑکیاں ان کے پیالے شراب سے بھرتی جارہی تھیں اور یہ وحشی کبھی کسی لڑکی
‫کے بکھرے ہوئے بالوں پر ہاتھ پھیرتے کبھی ان کے عریاں بازوئوں کو پکڑ کر ان پر اپنے گال رگڑتے۔ کھانا اور چھیڑ خانی
‫چلتی رہی۔ گمشتگین ان کی حرکتیں اور کھانے کا انداز دیکھ کر مسکراتا رہا مگر اس کی مسکراہٹ بتاتی تھی کہ وہ زبردستی
‫مسکرا رہا ہے اور اسے یہ لوگ بالکل پسند نہیں۔
‫کھانے پینے سے فارغ ہوکر گمشتگین نے لڑکیوں کو باہر بھیج دیا اور ان نو آدمیوں کے ساتھ کچھ دیر گپ شپ لگا کر کہا…
‫''اب وقت آگیا ہے کہ میں تمہیں صالح الدین کی طرف رخصت کروں۔ اب کے وار خالی نہیں جانا چاہیے''۔
‫اگر آپ ہمیں روک نہ لیتے تو اب تک آپ یہ خوشخبری سن چکے ہوتے کہ سلطان صالح الدین ایوبی قتل ہوگیا ہے اور ''
‫قاتل معلوم نہیں کون تھے''۔ ایک آدمی نے کہا۔
‫یہ حسن بن صباح کے وہی نو فدائی تھے جنہیں ان کے مرید شیخ سنان نے تریپولی سے سلطان صالح الدین ایوبی کے قتل
‫کے لیے بھیجا تھا۔ یہ منتخب افراد تھے جو بظاہر انسان تھے لیکن خصلت کے درندے تھے۔ انہوں نے اپنے اپنے دائیں ہاتھ
‫کی درمیانی انگلی سے خون کے دس دس قطرے نکال کر مقدس پیالے میں گرائے‪ ،ان پر شراب اور حشیش ڈالی اور تینوں
‫چیزیں مال کر ہر ایک نے ایک ایک گھونٹ پیا اور اپنے مخصوص الفاظ میں حلف اٹھایا تھا کہ وہ سلطان صالح الدین ایوبی
‫کو قتل کریں گے یا زندہ نہیں رہیں گے۔ شیخ سنان نے انہیں تارک الدنیا صوفیوں کے لباس میں ہاتھوں میں تسبیحیں اور گلے
‫میں قرآن لٹکا کر اس ہدایت کے ساتھ روانہ کیا تھا کہ وہ سلطان صالح الدین ایوبی تک رسائی حاصل کریں اور اس کے
‫سامنے یہ مسئلہ رکھیں کہ مسلمان کے خالف نہیں لڑنا چاہیے اور وہ ثالث بن کر آپس میں ٹکرانے والے مسلمان امراء کا صلح
‫نامہ کرائیں گے۔ اس طرح تنہائی میں سلطان صالح الدین ایوبی کو قتل کردیں گے۔
‫شیخ سنان نے طریقہ اچھا سوچا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی مذہبی پیشوائوں کو احترام سے اپنے پاس بٹھانے اور ان کی
‫بات توجہ سے سننے کا عادی تھا۔ اس کی دوسری کمزوری یہ تھی کہ وہ چاہتا ہی یہی تھا کہ کوئی درمیان میں آکر
‫مخالفین کے ساتھ اس کا سمجھوتہ کرادے تاکہ مسلمان مسلمان کے ہاتھوں قتل نہ ہوں ورنہ صلیبیوں کو جنگی تیاریوں کا اور
‫حملہ کرکے بہت بڑی کامیابی حاصل کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔ اس نے حلب وغیرہ میں اپنے ایلچی بھیجے بھی تھے جو
‫توہین آمیز جواب الئے تھے۔ اب ''نوصوفی منش'' چغوں میں خنجر اور تلواریں چھپائے اس کی خواہش پوری کرنے کا دھوکہ
‫لے کر آرہے تھے۔ وہ اسے آسانی سے قتل کرسکتے تھے۔ تریپولی سے وہ روانہ ہوئے اور حرن پہنچے تھے۔ گمشتگین کو اس
‫کے صلیبی مشیروں نے بتایا تھا کہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کو قتل کرنے جارہے ہیں اس نے ان سے قتل کا طریقہ سنا
‫تو اسے مسترد کرکے انہیں اپنے پاس شاہی مہمانوں کی حیثیت سے روک لیا اور صلیبی مشیروں سے کہا تھا کہ وہ سلطان
‫صالح الدین ایوبی پر حملہ کرنے جارہا ہے۔ ان نو فدائیوں کو اپنے ساتھ لے جائے گا اور موزوں موقعے پر اور کسی بہتر
‫طریقے سے سلطان صالح الدین ایوبی کو قتل کرائے گا۔ چنانچہ وہ انہیں اپنے ساتھ محاذ پر لے آیا تھا۔
‫اس نے میدان جنگ میں ان کے لیے موقعہ پیدا کرلیا اور ان کا بہروپ بھی تیار کرلیا تھا۔ اس نے کھانے سے فارغ ہوکر
‫انہیں کہا… '' آج میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں نے صالح الدین ایوبی کے قتل کا کیا طریقہ سوچا ہے۔ تم نے صوفیوں کا جو
‫روپ دھارا ہے وہ شک پیدا کرسکتا ہے۔ ایوبی کی نظر بڑی گہری ہے۔ اس پر پہلے چار پانچ قاتالنہ حملے ہوچکے ہیں۔ وہ
‫اور زیادہ محتاط ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ دو بڑے ہی تجربہ کار سراغرساں ہیں‪ ،ایک علی بن سفیان اور دوسرا حسن بن
‫عبداللہ۔ وہ ایک نظر میں انسان کو بھانپ لیتے ہیں۔ ہمارے جاسوسوں کی اطالع کے مطابق اس وقت حسن بن عبداللہ اس
‫کے ساتھ ہے اور علی بن سفیان قاہرہ میں ہے۔ صالح الدین ایوبی سے کوئی اجنبی ملنے جاتا ہے تو دو تین ساالر اور حسن
‫بن عبداللہ اس کی بڑی گہری چھان بین کرتے ہیں۔ انہیں شک ہو تو اس کی تالشی بھی لیتے ہیں''۔
‫ایوبی یا حسن بن عبداللہ کو یہ خیال آسکتا ہے کہ یہ چپقلش تو کئی مہینوں سے چل رہی ہے‪ ،تمہیں صلح نامے کا خیال''
‫آج کیسے آیا ہے۔ ایوبی یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ تم کہاں کے مذہبی پیشوا ہو اور وہ کوئی ایسا سوال پوچھ سکتا ہے جس
‫کا تم لوگ جواب نہ دے سکو یا ایسا جواب دو جو تمہیں بے نقاب کردے۔ وہ خود عالم ہے‪ ،مذہب اور تاریخ کا اس کا گہرا
‫مطالعہ ہے۔ اس کے عالوہ تمہارے چہروں پر داڑھیوں کے سوا صوفیوں والی کوئی نشاندہی نظر نہیں آتی۔ تم میں سے چار کی
‫داڑھیاں ابھی چھوٹی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مہینے سے بڑھائی گئی ہیں۔ تمہاری آنکھوں میں حشیش اور شراب کا

‫نشہ چڑھا ہوا ہے۔ مجھے ان چہروں پر پاکیزگی کا شائبہ تک نظر نہیں آتا''۔
‫ان نو میں سے کسی نے بھی برا نہ مانا۔ ان کے سرغنہ نے کہا… ''مجھے آپ کی ہر ایک بات سے اتفاق ہے۔ اگر صالح
‫الدین ایوبی نے ہمیں صوفی یا امام سمجھ کر عزت سے اپنے خیمے میں بٹھا لیا اور کچھ کھانے پینے کے لیے ہمارے آگے
‫رکھ دیا تو میرے یہ دوست ٹوٹ پڑیں گے۔ ہم میں سے کسی کو بھی علم نہیں کہ امام اور خطیب کھاتے کس طرح ہیں۔ آپ
‫''نے کیا طریقہ سوچا ہے؟
‫نہایت سہل اور بے خطر'' ۔ گمشتگین نے کہا۔ ''میں تمہیں صالح الدین ایوبی کے رضاکار محافظ بنا کر قرون حماة بھیج ''
‫رہا ہوں۔ اس کے محافظ گہری چھان بین کے بعد منتخب کیے جاتے ہیں۔ ان کے خاندانوں کی بھی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔
‫اس لیے یہ ناممکن ہے کہ تم جاتے ہی اس کے محافظ دستے میں شامل ہوجائو گے۔ میں نے ایک طریقہ سوچا ہے جو
‫مجھے امید ہے کامیاب ہوگا۔ جاسوسوں نے بتایا کہ دمشق کے لوگوں میں ہمارے خالف اور صالح الدین ایوبی کے حق میں اتنا
‫جوش وخروش اور جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر محاذ پر آرہے ہیں۔ وہاں جسے دیکھو تیغ زنی اور تیر اندازی کی
‫مشق کررہا ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایوبی ان رضاکاروں کو باقاعدہ فوج میں تو نہیں رکھتا۔ دوسرے کاموں کے لیے رکھ
‫لیتا ہے۔ میں اس فضا سے فائدہ اٹھا رہا ہوں''۔
‫اس نے الگ رکھا ہوا لکڑی کا ایک بکس کھوال۔ اس میں کپڑے تھے‪ ،اس نے فدائیوں سے کہا۔ ''تم سب یہ لباس پہن کر
‫صالح الدین ایوبی کے پاس جائو گے۔ یہ اس کے محافظ دستے کا مخصوص لباس ہے۔ تم میں سے ایک آدمی کے ہاتھ میں
‫ایوبی کا جھنڈا ہوگا۔ باقی آٹھ کی برچھیوں کے ساتھ اس کی فوج کی جھنڈیاں ہوں گی۔ تم سیدھے ایوبی کے پاس جائو گے۔
‫تمہیں روک لیا جائے گا۔ اس تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ تم جوش اور جذبات سے کہنا کہ ہم رضاکار ہیں اور دمشق سے
‫سلطان صالح الدین ایوبی کی حفاظت کے لیے آئے ہیں۔ یہ بھی کہنا کہ ہم نے بڑی محبت سے محافظ دستے کا لباس سلوایا
‫اور دل میں سلطان کی عقیدت لے کر آئے ہیں۔ ہمیں سلطان کے ا ردگرد پہرے پر لگایا جائے یا ہمیں جانباز دستے میں
‫شامل کردیا جائے ہم واپس نہیں جائیں گے۔ تمہیں صالح الدین ایوبی تک جانے نہیں دیں گے‪ ،تم ضد کرنا اور کہنا کہ ہم اتنی
‫دور سے عقیدت اور جذبات سے آئے ہیں‪ ،ہم سلطان سے ملے بغیر نہیں جائیں گے۔ میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ وہ جذبے
‫کی بہت قدر کرتا ہے۔ تم سے ملے گا ضرور۔ برچھیاں تمہارے ہاتھوں میں ہوں گی اگر وہ باہر ہوا تو گھوڑوں سے اترنا نہیں۔
‫قریب جاکر گھوڑوں کو ایڑی لگا دینا اور اس کا جسم برچھیوں سے چھلنی کرکے نکلنے کی کوشش کرنا۔ تم سب نے جان کی
‫بازی لگانے کا حلف اٹھایا ہے لیکن مجھے امید ہے تم سب نکل آئو گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ اپنے سلطان کو زخمی
‫حالت میں دیکھ کر محافظوں میں افراتفری مچ جائے گی۔ پیشتر اس کے کہ وہ سمجھ پائیں کہ یہ ہوا کیا ہے تم ان کے
‫تیروں کی زد سے نکل آئو گے۔ میں تمہیں عرب کی اس نسل کے گھوڑے دے رہا ہوں جن کے تعاقب میں ہوا بھی نہیں
‫پہنچ سکتی''۔
‫طریقہ بہت اچھا ہے'' ۔ فدائی قاتلوں کے سرغنہ نے کہا۔ ''ہمارے وہ ساتھی بدبخت‪ ،اناڑی اور بزدل تھے جو اسے سوتے''
‫وقت بھی قتل نہ کرسکے۔ اسی کے ہاتھوں مارے گئے اور جو زندہ رہے وہ پکڑے گئے۔ اب ہم جارہے ہیں۔ اگر اس کا سر
‫کاٹ کر نہ السکے تو آپ یہ خبر ضرور سنیں گے کہ سلطان صالح الدین ایوبی قتل ہوگیا ہے''۔
‫اور اگر ہم اسے قتل کرآئے تو؟'' ایک فدائی نے حرم کی لڑکیوں کے خیموں کی طرف اشارہ کرکے اور شیطانی مسکراہٹ ''
‫سے کہا۔
‫گمشتگین شیطان کی مسکراہٹوں کو اچھی طرح سمجھتاتھا۔ا س نے ایسی ہی مسکراہٹ سے کہا۔ ''تم میں سے جو زندہ آئیں
‫گے اور صالح الدین ایوبی کو قتل کرکے آئیں گے انہیں میں ایک ایک خیمے میں داخل کردوں گا۔ تمہیں جو انعام صلیبی دیں
‫گے اس سے اتنے زیادہ زروجواہرات میں دوں گا جو تم نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھے اور تم میں سے جو آدمی صالح
‫الدین ایوبی کا سرکاٹ کر الئے گا۔ اسے اس کی پسند کی دو لڑکیاں ہمیشہ کے لیے دوں گا''۔
‫فدائیوں نے وحشیوں کی طرح چیخ چیخ کر قہقہے لگانے شروع کردئیے۔ گمشتگین نے بڑی مشکل سے انہیں خاموش کیا اور
‫کہا… '' آئو تمہیں وہ راستہ بتا دوں جو دمشق سے قرون کی طرف آتا ہے۔ تم یہاں سے دور کا چکر کاٹ کر دمشق کے
‫راستے پر پہنچو گے لیکن خیال رکھنا کہ راستے میں کوئی بھی پوچھے کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو تو یہی بتانا کہ
‫تم دمشق سے آئے ہو اور محاذ پر جارہے ہو۔ راستے میں تمہیں صالح الدین ایوبی کے جاسوس اور چھاپہ مار ملیں گے۔ تمہیں
‫آج ہی رات روانہ ہونا ہے''۔
‫''آج ہی رات؟'' ایک فدائی نے پوچھا۔ ''کل دن کو نہ جائیں؟''
‫اتنا وقت نہیں''… گمشتگین نے جواب دیا۔ ''تمہارا چکر بہت لمبا ہے۔ دو دنوں بعد منزل پر پہنچو گے۔ گھوڑوں کو آرام''
‫دیتے جانا ورنہ تھکے ہوئے گھوڑوں سے وہاں سے بھاگ نکلنا دشوار ہوجائے گا''۔
‫گمشتگین نے بکس سے کپڑے نکال کر انہیں کہا کہ یہیں پہن لو۔ اس نے دربان سے کہا کہ وہ نو گھوڑے لے آئے جو میں نے
‫الگ کروا رکھے ہیں۔
‫آدمی رات کے بعد نو گھوڑ سوار گمشتگین کے کیمپ سے دور اس سمت جارہے تھے جدھر دمشق سے قرون حماة کو راستہ
‫جاتا تھا۔ اگلے گھوڑ سوار کے پاس سلطان صالح الدین ایوبی کا جھنڈا تھا اور باقی آٹھ کی برچھیوں کی انیوں کے ساتھ
‫چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں بندھی تھیں۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:15
‫قسط نمبر۔‪89
‫گناہوں کا کفارہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اسی روز جس وقت گمشتگین اپنے ساالروں اور کمانڈروں کو اشتعال انگیز تقریر سے جوش دال رہا تھا‪ ،سیف الدین اور حلب
‫کی فوجیں بھی ایسی ہی اشتعال انگیز تقریریں سن رہی تھیں۔ حلب کا ایک ساالر گھوڑے پر سوار اپنی فوج سے کہہ رہا
‫تھا۔ ''یہ وہی صالح الدین ہے جس نے حلب کا محاصرہ کیا تھا۔ تم نے اسی صالح الدین کو اس کی اسی فوج کو حلب
‫سے بھگایا تھا۔ رب کعبہ کی قسم! یہ روایت جھوٹی ہے کہ صالح الدین جس قلعے میں جس شہر کو محاصرے میں لیتا ہے
‫اسے فتح کرکے دم لیتا ہے۔ وہ حلب کے محاصرے میں کیوں کامیاب نہیں ہوا تھا؟ اس نے محاصرہ اٹھا کیوں لیا تھا؟ صرف
‫اس لیے کہ تم شیر ہو۔ تم جان پر کھیل جانے والے سرفروش ہو۔ تم نے شہر سے نکل نکل کر اس پر جو حملے کیے تھے
‫انہیں وہ برداشت نہیں کرسکا۔ فتح اس کی ہوتی ہے جس پر خدا خوش ہوتا ہے۔ خدائے ذوالجالل کی خوشنودی تمہیں حاصل

‫ہے۔ صالح الدین ایوبی پر خدا کیوں خوش ہوگا۔ وہ لٹیرا ہے۔۔ اس نے دمشق پر قبضہ کیا اور اس شہر کے لوگوں کی اس نے
‫جو حالت کی ہے وہ وہاں جاکر دیکھو کسی عورت کی عزت محفوظ نہیں رہی۔ ہمیں دمشق چھوڑ کر حلب آنا پڑا۔ ہمیں وہاں
‫واپس جانا ہے۔ ہمیں صالح الدین ایوبی سے انتقام لینا ہے… اور اللہ کے سپاہیو! یہ نہ سوچنا کہ تم مسلمان ہوکر مسلمان
‫فوج کے خالف لڑنے جارہے ہو۔ وہ مسلمان کافر سے بدتر ہے جو مسلمانوں کے شہروں کو فتح کرتا پھر رہا ہے۔ تم پر ایسے
‫مسلمان کا قتل خدا نے فرض کردیا ہے''۔
‫خالفت کے محافظو! تمہارے دشمن صلیبی نہیں صالح الدین ایوبی اور اس کی فوج ہے۔ صلیبیوں کو دشمن اس شخص نے ''
‫بنایا ہے۔ نورالدین زنگی نے قوم پر سب سے بڑا ظلم یہ کیا ہے کہ صالح الدین کو مصر کی امارت دے دی ورنہ یہ شخص
‫چھوٹے سے ایک جیش کی کمان کرنے کے بھی قابل نہ تھا۔ میں اسے اپنی فوج میں سپاہی کی حیثیت سے بھی نہ رکھو۔
‫آج اس شخص کی موت اسے ان چٹانوں میں لے آئی ہے۔ اب اس کے سامنے تمہاری تلواریں‪ ،تمہاری برچھیاں اور تمہارے
‫گھوڑے ہوں گے اور اس کے پیچھے چٹانیں اور پہاڑیاں ہوں گی۔ ہم اسے اور اس کی فوج کو پیس کر رکھ دیں گے۔ تمہیں
‫حلب کی توہین اور بربادی کا انتقام لینا ہے اگر تم نے صالح الدین کو یہاں‪ ،انہی پہاڑیوں میں ختم نہ کیا تو وہ سیدھا حلب
‫پر آئے گا۔ اس کی نظریں حلب پر لگی ہوئی ہیں۔ وہ تمہیں اپنا غالم بنانا چاہتا ہے۔ تمہاری بہنیں اور بیٹیاں اس کے
‫ساالروں کے حرم کی زینت بنیں گی اگر میں جھوٹا ہوں تو نورالدین زنگی کا بیٹا جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ سیف الدین والئی موصل
‫جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ گمشتگین جھوٹا نہیں ہوسکتا اگر اتنے امراء جھوٹے نہیں ہیں تو اکیال صالح الدین ایوبی جھوٹاہے۔ یہی وجہ
‫ہے کہ اسالم کی تین فوجیں اسے کچلنے کے لیے آئی ہیں۔ تم سب سچے ہو۔ غیرت اور حمیت والے ہو۔ ثابت کردو کہ
‫غیرت اور حمیت کی خاطر تم اپنے بھائی کا بھی خون بہا سکتے ہو''۔
‫فوج بظاہر خاموشی سے سن رہی تھی لیکن اس کے اندر اشتعال نے طوفان بپا کررکھا تھا۔ ساالر نے حقائق پر پردہ ڈال کر
‫فوج کے جذبات کو مشتعل کردیا اور فوج نعرے لگانے لگی۔ ''ہم غالم نہیں بنیں گے۔ صالح الدین ایوبی زندہ نہیں رہے
‫گا''۔ ایک شور تھا جو زمین وآسمان کو ہال رہا تھا۔
‫سیف الدین کے کیمپ کی بھی کیفیت جذباتی تھی۔ وہ بھی اپنی فوج کے جذبات کو بھڑکا رہا تھا۔ اس نے سپاہیوں کے لیے
‫فتوی لے لیا تھا کہ میدان جنگ میں روزہ فرض نہیں۔ تمام فوج خوش
‫یہ سہولت بھی پیدا کردی تھی کہ دو علماء سے یہ
‫ٰ
‫تھی۔ سیف الدین نے کہا کہ ہم اس وقت حملہ کریں گے جب صالح الدین ایوبی کی فوج کا دم خم ٹوٹ چکا ہو۔ پھر ہماری
‫منزل دمشق ہوگی۔ دمشق میں بے اندازہ دولت ہے جو تمہاری ہوگی۔
‫٭ ٭ ٭
‫ادھر لشکروں اور فوجوں کی باتیں ہورہی تھیں۔ ادھر سلطان صالح الدین ایوبی کے کیمپ میں چھ چھ آٹھ آٹھ‪ ،دس دس چھاپہ
‫ماروں کے حساب سے سکیمیں بن رہی تھیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج سے کوئی خطاب نہیں کیا‪ ،کوئی
‫جوشیلی تقریر نہیں کی۔ اس کی نظر اس زمین پر تھی جس پر اسے لڑنا تھا۔ اس زمین کے خدوخال سے وہ زیادہ سے زیادہ
‫جنگی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ اس نے جو بھی بات کی اپنے سینئر اور جونئیر کمانڈروں سے کی اور وہ بھی حقیقت کی بات
‫کی۔ کبھی کبھی وہ اس وجہ سے جذباتی ہوجاتا تھا کہ اس کے مسلمان بھائی فلسطین کے راستے مں حائل ہوگئے ہیں اور
‫مسلمان مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔ اس کا اس کے پاس کوئی عالج نہیں تھا۔ وہ صلح اور امن کے لیے ایلچی بھیج کر
‫اپنی توہین کراچکا تھا۔ اب وہ تصادم کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ اس نے مصر سے آئی ہوئی کمک کو اپنی سکیم کے مطابق
‫تقسیم کردیا تھا اور دشمن کے انتظار میں بے چین ہورہا تھا۔ اس نے اپنے مشیروں سے اس خیال کا اظہار بھی کیا تھا کہ
‫دشمن شاید یہ چاہتا ہے کہ پہاڑیوں سے نکل کر اس پر حملہ کیا جائے۔ سلطان صالح الدین ایوبی چٹانوں سے نکلنے سے
‫گریز کررہا تھا۔ وہ دشمن کو پہل کرنے
‫کا موقعہ دے رہا تھا۔ وہ اگر چاہتا تو اپنے چھاپہ ماروں سے دشمن کے کیمپوں میں تباہی مچا سکتا تھا۔ یہ اس کا خصوصی
‫طریقہ جنگ تھا لیکن اس نے چھاپہ ماروں کو بھی استعمال نہ کیا۔ وہ دشمن کی چال اور حرکت دیکھ رہا تھا۔
‫دمشق میں نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ نے اپنا ایک اور محاذ کھول رکھا تھا۔ جب سے سلطان صالح الدین ایوبی دمشق
‫سے نکال تھا‪ ،اس عظیم عورت نے لڑکیوں کی ایک رضا کار فوج تیار کرنی شروع کردی تھی۔ لڑکیوں کو زخمیوں کو میدان
‫جنگ سے اٹھانے‪ ،خون روکنے اور ابتدائی مرہم پٹی کی تربیت دی جاتی تھی لیکن زنگی کی بیوہ انہیں تیغ زنی‪ ،تیر بازی
‫اور تیز اندازی کی تربیت بھی دے رہی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے چند ایک تجربہ کار مرد اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔
‫اسے معلوم تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی محاذ پر عورت کی موجودگی کو پسند نہیں کرتا اور یہ تو سوچا بھی نہیں
‫جاسکتا کہ وہ لڑکیوں کو فوج میں شامل کرے گا۔ اس کے باوجود زنگی کی بیوہ لڑکیوں کو جنگی تربیت دے رہی تھی۔ وہاں
‫کیفیت یہ بھی کہ کسی کو یہ کہنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو مرہم پٹی وغیرہ کی تربیت
‫کے لیے بھیجا کرے۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو تربیت کے لیے بھیج کر فخر محسوس کرتے تھے۔ دس بارہ سال کی عمر کے بچے
‫اپنے طور پر لکڑی کی تلواریں بنا کر تیغ زنی کرتے رہتے تھے۔
‫زنگی کی بیوہ کی فوج میں چار لڑکیوں کا اضافہ ہوا۔ ان میں ایک تو فاطمہ تھی جسے سلطان صالح الدین ایوبی کا ایک
‫چھاپہ مار جاسوس حرن سے بلکہ گمشتگین کے حرم سے نکال الیا تھا۔ دوسری موصل کے خطیب ابن المخدوم کی بیٹی
‫منصورہ تھی۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اسے اپنے باپ کے ساتھ کس طرح موصل سے نکاال گیاتھا۔ باقی دو وہ لڑکیاں تھیں جنہیں
‫حلب سے گمشتگین کے پاس تحفے کے طور پر بھیجا گیا تھا۔ا نہیں ساالر شمس الدین اور ساالر شادبخت نے حرن کے قاضی
‫کوقتل کرکے وہاں سے نکاال تھا۔ یہ حمیرہ اور سحر تھیں۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس محاذ پر پہنچی تھیں جہاں
‫سے انہیں دمشق بھیج دیا گیا تھا۔ ایسی بے ٹھکانہ لڑکیوں کو نورالدین زنگی کی بیوی کے سپرد کردیا جاتا تھا۔ یہ چاروں اس
‫کے پاس پہنچیں تو انہوں نے وہاں لڑکیوں کو تربیت حاصل کرتے دیکھا۔ یہی ان کی خواہش تھی جو فوری طور پر پوری
‫ہوگئی۔
‫انہوں نے زنگی کی بیوہ کو اپنی اپنی آپ بیتی سنائی۔ وہاں انہیں ان لڑکیوں کے سامنے لے گئی اور انہیں کہا کہ وہ تمام
‫لڑکیوں کو تفصیل سے سنائیں کہ دشمن کے قبضے میں ان پر کیا گزری ہے۔ چاروں نے اپنی اپنی کہانی سنائی۔ خطیب کی
‫بیٹی منصورہ ذہنی طور پر زیادہ مستعد اور ہوشیار تھی۔ اس نے لڑکیوں سے کہا۔ ''عورت قوم کی آبرو ہوتی ہے‪ ،دشمن جب
‫کسی شہر پر قبضہ کرتا ہے تو اس کی فوج سب سے پہلے عورتوں پر ہلہ بولتی ہے۔ تم نے ان دو لڑکیوں (حمیرہ اور
‫سحر) سے سن لیا ہے کہ جو عالقے صلیبیوں کے قبضے میں ہیں وہاں صلیبی مسلمانوں کے ساتھ کتنا ہولناک سلوک کررہے
‫ہیں۔ وہاں کسی مسلمان لڑکی کی عزت محفوظ نہیں۔ خدانخواستہ دمشق بھی ان کے قبضے میں آگیا تو تمہارا بھی وہی حشر

‫ہوگا۔ اگر ہم نے خون کی قربانی دینے سے گریز کیا تو صلیبی ہمارے آقا بن کر رہیں گے۔ انہوں نے ہمارے بہت سے امراء کو
‫خرید لیا ہے۔ اب صلیبی بھی تمہارے دشمن اور مسلمان امراء بھی تمہارے دشمن ہیں اگر تم فتح حاصل کرنا چاہتی ہو تو
‫انتقام کے جذبے کو زندہ وپائندہ رکھو۔ میرے محترم والد کہا کرتے ہیں کہ جو قوم ان معصوموں کو فراموش کردیتی ہے جو کفار
‫کی بربریت کا شکار ہوئے تھے وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی''۔
‫میری بہنو! میں محترم سلطان صالح الدین ایوبی کی مرید ہوں۔ ان کے نام پر سولی چڑھنے کو تیار ہوں لیکن مجھے ان ''
‫کا یہ اصول پسند نہیں کہ عورت محاذ پر نہ جائے۔ انہوں نے جو سوچا ہے ٹھیک ہی سوچا ہے لیکن عورت کو کمزور
‫سمجھا جارہا ہے۔ نوجوان اور خوبصورت لڑکیوں کو حرموں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ ہمیں مرد کی تفریح کا ذریعہ بنا دیا گیا
‫ہے۔ اس طرح قوم کی آدھی قوت بیکار ہوکر رہ گئی ہے۔ دشمن لشکر لے کر آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہماری فوج آدھی
‫بھی نہیں ہوتی۔ ہم مردوں کے دوش بدوش لڑیں گی اور فوج کی کمی پوری کریں گی۔ میں موصل میں جاسوسوں کے گروہ
‫میں رہی ہوں۔ میں اس محاذ پر لڑ کر آئی ہوں۔ یہ میرے والد کی غلطی تھی کہ انہوں نے جذبات میں آکر والئی موصل پر
‫اپنے اصل خیاالت کا اظہار کردیا۔ اگر وہ نہ پکڑے جاتے تو وہاں ارادے کچھ اور تھے۔ ہم وہاں تباہ کاری نہ کرسکے اور ہمیں
‫وہاں سے نکلنا پڑا''۔
‫ان چاروں لڑکیوں کی آپ بیتی اور منصورہ کی باتوں نے لڑکیوں کے جذبے کی شدت میں اضافہ کردیا۔ا ن میں سے چار سو
‫لڑکیاں تربیت حاصل کرکے تیار ہوچکی تھیں۔ انہیں محاذ کے لیے روانہ کیا جانے لگا۔ چاروں لڑکیوں نے چند دنوں میں کچھ
‫تربیت حاصل کرلی تھی۔ انہیں روک لیا گیا لیکن ان میں انتقام کا جذبہ اتنا زیادہ تھا کہ وہ اسی جیش کے ساتھ محاذ پر
‫جانے کی ضد کرنے لگیں۔ فاطمہ‪ ،حمیرہ اور سحر کی ضد اتنی سخت تھی کہ تینوں رو پڑیں۔ ان کی آنکھوں میں خون اترا
‫ہوا تھا۔زنگی کی بیوہ نے انہیں بھی چار سو کے اس جیش میں شامل کرلیا۔ ان کے ساتھ ایک سو مردوں کو بھیجا گیا۔ یہ
‫رضاکار تھے۔ انہوں نے لڑنے کی تربیت حاصل کرلی تھی۔ ان کا کمانڈر حجاج ابووقاص تھا۔
‫نورالدین زنگی کی بیوہ نے حجاج وقاص کو ایک تحریری پیغام دے کر کہا۔ ''یہ سلطان صالح الدین ایوبی کو دے دینا۔ میں
‫نے سب کچھ لکھ دیا ہے۔ تم انہیں یہ بتانا کہ یہ لڑکیاں زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ تم ایک بار پھر
‫سن لو۔ ان لڑکیوں اور رضاکار محافظوں کو اپنے ساتھ رکھنا۔ انہیں شب کو شب خون مارنے کی تربیت دی گئی ہے اور لڑکیاں
‫بھی لڑ سکتی ہیں۔ زخمیوں کو سنبھالنے کے بہانے تم سب لڑو گے۔ فوج کے سامنے رکاوٹ نہ بن جانا۔ جہاں موقعہ ملے
‫دشمن کو کمزور کرو۔ میں نے لڑکیوں کو بتا دیا ہے کہ دشمن کے ہاتھ زندہ نہ آئیں۔ وہ خود کہتی ہیں کہ پکڑے جانے کا
‫خطرہ ہوا تو وہ اپنی تلوار سے اپنے آپ کو ختم کردیں گی''۔
‫چار سو لڑکیوں اور ایک سو رضاکار مردوں کا یہ دستہ گھوڑوں پر سوار دمشق سے روانہ ہوا تو سارا شہر امڈ کر باہر آگیا۔
‫لوگوں نے جانے والوں پر پھول برسائے۔ اس قسم کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ ''واپس نہ آنا‪ ،آگے جانا… صالح الدین ایوبی
‫سے کہنا کہ دمشق کی تمام عورتیں آئیں گی… اللہ تمہیں فتح دے گا… اسالم کا کوئی دشمن زندہ نہ رہے''… شہر کے بہت
‫سے آدمی گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار دور تک اس جیش کے ساتھ گئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫رمضان کا مہینہ تھا۔ راستے میں ایک رات پڑائو کرنا تھا۔ افطاری کے وقت سے کچھ دیر پہلے یہ قافلہ ایک جگہ رک گیا۔
‫لڑکیاں کھانے کی تیاریوں میں مصروف ہوگئیں اور مرد خیمے نصب کرنے لگے۔ اپریل کا مہینہ تھا۔ راتیں سرد ہوجاتی تھیں۔
‫گھوڑوں کے اس قافلے کے ساتھ اونٹ بھی تھے جن پر خیمے لدے ہوئے تھے ان خیموں میں برچھیاں‪ ،تلواریں اور تیروکمان
‫لپٹے ہوئے تھے۔ سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے بارہ گھوڑ سوار آگئے۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار تھے۔ جو
‫دمشق سے محاذ پر جانے والے راستے کی حفاظت میں گھوم پھر رہے تھے۔ انہوں نے لڑکیوں اور رضاکاروں کے قافلے کو دیکھ
‫لیا تھا۔
‫ان آٹھ سواروں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر میرکارواں حاج ابووقاص آگے بڑھا۔ چھاپہ ماروں کا کمانڈر انطانون تھا۔ اس نے
‫ابووقاص سے پوچھا کہ وہ کون ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔ ابووقاص نے اسے مکمل جواب دیا اور اسے مطمئن کردیا۔ چھاپہ
‫ماروں کو دیکھ کر بہت سی لڑکیاں دوڑی گئیں اور ان کے گرد جمع ہوگئیں۔ سب کا یہی ایک سوال تھا کہ محاذ کی کیا خبر
‫ہے۔ انطانون نے انہیں بتایا کہ جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی اور کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ کس وقت شروع ہوجائے۔
‫فاطمہ بیتابی سے آگے بڑھی اور انطانون کا ہاتھ پکڑ لیا۔ انطانون نے فاطمہ کو گمشتگین کے حرم سے نکاال تھا ابووقاص نے
‫انطانون سے کہا کہ وہ افطار ان کے ساتھ کریں اور کھانا بھی انہی کے ساتھ کھائیں۔ سب بکھر گئے ہر کوئی کسی نہ کسی
‫کام میں مصروف تھا۔ انطانون اور فاطمہ نے اتنا سا موقعہ پیدا کرلیا کہ انطانون نے اسے رات کو ملنے کی ایک جگہ بتا دی۔
‫دمشق سے دور اس ویرانے میں اذان کی صدائے مقدس گونجی۔ سب نے روزہ افطار کیا۔ نماز پڑھی اور کھانا کھایا۔ سب دن
‫بھر کے تھکے ہوئے تھے۔ جنہیں سونا تھا وہ سوگئے۔ لڑکیوں نے ٹولیوں میں بٹ کر گیت گانے شروع کردئیے۔ چھاپہ ماروں
‫نے ان سے کچھ دور اپنا ڈیرہ جما لیا۔ انطانون اپنی پارٹی کو یہ کہہ کر چال گیا کہ وہ ادھر ادھر دیکھ بھال کرنے جارہا ہے۔
‫فاطمہ چپکے سے لڑکیوں میں سے غائب ہوگئی۔ وہ خیمہ گاہ سے دور ایک جگہ کھڑی انطانون کا انتظار کررہی تھی۔ انطانون
‫بھی آگیا۔ فاطمہ کے ساتھ اس کی پہلی مالقات حرن میں ہوئی تھی۔ اس وقت انطانون سلطان صالح الدین ایوبی کا جاسوس
‫تھا۔ اس نے اس لڑکی کو صرف اس لیے پھانسا تھا کہ وہ حرن کے حکمران اور سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن گمشتگین
‫کے حرم کی لڑکی تھی۔ اسے وہ اپنی جاسوس کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ حاالت کچھ ایسے ہوئے کہ فاطمہ نے ایک
‫صلیبی مشیر کو قتل کردیا اور انطانون گرفتار ہوکر فرار ہوا اور فاطمہ کو ساتھ لے آیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے فاطمہ کو
‫دمشق بھیج دیا اور انطانون اپنی درخواست پر چھاپہ مار دستے میں شامل ہوگیا۔ اب اتنے دنوں بعد فاطمہ اسے اچانک مل
‫گئی تو انطانون نے بڑی شدت سے محسوس کیا کہ اس لڑکی کے بغیر اس کی زندگی روکھی پھیکی ہوگئی ہے اور یہ لڑکی
‫اس کے دل میں اتر گئی ہے۔ یہ تعلق صرف اتنا ہی نہیں تھا کہ لڑکی کو جاسوسی کے لیے استعمال کرنا تھا۔ کچھ ایسی
‫ہی کیفیت فاطمہ کی تھی۔
‫ان کی مالقات جذباتی تھی۔ وہ اپنے اپنے قابو میں نہیں رہے تھے لیکن انطانون نے اس کی بازوئوں سے نکل کر کہا…
‫'' فاطمہ! ہمارا فرض ابھی پورا نہیں ہوا۔ میں حرن میں بھی اپنا فرض پورا نہیں کرسکا تھا۔ تمہیں وہاں سے نکال النا
‫کوئی کارنامہ نہیں تھا اور یہ میرے فرائض میں شامل بھی نہیں تھا۔ میں سلطان کے آگے شرمسار ہوں اور میں اپنی قوم کے
‫آگے بھی شرمسار ہوں۔ میں چھاپہ مار دستے میں اسی لیے شامل ہوا ہوں کہ فرض پورا نہ کرسکنے کے گناہ کا کفارہ ادا
‫کرسکوں۔ سلطان محترم نے مجھ پر ذمہ داری عائد کردی ہے کہ ان سات چھاپہ ماروں کی کمان اور قیادت مجھے دے دی

‫ہے۔ اب ایک بار پھر تم میرے راستے میں نہ آجانا۔ مجھے تم سے محبت ہے لیکن مجھے پہلے فرض ادا کرنے دو''۔
‫میں بھی فرض ادا کرنے آئی ہوں''۔ فاطمہ نے کہا۔ ''میں گمشتگین کو قتل کرنے آئی ہوں''۔''
‫ناممکن ہے'' ۔ انطانون نے کہا۔ ''محترم سلطان عورت کو محاذ سے بہت دور رکھتا ہے۔ وہ شاید تم سب کو واپس بھیج''
‫دے گا''۔
‫میں واپس نہیں جائوں گی''۔ فاطمہ نے غصے سے کہا۔ ''میں ثابت کردوں گی کہ عورت حرم کے لیے نہیں جہاد کے ''
‫لیے پیدا کی گئی ہے… انطانون! میری یہ خواہش پوری کرو کہ مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ مجھے مردانہ کپڑے پہنا کر اپنے
‫ساتھ رکھو''۔
‫ایسا ہو نہیں سکتا''۔ انطانون نے کہا۔ ''اگر میں تمہیں اپنے ساتھ رکھ بھی لوں تو میری توجہ تم پر لگی رہے گی۔ میں''
‫اپنا کام نہیں کرسکوں گا اور اگر میں پکڑا گیا تو مجھے اس جرم میں قیدخانے میں ڈال دیں گے کہ میں نے ایک لڑکی اپنے
‫ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ میری اور تمہاری نیت کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو یہ جرم معمولی نہیں… فاطمہ! جنگ جذبات سے
‫نہیں لڑی جاتی۔ اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ تم جدھر جارہی ہو جائو۔ ہوسکتا ہے سلطان تم سب کو زخمیوں کی مرہم پٹی
‫کے لیے اپنے ساتھ رکھ لے''۔
‫تم پھر مل سکوگے!'' فاطمہ نے پوچھا۔''
‫شاید کہیں زندہ یا مردہ مل جائوں''۔ انطانون نے جواب دیا۔ ''چھاپہ مار اپنے متعلق بتا نہیں سکتا کہ وہ کس وقت ''
‫کہاں ہوگا اور اس کی الش کہاں سے ملے گی۔ چھاپہ ماروں کی الشیں مال نہیں کرتیں۔ وہ دشمن کی جمعیت میں جاکر مرا
‫کرتے ہیں۔زندہ رہا تو سیدھا تمہارے پاس آئوں گا''۔
‫ہوسکتاہے تم زخمی ہوجائو تم میں ہی تمہاری مرہم پٹی کروں''۔ فاطمہ نے کہا۔''
‫چھاپہ ماروں کی مرہم پٹی دشمن کیا کرتا ہے''۔ انطانون نے جواب دیا۔ ''فاطمہ جذبات میں نہ آئو۔ ہمیں جذبات کو ''
‫بھی اورایک دوسرے کو بھی قربان کرنا پڑے گا۔ اگر تم یہ چاہتی ہو کہ تم جیسی لڑکیاں حرموں میں نہ جائیں اور وہ صلیبیوں
‫کے وحشی پن سے بچی رہیں تو میرا خیال دل سے نکال دو۔ میدان جنگ میں تمہیں جو فرض سونپا جائے صرف اسے دل
‫میں رکھنا۔ تم گمشتگین کو قتل نہیں کرسکو گی۔ یہ ارادہ بھی دل سے نکال دو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی کی سرگرمیاں دو ہی تھیں۔ میدان جنگ کا نقشہ دیکھتا اور اس کی لکیروں میں کھویا رہتا یا گھوڑے
‫پر سوار اپنی فوج کی مورچہ بندیاں دیکھتا رہتا تھا۔ وہ کچھ دیر کے لیے یا موزوں وقت تک کے لیے دفاعی جنگ لڑنے کا
‫فیصلہ کرچکا تھا۔ وہ اصل جنگ قرون کے اندر لڑنا چاہتا تھا جس کی اس نے سکیم بنا رکھی تھی لیکن ایک پہلو اسے
‫پریشان کررہا تھا۔بائیں پہلو پر تو چٹانیں اور ان کے پیچھے پہاڑیاں تھیں لیکن دائیں پہلو پر چٹانیں زیادہ نہیں تھیں۔ ان کے
‫پیچھے کچھ میدان تھا۔دشمن اس طرف پیش قدمی کرکے یا ہلہ بول کر آگے نکل سکتا تھا۔ اس سے سلطان ایوبی کا سارا
‫پالن تباہ ہونے کا خطرہ تھا۔ اس کے پاس اتنی فوج نہیں تھی کہ اس میدان میں سواروں اور پیادوں کی دیوار کھڑی کرسکتا۔
‫قریبی چٹان پر اس نے تیر انداز بٹھا دئیے تھے لیکن یہ انتظام کافی نہیں تھا۔ میدان کے لیے اس نے دو دستے سوار اور
‫پیادہ تیار کرلیے تھے لیکن انہیں ابھی چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو یہ میدان پریشان کررہا تھا۔ ان
‫دستوں کے عالوہ اس نے ایک منتخب دستہ اپنے پاس رکھ لیا تھا۔
‫وہ ایک چٹان پر کھڑا ادھر دیکھ رہا تھا کہ دور افق سے اسے گرد اٹھتی نظر آئی۔ ایسی گرد فوجی اچھی طرح پہچانتے تھے۔
‫وہ کوئی سوار فوج آرہی تھی۔ گرد کے پھیالئو سے پتہ چلتا تھا کہ گھوڑے ایک صف میں نہیں چار چار یا چھ چھ کی ترتیب
‫میں ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں۔ دشمن کے سوا اور کون ہوسکتا تھا۔ سلطان ایوبی نے غصے سے پوچھا۔ ''کیااس
‫راستے پر اپنا ایک بھی آدمی نہیں تھا؟ تیاری کا حکم دو''۔
‫تیاری کے نقارے بچ اٹھے۔ فوج کو جس طرح دفاع کے لیے تیاری کی مشق کرائی گئی تھی‪ ،وہ اسی طرح تیار ہوگئی۔ ذرا
‫سی دیر بعد گھوڑے نظر آنے لگے۔ ان کی چال دشمن والی یا حملے والی نہیں تھی۔ سلطان ایوبی نے حکم دیا کہ دوچار
‫سوار دوڑائو‪ ،دیکھو یہ کون لوگ ہیں… سوار دوڑا دئیے گئے اور جب وہ واپس آئے تو دور سے چالنے لگے۔ ''دمشق سے رضا
‫کار آئے ہیں۔ ساتھ عورتوں کی فوج ہے''۔
‫عورتوں کی فوج؟'' سلطان ایوبی نے حیران ہوکر پوچھا۔ ''عورتوں کی فوج؟'' اس نے ذرا توقف سے سکون کی آہ لے ''
‫کر کہا۔ ''یہ فوج میری بیوہ بہن نے تیار کرکے بھیجی ہوگی۔ زنگی مرحوم کی بیوہ ہی یہ کام کرسکتی ہے''… سلطان
‫ایوبی نے ہنسنا شروع کردیا۔ عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ وہ اتنا کبھی نہیں ہنسا تھا۔ ہنستے ہنستے وہ سنجیدہ ہوگیا اور
‫اپنے پاس کھڑے ساالروں سے کہنے لگا۔ ''میری قوم کی بچیاں تمہیں فتح یاب کرکے دم لیں گی۔ ہم کیوں نہ مر مٹیں ان
‫بچیوں کی آبرو پر… لیکن میں انہیں واپس بھیج دوں گا اگر ایک بھی لڑکی دشمن کے ہاتھ چڑھ گئی تو میں مر کر بھی چین
‫حاصل نہیں کر سکوں گا''۔
‫وہ چٹان سے اتر کر آگے چال گیا۔ لڑکیوں اور رضاکاروں کی فوج قریب آگئی۔ اس کا کمانڈر ابو وقاص گھوڑے سے اتر کر
‫سلطان ایوبی کے پاس آیا۔ سالم کے بعد نورالدین زنگی کی بیوہ کا تحریری پیغام دیا۔ اس نے لکھا تھا… ''میرے بھائی! اللہ
‫تمہارا حامی وناصر ہو۔ میرا شوہر زندہ ہوتا تو تم اتنے سارے دشمنوں کے سامنے اکیلے نہ ہوتے۔میں تمہاری کوئی مدد نہیں
‫کرسکتی۔ جو مجھ سے ہوسکتا تھا وہ پیش کررہی ہوں۔ ان لڑکیوں کو میں نے زخمیوں کو سنبھالنے اور زخموں کی مرہم پٹی
‫کی تربیت دالئی ہے۔ دوائیوں کا ذخیرہ بھی بھیج رہی ہوں۔ ایک سو رضا کار بھی ساتھ ہیں… بوڑھے فوجیوں نے انہیں جنگی
‫تربیت دی ہے۔ تقریبا ً تمام کو شب خون مارنے کی مشق بھی کرائی ہے۔ یہ سب جوش اور جذبے والے ہیں۔ میں جانتی ہوں
‫کہ ان لڑکیوں کو تم محاذ پر رکھنا پسند نہیں کرو گے۔ میں تمہارے خیاالت سے آگاہ ہوں لیکن یہ خیال رکھنا کہ تم نے انہیں
‫واپس بھیج دیا تو دمشق والوں کا دل ٹوٹ جائے گا۔ تم نہیں جانتے کہ اس شہر میں لوگوں میں کیا جذبہ ہے۔ مرد تو محاذ
‫پر جانے کو تیار ہیں۔ عورتیں بھی تمہاری قیادت میں لڑنے کو بیتاب ہیں۔ اس جیش کو سارے شہر نے عقیدت اور ولولے سے
‫رخصت کیا ہے۔ یہاں تو بچے بھی فوجی تربیت حاصل کررہے ہیں۔ تمہیں فوج کی کمی محسوس نہیں ہوگی''۔
‫پیغام پڑھ کر سلطان ایوبی کے آنسو نکل آئے۔ اس نے لڑکیوں کی طرف دیکھا۔ وہ تھیں تو لڑکیاں لیکن گھوڑوں پر وہ سپاہی
‫لگتی تھیں۔ سلطان ایوبی نے سب کو گھوڑوں سے اتار کر اپنے سامنے کھڑا کرلیا۔ اس نے کہا۔ ''میں تم سب کو میدان
‫جنگ میں خوش آمدید کرتا ہوں‪ ،تمہارے جذبے کا صلہ میں نہیں دے سکتا۔ خدا دے گا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
‫کہ لڑکیوں کو محاذ پر بالئوں گا۔ میں ڈرتا ہوں کہ تاریخ کہے گی کہ صالح الدین ایوبی نے اپنی بیٹیوں کو لڑایا تھا۔ میں

‫تمہارے جذبات کو مجروح بھی نہیں کرسکتا۔ تمہیں اپنے پاس رکھنے سے پہلے میں تمہیں موقعہ دینا چاہتا ہوں کہ سوچ لو۔
‫تم میں اپنے کوئی ایسی لڑکی ہے جو اپنی مرضی سے نہیں آئی تو وہ الگ ہوجائے اور وہ لڑکیاں بھی الگ ہوجائیں جن کے
‫دل میں ذرا بھی شک اور خوف ہے''۔
‫کوئی ایک بھی لڑکی الگ نہ ہوئی۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''میں تمہیں پیچھے محفوظ جگہ رکھوں گا۔ جنگ کے دوران تمہیں
‫آگے نہیں جانے دوں گا۔ پھر بھی یہ عالقہ ایسا ہے کہ تم دشمن کی زد میں آسکتی ہو۔ ہوسکتا ہے تم میں سے کئی تیروں
‫سے ماری جائیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دشمن کے ہاتھ چڑھ جائے۔ یہ بھی سن لو کہ برچھی اور تلوار
‫کا زخم بہت گہرا اور بڑا ہی بھیانک ہوتاہے''۔
‫ایک لڑکی کی آواز بلند ہوئی۔ ''آپ تاریخ سے ڈرتے ہیں اور ہم بھی تاریخ سے ڈرتی ہیں۔ ہم واپس چلی گئیں تو تاریخ
‫کہے گی کہ قوم کی بیٹیوں نے صالح الدین ایوبی کو تنہا چھوڑ دیا ور گھروں میں بیٹھی رہی تھیں''۔
‫ایک اور لڑکی نے کہا۔ ''خدا صالح الدین کی تلوار میں اور زیادہ قوت دے۔ ہم حرموں کے لیے پیدا نہیں ہوئیں''۔
‫تیسری لڑکی نے کہا۔ ''تین چاند پہلے میرا بیاہ ہوا تھا۔ اگر آپ نے مجھے واپس بھیج دیا تو میں اپنے خاوند کو اپنے اوپر
‫حرام سمجھوں گی''۔
‫تمہارا خاوند خود کیوں نہیں آیا؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔ ''اس نے اپنی دلہن کو کیوں بھیج دیا ہے''۔''
‫وہ آپ کی فوج میں ہے''۔ لڑکی نے جواب دیا۔''
‫پھر تمام لڑکیوں نے چالنا شروع کردیا۔ اس کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ اپنے جوش اور جذبے کا مظاہرہ کررہی ہیں۔
‫یہ شور ذرا تھما تو کسی لڑکی کی آواز سنائی دی… ''محترم سلطان! ہمیں لڑنے کا موقعہ دیں ہم آپ کو مایوس نہیں کریں
‫گی''۔
‫یہ بھول جائو کہ میں تمہیں لڑائی میں شریک ہونے دوں گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''تمہیں چھوٹے چھوٹے گروہوں میں''
‫تقسیم کردوں گا''۔
‫اس نے اسی روز لڑکیوں کو چار چار کی ٹولیں میں تقسیم کردیا۔ ہر ٹولی کے ساتھ ایک ایک رضاکار لگا دیا گیا۔
‫رضا کاروں کے متعلق کہا گیا تھا کہ انہیں جنگی ٹریننگ دی گئی ہے لیکن سلطان ایوبی نے انہیں زخمیوں کی مرہم پٹی کا
‫کام دیا کیونکہ وہ باقاعدہ فوج کے سپاہی نہیں تھے۔ انہیں فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کا تجربہ نہیں تھا۔ لڑکیوں اور رضاکاروں
‫کی خیمہ گاہ قرون سے دور بنائی گئی۔ انہیں سپاہیوں کے حوالے کردیا گیا جو زخمیوں اور الشوں کو اٹھانے اور زخمیوں کی
‫مرہم پٹی کا کام کرتے تھے۔ ان سپاہیوں نے لڑکیوں اور رضاکاروں کو ٹریننگ دینی شروع کردی۔ فاطمہ‪ ،منصورہ‪ ،حمیرہ اور سحر
‫ایک ٹولی میں آگئیں۔ ان کا ایک ٹولی میں اکٹھا ہوجانا قدرتی امر تھا کیونکہ وہ اکٹھی دمشق پہنچیں اور ان کے دلوں میں
‫ایک ہی جیسی خواہش اور ولولہ تھا۔ ان کے ساتھ آذر بن عباس نام کا ایک رضاکار تھا۔ اس کا چھوٹا سا خیمہ الگ تھا اور
‫اس کے قریب ہی چاروں لڑکیوں کے لیے بڑا خیمہ نصب کیا گیا تھا۔ ان لڑکیوں میں خطیب کی بیٹی منصورہ‪ ،جسمانی اور
‫دماغی لحاظ سے تیز اور ہوشیار تھی۔ شام سے کچھ دیر پہلے اس نے دیکھا کہ ان کا ساتھی رضاکار آذر ایک چٹان پر چڑھتا
‫جارہا ہے۔ وہ اوپر چال گیا ور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ منصورہ بھی اوپر چلی گئی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ وادیوں میں اور
‫ڈھالنوں پر سپاہی نظر آرہے تھے۔ آذر نے منصورہ سے کہا۔ ''آئو آگے چلیں''۔ وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔ آذر قدرتی مناظر
‫اور پہاڑی عالقے کی تعریفیں کرتا رہا۔
‫آذر خوبرو جوان تھا۔ اس کی باتوں میں زندہ دلی اور چاشنی تھی۔ اس نے منصورہ کے ساتھ بڑی شگفتہ سی باتیں شروع
‫کردیں۔ منصورہ نے بھی اس میں دلچسپی لینی شروع کردی۔ وہ سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے واپس آئے۔ اتنے سے وقت
‫میں آذر منصورہ کے دل میں اتر چکا تھا۔ افطاری کے بعد لڑکیاں اپنے خیمے میں بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں۔ فوج کے کسی
‫کمانڈر نے خیمے میں جھانک کر دیکھا اور لڑکیوں سے پوچھا کہ انہیں کوئی تکلیف تو نہیں؟ لڑکیوں نے آرام اور اطمینان کا
‫اظہار کیا تو کمانڈر خیمے سے ہٹ گیا۔ باہر آذر کھڑا تھا۔ اس نے کمانڈر کو باتوں میں لگا لیا۔ وہ بہت دیر باہر کھڑے باتیں
‫کرتے رہے۔ منصورہ ان کی باتیں سن رہی تھی۔ آذر نے کمانڈر سے پوچھا کہ اتنی تھوڑی فوج سے وہ تین فوجوں کا مقابلہ
‫کس طرح کریں گے۔
‫دشمن کے لیے پھندا تیار ہے''۔ کمانڈر نے کہا۔ ''جنگ اس میدان میں نہیں ہوگی جہاں دشمن کی توقع ہے‪ ،ہم اسے ''
‫اس جگہ گھسیٹ الئیں گے جہاں ہم نے وسیع پیمانے پر گھات تیار رکھی ہوئی ہے''۔ اس کمانڈر نے آذر کی جذباتی اور
‫جوشیلی باتوں سے متاثر ہوکر تفصیل سے بتا دیا کہ سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو کس طرح تقسیم کیا ہے اور وہ کیا کرے
‫گا۔ مصر کی کمک کے متعلق بھی تفصیل بتا دی۔
‫اسی رات کا واقعہ ہے۔ آدھی رات کے لگ بھگ منصورہ کی آنکھ کھل گئی۔ اسے آذر بن عباس کے خیمے سے باتیں سنائی
‫دیں۔ وہ سمجھی کہ آذر کا کوئی دوست ہوگا لیکن اسے یہ الفاظ سنائی دئیے۔ ''تم ابھی نکل جائو‪ ،کچھ باتیں تم نے خود
‫معلوم کرلی ہیں۔ باقی میں نے بتا دی ہیں۔ میرے لیے یہاں سے نکلنا ممکن نہیں تھا۔ اچھا ہوا تم آگئے۔ اب راستہ سمجھ
‫لو''۔ اس آدمی نے آذر کو بتایا کہ وہ کس طرف سے نکلے۔ اسے سارا راستہ سمجھا کر کہا۔ ''تم پیدل جارہے ہو۔ پیدل
‫ہی جانا چاہیے۔ صبح سے پہلے پہنچ جائو گے۔ جلدی پہنچنے کی کوشش کرنا‪ ،کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کل ہی اندھا دھند
‫حملہ کریں۔ پھندا تیار ہے اور مضبوط ہے۔ قرون کے اندر نہ آئیں۔ خدا حافظ!''۔
‫منصورہ کو اس آدمی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ وہ چال گیا تھا۔ منصورہ نے خیمے کا پردہ ذرا سا ہٹا کر باہر دیکھا۔ آذر
‫اپنے خیمے سے باہر کھڑا تھا۔ وہ ایک طرف چل پڑا۔ منصورہ نے اپنے خیمے کی کسی لڑکی کو جگائے بغیر اپنے سامان سے
‫خنجر نکاال ور باہر نکل گئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫آسمان پر ہلکے ہلکے بادل تھے جن کی وجہ سے چاندی بہت ہی دھندلی تھی۔ منصورہ کو آذر سائے کی طرح نظر آرہا تھا۔
‫کچھ فاصلہ رکھ کر اور اوٹ میں ہو کر اس نے آذر کا تعاقب کیا۔ آذر ایک چٹان کے دامن میں ہوگیا اور چلتا گیا۔ منصورہ
‫بھی اسی راستے پر ہوگئی۔ راستے میں کوئی سنتری یا کوئی اور فوجی ادھر آتا جاتا نظر نہ آیا۔ اس لیے منصورہ سمجھ گئی
‫کہ لڑکیوں اور رضاکاروں کے خیمے اگلے مورچوں سے بہت پیچھے لگائے گئے ہیں اور اس سے پیچھے کوئی فوج نہیں۔ منصورہ
‫کو معلوم نہیں تھا۔ وہاں کئی جگہوں پر فوج موجود تھی لیکن جو آدمی آذر کے پاس آیا تھا وہ اسے ایسا راستہ بتا گیا تھا
‫جو اسے فوج کی نظر سے بچا سکتا تھا۔ وہ ایک کٹی ہوئی چٹان کے اندر چال گیا۔ منصورہ رکی‪ ،ذرا دیر بعد وہ بھی چٹان
‫کے کٹائو میں داخل ہوگئی۔

‫آگے وادی تھی جس میں درخت بھی تھے۔ آذر کسی درخت کے پیچھے رک جاتا‪ ،ادھر ادھر دیکھتا اور چل پڑتا۔ منصورہ کے
‫بھی چلنے‪ ،رکنے اور چھپنے کا انداز یہی تھا۔ کچھ دور اونچی پہاڑی کا دامن آگیا۔ منصورہ بھی اس میں داخل ہوئی تو یخ
‫ہوا کے تیزوتند جھونکے نے اس کے پائوں اکھاڑ دئیے اور اس کا جسم سن ہونے لگا۔ آذر نے کسی شک کی بنا پر پیچھے
‫دیکھا اور رک گیا۔ منصورہ بڑے سے ایک پتھر کے پیچھے بیٹھ گئی۔ آذر آگے کو چل پڑا۔ منصورہ اٹھی اور جس طرف پہاڑی
‫کا سایہ تھا اس طرف ہوگئی۔
‫درے سے باہر نکلے تو کھال میدان تھا۔ آذر تیز چل پڑا۔ منصورہ نے بھی رفتار تیز کردی وہ عورت تھی‪ ،بہت سا فاصلہ طے
‫کر چکی تھی۔ ٹھنڈ بھی تھی اور نیچے پتھر تھے۔ وہ تھک گئی یہ تو اس کا جذبہ تھا جو اسے تعاقب میں چالئے جارہا
‫تھا۔ اب وہ اس سوچ میں پڑ گئی کہ اس تعاقب میں انجام کیا ہوگا اگر آذر دوڑ پڑا تو وہ اس تک نہیں پہنچ سکے گی وہ
‫جس شک پر اس کے تعاقب میں گئی تھی وہ یقین میں بدل چکا تھا۔ آذر دشمن کی طرف جارہا تھا۔ منصورہ نے تعاقب کا
‫یہ پہلو تو سوچا ہی نہیں تھا کہ اسے پکڑے یا پکڑوائے گی کیسے۔ اب تو وہ بہت تیز چل پڑا تھا اگر اسے پکڑنا ہی تھا تو
‫یہ دوبدو مقابلہ تھا۔ منصورہ کے پاس خنجر تھا۔ اس نے خنجر زنی کی تربیت موصل میں اپنے باپ سے لی تھی لیکن وہ
‫صرف تربیت تھی۔ دشمن سے کبھی مقابلہ نہیں ہوا تھا۔ یہ دشمن تنو مند مرد تھا۔ کیا منصورہ اسے زیر کرکے پکڑ سکے
‫گی؟
‫وہ سوچتی گئی اور تیز چلتی گئی۔ آذر اچانک رک گیا اور اس نے پیچھے دیکھا۔ منصورہ کے قریب ایک درخت تھا وہ پھرتی
‫سے درخت کی اوٹ میں ہوگئی۔ درخت کے ساتھ جگہ ذرا بلند تھی اور وہاں پتھر تھے۔ منصورہ کا پائوں پتھروں پر پھسال اور
‫وہ گر پڑی۔ رات کے سکوت میں پتھروں کی آواز بہت اونچی سنائی دی۔ آذر پیچھے کو آیا۔ منصورہ نے اسے آتے دیکھ لیا۔
‫وہ اٹھی نہیں‪ ،درخت کے پیچھے بیٹھ گئی اور آذر کو دیکھتی رہی۔ اس نے خنجر نکال لیا۔ آذر درخت کے بالکل قریب آگیا
‫تو منصورہ نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی۔ آذر درخت سے ذرا آگے ہوا تو منصورہ نے اس کے پائوں پر جھپٹا
‫مارا اور اس کے دونوں ٹخنے پکڑ لیے۔ وہ اب پیٹ کے بل تھی۔ اس نے پوری طاقت سے آذر کے ٹخنے پیچھے کو کھینچے۔
‫وہ منہ کے بل گرا۔ دوسرے لمحے منصورہ اس کے پیٹ پر گھٹنے رکھ چکی تھی اور اس کے خنجر کی نوک آذر کی گردن پر
‫تھی۔ یہ عمل دو تین سیکنڈ میں مکمل ہوگیا۔
‫ایک لڑکی ایک ہٹے کٹے جوان کو اپنے گھٹنوں اور جسم کے تمام تر وزن سے بے بس نہیں کرسکتی تھی لیکن گردن پر
‫خنجر کی نوک نے آذر کو حرکت نہ کرنے دی۔ اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر پرے جا پڑی تھی۔
‫کون ہو تم؟'' آذر نے پیٹ کے بل بے بس پڑے ہوئے پوچھا۔''
‫جس کے ہاتھ سے تم بچ کر نہیں جاسکو گے''۔ منصورہ نے جواب دیا۔''
‫''تم عورت ہو؟''
‫ہاں!'' منصورہ نے جواب دیا۔ ''میں عورت ہوں جسے تم اچھی طرح جانتے ہو۔میرا نام منصورہ ہے''۔''
‫اوہ‪ ،پاگل لڑکی!'' آذر نے ہنس کر کہا۔ ''تم نے کیا مذاق کیا ہے؟ میں تو ڈر ہی گیا تھا۔ ہٹو‪ ،اترو‪ ،اپنا خنجر ہٹا لو‪'' ،
‫میری کھال میں اتر رہا ہے''۔
‫''یہ مذاق نہیں آذر… تم کہاں جارہے ہو؟''
‫خدا کی قسم میں کسی اور لڑکی کے پیچھے تو نہیں جارہا''۔ آذر نے دوستانہ لہجے میں کہا۔ ''تم سے زیادہ اچھی کوئی''
‫لڑکی ہے ہی نہیں۔ میں تمہیں دھوکہ تو نہیں دے رہا''۔
‫مجھے نہیں تم میری قوم کو دھوکہ دینے جارہے تھے''۔ منصورہ نے کہا۔ ''تم مجھے سب سے زیادہ اچھی لڑکی ''
‫سمجھتے تھے اور میں نے تمہیں سب سے زیادہ اچھا مرد سمجھا تھا مگر اب نہ میں تمہارے لیے اچھی ہوں‪ ،نہ تم میرے
‫لیے اچھے ہو۔ فرض نے جذبات پر مہر ثبت کردی ہے۔ تم اپنا فرض ادا کرنے چلے تھے‪ ،میں اپنا فرض ادا کررہی ہوں۔ اگر
‫تم میرے خاوند ہوتے‪ ،میرے جسم اور روح کے مالک اور میرے بچوں کے باپ ہوتے تو بھی میرا خنجر تمہاری گردن پر
‫ہوتا''۔
‫تم نے مجھے کیا سمجھ کر گرالیا ہے؟'' آذر نے کہا۔''
‫نام کا مسلمان اور صلیبیوں کا جاسوس''۔ منصورہ نے کہا۔ ''تم صلیبیوں کے دوستوں کو بتانے جارہے ہو کہ احتیاط سے ''
‫حملہ کرنا اور قرون کے اندر نہ آنا''۔
‫تم گنوار لڑکی کیا جانو جاسوس کسے کہتے ہیں''… آذر نے کہا۔ ''میں دشمن کو دیکھنے جارہا تھا''۔''
‫میں جانتی ہوں جاسوس کیسے ہوتے ہیں''۔ منصورہ نے کہا۔ ''میں بہت بڑے جاسوس کی بیٹی ہوں۔ ابن المخدوم ککبوری''
‫کا نام کبھی سنا ہے؟ وہ موصل کے خطیب تھے۔ میں ان کے گروہ کی جاسوس ہوں۔ میں نے اپنے باپ کو موصل کے قید
‫خانے کے تہہ خانے سے نکلوا کر فرار کرایا اور خود ان کے ساتھ موصل سے فرار ہوکر آئی ہوں۔ تم اناڑی جاسوس ہو۔ تجربہ
‫کار جاسوس دور جا کر باتیں کیا کرتے ہیں۔کسی کے خیمے کے پاس کھڑے ہوکر راز کی باتیں نہیں کیا کرتے۔ تم رضا کار بن
‫''کر آئے تھے۔ یہاں کیا کررہے ہو؟
‫میرے اوپر سے اٹھو''… آذر نے کہا۔ ''خنجر ہٹائو‪ ،میں ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں''۔''
‫تمہاری زبان آزاد ہے''… منصورہ نے کہا۔ ''کہو ضروری بات کہو‪ ،میں سن رہی ہوں''۔''
‫آذر خاموش ہو گیا۔ اس کا جسم بے حس ہوگیا۔ اس نے ماتھا زمین سے لگا دیا۔ منصورہ کے سامنے اب یہ مسئلہ آگیا کہ
‫اسے باندھے کیسے اور وہاں سے کس طرح لے جائے اگر اسے قتل کرنا ہوتا تو اس کے لیے مشکل نہیں تھا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:17
‫قسط نمبر۔‪90
‫گناہوں کا کفارہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫منصورہ کے سامنے اب یہ مسئلہ آگیا کہ اسے باندھے کیسے اور وہاں سے کس طرح لے جائے اگر اسے قتل کرنا ہوتا تو اس
‫کے لیے مشکل نہیں تھا۔ وہ اسے زندہ ایوبی کے پاس لے جانا چاہتی تھی چونکہ وہ خود جاسوسوں کے گروہ کے ساتھ رہ
‫چکی تھی‪ ،اس لیے جانتی تھی کہ جاسوسوں کو زندہ پکڑا جاتا ہے۔ اسے یہ خیال آیا کہ ارد گرد کہیں اپنے سپاہی ہوں گے۔
‫اس نے بڑی ہی بلند آواز سے کہا۔ ''کوئی ہے تو پہنچو۔ آئو‪ ،آئو‪ ،آئو''۔ پھر اس نے کہا۔ ''آہو‪ ،ہاآہو''۔ کی آوازیں بلند
‫کیں۔

‫آذر جو بے حس ہوگیا تھا اچانک اتنی زور سے اچھال کہ منصورہ جو اس کے پیٹ پر گھٹنے دبا کر بیٹھی ہوئی تھی‪ ،لڑھک
‫کر ایک طرف جا پڑی۔ آذر تلوار کی طرف لپکا۔ منصورہ نے بجلی کی تیزی سے اٹھ کر آذر کو پیچھے سے اتنی زور سے
‫دھکا دیا کہ وہ آگے کو گرا۔ منصورہ نے تلوار اٹھا لی۔ آذر دوڑ پڑا۔ اس کے لیے مقابلہ کرنے کے بجائے نکل بھاگنا زیادہ
‫ضروری تھا۔منصورہ شور مچاتی اس کے پیچھے دوڑی۔ اس کے پائوں میں بال کی تیزی آگئی تھی۔ دور کہیں گشتی سنتری
‫گشت کررہے تھے۔ انہیں منصورہ کا واویال سنائی دیا تو دوڑے آئے۔ آگے ندی تھی۔ آذر کو رکنا پڑا‪ ،منصورہ پہنچ گئی اور دونوں
‫سنتری بھی پہنچ گئے۔ آذر نے ندی میں چھالنگ لگا دی۔ منصورہ چالئی۔ ''جانے نہ دینا جاسوس ہے۔ زندہ پکڑو''۔
‫سنتری بھی ندی میں کود گئے اور آذر کو پکڑا گیا۔ اسے باہر الئے لیکن ایک لڑکی کو دیکھ کر وہ غلط فہمی میں مبتال
‫ہوگئے۔ وہ سمجھے کہ یہ کوئی اور گڑبڑ ہے۔ ان کے پوچھنے پر منصورہ نے انہیں بتایا کہ وہ کون ہے اور محاذ پر کس طرح
‫پہنچی اور یہ آدمی رضاکار بن کے آیا ہے لیکن مشتبہ ہے۔ اسے سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس لے چلو۔
‫سنو میرے دوستو!'' آذر نے سنتریوں سے کہا۔ ''تمہیں یہاں کیا ملتا ہے؟ چند سکوں اور دو وقت کی روٹی کی خاطر ''
‫مرنے آئے ہو۔ میرے ساتھ چلو‪ ،شہزادے بنا دوں گا۔ اس جیسی لڑکیوں کے ساتھ شادی کرائوں گا۔ دولت سے ماال مال کردوں
‫گا''۔
‫ہم تمہارے ساتھ چلے چلیں گے''… ایک سنتری نے کہا۔ ''پہلے تم ہمارے ساتھ چلو۔ تم بھی چلو لڑکی… وہاں جاکر ''
‫دیکھیں گے کہ یہ جاسوس ہے یا تم بھی جاسوس ہو یا دونوں ادھر بدمعاشی کے لیے آئے تھے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی کے خیمے سے تھوڑی ہی دور حسن بن عبداللہ کا خیمہ تھا۔ سنتری آذر اور منصورہ کو اپنے کمانڈر کے پاس لے
‫گئے۔ کمانڈر انہیں حسن بن عبداللہ کے پاس لے گیا۔ اسے جگایا اور آذر کو اس کے حوالے کردیا۔ منصورہ نے حسن بن
‫عبداللہ کو تمام تر واردات سنائی۔ تعاقب کی تفصیل بھی سنائی۔ حسن بن عبداللہ نے منصورہ کو غور سے دیکھ کر پوچھا۔
‫'' تمہارا چہرہ میرے لیے اجنبی نہیں‪ ،تم شاید موصل سے فرار ہوکر آئی تھیں۔ تمہارے ساتھ موصل کے خطیب ابن المخدوم
‫بھی تھے''۔
‫میں ان کی بیٹی ہوں''۔ منصورہ نے کہا۔''
‫تم نے میری حیرت ختم کردی ہے''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''ہماری لڑکیاں تم سے زیادہ دلیر ہوسکتی ہیں لیکن یہ ''
‫ذہانت کم ہی پائی جاتی ہے جس کا مظاہرہ تم نے کیا ہے''۔
‫مجھے محترم والد نے تربیت دی ہے''۔ منصورہ نے کہا۔ ''میرے کانوں میں صرف دو جملے پڑے اور میں سمجھ گئی کہ''
‫یہ معاملہ کیا ہے''۔
‫آذر کی جامہ تالشی لی گئی۔ اس سے کاغذ برآمد ہوئے۔ ان پر نشان لگے ہوئے تھے جو سلطان ایوبی کی فوج کی پوزیشنیں
‫ظاہر کرتے تھے۔ کاغذوں پر ٹیڑھی ٹیڑھی لکیریں تھیں۔ یہ قرون حماة کا خاکہ تھا۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ سلطان ایوبی کا
‫مکمل دفاعی پالن دشمن کے پاس جارہا تھا۔
‫آذر بھائی!'' حسن بن عبداللہ نے آذر کو کاغذات دکھاتے ہوئے کہا۔ ''ان کے بعد کسی شک کی گنجائش رہ گئی ہے تو''
‫''بتا دو پھر میں تمہیں آزاد کردوں گا۔ اگر بے گناہ ہو تو بولو۔ مجھے یقین دالئو… تم مسلمان ہو؟
‫خدائے ذوالجالل کی قسم!''۔''
‫حسن بن عبداللہ نے اس کے منہ پر سیدھا گھونسا اس قدر زور سے مارا کہ آذر کئی قدم پیچھے پیٹھ کے بل گرا۔ حسن نے
‫دھیمی مگر قہر آلود آواز میں کہا۔ ''جاسوسی کافروں کی کرتے ہو اور قسم ہمارے خدا کی کھاتے ہو۔ میں تم سے یہ نہیں
‫پوچھ رہا کہ تم جاسوس ہو یا نہیں۔ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ یہاں تمہارے جتنے ساتھی ہیں‪ ،ان کے نام بتا دو اور بتائو کہ
‫وہ کہاں کہاں ہیں''۔
‫میں مسلمان ہوں''… آذر نے التجا کی۔ ''سب کچھ بتا دوں گا‪ ،مجھے بخش دو۔ میں اگلی صف میں لڑوں گا''۔''
‫پہلے میرے سوال کا جواب دو''… حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''اب تم مجھ پر اپنی کوئی شرط نہیں ٹھونس سکتے''۔''
‫وہ ہٹ کا پکا معلوم ہوتا تھا۔ بوال۔ ''میں اکیال ہوں''۔
‫''اس لڑکی نے تمہارے خیمے میں جس دوسرے آدمی کی باتیں سنی تھیں وہ کون تھا؟''
‫میں نے اسے پہچانا نہیں تھا''… آذر نے جواب دیا۔ ''وہ اندھیرے میں آیا اور اندھیرے میں چال گیا تھا''۔''
‫حسن بن عبداللہ نے اپنے دو آدمیوں کو بالیا اور کہا… ''اسے لے جائو اور پوچھو کہ اس کے ساتھ کون ہیں اور کہاں
‫ہیں''… اس نے منصورہ سے کہا۔ ''تم جاکر سو جائو۔ فجر کی نماز کے بعد تمہیں بالئیں گے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی جب فجر کی نماز پڑھ کر آیا تو حسن بن عبداللہ اس کے ساتھ تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ خطیب
‫ابن المخدوم کی بیٹی نے رات ایک جاسوس پکڑا ہے۔ اس نے سارا واقعہ سنایا تو سلطان ایوبی نے کہا۔ ''اسالم کی بیٹیوں
‫کا یہی کردار تھا۔ اگر ہم نے اپنے کلمہ گو دشمنوں کو خون سے لکھا ہوا سبق نہ پڑھایا تو وہ قوم کی بیٹیوں کا کردار ختم
‫''کردیں گے… وہ جاسوس کہاں ہے؟
‫ابھی آپ اسے نہ دیکھیں''… حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''میں اس کا سینہ خالی کرلوں تو اسے آپ کے پاس لے آئوں ''
‫گا۔ خوبرو جوان ہے‪ ،اپنے آپ کو دمشق کا باشندہ کہتا ہے۔ یہاں رضاکار بن کے آیا تھا''۔
‫اس وقت آذر ایک درخت کے ٹہنے کے ساتھ الٹا لٹکا ہوا تھا۔ اس کا سر زمین پر گز ڈیڑھ گز اوپر تھا نیچے انگارے دہک
‫رہے تھے۔ ایک سپاہی تھوڑی تھوڑی دیر بعد آگ میں کچھ پھینکتا تھا جس کے دھوئیں سے آذر تڑپتا اور کھانستا تھا۔ حسن
‫بن عبداللہ نے اسے نیچے اتروایا۔ اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ سارا خون چہرے پر آگیا تھا۔ وہ کھڑا نہ رہ سکا۔ تھوڑی
‫دیر غشی کی حالت میں زمین پر پڑا رہا۔ اس کے منہ میں پانی ٹپکایا گیا۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو حسن بن عبداللہ نے
‫کہا۔ ''یہ بسم اللہ ہے‪ ،نہیں بولو گے تو تمہارا ایک ایک جوڑ الگ کیا جائے گا''۔
‫اس نے پانی مانگا۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''دودھ پالئوں گا‪ ،میرے سوال کا جواب دو''۔ اور اس نے ایک سپاہی سے
‫کہا۔ '' دودھ لے آئو‪ ،ایک گھوڑا اور ایک رسہ بھی لے آئو۔ رسہ اس کے پائوں کے ساتھ باندھ کر گھوڑے کے ساتھ باندھ
‫دو''۔
‫آذر نے دو نام بتا دئیے۔ یہ دونوں رضاکار تھے۔ ان میں رات واال آدمی بھی تھا۔ اس نے دمشق کے اڈے کی بھی نشان دہی
‫کردی۔ حسن بن عبداللہ نے اسی وقت دونوں رضاکاروں کو پکڑنے کا حکم دے دیا اور آذر کو سلطان ایوبی کے پاس لے گیا۔

‫کہاں کے رہنے والے ہو؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
‫دمشق کا''۔''
‫''کس کے بیٹے ہو؟''
‫آذر نے ایک جاگیر دار کا نام بتایا۔
‫''میں شاید اسے جانتا ہوں''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''وہ دمشق میں ہے؟''
‫جب الملک الصالح کی فوج دمشق سے بھاگی تھی تو وہ بھی حلب چال گیا تھا''۔''
‫اور تمہیں جاسوسی کے لیے پیچھے چھوڑ گیا تھا''… سلطان ایوبی نے کہا۔''
‫میں خود ہی دمشق میں رہ گیا تھا''۔ آذر نے کہا۔ ''میرے باپ نے ایک آدمی کے ہاتھ حلب سے پیغام بھیجا تھا کہ ''
‫میں جاسوسی کروں۔ مجھے پوری ہدایات ملی تھیں''۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر سلطان ایوبی سے التجا کی۔ ''میں مسلمان ہوں‪،
‫مجھے باپ نے گمراہ کیا تھا۔ مجھے اپنے ساتھ رکھ لیں۔ میں اس گناہ کا کفارہ ادا کروں گا''۔
‫اللہ تمہارے گناہ معاف کرے''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''میں اللہ کے قانون میں دخل نہیں دے سکتا۔ میں صرف یہ ''
‫دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کون سا مسلمان مرد ہے جس کے ہاتھ سے ایک عورت نے تلوار گرائی اور اسے پکڑ لیا ہے… تم نے
‫''یہاں کیا کیا دیکھا ہے؟
‫میں نے یہاں بہت کچھ دیکھ لیا تھا''… آذر نے کہا۔ ''باقی معلومات میرے ان دو ساتھیوں نے دی تھیں جو یہاں پہلے ''
‫سے موجود تھے۔ مجھے کہا گیا تھا کہ یہ دیکھوں کہ منجنیقیں اور تیر انداز کہاں ہیں۔ میں نے یہ دیکھ لیے تھے''۔
‫تم سے پہلے تمہارا کوئی ساتھی یہ معلومات لے کر یہاں سے گیا ہے؟''… سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
‫نہیں''… آذر نے جواب دیا۔ ''ہم تینوں کے سوا یہاں اور کوئی نہیں''۔''
‫تمہیں احساس ہے کہ تم کتنے خوبرو اور وجیہہ جوان ہو؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔ ''اور کیا تم جانتے ہو کہ ایک لڑکی''
‫''نے تمہیں کس طرح گرا لیا تھا؟
‫اگر وہ پیچھے سے میرے دونوں ٹخنے نہ پکڑ لیتی تو میں نہ گرتا''۔''
‫تم پھر بھی گر پڑتے''… سلطان ایوبی نے کہا۔ ''جن کا ایمان فروخت ہوچکا ہوتا ہے وہ بڑی آسانی سے گرا کرتے ہیں ''
‫اور وہ تمہاری طرح منہ کے بل گرا کرتے ہیں۔ تم حق والوں اور ایمان والوں کے ساتھ ہوتے تو دس کافر مل کر بھی تمہیں
‫نہ گراسکتے۔ اصل قوت بازو اور تلوار کی نہیں ایمان کی ہوتی ہے''۔
‫مجھے ایک موقع دیں''۔ آذر نے کہا۔''
‫اس کا فیصلہ دمشق کا قاضی کرے گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''میں تمہارے ساتھ یہ باتیں اس لیے کررہا ہوں کہ تم ''
‫مسلمان کے بیٹے ہو۔ تمہیں ہمارے ساتھ ہونا چاہیے تھا مگر تم ادھر چلے گئے۔ میں جانتا ہوں دمشق کی دو چار لڑکیاں
‫تمہاری محبت کا دم بھرتی ہوں گی۔ چہرے اور جسم کے لحاظ سے تم اس قابل ہو کہ لڑکیاں تمہیں پسند کریں لیکن اب وہ
‫لڑکیاں تمہارے منہ پر تھوکیں گی۔ خدا نے بھی تم سے نظریں پھیر لی ہیں… میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ دمشق کے محترم
‫قاضی تمہیں کیا سزا دیں گے اگر وہ سزائے موت دیں تو جتنی دیر زندہ رہو اللہ سے گناہوں کی بخشش مانگتے رہنا۔ کم از
‫کم مرنے سے پہلے مسلمان ہوجانا''۔
‫میرے باپ کو کون سزا دے گا؟''… آذر نے غصے سے کہا۔ ''اس گناہ کی ترغیب مجھے باپ نے دی تھی۔ اسی نے ''
‫میرے دل میں دولت کا اللچ ڈاال تھا۔ اسی نے میرے دل سے ایمان نکاال تھا''۔
‫اللہ کا قانون اسے نہیں بخشے گا'' سلطان ایوبی نے کہا۔ ''دولت کا نشہ عارضی ہوتا ہے۔ ایمان کی قوت مرکر بھی ''
‫ختم نہیں ہوتی''۔
‫میری ایک عرض سن لیں'' ۔ آذر نے کہا۔ ''میرا باپ کوئی دولت مند انسان نہیں تھا۔ دولت کا پرستار تھا۔ میری دو ''
‫بہنیں جوان ہوئیں تو اس نے دونوں کو دو امراء کے حوالے کردیا اور دربار میں جگہ حاصل کرلی۔ اس نے اپنی بیٹیوں کی
‫بہت زیادہ قیمت وصول کی۔ پھر وہ مخبری اور غیبت کرنے لگا۔ مجھے بھی اسی نے اسی کام پر لگا لیا اور میرے دل میں
‫دولت کا اللچ پیدا کردیا۔ نورالدین زنگی کی وفات کے بعد میرے باپ نے اور زیادہ اونچی حیثیت حاصل کرلی۔ وہ اب تجربہ
‫کار سازشی اور جوڑتوڑ کا ماہر ہوگیا تھا۔ اس وقت تک وہ خاصی جاگیر حاصل کرچکا تھا۔ آپ کی فوج آئی تو الملک الصالح
‫اور اس کے درباری امراء اور جاگیردار دمشق سے بھاگ گئے۔ ان میں میرا باپ بھی تھا۔ میں کسی ارادے کے بغیر ہی دمشق
‫میں رہ گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد حلب سے ایک آدمی آیا۔ وہ میرے باپ کا یہ پیغام الیا کہ میں جاسوسی کا کام شروع
‫کردوں۔ وہ آدمی مجھے دمشق میں ہی اس اڈے پر لے گیا جس کی میں نے نشاندہی کی ہے۔ وہاں مجھے بہت سی رقم دی
‫گئی اور دو تین دنوں میں بتا دیا گیا کہ مجھے کیا کرنا اور کس طرح کرنا ہے۔ میں اس گروہ میں شامل ہوگیا۔ خوب عیش
‫وعشرت کی۔ ایک روز ہمارے سرغنہ نے ہمیں کہا کہ محاذ پر رضاکار جارہے ہیں‪ ،تین چار آدمی ان میں شامل ہوجائو۔ ہم
‫تین آدمی شامل ہوگئے۔ دو پہلے ہی یہاں آگئے تھے پھر مجھے حکم مال کہ میں بھی یہاں آئوں اور آپ کی فوج کی ساری
‫کیفیت دیکھ کر تمام معلومات مشترکہ کمان تک پہنچائوں۔ میں آگیا۔ میرے ساتھی یہاں کا نقشہ تیار کرچکے تھے۔ انہوں نے
‫یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ آپ اپنے دشمن کی فوج کو اس جگہ ال کر لڑانا چاہتے ہیں جو چٹانوں میں گھری ہوئی ہے۔ میں
‫نے چٹانوں پر چھپے ہوئے آپ کے تیرانداز اور منجنیقیں بھی دیکھ لی تھیں''۔
‫اس کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا۔ ''میں پکڑا گیا ہوں تو محسوس کیا ہے کہ میں گناہ کررہا تھا۔ آپ کی باتوں نے
‫میرے اندر ایمان کی حرارت بیدار کردی ہے اگر میرا باپ اپنی بیٹیوں کو بیچ کر دولت مند نہ بنتا تو میرا ایمان قائم رہتا۔ یہ
‫گناہ میرے باپ کا ہے۔ سلطان! آپ کا اقبال بلند ہو۔ مجھے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کا موقعہ دو''۔
‫سلطان ایوبی نے حسن بن عبداللہ کو اشارہ کیا تو آذر کو خیمے سے باہر لے گئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫اسی روز آذر کو دمشق کو روانہ کردیا گیا۔ اس کے ساتھ دو محافظ تھے۔ تینوں گھوڑوں پر سوار تھے۔ آذر کے ہاتھ رسی سے
‫بندھے ہوئے تھے۔ سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے وہ آدھ راستہ طے کرچکے تھے۔ رات کے لیے رکنا تھا۔ راستے میں دونوں
‫محافظ اس سے سنتے رہے تھے کہ اس کا جرم کیا ہے۔ آذر نے ان کے ساتھ جذباتی سی باتیں کرکے انہیں متاثر کرلیا تھا۔
‫شام کے وقت آذر نے انہیں کہا کہ تھوڑی سی دیر کے لیے وہ اس کے ہاتھ کھول دیں۔ محافظوں نے اس خیال سے اس کے
‫ہاتھ کھول دئیے کہ یہ نہتا ہے‪ ،بھاگ کر کہاں جائے گا۔ انہوں نے دوسری احتیاط یہ کی کہ اسے گھوڑے سے اتار لیا۔ وہ
‫پیدل تو بھاگ نہیں سکتا تھا۔ وہ بیٹھ گئے اور ان کے پاس کھانے کے لیے جو کچھ تھا کھانے لگے۔

‫آذر نے موقع دیکھ لیا ور اچانک اٹھ کر بہت ہی تیزی سے دوڑا۔ گھوڑے قریب ہی کھڑے تھے۔ آذر ایک ثانیے میں گھوڑے پر
‫سوار ہوگیا۔ محافظ پہنچ تو گئے لیکن آذر نے گھوڑے کو ایڑی لگا کر رخ ان کی طرف کردیا۔ وہ دونوں ادھر ادھر ہوگئے اور
‫اپنے گھوڑوں تک بروقت نہ پہنچ سکے۔ جتنی دیر میں وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اتنی دیر میں آذر بہت سا فاصلہ حاصل
‫کرچکا تھا۔ محافظوں نے گھوڑے بھگائے لیکن اب تعاقب بے سود تھا۔ شام گہری ہونے لگی تھی۔ زمین اونچی نیچی تھی۔
‫کہیں کہیں ٹیلے اور چٹانیں بھی تھیں۔ محافظ دور تک گئے مگر آذر غائب ہوچکاتھا۔
‫دوسرے دن دونوں محافظ سرجھکائے ہوئے‪ ،شکست خوردہ اور بری طرح تھکے ہوئے حسن بن عبداللہ کے پاس پہنچے۔ ایک نے
‫کہا۔ ''ہمیں گرفتار کرلیں۔ قیدی بھاگ گیا ہے''۔ انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ قیدی کے کہنے پر انہوں نے اس کے ہاتھ
‫کھول دئیے تھے۔ حسن بن عبداللہ نے انہیں حراست میں لے لیا لیکن گھبراہٹ سے اس کا پسینہ نکل آیا کیونکہ آذر معمولی
‫قسم کا قیدی نہیں تھا۔ وہ سلطان ایوبی کا سارا پالن اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ فتح وشکست کا دارومدار اس پالن پر تھا۔ حسن
‫بن عبداللہ سلطان ایوبی کو بتانے سے ڈر رہا تھا کہ پکڑا ہوا جاسوس ہاتھ سے نکل گیا ہے اور اپنے سارے منصوبے بیکار
‫ہوگئے ہیں۔ چھپانا بھی ٹھیک نہیں تھا۔
‫سلطان ایوبی کو جب حسن بن عبداللہ نے بتایا کہ قیدی بھاگ گیا ہے تو سلطان کے چہرے کا رنگ بدل گیا کتنی ہی دیر
‫اس کی زبان سے ایک لفظ نہ نکال۔ سلطان اٹھ کر خیمے میں ٹہلنے لگا۔ اس دور کا ایک واقعہ نگار اسد االسدی لکھتا ہے۔
‫صالح الدین ایوبی انتہائی خطرناک صورتحال میں بھی نہیں گھبراتا تھا لیکن اس جاسوس کے بھاگ جانے کی خبر سن کر اس
‫کے چہرے سے خون غائب اور آنکھیں بے نور ہوگئیں… خیمے میں ٹہلتے ٹہلتے ہوا رک گیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر بوال۔
‫''خدائے ذوالجالل! کیا یہ اشارہ ہے کہ میں یہاں سے واپس چال جائوں؟ کیا تیری ذات باری نے میرے گناہ بخشے نہیں؟
‫میں نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے‪ ،کبھی پسپا نہیں ہوا تھا'' پھر اس کی آواز رندھیا گئی۔ اسے شاید غیب کا کوئی اشارہ
‫مل جایا کرتا تھا جو اس موقعہ پر بھی مال۔ اس نے حسن بن عبداللہ سے کہا ان دونوں سپاہیوں کو زیادہ سزا نہ دینا۔ سزا
‫سے بچنے کے لیے وہ مفرور ہوسکتے تھے لیکن وہ تمہارے پاس آگئے۔ انہیں غلطی کی سزا ضرور دینا‪ ،نیک نیتی اور سچ
‫بولنے کا صلہ بھی ضرور دینا… ساالروں کو بالئو اس کے چہرے پر رونق اور آنکھوں میں چمک عود کر آئی''۔
‫تین ساالر آگئے۔ سلطان ایوبی نے ان سے کہا۔ ''وہ جاسوس بھاگ گیا ہے جس کے پاس دفاعی منصوبہ تھا۔ اس نے جو
‫نقشے بنائے تھے وہ ہمارے پاس رہ گئے ہیں۔ اس نے اپنی آنکھوں سے بہت کچھ دیکھ لیا تھا اور اسے یہ بھی معلوم ہوگیا
‫تھا کہ ہم دشمن کو کہاں الکر لڑانا چاہتے ہیں۔ بھاگنے والے کے دو ساتھی ابھی ہمارے پاس ہیں۔ حسن بن عبداللہ انہیں
‫ابھی یہیں رکھنا چاہتا تھا۔ اب ہمارے لیے صورت یہ پیدا ہوگئی ہے کہ ہم نے دشمن کے لیے جو پھندا تیار کیا تھا‪ ،وہ بیکار
‫ہوگیا ہے۔ وہ اب قرون کے اندر نہیں آئے گا۔ ہوسکتا ہے وہ ہمیں محاصرے میں لے لیں اور ہماری رسد کا راستہ روک لے۔
‫مجھے مشورہ دو کہ ہم اپنا منصوبہ بدل دیں یا اسی پر قائم رہیں''۔
‫تینوں ساالروں نے اپنے اپنے مشورے دئیے جو ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ صرف اس بات پر تینوں متفق تھے کہ پالن بدل
‫دیا جائے… سلطان ایوبی نے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ پالن بدلنے کے لیے وقت چاہیے۔ خطرہ یہ ہے کہ اس دوران دشمن نے
‫لہذا یہ فیصلہ ہوا کہ پالن میں
‫حملہ کردیا تو ہمارے لیے مشکل پیدا ہوجائے گی۔ کھلی جنگ لڑنے کے لیے فوج کم تھی۔ ٰ
‫کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ اس کے بجائے چھاپہ ماروں کو حکم دیا گیا کہ وہ وسیع پیمانے پر شب خون ماریں اور وہ دشمن
‫کی مشترکہ کمان کے مرکز اور تینوں فوجوں کے مراکز پر زیادہ شب خون ماریں۔ رسد کے راستے کو اور زیادہ محفوظ کرلیا
‫جائے۔ اس نے چھاپہ ماروں کے ساالر سے کہا کہ وہ اپنے اس دستے کو لے آئے جسے مٹکے توڑنے کا کام سونپا گیا ہے۔
‫ساالر نئے احکام لے کر چلے گئے۔ سلطان ایوبی نے یہ احکام خوداعتمادی سے دئیے تھے لیکن وہ بہت پریشان تھا۔ اسے پورا
‫یقین تھا کہ بھاگنے والے جاسوس نے اس کا سارا پالن تباہ کردیا ہے اور اب معلوم نہیں کیا ہوگا۔
‫کچھ دیر بعد بارہ چھاپہ ماروں کا ایک جیش اس کے سامنے الیا گیا۔ صلیبیوں نے حلب والوں کو آتش گیر مادے کے جو مٹکے
‫بھیجے تھے وہ میدان جنگ میں الئے گئے تھے۔ سلطان ایوبی کے جاسوسوں نے یہ ذخیرہ دیکھ لیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ
‫جب دشمن حملہ کرے تو یہ ذخیرہ تباہ کردیا جائے۔ اس کے لیے بارہ جانباز اور جنونی قسم کے چھاپہ مار منتخب کیے گئے
‫اور انہیں سلطان ایوبی کے سامنے الیا گیا۔ اس نے دیکھا اور ایک چھاپہ مار کو دیکھ کر مسکرایا۔ بوال ''انطانون! تم اس
‫''جیش میں آگئے ہو؟
‫مجھے اس جیش میں آنا چاہیے تھا''۔ انطانون نے کہا۔ ''میں نے آپ سے کہا تھا کہ میں اپنے گناہ کا کفارہ ادا کروں ''
‫گا''۔
‫میرے عزیز دوستو!'' سلطان ایوبی نے چھاپہ ماروں سے کہا۔ ''تم نے کہاں کہاں قربانیاں نہیں دیں لیکن اب مذہب اور ''
‫ملت کی آبرو تم سے بہت بڑی قربانی مانگ رہی ہے۔ تم جنگ کا پانسہ پلٹ سکتے ہو۔ تمہیں ہدف بتا دیا گیا ہے۔ اگر تم
‫نے اسے تباہ کردیا تو آنے والی نسلیں بھی تمہیں یاد رکھیں گی۔ تم دیکھ رہے ہو کہ اپنی فوج تھوڑی ہے اور دشمن کے تین
‫لشکر ہیں۔ ان سے اپنی فوج کو تم بچا سکتے ہو''۔
‫ہم مذہب اور ملت کو مایوس نہیں کریں گے''۔ چھاپہ ماروں کے کمانڈر نے کہا۔''
‫انہیں چند اور ہدایات دے کر رخصت کردیا گیا۔ اگلی صبح ایک سوار سرپٹ گھوڑا دوڑاتا آیا۔ سلطان ایوبی ابھی اپنے خیمے
‫میں تھا۔ سوار نے اطالع دی کہ دشمن آرہا ہے۔ فاصلہ ایک میل رہ گیا تھا۔ رخ قرون کی طرف تھا۔ اتنے میں ایک اور سوار
‫آگیا۔ اس نے اطالع دی کہ دائیں طرف سے بھی دشمن کی فوج آرہی ہے۔ اس فوج کے رخ سے سلطان ایوبی نے اندازہ لگایا
‫کہ دائیں پہلو پر آرہی ہے۔ اس پہلو کے متعلق سلطان ایوبی پریشان تھا۔ وہ اب اور زیادہ پریشان ہوگیا۔ اس کے اعصاب پر
‫آذر جاسوس سوار تھا جو نہایت قیمتی راز لے کر چال گیا تھا۔ اس نے اندازہ لگایا کہ یہ جاسوس گزشتہ رات پہنچا ہوگا اور
‫اس کی معلومات پر دشمن نے حملہ کردیا ہے۔ سلطان ایوبی نے تیاری کا حکم دے دیا۔ اس کے قاصد ادھر ادھر دوڑ پڑے۔
‫قرون کے درمیان خیمے لگے رہے۔ سپاہی خیموں میں رہے یا ادھر ادھر گھومتے پھرتے رہے تاکہ دشمن یہ سمجھے کے وہ تیار
‫نہیں۔ چٹانوں پر تیر انداز تیار ہوگئے۔
‫دشمن کی رفتار تیز تھی۔ اس کے ہر اول نے دیکھا کہ خیمے ابھی تک کھڑے ہیں تو ہر اول نے اس خیال سے کہ انہوں نے
‫سلطان ایوبی کی فوج کو بے خبری میں آلیا ہے‪ ،پیچھے خبر دے دی کہ رفتار تیز کرو۔ سلطان ایوبی ایک بلند چٹان پر چال
‫گیا جہاں سے سارا منظر اور دائیں طرف کا میدان بھی نظر آرہا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کہ گمشتگین کی فوج
‫سیدھی قرون کی طرف آرہی ہے۔ سلطان ایوبی کے سپاہیوں نے ہدایات کے مطابق اپنے گھوڑوں پر زینیں اس وقت ڈالیں جب
‫دشمن بالکل قریب آگیا تھا۔ پیادوں نے آگے بڑھ کر چند ایک تیر چالئے۔ ادھر سے للکار سنائی دینے لگی… ''کچل دو۔ کسی

‫کو زندہ نہ چھوڑو۔ صالح الدین ایوبی کو زندہ پکڑو۔ سرکاٹ لو''۔
‫سلطان ایوبی کے سوار آگے بڑھے مگر پیچھے کو آگئے۔ پیادوں اور سواروں نے حملے کی اگلی صف کا مقابلہ کیا اور لڑتے
‫حتی کہ تمام حملہ آور دستے قرون کے اندر اسی پھندے میں آگئے جہاں انہیں سلطان ایوبی النا چاہتا
‫لڑتے پیچھے ہٹتے آئے‪،
‫ٰ
‫تھا۔ چٹانوں میں گرا ہوا یہ میدان ڈیڑھ میل کے لگ بھگ وسیع اور عریض تھا۔ جونہی دشمن اندر آیا دونوں طرف کی چٹانوں
‫سے اس پر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ دشمن کے گھوڑے تیر کھا کر بدکتے‪ ،منہ زور ہوتے اور اپنے ہی پیادوں کو کچلتے
‫پھرتے تھے۔ دشمن کے کمانڈر سمجھ نہ سکے کہ یہاں خیموں میں جو فوج تھی وہ کہاں غائب ہوگئی ہے۔ انہیں معلوم نہیں
‫تھا کہ آگے چٹانوں میں ایک کٹائو ہے جو ایک وادی میں چال جاتا ہے اور سلطان ایوبی کی فوج اس میں الپتہ ہوتی جارہی
‫ہے۔ میدان میں خیمے کھڑے تھے جن کی رسیاں رکاوٹ پیدا کررہی تھی۔
‫تھوڑی دیر بعد فلیتوں والے آتشیں تیر آنے لگے جو زخمیوں پر چالئے جارہے تھے۔ انہوں نے خیموں کو آگ لگا دی اور میدان
‫جنگ سے شعلے اٹھنے لگے۔ دشمن کے کمانڈروں کے لیے بڑی مشکل پیدا ہوگئی۔ ان کی جمعیت بکھر گئی تھی۔ دستے گڈمڈ
‫ہوگئے تھے۔ گھوڑوں کے ہنہنانے کا‪ ،زخمیوں کی چیخ وپکار کا اور کمانڈروں کے واویلے اور للکار کا اتنا زیادہ شور تھا کہ آوازوں
‫کو الگ کرکے سمجھنا ناممکن تھا۔ کم وبیش دو گھنٹے دشمن کے سپاہی افراتفری کی کیفیت میں اور ان کے کمان دار انہیں
‫سنبھالنے کی کوشش میں سلطان ایوبی کے تیر اندازوں سے زخمی اور ہالک ہوتے رہے۔ وہ بھی آخر مسلمان سپاہی تھے۔
‫عسکری جذبہ انہیں پسپا نہیں ہونے دے رہا تھا۔ ان میں سے کئی ایک ان چٹانوں پر چڑھنے لگے جہاں سے تیر آرہے تھے۔
‫یہ ان کی دلیری کا مظاہرہ تھا لیکن اوپر سے آئے ہوئے تیر انہیں پتھروں کی طرح لڑھکا رہے تھے۔
‫بہت ہی مشکل سے دشمن کے دستوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا گیا۔ انہیں پیچھے ہی ہٹنا تھا مگر پیچھے ہٹے تو انہیں
‫پتہ چال کہ عقب میں سلطان ایوبی کی فوج کھڑی ہے۔ اعالن ہونے لگے۔ ''ہتھیار ڈال دو‪ ،تم ہمارے بھائی ہو‪ ،ہم تمہیں
‫ہالک نہیں کریں گے'' ۔ ان اعالنات کے ساتھ ساتھ گھوڑے بڑھتے اور پھلتے آرہے تھے۔ گمشتگین کے گرے ہوئے سپاہیوں میں
‫اب لڑنے کا دم خم نہیں رہا تھا۔ ان میں سے آدھے مارے گئے یا زخمی ہوگئے تھے جو زندہ تھے ان پر دہشت طاری ہوگئی
‫تھی۔ وہ کچھ اور توقع لے کر آئے تھے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ بڑی سہل فتح ہوگی مگر ان کے لیے میدان جنگ جہنم بن
‫گیا۔ انہوں نے ہتھیار پھینکنے شروع کردئیے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی کی یہ چال تو کامیاب رہی لیکن دوسری طرف دشمن نے اس کے لیے مشکل پیدا کردی۔ یہ دائیں پہلو کا وہی
‫میدان تھا جس کے متعلق اسے شروع سے ہی فکر تھا۔ اس طرف سے صحرائی آندھی کی طرح دشمن کی فوج آرہی تھی۔
‫اس کے مقابلے میں سلطان ایوبی کے مختصر سے دو دستے تھے۔ حملہ آوروں کے جھنڈے نظر آنے لگے۔ یہ حلب کی فوج
‫تھی۔ سلطان ایوبی نے حلب کا محاصرہ کرکے اس فوج کے جوہر دیکھے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ یہ فوج گمشتگین اور سیف
‫الدین کی فوج سے مختلف ہے۔ فنی مہارت اور شجاعت کے لحاظ سے یہ فوج یقینا برتر تھی۔ سلطان نے اپنے آپ کو کبھی
‫خوش فہمیوں میں مبتال نہیں کیا تھا۔ وہ فورا ً جان گیا کہ اس کے یہ دستے اس فوج کو نہیں روک سکیں گے۔ وہ اپنے ریزرو
‫کو ابھی استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے دماغ کو حاضر رکھا۔ اپنے پاس کھڑے ساالروں کو اس نے کوئی ہدایات دے کر
‫بھیج دیا۔
‫اس نے ریزرو ٹروپس کے عالوہ منتخب سواروں کا ایک دستہ اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ اس طرف والی چٹان پر جو تیر انداز
‫تھے‪ ،ان کے کمانڈر کو حکم بھیجا کہ قرون سے ہٹ کر منہ پیچھے کرلیں اور اسی پوزیشن سے نئے حملہ آوروں کو نشانہ
‫بنائیں۔ اس نے اپنے منتخب سواروں کے کمانڈر کو حکم دیا کہ دستہ میدان میں الئو‪ ،میں خود کمان کروں گا۔ نہایت تھوڑے
‫وقت میں وہ چٹان سے اترا۔ اس کا دستہ تیار تھا۔ وہ بھی میدان میں آگیا۔ سلطان ایوبی میدان جنگ میں اپنا جھنڈا نہیں
‫لہرایا کرتا تھا تاکہ دشمن کو پتہ نہ چل سکے کہ وہ کہاں ہے لیکن اس موقعہ پر اس نے بلند آواز سے کہا… ''میرا جھنڈا
‫اونچا رکھو''… قاضی بہائوالدین شداد اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے۔ ''اس معرکے میں اپنا جھنڈا چڑھا کر صالح الدین ایوبی
‫اپنے دستوں کو بتانا چاہتا تھا کہ ان کی کمان اور قیادت سلطان خود کررہا ہے اور وہ حلب کے حملہ آوروں کو بھی بتانا
‫چاہتا تھا کہ ان کا مقابلہ صالح الدین کے ساتھ ہے''۔
‫سلطان ایوبی نے اشارے اور الفاظ مقرر کررکھے تھے‪ ،اس نے نہایت تیزی سے سواروں کو اس ترتیب میں کر لیا کہ دو گھوڑے
‫آگے‪ ،چار پیچھے‪ ،ان کے پیچھے چھ‪ ،ان کے پیچھے آٹھ اور باقی تمام آٹھ آٹھ کی ترتیب میں رہے لیکن اس نے ترتیب کہیں
‫کھڑے ہوکر نہیں بنائی بلکہ تین چار صفوں میں دوڑتے گھوڑ سواروں کو اس ترتیب میں ہونے کا حکم دیا تھا۔سامنے سے دشمن
‫صف در صف پھیال ہوا آرہا تھا۔ قریب جاکر سلطان ایوبی کے سوار اس ترتیب میں ہوگئے۔ تصادم اس طرح ہوا کہ یہ گھوڑ
‫سوار ایک کیل کی طرح دشمن کے لشکر میں داخل ہوگئے۔ سلطان ایوبی اس ترتیب کے درمیان میں تھا۔ دشمن کے گھوڑ
‫سوار دائیں بائیں سے آگے نکل گئے۔ راستے میں جو آیا اسے برچھیوں سے مجروح کرتے گئے۔
‫دشمن کے سواروں کے پیچھے پیادہ دستے تھے۔ سلطان ایوبی نے دور آگے جاکر سواروں کو پیچھے موڑا اور فورا ً صفوں کو
‫ترتیب میں الکر پوری رفتار سے پیادہ دستوں پر حملہ کیا۔ پیادوں نے مقابلہ تو بہت کیا لیکن گھوڑے اور سوار انہیں روندتے
‫اور کاٹتے آگے نکل گئے۔ سلطان ایوبی کے پیادہ دستے سامنے تھے۔ انہوں نے دشمن کے سواروں کا مقابلہ کیا۔ عقب سے
‫سلطان ایوبی نے ہلہ بول دیا۔ قریبی چٹانوں سے تیر اندازوں نے تیر برسانے شروع کردئیے لیکن حلب کی فوج کا حوصلہ نہ
‫ٹوٹا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی کمان نہ بکھرنے دی۔ معرکہ بڑا ہی خون ریز تھا اور بڑا ہی شدید تھا۔ تمام مؤرخین
‫لکھتے ہیں کہ اگر سلطان ایوبی اس معرکے کی کمان خود نہ لیتا تو اس کا سارا پالن اس پہلو سے تباہ ہوجاتا۔
‫قاضی بہائوالدین شداد نے مؤرخین سے کچھ اختالف کیا ہے۔ اس کی یادداشتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور فوج حلب کی
‫نہیں موصل کی تھی اور اس کی کمان ساالر مظفرالدین بن زین الدین کررہا تھا اور یہ کمان اتنی دانشمندانہ تھی کہ مظفرالدین
‫نے سلطان ایوبی کے اس پہلو کو اکھاڑ پھینکا تھا۔ قیادت کی دانشمندی کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مظفرالدین سلطان
‫ایوبی کے ساتھ ساالر رہ چکا تھا اور اس نے یہ فن سلطان ایوبی سے ہی سیکھا تھا۔ نفری زیادہ ہونے کے عالوہ مظفرالدین
‫کو یہ فائدہ بھی حاصل تھا کہ وہ سلطان ایوبی کی چالوں کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے قاصدوں کو اپنے ساتھ رکھا اور ان کے ذریعے چھوٹے سے چھوٹے جیش کے ساتھ بھی رابطہ قائم
‫رکھا۔ اس نے ایسی چال چلی کہ دشمن کو اس چٹان کے قریب لے گیا جس پر تیر انداز تیار تھے۔ انہوں نے بہت کام کیا۔
‫سلطان ایوبی نے اپنی نفری میں اتنی کمی محسوس کی کہ اسے ابتدائی پالن بدلنا پڑا۔ اس نے ٹروپس کو بھی بالنے کا
‫فیصلہ کرلیا لیکن عین اس وقت ایک قاصد نے اسے بتایا کہ ایک طرف سے اپنے چار پانچ سو سوار آرہے ہیں۔ سلطان ایوبی

‫نے غصے سے پوچھا کہ وہ کون سا دستہ ہے اور کیوں آیا ہے؟ وہ میدان جنگ میں ڈسپلن کا زیادہ پابند ہوجاتا تھا‪ ،حاالنکہ
‫اسے اس میدان میں کمک کی شدید ضرورت تھی لیکن اس کی اجازت اور ہدایت کے بغیر کسی کی حرکت اسے پسند نہ
‫آئی‪ ،اس نے قاصد کو دوڑایا کہ خبر الئے کہ یہ سوار کون ہیں۔
‫قاصد جو خبر الیا اس نے سلطان ایوبی کو سن کردیا۔ خبر یہ تھی کہ یہ چار سو لڑکیاں اور ایک سو رضاکار ہیں۔ ان کی
‫قیادت حجاج ابووقاص کررہا ہے اور وہ ساالر شمس الدین کی اجازت سے آئے ہیں۔ سلطان ایوبی انہیں روک سکتا تھا لیکن
‫جس انداز سے یہ پانچ سو گھوڑ سوار آئے اس سے سلطان ایوبی سمجھ گیا کہ کمان واقعی شمس الدین کررہا ہے۔ یہ سوار
‫دشمن کو چٹان کی طرف دھکیل رہے تھے۔ اس معرکے میں پیادے گھوڑے تلک کچلے جارہے تھے۔ دشمن کی پیش قدمی روک
‫لی گئی تھی۔ وہ آگے نکلنے کی کوشش کررہا تھا مگر اسے وہیں الجھا لیا گیا۔
‫مسلمان‪ ،مسلمان کے ہاتھوں کٹ رہا تھا‪ ،اللہ اکبر کے نعرے اللہ اکبر کے نعروں سے ٹکرا رہے تھے۔ زمین کانپ رہی تھی‪،
‫آسمان خاموش تھا۔ صلیبی تماشہ دیکھ رہے تھے‪ ،تاریخ دم بخود تھی۔ لڑکیاں اپنے بھائیوں اور باپوں کے دوش بدوش بھائیوں
‫اور باپوں کے خالف لڑ رہی تھیں۔ لہولہان جنگ ہورہی تھی۔ قوم کی عظمت گھوڑوں کے سموں تلے روندی جارہی تھی اور
‫خدا دیکھ رہا تھا۔
‫دن بھر کے معرکے کا یہ انجام ہوا کہ دشمن کا حوصلہ ختم ہوگیا۔ اس کے سپاہیوں نے ہتھیار ڈالنے شروع کردئیے۔ وہ نیم
‫محاصرے میں آگئے تھے۔ ساالر نکل گئے‪ ،رات زخمیوں کے واویلے سے لرزتی رہی۔ دن بھر کی تھکی ہوئی لڑکیاں رات کو
‫زخمیوں کو اٹھاتی رہیں۔ صبح ہوئی تو اس میدان کا منظر بھیانک اور ہولناک تھا۔ دور دور تک الشیں بکھری ہوئی تھیں۔
‫گھوڑے مرے پڑے تھے۔ جنگی قیدیوں کو دور پرے لے گئے تھے۔ ان الشوں میں لڑکیوں کی جو الشیں تھیں وہ اٹھا لی گئی
‫تھیں۔
‫بادشاہی کا نشہ انسان کو اس سطح پر بھی لے آتا ہے جہاں ایک انسان اپنی قوم کو دو دھڑوں میں کاٹ کر انہیں آپس ''
‫میں لڑا دیتا ہے''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے میدان جنگ کا منظر دیکھ کر کہا۔ ''اپنے بھائی اپنی بہنوں کی عصمت
‫دری کرتے ہیں اگر ہم نے بادشاہی کے رجحان کو ختم نہ کیا تو کفار اس قوم کو قوم کے سربراہوں کے ہاتھوں آپس میں لڑا
‫لڑا کر ختم کردیں گے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫قرون حماة اور اس کے پہلو کا معرکہ ختم ہوگیا تھا‪ ،جنگ ابھی جاری تھی۔ معرکے کی رات بارہ چھاپہ مار حلب کی فوج
‫کے اس ذخیرے تک پہنچ چکے تھے جہاں آتش گیر مادے کے مٹکے رکھے تھے۔ رات کے وقت مٹکے کھول کر اس سے کپڑے
‫بھگوئے جارہے تھے جن کے گولے بنا کر منجنیقوں سے پھینکنے تھے۔ ہانڈیاں بھی بھر کر سربمہر کی جارہی تھیں۔ ابھی ایک
‫لہذا یہ فوج آخری حملے کے
‫فوج ریزرو میں تھی۔ اسے اطالع مل گئی تھی کہ دونوں فوجوں کے حملے ناکام ہوچکے ہیں۔ ٰ
‫لیے تیار ہورہی تھی۔ حملے کی کامیابی کے لیے آگ پھینکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ سلطان ایوبی کے بارہ چھاپہ ماروں نے اپنا
‫ہدف دیکھ لیا۔ ان میں سے چار پانچ کے پاس کمانیں تھیں اور فلیتے والے تیر بھی تھے۔ وہ گھوڑوں سے اتر کر آگے چلے
‫گئے۔ فلیتے جال کر انہوں نے تیر چال دئیے۔ یکلخت شعلے بلند ہوئے اور وہاں ہڑبونگ بپا ہوگئی۔
‫چھاپہ ماروں کو بتایا گیا تھا کہ مٹکے بے شمار ہیں‪ ،وہاں بھگدڑ مچی تو چھاپہ ماروں نے ہلہ بول دیا۔ شعلوں سے وہاں بہت
‫روشنی ہوگئی تھی۔ چھاپہ ماروں کو محفوظ مٹکے بھی نظر آگئے۔ انہوں نے اپنی برچھوں کے ساتھ ہتھوڑیوں کی طرح لوہے کے
‫ٹکڑے باندھ رکھے تھے۔ دوڑتے گھوڑوں سے انہوں نے مٹکے توڑنے شروع کردئیے۔ ان میں سے ایک نے آگ لگانے کا نتظام
‫کردیا۔ دشمن نے انہیں گھیرے میں لینے کی کوشش کی۔ یہ ایک خونریز معرکہ تھا۔ بارہ جانباز سینکڑوں کے نرغے میں لڑ
‫رہے تھے۔ شعلے ہر طرف پھیل گئے تھے۔ سارے کیمپ پر دہشت طاری ہوگئی۔ گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑا کر بھاگنے لگے۔
‫جہاں سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج تھی وہاں ایک چٹان پر کھڑے کسی آدمی نے چال کر کہا۔ ''آسمان جل رہا ہے‪ ،خدا
‫کا قہر نازل ہورہا ہے''۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:17
‫قسط نمبر۔‪91
‫گناہوں کا کفارہ
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو اطالع ملی تو وہ دوڑتا ایک چٹان پر جا چڑھا۔ اسے دشمن کے کیمپ کی طرف آسمان الل سرخ
‫ہوتا نظر آیا۔ اس کے منہ سے بے ساختہ نکال۔ ''آفرین‪ ،آفرین۔ اللہ تمہیں صلہ دے''۔
‫موصل کی فوج فوری طور پر جوابی حملے کے قابل نہ رہی۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ مار سرگرم ہوگئے۔ انہوں نے تین راتیں
‫گمشتگین‪ ،سیف الدین اور الملک الصالح کے کیمپوں میں اتنی تباہی مچائی کہ ان کے مرکز بھی ہل گئے۔ آخر انہوں نے کسی
‫اور طرف سے حملے کا فیصلہ کرکے کوچ کا حکم دیا۔ تب انہیں پتہ چال کہ ان کے عقب میں سلطان ایوبی کی فوج آچکی
‫ہے۔ یہاں سلطان ایوبی نے اپنی مخصوص چالوں سے دشمن کو بے حال کردیا۔ وہ مارتا بھی نہیں تھا چھوڑتا بھی نہیں تھا۔
‫یہ جنگ ''ضرب لگائو اور بھاگو'' کے اصول پر لڑی جارہی تھی۔ دشمن کی فوج بکھرتی جارہی تھی اور اس کے سپاہی
‫بکھر بکھر کر ہتھیار ڈالتے جارہے تھے۔ یہی سلطان ایوبی کا مقصد تھا۔
‫‪ ١٩رمضان المبارک ‪٥٧٠ھ (‪١٣اپریل ‪١١٧٥ئ) کی صبح سحری سے فارغ ہوتے ہی سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے پالن کی
‫آخری کڑی پر عمل کیا جس کی ہدایات وہ ایک روز پہلے جاری کرچکا تھا۔ اس نے کھال حملہ کردیا۔ کوئی قابل ذکر
‫مزاحمت نہ ہوئی۔ سلطان صالح الدین ایوبی وہاں تک جا پہنچا جہاں گمشتگین اور سیف الدین کی خیمہ گاہیں تھیں مگر وہ
‫دونوں غائب تھے۔ وہ ایسی بزدلی سے بھاگے کہ اپنی ذاتی خیمہ گاہیں جن میں جنگل میں منگل بنا ہوا تھا‪ ،جوں کی توں
‫چھوڑ گئے۔ حرم کی لڑکیاں‪ ،ناچنے گانے والیاں اور ان کے سازندے وہیں تھے۔ سلطان ایوبی کی فوج گئی تو لڑکیاں خوف سے
‫ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ انہیں پکڑ کر سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا۔ اس نے ان تمام کو رہا کرکے دمشق بھیجنے کا
‫انتظام کردیا۔ دلچسپ خیمہ گاہ والئی موصل سیف الدین کی تھی۔ وہاں لڑکیوں کے عالوہ خوشنما پنجرے بھی تھے جن میں
‫رنگ برنگے پرندے بند تھے۔
‫اس رات سلطان صالح الدین ایوبی کے سامنے ایک اور لڑکی الئی گئی جو دشمن کے اس کیمپ میں الشوں کو پہچانتی پھر
‫رہی تھی جس پر سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ ماروں نے شب خون مارا اور آتش گیر مادے کے مٹکے تباہ کیے تھے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے اسے پہچان لیا اور کہا۔ ''تم میرے ایک جاسوس انطانون کے ساتھ حرن سے آئی تھیں''۔

‫جی ہاں!'' اس نے کہا۔ ''میرا نام فاطمہ ہے‪ ،میں لڑکیوں کی فوج کے ساتھ دمشق سے آئی ہوں''۔ وہ زخمی بھی ''
‫تھی۔ کہنے لگی۔ ''مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ انطانون یہاں شب خون مارنے آیا تھا‪ ،اس کی الش ڈھونڈ رہی ہوں''۔
‫نہ ڈھونڈو''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔''
‫وہ بھی کہتا تھا کہ چھاپہ ماروں کی الشیں نہیں مال کرتیں''۔ فاطمہ نے اداس لہجے میں کہا۔ ''اس نے مجھے کہا تھا ''
‫کہ آئو ایک دوسرے کو فرض پر قربان کردیں۔ مجھے خوشی ہے کہ اس نے گناہ کا کفارہ ادا کردیا ہے۔ میرا فرض ابھی باقی
‫ہے۔ میں گمشتگین کو قتل کرنے آئی تھی''۔
‫اس لڑکی کی جذباتی حالت دیکھ کر کوئی بھی اپنے آنسو نہ روک سکا… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''دمشق سے جو
‫لڑکیاں آئی ہیں ان سب کو واپس بھیج دو۔ انہوں نے دشمن کو شکست دینے میں میری بہت مدد کی ہے۔ اس وقت میں ہی
‫جانتا ہوں کہ مجھے مدد کی کتنی ضرورت تھی۔ یہ لڑکیاں جیسے غیب سے آئی تھیں لیکن میں انہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ
‫سکتا''۔
‫لڑکیوں کے احتجاج اور غصے کے باوجود انہیں دمشق بھیج دیا گیا۔ سلطان ایوبی اب کہیں رکنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے دشمن
‫کو جو شکست فاش دی تھی‪ ،اس سے وہ پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ اس نے حکم دے دیا کہ تمام فوج کو حلب کی
‫سمت کوچ کے لیے تیار کیا جائے۔ اپنے ساالروں کو وہ اگلے پالن کے متعلق بتا رہا تھا‪ ،ایک گھوڑ سوار گھوڑا دوڑاتا آرہا تھا۔
‫اس کے ہاتھ میں برچھی تھی اور برچھی میں کوئی چیز اڑ سی ہوئی تھی۔ وہ قریب آیا تو سلطان صالح الدین ایوبی کے
‫باڈی گارڈوں نے اسے روک لیا۔ سلطان ایوبی نے دیکھا کہ سوار نے کسی انسان کا سر برچھی میں اڑسا ہوا تھا۔ سلطان ایوبی
‫نے اسے آگے آنے کی اجازت دے دی۔
‫وہ آذر بن عباس تھا۔ وہی جاسوس جو دمشق جاتے ہوئے محافظوں کی حراست سے بھاگ گیا تھا‪ ،اس نے گھوڑے سے اتر کر
‫برچھی سے سر اتارا اور سلطان ایوبی کے قدموں میں پھینک کر کہا۔ ''میں آپ کا مفرور قیدی ہوں‪ ،میں نے کہا تھا مجھے
‫بخش دیں‪ ،میں گناہوں کا کفارہ ادا کروں گا‪ ،آپ نے میری عرض نہ مانی۔ میں نے راستے میں سوچا کہ مجھے جاسوس‪ ،باپ
‫نے بنایا اور میرے دل میں دولت کا اللچ پیدا کیا ہے۔ میں صرف اس کام کے لیے بھاگا تھا‪ ،میں حلب گیا۔ اپنے باپ کو
‫قتل کیا ور اس کا سرکاٹ کر لے آیاہوں اگر اس سے میرے گناہوں کا کفارہ ادا نہیں ہوتا تو مجھے پھر قید کرلیں اور اسی
‫طرح میرا سر کاٹ کر پھینک دیں''۔
‫سلطان ایوبی نے اسے حسن بن عبداللہ کے حوالے کردیا اور کہا۔ ''اسے اگر قابل اعتماد سمجھا جاسکتا ہے تو اس کے
‫متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس نے میرے ایک سوال کا جواب دے دیا ہے۔ میں آج تک سوچتا رہا ہوں کہ دشمن کا
‫جاسوس پوری معلومات لے گیا تھا‪ ،پھر بھی دشمن میرے پھندے میں آگیا۔ اب معلوم ہوا ہے یہ خبر دینے نہیں بلکہ اپنے
‫باپ کو قتل کرنے گیا تھا''۔
‫اس سے اگلے دن سلطان ایوبی خیمے میں سویا ہوا تھا۔ باہر بہت سے آدمیوں کی باتوں سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ باہر
‫کوئی جھگڑا ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی نے دربان کو اندر بال کر پوچھا کہ باہر کیا ہورہا ہے۔ دربان نے بتایا کہ نو آدمی آپ کے
‫محافظ دستے کی وردیاں پہنے اور آپ کا جھنڈا اٹھائے آئے ہیں۔ کہتے ہیں وہ دمشق سے آئے ہیں۔ یہ رضاکارانہ آپ کے
‫محافظ دستے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ انہیں روکاتو کہتے ہیں کہ وہ اتنی دور سے عقیدت اور جذبے سے آئے ہیں‪ ،وہ آپ
‫سے ملنا چاہتے ہیں۔
‫یہ شیخ سنان اور گمشتگین کے بھیجے ہوئے فدائی قاتل (حشیشین) تھے۔ ان کی چال کامیاب ہوگئی۔ سلطان ایوبی نے دربان
‫سے کہہ دیا کہ انہیں اندر بھیجو۔ ان سے برچھیاں باہر رکھوالی گئیں۔ وہ خیمے میں گئے اور فورا ً ہی انہوں نے خنجر اور
‫تلواریں نکال لیں۔ سلطان ایوبی کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ آگئے تھے۔ ایک فدائی نے سلطان ایوبی پر حملہ کیا۔ سلطان
‫نے پھرتی سے حملہ روک لیا اور اپنی تلوار اٹھالی۔ پہلے ہی وار سے اس نے حملہ آور کا پیٹ چاک کردیا۔ خیمے میں جگہ
‫تھوڑی تھی۔ دوسرے فدائیوں نے بھی سلطان ایوبی پر حملے کیے۔ دونوں محافظوں نے جم کر مقابلہ کیا۔ باہر سے دوسرے
‫محافظ بھی آگئے۔ خیمے کے اندر تلواریں اور خنجر ٹکرانے لگے۔ باڈی گارڈوں نے قاتلوں کو اپنے ساتھ الجھا لیا۔ وہ خیمے
‫سے باہر آگئے۔ سلطان ایوبی کی لمبی تلوار نے کسی کو قریب نہ آنے دیا۔ فدائیوں میں سے پانچ چھ مارے گئے۔ باقی بھاگنے
‫لگے۔ انہیں زندہ پکڑ لیاگیا۔ خیمے کے اندر سے ایک فدائی نکال۔ اس کے کپڑے خون سے الل ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی کی
‫ادھر پیٹھ تھی۔ زخمی فدائی نے پیچھے سے سلطان پر حملہ کیا۔ ایک باڈی گارڈ نے بروقت دیکھ لیا‪ ،وہ چالیا۔ ''سلطان
‫نیچے''۔ اور حملہ آور کی طرف دوڑا۔ سلطان ایوبی فورا ً بیٹھ گیا۔ قاتل کی تلوار ہوا کو کاٹتی سلطان کے اوپر سے گزر گئی۔
‫باڈی گارڈ نے فدائی کے پہلو میں برچھی اتار دی۔ وہ تو پہلے ہی زخموں سے مر رہا تھا‪ ،وہ گرا اور مرگیا۔
‫سلطان ایوبی اس حملے سے بھی بال بال بچ گیا۔
‫بعض یورپی مؤرخوں نے لکھا ہے کہ سلطان ایوبی پر یہ قاتالنہ حملہ کرنے والے اس کے اپنے باڈی گارڈ تھے جو ایک عرصے
‫سے اس کے ساتھ تھے لیکن اس دور کے واقعہ نگاروں کی تحریروں سے شکوک رفع ہوجاتے ہیں۔ بہائوالدین شداد نے اور ایک
‫مصری واقعہ نگار محمد فرید ابو حدود نے لکھا ہے کہ یہ شیخ سنان کے بھیجے ہوئے نو فدائی تھے جو حلف اٹھا کر آئے
‫تھے کہ سلطان ایوبی کو قتل کردیں گے ورنہ زندہ نہیں لوٹیں گے۔ وہ سلطان ایوبی کو تو قتل نہ کرسکے البتہ ان میں سے
‫زندہ کوئی بھی نہ لوٹا۔ جو زندہ رہے انہیں سزائے موت دے دی گئی۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:18
‫قسط نمبر۔‪92‫قوم کی نظروں سے دور
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫کسی سپاہی کی بہادری کا تذکرہ ہورہا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کا ایک ساالر کھانے کے بعد کی محفل میں کسی معرکے
‫کی باتیں کررہا تھا۔ ایک سپاہی کی بہادری کا ذکر آگیا۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''لیکن تاریخ میں نام آئے گا تو وہ آپ کا
‫اور میرا ہوگا۔ تاریخ لکھنے والوں کی یہ بے انصافی ہے کہ وہ بادشاہوں‪ ،سلطانوں اور ساالروں سے نیچے کسی کی طرف آنکھ
‫اٹھاکر بھی نہیں دیکھتے۔ فتح اور شکست اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن فتح کا سہرا ہمیشہ سپاہیوں کے سر ہوتا ہے۔ ہمارے
‫چھاپہ مار جانباز دشمن کے پاس جاکر اس کے دوست بن جائیں تو ہم ان کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ معرکوں میں سپاہی لڑنے
‫کے بجائے اپنی جان کی فکر زیادہ کریں تو آپ فتح کس طرح حاصل کرسکتے ہیں؟ حق یہ ہے کہ تاریخ میں ہمارے ان
‫سپاہیوں کا ذکر ضرور آئے جو اکیلے اکیلے دس دس کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیتے۔ یہ سپاہی

‫جب کبھی ہاریں گے تو میری اور آپ کی ناالئقی کی وجہ سے ہاریں گے یا انہیں وہ غدار اور ایمان فروش شکست دیں گے
‫جو ہماری صفوں میں موجود ہیں''۔
‫خدا نے ہمیں کس گناہ کی سزا دی ہے کہ ہم میں غدار پیدا کردئیے ہیں''… محفل میں کسی نے جھنجھال کر کہا۔''
‫میں عالم نہیں کہ اس سوال کا جواب دے سکوں''… سلطان ایوبی نے کہا… ''شاید خدائے ذوالجالل نے غداروں کی ''
‫صورت میں ہم پر یہ خطرہ مستقل طور پر سوار کردیا ہے کہ ہر لمحہ چوکس اور چوکنے رہیں اور ایک کے بعد دوسری فتح
‫حاصل کرتے کرتے مغرور نہ ہوجائیں… خدا کی باتیں خدا ہی جانے میں ڈرتا ہوں کہ ایمان فروشی کسی دور میں اسالم کے
‫وقار کو لے ڈوبے گی۔ آپ صلیبیوں کے اس عزم سے بے خبر تو نہیں کہ ان کی جنگ آپ کے نہیں اسالم کے خالف ہے۔
‫وہ کہتے ہیں کہ جب تک صلیب زندہ ہے چاند ستارے کے پرچم کے خالف برسرپیکار رہے گی۔ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے
‫لیے یہی عزم ورثے کے طور پر چھوڑ جائیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے ان سپاہیوں کے کارنامے قلمبند کرلیں جو شمالی
‫مصر کے صحرائوں میں بھی لڑے اور حماة کی برف پوش وادیوں میں بھی۔ ان چھاپہ ماروں کے بھی تذکرے قلمبند کرلیں جو
‫دشمن کی صفوں کے عقب میں چلے جاتے ہیں اور اتنی تباہی مچاتے ہیں جو پوری فوج بھی نہیں مچا سکتی۔ ان میں سے
‫کتنے زندہ واپس آتے ہیں؟… دس میں سے ایک۔ وہ بھی زخمی''۔
‫ہاں سلطان محترم!''… ساالر نے کہا… ''یہ ایک قیمتی ورثہ ہے جو ہم آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑیں گے۔ قومیں ''
‫شجاعت کی روایات سے زندہ رہتی ہیں''۔
‫تم شاید نہیں جانتے کہ ہمارے بعض سپاہی ملک سے دور قوم کی نظروں سے دور ایسی جنگ لڑتے ہیں جن کا انہیں ''
‫ہماری طرف سے حکم ہی نہیں ملتا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''ان لوگوں پر اپنے مذہب کے وقار کا جنون سوار ہوتا ہے۔
‫ان کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی‪ ،کوئی ذات نہیں ہوتی۔ وہ دشمن کے قبضے میں ہوتے ہیں تو بھی سرکش اور آزاد رہتے
‫ہیں۔ قوم کو جب فتح حاصل ہوتی ہے تو قوم ان سے ناواقف رہتی ہے جو پردوں کے پیچھے عجیب وغریب طریقوں سے
‫جنگ لڑتے اور قوم کا نام روشن کرتے ہیں''۔
‫اس دور کی غیر مطبوعہ تحریروں میں ایسے ہی چند ایک سپاہیوں کا ذکر ملتا ہے جن کا ذکر سلطان ایوبی کررہا تھا۔ ایک
‫کا نام عمرو درویش تھا۔ وہ سوڈانی مسلمان تھا‪ ،اس سلسلے کی کہانیوں میں جو آپ کو سنائی جاچکی ہیں‪ ،آپ نے پڑھا ہوگا
‫کہ سلطان ایوبی کے بھائی تقی الدین نے سوڈان پر فوج کشی کی تھی مگر دشمن کے دھوکے میں آکر سوڈان کے صحرا میں
‫اتنی دور نکل گیا جہاں تک رسد کا سلسلہ قائم رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ دشمن نے رسد کے راستے روک لیے اور تقی الدین
‫کی فوج کو صحرامیں بکھیر کر جمعیت اور مرکزیت ختم کردی تھی۔ اسالمی فوج کو بہت نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پیش قدمی کی
‫تو امید ہی ختم ہوگئی تھی۔ پسپائی بھی ممکن نہیں رہی تھی۔ جنگی قیدی بہت ہوئے تھے جن میں تقی الدین کے دو تین
‫نائب ساالر اور کمان دار بھی تھے۔
‫ان قیدیوں میں مصریوں اور بغدادیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ان میں کچھ سوڈانی مسلمان بھی تھے۔ سلطان ایوبی نے اپنی
‫جنگی سوجھ بوجھ اور غیرمعمولی فہم وفراست سے کام لیتے ہوئے تقی الدین کی بکھری ہوئی فوج کو سوڈان سے نکاال تھا۔
‫اس کے بعد اس نے سوڈانیوں کے پاس اس پیغام کے ساتھ ایلچی بھیجے تھے کہ جنگی قیدیوں کو رہا کردیا جائے۔ سوڈانیوں
‫نے انکار کردیا تھا کیونکہ ان کا کوئی قیدی سلطان ایوبی کی فوج کے پاس نہیں تھا۔ سوڈانیوں نے جنگی قیدیوں کے عوض
‫مصر کے کچھ عالقے کا مطالبہ کیا تھا۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا تھا… ''تم مجھے‪ ،میری بیوی اور میرے بچوں کو سولی
‫پر کھڑا کردو‪ ،میں تمہیں سلطنت اسالمیہ کی ایک انچ جگہ نہیں دوں گا۔ میرے سپاہی غیرت والے ہیں۔ اپنی قوم کے وقار
‫کے لیے جانیں قربان کرنا جانتے ہیں''۔
‫اس کے بعد سوڈانی حکومت نے مصر پر حبشیوں سے حملہ کرایا تھا جن میں سے کوئی ایک بھی واپس نہیں جاسکا تھا۔ جو
‫زندہ رہے وہ قید میں ڈال دئیے گئے تھے۔ توقع تھی کہ سوڈانی ان کی رہائی کا مطالبہ کریں گے لیکن انہوں نے کوئی ایلچی
‫نہیں بھیجا۔ وہ ان حبشیوں کو دھوکے میں مصر میں الئے تھے۔ یہ ان کی باقاعدہ فوج نہیں تھی۔ سلطان ایوبی نے ان حبشی
‫قیدیوں کی مزدور فوج بنا لی تھی۔ مصر میں ان سے کھدائی‪ ،باربرداری اور اس قسم کے دوسرے کام لیے جاتے تھے۔
‫سوڈان والے سلطان ایوبی کی فوج کے جنگی قیدیوں کو دراصل اس وجہ سے نہیں چھوڑ رہے تھے کہ انہیں وہ سوڈانی فوج
‫میں شامل ہوجانے کی ترغیب دے رہے تھے۔ سوڈانیوں کے پاس صلیبی مشیر تھے… وہی سوڈانیوں کو سلطان ایوبی کے خالف
‫استعمال کررہے تھے۔ یہ منصوبہ انہی کا تھا کہ مصری فوج کے قیدیوں کو بہال پھسال کر سوڈانی فوج میں شامل کرلیا جائے۔
‫تاریخ اور اس دور کی تحریریں یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے کتنے مسلمان سپاہیوں کو اپنی فوج میں شامل کرلیا تھا۔
‫البتہ یہ شہادت مل گئی تھی کہ سوڈاینوں کا پیار اور محبت کا اور اچھے سلوک کا حربہ جس پر بھی ناکام ثابت ہوا اسے
‫انہوں نے بے رحمی سے اذیتیں دیں اور تڑپا تڑپا کر مارا۔
‫ان قیدیوں میں اسحاق نام کا ایک عہدیدار تھا جو سلطان ایوبی کی فوج کے کسی دستے کا کمانڈر تھا۔ وہ سوڈان کا رہنے
‫واال تھا اور نوجوانی میں مصری فوج میں شامل ہوا تھا۔ سوڈان کے ایک پہاڑی عالقے میں وہاں کے مسلمان آباد تھے جن کی
‫تعداد چار پانچ ہزار کے درمیان تھی۔ ان کے مختلف قبیلے تھے لیکن اسالم نے ان میں اتحاد پیدا کررکھا تھا۔ تمام قبیلوں
‫کے سرداروں نے ایک کمیٹی سی بنا رکھی تھی۔ تمام قبیلے اس کے احکام اور فیصلوں کی پابندی کرتے تھے۔ ان لوگوں نے
‫روایت بنا رکھی تھی کہ مصری فوج میں بھرتی ہوجاتے تھے۔ سوڈانی فوج میں شمولیت سے گریز کرتے تھے۔ وہ جنگجو بھی
‫تھے اور خونخوار بھی۔ تیراندازی کے ماہر تھے۔ سوڈانی فوج اور حکومت نے انہیں بہت اللچ دئیے تھے۔ انہیں جنگ کے
‫ذریعے ختم کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ لیکن ان مسلمان قبائل کو پہاڑیوں کا فائدہ حاصل تھا۔ دوباران پر سوڈانی فوج نے
‫حملہ کیا لیکن مسلمان تیر اندازوں نے چٹانوں کی چوٹیوں سے وہ تیر برسائے کہ سوڈانیوں کے گھوڑے تیر کھا کر اپنے پیادہ
‫سپاہیوں کو کچلتے بھاگ گئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫تقی الدین کی جنگی لغزش سے سوڈان والوں کے ہاتھوں جہاں مصر کی بہت سی فوج قیدی ہوگئی تھی‪ ،وہاں ایک کمان دار
‫اسحاق بھی تھا۔ اپنے قبیلوں پر اس کا بہت اثرورسوخ تھا۔ جنگی قید میں سوڈانیوں نے اسے کہا کہ اگر وہ اپنے مسلمان
‫قبیلوں کو سوڈان کی فوج میں شامل ہونے پر راضی کرلے تو اسے نہ صرف رہا کردیا جائے گا بلکہ جس پہاڑی عالقے میں
‫مسلمان آباد ہیں‪ ،اس تمام عالقے کی الگ ریاست بنا کر اسے اس کا امیر یا سلطان بنا دیا جائے گا۔
‫میں اس ریاست کا پہلے ہی سلطان ہوں''… اسحاق نے جواب دیا… ''یہ ہماری آزاد ریاست ہے''۔''
‫وہ سوڈان کا عالقہ ہے''… اسے کہا گیا… ''ہم کسی بھی روز وہاں کے لوگوں کو قید کرلیں گے یا تباہ کردیں گے''۔''

‫تم پہلے اس عالقے پر قبضہ کرو''… اسحاق نے کہا… ''وہاں کے مسلمانوں کو تہہ تیغ کرو‪ ،تم انہیں اپنی فوج میں شامل''
‫نہیں کرسکو گے۔ اس عالقے میں اپنا جھنڈا لے جا کر دکھا دو پھر میں انہیں تمہاری فوج میں شامل ہونے پر راضی کرلوں
‫گا''۔
‫اسحاق کو قید خانے میں رکھنے کے بجائے ایک خوشنما کمرے میں رکھا گیا جو کسی شہزادے کا محل معلوم ہوتا تھا۔ ایک
‫سوڈانی ساالر نے اسے اس کمرے میں داخل کرکے اپنی تلوار دونوں ہاتھوں میں لے کر اور دوزانو ہوکر اسے پیش کی اور کہا…
‫''ہم آپ جیسے جنگجو کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ آپ ہمارے قیدی نہیں مہمان ہیں''۔
‫میں آپ کی تلوار قبول نہیں کروں گا''… اسحاق نے کہا… ''میں مہمان نہیں قیدی ہوں‪ ،میں نے شکست کھائی ہے۔ میں''
‫آپ سے تلوار اسی طرح لوں گا جس طرح آپ نے مجھ سے لی ہے۔ تلوار‪ ،تلوار کے زور سے لی جاتی ہے''۔
‫مگر ہم آپ کے دشمن نہیں''… سوڈانی ساالر نے کہا۔''
‫میں آپ کا دشمن ہوں''… اسحاق نے مسکرا کر کہا… ''تلواروں کا تبادلہ اتنے خوبصورت کمرے میں نہیں میدان جنگ ''
‫میں ہوا کرتا ہے۔ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے میری اتنی عزت کی''۔
‫ہم اس سے زیادہ عزت کریں گے''… ساالر نے کہا… ''آپ کی مسند خرطوم کے تخت کے ساتھ رکھی جائے گی''۔''
‫اور روز محشر میری مسند دوزخ کے تہہ خانے میں رکھی جائے گی''… اسحاق نے کہا… ''کیونکہ میں نے دنیا میں مسند ''
‫تخت کے ساتھ رکھی تھی''۔
‫میں دنیا کی بات کررہا ہوں''۔''
‫مگر مسلمان آخرت کی بات کیا کرتا ہے۔ جب ہم سب اپنے اعمال نامے خدا کے حضور پیش کریں گے''… اسحاق نے ''
‫کہا… ''مجھے یہ بتا دیں کہ آپ کے بعد کون آئے گا اور کیا تحفہ الئے گا''۔
‫سوڈانی ساالر نے مسکرا کر کہا… ''اب کوئی بھی آئے مجھے کیا‪ ،میں سپاہی ہوں۔ آپ بھی سپاہی ہیں۔ میں نے آپ کی
‫سپاہیانہ شان کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ آپ نے میرا دل توڑ دیا''۔
‫آپ نے میری سپاہیانہ شان دیکھی ہی کب ہے؟''… اسحاق نے کہا… ''مجھے تو لڑنے کا موقعہ مال ہی نہیں۔ میرا دستہ''
‫صحرا کے ایک ایسے حصے میں جاپھنسا جہاں پانی کی بوند نظر نہیں آتی تھی۔ تین چار دنوں میں صحرا نے میرے پیادوں‪،
‫سواروں اورگھوڑوں کو ہڈیوں میں بدل دیا۔ سپاہی اور سوار زبانیں باہر نکالے پانی ڈھونڈنے لگے۔ آپ کے ایک دستے نے حملہ
‫کردیا اور ہم پکڑے گئے۔ ہمیں صحرا نے شکست دی ہے۔ آپ نے میری تلوار کے جوہر کہاں دیکھے ہیں کہ مجھے خراج
‫عقیدت پیش کررہے ہیں''۔
‫مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ بہادر ہیں''… ساالر نے کہا۔''
‫سنی سنائی پر یقین نہ کریں''… اسحاق نے کہا… ''کل صبح ایک تلوار مجھے دیں‪ ،ایک آپ لیں اور میرے مقابلے میں ''
‫آئیں۔ مجھے امید ہے کہ میں آپ کی تلوار قبول کرلوں گا مگر اس وقت آپ زندہ نہیں ہوں گے''۔
‫ساالر کچھ اور کہنے لگا تھا کہ اسحاق نے کہا… ''غور سے سن لو محترم ساالر! مجھے تم لوگ کل جو قید خانے میں ڈال
‫دو گے‪ ،ابھی ڈال دو۔ میں اتنی خوبصورت قید میں مخمو ہوکر اپنا ایمان نہیں بیچوں گا''۔
‫قید خانے کی غالظت کے بجائے آپ اس دل نشیں ماحول میں بہتر طریقے سے سوچ سکیں گے''… ساالر نے کہا… ''
‫''میں امید رکھوں گا کہ آپ کے سامنے جو شرط پیش کی گئی ہے‪ ،اس پر آپ غور کریں گے۔ مجھے ایک سپاہی بھائی
‫سمجھ کر میرا یہ مشورہ قبول کرلیں کہ اپنا مستقبل تاریک نہ کریں۔ خدا نے آپ کی قسمت میں بادشاہی لکھ دی ہے۔ اس
‫پر لکیر نہ پھیریں''۔
‫میرے خدا نے میری قسمت میں جو کچھ لکھا ہے وہ میں اچھی طرح جانتا ہوں''… اسحاق نے کہا… ''اور تمہارے خدا ''
‫نے جو کچھ لکھا ہے میں اسے بھی جانتا ہوں… تم جائو۔ مجھے سوچنے دو''۔
‫ساالر چال گیا تو کھانا آگیا۔ کھانا النے والی تین لڑکیاں تھیں۔ جوان اور بہت ہی خوبصورت۔ وہ نیم عریاں بھی تھیں۔ کھانے
‫کی اقسام ایسی جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھیں۔ کھانے کے ساتھ خوشنما صراحیوں میں شراب بھی تھی۔
‫اسحاق نے ضرورت کے مطابق کھایا ور پانی پی لیا۔ دسترخوان سمیٹ لیا گیا اور ایک لڑکی اس کے پاس آگئی۔ اسحاق اسے
‫دیکھتا رہا اور اس کی ہنسی نکل گئی جس میں طنز تھی۔
‫کیا آپ نے مجھے پسند نہیں کیا؟''… لڑکی نے پوچھا۔''
‫میں نے تم جیسی بدصورت لڑکی پہلی بار دیکھی ہے''۔ اسحاق نے کہا۔''
‫لڑکی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ تو بہت ہی خوبصورت لڑکی تھی۔ اسحاق نے اس کی حیرت بھانپتے ہوئے کہا…
‫'' حسن‪ ،حیا میں ہوتا ہے۔ عورت عریاں ہوجائے تو اس کی کشش ختم ہوجاتی ہے۔ عریانی نے تمہارا طلسم توڑ دیا ہے۔ میں
‫اب تمہارے قبضے میں نہیں آسکوں گا''۔
‫کیا آپ نے مجھے دیکھ کر بھی میری ضرورت محسوس نہیں کی؟''… لڑکی نے پوچھا۔''
‫میرے جسم کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں''… اسحاق نے کہا… ''میری روح کی ایک ضرورت ہے جو تم پوری نہیں کرسکو''
‫گی۔ تم جائو''۔
‫لیکن میرے لیے حکم ہے کہ آپ کے پاس رہوں''… لڑکی نے کہا… ''اگر میں نے حکم کے خالف کوئی کام کیا تو مجھے''
‫سزا کے طور پر وحشی حبشیوں کے حوالے کردیا جائے گا''۔
‫دیکھو لڑکی!''… اسحاق نے کہا… ''میں مسلمان ہوں۔ میرا عقیدہ کچھ اور ہے میں تمہیں اس کمرے میں نہیں رکھ سکتا۔''
‫اگر تم اس کمرے میں رات بسر کرنے کا حکم لے کے آئی ہو تو یہیں رہو اور میں باہر سو جائوں گا''۔
‫یہ بھی میرا جرم ہوگا''… لڑکی نے کہا… ''آپ مجھے اس کمرے میں رہنے دیں۔ مجھ پر رحم کریں''… لڑکی نے دیکھ ''
‫لیا تھا کہ یہ شخص پتھر ہے۔ اس نے اسحاق کی منت سماجت شروع کردی۔
‫تمہارا کام کیا ہے؟''… اسحاق نے پوچھا… ''کس مقصد کے لیے تمہیں میرے پاس بھیجا گیا ہے؟ مجھے اپنا مقصد بتا دو ''
‫تو اس کمرے میں رہنے دوں گا''۔
‫میرا کام یہ ہے کہ آپ جیسے مردوں کو موم کردوں''… لڑکی نے جواب دیا… ''آپ پہلے مرد ہیں جس نے مجھے ٹھکرایا''
‫ہے۔ میں نے مذہب کے شیدائیوں کو اپنا گرویدہ بنایا اور انہیں سوڈان کے سانچے میں ڈھاال ہے''۔ لڑکی نے پوچھا… ''کیا
‫''واقعی آپ نے مجھے بدصورت سمجھا ہے یا مذاق کیا تھا؟
‫تم جسے خوشبو کہتی ہو وہ میرے لیے بدبو ہے''… اسحاق نے کہا… ''میری نظر میں تم واقعی بدصورت ہو… جہاں سونا''

‫چاہتی ہو سوجائو۔ پلنگ پر سوجائو‪ ،میں فرش پر سو جائوں گا''۔
‫لڑکی فرش پر لیٹ گئی۔
‫تمہارا نام کیا ہے لڑکی؟''… اسحاق نے پوچھا۔''
‫آشی''۔''
‫''اور تمہارا مذہب؟''
‫میرا کوئی مذہب نہیں''۔''
‫''تمہارے ماں باپ کہاں رہتے ہیں؟''
‫معلوم نہیں''… لڑکی نے کہا۔''
‫اسحاق پر نیند کا غلبہ ہونے لگا ور ذرا سی دیر میں اس کے خراٹے سنائی دینے لگے۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس شخص کے ساتھ آپ وقت ضائع کررہے ہیں''… اس لڑکی نے کہا جس نے رات اسحاق کو اپنا نام آشی بتایا تھا۔ اس''
‫اعلی افسر بیٹھے ہوئے تھے۔ آشی نے کہا… ''اس شخص کے اندر جذبات نام کی کوئی چیز
‫کے سامنے سوڈانی فوج کے
‫ٰ
‫نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے کیسے کیسے پتھر موم کیے ہیں مگر اس جیسا کوئی نہیں دیکھا''۔
‫معلوم ہوتا ہے تم نے کوئی کوتاہی کی ہے''… ایک افسر نے کہا۔''
‫لڑکی نے پوری تفصیل سنائی کہ اس نے اسحاق کو کیسے کیسے طریقوں سے اپنے جال میں پھانسنے کی کوشش کی مگر وہ
‫ہنس پڑتا تھا یا اسے خاموشی سے دیکھتا رہتا تھا۔ ذرا دیر بعد سو جاتا تھا۔
‫چار پانچ دن سوڈانی حکام اسحاق کو اپنی بات پر النے کی کوشش کرتے رہے۔ راتوں کواس پر بڑے بڑے حسین طلسم طاری
‫کرنے کے جتن کیے گئے مگر اسحاق نے بات یہیں پر ختم کی کہ میں مصر کی فوج کے ایک دستے کا کمان دار ہوں‪،
‫مسلمان ہوں اور قیدی ہوں۔
‫آخر اسے محل سے نکال کر قید خانے میں لے گئے اور ایک تنگ سی کوٹھڑی میں بند کردیا۔ سالخوں والے دروازے پر قفل
‫چڑھا دیا گیا۔ کوٹھڑی میں ایسی بدبو تھی کہ دماغ پھٹا جاتا تھا۔ رات کا وقت تھا۔ ایک سپاہی دیا لے آیا جو اس نے
‫سالخوں میں اسحاق کو دے دیا۔ اسحاق نے دیا فرش پر رکھا تو اسے کوٹھڑی میں ایک الش پڑی نظر آئی جو خراب ہورہی
‫تھی۔ الش کا منہ کھال ہوا ور آنکھیں بھی کھلی ہوئی تھیں۔ الش سوج گئی تھی۔ اسحاق نے قید خانے کے سپاہی کو آواز دے
‫کر بالیا اور پوچھا کہ یہ کس کی الش ہے۔
‫تمہارا ہی کوئی دوست ہوگا''۔ سپاہی نے جواب دیا… ''کوئی مصری تھا۔ جنگ میں پکڑاگیا تھا۔ اسے بہت اذیتیں دی ''
‫گئی تھیں۔ پانچ چھ دن ہوئے کوٹھڑی میں مر گیا''۔
‫الش یہاں کیوں پڑی ہے؟'' اسحاق نے پوچھا۔''
‫تمہارے لیے''۔ سپاہی نے طنزیہ کہا… ''اسے اٹھا لیا تو تم اکیلے رہ جائو گے''۔ سپاہی ہنستا ہوا چال گیا۔''
‫اسحاق نے دیا اوپر کرکے الش کو دیکھنا شروع کردیا۔ کپڑوں سے اس نے پہچان لیا کہ مصری فوج کا آدمی تھا۔ اسحاق نے
‫کوٹھڑی میں جو بدبو محسوس کی تھی وہ غائب ہوگئی۔ اس نے سوجی ہوئی الش کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور کہا… ''تمہارا
‫جسم گل جائے گا مگر روح تازہ رہے گی۔ تم نے خدا کی راہ میں جان دی ہے۔ تم مجھ سے برتر ہو۔ تم زندہ ہو۔ زندہ رہو
‫گے۔ سپاہی ٹھیک کہہ گیا ہے‪ ،تم نہ ہوتے تو میں اکیال رہ جاتا''۔
‫وہ بہت دیر اس کے ساتھ باتیں کرتا رہا اور الش کے پاس لیٹ گیا۔ اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح اسے جگایا گیا۔ اس نے
‫دیکھا کہ وہی سوڈانی ساالر کھڑا تھا جس نے اسے تلوار پیش کی تھی۔ ساالر نے کہا… ''کسی چیز کی ضرورت ہوتو حاضر
‫کروں''۔
‫میں نے تمہارے لہجے کو پہچان لیا ہے''۔ اسحاق نے کہا… ''میں ہارا ہوا ہوں۔ تم مجھے طعنہ دے سکتے ہو۔ اگر تم ''
‫واقعی میری کوئی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہو تو میدان جنگ سے تمہیں مصر کے پرچم بھی ملے ہوں گے۔ ایک پرچم الدو‪،
‫میں اس الش پر ڈالنا چاہتا ہوں''۔
‫ساالر نے قہقہہ لگا کر کہا… ''کیا تمہارے پرچم کو ہم نے سینے سے لگا رکھا ہوگا؟ ہم نے مصر کے کسی جھنڈے کو ہاتھ
‫لگانا بھی گوارا نہیں کیا''۔ اس نے سپاہی سے کہا… ''اسے باہر نکالو اور نیچے لے چلو۔ الش یہیں رہنے دو''۔
‫اسحاق کو قید خانے کے تہہ خانے میں لے گئے۔ وہاں ایسی بدبو تھی جیسے بے شمار الشیں پڑی ہوں۔
‫سوڈانی ساالر آگے آگے تھا۔ ایک جگہ چھ سات مصری الٹے لٹکے ہوئے تھے اور ان کے بازوئوں کے ساتھ وزن بندھا ہوا تھا۔
‫آگے ایک آدمی کو بہت بڑی صلیب کے ساتھ اس طرح لٹکایا ہوا تھا کہ اس کی ہتھیلیوں میں ایک ایک کیل گڑھا ہوا تھا۔
‫خون ٹپک رہا تھا۔ ایک جگہ ایک چوڑا اور بہت بڑا پہیہ تھا‪ ،اس پر ایک آدمی پیٹھ کے بل اس طرح بندھا تھا کہ ٹخنوں
‫سے زنجیریں بندھی تھیں جو فرش میں ٹھوکی ہوئی تھیں۔ بازو اوپر کرکے پہیے کے ساتھ بندھے تھے۔ ایک آدمی پہیے کو ذرا
‫سا چالتا تو اس آدمی کے بازو اور ٹانگیں اوپر اور نیچے کو کھینچی جاتی تھیں۔ وہ درد سے چیختا تھا۔
‫اسحاق کو تہہ خانے میں گھما پھرا کر دکھایا گیا کہ یہاں کیسی کیسی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ جگہ جگہ خون تھا بعض قیدی
‫قے کرتے تھے اور چند ایک بے ہوش پڑے تھے۔ اذیت کا ہر ایک طریقہ دکھا کر سوڈانی ساالر نے اسحاق سے پوچھا… ''آپ
‫کو جو طریقہ پسند ہو وہ بتا دیں۔ ہم آپ کو وہاں لے چلتے ہیں‪ ،اگر آپ اس کے بغیر ہی ہماری بات مان جائیں تو آپ کا
‫ہی بھال ہوگا''۔
‫جہاں جی چاہے لے چلو‪ ،قوم سے غداری نہیں کروں گا''۔ اسحاق نے کہا۔''
‫میں ایک بار پھر بتا دیتا ہوں کہ ہم تم سے کیا کروانا چاہتے ہیں''۔ ساالر نے کہا… ''تمہیں کہا گیا تھا کہ تمام مسلمان''
‫قبیلوں کو سوڈانی فوج میں لے آئو اس کے عوض تمہیں رہا بھی کیا جائے گا اور مسلمان قبیلوں کے عالقے کا امیر بنا دیا
‫جائے گا۔ اب تم اپنا یہ حق کھو بیٹھے ہو۔ اب ہماری شرط یہی ہے مگر تمہیں یہ انعام دیا جائے گا کہ کوئی اذیت نہیں
‫دی جائے گی اور تمہیں سوڈانی فوج میں اچھا عہدہ دیا جائے گا''۔
‫عہدے کے بجائے مجھے کسی بھی اذیت میں ڈال دو''۔ اسحاق نے کہا۔''
‫اسے اس طرح الٹا لٹکا دیا گیا کہ ٹخنوں سے زنجیریں ڈال کر چھت سے باندھ دی گئیں‪ ،ساالر نے سپاہیوں سے کہا… ''شام
‫تک اسے یہیں رہنے دو۔ شام کے وقت اسے الش والی کوٹھڑی میں پھینک دینا۔ مجھے امید ہے کہ اس کا دماغ صاف ہوجائے
‫گا''۔

‫٭ ٭ ٭
‫شام تک وہ بے ہوش ہوچکا تھا۔ ہوش میں آیا تو وہ الش کے پاس پڑا تھا۔ ایک کونے میں تھوڑا سا پانی اور کچھ کھانا رکھا
‫تھا۔ اس نے پانی پیا اور کھانا کھالیا۔ اس نے الش سے کہا… ''میں تمہاری روح کے ساتھ دھوکہ نہیں کروں گا‪ ،میں جلدی
‫تمہارے پاس آرہا ہوں''… باتیں کرتے کرتے اس کی آنکھ لگ گئی۔
‫آدھی رات کے وقت اسے پھر جگا لیا گیا اور پہیے کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ سوڈانی ساالر موجود تھا۔ اس نے کہا… ''ہزاروں
‫مسلمان ہمارے ساتھ ہیں‪ ،تم شاید پاگل ہوگئے ہو۔ تم اسالم کے لیے قربانی دے رہے ہو لیکن صالح الدین ایوبی اپنی بادشاہی
‫کو آدھی دنیا پر پھیالنے کے لیے تم جیسے پاگلوں کو مروا رہا ہے۔ وہ بدبخت شراب بھی پیتا ہے اور اس نے پریوں جیسی
‫لڑکیوں سے حرم بھر رکھا ہے اور تم ہو کہ اس کے نام پر مرتے ہو''۔
‫ساالر محترم!''… اسحاق نے کہا… ''میں تمہیں اپنے مذہب کے امیر اور سلطان کے خالف جھوٹ بولنے سے روک نہیں ''
‫سکتا اور تم مجھے اپنے عقیدے پر جان قربان کرنے سے روک نہیں سکتے۔ میری قوم کے کسی بھی قبیلے کا کوئی ایک بھی
‫مسلمان تمہاری فوج میں شامل نہیں ہوگا۔ مسلمان مسلمان کے خالف تلوار نہیں اٹھائے گا''۔
‫تم شاید نہیں جانتے کہ عرب میں مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا ہے''۔ سوڈانی ساالر نے کہا… ''صلیبی فلسطین میں ''
‫بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ تمام امیروں اور مسلمان حکمرانوں نے صالح الدین ایوبی کے خالف بغاوت کردی ہے''۔
‫انہوں نے کردی ہوگی''۔ اسحاق نے کہا… ''میں نہیں کروں گا۔ جنہوں نے بغاوت کی ہے وہ اس دنیا میں بھی سزا ''
‫بھگتیں گے‪ ،اگلے جہان میں بھی… تم اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ میرے ساتھ جو سلوک کرنا چاہو کرو اور کسی دوسرے سوڈانی
‫مسلمان کو پکڑو۔ شاید وہ تمہارا کام کردے''۔
‫ہمیں بتایا گیا ہے کہ تم صرف اشارہ کردو تو تمام مسلمان ہمارے ساتھ ہوں گے''۔ ساالر نے کہا… ''ہم تم سے یہ کام ''
‫مفت نہیں کرانا چاہتے۔ تمہاری قسمت بدل دیں گے''۔
‫میں آخری بار کہتا ہوں کہ میں اپنی قوم کو بیچوں گا نہیں''… اسحاق نے کہا۔''
‫وہ پہیے کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ نیچے ٹخنے فرش کے ساتھ‪ ،اوپر کالئیاں پہیے کے ساتھ۔ تین چار حبشی اس لمبے کھمبے
‫کے ساتھ کھڑے تھے جسے دھکیلنے سے پہیہ حرکت میں آتا تھا۔ سوڈانی ساالر نے اشارہ کیا تو حبشیوں نے کھمبے کو ایک
‫قدم دھکیال۔ رہٹ کی طرح پہیہ چال۔ اسحاق کا جسم اوپر اور نیچے کو کھینچنے لگا۔ اس کے بازو کندھوں اور ٹانگیں کولہوں
‫سے الگ ہونے لگیں۔ اس کے جسم سے پسینہ اس طرح پھوٹا جیسے کسی نے اس پر پانی انڈیل دیا ہو۔
‫اب سوچو اور جواب دو''۔ اس کے کانوں میں سوڈانی ساالر کی آواز پڑی۔''
‫ایمان نہیں بیچوں گا''۔ اسحاق نے کراہتی ہوئی آواز میں جواب دیا۔''
‫پہیہ اور آگے چالیا گیا۔ اس کی کھال پھٹنے لگی۔
‫اب اچھی طرح سوچ سکو گے''۔''
‫میری الش بھی یہی جواب دے گی‪ ،اپنا ایمان نہیں بیچوں گا''۔ اسحاق نے یہ الفاظ بڑی مشکل سے منہ سے نکالے۔''
‫اسے کچھ دیر یہیں رہنے دو''۔ ساالر نے حکم دیا… ''مان جائے گا''۔''
‫اسحاق نے قرآن کی آیات کا ورد شروع کردیا۔ ساالر چال گیا۔ اسحاق کے جسم کے جوڑ کھل رہے تھے۔ کھال جیسے اتاری
‫جارہی تھی۔ اس کا منہ آسمان کی طرف تھا۔ اس نے تصور میں خدا کو اپنے سامنے دیکھا اور کہا۔ ''خداوند دوعالم! میں
‫گناہ گار ہوں تو مجھے اور زیادہ سزا دو۔ میں آپ کی راہ میں سچا ہوں تو مجھے سکون عطا کرو۔ میں آپ کے حضور
‫شرمسار نہیں ہونا چاہتا''… اس نے آنکھیں بند کرکے آیات کا ورد شروع کردیا۔
‫تم چیختے کیوں نہیں؟'' اس کے پاس قید خانے کا جو سپاہی کھڑا تھا اس نے کہا… ''زور زور سے چیخو۔ اس سے ''
‫تکلیف ذرا کم ہوجاتی ہے''۔
‫میں تکلیف میں نہیں ہوں''۔ اسحاق نے کہا… ''پہیہ اور آگے کردو''۔''
‫قید خانے کے سپاہی درندے تھے۔ اس سپاہی نے حبشیوں سے کہا کہ پہیہ ذرا اور چالئیں۔ حبشیوں نے دھکا لگایا تو پہیہ اور
‫آگے چال گیا۔ اسحاق کے جسم سے کڑاک کڑاک کی آوازیں نکلیں۔ ایک اور سپاہی دوڑتا آیا۔ اس نے اپنے ساتھی سے کہا…
‫''تمہیں کس نے کہا ہے کہ پہیہ چالئو۔ یہ مر جائے گا۔ اسے ابھی زندہ رکھنا ہے''… پہیہ ذرا نیچے کردیا گیا۔
‫یہ کہتا ہے مجھے کوئی تکلیف نہیں ہورہی''۔ سپاہی نے اپنے ساتھی سے کہا۔''
‫''تم ہوش میں ہو؟'' سپاہی نے اسحاق سے پوچھا… ''تم کیا بول رہے ہو؟''
‫بے ہوشی میں بول رہا ہے''۔ دوسرے نے کہا… ''تم نے چکر جہاں تک پہنچا دیا تھا وہاں انسان مرجاتا ہے۔ یہ ہوش ''
‫میں نہیں ہوسکتا''۔
‫میں ہوش میں ہوں دوستو!'' اسحاق کی نحیف آواز سنائی دی… ''میں اپنے خدا کے ساتھ باتیں کررہا ہوں''۔''
‫دونوں سپاہیوں نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا۔ ایک نے کہا… ''یہ اتنا طاقتور تو نہیں لگتا۔ اس حالت میں تو بھینسوں
‫جیسے وحشی حبشی بے ہوش ہوجاتے ہیں۔ یہ کوئی عالم ہوگا۔ اس کے پاس خدا کی طاقت ہے''۔
‫ہاں۔ تم ٹھیک کہتے ہو''۔ اسحاق نے کہا… ''میرے پاس خدا کی طاقت ہے۔ میں خدا کا کالم پڑھ رہا ہوں۔ پہیے کو ''
‫پورا چکر دے کر دیکھو۔ میرا جسم دو حصوں میں کٹ جائے گا۔ دونوں حصوں سے یہی آواز آئے گی جو تم سن رہے ہو''۔
‫وہ گنوار سپاہی تھے۔ توہم پرستی ان کا مذہب تھا۔ وہ مسلمان نہیں تھے۔ پیروں فقیروں اور مجذوبوں کو خدا سمجھتے تھے۔
‫بتوں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ اس پہیے کو (جسے چکر شکنجہ کہتے تھے) وہ اچھی طرح جانتے تھے۔ اس کے ساتھ
‫بندھا ہوا انسان پہیے کی ذرا سی حرکت پر چیخ اٹھتا اور ہر بات مان لیتا تھا۔ ذرا مزید حرکت سے بے ہوش ہوتا اور کچھ
‫دیر بعد مرجاتا تھا لیکن اسحاق پہیے کے آخری نشان تک زندہ ہی رہا‪ ،ہوش میں رہا۔ سپاہی جان گئے کہ یہ آدمی عام قسم
‫کا انسان نہیں۔
‫تم آسمانوں کا حال جانتے ہو؟'' ایک سپاہی نے پوچھا۔''
‫میرا خدا جانتا ہے''۔ اسحاق نے جواب دیا۔''
‫تمہارا خدا کہاں ہے''۔''
‫میرے دل میں''۔ اسحاق نے جواب دیا… ''وہ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہونے دیتا''۔''
‫ہم غریب لوگ ہیں'' ایک سپاہی نے کہا… ''یہاں تم جیسے انسانوں کی ہڈیاں توڑ کر بال بچوں کو روٹی کھالتے ہیں۔ ''
‫''تم ہماری قسمت بدل سکتے ہو؟

‫باہر جاکر'' اسحاق نے کہا… ''میں جو کچھ پڑھ رہا ہوں وہ تمہیں بتا دوں گا۔ تمہاری قسمت بدل جائے گی''۔''
‫ہم پہیہ نیچے کردیتے ہیں''۔ ایک سپاہی نے کہا… ''ساالر کو آتا دیکھیں گے تو اوپر کردیں گے''۔''
‫نہیں!'' اسحاق نے کہا… ''میں تمہیں یہ بددیانتی نہیں کرنے دوں گا۔ یہی میری طاقت ہے۔ اسے ہم ایمان کہتے ہیں''۔''
‫ہم تمہاری مدد کریں گے'' ایک سپاہی نے کہا… ''جب کہو گے جو کہو گے ہم کریں گے اگر ہوسکا تو تمہیں قید خانے ''
‫سے نکال دیں گے''۔
‫ساالر آگیا۔
‫''کیوں بھائی؟'' اس نے اسحاق سے پوچھا… ''ہوش میں ہو؟''
‫میرے اللہ نے مجھے بے ہوش نہیں ہونے دیا''۔ اسحاق نے جواب دیا۔''
‫ساالر کے اشارے پر پہیہ اور آگے چالیا گیا۔ اسحاق نے صاف طور پر محسوس کیا کہ اس کا جسم دو حصوں میں کٹ گیا ہے
‫اور اس کا آخری وقت آگیا ہے۔ اس نے کراہتی ہوئی آواز میں کالم پاک کا ورد اور زیادہ بلند آواز سے شروع کردیا۔ پہیہ اور
‫آگے چالیا گیا۔ اس کے جسم سے ایسی آوازیں آئیں جیسے جوڑ ٹوٹ رہے ہوں۔
‫خوش نہ ہو کہ ہم تمہیں جان سے مار دیں گے''۔ سوڈانی ساالر نے کہا… ''تم زندہ رہو گے اور تمہارے ساتھ ہر روز یہی''
‫سلوک ہوگا۔ تمہاری جان لے کر تمہیں اذیت سے آزاد نہیں کرنا چاہتے''۔
‫اسحاق نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے ورد جاری رکھا۔
‫ساالر کے اشارے پر پہیہ ذرا نیچے کردیا گیا۔ ساالر کے ساتھ فوج کا ایک اور افسر تھا۔ ساالر اسے الگ لے گیا اور کہا…
‫''بہت سخت جان معلوم ہوتا ہے۔ اتنی دیر میں یہ بے ہوش بھی نہیں ہوا۔ ہم نے زیادتی کی تو مر جائے گا۔ اسے ابھی
‫زندہ رکھنا ہے۔ میں نے ایک اور طریقہ سوچا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کی ایک بیٹی کی عمر چودہ پندرہ سال ہے اور اس
‫کی بیوی بھی ہے۔ ان دونوں کو یہ دھوکہ دے کر یہاں بالیا جائے کہ یہ شخص قید خانے میں ہے اور مررہا ہے۔ تمہیں اجازت
‫دی جاتی ہے کہ اسے دیکھ جائو اور اگر یہ مر گیا تو اس کی الش لے جائو''۔
‫دوسرے افسر نے کہا… ''دھوکے سے ہی بالنا پڑے گا ورنہ وہاں کے مسلمان ہمارے کسی آدمی کو اپنے عالقے میں داخل نہیں
‫ہونے دیں گے''۔
‫ان دونوں کو بال کر اس کے سامنے ننگا کرکے کھڑا کردیں گے''۔ ساالر نے کہا… ''پھر اسے کہیں گے کہ ہماری شرط ''
‫‪..مان لو ورنہ تمہاری کمسن بیٹی اور بیوی کو تمہارے سامنے بے آبرو کیا جائے گا
‫دونوں سپاہی جو ساالر کی غیرحاضری میں اسحاق کے ساتھ باتیں کرتے رہے تھے‪ ،قریب کھڑے سن رہے تھے۔ ساالر نے انہی
‫میں سے ایک کو بھیج کر فوج کے کمانڈر کو بالیا۔ اسے اسحاق کے گائوں کا راستہ بتا کر پیغام دیا اور یہ بھی بڑی اچھی
‫طرح سمجھا دیا کہ مقصد کیا ہے۔ اسے کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ بہت ہی احترام سے بات کرے اور صالح الدین
‫ایوبی کی تعریفیں بھی کرے ورنہ مسلمان اسے زندہ نہیں نکلنے دیں گے۔
‫کمانڈر اسی وقت روانہ ہوگیا۔ اسحاق کو چکر شکنجے سے اتار کر اسی کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا جس میں کسی مصری
‫سپاہی کی الش گل سڑ رہی تھی۔ اسحاق سے اٹھا نہیں جارہا تھا۔ سارے جسم سے درد کی بے رحم ٹیسیں اٹھ رہی تھیں
‫مگر اس نے دھیان خدا کی طرف لگا رکھا تھا۔ اتنے شدید درد کے باوجود وہ اپنے آپ میں سکون محسوس کررہا تھا۔ اس کی
‫روح میں کوئی درد نہیں تھا۔ جسمانی درد کے احساس سے وہ بے نیاز ہوچکا تھا لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ اسے ایسی ذلت
‫میں ڈالنے کا اہتمام ہورہا ہے جو اس کی روح کو لہولہان کردے گا۔ اس کی کمسن بیٹی اور جوان بیوی کو قید خانے میں
‫النے کے لیے ایک آدمی چال گیا تھا۔
‫وہاں سے اس کا گائوں جو پہاڑی عالقے میں تھا‪ ،گھوڑے پر پورے دن کی مسافت جتنا دور تھا۔ صبح ابھی ابھی طلوع ہوئی۔
‫سوڈانی ساالراپنے ساتھی افسر کے ساتھ چال گیا۔ قید خانے میں دونوں سپاہیوں کی ڈیوٹی ختم ہونے والی تھی۔ دن بھر کے
‫لیے دوسرے سپاہی آرہے تھے۔ ان دونوں سپاہیوں نے آپس میں بات کی اور ایک فیصلہ کرلیا۔ وہ اسحاق کو برگزیدہ انسان
‫سمجھ رہے تھے جس کا تعلق براہ راست کسی غیبی قوت کے ساتھ تھا۔ یہ ان کی برداشت سے باہر تھا کہ اس برگزیدہ
‫شخص کی بیٹی اور بیوی کو قید خانے میں بال کر ذلیل کیا جائے۔ ایک سپاہی نے اس خطرے کا بھی اظہار کیا کہ اس
‫شخص کی بیٹی اور بیوی کی توہین کی گئی تو سب پر قہر نازل ہوگا۔ ان دونوں کو یہ اللچ بھی تھا کہ باہر جا کر اسحاق
‫ان کی قسمت بدل دے گا۔
‫ایک سپاہی نے کہا کہ وہ اسحاق کی بیٹی اور بیوی کو یہاں تک نہیں آنے دے گا۔
‫٭ ٭ ٭
‫شام ہوچکی تھی جب پیغام لے جانے واال سوڈانی کمانڈر مسلمانوں کے پہاڑی عالقے میں داخل ہوا۔ پہلے گائوں میں جاکر اس
‫نے پوچھا کہ اسحاق نام کے ایک سوڈانی مسلمان کا گائوں کہاں ہے جو مصر کی فوج میں عہدیدار ہے۔ اسحاق کا تمام
‫عالقے پر اثرورسوخ تھا۔ اسے ہر کوئی جانتا تھا‪ ،کمانڈر نے بتایا کہ وہ زخمی حالت میں جنگی قیدی ہوا تھا۔ دوسرے قیدیوں
‫کی طرح اسے بھی قید خانے میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس کی حالت بگڑ رہی ہے۔ اس نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اسے اس
‫کی بیٹی اور بیوی سے مالیا جائے میں ان دونوں کو لینے آیا ہوں۔
‫ایک آدمی ان کے ساتھ ہوگیا۔ وادیوں سے گزرتے‪ ،کچھ وقت بعد دونوں اسحاق کے گائوں میں داخل ہوئے۔ پھر اس کے گھر
‫جاپہنچے۔ اس کے بوڑھے باپ سے مالقات ہوئی۔ سوڈانی کمانڈر نے جھک کر مصافحہ کیا اور نہایت اچھے انداز سے کہا۔
‫'' آپ کا بیٹا اتنا بہادر ہے کہ ہمارے ساالر بھی اسے سالم کرتے ہیں‪ ،وہ بہادری سے لڑا مگر ریگستان نے اسے پیاسا رکھ کر
‫بے حال کردیا۔وہ زخمی حالت میں پکڑا گیا۔ اس کا عالج اس طرح کیا جارہا ہے جس طرح سوڈانی ساالروں اور حکمرانوں کا
‫کیا جاتا ہے۔ اتنے اچھے عالج کے باوجود صحت یاب نہیں ہوا۔ اسے بچانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ اس نے خواہش
‫ظاہر کی ہے کہ اپنی بیٹی کو اور اپنی بیوی کو آخری بار دیکھنا چاہتا ہوں''۔
‫اگر تم لوگ اس کی اتنی زیادہ عزت کرتے ہو تو اسے میرے حوالے کیوں نہیں کردیتے؟'' اسحاق کے باپ نے کہا۔ ''
‫''ہوسکتا ہے ہمارے جراح اور طبیب اسے ٹھیک کرلیں''۔
‫فرمان روائے سوڈان نے کہا ہے کہ وہ ہمارا مہمان ہے''۔ کمانڈر نے جواب دیا۔ ''مہمان کو بیماری کی حالت میں رخصت''
‫کرنا میزبان کی بے عزتی ہے۔ صحت یاب ہوتے ہی اسے باعزت طریقے سے رخصت کردیا جائے گا''۔
‫کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کی بیٹی اور بیوی اس کے پاس رہیں اور اس کی تیمار داری کریں؟'' بوڑھے باپ نے پوچھا۔''
‫اگر یہ دونوں وہاں رہنا چاہیں تو انہیں عزت سے رکھا جائے گا''۔ کمانڈر نے کہا… ''ہمارے ہاں بہادروں کی عزت کی ''

‫جاتی ہے۔ ہمارے مذہب الگ ہیں لیکن ہم اور آپ سوڈانی ہیں۔ ہم زمین کا احترام کرتے ہیں۔ اگر اسحاق صالح الدین ایوبی
‫کا سپاہی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا‪ ،ہم بھائی ہیں۔ صالح الدین ایوبی کو ہم بہت بڑا جنگجو مانتے ہیں۔ اس نے صلیبیوں کو
‫گھٹنوں بٹھا دیا ہے''۔
‫''پھر تم اسے دشمن کیوں سمجھتے ہو؟'' بوڑھے نے پوچھا۔ ''تم صلیبیوں کو دوست کیوں سمجھتے ہو؟''
‫محترم بزرگ!'' کمانڈر نے کہا۔ ''اگر میں باتیں کرنے بیٹھ گیا تو یہ میرے فرض میں کوتاہی ہوگی۔ مجھے آپ کی بچی''
‫اور آپ کی بہو کو صبح سے پہلے آپ کے بیٹے تک پہنچانا ہے۔ آپ کے بیٹے کی خواہش کی تکمیل ہمارا فرض ہے… کیا
‫''آپ کی بیٹی اور بہو میرے ساتھ ابھی چلنے کو تیار ہیں؟
‫پردے کے پیچھے سے ایک نسوانی آواز آئی۔ ''ہم تیار ہیں''۔
‫کوئی مرد ساتھ نہیں جاسکتا؟'' بوڑھے نے پوچھا۔ ''میں بھی تو اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتا ہوں''۔''
‫سفر لمبا ہے'' کمانڈر نے کہا۔ ''آپ اتنی لمبی گھوڑ سواری برداشت نہیں کرسکیں گے۔ مجھے جو حکم مال ہے وہ بیٹی''
‫اور بیوی کو النے کا ہے''۔
‫قید خانے کا سپاہی ڈیوٹی سے فارغ ہوکر گھر گیا۔ بہت جلدی میں اس نے کپڑے بدلے۔ سر کو اس طرح ڈھانپا کہ چہرہ بھی
‫چھپ گیا۔ اس نے گھوڑے کے لیے چارہ اور پانی گھوڑے کے ساتھ باندھا اور کسی کو بتائے بغیر کہ کہاں جارہا ہے‪ ،روانہ
‫ہوگیا۔ اس نے وہ راستہ معلوم کرلیا تھا جو اسحاق کے گائوں کو جاتا تھا۔ ساالر جب پیغام لے جانے والے کمانڈر کو راستہ
‫سمجھا رہا تھا‪ ،یہ سپاہی پاس کھڑا سن رہا تھا۔ اس کے دل میں عقیدت تھی۔ آبادی سے نکل کر اس نے گھوڑے کو ایڑی
‫لگا دی۔ کمانڈر اس سے بہت پہلے نکل گیا تھا۔ اس لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اس سے پہلے اسحاق کے گھر پہنچ جاتا۔
‫سورج بہت اوپر آچکا تھا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:18
‫قسط نمبر۔‪93‫قوم کی نظروں سے دور
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫سورج بہت اوپر آچکا تھا۔ اسحاق کے باپ کے پاس دو گھوڑے تھے‪ ،اس نے دونوں تیار کیے۔ اسحاق کی بیٹی اور بیوی جلدی
‫میں تیار ہوکر سوار ہوگئیں۔ گائوں کے کچھ اور لوگ بھی وہاں آگئے تھے۔ سب سوڈانی کمانڈر کی باتوں میں آگئے اور انہوں
‫نے اسحاق کی بیٹی اور بیوی کو کمانڈر کے ساتھ رخصت کردیا۔ رات کا سفر تھا‪ ،راستے میں کہیں رکنا نہیں تھا۔ دونوں
‫مستورات کے دلوں میں اسحاق کے متعلق جو جذبات تھے ان سے ان کی نیند اڑ گئی۔ ان کے لیے گھوڑے کی سواری کوئی
‫نئی یا مشکل بات نہیں تھی۔ یہاں کے مسلمان اپنے بچوں کو گھوڑ سواری اور تیر اندازی بچپن میں ہی سکھا دیا کرتے تھے۔
‫تینوں گھوڑے پہاڑی عالقے سے نکل گئے۔ کمانڈر خوش تھا کہ اس نے کامیابی سے دونوں مستورات کو جال میں پھانس لیا
‫تھا۔ اسحاق اس کوٹھڑی میں بیٹھا تھا جس میں گلی سڑی الش پڑی تھی۔ یہ الش اسے پریشان کرنے کے لیے وہاں رکھی گئی
‫تھی لیکن اسحاق نے اپنے آپ کو جسمانی احساسات سے بیگانہ کردیا تھا۔ وہ الش کے ساتھ اس طرح باتیں کرتا تھا جیسے
‫وہ زندہ ہو۔ اسے بدبو کا ذرہ بھر احساس نہیں تھا۔ وہ اب جسم نہیں روح بن گیا تھا۔ سارا دن اسے کوٹھڑی سے باہر نہ
‫نکاال گیا۔ شام کے بعد بھی اسے کسی نے نہ چھیڑا۔ وہ حیران بھی ہوا کہ اسے کیوں آرام دیا جارہا ہے۔ شاید سوڈانی ساالر
‫اس سے مایوس ہوگیا تھا۔
‫کمانڈر دونوں مستورات کے ساتھ پہاڑی عالقے سے نکل کر صحرا میں جارہا تھا۔ وہ ان دونوں کو اسحاق کی بہت اچھی اچھی
‫باتیں سنا رہا تھا۔ دونوں پوری دلچسپی سے سن رہی تھیں۔ سوڈانی ساالر اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا۔ ''اپنی بیٹی اور
‫بیوی کی بے عزت کون برداشت کرسکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ کمانڈر ان دونوں کو لے آئے گا۔ میں اسحاق سے کہوں گا کہ
‫جب تک تم مسلمان قبیلوں کو سوڈانی فوج میں شامل کرکے سوڈان کا وفادار نہیں بنا دیتے تمہاری بیٹی اور بیوی کو آزاد
‫نہیں کیا جائے گا''۔
‫صبح تک ہمارے کمانڈر کو آجانا چاہیے''۔ ساالر کے ساتھی نے کہا۔''
‫ہوسکتا ہے ذرا پہلے آجائے''۔ ساالر نے کہا۔ ''آدمی ہوشیار ہے''۔''
‫قید خانے کا جو سپاہی کمانڈر کے پیچھے روانہ ہوا تھا ریتلے ٹیلوں کے عالقے میں سے گزر رہا تھا۔ اس نے آدھے سے زیادہ
‫راستہ طے کرلیا تھا۔ اس رات چاند نہیں تھا۔ صحرا کی فضا رات کو شفاف ہوجاتی ہے۔ ستاروں کی روشنی بھی مسافروں کو
‫راستہ دکھا دیتی ہے۔ سپاہی کو رات کی خاموشی میں کسی کی باتیں سنائی دیں۔ بولنے واال اسی کی طرف آرہا تھا۔ ٹیلے
‫گونج پیدا کررہے تھے۔ سپاہی ایک ٹیلے کی اوٹ میں رک گیا۔ باتیں بلند ہوتی گئیں اور گھوڑوں کے پائوں کی آہٹیں بھی
‫سنائی دینے لگیں۔ تھوڑی سی دیر بعد سپاہی نے ٹیلے کی اوٹ سے تین گھوڑے گزرتے دیکھے۔ اس نے تلوار نکال لی اس
‫وقت بھی کمانڈر اسحاق کی باتیں کررہا تھا۔ سپاہی کو یقین ہوگیا کہ یہ کمانڈر ہے اور اس کے ساتھ اسحاق کی بیٹی اور
‫بیوی ہے۔
‫اس نے گھوڑا باہر نکاال اور ان کے پیچھے گیا۔ اس کے گھوڑے کے قدموں کی آواز نے کمانڈر کو چونکا دیا۔ وہ تلوار سونت کر
‫پیچھے کو مڑا لیکن سپاہی گھوڑے کو ایڑی لگا چکا تھا۔ اس نے دوڑتے گھوڑے سے کمانڈر پر ایسا وار کیا کہ اس کا ایک بازو
‫صاف کاٹ دیا۔ گھوڑا روک کر وہ پیچھے مڑا۔ کمانڈر لڑنے کی حالت میں نہیں تھا۔ اس نے رحم کے لیے پکارا لیکن سپاہی
‫نے اس کی گردن پر وار کرکے اسے گھوڑے سے لڑھکا دیا۔
‫دونوں مستورات سن ہوگئیں۔ اسحاق کی بیوی نے اپنی بیٹی سے کہا۔ ''بھاگو۔ ڈاکو معلوم ہوتے ہیں''۔
‫انہوں نے گھوڑے موڑے۔ سپاہی نے اپنا گھوڑا ان کے راستے میں کرلیا اور کہا۔ ''یہاں کوئی ڈاکو نہیں ہے‪ ،مجھ سے نہ ڈرو۔
‫میں نے تمہیں ایک ڈاکو سے بچایا ہے۔ میرے ساتھ اپنے گائوں میں چلو۔ میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے جارہا۔ تمہارے ساتھ
‫چل رہا ہوں‪ ،میں اکیال ہوں''۔
‫وہ دونوں حیران وپریشان تھیں کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ سپاہی نے کمانڈر کے گھوڑے سے لگام اپنے گھوڑے کی زین کے ساتھ
‫باندھ دی اور گھوڑے کو بھی ساتھ لے چال۔ راستے میں اس نے دونوں کو بتایا کہ ''اسحاق قید خانے میں بند ہے۔ اسے کہا
‫جارہا ہے کہ وہ مسلمان قبیلوں کو سوڈانی فوج میں شامل کردے۔ اسحاق نہیں مان رہا۔ سپاہی نے ان دونوں کو یہ نہ بتایا کہ
‫اسحاق کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔ اس نے کہا کہ تم دونوں کو اس کے سامنے عریانی کی حالت میں کھڑا کرکے اور تم
‫دونوں کی بے عزتی کی دھمکی دے کر اسحاق کو اپنی بات پر النے کے لیے بالیا گیا ہے۔ یہ آدمی جسے میں نے قتل کیا

‫ہے تم دونوں کو اسی نیت سے لے جانے آیا تھا۔ میں اس کے پیچھے چل پڑا۔ میں نے اپنا فرض ادا کردیا ہے''۔
‫''تم کون ہو؟'' اسحاق کی بیوی نے پوچھا۔ ''مسلمان ہو؟''
‫میں قید خانے کا سپاہی ہوں'' اس نے جواب دیا۔ ''میں مسلمان نہیں ہوں''۔''
‫''پھر تمہیں ہمارے ساتھ کیسے ہمدردی پیدا ہوگئی؟''
‫میں نے سنا تھا کہ مسلمانوں کے پیغمبر ہوتے ہیں''۔ سپاہی نے کہا۔ ''تمہارا خاوند پیغمبر معلوم ہوتا ہے''۔''
‫اسحاق کی بیوی نے اس سے پوچھا کہ وہ اس کے خاوند کو کیوں پیغمبر سمجھتا ہے۔ سپاہی نے اصل بات نہ بتائی اور کہا…
‫'' اب تو میں اسے سچا پیغمبر سمجھتا ہوں‪ ،وہ قید خانے میں قید ہے‪ ،مسلمان ہے‪ ،میں مسلمان نہیں ہوا۔ اسے معلوم ہی
‫نہیں کہ اس کی بیٹی اور بیوی کو بے عزت کرنے کا انتظام کردیا ہے۔ میرے دل میں خیال آگیا کہ میں تم دونوں کی عزت
‫کی حفاظت کروں گا۔ میں نے ایسا کام کیا ہے جو میری ہمت سے باہر تھا۔ یہ اسی کی غیبی قوت ہے۔ میں اسے پیغمبر
‫سمجھتا ہوں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سحر کے وقت اسحاق کے گھر کے سامنے چار گھوڑے رکے۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ اسحاق کا باپ اسحاق کی بیوی اور بیٹی
‫کو ان کے ساتھ ایک اور آدمی کو دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ اندر جاکر سپاہی نے اسے تمام حاالت اور واقعات سنا دئیے لیکن
‫اسے بھی نہ بتایا کہ اسحاق کے ساتھ قید خانے میں کیا سلوک ہورہا ہے۔
‫اسحاق کے باپ نے اسی وقت اپنے قبیلے کے لوگوں کو اطالع دے دی۔ لوگ جمع ہوگئے۔ سپاہی نے انہیں بتایا کہ اسحاق کو
‫اس شرط پر رہائی دینے کا وعدہ کیا جارہا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو سوڈان کی فوج میں شامل کردے اور تمام مسلمان
‫سوڈان کے وفادار ہوجائیں۔ سپاہی نے بتایا کہ اسحاق کہتا ہے کہ مجھے جان سے ماردو میں اپنی قوم کے ساتھ غداری نہیں
‫کروں گا۔
‫تمام لوگ بھڑک اٹھے۔ سوڈان کو بھال برا کہنے لگے۔ کسی نے کہا… ''یہاں صالح الدین ایوبی آئے گا‪ ،یہ خدا کی زمین
‫ہے''۔
‫ہم قید خانے پر حملہ کرکے اسحاق کو رہا کرائیں گے''۔ ایک آدمی نے کہا۔''
‫تمہارے لیے یہ کام آسان نہیں''۔ سپاہی نے کہا۔ ''تہہ خانے میں سے تم کسی کو نکال نہیں سکتے''۔''
‫تم قید خانے کے سپاہی ہو''۔ اسحاق کے باپ نے کہا۔ ''تم ہماری مدد کرسکتے ہو''۔''
‫ادنی سپاہی ہوں''۔ اس نے کہا۔ ''میں آپ کے بیٹے کو پیغمبر سمجھتا ہوں۔ میں نے اسے کہا تھا کہ ''
‫میں غریب اور
‫ٰ
‫میری قسمت بدل دو۔ اس نے کہا تھا کہ باہر آکر بدل دوں گا۔ جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے میں اس کا مرید ہوتا جارہا
‫''ہوں۔ یہ سب لوگ اس پر جانیں قربان کرنے پر تیار ہیں‪ ،کیا میری زندگی بھی ایسی ہوسکتی ہے جیسی تمہاری ہے؟
‫مسلمان ہوجائو اور یہیں رہو''۔ اسحاق کے باپ نے اسے کہا۔ ''ہم لوگ جنت میں رہتے ہیں‪ ،یہاں پانی کے چشمے ہیں''
‫اور ہرے بھرے درخت ہیں۔ یہاں کی زمین اتنا اناج دیتی ہے کہ جو کاشت کاری نہیں کرتا وہ بھی بھوکا نہیں رہتا۔ یہ ہمارے
‫اللہ کی شان ہے۔ تم ہمارے پاس آجائو اور اپنی قسمت بدل لو۔ ہم لوگ آزاد ہیں۔ یہ پہاڑیاں ہمارا قلعہ ہیں جو ہمارے اللہ
‫نے ہمارے لیے بنایا ہے''۔
‫سپاہی نے وہیں رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسحاق کے باپ نے اسے حلقہ بگوش اسالم کرکے اپنے پاس رکھ لیا۔
‫صبح طلوع ہوچکی تھی۔ سوڈانی ساالر بیتابی سے کمانڈر کا انتظار کررہا تھا مگر اس کا کہیں نام ونشان نہ تھا۔ سورج اوپر
‫اٹھتا گیا اور ساالر بے چین ہوتا گیا۔ وہ سمجھا کہ کمانڈر راستہ بھول گیا ہوگا۔ اس نے ایک اور عہدیدار کو بالیا اور اسے
‫وہی باتیں بتا کر جو اس نے پہلے کمانڈر کو بتائی تھیں روانہ کردیا۔
‫اسحاق کوٹھڑی میں بند رہا۔ یہ دن بھی کوٹھڑی میں گزر گیا۔ اس کی کوٹھڑی میں پڑی ہوئی الش پھٹنے لگی تھی۔ قید خانے
‫کے سنتری جو انسانوں کے جسم توڑنے اور تہہ خانے کی بدبو کے عادی تھے وہ بھی اسحاق کی کوٹھڑی کے قریب آنے سے
‫گریز کرنے لگے۔ بڑی ہی بری بدبو تھی۔ ایک سنتری نے ناک پر ہاتھ رکھ کر اسحاق سے پوچھا۔ ''اومردود! تم اس بدبو کو
‫کس طرح برداشت کررہے ہو؟ یہ لوگ جو کچھ تم سے منوانا چاہتے ہیں مان جائو اور یہاں سے رہائی لو۔ اس مرداری بدبو
‫سے پاگل ہوجائو گے''۔
‫مجھے کوئی بدبو محسوس نہیں ہورہی''۔ اسحاق نے کہا۔ ''یہ مردار نہیں شہید ہے۔ میں رات کو اس کے ساتھ لگ کے''
‫سوتا ہوں''۔
‫تم پاگل ہوچکے ہو''۔ سنتری نے کہا۔ ''الش کی بدبو کا یہی اثر ہوتا ہے''۔''
‫اسحاق کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور اس نے الش کے پاس بیٹھ کر قرآن کی ایک آیت کا ورد شروع کردیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫یہ رات بھی گزر گئی۔ صبح کے دھندلکے میں جس دوسرے کمانڈر کو ساالر نے بھیجا تھا واپس آگیا۔ ایک تو مسلسل اتنے
‫طویل سفر سے اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ اس کے عالوہ وہ جو کچھ دیکھ آیا تھا اسے بیان کرنے سے اس کی زبان ہکال رہی
‫تھی۔ اس نے ساالر کو بتایا کہ راستے میں کچھ عالقے ریتلے ٹیلوں اور گھاٹیوں کا ہے۔ ایک جگہ گدھ مردار کھا رہے تھے۔
‫اس نے ایک جگہ تلوار پڑی دیکھی۔ جوتے اور کپڑے بھی دیکھے۔ اس نے گدھوں کو اڑایا تو پتہ چال کہ وہ کسی انسان کو
‫کھا رہے تھے۔ چہرہ بھی خراب ہوچکا تھا۔ اسے جو چیزیں مثال ً خنجر‪ ،چمڑے کا کمر بند وغیرہ ملیں وہ اٹھا کر لے گیا۔
‫اسے یقین ہوگیا کہ یہ سوڈانی کمانڈر کی الش تھی۔
‫اس نے آگے جاکر زمین دیکھی۔ گھوڑوں کے پائوں کے نشان تھے۔ یہ کمانڈر پہاڑی عالقے تک گیا۔ گھوڑوں کے نشان وہاں تک
‫گئے تھے۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا کہ کمانڈر مستورات کو ساتھ الیا تھا یا نہیں اورا سے کس نے قتل کیا ہے۔ سوڈانی ساالر
‫نے کہا کہ معلوم ہوجائے گا۔ مسلمانوں کے اس عالقے میں سوڈانیوں نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے جو انہی مسلمانوں میں سے
‫تھے۔ ان جاسوسوں کا وہاں اور کوئی بس نہیں چال تھا۔ صرف مخبری کرتے تھے۔ اسحاق کے متعلق انہی لوگوں نے بتایا تھا
‫کہ اس عالقے پر اسی کا اثرورسوخ ہے۔
‫ہوا بھی ایسے ہی۔ شام کے بعد جو جاسوس پہنچ گئے۔ انہوں نے ساالر کو پوری خبر سنائی کہ کمانڈر‪ ،اسحاق کی بیوی اور
‫بیٹی کو لے گیا تھا اور قید خانے کے ایک سپاہی نے اسے راستے میں قتل کردیا اور مستورات کو واپس لے گیا ہے۔ انہوں
‫نے سپاہی کا نام بھی بتایا۔ ساالر نے یہ مسئلہ سوڈان کے حکمران کے آگے رکھا۔ اس نے صلیبی مشیروں کو بتایا۔ ان
‫صلیبیوں نے مشورہ دیا کہ خاموش ہوجائو۔ مسلمانوں پر فوج کشی کی حماقت نہ کربیٹھنا۔ انہیں کسی اچھے طریقے سے دوست

‫بنانے کی کوشش کرو۔ زیادہ سے زیادہ یہ کارروائی کرو کہ اس سپاہی کو خفیہ طریقے سے قتل کرادو تاکہ مسلمانوں کو پتہ چل
‫جائے کہ ہمارے ہاتھ ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ اسحاق پر تشدد جاری رکھو۔
‫اسحاق کو ایک بار پھر تشدد کے شکنجے میں جکڑ لیا گیا۔ اب تو ساالر اس سے اپنے کمانڈر کے قتل کا انتقام بھی لینا
‫چاہتا تھا۔ اسے اتنی درندگی کا تختہ مشق بنا دیا گیا جتنا انسانی تصور سے باہر تھا۔ رات کے وقت وہ بے ہوش ہوگیا اور
‫اسے کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا۔ ہوش میں آیا تو کوٹھڑی میں اندھیرا تھا۔ باہر ایک مشعل جل رہی تھی۔ اسحاق نے اپنا
‫ہاتھ ایک طرف کیا تو ہاتھ کسی کے جسم پر لگا۔ اسے یاد آگیا کہ یہ وہی الش ہے جو پہلے دن سے اس کے ساتھ پڑی ہے
‫مگر اسے ایسے لگا جیسے الش سانس لے رہی ہو۔ یہ اس کے دماغ کی خرابی ہی ہوسکتی تھی۔ اس کے جسم کی حالت یہ
‫ہوگئی تھی کہ اٹھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔
‫الش نے حرکت کی۔ اسحاق نے چونک کر دیکھا۔ چہرے پر نظر ڈالی۔ یہ الش نہیں تھی۔ کوئی زندہ انسان تھا اور یہ کوٹھڑی
‫کوئی اور تھی۔ دوسرا آدمی بھی شاید بے ہوش تھا۔ وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آیا اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اسحاق بڑی
‫''مشکل سے اٹھا اور پوچھا۔ ''تم کون ہو؟
‫عمرو درویش''۔ اس آدمی نے مری ہوئی آواز میں کہا۔''
‫اوہ… عمرودرویش؟'' اسحاق نے حیران ہوکر کہا۔ ''میں اسحاق ہوں''۔''
‫وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ عمرودرویش بھی صالح الدین ایوبی کی فوج کے ایک دستے کا کمانڈر تھا وہ بھی
‫انہی مسلمان قبیلوں میں سے تھا جو سوڈانی ہوتے ہوئے سوڈان کی فوج میں بھرتی نہیں ہوتے تھے۔ عمرو درویش بھی جنگی
‫قید ی ہوگیا تھا۔ اسحاق کا نام سن کر اٹھ بیٹھا۔
‫تمہیں کیا کہتے ہیں؟''۔ اسحاق نے پوچھا۔''
‫کہتے ہیں کہ عالم کے روپ میں اپنے عالقے میں جائو''۔ عمرودرویش نے جواب دیا۔ ''اور لوگوں کے دلوں میں صالح ''
‫الدین ایوبی کے خالف دشمنی پیدا کرو۔ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں شہزادوں کی طرح رکھیں گے اور جس لڑکی کو پسند کرو گے‪،
‫''وہ تمہارے ساتھ رہے گی''۔ عمرو نے پوچھا۔ ''تم سے کیا منوانا چاہتے ہیں؟
‫کہتے ہیں اپنے تمام قبیلوں کو سوڈان کا وفادار بنا دو''۔ اسحاق نے جواب دیا۔ ''اس کے عوض مجھے مسلمانوں کے ''
‫عالقے کا امیر بنانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کی الگ فوج بنانا چاہتے ہیں''۔
‫مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ تمہیں بہت تکلیفیں دے رہے ہیں''۔ عمرو درویش نے کہا۔ ''معلوم نہیں ہمیں ایک ہی کوٹھڑی''
‫میں کیوں بند کردیا ہے… شاید اس میں کوئی بہتری ہوگی۔ میں چاہتا تھا کہ تم مجھے مل جائو۔ میں نے ایک طریقہ سوچا
‫ہے۔ اس پر عمل کرنے سے پہلے تمہیں تم سے اجازت لینا چاہتا تھا۔ اچھا ہوا تم مل گئے''۔
‫تم نے دیکھ لیا ہے کہ یہ لوگ ہمیں چھوڑیں گے نہیں''۔ عمرو درویش نے کہا۔ ''ہم اذیتیں کب تک برداشت کریں گے۔''
‫آج نہیں تو کل مر جائیں گے۔ یہاں اور کئی سوڈانی مسلمان قید ہیں‪ ،کوئی نہ کوئی ان کے جال میں آجائے گا۔ میں ڈرتا
‫ہوں کہ ہمارے چند ایک ساتھیوں کو یہ ورغال کر ہماری قوم میں تفرقہ ڈال دیں گے۔ ایک صورت یہ ہے کہ تم ان کی شرط
‫مان لو۔ اس بہانے آزاد ہوجائو اور اپنے عالقے میں جاکر کچھ بھی نہ کرو۔ رات کے اندھیرے میں مصر کو نکل جائو۔ تمہیں
‫زندہ رہنا چاہیے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں ان کی بات مان لوں‪ ،یہ مجھے جو سبق پڑھانا چاہتے ہیں وہ پڑھ لوں۔ ان کا
‫بتایا ہوا بہروپ دھارلوں اور اپنے تمام قبیلوں کو خبردارکردوں کہ وہ سوڈانیوں کے کسی چکر میں نہ آئیں۔ اگر میں ان کا
‫ساتھی بن گیا تو میں تمہیں یہاں سے نکالنے کی کوشش کروں گا''۔
‫یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ سوڈانی ہمارے عالقے پر حملہ کردیں''۔ اسحاق نے کہا۔ ''ہمارے لوگ اتنی جلدی ہتھیار ڈالنے''
‫والے تو نہیں لیکن فوج اتنی جلدی ختم نہیں ہوتی۔ فوج آخر فوج ہے''۔
‫ہمیں قربانی دینی پڑے گی'' ۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''ہم مصر سے چھاپہ ماروں کی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ فی الحال ''
‫ضرورت یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک آدمی باہر نکل جائے اگر ہم دونوں اکٹھے ان کی شرط مان کر نکل جائیں تو اور
‫زیادہ بہتر ہے''۔
‫میں یہیں رہوں گا''۔ اسحاق نے کہا۔ ''تم انہیں دھوکہ دو۔ اگر ہم نے اکٹھے ان کی بات مان لی تو انہیں شک ہوگا۔ ''
‫یہ سمجھ جائیں گے کہ ہم نے رات ایک کوٹھڑی میں رہ کر کوئی منصوبہ تیار کیا ہے۔ میں سختیاں برداشت کرتا رہوں گا۔ تم
‫نکل جائو صبح طلوع ہوتے ہی کوٹھڑی کا دروازہ کھال۔ ایک سپاہی نے اسحاق کو برچھی چبھوئی اور اسے اٹھا کر دھکے دیتا
‫اپنے ساتھ لے گیا۔ کوٹھڑی کا دروازہ پھر بند ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد سوڈانی فوج کا ایک عہدیدار آیا۔ اس نے سالخوں میں سے
‫عمرودرویش سے پوچھا۔ ''اگر تم نے آج انکار کیا تو تصور نہیں کرسکتے کہ تمہارے جسم کا کیا حال ہوگا۔ ہم تمہیں مرنے
‫نہیں دیں گے۔ تم اس دنیا میں دوزخ دیکھ لو گے۔ ہر روز مرو گے اور ہر روز جیو گے''۔
‫مجھے کسی اچھی جگہ لے چلو''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''میرے جسم کو ذرا سا سکون آنے دو‪ ،یہاں میں کچھ بھی نہیں''
‫سوچ سکتا''۔
‫میں تمہیں جنت میں بٹھا سکتا ہوں''۔ سوڈانی عہدیدار نے کہا۔ ''تمہیں جنت کی پریوں میں بٹھا دوں گا اور اگر وہاں ''
‫بھی تم نے انکار کیا تو جتنے دن زندہ رہو گے پچھتاتے رہو گے۔ ہمیں رو رو کر کہو گے کہ میں نے تمہاری شرط مان لی
‫ہے تو بھی ہم تم پر اعتبار نہیں کریں گے''۔
‫وہ کراہ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھلتی نہیں تھیں۔ اس نے سرگوشی سی کی۔ ''ایسا نہیں ہوگا‪ ،مجھے کہیں لے
‫چلو اور بتائو کہ مجھے کیا کرنا ہے''۔
‫اسے اسی وقت لے گئے اور ویسے ہی خوشنما کمرے میں جارکھا جیسا اسحاق کو دیا گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ایک طبیب
‫اعلی قسم کا کھانا کھالیا گیا۔ اس دوران اسی سوڈانی
‫آگیا۔ اس نے اس کے جسم کا معائنہ کرکے اسے دوائیں لگائیں۔ اسے
‫ٰ
‫ساالر نے جو اسحاق کا جسم توڑتا رہتا تھا‪ ،عمرو درویش سے پوچھا۔ ''کیا تم نے ہماری ہر بات ماننے کا فیصلہ کرلیا
‫''ہے؟
‫عمرو درویش نے سرہال کر رضامندی کا اظہار کیا۔ کھانا کھاتے ہی وہ لیٹا اور گہری نیند سوگیا۔ اس کی جب آنکھ کھلی تو
‫رات بھی گزر چکی تھی اور اگال دن گزر گیا تھا۔ وہ بہت دنوں سے قید خانے کے تہہ خانے میں اذیتیں برداشت کررہا تھا۔
‫جسم بہت حد تک سوکھ گیا تھا۔ ہڈیاں دکھ رہی تھیں۔ اتنے نرم وگداز بستر پر اتنی لمبی نیند سے اس کے جسم میں صحت
‫کے آثار نظر آنے لگے۔ اسے دوائیاں دی گئیں اور اسے بادشاہوں واال کھانا کھالیا گیا تھا۔ اس کی آنکھ کھلی تو اس کے
‫سامنے ایک لڑکی کھڑی مسکرا رہی تھی۔ وہ بہت ہی خوبصورت لڑکی تھی۔ اس کے بال ریشمی تھے اور کھلے ہوئے۔ عمرو

‫درویش فوجی تھا۔ جنگلوں میں پیدا ہوا اور فوج میں اس کی عمر میدان جنگ میں گزر رہی تھی۔ اس لڑکی کو اس نے
‫خواب سمجھا لیکن لڑکی نے آگے ہوکر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اسے یقین آیا کہ یہ خواب نہیں۔
‫لڑکی باہر چلی گئی اور طبیب کو بال الئی۔ طبیب نے اسے دیکھا اور دوائی پال کر چال گیا۔ فورا ً بعد دو صلیبی آگئے۔ وہ
‫سوڈانی زبان روانی سے بولتے تھے۔ تخریب کاری کے ماہر معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے عمرو درویش کو اس مہم کے لیے تیار
‫کرنا شروع کردیا کہ وہ اپنے عالقے میں جاکر یہ نہیں بتائے گا کہ وہ قید میں رہا ہے بلکہ یہ بتائے گا کہ میدان جنگ میں
‫اسے ایک بزرگ ملے تھے جنہوں نے اسے کہا تھا کہ مصری فوج کا سوڈان پر حملہ مصر کے لیے مہنگا ثابت ہوگا۔ مسلمانوں
‫کے لیے بہتر یہ ہے کہ سوڈان کا ساتھ دیں ورنہ تباہ ہوجائیں گے… صلیبیوں نے اسے یہ بھی بتایا کہ وہ مجذوب عالم کے
‫بھیس میں مسلمانوں کے دلوں میں صالح الدین ایوبی اور مصر کی حکومت کے خالف نفرت پیدا کرے گا۔
‫عمرو درویش خندہ پیشانی سے رضا مند ہوگیا۔ اسی وقت اس کی ٹریننگ اور ریہرسل شروع ہوگئی۔ شام کے بعد اس کے آگے
‫لڑکیوں نے کھانا چنا۔ شراب بھی رکھی گئی جو اس نے قبول نہ کی۔ کھانے کے بعد جب لڑکیاں دستر خوان سمیٹ کر لے
‫گئیں تو ایک اور لڑکی شب خوابی کے لباس میں آگئی۔
‫تم کیوں آئی ہو؟'' عمرودرویش نے لڑکی سے پوچھا۔''
‫آپ کے لیے''۔ لڑکی نے جواب دیا۔ ''میں آپ کے پاس رہوں گی''۔''
‫''تمہارا نام کیا ہے؟''
‫آشی!'' لڑکی نے جواب دیا اور اس کے پلنگ پر بیٹھ گئی۔''
‫آشی!'' عمرو درویش نے کہا۔ ''مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔ تم چلی جائو''۔''
‫میں حکم لے کر آئی ہوں کہ مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے''۔''
‫مجھ سے یہ لوگ جو بات منوانا چاہتے تھے وہ میں نے مان لی ہے''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''اب مجھے تم جیسے ''
‫حسین فریب کی کوئی ضرورت نہیں رہی''۔
‫میں جانتی ہوں''۔ آشی نے کہا۔ ''آپ کے متعلق مجھے سب کچھ بتا دیا گیا ہے۔ میں انعام کے طور پر آئی ہوں۔ ''
‫مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کو میری ضرورت ہے۔ سپاہی جب میدان جنگ سے آتے ہیں تو ان کی روح عورت کی
‫طلب گار ہوتی ہے''۔
‫میں ہارا ہوا سپاہی ہوں''۔ عمرو درویش نے کہا۔ ''میری روح مرگئی ہے۔ مجھے اپنے جسم سے نفرت ہوگئی ہے۔ مجھے''
‫اس کی کسی بھی ضرورت کا احساس نہیں رہا۔ قید خانے میں ابلے ہوئے پتے کھاتا رہا تو بھی مطمئن رہا۔ یہاں اتنے اچھے
‫کھانے کھائے ہیں تو بھی مطمئن ہوں لیکن خوش نہیں ہوں۔ میں شکست خوردہ ہوں''۔
‫لڑکی ہنس پڑی جسے کسی نے جل ترنگ چھیڑ دیا ہو۔ ''شراب کے دو چار گھونٹ آپ کو مسرتوں سے ماال مال کردیں
‫گے''۔ لڑکی نے کہا۔ ''حلق سے اتر جائے تو مجھے دیکھنا۔ مجھ میں آپ کو پھولوں کا حسن نظر آئے گا''۔
‫میری مجبوری یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''ہم عصمتوں سے کھیال نہیں کرتے‪ ،عصمتوں کی ''
‫حفاظت کیا کرتے ہیں''۔
‫صرف مسلمان لڑکیوں کی عصمتوں کی حفاظت کرتے ہوں گے''۔ لڑکی نے کہا۔ ''میں مسلمان نہیں''۔''
‫اور تم عصمت والی بھی نہیں''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''پھر بھی میرا فرض ہے کہ تمہاری عصمت کا خیال رکھوں۔ لڑکی''
‫مسلمان ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتی ہو‪ ،اپنی قوم کی ہو یا اپنے دشمن کی‪ ،مسلمان اگر ایمان کا پکا ہے تو اس
‫کی عصمت کی حفاظت کرے گا۔ تم تمام رات میرے پاس بیٹھی رہو‪ ،صبح سب کو بتاتی پھرو گی کہ رات ایک پتھر کے
‫پاس بیٹھ کر گزاری ہے''۔
‫کیا میں خوبصورت نہیں؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
‫تم جیسی بھی ہو میرے کسی کام کی نہیں''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''میں تمہارے کام آسکتا ہوں۔ اگر تم اس ذلیل زندگی''
‫سے آزاد ہونا چاہو تو میں تمہیں جان پر کھیل کر یہاں سے نکال لے جائوں گا اور کسی شریف گھرانے میں آباد کردوں گا''۔
‫آپ سے پہلے بھی ایک یہاں آیا تھا''۔ آشی نے کہا۔ ''وہ بھی آپ کی طرح باتیں کرتا تھا۔ وہ بھی سوڈانی مسلمان ''
‫تھا۔ میں آپ کی یہ بات نہیں مان سکتی کہ چونکہ آپ مسلمان ہیں اس لیے آپ عورت میں دلچسپی نہیں لیتے۔ میں نے
‫مصر کے کئی مسلمان دیکھے ہیں‪ ،وہ عورت کو دیکھ کر بھوکے درندے بن جاتے ہیں۔ میں تین ایسے مصری مسلمان بتا سکتی
‫''ہوں جنہیں میں نے اور شراب کی اس صراحی نے غدار بنایا ہے۔ وہ کیسے مسلمان ہیں؟
‫وہ ایمان فروش ہیں'' ۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''تم باتیں کررہی ہو میں تمہارے چہرے پر اور تمہاری آنکھوں میں تمہاری ''
‫''ماں اور تمہارے باپ کی جھلک دیکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ وہ کہاں ہیں؟ زندہ ہیں؟
‫معلوم نہیں''۔ آشی نے کہا۔ ''آپ سے پہلے جو یہاں آیا تھا اس نے بھی یہی پوچھا تھا کہ تمہارے ماں باپ زندہ ہیں''
‫یا مر گئے ہیں''۔ وہ اسحاق کی بات کررہی تھی۔ اسحاق کو جب اس کمرے میں الیا گیا تھا تو اسی لڑکی کو اس کے
‫کمرے میں بھیجا گیا تھا۔ اس نے عمرودرویش سے کہا۔ ''اس سوڈانی مسلمان نے مجھ سے میرے ماں باپ کے متعلق پوچھ
‫کر مجھے پریشان کردیا تھا۔ ایسا سوال مجھ سے کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا۔ وہ پہال آدمی تھا جس نے پوچھا تو میں
‫رات بھر سوچتی رہی کہ میرے ماں باپ کون تھے اور کیسے تھے۔ تھے ضرور۔ مجھے کچھ یاد آتا تھا اور ذہن کے اندھیرے
‫میں غائب ہوجاتا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو ان کی یاد سے دور رکھنے کی کوشش شروع کردی مگر میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
‫آج آپ نے ان کی یاد پھر تازہ کردی ہے۔ میں جب محسوس ہی نہیں کرتی تھی کہ میرے ماں باپ ہوں گے تو میں خوش
‫رہتی تھی۔ آپ سے پہلے آنے والے سوڈانی مسلمان نے میرے اندر ایسے جذبات بیدار کردئیے ہیں کہ میری خوشی پر اب
‫اداسی کا آسیب سوار رہنے لگا ہے''۔
‫''تمہارا کوئی بھائی بھی تھا؟''
‫کچھ بھی یاد نہیں''۔ آشی نے کہا۔ ''میں خون کے رشتوں کو سمجھتی ہی نہیں کہ کیا ہوتے ہیں''۔''
‫تمہیں نیند آرہی ہو تو سو جائو''۔ عمرودرویش نے کہا۔''
‫آپ کو نیند آرہی ہو تو میں خاموش ہوجاتی ہوں''۔ آشی نے کہا۔ ''جی چاہتا ہے کہ آپ میرے ساتھ باتیں کرتے رہیں۔ ''
‫مجھے آپ جیسے آدمی اچھے لگتے ہیں۔ میں جس آدمی کے ساتھ کچھ وقت گزارتی ہوں اس سے مجھے نفرت سی ہوجاتی
‫ہے۔ مجھے مسکرانا پڑتا ہے۔ وہ سوڈانی مسلمان جو آپ سے پہلے یہاں آیا تھا‪ ،مجھے ساری عمر یاد رہے گا جسے اس
‫کمرے میں الیا گیا تھا۔ آپ دوسرے آدمی ہیں جن کی میں ہمیشہ قدر کروں گی۔ آپ نے میرے اندر روح اور جذبات کو بیدار

‫''کردیا ہے۔ آپ مجھے شاید روح کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ دوسرے مجھے جسم کی بھوکی نظروں سے دیکھتے ہیں
‫میں تمہیں آبرو باختہ لڑکی سمجھتا تھا لیکن تم عقل اور فراست کی باتیں کرتی ہو''۔ عمرودرویش نے کہا۔''
‫میں حسین اور میٹھا زہر ہوں''۔ آشی نے کہا۔ ''پتھروں کو موم کرنے کی مجھے تربیت دی گئی ہے۔ میں کوئی سیدھی''
‫سادی لڑکی نہیں۔ جابر حکمران کی تلوار اپنے قدموں میں رکھوا سکتی ہوں اور عالموں کے منہ پھیر سکتی ہوں مگر اپنے آپ
‫کو وہ موم سمجھنے لگی ہوں جو ذرا سی حرارت سے پگھل جاتی ہے کسی پتھر کو نہیں پگھال سکتی''۔
‫رات گزرتی جارہی تھی‪ ،نیند کا خمار اور عمرودرویش کی باتیں آشی پر غالب آتی جارہی تھیں۔ نیند سے اس کی آنکھیں بند
‫ہونے لگیں۔ وہ پلنگ کی پائتی بیٹھی ہوئی تھی۔ وہیں لڑھک گئی… اس کی جب آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو پلنگ پر
‫اور عمرودرویش کو فرش پر سوتے دیکھا۔ اس نے عمرودرویش کو جگایا نہیں۔ اسے دیکھتی رہی۔ اس کے سینے میں ہلچل بپا
‫ہوگئی۔ اس نے اپنے گالوں پر اپنے آنسوئوں کی نمی محسوس کی اور حیران ہوئی کہ اس کے جسم میں آنسو بھی ہیں۔ اس
‫کے آنسو کبھی نہیں نکلے تھے۔ اس نے عمرودرویش کے پاس دو زانو ہوکر اس کا ہاتھ اٹھایا اور آنکھوں سے لگایا۔
‫عمرودرویش کی آنکھ کھل گئی۔ آشی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہ آئی۔ اس نے اسے یہ بھی نہ کہا کہ تمہیں فرش پر نہیں
‫سونا چاہیے تھا۔ وہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں پانی تھا جس سے عمرودرویش نے وضو کیا
‫اور نماز پڑھنے لگا۔ آشی کمرے سے چلی گئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫ناشتے کے بعد سوڈانی ساالر دو صلیبیوں کے ساتھ آگیا۔
‫میری ایک بات غور سے سن لیں''۔ عمرودرویش نے ساالر سے کہا۔ ''مجھے کسی بھی وقت اسحاق کی ضرورت ''
‫محسوس ہوسکتی ہے۔ آپ اسے پریشان کرنا چھوڑ دیں۔ اسے کسی کھلی اور آرام دہ کوٹھڑی میں رکھیں۔ اسے تہہ خانے سے
‫نکال کر اوپر لے آئیں۔ وہ میرا دوست ہے۔ مجھے جب اس کی ضرورت ہوئی تو میں اسے منالوں گا۔ اسے دھوکہ بھی دے
‫لوں گا اگر وہ نہ مانا تو آپ اس کے ساتھ جو سلوک مناسب سمجھیں کریں''۔
‫سوڈانی ساالر نے کہا کہ ایسا ہی ہوگا۔ صلیبی مشیروں نے عمرودرویش کو ٹریننگ دینی شروع کردی۔ اس نے خوبی سے نقل
‫کی۔ انہوں نے اسے جو باتیں بتائیں وہ بھی اس نے زبانی یاد کرنی شروع کردیں… چارپانچ روز اس کی تربیت ہوتی رہی۔ دن
‫کے دوران صلیبی اس کے ساتھ ہوتے تھے اور رات کو آشی اس کے پاس ہوتی تھی۔ یہ لڑکی اس کی مرید بن گئی تھی۔ اس
‫کمرے میں جاکر وہ اپنے آپ کو پاکیزہ لڑکی سمجھنے لگتی تھی۔
‫چھٹے ساتویں روز عمرودرویش ایک درویش کے روپ میں اپنے عالقے میں جانے کے لیے تیار ہوگیا۔ اسے درویشوں اور مجذوب
‫عالموں کے کپڑے پہنائے گئے۔ آشی نے اسے کہا تھا کہ وہ جب اپنی مہم پر روانہ ہو تو اسے بھی ساتھ لیتا چلے۔ اس کی
‫خواہش پر عمرودرویش نے سوڈانی ساالر سے کہا کہ وہ اس لڑکی کو انعام کے طور پر اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔ لڑکی اسے
‫دے دی گئی۔ اسے مستور کرنے کے لیے لڑکی کو برقعہ نما لبادہ دے دیا گیا۔ تین اونٹ دئیے گئے۔ ایک پر عمرودرویش سوار
‫ہوا‪ ،دوسرے پر آشی اور تیسرے پر ایک خیمہ اور کھانے پینے کا سامان الد دیا گیا۔ سوڈانی ساالر نے عمرودرویش کو دو باتیں
‫بتائیں۔ ایک یہ کہ اسحاق کو تہہ خانے سے نکال کر اوپر کھلے کمرے میں بھجوا دیا گیا ہے اور دوسری یہ کہ مسلمانوں کے
‫عالقے میں اپنے آدمی موجود ہیں جو اسے خود ہی ملیں گے اور اس کی مدد کریں گے۔
‫عمرودرویش آشی کو ساتھ لے کر ایک خطرناک مہم پر روانہ ہوگیا۔
‫سوڈانی ساالر اس کے روانہ ہوتے ہی اپنے کمرے میں گیا۔ وہاں چھ آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سب سوڈانی مسلمان تھے اور
‫مسلمانوں کے پہاڑی عالقے کے رہنے والے تھے۔ انہیں سوڈان کی حکومت سے بہت انعام واکرام ملتا تھا۔ اپنے عالقے میں وہ
‫پکے مسلمان بنے رہتے تھے۔
‫وہ جاچکا ہے''۔ ساالر نے انہیں کہا۔ ''تم دوسرے راستے سے روانہ ہوجائو۔ اکیلے اکیلے جانا۔ اپنے عالقے میں پہنچ جائو''
‫اور اس پر نظر رکھو جہاں تمہیں شک ہو کہ یہ شخص دھوکہ دے رہا ہے‪ ،اسے ایسے طریقے سے قتل کردو جس سے کسی
‫کو پتہ نہ چلے۔ میں اور آدمی بھیج رہا ہوں۔ انہیں اپنے گھروں میں رکھ لینا''۔
‫یہ سب ایک دوسرے کے بعد روانہ ہوگئے۔ سوڈانی ساالر نے دو اور آدمی بالئے۔ وہ صرف سوڈانی تھے‪ ،مسلمان نہیں تھے۔ ان
‫سے ساالر نے کہا۔ ''ان مسلمانوں کا کوئی بھروسہ نہیں۔ اپنے عالقے میں جاکر سب ایکا نہ کرلیں۔ یہ چھ آدمی ہمارے ہی
‫ہیں لیکن یہ نہ بھولنا کہ مسلمان ہیں۔ وہاں جاکر ان کی نیت بدل سکتی ہے۔ اگر عمرودرویش ٹھیک رہا تو تمہیں آتش گیر
‫مادے کی ضرورت ہوگی۔ یہ ان آدمیوں نے گھروں میں چھپا رکھا ہے۔ تم جانتے ہو کہ اسے کب اور کہاں استعمال کرنا
‫ہے''۔
‫یہ دونوں بھی روانہ ہوگئے۔
‫وہ سپاہی جس نے اسحاق کی بیٹی اور اس کی بیوی کو بچایا اور کمانڈر کو قتل کیا تھا‪ ،اسحاق کے گھر رہتا تھا جس روز
‫عمرو درویش روانہ ہوا اس روز سپاہی کہیں باہر گھوم پھر رہا تھا۔ ایک تیر آیا جو اس کے جسم کو چھوتا ہوا ایک درخت
‫میں جالگا۔ سپاہی دوڑ پڑا اور اسحاق کے گھر جاپہنچا۔ اس نے اسحاق کے باپ کو بتایا کہ اس پر کسی نے تیر چالیا ہے۔
‫کوئی بھی نہ سمجھ سکا کہ تیر کس نے چالیا ہے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ سوڈانیوں نے اسے قتل کرنے کی پہلی کوشش
‫کی ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے محکمہ جاسوسی وسراغرسانی (انٹیلی جنس) کا سربراہ علی بن سفیان قاہرہ میں تھا۔ اس وقت
‫سلطان ایوبی صلیبیوں کے دوست مسلمان امراء سیف الدین گمشتگین کو اور الملک الصالح کی فوج کو شکست دے کر ان
‫مخالفین کے مرکزی شہر حلب کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے یہ مسلمان مخالفین ایسی افراتفری اور بوکھالہٹ میں بھاگے تھے
‫کہ کہیں بھی قدم جما نہ سکے۔ راستے میں تین چار اہم مقام تھے جہاں وہ رک جاتے اور اپنی بکھری ہوئی فوج کو اکٹھا
‫کرلیتے تو صالح الدین ایوبی کا مقابلہ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے پسپائی کے ایسے راستے اختیار کیے جو جنگی لحاظ سے
‫ان کے لیے مزید نقصان کا باعث بنے۔ سلطان ایوبی نے پیش قدمی جاری رکھی اور ان اہم مقامات پر قبضہ کرلیا۔ اس کی
‫منزل حلب تھی۔
‫اسے کچھ علم نہیں تھا کہ مصر کے حاالت کیسی کیسی کروٹیں لے رہے ہیں۔ قاصد اسے رپورٹیں دیتے رہتے تھے جن سے پتہ
‫چلتا تھا کہ طرح طرح کی سازشیں سر اٹھا رہی ہیں۔ وہ میدان جنگ میں کبھی پریشان نہیں ہوا تھا‪ ،سازشیں اسے پریشان
‫کردیا کرتی تھیں اور یہ حقیقت اس کے لیے زہر کی طرح تلخ تھیں کہ ان سازشوں اور تخریب کاری کے ہدایت کار صلیبی اور

‫آلۂ کار مسلمان تھے۔ علی بن سفیان اس کا دست راست تھا بلکہ اس کی آنکھیں اور کان تھا۔ اسے سلطان ایوبی نے مصر
‫سے غیر حاضری کے دوران مصر میں ہی رہنے دیا تھا اور اپنے ساتھ اس کے معاون حسن بن عبداللہ کو رکھا۔ مصر کی
‫حکومت سلطان ایوبی کے بھائی العادل کے حوالے تھی۔ اپنے بھائی کی غیرحاضری میں العادل راتوں کو سوتا بھی کم تھا۔
‫علی بن سفیان کو وہ اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ اس طرح مصر کا امن وامان اور اس خطے میں اسالم کی آبرو کا تحفظ ان دونوں
‫کی ذمہ داری تھی۔
‫انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ سلطان ایوبی کی غیر حاضری میں مصر میں تخریب کاری بڑھ رہی ہے۔ اس کے عالوہ سوڈان
‫کی طرف سے خطرہ تھا۔ دو چار ماہ پہلے العادل نے سوڈانیوں کے ایک عجیب وغریب اور بڑے ہی خطرناک حملے کو
‫غیرمعمولی کامیابی سے تباہ کردیا تھا لیکن سوڈانیوں کے عزائم میں کوئی فرق نہیں آیا تھا‪ ،کیونکہ ان کا یہ حملہ جو ناکام
‫ہوا تھا باقاعدہ فوج کا حملہ نہیں تھا۔ سوڈان کی باقاعدہ فوج نقصان کے بغیر تیار کھڑی تھی۔ اس فوج کو صلیبی تربیت دے
‫رہے تھے اور بعض دستوں کی کمان بھی صلیبیوں کے ہاتھ میں تھی۔
‫سوڈان کے خطرے کی پیش بندی یوں کی گئی تھی کہ سرحد پر سرحدی دستوں کی نفری میں اضافہ کردیا گیا۔ ان کے عالوہ
‫علی بن سفیان نے اپنے شعبے کے بے شمار آدمیوں کو سرحد پر پھیال دیا تھا۔ یہ سب جاسوس اور مخبر تھے۔ وہ صحرائی
‫مسافروں اور خانہ بدوشوں کے بھیس میں سرحد پر گھومتے پھرتے رہتے تھے۔ ان کا رابطہ سرحدی چوکیوں کے ساتھ تھا۔ ان
‫کی چوکیوں پر ان کے لیے گھوڑے تیار رہتے تھے۔ سرحدی دستوں کے گشتی سنتری بھی ان کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے۔ ایک
‫انتظام اور بھی تھا۔ علی بن سفیان کے چند ایک ماہر جاسوس تاجروں کے بہروپ میں سوڈان کے ساتھ غیرقانونی تجارت
‫کرتے تھے جسے آج کل سمگلنگ کہا جاتا ہے۔ انہیں مال دے کر سرحد پار کرا دی جاتی تھی۔ یہ لوگ سوڈان جاکر یہ ظاہر
‫کرتے تھے کہ وہ مصر کے سرحدی دستوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر آئے ہیں۔ سوڈان میں بعض اجناس کی قلت تھی
‫جس میں اناج خاص طور پر قلیل تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کی ہدایت کے تحت مصر میں زیادہ اناج اگایا جاتا تھا جس
‫کا کچھ حصہ جاسوسی کے سلسلے کی سمگلنگ کے لیے الگ کرلیا جاتا تھا۔
‫سوڈان کے جو تاجر مصری ''تاجروں'' کے ساتھ کاروبار کرتے تھے ان میں زیادہ تر جاسوس تھے جو مصر کے لیے کام کرتے
‫تھے۔ انہیں جاسوس مصری جاسوسوں ( تاجروں کے روپ میں) نے بنایا تھا۔ جاسوسی کا یہ طریقہ کامیاب ہوا تو سلطان ایوبی
‫نے حکم دے دیا تھا کہ سوڈان کو اناج اور زیادہ سستا دو تاکہ یہ سلسلہ سارے سوڈان میں جال کی طرح پھیل جائے۔ چنانچہ
‫جال پھیال دیا گیا اور سوڈانی فوج اور حکومت کی ہر ایک نقل وحرکت قاہرہ میں نظر آنے لگی۔ علی بن سفیان نے سرحد
‫کے ساتھ اپنے دو تین ہنگامی مرکز بنا دئیے تھے جونہی کوئی خبر ادھر سے آتی سرحد کے کسی مرکز کو دے دی جاتی۔
‫جہاں سے برق رفتار گھوڑوں کے ذریعے قاہرہ پہنچا دی جاتی تھی۔ اس مقصد کے لیے جو سوار رکھے گئے تھے وہ مسلسل
‫تمام دن اور رات بغیر آرام کیے سواری کرنے کی مہارت رکھتے تھے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو معلوم تھا کہ سوڈان میں ایک وسیع پہاڑی عالقہ ہے جس میں صرف مسلمان آباد ہیں اور ان
‫مسلمانوں کی زیادہ تر تعداد مصری فوج میں ہے۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ یہ مسلمان سوڈانی فوج میں بھرتی ہونا پسند
‫نہیں کرتے۔ اس کی ابتداء اس طرح ہوئی تھی کہ سلطان ایوبی کے دور امارت سے کچھ پہلے مصری فوج میں سوڈانی حبشی
‫اور سوڈانی مسلمان ہوا کرتے تھے۔ ان کا کمانڈر بھی سوڈانی تھا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ اس کمانڈر کا نام ناجی تھا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:19
‫قسط نمبر۔‪94‫قوم کی نظروں سے دور
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫کہ اس کمانڈر کا نام ناجی تھا۔''داستان ایمان فروشوں کی'' کے اس سلسلے کی پہلی کہانی میں اسی فوج اور اس کے
‫اعلی ناجی کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا تھا۔ سلطان ایوبی سے پہلے ناجی مصر کا مختار کل تھا حاالنکہ یہاں خالفت کی
‫ساالر
‫ٰ
‫گدی بھی تھی اور یہ باقاعدہ امارت تھی۔ کیا خلیفہ اور کیا امیر صحیح معنوں میں بادشاہ تھے۔ صلیبیوں نے مصر کو سلطنت
‫اسالمیہ سے کاٹنے کے لیے یہاں تخریب کاری اور سازشوں کے اڈے قائم کرلیے تھے۔ ناجی ان کا اتحادی بن گیا تھا۔ اس نے
‫مصر کی سوڈانی فوج کو اپنے قبضے میں لے رکھا تھا۔ اس فوج کی تعداد پچاس ہزار تھی۔
‫سلطان ایوبی نے مصر کی امارت سنبھالی تو اس کی پہلی ٹکر ناجی سے ہوئی۔ سلطان ایوبی نے نورالدین زنگی مرحوم سے
‫منتخب اور جانباز دستوں کی کمک منگوا کر مصر کی پچاس ہزار سوڈانی فوج توڑ دی۔ اس کے بعض ساالروں کو قید میں ڈال
‫دیا اور نئی فوج تیار کرلی۔ تھوڑے ہی عرصے بعد اس نے یہ حکم نامہ جاری کیا کہ سوڈان کی اس معزول فوج کے جو لوگ
‫حلف وفاداری کے ساتھ خلوص نیت سے مصری فوج میں شامل ہونا چاہیں انہیں بھرتی کرلیا جائے۔ سوڈان کے وہ تمام مسلمان
‫جو اس فوج میں تھے‪ ،واپس آگئے۔ وہ جان گئے تھے کہ انہیں غیر مسلم سازش کا آلۂ کار بنایا گیا تھا۔ سلطان ایوبی کی
‫فوج میں شامل ہوکر انہوں نے جب صلیبیوں کے خالف دو تین معرکے لڑے اور سلطان ایوبی کو انہوں نے قریب سے دیکھا تو
‫ان کا ایمان تازہ ہوگیا۔ فوجی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ انہیں دین وایمان اور ملی وقار کے وعظ بھی سنائے جاتے اور انہیں بتایا
‫جاتا تھا کہ ان کا دشمن‪ ،ان کے مذہب کا دشمن ہے۔ جس کی نظر میں اسالم کی بیٹیوں کی کوئی عزت اور عصمت نہیں۔
‫اب سلطان ایوبی کی جو فوج عرب میں لڑ رہی تھی‪ ،اس میں خاصی نفری سوڈانی مسلمانوں کی تھی۔
‫قاہرہ کی انٹیلی جنس اس صورتحال سے بے خبر تھی کہ سوڈان کی حکومت وہاں کے مسلمانوں کو کئی ایک طریقوں سے
‫قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ مصری فوج میں جانے کے بجائے سوڈان کی فوج میں بھرتی ہوں۔ سوڈانیوں نے مسلمانوں
‫اعلی فوجی افسر خفیہ طریقے سے قتل ہوگیا تھا۔ سوڈان
‫پر تشدد کرکے بھی دیکھ لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں سوڈان کا ایک
‫ٰ
‫نے اس عالقے میں باقاعدہ فوج بھیجی تھی۔ مسلمانوں نے اسے پہاڑیوں اور وادیوں میں بکھیر کر مار ڈاال یا بھگا دیا تھا۔
‫مسلمانوں کو عالقے کا فائدہ حاصل تھا۔ چٹانیں اور پہاڑیاں انہیں آڑ مہیا کرتی اور تحفظ دیتی تھیں۔ یہ مسلمان جنگجو بھی
‫تھے۔
‫سلطان ایوبی نے ان کے ساتھ علی بن سفیان کے شعبے کی وساطت سے رابطہ قائم رکھا ہوا تھا۔ مصری ''تاجروں'' کے
‫قافلوں کے ذریعے ان مسلمانوں کو اتنا اسلحہ دے دیا تھا جس سے وہ سال بھر کے محاصرے میں لڑ سکتے تھے۔ انہیں
‫چھوٹی منجنیقیں اور آتش گیر مادہ بھی پہنچا دیا گیا تھا۔ جو لوگوں نے گھروں میں چھپا رکھا تھا۔ سلطان ایوبی کے منصوبے
‫میں یہ شامل تھا کہ جنگی کارروائی سے یا دیگر ذرائع سے اس عالقے کو مصر میں شامل کرنا ہے تاکہ یہ مسلمان صحیح
‫معنوں میں آزاد ہوجائیں۔ یہ عالقہ سرحد سے آدھے دن کی مسافت پر تھا۔ علی بن سفیان نے وہاں اپنے جاسوس بھیج رکھے

‫تھے جو محض مخبر نہیں تھے‪ ،تجربہ کار لڑاکے اور چھاپہ مار (کمانڈو) تھے۔
‫یہ مسلمان عسکری نوعیت کا خزانہ اور بڑی کارآمد جنگی قوت تھے حاالنکہ اس کی تعداد بمشکل پانچ ہزار تھی۔ انہیں چھوڑ
‫کر سوڈان کے پاس حبشی رہ جاتے تھے جن کے ہاں کوئی عسکری تاریخ اور جنگی روایت نہیں تھی۔ وہ مالزموں کی حیثیت
‫سے لڑتے تھے۔ میدان جنگ میں ان کا رویہ یہ ہوتا تھا کہ ان کے دشمن کے پائوں اکھڑنے لگیں تو شیر ہوجاتے تھے اور اگر
‫دشمن کا دبائو بڑھ جائے تو محتاط ہوکر لڑتے اور پیچھے ہٹنے لگتے تھے۔ ان کی ٹریننگ کے لیے صلیبی پہنچ گئے تھے یا
‫مصری فوج کے دو تین غدار ساالر زروجواہرات کی اللچ میں سوڈان چلے گئے تھے۔ صلیبیوں اور ان کے مصری ساالروں کی
‫بدولت سوڈان کی فوج میں کچھ اہلیت پیدا ہوگئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سوڈانی حکومت مصر پر کھال حملہ کرنے سے
‫گھبراتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ وہ مسلمانوں کو اپنی فوج میں شامل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ صلیبی مشیر جانتے
‫تھے کہ پچاس ہزار حبشیوں کی نسبت پانچ ہزار مسلمان کافی ہیں۔
‫علی بن سفیان کو اطالع ملی کہ مسلمانوں کے سوڈانی عالقے میں یہ واقعہ ہواہے کہ سوڈان کے قید خانے کے ایک سپاہی
‫نے سوڈانی فوج کے کمان دار کو قتل کردیا اور مسلمانوں کے عالقے میں پناہ لے لی ہے۔ یہ خبر النے والے جاسوس نے علی
‫بن سفیان کو پورا واقعہ سنایا۔ اس نے اس سپاہی سے تصدیق کرلی تھی۔ سپاہی سے اس نے یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ
‫اسحاق نام کا کمان دار قید خانے میں زندہ ہے اور اسے اس مقصد کے لیے تیار کرنے کے لیے قید خانے میں اذیتوں کا نشانہ
‫بنایا جارہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو سوڈان کا وفادار بنا دے۔ جاسوس نے یہ بھی بتایا کہ اس عالقے پر اسحاق کا اثرورسوخ
‫ہے۔
‫یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسحاق کو قید خانے سے رہا کرایا جائے'' علی بن سفیان نے جاسوس سے پوری رپورٹ لے''
‫کر مصر کے قائم مقام امیر العادل سے کہا… ''آپ جانتے ہیں کہ قید خانوں میں کیسا کیسا تشدد کیا جاتا ہے۔ ہم بھی تشدد
‫کرتے ہیں۔ پتھر بھی بول پڑتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسحاق سوڈانیوں کے رنگ میں رنگا جائے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ
‫ہمارے دو تین اور مسلمان کمان دار قید خانے میں ہیں۔ سب پر تشدد کیا جارہا ہے میں تو یہاں تک مشورہ دینے کو تیار ہوں
‫کہ اپنے کچھ چھاپہ مار مسلمانوں کے عالقے میں بھیج دئیے جائیں۔ میں یہ خدشہ دیکھ رہا ہوں کہ اپنے کمان دار کے قتل
‫کا انتقام لینے کے لیے سوڈانی فوج مسلمانوں پر حملہ کردے گی''۔
‫دوسرے ملک میں چھاپہ مار بھیجنے کے لیے ہمیں ہر پہلو پر غور کرنا پڑے گا''۔ العادل نے کہا… ''اس کا نتیجہ کھلی''
‫جنگ بھی ہوسکتا ہے''۔
‫ہمارے پاس غور کرنے کے لیے وقت نہیں''۔ علی بن سفیان نے کہا۔ ''ہمیں فوری طور پر کارروائی کرنی پڑی گی۔ کسی''
‫ذہین قاصد کو پیغام دے کر محترم سلطان کی طرف بھیجا جائے اور ان سے حکم لیا جائے اور دوسری یہ کہ میں خود سوڈان
‫میں داخل ہوکر مسلمانوں کے عالقے میں چال جائوں۔ وہاں کے حاالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ صحیح خاکہ صرف میری آنکھ
‫دیکھ سکتی ہے۔ ہوسکتا ہے وہاں فوج حملہ نہ کرے۔ وہاں صلیبی موجود ہیں‪ ،وہ مسلمانوں کو توہم پرستی میں مبتال کرکے ان
‫کے نظریات اور عقیدوں کا رخ پھیر سکتے ہیں۔ مسجدوں میں اپنے مولوں بھیج کر لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہیں۔ وہ ایسی
‫چالیں مصر کے اندر آکر بھی کرچکے ہیں۔ مجھے یہی ڈر ہے کہ مسلمانوں کے عقیدے اور ملی جذبے پر حملہ ہوگا۔ آپ
‫جانتے ہیں کہ ہماری قوم میں یہ خامی ہے کہ دشمن کی جذباتی اور ہیجانی باتوں میں جلدی آجاتی ہے۔ دشمن دیکھ چکا
‫ہے کہ مسلمان کو میدان جنگ میں مارنا آسان نہیں۔ عقیدوں اور نظرئیوں کی معرکہ آرائی میں دشمن ایسے ہتھیار استعمال
‫کرتا ہے کہ مسلمان ڈھیر ہوجاتے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں وہاں چال جائوں اورا پ ابھی ایک قاصد سلطان محترم کی
‫طرف روانہ کردیں''۔
‫''آپ کی غیرحاضری میں آپ کی ذمہ داریاں کون سنبھالے گا؟''
‫غیاث بلبیس'' ۔ علی بن سفیان نے جواب دیا۔ ''اس کے ساتھ میرا ایک معاون زاہدین رہے گا۔ آپ کو میری غیرحاضری''
‫محسوس نہیں ہوگی''۔
‫بہت بری طرح محسوس ہوگی''۔ العادل نے کہا… ''آپ دشمن کے ملک میں جارہے ہیں اگر واپس نہ آسکے تو مصر ''
‫اندھا اور بہرہ ہوجائے گا''۔
‫میں نہ ہوا تو قوم مر نہیں جائے گی'' ۔ علی بن سفیان نے مسکرا کر کہا… ''افراد قوموں کی خاطر مرتے رہیں تو قومیں''
‫زندہ رہتی ہیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی یہ سوچ لیں کہ وہ مارے گئے تو قوم تباہ ہوجائے گی تو وہ گھر بیٹھ جائیں اور
‫سلطنت اسالمیہ پر صلیبی ہاتھ صاف کرجائیں۔ مجھے سلطان کا یہ اصول بہت پسند ہے۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ دشمن کا انتظار
‫گھر بیٹھ کر نہ کرو۔ اس پر نظر رکھو۔ وہ تیاری کی حالت میں ہو تو اس کے پہلو یا عقب میں چلے جائو۔ میں اسی اصول
‫پر سوڈان جارہا ہوں۔ دشمن نے مسلمانوں کے عالقے میں کامیابی حاصل کرلی تو ہم اپنے کون سے کارنامے پر فخر کریں
‫گے''۔
‫آپ چلے جائیں''۔ العادل نے کہا… ''یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ احتیاط الزمی ہے‪ ،میں سلطان کے نام پیغام لکھ کر ''
‫بھیج دیتا ہوں''۔
‫علی بن سفیان سوڈان میں داخل ہونے کی تیاری کرنے چال گیا۔ العادل نے کاتب کو بالیا اور سلطان ایوبی کے نام پیغام
‫لکھوانے لگا۔ اس نے سوڈان سے مسلمانوں کے عالقے کی اطالع تفصیل سے لکھوائی۔ یہ بھی لکھوایا کہ یہ پیغام آپ تک
‫پہنچنے سے پہلے علی بن سفیان سوڈان میں جاچکا ہوگا۔ العادل نے علی بن سفیان کے مشورے بھی لکھوائے اور سلطان
‫صالح الدین ایوبی سے پوچھا کہ کیا کرنا چاہیے۔
‫قاصد کو پیغام دے کر العادل نے اسے کہا کہ اسے ہر چوکی سے گھوڑا بدلنا ہے اور گھوڑے کی رفتار کسی بھی حالت میں
‫سست نہیں ہوگی۔ کھانا پینا دوڑتے گھوڑے پر ہوگا اگر راستے میں دشمن کے چھاپہ ماروں کا خطرہ ہوا تو قاصد پیغام ضائع
‫کردے گا۔ ان ہدایات کے ساتھ قاصد کو روانہ کردیا گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫عمرودرویش شہر سے بہت دور نکل گیا تھا۔ اس کے اردگرد کوئی آبادی نہیں تھی۔ سورج غروب ہورہا تھا۔ عمرودرویش رات
‫کے قیام کے لیے کوئی موزوں جگہ دیکھ رہا تھا۔ دور اسے درخت نظر آئے جہاں پانی بھی ہوسکتا تھا لیکن اس کے پاس
‫پانی کا ذخیرہ موجود تھا۔ اونٹوں کو پانی کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ نخلستان سے دور قیام کرنا چاہتا تھا تاکہ صحرائی ڈاکوئوں
‫سے بچا رہے۔ اس کے ساتھ آشی تھی جو سیاہ برقعے میں مستور تھی۔ یہ قیمتی لڑکی تھی۔ کسی ڈاکو کی نظر پڑ جانے
‫سے اس کا بچنا ناممکن تھا… اسے ایک جگہ نظر آگئی۔ اس نے اونٹ روکے اور وہیں خیمہ گاڑ لیا۔

‫اسے دو شتر سوار اپنی طرف آتے نظر آئے۔ آشی کو اس نے خیمے میں بھیج کر پردے گرادئیے اور خود باہر کھڑا ہوگیا۔ اس
‫کے چغے میں تلوار چھپی ہوئی تھی۔ خنجر بھی تھا اور خیمے میں دو کمانیں اور بہت سے تیر بھی تھے۔ شتر سواروں کو
‫اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ سوچنے لگا کہ یہ ڈاکو ہوئے تو کیا وہ ان کا مقابلہ کرسکے گا۔ اسے یہ اطمینان تھا کہ آشی صرف
‫دل بہالنے والی لڑکی نہیں‪ ،وہ لڑ بھی سکتی ہے۔ تیر اندازی کی اسے تربیت حاصل تھی۔ وہ صلیبیوں کی تیار کی ہوئی
‫تخریب کار لڑکی تھی۔ شتر سوار آرہے تھے۔ عمرودرویش نے منہ انہی کی طرف رکھا اور آشی سے کہا… ''کمان میں تیر ڈال
‫لو۔ اگر یہ ڈاکو نکلے تو پردے کے پیچھے سے تیر چال دینا''۔
‫''شتر سوار خیمے کے قریب آکر رکے۔ ایک نے اونٹ کی پیٹھ سے ہی پوچھا۔ ''تم کون ہو؟ کہاں جارہے ہو؟
‫عمرودرویش نے ہاتھ آسمان کی طرف کرکے جھومتی ہوئی آواز میں کہا… ''جس کے سینے میں آسمان کا پیغام ہو اس کی
‫کوئی منزل نہیں ہوتی۔ میں کون ہوں؟… مجھے بھی معلوم نہیں۔ کبھی کچھ ہوا کرتا تھا۔ آسمان سے ایک پیغام آیا‪ ،میرے
‫سینے میں اتر گیا۔ ذہن سے یہ نکل گیا کہ میں کون ہوں۔ میں کہاں جارہا ہوں؟… میرے سینے میں جو روشنی اتر آئی ہے
‫وہ بتا سکتی ہے‪ ،اس میں میرے ارادوں کا کوئی دخل نہیں۔ میں آگے جارہا تھا۔ صبح کو شاید پیچھے چل پڑوں''۔
‫دونوں ا ونٹوں سے اتر آئے۔ ایک نے کہا… ''آپ تو کوئی پیر پیغمبر معلوم ہوتے ہیں۔ ہم دونوں مسلمان ہیں۔ کیا آپ غیب
‫''کی خبر دے سکتے ہیں‪ ،ہم گناہ گاروں کو سیدھا راستہ دکھا سکتے ہیں؟
‫میں بھی مسلمان ہوں''۔ عمرودرویش نے وجد کی سی کیفیت میں کہا… ''تم بھی مسلمان ہو‪ ،مجھے تمہاری تباہی نظر ''
‫آرہی ہے۔ میں بھی تمہاری طرح پوچھتا پھرتا تھا کہ سیدھا راستہ کون سا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا۔ خون میں ڈوبی ہوئی
‫الشوں میں مجھے سبز رنگ کا ایک چغہ اور اس میں سفید داڑھی واال ایک انسان کھڑا نظر آیا۔ اس نے مجھے الشوں سے
‫اٹھایا اور سیدھا راستہ دکھایا۔ پھر وہ الشوں کے خون میں غائب ہوگیا… تم پہاڑیوں میں رہتے ہو تو صحرائوں میں چلے جائو۔
‫مصر کا نام دل سے اتار دو وہ فرعونوں کا ملک ہے۔ وہاں جو بادشاہ آتا ہے اسے مصر کی مٹی اور وہاں کی ہوا فرعون بنا
‫دیتی ہے''۔
‫اب تو وہاں کا بادشاہ صالح الدین ایوبی ہے''۔ ایک شتر سوار نے کہا… ''وہ پکا مسلمان ہے''۔''
‫اس کا نام مسلمانوں جیسا ہے''۔ عمرودرویش نے ایسے لہجے میں کہا جیسے خواب میں بول رہا ہو… ''وہی تمہاری ''
‫تباہی ال رہا ہے۔ تم جس مٹی سے پیدا ہوئے وہ اس کی عزت پر خون بہائو۔ تم سوڈان کے بیٹے ہو''۔
‫مگر سوڈان کا بادشاہ کافر ہے''۔ شترسوار نے کہا۔''
‫وہ مسلمان ہوجائے گا'' عمرودرویش نے کہا… ''وہ مسلمانوں کی راہ دیکھ رہا ہے۔ اس کی فوج کافروں کی فوج ہے اس ''
‫لیے وہ اسالم کا نام نہیں لیتا۔ تم سب جائو‪ ،تلواریں‪ ،برچھیاں‪ ،تیروکمان لے کر جائو۔ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہوکر جائو۔
‫اسے بتائو کہ تم اس کے محافظ ہو‪ ،تم سوڈان کے محافظ ہو''۔
‫اس نے بلند آواز سے کہا۔ ''جائو۔ اٹھو یہاں سے چلے جائو''۔
‫دونوں اونٹوں پر سوار ہوئے اور چلے گئے۔ کچھ دور جاکر ایک سوار نے دوسرے سے کہا۔ ''دھوکہ نہیں دے گا''۔
‫میرا بھی یہی خیال ہے''۔ دوسرے نے کہا۔ ''پکا معلوم ہوتا ہے‪ ،سبق بھوال نہیں''۔''
‫آشی جیسا خوبصورت انعام ہمیں مل جائے تو ہم اپنے ماں باپ کے بھی خالف ہوجائیں''۔ شتر سوار نے کہا۔''
‫واپس چلتے ہیں''… دوسرے نے کہا۔ ''بتائیں گے کہ سب ٹھیک ہے… لڑکی شاید خیمے میں ہوگی''۔''
‫آدمی ہوشیار معلوم ہوتا ہے۔ اس نے لڑکی کو چھپا دیا تھا''… اس نے کہا… ''میرا خیال ہے انہیں کسی حفاظت کی ''
‫ضرورت نہیں''۔
‫نہیں ہونی چاہیے''… دوسرے نے کہا… ''سپاہی ہے۔ اس کے پاس ہتھیار بھی ہیں‪ ،تیروکمان بھی‪ ،لڑکی بھی ہوشیار ''
‫ہے''۔
‫یہ دونوں سوڈانی جاسوس تھے جنہیں یہ معلوم کرنے کے لیے عمرودرویش کے پیچھے بھیجا گیا تھا کہ یہ کام سکیم کے مطابق
‫کررہا ہے یا نہیں۔ عمرودرویش نے بڑی اچھی اداکاری کی تھی جس سے یہ دونوں مطمئن ہوکر چلے گئے۔
‫یہ ڈاکو نہیں تھے''… عمرودرویش نے خیمے میں جاکر آشی سے کہا… ''چلے گئے ہیں''۔''
‫یہ ڈاکوئوں سے زیادہ خطرناک تھے''… آشی نے کہا… ''تم نے انہیں بڑے اچھے طریقے سے ٹاال ہے''… پھر بولی… ''
‫''جنہوں نے تمہیں ادھر بھیجا ہے ان کے جاسوس تھے''… آشی نے کہا… ''یہ تمہیں دیکھنے آئے تھے کہ تم انہیں دھوکہ
‫تو نہیں دے رہے''۔
‫''تم انہیں جانتی ہو؟''
‫میں انہی کے درخت کی ایک ٹہنی ہوں''… آشی نے کہا… ''ان سے کٹ کر گر پڑی تو سوکھ جائوں گی''۔''
‫مجھے تم سے بھی محتاط رہنا پڑے گا''۔''
‫لڑکی ہنس پڑی اور بولی… ''تم نے خود ہی مجھے انعام کے طور پر مانگا تھا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫رات وہ خیمے میں گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ آشی کی آنکھ کھل گئی۔ باہر بھیڑئیے غرا رہے تھے۔ اونٹ ڈر کر اٹھ کھڑے
‫ہوئے اور عجیب طریقے سے بولنے لگے۔ آشی نے عمرودرویش کو جگایا اور اسے بتایا کہ وہ خوف کے مارے مر رہی ہے۔
‫عمرودرویش نے باہر کی آواز سنی تو آشی سے کہا… ''یہ بھیڑئیے ہیں۔ قریب نہیں آئیں گے۔ اونٹ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‪ ،کوئی
‫ڈر نہیں۔ بھیڑئیے ان سے ڈر کر بھاگ جائیں گے''۔
‫اچانک بھیڑئیے آپس میں لڑ پڑے۔ ایسی خوفناک آوازیں تھیں کہ آشی چیخ مار کر عمرودرویش پر جا پڑی۔ وہ بیٹھا ہوا تھا۔
‫اس نے آشی کو اس طرح اپنی آغوش اور بازوئوں کی پناہ میں لے لیا جس طرح ماں ڈرے ہوئے بچے کو چھپا لیا کرتی ہے۔
‫لڑکی کا سارا جسم کانپ رہا تھا۔ اس کے منہ سے بات نہیں نکل رہی تھی۔ بھیڑئیے لڑتے لڑتے دور چلے گئے تھے۔
‫عمرودرویش لڑکی کو پرے کرنے لگا اور کہا… ''وہ چلے گئے ہیں۔ سوجائو''۔
‫نہیں''… آشی نے اس کی آغوش سے سر نہ اٹھایا۔ دھیمی سی آواز میں بولی… ''ذرا دیر اور یہیں پڑے رہنے دو''۔''
‫عمرودرویش کو یہ صورت پسند نہیں تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اسے اپنے حسین جال میں پھانسنے کی کوشش کررہی ہے۔
‫وہ اور زیادہ پتھر بن گیا۔ لڑکی کا جسم بڑا ہی گداز اور بال بہت ہی مالئم تھے۔ اس نے اتنی حسین لڑکی کو کبھی چھو کر
‫بھی نہیں دیکھا تھا۔ اب محسوس کرنے لگا کہ لڑکی اسی طرح اس کی آغوش میں پڑی رہی تو وہ اس انگیخت کا مقابلہ
‫نہیں کرسکے گا۔ وہ آخر انسان تھا اور تنومند مرد تھا۔ اس نے اپنے نفس کا مقابلہ شروع کردیا۔

‫کچھ دیر بعد لڑکی نے سراٹھایا۔ تاریکی میں اس کے چہرے کے تاثرات نظر نہیں آرہے تھے۔ اس نے ہاتھوں سے عمرودرویش
‫کا چہرہ ٹٹول کر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور کہا۔ ''تم نے ایک رات مجھ سے پوچھا تھا کہ تمہارے ماں باپ کون ہیں
‫اور کہاں ہیں۔ یہی سوال تمہارے دوسرے ساتھی نے جو تم سے پہلے اس کمرے میں آیا تھا مجھ سے پوچھا تھا۔ مجھے ان
‫کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں تھا مگر یہ سوال مجھے پریشان کرتا رہا اور بہت ہی پرانی یادیں بیدار کرتا رہا۔ مجھے کچھ
‫یاد آتا تھا لیکن ذہن کے اندھیرے میں گم ہوجاتا تھا۔ آج یاد آگیا ہے۔ تم نے مجھے اپنے بازوئوں میں لے کر مجھے اپنی
‫آغوش میں چھپا لیا تو میرے ذہن میں روشنی سی چمکی۔ اس نے مجھے بہت ہی پرانا وقت دکھا دیا۔ میں اس وقت بہت
‫چھوٹی تھی۔ مجھے باپ نے اسی طرح سینے سے لگا کر مجھے اپنے بازوئوں میں چھپا لیا تھا''۔
‫وہ چپ ہوگئی۔ وہ یادوں کی کڑیاں مالنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ اچانک بچوں کی سی شوخی سے بولی… ''ہاں وہ
‫میرا باپ تھا۔ ایسا ہی ریگستان تھا۔ معلوم نہیں رات تھی یا دن تھا۔ ہم ایک قافلے کے ساتھ جارہے تھے۔ بہت سے گھوڑ
‫سوار آئے اور قافلے پر ٹوٹ پڑے۔ ان کے پاس تلواریں اور برچھیاں تھیں۔ یہ ڈرائونا سا خواب ہے۔ جو آج تمہاری آغوش اور
‫بازوئوں کی گرمی سے ذہن میں زندہ ہوگیا ہے۔ مجھے باپ نے تمہاری طرح پناہ میں لے لیا تھا… یہ بھی یاد آگیا ہے۔ میرے
‫باپ کے بازو ڈھیلے پڑ گئے تھے اور وہ پیچھے کو گر پڑا تھا۔ اس نے ایک بار پھر مجھے بازوئوں میں جکڑ لیا۔ ماں بھی یاد
‫آگئی ہے۔ وہ میرے اوپر گری تھی شاید مجھے بچانے کے لیے گری تھی… پھر یاد آتا ہے کہ وہ ایک طرف لڑھک گئی تھی۔
‫مجھے خون بھی یاد آتا ہے۔ کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر اٹھالیا تھا اور کسی نے کہا تھا… خالص ہیرا ہے جوان ہوئی تو
‫دیکھنا… مجھے اپنی چیخیں بھی یاد آگئی ہیں۔ میں آج رات کی طرح چیخی تھی''۔
‫دماغ پر زیادہ زور نہ دو''… عمرودرویش نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا… ''میں ساری کہانی بوجھ گیا ہوں۔ تم''
‫مسلمان کی اوالد ہو۔ تم عرب یا فلسطین کی رہنے والی ہو۔ صلیبی مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ اب بھی جو
‫عالقے ان کے قبضے میں ہیں‪ ،وہاں وہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ لیتے ہیں۔ وہ زروجواہرات اور تم جیسی خوبصورت بچیوں
‫کو لے جاتے ہیں۔ میں جان گیا ہوں تم یہاں تک کیسے پہنچی ہو''۔
‫میں جب کچھ سوچنے سمجھنے لگی تو میں نے اپنے جیسی بہت سی بچیوں کو دیکھا''… آشی نے کہا… ''ہمیں بہت ''
‫اچھا کھانا ور بہت خوبصورت کپڑے پہنائے جاتے تھے۔ گورے گورے آدمی اور عورتیں ہم سے بہت پیار کرتی تھیں۔انہوں نے
‫میرے ذہن سے ساری یادیں مٹا دی تھیں۔ میں وہیں بڑی ہوئی تھی ۔ وہ یروشلم تھا ۔ لڑکپن سے ہمیں بے حیائی کے سبق
‫ملنے لگے۔ شراب بھی پالئی جاتی تھی ۔ عربی زبان سکھائی گئی‪ ،پھر سوڈانی زبان سکھائی گئی ۔ میں جب جوان ہوئی تو
‫مجھے اس استعمال میں الیا جانے لگا جس میں تم نے مجھے دیکھا ہے۔ تیغ زنی اور تیر اندازی کی ہمیں بہت مشق کرائی
‫گئی تھیں …… آج تم نے مجھے خوفزدگی کی حالت میں پناہ میں لیا تو مجھے اچانک اپنا باپ یاد آگیا۔ میرے متعلق اس
‫کے جذبات پاک تھے اور تمہارے جذبات بھی پاک ہیں ۔ اسی لیے میں نے تمہیں کہا تھا کہ مجھے کچھ دیر اور اپنی آغوش
‫میں پڑا رہنے دو۔ مجھے اپنے باپ کی آغوش کا لطف آرہا تھا ۔ جک تک میں زندہ ہوں تمہاری غالم رہوں گی ۔ میں اب
‫سوڈانیوں اور صلیبیوں کے لیے کام نہیں آسکوں گی ۔ یہ تمہاری پاکیزہ خیالی اور نیک نیتی کاکرشمہ ہے ۔ میں مسلمان ہوں۔
‫تم نے میری رگوں میں مسلمان باپ کا خون گرما دیا ہے۔ اب میں تمہیں یہ کام نہیں کرنے دوں گی جس کے لیے تم جا
‫رہے ہو۔ تم نے میرے اندر ایمان کی قندیل روشن کر دی ہے ''۔
‫چند دن مجھے یہ کام کرنا پڑے گا''…… عمرودرویش نے کہا …… ''میں کسی اور مقصد کے لیے جا رہا ہوں''۔''
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:28
‫قسط نمبر۔‪95
‫طور کا جلوہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫عمرودرویش جب خیمہ اکھاڑ کر سوڈانی مسلمانوں کے پہاڑی عالقے کو روانہ ہونے کی تیاری کررہا تھا تو وہ اس حسین جمیل
‫لڑکی کے متعلق سوچ رہا تھا جو اس کی ہمسفر تھی۔ لڑکی مسلمان تھی۔ اس کی حیثیت کی وجہ سے عمرودرویش اسے
‫صلیبیوں کا آلۂ کار بنے رہنے سے باز رکھنا چاہتا تھا مگر وہ چار پانچ سال کی عمر میں صلیبیوں کے ہاتھ لگی تھی۔ انہوں
‫نے بیس سال کا عرصہ صرف کرکے اس پر جو رنگ چڑھا دیا تھا وہ اتارنا آسان نہیں تھا۔ بیشک لڑکی نے اپنے ذہن میں اس
‫حقیقت کو خود ہی دریافت کرلیا تھا کہ وہ مسلمان ماں باپ کی بیٹی ہے اور اس نے اپنے دل میں صلیبی آقائوں کے خالف
‫نفرت پیدا کرکے عمرودرویش سے کہا تھا کہ میں تمہاری مدد کروں گی مگر عمرودرویش سوچ رہا تھا کہ اس لڑکی پر اعتبار
‫کرے یا نہ کرے۔
‫رات ایک ہی خیمے میں گزار کر صبح لڑکی نے عمرودرویش سے پوچھا… ''مجھے شک ہے کہ تم مجھے ابھی تک اپنا
‫دشمن سمجھ رہے ہو''۔
‫عورت کے جال میں الجھ کر مسلمان قوم نے بہت نقصان اٹھایا ہے آشی!''… عمرودرویش نے جواب دیا… ''تم بہت ہی ''
‫خوبصورت ہو۔ تمہاری تربیت ایسی کی گئی ہے کہ تمہاری چال ڈھال‪ ،بول چال اور انداز انسان کے اندر حیوان کو بیدار
‫کردیتاہے۔ میں جوان ہوں۔ کئی سال میدان جنگ میں اور کچھ عرصہ سوڈان کے قید خانے میں جنگی قیدی کی حیثیت سے
‫گزارا ہے۔ اتنی لمبی مدت گھر کی چاردیواری نہیں دیکھی۔ رات خیمے میں تم میرے ساتھ تنہا تھیں۔ میں رات بھر خدا
‫ذوالجالل سے مدد مانگتا رہا کہ میں حیوانیت کا مقابلہ کرسکوں۔ میں کامیاب رہا۔ خداوند دو عالم نے میری بہت مدد کی۔ پھر
‫میں یہ سوچتا رہا کہ تمہیں اپنا دشمن سمجھوں یا دوست‪ ،میں اب بھی یہی سوچ رہا ہوں۔ میں ابھی تمہارا یہ شک رفع
‫نہیں کرسکتا کہ تمہیں اپنا دشمن سمجھتا ہوں۔ تمہیں ثابت کرنا ہے کہ تم قابل اعتماد ہو''۔
‫میں تمہیں ایک بار پھر کہتی ہوں کہ تم نے میرے سینے میں ایمان کی شمع روشن کردی ہے''… آشی نے کہا… ''اور ''
‫میں تمہیں یہ بھی بتا دوں کہ تم اگر اس مہم میں جس پر تمہیں سوڈانیوں نے بھیجا ہے‪ ،سوڈانیوں کو دھوکہ دینا چاہو گے
‫تو میں تمہارا ساتھ دوں گی۔ میری جان بھی چلی جائے تو پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ یہ میں نے ہی تمہیں بتایا تھا کہ یہ جو
‫دو آدمی تمہارے مرید بن کر گئے ہیں دراصل سوڈانیوں کے جاسوس ہیں''۔
‫مجھے سوچنے دو آشی!''… عمرودرویش نے کہا… ''میں جان گیا ہوں کہ میرے اردگرد جاسوسوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ ''
‫میں تمہیں بھی اسی جال کا ایک حصہ سمجھتا ہوں۔ تم ابھی اسی طرح کرنا جس طرح تمہیں بتایا گیا ہے۔ میں بھی اسی
‫سبق اور ہدایت پر عمل کروں گا جو مجھے دی گئی ہے۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں کسی اور مقصد کے لیے جارہا ہوں

‫مگر میں اس مہم سے انحراف بھی نہیں کرسکتا۔ میں انحراف کا نتیجہ جانتا ہوں کیا ہوگا۔ دو تین تیروں کے رخ ہر لمحہ
‫میری طرف رہتے ہیں۔ میں انہیں اس وقت دیکھ سکوں گا جب یہ سینے میں اتر جائیں گے''۔
‫میں ہر حال میں تمہارا ساتھ دوں گی''… آشی نے کہا… ''میں ثابت کروں گی کہ میری رگوں میں مسلمان باپ کا خون''
‫ہے''۔
‫وہ اونٹوں پر سوار مسلمانوں کے عالقے کی طرف جارہے تھے۔ تیسرے اونٹ پر ان کا خیمہ اور دیگر سامان لدا ہوا تھا۔ آشی
‫جو نیم عریاں رہتی تھی‪ ،سیاہ کپڑوں میں ملبوس اور اس کا چہرہ مستور تھا۔ دیکھنے واال کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ آبرو باختہ
‫لڑکی صلیبیوں کا ایک خوبصورت تیر ہے۔ جو پتھر جیسے انسان کے دل میں اتر جائے تو وہ موم ہوکر صلیبیوں کے سانچے
‫میں ڈھل جاتا ہے۔ دور ایک گھوڑ سوار اسی سمت جارہا تھا جدھر یہ دونوں جارہے تھے۔ عمرودرویش نے اس سوار کو کئی
‫بار دیکھا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ سوڈانیوں کے ان جاسوسوں میں سے ہی ہوگا جو اس کے ساتھ سائے کی طرح لگے
‫ہوئے ہیں۔ یہ شک اسے پریشان کررہا تھا کہ یہ صحرائی راہزنوں کا کوئی آدمی ہوا تو وہ کیا کرے گا۔
‫''آشی!''… اس نے اپنی ہمسفر سے کہا… ''اس سوار کو دیکھ رہی ہو جو افق پر جارہا ہے؟''
‫بہت دیر سے دیکھ رہی ہوں''۔''
‫ہمارے پاس ہتھیار ہیں''… آشی نے دلیرانہ جواب دیا… ''رات کو سوتے وقت ہم پر آپڑے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ ''
‫دن کے وقت ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔ تمہارے ساتھ میں ہی ایک دولت ہوں۔ وہ مجھے زندہ نہیں لے جاسکیں گے''۔
‫صحرا کے ان خطروں میں وہ چلتے گئے۔ سورج اوپر آکر مغرب کی طرف نیچے جاتا رہا اور انہیں پہاڑیاں نظر آنے لگیں۔ بلند
‫پہاڑیاں تو دور تھیں‪ ،یہ عالقہ جہاں سے شروع ہوتا تھا وہ جگہ دور نہیں تھی۔ اونٹ چلتے گئے اور وہ عالقہ آگیا جہاں
‫عمرودرویش کو اپنی مہم کا آغاز کرنا تھا۔ مسلمان کا پہال گائوں تھوڑی ہی دور تھا۔ عمرودرویش خود بھی اسی عالقے کا رہنے
‫واال تھا۔ گھوڑ سوار جو دور دور جارہا تھا‪ ،رخ بدل کر ادھر آگیا اور ان سے آن مال۔
‫تمہارا قیام اس جگہ ہوگا''… گھوڑ سوار نے عمرودرویش سے کہا… ''تم مجھے نہیں جانتے‪ ،میں تمہیں جانتا ہوں''… ''
‫''اسے دیکھ کر آشی نے چہرے سے نقاب اٹھا دیا تھا اور وہ مسکرارہی تھی۔ سوار نے اس سے پوچھا… ''سفر اچھا گزرا؟
‫بہت اچھا''… آشی نے بے باک مسکراہٹ سے جواب دیا۔''
‫تم دونوں گھبرانا نہیں''… سوار نے کہا… ''تمہارے سفر کے دوران تمہاری حفاظت کا ایسا انتظام ساتھ ساتھ رہا ہے۔ جسے''
‫تم دونوں دیکھ نہیں سکے‪ ،ورنہ اتنی خوبصورت لڑکی یہاں تک نہ پہنچ سکتی''۔
‫تم کون ہو؟''… عمرودرویش نے اس سے پوچھا۔''
‫سوڈانی مسلمان''… سوار نے جواب دیا۔ اس نے کہا… ''اب یہ نہ سوچو کہ تم کون ہو اور میں کون ہوں تم بھی میری ''
‫طرح اسی عالقے کے مسلمان ہو۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہاں ذرا سی بھی غلطی ہوگئی تو یہاں کے مسلمان ہماری
‫بوٹیاں اڑا دیں گے''… سوار نے آگے ہوکر راز داری سے کہا… ''اور یہ بھی یاد رکھنا کہ تم نے اپنے کام میں کوئی گڑبڑ کی
‫تو بغیر اطالع قتل ہوجائو گے۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے یہاں تمہیں کیا کرنا ہے۔ آج رات تم آرام کرو گے۔ کل تمہارے
‫پاس یہاں کے لوگ آنے لگیں گے۔ آشی کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے''۔
‫عمرودرویش کو سب کچھ معلوم تھا۔ اسے اس عالقے کے مسلمانوں کو گمراہ کرنا تھا۔ سلطان ایوبی کے خالف نفرت پھیالنی
‫تھی اور مسلمانوں کو سوڈان کا وفادار بنا کر انہیں اس سوڈانی فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تیار کرنا تھا جسے مصر پر
‫حملہ اور قبضہ کرنے کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔ سلطان ایوبی مصر سے غیرحاضر تھا۔ وہ اس وقت سپین میں برسریپیکار تھا۔
‫صلییبیوں کا یہ منصوبہ تھا کہ سوڈانی فوج کو تیار کرکے مصر پر حملہ کیا جائے مگر سوڈانی مسلمانوں کے جنگجو قبیلے
‫سوڈان کے باشندے ہونے کے باوجود صالح الدین ایوبی کے معتقد اور مرید تھے۔ عمرودرویش ان کے عقیدوں کو تہس نہس کرنے
‫آیا تھا۔
‫سورج غروب ہوگیا تھا۔ جب عمرودریش نے اس سوار کی مدد سے خیمہ گاڑ لیا۔ سوار نے جانے سے پہلے کہا۔ ''کل شاید
‫مجھے تمہارے ساتھ الگ بات کرنے کا موقعہ نہ ملے۔ لوگ صبح سویرے یہاں آجائیں گے''… اس نے ایک پہاڑی کی طرف
‫اشارہ کرکے کہا… '' شام کو دھندالہٹ میں بھی وہ اوپر تمہیں چھاتے کی طرح درخت نظر آتا ہوگا اسے یاد رکھنا۔ کل رات
‫تمہیں ادھر مشعل کا اشارہ کرنا ہے۔ کل جو کپڑا تمہیں استعمال کرنا ہے اسے صبح تیار کرلینا… میں جارہا ہوں۔ اب ذرا ذرا
‫سی حرکت میں بھی احتیاط کرنا''۔
‫وہ لڑکی کو اشارے سے باہر لے گیا اور اسے کہا… ''تمہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہاں کے مسلمان وحشی ہیں۔ ہم
‫تمہاری حفاظت کے لیے موجود ہیں لیکن تمہیں اپنی حفاظت خود زیادہ کرنی ہوگی۔ اس آدمی کو اپنے قبضے میں رکھنا''۔
‫اس نے لڑکی کے شانوں پر بکھرے ہوئے بالوں کو چھیڑ کر اور ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ الکر کہا۔ ''ان حسین زنجیروں
‫میں تو تم شیر کو بھی جکڑ سکتی ہو''۔
‫''تم بھی تو یہیں کے مسلمان ہو''… آشی نے طنزیہ کہا… ''تم وحشی نہیں ہو؟''
‫تمہیں دیکھ کر کون وحشی نہیں ہوجاتا''… اس نے کہا اور گھوڑے پر سوار ہوکر شام کے گہرے ہوتے اندھیرے میں غائب ''
‫ہوگیا۔
‫یہ سوار ان مسلمانوں میں سے تھا جنہوں نے ایمان بیچ ڈاال تھا اور دشمن کے اس زمین دوز حملے کی قیادت کررہا تھا جو
‫سیدھے سیدھے مسلمانوں کے عقیدے پر کیا جارہا تھا۔ وہ اسی عالقے کے کسی گوشے کا رہنے واال تھا۔ کسی کو معلوم نہ
‫تھا کہ وہ قوم کی آستیں کا سانپ ہے۔ اس حملے میں وہ اکیال نہیں تھا۔ یہ آٹھ دس مسلمانوں کا گروہ تھا۔ وہ گھوڑے پر
‫سوار ایک گائوں کی طرف چال جارہا تھا۔ راستے میں اسے ایک اور آدمی مل گیا۔ وہ اسی کی راہ دیکھ رہا تھا۔
‫سب ٹھیک ہے؟''… اس نے سوار سے پوچھا۔''
‫ہے تو سب ٹھیک''… سوار نے جواب دیا… ''کسی بھی وقت معاملہ چوپٹ ہوسکتا ہے۔ اگر صلیبیوں نے مجھے پکے ''
‫سبق پڑھائے ہیں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ لڑکی کے تیور بدلے ہوئے لگتے ہیں۔ وہ کچھ بجھی بجھی اور خاموش خاموش نظر
‫آتی ہے''۔
‫آشی تو کہتے ہیں بہت ہوشیار اور تیز لڑکی ہے''۔''
‫شاید سفر کی تھکن سے تیزی ماند پڑ گئی ہو''… سوار نے کہا… ''عمرودرویش بھی تو وحشی ہے''۔''

‫وہ باتیں کرتے گائوں میں داخل ہوئے۔ ایک جگہ دو آدمی کھڑے باتیں کررہے تھے۔ سوار اور ساتھی ان کے پاس رک گئے بتایا
‫کہ وہ سفر میں ہیں اور اپنے گائوں کو جارہے ہیں۔ اپنے گائوں کا نام بھی بتایا اور حیرت زدہ لہجے میں کہا… ''یہاں سے
‫تھوڑی دور ایک بزرگ اترا ہوا ہے۔ صرف خدا کے ساتھ باتیں کرتا ہے۔ دن کے وقت بھی دائیں اور بائیں دو مشعلیں جال کر
‫رکھتا ہے۔ ہم اسے دیکھ کر اس کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ قرآن پڑھ رہا تھا۔ زبانی پڑھتا ہے۔ اس نے ہماری توجہ نہیں دی۔ ہم
‫نے اسے بالیا‪ ،وہ نہیں بوال۔ اس کے خیمے کے قریب سے زمین سے دھوئیں کا بادل اٹھا‪ ،بادل اوپر جاکر غائب ہوگیا اور اس
‫میں سے ایک لڑکی نکلی جس کے حسن کو ہم بیان نہیں کرسکتے۔ ہم ڈر گئے کیونکہ لڑکی انسان نہیں جن معلوم ہوتی تھی
‫اس نے بزرگ کے آگے سجدہ کیا۔ سجدہ سے اٹھ کر کان بزرگ کے منہ کے ساتھ لگایا۔ بزرگ کے ہونٹ ہلے‪ ،لڑکی ہمارے
‫سامنے آن کھڑی ہوئی''۔
‫ہم ڈر کر بھاگنے لگے لیکن زمین نے ہمیں پکڑ لیا۔ شاید لڑکی کی آنکھوں نے ہمیں جکڑ لیا۔ اس نے ہمیں کہا… یہ خدا ''
‫کا ایلچی ہے۔ تم سب کے لیے پیغام الیا ہے‪ ،اسے پریشان نہ کرو۔ یہ اس وقت خدا کے ساتھ باتیں کررہا ہے‪ ،کل آئو۔ اگر
‫اس نے تم پر کرم کیا تو تم سب کو طور کا جلوہ دکھائے گا۔ میں ابھی ابھی کوہ طور سے آئی ہوں۔ اس نے بالیا تھا۔ اس
‫نے میرے کان میں کہا ہے کہ ان سے کہو کہ تمہاری تقدیر بدل دوں گا۔ بے صبر ہوجائو گے تو کہیں اور چال جائوں گا… ہم
‫لڑکی کے ساتھ بات نہیں کرسکے۔ ہمارے جسم پر اس کا قبضہ ہوگیا تھا۔ ہم کچھ بھی نہیں بول سکے‪ ،بزرگ کی طرف دیکھا
‫تو اس کے سر پر نور کا ہالہ تھا۔ ہم وہاں سے چلے آئے''۔
‫ان کا لہجہ سنسنی خیز تھا۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ ان پر حیرت اور خوف طاری ہے۔ انسانی فطرت کی یہ کمزوری ہے کہ
‫حیرت انگیز بات جذبات کو ہال دیتی ہے۔ سنسنی سرور دیتی ہے۔ یہی حال ان دو سننے والوں کا ہوا۔ انہوں نے دو گھروں
‫کے دروازوں پر دستک دے کر دو تین آدمیوں کو بال لیا اور جو انہوں نے سنا تھا وہ انہیں سنا دیا۔ سوار اور اس کے ساتھی
‫نے دل پسند اور لذیذ سے اضافے بھی کردئیے۔ لڑکی کا حسن ایسے الفاظ میں بیان کیا کہ سننے والے خدا اور قرآن کے بجائے
‫اور اس بزرگ کے بجائے اپنے دماغوں پر لڑکی کو سوار کرنے لگے۔ ان آدمیوں نے سوار اور اس کے ساتھی کو مہمان ٹھہرا
‫لیا۔ دوسرے گھروں کے آدمی بھی آگئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫ابھی سورج نہیں نکال تھا جب اس گائوں کے تمام آدمی سوار اور اس کے ساتھی کی رہنمائی میں اس جگہ کو روانہ ہوگئے
‫جہاں عمرودرویش اور آشی نے خیمہ لگا رکھا تھا۔ خیمے کے سامنے چھوٹے سے قالین پر عمرودریش آلتی پالتی مارے بیٹھا‪،
‫آنکھیں بند کیے کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ ایک ڈنڈا اس کے دائیں طرف اور ایک بائیں طرف زمین پر گڑھا ہوا تھا۔ اس کے اوپر
‫والے سروں پر تیل میں بھیگے ہوئے کپڑے لپٹے ہوئے تھے جو جل رہے تھے۔ یہ مشعلیں تھیں۔ جب گائوں والے وہاں پہنچے
‫تو عمرودرویش سے آٹھ دس قدم دور تین آدمی کھڑے تھے۔ گائوں کے لوگ آئے تو ان تینوں کے پاس رک گئے۔
‫ان تین میں سے ایک نے کہا… ''میں آگے جاکر بزرگ سے بات کرتا ہوں''… وہ تین چار قدم آگے گیا تو یوں پیچھے کو
‫پیٹھ کے بل گرا جیسے آگے سے اسے کسی نے دھکا دیا ہو۔ وہ اٹھ کر لوگوں میں جاکھڑا ہوا۔ خوف سے وہ کانپ رہا تھا
‫اس نے خوفزدہ آواز میں کہا… ''آگے نہ جانا مجھے کسی نے آگے سے دھکا دیا ہے۔ یہ کوئی جن تھا جو مجھے نظر نہیں
‫آیا''۔
‫دوسرے دو نے کہا… ''ہم آگے جاتے ہیں۔ تم ڈر کر گر پڑے تھے''… وہ دونوں اکٹھے آگے گئے۔ تین چار قدم گئے تو دونوں
‫پہلے آدمی کی طرف پیٹھ کے بل گرے۔ جلدی سے اٹھے‪ ،لوگ ڈر گئے۔ سب کو یقین ہوگیا کہ اس بزرگ نے پہرے پر جنات
‫کھڑے کررکھے ہیں جو کسی کو آگے نہیں جانے دیتے۔
‫خیمے سے ایک لڑکی نکلی یہ آشی تھی۔ اس نے سیاہ ریشمی لباس پہن رکھا تھا۔ٹھوڑی اور منہ باریک پردے میں تھے۔
‫آنکھیں ننگی تھیں۔ سر سیاہ کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ بال شانوں سے ہوتے ہوئے سینے پر پڑ ے ہوئے تھے۔ وہ تھی مستور
‫لیکن لباس ایسا تھا کہ نیم عریاں لگتی تھی۔ اس پہاڑی عالقے کے لوگوں نے اس قسم کی لڑکی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی
‫۔ وہ اسے جنات میں سے سمجھ رہے تھے ۔ اس کی چال بھی نرالی اور دلکش تھی۔ آشی نے عمر درویش کے آگے سجدہ
‫کیا۔ سجدے سے ا ُٹھ کر کان اس کے منہ کے ساتھ لگادیا۔ اس کے ہونٹ ہلے آشی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
‫تم لوگ وہیں کھڑے رہو''……آشی نے لوگوں سے کہا …… ''کوئی آدمی آگے آنے کی جرأت نہ کرے۔ خدا کے ایلچی نے ''
‫پوچھا ہے کہ تم یہاں کیوں آئے ہو۔ تم وہیں کھڑے کھڑے بات کر سکتے ہو''۔
‫ان تین آدمیوں میں سے آگے گئے اور گر پڑے تھے۔ ایک آدمی بلند آواز سے بوال …… ''اے خدا کی طرف سے آنے والے !
‫''کیا تو آنے والے وقت کی خبر دے سکتا ہے؟
‫پوچھ کیا پوچھتا ہے؟''…… عمر درویش نے مخمور سی آواز میں کہا۔''
‫کیا ہم اس خطے کو اسالم کی ریاست بنا سکیں گے جو سوڈان کی غالم نہ ہو؟''…… اس آدمی نے پوچھا۔''
‫عمر درویش نے غصے سے زمین پر ہاتھ مارا۔ آشی دوڑ کر اس کے پاس جا بیٹھی اور کان اس کے منہ کے ساتھ لگا دیا۔
‫عمر دوریش کے ہونٹ ہلے۔ آشی اُٹھ کر لوگوں سے مخاطب ہوئی۔
‫خدا کے ایلچی نے کہا ہے کہ آگ لگ جائے تو اس خطے کو تم اسالمی ریاست بنالوگے جوسوڈان کی غالم نہیں ''
‫ہوگی''…… آشی نے کہا …… ''کسی کے پاس پانی ہو تو اس کپڑے پر انڈیل دو''۔
‫عمر درویش سے ذرا پرے ایک کپڑا اس طرح پڑا تھا جس طرح کسی نے لباس اتار کر گٹھڑی کی صورت رکھ دیا ہو۔ انہیں
‫تین آدمیوں میں سے جو آگے بڑھے اور گر پڑے تھے‪ ،ایک آگے بڑھا۔ اسکے ہاتھ میں چمڑے کا چھوٹا سا مشکیزہ تھا۔ اس نے
‫کہا …… '' میرے پاس پانی ہے۔ میں سفر میں ہوں اس لیے پانی ساتھ رکھا ہوا ہے''…… اس نے آگے جا کر مشکیزے کا
‫منہ کھوال اور کپڑے پر پانی کا چھڑکائو کر دیا۔
‫آشی نے زمین سے مشعل ا ُٹھا کر عمر درویش کے ہاتھ میں دے دی۔ عمر درویش نے آسمان کی طرف منہ کرکے ہونٹ ہالئے
‫جیسے سرگوشی کی ہو‪ ،پھر اس نے مشعل کا شعلہ کپڑے کے ساتھ لگا دیا۔ کسی کوتوقع نہیں تھی کہ پانی سے بھیگا ہوا
‫کپڑا جل ا ُٹھے گا مگر ہوایوں کہ جوں ہی مشعل کا شعلہ کپڑے کے قریب گیا تو کپڑا بھڑک اُٹھا اور تمام تر کپڑا ایک شعلہ
‫بن گیا۔ کسی ایک آدمیوں کے منہ سے حیرت زدہ آوازیں نکلیں…… ''اللہ ''…… ان کی نظروں کے سامنے پانی جل رہا تھا۔
‫خدا کے اشارے کو سمجھ لو''……عمر درویش نے کہا …… ''اور مجھے غورسے دیکھو ‪ ،میں کون ہوں۔ میں تم میں سے ''

‫ہوں'' …… اس نے اپنے گائوں کا نام لے کر کہا …… ''میں اسی عالقے کا رہنے والے ہاشم درویش کا بیٹا ہوں۔ میں نبی
‫نہیں۔ میں پیغمبر نہیں۔ خدا اپنا آخری پیغمبر بھیج چکا ہے''۔ اس نے اپنی انگلیاں چوم کر اور آنکھوں سے لگا کر کہا ……
‫'' میں بھی تمہاری طرح خدا کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پروانہ ہوں۔ مجھے خدا نے روشنی دکھائی اور حکم دیا
‫ہے کہ روشنی ان کے پاس لے جائو جو اندھیرے میں ہیں''۔
‫وہ ایسے لہجے میں بول رہا تھا جیسے اس پر وجد کی کیفیت طاری ہو۔ اس نے کہا …… '' میرے گائوں میں جاکر پوچھو۔
‫میں صال الدین ایوبی کا کماندارہوں۔ میں اس فوج کے ساتھ تھا جس نے سوڈان پر حملہ کیا تھا۔ اس فوج کا حملہ ناکام ہوا۔
‫ہم سب کو افسوس ہوا۔ تم سب کو افسوس ہواہوگا لیکن خدائے ذوالجالل نے مجھے مصر کی فوج کی الشوں سے اُٹھایا۔ اور
‫مجھے اشارہ دیا کہ صالح الدین ایوبی کی فوج کو کیوں شکست ہوئی ۔ میرا افسوس خوشی میں بدل گیا۔ میں نے ایک
‫درخت کی شاخوں میں خدا کا نوردیکھا۔ یہ ایک روشنی تھی جیسے ایک ستارہ آسمان اُتر کر درخت کی شاخوں میں اٹک گیا
‫……''ہو۔ اس ستارے میں سے آواز آئی …… ''آگے دیکھ‪ ،پیچھے دیکھ‪ ،دائیں دیکھ‪ ،بائیں دیکھ
‫میں نے ہر طرف دیکھا۔ آوازآئی …… ''کوئی انسان تجھے زندہ نظر آتا ہے؟''…… مجھے ہر طرف الشیں نظر آئیں۔ یہ سب
‫میرے ساتھیوں کی الشیں تھیں۔ حالت سب کی بہت بری تھی ۔ زخمی بہت کم تھے۔ زیادہ سپاہی پیاس سے مرے تھے۔ یہ
‫سب لڑے تھے۔ ستارے کی روشنی سے آواز آئی…… ''کیا تو نے دیکھا نہیں تھا کہ تمہاری تلواریں کند ہو گئی تھیں؟ …… کیا
‫تو نے دیکھا نہیں تھا کہ تمہارے تیروں کی کوئی رفتار ہی نہیں تھی ؟ تو نے دیکھا نہیں تھا کہ تمہارے گھوڑے کے پائوں
‫……''زمین میں دھنس گئے تھے؟
‫تب مجھے یاد آیا کہ میں نے سب کچھ دیکھا تھا جو روشنی کی صدا نے مجھے بتایا تھا۔ میری تلوار کی کاٹ اتنی بھی''
‫نہیں رہی تھی کہ خراش بھی ڈال سکتی ۔ میں نے اپنے تیر دیکھے تھے جوہوا میں یوں جاتے تھے جیسے ہوا کے جھونکوں
‫سے گھاس کے خشک تنکے ا ُڑ رہے ہوں۔ ہمارے گھوڑے چلتے نہیں تھے۔ ریگزار نے سورج کی ساری آگ لے لی اور مجھے
‫اور میرے ساتھیوں کوبھسم کردیا ۔ میں بھی جلی ہوئی الش تھا۔ ستارے سے ایک شرارہ آیا۔ میری آنکھوں میں اُترا اور میرے
‫وجود میں اتر گیا''۔ آواز آئی ……''ہم نے تجھے دوسری زندگی عطا کی ۔ ہم سے پوچھ ہم نے یہ کرم کیوں کیا؟''…… میں
‫نے پوچھا ۔ آواز نے جواب دیا…… ''ہمیں مسلمانوں سے محبت ہے۔ مسلمان میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے
‫ہیں۔ ہمارے حضور رکوع و سجود کرتے ہیں۔ جن کی یہ الشیں ہیں ‪ ،انہیں ہم نے عبرت کا سامان بنایا ہے کہ یہ بھٹک گئے
‫تھے اور جو بھٹک رہے ہیں انہیں ہم سیدھا راستہ دکھانا چاہتے ہیں۔ ہم نے تجھے منتخب کیا ہے کہ تو ہر صبح قرآن کی
‫تالوت کرتا ہے۔ جا ہم نے تجھے روشنی دی ہے۔ یہ میرے مسلمان بندوں کو دکھا ''۔
‫میں اچھی طرح نہیں سمجھا''۔ میں نے کہا …… ''ایے میرے رب کے نور! مجھے پوری بات بتا اور بتا کے میری بات ''
‫کو ن مانے گا۔ کس طرح مانے گا۔ مجھے بتا کہ ہماری تلواریں کیوں کند ہو گئی تھیں؟ تیروں کی رفتار کہاں گئی تھی؟
‫روشنی کی آواز نے کہا …… وہ تلوارکند ہو جاتی ہے جس کا وار اپنی ماں پر کیا جاتا ہے۔ وہ تیر کھجور کا سوکھا پتہ بن
‫جاتا ہے جو اپنی ماں کے سینے پر چالیا جاتا ہے۔ تو نہیں جانتا کہ ماں کون ہے۔ وہ سرزمین جس نے تجھے جنم دیا ہے
‫اور جس کی مٹی میں تو کھیل کر جوان ہوا ہے‪ ،تیری ماں ہے۔ جا ‪ ،سوڈانی کے مسلمانوں سے کہہ کہ سوڈانی کی زمین
‫تمہاری ماں ہے۔ اس سے محبت کرو۔ اس کی مٹی میں جنت ہے۔ اس جنت کو فتح کرنے کے لیے باہر کا کوئی مسلمان
‫بھی آئے گا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔ تو نے دوزخ دیکھ لیا ہے۔ جا‪ ،اپنے کلمہ گو سوڈانی بھائیوں کو بتا کہ تمہاری ماں ‪،
‫تمہاری جنت اور تمہارا کعبہ سوڈان ہے''۔
‫اے برگزیدہ ہستی کہ جس کا احترام ہم سب پر فرض ہے''…… ایک آدمی نے کہا …… ''کیا تو یہ کہہ رہا کہ ہم سوڈان''
‫کے اس بادشاہ کے وفادار ہوجائیں جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا؟''…… یہ آدمی ان تینوں میں سے ایک
‫تھا جو آگے بڑھے اور گر پڑے تھے۔
‫خدا کی آوازنے کہا ہے کہ یہ بادشاہ جو کافر ہے مسلمان ہوجائے گا''…… عمر دوریش نے جھومتی ہوئی اثر انگیزآواز میں ''
‫کہا …… ''وہ مسلمانوں کی راہ دیکھ رہا ہے۔ اس کی فوج کا فروں کی ہے اس لیے وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم
‫کا نام نہیں لیتا۔ تم سب جائو‪ ،تلواریں ‪ ،برچھیاں‪ ،تیرو کمان لے کر جائو۔ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر جائو۔ اسے بتائو
‫کہ تم اس کے محافظ ہو۔ تم سوڈان کے بیٹے ہو''…… میں نے خدا سے کہا کہ میری زبان سے یہ بات کوئی نہیں مانے گا۔
‫میرے مسلمان بھائی مجھے قتل کردیں گے۔ خدا کی آواز جو درخت کے پتوں میں اٹکی ہوئی روشنی سے آرہی تھی ‪ ،نے کہا
‫……''ہمارے سوا پانی کو کون آگ لگا سکتاہے۔ جا‪ ،ہم نے یہ طاقت تجھے اس شہادت کے لیے دے دی کہ لوگ تیری آواز
‫کو ہماری آواز سمجھیں۔ کوئی انسان پانی کو آگ نہیں لگا سکتا''…… پھر روشنی سے آواز آئی …… ''اگر تیری آواز کو لوگ
‫موسی کو طور پر دکھایا تھا''۔
‫پھر بھی باطل جانیں تو انہیں رات کو اپنے پاس بال۔ میں انہیں وہی جلوہ دکھائوں گا جو
‫ٰ
‫کیا تم طور کا جلوہ دیکھ کر حق کی آواز کو مانو گے؟''…… عمردرویش نے پوچھا۔''
‫ہاں‪ ،اے ‪،خدا کے ایلچی !'' …… ان تین آدمیوں میں سے ایک نے کہا …… ''اگر تو ہمیں طور کا جلوہ دکھادے تو ہم ''
‫تیری آواز کو خدا کی آواز مان لیں گے''۔
‫جائو'' …… عمردرویش نے زمین پر غصے سے ہاتھ مار کر کہا …… ''چلے جائو۔ اس وقت آنا جب سورج اپنے شعلے ''
‫پہاڑوں کے پیچھے لے جائے گا اور آسمان پر ستاروں کی قندیلیں روشین ہوجائیں گی۔ جائو''لوگ جب واپس گئے تو ان کے
‫دلوں میں کوئی شک نہیں تھا۔ جاتے جاتے وہ چار چار پانچ پانچ کی ٹولیوں میں ہوگئے۔ انسانی فطرت کی کمزوریاں اُبھر
‫آئیں۔ عقیدے دب گئے۔ جذبے سرد ہوگئے۔ جذبات بھڑک اُٹھے۔ یہ سیدھے سادھے پسماندہ لوگ تھے۔ سنسنی خیزی نے ان
‫کی عقل کا رخ پھیر دیا ۔ عمر درویش کے الفاظ میں کچھ اثر تھا یا نہیں‪ ،لوگوں نے اس اثرکو قبول کیا جو اس کی آواز
‫میں اور اس کے بولنے کے انداز میں تھا۔ ان لوگوں میں سے اگر کسی نے شک کا اظہار کیا تو کسی نہ کسی نے کہہ دیا
‫…… ''کیا تم پانی کو آگ لگا سکتے ہو؟'' …… ابھی رات کو طور کا جلوہ دیکھنا باقی تھا۔ یہ لوگ آشی کو جن سمجھے
‫رہے تھے جس کا انہوں نے صاف الفاظ میں اظہار کیا۔
‫یہ وہ مسلمان تھے جنہوں نے سوڈان کی غیر مسلم شہنشاہی کو خوفزدہ کر رکھا تھا۔ سوڈان کی فوجوں کو انہوں نے اس پہاڑ
‫ی خطے میں بے بس کرکے پسپا کردیا تھا۔وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پرستاروں اور صالح الدین ایوبی کے
‫شیدائی تھے۔ سوڈان کے باشندے ہوتے ہوئے وہ اپنے کوہستانی خطے کو آزاد اسالمی ریاست کہتے تھے‪ ،مگر الفاظ کی سنسنی

‫اور چاشنی اور وجد آفرینی نے انہیں راہ سے بے راہ کر دیا اور ان کی سوچیں بھٹکنے لگیں۔ جنہوں نے فوجوں کو پسپا کیا
‫تھا ان کے عقیدے پر صرف ایک انسان نے دلکش وار کیا تو ان کے ہتھیار گر پڑے۔ یہ لوگ جدھر گئے افواہیں پھیالتے گئے۔
‫انہوں نے جو دیکھا اور جو سنا تھا اسے اور زیادہ دلنشیں بنانے کے لیے اضافے کرتے گئے۔
‫مجھے یہ خدشہ پریشان کر رہا ہے کہ سوڈانی مسلمان سنسنی خیز توہمات کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے '' …… یہ آواز ''
‫سلطان صالح الدین ایوبی کی تھی جو سوڈان سے دور‪ ،بہت ہی دور فلسطین کی دہلیز پر ایک چٹان کے دامن میں اپنے
‫مشیروں اور ساالروں کے درمیان بیٹھا تھا۔ العادل کا بھیجا ہوا قاصد اس کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اس نے العادل کا پیغام پڑھ لیا
‫تھا۔ مصر کی انٹیلی جنس ( شعبہ جاسوسی اور سراغرسانی ) نے سوڈانی مسلمانوں کے حقوق پوری اطالع مصر کے قائم مقام
‫امیر العادل کو دی تھی جو العادل نے سلطان ایوبی کے نام ایک پیغام میں لکھ بھیجی تھی ۔ اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ
‫علی بن سفیان تاجروں کے بھیس میں سوڈان جا رہا ہے۔ پیغام میں العادل نے سلطان ایوبی سے پوچھا تھا کہ سوڈانی
‫مسلمانوں کے پہاڑی خطے میں اپنے چھاپہ مار بھیجے جائیں یا نہیں۔ اس نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ ہم چھاپہ
‫مار چوری چھپے بھیجیں گے۔ اگر سوڈانی حکومت کو پتا چل گیا تو کھلی جنگ ہوسکتی ہے ‪ ،جب کہ ہماری زیادہ تر فوج
‫عرب میں لڑ رہی ہے۔ پیغام میں تفصیل سے لکھا گیا تھا کہ سوڈانی حکومت مسلمانوں کو اپنا وفادار بنانے کے لیے ہمارے
‫جنگی قیدیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
‫سلطان ایوبی نے یہ پیغام پڑھ کر اپنی ہائی کمانڈ کے ساالروں اور مشیروں کو سنایا اورکہا …… ''سوڈان کے یہ مسلمان سوڈان
‫کی فوج کے لیے قہر ال ٰہی ہیں۔ تم سب دیکھ رہے ہو کہ ان میں جتنے ہماری فوج میں ہیں‪ ،وہ کس بے جگری اور جذبے
‫سے لڑتے ہیں مگر دشمن جب انہیں طلسماتی الفاظ میں الجھاتااور ذہن کی خیالی عیاشی کی طرف مائل کرتا ہے تو وہ ریت
‫کے بت بن جاتے ہیں۔ العادل نے لکھا تو نہیں کہ صلیبی سوڈان کے مسلمان عالقے میں کردار کشی اور ذہنی تخریب کاری
‫کر رہے ہیں لیکن تم سب صلیبیوں کو جانتے ہو۔ وہ اس فن کے ماہر ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ سوڈانیوں کے پاس صلیبی
‫مشیر موجود ہیں۔ وہ ذہنی تخریب کاری ضرورکریں گے ''۔
‫سلطان ایوبی نے العادل کے قاصد کو کھانے اور آرام کے لیے بھیج دیا اور کاتب کو بال کر پیغام کا جواب لکھوانے لگا ۔ اس
‫‪:نے لکھوایا
‫''!میرے عزیز بھائی۔ العادل''
‫خدائے عزوجل تمہارا حامی و ناصر ہو۔ تمہارے پیغام نے سوڈان کے مسلمانوں کے متعلق صورت حال واضح کردی ہے۔ تمہیں
‫حیران نہیں ہونا چاہیے۔ تم جانتے ہو کہ کفار اسالم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وہ ہرحربہ اور ہر ہتھکنڈہ استعمال کررہے ہیں۔ میں
‫اس اقدام کی تعریف کرتا ہوں کہ علی بن سفیان سوڈان چال گیاہے اور تم نے اسے جانے کی اجازت دی ہے ۔ اللہ علی بن
‫سفیان کی مدد کرے۔ وہ نہایت ہوشیار اور مستنعد سراغرساں ہے۔ پتھروں کے اندر سے بھید بھی نکال التا ہے۔ وہ واپس آکر
‫…… تمہیں بتائے گا کہ وہاں کی صورت حال کیا ہے اور اس کے مطابق کیا کاروائی کرنی چاہیے
‫تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ سوڈان کے مسلمانوں کو چھاپہ ماروں کی مدد دی جائے یا نہیں۔ تم نے اس خطرے کا بھی ''
‫اظہار کیا ہے چھاپر مار بھیجے تو سوڈانی جوابی کاروائی کریں گے جو کھلی جنگ کی بھی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ تم
‫نے اچھا کیا ہے کہ میری اجازت ضروری سمجھی ہے ‪ ،لیکن میں تمہیں خبردار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر کبھی حاالت
‫ہنگامی ہوجائیں تو میری اجازت لینے میں وقت ضائع نہ کرنا۔تمہیں یہ معلوم ہو گیا تھا کہ سوڈان کے قید خانے کے ایک
‫سپاہی سوڈانی فوج کے دو کمانداروں کو قتل کرکے مسلمانوں کے ہاں پناہ لی اور اسالم قبول کر لیا ہے اور تمہیں یہ بھی
‫معلوم ہو گیا تھا کہ سوڈانی ہمارے قیدیوں کو ہمارے خالف تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمارے اسحاق نامی ایک
‫کماندارکی بیوی اور بیٹی تک کو انہوں نے دھوکے سے اغوا کرنے کی کوشش ہے تو تمہیں سمجھ جانا چاہیے تھا کہ سوڈانی
‫مسلمانوں میں کچھ غدار بھی ہیں۔ ان حاالت میں تمہیں فوری طور پر چھاپہ ماروں کی کچھ نفری تاجروں اور مسافروں کے
‫بھیس میں سوڈانی سرحد میں داخل کر دینی چاہیے تھی ۔ تا ہم علی بن سفیان کا چلے جانا قابل تعریف ہے۔
‫میرے عزیز بھائی! یہ الگ مسئلہ ہے کہ ہمارے پاس فوج تھوڑی ہے اور ہم دوسرا محاذ کھولنے کے قابل نہیں لیکن قرآن ''
‫کے اس فرمان سے گریز نہ کرو کہ کسی بھی خطے میں مسلمانوں پر کفار ظلم و تشدد کر رہے ہوں یا انہیں اللچ سے یا
‫دھوکے سے عقیدوں سے گمراہ کر رہے ہوں اور ان کا قومی وقار اور دین و ایمان خطرے میں ڈال دیا گیا ہو تو تمام دنیا کے
‫مسلمانوں پر جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ سلطنت اسالمیہ کی کوئی سرحد نہیں۔ اسالم کے تحفظ کے
‫لیے ہم کسی بھی ملک کی سرحد میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ تم جانتے ہو کہ ہم نے سوڈانی مسلمانوں کو اپنے چھاپہ مار
‫دے رکھے ہیں جو ان کے ساتھ کاشت کاروں کے روپ میں رہتے ہیں ۔ ہم سوڈانی مسلمانوں کو جنگی سامان بھی دے چکے
‫…… ہیں ۔ اگر تم ضرورت محسوس کرو تو انہیں اور زیادہ مدد دو
‫اگر سوڈانی اپنی سرحد بند کرنے کے لیے مصر پر فوج کشی کریں تو گھبرا نہ جانا۔ تم تھوڑی سی فوج سے کئی گناہ ''
‫فوج کا مقابلہ کر سکتے ہو۔ تم ان کا ایک حملہ تباہ کر چکے ہو۔ دوسرا بھی تباہ کر لو گے۔ سامنے کی ٹکر نہ لینا‪ ،دشمن
‫کی وہاں گھسیٹ لینا جہاں تم کم تعداد سے زیادہ نقصان کر سکو۔ چھاپہ ماروں کا استعمال زیادہ کرنا اور دمشمن کی رسد
‫کاٹنے کا انتظام کرنا۔ تمہاری آدمی جنگ علی بن سفیان کے جاسوس جیت لیں گے۔ لیکن مجھے تواقع نہیں کہ سوڈانی حملے
‫کی حماقت کریں گے۔ اگر ان صلیبی مشیروں نے عقل سے کام لیا تو وہ حملے کی بجائے اپنے پہاڑی عالقے کے مسلمانوں
‫کو اپنے ساتھ مالنے کی کوشش کریں گے ۔ اگر مسلمان ان کے وفادار ہوگئے اور ان کی فوج میں شامل ہوگئے تو وہ ہر خطرہ
‫…… ''مول لے سکتے ہیں ‪ ،اس لیے تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مسلمان ان کی ذہنی تخریب کاری کا شکار نہ ہوں
‫میدان جنگ میں شکست دیا کرتا ہے ‪ ،شکست کھایا نہیں ''
‫میں وہی بات دہرائوں گا جو سو بارکہہ چکا ہوں ۔ مسلمان
‫ِ
‫کرتا‪ ،مگر اس کے جذبات میں جب حیوانی جذبہ بیدار کر دیا جاتا ہے تو وہ تلوار اتار پھینکتا ہے ۔ ملت اسالمیہ کو جب
‫بھی زوال آیا اسی جذبے کی بدولت آئے گا۔ ہمارا دشمن ہماری قوم میں یہی آگ بھڑکا رہا ہے۔ اس طرح ہم بیک وقت دو
‫محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ ایک زمین کے اوپر اور دوسرا زمین کے نیچے۔ ہمارا دشمن ہمیں زہر میں بجھے ہوئے تیروں سے
‫نہیں مارسکا‪ ،وہ اب ہمیں زبان کی مٹھاس اور الفاظ کے جادو سے بیکار اور مفلوج کر رہاہے۔ یہ بڑا ہی خطرناک محاذ ہے۔
‫……''!ہوشیار رہنا میرے عزیز بھائی
‫یہاں کے حاالت سازگار ہیں۔ دشمن بری طرح بکھرا ہوا ہے۔ میں اسے مرکزیت اور اجتماع کی مہلت نہیں دوں گا۔ اللہ کی''

‫مدد ملتی رہی تو میں حلب لے لوں گا۔ مقابلہ شاید اب بھی سخت ہو لیکن میں نے کچھ اور انتظامات کر لیے ہیں۔ صلیبی
‫ابھی سامنے نہیں آئے۔ شاید ابھی سامنے آئیں گے بھی نہیں۔ وہ بھائیوں کو آپس میں لڑا کر تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ اگر ان
‫……'' کا دشمن آپس میں ہی لڑ لڑ کر مر جائے تو انہیں سامنے آنے کی کیا ضرورت ہے
‫''اللہ تمہاری مدد کرے۔ مجھے اُمید ہے کہ تم گھبراو گے نہیں۔ خدا حافظ''
‫٭ ٭ ٭
‫جس وقت سلطان صالح الدین ایوبی نے یہ پیغام قاصد کو دے کر روانہ کیا اس وقت عمر درویش کے خیمے میں وہ تین آدمی
‫بیٹھے ہوئے تھے جو لوگوں کے ہجوم میں آگے ہوکر عمر درویش کی طرف بڑھے تھے مگر اس طرح پیچھے کو گر پڑے تھے
‫جیسے کسی نے انہیں آگے سے دھکا دیا ہو۔ لوگ چلے گئے۔ عمر درویش باہر سے اُٹھ کر خیمے کے اندر چال گیا تھا اور یہ
‫تین آدمی کچھ دور تک لوگوں کے ساتھ گئے اور ان کی نظر بچا کر ایک ایک کرکے واپس آئے اور عمر درویش کے خیمے
‫میں چلے گئے تھے۔ یہ اسی گروہ کے آدمی تھے اور وہ اسی عالقے کے مسلمان تھے۔ سوڈانی حکومت سے انہیں بہت انعام
‫ملتا تھا۔
‫میرا خیا ل تھا کہ کپڑا نہیں جلے گا''۔ عمر درویش نے کہا …… ''اس کے نیچے آتش گیر سیا ل کم رکھا گیا اور اوپر ''
‫پانی زیادہ انڈیل دیا گیا تھا''۔
‫تمہیں ابھی یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ یہ تیل پانی پر ڈال دیا جائے تو بھی تیل جل اُٹھتا ہے''۔ اس آدمی نے کہا ''
‫جس نے کپڑے پر مشکیزے سے پانی چھڑکا تھا ۔ ''ہم پہلے آزما چکے تھے ''۔
‫لوگوں پر اس کا اثر کیا ہوا ہے؟'' عمر درویش نے پوچھا۔''
‫ہم کچھ دور تک ان کے ساتھ گئے تھے''۔ ایک نے جواب دیا …… ''وہ پانی کو آگ لگانے کو تمہارا معجزہ سمجھتے ''
‫ہیں۔ کوئی یقین نہیں کرتا کہ دنیا کا کوئی انسان پانی کو آگ لگا سکتا ہے۔ تم نے جس انداز سے باتیں کی ہیں وہ ان کے
‫……'' !دلوں میں اتر گئیں ہیں۔ خدا کی قسم
‫نہ دوست!'' عمر درویش نے اسے ٹوک دیا اور سنجیدہ لہجے میں بوال …… ''خدا کی قسم نہ کھائو۔ ہم اس حق سے ''
‫محروم ہو گئے ہیں کہ اس سچے خدا کی قسم کھائیں جس کے احکام کی ہم خالف ورزی کر رہے ہیں ''۔
‫معلوم ہوتا ہے ابھی تمہارے دل میں سچا خدا موجود ہے''۔ ایک آدمی نے کہا …… ''عمر درویش ! تم اپنا خدا اور اپنا''
‫ایمان فروخت کر آئے ہو''۔
‫دوسرے آدمی نے پاس بیٹھی ہوئی راشی کے ران پر ہاتھ پھیر کر کہا …… ''اور قیمت دیکھ کیسی ملی ہے۔ یہ صلیب کے
‫بادشاہوں کا ہیرا ہے جو سوڈان کے حاکموں نے تمہیں دیا ہے''۔
‫عمر درویش نے آشی کی طرف دیکھا تو آشی نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے آنکھیں سکیڑیں۔ اس کے ماتھے پر
‫شکن بھی پیدا ہوئے۔ عمر درویش اس اشارے کو سمجھ گیا اور ہنس کر بوال …… ''مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ میں اتنی زیادہ
‫قیمت کے قابل نہیں تھا …… جانے دو ان باتوں کو ۔ آنے والی رات کی باتیں کرو''۔
‫سب انتظام تیار ہے''۔ ایک آدمی نے کہا …… ''تم نے ہمارا کمال دیکھ لیا ہے۔ دیکھا ہم کس طرح پیچھے کو گرے ''
‫تھے؟ اورتم اس کی بھی تعریف کرو کہ ہم نے کسی اور کو بولنے نہیں دیا''۔
‫رات کو تم طور کا جلوہ دکھائو گے''۔ ایک اور آدمی نے کہا …… ''یا د کرلو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ ہمارے آدمی تیار ''
‫ہیں''۔
‫ہمیں چلے جانا چاہیے''۔ تیسرے آدمی نے کہا …… ''اب خیمے سے باہر نہ نکلنا''۔''
‫وہ تینوں چلے گئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سورج غروب ہوتے ہی لوگ آنا شروع ہوگئے ۔ دن کے وقت جو لوگ عمر درویش کی باتیں سن گئے اور پانی کو آگ لگانے
‫کامعجزہ دیکھ گئے تھے انہوں نے جہاں تک وہ پہنچ سکے ''خدا کے ایلچی '' کی تشہیر کر دی تھی کہ آج رات کو عمر
‫موسی علیہ السالم کو دکھایا تھا۔ سوڈان کے جاسوس بھی وہاں
‫درویش کو ِہ طور کا وہی جلوہ دکھائے گا جو خدا نے حضرت
‫ٰ
‫موجود تھے۔ انہوں نے افواہیں پھیالنے کا کام جانفشانی سے کیا۔ اس کے نتیجے میں شام کے بعد عمر درویش کے خیمے کے
‫سامنے لوگوں کا ہجوم دن کی نسبت زیادہ تھا۔ خیمے کے عقب میں اور دائیں بائیں کسی کو کھڑا ہونے کی اجازت نہ تھی ۔
‫عمر درویش ابھی خیمے میں تھا۔ باہر دو مشعلیں جل رہی تھیں جن کے ڈنڈے زمین میں گھڑے ہوئے تھے۔ لوگ ''خدا کے
‫ایلچی '' کو دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہے تھے ۔ خیمے کے پردے کو جنبش ہوئی۔ آشی سامنے آئی۔ اس کا لباس سیاہ
‫تھا۔ یہ ایک فراک سا تھا جو کندھوں سے پائوں تک تھا ۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:38
‫قسط نمبر‪96
‫طور کا جلوہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫جو کندھوں سے پائوں تک تھا ۔ اس پر ابرق کے ذرے چپکے ہوئے تھے جو مشعلوں کی روشنی میں ستاروں کی طرح ٹمٹماتے
‫اور چمکتے تھے۔ آشی کے سر پر ریشم کا باریک رومال تھا۔ اس کے بال اسی ریشم جیسے تھے جو شانوں پر اس انداز سے
‫پڑے ہوئے تھے کو عریاں شانوں کی سپیدی ان میں ستاروں کی طرح نظر آتی تھی ۔ وہ خوبصورت تو تھی ہی اس کا بنائو
‫سنگھار اور سج دھج ایسی تھی جس میں طلسماتی سا تاثر تھا اور جو حیوانی جذبے کو اکساتی تھی ۔
‫پہاڑیوں اور جنگلوں میں رہنے والے ان لوگوں کے لیے یہ لڑکی ‪ ،اس کی چال اور اس کا لباس عجوبے سے کم نہ تھا ۔ ان
‫کی نظریں گرفتار ہوگئیں اور ان پر سحر طاری ہوگیا۔ آشی کے ایک ہاتھ میں گز ڈیڑھ لمبے اور اس سے آدھے چوڑے قالین کا
‫ایک ٹکڑا تھا جو اس نے دونوں مشعلوں کے درمیان بچھادیا۔ اس نے دونوں بازو پھیالئے اور آسمان کی طرف دیکھا۔ خیمے کا
‫پردہ ہٹا اور عمر درویش مستانہ چال چلتا قالین پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے بھی آشی کی طرح بازو دائیں بائیں پھیالئے ‪ ،آسمان
‫کی طرف دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔
‫اے خدا کی برگزیدہ ہستی جس کا احترام ہم سب پر فرض ہے ‪ ،ہم تیرے حضور حاضر ہوئے ہیں''۔ یہ ان تین آدمیوں ''
‫سے ایک تھا جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس نے کہا …… ''تیری دن کی باتیں ہمارے دلوں میں اتر گئی ہیں مگر ایک شک

‫ہے۔ ہمیں طور کا جلوہ دکھا جس کا تونے وعدہ کیا تھا ''۔
‫مصر فرعونوں کاملک ہے''۔ عمر دوریش نے بلند آواز سے کہا …… '' فرعون مر گئے مگر خدا نے مصر کی بادشاہی ''
‫جس کو بھی دی وہ فرعون بنا۔ یہ مصر کی زمین کی ‪ ،مصر کے پانی کی اور مصر کی ہوا کی تاثیر ہے ۔ جو کلمہ رسول
‫موسی علیہ واسالم نے فرعونوں کی 'خدائی' کا للکارا اور نیل
‫صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے وہ بھی فرعون بنے۔ حضرت
‫ٰ
‫کے پانی کو کاٹ کر دکھادیا۔ اب مصر ایک بار پھر فرعونوں کے قبضے میں آگیا ہے۔وہاں شراب کی نہریں بہتی ہیں اور پردہ
‫نشین کنواریوں کی عصمتوں سے کھیال جاتا ہے۔ خدائے ذوالجالل نے ہمارے اس خطے کو یہ سعادت بخشی ہے کہ مصر کو
‫فرعونوں سے آزاد کرائو۔ خداوند عالم نے تمہیں کو ِہ طور کا جلوہ بخشا ہے۔
‫عمر درویش نے بازو پھیالئے اور آسمان کی طرف دیکھکر جوشیلی آوازمیں کہا …… ''اپنے بھٹکے ہوئے بندوں کو اپنا وہی نور
‫موسی علیہ السالم کو دکھایا تھا''۔
‫دکھا جو تو نے
‫ٰ
‫اس نے لپک کر ایک مشعل زمین سے اکھاڑی ۔ رات تاریک ہو چکی تھی ۔ پہاڑ چٹانیں اور درخت اندھیرے کی سیاہی میں
‫روپوش ہوگئے۔ روشنی صرف ان دو مشعلوں کے شعلوں کی تھی جس میں عمر درویش اور آشی نظر آرہے تھے۔ عمر درویش
‫نے مشعل اوپر کی اور ایک سمت اشارہ کرکے کہا …… '' ادھردیکھو۔ ادھر ایک پہاڑی ہے۔ تم اس پہاڑی کو نہیں دیکھ
‫سکتے۔ اس کا جلوہ دیکھو ''۔
‫اس نے مشعل اور زیادہ اوپر کرکے دائیں بائیں لہرائی۔ اس کے ساتھ ہی سامنے پہاڑی سے ایک شعلہ اُٹھا اور ذرا سی دیر
‫میں کم ہوتے ہوئے ختم ہوگیا۔ لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ حیرت زدگی نے ان کی زبانیں گنگ کردیں۔
‫اگر تم خدا کے اس جلوے کو بھی اپنے دلوں میں نہ اتارا تو یہ شعلہ جو تم نے دیکھا ہے تمہارے اس سرسبز عالقے کو ''
‫ریگزار بنادے گا''۔ عمردوریش نے کہا …… ''میں اسے روک نہیں سکوں گا۔ اسے تم نے دعوت دی ہے''۔
‫عمر درویش اپنے خیمے میں چال گیا۔ آشی نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ چلے جائیں۔ لوگ وہاں سے جانے لگے تو ایک
‫دوسرے کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی گھبراتے تھے۔ ان کے دلوں میں کوئی شک نہیں رہا تھا۔ وہ جب خیمے سے دور نکل
‫گئے تو ایک آدمی جو ان کے ساتھ تھا ‪ ،دوڑ کر آگے ہوا اور سب کی طرف منہ کرکے ُرک گیا۔ سب نے دیکھا ۔ وہ ایک
‫گائوں کی مسجد کا پیش امام تھا۔
‫ذرا رک جائو''۔ امام نے بازو پھیال کرکہا۔ سب رک گئے تو اس نے کہا …… ''اپنے ایمان کو قابو میں رکھو‪ ،مسلمانو! ''
‫یہ جادو گری ہے۔ جو تم دیکھ آئے ہو یہ شعبدہ بازی ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی پیغمبر آیا ہے‪ ،نہ
‫آئے گا۔ خدا ایسے گناہگاروں کو جلوے اور نور نہیں دکھایا کرتا جو اپنے ساتھ بے حیا لڑکیاں لیے پھرتے ہیں ''۔
‫یہ لڑکی نہیں جن ہے''۔ ایک آدمی نے کہا ۔ ''
‫جنات انسانوں کے روپ میں نہیں آسکتے ''۔ امام نے کہا …… ''جنات کسی انسان کے غالم نہیں ہوسکتے۔ مسلمانو! ''
‫دعوی نہیں
‫اپنے عقیدے کی حفاظت کرو۔ سلطان صالح الدین ایوبی فرعون نہیں‪ ،وہ خدا کا سچا بندہ ہے۔ اس نے پیغمبر کا
‫ٰ
‫کیا۔ وہ تمہارے مذہب کا پاسبان اور صلیب کا دشمن ہے''۔
‫''محترم امام !'' ایک آدمی نے کہا …… '' کیا آپ پانی کو آگ لگا سکتے ہیں؟''
‫اس کی نہ سنو''۔ ایک اور نے کہا …… ''یہ اپنی امامت قائم رکھنا چاہتاہے''۔''
‫ہم نے جو دیکھاہے وہ آپ دکھا دیں''۔ ایک اور نے کہا …… ''پھر ہم آپ کی اطاعت قبول کر لیں گے''۔ ''
‫میرے ساتھ اس پہاڑی پرچلو جہاں سے شعلہ اُٹھا تھا' '۔ امام نے کہا …… '' میں تمہیں دکھا دوں گا کہ یہ کیا ''
‫شعبدہ ہے۔ اگر میں غلط ہوں تو مجھے اسی جگہ قتل کر دینا جہاں شعلہ بھڑکا تھا''۔
‫ہم خدا کے کاموں میں دخل دینے کی جرأت نہیں کریں گے '' ۔ ایک آدمی نے کہا ۔ ''
‫دو تین آدمی بیک وقت بول پڑے۔ وہ بھی امام کے خالف بول رہے تھے۔ انہوں نے لوگوں کو ایسا اشتعال دالیا کہ سب چل
‫پڑے اور امام کو دھکے دیتے آگے چلے گئے۔ امام اکیال کھڑا رہا ۔
‫٭ ٭ ٭
‫کچھ دیر وہاں کھڑے رہ کر امام اس پہاڑی کی طرف چل پڑا ‪ ،جس پر شعلہ اُٹھا تھا۔ وہ بہت ہی تیز چال جارہا تھا۔ ایک
‫پتھریلے ویرانے سے گزر کر چٹا ن کے دامن میں پہنچاتو دو آدمی اس سے کچھ پیچھے چلے جارہے تھے۔ امام چٹان کے
‫ساتھ ساتھ چال جا رہا تھا۔ پیچھے جانے والے دونوں اور تیز ہوگئے۔ ان کے قدموں کی آہٹیں سن کر امام رک گیا۔ وہ دونوں
‫اس کے قریب جا رکے۔ ان کے چہرے کپڑوں میں چھپے ہوئے تھے۔ امام نے ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں۔ انہوں نے کوئی
‫جواب نہ دیا۔ ان میں سے ایک امام کے پیچھے چال گیا۔ امام اس کی طرف مڑا تو دوسرے نے امام کی گردن کے گرد اپنا
‫بازو لپیٹ لیا ۔ امام نے کمر بند سے خنجر نکاال مگر اس کا خنجر واال ہاتھ ایک آدمی کے ہاتھ کے شکنجے میں آگیا۔ اس
‫کی گردن دوسرے آدمی کے بازو کے شکنجے میں تھی جو انتا تنگ اور سخت ہوگیا تھا کہ اس کا سانس رک رہا تھا۔
‫اس نے آزاد ہونے کی آخری کوشش کی ۔ وہ پوری طاقت سے اچھال۔دونوں پائوں جوڑ کر سامنے والے کے پیٹ میں مارے۔
‫اسے پیچھے اسے ایک آدمی نے جکڑ رکھا تھا۔ سامنے واال امام کی التوں سے پیچھے کو گرا اور اس کے پیچھے واال دھکہ
‫برداشت نہیں کرسکا۔ وہ بھی پیچھے کو گرا اور امام کی گردن پر اس کے بازو کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ امام نے ایک اور
‫جھٹکا دیا اور آزاد ہوگیا۔ وہ اب ایک خونریز لڑائی کے لیے تیار ہوکر اُٹھا لیکن وہ دونوں آدمی بھاگ گئے ۔ ان کے بھاگنے
‫کی وجہ صرف یہ ہو سکتی تھی کہ وہ دونوں اسی عالقے کے مسلمان تھے۔ انہیں پہنچانے جانے کا خطرہ تھا۔ امام نے انہیں
‫پکارا ‪ ،للکارا لیکن وہ غائب ہوگئے تھے۔ امام نے آگے جانا مناسب نہ سمجھا اور وہیں سے واپس چالگیا۔
‫عمر دوریش کے خیمے میں وہی تین آدمی بیٹھے تھے جو دن کے وقت بھی اس کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے عمردرویش کو
‫بتایا کہ لوگ وہی تاثر لے کر گئے ہیں جو ان پر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے اسے یہ بھی بتایا کہ کل
‫رات اسے آگے ایک اور گائوں کے قریب جانا ہے اور '' طور کا جلوہ'' ایک اور پہاڑی پر دکھانا ہے ‪ ،تینوں چلے گئے۔
‫آشی عمردرویش کے ساتھ اکیلی رہ گئی۔
‫کیا تم اپنی کامیابی پر خوش ہو؟''۔ آشی نے پوچھا۔''
‫آشی !'' عمردرویش نے آہ لے کر کہا ……''میں تمہیں اس قسم کے سوالوں کا جواب دینے سے ڈرتا ہوں''۔''
‫کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں صلیبیوں اور سوڈانیوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہوں؟'' آشی نے کہا …… '' تم نے میر ''
‫ے اندر ایمان بیدار کیا ہے اور اب تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے''۔
‫میں اعتبار تمہارے عمل پر کروں گا''۔ عمر درویش نے کہا …… ''تمہارے الفاظ پر نہیں ''۔''

‫مجھے بتائو میں کیاکروں''۔ آشی نے کہا …… ''جو کہو گے کروں گی''۔''
‫ابھی یہی کرتی رہو جو کر رہی ہو''۔ عمر دوریش نے کہا ۔ '' وقت آنے پر تمہیں بتائوں گا کہ کیا کرنا ہے''۔''
‫ہو سکتا ہے تمہیں یہ بتانے کا وقت ہی نہ ملے کہ مجھے کیا کرنا ہے''۔ آشی نے کہا …… '' تم نے دیکھ لیا ہے کہ ''
‫تمہارے اردگرد جاسوسوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ جہاں تم نے ذرا سی مشکوک حرکت کی یہ جاسوس تمہیں غائب یا قتل
‫کردیں گے اور مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ اگر تم مجھے پہلے ہی بتا دو کہ تمہارا ارادہ کیاہے تو میں تمہیں بروقت
‫خبردار کرسکوں گی ۔ مجھے تو وہ بہرحال اپنے گروہ کا فرد سمجھتے ہیں۔
‫آشی کے انداز میں کچھ ایسی سادگی اور خلوص تھا۔ جس سے عمر ردویش قائل ہوگیا کہ یہ لڑکی اسے دھوکہ نہیں دے گی۔
‫اس نے کہا …… ''تمہارے کماالت دیکھتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ تم مجھے دھوکہ دوگی''۔
‫کماالت میں تو تم بھی کم نہیں ہو''۔ آشی نے کہا …… ''اسی لیے تو میں محسوس کر رہی ہوں کہ تم نے اپنی قوم ''
‫کو دھوکہ دینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے''۔
‫میں تمہیں اپنا ارادہ بتا دیتا ہوں''۔ عمردرویش نے کہا …… ''اور یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ تم نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا ''
‫اور مجھے فریب دیا تو تم زندہ نہیں رہو گی ۔ میں قتل ہوجانے سے نہیں ڈرتا اور قتل کرنے سے بھی نہیں ڈروں گا۔ میں
‫نے راستے میں تمہیں بتا دیا تھا کہ میں کسی اور مقصد کے لیے جا رہا ہوں۔ مجھے اُمید تھی کہ یہاں اپنے عالقے میں آکر
‫اپنے خفیہ مقصد میں آسانی سے کامیاب ہوجائوں گامگر یہاں آکر دیکھا ہے کہ سوڈانیوں نے مجھے جاسوسوں کے گھیرے میں
‫لے رکھا ہے‪ ،مجھے دوسرا غم یہ ہو رہا ہے کہ میں نے اپنی قوم کی پیٹھ میں خنجر اتار دیا ہے۔ میں اپنے اصل مقصد کی
‫خاطر اپنے آپ کو پوشیدہ رکھ رہا ہوں مگر میری کارستانی جسے تم میرا کمال کہتی ہو میری قوم کے مذہبی عقیدے کو زہر
‫کی طرح مار رہی ہے۔ میں نے اگر یہ جاری رکھا تو یہ مسلمان سوڈانیوں کی غالمی کی زنجیروں میں بندھ جائیں گے اور
‫ان کا قومی وقار ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا''۔
‫تم کیا کرنا چاہتے ہو؟'' آشی نے پوچھا۔''
‫میں اسحاق کے گائوں تک پہنچنا چاہتا ہوں''۔ عمر درویش نے کہا…… '' تم اسحاق کو جانتی ہونا۔ وہی کماندار جو ''
‫جنگی قیدی کے حیثیت سے قید خانے میں پڑا ہے۔ اسے اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے تمہیں بھی ایک رات اس کے پاس
‫بھیجا گیا تھا''۔
‫اس شخص کو تو میں ساری عمر نہیں بھول سکوں گی''۔ آشی نے کہا ۔ '' اس کی بھی اتنی ہی مرید ہوں جتنی ''
‫تمہاری ہوں''۔
‫میں اس کے گھر تک پہنچنا چاہتا ہوں''۔عمر درویش نے کہا …… ''پھر میں اپنے گائوں جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں ''
‫یہ سوچ کر آیا تھا کہ یہاں آکر غائب ہوجائوں گا اور یہاں کے لوگوں کو بتائوں گا کہ وہ سوڈانیوں کے ہتھکنڈوں سے بچیں''۔
‫معلوم ہوتاہے تم نے کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں بنایا تھا''۔ آشی نے کہا …… ''ہمیں جس کا م کے لیے بھیجا جاتا ہے ۔''
‫اس کا ہمیں بڑا واضح منصوبہ دیا جاتا ہے''۔
‫میں قید خانے میں ظالمانہ اذیتیں سہہ سہہ کر نکال ہوں''۔ عمر درویش نے کہا …… ''اتنی ہی عقل رہ گئی تھی کہ قید''
‫خانے سے نکلنے کا یہ طریقہ سوچ لیا تھا۔ یہاں آکر حاالت ایسے ہوگئے ہیں کہ اپنے مقصد کی کامیابی نا ممکن نظر آتی
‫ہے''۔
‫اب مجھے سوچنے دو''۔ آشی نے کہا …… ''اگر ہم خدا کی راہ میں ثابت قدم رہے تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ''
‫ہوجائو گے۔ کل ہم آگے جا رہے ہیں ۔ کوئی صورت نکل آئے گی''۔
‫ضرورت یہ ہے کہ ہمیں یہاں کے کسی عقل مند آدمی کے ساتھ مالقات کا موقع مل جائے ''۔ ''
‫اسی عالقے میں عمر درویش کے خیمے سے دواڑھائی میل دور مصری تاجروں کا ایک قافلہ آیا۔ چا ر آدمی اور چھ اونٹ تھے۔
‫قافلے کا سردار لمبی داڑھی واال ایک بزرگ سیرت انسان تھا جس نے ایک آنکھ پر سبز رنگ کے کپڑے کا ٹکڑا لٹکا رکھا تھا
‫جیسے اس کی یہ آنکھ خراب ہو۔ یہ قافلہ دو راتیں پہلے سوڈانی کی سرحد میں داخل ہوا تھا۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ
‫سلطان ایوبی نے مصر سے سوڈان میں اناج سمگل کرنے کی درپردہ اجازت دے رکھی تھی ۔ دوسری اجناس بھی سمگل کی
‫جاتی تھیں۔ سوڈان میں ان اشیاء کی قلت تھی۔ مصر کے یہ اسمگلر دراصل سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کے آدمی تھے ۔
‫انہیں مصر کے سرحدی دستے نہیں روکتے تھے اور سوڈان کی سرحد کے پہرہ دار بھی انہیں نظر انداز کر دیتے تھے۔
‫یہ قافلہ بھی بال روک ٹوک سرحد پار کرکے سوڈان میں داخل ہوگیا تھا۔ لیکن رات کی تاریکی کی وجہ سے سوڈان کے
‫سرحدی پہرہ دار یہ نہ دیکھ سکے کہ چار تاجروں اور چھ اونٹوں کا یہ قافلہ سوڈان کے کسی شہر کی طرف جانے کی بجائے
‫اس پہاڑی عالقے کی سمت چال گیا ہے جہاں مسلمان آباد تھے۔ ادھر تاجروں کے کسی قافلے کو جانے کی اجازت نہیں تھی
‫کیونکہ سوڈان کی حکومت مسلمانوں کو اناج اور دیگر اجناس سے اور تجارت سے محروم رکھنا چاہتی تھی۔ یہ قافلہ رات بھر
‫چلتا رہا۔ صبح ہو ئی تو اونٹوں کو ٹیلوں کے عالقے میں چھپا دیا گیا ۔ سرحد دور پیچھے رہ گئی تھی۔ ان لوگوں نے سارا
‫دن وہیں چھپ کر گزارا۔
‫رات تاریک ہوئی تو یہ قافلہ پھر چل پڑا اور آدھی رات کے وقت پہاڑی عالقے میں داخل ہوگیا۔ یہی قافلے کی منزل تھی۔
‫سحر کے وقت قافلہ ایک گائوں میں داخل ہوا۔ میر کارواں ایک مکان کے سامنے رکا اور دروازے پر دستک دی۔ کچھ دیر بعد
‫دروازہ کھال۔ ایک آدمی ہاتھ میں دیا لیے باہر آیا۔ میر کارواں نے اس کے کان میں کچھ کہا ۔ دروازہ کھولنے والے نے کہا ……
‫''خوش آمدید …… تم سب فورا ً اندر چلو۔ اونٹوں کو ہم سنبھال لیں گے''۔
‫چاروں تاجر اندر چلے گئے۔ میزبان نے اپنے گھر والوں کو اور پڑوس کے دوتین آدمیوں کو جگایا۔ سب نے اونٹوں کو مختلف
‫گھروں کے اونٹوں میں بانٹ کر باندھ دیا۔ سامان اتار کر میزبان کے گھر میں رکھ دیا گیا۔ میرکارواں نے کہا کہ سامان فورا ً
‫کھولو اور غائب کردو۔ سب نے سامان کھوال تو اس میں اناج کی بجائے تیروں کا ذخیرہ تھا۔ کمانیں ‪ ،تلواریں اور خنجر تھے
‫اور تین چار بوریوں میں آتش گیر مادے سے بھری ہوئی ہانڈیاں تھیں۔ یہ سامان غائب کر دیا گیا۔
‫کیا میں اپنے آپ میں آجائوں ؟'' میرکارواں نے پوچھا …… ''تنگ آگیا ہوں'۔''
‫کوئی خطرہ نہیں''۔ میزبان نے کہا …… ''سب لوگ اپنے ہیں''۔''
‫میر کارواں نے لمبی داڑی اتار دی اور آنکھ سے سبز کپڑا بھی اتار دیا۔ یہ داڑھی نقلی تھی ۔ اس کی اصلی داڑھی چھوٹی
‫تھی اور سلیقے سے تراشی ہوئی۔ سامان ادھر ادھر چھپا کر جب آدمی مہمانوں کے پا س آئے تو ایک آدمی میرکارواں کو
‫''دیکھ کر ٹھٹھک گیا ۔ میرکارواں مسکرایا اور پوچھا …… ''پہچانا نہیں تھا مجھے؟

‫اوہ میرے دوست علی بن سفیان!'' اس آدمی نے کہا …… '' خدا کی قسم میں نے نہیں پہچانا تھا''۔ اس نے آہ بھر ''
‫کر کہا …… '' ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ خود آگئے ہیں ۔ یہاں کے حاالت ٹھیک نہیں ''۔
‫مجھے اطالع مل گئی تھی کہ سوڈان کے قید خانے کے ایک سپاہی نے دو سوڈانی فوج کے دو کمانداروں کو قتل کردیا ''
‫ہے ''۔ علی بن سفیان نے کہا …… '' اور مجھے یہ بھی پتا چال ہے کہ سوڈانی ہمارے جنگی قیدیوں کو ہمارے خالف
‫استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ''۔
‫لمبی داڑی اور آنکھ پر سبز پٹی اور تاجروں کے چغے کے روپ میں سلطان صالح الدین ایوبی کا ماہر جاسوس اور سراغرساں
‫علی بن سفیان تھا جو یہاں کے حاالت کا جائزہ لینے آیا تھا۔ اسے جاسوسوں نے قاہرہ جا کر جو خبریں دی تھیں۔ وہ ان
‫کی روشنی میں باتیں کررہا تھا اور وہ جس گھر میں بیٹھا تھا ‪ ،وہ اس کے بھیجے ہوئے جاسوسوں کا مرکز تھا۔ اس کا
‫میزبان سوڈانی باشندہ تھا۔ یہ سب لوگ سلطان ایوبی کے پرستار تھے۔ ان لوگوں نے علی بن سفیان کو ایک نئی بات بتائی۔
‫افواہ پھیل رہی ہے کہ خدا کا کوئی ایلچی آیا ہے جو پانی کو آگ لگاتا ہے''…… میزبان نے علی بن سفیان کو بتایا۔ ''
‫'' اور وہ لوگوں کو اس قسم کی باتیں کہتا ہے کہ خدا نے مجھے یہ پیغام دے کر مردوں سے اُٹھایا ہے کہ مسلمانوں سے
‫کہو کہ سوڈان کے وفادار ہوجائیں کیونکہ یہ زمین تمہاری ماں ہے ''…… اس نے عمر درویش کے متعلق ساری باتیں سنادیں
‫لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ عمر درویش رات کو طور کا جلوہ دکھا کر لوگوں کے دلوں میں بے حد خطرناک شکوک پیدا
‫کرچکا ہے۔
‫مجھے یہی ڈر تھا کہ دشمن عقیدوں پر حملہ کرے گا''…… علی بن سفیان نے کہا …… '' اسی لیے میں خود آیا ہوں۔ ''
‫صلیبی تخریب کاری کے ماہر ہیں اور ہماری قوم جذباتی ہے۔ صلیبی الفاظ کا بڑا ہی دلفریب جاال تن دیتے ہیں۔ ہمارے بھائی
‫کھچے ہوئے اس کے حسین تاروں میں ا ُلجھ جاتے ہیں۔ مجھے فوری طور پر اس فتنے کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات
‫ملنی چاہئیں۔ میرا خیال ہے کہ عمر درویش کو میں جانتا ہوں۔ ہماری فوج کے ایک دستے کا کماندار تھا''۔
‫اس عالقے میں مصری جاسوس چھاپہ مار بھی تھے۔ علی بن سفیان نے میزبان سے کہا کہ وہ چند ایک آدمیوں کو بالنے کا
‫انتظام کرے تا کہ اس تخریب کاری پر جوابی حملہ کیا جاسکے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سورج طلوع ہورہا تھا۔ جاسوسوں کو بالنے کے لیے آدمی دوڑادئیے گئے۔ وہ گئے ہی تھے کہ ایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا آرہا تھا
‫اس مکان کے سامنے آرکا۔ سوار اُتر کر اندر آیا تو سب احترام کے لیے اُٹھے۔ یہ امام تھا اور یہ وہی امام تھا جس نے عمر
‫درویش کے خالف آواز ا ُٹھائی تھی ۔ لوگ اسے دھکے دیتے چلے گئے تھے ‪ ،پھر رات کو اس پر دو نا معلوم آدمیوں نے
‫قاتالنہ حملہ کیا تھا۔ امام وہیں سے واپس آگیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ مسلمانوں نے اس گائوں اور اس گھر کو جاسوسی اور
‫دیگر سرگرمیوں کا خفیہ مرکز بنارکھا ہے۔ امام اپنے گھر گیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر اس گائوں کو روانہ ہوگیا۔ یہ امام اس
‫پر یقین رکھتا تھا کہ عمر درویش شعبدہ باز ہے۔ وہ اس گائوں میں رپورٹ دینے اور شعبدہ بازی کے خالف کاروائی کرنے کے
‫لیے مدد لینے آیا تھا ‪ ،آگے علی بن سفیان بیٹھا تھا۔
‫امام علی بن سفیان سے واقف نہیں تھا۔ تعارف کرایا گیا تو امام نے تفصیل سے سنایا کہ عمر درویش نے کیا شعبدہ دکھایا
‫ہے اور مسلمان تماشائیوں نے اس کا کس طرح اثر قبول کیا ہے۔
‫اگر ہم نے یہ سلسلہ نہ روکا تو مسلمان اپنے عقیدوں سے منحرف ہوجائیں گے '' …… امام نے کہا …… '' یہ شخص ''
‫جو اپنا نام عمر درویش بتاتا ہے آج رات اگلے گائوں کو جا رہا ہے اوریہی شعبدہ دکھائے گا''۔
‫انہوں نے تھوڑی دیر اسے مسئلے پر غور کیا۔ ایک طریقہ یہ سوچا گیا کہ عمر درویش کو قتل کردیا جائے۔ علی بن سفیان
‫نے اتفاق نہ کیا۔ اس نے اس قسم کا اظہار کیا کہ اسے یقین ہے کہ عمر درویش کو قتل کیے بغیر راہ راست پر الیا جاسکے
‫گا اور اسی کی زبان سے کہلوالیا جائے گا کہ اس نے جو معجزے دکھائے ہیں وہ شعبدہ بازی تھی۔ قتل کے خالف دالئل
‫دیتے ہوئے اس نے کہا کہ اس طرح لوگ اسے اور زیادہ برحق ماننے لگیں گے۔
‫علی بن سفیان کے ساتھ تاجروں کے بھیس میں جو تین آدمی آئے تھے وہ مصری فوجی کے غیر معمولی طور پر ذہین ‪ ،اپنے
‫فن کے ماہر اور تجربہ کار لڑاکا جاسوس تھے۔ علی بن سفیان انہیں تاجروں کے بھیس میں ساتھ الیا تھا۔ خود لمبی داڑھی اور
‫ایک آنکھ پر سبز پٹی کا بہروپ چڑھایا۔ گھوڑے منگوائے ۔ چند اور آدمیوں سے کہا کہ وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہو کر
‫اس کے پیچھے پیچھے آئیں۔ اس نے سب کو ہدایات دیں اور امام کے ساتھ اس سمت روانہ ہوگیا جہاں عمر درویش کو خیمہ
‫زن ہونا تھا۔
‫عمر درویش صبح طلوع ہوتے ہی اگلے مقام کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔ اس کے ساتھی اس عالقے کے لوگوں کے لباس میں ''
‫اس کی حفاظت کے لیے جا رہے تھے۔ اس کی تشہیر دور دور تک ہوگئی تھی …… وہ ایک اور گائوں سے کچھ دور ُرک گیا
‫اور خیمہ گاڑ دیا۔ تھوڑی سی دیر میں وہ اور آشی تیار ہوگئے تھے۔ خیمے کے سامنے دو مشعلیں جال کر گاڑ دی گئیں۔ اس
‫کے ساتھیوں نے گائوں والوں کو جا بتایا کہ انہوں نے خدا کے جس ایلچی کے معجزے سنے ہیں وہ ان کے گائوں کے باہر
‫خیمہ زن ہے۔ لوگ دوڑے گئے۔ جن لوگوں نے ایک روز پہلے عمر درویش کو دیکھا تھا ۔ وہ بھی دور کافاصلہ طے کرکے آگئے
‫تھے۔
‫عمر درویش دونوں مشعلوں کے درمیان چھوڑے قالین پر بیٹھ گیا۔ آشی اپنے اسی بھڑکیلے لباس اور طلسماتی بنائو سنگھار سے
‫آراستہ تھی۔ عمر درویش کے سامنے کپڑا الٹا پڑا تھا۔ اس نے وہی ادا کاری شروع کر دی جو وہ پہلے کر چکا تھا۔ ایک آدمی
‫نے وہی سوال پوچھا جو پہلے پوچھا گیا تھا۔ عمر درویش نے وہی باتیں اسی اندازسے دہراکر کہا کہاکسی کے پاس پانی ہو تو
‫اس کپڑے پر ڈاال جائے۔ علی بن سفیان اپنی پارٹی کے ساتھ پہنچ چکا تھااور اس نے عمر درویش کو پہچان لیا تھا۔ اسے
‫اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ شخص مصری فوج کے ایک دستے کا کماندار ہے۔
‫علی بن سفیان کو بتا دیا گیا تھا کہ عمر درویش پانی کو آگ لگاتا ہے۔ علی بن سفیان کو ایک شک تھا۔ یہ تسلیم نہیں کیا
‫کیا سکتا تھاکہ پانی کو آگ لگ سکتی ہے۔ اس کے دماغ میں جو شک پیدا ہوا تھا ‪ ،اس کے مطابق وہ چھوٹے سے
‫مشکیزے میں پانی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ جو ں ہی عمر درویش نے کہا کہ کسی کے پاس پانی ہو تواسے کپڑے پر ڈالے تو
‫ایک آدمی تیزی سے آگے بڑھا۔ اس کے پاس مشکیزہ تھا۔ اس نے کچھ پانی کپڑے پر انڈیل دیا۔
‫علی بن سفیان آگے بڑھا اور مشعل زمین سے اکھاڑ کر لوگوں سے کہا …… '' تم میں سے کوئی آدمی آگے آئے''۔ ایک
‫آدمی جو علی بن سفیان کے ساتھ آیا تھا آگے گیا۔ علی بن سفیان نے مشعل اس کے ہاتھ میں دے کر کہا …… '' اس
‫کپڑے پر شعلہ رکھو'' …… وہ آدمی ہچکچایا ۔ علی بن سفیان نے لوگوں سے کہا …… '' تم میں سے کوئی بھی آدمی اس

‫پانی کو آ گ لگا سکتا ہے''۔
‫اس آدمی نے مشعل کا شعلہ کپڑے کے قریب کیا تو کپڑے سے شعلہ بھڑک کراُٹھا ۔ایک آدمی جو عمر درویش کا ساتھی
‫تھا ۔ بوال …… '' تم کوئی شعبدہ بازہو۔ پیچھے ہٹو ‪ ،ورنہ تم پر خدا کی اس برگزیدہ شخصیت کا قہر نازل ہوگا ''۔
‫عمر درویش خاموشی سے اور حیرت سے علی بن سفیان کو دیکھ رہا تھا۔ علی بن سفیان نے اپنا کمر بند کھول کر
‫عمردرویش کے آگے رکھ دیا اور اس پر پانی انڈیل کر کہا …… ''اگر تم خدا کے ایلچی ہو تواس کپڑے کو آگ لگائو '' ……
‫اس نے مشعل عمر درویش کے آگے کر دی مگر عمر درویش اس کے منہ کی طرف دیکھتا رہا۔
‫لوگوں نے آپس میں کھسر پھسر شروع کردی۔ علی بن سفیان کے ساتھ آئے ہوئے آدمیوں نے عمر درویش کے خالف بولنا شروع
‫کر دیا۔ امام کی آواز سب سے زیادہ بلند تھی ۔ عمر درویش کے آدمیوں نے اس کی حمایت میں بولنا شروع کر دیا ۔ دونوں
‫طرف سے بولنے والے جاسوس تھے۔ یہ بھی جنگ تھی ۔ حق اور باطل معرکہ آراء تھے۔ علی بن سفیان نے لوگوں کو ادھر
‫اُلجھا ہوا دیکھا تو عمر درویش کے سامنے بیٹھ گیا۔
‫''!عمر درویش!'' …… اس نے دھیمی آواز میں کہا …… ''ایمان کی کتنی قیمت ملی ہے''
‫تم کو ن ہو؟''…… عمر درویش نے پوچھا۔''
‫بہت دور سے آیا ہوں'' …… علی بن سفیان نے کہا …… '' تمہاری شہرت سرحد پار سنی تھی اور تمہیں دیکھنے آیا ''
‫''ہوں''۔ عمر درویش نے بے چینی سے ادھر ادھر دیکھا اور پوچھا …… '' میں تم پر کس طرح اعتبار کرلوں؟
‫میری داڑھی پر ہاتھ پھیرو''…… علی بن سفیان نے کہا …… '' مصنوعی ہے۔ ایمان کی جو قیمت وصول کی ہے اس سے''
‫دوگنی دوں گا۔ یہ شعبدہ بازی ختم کرو۔ میں تمہیں ساتھ لے جائوں گا''۔
‫میں قاتلوں کے گھیرے میں ہوں'' …… عمر درویش نے کہا ۔ ''
‫میری نہیں مانو گے تو بھی قتل ہوجائو گے'' …… علی بن سفیان نے کہا …… '' تم جانتے ہو کہ یہاں ہمارے بہت ''
‫''سے آدمی موجود ہیں …… تمہارے ساتھ کتنے آدمی ہیں؟
‫''مجھے معلوم نہیں '' …… عمر درویش نے کہا اور پوچھا …… '' تمہارا نام کیا ہے؟''
‫بتا نہیں سکتا'' …… علی بن سفیان نے کہا …… '' میں جو پوچھتا ہوں وہ بتائو…… طور کا جلوہ کیا ہے؟ صا ف صاف ''
‫بتادو۔ تمہاری حفاظت کے ذمہ داری لیتا ہوں''۔
‫جب ا ُٹھو گے تو اپنے دائیں طرف دیکھنا '' …… عمر درویش نے کہا …… '' اونچی پہاڑی کے آگے ایک اونچی چٹان ''
‫ہے۔ ایک بہت بڑا درخت ہے۔ شام سے ذرا بعد وہاں اپنے آدمی چھپا دینا۔ جس طرح پانی کو آگ لگنے کا بھید جان گئے ہو
‫‪ ،طور کا جلوہ بھی جان جائو گے۔ مجھے موقعہ دو کہ یہ تماشا دکھائوں۔ تم وہاں سے شعلہ نہ اُٹھنے دینا۔ میرے فرار کا
‫اورمیری حفاظت کافرض تم پورا کرو گے۔ بس میری شعبدہ بازی یہی ہوگی کہ یہاں سے نکل بھاگوں۔ مجھے اسحاق کو قید
‫خانے سے آزاد کرانا ہے…… ا ُٹھو اور اعالن کرو کہ رات کو طور کا جلوہ دکھائوں گا ''۔
‫علی بن سفیان کی جگہ کوئی اور آدمی ہوتا تووہ عمر درویش کی یہ ادھوری سی بات نہ سمجھ سکتا۔ علی بن سفیان اسی
‫میدان کا کھالڑی تھا۔ وہ اشارے سمجھ لیتا تھا۔ اس نے اُٹھ کر اعالن کیا …… '' خدا کا یہ برگزیدہ انسان رات کو طور
‫کاجلوہ دکھائے گا۔ میں نے اس کی بات سمجھ لی ہے۔ تم سب چلے جائو۔ شام کے بعد آنا ''۔
‫عمر درویش کے آدمی اس کے پاس جا بیٹھے اور پوچھا کہ اس آدمی کے ساتھ کیا باتیں ہوئی ہیں۔ عمر درویش نے جوا ب
‫دیا …… '' میں نے اسے قائل کر لیا ہے ''۔
‫لیکن یہ ہے کون ؟'' …… ایک آدمی نے کہا …… '' اسے ضرور پتا چل گیا ہے کہ کپڑے میں آتش گیر سیال ہے جو ''
‫جل اُٹھتا ہے''۔
‫تم کیوں فکر کرتے ہو؟''…… عمر درویش نے مسکرا کر کہا …… '' میں آج رات اس کے شکوک رفع کردوں گا ''۔ ''
‫اگر یہ رات کو آیا تو اسے ہم قتل کردیں گے'' …… دوسرے آدمی نے کہا ۔ ''
‫ابھی نہیں ''…… عمر درویش نے کہا …… '' کہیں ایسا نہ ہو کہ بنا بنایا کھیل بگڑ جائے۔ اگر یہ رات کو میرے پاس ''
‫آیا تو میں اسے خیمے میں بٹھالوں گا۔ تم اسے باندھ کر اُٹھا لے جانا''۔
‫ہم اس کا پیچھا کرتے ہیں'' …… تیسرے آدمی نے کہا …… '' اسے نظر میں رکھنا ضروری ہے''۔''
‫دو آدمی ا ُٹھے اور ان لوگوں سے جا ملے جو واپس جارہے تھے۔ ان دونوں نے علی بن سفیان کو ڈھونڈا مگر وہ ان میں نہیں
‫تھا۔ لوگوں سے پوچھا تو کوئی بھی نہ بتا سکا کہ وہ آدمی کہاں ہے جس کی داڑھی لمبی اور ایک آنکھ پر سبز پٹی بندھی
‫تھی ۔
‫علی بن سفیان گھوڑے پر سوار ہو کر دور نکل گیا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫عمر درویش خیمے میں آشی کے ساتھ اکیال رہ گیا تو آشی نے اس سے پوچھا…… '' یہ آدمی کون تھا؟ اس نے تمہارے
‫ساتھ اس طرح باتیں کی تھیں جیسے وہ تم سے اور تمہارے بہروپ سے واقف ہے''۔
‫سنو آشی !'' …… عمر درویش نے کہا …… '' آج رات کچھ ہونے واال ہے۔ میں بتا نہیں سکتا کہ کیا ہوگا۔ اس آدمی ''
‫کو میں پہچان نہیں سکا۔ اس نے بتایا بھی نہیں کہ وہ کون ہے لیکن یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ۔ مجھے اُمیدنہیں کہ آج
‫رات ہم فرار ہو سکیں اور یہ توقع بھی ہے کہ میں قتل ہوجائوں گا آج رات تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تمہاری رگوں میں
‫مسلمان باپ کا خون ہے ۔ اگر تم نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو تم میرے ہاتھوں قتل ہوگی ''۔
‫اگر تم مجھے کچھ اور بھی بتا دو کہ کیا ہوگا اورمجھے کیا کرنا ہے تو شاید میں زیادہ اچھے طریقے سے تمہاری مدد ''
‫کرسکوں گی ''۔ آشی نے کہا …… '' میں تمہاری خاطر قتل ہونے کے لیے تیار ہوں لیکن اس سے تمہارا مقصد پورا نہ ہوا
‫تو میری جان رائیگاں جائے گی''۔
‫تمہیں یہ کرناہے '' …… عمر درویش نے کہا …… '' کہ اپنے آدمیوں کی باتوں میں نہ آنا۔ کوشش کرنا کہ ان کا ارادہ ''
‫قبل از وقت معلوم کرلو اور مجھے خبردار کردو۔ میں بتا نہیں سکتا کہ آج رات کیا ہوگا تم تیار رہنا''۔
‫تم کئی بار کہہ چکے ہوکہ تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ''…… آشی نے کہا …… '' لیکن میں نے تمہیں ایک بار بھی نہیں''
‫''کہا کہ مجھے تم پر اعتبار نہیں ۔ اگر تم یہاں سے آزاد ہو گئے تو کیا تم مجھے بھی اپنے ساتھ لے جائو گے؟
‫''تم واپس جانا پسند نہیں کروگی؟''
‫نہیں''…… آشی نے زنجیدہ مگر پرعزم لہجے میں کہا …… '' مرجانا پسند کروں گی ''۔''

‫تم شہزادی ہو آشی!'' …… عمر درویش نے کہا ۔ '' میں نے یہ تو سوچا ہی نہیں تھا کہ تم میرے ساتھ چلو گی تو ''
‫تمہارا مستقبل کیا ہوگا۔ تم ان جنگلوں میں رہنا یقینا پسند نہیں کرو گی ۔ میں تمہیں قاہرہ لے جائوں گا ۔ وہاں تمہارے
‫متعلق سوچنے کے لیے بڑے اچھے دماغ موجود ہیں ''۔
‫''مجھے تم اپنے ساتھ نہیں رکھو گے ؟'' …… آشی نے پوچھا … … '' مجھے اپنی بیوی نہیں بنائو گے؟ ''
‫اگر یہ شرط ہے تو میں اسے قبول نہیں کرو گا ''…… عمر درویش نے کہا …… '' لوگ کہیں گے کہ میں نے اپنا فرض ''
‫تمہیں حاصل کرنے کے لیے ادا کیا ہے۔ میرا گھر جہاں میری ایک بیوی موجود ہے ‪ ،تمہارے قابل نہیں ۔ آشی ! میں سپاہی
‫ہوں ۔ میرا گھر میدان جنگ ہے۔ مجھے اپنی بیوی کی صورت دیکھے تین سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے۔ تم اگر اس لیے
‫میری بیوی بننا چاہتی ہو کہ میں تمہاری پسند کامرد ہوں تو تم کو مایوس ہوگی۔ تمہاری محبت اور تمہاری دعائیں اس تیر کو
‫نہیں روک سکیں گی جسے میرے سینے سے پار ہونا ہے …… تم مجھے اپنی خواہش بتادو ''۔
‫میں ذلت اورخواری کی اس زندگی سے آزاد ہونا چاہتی ہوں '' …… آشی نے کہا …… '' مجھے تمہاری مدد اور سہارے ''
‫کی ضرورت ہے۔ بعد میں جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ میں تمہارے راستے میں نہیں آئوں گی''۔
‫اگر زندہ رہا تو تمہیں پوری مدد اور سہارا دوں گا''۔''
‫آخر وہ گیا کہاں؟'' …… یہ آواز ان جاسوسوں میں سے ایک کی تھی جو عمر درویش کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ وہ اس ''
‫وقت عمر درویش کے خیمے سے کہیں دور کھڑے علی بن سفیان کے متعلق سوچ رہے تھے۔ اس نے کہا …… '' یہ بھی ہو
‫سکتا ہے کہ عمر درویش اس کے دل کو اپنے قبضے میں لینے کی بجائے اپنا دل اس کے قبضے میں دے چکا ہو۔ ہمیں اب
‫بہت ہی محتاط ہونا پڑے گا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ عمر درویش پر بھروسہ نہ کرنا''۔
‫وہ لمبی داڑھی واال آدمی آگ کا بھید جان گیا ہے'' …… دوسرے نے کہا …… '' اب یہ دیکھنا ہے کہ عمر درویش نے ''
‫اس بھید پر پردہ ڈاال ہے یا اس آدمی پر ''۔
‫آشی کس مرض کی دواہے؟'' …… تیسرے نے کہا …… '' کیا وہ عمر درویش کے دل کا حال معلوم نہیں کر سکتی ؟ یہ ''
‫تو ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ لڑکی بھی عمر درویش کی سازش میں شریک ہو گئی ہو''۔
‫اگر کوئی سازش ہے اور آشی اس میں شریک ہے تو اس کے متعلق حکم صاف ہے کہ قتل کردو ''۔ ایک نے کہا ۔ ''
‫کیا تم اتنی قیمتی چیز کو یوں ضائع کردو گے؟''…… دوسرے نے کہا …… '' اسے اڑا لے جائیں گے اور کسی دولت والے''
‫کو منہ مانگے داموں یہ ہیرا دے دیں گے۔ وہاں یہ بتائیں گے کہ آشی کو قتل کرکے دفن کر دیا ہے ''۔
‫تینوں نے ایک دوسرے کو ایسی نظروں سے دیکھا جیسے ان میں اتفاق رائے ہوگیا ۔ ایک نے کہا …… '' آج رات ہمیں 'طور
‫کا جلوہ ' دکھانا ہے۔ دیکھ لیں گے کہ عمر درویش یا اس کی نیت کیا ہے۔ رات کو ہم میں سے ایک کو آشی کے ساتھ
‫رہنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ لڑکی ہاتھ سے نکل جائے''۔
‫انہوں نے طے کر لیا کہ رات عمر درویش اور آشی کے ساتھ کون ہوگا۔''چار آدمی کافی ہوں گے ''…… علی بن سفیان نے
‫کہا …… '' میں عمر درویش کے ساتھ ہوں گا۔ تم سب نے ان تین چار آدمیوں کو پہچان لیا ہے جو عمردرویش کی حمایت
‫میں بول رہے تھے۔ یہ تمہارے عالقے کے وہ مسلمان ہیں جو سوڈانیوں کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ عمر درویش نے مجھے
‫انہی کے متعلق بتایا ہے کہ وہ قاتلوں کے گھیرے میں ہے۔ انہیں نظر میں رکھنا۔ ضرورت پڑے تو ختم کردینا لیکن زندہ پکڑنا
‫بہترہوگا''۔
‫اس وقت علی بن سفیان ایک مسجد میں بیٹھا تھا۔ امام اسی مسجد کا تھا۔ علی بن سفیان نے اپنا بہروپ اتار دیا تھا۔ اس
‫نے مسجد میں ہی رات کے لیے اپنے آدمیوں کو مختلف کام بانٹ دئیے اور کہا …… '' مجھے جوشک تھا وہ صحیح ثابت
‫ہوا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ رات کو بھی مجھے کامیابی ہوگی ''۔
‫سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے اس پہاڑی پر جو عمر درویش نے علی بن سفیان کو دکھائی تھی۔ ایک آدمی چڑھ رہاتھا۔ وہ
‫اس احتیاط کے ساتھ چڑھ رہا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ دوسری طرف سے دو آدمی اسی کی طرح جھکے جھکے اوپر جا رہے
‫تھے اور ایک آدمی کسی اور طرف سے اوپر جا رہا تھا ۔ یہ آدمی جب اوپر چال گیا تو رینگ کر ایک بہت بڑے درخت تک
‫پہنچا۔ ادھر ادھر دیکھا اور درخت پر چڑھنے لگا۔ دو آدمی ایک بہت بڑے پتھرکے عقب میں بیٹھ گئے۔ یہ جگہ درخت سے
‫دور نہیں تھی ۔ چوتھا آدمی بھی اوپر چال گیا اور ایک موزوں جگہ چھپ گیا۔ جو آدمی درخت پر چڑھا تھا ۔وہ اوپر ایک
‫موٹے ٹہن پر اس طرح بیٹھ گیا کہ ٹانگیں اوپر کرکے سکیڑ لیں ۔ شاخیں اور پتے اتنے گھنے تھے کہ یہ آدمی نیچے سے نظر
‫نہیں آسکتا تھا۔ وہ آہستہ سے ایک پرندے کی طرح بوال ۔ اسے پرندے کی آواز میں تین ساتھیوں کا جواب مال۔
‫سورج پہاڑ کے عقب میں اتر گیاتھا اور تین آدمی اکھٹے پہاڑی چڑھتے جا رہے تھے۔ ان کے پاس آگ جالنے کا سامان اور
‫مٹی کے برتن میں آتش گیر مادہ تھا۔ اس کے پاس لمبے خنجر بھی تھے۔ شام کا دھندلکا گہرا ہوتا جا رہا تھا ۔ ان تین
‫آدمیوں کاانداز ایسا تھا جیسے انہیں کسی بھی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ باتیں کرتے جارہے تھے ۔ ان کی باتیں ان چار
‫آدمیوں کو سنائی دینے لگیں جو پہلے سے وہاں چھپے بیٹھے تھے۔ وہ پوری طرح چھپ گئے ۔ وہاں سے دور نیچے عمر
‫درویش کا خیمہ تھا جو شام کے اندھیرے میں نظر نہیں آتا تھا۔ خیمے کے باہر گاڑھی ہوئی دو مشعلوں کے شعلے دکھائی دے
‫رہے تھے ۔
‫خدا کا ایلچی تیار ہوگیا ہے''۔ ان تین آدمیوں میں سے ایک نے ہنس کر کہا جو بعد میں آئے اوپر آئے تھے …… '' ''
‫سامان کھول کر تیار کرلو'' …… ''آج میرا دل کسی اور طریقے سے دھڑک رہا ہے '' … … دوسرے نے کہا …… '' اس
‫''کے اندر کوئی وہم بیٹھ گیا ہے ۔ کیا تم محسوس نہیں کر رہے کہ آج کچھ گڑبڑ ہے؟
‫میں بھی کچھ گڑبڑ اس آدمی کی وجہ سے محسوس کررہاہوں جس نے ایک آنکھ پر سبز پٹی باندھ رکھی تھی '' …… ''
‫ان میں سے ایک نے کہا …… '' گھبرائو نہیں ۔ ہم طور کا جلوہ دکھا کر سب کے وہم دور کر دیں گے ۔ اگر لوگ مان گئے
‫تو اس ایک آدمی کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ تم اپنا کام کرو۔ وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ اندھیرا گہرا ہو رہاہے''۔
‫ایک آدمی نے مٹی کا برتن کا منہ کھولکر تیل کی طرح سیال زمین پر انڈیل دیا ۔ جگہ چونکہ پتھریلی تھی اس لیے یہ مادہ
‫جذب نہ ہوسکا۔ اس سے ذرا دور ہٹ کر ایک آدمی نے چھوٹا سا دیا جال کر بڑے پتھروں کے درمیان رکھ دیا تا کہ دور سے
‫اس کی لو نظر نہ آسکے۔ اس کی روشنی میں تینوں آدمی نظر آرہے تھے۔
‫اب ادھر مشعل پر نظر رکھو''۔ ایک نے کہا …… '' جوں ہی مشعل اوپر نیچے حرکت کرے دیا تیل پر پھینک دو۔ ''
‫لوگوں کو طور کا جلوہ نظر آجائے گا''۔
‫یہ اہتمام اس بڑے درخت کے نیچے کیا گیا تھا جس پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ نیچے تینوں آدمی اکٹھے کھڑے ہوگئے۔ اس

‫نے جھینگر کی آواز پیدا کی۔ ایک بہت بڑے پتھر کے پیچھے سے بھی جھینگر کی آواز سنائی دی ۔ تینوں آدمی بے پرواہ
‫ہوکے کھڑے رہے۔ اچانک اوپر سے ایک آدمی ان تینوں میں سے ایک آدمی کے کندھوں پر گرا۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:39
‫قسط نمبر ‪97
‫طور کا جلوہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫آدمی کے کندھوں پر گرا۔ نیچے واال آدمی اوپر والے کے نیچے آگیا۔ دوسرے دو بری طرح گھبراگئے
‫اور ادھر ادھر ہوئے۔ ذرا سی دیر میں تین آدمی مختلف اوٹوں سے اُٹھے اور ان دونوں پر جھپٹ پڑے۔ انہیں خنجر نکالنے کی
‫مہلت نہ ملی۔ ان میں سے جو آدمی اوپر والے کے نیچے پڑا تھا وہ قوی ہیکل تھا ۔ اس نے اوپر والے کو لڑھکا دیا ۔ علی
‫بن سفیان نے کہا تھا کہ انہیں زندہ پکڑنا ہے مگر اس آدمی کوہالک کرنا ضروری ہوگیا ۔ جو آدمی اس کے اوپر گرا تھا اس
‫نے خنجر نکاال اور اس قوی ہیکل آدمی کے دل میں اتار دیا۔ دوسرے دو آدمیوں کوان رسیوں سے باندھ دیا گیا جو اسی مقصد
‫کے لیے ساتھ لے جائی گئی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫عمر درویش کے خیمے کے باہر لوگ جمع ہوگئے تھے۔ ان میں علی بن سفیان بھی تھا اور اس کے ساتھ مصری فوج کے
‫چھاپہ مار بھی خاصی تعداد میں موجود تھے جو اس عالقے میں مختلف بہروپوں میں رہتے تھے۔ انہیں دن کے دوران اکٹھا کر
‫لیا گیا اور بتا دیا گیا تھا کہ ان کا مشن کیا ہے۔ ان میں چند ایک گھوڑوں پر سوار تھے۔ ان کے پاس ہتھیار بھی تھے ……
‫لوگوں میں عمر درویش پر نظر رکھنے والے اور اس کی مدد کرنے والے سوڈانی جاسوس بھی تھے۔ ان کی تعداد پانچ چھ سے
‫زیادہ نہیں تھی ۔ علی بن سفیان نے انہیں پہچان رکھا تھا۔ وہ بھی مرنے مارنے کے لیے تیار ہو کر آئے تھے لیکن انہیں یہ
‫اندازہ نہیں تھا کہ ان کے مد مقابل کتنے آدمی ہیں۔
‫آشی اپنے مخصوص طلسماتی لباس اورحلیے میں باہر نکلی۔ اس نے اداکاری کی ۔ دونوں مشعلوں کے درمیان چھوٹا سا قالین
‫بچھایا ۔ عمر درویش خیمے سے نکال اور مستانہ چال چلتا قالین پر آن کھڑا ہوا۔ دونوں بازو پھیال کر آسمان کی طرف کیے
‫اور منہ اوپر کرکے کچھ بڑبڑانے لگا۔ آشی نے اس کے آگے سجدہ کیا پھر اس کے سامنے دوزانو بیٹھ گئی۔
‫اے خدا کے مقدس ایلچی ! جس کا احترام ہم سب پر فرض ہے'' …… آشی نے کہا …… '' انسانوں کا یہ گروہ طور ''
‫موسی علیہ السالم کو دکھایا تھا اور جنات بھی جن سے میں ہوں طور کا
‫کا وہ جلوہ دیکھنے آیا ہے جو خدائے ذوالجالل نے
‫ٰ
‫جلوہ دیکھنے آئے ہوئے ہیں ''۔
‫کیا ان سب کو شک ہے کہ میں خدا کا جو پیغام الیا ہوں وہ برحق نہیں ؟'' …… عمر درویش نے پوچھا۔ ''
‫اگر گستاخی معاف ہو تو مجھے بخش دینا اے خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر !'' ایک آدمی نے کہا …… '' طور کا جلوہ ''
‫دکھا کر ہم گناہ گاروں کے دلوں سے سارے شکوک نکال دیں گے''۔
‫علی بن سفیان نے اس آدمی کو دیکھا ۔ اسے وہ پہچانتا تھا۔ وہ عمر درویش کے ساتھ کا آدمی تھا۔
‫ہاں مقدس ہستی ! ''…… علی بن سفیان نے آگے آکر کہا …… '' ہم شک میں ہیں ۔ ہمیں طور کا جلوہ دکھا اور اگر ''
‫یہ لڑکی جنات میں سے ہے تو اسے کہہ کہ تھوڑی سی دیرکے لیے غائب ہو جائے ‪ ،پھر سارے شک ختم ہوجائیں گے''۔
‫عمر درویش نے درخت والی پہاڑی کی طرف اشارہ کرکے کہا …… '' ادھر دیکھو۔ اندھیرے میں تمہیں کچھ بھی نظر نہیں آرہا
‫'' …… اس نے زمین سے ایک مشعل اکھاڑی اور بلند کی ۔ اس نے اونچی آواز میں کہا …… '' خدائے ذوالجالل ! تیرے
‫موسی علیہ السالم کو دکھایا
‫سادہ اور جاہل بندے شکوک کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ۔ انہیں وہی جلوہ دکھا جو تو نے
‫ٰ
‫تھا اور جس سے فرعونوں کے نشیمن کو جالیا تھا ''۔
‫اس نے مشعل دائیں بائیں لہرائی پھر اوپر کرکے نیچے کی مگر پہاڑی پرکوئی شعلہ نمودار نہ ہوا۔ عمر درویش نے ایک بار
‫پھر مشعل کو اوپر سے نیچے کو لہرایا مگر پہاڑی پر چھوٹا سا شرارہ بھی نہ چمکا۔ پہاڑی پر عمر درویش کا ایک آدمی مرا
‫پڑا تھا اور دو رسیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ وہ علی بن سفیان کے چار آدمیوں کے قبضے میں تھے۔ انہیں وہاں سے عمر
‫درویش کی مشعل کی حرکت نظر آرہی تھی ۔ کسی نے کہا …… '' آج کسی کو طور کا جلوہ نظر نہیں آئے گا '' ……
‫سب نے قہقہہ لگایا۔
‫آج طور کا جلوہ نظرنہیں آئے گا '' …… علی بن سفیان نے بلند آواز سے کہا ۔ وہ عمر درویش سے مخاطب ہوا۔ ''
‫عمر درویش !اگر تو آج پہاڑی سے شعلہ اُٹھا دے تو میں خدا کی بجائے تیری عبادت کروں گا ''۔ ''
‫ایک آدمی نے خنجر نکاال اور علی بن سفیان کی پیٹھ کر طرف سے آگے گیا۔ وہ دوچار قدم آگے گیا ہوگا کہ پیچھے سے
‫ایک بازو اس کی گردن کے گرد لپٹ گیا ۔ کوئی بھی نہ دیکھ سکا کہ ایک آدمی خیمے کے عقب سے خیمے کے اندر چال
‫گیا ہے۔ اس نے خیمے میں سے آشی کو پکارا۔ آشی اندر آگئی۔
‫فورا ً نکلو ''…… اس آدمی نے آشی سے کہا …… '' ہمارا راز فاش ہو چکا ہے۔ یہ آدمی جس نے کہا ہے کہ آج طور کا''
‫جلوہ نظر نہیں آئے گا یہاں کا آدمی معلوم نہیں ہوتا ۔ یہ مصر سے آیا ہے۔ ہمارا ایک ساتھی پکڑا گیا ہے۔ یہاں کے مسلمان
‫جنگلی اور وحشی ہیں ۔ ہوسکتا ہے یہ عمر درویش کو قتل کردیں۔ ہم تو نکل جائیں گے ‪ ،تم ان کے ہاتھ آگئی تو تمہارے
‫ساتھ وحشیوں جیسا سلوک کریں گے ''۔
‫میں نہیں جائوں گی ''…… آشی نے مسکرا کر کہا …… ''مجھے ان وحشیوں اور جنگلیوں سے کوئی خطرہ نہیں''۔ ''
‫''کیا تم پاگل ہو گئی ہو ؟ ''
‫میں پاگل تھی ''…… آشی نے کہا …… ''اب دماغ درست ہوگیاہے۔ اب وہاں جائوں گی جہاں عمردرویش کہے گا ''۔''
‫باہر علی بن سفیان اور امام لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ وہ انہیں وہاں لے جائیں گے جہاں سے طور کا جلوہ نظر آنا تھا ۔
‫وہاں انہیں دکھایا جائے گا کہ انہوں نے ایک رات پہلے جو جلوہ دیکھا تھا اس کی حقیقت کیاتھی ۔ علی بن سفیان کے
‫چھاپہ ماروں نے لوگوں میں سے تین آدمیوں کو اس طرح پکڑ لیا تھا کہ کسی کو پتا نہ چل سکا۔ ان کے پہلوئوں کے ساتھ
‫خنجروں کی نوکیں لگا کر انہیں الگ اندھیرے میں لے گئے اور ان پر قابو پا لیا گیاتھا ۔ عمر درویش ابھی وہیں کھڑا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫خیمے کے اندر ایک سوڈانی جاسوس آشی کو بچانے کے لیے اسے ساتھ لے جانا چاہتا تھا ‪،مگر آشی سے انکار کر رہی
‫تھی ۔ وہ آدمی حیران تھا کہ لڑکی انکار کیوں کر رہی ہے۔ وہ بار بار یہی کہتا تھا کہ مسلمان جنگلی اور وحشی ہیں ۔ آشی

‫نے کہا …… '' تم بھی مسلمان ہو ‪ ،میں بھی مسلمان ہوں۔ میں اب اپنی قوم کو چھوڑ کر نہیں جائوں گی ''۔
‫باہر غل غپاڑہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس آدمی نے لمبا خنجر نکال لیااور آشی کو قتل کی دھمکی دے کر ساتھ چلنے کو کہا ……
‫آشی نے تلوارایسی جگہ رکھی ہوئی تھی ۔ جہاں سے فورا ً نکالی جا سکتی تھی۔ عمر درویش نے اسے کہہ رکھا تھا کہ ہتھیار
‫ہر لمحہ تیار رہنے چاہئیں۔ آشی نے لپک کر تلوار کھینچ لی اور کہا …… ''ہم دونوں میں سے کوئی بھی باہر نہیں جائے
‫گا''۔
‫ایک مرد کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج تھا کہ اسے ایک عورت للکارے ۔ وہ جان گیا کہ یہ معاملہ گڑبڑ ہے اور اتنی قیمتی
‫لڑکی ہاتھ سے جارہی ہے۔ اس کو قتل کردیا یا اڑا لے جانا ضروری ہوگیا تھا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ آشی تیغ زنی کی
‫سوجھ بوجھ رکھتی ہے یا نہیں۔ وہ خنجر سے اس پر حملہ آور ہوا۔ آشی نے اس کے خنجر پر تلوار ماری۔ خنجر اس کے
‫ہاتھ سے چھوٹ گیا لیکن خیمے سے ٹکرا کر اس کے قریب گرا۔ اس نے خنجر اُٹھا لیا۔ آشی نے اس پر تلوار کا وار کیا۔ وہ
‫تجربہ کار تیغ زن تھا ۔ وار بچا گیا۔ آشی نے کہا …… '' میرا استاد بھی وہی ہے جس نے تمہیں تیغ زنی سکھائی ہے''۔
‫اس نے آشی کا ایک اور وار اس طرح روکا کہ ایک طرف ہو ا اور آشی کے سنبھلنے تک اس کے اوپر آگیا۔ اس نے آشی
‫کی کالئی پکڑ لی اور بوال …… '' میں تمہیں قتل نہیں کروں گا آشی ! ہوش میں آئو '' …… آشی نے اس کی ناک پر
‫ٹکر ماری ۔ وہ پیچھے ہٹا تو وار اس کے خنجر پر کرکے خنجر پھر گرا دیا ۔ وہ وار بچانے کے لیے پیچھے ہٹا تو خیمے نے
‫اسے روک لیا۔ اب تلوار کی نوک اس کی شہہ رگ پر تھی۔ آشی نے کہا …… ''میں مسلمان باپ کی بیٹی ہوں''…… اس
‫نے نوک اس آدمی کی شہہ رگ میں دبائی اور بولی …… ''بیٹھ جائو۔ ہاتھ پیچھے کرلو۔ میری طاقت میرا ایمان ہے ۔ میں
‫اب کھلونہ نہیں ''۔
‫باہر اب یہ عالم تھا کہ ایک مشعل علی بن سفیان نے ا ُٹھالی تھی اور دوسری امام نے ۔ چار پانچ چھاپہ ماروں نے عمر
‫درویش کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ اسے انہوں نے مجرموں کی حیثیت سے حراست میں نہیں لیا تھا بلکہ حفاظت کے
‫لیے اسے اپنی پناہ میں لے لیا تھا۔ خطرہ یہ تھا کہ جو سوڈانی جاسوس اس کے ساتھ لگے ہوئے تھے ۔ وہ اسے قتل
‫کرسکتے تھے لیکن معلوم ہوتا تھا کہ ان میں سے اب کوئی بھی آزاد نہیں تھا۔ یہ ہدایت علی بن سفیان نے دی تھی کہ
‫جوں ہی ہنگامہ شروع ہو ‪ ،عمر درویش کو پناہ میں لے لیا جائے۔
‫عمر درویش نے ایک چھاپہ مار سے کہا …… '' خیمے میں لڑکی ہے ‪ ،اسے بھی ساتھ لے چلنا ہے۔ وہ مسلمان ہے''۔
‫خیمے میں گئے تووہاں کچھ اور ہی منظر تھا۔ آشی نے تلوار کی نوک پر ایک آدمی کو بٹھا رکھا تھا ۔ اس آدمی کو پکڑ لیا
‫گیا۔ عمردرویش سے علی بن سفیان نے کہا …… '' مجھے یقین ہے کہ میرے آدمی اس پہاڑی پر پہنچ گئے ہیں ‪ ،اسی لیے
‫وہاں سے شعلہ نہیں ا ُٹھا ۔ بہتر یہ ہے کہ لوگوں کو ابھی وہاں لے جاکر دکھایا جائے کہ شعلہ کیسے پیدا کیا جاتا ہے تا کہ
‫جو اس شعبدہ بازی کے جھانسے میں آگئے ہیں ‪ ،ان کے ذہن صاف ہوجائیں ''۔
‫ایک مسئلہ اور ہے جس کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے '' …… عمر درویش نے کہا …… '' اسحاق کو قید خانے ''
‫سے رہا کرانا ہے ۔ اس عالقے میں سوڈانیوں کے بہت سے جاسوس ہیں ۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی یہاں کے حاالت کی
‫اچانک اور غیر متوقعہ تبدیلی دیکھ کر حکومت اور فوج کو اطالع دے دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اسحاق کو قید خانے
‫کے تہہ خانے میں ڈال کر اسے اذیت رسانی سے مار دیا جائے گا۔ میں سوڈانی ساالر کو یہ دھوکہ دے کر آیا تھا کہ میں
‫یہاں کے مسلمانوں کے ذہن بدل دوں گا ۔ میں نے قید خانے میں اسحاق کے ساتھ بات کر لی تھی اور اسے بتا دیا تھا کہ
‫میں سوڈانیوں کی بات مان لیتا ہوں اور اپنے عالقے میں جا کر چند دن ان کی مرضی کے مطابق کام کروں گا۔ میرا ارادہ تھا
‫کہ یہاں آکر لوگوں کو درپردہ بتادوں گا کہ میرا اصل مقصد کیاہے۔ میرا ارادہ یہ بھی تھا کہ قاہرہ بھی اطالع بھیجوادوں گا اور
‫…… اسحاق کو فرار کرانے کی بھی کوئی صورت پیدا کروں گا
‫یہاں آیا تو مجھے پتا چال کہ بہت سے سوڈانی جاسوس جو اسی عالقے کے مسلمان ہیں ‪ ،میرے ارد گرد پھر رہے ہیں ''
‫اور میں آزاد نہیں ہوں۔ اتفاق سے یہ لڑکی مسلمان نکلی ……اس نے آشی کے ماضی کے متعلق سب کو تفصیل سنائی اور کہا
‫…… مجھے ا ُمید نہیں تھی کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائوں گا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ ہمارے مسلمان بھائی اس قدر
‫سادہ اور جذباتی ہیں کہ میری باتوں اور شعبدہ بازیوں کے قائل ہوتے گئے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا
‫کروں۔ میں ہر لمحہ سوڈانی جاسوسوں کی نظر میں رہتا تھا۔ خدا نے میری نیت کی قدر کی اور آپ کو بھیج دیا ''۔
‫اس نے علی بن سفیان کو بتایا کہ اس نے کیا سوچا ہے۔ علی بن سفیان نے اس کی سکیم پر غور کیا ۔ کچھ ردوبدل کی
‫اور اسے کہا وہ دو چھاپہ ماروں اور آشی کے ساتھ اسی وقت روانہ ہوجائے اور اسحاق کو رہاکرائے ۔ علی بن سفیان نے اسے
‫بتایا کہ وہ لوگوں کو اس پہاڑی پر لے جائے گا اور انہیں بتائے گا کہ طور کے جلوے کی حقیقت کیا تھی ۔
‫عمر درویش ‪ ،دو چھاپہ مار اور آشی اسی وقت گھوڑوں پر روانہ ہوگئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ خیمے کی پچھلی جانب سے چپکے سے نکل گئے تھے۔ علی بن سفیان خیمے سے باہر نکال۔ لوگ پریشانی اور حیرت کے
‫عالم میں باہر ٹولیوں میں کھڑے چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ علی بن سفیان نے بلند آواز سے کہا …… '' اگر تم طور کے
‫جلوے کی حقیقت دیکھنا چاہتے ہو تو ہمارے ساتھ آئو۔ تم سب جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
‫پیغمبری اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ اس کے بعد خدا نے کسی کو کبھی جلوہ یا معجزہ دکھایا ہے نہ دکھائے گا۔ اس
‫آدمی کو تمہارے عقیدے خراب کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تم نے غور نہیں کیا کہ یہ شخص تمہیں صرف یہ بات کہتا رہاہے
‫کہ سوڈان کی فوج کو تم نے اس عالقے سے ہمیشہ دور رکھا ہے ۔ اب سوڈانیوں نے تمہارے دلوں پر قبضہ کرنے کے لیے یہ
‫…… حربہ استعمال کیا ہے
‫غیور مسلمانو ! دشمن جب اس قسم کے اوچھے حربوں پر اتر آتا ہے تو یہ اس حقیقت کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ میدان ''
‫میں تمہارے مقابلے میں آنے سے ڈرتاہے۔ تم حق پر ہو۔ یہ خطہ تمہارا ہے۔ یہاں اسالم کی حکومت ہوگی۔ کفار تمہارے دلوں
‫سے قوم اور مذہب کا احساس ختم کرنے کے جتن کر رہے ہیں۔ آج تمہیں طور کے جلوے دکھائے جا رہے ہیں ۔ کل تمہیں
‫صلیبی لڑکیوں کے جلوے دکھا کر تم میں بے حیائی پیدا کی جائے گی۔ تمہیں انسان سے حیوان بنا یا جائے گا ‪ ،پھر تم
‫محسوس بھی نہیں کرو گے کہ تم عزت‪ ،غیرت اور وقار سے محروم ہوگئے ہو۔ تم کفار کے غالم ہوگے۔ سوڈان کا بادشاہ
‫مسلمان نہیں ہے۔ وہ کافر ہے۔ اسالم کا دشمن اور صلیبیوں کادوست ہے۔ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری بیٹیاں کفار کے
‫بیٹیوں کی طرح مردوں کے ساتھ شراب پیئیں اور بدکاری کریں؟ کیا تم پسند کرو گے کہ مسجدیں ویران ہوجائیں اور قرآن کے
‫''ورق زمین پر روندے جائیں ؟

‫رب کعبہ کی قسم !ہم ایسا نہیں چاہتے ''…… ایک آواز آئی …… '' اسے ہمارے سامنے الئو۔ جو اپنے آپ کو خدا کا ''
‫ایلچی کہتاہے''۔
‫وہ بے قصور ہے '' …… علی بن سفیا ن نے کہا …… '' وہ تم میں سے ہی ہے۔ وہ اب اصلی روپ میں تمہارے ''
‫سامنے آئے گا اور تمہیں بتائے گا کہ کفار کس طرح تمہاری جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ ابھی تم میری باتیں سنو ۔ تم
‫مسلمان ہو۔ خدا نے تمہیں برتری اور فوقیت عطا فرمائی ہے۔ کفار تمہیں خدا کی عطا کی ہوئی عظمت سے بیگانہ کرنا
‫چاہتے ہیں ''۔
‫تم کون ہو؟'' …… کسی نے بلند آواز سے کہا …… '' تمہاری باتوں میں دانائی ہے۔ کیا تم ہمیں دکھا سکتے ہو کہ یہ ''
‫''سب کیا تھا جو ہمیں دکھایا گیا ہے؟
‫میں تمہیں دکھاتا ہوں'' …… علی بن سفیان نے کہا …… '' خیمے میں سے ایک برتن اُٹھایا جس میں تیل کی قسم کا ''
‫آتش گیر سیال تھا۔ اس نے یہ تیل ایک کپڑے پر ڈال کر زمین پر رکھ دیا۔ اس پر پانی ڈاال۔ مشعل اُٹھا کر اس کا شعلہ
‫کپڑے کے قریب کیا تو کپڑا بھڑک کر شعلہ بن گیا۔ اس نے سب کو بتایا کہ جس کپڑے پر پانی ڈال کر عمر درویش آگ لگاتا
‫تھا وہ بھی اسی تیل سے بھیگاہو تا تھا ۔
‫اب میں تمہیں وہ آدمی دکھاتا ہوں جو اس کے ساتھی تھے''…… علی بن سفیان نے کہا ۔ اس نے کسی کو آواز دے کر ''
‫کہا …… ''انہیں سامنے لے آئو''۔
‫لوگوں کے ہجوم سے کچھ دور اندھیرے میں وہ آدمی پکڑے کھڑے تھے جو عمر درویش کے سوانگ میں شامل تھے۔ انہیں
‫چھاپہ ماروں نے نرغے میں لے رکھا تھا۔ اچانک شور ا ُٹھا۔ گھوڑا دوڑنے کی آوازیں سنائی دیں۔ کسی نے بلند آواز سے کہا ……
‫'' ایک بھاگ گیا'' …… ایک جاسوس نکل گیا۔ دوسروں کو سامنے الیا گیا۔ مشعل اوپر کرکے ان کے چہرے سب کو دکھائے
‫گئے۔
‫یہ مسلمان ہیں '' …… کئی آوازیں ا ُٹھیں …… ''انہیں سنگسار کردو''…… لوگ ان کی طرف بڑھے۔ مشعلوں کی روشنی ''
‫میں تلواریں چمکیں …… '' ُرک جائو'' …… علی بن سفیان نے درمیان میں آکر کہا …… '' خدا کا قانون اپنے ہاتھ میں نہ
‫لو ۔ ان کی سزا تمہارے بزرگ مقرر کریں گے۔ انہیں حراست میں لے لواور میرے ساتھ آئو ''۔
‫سارے لوگ علی بن سفیان کے پیچھے چل پڑے۔ وہ انہیں اس پہاڑی کی طرف لے جا رہا تھا جہاں اس کے چھاپہ ماروں نے
‫ایک آدمی کو ہالک کر دیا تھا اور دو کو رسیوں سے باندھ رکھا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس وقت عمر درویش ‪ ،آشی اور دو چھاپہ مار دور نکل گئے تھے۔ وہ سوڈان کے دارالحکومت کی طرف جارہے تھے۔
‫دوستو !'' …… عمر درویش نے دوڑتے گھوڑے سے کہا …… '' ہمیں بہت جلدی پہنچنا ہے …… آشی ! اگر تم سواری ''
‫سے تھک جائو تو میرے پیچھے بیٹھ جانا۔ سفر بڑا ہی لمبا اور وقت بہت ہی تھوڑا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کوئی جاسوس ہم
‫سے پہلے نہ پہنچ جائے ''۔
‫جاسوس بھی دارالحکومت کو روانہ ہوگیا تھا ۔ یہ وہی تھا جو علی بن سفیان کے آدمیوں کی حراست سے بھاگا تھا۔ وہ ایک
‫وادی میں چال گیا تھا کیونکہ اسے تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ وادی سے نکال اور اس نے دارالحکومت کا رخ کرتے بہت دور کا چکر
‫کاٹا۔ اتنے وقت میں عمر درویش بہت دور نکل گیا تھا۔ جاسوس کو یہ خبر دینی تھی کہ عمر درویش کا راز بے نقاب ہوگیا
‫ہے۔ اسے عمر درویش پر شک کا اظہار بھی کرنا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عمر درویش کو ایک بار پھر قید خانے میں
‫بند ہونا تھا۔ عمردرویش اس سے پہلے پہنچ کر سوڈانی ساالر کو دھوکہ دینا اور اسحاق کو رہا کرانا چاہتا تھا۔ آشی کو اس
‫سکیم کا علم تھا اور وہ گواہ کی حیثیت سے ساتھ جارہی تھی ۔
‫لوگ مشعلوں کی روشنی میں پہاڑی پر چڑھتے جارہے تھے۔ علی بن سفیان آگے آگے تھا۔ پہاڑی کی چوٹی پر اس کے آدمیوں
‫نے دو جاسوسوں کو باندھ رکھا تھا۔ انہیں مشعلیں اوپر آتی نظر آرہی تھیں۔ ایک آدمی نے دیا اوپر کردیا تھا کہ آنے والوں کو
‫معلوم ہوجائے کہ انہیں کہاں آنا ہے۔
‫ہمارے ساتھ چلو'' …… رسیوں سے بندھے ہوئے ایک آدمی نے کہا …… '' جو مانگو گے ملے گا ہمیں چھوڑ دو ''۔''
‫کیا تم ہر مسلمان کو ایمان فروش سمجھتے ہو؟'' …… اسے جواب مال …… ''دنیا کی دولت اور دوزخ کی آگ میں کوئی''
‫فرق نہیں۔ تم اپنی قوم کو دھوکہ دے رہے ہو''۔
‫وہ آرہے ہیں'' …… دوسرے قیدی نے کہا …… '' وہ ہمیں سنگسار کردیں گے۔ یہ بڑی اذیت ناک موت ہوگی …… کہو کیا''
‫لیتے ہو۔ ہم دوسری طرف سے بھاگ چلتے ہیں۔ سونا دیں گے ''۔
‫جوں جوں مشعلیں اوپر آرہی تھیں‪ ،دونوں قیدیوں کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی ۔ ایک نے کہا …… '' تمہارے پاس تلواریں
‫ہیں ۔ ان سے ہماری گردنیں کاٹ دو۔ ہمیں ان لوگوں سے بچائو ''۔
‫اللہ سے گناہوں کی بخشش مانگو''۔''
‫مشعلیں ان کے سر پر آن رکیں۔ علی بن سفیان نے لوگوں کو دور دور کھڑا کر دیا۔ لوگ دو آدمیوں کو رسیوں میں بندھا دیکھ
‫کر حیران ہونے لگے۔
‫یہ ہیں طور کا جلوہ دکھانے والے''…… علی بن سفیان نے لوگوں سے کہا اور زمین پر دیکھا۔ وہاں آتش گیر سیال گرا ہوا''
‫تھا۔ ذرا پرے برتن پڑا تھا۔ اس نے کہا …… '' اس برتن میں وہی تیل تھا جو میں نے کپڑے پر ڈال کر دکھایا تھا۔ یہ تیل
‫یہاں گرایا گیا ہے۔ میں نے چار آدمی شام کے وقت یہاں چھپا دئیے تھے۔ عمردرویش کی مشعل کے اشارے پر ان دونوں نے
‫اس دئیے سے اس تیل کو آگ لگانی تھی اور یہ طور کاجلوہ تھاجو تم لوگ نہ دیکھ سکے کیوں کہ میرے آدمیوں نے انہیں
‫لگانے سے پہلے ہی پکڑ لیا تھا''۔
‫یہ تین تھے '' …… ایک آدمی نے کہا ۔ '' تیسرے نے ہمارا مقابلہ کیا ۔ اس کی الش درخت کے ساتھ پڑی ہے ''۔ ''
‫علی بن سفیان نے مشعل تیل پررکھا تو تیل جل ا ُٹھا۔ شعلہ اوپر تک آیا اور آہستہ آہستہ بجھنے لگا۔ علی بن سفیان نے
‫کہا …… '' کیا اس کے بعد کسی شک کی گنجائش رہ جاتی ہے کہ خدا سے تمہارا رشتہ توڑ کر تمہیں آتش پرست بنایا
‫جارہا تھا '' …… اس نے ان دو آدمیوں سے جو رسیوں سے بندھے ہوئے تھے پوچھا …… '' کیا میں جھوٹ کہہ رہا
‫''ہوں؟
‫مجھے بخش دو '' …… ایک نے خوفزدہ آواز میں کہا …… ''تم نے جو کہا سچ کہا ہے''۔ ''
‫''کیا تم اسی عالقے کے مسلمان نہیں ہو؟''

‫ہاں!'' …… دونوں نے سر ہالئے۔''
‫''! کیا تمہیں صلیبیوں اور سوڈانی کفار نے اس کام کی تربیت نہیں دی ''
‫انہوں نے ہی دی ہے ''۔''
‫''اور تم اپنی قوم کو دھوکہ دینے اور اپنے مذہب کو تباہ کرنے کا انعام نہیں لیتے؟ ''
‫ہاں!'' …… ایک نے جوا ب دیا …… ''ہم اس کا انعام لیتے ہیں''۔''
‫ہمیں بخش دو '' …… دوسرے نے کہا …… ''ہم اپنی قوم کے لیے جانیں قربان کردیں گے''۔''
‫پیچھے سے ایک جوشیلے مسلمان نے اتنی تیزی سے تلوار کے دو وار کیے کہ دونوں کے سر جسموں سے جدا ہو کر گر پڑے۔
‫اگر میں قاتل ہوں تو مجھے قتل کر دیا جائے'' …… تلوار چالنے والے نے تلوار لوگوں کے آگے پھینک کر کہا ۔ ''
‫خدا کی قسم‪ ،یہ شخص قاتل نہیں ہے '' …… امام نے کہا ۔ ''
‫یہ قتل جائز تھا ''……ایک شور ا ُٹھا۔عمردرویش نے سحر کے آغاز میں گھوڑے روکے۔ چھاپہ ماروں اور آشی سے کہا کہ ذرا''
‫آرام کرلیں۔ گھوڑوں کو بھی آرام دینا ضروری تھا۔ دارالحکومت کی طرف جانے واال جاسوس آدمی رات تک چال اور ایک جگہ
‫آرام کرنے کے لیے ُر ک گیا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ عمر درویش آگے آگے جا رہا ہے۔ وہ لیٹا اور سو گیا۔ صبح طلوع ہوتے
‫ہی عمر درویش نے اپنے قافلے کو گھوڑوں پر سوار کیا اور روانہ ہوگیا ۔ وہ فوجی تھا۔ چھاپہ مار بھی سختیاں برداشت کرنے
‫کے عادی تھے۔ آشی لڑکی تھی جو محالت میں رہنے کی عادی تھی۔ اسے ٹریننگ تو ملی تھی لیکن اس کی زندگی عیش
‫وعشرت میں گزر رہی تھی۔
‫آشی !'' …… عمر درویش نے اسے دوڑتے گھوڑے سے کہا …… '' تمہارا چہرہ اُتر گیا ہے۔ تم شب بیداری کی بھی ''
‫عادی نہیں ۔ میرے گھوڑے پر آجائو ''۔
‫آشی مسکرائی اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔ عمر درویش نے اسے ایک بار پھر کہاکہ وہ اپنا گھوڑا چھوڑ دے ۔ آشی نے
‫انکار میں سر ہال دیا۔ گھوڑے دوڑے جا رہے تھے ۔ کچھ دور آگے جا کر ایک چھاپہ مار نے عمر درویش سے کہا …… ''
‫لڑکی اونگھ رہی ہے گر پڑے گی''۔
‫عمر درویش نے اپنا گھوڑا آشی کے قریب کیا اور باگیں کھینچ لیں۔ آشی بیدار ہوگئی ۔ عمر درویش نے اسے کہا وہ اس کے
‫آگے سوار ہوجائے۔
‫میں سہارا نہیں لینا چاہتی''…… آشی نے کہا …… سہارا دوں گی۔ مجھے اپنا عہد پورا کرنا ہے۔ مجھے اپنے ماں باپ کے''
‫قتل کا اور اپنی عصمت کا انتقام لینا ہے۔ میں جاگنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
‫گھوڑے چلے۔بہت آگے جا کر آشی نیند پر قابو نہ پا سکی ۔عمر درویش اس کے قریب تھا ۔ اگر وہ دیکھ نہ لیتا تو آشی گر
‫پڑتی۔ اس نے گھوڑے روک کر آشی سے کوئی بات کئے بغیر اسے کمر سے پکڑا اور اپنے گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا۔ ایک
‫چھاپہ مار نے آشی کے گھوڑے کی باگیں اپنی زین کے ساتھ باندھ لیں اور گھوڑے دوڑ پڑے۔ آشی نے سر عمردرویش کے سینے
‫پر پھینک دیا اور گہری نیند سو گئی۔ اس کے کھلے بال عمر درویش کے چہرے پر پڑنے لگے۔ ایسے مالئم اور ریشمی بالوں
‫سے لمس سے وہ آشنانہیں تھا مگر ان بالوں نے اس پر وہ اثر نہ کیا جو ایک جوان مرد پر ہونا چاہئے تھا۔ اسے آشی کی
‫‪ :باتیں یاد آنے لگیں
‫تمہاری آغوش میں مجھے اپنے ماں باپ کی آغوش کا سرور آیا تھا '' …… آشی نے اسے صحرا میں چند راتیں پہلے ''
‫کہاتھا …… ''مجھے تو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ میرے ماں بھی باپ تھے۔ تم نے میرا ماضی میرے آگے رکھ دیا ہے ''……
‫پھر عمردرویش کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہوا کے زناٹوں سے اسے آشی کی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہوں …… ''
‫مجھے اپنے سینے اور اپنے بازوئوں کی پناہ میں لیے رکھو۔ میں مسلمان کی بچی ہوں۔ مجھے صلیبیوں کے حوالے نہ کردینا
‫…… خون …… خون …… مجھے خون نظر آرہا ہے۔ یہ میرے باپ کا خون ہے۔ یہ میری ماں کا خون ہے۔ دونوں خون مل کر
‫بیت المقدس کی ریت میں جذب ہوگئے ہیں …… عمر درویش …… تمہاری رگوں میں ہاشم درویش کا خون دوڑ رہا ہے۔ تمہیں
‫اس کا لہو کا خراج وصول کرناہے جو بیت المقدس کی ریت میں جذب ہو گیا تھا۔ تمہیں فلسطین کی آبرو پکار رہی ہے۔ قبلہ
‫''! اول کو دل سے اتار نہ دینا ہاشم کے بیٹے
‫چھاپہ ماروں نے دیکھا کہ عمر درویش نے گھوڑے کو ایڑ لگا دی تھی ۔ چھاپہ ماروں کو بھی اپنے گھوڑوں کی رفتارتیز کرنی
‫پڑی۔ آشی کے بال اور زیادہ بکھر کر ہواکے زناٹوں سے اس کے چہرے پر اڑنے لگے۔
‫عمردرویش!'' …… ایک چھاپہ مار نے گھوڑا اس کے قریب کرکے کہا …… '' گھوڑے کسی چوکی سے بدلنے کی تو اُمید ''
‫نہیں ‪ ،گھوڑے کو اس طرح نہ مارو۔ ذرا آہستہ …… ذرا آہستہ ''۔
‫عمردرویش نے چھاپہ مار کی طرف دیکھااور مسکرادیا ۔ اس نے گھوڑے کی رفتارذرا کم کردی اور بوال …… '' خدائے ذوالجالل
‫ہمارے ساتھ ہے۔ گھوڑے تھکیں گے نہیں ''۔
‫اس کی آواز سے آشی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے گھبرا کر پوچھا …… '' میں کتنی دیر سوئی رہی ؟ میرا گھوڑا کہا ں
‫''ہے؟
‫تم تو سو گئی تھی ''۔ عمردرویش نے کہا …… '' لیکن میرے ایمان کی جو رگ سوئی ہوئی تھی وہ جاگ اُٹھی ''
‫ہے…… ا ُٹھو۔ اپنے گھوڑے پر سوار ہو جائو۔ ہم شام تک منزل پر پہنچ جائیں گے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫علی بن سفیان اسی گائوں میں چال گیا تھا جسے مسلمانوں نے اپنی زمین دوز سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا تھا۔ اس نے اپنے
‫چھاپہ ماروں اور جاسوسوں کے سپرد یہ کام کیا کہ تمام عالقے میں پھیل کر عمردرویش کی شعبدہ بازیوں کی حقیقت بتادیں۔
‫اس نے وہاں کے لیڈروں کو بتایا کہ وہ لوگوں کو تیار کرلیں۔ یہ عالقہ بہرحال سوڈان کا تھا۔ جہاں مسلمانوں کو من مانی
‫کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ سوڈانی فوج حملہ کرنے کا حق رکھتی تھی۔ مسلمانوں نے اپنے عالقے میں اپنا قانون رائج کر
‫رکھا تھا۔ انہوں نے جن جاسوسوں کو گرفتار کیا تھا انہیں اپنے بنائے ہوئے قید خانے میں ڈال دیا تھا۔ انہیں سزا دینی تھی
‫جو سوڈانی قانون کے مطابق جرم تھا۔ ان مجرموں نے جو کچھ بھی کیا سوڈانی حکومت کی بہتری کے لیے کیا تھا۔ علی بن
‫سفیان نے خطرہ مول لیا تھا ۔ اس نے چھاپہ ماروں کی دو پارٹیاں تیار کرلیں۔
‫قید خانے میں اسحاق کو ایک اچھے کمرے میں رکھا گیا تھا۔ اسے نہایت اچھا کھانا باعزت طریقے سے دیا جاتا تھا۔ وہ
‫اچھی طرح سمجھتا تھا کہ اس کے ساتھ اچھاسلوک کیوں ہو رہاہے۔ عمردرویش اسے اپنی پوری سکیم بتا کر گیا تھا ۔ اسحاق
‫تنہائی میں بیٹھا اسی کے متعلق سوچتا رہتا تھا۔ اسے دو خطرے نظر آرہے تھے۔ ایک یہ کہ عمردرویش نے قید خانے کی

‫اذیتوں سے تنگ آکر سوڈانیوں کے ہاتھوں میں کھیلنا شروع کردیا ہوگا۔ دوسرا خطرہ یہ کہ عمردرویش کہیں اپنے ہی منصوبے
‫کی نظر نا ہوگیا ہو۔ اسحاق اپنے فرارکے متعلق بھی سوچتا رہتا تھا لیکن اسے کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ سوڈانیوں کے
‫لیے وہ قیمتی قیدی تھا جس پر انہوں نے اضافی پہرے لگا رکھے تھے ۔ جب سے عمر درویش اس سے الگ ہوا تھا اسے
‫کسی نے نہیں کہاتھا کہ وہ اپنی قوم کو سوڈان کا وفادار بنائے …… سوڈانی ساالر جو اس کے پیچھے پڑا رہتا تھا اس کے
‫سامنے بھی نہیں آیا تھا۔
‫سورج غروب ہو چکا تھا۔ چار گھوڑے سوڈان کے دارالحکومت میں داخل ہوئے اور سیدھے فوج کے مرکز کے سامنے جا رکے۔
‫عمردرویش کو معلوم تھا کہ اسے کہاں جانا اور کسے ملناہے۔ اسے ذہنی تخریب کاری کی تربیت یہیں سے ملی تھی ۔ اس
‫نے محافظ دستے کے کمانڈر کو اس سوڈانی ساالر کا نام بتایا جس نے اسے اس کام کے لیے تیا ر کیا تھا۔ اسے فورا ً ساالر
‫کے گھر پہنچا دیا گیا۔
‫ناکام لوٹے ہو یا کوئی اچھی خبر الئے ہو؟'' سوڈانی ساالر نے دیکھتے ہی کہا ۔ ''
‫اچھی خبر سنیں '' …… عمردرویش نے آشی کی طرف اشارہ کرکے کہا …… '' آپ مجھ پر اعتبار نہ کریں ''۔ ''
‫آشی تھکن سے چور پلنگ پرگر پڑی۔ وہ مسکرارہی تھی ۔ اس نے عمر درویش سے کہا …… '' انہیں ساری بات خود ہی
‫بتائو اور ذرا جلدی کرو۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ''۔
‫ہماری مہم اتنی جلدی کامیاب ہوئی جس کی مجھے بالکل امید نہیں تھی ''۔عمر درویش نے کہا اور پوری تفصیل سے ''
‫سنایا کہ اس نے کس طرح پانی کو آگ لگائی اور طور کے جلوے دکھائے ہیں۔
‫اور اس کے بولنے کا جو انداز تھا اس نے تو مجھے حیران ہی کر دیا تھا ''۔ آشی نے عمر درویش کے متعلق کہا۔ '' ''
‫لوگ اس کے شعبدوں سے اتنے متاثر نہیں ہوئے جتنے اس کی زبان سے ۔
‫کیا آپ کو ابھی تک کوئی بتانے نہیں آیا کہ وہاں ہم نے کس حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے ؟'' …… عمردرویش نے ''
‫پوچھا۔
‫کوئی بھی نہیں آیا '' …… سوڈانی ساالر نے کہا …… '' میں تم دونوں کے متعلق پریشان تھا''۔''
‫عمردرویش کو یہ سن کر اطمینان ہوا کہ ابھی تک کوئی جاسوس نہیں پہنچا۔ جاسوس جو مسلمانوں کی حراست سے فرار ہو
‫کر آرہا تھا وہ بھی دور تھا۔ اس کی رفتار وہ نہیں تھی جو عمر درویش کی تھی ۔ اس رفتار سے اسے صبح کے وقت
‫پہنچناتھا۔ عمردرویش کا دھوکہ اسی جاسوس کی غیر حاضری میں ہی چل سکتا تھا۔ اس کے پہنچتے ہی اصل صورت حال بے
‫نقاب ہوتے ہی عمر درویش کو قید خانے میں بند ہونا تھا۔
‫اب مجھے اسحاق کی ضرورت ہے ''۔ عمردرویش نے کہا …… '' میں آدھے سے زیادہ مسلمانوں کے ذہن صاف کر ''
‫چکاہوں ۔ میں نے انہیں اس پر آمادہ کر لیا ہے کہ وہ سوڈان کے وفادار ہوجائیں۔ میں نے صالح الدین ایوبی کے خالف نفرت
‫اور دشمنی پیداکر دی ہے۔ میں نے ثابت کر دیا ہے کہ صال ح الدین ایوبی فرعونوں کا جانشیں ہے۔ اب مسلمانوں کا اپنا
‫کوئی قائد کہہ دے کہ ہمیں سوڈان کا وفادار ہونا چاہیے۔ اس عالقے کی تمام تر آبادی آپ کی ہوگی۔ میں نے وہاں معلوم کر
‫لیا ہے اور میں خود بھی جانتا ہوں کہ یہ قائد اسحاق کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اسے وہاں کے مسلمان پیر اور
‫پیغمبر مانتے ہیں ''۔
‫مگر اسحاق سے منوائے کون؟'' …… سوڈانی ساالر نے کہا …… ''میں اسے اس خطے کی امارت کی اللچ دے چکاہوں۔ ''
‫اسے ایسی ایسی اذیتیں دی ہیں جو گھوڑا بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔آشی بھی ناکام ہوچکی ہے ''۔
‫اب مجھے کوشش کرنے دیں '' ۔ عمردرویش نے کہا …… '' اسے قید خانے سے نکال کر اسی کمرے میں بھیج دیں ''
‫جہاں آپ نے اسے ایک بار رکھاتھا اور مجھے بھی رکھا تھا۔ آپ اس کے دشمن ہیں ۔ میں اس کا ساتھی ہوں ''۔
‫کیا وہاں آشی کو ایک بار پھر آزمائو گے ؟'' سوڈانی ساالر نے پوچھا۔ ''
‫نہیں '' ۔ عمردرویش نے جواب دیا …… '' میں اپنی زبان کا جادو آزمائوں گا۔ اسے اگر ابھی اس کمرے میں لے جائیں ''
‫تو مجھے امید ہے کہ صبح تک میں اسے اپنے جال میں پھانس لوں گا۔ میرے پاس وقت زیادہ نہیں۔اس عالقے سے میری
‫غیر حاضری لمبی نہیں ہونی چاہیے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہاں مصری جاسوس بھی ہیں۔ میں نے وہاں جو جادو چالیا ہے اسے
‫مصری جاسوس میری غیر حاضری میں بیکار کر سکتے ہیں ''۔
‫سوڈانی ساالر نے ان دو چھاپہ ماروں کے متعلق پوچھا جو عمردرویش کے ساتھ تھے۔ اس نے بتایا کہ یہ اس کے محافظ اور
‫مرید ہیں اور یہ اس کے ساتھ رضاکارانہ طور پر آئے ہیں ۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ ایک عمارت کا خوشنما کمرہ تھا جس میں اسحاق کو الیا گیا۔ ساالر خود اسحاق کو قید خانے میں سے النے کے لیے گیا
‫تھا۔ اس نے اسحاق سے کہا …… '' میں تمہارے قومی جذبے اور ایمان کا قائل ہوگیا ہوں۔ تمہارا ایک دوست عمردرویش تم
‫سے ملنے کا خواہشمند ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہاری مالقات اچھے ماحول میں ہو''۔
‫مجھے قید خانے سے زیادہ غلیظ اور جہنمی ماحول اور تمہارے محالت سے زیادہ دلفریب ماحول اپنی راہ سے ہٹا نہیں ''
‫سکتے '' …… اسحاق نے کہا …… '' مجھے تہہ خانے میں لے چلو یا باال خانے میں ‪ ،میں اپنا ایمان نہیں بیچوں گا''۔
‫سوڈانی ساالر ہنس پڑا اور اسے اس کمرے میں لے گیا جہاں عمردرویش اس کے انتظار میں موجود تھا۔ سوڈانی ساالر بھی
‫کمرے میں رہا۔
‫تمہارا چہرہ بتارہا ہے کہ تم نے ان کافروں کے ہاتھ اپنا ایمان بیچ ڈاال ہے''۔ اسحاق نے عمردرویش سے کہا …… '' ''
‫تمہارے چہرے کی رونق اور آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے کہ تم بہت دنوں سے قید خانے سے باہر گھوم رہے ہو۔ مجھ سے
‫''کیوں ملنا چاہتے ہو؟
‫میں تمہارے چہرے پر بھی یہی رونق اور آنکھوں میں یہی چمک دیکھنا چاہتا ہوں جو تم میرے چہرے پر اور آنکھوں میں ''
‫دیکھ رہے ہو ''۔ عمر درویش نے کہا …… '' ذرا مجھے مہلت دو۔ ذرا سی دیر کے لیے اپنا دل اور اپنا ذہن مجھے دے دو
‫۔ تحمل اور اطمینان سے میری بات سنو''۔
‫سوڈانی ساالر پاس کھڑا تھا۔ وہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا ۔ اسحاق اس کا نہایت اہم قیدی تھا اور عمردرویش بھی قیدی
‫ہی تھا ۔ یہ عمردرویش کا دھوکہ بھی ہو سکتا تھا ۔ وہ ان دونوں کو ایک ایسے کمرے میں آزاد نہیں چھوڑ سکتا تھا جو قید
‫خانے کا کمرہ نہیں تھا ۔ اس نے چار سنتریوں کا انتظام کردیا تھا ۔ دو کمرے کے سامنے کھڑے تھے اور دو پچھلے دروازے
‫کے سامنے ۔ برچھیوں اور تلواروں کے عالوہ انہیں تیر و کمان بھی دئیے گئے تھے۔ تا کہ فرار کی کوشش کامیابی نہ ہو

‫سکے۔ عمردرویش چاہتا تھا کہ ساالر وہاں سے چال جائے مگر ساالر وہاں سے ہٹتا نظر نہیں آرہا تھا ۔ اس کی موجودگی میں
‫عمردرویش اسحاق کو بتا نہیں سکتا تھا کہ اس کا منصوبہ کیا ہے۔
‫آشی کو سوڈانی ساالر نے نہانے دھونے اور آرام کے لیے اسی عمارات کے ایک کمرے میں بھیج دیا تھا ۔ وہ سوڈانی ساالر کو
‫اس کمرے سے لے جا سکتی تھی مگر اس کے ادھر آنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ سوڈانی ساالر الگ ہوکر بیٹھ گیا۔ وہ
‫جاسوس جو صحیح صورت حال بتانے آرہا تھا شہر سے تھوڑی ہی دور رہ گیا تھا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ عمردرویش کے
‫دونوں چھاپہ مار اسی عمارت کے ایک برآمدے میں عمردرویش کے اشارے کاانتظار کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد آشی باہر آئی۔
‫وہ نہا دھو کر کپڑے بدل کر آئی تھی۔ اس کا حسن نکھر آیا تھا۔ چہرے سے سفر کی تھکن بھی دھل گئی تھی ۔ وہ چھاپہ
‫ماروں کے پاس جا رکی ۔
‫ساالر چال گیا ؟'' آشی نے ان سے پوچھا۔ ''
‫نہیں ''۔ ایک چھاپہ مار نے جواب دیا ۔ ''وہ اندرہے''۔ ''
‫اسے چلے جانا چاہیے''۔ آشی نے کہا اور وہ اس کمرے کی طرف چل پڑی۔''
‫عمردرویش نے اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا تو اسے امید کی کرن نظر آئی۔ سوڈانی ساالر نے اسے دیکھا تو اس کے
‫ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ آ گئی جو اس جیسے مردوں کے ہونٹوں پر آشی جیسی دلکش لڑکی کو دیکھ کر آیا کرتی ہے۔ آشی
‫ٹہلتے ٹہلتے ساالر کے پیچھے چلی گئی۔ اس نے عمردرویش کو گہری نظروں سے دیکھا۔ عمردرویش کو موقع مل گیا۔ اس نے
‫آشی کو اشارہ کیا کہ ساالر کو یہاں سے غائب کرو۔
‫''! اسحاق بھائی !'' عمردرویش نے پوچھا …… ''کیا ہم سوڈان کے بیٹے نہیں ہیں''
‫میں سب سے پہلے اسالم کا بیٹا ہوں ''۔ اسحاق نے جواب دیا ۔ '' اور میں اب بھی مصری فوج کا کماندار اور ''
‫سلطان صالح الدین ایوبی کا وفادارہوں۔ اگر سوڈان کی زمین میری ماں ہے تو میں اپنی ماں کو اسالم کے دشمنوں کے حوالے
‫نہیں کر سکتا۔ عمردرویش ! میں تمہاری طرح اسالم کی عظمت اور اپنی غیرت کو فروخت نہیں کر سکتا ''۔
‫آشی نے پیچھے سے سوڈانی ساالرکے کندھوں پر دونوں بازو رکھے اور منہ اس کے کان سے لگا کر کہا …… '' چند دنوں میں
‫''آپ کا دل مرگیاہے ؟
‫سوڈانی ساالر نے گھوم کر دیکھا تو آشی کے گال اور بکھرے ہوئے بال ساالر کے گالوں سے ٹکڑا گئے۔ آشی مسکرا رہی تھی ۔
‫اس نے مخمور اور تشنہ لہجے میں کہا …… '' میں اتنی خطرناک اور تھکا دینے والی مہم سے واپس آئی ہوں۔ کل پھرانہی
‫جنگلیوں کے پاس چلی جائوں گی جس نے پا س پینے کو پانی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ میں تو شراب کی بو کو بھی ترس
‫گئی ہوں ''۔
‫اوہ!'' سوڈانی ساالر نے چونک کر کہا …… '' میں تو اس قصے میں تمہیں بھول ہی گیاتھا۔ میں کسی سے کہہ دیتا ''
‫ہوں ۔ تم اسی کمرے میں چلو ''۔
‫اونہہ!'' آشی نے کہا …… '' اکیلے کیا خاک مزہ آئے گا ؟ آپ بھی چلیے ۔ یہاں کوئی خطرہ نہیں ۔ دونوں طرف ''
‫سنتری کھڑے ہیں ۔ کچھ دیر بعد یہیں آجانا''۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:39
‫قسط نمبر۔‪98
‫طور کا جلوہ
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اونہہ!'' آشی نے کہا …… '' اکیلے کیا خاک مزہ آئے گا ؟ آپ بھی چلیے ۔ یہاں کوئی خطرہ نہیں ۔ دونوں طرف ''
‫سنتری کھڑے ہیں ۔ کچھ دیر بعد یہیں آجانا''۔آشی اس فن کی استاد تھی ۔ بچپن سے اب تک اسے مردوں کو اپنے جال
‫میں پھانسنے اور انگلیوں پر نچانے کی تربیت دی گئی تھی۔ اس نے یہی فن اپنے آقائوں اور استادوں کے خالف آزمانا شروع
‫کر دیا۔ سوڈانی ساالر اس کی مسکراہٹ کے فریب میں آگیا اور اس کے ساتھ چل پڑا۔ باہر جا کر اس نے ایک مالزم کو
‫شراب النے کو کہا اور آشی کے ساتھ کمرے میں چالگیا۔ آشی نے اسے اپنے بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا اور ذرا سی دیر
‫میں بوڑھے ساالر پر جوان لڑکی کا طلسم طاری ہوگیا۔ اتنے میں شراب آگئی۔ آشی نے ساالر کو جام پہ جام پالنے شروع
‫کردئیے۔
‫٭ ٭ ٭
‫نیت صاف ہو تو خدابھی مدد کرتاہے''۔ عمردرویش نے اسحاق سے کہا …… '' میں نے جو سوچا تھا وہ ہر لحاظ سے ''
‫اور ہرپہلو سے عملی شکل میں آگیاہے۔ ساری بات شہر سے نکل کر
‫سنائو ں گا ۔ دو چھاپہ مار ساتھ الیا ہوں۔ دو سنتری ادھر کھڑے ہیں دو ادھر۔ ہمیں صرف اس طرف کے سنتریوں کو ختم
‫کرنا ہے جس طرف سے نکلناہے ۔ چار گھوڑے تیار کھڑے ہیں ۔ چھار گھوڑے سنتریوں کے تیار کھڑے ہیں تا کہ فرار کی
‫صورت میں وہ ہمارا تعاقب کر سکیں۔ اپنے ہاں مصر کے کچھ لوگ آئے ہیں ۔ ایک آدمی بہت دانشمند معلوم ہوتاہے۔ اس نے
‫اپنا نام نہیں بتایا ۔ قاہرہ میں اطالع پہنچ گئی ہے کہ یہاں کیاہوا ہے۔ ساالر کو لڑکی لے گئی ہے۔ میں ذرا باہر جائزہ لے
‫لوں۔ لڑکی کو بھی ساتھ لے کر جانا ہے ''۔
‫کیوں ؟'' …… اسحاق نے پوچھا …… ''اس بدکار کے ساتھ تمہارا کیا تعلق ہے''۔ ''
‫باہرچل کر بتائوں گا''۔ عمر درویش نے کہا …… ''یہ کوئی ایسا ویسا تعلق نہیں ۔لڑکی مسلمان ہے''۔''
‫عمردرویش باہر نکال۔ سنتریوں نے اسے سوڈانی ساالر کے ساتھ اس کمرے میں آتے دیکھا تھا ‪ ،اس لیے انہوں نے اسے احترام
‫کی نظروں سے دیکھا۔ وہ اپنے چھاپہ ماروں کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ سنتریوں کو سنبھالنے کا وقت آگیا ہے۔ پھر اس
‫نے اس کمرے کادروازہ آہستہ سے ذرا کھوال۔ ساالر کے ہوش شراب میں ڈوب چکے تھے۔ اس نے جھوم کر پوچھا۔ ''کون
‫''ہے؟
‫میں دیکھتی ہوں''۔ آشی نے کہا …… ''ہوا سے دروازہ کھل گیا ہے'' ۔ اس نے ساالر کو سہارا دے کر پلنگ پر لٹا دیا''
‫۔ ساالر نے بازو پھیال کر لڑکھڑاتی آواز میں کہا …… ''تم بھی آئو ۔ نشے کو دوگنا کردو''۔
‫آشی باہر نکل آئی اور آواز پیدا کیے بغیر دروازہ باہر سے بند کر دیا۔ عمردرویش اور آشی نے دونوں چھاپہ ماروں کو ساتھ
‫لیااور اسحاق والے کمرے کی طرف چلے گئے۔ سوڈانی جاسوس شہر میں داخل ہو چکا تھا اور وہ جاسوسی کے مرکز کی طرف
‫جارہا تھا ۔ عمردرویش نے دونوں سنتریوں سےکہا …… ''دونوں اندر چلیں اور قیدی کو قید خانے میں لے جائو۔ ساالر نے حکم

‫دیا ہے کہ ہاتھ باندھ کر لے جانا''۔
‫دونوں سنتری اکٹھے اندر گئے۔ ان کے پیچھے دروازہ بند ہوگیا ۔ دونوں چھاپہ مار بیک وقت ان پر جھپٹے۔ دونوں کی گردنیں
‫ایک ایک چھاپہ مار کے بازو کے شکنجے میں آگئیں۔ چھاپہ ماروں نے خنجر پہلے ہی نکال لیے تھے۔ انہوں نے سنتریوں کے
‫دلوں پر وار کیے اور انہیں ختم کر دیا۔ سوڈانی جاسوس اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیااور نائب ساالر کو صحیح رپورٹ دے رہا تھا ۔
‫عمردرویش نے اسحاق سے کہا …… ''فورا ً نکلو '' …… باہر چار گھوڑے عمردرویش کے کھڑے تھے اور چار سنتریوں کے۔
‫دوسری طرف کے سنتریوں کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ اندر کیا ہورہاہے۔
‫یہ سب گھوڑوں پر بیٹھے ۔ رات نے فرار پر پرداہ ڈالے رکھا۔ شہر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ فرار ہونے والوں نے گھوڑوں کو
‫فورا ً ایڑ نہ لگائی ۔ آشی بھی ان کے ساتھ تھی ۔ سوڈانی جاسوس نے اپنی رپورٹ دی تو نائب ساالر اسے سوڈانی ساالر کے
‫پاس لے گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ کہا ں ہے۔ دونوں ادھر آئے تو راستے میں انہوں نے پانچ گھوڑ سوار جاتے دیکھے۔ وہ ایک
‫دوسرے کے قریب سے گزر گئے۔ اندھیرے کی وجہ سے کوئی کسی کو نہ پہچان سکا۔
‫نائب ساالر نے اس برآمدے میں جا کر ادھر ادھر دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے دو سنتری کھڑے تھے۔ اس نے کمرے کا دروازہ
‫کھوال تو اسے دونوں سنتریوں کی الشیں پڑی نظر آئیں۔ خون بہہ بہہ کر ہر طرف پھیل گیا۔ نائب ساالر نے اندر جا کر دوسرا
‫دروازہ کھوال۔ ادھر دو سنتری آرام سے کھڑے تھے۔ بھاگ دوڑ شروع ہوگئی۔ ایک کمرے میں ساالر پلنگ پر پڑا نشے میں
‫بدمست آشی کو پکار رہا تھا۔ نائب ساالر نے اسے بالیا اور اُٹھایا۔ آشی نے اسے بہت ہی زیادہ پالدی تھی ۔ اسے جب بتایا
‫گیا کہ دو سنتری کمرے میں مرے پڑے ہیں تو ذرا ہوش میں آیا۔ جب وہ بات سننے اور سمجھنے کی حالت میں آیا اس
‫وقت عمردرویش ‪ ،اسحاق ‪ ،دو چھاپہ مار اور آشی شہر سے بہت دور نکل گئے تھے ۔ تعاقب بیکار تھا ۔ صبح کے وقت
‫اسے صحیح صورت حال کا علم ہوا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اگلی رات آدھی گزر گئی تھی جب عمردرویش اپنے قافلے کے ساتھ اپنے پہاڑی عالقے میں داخل ہوا۔ علی بن سفیان ان کے
‫انتظار میں بے تاب ہورہا تھا۔ ضروری یہ تھا کہ اسحاق اور عمردرویش کو فورا ً مصر بھیج دیا جائے لیکن ایک ضرورت یہ بھی
‫تھی کہ انہیں اس عالقے میں گھمایا جائے تا کہ جن لوگوں نے سوڈانیوں کی شعبدہ بازیاں دیکھی ہیں انہیں اصل حقیقت
‫معلوم ہوجائے۔ البتہ فوری طور پہ یہ انتظام کر دیا گیا کہ کچھ آدمیوں کو دیکھ بھال کے لیے مقرر کر دیا گیا تا کہ سوڈانی
‫فوج حملہ کرے تو قبل از وقت اطالع مل جائے۔ دوسری ضرورت یہ تھی کہ مصری فوج کے کچھ اور چھاپہ مار اس عالقے
‫میں بال لیے جائیں جو سوڈانی فوج کے حملے کی صورت میں عقب سے شبخون ماریں اور فوج کو اس عالقے سے دوررکھیں۔
‫اس طرح عمردرویش‪ ،علی بن سفیان اور اس کے چھاپہ ماروں نے وہ معرکہ جیت لیا جو کمانڈروں ‪ ،بادشاہوں اور قوم کی
‫نظروں سے اوجھل رہ کر لڑا گیا تھا ۔ یہ ایک انفرادی جنگ تھی جو ایمان اور قومی جذبے کی قوت سے لڑی گئی تھی ۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے اس درپردہ جنگ پر ہمیشہ توجہ مرکوز رکھی تھی ۔ اس کا انٹیلی جنس کا نظام بہت ہوشیار
‫تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس وقت جب سوڈانی مسلمانوں نے یہ معرکہ جیت لیا تھا ‪ ،سلطان ایوبی مسلمان امراء …… گمشتگین ‪ ،سیف الدین اور
‫الملک الصالح …… کی متحدہ افواج کو شکست فاش دے کر ان کے تعاقب میں جارہا تھا۔ اس نے چند ایک اہم مقامات اور
‫چھوٹے چھوٹے قلعوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ حلب کی طرف بڑھ رہا تھا جو ایک اہم شہر اور الملک الصالح کی فوج کا مرکز
‫تھا۔ سلطان ایوبی اس شہر کو محاصرے میں لے کر محاصرہ اُٹھا چکا تھا ۔ وہاں کے مسلمانوں نے اس کا مقابلہ ایسی بے
‫جگری سے کیا تھا کہ سلطان ایوبی عش عش کر اُٹھا تھا۔ محاصرہ اُٹھانے کی وجہ اس سے پہلے سنائی جا چکی ہے۔
‫اس کے بعد مسلمان افواج کی آپس میں جو جنگ ہوئی اس کی تفصیالت بھی سنائی جا چکی ہیں۔ سلطان ایوبی نے تینوں
‫مسلمان فوجوں کو بے تحاشہ نقصان پہنچا کر اس طرح پسپا کیا کہ فوجیں بکھر گئیں۔ سلطان ایوبی نے تعاقب جاری رکھا۔
‫اس کی زیادہ تر توجہ حلب کی فوج پر تھی کیونکہ یہ بہادری سے لڑنے والی فوج تھی۔ یہ حلب کی سمت پسپا ہو رہی
‫تھی ۔ سلطان ایوبی اسے راستے میں ہی تباہ کردینا چاہتا تھا ۔ کیونکہ وہ حلب پر قبضہ کرنے کو پیش قدمی کر رہا تھا ۔
‫اس نے تعاقب کا انداز یہ نہ رکھا کہ اپنی فوج کو اس کے پیچھے ڈال دیا بلکہ اس نے اپنے برق رفتار دستے کسی دوسرے
‫راستے سے آگے بھیج دئیے اور کچھ چھاپہ مار دونوں پہلوئوں پر بھیج دئیے ۔
‫حلب کی فوج افراتفری کے عالم میں حلب کو جارہی تھی ۔ آگے جا کر اس کے کمانڈروں نے دیکھا کہ سلطان ایوبی کی فوج
‫نے راستہ روک رکھا ہے۔ حلب کی فوج ُر ک گئی۔ اس کے سپاہیوں میں لڑنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ ان کا سازوسامان بھی
‫کم رہ گیا تھا۔ رسد اورخوراک بھی کم تھی ۔ یہ فوج ُرکی تو پہلوئوں پر سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں نے شب خون اور
‫چھاپے مارنے شروع کردئیے۔ سلطان ایوبی کے کمانڈروں نے اعالن کرنے شروع کردئیے …… ''حلب والو! ہتھیار ڈال دو''۔
‫سلطان ایوبی محاذ سے پیچھے تھا۔ اسے اطالعات مل رہی تھیں کہ حلب کی فوج ہتھیار ڈالنے کی حالت میں آرہی ہے ۔
‫اس نے کہا …… ''اگر یہ فوج صلیبیوں کی ہوتی تو میں اس کے ایک بھی سپاہی کو زندہ نہ چھوڑتا مگر یہ میرے اپنے
‫بھائیوں کی فوج ہے۔ یہ لوگ ہتھیار ڈال دیں گے تو میں انہیں بخشش دوں گا۔ مجھے خوشی پھر بھی نہیں ہوگی۔ مرنے کے
‫بعد میری روح بھی بے چین رہے گی کہ میرے دور میں مسلمانوں کی تلواریں آپس میں ٹکرائی تھیں۔ اگر ہمارے یہ بھائی اب
‫بھی دوست اور دشمن کی پہچان کر لیں تو اس شرم ناک غلطی کا ازالہ ہو سکتا ہے''۔
‫دوسرے ہی دن خدا نے سلطان ایوبی کی دعا سن لی۔ اس نے دو گھوڑ سوار اپنی طرف آتے دیکھے۔ ان میں سے ایک نے
‫سفید جھنڈا ا ُٹھا رکھا تھا۔ ان کے دائیں بائیں سلطان ایوبی کی اپنی فوج کے دو کماندار تھے۔ قریب آکر گھوڑے ُرک گئے۔
‫ایک کماندار نے گھوڑے سے اتر کر سالم کیا اور کہا …… ''حلب کے حاکم الملک الصالح نے صلح کا پیغام بھیجا ہے۔ یہ دو
‫ایلچی جنگ بندی اور صلح کا پیغام الئے ہیں''۔
‫ایک ایلچی نے پیغام سلطان ایوبی کے ہاتھ میں دیا۔ سلطان ایوبی نے پیغام پڑھ کر کہا …… '' الملک الصالح سے کہنا صالح
‫الدین ایوبی نے جنگ سے پہلے صلح کا پیغام بھیجا تھا تو تم نے فرعونوں کی طرح میرے ایلچی کی بے عزتی کرکے میرا
‫پیغام ٹھکرادیا تھا۔ آج خدائے عزوجل نے مجھے یہ طاقت بخشی اور تجھے یہ ذلت دی کہ میں تمہاری فوج کو اس طرح
‫پیس سکتا ہوں جس طرح دوپتھروں کے درمیان والے پیسے جاتے ہیں لیکن میرے دشمن تم نہیں ہو۔ تم اس باپ کے بیٹے ہو
‫جس نے صلیبیوں کو گھٹنوں بٹھا رکھا تھا اور تم صلیبیوں سے دوستی گانٹھ کر اپنے باپ کی فوج کے خالف لڑنے آئے تھے
‫…… اسے کہنا کہ میں نے تمہیں معاف کیا۔ دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف کردے ''۔

‫سلطان ایوبی نے اپنی شرائط پر صلح کی پیش کش منظور کرلی۔ الملک الصالح کو اس شرط پر اپنی فوج حلب کو لے جانے
‫کی اجازت دے دی کہ جب اس کی فوج حلب آئے تو حلب کی فوج کوئی مزاحمت نہ کرے ۔
‫ایک اور دلچسپ واقعہ ہوا۔ الملک الصالح اپنی فوج نکال کر لے گیا ۔ سیف الدین بھی پسپا ہوکرموصل چال گیا تھا اور
‫گمشتگین نے اپنے قلعے حرن میں جانے کی بجائے حلب کا ُرخ کیا۔ سلطان ایوبی اپنی فوج کو اور آگے لے گیا اور ایک مقام
‫ترکمان کو عارضی کیمپ بنالیا۔ ایک روز حلب کا ایک قاصد اس کے پاس آیا اور الملک الصالح کا ایک پیغام سلطان ایوبی کو
‫دیا۔ سلطان ایوبی نے پیغام کھول کر پڑھا تو چونک ا ُٹھا لیکن یہ پیغام اس کے نام نہیں بلکہ سیف الدین کے نام تھا۔ الملک
‫‪ :الصالح نے سیف الدین کو لکھا تھا
‫آپ کا خط مل گیا ہے جس میں آپ نے اس پر خفگی کا اظہار کیا ہے کہ میں نے صالح الدین ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال''
‫کر صلح کر لی ہے۔ بے شک میں نے ایسا ہی کیا ہے لیکن میرے لیے اور کوئی راستہ نہ تھا۔ میری فوج اس کی فوج کے
‫گھیرے میں آگئی تھی ۔ میرے سپاہی تھکے ہوئے‪ ،ڈرے ہوئے اور زخمی تھے۔ میرے ساالروں نے مجھے مشورہ دیا کہ صالح
‫الدین ایوبی کو صلح کا دھوکہ دیا جائے اور اپنی فوج کو اس کے چنگل سے نکاال جائے۔ میں نے یہی بہتر جانا اور صالح
‫…… '' الدین ایوبی کو صالح کا پیغام دے دیا
‫محترم غازی سیف الدین ! آپ مطمئن رہیں۔ میں نے وقت حاصل کرنے کے لیے صلح کی ہے ورنہ میرے پاس آج ایک ''
‫بھی سپاہی نہ ہوتا۔ میں اب حلب میں اپنی فوج کی تنظیم نو کرارہا ہوں۔ نئی بھرتی شروع کرادی ہے میں نے صالح الدین
‫ایوبی کی یہ شرط تسلیم کر لی ہے کہ اس کی فوج جب حلب میں آئے گی تو ہماری فوج مزاحمت نہیں کرے گی لیکن وہ
‫جب یہاں آئے گا تو اس کی فوج کو ایسی مزاحمت ملے گی جو اس کے تصور میں بھی نہیں آسکتی ۔ آپ اپنی فوج کو
‫ازسرنو تیار کرلیں ۔ ہمیں صال ح الدین ایوبی کے خالف لڑنا اور اس کی طاقت کو ختم کرنا ہے''۔
‫اس پیغام میں اور بھی بہت کچھ لکھا تھا ۔ مؤرخوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ الملک الصالح نے سلطان ایوبی کو صلح کا
‫دھوکہ دیا تھا اور اس پر بھی کہ الملک الصالح نے سیف الدین کے خط کے جواب میں جو جواب لکھا ‪ ،غلطی سے سلطان
‫ایوبی کو مل گیا تھا یا یہ قاصد سلطان ایوبی کا جاسوس تھا ۔ یورپی مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہ قاصد کی غلطی تھی ۔ دو
‫نے لکھا ہے کہ پیغام سربمہر کیا گیا تو باہر غلطی سے سلطان ایوبی کا نام لکھ دیا گیا تھا۔ مسلمان مؤرخوں جن میں سراج
‫الدین خاص طور قابل ذکر ہے لکھتاہے کہ سلطان ایوبی کا نظام جاسوسی ایسا باکمال تھا کہ الملک الصالح کا قاصد اس کا
‫جاسوس تھا۔ وہ الملک الصالح کا اتنا اہم پیغام سلطان ایوبی کے پاس لے آیا۔
‫قاضی بہائو الدین شداد نے اپنی یاداشتوں میں لکھتا ہے کہ اس پیغام نے سلطان ایوبی کو اس قدر پریشان کیا کہ کئی گھٹنے
‫اس نے کسی کے ساتھ بات بھی نہ کی ۔ خیمے میں اکیال پڑا رہا۔ البتہ اسے یہ خوشی ضرور ہوئی کہ اسے دشمن کے
‫عزائم کا علم ہوگیا۔ اس نے حکم دیا کہ الجزیرہ‪ ،دیار اور بقر سے فورا ً لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔ اس نے اپنے مسلمان
‫بھائیوں کے خالف ایک اور خونریز جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:40
‫قسط نمبر۔‪99
‫راہ حق کے مسافر
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫بادشاہ ایک جھونپڑے میں چھپا ہوا تھا۔ یہ واقعہ اپریل ‪١١٧٥ء (رمضان المبارک ‪٥٧٠ھ) کا ہے‪ ،جب تین مسلمان حکمران…
‫نورالدین زنگی کا بیٹا الملک الصالح‪ ،گمشتگین اور سیف الدین غازی… سلطان صالح الدین ایوبی کے مقابلے میں آئے تھے۔ ان
‫کی پشت پناہی صلیبی کررہے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں گھوڑے‪ ،اونٹ‪ ،آتش گیر سیال کے مٹکے اور دیگر اسلحہ دیا تھا۔
‫صلیبیوں نے ضروری نہیں سمجھا تھا کہ وہ سلطان ایوبی کو میدان جنگ میں ہی شکست دیں۔ اصل مقصد شکست دینا اور
‫سرزمین عرب پر قبضہ کرکے اسالم کو ختم کرنا تھا۔ فلسطین صلیبیوں کے قبضے میں تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی دو تین
‫کمزوریاں بھانپ لی تھیں۔ یہ تھیں اقتدار کی ہوس‪ ،زر‪ ،زن اور عیش پرستی۔ صلیبی یورپ سے یہ توقع لے کر آئے تھے کہ
‫وہ اپنے برتر اسلحہ‪ ،فوجوں کی افراط اور بحری جنگی قوت سے مسلمانوں کو تھوڑے سے عرصے میں ختم کرکے قبلہ اول اور
‫خانہ کعبہ پر قابض ہوجائیں گے اور اسالم کا خاتمہ کردیا جائے گا۔
‫مذہب کوئی درخت نہیں جسے جڑوں سے کاٹ دیا جائے تو سوکھ کر ختم ہوجائے گا۔ مذہب کسی ایک کتاب یا کتابوں کے
‫انبار کا نام نہیں جسے جال دیا جائے تو مذہب جل کر راکھ ہوجائے گا۔ مذہب‪ ،عقائد اور نظریات کا نام ہے جو انسان کے
‫ذہن ودل میں محفوظ ہوتے ہیں اور انسان کو اپنا پابند کیے رکھتے ہیں۔ انسانوں کو قتل کردینے سے عقائد اور نظریات ختم
‫نہیں ہوجاتے‪ ،کسی مذہب کو ختم کرنے کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ ذہنوں اور دلوں میں تعیش پسندی اور لذت پرستی ڈال دی
‫جائے۔ عقائد اور نظریات کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگتی ہے اور انسان آزاد ہوتا چال جاتا ہے۔ یہودیوں اور صلیبیوں نے مسلمانوں
‫کے لیے یہی جال تیار کیا۔ سرزمین عرب اور مصر میں الکر بچھایا تو مسلمان امراء اس میں آنے لگے ۔ ملت اسالمیہ کی
‫بدبختی ہے کہ مسلمان اقتدار اور عورت کی خاطر عقیدے قربان کردیا کرتا ہے۔
‫نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کے دور میں یہ میٹھا زہر مسلمان حکمرانوں اور امراء کی رگوں میں اتر چکا تھا اور
‫صلیبی فلسطین پر قابض ہوچکے تھے۔ متعدد مسلمان ریاستیں ایسی تھیں جن پر صلیبیوں کا قبضہ تو نہیں تھا لیکن ریاستوں
‫کے امراء کے دلوں پر انہی کا قبضہ تھا۔ صلیبی اور یہودی‪ ،مسلمانوں کی کردار کشی میں اس حد تک کامیاب ہوچکے تھے کہ
‫کسی بھی مسلمان ساالر کے متعلق یقین سے نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ سلطنت اسالمیہ کا وفادار ہے۔ زنگی اور ایوبی کے
‫لیے یہ غدار بہت بڑا مسئلہ بن گئے تھے۔ ‪١١٧٥ئ‪٢٢٧٤ ،ء میں سلطان ایوبی اور فلسطین کے درمیان کلمہ گو بھائی حائل
‫ہوگئے تھے۔صلیبی دور بیٹھے تماشا دیکھ رہے تھے۔ سلطان ایوبی ہر میدان میں صلیبیوں کو شکست پہ شکست دیتا چال آرہا
‫تھا مگر صلیبیوں نے مسلمان امراء کو ہی اس کے مقابلے میں کھڑا کردیا۔ اس کا بے حد تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ نورالدین
‫زنگی کا اپنا بیٹا الملک الصالح اسماعیل اس کی وفات کے بعد سلطان ایوبی کے مخالف کیمپ میں چال گیا۔
‫وہ بادشاہ جو اپریل ‪ ١١٧٥ء میں ایک جھونپڑے میں بیٹھا تھا‪ ،الملک الصالح کا اتحادی سیف الدین غازی تھا۔ ان کا تیسرا
‫اتحادی گمشتگین تھا۔ آپ اس معرکے کی تفصیل پڑھ چکے ہیں جس میں سلطان ایوبی نے ان تینوں کی متحدہ فوج کو ایسی
‫شرمناک شکست دی تھی کہ تینوں اپنی اپنی فوج کے مرکز (ہیڈکورٹر) کے خیمے سازوسامان سمیت چھوڑ کر بھاگ گئے
‫تھے۔ ان کے جو جنگی قیدی سلطان ایوبی کی فوج نے پکڑے تھے‪ ،انہیں مسلمان سمجھ کر رہا کردیا گیا تھا۔ یہ سلطان ایوبی
‫کی قوم پرستی اور کشادہ ظرفی تھی جو اسے مہنگی پڑی۔ یہ قیدی واپس گئے تو انہیں فوج میں لے کر چند دنوں میں

‫بکھری ہوئی فوجیں منظم کرلی گئیں۔ یہ تو چند دنوں بعد کی بات ہے۔ میدان جنگ سے الملک الصالح‪ ،سیف الدین غازی اور
‫گمشتگین کا بھاگنا بڑا عجیب تھا۔ انہیں ایک دوسرے کا ہوش نہیں تھا۔ گمشتگین حرن کا قلع تھا جو بغداد کی خالفت کے
‫تحت تھا لیکن جنگ سے پہلے اس نے خود مختاری کا اعالن کردیا تھا۔ وہ بھاگا تو حرن جانے کے بجائے حلب چال گیا
‫جسے الملک الصالح نے اپنا دارالخالفہ بنا رکھا تھا۔ وہ اس خوف سے حرن نہیں گیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی تعاقب
‫میں آکر اسے پکڑے لے گا۔
‫سیف الدین ایک اور شہر موصل اور اس کے مضافات کا حکمران امیر تھا۔ وہ حکمران ہی نہیں‪ ،ساالر بھی تھا۔ میدان جنگ
‫کے دائو پیچ سے واقف تھا‪ ،جنگجو تھا اس نے اپنا ایمان بیچ ڈاال تھا جو مومن کی تلوار بھی ہوتا ہے‪ ،ڈھال بھی۔ وہ میدان
‫جنگ میں بھی حرم کی چیدہ چیدہ لڑکیوں اور ناچنے والیوں کو ساتھ لے گیا تھا۔ شراب کے مٹکوں کے عالوہ خوبصورت
‫پرندے بھی اس کے ساتھ تھے۔ وہ عیش وعشرت کا یہ سارا سامان وہیں چھوڑ کر بھاگا تھا۔ اس کے ساتھ بھاگنے والوں میں
‫اس کا نائب ساالر اور ایک کمان دار بھی تھا۔ اسے موصل جانا تھا لیکن سلطان ایوبی کے چھاپہ مار دشمن کے عقب میں
‫چلے گئے تھے۔ انہوں نے دشمن کی بکھری ہوئی فوج کے لیے پسپائی محال کردی تھی۔
‫سیف الدین اور اس کے دونوں ساتھیوں نے شاید چھاپہ ماروں کی کوئی پارٹی دیکھ لی تھی جس سے بچنے کے یے وہ موصل
‫کے راستے سے بھٹک گئے۔ یہ عالقہ اس دور میں عجیب تھا۔ ریگستان بھی تھا‪ ،چٹانی بھی اور کہیں سرسبز بھی۔ وہاں
‫انہیں چھپنے کی جگہیں ملتی رہیں۔ وہ موصل سے تھوڑی ہی دور تھے۔ رات گہری ہوگئی تھی۔ انہیں چاندنی رات میں کچھ
‫مکان نظر آئے۔ سیف الدین نے پہلے ہی مکان کے دروازے پر دستک دی۔ ایک سفید ریش بوڑھا باہر آیا۔ اس کے سامنے تین
‫گھوڑ سوار کھڑے تھے جو اس قدر بری طرح ہانپ رہے تھے کہ بوڑھے نے پوچھا… ''معلوم ہوتا ہے تم بھی موصل کی فوج
‫کے سپاہی ہو اور بھاگ کر آئے ہو۔ میں دو دنوں سے سپاہیوں کو گزرتے دیکھ رہا ہوں۔ وہ پانی پینے کے لیے رکتے ہیں اور
‫موصل کو چلے جاتے ہیں''۔
‫یہاں سے موصل کتنی دور ہے؟'' سیف الدین نے پوچھا۔''
‫اگر تمہارے گھوڑوں میں دم ہے تو سحری تک پہنچ سکتے ہو''۔ بوڑھے نے کہا… ''یہ گائوں موصل کا ہی ہے''۔''
‫اگر تمہارے پاس جگہ ہو تو کیا ہم رات تمہارے ہاں گزار سکتے ہیں؟'' سیف الدین نے پوچھا۔''
‫جگہ دل میں ہوا کرتی ہے''۔ بوڑھے نے جواب دیا۔ ''گھوڑوں سے اترو اور اندر چلو''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫ایک کمرے میں تینوں مشعل کی روشنی میں بیٹھے تو بوڑھے نے ان کے لباس غور سے دیکھے۔
‫ہمیں پہچاننے کی کوشش کررہے ہو؟'' سیف الدین نے مسکرا کر پوچھا۔''
‫میں دیکھتا ہوں کہ تم سپاہی نہیں ہو؟'' بوڑھے نے کہا… ''تمہارا رتبہ ساالری تک ہوسکتا ہے''۔''
‫یہ والئی موصل سیف الدین غازی ہیں''۔ نائب ساالر نے کہا… ''تم نے کسی معمولی آدمی کو پناہ نہیں دی‪ ،تمہیں اس ''
‫کا انعام ملے گا۔ میں نائب ساالر ہوں اور یہ کمان دار ہیں''۔
‫ایک بات غور سے سن لو میرے بزرگ!'' سیف الدین نے کہا… ''ہوسکتا ہے ہمیں تمہارے گھر زیادہ دن رکنا پڑے۔ ہم ''
‫دن کے وقت باہر نہیں نکلیں گے‪ ،کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم یہاں ہیں۔ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو تمہیں سزا ملے گی اور
‫اگر تم نے یہ راز چھپائے رکھا تو انعام ملے گا جو مانگو گے‪ ،ملے گا''۔
‫میں نے والئی موصل کو پناہ نہیں دی''۔ بوڑھے نے کہا… ''آپ بھولے بھٹکے‪ ،مصیبت کے مارے میرے ہاں آئے ہیں‪'' ،
‫جتنے دن رہیں گے‪ ،خدمت کروں گا۔ اگر آپ چھپ کر رہنے کے خواہش مند ہیں تو چھپائے رکھوں گا اور مجھے آپ کے
‫ساتھ اس لیے بھی دلچسپی ہے کہ میرا بیٹا آپ کی فوج میں سپاہی ہے''۔
‫اگر آپ اسے فوج سے سبکدوش کردیں تو میرے لیے یہ بہت بڑا انعام ہوگا''۔ بوڑھے نے کہا۔''
‫ہاں'' ۔ سیف الدین نے کہا… ''ہم اسے فوج سے سبکدوش کردیں گے‪ ،ہر باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا زندہ ''
‫رہے''۔
‫میں نے اس کی زندگی کی آرزو کبھی نہیں کی''۔ بوڑھے نے کہا… ''میں نے اسے اپنی قوم کی فوج میں بھیج کر خدا ''
‫کے سپرد کردیا تھا۔ میں بھی سپاہی تھا۔ آپ ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے جب میں فوج میں بھرتی ہوا تھا۔ اللہ آپ کے والد
‫مرحوم قطب الدین کو جنت عطا فرمائے۔ میں ان کے دور میں سپاہی تھا۔ ہم نے کفار کے خالف معرکے لڑے ہیں مگر میرے
‫بیٹے کو آپ اپنے بھائیوں کے خالف لڑانے لے گئے ہیں۔ میں اس کی شہادت کا آرزو مند تھا‪ ،موت کا نہیں''۔
‫صالح الدین ایوبی نام کا مسلمان ہے''۔ سیف الدین نے کہا… ''اس کے خالف جنگ جائز ہے‪ ،بلکہ فرض ہے''۔''
‫محترم بزرگ!'' نائب ساالر نے کہا… ''ان باتوں کو آپ نہیں سمجھ سکتے‪ ،ہم بہتر جانتے ہیں کہ کون مسلمان اور کون''
‫کافر ہے''۔
‫میرے بیٹو!'' بوڑھے نے کہا… ''عبرت حاصل کرو‪ ،میری عمر پچھتر سال ہوگئی ہے۔ میرا باپ نوے برس کی عمر میں ''
‫مرا تھا اور اس کا باپ پچاس برس کی عمر میں میدان جنگ میں شہید ہوا تھا۔ دادا نے اپنے وقتوں کے قصے کہانیاں میرے
‫دعوی کرسکتا ہوں کہ جو میں جانتا
‫باپ کو سنائے تھے۔ میرے باپ نے وہ میرے سینے میں ڈال دئیے تھے۔ اس طرح میں
‫ٰ
‫ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ بادشاہی کی ہوس نے جسے بھی بھائی سے لڑایا وہ ایک نہ ایک دن بھاگ کر کسی غریب کے
‫جھونپڑے میں جا چھپا۔ جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں ان کا بھی یہی انجام ہوا تھا۔ تمہاری تین فوجوں کو صالح الدین
‫ایوبی کی ایک فوج نے پسپا کیا ہے اور جس حالت میں پسپا کیا ہے وہ دو دنوں سے دیکھ رہا ہوں۔ تمہارے ساتھ دس فوجیں
‫ہوتیں تو وہ بھی اسی طرح بھاگتیں جو حق پر ہوتے ہیں وہ فتح حاصل کرتے ہیں اور جب انہیں شکست ہوتی ہے تو وہ
‫بھاگتے نہیں‪ ،ان کی الشیں میدان جنگ سے اٹھائی جاتی ہیں۔ وہ چھپتے نہیں''۔
‫تم صالح الدین ایوبی کے حامی معلوم ہوتے ہو''۔ سیف الدین نے ایسے لہجے میں کہا جس میں غصے کی جھلک تھی۔ ''
‫''ہمیں تم پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے''۔
‫میں آپ کا حامی ہوں''۔ بوڑھے نے کہا… ''میں اسالم کا حامی ہوں۔ میں اپنے تجربے کی روشنی میں آپ کو یہ بتانا ''
‫چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنے بھائیوں کے دشمن کو دوست سمجھا اور یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ آپ کے مذہب کا دشمن ہے۔
‫آپ کی شکست کا سبب یہی ہے۔ آپ مجھ پر بھروسہ کریں اگر صالح الدین ایوبی کی فوج یہاں اچانک آگئی تو آپ کو
‫چھپائے رکھوں گا‪ ،دھوکہ نہیں دو گا''۔
‫اتنے میں ایک جوان اور خوبصورت لڑکی کھانا لے کر کمرے میں آئی۔ اس کے پیچھے ایک جوان عورت آئی۔ اس کے ہاتھ

‫میں بھی کھانا تھا۔ سیف الدین کی نظرین لڑکی پر جم گئیں۔ وہ کھانا رکھ کر چلی گئیں تو سیف الدین نے بوڑھے سے
‫پوچھا کہ یہ کون ہیں؟
‫چھوٹی میری بیٹی ہے''۔ بوڑھے نے جواب دیا… ''اور بڑی میری بہو۔ میرے اس بیٹے کی بیوی جو آپ کی فوج میں ''
‫ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری بہو بیوہ ہوگئی ہے''۔
‫اگر تمہارا بیٹا مارا گیا تو میں تمہیں بے انداز رقم دوں گا''۔ سیف الدین نے کہا… ''اور اپنی بیٹی کے متعلق تمہیں ''
‫کوئی فکر نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کسی جھونپڑے میں کسی سپاہی کی دلہن بن کر نہیں جائے گی۔ ہم نے اسے اپنی زوجیت کے
‫لیے پسند کرلیا ہے''۔
‫میں نے نہ اپنا بیٹا بیچا ہے‪ ،نہ بیٹی کو بیچوں گا''۔ بوڑھے نے کہا… ''جھونپڑے میں پل کر جوان ہونے والی بیٹی ''
‫کسی سپاہی کے جھونپڑے میں ہی اچھی لگتی ہے۔ میں آپ سے ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اللچ نہ دیں۔ آپ
‫میرے مہمان ہیں۔ میزبانی کا ہر فرض ادا کروں گا''۔
‫تم سو جائو''۔ سیف الدین نے بوڑھے سے کہا… ''ہمیں تم پر بھروسہ ہے اور خوشی ہے کہ ہماری ریاست میں تم ''
‫جیسے صاف گو اور بااصول بزرگ موجود ہیں''۔
‫بوڑھا چال گیا تو سیف الدین نے اپنے ساتھیوں سے کہا… ''اس قسم کے انسان دھوکہ نہیں دیا کرتے… تم نے اس کی بیٹی
‫''کو غور سے دیکھا تھا؟
‫اچھا موتی ہے''۔ نائب ساالر نے کہا۔''
‫حاالت ذرا بہتر ہولیں تو یہ موتی اپنی جھولی میں ہوگا''۔ سیف الدین نے مسکرا کر کہا‪ ،پھر چونک کر اپنے نائب ساالر ''
‫سے کہنے لگا… '' تم موصل کی خبر لو‪ ،فوج کو یکجا کرو‪ ،صالح الدین ایوبی کی سرگرمیاں بھانپو اور مجھے بہت جلدی بتائو
‫کے میں موصل آجائوں یا کچھ دیر رکا رہوں… اور تم…'' اس نے کمان دار سے کہا… ''حلب والوں کو بتا دو کہ میں کہاں
‫ہوں۔ خود جائو یا کسی کو بھیجو''۔
‫دونوں روانہ ہوگئے۔ سیف الدین جو شراب میں بدمست ہوکر حسین سے حسین تر لڑکیوں سے دل بہال کر محل میں سونے کا
‫عادی تھا‪ ،ایک کچے سے مکان کے فرش پر سوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس سے ایک روز پہلے کا واقعہ ہے کہ میدان جنگ سے ایک سپاہی بھاگا ہوا موصل کی طرف جارہا تھا۔ وہ گھوڑا دوڑاتا تھا‪،
‫رکتا تھا اور آہستہ آہستہ چالنے لگتا تھا۔ کبھی گھوڑا روک کر گھبراہٹ کے عالم میں ادھر ادھر دیکھتا تھا۔ وہ عام راستہ سے
‫کچھ ہٹ کر جارہا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس پر خوف طاری ہے اور اس کا ذہن اس کے قابو میں نہیں۔ ایک جگہ اس نے
‫گھوڑا روکا‪ ،اترا اور قبلہ رو ہوکر نماز پڑھنے لگا۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو زاروقطار رو پڑا‪ ،وہاں سے وہ اٹھا نہیں۔ سر
‫ہاتھوں میں لے کر بیٹھا رہا۔
‫یہ فوجیں جب سلطان ایوبی سے شکست کھا کر بکھری اور پسپا ہوئی تھیں‪ ،سلطان ایوبی کے کئی ایک جاسوس ان میں
‫شامل ہوگئے تھے۔ یہ سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کا طریقہ تھا کہ دشمن جب پسپا ہوتا تھا تو کچھ جاسوس بھاگے ہوئے
‫سپاہیوں یا جنگ کی زد میں آئے ہوئے گائوں کے مہاجرین کے بہروپ میں دشمن کے عالقے میں چلے جاتے اور دشمن کی
‫تنظیم نو‪ ،عزائم اور دیگر کوائف دیکھ کر اطالعیں فراہم کرتے تھے۔ دمشق سے جب الملک الصالح اپنی فوج کے ساتھ بھاگا تھا
‫تو بھی جاسوسوں کی خاصی تعداد فوج اور بھاگے ہوئے شہریوں کے ساتھ چلی گئی تھی۔ جیسا کہ پہلے وضاحت سے بیان کیا
‫جاچکا ہے کہ سلطان ایوبی آدھی جنگ جاسوسی کے نظام سے جیت لیا کرتا تھا۔ جاسوسی کے لیے جن آدمیوں کو منتخب
‫کیا جاتا‪ ،وہ غیرمعمولی طور پر ذہین‪ ،ٹھنڈے مزاج والے‪ ،فیصلے کی اہلیت اور خوداعتمادی رکھنے والے‪ ،لڑاکے اور پھرتیلے ہوتے
‫تھے۔
‫اپریل ‪ ١١٧٥ء میں سلطان ایوبی نے اپنے مسلمان دشمنوں کی متحدہ فوج کو شکست دی تو اس کی انٹیلی جنس کے سربراہ‪،
‫حسن بن عبداللہ نے ان جاسوسوں کو جو اس کام کے لیے تربیت یافتہ تھے‪ ،دشمن کی بکھری ہوئی فوج میں شامل ہوکر
‫حلب‪ ،موصل اور حرن تک جانے اور دشمن کے آئندہ عزائم معلوم کرنے کو بھیج دیا۔ ان میں بعض دشمن کی فوج کے لباس
‫میں تھے اور بعض دیہاتی لباس میں۔ ان کا جانا بہت ہی ضروری تھا‪ ،کیونکہ یہ خطرہ ہر لمحہ موجود تھا کہ دشمن تنظیم نو
‫( ری گروپنگ) کرکے جوابی حملہ کرے گا۔ سلطان ایوبی نے دشمن کو جو نقصان پہنچایا تھا‪ ،اس سے اسے اندازہ تھا کہ
‫دشمن ری گروپنگ میں خاصے دن صرف کرے گا۔ دشمن کی تین فوجیں تھیں۔ سلطان ایوبی کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس کے
‫تینوں دشمن دلی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ نہیں۔ تینوں میں سے ہر ایک کی خواہش یہ تھی کہ وہ سلطان ایوبی کو
‫شکست دے کر سلطنت اسالمیہ کو مختار کل اور شہنشاہ بن جائے۔ وہ ایک دوسرے کے بھی خالف تھے مگرفی الحال صورت
‫یہ تھی کہ وہ سلطان ایوبی کو اپنا مشترک دسمن سمجھتے تھے۔ اس لیے یہ امکان موجود تھا کہ وہ تینوں فوجوں کو ایک
‫فوج کی صورت میں منظم کرلیں گے اور جوابی حملہ کریں گے۔
‫سلطان ایوبی یہ بھی جانتا تھا کہ عیاشیوں کے دلدادہ میدان جنگ میں نہیں ٹھہر سکتے‪ ،لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس
‫کے دشمنوں کو صلیبیوں کی مدد اور پشت پناہی حاصل ہے اور اس کے پاس صلیبی مشیر بھی موجود ہیں۔ اس کے عالوہ
‫مسلمان ساالروں میں دو تین ایسے تھے جو قیادت کی اہلیت رکھتے تھے۔ ان میں مظفر الدین ابن زین الدین خاص طور پر
‫قابل ذکر تھا۔ وہ سلطان ایوبی کی فوج میں ساالر رہ چکا تھا‪ ،اس لیے سلطان ایوبی کے دائو وپیچ کو خوب سمجھتا تھا۔
‫صلیبی مشیروں اور مظفر الدین جیسے ساالروں نے سلطان ایوبی کو بہت چوکس کردیا تھا۔
‫اسے جو عنصر زیادہ پریشان کررہا تھا وہ اس کی اپنی فوج کی کیفیت تھی جو تسلی بخش کہالئی جاسکتی تھی لیکن یہ
‫خطرہ تھا کہ وہ فوری طور پر دوسری جنگ نہیں لڑ سکے گا۔ جانی نقصان کم نہ تھا۔ دشمن کو شکست تو دے دی گئی تھی
‫مگر کچھ قیمت بھی دینی پڑی تھی جو تھوڑی نہیں تھی۔ سلطان ایوبی کے لیے ایک مشکل یہ بھی تھی کہ وہ اپنے مستقر
‫سے دور تھا۔ رسد اس کے ساتھ تھی لیکن طویل جنگ کی صورت میں رسد کی کیفیت مخدوش ہوسکتی تھی۔ اس نے
‫قریبی آبادیوں سے بھرتی شروع کرادی تھی۔ لوگ بھرتی ہورہے تھے۔ ان میں زیادہ تر تیغ زنی‪ ،تیر اندازی اور گھوڑ سواری
‫سے واقف تھے لیکن فوج کی صورت میں لڑانے کے لیے ٹریننگ کی ضرورت تھی۔ ٹریننگ شروع کردی گئی تھی اور اس کے
‫ساتھ ہی سلطان ایوبی نے پیش قدمی جاری رکھی تاکہ کام کے عالقوں پر قبضہ کرلیا جائے۔ اسے بعض مقامات مزاحمت کے
‫بغیر مل گئے اور وہ ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں دور دور تک سبزہ ہی سبزہ تھا اور پانی کی افراط تھی۔ فوج اور جانور تھک
‫کر چور ہوچکے تھے۔ جانوروں کی یہ حالت تھی کہ اتنا زیادہ سبزہ اور پانی دیکھ کر وہ بھول ہی گئے کہ ان کا استعمال اور

‫فرائض کیا ہیں۔
‫سلطان ایوبی نے وہیں خیمہ زن ہونے کا حکم دیا۔ دیکھ بھال کے دستے موزوں جگہوں پر بھیج دئیے۔ جاسوس پہلے ہی چلے
‫گئے تھے۔ اسے حکم دینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ یہ نظام ایک مشین کی طرح از خود چلتا تھا۔ یہ مقام جہاں سلطان
‫ایوبی نے قیام کیا تھا ترکمان کے نام سے مشہور تھا۔ اس کا پورا نام حباب الترکمان (ترکمان کا کنواں) تھا۔
‫بھرتی اور تیز کردو''۔ سلطان ایوبی نے اپنی مرکزی کمان کی پہلی کانفرنس میں کہا …… ''اجتماعی طورپر لڑنے کی ''
‫تربیت اور زیادہ تیز کردو۔ خدا نے تم پر کرم کیا ہے کہ تمہیں بڑا ہی احمق دشمن دیا ہے اگر ان لوگوں میں کچھ سوجھ
‫بوجھ ہوتی تو وہ پسپا ہوکر اس جگہ اکٹھے ہوجاتے۔ جنگی جانوروں اور سپاہیوں کے لیے یہ مقام جنت سے کم نہیں۔ یہاں
‫تمہارے جانور اتنا چارہ کھا لیں گے کہ دس روز بغیر چارے کے لڑ سکیں گے… میرے دوستو! دشمن کو حقیر نہ سمجھنا۔ فوج
‫کو آرام دو لیکن تیاری کی حالت میں رہنا۔ طبیبوں سے کہو کہ راتوں کو نہ سوئیں‪ ،زخمیوں کو بہت جلد صحت یاب کریں
‫اور بیماروں کو دن رات نگرانی میں رکھیں… اور یاد رکھو‪ ،ہمارا مقصد اپنے بھائیوں کو قتل کرنا یا انہیں برا بھال کہنا اور
‫دھتکارنا نہیں۔ ہماری منزل فلسطین ہے اگر آپس میں دست وگریبان ہوتے رہے تو صلیبی اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔
‫نظر فلسطین پر رکھو اور راستے میں جو رکاوٹ آئے‪ ،اسے روندتے چلے جائو''۔
‫اسی مقام پر سلطان صالح الدین ایوبی کو الملک الصالح کی طرف سے صلح کا پیغام مال تھا جس کا تفصیلی تذکرہ پچھلی
‫قسط میں کیا گیا ہے۔ سلطان ایوبی نے اپنی شرائط پر صلح نامہ قبول کرلیا تھا۔ اس سے اسے یہ اطمینان ہوگیا تھا کہ اس
‫کے دشمن نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ سلطان ایوبی نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ اپنے بھائیوں کو دشمن نہیں سمجھتا عالی
‫ظرفی کا یہ مظاہرہ کیا تھا کہ اس نے دشمن کے جو جنگی قیدی پکڑے تھے‪ ،انہیں مختصر سا وعظ دے کر رہا کردیا تھا۔
‫الملک الصالح کے صلح نامے پر اپنی مہر ثبت کرنے سے پہلے بھی اس نے کوئی کڑی شرط نہ رکھی کیونکہ وہ اپنے مسلمان
‫بھائیوں کو ذہن نشین کرانا چاہتا تھا کہ تمہارا دشمن میں نہیں ہوں‪ ،صلیبی ہیں۔
‫اس پیغام نے اسے جو اطمینان دیا تھا‪ ،وہ تین چار دنوں سے زیادہ نہ رہا کیونکہ اسے الملک الصالح کا ایک اور پیغام مال۔
‫اس نے کھول کر دیکھا تو یہ اس کے نام نہیں بلکہ سیف الدین غازی کے نام تھا جو غلطی سے قاصد سلطان ایوبی کے پاس
‫لے آیا تھا۔ ( پچھلی قسط میں اس پیغام کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے) اس پیغام سے یہ ظاہر ہوا کہ سیف الدین غازی
‫( سلطان ایوبی کا دشمن نمبر دو) نے الملک الصالح کو لکھا تھا کہ اس نے سلطان ایوبی کے ساتھ صلح کرکے غلطی کی ہے
‫اور اپنے اتحادیوں کو دھوکہ دیا ہے۔ سیف الدین کے اس پیغام کے جواب میں الملک الصالح نے اسے لکھا تھا کہ تم لوگ بے
‫فکر رہو‪ ،میں نے صالح الدین ایوبی کو صلح کا دھوکہ دیا ہے تاکہ وہ اس حالت میں ہم پر نہ آدھمکے‪ ،جبکہ ہماری فوجیں
‫فوری طور پر مقابلے کے لیے تیار نہی۔ میں جانتا ہوں کہ صالح الدین ایوبی کی نظر حلب پر ہے۔ اس کی فوج بھی ابھی
‫حملے کے لیے تیار نہیں۔ میں نے وقت حاصل کرنے کے لیے اسے صلح کا جھانسہ دیا ہے۔ تم لوگ اپنی اپنی فوج کو منظم
‫کرو۔ صلیبی مشیر میری فوج کو تیزی سے منظم اور تیار کررہے ہیں۔ تم مجھ سے اتفاق کرو گے کہ ہم ابھی لڑنے کے قابل
‫نہیں۔
‫اس سے پہلے بتایا جاچکا ہے کہ الملک الصالح نورالدین زنگی کا بیٹا تھا جس کی عمر صرف تیرہ سال تھی۔ نورالدین زنگی
‫فوت ہوگیا تو انتظامیہ اور فوج کے مفاد پرست حکام باال نے الملک الصالح کو نورالدین زنگی کا جانشین بنا کر اسے سلطان کا
‫خطاب دیا‪ ،پھر اسے اپنے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا لیا۔ سلطنت اسالمیہ بکھرنے لگی۔ سلطان ایوبی مصر سے دمشق گیا۔
‫الملک الصالح اور اس کے حواری دمشق کی فوج کے کچھ حصے بھاگ کر حلب چلے گئے اور اس شہر کو دارالسلطنت بنا لیا۔
‫الملک الصالح کو حواری استعمال کررہے تھے۔ سلطان ایوبی کو صلح کا دھوکہ انہی لوگوں نے صلیبی مشیروں کے مشورے سے
‫دیا تھا مگر پیغام سیف الدین کے پاس جانے کے بجائے سلطان صالح الدین کے ہاتھ آگیا۔ یہ اس دور کی تاریخ کا ایک مشہور
‫واقعہ ہے‪ ،بعض مورخین نے لکھا ہے کہ قاصد یہ پیغام غلطی سے سلطان ایوبی کے پاس لے گیا تھا لیکن مسلمان مورخین نے
‫جن میں سراج الدین قابل ذکر ہے‪ ،وثوق سے لکھا ہے کہ قاصد سلطان صالح الدین ایوبی کا جاسوس تھا۔ سلطان ایوبی کو
‫اس پیغام نے پریشان کردیا لیکن اس نے پریشانی سے متاثر ہوکر فوری طور پر کوچ اور حملے کا حکم نہ دیا۔ دشمن کی طرح
‫اسے بھی اپنی فوج کی کیفیت کو بہتر بنانے کی ضرورت تھی۔ اس کے پیش نظر سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اس کا دشمن
‫اپنے مستقر کے قریب تھا اور وہ خود مستقر سے بہت دور۔ رسد کا راستہ طویل اور غیر محفوظ ہوگیا تھا۔ اس کے عالوہ
‫اندھا دھند پیش قدمی کا قائل نہ تھا۔ جاسوسوں کی مستند رپورٹوں کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھتا تھا۔ اس کے بجائے وہ دشمن
‫کو آگے آنے کی مہلت دیتا تھا۔ چنانچہ اس نے حسن بن عبداللہ سے کہا کہ وہ کچھ اور جاسوس دشمن کے عالقے میں
‫بھیج دے جو بہت جلدی معلومات حاصل کرکے بھیجیں۔ اس کے عالوہ اس نے کچھ اور ضروری انتظامات کیے۔ اس نے اپنی
‫مرکزی کمان سے کہا کہ وہ حملہ نہیں کرے گا بلکہ دشمن کو حملے کی مہلت دے گا تاکہ وہ اپنے اڈے سے دور نکل آئے۔
‫ان ہدایات کے بعد وہ دور دور کی زمین کا جائزہ لینے لگا جہاں اسے دشمن کو لڑانا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫ذکر اس سپاہی کا ہورہا تھا جو میدان جنگ سے بھاگ کر موصل کی سمت جارہا تھا۔ وہ موصل یعنی سیف الدین غازی کی
‫فوج کا سپاہی تھا۔ اس فوج کا بہت سارا حصہ تو اجتماعی طور پر پسپا ہوا تھا جو سپاہی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں تھے وہ
‫بکھر کر اکیلے اکیلے بھاگے تھے۔ یہ سپاہی اکیلے بھاگنے والوں میں سے تھا۔ وہ پریشانی کے عالم میں تھا۔ اس نے ایک
‫جگہ گھوڑا روکا‪ ،نماز پڑھی اور دعا کرتے رو پڑا۔ پھر وہ اٹھا نہیں‪ ،سر ہاتھوں میں لے کر بیٹھا رہا۔ ایک گھوڑ سوار اس کے
‫قریب جا رکا۔ سپاہی عالم خیال میں ایسا محو تھا کہ گھوڑے کے قدموں کی آہٹ بھی اسے بیدار نہ کرسکی۔ سوار گھوڑے
‫سے اترا اور سپاہی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ تب اس نے بدک کر اوپر دیکھا۔
‫یہ تو میں بتا سکتا ہوں کہ تم میدان جنگ سے پسپا ہوکر آئے ہو''۔ سوار نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔ ''لیکن تم''
‫''اس طرح کیوں بیٹھے ہو؟ اگر زخمی ہو تو میں کچھ مدد کروں؟
‫میرے جسم پر کوئی زخم نہیں''۔ سپاہی نے جواب دیا اور دل پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''میرے دل میں گہرا زخم آیا ہے''۔''
‫یہ گھوڑ سوار جو اس کے پاس آبیٹھا تھا‪ ،سلطان ایوبی کے ان جاسوسوں میں سے تھا جنہیں دشمن کی پسپائی سے فائدہ
‫اٹھاتے ہوئے دشمن کے عالقوں میں جانے کو بھیجا گیا تھا۔ اس کا نام داود تھا۔ ٹرینگ کے مطابق وہ اس سپاہی کا غور سے
‫جائزہ لے رہا تھا۔ اسے وہ استعمال کرسکتا تھا۔ اپنی ذہانت سے وہ سمجھ گیا کہ یہ سپاہی جذباتی لحاظ سے اکھڑا ہوا ہے
‫اور یہ شکست کی دہشت کا اثر ہے۔ اس نے سپاہی کے ساتھ ایسی باتیں کیں کہ سپاہی کے دل میں جو غبار تھا وہ باہر
‫آگیا۔

‫سپاہ گری میرا خاندانی پیشہ ہے''۔ سپاہی نے کہا… ''میرا باپ سپاہی تھا‪ ،دادا بھی سپاہی تھا۔ سپاہ گری ہمارا ذریعہ ''
‫معاش بھی ہے اور ہماری روح کی غذا بھی۔ میں اللہ کا سپاہی ہوں۔ اپنے مذہب اور اپنی قوم کے لیے لڑتا ہوں۔ مجھے
‫معلوم تھا کہ صلیبی ہمارے مذہب کے بدترین دشمن ہیں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہمارا قبلہ اول صلیبیوں کے قبضے
‫میں ہے۔ میرے باپ نے مجھے دوستی اور دشمنی کی تاریخ زبانی سنائی تھی۔ میں اسالمی جذبے سے فوج میں شامل ہوا
‫تھا۔ تھوڑا عرصہ گزرا ہمیں بتایا جانے لگا کہ صالح الدین ایوبی صلیبیوں کا دوست ہے اور بدکار آدمی ہے۔ اس سے پہلے ہم
‫سنتے تھے کہ صالح الدین ایوبی صلیبیوں کے خالف لڑ رہا ہے اور صلیبی اس سے ڈرتے ہیں اور وہ صلیبیوں سے قبلہ اول
‫…''آزاد کرائے گا۔ ہماری فوج کے امام نے بھی ہمیں صالح الدین ایوبی کے خالف بہت بری بری باتیں بتائیں
‫ہم اپنی ریاست کے والئی سیف الدین غازی کو سچا سمجھتے رہے۔ ایک روز ہماری فوج کو کوچ کا حکم مال۔ ہم ادھر آئے''
‫تو جنگ ہوئی۔ جنگ کے دوران ہمیں پتہ چال کہ ہم مسلمان فوج کے خالف لڑ رہے ہیں۔ یہ صالح الدین ایوبی کی فوج تھی۔
‫اس فوج کے سپاہی نعرے لگا رہے تھے …… حق کے خالف نہ لڑو مسلمانو۔ تمہارے دشمن صلیبی ہیں‪ ،ہم نہیں‪ ،ہمارا ساتھ
‫دو‪ ،قبلہ اول کو آزاد کرائو‪ ،عیاش حکمرانوں کے لیے نہ لڑو‪ ،میں نے اس فوج کے جھنڈے دیکھے جن پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا
‫تھا… میرے دوست! میں نے ان سپاہیوں کو جس طرح لڑتے دیکھا‪ ،اس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے‪،
‫…''ہمارے ساتھ نہیں۔ ہمیں کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ تیر کدھر سے آرہے ہیں اور شعلے کہاں سے اٹھ رہے ہیں
‫ایک جگہ چٹان پھٹی ہوئی تھی۔ میرے دل پر موت کا نہیں‪ ،خدا کا خوف ایسا طاری ہوا کہ میرے بازوئوں میں طاقت نہ ''
‫رہی کہ تلوار کا وزن اٹھا سکتے ۔ گھوڑے کی باگیں کھینچنے کی ہمت نہ رہی۔ میں نے گھوڑا پھٹی ہوئی چٹان کے اندر
‫کرلیا۔ میں بزدل نہیں ہوں مگر میرا سارا جسم کانپ رہا تھا۔ باہر تلواریں ٹکرا رہی تھیں‪ ،گھوڑوں کا شور تھا اور مجھے نعرے
‫سنائی دے رہے تھے… رمضان شریف میں بھائیوں کے خالف نہ لڑو''… مجھے یاد آیا کہ ہمیں حکم مال تھا کہ جنگ میں
‫روزے معاف ہوتے ہیں۔ مجھے پتہ چال کہ صالح الدین ایوبی کے سپاہی روزے سے تھے۔ میں اس وقت تک ان میں سے تین
‫سپاہیوں کو قتل کرچکا تھا۔ ان کا خون میری تلوار پر جم گیا تھا۔ سپاہی اپنی تلوار پر خون دیکھ کر خوش ہوا کرتا ہے مگر
‫میں اپنی تلوار کو دیکھنے سے گھبرا رہا تھا کیونکہ میری تلوار کے ساتھ میرے بھائیوں کا خون تھا۔
‫مجھ میں اب وہاں سے باہر نکلنے اور لڑنے کی ہمت نہیں تھی۔ میں وہیں دبکا رہا۔ صالح الدین ایوبی کے ایک سوار نے''
‫مجھے دیکھ لیا اور مجھے للکارا۔ اس نے برچھی مجھ پر سیدھی کی۔ میں نے خون آلود تلوار اس کے گھوڑے کے قدموں میں
‫پھینک دی اور کہا… …''میں تمہارا مسلمان بھائی ہوں‪ ،نہیں لڑوں گا''… …گمسان کی جنگ کچھ دور تھی۔ یہ سوار شاید
‫چھاپہ مار تھا اور چھپے ہوئے سپاہیوں کو ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ آگے آگیا اور مجھ سے پوچھا… …''تمہیں احساس ہوگیا ہے کہ تم
‫خدا کے سچے مسلمانوں کے خالف لڑ رہے ہو؟''… …میں نے اپنے گناہ کا اقرار کیا اور کہا کہ یہ گناہ مجھ سے کرایا گیا
‫ہے۔ مجھے گمراہ کیا گیا ہے۔ اس نے مجھ سے برچھی لے لی۔ تلوار تو میں پہلے ہی پھینک چکا تھا۔ اس نے ایک طرف
‫اشارہ کرکے کہا… …''خدا سے اپنے گناہ کی بخشش مانگو اور ادھر کو نکل جائو۔ پیچھے نہ دیکھنا۔ میں اللہ کے حکم سے
‫……''تمہارے جان بخشی کرتا ہوں
‫میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ وہ محفوظ راستہ تھا۔ میں میدان جنگ سے دور نکل آیا۔ رات کو میں ایک جگہ رکا ''
‫اور سوگیا۔ خواب میں مجھے وہ تین سپاہی نظر آئے جنہیں میں نے جنگ میں قتل کیا تھا۔ ان کے جسموں سے خون بہہ
‫رہا تھا۔ وہ میرے اردگرد آہستہ آہستہ گھوم رہے تھے۔ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ وہ مجھے کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔
‫خاموش تھے۔ میرے دل پر ایسا خوف طاری ہورہا تھا جس سے جسم سے جان نکلتی جارہی تھی۔ میں نے بچوں کی طرح
‫چیخنا شروع کردیا اور میری آنکھ کھل گئی۔ اتنی ٹھنڈی رات میں بھی میرے جسم سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔ خوف سے مرا
‫……''جارہا تھا۔ میں نفل پڑھنے لگا اور روتا رہا
‫میں تین چار دنوں سے بھٹک رہا ہوں۔ رات کو میں سو نہیں سکتا۔ دن کو کہیں چین نہیں آتا۔ رات کو خواب میں ان ''
‫تین سپاہیوں کو دیکھتا ہوں جو میری تلوار سے قتل ہوئے اور دن کے وقت ان ویرانوں میں وہ مجھے اپنے اردگرد گھومتے
‫محسوس ہوتے ہیں‪ ،نظر نہیں آتے اگر وہ سوار جس نے مجھے چٹان میں چھپا ہوا دیکھ لیا تھا‪ ،مجھے قتل کردیتا تو اچھا
‫ہوتا۔ اس نے میری جان بخشی کرکے مجھ پر بہت بڑا ظلم کیا ہے اگر میرے پاس تلوار ہوتی تو میں اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔
‫میں نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین مجاہدوں کو قتل کیا ہے''۔
‫تم زندہ رہو گے''۔ داود نے اسے کہا…… ''یہ خدا کی رضا ہے کہ تم مرو گے نہیں۔ میدان جنگ سے تم زندہ نکل آئے ''
‫ہو‪ ،تمہارے پاس خودکشی کرنے کے لیے کوئی ہتھیار نہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نے تم سے کوئی نیکی کا کام
‫کرانے کے لیے زندہ رکھا ہے۔ خدا نے تمہیں موقع دیا ہے کہ گناہ کا کفارہ ادا کردو''۔
‫''تم مجھے یہ بتائو کہ صالح الدین ایوبی کے متعلق مجھے جو بری بری باتیں بتائی گئی تھیں وہ سچی ہیں یا جھوٹی؟''
‫بالکل جھوٹی'' ۔ داود نے جواب دیا …… ''بات صرف یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی صلیبیوں کو یہاں سے نکال کر خدا کی''
‫حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے اور سیف الدین اور اس کے دوست اپنی اپنی بادشاہی کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے صلیب کے
‫پجاریوں کے ساتھ گہری دوستی کرلی ہے اور ان کی مدد سے یہ سب صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے آئے تھے''… …داود
‫نے اسے پوری تفصیل سے بتایا کہ صالح الدین ایوبی کیا ہے اور کیا ارادے رکھتا ہے۔ موصل کے حکمران سیف الدین کے
‫متعلق اسے بتایا کہ وہ اتنا عیاش ہے کہ میدان جنگ میں بھی عیاشی کا سامان ساتھ لے گیا تھا۔
‫مجھے یہ بتائو کہ میں صالح الدین ایوبی کے ان تین سپاہیوں کو خون کا خراج کس طرح ادا کرسکتا ہوں''۔ سپاہی نے ''
‫داود سے پوچھا…… ''اگر یہ بوجھ میرے دل سے نہ اترا تو میں بہت بری موت مروں گا۔ اگر مجھے کہو تو میں والئی موصل
‫سیف الدین کو قتل کردوں''۔
‫''ایسی بھی کوئی ضرورت نہیں''۔ داود نے کہا…… ''تم پسند کرو گے کہ میں تمہارے ساتھ چلوں؟''
‫تم کون ہو؟'' سپاہی نے پوچھا…… ''میں نے یہ تو تم سے پوچھا ہی نہیں کہ تمہارا نام کیا ہے اور تم کہاں سے آئے ''
‫ہو‪ ،کہاں جارہے ہو؟…… میرا نام حارث ہے''۔
‫میں موصل جارہا ہوں''۔ داود نے جھوٹ بوال…… ''وہیں کا رہنے واال ہوں۔ جنگ کی وجہ سے میں راستے سے دور جارہا''
‫ہوں اگر تمہارا گائوں راستے میں پڑتا ہے تو وہاں رکوں گا''۔
‫میرا گائوں دور نہیں''۔ سپاہی حارث نے کہا…… ''تم میرے گھر نہیں رکو گے تو زبردستی روکوں گا۔ تم نے میری زخمی ''
‫روح کو سکون دیا ہے۔ میں نے اتنی اچھی باتیں کبھی نہیں سنی تھیں۔ میں گھر ہی جائوں گا۔ موصل کی فوج میں اب
‫''کبھی نہیں جائوں گا۔ مجھے امید ہے کہ تم مجھے نجات کا راستہ دکھا سکو گے

‫والئی موصل سیف الدین غازی بوڑھے کے کچے سے مکان میں فرش پر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ وہ کئی راتیں جاگا تھا۔ آج
‫رات وہ اتنی گہری نیند سویا کہ مکان کے باہر والے دروازے پر دستک ہوئی تو اس کی آنکھ نہ کھلی۔ رات آدھی گزر گئی
‫تھی۔ سفید ریش بوڑھے کی آنکھ کھل گئی۔ اس کی بیٹی اور بہو بھی جاگ اٹھیں۔ بوڑھے نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا……
‫'' معلوم ہوتا ہے کہ صالح الدین ایوبی کا بھگایا ہوا موصل کا کوئی اور کمان دار یا سپاہی آیا ہے۔ راستے میں گھر نہیں ہونا
‫چاہیے''۔
‫اس نے دروازہ کھوال تو باہر دو گھوڑے کھڑے تھے۔ سوار اتر آئے تھے۔ حارث نے سالم کیا تو بوڑھا اس کے ساتھ لپٹ گیا
‫مگر اس نے محبت کی بے تابی کا اظہار الفاظ میں نہ کیا۔ ''میرے عزیز بیٹے! مجھے خوشی ہے کہ حرام موت سے بچ
‫آئے ہو‪ ،ورنہ جب تک میں زندہ رہتا لوگوں سے یہی سنتا رہتا کہ تمہارا بیٹا اسالمی فوج کے خالف لڑا تھا''…… اس نے
‫اپنے بیٹے کے ساتھ داود کے ساتھ ہاتھ مالیا۔
‫اعلی
‫داود کچھ کہنے لگا تھا۔ بوڑھے نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی‪ ،پھر سرگوشی میں کہا…… ''تمہارا بادشاہ اور ساالر
‫ٰ
‫سیف الدین غازی اندر سویا ہوا ہے۔ گھوڑے خاموشی سے دوسری طرف لے جاکر باندھ دو اور اندر آجائو''۔
‫''سیف الدین غازی؟'' حارث نے حیرت سے کہا… …''یہاں کیسے آگیا ہے؟''
‫شکست کھا کر''۔ بوڑھے نے سرگوشیوں میں جواب دیا…… ''اندر چلو''۔''
‫گھوڑے دوسری طرف سے اندر لے جاکر باندھ دئیے گئے۔ داود اور حارث کو بوڑھا اندر لے گیا۔ حارث ہی اس کا وہ سپاہی بیٹا
‫تھا جس کے متعلق اس نے سیف الدین کو بتایا تھا۔ حارث داود کو اسی کمرے میں لے گیا جہاں اس کی بیوی اور جوان بہن
‫تھی۔ اس نے باپ سے کہا …… ''اس کا نام داود ہے۔ اس سے بہتر اور کوئی دوست نہیں ہوسکتا''۔
‫کیا تم بھی بھاگ کر آئے ہو؟'' بوڑھے نے داود سے پوچھا۔''
‫میں فوجی نہیں ہوں''۔ داود نے جواب دیا …… ''موصل جارہا ہوں‪ ،جنگ نے مجھے راستے سے ہٹا دیا تھا۔ حارث مل ''
‫گیا تو میں اس کے ساتھ چل پڑا''۔
‫مجھے یہ بتائو کہ والئی موصل ہمارے گھر میں کیسے آیا ہے؟'' حارث نے اپنے باپ سے پوچھا۔''
‫سفید ریش باپ نے اسے بتایا کہ وہ کس طرح آیا ہے۔ ''آج ہی رات آیا ہے''۔ اس نے کہا …… ''اس کے ساتھ ایک
‫نائب ساالر اور کمان دار تھا۔ ان دونوں کو اس نے کہیں بھیج دیا ہے۔ میرے کانوں میں اس کے یہ الفاظ پڑے تھے کہ فوج کو
‫یکجا کرو اور مجھے بتائو کہ میں موصل آجائوں یا ابھی چھپا رہوں… میں اس وقت دروازے کے قریب تھا''۔
‫ابھی تو وہ اتنا ڈرا ہوا ہے کہ مجھے کہتا تھا کہ کسی کو پتہ نہ چلنے دوں کہ یہ یہاں ہے''۔ بوڑھے نے جواب دیا… ''
‫…''میں اپنے تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ اس کا ارادہ صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کا ضرور ہے۔ اپنے کمان دار
‫کو اس نے موصل کے بجائے کسی اور طرف بھیجا ہے''۔
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔ ‪ 20:40
‫قسط نمبر۔‪100
‫راہ حق کے مسافر
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫کسی اور طرف بھیجا ہے''۔''میں اسے قتل کروں گا''۔ حارث نے کہا… …''اس نے مسلمان کو مسلمان کے خالف لڑایا
‫ہے۔ اللہ اکبر کے نعرے لگانے والوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا ہے۔ مجھے پاگل کیا ہے''۔ وہ غصے سے بے قابو ہوکر
‫اٹھا۔ دیوار کے ساتھ اس کے باپ کی تلوار لٹک رہی تھی۔ وہ لے لی۔
‫باپ نے پیچھے سے اسے دبوچ لیا۔ داود نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ حارث بے قابو ہوا جارہا تھا۔ باپ نے اسے کہا کہ پہلے
‫میری بات سن لو۔ داودنے بھی اسے روکا اور کہا کہ ایسے فیصلے کرنے سے پہلے سوچ لینا اچھا ہوتا ہے۔ ہم اسے قتل کرکے
‫ہی چین کا سانس لیں گے لیکن پہلے آپس میں صالح مشورہ کرلیں۔ حارث مان تو گیا لیکن پھنکار رہا تھا۔ غصے کی شدت
‫سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں۔
‫اسے قتل کرنا کوئی مشکل کام نہیں''۔ بوڑھے نے اپنے بپھرے ہوئے بیٹے کو بٹھا کر کہا… …''وہ گہری نیند سویا ہوا ''
‫ہے۔ اسے تو میرے یہ ناتواں بازو بھی قتل کرسکتے ہیں۔ اس کی الش کو چھپا یا بھی جاسکتا ہے مگر اس کے جو دو
‫ساتھی چلے گئے ہیں‪ ،وہ ہمیں چھوڑیں گے نہیں۔ وہ ہمیں شک میں پکڑ لیں گے۔ تمہاری جوان بیوی اور جوان بہن کے ساتھ
‫بہت برا سلوک کریں گے۔ اگر ہم انہیں بتائیں گے کہ والئی موصل چال گیا ہے تو وہ نہیں مانیں گے کیونکہ اس نے انہیں کہا
‫ہے کہ وہ یہیں واپس آئیں''۔
‫معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیف الدین کو سچا سمجھتے ہیں''۔ حارث نے کہا… ''آپ مسلمان کے خالف مسلمان کی لڑائی ''
‫کو بھی جائز سمجھتے ہیں''۔
‫یہ بھی ایک وجہ ہے کہ میں اسے اپنے گھر میں قتل نہیں کرنا چاہتا''۔ بوڑھے نے کہا۔ ''میں نے اسے صاف الفاظ ''
‫میں بتادیا ہے کہ میں اسے سچا نہیں سمجھتا۔ اس نے مجھے کہا کہ تم صالح الدین ایوبی کے حامی معلوم ہوتے ہو۔ اس
‫نے مجھے یہ اللچ بھی دیا ہے کہ اگر تمہارا بیٹا جنگ میں مارا گیا تو اس کے عوض بہت رقم دوں گا۔ میں نے اسے کہا کہ
‫میں اپنے بیٹے کی شہادت کا خواہش مند ہوں‪ ،حرام موت یا رقم کا نہیں۔ سیف الدین میرے خیاالت جان گیا ہے۔ اگر ہم نے
‫اسے قتل کرکے الش غائب کردی تو اس کا نائب ساالر فورا ً مجھے پکڑے گا اور کہے گا کہ تم صالح الدین ایوبی کے حامی
‫ہو‪ ،اس لیے تم نے والئی موصل کو قتل کردیا ہے''۔
‫داود بھائی!'' حارث نے داود سے پوچھا…… ''تم بتائو میں کیا کروں۔ تم نے میری جذباتی حالت دیکھی تھی۔ تم نے کہا''
‫تھا کہ خدا نے مجھے گناہ کاکفارہ ادا کرنے کے لیے زندہ رکھا ہے۔ اس سے بڑھ کر نیکی کا اور کام کیا ہوسکتا ہے کہ
‫حکمران کو قتل کردوں جس نے ہزاروں مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کرایا ہے۔ تم دانش مند انسان ہو''۔
‫اس ایک آدمی کو قتل کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا''۔ داود نے کہا…… ''اس کے دوست بھی ہیں جو حلب میں ہیں ''
‫اور حرن میں بھی۔ ان کے بہت سے ساالر ہیں اور ان کی تین فوجیں ہیں۔ اکیلے سیف الدین کے قتل سے یہ سب صالح
‫الدین ایوبی کے آگے ہتھیار نہیں ڈال دیں گے۔ ہتھیار ڈلوانے کا طریقہ اور ہوتا ہے۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان سب کو
‫میدان جنگ میں ایسا بے بس کردیا جائے کہ یہ ہتھیار ڈال دیں اور صالح الدین ایوبی کی شرائط ماننے پر مجبور ہوجائیں''۔
‫یہ کام صالح الدین ایوبی کے سوا اور کون کرسکتا ہے؟'' حارث نے کہا…… ''میرے سینے میں جو آگ بھڑک رہی ہے‪'' ،
‫''وہ کس طرح سرد ہوگی؟ مجھے خدا تین مجاہدین اسالم کا خون کیونکر بخشے گا؟

‫داود بہت خوش تھا کہ اسے والئی موصل یہیں مل گیا ہے۔ وہ حارث اور اس کے باپ کو یہ بتانے سے جھجک رہا تھا کہ
‫وہ جاسوس ہے۔ جاسوس کو جذبات میں آکر اپنا پردہ نہیں اٹھانا چاہیے مگر پردہ اپنے اوپر ڈالے رکھنے سے وہ کچھ بھی
‫نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے تو یہ سوچ لیا تھا کہ سیف الدین جہاں بھی جائے گا وہ اس کا تعاقب کرے گا اور اس کی
‫سرگرمیوں کو غور سے دیکھے گا لیکن اتنے دن حارث کے گھر میں ٹھہرنا مشکل نظر آرہا تھا۔ اسے باپ بیٹے کے تعاون کی
‫ضرورت تھی۔ یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ وہ اعتماد میں لے یا نہ لے‪ ،اس نے ان کے ساتھ اپنے انداز سے باتیں شروع
‫کردیں۔ اس نے دیکھا کہ حارث تو سیف الدین کو قتل کرنے پر تال ہی ہوا تھا۔ اس کا باپ بھی صالح الدین ایوبی کے اس
‫دشمن کا نام حقارت سے لیتا تھا۔
‫اگر میں آپ کو ایسا طریقہ بتائوں جس سے سیف الدین آئندہ اٹھنے کے قابل نہ رہے تو کیا آپ میرا ساتھ دیں گے؟'' ''
‫داود نے ان سے پوچھا۔
‫میرے بیٹے کی طرح تم جذبات سے نہیں سوچ رہے تو میں تمہارا ساتھ دوں گا''۔ حارث کے باپ نے کہا۔''
‫اور میں قتل سے ہٹ کر اور کچھ نہیں سنوں گا''۔ حارث نے کہا۔''
‫اگر تم اپنی عقل اور اپنے جذبات کی لگام میرے ہاتھ میں دے دو تو تمہارے ہاتھوں ایسا کام کرائوں گا جو تمہاری روح کو''
‫سکون اور چین سے ماال مال کردے گا''۔ داود نے دونوں کو بڑی غور سے دیکھا۔ حارث کی بیوی اور بہن ذرا الگ ہٹ کر
‫بیٹھی سن رہی تھیں۔ داوں نے انہیں بھی غور سے دیکھا اور کہا…… ''مجھے قرآن دو''۔
‫حارث کی بہن نے اٹھ کر قرآن اٹھایا۔ آنکھوں سے لگایا‪ ،چوما اور داود کو دے دیا۔ داود نے بھی قرآن پاک کو آنکھوں سے
‫لگایا‪ ،چوما اور قرآن کھوال۔ اس نے ایک جگہ انگلی رکھی اور پڑھا۔
‫شیطان نے ان کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور خدا کی یاد ان کے ذہنوں سے نکل گئی ہے۔ یہ جماعت شیطان کا لشکر''
‫ہے اور سن رکھوں کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے واال ہے جو لوگ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
‫مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل وخوار ہوں گے''۔
‫یہ اٹھائیسویں پارے کی اٹھارہویں آیات ( سورۂ الحشر) تھیں جو قرآن کھلتے ہی سامنے آگئیں۔ دائود نے کہا…… ''یہ اللہ پاک
‫کا کالم ہے۔ میں نے مرضی سے یہ صفحہ نہیں کھوال۔ یہ الفاظ اپنے آپ میرے سامنے آئے ہیں۔ یہ خدا کا فرمان ہے اور یہ
‫خدا کی بشارت ہے۔ قرآن پاک نے ہم سب کو بتا دیا ہے کہ یہ جماعت شیطانوں کا لشکر ہے لیکن میں اپنے پیر استاد کا
‫سبق تمہیں پڑھانا چاہتا ہوں۔ بے شک قرآن پاک نے فرمایا ہے کہ جو لوگ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
‫کی مخالفت کرتے ہیں‪ ،وہ ذلیل وخوار ہوں گے لیکن وہ اس وقت تک ذلیل وخوار نہیں ہوں گے جب تک ہم کوشش کرکے ان
‫کی ذلت وخواری کا سامان پیدا نہیں کریں گے۔ یہ ہم سب پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم انہیں ذلیل وخوار کریں''۔
‫اس نے قرآن پاک دونوں ہاتھوں پر رکھ کر آگے کیا اور سب سے کہا…… ''سب اپنا اپنا دایاں ہاتھ خدا کے اس پاک کالم پر
‫رکھو اور کہو تم راز سے پردہ نہیں اٹھائو گے اور دشمن کو شکست دینے میں اپنی جانیں قربان کردو گے''۔
‫تعالی
‫سب نے جن میں دونوں خواتین بھی شامل تھیں‪ ،قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی ہے۔ داود نے کہا…… ''خداوند
‫ٰ
‫نے قرآن پاک تمہاری زبان میں اتارا ہے۔ تم اس مقدس کتاب کا ایک ایک لفظ سمجھتے ہو اگر تم نے اس قسم سے انحراف
‫کیا تو اس کی سزا قرآن پاک میں لکھی ہوئی ہے۔ تم بھی اسی ذلت ورسوائی میں پھینک دئیے جائو گے جو شیطان کے
‫''لشکر کے مقدر میں لکھی ہوئی ہے؟
‫تم کون ہو؟'' بوڑھے نے حیرت زدہ آواز میں داود سے پوچھا…… ''تم کسی بہت بڑے عالم کے مرید معلوم ہوتے ہو''۔''
‫میرے پاس کوئی علم نہیں'' داود نے کہا…… ''میرے پاس عمل ہے۔ میں قرآن کی روشنی میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ''
‫یہاں آیا ہوں۔ یہ سبق مجھے کسی عالم نہیں‪ ،صالح الدین ایوبی نے دیا ہے۔ میں موصل کا نہیں‪ ،دمشق کا باشندہ ہوں اور
‫میں سلطان ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہوں۔ یہ ہے وہ راز جس کی تم سب نے قسم کھائی ہے کہ اس سے پردہ نہیں اٹھائو
‫گے۔ مجھے تم سب کے تعاون کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین دالئو کہ جو میں کہوں گا وہ کروں گے''۔
‫ہم قسم کھا چکے ہیں''۔ بوڑھے نے کہا…… ''تم اپنا مقصد اور مدعا بیان کرو''۔''
‫تعالی کی خوشنودی حاصل ہے''۔ داود نے کہا…… ''میں جس کے سینے سے راز نکال کر سلطان صالح الدین''
‫مجھے اللہ
‫ٰ
‫ایوبی تک پہنچانا چاہتا ہوں‪ ،وہ مجھے اس چھت کے نیچے مل گیا ہے جس کے نیچے میں بیٹھا ہوں۔ خدائے ذوالجالل نے
‫مجھے فرشتوں کی راہنمائی دی اور یہاں پہنچا دیا ہے۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ سیف الدین اور اس کے دوستوں کے
‫ارادے اور سرگرمیاں کیا ہیں اگر یہ لوگ جنگ کی تیاریاں کریں تو انہیں تیاری سے پہلے یا تیاری کی حالت میں ختم کیا
‫جاسکتا ہے۔ ان کے ارادے قبل از وقت معلوم کرنا ضروری ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی تیار نہ ہو اور یہ
‫لوگ اچانک حملہ کردیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا''۔
‫کیا مجھے اجازت ہوگی کہ اپنی فوجوں کو دھوکے میں مسلمانوں کے خالف لڑانے والوں کو قتل کردوں؟''۔ حارث نے ''
‫پوچھا۔
‫یہ میں بتائوں گا'' ۔ داود نے جواب دیا…… ''بعض حاالت میں قتل نہ کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ تمہیں ہر قدم ٹھنڈے مزاج''
‫سے اٹھانا ہوگا۔ ہمیں سیف الدین پر نظر رکھنی ہے اور اس کا تعاقب کرنا ہے جس طرح یہ یہاں آکر چھپ گیا ہے‪ ،اسی
‫طرح میں اور حارث چھپے رہیں گے اور دیکھتے رہیں گے کہ یہ کیا کرتا ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سیف الدین اسی مکان کے ایک کمرے میں گہری نیند سویا رہا۔ صبح طلوع ہوئی۔بوڑھے نے جھانک کر دیکھا وہ سویا ہوا تھا۔
‫سورج خاصا اوپر آگیا تھا‪ ،جب اس کی آنکھ کھلی۔ حارث کی بہن اور بیوی نے اس کے آگے ناشتہ رکھا۔ اس نے حارث کی
‫بہن کو غور سے دیکھا اور کہا…… ''تم ہماری جو خدمت کررہی ہو‪ ،اس کا ہم اتنا صلہ دیں گے جو تمہارے تصور میں بھی
‫نہیں آسکتا۔ ہم تمہیں اپنے محل میں رکھیں گے''۔
‫اگر ہم آپ کو اسی جھونپڑے میں رکھیں تو کیا آپ خوش نہیں رہیں گے؟'' لڑکی نے ہنس کر پوچھا۔''
‫ہم تو صحرا میں بھی رہ سکتے ہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''لیکن تم پھولوں کے ساتھ سجا کر رکھنے والی چیز ''
‫ہو''۔
‫کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کے نصیب میں محل میں دوبارہ جانا لکھا ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
‫''ایسی بات تم نے کیوں کہی ہے؟''
‫آپ کی حالت دیکھ کر''…… لڑکی نے کہا …… ''بادشاہ کا جھونپڑے میں چھپنا یہ ظاہر کرتا کہ اس کی سلطنت چھن ''

‫گئی ہے اور اس کی فوج ساتھ چھوڑ گئی ہے''۔
‫فوج نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں ذرا آرام کے لیے یہاں رک گیا ہوں۔ محل صرف میرے ''
‫''نصیب میں نہیں‪ ،تمہارے نصیب میں بھی لکھا ہوا ہے۔ کیا تم میرے ساتھ چلنا پسند کرو گی؟
‫حارث کی بیوی کمرے سے نکل گئی تھی۔ بہن سیف الدین کے پاس بیٹھ گئی اور کہنے لگی… …''اگر میں آپ کی جگہ
‫ہوتی تو صالح الدین ایوبی کو شکست دئیے بغیر محل کا نام نہ لیتی‪ ،اگر آپ نے مجھے پسند کیا ہے تو میں آپ کو بتا
‫دیتی ہوں کہ مجھے آپ کا بھاگنا اور چھپنا بالکل پسند نہیں۔ جنگجو بادشاہوں کی طرح باہر نکلیں۔ اپنی فوج کو اکٹھا کریں
‫اور سلطان صالح الدین ایوبی پر حملہ کردیں''۔
‫لڑکی بھولی بھالی شکل کی تھی۔ اس کی سادگی میں حسن تھا۔ سیف الدین اسے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اور اس
‫کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ تھی جس میں شیطانیت بھی تھی اور محبت بھی۔
‫میں شہزادی نہیں ہوں''…… لڑکی نے کہا… …''ان چٹانوں اور صحرائوں میں پیدا ہوئی اور یہیں جوان ہوئی ہوں۔ میں ''
‫سپاہی کی اوالد اور سپاہی کی بہن ہوں۔ آپ کے ساتھ محل میں نہیں‪ ،میدان جنگ میں جائوں گی۔ میرے ساتھ آپ تیغ زنی
‫''کا مقابلہ کریں گے؟ چٹانوں کے اوپر نیچے میرے ساتھ گھوڑا دوڑائیں گے؟
‫تم صرف خوبصورت ہی نہیں‪ ،جنگجو بھی ہو''…… سیف الدین نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیر کر کہا۔ ''ایسے پیارے بال ''
‫میں نے پہلی بار دیکھے ہیں''۔
‫لڑکی نے اس کا ہاتھ آہستہ سے پرے کردیا اور کہا…… ''بال نہیں بازو۔ ابھی آپ کو میرے بالوں کی نہیں میرے بازوئوں کی
‫''ضرورت ہے۔ مجھے بتائیں آپ کا ارادہ کیا ہے؟
‫تمہارا باپ خطرناک آدمی ہے''…… سیف الدین نے کہا…… ''وہ صالح الدین ایوبی کا حامی ہے اور مجھے شاید پسند نہیں''
‫کرتا۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے دھوکہ دے گا''۔
‫لڑکی الہڑ سی ہنسی ہنس پڑی اور بولی…… ''وہ بوڑھا آدمی ہے۔ معلوم نہیں‪ ،آپ کے ساتھ اس نے کیا باتیں کی ہیں۔ ہمارے
‫سامنے رات سے وہ آپ کی تعریفیں کررہا ہے۔ اس نے صالح الدین ایوبی کا صرف نام سنا ہے۔ اس کے متعلق اور کچھ نہیں
‫جانتا۔ اس سے آپ نہ ڈریں۔ ضعیف آدمی آپ کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ مجھے آزمائیں''۔
‫سیف الدین نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو لڑکی پیچھے ہٹ گئی۔ کہنے لگی…… ''میں آپ کو اپنے جسم سے محروم نہیں
‫کروں گی۔ اپنے آپ کو آپ کے حوالے کردوں گی لیکن اس وقت جب آپ صالح الدین ایوبی کو شکست دے کر آئیں گے۔ آپ
‫''اس وقت مشکل میں ہیں۔ مجھ سے دور رہیں۔ مجھے یہ بتائیں کہ آپ کا ارادہ کیا ہے؟
‫سیف الدین عیاش اور زن پرست انسان تھا۔ جوان اور خوبصورت لڑکی اس کے لیے عجوبہ نہیں تھی لیکن اس لڑکی میں اس
‫نے یہ عجیب بات دیکھی کہ وہ اس کے آگے جھجک نہیں رہی تھی۔ اس کے آگے تو ہر لڑکی سدھائے ہوئے جانور کی طرح
‫اشاروں پر ناچا کرتی تھی۔ اس لڑکی نے اس پر ایسا وار کیا کہ اس کی غیرت بھڑک اٹھی۔
‫سنو لڑکی!''…… اس نے کہا…… ''تم نے میری مردانگی کا امتحان لینا چاہا ہے۔ میں اب اس وقت تمہارے جسم کو ہاتھ''
‫لگائوں گا جس وقت میرے ہاتھ میں صالح الدین ایوبی کی تلوار ہوگی اور میں اسی کے گھوڑے پر سوار ہوں گا۔ مجھ سے
‫وعدہ کرو کہ تم میرے پاس آجائو گی''۔
‫مجھے اپنے ساتھ میدان جنگ میں لے چلیں''…… لڑکی نے کہا۔''
‫نہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''مجھے ابھی فوج تیار کرنی ہے۔ میں نے ایک آدمی کو موصل بھیج دیا ہے۔ میں نے ''
‫انہیں کہال بھیجا ہے کہ فوجیں اکٹھی کرو اور فورا ً صالح الدین ایوبی پر حملہ کردو‪ ،تاکہ وہ ہمارے شہروں کا محاصرہ کرنے
‫آگے نہ آسکے۔ آج شام تک میرے دونوں آدمی واپس آجائیں گے تو معلوم ہوگا کہ حلب اور حرن کی فوجیں کس حالت میں
‫ہیں۔ ہم شکست تسلیم نہیں کررہے۔ جوابی حملہ کریں گے اور فورا ً کریں گے''۔
‫سیف الدین کی شخصیت یہی کچھ تھی۔ زن پرستی اور ایمان فروشی نے اس کا کردار اتنا کھوکھال کردیا تھا کہ اس نے ایک
‫الہڑ اور سیدھی سادی لڑکی سے متاثر ہوکر اسے راز کی بھی ایک دو باتیں بتا دیں۔ لڑکی نے اس کا ہاتھ چوم لیا اور کمرے
‫سے نکل گئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس کے ساتھ جو دو آدمی آئے تھے‪ ،ان میں سے ایک کو اس نے موصل بھیجا ہے اور دوسرے کو حلب''…… حارث کی ''
‫بہن اپنے باپ کو‪ ،حارث اور داود کو بتا رہی تھی…… ''اس کا ارادہ یہ ہے کہ تینوں فوجوں کو اکٹھا کرکے صالح الدین ایوبی
‫پر فورا ً حملہ کیا جائے تاکہ وہ آگے آکر ان کے شہروں کو محاصرے میں نہ لے سکے۔ اس کے جو دو آدمی گئے ہوئے ہیں‪،
‫وہ آکر اسے بتائیں گے کہ فوجیں لڑنے کی حالت میں ہیں یا نہیں''…… سیف الدین نے اسے جو کچھ بتایا تھا وہ اس نے
‫اپنے باپ‪ ،بھائی اور داود کو بتا دیا۔
‫یہ لڑکی جس کا نام فوزی تھا‪ ،کوئی ایسی چاالک اور ہوشیار لڑکی نہیں تھی۔ اسے خدا نے ذہانت اور جذبہ عطا کیا تھا۔ داود
‫نے اسے بتایا کہ وہ سیف الدین کے دل سے راز نکالے۔ فوزی کو اس نے طریقہ بھی بتایا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ یہ
‫شخص عیاش اور بدکار ہے۔ اس لیے اس کے جال سے بچ کر رہنا۔ فوزی نے یہ کام خوش اسلوبی سے کرلیا۔ اس نے سیف
‫الدین سے جو باتیں کہلوالی تھیں‪ ،ان سے داود کو یہ پتہ چل گیا کہ سیف الدین کا پیچھا کرنا ضروری ہے۔
‫آدھی رات سے کچھ دیر پہلے بوڑھے کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دروازے پر دستک سنی اور گھوڑے کو ہنہناتے بھی سنا تھا۔
‫اس نے دروازہ کھوال‪ ،باہر سیف الدین کا نائب ساالر کھڑا تھا۔ بوڑھا اس کا گھوڑا دوسری طرف لے گیا اور نائب ساالر اندر چال
‫گیا۔ بوڑھے نے جاکر نائب ساالر سے کھانے کے متعلق پوچھا‪ ،اس نے انکار کردیا۔ بوڑھے سے غالموں کی طرح ا س نے
‫سلوک کیا۔ سیف الدین نے اسے کہا کہ وہ جاکر سوجائے۔ بوڑھا رعایا کی طرح کے آداب سے وہاں سے نکال۔ اس نے داود کو
‫جگایا اور دونوں نے دروازے کے ساتھ کان لگا دئیے۔
‫گمشتگین کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ حلب میں الملک الصالح کے ساتھ ہے''…… نائب ساالر کہہ رہا تھا…… ''میں نے ''
‫موصل میں جو حاالت دیکھے ہیں وہ کوئی ایسے برے نہیں کہ ہم لڑ ہی نہ سکیں۔ صالح الدین ایوبی ترکمان رک گیا ہے۔
‫صلیبیوں کے جاسوسوں نے بتایا ہے کہ وہ الجزیرہ‪ ،دیار اور بقر اور اردگرد کے عالقوں سے لوگوں کو فوج میں بھرتی کررہا ہے۔
‫یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ فوری طور پر پیش قدمی نہیں کرے گا۔ پیش قدمی ضرور کرے گا جو طوفانی ہوگی۔ اس کی فوج
‫کی خیمہ گاہ بتا رہی ہے کہ وہ وہاں زیادہ دن قیادم کرے گا۔ وہ غالبا ً اس خوش فہمی میں مبتال ہے کہ ہم لڑنے کے قابل
‫نہیں رہے۔ ہماری جو فوج موصل پہنچی ہے اس کی نفری ایک تہائی سے کچھ زیادہ کم ہے۔ یہ سپاہی مارے گئے ہیں اور ان

‫میں الپتہ بھی شامل ہیں''۔
‫تو کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ ہم اسی فوج سے صالح الدین ایوبی پر حملہ کردیں؟''…… سیف الدین نے پوچھا۔''
‫صرف ہماری فوج حملے کے لیے کافی نہیں''…… نائب ساالر نے جواب دیا…… ''الملک الصالح اور گمشتگین کو ساتھ مالنا''
‫ضروری ہے۔ ہمارے مشیروں (صلیبیوں) نے بھی یہی مشورہ دیا ہے''۔
‫تم نے انہیں بتا دیا ہے کہ میں کہاں ہوں؟''…… سیف الدین نے پوچھا۔''
‫میں نے یہ جگہ نہیں بتائی''…… نائب ساالر نے جواب دیا…… ''انہیں یہ بتایا ہے کہ آپ ترکمان کے مضافات میں گھوم ''
‫پھر رہے ہیں اور صالح الدین ایوبی کی نقل وحمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اگلے معرکے کا
‫منصوبہ تیار کیا جاسکے… میرا خیال ہے کہ تین چار روز بعد آپ کو موصل چلے جانا چاہیے''۔
‫مجھے حلب کی خبر معلوم کرلینے دو''… …سیف الدین نے کہا…… ''وہ (کمان دار) کل شام تک واپس آجائے گا۔ تم ''
‫جانتے ہو کہ گمشتگین شیطان کی فطرت کا انسان ہے۔ اسے اپنے قلعے (حرن) میں چلے جانا چاہیے تھا۔ حلب میں وہ کیا
‫کررہا ہے؟ میں موصل جانے سے پہلے حلب جائوں گا۔ گمشتگین بے شک ہمارا اتحادی ہے مگر میں اسے اپنا دوست نہیں
‫کہہ سکتا۔ مجھے الملک الصالح کے ساالروں کو اس پر بھی قائل کرنا ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کے سستانے سے فائدہ
‫اٹھائیں اور وقت ضائع کیے بغیر حملہ کردیں۔ میں اب یہ مشورہ بھی دوں گا کہ تینوں فوجیں ایک مرکزی کمان کے ماتحت
‫اعلی ہونا چاہیے۔ ہم نے صرف اس لیے شکست کھائی ہے کہ ہماری فوجوں کی کمان الگ
‫ہونی چاہئیں اور ان کا ایک ساالر
‫ٰ
‫الگ تھی۔ ہمیں ایک دوسرے کے منصوبے اور چالوں کا علم ہی نہیں تھا ورنہ مظفرالدین نے صالح الدین ایوبی کے پہلو پر جو
‫حملہ کیا تھا وہ کبھی ناکام نہ ہوتا''۔
‫مرکزی کمان آپ کے پاس ہونی چاہیے''…… نائب ساالر نے کہا۔''
‫''اور ہمیں اپنے دوستوں سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے''…… سیف الدین نے کہا اور پوچھا…… ''صلیبی ہمیں مدد دیں گے؟''
‫وہ اپنی فوج تو نہیں دیں گے''…… نائب ساالر نے جواب دیا… ''اونٹ‪ ،گھوڑے اور اسلحہ وغیرہ دیں گے''…… نائب ساالر''
‫''نے پوچھا…… ''یہاں آپ نے کوئی خطرہ تو محسوس نہیں کیا؟
‫نہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''بوڑھا قابل اعتماد معلوم ہوتا ہے۔ اس کی بیٹی جال میں آگئی ہے لیکن جذباتی اور ''
‫جوشیلی ہے۔ کہتی ہے پہلے صالح الدین ایوبی کو شکست دو‪ ،اس کی تلوار الئو اس کے گھوڑے پر سوار ہوکر آئو اور میں
‫تمہارے ساتھ چلی چلوں گی''۔
‫نائب ساالر نے قہقہہ لگایا۔ حارث‪ ،اس کا باپ اور داود دروازے کے ساتھ کان لگائے سن رہے تھے۔ سیف الدین اور اس کے
‫نائب ساالر کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ اس گھر میں صرف ایک بوڑھا اور دولڑکیاں ہی نہیں‪ ،دو جوان مجاہد بھی
‫ہیں جو کسی بھی موزوں موقعے پر اسے قتل کردیں گے۔ سیف الدین کو ذرا سا بھی شک نہیں ہوا تھا کہ اس نے فوزی کو
‫اپنے جال میں نہیں پھانسا‪ ،بلکہ خود اس کے جال میں آگیا ہے۔ داود اور حارث اندر رہے۔ سیف الدین اور اس کا نائب ساالر
‫ڈیوڑھی کے ساتھ والے کمرے میں بند رہے۔ دن کے دوران فوزی تین چار بار اس کمرے میں گئی‪ ،وہ چونکہ اس سے دو ہاتھ
‫دور رہتی تھی۔ اس لیے سیف الدین اس کی طرف اور زیادہ کھچا آتا تھا۔ فوزی سے اس نے پوچھا…… ''تمہارا بھائی میری
‫فوج میں سپاہی ہے‪ ،میں اسے جیش کا کمان دار بنا دوں گا''۔
‫ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں''… … فوزی نے کہا…… ''اگر وہ زندہ نہ ہوا تو ہم بے آسرا ''
‫ہوجائیں گے''۔
‫اس صورت میں تمہارے باپ کو اور تمہارے بھائی کی بیوی کو بھی اپنے ساتھ لے جائوں گا''…… سیف الدین نے کہا۔''
‫فوزی کا باپ بھی سیف الدین کے پاس جاتا رہا۔ اس نے عملی طور پر سیف الدین کو یقین دال دیا کہ وہ اس کا وفادار ہے۔
‫رات کو پھر دروازے پر دستک ہوئی۔ بوڑھے نے دروازہ کھوال باہر سیف الدین کا وہ کمان دار کھڑا تھا جسے اس نے حلب
‫روانہ کیا تھا۔ بوڑھے نے اسے سیف الدین کے کمرے میں بھیج دیا اور اس کا گھوڑا دوسرے گھوڑوں کے ساتھ باندھ کر کمان
‫دار سے کھانے کے متعلق پوچھنے گیا۔ کمان دار بہت تیز آیا تھا‪ ،کہیں رکا نہیں تھا‪ ،اس لیے راستے میں کچھ کھا نہیں سکا
‫تھا۔ بوڑھا اندر کھانا لینے کے لیے گیا تو فوزی نے کہا کہ وہ کھانا لے جائے گی اور باتیں سنے گی۔
‫وہ کھانا لے کر گئی تو کمان دار بولتے بولتے چپ ہوگیا۔ سیف الدین نے کہا…… ''تم بات کرو‪ ،یہ اپنی بچی ہے''۔
‫فوزی کمان دار کے آگے کھانا رکھ کر سیف الدین کے قریب بیٹھ گئی۔ یہ پہال موقعہ تھا کہ وہ اس کے اتنی قریب بیٹھی
‫تھی۔ سیف الدین نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ فوزی نے ہاتھ چھڑایا نہیں‪ ،ورنہ صلیبیوں کا یہ دوست ہاتھ سے نکل
‫جاتا۔
‫حلب کی فوج کا جذبہ قابل تعریف ہے''۔ کمان دار نے بات شروع کی۔ فوزی نے سیف الدین کی انگلی میں پڑی ہوئی ''
‫انگوٹھی کو انگلیوں سے مسلنا اور اس کے ہیرے کو بچوں کے سے اشتیاق سے دیکھنا شروع کردیا جیسے اسے کمان کی باتوں
‫کے ساتھ کوئی دلچسپی نہ ہو لیکن اس کے کان اسی طرف لگے ہوئے تھے۔ کمان دار کہہ رہا تھا۔ ''الملک الصالح نے صالح
‫الدین ایوبی کو صلح کا پیغام بھیجا ہے''۔
‫صلح کاپیغام!'' سیف الدین نے بدک کر پوچھا۔''
‫جی ہاں‪ ،صلح کا پیغام''…… کمان دار نے کہا …… ''لیکن مجھے پتہ چال ہے کہ اس نے صالح الدین ایوبی کو دھوکہ دیا''
‫ہے۔ اس کے صلیبی دوست اس کی فوج کے سامان کا نقصان پورا کررہے ہیں اور اسے اکسا رہے ہیں کہ وہ موصل اور حرن
‫کی فوجوں کو مشترکہ کمان میں الکر صالح الدین ایوبی پر فورا ً حملہ کرے۔ اگر صالح الدین ایوبی کی فوج نے سستا لیا اور
‫اس نے اسی عالقے سے لوگوں کو بھرتی کرکے نفری پوری کرلی تو پھر اسے روکنا محال ہوجائے گا۔ جاسوس خبر الئے ہیں
‫کہ صالح الدین ایوبی نے ترکمان کے سبزہ زار میں لمبے عرصے کے لیے پڑائو کرلیا ہے اور پیش قدمی کی تیاریاں بہت تیزی
‫سے کررہا ہے۔ الملک الصالح کے ساالر بھی یہی کہتے ہیں کہ ترکمان کے مقام پر صالح الدین ایوبی پر فوری حملہ ہونا
‫……''چاہیے
‫میں نے حلب کی فوج کے ایک صلیبی مشیر کے ساتھ بات کرنے کاموقعہ پیدا کرلیا تھا۔ میں نے انجان بن کر اسے کہا ''
‫کہ ہم فوری حملے کے قابل نہیں۔ اس نے کہا کہ یہ تمہاری بہت بڑی جنگی لغزش ہوگی۔ صالح الدین ایوبی پر حملے کا
‫مقصد یہ نہیں ہوگا کہ اسے شکست دی جائے۔ مقصد یہ ہوگا کہ اسے تیاری کی مہلت نہ دی جائے۔ اس ترکمان کے عالقے
‫میں پریشان رکھا جائے اور ایسی لڑائی لڑی جائے جو طویل ہو‪ ،جنگ نہ ہو‪ ،معرکے لڑے جائیں۔ یہ معرکے صالح الدین ایوبی
‫کے انداز کے ہی ہوں‪ ،یعنی ضرب لگائو اور بھاگو‪ ،شب خون مارو اور کوشش کرو کہ ترکمان کے سبزہ زار سے جہاں پانی کی

‫بھی بہتات ہے‪ ،صالح الدین ایوبی کو پیچھے ہٹا دیا جائے تاکہ اس کی فوج کو چارہ اور پانی نہ مل سکے''۔
‫بہت اچھی ترکیب ہے''…… سیف الدین نے کہا …… ''ایسی جنگ میرا شیر‪ ،ساالر مظفرالدین لڑ سکتا ہے۔ وہ بہت عرصہ''
‫صالح الدین ایوبی کے ساتھ رہا ہے میں کوشش کروں گا کہ تینوں فوجوں کی مشترکہ کمان مجھے مل جائے۔ میں صالح الدین
‫ایوبی کو صحرائی لومڑی کی طرح دھوکے دے دے کر ماروں گا''۔
‫فوزی نے سیف الدین کی تلوار لے لی اور اسے نیام سے نکال کر دیکھنے لگی۔ وہ بالکل بھولی بنی ہوئی تھی۔
‫میں نے کوشش کی تھی کہ الملک الصالح کے ساتھ میری مالقات ہوجائے''…… کمان دار نے کہا…… ''لیکن ساالروں اور ''
‫دوسرے حکام نے اسے ایسا گھیرا ہوا ہے کہ میں اسے مل نہ سکا۔ یہ باتیں اس کے ساالروں سے معلوم کی ہیں''۔
‫تمہیں آج پھر حلب جانا ہوگا''…… سیف الدین نے کہا …… ''الملک الصالح کو یہ پیغام دینا کہ تم نے صالح الدین ایوبی''
‫کے ساتھ صلح کرکے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ تم نے اس کے حوصلے بڑھا دئیے ہیں۔ اس کے ہاتھ مضبوط کردئیے ہیں۔ وہ ہم میں
‫سے کسی کو بھی نہیں بخشے گا۔ تم ابھی بہت چھوٹے ہو‪ ،گھبرا گئے ہو‪ ،یا تمہارے ساالروں نے لڑائی سے بچنے کے لیے
‫تمہیں مشورہ دیا ہے''…… سیف الدین نے اس موضوع کا طویل پیغام دیا اور کمان دار سے کہا…… ''تمہیں سحر کی تاریکی
‫میں نکل جانا چاہیے۔ دن کے وقت تمہیں اس گائوں میں کوئی نہ دیکھے''۔
‫یہ تھا وہ پیغام جس کا ذکر تاریخ میں آیا ہے۔ کمان دار کچھ دیر آرام کرکے حلب کو روانہ ہوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫فوزی نے جو کچھ سنا تھا‪ ،وہ داود کو بتا دیا۔ یہ معلومات بھی کام کی تھیں۔ حارث اور اس کا باپ گہری نیند سوگئے۔ داود
‫کسی کام سے باہر نکال۔ فوزی بھی دبے پائوں نکل آئی۔ داود اپنے گھوڑے کے پاس جارکا۔ فوزی بھی وہیں چلی گئی۔
‫مجھے اس سے کوئی بڑا کام بتائو''…… فوزی نے کہا…… ''میں تمہارے لیے جان بھی دے سکتی ہوں''۔''
‫میرے لیے نہیں‪ ،اپنی قوم کے لیے اور اپنے مذہب کے لیے جان دینا''…… داود نے کہا…… ''تم جو کام کر رہی ہو‪ ،وہ ''
‫بہت بڑا ہے۔ ہم جو جاسوس ہیں‪ ،اسی کام میں اپنی جانیں قربان کردیا کرتے ہیں۔ یہ کام میرا تھا جو میں تم سے کرا رہا
‫ہوں۔ میں نے تمہیں خطرے میں ڈال دیا ہے''۔
‫''خطرہ کیسا؟''
‫تم اتنی چاالک لڑکی نہیں ہوفوزی''…… داود نے کہا …… ''سیف الدین بادشاہ ہے‪ ،وہ اس جھونپڑے میں بھی بادشاہ ''
‫ہے''۔
‫تو کیا بادشاہ مجھے کھا جائے گا؟''… … فوزی نے کہا…… ''میں چاالک تو نہیں‪ ،سیدھی سادی بھی نہیں ہوں''۔''
‫تم نے بادشاہی کی چمک دیکھی تو تمہاری آنکھیں بند ہوجائیں گی''…… داود نے کہا…… ''ان لوگوں نے اسی چمک سے''
‫اندھا ہوکر ایمان بیچا ہے اور اسالم کی چڑیں کاٹ رہے ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہیں تم بھی اس جال میں نہ آجائو''۔
‫''تم کہاں کے رہنے والے ہو؟''
‫میں کہیں کا بھی رہنے واال نہیں''…… داود نے جواب دیا… …''میں جاسوس اور چھاپہ مار ہوں۔ جہاں دشمن کے ہاتھ ''
‫چڑھ گیا‪ ،وہیں مارا جائوں گا اور جہاں بھی مارا جائوں گا‪ ،وہ میرا وطن ہوگیا۔ شہید کا لہو جس زمین پر گرتا ہے وہ زمین
‫سلطنت اسالمی کی ہوجاتی ہے۔ اس زمین کو کفر سے پاک کرنا ہر مسلمان کا فرض بن جاتا ہے۔ ہماری مائوں اور بہنوں نے
‫ہمیں جوان کیا اور خدا کے حوالے کردیا ہے۔ انہوں نے دلوں پر پتھر رکھ لیے ہیں اور اس خواہش سے دست بردار ہوگئی ہیں
‫کہ ہم انہیں کبھی ملیں گے''۔
‫تمہارے دل میں اپنے گھر جانے کی‪ ،اپنی ماں کو دیکھنے کی‪ ،بہن سے ملنے کی خواہش تو ہوگی''…… فوزی نے جذباتی ''
‫لہجے میں کہا۔
‫انسان خواہشوں کا غالم ہوجائے تو فرض دھرے رہ جاتے ہیں''…… داود نے کہا…… ''جان سے پہلے جذبات قربان کرنے ''
‫پڑتے ہیں۔ تمہیں بھی یہ قربانی دینی ہوگی''۔
‫''فوزی اس کے قریب ہوگئی اور بولی۔ ''مجھے اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو؟
‫نہیں''… داود نے کہا۔''
‫کچھ دن میرے پاس رہ سکتے ہو؟''…… فوزی نے پوچھا۔''
‫''میرے فرض نے ضرورت سمجھی تو رہوں گا''…… داود نے کہا…… ''مجھے اپنے پاس رکھ کر کیا کروگی؟''
‫تم مجھے اچھے لگتے ہونا''…… فوزی نے کہا…… ''تم جب سے آئے ہو‪ ،تمہاری باتیں سن رہی ہوں‪ ،ایسی باتیں میں نے''
‫''……کبھی نہیں سنی تھیں۔ میرے دل میں آتی ہے کہ تمہارے ساتھ رہوں اور
‫مجھے زنجیر نہ ڈالو فوزی''…… داود نے کہا …… ''اپنے آپ کو بھی جذبات کی زنجیر سے آزاد رکھو۔ ہمارے سامنے بڑے''
‫کٹھن راستے ہیں۔ ایک دوسرے کا ہاتھ ضرور تھامیں گے‪ ،اکٹھے چلیں گے مگر ایک دوسرے کے قیدی نہیں بنیں گے''…… اس
‫نے ذرا دیر سوچ کر کہا…… ''فوزی تم زیادہ دور تک میرا ساتھ نہیں دے سکو گی۔ مجھے تمہاری عصمت بھی عزیز ہے۔ کام
‫جو مردوں کا ہے‪ ،وہ مرد ہی کریں گے''۔
‫فوزی نے آہ لی اور اداس سی ہوگئی۔ اس نے داود کو سر سے پائوں تک دیکھا اور گھوم کر وہاں سے ہٹنے لگی۔ داود نے
‫لپک کر اس کا بازو پکڑ لیا اور اپنے قریب کرکے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ فوزی اس کے ساتھ لگ گئی اور
‫جذبات سے کانپتی آواز میں بولی …… ''جو کام مردوں کا ہے‪ ،وہ عورتیں بھی کرسکتی ہیں۔ میری عصمت کوئی ایسا کچا
‫دھاگا نہیں کہ ذرا سے جھٹکے سے ٹوٹ جائے گا۔ میں تمہیں اپنی عصمت پیش نہیں کررہی۔ تم مجھے اچھے لگتے ہو‪،
‫تمہاری باتیں مجھے اچھی لگتی ہیں۔ تم نے مجھے جو راستہ دکھایا ہے‪ ،وہ میرے دل کو بہت اچھا لگا ہے۔ میں تمہارے
‫قریب اس لیے ہوگئی ہوں کہ شاید تمہیں میرے وجود سے اپنی ماں کی اور بہن کی بو باس مل جائے۔ تم بہت تھکے ہوئے
‫ہو نا داود! مجھے میرے بھائی کی بیوی نے بہت سی باتیں بتائی ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ مرد جب تھکا ہوا گھر آتا ہے تو
‫عورت کے سوا اس کی تھکن اور کوئی دور نہیں کرسکتا۔ عورت نہ ہو تو مرد کی روح مرجھا جاتی ہے۔ میں ڈرتی ہوں کہ
‫''تمہاری روح مرجھا گئی تو…… تو کیا ہوگا داود؟
‫داود ہنس پڑا اور اس کے گال تھپکا کر بوال۔ ''تمہاری ان بھولی بھالی باتوں نے میری روح کو تروتازہ کردیا ہے''۔
‫تمہیں میری کوئی بات بری تو نہیں لگی؟''…… فوزی نے پوچھا…… ''میرے بھائی کو تو نہیں بتائو گے کہ میں تمہارے ''
‫''پاس آئی تھی؟
‫نہیں''…… داود نے کہا…… ''تمہارے بھائی کو کچھ نہیں بتائوں گا اور تمہاری کوئی بات بھی مجھے بری نہیں لگی''۔''

‫ہماری منزل ایک ہے داود'' …… فوزی نے کہا…… ''مجھے معلوم نہیں کہ دل کی بات کس طرح کہی جاتی ہے''۔''
‫تم نے دل کی بات کہہ دی ہے فوزی!''…… داود نے کہا…… ''اور میں نے سمجھ لی ہے۔ تم نے ٹھیک کہا ہے کہ ''
‫ہماری منزل ایک ہے‪ ،مگر یہ نہ بھولنا کہ راستے میں خون کی ندی بھی ہے جس پر کوئی پل نہیں۔ اگر تم ہمیشہ کے لیے
‫میری ہو جانا چاہتی ہو تو ہمارا نکاح لہو کی تحریر ہوگی پھر ہماری الشیں ایک دوسرے سے دور بھی ہوئیں تو ہم اکٹھے
‫ہوجائیں گے۔ راہ حق کے مسافروں کی شادیاں آسمانوں میں ہوتی ہیں اور باراتیں کہکشاں کے رستے میں جایا کرتی ہیں۔ ان
‫کی خوشی میں سارا آسمان ستاروں کی چراغاں کیا کرتا ہے''۔
‫فوزی جب وہاں سے چلی تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس مسکراہٹ میں مسرت کا تاثر کم اور ایسا تاثر زیادہ تھا
‫جس میں عزم تھا اور کچھ کر گزرنے کا ارادہ۔
‫٭ ٭ ٭
‫دو دنوں کے بعد کمان دار واپس آگیا جو الملک الصالح کے نام سیف الدین کا پیغام لے کر گیا تھا۔ اس کی مالقات الملک
‫الصالح سے نہیں ہوسکی تھی‪ ،پیغام اس تک پہنچا دیا گیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ پیغام کا تحریری جواب دے گا۔ کمان
‫دار وہاں بتا آیا تھا کہ سیف الدین کہاں ہے اور جس گھر میں وہ بیٹھا ہے‪ ،اس کی نشانیاں کیا ہیں…… سیف الدین اپنے
‫پیغام کے جواب کا انتظار کرتا رہا۔ جواب نہ آیا اور وہ پریشان ہونے لگا…… تیسرے چوتھے دن وہ بہت ہی بے چین ہوگیا۔
‫کیوں نہ میں خود ہی حلب چال جائوں''…… اس نے اپنے نائب ساالر سے کہا…… ''اگر حلب کی فوج نے صالح الدین ''
‫ایوبی کے ساتھ صلح اور جنگ بندی کا معاہدہ کرلیا ہے تو ہمیں اپنے متعلق بہت کچھ سوچنا پڑے گا۔ گمشتگین (والئی
‫حرن) کا کچھ بھروسہ نہیں۔ ہم تنہا تو نہیں لڑ سکتے۔ ہمیں صلیبیوں کے ساتھ مل کر کوئی اور منصوبہ بنانا پڑے گا''۔
‫''کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ الملک الصالح صلح کا معاہدہ توڑ دے؟''
‫یہ ممکن ہے''…… کمان دار نے کہا …… ''میں نے اس کے جن ساالروں اور کمان داروں سے بات کی ہے‪ ،وہ کہتے تھے''
‫کہ الملک الصالح نے صالح الدین ایوبی کو دھوکہ دیا ہے‪ ،اگر اس نے دھوکہ نہیں دیا تو بھی زیادہ تر ساالر اور دوسرے حکام
‫اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے۔ مشیر (صلیبی) تو فوری حملے کے حق میں ہیں''۔
‫آپ کو حلب چلے جانا چاہیے''…… نائب ساالر نے اسے کہا…… ''اور میں موصل چال جاتا ہوں''۔''
‫تم ایک بار پھر حلب چلے جائو''…… سیف الدین نے کمان دار سے کہا…… ''الملک الصالح کو بتا دو کہ میں آرہا ہوں۔ ''
‫تم روانہ ہوجائو گے تو اگلی رات میں بھی روانہ ہوجائوں گا۔ ہوسکتا ہے وہ مجھے ملنا نہ چاہے۔ شہر سے باہر المبارک آکر
‫بتا دینا''۔
‫کیا آپ کا اکیلے جانا مناسب ہے؟''…… نائب ساالر نے پوچھا۔''
‫ان عالقوں میں کوئی خطرہ تو نہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں رات کو جائوں گا‪ ،کسی کو کیا خبر کہ والئی ''
‫موصل جارہا ہے''۔
‫صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں اور چھاپہ ماروں کا کوئی بھروسہ نہیں''…… نائب ساالر نے کہا…… ''ان سے ہماری کوئی''
‫جگہ محفوظ نہیں''۔
‫مجھے جانا ضرور ہے''…… سیف الدین نے کہا…… ''خطرہ مول لینا ہی پڑے گا۔ آج تم موصل کو روانہ ہوجائو۔ میں کل ''
‫رات حلب کو روانہ ہوجائوں گا''۔
‫جس وقت یہ باتیں ہورہی تھیں‪ ،اس وقت داود اور حارث کے کان دروازے کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ دونوں وہاں سے ہٹ
‫گئے اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔ داوں گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ اسے سیف الدین کا تعاقب کرنا تھا لیکن کس طرح؟
‫سوچ سوچ کر اس کے دماغ میں ایک ترکیب آگئی۔
‫ہم سیف الدین کے محافظ بنیں گے اور اس کے ساتھ حلب جائیں گے''…… داود نے حارث سے کہا…… ''ہم اچانک اس ''
‫کے سامنے جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم اس کی فوج کے سپاہی ہیں''۔
‫اگر اس نے کہہ دیا کہ دونوں موصل چلے جائو تو کیا کرو گے؟''…… حارث نے پوچھا۔''
‫میں اپنا جادو چالنے کی کوشش کروں گا''… …داود نے کہا۔''
‫''اگر یہ بھی ناکام ہوگیا تو؟''
‫پھر یہ بھی حلب نہیں جائے گا''… …داود نے کہا…… ''الملک الصالح نے صالح الدین ایوبی کے ساتھ صلح کرلی ہے تو ''
‫سیف الدین اس معاہدے کو منسوخ کرانے کے لیے حلب نہیں پہنچ سکے گا''…… اس نے حارث کو سمجھا دیا کہ انہیں کیا
‫کرنا ہے۔
‫اسی رات سیف الدین بند کمرے میں اپنے نائب ساالر اور کمان دار کے پاس بیٹھا انہیں آخری ہدایات دے رہا تھا۔ رات کا
‫پہال پہر تھا۔ پہلے کمان دار وہاں سے نکال‪ ،حارث کے باپ نے اسے گھوڑا کھول دیا تھا‪ ،کچھ دیر بعد نائب ساالر بھی چال
‫گیا۔ سیف الدین اکیال رہ گیا۔ وہ لیٹ گیا۔ اچانک کمرے کا دروازہ دھماکے سے کھال‪ ،وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ دیکھا‪ ،فوزی سراپا
‫مسرت اور خوشی بنی ہوئی تھی۔ وہ ڈرتی آئی اور اس کے پاس بیٹھ کر اس نے سیف الدین کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔
‫میرا بھائی آگیا ہے''…… فوزی نے خوشی سے دیوانہ ہوتے ہوئے کہا۔ ''اس کے ساتھ اس کا ایک دوست ہے''۔''
20:41
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 101راہ حق کے مسافر
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫فوزی نے خوشی سے دیوانہ ہوتے ہوئے کہا۔ ''اس کے ساتھ اس کا ایک دوست ہے''۔''تم نے انہیں بتایا ہے کہ میں یہاں
‫ہوں؟''…… سیف الدین نے پوچھا۔
‫ہاں!''…… فوزی نے کہا…… ''میں نے بتا دیا ہے اور وہ اتنے خوش ہیں کہ آپ سے ملنے کی اجازت مانگتے ہیں''۔''
‫انہیں لے آئو''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫داود اور حارث سیف الدین کے سامنے گئے۔ فوجی انداز سے سالم کیا اور سیف الدین کے اشارے سے اس کے پاس بیٹھ گئے۔
‫انہوں نے اپنے کپڑوں اور چہروں پر گرد ڈال لی تھی اور سانسیں اس طرح لے رہے تھے جیسے بہت تھکے ہوئے ہوں۔ سیف
‫الدین نے ان سے پوچھا کہ وہ کون سے دستے میں تھے۔ حارث چونکہ اس کی فوج کا سپاہی تھا‪ ،اس لیے ان سوالوں کا

‫جواب اسی نے دیا۔ داود کو تو کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔
‫تم اتنے دن کہاں رہے ہو؟''…… سیف الدین نے پوچھا۔''
‫ہمیں بتاتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ہماری فوج کس طرح پسپا ہوئی''…… دا‪1:ود نے کہا…… ''ہمیں بھی پسپا ہونا تھا ''
‫لیکن میں اسے ساتھ لے کر ایک چٹان پر چھپ گیا اور یہ دیکھنے لگا کہ صالح الدین ایوبی کی فوج تعاقب میں آتی ہے یا
‫کہیں پڑائو کرتی ہے۔ میں نے جاسوسی شروع کردی۔ آپ کو شاید یاد ہوگا کہ آپ نے صلیبی مشیروں سے چھاپہ مار جیش
‫تیار کرائے تھے۔ میں بھی ایک جیش میں تھا۔ میں نے گہری دلچسپی سے تربیت حاصل کی تھی۔ جنگ میں یہ تربیت بہت
‫کام آئی۔ جنگ ختم ہوگئی تو میں نے اس تربیت سے فائدہ اٹھایا اور سوچا کہ میں اگر بھاگوں تو اپنی فوج کے لیے دشمن
‫کے کچھ راز بھی لیتا چلوں۔ یہ ( حارث) مل گیا۔ اسے میں نے اپنے ساتھ رکھ لیا۔ صالح الدین ایوبی کی فوج پیش قدمی
‫کرتی رہی اور ہم دیکھتے رہے اگر ہمارے ساتھ سات آٹھ سپاہی ہوتے تو شب خون مار مار کر اس فوج کا بہت نقصان
‫……''کرتے
‫ہم نے صالح الدین ایوبی کی فوج کو ترکمان کے عالقے میں پڑائو کرتے دیکھا ہے۔ فوج نے خیمے جس طرح گاڑے ہیں‪'' ،
‫اس سے پتہ چلتا ہے جیسے فوج وہاں لمبے عرصے کے لیے ٹھہرے گی۔ مجھے بہت افسوس ہے کہ ہماری فوجیں گھبرا کر
‫بھاگ آئی ہیں۔ اس سے پوچھیں‪ ،ہم نے رات کو ان کی خیمہ گاہ کے قریب جاکر دیکھا ہے۔ اللہ توبہ‪ ،زخمیوں کا کراہنا
‫برداشت نہیں ہوتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے آدھی فوج زخمی ہے۔ امیر محترم! اللہ آپ کا اقبال بلند کرے۔ آپ بہتر
‫جانتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے۔ ہم آپ کے غالم ہیں جو حکم دیں گے‪ ،بجا الئیں گے۔ میرا خیال یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی
‫کی فوج لڑنے کے قابل نہیں۔ اگر آپ اپنی فوج فورا ً اکٹھی کرکے حملہ کردیں تو صالح الدین ایوبی کو آپ دمشق پہنچا سکتے
‫ہیں''۔
‫سیف الدین داود کی رپورٹ دلچسپی سے سن رہا تھا۔ وہ شکست خوردہ تھا‪ ،اس لیے وہ ایسی باتیں سننے کو ترس رہا تھا
‫جو اسے یہ تسکین دیں کہ اسے شکست نہیں ہوئی اور وہ بھاگا نہیں بلکہ اس کی فوج اور اس کے اتحادی گھبرا کر بھاگے
‫تھے۔ داود اس کی یہ نفسیاتی ضرورت پوری کررہا تھا۔ یہ اس کی کمزوری تھی جس کے اثر سے داود کی باتیں اسے ذہنی
‫سکون دے رہی تھیں۔
‫ہم موصل جارہے تھے''…… داود نے کہا…… '' اس ( حارث) کا گائوں راستے میں پڑتا تھا۔ یہ کہنے لگا کہ گھر والوں سے''
‫ملتے چلیں۔ ہم یہاں آئے تو اس کے محترم والد نے بتایا کہ آپ یہاں ہیں۔ یقین نہ آیا۔ آپ کو یہاں دیکھ کر بھی ہمیں یقین
‫نہیں آرہا کہ آپ یہاں ہیں۔ ہم یہ باتیں آپ تک پہنچانا چاہتے تھے‪ ،خدا نے ہم پر بڑا ہی کرم کیا ہے''۔
‫ہم تمہاری باتیں سن کر بہت خوش ہوئے ہیں''…… سیف الدین نے بادشاہوں کی طرح کہا…… ''تمہیں اس بہادری کا انعام''
‫ملے گا''۔
‫ہمارے لیے اس سے بڑا اور انعام کیا ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کی برابری میں بیٹھے آپ کے ساتھ باتیں کررہے ہیں''…… ''
‫حارث نے کہا… …''ہم آپ کے لیے جانیں دے کر اپنی روحوں کو خوش کرنے کو بے تاب ہیں''۔
‫معلوم ہوا ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟''…… داود نے پوچھا۔''
‫وہ دونوں چلے گئے ہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں بھی چال جائوں گا''۔''
‫ہم پوچھنے کی جرٔات نہیں کرسکتے کہ آپ یہاں کیوں رکے ہوئے ہیں''…… حارث نے کہا…… ''اور اب کہاں جارہے ہیں۔''
‫میں آپ سے بہت شرمسار ہوں کہ آپ کو میرے گھر والوں نے اس گندے سے کمرے میں رکھا اور فرش پر بٹھا رکھا ہے''۔
‫میری خواہش یہی تھی''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں یہیں چند دن گزارنا چاہتا تھا۔ تم کسی کو نہ بتانا کہ میں ''
‫یہاں ہوں''۔
‫آپ کہاں جارہے ہیں؟''…… داود نے پوچھا۔'' ‪:
‫میں حلب جائوں گا''…… سیف الدین نے جواب دیا…… ''وہاں سے موصل چال جائوں گا''۔''
‫لیکن آپ اکیلے ہیں''…… داود بوال…… ''آپ کے ساتھ کوئی محافظ نہیں''۔''
‫اس عالقے میں کوئی خطرہ نہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''اکیال چال جائوں گا''۔''
‫گستاخی کی معافی چاہتا ہوں''… …داود نے کہا…… ''اس عالقے کو دشمن سے خالی نہ سمجھیں۔ جو میں جانتا ہوں‪ ،وہ''
‫آپ نہیں جانتے۔ صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار گھوم پھر رہے ہیں۔ کسی نے آپ کو پہچان لیا تو ہم دونوں ساری عمر
‫پچھتاتے رہیں گے کہ ہم آپ کے ساتھ کیوں نہ چلے گئے۔ اتفاق سے ہم آگئے ہیں۔ ہمارے پاس گھوڑے ہیں‪ ،ہتھیار ہیں‪ ،ہم
‫آپ کے ساتھ چلیں گے‪ ،ویسے بھی کوئی حکمران محافظوں کے بغیر کہیں جاتا اچھا نہیں لگتا''۔
‫سیف الدین کو محافظوں کی ضرورت تھی۔ وہ تو پہلے ہی ڈرا ہوا تھا۔ داوں نے اسے اور ڈرا دیا۔ اس نے انہیں کہا کہ وہ
‫اپنے کپڑے صاف کرلیں اور اگلی رات چلنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ وہ اندر چلے گئے اور سیف الدین فوزی کا انتظار کرنے لگا
‫لیکن فوزی اس کے کمرے میں نہ گئی۔ دن کو داود اور حارث اس کے لیے کھانا لے گئے۔ اس کے پاس بیٹھے رہے اور دن
‫گزر گیا۔ جس وقت یہ تین مسلمان حکمران صالح الدین ایوبی پر حملہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے‪ ،وہاں سے کچھ دور
‫صلیبی کمانڈروں اور حکمرانوں کی کانفرنس ہورہی تھی۔ وہ الملک الصالح‪ ،گمشتگین اور سیف الدین کی متحدہ افواج کی
‫شکست پر غور کررہے تھے۔ ان میں تقریبا ً سب سلطان ایوبی کے مقابلے میں آکر شکست کھا چکے تھے۔
‫ان تین مسلمان فوجوں کی شکست دراصل ہماری شکست ہے''…… ریمانڈ نے کہا…… ''جہاں تک میں جانتا ہوں‪ ،صالح ''
‫الدین ایوبی کی فوج کی نفری زیادہ نہیں تھی''۔
‫مجھے آپ کی رائے سے اتفاق نہیں''…… ایک مشہور فرانسیسی بادشاہ رینالٹ نے کہا…… ''ہمارا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ''
‫مسلمان آپس میں ٹکڑائیں تو ان میں سے کسی فریق کو فتح یا شکست ہو۔ ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ مسلمان آپس میں
‫لڑتے رہے اور ایک فریق ہمارے ہاتھ میں کھیلتا رہے۔ ہمارا بدترین اور خطرناک دشمن صالح الدین ایوبی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ
‫اس کے مسلمان بھائی اس کے راستے میں حائل رہیں اور اس کی طاقت ضائع کرتے رہیں۔ اگر اس کے مسلمان حریفوں کی
‫طاقت ضائع ہورہی ہے تو ہوتی رہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صالح الدین ایوبی کو شکست دے کر اس کے حریف ہمارے خالف
‫متحد ہوجائیں''۔
‫میں آپ کو مسلمان عالقوں اور حکمرانوں کی پوری کیفیت سناتا ہوں جو ہمارے مشیروں نے بھیجی ہیں''…… ایک کمانڈر ''
‫نے کہا…… ''صالح الدین ایوبی کی دشمن تینوں فوجوں کی جذباتی حالت یہ ہے کہ سپاہیوں میں لڑنے کا جذبہ کسی حد
‫تک کم ہوگیا ہے۔ ان کا جانی نقصان بھی بہت ہوا اور وہ بے شمار اسلحہ اور سامان پھینک آئے ہیں۔ وہ فوری طور پر لڑنے

‫کے قابل نہیں تھے۔ ہم نے انہیں جو مشیر دے رکھے ہیں‪ ،انہوں نے مسلمان حکمرانوں کو بڑی مشکل سے صالح الدین ایوبی
‫پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔ صالح الدین ایوبی حباب الرکمان کے خوبصورت عالقے میں خیمہ زن ہے۔ وہ فوری طور
‫پر پیش قدمی نہیں کررہا۔ ہمارے مشیر پوری کوشش کررہے ہیں کہ حلب‪ ،حرن اور موصل کی فوجیں خواہ وہ کسی بھی حالت
‫میں ہوں‪ ،حملہ کردیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کو بے خبری میں جالیں گے۔ اسے مارنے کا یہی ایک طریقہ
‫ہے''۔
‫اور یہ طریقہ شاید کامیاب نہ ہو''…… آگسٹس نے کہا…… ''کیونکہ ایوبی بے خبر کبھی نہیں بیٹھا۔ اس کا جاسوسی کا ''
‫نظام ہر لمحہ بیدار اور سرگرم رہتا ہے۔ اسے آنے والے واقعات اور حملوں کی اطالع دو دن پہلے مل جاتی ہے۔ ہمارے جو
‫مشیر مسلمانوں کے ساتھ ہیں‪ ،انہیں سختی سے ہدایت دو کہ اپنے جاسوسوں کو اور زیادہ تیز کردیں اور انکی تعداد بھی بڑھا
‫دیں۔ انہیں یہ کام دیں کہ تمام عالقوں میں گھومتے پھرتے رہیں اور ایوبی کے جاسوسوں کو پکڑیں۔ جب مسلمان فوجیں حملے
‫کے یے کوچ کریں تو جاسوس اور چھاپہ مار دور دور بکھر جائیں۔ جہاں کوئی مشکوک آدمی ادھر ادھر جاتا نظر آئے تو اسے
‫پکڑ لیں…… مسافروں کو بھی روک لیں۔ مقصد یہ ہے کہ ایوبی کو حملے کی خبر اس وقت ہو جب اس کے مسلمان بھائیوں
‫کے گھوڑے اس کے خیمہ گاہ میں داخل ہوکر اس کی فوج کا کشت وخون شروع کردیں''۔
‫''
‫۔
‫یہ اطالع بھی ملی ہے کہ صالح الدین ایوبی ان عالقوں سے جو اس کے قبضے میں ہیں‪ ،فوج کے لیے بھرتی کررہا ہے اور''
‫لوگ بھرتی ہورہے ہیں''… …ایک اور کمانڈر نے کہا…… ''یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جو ہم پہلے
‫ہی اختیار کررہے ہیں کہ اس پر جلدی حملہ کرایا جائے تاکہ اسے تیاری کی مہلت نہ ملے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ان
‫عالقوں میں اخالقی تخریب کاری کی وہی مہم چالئی جائے جو ہم نے مصر میں چالئی تھی۔ یہ صحیح ہے کہ ہمارے بہت
‫سے آدمی اور کئی ایک کارآمد اور قیمتی لڑکیاں پکڑی گئیں اور ماری گئی ہیں لیکن یہ قربانی تو دینی ہی پڑے گی۔ ہم بھی
‫تو مرتے ہیں۔ صلیب کی خاطر ہمیں خود بھی مرنا ہے اور اپنی اوالد کو بھی مروانا ہے۔ مسلمانوں کے ذہنوں پر حملہ ضروری
‫ہے۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ ہم صالح الدین ایوبی کو اس خطے سے بے دخل نہیں کرسکے۔ اس نے مصر میں پائوں جما
‫لیے ہیں اور یہاں بھی آگیا ہے۔ اس کی کامیابی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ میدان جنگ کا استاد ہے‪ ،دوسری وجہ یہ ہے
‫کہ وہ انتظامیہ کا ماہر ہے اور تیسری بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنے سپاہیوں میں قومیت اور مذہب کا جنون پیدا کررکھا
‫ہے۔ ہمارے خالف لڑنے کو وہ مذہبی عقیدہ سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ اس کے چھاپہ مار بھیڑیوں کی طرح ہماری
‫فوج پر شب خون مارتے ہیں۔ اس جنون اور اس عقیدے کو تباہ کرنا ضروری ہے''۔
‫ہم نے ہمیشہ انسان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا ہے جسے فرار اور لذت پرستی کہتے ہیں''…… شاہ آگسٹس نے کہا……''
‫'' جن مسلمانوں کے پاس دولت ہے‪ ،وہ حکمران بننا چاہتے ہیں۔ ہم نے ان کی اسی کمزوری کو استعمال کیا ہے۔ ہمیں کوئی
‫نیا طریقہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ ایک اور مہم شروع کرنی ہے۔ یہ ہے ایوبی کے خالف نفرت کی مہم۔ اس کے
‫خالف انتہائی گھٹیا باتیں مشہور کردو لیکن یہ کام تم نہیں کرو گے بلکہ مسلمانوں کی زبانیں استعمال کی جائیں گے۔ اپنے
‫مخالفین اور دشمنوں کو بدنام کرنے کے لیے اپنے کردار اور اخالق کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اپنے مفاد کو سامنے رکھنا
‫چاہیے۔ تمہارا دشمن حیثیت‪ ،رتبے اور شہرت کے لحاظ سے جس قدر بلند ہو‪ ،اس پر اتنے ہی گھٹیا اور پست الزام عائد کرو۔
‫سو میں سے پانچ آدمی تو تمہاری بات مان جائیں گے''۔
‫اس دوران اپنی جنگی تیاریاں جاری رکھو''…… ایک کمانڈر نے کہا…… ''ہمیں بہت وقت مل گیا ہے۔ آپ نے بہت کامیابی''
‫سے مسلمانوں میں حکومت پرستی کا مرض پیدا کرکے انہیں آپس میں ٹکرایا ہے۔ اگر ہم مسلمانوں میں اپنے دوست پیدا نہ
‫کرتے تو آج صالح الدین ایوبی فلسطین میں ہوتا۔ ہم نے اسی کی قوم اس کے راستے میں کھڑی کردی ہے''۔
‫میں حیران ہوں''…… ریمانڈ نے کہا…… ''کہ یہی مسلمان سپاہی ایوبی کی فوج میں ہیں۔ وہ ہمارے دس دس سپاہیوں پر ''
‫بھاری ہوتے ہیں مگر یہی مسلمان سپاہی ایوبی کے حریفوں کی فوج میں تھے اور ایسی بری شکست کھا گئے کہ بکھرے ہوے
‫بھاگے''۔
‫یہ عقیدے اور نظریے کا کرشمہ ہے جسے مسلمان ایمان کہتے ہیں''…… رینالڈ نے کہا…… ''جو سپاہی یا ساالر اپنا ایمان ''
‫نیالم کردیتا ہے۔ اس میں لڑنے کا جذبہ نہیں رہتا۔ اسے زندگی اور اجرت عزیز ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم نے کردار کشی کو
‫ضروری سمجھا ہے۔ ان لوگوں میں جنسیت اور نشے کی عادت پیدا کرو‪ ،پھر تمہیں سپاہی اور گھوڑے مروانے کی ضرورت نہیں
‫پڑے گی''۔
‫اس کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ حلب میں تینوں مسلمان فوجوں کو یکجا کرکے ایک کمان میں رکھا جائے‪ ،واجبی سی مدد
‫دی جائے۔ انہیں ایک محاذ پر رکھا جائے لیکن ان تینوں میں تفرقہ بھی پیدا کیا جائے۔
‫٭ ٭ ٭
‫رات کا پہال پہر گزر چکا تھا۔ حارث کے گائوں پر نیند کا غلبہ تھا۔ اس کے گھر سے تین گھوڑے نکلے۔ ایک پر سیف الدین
‫سوار ہوا۔ دوسرے پر حارث اور تیسرے پر داود۔ ان دونوں کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں جو انہوں نے فوجی انداز سے عمودی
‫پکڑ رکھی تھیں۔ انہیں الوداع کہنے کے لیے حارث کا باپ‪ ،بہن اور بیوی دروازے کے باہر کھڑی تھیں۔ حارث کے ہاتھ میں
‫مشعل تھی۔ سیف الدین فوزی پر نظریں جمائے ہوئے تھا اور فوزی داود کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ اس نے سیف الدین
‫کی اور اپنے بھائی کی بھی موجودگی کو نظرانداز کردیا تھا۔ ''خدا حافظ‪ ،خدا حافظ'' کی آوازیں سنائی دیں اور تینوں سوار
‫چل پڑے۔
‫گھوڑے تاریکی میں روپوش ہوگئے۔ فوزی ان کے ٹاپ سنتی رہی۔ جوں جوں ٹاپو دھیمے ہوتے گئے‪ ،فوزی کے کانوں میں داوں
‫کی آواز بلند ہوتی گئی…… '' راہ حق کے مسافروں کی شادیاں آسمانوں میں ہوا کرتی ہیں‪ ،ان کی باراتیں کہکشاں کے رستے
‫جایا کرتی ہیں''۔
‫وہ جب اندر جاکر سونے کے لیے لیٹی تو بھی اس کے گرد داود کے یہی الفاظ گونج رہے تھے۔ اچانک یہ سوال اس کے ذہن
‫میں آیا…… ''کیا میں داود کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں؟''…… وہ شرمسار ہوگئی‪ ،پھر اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا۔
‫اسے داود کے یہ الفاظ یاد آئے…… ''راستے میں خون کی ندی
‫بھی ہے جس پر کوئی پل نہیں''…… اس کے ذہن میں خون موجیں مارنے لگا۔ شادی ایک بے کار سا خیال بن کر ذہن ‪:
‫سے نکل گیا۔

‫سیف الدین اور اس کے محافظوں نے رات سفر میں گزار دی۔ صبح طلوع ہوئی تو سیف الدین آگے آگے جارہا تھا۔ داود اور
‫حارث اتنا پیچھے تھے کہ ان کی باتیں سیف الدین کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔ گھوڑوں کے قدموں کی بھی آوازیں
‫تھیں۔
‫معلوم نہیں تم مجھے کیوں روک رہے ہو؟''…… حارث نے جھنجھال کر داود سے کہا…… ''یہاں ہم اسے قتل کرکے الش ''
‫کہیں دبا دیں تو کسی کو ہم پر قتل کا شک نہیں ہوسکتا''۔
‫اسے زندہ رکھ کر ہم اس کی پوری فوج کو قتل کراسکیں گے''…… داود نے کہا…… ''یہ مرگیا تو اس کی فوج کی کمان ''
‫کوئی اور لے لے گا۔ مجھے راز معلوم کرنا ہے‪ ،تم اپنے آپ کو قابو میں رکھو''۔
‫دوپہر سے کچھ پہلے انہیں حلب کے مینار نظر آنے لگے۔ اس سے الگ ہٹ کر المبارک کا سبزہ زار تھا‪ ،جہاں قدرتی چشمے
‫تھے۔ اس جگہ کے قریب پہنچے تو سیف الدین کا وہ کمان دار جو الملک الصالح کے لیے اس کی مالقات کا پیغام الیا تھا۔
‫دوڑتا آیا‪ ،اس نے بتایا کہ الملک الصالح انتظار کررہا ہے۔ المبارک کے سبزہ زار میں داخل ہوئے تو الملک الصالح کے دو ساالر
‫استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کے لیے چشمے کے کنارے خیمہ نصب کیا جائے۔ وہ
‫اسی جگہ قیام کرنا چاہتا تھا۔ تاریخ میں اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ اس نے شہر میں الملک الصالح کے محل میں جانا
‫کیوں پسند نہیں کیا تھا۔ اس نے داود اور حارث کو اپنے ساتھ رکھا۔ اس کے لیے نہایت خوش نما اور کشادہ خیمہ نصب کردیا
‫گیا۔ مالزم بھی آگئے اور خیمے نے وہاں محل کا منظر بنا دیا۔ الملک الصالح نے اسے قلعے میں رات کے کھانے پر مدعو کیا
‫اور وہیں مالقات طے ہوئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫شام کو سیف الدین اور الملک الصالح کی مالقات ہوئی۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں ''سلطان یوسف پر کیا افتاد
‫پڑی'' ( سلطان ایوبی کا پورا نام یوسف صالح الدین ایوبی تھا) میں اس مالقات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے…… ''آخر کار
‫یہ طے پایا کہ الملک الصالح اور سیف الدین والئی موصل کی مالقات ہوگی۔ مالقات قلعے میں ہوئی جہاں الملک الصالح نے
‫سیف الدین کا استقبال کیا۔ سیف الدین نے کمسن شہزادے ( الملک الصالح) کو گلے سے لگا لیا اور رو پڑا۔ مالقات کے بعد
‫سیف الدین اپنے خیمے میں چال گیا جو چشمہ المبارک کے پاس تھا۔ وہاں اس نے بہت دن قیام کیا''۔
‫دو واقعہ نگاروں نے جو کوائف قلمبند کیے تھے‪ ،وہ اس طرح ہیں کہ سیف الدین نے الملک الصالح سے کہا کہ اس نے اس
‫کے پیغام کا جواب نہیں دیا۔ الملک الصالح حیران ہوا۔ اس نے بتایا کہ اس نے دوسرے ہی دن تحریری جواب بھیج دیا تھا
‫جس میں اس نے لکھا تھا کہ آپ فکر نہ کریں‪ ،صلح کا معاہدہ محض دھوکہ ہے جو وقت حاصل کرنے کے لیے سلطان ایوبی
‫کو دیا گیا ہے۔
‫مجھے آپ کا کوئی پیغام نہیں مال''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں تو اس پر پریشان تھا کہ آپ نے صالح الدین ''
‫ایوبی کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرکے غلطی کی ہے اور ہمیں دھوکہ دیا ہے''۔
‫الملک الصالح کے ساتھ اس کے دو ساالر بھی تھے۔ انہوں نے اسی وقت اس آدمی کو بالیا جسے پیغام دیا گیا تھا۔ اس نے
‫بتایا کہ قاصد کون تھا۔ قاصد کو بالنے گئے تو معلوم ہوا کہ جس روز وہ پیغام لے کر گیا تھا‪ ،اس روز کے بعد کسی کو نظر
‫نہیں آیا۔ اس اطالع پر بھاگ دوڑ شروع ہوگئی۔ قاصد کا کچھ پتہ نہ چال۔ کسی کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کہاں کا رہنے
‫واال ہے۔ وہ کہیں اکیال رہتا تھا‪ ،وہاں اس کا سامان پڑا تھا‪ ،وہ خود نہیں تھا…… یہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ
‫اتنا اہم پیغام صالح الدین ایوبی تک پہنچا دیا گیا ہے۔
‫یہ معاملہ الملک الصالح کے صلیبی مشیروں تک پہنچا تو انہوں نے یہ فیصلہ دیا…… ''قاصد صالح الدین ایوبی کا جاسوس تھا
‫یا سیف الدین کی طرف جاتے ہوئے قاصد ایوبی کے جاسوسوں یا چھاپہ ماروں کے ہتھے چڑھ گیا۔ انہوں نے اسے قتل کردیا
‫ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صالح الدین ایوبی نے جنگی تیاریاں تیز کردی ہوں گی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ حملے میں
‫پہل کردے۔ اس کا یہ عالج ہے کہ تینوں فوجوں کو فورا ً اکٹھا کیا جائے اور ایوبی پر حملہ کردیا جائے''۔
‫صلیبی یہی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے درمیان جنگ جاری رہے۔ ایک ہی دن میں موصل اور حرن پیغام بھیج دئیے گئے کہ
‫افواج جس حالت میں ہیں‪ ،حلب پہنچیں۔ حرن کے امیر گمشتگین نے کچھ پس وپیش کی لیکن سب کے درمیان بیٹھ کر وہ
‫کھلی مخالفت نہ کرسکا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تینوں افواج ایک ہائی کمانڈ کے تحت ہوں گی اور سپریم کمانڈر سیف
‫الدین ہوگا۔ گمشتگین نے اپنی فوج شامل تو کردی لیکن خود حلب میں رہنا پسند کیا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ سیف الدین کے
‫ماتحت نہیں رہنا چاہتا۔
‫دو تین دنوں میں تینوں فوجیں حلب میں جمع ہوگئیں۔ صلیبیوں نے اسلحہ اور سامان بھیج دیا تھا۔ انہوں نے
‫مزید سامان کا وعدہ کیا اور افواج کو کوچ کرادیا۔ حملے کا پالن عجلت میں بنایا گیا تھا۔ کوچ کو پوشیدہ ر کھنے کے لیے
‫نقل وحرکت رات کو کی گئی۔ دن کو پڑائو کرنا تھا۔ اس کے عالوہ یہ انتظام بھی کیا گیا کہ چھاپہ ماروں کی خاصی تعداد
‫کوچ کے راستے دائیں بائیں اس ہدایت کے ساتھ پھیال دی گئی کہ کوئی مسافر بھی نظر آئے تو اسے پکڑ کر حلب بھیج دو‪،
‫تاکہ فوج کا کوچ خفیہ رہے۔
‫کوچ سے پہلے سیف الدین نے داود اور حارث کو بالیا۔ انہیں شاباش دی اور کہا کہ انہوں نے مشکل کے وقت میں اس کا
‫ساتھ دیا ہے۔ جنگ کے بعد انہیں ترقی ملے گی اور انعام بھی۔ اس نے حارث سے کہا…… ''تمہاری بہن کا میرے سر پر
‫ایک قرض ہے۔ میں اس کے سامنے اس وقت جائوں گا جب میں یہ قرض ادا کرنے کے قابل ہوں گا''۔ حارث کو حیرت
‫میں دیکھ کر اس نے کہا…… ''فوزی نے کہا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی تلوار لے کر اور اس کے گھوڑے پر سوار
‫ہوکر آئو گے تو میں تمہارے ساتھ چلی چلوں گی… …حارث! میں اگر فاتح واپس آیا تو تمہاری بہن موصل کی ملکہ ہوگی''۔
‫''انشاء اللہ''…… حارث نے کہا…… ''ہم آپ کو فاتح الئیں گے‪ ،کیا تینوں فوجیں اکٹھی جارہی ہیں؟''
‫اعلی ہوں گا''۔''
‫ہاں!'' سیف الدین نے جواب دیا…… ''اور میں تینوں کا ساالر
‫ٰ
‫زندہ باد''۔ داود نے کہا…… ''اب بھاگنے کی باری صالح الدین ایوبی کی ہے''۔''
‫داود اور حارث نے غالمانہ انداز سے جوشیلی باتیں کرکے اور فوزی کا نام بھی باربار لے کر اس سے پالن کا خاکہ بھی معلوم
‫کرلیا اور نقل وحرکت کا انداز بھی پوچھ لیا۔
‫تم دونوں اپنی فوج میں چلے جائو''۔ سیف الدین نے کہا…… ''میرا محافظ دستہ آگیا ہے۔ میں تم دونوں کو ہمیشہ یاد ''
‫رکھوں گا''۔
‫٭ ٭ ٭

‫تینوں فوجوں کا کوچ رات کو ہوا۔ داود اور حارث موصل کی ایک فوج کے جیش میں شامل ہوگئے تھے۔ حارث کو تو کئی
‫سپاہی جانتے تھے‪ ،کیونکہ وہ اسی فوج کا تھا۔ داود کے متعلق حارث نے بتایا کہ والئی موصل کا بھیجا ہوا آدمی ہے۔ کوچ
‫کی حالت میں کسی نے داود کے متعلق چھان بین نہ کی۔ رات کو تینوں فوجیں تین کالموں میں چلتی رہیں۔ آدھی رات کے
‫بعد عالقہ چٹانی آگیا‪ ،جہاں کئی جگہوں پر کالم کی ترتیب گڈ مڈ ہوگئی۔ داود نے حارث سے کہا…… ''یہاں سے نکلو‪ ،موقعہ
‫اچھا ہے''۔
‫رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں نے گھوڑے آہستہ آہستہ ایک طرف کرنے شروع کردئیے اور فوج سے دور ہٹتے
‫گئے۔ داود کی سکیم یہ تھی کہ دور جاکر گھوڑے سرپٹ دوڑا دیں گے۔ دن کو تینوں افواج پڑائو کریں گی اور وہ دونوں ترکمان
‫پہنچ جائیں گے اور صالح الدین ایوبی کو حملے کی خبر دے دیں گے۔ اس طرح اسے حملے کی اطالع ایک دن پہلے مل
‫جائے گی اور وہ دشمن کے استقبال کا انتظام کرلے گا۔ داود کو اپنی سکیم کی کامیابی پر مکمل اعتماد تھا مگر اسے یہ
‫معلوم نہیں تھا کہ اردگرد عالقے میں چھاپہ مار اور جاسوس پھیال دئیے گئے ہیں۔
‫وہ دونوں دور دائیں طرف نکل گئے۔ جب دیکھا کہ فوج سے وہ بہت دور محفوظ فاصلے پر آگئے ہیں تو انہوں نے ترکمان کا
‫رخ کرلیا لیکن گھوڑے دوڑائے نہیں‪ ،رفتار ذرا سی تیز کردی۔ وہ گھوڑوں کو تھکانے سے بھی گریز کررہے تھے کیونکہ انہیں
‫منزل تک رکے بغیر پہنچنا تھا۔ رات گزرتی جارہی تھی۔ صبح کا اجاال نکھرنے لگا تو داود گھوڑے سے اترا اور ایک ٹیلے پر
‫چڑھ کر اس طرف دیکھنے لگا جدھر افواج جارہی تھیں۔ اسے دور گرد کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اسے اطمینان ہوگیا کہ وہ
‫افواج سے بہت دور ہیں مگر یہ اس کی غلطی تھی۔ اسے کوئی دیکھ رہا تھا۔ نیچے آکر گھوڑے پر سوار ہوا اور دونوں نے
‫گھوڑوں کی رفتار تیز کردی۔ یہ ٹیلوں اور ریتلی چٹانوں کا عالقہ تھا۔ وہ دو ٹیوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔ آگے موڑ تھا۔
‫وہ موڑ پر پہنچے تو آگے سے چار گھوڑ سوار آگئے۔ چاروں نے برچھیاں ان کی طرف کردیں اور رک گئے۔
‫گھوڑوں سے اترو''۔ گھوڑ سوار نے رعب سے کہا۔'' ‪:
‫ہم مسافر ہیں''۔ داود نے کہا۔''
‫مسافر موصل کی فوج کی وردی میں نہیں ہوا کرتے''۔ گھوڑ سوار نے کہا…… ''مسافروں کے پاس یہ ہتھیار نہیں ہوا کرتے''
‫جو تم نے اٹھا رکھے ہیں…… تم جو کوئی بھی ہو تمہیں ہمارے ساتھ حلب چلنا ہوگا۔ ہم تمہیں چھوڑ نہیں سکتے۔ گھوڑے
‫موڑو''۔
‫یہ حلب کے چھاپہ مار تھے جو مشکوک آدمیوں کو پکڑ کر حلب لے جانے کو تمام عالقے میں پھیال دئیے گئے تھے۔ چاروں
‫سواروں نے ان دونوں کو گھیرے میں لے لیا۔ داود نے حارث سے آہستہ سے کہا…… ''وقت آگیا ہے بھائی''… …حارث نے
‫اپنے گھوڑے کی لگام کو جھٹکا دیا۔ گھوڑے نے اگلی دونوں ٹانگیں اٹھادیں۔ حارث نے ایڑی لگائی۔ گھوڑے نے جست لگائی۔
‫حارث نے سامنے والے گھوڑ سوار کے سینے میں برچھی اتار دی لیکن اس کے بائیں جو سوار تھا اس کی برچھی حارث کے
‫کندھے میں اتر گئی۔ داود تجربہ کار چھاپہ مار تھا۔ اس نے گھوڑے کو ایڑی لگا کر وہیں سے گھمایا اور ایک اور سوار کو بے
‫خبری میں لے لیا۔ وہ چار تھے اور یہ دو۔ یہ جگہ گھوڑوں کی لڑائی کے لیے موزوں نہیں تھی۔ دونوں طرف ٹیلے تھے۔ تھوڑی
‫دیر گھوڑے کودتے پھالنگتے رہے‪ ،برچھیاں ٹکراتی رہیں۔ حارث گھوڑے سے گر پڑا۔ داوں کو بھی زخم آئے تھے جن میں دو
‫تین گہرے تھے لیکن اس نے ہوش ٹھکانے رکھے۔
‫آخر چاروں سوار مارے گئے یا شدید زخمی ہوکر گر پڑے۔ داود بھی شدید زخمی تھا۔ اس نے دیکھا کہ معرکہ ختم ہوگیا ہے تو
‫اس نے حارث کے گائوں کا رخ کرلیا۔ حارث کو دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اسے یقین تھا کہ وہ مرگیا ہے اور
‫اسے یہ بھی یقین تھا کہ وہ خود بھی مرجائے گا لیکن وہ سلطان ایوبی کو حملے سے قبل از وقت خبردار کرنے کے لیے
‫زندہ رہنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس کا خون اتنا زیادہ بہہ گیا تھا کہ اس کی زین اور گھوڑے کی پیٹھ بھی الل ہوگئی تھی۔
‫اس نے اندازہ کرلیا تھا کہ ترکمان دور ہے اور حارث کا گاوں قدرے کم دور۔ اس کی نظر حارث کے باپ پر تھی۔ اسے امید
‫تھی کہ وہ زندہ پہنچ گیا تو بوڑھے سے کہے گا کہ اپنے شہید بیٹے کی روح کی تسکین کے لیے ترکمان پہنچو اور سلطان
‫ایوبی کو خبردار کردو۔
‫اس نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی۔ گھوڑا جتنا زیادہ ہلتا تھا‪ ،داود کے جسم سے خون اتنا ہی زیادہ نکلتا تھا۔ پیاس سے اس کے
‫حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ وہ سر کو جھٹک جھٹک کر راستہ دیکھنے کی
‫کوشش کرتا تھا۔ اس نے آیتہ کریمہ کا ورد شروع کردیا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد آسمان کی طرف منہ کرکے بلند آواز
‫سے کہتا…… ''زمین وآسمان کے مالک! تجھے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واسطہ‪ ،مجھے تھوڑی سی زندگی عطا
‫کردے''…… اس کے نیچے گھوڑا بڑی اچھی چال دوڑتا جارہا تھا مگر داود کے زخم کھلتے جارہے تھے اور وہ محسوس کررہا
‫تھا جیسے اس کے جوڑ بھی الگ ہورہے ہوں۔ ایک بار تو اس کا سر ایسا ڈوال کہ وہ گھوڑے سے گرتے گرتے بچا۔ وہ چونک
‫کر سنبھل گیا۔
20:42
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 102راہ حق کے مسافر
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ایک بار تو اس کا سر ایسا ڈوال کہ وہ گھوڑے سے گرتے گرتے بچا۔ وہ چونک کر سنبھل گیا۔ وہ ایک بار پھر گھوڑے سے
‫گرنے لگا۔ اس نے سنبھلنے کی کوشش کی مگر سنبھل نہ سکا۔ اسے اپنے پائوں کے نیچے زمین محسوس ہوئی۔ اس کی
‫آنکھوں کے آگے اندھیرا تھا۔ وہ ذرا سا اپنے آپ میں آیا تو اسے پتہ چال کہ یہ رات کا اندھیرا ہے اور اسے کسی نے تھام
‫رکھا ہے۔ اسے وہ دشمن سمجھ کر آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگا تو اس کے کانوں میں ایک نسوانی آواز پڑی…… ''داود!
‫تم گھر میں ہو‪ ،گھبرائو نہیں''…… اس نے آواز پہچان لی۔ یہ فوزی کی آواز تھی۔ وہ غشی کی حالت میں منزل پر پہنچ گیا
‫تھا۔ آیتہ کریمہ نے اسے روح کی روشنی عطا کی تھی۔
‫بابا کہاں ہیں؟'' اس نے اندر جاکر پوچھا۔''
‫وہ باہر چلے گئے ہیں''…… فوزی نے کہا…… ''وہ کل یا پرسوں آئیں گے''۔''
‫فوزی اور اس کی بھابی اس کے زخم دھونے لگیں تو اس نے پانی مانگا۔ پانی پی کر اس نے کہا…… ''فوزی! تم نے کہا تھا
‫کہ مردوں کے کام عورتیں بھی کرلیا کرتی ہیں''…… وہ رک رک کر بڑی مشکل سے بول رہا تھا…… ''میرے زخم نہ دھوئو۔
‫بے کار ہے‪ ،میرے اندر خون نہیں رہا…… میں ٹھیک ہوتا تو برداشت نہ کرتا کہ تمہیں اس گھر سے باہر جانے دیتا مگر یہاں

‫مسئلہ میری اور تیری ذات کا نہیں۔ یہ ایک امانت کا مسئلہ ہے۔ یہ ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس
‫کا مسئلہ ہے''…… اس نے فوزی کو ترکمان کا راستہ سمجھایا اور اسے پیغام دیا کہ حلب‪ ،حرن اور موصل کی فوجیں کس
‫طرح مشترکہ کمان میں حملے کے لیے آرہی ہیں‪ ،کدھر سے آرہی ہیں اور ان کا پالن کیا ہے۔ اس نے فوزی کو بتایا کہ اس
‫کا بھائی اس فرض کی ادائیگی میں شہید ہو گیا ہے۔
‫فوزی تیار ہوگئی اور اس کے ساتھ حارث کی بیوی بھی تیار ہوگئی۔ ایک گھوڑا گھر میں تھا‪ ،دوسرا داود کا تھا۔ فوزی اور اس
‫کی بھابی داود کو اس حالت میں چھوڑ کر جانے سے گھبرا رہی تھیں۔
‫فوزی!'' داود نے نحیف آواز میں کہا…… ''میرے قریب آو''…… وہ اس کے قریب آئی تو اس نے لڑکی کا ہاتھ تھام کر ''
‫اور مسکرا کر کہا…… '' راہ حق کے مسافروں کی شادیاں آسمانوں میں ہوا کرتی ہیں‪ ،ان کی باراتیں کہکشاں کے رستے جایا
‫کرتی ہیں۔ ہماری شادی کی خوشی میں آسمان پر ستاروں کی چراغاں ہوگی''…… اور اس کا سر ایک طرف لڑھک گیا۔ فوزی
‫نے اسے بالیا مگر اس کی بارات کہکشاں کے راستے چل پڑی تھی۔
‫فوزی کو داود سب کچھ بتا کر شہید ہوا تھا۔ فوزی اور اس کی بھابی نے گھر اللہ کے حوالے کیا۔ گھوڑے پر ز ین ڈالی اور
‫اس پر فوزی کی بھابی سوار ہوگئی۔ فوزی نے داود کے گھوڑے کو پانی پالیا اور سوار ہوگئی۔ زین پر خون کی تہہ جمی ہوئی
‫تھی…… دونوں گھوڑے گائوں سے نکل گئے۔ دونوں لڑکیاں اللہ کے بھروسے پر جارہی تھیں۔ اس راستے سے وہ واقف نہیں
‫تھیں۔ داود نے فوزی کو ایک ستارہ سمجھا دیا تھا۔ وہ اس ستارے کی رہنمائی میں چلتی گئیں۔
‫ادھر تینوں افواج دن بھر قیام کرکے رات کو چل پڑی تھیں۔ ترکمان زیادہ دور نہیں تھا۔ سلطان ایوبی ترکمان میں آنے والے
‫طوفان سے بے خبر تھا۔ اس نے دیکھ بھال کا انتظام کررکھا تھا مگر اس کے دشمن نے بھی اب کے اچھے انتظامات کیے
‫تھے۔ اس نے اپنے چھاپہ ماروں کو بتا دیا تھا کہ ترکمان کے قریب انہیں سلطان ایوبی کے ایسے آدمی ملیں گے جو دیہاتی
‫لباس میں یا خانہ بدوشوں کے بھیس میں ہوں گے اور وہ دیکھ بھال کررہے ہوں گے۔ مورخ لکھتے ہیں کہ صالح الدین ایوبی
‫کا اس طوفان سے بچنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ اس کا بے خبری میں دبوچے جانا یقینی تھا۔ اپنے ساالروں سے وہ کہہ رہا
‫تھا کہ حلب‪ ،حرن اور موصل والے اتنی جلدی حملہ کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے‪ ،حاالنکہ اسے سیف الدین کی طرف الملک
‫الصالح کا بھیجا ہوا پیغام مل گیا تھا۔
‫فوزی اور اس کی بھابی پر جیسے دیوانگی طاری تھی۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں رہا تھا کہ وہ مستورات ہیں اور ان کے
‫راستے میں کیسے کیسے خطرے ہیں۔ رات انہوں نے گھوڑوں پر گزار دی۔ صبح کا نور پھیلنے لگا تو وہ ٹیلوں اور ریتلی چٹانوں
‫کے قریب سے گزر رہی تھیں۔ فوزی نے ایک چٹان کے سہارے ایک آدمی کو بیٹھے دیکھا۔ اس کے کپڑے خون سے الل ہوگئے
‫تھے۔ اس کا سر ڈھلک گیا تھا۔ فوزی نے اپنی بھابی سے کہا کہ کوئی زخمی معلوم ہوتا ہے لیکن رکیں گے نہیں۔ معلوم
‫نہیں کون ہے۔ انہیں اس کے قریب سے گزرنا تھا۔ وہ آدمی اٹھنے کی کوشش کررہا تھا۔
‫گھوڑے قریب گئے تو فوزی نے چیخ کر کہا… ''حارث''… اور وہ گھوڑے سے کود گئی۔
‫وہ حارث تھا۔ وہ شہید نہیں ہوا تھا لیکن ان کا زندہ رہنا بھی معجزہ تھا۔ اس کے جسم پر برچھیوں کے بہت سے زخم
‫تھے۔ لڑکیوں نے گھوڑے کے ساتھ پانی کے چھوٹے چھوٹے مشکیزے باندھ رکھے تھے۔ انہوں نے حارث کو پانی پالیا۔ اسے ذرا
‫''سا ہوش آیا تو اس نے پوچھا…… ''میں گھر میں ہوں؟ دائود کہاں ہے؟
‫فوزی نے اسے ساری بات بتا دی اور بتایا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں اور کدھر جارہی ہیں۔ حارث نے کہا……''مجھے گھوڑے
‫پر ڈال لو اور ترکمان کی طرف گھوڑے دوڑا دو''۔
‫دونوں لڑکیوں نے اسے گھوڑے پر بٹھا دیا۔ فوزی اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ حارث روح کی قوت سے زندہ تھا‪ ،ورنہ اس کے
‫جسم میں خون کا ایک قطرہ نہیں بچا تھا۔ یہ فرض کی لگن کا کرشمہ تھا۔ فوزی نے اس کی پیٹھ اپنے سینے سے لگا رکھی
‫تھی اور اسے ایک بازو سے پکڑا ہوا تھا۔ وہ سرگوشیوں میں فوزی کو راستہ بتا رہا تھا۔
‫سلطان ایوبی کی دشمن افواج سیف الدین کی کمان میں ترکمان کے قریب پہنچ رہی تھی۔ ادھر فوزی‪ ،حارث اور حارث کی
‫بیوی ایک محفوظ سمت سے ترکمان کی طرف جارہی تھیں۔ افق سے آسمان گہرا بادامی ہوتا جارہا تھا اور یہ رنگ اوپر ہی
‫اوپر اٹھتا جارہا تھا۔ فوزی کی بھابی نے افق کی طرف دیکھا تو اس نے گھبرا کر چال کر کہا…… ''فوزی‪ ،ادھر دیکھو''……
‫''حارث نے سرگوشی کی…… ''کیا ہے فوزی؟
‫آندھی'' فوزی نے کہا اور اس کے دل پر گھبراہٹ طاری ہوگئی۔''
‫اس خطے کے لوگ ان آندھیوں سے واقف تھے۔ یہ عالقہ بے شک چٹانی تھا لیکن کچھ حصے ریتلے تھے اور اردگرد ریگزار
‫تھا۔ آندھی جب آتی تھی چٹانوں کو ریت میں دفن کرجاتی تھی۔ انسانوں اور جانوروں کے لیے یہ قیامت ہوتی تھی لیکن یہ
‫جو آندھی آرہی تھی وہ اس خطے کی چند ایک بھیانک آندھیوں میں سے ایک تھی اور اس آندھی نے تاریخی حیثیت حاصل
‫کرلی۔ میجر جنرل ( ریٹائرڈ) محمد اکبر خان ( رنگروٹ) نے اپنی انگریزی کتاب ''گوریال وار فیئر'' میں ایک یورپی مورخوں
‫اور مسلمان واقعہ نگاروں کے حوالے دے کر لکھا ہے…… ''جس روز الملک الصالح‪ ،گمشتگین اور سیف الدین کی متحدہ افواج
‫سلطان صالح الدین ایوبی پر بے خبری میں حملہ کرنے کے لیے ترکمان کے قریب پہنچ گئیں تو ایسی آندھی آئی کہ اپنی ناک
‫سے ایک بالشت آگے کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ سلطان ایوبی کو معلوم نہیں تھا کہ اس آندھی میں اس پر ایک اور طوفان آرہا
‫ہے''۔
‫اعلی کی لغزش
‫تاریخ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ متحدہ افواج نے سلطان ایوبی پر حملہ کرنے میں تاخیر کردی جو ساالر
‫ٰ
‫تھی لیکن راہ حق کے مسافروں کی مدد خدا کیا کرتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ خدائے ذوالجالل نے دو مسلمان لڑکیوں کے جذبہ
‫حریت کی الج رکھ لی تھی۔ ایک بہن اپنے زخمی بھائی کو سینے سے لگائے مجاہدین اسالم کو کفر کی یلغار سے خبردار
‫کرنے کو دوڑی جارہی تھی‪ ،اسے کوئی غم نہ تھا کہ اس کا بھائی مررہا ہے۔
‫آندھی اتنی تیزی سے آئی کہ کسی کو سنبھلنے کا موقعہ نہ مال۔ متحدہ افواج چٹانوں کی اوٹ میں بکھر کر پناہ گزین ہوئیں۔
‫گھوڑے اور اونٹ بے لگام ہوگئے۔ کمانڈروں کو اطمینان تھا کہ آندھی گزر جائے گی اور فوجوں کو منظم کرلیا جائے گا‪ ،مگر
‫آندھی کا زور بڑھتا جارہا تھا۔سلطان ایوبی کی خیمہ گاہ کی بھی حالت بہت بری تھی‪ ،خیمے اڑ رہے تھے۔ بندھے ہوئے
‫گھوڑوں اور اونٹوں نے قیامت برپا کررکھی تھی۔ ریت کی بوچھاڑوں کے ساتھ کنکریاں اور ریزے جسموں میں داخل ہوتے
‫محسوس ہوتے تھے۔ چیخیں ایسی‪ ،جیسے بدروحیں اور چڑیلیں چیخ رہی ہوں۔ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا مگر پتہ چلتا
‫تھا کہ سورج کو بھی آندھی اڑا لے گئی ہے۔ کمانڈر چالتے پھر رہے تھے۔ سپاہی اڑتے خیموں کو سنبھالتے‪ ،گرتے اور اٹھتے
‫تھے۔

‫تین چار سپاہی ایک چٹان کی اوٹ میں دبکے بیٹھے تھے۔ ایک گھوڑا جو آہستہ آہستہ چل رہا تھا‪ ،ان پر چڑھ گیا۔ سپاہیوں
‫نے ادھر ادھر گرتے چال چال کر کہا…… ''گھوڑا روکو بدبخت‪ ،کہیں اوٹ میں ہوجائو''…… گھوڑا رکا تو ایک سپاہی نے اپنے
‫ساتھیوں سے کہا…… ''کچھ اور نہ کہنا‪ ،عورت ہے''…… ایک اور نے کہا…… ''یہ دو عورتیں ہیں''۔
‫وہ فوزی اور اس کی بھابی تھیں۔ سپاہیوں نے یہ سمجھ کر آندھی میں راستہ بھول کر ادھر آنکلی ہیں‪ ،ان کے گھوڑوں کی ‪:
‫باگیں پکڑ لیں اور انہیں چٹان کی اوٹ میں کرنے لگے۔
‫ہمیں سلطان ایوبی تک پہنچائو''۔ فوزی نے آندھی کی چیخوں میں چال کر کہا…… ''سلطان صالح الدین ایوبی کہاں ہے؟ ''
‫ہم بہت ضروری پیغام لے کر آئی ہیں‪ ،ورنہ سب مارے جائو گے''۔
‫سپاہیوں نے گھوڑے پر ایک لہولہان زخمی کو بھی دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے گھوڑوں کی باگیں پکڑیں اور بڑی ہی مشکل سے
‫سلطان ایوبی کے خیمے تک پہنچے مگر وہاں کوئی خیمہ نہیں تھا۔ اس کی حفاظت کے لیے قناتیں تان دی گئی تھیں۔ لڑکیوں
‫کو دیکھ کر سلطان ایوبی تیزی سے اٹھا۔ سب سے پہلے حارث کو گھوڑے سے اتارا گیا۔ وہ ابھی زندہ تھا۔ لڑکیاں گھوڑوں سے
‫اتریں اور تیزی سے بولتے ہوئے فوزی نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ متحدہ فوج حملے کے لیے آگئی ہے۔ حارث نے سرگوشیوں
‫میں ضروری باتیں بتائیں اور وہ بولتے بولتے ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔
‫اس سے کچھ دیر بعد آندھی کا زور تھمنے لگا۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں کو بالیا اور حکم دیا کہ خیمے سنبھالنے کی
‫ضرورت نہیں۔ سپاہیوں کو جیشوں اور دستوں میں اکٹھا کرو۔ چھاپہ مار دستے فورا ً بالئو اس نے ساالروں کو بتایا کہ کیا ہونے
‫واال ہے اور رات کے اندر اندر کیا کیا نقل وحرکت کرنی ہے۔
‫آندھی کا زور کچھ اور کم ہوگیا لیکن رات کا اندھیرا پھیل گیا۔ سیف الدین کی متحدہ افواج اپنے آپ کو سنبھالنے میں
‫مصروف ہوگئیں۔ بہت سے سپاہی سو گئے۔ رات کا حملہ اس بدنظمی کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا۔ جانور بھی ادھر ادھر
‫بھاگ دوڑ رہے تھے۔ آدھی رات کے بعد افواج پر نیند کا غلبہ طاری ہوگیا۔ سلطان ایوبی کا کیمپ جاگ رہا تھا اور وہاں بے
‫پناہ سرگرمی تھی۔ سیف الدین کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ اس کے دائیں اور بائیں سے دو تین میل دور اس فوج کا حصہ
‫گزرتا جارہا ہے جسے وہ بے خبری میں تباہ کرنے آیا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صبح طلوع ہوئی۔ متحدہ افواج بری طرح بکھر ہوئی تھیں۔ رسد اڑ گئی تھیں۔ بعض گھوڑوں نے منہ زور ہوکر سپاہیوں کو کچل
‫ڈاال تھا۔ افواج کو عجلت سے منظم کیا گیا۔ آدھے سے زیادہ دن اسی میں گزر گیا۔ سیف الدین نے تینوں افواج کے ساالروں
‫کو حکم دیا کہ چونکہ سلطان ایوبی بے خبر ہے‪ ،اس لیے سامنے سے کھال حملہ کردیا جائے۔
‫دن کے پچھلے پہر حملہ کیا گیا۔ دائیں بائیں چٹانیں اور سرسبز ٹیلے تھے۔ ان سے حملہ آوروں پر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔
‫سامنے سے آگ کے گولے آنے لگے۔ آتش گیر مادے کی ہانڈیاں گرتی اور پھٹتی تھیں۔ سیال مادہ بکھر جاتا تھا۔ اس پر جب
‫منجنیقوں کے پھینکے ہوئے آگ کے گولے گرتے تھے تو زمین مہیب شعلے اگلتی تھی۔ حملہ رک گیا۔ سیف الدین نے افواج
‫کو پیچھے ہٹا لیا اور حملے کی ترتیب اور سکیم بدل دی مگر اس کی افواج پیچھے ہٹیں تو عقب سے ان پر ایسا شدید اور
‫تیز حملہ ہوا کہ افواج کا شیرازہ بکھر گیا۔ یہ حملہ سلطان ایوبی کے اپنے مخصوص سٹائل کا تھا۔ حملہ آوروں کی تعداد
‫تھوڑی تھی۔ گھوڑے سرپٹ دوڑتے آئے۔ سواروں کی برچھیاں اور تلواریں چلیں اور وہ غائب ہوگئے۔
‫ایسے ہی حملے پہلوئوں پر ہوئے۔ سیف الدین کی مرکزی کمان ختم ہوگئی۔ رات آئی۔ حملے رات کو بھی جاری رہے۔ سیف
‫الدین اور پیچھے ہٹا تو اس پر تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ مار رات بھر سرگرم رہے۔ صبح ابھی
‫دھندلی تھی‪ ،جب سلطان ایوبی نے ایک چٹان پر چڑھ کر میدان جنگ کی کیفیت دیکھی۔ اس کے سامنے اب جنگ کا آخری
‫مرحلہ تھا۔ اس نے قاصد کو اپنے ریزرو دستوں کے کمانڈر کی طرف دوڑا دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں سرپٹ دوڑتے گھوڑوں نے
‫زمین ہال ڈالی۔ پیادہ دستے دائیں اور بائیں سے نکلے۔ اللہ اکبر کے نعروں سے آسمان پھٹنے لگا۔
‫سیف الدین کی افواج اس قابل نہیں رہی تھیں کہ اس حملے کی تاب السکیں۔ گھیرا بھی تھا اور گھیرا مکمل تھا۔ سامنے
‫سے شدید حملہ آگیا۔ سیف الدین کی افواج کا جذبہ تو ختم ہوچکا تھا‪ ،خود سیف الدین دل چھوڑ بیٹھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ
‫کمان اس کے ہاتھ سے نکل گئی ہے اور افواج لڑنے کے قابل نہیں رہیں۔ سوار زخمی سپاہیوں کو روند رہے تھے۔ آخر انہو ں
‫نے فردا ً فردا ً ہتھیار ڈالنے شروع کردئیے۔ سلطان ایوبی کی وہ فوج جو سیف الدین کے عقب میں تھی‪ ،آگے آرہی تھی۔ دائیں
‫بائیں سے چھاپہ مار ہلے پہ ہلہ بول رہے تھے۔ سیف الدین کی افواج شکنجے میں پس گئیں۔
‫سیف الدین کے مرکز تک پہنچے تو وہاں شراب کی صراحیوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ وہاں سے جو قیدی پکڑے گئے‪،
‫اعلی آخری بار ایک چٹان کی اوٹ میں دیکھا گیا تھا پھر نظر نہیں آیا۔ اسے سلطان ایوبی کے
‫انہوں نے بتایا کہ ان ساالر
‫ٰ
‫حکم سے بہت تالش کیا گیا مگر وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ وہ نکل گیا تھا۔ اپنی افواج کو سلطان ایوبی کے رحم وکرم پر
‫چھوڑ کر وہ بھاگ گیا تھا۔
‫رات ایک خیمے میں جو ترکمان کے سبزہ زار میں خاص طور پر نصب کیا گیا تھا‪ ،فوزی اپنے بھائی کی الش کے پاس بیٹھی
‫کہہ رہی تھی…… ''میں نے خون کی ندی پارکرلی ہے جس پر کوئی پل نہیں ہوتا۔ حارث! میں نے تمہارا فرض ادا کردیا
‫ہے''۔
‫سلطان ایوبی اس خیمے میں داخل ہوا تو فوزی نے پوچھا…… ''سلطان! کیا خبر ہے؟ میرے بھائی کا خون رائیگاں تو نہیں
‫''گیا؟
‫اللہ نے دشمن کو شکست دی ہے‪ ،تم فاتح ہو‪ ،میری بچی! تم'' ……اور سلطان ایوبی کی آواز رقت میں دب گئی۔ اس ''
‫کے آنسو بہہ نکلے۔
20:42
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 103جانباز‪ ،جنات اور جذبات
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ترکمان کا معرکہ ختم ہوچکا تھا یا سلطان صالح الدین ایوبی کے کم از کم ان نائب ساالروں اور کمانڈروں کی نگاہ میں یہ
‫معرکہ ختم ہوچکا تھا‪ ،جنہوں نے الملک الصالح‪ ،سیف الدین اور گمشتگین کی متحدہ افواج کو ان کی توقعات کے خالف بے
‫ترتیب اور بزدالنہ پسپائی پر مجبور کردیا تھا۔ سلطان ایوبی کے فاتح کمانڈروں کے سامنے دشمن کی الشیں پڑی تھیں‪ ،زخمی
‫تڑپ رہے تھے‪ ،منہ زور گھوڑے اور زخمی گھوڑے اور اونٹ زخمیوں اور الشوں کو کچل رہے تھے۔ دشمن کے جو سپاہی بھاگ

‫نہیں سکے تھے‪ ،وہ ہتھیار پھینک کر الگ جمع ہوتے جارہے تھے۔ بے انداز تلواریں‪ ،ڈھالیں‪ ،برچھیاں‪ ،کمانیں‪ ،تیروں سے بھرے
‫ہوئے ترکش‪ ،خیمے‪ ،فوجیوں کا ذاتی سامان جس میں نقدی اور قیمتی اشیاء بھی تھیں‪ ،دور دور تک بکھری ہوئی تھیں۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی اس مقام پر کھڑا تھا جو اس کے دشمن اتحادیوں کے سپریم کمانڈر سیف الدین غازی کا ہیڈکوارٹر اور
‫اس کی رہائش گاہ تھی۔ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ سیف الدین اپنی افواج کو بکھرتا اور سلطان ایوبی کی فوج کو یقینی
‫فتح کی طرف بڑھتا دیکھ کر کسی کو بتائے بغیر بھاگ گیا تھا۔ اس کا فرار خفیہ تھا اور شرمناک بھی۔ اس کے ساتھ اس کے
‫حرم کی منتخب لڑکیاں تھیں‪ ،ناچنے گانے والیاں اور ان کے سازندے تھے۔ سونے کے سکوں اور دیگر نقدی کی بوریاں بھری
‫ہوئی تھیں۔ یہ رقم افواج کی تنخواہ تھی اور یہ سلطان ایوبی کے آدمیوں کو خریدنے کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔ سیف
‫الدین کی یہ رہائش گاہ دلکش کپڑوں کے خیموں‪ ،قناتوں اور شامیانوں سے بنی تھی۔ یہ کپڑے کی دیواروں اور چھتوں کا محل
‫تھا۔ اس دور کے جنگجو حکمران ایسے محل اور تمام تر آسائشیں اور عشرت کا سامان ساتھ رکھتے تھے۔ سیف الدین بھی
‫انہیں حکمرانوں میں سے تھا۔ اس نے شراب کی صراحیاں‪ ،رنگا رنگ پیالے اور مٹکے بھی ساتھ رکھے ہوئے تھے۔
‫سلطان ایوبی کپڑوں کے اس دلفریب محل کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظر پلنگ پر پڑی‪ ،وہاں تلوار پڑی تھی۔ سیف الدین ایسا
‫بوکھال کر بھاگا تھا کہ تلوار ساتھ لے جانا بھول گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے تلوار اٹھالی۔ نیام سے نکالی۔ تلوار چمک رہی
‫تھی۔ سلطان ایوبی اس تلوار کو دیکھتا رہا۔ اپنے ساتھ کھڑے دو ساالروں کی طرف دیکھ کر اس نے کہا…… ''مسلمان کی تلوار
‫پر جب عورت اور شراب کا سایہ پڑ جاتا ہے تو یہ لوہے کا بے کار ٹکڑا بن جاتی ہے۔ اس تلوار کو فلسطین فتح کرنا تھا
‫مگر صلیب نے اسے اپنے گناہوں میں ڈبو کر اپنی طرح لکڑی کا ڈنڈا بنا ڈاال ہے جو تلوار شراب سے بھیگ جائے وہ لہو کے
‫رنگ سے محروم رہتی ہے''۔
‫اس سے ملحق ایک وسیع اور خوش نما خیمے میں الجواب‪ ،حسین اور نیم عریاں لڑکیاں ڈری سہمی ہوئی بیٹھی تھیں۔ انہیں
‫اپنا انجام کچھ اور نظر آرہا تھا۔ فاتح فوج کے قبضے میں آکر وہ جانتی تھیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ ایسی دلکش
‫لڑکیوں کو دیکھ کر کون درندہ نہیں بن جاتا لیکن انہیں جب سلطان ایوبی کا یہ حکم سنایا گیا کہ وہ آزاد ہیں اور وہ جہاں
‫جانا چاہیں‪ ،بتا دیں تاکہ وہاں تک انہیں حفاظت اور باعزت بھیجا جاسکے تو وہ اور زیادہ خوف زدہ ہوگئیں۔ انہیں اپنی
‫حفاظت میں لے لیا گیا۔ سلطان ایوبی میدان جنگ میں عورت کے وجود کو برداشت نہیں کیا کرتا تھا۔ ان لڑکیوں سے پوچھا
‫گیا کہ ان کی تعداد کتنی تھی تو انہوں نے بتایا کہ ان میں سے دو الپتہ ہیں۔ ان کے متعلق یہ بھی بتایا گیا کہ وہ مسلمان
‫نہیں تھی اور وہی دو سیف الدین پر چھائی رہتی تھیں۔ یہی کہا جاسکتا تھا کہ وہ سیف الدین کے ساتھ بھاگ گئی ہیں۔
‫اس دور کی جنگوں میں عموما ً یوں ہوتا تھا کہ جنگ ختم ہوتے ہی فاتح فوج مال غنیمت پر ٹوٹ پڑتی تھی۔ زیادہ تر فوجی
‫اعلی کمانڈر کی رہائش گاہ یعنی مرکز پر دھاوا بولتے تھے کیونکہ وہاں خزانہ‪ ،شراب اور عورتیں ہوتی
‫شکست خوردہ فوج کے
‫ٰ
‫تھیں۔ ایک طوفانی ہڑ بونگ اور بعض اوقات دنگا فساد برپا ہوجاتا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے احکام سخت تھے۔ کسی
‫افسر کو بھی اس کا عہدہ کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو‪ ،اجازت نہیں تھی کہ مال غنیمت کو ہاتھ لگائے۔ مال غنیمت سمیٹنے
‫اور ایک جگہ جمع کرنے کا کام کسی ایک دستے کے سپرد کیا جاتا تھا۔ اس کی تقسیم سلطان ایوبی خود کرتا تھا۔ ترکمان
‫کے معرکے کے بعد سلطان ایوبی نے مال غنیمت کے متعلق کوئی حکم نہ دیا۔ اس نے اپنے اور دشمن کے زخمیوں کو اٹھانے‪،
‫مرہم پٹی کرنے اور جنگی قیدیوں کو الگ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
‫سلطان ایوبی میدان جنگ میں نظم ونسق اور ڈسپلن کی سختی سے پابندی کراتا تھا۔ اس معرکے میں دشمن بے ترتیبی سے
‫بھاگا تھا۔ سلطان ایوبی کے بعض دستوں نے تعاقب بھی کیا تھا لیکن اس کی ٹریننگ ایسی تھی کہ تعاقب میں بھی دستے
‫اور جیش ترتیب میں اور ایک دوسرے کے ساتھ راستے میں رہتے تھے۔ سلطان ایوبی نے تعاقب رکوا دیا اور دائیں اور بائیں
‫پہلو کو اسی طرح تیار رکھا تھا جس طرح جنگ سے پہلے تھے۔ حملے میں اس نے دوسرے دستے‪ ،چھاپہ مار اور ریزرو کی
‫کچھ نفری استعمال کی تھی۔ معرکہ ختم ہونے کے بعد بھی اس نے پہلوئوں کے دستوں کو سمیٹا نہیں تھا۔ اس کے عالوہ اس
‫نے اپنے محفوظہ (سٹرائیک فورس) کو فورا ً واپس بال کر اسے اپنی کمان میں لے لیا تھا۔
‫دشمن کے سازوسامان اور جانوروں وغیرہ کے متعلق کیا حکم ہے؟'' ایک ساالر نے سلطان ایوبی سے پوچھا اور کہا… ''
‫''لڑائی ہمارے حق میں ختم ہوچکی ہے''۔
‫میں ابھی اس خوش فہمی میں مبتال نہیں ہوا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ میرے سبق اتنی ''
‫جلدی بھول نہ جایا کرو۔ ہم نے دشمن کی مرکزیت اور جمعیت کو بکھیرا ہے۔ کیا ہمارے کسی دستے نے اس کے پہلوئوں پر
‫حملہ کیا تھا؟… نہیں کیا تھا۔ مجھے شک ہے کہ اس کے دونوں نہیں تو ایک پہلو محفوظ ہے۔ وہ آخر تین فوجیں تھیں۔ ان
‫کے ساالر ایمان فروش ہوسکتے ہیں‪ ،ایسے اناڑی نہیں ہوسکتے کہ ان کے جو دستے لڑائی میں شامل نہیں ہوئے‪ ،انہیں وہ
‫جوابی حملے کے لیے استعمال نہ کریں۔ ہوسکتا ہے ان کا محفوظہ بھی محفوظ اور تیار ہو''۔
‫ان کی مرکزی کمان ختم ہوچکی ہے سلطان محترم!'' ساالر نے کہا… ''انہیں حکم دینے واال کوئی نہیں رہا''۔''
‫صلیبیوں کا خطرہ بھی ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''گو مجھے کسی طرف سے بھی اطالع نہیں ملی کہ صلیبی فوج ''
‫کہیں قرب وجوار میں موجود ہے لیکن یہ عالقہ چٹانی ہے۔ یہاں ٹیلے اور وسیع نشیب بھی ہیں۔ بعض جگہوں پر جنگ بھی
‫ہیں اور کچھ حصہ ریگستانی بھی ہے۔ نظر دور تک نہیں دیکھ سکتی۔ دشمن اور سانپ پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
‫مرتے مرتے ڈنک مار دیتا ہے۔ مجھے سیف الدین کے ساالر مظفرالدین کی کوئی خبر نہیں۔ تم سب جانتے ہو کہ مظفرالدین
‫اتنی آسانی سے بھاگنے واال ساالر نہیں۔ میں اس کا انتظار کررہا ہوں۔ اپنی آنکھیں کھلی رکھو۔ دستوں کو یکجا کرلو…
‫مظفرالدین اگر میرے سبق بھول نہیں گیا تو وہ مجھ پر ایک جوابی حملہ تو ضرور کرے گا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫قرون حماة کی جنگ میں سیف الدین کے ایک ساالر مظفرالدین بن زین
‫سلطان ایوبی کا خطرہ بے بنیاد نہیں تھا۔ آپ نے
‫ِ
‫الدین کا ذکر پڑھا ہے۔ مظفرالدین سلطان ایوبی کی فوج میں ساالر رہ چکا تھا اور اس کی مرکزی کمان میں اس کے ساتھ
‫بھی رہا تھا۔ اس لیے اسے اچھی طرح علم تھا کہ سلطان ایوبی جنگی منصوبہ کن عناصر کو سامنے رکھ کر تیار کرتا اور
‫میدان جنگ میں اس میں کس طرح ردوبدل کرتا ہے۔ مظفرالدین کچھ تو ذہنی لحاظ سے پیدائشی جنگجو تھا‪ ،زیادہ تر تربیت
‫سلطان ا یوبی سے حاصل کی‪ ،اس لیے اس میں وہ جوہر تھے جو اسے میدان جنگ سے منہ نہیں موڑنے دیتے تھے۔ وہ
‫سیف الدین کا قریبی رشتہ دار (غالبا ً چچا زاد بھائی) تھا۔ جب سلطان ایوبی مصر سے دمشق آیا اور مسلمان امراء اس کے
‫خالف صف آرا ہوگئے تو مظفرالدین سلطان ایوبی کو بتائے بغیر اس کی فوج سے نکل کر اس کے دشمن کے کیمپ میں چال
‫گیا تھا۔

‫قرون حماة کے معرکے میں مظفرالدین نے سلطان ایوبی کے پہلو پر ایسا شدید حملہ کیا تھا
‫ترکمان کے اس معرکے سے پہلے
‫ِ
‫جس کا مقابلہ سلطان ایوئی نے پہلو کے دستوں کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے کر کیا تھا۔ بہائوالدین شداد کی تحریر کے مطابق
‫اگر سلطان ایوبی خود قیادت نہ کرتا تو مظفرالدین جنگ کا پانسہ پلٹ دیتا۔ سلطان ایوبی مظفرالدین کو فن حرب وضرب کا
‫استاد مانتا تھا۔ اب ترکمان میں اسے جاسوسوں نے اس کے متحدہ دشمنوں کی افواج کے متعلق جو معلومات دی تھیں‪ ،ان
‫میں ایک یہ بھی تھی کہ مظفرالدین بھی ان افواج کے ساتھ ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ وہ قلب میں ہے‪ ،دائیں ہے
‫بائیں ہے یا وہ محفوظہ کا ساالر ہے۔ سلطان ایوبی نے چند ایک جنگی قیدیوں سے اس کے متعلق پوچھا تھا۔ انہوں نے یہ
‫تصدیق تو کردی تھی کہ مظفرالدین لشکر کے ساتھ ہے مگر یہ کسی کو علم نہیں تھا کہ کہاں ہے۔
‫ہوسکتا ہے قیدیوں نے اس پر پردہ ڈال لیا ہو کہ مظفرالدین کہاں ہے''۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے کہا… ''میں ''
‫تسلیم نہیں کرسکتا کہ وہ لڑے بغیر بھاگ گیا ہوگا۔ وہ میرا شاگرد ہے۔ میں اس کی جنگی اہلیت سے بھی واقف ہوں اور اس
‫کی فطرت سے بھی۔ وہ حملہ کرے گا اگر اسے یقین ہوا کہ وہ شکست کھا جائے گا پھر بھی وہ حملہ کرے گا۔ اسے حملہ
‫کرنا چاہیے‪ ،ورنہ مجھے مایوسی ہوگی''۔
‫صالح الدین ایوبی یہ نہ کہے کہ مظفرالدین بھی بھاگ گیا ہے''۔ یہ آواز سیف الدین کے ساالر مظفرالدین کی تھی جو ''
‫ترکمان کے میدان جنگ سے دو اڑھائی میل دور سنائی دے رہی تھی…… ''میں لڑے بغیر واپس نہیں جائوں گا''۔
‫اس وقت جب سلطان ایوبی سیف الدین کے رہائشی خیموں میں کھڑا تھا‪ ،سیف الدین کا کوئی کمانڈر یہ پیغام لے کر
‫مظفرالدین کے پاس پہنچا تھا کہ سلطان ایوبی کو کسی طرح قبل از وقت پتہ چل گیا تھا کہ اس پر حملہ آرہا ہے‪ ،اس لیے
‫ہم دھوکے میں آگئے۔ اب یہاں لڑنا بے کار ہے۔ بہتر یہ ہے کہ تم بھی واپس چلے جائو اور اپنے دستوں کو کسی اور بہتر
‫جگہ لڑانے کے لیے بچا کر لے جائو۔ سیف الدین نے اس پیغام میں اپنے متعلق بتایا تھا کہ وہ کسی کو بتائے بغیر میدان
‫جنگ سے جارہا ہے۔
‫ہم آپ کا ہر حکم بجا الئیں گے''۔ مظفرالدین کے ایک نائب ساالر نے اسے کہا… ''لیکن اس حالت میں جبکہ ہماری ''
‫فوج کے لڑنے والے حصے مار ے گئے‪ ،زخمی یا قیدی ہوگئے یا بھاگ گئے ہیں۔ اس تھوڑی سی فوج سے جوابی حملہ کرنا
‫مناسب معلوم نہیں ہوتا''۔
‫میں ان دستوں کو ناکافی نہیں سمجھتا جو میرے پاس ہیں''۔ مظفرالدین نے کہا…… ''یہ اس فوج کا ایک چوتھائی ہیں ''
‫جو ہم ساتھ الئے تھے۔ سلطان ایوبی اس سے بھی کم نفری سے لڑتا اور کامیاب ہوا کرتا ہے۔ میں اس کے پہلو پر حملہ
‫قرون حماة میں چلی تھی۔ تم سب حملے کے لیے تیار رہو''۔
‫کروں گا۔ میں اسے وہ چال نہیں چلنے دوں گا جو اس نے
‫ِ
‫عالی مقام سیف الدین غازی والئی موصل تین فوجوں کی نفری سے ہار گئے ہیں''۔ نائب ساالر نے کہا…… ''میں اپنے ''
‫مشورے کو دہرائوں گا کہ اس تھوڑی سی نفری سے حملہ کرنا اسے مروانے والی بات ہے''۔
‫میدان جنگ میں اپنے حرم ا ور شراب کے مٹکے ساتھ رکھنے والوں کے پاس تین کے بجائے دس فوجیں ہوں تو بھی ان ''
‫کا انجام یہی ہوتا ہے جو والئی موصل سیف الدین کا ہوا ہے ''۔ مظفرالدین نے کہا…… ''میں بھی شراب پیتا ہوں لیکن
‫یہاں پانی بھی نہ ملے تو میں پرواہ نہیں کرتا۔ سلطان ایوبی مجھے ایمان فروش اور غدار کہتا ہے لیکن میں اس لیے اس
‫سے لڑنے سے منہ نہیں موڑوں گا کہ وہ مسلمان ہے۔ یہ دو ساالروں کی ٹکر ہوگی۔ یہ دو پہلوانوں کا دنگل ہوگا۔ یہ تیغ زنوں
‫کا مقابلہ ہوگا…… اپنے دستوں کو تیار کرو اور یاد رکھو‪ ،صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کی نظریں زمین کے نیچے بھی دیکھ
‫سکتی ہیں۔ اپنے دستوں کو آج رات اور پرے لے چلو اور ہر طرف دور دور تک اپنے آدمی چھوڑ دو۔ وہ جسے مشکوک حالت
‫میں گھومتا پھرتا دیکھیں‪ ،اسے پکڑ لیں''۔
‫اس نے ایک جگہ منتخب کرلی تھی جہاں دستوں کو چھپایا جاسکتا تھا۔ حملے کے لیے اس نے کوئی دن اور وقت مقرر ‪:
‫نہ کیا۔ اپنے نائب ساالروں سے کہا…… ''سلطان ایوبی میں لومڑی کی چاالکی اور خرگوش کی پھرتی ہے۔ ) مجھے میرے
‫مخبروں نے بتایا ہے کہ اس نے ابھی مال غنیمت سمیٹا نہیں اور اس نے اپنی فوج کے پہلوئوں کو بھی نہیں سمیٹا۔ اس سے
‫پتہ چلتا ہے کہ وہ پیش قدمی نہیں کرے گا اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمارے جوابی حملے کا خطرہ محسوس کررہا ہے۔
‫میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں وہ کس انداز سے سوچا کرتا ہے۔ میں اسے یہ دھوکہ دوں گا کہ ہم سب بھاگ گئے ہیں اور
‫اب حملے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ یہ عقل اور فہم وفراست کی جنگ ہوگی۔ وہ دو دنوں سے زیادہ انتظار نہیں کرے گا۔ اس
‫کی طرح میں بھی اپنے جاسوسوں کو اس کی نقل وحمل دیکھنے کے لیے استعمال کروں گا۔ جونہی وہ مال غنیمت سمیٹنے
‫لگے گا اور اس کی توجہ دائیں بائیں سے ہٹ جائے گی۔ ہم اس کے پہلو پر حملہ کردیں گے''۔
‫یہی وہ خطرہ تھا جسے سلطان ایوبی محسوس کررہا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫سیف الدین کے لشکر پر جس طرح سلطان ایوبی نے بے خبری میں اس کی توقعات اور اس کے خوابوں کے خالف حملہ کیا
‫تھا‪ ،اس کی تفصیالت پچھلی نشست میں سنائی جاچکی ہیں۔ آپ نے پڑھا ہے کہ سلطان ایوبی نے ایک تو اپنے دستے سیف
‫الدین کی فوج کے دائیں بائیں سے اس کے عقب میں بھیج دئیے تھے‪ ،ان کے عالوہ اس نے اپنے چھاپہ مار بھی روانہ
‫کردئیے تھے۔ یہ اس کی کمانڈو فورس تھی جس کے ہر کمانڈر اور سپاہی میں غیرمعمولی ذہانت‪ ،دلیری اور پھرتی تھی اور یہ
‫تربیت یافتہ جاسوس بھی تھے۔ اس فورس نے چارچار سے لے کر بارہ بارہ کی ٹولیوں میں تقسیم ہوکر دشمن کو بہت نقصان
‫پہنچایا تھا۔ ان میں ایک ٹولی بارہ سپاہیوں کی تھی جس کے صرف تین سپاہی اور ٹولی کاکمانڈر الناصر زندہ تھے۔
‫الناصر اپنی ٹولی کے ساتھ ترکمان کے معرکے سے ہی سیف الدین کی متحدہ فوج کے دور پیچھے چال گیا تھا۔ اس کا نشانہ
‫عموما ً دشمن کی رسد ہوتی تھی۔ اب کے بھی وہ اپنی ٹولی کو گھوڑوں پر لے گیا تھا۔ اس کے پاس فیتے والے (آتشیں) تیر
‫تھے۔ تھوڑا سا آتش گیر مادہ تھا۔ برچھیاں‪ ،تلواریں اور خنجر تھے۔ رسد بہت دور تھی۔ الناصر کو زمین نے یہ سہولتیں مہیا
‫کی تھیں کہ یہ میدان یا ریگزار نہیں بلکہ دور دور تک چٹانیں‪ ،ٹیلے اور نشیبی عالقے تھے جن میں چھپنا آسان تھا۔ دن کے
‫دوران ہدف کے قریب گھوڑے چھپائے جاسکتے تھے۔ اتحادیوں کی افواج کی رسد جس میں فوج کے لیے اناج اور جانوروں کے
‫لیے خشک گھاس اور دانہ وغیرہ تھا‪ ،پیچھے آرہا تھا۔ اس سامان میں تیروکمان اور برچھیاں وغیرہ بھی تھیں۔ الناصر نے پہلی
‫ہی رات رسد پر کامیاب چھاپہ مارا تھا۔ بہت سی رسد آتشیں تیروں سے جل گئی تھی۔
‫دن کو وہ اپنی ٹولی کے ساتھ ایک جگہ چھپا رہا تھا مگر سویا نہیں تھا۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ دشمن کے فوجی کھڈ نالوں
‫میں اور ٹیلوں کی اوٹ میں اس کی پارٹی کو ڈھونڈ رہے تھے۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو ادھر ادھر موزوں بلندیوں پر بٹھا دیا
‫تھا۔ انہوں نے کمانوں میں تیر ڈال رکھے تھے۔ دشمن کے فوجی دور سے ہی واپس چلے گئے تھے۔ سورج غروب ہونے کے

‫بعد اس نے چھپ کر رسد کا قافلہ دیکھا۔ قافلے نے پڑائو ڈال دیا تھا مگر اس رات شب خون آسان نظر نہیں آتا تھا۔ دشمن
‫نے اردگرد گشتی پہرے کا بڑا سخت انتظام کردیا تھا۔ یہ پہرہ پیدل بھی تھا اور گھوڑ سوار بھی۔ اس کے باوجود الناصر نے
‫شب خون کا ارادہ کرلیا۔ دشمن کی ابھی بہت سی رسد باقی تھی۔ یہ سلطان ایوبی کا ایک تباہ کن طریقہ کار تھا۔ دشمن
‫کی رسد کو چھاپہ ماروں سے تباہ کرادیا کرتا تھا۔ اس کے لیے اس نے ایسے فوجی تیار کررکھے تھے جو جذبے کے لحاظ
‫سے جنونی اور خبطی تھے۔ ان کی دلیری غیر معمولی اور ذہانت اوسط درجہ سپاہیوں سے خاصی زیادہ تھی۔ ان جانبازوں کی
‫دیانت داری کا یہ عالم تھا کہ اتنی دور جاکر بھی جہاں انہیں دیکھنے واال کوئی نہیں ہوتا تھا‪ ،وہ فرض شناسی کا جانبازانہ
‫مظاہرہ کرتے تھے۔
‫الناصر نے رات کو گھوڑے وہیں بندھے رہنے دئیے جہاں دن کو چھپائے تھے۔ اپنی پارٹی کو پیدل لے گیا۔ ایک جگہ سے وہ
‫دشمن کی رسد کے پڑائو میں داخل ہوگیا۔ اس نے سامان کے انباروں پر آتش گیر مادہ چھڑک کر آگ لگا دی۔ اپنی ٹولی کو
‫بکھیر دیا۔ سپاہیوں نے شعلوں کی روشنی میں بھاگتے دوڑتے سپاہیوں کو تیروں کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ دشمن کے فوجی
‫انہیں تالش کرنے لگے۔ چھاپہ مار کب تک چھپ سکتے تھے۔ ایک ایک کرکے پکڑے اور مارے گئے۔ ان میں سے وہی تین
‫زندہ رہے جو الناصر کے ساتھ تھے۔ انہوں نے بہت تباہی مچائی تھی۔ رسد کے ساتھ جو پہرہ دار اور دیگر لوگ تھے‪ ،انہوں
‫نے ان سب کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی۔ الناصر نے اپنے تین ساتھیوں کو الگ نہ ہونے دیا۔ وہ شعلوں سے دور ہٹ
‫کر اندھیرے میں گھوڑا گاڑیوں اور خیموں کی اوٹ میں چھپتے‪ ،اپنے قریب سے گزرتے سپاہیوں سے بچتے کسی اور ہی سمت
‫کو نکل گئے۔
‫الناصر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے کوئی ستارہ نظر نہ آیا۔ چھاپہ ماروں کو ستاروں سے سمت معلوم کرنے کی ٹریننگ
‫دی جاتی تھی مگر اس رات آسمان گردوغبار کی طرح کے بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ الناصر رسد کے پڑائو سے دور نکل گیا۔
‫اسے دشمن کی جلتی ہوئی رسد اور سازوسامان کے شعلوں کی سرخی دکھائی دے رہی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے
‫باقی نو سپاہی زندہ ہیں یا شہید ہوچکے ہیں۔ اس نے دل ہی دل میں ان کی سالمتی کے لیے دعا کی اور اپنے تین
‫ساتھیوں کو ساتھ لیے اندازے کے مطابق اس طرف چل پڑا جہاں اس کی ٹولی کے گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ وہ رات بھر چلتا
‫رہا۔ دشمن کی رسد کے شعلے نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ فضا میں شعلوں کی جو سرخی نظر آتی تھی‪ ،وہ بھی غائب
‫ہوگئی۔ اگر یہ سرخی نظر آتی رہتی تو وہ اپنے ٹھکانے تک پہنچ سکتا تھا۔ یہ بھی نہ رہی اور وہ اندھا دھند چلتا گیا۔
‫زمین کے خدوخال بدل گئے تھے۔ درخت تو کوئی تھا نہیں۔ اس نے پائوں تلے سخت زمین کے بجائے ریت محسوس کی۔
‫ٹیلے اور چٹانیں بھی نہیں تھیں۔ ریت نے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے پائوں وزنی کردئیے۔ پانی اور کھانے کی اشیاء
‫گھوڑوں کے ساتھ تھیلوں میں بندھی تھیں اور گھوڑے نہ جانے کہاں تھے۔ اس نے پیاس محسوس کی۔ وہ بہت تھک گیا تھا۔
‫اس کے تینوں ساتھی بھی پیاس کی شکایت کرچکے تھے۔ ان سب کی رفتار بھی ختم ہوتی جارہی تھی۔ الناصر نے وہیں رک
‫جانا ور آرام کرلینا مناسب سمجھا۔ اس کے ساتھیوں نے اس امید پر چلتے رہنے کا مشورہ دیا کہ کہیں پانی مل جائے گا۔
‫اس خطے میں پانی کی قلت تو نہیں تھی لیکن وہ اس خطے کے اس حصے میں جانکلے تھے جو ریگزار تھا۔ وہاں پانی کا
‫نام ونشان نہ تھا۔ وہ کچھ دیر اور چلے اور تھک ہار کر بیٹھ گئے۔
‫الناصر کی آنکھ کھلی تو اس کے تینوں سپاہی بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ سورج افق سے اٹھ آیا تھا۔ الناصر نے
‫چاروں طرف دیکھا۔ وہ ریت کے سمندر میں کھڑا تھا۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ تو صحرائوں میں جناپال اور صحرائوں میں اس
‫نے لڑائیاں لڑی تھیں۔ وہ ریگزار سے ڈرنے واال نہیں تھا۔ اس کی گھبراہٹ کی وجہ یہ تھی کہ اسے توقع نہیں تھی کہ یہاں
‫ریگستان ہوگا۔ گھبراہٹ کی وجہ یہ بھی تھی کہ افق تک پانی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے۔ پیاس سے وہ حلق میں
‫جلن اور چبھن محسوس کررہا تھا۔ اپنے ساتھیوں کی حالت کا وہ اندازہ کرسکتا تھا۔ اس نے سورج کے مطابق اس سمت
‫دیکھا جدھر ترکمان تھا۔ اسے پہاڑیوں کی ٹیڑھی سی لکیر نظر آئی۔ وہ سیدھا اس سمت نہیں جاسکتا تھا کیونکہ راستے میں
‫دشمن کی فوج تھی۔
‫اس نے اپنے ساتھیوں کو جگایا۔ وہ اٹھے تو ان کے چہروں پر بھی گھبراہٹ اور تذبذب کے آثار پیدا ہوگئے۔
‫ہم دو دن اور بھوکے اور پیاسے رہ سکتے ہیں''۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا… ''اور ان دو دنوں میں ہم اگر منزل ''
‫تک نہ پہنچ سکے تو پانی تک ضرور پہنچ جائیں گے''۔
‫تینوں نے اپنے اپنے خیال اور اندازے کا اظہار کیا مگر وہ بہت دور نکل گئے تھے۔ اگر ان کے پاس گھوڑے ہوتے تو مشکل ذرا
‫آسان ہوجاتی۔ نیند نے ان کے جسموں کو کچھ تازگی دے دی تھی۔
‫ساتھیو!'' الناصر نے کہا…… ''خدائے ذوالجالل نے ہمیں جس امتحان میں ڈال دیا ہے‪ ،اس میں پورا اترنا اور کوئی گلہ'' ‪:
‫شکوہ نہ کرنا ہمارا فرض ہے''۔
‫یہاں رکے رہنا تو کوئی عالج نہیں''…… ایک ساتھی نے کہا…… ''پیشتر اس کے کہ سورج ہمارے سروں پر آکر ہمیں ''
‫تعالی راستہ دکھائے گا''۔
‫جالنے لگے‪ ،چل پڑو‪ ،اللہ
‫ٰ
‫وہ چل پڑے۔ سمت کا انہوں نے محض اندازہ کیا تھا۔ انہیں دور کا چکر بھی کاٹنا تھا۔ سورج اوپر آتا رہا۔ ریت گرم ہوتی
‫گئی اور تھوڑی دور یوں نظر آتا جیسے یہ ریت نہیں پانی ہو۔ زمین سے لرزتا ہوا دھواں سا اوپر کو اٹھ رہا تھا۔ وہ چاروں
‫صحرا کے قہر سے واقف تھے اور عادی بھی۔ انہیں سراب بھی نظر آنے لگے مگر صحرا کے اس دھوکے سے واقف ہونے کی
‫بدولت انہوں نے ہر سراب کو نظر انداز کیا۔
‫تعالی ہمیں سزا نہیں دے گا۔ اگر ہم مرگئے تو یہ موت نہیں ''
‫ساتھیو!'' الناصر نے کہا…… ''ہم ڈاکو نہیں ہیں۔ اللہ
‫ٰ
‫شہادت ہوگی۔ دل میں خدا کو یاد کرتے چلو''۔
‫اگر کوئی ایسا مسافر مل گیا جس کے پاس پانی ہوا تو میں ڈاکہ ڈالنے سے گریز نہیں کروں گا''…… ایک سپاہی نے کہا۔''
‫سب ہنس پڑے اور سب نے محسوس کیا کہ ہنسنے کے لیے بھی انہیں طاقت صرف کرنی پڑی تھی…… پھر سورج ان کے
‫سروں پر آگیا۔ اوپر سے سورج اور نیچے سے ریت ان سب کو جالنے لگی۔ الناصر ایک جنگی ترانہ گنگنانے لگا۔ ترانہ ختم
‫ہوگیا تو انہوں نے ایک آواز اور ایک لے میں ''ال الہ اال اللہ محمد الرسول اللہ'' کا مترنم ورد شروع کردیا۔ ہلکی ہلکی ہوا
‫چل رہی تھی۔ ریت کے چمکتے ہوئے ذرے ان کے نقوش کو مٹاتے جارہے تھے۔
‫سورج دوسری سمت نیچے اترنے لگا۔ چاروں کی آواز دھیمی ہوتی جارہی تھی۔ قدم وزنی اور رفتار گھٹ گئی تھی۔ ہونٹ
‫خشک ہوگئے اور منہ بند نہیں ہوتے تھے۔ ان کے سائے جب دوسرے طرف بڑھنے لگے تو ان کا ایک ساتھی خاموش ہوگیا
‫کچھ دیر بعد دوسرے کی بھی زبان جواب دے گئی۔ الناصر اور اس کا تیسرا ساتھی سرگوشیوں میں ''ال الہ اال اللہ محمد

‫الرسول اللہ''کا ورد کررہے تھے۔ کچھ دور گئے تو سرگوشیاں بھی خاموش ہوگئیں۔
‫ساتھیو!''…… الناصر نے جسم کی بچی کھچی طاقت صرف کرکے کہا…… ''حوصلہ نہ ہارنا۔ ہمارے جسموں میں ایمان کی ''
‫بہت نمی ہے۔ ہم ایمان کی طاقت سے زندہ رہیں گے''۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے چہرے کو باری باری دیکھا‪ ،وہاں خون کا
‫نام ونشان نہیں تھا۔ سب کی آنکھیں اندر کو چلی گئیں تھیں۔
‫سورج غروب ہوگیا۔ جوں جوں شام تاریک ہوتی گئی‪ ،ریت ٹھنڈی ہوگئی۔ الناصر نے ساتھیوں کو رکنے نہیں دیا۔ خنکی میں ذرا
‫تیز چال جاسکتا تھا۔ اگر وہ کوئی عام مسافر ہوتے تو کبھی کے گر چکے ہوتے۔ وہ فوجی اور چھاپہ مار تھے۔ ان کے جسم
‫عام انسانوں کی نسبت کہیں زیادہ صعوبتیں برداشت کرسکتے تھے۔ وہ چلتے گئے اور کچھ فاصلہ طے کر الناصر نے انہیں رکنے
‫اور سوجانے کو کہا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صبح کاذب کے قریب الناصر جاگا۔ آسمان صاف تھا۔ ستاروں کو دیکھ کر اس نے اندازہ کیا کہ رات کتنی رہتی ہے۔ ایک
‫ستارے کو دیکھ کر اس نے سمت طے کی اور اپنے ساتھیوں کو جگا کر انہیں ساتھ لیا اور سب چل پڑے۔ ان کی رفتار اچھی
‫تھی مگر پیاس انہیں بولنے نہیں دے رہی تھی۔
‫یہ ریگستان اتنا وسیع نہیں ہوسکتا''۔ الناصر نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ زبان سے نکالے…… ''آج ختم ہوجائے گا‪ ،ہم آج''
‫پانی تک پہنچ جائیں گے''۔
‫پانی جو دن کو سراب تھا‪ ،اندھیرے میں امید بن گیا اور وہ اس امید کی طاقت پر چلتے گئے۔ صبح کا اجاال سپید ہوا پھر
‫افق سے سورج ابھرا۔ ان جانباز مسافروں کو سب سے پہال صدمہ یہ ہوا کہ پانی کی امید دم توڑ گئی۔ ریت تو نہیں تھی‪،
‫زمین سخت تھی۔ اس میں دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔ یہ پھٹی پھٹی زمین تھی پائوں کی جہاں ٹھوکر لگتی تھی۔ وہاں سے ریت
‫اور مٹی اڑتی تھی۔ آٹھ دس میل دور زمین سے ابھرے ہوئے ستون اور مینار سے نظر آتے تھے۔ یہ مٹی کے ٹیلے اور ریتلی
‫چٹانوں کی چوٹیاں تھیں۔ درخت ایک بھی نظر نہیں آتا تھا۔ زمین کی حالت بتاتی تھی کہ صدیوں سے پیاسی ہے اور یہ
‫کسی انسان کا خون پینے سے گریز نہیں کرے گی۔
‫الناصر نے اپنے ساتھیوں کے چہروں کا جائزہ لیا۔ اس سے اسے اندازہ ہوگیا کہ اس کے اپنے چہرے کی حالت کیسی ہے۔
‫اس کے ایک ساتھی کی زبان کچھ باہر نکل آئی تھی۔ ہونٹوں پر ہلکی ہلکی سوجن تھی۔ یہ عالمتیں خوفناک تھیں۔ صحرا
‫نے خراج وصول کرنا شروع کردیا تھا۔ سلطان ایوبی کے اس جانباز کا خون پیاسی زمین کی بھینٹ چڑھنے لگا تھا۔ دوسرے دو
‫سپاہیوں کی ظاہری حالت یہ تو نہیں تھی لیکن صاف نظر آرہا تھا کہ میناروں جیسے ٹیلوں تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ الناصر
‫ان کا کمانڈر تھا۔ اپنی ذمہ داری کا اسے اتنا زیادہ احساس تھا کہ اس کا دماغ اس کے قابو میں تھا۔ اس کی جسمانی حالت
‫اپنے ساتھیوں سے بہتر نہیں تھی۔ اس نے بولنے کی کوشش کی۔ یہ اس کی قوت ارادی تھی کہ اس کے منہ سے چند الفاظ
‫نکل آئے۔ اس نے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی مگر یہ ایک ناکام کوشش تھی۔
‫جوں جوں سورج اوپر اٹھتا آرہا تھا‪ ،زمین کے
‫غیرمرئی شعلے بلند ہوتے جارہے تھے۔ ان چاروں کی رفتار کا اب یہ حال تھا کہ وہ قدم اٹھاتے نہیں‪ ،پائوں گھسیٹتے تھے‪،
‫جس سپاہی کی زبان باہر نکل آئی تھی اس کی برچھی اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ پھر اس نے کمربند سے تلوار کھولی اور
‫پھینک دی۔ اس نے یہ حرکات بے خیالی میں کی تھیں۔ اس کے ہاتھ اپنے آپ کام کررہے تھے اور وہ ناک کی سیدھ میں
‫چال جارہا تھا۔ یہ صحرا کا ایک ظالمانہ اثر ہوتا ہے کہ بھٹکا ہوا پیاسا مسافر نیند میں مختلف حرکات کرنے کے انداز سے
‫اپنے جسم سے بوجھ پھینکنا شروع کردیتا ہے۔ مختلف اشیاء پھینکنے کے بعد وہ اپنے جوتے بھی اتار پھینکتا ہے۔ وہ کہیں
‫رکتا نہیں‪ ،چلتا جاتا اور چیزیں پھینکتا جاتا ہے۔ صحرائی مسافر جب جگہ جگہ ایسی اشیاء پڑی دیکھتے ہیں تو وہ اس توقع
‫پر آگے بڑھتے ہیں کہ کچھ ہی دور آگے ایک الش پڑی ہوگی یا اس بدنصیب کی ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوگا جو راستے میں اپنی
‫آخری متاع بکھیرتا گیا ہے۔
‫صحرا نے الناصر کے ایک ساتھی کو اس مرحلے میں داخل کردیا تھا جہاں وہ دنیا کی اشیاء اور اپنے فرائض سے دستبردار
‫ہورہا تھا۔ الناصر نے اس کی برچھی اور تلوار اٹھالی اور اس سپاہی سے بڑے پیار سے کہا…… ''اتنی جلدی نہ ہارو میرے
‫عزیز دوست! اللہ کا سپاہی مرجاتا ہے‪ ،ہتھیار نہیں پھینکا کرتا۔ اپنی عزت اور عظمت کو ریت میں نہ پھینکو''۔
‫اس کے ساتھی نے اسے دیکھا‪ ،الناصر اسے دیکھتا رہا۔ سپاہی نے اچانک قہقہہ لگایا اور سامنے دیکھتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ
‫کیا۔ بڑی جاندار آواز میں بوال…… ''پانی…… وہ دیکھو…… باغ…… پانی مل گیا''…… اور وہ آگے کو دوڑ پڑا۔
‫وہاں پانی تھا نہ پانی کا سراب۔ وہ زمین ایسی تھی جہاں سراب نظر نہیں آیا کرتے۔ سراب ریت کی چمک کا ہوتا ہے۔ اس
‫پر صحرا کا دوسرا ظالمانہ اثر ہونے لگا تھا۔ یہ تھے واہمے اور ایسے تصورات جو حقیقی روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ پانی کی
‫جھیلیں اور باغ نظر آتے ہیں۔ عمارتیں دکھائی دیتی ہیں‪ ،یوں بھی نظر آتا ہے جیسے ایک دو میل دور شہر ہے۔ قافلے جاتے
‫یا اپنی طرف آتے دکھائی دیتے ہیں۔ ناچنے اور گانے والیاں بھی نظر آتی ہیں…… اس بے رحم ویرانے نے الناصر کے ایک
‫ساتھی کو فریب دینے شروع کردئیے تھے۔ صحرا اس کی جان سے کھیلنے لگا تھا۔ یہ شاید صحرا کی رحم دلی بھی ہے کہ
‫کسی مسافر کی جان لینے سے پہلے اسے بڑے ہی حسین اور دلفریب تصوروں میں الجھا دیتا ہے تاکہ مرنے واال اذیت سے
‫محفوظ رہے۔
‫الناصر کا ساتھی آگے کو دوڑ پڑا۔ وہی سپاہی جو قدم گھسیٹ رہا تھا‪ ،تازہ دم آدمی کی طرح دوڑ رہا تھا مگر یہ دوڑ اس
‫چراغ کی مانند تھی جو بجھنے سے پہلے آخری بار ٹمٹمایا ہو۔ الناصر اس کے پیچھے دوڑا اور اسے پکڑ لیا۔ اس کے دوسرے
‫دو ساتھیوں میں ابھی کچھ دم باقی تھا۔ وہ بھی دوڑے اور اپنے ساتھی پر قابو پالیا۔ وہ ان سے آزاد ہونے کو تڑپ رہا تھا
‫اور چال رہا تھا۔ ''چلو جھیل تک چلو‪ ،وہ دیکھو‪ ،کتنے غزال جھیل سے پانی پی رہے ہیں''۔
‫ساتھیوں نے اسے پکڑے رکھا اور وہ آہستہ آہستہ‪ ،قدم گھسیٹتے چلتے گئے۔ الناصر نے وہ کپڑا جو اس کے سر پر رکھا تھا‪،
‫اس کے چہرے پر بھی ڈال دیا تاکہ وہ کچھ دیکھ ہی نہ سکے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سورج سر کے عین اوپر آگیا تھا جو ایک اور سپاہی نے بڑی ہی بلند آواز سے کہا…… ''باغ میں رقاصہ ناچ رہی ہے۔ ‪:
‫لعنت بھیجو پانی پر‪ ،چلو ناچ دیکھیں‪ ،حسن دیکھو…… چلو دوستو‪ ،وہاں پانی مل جائے گا۔ لوگ کھانا کھا رہے ہیں۔ میں سب
‫کو جانتا ہوں…… چلو…… چلو''۔ اور وہ دوڑ پڑا۔
‫جس سپاہی کو پہلے واہمہ نظر آیا تھا‪ ،وہ کچھ دیر خاموش رہا تھا‪ ،اس لیے ساتھیوں نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنے ساتھی

‫کو دوڑتا دیکھ کر اس کے پیچھے دوڑ پڑا اور چالنے لگا…… ''رقاصہ بہت خوبصورت ہے۔ میں نے اسے قاہرہ میں دیکھا تھا۔
‫وہ مجھے جانتی ہے۔ میں اس کے ساتھ کھانا کھائوں گا۔ اس کے ساتھ شربت پیوں گا''۔
‫الناصر کا سر ڈول گیا۔ وہ صحرا کی صعوبتیں برداشت کرسکتا تھا‪ ،اپنے ساتھیوں کی یہ حالت اس کی برداشت سے باہر تھی۔
‫انہیں سنبھالنا اس کے بس سے باہر ہوا جارہا تھا۔ اس کی اپنی جسمانی حالت بھی دگرگوں ہوگئی تھی۔ اس کے ساتھ اب
‫ایک ہی ساتھی رہ گیا تھا جس کا دماغ ابھی ٹھکانے تھا۔ جسمانی لحاظ سے وہ بے شک ختم ہوچکا تھا۔
‫ان کے جو دو ساتھی باغ اور رقص کے واہمے کے پیچھے دوڑے تھے‪ ،چند قدم دوڑ کر گر پڑے۔ انہیں گرنا ہی تھا۔ ان کے
‫جسموں میں رہا ہی کیا تھا۔ الناصر اور اس کے ساتھی نے انہیں بٹھا کر اپنے سہارے لے لیا اور ان پر کپڑوں کا سایہ کردیا۔
‫ان کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں اور سرڈول رہے تھے۔
‫تم اللہ کے سپاہی ہو''۔ الناصر نے دھیمی سی آواز میں کہنا شروع کیا۔ ''تم قبلہ اول اور خانہ کعبہ کے پاسبان ہو۔ تم ''
‫نے اسالم کے دشمنوں کی کمر توڑ دی ہے۔ تم سے کفار ڈرتے اور کانپتے ہیں۔ تم شعلوں کو روندنے والے مرد مومن ہو۔ اس
‫صحرا کو‪ ،پیاس کو اور سورج کے قہر کو تم کیا سمجھتے ہو‪ ،تم پر اللہ کی رحمت برس رہی ہے۔ تمہیں فرشتے بہشت کی
‫ٹھنڈک پہنچا رہے ہیں…… تمہارا جسم پیاسا ہے‪ ،روح پیاسی نہیں۔ ایمان والے پانی کی ٹھنڈک سے نہیں‪ ،ایمان کی حرارت
‫سے زندہ رہتے ہیں''۔
‫دونوں نے آنکھیں کھول دیں اور الناصر کو دیکھا۔ الناصر نے مسکرانے کی کوشش کی۔ اس نے جذبات کے غلبے سے جو باتیں
‫کہی تھیں‪ ،وہ اثر کرگئیں۔ دونوں سپاہی تصوروں اور واہموں کی دنیا سے نکل کر حقیقت میں آگئے۔ وہ اٹھے اور نہایت آہستہ
‫آہستہ چل پڑے۔
‫صبح روانگی کے وقت انہیں ٹیلوں اور ریتلی چٹانوں کے جو ستون اور مینار نظر آئے تھے‪ ،وہ قریب آگئے تھے۔ اب وہ بہت
‫بڑے بڑے ہوگئے تھے۔ امید رکھی جاسکتی تھی کہ وہاں پانی ہوگا۔ وہاں نشیب اور کھڈ نالے بھی ہوسکتے تھے۔ الناصر نے
‫اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ پانی کے قریب آگئے ہیں اور آج شام سے پہلے پانی مل جائے گا مگر وہ زمین اور وہ ماحول
‫ایسی اور اتنی گرم حقیقت تھی کہ پانی کی امید شبنم کے قطرے کی طرح اڑ گئی۔ وہ ٹیلوں اور ٹیکریوں کے اور قریب چلے
‫گئے۔ اچانک ایک سپاہی دوڑ اٹھا۔ وہ نعرے لگا رہا تھا…… ''میرا گائوں آگیا ہے۔ میں سب کے لیے کھانا پکوانے جارہا ہوں۔
‫کنوئیں سے میرے گائوں کی لڑکیاں پانی نکال رہی ہیں''۔
‫اس کے پیچھے دوسرا سپاہی دوڑ پڑا اور چالنے لگا…… ''مرغا بیاں…… مرغابیاں''…… وہ دوڑتے دوڑتے منہ کے بل گرا اور
‫ہاتھ سے مٹی اور ریت اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔
‫الناصر اور اس کا تیسرا ساتھی دوڑے۔ اس کے منہ سے مٹی نکالی۔ کپڑے سے منہ صاف کیا اور اسے اٹھایا‪ ،مگر وہ چلنے کے
‫قابل نہیں تھا۔ دوسرا سپاہی بھی گر پڑا تھا اور پیٹ کے بل رینگتے ہوئے کہہ رہا تھا…… ''کنوئیں سے پانی پی لوں پھر
‫تمہارے لیے کھانا پکوائوں گا''۔
‫الناصر نے اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے اور آسمان کی طرف منہ کرکے کہا۔ ''اے خدائے ذوالجالل! ہم تیرے نام پر لڑنے اور
‫مرنے آئے تھے‪ ،کوئی گناہ نہیں کیا۔ کہیں ڈاکہ نہیں ڈاال‪ ،اگر کفار سے لڑنا گناہ ہے تو ہمیں بخش دے‪ ،بخش دے صحرائوں کو
‫آگ لگانے والے خدا! میری جان لے لے۔ میرے خون کو پانی بنا دے۔ میرے ساتھی پی کر زندہ رہیں۔ انہوں نے تیرے رسول
‫صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبلہ اول کے غاصبوں کے خالف لڑائی لڑی ہے۔ میرے خون کو پانی بنا اور انہیں پال دے''۔
‫اس کے ساتھی آہستہ آہستہ اٹھے اور ہاتھ ٰآگے کو پھیال کر یوں چلنے لگے جیسے انہیں کچھ نظر آرہا ہو‪ ،جس تک وہ ‪:
‫پہنچنا چاہتے ہوں۔ الناصر اور اس کے ساتھی نے جو ذہنی لحاظ سے ابھی ٹھیک تھا‪ ،اپنے ساتھیوں کو دیکھا تو وہ بھی قدم
‫گھسیٹنے لگے۔ اس وقت الناصر کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا اور چھٹ گیا‪ ،جیسے سیاہ گھٹا کا ٹکڑا چاند کے آگے سے گزر
‫گیا ہو۔ اندھیرا گزر جانے کے بعد اسے محسوس ہوا جیسے اسے سبزہ زار سا نظر آیا ہو مگر اس کے سامنے ٹیلوں اور چٹانوں
‫کے مینار اور ستون تھے۔ اس نے ایک لمحے کے لیے سبزہ دیکھا ضرور تھا۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ وہ سمجھ گیا
‫کہ صحرا اسے بھی فریب دینے لگا ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ ٹیلوں کے اندر جارہے تھے۔ یہ ٹیلے چوڑے تھے‪ ،کوئی اونچا تھا۔ کہیں کہیں کوئی ریتلی چٹان بھی نظر آتی تھی۔ وہ اور
‫آگے گئے تو کسی ندی یا دریا کا خشک پاٹ آگیا۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ صدیوں سے یہاں سے پانی نہیں گزرا۔
‫الناصر آگے آگے اور اس کے ساتھی اس کے پیچھے پیچھے جارہے تھے۔ الناصر چلتے چلتے رک گیا۔ اس نے اپنے سرکو زور
‫سے جھٹکا دیا‪ ،مگر اسے جو کچھ دکھائی دیا تھا‪ ،وہ بدستور نظر آتا رہا…… خشک پاٹ کے بائیں کنارے پر ریتلی چٹان تھی
‫جو اوپر جاکر آگے کو جھک آئی تھی۔ شاید ایک دو صدیاں پہلے اس کے دامن سے پانی ٹکراتا رہا تھا۔ وہاں سے یہ پانی
‫کی ماری ہوئی تھی۔ اس کی شکل برآمدی کی سی بنی ہوئی تھی۔ چھت خاصی اونچی تھی اور وہاں سایہ تھا۔ اس سائے
‫میں دو گھوڑے کھڑے تھے اور ان کے قریب دو جوان لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان کے رنگ گورے اور نقش
‫ونگار بہت دلکش تھے۔
‫''الناصر نے ان سے دور رک کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا… ''تمہیں بھی وہ دولڑکیاں اور دو گھوڑے نظر آرہے ہیں؟
‫اس کے وہ دو ساتھی جو واہموں اور تصوروں کا شکار ہوچکے تھے‪ ،خاموش رہے۔ ایک نے کہا…… ''دھند ہے‪ ،کچھ بھی نظر
‫نہیں آرہا''…… اور وہ گر پڑا۔
20:43
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 104جانباز‪ ،جنات اور جذبات
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اور وہ گر پڑا۔ اس کا وہ ساتھی جو ذہنی لحاظ سے ابھی ٹھیک تھا‪ ،سرگوشی میں بوال…… ''میں انہیں دیکھ رہا ہوں''۔
‫اللہ ہم پر رحم کرے''۔ الناصر نے کہا…… ''ہم دونوں کے بھی دماغ مائوف ہوگئے ہیں۔ ہمیں بھی وہ چیزیں نظر آنے لگی''
‫ہیں جو حقیقت میں نہیں ہیں۔ جہنم کے اس ویرانے میں اتنی خوبصورت لڑکیاں نہیں آسکتیں''۔
‫اگر ان کا لباس صحرائی خانہ بدوشوں جیسا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ تصور نہیں‪ ،حقیقت ہے''…… اس کے ساتھی''
‫نے کہا …… ''آگے چلو سائے میں بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ لڑکیاں نہیں‪ ،ہمارے ذہنوں کا فتور ہے''۔
‫مگر میں ہوش میں ہوں''…… الناصر نے کہا…… ''میں تمہیں پہچان رہا ہوں‪ ،تمہاری بات سمجھ گیا ہوں۔ میرا دماغ میرے''

‫قابو میں ہے''۔
‫میں بھی ہوش میں ہوں''…… اس کے ساتھی نے کہا…… ''اگر ہم حقیقت میں لڑکیاں دیکھ رہے ہیں تو جنات ہوں ''
‫گے''۔
‫لڑکیاں اس طرح بے حس وحرکت کھڑی انہیں دیکھ رہی تھیں‪ ،جیسے بت ہوں۔ الناصر دلیر آدمی تھا‪ ،وہ آہستہ آہستہ ان کی
‫طرف بڑھا۔ لڑکیاں غائب نہ ہوئیں۔ وہ ان سے چار پانچ قدم دور تھا۔ جب ایک لڑکی نے جو دوسری سے عمر میں کچھ بڑی
‫لگتی تھی‪ ،دایاں بازو الناصر کی طرف کیا۔ لڑکی کی مٹھی بند تھی۔ اس نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی آگے کو کر
‫دی۔ الناصر رک گیا۔ اس نے اتنی خوبصورت لڑکیاں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ سر کی اوڑھنی سے ان کے جو بال شانوں
‫پر پڑے نظر آتے تھے‪ ،وہ باریک ریشم کے تار لگتے تھے۔ دونوں لڑکیوں کمی آنکھوں کا رنگ بھی دلکش اور عجیب تھا۔
‫آنکھیں ہیروں کی طرح چمکتی تھیں۔
‫''تم سپاہی ہو''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''کس کے سپاہی ہو؟''
‫سب کچھ بتائوں گا''…… الناصر نے کہا…… ''مجھے یہ بتا دو کہ تم صحرا کا دھوکہ ہو یا جنات کی مخلوق میں سے ''
‫ہو''۔
‫ہم جو کچھ بھی ہیں‪ ،تم بتائو کون ہو اور ادھر کیا کرنے آئے ہو''…… لڑکی نے پوچھا…… ''ہم صحرا کا فریب نہیں۔ تم ''
‫ہمیں دیکھ رہے ہو‪ ،ہم تمہیں دیکھ رہی ہیں''۔
‫ہم سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار سپاہی ہیں''…… الناصر نے کہا…… ''راستہ بھول کر ادھر آنکلے ہیں‪ ،اگر تم ''
‫جنات میں سے ہو تو تمہیں حضرت سلیمان علیہ السالم کا واسطہ‪ ،میرے ان ساتھیوں کو پانی پال دو اور اس کے عوض میری
‫جان لے لو‪ ،یہ میری ذمہ داری میں ہیں''۔
‫اپنے ہتھیار ہمارے آگے پھینک دو''…… لڑکی نے اپنا بازو نیچے کرتے ہوئے کہا…… ''حضرت سلیمان علیہ السالم کے نام ''
‫پر مانگی ہوئی چیز سے ہم انکار نہیں کرسکتے۔ اپنے ساتھیوں کو سائے میں لے آئو''۔
‫الناصر نے اپنے وجود میں ایک لہر دوڑتی محسوس کی‪ ،جیسے سر سے داخل ہوئی اور پائوں سے نکل گئی ہو۔ وہ انسانوں کا
‫مقابلہ کرنے واال جانباز تھا۔ اس کے شب خون اس کے ساتھیوں کو حیران کردیا کرتے تھے مگر ان لڑکیوں کے آگے وہ بزدل
‫بن گیا۔ اس کے دل پر ایسے خوف کی گرفت تھی جو اس نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ جنات کی کہانیاں سنتا رہا
‫تھا‪ ،جنات سے کبھی آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ اسے ہر لمحہ توقع تھی کہ یہ دو لڑکیاں اور دو گھوڑے غائب ہوجائیں گے یا
‫شکلیں بدل لیں گے۔ ان کے خالف وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ وہ بے بس اور مجبور ہوگیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ
‫وہ سائے میں چلیں۔ ان میں سے ایک تو بے ہوش پڑا تھا۔ اسے گھسیٹ کر سائے میں لے گئے۔
‫اپنے متعلق بتائو تم کیا کرکے آئے ہو؟''…… لڑکی نے پوچھا۔''
‫پانی پالئو''…… الناصر نے التجا کی…… ''سنا ہے جنات ہر چیز حاضر کردیا کرتے ہیں''۔''
‫گھوڑوں کے ساتھ مشکیزے ہیں''…… لڑکی نے کہا…… ''ایک کھول لو''۔''
‫الناصر نے ایک گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھا ہوا مشکیزہ کھوال۔ پانی سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے سب سے پہلے بے ہوش
‫ساتھی کے منہ میں پانی ٹپکایا۔ اس نے آنکھ کھولی اور اٹھ بیٹھا۔ الناصر نے مشکیزہ اس کے منہ سے لگا دیا لیکن اسے
‫زیادہ پانی نہ پینے دیا۔ باری باری سب نے پانی پی لیا۔ الناصر کا دماغ صاف ہوگیا۔ اس نے سوچا کہ یہ لڑکیاں تصور یا
‫واہمہ ہوتا تو دماغ میں جان آجانے سے یہ واہمہ غائب ہوجاتا لیکن لڑکیاں وہاں موجود تھیں اور سب سے بڑی حقیقت یہ
‫تھی کہ اس نے پانی پیا تھا اگر پانی محض تصور ہوتا تو اس سے اس کے جسم میں تازگی نہ آتی۔ اس نے لڑکیوں کو ایک
‫بار پھر دیکھا اور بڑی غور سے دیکھا۔ اب وہ اسے اور زیادہ حسین نظر آئیں‪ ،وہ یقینا انسان نہیں تھیں۔
‫الناصر کی ذہنی‪ ،جذباتی اور جسمانی کیفیت یہ تھی کہ اسے اپنے اوپر کوئی اختیار نہیں رہا تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا کہ ‪:
‫وہ اپنی مرضی سے سوچنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے ساتھیوں کے چہروں پر زندگی عود کر آئی تھی۔ یہ اس تھوڑے سے
‫پانی کا کرشمہ تھا جو ان کے جسموں میں گیا تھا مگر الناصر کی طرح ان پر بھی خوف طاری ہوگیا تھا۔ لڑکیاں انہیں
‫خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔ باہر کی دنیا جل رہی تھی‪ ،زمین ایسے شعلے اگل رہی تھی جو محسوس ہوتے تھے‪ ،نظر نہیں
‫آتے تھے لیکن جہاں یہ لوگ بیٹھے تھے‪ ،وہ ان شعلوں سے محفوظ تھے۔ اوپر ریتلی چٹان کی چھت تھی اور جگہ خاصی
‫کشادہ تھی۔
‫بڑی لڑکی نے بازو الناصر کی طرف بڑھایا۔ درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی آگے کرکے بازو کو گھوڑوں کی طرف گھما کر
‫کہا…… ''وہ تھیال کھول الئو اور اپنے ساتھیوں کو دو''۔
‫الناصر ایسے انداز سے گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھا ہوا چمڑے کا تھیال کھول الیا جیسے اس نے یہ حرکت کسی جادو کے
‫زیراثر کی ہو۔ اس نے تھیال کھوال تو اس میں کھجوروں کے عالوہ کھانے کی کچھ ایسی چیزیں پڑی تھیں جو صرف امیر لوگ
‫کھایا کرتے تھے۔ خشک گوشت بھی تھا جو کھانے کے قابل تھا۔ اس نے لڑکیوں کو دیکھا۔ بڑی لڑکی نے کہا……
‫''کھائو''…… الناصر نے یہ چیزیں اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیں۔ ان سب کے پیٹ پیٹھ سے لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے
‫کھانا شروع کردیا۔ کھانا مقدار کے لحاظ سے تھوڑا تھا جو بظاہر ایک آدمی کے لیے کافی تھا لیکن چارو سیر ہوگئے۔ انہیں
‫ماحول نکھرا ہوا دکھائی دینے لگا۔ لڑکیوں کا حسن پہلے سے کہیں زیادہ پرکشش اور پراسرار ہوگیا۔
‫تم ہمارے ساتھ کیا سلوک کرو گی؟''…… الناصر نے بڑی لڑکی سے کہا…… ''جن اور انسان کا کوئی مقابلہ نہیں۔ تم آگ ''
‫ہو‪ ،ہم مٹی اور پانی ہیں۔ ہم سب کا خالق خدا ہے۔ ہمیں اپنے خالق کی مخلوق سمجھ کر ہم پر رحم کرو۔ ہمیں ترکمان کے
‫راستے پر ڈال دو۔ تم چاہو تو پلک جھپکتے ہمیں ترکمان پہنچا سکتے ہو''۔
‫الناصر نے اسے اپنی تمام کارگزاری سنا دی۔ اس کی ٹولی نے جس دلیری سے شب خون مارے اور جو نقصان کیا تھا‪ ،وہ
‫پوری تفصیل سے سنایا‪ ،پھر یہ بتایا کہ وہ کس طرح واپسی کے راستے سے بھٹک گئے ہیں۔
‫تم اپنے سپاہیوں سے بہتر سپاہی معلوم ہوتے ہو''…… لڑکی نے کہا…… ''کیا تمہاری فوج کا ہر ایک سپاہی یہ کام کرسکتا''
‫''ہے‪ ،جو تم نے کیا ہے؟
‫نہیں'' الناصر نے جواب دیا…… ''ہم چاروں کو تم انسان نہ سمجھو۔ ہمیں استادوں نے جو تربیت دی ہے‪ ،وہ ہر ایک ''
‫سپاہی برداشت نہیں کرسکتا۔ ہم صحرائی ہرن کی طرح دوڑ سکتے ہیں۔ عقاب کی طرح ہماری آنکھیں بہت دور تک دیکھ
‫سکتی ہیں اور ہم چیتے کی طرح حملہ کرتے ہیں۔ ہم میں سے کسی نے بھی چیتا نہیں دیکھا۔ استادوں نے بتایا تھا کہ چیتا
‫کیا ہوتا ہے اور وہ کس طرح حملہ کرتا ہے۔ اس جسمانی پھرتی کے عالوہ ہمارے دماغ دوسرے سپاہیوں کی نسبت زیادہ اچھی

‫طرح سوچ سکتے ہیں۔ ہمیں استادوں نے یہ ہنر بھی سکھایا ہے کہ دشمن کے ملک میں جاکر فوجی راز کس طرح حاصل
‫کیے جاتے ہیں۔ ہم بھیس بدل لیتے ہیں‪ ،آواز بدل لیتے ہیں‪ ،اندھے بن سکتے ہیں۔ ضرورت پڑے تو ہم آنسو بہا سکتے ہیں اور
‫جب پکڑے جانے کا خطرہ ہو تو ہم اپنی زندگی سے دستبردار ہوکر لڑتے اور نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم قید نہیں ہوتے‪،
‫شہید ہوا کرتے ہیں''۔
‫اگر ہم جن نہ ہوتی تو تم ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتے؟''…… لڑکی نے پوچھا۔''
‫تم یقین نہیں کرو گی''…… الناصر نے کہا…… ''ہم وہ پتھر ہیں جنہیں عورت کا حسن توڑ نہیں سکتا۔ مجھے یقین ہو ''
‫جائے کہ تم انسان ہو اور پتہ چل جائے کہ راستہ سے بھٹک گئی ہو تو تم دونوں کو اپنی پناہ میں لے لوں گا اور اپنے
‫ایمان کی طرح قیمتی سمجھوں گا مگر تم انسان نہیں ہو‪ ،تمہاری حالت بتا رہی ہے کہ تم انسان نہیں ہو۔ تم جیسی لڑکیاں
‫اس جہنم میں نہیں آسکتیں۔ اب میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ ہمیں پناہ میں لے لو''۔
‫ہم انسانوں کی مخلوق سے نہیں''…… لڑکی نے کہا…… ''ہمیں معلوم تھا کہ تم کیا کررہے ہو‪ ،ہمیں معلوم تھا کہ تم ''
‫راستے سے بھٹک گئے ہو‪ ،اگر تم گناہ گار ہوتے تو جس صحرا سے تم گزر کر آئے ہو‪ ،وہ تمہارا خون پی جاتا اور تمہارے
‫جسم کے گوشت کو ریت بنا کر تمہاری ہڈیاں ننگی کردیتا۔ اس صحرا نے بھٹکے ہوئے گناہ گاروں کو کبھی نہیں بخشا۔ ہم
‫دونوں تمہارے ساتھ تھیں۔ تمہیں جو صعوبتیں برداشت کرنی پڑی ہیں وہ اس لیے تم پر ڈالی گئی ہیں کہ تم خدا کو بھول نہ
‫سکو اور تمہارے دل سے گناہ کا خیال اور ارادہ نکل جائے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہم جیسی خوبصورت لڑکیوں کو دیکھ کر تم
‫بھوک اور پیاس کو بھول جائو گے اور تمہارے دل پر شیطان کا قبضہ ہوجائے گا''۔
‫تم ہمارے ساتھ ساتھ کیوں رہیں؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
‫ہمیں اس نے بھیجا ہے جو صحرائوں میں راستہ بھول جانے والے نیک بندوں کو راہ دکھاتا ہے''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''
‫''تم پر خدا نے جو رحمت نازل کی ہے‪ ،اس کا تم حساب نہیں کرسکتے
‫اس نے ہمیں کہا تھا کہ مرد نزع کے عالم میں بھی شیطان کے اثر سے آزاد نہیں ہوتا۔ اس ناپاک قبضے سے آزاد کرانے
‫کے لیے خدا نے تمہیں عذاب میں ڈاال ہے پھر ہمیں حکم مال کہ ان کے سامنے آجائو اور انہیں پناہ میں لے لو…… ہم جانتے
‫تھے کہ تم نے دشمن کو کس طرح اور کتنا نقصان پہنچایا ہے''۔
‫پھر مجھ سے کیوں پوچھا تھا؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
‫یہ دیکھنے کے لیے کہ تم کتنا جھوٹ اور کتنا سچ بولتے ہو''…… لڑکی نے کہا…… ''تم سچے ہو''۔''
‫ہم جھوٹ نہیں بوال کرتے''…… الناصر نے کہا…… ''شب خون مارنے والے خدا کو گواہ بنایا کرتے ہیں۔ اپنی فوج اور اپنے''
‫ساالروں کی نظروں سے اوجھل ہوکر ہم اس حقیقت کو دل میں بٹھا لیتے ہیں کہ ہمیں خدا دیکھ رہا ہے۔ ہم خدا کو دھوکہ
‫نہیں دے سکتے''…… الناصر خاموش ہوگیا اور پوچھا…… ''تم نے میرے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ ہمارے ساتھ کیا
‫سلوک کرو گی''۔
‫جو ہمیں حکم مال ہے‪ ،اس کے خالف ہم کچھ نہیں کرسکتے''…… لڑکی نے جواب دیا…… ''ہمارا سلوک برا نہیں ہوگا……''
‫ہم دیکھ رہے ہیں ک تم اب بول نہیں سکتے۔ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی آنکھیں بند ہورہی ہیں مگر تمہارے دلوں میں
‫جو خوف ہے‪ ،وہ تمہیں سونے نہیں دے رہا۔ دل سے خوف نکال دو اور سوجائو''۔
‫پھر کیا ہوگا؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
‫جو اللہ کا حکم ہوگا''…… لڑکی نے جواب دیا…… ''ہم تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اگر بھاگنے کی کوشش کرو گے تو''
‫ان ریتلے ستونوں کی طرح ستون بن جائو گے۔ تمہیں دور سے یہ ستون نظر آئے ہوں گے۔ ان کے اوپر کوئی چھت نہیں۔ یہ
‫مینار لگتے ہیں‪ ،اصل میں انسان ہیں…… انسان تھے۔ ہمیں حکم نہیں کہ تمہیں دکھائوں‪ ،اگر حکم ہوتا تو کسی بھی مینار پر
‫تم تلوار کی ضرب لگاتے تو اس میں سے خون پھوٹتا''۔
‫الناصر اور اس کے ساتھیوں کی آنکھیں خوف سے باہر آنے لگیں۔ ان کی سانسیں رک گئیں۔
‫یہ روئے زمین کا جہنم ہے''…… لڑکی نے کہا…… ''ادھر وہی آتا ہے جو راہ سے گمراہ ہوجاتا ہے اور وہ کہ جو بھولے ''
‫بھٹکے مسافروں کو راستہ دکھاتا ہے اور کسی کو نظر نہیں آیا کرتا‪ ،انہیں غزال جیسے خوبصورت جانوروں یا ہم جیسی
‫خوبصورت لڑکیوں کے روپ میں آکر انہیں راہ پر ڈالتا‪ ،پانی پالتا اور انہیں اس دوزخ کی اذیت سے بچا لیتا مگر انسان گناہوں
‫کا اتنا شیدائی ہے کہ غزال کو دیکھتا ہے تو اس پر تیر چالتا ہے کہ اسے مارے اور اس کا گوشت کھائے اور جب ہم جیسی
‫عورت کو دیکھتا ہے تو اسے تنہا اور مجبور سمجھ کر اسے عیش وعشرت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بھول جاتا
‫ہے کہ اس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ وہ لڑکی سے کہتا ہے کہ آئو میرے ساتھ‪ ،تمہارے ساتھ شادی کروں گا‪ ،تم میرے حرم
‫کی ملکہ ہوگی…… ریت اور مٹی کے یہ بے ڈھنگ اور لمبوترے مینار ایسے ہی آدمی تھے‪ ،تم ان میں شامل نہیں ہوگے……
‫سوجائو۔ اگر ہمیں دیکھ کر تمہارے دل میں گناہ انگڑائی لے تو اسے بھی سال دینا‪ ،ورنہ تمہارا انجام یہی ہوگا جو تم دیکھ
‫رہے ہو۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس لذت کی وہ پیداوار ہے‪ ،اسی لذت کا شیدائی ہوکر تباہ ہوتا ہے اور برے برے
‫انجام کو پہنچتا ہے۔ انسان کی اس کمزوری نے قوموں کے نام ونشان مٹان دئیے ہیں''۔
‫لڑکی کے بولنے کے انداز میں جادو کا سا اثر تھا۔ یہ کسی پہلو اس دنیا کی لڑکی نہیں تھی۔ اس کے سینے میں ایک مقدس
‫پیغام تھا۔ الناصر اور اس کے ساتھیوں پر تقدس طاری ہوگیا اور وہ خود فراموشی کے عالم میں سنتے رہے‪ ،پھر وہ اونگھنے
‫لگے اور ایک ایک کرکے لڑھک گئے۔ چاروں گہری نیند سوگئے تو بڑی لڑکی نے چھوٹی لڑکی کی طرف دیکھا۔ دونوں مسکرائیں
‫اور انہوں نے سکون کی لمبی آہ بھری۔ الناصر کو کچھ خبر نہیں تھی کہ جس طرح اس کا مشن کامیاب ہوچکا ہے اسی طرح
‫اس کی فوج ایک ہی ہلے میں اپنے مشن میں کامیاب ہوچکی ہے۔ اتحادی فوج کو سلطان ایوبی بکھیر کر بھگا چکا تھا۔
‫اعلی سیف الدین میدان جنگ سے الپتہ ہوچکا تھا اور اب سلطان ایوبی سیف الدین کے ایک ساالر
‫اتحادی فوج کا ساالر
‫ٰ
‫مظفرالدین کا انتظار کررہا تھا۔ اسے خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ اگر مظفرالدین میدان جنگ میں ہوا تو وہ جوابی حملہ ضرور
‫کرے گا۔ سلطان ایوبی کا اندازہ غلط نہیں تھا۔ مظفرالدین وہیں تھا۔ اس کے پاس اس فوج کا چوتھائی حصہ تھا جو سلطان
‫ایوبی کے حملے کی تاب نہ ال کر بھاگ چکی تھی۔ اس چوتھائی حصے کو جنگ میں شریک ہونے کا موقع ہی نہیں مال تھا۔
‫یہ شکست خوردہ فوج کا محفوظہ تھا جو محفوظ تھا اور سلطان ایوبی اس کی موجودگی سے بے خبر تھا‪ ،یہ اس کی چھٹی
‫حس تھی جو اسے بتا رہی تھی کہ خطرہ ابھی موجود ہے۔ اس نے اپنے جاسوسوں کو میدان جنگ کے اردگرد دور دور تک
‫پھیال دیا تھا تاکہ کسی بھی جگہ کوئی فوج ہو اس کی اطالع فورا ً پہنچائیں۔
‫وہاں ہر فوجی کے ذہن میں یہی خیال تھا کہ سیف الدین کی فوج مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے اور یہ سوال ہی پیدا نہیں

‫ہوتا تھا کہ اس فوج کا کوئی سپاہی یا افسر زندہ موجود ہوگا۔ ان میں سے جو زندہ موجود تھے‪ ،وہ سلطان ایوبی کی فوج کی
‫حراست میں جنگی قیدی تھے۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ وہ خطہ ایسا تھا کہ جس کے خدوخال کئی کئی دستوں کو ایک
‫ایک نشیب میں‪ ،چٹانوں کے جھرمٹ میں یا جنگل میں چھپا سکتے تھے۔ سلطان ایوبی کے جاسوسی نظام کو یہی دشواری
‫پیش آرہی تھی۔ حاالنکہ یہ وہ نظام تھا جو دشمن کے پیٹ میں جاکر راز نکال الیا کرتا تھا۔
‫مظفرالدین نے میدان جنگ سے دواڑھائی میل دور ایسی جگہ اپنے دستے چھپا رکھے تھے جو اس خطے کا نشیبی عالقہ تھا‪،
‫وہاں جنگل بھی تھا اور اردگرد چٹانیں بھی۔ وہ اپنے خیمے میں بیٹھا سلطان ایوبی پر حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ وہ بہت
‫جلدی میں تھا۔ اس کا ایک نائب ساالر خیمے میں داخل ہوا۔ اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا۔
‫کوئی نئی خبر ہے؟''…… مظفرالدین نے پوچھا۔''
‫صلح الدین ایوبی کی فوج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی''…… نائب ساالر نے کہا…… ''تفصیل اس سے سن لو‪ ،یہ سب کچھ''
‫دیکھ آیا ہے''۔
‫یہ آدمی جاسوس تھا۔ اس نے کہا…… ''صالح الدین ایوبی کی فوج نے ابھی ہماری اس فوج کا سامان نہیں اٹھایا جو بھاگ
‫گئی ہے۔ زخمیوں کو اٹھالے گئے ہیں۔ الشیں بھی اٹھالی گئی ہیں‪ ،ہماری الشوں کو بھی وہ اپنی الشوں کے ساتھ الگ الگ
‫قبروں میں دفن کررہے ہیں''۔
‫مجھے ان کی خبر سنائو جو ابھی زندہ ہیں''…… مظفرالدین نے کہا…… ''مرنے والوں کو قبروں میں اترنا ہے‪ ،وہ اتر رہے''
‫''ہیں‪ ،کیا ایوبی نے اپنی فوج میں کوئی ردوبدل کیا ہے؟ اس کا دایاں بازو وہیں ہے یا ادھر ادھر ہوگیا ہے؟
‫قابل صد احترام ساالر!''…… جاسوس نے کہا…… ''میں سپاہی نہیں‪ ،کمان دار ہوں‪ ،میں جو خبر دے رہا ہوں‪ ،وہ کچھ ''
‫سوچ اور کچھ سمجھ کر دے رہا ہوں۔ میرا مقصد یہ نہیں کہ آپ کو خوش کروں اور آپ کی خفگی سے ڈروں۔ میرا مقصد
‫بالکل آپ ہی کی طرح یہی ہے کہ سلطان ایوبی کی فتح کو شکست میں بدال جائے۔ آپ کچھ جلدی میں معلوم ہوتے ہیں‪،
‫جلدی ضروری کریں‪ ،جلد بازی سے بچیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں‪ ،مجھے کہنے دیں۔ مجھے پابند نہ کریں۔ میں جانتا ہوں کہ
‫آپ کی نظر سلطان ایوبی کے دائیں پہلو پر ہے کیونکہ یہی ہدف آپ کی آسان زد اور رسائی میں ہے مگر میں نے اس کی
‫فوج کے دوسرے حصوں کو بھی پیش نظر رکھ کر دیکھا ہے کہ ہم اس کے دائیں پہلو پر حملہ کریں گے تو سلطان ایوبی فوج
‫کے دوسرے حصوں کو کس طرح استعمال کرے گا''۔
‫وہ ہمیں گھیرے میں لینے کی کوشش کرے گا''…… مظفرالدین نے کہا…… ''گھیرا وسیع رکھے گا‪ ،ہمیں گھمائے پھرائے گا ''
‫اور گھیرا تنگ کرتا جائے گا۔ میں اس کی چالوں کے متعلق پین گوئی کرسکتا ہوں''۔
‫صالح الدین ایوبی نے محفوظہ کے ان دستوں کو جن سے اس نے ہمارے قلب پر حملہ کیا اور کامیابی حاصل کی ہے پھر ''
‫سے سمیٹ لیا اور اگلے دستوں سے ایک کوس پیچھے تیار رکھا ہوا ہے۔ آپ ٹھیک سمجھے ہیں کہ سلطان ایوبی ہمارے حملہ
‫آور دستوں کو گھیرے میں لینے کی کوشش کرے گا۔ میں قبروں کا جو ذکر کررہا تھا‪ ،وہ بے معنی نہیں تھا۔ سلطان ایوبی کا
‫دایاں بازو جس جگہ ہے اس سے ڈیڑھ ایک کوس پیچھے ہماری اور ایوبی کی فوج کی الشوں کے لیے قبریں کھودی گئی ہیں۔
‫ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ ہوگی۔ یہ ڈیڑھ ہزار گڑھے ہیں۔ آپ قبر کی لمبائی‪ ،چوڑائی اور گہرائی سے واقف ہیں۔
‫آپ ایسی سمت سے حملہ کریں کہ ایوبی کے دستے پیچھے ہٹیں۔ آپ انہیں قبروں کے قریب لے جائیں۔ دست بدست لڑنے
‫کے بجائے تیروں کا اندھا دھند استعمال کریں اور انہیں مجبور کردیں کہ قبروں پر چلے جائیں۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ
‫گھوڑے کھلی ہوئی قبروں میں کس طرح گریں گے۔ ان میں سے جن قبروں میں الشیں اتار کر ان پر ڈھیریاں بنا دی گئی ہیں‪،
‫وہ بھی ان کے لیے رکاوٹ بنیں گی''۔
‫ایوبی کے دائیں بازو کی قوت کتنی اور کس قسم کی ہے؟''…… مظفرالدین نے پوچھا۔''
‫کم از کم ایک ہزار سوار اور ڈیڑھ ہزار پیادے ہیں''…… جاسوس کمان دار نے جواب دیا…… ''یہ دستے تیاری کی حالت ''
‫میں ہیں۔ آپ انہیں بے خبری میں نہیں لے سکتے''…… اس نے اس نقشے پر جو مظفرالدین کے آگے پڑا تھا‪ ،ایک جگہ
‫انگلی رکھ کر کہا…… '' یہ ہے دشمن ( ایوبی) کا دایاں بازو‪ ،میرے اندازے کے مطابق اس کا پھیالئو آٹھ سو قدم ہے۔ اس کے
‫سامنے کی زمین گڑھوں والی ہے۔ نیچی نیچی گول گول ٹیکریاں بھی ہیں۔ اس کے دائیں کا عالقہ صاف ہے۔ حملے کے لیے
‫یہ راستہ موزوں نظر آتا ہے۔ مگر حملہ سامنے سے کیا جائے۔ دشمن پیچھے ہٹے گا''۔
‫میرا حملہ سامنے کے بے کار راستے سے بھی ہوگا‪ ،دائیں جانب سے صاف راستے سے بھی''…… مظفرالدین نے کہا…… ''
‫'' میں قبروں کے گڑھوں اور ڈھیریوں کو استعمال کروں گا''…… اس نے اپنے نائب ساالر سے کہا…… ''کوئی بھی آدمی کہیں
‫بھی نظر آئے اسے پکڑ لو۔ یہ عالقہ جنگ کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ ادھر سے کوئی مسافر نہیں گزرے گا۔ ادھر سے وہی
‫گزرے گا جو جاسوس ہوگا''۔
‫دو مسافروں کو شاید معلوم نہیں تھا کہ یہ عالقہ جنگ کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ ایک اونٹ پر سوار تھا۔ وہ بوڑھا تھا۔ اس
‫کی داڑھی سفید تھی۔ اونٹ پر کچھ سامان بھی لدا ہوا تھا۔ دوسرے نے اونٹ کی مہار پکڑ رکھی تھی۔ وہ دونوں دیہاتی لباس
‫میں تھے۔ وہ اس جگہ سے گزر رہے تھے جہاں سے مظفرالدین کے چھپے ہوئے دستے نظر آرہے تھے۔ ایک فوجی نے انہیں
‫پکارا۔ وہ نہ رکے۔ ان کی رفتار تیز ہوگئی۔ ایک گھوڑ سوار ان کے پیچھے گیا تو وہ رک گیا۔ سوار نے انہیں ساتھ چلنے کو
‫کہا۔
‫ہم مسافر ہیں''…… جوان آدمی نے کہا…… ''آپ کا کیا بگاڑا ہے؟ ہمیں جانے دیں''۔''
‫حکم ہے کہ یہاں سے جو گزرے اسے روک لیا جائے''…… گھوڑ سوار نے کہا اور انہیں اپنے ساتھ لے گیا۔''
‫انہیں ایک خیمے کے سامنے جاکھڑا کیا اور خیمے میں اطالع دی گئی۔ ایک کمان دار باہر آیا۔ اس نے ان سے پوچھا کہ وہ
‫کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔ انہوں نے جو جواب دیا‪ ،اس سے کمان دار مطمئن ہوگیا لیکن اس نے انہیں بتایا کہ
‫انہیں آگے نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہیں عزت سے رکھا جائے گا‪ ،قید میں نہیں۔ ان کے اس سوال کا جواب نہ دیا جاسکا
‫کہ انہیں کب تک یہاں رکھا جائے گا۔ یہ پہلے مسافر تھے جنہیں مظفرالدین کے حکم کے مطابق روکا گیا تھا۔ انہیں دو
‫سپاہیوں کے حوالے کرکے کہا گیا کہ وہ ان کے خیمے میں رہیں گے۔ ان کی کسی نے نہ سنی۔
‫انہیں جس خیمے میں رکھا گیا‪ ،وہاں یہی دو سپاہی رہتے تھے۔ رات کو سپاہی سو گئے۔ سفید ریش بوڑھا جاگ رہا تھا۔
‫خیمے میں اندھیرا تھا۔ بوڑھے نے خراٹوں سے اندازہ کیا کہ دونوں سپاہی سو گئے ہیں۔ اس نے اپنے ساتھی کو ٹھوکر ماری۔
‫دونوں لیٹے لیٹے سرکنے لگے۔ جب خیمے کے دروازے تک پہنچے تو باہر کو سرک گئے۔ ) باہر خاموشی تھی۔ خیمے سے
‫کچھ دور جاکر بوڑھے نے اپنے ساتھی سے کہا کہ وہا ں سے الگ ہوجائے اور کسی اور سمت سے خیمہ گاہ سے باہر نکلے۔

‫دونوں الگ ہوگئے۔‪ ،ان کی یہ توقع پوری نہ ہوئی کہ وہاں سارا کیمپ سویا ہوا ہوگا۔ سنتری جاگ رہے تھے۔ ایک سنتری نے
‫اندھیرے میں سائے کو حرکت کرتے دیکھا تو اسے بالنے کے بجائے اس کے پیچھے چل پڑا۔
‫وہ بوڑھا تھا۔ اس نے سنتری کو دیکھ لیا اور وہ کہیں چھپ گیا۔ سنتری آیا۔ اسے ڈھونڈنے لگا وہاں کچھ سامان پڑا تھا۔ اس
‫ڈھیر میں کہیں چھپا رہا‪ ،پھر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے دبے پائوں نکل گیا۔ بالکل اسی طرح ایک اور سنتری
‫نے اس کے ساتھی کو دیکھ لیا۔ مظفرالدین نے جاسوسوں پر نظر رکھنے اور انہیں پکڑنے کے بڑے ہی سخت احکام دے رکھے
‫تھے۔ اسے معلوم تھا کہ سلطان ایوبی کے جاسوس بہت تیز اور ہوشیار ہیں۔ چنانچہ مظفرالدین نے اس کے جاسوسوں کو
‫پکڑنے کے لیے خاص قسم کی ہدایات دی تھیں‪ ،انہی ہدایات کے مطابق سنتری بوڑھے اور اس کے ساتھی کو پکارتے نہیں تھے‪،
‫ان کا تعاقب کررہے تھے۔
‫بوڑھے کا ساتھی بھی چھپ گیا۔ ادھر بوڑھا بھی ایک سنتری کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ تھوڑی دیر بوڑھا اور ایک
‫جگہ چھپا۔ سنتری اس کے پیچھے آرہا تھا۔ سنتری غلط فہمی میں آگے نکل گیا۔ بوڑھے نے خنجر نکال لیا۔ اس نے ارادہ
‫کرلیا تھا کہ وہ اس سنتری سے نجات حاصل کرنے کے لیے اسے خنجر سے ہالک کردے گا۔ بوڑھا اٹھا۔ ابھی دیکھ ہی رہا
‫تھا کہ کدھر کو نکلے کہ اچانک ایک آدمی اس کے قریب آرکا۔ بوڑھے نے ذرہ بھر توقف نہ کیا۔ خنجر اس آدمی کے دل میں
‫اتار دیا۔ فورا ً بعد دوسرا وار کیا۔ اس آدمی کے منہ سے آواز نکلی اور خاموش ہوگئی۔ وہ آدمی گر پڑا۔
‫بوڑھا وہاں سے بھاگنے کی راہ دیکھ رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے اسے دبوچ لیا۔ بوڑھے نے جسم کو اتنی زور سے ‪:
‫جھٹکا دیا کہ اسے دبوچنے واال اس سے الگ ہوکر گرا۔وہ تیز بھاگا مگر کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔ اس نے جسے
‫گرایا تھا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ تیز دوڑا اور بوڑھے کو پیچھے سے پکڑ لیا‪ ،ساتھ ہی اس نے شور مچا دیا۔ مشعلیں جل
‫اٹھیں۔ تین چار سنتری دوڑے آئے۔ انہوں نے مشعلوں کی روشنی میں دیکھا کہ یہ تو کوئی سفید ریش بزرگ ہے مگر ان سب
‫سے آزاد ہونے کے لیے ایسی پھرتی اور ایسی طاقت کا مظاہرہ کررہا تھا جو اس عمر میں کم ہی کسی انسان میں ہوتی ہے۔
‫وہ اکیال تھا۔ سنتری زیادہ تھے‪ ،وہ ان سے آزاد نہ ہوسکا مگر اس کی کوشش میں اس کی سفید داڑھی اتر کر گر پڑی۔ سب
‫نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر چھوٹی چھوٹی سیاہ داڑھی تھی جو سلیقے سے تراشی ہوئی تھی اور وہ ایک جوان آدمی تھا۔
‫سفید داڑھی مصنوعی تھی۔
‫اسے پکڑ کر اس جگہ لے گئے جہاں اس نے ایک سنتری کو خنجر کے دو وار کرکے مار ڈاال تھا۔ مشعل کی روشنی میں سب
‫نے دیکھا کہ وہ کوئی سنتری نہیں بلکہ اسی آدمی کا ساتھی تھا۔ وہ مرچکاتھا۔ اس آدمی نے جو سفید داڑھی لگا کر بوڑھا بنا
‫ہوا تھا‪ ،اپنے ہی ساتھی کو سنتری سمجھ کر ہالک کردیا تھا۔ یہ دونوں ساتھی الگ الگ ہوکر کیمپ سے نکلنے کی کوشش
‫کررہے تھے مگر سنتریوں نے انہیں دیکھ لیا۔ یہ دونوں تعاقب سے بچنے کی کوشش میں اکٹھے ہوگئے۔ سفید داڑھی والے نے
‫اسے سنتری سمجھا اور نہایت عجلت میں اسے خنجر سے مارڈاال۔ الش کی تالشی لی گئی۔ اس کے کپڑوں کے اندر سے
‫خنجر بآمد ہوا۔ ان کے اونٹ پر جو سامان تھا‪ ،وہ کھول کر دیکھا گیا تو کوئی سامان نہیں تھا۔ بوریوں میں گھاس پھونس بھر
‫کر سامان کا دھوکہ دیا گیا تھا۔
‫اس آدمی کو ایک نائب ساالر کے خیمے میں لے گئے۔ نائب ساالر جاگ اٹھا۔ اس نے اس آدمی سے بہت کچھ پوچھا لیکن
‫اس نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس کی سفید داڑھی جو اس کے چہرے سے اتری تھی‪ ،نائب ساالر کو دکھائی گئی۔ اس
‫کے متعلق بھی اس نے خاموشی اختیار کی مگر یہ ایسے ثبوت تھے جنہیں وہ جھٹال نہیں سکتا تھا۔ اسے کہا گیا کہ وہ
‫تسلیم کرلے کہ وہ سلطان ایوبی کا جاسوس ہے اور اس کا ساتھی بھی جاسوس تھا۔ اس نے یہ الزام تسلیم کرنے سے انکار
‫کردیا۔ اسے مارا پیٹا گیا۔ بہت پریشان کیا گیا لیکن اس نے اعتراف نہ کیا کہ وہ جاسوس ہے۔ رات گزر گئی۔
‫صبح اسے مظفرالدین کے سامنے لے جایا گیا اور اسے رات کا واقعہ سنایا گیا۔ اس کی مصنوعی داڑھی اور اس کے اونٹ کا
‫سامان بھی مظفرالدین کے آگے رکھا گیا۔
‫علی بن سفیان کے شاگرد ہو یا حسن بن عبداللہ کے؟''…… مظفرالدین نے اس سے پوچھا۔ (علی بن سفیان سلطان ایوبی''
‫کی ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ اور حسن بن عبداللہ اس کا نائب تھا)۔
‫میں ان دونوں میں سے کسی کو نہیں جانتا''…… ملزم نے جواب دیا۔''
‫میں جانتا ہوں ان دونوں کو''…… مظفرالدین نے کہا…… ''میں سلطان صالح الدین ایوبی کا شاگرد ہوں‪ ،استاد اپنے '' ‪:
‫شاگرد کو دھوکہ نہیں دے سکتا''۔
‫میرا آپ کے ساتھ اور سلطان ایوبی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں''…… ملزم نے جواب دیا۔''
‫سنو میرے بدقسمت دوست!''…… مظفرالدین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ ''میں تمہارے ساتھ بحث نہیں کروں''
‫گا۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ تم ناالئق اور نکمے ہو۔ تم نے اپنا فرض خوش اسلوبی سے ادا کیا ہے۔ پکڑا جانا کوئی
‫عیب نہیں۔ تمہاری بدقسمتی کہ تمہارا ساتھی تمہارے ہی ہاتھوں مارا گیا ہے۔ مجھے صرف یہ بتا دو کہ تمہارا کوئی ساتھی
‫یہاں سے ہوگیا ہے اور وہ ایوبی کو اطالع دے چکا ہے کہ اس جگہ فوج ہے؟ اور یہ بتا دو کہ اس وقت تمہاری فوج کی
‫ترتیب کیا ہے اور دستے کہاں کہاں ہیں۔ ان سوالوں کا جواب دو اور میں تمہارے ساتھ قرآن کے نام پر وعدہ کرتا ہوں کہ
‫جنگ ختم ہوتے ہی تمہیں رہا کردوں گا۔ اس وقت تک پوری عزت سے تمہیں اپنے پاس رکھوں گا''۔
‫مجھے آپ کی قسم پر اعتبار نہیں''…… ملزم نے کہا…… ''کیونکہ آپ قرآن سے منحرف ہوچکے ہیں''۔''
‫کیا میں مسلمان نہیں؟''…… مظفرالدین نے تحمل سے کہا۔''
‫آپ یقینا مسلمان ہیں''…… ملزم نے جواب دیا…… ''لیکن آپ قرآن کے نہیں صلیب کے وفادار ہیں''۔''
‫میں اپنی توہین اس شرط پر برداشت کرلوں گا کہ میں نے جو پوچھا ہے‪ ،وہ مجھے بتا دو''…… مظفرالدین نے کہا…… ''
‫''تمہاری جان میرے ہاتھ میں ہے''۔
‫آپ خدا کے ہاتھ سے میری جان چھین نہیں سکتے''…… ملزم نے کہا…… ''آپ ہماری فوج میں رہ چکے ہیں‪ ،آپ کو ''
‫اچھی طرح معلوم ہے کہ ہماری فوج کا ہر سپاہی اپنی جان خدا کے سپرد کرچکا ہے۔ میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ میں
‫اپنی فوج کا جاسوس ہوں اور میرا ساتھی بھی جاسوس تھا۔ میں آپ کے کسی اور سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ میں زندہ
‫ہوں‪ ،میری کھال اتارنی شروع کردیں۔ میرے منہ سے اپنے سوالوں کا جواب نہیں سن سکو گے…… اور میں آپ کو یہ بھی بتا
‫دیتا ہوں کہ شکست آپ کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے''۔
‫اس کے ٹخنوں میں رسی ڈالو اور اس درخت کے ساتھ الٹا لٹکا دو''…… مظفرالدین نے ایک درخت کی طرف اشارہ کرکے ''
‫حکم دیا اور اپنے خیمے میں چال گیا۔

‫٭ ٭ ٭
‫وہ دونوں ابھی تک نہیں آئے''…… حسن بن عبداللہ سلطان ایوبی سے کہہ رہا تھا…… ''ان کے پکڑے جانے کا تو کوئی ''
‫خطرہ نہیں تھا۔ ہمارے جاسوسوں کو یہاں پکڑنے واال کون ہے۔ انہیں بہت دور بھی نہیں جانا تھا''۔
‫ہوسکتا ہے‪ ،وہ پکڑے گئے ہوں''…… سلطان ایوبی نے کہا…… ''وہ جو صبح کے گئے ہوئے شام کے بعد تک نہیں آئے‪ ،وہ''
‫پکڑے گئے ہوں گے۔ ان کا نہ آنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاں پکڑنے والے موجود ہیں۔ آج رات کچھ آدمی اور بھیج دو اور ذرا دور
‫کے عالقے کی دیکھ بھال کرائو''۔
‫وہ انہی دونوں جاسوسوں کے متعلق بات کررہے تھے۔ سلطان ایوبی نے ہمیشہ اپنے جاسوسی کے نظام پر بھروسہ کیا اور
‫دشمن کو اسی نظام کی رہنمائی میں ناکوں چنے چبوائے تھے مگر اب اس کا یہ نظام اس کے لیے بے کار ہوتا جارہا تھا۔
‫اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا مدمقابل اس کا شاگرد مظفرالدین تھا۔گزشتہ رات سلطان ایوبی کے ایک جاسوس کی الش
‫ترکمان سے کچھ دور ویرانے میں پڑی ملی تھی۔ اس کے پہلو میں تیر اترا ہوا تھا۔ مظفرالدین نے اپنے نائب ساالروں سے کہا
‫تھا… '' اگر تم صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کے خالف اقدام کرسکو تو وہ اندھا اور بہرہ ہوجائے۔ پھر تم اسے شکست
‫دینے کی سوچ سکتے ہو''…… اب سلطان ایوبی کے دو اور جاسوس الپتہ ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی ان دونوں واقعات کو
‫نظرانداز نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے حکم پر حسن بن عبداللہ نے چھ چھاپہ مار جاسوس روانہ کردئیے۔
‫صبح کی اذان کی پہلی اللہ اکبر گونجی تو سلطان ایوبی کی آنکھ کھلی…… وہ خیمے سے باہر نکال تو اس کے خادم نے
‫مشعل جال کر اس کے خیمے کے آگے رکھ دی۔ ادھر سے ایک گھوڑ سوار گھوڑا دڑاتا آیا۔ سلطان ایوبی کے سامنے رک کر وہ
‫گھوڑے سے اترا اور کہا۔ ''سلطان کا اقبال بلند ہو۔ اپنے دائیں پہلو کے عالقے کے سامنے کسی فوج کی حرکت سنی گئی
‫ہے۔ دیکھ بھال کے لیے دو آدمی آگے گئے تھے۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ فوج آرہی ہے''۔
‫سلطان ایوبی نے مرکزی کمان کے ساالروں کے نام لے کر کہا کہ انہیں فورا ً بالئو۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا اور تیمم کیا۔ اس ‪:
‫کے پاس وضو کے لیے وقت نہیں تھا۔ وہیں قبلہ رو ہوکر اس نے مصلے بچھائے بغیر نماز پڑھی۔ مختصر الفاظ میں دعا مانگی
‫اور اپنا گھوڑا منگوایا۔
‫یہ مظفرالدین کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا''…… سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے کہا…… ''یہ صلیبی نہیں ہوسکتے۔ ''
‫ان کے آنے کی سمت یہ نہیں ہوسکتی۔ اگر یہ اطالع صحیح ہے کہ دشمن ہمارے دائیں پہلو کے دستوں کے سامنے اور دائیں
‫سے آرہا ہے تو خیال رکھنا‪ ،یہ دو طرفہ حملہ ہوگا۔ اپنے کسی دستے کو پیچھے نہ ہٹنے دینا۔ پیچھے ڈیڑھ ہزار قبروں کے
‫گڑھے ہیں۔ تمام الشوں کو ابھی دفن نہیں کیا گیا۔ یہ گڑھے ہمارے سواروں کی قبریں بن جائیں گے''۔
‫سلطان ایوبی گھوڑے پر سوار ہوا۔ اس کے محافظ دستے کے بارہ محافظ اس کے پیچھے چل پڑے۔ وہ سوار تھے۔ اس نے
‫آدھی درجن تیز رفتار سوار قاصد بھی ساتھ لے لیے تھے اور ساتھ دو ساالر بھی تھے۔ اس نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی اور
‫ایک ایسی چٹان پر جا چڑھا‪ ،جہاں سے وہ اپنے دائیں بازو کے سامنے کا عالقہ اور اپنے دستوں کو دیکھ سکتا تھا۔ صبح کا
‫دھندلکا چھٹنے لگا تھا۔ وہ چٹان سے اترا اور دائیں بازو کے دستوں کے کمان داروں کو بال کر حکم دیا کہ سواروں کو گھوڑوں
‫پر سوار کردو اور پیادہ دستوں کے تیر اندازوں کو سامنے والے عالقے کے کھڈوں میں اور بلندیوں کے پیچھے مورچہ بند ہونے
‫کو دوڑا دو۔
‫اعلی کمان میرے پاس ہوگی''…… اس نے کمان داروں اور نائب ساالروں سے کہا…… ''
‫اب سے دائیں پہلو کے دستوں کی
‫ٰ
‫''اپنے قاصد اپنے ساتھ رکھ لو اور میرے ساتھ رابطہ رکھو''۔
‫سلطان ایوبی کی ٹریننگ میں نقل وحرکت کی برق رفتاری پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔ کسی چال کے حکم کی تعمیل حیران
‫کن رفتار سے ہوتی تھی۔ مظفرالدین کی فوج ابھی اتنی قریب نہیں آئی تھی کہ سلطان ایوبی کے دستوں کی حرکات دیکھ
‫سکتی۔
‫٭ ٭ ٭
‫مظفرالدین نے گھوڑ سواروں سے حملہ کیا‪ ،جوں ہی اس کا پہال سوار دستہ سلطان ایوبی کے دستوں کے سامنے والے عالقے
‫میں آیا اس کی ترتیب خراب ہوگئی کیونکہ وہاں کھڈ اور ڈھیروں کی طرح نیکریاں تھیں۔ ان کھڈوں میں سلطان ایوبی کے تیر
‫انداز بیٹھ گئے تھے۔ انہوں نے اپنے قریب سے اور اپنے اوپر سے گزرتے اور سرپٹ دوڑتے گھوڑوں پر تیر برسانا شروع کردئیے۔
‫سوار گرنے لگے جس گھوڑے کو تیر لگتا تھا وہ بے لگام ہوکر ادھر ادھر بھاگنے دوڑنے لگتا تھا۔ یہ تو ہر معرکے میں ہوتا تھا۔
‫مظفرالدین کے لیے یہ صورت حال عجیب نہیں تھی۔ البتہ اسے یہ پریشانی ہوئی کہ اس کی توقع کے خالف سلطان ایوبی کے
‫دائیں بازو کے دستے بیدار تھے اور مقابلے کے لیے تیار۔ اس یلغار میں سلطان ایوبی کے بے شمار تیر انداز کچلے گئے۔ اس
‫قربانی سے سلطان ایوبی نے یہ فائدہ حاصل کیا کہ مظفرالدین کے حملے کی شدت ختم ہوگئی۔ اب سلطان ایوبی جم کر لڑ
‫سکتا تھا۔ مظفرالدین یہ جو توقع لے کر حملہ آور ہوا تھا کہ وہ اچانک آپڑے گا اور سلطان ایوبی کو وہ اپنی چالوں کا پابند
‫کرکے اسے میدان جنگ میں اپنی پسند کے مطابق لڑاتا رہے گا‪ ،اس کی یہ توقع ختم ہوگئی تھی۔
‫سلطان ایوبی اپنی چالیں چلنے کے لیے آزاد تھا۔ اس کے چند ایک تیراندازوں نے مظفرالدین کے گھوڑوں کے قدموں میں بیٹھ
‫کر جانیں قربان کردی تھیں‪ ،لیکن اپنے سلطان کو وہ بڑا ہی قیمتی جنگی فائدہ دے گئے تھے۔ مظفرالدین حملہ آور دستہ کئی
‫ایک گھوڑے اور ان کے سوار مروا کر آگے نکل آیا۔ آگے سلطان ایوبی خود تھا۔ اس نے حملہ آوروں کا پھیالئو دیکھا تو اس
‫کے مطابق اپنے سواروں کو ایک حکم دے دیا۔ حملہ آور قریب آئے تو سلطان ایوبی کے بائیں سواروں نے گھوڑے بائیں کو
‫موڑے اور ایڑی لگا دی۔ دائیں کے سواروں نے بھی ایسا ہی کیا۔ حملہ آوروں کے سامنے کوئی مزاحمت نہ رہی۔ مزاحمت کرنے
‫والے دائیں اور بائیں بھاگ گئے تھے۔
‫حملہ آوروں کے کچھ گھوڑے دائیں کو مڑے کچھ بائیں کو۔ زیادہ تر ناک کی سیدھ میں چلے آئے۔ سلطان ایوبی کے دائیں بائیں
‫کو بھاگنے والے سواروں نے اندر کو گھوڑے موڑے۔ اب حملہ آوروں کے گھوڑوں کے پہلو ان کے سامنے تھے۔ انہوں نے ایڑی
‫لگا دی…… دونوں طرف سے سواروں نے ہلہ بوال تو ان کی برچھیوں کا کوئی وار خالی نہ گیا۔ حملہ آور تو آگے کو دوڑے
‫جارہے تھے۔ وہ اپنے پہلوئوں کی حفاظت کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔
20:43
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪105جانباز‪ ،جنات اور جذبات
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

‫وہ اپنے پہلوئوں کی حفاظت کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔ ان کی عافیت اسی میں تھی کہ وہ آگے کو نکل جائیں۔ آگے ڈیڑھ
‫ہزار قبریں تھیں۔ حملہ آور کے پیچھے سلطان ایوبی کے سوار آرہے تھے۔ صورت تعاقب کی بن گئی تھی۔ حملہ آوروں کے
‫گھوڑے کھلی قبروں سے گزرنے لگے۔
‫مظفرالدین گھبرا جانے واال ساالر نہیں تھا۔ اس نے کم سے کم تعداد سے حملہ کرایا تھا۔ اس سے اس نے میدان جنگ کا
‫ذائقہ چکھ لیا اور صورت حال معلوم کرلی۔ اس نے فورا ً سواروں کی دوسری موج چھوڑ دی۔ سلطان ایوبی کے سواروں نے
‫گھوڑے روک لیے تھے کیونکہ وہ قبروں سے دور رہنا چاہتے تھے۔ وہ اگلے حکم کی تعمیل کرنے ہی لگے تھے کہ مظفرالدین
‫کے سواروں کا دوسرا دستہ ان کے سر پر آگیا۔ انہیں سنبھلنے کی مہلت نہ ملی۔ یہ عقبی حملہ تھا۔ اس میں سلطان ایوبی
‫کے سواروں کا بہت جانی نقصان ہوا۔ کئی سوار آگئے کو بھاگے اور ان کے گھوڑے قبروں میں گرے۔ اس کے ساتھ ہی
‫مظفرالدین نے دائیں طرف سے بھی حملہ کردیا۔
‫سلطان ایوبی کے لیے صورت حال پریشان کن ہوگئی۔ اس نے قاصد کو اس حکم کے ساتھ دوڑایا کہ محفوظہ عقب سے حملہ
‫کرے۔ سلطان ایوبی نے دائیں بازو کے دستوں کو جس طرح تقسیم کیا تھا‪ ،وہ بے کار ہوگئی۔ مظفرالدین اسی کے اصولوں پر لڑ
‫رہا تھا۔ مظفرالدین کی کمزوری یہ تھی کہ اس کے پاس کمک نہیں تھی۔ سلطان ایوبی نے قاصدوں کے ذریعے اپنے دستوں کے
‫کمانڈروں سے رابطہ رکھ کر انہیں دائیں بائیں بکھیرنا شروع کردیا اور جب عقب سے اس کے محفوظہ نے حملہ کیا تو
‫مظفرالدین کے اوسان خطا ہوگئے۔ اس کا اپنا مرکز خطرے میں پڑ گیا لیکن اس نے نکل بھاگنے کی نہ سوچی۔
‫مورخوں کے مطابق دن کے پچھلے پہر تک دونوں فوجوں نے معرکہ لڑا وہ بڑا ہی خون ریز اور بڑا ہی سخت تھا۔ کمان
‫سلطان ایوبی کے ہاتھ میں تھی‪ ،ورنہ صورت حال کچھ اور ہوتی۔ جہاں تک لڑنے کے جذبے کا اور جنگی قابلیت کا تعلق تھا‪،
‫مظفرالدین نے سلطان ایوبی کی زبان سے دادوتحسین کے کلمے کہلوالیے تھے۔ اسے شکست اس لیے ہوئی کہ اس کے پاس
‫یہی کچھ تھا جو اس نے آخری بازی پر لگا دیا تھا۔ وہ بازی ہار گیا۔ معرکے کے آخری مرحلے میں سلطان ایوبی نے ریزرو
‫سوار دستے سے ہلہ بوال۔ مظفرالدین کی پوزیشن بہت کمزور ہوچکی تھی۔ اس نے پسپائی میں خیریت سمجھی۔ سلطان ایوبی
‫نے بہت سے قیدی پکڑے جن میں مظفرالدین کا ایک مشیر فخرالدین بھی تھا۔ یہ کوئی معمولی سا انسان نہیں تھا‪ ،سیف
‫الدین کا وزیر تھا۔ ترکمان کے معرکے میں جب سیف الدین بھاگا تو فخرالدین مظفرالدین کے پاس چال گیا تھا اور اس کی
‫حوصلہ افزائی کی تھی کہ وہ سلطان ایوبی پر حملہ کرے۔
‫یہ معرکہ شوال ‪( ٥٧١اپریل ‪١١٧٢٢ئ) میں لڑا گیا تھا۔ بے شک مظفرالدین کو شکست ہوئی تھی اور سلطان ایوبی کے
‫مسلمان دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی تھی مگر سلطان ایوبی کا اتنا زیادہ نقصان ہوا تھا کہ اگلے دو ماہ تک وہ ترکمان سے
‫ہلنے کے قابل نہ رہا۔ اس کا دایاں بازو ختم ہوگیا تھا جیسے اس کا اپنا بازو مفلوج ہوگیا ہو۔ اس کے پاس نئی بھرتی آرہی
‫تھی لیکن وہ رنگروٹوں کے ساتھ پیش قدمی نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے اسی روز دمشق اور مصر قاصد دوڑا دئیے کہ کمک
‫بھیجو۔ اگر اس کا اتنا زیادہ نقصان نہ ہوتا تو وہ آگے جاکر حلب‪ ،موصل اور حرن وغیرہ پر یلغار کرتا اور اپنے ان مسلمان
‫دشمنوں کو جو فلسطین کے راستے میں حائل ہوگئے تھے‪ ،راہ راست پر لے آتا یا ختم کردیتا۔
‫یہ میری فتح نہیں''…… سلطان ایوبی نے اس معرکے کے بعد اپنے ساالروں سے کہا…… ''یہ صلیبیوں کی فتح ہے۔ وہ ''
‫ہمیں کمزور کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے میری پیش قدمی کی رفتار سست کرکے فلسطین
‫پر اپنے قبضے کے عرصے کو کچھ اور طویل کرلیا ہے۔ ہمارے یہ مسلمان بھائی کب سمجھیں گے کہ کفار ان کے دوست نہیں
‫ہوسکتے اور ان کی دوستی میں بھی دشمنی ہوتی ہے۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ تاریخ لکھنے والے ہماری آنے والی نسلوں کو
‫کن الفاظ میں سنائیں گے کہ ہم آپس میں لڑے تھے''۔
‫اسے ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے بھائی جو اس سے شکست کھا کر بھاگ گئے ہیں‪ ،اس کے قتل کا ایک اور منصوبہ
‫بنا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اس کا تیسرا دشمن گمشتگین‪ ،حشیشین کے سردار شیخ سنان کے ہاں گیا ہوا تھا۔ اس وقت
‫شیخ سنان عصیات نام کے ایک قلعے میں مقیم تھا۔ اسے یہ قلعہ صلیبیوں نے دیا تھا جس میں اس نے اپنی فوج رکھی
‫ہوئی تھی۔ اس قلعے میں اس کے پیشہ ور قاتلوں کا گروہ بھی تھا۔ عصیات اور ترکمان کے درمیان اس جہنم نما عالقے میں
‫جہاں سلطان ایوبی کے چار چھاپہ مار بھولے بھٹکے پہنچ گئے تھے۔ سورج افق کے قریب چال گیا تھا۔ چھاپہ ماروں کے کمانڈر
‫الناصر کی آنکھ کھلی۔ وہ اٹھ بیٹھا۔ دونوں لڑکیاں جاگ رہی تھیں۔ الناصر
‫الناصر کے دل پر گھبراہٹ ہوگئی۔ ان لڑکیوں میں سے ایک نے اس کے ساتھ ایسی باتیں کی تھیں جن سے ظاہر ہوتا تھا
‫کہ وہ اس کے ساتھیوں کے ساتھ برا سلوک نہیں کریں گی‪ ،پھر بھی الناصر ڈر گیا۔
‫انہیں جگائو''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''ہمیں دور جانا ہے''۔''
‫ہمیں راستے پر ڈال کر جائو گی؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
‫تم سب ہمارے ساتھ چلو گے''…… لڑکی نے جواب دیا…… ''ہمارے بغیر تم منزل تک نہیں پہنچ سکو گے''۔''
‫الناصر نے اپنے ساتھیوں کو جگایا۔ بڑی لڑکی نے چھوٹی لڑکی سے کچھ کہا۔ وہ اٹھی اور دوسرے گھوڑے کے ساتھ بندھے ہوئے
‫تھیلے سے کچھ نکاال۔ پانی کا مشکیزہ کھوال۔ مشکیزے کا منہ کھول کر اس نے تھیلے میں سے جو چیز نکالی تھی‪ ،وہ
‫مشکیزے میں ڈال دی۔ اسے ہالیا اور مشکیزہ الناصر کو دے کر کہا…… ''پانی پی لو۔ منزل تک شاید پانی نہ ملے''۔
‫الناصر اور اس کے ساتھیوں نے پانی پی لیا۔ بڑی لڑکی نے چاروں کو کچھ کھانے کو دیا۔ کچھ دیر گزر گئی تو لڑکی نے تھیلے
‫اور مشکیزے گھوڑے کی زینوں کے ساتھ باندھ دئیے۔ سورج نیچے جارہا تھا۔
‫تم نے اس جگہ کو جہنم کہا تھا''…… الناصر نے بلند آواز سے کہا…… ''یہاں تو سبزہ زار ہے‪ ،تم نے جلدی یہاں کس ''
‫''طرح پہنچا دیا ہے؟
‫اس کے تینوں ساتھی حیرت سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔
‫کیا تم تینوں کو بھی سبزہ زار نظر آرہا ہے؟''…… لڑکی لڑکی نے پوچھا۔''
‫ہم سبزہ زار میں بیٹھے ہیں''…… ایک نے کہا۔''
‫کیا تم ہماری جان تو نہیں لے لو گی؟''…… دوسرے نے کہا…… ''تم جنا ت میں سے ہو''۔''
‫نہیں''…… لڑکی نے مسکرا کر کہا…… ''ہم تمہیں اس سے زیادہ حسین خطے میں لے جارہے ہیں''۔''
‫بڑی لڑکی نے الناصر اور اس کے ایک ساتھی کو پہلو بہ پہلو بٹھا کر دونوں کے گرد اپنے بازو لپیٹ دئیے اور بولی…… ''میری
‫آنکھوں میں دیکھو''۔
‫دوسری لڑکی نے الناصر کے دوسرے دو ساتھیوں کو اسی طرح آمنے سامنے بٹھا کر اپنے بازو ان کے گرد ڈالے اور انہیں اپنی

‫آنکھوں میں دیکھنے کو کہا…… چاروں چھاپہ ماروں کے کانوں میں بڑی لڑکی کے مترنم آواز داخل ہورہی تھی…… ''یہ تمہاری
‫بہشت ہے۔ ان پھولوں کے رنگ دیکھو‪ ،ان کی مہک سونگھو‪ ،ان میں جو پرندے اڑ رہے ہیں‪ ،وہ دیکھو‪ ،کتنے خوبصورت ہیں۔
‫یہ تمہارا انعام ہے۔ تمہارے پائوں تلے مخمل جیسی گھاس ہے۔ چشمے دیکھو۔ ان کا شفاف پانی میٹھا ہے''۔
‫لڑکی کی آواز جادو کی طرح ان چاروں کی عقل پر اور آنکھوں اور تمام حصوں پر غالب آتی جارہی تھی۔ الناصر نے بعد میں
‫حسن بن عبداللہ کو بیان دیا تھا‪ ،اس میں اس نے بتایا کہ لڑکیوں کی آنکھوں میں دیکھ کر انہیں پانی کے شفاف چشمے نظر
‫آنے لگے۔ ان کے ریشم جیسے بال جو ان کے شانوں پر بکھرے ہوئے تھے‪ ،کسی بڑے ہی دلکش پودے کی پھول دار بیلیں بن
‫گئیں اور انہوں نے اپنے آپ کو ایک باغ میں پایا جس کے حسن کو اور جس کے پھولوں کے رنگوں کو بیان نہیں کرسکتا‪،
‫وہاں ریت اور مٹی کے لمبے لمبے ٹیلے نہیں تھے‪ ،ریگزار نہیں تھا۔ ہرے بھرے درخت اور پودے تھے اور نیچے مخمل جیسی
‫گھاس کا فرش تھا۔ رن برنگے پرندے پھدک اور چہچہا رہے تھے…… اور وہ اس بہشت میں چلے جارہے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ چاروں مخمل جیسی جس گھاس پر چلے جارہے تھے‪ ،وہ درحقیقت ریت تھی‪ ،کہیں کہیں زمین سخت بھی تھی اور وہ
‫چاروں ایک گیت گنگناتے جارہے تھے۔ دونوں لڑکیاں ان سے چند قدم پیچھے گھوڑوں پر جارہی تھیں۔ ) ان کا رخ ترکمان کی
‫طرف نہیں تھا جہاں سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج تھی اور جوان چاروں چھاپہ ماروں کی منزل تھی بلکہ ان کا رخ
‫عصیات کے قلعے کی طرف تھا جہاں حشیشین کا سردار شیخ سنان رہتا تھا۔ الناصر اور اس کے ساتھیوں کو کچھ علم نہیں
‫تھا کہ وہ کدھر جارہے ہیں۔ ان کا یہ احساس مردہ ہوچکا تھا کہ وہ جا نہیں رہے‪ ،انہیں لے جایا جارہا ہے۔ ان کے پیچھے
‫پیچھے جاتی لڑکیاں آپس میں باتیں کررہی تھیں۔ یہ باتیں چھاپہ ماروں کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی تھیں۔ سورج غروب
‫ہوچکا تھا۔
‫تم نے پانی میں انہیں حشیش کی جو مقدار پالئی ہے‪ ،اس کا اثر کل شام تک رہے گا''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''اور ''
‫میں نے انہیں جو کھالیا ہے وہ تم نے دیکھا ہے۔ ان سے تم بے فکر ہوجائو۔ مجھے امید ہے کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم
‫عصیات پہنچ جائیں گے''۔
‫میں تو انہیں دیکھ کر ڈر گئی تھی''…… چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''یہ تمہارا کمال ہے کہ تم نے ان پر قابو پالیا اور ان ''
‫پر یہ ظاہر کیا کہ ہم جنات ہیں۔ یہ مسلمان جنات کے وجود کو مانتے ہیں''۔
‫یہ عقل کا کھیل تھا''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''میں نے ان کی ذہنی حالت پر قبضہ کیا تھا۔ ان کے چہرے اور ان کی''
‫چال ڈھال دیکھ کر میں سمجھ گئی تھی کہ صالح الدین ایوبی کے فوجی ہیں اور راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ میں یہ بھی
‫سمجھ گئی تھی کہ ہمیں دیکھ کر یہ چاروں ڈر گئے ہیں‪ ،اگر ہم ڈر جاتیں اور عورتوں کی طرح بزدلی کا مظاہرہ کرتیں تو یہ
‫چاروں ہمارے ساتھ وہ سلوک کرتے جو تم ساری عمر نہ بھول سکتی۔ اس ویرانے میں کسی کوہم جیسی لڑکیاں مل جائیں تو
‫وہ انہیں بہنیں اور بیٹیاں نہیں سمجھا کرتا۔ میں نے ان کی جسمانی حالت دیکھی‪ ،پھر میں نے مسلمانوں کی یہ کمزوری
‫سامنے رکھی کہ جنات کے معاملے میں یہ قوم توہم پرست ہے۔ میں نے اپنے آپ کو جن بنا لیا۔ اس جہنم میں ہم جیسی
‫لڑکیوں کی موجودگی کو ان کی عقل تسلیم نہیں کرسکتی تھی۔ ہمیں وہ تصور سمجھ سکتے تھے یا جنات۔ میں نے ان سے
‫جس انداز سے بات کی‪ ،اس سے انہیں یقین ہوگیا کہ ہم جنات ہیں۔ میں اس قوم کی جذباتی کمزوریوں سے واقف ہوں۔
‫تمہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ ذرا جلدی سیکھ لو۔ ہم نے سیف الدین جیسے چاالک آدمی کو اپنے اشاروں پر نچا دیا
‫ہے۔ یہ تو سپاہی ہیں''۔
‫معلوم نہیں‪ ،میں کیوں اس فن میں کامیاب نہیں ہورہی''…… چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''میرا دل ساتھ نہیں دیتا۔ کوشش ''
‫کرتی ہوں کہ تم جیسے کماالت دکھا سکوں لیکن دل سے آواز آتی ہے کہ یہ فریب ہے''۔
‫پھر تم ان مردوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہو گی''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''تم پہلی بار باہر نکلی ہو۔ میں نے ''
‫دیکھا ہے کہ تم کامیاب نہیں ہوئی۔ تم صرف داشتہ بنی رہی۔ اس طرح تم صلیب کی کوئی خدمت نہیں کرسکتی۔ تم اپنے
‫جسم کو وقت سے بہت پہلے بوڑھا کرلوگی اور یہ مرد تمہیں اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان
‫امراء اور حکمرانوں کے لیے تفریح کا سامان بنیں۔ ہمیں ایک جادو بن کر ان کی عقل پر غالب آنا ہے۔ ان چاروں فوجیوں
‫میں تم نے توہم پرستی کی جو کمزوری دیکھی ہے‪ ،وہ ہمارے صلیبی استادوں اور یہودیوں نے پیدا کی ہے۔ تم نے دیکھا ہے
‫کہ میں نے انہیں کتنی جلدی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ میں نے ان چاروں سے ایک بات کہی تھی۔ یہ مجھے میرے استاد
‫نے بتائی تھی۔ وہ یہ تھی کہ انسان ایک لذت کی پیداوار ہے اور وہ ہمیشہ اس لذت کا خواہاں رہتا ہے۔ اس خواہش کو
‫دبانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں لذت پرستی ابھاری جائے کیونکہ یہی انسان کی وہ
‫کمزوری ہے جو اسے تباہی تک پہنچاتی ہے۔ تمہیں وہ رات یاد نہیں جب سیف الدین نے ہماری موجودگی میں اپنے ایک
‫ساالر سے کہا تھا کہ وہ اس پر غور کرنا چاہتا ہے کہ صالح الدین ایوبی سے صلح کرلی جائے۔ میں نے اسی رات اس کے
‫دماغ سے یہ خیال نکال دیا تھا''۔
‫عصیات پہنچ لیں تو یہ استادی مجھ میں بھی پیدا کرو''…… چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''مجھے اس کام سے نفرت سی ''
‫ہوتی جارہی ہے۔ میں ان مسلمان حاکموں کا کھولنا بنی رہی ہوں۔ تم دامن بچاتی رہی۔ میں نہیں بچا سکی۔ کبھی کبھی
‫کہیں بھاگ جانے کا ارادہ دل میں تڑپتا ہے مگر کوئی راستہ نظر نہیں آتا اور کوئی پناہ نہیں ملتی''۔
‫سب کچھ سیکھ جائو گی''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''تمہیں میرے ساتھ تربیت کے لیے ہی بھیجا گیا تھا۔ میں نے ''
‫تمہاری کمزوریاں دیکھ لی ہیں۔ یہ دور ہوجائیں گی''۔
‫الناصر اپنے ساتھیوں کے ساتھ چال جارہا تھا۔ لڑکیوں نے گھوڑے ان سے آگے کرلیے تاکہ یہ چاروں راستے سے ہٹ نہ جائیں۔
‫وہ ایک آواز میں گیت گاتے جارہے تھے۔ ریت‪ ،مٹی اور پتھر ان کے لیے گھاس بنے ہوئے تھے۔
‫''انہیں کسی دوسری طرف روانہ کردینا تھا''…… چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''انہیں عصیات لے جا کر کیا کروگی؟''
‫اپنے پیراستاد شیخ سنان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی تحفہ نہیں ہوسکتا''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''یہ صالح الدین ''
‫ایوبی کے چھاپہ مار ہیں اور جاسوس بھی۔ مجھے خاص طور پر بتایا گیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا ایک جاسوس پکڑ
‫کر اس کے ذہن کو اپنے قبضے میں لے لے تو سمجھو کہ تم نے اس کی فوج کے ایک ہزار سپاہی بے کار کردئیے ہیں۔ ایوبی
‫نے اپنے چھایہ ماروں اور جاسوسوں کو جو تربیت دے رکھی ہے۔ اس سے وہ اوسط درجہ انسانوں سے بہت اوپر چلے گئے
‫ہیں۔ جسمانی لحاظ سے ان میں غیرمعمولی پھرتی اور قوت برداشت ہوتی ہے اور ذہنی لحاظ سے یہ اپنے فرض کے دیوانے
‫ہوتے ہیں۔ ان چاروں نے جو شب خون مارے اور اس تھکن کے بعد صحرامیں جو مصیبت‪ ،بھوک اور پیاس برداشت کی ہے‪،

‫وہ کوئی اور انسان برداشت نہیں کرسکتا۔ ہماری فوج میں یہ جذبہ نہیں ہے۔ ان چاروں کو میں شیخ سنان کے حوالے کروں
‫گی۔ اس کے آدمی جو اس فن کے ماہر ہیں‪ ،ان چاروں کے اسی جذبے اور جسمانی خوبیوں کو اپنی طرف منتقل کرلیں گے۔
‫تمہیں شاید معلوم نہ ہو کہ صالح الدین ایوبی کو قتل کرنے کی کئی کوششیں ہوچکی ہیں مگر کامیاب ایک بھی نہیں ہوئی۔
‫ان چاروں کو حشیش اور استادی کے ذریعے ایوبی کے قتل کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ یہ اس کے اپنے چھاپہ مار ہیں‪ ،اس
‫تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں''۔
‫کیا صالح الدین ایوبی پر اس طرح قابو نہیں پایا جاسکتا جس طرح سیف الدین‪ ،گمشتگین وغیرہ کو اپنے قبضے میں لیا گیا''
‫ہے؟''…… چھوٹی لڑکی نے پوچھا۔
‫نہیں'' ۔ بڑی لڑکی نے جواب دیا…… ''جو انسان لذت سے دست بردار ہوکر ایک مقدس مقصد کو دل میں بٹھائے‪ ،اسے ہم''
‫جیسی حسین لڑکیاں اور سونے کے انبار راستے سے نہیں ہٹا سکتے۔ ایوبی ایک بیوی کا قائل ہے۔ نورالدین زنگی میں بھی
‫یہی خرابی تھی کہ سلطان ہوکر بھی اس نے گھر میں ایک ہی بیوی رکھی اور مرتے دم تک اس کا وفادار رہا۔ یہی خرابی
‫صالح الدین ایوبی میں ہے۔ کوشش کی جاچکی ہے۔ اس پتھر کو موم نہیں کیا جاسکا۔ فلسطین پر قبضہ برقرار رکھنے کا یہی
‫طریقہ رہ گیا ہے کہ ایوبی قتل کرادیا جائے''۔
‫مجھے ایسے آدمی اچھے لگتے ہیں جو ایک عورت کے وفادار رہتے ہیں''۔ چھوٹی لڑکی نے کہا۔ ''میں صلیب کی پرستار''
‫ہوں اور صلیب کا مقصد سمجھنے کے باوجود کبھی کبھی سوچا کرتی ہوں کہ میں کسی ایک آدمی کے دل میں اتر جائوں اور
‫وہ میرے جسم اور میری روح کا حصہ بن جائے''۔
‫جذبات سے نکلو''۔ بڑی لڑکی نے اسے ڈانٹ کر کہا…… ''اپنے اس عظیم مقصد کو سامنے رکھو جو تمہیں صلیب نے دیا''
‫ہے۔ اپنے حلف کو یاد کرو جو تم نے صلیب ہاتھ میں لے کر اٹھایا تھا۔ میں جانتی ہوں تم جوان ہو اور جذبات پر قابو پانا
‫آسان نہیں ہوتا لیکن صلیب ہم سے یہ قربانی مانگ رہی ہے''۔
‫پراسرار قافلہ چلتا رہا۔ الناصر اور اس کے ساتھی لڑکیوں کے گھوڑوں کے پیچھے پیچھے گاتے‪ ،گنگناتے اور قہقہے لگاتے جارہے
‫تھے۔ جوں جوں رات گزرتی جارہی تھی‪ ،ان کی منزل قریب آتی جارہی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫یہ لڑکیاں کون تھیں؟
‫یہ اسی قبیلے کی لڑکیاں تھیں جن کے متعدد قصے آپ پڑھ چکے ہیں۔ صلیبی اور یہودی غیرمعمولی حسین اور دلکش بچیوں
‫کو استادوں کے حوالے کرکے انہیں خصوصی تربیت دیتے تھے۔ انہیں ذہنی تخریب کاری‪ ،کردار کشی اور اپنے دشمن کو اپنے
‫مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے ڈھنگ سکھاتے تھے۔ انہیں سراپا لذت بنا دیا جاتا تھا۔ لڑکپن میں انہیں یہ ٹریننگ دی
‫جاتی تھی کہ اپنے دشمن کی سوچوں پر کس طرح قبضہ کیا جاتا ہے۔ ان لڑکیوں میں شوخی اور بے حیائی پیدا کی جاتی
‫تھی۔ انہیں جذبات سے عاری کردیا جاتا تھا۔ یہودی چونکہ مسلمانوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے‪ ،اس لیے وہ
‫اپنی بچیاں صلیبیوں کے حوالے کردیا کرتے تھے۔ صلیبی اپنی لڑکیوں کو بھی استعمال کرتے تھے اور ان عالقوں میں جن پر
‫ان کا قبضہ تھا‪ ،مسلمانوں کے قافلوں پر حملے کرتے اور کوئی خوبصورت بچی مل جائے تو اسے اٹھا لے جاتے تھے‪ ،اسے
‫اپنے مقاصد کے لیے تیار کرلیتے تھے۔
‫یہ دو لڑکیاں کچھ عرصہ پہلے تحفے کے طور پر صلیبیوں نے والئی موصل سیف الدین کو بھیجی تھیں۔ آپ نے دیکھ لیا ہے
‫کہ سیف الدین سلطان صالح الدین ایوبی کا دشمن تھا۔ ان دونوں لڑکیوں کو اس مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا کہ ایک تو
‫جاسوسی کرتی رہیں اور دوسرا یہ کہ سیف الدین کو کبھی یہ نہ سوچنے دیں کہ وہ سلطان ایوبی کے ساتھ صلح کرلے۔ تیسرا
‫مقصد یہ تھا کہ سلطان ایوبی کے خالف جو مسلمان امراء متحد ہوگئے تھے‪ ،انہیں اندر سے ایک دوسرے کے خالف رکھا
‫جائے۔ یہ کام صرف ان دو لڑکیوں کے ہی ذمے نہیں تھا‪ ،وہاں صلیبیوں کی پوری مشینری در پردہ کام کررہی تھی۔ انہوں نے
‫ایک مسلمانوں کا ایمان خرید لیا تھا۔ یہ مسلمان ان کے لیے کام کررہے تھے۔
‫اعلی بن کر ترکمان کے مقام پر سلطان ایوبی پر حملہ کرنے گیا تو بادشاہوں کے دستور کے
‫سیف الدین اتحادی فوج کا ساالر
‫ٰ
‫مطابق اپنے حرم کی چیدہ چیدہ لڑکیاں اور ناچنے والیاں بھی میدان جنگ میں ساتھ لے گیا۔ یہ دو صلیبی لڑکیاں بھی اس کے
‫ساتھ گئیں۔ انہیں وہ مسلمان اور معصوم سمجھتا تھا مگر بڑی لڑکی اس کے اعصاب پر آسیب کی طرح غالب آگئی تھی۔ حرم
‫کی باقی لڑکیوں کو اس نے اپنا غالم بنا لیا تھا۔
‫سیف الدین نے جنگل میں منگل بنایا۔ وہاں آندھی آئی جس کی آپ تفصیل پڑھ چکے ہیں۔ اس آندھی میں فوزی نام کی ایک
‫لڑکی اپنے بھائی کی الش گھوڑے پر ڈالے‪ ،سلطان ایوبی تک پہنچی اور اسے بتایا کہ تین اتحادی افواج اس پر حملہ کرنے کے
‫لیے پہنچ چکی ہیں۔ سلطان ایوبی نے تیزی سے حرکت کی اور سیف الدین کے لشکر پر حملہ کردیا۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ
‫سیف الدین کا لشکر بے خبری میں مارا گیا‪ ،وہاں معرکہ جو لڑا گیا وہ یک طرفہ تھا۔ میدان جنگ صالح الدین ایوبی کے ہاتھ
‫میں تھا۔ سیف الدین اتحادی افواج کی کمان نہ سنبھال سکا۔ صاف نظر آنے لگا کہ وہ بھاگ جائے گا۔ یہ دو صلیبی لڑکیاں
‫اس کے ساتھ تھیں۔ وہ اکیلی نہیں تھیں۔ صلیبیوں کے چند ایک مسلمان ایجنٹ سیف الدین کی فوج میں اچھے عہدوں پر
‫تھے۔ لڑکیوں کا ان کے ساتھ رابطہ تھا۔ لڑکیاں انہیں اطالعات اور خبریں دیتی تھیں اور وہ انہیں صلیبیوں تک پہنچا دیتے
‫تھے۔
‫انہوں نے دیکھا کہ جنگ کی صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ اتحادیوں کے سامنے پسپائی کے سوا کوئی راستہ نہیں تو ان دونوں
‫لڑکیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا۔ صلیبیوں کی یہ لڑکیاں بہت قیمتی تھیں۔ سیف الدین میدان جنگ میں بھاگا‪ ،دوڑا پھر
‫رہا تھا۔ حرم کی لڑکیاں اس کی رہائش گاہ میں ایک خیمے میں اکٹھی ہوگئی تھیں۔ یہ دو صلیبی لڑکیاں الگ کھڑی تھیں۔ ان
‫کے آدمی آگئے‪ ،انہیں دو گھوڑے دئیے۔ گھوڑوں کی زینوں کے ساتھ پانی کے چار چھوٹے مشکیزے اور دو تین تھیلوں میں کھانے
‫کا سامان باندھ دیا۔ خنجر بھی دئیے لیکن ان کا نہایت کارگر ہتھیار حشیش تھی اور اسی قسم کا ایک اور نشہ جس کا کوئی
‫ذائقہ نہیں تھا‪ ،کسی کو دھوکے میں پالیا جاتا تو اسے پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ پانی یا شربت میں اسے کچھ اور پال دیا گیا
‫ہے۔ یہ دونوں نشہ آور اشیاء انہیں اس لیے ساتھ باندھ دی گئی تھیں کہ انہیں کسی مرد کے ساتھ کے بغیر سفر کرنا تھا۔
‫راستے میں اگر وہ کسی کے ہتھے چڑھ جائیں تو اسے دھوکے میں یہ نشہ پال کر بیکار کرنا تھا۔
‫رات کے وقت جب میدان جنگ میں کشت وخون ہورہا تھا۔ یہ دونوں لڑکیوں کو گھوڑوں پر بٹھا کر دو آدمی ساتھ گئے۔
‫ترکمان سے بہت دور تک یہ آدمی ساتھ رہے پھر لڑکیوں کو راستہ سمجھا کر واپس آگئے۔ لڑکیوں کی منزل عصیات کا قلعہ
‫تھا۔ بڑی لڑکی ذہین‪ ،تجربہ کار اور دلیر تھی‪ ،وہ چھوٹی لڑکی کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئی۔ صبح تک وہ سرسبز عالقے سے

‫دور نکل گئی تھیں اور اس عالقے میں داخل ہوگئیں جو اس خطے کا جہنم تھا۔ لڑکیوں کو معلوم تھا کہ اس مقام پر آکر
‫خشک پاٹ کے اندر اندر جانا ہے۔ عالقہ ڈرائونا تھا اور تنور کی طرح گرم تھا۔ سورج سر پر آیا تو انہیں چٹان نظر آئی جو
‫نیچے سے اندر کو گئی ہوئی تھی۔ وہ اس کے نیچے رک گئیں۔ کھانا کھا کر انہوں نے کچھ دیر آرام کیا۔ اتنے میں انہیں
‫الناصر اور اس کے تین ساتھی آتے دکھائی دئیے۔
20:43
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 106جانباز‪ ،جنات اور جذبات
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اتنے میں انہیں الناصر اور اس کے تین ساتھی آتے دکھائی دئیے۔ انہیں دیکھ کر بڑی لڑکی سمجھ گئی کہ یہ آدمی کس
‫جسمانی اور ذہنی کیفیت میں ہیں۔ اپنی تربیت کے مطابق اس نے کامیاب اداکاری کی جس سے الناصر ان دونوں کو واہمہ یا
‫جن سمجھ بیٹھا۔ لڑکی کی اداکاری کامیاب تھی۔ اس نے انہیں تو پانی اور کھانا دیا پھر انہیں حشیش اور دوسرا نشہ پال دیا۔
‫اس نے اور اس کے ساتھ کی لڑکی نے انہیں نشہ پال کر پھولوں‪ ،سبزہ زار‪ ،پرندوں اور مخمل جیسی گھاس کی جو باتیں کی
‫تھیں‪ ،وہ ان چاروں کے ذہن میں بہشت کا تصور پیدا کرنے کی کوشش تھیں۔ یہ حسن بن صباح کا طریقہ تھا کہ لوگوں کو
‫حشیش پال کر ان کے ذہنوں میں بڑے حسین تصورات پیدا کیا کرتا اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اب ایک
‫سو سال بعد شیخ سنان اس کا جانشین تھا۔ یہ گروہ اب حشیشین یا فدائی کہالتا تھا۔ بڑی لڑکی کو اس کام کی تربیت
‫حاصل تھی۔ اسے یوں کہہ لیں کہ حشیش اور باتوں کی مدد سے اپنے شکار یا معمول کو ہیپناٹائز کرلیا جاتا تھا۔ جتنی دیر
‫حشیش کا نشہ رہتا وہ آدمی اسی تصور کو حقیقت سمجھتا رہتا تھا جو اس کے ذہن میں پیدا کیا جاتا تھا۔
‫الناصر اور اس کے ساتھیوں کو اس لڑکی نے اپنے قبضے میں لے کر ایک مقصد تو یہ حاصل کرنا چاہا تھا کہ یہ چاروں ان پر
‫دست درازی نہ کریں یا انہیں اپنے ساتھ نہ لے جائیں۔ دوسرا مقصد اس وقت اس کے سامنے آیا تھا جب اسے پتہ چال کہ یہ
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے ان چھاپہ مار جاسوسوں میں سے ہیں جن کی اس نے بہت شہرت سنی اور جن سے اسے ڈرایا
‫بھی گیا تھا۔ اس کے تخریب کار ذہن نے سوچ لیا کہ ان آدمیوں کو شیخ سنان کے حوالے کیا جائے‪ ،یہ اس کے کام آسکتے
‫تھے۔ ان دنوں سلطان ایوبی کو قتل کرنے کا ایک منصوبہ تیار ہورہا تھا۔ اسی مقصد کے لیے حرن کا خومختار حکمران
‫گمشتگین قلعہ عصیات میں شیخ سنان کے پاس گیا ہوا تھا۔ ترکمان میں مظفرالدین کے حملے کو ناکام کرکے سلطان ایوبی نے
‫اپنے ساالروں سے کہا کہ اب جنگ ختم ہوئی ہے۔ اس نے مال غنیمت سمیٹنے کا حکم دے دیا۔ مال غنیمت بے انداز تھا۔
‫غازی سیف الدین کے رہائشی کیمپ سے بے انداز سونا اور نقدی ملی تھی۔ دشمن کی الشوں سے بھی نقدی اور انگوٹھیوں
‫وغیرہ کی شکل میں سونا مال۔ دیگر سازو سامان اور اسلحہ کا کوئی شمار نہ تھا۔ سلطان ایوبی نے فوج کے کام کا سامان
‫فوج میں تقسیم کیا۔ دوسرا حصہ دمشق اور ان عالقوں کے غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا جو مصر اور شام کی سلطنت
‫( وحدت) میں آچکے تھے۔ تیسرا حصہ مدرسہ نظام الملک کو دے دیا۔ ایک یورپی مورخ لین پول کے مطابق ایوبی نے اسی
‫مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ مورخ لکھتا ہے کہ تاریخ میں واضح شہادت ملتی ہے کہ سلطان ایوبی نے مال غنیمت
‫میں سے اپنے لیے کچھ بھی نہ رکھا۔
‫دوسرا مسئلہ جنگی قیدیوں کا تھا۔ یہ سب مسلمان تھے۔ سلطان ایوبی نے انہیں اکٹھا کرکے کہا کہ تم مسلمان ہو اور
‫مسلمانوں کے خالف لڑنے آئے تھے۔ تمہاری شکست کی وجہ یہی ہے۔ تمہارے حکمران تمہارے مذہب کے بدترین دشمن کے
‫ساتھ دوستی کرکے اس کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔ تمہاری دنیا بھی خراب ہوئی اور عاقبت بھی۔ اپنے گناہ بخشوانے کا یہی
‫ایک طریقہ ہے کہ اسالم کے سپاہی بن جائو اور اپنے قبلہ اول کو آزاد کرائو…… سلطان ایوبی کی یہ تقریر جوشیلی اور جذباتی
‫تھی۔ جنگی قیدیوں میں بہت سے نعرے لگانے لگے۔ انہوں نے اپنے آپ کو سلطان ایوبی کی فوج کے لیے پیش کردیا۔ اس
‫طرح سلطان ایوبی کی فوج میں تربیت یافتہ سپاہیوں اور عہدے داروں کا اضافہ ہوگیا۔ اس کے باوجود سلطان ایوبی نے پیش
‫قدمی ملتوی کردی۔ فوج کی تنظیم نو کی ضرورت تھی۔ اس نے دمشق اور قاہرہ سے کمک بھی منگوا بھیجی تھی۔ زخمیوں
‫کے عالج کا اس نے وہیں انتظام کردیا تھا۔ دراصل مظفرالدین کے تصادم نے اس کی حالت کچھ زیادہ ہی خراب کردی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫عصیات کا قلعہ آج کے لبنان کی سرحد کے اندر تھا۔ ایک مصری واقعہ نگار محمد فرید ابو حدید کی تحریر کے مطابق قلعہ
‫عصیات حسن بن صباح کے فرشتے حشیشین کا مرکز اور مستقر تھا۔ اس قلعے میں شیخ سنان کی حکمرانی تھی جو حسن
‫بن صباح کا جانشین تھا۔ اس قلعے میں اس نے کچھ فوج بھی رکھی ہوئی تھی۔ عصیات ذراء بڑا قلعہ تھا۔ اس سے دور دور
‫تین چار چھوٹے قلعے بھی تھے جو شیخ سنان کے حشیشین کے پاس تھے۔ انہیں یہ قلعے صلیبیوں نے دے رکھے تھے۔
‫صلیبیوں کی کوشش یہ تھی کہ حشیشین کو مسلمان قائدین کے قتل کے لیے اور مسلمان قوم کی کردار کشی کے لیے استعمال
‫کی جائے لیکن حشیشین جو اسالم کا ایک فرقہ بن کر ابھرنا چاہتے تھے‪ ،کرائے کے قاتل بن کے رہ گئے تھے۔ انہوں نے
‫صلیبی لیڈروں کو بھی قتل کیا تھا۔ انہیں نقدی دے کر کوئی بھی استعمال کرسکتا تھا۔ سلطان ایوبی کے دور میں صلیبیوں نے
‫انہیں اتنی مراعات دیں کہ انہیں قلعے تک دے دئیے۔ وہ ان کے ہاتھوں نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کو قتل کرانے
‫کی کوشش کرتے رہے۔
‫نورالدین زنگی کی موت کے متعلق میجر جنرل محمد اکبر خان رنگروٹ نے بعض مورخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ
‫حشیشین کی کارستانی تھی۔ اسے دھوکے میں کچھ کھال دیا گیا تھا جس سے وہ چند دنوں بعد فوت ہوگیا۔ اب صالح الدین
‫ایوبی کو قتل کرنے کے منصوبے بن رہے تھے۔ حشیشین صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے۔
‫اس صبح سورج ابھی نہیں نکال تھا‪ ،جب الناصر اور اس کے تین ساتھی دو صلیبیوں لڑکیوں کے ساتھ عصیات کے قلعے کے
‫دروازے پر جارکے۔ بڑی لڑکی نے کوئی خفیہ الفاظ بولے۔ تھوڑی دیر بعد قلعے کا دروازہ کھل گیا اور یہ قافلہ اندر چال گیا۔
‫الناصر اور اس کے ساتھیوں کو کسی کے حوالے کرکے لڑکیاں شیخ سنان کے پاس چلی گئیں۔ وہ ہر پہلو سے بادشاہ تھا۔ اس
‫کا انداز اور شان وشوکت بادشاہوں جیسی تھی۔ اسے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ وہ بوڑھا ہوچکا ہے۔ اسے جب بڑی لڑکی بتا
‫رہی تھی کہ وہ کہاں سے آئی ہے اور ان کے دوست سیف الدین پر کیا بیتی ہے‪ ،شیخ سنان کی نظریں چھوٹی لڑکی پر
‫جمی ہوئی تھیں۔
‫یہاں آئو''۔ شیخ سنان نے بڑی لڑکی سے توجہ ہٹا کر چھوٹی کو اپنے پاس بالیا اور کہا…… ''تم ضرورت سے زیادہ ''
‫خوبصورت ہو۔ میرے پاس بیٹھو''…… لڑکی کو بازو سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا اور انگلیاں اس کے بالوں میں پھیرنے لگا۔

‫بوال …… ''تم بہت تھکی ہوئی‪ ،آج میرے پاس آرام کرنا''۔
‫اس لڑکی نے شیخ سنان کو پہلی بار دیکھا تھا۔ لڑکی نے اسے گھور کر دیکھا جیسے بوڑھے کی یہ حرکت اسے پسند نہ آئی
‫ہو۔ وہ سرک کر اس سے دور ہٹ گئی۔ شیخ سنان نے اسے پھر بازو سے پکڑا اور اس طرح جھٹکا دے کر اپنے قریب کرلیا
‫جیسے لڑکی نے پرے سرک کر اس کی توہین کردی ہو۔ اس نے بڑی لڑکی سے کہا…… ''اسے ہمارے متعلق کسی نے نہیں
‫''بتایا کہ ہم کون ہیں اور ہماری توہین کتنا بڑا جرم ہے؟
‫میں آپ کی لونڈی نہیں''۔ چھوٹی لڑکی بھڑک کر بولی…… ''میرے فرائض میں یہ شامل نہیں کہ جو مجھے گھسیٹ کر ''
‫اپنے ساتھ لگالے‪ ،میں اپنا آپ اسی کے حوالے کردوں''۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی…… ''میں صلیب کی غالم ہوں‪،
‫حشیشین کی خریدی ہوئی لونڈی نہیں''۔
‫بڑی لڑکی نے اسے ڈانٹ دیا اور خاموش رہنے کو کہا‪ ،مگر وہ خاموش نہ ہوئی۔ وہ کہنے لگی…… ''مجھے مسلمانوں کے حرم
‫میں اس شخص نے نہیں دیکھا۔ میں نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ میں نے تمہارے ساتھ سیف الدین اور اس کے مشیروں کی
‫عقل پر پردہ ڈالے رکھا ہے لیکن میرے فرائض میں یہ شامل نہیں کہ اس بوڑھے کے کمرے میں رہوں''۔
‫اگر تم اتنی خوبصورت نہ ہوتی تو ہم تمہاری یہ گستاخی کبھی معاف نہ کرتے''۔ شیخ سنان نے کہا اور بڑی لڑکی کو ''
‫ہدایات دینے کے انداز سے کہنے لگا …… ''اسے لے جائو اور اسے عصیات کے قلعے کے آداب سیکھاو''۔
‫بڑی لڑکی اسے باہر چھوڑ آئی۔ اس نے شیخ سنان سے کہا…… ''آپ کی ناراضگی بجا ہے لیکن ہم اپنے اوپر والوں کی ‪:
‫اجازت کے بغیر ہر کسی کا حکم نہیں مان سکتیں۔ میں چونکہ آپ کو جانتی ہوں‪ ،اس قلعے میں پہلے بھی آچکی ہوں‪ ،اب
‫آپ کے کام کے چار آدمی پھانس الئی ہوں۔ آپ کو اس طرف توجہ دینی چاہیے''…… اس نے شیخ سنان کو الناصر اور اس
‫کے ساتھیوں کے متعلق پوری تفصیل سنائی۔
‫میں ان آدمیوں سے پورا کام لوں گا''…… شیخ سنان نے کہا…… ''لیکن میں اس لڑکی کو اپنے کمرے میں ضرور رکھوں ''
‫گا''۔
‫یہ کام مجھ پر چھوڑیں''۔ لڑکی نے کہا…… ''وہ کہیں بھاگ تو نہیں چلی۔ کیوں نہ میں اسے آمادہ کولوں کہ وہ ہنسی ''
‫خوشی آپ کے پاس آئے۔ آجائے گی''۔
‫٭ ٭ ٭
‫الناصر اور اس کے ساتھیوں کو شیخ سنان کے دو آدمی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ وہ بے شک نشے میں تھے لیکن ساری رات
‫پیدل چلتے رہے تھے۔ انہیں ایک کمرے میں لے گئے۔ وہ پلنگوں پر گرے اور سوگئے۔ ادھر لڑکیاں بھی رات بھر کی جاگی
‫ہوئی تھی‪ ،وہ بھی اس کے کمرے میں جاکر سوگئیں جو انہیں دیا گیا تھا…… دوپہر کے بعد الناصر کی آنکھ کھلی۔ اس نے
‫ادھر ادھر دیکھا۔ اس کے ساتھی سوئے ہوئے تھے۔ اس نے گردوپیش کو پہچاننے کی کوشش کی۔ یہ ایک کمرہ تھا۔ اس میں
‫پلنگ تھے اور پلنگوں پر اس کے تین ساتھی گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ اسے سبزہ زار‪ ،پھولوں والے پودے‪ ،رنگ برنگے
‫پرندے اور مخمل کی طرح کی گھاس یاد آئی۔ لڑکیاں یاد آئیں۔ صحرا اور صحرا کا بے رحم سفر یاد آیا۔ اسے وہ خواب
‫سمجھنے لگا۔ صحرا کا سفر اسے حقیقت کی طرح یاد تھا۔ لڑکیوں سے مالقات اور اس کے بعد کے واقعات اسے خواب یا
‫واہمے لگے مگر وہ اب کہاں ہیں؟ یہ سوال اسے مضطرب کرنے لگا۔
‫اس نے اپنے ساتھیوں کو نہ جگایا۔ اٹھا اور دروازے میں جاکھڑا ہوا۔ یہ کوئی قلعہ تھا۔ اسے سپاہی آتے جاتے نظر آرہے تھے۔
‫وہ کس فوج کے تھے؟ یہ کون سا قلعہ تھا؟ اس نے کسی سے پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ یہ قلعہ دشمن کا ہوسکتا تھا تو
‫کیا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ قید ہوگیا ہے؟ لیکن یہ کمرہ قید خانے کا نہیں تھا۔ وہ جاسوس اور چھاپہ مار تھا۔ اس نے
‫کسی سے پوچھے بغیر یہ معمہ اپنی عقل سے حل کرنے کا ارادہ کیا۔ اسے کوئی خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔ دروازے سے
‫ہٹ کر وہ پلنگ پر جا بیٹھا۔ باہر اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور خراٹے لینے لگا۔ دو آدمی
‫کمرے میں داخل ہوئے۔
‫ابھی سوئے ہوئے ہیں''۔ ایک آدمی نے دوسرے سے کہا۔''
‫سویا رہنے دو''۔ دوسرے نے کہا…… ''معلوم ہوتا ہے‪ ،انہیں کچھ زیادہ پال دی گئی ہے…… ان کے متعلق کیا بتایا گیا ''
‫''ہے؟
‫دو صلیبی لڑکیاں انہیں پھانس کر الئی ہیں''۔ پہلے نے جواب دیا…… ''یہ صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار جاسوس ہیں۔''
‫بہت دلیر اور عقل مند بتائے جاتے ہیں۔ انہیں تیار کرنا ہے''۔
‫وہ دونوں چلے گئے۔ الناصر کے جسم کا رواں رواں بیدار ہوگیا۔ اسے یقین ہونے لگا کہ وہ بہت بڑے دھوکے کا شکار ہوگیا ہے۔
‫اسے اب یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ کون سا قلعہ ہے۔ کس عالقے میں ہے اور اسے اور اس کے ساتھیوں کو کس مقصد کے لیے
‫تیار کیا جائے گا۔ وہ اس تلخ حقیقت کو جان گیا تھا کہ کسی قلعے سے فرار ہونا مشکل ہی نہیں‪ ،ناممکن بھی ہوتا ہے۔
‫لڑکیوں کے کمرے میں یہ کیفیت تھی کہ چھوٹی لڑکی تھوڑی سی دیر سو کر جاگ اٹھی تھی اور کھڑکی کھول کر اس میں
‫بیٹھی تھی۔ اس نے سفر کے دوران بڑی لڑکی کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا۔ وہ نوجوان تھی۔ ابھی پختہ کار نہیں
‫ہوئی تھی۔ اپنے جیسی دوسری لڑکیوں کی طرح وہ ابھی اپنے جذبات کو دبا نہیں سکی تھی۔ اسے پہلی بار باہر بھیجا گیا
‫تھا۔ اس کے ساتھ یہ بڑی لڑکی تھی جو تجربہ کار تھی۔ اس نے بھی دیکھا تھا کہ چھوٹی لڑکی اس زندگی میں کامیاب نہیں
‫ہورہی۔ اسے مردوں کو انگلیوں پر نچانے کا فن نہیں آیا تھا۔ اس نے دراصل اس فن کو قبول ہی نہیں کیا تھا۔ بوڑھے بوڑھے
‫ساالروں نے اور سیف الدین نے اسے کھلونا بنائے رکھا تھا۔ اب وہ میدان جنگ سے بھاگ کر آئی اور اتنی کٹھن اور صبر آزما
‫مسافت طے کی‪ ،رات بھر سفر کیا مگر آتے ہی شیخ سنان جیسے بوڑھے نے اسے کہہ دیا کہ میرے کمرے میں رہو۔
‫بے شک اسے بچپن سے اس غلیط طرز زندگی کی تربیت دی گئی تھی لیکن جوانی میں آکر اس کے اپنے جذبات کا ‪:
‫سرچشمہ پھوٹا تو اتنے لمبے عرصے کی تربیت کے اثرات دھل گئے۔ جن انسانوں کو اسے پھانسنے اور صلیب کے جال میں
‫الجھائے رکھنے کے لیے تیار کیا گیا تھا‪ ،ان انسانوں سے اسے نفرت ہوگئی اور اپنے پیشے کو وہ حقارت کی نظروں سے
‫دیکھنے لگی۔ وہ کھڑکی کے سامنے بیٹھی بڑے ہی تلخ خیالوں میں الجھی ہوئی تھی۔ اس کے آنسو نکل آئے۔ اسے نہ کوئی
‫پناہ دکھائی دے رہی تھی‪ ،نہ کوئی راہ فرار۔
‫بڑی لڑکی جاگ اٹھی۔ اپنی ساتھی کو کھڑکی میں بیٹھا دیکھ کر اس کے پاس جابیٹھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر
‫بولی…… ''ابتداء میں جذبات کی یہی حالت ہوتی ہے۔ ہم جو کچھ کررہی ہیں‪ ،یہ اپنی عیاشی کے لیے نہیں‪ ،صلیب کی
‫حکمرانی کے قیام کے لیے کررہی ہیں۔ اپنے سامنے یہ مقصد رکھو کہ اسالم کا نام ونشان مٹانا ہے۔ ہمارے سپاہی اپنے محاذ

‫پر لڑتے ہیں‪ ،ہمیں اپنے محاذ پر لڑنا ہے۔ اپنے ذہن کو وسعت دو۔ اپنے جسم سے دستبردار ہوجائو۔ تمہاری روح پاک ہے''۔
‫مسلمان اپنی لڑکیوں کو اس طرح استعمال کیوں نہیں کرتے جس طرح ہمیں کیا جارہا ہے؟'' چھوٹی لڑکی نے پوچھا…… ''
‫'' ہمارے بادشاہ اور ان کی فوجیں مسلمانوں کی طرح کیوں نہیں لڑتیں؟ چوروں کی طرح مسلمانوں کو قتل کیوں کرایا جاتا
‫ہے؟ صالح الدین ایوبی کے ان چار چھاپہ ماروں کی طرح صلیب کی فوج کیوں ایسے چھاپہ مار تیار نہیں کرتی؟ صرف اس
‫لیے کہ ہماری قوم میں بزدلی ہے۔ چوری چھپے وار کرنے والے بزدل ہوا کرتے ہیں''۔
‫بڑی لڑکی سٹپٹا اٹھی اور بولی…… ''ایسی باتیں کسی اور کے سامنے نہ کربیٹھنا‪ ،ورنہ قتل ہوجائو گی۔ اس وقت ہم شیخ
‫سنان کے پاس ہیں۔ اس سے ہمیں بہت بڑا کام لینا ہے۔ اسے ناراض نہ کرو''۔
‫مجھے اس شخص سے نفرت ہوگئی ہے''۔ چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''یہ کسی ملک کا بادشاہ نہیں۔ کرائے کے قاتلوں کا ''
‫سرغنہ ہے۔ میں اسے اس قابل نہیں سمجھتی کہ میرے جسم کو ہاتھ بھی لگائے''۔
‫بڑی لڑکی نے اسے بہت دیر کی بحث کے بعد اس پر آمادہ کرلیا کہ وہ شیخ سنان کے ساتھ اچھی طرح باتیں کرے۔ اس نے
‫چھوٹی کو یقین دالیا کہ وہ شیخ کو اس کا اللچ اور وعدہ دئیے رکھے گی۔ اس نے چھوٹی لڑکی سے کہا…… ''تم نے میرے
‫کماالت دیکھے نہیں؟ میں ان بادشاہوں کو مٹھی میں لے کر انہیں گمراہ کرنا جانتی ہوں۔ شیخ سنان کو تو میں کچھ بھی
‫نہیں سمجھتی''۔
‫کیا تم ایسی صورت پیدا کرسکتی ہو کہ ہم یہاں سے جلدی نکل جائیں؟''۔ چھوٹی لڑکی نے پوچھا۔''
‫کوشش کروں گی''۔ بڑی لڑکی نے جواب دیا۔ ''پہلے تو اپنے متعلق یہ اطالع بھجوانی ہے کہ ہم یہاں ہیں''۔''
‫اتنے میں دو آدمی کمرے میں آئے۔ انہوں نے لڑکیوں سے ان چار آدمیوں کے متعلق پوچھا۔ بڑی لڑکی نے انہیں بتایا کہ وہ
‫کون ہیں اور انہیں کس طرح اور کیوں الیا گیا ہے۔
‫وہ کس حال میں ہیں؟'' بڑی لڑکی نے پوچھا۔''
‫ابھی سوئے ہوئے ہیں''۔ ایک آدمی نے جواب دیا۔''
‫انہیں قید میں ڈال دو گے؟''۔ چھوٹی لڑکی نے پوچھا۔''
‫قید میں ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں''۔ اس آدمی نے جواب دیا۔ ''یاں سے بھاگ کر کہاں جائیں گے''۔''
‫کیا ہم انہیں دیکھ سکتی ہیں؟'' چھوٹی لڑکی نے پوچھا۔''
‫کیوں نہیں''۔ اسے جواب مال…… ''وہ تمہارا شکار ہے۔ انہیں دیکھو‪ ،بلکہ ضرورت بھی یہی ہے کہ تم ان کے پاس جائو ''
‫اور انہیں اپنے جال میں لیے رکھو''۔
‫کچھ دیر بعد چھوٹی لڑکی بڑی کے روکنے کے باوجوداس کمرے میں چلی گئی جہاں الناصر اور اس کے ساتھی سوئے ہوئے
‫تھے۔ الناصر دراصل جاگ رہا تھا۔ چھوٹی لڑکی کو دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا اور پوچھا…… ''مجھے جو کچھ کرنا ہوگا‪ ،وہ کرکے
‫دکھائوں گا''۔
‫لڑکی اس کے قریب آگئی۔ دھیمی آوازمیں بولی…… ''میں جن نہیں انسان ہوں‪ ،مجھ پر بھروسہ کرو''۔
‫الناصر نے اسے قہر بھری نظروں سے دیکھا۔ لڑکی اس کے ساتھ پلنگ پر بیٹھ گئی۔
20:44
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 107لڑکی نے اپنی الش دیکھی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫جنات کی دہشت الناصر کے دل ودماغ پر بدستور طاری تھی۔ عرب کا یہ خوبرو جوان سلطان صالح الدین ایوبی کے ان چھاپہ
‫ماروں میں سے تھا جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا کرتے تھے۔ صلیبیوں کا یہ کہنا تھا کہ سلطان ایوبی کے
‫چھاپہ ماروں سے موت بھی ڈرتی ہے۔ صحرائوں کی صعوبتوں کا دریاوں کی تندی کو اور سنگالخ دیواروں کو خاطر میں نہ
‫النے والے یہ جانباز آگ میں بھی کود جایا کرتے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ دشمن کی رسد وغیرہ کو آگ لگا کر ان میں سے
‫بعض شعلوں کی لپیٹ میں آکر زندہ جل جایا کرتے تھے مگر جنات اور بھوت پریت ایسی مخلوق تھی جس سے یہ سرفروش
‫ڈر جایا کرتے تھے۔ ان میں سے کسی نے کبھی جن اور بھوت نہیں دیکھے تھے‪ ،صرف کہانیاں اور روائتیں سنی تھیں جنہیں
‫وہ سو فیصد سچ مانتے تھے اور دل پر جنات کا خوف طاری کیے رکھتے تھے۔
‫اگر الناصر قلعہ عصیات تک اپنی مرضی سے اور ہوش میں سفرکرتا تو وہ اتنا ڈرا ہوا نہ ہوتا‪ ،اگر اسے قیدی بنا کر الیا جاتا
‫تو بھی وہ نڈر رہتا اور فرار کی ترکیبیں سوچتا‪ ،لیکن اسے حشیش کے نشے میں اور اس کے ذہن میں غیر حقیقی تصورات
‫ڈال کر الیا گیا تھا۔ اب نشہ اتر چکا تھا۔ اس نشے میں وہ سبزہ زار اور باغات میں سے گزر کر آیا تھا۔ اسے یاد آنے لگا
‫کہ زمین کے اس خطے میں کہیں کہیں سبزہ اور ہو سکتا ہے۔میلوں وسیع عالقہ ایسا جنت نما نہیں ہوسکتا۔ اب اس کے
‫پلنگ پر وہ لڑکی آبیٹھی تھی جسے وہ جن سمجھا تھا۔ لڑکی اس کے تصوروں سے زیادہ خوبصورت تھی۔ الناصر اسے انسان
‫تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہورہا تھا۔ لڑکی نے اسے کہا کہ وہ اس پر بھروسہ کرے تو وہ اور زیادہ ڈر گیا۔ اس نے یہ بھی
‫سن رکھا تھا کہ جنات بڑے دلکش دھوکے دے کر مارا کرتے ہیں۔ا سے یہ قلعہ جنات یا بدروحوں کا مسکن معلوم ہونے لگا۔
‫اس کے ساتھی ابھی گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔
‫اس نے دل کو حوصلہ دے کر لڑکی سے پوچھا…… ''میں تم پر کیوں بھروسہ کروں؟ تم مجھ پر اتنی مہربان کیوں ہوگئی ہو؟
‫''ہمیں یہاں کیوں لے آئی ہو؟ یہ جگہ کیا ہے؟
‫اگر تم مجھ پر بھروسہ نہیں کرو گے تو تمہارا انجام بہت برا ہوگا''۔ لڑکی نے جواب دیا…… ''تم بھول جائو گے کہ تم ''
‫کون تھے۔ تمہارے ہاتھ تمہارے اپنے بھائیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہوں گے اور تم اس خون کو پھول سمجھ کر خوش
‫ہوگے۔ میں ابھی تمہیں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی کہ میں تم پر اتنی مہربان کیوں ہوگئی ہوں۔ یہ جگہ ایک قلعہ
‫''ہے جس کا نام عصیات ہے۔ یہ فدائیوں کا قلعہ ہے۔ یہاں فدائیوں کا پیغمبر شیخ سنان رہتا ہے۔ فدائیوں کو تم جانتے ہو؟
‫ہاں جانتا ہوں'' ۔ الناصر نے جواب دیا…… ''بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور اب یہ بھی جان گیا ہوں کہ تم کون ہو‪ ،تم ''
‫بھی فدائی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ فدائیوں کے پاس تم جیسی خوبصورت لڑکیاں ہوتی ہیں''۔
‫میرا ان لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں''۔ لڑکی نے جواب دیا…… ''میرا نام لِزا ہے''۔''
‫تمہارے ساتھ ایک اور لڑکی تھی''۔''
‫اس کا نام تھیریسیا ہے''۔ لزا نے جواب دیا…… ''وہ یہیں ہے۔ تمہیں یہاں تک حشیش کے نشے میں الیا گیا ہے''۔''

‫وہ اس سے زیادہ نہ بول سکی کیونکہ کمرے کے دراوزے میں اچانک تھیریسیا آن کھڑی ہوئی تھی۔ تھیریسیا نے لزا کو سر کے
‫اشارے سے باہر بالیا۔ لزا باہر نکل گئی۔
‫یہاں کیا کررہی ہو؟'' تھیریسیا نے پوچھا…… ''اس شخص کے اتنی قریب بیٹھ کر تمہیں خیال نہ آیا کہ مسلمان قابل ''
‫''نفرت ہوتے ہیں؟ کیا تم غداری کے جرم کا ارتکاب کرنا چاہتی ہو؟
‫لزا کا ذہن خالی ہوگیا۔ اس کی زبان پر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ جذباتی لحاظ سے اپنے پیشے یعنی مسلمان امراء کی کردار
‫کشی سے متنفر ہوگئی تھی۔ یہ نفرت اس حد تک پہنچ گئی تھی جہاں انسان اپنے ردعمل میں بے قابوہوجاتا ہے اور وہ
‫انتقام کی راہ اختیار کرلیتا ہے یا فرار کی۔
‫میں بھی جوان لڑکی ہوں''۔ تھیریسیا نے اسے کہا…… ''مجھے بھی یہ مسلمان چھاپہ مار جس کا نام الناصر ہے‪ ،اچھا ''
‫لگتا ہے۔ یہ دلکش جوان ہے‪ ،اگر تم یہ کہو کہ یہ تمہارے دل میں اتر گیا ہے تو میں حیران نہیں ہوں گی۔ مجھے یہ احساس
‫بھی ہے کہ تمہارے دل میں ان بوڑھے مسلمان ا مراء اور ان کے ساالروں کے خالف نفرت بھر گئی ہے‪ ،جن کے ہاتھوں میں
‫تم کھلونا بنی رہی ہو مگر اپنے فرائض کو سامنے رکھو‪ ،صلیب کی عظمت کو سامنے رکھو‪ ،یہ مسلمان تمہارے دشمن ہیں''۔
‫نہیں تھیریسیا''۔ لزا نے پریشان لہجے میں کہا…… ''مجھے اس کے ساتھ وہ دلچسپی نہیں جو تم سمجھ رہی ہو''۔''
‫''پھر اس کے پاس کیوں آبیٹھی تھیں؟''
‫میں اچھی طرح بیان نہیں کرسکتی''۔ لزا نے اکتائے ہوئے لہجے میں جواب دیا…… ''معلوم نہیں‪ ،ذہن میں کیا آیا تھا کہ''
‫میں اس کے پاس آبیٹھی''۔
‫''اس کے ساتھ کیا باتیں ہوئی ہیں؟''
‫کوئی خاص بات نہیں ہوئی''۔ لزا نے کہا۔''
‫تم اپنے فرض میں کوتاہی کررہی ہو''۔ تھیریسیا نے کہا…… ''یہ غداری بھی ہے‪ ،جس کی سزا موت ہے''۔''
‫لیکن سن لو تھیریسیا!'' لزا نے کہا…… ''میں اسے بوڑھے شیخ سنان کے پاس اکیلی نہیں جائوں گی‪ ،اگر اس نے ''
‫زبردستی کی تو اسے یا اپنے آپ کو ختم کرلوں گی''۔
‫تھیریسیا تو پتھر بن چکی تھی۔ وہ خوبصورت پتھر تھی جس کا رنگ اور جس کی چمک ہر کسی کے دل کو بھاتی ہے اور
‫جسے ہر کوئی اپنی ملکیت میں رکھنا چاہتا ہے لیکن پتھر کی اپنی کوئی پسند یا ناپسند نہیں ہوتی۔ لزا بھی اس مقام سے
‫بہت دور تھی جہاں عورت اپنے جذبات اور اپنی محبت اور نفرت سے دستبردار ہوجایا کرتی ہے۔ تھیریسیا نے اسے کہا……
‫'' مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنی زیادہ جذباتی ہوجائو گی ورنہ ہم یہاں نہ آتیں مگر یہی ایک قلعہ تھا جو قریب
‫تھا۔ تریپولی تک ہمارا پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ میں نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ شیخ سنان سے تمہیں بچانے کی پوری کوشش
‫کروں گی اور یہاں سے جلدی نکلنے کی بھی کوئی صورت پیدا کرلوں گی۔ تم اپنے قیدی میں اتنی دلچسپی کا مظاہرہ نہ
‫کرو''۔
‫سچ بتا دوں تھیریسیا'' ۔ لزا نے کہا… ''میں ان چھاپہ ماروں کو یہاں سے فرار کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہوں۔ تم نہ ''
‫خود یہاں سے نکل سکو گی‪ ،یہ چھاپہ مار ہیں جن کی بہادری کی میں نے حیران کن کہانیاں سن رکھی ہیں۔ انہیں اگر ذرا
‫سا بھی موقعہ فراہم کیا گیا تو یہ فرار ہوجائیں گے اور مجھے اور تمہیں بھی ساتھ لے جائیں گے۔ اس کے سوا اور کوئی
‫طریقہ نہیں''۔
‫میں ان کی استادی اور بہادری کو مانتی ہوں''۔ تھیریسیا نے کہا…… ''لیکن تم نے یہ نہیں سوچا کہ ہم دونوں یا تم ''
‫اکیلی ان کے ساتھ نکل گئی تو یہ تمہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ ہمیں ہماری منزل پر نہیں پہنچائیں گے۔ جھوٹے سہارے
‫تالش کرنے کی کوشش نہ کرو…… اور سنو!''۔ تھیریسیا نے کہا…… ''نہالو اور کپڑے بدل لو۔ آج رات کے کھانے پر شیخ
‫سنان نے ہمیں مدعو کیا ہے۔ میں تمہیں بتائوں گی کہ اس کے ساتھ تمہارا سلوک اور رویہ کیسا ہوگا۔ اس پر یہ ظاہر کرنا
‫ہے کہ تم اسے ناپسند نہیں کرتیں اور اس سے بھاگنے کی بھی نہیں سوچو گی۔ مجھے ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ حرن کا
‫خودمختار مسلمان حاکم گمشتگین بھی آیا ہوا ہے۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ گمشتگین صالح الدین ایوبی کا سب سے بڑا
‫دشمن ہے‪ ،اسے اپنا دوست سمجھنا۔ ہم نے بڑی مشکل سے ان مسلمان حکمرانوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور انہیں صالح الدین
‫ایوبی کے خالف لڑا رہے ہیں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫لزا کو جب تھیریسیا اپنے ساتھ لے گئی تو الناصر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اسے کسی حد تک یقین آگیا تھا کہ لڑکیاں
‫جنات نہیں لیکن لزا کا اس پر مہربان ہوجانا اسے پریشان کرنے لگا۔ لزا نے اسے بتا دیا تھا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو
‫حشیش کے نشے میں یہاں تک الیا گیا ہے اس سے وہ سمجھ گیا کہ یہ لڑکیاں فدائیوں کے گروہ کی ہوسکتی ہیں۔ اسے یہ
‫شک بھی ہونے لگا کہ اسے حشیش کے عالوہ اس نوجوان اور خوبصورت لڑکی کے ذریعے اپنے ہاتھ میں لینے اور اپنے مقاصد
‫کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہ چونکہ چھاپہ مار تھا جسے دشمن کے عالقوں میں جانا ہوتا تھا‪ ،اس
‫لیے اسے فدائیوں اور ان کے طور طریقوں کے متعلق اور حشیش کے اثرات کے متعلق خاص طور پر بتایا گیا اور خبردار کیا گیا
‫تھا۔
‫اس نے اپنے ساتھیوں کو جگایا۔ جاگ کر وہ بھی اسی طرح حیران ہوئے جس طرح الناصر ہوا تھا۔ وہ تینوں الناصر کے منہ
‫کی طرف دیکھنے لگے۔
‫دوستو!'' الناصر نے انہیں کہا…… ''ہم فدائیوں کے جال میں آگئے ہیں۔ اس قلعے کا نام عصیات ہے۔ یہاں فدائی اور ان''
‫کی فوج رہتی ہے۔ یہ لڑکیاں جنات نہیں ہیں۔ میں ابھی بتا نہیں سکتا کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ ہمیں احتیاط کرنی
‫پڑے گی۔ تم سب جانتے ہو کہ فدائی کیا کیا طریقے اختیار کرتے ہیں۔ اگر مجھے اس کمرے سے باہر نکلنے کا موقع مال تو
‫قلعے سے فرار کی کوئی ترکیب سوچ لوں گا۔ تم خاموش رہنا۔ یہ لوگ کچھ پوچھیں تو انہیں بہت تھوڑا جواب دینا۔ ان
‫شیطانوں سے بچنا آسان نہیں ہوتا''۔
‫کیا یہ ہمیں قید میں ڈال دیں گے؟'' الناصر کے ایک ساتھی نے پوچھا۔''
‫اگر قید میں ڈال دیں تو ہمیں خوش ہونا چاہیے''۔ الناصر نے جواب دیا…… ''مگر یہ لوگ حشیش اور لڑکیوں کے ذریعے''
‫ہمارے ذہن اس طرح بدل دیں گے کہ ہمیں یاد ہی نہیں رہے گا کہ ہم کون تھے اور ہمارا مذہب کیا تھا''۔
‫مجھے فرار کے سوا کوئی اور ذریعہ نجات نظر نہیں آتا''…… الناصر کے ایک ساتھی نے کہا۔''
‫ہم مرجانا پسند کریں گے‪ ،ایمان خراب نہیں ہونے دیں گے''۔ ایک اور نے کہا۔''

‫ہوشیار رہنا''۔ الناصر نے کہا… ''اللہ پر چھوڑو۔ ہم اتنی جلدی ان کے قبضے میں نہیں آئیں گے''۔''
‫شام گہری ہونے لگی تھی۔ ایک آدمی دو جلتی قندیلیں کمرے میں رکھ گیا۔ اس نے ان کے ساتھ کوئی بات نہ کی۔انہیں
‫بھوک نے پریشان کررکھا تھا۔ ان کے کمرے سے دور قلعے کے ایک حصے میں سنان کا محل تھا جہاں عورت اور شراب کی
‫رونق تھی۔ سنان کے خصوصی کمرے میں کھانے چنے ہوئے تھے۔ شراب کی صراحیاں رکھی تھیں۔ رنگا رنگ کھانوں کی مہک
‫سے درودیوار مخمور ہوئے جارہے تھے۔ کھانے پر شیخ سنان بیٹھا تھا۔ اس کے ایک طرف تھیریسیا اور دوسری طرف لزا بیٹھی
‫تھی اور ان کے سامنے گمشتگین بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔
‫گمشتگین کے متعلق کئی بار بتایا جاچکا ہے کہ وہ حرن نام کے ایک قلعے کا گورنر (قلعہ دار) تھا۔ نورالدین زنگی کی وفات
‫کے بعد اس نے خودمختاری کا اعالن کرکے حرن قلعے اور گردونواح کے عالقے کو اپنی ریاست بنا لیا تھا۔ وہ سلطان ایوبی
‫کے مسلمان دشمنوں ( الملک الصالح اور سیف الدین) کا اتحادی تھا۔ اس نے بھی اپنی فوج متحدہ فوج میں شامل کی تھی
‫جسے سلطان ایوبی نے شکست فاش دی تھی۔ گمشتگین خود اپنی فوج کے ساتھ نہیں گیا تھا۔ تینوں افواج کا سپریم کمانڈر
‫سیف الدین تھا۔ گمشتگین نے اپنے اتحادیوں کی طرح صلیبیوں کے ساتھ دوستانہ گانٹھ رکھا تھا۔ صلیبیوں نے انہیں فوج کی
‫صورت میں تو ابھی کوئی مدد نہیں دی تھی۔ اپنے مشیر‪ ،جاسوس اور تخریب کار دے رکھے تھے اور انہیں اپنے ہاتھ میں
‫اعلی قسم کی شراب‪ ،حسین لڑکیاں اور رقم دیتے رہتے تھے۔
‫رکھنے کے لیے
‫ٰ
‫گمشتگین کو خدا نے سازشی ذہن دیا تھا۔ اپنے دشمن پر وہ زمین کے نیچے سے وار کرتا تھا اور اپنے دوستوں کے خالف
‫بھی دل میں دشمنی رکھتا تھا۔ اسے پیار صرف اقتدار سے تھا۔ وہ اپنی ریاست کا مطلق العنان بادشاہ بن کر ریاست میں
‫توسیع کرنے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ اسے جو کوئی دوستانہ مدد دیتا تھا‪ ،اسے بھی وہ شکی نگاہوں سے دیکھتا تھا۔ سلطان
‫صالح الدین ایوبی کے قتل کی کوششوں میں گہری دلچسپی لیتا تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اقتدار پسند حکمران کا
‫تختہ صرف فوج الٹ سکتی ہے۔ سلطان ایوبی ہی ایک ساالر تھا جس کے دل میں قومی جذبہ موج زن تھا۔ اس کی جنگی
‫قابلیت کے ساتھ اس کا ایمان اس کی قوت تھا۔ گمشتگین اس کی اسی قوت سے ڈرتا تھا۔ اب جبکہ اس نے اپنی فوج
‫سیف الدین کی کمان میں دے کر ترکمان روانہ کردی تھی۔ وہ کسی کو بتائے بغیر شیخ سنان کے پاس قلعہ عصیات میں آگیا
‫تھا۔ وہ یہی مشن لے کے آیا تھا کہ سلطان ایوبی کے قتل کا کوئی ایسا انتظام کیا جائے جو پہلی قاتالنہ کوشش کی طرح
‫ناکام نہ ہو۔
‫عصیات میں وہ الناصر اور تھیریسیا کے پہنچنے سے ایک روز پہلے آیا تھا۔ اسے ابھی معلوم نہیں تھا کہ سیف الدین کی
‫زیرکمان اس کی فوج کا سلطان ایوبی کے ہاتھوں کیا حشر ہوا ہے۔ وہ افواج کو روانہ کرکے اپنے سازشی دورے پر نکل گیا اور
‫عصیات جا پہنچا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫گمشتگین بھائی!'' شیخ سنان نے اسے کھانے کے دوران کہا…… ''تمہارے دوست تو ترکمان سے بھاگ گئے ہیں''۔ اس ''
‫نے تھیریسیا سے کہا…… ''انہیں میدان جنگ کی تفصیل سنائو''۔
‫گمشتگین کو اس خبر سے اتنا صدمہ ہوا کہ وہ کچھ بھی نہ بوال۔ اس کا رنگ اڑ گیا اور وہ صدمے اور حیرت سے تھیریسیا
‫کی طرف دیکھنے لگا۔ تھیریسیا نے اسے بتایا کہ سلطان ایوبی نے قلیل سی نفری سے کس طرح متحدہ افواج پر حملہ کیا اور
‫بھگایا ہے۔ سیف الدین کے متعلق تھیریسیا نے بتایا کہ اس کے وہاں سے روانہ ہونے تک سیف الدین میدان جنگ سے الپتہ
‫تھا۔ گمشتگین خاموشی سے سنتا رہا۔
‫مجھے میرے دوستوں نے ذلیل کیا ہے''۔ گمشتگین نے غصے سے کہا… ''میں سیف الدین کو تینوں فوجوں کی کمان دینے''
‫''کے حق میں نہیں تھا مگر میری کسی نے نہ سنی۔ معلوم نہیں میری فوج کس حالت میں ہوگی
‫بہت بری حالت میں''۔ تھیریسیا نے کہا…… ''صالح الدین ایوبی کے چھاپہ ماروں نے آپ کی فوجوں کو اطمینان اور ''
‫خیریت سے پسپا بھی نہیں ہونے دیا''۔
‫سنان بھائی! تم جانتے ہو‪ ،میں یہاں کیوں آیا ہوں''۔ گمشتگین نے کہا۔''
‫صالح الدین ایوبی کے قتل کے لیے''۔ سنان نے کہا۔''
‫ہاں!'' گمشتگین نے کہا…… ''آپ جو مانگیں گے پیش کروں گا۔ ایوبی کو قتل کرائو''۔''
‫میں نے صلیبیوں اور سیف الدین کے کہنے پر ایوبی کے قتل کے لیے چار فدائی بھیج رکھے ہیں''۔ سنان نے کہا…… ''
‫''لیکن مجھے امید نہیں کہ وہ اسے قتل کرسکیں''۔
‫مجھ سے الگ اپنا انعام لو''۔ گمشتگین نے کہا…… ''نئے آدمی دو لیکن یہ آدمی مجھے دے دو۔ یہ کام میں خود کرائوں''
‫گا''۔
‫یہ آخری چار فدائی ہیں جو میں نے بھیجے ہیں''۔ شیخ سنان نے کہا…… ''میرے پاس قاتلوں کی کمی نہیں لیکن میں ''
‫صالح الدین ایوبی کے قتل سے دستبردار ہوتا ہوں''۔
‫''کیوں؟''۔ گمشتگین نے حیران ہوکر پوچھا…… ''ایوبی نے تمہیں کوئی قلعہ دے دیا ہے؟''
‫نہیں''۔ سنان نے جواب دیا…… ''اس شخص کے قتل کے لیے میں اپنے بڑے ہی قیمتی فدائی ضائع کرچکا ہوں۔ میرے ''
‫فدائیوں نے اس پر سوتے میں خنجروں سے حملہ کیا مگر وہ خود قتل ہوگئے۔ ایک بار اس پر تیر چالئے گئے‪ ،وہ بھی خطا
‫ہوگئے۔ میں تو اب یہ سمجھ بیٹھا ہوں کہ صالح الدین ایوبی پر خدا کا ہاتھ ہے۔ اس میں کوئی ایسی قوت ہے کہ اس پر نہ
‫خنجر اثر کرتا ہے‪ ،نہ تیر۔ میرے جاسوسوں نے مجھے بتایا ہے کہ ایوبی پر جب قاتالنہ حملہ ہوتا ہے تو حملے کو ناکام
‫کرکے وہ گھبرانے یا غصے میں آنے کے بجائے مسکراتا ہے اور فورا ً بھول جاتا ہے کہ کیا ہوا تھا''۔
‫مجھے اپنی اجرت بتائو سنان!''۔ گمشتگین نے جھنجھال کر کہا…… ''میں ایوبی کو زندہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ تم نے اناڑی''
‫قاتل بھیجے ہوں گے''۔
‫وہ سب استاد تھے''۔ شیخ سنان نے کہا…… ''ان سے کبھی کوئی بچ کر نہیں گیا تھا۔ وہ موت سے ڈرنے والے نہیں ''
‫تھے۔ میرے پاس ان کے بھی استاد موجود ہیں۔ یہ ایسے طریقوں سے قتل کرتے ہیں کہ ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا لیکن
‫گمشتگین! میں اپنے قیمتی فدائیوں کو یوں ضائع نہیں کروں گا…… تم تین فوجوں سے ایوبی کو نہیں مار سکتے‪ ،میرے تین
‫''چار آدمی اسے کس طرح قتل کرسکتے ہیں؟
‫تم ایوبی کے قتل سے جو ڈر گئے ہو‪ ،اس کی وجہ کچھ اور ہوگی''۔''
‫اور وجہ یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی کے ساتھ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں''۔ سنان نے کہا…… ''حسن بن صباح نے تو''

‫پیغمبر بننا چاہا تھا لیکن اس کے مرنے کے بعد ہمارا فرقہ پیشہ ور قاتل بن گیا۔ میں پیشہ ور قاتل ہوں گمشتگین! ایوبی
‫مجھے تمہارے قتل کے لیے اجرت دے گا تو میں تمہیں بھی قتل کرادوں گا''۔
‫لیکن صالح الدین بزدلوں کی طرح کسی کو قتل نہیں کراتا''۔ لزا نے کہا…… ''یہی وجہ ہے کہ وہ بزدلوں کے ہاتھوں قتل''
‫نہیں ہوتا''۔
‫اوہ!'' سنان نے لزا کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر پیار سے کہا…… ''تم نے اسی عمر میں جان لیا ہے کہ جو ''
‫بزدل نہیں ہوتے‪ ،ان کا بزدل کچھ نہیں بگاڑ سکتے''۔ اس نے گمشتگین سے کہا۔ ''تم سیف الدین اور الملک الصالح اور
‫صلیبی صرف اس لیے ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہو کہ صالح الدین کے دشمن ہو‪ ،ورنہ تمہاری آپس میں کوئی دوستی
‫نہیں۔ مجھے یہ بتائو کہ ایوبی کو قتل کرکے تم کیا حاصل کرسکو گے؟ وہ مرگیا تو آپس میں لڑوگے…… غور سے سنو
‫گمشتگین! ایوبی کے قتل کے بعد تمہیں اس سلطنت سے بالشت بھر زمین بھی نہیں ملے گی جو ایوبی نے قائم کرلی ہے۔
‫اس کے بھائی اور اس کے ساالر متحد ہیں۔ تم اگر کسی کو قتل کرانا ہی چاہتے ہوتو سیف الدین کو قتل کرادو اور موصل پر
‫قبضہ کرلو۔ اسے تم خود قتل کرسکتے ہو۔ وہ تمہیں اپنا دوست اور اتحادی سمجھتا ہے۔ اسے زہر دال سکتے ہو۔ اس پر حملہ
‫کراسکتے ہو''۔
‫گمشتگین گہری سوچ میں کھوگیا‪ ،پھر بوال…… ''ہاں! سیف الدین کو قتل کرادو۔ بتائو کیا مانگتے ہو''۔ ‪:
‫حرن کا قلعہ''۔ شیخ سنان نے کہا۔''
‫تمہارا دماغ ٹھکانے ہے سنان؟'' گمشتگین نے کہا…… ''زروجواہرات کی صورت میں اپنی قیمت بتائو''۔''
‫زرجواہرات کے عوض تمہیں چار آدمی دیتا ہوں''…… سنان نے کہا …… ''لیکن یہ میرے فدائی نہیں ہیں‪ ،یہ صالح الدین ''
‫ایوبی کے چھاپہ مار ہیں۔ انہیں یہ دونوں لڑکیاں حشیش کے نشے میں ساتھ الئی ہیں۔ میں انہیں کسی کے حوالے نہیں
‫کرناچاہتا تھا۔ ایسے تجربہ کار آدمی ملتے ہی کہاں ہیں۔ اتفاق سے آگئے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ حشیش اور میری پریاں انہیں
‫اپنے رنگ میں رنگ کر ایسا قاتل بنا لیں گی کہ اپنے ماں باپ کا بھی خون بہا آئیں گے۔ میں تمہیں مایوس نہیں کرنا
‫چاہتا۔ ان کو لے جائو۔ تھوڑے دن انہیں اپنی جنت دکھائو۔ انہیں اپنے حرم کے شہزادے بنا دو‪ ،انہیں بتائے بغیر حشیش دو‪،
‫پھر انہیں شراب کا عادی بنا دو۔ تمہارے اشاروں پر ناچیں گے''۔
‫صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار اتنے کچے نہیں ہوتے‪ ،جتنا تم سمجھ رہے ہو''۔ گمشتگین نے کہا۔''
‫تم جانتے ہو گمشتگین‪ ،ہم فدائی کہالتے ہیں۔ انسان کے ذہن کے ساتھ کھیلتے ہیں''۔ شیخ سنان نے کہا…… ''ہم اپنے ''
‫شکار کے ذہن میں دل فریب تصور ڈال کر اس کی ایسی حالت کردیتے ہیں کہ وہ تصور کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ کسی
‫انسان کے ذہن میں عورت کا حسین تصور پیدا کردو اور اس کے ساتھ اسے نشہ دئیے جائو تو وہ اس تصور کا غالم ہوجاتا
‫ہے۔ انسان کو عورت کے تصوروں میں کھوئے رہنے کا عادی بنا دو پھر تم اس کا کردار اور اس کا ایمان بڑے ہی کم داموں
‫خرید سکتے ہو…… ان چاروں کو لے جائو۔ یہ نہ سوچو کہ انہیں تم اپنے مقصد کے لیے استعمال نہیں کرسکو گے''۔ سنان
‫نے مسکرا کر کہا…… ''اپنے آپ پر نظر ڈالو۔ عورت‪ ،شراب اور عیش پرستی تمہیں کہاں سے کہاں لے آئی ہے۔ مسلمان
‫ہوکر تم مسلمانوں کے دشمن بنے ہو''۔
‫شیخ سنان نے اسے اپنی قیمت بتائی۔ سودا طے ہوگیا کہ گمشتگین الناصر اور اس کے ساتھیوں کو اپنے ساتھ حرن لے جائے
‫گا۔ سنان نے اسے بتایا کہ وہ ان چاروں کو قید خانے میں نہ ڈال دے بلکہ انہیں شہزادے بنا کر رکھے۔ گمشتگین نے یہ
‫ہدایات سنیں اور یہ کہہ کر چال گیا کہ ایک دو دونوں میں وہ ان چھاپہ ماروں کو لے جائے گا۔
‫٭ ٭ ٭
‫گمشتگین وہاں سے نکال تو شیخ سنان کا ایک آدمی اندر آیا۔ اس نے پوچھا کہ آج جو چار آدمی الئے گئے ہیں‪ ،ان کے
‫متعلق کیا حکم ہے۔
‫حرن کا والی گمشتگین آیا ہوا ہے''۔ سنان نے کہا…… ''وہ انہیں ساتھ لے جارہا ہے۔ ان کے کھانے اور آرام وغیرہ کا ''
‫انتظام کردو۔ ہم انہیں نہیں رکھنا چاہتے۔ انہیں یہ نہ بتانا کہ انہیں کہاں بھیجا جارہا ہے''۔
‫یہ آدمی چال گیا۔ اس نے الناصر اور اس کے ساتھیوں کے کھانا بھجوایا۔ الناصر نے کھانے سے انکار کردیا۔ اسے شک تھا کہ
‫کھانے میں حشیش ڈالی گئی ہے۔ بہت ہی مشکل سے اسے یقین دالیا گیا کہ کھانے میں کچھ نہیں مالیا گیا۔ الناصر اور اس
‫کے ساتھی بھوک سے بے بحال ہوئے جارہے تھے۔ اپنے سامنے اتنا اچھا کھانا دیکھ کر انہوں نے کھانے کا خطرہ مول لے لیا۔
‫شیخ سنان نے تھیریسیا سے کہا کہ وہ چلی جائے اور لزا کو اس کے پاس چھوڑ جائے۔ تھیریسیا نے کہا کہ وہ تین چار دن
‫مسلسل سفر میں رہی ہیں‪ ،اس لیے آرام کریں گے۔ سنان میں انسانیت کم اور درندگی زیادہ تھی۔ اس نے لزا کے ساتھ پہلے
‫تو چھیڑ چھاڑ کی جو لزا تھیریسیا کے کہنے کے مطابق برداشت کرتی رہی اور اس سے گلو خالصی کرانے کے لیے بہانے بھی
‫تراشتی رہی۔ سنان نے دست درازی شروع کردی۔ لزا کا مزاج بگڑنے لگا۔ اچانک دروازہ کھال۔ دربان نے کسی کی آمد کی
‫اطالع دی۔ سنان نے غصے سے کہا… …''اس وقت کوئی اندر نہیں آسکتا''…… مگر اندر آنے والے نے اس کے حکم کی پروا
‫نہ کی۔ وہ دربان کو ایک طرف کرکے اندر آگیا۔
‫وہ ایک صلیبی تھا جو اسی وقت قلعے میں پہنچا تھا۔ سنان اسے جانتا تھا۔ اسے دیکھتے ہی سنان نے اس کا نام لیا اور
‫خوشی کا اظہار کیا لیکن یہ بھی کہا…… ''تم آرام کرو‪ ،صبح ملیں گے''۔
‫میں شاید صبح ہی آپ کے پاس آجاتا''۔ صلیبی نے کہا…… ''لیکن یہاں آتے ہی پتہ چال ہے کہ یہ لڑکیاں آئی ہیں‪'' ،
‫مجھے ان سے بہت کچھ پوچھنا ہے۔ میں انہیں اپنے ساتھ لے جارہا ہوں''۔
‫سنان نے تھیریسیا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا…… ''اسے لے جائو''…… اور اس نے لزا کو اپنی طرف گھسیٹ کر کہا…
‫''اسے میں یہیں رکھوں گا''۔
‫شیخ سنان!'' صلیبی نے قدرے دبدبے سے کہا…… ''میں دونوں کو لے جارہا ہوں‪ ،تم جانتے ہو میں کس کام سے آیا ہوں''
‫اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ان لڑکیوں کے کیا فرائض ہیں۔ تمہاری بغل میں بیٹھنا ان کے فرائص میں شامل نہیں''۔ اس نے
‫لڑکیوں سے کہا…… ''دونوں میرے ساتھ آئو''۔
‫دونوں اچک کر اٹھیں اور صلیبی کے پاس جاکھڑی ہوئیں۔
‫کیاتم میرے ساتھ دشمنی کا خطرہ مول لینا چاہتے ہو؟'' شیخ سنان نے کہا…… ''تم میرے قلعے میں ہو۔ میں تمہیں ''
‫مہمان سے قیدی بھی بنا سکتا ہوں اور تم کوشش کررہے ہو کہ تمہیں مہمان سے قیدی بنا دیا جائے''۔ اس نے گرج کر
‫کہا…… ''اس لڑکی کو میرے پاس چھوڑ کر باہر نکل جائو''۔

‫سنان!'' صلیبی نے طنزیہ لہجے میں کہا…… ''کیا تم بھول گئے ہوکہ یہ قلعہ تمہیں ہم نے دیا ہے؟ کیا تمہارے ذہن سے''
‫یہ حقیقت بھی اتر گئی ہے کہ ہم تمہاری پیٹھ پر ہاتھ نہ رکھیں تو تم اور تمہارے فدائی کرائے کے قاتلوں کے سوا کچھ بھی
‫نہیں رہیں گے''۔
‫شخ سنان پر صرف شراب کا نشہ طاری نہیں تھا‪ ،وہ اس قلعے کا بادشاہ تھا ور وہ کسی بھی بادشاہ کو کسی بھی وقت
‫ایسے طریقے سے قتل کراسکتا تھا کہ کسی کو شک تک نہ ہوتا کہ قاتل سنان یا اس کا کوئی فدائی ہے۔ اس نے صلیبی
‫افسر بھی قتل کرائے تھے۔ یہ صلیبیوں کی آپس کی عداوت کا نتیجہ تھا۔ ان کا کوئی جرنیل یا کوئی اور فوجی یا غیرفوجی
‫افسر اپنے کسی حریف افسر کو قتل کرانے کی ضرورت کبھی محسوس کرتا تو اس مقصد کے لیے وہ سنان کی خدمت حاصل
‫کیا کرتا تھا۔ عصیات کے قلعے میں رہتے تو انسان تھے لیکن یہ بدروحوں کا قلعہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کے تہہ خانوں میں
‫انسان گم ہوجاتے تھے۔ فدائی پاگل لگتے تھے۔ کسی کو قتل کرنا ان کے لیے منہ کا نوالہ ڈال لینے سے زیادہ حیثیت نہیں
‫رکھتا تھا۔ اس کے محل کا یہ حسن تھا کہ چھتوں اور دیواروں میں رنگا رنگ شیشوں کے ٹکڑے جڑے ہوئے تھے۔ فانوسوں کی
‫روشنی سے ان سے رنگا رنگ شعاعیں نکلتی تھیں۔ یہاں انسان بھول جاتا تھا کہ اس جنت کے اردگرد بے رحم اور تپتے ہوئے
‫ٹیلے ہیں۔
‫اس ماحول اور ایسی حیثیت میں شیخ سنان اپنے آپ کو دیوتا سمجھتا تھا۔ اس میں حیوانیت اور درندگی زیادہ تھی۔ لزا
‫جیسی لڑکی سے وہ دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اس نے صلیبی سے کہا…… ''میں تمہیں سوچنے کی مہلت دوں گا۔ اس
‫قلعے میں خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے بھی گم کردئیے جاتے ہیں۔ خدا کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ میں اس لڑکی کو قلعے سے
‫باہر نہیں جانے دوں گا۔ تم نے مزاحمت کی تو تم بھی قلعے سے باہر نہیں جاسکو گے''۔
‫میرا ایک ساتھی آگے چال گیا ہے''۔ صلیبی نے کہا…… ''وہ وہاں بتا دے گا کہ میں یہاں ہوں‪ ،تم جانتے ہو کہ میں یہاں''
‫دو تین روز کے قیام کے لیے آیا ہوں پھر مجھے کہیں اور جانا ہے۔ ہم اس معاہدے کے تحت تمہارے ہاں قیام کرتے ہیں جس
‫کے تحت تمہیں یہ قلعہ دیا گیا تھا۔ یہ ہماری پناہ گاہ ہے اور ہمارا عارضی پڑائو بھی۔ تم ہماری ہڈیاں غائب کردو تو بھی
‫تم سے پوچھا جائے گا کہ ہمارا ایک آدمی اور دو لڑکیاں کہاں ہیں''۔ صلیبی نے کچھ سوچا اور کہا…… ''اگر تم صالح الدین
‫ایوبی کو قتل کردو تو اس جیسی ایک درجن لڑکیاں تمہارے حوالے کردیں گے مگر تم ہماری رقم اور سونا ہضم کرتے رہے‪،
‫ایوبی کو قتل نہ کرسکے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے چار فدائی ایوبی کے قتل کے لیے بھیج رکھے ہیں لیکن یہ صرف
‫افواہ معلوم ہوتی ہے۔ ایوبی ابھی تک زندہ ہے اور فاتح ہے''۔
‫یہ افواہ نہیں''۔ سنان نے نشے اور غصے سے لرزتے ہوئے کہا…… ''میں نے چار آدمی بھیج رکھے ہیں۔ چند دنوں میں ''
‫تم خبر سنو گے کہ صالح الدین ایوبی قتل ہوگیا ہے''۔
‫پھر میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں ہمارے حکمرانوں سے جو انعام واکرام مال ہے‪ ،اس کے عالوہ میں تمہیں اس ''
‫(لزا) جیسی دو لڑکیاں اپنی طرف سے دوں گا''۔
‫وہ دیکھا جائے گا''…… سنان نے کہا…… ''میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اس لڑکی کو تم میری خواب گاہ سے باہر لے ''
‫جاسکتے ہو‪ ،اسے قلعے سے باہر نہیں لے جاسکو گے۔ جائو‪ ،انہیں لے جائو۔ میں نے قلعے میں صلیبیوں کے لیے جو کمرے
‫الگ کررکھے ہیں‪ ،وہاں چلے جائو۔ کھائو‪ ،پیو‪ ،عیش کرو اور مجھے سوچ کر جواب دو کہ یہ لڑکی میرے حوالے کرو گے یا
‫نہیں''۔
‫صلیبی دونوں لڑکیوں کو ساتھ لیے باہر نکل گیا۔ یہ صلیبی جاسوسی اور تخریب کاری کے محکمے کا افسر تھا۔ وہ مسلمانوں
‫کے عالقوں میں گھومتا پھرتا رہا تھا اور اب واپس اپنے عالقے میں جارہا تھا۔ عصیات کے قلعے میں صلیبیوں کے لیے عارضی
‫قیام کا انتظام کیا گیا تھا جو صلیبی جب چاہتا‪ ،اس قلعے میں آسکتا تھا۔ تھیریسیا بھی اسی سہولت کے تحت لزا اور الناصر
‫کے ساتھیوں کو یہاں الئی تھی اور یہ صلیبی بھی ذرا آرام کے لیے یہاں آیا تھا۔ ایک دو روز بعد اسے آگے چلے جانا تھا۔
‫قلعے میں آتے ہی اسے کسی نے بتایا کہ دو صلیبی لڑکیاں آئی ہیں جو اس وقت شیخ سنان کے پاس ہیں۔ وہ انہیں دیکھنے
‫کے لیے اندر چال گیا اور سنان کے ساتھ گرما گرمی کے بعد دونوں لڑکیوں کو وہاں سے لے آیا۔
‫اس کے جانے کے بعد شیخ سنان نے اپنے خاص آدمی کو بال کر کہا… ''یہ صلیبی اور یہ دونوں لڑکیاں ہماری قیدی نہیں ہیں
‫لیکن انہیں ان کی مرضی سے قلعے سے نکلنے نہ دیا جائے۔ انہیں اس حق سے محروم کردیا جائے کہ جب چاہیں قلعے میں
‫آجائیں‪ ،جب چاہیں نکل جائیں۔ ان پر نظر بھی رکھنا…… اور گمشتگین جب چاہے ان چار قیدیوں کو اپنے ساتھ لے جاسکتا
‫ہے جنہیں آج یہ لڑکیاں باہر سے الئی ہیں''۔
‫صلیبی کو بتایا گیا کہ حرن کا والی گمشتگین بھی آیا ہوا ہے اور وہ صالح ا لدین ایوبی کے قتل کا انتظام کرتا پھر رہا ہے۔
‫اسے الناصر اور اس کے ساتھیوں کے متعلق بتایا گیا۔ صلیبی لڑکیوں کو قلعے کے اس حصے میں لے گیا‪ ،جہاں عارضی طور پر
‫آنے والے صلیبیوں کے لیے کمرے مخصوص کیے گئے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے سیف الدین کے ساالر مظفرالدین کا حملہ جس طرح پسپا اور اس کی فوج کو جس طرح تہس
‫نہس کیا تھا‪ ،وہ پوری تفصیل سے سنایا جاچکا ہے۔ مظفرالدین میدان جنگ سے غائب ہوگیا تھا۔ سلطان ایوبی کی فوج نے جو
‫قیدی پکڑے ان میں سیف الدین کا ایک مشیر فخرالدین بھی تھا جو موصل میں اس کا وزیر بھی رہ چکا تھا۔ سلطان ایوبی
‫فخرالدین کو جنگی قیدیوں سے الگ کرکے اپنے خیمے میں لے گیا اور اسے اسی عزت واحترام سے رکھا جس کا وہ حق دار
‫تھا۔ مال غنیمت تقسیم کرکے سلطان ایوبی نے پہال فیصلہ یہ کیا کہ پیش قدمی یعنی بھاگتے دشمن کا تعاقب نہیں کیا جائے
‫گا۔ بعض مورخین نے سلطان ایوبی کے اس فیصلے کو اس کی جنگی لغزش کہا ہے لیکن تاریخ اسالم کا یہ مجاہد بہت دور
‫کی سوچا کرتا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ وہ دشمن کی فوج کا تعاقب کرتا تو اس کی فوج کو وہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیتا اور
‫اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ سلطان ایوبی کے مسلمان دشمن اس کے قدموں میں گر پڑتے۔
‫تعاقب نہ کرنے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ مظفرالدین کے ساتھ اس نے جو معرکہ لڑا تھا‪ ،اس میں اسے فتح بہت مہنگی
‫پڑی تھی۔ اس کی فوج کا جانی نقصان بہت ہوا تھا۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ اس لیے وہ پیش قدمی کے قابل نہیں تھا۔
‫اگر وہ پیش قدمی کرنے کا فیصلہ کرتا تو وہ اپنے محفوظہ کو استعمال کرسکتا تھا لیکن اس نے ایسا فیصلہ نہ کیا جس کی
‫وجہ یہ بھی تھی کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا اور زیادہ خون بہے۔ وہ اپنی قوم کو مزید خون ریزی
‫سے بچانا چاہتا تھا۔
‫سلطان ایوبی اس جگہ کھڑا تھا‪ ،جہاں سیف الدین کی ذاتی خیمہ گاہ تھی۔ اس میں سے جو کچھ برآمد ہوا‪ ،وہ بیان کیا

‫جاچکا ہے۔ سیف الدین کو اپنا خیمہ بذات خود بہت قیمتی تھا۔ یہ ریشمی کپڑوں کا محل تھا۔ قناتیں اور شامیانے ریشمی
‫تھے‪ ،پردے ریشمی تھے۔ اس کے اندر کھڑے ہوکر شیش محل کا گماں ہوتا تھا۔ سیف الدین کا ایک بھتیجا‪ ،عزالدین فرخ شاہ
‫سلطان ایوبی کی فوج میں ساالر تھا۔ یہ عجیب جنگ تھی اور عجیب دشمنی کہ بھتیجا چچا کے خالف لڑ رہا تھا۔ اس کے
‫عالوہ اور بھی کئی ایک فوجی تھے جو اپنے خون کے رشتوں کے خالف لڑ رہے تھے۔ سلطان ایوبی نے سیف الدین کی یہ
‫خیمہ گاہ دیکھی تو اس نے اس کے بھتیجے عزالدین کو بالیا اور مسکرا کر کہا…… ''اپنے چچا کی جائیداد کے وارث تم ہو‪،
‫میں اس کا خیمہ تمہیں پیش کرتا ہوں۔ یہ سمیٹ لو''۔
‫سلطان ایوبی نے مسکرا کر اسے خیمہ پیش کیا تھا مگر عزالدین کے آنسو نکل آئے۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں
‫میں اس واقعہ کا ذکر جذباتی انداز میں کیا ہے۔ اس کے مطابق‪ ،سلطان ایوبی نے عزالدین کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر
‫کہا…… '' عزالدین! تمہارے جذبات کو میں اچھی طرح سمجھتا ہوں‪ ،لیکن قرآن کا حکم مانو۔ اگر میرا بیٹا شرک کا اور جہاد
‫کے راستے میں فسق وفجور کا مرتکب ہوگا تو میری تلوار اس کا سرقلم کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ تم اپنے شکست خوردہ
‫چچا کا خیمہ دیکھ کر آنکھوں میں آنسو لے آئے ہو‪ ،میں اپنے شکست خوردہ بیٹے کا کٹا ہوا سر دیکھ کر بھی آنسو نہیں
‫بہائوں گا''۔
‫سلطان ایوبی نے اس مقام سے ذرا آگے جاکر لمبے عرصے کے لیے پڑائو ڈال دیا۔ یہ پہاڑی عالقہ تھا۔ اس کا نام ''کو ِہ
‫سلطان'' مشہور ہوگیا۔ تاریخ میں بھی کو ِہ سلطان آیا ہے۔ وہاں سے حلب پندرہ میل دور تھا۔ حلب کے متعلق پہلے تفصیل
‫سے سنایا جاچکا ہے۔ الملک الصالح نے اس شہر کو اپنا دارالحکومت اور مستقر بنا لیا تھا اور اب یہ متحدہ افواج کا ہیڈکوارٹر
‫بن گیا تھا۔ یہ بھی سنایا جاچکا ہے کہ اس شہر کا دفاع اتنا مضبوط اور یہاں کے لوگ (جو سب مسلمان تھے) اتنے دلیر
‫اور جنگجو تھے کہ سلطان ایوبی کا محاصرہ ناکام ہوگیا تھا۔ اب سلطان ایوبی ایک بار پھر اس اہم شہر کو محاصرے میں لینا
‫اور اس پر قبضہ کرنا چاہتا تھا لیکن اب کے وہ اپنا اڈا مضبوط کرکے آگے بڑھنے کی سکیم بنا رہا تھا۔
‫راستے میں دو قلعے تھے۔ ایک کا نام منبج اور دوسرے کا بوزا تھا۔ بعض تاریخوں میں منبج کو ممبس بھی لکھا گیا ہے۔ ان
‫دونوں قلعوں کے امراء خودمختار مسلمان تھے۔ ایسے کئی اور قلعے اور کئی جاگیریں تھیں جن پر مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔
‫اس طرح سلطنت اسالمیہ قلعہ‪ ،جاگیروں اور ریاستوں میں بنی ہوئی تھی۔ سلطان ایوبی بکھرے ہوئے ان ذروں کو یکجا کر کے
‫ایک سلطنت بنانا اور اسے ایک خالفت کے تحت النا چاہتا تھا۔ دشواری یہ تھی کہ یہ امراء اور جاگیردار اپنی الگ الگ
‫حیثیت قائم رکھنے کے لیے خواہش مند تھے۔ وہ اپنی بقاء کے لیے صلیبیوں تک سے مدد لے لیاکرتے تھے۔
‫سلطان ایوبی نے ایک پیغام بوزا کے امیر کے نام لکھا اور دوسرا منبج کے امیر کے نام۔ بوزا کو عزالدین کو روانہ کیا اور ‪:
‫منبج کو سیف الدین کے مشیر فخرالدین کو۔ فخرالدین جنگی قیدی تھا لیکن سلطان ایوبی نے عزت واحترام سے اس کا دل
‫جیت لیا تھا اور فخرالدین نے سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کرلی تھی۔ سلطان ایوبی نے جب اسے اپنا خاص ایلچی بنا کر
‫منبج جانے کو کہا اور اسے یہ اختیارات بھی دئیے کہ وہ اس کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ قلعہ حاصل کرنے کی بات چیت
‫کرے تو فخرالدین نے اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔
‫کیا آپ مسلمان نہیں ہیں؟''… …سلطان ایوبی نے اسے کہا…… ''آپ نے مجھے یوں حیرت سے دیکھا ہے‪ ،جیسے میں ''
‫کسی کافر کو اپنا ایلچی اور نمائندہ بنا کر بھیج رہا ہوں۔ کیا آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں یا اپنے ایمان پر اعتماد نہیں؟……
‫میں منبج کا قلعہ لینا چاہتا ہوں۔ آپ اس کے امیر کو میرا پیغام پہنچا دیں اور اسے قائل کریں کہ خون خرابے کے بغیر قلعہ
‫ہمیں دے دے اور اپنی فوج ہماری فوج میں شامل کردے''۔
‫عزالدین اور فخرالدین روانہ ہوگئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫بوزا کے امیر نے عزالدین کا استقبال تپاک سے کیا۔ سلطان ایوبی کا پیغام پڑھا۔ اس میں لکھا تھا…… ''میرے عزیز بھائی!
‫ہم ایک خدا اور ایک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک قرآن کے پرستار ہیں مگر ہم سب اس طرح بکھر گئے ہیں
‫جس طرح ایک جسم کے اعضاریگزار کی ریت پر بکھرے پڑے ہوں۔ کیا یہ جسم حرکت کرسکتا ہے؟ کسی کام آسکتا ہے؟ اس
‫جسم کا فائدہ صلیبیوں کو پہنچ رہا ہے جو کٹے ہوئے اعضا کو گدھوں کی طرح کھا رہے ہیں۔ ہمیں ایک امت کی صورت متحد
‫ہونا ہے‪ ،ورنہ ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکے گا۔ میں آپ کو ایک امت کی صورت میں متحد ہونے کی دعوت
‫دیتا ہوں۔ اپنی موجودہ حیثیت پر غور کریں۔ آپ اپنی امارات کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے دشمن کے آگے بھی ہاتھ پھیال
‫دیتے ہیں۔ میں آپ تک قرآن کا فرمان پہنچا رہا ہوں۔ اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ پہلی ضرورت
‫یہ ہے کہ اپنا قلعہ سلطنت اسالمیہ کی ملکیت میں دے دیں اور میری اطاعت قبول کرلیں۔ اس صورت میں آپ کی فوج
‫میری فوج میں مدغم ہوجائے گی۔ آپ قلعہ دار ہوں گے اور قلعے پر سلطنت اسالمیہ کا جھنڈا لہرائے گا۔ اگر آپ کو یہ
‫صورت قبول نہ ہو تو میری فوج کے محاصرے میں لڑنے کی تیاری کرلیں اور اپنے سامنے حلب‪ ،موصل اور حرن کی متحدہ
‫فوج کی بربادی اور پسپائی رکھیں‪ ،آپ کو فیصلہ کرنے میں سہولت ہوگی۔
20:44
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪108لڑکی نے اپنی الش دیکھی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫آپ کو فیصلہ کرنے میں سہولت ہوگی۔ میری پیش کش قبول کرلیں اور مجھ سے بہتر سلوک کی توقع رکھیں۔ میری آپ کے
‫ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ میں جو کچھ کررہا ہوں‪ ،احکام خداوندی کے تحت کررہا ہوں''۔
‫بوزا کے امیر نے یہ پیغام پڑھا تو عزالدین کی طرف دیکھا۔ عزالدین نے کہا…… ''آپ کا قلعہ مضبوط نہیں اور آپ کی فوج
‫بہت تھوڑی ہے۔ اس فوج کو ہمارے ہاتھوں نہ مروائیں''۔
‫بوزا کے امیر نے پیشکش قبول کرلی اور سلطان ایوبی کے نام تحریری پیغام دیا کہ وہ آئے اور قلعہ لے لے۔
‫منبج کے امیر نے بھی اطاعت قبول کرلی۔ فخرالدین نے اس سے پیغام لکھوا لیا اور واپس چال گیا۔
‫ونوں قلعوں میں گیا۔ وہاں جو فوجیں تھیں‪ ،انہیں قلعے سے نکال کر اپنی فوج میں شامل کرلیا اور ‪ aسلطان ایوبی خود د
‫اپنے دستے قلعوں میں بھیج دئیے۔ دونوں قلعوں میں اس نے رسد وغیرہ رکھ دی لیکن فوج کو قلعہ بند نہ کیا۔ حلب کے
‫قریب اعزاز نام کا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ اس قلعے کے دفاعی انتظامات حلب والوں نے اپنے ذمہ لے رکھے تھے۔ اس کے
‫قلعہ دار یا امیر نے اپنی وفاداری حلب یعنی الملک الصالح کو دے رکھی تھی۔ سلطان ایوبی حلب کا محاصرہ کرنے پہلے اس

‫قلعے کو بھی لڑے بغیر لینا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے ایک ساالر الحمیری کو تحریری پیغام کے ساتھ اعزاز کو روانہ کیا۔
‫اعزاز کے امیر نے سلطان ایوبی کا پیغام پڑھا۔ اس پیغام کے بھی الفاظ وہی تھے جو بوزا اور منبج کے امراء کو لکھے گئے
‫تھے۔ اعزاز کے امیر نے پیغام الحمیری کی طرف پھینک کر کہا…… ''تمہارا سلطان خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
‫کے نام پر ساری دنیا کا بادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اسے کہنا کہ تم نے حلب کا محاصرہ کرکے دیکھ لیا تھا۔ اب
‫اعزاز کا محاصرہ کرکے دیکھو''۔
‫کیا آپ مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا خون بہانا پسند کریں گے؟''…… الحمیری نے کہا…… ''کیا آپ پسند کریں گے کہ ''
‫''ہم آپس میں لڑیں اور صلیبی ہمارا تماشاہ دیکھیں؟
‫اپنے سلطان سے کہو کہ جاکر صلیبیوں سے لڑے''…… اعزاز کے امیر نے کہا۔''
‫''کیا آپ صلیبیوں سے نہیں لڑیں گے؟''…… الحمیری نے پوچھا…… ''کیا آ پ انہیں اپنا دشمن نہیں سمجھتے؟''
‫اس وقت ہم سلطان صالح الدین ایوبی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں جس نے ہمیں للکارا ہے''…… امیر نے کہا…… ''وہ ہم''
‫سے یہ قلعہ بزور شمشیر لینا چاہتا ہے''۔
‫الحمیری اسے قائل نہ کرسکا۔ اس نے الحمیری کی ذرہ بھر عزت نہ کی اور اسے چلے جانے کو کہا۔
‫عصیات کے قلعے میں صلیبی گمشتگین کے پاس بیٹھا تھا۔ تھیریسیا اور لزا بھی اس کے ساتھ تھیں۔ گمشتگین اور صلیبی کی
‫پہلے سے جان پہچان تھی…… صلیبی نے کہا…… ''سنا ہے آپ صالح الدین ایوبی کو قتل کراتے کراتے سیف الدین کے قتل
‫کا ارادہ کربیٹھے ہیں''۔
‫کیا آپ نے سنا نہیں کہ سیف الدین نے کیسی بزدلی اور جنگی نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے؟''…… گمشتگین نے کہا…… ''یہ''
‫لڑکیاں بتاتی ہیں کہ اس نے ہماری تینوں فوجوں کا ایسا برا حال کرالیا ہے کہ اب ہم بڑے لمبے عرصے کے لیے لڑنے کے
‫قابل نہیں رہے۔ میں بکھری ہوئی فوجوں کو اکٹھا کرکے ایوبی کو حلب سے دور روکنا چاہتا ہوں اگر سیف الدین زندہ رہا تو
‫وہ خفت مٹانے کے لیے ایک بار پھر کمان لینے کی ضد کرے گا اور ہمیں ایک اور شکست ہوگی۔ کیوں نہ اسے ٹھکانے لگا
‫دیا جائے''۔
‫سیف الدین اتنی اہم شخصیت نہیں‪ ،جتنا آپ سمجھ رہے ہیں''…… صلیبی نے کہا…… ''جو ہم جانتے ہیں‪ ،وہ آپ نہیں ''
‫جانتے۔ ہم آپ کے ہر ایک دوست اور ہر ایک دشمن کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں‪ ،اسی لیے ہم نے آپ کو اپنے مشیر اور
‫اپنے جاسوس دے رکھے ہیں۔ میں جو ایوبی کے عالقوں میں بھیس بدل بدل کر اور اپنے آپ کو خطروں میں ڈال کر مارا مارا
‫پھر رہا ہوں‪ ،وہ صرف آپ کی بقا اور آپ کی ریاست کی توسیع کے لیے ہے۔ میں جو حاالت دیکھ آیا ہوں‪ ،ان کا تقاضا
‫صرف یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی کو قتل کیا جائے۔ نورالدین زنگی مرگیا تو آپ سب آزاد ہوگئے۔ آپ قلعہ دار سے
‫خودمختار حکمران بن گئے۔ ایوبی مرگیا تو آپ اس سے دگنے عالقے کے حکمران بن جائیں گے جو آپ کے پاس ہے۔ جنگ
‫وجدل کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل جائے گا۔ میں تریپولی جارہا ہوں۔ آپ کی فوج نے گھوڑوں اور اونٹوں کا جو نقصان اٹھایا
‫ہے‪ ،وہ میں بہت جلدی پورا کردوں گا۔ ہتھیار بھی بھجوائوں گا۔ ہمت نہ ہاریں۔ ایوبی مرگیا تو ہم آپ کو اتنی مدد دیں گے
‫کہ آپ سیف الدین‪ ،الملک الصالح اور دوسرے تمام خودمختار امراء پر چھا جائیں گے اور آپ کو وہی حیثیت حاصل ہوجائے
‫گی جو آج صالح الدین ایوبی کو حاصل ہے''۔
‫اقتدار کی ہوس اور عیش پرستی نے گمشتگین کی عقل پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ اس کی عقل میں اتنی سی بات نہیں آرہی
‫تھی کہ یہ صلیبی اپنی قوم کا نمائندہ ہے
‫اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اور کررہا ہے‪ ،وہ اپنے قومی مقاصد کی خاطر کہہ اور کررہا ہے۔ یہ بہت بڑاجاسوس اور تخریب ‪:
‫کار تھا جو یہ دیکھتا پھر رہا تھا کہ سلطان ایوبی کے طوفان کو کس طرح روکا جاسکتا ہے۔ ہر میدان میں شکست کھا کر
‫صلیبیوں نے یہی طریقہ بہتر جانا تھا کہ سلطان ایوبی کو قتل کرادیا جائے اور مسلمان حکمرانوں کو ایک دوسرے کا بھی
‫دوست نہ رہنے دیا جائے‪ ،تاکہ سلطان ایوبی کے مرنے کے بعد یہ آپس میں لڑتے لڑتے ختم ہوجائیں اور صلیبیوں کو جنگ
‫وجدل کے بعد دنیائے عرب کی حکمرانی مل جائے۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لیے انہوں نے مسلمان امراء کے دماغوں میں
‫زرپرستی اور بادشاہی کا کیڑا ڈال دیا تھا۔
‫صالح الدین ایوبی کے قتل سے تو شیخ سنان بھی دست بردار ہوگیا ہے''…… گمشتگین نے کہا…… ''وہ کہتا ہے کہ اس ''
‫نے چار اور فدائی بھیج رکھے ہیں لیکن وہ پرامید نظر نہیں آتا''۔
‫اتنے زیادہ قاتالنہ حملے ناکام ہونے کے بعد سنان کو ایوبی کے قتل سے دستبردار ہی ہوجانا چاہیے''…… صلیبی نے کہا……''
‫''ان حملوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فدائی حشیش کے نشے میں جاتے ہیں۔ ایوبی کو صرف وہ آدمی
‫قتل کرسکتا ہے جو ہوش میں ہو اور دل کی گہرائیوں سے محسوس کرے کہ اسے صالح الدین ایوبی کو اپنے ذاتی یا قومی
‫جذبے سے قتل کرنا ہے۔ آپ شاید انسانی فطرت کو نہیں سمجھتے۔ ایوبی پر جو قاتالنہ حملہ کرنے جاتا ہے‪ ،اس پر نشے کا
‫اثر ہوتا ہے۔ جوں ہی آگے سے مزاحمت ہوتی ہے نشہ اتر جاتا ہے اور حملہ آور اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس
‫کے بجائے آپ کسی کو جذبات سے اندھا کرکے اور اس کے دل میں ایوبی کی نفرت پیدا کرکے اس کے قتل کے لیے بھیجیں
‫تو وہ اسے قتل کرکے ہی رہے گا''۔
‫شیخ سنان نے مجھے صالح الدین ایوبی کے چار چھاپہ مار دئیے ہیں''…… گمشتگین نے کہا…… ''اور کہا ہے کہ انہیں ''
‫تیار کرکے ان سے سیف الدین کو قتل کرائوں۔ یہ چھاپہ مار سیف الدین کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہ اسے قتل
‫کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔ میں انہیں موقع فراہم کروں گا۔ سیف الدین کو موت کے جال میں النا میرا کام ہے''۔
‫کیوں نہ انہی کو صالح الدین ایوبی کے قتل کے لیے تیار کیا جائے؟''…… صلیبی نے کہا…… ''لیکن انہیں حشیش یا کوئی''
‫اور نشہ نہ دیا جائے‪ ،ان پر جذباتیت کا نشہ طاری کیا جاسکتا ہے''۔
‫صلیبی نے تھیریسیا اور لزا کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔لزا نے کہا…… ''میں چھاپہ ماروں کے کمانڈر کو تیار کرسکتی ہوں جس
‫کا نام الناصر ہے۔ باقی تین کو آپ سنبھالیں''۔
‫تم الناصر کو سنبھالو''…… صلیبی نے کہا…… ''دوسروں کو ابھی ان کے حال پر چھوڑ دو جہاں تک میں انسانی فطرت کو''
‫سمجھتا ہوں‪ ،الناصر خود ہی اپنے ساتھیوں کو سنبھال لے گا''…… اس نے پوچھا…… ''وہ ہیں کہاں؟ انہیں اس جگہ لے آئو۔
‫الناصر کو الگ کمرہ دو اور اس کے ساتھیوں کو الگ کمرے میں رکھو…… اور تم سب محتاط رہنا۔ سنان نے اس لڑکی پر نظر
‫رکھی ہوئی ہے۔ یہ لڑکی اسے اتنی پسند آئی ہے کہ اس سے جدا نہیں ہونا چاہتا۔ اس نے مجھے دھمکی دی ہے کہ یہ
‫لڑکی ( لزا) اس کے حوالے کردوں ورنہ میں اس کا مہمان نہیں قیدی ہوں گا۔ اس نے مجھے سوچنے کی مہلت دی ہے''۔

‫اس کے متعلق آپ پریشان نہ ہوں''…… گمشتگین نے کہا…… ''میں ان چار چھاپہ ماروں کو اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔'' ‪:
‫آپ بھی اور یہ لڑکیاں بھی میرے ساتھ چلیں گی''۔
‫٭ ٭ ٭
‫الناصر اور اس کے تینوں ساتھیوں کو ان کمروں میں سے ایک میں لے گئے جو صلیبی فوج کے افسروں کے لیے مخصوص تھا۔
‫الناصر کو الگ کمرہ دیا گیا جو اس نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کردیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے جدا نہیں ہوگا۔ اسے
‫تھیریسیا اور لزا اپنے جال میں پھانسنے کے لیے الگ رکھنا چاہتی تھیں۔
‫تم ان کے کمانڈر ہو''…… صلیبی نے اسے کہا…… ''تمہیں اپنے ماتحتوں سے الگ رہنا چاہیے''۔''
‫ہمارے ہاں اونچ نیچ کا رواج نہیں''…… الناصر نے کہا…… ''ہمارا سلطان اپنی فوج کے ساتھ رہتا ہے۔ میں معمولی سا ''
‫کمان دار ہوں‪ ،اپنے ساتھیوں سے الگ رہ کر تکبر کا گناہ نہیں کروں گا''۔
‫ہم تمہاری تعظیم کرنا چاہتے ہیں''…… صلیبی نے کہا…… ''اپنے ہاں جاکر جو جی میں آئے کرنا۔ یہاں تمہیں تمہارے ''
‫ماتحتوں کے ساتھ رکھ کر ہم تمہاری توہین نہیں کرنا چاہتے''۔
‫ہمارے چھاپہ مار کمان دار اپنے سپاہیوں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں اور ان کے ساتھ مرتے ہیں''…… الناصر نے کہا…… ''ہم''
‫موت کی منزل کے ہم سفر ہیں۔ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوا کرتے اگر ہم آپ کے مہمان ہوتے تو شاید میں آپ کی بات
‫مان جاتا۔ ہم آپ کے قیدی ہیں۔ ہماری قسمت ایک ہے جو اذیت اور صعوبت ایک کو ملے گی‪ ،اس سے ہم سب حصہ وصول
‫کریں گے۔ ایک ساتھی کو زندہ رکھنے کے لیے ہم تین ساتھی اپنی جانیں قربان کردیں گے''۔
‫کیا تم ہماری قید سے فرار ہونے کی کوشش کروگے؟''…… گمشتگین نے مسکرا کر پوچھا۔''
‫ہم آزاد ہونے کی کوشش ضرور کریں گے۔ یہ ہمارے فرائض میں شامل ہے''…… الناصر نے کہا…… ''مرکر آزاد ہوجائیں یا تم''
‫سب کو مار کر۔ ہمیں قید میں رکھنا ہے تو ہمیں زنجیریں ڈال دو‪ ،دھوکے نہ دو۔ ہم میدان کے مرد ہیں۔ ہم سیف الدین اور
‫گمشتگین جیسے ایمان فروش نہیں ہیں''۔
‫میں گمشتگین ہوں''…… گمشتگین نے کہا…… ''حرن کا خودمختار حکمران۔ تم نے مجھے ایمان فروش کہا ہے''۔''
‫میں آپ کو ایک بار پھر ایمان فروش کہتا ہوں''۔ الناصر نے کہا…… ''میں آپ کو غدار بھی کہتا ہوں''۔''
‫لیکن اب میں ایمان فروش ہوں نہ غدار''…… گمشتگین نے الناصر کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ بوال…… ''دیکھ لو‪ ،جنگ''
‫ترکمان میں لڑی جارہی ہے اور میں یہاں ہوں۔ اگر میں تمہارا دشمن ہوتا تو تمہیں اس طرح آزاد نہ رہنے دیتا جس طرح اب
‫ہو۔ سیف الدین اور الصالح سے الگ ہوچکا ہوں۔ تمہیں عزت اور تعظیم سے اس قلعے سے لے جارہا ہوں اور عزت سے
‫رخصت کروں گا۔ تم ہوتو معمولی سے کمان دار لیکن تمہارے سینے میں صالح الدین ایوبی کی عظمت اور جذبہ ہے''۔
‫لیکن میں اپنے ساتھیوں سے الگ نہیں رہوں گا''…… الناصر نے کہا…… ''مجھ سے یہ گناہ نہ کرائیں''۔''
‫نہ سہی''…… صلیبی نے کہا…… ''اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہو''۔''
‫اس وقت اس کے ساتھی ایک کشادہ اور خوش نما کمرے میں تھے جہاں نرم وگداز بستر بچھے ہوئے تھے۔ وہاں ایک خادم
‫بھی تھا جس سے ان تینوں نے پوچھا تھا کہ یہ قلعے کا کون سا حصہ ہے اور یہاں کیا ہوتا ہے۔ خادم نے انہیں بتایا کہ یہ
‫مہمانوں کے کمرے ہیں۔ یہاں صرف وہ مہمان رکھے جاتے ہیں جو اونچے رتبے کے باعزت لوگ ہوتے ہیں۔ یہ تینوں چھاپہ مار
‫دیکھ رہے تھے کہ ان کے ساتھ قیدیوں واال سلوک نہیں ہورہا۔ وہ بہت تھکے ہوئے تھے۔ ایسے نرم بستروں پر انہیں فورا ً نیند
‫آگئی اور وہ گہری نیند سوگئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبی اور گمشتگین نے الناصر کو بہت دیر اپنے ساتھ رکھا‪ ،اس کے ساتھ عزت سے پیش آتے ہوئے ایسی باتیں کرتے رہے
‫جن سے الناصر کے جذبے کی تیزی اور تندی کچھ کم ہوگئی۔ یہ ان دونوں کی کامیابی کا پہالقدم تھا۔ لزا اس کمرے سے
‫نکل گئی تھی۔ الناصر اس وقت اس کمرے سے نکال جب اس کے ساتھی گہری نیند سوگئے تھے۔ وہ برآمدے میں جارہا تھا۔
‫ایک نسوانی آواز نے اسے سرگوشی میں پکارا۔ وہاں اندھیرا تھا۔ وہ رک گیا۔ ایک تاریک سایہ آگے آیا۔ یہ لزا تھی جس نے
‫''الناصر کا بازو پکڑ کر کہا…… ''اب تمہیں یقین آگیا ہے کہ میں جن نہیں انسان ہوں؟
‫مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیا ہورہا ہے''…… الناصر نے جھنجھالہٹ سے کہا…… ''میں قیدی ہوں اور میری یوں''
‫عزت کی جارہی ہے‪ ،جیسے میں شہزادہ ہوں''۔
‫تمہاری حیرت بجا ہے''…… لزا نے کہا…… ''ذرا سمجھنے کی کوشش کرو‪ ،گمشتگین نے تمہیں بتا دیا ہے کہ اس نے ''
‫صالح الدین ایوبی کی دشمنی ترک کردی ہے۔ اب وہ ایوبی کے کسی فوجی کو جنگی قیدی نہیں سمجھتا۔ تم اور تمہارے
‫ساتھی خوش قسمت ہیں کہ تم یہاں آئے ہو اور گمشتگین یہاں تھا۔ دوسری وجہ میری ذات ہے۔ تم میری حیثیت اور رتبے کو
‫اعلی حکام کی تفریح کا ذریعہ بنتی ہوں۔ یہ سب غلط
‫نہیں جانتے۔ میں تمہاری نظر میں بدکار لڑکی ہوں جو حکمرانوں اور
‫ٰ
‫ہے اور تمہارا وہم ہے''۔
‫قلعے کا یہ حصہ خوش نما تھا۔ کھال میدان تھا جس کے وسط میں چٹانیں تھیں۔ ان کے اردگرد سبزہ تھا۔ سبزے میں پھول
‫دار پودے اور درخت تھے۔ قلعہ بہت وسیع وعریض تھا۔ لزا الناصر کو باتوں میں الجھا کر کمروں سے دور چٹان کے دامن میں
‫لے گئی‪ ،جہاں پھولوں کی مہک تھی۔ وہ جب ادھر جارہے تھے‪ ،اس وقت صلیبی اور تھیریسیا ایک دیوار کے ساتھ کھڑے
‫چھپ کر دیکھ رہے تھے۔
‫لزاا سے قابو میں لے لے گی''…… صلیبی نے کہا۔''
‫لڑکی جذباتی ہے''… تھیریسیا نے کہا…… ''اپنے فرائض سے گھبرا کر اسی کے پاس جا بیٹھی تھی۔ اتنی کچی بھی ''
‫نہیں''۔
‫اس عمر میں اسے باہر کی ڈیوٹی پر نہیں بھیجنا چاہیے تھا''…… صلیبی نے کہا…… ''ہم ساتھ ہیں کوئی گڑبڑ نہیں کرے''
‫گی''۔
‫لزا الناصر سے کہہ رہی تھی…… ''تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں تم پر اتنی مہربان کیوں ہوگئی ہوں۔ تم نے مجھے اپنا
‫دشمن سمجھ کر یہ بات پوچھی تھی۔ میں تمہیں یقین نہیں دال سکتی کہ دشمنی تمہارے اور میرے بادشاہوں کے درمیان ہے۔
‫''میری اور تمہاری کیا دشمنی ہوسکتی ہے؟
‫اور دوستی بھی کیا ہوسکتی ہے؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
‫لزا نے گہری آہ بھری بازو الناصر کے کندھوں پر رکھ کر کہا…… ''تم پتھر ہو۔ میں نے سنا تھا کہ مسلمانوں کے دل ریشم

‫کی طرح نرم ہوتے ہیں۔ مذہب کو ذرا دیر کے لیے الگ رکھ دو۔ اپنے آپ کو مسلمان اور مجھے عیسائی نہ سمجھو۔ ہم
‫دونوں انسان ہیں۔ ہمارے سینوں میں دل ہیں۔ کیا تمہارے دل میں کوئی خواہش‪ ،کوئی پسند اور کسی چیز سے پیار نہیں ہے؟
‫ہے اور ضرور ہے۔ تم مرد ہو۔ تم اپنے دل پر قابو پاسکتے ہو۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں۔ میرا دل بے قابوہوگیا ہے۔ تم میرے
‫دل میں اتر گئے ہو۔ ہم تمہیں نشے کی حالت میں قلعے میں الئیں تو شیخ سنان نے حکم دے دیا کہ ان چاروں کو تہہ
‫خانے میں بند کردو۔ اگر تمہیں وہاں لے جاتے تو وہاں سے الش بن کر نکلتے۔ میں تم جیسے خوبصورت جوان کا یہ انجام
‫برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ میں نے شیخ سنان سے کہا کہ یہ تمہارے نہیں ہمارے قیدی ہیں اور یہ تحویل میں رہیں گے۔
‫اس بوڑھے کے ساتھ مجھے اور تھیریسیا کو بہت دیر جھک جھک کرنی پڑی۔ اس نے ایک شرط بتائی‪ ،کہنے لگا…… ''تم
‫انہیں تہہ خانے سے بچانا چاہتی ہو تو میری خواب گاہ میں آجائو''…… میرے دل میں اس بوڑھے کے خالف نفرت پیدا
‫ہوگئی۔ میں نے پس وپیش کی تو اس نے کہا…… ''یہ چاروں تہہ خانے میں جائیں گے یا تم میری خواب گاہ میں
‫آئوگی''…… مجھے بڑی شدت سے محسوس ہوا کہ میں تمہیں آج سے نہیں‪ ،بچپن سے چاہتی ہوں اور میں تمہاری خاطر اپنا
‫جسم‪ ،اپنی جان اور اپنی آبرو قربان کردینے کی ہمت رکھتی ہوں''۔
‫کیا تم نے اپنی آبرو قربان کردی ہے؟''…… الناصر نے تڑپ کر پوچھا۔''
‫نہیں''…… لزا نے کہا…… ''میں نے اسے وعدے پر ٹاال ہے۔ اس نے مجھے یہ کہہ کر مہلت دے دی ہے کہ ہم قلعے میں
‫آزاد رہیں گے لیکن ہم اس کے قیدی ہوں گے''۔
‫میں تمہاری آبرو کی حفاظت کروں گا''…… الناصر نے کہا۔''
‫کیا تم نے میری محبت کو قبول کرلیاہے؟''…… لزا نے بھولے بھالے لہجے میں پوچھا۔''
‫الناصر نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہ تو اسے ٹریننگ میں بتایا گیا تھا کہ صلیبی لڑکیاں حسن وجوانی اور حسین فریب کا جال
‫کس طرح بچھایا کرتی ہیں لیکن یہ زبانی ہدایات تھیں جن کی حیثیت وعظ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں تھی۔ اسے ایسے
‫جال سے بچنے کی عملی ٹریننگ نہیں دی گئی تھی‪ ،نہ دی جاسکتی تھی۔ اب ایک صلیبی لڑکی نے جال بچھایا تو انسانی
‫فطرت کی کمزوریاں الناصر کی ذات سے ابھر آئیں اور اس کی عقل ودانش پر غالب آنے لگیں۔ وہ ریگزاروں اور بیابانوں میں
‫موت کے ساتھ کھیلنے واال انسان تھا۔ اس کے احساسات ریت میں دبے رہتے تھے۔ اس نے لزا جیسی دلکش لڑکی کبھی نہیں
‫دیکھی تھی۔ جہاں تک دیکھنے کا تعلق تھا‪ ،لزا کے حسن اور طلسماتی اثر والے جسم نے اس پر کچھ اثر نہیں کیا تھا مگر
‫اب لزا کے کھلے بکھرے ہوئے ریشم جیسے مالئم بال اس کے ایک گال سے کبھی اس کے بازو سے مس کرجاتے تھے۔ اس
‫کے وجود میں لہر سی دوڑ جاتی اور وہ ہر بار اپنے جسم کے اندر لرزہ سا محسوس کرتا تھا۔
‫کئی بار ایسے ہوا تھا کہ دشمن کے تیر اس کے جسم کو چھوتے ہوئے گزر گئے تھے۔برچھیوں کی انیوں نے اس کی کھال چیر
‫دی تھی۔ وہ کبھی ڈرا نہیں تھا۔ جسم کو چھو کر گزرتے تیروں اور برچھیوں نے اس کے جسم پر ایک ثانیے کے لیے بھی
‫لرزہ طاری نہیں کیا تھا۔ موت کئی بار اس کے ساتھ لگ کر گزر گئی تھی۔ اس کے احساسات میں ذرا سی بھی ہلچل پیدا
‫نہیں ہوئی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں لگائی ہوئی آگ کے شعلوں میں سے بھی گزرا تھا مگر کمزور سی ایک لڑکی کے بالوں کے
‫لمس سے اس کے وجود میں بھونچال آگیا۔ اس نے اس لمس سے بچنے کی ویسی کوشش نہ کی جیسی وہ تیروں اور
‫برچھیوںسے بچنے کے لیے کیا کرتا تھا اور جب لزا اس کے اور زیادہ قریب ہوگئی تو الناصر نے کہا
‫ہاں!''…… الناصر نے مخمور آواز میں کہا…… ''میں نے تمہاری محبت کو قبول کرلیا ہے لیکن اس کا انجام کیا ہوگا؟ کیا''
‫''تم مجھے یہ کہو گی کہ میں تمہارے ساتھ چلوں؟ اپنا مذہب چھوڑ دوں اور تم میرے ساتھ شادی کرلوگی؟
‫میں نے ایسی کوئی بات نہیں سوچی''…… لزا نے کہا…… ''اگر تم نے میرا ساتھ دینے کا ارادہ کرلیا ہے اور تم ہمیشہ ''
‫کے لیے مجھے اپنی رفیقہ بنانا چاہتے ہو تو میں اپنا مذہب چھوڑ دوں گی۔ تم مجھ سے قربانی مانگو لیکن مجھے وہ محبت
‫دو جو ناپاک نہ ہو۔ عارضی محبت تو میں جہاں سے چاہوں حاصل کرسکتی ہوں۔ تمہیں میری روح نے چاہا ہے''۔
‫الناصر پر طلسم طاری ہوچکاتھا۔ رات آدھی سے زیادہ گزر گئی تھی۔ الناصروہاں سے اٹھنا نہیں چاہتا تھا۔ لزا نے اسے کہا کہ
‫وہ اپنے کمرے میں چال جائے۔ پکڑے جانے کی صورت میں انجام اچھا نہیں ہوگا۔
‫٭ ٭ ٭
‫الناصر کمرے میں داخل ہوا تو اس کے ساتھی گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ وہ لیٹ گیا لیکن اسے نیند نہ آئی۔ لزا اپنے
‫کمرے میں داخل ہوئی تو تھیریسیا کی آنکھ کھل گئی۔
‫اتنی دیر؟''…… تھیریسیا نے کہا۔''
‫تو کیا پتھر ایک پھونک سے موم ہوجایا کرتے ہیں؟''…… لزا نے کہا۔''
‫اظہار ‪:
‫ایک دو نئے طریقے بتائے اور دونوں سوگئیں۔ الناصر ابھی تک جاگ رہا تھا۔ تنہائی میں اس نے لزا کی باتوں اور
‫ِ
‫محبت پر غور کیا تو اس کا ذہن تقسیم ہوگیا۔ اسے اپنی ٹریننگ یاد آئی جس میں اسے صلیبی لڑکیوں کے جادو بھرے
‫جھانسوں کے متعلق بتایا گیا تھا۔ لزا اسے حسین فریب نظر آنے لگا لیکن اس کے ذہن میں یہ خیال بھی غالب آجاتا تھا کہ
‫یہ فریب نہیں۔ جہاں تک جسم اور چہرے مہرے کا تعلق تھا‪ ،الناصر میں بہت کشش اور جاذبیت تھی۔ اپنے ان اوصاف سے
‫وہ خود بھی آگاہ تھا۔ انسانی فطرت کی کمزوریاں بھی الناصر کو وہم اور وسوسوں اور خوش فہمیوں میں مبتال کررہی تھی۔ وہ
‫کسی نتیجے پر نہ پہنچا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔
‫اسے ایک آدمی نے جگایا اور کہا کہ اسے تھیریسیا نے اپنے کمرے میں بالیا ہے۔ وہ چال گیا۔ اس کمرے میں تھیریسیا اکیلی
‫تھی۔
‫بیٹھو الناصر!''…… تھیریسیا نے کہا…… ''میں تمہارے ساتھ بہت ضروری بات کرنا چاہتی ہوں''…… الناصر اس کے سامنے''
‫بیٹھ گیاتو تھیریسیا نے کہا …… ''میں تم سے یہ نہیں پوچھوں گی کہ رات لزا تمہیں باہر لے گئی یا تم اسے لے گئے تھے۔
‫میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ یہ لڑکی بہت بھولی اور معصوم ہے۔ میں جانتی ہوں کہ وہ تمہیں پسند کرتی ہے لیکن میں اسے
‫اور تمہیں اجازت نہیں دے سکتی کہ اس طرح رات رات بھر باہر بیٹھے رہو۔ لزا کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کرو''۔
‫میں نے ایسی کوشش نہیں کی''…… الناصر نے کہا…… ''ہم دونوں باتیں کرتے کرتے ذرا دور نکل گئے تھے''۔''
‫میں لزا کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ تمہاری محبت میں ایسی پاگل نہ بنے کہ اسے کسی کا ہوش ہی نہ رہے''…… ''
‫تھیریسیا نے کہا… ''میں تم سے امید رکھوں گی کہ اس کی کم عمری اور جذباتیت سے فائدہ نہ اٹھائو''۔
‫لزا تمہاری طرح شہزادی ہے''…… الناصر نے کہا…… ''اور میں تمہارا قیدی ہوں‪ ،میں ایک حقیر انسان ہوں۔ لزا کا مذہب ''
‫کچھ اور ہے اور میراکچھ اور۔ شہزادی اور قیدی میں اتنی محبت نہیں ہوسکتی''۔

‫تم عورت کی فطرت سے شاید واقف نہیں''…… تھیریسیا نے کہا…… ''شہزادی اپنے قیدی کو دل دے بیٹھے تو اسے ''
‫شہزادہ سمجھ کر اپنے آپ کو اس کا قیدی بنا لیا کرتی ہے۔ محبت مذہب کی زنجیریں توڑ دیا کرتی ہے۔ میں اس کے ساتھ
‫بات کرچکی ہوں۔ وہ کہتی ہے کہ میرا جینا اور میرا مرنا الناصر کے لیے ہے۔ وہ کہے گا کہ اپنا مذہب چھوڑ دو تو میں گلے
‫سے صلیب اتار کر پھینک دوں گی۔ تم نہیں جانتے الناصر‪ ،لزا نے صرف تمہاری خاطر شیخ سنان کو ناراض کردیا ہے۔ وہ
‫تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو قید میں ڈال دینا چاہتا ہے لیکن لزا نے اس کے ساتھ دشمنی مول لے کر تمہیں اپنے ساتھ
‫رکھا ہے۔ سنان نے لزا کو جو شرط بتائی ہے وہ صرف اس لڑکی کے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے جسے کسی کی محبت نے
‫اندھا کررکھا ہو۔ اگر ہم اس قلعے سے جلدی نہ نکل سکے تو لزا یہ شرط مان لے گی''۔
‫میں ایسا نہیں ہونے دوں گا''…… الناصر نے کہا…… ''میں لزا کی آبرو کی خاطر کٹ مروں گا''۔''
‫''کیا تمہارے دل میں لزا کی اتنی ہی محبت ہے جتنی اس کے دل میں ہے؟''
‫اگر وہ لڑکی ہوکر میری محبت کا اعتراف کرتی ہے اور اس کے اظہار سے نہیں ڈرتی تو میں انکار کیوں کرو؟ میں مرد ''
‫ہوں۔ میرے دل میں لزا کی محبت ہے''۔
‫میں تم سے صرف یہ التجا کرتی ہوں کہ اسے دھوکہ نہ دینا''…… تھیریسیا نے کہا…… ''تم ہمارے قیدی نہیں ہو‪'' ،
‫گمشتگین تمہیں اپنامہمان سمجھ رہا ہے''۔
‫الناصر کا ذہن جو لزا کے متعلق دو حصوں میں بٹ گیا تھا‪ ،صاف ہوگیا۔ اس پرلزا کی محبت کا نشہ طاری ہوگیا اور وہ اسے
‫دیکھنے کے لیے بے تاب ہوگیا۔ اس نے تھیریسیا سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔ تھیریسیا نے اسے بتایا کہ وہ رات بھر جاگتی
‫رہی ہے‪ ،دوسرے کمرے میں سوئی ہوئی ہے۔ تھیریسیا کا تیر نشانے پرلگا۔ اس نے لزا کے طلسم کو الناصر کی عقل پر پوری
‫طرح طاری کردیا…… یہی اس کا مقصد تھا۔ یہ لڑکیاں انتہا درجے کی چاالک تھیں۔ یہی ان کی تربیت تھی۔ وہ انسانی
‫کمزوریوں کے ساتھ کھیلنا خوب جانتی تھیں۔ الناصر وہاں سے اٹھا تو وہ ہوا میں اڑ رہا تھا۔ اپنے کمرے میں گیا تو ساتھیوں
‫نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں گیا تھا۔ اس نے جھوٹ بوال اور انہیں تسلی دی کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ وہ اپنے فرض سے
‫پرے ہٹنے لگا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبی گمشتگین کے پاس بیٹھا ہواتھا۔ گمشتگین اسے کہہ رہا تھا کہ وہ الناصر اور اس کے ساتھیوں کو ایک دو دنوں میں
‫حرن لے جانا چاہتاہے۔ اتنے میں تھیریسیا آگئی۔ اس نے ان دونوں سے کہا…… ''ان چھاپہ ماروں کا کمانڈر ہمارے جال میں
‫آگیاہے''…… اس نے بتایا کہ کس طرح الناصر کے دل پر لزا کا قبضہ مکمل اور پختہ کردیا ہے۔ اس نے کہا…… ''اس آدمی
‫کو صالح الدین ایوبی کے قتل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ آدمی کتنے وقت میں اپنی اصلیت
‫کو بھول کر اپنے سلطان کے قتل کے لیے تیار ہوتا ہے''۔
‫میں ان چاروں کو ایک دو دنوں میں حرن لے جانا چاہتاہوں''…… گمشتگین نے کہا…… ''کیا تم دونوں یا اکیلی لزا میرے ''
‫ساتھ چلے گی اور میرے ساتھ رہے گی؟ قتل کے لیے الناصر کو لزا ہی تیار کرے گی''۔
‫میں لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے جارہا ہوں''…… صلیبی نے کہا…… ''میں زیادہ دن رک نہیں سکتا۔ مجھے اپنے حکمرانوں کو''
‫جلدی یہ اطالع دینی ہے کہ حلب‪ ،موصل اور حرن کی فوجیں بالکل بے کار ہیں اور ان فوجیوں کے ساالر سوائے بھاگنے کے
‫اور کچھ نہیں جانتے ہیں۔ میں انہیں صورت حال سے آگاہ کرکے صالح الدین ایوبی کو شکست دینے کا کوئی اور طریقہ اختیار
‫کرنے کا مشورہ دوں گا۔ ہوسکتا ہے کہ ہماری طرف سے آپ لوگوں کوجو مدد ملتی ہے‪ ،وہ بند کردی جائے''۔
‫ایسا نہ کہو''…… گمشتگین نے منت سماجت کے لہجے میں کہا…… ''مجھے ایک موقعہ دو۔ میں ایوبی کو قتل کرا دوں ''
‫گا پھر دیکھنا میں کس طرح فاتح بن کر دمشق میں داخل ہوتا ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں یا صرف لزا مجھے دے دو۔ اس نے
‫چھاپہ ماروں کے کمان دار پر قبضہ کرلیا ہے۔ وہ اسے تیار کرلے گی۔ الناصر صالح الدین ایوبی کے پاس بال روک ٹوک جاسکتا
‫ہے کیونکہ یہ اس کا چھاپہ مار ہے۔ وہ ایوبی کو آسانی سے قتل کرسکتاہے اور یہ بھی تو سوچو‪ ،لزا کو آپ لے گئے تو
‫الناصر میرے کسی کام کا نہیں رہے گا''۔
‫کچھ مباحثے کے بعد صلیبی نے کہا…… ''حرن جانے کے بجائے ہم یہیں رکے رہتے ہیں۔ یہ دونوں لڑکیاں الناصر کو تیار کرلیں
‫گی اور ہوسکتا ہے کہ اس کے تینوں ساتھیوں کو بھی تیار کیا جاسکے۔ ان کے دلوں میں صالح الدین ایوبی کی نفرت پیدا
‫کرنی ہے''۔
‫الناصر کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ بہت کچا آدمی ہے''…… تھیریسیا نے کہا…… ''لزا اس کی عقل پر قابض ہوچکی ''
‫ہے۔ وہ تین مالقاتوں کے بعد وہ لزا کے اشاروں پر ناچنے لگے گا''۔
‫آج ان چاروں کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھالئو''۔''
‫کھانے کا وقت ہوا تو الناصر اور اس کے ساتھیوں کو بھی کھانے کے کمرے میں بال لیا گیا۔ ان کے ساتھ دوستانہ بے تکلفی
‫پیدا کرلی گئی۔ کھانا ابھی رکھا نہیں گیا تھا کہ شیخ سنان کے ایک خادم نے آکر صلیبی سے کہا کہ اسے سنان نے بالیا
‫ہے۔ صلیبی چال گیا۔
‫اس لڑکی کے متعلق تم نے کیا سوچا ہے؟''…… شیخ سنان نے پوچھا۔''
‫میں جب جائوں گا تو اسے اپنے ساتھ لے جائوں گا''…… صلیبی نے جواب دیا۔''
‫تمہارے جانے تک لڑکی میرے پاس رہے گی''…… سنان نے کہا۔''
‫میں آج ہی چال جائوں گا''۔''
‫جائو''…… شیخ سنان نے کہا…… ''اور لڑکی کو یہیں چھوڑ جائو‪ ،تم اسے قلعے سے باہر نہیں لے جاسکو گے''۔''
‫سنان!''…… صلیبی نے کہا…… ''اس قلعے کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ مجھے للکارنے کی جرٔات نہ کرو''۔''
‫معلوم ہوتا ہے تمہارا دماغ ابھی ٹھکانے نہیں آیا''…… شیخ سنان نے کہا…… ''آج رات لڑکی کو تم خود میرے پاس لے ''
‫آنا‪ ،خود جائو یا رہو‪ ،اگرتم رات لڑکی کو نہ الئے تو تم تہہ خانے میں اور لڑکی میرے پاس ہوگی۔ جائو‪ ،ٹھنڈے دل سے سوچ
‫لو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبی کھانے کے کمرے میں داخل ہوا۔ سب بے تابی سے اس کا انتظار کررہے تھے۔ وہ پھنکار رہا تھا۔ کہنے لگا…… ''سنو
‫دوستو! شیخ سنان نے مجھے للکار کر کہا ہے کہ آج رات لزا اس کے پاس ہوگی۔ اس نے مجھے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ
‫لزا کو میں خود اس کے پاس لے جائوں اور اگر میں نہ لے گیا تو وہ مجھے تہہ خانے میں ڈال دے گا اور لزا کو لے جائے

‫گا''۔
‫آپ اگر تہہ خانے میں چلے گئے تو کیا ہم مرجائیں گے؟''…… الناصر نے کہا…… ''وہ لزا کو نہیں لے جاسکے گا''۔''
‫لیکن یہ لڑکی تمہاری کیا لگتی ہے الناصر؟''…… اس کے ایک ساتھی نے پوچھا۔''
‫تم اپنے آپ کو ہمارا قیدی نہ سمجھو''…… گمشتگین نے کہا…… ''یہ مصیبت ہم سب کے لیے آرہی ہے''۔''
‫تم ہمارے نہیں‪ ،شیخ سنان کے قیدی ہو''…… صلیبی نے کہا…… ''تم ہمارا ساتھ دو۔ ہم باہر جاکر تمہیں آزاد کردیں گے۔ ''
‫اب یہاں سے نکلنے کی سوچو''۔
‫مجھے شیخ سنان نے اجازت دے رکھی ہے کہ ان چاروں کو اپنے ساتھ لے جائوں''…… گمشتگین نے کہا…… ''میں انہیں ''
‫آج لے جارہا ہوں۔ جلدی جلدی کھانا کھالو۔ مجھے شام سے پہلے روانہ ہونا ہے''۔
‫گمشتگین کا دماغ بہت تیز تھا۔ اس نے کھانے کے دوران سب کو بتا دیا کہ اس نے کیا سوچا ہے۔ کھانا کھا کر اس نے اپنے
‫خادموں اور باڈی گارڈوں کو بالیا اور کہا کہ وہ فورا ً قلعے سے روانہ ہورہا ہے۔ سامان فورا ً باندھ لیا جائے۔ اسی وقت اس کا
‫قافلہ تیارہونے لگا۔ اس کے اپنے گھوڑے کے عالوہ چار گھوڑے باڈی گارڈوں کے تھے۔ چار اونٹ تھے جن پر کھانے پینے کے
‫سامان کے عالوہ خیمے الدے گئے۔ سفرلمبا تھا۔ اس لیے خیمے ساتھ رکھے گئے تھے۔ انہیں ان کے بانسوں پر لپیٹا گیا تھا۔
‫گمشتگین شیخ سنان کے پاس گیا اور اسے بتایا کہ وہ جارہا ہے اور چاروں چھاپہ ماروں کو بھی ساتھ لے جارہا ہے۔ ان کے
‫متعلق سودا طے ہوچکا تھا۔ گمشتگین نے زروجواہرات کی صورت میں قیمت ادا کردی تھی۔
‫مجھے امید ہے کہ میں نے صلیبیوں کے کہنے پر جو چار آدمی بھیج رکھے ہیں‪ ،وہ صالح الدین ایوبی کا کام تمام کرکے ''
‫ہی آئیں''…… شیخ سنان نے کہا…… ''تم سیف الدین کو ان چھاپہ ماروں سے قتل کرائو۔ تم لوگ لڑ نہیں سکتے۔ اپنے
‫''دشمنوں کو چوری چھپے قتل کرائو…… تمہارا صلیبی دوست اور اس کی پریاں کہاں ہیں؟
‫اپنے کمرے میں ہیں''…… گمشتگین نے کہا۔''
‫''اس نے چھوٹی لڑکی کے متعلق کوئی بات تو نہیں کی؟''
‫اسے کہہ رہا تھا کہ آج رات شیخ سنان کے پاس چلی جانا''…… گمشتگین نے جواب دیا…… ''وہ آپ سے بہت ڈرا ہوا ''
‫معلوم ہوتاتھا''۔
‫یہاں بڑے بڑے جابر آدمی ڈر جاتے ہیں''…… شیخ سنان نے کہا…… ''کمبخت لڑکی کو مجھ سے یوں چھپا رہا تھا جیسے''
‫وہ اس کی اپنی بیٹی ہے''۔
‫گمشتگین اس سے رخصت ہوا‪ ،اس کا قافلہ تیار کھڑا تھا۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوا۔ دو گمشتگین کے آگے ہوگئے اور دو اس کے
‫پیچھے۔ ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں۔ گھوڑوں کے پیچھے الناصر اور اس کے ساتھی اور اس کے پیچھے سامان سے لدے
‫ہوئے اونٹ تھے۔ قلعے کا دروازہ کھال۔ قافلہ باہر نکل گیا اور دروازہ بند ہوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫قافلہ قلعے سے دور ہی دور ہوتاگیا اور سورج افق کے عقب میں چھپنے لگا۔ سورج نے غروب ہوکر قافلے اور قلعے کو ‪:
‫چھپا لیا۔ قلعے میں قندیلیں اور فانوس جل اٹھے۔ شام پوری طرح تاریک ہوگئی تو شیخ سنان نے اپنے دربان سے پوچھا……
‫''وہ صلیبی لڑکی کو لے کر نہیں آیا؟''…… اسے نفی میں جواب مال۔ اس نے تین چار بار پوچھا تو بھی اسے نفی میں
‫جواب مال۔ اس نے اپنے خصوصی خادم کو بال کر کہا…… ''اس صلیبی سے جاکر کہو کہ چھوٹی لڑکی کو لے کر جلدی
‫آئے''۔
‫خادم ان کمروں میں گیا جہاں صلیبی ٹھہرا کرتے تھے‪ ،وہاں کوئی نہیں تھا۔ لڑکیاں بھی نہیں تھیں۔ تمام کمرے خالی تھے۔
‫اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ قلعے کے باغ میں گھوم پھر کر دیکھا۔ چٹان کے اردگرد گھوم کر دیکھا۔ وہاں سے بھی مایوس لوٹا
‫اور شیخ سنان سے کہا کہ صلیبی اور لڑکیاں نہیں ملیں۔ سنان نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اپنی فوج کے کمانڈر کو بال کر حکم
‫دیا کہ قلعے کے کونوں کھدروں کی تالشی لو اور صلیبی کو برآمد کرو۔ فوج میں کھلبلی مچ گئی جسے دیکھو بھاگ دوڑ رہا
‫تھا۔ قلعے میں ہر طرف قندیلیں اور مشعلیں متحرک نظر آتی تھیں۔ صلیبی کہیں سے بھی نہ مال۔ شیخ سنان نے ان آدھ
‫درجن پہرہ داروں کو بالیا جو دروازے پر ڈیوٹی پر تھے۔ ان سے پوچھا کہ گمشتگین کے قافلے کے عالوہ کس کے لیے دروازہ
‫کھوال گیاتھا۔ انہوں نے بتایا کہ حکم کے بغیر کسی کے لیے دروازہ نہیں کھوال جاتا اور گمشتگین کے عالوہ کسی اور کے لیے
‫کھوال ہی نہیں گیا۔ انہوں نے گمشتگین کے قافلے کی تفصیل بھی بتائی۔ اس قافلے کے ساتھ صلیبی اور لڑکیاں نہیں تھیں۔
‫شیخ سنان اپنے کمرے میں پھنکار رہا تھا۔ رات کا پہال پہر گزر گیا تھا۔ گمشتگین کا قافلہ چال جارہا تھا۔ اس نے اپنا گھوڑا
‫روک کر شتر بانوں سے کہا…… ''اونٹوں کو بٹھائو اور انہیں باہر نکالو‪ ،مر ہی نہ جائیں''۔
‫اونٹوں کو بٹھا کر ان پر لدے ہوئے خیمے اتارے گئے‪ ،خیمے کھولے گئے تو ان میں سے صلیبی‪ ،تھیریسیا اور لزا نکلیں۔ وہ
‫پسینے میں نہائے ہوئے تھے۔ گمشتگین انہیں خیموں میں لپیٹ کر قلعہ عصیات سے نکال الیا تھا۔ وہ قلعے سے بہت دور
‫نکل گئے تھے۔ فدائیوں سے ایسی توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی کہ وہ تعاقب میں آئیں گے۔ یہ فرقہ جنگجو نہیں تھا۔ کسی
‫کے ساتھ آمنے سامنے کی لڑائی کا خطرہ مول نہیں لیاکرتا تھا۔ پھر بھی گمشتگین نے قافلے کو قیام نہ کرنے دیا۔ لڑکیوں کو
‫اونٹوں پر سوار کردیا گیا۔ صلیبی چھاپہ ماروں کے ساتھ پیدل چل پڑا۔ اس کا گھوڑا اور لڑکیوں کے گھوڑے قلعے میں رہ گئے
‫تھے۔ صلیبی اس خطے کی زبان روانی سے بولتا تھا۔ اس نے الناصر کے ساتھ باتیں شروع کردیں۔ ان باتوں میں دوستی اور
‫پیار کا رنگ غالب تھا۔ الناصر کے دل سے خطرے نکل گئے۔ وہ تو لزاکے قریب ہوناچاہتا تھا۔
‫لزا کے قریب ہونے کا موقعہ آدھی رات کے بعد مال جب ایک جگہ قافلے کو قیام کے لیے روکا گیا۔ گمشتگین کے لیے خیمہ
‫کھڑا کردیا گیا۔
20:45
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 109لڑکی نے اپنی الش دیکھی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫گمشتگین کے لیے خیمہ کھڑا کردیا گیا۔ باقی سب کے لیے الگ الگ خیمے نصب کیے گئے۔ چھاپہ مار اور باڈی گارڈز وغیرہ
‫کھلے آسمان تلے لیٹ گئے۔ وہ بہت تھکے ہوئے تھے۔ فورا ً ہی سوگئے۔ الناصر کو نیند نہیں آرہی تھی۔ وہ سوچ رہا کہ لزا کو
‫خیمے سے جگا الئے یا وہ خود آجائے گی۔ وہ بھول گیاتھا کہ وہ چھاپہ مار ہے اور اس کی فوج کہیں لڑ رہی ہے۔ اسے یہ
‫خیال بھی نہ آیا کہ اسے اپنی فوج میں جانا ہے اور فرار کا یہ موقعہ نہایت اچھا ہے‪ ،جب سب بے ہوشی کی نیند سوگئے

‫ہیں‪ ،گھوڑے بھی ہیں‪ ،ہتھیار بھی ہیں اور خوردونوش کا سامان بھی ہے۔ اس کے ساتھی اسی پر بھروسہ کیے سو گئے تھے۔
‫وہ اپنے کمانڈر کی ہدایات کے پابند تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کاکمانڈر اپنی عقل‪ ،اپنا ایمان اور اپنا جذبہ ایک
‫نوجوان لڑکی کے سپرد کرچکا ہے۔ عورت اپنی تمام تر تباہ کاری کے ساتھ اس کے اعصاب پر سوار ہوچکی تھی۔
‫اسے ایک سایہ چلتا نظر آیا جو کسی مرد کا نہیں تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اٹھ کر بیٹھا‪ ،پائوں پر سرکا اور سوئے ہوئے ساتھیوں
‫سے دور ہٹ گیا۔ سایہ ادھر ہی آرہا تھا۔ ذرا دیر بعد دو سائے ایک دوسرے میں جذب ہوگئے۔ لزا الناصر کو سوئے ہوئے قافلے
‫''الناصر! ایک
‫سے کچھ دور ایک ٹیلے کی اوٹ میں لے گئی۔ اس رات وہ پہلے سے زیادہ جذباتی معلوم ہوتی تھی۔
‫''بات بتائو‪ ،تمہاری زندگی میں کبھی کوئی عورت داخل ہوئی ہے؟
‫ماں اور بہن کے سوا‪ ،میں نے کسی عورت کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا''…… الناصر نے جواب دیا…… ''تم نے میری زندگی ''
‫دیکھ لی ہے۔ میں نوجوانی میں نورالدین زنگی کی فوج میں شامل ہوگیا تھا‪ ،جہاں تک یادیں پیچھے جاتی ہیں‪ ،میں اپنے آپ
‫کو میدان جنگ میں‪ ،ریگستان میں‪ ،اپنے ساتھیوں سے دور دشمن کے عالقوں میں خون بہاتا اور بھیڑیوں کی طرح شکار کی
‫تالش میں پھرتا دیکھتا ہوں۔ میں جہاں بھی ہوتا ہوں‪ ،اپنے فرض سے کوتاہی نہیں کرتا۔ میرا فرض میرا ایمان ہے''…… وہ
‫چونک اٹھا۔ ذرا سی دیر کچھ سوچ کر اس نے پوچھا…… ''لزا‪ ،تم نے شاید میرے ایمان کی بنیاد ہال دی ہے۔ مجھے بتائو تم
‫لوگ مجھے اور میرے ساتھیوں کو کہاں لے جارہے ہو''۔
‫مجھے یہ بتائو کہ تمہارے دل میں میری محبت ہے یا مجھے دیکھ کر تم حیوان بن جاتے ہو؟''…… لزا نے ایسے لہجے ''
‫میں پوچھا جس میں پیار اور مذاق کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی۔ اس کا انداز گزشتہ رات کی نسبت بدال ہوا تھا۔
‫تم نے مجھے کہا تھا کہ محبت کو ناپاک نہ کرنا''…… الناصر نے کہا…… ''میں تم پر ثابت کروں گا کہ میں حیوان نہیں۔''
‫تم مجھے یہ بتائو کہ تمہاری قوم میں ایک سے ایک بڑھ کر خوبرو‪ ،جنگجو‪ ،تنومند اور اونچے رتبے واال مرد موجود ہے۔ تم
‫''کسی بادشاہ کے سامنے چلی جائو تو وہ تخت سے اتر کر تمہارا استقبال کرے گا پھر تم نے مجھ میں کیا دیکھا ہے؟
‫لزا نے کوئی جواب نہ دیا۔ الناصر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا…… ''مجھے جواب دو لزا''…… لزا نے سرگھٹنوں
‫پر رکھ دیا۔ الناصر کو اس کی سسکیاں سنائی دیں۔ وہ پریشان ہوگیا۔ اس نے بار بار اس سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔
‫وہ روتی رہی۔ الناصر نے اسے اپنے بازوئوں میں لے لیا تو لزا نے سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔ الناصر سمجھ نہ سکا کہ
‫جس طرح اس کی اپنی ذات سے انسانی فطرت کی بنیادی کمزوری ابھر کر اس کی عقل پر غالب آگئی تھی‪ ،اسی طرح لزا
‫بھی ایک کمزوری کی گرفت میں آگئی تھی۔ یہ وہ کمزوری تھی جو ملکہ کو اپنے غالم کے آگے جھکا دیتی ہے اور جو دولت
‫کے انبار کو پتھروں کا ڈھیر سمجھ کر اپنے دل کی تسکین کے لیے کسی کٹیا میں جابیٹھتی ہے۔ لزا محبت کی پیاسی تھی۔
‫وہ محبت جو روح کو مطمئن کردے۔ اسے جسمانی محبت ملی تھی اور ان مردوں سے ملی تھی جن سے اسے نفرت تھی۔
‫اس نے عصیات کے قلعے کی طرف جاتے ہوئے اور قلعے میں پہنچ کر بھی تھیریسیا کے آگے اپنے جذبات کا اظہار کردیا تھا۔
‫وہ کچھ سوچے سمجھے بغیر الناصر کے پاس جابیٹھی تھی اور اسے کہا تھا…… ''مجھ پر بھروسہ کرنا''…… اس وقت اس
‫کے دل میں کوئی فریب کاری نہیں تھی۔ یہ اس کے دل کی آواز تھی۔ وہ اپنی روح کی رہنمائی میں الناصر کے پاس چلی
‫گئی تھی۔ اگر اسے تھیریسیا وہاں سے اٹھا نہ لے جاتی تو لزا نہ جانے الناصر سے اور کیا کچھ کہتی۔
‫پھر اسے الناصر کو پھانسنے کو کہا گیا۔ اس نے یہ کمال بھی کردکھایا مگر اس کا دل ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ یہ اس کا فرض
‫تھا جو اس نے ادا کیا تھا۔ وہ اپنے دل اور فرض کے درمیان بھٹک گئی تھی۔ الناصر کو معلوم نہیں تھا کہ تھوڑی دیر پہلے
‫جب قافلہ رکا تو خیمے نصب کیے جارہے تھے ‪ :تو گمشتگین نے لزا کے کان میں کہا تھا…… ''سب سو جائیں تو میرے
‫خیمے میں آجانا‪ ،تمہاری قوم کی بھیجی ہوئی بہترین شراب پیش کروں گا۔ تمہیں بڑی استادی سے شیخ سنان سے بچا کر
‫الیا ہوں''۔
‫لزا نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ اس سے ہٹی تو صلیبی نے اسے کہا…… ''خدا نے تمہیں اس بوڑھے درندے سے بچا
‫لیا ہے۔ تھیریسیا سوجائے تو میرے خیمے میں آجانا۔ جشن منائیں گے''۔
‫لزا کو اپنی خوبصورتی اور اپنے جسم سے نفرت ہونے لگی۔ وہ اپنے خیمے میں چلی گئی تھی۔ تھیریسیا سو گئی۔ لزا کی
‫آنکھ نہ لگی۔ وہ اٹھی اور دبے پائوں الناصر کی طرف چل پڑی۔ الناصر اسی کے خیال اور انتظار میں جاگ رہا تھا۔
‫وہ الناصر کو کوئی جواب دینے ہی لگی تھی کہ الناصر نے چونک کر کہا…… ''سنو‪ ،تمہیں کوئی آہٹ سنائی دے رہی ہے؟
‫……گھوڑے آرہے ہیں''۔
‫دھمک بڑی صاف ہے''…… لزا نے کہا…… ''سب کو جگا دیں۔ شیخ سنان نے ہمارے تعاقب میں سپاہی بھیجے ہوں ''
‫گے''۔
‫الناصر دوڑ کر ٹیلے پر چڑھ گیا۔ اسے بہت سے مشعلیں نظر آئیں جو گھوڑوں کی چال کے ساتھ اوپر نیچے‪ ،اوپر نیچے ہورہی
‫تھیں۔ گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں بلند ہوتی جارہی تھیں۔ الناصر دوڑتا نیچے آیا‪ ،لزا کو اپنے ساتھ لیااور سوئے ہوئے قافلے
‫کی طرف دوڑا۔ سب کو جگا دیا۔ اس نے اپنے چھاپہ ماروں کو ساتھ لیا اور ٹیلے کے قریب لے گیا۔ لزا کو اپنے ساتھ رکھا۔
‫سب کے پاس برچھیاں اور تلواریں تھیں۔ گمشتگین کے باڈی گارڈ اور شتربان بھی برچھیوں اور تلواروں سے مسلح ہوکر مقابلے
‫کے لیے تیار ہوگئے۔ وہ پندرہ سولہ سوار تھے۔ چھ سات کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں۔ انہوں نے آتے ہی قافلے کو گھیرے
‫میں لے لیا۔ ایک نے للکار کر کہا…… ''دونوں لڑکیاں ہمارے حوالے کردو۔ شیخ سنان نے کہا ہے کہ دونوں لڑکیاں دے دو گے
‫تو خیریت سے جاسکو گے''۔
‫الناصر تجربہ کار چھاپہ مار تھا۔ اس نے اپنے چھاپہ مار پہلے ہی گھیرے سے دور کرکے چھپالیے تھے۔ اس نے اشارہ کیا اور
‫وہ تین چھاپہ ماروں کے ساتھ ان سواروں پر ٹوٹ پڑا جو اس کے سامنے تھے۔ چھاپہ ماروں نے پیچھے سے برچھیاں ان کے
‫جسموں میں داخل کردیں…… سوار گرے تو الناصر نے اپنے ساتھیوں سے بلند آواز سے کہا…… ''ان کے گھوڑوں پر سوار
‫ہوجائو''…… ایک گھوڑا اس نے پکڑ لیا۔ اس پر سوار ہوا تو اپنے پیچھے لزا کو بٹھا لیا۔ اسے کہا کہ بازو مضبوطی سے اس
‫کی کمر کے گرد لپیٹ لے۔
‫سنان کے فدائیوں نے ہلہ بول دیا۔ انہوں نے مشعلیں پھینک دی تھیں۔ یہ جلتی رہیں۔ الناصر اور اس کے چھاپہ ماروں نے
‫بہت مقابلہ کیا۔ ایک گھوڑے کے سرپٹ دوڑنے کی آواز آئی جو دور ہٹتی گئی۔ وہ گمشتگین تھا جو جان بچا کر بھاگ گیا
‫تھا۔ فدائیوں نے الناصر کے گھوڑے پر لڑکی دیکھ لی تھی۔ اسے وہ زندہ پکڑنے کی کوشش کررہے تھے۔ تین تین چار چار
‫گھوڑے اسے گھیرے میں لیتے اور سوار برچھیوں سے اس کے گھوڑے کو زخمی کرنے کے لیے برچھیوں کے وار کرتے تھے۔
‫الناصر تجربہ کار لڑاکا سوار تھا۔ اس نے اپنے گھوڑے کو بچائے رکھا اور دو فدائی گرا لیے۔ اسے دوڑتا گھوڑا یکلخت روکنا اور

‫تیزی سے موڑنا پڑتا تھا۔لزا کے پائو رکابوں میں نہیں تھا۔ ایک بار الناصر کو گھوڑا تیزرفتار پر ہی موڑنا پڑا۔ لزا سنبھل نہ
‫سکی اور گر پڑی۔
‫فدائی گھوڑوں سے کود آئے۔ لزا الناصر کی طرف دوڑی لیکن دو فدائیوں نے اسے پکڑ لیا۔ الناصر نے گھوڑے کو ایڑی لگائی اور
‫برچھی تانی۔ فدائیوں نے لزا کو آگے کردیا۔ الناصر کو اپنے ساتھیوں کے متعلق کچھ علم نہیں تھا۔ اسے بھاگتے دوڑتے گھوڑوں
‫کی اور برچھیاں اور تلواریں ٹکرانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ وہ تین چار فدائیوں میں اکیال تھا۔ اس کا ہر وار خالی
‫جارہا تھا کیونکہ وہ ان کے قریب آتا تھا تو فدائی لزا کو آگے کردیتے تھے۔ آخر وہ بھی گھوڑے سے کود گیا۔ بے جگری سے
‫لڑا۔ زخمی ہوا اور اس نے دو فدائیوں کو گرالیا۔ اس نے ایک بار چال کر کہا…… ''خاموش رہو لزا۔ یہ تمہیں نہیں لے
‫جاسکیں گے''۔
‫الناصر نے یہ کرکے بھی دکھا دیا کہ فدائی لزا کو نہ لے جاسکے۔ اس نے فدائیوں کو بری طرح زخمی کرکے پھینک دیا۔ اس
‫معرکے میں وہ قیام گاہ سے دور ہٹ گئے تھے۔ الناصر نے ایک گھوڑا پکڑا۔ لزا کو اس پر سوار کیا۔ خود اس کے پیچھے
‫سوار ہوا اور گھوڑے کو ایڑی لگا دی لیکن بھاگا نہیں۔ معرکہ خاموش ہوگیا تھا۔ اس نے جاکر دیکھا۔ وہاں صرف الشیں تھیں
‫اور دو تین فدائی زخموں سے تڑپ رہے تھے۔ اس کے تینوں ساتھی مارے گئے تھے۔ صلیبی بھی مرا پڑا تھا۔ تھیریسیا الپتہ
‫تھی۔ الناصر نے زیادہ انتظار نہ کیا۔ آسمان کی طرف دیکھا۔ قطبی ستارے کا اندازہ کیا اور گھوڑے کو اس رخ پر ڈال دیا۔ بہت
‫دور جاکر اس نے گھوڑاروک لیا۔
‫اب بتائو تم کہاں جانا چاہتی ہو''…… اس نے لزا سے پوچھا……''میں تمہیں صرف اس لیے اپنے ساتھ نہیں لے جائوں گا''
‫کہ تم تنہا رہ گئی ہو اور مجبور ہو۔ کہو تو تمہیں تمہارے عالقے میں لے چلتا ہوں۔ قید ہوگیا تو پروا نہیں کروں گا۔ تم
‫امانت ہو''۔
‫''
‫اپنے ساتھ لے چلو''…… لزا نے کہا…… ''الناصر! مجھے اپنی پناہ میں لے لو''۔'
‫گھوڑا رات بھر چلتا رہا۔ صبح طلوع ہوئی تو الناصر نے عالقہ پہچان لیا۔ یہیں کہیں اس نے ایک بار اپنے جیش کے ساتھ
‫شب خون مارا تھا۔ الناصر کے کپڑے خون سے الل ہوگئے تھے۔ دونوں نے گھوڑے سے اتر کر پانی پیا۔ گھوڑے کو پانی پالیا۔
‫الناصر نے زخم دیکھے‪ ،کوئی زخم گہرا نہیں تھا۔ خون رک گیا تھا۔ اس نے اس ڈر سے زخم نہ دھوئے کہ خون جاری ہوجائے
‫گا۔ لزا ٹہلتی ٹہلتی ایک طرف نکل گئی۔ الناصر اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے چٹان کے دوسری طرف گیا۔ لزا بیٹھی ہوئی تھی۔
‫الناصر کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ وہاں ہڈیاں بکھری ہوئی تھیں جو انسانوں کی معلوم ہوتی تھیں۔ کھونپڑیاں تھیں‪ ،پسلیوں
‫کے پنجرے تھے‪ ،ہاتھوں‪ ،ٹانگوں اور بازوئوں کی ہڈیاں بھی تھیں۔ ان کے درمیان تلواریں اور برچھیاں پڑی تھیں۔
‫لزا ایک کھونپڑی کو سامنے رکھے بیٹھی تھی۔ کسی عورت کی کھونپڑی معلوم ہوتی تھی۔ چہرے پر کہیں کہیں کھال تھی۔ سر
‫کے لمبے لمبے بال کچھ سر کے ساتھ تھے۔ باقی ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ سینے کا پنجرہ کھال کے بغیر تھا۔ پسلیوں
‫میں ایک خنجر اترا ہوا تھا۔ گلے کی ہڈی پر سونے کا ہار پڑا تھا۔ اس پنجرے کے اردگرد چیتھڑے پڑے تھے جو ریشمی کپڑے
‫کے تھے…… الناصر آہستہ آہستہ چلتا لزا کے پیچھے جاکھڑا ہوا۔ لزا کھونپڑی میں کھوگئی تھی۔ اچانک اس نے اپنے دونوں ہاتھ
‫کانوں پر رکھے اور بڑی ہی زور سے چیخ ماری۔ وہ تیزی سے اٹھ کر گھومی۔ الناصر نے اسے بازوئوں میں لے کر سینے سے
‫لگا لیا۔ لزا نے اپنا چہرہ الناصر کے سینے میں چھپا لیا۔ اس کا جسم تھرتھر کانپ رہا تھا۔ الناصر اسے چشمے تک لے گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫جب وہ اپنے آپ میں آئی تو الناصر نے اس سے پوچھا کہ اس نے چیخ کیوں ماری تھی؟
‫مجھے اپنا انجام نظر آگیا تھا''۔ لزا نے اداس لہجے میں کہا…… ''تم نے وہ خشک الش دیکھی ہوگی۔ کسی عورت کی ''
‫ہے۔ یہ کوئی مجھ جیسی ہوگی۔اس نے میری طرح حسن کے جادو چالئے ہوں گے۔ ہر کسی کے لیے سہانا فریب بنی رہی
‫ہوگی اور کہتی ہوگی کہ اس کے حسن کو زوال نہیں اور وہ سدا جوان اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ تم نے اس کی پسلیوں کے
‫پنجرے میں خنجر پھنسا ہوا دیکھا ہے؟ گلے میں ہار دیکھا ہے؟ یہ ہار اور یہ خنجر جو کہانی سناتے ہیں‪ ،وہ میری کہانی ہے
‫اور دوسری جو کھونپڑیاں بکھری پڑی ہیں اور ان کے ساتھ جو تلواریں اور برچھیاں پڑی ہیں وہ سو بار سنی ہوئی کہانی سناتی
‫ہیں۔ میں نے یہ کبھی توجہ سے نہیں سنی تھی۔ آج اس عورت کی کھونپڑی دیکھی تو مجھے یوں نظر آیا جیسے یہ میری
‫اپنی کھونپڑی ہو۔ اس خشک کھونپڑی پر گوشت چڑھ گیا تو میرا چہرہ بن گیا۔ میں نے ایک گدھ کو دیکھا جو میرے چہرے
‫سے آنکھیں نکال رہا تھا۔ ایک بھیڑیئے کو دیکھا جو میرے گالبی گالوں کو نوچ رہا تھا۔ ان مردار خوروں نے میرا چہرہ کھا لیا
‫اور پیچھے کھونپڑی رہ گئی۔ مجھے ایسے نظر آیا جیسے کھونپڑی کے جبڑے اور خوفناک دانت ہل رہے ہوں۔ مجھے آواز سنائی
‫دی''…… ''یہ ہے تمہارا انجام''…… اور میرے دل کو کسی خوفناک چیز نے دانتوں میں جکڑ لیا''۔
‫کچھ دنوں بعد وہاں جاکر دیکھنا‪ ،جہاں ہم پر فدائیوں نے حملہ کیا تھا''…… الناصر نے کہا…… ''وہاں بھی تمہیں یہی ''
‫منظر نظر آئے گا۔ الشوں کے پنجرے‪ ،کھونپڑیاں‪ ،تلواریں اور برچھیاں اور شاید ان سے کچھ دور تھیریسیا کی کھونپڑی بھی پڑی
‫مل جائے۔ اس کے سینے میں بھی خنجر اترا ہوا ہوگا۔وہ سب عورت کے لیے مرے ہیں۔ یہ سب بھی عورت کے لیے مرے
‫ہیں''۔
‫اگر میں نے اپنی روش نہ چھوڑی تو ایک روز صحرا میں گدھ اور بھیڑئیے میرے اس جسم کا گوشت نوچ رہے ہوں گے ''
‫جس پر مجھے ناز ہے اور جسے حاصل کرنے کے لیے کوئی جان پیش کرتا ہے‪ ،کوئی دولت''…… لزا نے کہا…… ''مگر انسان
‫عبرت حاصل نہیں کرتا۔ ان کی تباہی اور بربادی نہیں دیکھتا جو اس سے پہلے اس زمین پر اپنے اوپر حسن‪ ،دولت اور
‫جسمانی طاقت کا نشہ طاری کرکے تکبر اور غرور سے چلتے پھرتے تھے…… میں نے اپنے آپ کو پہچان لیا ہے۔ اپنی اصلیت
‫جان لی ہے۔ تم بھی سن لو الناصر! خدا نے تمہیں مردوں کی طاقت اور مردانہ حسن دیا ہے۔ تمہیں جو عورت دیکھے گی‪،
‫وہ تمہارے قریب آنے کی خواہش کرے گی‪ ،دیکھ لو۔ تم بھی جاکر اپنا انجام دیکھ لو''۔
‫وہ ایسے انداز سے بول رہی تھی جیسے اس پر آسیب کا اثر ہو۔ اس کی شوخیاں اور فریب کاریاں ختم ہوچکی تھیں۔ وہ ‪:
‫کسی تارک الدنیا فقیر کے لہجے میں بول رہی تھی۔
‫میں تمہیں اپنی اصلیت بتا دوں؟'' اس نے الناصر سے پوچھا…… ''میں تمہیں دکھا دوں کہ میری پسلیوں کے پنجرے میں''
‫کیا ہے؟'' ۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ مارا اور چپ ہوگئی۔ اس کا ہاتھ سونے کے اس ہار پر جالگاتھا جس میں جواہرات
‫بھی تھے۔ اس نے ہار کو مٹھی میں لیا۔ زور سے جھٹکا دیا۔ ہار ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں آگیا۔ اس نے ہار چشمے میں
‫پھینک دیا۔ انگلیوں سے انگوٹھیاں اتاریں جن میں ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ یہ بھی چشمے میں پھینک دئیے۔ کہنے لگی……

‫'' میں ایک فریب ہوں الناصر! میں نے تمہیں بھی فریب دیا تھا…… میرے دل میں تمہاری محبت بھی پیدا ہوگئی تھی مگر
‫اس پر میرے فرض کی بدروح کا بھی اثر تھا۔ یہ بہت اچھا ہوا کہ فدائیوں نے ہم پر حملہ کردیا اور یہ اور زیادہ اچھا ہوا کہ
‫میں نے اپنی زندگی میں اپنی کھونپڑی دیکھ لی‪ ،ورنہ میں بتا نہیں سکتی کہ جہاں ہم تمہیں لے جارہے تھے‪ ،وہاں تم پر کیا
‫روپ چڑھا دیا جاتا‪ ،میری محبت کا کیا حشر ہوتا۔ تم ایک بہت بڑے فریب کا شکار ہونے جارہے تھے۔ میں اب جھوٹ نہیں
‫بولوں گی۔ تمہیں اس مقصد کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ میں اپنی خوبصورتی اور محبت کے جھانسے سے تمہاری عقل پر
‫قبضہ کرلو اور تمہارے ہاتھوں صالح الدین ایوبی کو قتل کرایا جائے۔ گمشتگین قلعہ عصیات میں اس لیے گیا تھا کہ شیخ سنان
‫اسے صالح الدین ایوبی کے قتل کے لیے کرائے کے قاتل دے دے۔ سنان نے بتایا کہ اس نے چار فدائی بھیج رکھے ہیں۔ اگر
‫یہ بھی ناکام ہوگئے تو وہ آئندہ ا س کام کے لیے کوئی فدائی نہیں بھیجے گا کیونکہ وہ بہت سے کارآمد فدائی ضائع کرچکا
‫ہے۔ آخر یہ سودا طے ہوا کہ گمشتگین تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے جائے اور سیف الدین کے قتل کے لیے
‫تیار کرے۔ اتنے میں ہمارا افسر آگیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ ایوبی کا قتل ضروری ہے''۔
‫یہ کبھی ممکن نہیں ہوسکتا کہ میں سلطان صالح الدین ایوبی کے سائے کو بھی میلی نگاہ سے دیکھوں''…… الناصر نے ''
‫کہا…… ''دنیا کی کوئی طاقت مجھے اتنا بے عقل نہیں بنا سکتی''۔
‫لزا ہنس پڑی‪ ،کہنے لگی…… ''میں نے دل سے اپنے فرائض کو قبول نہیں کیا‪ ،ورنہ ہم فوالد کو بھی پانی بنا دیا کرتی
‫ہیں''۔ اس نے الناصر کو تفصیل سے بتایا کہ اس کے فرائض اور جذبات میں کتنا تضاد ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ
‫سیف الدین کے پاس رہی ہے۔ اس نے پوچھا…… ''کیا تم مجھ جیسی ناپاک لڑکی کو قبول کرلو گے؟۔ میں سچے دل سے
‫اسالم قبول کرلوں گی''۔
‫اگر تم نے سچے دل سے توبہ کرلی ہے تو میرے لیے یہ گناہ ہوگا کہ میں تمہیں قبول نہ کروں''۔ الناصر نے کہا…… ''
‫''لیکن سلطان صالح الدین ایوبی کی اجازت کے بغیر میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ دل سے بوجھ اتار دو۔ اگرتم پاکیزہ
‫زندگی بسر کرنا چاہتی ہو تو ایسی زندگی تمہیں صرف ہمارے مذہب میں ملے گی''۔ اس نے پوچھا…… ''کیا تمہیں معلوم
‫ہے کہ جو فدائی ہمارے سلطان کے قتل کے لیے گئے ہیں وہ کس بھیس میں گئے ہیں اور قاتالنہ حملہ کس طرح کریں
‫''گے؟
‫کچھ علم نہیں''۔ لزا نے جواب دیا…… ''میرے سامنے اس سے زیادہ کوئی بات نہیں ہوئی کہ چار فدائی بھیجے گئے ''
‫ہیں''۔
‫ہمیں اڑ کر ترکمان پہنچنا ہوگا''۔ الناصر نے کہا…… ''مجھے سلطان اور اس کے محافظوں کو خبردار کرنا ہے''۔''
‫اس نے لزا کو اپنے آگے گھوڑے پر بٹھا لیا اور ایڑی لگا دی۔ اتنی حسین لڑکی اس کے سینے سے لگی ہوئی تھی۔ اس کے
‫ریشم جیسے بال اس کے گالوں میں لہرا رہے تھے مگر اس کے ذہن میں سلطان ایوبی سما گیا تھا۔ فرض نے اس کے جذبات
‫کو سال دیا تھا۔ مقصد نے اسے مرد میدان اور انسان کامل بنا دیا تھا…… اور لزا کی تو جیسے روح ہی بدل گئی تھی۔ وہ اس
‫قوی اور تنو مند جوان کے قبضے میں اور اس کے رحم وکرم پر تھی لیکن اسے جیسے احساس ہی نہیں تھا کہ وہ مرد ہے
‫اوریہ ایک نوجوان لڑکی۔ اگر کوئی واعظ برسوں وعظ سناتا رہتا تو لزا پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ الناصر نے خاموش زبان سے یہ
‫حقیقت اس کے دل میں اتار دی کہ وہ پاکیزہ زندگی بسر کرنا چاہتی ہے تو ایسی زندگی اسے اسالم میں ملے گی۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو قلعہ اعزاز کے قلعہ دار کا جواب آگ بگولہ کیے ہوئے تھا۔ اسے یہ قلعہ سرکرنا تھا اور فورا ً بعد
‫حلب کو محاصرے میں لے کر یہ شہر لینا تھا۔ اسے بوزا اور منبج کے دو قلعے لڑے بغیر مل گئے تھے۔ ان میں جو دستے
‫تھے انہیں اس نے اپنی فوج میں شامل کرکے ان کی جگہ اپنے دستے بھیج دئیے تھے اور وہ اعزاز اور حلب کی طرف پیش
‫قدمی کی سکیم بنا رہا تھا۔ اس نے حسب معمول دیکھ بھال کے لیے اپنے فوجی اس عالقے میں بھیج رکھے تھے جہاں اسے
‫آگے بڑھنا اورمحاصرہ کرنا تھا۔ جاسوسوں نے اسے حلب اور اعزاز کے دفاعی انتظامات بتا دئیے تھے۔ سلطان ایوبی خود بھی
‫آگے چال جاتا تھا اور اپنی آنکھوں سے زمین کے خدوخال اور دیگر جنگی کوائف کا جائزہ لیتا تھا۔ ایسے دوروں کے دوران وہ
‫اپنا جھنڈا ساتھ نہیں رکھتا تھاا ور اپنے محافظوں ( باڈی گارڈز) کو بھی ساتھ نہیں لے جاتا تھا‪ ،تاکہ دشمن کو پتہ نہ چل
‫سکے کہ یہ صالح الدین ایوبی ہے۔ وہ گھوڑا بھی کسی دوسرے کا استعمال کرتا تھا۔ اس کے گھوڑے کو جس کے سفید رنگ
‫پر کہیں کہیں گہرے الل دھبے تھے‪ ،دشمن کے ساالر پہچانتے تھے۔
‫اسے کہا گیا تھا کہ وہ محافظوں کے بغیر اتنی دور نہ نکل جایا کرے لیکن اس نے اپنی حفاظت کی کبھی پروا نہیں کی
‫تھی۔ اب تو اس پر جنون سا طاری تھا۔ وہ اپنے مسلمان دشمنو ں کو ناکوں چنے چبوا چکا تھا۔ان کے تابوت میں آخری
‫کیل گاڑنی رہ گئی تھی۔ وہ عالقہ ایسا تھا کہ چٹانیں اور ٹیلے بھی تھے اور کہیں کہیں درختوں کے جھنڈ بھی۔ کچھ حصے
‫میں گہرے کھڈ بھی تھے۔ ایسے عالقے میں سلطان ایوبی کامحافظوں کے بغیر گھومنا پھرنا خطرناک تھا۔
‫سلطان محترم!'' اس کی انٹیلی جنس کے سربراہ حسن بن عبداللہ نے ایک روز اسے جھنجھال کر کہا۔ ''خدانخواستہ ''
‫ِ
‫آپ پر قاتالنہ حملہ کامیاب ہوگیا تو سلطنت اسالمیہ آپ جیسا کوئی دوسرا پاسبان پیدا نہیں کرسکے گی۔ ہم قوم کو منہ
‫دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ آنے والی نسلیں ہماری قبروں پر لعنت بھیجیں گی کہ ہم آپ کی حفاظت نہ کرسکے
‫تھے''۔
‫اگر خدا کو یہی منظور ہے کہ مجھے کسی فدائی یا صلیبی کے ہاتھوں قتل ہونا ہے تو میں ایسی موت کو کیسے روک ''
‫سکتا ہوں''…… سلطان ایوبی نے کہا…… ''بادشاہ جب اپنی جان کی حفاظت میں مگن ہوجاتے ہیں تو وہ ملک اور قوم کی
‫آبرو کی حفاظت کے قابل نہیں رہتے۔ اگر مجھے قتل ہونا ہے تو مجھے اپنا فرض جلدی جلدی ادا کرلینے دو۔ مجھے محافظوں
‫تعالی نے
‫کا قیدی نہ بنائو۔ مجھ پر بادشاہی کا نشہ طاری نہ کرو۔ تم جانتے ہو‪ ،مجھ پر کتنے قاتالنہ حملے ہوچکے ہیں۔ اللہ
‫ٰ
‫مجھے ہر بار بچا لیا ہے۔ اب بھی بچا لے گا''۔
‫اس کا ذاتی عملہ اس کی سالمتی کے لیے پریشان رہتا تھا۔ پچھلی کہانیوں میں وہ تمام قاتالنہ حملے بیان کیے گئے ہیں جو
‫اس پر ہوئے تھے۔ ہر حملے کے وقت وہ اکیال تھا لیکن اس کا محافظ دستہ قریب ہی تھا جو ہر بار وہاں پہنچ گیا۔ اب
‫سلطان ایوبی نے یہ طریقہ اختیار کرلیا تھا کہ وہ اپنے ذاتی عملے اور محافظوں کو کسی جگہ کھڑا کرکے خود ٹیلوں اور چٹانوں
‫میں غائب ہوجاتا تھا۔ حسن بن عبداللہ نے یہ انتظام کررکھا تھا کہ محافظ دستے کے چند ایک آدمی دور دور رہ کر سلطان
‫ایوبی پر نظر رکھتے تھے۔ یہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ بہت دنوں سے چار آدمی ویرانوں میں گھوم پھر رہے ہیں اور
‫وہ سلطان ایوبی پر نظر رکھتے ہیں۔

‫‪:

‫یہی وہ چار فدائی تھے جن کے متعلق قلعہ عصیات میں شیخ سنان نے گمشتگین کو بتایا تھا کہ سلطان ایوبی کے قتل
‫کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ان چاروں نے دیکھ لیا تھا کہ سلطان ایوبی‪ ،محافظوں کے بغیر گھومتا پھرتا رہتاہے۔ چنانچہ انہوں
‫نے یہ منصوبہ ترک کردیا تھا کہ جنگ زدہ عالقے کے پناہ گزینوں کے روپ میں سلطان ایوبی کے پاس جائیں گے اور اسے
‫قتل کردیں گے۔ سلطان ایوبی انہیں بڑا اچھا موقعہ دے رہا تھا۔ ان چار فدائیوں کی سکیم اچھی تھی۔ ان کی کمزوری یہ
‫تھی کہ وہ اپنے ساتھ تیروکمان نہیں الئے تھے کیونکہ پکڑے جانے کا خطرہ تھا۔ اگرا ن کے پاس ایک بھی کمان ہوتی تو وہ
‫کسی بھی جگہ چھپ کر سلطان ایوبی کو نشانہ بنا سکتے تھے‪ ،وہاں چھپنے کی جگہیں بہت تھیں۔ آسانی سے فرار ہوا
‫جاسکتا تھا۔ ان کے پاس لمبے خنجرتھے۔
‫ادھر سے الناصر لزا کو گھوڑے پر بٹھائے تیزی سے آرہا تھا۔ لزا نے اسے بتا دیا تھا کہ چار فدائی سلطان ایوبی کے قتل کے
‫لیے گئے ہوئے ہیں۔ الناصر بہت جلدی سلطان ایوبی تک پہنچنا اور اسے خبردار کرنا چاہتا تھا مگر سفر لمبا تھا اور گھوڑے پر
‫دو سواروں کا بوجھ تھا۔گھوڑااتنی لمبی مسافت دوڑتے ہوئے طے نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے راستے میں گھوڑے کو آرام دیا۔ پانی
‫پالیااور پھر چل پڑا۔ ادھر سلطان ایوبی اپنی حفاظت سے بالکل ہی بے نیاز ہوگیا تھا اور چارفدائی چھپ کر اسے دیکھ رہے
‫تھے۔ اس عالقے میں کوئی فوج نہیں تھی۔ کوئی آبادی بھی نہیں تھی۔ فدائی جنگ کے درندوں کی طرح شکار کی تالش میں
‫رہتے اور رات وہیں گزار لیتے تھے۔
‫سورج غروب ہوگیا۔ الناصر اور لزاکا گھوڑا چلتا رہا۔ اس کی چال بتا رہی تھی کہ اس کی رفتار کم ہوگی‪ ،بڑھے گی نہیں۔
‫الناصر نے بوجھ کم کرنے کے لیے گھوڑے سے چھالنگ لگا دی اور لگام پکڑ کر پیدل چلنے لگا۔ رات گزرتی جارہی تھی۔ لزا
‫نے الناصر سے تین چار بار کہا کہ وہ اور زیادہ سواری نہیں کرسکتی۔ اس کی ہڈیاں بھی دکھنے لگی تھیں۔ وہ کچھ دیر آرام
‫کرنا چاہتی تھی لیکن الناصر جو خود تھکن‪ ،پیاس اور بھوک سے بے حال ہوا جارہا تھا‪ ،نہ رکا۔ اس نے لزا سے کہا……
‫'' تمہاری اور میری جان سے سلطان صالح الدین ایوبی بہت زیادہ قیمتی ہے‪ ،اگر میں رک گیا اور سلطان ایوبی قتل ہوگیا تو
‫میں سمجھوں گا کہ میں اپنے سلطان کا قاتل ہوں''۔
‫صبح طلوع ہوئی۔ الناصر اب قدم گھسیٹ رہا تھا۔ لزاگھوڑے پر سر رکھے سوئی ہوئی تھی۔ گھوڑا معمولی سی چال چل رہا
‫تھا۔ ایک جگہ پانی اور گھاس دیکھ کر گھوڑا رک گیا۔ لزا نے نیند سے چونک کر کہا…… ''خدا کے لیے اسے مت گھسیٹو۔
‫اسے ذرا کھا پی لینے دو''…… گھوڑے نے پانی پی لیا تو الناصر اس کی لگام پکڑ کر چل پڑا۔ گھوڑا دوڑنے کے قابل نہیں
‫رہا تھا۔ الناصر بھی تھک ہار کر سوار ہوگیا۔ لزا کا رنگ پیال پڑ چکا تھا۔ اس کے منہ سے بات بھی نہیں نکلتی تھی۔
‫الناصر کو یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ سلطان ایوبی کہاں ہوگا۔ وہ ترکمان کو جارہا تھا۔ سلطان ایوبی آگے چال گیا تھا جسے
‫بعد میں کوہ سلطان کا نام دیا گیا تھا مگر وہ اب وہاں بھی نہیں تھا۔ اس مقام سے بھی آگے چال گیا تھا۔ الناصر کو ترکمان
‫اور کو ِہ سلطان کی چٹانیں نظر آنے لگی تھیں اور وہ سوچ رہا تھا کہ کس طرف سے جائے۔ سورج بہت اوپر آگیاتھا۔
‫اس وقت سلطان ایوبی ایک چٹانی ویرانے میں اپنے عملے کے ساتھ وہاں کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس نے عملے کو ایک جگہ
‫رکنے کو کہا اور اکیال ہی ایک طرف نکل گیا۔ اس کے ذہن میں شاید اپنی فوج کی پیش قدمی کی کوئی سکیم تھی۔ گھوڑے
‫سے اتر کر وہ ایک چٹان پر چڑھ گیا۔ چاروں فدائی اس چٹان سے تھوڑی ہی دور ایک جگہ چھپ کر اسے دیکھ رہے تھے۔
‫وہ کچھ دیر اوپر کھڑا ادھر ادھر دیکھتارہا۔
‫نیچے آنے دو''۔ ایک فدائی نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔''
‫اس کے محافظ قریب ہی کہیں چھپے ہوئے ہوں گے''۔ دوسرے نے کہا۔''
‫آج بچ کر نہ جائے''۔ ایک اور بوال۔'' ‪:
‫صرف ایک آدمی آگے جائے گا''۔ چوتھے نے کہا…… ''وار پیچھے سے کرنا۔ ضرورت پڑی تو باقی آگے جائیں گے''۔''
‫سلطان ایوبی چٹان سے اترا اور گھوڑے پر سوار ہوکر کسی اور طرف چالگیا۔ فدائی اس کے پیچھے پیچھے گئے۔ حملے کے
‫لیے یہ جگہ موزوں نہیں تھی۔ الناصر ابھی بہت دور تھا۔ سلطان ایوبی ایک بار پھر گھوڑے سے اترا۔ ایک اور چٹان پر چڑھا۔
‫تھوڑی دیر بعد وہاں سے اترا اور گھوڑے کی لگام پکڑ کر پیدل چل پڑا۔ فدائی اس سے ذرا ہی دور چھپے ہوئے تھے۔ سلطان
‫ایوبی ایک جگہ سے گھوم گیا۔ آگے میدان تھا۔ وہ گھوڑے پر سوار ہونے ہی لگا تھا کہ اسے دوڑتے قدموں کی آہٹ سنائی
‫دی۔ ایک فدائی ایک فٹ لمبا خنجر ہاتھ میں لیے‪ ،اس سے دو تین قدم دور رہ گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے دیکھ لیا۔
‫سلطان ایوبی نے اپنا خنجر نکاال۔ فدائی نے وار کردیا۔ سلطان ایوبی نے اس کی خنجر والی کالئی کے آگے اپنی کالئی رکھ کر
‫وارروکنے کی کوشش کی مگر فدائی تنومند تھا۔ وار بڑی ہی طاقت سے کیاگیا تھا۔ سلطان ایوبی نے وار کیا جو فدائی بچا گیا۔
‫چٹان کی اوٹ سے ایک اور فدائی نکال۔ اس نے بھی وار کیا جو سلطان ایوبی نے بچا تو لیا لیکن اس کے کولہے کی کھال
‫کو چیر گیا۔ سلطان ایوبی گھوڑے کی اوٹ میں ہوگیا۔ ایک فدائی ادھر آیا تو سلطان ایوبی نے بائیں ہاتھ کاگھونسہ اس کے منہ
‫پر مارا۔ وہ پیچھے کو گرنے لگا تو سلطان ا یوبی نے خنجر اس کے دل کے مقام پر اتار کر زور سے ایک طرف کو جھٹکا
‫دیا۔ یہ فدائی ختم ہوگیا۔
‫دوسرے نے اس کے پیچھے سے وار کیا لیکن سلطان ایوبی بروقت سنبھل گیا۔ فدائی کے خنجر کی نوک سلطان ایوبی کے
‫ایک بازو میں لگی۔ یہ زخم بھی گہرا نہیں تھا۔ باقی دو فدائی بھی سامنے آگئے۔ سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دئیے
‫جو آن واحد میں سلطان ایوبی کے قریب آگئے۔ فدائی بھاگے۔ ایک کو تو سواروں نے گھوڑوں تلے کچل ڈاال‪ ،دوسرے کو مار
‫تعالی نے سلطان صالح الدین ایوبی کو اس حملے سے
‫ڈاال۔ سلطان ایوبی کی پکار پر آخری فدائی کو زندہ پکڑ لیا گیا۔ اللہ
‫ٰ
‫بھی بچا لیا۔ اس پر جس وقت حملہ ہوا اس کا عملہ اس سے ساتھ آٹھ سو گز دور ایک بلندی پر کھڑا تھا۔ اتفاق سے ان
‫میں سے کسی نے دیکھ لیا‪ ،ورنہ یہ حملہ ناکام ہونے واال نہیں تھا۔
‫یہ قاتالنہ حملہ مئی ‪١١٧٦ء (ذی القعد ‪٥٧١ھ ہجری) کا ہے۔ اس کے متعلق مورخین میں اختالف پایا جاتا ہے۔ قاضی
‫بہائوالدین شداد نے اپنی ڈائری میں اتنا ہی لکھا ہے کہ صالح الدین ایوبی قلعہ اعزاز کے محاصرے کے لیے جارہا تھا کہ چار
‫وتعالی نے اسے بچا لیا۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمد اکبر خان (رنگروٹ) نے
‫فدائیوں نے اس پر قاتالنہ حملہ کیا۔ اللہ تبارک
‫ٰ
‫متعدد حوالوں سے لکھا ہے کہ سلطان ایوبی قلعہ اعزاز کے محاصرے کے دوران دن کے وقت اپنے ایک ساالر جاواال سدی کے
‫خیمے میں سویا ہوا تھا۔ جب ایک فدائی نے خیمے میں جاکر اس پر خنجر سے وار کیا۔ اتفاق سے سلطان ایوبی کے سر پر
‫وہ مخصوص پگڑی تھی جو وہ میدان جنگ میں پہنا کرتا تھا۔ اسے تربوش کہتے تھے۔ حملہ آور کا خنجر تربوش میں لگا اور
‫سلطان ایوبی جاگ اٹھا۔ فورا ً ہی چارپانچ فدائی اندر آگئے اور ان کے ساتھ ہی سلطان ایوبی کے باڈی گارڈ بھی اندر آگئے
‫جنہوں نے فدائیوں کو ہالک کرڈاال۔ جنرل موصوف نے لکھا ہے کہ یہ فدائی کچھ عرصے سے دھوکے میں سلطان ایوبی کے

‫محافظ دستے میں شامل ہوگئے تھے۔
‫یورپی مورخوں نے لکھا ہے کہ حملہ آور سلطان ایوبی کے اپنے باڈی گارڈ تھے۔ ان مورخین نے سلطان ایوبی کے خالف یہ
‫شہادت مہیا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنی فوج میں بالکل مقبول نہیں تھا یہاں تک کہ اس کے باڈی گارڈ تک
‫اس کے وفادار نہیں تھے۔ اس وقت کے واقعہ نگاروں کی غیر مطبوعہ تحریروں سے یہی کہانی سامنے آتی ہے جو سنائی گئی
‫ہے۔ فدائی نہ اس کے محافظ دستے میں تھے نہ کسی دھوکے سے حملہ آورہوئے تھے۔ا نہیں سلطان ایوبی اکیال مل گیا تھا۔
‫جو فدائی پکڑا گیا تھا‪ ،اس نے بیان دیا کہ وہ چاروں قلعہ عصیات سے آئے ہیں۔ اسے حسن بن عبداللہ کے حوالہ کردیا گیا
‫جس نے اس سے قلعہ عصیات کے متعلق تمام تر معلومات لے لیں۔یہ بھی پوچھ لیا کہ اندر کتنی فوج ہے اور اس کے لڑنے
‫کی اہلیت کیسی ہے۔ یہ معلومات سلطان ایوبی کو دی گئیں۔
‫کل رات کے آخری پہر ہم عصیات کی طرف کوچ کریں گے''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ اس نے اپنی ہائی کمانڈ کے ساالروں''
‫کو بالیا اور کہا…… ''فدائیوں کا یہ اڈا اکھاڑنا ضروری ہوگیا ہے۔ اس پر فورا ً قبضہ کرنا ہے۔ فوج کا تیسرا حصہ کافی ہوگا''۔
‫اس نے بتایا کہ کتنی نفری جائے گی اور اس کی ترتیب کیا ہوگی۔
‫اس شام سلطان ایوبی کو اطالع دی گئی کہ الناصر نام کا ایک چھاپہ مار واپس آیا ہے۔ حسن بن عبداللہ الناصر سے ساری
‫رپورٹ لے چکا تھا۔ اسے سلطان ایوبی کے سامنے پیش کرناضروری تھا۔ الناصر کو بڑی ہی بری حالت میں پیش کیا گیا۔
‫مسلسل سفر‪ ،بھوک اور پیاس نے اسے ادھ مؤا کردیا تھا۔ا س کے ساتھ لزا تھی۔ا س کارنگ اڑا ہوا اور جسمانی حالت دگرگوں
‫تھی۔ الناصر نے سلطان ایوبی کو پوری تفصیل سے سنایا کہ اس پر کیا گزری ہے۔ اس نے کوئی بات پوشیدہ نہ رکھی۔ لزا کے
‫متعلق بھی سب کچھ بتایا۔سلطان ایوبی نے لزا سے پوچھا کہ وہ اپنے متعلق فیصلے میں آزادہے۔ لزا شاید اپنے آپ کو قیدی
‫سمجھ رہی تھی اور اسے بہت برے سلوک کی توقع تھی لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا۔ اس نے الناصر کے ساتھ رہنے کی
‫خواہش ظاہر کی۔ اسے بتایا گیا کہ اسے دمشق بھیج دیا جائے گا جہاں وہ نورالدین زنگی کی بیوہ کی تحویل میں رہے گی اور
‫الناصر اسے کچھ عرصے کے بعد ملے گا۔ دراصل اس قسم کی لڑکیوں کو ان کی جذباتی باتوں سے متاثر ہوکر قابل اعتماد
‫نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دمشق میں انہیں عزت اور آرام سے رکھا جاتا تھا اور ان کی خفیہ نگرانی کی جاتی تھی۔
‫الناصر کو زخموں کے عالج اور آرام کے لیے پچھلے کیمپ میں بھیج دیا گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫شیخ سنان کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ گمشتگین اسے دھوکہ دے گیا تھا۔ اس نے گمشتگین کے قافلے کے تعاقب میں
‫جو آدمی بھیجے تھے‪ ،ان میں سے صرف دو واپس آئے تھے۔ وہ تھیریسیا کو اٹھا الئے تھے۔ لزا کو الناصر بچا لے گیا تھا۔
‫شیخ سنان تھیریسیا سے انتقام لے رہا تھا۔ اسے اس نے قید میں ڈال رکھا تھا۔ تھی تو وہ بھی بہت ہی خوبصورت لڑکی
‫لیکن شیخ سنان کی نظر لزا پر تھی۔
‫دن کا پچھال پہر تھا۔ عصیات کے قلعے کی دیواروں پر کھڑے سنتریوں نے دور گرد کے بادل اٹھتے دیکھے‪ ،گرد آگے ہی آگے
‫حتی کہ گرد میں سینکڑوں گھوڑے نظر آنے لگے‪ ،پھر پیادہ فوج نظر آئی۔ سنتریوں نے نقارے
‫آرہی تھی۔ سنتری دیکھتے رہے۔
‫ٰ
‫بجا دئیے۔ کمانڈروں نے اوپر جاکر دیکھا۔ شیخ سنان کو اطالع دی۔ وہ بھی سامنے والی دیوار پر چڑھ گیا۔ اس وقت فوج قلعے
‫کے قریب آکر محاصرے کی ترتیب میں ہورہی تھی۔ شیخ سنان نے مقابلے کا حکم دے دیا۔ قلعے کی دیواروں پر تیرانداز پہنچ
‫گئے لیکن انہوں نے کوئی تیر نہ چالیا کیونکہ وہ باہر کی فوج کارویہ دیکھنا چاہتے تھے۔سلطان ایوبی کو قلعے کے اندر کی
‫معلومات مل چکی تھیں۔ الناصر اس کے ساتھ تھا۔ دو منجینقیں نصب کردی گئی۔ الناصر نے انہیں بتایا کہ شیخ سنان کا محل
‫کہاں ہے اور کتنی دور ہے۔اس کی رہنمائی میں منجنیقوں نے پہلے بڑے پتھر پھینکے جو ٹھکانے پر پڑے۔ سنان کے محل کی
‫دیواروں میں شگاف پڑ گئے۔
‫قلعے سے تیروں کا مینہ برس پڑا۔ سلطان ایوبی کے حکم سے منجنیقوں سے آتش گیر مادے کی سربمہر ہانڈیاں اندر پھینکی ‪:
‫گئیں۔ یہ سنان کے محل کے قریب گر کر ٹوٹیں۔ سیال مادہ دور دور تک پھیل گیا۔ اسے آگ لگانے کے لیے فیتے والے آتشیں
‫تیر چالئے گئے لیکن آتش گیر سیال پر نہ گرے۔ تیر ٹھکانے پر پھینکنا آسان نہیں تھا۔ انہیں قلعے کی دیوار کے اوپر سے
‫اندر جانا تھا۔ اتفاق سے قریب کہیں آگ جل رہی تھی۔ ایک ہانڈی اس کے اتنا قریب پھٹی کہ آگ نے اس کے مادہ کو
‫شعلہ بنا دیا۔ دوسرے ہی لمحے سنان کا محل شعلوں کی لپیٹ میں آگیا‪ ،وہاں بے شمار آتش گیر مادہ گر اور بہہ بہہ کر
‫پھیل گیا تھا۔
‫شیخ سنان پر شعلوں نے دہشت طاری کردی۔ اس کی فوج صلیبیوں اور مسلمانوں کی لڑاکا فوج نہیں تھی۔ یہ نشے اور کابلی
‫کی ماری ہوئی فوج تھی۔ سنان نے حقیقت کو تسلیم کرلیا اور اس نے قلعے پر سفید جھنڈا چڑھا دیا۔ سلطان ایوبی نے جنگ
‫بندی کا حکم دے دیا اور کہا کہ شیخ سنان سے کہو کہ باہر آئے۔ ہر طرف خاموشی طاری ہوگئی۔
20:45
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 110لڑکی نے اپنی الش دیکھی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫سلطان ایوبی نے جنگ بندی کا حکم دے دیا اور کہا کہ شیخ سنان سے کہو کہ باہر آئے۔ ہر طرف خاموشی طاری ہوگئی۔
‫ذرا دیر بعد قلعے کا دوازہ کھال اور شیخ سنان دو تین ساالروں کے ساتھ باہر آیا۔ سلطان ایوبی اس کے استقبال کے لیے آگے
‫نہیں بڑھا۔ اس کی نگاہ میں سنان مجرم تھا۔ وہ جب سلطان ایوبی کے سامنے آیا تو سلطان نے اسے اور اس کے ساالروں کو
‫اتنا بھی نہ کہا کہ بیٹھ جائو۔
‫''سنان!'' سلطان ایوبی نے کہا…… ''کیا چاہتے ہو؟''
‫جان امان''۔ شیخ سنان نے شکست خوردہ آواز میں کہا۔''
‫اور قلعہ؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
‫مجھے آپ کا فیصلہ منظور ہوگا''۔''
‫اپنی فوج کے ساتھ قلعے سے فورا ً نکل جائو''۔ سلطان ایوبی نے کہا…… ''تم کوئی سامان اپنے ساتھ نہیں لے جاسکو ''
‫گے۔ اپنی فوج کو سمیٹو۔ کسی کمان دار اور کسی سپاہی کے پاس کوئی اسلحہ نہ ہو۔ یہاں سے خالی ہاتھ نکلو۔ تہہ خانے
‫میں جو قیدی ہیں‪ ،انہیں وہیں رہنے دو اور یاد رکھو‪ ،سلطنت اسالمیہ کی حدود میں نہ ٹھہرنا۔ صلیبیوں کے پاس جاکر دم لینا۔
‫تم نے اب کے جو چار فدائی میرے قتل کے لیے بھیجے تھے وہ بھی مارے گئے ہیں۔ میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ سفید

‫جھنڈا تم نے چڑھایا ہے۔ میں قرآن کے فرمان کا پابند ہوں۔ میں کہہ نہیں سکتا‪ ،خداتمہیں معاف کریگا یا نہیں۔ اپنے آپ کو
‫مسلمان کہنا چھوڑ دو‪ ،ورنہ میں تمہیں اور تمہارے فرقے کو بحیرٔہ روم میں ڈبو کر دم لوں گا''۔
‫جب سورج غروب ہورہا تھا‪ ،دور افق پر انسانوں کی لمبی قطار سرجھکائے چلی جارہی تھی۔ شیخ سنان اسی قطار میں تھا۔
‫اس قطار میں اس کے سپاہی اور اس کے ساالر بھی تھے اور اس قطار میں اس کے پیشہ ور قاتل بھی تھے۔ وہ اپنے ساتھ
‫کچھ بھی نہیں لے جاسکے تھے۔ ان کے گھوڑے اور اونٹ قلعے میں رکھ لیے گئے۔ سورج غروب ہونے تک سلطان ایوبی کی
‫فوج قلعے پر قبضہ مکمل کرچکی تھی۔ تہہ خانے سے قیدیوں کو نکال لیا گیا تھا۔ قلعے سے جو زروجواہرات برآمد ہوئے تھے‪،
‫ان کا کوئی شمار نہ تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی نے قلعہ ایک ساالر کے حوالے کیا اور رات کو ہی کو ِہ سلطان کو روانہ ہوگیا۔ وہ اب زیادہ انتظار نہیں کرنا چاہتا
‫تھا۔ چند ہی دنوں میں اس نے پیش قدمی کی اور اعزاز کے قلعے کا محاصرہ کیا۔ حلب والوں نے اس قلعے کو دفاعی
‫لحاظ سے بہت مستحکم کررکھا تھا۔ یہ دراصل حلب کا دفاع تھا۔ اس میں جو فوج تھی‪ ،وہ تازہ دم تھی۔ میدان جنگ میں
‫نہیں گئی تھی۔ سلطان ایوبی کو ایسی خوش فہمی نہیں تھی کہ وہ اس قلعے کو فورا ً سر کرلے گا۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ
‫عقب سے حلب کی فوج حملہ کردے گی۔ اس خطرے کو روکنے کاانتظام کرلیاگیا تھا۔سلطان ایوبی کو یہ فائدہ حاصل تھا کہ
‫حلب کی فوج ترکمان کی لڑائی سے نقصان اٹھا کر آئی تھی۔ اس کا لڑنے کا جذبہ مجروح ہوچکا تھا۔
‫قلعہ اعزاز کے دفاع میں لڑنے والوں نے بے جگری سے مقابلہ کیا۔ تمام دن اور ساری رات انہوں نے سلطان ایوبی کی فوج
‫کو قلعے کے قریب نہ آنے دیا۔ دیواریں توڑنے والی پارٹیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی جگہ سے دیوار کے قریب چلے جائیں
‫اور دیوار توڑ سکیں لیکن تیراندازوں نے انہیں قریب نہ آنے دیا۔ اگلے دن بڑی منجنیقوں سے قلعے کے دروازے پر وزنی پتھر
‫مارے گئے۔ آتش گیر مادہ کی ہانڈیاں بھی دروازے پر پھینک کر آتشیں تیر چالئے گئے۔ شعلوں نے دروازے کو چاٹنا شروع
‫کردیا۔ اوپر سے اعزاز کے تیر اندازوں نے منجنیقوں کے کئی آدمی زخمی اور شہید ہوئے لیکن اس قربانی کے بغیر قلعہ سر
‫کرنا ممکن نہیں تھا۔ ایک شہید ہوتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا تھا۔
‫دروازہ جل رہا تھا اور اس پر لگاتار پتھر پڑ رہے تھے۔ بہت دیر بعد پتھر دروازے میں سے اندر جانے لگے۔ شعلوں نے لکڑی
‫کو کھا لیا تھا۔ لوہے کا فریم باقی تھا جو پتھروں سے ٹیڑھا ہورہا تھا۔ رات کو شعلے بجھ گئے‪ ،دروازے کا آہنی ڈھانچہ رہ
‫گیا۔ اس میں سے پیادے گزر سکتے تھے‪ ،گھوڑھے گزارنا مشکل تھا۔ یہاں جانبازی کی ضرورت تھی۔ پیادہ دستوں کو حکم دیا
‫گیا کہ دروازے کے ڈھانچے میں سے گزر کر اندر جائیں۔ یہ سلطان ایوبی کے ''کریک ٹروپس'' تھے۔ انہوں نے ہلہ بول دیا۔
‫اعزاز کے سپاہیوں نے ان دستوں کا یہ حشر کیا کہ آگے جو گئے تھے‪ ،انہیں وہیں ڈھیر کردیا۔ پیچھے والے اپنے ساتھیوں کی
‫الشوں کے اوپر سے اندر گئے۔
‫یہ معرکہ بڑاہی خون ریز تھا۔ اس سے یہ فائدہ اٹھایا گیا کہ دروازے کا آہنی ڈھانچہ توڑ لیا گیا جو پیادے زندہ تھے وہ اندر
‫جاکر بکھر گئے اور خوب لڑے۔ پھر گھوڑ سواروں کو اندر جانے کا حکم مال…… سلطان ایوبی نے قلعے کے اندر آتش زنی کا
‫حکم دے دیا۔ ایک دستہ جگہ جگہ آگ لگانے لگا۔ اعزاز کی فوج ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نظر نہیں آتی تھی۔ یہ قلعہ حلب سے
‫نظر آتا تھا۔ رات کو حلب والوں نے دیکھا کہ
‫جہاں قلعہ ہے وہاں سے آسمان سرخ ہورہا ہے۔ شعلے بلند ہورہے تھے۔ یہ اطالع تو حلب میں پہنچ چکی تھی کہ سلطان ‪:
‫ایوبی نے اعزاز کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ حلب کی ہائی کمانڈ نے اس امکان پر بھی غور کیا تھا کہ سلطان ایوبی پر
‫عقب سے حملہ کیا جائے مگر ساالروں نے بتایا کہ فوج لڑنے کے قابل نہیں۔
‫اس وقت سیف الدین حلب میں ہی تھا اور گمشتگین بھی وہیں چال گیا تھا۔ ان دونوں کے درمیان اعزاز اور حلب کے دفاع
‫کے سلسلے میں ترش کالمی ہوئی جو اس حد تک بڑھی کہ گمشتگین نے سیف الدین کو قتل کی دھمکی دے دی۔ سیف
‫الدین نے اتحاد توڑ دیا۔ اس کی جو بچی کھچی فوجی تھی وہ حلب سے نکال لے گیا۔ یہ لوگ دراصل ایک دوسرے کے بھی
‫دشمن تھے۔ الملک الصالح کی عمر اب تیرہ برس سے کچھ اوپر ہوگئی تھی۔ وہ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوگیا تھا۔ اس نے
‫گمشتگین کا رویہ دیکھا تو اس نے محسوس کرلیا کہ اس کا یہ دوست سازشی ہے۔ اس نے گمشتگین کو قید خانے میں ڈال
‫دیا۔ تاریخ میں تحریر ہے کہ گمشتگین نے ان حاالت میں کہ حلب اور اعزاز محاصرے میں تھے۔ الملک الصالح کے خالف
‫کوئی نئی سازش تیار کی تھی جس کا انکشاف ہوگیا اور اسے قید میں ڈال کر دو تین روز بعد قتل کردیا گیا۔
‫آخر اعزاز کے محافظوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ سلطان ایوبی کو اس کی بہت بڑی قیمت دینی پڑی۔ اس کے جن دستوں نے
‫قلعے کے اندر معرکہ لڑا تھا ان کی نفری آدھی رہ گئی تھی۔ اعزاز والوں نے ثابت کردیا تھا کہ وہ بزدل نہیں۔ سلطان ایوبی
‫نے فورا ً حلب کو محاصرے میں لے لیا۔ حلب قریب ہی تھا۔ حلب کے اندر جذبے کی یہ کیفیت تھی کہ رات اعزاز کے
‫شعلوں نے انہیں دہشت زدہ کردیا تھا۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ ان کی فوج میں اتنا دم نہیں رہا کہ شہر کا دفاع کرسکے۔
‫انہی شہریوں نے کچھ عرصے پہلے سلطان ایوبی کے چھکے چھڑا دئیے تھے اور اسے محاصرہ اٹھانا پڑا تھا مگر اب یہ شہر
‫جیسے مر ہی گیاتھا۔ محاصرے کے دوسرے دن الملک الصالح کا ایک ایلچی سلطان ایوبی کے پاس آیا۔ وہ جو پیغام الیا وہ
‫صلح کی پیش کش نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا جذباتی پیغام تھا جس نے سلطان ایوبی کو جھنجھوڑ ڈاال۔ پیغام یہ تھا کہ نورالدین
‫زنگی مرحوم کی بچی سلطان ایوبی سے ملنا چاہتی ہے۔ اس بچی کا نام شمس النساء تھا۔ یہ الملک الصالح کی چھوٹی بہن
‫تھی۔ عمر دس گیارہ سال تھی۔ الملک الصالح جب دمشق سے حلب گیا تو اپنی بہن کو بھی ساتھ لے گیا تھا۔ا ن کی ماں
‫رضیع خاتون بنت معین الدین ( بیوہ نورالدین زنگی) دمشق میں ہی رہی تھی۔ وہ سلطان ایوبی کی حامی تھی۔
‫سلطان ایوبی نے حلب کے ایلچی کو جواب دیا کہ بچی کو لے آئے۔
‫بچی آگئی۔ اس کے ساتھ الملک الصالح کے دو ساالر تھے۔ سلطان ایوبی نے بچی کو سینے سے لگا لیا اور وہ بہت رویا۔
‫بچی کے ہاتھ میں الملک الصالح کا تحریری پیغام تھا جس میں اس نے شکست قبول کرلی تھی اور سلطان ایوبی کو سلطان
‫تسلیم کرلیا تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کی اطاعت بھی قبول کرلی تھی۔ اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ گمشتگین کو قتل کردیا
‫گیا ہے۔ اس لیے حرن بھی سلطان ایوبی کی ملکیت تصور کیا جائے۔
‫''تم لوگ بچی کو کیوں ساتھ الئے ہو؟'' سلطان ایوبی نے ساالروں سے پوچھا…… ''یہ پیغام تم خود نہیں السکتے تھے؟''
‫جواب ساالروں کو دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے بچی کی طرف دیکھا۔ بچی نے سلطان ایوبی سے کہا…… ''ماموں جان!
‫مجھے بھائی صالح نے بھیجا ہے۔ آپ اعزاز کا قلعہ ہمیں دے دیں اور ہمیں حلب میں رہنے دیں۔ ہم آئندہ آپ سے لڑائی
‫نہیں کریں گے''۔

‫سلطان ایوبی نے بچی کے ساتھ آئے ہوئے ساالروں کو غضب ناک نظروں سے دیکھا۔ وہ شرط منوانے کے لیے زنگی مرحوم ‪:
‫کی بچی کو ساتھ الئے تھے۔
‫میں اعزاز کا قلعہ اور حلب تمہیں دیتا ہوں شمس النسائ''۔ سلطان ایوبی نے بچی کو گلے لگا کر کہا اور حکم جاری ''
‫کردیا کہ اعزاز کے قلعے سے اپنی فوج نکال لی جائے اور حلب کامحاصرہ اٹھا لیا جائے۔ اس نے حلب کے ساالروں سے
‫کہا…… ''میں نے اعزاز اور حلب اس معصوم بچی کو دیا ہے۔ تم بزدل‪ ،بے غیرت اور ایمان فروش اس قابل بھی نہیں کہ
‫تمہیں فوج میں رہنے دیاجائے''۔
‫‪٢٤جون ‪١١٧٦ء (‪ ١٤ذی الحج ‪ ٥٧١ہجری) معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ سلطان ایوبی نے اعزاز اور حلب کو سلطنت اسالمیہ
‫میں شامل کرلیا اور الملک الصالح کو نیم خودمختاری کی حیثیت دے دی۔ اس کے فورا ً بعد سیف الدین نے بھی سلطان ایوبی
‫کی اطاعت قبول کرلی…… اور مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں کا دور ختم ہوگیا مگر قوم میں غدار اور ایمان فروش بدستور
‫سرگرم رہے۔
20:46
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 111رات‪ ،روح اورروشنی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫قبرستان بہت ہی وسیع تھا۔ تمام قبریں ابھی تازہ تھیں۔ مٹی کی ڈھیریاں بے ترتیب تھیں۔ کوئی اونچی کوئی نیچی۔ بعض
‫قبریں ایک دوسرے سے مل گئی تھیں۔ میدان جنگ کی قبریں ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔ حماة سے حلب تک ایسے تین
‫قبرستان تیار ہوگئے تھے۔ یہ سرسبز اور شاداب خطہ اداس ہوگیا تھا۔ اس کی فضا خون کی بو سے بوجھل ہوگئی تھی۔ جہاں
‫پرندے چہچہاتے تھے‪ ،وہاں گدھ منڈال رہے تھے۔
‫ایسا ایک قبرستان حلب کے مضافاتی قلعہ اعزاز کے قریب تھا۔ قبروں کی مٹی ابھی نمناک تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی
‫کی فوجوں کا امام چند ایک فوجیوں کے ساتھ وہاں کھڑا فاتحہ پڑھ رہا تھا۔ اس نے جب منہ پر ہاتھ پھیرے تو آنسو اس کی
‫داڑھی تک پہنچ چکے تھے۔
‫یہ خطہ اب بانجھ ہوجائے گا۔ یہاں اب کوئی پتا ہرا نہیں ہوگا''… اس نے کہا… ''یہاں ایک ہی رسول صلی اللہ علیہ ''
‫وآلہ وسلم کی اطاعت کرنے والے‪ ،ایک ہی کلمہ اور ایک ہی قرآن پڑھنے والے ایک دوسرے کے قاتل ہوگئے تھے جس زمین
‫پر بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون گرتا ہے‪ ،وہ زمین سوکھ جاتی ہے۔ یہاں تکبیر کے نعرے ٹکرائے تھے۔ یہ سب مسلمان
‫تھے۔ ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ حق کے نام پر جانیں قربان کرنے والے شہید ہوئے اور باطل کے ساتھی اس رتبے
‫روز محشر اکٹھے اٹھائے جائیں گے۔ خدائے ذوالجالل انہیں یہ تو ضرور کہیں گے کہ خون جو تم نے
‫سے محروم رہے۔ یہ سب ِ
‫ایک دوسرے کا بہایا ہے‪ ،اتنا تم مل کر اسالم کے دشمن کا بہاتے تو فلسطین ہی نہیں‪ ،سپین بھی ایک بار پھر تمہارا
‫ہوتا''۔
‫گھوڑوں کے قدموں کی ہنگامہ خیز آوازیں سنائی دیں۔ امام کے ساتھ کھڑے کسی فوجی نے کہا… ''سلطان آرہے ہیں''… امام
‫نے گھوم کر دیکھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی آرہا تھا۔ اس کے ساتھ ساالر اور محافظ دستے کے چھ سوار تھے۔ قبرستان کے
‫قریب آکر سلطان ایوبی نے گھوڑا روکا‪ ،اترا اور امام کے قریب آکر فاتحہ پڑھ کر اس نے امام سے ہاتھ مالیا۔
‫سلطان محترم!''… امام نے سلطان ایوبی سے کہا… ''یہ صحیح ہے کہ یہ بھی مسلمان تھے جو ہمارے خالف لڑے‪ ،لیکن''
‫ِ
‫میں انہیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ ان کی قبروں پر فاتحہ پڑھی جائے۔ انہیں شہیدوں کے ساتھ دفن نہیں کرنا چاہیے تھا۔
‫ہمارے مجاہدین حق کی خاطر لڑ رہے تھے۔ انہیں آپ نے دشمن کے مقتولین کے ساتھ دفن کرادیا ہے''۔
‫میں انہیں بھی شہید سمجھتا ہوں جو باطل کی خاطر ہمارے خالف لڑے تھے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''یہ اپنے ''
‫حکمرانوں کی فریب کاری کے شہید ہیں۔ ہم نے اپنے سپاہیوں کو اللہ کا پیغام دیا تھا۔ ان کے خالف لڑنے والے سپاہیوں کو
‫ان کے بادشاہوں نے جذباتی نعرے اور جھوٹا پیغام دے کر ان کے دلوں میں باطل کو حق بتا کر بٹھا دیا۔ ان کے اماموں نے
‫انعام واکرام لے کر سپاہیوں کو گمراہ کیا اور اللہ اکبر کے نعرے لگا کر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی
‫خالف ورزی کرائی۔ میں ان کی الشوں کو ایک ہی گڑھے میں دبا کر یاکہیں پھینک کر ان کی توہین نہیں کرنا چاہتا تھا۔ہمارے
‫دشمن مسلمانوں کے جن سپاہیوں کو احساس ہوگیا تھا کہا انہیں گمراہ کیا گیا ہے وہ ہمارے ساتھ ہیں اور یہ جو مرگئے ہیں‪،
‫ان تک روشنی نہیں پہنچی تھی کیونکہ بادشاہی کے دلدادہ حکمرانوں نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی''۔
‫پہلے سنایا جاچکا ہے کہ مسلمان امراء سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن ہوگئے تھے۔ وہ خالفت سے آزادہوکر خودمختار
‫حکمران بننا چاہتے تھے۔ ان میں ایک نورالدین زنگی مرحوم کا بیٹا الملک الصالح تھا‪ ،دوسراموصل کا امیر سیف الدین غازی
‫اور تیسرا گمشتگین جو حرن کا قلعہ دار تھا لیکن اس نے خودمختاری کا اعالن کردیا تھا۔ ان تینوں نے اپنی فوجوں کی
‫متحدہ ہائی کمان بنا لی اور سلطان ایوبی کیخالف محاذ آرا ہوگئے تھے۔ صلیبی ان کی پشت پناہی کررہے تھے۔ صلیبیوں کو
‫ان کے ساتھ صرف یہ دلچسپی تھی کہ مسلمان آپس میں ٹکرا ٹکرا کر ختم ہوجائیں یا اتنے کمزور ہوجائیں کہ ان (صلیبیوں)
‫کے خالف لڑنے کے قابل نہ رہیں۔ حکمرانی کے نشے‪ ،صلیبیوں کی دی ہوئی مالی اور جنگی امداد‪ ،شراب اور یہودیوں کی
‫حسین وجمیل لڑکیوں نے ان امراء کو ایسا اندھا کیا کہ وہ سلطان ایوبی کے راستے میں اس وقت حائل ہوگئے جب نورالدین
‫زنگی فوت ہوچکا تھا اور سلطان ایوبی مصر سے یہ عزم لے کر آیا تھا کہ صلیبیوں کو عالم اسالم سے بے دخل کرکے قبلہ
‫اول کو سلطنت اسالمیہ میں شامل کرلے گا۔
‫ڈیڑھ سال تک حماة سے حلب تک کے اس سرسبز خطے میں مسلمان مسلمان کا خون بہاتا رہا۔ آخر فتح حق کی ہوئی۔ ‪:
‫سلطان ایوبی نے فتح پائی۔ اس کے دشمنوں نے اس کی اطاعت قبول کرلی لیکن سلطان ایوبی کے چہرے پر مسرت کی ہلکی
‫سی بھی جھلک نظر نہیں آتی تھی۔ قوم کی عسکری قوت کا بیشتر حصہ تباہ ہوچکا تھا۔ اس لحاظ سے یہ صلیبیوں کی فتح
‫اور مسلمانوں کی شکست تھی۔ صلیبی اپنے عزائم میں کامیاب ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی اب کئی برسوں تک بیت المقدس
‫کی طرف پیش قدمی کے قابل نہیں رہاتھا۔
‫جون ‪ ١١٧٦ء کے اس روز جب سلطان ایوبی قلعہ اعزاز کے قریب وسیع قبرستان میں اپنے امام کے پاس کھڑا تھا تو (اس دور
‫کے واقعہ نگاروں کے مطابق) اس کا چہرہ بجھا بجھا سا تھا۔ اس نے امام سے کہا… ''ہر نماز کے بعد دعا کریں کہ اللہ
‫تعالی انہیں بخش دے جن کی آنکھوں پر کفر کی پٹی باندھ کر اپنے بھائیوں کے خالف لڑایا گیا تھا''… سلطان گھوڑے پر
‫ٰ
‫سوار ہوا اور اس نے قبرستان پر نگاہ ڈالی… ''خدا کو اتنے زیادہ خون کا حساب کون دے گا؟ یہ گناہ میرے حساب میں نہ

‫لکھ دیا جائے''۔
‫اپنے ساالروں کی طرف دیکھ کر اس نے کہا… ''ہماری قوم خودکشی کے راستے پر چل پڑی ہے۔ کفار امت رسول اللہ صلی
‫اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت اور جذبے سے اس قدر خائف ہیں کہ اس قوت کو دلکش حربوں سے کمزور کررہے ہیں۔ ان کے
‫پاس یہی ایک ذریعہ رہ گیا ہے۔ ہمارے بعض بھائیوں نے ان کے اس ذریعے کو قبول کرلیا ہے اور تاریخ میں خانہ جنگی کا
‫باب کھول دیا ہے۔ اگر ہم نے اس باب کو یہیں بند نہ کیا تو میں مستقبل کو جہاں تک دیکھ سکتا ہوں‪ ،مجھے امت رسول
‫اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ جنگی سے خودکشی کرتی نظر آتی ہے۔ کفار آج کے دور کی طرح مالی اور جنگی امداد
‫دے دے کر امت کو آپس میں لڑاتے رہیں گے۔ چند ایک افراد پر جب تخت وتاج کے حصول کا جنون سوار ہوتا ہے تو وہ
‫قوم کو آلٔہ کار بنا کر قوم کو لے ڈوبتے ہیں۔ بادشاہی کے یہ بھوکے لوگ قوم کا خون اسی طرح بہاتے رہیں گے۔ یہ اتنا
‫وسیع قبرستان دیکھو۔ قبریں گنو تو گن نہیں سکو گے۔ ہم پیچھے جو الشیں دفن کرآئے ہیں‪ ،ان کا بھی شمار نہیں۔ میں اتنے
‫''خون کا حساب کس سے لوں؟ خدا کو میں کیا جواب دوں گا؟
‫خانہ جنگی کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے''… ایک ساالر نے کہا۔ ''اب آگے کی سوچیں۔ ہمیں بیت المقدس پکار رہا ہے۔ قبلہ''
‫''اول ہماری راہ دیکھ رہا ہے
‫اور مجھے مصر پکار رہا ہے''… سلطان صالح الدین ایوبی نے گھوڑاچال دیا اور کہنے لگا… ''وہاں سے بڑی تشویش ناک ''
‫خبریں آرہی ہیں‪ ،وہاں میرا قائم مقام میرا بھائی ہے۔ وہ مجھے پریشانی سے بچانے کے لیے حاالت کی سنگینی مجھ سے
‫چھپا رہا ہے۔ علی بن سفیان اور کوتوال غیاث بلبیس بھی مجھے تفصیل سے کوئی بات نہیں بتا رہے۔ صرف اتنی خبر
‫بھیجتے ہیں کہ دشمن کی زمین دوز تخریبی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کا سدباب کیا جارہا ہے۔ پرسوں کے قاصد نے بتایا ہے
‫کہ قاہرہ میں تخریب کاری زور پکڑتی جارہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے شیخ سنان کو ہم نے عصیات سے بے دخل کردیا ہے مگر
‫اس کا قاتل گروہ قاہرہ میں سرگرم ہے۔ دوکمان دار ایسے طریقے سے قتل ہوگئے ہیں کہ ان کے جسموں پر زخم اور چوٹ کا
‫کوئی نشان نہیں۔ مرنے کے بعد الشوں کی حالت سے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ زہر دیا گیا تھا۔ یہ حشیشین کا خاص طریقہ
‫ہے''۔
‫تو کیا آپ فوج کو یہیں رہنے دیں گے یا ساتھ لے جائیں گے؟''… ایک ساالر نے کہا۔''
‫اس کے متعلق میں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''شاید کچھ نفری لے جائوں۔ فوج کی ضرورت ''
‫یہاں زیادہ ہے۔ صلیبیوں نے مصر میں تخریب کاری اس لیے تیز کردی ہے کہ میں فلسطین کی طرف پیش قدمی کرنے کے
‫بجائے مصر چال جائوں۔ میں ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہونے دوں گا‪ ،البتہ میرا مصر جانا ضروری ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی کے خدشے بے بنیاد نہیں تھے۔ صلیبیوں کی ذہنیت اور عزائم کو اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں سمجھ سکتا
‫تھا۔ اس وقت جب وہ قبرستان سے فاتحہ پڑھ کر اپنے جنگی ہیڈکوارٹر کی طرف جارہا تھا۔ شیخ سنان تریپولی پہنچ چکا تھا۔
‫آپ پڑھ چکے ہیں کہ حسن بن صباح کے بعد اس فرقے کے جس پیرومرشد نے شہرت حاصل کی‪ ،وہ شیخ سنان تھا۔ یہ
‫شخص حشیشین ( فدائیوں) کا سربراہ تھا۔ سلطان ایوبی اور صلیبیوں کی جنگوں کے دوران فدائیوں کا قاتل گروہ شیخ سنان کی
‫زیرقیادت بہت ہی زیادہ سرگرم ہوگیا تھا۔ سلطان ایوبی پر متعدد بار قاتالنہ حملے کیے گئے اور ہر حملے کا انجام یہ ہوا کہ
‫قاتل مارے گئے اور جو بچے وہ پکڑے گئے۔ صلیبیوں نے شیخ سنان کو عصیات نام کا ایک قلعہ دے رکھا جو مئی ‪١١٧٦ء
‫میں سلطان ایوبی نے محاصرے میں لے کر شیخ سنان سے ہتھیار ڈلوائے اور اس سے قلعہ خالی کراکے اسے بخش دیا تھا۔
‫اس محاصرے کی تفصیالت سنائی جاچکی ہیں۔
‫شیخ سنان جو ‪ ١١٧٦ء کے ایک رو زتریپولی ( لبنان) پہنچا۔ اس کے ساتھ اس کے فدائی اور فوج تھی۔ کسی کے پاس کوئی
‫ہتھیار نہیں تھا۔ سلطان ایوبی نے انہیں نہتہ کرکے رخصت کیا تھا۔ تریپولی اور گردونواح کا وسیع عالقہ ایک صلیبی کمانڈر کے
‫قبضے میں تھا۔ شیخ سنان اس کے پاس پہنچا اور پناہ مانگی۔ دو روز بعد ریمانڈ نے ادھر ادھر سے دوسرے صلیبی بادشاہوں
‫اور کمانڈروں کو تریپولی بالیا تاکہ سلطان ایوبی کے خالف آئندہ الئحہ عمل تیار کیا جائے۔ صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا ماہر
‫ڈائریکٹر جرمن نژاد ہرمن بھی اس کانفرنس میں موجود تھا۔
‫آپ مجھے اس بنا پر نہیں کوس سکتے کہ میں صالح الدین ایوبی سے شکست کھا کر آیا ہوں''… شیخ سنان نے صلیبیوں''
‫کی اس کانفرنس میں کہا… ''آپ جانتے ہیں کہ ہم فوج کی طرح نہیں لڑ سکتے۔ سلطان ایوبی کا مقابلہ تمہاری فوج بھی
‫نہیں کرسکتی‪ ،میرے فدائی اس کے محاصرے میں کیسے لڑ سکتے ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ آپ ایوبی کے دشمن مسلمان امراء
‫کو اپنی فوجیں دیں۔ وہ سب مل کر اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکے''۔
‫شیخ سنان!''… ریمانڈ نے کہا… ''یہ ہم تک رہنے دیں کہ ایوبی کے خالف ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ہم آپ کو یہ بتانا ''
‫چاہتے ہیں کہ آپ نے اس کے قتل کے لیے جو چار آدمی بھیجے تھے‪ ،وہ بھی ناکام ہوگئے ہیں‪ ،مارے گئے ہیں اور پکڑے
‫گئے ہیں۔صالح الدین ایوبی پر آپ کا ایک بھی قاتالنہ حملہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آپ اپنے بے کار
‫آدمی بھیجتے رہے ہیں جن کے مرجانے یا گرفتار ہوجانے سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ہم آپ کو جو مراعات اور رقم
‫دیتے رہے وہ ضائع ہوگئی ہے''۔
‫صرف ایک صالح الدین کے قتل نہ ہونے سے آپ کی رقم ضائع نہیں ہوئی''… شیخ سنان نے کہا… ''میں نے مصرمیں ''
‫صالح الدین ایوبی کی حکومت کو جو دو حاکم قتل کرائے ہیں‪ ،انہیں اپنی رقم کے حساب میں رکھیں۔ ) آپ کے تین طاقتور
‫مخالف سوڈان میں تھے۔ انہیں میں نے قبروں میں اتارا اور وہاں آپ کا راستہ صاف کیا ہے۔ صالح الدین ایوبی کے مخالف
‫مسلمان امراء میں سے جو حلب میں الملک الصالح کے ساتھ تھے‪ ،دو صالح الدین کے حامی ہوگئے تھے۔ آپ کے اشارے پر
‫میں نے انہیں قتل کرایا ہے اور اب مصر میں حاکموں کے خفیہ قتل کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے‪ ،وہ کس نے شروع کیا ہے؟
‫''کیا آپ اسے بھی ناکام کہیں گے؟
‫ایوبی کب قتل ہوگا؟''… فرانسیسی صلیبی گے آف نورینان نے میز پر مکا مار کر پوچھا… ''صالح الدین ایوبی کے قتل ''
‫''کی بات کرو‪ ،آپ نے نورالدین زنگی کو جو زہر دیا تھا‪ ،وہ صالح الدین ایوبی کو کب دو گے؟
‫جس روز اس قسم کے حاالت پیدا ہوجائیں گے جیسے نورالدین زنگی کے وقت پیدا ہوئے تھے''… شیخ سنان نے کہا … ''
‫'' زنگی زلزلے کی تباہ کاری کے متاثرین کی امداد کے لیے اکیال بھاگتا دوڑتا رہتا تھا۔ نہ اسے ہوش تھا‪ ،نہ اس کے عملے کو
‫کہ اس کے لیے جو کھانا پکتا ہے وہ کون پکاتا ہے اور کوئی اس کی نگرانی بھی کرتا ہے یا نہیں۔ اس موقعے سے میرے ان
‫آدمیوں نے جو میں نے آپ کے کہنے پر اس کے قتل کے لیے بھیج رکھے تھے‪ ،فائدہ اٹھایا اور اس کے کھانے میں وہ زہر

‫مال دیا جو گلے کی بیماری بن گیا اور وہ تین چار دنوں بعد مرگیا۔ اس کے طبیب آج بھی کہتے ہیں کہ نورالدین زنگی خناق
‫سے مراہے مگر صالح الدین ایوبی کے کھانے تک پہنچنا ممکن نہیں''۔
‫اعلی کمانڈر نے پوچھا۔''
‫کیا آپ اس باورچی کو خرید نہیں سکتے جو اس کا کھانا پکاتا ہے؟''… ایک
‫ٰ
‫اس کا جواب ہمارا دوست ہرمن دے سکتا ہے''… شیخ سنان نے کہا اور ہرمن کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔''
‫شیخ سنان ٹھیک کہتے ہیں''… ہرمن نے کہا… ''اس سوال کا جواب مجھے دینا چاہیے کہ صالح الدین ایوبی کے باورچی''
‫کو کیوں نہیں خریدا جاسکتا۔ اگر صالح الدین پرہوتا تو وہ اب تک زہر سے مارا جاچکا ہوتا۔ وہ اس کی پروا نہیں کرتا کہ
‫اس کے کھانے کی کسی نے نگرانی کی ہے یا نہیں۔ اس نے اپنی جان کو خدا کے سپرد کررکھا ہے۔ اس عقیدے کا وہ پکا
‫ہے کہ اس کی موت کا جو دن مقرر ہے‪ ،اس روز اسے اپنی جان خدا کے حضور پیش کرنی ہے اورا سے کوئی انسان روک
‫نہیں سکتا۔ اس کے محافظ دستے کا کمانڈر‪ ،خفیہ محکمے کا ایک ذمہ دار آدمی اور اس کا ایک معتمد خاص اس کا کھانا کھا
‫کر دیکھتے ہیں‪ ،بعض اوقات طبیب آجاتا ہے اور وہ بھی کھانا دیکھتا ہے۔ اس اتنی کڑی نگرانی کے عالوہ دوسری دشواری یہ
‫ہے کہ صالح الدین ایوبی کے باورچی اور دیگرتمام مالزم اس کے مرید ہیں۔ ان کے دلوں میں اس کی اندھی عقیدت ہے۔
‫ایوبی انہیں اپنے نوکر نہیں سمجھتا۔ ان کے ساتھ دوستوں اور بھائیوں جیسا سلوک کرتا ہے۔ پوری طرح جائزہ لیا جاچکا ہے۔
‫صالح الدین ایوبی کے اس ذاتی حلقے میں سے کسی کو خریدنا‪ ،اسے حلقے میں اپنا کوئی آدمی داخل کرنا ممکن نہیں۔ اس
‫کے پاس افراد ایسے ہیں جو اس کے گرد حصار کھینچے ہوئے ہیں۔ یہ ہیں علی بن سفیان‪ ،غیاث بلبیس‪ ،حسن بن عبداللہ اور
‫زاہدان۔ یہ سب اتنے ماہر سراغ رساں ہیں کہ ان کی نظریں انسان کے ضمیر اور روح کو بھی دیکھ لیتی ہیں''۔
‫اسالم کا خاتمہ''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''میں سوبار کہہ چکا ہوں کہ ہمیں اسالم کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ ایسا مذہب ''
‫ہے جو انسان کی روح کو قبضے میں لے لیتا ہے جس کسی نے اسالم کو اپنی روح میں اتار لیا‪ ،اسے دنیا کی کوئی طاقت
‫شکست نہیں دے سکتی۔ آپ سب نے دیکھ لیا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے گرد جن مسلمانوں کا گھیرا ہے‪ ،وہ مذہب کے
‫اتنے پکے ہیں کہ تم زروجواہرات سے اور اتنی خوبصورت لڑکیوں سے ان کا گھیرا نہیں توڑ سکتے۔ وہ مسلمان کچے ایمان کے
‫ہیں جنہیں تم خرید لیتے ہو۔ انہوں نے اسالم کو اپنی روح میں نہیں اترنے دیا‪ ،تم نے دیکھا ہے کہ ہمارے کتنے بڑے بڑے
‫لشکروں کو صالح الدین ایوبی کے کتنے تھوڑے تھوڑے سپاہیوں نے کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ جہاں ہمارے گھوڑے تھکن اور پیاس
‫سے رہ جاتے ہیں‪ ،وہاں صالح الدین ایوبی کے سپاہی تھکن اور پیاس سے بے نیاز رہتے ہیں۔ اس قوت کو یہ لوگ ایمان
‫اعلی حکام کو ہاتھ میں لینا بے شک ضروری
‫کہتے ہیں۔ ہمیں ان کا ایمان کمزور کرنا ہے۔ ہرمن! ان کے ایک دو امراء یا
‫ٰ
‫ہے۔ اس سے آپ نے بہت فائدہ اٹھایا ہے لیکن کوئی ایسا طریقہ اختیار کرو جس سے اس قوم کے دل میں اپنے مذہب کے
‫خالف بیزاری پیدا ہوجائے۔پختہ عمر کے آدمیوں کے نظریات بدلنا آسان نہیں ہوتا‪ ،ان کی نسل کو بچپن اور لڑکپن میں اپنا
‫نشانہ بنالو۔ کچے ذہن کو تم اپنے سانچے میں ڈھال سکتے ہوں۔ ان کے حیوانی جذبے کو بھڑکائو''۔
‫یہودی یہ کام کررہے ہیں''… ہرمن نے کہا… ''اور اس محاذ پر میں جو کچھ کررہا ہوں‪ ،اس کے نتائج آہستہ آہستہ ''
‫سامنے آرہے ہیں۔ ایک دن یا چند ایک دنوں میں آپ کسی کے نظریات اورعقیدے نہیں بدل سکتے۔ اس عمل میں وقت لگتا
‫ہے۔ ایک دور گزر جاتا ہے''۔
‫یہ عمل جاری رہناچاہیے''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''میں یہ توقع نہیں رکھوں گا کہ نتائج ہماری زندگی میں سامنے آئیں۔''
‫مجھے پوری امید ہے کہ ہم نے کردارکشی کا یہ عمل جاری رکھا تو وہ وقت آئے گا کہ مسلمان برائے نام مسلمان رہ جائیں
‫گے۔ ان کے ہاں مذہبی فرائض محض رسمی بن جائیں گے اور ان پر ہمارا رنگ چڑھ جائے گا۔ ان کی سوچوں پر صلیب
‫غالب آجائے گی''۔
‫شیخ سنان!''۔ ریمانڈ نے شیخ سنان سے کہا۔ ''اگر آپ ہم سے عصیات کے قلعے کے بدلے ایک اور قلعے کا مطالبہ ''
‫کریں گے تو ہم ابھی یہ مطالبہ پورا نہیں کرسکیں گے۔ ہمارا معاہدہ قائم رہے گا۔ قلعے کے سوا دوسری تمام مراعات آپ کو
‫حاصل رہیں گی۔ اگر آپ ان مراعات اور مالی وظیفوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو قاہرہ میں اور خصوصا ً تمام تر مصر میں
‫صالح الدین ایوبی کی فوج اور انتظامیہ کی اہم شخصیتوں کا قتل جاری رکھیں اور صالح الدین ایوبی کے قتل کی بھی کوششیں
‫جاری رکھیں''۔
‫صالح الدین ایوبی کے قتل کے متعلق میں آپ کو صاف الفاظ میں بتا دیتا ہوں کہ میں اس میں اور کوئی آدمی ضائع نہیں''
‫کروں گا''… شیخ سنان نے کہا… ''اس شخص کا قتل ممکن نظر نہیں آتا۔ میں بڑے قیمتی فدائی ضائع کرچکا ہوں۔ مجھے
‫یہ کہنے کی بھی اجازت دیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے مجھے نئی زندگی دی ہے۔ میں نے اس کے آگے ہتھیار ڈالے تو
‫مجھے یہ توقع تھی کہ میں نے اس پر جتنے قاتالنہ حملے کرائے ہیں‪ ،ان کا انتقام لینے کے لیے وہ مجھے اور میرے چیدہ
‫چیدہ فدائیوں کو قتل کردے گا لیکن اس نے میری اور میرے آدمیوں کی جان بخشی کردی۔ میں تو یہ سمجھا تھا کہ وہ ہمیں
‫دھوکہ دے رہا ہے جونہی ہم پیٹھ پھیریں گے‪ ،وہ ہم پر تیروں کا مینہ برسا دے گا یا ہم پر گھوڑے دوڑا دے گا۔ آپ مجھے
‫دیکھ رہے ہیں۔ میں اپنے تمام آدمیوں اور پوری فوج کے ساتھ آپ کے سامنے زندہ موجود ہوں۔ آپ مجھے مراعات سے
‫محروم کردیں۔ میں صالح الدین ایوبی کے قتل سے دستبردار ہوگیا ہوں۔ البتہ قاہرہ میں میرے آدمیوں کی کارگزاری سے آپ کو
‫مایوسی نہیں ہوگی''۔
‫قاہرہ میں ایسے حاالت پیدا کردئیے گئے جو صالح الدین ایوبی کو قاہرہ جانے پر مجبور کردیں گے''۔ ہرمن نے کہا… ''
‫''بہت جلد سوڈانی مصر کی سرحدی چوکیوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ مصر پر کوئی بڑا حملہ نہیں کیا جائے
‫گا‪ ،حملے کا دھوکہ دیا جائے گا تاکہ صالح الدین ایوبی شام سے مصر چال جائے''۔
‫ہرمن جاسوسی اور سراغ رسانی کا ماہر تھا لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کانفرنس میں جو خاص مالزم شراب اور کھانے
‫کی چیزیں ال اور لے جارہے تھے‪ ،ان میں وکٹر نام کا ایک فرانسیسی سلطان ایوبی کا جاسوس تھا اور انہی خاص مالزموں میں
‫راشد چنگیز نام کا ایک ترک مسلمان بھی تھا جس نے اپنے آپ کو یونان کا عیسائی ظاہر کرکے یہ نوکری حاصل کی تھی۔
‫یہ بھی سلطان ایوبی کا جاسوس تھا۔ ہرمن نے ان خاص مالزموں کو جو کانفرنسوں اور کمانڈروں کی محفلوں اور دعوتوں میں
‫حاضررہتے اور کھانا کھالتے تھے‪ ،گہری چھان بین کے بعد اس مالزمت کے لیے منتخب کیا تھا۔ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ
‫سلطان ایوبی نے جاسوسوں کا جال پھیال رکھا تھا۔ اسے صلیبیوں کے دور اندر کی باتوں کا قبل از وقت علم ہوجاتا تھا۔ اب
‫شیخ سنان کی اس کانفرنس کی تمام باتیں اس کے دو جاسوسوں نے سن لی تھیں‪ ،جنہیں چند دنوں تک سلطان ایوبی تک
‫پہنچ جانا تھا۔ ان دنوں قاہرہ میں زمین دوز تخریب کاری بڑھ گئی تھی۔ مصر کی فوج کے نائب ساالر سے ایک درجہ کم
‫عہدے کا ایک کمان دار شہر کے باہر مردہ پایا گیا۔ وہ شام کے بعد گھر سے نکال تھا۔ ساری رات گھر نہ آیا۔ صبح اس کی

‫الش دیکھی گئی۔ اس کے جسم پر کوئی زخم نہیں تھا‪ ،کوئی چوٹ نہیں تھی۔ سراغ رسانوں نے جائے واردات پر ایک تو
‫مرنے والے کے نقوش پا دیکھے اور دو نقوش کسی اور کے تھے۔ اس کمان دار کے چال چلن کی سب تعریف کرتے تھے۔ اس
‫کا اٹھنا بیٹھنا غلط یا مشکوک قسم کے لوگوں کے ساتھ نہیں تھا۔ اس کی ایک بیوی تھی جو اس سے ہرلحاظ سے مطمئن
‫تھی۔ اس کی موت کا باعث معلوم کرنے کی بہت کوشش کی گئی اگر یہ قتل تھا تو قاتل کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔
‫تین چار دنوں بعد اسی عہدے کا ایک اور فوجی کمان دار بالکل اسی طرح ایک صبح اپنے کمرے میں مردہ پایاگیا۔ وہ ‪:
‫فوجی بارکوں کے ایک کمرے میں رہتا تھا۔ اس کے متعلق بھی رپورٹیں بالکل صاف تھیں۔ اس کے دوستوں کے حلقے میں
‫اپنے ہی دستے کے کچھ آدمی تھے۔ ان میں سے کسی کے ساتھ اس کا لڑائی جھگڑا نہیں تھا۔ قتل کی بظاہر وجہ کوئی نہیں
‫تھی۔ اسے قتل کہا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ کیونکہ جسم پر زخم یا چوٹ کا کوئی ہلکا سا بھی نشان نہیں تھا۔ یہ الش سرکاری
‫طبیب نے دیکھی۔ الش کے ہونٹوں کے کونوں پر ذراذرا سی جھاگ تھی۔ اس نے یہ جھاگ لکڑی کے ایک لمبوترے ٹکڑے کے
‫سرے پر لگالی۔ اس نے ایک کتا منگوایا اور یہ جھاگ گوشت کے ایک ٹکڑے پر لگا کر ٹکڑا کتے کو کھال دیا۔
‫اس نے کتے کو اپنے گھر لے کر جاکر باندھ دیا اور اسے دیکھتا رہا۔ کتے نے کوئی غیرمعمولی حرکت نہ کی‪ ،اسے جو کھانے
‫کو دیا گیا وہ کھاتا رہا۔ طبیب ساری رات جاگ کر کتے کو دیکھتا رہا۔ آدھی رات کے بعد کتا اٹھا اور جہاں تک رسی اجازت
‫دیتی تھی‪ ،وہ بڑے آرام سے ٹہلتا رہا۔ وہ بہت دیر ٹہل کر رکا اور گر پڑا۔ طبیب نے دیکھا‪ ،کتا مرچکا تھا۔ طبیب نے رپورٹ
‫دی کہ دونوں کمان داروں کو ایسا زہر دیا گیا ہے جس سے کوئی تلخی نہیں ہوتی۔ انسان نہایت اطمینان سے مرجاتا ہے۔
‫سراغ رسانوں نے دونوں کمان داروں کے متعلق گہری تفتیش کی‪ ،یہ معلوم کرنے کی بہت کوشش کی گئی کہ زندگی کے آخری
‫روز وہ کس کس سے ملے‪ ،کہاں گئے اور انہوں نے کس کے ساتھ کچھ کھایا پیا مگر کوئی سراغ نہ مال۔ شادی شدہ کمان دار
‫کی بیوی سے بھی پوچھ گچھ کی گئی لیکن اس پر شک کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ دونوں کمان داروں میں مشترکہ وصف یہ
‫تھا کہ پکے مسلمان تھے۔ میدان جنگ میں ان کی کمانڈ اور دلیری کی تعریف سلطان ایوبی نے بھی کی تھی۔ دونوں سرحدی
‫دستوں کے کمانڈر رہ چکے تھے اور انہوں نے کئی ایک سوڈانیوں کو سرحد پار کرتے گرفتار کیا تھا۔ سوڈانیوں نے انہیں بہت
‫رشوت پیش کی تھی جو انہوں نے قبول نہیں کی تھی۔ اب دونوں کو نائب ساالری کی ترقی ملنے والی تھی۔ وہ اس قابل
‫تھے کہ کسی بھی جگہ حملے کی قیادت آزادانہ کرسکیں۔
‫علی بن سفیان نے رائے دی کہ قتل کی یہ دونوں وارداتیں صلیبی تخریب کاروں کی ہیں اور قاتل فدائی ہیں۔ اس نے کہا کہ
‫دشمن نے اب اہم شخصیتوں کے قتل کا سلسلہ شروع کردیاہے۔ تمام کمان داروں اور حکام کو خبردار کردیا گیا کہ کسی اجنبی
‫یا مشکوک آدمی کے ہاتھ سے کوئی چیز نہ کھائیں اور ایسے آدمیوں پر نظر رکھ کر انہیں پکڑنے کی کوشش کریں جو دوستی
‫لگانے اور کھانے پینے کی کوئی چیز پیش کرنے کی کوشش کریں۔ سراغ رساں مصروف ہوگئے۔
‫دوسرے کمان دار کے قتل کے سات آٹھ روز بعد ایک رات فوج کے خیموں کو آگ لگ گئی۔ ہزاروں خیمے ایک جگہ لپٹے
‫پڑے تھے۔ ان کے انباروں کے اوپر چھپر تھے۔ وہاں پہرہ بھی تھا پھر بھی آگ لگ گئی۔ یہ آگ تخریب کاری کا نتیجہ تھی۔
‫وہاں اتفاقیہ آگ لگنے کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ ان چھپروں کے قریب آگ جالنے کی ممانعت تھی۔ اس کی سختی سے
‫پابندی کی جاتی تھی۔ اس کے عالوہ پراسرار سے کچھ اور واقعات ہوئے تھے۔ سرحدی دستوں کو اور زیادہ چوکس کردیا گیا
‫تھا۔ سوڈان کی طرف سرحد کے اندر چوری چھپے آنے والوں کی تعداد اور گرفتار بڑھ گئی تھی۔ اس کا اندازہ ان لوگوں کی
‫گرفتاریوں سے ہوتا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫علی بن سفیان نے اپنی انٹیلی جنس کو اور زیادہ پھیال دیا اور پہلے سے زیادہ ہوشیار کردیا تھا۔ قاہرہ سے کچھ دور دریائے ‪:
‫نیل کے کنارے پہاڑی عالقہ تھا۔ اس کے اندر کہیں فرعونوں کے زمانے کے کھنڈر تھے۔ اس سے پہلے ایسے واقعات ہوئے تھے
‫کہ صلیبی اور سوڈانی تخریب کاروں نے ایسے کھنڈروں کو خفیہ اڈوں کے طور پر استعمال کیا تھا۔ مصر میں ایسے کھنڈروں کی
‫تعداد کچھ کم نہیں تھی۔ اس پہاڑی عالقے کو نظر میں رکھنے کے لیے علی بن سفیان نے اپنے جاسوسوں کو خصوصی ہدایات
‫کے ساتھ مقرر کررکھا تھا۔ اب کے صلیبی تخریب کاروں نے یہ کامیابی بھی حاصل کرلی تھی کہ انہوں نے دو تین مہینوں کے
‫عرصے میں علی بن سفیان کے چھ سات جاسوس جو قاہرہ میں مختلف جگہوں پر مختلف بہروپوں میں رہتے تھے‪ ،غائب
‫کردئیے تھے۔
‫یہ وہ جاسوس تھے جو صلیبیوں کے جاسوسوں کو پکڑنے کے ماہر تھے لیکن وہ خود پکڑے گئے یا مارے گئے۔ خطرہ یہ تھا کہ
‫وہ پکڑے گئے تو صلیبی انہیں حشیشین کے حوالے کرکے انہیں مصر کی ہی حکومت اور فوج کے خالف استعمال کریں گے۔
‫اصل خطرہ تو یہ تھا کہ دشمن کے جاسوسوں نے قاہرہ کے جاسوسوں کو پہچان لیا تھا۔ جاسوسی اور سراغ رسانی کی اس
‫جنگ میں دشمن جیت رہا تھا۔ علی بن سفیان نے اب ذرا اونچے عہدوں کے ایسے جاسوس جو اپنے فن میں خصوصی مہارت
‫رکھتے تھے‪ ،استعمال کرنے شروع کردئیے تھے۔ ان میں ایک مہدی الحسن تھا جو یروشلم اور تریپولی تک بڑی کامیاب
‫جاسوسی کرتا آیا تھا۔ وہ بہت دلیر اور دانشمند جاسوس تھا۔
‫علی بن سفیان نے یہ پہاڑی عالقہ اسے دے رکھا تھا۔ اس عالقے کے اندر صرف ایک راستہ تھا۔ پیچھے دریا اور باقی ہر
‫طرف پہاڑیاں اور چٹانیں بھی تھیں۔اندرونی عالقے میں سبزہ اور درخت تھے‪ ،کہیں کہیں پانی کی جھیلیں بھی تھیں۔ اطالع
‫ملی تھی کہ اس کے اندر مشکوک سے آدمی آتے جاتے دیکھے گئے ہیں۔ فرعونوں کی کسی عمارت کے کھنڈر سامنے نظر
‫نہیں آتے تھے۔ کسی نے کبھی دیکھے بھی نہیں تھے لیکن یہ یقین ضرور تھا کہ اس کوہسار کے اندر فرعونوں نے کچھ نہ
‫کچھ بنایا ضرور تھا۔ جو اب تک موجود ہے۔ بہرحال یہ جگہ ایسی تھی جو تخریب کاروں کا خفیہ اڈا بننے کے لیے موزوں
‫تھی۔
‫مہدی الحسن وہاں ایک دو اونٹ اور چند ایک بھیڑ بکریاں لے جاکر صحرائی خانہ بدوشیا گڈرئیے کے بہروپ میں جایا کرتا تھا۔
‫اس کے جانور ادھر ادھر چرتے چگتے رہتے اور وہ گھومتا پھرتا رہتا تھا۔ اس نے کچھ دور اندر تک عالقہ دیکھاتھا‪ ،وہاں اسے
‫کچھ بھی نظر نہیں آیا تھا۔ بہت آگے جاکر ایک پہاڑی ایسی تھی جس کے دامن سے بیس پچیس فٹ اوپر ایک قدرتی سرنگ
‫کا دہانہ تھا۔ مہدی الحسن اس سرنگ کے اندر گیا تھا۔یہ اتنی اونچی اور فراخ تھی کہ اس میں سے اونٹ گزر سکتا تھا۔ یہ
‫پہاڑی کی طرف تک چلی گئی تھی۔ مہدی الحسن دوسری طرف گیا‪ ،وہاں تنگ سی ایک وادی تھی جہاں کوئی اڈا نہیں
‫ہوسکتا تھا۔ سرنگ بہت لمبی تھی۔ اس کے اندر دائیں بائیں دیواروں میں غاریں سی بنی ہوئی تھیں۔ اتنے بڑے بڑے پتھر
‫بھی تھے کہ ایک پتھر کے پیچھے آدمی بیٹھ کر چھپ سکتا تھا۔
‫اس مصری جاسوس نے علی بن سفیان کورپورٹ دی تھی کہ وہ جہاں تک جاسکا ہے‪ ،اسے کوئی مشکوک جگہ نظر نہیں آئی

‫اور اتنے دن اسے کوئی ایک بھی آدمی اندر جاتا یا باہرآتا دکھائی نہیں دیا۔ علی بن سفیان نے اسے کہا کہ وہ سارا دن وہیں
‫گزارا کرے اور وہ زیادہ اندر تک نہ جایا کرے کیونکہ پکڑے یا مارے جانے کا خطرہ تھا۔ علی بن سفیان نے اسے یہ بھی کہا
‫کہ کبھی کبھی وہ اونٹ پرسوار ہوکر رات کو بھی چال جایا کرے اگر کوئی آدمی اسے مل جائے تو اسے بتائے کہ وہ قاہرہ
‫جارہا ہے۔ اپنے آپ کو کسان ظاہر کرے۔ اس ہدایت کے تحت مہدی الحسن رات کو بھی وہاں گیا تھا۔ا یک رات اسے کسی
‫کے بھاگتے قدموں کی آواز سنائی دی۔ یہ کوئی جنگلی جانور بھی ہوسکتا تھا اور یہ کوئی انسان بھی ہوسکتا تھا۔ مہدی
‫الحسن آگے نہ گیا‪ ،کچھ دیر وہاں رکا رہا پھر واپس آگیا۔
‫وہ دوسرے دن سورج نکلنے سے پہلے دو تین اونٹ اور بھیڑ بکریاں لے کر وہاں چال گیا۔ انہیں کھال چھوڑ کر خود ادھر ‪:
‫ادھر گھومنے پھرنے لگا‪ ،وہاں سبزہ تھا۔ جھاڑیاں اورگھاس تھی اور جنگلی پودے بھی۔ کچھ آگے جاکر اسے ایک آدمی دکھائی
‫دیا جو زمین پر جھکا ہوا تھا۔ اس نے قیمتی چغہ پہن رکھا تھا اور اس کی لمبی داڑھی تھی۔ سر پر عمامہ بھی قیمتی تھا۔
‫مہدی الحسن آہستہ آہستہ اس کی طرف چلنے لگا۔ جھکے ہوئے آدمی نے اس کی طرف دیکھا۔ مہدی الحسن نے اپنی چال
‫ڈھال میں جاہالنہ پن نمایاں رکھا اور آہستہ آہستہ اس آدمی کے قریب جاکھڑا ہوا۔
‫چغہ والے کے ہاتھ میں ایک تھیال تھا جس میں ہرے پتے بھرے ہوئے تھے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک پودے کی ہری
‫شاخ تھی۔
‫آپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟''… مہدی الحسن نے گنواروں کے سے لہجے میں احمقوں کی طرح ہنس کر پوچھا… ''کوئی چیز ''
‫''گم ہوگئی ہے؟ میں بھی تالش کروں؟
‫میں حکیم ہوں''… اس آدمی نے کہا… ''جڑی بوٹیاں ڈھونڈ رہا ہوں‪ ،ان کی دوائیاں بنائوں گا''۔''
‫مہدی الحسن نے اس کا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا۔ وہ قاہرہ کا حکیم تھا اور خاصی شہرت رکھتا تھا۔ مہدی الحسن نے اس
‫کے اس جواب کو غلط نہ سمجھا کہ وہ جڑی بوٹیاں ڈھونڈ رہا ہے۔ اس عالقے میں جڑی بوٹیاں موجود تھیں۔ حکیم نے اس
‫سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کررہا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ یہاں سے تھوڑی ہی دور اپنے ایک کنبے کے ساتھ خیمے میں رہتا
‫ہے اور یہاں جانوروں کو چرانے اور پانی پالنے الیاہے۔
‫ان بوٹیوں سے آپ کس مرض کی دوائیاں بنائیں گے؟''… مہدی الحسن نے پوچھا۔''
‫تم کسی مرض کو نہیں سمجھ سکتے''… حکیم نے جواب دیا… ''بعض مرض ایسے ہوتے ہیں کہ مریض کو بھی معلوم ''
‫نہیں ہوتا کہ اسے کیا ہے''۔
‫یہ حکیم مشہور تھا۔ دور دور سے اس کے پاس مریض آتے تھے۔ اتفاق سے مہدی الحسن کو یہاں مل گیا۔ یہ انسانی فطرت
‫کی کمزوری ہے کہ انسان پر مرض کا وہم بھی طاری ہوجاتاہے اور انسان بڑی لمبی عمر کا اور ایسی جسمانی طاقت کا متمنی
‫رہتا ہے جو کبھی کم نہ ہو۔ مہدی الحسن کو شاید معمولی سی کوئی تکلیف تھی۔ اس نے اس کا ذکر حکیم سے کیا۔ اس
‫نے نبض پر ہاتھ رکھا‪ ،پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا اور یوں چونکا جیسے اسے ان آنکھوں میں کوئی عجیب چیز نظر آئی
‫ہو۔ اس نے مہدی الحسن کو سر سے پائوں تک دیکھا۔ حکیم کے چہرے پر حیرت کا تاثر تھا۔
‫تم میرے دوا خانے میں آسکتے ہو؟''… حکیم نے پوچھا… ''شہر میں آجائو''۔''
‫میں بہت غریب آدمی ہوں''… مہدی الحسن نے کہا… ''آپ کو پیسے کہاں سے دوں گا''۔''
‫تم ابھی میرے ساتھ چلو''… حکیم نے کہا… ''میرا اونٹ ادھر چر رہا ہے‪ ،تمہارے پاس بھی اونٹ ہے۔ مجھے پیسوں کی''
‫ضرورت نہیں۔ امیر لوگ بہت پیسے دے جاتے ہیں۔ غریبوں کا عالج مفت کرتا ہوں۔ تمہاری بیماری اس وقت تو معمولی ہے
‫لیکن یہ اچانک بڑھ جائے گی۔ مجھے کوئی اور شک بھی ہے''۔
‫مہدی الحسن دراصل ڈیوٹی پر تھا۔ معمولی سے مرض کی خاطر وہ ڈیوٹی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اس نے حکیم سے کہا کہ وہ
‫شام کو اس کے دوا خانے میں آئے گا۔ اسے راستہ اور جگہ بتا دے۔ مہدی الحسن کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کا دواخانہ
‫کہاں ہے۔ وہ انجان بنا رہا اور حکیم نے اسے سمجھا دیا کہ دواخانہ کہاں ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫مہدی الحسن شام کے بعد اس بہروپ میں حکیم کے دواخانے میں چال گیا۔ اس نے اونٹ ساتھ رکھا تھا تاکہ حکیم کو شک
‫نہ ہو۔ اسے خود حکیم پر کوئی شک نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ حکیم جڑی بوٹیاں تالش کرتے رہتے ہیں۔ اسے فی الواقع خیال
‫پیدا ہوگیا تھا کہ جسے وہ معمولی سی تکلیف سمجھتا ہے‪ ،وہ خطرناک بیماری بن سکتی ہے۔ حکیم نے اسے اچھی طرح
‫دیکھا اور کہا… ''میں دوائی دے دیتا ہوں‪ ،اگر اس سے افاقہ نہ ہو تو وہ کوئی اور بندوبست کرے گا کیونکہ اسے کوئی اور
‫شک ہے''۔
‫''مہدی الحسن نے پوچھا اور کیاشک ہے؟''
‫اللہ نہ کرے‪ ،میرے شک درست ہو''… حکیم نے کہا… ''تم خوبصورت ہو‪ ،صحرا میں گھومتے پھرتے رہتے ہو‪ ،جس جگہ ''
‫تم مجھے ملے تھے‪ ،وہ جگہ ٹھیک نہیں‪ ،وہاں بدروحیں رہتی ہیں۔ ان میں بعض فرعونوں کے وقتوں کی بڑی حسین لڑکیوں کی
‫بدروحیں ہیں۔ انہیں فرعونوں نے زبردستی اپنے پاس رکھا اور عیاشی کا ذریعہ بنایا تھا پھر انہیں مروا ڈاال تھا کیونکہ اس کی
‫جگہ انہیں دوسری لڑکیاں مل گئی تھیں۔روح بوڑھی نہیں ہوتی‪ ،ہمیشہ جوان رہتی ہے۔ جن لڑکیوں کو قتل کیاگیا تھا‪ ،ان کی
‫روحیں اس سرسبز خطے میں بھٹکتی رہتی ہیں۔ مجھے شک ہے کہ تمہاری شکل وصورت فرعونوں کے دور کے کسی ایسے
‫جوان سے ملتی جلتی ہے جسے اس دور کی کوئی لڑکی چاہتی تھی مگر وہ کسی فرعون کا شکار ہوگئی۔ تم اس جگہ جاتے
‫رہتے ہو۔ اس لڑکی کی بدروح نے تمہیں دیکھ لیا ہے اور تمہاری روح کے ساتھ دل بہال رہی ہے''۔
‫یہ مجھے نقصان تو نہیں پہنچائے گی؟''… مہدی الحسن نے حکیم کی بات سے متاثر ہوکر پوچھا… ''بدروح کی دوستی ''
‫''اچھی تو نہیں ہوتی۔ کیا آپ اس بدروح سے نجات دال سکتے ہیں؟
‫میرا شک غلط ہوسکتا ہے''… حکیم نے کہا… ''پہلے دوائی دوں گا۔ افاقہ نہ ہوا تو بدروح کا کچھ کروں گا۔ میرے پاس ''
‫اس کا بھی عالج ہے۔ تعویذ دوں گا‪ ،عمل کروں گا‪ ،ضرورت پڑی تو اس بدروح کے ساتھ تمہاری مالقات کرادوں گا۔ بدروح
‫سے نجات حاصل کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہوتا ہے۔ بدروح کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی''۔
‫مہدی الحسن قابل اور ذہین جاسوس تھا لیکن وہ عالم فاضل نہیں تھا۔ اپنی قوم کے ہر فرد کی طرح جنات‪ ،چڑیلوں اور
‫بدروحوں کے وجود پر یقین رکھتا تھا۔ اس نے ان کی جو کہانیاں اور روائتیں سنی تھیں‪ ،انہیں سچ مانتا تھا۔ حکیم کا ایک
‫ایک لفظ اس کے دل میں اتر گیا اور اس پر بدروح کا خوف طاری ہوگیا۔ وہ حکیم کے پاس جاسوسی کے لیے نہیں عالج کے
‫لیے ہی گیا تھا۔ حکیم نے اسے تسلی دی کہ وہ کوئی فکر نہ کرے لیکن وہ فکرمند ہوگیا۔ حکیم نے اسے دوائی کی صرف

‫ایک خوراک دی اور کہا کہ رات سونے سے پہلے کھالے۔
20:47
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪112
‫رات‪ ،روح اورروشنی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫رات سونے سے پہلے کھالے۔ اس نے سونے سے پہلے یہ دوائی کھالی۔ اسے فورا ً نیند آگئی۔ اس سے پہلے اس کی اتنی
‫جلدی آنکھ کبھی نہیں لگی تھی۔ صبح آنکھ کھلی تو اس نے محسوس کیا کہ اس کی طبیعت غیرمعمولی طورپرہشاش بشاش
‫ہے۔وہ سب سے پہلے علی بن سفیان کے پاس گیا۔ اسے یہ نہ بتایا کہ اس نے اس پہاڑی عالقے میں حکیم کو جڑی بوٹیاں
‫تالش کرتے دیکھا تھا۔ یہ بتانے والی بات نہیں تھی کیونکہ حکیم کوئی مشکوک انسان نہیں تھا۔ اس کے متعلق یہ بھی مشہور
‫تھا کہ تعویذ بھی دیتا اور جنات وغیرہ کو بھی قبضے میں رکھتا ہے۔ علی بن سفیان نے مہدی الحسن سے کہا کہ وہ اسی
‫جگہ جائے‪ ،اسے وہاں کوئی نہ کوئی مشکوک انسان ضرور نظر آئے گا۔ علی بن سفیان دراصل تخریب کاروں کے ایک اڈے کی
‫تالش میں تھا۔
‫مہدی الحسن اس طرف جاتے حکیم کے پاس چال گیا۔ وہ گڈریوں کے لباس میں تھا۔ اس نے حکیم سے کہا کہ وہ صبح
‫سویرے اتنی دور سے یہ بتانے آیا ہے کہ رات اسے بہت گہری نیند آئی ہے اور اب وہ اتنا ہشاش بشاش ہے‪ ،جتنا وہ پہلے
‫کبھی نہیں ہوا تھا۔
‫اگر شام تک تم اسی حالت میں رہے تو بدروح نہیں ہوسکتی''… حکیم نے کہا… ''شام کو پھر آجانا''۔''
‫مہدی اونٹ پر سوار ہوا اور اپنی ڈیوٹی پر روانہ ہوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس سرسبز جگہ وہ بہت دنوں سے جارہا تھا اور سارا سارا دن وہاں رہتا تھا۔ رات کو بھی وہاں گیا تھا مگر اب حکیم سے
‫مالقات کے بعد اسے اس جگہ سے ڈر محسوس ہونے لگا۔ حکیم نے اسے بتایا تھا کہ بدروح نقصان نہیں پہنچائے گی کیونکہ
‫وہ محبت کی خاطر اس کی روح کے پاس آتی ہے پھر بھی ان دیکھی پراسرار مخلوق کا ڈر قدرتی تھا۔ اسے ایسے محسوس
‫ہونے لگا جیسے اس کے گرد بدروحیں منڈال رہی ہوں۔ وہ دلیر آدمی تھا۔ ڈرکو دل سے نکالنے کی کوشش کرنے لگا اور اس
‫بدروح کو تصور میں النے لگا جس کا ذکر حکیم نے کیا تھا۔ اس تصور نے اسے تسکین دی اور وہ ادھر ادھر گھومنے لگا۔
‫اچانک اس نے محسوس کیا کہ اس کی طبیعت جو اتنی زیادہ ہشاش بشاش تھی‪ ،بجھ رہی ہے اور دل پر گھبراہٹ طاری
‫ہورہی ہے۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن گھبراہٹ بڑھتی گئی اور اس نے حکیم کو اپنی جو تکلیف
‫بتائی تھی وہ پہلے کی نسبت زیادہ ہوگئی۔ اس نے اسی وقت حکیم کے پاس جانا چاہا لیکن ڈیوٹی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
‫برداشت کرتارہا۔ بہت دیر بعد اس کی طبیعت گھبراہٹ سے آزاد ہونے لگی اور آہستہ آہستہ اس حالت میں آگئی جس میں کل
‫دوائی کھانے سے پہلے تھی۔ اسے یقین ہوگیا کہ یہ بدروح کا اثر ہے۔
‫دن گزر گیا۔ اس نے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کو اکٹھا کیا اور انہیں وہاں لے گیا جہاں روزانہ لے جاتا تھا۔ اونٹ پر سوار ہوکر
‫وہ شہر میں حکیم کے پاس چال گیا۔ اسے اپنی طبیعت کی یہ تبدیلی بتائی۔ حکیم نے بدروح کے شک کا اظہار کیا لیکن ایک
‫روز اور دوائی کھانے کو کہا۔ اس نے دوائی دے دی جو مہدی الحسن نے رات سونے سے پہلے کھالی۔ گزشتہ رات کی طرح
‫اسے نیند آئی اور صبح طبیعت شگفتہ تھی۔ وہ روزمرہ کی طرح علی بن سفیان کے پاس گیا اور وہاں سے اپنی ڈیوٹی کی
‫جگہ پر چالگیا۔
‫اس کی جسمانی حالت اچھی رہی‪ ،ذہنی حالت یہ تھی کہ بدروح کا خیال غالب تھا۔آدھا دن گزرا تو اس کی شگفتگی کم
‫ہونے لگی جو آہستہ آہستہ ختم ہوگئی اور اس کی جگہ گھبراہٹ اور اداسی آگئی۔ اس نے دھیان ادھر ادھر کرنے کی کوشش
‫کی اور ٹہلنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ طبیعت ٹھکانے آگئی۔ اس کے کانوں میں ایسی آواز پڑی جیسے دور کہیں کوئی عورت رو
‫رہی ہو۔ رونے کی آواز بلند ہوئی پھر مدھم ہوتے ہوتے خاموش ہوگئی۔ مہدی الحسن جہاں تھا‪ ،وہیں رہا۔یہ کوئی بدروح رو رہی
‫تھی اور یہ وہی بدروح ہوسکتی تھی جس کا ذکر حکیم نے کیا تھا۔ مہدی الحسن کے دل پر خوف طاری ہوا جس پر اس نے
‫قابو پالیا۔ اس نے یہ ارادہ کیا کہ بدروح سے بات کرے لیکن حکیم نے اسے بتایا نہیں تھا کہ بدروح کے ساتھ بات کرنی
‫چاہیے یا نہیں‪ ،اگر وہ کسی اور جگہ اور مختلف ماحول میں کسی عورت کے رونے کی آواز سنتا تو دوڑ کر مدد کو پہنچتالیکن
‫یہاں کسی جیتی جاگتی عورت کا کوئی کام نہیں تھا۔ یہ فرعونوں کے دور کی کسی لڑکی کی بدروح تھی۔
‫شام کو وہ کل کی طرح حکیم کے پاس گیا اور اسے بتایا کہ اس کی حالت کیا ہوئی اور اس نے کیسی آوازیں سنی ہیں۔
‫حکیم گہری سوچوں میں کھو گیا اور بوال… ''میرا شک یقین میں بدل گیا ہے۔ یہ بدروح ہے‪ ،گھبرائو نہیں۔ میں ابھی ایک
‫تعویذ
‫دو ں گا پھر بدروح سے پوچھوں گا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ اس کے مطابق کچھ اور کروں گا لیکن تمہیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ یہ
‫بدروح تمہارے ساتھ محبت کرتی ہے‪ ،اس لیے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ تم اس جگہ جاتے رہنا۔ اگر تم نے اس
‫بدروح سے بھاگنے کی کوشش کی تو نقصان کا خطرہ ہے''۔
‫حکیم نے اسے ایک تعویذ دے دیا جو اس نے اپنے بازو کے ساتھ باندھ لیا۔
‫میں رات کو اپنا عمل کروں گا''۔ حکیم نے کہا… ''کل صبح میرے پاس آنا‪ ،تمہیں بتائوں گا کہ بدروح کیا ہے۔ تم نے ''
‫رونے کی جو آوازیں سنی ہیں وہ اسی بدروح کی ہیں۔ یہ بدروح شیطان نہیں‪ ،پھر بھی کوشش کروں گا کہ تمہیں اس سے
‫نجات مل جائے''۔
‫مہدی الحسن دل پر تذبذب اور ہیجان لے کر چال گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اگلے روز مہدی الحسن کو علی بن سفیان کی طرف سے کچھ اورہدایات ملیں۔ وہ بھاگم بھاگ حکیم کے پاس گیا۔ حکیم جیسے
‫اسی کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور اسے اندر لے گیا۔
‫وہ تمہارے ساتھ صرف ایک مالقات کرنا چاہتی ہے''۔ حکیم نے کہا… ''وہ تمہارے سامنے آئے گی۔ اپنا آپ دکھائے گی۔ ''
‫تم اسے دیکھ سکو گے۔ ہوسکتا ہے پہلے روز وہ تمہارے سامنے آئے اور غائب ہوجائے۔ وہ دوسری دنیا کی مخلوق ہے۔ شاید
‫اس دنیا کے انسانوں کے قریب آنے سے گریز کرے۔ اگر اس نے ایسا ہی کیاتو تمہیں اگلے روز پھر جانا پڑے گا''۔

‫''کہاں؟''
‫وہیں‪ ،جہاں تم ہر روز جاتے ہو''۔ حکیم نے کہا… ''جہاں تم نے مجھے دیکھا تھا‪ ،تم وہاں رات کو جائو گے''۔''
‫''آپ بھی ساتھ ہوں گے؟''
‫نہیں''۔ حکیم نے کہا… ''اس جہان میں گئی ہوئی روح صرف اسے نظر آتی ہے جسے وہ چاہتی ہے اور اگر کوئی گناہ ''
‫گار بدروح کسی انسان پر نظر رکھ لے تو اسے فورا ً مار ڈالتی ہے۔ یہ بدروح جو تمہیں ملنا چاہتی ہے‪ ،کسی کو پریشان کرنے
‫والی نہیں۔ اس کے رونے کو سمجھو۔ وہ مظلوم ہے۔ محبت کی پیاسی ہے‪ ،میں نے رات جب اسے حاضر کیا تو وہ زاروقطار
‫روئی اور اس نے میری منت کی کہ اس شخص کو تھوڑی دیر کے لیے میرے پاس بھیج دو‪ ،پھر ہمیشہ کے لیے چلی جائوں
‫گی''۔
‫اگر یہ باتیں کوئی اور کررہا ہوتا تو مہدی الحسن پر اتنا زیادہ اثر نہ ہوتا جتنا اس نے قبول کیا۔ یہ باتیں اس حکیم کی زبان
‫سے نکل رہی تھیں۔ جس سے مہدی الحسن کے بڑے حاکم بھی متاثر تھے… وہ حکیم بھی تھا اور عالم بھی۔ اس کے بولنے
‫کا اندازہ ایسا تھا جو سننے والے کی روح میں اتر جاتا تھا۔ اس نے مہدی الحسن کو یقین دالیا کہ رات کو اس بدروح کی
‫مالقات سے اس پر کوئی خوف طاری نہیں ہوگا اور اسے نقصان کے بجائے شاید کچھ فائدہ بھی ملے۔
‫ایک احتیاط بھی ضروری ہے''۔ حکیم نے اسے کہا… ''کسی کے ساتھ اس بدروح کے متعلق یا اس کی مالقات کے متعلق''
‫کوئی بات نہ کرنا اگر تم نے یہ راز فاش کردیا تو نقصان کا خطرہ ہے۔ تم اپنی دنیا کے انسانوں کو دھوکہ دے سکتے ہو‪ ،عالم
‫غیب میں گئی ہوئی روح کا راز فاش کرو گے تو میں بتا نہیں سکتا کہ تمہارے جسم کے کون سے دو اعضاء ہمیشہ کے لیے
‫بیکار ہوجائیں گے۔ دونوں ٹانگیں سوکھ جائیں گی یا دونوں بازو یا دونوں آنکھیں بینائی سے محروم ہوجائیں گی۔ اب میں تمہیں
‫جو بات بتانے لگا ہوں‪ ،یہ بھی ایک راز ہے۔ یہ راز تمہیں اس لیے دے رہا ہوں کہ تم عبرت حاصل کرسکو۔ یہاں کی فوج
‫اعلی رتبے کے کمان دار رات کے وقت مارے گئے ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس طرح مرے ہیں۔ مجھے دو تین
‫کے دو
‫ٰ
‫بدروحوں نے بتایا ہے کہ انہیں بدروحوں نے مارا ہے۔ انہوں نے بدروحوں کے راز فاش کردئیے تھے''۔
‫وہ کس طرح؟'' مہدی الحسن گنوار گڈریا اور صحرائی خانہ بدوش بنا ہوا تھا لیکن وہ دراصل جاسوس تھا۔ وہ ان دو کمان ''
‫داروں کی موت کا سراغ لینا چاہتا تھا۔ اس نے حکیم سے تفصیل پوچھی۔
‫میں ایسی راز کی بات کسی کو بتا نہیں سکتا''۔ حکیم نے کہا… ''جتنی اجازت تھی‪ ،اتنی بتا دی ہے۔ تم بالکل خاموش''
‫رہنا۔ اپنے اس راز کے ساتھ واسطہ رکھو جو میں تمہیں بتا رہا ہوں۔ یہ بھی نہ سوچنا کہ میں تمہاری ذات میں کسی اللچ
‫اور کسی اجرت کے بغیر اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہوں۔ میں ان روحوں اور بدروحوں کی خواہشات کا پابند ہوں۔ اگر میں
‫انہیں ناراض کردوں تو میرا علم بیکار ہوجائے اور بدروحیں میرا بھی وہی حشر کردیں جو وہ اپنے دشمنوں کا کرتی ہیں۔ اس
‫روح نے جو تمہیں دیکھ کر روتی ہے‪ ،مجھے کہاہے کہ میں اس کے ساتھ تمہاری تھوڑی سی دیر کی مالقات کرادوں تو میرا
‫فرض ہے کہ اس کی خواہش پوری کروں''۔
‫''اگر میں اس سے نہ ملوں تو کیا ہوگا؟''
‫وہ بدروح بن کر تمہاری روح پر اپنا سایہ کرے گی''۔ حکیم نے جواب دیا۔ ''تم نے مجھے اپنی جو تکلیف بتائی تھی‪'' ،
‫وہ کوئی جسمانی تکلیف نہیں۔ یہ روحانی عارضہ ہے۔ اس نے تم پر ابھی اپنا پورا اثر نہیں ڈاال تھا۔ تم کوئی نیک انسان ہو۔
‫تمہاری نیکی تمہارے کام آئی ہے۔ تم نے میرے ساتھ اس تکلیف کا ذکر کردیا۔ خدائے ذوالجالل جس پر رحمت فرمانا چاہتے
‫ہیں‪ ،اس کے لیے وہ کسی انسان کو سبب بنا دیتے ہیں۔ یہ کرشمہ اللہ کی ذات کا ہے کہ تم نے مجھے وہاں دیکھ لیا اور
‫ہم دونوں ملے۔ اس رحمت سے ڈرو نہیں۔ اگر تم اس بدروح کی مالقات کی خواہش کردوگے تو وہ اس دنیا میں تمہیں بہت
‫فائدہ دے گی۔ ایک فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ نہایت خوبصورت لڑکی کے روپ میں گوشت پوست کا زندہ جسم بن کر تمہیں
‫جب چاہو گے مال کرے گی۔ تم اسے بیوی بنا کر گھر رکھ سکتے ہو اور اگر وہ زیادہ مہربان ہوگئی تو مجھے یقین ہے کہ وہ
‫تمہیں کسی فرعون کے مدفون خزانے کا بھید بتا دے اور ایسا ذریعہ پیدا کردے کہ تم یہ خزانہ نکال کر اس بدروح کو ساتھ
‫لے کر مصر سے کہیں دور چلے جائو اور کسی خطے کے بادشاہ بن جائو''۔
‫''مالقات کب ہوگی؟''
‫آج رات چلے جائو''۔ حکیم نے کہا۔''
‫حکیم نے اسے ایک اور تعویذ دیا اور اسے بہت سی ہدایات دیں۔ خطروں سے بھی آگاہ کیا اور فائدے بھی بتائے اور زور دے
‫کر کہا کہ ڈرنا نہیں۔ وہاں پہنچنے کا وقت بھی بتایا جو رات تاریک ہوجانے کے بعد کا تھا۔ مہدی الحسن عجیب وغریب
‫سے تاثرات لے کر وہاں سے اٹھا اور اپنی روزمرہ کی ڈیوٹی پر چال گیا۔ دن وہاں گزارا اور سورج غروب ہونے سے بہت پہلے
‫واپس چال گیا۔
‫رات تاریک ہوئی تو وہ پھر وہاں موجود تھا مگر اب ڈیوٹی پر نہیں‪ ،بدروح کی مالقات کے لیے گیا تھا۔ ایسی تاریک تنہائی
‫اور ایسے سنسان ماحول میں اسے خوف زدہ ہونا چاہیے تھا لیکن حکیم کی باتیں اسے حوصلہ دے رہی تھیں۔ اس نے بازو کے
‫ساتھ دو تعویذ باندھ رکھے تھے اور وہ اپنے طور پر کوئی ورد بھی کررہا تھا۔ وہ اس جگہ پہنچ گیا جو اسے حکیم نے بتائی
‫تھی۔ یہ پہاڑیوں کے اندر تھی۔ درخت بھوتوں کی طرح نظر آرہے تھے۔ ماحول اس قدر خاموش تھا کہ مہدی الحسن کو اپنے
‫دل کی دھڑکن بھی سنائی دے رہی تھی۔
‫اسے رونے کی وہی آواز سنائی دی جو اس نے دن کو سنی تھی۔ وہ اس آواز کی طرف چل پڑا۔ کچھ دیر خاموشی طاری
‫رہی۔ وہ ذرا سا چل کر رک گیا۔ اب کے رونے کی آواز اس کے عقب سے آنے لگی۔ یہ بھی دور تھی۔ وہ اس طرف چل
‫پڑا۔ اس جگہ سے وہ واقف تھا‪ ،اس لیے آسانی سے چال جارہا تھا۔ یہ آواز بھی خاموش ہوگئی۔
‫''مہدی الحسن نے بلند آواز سے کہا… ''مجھے اپنا آپ دکھائو گی یا اسی طرح ڈراتی رہوگی؟
‫اسے اپنے یہی الفاظ صاف سنائی دئیے۔ اگر اسے یہ علم نہ ہوتا کہ یہ اس کی اپنی صدائے بازگشت ہے تو وہ ڈر کے مارے
‫بھاگ جاتا۔ یہ صحرائی پہاڑیاں تھیں جو دیواروں کی طرح کھڑی تھیں۔ ان میں زیادہ ترعمودی اور کچھ ڈھالنی تھیں۔ مہدی
‫الحسن کو اپنی آواز تین چار بار سنائی دی۔ اس کی آواز ماحول اور فضا میں گھومتی اور تیرتی محسوس ہوتی تھی۔
‫اس آواز کی گونج تاریک فضا میں تحلیل ہوگئی تو اسے ایک نسوانی آواز سنائی دی… ''مجھ سے ڈرو نہیں‪ ،آگے آئو''… یہ
‫آواز دور سے آئی تھی۔ یہ اسے کئی بار سنائی دی اور آہستہ آہستہ ختم ہوگئی۔
‫آواز پھر آئی… ''اب بے وفائی نہ کرنا‪ ،میں دو ہزار سال سے تمہاری راہ دیکھ رہی ہوں''۔
‫مہدی الحسن کو یہ الفاظ کئی بار سنائی دئیے‪ ،پھر مہدی الحسن کی آواز ابھری اور باربار سنائی دینے کے بعد خاموش ہوگئی۔

‫اس طرح دونوں طرف سے آوازیں ابھرتی‪ ،بھٹکتی اورگونجتی رہیں۔ بدروح کی آواز میں التجا تھی جس سے مہدی الحسن کا
‫خوف دورہوگیا۔ وہ ان پہاڑیوں میں اندرتک چال گیا۔ اسے سامنے چمک دکھائی دی جو آسمانی بجلی کی طرح چمکی اور
‫بجھ گئی۔ اس چمک میں اس نے دیکھ لیا کہ وہ کہاں ہے۔ اسے اس دمک میں اس سرنگ کا دہانہ نظر آیا تھا جس میں
‫گزر کر وہ ایک بار دوسری طرف گیا تھا۔ وہ وہیں رک گیا۔
‫کچھ دیر بعد روشنی پھر چمکی اور اس میں اسے سرنگ کے دہانے میں کوئی انسان کھڑا نظر آیا۔ روشنی جانے کہاں سے
‫آرہی تھی۔ یہ اتنی لمبی چوڑی تھی کہ دہانے میں کھڑا انسان صاف نظر آتا تھا۔ وہ اس سے کم وبیش پچاس قدم دور تھا۔
‫اس نے غور سے دیکھا۔ چہرہ بڑی ہی خوبصورت لڑکی کا تھا۔ صرف چہرہ نظر آتا تھا۔ باقی سارا جسم سفید کفن میں لپٹا
‫ہوا تھا۔ مہدی الحسن ڈرنے لگا۔ اسے نسوانی آواز سنائی دی… ''مجھ سے ڈرو نہیں۔ دوہزار سال سے تمہاری راہ دیکھ رہی
‫ہوں''۔
‫وہ آگے بڑھا۔ چند قدم چال ہوگا کہ کفن سے ایک بازو باہر آیا جو مہدی الحسن کی طرف بڑھا۔ ہاتھ کی ہتھیلی اس طرح ‪:
‫آگے ہوئی جیسے اشارہ کیا ہو کہ آگے نہ آنا۔ مہدی الحسن وہیں رک گیا۔ روشنی بجھ گئی۔ وہ اس انتظار میں کھڑا رہا کہ
‫روشنی ایک بار پھر چمکے گی اور اسے کفن میں لپٹی ہوئی یہ لڑکی نظر آئے گی مگر اسے آوازسنائی دی۔ ''تم پر اعتبار
‫کون کرے‪ ،چلے جائو‪ ،چلے جائو''۔
‫مجھ پر اعتبار کرو'' ۔ مہدی الحسن نے کہا اور آگے کو دوڑا۔ وہ پکارتا جارہا تھا۔ ''میں تمہاری خاطر آیا ہوں۔ میرے ''
‫قریب آئو''۔
‫وہ سرنگ کے دہانے میں جارکا۔ اسے سرنگ کے اندر سے آواز سنائی دی… ''کل آنا‪ ،چلے جائو‪ ،تم فانی دنیا کے انسان ہو‪،
‫تمہارے وعدے بھی فانی ہیں''۔
‫مہدی الحسن سرنگ کے اندر چالگیا اور آگے ہی آگے چلتا گیا۔ اسے سرنگ کا دوسرادہانہ دکھائی دیا۔ سرنگ کے اندر کی
‫نسبت باہر تاریکی کم تھی۔ اس لیے سرنگ کا دہانہ نظر آرہا تھا۔ سرمئی سی اس روشنی میں ایک لمبوترا سایہ دکھائی دیا
‫جو فورا ً غائب ہوگیا۔ یہ کفن میں لپٹی ہوئی لڑکی جیساتھا۔ مہدی الحسن دوڑ پڑا۔ ٹھوکر کھا کر گرا اور اٹھ کر پھر دوڑا۔
‫اگلے دہانے میں جاکر اس نے آوازیں دیں مگر اسے اپنی ہی پکار کی صدائے بازگشت کے سوا کوئی جواب نہ مال۔ رونے کی
‫آواز بھی نہ ابھری۔ بدروح نے بھی اسے نہ پکارا۔ وہ مایوس ہوکر واپس چل پڑا۔ ابھی وہ سرنگ کے وسط ہی میں تھا کہ
‫اسے سرنگ کے سامنے والے دہانے میں روشنی دکھائی دی مگر اس روشنی میں کفن میں لپٹی ہوئی الش نہیں تھی۔
‫روشنی بجھ گئی۔ مہدی الحسن سرنگ سے نکل گیا۔ اسے سامنے اور ذرا بائیں کو بلندی پر روشنی کا دھوکہ ہوا مگر وہ کسی
‫اور طرح کی روشنی تھی جیسے کسی نے کھڈ میں چٹان کے پیچھے آگ جال رکھی ہو۔ مہدی الحسن نے کچھ سوچا اور ادھر
‫کو چل پڑا جدھر سے آیا تھا۔ وہ اس پہاڑی عالقے سے نکل گیا۔ اس کا اونٹ باہر بندھا تھا۔ وہ اونٹ پر سوار ہوا اور قاہرہ
‫کی سمت روانہ ہوگیا۔ اس کی ذہنی کیفیت ایسی تھی جس میں ڈر اور خوف نہیں بلکہ اضطراب اورہیجان تھا۔ وہ ان دو
‫روشنیوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ایک وہ جس میں اسے کفن میں لپٹی ہوئی الش نظر آئی تھی اور دوسری وہ جو اسے
‫بلندی پر دکھائی دی تھی۔ بلندی والی روشنی آگ کی تھی۔
‫وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔ رات بہت گزر گئی تھی پھر بھی اسے نیند نہ آئی۔ بار بار کفن میں لپٹی ہوئی لڑکی کا چہرہ
‫اس کے سامنے آتا تھا اور یہ ارادہ اسے تڑپا دیتا کہ وہ رات وہیں گزارے اور اس لڑکی کو قریب سے دیکھ کر لوٹے۔
‫٭ ٭ ٭
‫عادت کے مطابق وہ صبح وقت پر اٹھا۔ مشین کی طرح روزمرہ کے کام کیے۔ علی بن سفیان کے پاس جاکر نئی ہدایات لیں
‫جن میں ایک یہ تھی کہ اس عالقے میں اس کی ڈیوٹی ختم کردی گئی تھی۔ اسے شہر کے باہر کسی اور جگہ جانے کو کہا
‫گیا۔
‫مجھے ابھی وہیں جانے دیں جہاں اتنے دنوں سے جارہا ہوں''۔ مہدی الحسن نے کہا… ''مجھے توقع ہے کہ ان پہاڑیوں ''
‫میں مجھے کچھ مل جائے گا۔ میں دو تین روز بعد آپ کو بتا سکوں گا کہ یہ عالقہ صاف ہے یا نہیں''۔
‫علی بن سفیان اس کے مشوروں کو نظر انداز نہیں کرتا تھا۔ وہ کوئی عام قسم کا جاسوس نہیں تھا۔ اس شعبے کا عہدے دار
‫تھا اور تجربے کے لحاظ سے وہ قابل اعتماد تھا۔ کچھ دیر کی بحث اور غوروخوض کے بعد علی بن سفیان نے اپنے اسی
‫عالقے میں جانے کی اجازت دے دی۔ مہدی الحسن بدروح سے ملے بغیر اس عالقے کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ یہ شاید پہال
‫موقع تھا کہ اس نے فرض پر اپنی ذاتی خواہش کو ترجیح دی تھی۔ علی بن سفیان کو ذرا سا بھی شک ہوتا کہ وہ کسی اور
‫چکر میں اپنی ڈیوٹی بدلنے سے گریز کررہا ہے تو اسے کبھی نہ جانے دیتا۔ ایک تجربہ کار جاسوس اور سراغ رساں اپنے آپ
‫کو ایسے خطرے میں ڈال رہا تھا جس میں اس کی جان ضائع ہوسکتی تھی۔
‫مہدی الحسن حکیم کے پاس گیا اور اسے رات کی واردات سنائی۔ حکیم نے آنکھیں بند کرلیں اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑ
‫بڑاتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور مہدی الحسن کی آنکھوں میں جھانکا۔
‫آج رات پھر جائو''۔ حکیم نے اسے کہا… ''اس پاک جہان کی مخلوق اس ناپاک دنیا کے کسی انسان کے قریب آنے ''
‫سے ڈرتی ہے۔ تم کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنا۔ شاید آج بھی ذرا سی دیر نظر آکر وہ غائب ہوجائے‪ ،تم بے صبر نہ
‫ہوجانا۔ وہ تمہیں ملنے کو بے تاب ہے‪ ،ضرور ملے گی۔ اگر اس مالقات میں تمہارا فائدہ نہ ہوتا تو میں تمہیں وہاں نہ
‫بھیجتا۔ تمہاری جان کو بھی کوئی خطرہ نہیں''۔
‫مہدی الحسن چال گیا۔ اس عالقے میں گھوما پھرا۔ سرنگ کے اندر گیا۔ دوسری طرف گیا۔ سرنگ کے دہانے سے نیچے اترگیا۔
‫اسے زمین پر کپڑے کی ایک پٹی پڑی نظر آئی۔ اس نے اٹھالی۔ یہ نصف انچ چوڑی اور کوئی نصف گز لمبی ہوگی۔ اسے وہ
‫دیکھتا رہا اور اپنے پاس رکھ لی۔ وہ پھر سرنگ میں داخل ہوا اور باہر آگیا۔ اس نے اس بلندی کی طرف دیکھا جہاں رات
‫اسے آگ کا دھوکہ ہوا تھا۔ ادھر ڈھالن تھی۔ وہ سرنگ سے نکل کر ڈھالن پر چڑھنے لگا۔ اسے ایک مردانہ آواز سنائی دی…
‫''اوپر نہ جانا‪ ،جس کے لیے تم آئے ہو وہ تمہیں رات کو ملے گی''… یہ آواز گونج بن کر بار بار سنائی دینے لگی۔
‫ہماری دنیا میں آکر کھوج نہ لگائو''۔ وہی آواز پھر سنائی دی۔''
‫مہدی الحسن رک گیا۔ اسے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے یہ آواز اس کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ وہ اوپر نہ گیا۔ حیرت زدہ
‫ہوکر ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ اس نے سوچا کہ وہ کوئی حرکت نہ کربیٹھے جس سے یہاں کی کوئی بدروح اسے نقصان
‫پہنچا دے۔ وہ اس جگہ سے باہر چال گیا اور ایک جگہ بیٹھ کر سوچنے لگا کہ اس جگہ کی حقیقت کیا ہے۔ دن اسی سوچ
‫میں گزر گیا اور وہ رات کو یہیں واپس آنے کے لیے چال گیا۔

‫سورج غروب ہونے کے بعد جب وہ اس پہاڑی خطے میں جانے لگا تو وہی بھیس بدال جس میں وہ وہاں جایا کرتا تھا۔ دن
‫کے وقت جب وہ ڈیوٹی پر جاتا تھا تو اپنا لمبا خنجر ساتھ لے جاتا تھا۔ حکیم نے اسے بڑی سختی سے کہا تھا کہ وہ رات
‫کو جب بدروح سے ملنے جائے تو اپنے ساتھ کوئی ہتھیار نہ لے جائے۔ گزشتہ رات وہ خنجر اپنے ساتھ نہیں لے گیا تھا۔ اب
‫شام کو وہ بدروح کی مالقات کے لیے جارہا تھا۔ اس نے گڈریوں کا بھیس بدل لیا۔ خنجر دیوار کے ساتھ لٹک رہا تھا۔ اس
‫نے خنجر کو دیکھا اور گہری سوچ میں کھو گیا۔ ہدایت کے مطابق اسے خنجر ساتھ نہیں لے جانا تھا لیکن اس نے گہری
‫سوچ سے بیدار ہوکر خنجر دیوار سے اتار لیا۔ اپنے کپڑوں کے اندر کمر کے ساتھ باندھ لیا اور باہر نکل گیا۔
‫اس جگہ پہنچ کر اس نے اونٹ کو بٹھا دیا اور اس جگہ چال گیا جہاں سے سرنگ کا دہانہ نظر آتا تھا۔ اسے اپنے عقب میں
‫کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی جو فورا ً خاموش ہوگئی۔ اس کے فورا ً بعد اوپر سے پتھر لڑھکنے کی آواز آئی جو ایسی
‫بلند تو نہیں تھی لیکن ایسے سکون اور ایسی وادیوں میں جو عمودی پہاڑیوں میں گھری ہوئی تھیں‪ ،یہ آواز لڑھکتے پتھر ساکن
‫ہوجانے کے بعد بھی سنائی دیتی رہی‪ ،پھر گونج بن کر فضا میں تیرنے لگی‪ ،جیسے کوئی سسکیاں اور ہچکیاں لے رہا ہو۔ ذرا
‫اور وقت گزرا تو مہدی الحسن کو رونے کی آوازیں سنائی دیں۔
‫میرے سامنے آئو''۔ مہدی الحسن نے بلند آواز سے کہا… ''میری دنیا ناپاک ہے‪ ،میں ناپاک نہیں ہوں''۔''
‫تم مجھے پھر چھوڑ کر چلے جائو گے''۔ یہ نسوانی آواز کہیں قریب سے آئی۔''
‫مہدی الحسن کی آواز اور یہ نسوانی آواز یوں بار بار سنائی دینے لگی جیسے ایک دوسرے کے تعاقب میں دوڑ رہی ہوں۔
‫روشنی چمکی اور بجھ گئی جس سے مہدی الحسن کو سرنگ کا دہانہ نظر آیا۔ وہ دبے پائوں تیز قدم آگے چال گیا اور سرنگ
‫کے دہانے سے ذرا نیچے ایک بڑے پتھر کے پیچھے چھپ گیا۔ اس نے ادھر اوپر دیکھا جہاں گزشتہ رات اسے آگ کا دھوکہ
‫ہوا تھا۔ وہ دھوکہ آج بھی موجود تھا۔ سرنگ کا دہانہ ذرا بلند تھا۔ وہ پیٹ کے بل سرکتا اوپر چال گیا اور وہ چند لمحوں
‫بعد دہانے کے اندر تھا۔ وہاں سے اس نے چھپ کر ادھر اوپر دیکھا جدھر اسے آگ کا دھوکہ نظر آیا تھا۔ اب چونکہ وہ خود
‫بھی بلندی پر تھا۔ اس لیے اسے وہاں آگ کی ایسی روشنی دکھائی دی جس کا شعلہ کہیں چھپا ہوا تھا۔
‫اسے سرنگ کے اندر سے کسی عورت کی آواز سنائی دی
‫دو ہزار سال سے تمہاری راہ دیکھ رہی ہوں۔ آگے آئو''۔''
‫مہدی الحسن سرنگ کی دیوار کے ساتھ ساتھ اور اندر کو چل پڑا۔ اسے خیال آیا کہ حکیم نے اسے کہا تھا کہ اپنے ساتھ
‫کوئی ہتھیار نہ لے جانا‪ ،ورنہ اس لڑکی کی روح سامنے نہیں آئے گی۔ اس کے پاس ڈیڑھ فٹ لمبا خنجر تھا اور بدروح بول
‫رہی تھی۔ وہ اور آگے چال گیا اور سرنگ کے وسط میں پہنچ گیا۔ سرنگ فراخ تھی۔ اسے کوئی آتا محسوس ہوا۔ وہ دیوار کے
‫ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اس کے قریب سے کوئی گزرنے لگا۔ اتنے گھپ اندھیرے میں بھی اس نے اندازہ لگا لیا کہ یہ وہی
‫لڑکی ہے اور یہ کفن میں لپٹی ہوئی ہے۔ لڑکی رک گئی اور اس نے رونے کی آواز نکالی۔ مہدی الحسن نے یہ آوازپہلے کئی
‫بار سنی تھی۔ اس کا دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگا۔
‫کفن میں لپٹی ہوئی الش آگے کو سرکی۔ عین اس وقت دہانے پر روشنی چمکی اور بجھ گئی۔ مہدی الحسن اٹھا اور بجلی کی
‫تیزی سے پیچھے سے الش کو دبوچ لیا۔ الش کی آواز سنائی دی… ''اوہ بدبخت‪ ،تمہیں کس وقت مذاق سوجھا ہے۔ چھوڑو
‫مجھے‪ ،شکار انتظار میں کھڑا ہے''۔
‫مہدی الحسن نے جس شک میں جان کی بازی لگا کر اسے پکڑا تھا‪ ،وہ شک صحیح ثابت ہوا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ یہ
‫بدروح ہوئی تو اس کے ہاتھ نہیں آئے گی اور اس کی جان نکال لے گی اور اگر یہ کوئی دھوکہ ہوا تو اسے بڑا موٹا شکار مل
‫جائے گا۔
‫کفن میں لپٹی ہوئی اس عورت کی آواز سنتے ہی مہدی الحسن سرگوشی میں بوال… ''اونچی آواز نکالی تو خنجر ایک پہلو
‫میں گھونپ کر دوسرے پہلو سے نکال دوں گا''۔
‫میں تمہارادل اور کلیجہ منہ کے راستے نکال کر کھا جائوں گی''۔ عورت نے کہا… ''میں روح ہوں''۔''
‫مہدی الحسن نے اسے ایک بازو سے دبوچے رکھا اور دوسرے ہاتھ سے خنجر نکال کر اس کی نوک عورت کے پہلو میں رکھ
‫دی۔ سرنگ کے سامنے والے دہانے پر ایک بار پھر روشنی چمکی۔ مہدی الحسن کا ادھر جانا پر خطر تھا۔
‫میں اسی لیے تمہیں اپنے قریب نہیں آنے دیتی تھی کہ تم فریبی اور فانی دنیا کے انسان ہو''۔ عورت نے رندھی ہوئی ''
‫اور اثرانگیز آواز میں کہا… ''دو ہزار سال سے تمہاری راہ دیکھ رہی ہوں''۔
‫تمہارا انتظار ختم ہوگیا ہے''۔ مہدی الحسن نے کہا… ''اب تم روحوں کی پاک دنیا میں واپس نہیں جائو گی۔ تم اب ''
‫میری ناپاک دنیا کی عورت ہو''۔
‫میں عورت نہیں''۔ اس نے کہا… ''میں جوان لڑکی ہوں۔ میں حسین لڑکی ہوں‪ ،میں اونچا نہیں بولوں گی۔ میری بات ''
‫غور سے سن لو۔ میں جانتی ہوں تم کون ہو اور یہاں کیوں آئے ہو۔ تم مجھے اتنے اچھے لگتے ہو کہ میں نے تمہیں حاصل
‫کرنے کا فیصلہ کرلیا اور یہ طریقہ اختیار کیا ہے''۔
‫تو چلو میرے ساتھ''۔ مہدی الحسن نے کہا۔''
‫نہیں'' ۔ لڑکی نے کہا… '' تم میرے ساتھ چلو۔ میں تمہارے ساتھ گئی تو ہم دونوں بھوکے مریں گے۔ تم میرے ساتھ آئے تو''
‫فرعونوں کا خزانہ ہمارا ہوگا۔ پھر تمہیں ویرانوں میں بھٹکتے پھرنے اور تھوڑی سی تنخواہ کے عوض جاسوسی کرتے پھرنے کی
‫ضرورت نہیں پڑے گی''۔
‫''تم یہاں کیا کررہی ہو؟''
‫خزانہ نکال رہے ہیں''۔ لڑکی نے کہا… ''میں بہت سے آدمیوں کے ساتھ ہوں''۔''
‫''وہ سب کہاں ہیں؟''
‫میرے ساتھ چلو‪ ،سب تمہارا استقبال کریں گے''۔ لڑکی نے کہا… ''مجھے روشنی میں دیکھو گے تو خزانوں کو اور اپنی ''
‫دنیا کو بھول جائو گے''۔
‫مہدی الحسن جو خوشبو اس لڑکی کے جسم سے سونگھ رہا تھا‪ ،وہ اس پر خمار طاری کررہی تھی۔ اس نے اس لڑکی کو جب
‫اپنے بازوئوں میں دبوچا تھا تو اس نے محسوس کرلیا تھا کہ یہ جسم ایمان خریدنے کا اثر رکھتا ہے۔ لڑکی کی آواز میں ترنم
‫تھا۔ اس پر نشہ طاری ہوچکا تھا۔ اس لمحے سرنگ کے دہانے کی طرف وہ نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ ادھر کے متعلق اسے
‫یقین تھا کہ ادھر آدمی ہوں گے اور روشنی کا انتظام تو ادھر تھا ہی۔
‫اٹھو''۔ اس نے لڑکی کو اٹھایا اور کہا… ''کفن اتار دو''۔''

‫لڑکی نے کفن اتار دیا۔ مہدی الحسن نے کفن سے لمبی اور چوڑی پٹیاں پھاڑیں۔ ایک سے لڑکی کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ
‫دئیے۔ دوسری پٹی سے اس کی ٹانگیں ٹخنوں کے قریب سے باندھیں۔ تیسری پٹی اس کے منہ پر باندھ کر اسے کندھے پر
‫ڈال لیا۔ خنجر ہاتھ میں رکھا اور وہ سرنگ کے پچھلے دہانے کی طرف چل پڑا۔ اسے وہاں سے بہت جلدی نکلنا تھا‪..
‫گزشتہ رات جب مہدی الحسن یہاں آیا تھا تو وہ بدروح سے ہی ملنے آیا تھا۔ سرنگ کے دہانے پر وہ روشنی کی چمک میں
‫اسے نظر آئی اور غائب ہوگئی تھی۔ مہدی نے دہانے پر جاکر ایک تو دہانے کے سامنے بلندی پر روشنی سی دیکھی تھی اور
‫پھر وہ سرنگ کے اندر گیا تو اس نے دوسرے دہانے میں سے ایک سایہ سا باہر جاتے دیکھا تھا۔ دن کے وقت وہ پھر سرنگ
‫میں سے گزر کر دوسری طرف گیا تو اسے کپڑے کی ایک باریک سی پٹی زمین پر پڑی نظر آئی تھی۔ اسے پٹی دیکھتے ہی
‫یاد آگیا کہ میت پر کفن ایسی ہی پٹیوں سے باندھا جاتا ہے۔ وہ چونکہ علی بن سفیان کا تربیت یافتہ جاسوس تھا‪ ،اس لیے
‫اشاروں کو بہت اہمیت دے رہا تھا۔ وہ جب آج رات بدروح کی مالقات کے لیے چال تھا تو اس
‫وہ ذرا ذر اسی چیزوں اور
‫نے حکیم کے منع کرنے کے باوجود خنجر ساتھ لے لیا تھا۔ یہ آزمائش کا ایک طریقہ تھا۔ خنجر کے باوجود بدروح آگئی۔
‫اس نے دلیری یہ کی کہ آج دہانے پر روشنی نظر آتے ہی وہ دہانے میں چال گیا اور وہاں سے اس نے بلندی پر دیکھا۔ وہاں
‫آگ کا چھپا ہوا شعلہ تھا۔ دہانے پر چمک وہیں سے آتی تھی۔ مہدی الحسن کو دو واقعات یاد آگئے۔ صلیبیوں کے ایجنٹوں
‫نے مصر کے ایسے ہی پہاڑی عالقوں میں مصر کے دیہاتیوں کو توہمات میں الجھانے اور انہیں اثر میں لینے کے لیے یہ طریقہ
‫اختیار کیا تھا کہ ایک پہاڑی پر بڑے شعلے والی مشعل جال کر چھپا رکھی تھی۔ اس کے سامنے لکڑی کا ایسا تختہ رکھتے
‫تھے جس پر براق چپکا ہوا تھا۔ دوسرے واقعہ میں چمکیلی دھات کی چادر استعمال کی گئی تھی۔ ابرق یا دھات کی چمک
‫سامنے والی پہاڑی پر پڑتی تھی۔ مشعل اور چادر کے درمیان ایک اور تختہ رکھتے تو چمک بجھ جاتی تھی۔ یہ مشعل اور
‫چمکیلی چادر ایسی جگہ رکھی جاتی جہاں سے یہ لوگوں کو نظر نہیں آتی تھیں۔
‫ان دونوں وارداتوں میں صلیبی ایجنٹ پکڑے گئے اور ان کا یہ طریقہ بے نقاب ہوگیاتھا‪ ،ورنہ سیدھے سادے لوگ اسے غیب کی
‫چمک سمجھتے تھے۔ ان دونوں وارداتوں پر چھاپہ مارنے والوں میں مہدی الحسن بھی تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ سرنگ کے بالکل
‫بالمقابل پہاڑی پر جو آگ کا دھوکہ سا ہوتا ہے‪ ،وہ مشعل چھپی ہوئی ہے اور سرنگ کے دہانے پر اسی کی چمک پھینکی
‫جاتی ہے۔
‫اسے ٹریننگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ جو انسان مرجاتا ہے‪ ،وہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے تعلق توڑ جاتا ہے۔ خدا اس کی
‫روح کو یوں بھٹکنے کے لیے نہیں چھوڑ دیتا کہ وہ انسانوں کے پیچھے دوڑتی پھرے۔ جو مرجاتے ہیں وہ نہ جسمانی طور پر
‫واپس آتے ہیں‪ ،نہ روح یا بدروح کی شکل میں۔ مہدی الحسن کو ٹریننگ میں یہ اٹل حقیقت ذہن نشین کرائی گئی تھی کہ
‫انسان کو خدا نے اتنی زیادہ جسمانی اور روحانی قوت عطا کی ہے جو پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرسکتی ہے۔ ایمان جتنا مضبوط
‫ہوگا‪ ،یہ قوت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ جنات اور بھوت اور چڑیلیں انسان کے اپنے ذہن کی تخلیق ہیں۔ صلیبی ہمارا ایمان کمزور
‫کرنے کے لیے ہم پر واہمے اور توہمات طاری کررہے ہیں۔
‫یہ سبق قوم کے ہر فرد کو ملنا چاہیے تھا لیکن یہ ممکن نہ تھا۔ سلطان ایوبی نے لڑاکا جاسوسوں (کمانڈوز) کے جو دستے
‫تیار کیے تھے‪ ،انہیں بڑی کاوش سے ذہن نشین کرایا گیا تھا کہ ایمان کی قوت کیاہوتی ہے۔ انہیں توہمات سے دور رکھا گیا
‫تھا۔ انہیں عملی سبق بھی دئیے گئے تھے۔
‫عیسی کو زمین پر اتارا تھا''۔ مہدی الحسن کو علی بن سفیان کا ایک سبق یاد آگیا ''
‫صلیبیوں نے تمہارے سامنے حضرت
‫ٰ
‫تھا۔ '' تمہارے سامنے خدا کو بھی انہوں نے زمین پر اتارا تھا۔ وہ بدروحوں کو بھی الئے۔ تم نے یہ فریب کاری اپنی آنکھوں
‫دیکھی تھی اور یہ بھی دیکھا تھا کہ یہ فریب کاری کیسی کاریگری سے کی جارہی تھی۔ تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
‫کہ یہ شعبدہ بازی تھی۔ یہ اسالمی نظریات کو مجروح اور مسخ کرنے کی کوششیں تھیں جو تم نے ناکام کیں۔ خدا پہلے ہی
‫زمین پر موجود ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ کوئی پیغمبر واپس نہیں آئے گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہ
‫سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ خدائے ذوالجالل نے ہمیں اپنا نور دکھا دیا ہے۔ صلیبی اس کوشش میں مصروف ہیں کہ مسلمان کے
‫سینے میں اللہ‪ ،رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کا یہ نور بجھ جائے''۔
‫سلطان ایوبی نے اپنی فوج اور خصوصا ً اپنے جانباز دستوں کے دلوں میں یہ اصول پیوست کررکھا تھا… ''اللہ کے نام پر تم
‫جو بھی خطرہ مول لو گے‪ ،وہ تمہارے لیے خطرہ نہیں رہے گا کیونکہ تمہیں خدا کی خوشنودی اور مدد حاصل ہوگی۔ اگر آج
‫تم توہم پرستی کاشکار ہوگئے تو تمہاری اگلی نسل کا ایمان اتنا کمزور ہوگا کہ وہ کفر کے آگے ہتھیار ڈال دے گی''۔
‫ایسے ہی کچھ اور سبق تھے جو مہدی الحسن کو یاد آگئے تھے۔ اسے اپنی اہمیت کا بھی احساس ہوگیا تھا۔ جیسا کہ بتایا
‫جاچکا ہے کہ وہ معمولی عہدے یا درجے کا جاسوس نہیں تھا‪ ،اس کی قابلیت اور تجربہ بھی غیرمعمولی تھا۔ دشمن کے
‫تخریب کار اسے قتل کرسکتے تھے۔ اسی عالقے میں اسے دور سے تیرمارسکتے تھے لیکن اس کے پائے کے جاسوسوں کو
‫دشمن زندہ پکڑنے یا اپنے جال میں پھانس کر اس پر اپنا طلسم طاری کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ صلیبیوں اور حشیشین کے
‫پاس ایسے طریقے تھے جن سے وہ کسی بھی انسان کے ذہن پر قبضہ کرکے اسے اپنے حق میں استعمال کرسکتے تھے۔ مہدی
‫الحسن ان کے کام کا انسان تھا۔ یہ ضروری نہیں تھا کہ انہوں نے صرف اس کو پکڑنے کے لیے اس پہاڑی عالقے میں یہ
‫ڈھونگ رچایا تھا۔ اس عالقے میں کسی جگہ انہوں نے اپنا اڈا بنا رکھا تھا۔ مہدی الحسن کو انہوں نے گڈریے کے روپ میں
‫بھی پہچان لیا تھا۔ چنانچہ اسے پھانسنے کا یہ طریقہ اختیار کیا گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫مہدی الحسن لڑکی کے ہاتھ پائوں باندھ کر اسے کندھے پر اٹھائے سرنگ کے دوسرے دہانے کی طرف جارہا تھا۔ اسے سارے
‫سبق یاد آگئے تھے اور اس کے گرد سلطان ایوبی کی آواز گونج رہی تھی… ''جس طرح ایک غدار پوری قوم کو ذلت ورسوائی
‫میں ڈال سکتا ہے‪ ،اسی طرح ایک حریت پسند جانباز پوری قوم کو بڑے سے بڑے خطرے سے بچا سکتا ہے''۔
‫مہدی الحسن کے دل میں یہ احساس ایک بڑاہی مضبوط جذبہ بن کر بیدار ہوگیا کہ اس کی قوم جو گہری نیند سورہی ہے ''
‫وہ اسی کے بھروسے پر سورہی ہے۔ وہ جاسوسوں کی زمین دوز جنگ کا جانباز تھا۔ اسے معلوم تھا کہ قوم بہت بڑے لشکر
‫کا اور گھوڑ سواروں کے طوفان کا اور تیروں کی بوچھاڑوں کا مقابلہ کرسکتی ہے لیکن دشمنوں کے جاسوسوں اور تخریب کاروں
‫کا مقابلہ صرف ایک یا دو جاسوس ہی کرسکتے ہیں۔ مہدی الحسن مصر اور اپنی قوم کا واحد پاسبان اور سالمتی کا ضامن بن
‫''گیا مگر ایک سوال اسے پریشان کررہا تھا … ''کیا حکیم بھی دشمن کے تخریب کاروں کے گروہ کا فرد ہے؟
‫اس کا ذہن تسلم کرنے پرآمادہ نہیں تھا کہ اتنا عالم‪ ،معزز اور صاحب حیثیت طبیب جس کی عزت حکام باال بھی کرتے تھے‪،
‫دشمن کا ساتھی ہوسکتا ہے۔ اس یاد آیا کہ اسے جو سبق دئیے گئے تھے اور اس کے اپنے جو تجربے اور مشاہدے تھے‪ ،ان

‫سے اس پر یہ حقیقت واضح ہوئی تھی کہ ایمان فروشی کا عہدے اور رتبے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس نے دیکھا یہ تھا
‫کہ ایمان کا سوداعموما ً اونچے رتبے کے لوگ کرتے ہیں اور زیادہ بڑا بننے کے اللچ میں آکر بعض انسان ایمان گروی رکھ دیتے
‫ہیں۔
‫اس کے سامنے اب مسئلہ یہ تھا کہ لڑکی کو ساتھ لے کر وہ کس طرف سے باہر نکلے اور اپنے اونٹ تک پہنچے۔ لڑکی سے
‫وہ اس لیے رہنمائی نہیں لینا چاہتا تھا کہ وہ اسے غلط راستے پر ڈال کر کسی اور جال میں پھانس سکتی تھی۔ وہ جس
‫راستے سے آیا تھا‪ ،اس راستے کو وہ اب غیر محفوظ سمجھتا تھا۔ روشنی پھینکنے والوں نے دہانے پر دو تین بار روشنی
‫پھینکی تھی مگر لڑکی کو مہدی الحسن نے سرنگ میں دبوچ رکھا تھا۔ لڑکی کی وہ آواز بھی بند ہوگئی تھی جو مہدی الحسن
‫کو بدروح کا تاثر دیتی تھی۔ ان حاالت میں اسے یہ خطرہ نظر آرہا تھا کہ ادھر اس گروہ کے آدمی نیچے اتر آئے ہوں گے۔
‫سرنگ کی دوسری طرف اسے معلوم نہیں تھا کہ کسی طرف سے باہر جانے کا راستہ ہے یا نہیں۔
‫وہ لڑکی کو اٹھائے سرنگ سے باہر نکل گیا۔ ایک طرف دہانے سے کچھ دور جا کر اس نے لڑکی کو زمین پربٹھا دیا اور اس
‫''کے منہ سے پٹی کھول کر کہا… ''کیاتم بتائو گی کہ میں کس طرف سے جائوں‪ ،جدھر تمہارا کوئی آدمی نہ ہو؟
‫اگر تم اکیلے جائو تو بتا سکتی ہوں''۔''
‫تم میرے ساتھ چلو گی''۔ مہدی الحسن نے کہا… ''مجھے پھانسے کی کوشش کروگی تو میں اپنے آپ کو زندہ نہیں رہنے''
‫دوں گا‪ ،نہ تمہیں زندہ چھوڑوں گا''۔
‫''میں تمہیں وہ راز بتا دوں جو تم جاننا چاہتے ہو تو اکیلے چلے جائو گے؟''
‫میں وہ راز جان چکا ہوں''۔ مہدی الحسن نے کہا… ''مجھے راستہ بتائو''۔''
‫مجھے صرف ایک بار روشنی میں دیکھ لو''۔ لڑکی نے کہا… ''پھر مجھے اپنا سمجھنا‪ ،ایک بار میرے ساتھ چلے چلو‪'' ،
‫میں تمہیں دھوکہ نہیں دے رہی''۔
20:48
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 113رات‪ ،روح اورروشنی
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫دھوکہ نہیں دے رہی'' ۔ لڑکی نے مہدی الحسن کی مردانگی کو بھڑکانے کے جتن کیے۔ زروجواہرات کے اللچ بھی دئیے مگر
‫اسے راستہ نہ بتایا۔ مہدی الحسن نے پٹی سے اس کا منہ بند کردیا اور خود ہی ایک محفوظ راستہ سوچ لیا۔ یہ راستہ
‫پہاڑیوں کے اوپر تھا۔ اس نے لڑکی کو وہیں بیٹھے رہنے دیا اور اوپر چڑھنے لگا۔ نیچے کسی کی آواز سن کر وہ وہیں دبک
‫گیا۔ کوئی مرد اس لڑکی کو پکار رہا تھا۔ مہدی الحسن آہستہ آہستہ نیچے آگیا اور لڑکی کے قریب ایک بڑے پتھر کے پیچھے
‫چھپ کر بیٹھ گیا۔ اس آدمی نے لڑکی کو شاید دیکھ لیا تھا۔
‫تم بولتی کیوں نہیں؟''… اس آدمی نے پوچھا اور اوپر آنے لگا۔ لڑکی کا منہ بند تھا۔ وہ آدمی اس کے قریب آبیٹھا اور ''
‫بوال… ''کیا ہوا ہے تمہیں؟ ادھر نہیں گئی؟''۔
‫مہدی الحسن اس کے عقب میں تھا۔ فاصلہ دوچار قدم تھا۔ اس نے اٹھ کر اس آدمی کی پیٹھ میں خنجر کا بھرپور وار کیا۔
‫فورا ً بعد دوسراوار کیا۔ جوان آدمی کے دونوں وار دور تک اتر گئے۔ اس آدمی کی آواز بھی نہ نکلی۔ مہدی الحسن نے اسے
‫گھسیٹ کر اس پتھر کے نیچے پھینک دیا جس کے پیچھے وہ چھپا تھا۔ اس نے لڑکی کو کندھے پر ڈاال اور پہاڑی پر چڑھ
‫گیا۔ یہ کوئی اونچی پہاڑی نہیں تھی۔ اوپر سے چوڑی تھی۔ وہ اس پر چلنے لگا۔ اس کے لیے آسان طریقہ تھا کہ رات بھر
‫کہیں چھپا رہتا اور دن کی روشنی میں نکل جاتا لیکن اس کی کوشش یہ تھی کہ بہت جلد قاہرہ پہنچ جائے‪ ،تاکہ حکیم کی
‫گرفتاری اور اس عالقے کو محاصرے میں لینے کاانتظام صبح سے پہلے ہوجائے۔
‫اس نے ادھر ادھر دیکھا جہاں مشعل کی روشنی تھی۔ اب چونکہ وہ خود بلندی پر تھا‪ ،اس لیے اسے بالمقابل بلندی پر
‫مشعل صاف نظر آرہی تھی۔ ایک آدمی دونوں ہاتھوں میں آئینے کی طرح چمکتی چادر (دھات کی یا ابرق کی) اٹھائے ادھر
‫ادھر عکس مار رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا۔ مہدی الحسن کے لیے اوپر اوٹ تھی۔ وہ اس کی مدد سے روشنی
‫حتی کہ مشعل اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
‫سے بچتا آگے ہی آگے بڑھتا گیا
‫ٰ
‫٭ ٭ ٭
‫اسی پہاڑی خطے میں دور اندر جہاں تک کوئی مسافر اور کوئی گڈریا نہیں پہنچ سکتا تھا‪ ،ایک پہاڑی کے دامن میں غار کا
‫تنگ سا دہانہ تھا۔ اس کے پیچھے غار اتنا وسیع تھا جو غار نہیں بلکہ بہت ہی کشادہ کمرہ تھا۔ اس میں بہت سے آدمی
‫بیٹھے تھے۔ دو لڑکیاں بھی تھیں۔
‫اب تک اسے واپس آجانا چاہیے تھا''… ایک آدمی نے کہا۔''
‫آجائے گی'' ایک اور نے کہا… ''یہاں کون سا خطرہ ہے۔ آج وہ اسے لے کے ہی آئے گی''۔''
‫آدمی کام کا ہے''… ایک نے کہا… ''کمبخت بہت تجربہ کار ہے۔ ہم اسے تیار کرلیں گے''۔''
‫اتنے میں ایک آدمی دوڑتا اندر آیا اور بوال… ''گوپل مرا پڑا ہے اور لڑکی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ کہاں ہے۔ گوپل کو
‫خنجروں سے ہالک کیا گیا ہے''۔
‫وہ (مہدی الحسن) کہاں ہے؟''… کسی نے پوچھا۔''
‫کہیں نظر نہیں آرہا''… اسے جواب مال… ''اس کا اونٹ یہیں ہے‪ ،وہ خود کہیں نظر نہیں آرہا''۔''
‫سب باہر کو دو مشعلیں اٹھا کر دوڑ پڑے اور سرنگ کے دہانے تک گئے۔ وہاں ان کے ساتھی کی الش پڑی تھی۔ سرنگ میں
‫جاکر دیکھا۔ لڑکی کا کفن پڑا تھا۔ اس کے لیڈر نے سب سے کہا کہ دو آدمی باہر چلے جائو‪ ،اگر باہر سے کوئی خطرہ آئے
‫تو اطالع دو اگر وہ نظر آئے تو اسے پکڑ لو۔ مقابلہ کرے تو مارڈالو اور باقی آدمی پھیل جائو۔ وہ یہیں کہیں ہوگا۔ اگر وہ صبح
‫تک نہ ملے تو یہاں سے نکلو۔
‫اس وقت مہدی الحسن لڑکی کو کندھے پر اٹھائے ایک مشکل میں پھنسا ہوا تھا۔ وہ سرنگ والی پہاڑی سے دور نکل گیا تھا۔
‫آگے پہاڑی دیوار کی طرح ہوگئی تھی۔ نہ دائیں ڈھالن تھی نہ بائیں اور یہ بلند تھی۔ یہ بالکل دیوار تھی جس پر بیک وقت
‫دونوں پائوں نہیں رکھے جاسکتے تھے۔ وہ اس پر اس طرح بیٹھ گیا جس طرح گھوڑے پر بیٹھتے ہیں‪ ،وہ آگے کو سرکنے لگا۔
‫لڑکی کو کندھے پر سنبھالنا اور توازن قائم رکھنا مشکل ہورہا تھا۔ لڑکی نے اس کے توازن کو بگاڑنے کے لیے تڑپنا شروع کردیا۔
‫مہدی الحسن کو معلوم تھا کہ یہاں سے گرا تو ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی۔ اس سے اس نے اندازہ لگایا کہ یہاں جو بھید ہے وہ

‫اتنا قیمتی اور نازک ہے کہ یہ لڑکی اسے چھپائے رکھنے کی خاطر مہدی الحسن کو اپنے ساتھ گرا کر خود بھی مرنے کی
‫کوشش کررہی ہے۔
‫یہ دیوار ختم ہونے میں نہیں آرہی تھی اور لڑکی اس سے سنبھل نہیں رہی تھی۔ ادھر لڑکی کے گروہ کے آدمی تالش اور ‪:
‫تعاقب میں پھیل گئے تھے۔ ان کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔ تخریب کاری کے اڈے کا پکڑے جانا ان کی شکست
‫تھی اور ان میں سے جنہیں پکڑے جانا تھا‪ ،ان کے لیے بڑی ہی اذیت ناک موت تھی۔ مہدی الحسن نے لڑکی کے گرد بازو
‫اس قدر زور سے لپیٹ لیا کہ اس کی پسلیاں ٹوٹنے لگیں۔ وہ تو اپنی روح کی بھی طاقت استعمال کررہا تھا۔ آخر یہی طاقت
‫اسے دیوار سے گزار لے گئی۔ آگے وہ چوٹی آئی وہ خاصی چوڑی تھی۔ مہدی الحسن نے لڑکی کو زمین پر پٹخ دیا اور غضب
‫ناک آواز میں بوال… ''کیاتم میرا راستہ روک لو گی؟''… اس نے لڑکی کو اپنے غصے کا ذائقہ چکھانے کے لیے دوچار قدم
‫پیٹھ کے بل گھسیٹا اور کہا۔ ''میرے لیے کوئی مشکل پیدا کی تو میں تمہیں اسی طرح گھسیٹ کر ساتھ لے جائوں گا۔ مرتی
‫ہو تو مرجائو''۔
‫اسے دور نیچے ایک مشعل دکھائی دی۔ وہ بہت تھک گیا تھا اور وہ محسوس کرنے لگاتھا کہ خطرے سے نکل آیا ہے مگر
‫اس جگہ سے نکلنا ابھی ٹیڑھا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ اسے بہت جلدی قاہرہ پہنچنا تھا۔ اس نے لڑکی کے پائوں کھول دئیے۔ ہاتھ
‫پیٹھ پیچھے بندھے رہنے دئیے۔ اسے آگے کرلیا اور خنجر کی نوک اس کی پیٹھ کے ساتھ لگا کر کہا… ''چلو‪ ،میرے کہے بغیر
‫دائیں بائیں نہ گھومنا'' ۔ تعاقب میں جو آدمی نکلے تھے‪ ،وہ سرنگ میں اور اس کے اردگرد وادیوں میں گھوم پھر رہے تھے۔
‫دو آدمی اس جگہ جاکھڑے ہوئے جہاں سے مہدی الحسن اندر آتا جاتا تھا۔ مہدی الحسن ڈھالنیں اترتا اور چڑھائیاں چڑھتا ایک
‫ایسی چٹان پر جاپہنچا جہاں آگے کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ زمین کا بھیدی تھا۔ اسے اتنا تجربہ تھا کہ اندھیرے میں بھی اجنبی
‫زمین کے خدوخال بھانپ لیا کرتا تھا۔ اسے یہ سمجھنے میں کچھ دیر لگی کہ نیچے دریا ہے اور یہ دریائے نیل ہے۔ اس نے
‫لڑکی کے ہاتھ بھی کھول دئیے اور منہ سے بھی پٹی اتار دی۔ چٹان کی ڈھالن کھڑی تھی۔ لڑکی سے کہاکہ بیٹھو اور نیچے
‫کو سرکو۔
‫دونوں سرک کر نیچے گئے‪ ،پانی کی آواز صاف سنائی دینے لگی۔ چٹان کی ڈھالن ختم ہوچکی تھی۔ وہ ابھی دریا کی سطح
‫سے بلند تھے۔ اس نے لڑکی سے کہا کہ دریا میں کودو۔ لڑکی بولی… ''میں تیرنا نہیں جانتی''۔
‫مہدی الحسن نے خنجر نیام میں ڈاال اور لڑکی کو اپنے بازوئوں میں لے لیا جیسے بغل گیر ہوا جاتا ہے۔ اس نے لڑکی کو
‫مضبوط گرفت میں لیے ہوئے دریا میں چھالنگ لگا دی۔ دریا کا رخ قاہرہ کی طرف تھا۔ لڑکی کو اس نے دانستہ چھوڑ دیا۔ اس
‫نے دیکھا کہ لڑکی تیر رہی ہے۔
‫مجھے معلوم تھا کہ تم تیر سکتی ہو''… مہدی الحسن نے کہا… ''تمہیں ہر ڈھنک سکھا کر ہمارے ملک میں بھیجا جاتا''
‫ہے۔ زیادہ زور نہ لگائو‪ ،دریا ادھر ہی جارہاہے‪ ،جدھر ہم جارہے ہیں''۔
‫ان کے ایک طرف چٹانیں اور پہاڑیاں کھڑی تھیں۔ انہیں تالش کرنے والے اس کوہسار کے دوسری طرف بھاگ دوڑ رہے تھے۔
‫لڑکی نے تیرتے تیرتے ایک بار پھر کوشش کی کہ مہدی الحسن کو اپنے جواں جسم کا اسیر بنا لے لیکن اس نے کوئی اثر نہ
‫لیا۔بہت دور آگے جاکر جب مہدی الحسن نے دیکھا کہ وہ خطرے کے عالقے سے دور آگیا ہے‪ ،منہ میں دو انگلیاں ڈال کر
‫خاص انداز سے سیٹیاں بجائیں۔ وہ تیرتا بھی گیا اور وقفے وقفے سے سیٹیاں بھی بجاتا گیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے دور سے
‫ایسی ہی سیٹی سنائی دی‪ ،پھر سیٹیوں کا تبادلہ ہوا‪ ،ایک کشتی ان کے قریب آگئی۔
‫مہدی الحسن کو معلوم تھا کہ جس طرح سرحد پر گشتی سنتری گھومتے پھرتے رہتے ہیں‪ ،اسی طرح دیا میں بھی گشتی پہرہ
‫ہوتا ہے۔ خطرے کے وقت ایک دوسرے کو بالنے کے لیے وہ منہ سے اسی طرح سیٹی بجایا کرتے تھے۔ یہ کشتی گشتی
‫سنتریوں کی تھی۔ مہدی الحسن نے اپنا تعارف کرایا۔ سنتریوں نے اسے اور لڑکی کو کشتی میں بٹھا لیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫علی بن سفیان گہری نیند سویا ہوا تھا۔ اسے مالزم نے جگایا اور بتایا کہ مہدی الحسن نام کا ایک آدمی ایک لڑکی کو ‪:
‫ساتھ لے کے آیا ہے۔ مہدی الحسن کا نام ہی کافی تھا۔ علی بن سفیان اچک کر اٹھا اور باہر کو دوڑا۔ مہدی الحسن اور
‫لڑکی کے کپڑوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ دونوں کو کمرے میں بٹھایا۔ قندیل جل رہی تھی۔ مہدی الحسن نے پہلی بار لڑکی کا
‫چہرہ دیکھا اور سوچا کہ لڑکی نے ٹھیک کہا تھا کہ مجھے روشنی میں دیکھو گے تو سب کچھ بھول جائو گے۔
‫مہدی الحسن نے حکیم کا نام لے کر کہا… ''اس کے گھر پر فورا ً چھاپہ ماریں''۔
‫''مہدی!''… علی بن سفیان نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا… ''کس کی بات کررہے ہو؟''
‫کیا ایمان فروشی کوئی نئی خبر ہے؟''… مہدی الحسن نے کہا اور لڑکی سے پوچھا… ''حکیم تمہارا ساتھی ہے نا؟ یہاں ''
‫جھوٹ بولو گی تو انجام بڑا ہی بھیانک ہوگا''۔
‫لڑکی نے سرجھکا لیا۔ علی بن سفیان نے اس کے بھیگے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''یہاں تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں
‫ہوگا جو تم سوچ رہی ہو۔ تمہارے حسن اور جوانی کے لیے ہم پتھر ہیں اور جب ہم بے بس عورت کی عزت کرنے پر آتے
‫''ہیں تو ہم ریشم کی طرح مالئم اور نرم ہیں… حکیم تمہارا ساتھی ہے؟
‫لڑکی نے اثبات میں سرہالیا۔
‫مہدی الحسن نے نہایت مختصر طور پر سنایا کہ وہ کیا دیکھ کر آیا ہے اور حکیم نے اسے بدروح کا کس طرح جھانسہ دیا تھا۔
‫علی بن سفیان نے مالزم اور اپنے محافظوں کو بالیا اور انہیں مختلف کمان داروں کی طرف پیغامات دے کر دوڑا دیا۔ کوتوال
‫غیاث بلبیس کو بھی بلوا لیا۔ اس نے اس قسم کے ہنگامی حاالت کے لیے زیادہ نفری کا ایک دستہ تیار کررکھا تھا جو چند
‫منٹوں میں کارروائی کے لیے تیار ہوجاتا تھا۔ مہدی الحسن کی رپورٹ پر یہ دستہ فورا ً تیار ہوگیا۔ علی بن سفیان نے غیاث
‫بلبیس کے سپرد یہ کام کیا کہ حکیم کے گھر چھاپہ مارے اور اسے گرفتار کرکے اس کے مکان اور دوائی خانے کو سربمہر
‫کردے۔ اس نے خود سواروں کو ساتھ لیا۔ ایک گھوڑے پر مہدی الحسن کو دوسرے پر لڑکی کو بٹھایا اور واردات والے عالقے کو
‫روانہ ہوگیا۔
‫وہ جگہ بہت دور نہیں تھی۔ لڑکی کے گروہ کے آدمی اس وقت تک تالش سے مایوس ہوچکے تھے۔ انہوں نے تھک ہار کر
‫فیصلہ کیا کہ وہاں سے نکل بھاگیں۔ انہیں خدشہ یہ تھا کہ لڑکی اگر قاہرہ پہنچ گئی تو وہ نشاندہی کردے گی۔ گروہ میں
‫اختالف پیدا ہوگیا۔ کچھ آدمی کہتے تھے کہ مہدی الحسن کا اونٹ یہیں ہے۔ وہ اگر نکل گیا ہے تو اتنی جلدی قاہرہ نہیں
‫پہنچ سکے گا۔ اسی کشمکش میں انہوں نے وہاں سے بھاگنے میں وقت ضائع کردیا۔ آخر وہ اپنا سامان سمیٹ کر غارنما
‫کمرے سے نکلے مگر انہیں گھوڑوں کے قدموں کے دھماکے سنائی دینے لگے۔ باہر نکلنے کا راستہ بند ہوچکا تھا۔

‫علی بن سفیان کے سواروں نے مشعلیں جال لیں اور وادیوں میں پھیل گئے۔ لڑکی کو ساتھ رکھا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس
‫کا گروہ کہاں رہتا ہے۔ وہاں گئے تو غار کے اندر سے چار پانچ آدمی پکڑے گئے۔ اندر مختلف قسم کے سامان کے انبار تھے
‫جن میں آتش گیر مادہ‪ ،تیروکمان اور خنجر تھے اور ایک مضبوط بکس میں سونے اور چاندی کے وہ سکے تھے جو مصر میں
‫رائج تھے۔ ان آدمیوں میں صرف ایک صلیبی تھا‪ ،باقی قاہرہ کے مسلمان تھے۔ ان کی نشاندہی پر گروہ کے دوسرے افراد کی
‫تالش شروع ہوئی۔ ساری رات اور اگال پورا دن تالش جاری رہی جس کے نتیجے میں باقی افراد بھی پکڑے گئے جن میں دو
‫ایسی ہی لڑکیاں تھیں جیسی مہدی الحسن نے پکڑی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫ادھر قاہرہ میں حکیم کے گھر کو گھیرے میں لے کر اس کے دروازے پر دستک دی گئی تو دروازہ ایک مالزم نے کھوال۔
‫غیاث بلبیس اپنے چند ایک آدمیوں کے ساتھ اندر چال گیا۔ اس کے آدمی کمروں میں گھس گئے۔ ان کے ہاتھوں میں مشعلیں
‫تھیں۔ حکیم کے سونے کا کمرہ اندر سے بند تھا۔ دروازہ ایک نیم برہنہ لڑکی نے کھوال۔ حکیم پلنگ پر نیم برہنہ پڑاتھا۔ پلنگ
‫کے قریب صراحی اور پیالے رکھے تھے۔ حکیم نشے کی حالت میں بے ہوش پڑا تھا۔ اس کے مریض اور معتقد تصور بھی نہیں
‫کرسکتے تھے کہ حکیم اس حالت تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ لڑکی اس کی بیوی نہیں تھی اور وہ مسلمان بھی نہیں تھی۔ یہ
‫صلیبیوں کا بھیجا ہواتحفہ تھا اور اس کے گھر سے جو دولت برآمد ہوئی‪ ،وہ یقینا حکمت کی آمدنی نہیں تھی۔
‫حکیم اس وقت ہوش میں آیا جب وہ قید خانے کے تہہ خانے میں بندھا ہوا تھا۔ غیاث بلبیس کو اطالع دی گئی کہ حکیم
‫بیدار ہوگیا ہے۔ وہ حکیم کے پاس گیا اور اسے کہا کہ وہ اب کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ ذرا سی پس وپیش کے
‫بعد اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ اس نے دو نائب ساالروں کے نام لے کر بتایا کہ وہ مصر میں سلطان ایوبی کا تخت
‫الٹنا چاہتے تھے۔ یہ گروہ صلیبیوں نے تیار کیا تھا۔ حکیم کو یہ لڑکی تحفے کے طور پر اور بے انداز رقم دے کر اس گروہ
‫میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کی شرط بھی مان لی گئی تھی کہ نئی حکومت میں اسے وزارت کے درجے کا عہدہ دیا جائے
‫گا۔ حکیم چونکہ بڑے بڑے افسروں میں بھی مقبول تھا اور وہ قابل حکیم بھی تھا‪ ،اس لیے اس کی ہر بات برحق مانی جاتی
‫تھی۔ اس مقبولیت اور اثرورسوخ سے یہ فائدہ اٹھاتارہتا کہ سلطان ایوبی کے خالف نفرت پھیالتا رہا۔
‫قاہرہ میں جو تخریب کاری کے واقعات ہوئے تھے‪ ،ان میں حکیم ذمہ داری سے ملوث تھا۔ اس نے اپنی حیثیت اور مقبولیت
‫سے یہ فائدہ بھی اٹھایا کہ علی بن سفیان کے بعض جاسوسوں کو پہچان لیا تھا۔ ان میں مہدی الحسن بھی تھا جو اس
‫پہاڑی عالقے میں جانے لگا جس میں تخریب کاروں کا اڈا تھا۔ پہلے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے قتل کردیا جائے۔ حکیم نے
‫اسے دیکھ لیا۔ اتفاق سے حکیم نے مہدی الحسن کے متعلق بھی معلوم کررکھاتھا کہ قابل اور جرٔات مندجاسوس ہے۔ حکیم نے
‫فیصلہ کیا کہ اتنے تجربہ کار آدمی کو قتل کرنے کے بجائے ایسے طریقے سے اپنے جال میں پھانسا جائے کہ وہ اس گروہ کے
‫لیے کام کرے۔ گروہ کے پاس ایسے طریقے موجود تھے۔ وہ چند ایک مصری جاسوسوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر استعمال کررہے
‫تھے۔علی بن سفیان کا شعبہ انہیں اپنے دیانت دار جاسوس سمجھتا تھا۔
‫حکیم نے مہدی الحسن کو پھانسنے کا یہ طریقہ اختیار کیا جو سنایا جاچکا ہے۔ اسے پورا یقین تھا کہ مہدی الحسن اتنی
‫حسین ''بدروح'' کے جھانسے میں آجائے گا۔ آگے حشیشین اور صلیبی ماہرین کے ذہن کو اپنے قبضے میں لے لیں گے۔ یہ
‫کوئی مشکل کام نہیں تھا اور جو طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔ وہ کوئی عجوبہ نہیں تھا۔ یہ ایک عام طریقہ تھا۔ یہ طریقہ اور یہ
‫شعبدہ بازی صرف ان پر کامیاب نہیں ہوتی تھی جن کا ایمان مضبوط ہوتا تھا۔ مہدی الحسن انہی ایمان والوں میں سے نکال۔
‫جو دو کمان دار پراسرار طورپر مرگئے تھے‪ ،ان کے متعلق حکیم نے بتایا کہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔ دونوں کو حکیم نے وہ زہر
‫دیا تھا جس سے ذرہ بھر تلخی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ انسان اپنے اندرکوئی تکلیف یا تبدیلی محسوس نہیں کرتا تھا اور بارہ
‫گھنٹوں بعد اچانک مرجاتا تھا۔ ان دونوں کو قتل کرنیکی ضرورت یہ پیش آئی تھی کہ سلطان ایوبی اور اس کی حکومت کے
‫وفادار تھے۔ دین دار مسلمان تھے۔ انہیں خریدنے کی کوشش کی گئی تھی مگر وہ ایمان بیچنے کے بجائے ایمان خریدنے والوں
‫کے لیے خطرہ بن گئے تھے۔ حکیم پہلے ان میں سے ایک کو اس طرح مال جیسے اتفاقیہ آمنا سامنا ہوگیا ہو۔ باتوں باتوں
‫میں حکیم نے اسے کسی بیماری کے وہم میں مبتال کیا اور دوائی خانے میں بال کر اسے دوائی کے بہانے زہر دے دیا‪ ،جو
‫حشیشین کی ایجاد تھا۔ چند دنوں بعد دوسرے کمان دار کے ساتھ بھی حکیم نے ایسی ہی ''اتفاقیہ'' مالقات کی اور اسے
‫بھی کسی خفیہ بیماری کے وہم میں ڈال کر زہر دے دیا۔
‫حکیم نے یہ انکشافات از خود ہی نہیں کردئیے تھے۔ اس کی زبان تہہ خانے کی اذیتوں نے کھلوائی تھی۔ اس نے بتایا کہ ‪:
‫فوج میں ایک طرف تو بے اطمینانی پھیالئی جارہی ہے اور دوسری طرف اس میں نشے اور جنسی لذت پرستی کی عادت پیدا
‫کی جارہی ہے۔ فوجی افسروں کو حکومت کے خالف کیا جارہا ہے اور جو مضبوط جذبے والے ہیں‪ ،انہیں پراسرار طریقے سے
‫قتل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیاہے۔ سوڈان کی فوج عنقریب مصر کی سرحدوں پر مصر کی سرحدی چوکیوں پر حملوں کا
‫سلسلہ شروع کرنے والی ہے۔ اس سلسلے کی نگرانی اور قیادت صلیبی کریں گے۔ سرحدی دیہات کے لوگوں کو سوڈانی اپنے
‫زیراثر لیں گے۔
‫علی بن سفیان اور غیاث بلبیس نے مصر کے قائم مقام امیر العادل کو ان گرفتاریوں‪ ،تفتیش اور انکشافات سے باخبر رکھا لیکن
‫اور کسی کو اس راز میں شریک نہیں کیا گیا۔ حکیم اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے جن نائب ساالروں اور دیگر عہدوں کے
‫افرادکے نام بتائے تھے۔ انہیں گرفتار کرنا ضروری تھا لیکن العادل (سلطان ایوبی کا بھائی) گھبرا گیا۔ اس نے اس راز کو راز
‫ہی رکھنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ صورت اتنی نازک ہے کہ اسے سلطان ایوبی خود ہی آکر سنبھالے تو بہتر ہے۔ معاملہ بڑا
‫ہی نازک تھا۔ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ سلطان ایوبی کے پاس خود جائے اور اسے مصر آنے کو کہے یااس سے ہدایات لے
‫لے۔
‫العادل کی روانگی خفیہ رکھی گئی۔ تمام مشتبہ نائب ساالروں وغیرہ کے ساتھ ایک ایک جاسوس سائے کی طرح لگا دیا گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫میں کوئی نئی خبر نہیں سن رہا''۔ شام میں حلب کے قریب اپنے ہیڈکوارٹر میں العادل سے ساری بات سن کر سلطان ''
‫ایوبی نے کہا… ''میں کہہ نہیں سکتا کہ قوم میں ایمان فروشی کا جو مرض پیدا ہوگیاہے‪ ،اس کا یہ عالج ہوگا۔ میری نظریں
‫بیت المقدس پر نہیں یورپ پر لگی ہوئی ہیں مگر میرے ایمان فروش بھائی مجھے مصر سے نہیں نکلنے دے رہے… تم یہ
‫محاذ سنبھالو‪ ،میں دمشق جاتا ہوں‪ ،وہاں سے مصر چال جائوں گا''۔
‫سلطان ایوبی نے العادل کو محاذ کی تمام تر صورت حال بتائی‪ ،ہدایات دیں اور کہا کہ اپنے جاسوس اتنی دور تک گئے ہوئے
‫ہیں کہ صلیبیوں نے اگر حملہ کیا تو تمہیں کم از کم دو تین روز پہلے اطالع مل جائے گی۔ چھاپہ مار جیش ہر وقت تیاری

‫کی حالت میں رہتے ہیں۔ میں نے انہیں حملے کے ممکنہ راستوں کے اردگرد چھپا رکھا ہے۔ تازہ اطالعات یہ ہیں کہ صلیبی
‫حملہ نہیں کریں گے۔ اگر میری غیرحاضری سے وہ فائدہ اٹھانے کی سوچ لیں تو گھبرانا نہیں۔ قلعہ بند ہوکر نہ لڑنا۔ دشمن
‫کو آگے آنے دینا۔ پہال وار دشمن کو کرنے دینا۔ بے شک پیچھے ہٹ جانا‪ ،زمین موزوں ہے۔ بلندیوں پر قبضہ رکھنا۔
‫اور خاص طور پر یاد رکھو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''الملک الصالح‪ ،سیف الدین اور جن امراء نے ہماری اطاعت قبول ''
‫کی ہے‪ ،صلیبیوں کے حملے کی صورت میں ان پر اعتبار نہ کرنا۔ ان کے ذہنوں سے بادشاہی کی خواہش نکلی نہیں۔ معاہدے
‫کے مطابق وہ کوئی فوج نہیں رکھ سکتے۔ میں نے ان کے اندر تک جاسوس بھیج دئیے ہیں اور میں نے زندگی میں پہلی بار
‫اپنے اصول کے خالف یہ انتظام کردیا کہ ہمارے یہ مسلمان بھائی ذراسی بھی مخالفانہ حرکت کریں تو انہیں قتل کردیا
‫جائے''۔
‫قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں ربیع االمول ‪ ٥٧٢ہجری (ستمبر ‪١١٧٦ئ) کا مہینہ لکھا ہے جب سلطان ایوبی
‫العادل کو محاذ پر چھوڑ کر دمشق گیا۔ اس کا ایک اور بھائی شمس الدولہ طوران شاہ یمن سے واپس آچکا تھا۔ یمن میں
‫شمس الدولہ کو بھیجا تھا جو کامیاب لوٹا تھا۔ سلطان ایوبی نے اسے دمشق کا گورنر مقرر کیا اور اکتوبر ‪١١٧٦ء میں مصر کو
‫روانہ ہوگیا۔
‫قاہرہ پہنچتے ہی اس نے تمام مشتبہ افراد کو کسی کے عہدے کا لحاظ کیے بغیر گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ان کی گرفتاری کے
‫اگلے روز اس نے وہ تمام سونا اور خزانہ پریڈ کے میدان میں رکھوایا جو غار سے برآمد ہوا تھا۔ اس وقت تک جتنی صلیبی
‫لڑکیاں پکڑی جا چکی تھی اور اب جو پکڑی گئیں تھیں‪ ،انہیں خزانے کے انبار کے قریب کھڑا کیا گیا۔ ان میں حکیم بھی تھا‪،
‫نائب ساالر بھی تھے اور کمان دار بھی۔ سب زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے۔ مصر میں جتنی فوج تھی‪ ،اسے ان کے قریب
‫سے گزار کر میدان میں کھڑا کیا گیا۔
‫سلطان ایوبی گھوڑے پر سوار آیا اور فوج کے سامنے رکا۔
‫مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہیں حکومت کے خالف اکسایا جارہا ہے''۔ سلطان ایوبی نے بلند اور گرج دار آواز میں کہا… ''
‫''اگر تم میں سے کوئی مجھے یقین دال دے کہ اسالم کی عظمت اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی
‫خاطر تمہیں میرے خالف اور میری حکومت کے خالف بھڑکا رہا ہے اور وہ قبلہ اول کو کفار سے آزاد کرانے کا عزم رکھتا ہے
‫اور وہ سپین پر حملہ کرکے اس ملک کو ایک بار پھر سلطنت اسالمیہ کا عزم کیے ہوئے ہے تو وہ سامنے آئے‪ ،میری تلوار
‫لے لے اور میرے گھوڑے پر سوار ہوجائے۔ میں اس کے حق میں سلطانی سے دستبردار ہوتا ہوں''۔
‫ہر طرف سناٹا طاری ہوگیا۔
‫سلطان ایوبی پیچھے کو مڑا اور ملزموں سے کہا… ''میری جگہ لینے واال تم میں ہے۔ وہ کون ہے؟ آگے آئے۔ رب کعبہ کی
‫قسم! میں سچے دل سے اپنی حکومت اس کے حوالے کردوں گا اور خود اس کے حکم کا پابند رہوں گا''۔
‫خاموشی۔ گہرا سکوت۔
‫اللہ کے شیرو!'' سلطان ایوبی فوج سے مخاطب ہوا۔ ''تمہیں بغاوت پر نہ اسالم کی عظمت کے لیے اکسایا جارہا‪ ،نہ ''
‫رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام مقدس کی خاطر۔ تمہیں جو خزانہ دکھایا گیا ہے اور جو لڑکیاں تمہارے سامنے کھڑی
‫ہیں‪ ،یہ وہ انعام ہیں جو ان لوگوں کو دیا گیا ہے۔ یہ ان کے ایمان کی قیمت ہے۔ میں ان سب سے کہتاہوں کہ آگے آئیں
‫اور کہیں کہ میں نے جو کہا ہے‪ ،یہ جھوٹ ہے''۔
‫کوئی آگے نہ آیا۔ سلطان ایوبی گھوڑے سے اترا اور ملزموں سے حکیم کو بازو سے پکڑا۔ اسے اپنے گھوڑے کے قریب لے جاکر
‫کہا… ''میرے گھوڑے پر سوار ہوجائو اور کہو کہ ایوبی جھوٹ بول رہاہے''۔
‫حکیم گھوڑے پر سوار ہوگیامگر اس نے سر جھکا لیا۔
‫کہو سلطان جھوٹ بول رہا ہے''۔ سلطان ایوبی نے غضب ناک آواز میں کہا۔''
‫حکیم نے سراٹھایا اور بلند آواز سے کہا… ''سلطان ایوبی نے جو کہا ہے سچ کہا ہے''۔ اور وہ گھوڑے سے کود آیا۔
‫واقعہ نگار لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی کو پہلی بار غصے میں دیکھا گیا۔ حکیم گھوڑے سے اتر کر سرجھکائے کھڑا تھا۔ سلطان
‫ایوبی نے تلوار نکالی اور ایک ہی وار میں حکیم کا سرتن سے جدا کردیا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور بڑی ہی بلند آواز
‫سے چالیا… ''اللہ کے سپاہیو! عظمت اسالم کے پاسبانو! اگر میں نے بے انصافی کی ہے تو یہ لو‪ ،میری تلوار سے میری
‫گردن اڑا دو''… اس نے اپنی تلوار برچھی کی طرح فوج کی طرف پھینکی۔ تلوار کی نوک زمین میں گڑ گئی اور تلوار
‫جھولنے لگی۔
‫اسی روز سلطان ایوبی نے سوڈان کو اپنا ایلچی اس تحریری پیغام کے ساتھ روانہ کردیا کہ اگر سوڈان کی فوج نے مصر کی
‫سرحد پر ذرا سی بھی بدامنی پیدا کی تو اسے مصر پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کے جواب میں ہم سوڈان پر حملہ
‫کرنے میں حق بجانب اور آزاد ہوں گے اور ہم سوڈان پر اسالمی پرچم لہرا کر دم لیں گے۔
20:48
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 114ایک منزل کے مسافر
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫خون جو سلطان صالح الدین ایوبی کی تلوار سے ٹپک رہا تھا‪ ،وہ صاف کیے بغیر اس نے تلوار نیام میں ڈال لی۔ یہ خون
‫اس غدار حکیم کا تھا جو صلیبیوں کا جاسوس اور تخریب کار بنا ہوا تھا۔
‫فوری طور پر جنہیں غداری اور دشمن کے ساتھ سازباز کرنے کے جرم میں گرفتار کیاگیا تھا‪ ،وہ قید خانے کی طرف لے جائے
‫اعلی حکام کے اجالس میں بے چینی سے
‫جارہے تھے۔ سلطان ایوبی اپنے ساالروں‪ ،نائب ساالروں‪ ،فوج اور شہری انتظامیہ کے
‫ٰ
‫ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ وہ بہت کچھ کہہ چکا تھا اور بہت کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
‫اجالس کے حاضرین اس کی جذباتی کیفیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ سلطان ایوبی سے نظریں مالنے سے بھی ڈرتے
‫تھے۔
‫سلطان عالی مقام!'' ایک ساالر نے کہا… ''ہم صلیبیوں کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔''
‫سلطان ایوبی نے بڑی تیزی سے نیام سے تلوار نکالی۔ تلوار خون آلود تھی۔ اس نے تلوار حاضرین کے آگے کرکے کہا… ''یہ
‫خون کس کا ہے؟… یہ تم سب کا خون ہے۔ یہ میرا خون ہے۔ یہ ہمارے اس بھائی کا خون ہے جو ہمارے ساتھ مسجد میں
‫جمعہ کی نماز پڑھا کرتا تھا۔ اس کے گھر میں قرآن بھی ہے۔ اگر یہ خون غدار ہوسکتا ہے تو صلیبیوں کی ہر سازش کامیاب

‫ہوگی… صلیبیوں کی یہ سازش کامیاب ہوچکی ہے۔ وہ اسالم کی ان افواج کو جنہیں متحد ہوکر فلسطین کو صلیبی استبداد سے
‫آزاد کرانا تھا‪ ،آپس میں لڑا کر ہمیں اتنا کمزور کرچکے ہیں کہ ایک لمبے عرصے تک فلسطین کی طرف کوچ کرنے سے معذور
‫ہوگئے ہیں۔ ہماری منزل بیت المقدس تھی۔ ہمیں آج قاہرہ میں نہیں یروشلم میں ہونا چاہیے تھا مگر اسالم کی جنگی طاقت
‫تباہ ہوگئی ہے''۔
‫سلطان ایوبی نے تلوار اپنے دربان کی طرف پھینکی‪ ،پھر نیام بھی اتار کر اسے دی اور کہا… ''اگر یہ خون کسی کافر کا ہوتا
‫تو میں نیام صاف نہ کراتا۔ یہ ایک غدار کا خون ہے۔ نیام میں اس کی بو بھی نہ رہے''… دربان تلوار اور نیام صاف کرنے
‫کے لیے باہر گیا۔ سلطان ایوبی نے اجالس کے حاضرین سے کہا… ''صلیبیوں کی سازش کامیاب ہوچکی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ
‫میں حلب سے آگے نہ جاسکوں۔ دیکھ لو‪ ،میں آگے جانے کے بجائے قاہرہ میں آگیا ہوں۔ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ رکھو۔
‫اب صلیبی آگے بڑھیں گے۔ ہم جب آپس میں لڑ رہے تھے‪ ،وہ ہمیں فیصلہ کن شکست دینے کی تیاریاں کررہے تھے''۔
‫ہم نے مسلمانوں کو لڑا کر صالح الدین ایوبی کا رخ پھیر دیا ہے''۔ یہ تریپولی (لبنان) کا صلیبی حکمران ریمانڈ کہہ رہا ''
‫تھا۔ صلیبی جاسوسوں نے وہاں خبر پہنچا دی تھی کہ سلطان ایوبی حلب سے مصر چال گیا ہے اور اس کی جگہ اس کا
‫بھائی العادل محاذ پر آیا ہے۔ یہ خبر یروشلم تک پہنچ گئی تھی۔ یہ خبر عکرہ تک بھی پہنچ گئی تھی جہاں صلیب اعظم
‫تھی اور جہاں بڑا پادری بھی تھا جسے صلیب اعظم کا محافظ کہتے تھے۔ وہ فورا ً تریپولی جمع ہوگئے تھے۔ ان کے ہاں بھی
‫ایسی ہی کانفرنس ہورہی تھی جیسی سلطان ایوبی نے بال رکھی تھی۔
‫ایوبی یروشلم کو فتح کرنے نکال تھا''۔ ریمانڈ کہہ رہا تھا… ''ہم نے ایک بھی تیر چالئے بغیر اسے مصر کی طرف پسپا ''
‫کردیا ہے۔ اس کے ہاتھوں ان مسلمان امراء اور حکمرانوں کو بے کار کردیا ہے جو کسی بھی وقت ہمارے خالف ایوبی کی
‫قوت بن سکتے تھے۔ ہم اس سے بڑی اور کیا کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اب ہمیں وقت ضائع نہیں کرناچاہیے''۔
‫یہ کامیابی اتنی بڑی نہیں ہے جتنی آپ نے کہاہے''… ایک صلیبی حکمران بالڈون نے کہا… ''ہم نے حملے کے لیے زمین''
‫ہموار کی ہے۔ اصل کام تو حملہ ہے۔ اس کی کامیابی کو ہم بہت بڑی کامیابی کہیں گے۔ فوجیں فورا ً جمع کرو اور پیش قدمی
‫کرو اور سلطان ایوبی کو سنبھلنے کا موقعہ نہ دو''۔
‫اگر ہم نے اپنے آپ کو بہت جلدی نہ سنبھاال تو میں بتا نہیں سکتا کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے''۔ سلطان ایوبی نے ''
‫اپنے ساالروں اور دیگر حکام سے کہا… ''آج ہی سے نئی بھرتی شروع کردو۔ سوار زیادہ ہونے چاہئیں۔ سوڈان کے ان جوانوں
‫کو بھی بھرتی کرو جنہیں سات سال ہوئے بغاوت کے جرم میں فوج سے نکال کر قابل کاشت زمینوں پر آباد کیا گیا تھا۔
‫انہوں نے مصر میں اتنی خوشحالی دیکھی ہے کہ اب دھوکہ نہیں دیں گے۔ ایسے جوان جو گھوڑ سواری اور تیغ زنی کی
‫سوجھ بوجھ رکھتے ہوں‪ ،انہیں جنگی تربیت دو۔ میں بہت جلدی مصر سے نکل جانا چاہتا ہوں۔ اگر صلیبیوں کا دماغ خراب
‫ہوگیا ہو تو دنیائے عرب ان کی دستبرد سے بچ جائے گی اور اگر ان کا دماغ ٹھکانے ہے تو انہیں میری غیرحاضری سے فائدہ
‫اٹھاتے ہوئے فورا ً حملہ کردینا چاہیے۔ وہ اناڑی نہیں۔ میرے لیے یہ حاالت انہوں نے کسی مقصد کے تحت پیدا کیے تھے جن
‫سے مجبور ہوکر میں مصر آگیاہوں۔ وہ ہم سے بیت المقدس کو صرف اسی صورت میں بچا سکتے ہیں کہ مقبوضہ عالقوں
‫سے نکل کر ہمارے عالقوں میں آکر لڑیں۔ اس جنگ کے لیے مجھے بہت سی فوج کی ضرورت ہے''۔
‫میں اس وقت دوسو پچاس نائٹ ( زرہ پوش سردار) میدان میں السکتا ہوں''۔ تریپولی کی کانفرنس میں ایک مشہور صلیبی''
‫حکمران رینالٹ آف حومین نے کہا… ''اس حملے کی قیادت میری فوج کرے گی۔ میں نے اس کا پالن بھی تیار کرلیا ہے۔
‫اس کی بنیاد یہ ہے کہ ہم صالح الدین ایوبی کی طرح چوروں والی جنگ نہیں لڑیں گے۔ ہم طوفان اور سیالب کی مانند پیش
‫قدمی کریں گے۔ ہم سب اپنی فوجوں کو اکٹھا کرکے کوچ کریں گے تو آپ خود محسوس کریں گے کہ انسانوں اور گھوڑوں کا
‫یہ طوفان دنیائے عرب کو خس وخاشاک کی طرح اڑاتا مصر کو بھی روند جائے گا اور اس کا زور سوڈان میں جاکر تھمے
‫گا''۔
‫اگر صلیبی متحد ہوکر آئیں تو عرب کی سرزمین ہم سب سے اتنا خون مانگے گی جس میں ریگزار کے ذرے تیریں گے''۔''
‫سلطان ایوبی قاہرہ میں کہہ رہا تھا… ''اب کے ہم سروں سے کفن باندھ کر جائیں گے۔ میرے رفیقو! میری ایک حس مجھے
‫بتا رہی ہے کہ ہمیں پوری تیاری سے اور پوری طرح سنبھل کر میدان میں اترنا پڑے گا''۔
‫ایوبی کو مصر میں الجھائے رکھنے کے لیے ہمیں تخریب کاری تیز کرنی ہوگی''۔ ریمانڈ نے کہا اور صلیبیوں کی انٹیلی ''
‫جنس کے استاد ہرمن سے کہا… ''ہرمن! مصر پر اپنی گرفت اور سخت کردو۔ مجھے توقع یہ ہے کہ ایوبی چین سے بیٹھنے
‫واال آدمی نہیں۔ اس کی فوج کا جانی نقصان بہت ہوچکا ہے۔ وہ فوری طور پر نئی بھرتی کرے گا… کوشش کرو کہ اسے بھرتی
‫نہ ملے۔ اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو مصر کی فوج کے ذخیرے تباہ کراتے رہو۔ وہاں کی فوج پر نظر رکھو اور وہاں کے
‫جاسوسوں سے کہو کہ صالح الدین ایوبی کی ایک ایک حرکت کی اطالع فورا ً پہنچاتے رہیں''۔
‫اور ہرمن!'' ایک صلیبی کمانڈر نے کہا… ''مصر کی خبر ملے نہ ملے‪ ،زیادہ ضروری یہ ہے کہ یہاں کی خبر باہر نہ ''
‫جانے پائے۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ایوبی جس طرح میدان جنگ میں ہمارے لیے مصیبت بن جاتا ہے‪ ،وہ جاسوسی کے
‫میدان میں بھی ہم سے ہوشیار ہے۔ ہمارے درمیان اس کے جاسوس موجود ہیں۔ یہاں کی مسلمان آبادی پر گہری نظر رکھو۔
‫کسی پر ذرا سا شک ہو‪ ،اسے قید کردو‪ ،قتل کردو‪ ،تمہیں پورے اختیارات دئیے جاتے ہیں''۔
‫میں کسی کے دل میں نہیں اتر سکتا''۔ سلطان ایوبی کہہ رہا تھا۔ ''ایمان فروشوں کے سروں پر سینگ نہیں ہوتے۔ میں''
‫علی بن سفیان اور غیاث بلبیس کو اجازت دیتا ہوں کہ جس پر شک ہو کہ وہ صلیبیوں کا جاسوس ہے‪ ،اسے قتل کردو۔ اگر
‫اس پر رحم کرنا چاہو تو اسے قید میں ڈال دو۔ میں ان حاالت میں جب صلیبی متحد ہوکر آتے نظر آرہے ہیں‪ ،کسی کو بخش
‫نہیں سکتا۔ میں اب تحقیقات اور عدل انصاف کے طور طریقے بھی بدل دینا چاہتا ہوں… ''اوہ علی بن سفیان!'' اس نے
‫اپنی انٹیلی جنس کے سربراہ سے کہا… ''مجھے یقین ہے کہ تم نے مقبوضہ عالقوں میں اپنا جال بچھا رکھا ہے۔ صلیبیوں
‫کے ہاں اپنے کچھ اور آدمی بھیج دو اور وہاں کے جاسوسوں سے کہو کہ کوئی خبر اور اطالع زیادہ دیر تک اپنے پاس نہ
‫رکھیں۔ خطرہ مول لیں اور تیر کی رفتار سے قاہرہ خبریں پہنچائیں۔ مجھے اندھا نہ کردینا علی بن سفیان! اور کوشش کرو کہ
‫یہاں سے کوئی خبر باہر نہ جاسکے''۔
‫اگر ہماری افواج کی کمان مشترکہ ہو تو ہم زیادہ بہتر اور مؤثر طریقے سے لڑ سکیں گے''… ریمانڈ نے کہا۔''
‫میں اتحاد پر زور دوں گا‪ ،مشترکہ کمان پر نہیں''۔ رینالٹ نے کہا… ''مشترکہ کمان کے کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ ''
‫میدان جنگ میں ہمیں ایک دوسرے سے باخبر رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کے راستے میں نہیں آنا چاہیے۔ ہم پیش قدمی کے
‫لیے عالقے تقسیم کرلیں گے۔ احتیاط صرف یہ کی جائے کہ ہماری نقل وحرکت راز میں رہے''۔

‫٭ ٭ ٭
‫دونوں طرف جنگی تیاریوں کا ہنگامہ تھا۔ صلیبی اب کے سلطان ایوبی کو فیصلہ کن شکست دینے کا عزم کیے ہوئے تھے۔
‫سلطان ایوبی زخم خوردہ تھا۔ آپ تفصیل سے پڑھ چکے ہیں کہ صلیبیوں کی شہ پر تین مسلمان امراء سلطان ایوبی کے خالف
‫افواج کو فیصلہ کن شکست دے کر ان سے ہتھیار ڈلوائے اور انہوں نے سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کرلی تھی مگر اس فتح
‫کو سلطان ایوبی امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدترین شکست کہتا تھا کیونکہ صلیبیوں کی سازش کامیاب
‫ہوگئی تھی۔ اس خانہ جنگی میں اللہ کے وہ ہزار ہا سپاہی مارے گئے یا عمر بھر کے لیے اپاہج ہوگئے جنہیں فلسطین کو
‫صلیب سے پاک کرنا تھا۔
‫اس دوران صلیبیوں نے فوج میں اضافہ کرلیا تھا‪ ،فوج کو آرام بھی دے لیا تھا اور جنگی تیاریاں مکمل کرلی تھیں۔ ان کا یہ
‫دعوی بے بنیاد نہیں تھا کہ وہ طوفان کی طرح آئیں گے اور دنیائے عرب کو خس وخاشاک کی طرح اڑا لے جائیں گے۔ ان
‫ٰ
‫کے مقابلے میں سلطان ایوبی کی فوج کے تجربہ کار سپاہی اور کمان دار شہید ہوچکے تھے اور وہ نئی بھرتی کی ضرورت
‫محسوس کررہا تھا۔ رنگروٹوں کو لڑانا بہت بڑا خطرہ تھا مگر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اسے مصر میں بھی فوج کی
‫زیادہ نفری رکھنی تھی کیونکہ سوڈان کی طرف سے خطرہ تھا۔ اس کے عالوہ ملک کے اندر تخریب کاری اور غداری بھی
‫زیادہ تھی۔
‫صلیبی طوفان کی طرح آنے کے پالن بنا رہے تھے اور سلطان ایوبی اپنے طریقہ جنگ سے ہٹنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے طے
‫کررکھا تھا کہ وہ شب خون مارنے اور ''ضرب لگائو اور بھاگو'' کے اصول پر لڑے گا۔ اب کے صلیبیوں نے ایسا پالن تیار
‫کرنے کی سوچی تھی جس میں سلطان ایوبی کا کمانڈو آپریشن کامیاب نہ ہوسکے۔ وہ اس کی فوج کو گھیرے میں لے کر
‫آمنے سامنے کی جنگ لڑانے کی ترکیبیں سوچ رہے تھے۔ دونوں طرف یہ کوشش ہورہی تھی کہ اپنی اپنی جنگی تیاریوں‪،
‫منصوبوں اور نقل وحمل کو راز میں رکھیں اور ایک دوسرے کے راز معلوم کریں۔ اس مقصد کے لیے دونوں کے ہاں ایک دوسرے
‫کے جاسوس موجود تھے۔
‫صلیبی کمانڈروں وغیرہ کو یہ تو معلوم تھا کہ ان کے درمیان سلطان ایوبی کے جاسوس موجود ہیں لیکن ریمانڈ والئی تریپولی
‫اور دیگر صلیبی حکمرانوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کی کانفرنس میں دو مسلمان جاسوس موجود ہیں۔ پہلے بھی ان کا ذکر
‫اعلی قسم کے مالزم تھے جو صلیبی
‫آچکا ہے۔ ایک مسلمان راشد چنگیز تھا اور دوسرا فرانسیسی عیسائی وکٹر تھا۔ یہ
‫ٰ
‫اعلی کمانڈروں کی دعوتوں وغیرہ میں شراب اور کھانے وغیرہ کی سروس کی نگرانی کرتے تھے۔ راشد چنگیز نے
‫بادشاہوں اور
‫ٰ
‫اپنا نام عیسائیوں جیسا ظاہر کررکھا تھا۔ ترک ہونے کی وجہ سے اس کا رنگ یورپی باشندوں جیساتھا۔وہ بہت ہوشیار اور چرب
‫زبان تھا۔ وکٹر کے متعلق تو کسی کو شبہ ہی نہیں تھا کہ وہ عیسائی ہے۔ وہ فرانس کا رہنے واال تھا لیکن اپنے آپ کو
‫اس نے یونانی عیسائی بتایا تھا۔
‫صلیبیوں کی اس کانفرنس میں بھی دونوں اپنی مخصوص وردی پہنے موجود تھے کیونکہ صلیبی شراب کے بغیر کوئی کام نہیں
‫کرتے تھے۔ یہ دونوں شراب پیش کررہے تھے اور ان کی باتیں غور سے سن رہے تھے۔ یہ باتیں بہت ہی قیمتی تھیں جو
‫انہیں قاہرہ پہنچانی تھیں مگر یہ ابھی مکمل نہیں تھیں۔ وہ صلیبیوں کا پورا پالن معلوم کرکے قاہرہ پہنچانے کا ارادہ کیے
‫ہوئے تھے۔ علی بن سفیان کو اپنے ان دونوں جاسوسوں پر مکمل اعتماد تھا‪ ،حاالنکہ وکٹر عیسائی تھا۔ صلیبیوں کو یہی خطرہ
‫محسوس ہورہا تھا کہ صالح الدین ایوبی کو ان کے پالن اور نقل وحرکت کا علم ہوگیا تو وہ جگہ جگہ گھات لگا کر تھوڑی
‫تھوڑی نفری سے ان کے طوفانی لشکر کو تباہ کردے گا۔ چنانچہ وہاں سلطان کے جاسوسوں کو سراغ لگانے اور انہیں پکڑنے
‫کے بڑے ہی سخت احکام جاری کردئیے گئے۔ مصر میں بھرتی کی مہم شروع ہوگئی۔ دو تین فوجی دستے ترتیب دئیے گئے
‫جو ان عالقوں کے دوروں پر نکل گئے۔ جن سے بھرتی مل سکتی تھی۔ فوجی جاہ وجالل اور جنگی مظاہروں اور کھیل
‫تماشوں کا انتظام کیا گیا۔ مسجدوں کے اماموں کے لیے تیزرفتار قاصدوں کے ذریعے سلطان ایوبی کا یہ پیغام بھیجا گیا کہ وہ
‫لوگوں کو جہاد کی اہمیت بتائیں اور انہیں یہ بتائیں کہ کفار پوری طاقت کے ساتھ عالم اسالم پر حملہ آور ہورہے ہیں اور یہ
‫بھی کہ قبلہ اول کفار کے قبضے میں ہے۔ اس صورت میں ہر مسلمان پر جہاد فرض ہوگیا ہے۔ اماموں سے کہا گیا کہ وہ
‫جوانوں کو مصر کی فوج میں بھرتی ہونے کی تلقین کریں۔
‫مذہب اور قوم کے وقار کے جذبے سے جواں سال آدمی بھرتی ہونے لگے۔ ان کے ذہنوں میں مقصد واضح تھا مگر بہت سے
‫جوان مال غنیمت کے اللچ سے بھرتی ہوئے۔ یہ دیہاتی عالقوں کے لوگ تھے۔ ان کے کانوں تک اماموں کی آواز نہیں پہنچی
‫تھی۔ ان تک فوجی افسر پہنچے جنہوں نے سلطان ایوبی کے اس حکم کی تعمیل کی خاطر کمک بھرتی بہت جلدی کرو‪،
‫لوگوں کو جہاد کے وعظ سنانے کے بجائے یہ کہا کہ صلیبیوں کے شہر فتح کیے جائیں گے جہاں اتنی دولت ہے کہ وہ سمیٹ
‫نہیں سکیں گے۔ چنانچہ وہ دلوں میں جہاد کا جذبہ لے کر بھرتی ہونے کے بجائے مال غنیمت کا اللچ لے کر ہنسی خوشی
‫بھرتی ہوئے۔ ان اناڑی اور کم فہم فوجی افسروں نے سلطان ایوبی کی توقع کے خالف بے شمار جوانوں کو بھرتی کرلیا مگر
‫اسے یہ نہ بتایا کہ انہوں نے مقصد پورا نہیں کیا حکم کی تعمیل کی ہے۔ میدان جنگ میں جاکر یہ سپاہی سلطان ایوبی کے
‫لیے بڑا ہی تکلیف دہ مسئلہ بن گئے۔
‫ادھر تریپولی سے کچھ دور صلیبی فوج ایک میدان میں اکٹھی ہونے لگی۔ فلسطین کے دوسرے مقبوضہ شہروں میں ایلچی بھیج
‫دئیے گئے کہ وہ صلیبی فوج کو تیار کریں۔ تریپولی میں سب سے زیادہ سرگرمی حونین کے حکمران رینالٹ کی تھی۔ اس کی
‫فوج خاصی زیادہ تھی جس میں اڑھائی سو نائٹ تھے۔ نائٹ ایک اعزاز تھا جو غیرمعمولی طور پر ذہین‪ ،دلیر اور قیادت کے
‫ماہر فوجی افسر کو دیا جاتا تھا۔ اسے خاص قسم کی زرہ بکتر دی جاتی‪ ،سلسلے کی ایک کہانی ''اسالم کی پاسبانی کب
‫تک کرو گے''میں اس صلیبی بادشاہ کا نام اور واقعہ پڑھا ہوگا۔ ‪١١٧٤ء کے اوائل میں صلیبیوں نے سمندر سے سکندریہ پر
‫حملہ کیا تھا لیکن سلطان ایوبی کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے حملے کی خبر قبل از وقت مل گئی ) اس نے حملے کے
‫استقبال کا ایسا بندوبست کررکھا تھا کہ صلیبیوں کا بحری بیڑہ بری طرح تباہ ہوا اور یہ بیڑہ فوج کو ساحل پر نہیں اتار سکا
‫تھا۔
‫اس حملے کی دوسری کڑی خشکی کے راستے حملہ کرنا تھا جس کی قیادت رینالٹ کررہا تھا چونکہ مسلمان جاسوس صلیبیوں
‫کا پورا پالن لے آئے تھے‪ ،اس لیے خشکی پر نورالدین زنگی نے اپنی فوج کی گھات لگا رکھی تھی۔ عقب اور پہلوئوں سے
‫بھی حملوں کا انتظام کررکھا تھا۔ رینالٹ اس پھندے میں آگیا۔ اس نے بہت ہاتھ پائوں مارے گھات سے نکلنے کی کوشش کی
‫مگر ایک رات نورالدین زنگی کے چھاپہ ماروں نے رینالٹ کے ہیڈکوارٹر پر شب خون مارا اور رینالٹ کو پکڑ لیا۔ صلیبیوں کا
‫نہ صرف حملہ ناکام رہا بلکہ انہیں کمرتوڑ شکست ہوئی۔ جانی اور مالی نقصان کے عالوہ سب سے بڑا نقصان تو یہ تھا کہ

‫ان کا رینالٹ جیسا جنگجو بادشاہ قیدی ہوگیا تھا۔
‫نورالدین زنگی کے لیے یہ بڑا ہی قیمتی قیدی تھا۔ اس کی رہائی کے لیے وہ صلیبیوں سے بڑی ہی کڑی شرائط منوانا چاہتا
‫اعلی حکام اور ساالروں نے زنگی کے گیارہ سالہ بیٹے
‫تھا مگر زندگی نے وفا نہ کی۔ دو ماہ بعد زنگی فوت ہوگیا۔ اس کے
‫ٰ
‫الملک الصالح کو سلطنت کی گدی پر بٹھا دیا‪ ،کیونکہ اسے وہ اپنا کٹھ پتلی بنا کر من مانی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف محاذ قائم کرلیا اور اسے شکست دینے کے لیے صلیبیوں کے ساتھ دوستی کرلی۔ اس
‫دوستی کا انہوں نے پہال معاوضہ یہ دیا کہ رینالٹ جیسے قیمتی قیدی کو غیرمشروط طور پر رہاکردیاا ور اس کے ساتھ دوسرے
‫تمام قیدیوں کو بھی رہا کردیا۔ وہیں سے سلطان ایوبی کی مسلسل معرکہ آرائی اپنے پیراستاد اور عزیز دوست نورالدین زنگی
‫کے بیٹے سے شروع ہوگئی۔ دوسرے امراء خالفت سے آزاد ہوگئے اور سب نے سلطان ایوبی کے خالف متحدہ محاذ قائم کرلیا
‫تھا۔ اس کا اور جو نقصان ہوا سو ہوا‪ ،ایک نقصان اب سامنے آیا کہ رینالٹ جسے ان غدار مسلمانوں نے خیرسگالی کے طور
‫پر یا صلیبیوں کی دوستی حاصل کرنے کے لیے رہا کردیا تھا وہ ایک جنگی قوت بن کر سلطان ایوبی کے خالف نہیں بلکہ
‫عالم اسالم کہ تہ تیغ کرنے کے لیے فیصلہ کن حملے کے لیے آرہا تھا۔
‫الملک الصالح نے رینالٹ کے ساتھ جو جنگی قیدی رہا کیے تھے‪ ،وہ بھی اسالم کے لیے بہت بڑا خطرہ بن کر آرہے تھے۔
‫رینالٹ اپنی شکست اور ذلت کا انتقام بھی لینا چاہتا تھا۔ صلیبیوں کی اس کانفرنس میں اس نے اس تجویز کی مخالفت کی
‫کہ تمام صلیبی افواج مشترکہ کمان کے تحت ہوں۔ اس مخالفت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ آزاد ہوکر اپنے عزائم
‫کے مطابق جنگ لڑنے کا ارادہ کیے ہوئے تھا۔ صلیبیوں میں یہ کمزوری تھی کہ وہ متحدہ نہیں ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کی
‫مدد کرتے تھے لیکن ہر ایک کے دل میں یہ ہوتا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ عالقے فتح کرکے ان کا بادشاہ بن جائے۔ متعدد
‫مورخین نے لکھا ہے کہ صلیبیوں کو اس کمزوری نے دنیائے عرب میں نقصان پہنچایا اور وہ اتنی زیادہ اور اتنی برتر جنگی
‫طاقت کے باوجود نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی کی صفوں میں غدار نہ ہوتے تو وہ
‫صلیبیوں کو دنیائے عرب سے بے دخل کرکے یورپ کے لیے خطرہ بن جاتا۔
‫اگر آپ صالح الدین ایوبی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو ہم سب اپنی اپنی فوج کو مشترکہ کمان کے سپرد کردیتے ''
‫ہیں''… ریمانڈ آف تریپولی نے کہا… ''ورنہ ہم بکھر کرناکام بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ حملے کی قیادت رینالٹ
‫کی فوج کرے‪ ،یہ فیصلہ مشترکہ کمان کو کرنا چاہیے''۔
‫میں آپ سے الگ نہیں ہوں گا''… رینالٹ نے کہا… ''لیکن میں کسی مشترکہ کمان کا پابند نہیں رہوں گا۔ مجھے '' ‪:
‫اپنی شکست کا انتقام لینا ہے۔ نورالدین زنگی تو مرچکا ہے‪ ،میں صالح الدین ایوبی کو اسی طرح قید میں آپ سب کے
‫سامنے الئوں گا جس طرح زنگی مجھے قید کرکے دمشق لے گیا تھا‪ ،ورنہ تاریخ ہمیشہ مجھ پر لعنت بھیجتی رہے گی۔ میں
‫آپ سب سے پوچھتا ہوں کہ جس وقت زنگی نے مجھ پر شب خون مار کر میرے دستوں کو بکھیر دیا اور ان سے ہتھیار ڈلوا
‫لیے تھے‪ ،اس وقت آپ میں سے کس نے زنگی پر جوابی حملہ کیا تھا؟ کون میری مدد کو پہنچا تھا؟… کوئی نہیں۔ اب
‫مجھے پابند نہ کریں۔ میں نے اسی روز کے لیے فوج کو تیار کیا تھا۔ میرے انتقام کا دن آگیا ہے۔ میری فوج آپ کی کسی
‫بھی فوج کی راہ میں حائل نہیں ہوگی۔ جسے بھی میری مدد کی ضرورت ہوگی‪ ،اسے خطرہ مول لے کر بھی مدد دوں گا
‫لیکن میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے پابند نہ کریں''۔
‫نہیں کریں گے''… بالڈون نے کہا… ''ہماری آج کی کانفرنس ابتدائی بات چیت تک محدود رہے گی۔ اس میں میں نے یہ''
‫طے کرلیا ہے کہ ہماری زمین دوز کوششوں سے مسلمانوں کی خانہ جنگی نے انہیں کمزور کر دیا ہے اور صالح الدین ایوبی
‫لہ ذا ہمیں برق رفتار اور طوفانی قسم کا حملہ کرنا ہے۔ ہم نے آج اس حملے کا فیصلہ
‫ادھر آنے کے بجائے مصر چال گیا ہے۔ ٰ
‫کرلیا ہے۔ اب دو چار دن ہم سب فردا ً فردا ً سوچ لیں۔ ہم میں سے جو بھی غیرحاضر ہیں‪ ،انہیں بھی بال لیں اور ایک دن
‫مقرر کرکے حملے کا پالن تیار کرلیں۔ ہماری فوجیں تیار ہیں۔ اس دوران ہرمن اپنے شعبہ جاسوسی کو اتنا زیادہ سرگرم کردے
‫کہ زمین کی تہوں میں سے بھی صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کو نکال کر قید کردے اور یہاں کے مسلمانوں پر کڑی نظر
‫رکھے۔ ہر مسلمان گھرانے اور ہر مسلمان فرد کی روزمرہ حرکات کو بھی دیکھے۔ ہماری افواج کا اجتماع یہیں شروع ہوگیا
‫جسے چھپایا نہیں جاسکتا۔ یہ انتظام ہرمن کو کرنا ہے کہ کوئی آدمی یا عورت اس جگہ سے باہر جائے تو یہ یقین کرلیا
‫جائے کہ وہ جاسوس نہیں''۔
‫ایسا ہی ہوگا''… ہرمن نے کہا… ''یہاں سے کوئی پرندہ بھی باہر نہیں جائے گا''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫پہلے سنایا جاچکا ہے کہ اس کانفرنس میں شراب پالنے والے خادموں (مردوں اور لڑکیوں) کے نگران اور انچارج دو آدمی تھے
‫جو صلیبیوں کی کانفرنسوں اور دعوتوں وغیرہ میں بڑی دلکش وردی میں حاضر رہتے تھے۔ یہ قابل اعتماد آدمی تھے۔ انہیں
‫گہری چھان بین کے بعد مالزم رکھا گیا تھا مگر یہ دونوں سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوس تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے
‫کہ وہ کس قدر ہوشیار اور ذہین تھے‪ ،ورنہ ہرمن جیسے استاد جاسوس اور سراغ رساں کی نظروں اور عقل کو دھوکہ دینا ممکن
‫نہیں تھا۔ دونوں خوبرو جوان اور دراز قد تھے۔ وکٹر کو اپنا نام بدلنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ تھا ہی عیسائی۔ راشد
‫چنگیز جوترک تھا‪ ،اپنا نام عیسائیوں جیسا رکھے ہوئے تھا۔ یہ دونوں اس کانفرنس میں بھی موجود تھے۔ آدھی رات کے قریب
‫کانفرنس برخاست ہوئی اور وہ دونوں اپنے کمرے میں چلے گئے۔
‫ہم دونوں میں سے کوئی بھی نوکری سے غیرحاضر نہیں ہوسکتا''… وکٹر نے کہا… ''یہ خبر کسی اور کے ذریعے قاہرہ ''
‫''بھیجنی پڑے گی۔ ایسا کون ہوسکتا ہے؟
‫امام سے بات کریں گے''… راشد چنگیز نے کہا… ''وہی بہتر جانتا ہے کہ کون سا آدمی بہتر ہے۔ قاہرہ تک تیزرفتاری ''
‫سے پہنچنے کے لیے کسی خاص آدمی کی ضرورت ہوگی مگر ان کا پورا منصوبہ معلوم ہوجائے تو قاہرہ کو اطالع دیں گے۔
‫ادھوری اطالع پر سلطان ایوبی کوئی غلط چال نہ چل بیٹھے''۔
‫امام کو اتنی سی اطالع دینا تو ضروری ہے کہ صلیبی بہت بڑے حملے کا فیصلہ کرچکے ہیں''… وکٹر نے کہا… ''تاکہ ''
‫سلطان اپنی فوج کو تیار کرسکے اور اپنے نقصانات جلدی جلدی پورے کرلے… اور سنو!''… اس نے چنگیز سے کہا… ''جس
‫وقت یہ لوگ حملے کی باتیں کررہے تھے تو میں نے تمہیں دیکھاتھا۔ تم شراب کا پیالہ ریمانڈ کے آگے رکھتے رکھتے رک
‫گئے تھے اور صاف پتہ چلتا تھا کہ تم ان کی باتیں غور سے سن رہے ہو۔ میں نے تمہارا چہرہ دیکھا تھا۔ اس پر مجھے
‫نمایاں چمک نظر آئی تھی۔ میں جانتا ہوں کہ اتنا قیمتی راز مل جانے سے ہیجان اور خوشی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے
‫لیکن تمہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہرمن بھی وہیں موجود ہوتا ہے۔ ہرمن علی بن سفیان کے پائے کا جاسوس ہے۔ میں نے

‫تمہیں دیکھ کر فورا ً ہرمن کی طرف دیکھا تھا۔ مجھے شک ہوتا ہے جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا تھا۔ محتاط رہو میرے بھائی!
‫ہم دشمن کے پیٹ میں زندگی بسر کررہے ہیں''۔
‫ہرمن کے لیے ہم اجنبی نہیں''… راشد چنگیز نے کہا… ''ہمارے متعلق وہ شکوک رفع کرچکا ہے۔ اب ڈرنے کی '' ‪:
‫ضرورت نہیں''۔
‫ڈرنے کی نہیں محتاط ہونے کی ضرورت ہے''… وکٹر نے کہا… ''تم نے آج وہ ہدایات سن لی ہیں جو ہرمن کو ملی ہیں۔''
‫وہ اب ہرکسی کو شک کی نگاہوں سے دیکھیں گے… اور اب تم یوں کرو‪ ،مسجد میں چلے جائو۔ سب سو گئے ہیں۔ امام کو
‫بتا آئو کہ آج صلیبیوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ اگر قاہرہ کو کوئی جانے واال ہو تو اس فیصلے کی اطالع علی بن سفیان کو دے
‫دے اور اگر ادھر سے کوئی آئے تو ہم سے ملے بغیر واپس نہ جائے''۔
‫شہر کی ایک مسجد کا امام سلطان ایوبی کے لیے جاسوسی کرتا تھا۔ یہ مسجد جاسوسی کا خفیہ اڈا بنی ہوئی تھی۔ مسلمان
‫جاسوس مسجد میں جاکر امام کو خبریں پہنچاتے اور اس سے ہدایات لیتے تھے۔ وکٹر کبھی مسجد میں نہیں گیا تھا‪ ،وہ کہا
‫کرتا تھا کہ اسے نماز نہیں آتی اور مسجد کے آداب سے بھی واقف نہیں۔ اس لیے اسے ڈر تھا کہ مسجد میں کوئی
‫ایسامسلمان اسے پکڑوا دے گا جو صلیبیوں کا جاسوس ہوگا۔ یہ غلط بھی نہیں تھا۔ صلیبیوں کے مخبروں میں مسلمان بھی تھے
‫جو مسجدوں میں جانے والے نمازیوں پر بھی نظر رکھتے اور ان کی باتیں غور سے سنتے تھے۔ وہ اکثر مسلمانوں کو گرفتار
‫کراتے رہتے تھے۔ راشد چنگیز نے چونکہ اپنے آپ کو عیسائی ظاہر کررکھا تھا‪ ،اس لیے وہ دن کے دوران مسجد میں نہیں
‫جاتا تھا۔ صلیبی کمانڈروں وغیرہ کی شبینہ دعوتوں سے فارغ ہوکر اگر ضرورت پڑے تو آدھی رات کے بعد امام کے گھر جاتا
‫تھا جو مسجد کے بالکل ساتھ مال ہوا تھا۔ اس کا ایک دروازہ مسجد کے صحن میں کھلتا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫راشد چنگیز نے کپڑے بدلے۔ چغہ اور عمامہ پہنا۔ مصنوعی داڑھی چہرے پر باندھی اور کمرے سے نکل کر اندھیرے میں غائب
‫ہوگیا۔ حکم کے مطابق اسے داڑھی استرے سے صاف کرانی پڑتی تھی۔ اپنے مشن پر جانے کے لیے اس نے ایسی مصنوعی
‫داڑھی بنا رکھی تھی جو فورا ً لگائی اور اتاری جاسکتی تھی۔ ان دنوں وہاں رات کو بھی رونق رہتی تھی۔ ریمانڈ کی فوج کے
‫عالوہ رینالٹ بھی اپنے بہت سے افسروں ( نائٹوں) کے ساتھ وہاں گیا ہوا تھا۔ اس کے چند ایک دستے بھی تھے۔ یہ فوجی
‫اعلی
‫افسر اور دیگر صلیبی کمان دار‪ ،راتیں عیش وعشرت میں گزارتے تھے۔ پیشہ ور عورتوں کی چہل پہل لگی رہتی تھی۔
‫ٰ
‫حکام کی بیویاں اور داشتہ عورتیں بھی ان کے ساتھ تھیں۔ وہاں یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کون سی عورت کسی کی بیوی
‫ہے۔ عورتوں کی عارضی اور مستقل خریدوفروخت بھی ہوتی تھی۔
‫راشد چنگیز اپنے کمرے سے نکال تو اسے چھپ کر جانے میں بہت دشواری ہوئی۔ کمروں اور خیموں کے اندر تو طوفان
‫بدتمیزی بپا تھا ہی‪ ،باہر بھی کہیں کہیں اسے کوئی بدمست جوڑا نظر آجاتا تھا جس سے بچ کر اسے راستہ بدلنا پڑتا۔ آخر
‫وہ خطرے کے عالقے سے نکل گیا اور شہرکی گلیوں میں داخل ہوگیا۔ پھر وہ مسجد کے دروازے تک پہنچ گیا۔ وہ جب ادھر
‫ادھر دیکھ کر مسجد میں داخل ہونے لگاتو اس نے دبے دبے قدموں کی آہٹ سنی جو گلی میں اٹھی اور موڑ پر خاموش
‫ہوگئی۔ راشد چنگیز نے اس پر غورکیا لیکن یہ سمجھ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ کتا ہوگا اور یہ آہٹ وہم بھی ہوسکتی
‫تھی۔ وہ مسجد کے صحن میں گیا اور امام کے دروازے پر مخصوص دستک دی۔ دروازہ کھال۔ راشد چنگیزا ندر چال گیا اور امام
‫کو ساری رپورٹ دے دی۔
‫صلیبیوں کی زیادہ تر فوج یہاں جمع ہوگی''… چنگیز نے کہا… ''یہ رینالٹ کی فوج ہوگی۔ یہاں کی فوج تو پہلے ہی ''
‫یہاں موجود ہے۔ قاہرہ تک اس فوج کے کوچ اور عزائم کی اطالع تو پہنچ ہی جائے گی‪ ،اگر ہم کوشش کریں تو اس فوج کو
‫کوچ سے پہلے کچھ نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں اور اس کے کوچ کو التوا میں ڈال سکتے ہیں''۔
‫تمہارا مطلب یہ ہے کہ چھاپہ ماروں سے کہا جائے کہ وہ فوج کی رسد کو نذرآتش کردیں''… امام نے کہا… ''میں یہ کام''
‫کراسکتا ہوں لیکن کرائوں گا نہیں۔ تم نے ایسے کئی واقعات سنے ہوں گے کہ جس مقبوضہ شہر میں ہمارے چھاپہ ماروں نے
‫صلیبی فوج کو نقصان پہنچایا وہاں کے مسلمان باشندوں کے لیے زندگی دوزخ سے بدتر بنا دی گئی۔ گھر گھر تالشی ہوئی۔
‫ہماری مستورات کی بے عزتی ہوئی۔ ہماری جوان بیٹیوں کو صلیبی پکڑ کر قید اور قتل کا ظالمانہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ میں نے
‫اپنے ایک قاصد کے ذریعے سلطان ایوبی تک یہ مسئلہ پہنچایا تھا۔ سلطان محترم نے میری توقع کے بالکل مطابق جواب بھیجا
‫ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ مسلمان باشندوں کی عزت‪ ،جان اور مال کی خاطر کسی شہر میں خفیہ تباہ کاری نہ کی جائے۔
‫دشمن کی رسد کو اس کی فوج کے ساتھ آنے دیا جائے۔ اسے میرے چھاپہ مار میدان جنگ میں نہیں آنے دیں گے''۔
‫میں آپ کو مکمل اطالع دو چار دنوں میں دے سکوں گا''… چنگیز نے کہا… ''اب آپ اور زیادہ محتاط ہوجائیں۔ یہاں ''
‫کے سراغ رساں غیرمعمولی طور پر سرگرم ہوگئے ہیں۔ وہ اب یہاں کے جانوروں اور پرندوں کو بھی شکی نگاہوں سے دیکھیں
‫گے''۔
‫یہ طے کرکے کہ ایک آدمی کو صبح قاہرہ روانہ کردیں گے‪ ،چنگیز مسجد سے نکال۔ وہ چوری چھپے نہیں چل رہا تھا تاکہ
‫کوئی شک نہ کرے۔ وہ گلی کا موڑ مڑا تو اسے پھر کسی کے قدموں کی دبی دبی آہٹ سنائی دی۔ اس نے گھوم کر دیکھا۔
‫گلی تاریک تھی۔ اسے کچھ بھی نظر نہ آیا۔ اب کے یہ وہم نہیں تھا۔ وہ آگے چل پڑا۔ اپنے ٹھکانے کے قریب جاکر اس نے
‫مصنوعی داڑھی اتار کر کپڑوں میں چھپا لی۔ اس کے کپڑے ایسے تھے جو کوئی شک پیدا نہیں کرتے تھے کیونکہ ایسے کپڑے
‫عیسائی بھی پہنتے تھے۔
‫اب وکٹر اور چنگیز کی کوشش یہ تھی کہ یہ معلوم کریں کہ صلیبی فوج کہاں کہاں حملہ کرے گی اور اس کے کوچ کا
‫پروگرام کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ فوج جمع کرنے کے انتظامات شروع ہوگئے تھے۔ قاصدوں کی بھاگ دوڑ بھی شروع ہوگئی
‫تھی۔ یہ دونوں جاسوس اس سرگرمی سے بظاہر التعلق ہوکر اس کی ہر ایک تفصیل معلوم کرنے میں مصروف تھے۔ ریمانڈ کی
‫اعلی کمانڈروں اور دیگر
‫حیثیت میزبان کی تھی کیونکہ یہ اس کا دارالحکومت تھا۔ اس نے ایک رات تمام صلیبی حکمرانوں‪،
‫ٰ
‫اعلی حکام کی ضیافت کا اہتمام کیا۔ یہ رات وکٹر اور چنگیز کے لیے غیرمعمولی مصروفیت کی رات تھی۔ چونکہ مہمانوں میں
‫ٰ
‫بادشاہ بھی تھے۔ اس لیے انہیں شراب وغیرہ پیش کرنے میں زیادہ مستعد رہناتھا۔ انہیں معلوم تھاکہ مستعدی کی ضرورت اس
‫وقت ہوتی ہے‪ ،جب مہمان ہوش میں رہتے ہیں۔ شراب میں بدمست ہوکر جب وہ بداخالقی کے مظاہرے کرنے لگتے ہیں تو
‫مالزموں کا کام آسان ہوجاتا ہے۔
‫اس ضیافت میں جتنے مرد تھے‪ ،اتنی ہی عورتیں تھیں۔ ان میں نوجوان لڑکیاں بھی تھیں‪ ،جوان عورتیں بھی اور وہ بھی
‫بڑھاپے کو جوانی کا دھوکہ دے رہی تھیں۔ وکٹر اور چنگیز کھانا اور شراب وغیرہ النے والے مالزموں کی نگرانی کرتے اور

‫بھاگتے دوڑتے رہے۔ ایک جوان یورپی عورت نے چنگیز سے دو تین بار شراب مانگی۔ چنگیز نے ہر بار کسی مالزم یامالزمہ کو
‫بال کر کہا کہ اسے شراب دے۔ اس وقت مہمان ریمانڈ کے محل کے ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ یہ عورت بہت خوبصورت
‫تھی۔ اس نے دیکھا کہ چنگیزہر مالزم سے کہہ کر شراب منگواتا تو اس نے مسکرا کر کہا… ''میں تمہارے ہاتھ سے تھوڑی
‫سی پینا چاہتی ہوں‪ ،تم نوکروں کو حکم دے کر ادھر ادھر ہوجاتے ہو''۔
‫میں الدیتا ہوں''… چنگیز نے نوکروں کے سے لہجے میں کہا۔''
‫یہاں نہیں''… عورت نے کہا… ''میں باہر باغ میں جارہی ہوں‪ ،وہاں النا''۔''
‫چنگیز شراب کی ایک خوش نما صراحی لے کے اس جگہ چال گیا جہاں وہ عورت جا بیٹھی تھی۔ یہ محل کا باغ تھا‪ ،وہاں
‫بھی مہمان بکھرے ہوئے تھے۔ ہر ایک کے ساتھ ایک عورت اور ہاتھ میں شراب کا پیالہ تھا۔ صرف یہ عورت اکیلی تھی اور
‫چنگیز ذرا حیران بھی ہوا کہ ایسی جوان اور خوبصورت عورت اکیلی کیوں ہے۔ اس پر تو مہمانوں کو مکھیوں کی طرح
‫بھنبھنانا چاہیے تھا۔ وہ اس کے پیالے میں شراب ڈالنے لگا تو عورت نے پوچھا کہ وہ کہاں کا رہنے واال ہے۔ اس نے یورپ
‫کے کسی گائوں کا نام لیا اور بتایا کہ وہ لڑکپن سے شاہ ریمانڈ کے شاہی سٹاف میں ہے۔
‫تم تھوڑی سی دیر میرے پاس رک سکو گے؟''… عورت نے پوچھا اور پیالہ اس کی طرف بڑھا کر کہا… ''لو میرے پیالے ''
‫میں تم پیو پھر میں پئوں گی''… اس کی آواز میں التجا اور تشنگی تھی۔
‫آپ دیکھ رہی ہیں کہ میں نوکر ہوں''… چنگیز نے کہا… ''آپ شاہی خاندان کی خاتون ہیں۔ میں اس وقت نوکری کے ''
‫فرائض ادا کررہا ہوں''۔
‫اس وقت مجھے اپنا نوکر سمجھو''… عورت نے اس کی کالئی پکڑ لی اور پیاسی مسکراہٹ سے کہا… ''تم شہزادے ہو۔ ''
‫یہ تو دل بتایا کرتا ہے کہ کون کیا ہے''۔
‫آپ اکیلی کیوں ہیں؟''… چنگیز نے پوچھا۔''
‫کیونکہ میرے جذبات مجھے اجازت نہیں دیتے کہ جس سے مجھے نفرت ہو‪ ،اس کے ساتھ ہنسوں کھیلوں''… اس نے ''
‫جواب دیا… ''جو مجھے اچھا لگتا ہے‪ ،اسے اپنے پاس باللیا ہے۔ تم نے میرے ہاتھ سے پیالہ لیا نہیں''۔
‫کسی نے دیکھ لیا تو مجھے سولی پر کھڑا کردیا جائے گا''… چنگیز نے کہا۔''
‫اگر تم نے میرے پیالے سے ایک گھونٹ نہ پیا تو میں تمہیں سولی پر کھڑا کردوں گی''… عورت نے کہا… ''وہ ''
‫مسکرارہی تھی''۔ اس نے اور آگے ہوکر دھیمی آواز میں کہا… ''پاگل تم مجھے اتنے اچھے لگتے ہو کہ دل کے ہاتھوں
‫مجبور ہوکر تمہیں ادھر بالیا ہے۔ مجھے ٹالنے کی نہ سوچنا''۔
‫میں شراب نہیں پئوں گا''…چنگیز نے کہا۔''
‫نہ پئو''۔ عورت نے کہا… ''مگر میں جب بھی اور جہاں بھی تمہیں بالئوں تمہیں آنا پڑے گا''۔''
‫راشد چنگیز فہم وفراست کا مالک اور تجربہ کار انسان تھا‪ ،وہ اس پر ذرہ بھر حیران نہ ہوا کہ ایک اونچے طبقے کی ‪:
‫حسین وجمیل عورت اس کی دوستی کی خواہش کا اظہار کررہی ہے۔ اسے یہ خیال بھی آیا کہ یہ کسی بوڑھے جرنیل کی
‫جوان بیوی ہوگی یایہ کسی ایسے خاوند کی بیوی ہوگی جو اس وقت کسی اور کی بیوی کے ساتھ مگن ہوگا۔ ایک وجہ تو
‫صاف تھی۔ چنگیز خوبرو آدمی تھا‪ ،جس کی قدبت میں بڑی کشش تھی۔ یہ پہال موقعہ نہیں تھا کہ کسی عورت نے اسے
‫اعلی افسروں کو دعوتوں میں شراب پیش کرنے والی لڑکیاں
‫اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہو۔ صلیبی حکمرانوں اور
‫ٰ
‫خاص طور پر حسین اور دلکش تھیں۔ ان میں سے دو چنگیز کے ساتھ تعلقات پیدا کرنے کی کوشش کرچکی تھیں لیکن چنگیز
‫نے اپنے کردار کو ان سے بچائے رکھا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اسے جو فرض دے کر بھیجا تھا‪ ،اس کا تقاضا تھا کہ
‫وہ اپنے کردار کے قلعے کو مسمار نہ ہونے دے۔
‫علی بن سفیان نے اسے ٹریننگ کے دوران ذہن نشین کرایا تھا کہ ذہن عیاشی کی طرف مائل ہوجائے تو فرائض ذہن سے
‫نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کے ذہن میں عورت کو ایک ایسے زہر کی مانند بٹھایا گیا تھا جو ایمان کھا جاتا ہے۔ ریمانڈ
‫آف تریپولی کے محل میں اس کی حیثیت ایسی تھی کہ وہ جس مالزم یا مالزمہ کو چاہے‪ ،نوکری سے نکلوا سکتا تھا۔ اس
‫کی اپنی حیثیت کا اثر تو جادو کا ساتھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ صلیبیوں کا کوئی کردار نہیں۔ ان کی عورتیں بے حیائی اور
‫بداخالقی کو قابل فخر سمجھتی ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر چنگیز کے لیے یہ عورت اور اس کی یہ بے تکلفی عجوبہ نہیں
‫تھی۔
20:48
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 115ایک منزل کے مسافر
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ان وجوہات کی بنا پر چنگیز کے لیے یہ عورت اور اس کی یہ بے تکلفی عجوبہ نہیں تھی۔
‫وہ چونکہ خصوصی قابلیت کا جاسوس تھا‪ ،اس لیے اس نے فورا ً سوچ لیا کہ وہ اس عورت کو یہ بتائے بغیر کہ وہ جاسوس
‫ہے‪ ،اسے جاسوسی کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ اس عورت نے اسے یہ جو کہا تھا کہ جہاں بھی تمہیں بالئوں‪ ،تمہیں آنا
‫پڑے گا‪ ،اسی میں حکم یا دھمکی نہیں بلکہ دوستانہ بے تکلفی تھی اور اس کے لہجے میں جو تاثر تھا‪ ،اسے چنگیز بھی
‫اچھی طرح سمجھتا تھا۔ عورت کی مسکراہٹ کے جواب میں وہ بھی مسکرایا۔ اس مسکراہٹ سے اس نے شکاری کو اس کے
‫بچھائے ہوئے جال میں پھانسنے کی کوشش کی تھی۔
‫اب مجھے جانے کی اجازت ہے؟''… اس نے کہا… ''میری ڈیوٹی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آپ مہمانوں میں چلی جائیں''…''
‫''اس نے ذرا جھجک کر پوچھا… ''آپ کس کی بیوی ہیں؟
‫اعلی کمانڈر کا نام لے کر کہنے لگی… ''کمبخت کے پاس بے شمار دولت ''
‫بیوی نہیں داشتہ''۔ عورت نے کہا اور ایک
‫ٰ
‫ہے‪ ،یہاں آکر اسے ایک اور مل گئی ہے‪ ،مجھے بھی آزاد نہیں کرتا۔ مجھ پر ان جذبات کا نشہ طاری رہتا ہے جو اپنے دل
‫کی پسند اور ناپسند کے پابند ہوتے ہیں یا شاید دل ان کا پابند ہوتا ہے۔ یہ وہ جذبات ہیں جو یہ نہیں دیکھتے کہ جو انسان
‫دل پر قابض ہوگیا ہے۔ وہ بادشاہ ہے یا غالم۔ مجھے تمہاری حیثیت سے کوئی غرض نہیں۔ مجھ سے دور نہ بھاگنا۔ یہ ظلم
‫ہوگا۔ تم پہلے انسان ہو جسے میرے دل نے پسند کیاہے۔ میں جسمانی آلودگی کی پیاسی نہیں۔ میری روح پیاسی ہے۔ اس کی
‫پیاس تمہاری آنکھوں کے چشمے بجھا سکتے ہیں… اب جائو‪ ،کل رات میں تمہیں خود ڈھونڈ لوں گی''۔ جس وقت چنگیز اس
‫عورت کے ساتھ باغ میں تھا‪ ،وکٹر مہمانوں میں گھوم پھر رہا تھا۔ اس کے کان ان چند ایک صلیبیوں کی باتوں پر لگے ہوئے

‫تھے جنہیں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ پیش قدمی کس طرف کی جائے‪ ،حملہ کہاں کیا جائے۔ اسے کام کی کچھ باتیں معلوم ہوئیں
‫لیکن یہ ابھی تجویزیں اور مشورے تھے۔ راشد چنگیز بھی مہمانوں میں چال گیا اور رینالٹ کے اردگرد گھومنے لگا۔ رینالٹ اپنے
‫ساتھیوں سے اپنا وہی عزم دہرا رہا تھا جس کا اس نے کانفرنس میں اظہار کیا تھا۔ اس کے پاس اتنی زیادہ جنگی طاقت
‫تھی جس کے زور پر وہ بڑے اونچے دعوے کررہا تھا۔
‫رات گزر گئی۔ اگلے دن چنگیز کے پاس ایک آدمی آیا جو اس کے گروہ کا جاسوس تھا۔ اس نے اسے پیغام دیا کہ آدھی رات
‫کے لگ بھگ امام کے پاس جائے۔ کوئی ضروری بات کرنی تھی… دن گزرا۔ رات آئی۔ چنگیز اور وکٹر ریمانڈ کے کھانے کے
‫کمرے میں اپنی ڈیوٹی پر چلے گئے۔ رات بہت دیر فارغ ہوئے۔ چنگیز نے ابھی وکٹر کو نہیں بتایا تھا کہ ایک عورت اس کی
‫دوستی کی خواہاں ہے۔ فارغ ہوکر اس نے وکٹر کو بتایا کہ وہ کپڑے بدل کر امام کے ہاں جارہا ہے۔ وکٹر نے اسے چند ایک
‫باتیں بتائیں جو امام کو بتانے والی تھیں۔
‫چنگیز نے کپڑے بدلے اور مصنوعی داڑھی چہرے پر باندھ کر چہرہ عمامے میں چھپا لیا۔ وہ کمرے سے نکل کر اندھیرے میں
‫چال گیا۔ اس عمارت سے کچھ دور سرسبز میدان تھا جس میں درختوں کی بہتات تھی۔ پھول دار پودے بھی تھے اور اس کے
‫اردگرد کوئی آبادی نہیں تھی۔ اسے اس قدرتی باغ میں سے گزر کر جانا تھا۔ اس میں داخل ہوا ہی تھا کہ کسی درخت کے
‫پیچھے سے ایک سایہ نمودار ہوا اور اس کی طرف بڑھنے لگا۔چنگیز نے پہال کام یہ کیا کہ مصنوعی داڑھی اتار کر چغے کی
‫جیب میں ڈال لی۔ اسے خطرہ تھا کہ اس جگہ وہی آدمی آسکتا ہے جو اس جگہ مالزم ہوگا اور وہ اسے پہچانتا ہوگا۔ اس
‫نے رفتار سست کرلی اور آہستہ آہستہ ٹہلنے لگا۔
‫سایہ دائیں طرف آرہا تھا اور جب قریب آیا تو بوال… ''میں نے کہا تھا نا کہ تمہیں خود ڈھونڈ لوں گی''… اور اس کے
‫ساتھ نسوانی ہنسی سنائی دی۔ یہ وہی عورت تھی۔
‫محل کی گھٹن نے دماغ خراب کردیا ہے''… چنگیز نے کہا… ''ہوا خوری کے لیے ادھر نکل آیا ہوں''۔''
‫میں تمہارے کمرے میں آرہی تھی''… عورت نے کہا… ''ادھر آتے دیکھا تو تمہارے پیچھے آنے کے بجائے اس طرف سے ''
‫آئی تاکہ کوئی دیکھ نہ لے… بیٹھو گے یا ٹہلو گے؟ میں صراحی اور دو پیالے اپنے ساتھ لے آئی ہوں''… وہ ہنس پڑی۔
‫راشد چنگیز نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ رہتی کہاں ہے اور اتنی رات گئے کہاں سے آٹپکی ہے اور کیا جس کی وہ
‫داشتہ ہے‪ ،وہ اسے ڈھونڈے گا نہیں؟ وہ اسی قدر سمجھ سکا کہ یہ عورت جذبات سے مغلوب ہے اور خطرے مول لے رہی
‫ہے۔ چنگیز نے اس سے راز لینے کے ارادے سے کہا… ''تم اپنے کمانڈر آقا سے نجات چاہتی ہو۔ یہ تب ہی ممکن ہوسکتا
‫''ہے کہ وہ لڑائی پر چال جائے مگر ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ وہ کون سی فوج میں ہے؟
‫…''وہ بالڈون کی فوج کی ہائی کمان کا جرنیل ہے''
‫عورت نے جواب دیا… ''شاید لڑائی پر چال جائے مگر وہ مجھے اور دوسری لڑکی کو بھی ساتھ لے جائے گا''۔ …
‫''لڑائی کا کوئی امکان ہے؟''… چنگیز نے پوچھا… ''وہ یہاں کیوں آیا ہے؟''
‫یہاں اسے بالڈون نے اسی مقصد کے لیے بھیجا ہے کہ لڑائی کا امکان پیدا کیا جائے''۔ عورت نے جواب دیا۔''
‫صالح الدین ایوبی کی فوج کہاں ہے؟''… چنگیز نے پوچھا۔''
‫میں نے کبھی توجہ نہیں دی''… اس نے جواب دیا… ''تم چاہو تو پوچھ کر بتا دوں گی''۔''
‫راشد چنگیز نے اس سے کچھ اور باتیں پوچھیں۔ اس عورت کو جو کچھ معلوم تھا اس نے بتایا اور جو معلوم نہیں تھا‪ ،اس
‫کے متعلق کہا کہ پوچھ کر بتا دے گی۔
‫کوئی لڑے کوئی مرے تمہیں اس سے کیا؟''… عورت نے جذباتی لہجے میں کہا… ''اگر اس نے مجھے میدان میں جانے''
‫کو کہا تو میں نہیں جائوں گی۔ میں اس کی بیوی تو نہیں۔میں نہ اپنے موجودہ آقا کی غالم ہوں‪ ،نہ صالح الدین ایوبی کے
‫ساتھ میری دشمنی ہے۔ مجھے اتنا ذلیل کیاگیا ہے کہ میں ان سب کو جو اپنے آپ کو صلیب کے محافظ کہتے ہیں‪ ،زہر دے
‫کر مار دیناچاہتی ہوں''… اس نے چنگیز کو بٹھا لیا۔ دونوں پیالے زمین پر رکھ کر ان میں شراب انڈیلی اور ایک پیالہ چنگیز
‫کی طرف بڑھا کر بولی… ''ایسی تنہائی اور ایسی تاریک رات کے رومان کو لڑائی کی باتوں سے تباہ نہ کرو‪ ،پیو''۔
‫چنگیز کے لیے مشکل پیدا ہوگئی۔ وہ ڈیڑھ سال سے ان شرابیوں میں زندگی بسر کررہا تھا۔ اپنے ہاتھوں انہیں شراب پالتا تھا
‫لیکن اس نے خود کبھی نہیں پی تھی۔ اس گناہ گار ماحول میں جہاں اسے گناہوں کی بڑی ہی دلکش دعوتیں ملتی ہیں‪ ،اس
‫نے اپنے ایمان کو داغ دار نہیں ہونے دیا تھا۔ اب اسے ایک ایسی عورت مل گئی جس کی وساطت سے وہ اپنا فرض بہتر
‫طریقے سے ادا کرسکتا تھا لیکن یہ عورت اسے شراب پیش کررہی تھی۔ خطرہ تھا کہ اس نے اس جذباتی عورت کی پیشکش
‫ٹھکرائی تو وہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اس کے لیے فیصلہ کرنامشکل ہوگیا کہ فرض کی ادائیگی کی خاطر وہ شراب
‫کے دو گھونٹ پئے یا اتنی قیمتی عورت کو ضائع کردے۔
‫مجھے شراب پسند نہیں''۔ اس نے کہا۔''
‫خدا نے تمہیں مردانہ حسن اور شجاعت کا بڑا ہی دلکش مجسمہ بنایا ہے''… عورت نے کہا… ''لیکن شراب قبول نہ ''
‫کرکے تم ثابت کررہے ہو کہ تم پتھر کا بے جان مجسمہ ہو''۔
‫کچھ دیر انکار اور اصرار کا تصادم جاری رہا۔ چنگیز نے اس حسین عورت کو اپنے جال میں پھانسنے کے لیے اس کے ہاتھ
‫سے پیالہ لے لیا‪ ،پھر پیالہ منہ سے لگالیا۔ عورت نے اس کے پیالے میں اور شراب ڈال دی۔ چنگیز نے کانپتے ہوئے ہاتھوں
‫سے پیالہ ہونٹوں سے لگا لیا اور آہستہ آہستہ پیالہ خالی کردیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ محسوس کرنے لگا جیسے اس کے خیاالت
‫اور نظریات کی دنیا میں بھونچال آگیا ہو۔ اس کے اردگرد دیواریں گر پڑیں اور وہ آزادی کے احساس سے لطف اندوز ہونے لگا
‫جیسے کال کوٹھڑی سے رہا کردیا گیا ہو۔
‫وہ نسوانی جسم کے لمس سے آشنا نہیں تھا۔ اس نے شادی بھی نہیں کی تھی۔ جاسوسی کے لیے اسے جو منتخب کیا گیا
‫تھا‪ ،اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ غیرشادی شدہ تھا اور پیچھے کا اسے کوئی غم نہیں تھا مگر اس صورت حال میں جب
‫ایک دلکش عورت اسے شراب پال کر اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی تھی‪ ،اس کا شادی شدہ نہ ہونا اس کی بہت بڑی
‫کمزوری بن گئی تھی۔ یہ عورت اسے گناہ کی دعوت نہیں دے رہی تھی۔ اس سے محبت کی بھیک مانگ رہی تھی جو روح
‫کو مسرور اور مخمور کردیا کرتی ہے۔ چنگیز کی فطرت میں چونکہ گناہ کاعنصر نہیں تھا‪ ،اس لیے اس کے ذہن میں کوئی بے
‫ہودہ ارادہ نہ آیا مگر اس صلیبی عورت کے ریشمی بالوں کے لمس نے اس کی پیاسی پیاسی اور جذباتی باتوں نے اور اس کے
‫سڈول بازوئوں نے اور اس کے نرم وگداز گالوں نے اسے وہ راشد چنگیز بھی نہیں رہنے دیا تھا جو شراب کے چند گھونٹ
‫حلق سے اترنے سے پہلے تھا۔ رات گزرتی جارہی تھی۔

‫وہ جب جدا ہونے کے لیے اٹھے تو عورت نے اس سے پوچھا… ''تم نے مجھ سے لڑائی کے متعلق کچھ باتیں پوچھی
‫تھیں۔ مجھے سب کچھ معلوم نہیں۔ اگر تم اپنے تمام سوالوں کا جواب چاہتے ہو تو میں کل رات جواب فراہم کردوں گی''۔
‫اچانک چنگیز کے اندروہ چنگیز بیدار ہوگیا جو سلطان ایوبی کا جاسوس تھا۔ اسے اپنے فرائض یاد آگئے اور اسے یہ بھی یاد
‫آگیا کہ اس پر شراب اور ایک حسین عورت کا نشہ طاری ہے اور اسے بہت محتاط ہوناچاہیے۔ چنانچہ اس نے عورت
‫سے کہا… '' مجھے بھی تمہاری طرح لڑائی کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں۔ میں آرام اور سکون کی زندگی کا شیدائی ہوں۔ اگر
‫میرے سوالوں کا جواب السکو تو مجھے یہ پتہ چل جائے گا کہ ہماری فوج جدھر حملہ کرنے جارہی ہے ادھر مجھے بھی جانا
‫پڑے گا اور وہ جگہ اور عالقہ کون سا ہوگا۔ شراب ساتھ جائے گی‪ ،مالزم ساتھ جائیں گے۔ اس لیے مجھے بھی ساتھ جانا
‫پڑے گا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫واپس آکر اس نے اسی وقت وکٹر کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ اسے رنج ا س بات کا ہورہا تھا کہ وہ امام سے ملنے جارہا
‫تھا مگر راستے میں اس عورت نے روک لیا اور اسے کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ رات کا آخری پہر تھا۔ صلیبیوں کی اس
‫عیاش دنیا میں صبح سویرے جاگنے کا کوئی بھی عادی نہیں تھا۔ چنگیز امام کے پاس جاسکتا تھا مگر منہ میں شراب کی
‫بولیے ہوئے وہ مسجد میں جانے سے ڈر رہاتھا۔ اس کے دل پر یہ بوجھ بھی سوار ہوگیا کہ شراب نوشی بہت بڑا گناہ ہے
‫جس کا وہ ارتکاب کرچکا ہے۔ اس کے باوجود اسے جب اس عورت کا خیال آیا تو اس میں اسے کوئی عیب نظر نہ آیا بلکہ
‫اس پر اس کی محبت کا خمار ازسرنو سوار ہوگیا۔ عورت کے خیال کے ساتھ کوئی گناہ وابستہ نہیں تھا۔ یہ پاک محبت کا
‫سرور تھا جس سے وہ دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا… وہ لیٹ گیا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔
‫''اسے وکٹر نے جگایا۔ سورج اوپر اٹھ آیا تھا۔وکٹر نے پہلی بات یہ پوچھی… ''امام سے مل آئے تھے؟ کیا بات تھی؟
‫نہیں'' ۔ چنگیز نے وکٹر کو حیران کردیا… ''میں مسجد تک نہیں جاسکا''… اس نے وکٹر کو تمام تر واقعہ سنا دیا اور ''
‫کہا… ''اگر میں شراب پئے ہوئے نہ ہوتا تو میں اس عورت سے جدا ہونے کے بعد بھی جاسکتا تھا''۔
‫پھر تم کوشش کرو کہ آئندہ شراب نہ پئو''۔ وکٹر نے اسے کہا… ''اگر اس عورت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے اس ''
‫کے کہنے پر دو گھونٹ پی ہی لیے تھے تو تمہیں اپنے فرض سے کوتاہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ امام تمہارے انتظار میں
‫پریشان ہورہا ہوگا۔ دن کے وقت جانا ٹھیک نہیں۔ آج رات ضرور جانا''۔ وکٹر نے اس سے پوچھا۔ ''تم اناڑی نہیں ہوچنگیز!
‫خود سمجھ سکتے ہو کہ اس عورت کی نیت کیا ہے اور کیا وہ تمہارے ساتھ دلی محبت کرتی ہے؟ تمہیں دھوکہ تو نہیں دے
‫رہی یا تمہیں جسمانی جذبے کی تسکین کا ذریعہ بنانا چاہتی ہوگی۔ یہ تو اس کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ تم
‫جاسوس ہو۔ میں تمہیں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ عورت کے جادو نے فرعونوں جیسے بادشاہوں کو تخت سے اٹھا کر
‫کوڑے کرکٹ میں گم کردیا ہے۔ خود اپنی قوم کو دیکھ لو۔ صلیبیوں کی بھیجی ہوئی دلکش لڑکیوں نے مصر میں بغاوت تک
‫کرائی ہے۔ سلطان ایوبی کے قابل اعتماد ساالروں کو غدار بنا لیا ہے''۔
‫میں اتنا کچا تو نہیں وکٹر بھائی!'' چنگیز نے کہا… ''یہ عورت مظلوم نظر آتی ہے۔ وہ بے شک داشتہ ہے لیکن ''
‫شہزادی ہے‪ ،عصمت فروش نہیں۔ عیش وعشرت اور مادی آسائشوں کے لحاظ میں اسے شہزادی کہتا ہوں لیکن جذباتی لحاظ
‫سے وہ مظلوم ہے۔ وہ پاک محبت کی پیاسی ہے۔ میں نے اس کے جسم کے ساتھ دلچسپی کا اظہار کیا ہے نہ کروں گا لیکن
‫اس کی محبت کو میں ٹھکرا کر اسے مزید مظلوم نہیں بنانا چاہتا۔ تم یہ نہ سمجھو کہ میں اسی کا ہو کے رہ جائوں گا۔
‫اسے وہ محبت بھی دوں گا جس کی اسے ضرورت ہے اور اس سے وہ راز بھی لے لوں گا جس کی مجھے ضرورت ہے''۔
‫''تم دل سے اسے چاہنے لگے ہو؟''
‫ہاں وکٹر!'' چنگیز نے جواب دیا… ''میں تم سے کچھ چھپائوں گا نہیں۔ وہ میرے دل میں اتر گئی ہے''۔''
‫دل میں اتر جانے والیاں پائوں کی زنجیریں بھی بن جایا کرتی ہیں چنگیز!'' وکٹر نے کہا… ''میں اس کے سوا اور کیا ''
‫کہہ سکتا ہوں کہ سب سے مقدم اور مقدس فرض ہے۔ فرض اور محبت کے درمیان نشے اور ہوش کے درمیان‪ ،ایمان اور
‫جذبات کے درمیان کوئی دیوار نہیں ہوتی جسے پھالنگنا دشوار ہو۔ بال جیسی باریک ایک لکیر ہوتی ہے جو ذرا سی لغزش
‫سے نظر سے اوجھل ہوجاتی ہے اور انسان ادھر سے ادھر چال جاتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے راز لیتے لیتے تم اپنے
‫آپ کو اس کے آگے بے نقاب کردو''۔
‫راشد چنگیز نے قہقہہ لگایا اور وکٹر کی ران پر ہاتھ مار کر بوال… ''ایسا نہیں ہوگا میرے دوست‪ ،ایسا نہیں ہوگا''۔
‫اور یاد رکھو'' ۔ وکٹر نے کہا… ''شراب کا تعلق شیطان کے ساتھ ہے جو صفات شیطان میں ہیں‪ ،وہ شراب میں ہیں۔ اس''
‫کا عادی نہ ہوجانا۔ اس عورت کو خوش کرنے کے لیے اتنی سی پی لینا
‫جس سے تمہاری عقل ٹھکانے رہے''۔
‫امام تک یہ پیغام پہنچانا ضروری ہے کہ میں رات کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں آسکا‪ ،آج رات آئوں گا''۔ چنگیز نے ''
‫کہا۔
‫بازار چلے جائو''۔ وکٹر نے کہا۔''
‫ان کے دو چار ساتھی بازار میں دکان دار تھے۔ معمولی سی پیغام رسانی ان کی معرفت ہوسکتی تھی۔ اہم اور نازک راز
‫انہیں نہیں دئیے جاتے تھے۔ وکٹر خود ہی بازار چال گیا اور ایسے ایک آدمی سے مل کر آگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اگلی رات چنگیز اپنے کام سے جلدی فارغ ہوگیا۔ اپنے کمرے میں جاکر اس نے وردی اتاری‪ ،دوسرے کپڑے پہنے اور مصنوعی
‫داڑھی کپڑوں میں چھپالی۔ اسے ڈر تھا کہ وہ عورت اسے اچانک مل گئی تو داڑھی کا راز فاش ہوجائے گا۔ اس کا ارادہ یہ
‫تھا کہ امام سے مل کر واپس اسی جگہ آجائے گا جہاں عورت سے ملنا تھا۔ وہ اسی راستے سے گیا۔ یہی راستہ محفوظ تھا
‫اور چھوٹا بھی تھا۔ وہ اس جگہ داخل ہوگیا جہاں سبزہ‪ ،پودے اور درخت تھے۔ وسط میں گیا تو اسے مانوس سایہ ایک طرف
‫سے آتا نظر آیا۔ چنگیز بھاگ نہیں سکتا تھا۔ سایہ قریب سے نمودار ہوا تھا۔ فورا ً ہی اس کے سامنے آگیا اور بوال… ''آج تم
‫جلدی آگئے ہو‪ ،میری محبت کا اثر ہے''۔
‫اور تم یہاں اتنی جلدی کیوں آن کھڑی ہوئی تھی؟'' چنگیز نے پوچھا… ''فوج نے ابھی آدھی رات کا گھڑیال تو نہیں ''
‫بجایا''۔
‫میرادل کہہ رہا تھا تم گھڑیال کی آواز سے پہلے آجائو گے''… عورت نے کہا۔''
‫لیکن مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تم اتنی جلدی آجائو گی''۔ چنگیز نے کہا… ''میں کسی کام سے جارہا تھا۔ واپس ''

‫یہیں آنا تھا''۔
‫اگر کام ضروری ہے تو جائو''۔ عورت نے کہا… ''میں ساری رات تمہارا انتظار یہیں کروں گی''۔''
‫اب تو میں یہاں سے ہل بھی نہیں سکوں گا''۔ چنگیز نے اسے بازوئوں کے گھیرے میں لیتے ہوئے کہا۔ عورت کے کھلے''
‫ہوئے بالوں کی مہک اور کپڑوں پر لگے ہوئے عطر نے اسے دیوانہ بنا ڈاال لیکن اپنے آپ کو اس حد تک ہوش مند اور چوکنا
‫رکھا کہ امام کے پاس جانا ملتوی کردیا۔ اس نے سوچا کہ یہ عورت آخر صلیبی ہے۔ اس کے دل میں اپنے آقا کے خالف
‫نفرت ہوسکتی ہے‪ ،اپنی قوم اور صلیب کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔ چنگیز یہ خدشہ محسوس کررہا تھا کہ وہ امام کی طرف
‫گیاتو یہ عورت کسی اور شک کی بنا پر اس کے پیچھے نہ چل پڑے۔ چنانچہ اس نے محبت کی شدت کا اظہار کرکے آگے
‫جانا منسوخ کردیا۔
‫عورت نے پیالے زمین پر رکھے اور صراحی سے ان میں شراب ڈال کر ایک پیالہ چنگیز کو دینے لگی۔ چنگیز شراب نہیں پینا
‫چاہتا تھا۔ اس نے ایک بہانہ سوچ لیا۔
‫تم اگر زہر کا پیالہ دو گی تو وہ بھی پی لوں گا''۔ چنگیز جذبات سے جھومتے ہوئے بوال… ''شراب نہیں پئوں گا''۔''
‫''عیسائی ہوتے ہوئے شراب سے کیوں نفرت کرتے ہو؟''
‫شراب کا نشہ تمہارے حسن اور تمہاری محبت کے نشے پر غالب آجاتا ہے''۔ چنگیز نے کہا… ''جس طرح تمہارے دل ''
‫نے زرودولت اور عیش وعشرت کو قبول نہیں کیا کیونکہ ان کی مسرت مصنوعی اور جسمانی ہے اسی طرح میرا دل شراب کو
‫قبول نہیں کرتا کیونکہ اس کا نشہ مصنوعی ہے۔ مجھ پر اپناخمار طاری کرو''۔
‫عورت نے اس کا سر اپنی آغوش میں رکھ لیا اور اس پر اپنا خمار طاری کردیا۔ اس سے پہلے چنگیز نے اس کے ساتھ جو
‫باتیں کی تھیں‪ ،ان میں بناوٹ اور جھوٹ تھا‪ ،اب اس کی عقل پر اور اس کے جذبات پر یہ عورت غالب آگئی۔ اسی لذت
‫آگیں خمار میں اس نے خود پیالہ اٹھایا اور ایک ہی سانس میں خالی کردیا۔
‫اور ڈالو''۔ اس نے کہا۔''
‫عورت نے اب اس کا پیالہ بھر دیا‪ ،جو وہ آہستہ آہستہ پینے لگا‪ ،پھر وہ اس عورت میں گم ہوگیا۔
‫ہم کب تک چوری چھپے ملتے رہیں گے؟'' عورت نے کہا… ''ذرا غور کرو میں کیسی اذیت میں مبتال ہوں۔ میرے جسم ''
‫کا مالک کوئی اور ہے اور دل کے مالک تم ہو۔ تمہاری محبت نے اس کی نفرت کو اور زیادہ کردیا ہے۔ میں اب اسے
‫برداشت نہیں کرسکتی۔ آئو یہاں سے بھاگ چلیں''۔
‫کہاں جائیں گے؟'' چنگیز نے پوچھا۔''
‫دنیا بہت وسیع ہے'' ۔ عورت نے جواب دیا۔ ''یہاں سے مجھے نکالو۔ میرے جذبات کی جوانی کو ایک بوڑھا کچل اور ''
‫مسل رہا ہے''۔
‫''چلے چلیں گے''۔ چنگیز نے کہا… ''تھوڑے دن ٹھہر جائو… میرے سوالوں کا جواب الئی ہو؟''
‫ہاں!'' عورت نے کہا… ''ہماری فوجیں جمع ہورہی ہیں''… اس نے تفصیل سے بتایا کہ کس کس کی فوج کہاں کہاں ''
‫اجتماع کرے گی اور ان کا ارادہ کیا ہے لیکن ابھی آخری پالن کا اسے علم نہیں ہوسکاتھا۔ چنگیز اس سے کرید کرید کر
‫پوچھتا رہا۔
‫وہ جب وہاں سے اٹھے تو ایک دوسرے کے دل میں پوری طرح سما چکے تھے۔ ''میں امام تک تو نہیں پہنچ سکا لیکن
‫اس عورت سے کچھ نئی معلومات لے آیا ہوں''۔ چنگیز نے وکٹر کو بتایا کہ ''وہ میرے جال میں آگئی ہے اور میرے ہاتھ
‫میں کھیلتی رہے گی''۔
‫میرا خیال ہے کہ تم بھی اس کے جال میں آگئے ہو''۔ وکٹر نے کہا… ''تمہارا انداز بتا رہا ہے کہ اس کا تیر تمہارے ''
‫دل میں اتر گیا ہے''۔
‫میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ وہ میرے دل میں اتر گئی ہے''۔ چنگیز نے کہا… ''اب تو اس نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ''
‫وہ میرے ساتھ بھاگ چلے گی لیکن میں نے اسے کہاہے کہ کچھ دن انتظار کرے۔ میں اسے یہاں سے نکال لے جائوں گا۔ میں
‫نے ارادہ کرلیاہے کہ صلیبیوں کامنصوبہ معلوم ہوجائے تو یہ راز میں خود قاہرہ لے جائوں گا اور اس عورت کو بھی ساتھ لے
‫جائوں گا''۔
‫''اسے کب بتائو گے کہ تم مسلمان ہو اور یہاں جاسوسی کے لیے آئے تھے؟''
‫مصر کی سرحد میں داخل ہوکر''۔ چنگیز نے جواب دیا… ''یہاں اسے تھوڑے ہی بتا دوں گا''۔''
‫چنگیز محبت کے نشے میں سرشار تھا۔ وہ صلیبیوں کا راز معلوم کرنے کے لیے جس قدر بے تاب تھا‪ ،اس سے زیادہ بے
‫چین اس عورت سے ملنے کے لیے تھا۔ وہ خود محسوس کررہا تھا کہ اس کے سوچنے کے انداز میں اور اس کی روزمرہ
‫حرکات وسکنات میں تبدیلی آگئی ہے۔ پہلی بار اس نے شراب پی لی تھی تو اگلے روز وہ پچھتاوے سے پریشان رہا تھا مگر
‫گزشتہ رات اس نے اپنی مرضی سے شراب کا پیالہ اٹھا لیا تھا اور اب وہ پچھتاوے سے آزاد تھا۔ یہ بہت بڑی تبدیلی تھی۔
‫اعلی کمانڈر آرہے ہیں۔ ریمانڈ میزبان تھا۔ اس نے
‫اس شام اسے اچانک بتایا گیا کہ چند ایک صلیبی حکمران اور ان کے
‫ٰ
‫شراب کی محفل کا اہتمام کیا تھا۔ رات جب مہمان آئے تو یہ ہجوم نہیں تھا۔ چند ایک خصوصی مہمان تھے جو اس امر کا
‫ثبوت تھا کہ یہ دعوت کم اور اجالس زیادہ ہے۔ وکٹر اور چنگیز خاص طور پر سرگرم اور مستعد تھے۔ اس دعوت کے لیے
‫انہوں نے کھانا پیش کرنے کے مالزموں کو باقاعدہ انتخاب کیا تھا۔ اس محفل میں صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا سربراہ ہرمن
‫بھی موجود تھا… شراب کا دور چلنے لگا اور حملے کی باتیں ہونے لگیں۔ اب کے جو باتیں ہورہی تھیں‪ ،وہ تجاویز نہیں بلکہ
‫فیصلہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان میں پالن کا خاکہ بھی تھا اور ان باتوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا تھا کہ کوچ جلدی کیا
‫جائے گا۔
‫ہرمن سے اس کے محکمے کی سرگرمیوں کے متعلق پوچھا گیا۔ اس نے بتایا کہ جہاں جہاں صلیبی فوج ہے‪ ،وہاں محکمے کو
‫سرگرم کردیا گیا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کا سراغ لگا کر انہیں پکڑا جائے۔ تریپولی میں جہاں صلیبی فوج کا
‫سب سے بڑا اجتماع ہورہا تھا۔ جاسوسوں کو پکڑنے کے خصوصی انتظامات کردئیے گئے اور ہرمن نے بتایا کہ یہاں جاسوسوں
‫کے ایک گروہ کا سراغ مال ہے۔ اس گروہ کو بے کار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہرمن نے کہا… ''صرف ایک آدمی
‫پکڑا گیا تو اس کے ذریعے پورے گروہ کا سراغ مل جائے گا۔ قاہرہ کے جاسوسوں کو ہدایات بھیج دی گئی ہیں۔ ادھر سے کل
‫ہی ایک آدمی آیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ صالح الدین ایوبی نے بھرتی اور ٹریننگ تیز کردی ہے اور وہ یروشلم کی طرف
‫پیش قدمی کا ارادہ رکھتا ہے''۔

‫صلیبیوں کے اجالس میں چنگیز اور وکٹر کو اتنی معلومات حاصل ہوگئیں کہ اگر یہی قاہرہ پہنچا دی جائیں تو سلطان ایوبی
‫کے لیے کافی تھیں۔ اسے یہ اطالع بہت جلدی ملنی چاہیے تھی کہ صلیبی عنقریب پیش قدمی کررہے ہیں اور ان کا رخ حرن
‫اور حلب کی طرف ہے۔
‫محفل برخاست ہوئی۔ چنگیز اور وکٹر آدھی رات کے بعد فارغ ہوئے۔ چنگیز کو امام کے پاس جانا تھا۔ اس نے ہر رات کی
‫طرح کپڑے بدلے اور مصنوعی داڑھی کپڑوں میں چھپالی۔ آج رات چونکہ بہت دیر ہوگئی تھی‪ ،اس لیے اسے یہ خطرہ نہیں تھا
‫کہ عورت اسے راستے میں مل جائے گی۔ وہ اطمینان سے باہر نکل گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس کی توقع غلط ثابت ہوئی۔ وہ اس سرسبز جگہ سے گزر رہا تھا کہ عورت نے اسے روک لیا۔ چنگیز نے یہ بھی نہ
‫سوچا‪ ،نہ اس سے پوچھا کہ وہ کہاں رہتی ہے اسے کہاں سے دیکھ لیتی ہے۔ وہ تو معلوم ہوتا تھا جیسے اسی جگہ کہیں
‫رہتی تھی جہاں اسے چنگیز کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی اور وہ باہر آجاتی ہو۔ چنگیز نے اس پر غور نہ کیا۔ اسے
‫دراصل غور کرنے کی مہلت ہی نہیں ملتی تھی۔ عورت اس کے ذہن اور دل پر غالب آجاتی تھی اور وہ سب کچھ بھول جاتا
‫تھا۔ آج رات بھی وہ امام کے پاس نہیں جاسکتا تھامگر اس کا اسے افسوس نہ ہوا۔ عورت نے اسے جذبات میں الجھا لیا
‫تھا۔ آج وہ مظلومیت کا اظہار ایسی دیوانگی سے کررہی تھی جس سے چنگیز کے پائوں اکھڑ گئے۔
‫مجھے پناہ میں لے لو''۔ عورت نے جذبات سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا… ''دیکھنے والے مجھے شہزادی اور ملکہ ''
‫سمجھتے ہیں مگر میری زندگی ایسا جہنم ہے جسے تم قریب سے دیکھو تو سر سے پائوں تک کانپ اٹھو۔ میں مسلمان ماں
‫باپ کی بیٹی ہوں۔ میری خوبصورتی نے مجھے ایسی اذیت میں ڈاال ہے جو بڑھتی جارہی ہے۔ ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ پندرہ
‫سال کی عمر میں میرے باپ نے مجھے ایک عربی تاجر کے ہاتھ فروخت کیا تھا۔ میرا باپ غریب آدمی نہیں تھا۔ ہم چھ
‫بہنیں تھیں۔ اس کے دل میں پیسے کا پیار تھا۔ بیٹیوں کو وہ بالکل پسند نہیں کرتا تھا۔ میری دو بڑی بہنیں باپ کے سلوک
‫‪.سے تنگ آکر اپنے چاہنے والوں کے ساتھ چلی گئی
20:48
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 116ایک منزل کے مسافر
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫میری دو بڑی بہنیں باپ کے سلوک سے تنگ آکر اپنے چاہنے والوں کے ساتھ چلی گئی‪ .تھیں۔ مجھے اس نے بیچ ڈاال''۔
‫ایک سال بعد اس تاجر نے مجھے تحفے کے طور پر ایک صلیبی افسر کے حوالے کردیا۔ تھوڑے عرصے بعد وہ لڑائی میں مارا
‫گیا۔ میں بھاگ گئی مگر جاتی کہاں۔ ایک عیسائی نے مجھے پناہ دی مگر اس نے میرے جسم کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔
‫میں کوئی سستی سی طوائف نہیں تھی۔ وہ مجھے صلیبی فوج کے بہت اونچے رتبے کے افسروں کو چند دنوں کے لیے داشتہ
‫کے طور پر دیتا تھا۔ اس آدمی نے اور ان صلیبیوں نے جن کے ہاں مجھے بھیجا جاتا تھا‪ ،مجھے زیورات سے الد دیا اور
‫مجھے ہر وہ آسائش دی جو محل میں کسی شہزادی کو ملتی ہے۔ اس لحاظ سے میں مطمئن اور مسرور تھی مگر مجھے
‫روحانی مسرت نہیں ملتی تھی۔ اسی پیشے میں میرا میل جول فوجی افسروں کے ساتھ بڑھ گیا۔ میں تجربہ کار ہوچکی تھی۔
‫میری رسائی حکمرانوں اور سب سے بڑے عہدوں کے کمانڈروں تک ہوگئی۔ انہوں نے مجھے جاسوسی کی تربیت دے کر ایک
‫دوسرے کے خالف استعمال کرنا شروع کردیا۔ ایک بار مجھے بغداد میں بھیجا گیا تھا‪ ،وہاں نورالدین زنگی کے ایک ساالر کو
‫…''اس کے خالف کرنا تھا۔ میں نے یہ کام خوش اسلوبی سے کرلیا تھا
‫میں اگر اپنے جاسوسی کے کارنامے تمہیں سنانے لگوں تو تم حیران رہ جائو گے اور شاید یقین بھی نہ کرو۔ ایسے قصے ''
‫بڑے لمبے ہیں۔ اسی دوران اس کمانڈر نے مجھے داشتہ رکھ لیا۔ یہ بوڑھا آدمی ہے۔ مجھے بہت عیش کراتا ہے۔ مجھے بڑے
‫فخر سے اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ وہ شاید لوگوں کو یہ دھوکہ دینا چاہتا ہے کہ وہ بوڑھا نہیں اور وہ مجھ جیسی جوان
‫عورت کو خوش وخرم رکھ سکتا ہے۔ یہ میری ہر فرمائش پوری کرتا ہے۔ میں اس کے ساتھ عکرہ میں تھی‪ ،وہاں اتفاق سے
‫ایک مسلمان جاسوس سے مالقات ہوگئی‪ ،وہ دمشق سے آیا تھا''۔
‫اس کا نام کیا تھا؟''۔ چنگیز نے پوچھا۔''
‫نام بتا دوں گی تو تمہارے کس کام آئے گا''۔ عورت نے کہا… ''تم اسے جانتے تو نہیں‪ ،میری بات سنو۔ تمہاری محبت''
‫نے میری زبان کی زنجیریں توڑ دیں اور میرے دل کے دروازے کھول دئیے ہیں۔ میں تمہارے آگے ایسا راز فاش کررہی ہوں جو
‫مجھے قید خانے میں بھجوا سکتا ہے جہاں انسانی درندے مجھے اذیت ناک طریقوں سے ہالک کریں گے لیکن میں تمہارے ہاتھ
‫سے مرنا پسند کروں گی… میں کہہ رہی تھی کہ دمشق کا جاسوس پکڑا گیا اور اسے تہہ خانے میں ڈال دیا گیا۔ میں بہت
‫بڑے افسر کی چہیتی داشتہ تھی۔ میں اس جاسوس کا تماشہ دیکھنے تہہ خانے میں چلی گئی‪ ،اسے ایسی ظالمانہ اذیتیں دی
‫جارہی تھی کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی۔ اس سے پوچھ رہے تھے کہ اس کے دوسرے ساتھی کہاں اور اس نے اب تک
‫…''کون سا راز معلوم کیا ہے
‫اس کی پیٹھ سے خون بہہ رہا تھا اور اس کا چہرہ نیال ہوگیا تھا پھر بھی وہ کہہ رہا تھا۔ ''میری رگوں میں مسلمان ''
‫باپ کا خون دوڑ رہا ہے۔ اپنے کسی ساتھی کے ساتھ غداری نہیں کروں گا''… میری رگ رگ بیدار ہوگئی۔ میری رگوں میں
‫بھی مسلمان باپ کا خون دوڑ رہا تھا۔ میرے اندر ایک انقالب زلزلے کی طرح آیا اور میں نے پکا ارادہ کرلیا کہ اس مسلمان
‫کو اس تہہ خانے سے نکالوں گی۔ میں نے اپنے آقا کا عہدہ‪ ،حسن کا فریب اور تین چار ٹکڑے سونا استعمال کیا اور ایک
‫صبح میرے آقا نے مجھے یہ خبر سنائی کہ تہہ خانے سے مسلمان جاسوس فرار ہوگیا ہے۔ اس بوڑھے کو معلوم نہیں تھا کہ
‫وہ تہہ خانے سے فرار نہیں ہوا تھا۔ میں نے اسے وہاں سے نکلوا کر اوپر کے حصے میں منتقل کرادیا تھا جس وقت میرا آقا
‫مجھے اس کے فرار کی خبر سنا رہا تھا‪ ،اس وقت مفرور جاسوس اسی شہر میں موجود تھا۔ میں نے اپنے ایک مسلمان مالزم
‫…''سے اس کے چھپنے کا بندوبست کرالیا تھا
‫وہ بھی تمہاری طرح خوبصورت جوان تھا۔ تہہ خانے میں اسے الش بنا دیا گیا تھا۔ میں نے اسے طاقت کی دوائیں اور ''
‫غذائیں دیں۔ میں رات کو چوری چھپے اس کے پاس جایا کرتی تھی۔ اس نے میری ذات میں ایمان بیدار کردیا۔ میں نے اسے
‫بتا دیا تھا کہ میں مسلمان کی بیٹی ہوں۔ یہ آپ بیتی اسے بھی سنائی تھی جو تمہیں سنا چکی ہوں۔ اس نے مجھے کہا کہ
‫میرے ساتھ چلی چلو۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے جاسوسی کے ڈھنگ سکھا دو‪ ،میں اپنے مذہب اور اپنی قوم کے لیے کچھ
‫کرنا چاہتی ہوں۔ اس نے مجھے عکرہ کے تین آدمیوں کے نام پتے بتائے‪ ،پھر ان کے ساتھ مالقات کا انتظام بھی کردیا۔ یہ

‫جاسوس تندرست ہوگیا تو میں نے اسے شہر سے نکلوادیا۔ اس کے جانے کے بعد میں چوری چھپے اس کے ساتھیوں سے
‫…''ملتی رہی۔ وہ مجھے جاسوسی کے سبق دیتے رہے‪ ،پھر میں عملی طور پر ان کے لیے کام کرنے لگی
‫‪،ایک تو میں اتنے اونچے رتبے کے فوجی افسر کی داشتہ تھی''
‫دوسرے میری خوبصورتی اور جوانی کی بدولت دوسرے افسر میری دوستی کے خواہش مند تھے۔ میں عصمت کا موتی تو ‪،
‫گنوا ہی چکی تھی‪ ،بے حیائی اور شوخی میری عادت بن گئی تھی۔ گناہ گاروں کے ساتھ زندگی بسر کرکے میں فریب کار
‫بھی ہوگئی تھی۔ میں نے ان لوگوں کو خوب انگلیوں پر نچایا۔ انہیں بڑے حسین جھانسے دئیے اور بڑے قیمتی راز مسلمانوں
‫کو دیتی رہی۔ یہ جاسوس مجھے سلطان صالح الدین ایوبی کے متعلق باتیں سنایا کرتے تھے۔ میں اسے فرشتہ سمجھتی ہوں۔
‫میرے دل میں یہی ایک خواہش ہے کہ اپنی قوم کے لیے کچھ کرتی رہوں اور ایک بار سلطان ایوبی کی زیارت کروں۔ میں
‫اسی کو حج سمجھوں گی''۔
‫اب میں اس کمانڈر کے ساتھ یہاں آگئی ہوں۔ صلیبی بڑی ہی زیادہ طاقت سے مسلمانوں پر فوج کشی کررہے ہیں۔ مجھے ''
‫ان کے تمام راز معلوم ہوچکے ہیں۔ اب مجھے کسی ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو ایوبی کا جاسوس ہو''۔
‫تم نے اتنی دلیری سے یہ راز کیوں فاش کردیا ہے؟'' چنگیز نے اس سے پوچھا۔ ''تم اگر واقعی جاسوس ہو تو بالکل ''
‫اناڑی ہو۔ تم نے میری محبت پر اعتماد کیا ہے‪ ،اگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میں تمہاری نسبت صلیب سے زیادہ محبت
‫کرتا ہوں اور میری وفاداری صلیب کے ساتھ ہیں تو کیا کروگی؟ عقل مند جاسوس اپنے فرض پر اپنے بچوں کی محبت کو بھی
‫قربان کردیا کرتے ہیں''۔
‫میں تمہیں حقیقت بتادوں تو تم مان جائو گے کہ میں اناڑی نہیں ہوں''۔ عورت نے کہا… ''میں نے یقین کرلیا تھا کہ تم''
‫عیسائی نہیں ہو‪ ،تم مسلمان اور مصر کے جاسوس ہو''۔
‫راشد چنگیز چونکا جیسے اس عورت نے اسے ڈس لیا ہو۔ شراب کا نشہ اور رومان انگیز جذبات کا خمار یوں اتر گیا جیسے
‫کمان سے تیر نکل گیا ہو۔ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو اس نے محسوس کیا جیسے اس کی زبان اکڑ گئی ہو۔
‫''اسے عورت کی دبی دبی ہنسی سنائی دی۔ عورت نے کہا… ''کہو‪ ،میں اناڑی ہوں؟
‫چنگیز کے لیے جواب دینا محال ہوگیا۔ اگر یہ عورت واقعی مسلمان تھی تو کیاچنگیز کو اس پر اپنا آپ ظاہر کردینا چاہیے
‫تھا؟ طریقہ یہ تھا کہ ایک گروہ کے جاسوس اپنے ہی ملک کے جاسوسوں کے دوسرے گروہ سے بھی بیگانہ رہنے کی کوشش
‫کرتے تھے۔ چنگیز کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ عورت کس پائے کی جاسوس ہے۔ یہ بھی تو ممکن تھا کہ وہ دوغال
‫کھیل کھیل رہی ہو۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ سلطان ایوبی نے سختی سے حکم دے رکھا ہے کہ کسی عورت کو کہیں
‫جاسوسی کے لیے نہ بھیجا جائے۔ اگر یہ عورت جاسوسی کررہی تھی تو اپنے طور پر کررہی ہوگی۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ
‫کرسکتی تھی کہ جاسوسوں کو معلومات پہنچا دیتی تھی۔ ایسی عورت پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
‫خاموش کیوں ہوگئے ہو؟''۔ عورت نے پوچھا… ''کہہ دو میں نے غلط کہا ہے''۔''
‫تم نے بالکل غلط کہا ہے''… راشد نے جواب دیا… ''اور تم نے مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے''۔''
‫''کیسی مشکل؟''
‫یہ کہ میں تمہیں گرفتار کرادوں یا محبت کی خاطر خاموش رہوں''۔ چنگیز نے کہا… ''میں عیسائی ہوں اور پکا صلیبی ''
‫ہوں''۔
‫وہ زمین پر بیٹھے تھے۔ عورت نے اپنے زانوں کے نیچے سے کچھ نکاال اور یہ چنگیزکی گود میں رکھ کر کہا… ''یہ رہی
‫تمہاری مصنوعی داڑھی۔ کل جب تم میرے پاس تھے تب یہ تمہارے چغے کی جیب سے نکال لی تھی اور پھر جیب میں ہی
‫ڈال دی تھی‪ ،آج بھی نکال لی ہے''۔
‫چنگیز اس کے حسن اور اس کی محبت اور شراب کے نشے میں ایسا گم ہوجاتا تھا کہ اسے ہوش نہیں رہتی تھی۔
‫میں نے ایک رات یہ داڑھی تمہارے چہرے پر دیکھی تھی''۔ عورت نے کہا… ''تم اس داڑھی میں کمرے سے نکلے تھے۔''
‫میں نے تمہیں راستے میں روک لیا اور جب تم نے مجھے بازوئوں میں لیا تھا‪ ،میں نے تمہارے چغے کی دونوں جیبوں میں
‫ہاتھ ڈاال‪ ،میرے ایک ہاتھ نے داڑھی محسوس کرلی''۔
‫''مصنوعی داڑھی سے تم نے کیسے یقین کرلیا کہ میں جاسوس ہوں؟''
‫تم جس انداز سے مجھ سے فوجوں کی آمدورفت کی باتیں پوچھتے رہے ہو‪ ،یہ انداز جاسوسوں کا ہے''۔ عورت نے کہا… ''
‫'' تم نے مجھے جن سوالوں کے جواب النے کو کہا تھا وہ کوئی اور نہیں پوچھ سکتا۔ کسی عام آدمی کے ذہن میں ایسے
‫سوال آتے ہی نہیں اور شراب سے انکار صرف مسلمان کرسکتا ہے''۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوگئی۔ بازو چنگیز کے گلے میں
‫ڈال کر اور گال اس کے گال سے لگا کر بولی… ''تم مجھ سے ڈر رہے ہو‪ ،کیا تمہارا دل مان نہیں رہا کہ میں مسلمان ہوں؟
‫میں تمہیں اپنا دل کس طرح دکھائوں۔ ہم دونوں ایک منزل کے مسافر ہیں۔ میں نے تمہیں سلطان ایوبی کا جاسوس سمجھ کر
‫دل میں نہیں بٹھایا تھا‪ ،تم مجھے معلوم نہیں کیوں اچھے لگے تھے۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے ہم آسمانوں میں بھی اکٹھے
‫تھے۔ زمین پر بھی اکٹھے ہوگئے ہیں اور ہم اکٹھے اٹھائے جائیں گے… کہو تو میں تمہارے جاسوس ہونے کے کئی اور ثبوت
‫پیش کردوں۔ میں تمہاری حفاظت کروں گی اور میں نے یہ ارادہ بھی کیا ہے کہ ہم دونوں بہت قیمتی راز اپنے ساتھ لے کر
‫یہاں سے اکٹھے نکلیں گے‪ ،اگر یہ راز قاہرہ بروقت نہ پہنچا تو حرن‪ ،حلب‪ ،حماة‪ ،دمشق اور بغداد تو صلیبیوں کے سیالب
‫میں ڈوب ہی جائیں گے۔ مصر کو بچانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ سلطان ایوبی بالکل بے خبر ہے۔ وقت ضائع نہ کرو۔ میں
‫یہاں سے اکیلی نہیں نکل سکتی۔ تمہارا ساتھ ضروری ہے۔ میں تمہیں ساتھ لے کر سیر کے بہانے شہر سے نکل سکتی ہوں۔
‫تم میرے محافظ ہوگے اور کوئی بھی ہم پر شک نہیں کرے گا''۔
‫راشد چنگیز پر خاموشی طاری ہوگئی تھی۔ عورت نے اس کے پیالے میں شراب انڈیلی اور پیالہ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے
‫مخمور انداز اور جذباتی لہجے میں کہا… ''تم گھبراگئے ہو‪ ،پی لو۔ یہ شراب کا آخری پیالہ ہے۔ اس کے بعد ہم اس سے
‫توبہ کرلیں گے''۔ اس نے چنگیز پر اپنے ریشمی بالوں کا سایہ کرلیا اور پیالہ اس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ بالوں کے مالئم
‫لمس اور مہک نے نسوانی جسم کے مس اور حرارت نے اور شراب نے چنگیز کی زبان سے کہلوالیا… ''تم واقعی جاسوس ہو‪،
‫ورنہ ڈیڑھ سال جاسوسوں کے سب سے بڑے استاد ہرمن کے سائے میں رہ کر بھی وہ مجھے نہیں پہچان سکا۔ میں تمہاری
‫ذہانت کا مرید ہوگیا ہوں۔ تم ٹھیک کہتی ہو کہ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں۔ تم میرے ساتھ قاہرہ چلو گی''۔
‫بہت دیر ہوگئی ہے''۔ عورت نے کہا… ''کل یہیں ملنا‪ ،میں تمہیں وہ باتیں بتائوں گی جو تم کسی بھی طرح معلوم نہیں''
‫کرسکتے''۔

‫٭ ٭ ٭
‫رات کا آخر پہر تھا جب راشتد چنگیز اپنے کمرے میں پہنچا۔ اس نے وکٹر کو کبھی جگایا نہیں تھا۔ صبح اسے رات کی
‫روئیداد سنایا کرتا تھا لیکن اس رات اس پر ہیجانی کیفیت طاری تھی۔ وہ بہت ہی خوش تھا جو عورت اسے دل دے بیٹھی
‫تھی‪ ،وہ مسلمان تھی اور تجربہ کار جاسوس بھی۔ یہ خوشی کیا کم تھی کہ وہ بہت ہی خوبصورت عورت کے ساتھ تریپولی
‫سے نکل رہا تھا۔ اس نے اسی وقت وکٹر کے کمرے میں جاکر اسے جگایا اور بتایا کہ یہ عورت تو اپنی جاسوس ہے۔ اس
‫نے وکٹر کو اس عورت کی ساری کہانی سنا دی۔
‫تم نے اسے بتا دیا ہے کہ تم جاسوس ہو؟'' وکٹر نے پوچھا۔''
‫ہاں!'' چنگیز نے جواب دیا… ''مجھے بتا ہی دینا چاہیے تھا''۔''
‫''میرے متعلق بھی بتا دیا ہے؟''
‫نہیں!'' چنگیز نے جواب دیا… ''تمہارے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی''۔ وکٹر کو خاموش دیکھ کر اس نے کہا… ''تم ''
‫سمجھ رہے ہو کہ میں نے غلطی کی ہے۔ میں اناڑی تو نہیں وکٹر!''۔
‫دعوی بھی نہ کرو کہ تم اناڑی نہیں ''
‫تم نے یہ بھی اچھا کیا ہے کہ میرا ذکر نہیں کیا''۔ وکٹر نے کہا… ''اور تم یہ
‫ٰ
‫ہو''۔
‫کیا میں نے غلطی کی ہے؟'' چنگیز نے پوچھا۔''
‫ہوسکتا ہے تم نے بہت اچھا کیا ہو''۔ وکٹر نے کہا… ''اگر یہ غلطی ہے تو یہ کوئی معمولی سی غلطی نہیں۔ تم شاید ''
‫یہ بھول گئے تھے کہ صرف ایک جاسوس اپنی فوج کی فتح کا باعث بن سکتا ہے اور شکست کا بھی۔ تم جانتے ہو کہ
‫سلطان ایوبی صلیبیوں کی ان تیاریوں سے بے خبر ہے۔ اگر ہم پکڑے گئے اور یہ راز ہمارے ساتھ قید خانے میں چال گیا یا
‫جالد کی نذر ہوگیا تو سلطان ایوبی‪ ،جو آج تک ہر میدان کا فاتح کہالتا آیا ہے‪ ،تاریخ میں شکست خوردہ کے خطاب سے
‫بھی یاد کیا جائے گا''۔
‫نہیں!'' چنگیز نے وثوق اور خوداعتمادی سے کہا… ''وہ مجھے دھوکہ نہیں دے گی۔ وہ مسلمان ہے۔ میں رات کو اسے ''
‫ملنے جائوں گا۔ وہ پورا راز اپنے ساتھ الرہی ہے۔ اب ہمیں اپنے امام کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ میں یہ راز خود قاہرہ
‫لے جائوں گا۔ میرے دل کی شہزادی میرے ساتھ ہوگی… ہاں۔ مجھے خیال آتا ہے کہ میری غیرحاضری سے یہاں کسی کو یہ
‫شک نہ ہو کہ میں کوئی فوجی راز لے کر بھاگا ہوں۔ یہ عورت بھی میرے ساتھ الپتہ ہوگی۔ تم یہ مشہور کردینا کہ تم نے
‫مجھے اور اسے چوری چھپے ملتے دیکھا ہے اور میں اس عورت کو بھگا کر یروشلم کی سمت نکل گیاہوں''۔
‫وکٹر گہری سوچ میں کھوگیا اور راشد چنگیز نشے میں جھومتا رہا۔
‫جس وقت چنگیز وکٹر کے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ اس وقت تھوڑی ہی دور افسروں کے رہائشی کمروں میں سے ایک میں یہ
‫عورت داخل ہوئی جو چنگیز پر مرمٹی تھی۔ کمرے میں رہنے واال سویا ہوا تھا۔ اس عورت نے بے تکلفی سے اس کا ایک
‫ٹخنہ پکڑا اور زور سے جھٹکا دیا۔ وہ آدمی ہڑبڑا کر اٹھا۔ عورت نے ہنس کر کہا… ''اٹھو‪ ،اٹھو۔ شکار مار لیا ہے''۔ اس
‫آدمی نے قندیل جالئی اور اس عورت کو اپنے بازوئوں میں لے کر بستر پر گرا لیا۔ پھر اس صراحی میں جس میں یہ عورت
‫چنگیز کے لیے شراب لے گئی تھی جو شراب بچی تھی۔ وہ اس آدمی نے پیالوں میں انڈیلی۔ دونوں نے پیالے خالی کیے۔
‫''اب کہو کیا خبر الئی ہو''
‫وہ جاسوس ہے''۔ عورت نے کہا… ''اور مسلمان ہے''۔''
‫ہرمن کا شک صحیح ثابت ہوا ہے''۔''
‫بالکل صحیح'' ۔ عورت نے کہا… ''شراب کا اور میرا جادو کام کرگیا ہے‪ ،ورنہ ہرمن جیسا ماہر سراغ رساں بھی اسے نہ''
‫پکڑ سکتا۔ اگر اس کی مصنوعی داڑھی میرے ہاتھ نہ آجاتی تو شاید میں بھی ناکام رہتی۔ مجھے شک تو وہیں سے ہوگیا تھا
‫جب اس نے پہلے روز شراب پینے سے انکار کردیا تھا۔ میں جان گئی کہ یہ مسلمان ہے۔ میں نے اسے کہاکہ میں پاک
‫محبت کے لیے ترس رہی ہوں اس آدمی نے کہا… ''یہ کمزوری ہر انسان میں موجود ہے۔ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ تمہارا
‫حسن اس آدمی کو بے نقاب کردے گا۔ عورت مجسم طور پر پاس ہو یا عورت کاصرف تصور ہو‪ ،انسان اپنے آپ میں نہیں
‫رہتا''۔
‫یہ آدمی صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا افسر تھا اور ہرمن کا نائب۔ ہرمن کو کسی طرح شک ہوگیا تھا کہ راشد چنگیز جاسوس
‫ہے۔ ایک تو وہ تجربہ کار تھا‪ ،دوسرے اسے حکم مال تھا کہ جس پر ذرا سا بھی شک ہو کہ جاسوس ہے‪ ،اسے پکڑ لو۔
‫چنانچہ اس نے بڑے سخت انتظامات کردئیے تھے۔ راشد چنگیز کو شاید انہوں نے رات کو مسجد میں جاتے دیکھ لیا تھا۔
‫ہرمن نے اپنے نائب سے کہا کہ چنگیز کو کسی عورت کے جال میں الکر دیکھو کہ یہ آدمی صاف ہے یا مشتبہ۔ اس محکمے
‫کے پاس اس مقصد کے لیے ایک سے ایک کایاں عورت موجود تھی۔ اس عورت کو منتخب کیا گیا اور اسے چنگیز کے پیچھے
‫ڈال دیا گیا۔ یہ عورت اپنے فن کی ماہر تھی۔ اس نے یہ ڈرامہ کھیال جو سنایا گیا ہے۔ چنگیز نے کبھی بھی نہ سوچا کہ ہر
‫رات وہ کمرے سے نکل کر امام کے پاس جارہا ہوتا ہے تو یہ عورت راستے میں مل جاتی ہے‪ ،یہ آتی کہاں سے ہے اور
‫اسے کس طرح پتہ چل جاتا ہے کہ چنگیز جارہا ہے۔ وہ سائے کی طرح اس کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔
‫میں نے اسے اپنی دردناک کہانی جو تم نے بتائی تھی‪ ،سنائی تو وہ جذباتی ہوگیا''۔ عورت نے ہرمن کے نائب کو سنایا…''
‫''وہ فورا ً قائل ہوگیا کہ میں مسلمان ہوں اور میں واقعی صالح الدین ایوبی کے لیے جاسوسی کررہی ہوں''۔
‫مسلمان جذباتی قوم ہے''۔ہرمن کے نائب نے کہا… ''بلکہ یہ عجیب وغریب قوم ہے۔ مسلمان مذہب کے نام پر ایسی ''
‫ایسی قربانیاں دے گزرتے ہیں جو کوئی اورقوم نہیں دے سکتی۔ میدان جنگ میں ایک مسلمان دس سے لیکر پندرہ صلیبی
‫سپاہیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے اور کرتاہے۔ اسے وہ ایمان کی قوت کہتے ہیں۔ میں اعتراف کرتاہوں کہ میں مسلمانوں کی اس
‫روحانی قوت کا قائل ہوگیا ہوں۔ آٹھ آٹھ یا دس دس چھاپہ ماروں کا ہمارے عقب میں چلے جانا‪ ،شب خون مارنا‪ ،ہماری رسد
‫کو نذر آتش کرکے غائب ہوجانا‪ ،گھیرے سے نکل جانا‪ ،نہ نکل سکیں تو اپنی لگائی ہوئی آگ میں زندہ جل جانا‪ ،کوئی
‫''معمولی بہادری نہیں۔ اسے مافوق الفطرت کہا جاسکتا ہے۔ میں تو اسے معجزہ کہا کرتاہوں
‫مسلمانوں کی اس قوت کو کمزور کرنے کے لیے ہمارے ان دانشوروں نے جو انسانی فطرت کی کمزور رگوں کو سمجھتے ''
‫ہیں‪ ،ایسے طریقے واضح کیے ہیں جن سے مسلمانوں کے مذہبی جنون کو ان کی کمزوری بنا دیا گیا ہے۔ یہودیوں نے اس
‫سلسلے میں بہت کام کیا ہے۔ ہم نے یہ کامیابی چند ایک یہودیوں اورعیسائیوں کو مسلمانوں کے عالموں اور اماموں کے بہروپ
‫میں بھیج کر حاصل کی ہے۔ مسلمان عالقوں کی کئی مسجدوں کے امام اصل میں یہودی اور عیسائی ہیں۔ انہوں نے قرآن اور

‫حدیث کی ایسی تفسیریں مقبول عام کردی ہیں جن میں مسلمان غلط عقائد کے پیروکار ہوتے جارہے ہیں۔انہیں اب مذہب کے
‫…''نام پر اپنے بھائیوں کے خالف لڑایا جاسکتا ہے اور ہم نے لڑا کر دکھا بھی دیا ہے
‫ہم نے مسلمانوں میں جنسی جنون بھی پیدا کردیا ہے۔ اب جس مسلمان کے ہاں دولت اور اقتدار آتا ہے‪ ،وہ سب سے ''
‫پہلے حرم بناتا اورا سے حسین اور جوان لڑکیوں سے بھرتا ہے۔ یہ زن پرستی نیچے تک چلی گئی ہے۔ ہم نے کئی طریقوں
‫سے مسلمانوں کے بیٹوں میں تصور پرستی اور ذہنی عیاشی کا رحجان پیدا کردیا ہے۔ اس کے عالوہ مسلمان جذباتی ہیں۔تم نے
‫دیکھ لیا ہے کہ اس مسلمان جاسوس کے جذبات کو تم نے چھیڑا تو وہ تمہارے جال میں پھنس گیا۔ جذباتیت بہت بڑی
‫کمزوری ہے۔ ہرمن کہا کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں یہ قوم تصوروں کی غالم ہوجائے گی اور حقیقت سے دور ہٹ جائے گی
‫پھر ہمیں جنگ وجدل کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مسلمان ذہنی طور پر ہمارے غالم ہوجائیں گے۔ وہ اپنی روایات کو ترک
‫کرکے ہمارے تہذیب وتمدن کو اپنانے میں فخر محسوس کریں گے''۔
‫مجھے نیند آرہی ہے'' ۔ عورت نے اکتا کر کہا… ''ابھی تمہارا کام ختم نہیں ہوا‪ ،اگر اسے گرفتار کرنا ہوتا تو اس کے ''
‫ساتھ یہ ناٹک کھیلنے کی کیا ضرورت تھی۔ تمہیں اتنی زحمت نہ دی جاتی۔ ہم تو کسی کو بھی محض شک میں گرفتار
‫کرسکتے ہیں مگر اسے ابھی گرفتار نہیں کریں گے۔ اس سے اس کے ان تمام ساتھیوں کا سراغ لینا ہے جو تریپولی میں
‫جاسوسی کررہے ہیں۔ ان میں تباہ کار چھاپہ مار بھی ہوں گے۔ ہوسکتا ہے اس سے دوسرے شہروں کے جاسوسوں کی بھی
‫نشاندہی کرائی جاسکے۔ تم اسے پھر مل رہی ہو۔ اسے کہنا کہ تم نے تمام تر راز معلوم کرلیا ہے‪ ،اب چند ایک دوسرے
‫جاسوسوں کی بھی ضرورت ہے۔ اسے یہ بھی کہنا کہ ایک جگہ صلیبیوں نے بے انداز آتش گیر مادہ اور قیمتی سامان جمع
‫کررکھاہے جو حملے میں ساتھ جائے گا۔ اسے تباہ کرنا ہے‪ ،اس لیے یہاں کے زمین دوز چھاپہ ماروں سے میری مالقات
‫کرائو''۔
‫میں سمجھ گئی ہوں''۔ عورت نے کہا… ''لیکن یہ بھی امکان ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے پردہ نہ اٹھائے''۔''
20:49
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 117ایک منزل کے مسافر
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫لیکن یہ بھی امکان ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے پردہ نہ اٹھائے''۔ اس نے اپنا چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ اس نے قلعے ''
‫کا دروازہ کھول دیا ہے۔ تمہیں اب اندر جاکر کونے کھدرے کی تالشی لینی ہے۔ تم یہ کام بھی کرسکو گی۔ میں صبح ہرمن
‫کو تفصیل سے بتا دوں گا کہ تم نے یہ کارنامہ کردکھایا ہے''۔
‫شام کے کھانے پر جب چنگیز اور وکٹر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے‪ ،ہرمن آگیا۔ اس نے چنگیز کے ساتھ دوستانہ انداز
‫سے ہاتھ مالیا اور کہا… '' تمہیں معلوم ہے کہ ہماری افواج تاریخ کی سب سے بڑی مہم پر جارہی ہیں۔ ہم تمہیں بھی ساتھ
‫لے جارہے ہیں۔ بہت دور کی سیر کرائیں گے۔ وکٹر بھی ساتھ ہوگا چونکہ دو تین بادشاہ ساتھ ہوں گے‪ ،اس لیے تم دونوں کا
‫ساتھ جانا ضروری ہے''۔
‫میں ضرور چلوں گا''۔ چنگیز نے کہا۔''
‫ہرمن کو رپورٹ مل چکی تھی کہ راشد چنگیز جاسوس ہے اور آج رات اس کے محکمے کی ایک جواں سال اور دل نشیں
‫عورت جس نے اسے بے نقاب کیا ہے‪ ،اس سے اس کے گروہ کے دیگر افراد کے نام اور پتے بھی حاصل کرلے گی۔ ہرمن نے
‫اس عورت کو نئی ہدایات دی تھیں اور نائب سے کہا تھا کہ چنگیز کے گروہ کا انکشاف ہونے تک یہ عورت اسے اکیلے
‫ملتی رہے اور اتنی ہوشیار رہے کہ چنگیز کو شک نہ ہو۔
‫چنگیز کا دھیان اپنے کام میں تھا ہی نہیں۔ وہ لمحے گن گن کر گزار رہا تھا۔ اتنی بڑی کامیابی اس نے کبھی بھی حاصل
‫نہیں کی تھی کہ اتنا عظیم راز اسے مال ہو اور اتنی حسین لڑکی اس پر مر مٹی ہو۔ اس رات کو تریپولی میں وہ آخری رات
‫سمجھ رہا تھا۔ مکمل راز لے کر اس عورت کے ساتھ اسے اگلے روز تریپولی سے نکل جانا تھا… وہ آخر فارغ ہوگیا اور اپنے
‫کمرے میں گیا۔ وکٹر بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے کپڑے بدلے۔ مصنوعی داڑھی نہ لی۔ خنجر چغے کے اندرچھپا لیا۔
‫میں تمہیں آخری بار کہہ رہا ہوں کہ اس عورت اور شراب کے نشے سے آزاد ہوکر اور دماغ کو حاضر رکھ کر بات کرنا''۔''
‫وکٹر نے اسے کہا… ''مجھے خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ تم اس عورت کو پوری چھان بین کیے بغیر اسے اپنے سارے راز
‫دے دوگے''۔
‫سنووکٹر!'' چنگیز نے عجیب سے لہجے میں کہا… ''میں اس عورت کے خالف کوئی بات نہیں سنوں گا۔ میں نے اس ''
‫کے ساتھ بڑی لمبی مالقاتیں کی ہیں۔ اس کی پوری کہانی سنی ہے۔ تم اسے نہیں سمجھ سکتے۔ میں بہتر سمجھتا ہوں۔
‫مجھے پاگل نہ سمجھو۔ یہ میری پہلی اور آخری محبت ہے''۔
‫وکٹر چپ رہا۔ اس نے چنگیز کے لہجے سے جان لیا تھا کہ وہ اپنے آپ میں نہیں۔ اسے پہ احساس تو تھا کہ چنگیز کی
‫شکل وصورت اور قدبت میں اتنی کشش ہے کہ اس عورت سے کہیں زیادہ خوبصورت اونچے طبقے کی عورتیں بھی اسے نظر
‫بھر کر دیکھتی ہیں لیکن اس عورت کے متعلق اسے وہم سا ہوچال تھا کہ چنگیز کو دھوکہ دے رہی ہے اور اگر وہ دھوکہ نہیں
‫دے رہی تو چنگیز اسے اپنی اصلیت بتا کر اپنے آپ کو خطرے میں ڈال رہا ہے‪ ،اگر یہ عورت مسلمان جاسوس ہی ہے تو
‫اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسے سرکاری طورپر نہیں بھیجا گیا تھا۔ وکٹر کو اطمینان محسوس نہیں ہورہا تھا۔
‫چنگیز چال گیا۔ وکٹر گہری سوچ میں کھوگیا۔ چنگیز کے جانے کے بعد وہ سوجایا کرتا تھا مگر اس رات اسے نیند نہیں آرہی
‫تھی۔ اپنے کمرے میں جاکر وہ لیٹنے کے بجائے بے چینی سے ٹہلنے لگا۔
‫٭ ٭ ٭
‫عورت اسی جگہ چنگیز کے انتظار میں کھڑی تھی۔ اس کے قریب زمین پر شراب کی صراحی اور دو پیالے پڑے تھے۔ اندھیرے
‫میں چنگیز کو سائے کی طرح آتا دیکھ کر وہ دوڑ پڑی اور اس کے ساتھ لپٹ گئی جیسے بچہ ماں کے ساتھ لپٹ جاتا ہے۔
‫اس نے ایسے والہانہ پن اور خود سپردگی کا مظاہرہ کیا جس نے چنگیز کی عقل پر خمار طاری کردیا اور اس کے جذبات بیدار
‫ہوگئے۔ اس کایاں عورت نے اپنے حسن وجوانی کے وہ سارے ہتھیار استعمال کیے
‫تم مجھے دھوکہ تو نہیں دے رہے؟'' اس نے چنگیز سے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا… ''تمہاری محبت نے مجھے ایسا ''
‫بے بس اور مجبور کردیا ہے کہ میں نے اپنا اتنا نازک راز تمہیں دے دیا ہے''۔
‫عورت اس کی کمر کے گرد ایک بازو لپیٹے اسے وہاں سے لے گئی جہاں صراحی اور پیالے رکھے تھے۔ اسے وہاں بٹھایاا ور

‫پیالوں میں شراب ڈال کر بولی… ''فتح کی خوشی میں ایک جام''… چنگیز اس قدر مسرور تھا کہ اس نے فورا ً پیالہ لے لیا
‫اور پی گیا۔ عورت نے اس کے پیالے میں اور شراب ڈال دی۔ چنگیز نے وہ بھی پی لی۔ ان سے آٹھ دس قدم دور ایک
‫درخت تھا۔ کوئی پیچھے سے رینگتا ہوا آیا اور اس درخت کے تنے کی اوٹ میں بیٹھ گیا۔ رات خاموش تھی۔ ‪ :درخت کی
‫اوٹ میں بیٹھے ہوئے آدمی کو چنگیزا ور عورت کی سرگوشیاں بھی سنائی دے رہی تھی مگر وہ سرگوشیوں میں نہیں ذرا
‫اونچی آواز میں باتیں کررہے تھے۔
‫اب بتائو کیا خبر الئی ہو''۔ چنگیز نے عورت سے پوچھا۔''
‫ایسی خبر الئی ہوں جو سلطان ایوبی نے کبھی خواب میں نہیں سنی ہوگی''۔ عورت نے کہا… ''میں صلیبیوں کی موت ''
‫کا پروانہ الئی ہوں''… اس نے چنگیز کو صلیبیوں کا پالن اور پیش قدمی کا راستہ بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کہاں حملہ
‫کریں گے۔ اس نے صلیبی فوج کی رسد کا راستہ بھی بتایا اور یہ بھی کہ کوچ کب ہوگا۔
‫''ہمیں یہاں سے جلدی نکل جانا چاہیے''۔ چنگیز نے کہا… ''کل رات نکل چلیں؟''
‫نہیں!''عورت نے کہا… ''ہمیں جس راز کی ضرورت تھی‪ ،وہ مل گیا ہے لیکن میرے دل میں انتقام کی جو آگ بھڑک ''
‫رہی ہے میں اسے سرد کرکے جائوں گی۔ صلیبیوں نے اپنی فوج کے لیے بے انداز رسد جمع کرلی ہے۔ خیموں اور ہتھیاروں کا
‫کوئی حساب نہیں۔ آتش گیر سیال کے مٹکے بھی ہیں۔ اناج کے انبار ہیں۔ یہ ذخیرہ دور دور تک پھیال ہوا ہے۔ اسے تباہ کرنا
‫کوئی مشکل نہیں۔ پہرے کا اتنا ہی انتظام ہے کہ سات آٹھ سپاہی رات کو گشت کرتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ صلیبیوں نے
‫یہ ذخیرہ تین چار مہینوں میں جمع کیا ہے‪ ،اگر ہم نے اسے نذرآتش کردیا تو ان کا حملہ تین چار مہینوں کے لیے رک جائے
‫گا۔ اس عرصے میں سلطان صالح الدین ایوبی اپنی تیاریاں مکمل کرلے گا۔ تم ہرمن کو جانتے ہو۔ میں نے اس کے دل سے
‫بھی راز نکال لیے ہیں۔ اس نے بتایا ہے کہ سلطان ایوبی نئی بھرتی کررہا ہے اور اس کی پہلی فوج اپنے ہی بھائیوں کے
‫خالف لڑ کر اتنا جانی نقصان اٹھا چکی ہے کہ لڑنے کے قابل نہیں رہی۔ یہ بدبخت صلیبی سلطان ایوبی کی اس کمزوری سے
‫فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس وقت ضرورت یہ ہے کہ صلیبیوں کا کوچ التوا میں ڈاال جائے۔ اس کا واحد ذریعہ کمزوری یہ ہے کہ
‫ان کی رسد جال دی جائے۔ ان کے جو ہزاروں گھوڑے ہیں‪ ،انہیں ہالک کرنے کا انتظام بھی ہوسکتاہے''۔
‫رسد کو آگ کون لگائے گا؟'' چنگیز نے پوچھا۔''
‫یہ تمہیں معلوم ہوگا کہ یہاں تمہارے کتنے آدمی موجود ہیں''۔ عورت نے کہا… ''ان میں چھاپہ مار بھی ہوں گے۔ یہ ''
‫''کام ان کے سپرد کیا جائے‪ ،یہاں تمہارے کتنے چھاپہ مار موجود ہیں؟
‫سلطان ایوبی نے حکم دے رکھا ہے کہ دشمن کے مقبوضہ عالقوں میں تباہ کاری نہ کی جائے کیونکہ چھاپہ مار تو تباہ ''
‫کاری کرنے کے بعد ادھر ادھر ہوجاتے ہیں۔ سزا بے گناہ مسلمان باشندوں کو ملتی ہے''۔ چنگیز نے کہا… ''صلیبی ان کے
‫گھروں میں گھس کر ان کی مستورات کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ اس لیے ہم نے چھاپہ ماروں کو واپس بھیج دیا تھا۔ یہاں
‫جاسوس ہیں‪ ،وہ تخریب کاری بھی کرسکتے ہیں۔ وہ یہاں کے چند ایک جوانوں کا تیار کرسکتے ہیں''۔
‫انہیں کسی جگہ اکٹھا کرنے کا انتظام ہوسکتا ہے؟'' عورت نے پوچھا اور چنگیز کے پیالے میں شراب ڈال کر اپنے ہاتھوں''
‫پیالہ اس کے منہ کے ساتھ لگا دیا۔
‫ہم نے ایک مسجد کو خفیہ اڈا بنا رکھا ہے''۔ چنگیز نے شراب کا پیالہ پی کر کہا۔ اس نے مسجدکا محل وقوع بتا دیا ''
‫اور کہا… '' اس مسجد کا امام ہماری جماعت کا امیر ہے۔ بہت قابل اور دلیر انسان ہے۔ میں آج رات ہی اسے بتا دوں گا۔
‫وہ کل ان جوانوں کو مسجد میں اکٹھا کرلے گا۔ وہ سب نماز پڑھنے کے بہانے آئیں گے''۔
‫صرف ایک قابل اور دلیر آدمی سے کام نہیں چلے گا''۔ عورت نے کہا… ''امام کے ساتھ تم ہوگے اور تین چار اور ذہین''
‫آدمیوں کا ہونا ضروری ہے‪ ،تاکہ اس تباہ کاری کامنصوبہ دانش مندی سے بنے۔ یہ ذخیرہ اس وقت تباہ کیا جائے گا‪ ،جب ہم
‫دونوں یہاں سے نکل جائیں گے‪ ،ورنہ شہر کی ناکہ بندی ہوجائے گی''۔
‫صرف امام نہیں''۔ چنگیز نے کہا… ''یہاں ہمارا ایک سے ایک بڑھ کر قابل آدمی موجود ہے''۔ اس نے چند ایک ''
‫آدمیوں کے نام بتا دئیے اور کہا… ''میں ان سب کو مسجد میں بال سکتا ہوں''۔
‫یہ عورت چنگیز سے یہی راز لینا چاہتی تھی۔ اس نے اس گروہ کے متعلق کچھ اور باتیں پوچھیں جو چنگیز نے بتا دیں اور
‫کہا… ''اس محل میں‪ ،میں اکیال نہیں۔ میرے ساتھ وکٹر نام کا جو آدمی ہے‪ ،وہ بھی ہمارے گروہ میں ہے''۔
‫وکٹر بھی؟'' عورت نے چونک کر کہا۔''
‫ہاں!'' ۔ چنگیز نے کہا… ''کیا تم ہماری استادی کی تعریف نہیں کروگی کہ ہم نے ایک عیسائی کو بھی اپنا جاسوس بنا ''
‫''رکھا ہے؟
‫عورت کچھ دیر خاموش رہی‪ ،پھر بولی… ''کل دن کو میں تمہارے کمرے میں آئوں گی۔ مجھے وہاں آنے سے کوئی نہیں روک
‫سکتا''۔
‫عورت جانے کے لیے اٹھی۔ درخت کی اوٹ میں چھپے ہوئے آدمی نے حرکت کی۔ اس نے بیٹھے بیٹھے کمر بند سے خنجر
‫نکاال اور آٹھ دس قدم کا فاصلہ دو چھالنگوں میں طے کر کے عورت کو پیچھے سے ایک بازو سے جکڑ لیا۔ اس کا خنجر واال
‫ہاتھ اوپر اٹھا‪ ،تیزی سے نیچے آیا اور خنجر عورت کے سینے میں اتر گیا۔ عورت کی ہلکی سی چیخ سنائی دی اور یہ آواز…
‫''میرے سینے میں خنجر اتر گیا ہے''۔
‫چنگیز نے خنجر نکاال اور اس آدمی کو للکار کر اس پر حملہ کیا۔ اس آدمی نے گھوم کر عورت کو آگے کردیا اور کہا…
‫''میں وکٹر ہوں چنگیز! اس بدبخت کو زندہ نہیں رہنا چاہیے''… عورت سسک رہی تھی۔ وکٹر نے اسے پیچھے سے ایک
‫بازو میں دبوچ رکھا تھا۔
‫تم ذلیل عیسائی!'' چنگیز شراب کے نشے میں کہہ رہا تھا… ''سانپ کے بچے نکلے؟''… وہ گھوم کر اس پر حملہ ''
‫کرنے لگا۔
‫وکٹر نے عورت کو آگے کردیا اور اسے ڈھال بنا کر بوال… ''ہوش میں آئو چنگیز! تم نے اسے سب کچھ بتا کر سارا کھیل
‫برباد کردیا ہے‪ ،اگر یہ زندہ رہی تو کل ہم سب گرفتار ہوجائیں گے''۔
‫چنگیز بپھرے ہوئے چیتے کی طرح اس کے اردگرد گھوم اور پھنکار رہا تھا۔ لڑکی ابھی ہوش میں تھی۔ کراہتے ہوئے بولی…
‫'' چنگیز! میرے خون کا انتقام تمہارے سر ہے۔ عیسائی ہمارے دوست نہیں ہوسکتے۔ میں اب زندہ نہیں رہوں گی۔ یہ ہمارا
‫نہیں‪ ،صلیبیوں کا جاسوس ہے''۔
‫چنگیز نے جست لگا کر وکٹر پر حملہ کیا۔ وکٹر نے باربار اسے کہا کہ وہ دھوکے میں آگیا ہے اور اس عورت کو قتل کرکے

‫الش دور پھینک آئیں گے مگر چنگیز اب جاسوس نہیں‪ ،وہ مرد بن چکا تھا جس کی محبوبہ کو ایک اور مرد نے پکڑ رکھا تھا
‫اور اس کے سینے میں خنجر بھی اتار چکا تھا۔ اس نے سامنے سے عورت کو اتنی زور سے دھکا دیا کہ وکٹر پیچھے کو گرا
‫اور عورت اس کے اوپر گری۔ چنگیز نے وکٹر پر خنجر کا وار کیا۔ وہ ہوشیار اور پھرتیال تھا۔ ایک طرف ہوگیا اور اٹھا۔ چنگیز
‫نے اس پر ایک اور وار کیا۔ خنجر اس کے کندھے میں لگا۔
‫وکٹر نے سنبھل کر جوابی حملہ کیا۔ چنگیز کا بھی زندہ رہنا خطرناک تھا۔ وکٹر کا خنجر چنگیز کے پیٹ میں لگا۔ چنگیز نے
‫خنجر کھا کر وار کیا جو وکٹر کے بازو کو چیر گیا۔ اس نے چنگیز کے سینے میں خنجر مارا۔ چنگیز شراب کے نشے میں
‫پائوں پر کھڑا رہنے کے قابل نہیں تھا۔ وکٹر نے ایک اور وار اس کے سینے پر ہی کیا اور چنگیز گر پڑا۔ اس نے عورت کے
‫دل پر ہاتھ رکھا۔ دل خاموش تھا۔ وہ مرچکی تھی۔ چنگیز بھی آخری سانس لے رہا تھا۔ وہ ہوش میں نہیں تھا۔
‫وکٹر کے کندھے اور بازو سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے عورت کے کپڑے پھاڑے اور بازو ر باندھ لیے۔ کندھے کے زخم میں کپڑا
‫ٹھونس دیا تاکہ خون بند ہوجائے۔ وہ چل پڑا۔ اس نے رفتار تیز کرلی۔ زخموں پر کپڑاباندھ لینے کے باوجود خون نہ رکا۔ اس
‫نے پروا نہ کی اور چلتا گیا۔ وہ ایک گلی میں داخل ہوگیا اور دو ایک موڑ مڑ کر وہ ایک فراخ گلی میں چال گیا۔ تریپولی پر
‫گہری نیند طاری تھی۔ گلیاں سنسان تھی۔ تمام گھروں کے دروازے بند تھے۔ صرف ایک دروازہ کھال ہوا تھا۔ یہ خدا کے گھر کا
‫دروازہ تھا۔ یہ مسجد تھی۔ وہ اس مسجد میں پہلی بار آیا تھا۔ چنگیز نے اسے بتا رکھا تھا کہ کبھی اس مسجد میں جانے
‫کی ضرورت پڑے تو مسجد کے صحن میں چلے جانا۔ بائیں دیوار میں ایک دروازہ ہے جو امام کے گھرکا ہے۔ وکٹر نے یہ
‫مسجد باہر سے دیکھی تھی۔ یہ سلطان ایوبی کے تریپولی میں موجود جاسوسوں کا خفیہ ہیڈکوارٹر تھا اور مسجد کا امام مسجد
‫کا ہی نہیں جاسوسوں کے اس گروہ کا بھی امام تھا۔ وکٹر نے کھلے دروازے میں داخل ہوکر جوتے اتار دئیے۔
‫٭ ٭ ٭
‫رات آدھی گزر چکی تھی۔ امام گہری نیند سویا ہوا تھا۔ دروازے کی دستک نے اسے جگا دیا۔ اس نے دانستہ توقف کیا۔ وہ ‪:
‫دستک ایک بار پھر سننے کے انتظار میں تھا۔ دستک پھر ہوئی۔ یہ جاسوسوں کی مخصوص دستک تھی۔ پھر بھی اس نے لمبا
‫خنجر ہاتھ میں لیا اور دروازہ کھوال۔ دھیمی آواز میں کہا… ''چنگیز؟''۔
‫''وکٹر''۔ وکٹر نے جواب دیا… ''اندر چلیں''
‫خون کی بو کہاں سے آرہی ہے؟'' امام نے اندھیرے میں وکٹرکا بازو تھام کر پوچھا۔''
‫یہ میرا خون ہے''۔ وکٹر نے جواب دیا۔''
‫امام اسے گھسیٹتا ہوا اندر لے گیا۔ دیا جالیا تو اسے نظر آیا کہ وکٹر کے کپڑے خون سے الل اور تر ہورہے تھے۔ وکٹر کے
‫ساتھ اس کا وہی تعارف تھا جو چنگیز نے غائبانہ کرارکھا تھا۔ امام نے اسے دور سے دیکھا تھا۔ وکٹر کو وہ پس منظر میں
‫رکھتے تھے جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ عیسائی تھا بلکہ یہ کہ اسے انہوں نے اندر کی اطالعات فراہم کرنے کا کام
‫سونپ رکھا تھا۔ یہ جاسوسی کا ایک طریقہ اور ان کی اپنی تنظیم تھی۔ اس لحاظ سے امام ا ور وکٹر ایک دوسرے کے لیے
‫اجنبی نہیں تھے۔
‫''تم آئے ہو''۔ امام نے پوچھا… ''چنگیز کیوں نہیں آیا؟''
‫وہ اب کبھی نہیں آسکے گا''۔''
‫''کیوں؟'' امام نے گھبرا کر پوچھا… ''پکڑاگیا ہے؟''
‫اسے اس کے گناہوں نے پکڑا ہے''۔ وکٹر نے جواب دیا۔ ''اور میرے خنجر نے اسے سزائے موت دے دی ہے۔ آپ میرا ''
‫خون نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ میرا خون بند کرنے کا بندوبست کرسکتے ہیں؟ آپ گھبرائیں نہیں‪ ،خدا کا شکر ادا کریں کہ
‫چنگیز زندہ نہیں‪ ،ورنہ ہم میں سے ہر کوئی قید خانے کی اذیتوں سے مارا جاتا''۔
‫امام نے بہت تیزی سے دوائیاں نکالیں۔ پانی الیا اور اس کے زخم دھونے لگا۔ وکٹر کو کپڑے بدلنے کو کہا۔
‫نہیں'' ۔ وکٹر نے جواب دیا۔ ''میں نے سوچ لیا ہے کہ مجھے کیا کرناہے۔ میں انہی کپڑوں میں واپس جائوں گا۔ میں نے''
‫آپ کا نمک کھایا ہے۔ میرا عزیز دوست اور بڑے ہی خطرناک سفر کا ساتھی میرے ہاتھوں قتل ہوگیا ہے۔میں آپ سب کے
‫لیے اپنے آپ کو قربان کرنے کا ارادہ کرچکا ہوں۔ میں اپنی گردن جالد کے آگے جھکا کر آپ سب کو صاف بچا لوں گا''۔
‫امام اس کے زخم صاف کرکے ان پر سفوف چھڑک رہا تھا ور وکٹر اسے سارا واقعہ سنا رہا تھا۔ اس نے ہر ایک تفصیل سنا
‫کر کہا… '' مجھے شک ہوگیا تھا کہ یہ عورت فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میں نے وہ بوڑھا کمانڈر کبھی نہیں دیکھاتھا
‫جس کی وہ اپنے آپ کو داشتہ بتاتی تھی۔ اس کا ہر رات چنگیز کے راستے میں آجانا ایک ثبوت تھا کہ وہ قریب ہی کہیں
‫ہوتی ہے اور چنگیز پر نظر رکھتی ہے۔ میں نے چنگیز سے جب بھی کہا کہ وہ زیادہ احتیاط کرے‪ ،وہ غصے میں آگیا۔ میں
‫آپ کو بتا چکاہوں کہ وہ شراب بھی پینے لگاتھا۔ مجھے شک ہے کہ شراب میں اسے حشیش مال کر پالئی جاتی تھی‪ ،ورنہ
‫چنگیز جیسا سخت آدمی اور ایمان کا پکا اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے اس فریب میں نہ آتا۔بڑی خوبصورت لڑکیاں اسے
‫اپنی محبت میں گرفتار کرنے کی کوشش کرچکی تھیں۔ وہ ہنس کر ٹال دیا کرتا تھا۔ اس عورت نے اسے اپنے حسن اور
‫…''حشیش کی آمیزش والی شراب کے طلسم میں جسمانی نہیں ذہنی طور پر گرفتار کرلیا تھا
‫اس نے جب یہ بتایا کہ اس نے عورت کو بتا دیا ہے کہ وہ جاسوس ہے تو میرا دل کانپ اٹھا۔ مجھے جیسے عالم غیب''
‫سے اشارہ مل رہا تھا کہ چنگیز نے اتنی بڑی لغزش کی ہے جس کی سزا صرف اس کی نہیں ہم سب کی موت ہے اور اس
‫کی یہ لغزش شام اور مصر کی آزادی کی موت کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر اس
‫کی عقل پر عورت نے جو طلسم طاری کردیا تھا‪ ،وہ اسے ہم سے اور اپنے فرائض سے اور اپنے ایمان سے بھی بہت دور لے
‫گیا تھا۔ میں نے اسی وقت ارادہ کرلیاتھا کہ اب یہی ایک صورت رہ گئی ہے کہ اس عورت کو قتل کردیا جائے اور اگر
‫چنگیز کا رویہ نہ بدلے تو اسے بھی ختم کردیا جائے۔ ملک اور قوم کو خطرے سے بچانے کے لیے ایک آدمی کا قتل کوئی
‫بڑی بات نہیں ہوتی۔ یہ تو جاسوسی کا اصول ہے کہ گروہ کے کسی آدمی پر غداری کا شک ہو یا اس کی وساطت سے راز
‫فاش ہونے کا خطرہ ہو تو اسے ختم کردیاجائے۔ میں نے پھر بھی اس کے قتل سے گریز کیا مگر وہ مجھے قتل کرنے کے
‫لیے پاگل ہوگیا تھا''۔
‫یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ تم نے اسے غلط فہمی میں قتل کردیاہو''… امام نے کہا… ''ہوسکتا ہے کہ لڑکی مسلمان '' ‪:
‫ہی ہو اور وہ سچے دل سے ہمارے لیے کام کررہی ہو''۔
‫ہوسکتا ہے''۔وکٹر نے کہا… ''لیکن میں نے ثبوت دیکھ لیا تھا۔ میں نے چنگیز کے ساتھ اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔ میں ''
‫نے اس عورت کو اس عمارت سے نکلتے اور واپس جاتے دیکھا تھا جہاں ہرمن کے شعبے کی لڑکیاں رہتی ہیں۔میں نے یہ

‫بھی معلوم کرلیاتھا کہ یہ عورت کسی کمانڈر کی داشتہ نہیں۔ وہ اس عمارت میں رہتی ہے۔ آج رات میں چنگیز کے پیچھے
‫چال گیا اور جہاں وہ اس عورت کے ساتھ بیٹھا‪ ،وہاں سے چند قدم دورمیں ایک درخت کے پیچھے بیٹھ گیا۔ عورت نے جس
‫انداز سے چنگیزسے راز کی باتیں پوچھیں اور جو باتیں پوچھیں وہ اس شک کو یقین میں بدلنے کے لیے کافی تھیں کہ یہ
‫عورت صلیبیوں کی جاسوس ہے۔ اس نے تریپولی میں ہمارے چھاپہ ماروں کے متعلق پوچھا اور چنگیز کو بتایا کہ صلیبی فوج
‫کے لیے رسد وغیرہ کا بے انداز ذخیرہ رکھاگیا ہے جس میں آتش گیر سیال کے بے شمار مٹکے ہیں۔ میں بھی جاسوس ہوں۔
‫مجھے اچھی طرح علم ہے کہ یہاں کہیں بھی اتنا ذخیرہ نہیں رکھا گیا‪ ،اس نے جو جگہ بتائی تھی‪ ،وہاں کچھ بھی نہیں۔ آپ
‫…''خود کل جاکے دیکھ لینا
‫چنگیز نے اس کے آگے ہماری ساری جماعت کی نشاندہی کردی اور اس نے میرا نام لے کر مجھے بھی بے نقاب کردیا۔ ''
‫میں اتنی اہم جگہ پر ہوں جہاں مجھے راز کی گہری باتیں بھی معلوم ہوجاتی ہیں۔ اس عورت نے میرا نام سنا تو وہ اپنی
‫حیرت کو چھپا نہ سکی۔ وہ بہت دیر خاموش رہی۔ پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ہمارا اتنا خطرناک راز یہ عورت لے جارہی تھی
‫اور یہ راز سیدھاہرمن کے پاس جارہاتھا۔ اس کے نتائج کا آپ اندازہ کرسکتے ہیں۔ میں نے اٹھ کر عورت کو پکڑ لیا اور خنجر
‫اس کے سینے میں گھونپ دیا۔ چنگیز مجھ پر ٹوٹ پڑا تھا۔ اسے بہت سمجھایا۔ حقیقت بتائی مگر شراب نے اسے حیوان
‫بنا رکھا تھا۔ میں نے اس کے خنجر سے زخم کھا کر بھی اسے سمجھایامگر وہ سوچنے سمجھنے کی حالت میں تھا ہی
‫نہیں۔ میں نے محسوس کرلیا تھا کہ زندہ رہا تو میں اسے قابو میں نہیں السکوں گا اور ہمارا اصل مقصد بری طرح ختم
‫ہوجائے گا۔میں نے اسے بھی ختم کردیا''۔
‫تم نے اچھا کیا ہے'' ۔ امام نے کہا… ''میں تمہارا فیصلہ قبول کرتاہوں۔ تم اب تریپولی سے نکل جائو۔ میں انتظام کردیتا''
‫ہوں''۔
‫نہیں'' ۔ وکٹر نے کہا… ''صبح چنگیز اور عورت کی الشیں سب دیکھ لیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ہرمن کو معلوم ہوچکا ''
‫ہے کہ چنگیز جاسوس تھا۔ اسی نے اس عورت کو اس کے پیچھے ڈاال تھا۔ وہ یہی سمجھے گا کہ ان دونوں کو مسلمان
‫جاسوسوں نے قتل کیا ہے‪ ،پھر یہاں کے مسلمانوں کے لیے قیامت آجائے گی۔ پہلے ہی احکام مل چکے ہیں کہ کسی پر
‫جاسوسی کا شک ہوتو اسے قید یا قتل کردیا جائے۔ اب تو یوں سمجھو کہ یہاں کے ہر مسلمان گھرانے پرہرمن نے ایک ایک
‫جاسوس مقرر کردیا ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کو ظلم وتشدد کا نشانہ بنانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں… میں واپس اپنی جگہ جارہا
‫ہوں۔ میں یہ قتل اپنے ذمے لوں گا اور وجہ یہ بتائوں گا کہ میں اور چنگیز رقیب تھے''۔
‫ہم تم سے اتنی قربانی نہیں لیں گے''۔ امام نے کہا… ''میں تمہارے ساتھ ایک آدمی کو بھیجوں گا جو تمہیں قاہرہ ''
‫چھوڑ آئے گا''۔
‫میں اپنی جان کی قربانی دینا چاہتا ہوں''۔ وکٹر نے کہا۔ ''مجھے وہ وقت یاد ہے جب میرے شہر میں صلیبی فوج کے''
‫دو افسروں نے میری بہن پر ہاتھ ڈاال تھا۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا تھا کہ میری بہن کو اٹھا کر لے چلیں۔کوئی
‫عیسائی میری مدد کو نہیں آیا۔ تین مسلمان جوانوں نے ان سپاہیوں کا مقابلہ کیا تھا‪ ،تینوں زخمی ہوگئے تھے لیکن انہوں نے
‫میری بہن کوبچا لیا تھا۔ وہ تو باالئی افسر اچھا تھا‪ ،جس نے میری شکایت سن لی تھی ورنہ میری بہن بھی نہ رہتی اور
‫تینوں مسلمانوں کو بھی قتل کرادیا جاتا۔ اسی واقعہ نے مجھے مسلمانوں کا جاسوس بنایا تھا۔ میں آپ کی قوم کو اس احسان
‫کا صلہ دینا چاہتاہوں۔ میں اپنی جان جالد کے حوالے کرکے تریپولی کے مسلمانوں کی جان اور عزت بچائوں گا''۔
‫اس نے امام کو بتایا… ''صلیبیوں نے فوجیں جمع کرنی شروع کردی ہیں اور انکا رخ حلب کی طرف ہوگا۔ وہ سب سے پہلے
‫شام کو تہہ تیغ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ابھی یہ پتہ نہیں چال کہ وہ کب کوچ کریں گے۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ ان
‫کی ساری فوج ایک ہی عالقے پر حملہ کرے گی یا آگے جاکر تقسیم ہوجائے گی اور ایک ہی وقت کئی مقامات پر حملے
‫کرے گی۔ سلطان ایوبی تک یہ اطالع بہت جلدی پہنچ جانی چاہیے تاکہ وہ مصر میں نہ بیٹھا رہے''… وکٹر کو جو کچھ
‫معلوم ہوسکاتھا وہ اس نے امام کو بتا دیا۔
20:49
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 118ایک منزل کے مسافر
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫وکٹر کو جو کچھ معلوم ہوسکاتھا وہ اس نے امام کو بتا دیا۔ وہ اٹھا اور امام کے روکنے پر بھی نہ رکا۔ کہنے لگا… ''آپ
‫بالکل مطمئن رہیں۔ آپ کو کوئی نہیں پکڑ سکے گا'' اور وہ باہر نکل گیا۔ وہ شہر سے بھی نکل گیا۔ اس کے زخموں سے
‫خون بند ہوچکا تھا۔ امام نے دونوں زخموں پر پٹیاں باندھ دی تھیں۔ اس نے اس خیال سے دونوں پٹیاں اتار کر پھینک دیں
‫کہ جن کے پاس وہ جارہاتھا‪ ،وہ یہ نہ پوچھ بیٹھیں کہ مرہم پٹی کس سے کرائی ہے۔زخموں سے پھر خون رسنے لگا۔ وہ اس
‫جگہ گیا جہاں چنگیز اور عورت کی الشیں پڑی تھیں۔ رات کے پچھلے پہر کا چاند اوپر اٹھ آیا تھا۔ وکٹر کو شراب کی
‫صراحی اور دو پیالے پڑے نظر آئے۔ اس نے عورت کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ موت بھی اس کے چہرے کا حسن نہیں بگاڑ
‫سکی تھی۔ اس کے کھلے ہوئے ریشمی مالئم بال اس کے سینے پر بکھر گئے تھے۔ وکٹر نے شراب کی صراحی کو دیکھا اور
‫زیرلب کہا… ''انسان نے اپنی تباہی کے کیسے کیسے ذریعے اختیارکیے ہیں''۔
‫اس نے چنگیز کو دیکھا اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔ چنگیزکا جسم برف کی طرح سرد ہوچکاتھا۔ وکٹر نے اس کاہاتھ اپنے ہاتھ
‫میں لے کر کہا… ''تم اچھی طرح جانتے تھے کہ عورت مرد کی کتنی بڑی کمزوری ہے اور شراب نے بادشاہوں کے تختے
‫الٹ دئیے ہیں۔ تم نے اس کمزوری کو اپنے اندر ڈال لیا… میں بھی آرہا ہوں میرے دوست! جالد مجھے جلدی ہی تمہارے
‫پاس پہنچا دے گا۔ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں۔ میں آرہا ہوں دوست‪ ،میں آرہا ہوں''۔
‫وہ اٹھا اور بہت تیز قدم اٹھاتا ہوا اس عمارت کی طرف چل پڑا جس میں افسررہتے تھے۔ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا
‫تھا۔ اس نے نیام سے خنجر نکاال۔ اس پر خون جم گیا تھا۔ اس نے اسے اپنے خون سے ترکیا اور خنجر ہاتھ میں رکھا۔ خون
‫زیادہ نکل جانے سے وہ کمزوری محسوس کرنے لگا تھا… اس نے ایک دروازے پر دستک دی۔ اسے معلوم تھا کہ جس کے پاس
‫اسے جانا ہے‪ ،اس کی رہائش یہی ہے۔ کچھ دیر بعد ایک مالزم نے دروازہ کھوال۔ وکٹر نے افسر کانام لے کر کہاکہ اسے جگائو
‫اور بتائو کہ ایک قاتل آیا ہے۔ مالزم اندر کو دوڑا۔
‫اندر سے گالیوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ افسر گالیاں بکتا آیا۔ دروازے پر آکر قہر بھری آواز میں پوچھا… ''کون ہو تم‪،
‫کسے قتل کرکے آئے ہو؟'' مالزم قندیل اٹھائے دوڑا آیا۔ افسر نے روشنی میں وکٹر کو دیکھ کر پوچھا… ''تم؟ کسی سے

‫''لڑائی ہوگئی تھی؟
‫میں دو انسانوں کے قتل کا اقبال کرنے آیا ہوں''۔ وکٹر نے کہا… ''مجھے گرفتار کرلیں''۔''
‫افسر نے اس کے منہ پر بڑی زور سے تھپڑ مار کر کہا… ''قتل کا تمہیں یہی وقت مال تھا؟ دن کو کیوں نہ قتل کیا؟ میں
‫تمہارے باپ کا نوکر ہوں جو اس وقت تمہیں گرفتار کروں گا؟ اتنی گہری نیند سے مجھے جگا دیا ہے''۔ اس نے اپنے مالزم
‫سے کہا… ''اوئے‪ ،لے جائو! اسے قید خانے میں بند کردو''۔
‫مالزم وکٹر کو بازو سے پکڑ کر چل پڑا تو افسر نے گرج کر کہا… ''اوئے‪ ،رک جائو۔ جنگلی کہیں کے۔ تم نے یہ بھی نہیں
‫''سوچا کہ یہ راستے میں تمہیں بھی قتل کردے گا۔ اندر الئو اسے‪ ،اس نے کیاکیا ہے؟
‫میں نے ایک آدمی اور ایک عورت کا قتل کیا ہے جناب!'' وکٹر بلند آواز سے بوال۔''
‫قتل کیا ہے؟''… افسر نے حیرت اور گھبراہٹ سے پوچھا… ''قتل کیا ہے؟… اگر مسلمان قتل کیا ہے تو جائو اپنی مرہم ''
‫پٹی کرائو۔ تم اسے قتل نہ کرتے تو وہ تمہیں قتل کردیتا۔ اگر کسی صلیبی کو قتل کیا ہے تو تمہیں بھی قتل ہونا چاہیے۔
‫اندر آکر بتائو''۔
‫آپ نے میرے ساتھ ایک بڑا ہی خوبرو آدمی دیکھا ہوگا''… وکٹر نے اندر جاکر کہا۔ اس نے چنگیز کا وہ عیسائی نام بتایا ''
‫جس سے وہ جانا پہچانا جاتا تھا۔ کہنے لگا… ''میری دوستی ایک عورت کے ساتھ تھی‪ ،میرے اس ساتھی نے اس عورت کو
‫ورغالیا اور میرے اور اس کے تعلقات توڑ ڈالے۔ اس عورت کے ساتھ دوستی کرلی اور اس سے میری بے عزتی کرائی۔ میں
‫اس عورت کی دوستی سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا۔ ان دونوں نے مجھے بہت مشتعل کیا۔ میں نے آج رات انہیں اکٹھے
‫بیٹھے دیکھ لیا۔ میں دراصل انہیں دیکھنے ہی گیا تھا۔ انہیں میں نے ایسی حالت میں دیکھا جو میری برداشت سے باہر تھی۔
‫میں نے عورت پر حملہ کیا اور اسے خنجر سے مار ڈاال‪ ،پھر اپنے رقیب کے ساتھ خنجر بازی ہوئی۔ مجھے یہ دو زخم آئے
‫ہیں۔ اسے بھی دو ہی زخم آئے ہیں مگر مہلک ثابت ہوئے ہیں‪ ،کہیں بھاگ جانے کے بجائے آپ کے پاس آگیا ہوں''۔
‫افسر نے کہا… ''عورت کے لیے قتل ہونا یا قتل کرنا عقل مندی تو نہیں''۔
‫یہ افسر بالکل سنجیدہ نہیں لگتا تھا۔ وہ شاید وکٹر کو چھوڑ دیتا مگر صبح ہوتے ہی الشیں دیکھی گئیں۔ ہرمن اور اس کے
‫نائب کو پتہ چال تو دونوں غصے سے پاگل ہونے لگے۔ مقتولہ ان کی بڑی قیمتی اور کارآمد مخبر اور جاسوس تھی
‫اور چنگیز اس عورت کاشکار تھا جس سے اس گروہ کا سراغ لگانا تھا۔ یہ گروہ محفوظ ہوگیا تھا۔وکٹر کے زخموں سے خون
‫بہہ رہا تھا۔ کسی نے اس کی مرہم پٹی کی نہ سوچی۔ ہرمن نے اسے پیٹنا شروع کردیا جس سے وکٹر بے ہوش ہوگیا۔ اس
‫کے بعد وہ کبھی بھی ہوش میں نہ آیا۔ دوسرے دن بے ہوشی کی حالت میں اسے جالد کے حوالے کردیا گیا۔ جالد کے
‫کلہاڑے نے ایک ہی وار سے اس کا سرتن سے جدا کردیا۔
‫اس کے سر اور دھڑ کو جب ایک گڑھے میں پھینکاجارہا تھا‪ ،اس وقت امام کا روانہ کیا ہوا ایک جاسوس تریپولی سے دور
‫نکل گیا تھا۔ اسے اونٹ پر بھیجا گیا تھا کیونکہ قاہرہ تک کا سفر بڑا ہی لمبا اور بڑا ہی کٹھن تھا جسے صرف اونٹ
‫برداشت کرسکتا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫‪٥٧٢ھ ہجری (‪ ١١٧٧عیسوی) کے اوائل کا ایک مہینہ تھا۔ قاہرہ کے فوجی عالقے میں غیرمعمولی رونق اور چہل پہل تھی۔
‫کسی میدان میں گھوڑے دوڑائے جارہے تھے اور کہیں پیادہ سپاہیوں کو ٹریننگ دی جارہی تھی۔ شتر سواروں کی رونق الگ
‫تھی۔ قاہرہ سے دور پہاڑی عالقے میں منظر ایسا تھا جیسے جنگ لڑی جارہی ہو۔ یہ سلطان ایوبی کی فوج کی جنگی مشق
‫تھی۔ ایک وادی میں آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگائی گئی تھی جو بیس پچیس گز تک پھیلی ہوگئی تھی۔ سوار گھوڑے
‫دوڑاتے ان شعلوں میں سے گزر رہے تھے۔ ایک جنگی مشق دور ریگستان میں ہورہی تھی۔ کسی سپاہی کو پانی اپنے ساتھ
‫رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔
‫یہ بڑی ہی سخت ٹریننگ تھی جو نئے رنگروٹوں کو دی جارہی تھی۔ بھرتی ابھی جاری تھی۔ فوج کے تمام ساالر اور دیگر
‫افسر اس ٹریننگ میں مصروف تھے۔ سلطان ایوبی سلطنت کے دوسرے مسائل اور امور کی طرف رات کو توجہ دیتا تھا۔ اس کا
‫دن ٹریننگ کی نگرانی کرتے اور ساالروں کو ہدایات دیتے گزرتا تھا۔ اس نے سب سے کہہ دیا تھا کہ اگر صلیبیوں نے شام پر
‫فوج کشی نہ کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے لڑائی سے توبہ کرلی ہے یا ان کی عقل جواب دے گئی ہے مگر ان
‫دونوں میں سے ایک بھی بات صحیح نہیں۔ وہ ضرور آئیں گے۔
‫اس وقت تک کسی نہ کسی مقبوضہ عالقے سے اپنے کسی آدمی کو آناچاہیے تھا''… سلطان ایوبی نے اپنے پاس کھڑے ''
‫ایک ساالر سے کہا۔ وہ ایک چٹان پر کھڑا جنگی مشق دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا… ''صلیبی آئیں گے ضرور۔ یہ مجھے کوئی
‫جاسوس ہی بتا سکتا ہے کہ وہ کدھر سے آئیں گے‪ ،کہاں آئیں گے اور ان کی نفری کتنی ہوگی''۔
‫وہ چٹان سے اتر کر کسی اور طرف جانے لگا تو اسے دور سے گرد اڑتی نظر آئی جو ایک یاد دوگھوڑوں کی تھی۔ سلطان رک
‫گیا۔گرد قریب آئی تو اس میں سے دو گھوڑے برآمد ہوئے۔ ایک پر علی بن سفیان سوار تھاا ور دوسرے کو سلطان پہچان نہ
‫سکا۔ وہ تریپولی سے امام کا بھیجا ہوا جاسوس تھا جو وہاں سے اونٹ پر روانہ ہواتھا۔ بہت دنوں بعد قاہرہ پہنچا تھا۔ علی
‫بن سفیان نے اس سے رپورٹ لی اور اسے گھوڑا دے کر ساتھ لے آیا تاکہ رپورٹ سلطان ایوبی کو فورا ً دی جائے۔
‫جاسوس نے سلطان ایوبی کو بتایا… ''صلیبی ایک برق رفتار اور طوفانی حملے کے لیے تیاریاں کررہے ہیں۔ فوجوں کا اجتماع
‫شروع ہوگیا ہے۔ سب سے زیادہ فوج حونین کے شاہ رینالٹ کی ہے‪ ،وہ اس طوفانی یلغار کی قیادت کرنا چاہتا ہے''۔
‫وہی رینالٹ جسے نورالدین زنگی نے گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا تھا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اسے وہ اپنی شرائط ''
‫پر رہا کرنا چاہتے تھے‪ ،مگر زنگی کی بے وقت موت ریناٹ کی رہائی کا باعث بنی۔ اقتدار اور زروجواہرات کے اللچی امراء
‫نے نورالدین زنگی کے کمسن بیٹے کو کٹھ پتلی بنایا اور رینالٹ کو رہا کردیا۔ آج وہ رینالٹ اسالم کا خاتمہ کرنے آرہا ہے …
‫''ہاں! تم آگے سنائو۔ انہیں یلغار کرنی چاہیے تھی اور کون ہوگا؟
‫تریپولی کا ریمانڈ ہوگا۔ زیادہ تر افواج کا اجتماع وہیں ہورہا ہے اور حملے کی تفصیالت وہیں طے ہورہی ہیں۔ تیسرا بالڈون ''
‫ہوگا۔ اس کی فوج بھی کم نہیں۔ یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا کہ صلیبی فوج کب کوچ کرے گی۔ حملہ شام پر ہوگا۔ حلب‪،
‫حرن اور حماة کے نام سنے گئے ہیں۔ کوچ جلدی ہوگا''۔
‫علی بن سفیان!''… سلطان ایوبی نے کہا… ''مجھے تریپولی سے آخری اطالعات کا انتظار رہے گا''۔''
‫ان اطالعات کا انتظار نہ کریں جن کی آپ توقع لگائے بیٹھے ہیں''۔ علی بن سفیان کے بجائے جاسوس نے جواب دیا…''
‫'' صلیبیوں کے عسکری ایوان میں ہمارے آدمی تھے‪ ،دونوں مارے گئے ہیں''… اس نے راشد چنگیز اور وکٹر کا واقعہ سنا دیا۔

‫دعوی کیا ہے کہ اس کی فوج میں اڑھائی سو نائٹ ہوں
‫سلطان ایوبی کی آنکھیں الل ہوگئیں۔ جاسوس نے کہا… ''رینالٹ نے
‫ٰ
‫گے۔ اپنے ان دونوں جاسوسوں نے مرنے سے پہلے امام کو بتایا تھا کہ صلیبی آپ کو چھاپہ مار اور شب خون مارنے کا طریقہ
‫استعمال کرنے کی مہلت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کچھ ایسی چالیں سوچ لی ہیں جن سے وہ آپ کو مجبور کردیں گے کہ
‫آپ پوری فوج کو سامنے ال کرلڑیں۔ انہیں آپ کی اس کمزوری کا علم ہے کہ آپ کے پاس فوج کی کمی ہے۔ اسی کے پیش
‫نظر وہ بہت زیادہ فوج ال رہے ہیں‪ ،تاکہ آپ گھوم پھر کر نہ لڑسکیں''۔
‫جاسوس کی یہ اطالع ملنے کے بعد سلطان صالح الدین ایوبی باہر کم نظر آنے لگا۔ وہ کمرے میں بند رہنے لگا۔کاغذ پر ممکنہ
‫میدان جنگ کا نقشہ بنا کر اس پر پیش قدمی اور دیگرچالوں کی لکیریں کھینچتا رہتا۔ کبھی اچانک اپنے ساالروں کو بال کر ان
‫عیسی
‫کے ساتھ بحث میں الجھ جاتا اور انہیں موقع دیتا کہ وہ بھی رائے دیں اور چالیں سوچیں۔ ان ساالروں میں ایک
‫ٰ
‫الہکاری تھا جو ایک قابل ساالر ہونے کے عالوہ عالم اور قانون دان بھی تھا۔اسے بعض مورخوں نے سلطان ایوبی کا دست
‫راست بھی کہاہے۔
‫ایک روز سلطان ایوبی نے خالف توقع کوچ کا حکم دے دیا۔ اس نے فوج کا خاصاحصہ سوڈان کی سرحد کے ساتھ خیمہ زن
‫کردیا کیونکہ ادھر سے بھی حملے کا خطرہ تھا۔ اس کے لیے سب سے بڑی مصیبت یہی تھی کہ وہ پیش قدمی کرتا تھا تو
‫اس کے عقب میں بھی دشمن ہوتاتھا۔ صلیبیوں کے لیے وہ مصر کی ساری فوج نہیں لے جاسکتا تھا۔ اس نے کوچ کیا تو
‫مورخوں کے اعدادوشمار کے مطابق‪ ،اس کے پاس جو فوج تھی وہ ایک ہزار پیادہ تھی۔ یہ سب مملوک تھے۔ (مملوک آزادکیے
‫ہوئے غالموں کو کہاجاتا تھا) یہ لڑاکے اور جنگجو تھے۔ ان کے عالوہ آٹھ ہزار گھوڑ سوار تھے جن میں مصری بھی تھے اور
‫وہ سوڈانی بھی جنہیں ‪ ١١٦٩ء میں سلطان ایوبی نے بغاوت کے جرم میں فوج سے نکال کر انہیں زرخیز زمینوں پر آباد کردیا
‫تھا۔ اب وہ مصر کے وفادار تھے۔ ان پر اعتماد کیا جاسکتا تھا مگر یہ ایک ہزار مملوک اور آٹھ ہزار سوار نئے نئے فوج میں
‫بھرتی ہوئے تھے۔ انہوں نے ابھی جنگ دیکھی ہی نہیں تھی۔ ان کی ٹریننگ بمشکل مکمل ہوئی تھی۔
‫سلطان ایوبی اپنی فوج اپنے بھائی العادل کی زیر کمال حلب کے مضافات میں چھوڑ آیا تھا۔ اسے کسی طرح اندازہ ہوگیا تھا
‫کہ صلیبی اتنی جلدی شام تک نہیں پہنچیں گے۔ اس نے کوچ بہت تیز کرایا اور حلب جاپہنچا۔ وہاں اسے پتہ چال کہ
‫صلیبیوں نے حرن کے قلعے کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ آپ نے حرن کا مکمل ذکر پچھلی کہانیوں میں پڑھا ہے۔ سلطان
‫ایوبی نے محاصرہ کرنے والی صلیبی فوج کو محاصرے میں لے لیا۔ اس کی یہ چال ایسی اچانک تھی کہ صلیبی جم کر لڑ نہ
‫سکے۔ سلطان ایوبی نے بہت سے قیدی پکڑے اور صلیبیوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس نے پیش قدمی جاری رکھی اور دو اہم
‫مقامات‪ ،بڈیا اور رملہ پر قبضہ کرلیا۔
‫یہ فتوحات قدرے آسان تھیں۔ مصرسے آئے ہوئے نئے سپاہیوں کے حوصلے بڑھگئے۔ وہ سمجھے کہ جنگ اسی طرح ہوتی ہے
‫جس میں فتح ہماری ہی ہوتی ہے۔ اس سے نئے سپاہی غیرمحتاط ہوگئے۔ صلیبیوں نے غالبا ً دانستہ پسپا ہوکر سلطان ایوبی کو
‫دھوکہ دیا تھا۔ انہوں نے تھوڑی سی فوج کی نمائش کی تھی۔ یہ فرنگی (فرینکس) تھے۔ رینالٹ اور بالڈون کی فوجیں ابھی
‫سامنے نہیں آئی تھیں۔ وہ اسی عالقے میں موجود تھے۔ اب صلیبیوں نے ایسے سخت اقدامات کیے تھے کہ سلطان ایوبی کے
‫جاسوس دشمن کے عالقے سے نکل ہی نہ سکے۔ تریپولی کے جاسوس کے بعد ادھر سے کوئی آہی نہ سکا۔
‫عیسی الہکاری نے رملہ
‫رملہ کے قریب ایک ندی تھی جس کا پانی تو گہرا نہیں تھا‪ ،ندی گہرائی میں تھی اور چوڑی بھی۔
‫ٰ
‫کو فتح کرکے اپنے دستوں کو رملہ کے اردگرد پھیال دیا۔ اچانک ندی کے کنارے کی اوٹ میں صلیبیوں کی فوج یوں نکلی
‫عیسی الہکاری کے دستے بے خبری
‫جیسے سیالب کناروں سے باہر آگیا ہو۔ یہ فوج جانے کب سے وہاں چھپی بیٹھی تھی۔
‫ٰ
‫میں مارے گئے۔ وہ بکھرے ہوئے بھی تھے۔ مقابلہ نہ کرسکے۔ تریپولی کے جاسوس کی یہ اطالع صحیح ثابت ہوئی کہ صلیبی
‫ایسی چالیں چلیں گے جن سے سلطان ایوبی اپنے مخصوص طریقہ جنگ سے لڑنے کے قابل نہیں رہے گا۔
‫اس وقت کے ایک واقعہ نگار ابن اسیر نے لکھا ہے۔ ''فرنگی اس طرح ندی سے نکلے جیسے انسانوں اور گھوڑوں کا سیالب
‫کناروں سے باہر آکر آبادیوں کو اپنے ساتھ بہائے لے جارہا ہو۔ سلطان ایوبی کی فوج بے خبری میں مکمل گھیرے میں
‫آگئی''۔
‫مشہور مورخ جیمز نے لکھا ہے… ''شاہ بالڈون صالح الدین ایوبی سے پہلے اپنی فوج رملہ کے مضافات میں لے آیا تھا۔ ‪:
‫صالح الدین ایوبی کی فوج نے رملہ کا شہر فتح کرلیا اور اس کے ہر اول کے ایک ساالر ایولن نے شہر کو آگ لگا دی تھی۔
‫صلیبیوں ( فرنگیوں) کی گھات کامیاب رہی۔ ایوبی گھیرے میں آگیا۔ اس کے دستے بکھر گئے۔ اس نے کئی دستے یکجا کرلیے
‫اور اپنی خصوصی چال کے مطابق جوابی حملہ کیامگر میدان صلیبیوں کے ہاتھ میں تھا۔ صالح الدین ایوبی کا حملہ نہ صرف
‫ناکام رہا بلکہ اس کے لیے پسپائی بھی ناممکن ہوگئی''۔
‫نئے رنگروٹ جو چند ایک مقامات آسانی سے فتح کرکے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ انہیں کوئی شکست دے ہی نہیں سکتا۔ وہ
‫ایسے بھاگے کہ انہوں نے مصر کا رخ کرلیا۔ بھاگنے والوں میں ان کی تعداد زیادہ تھی جنہیں بعض غیرمحتاط فوجی افسروں نے
‫مال غنیمت کا اللچ دے کر بھرتی کیاتھا۔ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ سب ناتجربہ کار تھے۔ سلطان ایوبی اس کیفیت
‫میں رہ گیاتھا کہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہوکر میدان کارزار سے نکال اور اپنی جان بچائی۔
‫قاضی بہائوالدین شداد جو اس جنگ کا عینی شاہد ہے‪ ،اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے… ''سلطان ایوبی نے مجھے اس شکست
‫کی وجہ ان الفاظ میں بتائی تھی… ''صلیبیوں نے میری چال چل کر میری فوج کو اس وقت جنگ میں گھسیٹ لیا جب میں
‫اسے جنگی ترتیب میں نہیں السکا تھا۔ دوسری وجہ یہ ہوئی کہ میری فوج کے پہلوئوں پر جو دستے تھے‪ ،وہ جگہ آپس میں
‫بدل رہے تھے۔ یہ بہت بڑی نقل وحرکت تھی۔ صلیبیوں نے اس کیفیت میں حملہ کردیا۔ ان کا حملہ اتنا شدید اوراچانک تھا
‫کہ میرے نئے سپاہی اور سوار گھبرا کر پیچھے کو بھاگ اٹھے اور انہوں نے مصر کا رخ کرلیا۔ وہ راستے سے بھٹک گئے اور
‫عیسی الہکاری
‫دور دور بکھر گئے۔ میں انہیں یکجا نہ کرسکا۔ دشمن نے میری فوج سے بہت سے جنگی قیدی پکڑے۔ ان میں
‫ٰ
‫بھی تھا''… سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو مروانے کے بجائے حکم دے دیا کہ اپنے اپنے طور پر میدان جنگ سے نکلو اور
‫قاہرہ پہنچنے کی کوشش کرو''۔
‫عیسی الہکاری کو رہا کرالیا۔ ایک مصرف واقعہ نگار محمد فرید
‫سلطان ایوبی نے صلیبیوں کو ساٹھ ہزار دینار زر فدیہ ادا کرکے
‫ٰ
‫ابوحدید نے لکھا ہے کہ سلطان ایوبی نے اپنے بھائی شمس الدولہ توران شاہ کو اس جنگ اور اپنی شکست کا حال لکھا تھا
‫جس میں اس نے عربی کا ایک شعر بھی لکھا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں۔
‫میں نے تمہیں اس وقت یاد کیا جب صلیبی برچھیاں چل رہی تھیں‪ ،دشمن کی سیدھی اور گندمی رنگ کی برچھیاں ہمارے''
‫جسموں میں داخل ہوکر ہمارا خون پی رہی تھیں''۔

‫یہ معرکہ جمادی االول ‪٥٧٣ہجری (اکتوبر ‪١١٧٧ز) میں لڑا گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اس حالت میں قاہرہ پہنچا کہ
‫اس کا سرجھکا ہواتھا۔ اس کے ساتھ کوئی فوج نہیں تھی۔ اس کا محافظ دستہ بھی ساتھ نہیں تھا۔ اس نے قاہرہ پہنچتے ہی
‫مزید بھرتی کا حکم دیا۔ شام کے محاذ پر وہ اپنے بھائی العادل اور بڑے قابل ساالروں کو حماة کے عالقے میں چھوڑ آیا تھا۔
20:49
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 119جب فرض نے محبت کا خون کیا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫آج وہ رملہ اسرائیلیوں کے قبضے میں ہے جہاں آٹھ سو سال پہلے سلطان صالح الدین ایوبی نے صلیبیوں سے شکست کھائی
‫تھی۔ رملہ جو بیت المقدس سے دس میل دور شمال میں واقع ہے‪ ،اردن کے عالقے میں ہے۔ جون ‪١١٦٧ء کی عرب اسرائیل
‫جنگ میں اسرائیلیوں نے اردن کے اس تمام عالقے پر قبضہ کرلیا تھا جو دریائے اردن کے مغربی کنارے پر اسرائیل کی سرحد
‫تک پھیال ہوا ہے۔ دس برس گزر گئے ہیں‪ ،اسرائیلیوں نے یہ عالقہ خالی کرنے کے بجائے اس پر مکمل قبضہ کرلیاہے۔ اور کہا
‫ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں یہاں سے نکال نہیں سکتی۔ انہوں نے رملہ کو (اور اس تمام مقبوضہ عالقے کو) اس وقت
‫بھی قتل گاہ بنایاتھا جب انہوں نے اس پر قبضہ کیا تھا‪ ،یہ آج بھی قتل گاہ ہے۔ گزشتہ ایک سال سے رملہ میں جو
‫مسلمان رہ گئے‪ ،وہ اسرائیل حکومت کے خالف مظاہرے کررہے ہیں اور اسرائیلی انہیں ظلم وتشدد اور رائفلوں کی گولیوں سے
‫خاموش کررہے ہیں۔
‫اسرائیلیوں کی ہٹ دھرمی اور عربوں کے آپس میں اختالف بتا رہے ہیں کہ اسرائیلی اس عالقے کو نہیں چھوڑیں گے۔ دس
‫برس تو گزر گئے ہیں لیکن آٹھ سو سال پہلے جب یہ عالقہ اور یہی رملہ صلیبیوں کے قبضے میں آیا تھا تو سلطان صالح
‫الدین ایوبی ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھا تھا۔ وہ میدان جنگ سے بڑی مشکل سے جان بچا کر نکال تھا۔ اس کی فوج
‫ایسی بری طرح بھاگی کہ بکھر کر مصر کا رخ کرلیا۔ فوج کی خاصی نفری صلیبیوں کی قیدی ہوگئی اور کچھ نفری قاہرہ تک
‫بے سروسامانی کی حالت میں پاپیادہ جاتے صحرا اور سفر کی صعبتوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ایسی شکست حوصلے اور جذبے
‫توڑ دیا کرتی ہے۔ سنبھلتے سنبھلتے مدتیں گزر جاتی ہیں لیکن سلطان ایوبی مصر جا کر نہ صرف سنبھال بلکہ اس عالقے میں
‫واپس گیا جہاں سے شکست کھا کر بھاگا تھا اور اس نے صلیبیوں کے لیے قیامت بپا کردی۔
‫رملہ آج پھر سلطان صالح الدین ایوبی کاا نتظار کررہا ہے۔
‫سلطان ایوبی کے سامنے صرف یہ مسئلہ نہیں تھا کہ شکست کا انتقام لینا ہے اور صلیبیوں کی پیش قدمی کو روکنا ہے‪ ،اسے
‫بہت سے خطروں نے گھیر رکھا تھا۔ اس کی صفوں میں غداروں کی کمی نہیں تھی۔ سوڈان کی طرف سے حملے کا خطرہ
‫بڑھ گیا تھا۔ سوڈانیوں کو معلوم تھا کہ سلطان ایوبی کے پاس فوج نہیں رہی اور جو ہے وہ شکست خوردہ اور زخم خوردہ ہے۔
‫یہ خطرہ تو سب سے بڑا تھا کہ صلیبیوں کے پاس فوج دس گنا زیادہ تھی اور اس فوج کے حوصلے کو رملہ کی فتح نے
‫مضبوط کردیا تھا۔ ایک یہ خطرہ بھی تھا کہ جو مسلمان امراء سلطان ایوبی کے مخالف تھے‪ ،وہ اس کی شکست سے فائدہ
‫اٹھا سکتے تھے۔ وہ ایک بار پھر متحد ہوکر سلطان ایوبی کی اس فوج کے لیے مصیبت بن سکتے تھے جسے وہ محاذ پر
‫اعلی اس کا اپنا بھائی العادل تھا جس پر سلطان ایوبی کو مکمل اعتماد تھا۔
‫چھوڑ آیا تھا۔ اس فوج کا ساالر
‫ٰ
‫اور ایک خطرہ صلیبی جاسوسوں کا بھی تھا۔ پسپائی کے وقت صلیبیوں کے جاسوسوں کا بھی مصری فوج کے بھیس میں مصر
‫پہنچ جانا آسان تھا۔ یہ جاسوس مصر میں افواہیں پھیال کر قوم کی خوصلہ شکنی کرسکتے تھے۔
‫اس شکست کے بعد العادل قرون حماة تک پیچھے ہٹ آیا تھا۔ اس داستان کی پچھلی اقساط میں آپ نے حماة کی جنگ
‫کی تفصیل پڑھی ہے۔ یہاں سلطان ایوبی نے اپنے مخالف مسلمان امراء کو شکست دی تھی۔ حماة کا قلعہ بھی تھا۔ صلیبی
‫سلطان کو شکست دے کر حماة کی طرف بڑھے۔ العادل خود بھی قابل ساالر تھا اور اس کے ساتھ جو ساالر تھے وہ مردان
‫حر تھے۔ ان کا دین وایمان سلطان ایوبی کی طرح پختہ تھا۔ العادل اپنے بھائی سلطان ایوبی کا شاگرد تھا۔ جنگی چالوں کی
‫مہارت اس سے سیکھی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ صلیبی اتنی بڑی اور اتنی آسان فتح کے بعد رملہ میں ہی خیمہ زن نہیں
‫ہوجائیں گے۔ اس نے کسی بہروپ میں اپنے جاسوس پیچھے چھوڑدیے اور خود فوج کے ساتھ حماة کا رخ کیا۔ اسے پتہ چل
‫گیاتھا کہ سلطان ایوبی مصر چال گیا ہے۔
‫اس کا اندازہ صحیح ثابت ہوا۔ جاسوسوں نے اسے اطالع دی کہ صلیبیوں کی فوج حماة کی طرف پیش قدمی کررہی ہے۔
‫العادل نے اپنی فوج کی کیفیت دیکھی۔ اچھی نہیں تھی۔ سپاہیوں کا حوصلہ مجروح ہوگیا تھا۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی بھی کمی
‫ہوگئی تھی۔ رسد کی کیفیت بھی تسلی بخش نہیں تھی۔ البتہ وہ فوج کو بڑی اچھی جگہ لے آیا تھا جہاں سبزہ‪ ،پانی اور
‫عالقہ پہاڑی تھا۔ العادل نے فوج کو ایک جگہ جمع کرلیا۔ اس نے دیکھا کہ اونٹوں کی خاصی تعداد زخمی ہے۔ اس نے ان
‫اونٹوں کو ذبح کرا دیا اور فوج سے کہہ دیا کہ پیٹ بھر کر گوشت کھائو۔ اس طرح اس نے رات کو ایک وسیع وادی میں
‫جشن کا منظر بنا دیا۔ شام کو ہی اس نے حلب اور دمشق کو اس پیغام کے ساتھ قاصد دوڑا دئیے تھے کہ جس قدر رسد‪،
‫جانور اور اسلحہ بھیج سکتے ہو‪ ،بھیجو۔
‫رات جب سپاہی اونٹ کا گوشت کھا کر سیر ہوچکے تو العادل ایک ٹیکری پر چڑھ گیا۔ اس کے دائیں بائیں دو مشعل بردار
‫کھڑے تھے۔ اس نے انتہائی بلند آواز میں کہا… ''اللہ اور رسول صلی اللہ وآلہ وسلم کے مجاہدو! اس حقیقت کو قبول کرو کہ
‫ہم شکست کھا کر آئے ہیں۔ کیا تم اس حالت میں اپنی مائوں‪ ،اپنی بہنوں‪ ،اپنی بیویوں اور اپنی بچیوں کے سامنے جائو گے
‫اور انہیں یہ بتائو گے کہ ہم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منکروں سے شکست کھا کر آئے ہیں؟ کیا تمہاری مائیں
‫تمہیں دودھ کی دھاریں بخش دیں گی؟ وہ گھروں میں بیٹھی اس خبر کا انتظار کررہی ہیں کہ ہم نے قبلہ اول کو کفار کے
‫قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ جن عالقوں میں کفار قابض ہیں‪ ،وہاں وہ مسلمان عورتوں کو بے آبروکررہے ہیں۔
‫ذرا سوچو کہ اپنی مائوں اور بہنوں کو کیا جواب دو گے؟ تم میں سے جو یہاں سے پیچھے جانا چاہتے ہیں‪ ،الگ کھڑے
‫ہوجائیں‪ ،میں انہیں نہیں روکوں گا۔ انہیں گھروں کو جانے کی اجازت ہے''۔
‫العادل خاموش ہوگیا۔ فوج پر بھی خاموشی طاری تھی۔ کوئی ایک بھی سپاہی الگ نہ ہوا۔
‫اعلی ہمیں اپنا مقصد بتائیں''… کسی سپاہی کی آواز گرجی… ''آپ کو کس نے بتایا ہے کہ ہم گھروں کو جانا ''
‫ساالر
‫ٰ
‫''چاہتے ہیں؟
‫اگر میں پسپائی میں مارا گیا تو یہ میری وصیت ہے کہ میری الش دفن نہ کی جائے''… ایک اور آواز گرجی۔ ''گدھوں ''
‫اور بھیڑیوں کے لیے پھینک دی جائے''۔

‫پھر کئی آوازیں سنائی دیں۔ ہر آواز میں جذبے کا جوش تھا۔ العادل کا سینہ پھیل گیا۔ اس نے کہا… ''دشمن تمہارے پیچھے
‫آرہا ہے۔ تمہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ رملہ کی فتح اس کی آخری فتح ہے… آج کی رات اور کل کا دن مکمل آرام کرو۔ کل
‫رات تمہیں بتا دیا جائے گا کہ ہم کیا کریں گے''۔
‫العادل نے فوج سے فارغ ہوکر اپنے ساالروں اور کمان داروں کو اپنے خیمے میں بال لیا ور انہیں ہدایات دیں کہ کل رات وہ
‫اپنے دستوں کو کہاں کہاں لے جائیں گے۔ حماة کا قلعہ قریب ہی تھا۔
‫صلیبی بہت تیزی سے پیش قدمی کررہے تھے۔ یہ بالڈون کی فوج تھی۔ اسے معلوم تھا کہ آگے حماة کا قلعہ ہے اور العادل
‫کی فوج اسی قلعے میں ہوگی۔ اسے جاسوسوں کے ذریعے یہ بھی معلوم تھا کہ جو فوج حماة کی طرف پسپا ہوکر گئی ہے
‫اس کا کمانڈر العادل ہے اور العادل سلطان ایوبی کا بھائی ہے۔ یہ تو معمولی سا فوجی بھی سمجھ سکتا تھا کہ تھکی ہوئی
‫اور شکست خوردہ فوج اپنے قریبی قلعے میں ہی جائے گی۔ چنانچہ صلیبی بادشاہ بالڈون نے برق رفتار پیش قدمی کرکے حماة
‫کے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔ اس نے اعالن کیا کہ قلعے کا دروازہ کھول دیا جائے‪ ،ورنہ قلعے کو زمین سے مال دیا جائے گا۔
‫وہ اس خیال میں تھا کہ العادل کی فوج لڑنے کی حالت میں نہیں۔ اعالن کے جواب میں قلعے کی دیوار سے تیروں کی
‫بوچھاڑیں آئیں۔
‫بالڈون نے ایک بار پھر اعالن کرایا کہ یہ خون خرابہ بے مقصد ہوگا۔ تم لڑ نہیں سکو گے۔ قلعہ ہمارے حوالے کردو۔ میں ‪:
‫وعدہ کرتا ہوں کہ کسی قیدی کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا جائے گا… قلعے کے اوپر سے آواز آئی۔ ''اتنی دور رہو جہاں
‫تک ہمارے تیر نہ پہنچ سکیں۔ قلعہ تمہیں دینے کے بجائے اسے ہم خود زمین سے مال دیں گے۔ ہمارا خون بے مقصد نہیں
‫بہے گا۔ تم بے مقصد موت مرو گے''۔
‫قلعے کی دیواروں پر جو کھڑے تھے‪ ،انہیں صلیبیوں کی فوج یوں دکھائی دے رہی تھی جیسے سمندر کی موجیں ہر طرف سے
‫قلعے کو نرغے میں لیے ہوئے ہوں۔ اس کے مقابلے میں قلعے میں جو فوج تھی‪ ،وہ نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اس قلیل
‫فوج کے کمانڈر ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ تھے۔ فوج بہت تھکی ہوئی تھی۔ یہ تعاقب تھا۔ بالڈون اس کوشش میں تھا کہ العادل
‫کو کہیں آرام کرنے اور اپنی فوج کو ازسرنو منظم کرنے کی مہلت نہ دے۔ وہ العادل کو زندہ پکڑنا چاہتا تھا۔ صالح الدین
‫ایوبی کا بھائی ہونے کی وجہ سے العادل بڑا ہی قیمتی قیدی تھا۔ اس کے عوض صلیبی سلطان ایوبی سے کڑی شرطیں منوا
‫سکتے تھے۔ کوئی عالقہ لے سکتے تھے۔ بالڈون کو پوری توقع تھی کہ وہ قلعہ‪ ،قلعے کی فوج اور العادل سمیت لے سکے گا۔
‫٭ ٭ ٭
‫بالڈون نے اپنی فوج کو قلعے سے اتنی دور پیچھے ہٹا لیا تھا جہاں تک قلعے والوں کے تیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اسے ایسا
‫خطرہ تو تھا ہی نہیں کہ باہر سے کوئی فوج اس پر حملہ کردے گی۔ سلطان ایوبی بھی وہاں نہیں تھا۔ اس کی فوج بھی
‫نہیں تھی۔ بالڈون کو حماة کا قلعہ اپنے قدموں میں پڑا نظر آرہا تھا۔ شام کے فورا ً بعد وہ اپنے کمانڈروں کو اگلے روز کے
‫احکامات دے کر اپنی ذاتی خیمہ گاہ میں چال گیا تھا جو فوج سے کچھ دور پیچھے تھی۔ اس دور کے جنگجو بادشاہوں کی
‫خیمہ گاہیں شیش محل سے کم نہیں ہوتی تھیں۔ بالڈون تو فاتح تھا۔ تین چار صلیبی لڑکیاں اس کے ساتھ تھیں اور چار وہ
‫مسلمان لڑکیاں تھیں جنہیں صلیبی کمانڈروں نے مفتوحہ عالقے سے پکڑا اور بالڈون کو بطور تحفہ پیش کی تھیں۔ یہ لڑکیاں
‫عرب کے حسن کا شاہکار تھیں۔
‫صلیبی لڑکیوں نے انہیں ذہن نشین کرادیا تھا کہ ان کا رونا اور آزاد ہونے کے لیے تڑپنا بے کار ہے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا تھا
‫کہ وہ خوش قسمت ہیں جو صلیب کے بادشاہ کے حصے میں آئی ہیں جو لڑکیاں صلیبی فوجیوں کے قبضے میں آگئی ہیں‪ ،ان
‫کا حشر دیکھ کر زمین اور آسمان کانپتے ہیں… ''تمہیں آخر کسی مسلمان امیر یا حکام کے حرم میں جانا تھا جہاں تم
‫قیدقی ہوتیں۔ دو چار سال بعد جب تمہاری نوجوانی کی کشش ماند پڑنے لگتی تو تمہیں کسی سوداگر کے ہاتھ فروخت کردیا
‫جاتا۔ تم اگر اپنی فوج کے ہاتھ چڑھ جاتیں تو تمہارے مسلمان بھائی تمہارا وہی حشر کرتے جو ہماری فوج کرتی ہے۔ عورت
‫کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‪ ،اسے جس کے ساتھ بیاہ دیا جائے یا وہ جس کے قبضے میں آجائے‪ ،وہی انسان اس کا خدا اور اس
‫کا مذہب بن جاتا ہے۔ پھر کیوں نہ تم اس انسان کے پاس رہو جو میدان جنگ کا بادشاہ ہے۔ ایک ملک کا بادشاہ ہے اور
‫دل کا بھی بادشاہ ہے''۔
‫پہلے روز لڑکیاں تڑپی تھیں۔ ان پر تشدد نہ کیا گیا‪ ،انہیں کوئی دھمکی نہ دی گئی۔ بالڈون نے جب دیکھا کہ یہ نوجوان ہیں
‫اور خوبصورت بھی ہیں تو اس نے اپنی ہائی کمانڈ کے جرنیلوں سے کہا تھا کہ ان لڑکیوں کو ٹریننگ دے کر بہتر طریقے سے
‫استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایسی قیمتی لڑکیوں کو عیاشی کا ذریعہ بنا کر ضائع نہیں کرنا چاہیے چنانچہ اس نے انہیں اپنے
‫پاس رکھ لیا تھا مگر اس سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی کہ وہ انہیں بیٹیاں بنا کر رکھے گا۔ اس نے ان کے ساتھ
‫وہی سلوک کیا جس کی توقع تھی لیکن انہیں اپنی قوم کی شہزادیوں جیسی اہمیت دی‪ ،انہیں سبز باغ دکھائے اور باتوں
‫باتوں میں انہیں آسمان تک پہنچا دیا۔
‫ہمیں اپنی عصمت کی قربانی دینی ہی پڑے گی''… ان میں سے ایک لڑکی نے اس وقت کہا جب چاروں کو تنہائی '' ‪:
‫میں باتیں کرنے کا موقع مال تھا… ''ہمیں فرار ہونا چاہیے''۔
‫اور انتقام لینا چاہیے''۔ دوسری نے کہا۔''
‫لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم ان پر یہ ظاہر نہ کریں کہ ہم نے ان کی غالمی دلی طور پر قبول کرلی ''
‫ہے''… پہلی لڑکی نے کہا… ''ہمیں اپنا اعتماد پیدا کرنا ہے''۔
‫میرے والد سلطان ایوبی کی فوج میں ہیں''… ایک اور لڑکی نے کہا… ''آج کل مصر میں ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ''
‫کافروں کی لڑکیاں اپنی قوم اور اپنی صلیب کی خاطر اپنی عزت کی قیمت دے کر ہمارے بڑے بڑے حاکموں کو صلیب کی
‫وفادار بنا لیتی ہیں‪ ،کسی کو قتل کرنا ہو تو قتل کرادیتی ہیں۔ ہماری فوج کے راز معلوم کرکے اپنے حاکموں تک پہنچاتی
‫ہیں''۔
‫میں جانتی ہوں''… ایک اور لڑکی بولی… ''ان کی لڑکیاں وہی کام کرتی ہیں جو ہمارے مرد جاسوس دشمن کے ملک ''
‫میں جا کر کرتے ہیں''۔ وہ چپ ہوگئی۔ ادھر ادھر دیکھ کر راز داری سے بولی… ''اگر ہم انہیں کہہ دیں کہ ہم ان کا
‫مذہب قبول کرتی ہیں تو ایسا موقع پیدا ہوسکتا ہے کہ ہم اس بادشاہ کو قتل کردیں''۔
‫اور کچھ نہ ہوا تو فرار کا موقع پیدا کیا جاسکتا ہے''… ایک لڑکی نے کہا۔''
‫جس رات بالڈون کی فوج نے حماة کے قلعے کو محاصرے میں لے رکھا تھا‪ ،اس سے دو راتیں پہلے لڑکیوں نے پیش قدمی کے
‫دوران صلیبی لڑکیوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ ان کی باتیں سمجھ گئی ہیں اور وہ کسی وقت بھی مذہب تبدیل کرلیں گی۔

‫بالڈون کو بتایا گیا تو اس نے چاروں لڑکیوں کو بیش قیمت ہار پیش کیے اور چاروں کے گلے میں چھوٹی چھوٹی صلیبیں لٹکا
‫دیں مگر اس نے صلیبی لڑکیوں کو الگ کرکے کہا… ''میں ان چاروں میں سے کسی کے ہاتھ سے کچھ کھائوں‪ ،پئوں گا نہیں۔
‫ہوسکتا ہے انہوں نے ڈر کی وجہ سے مذہب تبدیل کیا ہو۔ زبان سے مذہب تبدیل کیا جاسکتا ہے‪ ،دل کی تبدیلی آسان نہیں
‫ہوتی۔ ان کے دلوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرو۔ مسلمانوں کو خریدنا کوئی مشکل نہیں‪ ،لیکن مسلمانوں پر بھروسہ کرنا بھی
‫خطرے سے خالی نہیں جو مسلمان ایمان کے پکے ہیں‪ ،وہ ایسی ایسی قربانی دے ڈالتے ہیں جس کا ہماری قوم تصور بھی
‫نہیں کرسکتی۔ یہ لڑکیاں کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتیں لیکن ان پر نظر رکھنا کہ یہ مجھ پر وار نہ کرجائیں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫محاصرے کی پہلی رات یہ چاروں لڑکیاں الگ خیمے میں سوئی ہوئی تھیں۔ بالڈون بھی ان کے ساتھ ہنس کھیل کر سوگیا تھا۔
‫تمام چھوٹے بڑے کمانڈر بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ فوج کو بھی ہوش نہیں تھی۔ صرف سنتری اور بالڈون کے باڈی
‫گار ڈ کے چارپانچ سپاہی جاگ رہے تھے۔ قرون حماة کی ایک وادی قلعے کی طرف نکلتی تھی۔ آگے قلعے تک میدان تھا۔
‫اس وادی سے کم وبیش ایک ہزار پیادہ سپاہی دبے پائوں نکلے۔ ان کے کمانڈر نے انہیں ٹولیوں میں بانٹ کر پھیال دیا۔ وہ
‫آگے بڑھتے گئے۔ بالڈون کی فوج کے خیمے دور نہیں تھے۔
‫یہ پیادہ سپاہی العادل کے تھے۔ العادل قلعے میں نہیں تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ صلیبی قلعے کا محاصرہ کریں گے‪ ،چنانچہ اس
‫نے اپنے تمام دستے حماة کی پہاڑیوں میں چھپالیے تھے۔ اس نے قلعے میں اطالع بھجوائی تھی کہ محاصرے سے گھبرائیں
‫نہیں۔ العادل نے قلعہ دار کو اپنی سکیم بتا دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ قلعہ دار صلیبیوں کی للکار کا جواب پوری دلیری سے
‫اور تیروں کی بوچھاڑ سے دے رہا تھا۔ قلعہ دار العادل کا ماموں شہاب الدین الحارمی تھا۔ رات کو العادل کے ایک ہزار پیادوں
‫نے ٹولیوں میں تقسیم ہوکر اور پھیل کر شب خون کے انداز کا حملہ کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے خیمے کی رسیاں کاٹیں
‫اور اوپر سے صلیبیوں کو برچھیوں سے چھلنی کرنا شروع کردیا۔ خیموں کے نیچے پھنسے ہوئے سپاہی کیا مزاحمت کرسکتے
‫تھے۔
‫یہ جم کر لڑنے واال معرکہ نہیں تھا۔ یہ سلطان ایوبی کا مخصوص طریقہ جنگ تھا… ''ضرب لگائو اور بھاگو''… اتنی بڑی
‫فوج کے خالف ایک ہزار سپاہی جم کر لڑ بھی نہیں سکتے تھے۔ ٹولیوں کو مختلف کام دئیے گئے تھے۔ یہ دو تین ٹولیوں نے
‫صلیبیوں کے گھوڑوں‪ ،اونٹوں اور خچروں کے رسے کھول دئیے۔ یہ ایک ہزار سپاہی بگولے کی طرح آئے اور دائیں بائیں کو نکل
‫گئے۔ صلیبیوں کی فوج میں ایسا شور اٹھا کہ ایسی ہڑبونگ مچی کہ زمین وآسمان کانپنے لگے۔
‫باڈون کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے کمانڈر بھی جاگ اٹھے۔ خیمے سے باہر جاکر بالڈون نے دیکھا کہ کہیں آگ لگی ہوئی ہے۔
‫العادل کے سپاہیوں نے خیموں کو آگ لگا دی تھی۔ حملے کے وقت انہوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے تھے۔ یہ نعرے
‫مسلمان لڑکیوں نے بھی سنے تھے۔ وہ سمجھ گئیں کہ یہ مسلمان فوج کا حملہ ہے۔ ایک لڑکی نے کہا کہ بھاگ چلو لیکن دو
‫لڑکیاں جوش میں آگئیں۔ وہ بالڈون کو قتل کرنے کے لیے تیار ہوگئیں‪ ،وہاں مشعلیں جال دی گئیں۔ بالڈون کے باڈی گارڈ اس
‫کے اردگرد گھوڑوں پر سوار کھڑے ہوگئے۔
‫اتنے میں زمین بڑی زور سے ہلنے لگی اور ہزاروں گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دینے لگی۔ یہ العادل کے سوار تھے جن کی تعداد
‫مسلمان مورخ دو ہزار بتاتے ہیں اور یورپی مورخ چار ہزار سے زیادہ۔ ان گھوڑ سواروں نے پھیل کر بڑا ہی شدید اور خون ریز
‫ہلہ بوال۔ صلیبی مقابلے کی حالت میں نہیں تھے۔ انہیں ابھی معلوم ہی نہیں ہوسکا تھا کہ یہ کیاہورہا ہے اور حملہ آور کہاں
‫سے آئے ہیں۔ ان کے نعروں سے ثبوت ملتا تھا کہ مسلمان ہیں۔ العادل کے سوار صلیبیوں کے محاصرے کو توڑتے ہوئے اور
‫راستے میں جو آیا اسے گھوڑوں تلے روندتے یا تلواروں اور برچھیوں کا نشانہ بناتے ہوئے قلعے کی طرف نکل گئے۔ کمانڈروں
‫کی پکار پر انہوں نے گھوڑے پیچھے کو موڑے اور ایڑی لگا دی۔ وہ ایک بار پھر افراتفری میں بھاگتے دوڑتے صلیبیوں میں سے
‫گزرے۔
‫قلعے کی دوسری طرف جو صلیبی فوج تھی‪ ،اس پر حملہ نہیں ہوا تھا۔ اس حصے نے ادھر کا شوروغوغا اور گھوڑوں کی
‫قیامت خیز آوازیں سنیں تو ان میں بھی بھگڈڑ مچ گئی۔ ادھر کے صلیبی سپاہی ادھر کو بھاگے۔ ان کے ہزار ہا گھوڑے‪ ،اونٹ
‫اور خچریں کھول دی گئی تھیں۔ انہوں نے بھاگ دوڑ کر سپاہیوں کو کچلنا اور خوف زدہ کرنا شروع کردیا۔ بالڈون کی فوج کا
‫وہ حصہ بھاگ اٹھا۔
‫ادھر چاروں مسلمان لڑکیاں الپتہ ہوگئیں۔ ان میں سے ایک اس کوشش میں تھی کہ مسلمان سپاہیوں کو بتائے کہ بالڈون یہاں
‫ہے مگر وہاں سب سوار تھے اور سرپٹ گھوڑے دوڑا رہے تھے۔ وہ صلیبیوں کی فوج سے دور نکل گئی۔ دو تین سواروں کے
‫ساتھ چیختی چالتی دوڑی مگر وہاں اس قدر شور تھا کہ کسی نے اس کی آواز نہ سنی‪ ،کوئی اس کی طرف توجہ نہ دے
‫سکا۔ وہ دور پیچھے نکل گئی۔ ایک سوار نے گھوڑا روک لیا۔ لڑکی نے اسے ہانپتی کانپتی آواز میں بتایا کہ وہ مسلمان ہے
‫اور اس جیسی تین اور مسلمان لڑکیاں صلیبی بادشاہ کے قبضے میں ہیں۔ بالڈون کی خیمہ گاہ جو اس کا جنگی ہیڈکوارٹر بھی
‫تھا‪ ،فوج سے الگ اور دور تھی۔ لڑکی کی آوازپر جس سوار نے گھوڑا روکا تھا‪ ،وہ کوئی کمان دار تھا۔ اس نے لڑکی کو گھوڑے
‫پر بٹھایا اور پیچھے لے گیا۔
‫وہاں العادل کا ایک ساالر تھا جس نے لڑکی کی پوری بات سنی۔ لڑکی نے بالڈون کے ہیڈکوارٹر کی نشاندہی کی۔ ساالر نے
‫وہاں شب خون مارنے اور بالڈون کو پکڑنے کے لیے دو جیش تیار کیے اور خود ان کی قیادت کی۔ اس نے سرپٹ گھوڑے دوڑا
‫کر بالڈون کی خیمہ گاہ کو گھیرے میں لے لیا۔ ان کے ساتھ جلتی ہوئی مشعلیں بھی تھیں۔ ساالر نے بالڈون کو للکارا۔ خیموں
‫کو آگ لگانے کی دھمکی دی۔ ان میں مالزم‪ ،صلیبی اور تین مسلمان لڑکیاں اور چند ایک سپاہی تھے۔ ان سب کو پکڑ لیا
‫گیا۔ بالڈون کے متعلق پوچھا گیا مگر کوئی نہ بتا سکا کہ وہ کہاں ہے۔
‫اس وقت بالڈون گھبراہٹ کے عالم میں آگے چال گیا تھا۔ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ یہ مسلمان فوج کا شب خون ہے‪ ،لیکن ‪:
‫وہاں اس قدر بھگڈر تھی اور اتنے زیادہ گھوڑے دوڑ رہے تھے اور زخمی ایسی بری طرح چیخ رہے تھے کہ صورت حال پر قابو
‫پانا بالڈون کے بس کا روگ نہیں تھا۔ وہ واپس اپنی خیمہ گاہ کو چل پڑا۔ اس کے ساتھ باڈی گارڈز بھی تھے۔ وہ خیمہ گاہ
‫سے ابھی کچھ دور ہی تھا کہ ادھر سے ایک سوار گھوڑا دوڑاتا آیا۔ گھوڑا اس کے سامنے روک کر بالڈون سے کہا کہ وہ کہیں
‫چال جائے اپنی خیمہ گاہ میں نہ جائے‪ ،کیونکہ وہاں مسلمان فوج پہنچ چکی ہے۔ بالڈون نے وہیں سے گھوڑے کا رخ پھیر لیا۔
‫رات بھر العادل نے ''ضرب لگائو اور بھاگو'' کی کارروائی جاری رکھی۔ جب صبح طلوع ہوئی تو حماة کے قلعے کے اردگرد
‫صلیبیوں کی الشیں بکھری ہوئی تھیں۔ ان میں زخمی بھی کراہ رہے تھے اور ان میں العادل کے شہیدوں کی الشیں بھی تھیں۔
‫خچریں‪ ،گھوڑے اور اونٹ دور دور بکھرے ہوئے چر رہے تھے۔ وہاں بالڈون تھا نہ اس کی فوج۔ صلیبی اپنی رسد بھی پھینک

‫گئے تھے۔ العادل نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ دشمن کا سامان اکٹھا کرے اور اس کے جانوروں کو پکڑے۔ العادل کا یہ
‫حملہ دلیری‪ ،جذبے‪ ،فن حرب وضرب کے لحاظ سے قابل تعریف حملہ تھا مگر جنگی نقطہ نگاہ سے اس سے کوئی فائدہ نہ
‫اٹھایا جاسکا۔ ضرورت یہ تھی کہ افراتفری میں بھاگتے ہوئے صلیبیوں کا تعاقب کرکے ان کی جنگی قوت کو مکمل طور پر تباہ
‫کردیا جاتا‪ ،پھر پیش قدمی کرکے اس عالقے میں داخل ہوا جاتا جو صلیبیوں نے فتح کرلیاتھا۔ قیدی پکڑے جاتے جنہیں اپنے
‫قیدی چھڑانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا‪ ،مگر العادل کے لیے ممکن نہ تھا کہ کامیاب شب خون سے کوئی بڑی کامیابی
‫حاصل کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس فوج کی کمی تھی۔ وہ تعاقب کے قابل نہیں تھا۔ شب خون اور
‫چھاپہ مارنے سے دشمن کو پریشان اور ادھ موا کیا جاتا ہے۔ اسے شکست دے کر عالقے پر قبضہ کرنے کے لیے پوری فوج
‫حملہ کرتی ہے۔ العادل نے ایک کام تو کرلیا تھا لیکن اگلے مرحلے کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔
‫البتہ اس نے یہ کامیابی حاصل کرلی کہ اس نے اس قلیل فوج کے جذبے پر رملہ کی شکست کا جو برا اثر پڑا تھا‪ ،وہ صاف
‫ہوگیا اور سپاہیوں کے جذبے تروتازہ ہوگئے۔ ان کے دلوں میں یہ اعتماد بحاء ہوگیا کہ صلیبی ان سے برتر نہیں اور وہ کسی
‫بھی میدان میں صلیبیوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ ضرورت فوج میں اضافے کی تھی۔ یہ کامیابی بھی حاصل کی گئی کہ
‫حماة کے قلعے کو بچا لیا گیا‪ ،ورنہ صلیبیوں کو ایک قلعہ بند اڈا مل جاتا۔
‫العادل اپنے ہیڈکوارٹر میں دانت پیس رہا تھا۔ اس کے ساالروں کی جذباتی حالت اس سے زیادہ مشتعل تھی۔ اگر ان کے پاس
‫فوج ہوتی تو وہ اس شب خون کے بعد بہت بڑی کامیابی حاصل کرلیتے اور بالڈون اپنی فوج کو زندہ نہ لے جاسکتا۔ العادل
‫نے کاتب کو بالیا اور اپنے بڑے بھائی سلطان صالح الدین ایوبی کے نام خط لکھوانے لگا۔
‫''!برادر بزرگوار‪ ،سلطان مصر وشام'' ‪:
‫اللہ آپ کو سلطنت اسالمیہ کے وقار کی خاطر عمر طویل عطا فرمائے۔ میں اس امید پر خط لکھ رہا ہوں کہ آپ ''
‫بخیروعافیت قاہرہ پہنچ چکے ہوں گے۔ کسی نے اطالع دی تھی کہ آپ شہید ہوگئے ہیں پھر معلوم ہوا کہ زخمی ہوئے ہیں۔
‫میں اور میرے ساالر فکر مند رہے۔ آپ نے دانش مندی کی جو راستے سے قاصد بھیج کر ہمیں بتا دیا کہ آپ زندہ وسالمت
‫ہیں اور قاہرہ جارہے ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ آپ نے رملہ کی شکست کو دل پر بار نہیں بنایا ہوگا۔ ہم انشاء اللہ شکست کا
‫…''انتقام لیں گے۔ کھوئے ہوئے عالقے واپس لیں گے اور بیت المقدس سے بھی آگے جائیں گے
‫آپ شکست کے اسباب پر غور کررہے ہوں گے۔ میں اس کی ذمہ داری فوج پر عائد نہیں کروں گا۔ ہمیں شکست کے ''
‫راستے پر اپنے بھائیوں نے اسی روز ڈال دیا تھا جس روز ہمارے خالف صف آراء ہوئے تھے۔ جب دو بھائی آپس میں لڑتے
‫ہیں تو ان کے دشمن ہمدردی کے پردے میں انہیں ایک دوسرے کے خالف مشتعل کرتے ہیں۔ ہمارے بھائیوں کو بادشاہی کے
‫نشے نے اندھا کیا۔ وہ دولت جس کی ضرورت سلطنت اسالمیہ کو تھی‪ ،خانہ جنگی میں ضائع ہوئی۔ ہماری فوج کی بہترین
‫اور تجربہ کار نفری تباہ ہوگئی۔ ان کی فوج جو اسی خالفت کی فوج تھی جس کے ہم ہیں‪ ،صرف اس لیے ضائع ہوگئی کہ
‫چند ایک افرادنے تخت وتاج کے خواب دیکھنے شروع کردئیے تھے جس قوم کے سربراہوں میں تخت وتاج کا اللچ پیدا ہوگا
‫اس کو وہ اپنے اپنے عزائم کے مطابق دھڑوں میں تقسیم کرکے آپس میں ضرور لڑائیں گے۔ ہمیں اس طرف بھی توجہ دینی
‫پڑے گی کہ قوم دھڑوں اور گروہوں میں تقسیم نہ ہونے پائے۔ مذہبی فرقہ بندیاں ہی کیا کم تھیں کہ سلطانی کے حصول کے
‫لیے قوم گروہوں میں تقسیم ہونے لگی ہے۔ ہمیں شکست تک اسی فرقہ بندی نے پہنچایا ہے مگر اس کی سزا آج ساالروں اور
‫سپاہیوں کو مل رہی ہے۔ ہماری بہترین فوج خانہ جنگی میں ضائع ہوئی۔ اس کمی کو ہم نے نئی بھرتی سے پورا کیا اور
‫…''شکست کھائی۔ میدان جنگ سے بے ترتیب بھاگنے والے تمام نئے سپاہی تھے
‫میں نے اور میرے ساالروں نے رملہ کی شکست کے فورا ً بعد ثابت کردیا ہے کہ فوج نہیں ہاری۔ میرے پاس وہی پیادہ اور ''
‫سوار نفری تھی جو آپ نے میری کمان میں دی تھی۔ آپ نے مجھے محفوظہ (ریزرو) میں رکھا مگر میدان جنگ کی کیفیت
‫اس قدر تیزی سے بدل گئی کہ مجھ تک آپ کا کوئی حکم نہ پہنچ سکا۔ یہ بھی پتہ نہ چال کہ آگے کیا ہورہا ہے اور میں
‫آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں۔ پسپا ہونے والے ایک کمان دار نے جو دائیں پہلو پر تھا‪ ،مجھے بڑی ہی تشویشناک اطالع دی
‫اور مشورہ دیا کہ میں اپنے دستے استعمال نہ کروں اور حملے کی لغزش نہ کروں۔ میں نے یہی بہتر سمجھا کہ کم از کم ان
‫دستوں کو جو معرکے میں ابھی شریک ہی نہیں ہوئے‪ ،بچا لوں۔ میں نے اپنے جذبات پر قابو پالیا اورعقل سے کام لیا۔ میں
‫…''نے حماة کی طرف کوچ کا حکم دے دیا
‫میرے دستوں کا جذبہ کسی حد تک مجروح ہوگیا تھا۔ میں دعا کرتا رہا کہ دشمن میرے سامنے آئے اور میں اپنے دستوں ''
‫کے جذبے میں جان ڈالوں۔ میں نے مخبر پیچھے چھوڑ دئیے تھے۔ حماة کے کوہستان میں مجھے مخبروں نے یہ قیمتی خبریں
‫دیں کہ بالڈون میرے تعاقب میں آرہا ہے۔ وہ اس غلط فہمی میں اپنی تمام تر فوج حماة کے قلعے کو محاصرے میں لینے کو
‫آیا کہ میں قلعے میں ہوں گا لیکن میں نے آپ کے طریقہ جنگ کے عین مطابق کوہستان کے اندر دستے چھپا دئیے تھے اور
‫قلعہ دار کو صورت حال اور اپنی متوقع چال کے متعلق تفصیال ً بتا دیا تھا۔ میری توقع اللہ نے پوری کی۔ بالڈون کی فوج پر
‫جس کی قوت ہم سے دس گنا زیادہ تھی‪ ،میرے جانباز جیشوں نے بڑا ہی دلیرانہ اور کامیاب شب خون مارا یہ آپ کی اس
‫فوج کا شب خون تھا جس کے متعلق تاریخ کہے گی کہ اس نے شکست کھائی تھی۔ میری خواہش ہے کہ یہ شب خون
‫…''تحریر میں ال کر کاغذات میں رکھ لیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں یہ نہ کہیں شکست کے بعد قوم مر ہی جاتی ہے
‫اگر آپ وہ منظر دیکھتے جو اگلے روز کے سورج نے ہمیں دکھایا تو آپ شکست کے صدمے کو بھول جاتے۔ مجھے افسوس ''
‫ہے کہ بالڈون میرے پھندے سے نکل گیا۔ اسے پکڑا نہیں جاسکا۔ میں اس وقت ایک ٹیکری پر کھڑا کاتب سے یہ خط لکھوا
‫رہا ہوں۔ مجھے حماة کا قلعہ نظر آرہا ہے۔ اس پر وحدت مصر وشام کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ قلعے کے اردگرد صلیبیوں کی
‫الشوں کے عالوہ کچھ اور دکھائی دیتا ہے تو وہ ہزاروں گدھ ہیں جو الشوں کو کھا رہے ہیں۔ آسمان سے گدھ اتر رہے ہیں۔
‫کہیں کہیں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ یہ آگ گزشتہ رات میرے چھاپہ ماروں نے لگائی تھی۔ بالڈون کی فوج جس افراتفری میں
‫…''بھاگی ہے‪ ،اس سے میں وثوق سے کہتا ہوں کہ بالڈون جوابی حملہ نہیں کرسکے گا۔ تاہم میں اس کے لیے تیار ہوں
‫اگر میرے پاس اتنے ہی دستے اور ہوتے جتنے اب ہیں تو میں صلیبیوں کا تعاقب کرتا اور شکست کو فتح میں بدل دیتا۔ ''
‫میں آپ کو یقین دالتا ہوں کہ میرے ساالروں‪ ،کمان داروں اور تمام تر سپاہ کا لڑنے کا جذبہ تروتازہ ہوگیا ہے۔ مجھے امید ہے
‫کہ آپ آرام سے نہیں بیٹھے ہوں گے۔ فوج کے لیے بھرتی اور نئی تنظیم میں مصروف ہوگئے ہوں گے۔ آپ اطمینان سے تیاری
‫کریں‪ ،میں چھاپہ مار جنگ جاری رکھوں گا۔ دشمن کو کہیں بھی آرام سے بیٹھنے نہیں دوں گا۔ اس طرح میں کسی عالقے پر
‫قبضہ تو نہیں کرسکوں گا‪ ،البتہ آپ کو تیاری کا وقت مل جائے گا۔ میں نے دمشق بھائی شمس الدولہ کو پیغام بھیج دیا ہے
‫کہ مجھے چند ایک دستے اور دیگر سامان بھیجے۔ حلب‪ ،الملک الصالح کو بھی پیغام بھیج دیا ہے کہ معاہدے کے مطابق

‫مجھے مدد دے۔ میں آپ کو اللہ کے بھروسے پر تسلی دے رہا ہوں کہ میرے متعلق فکر نہ کریں۔ میں اور میرے ساالر آپ
‫کی خیریت اور سرگرمیوں کے متعلق جاننے کو بے تاب ہیں۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اسی کی ذات باری سے مدد مانگتے ہیں
‫''اور ہم سب کو اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔
‫''الملک العادل''
‫العادل نے خط پڑھوا کر سنا۔ اس پر دستخط کیے اور قاصد کو دے کر قاہرہ کو روانہ کردیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫قاہرہ کی فضا پر مایوسی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سلطان صالح الدین ایوبی وہاں پہنچ چکا تھا۔ شہر میں اور شہر کے
‫مضافات میں یہی ایک آواز ابھرتی سنائی دیتی تھی‪ ،شکست‪ ،شکست‪ ،شکست… شکوک اور شبہات بھی ابھرنے لگے تھے۔
‫شکست جیسے حادثات اور ایسے واقعات جن کے متعلق لوگوں کو کچھ پتہ نہ چل سکے‪ ،ایسی فضا پیدا کردیتے ہیں جس سے
‫افواہیں پھوٹتی‪ ،پھلتی‪ ،پھولتی اور پھیلتی ہیں۔ یہ عمل قاہرہ کے اندر بھی اور اردگرد بھی شروع ہوگیا تھا۔ وہاں دشمن کے
‫تخریب کار اور جاسوس بھی موجود تھے جو یورپ کے باشندے نہیں مصر کے رہنے والے مسلمان تھے۔ اس کی انہیں اجرت
‫ملتی تھی کہ لوگوں میں یہ مشہور کریں کہ صلیبیوں کے پاس اتنی جنگی قوت ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی فوج نہیں
‫ٹھہر سکتی۔ سلطان ایوبی کی ہاری ہوئی فوج کے خالف یہ مشہور کیا جانے لگا کہ بے کار اور عیاش فوج ہے۔ جہاں جاتی
‫ہے‪ ،لوٹ مار کرتی اور مسلمان خواتین کی آبروریزی سے بھی گریز نہیں کرتی۔ سلطان ایوبی کی جنگی اہلیت کے خالف بھی
‫باتیں شروع ہوگئیں۔
‫لوگ جس قدر سیدھے سادھے ہوتے ہیں‪ ،اتنے ہی زیادہ افواہوں اور جذباتی باتوں کو مانتے ہیں۔ مصریوں نے دہشت کو بھی
‫قبول کرنا شروع کردیا تھا۔ زیادہ تر دہشت وہ سپاہی پھیالتے تھے جو اکیلے یا دو دو چار چار کی ٹولیوں میں مصر کی سرحد
‫میں داخل ہورہے تھے۔ یہ دیہات کے رہنے والے تھے‪ ،جنہیں بھرتی کرکے اور تھوڑی سی ٹریننگ دے کر میدان جنگ میں لے
‫جایا گیا تھا۔ العادل نے ٹھیک لکھا تھا کہ بادشاہی کے اللچی مسلمان امراء اپنی اور سلطان ایوبی کی فوج کو خانہ جنگی
‫میں ضائع نہ کرادیتے تو نئی بھرتی کو میدان جنگ میں لے جانے کا خطرہ مول نہ لیا جاتا۔ ایک غلطی بھرتی کرنے والے
‫چند ایک حکام نے کی تھی جو یہ تھی کہ فوج میں کشش پیدا کرنے کے لیے انہوں نے بھرتی ہونے والوں کو مال غنیمت کا
‫اللچ دیا تھا جبکہ ضرورت یہ تھی کہ انہیں
‫جہاد کے فضائل اور اغراض ومقاصد بتائے جاتے اور بتایا جاتا کہ ان کا دشمن کون ہے‪ ،کیسا ہے اور اس کے عزائم کیا ہیں۔
‫یہ سپاہی پیادہ بھی آرہے تھے۔ اونٹوں اور گھوڑوں پر بھی آرہے تھے۔ جب کوئی سپاہی کسی آبادی میں داخل ہوتا تھا‪: ،
‫لوگ اسے گھیر لیتے‪ ،کھیالتے پالتے اور میدان جنگ کی باتیں پوچھتے تھے۔ یہ گنوار سپاہی شکست کی خفت مٹانے کے لیے
‫اپنے کمانڈروں کو نااہل اور عیاش ثابت کرتے اور صلیبی فوج کے متعلق دہشت ناک باتیں سناتے تھے۔ بعض کی باتوں سے
‫پتہ چلتا تھا جیسے صلیبیوں کے پاس کوئی مافوق الفطرت قوت ہے جس کے زور پر وہ جدھر جاتے ہیں‪ ،صفایا کرتے جاتے
‫ہیں۔
‫ایسے مورخوں کی تعداد زیادہ تو نہیں لیکن دو تین نے جن میں ارنول قابل ذکر ہے۔ لکھا ہے کہ صلیبی ایک خفیہ ہتھیار
‫الئے تھے اور یہی ان کی فتح کا باعث بنا تھا۔ تاریخ کی مختلف تحریروں میں اس خفیہ ہتھیار کا آگے چل کر کوئی ذکر
‫نہیں ملتا۔ قاضی بہائوالدین شداد کی ڈائری میں جو عینی شہادت ہے‪ ،ایسے کسی ہتھیار کا ذکر نہیں۔ اس دور کے دیگر وقعہ
‫نگاروں اور کاتبوں کی تحریریں بھی اس پراسرار ہتھیار کے متعلق خاموش ہیں۔ غالبا ً یہ ہتھیار اس پراپیگنڈے کا ایک خالی
‫ہتھیار تھا جسے مصر ( اور دیگر مسلمان عالقوں) میں صلیبیوں کی دہشت پھیالنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے اس کے
‫بہت زیادہ ذکر سے مورخوں نے اسے حقیقی سمجھ لیا ہو۔
‫یہ خفیہ ہتھیار دراصل پراپیگنڈا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ قوم کی نظروں میں فوج کو ذلیل ورسوا کردیا جائے تاکہ سلطان
‫ایوبی کی فوج قوم کے تعاون اور نئی بھرتی سے محروم ہوجائے۔ دوسرا یہ کہ مسلمانوں پر صلیبیوں کی دھاک بیٹھ جائے۔
‫تیسرا یہ کہ سلطان ایوبی کے خالف عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوجائے۔ چوتھا یہ کہ کچھ اور لوگ سلطانی کے دعوے دار بن
‫جائیں اور ایک بار پھر خانہ جنگی شروع کرائی جائے۔
‫سلطان ایوبی دشمن کے اس ہتھیار سے اچھی طرح واقف تھا۔ اس نے قاہرہ پہنچتے ہی اپنی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر علی
‫بن سفیان‪ ،کوتوال غیاث بلبیس اور ان دونوں کے نائبین کو بال کر پوری وضاحت سے بتا دیا تھا کہ اب وہ دشمن کے اس
‫زمین دوز حملے کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں اور اپنے جاسوسوں اور مخبروں کو زیرزمین کرکے سرگرم کردیں… مگر
‫لوگ جاننا چاہتے تھے کہ اس شکست کے اسباب کیا ہیں اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫رملہ سے قاہرہ تک کی مسافت بڑی ہی لمبی تھی اور سفر بھیانک اور کٹھن تھا۔ راستے میں پہاڑی عالقے بھی تھے‪ ،مٹی
‫اور ریت کے ٹیلوں کی بھول بھلیاں بھی اور صحرا بھی تھا جو بھولے بھٹکے مسافروں کا خون چوس لیا کرتا ہے۔ سلطان
‫ایوبی کے وہ سپاہی جو میدان جنگ سے مصر کو چل پڑے تھے‪ ،وہ اس لمبی اور بھیانک مسافت میں بکھر گئے تھے۔ ان
‫کی واپسی کا منظر ہیبت ناک تھا۔ ان میں جو ریگزار کے سفر سے آشنا نہیں تھے‪ ،وہ جہاں گرتے‪ ،وہاں سے اٹھ نہیں سکتے
‫تھے۔ ان کی الشیں صرف ایک روز سالم نظر آتی تھیں۔ اگلے روز صحرائی لومڑیاں اور بھیڑئیے ان کی ہڈیاں بکھیر دیتے تھے۔
‫ٹولیوں میں آنے والے اس انجام سے بچے رہتے تھے اور جو اونٹوں‪ ،خچروں اور گھوڑوں پر سوار تھے‪ ،ان کے زندہ واپس
‫آجانے کے امکانات زیادہ تھے۔
‫ایسی ہی ایک ٹولی چلی آرہی تھی۔ یہ سب سپاہی تھے اور وہ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھے۔ راستے میں ان کے اکیلے
‫دھکیلے ساتھی ان کے ساتھ ملتے گئے اور یہ ٹولی تیس چالیس افراد کا قافلہ بن گیا۔ وہ اس بھیانک ریگزار میں سے گزر
‫رہے تھے جو آج صحرائے سینائی کہالتا ہے۔ اکٹھے ہونے کی وجہ سے ان کا حوصلہ قائم تھا مگر افق تک پانی کے آثار نظر
‫نہیں آتے تھے۔ دور دور میدان جنگ سے زندہ نکلے ہوئے فوجی‪ ،ایک ایک دو دو قدم گھسیٹتے جاتے نظر آتے تھے۔ وہ ایک
‫دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرسکتے تھے‪ ،سوائے اس کے کہ کوئی مرجاتا تو اس کا کوئی ساتھی اسے ریت میں دفن کردیتا
‫تھا۔
20:50
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪120جب فرض نے محبت کا خون کیا

‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ریت میں دفن کردیتا تھا۔ سواروں کا یہ قافلہ چال آرہا تھا۔ آگے وہ عالقہ آگیا جہاں مٹی کے اونچے نیچے ٹیلے دیواروں‪،
‫ستونوں اور مکانوں کی طرح کھڑے تھے۔ کسی نے دور سے ایک ٹیلے پر ایک آدمی کا سر اور کندھے دیکھے اور وہ غائب
‫ہوگیا۔ دیکھنے والے نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس جگہ چل کر رک جائیں گے‪ ،وہاں کوئی اور بھی ہے۔ پانی نہ مال تو
‫سایہ مل جائے گا۔ قافلے میں اکثریت ان آدمیوں کی تھی جن کے دماغ تھکن اور پیاس سے مائوف ہوئے جارہے تھے۔ اس
‫سے پہلے وہ جنگ کی باتیں کرتے رہے تھے مگر اب اس کے منہ سے بات بھی نہیں نکلتی تھی۔ ان کے جانوروں میں ابھی
‫جان تھی اور وہ اچھی طرح چلے جارہے تھے۔
‫ایک میل دور کے ٹیلے سوکوس کی مسافت بن گئی۔ قافلہ وہاں پہنچ گیا اور دو ٹیلوں کے درمیان سے اندر چال گیا۔ اندر
‫ٹیلوں کا سایہ تھا۔ سب جانوروں سے اترے۔ جانوروں کو سائے میں چھوڑ کر سب ایک عمودی ٹیلے کے سائے میں بیٹھ گئے۔
‫ابھی بیٹے ہی تھے کہ ایک ٹیلے کی اوٹ سے ایک آدمی سامنے آیا اور بت بن کر کھڑا ہوگیا۔ وہ سر سے پائوں تک سفید
‫کپڑوں میں ملبوس تھا۔ ایک لمبا اور سفید چغہ تھا جو کندھوں سے ٹخنوں تک چال گیا تھا۔ اس کی داڑھی سیاہ تھی‪ ،لمبی
‫نہیں تھی۔ خوبی سے تراشی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں عصا تھا جو عموما ً عالم‪ ،فاضل یا خطیب ہاتھ میں رکھتے تھے۔ وہ
‫خاموش کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر سب پر خاموشی طاری ہوگئی۔ کسی نے آہستہ سے کہا… ''حضرت خضر علیہ السالم ہیں''۔
‫یہ اس زمین کا انسان نہیں''… ایک اور نے سرگوشی کی۔''
‫قافلے والوں کو ڈر محسوس ہونے لگا۔ وہ تو پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے۔ اس پراسرار آدمی نے ان کے ڈر میں اضافہ کردیا۔ کسی
‫میں ہمت نہیں تھی کہ اس سے پوچھتا کہ آپ کون ہیں۔ ایسے ظالم صحرا میں اس حیثیت کے کسی آدمی کی موجودگی
‫حیران کن تھی۔ وہ کوئی فوجی ہوتا تو سپاہیوں کے اس قافلے میں سے کوئی بھی نہ ڈرتا… ان کے ڈر میں اس وقت دہشت
‫آگئی‪ ،جب اس آدمی کے پہلو میں ایک عورت اس طرح آن کھڑی ہوئی جیسے اس آدمی کے جسم سے نمودار ہوئی ہو۔ وہ
‫اس کے پیچھے سے سامنے ہوئی اور اس کے پہلو میں کھڑی ہوگئی تھی۔ فورا ً بعد اسی طرح ایک اور عورت اس کے دوسرے
‫پہلو میں نمودار ہوئی۔ دونوں عورتیں سر سے پائوں تک مستور تھیں‪ ،ان کی آنکھوں کے سامنے جالی کی طرح باریک کپڑا
‫تھا۔ برقعہ نما لبادے سے ان کے ہاتھ بھی نظر نہیں آتے تھے۔
‫''تم پر اللہ کی رحمت ہو''… اس آدمی نے کہا… ''کیا میں آگے آکر بتا سکتا ہوں کہ ہم کون ہیں؟''
‫سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اس شخص اور عورتوں کی طرف دیکھا۔ کسی نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا… ''آپ
‫ہمارے پاس آئیں اور بتائیں کہ آپ کون ہیں اور ہمیں آپ جو حکم دیں گے‪ ،ہم اس کی تعمیل کریں گے''۔
‫وہ ایسی چال چلتا ان تک پہنچا جو عام انسان کی چال نہیں تھی۔ اس کے چلنے میں اور سراپا میں جالل سا تھا۔ دونوں
‫مستورات اس کے پیچھے پیچھے آئیں۔ سب احترام سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ احترام میں ڈر بھی شامل تھا۔ وہ ٹیلے کے ساتھ
‫بیٹھ گیا۔ مستورات بھی اس کے پاس گئیں۔ جالی میں سے ان کی آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ ان سے پتہ چلتا تھا کہ وہ
‫خوبصورت عورتیں ہیں لیکن ان میں سے کسی میں بھی اتنی جرٔات نہیں تھی کہ ان آنکھوں کا سامنا کرسکتا۔ سفید پوش
‫شخص اور ان مستورات کے کپڑوں پر گرد تھی جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ سفر میں ہیں۔
‫میں بھی وہیں سے آیا ہوں جہاں سے تم آرہے ہو''… سیاہ ریش نے بھاگے ہوئے مصری سپاہیوں سے کہا… ''فرق یہ ہے''
‫کہ تم جہاں جارہے ہو‪ ،وہ تمہارا گھر ہے اور جہاں سے آیا ہوں وہ میرا گھر تھا''… اس کے لہجے میں سنجیدگی اور اداسی
‫تھی۔
‫ہم کس طرح یقین کریں کہ آپ انسان ہیں''… ایک سپاہی نے پوچھا… ''ہم آپ کو آسمان کی مخلوق سمجھ رہے '' ‪:
‫ہیں''۔
‫میں انسان ہوں''… سیاہ ریش بزرگ نے جواب دیا… ''اور یہ دونوں میری بیٹیاں ہیں۔ میں بھی تمہاری طرح رملہ سے ''
‫بھاگ کر آرہا ہوں۔ اگر میرا پیرومرشد مجھ پر کرم نہ کرتا تو صلیبی مجھے قتل کردیتے اور میری ان دونوں بیٹیوں کو اپنے
‫ساتھ لے جاتے۔ یہ میرے مرشد کے مزار کی برکت ہے۔ میں رملہ کا رہنے واال ہوں۔ لڑکپن سے مذہب کا علم حاصل کرنے کا
‫شوق تھا۔ میں نے مسجدوں میں اماموں کی بہت خدمت کی اور ان سے علم حاصل کیا ہے۔ خدا اپنے رسول صلی اللہ علیہ
‫وآلہ وسلم کے مذہب کے پرستاروں پر بہت کرم نوازی کرتا ہے۔ ایک رات مجھے خواب میں اشارہ مال کہ بغداد چلے جائو اور
‫…''وہاں کے خطیب کی شاگردی میں بیٹھ جائو
‫میں پیدل چل پڑا۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ ماں باپ بہت غریب تھے۔ چھوٹا سا مشکیزہ بھی میرے نصیب میں ''
‫نہیں تھا کہ میں راستے کے لیے پانی ساتھ لے جاتا۔ علم کا عشق مجھے گھر سے نکال لے گیا۔ سب نے کہا یہ راستے
‫میں مرجائے گا۔ میری ماں بہت روئی تھی اور میرا باپ بھی بہت رویا تھا مگر میں چل پڑا۔ دن کے وقت پیاس اور بھوک
‫میری جان نکال لیتی تھی۔ شام کے بعد جب میں اس امید پر کہیں گر پڑتا تھا کہ مرجائوں گا‪ ،میرے قریب پانی کا ایک
‫پیالہ اور کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ رکھا ہوتا تھا۔ پہلی بار میں بہت ڈرا تھا۔ میں اسے جنات کا دھوکہ سمجھتا تھا لیکن
‫رات کو خواب میں اشارہ مال کہ یہ مرشد کی کرامت ہے۔ مجھے یہ پتہ نہ چال کہ وہ مرشد کون ہے اور کہاں ہے۔ میں کھا
‫…''پی کر گہری نیند سوگیا۔ صبح اٹھا تو وہاں پیالہ بھی نہیں تھا اور جس چنگیر میں روٹیاں تھیں‪ ،وہ بھی نہیں تھی
‫بغداد پہنچنے تک راستے میں دو نئے چاند طلوع ہوئے۔ بہت لمبا سفر تھا۔ ہر رات مجھے پیالے میں پانی اور چنگیر میں ''
‫کھانا ملتا رہا۔ بغداد میں جامع مسجد کے خطیب نے مجھے دیکھا تو میری عرض سنے بغیر بولے کہ میں تمہاری راہ دیکھ رہا
‫ہوں۔ وہ مجھے اپنے حجرے میں لے گئے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں ایک چنگیر پڑی تھی اور اس میں ایک
‫پیالہ رکھا تھا۔ خطیب نے پوچھا کہ تمہیں ہر رات کھانا اور پانی ملتا رہا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ملتا رہا ہے مگر حیران
‫موسی
‫وپریشان ہوں کہ یہ چنگیر اور پیالہ مجھ تک ہر رات کون لے جاتا اور واپس التا رہا تو وہ بولے کہ خدا نے حضرت
‫ٰ
‫علیہ السالم کی مدد کرنا چاہی تھی تو دریائے نیل کو حکم دیا تھا کہ راستہ دے دو۔ دریا کے آگے کا پانی آگے اور پیچھے کا
‫موسی علیہ السالم نکل آئے تھے اور جب فرعون ان کے تعاقب میں
‫پانی پیچھے رہ گیا اور خشکی کی اس گلی سے حضرت
‫ٰ
‫اس گلی میں داخل ہوا تو دریا کے دونوں حصے آپس میں مل گئے اور دریا اسی طرح قہر سے بہنے لگا جیسے بہتا تھا۔
‫…''فرعون غرق ہوگیا
‫خطیب مکرم نے کہا کہ ہم اس کی ذات کے تابع ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا اور جو ہمیں باری باری اس دنیا سے اٹھاتا ''
‫ہے۔ اس کا جو بندہ اس کے علم کے عشق سے دیوانہ ہوتا ہے جیسے تم ہوئے۔ اسے وہ صحرائوں میں پیاسا نہیں مرنے دیتا
‫اور دریائوں میں ڈوبنے نہیں دیتا۔ اس کی ذات باری نے مجھے اشارہ دیا کہ ہم نے اپنے ایک بندے کے لیے مہینوں کے فاصلے

‫اور ان فاصلوں کی صعوبتیں مٹا دی ہیں۔ تمہارے سینے میں جو علم ہے وہ اس لڑکے کے سینے میں منتقل کردو اور ہم نے
‫تمہاری خدمت کے لیے جو دو جنات مقرر کررکھے ہیں انہیں کہو کہ اس لڑکے کو راستے میں پانی اور کھانا پہنچاتے رہیں…
‫میں نے خدائے ذوالجالل کے حکم کی تعمیل کی۔ ہر رات تمہارے لیے یہاں سے کھانا اور پانی جاتا رہا ہے۔ حیران نہ ہو
‫لڑکے! پریشان بھی نہ ہو۔ بہت کم خوش نصیبوں کے دلوں میں علم کا چراغ روشن ہوتا ہے جس کی خواہش تم لے کر آئے
‫ہو۔ ارادہ نیک ہو‪ ،دل میں اللہ کی خوشنودی کی خواہش ہو تو جن وانس غالم ہوجاتے ہیں''۔
‫کیا جنات آپ کے غالم ہیں؟''۔ ایک سپاہی نے پوچھا۔''
‫وہ نہیں''۔ اس نے جواب دیا… ''میں ان کا غالم ہوں‪ ،کوئی کسی کو غالم نہیں بنا سکتا۔ ہم سب ایک خدا کے ایک ''
‫جیسے بندے ہیں۔ اونچا اور نیچا‪ ،امیری اور غریبی سے نہیں ہوتا۔ ایمان کی پختگی اور کمزوری سے انسانوں کی درجہ بندی
‫ہوتی ہے''۔
‫اس کی باتوں میں ایسا تاثر تھا جس نے سب کے دلوں کو موہ لیا اور سب دم بخود ہوکر سن رہے تھے۔ اس نے کہا… ‪:
‫''بغداد کے خطیب نے میری روح کو علم سے روشن کردیا۔ انہوں نے میری شادی بھی کرائی۔ وہیں میری یہ دونوں بچیاں
‫پیدا ہوئیں۔ میں نے بہت چلے کیے اور قدرت کے کارخانے کے دو تین راز پالیے۔ تب ایک رات میرے خطیب استاد نے کہا
‫کہ اب جا اور ان کی خدمت کر جو علم اپنے ساتھ قبروں میں لیے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے واپس اپنے گھر
‫رملہ چلے جانے کا حکم دیا۔ دو اونٹ دئیے۔ زاد راہ دیا اور کہا کہ گناہ کا کبھی خیال بھی دل میں نہ آنے دینا۔ رملہ پہنچو
‫گے تو ایک رات تم اپنے ارادے کے بغیر اٹھ کر چل پڑو گے۔ شاید تمہیں بہت دور جانا نہیں پڑے گا۔ تمہارے قدم اپنے آپ
‫رک جائیں گے۔ وہ ایک مقدس جگہ ہوگی۔ اس جگہ کو اپنا آستانہ بنا لیا مگر مجھے ایک وقت جو ابھی مستقبل تاریکیوں
‫میں چھپا ہوا ہے‪ ،نظر آرہا ہے۔ گناہ ہوں گے اور تمہیں
‫…''د وسروں کے گناہوں کی سزا ملے گی۔ شاید تمہیں ہجرت کرنی پڑے
‫میں جب اپنی بیوی اور ان دو بچیوں کے ساتھ سفر میں تھا تو آفتاب کی تمازت میرے کنبے کے لیے خنک ہوگئی تھی۔ ''
‫ہمیں اس جگہ سے بھی پانی مل جاتا تھا جہاں کی ریت کے ذرے پانی کی ایک بوند کو ترستے‪ ،جلتے انگاروں کے شرارے
‫بن کر اڑتے رہتے ہیں۔ میں رملہ پہنچا تو میرے والدین مرچکے تھے۔ میری بیوی نے اجڑے ہوئے گھر کو آباد کیا… میں علم
‫ودانش کے سمندر میں غوطے لگاتا رہا۔ میری بچیاں بڑی ہوگئیں اور ان کی ماں کو اللہ نے اپنے پاس بال لیا۔ بچیوں نے گھر
‫…''سنبھال لیا اور ایک رات جب میں گہری نیند سویا ہوا تھا‪ ،میری آنکھ اس طرح کھل گئی جیسے کسی نے جگایا ہو
‫میں اٹھ کھڑا ہوا۔ بغداد کے خطیب کی برسوں پرانی بات یاد آئی کہ تم اپنے آپ جاگ اٹھو گے اور ارادے کے بغیر چل ''
‫پڑو گے۔ ایسے ہی ہوا۔ میرے ذہن میں کوئی ارادہ‪ ،کوئی خیال نہیں تھا۔ میں گھر سے نکل گیا۔ آبادی سے بھی نکل گیا۔
‫کہیں کہیں ایسا لگتا تھا جیسے کوئی میرے آگے آگے جارہا ہو۔ معلوم نہیں یہ احساس تھا یا حقیقت۔ میں چلتا گیا‪ ،معلوم
‫نہیں تم نے وہ جگہ دیکھی ہے یا نہیں‪ ،جہاں گہرائی ہے اور گہرائی میں ندی بہتی ہے۔ صلیبیوں کی فوج اسی گہرائی میں
‫چھپی ہوئی تھی۔ میں نے سنا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو زمین کی آخری تہہ میں چھپا ہوا دشمن بھی نظر آتا ہے
‫مگروہاں اس کی آنکھوں پر خدا نے ایسی پٹی باندھی کہ اسے یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ وہ خود کہاں ہے۔ صلیبی فوج
‫…''تمہارے فوج کو پھندے میں الکر گہرائی سے نکلی اور حملہ کیا ور تمہارا جو حال ہوا‪ ،وہ تم جانتے ہو
‫اس جنگ سے برسوں پہلے میں رات کو اپنے آپ یا غیب کی قوت کے زیراثر اس گہرائی میں پہنچ گیا اور ایک جگہ ''
‫میرے قدم رک گئے۔ چاندنی رات تھی۔ مجھے ایک قبر نظر آئی جس کے اردگرد پتھروں کی دو ہاتھ اونچی دیوار تھی۔ میں
‫نے آزمانے کے لیے قدم کسی اور سمت کو اٹھائے لیکن میں قبر کی طرف گھوم گیا اور پتھروں کی دیوار میں اندر جانے کو
‫جو راستہ بنا ہوا تھا‪ ،اس میں داخل ہوگیا۔ میرے ہاتھ اپنے آپ فاتحہ کے لیے اٹھے۔ مجھے ایسے لگا جیسے وہاں چاندنی
‫زیادہ سفید تھی۔ میرے ذہن میں اپنے آپ خیال آیا کہ خطیب مکرم نے اسی جگہ کی نشاندہی کی تھی۔ میں قبر کے پاس
‫بیٹھ گیا اور قبر پر ہاتھ رکھ کر عرض کی مجھ غالم کے لیے کیا حکم ہے۔ مجھے اس کے جواب میں کوئی آواز نہ سنائی
‫دی۔ اپنے آپ ہی خیال آیا کہ مجھے جو فیض ملے گا‪ ،اسی سے ملے گا… میں نے رات وہیں گزار دی۔ صبح کے وقت ندی
‫میں جاکر وضو کیا اور قبر پر نماز پڑھی۔ وہاں سے جب رخصت ہوا تو مجھ پر خمار سا طاری تھا‪ ،جیسے میں نے خزانہ پالیا
‫…''ہو
‫اس کے بعد مجھے اس قبر سے اسی طرح اشارے ملنے لگے کہ کوئی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ میرے دل میں کوئی ''
‫بات آئی جو میرا یقین بن جاتی تھی۔ میں نے قبر کی دیواریں اونچی کرکے اوپر گنبد بنوا دیا۔ میں دور دور تک گیا۔ حلب
‫اور موصل کے عالوہ بیت المقدس تک گیا۔ اب کچھ عرصے سے مجھے اس مزار سے جو اشارے مل رہے تھے‪ ،وہ اچھے
‫نہیں تھے۔ یہ جس برگزیدہ انسان کا مزار ہے‪ ،اس کی روح تڑپتی محسوس ہوتی تھی۔ قبر پر میں نے سبز چادر ڈالی تھی‪،
‫''ایک رات چادر پھڑپھڑائی۔ میں ڈر گیا اور میں نے چادر پر ہاتھ پھیر کر کہا… ''مرشد! میرے لیے کیا حکم ہے؟
‫مزار کے اندر سے مجھے آواز سنائی دی… ''تو دیکھ نہیں رہا کہ مسلمان شراب پی رہے ہیں؟ اس سے پہلے میں نے آواز''
‫کبھی نہیں سنی تھی۔ اس نے مجھے کہا کہ میں مسلمانوں کو شراب کی تباہ کاریوں سے خبردار کروں میں نے حکم کی
‫تعمیل کی‪ ،لیکن شراب پینے والے امراء اور حاکم تھے جن کے کانوں تک میری آواز نہ پہنچ سکی۔ پھر ایک رات قبر کی
‫چادر نے پھڑپھڑا کر مجھے بتایا کہ مصر سے آئی فوج مسلمانوں کی آبادیوں میں مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کررہی ہے جو
‫صلیبی فوج کیا کرتی ہے۔ اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج دمشق میں بھی تھی اور دمشق سے حلب تک اور وہاں
‫سے رملہ تک جگہ جگہ موجود تھی۔ اس فوج کے کمان داروں نے جس مسلمان گھرانے میں کوئی قیمتی چیز اور رقم دیکھی‪،
‫اٹھالے گئے۔ انہوں نے پردہ نشین خواتین پر دست درازیاں کیں۔ ان کی دیکھا دیکھی سپاہیوں نے بھی لوٹ مار اور آبرو ریزی
‫شروع کردی۔ یہاں تک پتہ چال کہ ساالروں اور کمان داروں نے مسلمان لڑکیاں اغوا کرکے اپنے خیموں میں رکھی ہوئی ہیں۔
‫مزار سے مجھے حکم ملتا تھا کہ میں سلطان ایوبی کے پاس جائوں اور اسے بتائوں کہ یہ فوج خالفت بغداد کی ہے۔ مصر
‫موسی جیسا ہوگا
‫…''کے فرعونوں کی نہیں۔ اگر فوج نے یہ گناہ جاری رکھے تو اس کا حشر فرعون
‫ٰ
‫اس وقت سلطان ایوبی حلب کے قریب خیمہ زن تھا۔ میں اتنی لمبی مسافت طے کرکے اسے ملنے گیا تو اس کے ''
‫محافظوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم سلطان سے کیوں ملنا چاہتے ہو تو میں نے بتایا کہ میں رملہ سے آیا ہوں اور ایک پیغام
‫الیا ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ پیغام کس کی طرف سے ہے۔ میں نے بتایا کہ جس نے پیغام دیا ہے‪ ،وہ زندہ نہیں۔ محافظوں
‫نے قہقہہ لگایا اور ان کے کمان دار نے بلند آواز سے کہا کہ آئو تمہیں ایک پاگل دکھائوں۔ کہتا ہے قبر سے سلطان ایوبی کے
‫لیے پیغام الیا ہوں۔ ایک نے کہا کہ یہ شیخ سنان کا بھیجا ہوا فدائی ہے۔ سلطان کو قتل کرنے آیا ہے۔ اسے پکڑ لو‪ ،کسی

‫نے کہا کہ صلیبیوں کا جاسوس ہے‪ ،اسے قتل کردو۔ میں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے یہ ظاہر کیا کہ میں پاگل ہوں۔ میں
‫وہاں سے بھاگ آیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سلطان کے محافظوں کے ایک خیمے میں دولڑکیاں بیٹھی ہوئی
‫تھیں''۔
‫''
‫ہم نے اپنی فوج کے ساتھ کوئی عورت نہیں دیکھی''۔ ایک سپاہی نے کہا۔'' ‪:
‫کیا تم اس وقت سے فوج کے ساتھ ہو‪ ،جب یہ دمشق گئی تھی؟'' سیاہ ریش نے کہا۔''
‫ہم سب پہلی بار ادھر آئے ہیں''۔ سپاہی نے جواب دیا۔ ''ہم فوج میں اتنے پرانے نہیں ہیں''۔''
‫میں پرانی فوج کی بات کررہا ہوں''۔ اس نے کہا۔ ''اس فوج کے کمان داروں اور سپاہیوں کو سزا مل چکی ہے۔ تم نئے''
‫تھے‪ ،تم نے ابھی کوئی گناہ نہیں کیا تھا‪ ،اسی لیے تم زندہ سالمت واپس آگئے ہو‪ ،جنہوں نے مسلمان ہوتے ہوئے مسلمانوں
‫کے گھر لوٹے تھے اور پردہ دار خواتین پر دست رازی کی تھی‪ ،وہ مارے گئے ہیں جو زیادہ گناہ گار تھے‪ ،ان میں سے کسی
‫کی ٹانگیں کٹیں اور کسی کے بازو۔ وہ زندہ تھے تو گدھ ان کی آنکھیں نکال رہے تھے اور ان سے بھی زیادہ گناہ گار تھے وہ
‫صلیبیوں کی قید میں چلے گئے ہیں جو ان کے لیے جہنم سے کم نہیں ہوگی‪ ،ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والی اذیتیں
‫ہیں۔ وہ بھوکے پیاسے تڑپتے رہیں گے مگر مریں گے نہیں۔ مرنے کی دعائیں مانگیں گے‪ ،ان کی دعائیں قبول نہیں ہوں
‫گی''۔
‫کیا ہماری شکست کی وجہ یہی ہے؟'' ایک سپاہی نے پوچھا۔''
‫مجھے دو سال پہلے اشارہ مل گیا تھا کہ یہ فوج تباہ ہوگی''۔ اس نے کہا… ''اور یہ فوج کفار کو موقع دے گی کہ وہ ''
‫اسالم کی تذلیل کریں۔ اب یہ فوج اللہ کی درگاہ سے دھتکاری گئی ہے''۔
‫آپ کہاں جارہے ہیں؟'' کسی نے پوچھا۔''
‫میں تمہاری طرح اللہ کے قہر سے جو صلیبی فوج کی صورت میں نازل ہوا ہے‪ ،بھاگ کر آیا ہوں''۔ سیاہ ریش نے جواب''
‫دیا ۔ ''صلیبی فوج طوفان کی طرح آئی۔ تمہاری فوج اسے روک نہ سکی۔ اگر صرف میری اپنی جان ہوتی تو میں اپنے
‫مرشد کے مزار پر جان قربان کردیتا لیکن اپنی جوان بیٹیوں کی آبرو کو میں قربان نہیں کرسکتا تھا۔ صلیبی دو چیزوں کو نہیں
‫چھوڑتے۔ رقم اور خوبصورت مستورات۔ مجھے مزار سے حکم مال کہ اپنی بیٹیوں کو ساتھ لو اور مصر کی طرف نکل جائو۔ میں
‫نے عرض کی کہ میں زندہ کی طرح پہنچوں گا۔ مزار سے آواز آئی کہ تم نے ہماری جو خدمت کی ہے‪ ،اس کے عوض تم
‫خیریت سے قاہرہ پہنچ جائو گے لیکن وہاں خاموش نہ بیٹھنا۔ ہر کسی کو بتانا کہ گناہ کروگے تو تمہیں ایسی ہی سزا ملے
‫گی جیسی تمہاری فوج نے بھگتی ہے۔ مجھے مزار نے بہت کچھ بتایا ہے جو میں مصر چل کر بتائوں گا… تم ایک دوسرے کو
‫دیکھو۔ تمہارے چہرے الشوں جیسے ہوگئے ہیں‪ ،تمہارے جسموں میں جان نہیں رہی۔ مجھے دیکھو میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ
‫پیدل آرہا ہوں۔ میرے پاس کچھ کھانے کے لیے بھی نہیں‪ ،کچھ پینے کے لیے بھی نہیں''۔
‫کیا آپ ہمیں مصر تک اپنی طرح لے جاسکتے ہیں؟'' ایک سپاہی نے پوچھا۔''
‫اگر تم یہ وعدہ کرو کہ دلوں سے گناہ کا خیال نکال دو گے''۔ اس نے جواب دیا… ''اور یہ وعدہ بھی کرو کہ میں جس''
‫مقصد کے لیے مصر جارہا ہوں‪ ،اس میں میرا ساتھ دوگے''۔
‫ہم سچے دل سے وعدہ کرتے ہیں''۔ بہت سی آوازیں سنائی دیں۔ ''ہمیں اپنا مقصد بتائیں ہم جب تک زندہ ہیں‪ ،آپ کا''
‫ساتھ دیں گے''۔
‫میں صرف اپنی اور اپنی بیٹیوں کی عزت بچانے کے لیے رملہ سے نہیں بھاگا''۔ اس نے کہا… ''مجھے مزار نے حکم ''
‫دیا ہے کہ مصر جاکر لوگوں کو بتائوں کہ تم فرعونوں کی سرزمین کی پیداوار ہو۔ اس مٹی میں گناہوں کی تاثیر ہے۔ حضرت
‫موسی علیہ السالم کی بے ادبی مصر میں ہوئی تھی۔ مصر میں پیغمبروں
‫یوسف علی السالم مصر میں نیالم ہوئے تھے‪ ،حضرت
‫ٰ
‫کے قبیلے فرعونوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ اے مصر والو! اس مٹی کی تاثیر سے اور اس کی فضا کے اثر سے بچو اور
‫خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو۔ تمہاری تباہی اور سزا شروع ہوچکی ہے۔ میں یہ پیغام مصر والوں کے لیے لے جارہا
‫ہوں۔ تم اگر یہ پیغام سارے ملک میں پھیالنے میں میری مدد کرو گے تو تمہاری دنیا بھی بہشت بنی رہے گی اور آخرت میں
‫بھی تمہارے لیے بہشت کے دروازے کھول دئیے جائیں گے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر باقی تھی۔ رملہ کی طرف سے آنے والے دو تین سپاہی قریب سے گزرے۔ سیاہ ریش ‪:
‫نے کہا کہ انہیں روک لو۔ یہ رات تک زندہ نہیں رہیں گے۔ انہیں روک لیا گیا۔ وہ سسکیوں کی طرح پانی مانگ رہے تھے۔
‫سیاہ ریش نے انہیں کہا… ''پانی رات کو ملے گا۔ اس وقت تک اس خدا کو یاد کرو جس نے تمہیں رملہ سے زندہ نکاال اور
‫نئی زندگی دی ہے''۔
‫کچھ دیر بعد دو آدمی گھوڑوں پر سوار ادھر سے گزرے۔ وہ فوجی نہیں تھے۔ انہوں نے اس قافلے کو دیکھا‪ ،پھر سیاہ ریش کو
‫دیکھا۔ انہوں نے گھوڑے روک لیے‪ ،کود کر اترے‪ ،گھوڑوں کو وہیں چھوڑ کر دوڑے آئے۔ دونوں نے سیاہ ریش کے سامنے سجدہ
‫کیا‪ ،پھر اس کے ہاتھ چومے اور پوچھا… ''یا مرشد! آپ کہاں؟'' اس کا جواب سن کر ان دونوں نے سپاہیوں کو بتایا کہ
‫وہ کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی بزرگ وبرتر شخصیت کا ساتھ انہیں میسر آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا
‫کہ سیاہ ریش نے ایک سال پہلے بتا دیا تھا کہ مصر کی گناہ گار فوج اس مزار کے عالقے میں آگئی تو تباہ ہوجائے گی۔
‫ادھر ادھر دیکھو''۔ سیاہ ریش نے سب سے کہا… ''جہاں کہیں کوئی بھوال بھٹکا مصر کی طرف جاتا نظر آئے‪ ،اسے یہاں ''
‫لے آئو۔ رات کو یہاں کوئی بھوکا اور پیاسا نہیں رہے گا''۔
‫گزرنے کا یہی ایک راستہ تھا۔ باقی تمام عالقہ ٹیلوں کا تھا اور یہ وسیع عالقہ تھا۔ اس کے اندر جانا بے کار تھا۔ باہر سے
‫ہی پتہ چل رہا تھا کہ یہاں پانی کا نام ونشان نہیں۔ سب کو موت نظر آرہی تھی۔ مصر کی سرحد ابھی بہت دور تھی۔ یہ
‫لوگ سہارے ڈھونڈ رہے تھے۔ وہ سیاہ ریش کے آگے بچھے جارہے تھے۔ اس کی ہر ایک بات ان کے دلوں میں بیٹھ گئی تھی
‫مگر پیاس کی شدت سے دو تین سپاہی غشی کی حالت میں چلے گئے تھے۔ سیاہ ریش انہیں تسلیاں دے رہا تھا۔
‫سورج غروب ہوگیا پھررات تاریک ہوگئی۔ بہت دیر بعد جب صحرا خاموش تھا‪ ،ٹیلوں کے اندر سے ایک پرندے کی آواز سنائی
‫دی۔ سب چونک اٹھے۔ ایسے جہنم میں جہاں پانی کا تصور بھی نہیں تھا اور موت سر پر منڈال رہی تھی وہاں پرندے کی آواز
‫غیرقدرتی تھی۔ یہ پرندہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ سب کی سانسیں رک گئیں۔ یہ کوئی بدروح ہوسکتی تھی۔
‫اللہ تیرا شکر''۔ سیاہ ریش نے سکون کی آہ لے کر کہا… ''میری دعا قبول ہوگئی ہے''۔ اس نے اپنے سامنے بیٹھے ''

‫ہوئے دو سپاہیوں سے کہا… '' تم دونوں اس طرف جائو۔ چالیس قدم گنو‪ ،وہاں سے دائیں کو مڑ جائو۔ چالیس قدم گنو‪ ،وہاں
‫سے بائیں کو مڑ جائو۔ آگے کہیں آگ جلتی نظر آئے گی۔ اس کی روشنی میں تمہیں پانی نظر آئے گا۔ شاید کھانے کے لیے
‫بھی کچھ ہو۔ جو کچھ وہاں پڑا ہو‪ ،اٹھا النا۔ یہ آواز پرندے کی نہیں غیب کا اشارہ ہے''۔
‫میں نہیں جائوں گا''۔ایک سپاہی نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔ ''میں جنات کی جگہ نہیں جائوں گا''۔''
‫وہ دو آدمی اٹھ کھڑے ہوئے جو بعد میں گھوڑوں پر سوار آئے تھے اور سیاہ ریش کے آگے سجدہ کیا تھا۔ ایک نے سپاہیوں
‫سے کہا… ''مت ڈرو‪ ،جنات تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ انہیں حکم مال ہوا ہے کہ یہ بزرگ جہاں جائیں انہیں
‫کھانا اور پانی پہنچتا رہے گا۔ ہم ان کے معجزوں سے واقف ہیں… دو تین آدمی ہمارے ساتھ چلو''۔
‫وہ دو تین سپاہیوں کو ساتھ لے کر چل پڑے۔ سیاہ ریش کے کہنے کے مطابق انہوں نے قدم گنے اور مڑے۔ دو ٹیلوں کے
‫درمیان سے گزرے تو انہیں ایک جگہ آگ جلتی نظر آئی۔ سب کلمہ طیبہ کا ورد کرتے آگے بڑھے۔ آگ کی روشنی میں پانی
‫سے بھر ہوئے چار پانچ مشکیزے پڑے تھے اور کپڑے کے ایک تھیلے میں کھجوریں بھری ہوئی تھیں۔ انہوں نے مشکیزے اور
‫تھیال اٹھایا اور سیاہ ریش کے آگے یہ سامان جارکھا۔ اس نے سب میں تھوڑی تھوڑی کھجوریں تقسیم کیں اور دو مشکیزے ان
‫کے حوالے کرکے کہا کہ ضرورت سے زیادہ پانی نہ پئیں‪ ،پانی بچانے کی کوشش کریں… اس کے بعد کسی شک کی گنجائش
‫نہ رہی کہ سیاہ ریش کوئی عام قسم کا درویش نہیں‪ ،اللہ کے مصاحبوں میں سے ہے۔ اس نے سب کو تیمم کرایا اور
‫باجماعت نماز پڑھائی۔ پھر سب سو گئے۔ ابھی سحر تاریک تھی جب اس نے سب کو جگا دیا اور قافلہ مصر کو روانہ ہوگیا۔
‫سیاہ ریش کو ایک اونٹ پر اور اس کی بیٹیوں کو دوسرے اونٹ پر سوار کرادیا گیا تھا… راستے میں انہیں تین چار سپاہی
‫ملے جو مصر کو جارہے تھے۔ سیاہ ریش نے انہیں پانی پالیا‪ ،کھجوریں کھالئیں اور دوشتر سواروں کے پیچھے انہیں سوار
‫کرادیا۔ اس قافلے سے دائیں طرف دور ایک اور قافلہ جارہا تھا۔ کسی نے کہا کہ انہیں بھی ساتھ مال لیا جائے۔ سیاہ ریش نے
‫کہا کہ وہ ہماری طرح بھاگے ہوئے لوگ معلوم نہیں ہوتے‪ ،ان کا اور ہمارا کوئی ساتھ نہیں۔ بہت دنوں بعد سپاہیوں کا یہ قافلہ
‫سیاہ ریش کی قیادت میں مصر کی سرحد میں داخل ہوا۔ وہ دو آدمی جنہوں نے سیاہ ریش کے آگے سجدہ کیا تھا۔ راستے
‫میں سپاہیوں کو سیاہ ریش کے معجزے سناتے گئے تھے۔ انہوں نے سپاہیوں سے کہا تھا کہ اسے جو کوئی اپنے گائوں میں
‫‪،رکھ لے گا
‫اسے رزق کی کوئی کمی نہیں ہوگی اور خدا اس پر ہمیشہ مہربان رہے گا۔ ایک ہی گائوں کے تین چار سپاہی اسے وہاں ‪:
‫رکھنے کے لیے تیار ہوگئے۔ سیاہ ریش سے کہا گیا کہ وہ ان کے گائوں چلے۔ اس نے کچھ باتیں پوچھیں اور ان کے گائوں
‫جانے پر آمادہ ہوگیا۔
‫یہ ایک بڑا گائوں تھا جو قاہرہ سے دور نہیں تھا۔ قافلہ جب اس گائوں میں داخل ہوا تو سپاہیوں کو دیکھ کر گائوں کے لوگ
‫ان کے گرد جمع ہوگئے۔ ان کے جانوروں کے آگے چارہ ڈاال۔ قافلے والوں کو کھانا اور پانی دیا اور ان سے محاذ کی باتیں
‫سننے بیٹھ گئے۔ انہیں سیاہ ریش کے متعلق بتایا گیا کہ خدا کے مصاحبوں میں سے ہے اور اسے خدا جنات کے ہاتھوں رزق
‫پہنچاتا ہے۔ لوگوں کو اس کی مختصر سی داستان حیات بھی سنائی گئی۔
‫محاذ کا راز مجھ سے پوچھو''۔ سیاہ ریش نے کہا… ''یہ سپاہی ہیں۔ یہ صرف لڑتے ہیں۔ انہیں کچھ علم نہیں ہوتا کہ ''
‫انہیں لڑانے والوں کی نیت کیا ہے۔ ان چند ایک سپاہیوں نے جنہیں میں صحرا کی آگ سے زندہ نکال الیا ہوں‪ ،اس فوج کے
‫گناہوں کی سزا بھگتی ہے جو ان سے بہت پہلے ملک شام کو گئی تھی۔ اس فوج نے ہر میدان میں فتح حاصل کی۔ وہاں
‫کی وادیاں اور وہاں کے صحرا‪ ،سلطان ایوبی زندہ باد کے نعروں سے گونجتے لرزتے رہے۔ اس فوج نے ہر جگہ زروجواہرات اور
‫عورتیں دیکھیں۔ وہاں کی عورتیں مصر کی عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ فتح کے نشے نے اس فوج میں فرعونیت پیدا
‫کردی۔ دماغوں میں صرف مال غنیمت رہ گیا پھر اس فوج کے ساالروں‪ ،کمان داروں اور سپاہیوں نے قوم کی عزت اور غیرت
‫کو خیرباد کہا اور مسلمانوں کے گھروں میں بھی لوٹ مار شروع کردی‪ ،جہاں کوئی خوبصورت عورت اور جوان لڑکی نظر آئی‪،
‫اسے بے آبرو اور اغوا کیا۔ یہ سب مسلمان مستورات تھیں۔ انہیں خیموں میں رکھا گیا''۔
‫کیا سلطان صالح الدین ایوبی اندھا تھا؟'' کسی نے قہر آلود آواز میں پوچھا… ''وہ دیکھ نہیں سکتا تھا کہ اس کی سپاہ ''
‫''کیا کررہی ہے؟
‫خدا جب سزا دینے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اماموں‪ ،عالموں اور حکمرانوں کی عقل پر بھی پردہ ڈال دیتا ہے''۔ سیاہ ریش''
‫نے کہا… '' سلطان صالح الدین ایوبی خود فتح کے نشے سے بدمست ہوگیا تھا۔ وہ شاید خدا کے وجود کو اور اس کی الٹھی
‫کو بھول گیا تھا۔ اس کے گرد اس کے محافظوں اور عیاش ساالروں نے ایسا گھیرا ڈال رکھا تھا کہ کسی مظلوم کی فریاد اس
‫تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی جو بادشاہ فریادیوں کے لیے انصاف کے دروازے اور اپنے کان بند کرلیتا ہے وہ اللہ کی بخشش
‫سے محروم ہوجاتا ہے۔ مجھے دو سال سے اشارے مل رہے تھے کہ یہ فوج اعمال بد سے باز نہ آئی تو تباہ ہوگی۔ مجھے
‫…''راتوں کو غیب کی آوازیں سنائی دیتی رہیں مگر جن کے لیے آوازیں آتی تھیں‪ ،ان کے کان بند تھے
‫پھر خدا نے یوں کیا کہ ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں اور سلطان صالح الدین ایوبی جو میدان جنگ کا بادشاہ ہے اور ''
‫جسے صلیب کے کفار میدان جنگ کا دیوتا کہتے ہیں‪ ،عقل کا ایسا اندھا ہوا کہ ساری چالیں بھول گیا۔ اس کی چال دشمن
‫چل گیا اور اسے ایسی شکست ہوئی کہ تن تنہا مصر پہنچا''۔
‫ہم صلیبیوں سے شکست کا انتقام لیں گے''۔ ایک جوشیلے دیہاتی نے کہا… ''ہم اپنے بیٹوں کو قربان کردیں گے''۔''
‫فتح اور شکست خدا کے اختیار میں ہے''۔ سیاہ ریش نے کہا… ''اس کی ذات نے حکم شکست کا دیا ہو تو بندوں کا ''
‫جوش سرد پڑ جاتا ہے۔ میں بھی اسی لیے یہاں آیا ہوں کہ مصر کے بچے بچے کو شکست کا انتقام لینے کے لیے تیار کروں
‫لیکن سزا کا وقت ابھی ختم نہیں ہوگا تم اگر اپنے بیٹوں کو فورا ً فوج میں بھرتی کراکے محاذ پر بھیج دو گے تو وہ مریں گے
‫اور شکست کھائیں گے۔ ہر عمل کے لیے ایک وقت مقرر ہے وہ وقت ابھی دور ہے‪ ،جب شکست کو فتح میں بدل دو گے۔
‫سب سے پہلے خدا کو یاد کرو۔ اس سے اپنے ان بیٹوں کے گناہوں کی بخشش مانگو جنہیں تم نے ملک شام میں بھیجا
‫تھا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫شکست کی ذمہ داری میرے سر پر ڈالو''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ وہ اپنے ساالروں‪ ،نائب ساالروں‪ ،کمان داروں اور شہری ''
‫انتظامیہ کے حکام سے خطاب کررہا تھا… ''شکست کے اسباب بڑے واضح ہیں۔ مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نئی بھرتی
‫لے کر گیا۔ میں زیادہ انتظار کرتا اور مصر میں بیٹھا رہتا تو دشمن سارے شام میں پھیل جاتا۔ میں نے فوج کی جس کمی کو
‫نئے سپاہیوں سے پورا کیا ہے‪ ،اس کے متعلق تم جانتے ہو کہ اس کا ذمہ دار کون ہے لیکن میں اب اس بحث میں وقت

‫ضائع نہیں کروں گا کہ اس کا ذمہ دار فالں ہے اور وہ گناہ فالں نے کیا ہے۔ اگر جرم عائد کرنے ہیں تو مجھ پر کرو۔ فوج
‫کو میں نے لڑایا ہے‪ ،اگر چالیں غلط تھیں تو میری تھیں۔ اس کا کفارہ مجھے ادا کرنا ہے اور میں کروں گا۔ فتح اور شکست
‫ہر معرکے کا انجام ہوتا ہے۔ آج ہم اس انجام سے دوچار ہوئے ہیں جس کے لیے تم ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ اسی لیے
‫تم سب کے چہروں پر اداسی اور آنکھوں میں بے چینی ہے۔ اگرتم مجھے شکست کی سزا دینا چاہتے ہو تو میں اس کے لیے
‫بھی تیار ہوں۔ میرے کانوں میں یہ آوازیں بھی پہنچ رہی ہیں کہ میری فوج شام میں جاکر آبرو ریزی‪ ،لوٹ مار اور شراب
‫خوری کی عادی ہوگئی تھی۔ مجھے یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ میں نے خلیفہ بغداد پر دہشت طاری کرنے کے لیے دانستہ
‫شکست کھائی ہے اور میں شکست کو فتح میں بدل کر خلیفہ کو اپنا مرید بنانے کی کوشش کروں گا۔ مجھے فرعون تک کہا
‫جارہا ہے۔ میں کسی بھی الزام کا جواب نہیں دوں گا۔ ان الزامات کا جواب میری زبان نہیں میری تلوار دے گی۔ میں الفاظ
‫سے نہیں عمل سے ثابت کروں گا کہ یہ کس کے گناہ تھے جن کی سزا مجھے اور میرے مجاہدین کو ملی ہے''۔
‫اتنے میں دربان نے اطالع دی کہ حماة سے قاصد آیا ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے فورا ً اندر بالیا۔ گردوغبار سے اٹے ہوئے اور
‫تھکن سے چور قاصد نے سلطان ایوبی کو العادل کا پیغام دیا۔ پیغام کھول کر پڑھا تو سلطان ایوبی کی آنکھوں میں آنسو
‫آگئے۔ اس نے پیغام ایک ساالر کے ہاتھ میں دے کر کہا… ''یہ پڑھ کر سب کو سنائو''۔
‫جوں جوں ساالر پیغام پڑھتا جارہا تھا‪ ،سب کی آنکھوں میں چمک آتی جارہی تھی۔ سسکیوں کی طرح تین چار سرگوشیاں
‫سنائی دیں… ''زندہ باد‪ ،زندہ باد''۔
‫یہ گناہ گاروں کا کارنامہ ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''تم میں سے جو قاہرہ میں تھے‪ ،نہیں جانتے کہ العادل کے پاس''
‫کتنی فوج ہے۔ تم یہ بھی نہیں جانتے کہ بالڈون کے پاس دس گنا زیادہ فوج تھی۔ اس کے سوار زرہ پوش ہیں۔ اس کے پیادے
‫لوہے کے خود پہنتے ہیں۔ کیا العادل کے مجاہدین نے ثابت نہیں کردیا کہ ہم شکست کو فتح میں بدل سکتے ہیں؟ کیا تم
‫مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ سرپکڑ کر بیٹھ جائوں؟ اگلی جنگ کی تیاری کرو۔ مجھے فوج کی بھرتی دو۔ تمہیں قبلہ اول
‫پکار رہا ہے۔ میں دشمن کے ساتھ کوئی سمجھوتہ اور کوئی معاہدہ نہیں کروں گا''۔
‫العادل کے پیغام نے جہاں سلطان ایوبی کو حوصلہ دیا‪ ،وہاں تمام ساالروں وغیرہ کے بھی مجروح حوصلے تروتازہ ہوگئے۔ ان
‫میں سے بعض کے دلوں میں سلطان ایوبی اور اس کی فوج کے خالف شکوک پیدا ہوگئے تھے‪ ،وہ صاف ہونے لگے۔ العادل نے
‫اسی ایک معرکے پر اکتفا نہیں کیا۔ اس نے اپنے دستوں کو تیس سے چالیس کی نفری کے جیشوں کے کمان داروں کو شب
‫خون مارنے اور غائب ہوجانے کی ہدایات دیں۔ مقصد یہ تھا کہ دشمن کو پریشان رکھا جائے تاکہ وہ پیش قدمی بھی نہ
‫کرسکے اور آرام سے بیٹھ بھی نہ سکے۔
‫بالڈون پہلے ہی نقصان اٹھا چکا تھا۔ وہ اس ارادے سے اتنی زیادہ فوج لے کر آیا تھا کہ دمشق تک کے عالقے پر قبضہ کرلے
‫گا۔ اب اس کی یہ حالت ہوگئی کہ ہر رات خیمہ گاہ کے کسی نہ کسی حصے پر تیروں کی بوچھاڑ ہوتی یا حملہ ہوتا تھا۔
‫فوج کے بیدار ہونے تک حملہ آور دور نکل گئے ہوتے تھے۔ بالڈون نے فوج کو تمام تر عالقے میں دور دور پھیال دیا۔ العادل
‫کے چھاپہ ماروں کو پکڑنے کے لیے اس نے بھی ٹولیاں تیار کیں‪ ،جو رات کو گشت پر رہتی تھیں مگر ہر صبح بالڈون کو یہ
‫خبر سننی پڑتی تھی کہ آج فالں کیمپ پر حملہ ہوا ہے یا فالں ٹولی ماری گئی ہے۔ وہ عالقہ پہاڑی تھا۔ اس سے العادل
‫کے چھاپہ مار جیش خوب فائدہ اٹھا رہے تھے مگر یہ فائدہ العادل کو بہت مہنگا پڑ رہا تھا۔ چھاپہ مار اتنی دلیری سے شب
‫خون مارتے تھے کہ دشمن کے کیمپ کے اندر چلے جاتے اور ان میں سے چند ایک جانیں قربان کردیتے تھے۔
‫اس طریقہ جنگ اور اس قربانی سے العادل کوئی عالقہ فتح نہیں کرسکتا تھا۔ وہ دشمن کو وہاں سے پیچھے بھی نہیں ہٹا
‫سکتا تھا لیکن یہ فائدہ کچھ کم نہ تھا کہ صلیبیوں کی اتنی بڑی فوج پیش قدمی کرنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ اگر بالڈون
‫پیش قدمی کرتا تو آمنے سامنے جنگ میں العادل اتنی قلیل فوج سے اس کے سامنے دو گھنٹے بھی نہ ٹھہر سکتا۔ اس نے
‫بالڈون کے کیمپ میں کام کرنے والے مقامی لوگوں میں اپنے جاسوس بھی چھوڑ رکھے تھے۔ وہ دشمن کی ذرا ذرا سی حرکت
‫کی اطالع العادل کو دے
‫وہ دشمن کی ذرا ذرا سی حرکت کی اطالع العادل کو دے دیتے تھے۔ ایک بار ان جاسوسوں میں ایک نے صلیبیوں کے اس
‫خشک گھاس کے پہاڑ جیسے انبار کو آگ لگا دی تھی جو انہوں نے گھوڑوں کے لیے جمع کررکھا تھا۔
‫العادل کو اطالع مل چکی تھی کہ دمشق سے تھوڑی سی کمک آرہی ہے۔ حلب سے کمک ملنے کی توقع نہیں تھی۔ الملک
‫الصالح نے پیغام کا جواب دیا تھا کہ صلیبی ( فرینکس جنہیں فرنگی کہا جاتا تھا) قلعہ حرن کو محاصرے میں لینا چاہتے ہیں‪،
‫اگر انہوں نے ایسا ہی کیا تو ان پر حلب کی فوج سے حملہ کیا جائے گا۔
‫٭ ٭ ٭
‫چند ایک یورپی مورخین نے صلیبی جنگوں کے اس دور کے متعلق لکھا ہے کہ رملہ کی شکست کے بعد اسالمی فوج کو ختم
‫کردیا گیا۔ اس کے جو دستے بچ گئے تھے‪ ،انہوں نے لوٹ مار کو پیشہ بنا لیا۔ وہ صلیبیوں کے فوجی قافلوں کو لوٹ لیتے
‫تھے۔
‫حقیقت یہ ہے کہ لوٹ مار خود صلیبی کرتے تھے۔ زیادہ تر مورخ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی اس سلسلے
‫کی کہانیوں میں مورخوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ صلیبی فوج مقبوضہ عالقوں میں مسلمان قافلوں کو لوٹ لیا کرتی
‫تھی اور یہ لوٹ مار اس طرح کی جاتی تھی جیسے یہ کوئی فوجی ڈیوٹی ہو‪ ،جن مسلمان دستوں کے متعلق چند ایک
‫مورخوں نے لکھا ہے کہ وہ لوٹ مار کرنے لگے تھے‪ ،وہ العادل کے چھاپہ مار جیش تھے جنہوں نے شاہ بالڈون کی اتنی بڑی
‫فوج کو گوریال آپریشن سے ایک ہی عالقے میں الجھا لیا تھا۔
‫پہلے کہا جاچکا ہے کہ شب خون ( گوریال آپریشن) العادل کو مہنگا پڑ رہا تھا لیکن اس کے ٹروپس کا جذبہ ایسا تھا کہ کوئی
‫سپاہی منہ نہیں پھیرتا تھا۔ اکثر جیش مسلسل وادیوں وغیرہ میں ہی گھومتے اور بھٹکتے رہتے تھے۔ اپنی ضروریات پوری کرنے
‫کے لیے بھی اپنے اڈے پر واپس نہیں آتے تھے۔ا سد االسدی کی غیرمطبوعہ تحریروں کے مطابق وہ چیتوں کی طرح شکار کی
‫تالش میں رہتے تھے اور جب شکار پر جھپٹتے تھے تو انہیں اپنی جانیں چلی جانے کا کوئی غم نہیں ہوتا تھا۔ وہ دشمن کو
‫زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش میں شہید اور شدید زخمی ہوجاتے تھے۔ ان کی راتیں دشت وبیاباں میں گزرتیں اور
‫وہ من پسند کھانوں سے اپنے آپ کو محروم رکھتے تھے۔
20:52 :
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪121جب فرض نے محبت کا خون کیا

‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اپنے آپ کو محروم رکھتے تھے۔ مگر قاہرہ میں یہ پراپیگنڈہ بہت تیزی سے بڑھتا جارہا تھا کہ اپنی فوج بدکار اور عیاش
‫ہوگئی ہے اور رملہ کی شکست اسی کی سزا ہے۔ قاہرہ کی انٹیلی جنس کو یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ پراپیگنڈہ کہاں سے
‫اٹھ رہا ہے۔ کیا یہ نئے سپاہیوں کی غیرمحتاط باتوں کا نتیجہ ہے یا دشمن کے باقاعدہ ایجنٹ سرگرم ہیں؟ یہ بھی دیکھا گیا
‫کہ لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے ہچکچاتے تھے۔ اس شکست سے پہلے مصریوں کا رویہ یہ نہیں تھا علی بن سفیان اور
‫غیاث بلبیس نے اپنے مخبروں اور جاسوسوں کا جال بچھا دیا مگر اس کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ لوگ فوج کو بدنام
‫کررہے ہیں۔ سلطان ایوبی کے خالف بھی باتیں سنی سنائی جانے لگی تھیں۔
‫وہ سیاہ ریش سفید پوش جو دو بیٹیوں کے ساتھ ایک گائوں میں ٹھہرا تھا‪ ،وہیں کا ہوکے رہ گیا۔ گائوں والوں نے اسے ایک
‫مکان دے دیا تھا۔ اس نے کھلی محفل میں بیٹھنے اور باتیں کرنے سے پرہیز شروع کردیا تھا کہ اسے مصریوں کے گناہ معاف
‫کرانے کے لیے تین ماہ کا چلہ کرنا ہے۔ وہ اب مکان سے باہر تھوڑی سی دیر کے لیے نکلتا‪ ،خاموش رہتا‪ ،حاضرین کو ہاتھ
‫لہرا کر سالم کرتا اور اندر چال جاتا تھا۔ اس کے خاص مصاحبوں میں وہی سپاہی تھے جو اس کے ساتھ آئے تھے اور دو وہ
‫آدمی تھے جنہوں نے ٹیلوں کے عالقوں میں اس کے آگے سجدہ کیا تھا۔ ان سب نے اس کی اتنی تشہیر کردی تھی کہ دور
‫کے لوگ بھی اس کی جھلک دیکھنے کو پہنچ جاتے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫ایک شام علی بن سفیان کا ایک جاسوس اپنی خفیہ ڈیوٹی پر قاہرہ کے مضافات میں کسی بہروپ میں گھوم پھر رہا تھا۔
‫شام ہوگئی۔ وہ نماز پڑھنے کے لیے ایک مسجد میں چال گیا۔ نماز کے بعد امام نے دعا مانگی۔ دعا ختم ہوئی تو ایک نمازی
‫نے رملہ کی شکست کی بات شروع کردی۔ اس نے سلطان ایوبی کی فوج کے خالف وہی باتیں کیں جو سیاہ ریش نے کی
‫تھیں۔ اس نمازی نے سیاہ ریش کا حوالہ اس طرح دیا کہ وہ غیب دان ہے اور جنات اسے رزق پہنچاتے ہیں۔ اس نے سفر
‫کی پوری روئیداد سنائی اور بتایا کہ کس طرح غیب سے انہیں پانی اور کھجوریں ملی تھیں۔ تمام نمازی انہماک سے اس کی
‫باتیں سنتے رہے۔ اس نے بات ختم کی تو نمازیوں نے اس سے اس قسم کی باتیں پوچھنی شروع کردیں… ''وہ مرادیں پوری
‫''کرتا ہے؟… العالج مریضوں کو شفا دیتا ہے؟… آنے والے وقت کا حال بتاتا ہے؟… اوالد دیتا ہے؟
‫سنانے والے نے انہیں بتایا کہ ابھی وہ سب کو یہی ایک بات بتاتا ہے کہ سلطان ایوبی اور اس کی فوج میں فرعونوں والی
‫خصلتیں پیدا ہوگئی تھیں اور شکست کی وجہ یہی ہے اور وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ نہ خود فوج میں بھرتی ہونا‪ ،نہ کسی کو
‫ہونے دینا‪ ،ورنہ نقصان اٹھائو گے کیونکہ گناہوں کی سزا کا ابھی وقت پورا نہیں ہوا اور یہ بھی کہ وہ تین ماہ کا چلہ کررہا
‫ہے۔ اس کے بعد وہ بتائے گا کہ مصر والوں کے گناہ بخشے گئے ہیں یا نہیں۔
‫یہ آدمی مسجد سے نکل کر گائوں سے باہر کو چل پڑا۔ علی بن سفیان کا جاسوس اس کے پیچھے گیا اور اس سے پوچھا
‫کہ وہ اس عالم سے کس طرح مل سکتا ہے۔ اس نے اپنا مدعا یوں بیان کیا… ''میں فوج میں ہوں۔ تمہاری باتیں سن کر
‫میرے دل میں یہ ڈر پیدا ہوگیا ہے کہ اپنی فوج کے گناہوں کی سزا مجھے بھی ملے گی۔ میں بھی دمشق اور حلب کے
‫محاذوں پرگیا تھا۔ میں نے بھی وہی گناہ کیے ہیں جن کا ذکر تم کررہے ہو۔ مجھے اس عالم بزرگ کے پاس لے چلو۔ اگر وہ
‫کہے گا کہ فوج سے بھاگ جائو تو بھاگ جائوں گا۔ وہ جو خدمت کہے گا‪ ،کروں گا۔ میں خدا کے قہر سے ڈرتا ہوں''… اس
‫نے اتنی منت سماجت کی کہ اس کے آنسو نکل آئے۔
‫میرے ساتھ چلو''۔ اس آدمی نے کہا… ''لیکن کسی سے ذکر نہ کرنا کہ تم اس کے پاس گئے تھے۔ وہ آج کل چلے میں''
‫ہے‪ ،کسی کے ساتھ بات نہیں کرتا۔ وہ جو پوچھے صرف اس کا جواب دینا‪ ،فالتو بات نہ کرنا''۔
‫تم اسی گائوں کے رہنے والے ہو؟''۔ جاسوس نے پوچھا… ''تم نے بتایا تھا کہ تم رملہ کے محاذ سے آئے ہوئے سپاہی ''
‫ہو''۔
‫اسی لیے تو میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ یہ بزرگ خدا کے مصاحبوں میں سے ہے''۔ سپاہی نے کہا… ''
‫'' میں نے میدان جنگ کا قہر دیکھا ہے اور میں نے سفر کا قہر بھی دیکھا ہے لیکن اس بزرگ نے ریگزار کو گلزار بنا دیا
‫تھا۔ میں اب فوج میں واپس نہیں جارہا''۔
‫گائوں دور نہیں تھا۔ وہ باتیں کرتے پہنچ گئے۔ رات گہری ہوچکی تھی۔ سپاہی نے جاسوس کو اندھیرے میں کھڑا رہنے کو کہا
‫اور اس مکان میں چال گیا جہاں سیاہ ریش سفید پوش رہتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد واپس آیا۔ سپاہی نے کہا کہ وہ پیچھے والے
‫دروازے سے اندر چال جائے۔ وہ خود اس کے آگے آگے چل پڑا اور دونوں دروازے میں داخل ہوگئے۔ ڈیوڑھی سے گزرے‪ ،صحن
‫سے گزرے اور ایک کمرے میں داخل ہوگئے۔ صحن میں روشنی تھی دونوں لڑکیاں جنہیں سیاہ ریش نے اپنی بیٹیاں بتایا تھا‪،
‫ایک اور کمرے میں تھی۔ انہیں جب صحن میں قدموں کی آہٹ سنائی دی تو دونوں نے دریچے کا کواڑ ذرا سا کھول کر
‫دیکھا۔ ایک لڑکی اتنی چونکی کہ اس کے منہ سے ''اوہ'' نکل گئی۔
‫''کیا ہوا؟'' دوسری لڑکی نے پوچھا… ''کون ہے یہ؟''
‫شاید مجھے دھوکہ ہوا ہو''۔ اس نے جواب دیا… ''میں نے اس شخص کو کہیں پہلے بھی دیکھا ہے''… اور وہ گہری ''
‫سوچ میں کھو گئی۔
‫جاسوس نے کمرے میں جاکرسیاہ ریش کے آگے سجدہ کیا۔ اس کے پائوں پر ماتھا رگڑا۔ وہ فرش پر دری بچھا کر بیٹھا ہوا
‫تھا۔ جاسوس نے گڑگڑا کر التجا کی کہ اسے گناہوں کی بخشش دالئی جائے۔ اس نے وہی باتیں کیں جو وہ سپاہی کے ساتھ
‫کرچکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیاہ ریش نے اپنی تسبیح اس کے سر پر پھیری اور مسکرا کر اس کے سر پر
‫ہاتھ رکھا۔
‫اس سے میری تسکین نہیں ہوگی''۔ جاسوس نے آنسو بہاتے ہوئے کہا… ''اپنی زبان سے مجھے تسکین دیں۔ مجھے کوئی''
‫حکم دیں جو میں بجا الئوں۔ مجھے حکم دیں کہ میرا جو ایک ہی بچہ ہے‪ ،اسے آپ کے قدموں میں ذبح کردوں۔ مجھے
‫حکم دیں کہ سلطان ایوبی کو قتل کردو تو میں آپ کا یہ حکم بھی بجا الئوں گا۔ کچھ بولیں۔ کچھ کہیں پھر دیکھیں میں کیا
‫کرتا ہوں''۔
‫ایک اور آدمی اندر آگیا تھا اور وہ جاسوس کی باتیں غورسے سن رہا تھا ور اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے
‫جاسوس سے کہا… ''تم اتنے بیزار اور بے تاب کیوں ہوئے جارہے ہو؟ تم اب مرشد کے سائے میں آگئے ہو''۔
‫میرے گناہ اتنے گھنائونے ہیں جو مجھے راتوں کو سونے بھی نہیں دیتے''۔ جاسوس نے کہا… ''میں نے حماة کے قریب ''
‫ایک گائوں میں ایک مسلمان گھرانے کی لڑکی کو اغوا کرنے کے لیے لڑکی کے جوان بھائی کو قتل کردیا تھا اگر میں فوج

‫میں نہ ہوتا تو مجھے جالد کے حوالے کردیا جاتا لیکن مجھے کسی نے پوچھا تک نہیں''۔
‫سیاہ ریش نے آنکھیں بند کرلیں۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ اس نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے پھر جاسوس کی طرف اشارہ
‫کیا۔ ذرا دیر بعد وہ مسکرایا اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔ جاسوس سے کہا… ''بہت مشکل سے تمہارے ساتھ بات کرنے کی
‫اجازت لی ہے۔ غور سے سنو۔ ہم تمہارے گناہ بخشوا دیں گے۔ تم کل پھر یہاں آئو۔ کسی کے ساتھ ذکر نہ کرنا‪ ،ورنہ تمہارے
‫خاندان کا انجام بہت خوفناک ہوگا۔ یہ آدمی ( سپاہی) تمہیں گائوں سے باہر ملے گا اور میرے پاس لے آئے گا۔ تمہارے ماتھے
‫پر لکھا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے جائیں گے بلکہ تمہیں اور تمہارے خاندان کا اتنا رزق حالل ملے گا جو تم نے کبھی خواب
‫میں بھی نہیں دیکھا۔ اب چلے جائو‪ ،کل آجانا''۔
‫سیاہ ریش پھر مراقبے میں چال گیا۔ سپاہی نے اور دوسرے آدمی نے جاسوس کو اٹھایا اور صحن میں لے جاکر اسے سیاہ ‪:
‫ریش کی ایسی معجزہ نما باتیں سنائی جنہوں نے جاسوس کو مسحور کرلیا۔ دونوں لڑکیاں دریچے کے کواڑ کی اوٹ سے اسے
‫دیکھ رہی تھیں‪ ،جو لڑکی اسے پہلی بار دیکھ کر چونکی تھی‪ ،اس نے دوسری لڑکی سے کہا… ''اسے میں نے پہلے بھی
‫کہیں دیکھا ہے۔ یہ دھوکہ نہیں‪ ،وہی ہے‪ ،وہی ہے''۔
‫اعلی علی بن سفیان کو بتا''
‫یہ وہی معلوم ہوتا ہے جو ہم پہلے بھی پکڑ چکے ہیں''۔ یہ جاسوس اپنے محکمے کے حاکم
‫ٰ
‫رہا تھا… '' وہی مراقبہ‪ ،چلہ‪ ،جنات اور لوگوں کے جذبات کو قبضے میں لے کر ان پر اپنا جادو چالنا۔ اپنی فوج کا جو سپاہی
‫مجھے اس کے پاس لے گیا تھا۔ وہ صرف فوج کے خالف باتیں کرتا تھا۔ وہ اس قسم کی باتیں مسجد میں نمازیوں کے ساتھ
‫کررہا تھا۔ اس نے میرے ساتھ جو باتیں کیں‪ ،ان سے پتہ چلتا تھا کہ اس کے اور بھی کئی ساتھی ہیں اور وہ مسجدوں میں
‫جاکر نمازیوں کو فوج کے خالف اکساتے ہیں۔ محاذ کی جھوٹی جھوٹی باتیں سناتے ہیں اور زور اس پر دیتے ہیں کہ فوج میں
‫بھرتی ہونا گناہ ہے''۔
‫انہیں ایسی باتیں مسجدوں میں ہی کرنی چاہئیں''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''مسجد میں کہی ہوئی بات کو لوگ وحی ''
‫کا درجہ دیتے ہیں۔ لوگ جذبات کے غالم ہیں۔ اسی کو مرشد مان لیتے ہیں جو ان کے جذبات کو پہلے بھڑکائے پھر الفاظ
‫میں ان کی تسکین کردے… تم کل پھروہاں جائو۔ مجھے وہ گائوں اور مکان سمجھا دو۔ ادھر اُدھر دیکھ کر زیادہ سے زیادہ
‫معلومات النے کی کوشش کرنا۔ تمہاری الئی ہوئی اطالع کے بعد ہم وہاں چھاپہ ماریں گے''۔
‫مجھے ڈر ہے کہ چھاپے سے وہاں کے لوگ مشتعل ہوجائیں گے'' جاسوس نے کہا… ''سپاہی نے بتایا تھا کہ گائوں کا ''
‫بچہ بچہ اس کا مرید ہوچکا ہے اور دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں''۔
‫ہمیں لوگوں کے ساتھ نہیں چلنا'' علی بن سفیان نے کہا… ''لوگوں کے جذبات کا خیال صرف وہ حکمران رکھا کرتے ہیں''
‫جو ان پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حکمران لوگوں کے جذبات سے کھیال کرتے ہیں‪ ،تاکہ رعایا خوش رہے اور اس کے
‫آگے سجدے کرے۔ ہمیں سلطنت اسالمیہ اور انہیں لوگوں کے وقار کا تحفظ کرنا ہے۔ ہم ان لوگوں کو حقیقت دکھائیں گے۔ ہم
‫انہیں سلطان صالح الدین ایوبی کا غالم اور مرید نہیں بنانا چاہتے۔ ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اسالم کے پاسبان تم بھی
‫اتنے ہی ہو جتنا تمہارا سلطان ہے۔ ہم انہیں اسالم کا دشمن دکھائیں گے۔ ہم قوم پر جذبات پرستی کا نشہ طاری کرکے اسے
‫سالنا نہیں چاہتے‪ ،قوم کو حقائق کے جھٹکے دے کر جگانا ہے… تم جاکر وہ بھی دیکھو جو تمہیں ابھی نظر نہیں آیا''۔
‫جاسوس کے وہاں جانے کا وقت رات کا تھا۔ علی بن سفیان نے بھیس بدال اور اس گائوں میں چال گیا۔ اس نے مکان بھی
‫دیکھ لیا اور اس نے لوگوں کی عقیدت مندی کی بے تابیاں بھی دیکھ لیں۔ لوگوں کی باتیں بھی سنیں۔ فوج کے خالف طوفان
‫اٹھایا جارہا تھا۔ علی بن سفیان نے مکان کے پچھواڑے کو دور سے دیکھا۔ وہاں چھوٹا سا ایک دروازہ تھا جو بند تھا۔ وہاں
‫درخت تھا اور دائیں بائیں دو مکانوں کے پچھواڑے تھے۔ اس طرف کوئی انسان نہیں تھا۔ ہجوم مکان کے سامنے تھا۔ دروازہ
‫کھال اور ایک سفید ریش آدمی پرانے سے چغے میں ملبوس دروازے سے نکال۔ علی بن سفیان اوٹ میں ہوگیا۔ اس نے کھلے
‫ہوئے دروازے میں ایک خوبصورت اور جوان لڑکی کو کھڑے دیکھا۔ لڑکی نے فورا ً دروازہ بند کردیا۔
‫سفید ریش آدمی ہاتھ میں الٹھی لیے جھکا جھکا گائوں سے نکل گیا۔ علی بن سفیان اسے دیکھتا رہا۔ دور جاکروہ رک گیا ‪:
‫اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ ایک طرف سے ایک گھوڑ سوار آیا۔ سفید ریش آدمی گھوڑے پر سوارہوگیا اور قاہرہ کی طرف چال
‫گیا۔ جو آدمی گھوڑا الیا تھا‪ ،وہ گائوں کی طرف چال گیا۔ علی بن سفیان اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور سفید ریش سوار کے
‫پیچھے گیا مگر فاصلہ رکھا۔ سفید ریش نے کئی بار پیچھے دیکھا۔ علی بن سفیان اس کے پیچھے جاتا رہا۔ آگے جاکر سفید
‫ریش نے قاہرہ کے راستے کے بجائے گھوڑا دوسرے راستے پر ڈال دیا۔ رفتار معمولی تھی۔ علی بن سفیان نے بھی گھوڑا اسی
‫راستے پر ڈال دیا۔
‫قاہرہ شہر نظر آرہا تھا۔ دور نہیں تھا۔ ادھر ادھر ایک ایک دو دو جھونپڑے یا خیمے نصب تھے۔ کہیں خانہ بدوشوں نے ڈیرے
‫ڈال رکھے تھے۔ سفید ریش سوار نے کئی راستے بدلے اوروہ پیچھے دیکھتارہا۔ علی بن سفیان اس کے پیچھے رہا۔ سفیدریش
‫کی بے چینی صاف ظاہر ہونے لگی تھی۔ آخر اس نے قاہرہ کا رخ کرلیا اورگھوڑے کی رفتار ذراتیز کرلی۔ علی بن سفیان نے
‫بھی باگوں کو جھٹکا دیا۔ ہلکی سی ایڑی لگائی اور گھوڑے کی چال بدل کر تیز ہوگئی۔ فاصلہ پندرہ بیس قدم رہ گیا۔ وہ اب
‫شہر میں تقریبا ً داخل ہوچکے تھے۔ سفید ریش سوار نے گھوڑا روک لیا اور علی بن سفیان کے راستے میں ہوگیا۔ علی بن
‫سفیان نے بھی گھوڑا اس کے قریب جاکر روکا۔
‫تم کوئی راہزن معلوم ہوتے ہو''۔ سفید ریش سوار نے کہا اور خنجر نکال لیا۔ بوال… ''میرا پیچھا کیوں کررہے ہو''۔''
‫علی بن سفیان نے دیکھا کہ اس کی سفید داڑھی سے اس کی عمر ستر برس سے اوپر لگتی تھی مگر چہرہ‪ ،آنکھیں اور
‫دانت بتاتے تھے کہ چالیس سے بہت کم ہے۔ علی بن سفیان بھی بہروپ میں تھا۔ اس نے اپنے کمر بند سے سوا گز لمبی
‫تلوار لٹکا رکھی تھی جو اس کے چغے میں چھپی ہوئی تھی۔ اس نے بجلی چمکنے جیسی پھرتی سے تلوار نکال لی۔
‫داڑھی اتار دو''۔ اس نے سفید ریش کے پہلو میں تلواررکھ کر کہا… ''اور میرے آگے آگے چل پڑو''۔ سفید ریش کی ''
‫آنکھیں ٹھہر گئیں۔ علی بن سفیان نے تلوار کی نوک اس کی کنپٹی پر رکھ کر داڑھی میں الجھائی اور جھٹکا دیا‪ ،وہاں سے
‫داڑھی چہرے سے الگ ہوگئی۔ آدھا چہرہ ننگا ہوگیا۔ علی بن سفیان نے اپنی داڑھی اتار دی اور بوال… ''ہم ایک دوسرے کو
‫اچھی طرح جانتے ہیں‪ ،چلو چلیں''۔
‫اعلی حاکم تو نہیں تھا لیکن چھوٹا اور غیراہم بھی نہیں تھا۔ مصر کا رہنے واال تھا۔ اس کے متعلق
‫وہ شہری انتظامیہ کا کوئی
‫ٰ
‫علی بن سفیان تک یہ اطالعات پہنچی تھیں کہ معزول کی ہوئی عباسی خالفت کا زمین دوز کارندہ ہے۔ اس خالفت کو جس
‫کی گدی قاہرہ میں تھی۔ سلطان ایوبی نے سات آٹھ سال پہلے ختم کردیا تھا۔ خلیفہ العاضد تھا جس نے حشیشین‪ ،صلیبیوں
‫اور سوڈانیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کررکھا تھا۔ سلطان ایوبی نے نورالدین زنگی مرحوم کے ساتھ بات کرکے اس خالفت کو معزول

‫کیا اور امارت مصر کو خالفت بغداد کے تحت کردیا تھا۔ معزول شدہ خالفت عباسیہ کے پیروکار ابھی تک زمین دوز کارروائیوں
‫میں مصروف تھے۔ رملہ کی شکست ان کے لیے زریں موقع تھا‪ ،چنانچہ سلطان ایوبی اور اس کی فوج کو بدکار‪ ،عیاش‪ ،اور
‫شکست کا ذمہ دار ثابت کرنے کی مہم میں عباسی خفیہ طریقوں سے سرگرم ہوگئے تھے۔
‫علی بن سفیان نے اس آدمی کو حراست میں لے لیا اور اپنے اس قید خانے میں بند کیا‪ ،جہاں وہ ملزموں سے ابتدائی تفتیش
‫کیا کرتا تھا۔ علی بن سفیان کا جاسوس رات کو سیاہ ریش بزرگ کے بتائے ہوئے وقت پر گائوں کے باہر جاکھڑا ہوا۔ گزشتہ
‫رات واال سپاہی اسے لینے آگیا۔ سپاہی نے اسے کوئی نئی ہدایات دیں اور ساتھ لے گیا۔ وہ پچھلے دروازے سے اندر گیا مگر
‫جاسوس کو گزشتہ رات والے کمرے کے بجائے ایک اورکمرے میں لے گئے۔ اسے کمرے میں سیاہ ریش بزرگ نظر نہ آیا‪ ،وہاں
‫کچھ بھی نہیں تھا۔ دروازہ بند ہوا تو اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ سپاہی بھی باہر نکل گیا تھا۔ اس نے دروازے کو ہاتھ
‫لگایا تو اسے پتہ چال کہ دروازہ باہر سے بند کردیا گیا ہے۔ اس کمرے کی نہ کوئی کھڑکی تھی‪ ،نہ روشن دان۔ وہ سمجھ گیا
‫کہ اسے پہچان لیا گیا ہے اور اسے پکڑ لیا گیا ہے۔ فرارممکن نہیں تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا کرے۔
‫خاصی دیر بعد دروازہ کھال۔ ان لڑکیوں میں سے ایک اندر آئی‪ ،جنہیں سیاہ ریش نے اپنی بیٹیاں بتایا تھا۔ وہ اب مستور ‪:
‫نہیں تھی لیکن یورپی لڑکیوں کی طرح عریاں بھی نہیں تھی۔ اس کا لباس عرب کی مسلمان لڑکیوں جیسا تھا۔ نقش ونگار
‫عرب اور یورپ کے ملے جلے تھے۔ وہ ا ندر آئی تو باہر سے کسی نے دروازہ بند کرکے زنجیر چڑھا دی۔ کمرے میں قندیل
‫جل رہی تھی۔ جاسوس نے لڑکی کو دیکھا تو اس کی آنکھیں جیسے حیرت سے ساکن ہوگئی ہوں۔ لڑکی مسکرا رہی تھی۔
‫پہچاننے کی کوشش کررہے ہو؟''… لڑکی نے کہا… ''اتنی جلدی بھول گئے؟ تم میرے شہر سے بچ کر نکل آئے تھے‪ ،مگر''
‫اپنے شہر میں آکر میرے قیدی بن گئے۔ اب نہیں نکل سکو گے''۔
‫جاسوس نے لمبی آہ بھری جس میں سکون بھی تھا‪ ،اضطراب بھی۔ اسے تین سال پہلے کے وہ دن یاد آگئے جب اسے
‫جاسوسی کے لیے عکرہ بھیجا گیا تھا۔ عکرہ صلیبیوں کے قبضے میں تھا۔ وہاں ان کا بڑا پادری رہتا تھا جسے صلیب اعظم کا
‫محافظ کہتے تھے۔ صلیبی بادشاہ جو اپنی فوجیں عرب عالقوں میں قبضہ کرنے کی غرض سے لے کر آتے‪ ،عکرہ ضرور جاتے
‫اور صلیب اعظم کے محافظ کو سالم کرتے تھے۔ اس لیے جنگی لحاظ سے یہ اہم جگہ تھی۔ علی بن سفیان نے وہاں اپنے
‫جاسوس بھیج رکھے تھے۔ انہوں نے عیسائیوں کے بہروپ میں وہاں ایک خفیہ اڈا بھی قائم کررکھا تھا۔ ان میں سے تین چار
‫پکڑے گئے اور دوشہید ہوگئے تو وہاں کے زمین دوز کمانڈر نے مزید جاسوس مانگے تھے۔ ان میں اسے بھی بھیجا گیا تھا جو
‫اب مصر میں ایک کمرے میں بند تھا۔
‫اس کا رنگ اچھا‪ ،قدبت اور زیادہ اچھا اور چہرہ دل کش تھا۔ دماغی لحاظ سے وہ تیز اور ہوشیار تھا۔ وہ گھوڑے کی سواری
‫کا اتنا ماہر تھا کہ فوجی نمائشوں اور میلوں میں حیران کردینے والے کرتب دکھایا کرتا تھا۔ اداکاری میں بھی مہارت رکھتا تھا۔
‫اس نے سیاہ ریش کے سامنے اپنے آنسو نکال لیے تھے۔ وہ عیسائی نام سے عکرہ میں داخل ہوا تھا اور اس نے وہاں کوئی
‫اپنی دردناک کہانی سنائی تھی اور بتایا تھا کہ وہ حلب کی مسلمان فوج میں نئے سپاہیوں کوگھوڑ سواری اور رسالے کی لڑائی
‫کی ٹریننگ دیا کرتا تھا لیکن مسلمانوں نے اس کی نوجوان بہن کو اغوا کرکے اسے فوج سے نکال دیا۔
‫اس کی اداکاری سے متاثر ہوکر اسے سواری کی ٹریننگ دینے کے لیے رکھ لیاگیا لیکن اس کے شاگرد فوجی نہیں تھے بلکہ
‫جوان لڑکیاں تھیں اور بڑے بڑے فوجی افسروں کے لڑکے۔ اسے پتہ چال کہ ان لڑکیوں کو مسلمان عالقوں میں جاسوسی کے
‫لیے تیار کیا جارہا ہے۔ پھر مرد بھی اس کے حوالے کیے جانے لگے۔ یہ سب صلیبی جاسوس تھے۔ وہ ان میں گھل مل گیا
‫تھا اور ان سے اسے بڑی قیمتی معلومات مل جاتی تھیں۔
‫یہ لڑکی جو اب قاہرہ کے مضافات کے ایک گائوں میں اسے کہہ رہی تھی کہ اب نہیں نکل سکو گے‪ ،عکرہ میں اس کی
‫شاگرد تھی۔ وہ جاسوسی کا تجربہ رکھتی تھی‪ ،گھوڑ سواری نہیں جانتی تھی۔ علی بن سفیان کا یہ جاسوس اسے اچھا لگنے
‫لگا تھا۔ پھر استادی شاگردی بڑے گہرے لگائو کی صورت اختیار کرگئی۔ لڑکی نے یہاں تک ارادہ کرلیا تھا کہ وہ اس آدمی کی
‫خاطر جاسوسی جیسا ذلیل پیشہ ترک کردے گی اور اس کی بیوی بن کر باعزت زندگی گزارنے لگے گی۔ اس مسلمان جاسوس
‫نے محبت کا جواب محبت سے دیا تھا لیکن اپنے فرض کو نظرانداز نہیں کیا تھا۔ لڑکی نے اپنے کام میں دلچسپی لینی چھوڑ
‫دی تھی۔ وہ اس آدمی کی ہو کے رہ گئی تھی۔
‫ایک روز عکرہ میں دو مسلمان جاسوس پکڑے گئے۔ ان میں سے ایک نے اپنے گروہ کے ان تمام آدمیوں کی نشاندہی کردی ‪:
‫جنہیں وہ جانتا تھا۔ ان میں یہ جاسوس بھی تھا۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ اسی لڑکی نے اس سے پوچھا… ''تم جاسوس تو
‫نہیں ہوسکتے۔ تم مسلمان تو نہیں؟ مجھے پتہ چال ہے کہ یہاں کا جاسوسی کا محکمہ تمہارے متعلق تفتیش کررہا ہے اور تم
‫پر نظر رکھی جارہی ہے''۔
‫وہ ہنس پڑا اور الزام کی تردید کی‪ ،مگربے چین ہوگیا۔ رات کو وہ اپنے زمین دوز کمانڈر سے مال۔ کمانڈر نے اسے بتایا کہ
‫گروہ کے بہت سے آدمیوں کی نشاندہی ہوگئی ہے اور بہترہے کہ وہ یہاں سے نکل جائے۔ وہ کمانڈر کے گھر سے نکال تو اسے
‫پتہ چل گیا کہ دو آدمی اس کے پیچھے پیچھے آرہے ہیں۔ یہ تعاقب تھا۔ وہ چلتا گیا اور اصطبل میں گیا۔ ایک گھوڑے پر
‫زین کسی تو دونوں آدمی آگئے۔ اس سے پوچھا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ وہ پھرتیال اور ہوشیار تھا۔ کود کرگھوڑے پرسوار ہوا اور
‫ایڑی لگا دی۔ ایک آدمی اس کے گھوڑے تلے کچال گیا… وہ عکرہ سے نکل آیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫میں نے تمہیں پہچان لیا ہے''… اس نے لڑکی سے کہا۔ وہ ایک دوسرے کو تین سال بعد دیکھ رہے تھے۔ اس نے کہا… ''
‫''مجھے حیران نہیں ہونا چاہیے تھا‪ ،تم آخر جاسوس ہو''۔
‫تین سال پہلے میں نے تمہاری محبت کے دھوکے میں آکر جاسوسی چھوڑ دینے کا عہد کیا تھا''… لڑکی نے کہا… ''تم ''
‫اگر مجھے بتا دیتے کہ تم مسلمان ہو اور جاسوس ہو تو بھی میں تمہیں دھوکہ نہ دیتی‪ ،شاید تمہارے ساتھ آجاتی۔ تمہارے
‫بھاگ آنے کے بعد جب مجھے پتہ چال تھا کہ تم مسلمان جاسوس تھے تو مجھے دکھ نہیں ہوا تھا۔ تمہارے کھو جانے کا
‫بہت غم تھا''۔
‫کیا اب تمہارے دل میں میری محبت نہیں؟''… جاسوس نے پوچھا… ''تم اب میرے ملک میں ہو‪ ،میرے ساتھ آئو‪ ،یہاں ''
‫تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا''۔
‫محبت اب بھی ہے''… لڑکی نے کہا… ''مگر اس پر فرض غالب آگیا ہے۔ یہ تمہارا جرم ہے۔ میں نے تو تمہاری محبت''
‫کی خاطر جاسوسی چھوڑ دینے کا ارادہ کرلیا تھا مگر تم نے میرے ارادوں کو کچل ڈاال اور جاسوسی کی غالظت میں مجھے
‫ڈبو آئے۔ تین سال گزر گئے ہیں۔ اتنی لمبی مدت میں میں اپنے آپ کو بری طرح ناپاک کرچکی ہوں۔ اسالم کے خالف نفرت

‫میری روح میں اترگئی ہے۔ اب نہیں۔ اب تم میرے قیدی ہو۔ میں اپنے گروہ کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔ میں جس آدمی کے
‫ساتھ آئی ہوں‪ ،اسے میں نے ہی بتایا تھا کہ تم جاسوس ہو۔ میں نے اسے عکرہ کی ساری بات سنا دی تھی۔ اگر میں
‫تمہیں صحن میں گزرتے اتفاق سے نہ دیکھ لیتی تو ہم سب گرفتارہوچکے ہوتے۔ تمہیں میں نے پکڑوایا ہے''۔
‫یہ آدمی جو غیب دان اور مرشد بنا ہوا ہے‪ ،مسلمان ہے یا صلیبی؟''…جاسوس نے پوچھا۔''
‫اب پوچھ کر کیا کرو گے؟''… لڑکی نے پوچھا۔''
‫جاسوسی ایک عادت بن گئی ہے''… جاسوس نے کہا… ''مرنے سے پہلے جاننا چاہتا ہوں۔ اب یہ راز باہر تو نہیں لے ''
‫جاسکوں گا''۔
‫یہ مسلمان ہے''… لڑکی نے کہا… ''مسلمانوں کی کمزوریوں سے واقف ہے۔ استادوں کا استاد ہے''۔'
‫کمرے کا دروازہ کھال سیاہ ریش ایک آدمی کے ساتھ اندر آیا۔ لڑکی سے بوال… ''اگر تمہاری بات پوری ہوگئی ہے تو باہر نکل
‫جائو''… لڑکی جاسوس کو گہری نظروں سے دیکھتی باہر نکل گئی۔ سیاہ ریش نے جاسوس سے پوچھا… ''مجھے صرف یہ بتا
‫''دو کہ میرا راز کس کس کو معلوم ہے۔ کیا تم نے علی بن سفیان کو بتا دیاہے کہ میں مشکوک آدمی ہوں؟
‫نہیں''… جاسوس نے جواب دیا… ''میں جاسوس ضرور ہوں‪ ،جاسوسی کے خیال سے یہاں نہیں آیا تھا''۔''
‫سیاہ ریش کے ہاتھ میں چمڑے کا چابک (ہنٹر) تھا۔ اس نے پوری طاقت سے جاسوس کو مارا ور کہا… ''میں سچی بات
‫سننا چاہتا ہوں''۔
‫دروازہ زور سے کھال۔ وہی لڑکی اندر آئی۔ اس نے سیاہ ریش کے دونوں بازو پکڑ کر التجا کی… ''اسے مارو مت سب کچھ
‫بتا دے گا''۔
‫میں کچھ نہیں بتائوں گا''۔ جاسوس نے کہا۔''
‫سیاہ ریش نے چابک گھمایا تو لڑکی دوڑ کر جاسوس کے آگے ہوگئی۔ چال کر بولی… ''مارو نہیں‪ ،اس کے جسم کی چوٹ
‫میرے دل کا زخم بن جائے گی''۔
‫تم اسے بچانا چاہتی ہو؟''… دوسرے آدمی نے گرج کر پوچھا۔''
‫نہیں''… لڑکی نے روتے ہوئے کہا… ''یہ کچھ نہ بتائے تو تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سرتن سے جدا کردو۔ اذیت ''
‫دے کر نہ مارو''۔
‫لڑکی کو گھسیٹ کر باہر لے گئے پھر جاسوس پرتشدد شروع ہوگیا۔ اسے رات بھر سونے نہ دیا گیا۔ اس سے بہت کچھ پوچھا
‫جارہا تھا۔ اسے بہت کچھ بتایا جارہا تھا مگر وہ بت بنا چوٹ پر چوٹ کھا رہا تھا۔ سحر کا وقت تھا۔ لڑکی پھر اس کمرے
‫میں آگئی۔ اس وقت جاسوس نیم غشی کی حالت میں تھا۔ وہ فرش پرپڑا تھا۔ اب اسے تلوار کی نوک جگہ جگہ چبھوئی
‫جارہی تھی۔ لڑکی اس کے اوپر لیٹ گئی اور چیخنے لگی… ''یہ میں برداشت نہیں کرسکتی۔ میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ یہ
‫میری پہلی اور آخری محبت ہے۔ اس کی اذیت میری اذیت ہے۔ یہ اپنا فرض ادا کررہا ہے‪ ،میں اپنا فرض ادا کررہی ہوں۔
‫ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ اسے جان سے ماردو‪ ،اذیت نہ دو''۔
‫جاسوس نے نیم بے ہوشی کی حالت میں اپنے اوپر پڑی لڑکی کو بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا اور مری ہوئی آواز میں بوال…
‫''تم چلی جائو۔ ایسا نہ ہو کہ میں اپنے فرض سے بھٹک جائوں۔ یہ اذیتیں میرے فرض کا حصہ ہیں۔ تم اپنے مذہب پر
‫قربان ہوجائو‪ ،مجھے اپنے مذہب پر قربان ہوجانے دو''۔
‫لڑکی پاگل ہوئی جارہی تھی۔ اسے ایک بار پھر گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ سیاہ ریش نے حکم کے لہجے میں کہا… ''اس
‫بدبخت لڑکی کو کسی کمرے میں بند کردو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫دن آدھا گزر چکا تھا۔ علی بن سفیان اس جاسوس کے انتظار میں بیزارہوا جارہا تھا۔ا یک روز پہلے اس نے جس آدمی کو ‪:
‫سفید داڑھی کے بہروپ میں پکڑا تھا اسے بھی گزشتہ رات قید خانے میں ایسی ہی اذیتیں دے کر اس سے کہلوا لیا گیا تھا
‫کہ یہ سیاہ ریش کون ہے اور اس کی اصلیت اور اس کا مشن کیا ہے۔ دن کے پچھلے پہر علی بن سفیان نے اس شک کی
‫بناء پر کہ اس کا جاسوس پکڑا نہ گیا ہو۔ فوج کا ایک چھاپہ مار جیش تیار کیا۔ اس مکان کے متعلق پتہ چل ہی چکا تھا
‫کہ تخریب کار جاسوسوں کا اڈا بن گیا ہے۔
‫چھاپہ مار اس قدر تیزی سے آئے کہ گائوں میں کسی کو سنبھالنے کا موقع نہ مال۔ وہ گھوڑوں سے اتر کر بندروں کی طرح
‫مکان کی دیواریں پھالنگ گئے۔ دروازے توڑ دئیے گئے۔ اندر جتنے آدمی تھے‪ ،انہیں پکڑ لیا گیا۔ علی بن سفیان کے جاسوس
‫کی اب یہ حالت تھی کہ بے ہوش پڑا تھا اور اس پر نزاع کی کیفیت طاری تھی۔ ایک کمرے میں اسے چاہنے والی لڑکی
‫فرش پر پڑی تھی۔ ایک خنجر اس کے دل میں اترا ہوا تھا۔ وہ اتنا ہی کہہ سکی… ''میں نے خودکشی کی ہے''… اور وہ
‫مرگئی۔
‫سیاہ ریش کو اس ہجوم کے سامنے کھڑا کیا گیا جو گائوں کے اندر اور باہر جمع تھا اور اسے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو بتائے
‫کہ اس کی اصلیت کیا ہے اور وہ کس مقصد کے تحت فوج اور سلطان کو بدنام کررہا تھا۔ اس نے بتا دیا۔ ایک لڑکی مرچکی
‫تھی۔ دوسری کو لوگوں کے سامنے کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ لڑکی مسلمان نہیں صلیبی ہے۔ یہ بھی سب کو بتایا گیا کہ
‫ٹیلوں کے عالقے میں آگ کے قریب جو پانی اورکھجوریں پڑی تھیں۔ وہ اس کے گرہو کے آدمیوں نے رکھی تھیں۔ یہ گروہ اس
‫سے دور دور سفر کرتا تھا۔
‫علی بن سفیان نے اپنے تہہ خانے میں اس آدمی اور اس کے گروہ سے جو باتیں اگلوائیں‪ ،ان سے پتہ چال کہ اس نے محاذ
‫سے بھاگے ہوئے نئے فوجیوں کو اپنے اثر میں لے لیا تھا۔ا س کے ساتھ اپنے آدمی بھی تھے۔ یہ تمام لوگ مسجدوں میں اور
‫ان جگہوں پر جہاں لوگ اکٹھے ہوئے تھے‪ ،مصر کی فوج کے خالف باتیں کرتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ قوم اور فوج کے درمیان
‫شکوک اور نفرت کی دیوار کھڑی کی جائے۔ اس سے صلیبی بہت فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ اس مہم میں مصر کی انتظامیہ کے
‫چند ایک حاکم بھی شامل تھے اور معزول شدہ عباسی خالفت کے خفیہ پیروکاربھی۔ مختصر یہ کہ دشمن تو اس مہم میں
‫شریک تھا ہی‪ ،خود وہ مسلمان بھی اس میں شامل ہوگئے تھے جن کاکوئی نہ کوئی مفاد وابستہ تھا۔
‫جب کبھی فوج اورقوم میں نفرت پیدا ہوگی‪ ،سمجھ لو سلطنت اسالمیہ کا زوال شروع ہوگیا''… سلطان ایوبی نے کہا۔ اس ''
‫نے حکم دیا… '' تمام مسجدوں کے اماموں کو رملہ کی شکست کے اصل اسباب بتانے کا انتظام کرو اور امام ساری قوم کو
‫عیسی
‫بتائیں۔ اگر کسی کو ذمہ داریاں اور الزامات عائد کرنے سے تسکین ہوتی ہے تو ساری ذمہ داری مجھ پر ڈالو۔ حضرت
‫ٰ
‫علیہ السالم نے سولی پر جان دے کر قوم کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا تھا۔ میں فلسطین کے میدان جنگ میں جان دے کراپنی

‫قوم کے ہر اس فرد کے گناہوں کا کفارہ ادا کروں گا جو تخت وتاج کے نشے میں میری فوج اور مقبوضہ فلسطین کے راستے
‫میں حائل ہورہاہے اور میرے خون کے قطروں سے آواز آئے گی کہ شکست کی ذمہ داری فوج نہیں تھی اور میری کسی فوج
‫نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا''۔
20:53
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 122تصادم روح بدروح کا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫حمص پرسکون قصبہ تھا۔ یہ حلب کے شمال میں آج کے شام اور لبنان کی سرحد کے قریب واقع تھا۔ پرسکون اس لیے تھا
‫کہ ابھی جنگ کی لپیٹ میں نہیں آیا تھا۔ا س کے مضافات سے کبھی کبھی صلیبی فوج گزرا کرتی تھی۔ اس کے قریب سے
‫ایک چھوٹا سا دریا گزرتا تھا‪ ،اس لیے حمص فوجوں کی عام گزرگاہ نہیں بن سکتا تھا۔ اس قصبے میں مسلمانوں کی آبادی
‫اتنی زیادہ تھی کہ اسے مسلمانوں کی بستی کہا جاتا تھا۔ چند ایک گھرانے عیسائیوں کے بھی تھے اور چند ایک یہودیوں کے
‫بھی۔ تجارت عیسائیوں اوریہودیوں کے قبضے میں تھی۔ یہ لوگ دور کے عالقوں میں کاروبار کے سلسلے میں جاتے رہتے تھے‪،
‫اس لیے وہ باہر کی دنیا کی جو خبریں التے تھے‪ ،انہیں سچ سمجھا جاتا تھا۔ وہ صلیبی فوج کے متعلق وہ ڈرائونی باتیں
‫سنایا کرتے تھے۔
‫ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ حمص کے مسلمانوں پر صلیبی فوج کی دہشت طاری رہے اور کم از کم اس بستی کا کوئی مسلمان
‫اسالمی فوج میں نہ جائے لیکن اس کا اثر الٹا ہورہا تھا۔ مسلمانوں نے ڈرنے کے بجائے جنگی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ انہیں
‫ان تیاریوں سے کوئی حکما ً نہیں روک سکتا تھا۔ یہاں صلیبیوں کی حکمرانی نہیں تھی۔ حمص کے مسلمان گھوڑ سواری‪ ،نیزہ
‫بازی‪ ،تیغ زنی اور تیراندازی کی مشق کرتے رہتے تھے۔ یہ تربیت لڑکیوں کو بھی دی جاتی تھی۔ ان کا قائد بڑی مسجد کا
‫خطیب تھا جس کا علم اور عمل جہاد پر مرکوز تھا۔ اس نے مسلمانوں کو بتا رکھا تھا کہ قبلہ اول کو آزاد کرانا ہے اور
‫صلیبیوں کو عرب کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے۔
‫اور یہ جنگ کیوں لڑی جارہی ہے؟'' خطیب اپنے خطبوں میں اس سوال کا جواب ان الفاظ میں دہراتا رہتا تھا… …''
‫''صلیبی عرب پر قبضہ کرکے اپنی بادشاہی قائم کرنے کی کوشش میں ہیں اورہم یہاں اللہ کی بادشاہی قائم کرنے کے لیے
‫جان ومال کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے عرب کو میدان جنگ صرف اس لیے بنایا ہے کہ خدائے ذوالجالل کا عظیم
‫پیغام عرب کو عطا ہوا ہے اور اس پیغام نے عربوں پر یہ فرض عائد کردیا ہے کہ ہم یہ پیغام جو ہمارے رسول اکرم صلی
‫اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارحرا میں عطا ہوا تھا‪ ،تمام تر بنی نوع انسان تک پہنچائیں۔ طارق بن زیاد نے بحیرہ روم کے مصر
‫والے ساحل پر کھڑے ہوکر خدائے عزوجل سے کہا تھا… ''اگر تیری ذات باری مجھے ہمت واستقالل عطا فرمائے تو میں تیرا
‫نام سمندر پار لے جائوں''… اور اس کے سینے سے جذبہ ایمان کا شعلہ جو اٹھا تو اس نے گھوڑا سمندر میں ڈال دیا۔ اس
‫کی فوج کشتیوں میں یورپ کے ساحل پر اتری۔ زیاد کے بیٹے طارق نے حکم دیا… ''کشتیوں کو آگ لگا دو‪ ،ہم واپس جانے
‫کے لیے نہیں آئے''۔
‫مگر آج صلیبی اس عزم کے ساتھ اللہ کی اس سرزمین پر آئے ہیں کہ وہ واپس نہیں جائیں گے۔ انہوں نے اس سرزمین کو''
‫تہہ تیغ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ خدا کے اس عظیم پیغام کو جو ساری دنیا میں پھیالنے کے لیے رسول اکرم صلی
‫اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوا تھا‪ ،یہیں ختم کردیا جائے۔ یاد رکھو مسلمانوں! اسالم ایک ایسا مذہب ہے جو پتھروں کو موم
‫کردیتا ہے۔ ہمارے مذہب کے بنیادی اصول انسانوں کی روح میں اتر جاتے ہیں کیونکہ یہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔
‫حقوق العباد ایک ایسا اصول ہے جو صرف اسالم نے انسان کو دیا ہے۔ اسالم ایک نظریہ ہے صرف عقیدہ نہیں۔ صلیب کے
‫علمبردار جانتے ہیں کہ اسالم کو فروغ کا موقع مال تو کرٔہ ارض پر پرچم رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس سائے
‫تلے آجائے گا اور صلیب کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ اسی لیے صلیبی اپنی تمام تر جنگی قوت لے کر یہاں آگئے ہیں۔ وہ
‫…''علم وفضل کے اس سرچشمے کو بند کرنے آئے ہیں
‫اقصی ''
‫یہودیوں کے ساتھ ان کا سودا ہوا ہے کہ وہ بیت المقدس کو فتح کرکے ان کے حوالے کردیں گے تاکہ یہودی مسجد
‫ٰ
‫کو جو ہمارا قبلہ اول ہے‪ ،ہیکل سلیمانی بنا لیں۔ یہ یہودیوں کا ایک پرانا خواب ہے جسے وہ عملی شکل میں النے کو بے
‫تاب ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی بیٹیاں اور اپنی دولت صلیبیوں کے حوالے کردی ہے۔ ان دونوں چیزوں نے ہماری صفوں
‫میں غدار پیدا کردئیے ہیں۔ تم سب تک صالح الدین ایوبی کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ اسے اپنے دلوں پر نقش کرلو۔ رسالت
‫صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاسبان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج کو اور قوم کو یہ بتا رکھا ہے کہ یہ دو فوجوں کی نہیں‪،
‫دو مذہبوں کی جنگ ہے۔ یہ قبلہ اول اور ہیکل سلیمانی کی جنگ ہے۔ اگر ہم نے آج باطل کو ہمیشہ کے لیے ختم نہ کیا تو
‫ایک روز باطل ہمارے مذہب کو ختم کردے گا۔ ہماری روحیں دیکھیں گی اور تاریخ دیکھے گی کہ فلسطین پریہودی قابض ہیں
‫اقصی ہیکل سلیمانی میں تبدیل ہورہی ہے
‫…''اور مسجد
‫ٰ
‫حمص کے مسلمانو! تم صالح الدین ایوبی کی فوج کے سپاہی نہیں ہو مگرا للہ کے سپاہی ہو۔ تم پر جہاد فرض کردیا '' ‪:
‫گیا ہے۔ قرآن کا حکم ہے کہ اپنے وطن اور اپنے مذہب کے دفاع کے لیے گھوڑے اور اسلحہ تیار رکھو اور جہاد کی تیاری میں
‫مصروف رہو… اور یہ بھی یاد رکھو کہ تمہارے مذہب کا دشمن صرف میدان جنگ میں تمہارے خالف نہیں لڑتا۔ اس کا ایک
‫محاذ اور بھی ہے۔ وہ افواہوں کے ذریعے تم پر اپنی فوج کی دہشت اور اسالمی فوج کے خالف وسوسے پیدا کرتا ہے۔ سرکردہ
‫افراد کو حسین لڑکیوں اور سونے کی چمک دمک سے اپنا گرویدہ بناتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی بہت بڑی کمزوری ہیں۔
‫ان میں جب شراب شامل ہوجاتی ہے تو مسلمان اپنا ایمان اپنے ایمان کے دشمن کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔ ایسا ہوچکا
‫ہے اور ہورہا ہے۔ صلیبی ہمیں خانہ جنگی میں الجھا کر ہماری جنگی قوت کو کمزور کرچکے ہیں۔ یہ گناہ ان چند ایک امراء
‫کا تھا جو صلیبیوں کے بڑے ہی دلکش جال میں آگئے تھے مگر ان کے گناہوں کی سزا قوم اور فوج کو اور سلطنت اسالمیہ
‫…''کو ملی
‫خانہ جنگی کرانے والے قوم اور فوج کو جذبات میں الجھا کر بڑھکاتے اور مرواتے ہیں اور خود اپنے محالت میں ان حرموں''
‫میں بدمست رہتے ہیں جنہیں صلیبیوں اور یہودیوں نے اپنی لڑکیوں سے رونق دی ہے۔ یاد رکھو‪ ،یہ ساری چٹانیں سونا بن
‫جائیں اور تمہارے قدموں میں رکھ دی جائیں تو بھی یہ جہاد کا صلہ اور انعام نہیں بن سکتیں۔ جہاد کا انعام روح کو مال کرتا
‫ہے۔ روح زروجواہرات سے خوش نہیں ہوا کرتی۔ جہاد کا انعام خدا کےپاس ہے۔ تم اللہ کی راہ میں جان دے دو گے تو بھی
‫زندہ رہو گے۔ یہ جسم کی ہی لعنت ہے‪ ،جس نے جسمانی لذت کو شعار بنایا۔ اس نے اپنے بھائی کا گال کاٹا اور مرتد

‫کہالیا۔ قرآن پاک تمہیں روحانی لذت سے سرشار کرتا ہے''۔
‫اور اس طرح اس خطیب نے حمص کے مسلمانوں کو روحانی لذت سے سرشار کررکھا تھا۔ جنگی تربیت اسی کی زیر نگرانی
‫اور اسی کی ہدایات کے تحت ہوتی تھی۔ وہ خود تیغ اور خنجر زنی کاماہر تھا۔ حمص میں اس تربیت سے رونق رہتی تھی۔
‫قصبے میں تین مسجدیں تھیں‪ ،جہاں جہاد کی باتیں ہوتی تھیں مگر وہاں جو صلیبی اور یہودی رہتے تھے‪ ،وہ مسلمانوں کے
‫ہمدرد بن کر حوصلہ شکن خبریں سناتے رہتے تھے۔ مسلمان اپنے خطیب اور اماموں سے ان خبروں کے متعلق پوچھتے اور بے
‫قرار ہوتے رہتے تھے۔ خطیب نے حمص کے ایک جواں سال آدمی‪ ،تبریز کو اس مقصد کے لیے دمشق بھیج رکھا تھا کہ وہاں
‫سے صحیح صورت حاصل معلوم کرکے آئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫تبریز صحیح صورت حال معلوم کرکے حمص کو واپس جارہا تھا۔ اسے دمشق تک جانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ راستے میں
‫ہی اس کا کام ہوگیا تھا۔ اس نے حماة سے بہت دور صلیبی فوج دیکھی تھی جو ایک جگہ پڑائو کیے ہوئے تھی۔ اس نے دور
‫سے جھنڈوں سے پہچان لیا تھا کہ یہ صلیبی فوج ہے۔ پھر اسے دو شتر سوار ملے تھے جو مسلمان تھے۔ انہوں نے بھی
‫اسے بتایا تھا کہ یہ صلیبیوں کی فوج ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہ فوج مسلمانوں کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اٹھا
‫کر آئی ہے۔ تبریز نے انہیں بتایا کہ وہ حمص سے یہ معلوم کرنے آیا ہے کہ صلیبی فوج کہاں تک پہنچی ہے اور عرب کے
‫کتنے عالقے فتح کرچکی ہے۔
‫وہ پہاڑیاں تمہیں نظر آرہی ہیں''۔ شتر سواروں نے اسے بتایا تھا… ''یہی راستہ تمہیں ان پہاڑیوں کے اندر لے جائے گا۔ ''
‫اپنی فوج وہیں ہے۔ دمشق بہت دور ہے۔ تم اپنی فوج کے کسی بھی آدمی سے پوچھ لینا‪ ،تمہیں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔
‫ہم اتنا ہی جانتے ہیں کہ رملہ میں لڑائی ہوئی تھی جس میں مسلمان نقصان اٹھا کر ادھر ادھر ہوگئے تھے‪ ،پھر صلیبیوں سے
‫حماة کے قلعے کے قریب لڑائی ہوئی تھی جس میں صلیبی نقصان اٹھا کر بھاگے… تم آگے چلے جائو لیکن کسی صلیبی سپاہی
‫کے قریب نہ جانا۔ اسے جونہی پتہ چال تم مسلمان ہو‪ ،وہ تمہیں قتل کردے گا''۔
‫سورج غروب ہونے کو تھا‪ ،جب وہ حماة کی پہاڑیوں سے گزر رہا تھا۔ ایک فراخ وادی تھی۔ آگے سے چند ایک سوار آرہے
‫تھے۔ تبریز راستے سے ہٹا نہیں۔ ایک سوار گھوڑا دوڑاتا آیا اور اسے غصے سے کہا کہ وہ راستے سے دور ہٹ جائے۔ ''ساالر
‫اعلی اور اس کے ساتھ کے سوار تیزی
‫اعلی آرہے ہیں''… تبریز ذرا سا الگ ہٹ گیا۔ سوار اسے اور پرے ہٹا رہا تھا۔ ساالر
‫ٰ
‫ٰ
‫اعلی ‪ ،سلطان ایوبی کا بھائی العادل تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا محافظ ایک مسافر کے ساتھ بہت
‫سے آرہے تھے۔ ساالر
‫ٰ
‫غصے سے بول رہا ہے اور مسافر شاید راستے سے ہٹ نہیں رہا۔ العادل قریب آکر رک گیا‪ ،تبریز کو اپنے پاس بالیا اور پوچھا
‫کہ وہ کون ہے اور محافظ کے ساتھ کیوں جھگڑ رہا ہے۔
‫تبریز نے جواب دیا کہ وہ حمص سے یہ معلوم کرنے آیا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج کس حال میں ہے اور
‫صلیبی فوج کو کتنی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ حمص کے مسلمان جنگی تیاریوں میں مصروف
‫رہتے ہیں اور وہ سلطان ایوبی کی فوج کا انتظار کررہے ہیں… ''ہماری بہنیں بھی جنگ کے لیے تیار ہیں اور ہمارے بچے اور
‫بوڑھے بھی''۔
‫علی بن سفیان کا نائب حسن بن عبداللہ جو انٹیلی جنس کا ذمہ دار تھا‪ ،العادل کے ساتھ تھا۔ وہ تبریز کو بڑی غور سے
‫دیکھ رہا تھا۔ تبریز جاسوس ہوسکتا تھا۔ اس کی سادگی بتا رہی تھی کہ وہ جاسوس نہیں لیکن شک الزمی تھا۔ جاسوس
‫ظاہری طورپر اس سے زیادہ گنوار اور سادہ لگتے ہیں۔
‫تمہارے خطیب کا نام کیا ہے؟'' حسن بن عبداللہ نے پوچھا۔''
‫تبریز نے نام بتایا۔ اس وقت کی جو غیرمطبوعہ تحریریں موجود ہیں‪ ،ان میں یہ نام صاف نہیں۔ اس لیے اسے ہم خطیب
‫کہیں گے۔ حسن بن عبداللہ نے العادل سے کہا کہ وہ اپنا آدمی ہے اور اس آدمی (تبریز) کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ
‫وہ اپنا کام جان فشانی سے کررہا ہے‪ ،تبریز کے خالف جو شک پیدا ہوگیا تھا‪ ،وہ رفع ہوگیا۔ العادل کے حکم کے مطابق اسے
‫مہمان کی حیثیت سے خیمہ گاہ میں بھیج دیا گیا‪ ،جہاں اس کی خاطر ومدارت کی گئی۔
‫رات حسن بن عبداللہ نے اسے اپنے خیمے میں بالیا اور خطیب کے نام یہ پیغام دیا… ''حاالت دشوار ہیں لیکن اتنے نہیں
‫جتنے آپ کو وہاں صلیبی بتا رہے ہیں۔ لوگوں سے کہو کہ سچ اسے سمجھیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے ہو اور جو انہیں
‫مسجد میں بتایا جائے۔ ادھر ادھر کی باتوں اور خبروں کو سچ نہ سمجھیں۔ آپ لوگ بڑے خطرناک عالقے میں ہیں۔ اپنی
‫بستی کے صلیبیوں اور یہودیوں پر نظر رکھیں اور یہ بھی خیال رکھیں کہ وہ آپ کی سرگرمیوں پر نظر نہ ڈال سکیں‪ ،جنہیں
‫آخر دم تک چھپائے رکھنا ہے''۔
‫حسن بن عبداللہ نے تبریز کو ایسا پیغام دیا جو حمص کے مسلمانوں کے لیے حوصلہ افزا تھا لیکن اسے یہ نہ بتایا کہ وہ
‫کون سی سرگرمیاں ہیں جنہیں آخر دم تک چھپائے رکھنا ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ حمص کے مسلمانوں کو سلطان ایوبی کے
‫حکم کے تحت جنگی تربیت دی جارہی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جب کبھی ضرورت پڑے‪ ،وہ صلیبی فوج پر عقب سے
‫شب خون ماریں۔ ظاہری طورپر ان کے وفادار رہیں۔ اس مقصد کے لیے حمص میں تین چار تجربہ کار چھاپہ مار بھیج دئیے
‫گئے تھے جو وہاں اپنے مطلب کی ٹرینگ دے رہے تھے۔ خطیب ان کا کمانڈر تھا۔ ان کے ساتھ ابھی باقاعدہ رابطہ نہیں رکھا
‫گیا تھا‪ ،کیونکہ ابھی ان لوگوں کی ضرورت نہیں تھی۔
‫دوسری صبح تبریز حمص کو روانہ ہوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ زمانہ قافلوں کی صورت میں چلنے کا تھا۔ لوگ اکیلے اکیلے بھی سفر کرتے تھے۔ ایسے اکیلے مسافروں کو جہاں چند آدمی
‫سفر میں نظر آتے تھے‪ ،وہ ان سے جاملتے اور اس طرح قافلے بنتے اور بڑے ہوتے جاتے تھے۔ تبریز آیا اکیال تھا۔ واپس جارہا
‫تھا کہ اسے مختصرسا ایک قافلہ مل گیا جو حمص کی سمت جارہا تھا۔ اس میں حمص کے یہودی تاجر بھی تھے۔ دو
‫عیسائی کنبے اونٹوں پر سوار تھے اور کچھ لوگ پیدل جارہے تھے۔ تبریز اس قافلے میں شامل ہوگیا۔ قافلہ چلتا گیا۔ راستہ
‫لمبا تھا۔ دو راتیں قیام کرنا پڑا۔ تیسرا دن سفر کا آخری دن تھا۔ آدھی رات سے پہلے قافلے کو حمص پہنچ جانا تھا۔ آگے
‫ایک دریا تھا۔ جو بہت بڑا نہیں تھا۔ اس کی گہرائی زیادہ سے زیادہ کمر تک رہتی تھی۔ لوگ اس میں آسانی سے گزر جایا
‫کرتے تھے۔
‫سفر کے آخری روز کا سورج سر پر آیا تو افق سے سیاہ گھٹا اٹھتی نظر آئی۔ قافلہ اور تیز چلنے لگا تاکہ بارش سے پہلے
‫منزل تک پہنچ جائے یا چٹانی عالقے میں پہنچ کر چھپنے کی جگہ ڈھونڈ لی جائے اور اگر ممکن ہو تو طغیانی آنے سے

‫پہلے ہی دریا پار کرلیا جائے۔ یہ ان لوگوں کی حماقت تھی۔گھٹا کی رفتار قافلے کی نسبت زیادہ تھی اورگھٹا جانے کہاں سے
‫برستی آرہی تھی۔ وہ تمام عالقہ چٹانی اور پہاڑی تھا۔ قافلہ دریا کے قریب پہنچا تو گھٹا دنیا کو تاریک کرچکی تھی اور مینہ
‫ایسا موسالدھار برسنے لگا تھا کہ آنکھیں کھول کر چلنا ممکن نہ رہا۔ ایک بوڑھے عیسائی نے کہا کہ دریا چڑھ رہا ہے‪ ،ابھی
‫گزر سکتے ہیں‪ ،فورا ً پار ہوجائو۔
‫اس بوڑھے کے ساتھ والے اونٹ پر ایک جوان اور خوبصورت عیسائی لڑکی سوار تھی۔ قافلہ دریا کے کنارے پر پہنچ چکا تھا۔
‫اس کا پانی مٹیاال ہوگیا تھا اور اس کی روانی میں طغیانی واال جوش پیدا ہوگیا تھا۔گہرائی میں کوئی اضافہ معلوم نہیں ہوتا
‫تھا۔ بارش بہت تیز تھی۔ گھٹا نے گہری شام کا منظر بنا رکھا تھا۔ سورج غروب ہونے کو ہی تھا۔ ایک آدمی نے گھوڑا دریا
‫میں ڈال دیا۔ چند قدم آگے جاکر اس نے چال کر کہا… ''آجائو‪ ،پیدل چلنے والے بھی آجائو‪ ،پانی گہرا نہیں''۔
‫یہ کسی نے بھی نہ دیکھا کہ شدید اور خطرناک طغیانی کا ریال آرہا ہے۔ اوپر کی طرف بہت مینہ برسا تھا اور وہ پہاڑی
‫عالقہ تھا جس کی طغیانی بہت ہی تیز ہوا کرتی تھی۔ اونٹ اور گھوڑے شاید اس خطرے کو محسوس کررہے تھے۔ یہی جانور
‫بڑے آرام اور اطمینان سے دریا میں سے گزر جایا کرتے تھے مگر بارش میں وہ دریا میں بدک رہے تھے‪ ،حاالنکہ پانی گہرا
‫نہیں تھا۔ اچانک دریا بپھر گیا۔ اونچی اونچی لہریں کسی کو سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر آگئیں۔ دریا کے کنارے ڈوب گئے۔
‫پانی گہرا ہوگیا۔ پیدل چلنے والے ڈوبنے لگے تو وہ تیرنے لگے۔ اونٹوں نے واویال بپا کردیا۔ قافلہ دریا میں بکھر گیا۔ دوسرا
‫کنارہ دور تو نہیں تھا لیکن طغیانی جو بڑھتی جارہی تھی‪ ،آگے جانے ہی نہیں دے رہی تھی‪ ،پھر قافلے والوں کو ایک دوسرے
‫کاہوش نہ رہا۔
‫عیسائی لڑکی کی چیخ سنائی دی۔ تبریزک وہیں قریب تھا۔ اس نے چیخ سن لی اور یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ اونٹ جس پر
‫عیسائی لڑکی سوار تھی‪ ،طغیانی کا مقابلہ نہ کرسکا اور اس کے پائوں اکھڑ گئے۔ طغیانی نے اسے گرا دیا۔ اس کی پیٹھ پر
‫بیٹھی لڑکی دریا میں جاپڑی۔ طغیانی کا یہ عالم تھا کہ کبھی لہریں اوپر کو اٹھتی اور گرتی تھیں اور کبھی بھنور بن جاتی
‫تھیں۔ شور اتنا زیادہ تھا کہ کسی کو کسی کی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ اگر تبریز قریب نہ ہوتا تو لڑکی کی چیخ کوئی
‫بھی نہ سن سکتا۔ وہ گھوڑے پر سوار تھا اورگھوڑا سیدھا تو نہیں جارہا تھا لیکن طغیانی کا مقابلہ کررہا تھا۔تبریز نے لڑکی کو
‫پانی میں گرتے دیکھا تو اس نے گھوڑے کو دریا کے رخ میں ڈال دیا لیکن گھوڑااتنی تیزی سے تیر نہیں سکتا تھا۔
‫تبریز گھوڑے سے کود گیا اور بہت تیزی سے تیرتا لڑکی کے پیچھے گیا۔ ایک لہر نے لڑکی کو اوپر اٹھایا اور تبریز نے دیکھ
‫لیا۔ طغیانی کا زور بھی تھا اور تبریز کے جوان بازوئوں کی قوت بھی تھی کہ اس نے تھوڑی ہی دورلڑکی کو جاپکڑا۔ وہ ابھی
‫ڈوبی نہیں تھی لیکن وہ تیر بھی نہیں رہی تھی۔ تبریز کے لیے اسے سنبھالنا بہت مشکل ہوگیا۔ اسی کوشش میں پانی انہیں
‫بہت آگے لے گیا۔ تبریز نے اسے اپنے اوپر ڈاال اور کنارے کی طرف تیرنے لگا۔ لڑکی دوبارہ اس کی پیٹھ سے لڑھک گئی۔ وہ
‫ہوش میں نہیں تھی‪ ،اگر تبریز کے جسم میں طاقت اور دل میں بے خوفی نہ ہوتی تو وہ لڑکی کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے
‫کی فکر کرتا۔ طغیانی کا زور اور اس کا شور حوصلے پست کررہا تھا۔
‫جس جگہ سے قافلہ دریا میں اترا تھا‪ ،وہاں سے کم وبیش دو میل دور تبریز لڑکی کو سنبھالے کنارے سے جالگا‪ ،وہاں ‪:
‫چٹانیں تھیں۔ بارش ابھی تھمی نہیں تھی۔ تبریز نے لڑکی کو ایک چپٹی چٹان پر لٹایا۔ وہ زندہ تھی‪ ،ہوش میں نہیں تھی۔
‫اسے معلوم نہیں تھا کہ بے ہوش کو کس طرح ہوش میں الیا جاتا ہے۔وہ لڑکی کو دیکھتا رہا۔ لڑکی بے ہوشی میں ازخودہی
‫پیٹ کے بل ہوگئی۔ پیٹ پرزور پڑا تو منہ سے دریا کا پانی نکلنے لگا۔ تبریز نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر دبایا تو بہت
‫سا پانی منہ کے راستے باہر نکل آیا۔ اس نے اور زور سے دبایا۔ پہلوئوں سے بھی پیٹ کو دبایا۔ اس سے لڑکی کا پیٹ پانی
‫سے خالی ہوگیا۔
‫گھٹا پھٹنے لگی۔ بارش کا زور کم ہوگیا اور کچھ روشنی بھی ہوگئی۔ تبریز نے لڑکی کو سیدھا کیا۔ لڑکی نے ذرا سی آنکھ
‫کھولی اور بند کرلی۔ تبریز کا جسم شل ہوچکا تھا۔ اس نے اپنا گھوڑا دریا میں چھوڑ دیا تھا۔ وہ دریا سے نکل گیا تبریز کو
‫معلوم نہیں تھا کہ گھوڑے کا انجام کیا ہوا۔ تبریز کی تھکن کم ہوگئی تھی۔ سورج غروب ہونے کو تھا۔ اسے خیال آیا کہ رات
‫آرہی ہے اور پناہ ڈھونڈنا ضروری ہے۔ اسے امید تھی کہ یہ چٹانی عالقہ ہے‪ ،اس میں کہیں نہ کہیں گٹ یا غار مل جائے
‫گی۔ لمبی مسافت کے مسافر مٹی کے ٹیلوں اور ریتلی چٹانوں میں غاریں بنائے رکھتے تھے جو دوسرے مسافروں کے بھی کام
‫آتی تھیں۔
‫اس نے لڑکی کو پیٹھ پر ڈاال اور دو چٹانوں کے درمیان چل پڑا۔ پناہ ملنے کا اسے یقین نہیں تھا‪ ،امید تھی۔ وہ دل میں خدا
‫سے مدد مانگتا چال جارہا تھا۔ کچھ ادھر ادھر گھومتے پھرتے‪ ،وہ ایک کشادہ سی جگہ جا پہنچا جہاں ایک چٹان کے ساتھ
‫اسے تین چار اونٹ کھڑے نظر آئے۔ یہ کسی مسافر کے نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ ان پر زینیں وغیرہ نہیں تھیں۔ اونٹوں تک
‫گیا تو اسے آوازیں سنائی دیں۔ ادھر دیکھا تو چٹان میں اسے ایک فراخ اور اونچا دہانہ نظر آیا۔ اس میں تیرہ چودہ سال عمر
‫کے دو لڑکے کھڑے تھے۔ وہ دونوں بارش میں دوڑے آئے۔
‫تم دریا سے نکل کر آئے ہو؟'' ایک لڑکے نے پوچھا… ''وہاں آجائو‪ ،بہت اچھی جگہ ہے''۔''
‫وہ جگہ واقعی بہت اچھی تھی۔ چٹان بھر بھری تھی۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ مسافروں نے یا قریب کہیں رہنے والے گڈریوں نے
‫اسے کاٹ کاٹ کر کمرہ بنا دیا ہے۔ یہ ایک کشادہ گف تھی۔ اندر سے بالکل خشک تھی۔ لڑکوں نے وہاں آگ بھی جال رکھی
‫تھی۔ تبریز نے لڑکی کو فرش پر ڈال دیا۔ وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئی تھی۔ ایک طرف خشک گھاس اور درختوں کی
‫خشک ٹہنیوں کا ڈھیر پڑا تھا۔
‫تم یہاں کیا کررہے ہو؟'' تبریز نے لڑکوں سے پوچھا۔''
‫ہمارا گھر دریا کے پار ہے''۔ ایک لڑکے نے جواب دیا… ''ہم کبھی کبھی اونٹوں کو ادھر لے آتے ہیں۔ گھاس تو ادھر ''
‫بھی بہت ہے لیکن ہم یہاں کھیلنے کے لیے آتے ہیں اور اونٹوں کو بھی چرنے چگنے کے لیے ساتھ لے آتے ہیں۔ ایک جگہ
‫سے دریا چوڑا ہے‪ ،وہاں پانی ہمارے گھنٹوں تک ہوتا ہے۔ آج بھی ہم آگئے اور بارش شروع ہوگئی۔ یہیں آگ جال کر کھیلتے
‫رہے''۔
‫گھر کس طرح جائو گے؟'' تبریز نے پوچھا… ''دریا چڑھا ہوا ہے''۔''
‫اس دریا کا زور زیادہ دیر نہیں رہتا''۔ ایک لڑکے نے بڑے اطمینان سے کہا… ''ہم جہاں سے گزرتے ہیں‪ ،وہاں طغیانی ''
‫میں خطرہ نہیں ہوتا۔ پانی پھیال جاتا ہے''۔
‫بارش تھم گئی تھی۔ سورج غروب ہورہا تھا۔ لڑکے اپنے اونٹوں کو لے کر چلے گئے۔ تبریز نے ان سے مدد نہ مانگی۔ یہ بھی
‫نہ سوچا کہ لڑکی کو اٹھا کر ان کے گائوں چال جائے۔ لڑکوں کے جانے کے بعد اس نے آگ پر خشک ٹہنیاں پھینکیں۔ شعلہ

‫اٹھا تو اس نے اپنا کرتہ اتارا جو گلے سے ٹخنوں تک لمبا تھا‪ ،اسے آگ پر خشک کرنے لگا۔ وہ دل میں شکر ادا کررہا تھا۔
‫خدا نے اسے ایسی طوفانی بارش میں ان لڑکوں کو آگ جالنے کے لیے بھیج دیا تھا۔ اس دوران لڑکی نے آنکھیں کھول دیں
‫اس کے چہرے پر خوف کا تاثر نظر آیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر تبریز کو دیکھا تو اس کا منہ دہشت سے کھل گیا۔ تبریز
‫نے اپنا چغہ نما کرتہ اتار رکھا تھا اور طغیانی کے مٹیالے اور گدلے پانی نے اس کے بالوں اور چہرے کو خوفناک بنا رکھا تھا۔
‫ڈرو نہیں''۔ تبریز نے کہا… ''مجھے پہچانتی نہیں ہو؟ میں تمہارا ہم سفر تھا''۔''
‫مگر تم مسلمان ہو''۔ لڑکی اٹھ بیٹھی اوربولی… ''مجھے تم پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے جانے دو''۔''
‫جائو'' تبریز نے کہا… ''چلی جائو''۔''
‫وہ اٹھی۔ اس سے چال نہیں جارہا تھا۔گف کے باہر ایک قدم رکھا تو باہر تاریک رات کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اندر آگ کی
‫روشنی تھی۔ اس نے گھوم کر تبریز کو دیکھا جو ٹہنیوں کی آگ کی روشنی میں پراسرار سا انسان نظر آرہا تھا۔ وہ لڑکی کو
‫دیکھتا رہا۔ لڑکی پائوں پرکھڑی نہ رہ سکی۔ ایک دو قدم آگے آکر گر پڑنے کے انداز سے بیٹھ گئی اور بے بسی سے تبریز کو
‫دیکھنے لگی۔
‫تمہاری نسبت مجھے وہ گھوڑا زیادہ عزیز تھا جسے میں نے دریا میں چھوڑا اور تمہیں ڈوبنے سے بچایا''… تبریز نے کہا۔''
‫میری قیمت بیس گھوڑوں سے زیادہ ہے''۔ لڑکی نے نقاہت زدہ آواز میں کہا… ''تم نے مجھ جیسی لڑکی کبھی نہیں ''
‫دیکھی ہوگی۔ مجھے ذلیل وخوار کرکے بیچ ڈالو گے۔ تمہیں کون روک سکتا ہے''۔
‫مجھے خدا روک سکتا ہے''۔ تبریز نے کہا… ''اور خدا نے مجھے روک رکھا ہے۔ یہ ایک معجزہ ہے کہ میں نے تمہیں ''
‫اس طغیانی سے بچایا ہے‪ ،جس میں اونٹ اوندھا ہوگیا تھا۔ پھر یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں سر پر یہ چھت اور
‫جلتی ہوئی آگ مل گئی۔ میں نے خدا سے مدد مانگی تھی۔ خدا صرف ان کی مدد کرتا ہے جن کی نیت صاف ہوتی ہے۔ یہ
‫آگ دو لڑکے جال گئے ہیں‪ ،وہ فرشتہ تھے۔ میں اپنے مذہب کی روشنی میں بات کررہا ہوں۔ تم اس لیے ڈرتی ہو کہ تمہارا
‫مذہب باطل ہے اور تم
‫ا س لیے ڈرتی ہو کہ تمہاری نگاہ اپنے جسم پر ہے جو بہت دلکش ہے اور تمہاری نظر میں اپنا چہرہ ہے جو بہت حسین
‫ہے۔ میری نگاہ میری اپنی روح پرہے جو تمہارے جسم سے زیادہ دلکش اور تمہارے چہرے سے زیادہ حسین ہے۔میں جانتا ہوں
‫تھوڑی دیر بعد تم مجھے اپنا جسم پیش کرکے کہو گی کہ مجھے منزل پر پہنچا دو۔ کان کھول کر سن لو‪ ،میں اپنی روح کو
‫ناپاک نہیں ہونے دوں گا۔ میرے دل میں یہ خرافات ڈالنے کی کوشش نہ کرو کہ میں نے تم جیسی لڑکی کبھی نہیں دیکھی
‫ہوگی''۔
‫تبریز کے بولنے کے انداز میں کوئی ایسا تاثر تھا جس نے لڑکی کے ہونٹ سی دئیے اور وہ حیرت اور خوف سے بھری ہوئی
‫آنکھوں سے تبریز کو دیکھ رہی تھی۔ تبریز کی باتوں میں جو خلوص اور عزم تھا‪ ،وہ صاف محسوس ہورہا تھا۔
‫آگ کے قریب سرک آئو''۔ تبریز نے کہا… وہ کرتہ آگ پر خشک کررہا تھا۔ لڑکی یوں سرک کر آگ کے قریب ہوگئی ''
‫جیسے اس میں حکم عدولی کی جرٔات نہیں تھی۔ تبریز نے کرتے کا ایک سرا اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا… ''اسے پکڑو
‫اور آگ کے اوپر رکھو''۔ اس نے کرتے کو دوسری طرف سے پکڑے رکھا اوردونوں کرتے کو آگ پر ہالنے جالنے لگے۔ لڑکی
‫کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ ''کرتہ خشک ہوجائے تو تم پہن لینا‪ ،پھر تمہارے کپڑے خشک کرلیں گے''۔
‫نہیں''۔ لڑکی نے گھبرا کر کہا… ''میں اپنے کپڑے نہیں اتاروں گی''۔''
‫تم اپنی کھال بھی اتار کر آگ پر رکھ دو گی''۔ تبریز نے کہا۔ ''میرے فرض کے راستے میں آنے کی کوشش نہ کرو ''
‫لڑکی! میں تم پر ثابت کروں گا کہ وحشی مسلمان ہوتے ہیں یا عیسائی۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم کتنی پاک دامن ہو۔
‫تم میری پناہ میں ہو۔ میں تمہیں کوئی سخت بات نہیں کرسکتا۔ تم عورت ہو۔ میرا مذہب حکم دیتا ہے کہ مجبور عورت پر
‫ہاتھ نہ اٹھائو''۔
‫''تم نے مجھے کس طرح طغیانی سے نکاال تھا؟'' لڑکی نے پوچھا… ''کیا باقی لوگ پارہوگئے تھے؟''
‫تبریز نے اسے تفصیل سے بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ اسے باقی لوگوں کے متعلق بالکل معلوم نہیں۔ لڑکی کا ڈر دور نہ ہوا‪،
‫کچھ کم ہوگیا تھا اور اس کی جسمانی حالت بھی اچھی ہوتی جارہی تھی۔ تبریز کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ اپنے
‫بوڑھے باپ کے ساتھ حمص جارہی ہے۔ وہ دونوں اس عالقے سے نقل مکانی کرکے آرہے تھے جو مسلمانوں کی حکمرانی میں
‫تھا۔ حمص میں ان کے رشتہ دار رہتے تھے۔ لڑکی اپنے باپ کے لیے پریشان تھی۔ قافلہ طغیانی میں سے نکل گیا تھا۔ کوئی
‫کہیں جاکنارے لگا‪ ،کوئی کہیں جالگا۔ وہ ایک دوسرے کو پکارتے اکٹھے ہونے لگے۔ لڑکی اور تبریز ان میں نہیں تھے۔ وہ اونٹ
‫بھی الپتہ تھا جس پر لڑکی سوار تھی اور تبریز کا گھوڑا کنارے لگ گیا تھا۔وہ دور کھڑا تھا۔ قافلے کا ایک آدمی اسے پکڑ الیا
‫اور سب نے یقین سے کہہ دیا کہ حمص کا اتنا خوبصورت جوان جو راستے میں قافلے سے مال تھا‪ ،گھوڑے سے گر کر ڈوب
‫گیا ہے۔ تبریز کا تو کسی کو دکھ نہیں تھا‪ ،لڑکی کے غم میں اس کا بوڑھا باپ‪ ،دو عیسائی اور ایک یہودی نڈھال ہوئے جارہے
‫تھے۔ وہ آگے جانے کے بجائے دریا کے کنارے دور تک جانے کی سوچ رہے تھے۔ قافلے کے کچھ اور لوگ کہتے تھے کہ بے
‫کار ہیں‪ ،وہ ڈوب گئی ہوگی۔ وہ چاروں سوارہوئے اور دریا کے ساتھ چل پڑے۔ اس وقت تبریز لڑکی کو طغیانی سے نکال چکا
‫تھا اور اسے چپٹی چٹان پر لٹا کر اس کا پیٹ پانی سے خالی کررہا تھا‪ ،وہاں دریا کا موڑ تھا۔ چٹانیں بھی تھیں۔ اس لیے
‫لڑکی کی تالش میں آنے والے تبریز اور لڑکی کو دیکھ نہ سکے۔ وہ جب اس جگہ آئے‪ ،اس وقت تبریز لڑکی کو پیٹھ پر
‫اٹھائے چٹانوں کے اندر چال گیاتھا۔ تالش کرنے والے آگے نکل گئے۔ وہ پھر واپس نہیں آئے۔ سورج غروب ہوگیا تو حمص کے
‫راستے پر ہولیے۔
‫اتنی قیمتی لڑکی ضائع کرنے پر انہوں نے ہمیں سزائے موت نہ دی تو ہم سمجھیں گے کہ وہ بہت ہی رحم دل ہوگئے ''
‫''ہیں''۔ بوڑھے نے کہا… ''کیا جواب دو گے کہ وہ کس طرح ڈوبی؟
‫کہہ دیں گے طغیانی میں اس نے من مانی کی''۔ یہودی نے کہا… ''کہتی تھی کہ الگ اونٹ پر دریا پار کروں گی۔ اس ''
‫نے ضد کی اور طغیانی کا زور اسے ہم سے دور لے گیا… وہ دریا سے نکل آتی تو ہمیں مل جاتی۔ مرگئی ہے''۔
‫جو جی میں آئے کہو''۔ ایک عیسائی نے کہا… ''ہماری یہ کوتاہی بخش بھی دی جائے تو کیا تم سب کو افسوس نہیں ''
‫کہ اتنی کارآمد لڑکی ضائع ہوگئی ہے؟ دوسری لڑکی التے ایک مہینے سے زیادہ عرصہ لگے گا''۔
‫میں نے کئی بار مشورہ دیا تھا کہ اس کام کے لیے دو لڑکیوں کی ضرورت ہے''۔ بوڑھے نے کہا… ''حمص کے مسلمان ''
‫جوش سے پھٹے جارہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ وہ جو جنگی تربیت حاصل کررہے ہیں وہ کوئی جذباتی یا وقتی
‫جوش نہیں۔ میں نے ان کی تربیت بہت غور سے دیکھی ہے۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ یہ شب خون اور چھاپے مارنے کی

‫باقاعدہ تربیت ہے۔ میں نے اس کے چاروں استاد دیکھے ہیں۔ وہ قاہرہ سے بھیجے گئے ہیں یا دمشق سے اوروہ ماہر چھاپہ
‫مار معلوم ہوتے ہیں''۔
‫اگر یہ لوگ ہماری حکمرانی میں ہوتے تو ہم دیکھتے کہ یہ کس طرح جنگی تربیت لیتے ہیں''… ایک عیسائی نے کہا۔''
‫تم کیا سمجھتے ہو‪ ،یہاں یہ اپنی تربیت مکمل کرلیں گے؟''… یہودی نے کہا… ''ہم انہیں آپس میں ٹکرا دیں گے''۔''
‫اسی مقصد کے لیے میں اس لڑکی کو دمشق سے الرہا تھا''۔ بوڑھے نے کہا… ''حمص میں فساد پیدا کرنے کا کام مجھے''
‫سونپا گیا تھا۔ میں نے اس لڑکی کا نام لیا تھا۔ انہوں نے مجھے ہی حکم دیا کہ لڑکی کے باپ بن جائو اور حمص لے جائو۔
‫کوئی پوچھے تو بتائو کہ نقل مکانی کررہا ہوں''۔
‫رات کے اندھیرے میں وہ چلتے جارہے تھے اور اپنی اس خفیہ مہم کے متعلق باتیں کرتے جارہے تھے‪ ،جس کے لیے انہیں
‫حمص جانا تھا۔ بوڑھا صلیبیوں کا تجربہ کار جاسوس تھا اور نفسیاتی تخریب کاری کا ماہر۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا…
‫'' مسلمان تو ہر جگہ جنگی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ دمشق میں نورالدین زنگی کی بیوہ لڑکیوں کو باقاعدہ جنگی تربیت دے
‫رہی ہے۔ بستی بستی یہ جوش دیکھنے میں آیا ہے مگر حمص اور اس کے گردونواح کے عالقے کو ایسی اہمیت حاصل ہے کہ
‫یہاں مسلمانوں کے چھاپہ ماروں کو اڈا نہیں ملنا چاہیے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ صالح الدین ایوبی کا ایک خفیہ منصوبہ
‫ہے۔ اسے کامیاب نہیں ہونا چاہیے''۔
‫حمص سرحد پر ہے''۔ یہودی نے کہا… ''اگر مسلمانوں نے یہاں اڈا بنا لیا تو ہمارے لیے خطرناک ہوگا۔ ہونا تو یہ چاہیے''
‫کہ یہاں کے مسلمانوں کو صالح الدین ایوبی کے خالف کردیا جائے اور ان کے دلوں پر قبضہ کرلیا جائے''۔
‫یہ ممکن نظر نہیں آتا''۔ بوڑھے نے کہا… ''مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے آدمیوں نے بہت افواہیں پھیالئی ہیں مگر ''
‫مسلمان ان پر کان نہیں دھرتے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کے خطیب کا ان پر بہت اثر ہے اور یہ بھی پتہ چال ہے
‫کہ جنگی تربیت اسی کی ہدایات کے مطابق ہورہی ہے۔ مجھے حمص نہیں جانا چاہیے تھا کیونکہ ہم لڑکی گم کر بیٹھے ہیں۔
‫میں اب اس لیے وہاں تک جانا چاہتا ہوں کہ خطیب کو دیکھوں کہ وہ کون ہے اور کیا وہ عالم ہے یا کوئی فوجی کماندار۔
‫یہ بھی دیکھنا ہے کہ اسے اپنے ہاتھ میں لیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ مجھے اور تم سب کو حمص کے عیسائی اور یہودی
‫گھرانوں میں سے ایک یا دو لڑکیوں کا انتخاب کرنا ہے جو اس مہم میں ہماری مدد کرسکیں۔ تم جانتے ہو لڑکیوں کو کیا کرنا
‫ہے''۔
‫میں نے تمہیں یہ دمشق میں بھی بتایا تھا کہ یہاں کے مسلمان ایمان کے پکے ہیں''۔ ایک عیسائی نے کہا… ''ابھی ''
‫تک ہم کسی ایک کو بھی نہیں خرید سکے''۔
‫میں ساری عمر اس دریا پر لعنت بھیجتا رہوں گا جس نے ہمیں ویرا سے محروم کردیا ہے''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫میرا نام ویرا ہے'' ۔ لڑکی نے تبریز کے پوچھنے پر بتایا… ''ہم غریب لوگ ہیں۔ مسلمانوں نے دمشق میں ہمارا جینا ''
‫محال کردیا تھا۔ خدا غریب کی بیٹی کو حسن نہ دے۔ بڑے بڑے امیر مجھے خریدنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک نے تو
‫مجھے اغوا کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ میرا باپ مجھے قاضی کے پاس لے گیا۔ اس نے ہماری فریاد سن لی اور میری
‫حفاظت کا انتظام کردیا مگر وہاں حکومت مسلمانوں کی تھی۔ ہم ڈرتے رہے۔ میرے باپ نے یہی بہتر سمجھا کہ دمشق سے
‫نکل ہی جائیں۔ حمص میں ہمارے رشتے دار ہیں۔ اب ہم ان کے پاس جارہے تھے۔ معلوم نہیں میرا باپ زندہ ہوگا یا نہیں…
‫''کیا تم ایک مظلوم اور مجبور لڑکی پر رحم نہیں کرو گے؟
‫رات گزرتی جارہی تھی۔ بوڑھا عیسائی جسے ویرا اپنا باپ کہتی تھی‪ ،اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہت دور نکل گیا تھا''۔'' ‪:
‫میرا جامہ خشک ہوگیا ہے'' ۔ تبریز نے کرتہ اس کی طرف پھینکتے ہوئے کہا… ''میں باہر نکل جاتا ہوں۔ اٹھو اپنے کپڑے''
‫اتارو اور یہ پہن لو۔ تمہیں سر سے پائوں تک ڈھانپ لے گا‪ ،پھر اپنے کپڑے خشک کرکے پہن لینا''۔
‫میں تمہارے ہاتھ میں مجبور ہوں''۔ ویرا رندھی ہوئی آواز میں بولی… ''میرے ساتھ اس درندے کا سا سلوک نہ کرو جو ''
‫شکار کو مارنے سے پہلے اس کے ساتھ کھیلتا ہے''۔
‫میں کہہ رہا ہوں یہ بھیگے ہوئے کپڑے اتار دو''۔ تبریز نے غصے سے کہا اور باہر کو چل پڑا۔''
‫ویرا نے اسے باہر جاتے اور ایک طرف ہوتے دیکھا۔ وہ اوٹ میں ہوگیا جہاں سے ویرا کو نظر نہیں آتا تھا۔ ویرا نے ذرا آگے
‫ہوکر دیکھا۔ وہ گف کی طرف پیٹھ کیے کھڑا تھا۔ آگ اتنی زیادہ تھی کہ روشنی تبریز کی پیٹھ پر پڑ رہی تھی۔ ویرا نے اپنے
‫فراک کے اندر ہاتھ ڈاال۔ اس نے اندر کمر کے گرد کپڑا لپیٹ رکھا تھا۔ اس نے کپڑے میں خنجر اڑسا ہوا تھا۔ ویرا نے خنجر
‫نکال لیا وہ دبے پائوں آگے بڑھی۔ تبریز بے خبر کھڑا تھا۔ ویرا اس سے ایک قدم دور رہ گئی تو اس نے خنجر دائیں طرف
‫کرکے پہلو میں گھونپنے کووار کیا۔ تبریز بجلی کی تیزی سے گھوما اور لڑکی کے دائیں ہاتھ کی کالئی اتنی زور سے مروڑی کہ
‫لڑکی گھوم گئی اور اس کے ہاتھ سے خنجر گر پڑا۔
‫تبریز کے بچنے کا باعث یہ تھا کہ وہ جہاں کھڑا تھا‪ ،وہاں سے چند ہی قدم آگے ایک اور چٹان تھی۔ آگ تبریز کے پیچھے
‫تھی۔ تبریز کو سامنے والی چٹان پر اپنا سایہ نظر آیا۔ اس نے پیچھے نہ دیکھا کیونکہ سائے کا دایاں بازو دائیں کو پھیال تو
‫اسے خنجر کا سایہ صاف نظر آگیا۔ ویرا پہلو میں وار کرکے پیٹ چاک کرنا چاہتی تھی۔ سائے کی حرکت دیکھ کر تبریز
‫پیچھے گھوما اور لڑکی کی کالئی پکڑ لی۔ خنجر گرا تو اس نے ویرا کی کالئی چھوڑ کر خنجر اٹھالیا۔ اس نے نوک لڑکی کی
‫طرف کی تو وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور ہاتھ جوڑ کر التجا کی… ''جو کہو گے مانوں گی‪ ،مجھے قتل نہ
‫کرنا''۔
‫میں اس کے سوا تمہیں کچھ نہیں کہوں گا کہ یہ کپڑے اتار دو اور میرا کرتہ پہن لو''… تبریز نے حکم کے لہجے میں ''
‫کہا… ''تم نے دیکھ لیا ہے کہ تم مجھے قتل نہیں کرسکتیں۔ میری آنکھیں آگے ہیں‪ ،کھونپڑی کے پیچھے نہیں‪ ،یہ میری روح
‫کی آنکھیں ہیں جن سے میں نے تمہیں دیکھ لیا تھا… کیا میں اپنے سامنے تمہارے کپڑے نہیں اتروا سکتا؟ میں تمہیں کپڑوں
‫کے بغیر نہیں دیکھنا چاہتا''۔
‫وہ ایک دفعہ پھر وہیں جاکھڑا ہوا۔ ویرا گف کے ایک کونے میں چلی گئی۔ اس نے بڑی تیزی سے اپنا فراک اتارا‪ ،پھر
‫زیرجامہ بھی اتار دیا اور تبریز کا کرتہ پہن لیا جس میں وہ گردن سے پائوں تک مستور ہوگئی۔ اس نے تبریز کو آواز دے کر
‫کہا… ''آجائو''۔
‫تبریز اندرآگیا۔ ویرا کا فراک اٹھا کر ایک طرف سے اس کے ہاتھ میں دیا ور آگ پر خشک کرنے لگا۔ ویرا اسے کنکھیوں سے
‫دیکھتی رہی تھی۔ تبریز نے اس سے کوئی بات نہ کی۔ ویرا کو اس کی خاموشی پریشان کررہی تھی۔ اس کا دل مان نہیں رہا

‫تھا کہ یہ جوان آدمی اسے بخش دے گا۔ اب تو خنجر بھی اس جوان کے پاس تھا… وہ خاموشی سے کپڑے خشک کرتے
‫رہے۔ جب خشک ہوگئے تو تبریز لڑکی کو یہ کہہ کر باہر نکل گیا کہ یہ پہن لو۔ لڑکی نے ایک بار پھر ڈرتے ڈرتے کپڑے
‫بدلے اور تبریز کو اندر بال لیا۔
‫یہ خنجر اپنے پاس رکھو''… تبریز نے خنجر اس کی طرف پھینک کر کہا… ''اور سوجائو‪ ،صبح روانہ ہوں گے''۔''
‫تم مجھے دھوکہ دے رہے ہو''… ویرا نے کہا… ''یا تم بے حس اور مردہ انسان ہو''۔''
20:54
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪123تصادم روح بدروح کا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫یا تم بے حس اور مردہ انسان ہو''۔''
‫یہ مجھے تمہاری فوج کے سامنے ثابت کرنا ہے کہ میں بے حس اور مردہ نہیں۔ میرے دل میں تمہارے خالف کوئی دشمنی''
‫نہیں۔ میں تمہارے ان بادشاہوں کا دشمن ہوں جو میرے وطن پر قبضہ کرنے آئے ہیں اور جو ہمارے قبلہ اول پر قابض ہوچکے
‫ہیں''۔
‫تمہیں غلط باتیں بتا کر بھڑکایا جارہا ہے''… ویرا نے کہا… ''تم کچھ نہ جاننے والے دیہاتی ہو‪ ،جسے تم قبلہ اول کہتے ''
‫ہو‪ ،وہ دراصل یہودیوں کا معبد ہے۔ وہ ہیکل سلیمانی ہے۔ صالح الدین ایوبی اپنی سلطنت کو بہت دورتک پھیالنا چاہتا ہے۔
‫تم جیسے سیدھے سادے مسلمانوں کے مذہب جذبات کو بھڑکانے کے لیے وہ کہہ رہا ہے کہ وہ قبلہ اول ہے اور وہ مسجد
‫ہے''۔
‫ہم اپنے خطیب کے سوا کسی کی بات نہیں سنا کرتے''… تبریز نے کہا… ''تم سوجائو‪ ،میں تمہاری کوئی بات نہیں سنوں''
‫گا''۔
‫مجھے نیند نہیں آئے گی''… ویرا نے کہا… ''میں تم سے ڈرتی ہوں‪ ،باتیں کرتے رہو… تمہارا خطیب حمص کا رہنے واال ''
‫ہے یا کہیں باہر سے آیا ہے''۔
‫حمص کا رہنے واال ہے''… تبریز نے جواب دیا اور اپنا کرتہ پہن کر لیٹ گیا۔''
‫ویرا کو جاسوسی اور کردار کشی کی ٹریننگ ملی ہوئی تھی۔ دمشق میں اسے اسی مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا اور اب اسی
‫مقصد کے لیے اس کو حمص لے جایا جارہا تھا۔ اس نے حمص کے خطیب اور وہاں کے مسلمانوں کے متعلق تبریز سے
‫معلومات لینے کے لیے بہت باتیں کیں لیکن تبریز نے کوئی دلچسپی نہ لی اور بے رخی کا اظہار کرتا رہا۔ ویرا کا جسم ٹوٹا
‫ہوا تھا۔ وہ اس کوشش میں تھی کہ اسے نیند نہ آئے مگر اس کی آنکھ لگ گئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫ویرا کی آنکھ کھلی تو وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ باہر صبح کا دھندلکا تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا‪ ،تبریز سجدے میں پڑا تھا۔
‫وہ سجدے سے اٹھا‪ ،پھر سجدہ کیا اور کھڑا ہوگیا۔ وہ صبح کی نماز پڑھ رہا تھا۔ ویرا نے اپنے لباس کا جائزہ لیا۔ اسے رات
‫نیند نے نہ سونے کے ارادے کے باوجود دبوچ لیا تھا۔ آنکھ کھلی تو وہ تبریز سے ڈر گئی لیکن وہ جس حالت میں سوئی
‫تھی‪ ،اسی حالت میں جاگی اور اس نے تبریز کو خدا کے حضور سجدے میں پڑے دیکھا۔ اسے وہ خواب سمجھنے لگی۔
‫مسلمان کے متعلق اس کی رائے یہ تھی کہ وحشی قوم ہے لیکن تبریز جیسا تنومند جوان اس کی طرف توجہ ہی نہیں دے
‫رہا تھا۔ جس لڑکی نے نازوانداز سے سرکردہ مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانس لیا تھا‪ ،اس کے لیے تبریز خواب کی دنیا کا
‫ہی آدمی ہوسکتا تھا۔
‫ویرا پاک دامن نہیں تھی۔ بچپن سے اسے ابلیسیت کی تربیت دی گئی تھی۔ اس کے حسن اور جسم کی کشش کو جادو اثر
‫بنانے کا خاص انتظام کیا گیا تھا۔ جوان ہونے تک بدی اس کی فطرت میں شامل ہوچکی تھی مگر انسانی فطرت کا یہ خاصہ
‫ہے کہ برسوں کی مسلسل عرق ریزی کے بغیر اس کی اصلیت بدل نہیں سکتی‪ ،اس پر بہروپ چڑھایا جاسکتا ہے۔ ویرا کو
‫طغیانی نے جو پٹخنیاں دی تھیں اور جس طرح موت کے منہ میں پھینکا تھا‪ ،اس سے اس کے جذبات اس پر غالب آگئے۔ وہ
‫طغیانی سے تو زندہ وسالمت نکل آئی تھی مگر اس کی دہشت سے ابھی تک نہیں نکلی تھی۔ اس کے ساتھ اس پر تبریز
‫کی دہشت گردی طاری ہوگئی تھی۔ اس مسلمان جوان سے اسے اور کوئی ڈر نہیں تھا۔ خوف یہ تھا کہ یہ کوئی خانہ بدوش
‫یا بدو ہوا تو اسے کسی کے ہاتھ بیچ ڈالے گا۔ وہ بک جانے کے بعد کی اذیت ناک زندگی سے ڈر رہی تھی۔
‫رات گزر گئی۔ تبریز نے اس کے اتنے دلکش جسم کی طرف توجہ ہی نہ دی۔ وہ بے ہوشی کی نیند سوگئی تو بھی تبریز اس
‫سے دور رہا۔ صبح طلوع ہوئی تو اس کی تھکن ختم ہوچکی تھی اور تبریزکا خوف بھی۔ رات تک وہ اسے گنوار‪ ،بے حس اور
‫مردہ سمجھتی رہی تھی۔ اب وہ اسے غور سے دیکھنے لگی۔ تبریز کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ ویرا کو یوں محسوس ہونے لگا
‫جیسے یہ شخص براہ راست خدا سے ہم کالم ہو۔ اسے تبریز کے یہ الفاظ یاد آنے لگے کہ خدا صرف ان کی مدد کرتا ہے
‫جن کی نیت اور روح پاک ہوتی ہے۔ تب اسے خیال آیا کہ اس کی اپنی نیت پاک نہیں۔ وہ تبریز کی قوم کے لیے ایک
‫حسین دھوکہ بنی ہوئی ہے۔ اس لڑکی نے رات کو یہ بھی فیصلہ کرلیا تھا کہ اپنا آپ تبریز کے حوالے کرکے اسے کہے گی
‫کہ اس کے عوض حمص پہنچا دو۔
‫اورروح؟… ویرا کو زندگی میں پہلی بار احساس ہوا کہ اس کا جسم روح سے محروم ہے اور اگر روح ہے بھی تو وہ کردار کی
‫غالظت میں دب گئی لیکن روح مرا نہیں کرتی۔ ویرا پر جو گزری تھی‪ ،اس سے اس کی روح بیدار ہوگئی تھی جو اسے
‫شرمسار کررہی تھی۔ اسے تبریز کی شکل وصورت بدلی ہوئی نظر آنے لگی۔ اس کی نگاہ میں وہ فرشتہ بن گیا جو خدا سے
‫ہم کالم تھا۔ لڑکی کے آنسو نکل آئے تھے۔ جوں جوں آنسو بہتے گئے‪ ،اسے ایسے لگا جیسے اس کا وجود تبریز کے وجود میں
‫سماتا جارہا ہو۔
‫تبریز نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ وہ شاید بھول گیا تھا کہ اس گف میں کوئی اور بھی ہے‪ ،یا یہ کہ لڑکی گہری نیند ‪:
‫سوئی ہے۔ اس نے بلند آواز سے کہا… ''خدائے عزوجل! مجھے گناہوں سے دامن پاک رکھنے کی ہمت عطا فرما۔ میری روح
‫کو اتنی پاکیزگی عطا فرما کہ تیری اتنی خوبصورت امانت کو خیانت کے بغیر منزل تک پہنچا سکوں۔ تیرا یہ بندہ کمزور اور
‫ناتواں ہے۔ مجھے شیطان کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور جرٔات عطا فرما''۔
‫تبریز فرشتہ نہیں تھا۔ وہ انسانی فطرت کی کمزوریوں سے پناہ مانگ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ منہ پر پھیریے اور گھوم کر دیکھا۔
‫ویرا اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے رخساروں پر آنسو بہے جارہے تھے۔ تبریز اسے کچھ دیر دیکھتا رہا۔ لڑکی نے کوئی حرکت

‫نہ کی۔
‫باہر جائو''… تبریز نے اسے کہا… ''اس طرف صاف پانی کا چشمہ ہے‪ ،منہ دھوآئو''… اس نے اپنے سر پر لپیٹا ہوا ''
‫موٹے کپڑے کا گز بھر لمبا چوڑا رومال اتار کر اسے دیتے ہوئے کہا… ''منہ اچھی طرح دھوئو اور بالوں کو بھی جھاڑ پونچھ
‫لو۔ میں تمہیں اسی روپ میں تمہارے رشتے داروں کے حوالے کرنا چاہتا ہوں جس طرح تم طغیانی میں گرنے سے پہلے
‫تھیں''۔
‫ویرا اس کے ہاتھ سے رومال لے کر ایسے انداز سے باہر نکل گئی جیسے گونگا اور بہرہ بچہ کسی کے اشارے پر چل پڑا ہو۔
‫تبریز کے پاس کھانے پینے کا جو سامان تھا‪ ،وہ گھوڑے کے ساتھ بندھا تھا۔ اب کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ ویرا
‫کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ ویرا منہ سر دھو کر واپس آئی تو تبریز کو یوں دھچکا سا لگاجیسے کسی نے اسے کانٹا چھبو دیا ہو۔
‫اس سے پہلے ویرا کے بال مٹی سے اٹے ہوئے اور جڑے ہوئے تھے۔ چہرے کا بھی یہی حال تھا۔ اب بال اور چہرہ دھل گئے
‫تو تبریز جیسے اسے پہچان ہی نہ سکا۔ وہ ایسے طلسمانی بالوں کو کبھی تصور میں بھی نہیں السکا تھا۔ دور درازرہنے والے
‫دیہاتی نے ایسا حسن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ چہرہ اتنا مالئم اور آنکھوں میں ایسی دل کشی اسے حیران کررہی تھی۔ تبریز اس
‫تبریز کے ہاتھ سے نکلنے لگا جو کچھ دیر پہلے خدا کے حضور کھڑا تھا‪ ،اس نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھاال اور
‫بوال… ''کھانے کے لیے کچھ نہیں۔ ہمیں خالی پیٹ سفر کرنا پڑے گا‪ ،چلو''۔
‫وہ اٹھنے لگا تو ویرا نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''ذرا دیر بیٹھو۔ میں کچھ پوچھنا چاہتی ہوں‪ ،کچھ جاننا
‫چاہتی ہوں''… تبریز رات بھر اس لڑکی کے لیے دہشت بنا رہا تھا‪ ،اب اس کی ذہنی کیفیت یہ تھی جیسے یہ لڑکی اس پر
‫غالب آگئی ہو۔ کچھ کہے بغیر اٹھتے اٹھتے بیٹھ گیا… ''تم جب خدا کے ساتھ باتیں کررہے تھے تو خدا تمہیں نظر آرہا
‫''تھا؟
‫خدا ہمیں نظر نہیں آیا کرتا''… تبریز نے کہا… ''میں عالم نہیں‪ ،اس لیے بتا نہیں سکتا کہ خدا نظر آئے بغیر کس طرح ''
‫اپنی موجودگی کا احساس دالتا ہے۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ خدا میری باتیں‪ ،میری دعائیں سن لیتا ہے''۔
‫تمہیں یقین ہے کہ یہ خدا تھا جس نے تمہیں اپنی قوت دی کہ تم نے مجھے طغیانی سے نکال لیا؟'' ویرا نے پوچھا۔''
‫ہمیں خطیب نے بتایا ہے کہ روح پاک ہو تو خدا ہر مشکل میں مدد دیتا ہے''…تبریز نے جواب دیا… ''اگر میں اس ''
‫ارادے سے تمہیں بچانے کی کوشش کرتا کہ تم بہت خوبصورت ہو اور تمہیں بچا کر کہیں لے بھاگوں گا تو میں بھی تمہارے
‫ساتھ ڈوب جاتا''۔
‫مگر میری روح پاک نہیں ہے''… ویرا نے دکھیارے سے لہجے میں کہا… ''خدا نے میری مدد کیوں کی؟ مجھے ڈوبنے سے''
‫''کیوں بچایا؟
‫حمص چل کے خطیب سے پوچھیں گے''… تبریز نے کہا… ''مجھے میں اتنی عقل نہیں''۔''
‫اور تم نے میرے جسم سے کیوں بے رخی کی؟''… ویرا نے اس سے پوچھا۔''
‫اگر میں ایسا کرتا جیسے تمہیں ڈر تھا تو میں تمہارے خنجرسے نہ بچ سکتا''… تبریز نے جواب دیا… ''تم خدا کی ''
‫امانت ہو‪ ،اور''… وہ چپ ہوگیا۔ ذرا دیر بعد بے اختیار بوال… ''تم بہت ہی خوبصورت ہو ویرا! آئو چلیں''… وہ بے قرار
‫سا ہوکر اٹھنے لگا۔ ویرا نے اسے اٹھنے نہ دیا۔ تبریز نے کہا… ''مجھے اپنے قریب زیادہ دیر نہ بیٹھنے دو۔ مجھے اتنے
‫سخت امتحان میں نہ ڈالو لڑکی! مجھے خدا کے حضور سرخرو ہونے دو''۔
‫تمہیں اپنے خدا کی قسم!''… ویرا نے کہا… ''مجھے بھی خدا کے حضور سرخرو ہونے کے قابل بنائو‪ ،تم اپنے جیسے ''
‫انسانوں سے بہت اونچے ہو‪ ،تم خدا کے ایلچی ہو''۔
‫''تم رو کیوں رہی ہو؟''
‫میں گناہ گار ہوں''… ویرا نے جواب دیا… ''خدا مجھ سے ناراض ہے۔ جب اونٹ نے مجھے طغیانی میں گرا دیا تھا تو ''
‫بھی مجھے خدا یاد نہیں آیا تھا۔ میں سمجھتی تھی کہ جو کچھ ہے وہ جسم ہے اور مجھے اپنے جسم کو بچانا چاہیے۔ تم
‫مجھے طغیانی سے نکال کر یہاں لے آئے تو بھی میرے سامنے یہی مسئلہ آگیا کہ مجھے تم سے اپنا جسم بچانا ہے۔ اپنے
‫جسم کو بچانے کے لیے ہی میں نے تمہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہی۔ میں طغیانی سے بھی بچ گئی۔ تم
‫سے بھی بچ گئی لیکن تمہاری عبادت اور دعا نے مجھے بتایا کہ مجھے بچانے والی قوت کوئی اور تھی۔ مجھے بتائو وہ
‫''مجھے بچانے والی قوت کوئی اور تھی۔ مجھے بتائو وہ قوت کیا ہے؟ کہاں ہے؟
‫یہ خدا کی قدرت ہے''… تبریز نے جواب دیا… ''یہ روح کی پاکیزگی کا کرشمہ ہے''۔''
‫میری ساری زندگی ایک گناہ ہے''۔''
‫مجھے صاف لفظوں میں بتائو''… تبریز نے پوچھا… ''تم رقاصہ ہو؟ امیروں وزیروں کے پاس رہتی ہو؟ میں نے سنا ہے کہ''
‫ایسی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ میں نے ایسی خوبصورت لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی''۔
‫ویرا خاموش رہی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو آگئے۔ وہ سرک کر تبریز کے قریب ہوگئی۔ تبریز پرے سرک گیا۔ ویرا نے کہا…
‫''مجھے ڈر آتا ہے۔ طغیانی کی دہشت مجھے ابھی تک ڈرا رہی ہے۔ مجھے اپنے قریب رکھو''۔
‫نہیں''… تبریز نے عجیب سے مسکراہٹ سے کہا… ''میرے اتنا قریب نہ آئو‪ ،میں بھٹک جائوں گا''۔''
‫دیکھ لیا‪ ،میں کتنی گناہ گار ہوں؟''… ویرا نے کہا… ''تم اس لیے مجھ سے دور رہنا چاہتے ہو کہ بھٹک نہ جائو۔ میں ''
‫نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے''… اس نے دیکھ لیا کہ تبریز کے پاس مذہب جذبات ہیں اور جذبہ بھی لیکن اس کی
‫سوچ میں گہرائی نہیں ہے۔ اگر اسے کسی سانچے میں ڈھاال جائے تو ڈھل جائے گا۔ ویرا نے اس کے ساتھ کھل کر باتیں
‫''شروع کردیں۔ کہنے لگی… ''اگر میں تمہیں کہوں کہ آئو ہم ساری عمر کے سفر میں اکٹھے رہیں تو کیا جواب دو گے؟
‫تبریز نے اس کے چہرے کو دیکھا‪ ،ذرا سا مسکرایا اور سنجیدہ ہوگیا۔ بوال… ''آئو چلیں۔ سورج نکل آیا ہے‪ ،سفر مشکل
‫ہوجائے گا''۔
‫ویرا اپنی ذات میں ایک انقالب محسوس کررہی تھی جسے وہ اچھی طرح سمجھ نہ سکی۔ وہ اس کے ساتھ اٹھ کر چل پڑی۔
‫وہ راستے کو کم اور تبریز کو زیادہ دیکھ رہی تھی۔ گزشتہ رات وہ تبریز کو قتل کرکے حمص کو بھاگ جانے کی فکر میں
‫تھی لیکن وہ اب تیز چلنے سے گریز کررہی تھی۔ وہ زیادہ سے زیادہ دیر تبریز کے ساتھ رہنے کی خواہش لیے ہوئے تھی۔
‫ایک بار اس نے تبریز کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا… ''آہستہ چلو''۔
‫ہمیں آہستہ نہیں چلنا چاہیے''… تبریز نے کہا… ''ورنہ ایک اور رات آجائے گی''۔''
‫آنے دو''۔ ویرا نے کہا… ''میں تیز نہیں چل سکتی''۔''

‫جہاں رہ جائو گی‪ ،وہاں تمہیں اٹھالوں گا''… تبریز نے کہا… ''آہستہ نہ چلو''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے بھائی العادل نے صلیبی بادشاہ بالڈون کو حماة کے قلعے کے باہر بہت بڑی شکست دی تھی
‫جس سے بوکھال کربالڈون کی فوج بکھر کر پسپا ہوئی تھی۔ اس معرکے کی تفصیل سنائی جاچکی ہے۔ اس صلیبی بادشاہ نے
‫بڑی مشکل سے اپنی بکھری ہوئی فوج کو یکجا کیا تھا۔ تب اسے اندازہ ہوا تھا کہ اس کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے۔ اس کے
‫پاس نصف سے کچھ زیادہ فوج رہ گئی تھی۔ وہ تو دمشق تک کے عالقے میں قبضہ کرنے آیا تھا۔ اس کی فوج العادل کے
‫چھاپہ مار حملے میں مری تھی اور جب صلیبی بھاگے تو ان میں سے بہت سے وادیوں اور ویرانوں میں بھٹک گئے تھے۔ ان
‫میں سے کئی ایک کو مسلمان گڈریوں‪ ،خانہ بدوشوں اور دیہاتیوں نے مار ڈاال اور ان کے ہتھیاروں اور گھوڑوں پر قبضہ کرلیا
‫تھا۔
‫جب بالڈون نے بچی کھچی فوج کو حماة سے دور ایک جگہ جمع کرلیا تو اسے بتایا گیا کہ فوج کے وہ سپاہی اور عہدے دار
‫جو اکیلے اکیلے آرہے تھے۔ مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوگئے ہیں۔ بالڈون شکست سے بوکھالیا ہوا تھا‪ ،اس اطالع سے اس کا
‫غصہ اور تیز ہوگیا۔ اس نے حکم دیا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کا کوئی گائوں نظر آئے‪ ،اسے لوٹ لو۔ جوان لڑکیاں اٹھا الئو
‫اورگائوں کو آگ لگا دو۔ چنانچہ یہ فوج جب نفری اور دیگر نقصان پورا کرنے اور حملے کی ازسرنو تیاری کرنے کے لیے پیچھے
‫جارہی تھی‪ ،مسلمانوں کے گائوں تباہ کرتی گئی۔
‫اب یہ فوج حمص سے چھ سات میل دور خیمہ زن تھی۔ بالڈون اس کوشش میں تھا کہ کوئی صلیبی حکمران اس کے ‪:
‫ساتھ تعاون کرے اور اپنی فوج اسے دے دے‪ ،جس سے وہ العادل سے شکست کا انتقام لے سکے اور دمشق تک اپنی
‫حکمرانی جسے وہ صلیب کی حکمرانی کہتا تھا‪ ،قائم کرنے کا عزم پورا کرسکے۔ اسی سلسلے میں وہ ایک اور صلیبی بادشاہ
‫ریجنالٹ آف شائتون کے ہاں گیا ہوا تھا۔
‫ویرا کی تالش سے مایوس ہوکر بوڑھا عیسائی اور اس کے ساتھی رات بھر چلتے رہے اور صبح حمص پہنچے۔ قافلے کے
‫دوسرے لوگ بھی پہنچ گئے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی حمص کا نہیں تھا‪ ،انہیں آگے جانا تھا۔ تبریز کا گھوڑا ان کے ساتھ
‫تھا۔ انہوں نے گھوڑا ایک مسجد کے امام کے حوالے کرکے بتایا کہ اس کا مالک حمص کا رہنے واال تھا۔ وہ طغیانی میں
‫گھوڑے سے گر کر ڈوب گیا تھا اور گھوڑا باہر آگیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گھوڑا پہچان لیا گیا۔ جب گھوڑا تبریز کے گھر پہنچا تو
‫وہاں کہرام بپا ہوگیا۔
‫وہاں ایک یہودی تاجر کا گھر تھا۔ یہ ایک دولت مند یہودی تھا۔ وہ جو اپنے آپ کو ویرا کا باپ کہتا تھا‪ ،اپنے ساتھیوں کے
‫ساتھ اس یہودی کے گھر میں بیٹھا تھا۔ وہ بتا چکا تھا کہ ویرا ڈوب گئی ہے۔ سب افسوس کا اظہار کررہے تھے لیکن ان کا
‫مسئلہ افسوس کرنے سے حل نہیں ہوسکتا تھا۔ بوڑھے نے یہودی میزبان سے پوچھا کہ حمص کے مسلمانوں کی سرگرمیاں اور
‫عزائم کیا ہیں۔
‫بہت خطرناک''… میزبان نے جواب دیا… ''انہیں باقاعدہ ٹریننگ دی جارہی ہے اور یہ قصبہ سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں''
‫کا اڈا بنتا جارہا ہے۔ خطیب صرف خطیب نہیں فوج کا کمان دار اور استاد معلوم ہوتا ہے''۔
‫اگر اسے قتل کرادیا جائے تو کیا فائدہ ہوگا''… بوڑھے عیسائی نے پوچھا۔''
‫کچھ بھی نہیں''… یہودی تاجر نے جواب دیا… ''اس کا نقصان یہ ہوگا کہ مسلمان ہم پر شک کرکے ہم میں سے کسی ''
‫کو بھی زندہ نہیں رہنے دیں گے۔ یہ قصبہ ان کی سلطنت میں ہے''۔
‫یہاں جو عیسائی اور یہودی گھرانے ہیں‪ ،کیا ان کی لڑکیاں کچھ نہیں کرسکتیں؟''… بوڑھے نے پوچھا۔''
‫آپ جانتے ہیں کہ اس کام کے لیے کتنی ٹریننگ اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے''… میزبان نے جواب دیا… ''ہماری ''
‫لڑکیوں میں کوئی ایک بھی اتنی چاالک نہیں''۔
‫اور آپ ضروری سمجھتے ہیں کہ یہاں کے مسلمان جنگی ٹریننگ حاصل نہ کریں؟''… بوڑھے نے پوچھا۔''
‫آپ کیا حکم لے کر آئے ہیں؟''… میزبان نے پوچھا۔''
‫حکم تو بڑا صاف ہے''… بوڑھے نے کہا… ''ان مسلمانوں کو آپس میں ٹکرانا اور انہیں صالح الدین ایوبی کے خالف کرنا ''
‫ہے۔ و یرا کے لیے یہ کام مشکل نہیں تھا۔ اس کے بغیر یہ مہم ممکن نہیں رہی۔ ہمیں دو لڑکیاں یہاں النی پڑیں گی''۔
‫وقت کم ہے''… میزبان نے کہا… ''آپ جانتے ہیں کہ رملہ کی لڑائی کو کتنے مہینے گزر چکے ہیں جس میں صالح الدین''
‫ایوبی کو شکست ہوئی تھی۔ آپ اگر حقیقت کو قبول کریں تو یہ شکست صالح الدین ایوبی کے عزم اور جذبے کا کچھ نہیں
‫بگاڑ سکی۔ وہ سنبھل چکا ہے اورا س نے فوج تیار کرلی ہے۔ )قاہرہ سے جاسوس جو خبریں بھیج رہے ہیں‪ ،وہ اچھی نہیں۔
‫صالح الدین ایوبی قاہرہ سے کوچ کرنے واال ہے۔ ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کس طرف کوچ کرے گا اور کہاں حملہ کرے
‫گا۔ ادھر اس کے بھائی العادل کو دمشق سے کمک مل گئی ہے۔ اس نے شاہ بالڈون کو ایسی شکست دی ہے کہ اتنا عرصہ
‫گزر جانے کے بعد بھی شاہ بالڈون سنبھل نہیں سکا۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ صالح الدین ایوبی شب خون اور چھاپوں کی
‫جنگ لڑتا ہے۔ ہماری فوجوں کی رسد اس سے محفوظ نہیں رہتی۔ اگر حمص کے مسلمانوں نے اسے چھاپہ ماروں کے لیے اڈا
‫…''مہیا کردیا تو یہ لوگ ہماری رسد اور آگے جانے والی کمک کے لیے مصیبت بن جائیں گے
‫ان حاالت میں آپ کا یہ طریقہ کار بالکل بے کار ثابت ہوگا کہ تربیت یافتہ لڑکیوں کو یہاں الکر مسلمانوں میں رقابت پیدا ''
‫کی جائے اور ان کی کردار کشی کی جائے۔ اس کے لیے حاالت اور مقامات مختلف ہوتے ہیں۔ میں آپ کے ان افسروں پر
‫حیران ہوں جنہوں نے ایک لڑکی یہاں بھیجی تھی''۔
‫''پھر کیا کیا جائے؟''
‫صفایا''… میزبان نے اپنے ہاتھ کو تلوار کی طرح دائیں بائیں جنبش دے کر کہا… ''پورے قصبے کو آبادی سمیت ختم کرنا ''
‫پڑے گا۔ اس صورت میں ہم بھی یہاں نہیں رہ سکیں گے۔ ہم اپنے بیوی بچوں اور مال ودولت کو یہاں سے پہلے نکال دیں
‫گے۔ مجھے امید ہے کہ صلیبی بادشاہ ہمیں کسی دوسری جگہ آباد کرنے میں مدد دیں گے اور ہمارا مالی نقصان پورا کردیں
‫گے۔ میں یہودی ہوں۔ میں ہیکل سلیمانی کی خاطر اپنا گھر تباہ کرانے میں تیار ہوں''۔
‫لیکن اس قصبے کی تباہی کا انتظام کیا ہوگا؟''… بوڑھے نے پوچھا… ''اس کے لیے فوج کی ضرورت ہے''۔''
‫فوج موجود ہے''… یہودی نے کہا… ''شاہ بالڈون کی فوج پانچ چھ میل دور خیمہ زن ہے۔ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ ''
‫اس فوج نے پسپائی کے راستے میں آنے والی تمام مسلمان بستیوں کو تباہ وبرباد کردیا ہے۔ اس سے حمص بھی تباہ کرایا
‫جاسکتا ہے۔ میں آج ہی روانہ ہوجائوں گا اور شاہ بالڈون کو بتائوں گا کہ ہمارا قصبہ اس کی فوج کے لیے کس قدر خطرناک

‫ہے''۔
‫مقصد یہ نہیں کہ قصبہ تباہ کرایا جائے''… بوڑھے نے کہا… ''بلکہ یہ یہاں کے کسی مسلمان کو زندہ نہ رہنے دیا ''
‫جائے''۔
‫اور لڑکیوں کو فوج اٹھالے جائے''۔''
‫سب متفق ہوگئے اور فیصلہ ہوا کہ میزبان یہودی اسی رات شاہ بالڈون کی خیمہ گاہ کو روانہ ہوجائے۔ وہ باہر نکلے تو انہیں
‫ایک گھوڑا سوار قصبے میں داخل ہوتا نظر آیا۔ وہ کوئی اجنبی تھا۔ خطیب کا گھر نظر آرہا تھا۔ یہ سوار خطیب کے گھر کے
‫سامنے گھوڑے سے اترا۔ دروازے پر دستک دی۔ خطیب باہر آیا۔ اجنبی سے ہاتھ مالیا اور اسے اندر لے گیا۔
‫یہ سوار دمشق یا قاہرہ کا قاصد ہے''… میزبان یہودی نے کہا۔''
‫٭ ٭ ٭
‫عشاء کی نماز کے بعد نمازی چلے گئے۔ پانچ چھ آدمی خطیب کے پاس بیٹھے رہے۔ ان میں یہ اجنبی گھوڑ سوار بھی تھا۔
‫خطیب نے کسی سے کہا کہ مسجد کا دروازہ اندر سے بند کردیا جائے۔
‫میرے دوستو!''… خطیب نے کہا… ''ہمارا یہ دوست الملک العادل کی طرف سے خبر الیا ہے کہ سلطان صالح الدین ''
‫ایوبی بہت جلد قاہرہ سے کوچ کرنے والے ہیں۔ آپ سب فوجی ہیں اور شب خون کے استاد ہیں۔ آپ کو یہ بتانے کی
‫ضرورت نہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ تربیت اور مشق تیز کردو۔ العادل نے یہ اطالع بھیجی ہے کہ صلیبی بادشاہ بالڈون کی
‫فوج جو حماة سے بھاگی تھی‪ ،ہمارے قریب کہیں پڑائو ڈالے ہوئے ہے۔ ہمیں اس پر نظر رکھنی ہے اور اس کی نقل وحرکت
‫کی اطالع العادل تک پہنچانی ہے۔ انہوں نے یہ حکم بھی بھیجا ہے کہ اگر ہم ضروری سمجھیں تو صلیبیوں کی اس فوج پر
‫…''شب خون ماریں یا چھاپہ مار کارروائیاں جاری رکھیں تاکہ یہ فوج چین سے نہ بیٹھ سکے
‫اس کے ساتھ ہی العادل نے یہ بھی کہا کہ اس فوج نے مسلمانوں کے بہت سے گائوں تباہ کردئیے ہیں۔ چونکہ العادل کے''
‫پاس فوج کی کمی تھی‪ ،اس لیے صلیبی فوج کا تعاقب نہ کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بالڈون کی فوج اور پیچھے اپنے
‫عالقے میں چلی جاتی ہے تو اسے نہ چھیڑا جائے کیونکہ خطرہ ہے کہ وہ حمص کو تباہ کردے گی۔ ہمیں تربیت اور مشق تیز
‫کرنے کو کہا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سلطان ایوبی کسی طرف حملہ کریں تو بالڈون ان پر عقب یا پہلو سے حملہ کردے۔ اس
‫صورت میں ہمیں بالڈون کے عقب پر شب خون مارنے ہیں اور اسے یہیں الجھائے رکھنا ہے''۔
‫خطیب نے ایک آدمی کو یہ کام سونپا کہ وہ اس فوج کو دیکھ آئے۔
‫اس وقت تبریز اور ویرا اس حالت میں قصبے میں داخل ہوئے کہ ویرا تبریز کی پیٹھ پر تھی۔ راستے میں پانی تو مل گیا تھا
‫لیکن کھانے کو کچھ نہیں مال تھا۔ ویرا صلیبیوں کی شہزادی تھی۔ وہ پیدل سفر کی عادی نہیں تھی۔ تبریزرات کے لیے کہیں
‫رکنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے ویرا کو پیٹھ پر اٹھا لیا اور باقی سفر اسی طرح طے کیا۔ اس نے لڑکی کو اپنے گھر کے سامنے
‫اتارا اور اسے اندر لے گیا۔ اس کے گھر والوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ تبریز زندہ ہے۔ اس کا گھوڑا پہلے ہی گھر پہنچ چکا
‫تھا۔ اس نے گھر والوں کو بتایا کہ اس پر کیا بیتی ہے۔
‫ویرا کو معلوم تھا کہ اس کی منزل یہودی تاجر کا گھر ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اس کے گھرفورا ً جانا چاہتی ہے۔ شاید اس ‪:
‫کا باپ زندہ آگیا ہو‪ ،تبریز اس کے ساتھ گیا۔ اسے یہودی تاجر کا گھر معلوم تھا۔ راستے میں اندھیرا تھا۔ ویرا اچانک رک
‫گئی اور تبریز سے لپٹ گئی۔ کبھی چہرہ اس کے سینے پر رگڑتی اور کبھی اس سے الگ ہوکر اس کے ہاتھ چومتی اور
‫آنکھوں سے لگاتی۔
‫ہماری منزل جدا ہیں''… ویرا نے جذبات اور رقت سے بوجھل آواز میں کہا… ''مگر ہم کسی دوراہے پر پھر ملیں گے۔ ''
‫میں اپنی روح سے بیگانہ تھی‪ ،وہ مل گئی ہے اور میں نہیں جانتی تھی محبت کیا ہے؟ وہ تم نے دے دی ہے۔ دل میں
‫تمہاری یاد لے کے جارہی ہوں۔ تم مجھے بھول جائو گے''۔
‫نہیں ویرا''… تبریز کی جذباتی کیفیت ویرا سے زیادہ متزلزل تھی۔ کہنے لگا… ''میں تمہیں بھول نہیں سکوں گا۔ میں نے''
‫تمہیں راستے میں کہا تھا کہ اب تک ایک باطل مذہب کی پجاری رہی ہو‪ ،باقی عمر اسالم کے سائے میں گزارو۔ میں تمہارا
‫انتظار کروں گا۔ میرے دل میں اب کوئی لڑکی نہیں سما سکے گی۔ تم اب اسی قصبے میں رہو گی۔ ہم مال کریں گے لیکن
‫وہاں جہاں کوئی دیکھ نہ سکے''۔
‫تبریز نے امانت میں خیانت نہیں کی تھی۔ دوران سفریہ لڑکی اس کی مرید ہوگئی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ لڑکی تبریز کے دل
‫میں اتر گئی۔ اب وہ دل پر پتھر رکھ کر اسے یہودی کے حوالے کرنے جارہا تھا… وہ جب اسے یہودی کے گھر لے گیا تو
‫وہاں اسے بوڑھا عیسائی مال۔ اس نے ویرا کو گلے لگا لیا۔ یہودی تاجر گھر نہیں تھا۔ وہ فیصلے کے تحت شاہ بالڈون کی
‫خیمہ گاہ کو روانہ ہوگیا تھا۔ تبریز بوڑھے کے اصرار کے باوجود وہاں رکا نہیں۔ وہاں سے وہ مسجد چال گیا۔ دروازہ اندر سے
‫بند تھا۔ اس نے دستک دی‪ ،دروازہ کھال تو وہ اندر چال گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے ایک سال کے اندر اپنی فوج تیار کرلی تھی۔ اس نے مزید انتظار نہ کیا‪ ،جس رات حمص کا
‫ایک یہودی تاجر شاہ بالڈون سے یہ کہنے جارہا تھا کہ وہ اپنی فوج سے حمص کے مسلمانوں کو تباہ وبرباد کردے‪ ،اس رات
‫سلطان ایوبی کی فوج قاہرہ سے نکل گئی تھی۔ اس کی منزل دمشق تھی۔ کوچ بہت تیز تھا۔ سلطان ایوبی وقت ضائع نہیں
‫کرنا چاہتا تھا۔ اس دور کے واقعہ نگاروں کے مطابق‪ ،سلطان ایوبی دمشق قیام کرکے وہاں کے حاالت‪ ،غداریوں اور سازشوں کا
‫جائزہ لے کر اور ان کا سدباب کرکے العادل سے ملنا چاہتا تھا اور وہاں سے اسے جنگی کارروائی کا آغاز کرنا تھا مگر راستے
‫میں ہی اس نے راستہ بدل دیا۔
‫اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اسے عزالدین کا ایک ایلچی راستے میں مال۔ وہ سلطان ایوبی کے نام قاہرہ پیغام لے کر جارہا تھا۔
‫اسے معلوم نہیں تھا کہ سلطان ایوبی وہاں سے کوچ کر آیا ہے۔ا دھے راستے میں اس نے ایک فوج آتی دیکھی۔ جھنڈوں سے
‫پہچانا گیا کہ یہ سلطان ایوبی کی فوج ہے۔ وہ قلب میں چال گیا جہاں سلطان ایوبی تھا۔ ایلچی نے اسے عزالدین کا پیغام
‫دیا۔ عزالدین نورالدین زنگی مرحوم کے مشیروں میں سے تھا‪ ،جسے امیر کا درجہ حاصل تھا۔ وہ مرد مومن تھا۔ اس لیے زنگی
‫کا منظور نظر تھا۔ زنگی نے وفات سے پہلے اسے حلب کے صوبے میں قارا حصار کے نام کا قلعہ دے کر اس کا امیر بنا دیا
‫تھا۔ خاصا عالقہ اس قلعے کے تحت آتا تھا۔ اس سے ملحق ابن العون کی ریاست تھی جو صلیبیوں کے ساتھ صلیبی اور
‫مسلمانوں کے ساتھ مسلمان بن جاتا تھا۔ اس نے صلیبیوں کی شہہ پر عزالدین کے عالقے میں سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ
‫شروع کردیا تھا۔ عزالدین اکیال اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ وہ حلب اور موصل والوں سے مدد نہیں لینا چاہتا تھا کیونکہ

‫جب سے حلب اور موصل کے حکمرانوں الملک الصالح اور سیف الدین وغیرہ نے سلطان ایوبی کے خالف محاذ قائم کیا تھا‪،
‫عزالدین نے ان کے ساتھ تعلقات توڑ لیے تھے۔
‫اس نے سلطان ایوبی کو جو پیغام بھیجا‪ ،وہ یوں تھا… ''قابل احترام سلطان صالح الدین ایوبی بن نجم ایوب سلطان مصر
‫وشام! آپ پر اور سلطنت اسالمیہ پر اللہ کی رحمت ہو۔ میری وفاداری کے متعلق آپ کو شک نہیں ہوگا۔ میں نے تل خالد
‫کی طرف سے صلیبیوں کا راستہ روک رکھا ہے۔ تمام تر عالقہ اور پیش قدمی کے راستے میں میرے چھاپہ ماروں کی نظر میں
‫رہتے ہیں۔ صلیبیوں نے مجھے راستے سے ہٹانے کے لیے ابن العون کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میری
‫سرحد اس عالقے سے ملتی ہے جو دراصل آرمینیوں کا عالقہ ہے۔ ان آرمینیوں نے میری سرحدی چوکیوں پر حملے شروع
‫کردئیے ہیں۔ آپ آگاہ ہوں گے میرے پاس فوج کی کمی ہے۔ صلیبیوں اور آرمینیوں نے میرے پاس دوبار ایلچی قیمتی تحائف
‫کے ساتھ بھیجے تھے۔ وہ مجھے دعوت دے رہے ہیں کہ میں ان کا اتحادی بن جائوں اور آپ کے خالف لڑوں۔ انکار کی
‫…''صورت میں انہوں نے مجھے حملے کی دھمکی دی ہے
‫میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اپنی زمین کے تحفظ کے لیے یہ دعوت قبول کرلیتا۔ یہ جگہ اتنی دور ہے کہ وقت پڑے تو ''
‫مدد کو آنے والے بروقت نہیں پہنچ سکتے۔ اس کے باوجود میں نے اس کی دعوت کے بجائے ان کی دھمکی قبول کی ہے اور
‫میں نے یہ اقدام اللہ کے بھروسے پر کیا ہے۔ میں اپنا قلعہ اور اپنا عالقہ اور اس کے ساتھ اپنی جان قربان کردوں گا۔
‫صلیبیوں کے ساتھ اتحاد نہیں کروں گا۔ میں نورالدین زنگی مرحوم کی روح کے آگے جواب دہ ہوں اور میں ان الکھوں شہیدوں
‫کے آگے جواب دہ ہوں جو قبلہ اول کے نام پر قربان ہوچکے ہیں… مجھے معلوم نہیں کہ آپ کا آئندہ اقدام کیا ہوگا۔ مجھے
‫یہ معلوم ہے کہ رملہ کے حادثے کے بعد آپ تنظیم نو اور دیگر تیاریوں میں مصروف ہوں گے۔مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ
‫محترم الملک العادل میری مدد کو آنے کے قابل نہیں۔ میں آپ کو اپنے احوال سے خبردار رکھنا ضروری سمجھتا تھا۔ اگر آپ
‫حکم دیں تو میں اپنے عالقے اور قاراحصار سے دستبردار ہوکر اپنی فوج آپ کے پاس لے آئوں۔ دوسری صورت میں مجھے
‫ہدایت دیں کہ میں کیا کروں۔ میں کسی قیمت پر صلیبیوں اور آرمینیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا''۔
‫سلطان ایوبی نے یہ پیغام پڑھا۔ اسی وقت اپنے ساالروں اور مشیروں کو بالیا۔ پیغام انہیں پڑھ کر سنایا اور یہ حکم دے کر
‫سب کو حیران کردیا کہ کوچ کا راستہ بدل دو۔ ہم ابن العون کے عالقے پر یلغار کریں گے۔ سلطان ایوبی ڈکٹیٹروں کی طرح
‫حکم نہیں دیا کرتا تھا اور وہ جذبات سے مغلوب ہوکر بھی کوئی جنگی کارروائی نہیں کیا کرتا تھا مگر اس حکم کے پیچھے
‫جنگی فہم وفراست کے ساتھ جذبات بھی کارفرما تھے۔
‫قاراحصار میرے محترم استاد نورالدین زنگی مرحوم کی نشانی ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اور عزالدین کے الفاظ میں ''
‫مجھے زنگی مرحوم کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ میں اس شخص کو تنہا نہیں رہنے دوں گا جو ہمارے مقصد اور عزم کے
‫ساتھ وفاداری کا اظہار کرتا ہے''۔
‫سلطان محترم!'' ایک ساالر نے کہا… ''ہم حقائق کو سامنے رکھیں تو کسی بہتر فیصلے پر پہنچ سکیں گے''۔''
‫حقائق یہ ہیں کہ ہمیں پہلے دمشق جاکر وہاں کے حاالت کا جائزہ لینا تھا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اب اگر ہم دمشق''
‫چلے گئے تو ابن العون تل خالد پر حملہ کردے گا اور عزالدین اس کے آگے نہیں ٹھہر سکے گا۔ آگے حلب ہے۔ تم سب
‫الملک الصالح اور اس کے مشیروں کو اچھی طرح جانتے ہو۔ بے شک وہ اس معاہدے کا پابند ہے جو اس نے ہمارے ساتھ
‫کررکھا ہے‪ ،لیکن معاہدہ لوہے کی دیوار نہیں ہوتی کہ ٹوٹ نہ سکے۔ وہ فورا ً صلیبیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرکے ایک بار پھر
‫ہمارے خالف لڑنے کو آجائے گا۔ میں صلیبیوں کو حلب نہیں لینے دوں گا اور عزالدین کو میں اکیال نہیں چھوڑوں گا''۔
‫کچھ دیر عملی پہلوئوں پر بحث ومباحثہ ہوا اور طے ہوا کہ تل خالد کی سمت کوچ ہوگا۔ سلطان ایوبی نے عزالدین کے ‪:
‫ایلچی کو زبانی پیغام دیا جس میں کہا کہ عزالدین ابن العون سے ملے اور اسے دوستی کا دھوکہ دے لیکن اسے اپنے عالقے
‫میں دخل انداز نہ ہونے دے۔ اس کے ساتھ دوستی کی شرائط پر بات چیت کرتا رہے اور اسے یہاں تک دھوکہ دے کر وہ
‫اپنی فوج اس کے حوالے کردے گا۔ سلطان ایوبی نے ایلچی کو بتا دیا کہ اس نے اپنی فوج کو تل خالد کی طرف تیز کوچ کا
‫حکم دے دیا ہے۔ ایلچی روانہ ہوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبی جاسوس سلطان ایوبی کی نقل وحرکت دیکھ رہے تھے اور صلیبیوں تک خبریں پہنچا رہے تھے‪ ،جن کے مطابق انہوں نے
‫اپنے قلعوں اور اپنے عالقوں کا دفاع مضبوط کرلیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ سلطان ایوبی کے اقدامات کے متعلق کوئی پیشن
‫گوئی نہیں کی جاسکتی۔ صلیبیوں کے مشترکہ ہیڈکوارٹر میں جب جاسوسوں نے یہ اطالع دی کہ سلطان ایوبی کی فوج دمشق
‫کے راستے سے ہٹ کر کسی دوسری سمت جارہی ہے تو ان کے جرنیلوں نے کہا کہ ایوبی اپنے آزمائے ہوئے میدانوں میں لڑنا
‫چاہتا ہے۔
‫حمص کا یہودی تاجر جو حمص کو تباہ کرانے کے لیے شاہ بالڈون کے پاس گیا تھا‪ ،واپس آگیا تھا۔ اسے بالڈون نہیں مال تھا۔
‫وہ اپنے صلیبی دوستوں سے مدد مانگنے گیا تھا۔ اس کے جرنیلوں نے یہودی سے کہا تھا کہ وہ شاہ بالڈون کے حکم کے بغیر
‫کوئی اقدام نہیں کرسکتے‪ ،کریں گے ضرور۔ یہودی حمص واپس آیا تو اسے بتایا گیا کہ ویرا زندہ آگئی ہے اور اسے تبریز نام کا
‫ایک مسلمان الیا ہے۔ تبریز کو عیسائیوں اور یہودیوں نے نقد انعام پیش کیا تھا جو اس نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیاتھا
‫کہ اس نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔
‫اب یہودی تاجرویرا کو بے کار سمجھتا تھا کیونکہ قصبے کو تباہ کرانے کا انتظام ہوچکا تھا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ویرا کو واپس
‫ہیڈکوارٹر میں بھیج دیا جائے لیکن ویرا چاالک لڑکی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ خطیب کے اعصاب پر غالب آجائے گی اور
‫مسلمانوں کو جنگی تربیت دینے والوں کے درمیان رقابت کی دشمنی پیدا کردے گی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ یہاں کے مسلمانوں
‫کے عزائم معلوم کرنے کے لیے بھی اس کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اسے حمص ہی میں رہنے دیا گیا لیکن کسی کو پتہ نہ چال
‫کہ وہ صرف تبریز کی خاطر وہاں کچھ دن اور رکناچاہتی ہے۔
‫وہ تبریز سے ملتی رہی۔ رات کو وہ قصبے سے دور نکل جاتے اور بہت دیر وہیں بیٹھے رہتے تھے۔ اس صلیبی لڑکی کے
‫مقابلے میں تبریز کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔ وہ تو امراء وزراء اور بادشاہوں کے محالت میں رہنے والی لڑکی تھی۔ دمشق
‫میں اس نے انتظامیہ کے دو امراء کو اپنے قدموں میں بٹھا لیاتھا اور ان کے ہاتھ ایسی سازش تیار کرادی تھی۔ جس کی
‫اطالع پر سلطان ایوبی دمشق جارہا تھا مگر طغیانی کی دہشت اور تبریز کے کردار نے اسے ایسا جھٹکا دیا تھا کہ اس کی
‫ذات میں روح اور جذبات بیدار ہوگئے تھے۔ وہ تبریز کی پوجا کرنے لگی تھی اور تبریز اس کی محبت میں گرفتار ہوچکا تھا۔
‫تبریز ایک بات بتائو''۔ ایک رات ویرا نے اس سے پوچھا… ''خطیب اور دوسرے چند ایک آدمی جو تمہیں جنگی تربیت ''

‫''دیتے ہیں‪ ،وہ کہاں سے آئے ہیں؟
‫تبریز جواب دینے لگا تو ویرا بول اٹھی… ''رہنے دو‪ ،جانے دو تبریز! ہمیں اس سے کیا‪ ،کوئی کچھ کرتا پھرے۔ ہم اتنی ‪:
‫خوبصورت رات کو جنگ کی باتوں سے کیوں خراب کریں''۔
‫اس طرح وہ دو حصوں میں کٹ گئی تھی۔ تبریز کے ساتھ ہوتی تو وہ معصوم اور پاک لڑکی ہوتی تھی۔ اسے یہ بھی یاد نہیں
‫رہتا تھا کہ وہ جاسوس ہے۔ اس نے ایک ہی بار تبریز سے خطیب اور دوسرے استادوں کے متعلق پوچھا لیکن اسے اس نے
‫دھوکہ سمجھا اور تبریز کو جواب دینے سے روک دیا۔ یہی ویرا جب یہودی تاجر کے گھر میں بیٹھی ہوتی تو مسلمانوں کی
‫تباہی کی باتیں کرتی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫ڈیڑھ دو مہینے گزر گئے تھے۔ ایک شام ویرا تبریز کے گھر چلی گئی اور اس کی ماں کے ساتھ باتیں کرتی رہی۔ اس نے
‫تبریز کو اشارہ کیا جسے وہ سمجھتا تھا۔ وہ چلی گئی۔ شام کا اندھیرا گہرا ہوتے ہی تبریز اس جگہ پہنچ گیا‪ ،جہاں وہ مال
‫کرتے تھے۔ ویرا آگئی تھی۔ تبریز کو قصبے سے دور لے گئی۔ وہ گھبرائی ہوئی تھی۔ تبریز کے پوچھنے پر بھی اس نے نہ
‫بتایا کہ اس کی گھبراہٹ کی وجہ کیا ہے۔ انہیں آوازیں سنائی دیں۔ کوئی ویرا کو پکار رہا تھا۔ تبریز نے پوچھا کہ یہ کون
‫ہے؟ ویرا نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا کہ اس کے آدمی اسے تالش کررہے ہیں… ''چلو اور دور نکل چلیں''… ویرا نے کہا
‫اور اسے اور دور لے گئی۔ اسے ابھی تک کوئی پکار رہا تھا۔
‫ان آوازوں کو مت سنو تبریز!'' ویرا نے کہا… ''میں جب تمہارے پاس ہوتی ہوں تو میں اپنے کسی آدمی کی آواز نہیں ''
‫سننا چاہتی''۔
‫آگے چٹانیں تھیں۔ ویرا تبریز کو چٹانوں کے پیچھے لے گئی۔ تبریز حیران سا ہوکے اس کے ساتھ چلتا رہا اور وہ ایک جگہ
‫رک گئے۔ وہاں کسی کی آواز نہیں پہنچی تھی… تبریز چونک اٹھا اور بوال… ''شور سا سنائی دیتا ہے۔ تم بھی سننے کی
‫کوشش کرو۔ ایسے لگتا ہے جیسے چیخ وپکار ہورہی ہے اور گھوڑے دوڑ رہے ہیں''۔
‫تمہارے کان بج رہے ہیں''۔ ویرا نے ہنس کر کہا… ''ہوا کے تیز جھونکے چٹانوں سے ٹکرا کر گزر رہے ہیں۔ یہ ان کی ''
‫آوازیں ہیں''۔
‫ویرا نے اسے اپنے بازوئوں اور ریشمی بالوں میں گرفتار کرکے اس کی آنکھوں‪ ،کانوں اور عقل پر قبضہ کرلیا۔ تبریز مان گیا کہ
‫یہ آوازیں ہوا کی ہیں جو بہت دور کے شور کی طرح سنائی دیتی ہیں مگر اسے معلوم نہ ہوسکا کہ یہ آوازیں اس کی اپنی
‫بستی کے لوگوں کی ہیں اور وہاں قیامت بپا ہوچکی ہے جو یہودی تاجر بپا کرانا چاہتا تھا۔ ویرا کو معلوم تھا‪ ،وہ نہیں چاہتی
‫تھی کہ یہ آوازیں تبریز کے کانوں تک پہنچیں۔
20:54 :
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪124تصادم روح بدروح کا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫یہ آوازیں تبریز کے کانوں تک پہنچیں۔ یہ انتظام اس طرح ہوا تھا کہ یہودی تاجر ایک بار پھر بالڈون سے ملنے گیا تھا۔ اسے
‫بالڈون مل گیا تھا۔ یہودی نے اسے بتایا کہ حمص کے مسلمان کیا کررہے ہیں اور وہ کس طرح صلیبی فوج کے لیے خطرہ بن
‫سکتے ہیں۔ بالڈون کا یہ من پسند شکار تھا۔ اس نے یہودی کو بتایا کہ وہ کسی رات چپکے سے حمص پر حملہ کرائے گا۔
‫اس نے یہودی سے یہ بھی کہا کہ عیسائی اور یہودی اس رات حملے سے پہلے قصبے سے نکلیں‪ ،اگر وہ دن کے دوران نکلے
‫تو مسلمانوں کو شک ہوگا کہ کوئی گڑبڑ ہے۔ یہودی نے واپس آکر جب اپنے آدمیوں کو یہ سکیم بتائی تو ویرا نے کہا کہ وہ
‫تبریز اور اس کے کنبے کو بچانا چاہتی ہے۔
‫اسے ہم صلیب سے غداری کہیں گے''۔ بوڑھے عیسائی نے کہا۔''
‫سانپ کے بچوں کو بچانا کہاں کی عقل مندی ہے؟'' یہودی تاجر نے کہا۔''
‫یہاں مسلمانوں کے دو گھر ایسے ہیں جن کے ساتھ میرے دلی تعلقات ہیں''۔ وہاں کے رہنے والے ایک عیسائی نے کہا۔ ''
‫'' لیکن میں انہیں بچانے کی نہیں سوچ رہا‪ ،ہمیں مسلمان کا خون چاہیے۔ مسلمان میرا ذاتی دوست ہوسکتا ہے میرے مذہب
‫کا وہ دشمن ہی ہوگا''۔
‫میں اسے زندہ رکھنا چاہتی ہوں جس نے مجھے موت کے منہ سے نکاال تھا''۔ ویرا نے غصے سے کہا۔''
‫ہم نے اسے اتنا انعام پیش کیا تھا جو اس نے کبھی خواب میں نہیں دیکھا ہوگا''۔ یہودی تاجر نے کہا۔ ''اس نے کہا ''
‫کہ اس نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔ ہم نے اسے انعام پیش کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اب وہ ہمارا دشمن اور ہم اس کے
‫دشمن ہیں''۔
‫میں اسے دشمن نہیں سمجھتی''۔ ویرا نے جھنجھال کر کہا… ''یہ صرف ایک مرد مال ہے جس نے میرے جسم پر ذرہ ''
‫بھر توجہ نہیں دی۔ تم سب گناہ گار ہو‪ ،تم میں کون ہے جس کی نیت میرے حق میں صاف ہے۔ میری آنکھوں میں اپنے
‫چہرے دیکھو''۔
‫تم صرف تبریز کو بچالو''۔ یہودی تاجر نے کہا… ''لیکن اسے کیسے بچائو گی؟ اگر تم نے اسے بتایا کہ کیا ہونے واال ہے''
‫تو وہ ساری آبادی کو نہیں بتا دے گا؟ اور اگر تم اس کے پورے کنبے کو گھر سے نکل جانے کو کہو گی تو وہ وجہ نہیں
‫پوچھیں گے؟ تم کیا بتائو گی؟ تم ایک مسلمان کو نیکی کا صلہ دیتے دیتے‪ ،ان تمام مسلمانوں کو چوکنا کردو گی جو ہمارے
‫لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں''۔
‫مجھے اناڑی نہ سمجھو''… ویرا نے کہا… ''میں صلیب کو دھوکہ نہیں دوں گی''۔''
‫حملے کی شام ویرا تبریز کے گھر گئی اور اسے باہر لے گئی۔ اس کے آدمیوں کو معلوم تھا کہ رات کو وہ اکثر کہاں چلی
‫جاتی ہے۔ اس نے انہیں بتا رکھا تھا کہ تبریز کو محبت کا دھوکہ دے کر وہ اس سے بھید لیتی ہے۔ وہ اسے باہر لے گئی
‫تو قصبے سے عیسائی اور یہودی دبے پائوں نکلنے لگے۔ انہوں نے ویرا کی تالش میں ایک آدمی بھیجا جو اسے پکارتا رہا‪،
‫لیکن ویرا تبریز کو دور ہی دور لے جاتی رہی۔ وہ اسے اتنی دور لے جانا چاہتی تھی جہاں سے اسے قصبے کا شور نہ سنائی
‫دے۔ ویرا کی تالش میں جو آدمی گیا تھا وہ مایوس ہوکر واپس چال گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫قصبے پر نیند کا غلبہ طاری ہوچکا تھا۔ صلیبی فوج کے پیادے دبے پائوں قریب آگئے تھے۔ ان کی تعداد قصبے کی آبادی سے

‫کئی گنا زیادہ تھی۔ پیادہ فوج بالکل قریب آگئی تو عقب سے گھوڑ سوار بھی آگئے۔ مسلمان گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ فوج
‫نے طغیانی کی طرح یلغار کردی۔ فوجیوں نے مشعلیں جال لی تھیں۔ دو تین جھونپڑوں کو آگ لگا دی گئی تاکہ روشنی
‫ہوجائے۔ صلیبی سپاہی دیواریں پھالنگ کر گھروں میں داخل ہوئے۔ زیادہ تر مسلمان جاگنے سے پہلے ہی مارے گئے۔ جو بروقت
‫جاگ اٹھے اور ہتھیار اٹھا سکے‪ ،انہوں نے مقابلہ کیا۔ بعض لڑکیوں نے خودکشی کرلی۔ صلیبی گھوڑ سواروں نے قصبے کو گھیر
‫رکھا تھا۔ کسی کو باہر کو بھاگتا دیکھتے تھے تو اسے برچھی یا تلوار کا شکار کرلیتے تھے۔
‫یہ تھی وہ چیخ وپکار اور شور جو چٹانوں میں بیٹھے ہوئے تبریز نے سنا تھا۔ اس کا گھر تباہ ہوچکا تھا۔ بچہ بچہ کٹ گیا
‫تھا۔ شاہ بالڈون نے مسلمانوں کی اس بستی سے بھی اپنی شکست کا انتقام لے لیا تھا۔
‫تم آج مجھے اتنی دور کیوں لے آئی ہو؟'' تبریز نے پوچھا اور کہا… ''تم آج بولتی کیوں نہیں؟ گھبرائی ہوئی کیوں ''
‫''ہو؟
‫اس لیے کہ تم میرا ساتھ نہیں دو گے''۔ ویرا بہت ہوشیار لڑکی تھی۔ کہنے لگی… ''میں تمہیں کہیں اور لے جارہی ہوں''
‫''… اسے خاموش دیکھ کر بولی۔ ''کل واپس آجائیں گے''۔
‫''کہاں؟''
‫کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں؟'' ویرا نے اسے بازوئوں میں لے کر اس کا چہرہ اتنا قریب کرلیا کہ اس کے بکھرے '' ‪:
‫ہوئے ریشمی بال تبریز کے گالوں کو چھونے لگے۔ یہ وہی بال تھے‪ ،جنہیں گف میں دھال ہوا دیکھ کر تبریز نے اپنی ذات میں
‫عجیب سا لرزہ محسوس کیا تھا۔ اب تو ویرا کی محبت اس کے دل میں دور تک اتر گئی تھی۔ اس پر خمار سا طاری
‫ہوگیا… ''ہم کب تک چوروں کی طرح ملتے رہیں گے؟ میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اگر تمہارے دل میں میری
‫محبت ہے تو مجھ سے ابھی یہ نہ پوچھو کہ میں تمہیں کہاں لے جارہی ہوں۔ یہ سمجھ لو کہ ہم وہاں چلیں گے جہاں
‫ہمارے درمیان مذہب کی دیواریں حائل نہیں ہوں گی تم مرد ہو‪ ،مجھے دیکھو‪ ،کمزور سی عورت ہوکر تمہاری محبت کی خاطر
‫کتنا بڑا خطرہ مول لے رہی ہوں''۔
‫کمزور دراصل تبریز تھا۔ ویرا اس کی عقل پر غالب آگئی تھی۔ وہ اس کوشش میں تھی کہ تبریز اپنے قصبے میں واپس نہ
‫جائے۔ وہ جانتی تھی کہ وہاں اسے اپنے گھر کے جلے ہوئے کھنڈر اور گھر والوں کی جلی ہوئی الشیں ملیں گی‪ ،پھر وہ پاگل
‫ہوجائے گا۔ ہوسکتا تھا ویرا کو کسی شک کی بنا پر قتل ہی کردے۔ ویرا کے دماغ میں کچھ اور آگیا تھا۔ اس نے محبت کی
‫خاطر اور طغیانی سے بچانے اور اسے باعزت حمص النے کے صلے میں صلیبیوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا لیا تھا اور اب
‫اپنے گھر کی بربادی دیکھنے کی اذیت سے بچانا چاہتی تھی۔ اس نے تبریز کو اٹھا لیا اور چل پڑی۔ تبریز اس کے ساتھ یوں
‫جارہا تھا جیسے ہیپناٹائز کرلیا گیا ہو۔
‫صبح طلوع ہوئی تو حمص جلے ہوئے کھنڈروں میں تبدیل ہوچکا تھا‪ ،وہاں کوئی مسلمان زندہ نہیں رہا تھا۔ بڑی مسجد کے
‫مینار کھڑے تھے۔ خطیب اور اس کے ساتھی مقابلے کے بغیر شہید ہوگئے تھے۔ اس وقت ویرا تبریز کو ساتھ لیے صلیبی فوج
‫کی خیمہ گاہ تک پہنچ چکی تھی۔ تبریز کا دماغ بیدار ہوگیا۔ اس نے ویرا سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا لینے آئی ہے۔ ویرا نے
‫اس کے وسوسے اپنی زبان کے کمان سے رفع کردئیے۔ اسے ایک طرف کھڑا کرکے اس نے ایک کمان دار سے بات کی۔ کمان
‫دار نے اسے کوئی راستہ سمجھایا۔ ویرا تبریز کو ساتھ لیے ادھر چلی گئی۔
‫وہ جہاں پہنچے وہ شاہ بالڈون کی ذاتی خیمہ گاہ تھی جس پر محل کا گمان ہوتا تھا۔ محافظوں نے بہت کچھ پوچھ کر ویرا
‫کو بالڈون کے خیمے میں جانے دیا۔ کچھ دیر بعد تبریز کو اندر بالیاگیا۔ بالڈون نے اسے سر سے پائوں تک دیکھا اور کہا…
‫''یہ لڑکی تمہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہے۔ اس نے ایسی خواہش کا اظہار کیا ہے جسے ہم رد نہیں کرسکتے۔ تمہیں کسی
‫قسم کا شک یا ڈر نہیں ہونا چاہیے''۔
‫میں اپنا مذہب تبدیل نہیں کروں گا''۔ تبریز نے کہا۔''
‫تمہیں مذہب تبدیل کرنے کو کس نے کہا ہے''۔ ویرا نے کہا۔''
‫پھر کیا ہوگا؟'' تبریز نے پوچھا۔ ''میں یہاں رہ کر کیا کروں گا؟ مجھے واپس جانا ہے''۔''
‫تبریز!'' ویرا نے اسے اپنی طرف متوجہ کرکے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں اور کہا… ''میں نے تمہیں کیا کہا ''
‫تھا۔ مجھے بھی وہیں جانا ہے جہاں تمہیں جانا ہے''۔
‫تبریز کچھ بھی نہ سمجھ سکا۔
‫٭ ٭ ٭
‫عزالدین کا ایلچی سلطان صالح الدین ایوبی کا جواب لے کر کبھی کا عزالدین کے پاس پہنچ چکا تھا۔ سلطان ایوبی کی
‫ہدایت کے مطابق عزالدین نے ابن العون سے ایک مالقات کرلی تھی اور اسے یقین دال دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ دوستی
‫کرلے گا اور سلطان ایوبی کو دھوکہ دے گا۔ اس نے ابن العون کو ایسے سبز باغ دکھائے تھے کہ وہ پوری طرح اس کے
‫جھانسے میں آگیا تھا۔ اس کے بعد ابن العون اسے ملنے قارا حصار آیا تھا۔ قاراحصار زرخیز اور سرسبز عالقہ تھا جسے دیکھ
‫کر ابن العون کے چہرے پر رونق آگئی تھی۔
‫اس سے چند ہی روز بعد سلطان ایوبی اپنی فوج کے ساتھ قارا حصار کے قریب جاکر خیمہ زن ہوا۔ اس کی فوج تھکی ہوئی
‫تھی لیکن وہ آرام میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ حملے میں تاخیر ہوگئی تو ابن العون کو فوج
‫آمد کی خبر مل جائے گی۔ اسے توقع تھی کہ ابن العون کے ساتھ بڑا سخت مقابلہ ہوگا۔ اس خطرے کے پیش نظر اس نے
‫حلب کی فوج کو بھی بال لیا تھا۔ یہ اس معاہدے کے تحت تھا جو سلطان ایوبی نے الملک الصالح کو شکست دے کر اس
‫کے ساتھ کیا تھا۔
‫آدھی رات سے کچھ دیر بعد سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو یلغار کے لیے کوچ کا حکم دیا۔ انٹیلی جنس رپورٹوں سے معلوم
‫ہوگیا تھا کہ آرمینیوں کی چوکیاں کہاں کہاں ہیں اور ان میں کتنی کتنی نفری ہے۔ نفری جتنی بھی تھی وہ بے خبر پڑی
‫تھی۔ عزالدین کی طرف سے تو انہیں حملے کا خطرہ ہی نہیں تھا اور سلطان ایوبی کا وہاں اتنی خاموشی سے پہنچ جانا‪ ،ان
‫کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ سلطان ایوبی کی یلغار سہ طرفی تھی۔ ہر حملہ آور کالم کے ساتھ عزالدین کے مہیا
‫کیے ہوئے گائیڈ تھے۔ سلطان اس کالم کے ساتھ تھا جس نے نہراالسود (دریائے سیاہ) کی طرف سے حملہ کیا تھا۔
‫یہ دریا ابن العون کے ملک کی سرحد تھا۔ اس پر کشتیوں کا پل بنا ہوا تھا۔ دریا کے کنارے آرمینیوں کا قلعہ مخاضتہ االحزان
‫تھا۔ ابن العون اسی قلعے میں مقیم تھا۔ اسے سر کرنے سے تمام تر عالقہ فتح ہوسکتا تھا۔ اسی لیے سلطان ایوبی اپنی
‫فوج کے اس کالم کے ساتھ رہا۔ اس کی قیادت سلطان ایوبی کا بھتیجا فرخ شاہ کررہا تھا جو غیرمعمولی طور پر بہادر اور

‫حرب وضرب کا ماہر تھا۔ دوسرے دو کالموں نے چوکیوں پر حملے کرکے دشمن کی فوج کو ہالک یا قید کرلیا اور چوکیوں کو
‫آگ لگا دی۔ دہشت پھیالنے کے لیے بعض بستیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
‫ابن العون کی آنکھ اس وقت کھلی جب سلطان ایوبی کے جانباز کمندیں پھینک کر قلعے کی دیواروں پر چڑھ گئے تھے اور
‫منجنیقوں سے وزنی پتھر پھینک کر قلعے کا دروازے توڑا جاچکا تھا۔ قلعے میں فوج سوئی ہوئی تھی۔ ابن العون دوڑ کر قلعے
‫کے ایک مینار پر گیا۔ دور اسے آگ کے شعلے نظر آئے۔ وہ ابھی سوچ بھی نہ پایا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے اور وہ کیا کرے
‫کہ سلطان ایوبی کا ایک جانباز جیش اس پر ٹوٹ پڑا۔ اس کے محافظوں نے مقابلہ خوب کیا لیکن مارے گئے اور ابن العون
‫کو قید کرلیا گیا۔
‫صبح طلوع ہورہی تھی جب ابن العون کو سلطان ایوبی کے سامنے کھڑا کیا گیا۔ سلطان ایوبی حکم دے چکا تھا کہ قلعے کو
‫مسمار کردیا جائے۔ اس کی فوج اس کام کے لیے کافی نہیں تھی۔ عزالدین بھی سلطان ایوبی کے ساتھ تھا۔ سلطان ایوبی کے
‫کہنے پر ابن العون کے ہر طرف قاصد اس حکم کے ساتھ دوڑا دئیے کہ تمام فوج ہتھیارڈ ال کر قلعے کے قریب آجائے… فوج
‫کے آنے تک سلطان ایوبی نے عزالدین کے کہنے پر ابن العون کے ساتھ صلح کی شرائط طے کرلیں۔ ان میں ایک یہ تھی کہ
‫ابن العون اپنی آدھی فوج سلطان ایوبی کے حوالے کردے۔ دوسری یہ کہ ابن العون کی فوج کی حد مقرر کردی گئی۔ تیسری
‫یہ کہ ابن العون ساالنہ جزیہ دیتا رہے… اور ایسی چند شرائط تھیں جنہوں نے ابن العون کو برائے نام حکمران رہنے دیا۔
‫جب ابن العون کی فوج ہتھیار ڈال کر قلعے کے قریب اکٹھی ہوگئی تو سلطان ایوبی نے اس فوج کو حکم دیا کہ قلعے کو
‫اس طرح مسمار کردے کہ اس کا یہاں نشان بھی نہ رہے۔ شکست خوردہ فوج نے اسی وقت قلعہ مسمار کرنا شروع کردیا اور
‫سلطان ایوبی اپنی فوج کو مصافہ نام کے ایک گائوں کے قریب لے گیا۔ اس نے حلب کی فوج واپس بھیج دی اور اپنی فوج
‫کو آرام کی لمبی مہلت دی۔ ابن العون کی جو آدھی فوج اس نے لے لی تھی‪ ،وہ عزالدین کو دے دی مگر سلطان ایوبی کو
‫معلوم نہ تھا کہ اس کی فوج کی خیمہ گاہ جو سلسلہ کوہستان کے دامن میں ہے‪ ،اس کے اندر اور اس کی بلندیوں پر بالڈون
‫کی فوج آچکی ہے اور وہ عقاب کی طرح اس پر جھپٹنے کو پرتول رہی ہے۔ سلطان ایوبی نے اس عالقے میں دیکھ بھال کی
‫ضرورت محسوس نہیں کی تھی کیونکہ اسے کسی فوج کا خطرہ نہیں تھا۔
‫تقریبا ً تمام مورخوں کی تحریروں سے حیرت کا اظہار ہوتا ہے کہ سلطان ایوبی نے عزالدین کے پیغام پر کیوں اپنا اتنا بڑا ‪:
‫پالن تبدیل کرکے ابن العون جیسے غیراہم حکمران پر فوج کشی کی جس میں اس نے بے شک فتح حاصل کی لیکن جو
‫وقت اور جو فوج ضائع ہوئی‪ ،اس کی قیمت زیادہ تھی۔ ارنول نام کا مورخ لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی اردگرد کے خطروں کو
‫کم کرنا چاہتا تھا۔ اس وقت کے واقعہ نگار جن میں اسد االسدی قابل ذکر ہے‪ ،لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی عزالدین کا پیغام
‫پڑھ کر جذبات کے غلبے میں آگیا تھا۔ بہرحال جنگ کے ماہرین نے سلطان ایوبی کے اس حملے کو سراہا نہیں۔ وہ لکھتے
‫ہیں کہ سلطان ایوبی کو معلوم تھا کہ قریب ہی کہیں شاہ بالڈون کی فوج ہے جو سلطان ایوبی پر اس وقت حملہ کرسکتی
‫تھی جب وہ ایک ہی رات میں حاصل کی ہوئی فتح کے بعد کے انتظامات میں مصروف تھا۔ مورخ اس پر بھی حیران ہیں کہ
‫بالڈون نے اپنی فوج کو اس وقت پہاڑی عالقے میں جنگی ترتیب میں پھیال دیا تھا‪ ،جب سلطان ایوبی کی فوج پہاڑیوں کے
‫دامن میں خیمے گاڑ رہی تھی۔ شاہ بالڈون نے حملے میں تاخیر کی۔ کسی بھی مورخ کو معلوم نہیں کہ یہ اس کی شاہانہ
‫حماقت تھی یا کوئی مجبوری‪ ،اگر وہ اسی وقت حملہ کرتا تو سلطان ایوبی کی حالت وہی ہوتی جو رملہ میں ہوئی تھی۔
‫!شکست اور پسپائی
‫سلطان ایوبی کو وہاں خیمہ زن ہونے کے بعد بھی پتہ نہ چال کہ شاہ بالڈون اس کے سرپر بیٹھا دانت تیز کررہا ہے۔ بلندیوں
‫سے بالڈون کے دیکھ بھال والے آدمی سلطان ایوبی کی خیمہ گاہ کو دیکھتے رہتے اور بالڈون کو بتاتے رہتے تھے۔ یہ غالبا ً پہال
‫موقع تھا کہ سلطان ایوبی کا جاسوسی اور دیکھ بھال کا نظام ڈھیال پڑ گیا تھا۔
‫تبریز بھی اس فوج کے ساتھ تھا۔ ویرا نے ابھی تک اسے بتایا نہیں تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ کیوں لے آئی ہے۔ وہ شاید
‫اسے عیسائی بنا کر جاسوس بنانا چاہتی تھی۔ اس میں دونوں باتیں تھیں۔ صلیب کی وفاداری بھی اور تبریز کی محبت بھی۔
‫شاہ بالڈون کو تبریز کے ساتھ کوئی دلچسپی تھی یا نہیں اسے ویرا کے ساتھ گہری دلچسپی تھی کیونکہ وہ بہت خوبصورت
‫تھی۔ ایک روزویرا نے بالڈون سے کہا تھا کہ وہ اسے اس کے ہیڈکواٹر میں بھیج دے جو عکرہ میں تھا۔ بالڈون نے اسے روک
‫لیا تھا۔
‫یہ اس جگہ کی باتیں ہیں جو حمص کے قریب تھی۔ ایک روز بالڈون کو جاسوسوں نے اطالع دی کہ سلطان ایوبی کی فوج
‫تل خالد کو جارہی ہے۔ بالڈون کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ سلطان ایوبی ابن العون پر حملہ کرنے جارہا ہے۔ وہ اس
‫عالقے سے واقف تھا۔ اس نے فورا ً اپنی فوج کو مصافہ کی پہاڑیوں کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کا پالن یہ تھا
‫کہ وہ سلطان ایوبی کو ان پہاڑیوں میں گھسیٹ کر لڑائے گا۔ اس پالن کے مطابق اس نے پہاڑیوں کی موزوں بلندیوں اور ڈھکی
‫چھپی جگہوں میں اپنی فوج کو پھیال دیا۔ یہ بہت بڑے پیمانے کی گھات تھی۔
‫اس نے جب حمص کے قریب کی خیمہ گاہ سے کوچ کا حکم دیا تھا ویرا نے اسے کہا کہ وہ اس کے پاس پناہ لینے آئی
‫تھی۔ تبریز کے متعلق اس نے بالڈون کو ساری کہانی سنا کر بتایا تھا کہ وہ اسے کیوں ساتھ ساتھ لیے پھرتی ہے۔ اب جبکہ
‫بالڈون لڑنے کے لیے جارہا تھا‪ ،ویرا ور تبریز کا اس کے ساتھ رہنے کا کوئی مقصد نہیں تھا مگر بالڈون نے ویرا کو نہ جانے
‫دیا۔
‫میرے ہاں لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں''۔ بالڈون نے کہا… ''مگر تم پہلی لڑکی ہو جس نے میرے دل پر قبضہ کرلیا ہے۔''
‫تم میرے پاس ہوتی ہو تو مجھے روحانی سکون محسوس ہوتا ہے۔ تم کچھ عرصہ اور میرے ساتھ رہو''۔
‫ویرا اپنے بادشاہوں کو اچھی طرح جانتی تھی۔ بالڈون کی نیت کو سمجھنا‪ ،اس کے لیے مشکل نہیں تھا۔ اس نے صاف الفاظ
‫میں اسے کہہ دیا… ''اگر بات روحانی سکون کی ہے تو مجھے یہ سکون اس مسلمان سے ملتا ہے‪ ،جس کا سارا کنبہ قتل
‫کراکے میں اسے ساتھ ساتھ لیے پھرتی ہوں۔ میں بتا نہیں سکتی کہ میں نے اسے اس کے کنبے کے قتل سے بے خبر رکھنے
‫کا جو گناہ کیا ہے ‪ ،اس کا کفارہ میرا ضمیر مجھ سے کس طرح ادا کرائے گا''۔
‫تمہاری بھی روح ہے؟'' بالڈون نے طنزیہ کہا… ''تمہارا ضمیر ہے؟ راتیں مسلمان امراء کے ساتھ گزارنے والی گناہ کا کفارہ''
‫''ادا کرنے کی بھی سوچ سکتی ہے؟
‫آپ کے سامنے میں صرف جسم ہوں‪ ،دلکش جسم''… ویرا نے کہا۔ ''اور جب میں تبریز کے پاس ہوتی ہوں تو روح ہوتی''
‫ہوں‪ ،پیار کی پیاسی روح''۔
‫بالڈون بادشاہ تھا۔ اس نے بادشاہوں کی طرح حکم دیا… ''تم میرے ساتھ رہوگی''… اس نے دربان کو بال کر کہا… ''اس

‫مسلمان کے پائوں میں زنجیر ڈال دو جو ہماری خیمہ گاہ میں رہتا ہے''۔
‫اور جب بالڈون مصافہ کی پہاڑیوں میں پہنچا‪ ،تب تبریز زنجیروں میں بندھا ہوا قیدی تھا اور ویرا ایسی قیدی جسے زنجیر نہیں
‫ڈالی گئی تھی‪ ،وہ محافظوں کے پہرے میں تھی۔ یہاں آکر بالڈون اپنی فوج کے ڈیپالئے میں مصروف ہوگیا۔ فارغ ہوا تو اس نے
‫ویرا کو تڑپانا شروع کردیا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ تبریز کو اپنے سامنے بال لیتا۔ ویرا کو سامنے کھڑا کرلیتا اور حکم دیتا کہ
‫تبریز کو کوڑے مارے جائیں۔ کوڑے تبریز کی پیٹھ پر پڑتے تو چیخیں ویرا کی نکل جاتی تھیں۔ بالڈون ویرا سے کہتا… ''تم
‫اپنے آپ کو مجھ سے بچا نہیں سکتیں‪ ،میں تمہیں اس زبان درازی کی سزا دے رہا ہوں جو تم نے میرے ساتھ کی تھی''۔
‫تبریز تو جیسے گونگا اور بہرہ ہوگیا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اسے یقین نہیں آتا تھا کہ اسے
‫یہ سزا ویرا دال رہی ہے۔ ویرا کی چیخوں اور آہ زاری سے وہ سمجھ گیا کہ ویرا بھی مظلوم ہے۔ تبریز برداشت کرتا مگر
‫ایک روز ویرا کی برداشت ٹوٹ گئی۔ وہ بالڈون کے پاس چلی گئی۔ اس کے پائوں پکڑ کر معافی مانگی اور کہا کہ جب تک
‫کہیں گے اور جس طرح کہیں گے‪ ،آپ کے ساتھ رہوں گی۔ تبریز کو چھوڑ دیں۔ بالڈون کے حکم سے تبریز کی زنجیریں کھول
‫دی گئیں اور اس کی مرہم پٹی کا انتظام کردیا گیا۔ ویرا شاہ بالڈون کی تنہائی کی رونق بن گئی۔
‫چند دنوں بعد بالڈون نے رات شراب اورویرا کے حسن سے بدمست ہوکر اسے کہا… ''اگر میں صالح الدین ایوبی کو تبریز کی
‫طرح زنجیروں میں باندھ کر تمہارے سامنے کھڑا کردوں تو مان جائوں گی کہ میں اتنا بوڑھا نہیں جتنا تم مجھے سمجھتی
‫''ہو؟
‫میں صالح الدین ایوبی سے کہوں گی کہ میں ملکہ بالڈون ہوں''… ویرا نے کہا… ''اپنی تلوار میرے قدموں میں رکھ دو''۔''
‫دو روز بعد میں تمہیں یہ کرکے دکھادوں گا‪ ،جو میں نے کہا ہے''… بالڈون نے کہا۔''
‫ممکن نظر نہیں آتا''… ویرا نے کہا۔''
‫تم نے دیکھا نہیں کہ صالح الدین ایوبی نے میرے قدموں میں پڑائو ڈال رکھا ہے؟''… بالڈون نے کہا… ''پرسوں صبح کی ''
‫تاریکی میں ہم اس پر حملہ کریں گے۔ پیشتر اس کے کہ اسے معلوم ہو کہ یہ کیا ہوا ہے‪ ،وہ میرا قیدی ہوگا۔ اسے میری
‫موجودگی کا علم نہیں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫تبریز آزاد تھا۔ اس کے متعلق بالڈون نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ چال جائے‪ ،رہے یا کیا کرے۔ وہ شاہی مہمان بنا ‪:
‫ہوا تھا۔ صبح طلوع ہوئی تو ویرا تبریز کے خیمے میں گئی۔ تبریز بے تابی سے اسے مال اور اس پر برسا۔
‫زیادہ باتوں کا وقت نہیں''… ویرا نے اسے کہا… ''میں آج تمہارے احسان کا صلہ اور تمہاری محبت کا جواب دینا چاہتی''
‫ہوں۔ میں جو کہتی ہوں وہ کرنا۔ مجھ سے کچھ نہ پوچھنا۔ میں نے بہت گناہ کیے ہیں۔ تمہارا حمص تباہ ہوچکا ہے۔ وہاں نہ
‫جانا‪ ،وہاں کھنڈر ہوں گے اور تمہیں وہاں اپنے گھروالوں کی ہڈیاں ملیں گی''… اس نے تبریز کو اس تباہی کی اور تبریز کو
‫بچانے کی تفصیل سنا کر کہا… ''تمہیں بالڈون کی فوج سے انتقام لینا ہے۔ آج رات اس طرح پہاڑی عالقے سے نکل جائو کہ
‫تمہیں کوئی دیکھ نہ سکے۔ صالح الدین ایوبی کے پاس جائو اور اسے بتائو کہ صلیبی فوج تمہارے سرپربیٹھی ہے اور پرسوں تم
‫پر حملہ کرے گی''… ویرا نے اسے بالڈون کے حملے کا سارا پالن بتا دیا اور کہا… ''اب میری طرف نہ دیکھو‪ ،ورنہ یہاں
‫سے ہل نہیں سکو گے۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ ہماری منزلیں جدا جدا ہیں۔ آج ہم دونوں نے اپنی اپنی منزل پالی ہے''۔
‫اگر ویرااسے حمص کی تباہی اور قتل عام کی کہانی نہ سناتی تو تبریز وہاں سے اتنی جلدی نہ چلتا۔ وہ آنکھوں میں آنسو
‫لے کر ویرا سے جدا ہوا… شام تاریک ہوتے ہی وہ چپکے سے نکال اور بچتا بچاتا نکال آیا۔ سلطان ایوبی کی فوج کی خیمہ
‫گاہ میں آیا اور کہا کہ وہ سلطان کے پاس جانا چاہتا ہے۔ اسے وہاں پہنچا دیا گیا۔ سلطان ایوبی نے اس کی ساری داستان
‫تحمل سے سنی اور اس سے بالڈون کی فوج اور اس کے پالن کے متعلق پوری اطالع لی۔ اس نے اسی وقت اپنے ساالروں کو
‫بالیا اور ضروری احکام دئیے۔
‫شاہ بالڈون نے تیسری رات کے آخری پہر سلطان ایوبی کی خیمہ گاہ پر حملہ کیا مگر وہ صرف خیمے تھے‪ ،فوج نہیں تھی۔
‫اچانک فضا میں فلیتے والے تیروں کے شرارے اڑے اور خیموں پر گرے۔ خیمے جن کے اندر خشک گھاس اور اس پر آتش گیر
‫سیال چھڑکا ہوا تھا۔ مہیب شعلے بن گئے۔ بالڈون نے یہ حالت دیکھی تو اس نے اپنے مزید دستوں کو حملے کے لیے بھیجا۔
‫ان پر دائیں اور بائیں سے تیروں کی بوچھاڑیں پڑیں۔ صبح ہوگئی‪ ،بالڈون کی اس فوج پر جو وادیوں میں چھپی ہوئی تھی‪،
‫حملہ ہوگیا۔ تب بالڈون کو احساس ہوا کہ اس نے سلطان ایوبی کو بے خبری میں نہیں لیا بلکہ وہ خود سلطان ایوبی کی
‫گھات میں آگیا ہے۔
‫بالڈون ایک بلندی پر جاکھڑا ہوا اور اپنی فوج کا حشر دیکھنے لگا۔ عقب سے اس پر تیر آئے مگر وہ اس کے دو محافظوں کو
‫لگے۔ وہ بھاگ کر نیچے اترا تو آگے سے سلطان ایوبی کے سپاہی آگئے۔ بالڈون ایک تنگ سے راستے سے نکل بھاگا۔
‫اکتوبر ‪١١٧٩ء (‪ ٥٧٥ہجری) کے اس معرکے میں بالڈون قیدی ہوتے ہوتے بچا۔ سلطان ایوبی نے رملہ کی شکست کا انتقام لے
‫لیا جس سے اس کی فوج کا حوصلہ بلند اور خوداعتمادی بحال ہوگئی… اور ویرا اور تبریز تاریخ کی تاریکیوں میں روپوش
‫ہوگئے۔
20:54
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 125جب بیٹا مر رہا تھا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫یہ نومبر ‪ ١١٨١ء کا واقعہ ہے جب ماں بیٹی کی مالقات ہوئی تھی۔ دو سال پہلے کا واقعہ ہے جب سلطان صالح الدین ایوبی
‫نے اب العون کو ایسی شکست دی کہ اس کا قلعہ اسی کی فوج کے جنگی قیدیوں سے اس طرح مسمار کرادیا تھا کہ اس کا
‫نام ونشان نہیں رہا تھا۔ اس کا ملبہ دریا میں پھینک دیا گیا تھا۔ اس کے فورا ً بعد سلطان ایوبی نے صلیبی بادشاہ بالڈون کو
‫شکست دی تھی۔ یہ دراصل ایک مسلمان جاسوس کا کارنامہ تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو بروقت اطالع دے دی تھی کہ فوج
‫فالں پہاڑی مقام پر گھات میں بیٹھی ہے۔ آپ نے ان دونوں جنگوں کی تفصیالت پچھلی قسط میں پڑھی ہیں۔
‫یہ بالڈون کی دوسری پسپائی اور پٹائی تھی۔ اس سے پہلے وہ سلطان ایوبی کے بھائی العادل سے ایسی ہی شکست کھا چکا
‫تھا۔ اب سلطان ایوبی نے اسے اٹھنے کے قابل نہیں رہنے دیا تھا لیکن وہاں وہ اکیال صلیبی بادشاہ نہیں تھا۔ عالم اسالم میں
‫کئی صلیبی افواج موجود تھیں۔ ان کے حکمران دل سے ایک دوسرے کے خالف تھے لیکن ان کا دشمن مشترک تھا‪ ،اس لیے
‫وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ ہر ایک کے دل میں یہی تھا کہ وہ اکیال زیادہ سے زیادہ عالقوں پر قابض ہوجائے۔ اسی

‫مقصد کے تحت بالڈون نے اکیلے العادل اور اس کے بعد سلطان ایوبی سے جنگیں لڑی تھیں۔ اس کے پاس فوج اور وسائل کی
‫کمی نہیں تھی۔ اس کا اسلحہ بھی برتر تھا ور اس کے جانور بھی بہتر تھے لیکن ہار گیا۔
‫کچھ عرصہ تو اسے بکھری ہوئی فوج اکٹھی کرنے میں لگ گیا۔ اس دوران اسے اطالع ملی کہ سلطان ایوبی ابن العون کو
‫بھی شکست دے کر اس کی بادشاہی اور جنگی طاقت کمزور کر آیا ہے۔ ابن العون آرمینی تھا۔ آرمینی صلیبیوں کے دوست
‫تھے۔ ان کی شکست صلیبیوں کے لیے اچھی خاصی چوٹ تھی۔ اس کے ساتھ ہی اسے اطالع ملی کہ ابن العون کی سلطنت
‫تل خالد اور اس کے قلعے قاراحصار پر حملے میں سلطان ایوبی کی فوج کے ساتھ الملک الصالح کی فوج کے دستے بھی تھے
‫تو وہ بے چین ہوگیا۔ یہ تو اسے اور دوسرے صلیبی حکمرانوں کو پتہ چل چکا تھا کہ سلطان ایوبی نے الملک الصالح کو
‫شکست دے کر اپنا خودمختار امیر بنا لیا ہے مگر انہیں یہ توقع تھی کہ الصالح اس معاہدے پر عمل نہیں کرے گا۔ یہ الصالح
‫کی خصلت تھی۔ وہ بظاہر سلطان ایوبی کے تابع ہوگیا تھا مگر اس نے صلیبیوں کے ساتھ مراسم نہیں توڑے تھے۔ اب بالڈون
‫کو پتہ چال کہ الصالح نے سلطان ایوبی کو فوج دی تھی تو وہ یروشلم چال گیا جہاں صلیبی بادشاہوں کا ہیڈکوارٹر بن گیا تھا۔
‫دوسرا ہیڈکوارٹر عکرہ تھا۔
‫کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسلمان پھر متحد ہورہے ہیں؟''… بالڈون نے صلیبی حکمرانوں اور جرنیلوں کی کانفرنس میں کہا…''
‫''الملک الصالح کو آپ لوگ اپنا اتحادی سمجھتے رہے اور اس نے اپنی فوج صالح الدین ایوبی کو دے دی تھی''۔
‫ابن العون کی شکست ہماری شکست ہے''… فلپس آگسٹس نے کہا… ''اگر آپ گھات میں بیٹھنے کی بجائے ابن العون ''
‫کی مدد کو پہنچتے‪ ،صالح الدین ایوبی پر عقب سے حملہ کردیتے تو شکست اس کی ہوتی''۔
‫جس طرح آپ میں سے کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ صالح الدین ایوبی نے پیش قدمی کا رخ بدل کر تل خالد کا رخ کرلیا''
‫ہے‪ ،اسی طرح مجھے بھی معلوم نہ ہوسکا''۔
‫یہ آپ کے نظام جاسوسی کی کوتاہی ہے''… گے آف لوزینان نے کہا… ''ہم بہت دور تھے۔ دیکھ بھال اور جاسوسی کا ''
‫انتظام آپ کو کرنا چاہیے تھا۔ آپ قریب تھے۔ سلطان ایوبی کی فوج آپ کے قریب سے گزر گئی۔ آپ کو پتہ نہ چل سکا۔
‫آپ گھات میں چھپے رہے''۔
‫مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایک مسلمان جاسوس ہے''… بالڈون نے کہا… ''میں اسے بے ضرر آدمی سمجھتا ''
‫رہا۔ وہ میرا قیدی تھا مگر بھاگ گیا اور سلطان ایوبی کو گھات کی خبر دے دی… لیکن اب یہ سوچنا ہے کہ ایوبی اور الصالح
‫کا معاہدہ اور اتحاد کس طرح توڑا جائے''۔
‫کیا آپ مسلمانوں کی کمزوریوں کو بھول گئے ہیں یا انہیں نظرانداز کررہے ہیں؟'' ایک اور صلیبی بادشاہ نے کہا۔ ''اس ''
‫وقت الصالح بچہ تھا‪ ،جب ہم نے اس کے مشیروں‪ ،امیروں اور ساالروں کو تحفے تحائف اور عیاشی کا سامان دے کر اپنے ہاتھ
‫میں لے لیا تھا۔ اب وہ جوان ہوگیا ہے۔ اسے اب ہاتھ میں لینا زیادہ آسان ہے۔ اپنا حربہ استعمال کریں اور مخصوص تحفہ
‫اپنے ایلچی کے ہمراہ بھیج دیں۔ اگر آپ جنگی قوت سے اسے ساتھ مالنے کی سوچ رہے ہیں تو یہ خیال ذہن سے نکال
‫دیں۔ سلطان ایوبی کی فوج اس عالقے میں موجود ہے۔
‫العادل بھی اپنی فوج کے ساتھ یہیں ہے۔ الصالح کے پاس اپنی فوج کے عالوہ حرن اور موصل کی فوج بھی ہے۔ اگر آپ )
‫نے حلب پر حملہ کیا تو سلطان ایوبی تمام افواج کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔ اگر اس نے ہم پر فتح حاصل نہ کی
‫تو یہ نقصان ضرور ہوگا کہ الصالح آپ کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گا۔ ہمیں فلسطین کا دفاع کرنا ہے۔ ہم نے اپنی
‫افواج کو مختلف جگہوں پر پھیال دیا ہے اور دیکھ رہے ہیں کہ صالح الدین ایوبی کدھر کا رخ کرتا ہے اور اس کے عزائم کیا
‫ہیں۔ ان حاالت میں ہم آپ کی مدد نہیں کرسکیں گے۔ آپ اپنے طورپر الصالح کو ہاتھ میں لے لیں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫‪ ١١٨٠ء میں والئی موصل سیف الدین غازی مرگیا۔ اس کی جگہ عزالدین مسعودنے امارت سنبھال لی۔ اسی سال سلطان صالح
‫الدین ایوبی کا بھائی شمس الدولہ طور ان شاہ سکندریہ میں فوت ہوگیا۔ سلطان ایوبی مصر چال گیا‪ ،وہاں کے حاالت پھر بگڑنے
‫لگے تھے۔ وہ اپنی فوج اپنے بھائی العادل کی زیرکمان پیچھے چھوڑ گیا تھا۔
‫‪ ١١٨١ء کا سال آگیا۔ بالڈون نے اپنی فوج کی کمی پوری کرلی تھی۔ اسے ٹریننگ بھی دے لی تھی۔ اس نے اپنی فوج کو
‫سلطان ایوبی کی چالوں کے مطابق جنگی مشقیں بھی کرائی تھیں۔ وہ اگلی جنگ کے لیے تیار تھا لیکن الملک الصالح کو وہ
‫اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا تھا۔
‫الصالح اب بچہ نہیں‪ ،جوان تھا۔ سلطنت کے کاروبار کو وہ سمجھنے لگا تھا۔ اس کی کمزوری اس کے مشیر اور ساالر تھے جو
‫درپردہ صلیبیوں کے حامی تھے۔ جیسا کہ بتایا جاچکا ہے کہ اس نے سلطان ایوبی کے ساتھ صلح کرلی تھی مگر اس کے دماغ
‫سے ابھی بادشاہی کا خبط نکال نہیں تھا۔ وہ خودمختار حکمران بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ ایک روز اسے اطالع ملی کہ
‫صلیبی بادشاہ بالڈون کا ایلچی آیا ہے۔ اس نے فورا ً اسے اندر النے کی اجازت دے دی۔ یہ ایلچی ذہنی تخریب کاری کا ماہر
‫اور انسانی نفسیات کی کمزوریوں سے واقف تھا۔ اس نے الملک الصالح کو بتایا کہ وہ کچھ تحفے بھی الیا ہے۔
‫اعلی نسل کے
‫تحفوں میں ایک تو بیش قیمت ہیروں اور جواہرات اور سونے کے سکوں کا بکس تھا۔ دو تلواریں تھیں۔ پچاس
‫ٰ
‫گھوڑے تھے اور ایک لڑکی تھی۔ الصالح نے باہر جاکر گھوڑے دیکھے۔ ہیرے اور جواہرات دیکھے لیکن جس تحفے پر اس کی
‫نظریں جم کر رہ گئیں وہ لڑکی تھی۔ وہ بہت دیر لڑکی کو ہی دیکھتا رہا۔ اس کی اٹھتی جوانی کی تمام تر کمزوریاں ایک
‫جادو بن کر اس کی عقل پر غالب آگئیں۔ ایلچی نے اس کے ہاتھ میں بالڈون کا پیغام دیا جو عربی زبان میں لکھا ہوا تھا۔
‫اس نے کچھ دیر تو پیغام کی طرف دیکھا ہی نہیں۔ لڑکی اس کے خوابوں سے زیادہ حسین تھی۔
‫ایلچی نے پیغام کھول کر اس کے آگے رکھا۔ اس نے پڑھا۔ بالڈون نے لکھا تھا… ''عزیز الملک الصالح والئی حلب! میں
‫ایلچی اور تحفوں کے بجائے اپنی فوج بھیج سکتا تھا لیکن میں آپ کے خالف ہتھیار اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
‫آپ میرے دوست اور میرے بچے ہیں۔ ہم نے آپ کی مدد اس وقت کی ہے جب آپ بچے تھے اور صالح الدین ایوبی آپ
‫کی سلطنت پر قابض ہونے کے لیے آگیا تھا۔ ہمیں افسوس ہے کہ گمشتگین اور سیف الدین نے آپ کو دوستی کے دھوکے میں
‫رکھا۔ ہم بھی اس دھوکے کو نہ سمجھ سکے۔ اگر آپ اکیلے ہوتے تو آپ کی فوج کبھی شکست نہ کھاتی۔ آپ نے دیکھ لیا
‫ہے کہ گمشتگین کس قدر فریب کار تھا۔ آپ کو اسے سزائے موت دینی پڑی۔ سیف الدین نے بھی آپ کو ہمیشہ دھوکے میں
‫…''رکھا۔ وہ حلب پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ یہ ہم تھے جنہوں نے اسے ان عزائم سے باز رکھا
‫آپ نے آخر صالح الدین ایوبی سے شکست کھائی جس نے آپ کو اس کی اطاعت قبول کرنے پر مجبور کیا۔ آپ اتنے ''
‫مجبور ہوئے کہ اسے آپ نے ابن العون پر حملہ کرنے کے لیے فوج دے دی۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ جیسا غیور

‫جنگجو اپنی یہ توہین برداشت نہیں کرسکتا مگر آپ تنہا تھے۔ میں خود جنگ وجدل میں الجھا رہا‪ ،ورنہ آپ کی مدد کو
‫پہنچتا۔ اب میں آپ کی طرف توجہ دینے کے قابل ہوگیا ہوں۔ آپ نہ بھولیں کہ صالح الدین ایوبی نے آپ کو ایسی
‫خومختاری دی ہے جس کا مطلب غالمی ہے۔ وہ آپ کو آہستہ آہستہ غالم بنا رہاہے۔ اس نے عزالدین کی مدد کے لیے
‫آرمینیوں کو شکست دی اور اسے اپنے احساس کی زنجیروں میں جکڑ لیا ہے۔ تمام چھوٹے چھوٹے امراء اس کی اطاعت قبول
‫…''کرچکے ہیں۔ اب اس کی نظر آپ کے عالوہ موصل اور حرن پر ہے
‫ذرا غور کریں کہ وہ مصر سے ہمارے خالف لڑنے کے لیے فوج الیا تھا لیکن اس نے تل خالد پر جاحملہ کیا اور آپ سے''
‫بھی فوج لے لی۔ اب وہ پھر مصر چال گیا ہے۔ اس کے جانے کا جو مقصد ہے‪ ،وہ ہمارے جاسوس ہمیں بتا چکے ہیں۔ وہ
‫بے بہا خزانہ لے کر گیا ہے جو وہ قاہرہ اپنے خزانے میں رکھ کر واپس آئے گا۔ اس نے آپ کو کیا دیا آپ کی فوج کو اس
‫نے مال غنیمت میں کتنا حصہ دیا ہے؟ اس نے یروشلم کی طرف پیش قدمی کیوں نہیں کی؟ کیا آپ کو کسی نے بتایا ہے کہ
‫…''آرمینیوں کی کتنی لڑکیاں وہ اپنے ساتھ لے گیا ہے؟
‫ان سوالوں کو اپنے ذہن میں الٹ پلٹ کریں۔ آپ پر صالح الدین ایوبی کے کردار اور اس کی نیت کی اصل حقیقت واضح ''
‫ہوجائے گی۔ آپ کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں۔ ہم اس خطے میں امن وامان قائم کرنے آئے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں
‫کہ سلطان ایوبی یہاں سے ہمیں بے دخل کرکے یورپ پر حملہ کرنے اور اپنی سلطنت کو وسعت دینے کی سوچ رہا ہے۔ آپ
‫کو اور دوسرے امراء کو وہ اپنی تھیلی کے سکے سمجھتا ہے۔ اگر آپ نے اپنے دفاع کا انتظام نہ کیا تو آپ کا نام ونشان
‫مٹ جائے گا۔ ہم یہاں یورپ کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں‪ ،اگر آپ میری بات سمجھ گئے ہیں تو مجھے جواب دیں۔ میں
‫اپنے مشیر بھیجوں گا جو آپ کی مالی اور جنگی ضرورت کا جائزہ لے کر مجھے بتائیں گے۔ میں نے جو گھوڑے بھیجے ہیں‪،
‫یہ تحفہ ہے۔ میں آپ کی فوج کے لیے ایسے سینکڑوں گھوڑے بھیج سکتا ہوں۔ یورپ سے ہم نے جدید ہتھیار منگوائے ہیں۔
‫وہ بھی آپ کو دئیے جائیں گے۔ آپ صالح الدین ایوبی کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ نہ توڑیں‪ ،درپردہ معاہدہ توڑ دیں اور اپنے دفاع
‫کی تیاری کریں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں''۔
‫الملک الصالح کے نوجوان اعصاب پر یہودیوں کی اتنی حسین اور دلکش لڑکی نے پہلے ہی قبضہ کرلیا تھا۔ پیغام کے الفاظ
‫جادو کی طرح اس کے دل میں اترتے گئے۔ اس نے ایلچی کے آرام اور خوراک کا ایسا انتظام کرنے کا حکم دیا جیسے بالڈون
‫خود آگیا ہو۔ پھر اس نے اپنے آپ کو لڑکی کے حوالے کردیا۔ اس نے اس سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں بھی دیکھی تھیں لیکن
‫اس لڑکی کا جو انداز تھا اور اس کی جو مسکراہٹ تھی‪ ،اس نے اس کے حسن میں طلسماتی اثر پیدا کررکھا تھا۔ الصالح
‫اندھا ہوگیا۔
‫رات کو لڑکی اس کی خواب گاہ میں آئی تو اس کے ہاتھ میں صراحی اور پیالے تھے۔ یہ بھی تحفہ تھا۔ لڑکی نے اسے بتایا
‫کہ یہ فرانس کی شراب ہے جو صرف بادشاہوں کے لیے تیار کی جاتی ہے۔
‫آپ کے حرم میں تو کچھ بھی نہیں''۔ لڑکی نے اسے کہا… ''کیا آپ ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ آپ کا حرم آباد ''
‫''ہو؟
‫میرے حرم کے لیے تم اکیلی کافی ہو''۔ الملک الصالح نے مخمور آواز میں کہا۔''
‫میں اپنے جیسی لڑکیوں سے آپ کا حرم بھردوں گی''۔ لڑکی نے شراب کا پیالہ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا… ''کیا''
‫''یہ صحیح ہے کہ صالح الدین ایوبی کی ایک ہی بیوی ہے اور وہ کسی کو حرم میں عورتیں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا؟
‫ہاں!'' الصالح نے جواب دیا… ''یہ صحیح ہے۔ وہ شراب کی بھی اجازت نہیں دیتا''۔''
‫آپ کو معلوم نہیں کہ اس کا اپنا ایک خفیہ حرم ہے جس میں غیرمعمولی طور پر حسین لڑکیاں ہیں۔ ان میں مسلمان ''
‫بھی ہیں‪ ،یہودی بھی اور عیسائی بھی ہیں''۔
‫فانون کی رنگین اور ہلکی ہلکی روشنی اور فرانس کی شراب کے نشے میں یہ لڑکی طلسم بن کر اس پر چھاتی چلی گئی اور
‫ذرا سی دیر بعد وہ لڑکی کے ریشمی بالوں کی زنجیروں میں جکڑا گیا… گناہ کی رات کی کوکھ سے سحر نے جنم لیا تو
‫الصالح نے لڑکی سے کہا… ''یہاں میری ایک بہن بھی ہے۔ تم اس کے سامنے نہ آنا۔وہ ابھی پسند نہیں کرتی کہ میں شادی
‫کے بغیر کسی لڑکی کے قریب جائوں۔ میں کسی وقت اسے بتائوں گا کہ تم مسلمان ہو اور میرے ساتھ شادی کرنے آئی ہو''۔
‫اپنی بہن کو آزاد کیوں نہیں کرتے؟'' لڑکی نے کہا… ''اسے مردوں میں اٹھنے بیٹھنے دیں‪ ،وہ شہزادی ہے۔ آپ بادشاہ ''
‫ہیں۔ صالح الدین ایوبی آپ کی یہ حیثیت ختم کررہا ہے۔ ہم آپ کی بہن کو الگ سلطنت دے کر سلطانہ بنا دیں گے''۔
‫الملک الصالح تصوروں میں بادشاہ بن گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫کیا خبر الئے ہو؟'' بالڈون نے شراب کے نشے میں بدمست لہجے میں اپنے ایلچی سے پوچھا۔'
‫کیا میں کبھی ناکام بھی لوٹا ہوں؟'' ایلچی نے جواب دیا۔ اس نے الملک الصالح کے محل میں چار روز قیام کیا تھا اور ''
‫بڑی لمبی مسافت طے کرکے ابھی ابھی واپس آیا تھا۔ اس نے کہا… ''مسلمانوں پر فوج کشی کرکے آپ اتنی جانیں ضائع
‫کرتے اور اتنے زیادہ گھوڑے مرواتے ہیں۔ مسلمانوں کے حکمرانوں سے صرف ایک لڑکی ہتھیار ڈلوا سکتی ہے''۔
‫صرف لڑکی نہیں''۔ بالڈون نے کہا… ''مسلمان کو اگر لڑکی کا صرف تصور دے دو تو وہ اپنے نیک وبد کو بھول''
‫''کر اسی تصور کا ہوجاتا ہے… کہو‪ ،تم کیا کرکے آئے ہو؟
‫اس نے تحریری جواب نہیں دیا''۔ ایلچی نے کہا… ''کہتا تھا کہ صالح الدین ایوبی کے جاسوس اور چھاپہ مار ہر طرف ''
‫گھومتے پھرتے رہتے ہیں‪ ،کہیں ایسا نہ ہو کہ پیغام پکڑا جائے۔ اس نے آپ کی ہر بات مان لی ہے۔ وہ صالح الدین ایوبی کا
‫حامی نہیں البتہ گھبرایا ہوا تھا اور اپنے آپ کو ایوبی کے مقابلے میں تنہا سمجھتا تھا۔ آپ کے پیغام نے اسے بہت حوصلہ
‫دیا ہے۔ اس نے کہا کہ آپ اپنے مشیر بھیج دیں لیکن عربی تاجروں کے لباس میں ہوں اور یہاں ہر کسی کو یہی بتائیں کہ
‫وہ شاہی سطح پر تجارت کی بات چیت کرنے آئے ہیں''۔
‫وہ کسی شک میں تو نہیں؟'' بالڈون نے پوچھا۔''
‫آپ نے اسے یہودیوں کا جو تحفہ بھیجا ہے‪ ،اس نے کسی شک کی گنجائش نہیں رہنے دی''۔ ایلچی نے جواب دیا… ''
‫''میں نے وہاں چار روز قیام کیا ہے۔ اس دوران میں اس کے ساالروں سے ملتا رہا ہوں اور اس کے دوسرے حاکموں سے بھی
‫مال ہوں۔ ان میں بہت سے ایسے ملے ہیں جو ایوبی کے حق میں ہیں۔ میں نے ان میں سے دو کو اپنے ہاتھ میں لے لیا
‫ہے اور انہیں وعدے دئیے ہیں۔ چوری چھپے انہیں تحفے بھی دئیے ہیں‪ ،وہاں صالح الدین ایوبی کے جاسوس بھی موجود ہیں۔
‫اس لیے کسی بات کو مخفی رکھنا ممکن نہیں۔ تاہم الملک الصالح کو اپنے ہاتھ میں سمجھئے۔ میں نے لڑکی کو ان دو

‫جرنیلوں سے متعارف کروایا ہے جنہیں میں نے ہاتھ میں لیا ہے۔ وہ اپنا کام کرتی رہے گی۔ آپ اپنے آدمی جلدی روانہ
‫کردیں''۔
‫یہ ایلچی صرف ایلچی نہیں تھا۔ بتایا جاچکا ہے کہ انسانی نفسیات سے کھیلنے واال استاد تھا۔ اس نے کہا… ''صالح الدین
‫ایوبی اپنے افسروں کو اور اپنی قوم کو نصیحت اور وعظ کرتا رہتا ہے کہ بادشاہی کے خواب‪ ،دولت اور عورت ایسی بدعتیں
‫ہیں جو انسان کے ایمان کو ختم کردیتی ہیں۔ اسے معلوم نہیں کہ جب یہ تینوں بدعتیں کسی عالم فاضل کے سامنے آجائیں
‫تو اس کے بھی ایمان کے پائوں اکھڑ جاتے ہیں۔ یہ انسانی کمزوریاں ہیں۔ان کے سامنے وعظ بے کار ہوجاتے ہیں''۔
‫بالڈون نے اسی وقت تین مشیر تیار کرلیے۔ تجارتی سامان سے لدے ہوئے بہت سے اونٹوں کا ایک قافلہ حلب میں الصالح کے
‫محل سے ذرا ہی دور رکا۔ اس کے ساتھ کئی ایک آدمی تھے۔ ان میں سے تین آدمی جو عربی لباس میں تھے‪ ،محل کی
‫طرف چل پڑے۔ دربانوں نے انہیں روک لیا۔ تاجر الملک الصالح سے ملنا چاہتے تھے۔ کہتے تھے کہ وہ ہیرے اور کچھ اور بیش
‫قیمت سامان الئے ہیں جو بادشاہ خریدتے ہیں اور وہ حلب کے ساتھ تجارت کرنے کی بات چیت کریں گے۔ محافظوں کے
‫کمانڈر ابن خطیب نے انہیں سر سے پائوں تک دیکھا۔ ان کی باتوں میں دلچسپی لے کر انہیں بے تکلفی سے بولنے کا موقع
‫دیا۔ وہ ان کی آنکھوں کا سبز اور نیال رنگ اور چہرے کی رنگت کو غور سے دیکھتا رہا۔ اسے معلوم تھا کہ تجارت کی بات
‫چیت براہ راست بادشاہ کے ساتھ کبھی بھی نہیں ہوئی۔ وہ انہیں الگ لے گیا۔
‫آپ اپنا اصل مقصد بتائیں''۔ ابن خطیب نے پوچھا۔''
‫ہم اپنا مقصد بتا چکے ہیں''۔''
‫یروشلم سے آئے ہو یا عکرہ سے؟''۔ ابن خطیب نے پوچھا۔''
20:55
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 126جب بیٹا مر رہا تھا
‫ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ہم اپنا مقصد بتا چکے ہیں''۔''
‫یروشلم سے آئے ہو یا عکرہ سے؟''۔ ابن خطیب نے پوچھا۔''
‫ہم تاجر ہیں''۔ ایک نے جواب دیا… ''ہم ہر ملک میں جاتے ہیں۔ یروشلم اور عکرہ بھی جاتے ہیں‪ ،تم کس شک میں ''
‫''ہو؟
‫شک میں نہیں''۔ ابن خطیب نے کہا… ''مجھے یقین ہے۔ میں آپ تینوں کو جانتا ہوں۔ آپ مجھے نہیں جانتے۔ میں ''
‫آپ کا آدمی ہوں۔ میرا نام ابن خطیب ہے لیکن میرا نام کچھ اور ہے۔ ہرمن اچھی طرح جانتا ہے''۔
‫ہرمن صلیبیوں کے جاسوسی اور سراغ رسانی کے نظام کا سربراہ اور اس فن کا ماہر تھا۔ ابن خطیب نے کوئی خفیہ لفظ بوال
‫جو صلیبیوں کے جاسوس ایک دوسرے کی شناخت کے لیے بوال کرتے تھے۔ تاجر جو دراصل بالڈون کے بھیجے ہوئے مشیر تھے‪،
‫مسکرائے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ الملک الصالح کے ہاں صلیبی جاسوس موجود ہیں۔ ابن خطیب نے انہیں یقین دال دیا کہ وہ
‫انہی کا جاسوس ہے۔
‫آپ اسی مقصد کے لیے آئے ہیں؟'' ابن خطیب نے پوچھا… ''مجھے سے نہ چھپائیں‪ ،ورنہ آپ کو اندر نہیں جانے دیا ''
‫جائے گا''۔
‫ہاں!'' ایک صلیبی نے کہا… ''اسی مقصد کے لیے… اور ہمیں یہ بتائو کہ صالح الدین ایوبی کے جاسوس محل میں ''
‫''موجود ہیں؟
‫موجود ہیں لیکن ان پر ہماری نظر ہے''۔ ابن خطیب نے کہا… ''ان سے ہم آپ کو چھپائے رکھیں گے لیکن مجھے آپ ''
‫کے مقصد سے پوری واقفیت ہونی چاہیے''۔
‫ان تینوں نے اپنے خفیہ الفاظ اور طریقوں سے یقین کرلیا کہ ابن خطیب انہی کا آدمی ہے۔ انہوں نے اسے اپنا مقصد بتا دیا۔
‫ابن خطیب نے اندر جاکر الملک الصالح کو اطالع دی کہ تاجر شرف مالقات چاہتے ہیں۔
‫تم محافظ دستے کے نئے کمان دار ہو؟'' الملک الصالح نے پوچھا۔''
‫جی حضور!'' اس نے جواب دیا۔''
‫''کہاں کے رہنے والے ہو؟''
‫اس نے کسی گائوں کا نام لیا تو الملک الصالح نے کہا… ''ہم ہر وقت ہر کسی سے نہیں مل سکتے۔ آئندہ خیال رکھا جائے‪،
‫ان تینوں کو اندر بھیج دو''۔
‫اس نے باہر جاکر تینوں کو اندر جانے کو کہا اور آنکھ مار کر ہدایت کی کہ بہت سنبھال کر بات کریں۔
‫٭ ٭ ٭
‫رات عشاء کی نماز کے بعد ابن خطیب جامع مسجد کے امام کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ دو اور آدمی بھی تھے۔
‫اب اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ الملک الصالح ایک بار پھر صلیبیوں کے جال میں آرہا ہے''… ابن ''
‫خطیب نے کہا… ''میں نے آپ کو پہلے ایلچی اور تحفوں کی اطالع دی تھی۔ وہ صلیبیوں کی طرف سے آئے تھے اور ساتھ
‫ایک بڑی ہی خوبصورت لڑکی تھی۔ آج پتہ چل گیا ہے کہ وہ ایلچی بالڈون کی طرف سے آیا تھا۔ آج تین تاجر الملک الصالح
‫سے تجارت کی بات چیت کرنے کے لیے آئے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ میں نے دو سال بیت المقدس میں صلیبیوں کے درمیان
‫رہ کر جاسوسی کی ہے۔ ان تینوں کے چہرے اور زبان کا لہجہ بتاتا تھا کہ انہوں نے جو عربی لباس پہن رکھا ہے‪ ،یہ بہروپ
‫ہے۔ میں نے اس کا جاسوس بن کر ان کا اصل روپ دیکھ لیا ہے۔ بیت المقدس کی جاسوسی نے آج مجھے بہت فائدہ دیا
‫ہے۔ میں ان کے خفیہ ( کوڈ) الفاظ جانتا ہوں اور خفیہ اشارے بھی۔ محترم علی بن سفیان کی تربیت کی برکت آج دیکھی
‫ہے''۔
‫ابن خطیب سلطان ایوبی کا جاسوس تھا جو تھوڑا ہی عرصہ گزرا حلب میں آیا اور الملک الصالح کے ایک ایسے نائب ساالر
‫کی کوشش سے محافظ دستے کا کمانڈر بنا دیا گیا جو سلطان ایوبی کا حامی تھا۔ ابن خطیب علی بن سفیان کا خصوصی پر
‫ذہین اور بے خوف جاسوس تھا۔ وہ دو سال بیت المقدس میں صلیبی بادشاہوں اور جرنیلوں کے ہیڈکوارٹر میں رہا اور اس نے
‫کامیاب جاسوسی کی تھی۔ جامع مسجد کا امام ان تمام تر جاسوسوں کا کمانڈر تھا جو سلطان ایوبی نے حلب میں بھیج
‫رکھے تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد جسے کوئی رپورٹ دینی ہوتی‪ ،وہ مسجد میں جاکر امام کو دیتا تھا۔ امام اپنے طورپر

‫تصدیق کرکے رپورٹ سلطان ایوبی تک پہنچا دیتا تھا۔ ابن خطیب بڑی ہی قیمتی رپورٹ الیا تھا۔
‫اتنے میں ایک ادھیڑ عمر عورت آگئی۔ وہ سر سے پائوں تک سیاہ برقع نما کپڑے میں مستور تھی۔ اندر آکر اس نے چہرہ
‫بے نقاب کیا۔ اسے دیکھ کر سب ہنس پڑے۔ وہ الملک الصالح کی خادمہ تھی۔ یہ اس کی خواب گاہ کی دیکھ بھال کرتی اور
‫اس کی درپردہ زندگی کی راز دان تھی۔ وہ اسی روز امام کو رپورٹ دے چکی تھی کہ صلیبیوں کی طرف سے الملک الصالح
‫کے پاس ایک لڑکی آئی ہے جو شکل وصورت‪ ،جسم‪ ،رنگ‪ ،نازو ادا اور زبان کی چاشنی کے لحاظ سے سرتا پا ایسا جادو ہے
‫جس سے کوئی زاہد اور پرہیز گار بھی نہیں بچ سکتا۔ وہ امام کو بتا چکی تھی کہ الصالح کا باقاعدہ حرم نہیں لیکن اس کی
‫راتیں عورت کے بغیر نہیں گزرتیں۔ عورت اس کی کمزوری بن گئی ہے۔
‫مگر اس لڑکی نے جو مجھے یہودی معلوم ہوتی ہے‪ ،الصالح کو اپنا غالم بلکہ قیدی بنا لیا ہے''۔ خادمہ نے کہا۔ ''وہ …''
‫اتنا پاگل ہوگیا ہے کہ مجھے سے باچھیں کھال کر پوچھتا ہے‪ ،یہ لڑکی تمہیں پسند ہے؟ میں اس کے ساتھ شادی کرلوں؟…
‫میں نے ایک بار اسے کہا کہ اپنی بہن سے پوچھ لیں۔ اس نے مجھے سختی سے کہا کہ اس کی بہن کے ساتھ ذکر نہ
‫کروں'' ۔ خادمہ بھی جاسوس تھی۔ اس نے تفصیل سے بتایا کہ الملک الصالح پوری طرح اس لڑکی کے جال میں آگیا ہے۔ اب
‫کوئی اور لڑکی اس کی خواب گاہ میں داخل نہیں ہوسکتی۔
‫اب سوچنا یہ ہے کہ اسی وقت سلطان ایوبی کو اطالع دے دی جائے یا دیکھ لیا جائے کہ صلیبی کیا کرتے ہیں یا الصالح ''
‫سے کیا کرواتے ہیں'' ۔ امام نے کہا… ''میری رائے ہے کہ الصالح کوئی ٹھوس کارروائی کرلے جو معاہدے کے خالف ہو تو
‫سلطان کو اطالع دی جائے''۔
‫سلطان مصر چلے گئے ہیں'' ۔ ایک اور نے کہا جو بوڑھا تھا اور دانش مند معلوم ہوتا تھا… ''ادھر العادل ہیں۔ وہ سلطان''
‫سے حکم منگوائے بغیر کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ اتنے عرصے میں یہاں کے حاالت ایسے ہوسکتے ہیں جو شاید قابو سے
‫نکل جائیں۔ کیوں نہ کوئی ایسی کارروائی سوچی جائے جو اس سلسلے کو یہیں پر ختم کردے''۔
‫میں آپ کو ایک مشورہ دیتی ہوں''۔ خادمہ نے کہا۔ ''الصالح کی توجہ صرف لڑکی پر ہے‪ ،وہ بھال برا سوچنے کے بھی ''
‫قابل نہیں رہا۔ یہ لڑکی دن کے وقت بھی اسے شراب میں مدہوش رکھتی ہے۔ بدبخت پہلے بھی پیتا تھا لیکن صرف رات کو
‫پیتا تھا اور اتنی زیادہ اس نے کبھی نہیں پی تھی۔ نشے کی حالت میں وہ اپنی بہن کے سامنے نہیں ہوتا تھا۔ اسے دن کو
‫ملتا تھا۔ اب یہ حالت ہے کہ جب پوچھتی ہے تو میں کہہ دیتی ہوں کہ سلطنت کے کام ایسے ہیں کہ الصالح کو فرصت
‫نہیں… میرا مشورہ یہ ہے کہ لڑکی کو غائب کردیا جائے تو الصالح کے ہوش ٹھکانے نہیں رہیں گے۔ میں آپ کو یقین دالتی
‫ہوں کہ وہ سوچ بھی نہیں سکے گا کہ صلیبیوں سے کوئی بات کرے یا نہ کرے''۔
‫اس کارروائی پر بحث مباحثہ ہوتا رہا۔ ابن خطیب نے کہا کہ وہ تاجروں کو بھی غائب کرسکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہوا کہ موقعہ
‫دیکھ کر پہلے لڑکی کو غائب کیا جائے مگر یہ کام آسان نہیں تھا‪ ،بلکہ ناممکن تھا۔ تاہم انہوں نے اسی کارروائی کا فیصلہ
‫کرلیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫٭ ٭ ٭
‫یہ نومبر ‪ ١١٨١ء کے دن تھے۔ اونٹوں کا قافلہ باہر رکا رہا۔ لوگ خریدوفروخت کرتے رہے۔ تینوں صلیبی مشیر عربی تاجروں کے
‫بھیس میں الصالح سے ملتے مالتے رہے۔ وہ اپنی شرائط خفیہ طور پر طے کررہے تھے۔ ‪١٧/١٦نومبر (‪٨/٧رجب ‪٥٧٧ہجری)
‫کی رات الصالح نے بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کیا جس کی بظاہر کوئی وجہ نہیں تھی لیکن درپردہ اس ضیافت کی تقریب یہ
‫تھی کہ صلیبی مشیروں کے ساتھ الصالح نے خفیہ معاہدہ کرلیا تھا جس کا علم صرف دو ساالروں کو تھا۔ رات کی ضیافت میں
‫سینکڑوں مہمان تھے۔ ان میں صلیبی مشیر بھی تھے جو ابھی تک عربی تاجروں کے لباس میں تھے۔ ان کے قافلے کے
‫شتربان بھی اس میں مدعو تھے لیکن وہ شتربانوں کی حیثیت سے ضیافت میں نہیں آئے تھے۔ ان میں دراصل شتربان کوئی
‫بھی نہیں تھا۔ ان میں بعض جاسوس تھے اور باقی صلیبی فوج کے افسر۔ ضیافت میں یہودی لڑکی بھی تھی اور الصالح کی
‫بہن بھی مگر اسے انتظامات کی دیکھ بھال سونپی گئی تھی۔
‫اس رات محافظ دستے کی پابندیاں بھی کم ہوگئی تھیں۔ مہمانوں کا ریال چال آرہا تھا۔ کوئی خطرہ نہیں تھا۔ کم از کم الصالح
‫کوئی خطرہ محسوس نہیں کررہا تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ سالم بکرے روسٹ کیے گئے تھے۔ وسیع میدان میں قناتیں اور
‫شامیانے لگائے گئے تھے۔ جوں جوں رات گزرتی جارہی تھی‪ ،ضیافت کا رنگ نکھرتا آرہا تھا۔ ہر طرف مہمانوں کی چہل پہل
‫تھی۔
‫یہودی لڑکی ادھر ادھر پھدکتی پھر رہی تھی۔ وہ کسی سے مل کر آرہی تھی کہ اسے خادمہ نے روک لیا اور کسی ساالر کا
‫نام لے کر کہا کہ وہ کسی ضروری بات کے لیے بال رہا ہے۔ لڑکی کو معلوم تھا کہ وہ اس کا اپنا آدمی ہے۔ وہ ادھر چلی
‫گئی اور پھر واپس نہیں آئی۔ الصالح کو ابھی پتہ نہیں چال تھا کہ لڑکی غائب ہوگئی ہے۔ ابن خطیب اس رات ڈیوٹی پر نہیں
‫تھا۔ اس نے تین تاجروں میں سے ایک کے ساتھ بات کرنے کا موقع پیدا کرلیا اور کہا… ''آپ تینوں یہاں سے نکلیں‪ ،ورنہ
‫مارے جائیں گے۔ بہت بڑا خطرہ ہے۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں کی اطالع ملی ہے کہ مہمانوں کے بھیس میں یہاں موجود
‫ہیں''… اس نے اسے ایک جگہ بتا کر کہا کہ تینوں وہاں آجائیں۔ آگے انہیں لے جاکر چھپانے کا انتظام کرلیا گیا ہے۔
‫اب ہمیں یہاں سے نکلنا ہی ہے''۔ صلیبی نے کہا۔ ''ہمارا کام ہوچکا ہے''۔''
‫پھر جلدی نکلیں''۔ ابن خطیب نے کہا… ''ورنہ صبح تک آپ کی الشیں یہاں سے نکلیں گی''۔''
‫اس صلیبی نے یہ بات اپنے ساتھیوں کے کانوں میں جاڈالی اور وہ ایک ایک کرکے وہاں سے اس طرح نکلے کہ کسی کو شک
‫نہ ہو۔ اگر وہ محل کے اندر ہوتے تو نکلتے دیکھے جاسکتے تھے۔ وہ میدان تھا۔ اندھیرے راستے سے گئے۔ آگے ابن خطیب
‫تین گھوڑوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ خود بھی گھوڑے پر سوار تھا۔ ضیافت میں رقص وسرور اور مہمانوں کا اتنا شور تھا کہ کسی
‫کو چار گھوڑوں کے قدموں کی آواز نہ سنائی دی اور الصالح کو علم ہی نہ ہوسکا کہ اس کے خصوصی مہمان فرضی خطرے
‫سے بھاگ کر حقیقی خطرے میں چلے گئے ہیں۔
‫٭ ٭ ٭
‫آبادی سے دور ایک جھونپڑا نما مکان تھا۔ تینوں صلیبی اس میں بیٹھے تھے۔ ابن خطیب خدا کا شکر ادا کررہا تھا کہ ان
‫کی جانیں بچ گئی ہیں۔ انہوں نے اپنے شتربانوں کے متعلق فکر کا اظہار کیا۔ ابن خطیب نے انہیں تسلی دی کہ سب کو
‫نکال لیا جائے گا۔ اس نے ان سے پوچھا کہ وہ اسے بتا کر جائیں کہ کیا معاملہ طے ہوا ہے تاکہ وہ اس کے مطابق چوکنا
‫رہے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ الصالح کو درپردہ جنگی سامان اور گھوڑے دیں گے۔ اس کی فوج کو ٹریننگ دیں گے۔ جاسوس

‫دیں گے اور جب و ہ سلطان ایوبی کے خالف لڑے گا تو صلیبی فوج سلطان ایوبی پر عقب سے حملہ کرے گی۔ مختصر یہ
‫کہ الصالح سلطان ایوبی کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ دے گا لیکن اس وقت توڑے گا جب صلیبی اسے اشارہ دیں گے۔
‫اب ہمیں روانہ ہوجانا چاہیے؟'' ایک صلیبی نے پوچھا۔''
‫ہاں!'' ابن خطیب نے کہا… ''آپ کی روانگی کا وقت آگیا ہے۔ میرے ساتھ آئو''۔''
‫ابن خطیب نے کمرے کا دروازہ کھوال۔ یہ دوسرا دروازہ تھا۔ اس نے تینوں سے کہا کہ چلو‪ ،وہ کمرہ تاریک تھا۔ تینوں اس
‫کمرے میں گئے تو پیچھے سے ایک کی گردن کے گرد ایک بازو لپٹ گیا اور ایک ایک خنجر ہر ایک کے دل میں اتر گیا۔
‫کمرے کے ایک کونے میں ایک گہرا گڑھا پہلے ہی کھود لیا گیا تھا۔ تینوں کو اس میں پھینک دیا گیا۔
‫اسی کمرے کے ایک کونے میں یہودی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جو اندھیرے میں کسی کو نظر نہیں آتی تھی۔اس کے ہاتھ پائوں
‫بندھے ہوئے تھے اور منہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔ اسے بھی ضیافت سے خادمہ کے ذریعے بال کر کامیابی سے اغوا کرلیا گیا
‫تھا۔ کمرے میں ابن خطیب کے عالوہ پانچ آدمی تھے۔ انہوں نے لڑکی کے ہاتھ پائوں کھول دئیے اور منہ سے کپڑا نکال دیا۔
‫لڑکی اپنے صلیبیوں کا حشر دیکھ چکی تھی۔ اس نے کہا کہ مجھے دوسرے کمرے میں لے چلو۔ اسے وہاں لے گئے۔ وہاں ایک
‫دیا جل رہا تھا۔
‫کیا تم نے مجھ سے زیادہ خوبصورت لڑکی کبھی دیکھی ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
‫کیا تم نے ہم سے زیادہ ایمان والے کبھی دیکھے ہیں؟'' ابن خطیب نے کہا… ''ہم تمہیں اتنی مہلت نہیں دیں گے کہ ''
‫تم الصالح کی طرح ہمارے ایمان بھی خرید سکو''۔
‫میں اپنی جان کی بخشش مانگ رہی ہوں''۔ لڑکی نے کہا… ''مجھے تم لوگ پسند نہیں کرتے تو بتائو کتنا سونا مانگتے ''
‫ہو۔ صبح تمہارے قدموں میں رکھ دوں گی‪ ،پھر میں یہاں سے یروشلم چلی جائوں گی''۔
‫ابن خطیب نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ اس نے دو ساتھیوں کے چہروں پر عجیب سے تاثرات دیکھے۔ ابن خطیب نے
‫بڑی تیزی سے خنجر نکاال اور لڑکی کے دل میں اتار دیا۔ وہ گری تو اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا دوسرے کمرے میں
‫لے گیا اور گڑھے میں پھینک دیا۔ سب نے مل کر گڑھا مٹی سے بھر دیا۔
‫امام کو رات کو ہی اطالع دے دی گئی کہ کام مکمل کردیاگیا ہے۔ ادھر الصالح تینوں صلیبیوں اور لڑکی کے متعلق کہہ رہا تھا
‫کہ بہت دیر سے نظر نہیں آئے… آدھی رات کے کچھ دیر بعد جب آخری مہمان بھی رخصت ہوگیا تو وہ اپنے ہم رازوں سے
‫یہی پوچھ رہا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ وہ کہیں بھی نہ ملے۔ وہ لڑکی کے لیے بے قرار ہورہا تھا۔ اس نے خادمہ کی جان
‫کھالی۔ باقی رات نہ خود سویا‪ ،نہ اس نے اپنی ذاتی مالزموں کو سونے دیا۔ خادمہ نے امام سے کہا تھا کہ لڑکی کے بغیر وہ
‫ہوش کھوبیٹھے گا۔ اس کی رائے صحیح ثابت ہوئی۔ وہ توپاگل ہوا جارہا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صبح اس کی حالت پاگلوں سے بھی بدتر تھی۔ اس نے اپنے دو ہم راز ساالروں کو اپنے سامنے کھڑا کر رکھا تھا۔ انہوں نے
‫ابن خطیب کو بال لیا اور پوچھا کہ اس نے ایک لڑکی اور عربی تاجروں کو باہر جاتے تو نہیں دیکھا؟
‫میں نے انہیں دیکھا تھا''۔ ابن خطیب نے کہا… ''میں اپنے دستے کے ساتھ باہر مستعد کھڑا تھا۔ آدھی رات سے پہلے ''
‫تینوں تاجر باہر آئے۔ ان کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ وہ چلے گئے اور اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ مجھے دوڑتے
‫گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ میں نے انہیں واپس آتے نہیں دیکھا''۔
‫وہ ساالر بھی جو سلطان ایوبی کا حامی تھا‪ ،آگیا۔ اسے معلوم تھا کہ صلیبی اور لڑکی کہاں ہیں۔ اس نے الصالح کو صلیبیوں
‫کے خالف بھڑکانا شروع کردیا۔ اس نے کہا… ''وہ اتنی خوبصورت لڑکی کو آپ کے پاس نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ انہوں نے
‫آپ کو دھوکہ دے کر آپ سے کوئی بڑا ہی نازک راز حاصل کرلیا ہے۔ یا شاید آپ کو بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا راز ہوگا''۔
‫الصالح پر خاموشی طاری ہوگئی۔ اسے غالبا ً یہ احساس ہوگیا تھا کہ لڑکی اسے دن کے وقت بھی شراب میں بے ہوش رکھتی
‫رہی ہے۔ اس حالت میں معلوم نہیں وہ اس سے کیا کچھ کہلواتی رہی ہے۔ اسے شدید صدمہ ہوا‪ ،وہ رات بھر سویا بھی نہیں
‫تھا۔ بہت دنوں سے وہ دن رات شراب پیتا رہا تھا۔ اس کے اثرات کے عالوہ غصہ اور پچھتاوا بھی تھا۔ اس نے غصے سے
‫حکم دیا… '' وہ جو ان کے ساتھ قافلہ آیا تھا‪ ،ان سب کو قید میں ڈال کر مارڈالو۔ ان کے اونٹوں ا ور سامان کو سرکاری
‫ملکیت میں لے لو''۔
‫اسی شام الصالح کو پیٹ میں درد کی ٹیس اٹھی۔ طبیب نے دوائی دی لیکن مرض بڑھتا گیا اور رات کو درد پیٹ سے ناف
‫تک پھیل گئی۔ ‪ ٩رجب ‪٥٧٧ہجری یعنی اگلے روز اس کی حالت طبیبوں کے بس سے باہر ہوگئی۔ طبیب ہر لمحہ اس کے
‫پاس موجود رہنے لگے مگر افاقہ ہونے کے بجائے درد بڑھتا گیا۔ رات بھی ایسے ہی گزری۔ دوسرے دن اس پر غشی طاری
‫ہونے لگی۔ طبیبوں نے اسے تو نہ بتایا‪ ،ساالروں وغیرہ کو بتا دیا کہ الصالح کا جانبر ہونا مشکل ہے۔ جامع مسجد کے امام کو
‫بال لیا گیا۔ اس نے سرہانے بیٹھ کر قرآن خوانی شروع کردی۔ رات کو الصالح نے آنکھ کھولی۔ امام کو دیکھا اور مری ہوئی
‫آواز میں کہا… ''اگر قرآن برحق ہے تو اس کی برکت سے مجھے صحت یاب کرو''۔
‫میں یہ کہنے سے نہیں ڈروں گا کہ آپ قرآن کے احکام کی خالف ورزی کرتے رہے ہیں''… امام نے کہا… ''قرآن کی ''
‫برکت ان کے لیے ہے جو اس کے ہر فرمان پر عمل کرتے ہیں… خدا سے گناہوں کی بخشش مانگیں‪ ،اپنی ماں سے گناہوں
‫کی معافی مانگیں''۔
‫اس وقت اس کی بہن شمس النساء پاس کھڑی روی رہی تھی۔ الصالح کے منہ سے نکال… ''ماں… میری ماں کو بالئو۔ اسے
‫کہو کہ تمہارا گناہ گار بیٹا مر رہا ہے۔ آکر دودھ کی دھاریں اورگناہ بخش دو''۔
‫امام نے شمس النساء کی طرف دیکھا۔ اس نے بھائی کے ماتھے پر پیار سے ہاتھ پھیر کر کہا… ''ابھی دمشق کے لیے روانہ
‫ہوجاتی ہوں۔ ماں کو لے کر آئوں گی''… وہ تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نکل گئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ اپنے محافظوں کے
‫ساتھ دمشق کے راستے پر جارہی تھی۔
‫قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے۔ ''‪١٣رجب کے روز الصالح کی حالت اتنی بگڑی کہ قلعے کے دروازے
‫بند کردئیے گئے۔ الصالح نے ذرا ہوش میں آکر عزالدین کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ عزالدین سیف الدین کے مرنے کے بعد موصل
‫کا والی بنا تھا۔ وہ موصل میں تھا۔ اب اسے حلب کا والی بھی بنا دیا۔ الصالح نے تمام امراء اور ساالروں کو بال کر وہ حلف
‫اٹھائیں کہ عزالدین کو اپنا والی تسلیم کرتے ہیں اور اس کے وفادار رہیں گے۔سب نے حلف اٹھایا۔ ‪٢٥رجب ‪٥٧٧ہجری الملک
‫الصالح غشی کے عالم میں فوت ہوگیا۔ موصل کو قاصد دوڑایاگیا کہ عزالدین کو کہہ کر بال الئے کہ اسے حلب کا والی مقرر کیا
‫گیا ہے''۔ جس وقت شمس النساء دمشق میں اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھی ماں سے کہہ رہی تھی کہ اس کا اکلوتا بیٹا

‫مر رہا ہے اور دودھ کی دھاریں بخشوانے کے لیے اسے بال رہا ہے اور ماں نے کہا تھا کہ میں دودھ کی دھاریں بخش دوں گی‪،
‫اس کے گناہ اللہ بخشے گا۔ اس وقت الصالح فوت ہوچکا تھا۔ شمس النساء حلب واپس گئی تو اس کے اکلوتے بھائی کا جنازہ
‫قلعے سے نکل رہا تھا۔
‫عزالدین کو قاصد نے الصالح کی موت کا پیغام دیا تو وہ اسی وقت روانہ ہوگیا۔ راستہ چھوٹا کرنے کے لیے وہ کسی اور راستے
‫سے جارہا تھا۔ راستے میں اس کا گزر سلطان ایوبی کے بھائی العادل کی فوج کی خیمہ گاہ سے ہوا۔ وہ العادل سے ملنے
‫رک گیا۔ العادل کو معلوم نہیں تھا کہ الصالح مرگیا ہے۔ عزالدین نے اسے یہ خبر سنائی اور یہ بھی کہ اسے حلب کا والی
‫مقرر کیا گیا ہے۔
‫العادل نے اسے کہا… ''تم آئندہ خانہ جنگی کو روک سکتے ہو اور حلب کو دمشق سے مال سکتے ہو۔ غدار مرگیا ہے‪ ،تم تو
‫ایمان فروش نہیں''۔
‫عزالدین گہری سوچ میں کھوگیا۔ کچھ وقت بعد اس نے العادل سے کہا… ''ہاں! میں حلب اور دمشق کو ایسے رشتے میں
‫جکڑ سکتا ہوں جو کبھی نہیں ٹوٹے گا لیکن… لیکن اسے مضبوط بنانے کے لیے تم ایک کام بلکہ میری خواہش پوری کرسکتے
‫…''ہو… میں نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں‪ ،اگر وہ عظیم عورت مان جائے تو
‫میں آج ہی دمشق چال جائوں گا''۔ العادل نے کہا۔ ''مجھے امید ہے‪ ،وہ مان جائے گی''۔''
‫العادل دمشق گیا۔ رضیع خاتون کو یہ خبر سنائی کہ اس کا بیٹا مر گیا ہے۔
‫اللہ اس کے گناہ معاف کرے''۔ ماں نے کہا۔''
‫کچھ دیر بعد العادل نے کہا کہ الصالح عزالدین کو اپنا جانشین مقرر کرگیا ہے اور عزالدین نے اس کے ساتھ شادی کی خواہش
‫ظاہر کی ہے۔ رضیع خاتون نے انکار کردیا۔
‫یہ شادی آپ کی اور عزالدین کی نہیں ہوگی''۔ العادل نے کہا۔ ''یہ دمشق اور حلب کی شادی ہوگی۔ اس سے آئندہ ''
‫خانہ جنگی رک جائے گی اور صلیبیوں کے خالف محاذ مستحکم ہوسکے گا''۔
‫عظمت اسالم کے لیے میں ہرقربانی کے لیے تیار ہوں''۔ رضیع خاتون نے کہا۔ ''میری ذاتی خواہشیں مرچکی ہیں''۔''
‫‪٥شوال (‪١١فروری ‪١١٨٢ئ) عزالدین اور رضیع خاتون کی شادی ہوگئی۔
‫اس کے ساتھ ہی جلد چہارم کا اختتام ہوا
20:55
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 127سانپ اور صلیبی لڑکی
‫ـــــــ
‫سانپ ڈیڑھ بالشت لمبا ہوگا مگر اس نے اسحاق درویش کی اتنے قوی ہیکل گھوڑے کو اوندھا کردیا۔ منزل ابھی بہت دور
‫تھی۔ صحرائے سینا ابھی آدھا باقی تھا۔ اسحاق درویش ترکی کا رہنے واال تھا۔ جسمانی لحاظ سے وہ تنومند تھا‪ ،خوبرو تھا‪،
‫چہرے کی رنگت میں کشش تھی۔ اس کی آنکھیں نیلی تھیں۔ اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ مسلمان ہے یا
‫صلیبی۔ وہ جتنا تنومند اور خوبرو تھا‪ ،اس سے کہیں زیادہ دماغی لحاظ سے چست اور چاالک تھا۔ وہ اس وقت سلطان صالح
‫الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہوا تھا جب اس کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ اس نے فوجی مالزمت کو ذریعہ معاش نہیں
‫سمجھا تھا۔ وہ مردمومن کی صحیح تصویر تھا۔ صلیب کے پجاریوں کے عزائم سے آگاہ ہوکر اسالم کی پاسبانی کے لیے دمشق
‫آیا اور فوج میں شامل ہوگیا تھا۔ جب سلطان ایوبی کو مصر کی امارت سونپی گئی تو اسحاق کو مصر بھیج دیا گیا تھا۔ وہ
‫بڑے فخر سے اپنے آپ کو ترک کہالتا تھا۔
‫ترکی کے بے شمار باشندے سلطان ایوبی کی فوج میں تھے۔ سلطان ایوبی کو ان پر بھروسہ اور اعتماد تھا۔ اس نے جب
‫کمانڈو فورس بنائی تو اس کے لیے زیادہ تر نفری ترکوں کی تیار کی۔ اسی فورس میں سے جاسوس بھی منتخب کیے گئے
‫تھے۔ ان میں اسحاق ترک بھی تھا۔ وہ غیرمعمولی طور پر ذہین اور دلیر چھاپہ مار تھا۔ اسے کمان دار بنا دیا گیا تھا‪ ،پھر
‫اسے صلیبیوں کے عالقوں میں جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ وہ فرض کا شیدائی تھا۔ جان کی بازی لگا کر زمین کی تہوں
‫سے بھی راز نکال لیا کرتا تھا مگر اب صحرائے سینا میں ذرا جتنے سانپ نے اسے بڑے ہی کڑے امتحان میں ڈال دیا۔ وہ
‫ان مسلمان عالقوں میں تھا جن پر صلیبیوں نے قبضہ کررکھا تھا‪ ،وہاں سے حلب چال گیا اور اب وہ ایک نہایت اہم اطالع
‫لے کر قاہرہ جارہا تھا۔ اس وقت سلطان ایوبی قاہرہ میں تھا۔ اسحاق ترک کو بہت جلدی پہنچنا تھا راستے میں وہ کم سے
‫کم آرام کررہا تھا۔
‫وہ سرسبز عالقوں سے نکل گیا تھا۔ آگے ریت کا وہ سمندر تھا جس سے کوئی بھٹکا ہوا مسافر کبھی زندہ نکل کر نہیں گیا۔
‫صحرا انسان اور حیوان کا دشمن ہے۔ اسحاق ترک ریگزار کا بھیدی تھا… سرسبز عالقے سے اس نے پانی گھوڑے کے ساتھ
‫باندھ لیا تھا۔ اسے راستے کا بھی علم تھا جہاں ایک دو جگہ پانی مل جاتا تھا۔ اس صحرا میں اس نے لڑائیاں بھی لڑی
‫تھیں۔ حلب سے آتے ہوئے جب وہ اس میں داخل ہوا تھا تو اسے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا تھا۔ صلیبیوں اور صحرائوں
‫سے وہ کبھی نہیں ڈرا تھا۔ اسی جنگ وجدل اور مسافت کو وہ زندگی سمجھتا تھا۔ یہ اس کا عقیدہ تھا کہ خدا کی
‫خوشنودی اسی جہاد میں ہے۔
‫وہ صحرائی ٹیلوں میں گھوڑے کو ذرا آرام دینے کے لیے رک گیا۔ دوپہر کا سورج کچھ آگے نکل گیا تھا۔ اسحاق ترک ایک
‫ٹیلے کے سائے میں لیٹ گیا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔ گھوڑا بڑی زور سے ہنہنایا۔ اسحاق ترک نے دیکھا کہ جہاں وہ
‫سویاتھا‪ ،اس سے چار پانچ قدم دور دیڑھ بالشت لمبا سانپ جس کا رنگ سیاہ اور اس پر سفید اور گول دھبے تھے‪ ،تڑپ رہا
‫تھا۔ دم کی طرف اس کا آدھا جسم کچال ہوا تھا۔ گھوڑا وہیں کھڑا تھا۔ اسحاق سمجھ گیا کہ سانپ کاٹنے سے پہلے یا بعد
‫گھوڑے کے پائوں کے نیچے آیا ہے۔ وہ اب چلنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اسحاق ترک نے اس کا سر اپنے پائوں تلے مسل
‫ڈاال۔
‫گھوڑے کے زندہ رہنے کی امید ختم ہوگئی تھی۔ صحراکا بچھو اور یہ سانپ اتنے زہریلے ہوتے ہیں کہ جسے ڈس لیں اسے
‫پانی پینے کی مہلت نہیں ملتی۔ صحرائوں کے مسافرجال دینے والے سورج سے اور لوٹ کر قتل کردینے والے ڈاکوئوں سے اتنا
‫نہیں ڈرتے‪ ،جتنا اس سانپ اور بچھو سے ڈرتے ہیں۔ یہ سانپ میدانی اور پہاڑی عالقوں کے سانپوں کی طرح آگے کو نہیں
‫رینگتا بلکہ پہلو کی طرف عجیب سی چال سے رینگتاہے۔ اسحاق نے اپنے گھوڑے کو مایوسی سے دیکھا۔ گھوڑا بڑی زور سے
‫اعلی نسل کا جنگی گھوڑا تھا جو لق ودق صحرا‪ ،بھوک اور پیاس کو خاطر میں نہیں التا
‫کانپا۔ اس کا منہ کھل گیا تھا۔ یہ
‫ٰ

‫اعلی گھوڑاضائع ہوگیا تھا مگر اس وقت نقصان یہ ہوا کہ اسحاق ترک کو پیدل قاہرہ تک
‫تھا۔ یہ تو ایک نقصان تھا کہ ایسا
‫ٰ
‫پہنچنا تھا۔ وہ بہت جلدی میں تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے یہ راز جو وہ سینے میں لے کے جارہا تھا‪ ،فورا ً سلطان ایوبی
‫تک نہ پہنچایا تو بہت بڑے جنگی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
‫اس نے گھوڑے کو حسرت بھری نظروں سے دیکھا۔ اس کی نظر گھوڑے کے ایک پائوں پر پڑی۔ کھر کے ذرا اوپر خون کے چند
‫قطرے جمے ہوئے تھے۔ یہاں سانپ نے کاٹا تھا۔ گھوڑا مرچکا تھا۔ اسحاق نے گھوڑے کی زین سے کھجوروں کا تھیال اور پانی
‫کا ایک مشکیزہ کھوال اور چل پڑا۔ اس نے مرے ہوئے سانپ کو دیکھا اور نفرت سے کہا… ''سانپ اور صلیبی کی فطرت ایک
‫سی ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ ریتلے ٹیلوں کے عالقے سے نکل گیا۔ سورج افق سے کچھ دور رہ گیا تھا۔ اس کا قہر عروج پر تھا۔ وہ اپریل ‪١١٨٢ء
‫کے دن تھے جو دنیا کے لیے بہار کے دن تھے مگر صحرائوں میں کبھی بہار نہیں آتی۔ اسحاق ترک کے سامنے افق تک
‫پھیال ہوا ریت کا سمندر تھا جس میں چھوٹی چھوٹی خشک جھاڑیاں تھیں۔ ریت اس طرح جھلس رہی تھی جیے ایک آدھ
‫میل آگے پانی ہی پانی ہو اور اس میں سے شفاف بھاپ اٹھ رہی ہو۔ اسحاق ابھی تازہ دم تھا۔ وہ کھجوروں کے تھیلے‪،
‫مشکیزے‪ ،تلوار اور خنجر کا بوجھ محسوس نہیں کررہاتھا۔ اس کی چال میں جان تھی اور قاہرہ بہت جلدی پہنچنے کے عزم
‫میں ابھی کوئی لرزہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ وہ چلتا گیا اور سورج غروب ہوگیا۔
‫وہ ذرا سی دیر کے لیے رکا۔ چند ایک کھجوریں کھائیں‪ ،پانی پیا اور چند منٹ لیٹ کر اٹھ بیٹھا۔ وہ بہت خوش تھا کہ بڑی
‫ہی قیمتی اطالع سلطان ایوبی کے لیے لے جارہا ہے۔ اسے کچھ کھانے اور پینے کی جیسے ضرورت ہی نہیں تھی۔ اس کی
‫روح سیر تھی۔ فرض کے شیدائی جب فرض ادا کرلیں تو ان کی روحیں مسرور ہوجاتی ہیں۔ اسحاق ترک بھی روحانی مسرت
‫سے سرشار تھا۔ وہ اٹھا۔ ستاروں کو دیکھا۔ سمت کا تعین کیا اور چل پڑا۔ صحرا کی رات اتنی خنک ہوتی ہے جتنا دن گرم
‫اور جھلسا دینے واال ہے۔ رات کو چلنا آسان ہوتاہے۔ وہ چلتا گیا۔ اس نے چلتے چلتے بہت کچھ سوچا۔ یہ بھی سوچا کہ وہ
‫اتنی لمبی مسافت اتنے کم عرصے میں طے نہیں کرسکے گا۔ اس کایہی ایک عالج تھا کہ کوئی اکیال وکیال گھوڑ سوار یا شتر
‫سوار مل گیا تو اس سے گھوڑا یااونٹ چھین لے گا اور اگر کوئی قافلہ رکا ہوا نظر آگیا تو گھوڑا یا اونٹ چوری کرلے گا۔
‫اسی توقع پر چلتا گیا۔
‫رات گزرتی جارہی تھی۔ اس کے پائوں تلے سے ریگزار پیچھے ہٹتا جارہا تھا اور اسے تھکن کا احساس بھی ہونے لگا تھا
‫لیکن اسے ٹریننگ ایسی ملی تھی کہ تھکن‪ ،نیند‪ ،بھوک اور پیاس کو کئی روز تک برداشت کرسکتا تھا۔ تھکن کے پہلے
‫احساس کو اس نے ایک جنگی ترانے کے حوالے کردیا۔ وہ بلند آواز سے ترانہ گانے لگا… رات کے آخری پہر وہ ایک جگہ بیٹھ
‫گیا۔ تھوڑا ساپانی پیا اور وہیں سوگیا۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا جب اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے بھوک کے احساس
‫کو دبا لیا۔ پانی بھی نہ پیا۔ منزل ابھی بہت دور تھی۔ کھجوریں اور پانی بچانے کی ضرورت شدید تھی۔وہ اٹھا اور چل پڑا۔
‫اسے صحرا کا ایک اور خطرہ دور سے ہی نظر آنے لگا۔ یہ ریت کی گول گول ٹیکریاں تھیں جو دور دور تک پھیلی ہوئی
‫تھیں۔ یہ سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ان کی بلندی بھی ایک جیسی ہوتی ہے۔ ان میں کوئی اجنبی داخل ہوجائے تو باہر
‫نکل نہیں سکتا۔ یہ بھول بھلیاں بنی ہوتی ہیں۔ بعض مسافر ایک ہی ٹیکری کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ
‫وہ سفر طے کررہے ہیں۔ صحرائوں کے بھیدی بھی ان سے ڈرتے ہیں۔ اسحاق ترک کو پہال احساس یہ ہوا کہ یہ ٹیکریاں اس
‫کے راستے میں نہیں آنی چاہئیں تھیں۔ اس سوال نے اسے پریشان کردیا۔ کیا وہ اس راستے سے بھٹک گیاہے جس سے وہ
‫واقف تھا؟ وہ اب ادھر ادھر کہیں نہیں جاسکتا تھا۔ اسے انہی میں سے گزرنا تھا وہ بڑھتا گیا اور ٹیکریوں میں داخل ہوگیا۔
‫اس وقت تک سورج اوپر آچکا تھا اور صحرا تپنے لگا تھا۔ وہ ٹیکریوں میں گھومتا‪ ،موڑ مڑتا گیا۔ ریت اس کے پائوں جکڑنے
‫کی کوشش کررہی تھی‪ ،وہاں کی ریتلی زمین بتارہی تھی کہ اسحاق سے پہلے یہاں سے کبھی کوئی مسافر نہیں گزرا۔ اسحاق
‫چلتا گیا۔ سورج سر پر آگیا تو بھی وہ ریت کی انہی ڈھیروں میں گھومتا مڑتا جارہا تھا۔ وہ ایک اور موڑ مڑا تو ٹھٹھک کر
‫رک گیا۔ اس نے زمین پر اپنے ہی پائوں کے نشان دیکھے جو ایک اور ٹیکری کے گرد مڑ گئے تھے۔ تب اسے احساس ہوا کہ
‫وہ صحرا کے بے حد خطرناک دھوکے میں آگیا ہے۔ وہ ساتھ والی ٹیکری پر چڑھ گیا۔ ہر سونگاہ دوڑائی۔ اسے یوں نظر آیا
‫جیسے ساری دنیا ریت کے گول گول اونچے اونچے ڈھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔
‫سورج کی آگ اور ریت کی گرمی نے اس کے جسم کی نمی چوسنی شروع کردی تھی۔ ریت نے اس کے پائوں جکڑ جکڑ کر
‫من من وزنی کردئیے تھے۔ اس نے پانی پیا اور سمت کا اندازہ کرکے نیچے اترا۔ اب اسے دماغ حاضر رکھنا تھا۔ ہر موڑ ذہن
‫میں محفوظ رکھتا تھا۔ وہ ٹریننگ کے مطابق چل پڑا۔ اب وہ جن دو ڈھیری نما ٹیکریوں کے درمیان سے گزرتا انہیں ذہن میں
‫نقش کرلیتا۔ آگے چلتا‪ ،پیچھے دیکھتامگر صحرا کے ظالم اثرات اس کے دماغ کو مائوف کرنے لگے تھے۔ اس میں برداشت کی
‫قوت اوسط درجہ انسانوں سے زیادہ تھی‪ ،ورنہ وہ کبھی نہ اٹھنے کے لیے گر پڑتا۔
‫سورج افق سے تھوڑا ہی اوپر رہ گیا تھا جب وہ صحرا کے اس دھوکے سے نکل گیا مگر اس کی ٹانگوں میں جسم کا ‪:
‫بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رہی تھی۔ یہ فرض کی لگن تھی جو اسے چالئے جارہی تھی۔ اس نے آگے دیکھا تو اسے ایک
‫قطار میں کئی گھوڑے اس کا راستہ کاٹ کر جاتے نظر آئے۔ گھوڑوں پر سوار بھی تھے۔ اس نے سواروں کو پکارا‪ ،پھر اور زیادہ
‫اونچی آوازسے پکارا۔ کسی بھی سوار نے اس طرف نہ دیکھا۔ گھوڑے دائرے میں چلنے لگے۔ اسحاق ترک رک گیا۔ اس نے
‫آنکھیں بند کرکے سرکو زور زورسے جھٹکے دئیے۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ گھوڑے نہیں واہمہ ہے اور یہ سراب ہے جو صحراکا ایک
‫خطرناک دھوکہ ہوتاہے۔ اس کا ذہن صاف ہوا تو گھوڑے غائب ہوگئے۔ جھلستی ریت اور اس کی بھاپ نما چمک دور تک
‫دیکھنے نہیں دیتی تھی۔ وہ اب قدم گھسیٹ رہا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اسے دن اور رات کا بھی احساس نہ رہا۔ ایک جگہ اس کا پائوں پھسال تو وہ گر پڑا اور لڑھکتا ہوا دور نیچے چال گیا۔ اس
‫سے وہ ذرا سا بیدار ہوا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ نادانستہ مٹی کی ایک ٹیکری پر چڑھ گیا تھا اور وہاں سے گرا تو
‫نیچے آپڑا۔ تھا۔ اس نے پانی کی شدید ضرورت محسوس کی۔ حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے اور ہونٹ خشک لکڑی کی طرح
‫اکڑ گئے تھے مگر اس کے پاس نہ پانی کا مشکیزہ تھا‪ ،نہ کھجوروں کا تھیال۔ اس نے اٹھ کر ادھر ادھر دیکھا۔ دونوں کا کہیں
‫نام ونشان نہ تھا۔ وہ مایوسی اور بے بسی کے عالم میں چال۔ ادھر ادھر دیکھا اسے ہر سو سفید سفید اور شفاف شفاف سے
‫شعلے نظر آئے جو اس سے کچھ دور دور گول دائرے کی شکل میں اسے گھیرے ہوئے تھے۔ وہ اب الشعوری طور پر یا نیم
‫غشی کی کیفیت میں چل رہا تھا۔

‫وہ رک گیا۔ اسے دو آدمی اور ایک عورت کھڑی نظر آئی۔ تینوں اسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کے عقب میں تھوڑی دور
‫کھجور کے درخت بھی اسے دکھائی دئیے۔ ان کے قریب ٹیلے تھے۔ اسحاق ترک نے اسے بھی واہمہ اور سراب سمجھا۔ اس
‫پر جو مایوسی طاری ہوگئی تھی اس میں اضافہ ہوگیا جس سے اس کے جسم میں اگر کچھ سکت رہ گئی تھی‪ ،وہ بھی نہ
‫رہی۔ اس نے ان آدمیوں اور عورت کو آواز دینے کو بے کار سمجھا۔ سراب اور واہمے بوال نہیں کرتے۔ مسافروں کو اپنی طرف
‫حتی کہ انسان ہار کر گر پڑتا ہے اور ریت اس کا گوشت پوست چوس کر اسے ہڈیوں کا
‫گھسیٹتے اور پیچھے ہٹتے جاتے ہیں‪،
‫ٰ
‫ڈھانچہ بنا دیتی ہے۔ اسحاق ترک میں اتنی سی زندگی رہ گئی تھی کہ اس نے ان آدمیوں اور عورت کو واہمہ سمجھا مگر
‫اس نے چلنے کے لیے قدم اٹھایا تو اس کی ٹانگیں دہری ہوگئیں اور اس کی آنکھوں کے سامنے صحرا‪ ،سراب اور واہمہ گپ
‫تاریکی میں چھپ گئے۔
‫اسے باتیں سنائی دیں۔ وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آرہا تھا۔ باتیں صاف ہونے لگیں۔ وہ ریت پر گرا تھا۔ ریت آگ پر رکھی
‫ہوئی لوہے کی چادر کی طرح تپ رہی تھی لیکن ہوش میں آتے وہ خنکی محسوس کررہا تھا۔
‫وہیں مرنے دیا ہوتا''… اسے ایک مردانہ آواز سنائی دی… ''اٹھائو اور اسے باہر پھینک دو۔ کوئی بھوال بھٹکا مسافر ہے''۔''
‫ذرا اسے ہوش میں آنے دو''… یہ آواز کسی عورت کی تھی۔ ''مجھے شک ہے‪ ،یہ بے ہوشی میں بڑبڑا رہا تھا… ''قاہرہ''
‫کتنی دور ہے؟ سلطان… سلطان صالح الدین ایوبی! ہوشیار ہوکر قاہرہ سے نکلنا۔ بڑی قیمتی خبر الیاہوں''… شک رفع کرلینا
‫چاہیے''۔
‫اسحاق ترک اسے بھی واہمہ یا خواب سمجھنے لگا۔اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ آوازیں انہی دو آدمیوں اور عورت کی ہیں
‫جنہیں اس نے صحرا میں اپنے سامنے کھڑے دیکھا تھا۔ انہیں اس نے واہمہ سمجھا تھا لیکن یہ انسان حقیقی تھے۔ واہمہ نہیں
‫تھے۔
‫تم اس کے پاس بیٹھو''… ایک آدمی نے کہا… ''اگر ہوش میں آگیا تو اسے پانی پال دینا اور کھانے کے لیے بھی کچھ ''
‫دے دینا‪ ،پھر ہمیں بتانا کہ یہ کون ہے''… آدمی باہر نکل گئے۔
‫اسحاق نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ اس کے کانوں میں گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز پڑی۔ وہ یکلخت بیدار ہوگیا اور اٹھ
‫بیٹھا۔ اس کے منہ سے بے اختیار نکال… ''یہ گھوڑا مجھے دے دو''۔
‫لوتھوڑا سا پانی پی لو''… ایک نسوانی آوازنے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کے ہونٹوں کی طرف ایک پیالہ بڑھ رہا ''
‫تھا۔ عورت نے کہا… ''تھوڑا پینا‪ ،ایک ہی بار سارا نہ پی لینا‪ ،مرجائو گے''۔
‫اسے پانی کی ہی ضرورت تھی۔ اس نے دیکھنے سے پہلے کہ پانی پالنے والی کون ہے‪ ،پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور ہونٹوں
‫سے لگا کر دو تین گھونٹ پئے۔ پیالہ ہونٹوں سے الگ کرکے بوال… ''میں جانتا ہوں کہ اس حالت میں زیادہ پانی نہیں پینا
‫چاہیے''۔
‫اس نے عورت کو دیکھا۔ وہ جوان لڑکی تھی۔ اس کا لباس اسی عالقے کا صحرائی خانہ بدوشوں کی طرح تھا لیکن اس کے
‫نقش ونگار اور رنگ روپ سے دھوکہ ہوتا تھا کہ وہ خانہ بدوش نہیں۔ اس کے سر پر لپٹے ہوئے رومال میں سے جو بال نظر
‫آرہے تھے‪ ،وہ بھی خانہ بدوش لڑکیوں جیسے نہیں تھے لیکن اس عالقے میں کوئی امیر کبیر لڑکی تو نہیں آ سکتی تھی‪ ،خانہ
‫بدوش ہی ہوسکتی تھی۔
‫تم کسی قافلے کے ساتھ ہو؟''… اسحاق نے لڑکی سے پوچھا۔''
‫''یہ تاجروں کا قافلہ ہے''… لڑکی نے جواب دیا اور پوچھا… ''تم کہاں سے آئے ہو اور کہاں جارہے ہو؟''
‫اسحاق ترک نے جواب دینے کے بجائے پانی کا پیالہ منہ سے لگا لیا۔ پانی کی نمی نے اس میں سوچنے کی قوت کچھ
‫بحال کردی تھی۔ اسے یاد آگیا کہ وہ سلطان ایوبی کا جاسوس ہے اور اسے اپنا آپ کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔
‫میں بھی تاجروں کے ایک قافلے کے ساتھ تھا''… اس نے سوچ کر جواب دیا… ''یہاں سے بہت دور ایک رات ڈاکوئوں ''
‫نے حملہ کردیا جو کچھ تھا‪ ،لے گئے۔ اونٹ اور گھوڑے بھی لے گئے۔ میں وہاں سے بھاگا اور بھٹک گیا''۔
‫میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو التی ہوں''… لڑکی نے کہا اور باہر نکل گئی۔''
‫وہ ایک خیمے میں تھا جس میں دیا جل رہا تھا۔ اس نے خیمے سے ذرا چھپ کر باہر دیکھا۔ چاندنی رات تھی۔ اسے باہر
‫تین چار آدمی ادھر ادھر پھرتے دکھائی دئیے۔ اسے لڑکی کی ہنسی سنائی دی۔ پھر اس نے لڑکی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ وہ
‫پیچھے ہٹ کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ لڑکی نے اس کے آگے کھانا رکھا جووہ کھانے لگا۔
‫تم اب قاہرہ جارہے ہو؟''… لڑکی نے پوچھا۔''
‫نہیں''… اسحاق ترک نے جھوٹ بوال… ''سکندریہ جارہا ہوں''۔''
‫''سلطان صالح الدین ایوبی تو قاہرہ میں ہے''… لڑکی نے مسکرا کر کہا۔ ''سکندریہ جا کر کیا کرو گے؟''
‫میرا سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ کیا تعلق ہوسکتاہے؟''… اسحاق نے حیرت سے کہا۔''
‫ہمارا تو ہے''… لڑکی نے کہا… ''وہ ہمارا سلطان ہے‪ ،ہم مسلمان ہیں‪ ،ہم اس کے حکم پر جانیں قربان کرنے کو تیار ''
‫رہتے ہیں''۔
‫لیکن مجھ سے تم نے یہ کیوں کہا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی قاہرہ میں ہے؟''… اسحاق ترک نے پوچھا۔''
‫سنو''… لڑکی نے اس کے سر پرہاتھ رکھ کر پیار سے کہا… ''تمہیں گھوڑا چاہیے۔ تم سلطان کے پاس جارہے ہو‪ ،ہم ''
‫تمہاری مدد کریں گے۔ تمہیں گھوڑا دیں گے۔ تم بہت جلدی سلطان تک پہنچ جائو گے''۔
‫''تمہیں کیسے پتہ چال؟''
‫یہ مت پوچھو''… لڑکی نے کہا… ''تم اپنا فرض ادا کررہے ہو‪ ،ہمیں اپنا فرض ادا کرنے دو۔ ہم تمہیں گھوڑا دے کر ''
‫سمجھیں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ہے''۔
‫لڑکی کا انداز ایسا تھا کہ اسحاق پسیج گیا۔ اس نے کہا… ''ہاں مجھے بہت جلدی سلطان کے پاس پہنچنا ہے''۔
‫''کوئی بہت ضروری خبر ہے؟''
‫مجھے سے ایسی باتیں نہ پوچھو''… اسحاق نے جواب دیا… ''تمہیں ان کے ساتھ دلچسپی نہیں ہونی چاہیے''۔''
‫میں تمہارے لیے گھوڑے کا انتظام کرتی ہوں''… لڑکی نے اٹھتے ہوئے کہا… ''آرام کرلو۔ رات ابھی''
‫شروع ہوئی ہے۔ آخری پہر روانہ ہونا''۔
‫لڑکی خیمے سے نکل گئی۔ اسحاق ترک کی جسمانی حالت ایسی تھی کہ وہ فورا ً سوگیا۔
‫کون کہتا تھا اسے وہیں پڑا رہنے دیتے؟''… لڑکی نے خیمے سے باہر جاکر اپنے آدمیوں سے کہا… ''مجھے استاد مانتے'' ‪:

‫ہو؟ یہ ایوبی کا جاسوس ہے۔ کہتا ہے مجھے ایک گھوڑا دے دو‪ ،سلطان کے پاس جلدی پہنچنا ہے۔ وہ جب بے ہوشی میں
‫بڑبڑا رہا تھا تو میں نے کان لگا کر سنا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کا نام لے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بڑی قیمتی خبر الیا
‫ہوں''… لڑکی نے اسحاق ترک کے ساتھ جو باتیں کیں اور جو اس سے کہلوائی تھیں‪ ،سب کو سنادیں۔
‫یہ تاجروں کا قافلہ نہیں تھا۔ یہ سب صلیبی جاسوس اور تخریب کار تھے جو مصر میں کچھ عرصہ اپنی زمین دوز کارروائیاں
‫کرکے واپس اپنے یا کسی اور مسلمان عالقے کو جارہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے محافظ بھی تھے۔ ان دس بارہ آدمیوں کے
‫ساتھ دو جوان لڑکیاں تھیں۔ ان کا استعمال اور رول وہی تھا جو آپ اس سلسلے کی پہلی کہانیوں میں پڑھ چکے ہیں۔ یہ
‫دونوں خوبصورت اور تربیت یافتہ تھیں۔ یہ گروہ تاجروں کے بھیس میں جارہا تھا۔ ان کے پاس اونٹ بھی تھے اور گھوڑے بھی۔
‫سفر کے دوران یہاں پانی اور سایہ دیکھ کر رک گئے تھے۔ شام سے کچھ دیر پہلے انہوں نے دور سے اسحاق ترک کو آتے
‫دیکھا۔ دو صلیبی اور ایک لڑکی اس کی طرف چل پڑے۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس آدمی کو اپنے کیمپ سے دور رکھیں۔ وہ
‫دیکھ رہے تھے کہ یہ آدمی بہت بری حالت میں چال آرہا ہے اور یہ زیادہ دیر چل نہیں سکے گا۔
‫اسحاق ترک نے انہیں دیکھا تو اسے سراب اور واہمہ سمجھا۔ پھر وہ گر پڑا اور بے ہوش ہوگیا۔ یہ دونوں صلیبی اور لڑکی
‫اس تک پہنچے۔ سب سے پہلے لڑکی نے کہا تھا کہ یہ کوئی عام قسم کا مسافر نہیں۔ دونوں آمیوں نے رائے دی کہ یہ کوئی
‫اناڑی مسافرہے‪ ،ورنہ اس حال کو نہ پہنچتا۔ تاہم اسحاق کی شکل وصورت اور جسم سے شک ہوتاتھا کہ یہ کوئی معمولی
‫آدمی نہیں۔کچھ از راہ مذاق اور کچھ شک کی بناء پر وہ اسے اپنے کیمپ میں اٹھا لے گئے اور ایک خیمے میں لٹا دیا۔ اس
‫کے منہ میں پانی اور شہد ٹپکاتے رہے۔ اس دوران اسحاق ترک بڑبڑاتا رہا۔ اس پر غشی طاری تھی۔ غشی اور نیند میں ذہن
‫الشعور بیدارہوتا ہے۔ جاسوس کو یہ خاص طور پر بتایا جاتا تھا کہ وہ دشمن کے عالقے میں بے ہوش ہونے سے بچیں۔ بے
‫ہوشی میں انسان کی زبان سے بعض اوقات سینے کے راز نکل آتے ہیں۔ اسحاق کو صحرا نے بے بس اور بے ہوش کردیا تھا‪،
‫ورنہ اس میں حیران کن قوت برداشت اور قوت مدافعت تھی۔ اگر بے ہوشی میں اس کی زبان بند رہتی تو اس کا اصل روپ
‫بے نقاب نہ ہوتا۔
‫اسحاق ہوش میں آیا تو اس قدر ذہین اور چاالک ہوتے ہوئے بھی ایک لڑکی کے جال میں آگیا۔ یہ لڑکی کی استادی تھی۔ وہ
‫بھی تربیت یافتہ تھی اور وہ حسین تھی۔ اس کی زبان پر یقین کرتے ہوئے وہ اسے مسلمان سمجھ بیٹھا۔ لڑکی نے باہر جاکر
‫اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ اس کا شک صحیح نکال ہے اور یہ خوبرو شخص سلطان ایوبی کا جاسوس ہے۔
‫موٹا شکار ہے''… اس گروہ کے سربراہ نے کہا… ''اب اس سے یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ کیا راز اپنے ساتھ لے جارہا ہے''
‫اور یہ راز کہاں سے الیا ہے''۔
‫اگر اس نے یہ بتا دیا کہ وہ راز کہاں سے الیا ہے تو اس سے یہ بھی پوچھیں گے کہ وہاں اس کے ساتھی کون کون ''
‫ہیں''… ایک آدمی نے کہا۔
‫لیکن اس پر یہ ظاہر نہ ہونے پائے کہ ہم کون ہیں''… سربراہ نے کہا… ''میں صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کو اچھی''
‫طرح جانتاہوں۔ موت قبول کرلیتے ہیں‪ ،کوئی راز نہیں دیتے۔ خاصی استادی سے بات کرنی ہوگی''۔
‫میں ان مسلمانوں کو زیادہ اچھی طرح جانتی ہوں''۔ لڑکی نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا… ''راز تو راز‪ ،یہ اپنے خنجر''
‫سے اپنا دل نکال کر میرے قدموں میں رکھ دے گا''۔
‫تم ان مسلمانوں کو جانتی ہو جن پر حکمرانی اور دولت کا نشہ سوار ہوتاہے''۔ ایک اور صلیبی نے کہا۔ ''تمہارا پاال ''
‫کبھی کسی غریب مسلمان اور سپاہی سے نہیں پڑا۔ وہ مسلمان دولت اور رتبے کے شیدائی ہوتے ہیں جنہیں تم گمراہ کرلیتی
‫ہو۔ جن مسلمانوں کے پاس دولت کے بجائے ایمان ہے‪ ،کبھی ان کے قریب جاکر دیکھنا''۔
‫ان کے پاس ایک اور صلیبی لڑکی بیٹھی تھی جس نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ سربراہ نے اس کی طرف دیکھا ‪:
‫اور قدرے طنزیہ لہجے میں اسے کہا… ''کیا تم اس مسلمان کے سینے سے راز نکال سکتی ہو‪ ،باربرا؟'' لڑکی نے اسے خالی
‫خالی نگاہوں سے دیکھا۔ سربراہ نے کہا… ''تم نے قاہرہ میں ہمیں بہت خراب کیا تھا۔ میرنیا کی استادی دیکھو اور اس سے
‫کچھ سیکھو۔ میں تمہیں اور کوئی موقع نہیں دوں گا۔ ذرامیرنیا کی عقل پر غور کرو۔ ہم سب اس آدمی کو بھٹکا ہوا کوئی
‫مسافر اور بے کار آدمی سمجھتے تھے لیکن اس نے اسے پہچان لیا کہ یہ موٹا شکارہوسکتا ہے۔ میں تمہیں اسی لیے مصر
‫سے نکال کر لے جارہا ہوں کہ تم صلیب کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچاتی ہو''۔
‫تمہارا انجام بہت برا ہوگا''۔ ایک اور صلیبی نے کہا… ''تمہیں اس پیشے سے محروم کردیا جائے گا جس میں تمہیں ''
‫شہزادیوں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ اس سے نکال دیا گیا تو کسی کی داشتہ بن کر رہنے یا عصمت فروشی کے سوا تمہارا
‫کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا''۔
‫اونہہ!'' دوسری لڑکی جس کا نام میرنیا تھا نفرت سے بولی… ''یہ تو ہے اس قابل''۔''
‫باربرا نے میرنیا کی طرف قہر بھری نظروں سے دیکھا۔ اس کے چہرے کا رنگ غصے سے الل ہوگیا لیکن خاموش رہی۔ وہ بھی
‫میرنیاکی طرح خوبصورت تھی لیکن جب مصر گئی تھی‪ ،اس کی استادی ماند پڑ گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا
‫سربراہ بھی مصر میں تھا اور زمین دوز کارروائیاں کررہا تھا۔یہ لوگ کسی جگہ آپس میں مال کرتے تھے۔ سربراہ رتبے واال افسر
‫تھا اور خوبرو بھی تھا۔ وہ باربرا کو پسند کرتا تھا اور اس نے باربرا کے ساتھ شادی کرنے کا وعدہ بھی کررکھا تھا۔سربراہ
‫جس جاسوس کی سفارش کردے اسے ترقی اور انعام دال دیا کرتا تھا۔ باربرا بہت خوش تھی مگر میرنیا نے سربراہ پر اپنا جادو
‫چال لیا۔ اس لڑکی نے اپنی فن کاری سے سربراہ کو باربرا کے خالف بدظن کردیااور اس کے ساتھ محبت کا کھیل کھیلنے
‫لگی۔ باربرا بجھ کے رہ گئی۔ جاسوسی اور تخریب کاری سے اس کی طبیعت اچاٹ ہوگئی۔ ایسے موقعے بھی آئے کہ وہ شک
‫میں پکڑی جانے لگی تھی لیکن بچ گئی۔
‫اسے سلطان ایوبی کے فوج کے کسی بڑے اہم حاکم کے ساتھ لگایا گیا تھا لیکن وہ مطلوبہ کام نہ کرسکی۔ سربراہ کو معلوم
‫ہوگیا کہ اس کے دل میں میرنیاکے خالف رقابت پیدا ہوگئی ہے۔ اس نے بہترسمجھا کہ پورے گروہ کو واپس لے جائے اور اس
‫کی جگہ نیا گروہ بھیجا جائے۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ باربرا میرنیا سے جلنے لگی تھی۔ سربراہ اس کا دشمن بن گیا تھا۔
‫میرنیا اس کے ساتھ طنز اور نفرت سے بات کرتی تھی۔ اسے اپنا انجام نظر آرہا تھا۔ اب میرنیا نے اسے کہا کہ یہ تو ہے
‫ہی اسی قابل تو اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔
‫اس آدمی کے سینے سے صرف میں راز نکال سکتی ہوں''۔ میرنیا نے کہا۔ ''یہ باربرا کے بس کا روگ نہیں''۔''
‫باربرا غصے سے اٹھی اور اپنے خیمے میں چلی گئی۔
‫٭ ٭ ٭

‫یہ آدمی رات کو کہیں بھاگ کے نہیں جاسکتا''۔ سربراہ نے کہا… ''ابھی اس کے پاس بھاگنے کی کوئی وجہ بھی نہیں۔ ''
‫پھر بھی احتیاط الزمی ہے‪ ،اسے بے ہوش کردینا چاہیے''۔
‫تھوڑی دیر بعد میرنیا اس خیمے میں داخل ہوئی جس میں اسحاق ترک سویا ہوا تھا۔ دیا جل رہا تھا۔ میرنیا کے ہاتھ میں
‫ایک رومال تھا جو بے ہوش کرنے والی دوائی میں بھیگا ہوا تھا۔ وہ دبے پائوں اسحاق کے پاس گئی اور بیٹھ گئی۔ اس نے
‫رومال اسحاق کی ناک پر رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد رومال ہٹایا اور باہر نکل گئی۔ اپنے ساتھیوں کے پاس جاکر کہنے لگی…
‫''کل سورج نکلنے کے بعد ذرا ہوش میں آئے گا''۔
‫اطمینان سے سوجائو''۔ سربراہ نے کہا… ''کل ہم صالح الدین ایوبی کے اس جاسوس کو اس کی خواہش کے مطابق گھوڑا''
‫ضرور دیں گے لیکن وہ اس گھوڑے پر قاہرہ نہیں‪ ،بیروت جائے گا۔ یہ ہمارا ہم سفر ہوگا''۔
‫سلطان ایوبی کے ایک جاسوس کو پکڑ لینا ان کے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔ وہ شراب پینے اور خوشیاں منانے لگے۔ میرنیا
‫اچھل کود رہی تھی مگر باربرا جیسے اس جشن سے التعلق تھی۔ اسی لیے وہ اپنے خیمے میں چلی گئی تھی۔ بہت دیر بعد
‫سب ایک ایک کرکے اپنے اپنے خیمے میں چلے گئے۔ باربرا بھی جاچکی تھی۔ اس ٹولے کا سربراہ میرنیا کو اپنے ساتھ وہاں
‫سے دور لے گیا۔باربرا خیمے میں تنہا لیٹی اداسیوں اور ناکامیوں میں الجھی ہوئی تھی۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ سلگنے
‫لگی تھی۔ باہر کے جشن شراب نوشی کا شور اس آگ کو بھڑکا رہا تھا۔ جب شور ختم ہوا تو وہ اور زیادہ بے چین ہوگئی۔
‫اس نے خیمے کا پردہ ہٹا کر دیکھا۔ اسے اپنا سربراہ اور میرنیا ٹیلے کی طرف جاتے نظر آئے۔ چاندنی رات میں وہ کچھ دور
‫تک نظر آئے اور غائب ہوگئے۔
‫باربرا کے کانوں میں میرنیا کے یہ الفاظ گونج رہے تھے… ''صرف میں اس کے سینے سے راز نکال سکتی ہوں''… باربرا ‪:
‫کے دماغ میں یہ سوچ آئی کہ وہ میرنیا کو ناکام کرسکتی ہے۔ اس کا یہ طریقہ ہوسکتا تھا کہ وہ اسحاق ترک کو بتا دے کہ
‫ہم سب صلیبی جاسوس ہیں تاکہ وہ اپنا اصل روپ چھپا لے۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ وہ اسحاق کو وہاں سے بھگا دے۔ یہ
‫سب انتقامی سوچیں تھیں۔ وہ سب کے سوجانے کا انتظار کرتی رہی۔ اسے نیند آرہی تھی۔ اس کے خیمے کا پردہ اٹھا۔ اسے
‫معلوم تھا کہ یہ کون ہے۔ اسے سرگوشی سنائی دی… ''باربرا''۔
‫چلے جائو مارٹن''۔ باربرا نے غم وغصے سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا… ''چلے جائو یہاں سے''۔''
‫مارٹن جانے کے بجائے خیمے کے اندر چال گیا اور باربرا کے پاس جابیٹھا۔ بوال… ''تمہیں آخر ہوکیا گیا ہے۔ کیا تم یہ
‫سمجھتی ہو کہ ہمارا یہ لیڈرمیرنیا کے ساتھ دل سے محبت کرتا ہے؟ اور کیا وہ تمہیں دل سے چاہتا رہا ہے؟ یہ سب
‫بدمعاشی ہے باربرا۔ تم دل پر بوجھ ڈال کر اپنے فرائض سے الپروا ہوگئی ہو۔ اگر سچی محبت کی خواہش مند ہو تو وہ
‫''میرے دل میں ہے‪ ،میں نے تمہیں کب دھوکہ دیا ہے؟
‫تم سراپا دھوکہ ہو''۔ باربرا نے جل کر کہا… ''ہم سب دھوکہ ہیں۔ میں اپنے فرائض سے الپروا نہیں ہوئی‪ ،میرا دل تو ''
‫دنیا سے بھی اچاٹ ہوگیا ہے۔ ہم سب کو بچپن سے فریب کاری کی ٹریننگ دی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہم
‫مسلمانوں کو فریب دے کر انہیں صلیب کے مقابلے میں بے کار کردیں مگرہم ایک دوسرے کو بھی فریب دیتے ہیں۔ ہم صلیب
‫کو گلے میں لٹکا کر بدکاری کرتے تھے‪ ،ایک دوسرے کو دھوکے دیتے ہیں۔ مسلمان ہم سے زیادہ عقل مند ہیں کہ وہ جاسوسی
‫اور تخریب کاری کے لیے اپنی لڑکیوں کو استعمال نہیں کرتے۔ ہمارے لیڈر نے پہلے مجھے محبت کا جھانسہ دیا۔ میرنیا چونکہ
‫زیادہ ہوشیارہے۔ اس لیے اس نے لیڈر پر قبضہ کرلیا۔ تم نے مجھ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور نتیجہ یہ نکال کہ ہمارا
‫سارا گروہ بے کار واپس جارہا ہے۔ اگر تمہارے ساتھ ہم دو لڑکیاں نہ ہوتی تو تم مرد اپنا کام خوش اسلوبی سے کرتے۔ عورت
‫کا وجود مردوں کے درمیان دشمنی پیدا کرتا ہے''۔
‫اسی لیے ہم مسلمانوں کے درمیان اپنی تربیت یافتہ عورتوں کو چھوڑ دیتے ہیں''۔ مارٹن نے کہا… ''ان کے درمیان ''
‫دشمنی پیدا کرنا ہی ہمارا مقصد ہے۔ ہم یہ اس لیے کرتے ہیں کہ اسالم کو زوال آئے اور صلیب کی حکمرانی قائم ہو''۔ اس
‫نے جھنجھال کر باربرا کو اپنی طرف گھسیٹ کر کہا… ''اتنی پیاری رات کو ایسی خشک باتوں سے بے مزہ نہ کرو باربرا۔ آئو
‫باہر چلیں۔ دیکھو چاندنی کتنی حسین ہے''۔
‫میرا دل ٹوٹ چکا ہے''۔ باربرا نے کہا… ''میں ناکام ہوچکی ہوں۔ میرے دل میں نفرت پیدا ہوگئی ہے۔ میں کہیں نہیں ''
‫جائوں گی۔ تم جائو''۔
‫ایک روز تم میرے قدموں میں آبیٹھو گی اور کہو گی‪ ،مارٹن! مجھے بچائو۔ دیکھو یہ لوگ مجھے کتوں کے حوالے کررہے ''
‫ہیں۔ اس وقت میں تمہاری مدد نہیں کرسکوں گا''۔
‫میں اب بھی کتوں کے حوالے ہوں''۔ باربرا نے حقارت سے کہا… ''میں تم سے کبھی مدد نہیں مانگوں گی۔ یہاں سے ''
‫چلے جائو''۔
‫مارٹن غصے سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔ وہ خیمے کا پردہ ہٹا کر اسے دیکھتی رہی اور انتظار کرتی رہی کہ مارٹن سوجائے۔
‫اسے معلوم تھاکہ سربراہ اور میرنیا بہت دیر سے آئیں گے… کچھ دیر بعد وہ خیمے سے نکلی۔ وہ اٹھی نہیں‪ ،پائوں پر بیٹھے
‫بیٹھے ایک طرف کو سرکتی گئی۔ آگے ذرا گہرائی تھی۔ اس میں اتر گئی‪ ،وہاں سے جھک کر چلتی چشمے کے پیچھے گئی
‫اور دور کا چکر کاٹ کر اسے خیمے کے قریب پہنچ گئی جس میں اسحاق ترک بے ہوش پڑا تھا۔ باربرا کو معلوم نہیں تھا
‫کہ اسے بے ہوش کردیا گیا ہے۔ وہ بیٹھ گئی اور پائوں پر سرکتی خیمے کے اندر چلی گئی۔ دیا جل رہا تھا۔ اس نے اسحاق
‫کو ہالیا مگر وہ نہ جاگا۔ اس کے سر کو پکڑ کر جھنجھوڑا‪ ،اسے بالیا۔ اسحاق ترک پر کچھ اثر نہ ہوا۔
‫اٹھو بدبخت''۔ اس نے اسحاق کے منہ پر تھپڑ مار کر کہا… ''تم دھوکے میں آگئے ہو۔ ہم سب جاسوس ہیں۔ تم قاہرہ ''
‫نہیں پہنچ سکو گے‪ ،بیروت کے قید خانے کے تہہ خانے میں اذیت ناک موت مرو گے''۔
‫اسحاق بے ہوش پڑا رہا جیسے مر گیا ہو۔ باربرا کو خیمے کے باہر ہلکی ہلکی ہنسی کی آوازیں سنائی دینے لگیں‪ ،مگر وہ
‫گھبرائی نہیں۔ وہ تربیت یافتہ تھی۔ آوازیں قریب آگئیں تو بھی وہ اسحاق کے پاس بیٹھی رہی۔ آوازیں خیمے تک پہنچ گئیں۔
‫ان میں ایک آواز میرنیا کی تھی‪ ،وہ سربراہ کے ساتھ اپنے قیدی کو دیکھنے آئی تھی۔
‫ہم سب مسلمان ہیں''۔ باربرا نے اسحاق سے مخاطب ہوکر بلند آواز سے کہا… ''ہم تمہیں ایسا گھوڑا دیں گے جو تمہیں''
‫دو دنوں میں قاہرہ پہنچا دے گا''۔
‫باربرا!'' اسے اپنے سربراہ کی آواز سنائی دی۔ اس نے گھوم کے دیکھا‪ ،خیمے میں سربراہ اور میرنیا کھڑے تھے۔ سربراہ ''
‫نے کہا… ''تم اپنا فرض ابھی ادا نہیں کرسکو گی۔ اسے بے ہوش کردیا گیا ہے''۔
‫یہ میرا شکار ہے باربرا!''۔ میرنیا نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا… ''یہ صرف مجھے معلوم ہے کہ اس کے سینے سے میں''

‫کیسے راز نکال سکتی ہوں''۔
‫سربراہ اور میرنیا ہنس پڑے۔ باربرا اس طنزیہ ہنسی کو سمجھ گئی۔ اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے بولی… ''میں نے ''
‫کوئی غلطی تو نہیں کی‪ ،اپنا فرض ادا کررہی ہوں''۔
‫جائو سوجائو''۔ سربراہ نے اسے کہا۔''
‫وہ اٹھی اور باہر نکل گئی۔ سربراہ نے اسحاق کی نبض پر ہاتھ رکھا‪ ،پھر میرنیا کو ساتھ لے کر باہر نکل گیا۔ اسحاق ترک
‫سلطان ایوبی کے لیے بڑی ہی اہم اطالع لیے گہری بے ہوشی میں پڑا رہا۔
‫٭ ٭ ٭
‫علی بن سفیان!'' قاہرہ میں سلطان ایوبی نے اپنی انٹیلی جنس کے سربراہ علی بن سفیان سے کہا… ''ادھر سے ابھی ''
‫تک کوئی اطالع نہیں آئی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کوئی ہلچل نہی۔ میں تسلیم نہیں کرسکتا''۔
‫اور میں یہ تسلیم نہیں کرسکتاکہ وہاں کوئی تبدیلی یا ہلچل ہو تو ہم تک اطالع نہ پہنچے''… علی بن سفیان نے کہا… ''
‫'' وہاں ہمارے جو آدمی ہیں وہ معمولی سوجھ بوجھ والے نہیں‪ ،اسحاق ترک کو آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ زمین کا
‫سینہ چیر کررازاور خبریں النے واال آدمی ہے۔ باقی بھی اسی جیسے ہوشیار اور عقل والے ہیں''۔
‫صلیبی ان واقعات سے ضرور فائدہ اٹھائیں گے جو اس طرف رونما ہوئے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''بالڈون اپنے ''
‫فرنگی لشکر کے ساتھ حلب اور موصل کے اردگرد موجود ہے''۔
‫مگر الملک الصالح مرگیا ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''اب حلب کا حکمران عزالدین ہے۔ وہ صلیبیوں کے ہاتھ آنے ''
‫واال نہیں''۔
‫علی!'' سلطان ایوبی نے قدرے حیرت سے کہا… ''تم بھی خوش فہمیوں میں مبتال ہورہے ہو؟ تم شاید اس خیال سے ''
‫عزالدین کو پکا مسلمان سمجھتے ہو کہ میں اسے اپنا دوست سمجھتا ہوں اور میں نے اس کی مدد کے لیے اپنا منصوبہ بدل
‫کر تل خالد پر حملہ کیا اور آرمینیوں سے ہتھیار ڈلوائے تھے مگر میں اپنے مسلمان حکمرانوں اور امراء پر بھروسہ نہیں
‫کرسکتا۔ عزالدین ہمارا اتحادی ہوسکتا ہے‪ ،اس کے امرائ‪ ،وزراء میں صلیبیوں کے خیر خواہ موجود ہیں۔ علی! تم نے دیکھا
‫نہیں کہ مومن قسم کے حکمران بھی اپنے وزیروں اور مشیروں کے خوشامدانہ مشوروں کے جال میں آکر مومن رہتے ہوئے بھی
‫وطن اور قوم کو غلط فیصلوں سے تباہی کی کھائیوں میں پھینک دیتے ہیں؟ میں مشیروں کے خالف نہیں۔ یہ قرآن پاک کا
‫حکم ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا نے دیا تھا کہ فیصلے سے پہلے مشورہ کرلیا کرو‪ ،مگر حکمران میں
‫اتنی عقل ہونی چاہیے کہ مشورہ دینے والوں کی نیت اور کردار کو سمجھے۔ خوشامد حکمرانی کے نشے کو اور تیز کرتی ہے۔
‫ایک وقت آتا ہے کہ حکمران خوشامد کی سریلی لوریوں سے میٹھی نیند سوجاتاہے۔ سوئے ہوئے ذہن واال حکمران کتنا ہی
‫غازی اور زاہد کیوں نہ ہو قوم اور وطن کو لے ڈوبتا ہے۔ یہی خطرہ مجھے عزالدین کی طرف سے نظر آرہا ہے''۔
‫میں اس توقع پر بات کررہا ہوں کہ نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ نے عزالدین کے ساتھ شادی کرلی ہے''۔ علی بن ''
‫سفیان نے کہا… ''آپ تک یہ اطالع پہنچ چکی ہے کہ محترمہ رضیع خاتون نے یہ شادی صرف اس لیے قبول کی کہ حلب
‫''اور موصل کی امارتیں ان کی فوجیں ہماری اتحادی رہیں۔ اس خاتون کو شادی کی اور کیا ضرورت ہوسکتی تھی؟
‫اس کے باوجود مجھے شک ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اور میرے شک کی وجہ یہ ہے کہ عزالدین صلیبیوں کے ''
‫خطرے کی برا ِہ راست زد میں ہے۔ وہ اپنے تحفظ کے لیے بھی صلیبیوں کا درپردہ اتحادی بن سکتا ہے۔ مجھے وہاں کی
‫اطالع جلدی ملنی چاہیے ۔ تم میری آنکھیں اور کان ہو علی ! میں نے اندھیرے میں کبھی پیش قدمی نہیں کی ''۔
‫کچھ دن اور انتظار کر لیا جائے''۔علی بن سفیان نے کہا ۔''
‫' … میں زیادہ دیر انتظار نہیں کروں گا ''۔ سلطان ایوبی نے کہا''
20:56
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر۔‪ 128سانپ اور صلیبی لڑکی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫میں زیادہ دیر انتظار نہیں کروں گا ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' تم جانتے ہو میں نے فوج کو تیاری کا حکم دے رکھا
‫ہے ۔ یہ تمہارے سامنے کی بات ہے کہ میں دان رات فوج کو جنگی مشقیں کرارہا ہوں ۔ پر راز کی یہ بات بھی ُسن لو کہ
‫میں حلب اور مو صل کی طرف نہیں جائوں گا ۔میرا ہدف اب بیروت ہوگا ۔ میں اب دفاعی جنگ نہیں لڑوں گا ۔ حلب
‫وغیرہ کے عالقوں میں اپنی فوج لے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ میں ان عالقوں کے دفاع کے لیے جا رہا ہوں ۔ اب میرا
‫انداز جارحانہ ہوگا ۔ بیروت فرنگیوں کا دل ہے‪ ،ٹانگوں اور بازئوں پر وار کرنے کی بجائے کیوں نہ ہم دشمن کے دل پر ایک
‫ہی وار کرکے ختم کر دیں۔ اب میں قوم اور فوج کو جارحیت کی تربیت دے رہا ہوں۔ اپنے عالقوں میں لڑتے رہنے سے ہم
‫بیت المقدس تک کبھی نہیں پہنچ سکتے……معلوم کرو علی ! معلوم کرو۔ وہاں سے ابھی تک کوئی اطالع کیوں نہیں آئی ۔
‫مجھے دو راز درکار ہیں ۔ ایک یہ کہ بیروت میں فرنگی فوج کی سرگرمیاں کیا ہیں اور حلب میں ع ّز الدین کی نیت کیا
‫''ہے۔ کیا ہم ایک اور خانہ جنگی کی طرف تو نہیں بڑھ رہے ؟
‫بیروت میں اسحاق ترک ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا …… ''وہ خود نہ آیا تو کسی اور کو بھیج دے گا ''۔ علی بن ''
‫سفیان نے کہا …… ''میں یہاں سے کسی کو روانہ کردیتا ہوں''۔
‫میں زیادہ دن انتظار نہیں کر سکتا علی !''سلطان ایوبی نے کہا …… ''یہاں سے کسی کو روانہ کرو گے ۔ وہ جائے گا ۔''
‫وہاں کے حاالت معلوم کرے گا اور واپس آئے گا ۔ اس میں کم از کم تین مہینے لگ جائیں گے ‪ ،میں چند دنوں تک فوج کو
‫کوچ کا حکم دے دوں گا ''۔
‫تو پھر آپ اندھیرے میں پیش قدمی کریں گے؟'' علی نے پوچھا ۔''
‫چھاپہ ماروں کو ہر اول سے بہت آگے پھیال کر رکھوں گا ''۔ ایوبی نے کہا …… '' میں اللہ کے حکم سے اللہ کی سر ''
‫زمین کی آبرو کی خاطر جا رہا ہوں۔ میں اپنی سالمتی کے لیے سفر میں آرام سے نہیں بیٹھ سکتا ''۔
‫یہ اپریل ‪١١٨٢ء کے دن تھے جب سلطان صالح الدین ایوبی اور علی بن سفیان اپنے اُن جاسوسوں میں سے کسی کا انتظار
‫بے تابی سے کر رہے تھے جو انہوں نے صلیبیوں کے مقبوضہ مسلمان عالقوں اور حلب وغیرہ میں بھیج رکھے تھے ۔ آپ
‫پیچھے پڑھ آئے ہیں کہ اس سے دو ماہ قبل نورالدین زنگی مرحوم کا بیٹا الملک الصالح جو والئی حلب بن کر سلطان ایوبی
‫کے خالف ہو گیا تھا ‪،مر گیا تھا ۔ سلطان ایوبی کے ساتھ جنگ نہ کرنے اور اُس کا اتحادی رہنے کے معاہدے کے باوجود وہ

‫درپردہ صلیبیوں کا حواری رہا تھا۔ اُس کی موت صلیبیوں اور سلطان ایوبی کے لیے بہت اہم واقعہ تھا۔ الملک الصالح نے مرنے
‫سے پہلے عزالدین مسعود کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا ۔ یہ واقعہ بھی اہم تھا اور سب سے زیادہ اہم یہ واقعہ ہوا تھا کہ
‫عزالدین کی خواہش کے مطابق نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ (الملک الصالح کی ماں) رضیع خاتون نے اُس کے ساتھ شادی
‫کرلی تھی ۔ رضیع خاتون شادی کی خاطر شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ سلطان ایوبی کے بھائی العادل نے اس تک عزالدین
‫کا پیغام لے کر ا ُسے کہا تھا کہ یہ شادی دمشق اور حلب کی ہوگی ‪ ،اس سے آئندہ خانہ جنگی کا خطرہ ختم ہو جائے گا
‫اور صلیبیوں کے خالف محاذ مضبوط کیا جاسکے گا ۔ رضیع خاتون یہ کہہ کر رضا مند ہوگئی تھی کہ میری ذاتی خواہشیں مر
‫ِ
‫عظمت اسالم کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔
‫چکی ہیں ۔ میں
‫ا ُس نے قربانی دے دی اورعزالدین کے ساتھ شادی کرلی ۔ حلب اور موصل کی امارتوں پر بڑی مدت سے صلیبیوں کے اثرات
‫کا م کر رہے تھے جس کے نتیجے میں یہ امارتیں سلطان ایوبی کے خالف متحد ہوگئیں اور تین سال مسلمانوں میں خانہ
‫جنگی ہوتی رہی تھی ۔ آپ اس کی تفصیالت پڑھ چکے ہیں ۔ اب رضیع خاتون نے عزالدین کے ساتھ شادی کرلی تو صلیبیوں
‫کو یہ فکر الحق ہوئی کہ رضیع خاتون صلیبیوں کے سب سے بڑے دشمن زنگی کی بیوہ ہے اس لیے وہ حلب اور موصل اور
‫دیگر مسلمان عالقوں سے صلیب کے اثرات ختم کردے گی ۔ ادھر مصر میں سلطان ایوبی کو یہ پریشانی الحق تھی کہ صلیبی
‫جنگی کاروائی کریں گے۔ سلطان نے یہ بھی سوچا تھا کہ عرب سے اس کی غیر حاضری سے صلیبی فائدہ اٹھائیں گے۔
‫سلطان ایوبی نے حاالت کا اور آنے والے حاالت کا بھی جائزہ لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ بیشتر اس کے کہ صلیبی پیش قدمی
‫کرکے حلب اور موصل کا محاصر ہ کرلیں ‪ ،وہ مصر سے برق رفتار پیش قدمی کرے اور بیروت کو محاصرے میں لے لے‪ ،یہ بڑا
‫ہی نازک اور خطرناک فیصلہ تھا ۔ بیروت کو محاصرے میں لینے کے لیے اُسے فوج دشمن کے عالقے میں سے گزار کر لے
‫جانی تھی ۔ راستے میں ہی تصادم کا خطرہ تھا ۔ بہرحال سلطان ایوبی نے تمام خطروں کا جائزہ لے لیا تھا اور ہر قسم کی
‫ِ
‫صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھا ۔ اُس نے جاسوسوں کی اطالعات کے بغیر کم ہی کبھی پیش قدمی کی تھی
‫لیکن اب حاالت کا تقاضا کچھ اور تھا ۔ ا ُسے سب سے زیادہ ضرورت اس اطالع کی تھی کہ عزالدین کی نیت کیا ہے اور کیا
‫رضیع خاتون کا وہاں کوئی اثرپڑ رہا ہے یا نہیں ۔
‫علی بن سفیان کے بھیجے ہوئے جاسوس اناڑی نہیں تھے ۔ راز حاصل کرتے اور قاہرہ تک پہنچانے کے لیے وہ جان کی بازی
‫لگا دیا کرتے تھے۔ انہیں یہ سبق ہمیشہ یاد رہتا تھا کہ آدھی جنگ جاسوس جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی جیت لیا کرتے
‫ہیں اور یہ بھی کہ صرف ایک جاسوس کی کوتاہی یا غلط اطالع اپنی پوری فوج کو مروا سکتی ہے اور یہ بھی کہ صرف
‫ایک جاسوس دشمن کی فوج سے ہتھیار ڈلوا سکتا ہے ۔ علی بن سفیان کواسحاق ترک پر پورا پورا بھروسہ تھا ۔ یہ بھروسہ
‫بجا تھا ۔ اسحاق ترک بڑے ہی اہم راز لے کر قاہرہ کے لیے روانہ ہوا تھا ۔ وہ سلطان ایوبی کو خبر دار کرنے آرہا تھا کہ
‫بالڈون کا فرنگی لشکر بیروت کے ارد گرد دور دور تک پھیل گیا ہے اور عزالدین صلیبیوں کی طرف جھک رہاہے‪ ،اس لیے
‫سلطان کہیں بیروت کی طرف فوج نہ لے جائیں اور اگر ا ُدھر کوہی پیش قدمی کا ارادہ ہو تو اسحاق ترک سلطان کو فرنگیوں
‫کی فوج کے پھیالئو اور پوزیشنوں کا نقشہ بتانے آرہا تھا …… مگر وہ راستے میں ہی صلیبی جاسوسوں کے گروہ کے جال میں
‫آگیا تھا ۔ ''آخر و ہ کیا اطالع ہے جو تم سلطان صالح الدین ایوبی تک لے جارہے ہو''……صلیبی جاسوسوں کے اس گروہ
‫کے سربراہ نے اسحاق ترک سے پوچھا اور کہا …… '' ہم بھی مسلمان ہیں ۔ سلطان کے وفادار اور شیدائی ہیں ۔ تمہارے
‫لیے گھوڑا تیار کھڑا ہے ۔ کھانے پینے کا سامان گھوڑے کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے ''۔
‫اللہ ہمارے سلطان کو ایسے وفاداروں اور شیدائیوں سے محفوظ رکھے '' …… اسحاق نے کہا ۔ ''میں نے اس لڑکی کو ''
‫کہا تھا کہ آدھی رات کے کچھ دیر بعد مجھے جگا دینا ۔ میں فورا ً روانہ ہونا چاہتا تھا مگر تم نے مجھے جگا یا نہیں ۔ آدھا
‫دن گزر گیا ہے ۔ وقت الگ ضائع ہوا اور اب میں روانہ ہوا تو گھوڑا اتنا سفر طے نہیں کر سکے گا جتنا رات کو کر سکتا
‫''۔
‫تم بہت تھکے ہوئے تھے ''۔میرنیا نے پیار سے کہا …… ''تم ایسی گہری نیند سوئے ہوئے تھے کہ تمہیں جگانا ظلم ''
‫سمجھا ۔ گھوڑا اتنا اچھا ہے کہ جو وقت ضائع ہوا ہے گھوڑا اسے پورا کردے گا ''۔
‫اسحاق ترک کو ابھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ جسے وہ تھکن کے بعد کی گہری نیند سمجھتا رہا ہے وہ کسی دوائی کے
‫اثر کی بے ہوشی ہے ۔ اتنا زیادہ وقت سونے کے بعد بھی اُس کا جسم ٹوٹ رہا تھا ۔ یہ دوائی کا اثر تھا جسے وہ تھکن
‫کا اثر سمجھ رہا تھا ۔ وہ سفر کے قابل نہیں تھا لیکن فورا ً روانہ ہونے کے لیے بے قرار تھا ۔ اُس کی آنکھ اس وقت کھلی
‫تھی جب سورج سر پر آیا ہوا تھا ۔ جاسوسوں کا سربراہ اور میرنیا اُس کے ہوش میں آنے سے پہلے ہی اُس کے پاس بیٹھ
‫گئے تھے ۔ ا ُس کی آنکھ کھلی تو اس کے ساتھ باتیں کرنے لگے ۔ انہوں نے ایسی باتیں کیں جن سے اسحاق ترک کو ان
‫پر ذرا سا بھی شبہ نہ ہوا۔ وہ انہیں مسلمان سمجھتا رہا لیکن وہ اُن کے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کررہا تھا کہ وہ
‫سلطان ایوبی کے لیے کیا اطالع لے کے جا رہا ہے۔
‫سربراہ باہر نکل گیا ۔ یہ اشارہ تھا کہ میرنیا اسے اپنے جادو سے رام کرے۔ اس دلکش لڑکی نے اُسے جذبات کو مشتعل
‫کردینے والے انداز سے کہا کہ وہ اسے دل و جان سے چاہنے لگی ہے اور بھی بہت کچھ کہا ۔
‫قاہرہ چل کر عشق و محبت کے لیے وقت نکال سکوں گا''
‫۔ اسحاق نے کہا …… ''اگر تم مجھے دل و جا ن سے چاہتی ہو تو مجھے فرض ادا کرنے میں مدد دو''۔ وہ اُٹھ '' ‪:
‫کھڑا ہوا اور خیمے سے نکل گیا ‪ ،کہنے لگا ۔''مجھے فورا ً گھوڑا دو ''۔
‫کچھ کھا پی لو ''۔ میرنیا نے اسے بازو سے پکڑ کر خیمے میں واپس لے جاتے ہوئے کہا …… '' میں تمہیں بھوکا پیاسا''
‫تو نہیں جانے دوں گی ''۔ وہ اسحاق سے بغلگیر ہو گئی مگر اسحاق کو فرض نے پتھر بنا دیا تھا ۔ میرنیا نے اُسے بٹھا
‫دیا اور خیمے کے دروازے میں جا کر بلند آواز سے کہا …… ''کھانا فورا ً الئو ‪ ،وقت نہیں ہے ''۔
‫کھانا باربرا لے کر آئی اور اسحاق کے آگے رکھ کر پیچھے ہٹ گئی ۔ میرنیا اسحاق کے پاس بیٹھی تھی اور باربرا اُدھر جا
‫کھڑ ی ہوئی جدھر میرنیا کی پیٹھ تھی ۔ اسحاق نے کھانا کھاتے ہوئے باربرا کی طرف دیکھا ۔ باربرا نے ہاتھ میں چھوٹی
‫سی صلیب چھپا رکھی تھی ۔ ا ُس نے یہ صلیب اسحاق کو دکھائی ‪ ،اپنے سینے پر ہاتھ رکھا ۔ مرینا کی طرف اشارہ کیا پھر
‫باہر کو اشارہ کرکے انگلی ہالئی اور انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھی ۔ وہ خیمے سے نکل گئی ۔ یہ اشارے اتنے واضح تھے کہ
‫اسحاق صاف سمجھ گیا کہ یہ سب صلیبی ہیں اور انہیں کچھ نہیں بتانا۔ وہ چونک اٹھا لیکن استاد تھا۔ اپنے رد عمل کا
‫اظہار نہ کیا ‪ ،شک پختہ ہو گیا ۔ اسے اس سوال کا جواب مل گیا کہ یہ لوگ اس پر اصرار کیوں کر رہے ہیں کہ وہ
‫سلطان ایوبی کے لیے کیا اطالع لے کر جا رہا ہے ۔ تب اسے یہ خیال بھی آیا کہ اسے نیند پر اتنا قابوتھا کہ ایسی بے

‫ہوشی کی نیند کبھی نہیں سویا تھا ۔ اسے جاگتے ہی ناک میں عجیب سے بُو بھی محسوس ہوئی تھی ۔ وہ جان گیا کہ
‫اسے سوتے میں ہی بے ہوش کر دیا گیا تھا ‪ ،مگر اسے اس سوال کا کوئی جواب نہ سوجھا کہ دوسری لڑکی اُسے یہ اشارے
‫کیوں کر گئی ہے ۔ کیا وہ کوئی مسلمان لڑکی ہے جو اُن کے جال میں پھنسی ہوئی ہے؟
‫میرنیااسے اپنی بڑی ہی پیاری باتوں اورمسحور کردینے والی مسکراہٹوں اورادائوں سے اپنے جال میں پھانسنے کی کوشش کر رہی
‫تھی اور اسحاق کا دماغ بڑی تیزی سے سوچ رہا تھا کہ وہ کیا کرے اور ان لوگوں سے کس طرح رہائی حاصل کرے ۔ اُس نے
‫میرنیا سے پوچھا کہ اس قافلے میں کتنے آدمی ہیں ۔ میرنیا نے بتا دیا ۔ کچھ اور باتیں پوچھیں اور کہا …… '' چلو مجھے
‫گھوڑا دو '' …… وہ باہر نکل گیا ۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ باہر کتنے آدمی ہیں اور اس کے نکل بھاگنے کے امکانات کیا ہیں
‫؟ باہر اس نے کوئی گھوڑا نہ دیکھا جو اُسے بتایا گیا تھا کہ اس کے لیے تیار کھڑا ہے۔ میرنیا اُس کے پاس آن کھڑ ی ہوئی
‫۔
‫گھوڑا کہا ں ہے؟'' اسحاق نے پوچھا ۔''
‫میں جا کر دیکھتی ہوں''۔وہ چلی گئی ۔''
‫٭ ٭ ٭
‫تم ٹھیک کہتے تھے ''۔میرنیا نے اپنے سربراہ کو جا کر بتایا ۔ ''یہ شخص پتھر ہے۔ وہ گھوڑے کے سوا کوئی بات نہیں''
‫کرتا ۔ ہم جو پوچھتے ہیں اس کا نام نہیں لینے دیتا ''۔
‫''اسے کوئی شک تو نہیں ہوا؟''
‫ابھی نہیں ''۔میرنیا نے جواب دیا ۔ ''لیکن وہ بتائے گا کچھ بھی نہیں ''۔''
‫اس کا مطلب کہ تم ناکام ہو گئی ہو''۔''
‫انہیں معلوم نہیں تھا کہ باربرانے ان سے انتقام لیا ہے اور اُس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ میرنیا کوئی جادوگرنی نہیں جو نا
‫ممکن کام بھی کر دکھائے گی۔ وہ تو یہ بھی سوچ رہی تھی کہ سلطان ایوبی کے اس جاسوس کو وہاں سے بھاگ جانے میں
‫مدد دے لیکن یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا ۔
‫اسحاق پھر خیمے سے نکل گیا ۔ اس نے میرنیا اور اس کے سربراہ کو دیکھ لیا ۔ وہ دور کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ وہ اُن
‫کی طرف دوڑ ا گیا اور پوچھا کہ گھوڑا کہاں ہے۔
‫کہیں بھی نہیں ہے ''۔ سربراہ نے بالکل ہی بدلے ہوئے لہجے میں کہا…… '' تم کہیں بھی نہیں جا سکو گے ''۔''
‫اسحاق نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھا ۔ وہاں نہ تلوار تھی نہ خنجر۔ اُس نے ان لوگوں کو اصلیت جان لینے کے باوجود کہا ……
‫''میں حیران ہوں کہ تم مسلمان ہوتے ہوئے میرے راستے میں آرہے ہو''۔
‫اگر ہم سے عزت کرانا چاہتے ہو تو بتادو کہ اپنے سلطان کے لیے کیا پیغام لے کر جا رہے ہو''۔سربراہ نے پوچھا۔''
‫صرف اتنا سا پیغام ہے کہ ہمارے ایک امیر عزالدین نے نورالدین زنگی کی بیوہ کے ساتھ شادی کر لی ہے ''۔ اسحاق ''
‫نے کہا ۔
‫یہ خبر پرانی ہو گئی ہے ''۔ سربراہ نے کہا …… ''تمہارا سلطان دو ماہ گزرے یہ خبر سن چکا ہے اور وہ اپنی فوج کو''
‫شام میں لڑانے کے لیے تیار کر رہا ہے ۔ صحیح بات بتائو''۔
‫کیا تم صحیح بات بتا دیا کرتے ہو؟''اسحاق ترک نے پوچھا۔''
‫تمہیں صحیح بات بتانی ہوگی''۔سربراہ نے کہا …… ''اور تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا ۔ تم نہتے ہو۔ نہتے نہ بھی ہوتے''
‫تو اتنے آدمیوں سے لڑ نہ سکتے …… سنو دوست! میں تمہارے زندہ رہنے اور شہزادوں کی طرح زندہ رہنے کی ایک صورت
‫پیدا کر سکتا ہوں ۔ میری تجویز منظور کر لو۔ ہمارے ساتھ چلو۔ ہمارے لیے یہی کام کروجو صالح الدین ایوبی کے لیے کر
‫رہے ہو اور زروجواہرات میں کھیلو''۔ اس نے میرنیا کی طرف اشارہ کرکے کہا …… ''اس قسم کی لڑکیاں تمہاری خدمت کے
‫لیے حاضر رہا کریں گے۔ کیوں صحرائوں میں مارے مارے پھر رہے ہو''۔
‫''میں صلیب کے لیے کام کروں؟''
‫نہیں کرو گے تو ہمارے کسی قید خانے کے تہہ خانے میں بند رہو گے ''۔سربراہ نے کہا ۔'' وہ ایسی جہنم ہوگی کہ نہ''
‫مرو گے نہ جیو گے ۔ تم اس سزا کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ تصور بھی خوفناک ہوگا ۔ سوچ لو اور ہمارے ساتھ چلو ۔
‫تم واپس تو نہیں جا سکو گے ''۔
‫تم مجھ پر کس طرح اعتماد کرو گے ''۔اسحاق ترک نے کہا …… ''میں تمہارے گروہ میں شامل ہو جائوں تو مجھے ''
‫میرے ہی عالقے میں بھیجو گے۔ تم کس طرح یقین کرو گے کہ میں اپنے ہی عالقے میں نہیں رہ جائوں گا اور تمہیں دھوکہ
‫نہیں دوں گا ''۔
‫ہمارے پاس اس کا انتظام ہے ''۔ صلیبی سربراہ نے کہا ۔ ''تم اپنے عالقے کی بات کرتے ہو‪ ،ہم تمہیں تمہارے گھر کے''
‫تہہ خانے سے بھی نکال الئیں گے ۔ تمہارا خیال ہے کہ تمہارے ملک میں ہمارے جتنے جاسوس ہیں ۔ ان میں تمہارے ملک
‫کا کوئی باشندہ نہیں ؟ دس جاسوسوں کے ایک گروہ میں صرف دو آدمی ہمارے اور دس تمہارے اپنے بھائی ہوتے ہیں ۔ ان
‫میں سے کوئی ہمیں دھوکہ دینے کی جرٔات نہیں کر تا۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسی جرٔات کرنے والے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ ہم
‫صرف ا ُسے قتل نہیں کرتے ۔ سب سے پہلے اس کے بیوی بچوں کوایک ایک کرکے قتل کرتے اور ہر الش اُس کے سامنے
‫رکھ دیتے ہیں اور جو ہمارے وفادار رہتے ہیں ان کے لیے یہ دنیا بہشت بنی رہتی ہے۔ اُن میں سے جو پکڑا جا تا ہے اُس
‫کے گھر والوں کے گھر جا کر وہاں ہم نقدی کے انبار لگا دیتے ہیں ''۔
‫''مجھے سوچنے دو''۔ اسحاق نے کہا …… ''یہاں سے کب روانگی ہوگی؟''
‫آج ہی ''۔سربراہ نے کہا …… ''آدھی رات کے بعد ۔ تم سوچ لو ۔ یہ بھی سوچ لینا کہ انکار کے بعد تم آزاد نہیں ہو ''
‫سکو گے''۔
‫میں جانتا ہوں''۔''
‫اور تمہیں یہ بھی بتانا پڑے گا کہ کیا راز لے کے جا رہے ہو''۔ سربراہ نے کہا ۔''
‫بتا دوں گا ''۔اسحاق نے جواب دیا ۔ ''میرا ذہن بہت حدتک آمادہ ہو گیا ہے''۔''
‫جائو ۔ ابھی آرام کرو''۔ سربراہ نے کہا ۔''
‫اسحاق ترک خیمے کی طرف چل پڑا ۔
‫٭ ٭ ٭

‫دو ماہ پہلے کا ذکر ہے کہ عزالدین نے نورالدین زنگی کی بیوہ رضیع خاتون کے ساتھ شادی کر لی تو رضیع خاتون کو اس
‫شادی کی صرف یہ خوشی تھی کہ وہ عزالدین کو اپنے زیر اثر رکھے گی اور حلب کی افواج سلطان ایوبی کی افواج کی
‫اتحادی بن جائیں گی۔ خانہ جنگی میں مسلمانوں کی فوجوں کی بڑی ہی کارآمد نفری ماری گئی تھی ۔ اتنی زیادہ جنگی قوت
‫ضائع ہوئی جو صلیبیوں کو سرزمین عرب سے نکال سکتی تھی اور فلسطین کو آزاد کرایا جا سکتا تھا ۔ رضیع خاتون کو توقع
‫تھی کہ عزالدین ا ُسے اپنامشیر بنا لے گا مگر شادی کے کے پہلے روز جب رضیع خاتون نے اُس کے ساتھ اس قسم کی باتیں
‫کیں تو اس نے دیکھا کہ عزالدین کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ۔ اس کے انداز میں اکتاہٹ تھی ۔ وہ اس کمرے میں سویا بھی
‫نہیں ‪ ،محل کے کسی اور کمرے میں چال گیا ۔
‫رضیع خاتون نے اُس کا یہ رویہ اس لیے برداشت کر لیا کہ اُس نے امارت کو ابھی ابھی ہاتھ میں لیا ہے اس لیے مصروف
‫بھی ہوگا اور اُس کا ذہن امارت کے جھمیلوں میں اُلجھا ہوگا ۔ وہ خود امارت کے مسئلو ں میں ‪ ،خصوصا ً فوج کے معامالت
‫میں دلچسپی لینا اور کام کرنا چاہتی تھی ۔نورالدین زنگی کی زندگی میں اُس نے بہت کام کیے تھے ۔ اُس نے دمشق کی
‫جوان لڑکیوں کو جنگی تربیت دے رکھی تھی ۔ وہ صحیح معنوں میں مجاہدہ تھی ۔ اس لیے وہ سلطان ایوبی کی مرید
‫تھی ۔
‫صبح ہوئی تو وہ اپنے کمرے سے نکلی۔ ٹہلتی ٹہلتی محل کے اندر اندر کچھ دور چلی گئی۔ بہت بڑا محل تھا ۔ اُسے دور
‫ایک باغیچہ نظر آیا ۔ اس میں پانچ چھ جوان لڑکیاں ہنس کھیل رہی تھیں ۔ وہ ابھی اُن سے ُدور ہی تھی ۔ ایک ادھیڑ
‫عمر عورت جس کا چہرہ کرخت سا تھا وہ دوڑی آئی اور رضیع خاتون سے کہنے لگی ۔ ''آپ اپنے کمرے میں چلی
‫جائیں''۔
‫''کیوں؟''
‫محترم امیر کا یہی حکم ہے ''۔ عورت نے بتایا …… ''آئیے‪ ،میں آپ کو وہ جگہ بتا ئوں جہاں آپ گھوم پھر سکتی ''
‫ہیں ۔ انہوں نے سختی سے حکم دیا ہے کہ آپ کو ادھر نہ آنے دیا جائے ''۔
‫اگر میں حکم نہ مانوں تو کیا ہوگا ؟''رضیع خاتون نے پوچھا۔''
‫مجھے گستاخی کا موقع نہ دیں ''۔عورت نے التجا کے لہجے میں کہا …… ''مجھے آقا کا حکم ماننا ہے اور منوانا بھی ''
‫ہے ''۔
‫ایک اور ادھیڑ عمر عورت آگئی۔ وہ رضیع خاتون کے پاس ُرک گئی۔ اُس نے رضیع خاتون کو ساتھ لیا اور اُس کے کمرے میں
‫لے آئی ‪ ،کہنے لگی …… '' میں آپ کی خادمہ ہوں اورمجھے ہر وقت آپ کے پاس رہنے کا حکم مال ہے اور یہ حکم
‫مجھے بھی مال ہے کہ آپ کو ایک خاص حد سے زیادہ باہر نہ جانے دیا جائے ''۔ رضیع خاتون سٹپٹا اُٹھی ۔ اس کی
‫خادمہ نے کہا …… '' آپ گھبرائیں نہیں ۔ میں جانتی ہوں آپ کیا کیا خواب دیکھ کر یہاں آئی ہیں ۔ آپ کا ہر خواب
‫خواب ہی رہے گا ۔ مجھے اپنا ہمدرد اور ہمراز سمجھیں۔ اس محل پر صلیبیوں کے گھنائونے سائے پڑے ہوئے ہیں ۔ آپ کا
‫بیٹا ان کے ہاتھ میں کھلونا بنا رہا ‪ ،اب نیا امیر بھی جو آپ کا خاوند ہے صلیبیوں کا حاشیہ بردار بنے گا ۔ یہاں کے بہت
‫سے وزیر اور مشیر صلیبیوں کے زیر اثر ہیں ''۔
‫صالح الدین ایوبی کے متعلق محل کے لوگوں کی کیا رائے ہے ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا …… کیا اُس کا کہاں کچھ اثر ''
‫نہیں ؟
‫اتنا نہیں جتنا صلیبیوں کا ہے ''۔ خادمہ نے رازداری سے کہا ……''محل میں سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوس ''
‫موجود ہیں ۔ میں خود اسی گروہ سے تعلق رکھتی ہوں ۔ آپ کو میں اچھی طرح سے جانتی ہوں ‪ ،اسی لیے آپ کو بتا دیا
‫ہے کہ میں کیا ہوں۔ میں ابھی آپ کو ساری باتیں نہیں بتائوں گی ۔ آپ عزالدین سے شکایت کریں کہ آپ کو اُس نے اس
‫کمرے کا قیدی کیوں بنا لیا ہے '' ۔
‫وہ تو میں کروں گی ''۔''
‫آپ پر اس کی نیت واضح ہو جائے گئی ''۔ خادمہ نے کہا …… '' بعد کے حاالت تصدیق کر دیں گے کہ میں جھوٹ ''
‫نہیں بول رہی ۔ حقیقت یہ ہے کہ عزالدین نے آپ کے ساتھ شادی صرف اس لیے کی ہے کہ وہ آپ کو اپنا قیدی بنا لے۔
‫وہ سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ آپ کا تعلق ہمیشہ کے لیے توڑنا چاہتا تھا اور وہ آپ کو دمشق سے نکالنا چاہتا تھا ۔
‫دمشق کے لوگ سلطان صالح الدین ایوبی کے حمائتی اس لیے ہیں کہ آپ وہاں موجود تھیں۔ اب یہ ٹولہ دمشق کے لوگوں کو
‫سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف اُکسائے گا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمان ایک بار پھر خانہ جنگی میں کٹنے لگیں
‫گے اور صلیبی اطمینا ن سے ہمارے عالقوں پر چھا جائیں گے ''۔
‫کیا یہ اطالع سلطان صالح الدین ایوبی تک پہنچائ جا سکتی ہے ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا ۔ '' ‪:
‫یہ انتظام کیا جا چکا ہے ''۔ خادمہ نے جواب دیا ۔ '' ہمارے گروہ کے کماندار نے ایک بڑے ہی دانشمند اور دلیر ''
‫آدمی کو بال بھیجا ہے۔ اس کا نام اسحاق درویش ہے ۔ وہ ترک ہے۔ میں اُسے اچھی طرح جانتی ہوں ۔ آپ کے بیٹے کی
‫وفات کے بعد وہ صلیبیوں کے عالقوں میں یہ دیکھنے کے لیے نکل گیا کہ صلیبیوں کہ عزائم کیا ہیں ۔ وہ آجائے گا ''۔
‫''مجھے مل سکے گا ؟''
‫ضرور ملوائوں گی '' ۔ خادمہ نے جواب دیا …… '' مجھے اپنے کماندار نے کہا تھا کہ یہ باتیں آپ کو بتادوں ''۔ ''
‫خادمہ نے رضیع خاتون کو محل کی اندرونی دنیا کے اِسرار بتا کر اُس کے پائوں تلے سے زمین نکال دی ۔ وہ اُن خوابوں
‫سے بیدار ہوگئی جو دیکھ کر اُس نے والئی حلب عزالدین کے ساتھ شادی کر لی تھی ۔ رضیع خاتون عظیم عورت تھی ۔
‫پاسبان اسالم صالح الدین ایوبی کی طرح رضیع خاتون
‫اسالم کی تاریخ سازمجاہدہ تھی ۔ اپنے مرحوم خاوند نورالدین زنگی اور
‫ِ
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ کے اتحاد اور وسعت کے لیے پیدا ہوئی تھی ۔ اگر خادمہ نے اُسے
‫بھی جیسے صلیبیوں کے خالف لڑنے اور
‫جو راز بتا یا وہ حقیقت تھا تو اس عظیم مجاہدہ کی کمند ٹوٹ چکی تھی اور اُس کی تلوار کند کرکے اسے قیدی بنا لیا گیا
‫تھا ۔ اس کی نوجوان بیٹی شمس النساء اسی محل میں تھی جس کے ساتھ ابھی اس کی مالقات نہیں ہوئی تھی ۔
‫یہاں ہم آپ کو یاد دالدیں کہ شمس النساء کی عمر اپنے باپ نورالدین زنگی کی وفات کے وقت آٹھ نو سال تھی ۔ اُس کا
‫بڑا ( اور واحد) بھائی الملک الصالح گیارہ سال کا تھا جسے زنگی کی وفات کے بعد مفاد پرست امراء اور فوجی حکام نے
‫ِ
‫صورت حال پر قابو پانے کے لیے مصر
‫سلطان بنا دیا تھا۔ اسے وہ کٹھ پتلی بنانا چاہتے تھے ۔ سلطان ایوبی اس تباہ کن
‫سے آیا ۔ یہ ایک قسم کی فوج کشی تھی ۔ زنگی کی بیوہ رضیع خاتون کی کوششوں سے دمشق پر سلطان ایوبی کا قبضہ
‫ہوگیا ۔ الملک الصالح اپنی فوج کی بہت سی نفری کے ساتھ بھاگ کر حلب چال گیا ۔ اپنی بہن شمس النساء کو بھی ساتھ

‫لے گیا ۔ ا ُن کی ماں دمشق میں رہی اور صلیبیوں کے خالف جہاد میں مصروف رہی ۔ شمس النساء پندرہ سولہ برس کی ہوئی
‫تو اس کا بھائی بیمار ہو کر نزع کے عالم میں جا پہنچا۔ اُس نے ماں سے مالقات کی خواہش ظاہر کی ۔ شمس النساء
‫دمشق اپنی ماں کے پاس گئی اور کہا کہ اُس کا اکلوتا بھائی ا ُسے ملنا چاہتا ہے۔ رضیع خاتون نے صاف انکار کر دیا اور کہا
‫کہ اُس کے لیے وہ اُسی روز مر گیا تھا جس روز وہ سلطان بنا اور اس نے صالح الدین ایوبی کے خالف تلوار اُٹھائی تھی ۔
‫شمس النساء واپس چلی گی …… اس کا بھائی الملک الصالح مر چکا تھا ۔
‫اب شمس النساء کی ماں رضیع خاتون اسی محل میں جہاں اس کا بیٹا مرا تھا اپنے بیٹے کے جانشین عزالدین کی بیوی بن
‫کر آئی ۔ ا ُسے اپنی بیٹی جو اسی محل میں ہی ہو سکتی تھی ‪ ،ملنے نہ آئی۔ رضیع خاتون نے خادمہ سے پوچھا کہ اس
‫کی بیٹی کہاں ہے اور کیا وہ اسے مل سکتی ہے؟
‫وہ یہیں ہے''۔ خادمہ نے جواب دیا …… '' یہ آپ اپنے آقا سے پوچھ لیں کہ آپ شمس النساء سے مل سکتی ہیں یا ''
‫'' نہیں۔ اگر اس پر بھی پابندی ہوئی تو میں چوری چھپے مالقات کرادوں گی
‫تم اپنے گروہ کے جس کماندار کا ذکر کیا ہے اس کے ساتھ میری مالقات ہو سکتی ہے ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا۔ ''
‫کچھ دن گزر جانے دیں ''۔ خادمہ نے جواب دیا۔ ''یہ پتہ چل جائے کہ آپ پر کیا کیا پابندی عائد ہوتی ہے ۔ آنے ''
‫والے حاالت کے مطابق ہر ایک مشکل کا حل نکل آئے گا ۔ آپ کی شادی اچانک ہوئی اور اتنی جلدی ہوئی کہ ہم سب کہ
‫کو بعد میں خبر ہوئی ورنہ آپ کو پہلے ہی خبردار کر دیا جاتا تا کہ شادی کی پیش کش کو قبول نہ کریں ''۔
‫اور میں یہ کس طرح یقین کر لوں کہ تم میری ہمدرد ہو اور میرے ہی خالف جاسوسی نہیں کر رہی؟'' رضیع خاتون نے ''
‫پوچھا۔
‫خادمہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ رضیع خاتون کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی …… ''اگر میں کوئی امیر کبیر
‫عورت ہوتی‪ ،کسی محل کی شہزادی ہوتی ‪ ،کسی شہزادے کی بیوی ہوتی اور میری حیثیت آپ جتنی ہوتی تو آپ مجھ سے
‫ایسا سوال کبھی نہ پوچھتیں۔ آپ ہر جھوٹ کو سچ مان کر دھوکے کا شکار ہوجاتیں ‪ ،میری حیثیت ایسی ہے کہ میرا سچ
‫بھی جھوٹ لگتا ہے ۔ کیا آپ کو ابھی تجربہ نہیں ہوا کہ صداقت اور جذبہ صرف غریبوں کے دلوں میں رہ گیا ہے ؟ آپ کو
‫آنے والے حاالت بتائیں گے کہ آپ کو کس پر اعتبار کرنا چاہیے۔ ایک غریب خادمہ پر یا حلب کے بادشاہ پر جو آپ کا
‫خاوند ہے ۔ آپ مجھ پر اعتبار کرنے کا خطرہ مول لے لیں‪ ،اور ُدعا کریں اللہ آپ کی اور ہماری مدد کرے ''۔
‫خادمہ کمرے سے نکل گئی ۔ رضیع خاتون اُلجھے ا ُلجھے خیالوں میں بھٹکتی رہی گئی۔ وہ کمرہ جس کی سجاوٹ اور جس کا
‫سامان شاہانہ تھا اُسے جہنم کی طرح نظر آنے گیا ۔
‫دو تین روز رضیع خاتون کو عزالدین نظر نہ آیا۔ اُسے کمرے میں کھانا وغیرہ پہنچایا جاتا رہا۔ خادمائیں اُس کی حاضری میں
‫کھڑی رہیں۔ اس کے آرام اور دیگر ضروریات کا خیال اس طرح رکھا جاتا جیسے وہ کوئی ملکہ ہو مگر یہ شہنشاہی اُسے ذہنی
‫اذیت دے رہی تھی ۔ وہ ایک سلطان کی بیوہ تھی ۔ اس کی زندگی میں بھی اُس نے اپنے آپ کو کبھی ملکہ یا شہزادی
‫میدان جنگ میں جائے‪ ،صحرائوں میں لڑے اور اُسے
‫نہیں سمجھاتھا۔ اُس کی صرف یہ خواہش تھی کہ مردوں کے دوش بدوش
‫ِ
‫شہیدوں میں سے اُٹھایا جائے۔
‫عزالد ین اس کے کمرے میں آگیا اور مصروفیت کی بنا پر اتنے دن نہ آسکنے کی معذرت کی ۔
‫ایک روز
‫ّ
‫میں نے آپ کی غیر حاضری کی شکایت تو نہیں کی ''۔ رضیع خاتون نے کہا …… ''میں دلہن بن کے نہیں آئی ۔ ''
‫میرے دل میں ایسی بھی کوئی خواہش نہیں کہ آپ ہر وقت میرے ساتھ رہیں یا ہر رات میرے ساتھ گزاریں ۔ میری آدھی سے
‫زیادہ ازدواجی زندگی تنہائی میں گزری ہے۔ نورالدیّن زنگی مرحوم محاذ پر رہتے تھے اور میں اُن کے نہیں اُن کی الش کے
‫انتظار میں رہتی تھی ۔ محاذ پر نہ ہوں تو سلطنت کے کاموں اور فوج کی تربیت میں مصروف رہتے تھے ‪ ،لیکن وہاں میں
‫بھی مصروف رہتی تھی ۔ سلطنت کے بعض کاموں کی نگرانی اور شہیدوں کے گھروں کی دیکھ بھال میرے سپرد تھی۔ میں
‫جوان لڑکیوں کو زخمیوں کی مرہم پٹی‪ ،تیغ زنی ‪ ،تیر اندازی اور گھوڑ سواری کی تربیت دیتی تھی ۔ وہاں میں ایک کمرے
‫میں قید نہیں تھی جس طرح یہاں کر دی گئی ہوں۔ یہ قید مجھے پسند نہیں''۔
‫میں یہ نہیں کہتا کہ نورالدین زنگی مرحوم نے سلطنت کے کوئی کام اپنی بیوی کے سپرد کرکے اچھا نہیں کیا تھا''۔ ''
‫عزالدین نے کہا …… '' لیکن میں کسی سے نہیں کہلوانا چاہتا کہ حلب کی قسمت بنانے اور بگاڑنے میں ایک عورت کا ہاتھ
‫ہے۔ تم میری بیوی ہو۔ میں تم پر کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا جس کا تعلق ازدواجی زندگی سے نہیں ''۔
‫چونکہ رضیع خاتون کو عزالدین کی نیت کا پتہ خادمہ سے چل چکا تھا اس لیے اس نے اپنے اس دوسرے خاوند کی ایسی
‫باتوں سے اپنے آپ کو اس خود فریب میں مبتال نہ کیا کہ وہ پیار کا اظہار کر رہاہے۔ وہ ایک بار‪ ،آج ہی ‪ ،اُس کی نیت کو
‫بے نقاب کرنے کا ارادہ کیے ہوئے تھی ‪ ،وہ کم عمر نہیں پختہ کار عورت تھی ۔
‫مگر جس طرح مجھے اس کمرے میں قید کر دیا گیا ہے یہ مجھے پسند نہیں ''۔ رضیع خاتون نے کہا ۔ ''میں آپ ''
‫کے حرم کی کوئی زرخرید لڑکی نہیں ''۔
‫رضیع خاتون! '' عزالدین نے کمرے میں ٹہلتے ہوئے کہا …… ''تمہیں ازدواجی زندگی ذہن سے اتارنی ہوگی جو تم نے ''
‫زنگی مرحوم کے ساتھ گزاری ہے ۔ انہوں نے تمہیں جو آزادی دے رکھی تھی ‪ ،وہ مجھے پسند نہیں اور یہ کسی بھی خاوند
‫کو پسند نہیں آسکتی …… کیا تم باہر گھومنا پھرنا چاہتی ہو؟ چار گھوڑوں کی بھگی موجود ہے۔ جب چاہو باہر جا سکتی ہو
‫''۔
‫جسے محل کے اندر گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں اُسے باہر جانے کی اجازت کیسے مل سکتی ہے؟'' رضیع خاتون نے ''
‫پوچھا …… '' کیا واقعی آپ نے حکم دیا ہے کہ میں محل کے اندر کہیں نہیں جا سکتی ''۔
‫میں نے یہ حکم تمہاری سالمتی کے لیے دیا ہے ''۔عزالدین نے جواب دیا …… '' تم جانتی ہو کہ حلب اور دمشق میں''
‫کیسی خونریز خانہ جنگی ہوئی تھی ۔ سلطان ایوبی نے تمہارے بیٹے کو شکست دے کر اُسے اطاعت کا معاہدہ کرنے پر مجبور
‫کر دیا تھا مگر یہاں کے لوگوں کے دلوں سے وہ دشمنی نکلی نہیں۔ محل کے اندر ایسے افراد موجود ہیں جو تمہیں اور
‫سلطان ایوبی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔ سلطان ایوبی کی فوج کے ہاتھوں اُن کے گھر تباہ ہوئے اور اُن کے جوان بیٹے
‫مارے گئے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ تم سلطان ایوبی کی حامی ہو اور دمشق پر تم نے قبضہ کرایا تھا ۔ اِن میں سے کوئی
‫بھی تمہیں قتل یا اغوا کر سکتا ہے ''۔
‫وہ آپ کو بھی قتل کر سکتے ہیں کیونکہ آپ صالح الدین ایوبی کے دوست اور اتحادی ہیں ''۔ رضیع خاتون نے کہا ……''
‫'' تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں کہ اس قسم کے افراد کو جو اتحا ِد اسالمی کے خالف ہیں ‪ ،پکڑا جائے؟ کیا آپ کے پاس

‫''ایسے جاسوس اور مخبر نہیں جو تخریبی عناصر کا سراغ لگا کر انہیں پکڑوا سکیں ؟
‫میں تمام انتظامامت کر رہا ہوں''۔ عزالدین نے ایسے لہجے میں کہا جو اکھڑا کھڑا سا تھا جیسے اس کے پاس کوئی ''
‫معقول جواب نہیں تھا ۔ ''میں تمہاری جان خطرے میں نہیں ڈانا چاہتا''۔
‫کیا یہ خطرہ محل کے صرف اندرہے ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا ۔ '' آپ نے مجھے چار گھوڑوں کی بگھی پر جہاں میں''
‫چاہوں باہر گھومنے پھرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ کیا باہر مجھے کوئی قتل یا اغوانہیں کر سکے گا ؟'' …… عزالدین کچھ
‫جواب دینے ہی لگا تھا ۔ رضیع خاتون نے اسے بولنے نہ دیااور کہا …… '' میں نے آپ کے ساتھ شادی صرف اس لیے کہ
‫ہے کہ نورالدین زنگی مرحوم اپنا جو مقصد ادھورا چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں ‪ ،وہ آپ ‪ ،سلطان صالح الدین ایوبی اور میں مل
‫کر پورا کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر ابھی تک آپ کے زیر سایہ ایسے عناصر پرورش پا رہے ہیں جو ایک اور خانہ
‫جنگی کے لیے زمین ہموار کر رہے ہیں تو ان کا خاتمہ کیا جائے اور قوم میں اتحاد پیدا کرکے صلیبیوں کو اس سرزمین سے
‫بے دخل کیا جائے ''۔
‫''کیا تمہیں یہ شک ہے کہ میں سلطان ایوبی کا اتحادی نہیں؟''
‫کیا آپ مجھے یقین دالسکتے ہیں کہ اس محل پر صلیبیوں کے وہ اثرات جو میرے بیٹے نے پیدا کیے تھے ختم ہو گئے ''
‫''ہیں ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا۔ ''کیا آپ کے تمام امراء اور ساالر بغداد کی خالفت کے وفادار ہیں ؟
‫تم یہاں سفیر بن کے آئی ہو یا میری بیوی؟''عزالدین نے قدرے طنز سے کہا۔''
‫میں جو ارادے لے کے آئی ہوں وہ بتا چکی ہوں''۔ رضیع خاتون نے کہا …… ' میں اپنے بطن سے آپ کے بچے پیدا ''
‫کرنے اور صرف بیوی بن کے اس کمرے میں رہنے کے لیے نہیں آئی۔ میں محل میں گھوم پھر کر یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں
‫کہ حلب صلیب کے سائے سے محفوظ ہے۔ اگر نہیں تو اس کو محفوظ کرنا ہے۔ میں اپنے اس ارادے سے باز نہیں آسکوں
‫گی ''۔
‫میں تمہیں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ میرے کسی کام میں دخل نہ دینا ''……عزالدین نے کہا …… '' تم میری بیو ی اور''
‫یہی تمہاری حیثیت رہے گی۔ اگر تم آزاد ہونے کی کوشش کروگی تو میں نے تمہیں بگھی پر باہر جانے کی جو اجازت دی
‫ہے وہ روک لونگا ''۔
‫''اگر میں یہ شرط قبول نہ کروں تو؟''
‫تو اس کمرے میں قید رہو گی ''۔ عزالدین نے جواب دیا …… '' تم مجھ سے طالق نہیں لے سکتی اور میں تمہیں '' ‪:
‫طالق نہیں دوں گا ''۔ عزالدین باہر نکل گیا ۔ ''آپ نے غلطی کی ہے ''۔خادمہ نے رضیع خاتون سے کہا ۔ خادمہ
‫پچھلے دروازے کے ساتھ کان لگا ئے عزالدین اور رضیع خاتون کی باتیں ُسن رہی تھی ۔ عزالدین باہر نکل گیا تو خادمہ
‫پچھلے دروازے سے اندر آگئی۔ اس نے کہا …… '' اگر آپ ضد کریں گی تو یہ شخص آپ کو فی الواقع ایسی قید میں ڈال
‫دے گا جو ہوگی آزادی مگر قید سے بدتر ہوگی۔ اب آپ نے ان کی نیت جان لی ہے۔ اب ان کے ساتھ اس سلسلے میں
‫کوئی بات نہ کریں۔ ان کے سامنے خوش رہیں۔ بظاہر بے حس ہوجائیں۔ آپ جو ارادے لے کے آئی ہیں وہ ہم پورے کریں گے
‫…… مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ آقا نے آپ کو بگھی پر باہر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ہم آپ کو اپنے کماندار
‫سے ملوائیں گے اور اگر اسحاق ترک آگیا تو اس کی بھی مالقات آپ سے کرائیں گے ''۔
‫دروازہ آہستی سے کھال۔ دونوں نے دیکھا۔ رضیع خاتون کی بیٹی شمس النساء تھی ۔ وہ دروازے میں ُرکی ۔ اس کے ہونٹوں پر
‫مسکراہٹ آئی مگر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ مسکراہٹ آنسوئوں میں بہہ گئی۔ ماں نے آگے بڑھ کر بیٹی کو گلے لگا لیا اور
‫دونوں کی ہچکیاں سنائی دینے لگیں۔ خادمہ باہر نکل گئی ۔ کچھ دیر دونوں الملک الصالح کو یاد کرکے روتی رہیں ۔
‫تم اتنے دن کہاں رہی ''۔رضیع خاتون نے پوچھا۔''
‫چچا (عزالدین )نے آپ سے ملنے سے منع کردیا تھا ''۔ ''
‫''وجہ پوچھی تھی اُن سے؟''
‫انہوں نے گول گول اور مہمل سی وجہ بتائی تھی ''۔ شمس النساء نے جواب دیا …… '' ابھی ابھی انہوں نے کہا ہے ''
‫کہ اپنی ماں کے پاس جاتی رہا کرو۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ میں بہت مصروف ہوتا ہوں‪ ،تم اپنی ماں کے ساتھ زیادہ
‫وقت گزارا کرو''۔
‫انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اپنی ماں پر نظر رکھا کرو اور مجھے بتایا کرو کہ اس کے پاس کون آتا ہے اور کیا باتیں ہوتی ''
‫''ہیں؟
‫ہاں''۔ شمس النساء نے معصومیت سے جواب دیا …… '' انہوں نے کچھ ایسی باتیں کیں تو تھی جو میں سمجھ نہیں ''
‫سکی ۔ میں نے کہہ دیا تھا کہ اچھا بتایا کروں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تمہاری ماں ضدی‪ ،وہمی اور جھگڑالو معلوم
‫ہوتی ہے‪ ،اُسے یہ بتایا کروکہ میں بہت مصروف اور پریشان رہتا ہوں ''۔
‫سنو بیٹی !'' رضیع خاتون نے کہا …… '' اب یہ معصومیت اور بھولپن ترک کردو ۔ تم جوان ہوگئی ہو ۔ میں یہ نہیں ''
‫کہوں گی اب تمہاری شادی ہو جانی چاہیے۔ مجاہدوں کی بیٹیوں کے ہاتھ پر لہو کی مہندی لگا کرتی ہے۔ زندہ قوموں کی
‫میدان جنگ سے اُٹھا ئی جاتی ہیں۔تمہاری بد نصیبی یہ ہے تم اپنے
‫بیٹیوں کی ڈولی کم ہی اُٹھا کرتی ہے۔ اُن کی الشیں
‫ِ
‫بھائی اور اس کے مشیروں کے سائے میں پل کر جوان ہوئی ہو۔ یہ سب غدار ہیں۔ تمہارا بھائی بھی غدار تھا ۔ تم نے اپنے
‫بھائی کی فوج کو اپنے باپ کی فوج اور صالح الدین ایوبی کے خالف لڑتے دیکھاہے۔ تمہارا بھائی‪ ،جسے میں اپنا بیٹا کہنے
‫سے شرمندگی محسوس کرتی ہوں‪ ،صلیبیوں کا دوست تھا۔ ان صلیبیوں کا دوست جو تمہارے مذہب کے دشمن ہیں۔ تمہارا باپ
‫ساری عمر اُن کے خالف لڑتا رہا ہے ''۔
‫بھائی الصالح کہا کرتا تھا کہ صلیبی بڑے اچھے لوگ ہیں ''۔ شمس النساء نے کہا …… '' وہ صالح الدین ایوبی کے ''
‫خالف باتیں کیا کرتا تھا ''۔
20:56
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 129سانپ اور صلیبی لڑکی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫وہ صالح الدین ایوبی کے خالف باتیں کیا کرتا تھا ماں نے شمس النساء کو بتایا کہ صلیبیوں کے عزائم کیا ہیں اور یہ بھی
‫کہ ا ُن کی دوستی میں بھی دشمنی ہے۔ رضیع خاتون بولتی جا رہی تھی اور شمس النساء کی آنکھیں کھلتی جا رہی تھیں۔

‫ماں کا ایک ایک لفظ بیٹی کے دل میں اترتا جا رہا تھا ۔ اس میں مامتا کا سحر بھی شامل تھا جس سے بیٹی مسحور
‫ہوتی جا رہی تھی۔
‫رسول ۖ خدا کا کلمہ نہیں پڑھتی ''
‫مسلمان کا کوئی دوست نہیں ''۔رضیع خاتون نے کہا ۔ ''دنیا کی ہر وہ قوم جو
‫ِ
‫مسلمانوں کی دشمن ہے اور ان کی دشمنی کی سب سے زیادہ خطرناک صورت ان کی دوستی ہے۔ صلیبیوں نے حلب موصل
‫اور حرن کے امراء سے دوستی کرکے ہماری قوم کو دو دھڑوں میں کاٹ دیا ۔ تمہارا بھائی اُن کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا۔ خدا
‫اور اس کے رسولۖ کا حکم یہ ہے کہ ا ُمت کا دھڑوں میں تقسم ہونا گناہ ہے کیونکہ یہ تقسیم دھڑوں کو آپس میں لڑاتی ہے۔
‫قرآن کا حکم بالکل واضح ہے کہ کفار کے مقابلے میں سیسہ پالئی ہو ئی دیوار بنے رہو‪ ،مگر کفار نے عیاشی کا سامان مہیا
‫کرکے اس دیواری میں شگاف ڈال دئیے تھے۔ شیطان کی باتوں میں جادو کا اثرہوتا ہے‪ ،عورت‪ ،شراب‪ ،زروجواہرات اور بادشاہی
‫کے خواب انسان کو گہری نیند سالئے رکھتے ہیں۔ شیطان کا یہ کام صلیبیوں نے کیا ''۔
‫میں نے یہ سب اپنی آنکھوں اس محل میں دیکھا ہے''۔ شمس النساء نے کہا …… '' میں اُس وقت چھوٹی تھی ‪'' ،
‫کچھ سمجھ نہیں سکی ۔ مجھے جب بھائی الصالح نے سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس اعزاز کا قلعہ مانگنے کے لیے بھیجا
‫تھا تو میں ہنستی کھیلتی یہاں کے ساالروں کے ساتھ سلطان کے پاس گئی تھی۔ مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ سب
‫کیا ہو رہا ہے۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ خانہ جنگی تھی جو صلیبیوں کی کارستانی تھی ۔ مجھے کچھ بھی معلوم نہیں
‫تھا ماں! مجھے بتائو ‪ ،مجھے بتائو''۔
‫ہاں بیٹی ! غور سے سنو ''۔رضیع خاتون کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ '' اس محل میں ابھی تک شیطان کی ''
‫حکمرانی ہے۔ عزالدین نے میرے ساتھ شادی کرکے مجھے اپنی بیوی نہیں اپنا قیدی بنایا ہے۔ میں نے یہ شادی صرف اس لیے
‫قبول کی تھی کہ خانہ جنگی کے امکانات کو ختم کرکے قوم میں اتحاد پیدا ہو اور صلیبیوں کے خالف محاذ آرائی کی جاسکے
‫ِ
‫صورت حال میں اپنے عزم
‫مگر میں نے زندگی میں پہلی بار دھوکہ کھایا ہے اور یہ بھی معمولی سا دھوکہ نہیں ۔ میں اسی
‫کی تکمیل کروں گی۔ اس کے لیے مجھے تمہارے ساتھ اور تعاون کی ضرورت ہوگی ''۔
‫ِ
‫صورت حال سے ''
‫مجھے بتائیں ''۔شمس النساء نے کہا …… '' آپ پہلی بار دھوکے میں آئی ہیں اور میں پہلی بار اصل
‫آگاہ ہوئی ہوں۔ یہ بتا دیں کہ مجھے کیا کرنا ہے ''۔
‫جاسوسی ''۔ رضیع خاتون نے کہا اور اسے تفصیل سے ہدایات دینے لگی ۔ ''
‫شمس النساء جب اس کمرے سے نکلی اُس کی ذات اور اُس کے خیاالت میں انقالب آچکا تھا ۔ وہ اس کمرے میں داخل
‫ہوئی تھی تو ایسے بے پروا اور کھلنڈری سی لڑکی تھی ۔ جب کمرے سے نکلی تو اللہ کی راہ میں قربان ہونے والی مجاہدہ
‫تھی ۔
‫٭ ٭ ٭
‫آپ کو کس نے بتایا ہے کہ میری ماں جھگڑالو اور وہمی ہے؟''شمس النساء نے عزالدین سے کہا …… ''آپ جانتے ہیں ''
‫کہ ا ُن کی زندگی کیسی گزری ہے ۔ وہ آپ کو بھی میرے باپ نورالدین زنگی مرحوم جیسا نامور جنگجو اور مجاہد اسالم بنانا
‫چاہتی ہیں''۔
‫وہ میرے کاموں میں دخل دینا چاہتی ہے''۔عزالدین نے کہا …… ''اُسے یہ وہم ہے کہ میں صلیبیوں کا دوست ہوں''۔''
‫میں نے انہیں روک دیا ہے''۔شمس النساء نے کہا …… '' اور اُن کا یہ وہم بھی ُدور کر دیا ہے کہ آپ صلیبیوں کے ''
‫دوست ہیں ۔ انہیں غلط نہ سمجھیں ۔ ان پر غیر ضروری پابندیاں عائد نہ کریں ''۔
‫میں نے کوئی پابندی عائد نہیں کی ''۔عزالدین نے کہا …… ''بگھی ہر وقت موجود ہے ۔ اپنی ماں کو جب چاہو سیر ''
‫کرانے لے جایا کرو''۔
‫ان کے درمیان اسی موضوع پر باتیں ہوتی رہیں۔ عزالدین نے شمس النساء کی باتوں کو صحیح مان لیا ۔ یہ باتیں عزالدین
‫کے دفتر میں ہو رہیں تھیں۔ شمس النساء وہاں سے نکلی تو باہر عامر بن عثمان کھڑا تھا۔ اُس کی عمر ابھی تیس برس
‫نہیں ہوئی تھی ۔ وجیہہ اور بڑا ہی پر کشش جوان تھا۔ تیر اندازی اور تیغ زنی میں اس کا مقابلہ کوئی کم ہی کر سکتا تھا۔
‫دماغ کا بھی تیز تھا ۔ وہ الملک الصالح کے خصوصی محافظ کا کماندار تھا۔ اسی عمر میں اسے جسمانی اور ذہنی ُچستی کی
‫بدولت اتنا بڑا عہدہ اور اتنی نازک ذمہ داری دے دی گئی تھی ۔ اس کی رہائش محل کے اندر ہی تھی ۔ تھوڑے ہی عرصے
‫سے وہ شمس النساء میں دلچسپی لینے لگا تھا ۔ شمس النساء کو پہلے ہی وہ اچھا لگتا تھا۔ اس لڑکی میں کھلنڈرا پن سا
‫تھا ۔ ا ُسے باپ کی عظمت اور عزم سے کسی نے کبھی آگاہ نہیں کیا تھا ۔ اُسے محل میں بے ضرر فرد سمجھا جاتاتھا ۔
‫اس کا بھائی مر گیا تو عزالدین نے بھی ا ُسے بھولی بھالی اور کھلنڈری لڑکی سمجھ کر آزادی دئیے رکھی۔ اسی لیے وہ عامر
‫بن عثمان سے ملتی مالتی رہی ۔
‫اب وہ جوان ہو گئی تھی ۔ عمر سولہ برس تھی ۔ ا ُس دور میں لڑکیاں قد کاٹھ کے لحاظ سے عمر سے زیادہ جوان لگتیں
‫اور بعض اسی عمر میں ایک دو بچوں کی مائیں بن جایا کرتی تھیں۔ شمس النساء تو حکمران خاندان کی شہزادی تھی ۔
‫اپنے قدرتی ُحسن سے کچھ زیادہ ہی حسین لگتی تھی۔ عامر بن عثمان میں اُس کی جو دلچسپی تھی اس کا رنگ بدل چکا
‫تھا ۔ کبھی وہ اُسے چھیڑ کر بھاگ جایا کرتی تھی مگر اب اُسے دیکھ کر شرماجاتی اور اُسے چوری ُچھپے مال کرتی تھی ۔
‫یہ پاک محبت تھی جس کی شدت نے انہیں روح کی گہرائیوں تک ایک دوسرے کا گرویدہ بنا رکھا تھا ۔ انہوں نے شادی کے
‫ادنی مالزم تھا ۔ وہ اس لڑکی کے
‫عہدوپیمان کر رکھے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ عامر بن عثمان شمس النساء کے خاندان کا
‫ٰ
‫رشتے کی توقع رکھ ہی نہیں سکتا تھا ۔ پھر بھی ا ُس نے گھر والوں کا طے کیا ہوا رشتہ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔
‫شمس النساء عزالدین کے دفتر سے نکلی تو عامر بن عثمان باہر کھڑا تھا۔ شمس النساء اسے دیکھ کر مسکرائی اور اشارہ
‫کرکے چلی گئی ۔ عامر اس اشارے کو اچھی طرح سمجھتا تھا ۔ اس نے سر ہالیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ضرور آئوں گا ۔
‫٭ ٭ ٭
‫جگہ پودوں اور درختوں میں ڈھکی چھپی تھی ۔ اوپر رات کی تاریکی نے پردہ ڈال رکھا تھا ۔ عامر بن عثمان اور شمس
‫النساء محل کی رونق اور ہماہمی سے بے نیاز اس جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اُن کے ُپر شباب جذبات پر والہانہ محبت کا نشہ
‫طاری تھا ۔
‫میں آج اپنی ماں سے ملی ہوں ''۔ شمس النساء نے بتایا …… '' اور اب انہیں کے ساتھ رہا کروں گی ''۔ ''
‫تمہاری ماں بھی شاہی خاندان کی خاتون ہیں ''۔ عامر نے کہا …… ''وہ تمہیں کسی شہزادے کے ساتھ ہی بیاہنا پسند ''
‫کریں گی''۔

‫نہیں !'' شمس النساء نے کہا …… ''وہ شاہی خاندان کی ضرور ہیں لیکن اُس خیمے میں رہنا پسند کرتی ہیں جو محاذ ''
‫کے بالکل قریب ہو۔ وہ مجھے بھی سپاہی بنانا چاہتی ہیں ''۔
‫کیا یہ ا ُمید رکھی جا سکتی ہے کہ تم ان سے میرے متعلق بات کرو گی اور وہ مان جائیں ''۔ عامر نے پوچھا۔ ''
‫اگر میں نے اُن کی وہ ا ُمیدیں پوری کردیں جو انہوں نے میرے ساتھ وابستہ کردی ہیں تو میں اُن سے اپنی ہر خواہش ''
‫منواسکتی ہوں ''۔ شمس النساء نے جواب دیا …… '' تمہیں بھی اُن کی امید پوری کرنی ہوگی ''۔
‫انہوں نے میرا نام لیا تھا ''۔''
‫نہیں ''۔ شمن النساء نے جواب دیا …… '' انہوں نے مجھے اپنا مقصد بتایا ہے جس کی تکمیل کے لیے انہیں میرے ''
‫تعاون کی ضرورت ہے اور مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ میں تمہیں یہ مقصد اور اپنے فرائض بتائوں
‫میں تم سے حلف لینا چاہتی ہوں تم مدد کرو یا نہ کرو‪ ،اس مقصد کو اور میری سرگرمیوں کو راز میں رکھو گے ''۔
‫اور اگر میں حلف نہ دوں تو؟'' عامر نے ہنستے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔''
‫شمس النساء پرے ہٹ گئی۔ عامر پر سنجیدگی طاری ہوگئی ۔ شمس النساء نے کہا …… '' میں نے پہلے بھی وعدہ کیا ‪:
‫ہے اور آج جیسی قسم کہوگے کھا کر اپنا وعدہ دہرائوں گی کہ میری شادی ہوگی تو تمہارے ساتھ ہوگی لیکن اس سے پہلے
‫ہمیں وہ کام کرنا ہوگا جو ماں نے مجھے بتایا ہے''۔
‫عامر بن عثمان کو حیرت اس پر ہوئی کہ شمس النساء کو اُس نے ایسی سنجیدگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ وہ چونکا اور
‫بوال …… ''کیا تمہارے دل میں میری اتنی سی محبت رہ گئی ہے کہ تم مجھ سے حلف لینا ضروری سمجھتی ہو؟''۔
‫کچھ کام ایسا ہی ہے کہ حلف ضروری ہے ''۔ شمس النساء نے جواب دیا …… '' میں تو اپنی ماں کا حکم مانتے ''
‫ہوئے جان بھی دے دوں گی ۔ تم شاید نہ دے سکو گے ''۔
‫میں تمہاری محبت کی خاطر جان دے دوں گا ''۔''
‫نہیں''۔ شمن السناء نے کہا …… '' محبت کی خاطر نہیں ‪ ،اسالم کی عظمت کی خاطر ۔ اس اسالم کی خاطر نہیں ''
‫جو اس محل کے اندر ہم دیکھ رہے ہیں ۔ میں ا ُس اسالم کی بات کر رہی ہوں جس کی خاطر میرے محترم والد نے کفار
‫سے لڑتے عمر گزاری ہے اور جس کی خاطر صالح الدین ایوبی لڑ رہا ہے''۔
‫میں قرآن کے نام پر حلف دیتا ہوں کہ مجھے جو فرض سونپا جائے گا جان کی بازی لگا کر پورا کروں گا ''۔ عامر بن ''
‫عثمان نے شمس النساء کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا ۔ ''اگر میں نے اس حلف کی خالف ورزی کی تو مجھے جان
‫''سے مار دیا جائے اور میری الش کتوں اور گیڈروں کے آگے پھینک دی جائے …… اب بتائو مجھے کیا کرنا ہے؟
‫جاسوسی''۔ شمس النساء نے کہا …… '' سلطان صالح الدین ایوبی مصر میں ہے ۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتال ہیں کہ''
‫انہوں نے میرے بھائی الملک الصالح کے ساتھ جو دوستی اور آئندہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا ۔ وہ اس کی وفات کے
‫بعد بھی قائم ہے‪ ،مگر تم زیادہ اچھی طرح جاتنے ہو کہ معاہدے کے باوجود حلب کی امارت صلیبیوں کے اثرات سے پاک
‫نہیں رہی ۔ عزالدین کو سلطان صالح الدین ایوبی اپنا دوست سمجھتا ہے لیکن میری ماں کسی اور خطرے کا اظہار کر رہی
‫ہے''۔
‫آقا اور تمہاری والدہ کی شادی کے بعد کوئی خطرہ نہیں رہنا چاہیے''۔ عامر نے کہا ۔''
‫اصل خطرہ شادی سے ہی شروع ہوا ہے''۔ شمس النساء نے کہا …… '' شادی دراصل قید ہے جس میں میری ماں کو ''
‫ڈال دیا گیا ہے۔ عزالدین نے یہ شادی اس مقصد کے لیے کی ہے کہ دمشق والوں کو کوئی صحیح راہ دکھانے واال نہ رہے……
‫ہمیں اس محل کے ڈھکے چھپے ہوئے بھید معلوم کرکے قاہرہ تک پہنانے ہیں۔ یہ بھی معلوم کرنا ہے کو صلیبیوں کی نیت
‫اور ارادے کیا ہیں۔ کیا وہ ایک بار پھر ہماری افواج کو خانہ جنگی میں مروانا چاہتے ہیں یا وہ کوئی اور جنگی اقدام کریں
‫گے ۔ تم ایسی جگہ پرہو جہاں تمہیں بہت کچھ نظر آسکتا ہے ۔ تم عزالدین کے خصوصی محافظ دستے کے کماندار ہو''۔
‫میں تمہاری بات سمجھ گیا ہوں''۔ عامر بن عثمان نے کہا …… '' تم نے ٹھیک کہا ہے کہ میں ایسی جگہ پر ہوں ''
‫جہاں مجھے بہت کچھ نظر آتا ہے ۔ شمسی ! میں جو دیکھتا رہا ہوں اور جو دیکھ رہا ہوں اس پر کھبی غور نہیں کیا
‫تھا ۔ میں مرد مجاہد سے مالزم بن گیا تھا ۔ جب سپاہی مجاہد سے مالزم بن جاتا ہے تو یہی کچھ معلوم ہوتاہے جو اس
‫محل میں ہورہا ہے ۔ سپاہی کو اپنی مالزمت سے غرض ہوتی ہے۔ وہ دشمن کا خون بہانے کی بجائے خوشامدی بن جاتا ہے
‫تا کہ اوپر والے ا ُس پر خوش رہیں۔ انعام و کرام ملتا رہے اور ترقی ملے۔ خون اور خوشامد میں اتنا ہی فرق ہے جتنا فتح
‫اور شکست میں ۔ مجھے کسی نے کبھی نہیں بتایا کہ سپاہی کہ فرق صرف باہر کے حملے روکنا نہیں بلکہ اندر کے خطروں
‫کے خالف لڑنا بھی ہے ۔ سپاہی کا فرض یہ بھی ہے کہ اگر ملک اورقوم کو اپنے ہی حکمران کی طرف خطرہ ہو تو اس کا
‫سینہ تیروں سے چھلنی کرکے اسے قلعے سے باہر پھینک دے…… تم نے مجھے فرض یاد دالدیا ہے ۔ مجھے یہ بتائو کہ کسی
‫کو قتل کرنا ہے یا صرف اندر کے راز ہی معلوم کرنے ہیں ''۔
‫دونوں کام کرنے ہیں ''۔شمس النساء نے جواب دیا …… '' راز معلوم کرنے کے یے کسی غدار کو قتل کرنا پڑے گزیر نہ''
‫کیا جائے''۔
‫سنو شمسی ''۔عامر بن عثمان نے کہا …… '' اب میں مالزم کی حیثیت سے نہیں مجاہد کی حیثیت سے بات کروں'' ‪:
‫گا۔ راز کی بات یہ ہے کہ حلب کے حاکموں اور بعض ساالروں پر بھروسہ نہیں کیا سکتا ۔ اگر عزالدین مخلص بھی ہو‪ ،سچے
‫دل سے سلطان صالح الدین ایوبی کا دوست بھی ہو پھر بھی وہ حلب کی فوج کو مصر کی فوج کا اتحادی نہیں بنا سکے گا
‫۔ اس کے حاکموں ‪ ،مشیروں اوروزیروں کے ایمان کو صلیبیوں نے خرید رکھا ہے …… انہوں نے تمہارے بھائی کی وفات کے فورا ً
‫بعد عزالدین کو اس طرح پریشان کرنا شروع کر دیا ہے کسی نہ کسی مد میں خرچ کرنے کے لیے اس سے رقم مانگتے رہتے
‫ہیں ۔ سرکاری خزانہ تیزی سے خالی ہو رہا ہے۔ رقم اور سونا خورد برد ہورہا ہے۔ میرا خیا ل ہے کہ یہ ایک سازش ہے
‫جس کا مقصد یہ ہے کہ خزانہ خالی کرکے عزالدین کو مجبور کردیا جائے کہ وہ صلیبیوں سے امداد لینے پر مجبور ہوجائے ۔
‫اس سے اپنے حاکم وغیرہ جتنی رقم مانگتے ہیں وہ دے دیتا ہے ''۔
‫اس کا مطلب یہ ہوا کہ عزالدین کمزور حکمران ہے''۔ شمن النساء نے کہا ۔''
‫اس کی کمزوری یہ ہے کہ وہ حکمرانی کی گدی کو چھوڑنا نہیں چاہتا ''۔ عامر بن عثمان نے جواب دیا …… '' میں ''
‫نے اس کی جو باتیں سنی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکمرانی قائم رکھنے کے لیے صلیبیوں کے ساتھ سازباز کرلے گا
‫…… میں اب اس کی اور اس کے مشیروں کی باتیں غور سے سناکروں گا اور تمہیں بتاتا رہوں گا ''۔
‫یہ بھی ذہن میں رکھنا کہ یہاں صلیبیوں کے جاسوس موجود اور سرگرم ہیں ''۔ شمس النساء نے کہا …… '' اور یہاں ''

‫ہمارے جاسوس بھی کام کر رہے ہیں ۔ کسی روز ا ُن سے تمہاری مالقات کرائوں گی ۔ شمس النساء نے مسکرا کر پوچھا ''
‫''تمہاری سوڈانی پری کس حال میں ہے؟ اب بھی ملتی ہے؟
‫ملتی ہے''۔عامر بن عثمان نے جوا ب دیا ……''گھسیٹتی ہے ۔ پرسوں ملی تو رو بھی پڑی تھی ۔ کہتی ہے‪ ،ایک بار ''
‫میرے کمرے میں آجائو۔ شمسی ! میں اس لڑکی سے ڈرتا ہوں ۔ تم جانتی ہو کہ اس کے ُحسن میں جادو ہے۔ اس کے
‫طلسم میں آیا ہوا انسان نکل نہیں سکتا ۔ میں اس سے اس لیے نہیں ڈرتا کہ وہ بہت حسین ہے‪ ،مجھ پر مرتی ہے اور میں
‫ا ُس کے جال میں پھنس جائوں گا ۔ ڈر یہ ہے کہ وہ والئی حلب عزالدین کے حرم کا ہیرا ہے۔ اسکا نام انوشی ہے لیکن
‫محل کے اندرونی حلقوں کے افراد اسے سوڈانی پری کہتے ہیں۔ اگر عزالدین یا اُس کے کسی امیر وزیر کو پتہ چل گیا کہ یہ
‫لڑکی مجھے چاہتی ہے تو لڑکی سے کوئی باز پرس نہیں ہوگا ۔ سزا مجھے ملے گی ۔ مجھے تہہ خانے میں باندھ کر ایسی
‫اذیتیں دی جائیں گی کہ تم سنو تو مرجائو۔ مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ میں نے اُسے مایوس کیے رکھا تو وہ مجھ پر دست
‫درازی یا بد نیتی کا الزام عائد کرکے مجھے قید میں ڈالوادے گی ''۔
‫اسے ابھی تک یہ تومعلوم نہیں ہوا کہ تم مجھے چاہتے ہو اور ہماری مالقاتیں ہوتی ہیں؟ شمس النساء نے پوچھا۔ ''
‫جس روز ا ُسے پتہ چل گیا وہ دونوں کی آزادی کا آخری دن ہوگا ''۔ عامر بن عثمان نے جواب دیا ۔ '' تمہیں شاید ''
‫'' بخش دیا جائے‪ ،مجھے کوئی نہیں بخشے گا
‫انوشی دراصل صلیبیوں کا بھیجاہوا تحفہ تھا ۔ حلب میں یہ لڑکی آئی تو الملک الصالح بیمار پڑ گیا اور مر گیا۔ عزالدین نے
‫آکر حلب کی حکومت سنبھالی تو حکام نے انوشی اس کی خدمت میں پیش کی ۔ اس کے ساتھ عزالدین نے رضیع خاتون
‫کے ساتھ شادی کر لی۔ یہ ا ُس دورکے حکمرانوں کا دستور تھا کہ بیویاں الگ رکھتے تھے اور حرم میں بغیر شادی کے لڑکیاں
‫الگ رکھتے تھے ۔ صلیبیوں اور یہودیوں نے مسلمان امراء و زراء کی اس تباہ کن عادت کو اور زیادہ پختہ کرنے کے لیے انہیں
‫اپنی لڑکیاں تحفے کے طور پر پیش کرنی شروع کردیں تھیں۔ پھر ان لڑکیوں میں انہوں نے جاسوسی کے فن کی تربیت یافتہ
‫لڑکیاں بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا ۔ انہیں رقابت اور فتنہ فساد پیدا کرنے کی بی تربیت دی گئی تھی ۔
‫انوشی ایسی ہی تربیت یافتہ لڑکی تھی ۔ وہ عزالدین کے محل کی ضیافتوں میں شراب پالتی تھی ‪ ،پیتی بھی تھی ۔ اُس
‫نے حلب کے دو ایسے حاکموں کو اپنے حسن اور فریب کے جال میں پھانس لیا تھا جو حلب کی قسمت بنا بھی سکتے اور
‫ِ
‫دعوت گناہ ۔ عامر بن
‫بگھاڑ بھی سکتے تھے۔ وہ عزالدین کے تو اعصاب پر غالب آگئی تھی ۔ وہ سراپا بدی تھی اور مجسم
‫عثمان عزالدین کے قریب رہتا تھا کیونکہ وہ خصوصی محافظ دستے کا کماندار تھا۔ اُس نے عزالدین کی حفاظت کے لیے محافظ
‫دستے کے عالوہ درپردہ انتظامات بھی کررکھے تھے۔ اس کی نظریں عقاب کی طرح تیز اور ُدور بین تھیں …… انوشی نے اُسے
‫دیکھا تو یہ خوبروجوان اُسے بہت اچھا لگا ۔ اُس نے عامر پر ڈورے ڈالنے شروع کردئیے لیکن عامر اُس کے ہاتھ نہ آیا۔ عامر
‫کو معلوم تھا کہ حرم کے اس ہیرے کے ساتھ صرف بات کرتے بھی پکڑا گیا تو انجام ہولناک ہوگا۔ انوشی دوسرے تیسرے روز
‫عامر بن عثمان سے ملتی اور والہانہ محبت کا اظہار کرتی تھی ۔ عامر اُسے ٹال دیا کرتا تھا۔
‫میں اس محل کا مالزم ہوں''۔ عامرنے ایک روز اسے کہا تھا ''۔ اگر تمہارے دل میں میری سچی محبت ہے تو '' ‪:
‫مجھ پر رحم کرواور مجھ سے ُدور رہو''۔
‫تمہاری طرف کوئی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا ''۔ انوشی نے اُسے کہا …… '' ایک بار میرے میں کمرے میں ''
‫آجائو''۔
‫اسی دوران عامر اور شمس النساء کی چوری چھپے مالقاتیں ہو رہی تھیں۔
‫٭ ٭ ٭
‫قاضی بہائوالدین شداد جو ا ُس دور کا عینی شاہدہے‪ ،اپنی یاد داشتوں میں لکھتا ہے ''…… ''عزالدین نے محسوس کر لیا ''
‫تھا کہ وہ موصل اور شام کی امارتوں کو اپنے ماتحت متحد نہیں رکھ سکے گا ۔ وہ سلطان صالح الدین ایوبی سے بہت ڈرتا
‫تھا۔ اس کے ماتحت جو امیر اور وزیر تھے وہ عزالدین سے اتنی زیادہ رقموں کا مطالبہ کرنے لگے جو وہ نہیں دے سکتا تھا
‫کیونکہ خزانے میں اتنی سکت نہیں تھی اور وسائل بھی محدود تھے ''۔
‫اپنی یادداشتوں میں آگے چل کر قاضی بہائوالدین شداد نے لکھا ہے کہ عزالدین کو یہ خطرہ تھا کہ سلطان ایوبی کو حلب کے
‫ساتھ دل چسپی ہے اس لیے وہ حلب پر ضرور قبضہ کرے گا ۔ عزالدین سلطان ایوبی کے خالف آمنے سامنے کی جنگ لڑنے
‫سے گزیز کرتا تھا ۔ ا ُس نے اپنے ایک بڑے ہی قابل اور دلیر ساالر مظفرالدین ککبوری سے مشورہ کیا جو سات تہوں میں
‫چھپا ہوا ایک راز تھا۔ موصل کا والی عزالدین کا بھائی عمادالدین تھا جو کھلم کھال سلطان ایوبی کے خالف تھا۔ حلب اور
‫موصل میں یہ انقالب آیا کہ عزالدین نے موصل کی حکمرانی سنبھالی اور عمادالدین حلب آکر والئی حلب بن گیا۔ امارتوں یا
‫سلطنتوں کا یہ تبادلہ دونوں کے باشندوں کے لیے ایک معمہ تھا۔
‫متعدد مؤرخین نے اس تبادلے پر اظہار خیال کیا ہے۔ ہر ایک نے مختلف رائے دی ہے۔ اُس وقت کے واقعہ نگاروں کی
‫تحریروں سے کچھ بھید بے نقاب ہوتے ہیں۔ عزالدین جب موصل کے قلعے میں گیا تو رضیع خاتون اور اس کی بیٹی شمس
‫النساء اس کے ساتھ تھیں۔ اس کا ذاتی محافظ دستہ بھی ساتھ تھا ۔ جس کا کماندار عامر بن عثمان تھا ۔ یہ بہت ہی بڑا
‫قافلہ تھا ۔ کئی اونٹوں پر پالکیاں تھیں جن کے پردے گرے ہوئے تھے ۔ رضیع خاتون اور شمس النساء کا اونٹ سب سے آگے
‫تھا ۔ رضیع خاتون کی خادمہ بھی ساتھ تھی ۔ رات کو راستے میں ایک جگہ قیام بھی کرنا تھا ۔
‫عزالدین کو موصل پہنچنے کی جلدی تھی اس لیے اس نے قافلے کا سربراہ مقرر کیا اور خود قیام کیے بغیر اپنے چند ایک
‫محافظوں اور دو تین مشیروں کے ساتھ سفر جاری رکھا۔ عامر بن عثمان کو قافلے کے ساتھ رہنے دیا گیا ۔ سورج غریب ہوتے
‫ہی خیمے نصب کر دئیے گئے۔ رضیع خاتون کا خیمہ اُن خیموں سے بہت دور نصب کیا گیا جن میں رات حرم کی لڑکیوں کو
‫رہنا تھا ۔ عزالدین نے خاص طور پر حکم دیاتھا کہ رضیع خاتون اور شمس النساء کو حرم کے خیموں سے ُدور رکھا جائے۔
‫قیام کی جگہ سر سبز اور چٹانی تھی۔ چٹانوں پر بھی سبزہ تھا ۔ ہری بھری جھاڑیوں کی بہتات تھی ۔
‫رات کو عامر بن عثمان مشعلوں کی روشنی میں حفاظتی انتظامات دیکھتا پھر رہا تھا ۔ اُن دنوں وہاں کوئی خطرہ نہیں تھا۔
‫کہیں بھی لڑائی نہیں ہو رہی تھی ۔ سلطان ایوبی مصر میں تھا اور صلیبی کہیں ُدور بیٹھے سلطان ایوبی کی اگلی چال کے
‫انتظار میں تیاریاں کر رہے تھے ۔ پھر بھی عامر کا یہ فرض تھا کہ خیمہ گاہ اور جانوروں کے اردگرد گشت کا انتظام کرتا۔ وہ
‫حرم کے خیموں سے ذرا ُد ور گھوم کر گزر رہا تھا۔ اس وقت وہ اکیال تھا ۔ خیموں سے کچھ اور ُدور گیا تو اُسے اپنے سامنے
‫ایک سایہ کھڑا نظر آیا۔ ا ُ س نے قریب جاکر گھوڑا روک لیا۔
‫میں نے تمہیں اندھیرے میں اتنی ُدور سے پہچان لیا ہے‪ ،تم قریب آکر بھی مجھے نہیں پہچانتے ''۔ ''

‫یہ انوشی کی آوازتھی ۔عامر بن عثمان نے آواز پہچان کر کہا ۔'' مجھے ابھی بہت کام کرنا ہے۔ اتنی وسیع خیمہ گاہ اور
‫اتنے سارے جانوروں کی حفاظت کا انتظام میرے ذمے ہے۔ مجھے مت روکو''۔
‫انوشی اس کے گھورڑے کے آگے آکر لگام پکڑ چکی تھی ‪ ،بولی۔ '' گھوڑے سے اُتر آئو عامر! جن کا تمہیں ڈر تھا وہ
‫موصل چلے گئے ہیں ۔ اُتر آئو''۔
‫عامر گھوڑے سے ا ُترا۔ انوشی نے اسے بازو سے پکڑا اور ذرا پرے چٹان کی اوٹ میں بٹھا لیا ۔ عامر نے سدھائے ہوئے جانور
‫کی طرح کوئی مزاحمت نہیں کی ۔
‫عامر!'' انوشی نے جذباتی لہجے میں کہا …… '' تم مجھے بدکار اور شیطان لڑکی سمجھ کر مجھ سے بھاگتے پھررہے ''
‫ہو۔ مجھے معلوم ہے کہ تم میری اصلیت سے اچھی طرح واقف ہو۔ تم اپنے آپ کو زاہد اور پارسا سمجھتے ہو اور تمہیں
‫جوانی اور اتنے دلکش جسم پر بھی ناز ہے۔ تم نے ابھی اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ کسی بھی روز تمہارا جسم خون
‫میدان جنگ میں کٹتے اور مرتے ہیں اور
‫میں ڈوبی ہوئی الش بن جائے گا۔ یہ جنگ و جدل کا دور ہے۔ ایک وہ ہیں جو
‫ِ
‫ایک وہ ہیں
‫جو قلعے اور محل کے اندر ہی خفیہ طریقے سے قتل کر دئیے جاتے ہیں۔ تمہارا انجام ایساہی ہو سکتا ہے۔ اپنے مردانہ
‫حسن اور جسم کی دلکشی کو دائمی نہ سمجھو ''۔
‫''کیا تم مجھے قتل کی دھمکی دے رہی ہو؟''
‫نہیں !'' انوشی نے جواب دیا ۔'' میں تمہیں یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ تمہیں اگر یہ خیال ہے کہ میں ''
‫تمہاری خوبصورتی اور تمہارے جسم پرمرتی ہوں تو یہ خیال دل سے نکال دو ۔ میں جسمانی تعیش کا مجسم ذریعہ ہوں‪ ،مگر
‫میں جسمانی لذت سے بیزار ہوں۔ انسان کتنی ہی پتھر کیوں نہ بن جائے ‪ ،دل کو بھی پتھر ہی کیوں نہ سمجھ لے ‪ ،دل
‫پتھر نہیں بن سکتا ۔ روح مرجھا جاتی ہے مرتی نہیں۔ دل او روح کو وہ محبت زندہ رکھتی جس کا تعلق جسم کے ساتھ
‫نہیں ہوتا ۔ مجھے اور زیادہ غور سے دیکھو۔ میرا حسن اور اس کا طلسم دیکھو۔ میں گناہ کرتی ہوں اور دوسروں کو گناہوں
‫کی ترغیب دیتی ہوں۔ مجھے لوگ شہزادی نہیں پری کہتے ہیں۔ تمہارے بادشاہ اور امراء میرے قدموں میں ایمان اور اپنا سر
‫رکھ دیتے ہیں مگر ایک ایسی تشنگی سے دو چار رہی جسے میں کبھی بھی نہ سمجھ سکی ۔ تمہیں دیکھا تو تم مجھے
‫اچھے لگے ۔ میں پہلی بار جب تمہارے قریب آئی تھی تو میری نیت صاف نہیں تھی ۔ تم نے جب مجھے ٹال دیا اور اس
‫کے بعد بڑے اچھے لفظوں میں دھتکار دیا تو مجھے معلوم ہوگیا کہ وہ تشنگی کیا ہے جو مجھے پریشان کیے ہوئے تھی ۔ میں
‫تمہیں دل کی گہرائیوں سے چاہنے لگی۔ یہ تمہاری صورت کا اثرنہیں تھا ‪ ،اور یہ اثر ایسا تھا جس نے میرے دل میں ان
‫سب کے خالف نفرت پیدا کی ‪ ،جو مجھے عیاشی کا کھلونا سمجھتے ہیں اور جو اپنا ایمان اور اپنا قومی وقار میرے ہاتھ
‫سے لیے ہوئے شراب کے پیالے میں ڈبو دیتے ہیں ''۔
‫وہ جذبات سے مخمور آواز سے بول رہی تھی اور عامر بن عثمان اس ذہنی کیفیت میں ُسن رہا تھا کہ دل میں یہ ڈر تھا کہ
‫کسی نے دیکھ لیا تو وہ مارا جائے گا۔ یہ خدشہ بھی تھا کہ شمس النساء اُس کی تالش میں ادھر آنکلی تو اُس کی محبت
‫کا خون ہو جائے گا ۔ وہ صرف ُس ن رہا تھا ۔ اتنی حسین لڑکی کی ایسی جذباتی اس کے دل پر کوئی اثر نہیں کر رہی
‫تھیں۔
‫کیا تم ڈرتے ہو یا تمہارا دل مردہ ہوگیا ہے؟'' نوشی نے اس کے گال ہاتھوں میں تھام کر کہا …… '' اگر میرا دل ''
‫ُم ردہ نہیں ہوا تو میں مان ہی نہیں سکتی کہ تمہارا دل مرگیا ہے ''۔اس نے کان عامر بن عثمان کےدل کے ساتھ لگا دیا۔
‫ا ُس کے معطر اور ریشم جیسے بکھرے بکھرے بال عامر کے جواں سال گال ُچھونے لگے ۔ وہ آخر جوان تھا۔ اس کی ذات
‫میں ہلچل سی بپا ہوئی۔ ا ُسے انوشی کی ہنسی کا ترنم سنائی دیا۔ ہنس کر بولی …… '' دل زندہ ہے ‪،دھڑک رہا ہے……میں
‫تم سے کیا مانگتی ہوں؟ کچھ بھی نہیں ‪ ،تم مجھ سے مانگو ‪ ،ہیرے‪ ،جواہرات ‪ ،سونے کے سکے ‪ ،کہو کیا چاہیے ''۔
‫مجھے کچھ بھی نہیں چائیے‪ ،سوڈانی پری''۔''
‫مجھے انوشی کہو''۔ لڑکی نے کہا …… '' سوڈانی پری کہنے والے محبت سے عاری ہیں۔ گناہگار ہیں ۔ تم ان سب ''
‫سے بلند ہو‪ ،پاک ہو۔ مجھ سے خزانے لے لو۔ ان کے عوض مجھے محبت دے دو '' …… اُس نے اپنا گال عامر کے گال
‫کے ساتھ لگا دیا ۔ عامر تڑپ کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی حالت اب اُس پرندے کی سی تھی جسے پنجرے میں بند کر لیا
‫گیا ہو۔ وہ تڑپنے اور پھڑکنے لگا۔
‫معلوم ہوتا ہے تمہارے دل میں کسی اور کی محبت ہے''۔ انوشی نے کہا …… '' میرے طلسم میں کبھی کوئی یوں تڑپا ''
‫نہیں۔ مجھے کہہ دو کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ''۔ اُس نے دانت پیس کر کہا ۔ '' تمہیں اتنا بھی احساس نہیں کہ
‫ایک گناہگار لڑکی تم سے پاک محبت کی بھیک مانگتی ہے اور ہو سکتا ہے وہ گناہوں سے توبہ کرکے تمہارے قدموں میں
‫سجدہ ریز ہوجائے۔ بدبخت انسان! یہ بھی سوچ لو کہ تم اس لڑکی کو دھتکار رہے ہو جس نے حکومتوں کے تخت اُلٹ دئیے
‫ہیں اور جو بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون بہا دیتی ہے۔ تم میرے سامنے ایک کیڑے سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتے
‫''۔
‫پھر مجھے مسل ڈالو''۔ عامر نے کہا…… '' میں تمہارے قابل نہیں '' …… وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔''
‫میں تم سے کچھ نہیں مانگتی عامر !'' انوشی نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا ۔'' صرف یہ کرو ''
‫کہ میرے پاس بیٹھے رہا کرو۔ مجھے پناہ میں لے لیا کرو ''۔
‫عامر اس سے ہٹ کر اپنے گھوڑے کے پاس گیا ۔ انوشی وہیں کھڑی رہی ۔ عامر گھوڑے پر سوار ُہوا اور کچھ کہے بغیر چال
‫گیا ۔
‫٭ ٭ ٭
‫عامر بن عثمان کا گھوڑا آہستہ آہستہ چل رہا تھا ۔ عامر کا سر جھکا ہوا تھا ۔ اس کی ناک میں انوشی کے بالوں کی
‫خوشبو تروتازہ تھی ۔ وہ گالوں پر انوشی کے بالوں کے لمس کا گداز محسوس کر رہا تھا ۔ وہ اس حسین جال سے نکلنے کی
‫کوشش کر رہا تھا اور وہ یہ بھی محسوس کر رہا تھا کہ اگر انوشی ایک بار پھر ایسی ہی تاریکی اور تنہائی میں اُسے ملی
‫تو اُس کی قسمیں ٹوٹ جائیں گی ‪ ،پھر وہ کہیں نہیں رہے گا ۔ اُس نے اپنے خیالوں کا ُرخ شمس النساء کی طرف پھیر دیا
‫۔ تب ا ُسے یاد آیا کہ شام خیمے نصب کرتے وہ ذرا سی دیر شمس النساء کے پاس ُرکا تھا اور انہوں نے ملنے کا وقت اور
‫جگہ طے کی تھی ۔ اُسے یاد آگیا کہ وہ اُسی جگہ کی طرف جارہا تھا ‪ ،راستے میں انوشی نے روک لیا …… اُس نے گھوم
‫کر پیچھے دیکھا۔ اسے اندھیرے میں انوشی نظر نہ آئی۔ وہ ایک ٹیکری سے ُمڑکر اُس جگہ پہنچا جہاں شمس النساء کو آنا

‫تھا ۔ عامر نے جس طرح انوشی کا سایہ دیکھا تھا اسی طرح اُسے شمس النساء کا سایہ نظر آیا جو گھوڑے کی طرف بڑھا۔
‫وہ گھوڑے سے اُترا۔
‫کہاں رہے؟''شمس النساء نے اس سے پوچھا …… ''بہت دیر سے انتظار کر رہی ہوں''۔''
‫میرے کام سے تم آگا ہ ہو''۔ عامر نے جھوٹ بوال …… '' اِدھر ہی آرہا تھا کہ ایک جگہ کام سے ُرکنا پڑا اور اتنی ''
‫دیر ہوگئی ''۔
‫اپنے آدمیوں کا بھی خیال رکھنا ''۔ شمس النساء نے کہا …… '' وہ سب بہت ہوشیار ہیں ۔ کسی کو اُن پر شک نہیں ''
‫ہوگا ''۔
‫شمس النساء ا ُن '' اپنے آدمیوں'' کا ذکر کر رہی تھی جو حلب کے اندر سلطان ایوبی اور رضیع خاتون کے لیے جاسوسی
‫اور مخبری کرتے تھے۔ ان میں جو محل کے اندر مالزم تھے وہ اسی حیثیت کے ساتھ جا رہے تھے اور جو شہر میں کوئی
‫کام کاج کرتے تھے انہیں عارضی مزدوروں کے بہروپ میں راستے میں خیمے لگانے اور اکھاڑنے اور دیگر کاموں کے لیے ساتھ
‫لیے لیا گیا تھا ۔ ان کے متعلق یہ طے کیا گیا تھا کہ موصل شہر میں مختلف کاموں پر لگا دیا جائے گا۔ رضیع خاتون کی
‫خادمہ نے یہ تمام آدمی شمس النساء اور عامر بن عثمان کو دکھائے تھے۔
‫آئو کچھ دیر بیٹھ جائیں ''۔ شمس النساء نے اپنا بازو عامر کی کمرکے گرد لپیٹ کر کہا ۔ ''
‫عامر نے اپنا بازو شمس النساء کی کمر کے گرد لپیٹا۔ شمس النساء اس کے ساتھ لگ گئی۔ ایک قدم اُٹھایا اور ُرک گئی۔ اُس
‫نے ناک عامر کے سینے سے لگا کر سونگھا اور اس سے الگ ہٹ کر بولی۔ '' تم کہاں تھے؟ کس کے پاس تھے ''۔
‫میں جانوروں کو دیکھ کر آرہا ہوں''۔ عامر نے جواب دیا ۔''
‫جانور عطر کب سے لگانے لگے ہیں ؟'' شمس النساء نے دبے دبے غصے سے کہا …… '' تم نے کبھی عطر نہیں لگایا ''
‫''۔ عامر چپ رہا …… ' ' تمہیں وہ خوبصورت ڈائن مل گئی ہو گی۔ تم اس کے جال میں آگئے ہو''۔
‫ابھی نہیں آیا شمسی! '' عامر نے کہا …… '' وہ مجھے راستے میں مل گئی تھی ۔ میں تمہیں بتانا نہیں چاہتا تھا ''
‫تمہیں کسی وہم میں مبتال نہیں ہونا چاہیے ۔ میں اتنا کچا آدمی نہیں ہوں۔ تم نے میرے سینے سے جو خوشبو سونگھی ہے
‫یہ ا ُسی کی ہے لیکن تم میرے سینے کے اندر دیکھنے اور سونگھنے کی کوشش کرو''۔ عامر کے لہجے میں گھبراہٹ کا ہلکا
‫ادنی مالزم ہوں ‪،
‫ہلکا لرزہ تھا ۔ کہنے لگا …… '' میں بہت پریشان ہوں شمسی ! میں کوئی امیر یا حاکم یا ساالر نہیں ‪،
‫ٰ
‫انوشی مجھے آسانی سے انتقام کا نشانہ بنا سکتی ہے ''۔
‫معلوم ہوتا ہے آج اُس نے تمہیں کچھ زیادہ ہی پریشان کیا ہے''۔ شمس النساء نے کہا ۔''
‫بہت زیادہ''۔ عامر بن عثمان نے جواب دیا ۔ '' آج اس نے اپنا دل کھول کر میرے آگے رکھ دیا ۔ اس نے یہاں تک''
‫کہہ دیا ہے کہ وہ گناہگار اور بدکار ہے۔ اس نے مجھ پر واضع کردیا ہے کہ وہ یہاں بدکاری پھیالنے اور بھائی کوئی بھائی سے
‫لڑانے آئی ہے۔ اس نے مجھ سے پاک محبت کی التجا کی ہے اور کہا ہے کہ میں اس کے عوض جتنی دولت مانگوں
‫دےگی۔ میں نے بڑی مشکل سے اس کے بازئووں سے رہائی حاصل کی ہے ۔ خدا کے لیے مجھے بتائو شمسی ‪ ،میں کیا
‫کروں۔ وہ دنیا کی ساری دولت میرے قدموں میں رکھ دے تو بھی میں تمہیں دھوکہ نہیں دے سکتا ''۔
‫پھر اُسے دھوکہ دو''۔شمس النساء نے کہا ۔ '' اُسے وہی محبت دو جو وہ مانگتی ہے۔ اس کے عوض اس سے وہ راز ''
‫لو جو ہم مانگتے ہیں ۔ اس نے تمہیں بتا دیا ہے کہ ا ُسے کس مقصد کے لیے یہاں بھیجا گیا ہے۔ تم تجربہ کار اوردانشمند
‫ہو۔ یہ تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اُسے صاف کہہ دو کہ تمہیں اندر کے رازوں کی ضرورت ہے
‫یا اسے بتائے بغیر اُس سے راز اگلواتے رہو''۔
‫میں یہ سوچ چکا ہوں ''۔ عامر نے کہا …… '' مگر ڈرتا ہوں کہ تم ایک نہ ایک دن میرے خالف غلط فہمی میں ''
‫مبتال ہوجائو گی ''۔
‫میں تمہیں اور اپنی محبت کو خدا کے سپرد کرتی ہوں'' ۔ شمس النساء نے کہا …… '' ماں ہر روز مجھے جو باتیں ''
‫بتاتی ہے وہ میری روح میں ا ُتر گئی ہیں۔ میری محبت مر نہیں سکتی ‪ ،میں اسے اس عظیم مقصد پر قربان کر سکتی ہوں
‫جو مجھے ماں نے دیا ہے۔ اپنے اللہ اور اپنے حلف کو یاد رکھو گے تو کوئی غلط فہمی پیدا نہیں ہوگی ''۔ اس نے
‫''پوچھا ۔ '' کیا اُسے معلوم ہو گیا ہے کہ تم مجھے ملتے ہو؟
‫ا ُ س نے ذکر نہیں کیا ''۔ عامر نے جواب دیا …… '' اُسے یقینا معلوم نہیں ''۔ ''
‫کام کی بات سن لو ''۔شمس النساء نے کہا …… '' حلب کی روانگی سے کچھ دیر پہلے قاہرہ سے ایک آدمی یہ معلوم''
‫کرنے آیا ہے کہ عزالدین کی نیت کیا ہے اور صلیبیوں کے منصوبے کیا ہیں۔ اُسے کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا جا سکا ۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی بہت جلدی قاہرہ سے فوج کے ساتھ روانہ ہونے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اس آدمی نے بتایا ہے کہ سلطان
‫ایوبی اس وجہ سے جلدی کوچ کرنا چاہتے ہیں کہ صلیبی فوج نے موصل ‪ ،حلب اور دمشق کی طرف پیش قدمی کردی تو
‫قاہرہ سے فوج بروقت یہاں پہنچانا ممکن نہیں ہوگا۔ خطرہ یہ ہے کہ سلطان اپنی فوج لے آئیں اور صلیبیوں کی چال کچھ اور
‫ہو تو سلطان کی فوج نقصان ا ُٹھا سکتی ہے ۔ ہمیں بہت جلد اپنے مسلمان امراء اور صلیبیوں کے عزائم معلوم کرنے ہیں ''۔
‫میں نے سنا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوس آسمان سے تارے بھی توڑ التے ہیں ''۔ عامر بن عثمان نے ''
‫''کہا …… '' کیا صلیبی عالقوں میں اس کا کوئی آدمی نہیں ؟
‫ماں نے بتایا ہے کہ اسحاق ترک ایک بڑا ہی قابل اور ہوشیار آدمی ہے ''۔ شمس النساء نے جواب دیا ۔ '' وہ ''
‫بیروت گیا ہوا ہے ۔ صحیح خبر وہی الئے گا لیکن اس کی طرف سے کوئی اطالع قاہرہ نہیں پہنچی …… دیکھو عامر !
‫فوجوں کی نقل و حرکت ہوتی ہے تو یہ راز بے نقاب ہو جاتے ہیں مگر یہاں کوئی ایسی ہلچل نظر نہیں آتی۔ جو راز ہے‪،
‫وہ عزالدین اور عمادالدین کے سینے میں ہے۔ یہ اندرونی حلقوں سے مل سکتا ہے اور تمہیں یہ رازانوشی دے سکتی ہے ''۔
‫مگر جو قیمت وہ مانگتی ہے وہ میں نہیں دے سکوں گا ''۔ عامر نے کہا ۔''
‫تمہیں یہ قیمت دینی پڑے گی''۔ شمس النساء نے کہا ۔ ' ' میں یہ قیمت دینے کو تیار ہوں۔ میں اپنے بھائی کے ''
‫گناہوں کا کفارہ اداکرنا چاہتی ہوں ۔ مذہب اور ا ُ ّم ِ
‫ت رسول ۖ کی عظمت کے لیے ہماری آپس کی محبت اور دلوں کی خواہشیں
‫کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ ہمیں ان شہیدوں کا قرض ادا کرنا ہے جو اسالم کے نام پر اپنی دلہنوں کو نوجوانی میں بیوہ کر
‫گئے ہیں …… عامر! کچھ نہ سوچو۔ قربان ہو جائو''۔
‫٭ ٭ ٭
‫ا ُس وقت اسحاق ترک بیروت میں تھا۔ بیروت صلیبی حکمران بالڈون کے فرنگی لشکر کی بہت بڑی چھائونی بنا ہواتھا۔ اس

‫سلسلے کے پچھلی اقساط میں سنایا جا چکا تھا کہ بالڈون کو ایک شکست سلطان ایوبی کے بھائی العادل نے دی تھی اور
‫تھوڑے ہی عرصے بعد ا ُس نے سلطان ایوبی کی فوج کو گھات میں لینے کی کوشش کی تو خود سلطان ایوبی کی گھات میں
‫آگیا تھا۔ وہ گرفتار ہوتے ہوتے بچا اور دونوں بار ا ُس کی فوج تتر بتر ہو کر پسپا ہوئی۔ وہ تو جیسے راتوں کو سوتا بھی نہیں
‫تھا ۔ ان دونوں پسپائیوں کا انتقام لینے کے منصوبے بناتا رہتا تھا ۔ اُس نے الملک الصالح کو اپنا اتحادی بنا لیا تھا مگر اس
‫کا یہ اتحادی مر گیا ۔ اب وہ عزالدین اور عمادالدین کو سلطان ایوبی کے خالف اپنے محاذ میں شامل کر رہا تھا ۔ اُس نے
‫قاہرہ میں جاسوس بھیج رکھے تھے جو سلطان ایوبی کے ارادوں کا پتہ چال رہے تھے ۔
20:56
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 130سانپ اور صلیبی لڑکی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫جو سلطان ایوبی کے ارادوں کا پتہ چال رہے تھے ۔ اسحاق ترک بیروت پہنچ چکا تھا اور بالڈون کی ہائی کمانڈ تک پہنچنے
‫کی ترکیبیں سوچ رہا تھا ۔ وہاں جس سے ملتا اپنے آپ کو کسی مسلمان عالقے سے بھاگا ہوا عیسائی بتاتا۔ اس طرح اس
‫نے بہت سے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرلیں۔ وہ چونکہ ترکی کا باشندہ تھا ۔ اس لیے سفید فام تھا ۔ ُخوبرو اور تنومند
‫بھی تھا۔ گھوڑسواری ‪ ،نیزہ بازی‪ ،تیر اندازی اور تیغ زنی میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔ اُس کے بازو لمبے اور ان میں طاقت
‫تھی ۔ دماغ بھی تیز اور باریک بین تھا ۔ دوسروں کا دل موہنے کے لیے‪ ،بھڑکانے کے لیے اور ہرکسی کو اپنا گرویدہ بنالینے
‫کے لیے وہ بناسب ڈھونگ رچانے کے فن کاماہر تھا ۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہا کرتا تھا کہ میری اصل قوت میرا ایمان اور
‫میرا کردار ہے۔
‫ا ُن دنوں بیروت میں سلطان ایوبی کے خالف جنگی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ وہاں کے لوگوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے لیے
‫فوجی میلے ہو رہے تھے جن میں فوجی کرتب دکھاتے اور تیغ زنی وغیرہ کے مقابلے کرتے تھے۔ ایک روز اسحاق ترک ایسے
‫ہی ایک مقابلے کا تماشہ دیکھنے جا پہنچا۔ یہ صلیبیوں کا ایک پرانا کھیل تھا ۔ دو گھوڑ سوار ہاتھوں میں لمبی برچھیاں
‫تانے ایک دوسرے کی طرف گھوڑے سرپٹ دوڑاتے اور ایک دوسرے کو برچھی سے گھوڑے سے گرانے کی کوشش کرتے تھے۔
‫اگر کوئی پہلی بار نہ گرے تو ایک بار پھر ایک دوسرے کی طرف گھوڑے دوڑاتے اور ایک دوسرے کو برچھی سے گرانے کے
‫لیے وار کرتے تھے۔ سوار زرہ بکتے پہنے ہوئے تھے۔
‫یہ مقابلہ ہوتا رہا۔ سوار گرتے رہے۔ دوسروں کو مقابلے کے لیے للکارتے رہے۔ ایک سوار نے کئی سواروں کو گرایا۔ اُس نے
‫کسی اور کو للکارا تو کوئی بھی سامنے نہ آیا۔ اسحاق ترک صحرائی لباس میں تھا ۔ وہ میدان میں آگیا ۔ مقابلہ کرنے والے
‫سوار فوجی تھے اور زرہ پوش۔ اسحاق کو عام لباس میں میدان میں اُترتے دیکھ کر تماشائیوں نے قہقہہ لگایا۔ وہاں صلیبی
‫جرنیل اور دیگر کمانڈر وغیرہ بھی تھے۔ وہ بھی خوب ہنسے ۔ جس گھوڑسوار نے سب کو للکارا تھا وہ گھوڑے پر سوار میدان
‫میں گھوڑے کو اِدھر ا ُدھر بھگا رہا تھا ۔ وہ صلیبی فوج کے ایک دستے کا کمانڈر تھا ۔ اُس نے ازرا ِہ مذاق گھوڑے کا ُرخ
‫اسحاق کی طرف کیا اور قریب آکر برچھی اسحاق کوماری ۔ اسحاق وار بچا گیا ۔ تماشائیوں نے ایک اور قہقہہ لگایا ۔ پھر
‫شور ا ُٹھا ۔ '' پاگل۔ پاگل۔ یہ کوئی پاگل ہے۔ اسے جا ن سے مار ڈالو''۔
‫گھوڑ سوار کمانڈر نے گھوڑا پیچھے کو موڑا۔ اس کے ساتھی کمانڈروں میں کسی نے اسے کہا …… '' اب کے اسے برچھی
‫میں اڑس کر ساتھ لے جائو ۔ زندہ نہ رہے '' …… کسی اور نے چال کر کہا …… '' یہ تمہاری توہین ہے ۔ ایک پاگل
‫دیہاتی نے تمہیں للکارا ہے''۔
‫گھوڑ سوار نے ایڑ لگائی ۔ اسحاق نہتہ تھا ۔ گھوڑے کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اس نے چغہ اتار پھینکا اور برچھی کا وار
‫بچانے کے لیے تیار ہوگیا۔ گھوڑسوار ذرا سا جھکا ۔ برچھی ہاتھ میں لی ۔ قریب آکر اس نے اسحاق پر وار کیا۔ اسحاق کچھ
‫دور تک گھوڑے کے ساتھ اس طرح دوڑتا گیا جیسے برچھی اس کے جسم میں اتر گئی ہو اور وہ اُس کے ساتھ گھسیٹتا جا رہا
‫ہو۔ تماشائیوں نے داد و تحسین کا شوربپا کردیا لیکن یہ دیکھ کر سب پر سناٹا طاری ہوگیا کہ اسحاق ترک دوڑتے دوڑتے سوار
‫کے پیچھے گھوڑے پر سوار ہوگیا تھا ۔ برچھی کو اس نے پکڑ رکھا تھا ۔ سوار نے بھی برچھی کو پکڑ رکھا تھا ۔ اُس نے
‫گھوڑے کو گھمایا ۔ گھوڑا ایک چکر میں دوڑنے لگا۔ اسحاق اس سے برچھی چھیننے کی کوشش کر رہا تھا ۔
‫اُس نے برچھی چھین لی اور دوڑتے گھوڑے سے کود کر کھڑا ہوگیا ۔ اُس نے برچھی لہرا کر للکارا ۔ '' مجھے ایک گھوڑا
‫دے دو۔ کوئی بھی میرے مقابلے میں آجائے۔ زرہ بکتر کے بغیر مقابلہ کروں گا ''۔
‫گھوڑ سوار کمانڈر گھوڑے سے اُتر کر اسحاق کے پاس آیا۔ اُس نے بازو پھیال رکھے تھے ۔ اسحاق نے برچھی زمین میں گاڑ
‫دی ۔ صلیبی سوار نے ا ُسے گلے لگا لیا۔ اسحاق نے کہا کہ مقابلہ کروں گا ‪ ،مجھے گھوڑا دے دو …… اسے ایک گھوڑا اور
‫ایک برچھی دے دی گئی ۔ وہ اسی کمانڈر کے مقابلے میں آیا ۔ تماشائی دم بخود تھے۔ انہیں یقین تھا کہ یہ بد قسمت
‫دیہاتی زرہ بکتر کے بغیر برچھی سے بہت بُ ری موت مرے گا ۔ دونوں گھوڑے دور آمنے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اشارے پر گھوڑے
‫دوڑے ۔ کمانڈر نے برچھی اسحاق کے پیٹ کے سیدھ میں رکھی ہوئی تھی ۔ اسحاق نے اپنے جسم کو ذرا سا موڑ کر کمانڈر
‫کا وار خطا کردیا۔ اس کے ساتھ ہی برچھی کمانڈر کے پیٹ میں لگی ۔ کمانڈر گھوڑے کی دوسری طرف گر پڑا۔ اس نے غلطی
‫یہ کی کہ اس طرف واال پائون رکاب سے نکالنا بھول گیا۔ گھوڑا اسے گھسیٹنے لگا۔
‫اس مقابلے میں کسی تماشائی کو کسی سوار کی مدد کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ سوار مر بھی جایا کرتے تھے۔ کمانڈر ‪:
‫کو گھوڑا گھسیٹ رہا تھا ۔ اسحاق نے گھوم کر دیکھا تو ا ُس نے اپنے گھوڑے کو گھمایا ‪ ،ایڑ لگائی اور کمانڈر کے گھوڑے کے
‫پہلو میں آکر اپنے گھوڑے سے کود کر اس کے گھوڑے کی پیٹھ پر جا بیٹھا‪ ،لگام کھینچی اور گھوڑے کو روک لیا۔ کمانڈر نے
‫چونکہ زرہ بکتر پہن رکھی تھی اس لیے اس کا جسم زمین کی رگڑ سے محفوظ رہا ورنہ اس کی کھال اُتر جاتی ۔
‫کمانڈر نے اسے اپنے بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے۔ اسحاق ترک نے بتایا کہ وہ مسلمانوں
‫کے عالقے سے بھاگا ہوا عیسائی ہے۔ وہ اپنے آپ کو عام قسم کا عیسائی تو کہہ نہیں سکتا تھا ۔ ایسی گھوڑ سواری اور
‫ایسی نیزہ بازی کا ماہر کوئی فوجی ہو سکتا تھا یا کوئی اونچے خاندان کا فرد۔ اس نے کمانڈر کو بتایا کہ مسلمان اسے
‫زبردستی فوج میں بھرتی کرنا چاہتے تھے اس لیے وہ وہاں سے بھاگ آیا۔
‫کمانڈر اُسے اپنے ساتھ لے گیا ۔
‫یہ کمانڈر بالڈون کی فوج کا نائٹ تھا ۔ نائٹ صلیبی فوج کا بہت بڑا اعزاز اور رتبہ ہوتا تھا جو اُس کمانڈر کو دیا جاتا تھا
‫جو ذاتی طور پر نڈر اورماہر جنگجو ہو اور اجتماعی طور پر بہت بڑے دستے کو جنگی اہلیت سے لڑاسکے۔ اس اعزاز کے لیے

‫جو اوصاف دیکھے جاتے تھے وہ کسی کسی میں پائے جاتے تھے ۔ یہ اعزاز جسے ملتا اُسے سر سے پائون تک زرہ بکتر مال
‫کرتی تھی۔ صلیبیوں کے نائٹ جنگی قابلیت اور بے خوفی کی بدولت آج تک مشہور ہیں ۔ اُن کا اتنا رتبہ ہوتا تھا کہ اُن کے
‫مشوروں سے بادشاہ اپنے فیصلے بدل دیا کرتے تھے۔
‫اسحاق ترک نے زرہ بکتر کے بغیر اس نائٹ کو پچھاڑ دیا اور اُسے گھوڑے کے پائوں تلے آنے سے بچا بھی لیا تو نائٹ اس
‫کی قدروقیمت سمجھ گیا ۔ اُسے اپنے گھر لے جاکر نائٹ نے اُسے شراب پیش کی ۔ مسلمان جاسوسوں کے لیے یہ ایک
‫مشکل پیدا ہو جایا کرتی تھی کہ دشمن کے عالقے میں وہ عیسائیت کا بہروپ دھار لیتے اور اونچے حلقوں میں بھی پہنچ
‫جایاکرتے تھے مگر وہاں شراب پانی کی طرح پی پالئی جاتی تھی ۔ مسلمان شراب پینے سے گزیز کرتے تھے۔ بہانے تراشتے
‫فتوی دینے سے ہچکچاتے تھے کہ ان
‫تھے۔ بعض جاسوس شراب کے سلسلے میں شک میں پکڑے بھی گئے تھے۔ علماء ایسا
‫ٰ
‫میں حاالت میں شراب جائز ہے۔ صالح الدین ایوبی نے یہ ہدایت جاری کی تھی کہ شراب پینے کی اجازت نہیں دی جا
‫سکتی کیونکہ مذہب میں حرام ہونے کے عالوہ یہ خطرہ تھا کہ شراب نوشی عادت بن جاتی ہے‪ ،دوسرے یہ کہ جس نے
‫کبھی شراب نہ پی ہو وہ ہوش کھو کر اپنی اصلیت بے نقاب کر سکتا ہے۔ البتہ سلطان ایوبی نے کہا تھا کہ دشمن کے ملک
‫میں شراب پی لو تو اتنی پی لی جائے جو بدمست نہ کرے۔
‫یہی مشکل اسحاق ترک کے سامنے آگئی۔ وہ ایمان کا پکا تھا۔ اس نے پینے سے انکار کر دیا اور کہا ۔ '' میری قوت آپ
‫نے دیکھ لی ہے۔ اس کاراز صرف یہی ہے کہ میں شراب نہیں پیتا۔ میرے استاد نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے جسم میں
‫شراب چلی گئی تو تمہارے نیچے جو گھوڑا ہوگا وہ محسوس کرے گا کہ اس کی پیٹھ پر ایک کمزور انسان بیٹتھا ہے۔ پھر
‫گھوڑا بھی حکم نہیں مانے گا '' …… اسحاق نے گردن سے لٹکتے دھاگے کو کھینچا۔ اُس کے کرتے کے اندر سے چھوٹی سی
‫صلیب باہر آئی ۔ اسحاق نے کہا …… '' میں نے اپنی طاقت کو اس صلیب کے تحفظ کے لیے صرف کرنے کے لیے صلیب
‫ہاتھ میں رکھ کر قسم کھائی تھی کہ شراب نہیں پیئوں گا ۔ بدکاری نہیں کروں گا …… میری قسم نہ توڑیں '' ۔
‫''تم کہاں رہتے ہو؟'' نائٹ نے پوچھا …… '' گھر والے تمہارے ساتھ آئے ہیں؟''
‫نہیں '' ۔ اسحاق نے جواب دیا …… ''میں گھر والوں سے یہ کہہ کر بھاگا تھا کہ اپنے کسی عالقے میں کوئی تسلی ''
‫بخش ٹھکانہ بن گیا تو انہیں یہاں لے آئوں گا ''۔
‫تمہارا ٹھکانہ بن گیا ہے''۔ نائٹ نے کہا …… '' میں تمہیں اپنی باقاعدہ فوج میں نہیں لے رہا۔ تم میرے ذاتی محافظ ''
‫ہوگے۔ ہر کمانڈر کے ساتھ دو چار محافظ ہوتے ہیں لیکن میں تم جیسے اوصاف کے آدمیوں کا قدردان ہوں۔ میری پسند کا
‫صرف ایک محافظ میرے پاس ہے۔ تم دوسرے ہوگے۔ تمہاری رہائش کا انتظام کر دیاجائے گا''۔
‫وہ زمانہ جنگجوئوں کا تھا ۔ اسحاق جیسے طاقتور اور دلیر آدمیوں کی قدرخوب ہوتی تھی۔ نائٹ نے اُس کی رہائش کا انتظام
‫کر دیا ۔ اس کے لیے عربی گھوڑے اور دیگر سامان کا بندوبست کیا اور اس کی تنخواہ مقرر کر دی ۔ اسحاق ترک کو خدا
‫نے دماغی صالحیتیں بڑی فیاضی سے عطا کی تھیں۔ انہیں بروئے کار التے ہوئے وہ دودنوں میں اس صلیبی نائٹ کا معتمد بن
‫گیا۔
‫میری صرف ایک خواہش ہے ''۔ اس نے نائٹ سے کہا …… '' جس طرح مسلمانوں کا قبلئہ ّاول ہمارے قبضے میں آگیا '
‫ہے ۔ ا ُن کے خانہ کعبہ پر بھی ہمارا قبضہ ہوجائے۔ اسالم تھوڑے سے عرصے میں ہمیشہ کے لیے مرجائے گا۔ اگر ساری دنیا
‫پر نہیں دنیائے عرب پر صلیب کی مقدس حکمرانی ہوجانی چاہیے''۔
‫تم خواب دیکھ رہے ہو میرے دوست!''نائٹ نے کہا ۔ '' مسلمانوں کو اتنی جلدی شکست دینا آسان نہیں۔ اگر ہم نے ''
‫مسلمانوں کے کعبے کی طرف پیش قدمی کی تو ساری دنیا کے مسلمان اکھٹے ہو جائیں گے ۔ انہیں چھوڑو‪ ،ہم ابھی تک
‫اکیلے صالح الدین ایوبی کو شکست نہیں دے سکے ''۔
‫آپ لوگ اپنے ہی پیدا کیے ہوئے وہموں کا شکار ہوگئے ہیں ''۔ اسحاق ترک نے کہا …… '' مسلمانوں میں اتحاد نہیں ''
‫رہا۔ صالح الدین ایوبی اپنے مسلمان دشمنوں میں اکیال رہ گیا ہے۔ کیا حلب اور موصل کے نئے حکمران‪ ،عزالدین اور
‫عمادالدین آپ کے حمایتی نہیں ؟ وہ آپ کی مدد کے محتاج اور منتظر ہیں۔ آپ کے جاسوسوں نے مسلمانوں کو کھوکھال کر
‫دیا ہے۔ میں آپ کو وہاں کی صحیح تصویر بتاتا ہوں '' …… اس نے الفاظ میں ایسی تصویر پیش کی جس سے نائٹ کی
‫باچھیں کھل گئیں۔ اسحاق نے ایسے مشورے دئیے جو کوئی جرنیل ہی دے سکتا تھا ۔ نائٹ کی آنکھیں کھل گئیں۔
‫تم مجھے حیران کر دینے کی حد تک ذہین ہو''۔ نائٹ نے کہا …… ''ہم کچھ ایسے ہی منصوبے بنا رہے ہیں جو ''
‫تمہاری خواہشوں اور عزائم کے مطابق ہیں ''۔
‫میرے اس مشورے کو ذرا اہمیت دیں کہ صالح الدین ایوبی کی طرح چھاپہ مار جیش تیار کریں ''۔ اسحاق نے کہا …… ''
‫'' ایک جیش میرے حوالے کردیں۔ میں مسلمان عالقوں اور ان کی نازک رگوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ مجھے دور اندر
‫تک وہ جگہیں معلوم ہیں جہاں وہ رسد وغیرہ کے ذخیرے رکھتے ہیں۔ اِدھر جنگ ہوئی تو اُدھر اُن کا کوئی ذخیرہ نہیں رہنے
‫دوں گا ''۔
‫ایسا ہی ہوگا ''۔ نائٹ نے کہا …… '' ہم تمہیں موقعہ دیں گے ''۔ ''
‫٭ ٭ ٭
‫میں نے تمہیں شمس النساء کے ساتھ باتیں کرتے دیکھا تھا ''۔ انوشی عامر بن عثمان سے کہہ رہی تھی ۔ وہ موصل ''
‫میں تھے۔ عامر نے ا ُسے محبت کا جھانسہ دے دیا تھا ۔ انوشی آدھی رات کے بعد اس کے کمرے میں آگئی تھی ۔ کہنے
‫لگی …… ''شمس النساء مجھ سے زیادہ خوبصورت تو نہیں ''۔
‫اس کا نام نہ لو ''۔ عامر نے اکتاہٹ سے کہا …… '' وہ شہزادی ہے۔ مجھے اپنا نوکر سمجھتی ہے اور حکم چالتی ''
‫ہے۔ میں کبھی اس کے پاس کھڑا ہوتا بھی ہوں تو یہ حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔ تم سے بھی میں اسی لیے ڈرتا رہتا ہوں ۔
‫تمہیں بھی میں شہزادی سمجھتا رہا‪ ،لیکن تم نے میرا ڈر ُد ور کر دیا ہے۔ پھر بھی کھبی کبھی ڈر آہی جاتا ہے کہ تم مجھے
‫کسی دھوکے میں مبتال کر رہی ہو۔ یہ نہ بھی ہوا تو اپنا یہ انجام مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ بڑوں نے مجھے تمہارے ساتھ
‫دیکھ لیا تو مجھے تہہ خانے میں بند کردیں گے ''۔
‫اگر تمہیں کسی تہہ خانے میں بند کیا تو میرے اشارے پر موصل کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی ''۔ انوشی نے کہا ''
‫اور ا ُسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ پیار سے بولی …… '' تمہارا یہ ڈر بجا ہے کہ میں تمہیں کوئی دھوکہ دے رہی ہوں ۔ میرا وجود
‫ایک دلکش دھوکہ ہے لیکن تم مجھے انسان کے روپ میں دیکھو۔ مجھے اپنی عبادت کرنے دو ''۔
‫انوشی پر بے خودی سی طاری ہوگئی۔ عامر بن عثمان کی انگلیاں اس کے بالوں میں رینگ رہی تھیں۔ رات گزرتی جا رہی

‫تھی ۔ انوشی کے لہجے میں خمار آگیا تھا ۔ عامر بن عثمان کے لیے یہ بڑا ہی سخت امتحان تھا ۔ وہ جوان تھا‪ ،تنومند
‫تھا اور وہ غیر شادی شدہ تھا۔ کئی بار اس کے جذبات اپنے قابو سے نکل چلے تھے۔ اُس نے دل ہی دل میں دھیان خدا
‫ِ
‫ذات باری اسے جبر اور ہمت و استقالل عطا فرمائے'' ۔
‫کی طرف کر دیا اور خدا سے التجائیں کرنے لگا کہ اس کی
‫رات تھوڑی سی رہ گئی تھی جب انوشی اس کے کمرے سے نکلی۔ پھر ایسی تین چار راتیں آئیں۔ انوشی اُس کے وجود
‫میں جذب ہو چکی تھی ۔
‫ا ُ س نے دیکھ لیا تھا کہ عامر حیوان نہیں انسان ہے مگر عامر کی ذات میں جو لرزے بپا ہو رہے تھے ان سے انوشی واقف
‫نہیں تھی ۔
‫مجھے ان مسلمان حکمرانوں سے نفرت ہوگئی ہے''۔ ایک رات عامر نے انوشی سے کہا …… ''میں نے صلیبی حکمران ''
‫نہیں دیکھے۔ ہمارے حکمرانوں سے تو اچھے ہوں گے''۔ اُس نے راز داری سے پوچھا …… '' کیا یہ ممکن نہیں کہ صلیبی
‫''آکر ان عالقوں پر قبضہ کر لیں ؟
‫انوشی بہت ہی چاالک لڑکی تھی ۔ بچپن سے استادوں کے ہاتھوں میں کھیلی تھی ۔ اُس کا حسن قلعوں کی دیواریں توڑ دیتا
‫تھا ۔ جابر حکمرانوں کو وہ اپنا غالم بنا لیا کرتی تھی مگر وہ انسانی فطرت کی کمزوریوں اور فطری تقاضوں اور مطالبوں سے
‫آزاد نہیں تھی ۔ کوئی بھی انسان خواہ اوصاف اور عادت کے لحاظ سے درندہ ہی کیوں نہ بن جائے‪ ،اس فطرت کی زنجیروں
‫سے آزاد نہیں ہو سکتا جو خدا نے بنائی ہیں ۔ انوشی اپنی تشنگی عامر بن عثمان کو بتا چکی تھی ۔ یہ اس کی ُدکھتی
‫رگ تھی جو ا ُس نے عامر کے ہاتھ میں دے دی تھی ۔ سچے پیار کی تشنگی اور عامر کے وجود نے اس کا ڈنک مار دیا تھا
‫۔ وہ شراب کے نشے کو جانتی تھی محبت کے خمار سے واقف نہیں تھی ۔ یہ خمار جب طاری ہوا اور عامر نے صلیبی
‫حکمرانوں کے حق میں بات کر دی تو انوشی کی تمام تر تربیت بیکار ہوگئی۔ اس نے عامر کے ساتھ ایسی باتیں شروع
‫کردیں جو جاسوس اور تخریب کار نہیں کیا کرتے۔
‫عامر کا مقصد پورا ہوگیا ۔ اس نے بچ بچ کر سوال پوچھنے شروع کرئیے۔ اگر اس وقت انوشی کو اس کے صلیبی استاد یا
‫گہر نایاب سمجھتے تھے تو یقین نہ کرتے کہ یہ وہ لڑکی ہے جسے وہ
‫اعلی حکام دیکھتے جو اُسے
‫عزالدین اوراس کے وہ دو
‫ِ
‫ٰ
‫ِ
‫سلطنت اسالمیہ
‫سوڈانی پری کہا کہتے ہیں ۔ وہ معصوم سی بچی بنی ہوئی تھی اور اسے ذرا بھر احساس نہیں تھا کہ وہ
‫کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی بجائے صلیب کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ عامر بن عثمان اس کی فطرت کے تقاضے پورے
‫کر رہا تھا ۔
‫انوشی جب ا ُس رات عامر کے کمرے سے نکلی تو رات کا آخری پہر تھا ۔ وہ بڑے اہم راز عامر کے سینے میں ڈال گئی
‫تھی ۔
‫٭ ٭ ٭
‫قابل اعتماد
‫بہت دن گزر گئے تھے۔ بیروت میں اسحاق ترک اپنے صلیبی نائٹ کاذاتی محافظ ہی نہیں اس کا ہمراز دوست اور
‫ِ
‫ساتھی بن چکا تھا ۔ اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ بالڈون کے فرنگی لشکر کے ایک بڑے دستے کا یہ کمانڈر صلیب کا اتنا
‫خیرخواہ نہیں جتنا اپنی اس خواہش اور عزم کا غالم ہے کہ وہ اگلی جنگ میں بڑھ چڑھ کر کامیابی حاصل کرے اور شاہ
‫بالڈون سے عرب کا کوئی ٹکڑا انعام کے طور پر حاصل کرلے۔ اس کے دماغ پر خود مختار حکمرانی سوار تھی اوراس کی
‫سوچیں اسی خواہش کے تابع تھیں۔ اسحاق ترک اپنے استاد علی بن سفیان کی تربیت کے مطابق اس کی نفسیات سے
‫ِ
‫فطرت انسانی کی کمزوریوں اور تقاضوں کے سامنے بے بس ہو گئی تھی
‫کھیلنے لگا۔ جس طرح انوشی جیسی خطرناک لڑکی
‫اسی طرح صلیبیوں کا یہ نائٹ اپنے نظرئیے سے ہٹ کر اور اپنی خواہشات سے مغلوب ہوکر یہ سوچنے کی ضرورت ہی
‫محسوس نہیں کر رہا تھا کہ جس اجنبی کو اس نے اپنا دوست بنا لیا ہے وہ صرف اس کی نہیں‪ ،اس کے بادشاہ اور اس کی
‫صلیب کی شکست کا پیامبر ہے۔
‫ایک روز نائٹ اسحاق ترک کو بیروت سے ُد ور لے گیا ۔ اسحاق کوپتہ چال کہ نائٹ کا دستہ رات کو بڑی جلدی میں کوچ ‪:
‫کر گیا ہے ۔ نائٹ اس دستے کومختلف جگہوں پر تقسیم کرنے کے لیے جا رہا تھا ۔ اسحاق محافظ کے طور پر اس کے ساتھ
‫تھا ۔ دستے تک پہنچے تو دیکھا کہ خیمے نہیں لگائے گئے تھے ۔ اس میں گھوڑ سوار بھی تھے اور پیادے بھی ۔ نائٹ نے
‫اپنے محاتحت کمانڈروں کو بالکر مختلف جگہیں بتائیں اور حکم دیا کہ ان جگہوں پر وہ خیمے گاڑ لیں اور تیاری کی حالت
‫میں رہیں ۔ اسحاق پاس کھڑا یہ احکام ُسن رہا تھا ۔
‫ہو سکتا ہے تمہیں ایک مہینے تک تیاری کی حالت میں رہنا پڑے ''۔ نائٹ نے اپنے چھوٹے کمانڈروں سے کہا …… '' ''
‫لیکن ا ُکتا نہ جانا۔ ہمیں کل قاہرہ سے آئے ہوئے ایک جاسوس نے اطالع دی ہے کہ صالح الدین ایوبی نے بیروت کومحاصرے
‫میں لے کر اس شہر پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ہمیں توقع تھی کہ وہ اب بھی دمشق کی طرف سے آئے گا اور سب
‫سے پہلے اپنے مسلمان امراء کو جن میں حلب‪ ،موصل اور حرن کے امراء خاص طورپر قابل ذکر ہیں ‪ ،اپنے ساتھ مالئے گا‪،
‫قابل اعتماد اطالع ملی ہے کہ وہ سب سے پہلے ہمارے دل پر وار کرے گا ‪،اس
‫اُس کے بعد وہ ہمیں للکارے گا‪ ،مگر اب یہ
‫ِ
‫کے بعد وہ اپنے ان امراء سے جنہیں ہم نے اپنا درپردہ دوست بنا رکھا ہے‪ ،نپٹے گا ۔ اگر ہمیں یہ اطالع نہ ملتی تو ہم
‫بیروت کے اندر اس کے محاصرے میں آجاتے۔ تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں یہ معلوم نہیں کہ صالح الدین ایوبی
‫محاصرے کاماہر ہے۔ اس کے محاصرے میں آئی ہوئی فوج کے پاس صرف یہ چال رہ جاتی ہے کہ ہتھیار ڈال دے۔ صلیب کی
‫برکت سے ہمیں پہلے ہی اشارہ مل گیا ہے ''۔
‫اسحاق سن رہا تھا ۔ اس نے اپنے کپڑوں کے اندر پسینے کی نمی محسوس کی ۔ اسے یہ سن کر غصہ آنے لگا کہ صالح
‫الدین ایوبی کے اندرونی حلقے میں بھی صلیبیوں کے جاسوس موجود ہیں جنہوں نے اتنی خطرناک اطالع یہاں پہنچا دی ہے۔
‫اُسے معلوم تھا کہ مسلمان ایمان فروشی پر فورا ً ا ُتر آتے ہیں۔ سلطان ایوبی کے ہمراز حلقے میں کوئی صلیبی تو نہیں جاسکتا۔
‫اب یہ ذمہ داری اسحاق ترک بڑی شدت سے محسوس کرنے لگا کہ وہ قاہرہ پہنچے اور علی بن سفیان کو بتائے کہ اگر
‫سلطان نے واقعی بیروت پر فوج کشی کا فیصلہ کر لیا ہے تو سیدھا بیروت نہ جائے۔
‫اس اطالع سے ہم یہ فائدہ ا ُٹھا رہے ہیں کہ جس طرح ہمارا دستہ اس عالقے میں گھات کی صورت میں بھیجا گیا ہے‪'' ،
‫اسی طرح چند اور دستے جن میں گھوڑ سوار زیادہ ہیں ‪ ،بیروت کے اردگرد اور دور دور بھیج دئیے گئے ہیں۔ صالح الدین
‫ایوبی کا استقبال وہ دستے کریں گے جو بیروت میں تیار ہوں گے۔ وہ اُس کی فوج کو یہ تاثر دے کر اُلجھائیں گے کہ اس نے
‫بیروت کو اچانک آدبوچا ہے۔ وہ جب محاصرے کو تنگ کر رہا ہوگا ہم عقب سے اس پر حملہ کر دیں گے۔ پھر وہ بیروت
‫کے اندر والی ہماری فوج اور ہمارے باہر والے دستوں میں آکر ہمیشہ کے لیے پس جائے گا ''۔

‫''! جناب !'' ایک پرانی عمرکے کمانڈر نے کہا …… '' یہ معلوم ہو چکا ہے کہ وہ کس طرف سے آئے گا''
‫ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا ''۔ نائٹ نے جواب دیا ۔ ' 'ممکن یہ نظر آتا ہے کہ وہ ہمارے عالقوں میں سے گزر کر ''
‫آنے کا خطرہ مول لے گا۔ شاہ بالڈون نے ہدایت جاری کی ہے کہ راستے میں اُس کے ساتھ جھڑپ نہ لی جائے ۔ اُسے دور
‫اندر تک اور بیروت تک آنے دیا جائے۔ یہاں ہم اُس کی فوج کو رسد سے محروم کرکے ماریں گے ''۔
‫اور آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ بیروت سمندر پر واقع ہے ''۔ اسی کمانڈر نے کہا …… '' وہ اپنی بحری قوت بھی ''
‫استعمال کر سکتا '' وہ بحری قوت استعمال کرے گا ''۔ نائٹ نے کہا ۔ '' اس کی بہت سی فوج بحری جہازوں سے
‫آرہی ہے۔ ہم نے اس کا بھی انتظام کر لیا ہے۔ ہم سمندر میں اس کا مقابلہ نہیں کریں گے۔ اُس کی فوج کو اترنے کا موقع
‫دیں گے۔ اس طرح ہم ا ُس کے جہازوں کو تباہ کرنے یا بھاگنے کا موقع دینے کی بجائے جہازوں پر قبضہ کریں گے…… میرے
‫دوستو! تم جانتے ہو کہ فوج کو راز کی ایسی باتیں نہیں بتائی جاتیں کیونکہ جس طرح ہمارے جاسوس مسلمان عالقوں میں
‫موجودہیں اسی طرح ہمارے عالقوں میں مسلمان جاسوس سرگرم ہیں۔ سپاہیوں کے منہ سے نکلی ہوئی بات صالح الدین ایوبی
‫تک پہنچ سکتی ہے‪ ،مگر بعض حاالت میں اپنے کمانڈروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آنے والے حاالت کیسے ہوں گے اور ان کا
‫پس منظر کیا ہے۔ یہ احتیاط کریں کہ سپاہیوں کو پتہ نہ چلنے پائے کہ ہمیں صالح الدین ایوبی کے متعلق کوئی اطالع ملی
‫ہے ورنہ و ہ اپنا فیصلہ بدل دے گا ''۔
‫کیا آپ کو مسلمان امراء کی نیت کا عمل ہے؟'' ایک اور کمانڈر نے پوچھا …… '' ایسا نہ ہو کہ وہ ہم پر حملہ ''
‫کریں ''۔
‫ان کی طرف سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ''۔ نائٹ نے کہا …… '' حلب کا والئی عزالدین موصل میں آگیا ہے اور ''
‫موصل کا امیر عمادالدین حلب چال گیا ہے ۔ یہ تبادلہ ہماری کارستانی سے ہوا ہے۔ وہاں کے حاالت ہمارے قبضے میں ہیں ۔
‫البتہ یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ ان میں کوئی مسلمان حکمران صالح الدین ایوبی پر حملہ کردے یا اُسے رسد دینے سے
‫'' انکار کردے۔ بہرحال یہ یقین ہے کہ اپنے مسلمان امراء کی طرف سے صالح الدین ایوبی کو تعاون نہیں ملے گا
‫رات کو اسحاق ترک نے نائٹ کے ساتھ سلطان ایوبی کے متوقع حملے اور بیروت کے محاصرے پر تبادلہ خیال اور خوشی کا
‫اظہار کیا کہ اُسے اپنی خواہش کی تکمیل کا موقع مل جائے گا ۔ اُس نے کچھ اور ضروری باتیں معلوم کرلیں۔ اس کے سامنے
‫اب یہ مسئلہ تھا کہ وہاں سے نکلے اور قاہرہ پہنچے۔ وہ آسانی سے فرار ہو سکتا تھا لیکن اس نے سوچ لیا تھا کہ غائب
‫لہذا وہ اپنی سکیم میں ردوبدل
‫ہوجانے سے نائٹ کو شک ہوجائے گا کہ یہ جاسوس تھا جو سب کچھ دیکھ کر چال گیا ہے ٰ
‫کرلیں گے۔ وہ نائٹ کو بتا کر جانے کی سوچنے لگا۔ ا ُسے ایک بہانہ مل گیا جو یہ تھا کہ وہ اپنے گھر کے تمام افراد کو
‫مسلمان عالقے میں چھوڑ آیا ہے ‪ ،اب چونکہ اس کا ٹھکانہ بن گیا ہے اس لیے وہ انہیں وہاں سے نکالنا چاہتا ہے ورنہ
‫مسلمان انہیں پریشان کریں گے۔
‫یہ بہانہ پیش کر کے اس نے نائٹ سے کہا …… '' ایک آدھ مہینے بعد ہم جنگ میں اُلجھ جائیں گے پھر نہ جانے کب
‫فرصت ملے۔ انہیں ابھی لے آئوں تو بہتر ہے یہ بھی ممکن ہے کہ میں جنگ میں مارا جائوں۔ مرنے سے پہلے انہیں یہاں النا
‫چاہتا ہوں تا کہ میرے بعد میری بہنیں مسلمانوں کے ہاتھوں خراب نہ ہوتی پھریں''۔
‫بہانہ معقول تھا ۔ نائٹ نے ا ُسے جو گھوڑا دے رکھا تھا وہی اس کے پاس رہنے دیا اور کہا …… '' ابھی روانہ ہوجائو اور
‫جس قدر جلدی آسکو واپس آئو''۔
‫اسحاق ترک اس صلیبی نائٹ سے زیادہ جلدی میں تھا ۔ اُسے بہت جلدی قاہرہ پہنچنا تھا لیکن اس سے پہلے حلب اور
‫موصل جانا ضروری تھا کیونکہ ا ُس کے کانوں میں وہاں کے حکمرانوں اور امراء کے متعلق کچھ باتیں پڑی تھیں۔ اسے یہ پتہ
‫نہیں چل سکا تھا کہ سلطان ایوبی جب ان عالقوں میں فوج الئے گا تو موصل کے حکمرانوں اور ساالروں کا رویہ کیا ہوگا۔
‫اسے معلوم تھا کہ حلب میں ا ُس کے ساتھی جاسوس کون کون ہیں اور وہ کہاں مل سکتے ہیں مگر نائٹ کی زبان سے اس
‫نے سنا تھا کہ عزالدین موصل اور عمادالدین حلب چال گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ رضیع خاتون بھی
‫موصل میں ہوگی اوراگر وہ موصل میں ہے تو اُس کی خادمہ بھی ساتھ ہوگی ۔ محل کے اندر کی دنیا سے رابطہ اس خادمہ
‫کے ذریعے ہوسکتا تھا ۔ بہرحال ا ُسے وہاں کے حاالت اور حاالت کی خبر دینے والے خفیہ ساتھیوں کا کچھ پتہ نہ تھا سوائے
‫دو کے جو موصل میں تھے۔
‫وہ ا ُسی رات روانہ ہوگیا ۔ گھوڑا اچھا تھا ۔ اسحاق ماہر سوار تھا ۔ مہینوں کی مسافت دنوں میں طے کرنے کا اُسے تجربہ
‫تھا ۔ وہ فاصلہ طے کرتا اور خداسے یہی دعائیں مانگتا جا رہا تھا کہ ا ُ س کے قاہرہ پہنچنے سے پہلے سلطان ایوبی کوچ نہ
‫کر چکا ہو۔ گھوڑا دوڑ سے تھک گیا تو اسحاق نے اسے روکا نہیں ‪ ،گھوڑا اپنی سہولت کی چال آہستہ آہستہ چلتا گیا ۔
‫اسحاق نے آگے جھک کر پیش زین کے ساتھ لگا لیا اور چلتے گھوڑے پر سو گیا۔ سحر کی تاریکی میں اُس کی آنکھ کھلی ۔
‫اس نے گھبرا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کی راہنمائی کرنے واال ستارہ چمک رہا تھا ۔ گھوڑا صحیح سمت جا رہا تھا ۔
‫صبح کی روشنی میں ایک جگہ گھوڑے کو پانی پالیا اور کچھ کھال کر اُس نے خودبھی ذرا آرام کیا ‪ ،گھوڑے کو بھی آرام دیا
‫اور چل پڑا۔
‫یہ دن بھی گزر گیا ۔ رات آئی اور گزر گئی۔ صلیبی نائٹ کے دئیے ہوئے عربی گھوڑے نے اسحاق کا خوب ساتھ دیا ۔ سورج
‫غروب ہونے میں ابھی بہت دیر تھی
‫جب اُسے موصل کے میناروں کے ک ُلس نظر آنے لگے۔ اسحاق ترک اس شہر سے اچھی طرح واقف تھا اور اسے اپنے دو ‪:
‫ساتھی جاسوسوں کے ٹھکانوں کا بھی علم تھا ۔ ا ُسے معلوم نہیں تھا کہ وہ اسے کچھ بتا سکیں گے یا حلب کا راستہ دکھا
‫سکیں گے۔
‫٭ ٭ ٭
‫عزالدین کو اطمینان ہوگیا کہ رضیع خاتون اُس کی زوجیت میں خوش ہے اور اب وہ اُس کے کاموں کے متعلق کوئی بات نہیں
‫کرتی ‪ ،نہ کچھ پوچھتی ہے۔ رضیع خاتون نے اُس سے یہ بھی نہیں پوچھا تھا کہ اُس نے عماالدین کے ساتھ امارتوں کا تبادلہ
‫کیوں کرلیا ہے۔ رضیع خاتون نے جس مقصد کے لیے عزالدین کے ساتھ شادی کی تھی وہ تو پورا نہ ہو سکا تا ہم وہ اس
‫پہلو کو دیکھ کر مطمئن ہوگئی کہ وہ اس پر اسرار دنیا کے اندر آگئی ہے اور سلطان ایوبی نے یہاں جاسوسی کا جو جال
‫بچھا رکھا ہے اسے وہ مزید مضبوط اور کارآمد بنا رہی ہے۔ شمس النساء کو اُس نے تربیت دے لی تھی اور اُس کی یہ بیٹی
‫لڑکپن کے کھلنڈر ے جذبات سے نکل کر مجاہدہ بن گئی تھی ۔ اس لڑکی نے عزالدین کے ذاتی محافظ عامر بن عثمان کو
‫مخبر اور جاسوس بنا دیا تھا ۔ اس کے لیے اس نے یہ قربانی دی تھی کہ اُسے ایسی چاالک لڑکی کے حوالے کر دیا تھا جو

‫عامر کو اس سے ہمیشہ کے لیے چھین سکتی تھی ۔
‫عامر بن عثمان نے انوشی کے سینے سے جتنے راز نکالے تھے وہ شمس النساء کے ذریعے رضیع خاتون تک پہنچا دئیے
‫تھے ۔ یہ نہایت اہم راز تھے جو قاہرہ تک پہنچانے تھے۔ حلب سے سلطان ایوبی کے جو جاسوس آئے تھے ۔ اُن کے کماندار
‫سے پوچھا گیا تھا کہ قاہرہ جانے واال کوئی آدمی تیار کرو۔ اس نے کہا تھا کہ اسحاق ترک بیروت سے آجائے گا۔ وہاں کی
‫خبر تک نہیں ملے گی قاہرہ کے لیے اطالع نامکمل رہے گی۔ علی بن سفیان سے سلطان ایوبی بار بار کہہ رہا تھا کہ
‫صلیبیوں کے آئندہ اقدام کے متعلق معلومات حاصل کرو۔
‫انوشی نے عامر بن عثمان کو جو باتیں بتائی تھیں وہ غلط نہیں ہو سکتی تھیں ۔ وہ عزالدین اور اُس کے خصوصی مشیروں
‫پر اتنی غالب آئی ہوئی تھی کہ وہ اس لڑکی کی موجودگی میں انتہائی نازک باتیں کرتے رہتے تھے ۔ ان لوگوں کے ساتھ
‫قابل نفرت انسان سمجھتی تھی ۔ وہ تو اپنا فرض ادا کر رہی تھی ۔ اسے ابھی یہ
‫اُسے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ انہیں وہ
‫ِ
‫معلوم نہیں ہواتھا کہ جس عامر کو وہ دل و جان سے چاہتی ہے وہ اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ عامر کا انداز ایسا تھا جیسے
‫وہ اپنی دلچسپی کی خاطر ایسی باتیں پوچھ رہا ہو۔
‫عزالدین نے رضیع خاتون کی سیر کے لیے بھگی وقف کر رکھی تھی ۔ ایک شام رضیع خاتون شمس النساء کے ساتھ باہر نکل
‫گئی۔ شہر کے قریب ہی سبزہ زار تھا جس میں ایک چشمہ بھی تھا ۔ یہ جگہ اتنی خوبصورت تھی کہ صرف شاہی خاندان
‫کے لیے وقف کر دی گئی تھی ۔ رضیع خاتون کے ساتھ اس کی خادمہ بھی تھی اور محافظ کے طور پر عامر بن عثمان بھی
‫ساتھ تھا ۔ عزالدین کو عامر پر بھروسہ تھا اور اُس نے عامر کو حکم دے رکھا تھا کہ رضیع خاتون جب بھی سیر کے لیے
‫باہر جائے تو عامر ساتھ ہو۔ اس جگہ پہنچ کر بھگی کو ُدور کھڑا کردیا گیا ۔ رضیع خاتون اور شمس النساء چشمے کی طرف
‫چلی گئیں۔ عامر بن عثمان بھی ساتھ رہا ۔ یہ صرف سیر نہیں تھی بلکہ سیرکے بہانے عامر سے معلوم کرنا تھا کہ اُسے اور
‫کیا کچھ معلوم ہوا ہے۔
‫اس وقت اسحاق ترک موصل میں اپنے ایک ساتھی کے پاس پہنچ چکا تھا اور یہ ساتھی اُسے بتا رہا تھاکہ رضیع خاتون بھی
‫ان کے گروہ میں شامل ہو گئی ہے بلکہ سرپرستی کر رہی ہے ۔ ان دونوں کے درمیان کچھ باتیں ہوئیں تو ان کا ایک اور
‫ساتھی آگیا۔ ا ُس نے اسحاق کو بتایا کہ رضیع خاتون کی خادمہ اس وقت چشمے پر گئی ہے۔ بہتر ہے اسحاق اسے وہاں ملے۔
‫اسحاق نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ وہ بہت جلدی میں ہے اور کام کی کوئی بات معلوم ہو سکے تو وہ رات ُرکنے کی
‫بجائے فورا ً قاہرہ کو روانہ ہو جائے ۔اسی لیے ا ُسے بتایا گیا تھا کہ خادمہ چشمے پر ملے گی۔ اس آدمی نے رضیع خاتون کی
‫لہذا یہ اُمید
‫سواری ا ُدھر جاتے دیکھی تھی ۔ اسحاق کو یہ تو بتا ہی دیا گیا تھا کو رضیع خاتون بھی اُن کے ساتھ ہے۔ ٰ
‫رکھی جا سکتی ہے کہ اس کے ساتھ بھی مالقات ہوجائے۔
‫عامر بن عثمان چشمے کے کنارے رضیع اور شمس النساء کو بتا رہا تھا کہ انوشی کی بتائی ہوئی باتوں کے مطابق یہ یقین ہو
‫گیا ہے کہ صلیبیوں کے خالف جنگ کی صورت میں عزالدین سلطان ایوبی کی دوستی کو دھوکے میں رکھے گا۔ اگر سلطان
‫رسد مانگے گا تو رسد بروقت پوری نہیں بھیجے گا۔ اگر سلطان نے فوج مانگی تو یہ بہانہ پیش کیا جائے گا کہ اس کے
‫تعلقات عمادالدین کے ساتھ اچھے نہیں رہے اور عماالدین موصل پر حملے کے لیے آرمینیوں کے ساتھ سازباز کر رہا ہے۔ اس
‫لیے فوج قلعے میں موجود رہنی چاہیے۔ عامر نے بتایا کہ عمادالدین کا رویہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ان حاالت سے سلطان ایوبی
‫کا باخبر ہونا ضروری تھا کیونکہ وہ ان دونوں کا اپنا اتحادی سمجھتا تھا۔
‫خادمہ ادھر ادھر ٹہل رہی تھی ۔ ا ُسے کسی کے گانے کی آواز سنائی دی …… '' ریگزاروں کے راہی راہوں میں بھٹکیں‪،
‫ستاروں کو دیکھیں'' …… سیرگاہ کے قریب سے کوئی گاتا ہوا گزر رہا تھا ۔ خادمہ کے کان کھڑے ہوگئے۔ یہ جاسوسوں کے
‫اس گروہ کے خفیہ الفاظ تھے جو وہ ایک دوسرے سے مالقات کے لیے ترنم میں اس طرح استعمال کیا کرتے تھے جیسے
‫کوئی مسافر اپنا دل بہالنے کے لیے گنگناتا جا رہا ہو۔ خادمہ پودوں کی اوٹ میں آگے چلی گئی۔ اس نے اسحاق ترک کو
‫پہچان لیا۔ ا ُسے روکا۔ اسحاق نے اسے کہا کہ وقت نہیں ہے۔ خادمہ نے کہا کہ اسی طرح ٹہلتے رہواور وہ رضیع خاتون کے
‫پاس چلی گئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫سورج غروب ہو چکا تھا ۔ سیرگاہ پر تاریکی چھا رہی تھی ۔ اسحاق ترک ایک ایسی جگہ رضیع خاتون ‪ ،شمس النساء اور
‫عامر بن عثمان کے پاس بیٹھا تھا جہاں انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ رضیع خاتون اُسے حلب اور موصل کے تمام اسرار
‫اور دھوکے بتا چکی تھی ۔ ا ُس نے اسحاق سے کہا …… '' صالح الدین ایوبی سے کہنا میں نے نورالدین زنگی کا مقام
‫عزالدین کو دیا تھا ۔ میں نے اس ا ُمید پر دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ عزالدین کو زنگی مرحوم کا صحیح جانشین
‫بنادوں گی اور یہ زنگی کی طرح تمہارا دایاں بازو بنے گا مگر شادی کے بعد راز کھال کہ میں نے عمر بھر کی ایک بھیانک
‫غلطی کی ہے۔ مجھے قید کر لیا گیا ہے۔اب دمشق کی الج تمہارے ہاتھ ہے۔ بیروت کے عالقے میں تمہارا جس طرح استقبال
‫ہوگا وہ تم اسحاق سے سن لوگے۔ تم ہی فیصلہ کر سکتے ہو کہ ان حاالت میں جبکہ بیروت کو محاصرے میں لینے کاتمہارا
‫منصوبہ پہلے ہی بیروت پہنچ گیا ہے ‪ ،تم بیروت ہی جائو گے یا اپنا منصوبہ بدل دوگے۔ اس سوال کا جواب علی بن سفیان
‫دے سکتا ہے کہ یہ راز بیروت کس نے پہنچایا ۔ ہماری قوم میں ایمان نیالم عام ہوگیا ہے۔ عرب کے امراء کی عیاشیوں کا
‫یہی عالم رہا تو وہ قبلہ اول کی طرح خانہ کعبہ کو بھی بیچ کھائیں گے۔ عیاشی اور حکمرانی مل کر ملکوں کو ٹکڑوں میں
‫کاٹتی اور قوموں کا نام و نشان مٹا دیتی ہیں…… عزالدین اور عمادالدین پر بھی بھروسہ نہ کرنا۔ یہ تمہیں مدد نہیں مدد کا
‫دھوکہ دیں گے۔ بیروت کی بجائے حلب اور موصل کو محاصرے میں لے کر ان ایمان فروش حکمرانوں سے ہتھیار ڈلوا لو اور یہ
‫اہم عالقے اپنی عملداری میں لے لو تو یہ اسالم کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔ اپنے آبائو اجدا کی تاریخ پر ایک نظر ڈالو۔
‫ہمارے بادشاہوں نے ہمیشہ ملکوں کے سودے کیے ہیں اور ان سودوں پر اسالم کے سپاہی نے لکیر پھیر دی اور قوم کی الج
‫رکھی ہے۔ دشمن کو صرف سپاہی دیکھتا ہے اور دشمن کے ہاتھوں صرف سپاہی کٹتا اور مرتا ہے اس لیے وطن اور قوم کی
‫……قدروقیمت صرف سپاہی جانتا ہے
‫جب یہ عیاش حکمران دشمن کی بھیجی ہوئی شراب‪ ،حسین لڑکیوں اور دولت کے نشے میں بدمست پڑے ہوتے ہیں اُس ''
‫وقت اللہ کے سپاہی ریگزاروں ‪ ،کوہستاوں اور سمندروں میں کٹ رہے ہوتے ہیں ۔ صالح الدین بھائی! تمہاری عمر بھی
‫صحرائوں میں لڑتے گزر رہی ہے ‪ ،میرا پہال خاوند بھی ساری عمر دین کے دشمنوں سے لڑتا رہا‪ ،مگر جب تم ایمان فروش
‫حکمرانوں کے خالف ا ُٹھتے ہو تو وہ تمہیں اپنی قوم کا قاتل اور غدار کہتے ہیں ۔ ان فتنوں کی پروا نہ کرو۔ یہ سب
‫صلیبیوں اور یہودیوں کے فتوے ہیں جو ہمارے اپنے بھائی تمہارے خالف داغ رہے ہیں۔ آئو ‪ ،طوفان کیطرح آئو۔ خدا تمہارے

‫ساتھ ہے۔ میں تمہارے لیے زمین ہموار کر رہی ہوں۔ یہاں کا بچہ بچہ تمہارے ساتھ ہوگا …… باقی خبریں اسحاق سے ُسن لینا
‫''۔
‫اسحاق ترک کو تمام معلومات دے دی گئیں ۔ وہ ا ُٹھا اور پودوں کو روندتا ہوا باہر نکل گیا ۔ اس کے کچھ ایسا محسوس کیا
‫جیسے اُس نے کسی کے قدموں کی ہلکی سے آہٹ ُسنی ہو ۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اُسے یہ شک بھی ہوا جیسے اُسے
‫کچھ دور ایک سایہ جاتا اور پودوں میں غائب ہوتا نظر آیا ہو۔ اُس نے زیادہ توجہ نہ دی ۔ اس کے ذہن پر مسئلہ سوار تھا
‫کہ جس قدر جلدی ہوسکے وہ قاہرہ پہنچے‪ ،کہیں ایسا نہ ہو کہ سلطان ایوبی فوج کے ساتھ کوچ کر چکا ہو۔ اسے اس کامیابی
‫کی بہت خوشی تھی کہ ا ُسے ہر جگہ سے نہایت کارآمد معلومات مل گئی تھیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا۔ بہت جلدی
‫میں کھانا کھایا اور روانہ ہوگیا ۔ ا ُسے اپنا سفر اس وجہ سے لمبا کرنا پڑا کہ حلب میں آکر اپنے کماندار سے ملنا ضروری
‫تھا۔
‫حلب پہنچا ۔ کماندار سے مال۔ اس نے اسحاق کو تازہ دم نہایت اچھی نسل کا گھوڑا دیا ۔ پانی کے چھوٹے مشکیزے اور
‫کھانے کی چیزوں سے تھیالبھرا گھوڑے کے ساتھ باندھ دیا ۔ اسحاق قاہرہ کے لیے روانہ ہوگیا۔ اُس رات کا ذکر ہے جس رات
‫اسحاق سیرگاہ میں رضیع خاتون سے مال تھا کہ انوشی طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے عزالدین اور اس کے قریبی ہمرازوں
‫کی محفل میں نہ گئی۔
20:57
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 131سانپ اور صلیبی لڑکی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ہمرازوں کی محفل میں نہ گئی۔ عزالدین اس کی مزاج پرسی کے لیے گیا تو انوشی کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ وہ بات کرتی تو
‫زبان ہکالتی تھی ۔ عزالدین نے اپنے طبیب کو بالیا۔ طبیب نے دوا دی جو انوشی نے یہ کہہ کر رکھ لی کہ کھالے گی۔ اُس
‫نے کہا کہ وہ آرام کرنا چاہتی ہے‪ ،یہ شب بیداری اور زیادہ شراب پی لینے کے اثرات ہیں۔ عزالدین اور طبیب چلے گئے۔
‫انوشی دروازہ اندر سے بند کرکے لیٹنے کی بجائے کمرے میں ٹہلنے لگی۔ وہ بہت بے چین تھی ۔ اس نے کئی بار کھڑکی کا
‫پردہ اُٹھا کر باہر دیکھا اور کمرے میں کبھی ٹہلتی‪ ،کبھی ُرکتی اور پھر کھڑکی کا پردہ ہٹا کر باہر دیکھتی ۔
‫اس نے اپنے زیورات واال خوشنما بکس کھوال۔ اس میں سے ایک انگوٹھی نکالی ۔ اس کے نگینے والی جگہ ڈبیا کی شکل کی
‫تھی ۔ خوشنما اور وزنی انگوٹھی تھی ۔ اس نے اس پر جڑی ہوئی چھوٹی سی ڈبیا کو جو انگوٹھی کا حصہ تھی ‪ ،کھوال۔ اس
‫میں سفید سفوف بھرا ہوا تھا ۔ اس نے سفوف کو ذرا سی دیر دیکھا اور ڈبیا بند کرکے انگوٹھی اپنی انگلی میں ڈال لی ۔
‫اس سے ا ُسے کچھ سکون محسوس ہوا جیسے اس نے اپنی بے چینی اور اداسی کا ذریعہ پیدا کر لیا ہے۔
‫رات آدھی گزر گئی تھی ۔ اس کی ذاتی خادمہ اس کے کمرے کے قریب ایک کمرے میں سوئی ہوئی تھی ۔ انوشی نے اُسے
‫کہہ دیا تھا کہ آج رات ا ُسے اس کی ضرورت نہیں ۔ آدھی رات کے بعد وہ خادمہ کے کمرے میں گئی اور اسے جگا کر کہا
‫کہ عامر بن عثمان کو بال الئو۔ اس کی خادمہ اس کی اور عامر کی مالقاتوں کی رازدان تھی ۔ وہ گئی اور عامر بن عثمان
‫کو بال الئی۔ انوشی نے خادمہ سے کہا کہ وہ کمرے کے باہر بیٹھی رہے۔
‫عامر!'' انوشی ایسے لہجے میں بولی جس سے عامر واقف نہیں تھا …… ''آج شام وہ کون تھا جو سیر گاہ میں تم ''
‫سب کے ساتھ بیٹھا تھا ''۔
‫کوئی بھی نہیں ''۔ عامر نے ال علمی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا …… '' میرے پاس کوئی نہیں آیا تھا ۔ میں تو ''
‫خاتون کی سواری کے ساتھ محافظ بن کے جاتا ہوں اور اُن سے ُدور رہتا ہوں ''۔
‫عامر !'' انوشی نے بالکل ہی بدلے ہوئے لہجے میں کہا …… '' مجھ سے زمین کی تہوں کے راز پوچھ لو ۔ میں نے ''
‫تمہیں دل کی گہرائیوں سے چاہا ہے مگر تم نے مجھے کوئی سیدھی سادی صحرائی لڑکی سمجھ لیا ۔ تم ‪ ،رضیع خاتون ‪،
‫شمس النساء اور ان کی خادمہ اکھٹے بیٹھے تھے اور ایک اجنبی تمہارے درمیان بیٹھا تھا ۔ راز ونیاز کی باتیں ہو رہی تھیں۔
‫ثبوت چاہتے ہو؟ میں نقاب اوڑھ کر اور مستور ہو کر وہاں گئی تھی ۔ تم سب سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے ۔ پھر وہ
‫اجنبی وہاں سے اُٹھا اور چال گیا ۔ میں وہاں سے آگئی ''۔
‫اسحاق ترک جب ان لوگوں سے اُٹھ کرجا رہا تھا تو اس نے کسی کے قدموں کی دبی دبی آہٹ سنی تھی اور کچھ دور ایک
‫سایہ سا بھی دیکھا تھا ۔ یہ انوشی تھی جو چوری چھپے رضیع خاتون‪ ،شمس النساء اور عامر بن عثمان کے پیچھے گئی تھی
‫۔
‫عامر بن عثمان سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ اس نے کوئی بے معنی سے بات کی ۔ انوشی استاد تھی ۔ وہ سمجھ گئی کہ
‫اس کے شکوک بے بنیاد نہیں ۔ اس نے کہا …… '' اگر شمس النساء اکیلی ہوتی تو میں سمجھتی کہ اس شہزادی نے تمہیں
‫''گھیر رکھا ہے مگر یہ معاملہ کچھ اور ہے …… مجھے بتائو کہ تم مجھ سے یہ راز کی باتیں کیوں پوچھتے رہتے ہو ؟
‫ویسے ہی ''۔ عامر نے ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا …… '' ان باتوں کے ساتھ میری کیا دل چسپی ہو ''
‫''سکتی ہے ۔ میں صرف اس سے لطف ا ُٹھاتا ہوں کہ ہم ان بادشاہوں کو کیا سمجھتے ہیں اور یہ اندر سے کیا ہیں؟
‫عامر!'' انوشی نے قہر بھری آواز میں کہا …… '' تم جانتے ہو میں کون ہوں۔ میرے اشارے پر اس شہر کی اینٹ سے ''
‫اینٹ بج سکتی ہے۔ مجھے میرے پیاسے جذبات نے دھوکہ دیا اور میں تمہاری محبت کے نشے میں اپنے فرائض فراموش
‫کربیٹھی اور تم اپنا فرض ادا کرتے رہے۔ پھر بھی میرے دل میں تمہاری محبت ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ تم میرے کمرے
‫میں زندہ اور سالمت ہو۔ میں اگر چاہتی تو اس وقت تم قید خانے کی کوٹھری میں بیہوش بڑے ہوتے جہاں اذیتوں کے بعد
‫غداروں اور جاسوسوں کو ڈاال جاتا ہے۔ میں نے تمہیں اس جہنم سے بچا لیا ہے۔ مجھے صرف یہ بتا دو کہ تم نے میرے
‫سینے سے راز نکال کر اس اجنبی کو دئیے ہیں اور وہ قاہرہ چال گیا ہے۔ میرا خلوص اور میری محبت دیکھو کہ میں نے اس
‫آدمی کو نکل جانے کی مہلت دی ۔ میں اُسے اُسی وقت پکڑواسکتی تھی مگر تمہاری محبت نے میرا زہر ُچوس لیا ہے
‫''…… اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ '' میں جو اتنا دلنشیں دھوکہ ہوں ‪ ،دھوکے کا شکار ہوگئی ہوں۔ تم جیت گئے ہو ۔
‫سچ کہہ دو عامر ‪ ،سچ کہہ دو ''۔
‫ہاں انوشی !'' عامر نے کہا …… تم نے اپنا فرض ادا کیا ہے‪ ،میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ۔ تم مجھے قید خانے میں ''
‫'' بند کرادو
‫انوشی کے آنسو بہہ نکلے تھے لیکن اُس نے قہقہہ لگایا اور کہا ۔ '' بس اتنی سی بات پوچھنی تھی جو تم نے بتا دی ‪:

‫ہے۔ تمہیں کوئی قید خانے میں نہیں ڈال سکتا ۔ اب میں بھی خوشنما پنجرے سے آزادہونا چاہتی ہوں۔ تم شراب نہیں پیتے۔
‫میں تمہیں بادشاہوں کا شربت پالئوں گی ''۔
‫وہ اُٹھی اور ا ُس میز کے پاس جا کھڑی ہوئی جس پر صراحی رکھی تھی ۔ اس کی پیٹھ عامر کی طرف تھی ۔ انوشی نے دو
‫پیالے اپنے سامنے رکھے۔ ناخن سے انگوٹھی کے ساتھ جڑی ہوئی ڈبیہ کھولی۔ اس میں جو سفوف تھا وہ کچھ ایک پیالے میں
‫اور باقی دوسرے پیالے میں ڈال دیا ۔ عامر نہ دیکھ سکا ۔ انوشی نے دونوں پیالوں میں صراحی سے مشروب ڈاال ۔ ایک پیالہ
‫عامر کو دے دیا ‪ ،ایک اپنے ہاتھ میں رکھا ۔
‫سونگھ لو''۔ انوشی نے کہا …… '' یہ شراب نہیں شربت ہے ۔ یہ میری محبت کا جام ہے۔ پی لو''۔اس نے پیالہ ''
‫ہونٹوں سے لگالیا۔ عامر نے بھی پیاال ہونٹوں سے لگا لیا ۔ دونوں نے پیالے خالی کر دئیے۔ انوشی نے اس کے ہاتھ سے پیالہ
‫لے لیا اور دونوں پیالے پرے پھینک کر بازو عامر کے گلے میں ڈال دئیے۔ اپنے رخسار اس کے گالوں سے رگڑتی ہوئی بولی
‫…… '' اب ہم آزاد ہیں ''۔
‫''انوشی اُچک کر عامر سے الگ ہو گئی اور بولی ۔ '' تم بھی غنودگی محسوس کر رہے ہو؟
‫ہاں !'' عامر نے جواب دیا …… '' میں گہری نیند سے اُٹھ کر آیا ہوں ۔ نیند پریشان کر رہی ہے ''۔''
‫اب ہم دونوں اتنی گہری نیند سوئیں گے کہ ہمیں کوئی جگا نہیں سکے گا ''۔ انوشی نے ایسی آواز میں کہا جس میں ''
‫غنودگی کا نمایاں اثر تھا۔ کہنے لگی ۔ '' میں تم سے زیادہ تھکی ہوئی ہوں۔ گناہوں نے تھکا دیا ہے '' …… اس کا سر
‫ڈولنے لگا ۔ ا ُس نے سنبھل کر کہا …… '' زیادہ باتوں کی قوت نہیں عامر! تم میری پہلی اور آخری محبت ہو۔ اب ہم
‫اگلے جہاں میں اکھٹے ا ُٹھائے جائیں گے۔ میں اپنا فرض ادا کر چکی ہوں‪ ،تم اپنا فرض ادا کر چکے ہو۔ میں نے اس شرب
‫میں وہ زہر مال دیا تھا جو مجھ جیسی لڑکیوں کو دے کر پردیس بھیجا جا تا ہے۔ یہ ضرورت کے وقت کے لیے دیا جاتا ہے۔
‫اس سے کوئی تکلیف اور تلخی محسوس نہیں ہوتی ۔ بڑ ی میٹھی غنودگی میں انسان ہمیشہ کی نیند سو جاتا ہے۔ میں اس
‫لیے زندہ نہیں رہنا چاہتی کہ زندہ رہی تو تمہیں سزا دالدوں گی۔ تمہیں اس لیے زندہ نہیں رہنے دیا کو کوئی اور لڑکی یہ نہ
‫کہے کہ عامر کو اُس سے محبت ہے''۔
‫عامر بن عثمان لیٹ گیا تھا جیسے وہ انوشی کی باتیں سن ہی نہیں رہا تھا ۔ اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ انوشی کا
‫سر ڈول رہا تھا ۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے دورازے تک گئی۔ خادمہ دروازے کے ساتھ کھڑی تھی ۔ اُسے اندر بال کر کہا ……
‫'' ہم دونوں نے زہر پی لیا ہے ۔ سب کو بتا دینا کہ ہم نے خود زہر پیا ہے۔ کسی اور نے نہیں پالیا۔ کوئی صلیبی ملے تو
‫اُسے بتا دینا کہ سوڈان کی پری اپنا فرض ادا کرکے مری ہے ''۔
‫ا ُس کی آواز دب گئی ۔ وہ گرتی گرتی عامر تک پہنچی ۔ خادمہ دوڑتی باہر نکلی۔ تھوڑی دیر بعد کمرے میں کئی لوگ
‫آگئے۔ انہوں نے دیکھا کہ عامر بن عثمان پلنگ پر ِچ ت پڑا ہے اور انوشی اس کے ساتھ لگی اس طرح لیٹی ہوئی ہے کہ اس
‫کا سر عامر کے سینے پر اور اس کا ایک ہاتھ عامر کے سر پر تھا ‪ ،جس کی انگلیاں بالوں میں اُلجھی ہوئی تھیں۔ دونوں
‫مرے ہوئے تھے ۔
‫٭ ٭ ٭
‫ا ُس وقت اسحاق ترک موصل جا چکا تھا ۔ انوشی نے یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ اجنبی سلطان ایوبی کا جاسوس ہو سکتا
‫ہے اُس کا تعاقب نہ کیا ‪ ،نہ گرفتار کرانے کی سوچی ۔ ا ُ سنے زندگی کی یہ چند ہی ساعتیں روحانی سکون پایا تھا جو اُس
‫نے عامر کے ساتھ پیار کے دھوکے میں گزاری تھیں۔ اس نے اس پیار کا صلہ یہ دیا کہ اسحاق کو جانے دیا ۔
‫اسحاق ترک قاہرہ سے ابھی کوئی دنوں کی مسافت جتنا ُدور تھا کہ اس کے گھوڑے کو سانپ نے ڈس لیا ۔ اس حادثے کی
‫تفصیالت اس کہانی کی پچھلی قسط میں سنائی جا چکی ہیں ۔ مندرجہ باال واقعات اس حادثے سے پہلے کے ہیں جو یہ
‫واضح کرنے کے لیے سنانا ضروری تھے کہ اسحاق ترک کتنی اہم معلومات لے کر قاہرہ جا رہا تھا۔ اسالم کی عزت اور بے
‫عزتی کا دارومداد اس پر تھا کہ یہ اکیال مجاہد اتنے وسیع اور ایسے ظالم صحرا سے گزر کر قاہرہ بروقت پہنچتا ہے یا نہیں ‪،
‫مگر ا ُس کے گھوڑے کو سانپ نے ڈس کر ماردیا اور یہ سوار صحرا کے مظالم سے بے ہوش ہوگیا ۔ ہوش میں آیا تو وہ
‫صلیبیوں کے خیمے میں پڑا تھا جہاں دو صلیبی لڑکیاں بھی تھیں۔ ایک کانام میرنیا اور دوسری کا باربرا تھا ۔ یہ تفصیالت
‫پچھلی قسط میں پڑھ لیں تا کہ وہ واقعات ایک بار پھر آپ کے ذہن میں تازہ ہوجائیں۔
‫اسحاق ترک بے ہوشی میں بڑبڑارہا تھا جس سے صلیبیوں کی اس ٹولی پر ظاہر ہوگیا کہ یہ مسلمان جاسوس ہے اور کوئی ‪:
‫اہم خبر لے کر قاہرہ جارہاہے۔ دونوں لڑکیوں‪ ،میرنیا اور باربرا کی آپس میں رقابت تھی ۔ دونوں اپنے کمانڈر کو چاہتی تھیں
‫اور کمانڈر باربرا کو محبت کا دھوکہ دے کر میرنیا کے ساتھ گہری دوستی لگائے ہوئے تھا ۔ باربرا نے انتقام لینے کے لیے
‫اسحاق کو چوری چھپے بتا دیا کہ وہ صلیبی جاسوسوں کے جال میں آگیاہے۔ اسحاق اس چال میں ایسی بُری طرح آیا کہ اس
‫نے اعتراف کر لیا کہ وہ سلطان ایوبی کا جاسوس ہے اور حلب سے آیا ہے۔صلیبیوں کے سربراہ نے اس سے پوچھا کہ وہ کیا
‫خبر لے جارہا ہے؟ اسحاق نے بتایا کہ خبر صرف اتنی سی ہے کہ نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ رضیع خاتون نے عزالدین
‫کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ صلیبی سربراہ نے کہا کہ یہ خبر پرانی ہوگئی ہے اور اب سلطان ایوبی شام کی طرف پیش قدمی
‫کرنے واال ہے۔
‫اس صلیبی نے اسحاق ترک سے کہا کہ وہ صلیبیوں کے لیے جاسوسی کرے اور یہ بھی بتائے کہ وہ کیا راز لے کے جارہا تھا
‫اور بیروت میں جو مسلمان جاسوس ہیں وہ کون کون ہیں اور کہاں کہاں ہیں اور اگر وہ نہیں بتائے گا تو اُسے صلیبی عالقے
‫میں جا کر کسی قید خانے کے تہہ خانے میں بند کردیا جائے گا۔ اسحاق نے یہ سوچ کر ہتھیار ڈال دئیے کہ وہ ان کی
‫حراست سے فرار کی کوشش کرے گا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ صلیبیوں کے لیے جاسوسی کرے گا ۔ اس سے یہ بھی پوچھا
‫جارہاتھا کہ وہ کیا راز لے کے جارہا ہے۔ اس نے چند ایک باتیں گھڑ لیں جو زیادہ تر شام کے مسلمان امراء سے تعلق رکھتی
‫تھیں ۔ بیروت کے متعلق اس نے بے خبری کااظہار کر دیا اور یہ بھی کہا کہ اُسے بیروت کے راستے کابھی علم نہیں۔
‫جیسا کہ پچھلی قسط میں بتایا جا چکا ہے کہ یہ صلیبی جاسوسوں اور تخریب کاروں کی پارٹی تھی ۔ ان کے ساتھ ان کے
‫محافظ بھی تھے اور دو لڑکیاں۔ اس پارٹی کی نفری آٹھ نو تھی ۔ یہ قاہرہ سے بیروت کو واپس جارہے تھے ۔ ان کے سربراہ
‫نے اسحاق کو بتایا تھا کہ وہ رات کو روانہ ہو رہے ہیں۔ اسحاق نے جب یہ سنا کہ وہ بیروت جا رہے ہیں تو وہ اور زیادہ
‫پریشان ہوگیا ۔ وہاں ا ُس کی مالقات اپنے نائٹ سے بھی ہو سکتی تھی لیکن یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا ‪ ،اصل مسئلہ تو
‫یہ تھا کہ ا ُسے سلطان ایوبی کو بالڈون کی فوج کا ڈیپالئے بتانا تھا اور اُسے خبردار کرنا تھا کہ وہ بیروت کا محاصرہ ترک
‫کردے۔ اس کے بعد اسحاق جان دینے کے لیے تیار تھا مگر وہ قیدی بن چکا تھا اور نہتہ تھا ۔

‫رات کو اس قافلے نے وہاں سے کوچ کیا ۔اسحاق کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ کر ایک اونٹ پر سوار کردیا گیا تھا ۔ اس اونٹ
‫پر سامان بھی لدا ہوا تھا ۔ سلطان ایوبی کا یہ جاسوس بیروت سے قاہرہ روانہ ہوا تھا مگر قاہرہ پہنچے بغیر بیروت کو واپس
‫جا رہا تھا ۔ مسافت بڑی ہی لمبی تھی ۔ اسحاق ترک اس اُمید پر جا رہا تھا کہ فرار کی کوئی صورت پیدا کرلے گا۔
‫٭ ٭ ٭
‫میں اب ایک دن بھی انتظار نہیں کرسکتا ''۔ صالح الدین ایوبی اپنے ساالروں سے کہہ رہاتھا ……'' فوج تیاری کی ''
‫حالت میں ہے۔ اس حالت میں فوج کو زیادہ عرصہ رکھنا مناسب نہیں ہوتا۔ سپاہیوں کے عصاب تھک جاتے ہیں ۔ یہ کیفیت
‫جنگ کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس کے عالوہ صلیبیوں کو تیاری کی حالت میں دبوچ لینا چاہتا ہوں۔ ہم جب بھی لڑے
‫اپنے عالقوں میں لڑے ہیں اور اسی پر خوش ہوئے کہ ہم نے دشمن کو پسپا کر دیا ہے۔ دشمن ہماری ہی زمین پر حملہ آور
‫ہوا پسپا ہو کر ہماری ہی زمین پر رہا۔ اب میرا ہر قدم جارحانہ ہوگا ۔ فرنگی فوج بیروت میں ہے۔ مجھے اس کے متعلق
‫کوئی اطالع نہیں ملی۔ اگر بالڈون نے کوئی نقل و حرکت کی ہوتی تو اطالع آجاتی ۔ میرا قیاس یہ ہے کہ وہ اور دوسرے
‫صلیبی ہمارے مسلمان امراء کو اپنا حمائتی اور ہمارا دشمن بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ ایک پھر ہمیں خانہ جنگی
‫میں ا ُلجھائیں گے۔ وہ زمین دوز کاروائیوں میں لگے رہیں‪ ،ہم بیروت کو محاصرے میں لیں گے اور اللہ کی مدد شامل حال رہی
‫تو یہ عظیم شہر ہمارے قبضے میں آجائے گا ''۔
‫ساالروں کے اس اجالس میں سلطان ایوبی کی بحریہ کا امیر البحر بھی موجود تھا ۔ ایک مصری واقعہ نگار محمد فرید ابو
‫حدید نے اسکا نام حسام الدین لولوع لکھا ہے۔ یہ بحری جنگ کا ماہر اور غیر معمولی طور پر قابل امیر البحر مانا جاتا تھا۔
‫بیروت چونکہ بحیرئہ روم کے ساحل پر واقع تھا اس لیے سلطان ایوبی محاصرہ مکمل کرنے کے لیے سمندر کی طرف سے
‫بھی فوج بھیجنے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔
‫جن دستوں کو بحری جہازوں سے جانا اور اور ساحل پر اُترنا ہے وہ سکندریہ پہنچ چکے ہیں ۔ حسام الدین کو ہدایات ''
‫دی جا چکی ہیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' سمندر سے جانے والے دستے جلدی منزل پر پہنچ جائیں گے‪ ،اس لیے
‫یہ کچھ دن بعد روانہ ہوں گے تا کہ خشکی والے دستے پہنچ جائیں‪ ،سمندری دستے ساحل پر اتریں گے۔ تیز رفتار قاصد ہمیں
‫اُترنے کی اطالع دیں گے۔ شہر پر ا ُن کی یلغار طوفانی ہوگی۔ اگر فرنگیوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو آپ سب کو اجازت ہوگی کہ
‫شہرہ کو تباہ و بربادکردیں۔ عورت‪ ،بچے‪ ،بوڑھے اور مریض پر ہاتھ نہیں اُٹھایا جائے گا ۔انہیں پناہ میں لیا جائے گا ۔ فوجیوں
‫کو ہالک نہیں قید کیا جائے گا ۔ کسی صورت میں لوٹ مار نہیں ہوگی۔ آپ سب کو اجازت ہوگی کہ ان حکام کی خالف
‫ورزی کرنے والوں کو موقعہ پر قتل کردیں‪ ،خواہ وہ کتنے ہی اونچے عہدے کے عسکری کیوں نہ ہوں۔ خشکی کی طرف سے
‫جانے والے دستوں کی پیش قدمی امن کے انداز سے نہیں ‪ ،جنگی رفتار سے ہوگی۔ پڑائو بغیر خیموں کے ہوں گے۔ کوئی
‫سامان نہیں کھوال جائے گا ۔ سب کو پانی محدود مقدار میں ملے گا۔ کھانا پکایا نہیں جائے گا ۔ کھجوروں وغیرہ کا ذخیرہ
‫ساتھ جارہا تھا ۔ جانوروں کو پوری طرح خوراک دی جائے گی ''۔
‫سلطان نے چادر جتنے چوڑے کپڑے پر قاہرہ سے بیروت تک کا نقشہ تیار کرایا تھا جو اُس نے دیوار کے ساتھ لٹکایا اور پیش
‫قدمی کے راستے پر انگلی چالتے ہوئے کہا ۔ '' یہ ہوگا ہمارا پیش قدمی کا راستہ ''۔ اجالس کی خاموشی اور زیادہ گہری
‫ہوگئی ۔ سلطان ایوبی نے سب کے چہروں کو دیکھا اور مسکرا کر بوال …… '' خاموش کیوں ہو؟ کہتے کیوں نہیں کہ ہم
‫دشمن کے عالقوں میں سے گزر کر جا رہے ہیں …… میرے دوستو ! ہم احتیاط کے اصولوں پر جنگ لڑتے رہے ہیں ۔ پیش
‫قدمی سے پہلے ہم پہلوئوں کی حفاظت اور پسپائی کا راستہ دیکھتے رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صلیبی فلسطین پر
‫قابض ہیں اور وہ دمشق اور بغداد پر قابض ہو کر مکہ اور مدینہ کی طرف بڑھنے کے منصوبے بنائے ہوئے ہیں ۔ زیاد کا بیٹا
‫طارق سمندر سے دور مصر کے ساحل پر بیٹھا رہتا تو یورپ تک اسالم کا پرچم کبھی نہ پہنچتا ۔ قاسم کا بیٹا محمد اس
‫خطرناک اور اس قدر لمبی مسافت طے کرکے ہندوستان پہنچا تھا جس سے تاریخ کے ورق بھی پھڑپھڑا اُٹھے تھے۔ صلیبی بہت
‫دور سے ہماری سرزمین پر آئے تھے ۔ اگر آپ اسالم کی سربلندی چاہتے ہیں تو ہمیں آگ میں سے گزرنا ہوگا۔ اگر صرف
‫حکومت کرنی ہے تو آئو مصر اور شام کو ٹکڑوں میں بانٹ لیں اور بادشاہ بن کے بیٹھ جائیں۔ پھر اپنی اپنی بادشاہی کو قائم
‫رکھنے کے لیے صلیبیوں اور یہودیوں سے مدد لیتے رہیں گے اور اپنا دین و ایمان ان کے پاس گروی رکھ دیں گے ''۔
‫محترم سلطان !'' ایک ساالر نے ا ُ ٹھ کر کہا …… '' ہم احکام اور ہدایات کے منتظر ہیں ۔ ہم میں سے کوئی بھی اس''
‫سے خوفزدہ نہیں کہ ہم دشمن کے عالقے سے گزریں گے۔ ہمیں یہ بتائیے کہ ان عالقوں سے گزرتے ہوئے ہماری ترتیب کیا
‫''ہوگی؟ کیا ہر دستہ اپنی حفاظت خود کرے گا ؟
‫نہیں !'' سلطان ایوبی نے کہا …… '' میں انہیں ہدایات کی طرف آرہا تھا ۔ ہر دستہ اپنی پیش قدمی جاری رکھے گا ''
‫۔ دائیں بائیں‪ ،آگے اور پیچھے جو کچھ ہوتارہے اس کی طرف آپ دھیان نہیں دیں گے۔رسد اکٹھی نہیں جارہی۔ اسے کئی
‫حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے
‫تا کہ دشمن اسے تباہ نہ کر سکے ۔ ساری فوج کی حفاظت چھاپہ مار جیش کریں گے ۔ چھاپہ ماروں کے ساالر صارم مصری
‫یہاں موجود ہیں۔ انہیں بہت پہلے ہدایات دے دی گئی تھیں۔ انہوں نے چھاپہ ماروں کو تربیت اور مشق دے لی ہے۔ باقی
‫سب اپنی نظریں بیروت پر رکھیں گے ''۔
‫سلطان ایوبی نے ہر قسم کی ہدایات دے کر کہا …… '' کوچ آج رات کے پہلے پہر ہوگا اور سب سے ضروری احتیاط یہ
‫کرنی ہے کہ اس کمرے سے باہر کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہماری منزل کیا ہے۔ سپاہیوں اور کمانڈروں تک کے کان میں نہ
‫پڑے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ''۔
‫سلطان ایوبی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بیروت میں اس کے استقبال کا انتظام کر دیا گیا ہے اور وہ فرنگیوں کو
‫بے خبری میں شاید نہ دبو چ سکے ۔
‫رات کو جب فوج کوچ کر رہی تھی‪ ،سلطان ایوبی اپنی ہائی کمان کے ساالروں کے ساتھ راستے میں کھڑا ہر دستے کی
‫سالمی لے رہا اور دعائیں دے رہا تھا ۔ اُس کے پاس ا ُس کے ایک بیٹے کا بزرگ اتالیق بھی کھڑا تھا ۔ سلطان ایوبی اساتذہ
‫اور علماء کی بہت قدر کیا کرتا تھا ۔ محمد ابو حدید کی تحریروں کے مطابق جب فوج کا آخری دستہ بھی چال گیا تو
‫سلطان ایوبی بھی روانہ ہونے لگا ‪ ،اس کے بیٹے کے اتالیق نے عربی کاایک شعر پڑھا جس کا ترجمہ یوں ہے۔
‫آج نجد کے پھول عرار کی خوشبو سے لطف اُٹھالو۔ شام کے بعد یہ پُھول نہیں مال کرتا ''۔ ''
‫مصری واقعہ نگار لکھتا ہے کہ ا ُس وقت تک سلطان ایوبی کا مزاج ہشاش بشاش تھا مگر یہ شعر سن کر اُس پر اداسی
‫طاری ہوگئی ۔ اس نے بوقت رخصت اس شعر کو بدشگونی سمجھا ۔ وہ فوج کے پیچھے روانہ ہوگیا۔ راستے میں اُس نے اپنے

‫ساالروں سے کہا …… '' اس بزرگ سے مجھے توقع تھی کہ الوداعی کے وقت دعا دئیں گے ۔ انہوں نے ایسا شعر سنا دیا
‫ہے جس نے میرے دل پر بوجھ ڈال دیا ہے '' …… اورہوا بھی یہی کہ اس روانگی کے بعد سلطان ایوبی مصر آہی نہ سکا۔
‫سرمین عرب پر جنگ و جدل میں ہی گزر گئی ۔ مصر والوں کو عرار کا یہ پھول پھر کبھی نظرنہ آیا۔
‫اس کی باقی عمر
‫ِ
‫‪.مصر سے سلطان کی روانگی مئی ‪١١٨٢ء میں ہوئی تھی
‫صحرا کا وہ خطہ بڑا ہی ہولناک تھا جہاں صلیبی جاسوسوں اور تخریب کاروں کاقافلہ داخل ہوگیا تھا ۔ اسحاق ترک اُن کا
‫قیدی تھا لیکن اب اُس کے ہاتھ بندے ہوئے نہیں تھے۔ دو دن اور دو راتیں بعد ا ُ س کے ہاتھ کھانے کے وقت کے سوا ہر
‫وقت بندھے رہتے تھے۔ا ُس نے اس پارٹی کے سربراہ سے کہا تھا کہ وہ بھاگ نہیں سکتا ۔ بھاگ کر جائے گا کہاں۔ پاپیادہ تو
‫وہ کہیں جا نہیں سکتا ۔ بڑی مشکل سے دو کوس چلے گا اورصحرا اُسے اسی طرح بے ہوش کرکے ختم کردے گا جس طرح
‫وہ بے ہوش ہو کر پکڑا گیا تھا۔ سربراہ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرکے ہاتھ کھول دئیے تھے اور اُن سے کہا تھا کہ اس
‫پر نظر رکھیں۔ اسحاق ترک نے اُن پر اعتماد جما لیا ۔ اُس نے سلطان ایوبی اور دوسرے مسلمان حکمرانوں کو برا بھال کہنا
‫شروع کردیا تھا۔ ا ُس نے صلیبی سربراہ کو یقین دال دیا تھا کہ وہ ان کا جاسوس بن جائے گا مگر اس سے جب یہ پوچھتے
‫تھے کہ وہ کیا راز لے کر جا رہا تھا تو وہ صحیح جواب نہیں دیتا تھا ۔
‫منظور نظر تھی اور باربرا کو سربراہ نے اس حد
‫دو صلیبی لڑکیوں کی رقابت بدستور چل رہی تھی ۔ میرنیا اپنے سربراہ کی
‫ِ
‫تک دھتکار دیا تھا کہ ا ُس کے ساتھ جو بھی بات کرتا طنزیہ انداز سے کرتا تھا۔ باربرا بجھ کے رہ گئی تھی ۔ میرنیا اس
‫کوشش میں تھی کہ وہ اسحاق ترک کے سینے سے وہ راز نکال لے جو وہ قاہرہ لے کے جارہا تھا ۔ اس دلکش لڑکی نے
‫راتوں کو اسحاق کے پاس بیٹھ کر ا ُس کے جذبات کو مشتعل کرنے کا ہر دائو آزما لیا لیکن اسحاق پتھر کا بُت بنا رہا ۔
‫باربراہ کی خواہش یہ تھی کہ اسحاق میرنیا کو کچھ بھی نہ بتائے۔ پارٹی کے سربراہ کے بعد کا رتبہ مارٹن نام کے ایک آدمی
‫کا تھا ۔ یہ آدمی باربرا کو چاہتا تھا مگر باربرا نے اُسے بُری طرح دھتکار دیا تھا ۔وہ اس لڑکی کو دھمکیاں بھی دے چکا تھا
‫کہ اُس نے قاہرہ میں جو غلطیاں کی ہیں اُن کی سزا دالئے گا ۔ یہی دھمکی اُسے سربراہ بھی دے چکا تھا ۔ وہ مایوس تو
‫تھی ہی ‪ ،اب خوفزدہ بھی رہنے لگی تھی۔
‫باربرا کا خون اُس وقت کھولتا تھا جب میرنیا اُس کے ساتھ طنزیہ بات کرتی تھی ۔ ایک روز اس نے باربرا سے کہا …… ''
‫باربرا ! تم اس کام کے قابل نہیں ہو۔ تمہاری کھوپڑی میں دماغ ہے ہی نہیں۔ تم کسی قحبہ خانے میں ناچنے اور گاہکوں
‫کادل پرچانے والی عورت ہو۔ میرا کمال دیکھو۔ صحرامیں بھی ایک مسلمان جاسوس پکڑلیا ہے۔ یہ میرا شکا ر ہے۔ تم اس
‫کے قریب نہ جانا۔ بیروت میں اس کا مجھے انعام ملے گا ''۔
‫باربرا جل اُٹھی ۔ ا ُ س رات اُس کا دماغ جیسے جواب دے گیا ۔ مارٹن تو اُس کے پیچھے پڑا ہی رہتا تھا ۔ اس رات وہ
‫خود مارٹن کے پاس گئی اور اُسے کہا کہ میرنیا سے انتقام لینا چاہتی ہے۔ اُس نے اس خوف کا اظہار بھی کیا کہ بیروت
‫پہنچ کر اُسے سزا ملے گی کیونکہ قاہرہ میں ا ُس سے اپنی زمین دوز سرگرمیوں میں کوتا ہی ہوئی تھی ۔ وہ اپنے آپ کو بے
‫بس اورتنہا محسوس کر نے لگی تھی ۔ وہ مارٹن سے مدد‪ ،ہمدردی اور پناہ مانگ رہی تھی ۔ مارٹن تو اس کا شیدائی تھا۔
‫اُس نے باربرا سے مدد کا معاوضہ یہ مانگا کہ ا ُسی کی ہوجائے۔ باربرا کون سی شریف لڑکی تھی ۔ وہ مان گئی ۔ گناہوں
‫میں پلی ہوئی اور گناہوں کی تربیت یافتہ لڑکی کے لیے یہ معاوضہ جو مارٹن نے مانگا تھا کوئی زیادہ نہیں تھا …… مارٹن نے
‫فورا ً ایک ترکیب سوچ لی اور باربرا کو بتادی ۔ اس پر عمل درآمد کے لیے اگلی رات مقرر کی گئی ۔
‫اگلی رات جہاں قیام کیا گیا وہ صحرا کا بڑا ہی ہولناک خطہ تھا ۔ ُدور ُدور تک عجیب و غیریب شکلوں کے ٹیلے کھڑے
‫تھے۔ بعض ستونوں اور میناروں جسے تھے۔ بعض ٹیڑھی ٹیڑھی دیواروں کی طرح اور کچھ جانوروں کی شکلوں کے بھی تھے‪ ،یہ
‫ٹیلے بکھرے ہوئے تھے ۔ پانی اور سبزے کا وہاں نام و نشان نہ تھا ۔ رات کو یہ ٹیلے یو ں نظر آتے تھے جیسے دیو کھڑے
‫ہوں۔ اس خطے میں قافلہ شام کا اندھیرا پھیل جانے کے بعد روکا۔ مارٹن نے اندھیرے سے یہ فائدہ اُٹھایا کہ اپنا گھوڑا اپنے
‫خیمے کے ساتھ باندھا اور زین اتار کر اس کے قریب رکھ دی ۔
‫اسحاق کے لیے الگ خیمہ تھا جو مارٹن نے اپنے قریب نصیب کرایا تھا ۔ اسحاق کے متعلق اب سربراہ بھی مطمئن ہوگیا
‫تھا ۔ رات گھوڑوں اور اونٹوں کے اردگرد محافظ ہوتے تھے ۔ ایسا امکان نہیں تھا کہ اسحاق گھوڑا کھول لے گا‪ ،کسی کو پتہ
‫چلے بغیر زین کس لے گا اور بھاگ نکلے گا …… قافلے والے تھکے ہوئے تھے ۔ سب سے ہوگئے۔ اسحاق بھی سو گیا ۔
‫آدھی رات کو کسی کے آہستہ آہستہ ہالنے وہ جاگ اُٹھا اور سرگوشی سنائی دی …… '' اُٹھو ‪ ،ساتھ والے خیمے کے پاس
‫گھوڑا کھڑا ہے ۔ زین پاس پڑی ہے ۔ دیر نہ کرو ‪ ،بھاگو''۔
‫''کون ہو تم؟''
‫باربرا!'' لڑکی نے جواب دیا …… '' مجھ سے یہ نہ پوچھنا کہ مجھے تم سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے ۔ یہ میں ہی ''
‫تھی جس نے تمہیں بتایا تھا کہ ہم سب صلیبی جاسوس ہیں اور تمہیں غلط بتایا جا رہا ہے کہ ہم مسلمان ہیں ۔ وقت ضائع
‫نہ کرنا۔ سب سوئے ہوئے ہیں ۔ جلدی ا ُٹھو۔ گھوڑے والے خیمے سے بائیں طرف ہوجانا ۔ آگے راستہ صاف ہے ۔ وہ اپنے
‫خیمے میں چلی گئی ۔ وہاں کمان پڑی تھی ۔ اُس نے کمان اور تیروں کی ترکش اُٹھا ئی اور خیمے سے باہر نکل کر اُس
‫راستے کے قریب بیٹھ گئی جو اس نے اسحاق کو فرار کے لیے بتایا تھا ۔ اسحاق نے بڑی تیزی سے گھوڑے پر زین ڈال کر
‫کس لی۔ گھوڑا کھوال اور دبے پائوں چل پڑا۔ ریت پر گھوڑوں کے قدموں کی آہٹ نہیں تھی ۔ سب سوئے ہوئے تھے۔خیمے
‫سے ذرا ُدور جاکر وہ گھوڑے پر سوار ہوا۔ کچھ اور آگے جا کر اُس نے ایڑ لگائی۔ صحراکی خاموش اور خنک رات میں کمان
‫کی ''پنگ'' سنائی دی اور ایک تیر اسحاق کی پیٹھ میں اُتر گیا ۔ فورا ً بعد دوسرا تیر آیا اور یہ بھی اُس کی پیٹھ میں
‫لگا ۔ اس کے ساتھ ایک لڑکی کا شور سنائی دیا …… '' بھاگ گیا ۔بھاگ گیا ۔ اُٹھو ‪ ،جاگو''۔
‫سب جاگ ا ُٹھے ۔ مشعلیں جاللی گئیں۔ باربرا شوربپا کیے ہوئے تھی کہ قیدی بھاگ گیا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کمان تھی ۔
‫بہت جلدی گھوڑے دوڑا دئیے گئے ۔ انہیں زیادہ ُد ور نہیں جانا پڑا۔ اسحاق کو دو تیروں نے گھوڑے سے گرادیا تھا اور گھوڑا
‫کچھ دور پڑا تھا ۔ تیر قریب سے چالئے گئے تھے اس لیے جسم میں گہرے اُترگئے تھے۔ اسحاق ابھی ہوش میں تھا ۔ اُسے
‫اُٹھا کر لے آئے ۔ سربراہ نے اُس سے پوچھا کہ اُسے بھاگنے میں کس نے مدد دی تھی ؟ اس نے جواب دیا …… '' نہیں ۔
‫میں نے گھوڑا اور زین دیکھی ۔ سب سو گئے تھے ۔ میں بھاگ اُٹھا '' …… اُس کے فورا ً بعد وہ غشی میں چال گیا اور
‫غشی میں ہی شہید ہوگیا ۔
‫میں نے ا ُسے گھوڑے پر سوار ہوتے اور بھاگتے ہوئے دیکھا تھا '' ۔ باربرا نے کہا …… '' اتفاق سے کمان اور ترکش ''
‫میرے خیمے میں تھے۔ میں نے اُٹھا ئی اور اُس کے پیچھے دوڑی ۔ یکے بعد دیگرے دو تیر چالئے۔ دونوں ۔ اُسے لگ گئے

‫ورنہ یہ نکل گیا تھا ''۔
‫آج ہی یہ اتفاق کیوں ہوا کہ کمان اور ترکش تمہارے خیمے میں تھے؟ '' میرنیا نے باربرا سے پوچھا۔ ''
‫''اور مارٹن ! یہ گھوڑا تمہارا تھا ''۔ سربراہ نے کہا…… '' یہ کہاں تھا اور زین کہاں تھی ؟ ''
‫یہ گھوڑا قیدی کے خیمے کے قریب بندھا تھا ''۔ ایک محافظ نے کہا ۔ ''
‫تم میرے اس کارنامے پر مٹی ڈالنا چاہتے ہو؟'' باربرا نے غصے سے کہا …… '' یہ کوئی اہم راز قاہرہ لے جارہا تھا '' ‪:
‫۔ میں نے ا ُسے صرف بھاگنے سے نہیں روکا بلکہ ایک راز قاہرہ پہنچنے سے روکا ہے''۔
‫یہ دراصل مارٹن کا تیار کیا ہوا ڈرامہ تھا کہ اسحاق کو بھاگنے کی سہولت دو اور باربرا گھات میں بیٹھ کر اُس پر تیر چالئے
‫تا کہ یہ کارنامہ باربرا کے کھاتے میں لکھا جائے‪،مگر ا ُن کا سربراہ تجربہ کار جاسوس اور سراغرساں تھا ۔ اس نے مارٹن اور
‫باربرا کو گہری نظروں سے دیکھا اور کہا …… '' مارٹن! میں اس پیشے میں تم سے بہت عرصہ پہلے آیا تھا ۔ بیروت
‫پہنچنے تک تم اور باربرا کوئی بہتر جواب سوچ لو ''۔
‫یہ ان لوگوں کی ذاتی اور رقابت اور دوستی دشمنی کی سیاست تھی جس کا شکار سلطان ایوبی کا ایک بڑاہی قیمتی ''
‫جاسوس ہوگیا تھا ''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی کی پیش قدمی بہت تیز تھی ۔ اُس کی فوج آدھی سے زیادہ مسافت طے کرکے اس عالقے میں داخل ہوگئی
‫تھی جس پر صلیبیوں کا سایہ پڑا ہوا تھا ۔ ا ُس جگہ تک فوجیوں کا حلیہ ایک جیسا تھا ۔ گرد کی تہوں میں کسی کا چہرہ
‫پہچانا نہیں جاتا تھا۔ مئی کا مہینہ تھا جب صحرا لوہے کی طرح تپ رہا تھا ۔ سب نے منہ سر کپڑوں میں لپیٹ رکھے تھے
‫۔ کوئی بھی اجازت کے بغیر پانی نہیں پی سکتا تھا ۔ دستے ترتیب میں نہیں رہے تھے ۔ گھوڑوں اور اونٹوں کے سواروں نے
‫پیادوں کو باری باری گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار کرنا شروع کردیا۔ فضا جل رہی تھی …… اور ایک گونج ُدور ُدور تک سنائی
‫دے رہی تھی …… '' ال ال ٰہ اللہ ۔ ال ال ٰہ اللہ '' …… کبھی چند سپاہی مل کر کوئی ترانہ گاتے تھے اور فوج جنون اور وجد
‫کی کیفیت میں چلی جا رہی تھی ۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی فوج کے درمیان جا رہا تھا ۔ اُس نے اپنے آپ کو بھی پانی پینے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اُس
‫نے گھوڑے سے ذرا اوپر اُٹھ کر دیکھا اور گھوڑے کا ُرخ بدل کر ایڑ لگا دی ۔ اس کی ہائی کمان کے ساالر اور اردگرد عملہ
‫جس میں تیز رفتار قاصد تھے ا ُس کے پیچھے تھے ۔ آگے وہی عالقہ تھا جہاں اسحاق ترک شہید ہوا تھا ۔ ڈرائونی شکلوں
‫کے ٹیلے تھے ۔ سلطان ایوبی نے ان ٹیلوں کے درمیان جاکر گھوڑرا روک لیا اور چھاپہ مار دستوں کے کمانڈر صارم سے کہا
‫…… '' صارم دوست ! یہاں سے تمہارا کام شروع ہوتا ہے ۔ اپنے دستوں کو پھیالدو۔ ہر جیش دوسرے سے ُدور رہے۔ آگے
‫جانے والے جیش فورا ً چلے جائیں''۔
‫اور باقی فوج اسی طرح چلتی رہے''۔ صارم مصری کے جانے کے بعد سلطان ایوبی نے دوسروں سے کہا …… '' کچھ ''
‫بھی ہوجائے فوج پیش قدمی جاری رکھے۔ ہم دشمن کے عالقے میں آگئے ہیں ''۔
‫احکام اور ہدایات لے کر سلطان ایوبی نے گھوڑا آہستہ آہستہ چالیا۔ اُسے ایک طرف زمین پر ایسے آثار نظر آئے جیسے یہاں
‫کوئی مسافر ُر کے ہوں۔ وہیں ایک الش پڑی نظر آئی جو ریت میں دبی ہوئی تھی لیکن نظر آتی تھی ۔ سلطان ُرک گیا ۔ یہ
‫الش کھائی ہوئی تھی ۔ ہڈیاں نظر آ رہی تھیں۔ ایک آدمی نے اس ڈھانچے کو سیدھا کیا۔ پیٹھ میں دو تیر لگے ہوئے تھے۔
‫چہرے کا گوشت سوکھ گیا تھا ۔
‫جانے دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ' ' کسی قافلے کا مقتول معلوم ہوتا ہے ۔ صحرا میں آکر انسان پاگل ہوجاتے ''
‫ہیں ''۔
‫قابل اعتماد جاسوس اسحاق ترک تھا جو اُسے یہ بتانے آرہا تھا کہ بیروت
‫سلطان ایوبی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ اُس کا اپنا
‫ِ
‫نہ جانا۔ صلیبیوں نے وہاں اپنی فوج کو جس طرح پھیال رکھا تھا اس کا نقشہ اُس نے ذہن میں محفوظ کر لیا تھا …… اسحاق
‫کی ہڈیوں کا پنجرہ اُسے کچھ بھی نہ بتا سکا ۔
‫چھاپہ مار جیس اس طرح پھیل گئے کہ پیش قدمی کرتی ہوئی فوج کے پہلوئوں میں دو تین میل ُدور تک چلے گئے۔ چند
‫ہراول سے بھی آگے نکل گئے اور عقب میں بھی چلے گئے ۔ اُن کی جنگ بیروت سے ُدور ہی سے شروع ہو
‫ایک جیش
‫ّ
‫گئی۔ اس ڈرائونے عالقے سے آگے نکل گئے تو رات آگئی۔ فوج چلتی رہی ۔ آدھی رات کے قریب پڑائو کا حکم مال ۔ فوج
‫ُرک گئی لیکن چھاپہ مار متحرک اور سرگرم رہے۔ ا ُن کے لیے احکام یہ تھے کہ کوئی مشکوک آدمی نظر آئے اور وہ بھاگنے
‫کی کوشش کرے تو اسے ہالک کردو۔ کوئی قافلہ دیکھو تو اُسے بھی روک لواور فوج بہت ُدور آگے نکل جائے تو اُسے چلنے
‫کی اجازت دے دو۔
‫فوج چلتی رہی ۔ ُر کتی رہی ۔ سورج طلوع ہوتا ‪ ،مجاہدوں کے اس قافلے کو جھلساتا اور غروب ہوتا رہااور سلطان کو پہلی
‫اطالع ملی کہ صلیبیوں کی سرحد کی ایک چوکی پر اپنے چھاپہ ماروں نے شبخون مار کر سب کو ختم کر دیا ہے۔ ریگزار
‫ختم ہوتا جا رہا تھا ۔درخت بھی نظر آنے لگے تھے اور کہیں کہیں سبزہ بھی دکھائی دیتا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے گائوں بھی
‫نظر آنے لگے تھے۔
‫بیروت میں بالڈون اپنے مختلف فوجی شعبوں سے رپورٹ لے رہا تھا ۔ اُس کے پاس ابھی وہی اطالع تھی کہ سلطان ایوبی ‪:
‫بیروت کا محاصرہ کریگا ۔ اس نے اس کا انتظام تو کر لیا تھا لیکن اُسے اس سے آگے کوئی اطالع نہیں مل رہی تھی کہ
‫سلطان ایوبی نے قاہرہ سے کوچ کیا ہے یا نہیں ۔ اس دوران جاسوسوں کا یہ قافلہ بھی بیروت پہنچ گیا تھا جس نے اسحاق
‫ترک کو پکڑا اور مارا تھا ۔ یہ قافلہ بھی بالڈون کو کوئی خبر نہ دے سکا ۔ بالڈوںن نے دیکھ بھال کے لیے بیس پچیس گھوڑ
‫سواروں کا ایک جیش آگے بھیجا تھا ۔ وہ بھی واپس نہیں آیا تھا ۔وہ واپس آبھی نہیں سکتا تھا ۔
‫گھوڑ سواروں کا جیش بہت ُدور نکل گیا تھا ۔ اُسے ُدور سے گرد اُٹھتی نظر آئی جو کسی قافلے کی نہیں ہو سکتی تھی ۔
‫زمین سے اُٹتھے ہوئے گرد کے یہ بادل فوج کے ہی ا ُڑائے ہوئے ہو سکتے تھے ۔ گھوڑ سوار ٹیلوں کے اندر چلے گئے ۔ ان
‫کاکمانڈر ایک ٹیلے پر چڑھا اور دیکھنے لگا ۔ کہیں سے ایک تیر آیا جو اُس کی گردن کے آرپار ہوگیا۔ دوسرے سورا رنیچے
‫تھے ۔ اچانک ان پر تیر برسنے لگے۔ ان میں سے چند ایک نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن صارم مصری کے چھاپہ ماروں
‫نے کسی کو زندہ نہ جانے دیا ۔ اُن کے ہتھیار اور گھوڑے قبضے میں لے لیے گئے۔
‫کوئی خبر نہ ملنے کے باوجود بالڈون اور اُس کے جرنیل مطمئن تھے ۔ انہوں نے بیروت کو محاصرے سے بچانے کے لیے
‫نہایت کارگر انتظامات کر رکھے تھے۔ وہ اس لیے بھی مطمئن تھے کہ سلطان ایوبی آگے بڑھتا جا رہا تھا ۔ چھاپہ ماروں کے

‫حملوں اور سرگرمیوں کی اطالعات زیادہ آنے لگی تھیں۔ اب تو یہ اطالعات بھی آنے لگیں تھیں کہ اتنے میل دور ُدشمن کے
‫ایک دستے کے ساتھ جھڑپ میں اتنے چھاپہ مار شہید اور اتنے زخمی ہوگئے ہیں۔ سلطان ایوبی ایسی ہر اطالع پر ایک ہی
‫…… '' جواب دیتا …… '' شہیدوں کو کہیں دفن کردو …… زخمیوں کو پیچھے بھیج دو
‫یہ سلطان ایوبی کی جنگی اہلیت کا کمال تھا کہ وہ اپنی فوج کو ایسے عالقے سے صحیح و سالم لے جا رہا تھا جہاں جگہ
‫جگہ دشمن موجود تھا ۔ ا ُس کے تھوڑی تھوڑی نفری کے چھاپہ مار جیش شبخون مارتے ‪ ،دشمن کی جمعیت کو بکھیرتے اور
‫بیکار کرتے جا رہے تھے ۔ بعض شبخون بڑے پیمانے کی لڑائی کی صورت اختیار کر جاتے تھے‪ ،لیکن چھاپہ مار جم کر نہیں
‫لڑتے تھے ۔ وہ بھاگتے دوڑتے ‪ ،وارکرتے اور دشمن کی بڑی سے بڑی جمعیت کو بکھیر دیتے تھے۔ یہ جھڑپیں اور خون خرابہ
‫سلطان ایوبی کی فوج سے ُدور ُدور ہوتا تھا ۔
‫سکندریہ میں حسام الدین لولوع کا بحری بیڑہ تیار تھا ۔ جہازوں میں جانے والی فوج بھی تیار تھی ۔ حسام الدین نے سلطان
‫ایوبی کی مسافت اور رفتار کے حساب اندازے سے رکھا ہوا تھا۔ ایک روز اُس نے فوج کو جہازوں میں سوار ہونے کا حکم دیا
‫اور رات کے وقت جہازوں کے لنگر ا ُٹھا کر بادبان کھول دئیے گئے۔ جہاز سمندر کے سینے پر سرکنے لگے ۔ کھلے سمندر میں
‫جاکر حسام الدین نے جہازوں کو ُدور ُدور پھیال دیا ۔ وہ ماہر امیر البحر تھا ۔ اُس کے جہازوں میں جو فوج جا رہی تھی اُس
‫کے ساالر اور نائب ساالر سلطان ایوبی کے تربیت یافتہ تھے ۔ وہ اندھا دھند نہیں جارہے تھے ۔ انہوں نے دیکھ بھال کے لیے
‫تربیت یافتہ فوجی ماہی گیروں کے بہروپ میں چھوٹی چھوٹی بادبانی کشتیوں میں آگے بھیج دئیے تھے۔
20:57
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 132سانپ اور صلیبی لڑکی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫انہوں نے دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ فوجی ماہی گیروں کے بہروپ میں چھوٹی چھوٹی بادبانی کشتیوں میں آگے بھیج
‫دئیے تھے۔ دنوں راتوں کی مسافت طے ہوچکی تھی ۔ اُفق پر بیروت اُبھرنے لگا تھا مگر کوئی کشتی واپس نہیں آئی تھی ۔
‫حسام الدین نے جہاز روک دئیے اور دیکھ بھال کے لیے ایک اور کشتی اتاری ۔ رات کو ا ُ س کے ُرکے ہوئے جہاز کے قریب
‫سمندر سے کسی نے چال کرکہا …… '' رسہ پھینکو۔ رسہ پھینکو ''…… رسہ پھینکا گیا ۔ ایک بحری سپاہی اوپر آیا جو ادھ
‫موا ہوچکا تھا ۔ وہ اُس کشتی میں تھا جو سمندر میں اتاری گئی تھی ۔ اُس نے بتایا کہ اُن کی کشتی کو صلیبیوں کی ایک
‫کشتی نے روک لیا تھا ۔ اس میں فوجی تھے۔ حسام الدین کے آدمیوں نے کشتی نکالنے کی کوشش کی ۔ تیروں کاتبادلہ ہوا ۔
‫یہ آدمی سمندر میں کود گیا ۔ ا ُس کے ساتھی پکڑے گئے یا مارے گئے اور آدمی یہ خبر لے کر آگیا کہ آگے دشمن بیدا
‫رہے ۔اس سے یہ سمجھ لیا گیا کہ دیکھ بھال کے لیے جو آدمی پہلے بھیجے گئے تھے وہ بھی پکڑے گئے ہیں اور امکان یہی
‫نظر آتاہے کہ ان آدمیوں سے دشمن کو بحری بیڑے کی آمد کا علم ہو گیا ہے۔
‫بحری بیڑہ بیروت سے اتنی ُد ور تھا کو سورج غروب ہوتے بادبان کھلے جاتے تو جہاز آدمی رات کو بیروت کے ساحل سے
‫جالگتے مگر خطرہ یہ تھا کہ ساحل پر صلیبیوں نے آتشیں گولے پھینکنے کے لیے منجنیقیں لگا رکھی ہوں گی۔ جن سے
‫جہازوں کو بچانا محال ہوجائے گا ۔ مگر ان خطروں سے ڈر کر پیچھے رہنا بھی مناسب نہیں تھا ۔ سلطان ایوبی کو سمندر
‫کی طرف سے مدد کی شدید ضرورت ہوگی …… اس ثناء میں ایک کشتی نظر آئی ۔ یہ اپنے بحری بیڑے کی تھی۔ اس کے
‫بحری سپاہی دو صلیبیوں کو سمندر سے پکڑ الئے تھے ۔ یہ اُسی کشتی میں تھے جس نے حسام الدین کے بیڑے کی کشتی
‫پر حملہ کیا تھا ۔ یہ بھی سمندر میں کود گئے تھے اور تیرتے تیرتے اِدھر اُدھر نکل آئے تھے۔ انہیں ہاتھ پائون باندھ کر
‫سمندر میں زندہ پھینک دینے کی دھمکی دی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ساحل پر بالڈون کی فوج گھات میں ہے اور جہازوں
‫کو آگ لگانے کے لیے منجتیقیں تیار ہیں۔ ان سپاہیوں سے مزید پوچھ گچھ سے معلوم ہواکہ بیروت کی فوج اندر کم اور شہر
‫سے ُدور ُدور زیادہ ہے۔
‫یہ خبربڑی خوفناک تھی ۔ امیر البحر حسام الدین اور ساالروں نے باہم غور کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ فرنگیوں کو ہماری
‫آمد کا پتہ چل چکا ہے۔ یہ معلوم نہیں تھا کہ سلطان ایوبی کو علم ہے یا نہیں۔ فیصلہ ہوا کہ سلطان کو خبر کردی جائے۔
‫اس وقت اُسے بیروت کے قریب ہونا چاہیے تھا۔ اس فیصلے کے تحت اُسی وقت ایک کشتی اُتار دی گئی جس میں دو گھوڑے
‫اور دو قاصد تھے۔ انہیں بتا دیا گیا کہ وہ سلطان ایوبی کو کیاخبر دیں گے‪ .یہ بادبانی کشتی تھی ۔ ہوا کا ُرخ فوافق تھا ۔
‫بیروت سے ُد ور جنوب کی طرف ساحل سے جا لگی۔ وہاں چٹانیں تھیں ۔ قاصدوں نے گھوڑے اتارے ‪ ،ان پر سوار ہوئے اور
‫ہوا ہوگئے۔ کشتی وہیں چٹانوں میں چھپا دی گئی ۔
‫قاصد رات کو پہنچے مگر سلطان ایوبی فرنگیوں کے پھندے میں آچکا تھا ۔ سلطان ایوبی نے اپنے محفوظہ کے ایک دستے کو
‫جوابی حملے کے لیے استعمال کیا مگر فرنگیوں نے جم کر مقابلہ کیا ۔ اگلے روز محاصرے کے ایک اور حصے پر ایسا ہی
‫حملہ ہوا ۔ سلطان ایوبی نے اس کے خالف بھی محفوظہ کو بھیجا۔ تب سلطان ایوبی نے محسوس کیا کہ وہ محفوظہ کو
‫استعمال کیے بغیر جنگ جیت لیاکرتا تھا مگر یہاں اُس کے محفوظہ کی آدھی قوت ابتداء میں ہی لڑائی میں جھونکی گئی
‫تھی ۔ وہ محاصرے کو کمزوز نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ اُسے کچھ شک ہونے لگا ۔
‫ا ُس کی دیکھ بھال اور چھاپہ ماروں کا انتظام نہایت اچھا تھا ۔ اُسے اطالعات ملنے لگیں کہ عقب میں ہر طرف دشمن ‪:
‫موجود ہے۔ ایک چھاپہ مار جیش میں سے صرف ایک سپاہی خون میں ڈوبا ہوا بچ کر آیا ۔ وہ صرف یہ بتا کر شہیدہوگیا کہ
‫ا ُس کا پورا جیش فرنگیوں کے پورے دستے کے گھیرے میں آگیاتھا ۔ کوئی بھی زندہ نہیں رہا اور یہ کہ ہمارا محاصرہ فرنگیوں
‫کی بہت بڑی فوج کے محاصرے میں ہے۔
‫اس کے فورا ً بعد سمندری قاصد پہنچ گئے۔ انہوں نے سمندر کی خبر سنائی اور حسام الدین کے لیے حکم مانگا۔
‫صلیبیوں کو میں نے اس طرح تیاری کی حالت میں کبھی نہیں دیکھتا تھا ''۔ سلطان ایوبی نے اپنی ہائی کمان کے ''
‫ساالروں سے کہا …… '' صاف پتہ چل رہا ہے کہ انہیں قبل از وقت پتہ چل گیا ہے کہ ہم بیروت کے محاصرے کے لیے
‫آرہے ہیں ۔ ہم خود محاصرے میں آگئے ہیں ۔ اپنے مستقر سے اتنی ُدور آکر میں ہاری ہوئی جنگ نہیں لڑ سکتا ''۔ اس
‫نے حسام الدین کے قاصدوں سے کہا …… '' حسام الدین سے کہو کہ بیڑہ واپس لے جائے اور اس میں جو فوج ہے وہ
‫سکندریہ اُتر کر دمشق روانہ ہوجائے ''۔
‫قاصد چلے گئے تو سلطان ایوبی نے موصل کی طرف پسپائی کی ہدایت دینی شروع کردی ‪ ،لیکن پسپائی آسان نہیں تھی ۔
‫اس کے لیے بھی چھاپہ ماروں کو استعمال کیا گیا ۔ راتوں کو دستے آہستہ آہستہ سمیٹے اور نکالے گئے۔ کچھ جھڑپیں ہوئیں

‫لیکن چھاپہ ماروں اور عقبی دستے نے جان اور خون کی قربانیاں دے کر فوج کو وہاں سے نکال لیا ۔ فرنگیوں نے تعاقب نہ
‫کیا ۔
‫موصل کے راستے میں سلطان ایوبی کو موصل سے آیا ہوا ایک جاسوس مال جس نے اُسے اسحاق ترک کی روانگی اور موصل
‫کے والئی عزالدین کے عزائم کے متعلق پوری اطالع دی ۔ سلطان غصے سے الل ہوگیا ۔ اُس نے حکم دیا موصل کو محاصرے
‫میں لے لیا جائے۔
‫قاضی بہائو الدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے …… '' سلطان صالح الدین ایوبی بروز جمعرات رجب ‪،١٠( ٥٧٨
‫نومبر ‪ ١١٨٢ئ) موصل کے قریب پہنچا‪ ،میں اس وقت موصل میں تھا ۔ عزالدین نے مجھے کہا ہے کہ میں خلیفہ کی مدد
‫حاصل کرنے جائوں ۔ میں دجلہ کے ساتھ ساتھ اتنی تیز رفتاری سے گیا کہ دو دنوں اور دو گھنٹوں میں بغداد پہنچ گیا ۔
‫خلیفہ نے مجھے کہا کہ وہ شیخ العلماء سے کہیں گے کہ موصل والوں اور سلطان ایوبی کے درمیان صالح سفائی کرادیں۔ صولے
‫کے والئی نے آذر بائیجان کے حکمرانوں کو مدد کے لیے کہہ دیا تھا مگر اس حکمران نے جو شرائط پیش کیں‪ ،اُن سے بہتر
‫یہ تھا کہ عزالدین سلطان ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال دے''۔
‫صلح صفائی کی بات چیت ہونے لگی۔ ‪ ١٦شعبان ہجری (‪ ١٥دسمبر ‪١١٨٢ئ) کے روز سلطان ایوبی نے موصل کا محاصرہ اُٹھا
‫لیا اور نصیبہ کے مقام پر فوج کو لمبے عرصے کے لیے پڑائو ڈالنے کا حکم دیا۔
‫بیروت کا محاصرہ صلیبیوں نے نہیں میرے ایمان فروش بھائیوں نے ناکام کیا ہے ''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے ''
‫ساالروں سے کہا …… '' میں آپس کے خون خرابے سے بچنا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نظر نہیں آتا ''۔
‫جاری ھے
20:57
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 133سنت‪ ،سارہ اور صلیب
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫بیروت کے محاصرے کی ناکامی سلطان صالح الدین ایوبی کی دوسری شکست تھی ۔ اس ناکامی میں اُس نے کھویا کچھ بھی
‫نہیں تھا مگر پایا بھی کچھ نہیں تھا ۔ اس لیے وہ اسے اپنی شکست سمجھتا تھا ۔ اگر سلطان ایوبی کی نہیں تو یہ اُس
‫کی انٹیلی جنس کی شکست ضرورتھی ۔ بیروت والوں کو قبل از وقت پتہ چل گیا تھا کہ سلطان ایوبی بیروت کو محاصرے
‫میں لینے آرہا ہے۔ صلیبیوں کو یہ خبر قاہرہ سے ہی ملی ہوگی ‪ ،حاالنکہ سلطان نے اپنی ہائی کمانڈ کے ساالروں کے سوا
‫کسی کو پتہ نہیں چلنے دیا تھا کہ اُس کا ہدف کیا ہے۔
‫آپ اسے شکست نہ کہیں ''۔ ایک ساالر نے سلطان ایوبی کو مایوسی کے عالم میں دیکھ کر کہا …… '' بیروت وہیں ہے''
‫جہاں پہلے تھا ۔ وہیں رہے گا ۔ ہم اس شہر پر ایک اور حملہ کریں گے''۔
‫اتنا بڑا شکار میرے ہاتھ سے نکل گیا ''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ……'' میں اسے محاصرے میں لینے اور اس ''
‫پر قابض ہونے آیا تھا لیکن میں خود محاصرے میں آگیا اور مجھے محاصرہ اُٹھا کر پسپا ہونا پڑا ۔ یہ شکت نہیں تو اور کیا
‫ہے ؟ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ شکست ہے۔ میرے مشیروں اور ساالروں میں بھی ایمان فروش موجود ہیں ''۔
‫خیمے میں سناٹا طاری ہوگیا ۔ اُس وقت سلطان ایوبی نصیبہ کے مقام پر خیمہ زن تھا ۔ بہت ِدن گزر گئے تھے ۔ اُس کی
‫فوج بہت تھکی ہوئی تھی ۔ بہت سی نفری زخمی بھی تھی ۔ اُس نے قاہرہ سے بیروت تک بہت تیز پیش قدمی کرائی
‫تھی۔ مہینوں کا فاصلہ دنوں میں طے کیا تھا ۔ فاصلہ طے کرنے کے فورا ً بعد فوج کو صلیبیوں کے محاصرے سے نکلنے کے
‫لیے خون ریز لڑائی لڑنی پڑی ‪ ،پھر تیز رفتار پسپائی ہوئی۔ سلطان ایوبی نے فوج کو مکمل آرام دینے کے لیے نصیبہ کے مقام
‫پر پڑائو کیا …… آرام فوج کے لیے تھا ۔ سلطان ایوبی کی تو نیند بھی اُڑ گئی تھی ۔ ِدن کو وہ بے چینی سے خیمے میں
‫ٹہلتا یا باہر نکل کر اِدھر ا ُدھر گھومتا رہتا تھا ۔ اپنے ساالروں کے ساتھ بھی کم ہی بولتا تھا ۔ اسی کیفیت میں اسے ایک
‫ساالر نے کہا کہ اسے شکست نہ کہیں۔ سلطان ایوبی کا جواب سن کر ساالر خاموش ہوگیا۔ سلطان ایوبی اپنے خیمے میں ٹہل
‫رہا تھا ۔ وہاں ایک اور ساالر بھی تھا ۔ بہت دیر تک دونوں ساالر خاموش رہے ۔ سلطان ایوبی کے مزاج میں جیسے غصہ
‫تھا ہی نہیں ‪ ،پھر بھی ساالر اس کے ساتھ بات کرتے ڈرتے تھے۔
‫تم دونوں کیا سوچ رہے ہو؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔ ''
‫میں سوچ رہا ہوں کہ آپ اسی طرح مایوسی اور غصے کی حالت میں رہے تو آپ کے فیصلے مزید نقصان کا باعث بنیں ''
‫گے ''۔ایک ساالر نے کہا …… '' میں نے آپ کو اس حالت میں رملہ کی شکست کے وقت بھی نہیں دیکھا تھا ۔ اپنے
‫آپ کو ٹھنڈا کریں اور اس جذباتی کیفیت سے نکلنے کی کوشش کریں''۔
‫اورمیں سوچ رہا ہوں کہ کفار ہماری جڑوں میں اُترگئے ہیں ''۔دوسرے ساالر نے کہا …… '' ہم اس وقت اپنی سرزمین پر''
‫کھڑے ہیں ۔ ہماری جنگ صلیبیوں سے ہے اور ہمارا مقصد فلسطین کی آزادی ہے مگر مسلمان امراء میں سے کوئی ایک بھی
‫امیر ہمارے پاس نہیں آیا۔ عزالدین اور عمادالدین کہاں ہیں ؟ کیا انہوں نے ہمارے ساتھ معاہدہ نہیں کیا تھا کہ ضرورت کے
‫وقت ہمیں اپنی فوج دیں گے ؟ ان کا یہ سر درد یہ بتاتا ہے کہ وہ ابھی تک صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں تو کیا
‫''ہم آپس میں لڑتے رہیں گے؟
‫سلطان ایوبی خیمے میں ٹہل رہا تھا ۔ آسمان کی طرف دیکھ کر اُس نے آہ بھری اور کہا …… '' میرے رسول صلی اللہ
‫علیہ وآلہ وسلم کی ا ُمت کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ جب غیر مذہب کے اثرات قبول کیے جاتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہی ہوتا
‫ہے جو ہم دیکھ اور بھگت رہے ہیں ۔ صلیبی اور یہودی مسلمانوں کو اپنا غالم بنانے کے لیے انسانی فطرت کی سب سے
‫بڑی کمزوری کو استعمال کر رہے ہیں ۔ یہ کمزوری اللچ ہے ۔ انسانوں پر حکومت کرنے کا اللچ ‪ ،بادشاہ اور شہزادہ بننے کا
‫اللچ اوریہ اللچ کہ میں روئی جیسے مالئم قالینوں پر چلوں اور لوگ ننگے پائون گرم ریت پر چلیں۔ اُن کے پائوں جلیں تو
‫میرے آگے سجدے کریں۔ جب یہ اللچ ِدل میں ا ُتر جاتا ہے تو دل سے ایمان نکل جاتا ہے۔ عقل پر ایسا پردہ پڑتا ہے کہ
‫قومی غیرت اور خود داری بے معنی سے جذبے بن جاتے ہیں ۔ جب کوئی انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ غداری کو
‫قابل فخر اقدام سمجھتا ہے ۔ صلیبیوں نے ہمارے امراء کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے اپنی تہذیب کی بے حیائی
‫ِ
‫مسلمانوں میں بھی پھیال دی ہے ۔ جب تہذیب بدل جاتی ہے تو مذہب ایک کمزور سا خول بن کے رہ جاتا ہے جو اُتار کر
‫پھینکا بھی جا سکتا ہے اور قوم کو دھوکہ دینے کے لیے اپنے اوپر چڑھایا جاسکتا ہے''۔
‫‪ ،دونوں ساالر خاموشی سے سن رہے تھے ۔سلطان صالح الدین ایوبی ٹھہری ٹھہری آواز میں بول رہا تھا ۔ وہ چپ ہوگیا

‫پھر گہرا سانس لے کر بوال …… '' تم محسوس نہیں کر رہے کہ یہ بھی شکست ہے کہ میں جو عمل کے میدان کا ‪: ،
‫مرد ہوں‪ ،خیمے میں کھڑا عورتوں کی طرح باتیں کرتا رہا ہوں۔ ہمیں اس وقت بیت المقدس میں ہونا چاہیے تھا ۔ میری
‫اقصی میں سجدے کرنے کو تڑپ رہی ہے۔ مجھے ا ُن شہیدوں کے خون کا اخراج ادا کرنا ہے جو فلسطین کی
‫پیشانی مسج ِد
‫ٰ
‫آبرو اور آزادی پر قربان ہوگئے ہیں '' …… سلطان ایوبی کی آواز میں یکلخت قہر آگیا۔ اس نے ٹہلتے ٹہلتے ُرک کر ساالروں
‫کے سامنے کھڑے ہو کر کہا …… '' کیا تم ا ُن بچوں کا سامنا کر سکتے ہو جنہیں میرے حکم اور میرے عزم نے یتیم کیا
‫ہے؟ کیا تم ا ُن عورتوں کے سامنے جا کر اپنا سر اونچا کر سکتے ہوجن کے خاوند نعرے لگاتے ہمارے ساتھ آئے اور اُن کے
‫لہولہان جسم گھوڑوں کے ُس ّموں سے قیمہ ہوگئے ؟ تم ا ُن خوبرو اورجوان چھاپہ ماروں کو کیسے بھول سکتے ہو جو ہم سے
‫بہت ُدور دشمن کے عالقوں میں ُدور جا کر شہید ہوئے ؟ …… میں ا ُ ن میں سے کسی کی ماں کے سامنے جانے سے ڈرتا
‫ہوں ۔ ڈرتا اس لیے ہوں کہ ا ُ س نے یہ کہہ دیا کہ میرا بیٹا واپس کرو یا مجھے قبلہ اول لے چلو جہاں میں اپنے بیٹے کے
‫شہادت پرشکرانے کے نفل پڑھوں تو میں اس ماں کو کیاجواب دوں گا ؟
‫شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا محترم سلطان!'' یہ چھاپہ ماردستوں کے ساالر صارم مصری کی آواز تھی جو سلطان''
‫ایوبی کے خیمے کے دروازے میں آن کھڑا ہوا تھا ۔ سلطان ایوبی کی اُدھر پیٹھ تھی ۔
‫آب زمزم ''
‫کسی شہید کی ماں اپنے بیٹے کے خون کا حساب نہیں مانگے گی ۔ رسول ۖ کا کلمہ پڑھنے والی مائوں کا دودھ ِ
‫جیسا پاک اور مقدس ہے۔ ا ُس دودھ کے پلے ہوئے بیٹے آپ کے حکم سے نہیں اللہ کے حکم سے لڑا کرتے ہیں۔ آپ اُن کے
‫خون کا اخراج اپنے ذمے نہ لیں۔ غداروں کے خون کی بات کریں۔ ہماری تلواریں غداروں کے خون کی پیاسی ہیں ''۔
‫تم نے میرے حوصلے میں جان ڈال دی ہے صارم!'' سلطان ایوبی نے کہا …… '' میرے یہ دونوں رفیق بھی مجھے یہی ''
‫کہہ رہے تھے کہ مایوس اور جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ''۔
‫ضرورت ہے بھی کیا !'' صارم مصری نے کہا …… '' شکست شکست ہے مگر دائمی نہیں ۔ ہم اسے فتح میں بدل ''
‫سکتے ہیں اور بدل کر دکھا ئیں گے ''۔
‫میدان جنگ کی ہوتی تو میں ایک بازو کٹوا کر بھی مایوس اور پریشان نہ ہوتا ''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔'' ''
‫اگر بات
‫ِ
‫مشکل یہ پیدا ہوگئی ہے کہ دشمن زمین کے نیچے چال گیا ہے ۔ صلیبی اور یہودی ہماری قوم میں ایسے زہریلے اثرات چھوڑ
‫رہے ہیں جو پُ ر کشش اور طلسماتی ہیں۔ قوم اور فوج کے متعلق مجھے اطمینان ہے۔ سپاہی اور عام آدمی اِن اثرات کو قبول
‫نہیں کرتا ۔ انہیں وہ چند ایک افراد قبول کرتے ہیں کرچکے ہیں جن کا اثر قوم پر ہے۔ یہ اُمراء اور حاکموں کا طبقہ ہے۔
‫ان میں بعض مذہبی پیشواء بھی شامل ہیں اور ان میں چند ایک ساالر بھی ہیں جو ریاستوں کے حکمران بننے کے خواب
‫دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایمان فروشوں کا گروہ ہے جو سیدھے سادے لوگوں کو مذہب کا دھوکہ دے کر ا ُ ن میں مذہب کا جنون
‫پیدا کرتے اور انہیں مسلمان بھائیوں کے خالف اکساتے ‪ ،بھڑکاتے اور اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ غیر مذہب کے
‫لوگ مسلمان امراء اور اسی سطح کے طبقے کو اپنے زیر اثر لیتے ہیں ۔ پھر یہ طبقہ لوگوں کو مذہب اور محبت کا دھوکہ
‫دیتا اور انہیں بھوکا اور بے بس رکھتا ہے تا کہ لوگ یہ نہ دیکھ سکیں کہ یہ طبقہ درپردہ کیا کر رہا ہے''۔
‫مگر ہم عالم نہیں ''۔ ایک ساالر نے کہا …… ''ہم خطیب اور مسجدوں کے امام نہیں کہ تلواریں پھینک کر لوگوں ''
‫کووعظ اور خطبے سناتے پھریں۔ ہمیں یہ مسئلہ تلوار سے حل کرنا ہوگا۔ ان پتھروں کو گھوڑوں کے سموں تلے روندنا ہوگا''۔
‫یہ لوگ قرآن کے منکر ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… '' قرآ ن کا حکم بڑا واضح ہے کہ کفار کو دوست مت سمجھو۔''
‫ان کی باتوں میں نہ آنا۔ تم نہیں جانتے کہ اُن کے ِدل ہمارے خالف کدورتوں سے بھرے ہوئے ہیں''۔
‫یہ لوگ نام کے مسلمان ہیں''۔ صارم مصری نے کہا …… ''قرآن کا اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ''۔ ''
‫یہ صورت حال بہت نقصان دہ ہے کہ ان لوگوں نے قرآن مجید بھی ہاتھوں میں اُٹھا رکھا ہے اور کفار کے اشاروں پر '' ‪:
‫بھی ناچ رہے ہیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' قوم نے ہمیشہ ایسے ہی سربراہوں کے ہاتھوں دھوکہ کھایا ہے جن کے
‫ہاتھ میں قرآن اور ِد ل میں صلیب ہے۔ یہ لوگ اذان کی آواز پر خاموش ہوجاتے ہیں مگر ان کے ِدلوں میں گرجوں کے گھنٹے
‫بجتے ہیں ۔ قوم ان کا اصلی روپ نہیں دیکھ سکتی اور ان کے ِدل کی آواز نہیں سن سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک خانہ
‫جنگی میں ایک دوسرے کا خون بہا چکے ہیں اور دوسرے خانہ جنگی کی تلوار ہماری گردن پر لٹک رہی ہے''۔
‫ہم اس طوفان کو روک سکیں گے''۔ ایک ساالر نے کہا …… '' لیکن مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ ہم اب ''
‫کوئی معاہدہ اور کوئی صلح نامہ نہیں کریں ۔ ہمیں اپنے بھائیوں کا خون بہانا پڑے گا اور ہمیں ان کے ہاتھوں مرنا بھی ہوگا
‫''۔
‫سلطان ایوبی کے چہرے پر اُداسی کا سایہ آگیا ۔ ان کی آنکھیں جیسے اُفق پر کسی چیز کو دیکھ رہی تھیں۔ صاف پتہ چل
‫رہا تھا کہ اس کی نظریں آنے والی صدیوں کا سینہ چا ک کر رہی ہیں۔ خیمے میں ایک بار پھر گہرا سکوت طاری ہوگیا ۔
‫تینوں ساالر اپنے سلطان کے اس تاثر سے جو اس پر کبھی کبھی طاری ہوا کرتا تھا ‪ ،اچھی طرح واقف تھے۔
‫میرے عزیز رفیقو!'' سلطان ایوبی نے کہا…… '' مجھے نظر آرہا ہے کہ میرے رسول ۖ کی اُمت آپس میں لڑلڑکر ختم ''
‫ہوجائے گی ۔ صلیبی اور یہودی اسے خانہ جنگی میں ا ُلجھائے رکھیں گے۔ حکمرانی کا اللچ بھائی کو بھائی کا دشمن بنائے
‫گا۔ فلسطین خون سے الل ہوتا رہے گا ۔ مسلمان حکمران سلطنتوں میں بٹ کر عیش و عشرت میں پڑے رہیں گے ۔ ہمارا
‫قبلہ ّاول ا ُ ِ
‫مت رسول ۖ کو پکارتا رہے گا اور ا ُس پکار کو کوئی مسلمان نہیں سنے گا ۔ اگر کوئی فلسطین کی سرزمین کو آزاد
‫کرانے کے لیے ا ُٹھے تو وہ کوئی ہم جیسا دیوانہ ہوگا ۔ ایسے دیوانوں کو خود اپنے مسلمان حکمران دھوکے دیں گے اور درپردہ
‫دوست بنے رہیں گے۔ تم نے کہا ہے کہ ہم اس طوفان کو روک سکیں گے ‪ ،مگر ہمارے مرنے کے بعد یہ طوفان پھر اُٹھے گا
‫''۔
‫پھر ایک اور صالح الدین ایوبی پیدا ہوگا''۔ ساالر صارم مصری نے کہا …… '' ایک اور نورالدین زنگی پیدا ہوگا۔ مسلمان ''
‫مائیں مجاہدین کو جنم دیتی رہیں گی ''۔
‫اور یہ مجاہدین عیاش حکمرانوں کے ہاتھوں میں کھلونے بنے رہیں گے''۔ سلطان ایوبی نے طنزیہ لہجے میں کہا ……' ' ''
‫اور وہ وقت بھی آجائے گا جب فوج بھی عیاش سپاہیوں کا گروہ بن جائے گی اور اس کے ساالر کفار کے ہاتھوں میں کھیلیں
‫گے ''۔ سلطان ایوبی اس انداز سے خاموش ہوگیا جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو۔ اُس نے تینوں ساالروں کی طرف باری باری
‫دیکھا اور کہا …… '' مگر ہم یہ باتیں کب تک کرتے رہیں گے؟ ہم چاروں ایک دوسرے کو خطبے سنا رہے ہیں ۔اللہ کے
‫میدان عمل کے مرد ہیں۔ صارم! تم نے میری پہلی ہدایت کے مطابق
‫سپاہی خطیب نہیں ہوا کرتے۔ ہمیں عمل کرنا ہے۔ ہم
‫ِ
‫اپنے چھاپہ مار دستوں کو میری بتائی جگہوں پرپھیال رکھا ہوگا اورء تم جانتے ہو کہ ہماری یہ خیمہ گاہ کس خطرے میں

‫ہے''۔
‫سلطان محترم!'' ساالر صارم مصری نے جواب دیا …… '' ہم بیروت کا محاصرہ اُٹھا کر اس طرف ''
‫اچھی طرح جانتا ہوں
‫ِ
‫آئے تھے تو ہماری توقع کے خالف صلیبیوں نے ہمارے تعاقب میں فوج نہیں بھیجی تھی ‪ ،لیکن ہم اس خوش فہمی میں
‫مبتال نہیں ہوئے کہ صلیبی ہمیں بخش دیں گے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں وہ کھال حملہ نہیں کریں گے۔ وہ ہم پر ہمارے
‫انداز کے شب خون ماریں گے‪ ،بلکہ ا ُن کے چھاپوں اور شبخونوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ خیمہ گاہ سے بہت ُدور سے
‫فرنگیوں اور ہمارے گشتی دستوں کی چھوٹی چھوٹی جھڑپوں کی خبریں آنے لگی ہیں ۔ میں نے چھاپہ ماردستوں کو ُدور ُدور
‫تک پھیال رکھا ہے۔ مجھے شک ہے کہ کفار کا اڈہ کہیں باہر نہیں ‪ ،بلکہ موصل میں ہے اور والئی موصل عزالدین انہیں پناہ
‫اور مدد دے رہا ہے ''۔
‫اگر ایسی بات ہے تو مجھے اس کی اطالع مل جائے گی ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' اگر موصل میں ہی صلیبیوں ''
‫کا خفیہ اڈہ ہوا تو میں اس کا بندوبست کرلوں گا ''۔ اُس نے دوسرے دو ساالروں سے کہا …… '' ہمیں مسلمان اُمراء کے
‫ا ُن قلعوں پر قبضہ کرنا ہوگا جو موصل اور حلب کے درمیان ہیں۔ میں اِن دونوں شہروں کو ایک دوسرے سے کاٹ دینا چاہتا
‫ہوں۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ اُن کے قاصدوں کو بھی راستہ نہیں ملے گا۔ میں نے بہت
‫کوشش کی ہے کہ میری تلوار کسی مسلمان کے خالف نیام سے نہ نکلے لیکن میں ناکام رہا۔ ان حکمرانوں اور اُمراء کو ختم
‫کروں گا جو صلیبیوں کے دوست ہیں ۔ میں خود قوم کی آڑ میں نہیں بیٹھوں گا ‪ ،نہ قوم کا خون بہنے دوں گا۔ میں اُن
‫ا ُمراء کو گھٹنوں بٹھادوں گا ‪ :جو قوم کو گمراہ کر رہے ہیں ''۔
‫سلطان ایوبی نے نقشہ نکاال اور اپنے ساالروں کو دکھانے لگا۔
‫٭ ٭ ٭
‫بیروت میں بالڈون کے محل میں ا ُس نے اپنے ساالروں اور تین چار صلیبی حکمرانوں کو مدعو کر رکھا تھا ۔ بہت بڑی ضیافت
‫کا اہتمام تھا ۔ بے شمار صلیبی مہمانوں میں دو مسلمان بھی شراب کے پیالے اُٹھائے اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے نظر آرہے تھے
‫۔ جوں جوں شراب اثر دکھا تی جارہی تھی لڑکیوں کے ساتھ مہمانوں کی دست درازی بڑتھی جا رہی تھی اور لڑکیاں پہلے
‫سے زیادہ بے حیا ہوتی جا رہی تھیں۔ ان دو مسلمانوں کی طرف دوسرے مہمانوں کی نسبت زیادہ توجہ دی جا رہی تھی ۔ دو
‫لڑکیاں ان کے اِ رد گرد اٹھکیلیاں کرتی پھر رہی تھیں۔ یہ دونوں مہمان لباس اور شکل و صورت سے کسی شاہی خاندان کے
‫افراد معلوم ہوتے تھے ۔
‫ایک صلیبی آیا۔ دونوں سے کہا کہ انہیں بالڈون نے اپنے کمرے میں بالیا ہے۔ دونوں شراب کے پیالے رکھ کر چلے گئے۔ وہ
‫جس غال ِم گردش سے گزر کر بالڈون کے کمرے میں گئے ۔ اس میں ایک آدمی ہاتھ میں برچھی اُٹھائے فوجی انداز سے ٹہل
‫رہا تھا ۔ اس کا لباس خاص قسم کا تھا ۔ اُس کے پہلو میں جو تلوار لٹک رہی تھی ‪ ،اس کی نیام پالش سے چمک رہی
‫تھی ۔ ا ُس کے سر پر فوالد کی چمک دار خود تھی ۔ محل میں اس لباس میں کئی ایک آدمی سینے تانے اور گردنیں اکڑائے
‫ٹہل رہے تھے ۔ یہ محل کے خصوصی مالزم تھا جو ساالروں کے کمرے کے سامنے موجود رہتے اورضیافتوں میں برآمدوں اور
‫غال ِم گردشوں میں ٹہلتے رہتے تھے۔ فانوسوں کی روشنی میں اُن کا لباس اور اُن کی چال اچھی لگتی تھی ۔ یہ دراصل
‫نمائش کے لیے رکھے گئے تھے اور یہ تربیت یافتہ لڑاکے بھی تھے۔
‫یہ آدمی جس نے دو مسلمانوں کو بالڈون کے کمرے کی طرف جاتے دیکھا‪ ،گورے رنگ کا تھا ۔ وہ ُرک کر انہیں جاتے ہوئے
‫دیکھتا رہا۔ وہ دونوں بالڈون کے کمرے میں داخل ہوگئے اور دروانہ بند ہوگیا۔ اس دروازے کے سامنے اسی آدمی جیسے لباس
‫میں دو آدمی پہرے پر کھڑے تھے ۔ ان میں سے ایک نے اُسے کہا …… '' ہیلو جیکب ‪ ،اِدھر کیوں گھومتے پھر رہے ہو؟
‫ا ُدھر جائو جہاں پریاں ناچ رہی ہیں۔ ہم تو یہاں سے ایک قدم بھی اِدھر اُدھر نہیں ہو سکتے''۔
‫جیکب نے ا ُن کے مذاق کا جواب دے کر کہا …… '' یہ دو آدمی جو اندر گئے ہیں مسلمان معلوم ہوتے ہیں۔ کون ہیں ''
‫''یہ ؟
‫''تمہیں ان سے کیا دل چسپی ہے؟ ''
‫تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ اِن سے مجھے کیا دلچسپی ہے؟'' …… جیکب نے کہا …… '' کیا تم نہیں جانتے کہ ''
‫مسلمان کے خالف کتنی نفرت پائی جاتی ہے؟ یہ دونوں کسی جنونی صلیبی یہودیوں کے ہاتھوں قتل ہوسکتے ہیں ۔ ان کی
‫حفاظت کی ذمہ داری ہمیں دے دی گئی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ مسلمان ہیں یا مسلمان عالقے کے عیسائی ''۔
‫یہ مسلمان عالقے کے مسلمان ہیں ''۔ ا ُسے جواب مال ۔ '' یقین سے نہیں کہا جاسکتا ‪ ،جہاں تک ہم جانتے ہیں‪ ،یہ ''
‫موصل سے آئے ہیں ۔ غالبا ً عزالدین کے ایلچی ہیں ''۔
‫صالح الدین ایوبی کے خالف مدد مانگنے آئے ہوں گے''۔ جیکب نے کہا …… '' اِن ایلچیوں کو کون بتائے کہ صالح ''
‫الدین ایوبی ختم ہو چکا ہے۔ رملہ سے شکست کھا کر بھاگا تو بیروت کو محاصرے میں لینے آگیا ۔ اُس کے بحری بیڑے کو
‫آگے آنے کی جرٔات نہیں ہوئی۔ مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ ہماری فوج نے ایوبی کی فوج کا تعاقب نہیں کیا ‪ ،ورنہ آج
‫ایوبی قید خانے میں ہوتا ''۔
‫تم اپنا کام کرودوست !'' ایک پہرے دار نے طنزیہ کہا …… '' سلطان صالح الدین ایوبی قید ہوگیا تو اُس کی سلطنت ''
‫تمہیں نہیں ملے گی ۔ اگر شاہ بالڈون مارا گیا تو بیروت کی بادشاہی تمہارے نام نہیں لکھی جائے گی ''۔
‫جیکب وہاں سے ہٹ آیا لیکن گھوم گھوم کر بند دروازے کو دیکھتا رہا جس کے پیچھے یہ دونوں مسلمان گم ہوگئے تھے۔ وہ
‫دونوں عزالدین والئی موصل کے ہی ایلچی تھے۔ اس سلسلے کی پچھلی قسط میں بیان کیا جا چکا ہے کہ سلطان ایوبی جب
‫بیروت کا محاصرہ ا ُٹھا کر موصل کی طرف گیا تھا تو عزالدین نے بہائوالدین شداد کو خلیفہ کی طرف اس عرضداشت کے ساتھ
‫دوڑادیا تھا کہ سلطان ایوبی کے ساتھ اس کی صلح کرادیں۔ دوسرے لفظوں میں اُس نے یہ درخواست کی تھی اُسے سلطان
‫ایوبی سے بچایا جائے۔ خلیفہ نے یہ کام شیخ العلماء کے سپرد کردیا اور سلطان ایوبی نے عزالدین کو بخش دیا ۔ عزالدین نے
‫بظاہر سلطان ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح کا معاہدہ کر لیا تھا لیکن اُس نے درپردہ دو ایلچیوں کو صلیبی حکمران بالڈون
‫کے پاس بھیج دیا تھا ۔ یہ دو ایلچی اب بالڈون کے کمرے میں بیٹھے تھے ۔
‫والئی موصل نے کہا ہے کہ آپ نے صال ح الدین ایوبی کا تعاقب نہ کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے''۔ ایک ایلچی '' ‪:
‫نے بالڈون کو بتایا …… '' آپ نے ا ُس کی فوج کو آرام کرنے کا موقعہ دے دیا ہے۔ والئی موصل نے کہا کہ میں تحریری
‫پیغام نہیں دے سکتا کیونکہ راستے میں پکڑے جانے کا خطرہ ہے۔ میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ دمشق کی طرف پیش قدمی
‫کریں اور اس شہر کو محاصرے میں لے کر اس پر قبضہ کرلیں۔ آپ کی فوج ایسے راستے سے اور اتنی تیزی سے دمشق

‫پہنچے کہ صالح الدین ایوبی دمشق بروقت نہ پہنچ سکے۔ میں آپ کے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ صالح الدین ایوبی جب آپ
‫کے حملے کی اطالع پر یہاں سے روانہ ہوگا تو موصل اور حلب کی فوجیں آمنے سامنے لڑنے کی بجائے اس کی فوج پر
‫شبخون مارتی رہیں گی۔ اس سے ا ُس کی پیش قدمی بہت سست ہوجائے گی اور آپ دمشق پر آسانی سے قبضہ کرلیں گے ۔
‫ہمارے عالقوں میں جو چھوٹے موٹے ا ُراء ہیں‪ ،میں ان سب کو اپنے ساتھ مال لوں گا ۔ آپ ان کے قلعے استعمال کر سکتے
‫ہیں۔ میں آپ کی فوج کو موصل کے اندر قیام کی اجازت نہیں دے سکتا‪ ،کیونکہ اس سے صاف ظاہر ہوجائے گا کہ میرا اور
‫آپ کا اتحاد ہے۔ میں صالح الدین ایوبی کو یہ تاثر دے رہا ہوں کہ میں اُس کا دوست ہوں ''۔
‫ایلچی جب یہ پیغام دے رہا تھے ‪ ،اس وقت بالڈون کے ساتھ اُس کے دو جرنیل تھے۔ عزالدین کے ایلچی بھی فوجی مشیر
‫تھے۔ جنگی امور کو اچھی طرح سمجھتے تھے ۔ بالڈون ان کے ساتھ اس مسئلے پر بحث اور بات چیت کرتا رہا۔اُس نے
‫دیکھ لیا تھا کہ یہ مسلمان اُس کے جال میں آگئے ہیں۔ چنانچہ اُس نے اپنی شرطیں عائد کرنی شروع کردیں۔
‫عزالدین کو شاید پوری طرح احساس نہیں کہ صالح الدین ایوبی کو بے خبری میں نہیں دبوچا جا سکتا ''۔ بالڈون نے کہا ''
‫…… '' ہم دمشق کو محاصرے میں لیں گے تو وہ برق رفتار پیش قدمی کرکے ہم پر عقب سے حملہ کردے گا۔ میں اسے
‫ممکن نہیں سمجھتا کہ ہم دمشق کی طرف پیش قدمی کریں تو صالح الدین ایوبی کو قبل از وقت خبر نہ ہو۔ وہ عقاب اور
‫گدھ کی طرح بہت ُد ور سے شکار کودیکھ لیتا ہے اور ایسا جھپٹا مارتا ہے کہ پسپائی بھی محال ہو جاتی ہے۔ ہم ابھی کھلی
‫جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ ہم اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ فوری طور پر ہم نے یہ بندوبست کردیا ہے کہ چھاپہ
‫ماردستے بھیج دئیے ہیں جو صالح الدین ایوبی کی فوج کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ اِن دستوں کے لیے ہمیں مستقل
‫اڈے کی ضرورت ہے ۔ یہ آپ مہیا کر دیں گے تو ہم صال ح الدین ایوبی کی فوج کو صرف چھاپہ مار دستوں سے ہی بے
‫حال کر سکتے ہیں ۔ وہ نہ لڑنے کے قابل رہے گا ‪ ،نہ بھاگ سکے گا ۔ آپ ہمارے دستوں کو پناہ ‪ ،مدد اور خوراک وغیرہ
‫مہیا کرتے رہیں۔ ہم اسلحہ اور سامان بھیجتے رہیں گے ۔ آپ حلب کے والی عمادالدین سے بھی کہہ دیں کہ ہم پر بھروسہ
‫ِ
‫بوقت ضرورت پناہ اور مدد دیتا رہے۔ دوسرے اُمراء اور قلعہ دار بھی آپ کے ساتھ ہونے
‫رکھے اور ہمارے چھاپہ مار دستوں کو
‫چاہئیں۔ ان کا خیال رکھیں کہ ان میں سے کوئی صالح الدین ایوبی کے پاس جاکر اس کا اتحادی نہ بن جائے''۔
‫اتحاد کی شرائط طے کر لی گئیں۔ عزالدین نے ان ایلچیوں کو پورا اختیار دے دیا تھا کہ وہ شرائط طے کرکے آئیں اور جو
‫مراعات صلیبیوں کو دینا مناسب سمجھیں‪ ،دے آئیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنا ایمان ایک صلیبی حکمران کے ہاں صرف اس لیے
‫گروی رکھ دیا کہ ا ُن کی حکمرانی محفوظ رہے۔ انہوں نے اپنا کام تو کر لیا تو ضیافت میں شریک ہونے کے لیے چلے گئے۔
‫انہیں دراصل شراب اورشراب پالنے والی لڑکیوں کے ساتھ ہی دلچسپی تھی ۔
‫اِ ن مسلمانوں پر زیادہ اعتماد نہ کریں''۔ ایک جرنیل نے بالڈون سے کہا …… '' انہوں نے ضرورت محسوس کی تو آپ ''
‫کو بتائے بغیر صالح الدین ایوبی کے پائوں میں جا بیٹھیں گے''۔
‫مجھے اپنے چھاپہ ماروں کے لیے ایک اڈہ چاہیے ''۔ بالڈون نے کہا …… '' موصل میرا اڈہ بن گیا تو میں آہستہ آہستہ ''
‫پوری فوج وہاں لے جائوں گا اور عزالدین کو وہاں سے بے دخل کردوں گا ۔ ہم سب کا منصوبہ یہ ہونا چایے کہ ان مسلمانوں
‫کو ہم متحد نہ ہونے دیں بلکہ انہیں آپس میں لڑاتے رہیں اور آہستہ آہستہ ان کے عالقوں پر قابض ہوجائیں۔ ہم سب نے دیکھ
‫لیا ہے کہ مسلمان کو عیش و عشرت اور حکمرانی کا اللچ دے دو تو وہ اپنی خودداری اور اپنا مذہب تمہارے قدموں میں رکھ
‫دیتا ہے۔ عزالدین ‪ ،عمادالدین اور دوسرے چھوٹے موٹے مسلمان اُمراء صرف اس لیے صالح الدین ایوبی کے خالف ہیں کہ وہ
‫سب خود مختار حکمران بنے رہنا چاہتے ہیں اور عیش و عشرت کی خاطر پُر سکون زندگی کی خواہش رکھتے ہیں ‪ ،مگر
‫صالح الدین ایوبی عیش و عشرت اور حکمرانی کا قائل نہیں۔ وہ ان سب کو ایک محاذ پرمتحد کرکے فلسطین سے ہمیں بے
‫دخل کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے لیکن جنہیں وہ متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے‪ ،وہ جنگ و جدل سے ڈرتے ہیں ۔
‫مجھے اُمید ہے کہ عزالدین اور اُس کا ٹولہ ہمارے ہاتھ سے نکلے گا
‫نہیں اگر کسی نے نکلنے کی کوشش کی تو اُسے ہم حشیشین کے ہاتھوں قتل کرادیں گے۔
‫بالڈون نے اپنے جرنیلوں کو چند ایک ہدایات دے کر کہا …… '' عزالدین کے ان دونوں ایلچیوں کی اتنی زیادہ خاطر ''
‫تواضع کرو کہ ان کی عقل بالکل ہی ماری جائے اور انہیں یاد ہی نہ رہے کہ ان کا مذہب کیاہے؟۔ اس نے جس ہدایت پر
‫سختی سے عمل کرنے کو کہا وہ یہ تھی کہ اس کمرے میں ان ایلچیوں کے ساتھ جو باتیں ہوئی ہیں وہ کمرے سے باہر نہ
‫جائیں''۔بالڈون نے کہا …… ''صالح الدین ایوبی کے جاسوس بیروت میں موجود ہیں''۔
‫دونوں ایلچی شراب اور لڑکیوں کے نشے میں بد مست ہوئے جا رہے تھے۔ مہمان اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے شراب پی رہے تھے
‫اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ جیکب ان دونوں ایلچیوں کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ اُن میں سے ایک الگ مل گیا۔ جیکب نے
‫فوجی انداز سے اُسے سالم کیا اور پوچھا…… '' آپ غالبا ً موصل کے مہمان ہیں ؟ ہم موصل والوں سے بہت محبت کرتے
‫ہیں ''۔
‫ہم موصل کے حکمران عزالدین کے ایلچی ہیں ''۔ ایلچی نے شراب کے نشے میں بدمت ہوتے ہوئے کہا …… '' ہم یہ ''
‫معلوم کرنے آئے ہیں کہ بیروت کے صلیبیوں کے ِدل میں موصل کے مسلمانوں کی کتنی محبت ہے؟'' …… ایلچی کی جس
‫طرح زبان لڑکھڑا رہی تھی‪ ،اسی طرح ا ُس کی ٹانگیں بھی لڑکھڑا گئیں۔ وہ اتنی زیادہ پی چکا تھا کہ پائوں پر کھڑا بھی نہں
‫رہ سکتا تھا ۔ ا ُس نے جیکب کے کندھے پر بازو سے ہاتھ مار کر کہا …… '' شراب کا یہی کمال ہے انسان کے دل سے
‫مذہب نکل جاتا ہے اور اس کی جگہ محبت آجاتی ہے۔ مجھے صلیب سے محبت ہے اور مجھے تمہاری اس برچھی سے
‫ساالر اعظم بن جائوں گا ۔
‫محبت ہے‪ ،جس روز یہ برچھی صالح الدین ایوبی کے سینے میں اُتر جائے گی ‪ ،اُس روز میں
‫ِ
‫جیکب وہاں زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا کیونکہ اس کی ڈیوٹی گھومنے پھرنے کی تھی ۔ وہ ایلچی کو جھومتا لڑکھڑاتا چھوڑ
‫کر اِدھر اُدھر ہوگیا۔ کچھ دیر بعد ا ُ س نے دیکھا کہ ایلچی کو دو آدمی تھام کر لے جارہے تھے۔ وہ ہوش میں نہیں تھا ۔
‫آدھی رات کے قریب جیکب کی ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ ناچ گانا جاری تھا ‪ ،جیکب اور اُس کے ساتھیوں کی جگہ دوسرے آدمی
‫آگئے ۔ جیکب اپنے کمرے میں گیا ۔ وردی اُتاری اور اپنے کپڑے پہن لیے۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا ۔ اُسے سوجانا چاہیے تھا
‫لیکن وہ باہر نکل گیا ۔ اُس کا ُرخ کسی اور طرف تھا لیکن وہ اُس طرف چال گیا جہاں لڑکیاں رہتی تھیں۔ یہ ایک عمارت
‫تھی جس کا ایک حصہ اتنا خوبصورت تھا جیسے وہاں شہزادیاں رہتی ہوں۔ یہ اُن لڑکیوں کی رہائشگاہ تھی جو جاسوسی کے
‫لیے اور کردار کی تخریب کاری کے لیے مسلمانوں کے عالقوں میں اُمراء اور ساالروں اور حکمرانوں کو صلیب کے جال میں
‫پھانسنے کے لیے بھیجی جاتی تھیں۔ انہیں ا ُن عالقوں میں جو صلیبیوں کے قبضے میں آگئے تھے ‪ ،مسلمان جاسوسوں کو
‫پھانسنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

‫اسی عمارت کے دوسرے حصے میں ناچنے اور گانے والی لڑکیاں رہتی تھیں۔ ان کی قدروقیمت جاسوس لڑکیوں جتنی نہیں تھی
‫جو جسمانی حسن کے لحاظ سے جاسوس لڑکیوں سے کم نہیں تھیں۔ اُن کا کام صرف یہ تھا کہ محل کی ضیافتوں پر ناچا
‫کرتی تھیں۔ باہر کے مہمان آئیں تو ناچ گانا ضرور ہوتا تھا۔ اُس رات موصل کے مسلمان ایلچیوں کے اعزاز میں جو ضیافت
‫دی گئی تھی ‪ ،اس میں ناچ گانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ا ُن میں سارہ نہیں تھی ۔ سارہ بہت خوبصورت لڑکی تھی ۔ اُس کے
‫خدو خال اور ا ُس کے بالوں اور آنکھوں کا رنگ یورپ کی لڑکیوں جیسا نہیں تھا ۔ وہ بیروت کی ہی رہنے والی ہو سکتی
‫تھی ‪ ،مصر کی بھی اور وہ یونان کی بھی ہو سکتی تھی ۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں کی رہنے والی ہے۔
‫جیکب کسی اور طرف جا رہا تھا ۔ اُسے یاد آگیا کہ ناچنے گانے والیوں میں اُسے سارہ نظر نہیں آئی تھی۔ اس کی
‫غیرحاضری کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ وہ بیمار ہے یا اس پیشے سے تنگ آکر بھاگ گئی ہے۔ جیکب کومعلوم تھا کہ
‫سارہ اس پیشے سے خوش نہیں ہے ‪ ،کیونکہ وہ خود نہیں آئی ‪ ،الئی گئی ہے۔ جیکب بھی اسی محل کے قریب رہتا تھا اور
‫اس کی ڈیوٹی محل میں ہی ہوتی تھی ۔ ایسی ہی ایک ضیافت کے دوران سارہ اتفاق سے جیکب سے ملی تھی ۔ سارہ کو
‫سب مغرور لڑکی کہا کرتے تھے ‪ ،کیونکہ وہ کسی کے ساتھ بولتی نہیں تھی۔ جیکب میں نہ جانے اُسے کیا نظر آیا کہ اُسے
‫وہ پسند کرنے لگی ۔ جیکب کو بھی یہ لڑکی اچھی لگنے لگی۔
‫ایک رات سارہ محل سے فارغ ہوکر اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی ۔ اسے جیکب مل گیا ۔ سارہ نے اسے کہا میں ''
‫''میں اکیلی جا رہی ہوں‪ ،میرے ساتھ کمرے تک نہیں چلو گے؟
‫اکیلے جاتے ڈر آتا ہے؟'' جیکب نے کہا …… '' یہاں سے تمہیں کوئی اغوا کرکے نہیں لے جا سکتا ''۔ ''
‫میں اب اغوا نہیں ہوسکتی '' ۔ سارہ کی مسکراہٹ بجھ گئی۔ کہنے لگی …… '' اب تو اپنے آپ کو خود ہی اغوا ''
‫کروں گی …… میرے ساتھ چلو ۔ اکیلے جاتے ڈر تو نہیں آتا۔ تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے''۔
‫سارا جیسی حسین لڑکی کا جیکب کو پسند کرنا کوئی عجوبہ نہیں تھا ۔ جیکب مردانہ حسن اور وجاہت کا شاہکار تھا ۔ چند
‫اور لڑکیوں نے بھی اس کے ساتھ دوستی کی پیشکش کی تھی لیکن جیکب ان سے ُدورہی رہا تھا ۔ ُدور رہنے کی وجہ تھی
‫کہ یہ سب ناپاک اور عصمت بریدہ لڑکیاں تھیں۔ جیکب نے ا ُن کی پیشکش ٹھکرا کر اپنی قیمت چڑھالی اور اپنی کشش میں
‫اضافہ کر لیا تھا ۔ وہاں تو یہ عالم تھا کہ بدکاری کو گناہ کی بجائے تفریح بلکہ جائز تفریح سمجھا جاتا تھا ۔ پہلی مالقات
‫میں جیکب سارہ کو بھی ایسی ہی بدکار لڑکی سمجھا تھا لیکن سارہ میں سنجیدگی اور متانت سی تھی جو جیکب کو اچھی
‫لگی تھی ۔ سارہ کو جب یہ پتہ چال کہ جیکب شراب بھی نہیں پیتا تو وہ اُسے زیادہ اچھا لگنے لگا تھا ۔ پھر ایک رات
‫سارہ نے ا ُس کے منہ سے اپنی تعریف کرانے کے لیے پوچھا تھا …… '' تم نے میرے رقص کی کبھی تعریف نہیں کی ۔
‫''دوسرے مجھے راستے میں روک کر میرے فن اور جسم کی تعریف کیا کرتے ہیں ؟
‫میری زبان سے تم اپنے فن کی تعریف کبھی نہیں سنو گی '' …… جیکب نے جواب دیا …… '' البتہ تمہارے جسم ''
‫میں جادو کا سا اثر تھا ۔ بہت اچھا جسم ہے۔ خدا نے تمہارے چہرے مہرے میں جو کشش پیدا کی ہے۔ وہ خدا کے بندوں
‫کی نظروں کو جکڑ لیتی ہے لیکن یہ جسم ناچتا ہوا اچھا نہیں لگتا ‪ ،نہ کسی کو انگلیوں پر نچاتا ہوا اچھا لگتا ہے۔ یہ جسم
‫ایک مرد کی ملکیت ہوتا ہے۔ وہ مرد چھ کلمے پڑھ کر اس جسم کو احترام اور پیار کے ساتھ مستور کرکے لے جاتا تو اس
‫جسم پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔ تم خدا کی توہین کر رہی ہو''۔
‫جیکب ؟'' سارہ نے اسے حیران سا ہو کر کہا …… '' تم کون سے چھ کلموں کی بات کرتے ہو؟ عیسائی اپنی دلہنوں ''
‫کو مستور کرکے بھی نہیں لے جاتے ''۔
‫جیکب گھبرا گیا ‪ ،پھر اچانک قہقہہ لگا کر بوال …… '' میرے دماغ پر مسلمان سوار رہتے ہیں ۔ میری اپنی تو شادی نہیں
‫ہوئی ‪ ،مسلمانوں کی شادیاں دیکھی ہیں ''۔
‫اُس نے وضاحت کی کہ ''چھ کلمے '' اُس کے منہ سے نکل گئے ہیں مگر سارہ اُسے عجیب سی نظروں سے دیکھتی رہی
‫‪ ،پھر وہ چپ سی ہوگئی اور خالئوں میں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگی۔ بے تاب سی ہو کر اُس نے جیکب کے بازو پر ہاتھ
‫رکھا اور پوچھا …… '' تم مسلمان تو نہیں جیکب؟ میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم جاسوس ہو۔ ہو سکتا ہے مالزمت کی
‫خاطر تم نے اپنے آپ کو عیسائی بنا رکھا ہو یا عیسائی مذہب قبول کر لیا ہو''۔
‫جیکب مسلمان نہیں ہوا کرتے سارہ!'' جیکب نے کہا …… '' میرانام گلبرٹ جیکب ہے …… تم اتنی پریشان اور اداس ''
‫کیوں ہوگئی ہو؟ معلوم ہوتا ہے تمہارے دل میں مسلمان کے خالف اتنی نفرت ہے کہ تم ان کلموں کا نام بھی نہیں سننا
‫چاہتی ''۔
‫تمہیں راز کی ایک بات بتائوں ؟'' سارہ نے کہا …… '' شاید تم اچھا نہ مانو‪ ،مجھے مسلمان اچھے لگتے ہیں ۔ اس ''
‫کی وجہ شاید یہی ہے کہ وہ چھ کلمے پڑھ کر اپنی دلہنوں کو مستور لے کے جاتے ہیں ''۔ اس نے آہ بھر کر کہا …… ''
‫عورت عریاں کردی جاتی ہے تو ا ُسے احساس ہوتا ہے کہ مستور ہونے میں جو روحانی اقرار تھا ‪ ،وہ چھن گیا ہے۔ ناچنے
‫میں بھی لذت نہیں اور اپنے حسن کا جادو طاری کرکے دوسروں کو انگلیوں پر نچانے پر بھی قرار نہیں ۔ میں جب تنہائی
‫میں آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہوں تو آئینے میں مجھے ایک قابل نفرت عورت نظر آتی ہے۔ میں اپنے عکس کو مستور
‫نہیں کر سکتی ۔ اس پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ البتہ میری روح پر سیاہ پردہ پڑ گیا ہے''۔
‫تم اس پیشے سے اتنی متنفر ہو تو نکل بھاگو یہاں سے ؟''جیکب نے کہا ۔''
‫…… کدھر؟'' سارہ نے کہا …… '' یہاں سے بھاگوں گی تو کسی قحبہ خانے والوں کے قبضے میں آجائوں گی''
‫''کیا تم میرے رقص کو کو پسند کرتے ہو یا مجھے ؟ ……
‫میں اُس سارہ کو پسند کرتا ہوں جو اس پیشے سے نفرت کرتی ہے‪ ،اُداس اور پریشان رہتی ہے''۔ جیکب نے کہا …… ''
‫'' میں کہہ چکا ہوں کہ تم خدا کی توہین کر رہی ہو''۔
‫تم فوج میں کسطرح آگئے ہو؟'' سارہ نے کہا …… '' تمہیں دیہاتی گرجے میں پادری ہونا چا ہیے تھا …… تم ہر روز ''
‫''کتنی شراب پیتے ہو؟
‫اس کی بو سے بھی نفرت ہے''۔''
‫پھر تم مسلمان ہو''۔ سارہ نے وثوق کے لہجے میں کہا …… '' اگر تم نہیں تو تمہارا باپ مسلمان تھا ۔ تم عورت کو ''
‫مستور دیکھنا چاہتے ہو۔ تمہیں رقص پسند نہیں ۔ تمہیں شراب کی بو سے بھی نفرت ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تم مجھے
‫اچھے لگتے ہو۔ مجھے تو جو کوئی بھی دیکھتا ہے ‪ ،کھاجانے کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ تم میرے دل کے درد کو سمجھتے
‫''ہونا؟

‫سمجھتا ہوں سارہ !'' جیکب نے کہا …… '' یہ درد میرے دل نے محسوس کیا تھا ''۔ ''
‫پھر وہ کئی بار ملے ۔ سارہ جیکب کے ساتھ دل کی باتیں کیا کرتی تھی۔ اُس نے جیکب سے کئی بار کہا تھا کہ تمہاری
‫چال ڈھال اور تمہارے خیاالت مسلمانوں جیسے ہیں ۔ جیکب نے کئی بار اُس سے پوچھا تھا کہ وہ مسلمانوں کو اتنا زیادہ
‫پسند کیوں کرتی ہے؟ سارہ نے کبھی کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا تھا ۔ البتہ دونوں نے یہ محسوس کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے
‫کے دل میں اُتر گئے ہیں ۔
‫٭ ٭ ٭
‫ضیافت کی رات جب جیکب اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر کسی اور طرف جارہا تھا ‪ ،وہ سارا کی رہائش کی طرف چل پڑا ۔
‫ضیافت میں سارہ کی غیر حاضری کی وجہ بیماری ہی ہو سکتی تھی ۔ اس عمارت میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی
‫۔ جیکب نے وہاں جانے کا خطرہ مول لے لیا کہ تمام لڑکیاں ضیافت میں گئی ہوئی تھیں اور وہاں مالزم عورتیں بھی نہیں
‫تھیں۔ جیکب اندھیرے طرف سے گیا ۔ وہ سارہ کا کمرہ جانتا تھا ۔ وہ دبے پائوں کمرے کے دروازے تک پہنچا۔ ہاتھ لگایا تو
‫کواڑ کھل گیا ۔ ایک کمرے سے گزر کر وہ دوسرے کمرے میں گیا۔ وہاں چھوٹی سی قندیل جل رہی تھی ‪ ،جس کی مدھم
‫سی روشنی میں اُسے سارہ سوئی ہوئی نظر آرہی تھی ۔ اُسے یہ لڑکی دودھ پیتے بچے کی طرح معصوم لگی۔ اُس کا ہاتھ
‫اپنے ہی بکھرے ہوئے بالوں میں ا ُلجھا ہوا تھا ۔ کھڑکی کھلی تھی ۔ بحیرئہ روم کی ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکوں سے سارہ
‫کے بکھرے ہوئے بال آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔ وہ گہری نیند سوئی ہوئی تھی ۔ جیکب نے ہاتھ اُس کی پیشانی پر رکھا۔
‫پیشانی اتنی ہی گرم تھی جتنی ا ُس عمر کی سوئی ہوئی لڑکی کی گرم ہونی چاہیے تھی ۔ جیکب کو یہ اطمینا ن ہوگیا کہ
‫سارہ کو بخار نہیں۔
20:58
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 134سنت‪ ،سارہ اور صلیب
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫کہ سارہ کو بخار نہیں۔'' تم نخلستان کا پھول ہو جو بادشاہوں کی خواب گاہوں میں آکر مرجھا جاتا ہے''۔ جیکب نے دل
‫ہی دل میں سارہ سے کہا …… '' تم صبح کا ستارہ ہو جو سورج کی چمک سے بجھ جاتا ہے اور رات کو پھر چمک اُٹھتا
‫ہے۔ تمہاری زندگی راتوں کے اندھیرے میں بیت رہی ہے۔ تمہاری قسمت اندھیرے میں لکھی گئی تھی …… تم مجھے کیوں
‫اچھی لگتی ہو؟ مجھ سے بار بار کیوں پوچھتی ہو کہ میں نے چھ کلموں کا ذکر کیوں کیا تھا ؟ تم کسی مسلمان کی ماں
‫کی کوکھ کی پیداوار تو نہیں؟ تمہاری رگوں میں کسی مسلمان باپ کا خون تو نہیں ؟ اس راز سے پردہ کون اُٹھائے؟ میں
‫تمہارے لیے راز ہوں‪ ،تم میرے لیے راز ہو؟؟۔
‫جیکب کو یاد آیا کہ صلیبی فوج مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹتے رہتے ہیں۔ ان کی بچیوں کو اُٹھا لے جاتے ہیں اور انہیں اپنے
‫رنگ میں رنگ کر جاسوسی اور بے حیائی اور رقص کی تربیت دیتے ہیں۔ سارہ بھی شاید انہی بد نصیب لڑکیوں میں سے
‫ہوگئی ‪ ،ورنہ یہ قوم احساسات اور جذبات کے لحاظ سے مردہ اور بے حیائی میں پوری طرح زندہ ہوتی ہے۔ جیکب بھول گیا
‫کہ وہ کہاں کھڑا ہے ۔ کسی مرد کو ان کمروں میں آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ سارہ اُس کے دل میں ایسی اُتری تھی کہ وہ
‫خطروں سے بے نیاز ہوگیا تھا ۔ اُس سے رہا نہ گیا ۔ اُس نے قندیل بھجا دی اور اس کے ساتھ ہی سارہ کی آنکھ کھل گئی
‫۔
‫''جیکب کو اُس کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی …… '' کون ہو؟
‫'' جیکب''
‫اس وقت یہاں کیوں آگئے ہو؟'' سارہ نے ایسے لہجے میں کہا جس میں محبت بھی تھی ‪ ،ہمدردی بھی ۔ '' کسی ''
‫نے دیکھ لیا تو تم سیدھے قید خانے میں جائو گے ۔ مجھے باہر بال لیا ہوتا ''۔
‫یہ پریشانی مجھے اس خطرے میں لے آئی ہے کہ تم بیمار ہو؟'' جیکب نے اندھیرے میں ا ُ س کے پلنگ پر بیٹھتے ''
‫ہوئے کہا …… '' روشنی اس لیے گل کردی ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے ۔ میں کسی اورنیت سے نہیں آیا سارہ! معلوم نہیں
‫''کیا کشش ہے جو مجھے یہاں لے آئی ہے۔ تمہیں بخار تو نہیں ؟
‫میری روح علیل ہے''۔ سارہ نے کہا …… '' میں تو جب بھی محفلوں اور ضیافتوں میں ناچتی ہوں ‪ ،میرا دل ساتھ نہیں''
‫ہوتا ۔ میرا جسم ناچتا ہے اور روح مر جاتی ہے ‪ ،مگر آج مجھے کہا گیا کہ موصل سے دو بڑے ہی اہم مہمان آرہے ہیں تو
‫روح کے ساتھ میرا جسم بھی بے جان ہوگیا ۔ مجھے متلی آنے لگی اور سرچکرانے لگا ۔ مجھے اِن بادشاہوں کی جنگوں اور
‫ان کے امن اور دوستی کے معاہدوں کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں لیکن میرے کانوں میں جب یہ بات پڑی کہ موصل سے اہم
‫مہمان آرہے ہیں تو مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے صلیبیوں اور مسلمانوں میں سے کسی ایک کے ساتھ میرا گہرا تعلق ہے۔
‫میں ابھی تک یہ نہیں سوچ سکی کہ میرا روحانی تعلق کس کے ساتھ ہے۔ صرف یہ احساس جاگ اُٹھا کہ میں اس محفل
‫میں نہیں ناچ سکوں گی ۔ میں موصل کے مہمانوں کا سامنا نہیں کر سکوں گی یا وہ مجھے دیکھ کر وہاں سے بھاگ جائیں
‫گے ''۔
‫''کیوں؟'' جیکب نے پوچھا …… ''موصل والوں کے ساتھ تمہارا کیا تعلق ہے؟''
‫میں بتا نہیں سکتی ''۔سارہ نے کہا …… '' میں تو اپنے آپ کو بھی یہ بتانے سے ڈرتی ہوں کہ موصل والوں کے ساتھ''
‫میرا کیا تعلق ہے''۔
‫سارہ!'' جیکب نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا …… '' تم اپنا آپ مجھ سے کیوں چھپا رہی ہو؟ کیا تمہیں ''
‫''کسی قافلے سے اغوا کیا گیا تھا ؟ تم کس باپ کی بیٹی ہو؟
‫سارہ کوئی جواب نہ دے سکی ۔ جیکب چونک ا ُٹھا۔ دونوں نے کھڑکی کی طرف دیکھا جو کھلی ہوئی تھی ‪ ،وہاں ایک سایہ
‫کھڑا نظر آیا۔ سارہ نے جیکب کے کان میں سرگوشی کی …… '' پلنگ کے نیچے ہوجائو '' …… جیکب نے اندھیرے سے
‫فائدہ ا ُٹھایا۔ آہستہ سے سرک کر فرش پر بیٹھا اور آواز پیدا کیے بغیر پلنگ کے نیچے چال گیا ۔ سارہ لیٹ گئی۔
‫سارہ !'' کھڑکی کے ساتھ کھڑے سائے کی آواز آئی۔ یہ ایک بوڑھی عورت کی آواز تھی جو بعض راتیں ناچنے گانے ''
‫والیوں کو دیکھا کرتی تھی کہ کوئی لڑکی غیر حاضر تو نہیں ۔
‫اُس کی آواز پر سارہ نہ بولی۔ عورت نے ا ُسے ایک اور آواز دی ۔ سارہ پھر بھی نہ بولی۔ عورت نے تحکمانہ لہجے میں کہا
‫''…… '' سارہ تم سوئی ہوئی نہیں ہو ۔ مجھے جواب دو ۔ قندیل کیوں بجھی ہوئی ہے؟

‫سارہ نے منہ سے ایسی آوا ز نکالی جیسے ہڑبڑا کر جاگ ا ُٹھی ہو۔ گھبراہٹ کی اداکاری کرتے ہوئے بولی ۔ '' کون ہو؟ کیا
‫''ہو گیا ہے؟
‫میں ا ُدھر آکر بتاتی ہوں''۔ عورت کا سایہ کھڑکی سے ہٹ گیا ۔ وہ دروازے کی طرف سے آنا چاہتی تھی ۔ سارہ نے ''
‫جھک کر جیکب سے کہا …… '' وہ دوسری طرف سے آرہی ہے ‪ ،باہر آئو اور کھڑکی سے کود جائو''۔
‫نہیں سارہ!'' جیکب نے پلنگ کے نیچے سے نکل کر کہا …… '' میں اسے جانتا ہوں ‪ ،آنے دو اسے ۔ میں اس کی ''
‫مٹھی گرم کردوں گا تو خاموشی سے چلی جائے گی ''۔
‫یہ خبیث عورت ہے''۔سارہ نے کہا …… '' یہ درپردہ لڑکیوں کی داللی کرتی ہے۔ تم فورا ً نکلو یہاں سے ‪ ،ورنہ میرا ''
‫جھوٹ مجھے مروا دے گا ۔ میں اسے سنبھال لوں گی ''۔
‫وہ عورت ابھی دروازے تک آئی ہی تھی کہ جیکب کھڑکی سے باہر کود گیا ۔سارہ نے قندیل جال دی ۔ عورت اندر آئی۔
‫جسم کے لحاظ سے وہ عورت کم اور مردزیادہ تھی ۔ وہ سارہ پر برس پڑی۔سارہ نے اُسے یقین دالنے کی کوشش کی کہ اس
‫کمرے میں اور کوئی نہیں تھا اور شاید خواب میں بول رہی ہوگی۔ عورت نے اُسے کہا کہ خواب میں عورت کی آواز مرد
‫جیسی بھاری نہیں ہوجایا کرتی۔
‫یہ کیا ہے؟'' عورت نے جھک کر پلنگ کے قریب فرش پرگرا ہوا ایک رومال اُٹھایا۔یہ گزبھرلمبا اور اتنا ہی چوڑا کپڑا ''
‫تھا جو مرد گرمی سے بچنے کے لیے سر پر ڈال لیا کرتے تھے ۔'' یہ کس کا ہے؟ یہ اُس کا ہے جو تمہارے پاس آیا بیٹھا
‫''تھا ۔ وہ کون تھا ؟ تم نے اُس سے کتنی رقم لی ہے؟
‫میں عصمت فروش نہیں ''۔ سارہ نے غصے سے کہا …… '' میں رقاصہ ہوں۔ تم جانتی ہو‪ ،میں کسی مرد کو منہ نہیں ''
‫لگاتی ''۔
‫سنو سارہ!'' عورت اُس کے پاس بیٹھ گئی اور اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر شفقت سے بولی …… '' یہ تو میں ''
‫بھی جانتی ہوں کہ تم رقاصہ ہو مگر تم یہ نہیں جانتی کہ رقاصہ فوج کی جرنیل یا شہر کی حاکم نہیں ہوا کرتی۔ میں اتنی
‫سی بات کہہ دوں گی کہ تمہارے پاس رات کو آدمی آیا تھا وہ تمہیں بیروت کے کسی انتہائی گھٹیا قحبہ خانے میں بیچ ڈالیں
‫گے یا تمہیں قید میں ڈال دیں گے۔ اس نشے میں بات نہ کرو کہ تم شاہی رقاصہ ہو۔ یہاں تمہارا کوئی مقام نہیں ''۔
‫تم مطلب کی بات کرو''۔سارہ نے کہا…… '' تم مجھ پر جو مہربانی کرنا چاہتی ہو‪ ،اُس کا معاوضہ کیا لوگی ؟ میں ابھی''
‫ادا کردیتی ہوں''۔
‫میں تم سے کچھ بھی نہیں لوں گی''۔ عورت نے کہا ۔ '' میں کسی اور سے معاوضہ وصول کروں گی۔ تمہاری ہاں ''
‫کی ضرورت ہے''۔
‫سارہ ا ُس کا مطلب سمجھ گئی۔ باہر سے شاہی مہمان آتے ہی رہتے ہیں ۔ ان میں عیسائی بھی ہوتے تھے‪ ،مسلمان بھی ۔
‫شاہی حیثیت کے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے لڑکیاں موجود رہتی تھیں لیکن اُس کے ساتھ جو عملہ آتا تھا‪ ،انہیں اس
‫قسم کی عیاشیاں مہیا نہیں کی جاتی تھیں۔ یہ عورت ان لوگوں سے مل کر اُن کے پاس لڑکیاں بھیجا کرتی اور منہ مانگا
‫معاوضہ وصول کرتی تھی ۔ یہ ا ُس کا خفیہ کاروبار تھا ۔ بعض شاہی مہمان ایسے ہوتے تھے جو سرکاری طور پر دی ہوئی
‫لڑکی سے مطمئن نہیں ہوتے تھے۔ یہ عورت درپردہ محل کے ایک دو مالزموں کے ذریعے اُن کی یہ ضرورت پوری کرتی اور
‫انعام لیتی تھی۔ سارہ اُس کے ہاتھ کبھی نہیں آئی تھی مگر اب یہ لڑکی اُس کے جال میں آگئی ۔ وہ اگر بتاتی کہ اُس کے
‫پاس جیکب آیا تھا اور ا ُس کے ساتھ اس کا تعلق پاک ہے تو یہ عورت کبھی یقین نہ کرتی اور دوسرا ظلم یہ ہوتا کہ جیکب
‫کو قید میں ڈال کر بڑی ہی ظالمانہ اذیتیں دے دے کر ماردیا جاتا۔
‫سارہ!'' عورت نے کہا …… '' اگر اپنے ہولناک انجام سے بچنا چاہتی ہو تو میری بات مان لو۔ باہرسے دو مہمان آئے ''
‫ہوئے ہیں۔ بہت دولت مند ہیں ۔ پرسوں سے دو مالزموں سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں اچھی قسم کی لڑکیوں کی ضرورت ہے۔
‫یہ دراصل ا ُن کی عادت ہے۔ اپنے ہاں حرموں میں بیس بیس تیس تیس لڑکیاں جمع کیے رکھتے ہیں ۔ یہاں بھی چاہتے ہیں
‫کہ ان کے کمروں میں لڑکیوں کی چہل پہل لگی رہے۔ کل تم اِن میں سے ایک کے پاس چلی جانا''۔
‫کون ہیں وہ؟'' سارہ نے پوچھا …… '' اگر مسلمان ہیں تو میں اُن کے پاس نہیں جائوں گی ''۔''
‫تو قید خانے میں جائو''۔ عورت نے کہا …… '' ہوش میں آئو۔ اپنے آپ کو دیکھو۔ تم کیا ہو۔ اپنے پیشے کو دیکھو۔ ''
‫شریف بننے کی کوشش نہ کرو۔ وہ ِدل کھول کر انعام دیں گے جس میں تمہارا حصہ بھی ہوگا ''۔
‫''اور پکڑے گئے تو؟ ''
‫میں پکڑنے والوں کا منہ بندرکھا کرتی ہوں''۔ عورت نے کہا …… '' کل رات تیار رہنا۔ اب تم سے بالکل نہیں پوچھوں ''
‫گی کہ ابھی ابھی تمہارے پاس کون آیا تھا ''۔
‫عورت چلی گئی۔ سارہ کے آنسو بہنے لگے۔
‫جیکب بھاگنے واال آدمی نہیں تھا لیکن وہ اس ڈر سے نکل گیا کہ سارہ کی مصیبت آجائے گی۔ اُسے اُمید تھی کہ سارہ اسی
‫غلیظ ُد نیا کی لڑکی ہے‪ ،وہ اس عورت کو سنبھال لے گی۔ وہ شہر کی طرف چال جا رہا تھا ۔ اس کے ذہن پر سارہ چھائی
‫ہوئی تھی۔ سارہ سے ا ُسے دلی محبت ہوگئی تھی اور سارہ اس کے لیے معمہ بھی بن گئی ۔ اُسے رہ رہ کر یہی خیال آرہا
‫تھا کہ سارہ کسی مسلمان باپ کی بیٹی ہے …… وہ چلتے چلتے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں داخل ہوگیا۔ گلیوں کے
‫موڑ مڑتا ایک مکان کے سامنے ُرکا اور دروازے پر دستک دی ۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھال۔
‫''کون؟''
‫حسن ''۔ جیکب نے جواب دیا ۔''
‫''اتنی رات گئے؟'' دروازہ کھولنے والے نے پوچھا۔ '' فوراًاندر آجائو ۔ کسی نے دیکھا تو نہیں ؟ ''
‫نہیں'' ۔ جیکب نے جواب دیا …… ''کافروں کی ضیافت سے ابھی فارغ ہوا ہوں۔ ایک ضروری اطالع الیا ہوں''۔''
‫وہ اندرچال گیا ۔ دروازہ بند ہوگیا۔ اب وہ جیکب نہیں بلکہ حسن االدریس تھا۔ وہ سلطان صالح الدین ایوبی کاجاسوس تھا ۔
‫اس نے ایک سال پہلے اپنے آپ کو ایک عیسائی ظاہر کرکے اور نام گلبرٹ جیکب بناکر صلیبی فوج میں مالزمت کرلی
‫تھی ۔ گورے رنگ کا جوان تھا ۔ ٹریننگ کے مطابق وہ اداکاری اور چرپ زبانی کاماہر تھا ۔ اس کی شکل و صورت اور دراز
‫قد کی بدولت ا ُسے محل کی خصوصی ڈیوٹی کے لیے منتخب کرلیا گیا تھا ۔ یہاں سے وہ قاہرہ کوخبریں بھیجتا رہتا تھا ۔
‫اس کے گروہ کا لیڈر حاتم اس مکان میں رہتا تھا جس میں داخل ہوگیا تھا ۔
‫موصل کے دو ایلچی بالڈون کے پاس آئے ہیں '' ۔ حسن نے اپنے لیڈر کو بتایا …… '' میں نے یقین کر لیا ہے کہ یہ ''

‫دونوں موصل سے آئے ہیں اور دونوں مسلمان ہیں ۔ انہیں بالڈون اپنے کمرے میں لے گیا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ
‫والئی موصل عزالدین کا کوئی پیغام لے کر آئے ہیں ''۔
‫اور یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف معاہدے کا پیغام ہوگا ''۔ لیڈر نے کہا …… '' یہ معلوم کر لیا ہے کہ ان ''
‫کے درمیان کیا طے پایا ہے؟ سلطان ابھی تک اس دھوکے میں ہیں کہ عزالدین اور عمادالدین ہمارے دوست ہیں یا کم از کم
‫ہمارے خالف نہیں لڑیں گے''۔
‫ان کی بات چین بند کمرے میں ہوئی ہے''۔ حسن نے کہا …… '' میرا خیال ہے کو جو کچھ طے ہونا تھا ‪ ،ہوچکاہے۔ ''
‫میں نے ان میں سے ایک کے ساتھ بات کی تھی ۔ وہ بہت خوش نظر آرہا تھا ۔ بدبخت نے شراب اس قدر پی لی تھی
‫کہ اس نے نشے میں مجھے بڑا صاف اشارہ دے دیا کہ وہ دونوں مسلمان ہیں اور موصل سے آئے ہیں۔ مجھے کہتا تھا کہ وہ
‫ہماری یعنی صلیبیوں کی محبت دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ پائوں پر کھڑا نہ ہوسکا اور گر پڑا''۔
‫ہم سلطان کو صرف یہ اطالع بجھوائیں کہ بیروت میں موصل کے دو آدمی آئے تھے‪ ،کافی نہیں ''۔ حاتم نے کہا ……'' ''
‫ہم اپنے سلطان سے بہت شرمسار ہیں کہ ا ُن تک ہماری یہ اطالع نہیں پہنچ سکی کہ بیروت کو محاصرے میں لینے کا منصوبہ
‫ترک کردیں ‪ ،کیونکہ بالڈون کو اس منصوبے کی اطالع قاہرہ سے مل گئی ہے''۔
‫اس میں ہمارا کوئی قصور نہ تھا ''۔حسن نے کہا ۔ '' اسحاق ترک برقت روانہ ہوگیا تھا۔ وہ دھوکہ دینے واال آدمی نہیں''
‫تھا ۔ وہ راستے میں صحرا کا شکا ر ہوگیا یا پکڑا گیا ہوگا''۔
‫بیروت کے محاصرے میں سلطان صالح الدین ایوبی کا جو نقصان ہوا ہے۔ ہمیں اس کا ازالہ کرنا ہے''۔ حاتم نے کہا…… ''
‫'' ا ُن کے لیے یہ خبر بہت اہم ہے کہ موصل والے بیروت والوں کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرر ہے ہیں لیکن ہمیں پوری
‫اطالع دینی چاہیے کہ معاہدے میں کیا کیا شرائط طے ہوئیں اور کیا منصوبہ بنا ہے۔ اس وقت سلطان بہت بڑے خطرے میں
‫بیٹھے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ دوستوں کے درمیان محفوظ ہیں لیکن وہ دراصل دشمنوں کے گھیرے میں پڑائو ڈالے
‫ہوئے ہیں ''۔ حاتم نے حسن سے پوچھا …… '' محل میں تم کوئی ایسا ذریعہ پیدا نہیں کر سکتے جو اندر کی باتیں بتا
‫سکے ؟''۔
‫باتیں بند کمرے میں ہوئی ہیں ''۔ حسن نے جواب دیا …… '' بالڈون یا اس کے مشیروں اور ساالروں سے تو پوچھا نہیں''
‫جاسکتا ۔ ان دونوں آدمیوں کے سینے سے راز نکالنے کی کوشش کی جاسکتی ہے جو موصل سے آئے ہیں۔ میں ذریعہ پیدا
‫کرنے کی کوشش کروں گا ۔ اگر نہ ہوا تو دوسرا طریقہ اختیار کریں گے ۔ یہ جب واپس جائیں گے تو انہیں راستے سے اغوا
‫کر لیا جائے گیا یا ضرورت پڑی تو ختم کردیا جائے گا ''۔
‫انہیں ختم کرنے سے ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوگا''۔ حاتم نے کہا …… '' ہمیں بالڈون اور عزالدین کے منصوبے کی ''
‫ضرورت ہے''۔
‫میری یہی کوشش ہوگی ''۔ حسن نے کہا …… '' اگر منصوبہ نہ مال تو دونوں کو سلطان ایوبی کے پاس پہنچا دیا جائے ''
‫گا''۔
‫اگر انہیں قتل کرنا ہوا تو وہ میں یہیں سے کراسکتا ہوں''۔ حاتم نے کہا …… '' جس قدر جلدی ہوسکے ‪ ،مجھے بتائو ''
‫کہ تم مطلوبہ معلومات حاصل کرسکتے ہو یا نہیں۔ میں صبح ایک آدمی کو سلطان کو یہ خبر دینے کے لیے روانہ کردوں گا کہ
‫بالڈون کے پاس عزالدین کے ایلچی آئے ہیں اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہوگیا ہے ‪ ،تاکہ سلطان اس خوش فہمی میں نہ
‫پڑے رہیں کہ عزالدین ا ُن کا دوست ہے۔ تم بہت تھوڑے وقت میں مکمل اطالع حاصل کرنے کی کوشش کرو'‪'' :۔
‫میری کامیابی کے لیے ُدعا کریں ''۔ حسن اُٹھا اور باہر نکل گیا ۔ ''
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبی چھاپہ ماروں کو زندہ پکڑنے کی کوشش کرو''۔ ساالر صارم مصری نے اپنے چھاپہ مار دستوں کے کمانداروں کو ''
‫ہدایات دے رکھی تھیں …… '' لیکن اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالو جہاں حملہ کرو‪ ،وہاں کاری ضرب لگا ئو اور نکلنے کی
‫کوشش کرو اور جب تم پر حملہ ہو تو جم کر لڑرو اور دشمن کو نکلنے نہ دو ۔ یہ اتنی زیادہ فوج تمہارے بھروسے پر آرام
‫کی نیند سوتی ہے اور اتنی زیادہ رسد تمہاری ذمہ داری پر پڑی ہے''۔
‫چھاپہ ماروں کو اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس تھا ۔ سلطان ایوبی نے خیمہ گاہ سے ُدور چٹانوں اور بلند جگہوں پر بیس
‫سے چالیس کی نفری کی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں جن کے ذمے دیکھ بھال اور خیمہ گاہ کی حفاظت تھی ۔ ایسی ہی ایک
‫چوکی جو پہاڑیوں میں گھری ہوئی ایک چٹان پرتھی دشمن کے تیروں کا نشانہ بنی ہوئی تھی ۔ اس کے پیچھے اونچی پہاڑیاں
‫تھیں اور ایک وادی ۔ اس میں وادی میں سے فوج گزر سکتی تھی ۔ اس ڈھکی چھپی گزرگاہ پر نظر رکھنے کے لیے یہ
‫چوکی قائم کی گئی تھی ‪ ،وہاں دو سوار گھوڑوں کے ساتھ ہر وقت تیار رہتے تھے‪ ،وہاں روز مرہ کا معمول بن گیا تھا کہ
‫سورج غروب ہونے کے بعد تین چار تیر آتے اور دو سپاہیوں کو ختم کر دیتے ۔ ایک شام ایک گھوڑے کو بیک وقت تین تیر
‫لگے اور گھوڑا تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ تیر قریب کی پہاڑی سے آتے تھے۔ اس کے فورا ً بعد اندھیرا چھا جاتا تھا ‪ ،اس لیے تیر
‫چالنے والوں کو ڈھونڈا نہیں جا سکتا تھا ۔
‫ایک روز شام سے پہلے چوکی کے دو سپاہی پہاڑی پر کہیں چھپ کر بیٹھ گئے ۔ سورج غروب ہونے کو تھا ۔ دو تیر آئے ‪،
‫دونوں اِن سپاہیوں کی پیٹھوں میں لگے۔ دونوں شہید ہوگئے۔ صبح اُن کی ا َدھ کھائی ہوئی الشیںا ُٹھائی گئیں۔ رات کو بھڑئیے
‫الشوں کو کھاتے رہے تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ صلیبی چھاپہ ماروں کا کام ہے۔ ایک روز دس سپاہیوں کا ایک گشتی جیش
‫عالقے کی تالشی کے لیے بھیجا گیا ۔ پہاڑی عالقوں میں جا کر چار چار افراد میں تقسیم ہوکر بکھر گئے۔ ایک جگہ دس
‫بارہ سال کی عمر کا ایک بچہ نظر آیا۔ وہ سپاہیوں کو دیکھ دوڑ پڑااور ایک بلندچٹان کے دامن میں غائب ہوگیا۔ وہ گڈریا ہو
‫سکتا تھا لیکن وہاں کوئی بھیڑ بکری اور کوئی اونٹ نہیں تھا۔ سپاہی وہاں تک گئے تو انہیں چٹان میں تنگ سا ایک دہانہ
‫نظر آیا جو کسی غار کا تھا ۔ بچہ اِسی میں چال گیا ہوگا۔
‫سپاہیوں نے دہانے کے ساتھ کان لگائے تو اندر سے دھیمی دھیمی آواز سنائی دی ۔ کسی بچے کا غار میں چھپ جانا کوئی
‫عجیب بات نہیں تھی ۔ یہ سپاہی اس بچے سے صلیبی چھاپہ ماروں کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بہت پکارا
‫لیکن غار میں خاموشی چھاگئی۔ سپاہیوں نے دھمکی دی کہ جو کوئی اندر ہے‪ ،باہر آجائے ‪ ،ورنہ ہم اندر آکر سب کو قتل کر
‫دیں گے۔ اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ وہ اس عالقے کی زبان میں سپاہیوں کو کوسنے لگی۔ پھر روپڑی اور کہا کہ
‫مجھے قتل کردو ‪ ،میرے بچوں کو بخش دو۔ ا ُس کے دو بچے تھے۔ ایک دس بارہ سال کا جو باہر سے دوڑا تھا اور دوسرا
‫چند مہینوں کا تھا جو اِس عورت نے اندر سالیا ہوا تھا ۔

‫سپاہیوں نے اسے بتایا کہ وہ مسلمان سپاہی ہیں مگر عورت انہیں گالیاں دینے لگی اور منت سماجت بھی کرنے لگی۔ اس نے
‫بتایا کہ دو روز ہوئے اس کے گائوں میں پندرہ سولہ صلیبی سوار آئے اور گائوں پر قبضہ کرلیا …… انہوں نے تمام گھروں کی
‫تالشی لی ۔ اس عورت کے خاوند کو قتل کردیا۔ قتل اس طرح کیا کہ انہوں نے گائوں کے تمام بچوں‪ ،جوانوں‪ ،بوڑھوں اور
‫تمام عورتوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے کہا کہ کسی کو پتہ نہ چلنے دیں کہ اس گائوں میں سپاہی رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی
‫اور گھوڑوں کی خوراک کی ذمہ داری گائون پر ڈال دی ۔ ان کے کماندار نے تلوار نکال لی۔ اس عورت کا خاوند سب سے
‫آگے کھڑا تھا ۔ کماندار نے خاوند کو بازو سے پکڑکر آگے کیا اور تلوار کے ایک ہی وار سے اُس کا سر تن سے جدا کردیا۔
‫اُس نے گائوں والوں سے کہا کہ کسی نے اُن کے حکم کی نافرمانی کی تو اُسے ایسی سزا ملے گی۔
‫ان سپاہیوں نے اپنے لیے تین جھونپڑے خالی کرالیے اور گائوں کی عورتوں کو بال کر اُن سے خدمت خاطر کرانے لگے۔ یہ
‫عورت رات کو موقعہ پا کر وہاں سے بھاگ آئی۔ ا ُسے معلوم نہیں تھا کہ سپاہی ابھی تک گائوں میں موجود ہیں یا نہیں۔ یہ
‫گائوں وہاں سے تھوڑی ہی ُد ور تھا۔ سپاہی عورت کو وہیں چھوڑ کر گائوں کی طرف گئے۔ پہاڑی سلسلہ کھل جاتا تھا‪ ،وہاں
‫وسیع میدان تھا جس میں پندرہ بیس جھونپڑوں کا ایک گائوں تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کا گشتی جیش گھوڑوں پر سوار
‫تھا۔ انہوں نے گائوں پر یلغار کرنے کے لیے گھوڑے دوڑا دئیے۔ اُس وقت صلیبی سپاہی جو گائوں پر قابض تھے ‪ ،گائوں میں
‫موجود تھے۔ انہوں نے شاید پہرہ کھڑا کر رکھا تھا۔ گھوڑسوار ابھی گائوں سے کچھ ُدور ہی تھے کہ تمام صلیبی سپاہی باہر
‫آگئے اُن کے آگے چند ایک بچے او عورتیں تھیں۔
‫۔ انہوں نے بچوں اور عورتوں کو ایک جگہ اکٹھے کرکے کھڑا کردیا اور خود ننگی تلواریں ہاتھوں میں لے کر اُن کے نیم ‪:
‫دائرے میں کھڑے ہوگئے۔ ایک نے سلطان ایوبی کے سواروں سے مخاطب ہو کر چال کر کہا …… '' اگر تم آگے آئو گے تو ہم
‫اِن بچوں اور عورتوں کو قتل کر دیں گے ''۔
‫سوار بیس پچیس قدم ُدور ُر ک گئے۔ وہ مسلمان بچوں اور عورتوں کو صلیبیوں کے ہاتھوں قتل نہیں کرانا چاہتے تھے۔
‫بزدلو!'' …… سلطان ایوبی کے چھاپہ مار جیش کے کماندار نے کہا …… '' صلیب کی خاطر لڑنے آئے ہو تو مردوں کر ''
‫طرح سامنے آکر لڑو۔ عورتوں اور بچوں کی ڈھال کے پیچھے کیوں کھڑے ہو''۔
‫تم سب واپس چلے جائو''…… صلیبی کماندار نے کہا …… '' ہم گائوں سے چلے جائیں گے''۔ ''
‫جن بچوں اور عورتوں کو صلیبی سپاہیوں نے یرغمال بنا رکھا تھا ‪ ،ان میں سے ایک عورت نے سلطان ایوبی کے سپاہیو ں
‫سے بلند آواز سے کہا …… '' اسالم کے سپاہیو! ُرک کیوں گئے ہو۔ ہمیں اپنے گھوڑوں تلے روند ڈالو۔ ان کافروں میں سے
‫کسی کو زندہ نہ جانے دو۔ ہم اپنے بچوں سمیت مرنے کو تیار ہیں ''۔
‫صلیبی کمان دار نے تلوار کا بھرپوروار کیا۔ اس عورت کا سر اس کے جسم سے کٹ کر گر پڑا۔ سلطان ایوبی کے گشتی جیش
‫نے اپنے سپاہیوں کو تیروکمان نکالنے کا حکم دیا ۔ پلک جھپکتے انہوں نے کمانیں کندھوں سے اُتاردیں‪ ،آگے کیں اور ترکشوں
‫سے ایک ایک تیر نکال کر کمانوں میں ڈال لیا ۔ تم صلیبی سپاہی بچوں اور عورتوں کے پیچھے بیٹھ گئے۔
‫جھوٹے مذہب کے پجاریو!'' …… مسلمان کمان دار نے کہا …… '' سپاہی بچوں اور عورتوں کی پیٹھ پیچھے نہیں چھپا ''
‫کرتے ''۔
‫صلیبی ایک غلطی کر بیٹھے تھے۔ وہ شاید بھول گئے تھے کہ گائوں میں مرد بھی ہیں ۔ ان مردوں کو صلیبیوں نے بہت
‫خوفزدہ کر رکھا تھا ۔ وہ بھی اپنے بچوں اور عورتوں کے قتل سے ڈرتے تھے۔ اتنے میں ایک عورت نے للکار کر کہا ……
‫'' یہ کافر تو بزدل ہیں‪ ،تم ہمارے خون سے کیوں ڈرتے ہو''…… اس نے اپنے سامنے کھڑے تین چار سال کے بچے کو
‫اُٹھایا اور ا ُسے آگے زمین پر پھینک کر کہا …… '' میں اپنے اس بچے کی قربانی خوشی سے دیتی ہوں۔ہل ّہ بولو۔ دس کافروں
‫کی جان لینے کے لیے میں اپنا بچہ قربان کرتی ہوں''۔
‫ایک صلیبی تلوار نے سونتے اس عورت کو قتل کرنے کو اُٹھا مگر اسے اتنی مہلت نہ ملی۔ ان کے عقب سے گائوں کے ''
‫تمام آدمی برچھیاں‪ ،الٹھیاں اور جو ہاتھ لگا اُٹھائے صلیبی سپاہیوں پر ٹوٹ پڑے۔ صلیبی بچوں اور عورتوں کے پیچھے تیروں
‫سے بچنے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ جب مقابلے کے لیے اُٹھے‪ ،مسلمان سپاہیوں نے ہلہ بول دیا ۔ ان میں دو تین
‫سپاہی چال رہے تھے ۔ '' عورتیں نکل بھاگیں ‪ ،بچوں کو ایک طرف کرلو''۔
‫ان کے گھوڑے صحرائی آندھی کی طرح آرہے تھے۔ عورتوں نے بچوں کو اُٹھایا اور نکل بھاگیں۔ گائوں کے آدمی گھوڑوں سے
‫بچنے لگے۔ ذرا سی دیر میں دو صلیبیوں کے سوا باقی تمام کو مار ڈاال گیا۔ گائوں والوں نے اُن کی الشوں کا قیمہ بنا دیا ۔
‫وہ دو زندہ صلیبیوں کو بھی اپنے ہاتھوں مارنا چاہتے تھے لیکن مسلمان جیش کے کماندار نے بڑی مشکل سے انہیں سمجھایا
‫کہ ان دونوں سے باقی ساتھیوں کا سراغ لگایا جائے گا۔
‫ان دونوں کو سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ حسن بن عبد اللہ کے حوالے کر دیا گیا ۔ اس نے اِن سے کہا
‫کہ وہ اپنے چھاپہ مار دستوں کے متعلق سب کچھ بتا دیں۔ وہ سپاہی تھے۔ انہوں نے سب کچھ بتا دیا۔ یہ بالڈون کی فوج
‫کے چھاپہ مار تھے۔ کم و بیش ایک ہزار چھاپہ مار سلطان ایوبی کی فوج اور رسد کو نقصان پہنچانے کے لیے بیروت سے
‫بھیجے گئے تھے ۔ ان کا ابھی کوئی مستقل اڈہ نہیں تھا ۔ وہ تمام عالقے میں پارٹیوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ انہیں بتایا
‫گیا تھا کہ وہ اسی طرح چھوٹے چھوٹے گائوں پر قبضہ کرکے وہاں سے خوراک حاصل کریں اور سلطان ایوبی کی فوج کے
‫لیے مصیبت بنے رہیں۔
‫انہیں سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا۔ اُس نے ان کی باتیں سنیں اور حکم دیا …… '' اِن دونوں کو ُدور لے جاکر قتل
‫کردیا جائے۔ یہ قاتل اور لٹیرے ہیں ''…… اس نے اپنے ساالروں سے کہا …… '' اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صلیبی چھاپہ
‫ماروں کو موصل میں یا کسی اور قلعے میں رہنے کی اجازت نہیں ملی ورنہ گائوں کو اڈے نہ بناتے'' ۔ سلطان ایوبی نے
‫حکم دیا …… '' ایسے ہر ایک گائوں میں تھوڑی تھوڑی نفری بھیج دو ۔ سپاہیوں کو سختی سے کہنا کہ گائوں میں کسی کو
‫پریشان نہ کریں۔ اپنی اور گھوڑوں کی خوراک فوج کی رسد سے لیں۔ کسی گائوں سے اناج کا ایک دانہ اور چارے کا ایک
‫تنکا بھی نہ لیا جائے ''۔
‫٭ ٭ ٭
‫حسن حاتم کو رپورٹ دے کر واپس آیا تو وہ باقی رات سو نہ سکا۔ اُس کے ذہن پر سارہ سوار تھی ۔ اُسے دن کو ہی ‪:
‫پتہ چل گیا تھا کہ سارہ کو اس عورت نے پکڑ لیا تھا ۔ اس کی اسے کوئی سزا تو نہیں ملی ؟ حسن کو معلوم تھا کہ وہ
‫عورت کون ہے لکین اس عورت سے مل کر وہ سارہ کی سفارش نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ اُسے بتا نہیں سکتا تھا کہ رات
‫سارہ کے کمرے میں وہی تھا۔ حسن یہ بھی سوچ رہا تھا کہ وہ موصل کے ایلچیوں سے کس طرح معلوم کرے کہ بالڈون کے

‫ساتھ انہوں نے کیا معاہدے طے کیا ہے ۔ یہ راز انہی سے لیا جا سکتا تھا ۔ اس اجالس میں کوئی مالزم اندر نہیں تھا جس
‫سے حسن کچھ معلوم کرلیتا۔ وہ جس قدر ذہن پر زور دے کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈتا تھا ‪ ،سارہ اتنی ہی زیادہ اُس کے
‫ذہن پر غالب آتی جا رہی تھی ۔
‫سارہ!'' …… اُس کے منہ سے سرگوشی نکل گئی جو غیر ارادی تھی ۔ اس سے وہ چونک اُٹھا ۔ اسے کچھ ایسا ''
‫اطمینان ہونے لگا جیسے اس مسئلے کا حل مل گیا ہو اور سارہ اس مسئلے کو حل کردے گی۔ اسے یہ سوال پریشان کرنے
‫لگا …… '' کیا سارہ کسی مسلمان باپ کی بیٹی ہے؟'' …… اور دوسرا سوال یہ کہ اسے اگر اپنا بچپن یاد آجائے تو کیا وہ
‫اس کا مسئلہ حل کر سکتی ہے؟ اس کا یہی ایک ذریعہ تھا کہ سارہ موصل کے کسی ایک ایلچی کو اپنا گرویدہ بنالے اور
‫ا ُس پر شراب اور اپنے حسن کا طلسم طاری کرکے اسکے سینے سے راز نکال لے مگر سوال یہ تھا کہ سارہ مان جائے گی ؟
‫کہیں اسے ہی نہ پکڑوادے۔
‫جاسوسوں کو خطرے مول لینے پڑتے ہیں ۔ حسن کو اپنی زبان کے فن کا کمال دکھانا تھا ۔ اسے سارہ کی باتیں یاد آرہی
‫تھیں جن سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ مسلمانوں کو پسند کرتی ہے۔ حسن کو یہ بھی احساس ہوگیا تھا کہ سارہ کو شک
‫ہوگیا ہے کہ وہ ( حسن ) مسلمان ہے۔ حسن کادماغ سوچ سوچ کر تھک گیا ۔ اسے ُدور سے صبح کی اذان کی آوازسنائی دینے
‫لگی۔ ا ُس کے دماغ پر اسالم اور خدا کا تقدس طاری ہوگیا۔ اس کی مدد خدا ہی کر سکتا تھا ۔ اس نے اُٹھ کر وضو کیا
‫اورکمرے کا دروازہ بند کرلیا ۔ صلیبیوں کی ا س دنیا میں وہ مسلمان نہیں عیسائی تھا ۔ حسن االدریس نہیں گلبرٹ جیکب تھا
‫عیس ی کا بت صلیب کے ساتھ لٹکا رکھا تھا ۔ دیوار کے
‫۔ وہ چھوٹے سے کمرے میں اکیال رہتا تھا جہاں اُس نے حضرت
‫ٰ
‫ساتھ کسی مصور کی بنائی ہوئی مریم کی تصویر آویزاں کر رکھی تھی ۔ قریب ہی صلیب لٹک رہی تھی ۔ اُس نے یہ بُت ‪،
‫تصویر اور صلیب پلنگ کے نیچے رکھ دی ۔ دروازے کے اندر والی زنجیر چڑھا کر قبلہ ُرو ہوا اور نماز پڑھنے لگا۔ وہ ہر روز
‫اسی طرح چھپ کر نماز پڑھا کرتا تھا مگر اس کی جذباتی حالت کبھی ایسی نہیں ہوئی تھی جیسی اس صبح کی نماز میں
‫ہوئی۔ ا ُس نے آنسو نکل آئے۔ اس کے منہ سے یہ الفاظ ( تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں )
‫بلند آواز سے نکل گئے تھے ۔ اُسے پہلی بار محسوس ہوا۔ جیسے خدا اُس کے سامنے کھڑا ہے اور اتنی قریب کھڑا ہے کہ
‫اوردعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے ۔ اُس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ اُس
‫وہ خدا کو چھو سکے گا۔ اس نے نماز ختم کرکے دو نفل پڑھے
‫ُ
‫کی زبان سے الفاظ اس کے سوچے بغیر پھسلنے لگے …… '' قبلہ ّاول کے خدا! آج تیرا نام لینے والے ‪ ،تیرے رسول ۖ کاکلمہ
‫اقصی میں تیرے حضور سجدہ کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ جو تیرے رسول ۖ
‫پڑھنے والے مسلمان اُن انسانوں کے ڈر سے تیری مسج ِد
‫ٰ
‫کے منکر ہیں ۔ آج تیرا قبلہ ّاو ل ویران ہوگیاہے۔ جو زمین تیرے رسول ۖ کے قدموں سے مقدس اور مبارک ہوئی تھی ‪ ،اس پر
‫آج صلیب کا سیاہ سایہ پڑ گیا ہے جس بنی اسرائیل کو تیری ذات نے دھتکار دیا تھا ‪ ،وہ آج تیرے قبلہ ّاول کو ہیکل
‫……سلیمانی کہہ رہی ہے
‫عیسی علیہ السالم تیرے ''
‫میرے خدا ! اپنی عظمت کا پتہ دے۔ مجھے بتا تو عظیم ہے یا خدائے یہود۔ مجھے بتا حضرت
‫ٰ
‫پاس ہیں یا صلیبیوں کی صلیب پر لٹک رہے ہیں ۔ اپنی عظمت کا پتہ دے۔ قرآن کی عظمت کا پتہ دے۔ اپنے رسول ۖ کی
‫عظمت کا پتہ دے اور مجھے اس کا سبب بنا کہ میں تیرے رسول ۖ اور تیرے قرآن کی عظمت کا پتہ یہودیوں اور صلیبیوں کو
‫دوں۔ مجھے ہمت عطا فرما کہ میں ان چٹانوں کو ریزہ ریزہ کر سکوں جو سلطان صالح الدین ایوبی اور قبلہ ّاول کے درمیان
‫حائل ہوگئی ہیں۔ مجھے روشنی دکھا کہ میں ان اندھیروں میں اپنے فرض کی منزل دیکھ سکوں۔ مجھے اتنے سخت امتحان
‫میں ڈال کہ میری جان تیرے نام قربان ہوجائے لیکن وعدہ فرما کہ میری جان رائیگاں نہیں جائے گی۔ تجھے تیرے نام پر
‫قربان ہونے والے شہیدوں کے یتیم بچوں کی قسم! مجھے ہمت اور روشنی عطا فرما کہ میں ان یتیموں کے باپوں کے خون
‫…… ''کے ایک ایک قطرے کا انتقام لے سکوں
‫اقصی کی آبرو کی خاطر ل ُٹ گئی ہیں ۔ مجھے ''
‫تجھے رسول ۖ کی اُمت کی اُن بیٹیوں کی قسم جن کی عصمتیں مسجد
‫ٰ
‫جرٔات عطا فرما کہ کفر کے ہرقلعے کو مسمار کر سکوں۔ اپنے غازی بندوں کو‪ ،اپنے حجازی بندوں کو ہمت اور ہدایت عطا
‫فرما کہ وہ اپنی غیرت کا انتقام لیں
‫اور آنے والی نسلیں یہ نہ کہیں کہ ہم بے غیرت تھے۔ آج بت بھی تیرے نام پر ہنس رہے ہیں ۔ میرا خون کھول رہا
‫ہے ۔ مجھے وہ شجاعت عطا کر کہ میں پتھر کے ان بتوں کا مذاق ا ُڑا سکوں۔ میرے خدا! اگر تو یہ نہیں کر سکتا تو میرے
‫خون کو سرد کردے۔ مجھے ایسا بے غیرت بنادے کہ مجھے یاد ہی نہ رہے کہ غیرت کس چیز کانام ہے۔ میری بینائی واپس
‫لے لے کہ میں اسالم کی بیٹیوں کے حیا کو بے آبرو ہوتا نہ دیکھ سکوں ۔ میرے کان بند کردے کہ میں تیرا نام نہ سن
‫سکوں۔ میں ان مسلمانوں کی فریاد نہ سن سکوں جو فلسطین میں صلیبیوں اور یہودیوں کے غالم ہوگئے ہیں''۔
‫حسن کی آواز بلند ہوگئی…… '' تو کہاں ہے؟ …… تو ہے کہ نہیں ؟…… بول میرے خدا! مجھے زبان دینے والے خدا!
‫خودبھی بول۔ مجھے بتا سنت برحق ہے یا صلیب یا مجھے فیصلہ کرنے دے کہ سچا کون ہے! سنت یا صلیب۔ قرآن تیری
‫''آواز ہے یا کسی بندے کی ؟
‫بڑی ہی ہولناک گڑگڑاہٹ سنائی دی جیسے چھت ہل رہی ہو۔ اس کے فورا ً بعد رعد اتنی زور سے کڑکی کہ حسن کا کمرہ ہل
‫گیا ۔ کمرے کی دروازوں میں سے حسن کو بجلی کی چمک دکھائی دی ۔ اُس نے اور زیادہ بلند آواز سے کہا …… '' اس
‫ِ
‫اقص ی کو ۔ مسافر نہ رہیں ‪ ،منزل نہ رہے۔ بجلیاں ان پر بھی گرا جن کے
‫مسجد
‫بجلی سے مجھے بھسم کردے یا اپنی
‫ٰ
‫سہاگ تیرے نام پر ا ُجڑ گئے ہیں۔ اپنے نام پر یتیم ہونے والوں پر بجلیاں گرا۔ اپنے رسول ۖ کے نام لیوائوں پر بجلیاں گرا تا
‫کہ کسی کی فریادیں تیرے کانوں تک نہ پہنچ سکیں''۔
‫رعد پھر کڑکی اوراس کے بعد گھٹائیں گرجنے لگیں۔ بیروت کا ساحل قریب ہی تھا ۔ اُن دنوں سمندر خاموش ہوا کرتا تھا مگر
‫سمندر جوش میں آگیا۔اسکی لہروں کی مہیب آواز حسن کو یوں سنائی دینے لگی جیسے بحیرئہ روم کی غصے میں آئی ہوئی
‫موجیں ا ُس کے کمرے کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہوں۔ گھٹائوں کی گرج ‪ ،رعد کی کڑک اور سمندر کاجوش مل جل کر قیامت
‫کا شور بن گئے۔ حسن کی آواز اور زیادہ بلند ہوگئی۔
‫ایسے ہی طوفان میرے اندر اُٹھا کہ میں کفر کے ہر نشان کو ا ُڑاتا اور بہاتا لے جائوں۔ میرے خون کے قطرے بہادے لیکن ''
‫اقصی کے صحن میں ۔ میں شرمسار ہوں کہ قبلہ ّاو ل کا پاسبان صالح الدین ایوبی یہاں تیرا لشکر لے کر آیا تو میں
‫مسج ِد ٰ
‫اُسے خبردار نہ کر سکا کہ بیروت سے ُد ور رہے کہ یہاں کفار کا پھندا تیار ہے۔ یہ میری مجبوری تھی ۔ یہ میرا گناہ تھا ۔
‫مجھے جرٔات اور شجاعت عطا کر کہ میں گناہ کا کفارہ ادا کرسکوں ‪ ،ورنہ یہ بت میری روح کو بھی طعنے دیتے رہیں گے
‫تیرا تو خدا ہی کوئی نہیں۔ مجھے ان بتوں کے آگے شرمسار نہ کر‪ ،مجھے شہیدوں کی روحوں کے آگے شرمسار نہ کر‪ ،مجھے

‫روز قیامت میرے ُمردے میں جان نہ ڈالنا
‫شہیدوں کی روحوں کے آگے شرمسار نہ کر‪ ،اگر میری دعا قبول نہ ہوئی تو ِ
‫رعد زور سے کڑکی حسن کے کمرے کی چھت‪ ،دروازے اور کھڑکی کے کواڑ بڑی زور سے کھٹکے اور چھت پر یوں آوازیں آنے
‫طوفان بادوباراں زمین و آسمان کو ہال رہا تھا حسن کے
‫لگیں جیسے گھوڑے دوڑرہے ہوں۔ موسال دھار بارش شروع ہوگئی تھی ۔
‫ِ
‫ِد ل پر ایسی گرفت آگئی جس میں خوف بھی تھا اور جذبات کی شدت بھی ۔ کبھی اُسے ایسے لگتا جیسے وہ خواب دیکھ
‫رہا ہو۔ ا ُس نے خدا سے اس طرح کبھی باتیں نہیں کی تھیں وہ چھپ کر نماز پڑھتا تھا اور مختصر الفاظ میں ُدعا مانگ کر
‫حسن سے جیکب بن جایا کرتا تھا ۔
‫اُس رات جب وہ حاتم کو رپورٹ دے کر آیا تھا ۔ ا ُس کی جذباتی کیفیت کچھ اور تھی ۔ اس پر نیند کا اثر بھی تھا۔اُس
‫کے سامنے مسئلہ ایسا آگیا تھا کہ وہ سوچ سوچ کر دیوانہ ہونے لگا تھا۔ اُس کے لیے آسان راستہ یہ تھا کہ جس مسئلے کا
‫کوئی حل نہیں ۔ اسے ذہن سے ا ُتار دے۔ سلطان صالح الدین ایوبی ‪ ،علی بن سفیان اور اس کے لیڈر حاتم کو کیا خبرتھی
‫کہ عزالدین کے ایلچی بالڈون کے پاس آئے ہیں اور کوئی معاہدہ ہو رہا ہے۔ وہ خاموش رہتا۔ اس کے گھر میں اس کے ماں
‫باپ کو اس کی تنخواہ اور غیر ممالک میں جاسوسی کے فالتو پیسے باقاعدہ پہنچ رہے تھے۔ بیروت میں اُسے اچھی پوزیشن
‫اور عیش و عشرت کا سامان حاصل تھا مگر وہ ایمان واال مر ِد مومن تھا ۔ اپنے فرائض کو نماز روزے کی طرح متبرک سمجھتا
‫تھا ۔ ا ُسے احساس تھا کہ قوم کا ہر فرد یہ سمجھ لے کہ یہ کام کوئی اور کرے گا تو یہ رویہ سیدھا شکست ‪ ،قوم کی
‫تباہی اور کفار کی فتح کی طرف لے جاتا ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫رات بھر جاگتے ہوئے جوان اور توانا حسن کو نیند نے مصلے پر ہی دبوچ لیا ۔ اس جذباتی کیفیت میں اُسے نیند نہیں ‪:
‫چاہیے تھی لیکن ا ُس سوچ نے کچھ ایسا قرار اور سکون محسوس کیا کہ روح نے جسم اور دماغ کو سال دیا ۔ وہ وہیں اوندھا
‫عیس ی علیہ السالم کا بت‪ ،مریم کی تصویر اور صلیب پلنگ کے
‫ہوگیا۔ اسے اتنی مہلت نہ ملی مصلّٰی چھاپا کر اور حضرت
‫ٰ
‫نیچے سے ا ُٹھا کر اپنی اپنی جگہ رکھ دیتا۔ دروازہ کھول دیتا اور جیکب کے بہروپ میں پلنگ پر سوجاتا۔ وہ خوابوں کی ُدنیا
‫اقصی دیکھی ۔ یہ مسجد اُس نے ایک بار دیکھی تھی جب وہ بیت المقدس میں جاسوسی کے
‫میں پہنچ گیا۔ اُس نے مسج ِد
‫ٰ
‫ایک مشن پر گیا تھا ۔ یہ مسجد ویران تھی ۔ اُس کے کھلے ہوئے دروازے اپنے نمازیوں کی راہ دیکھ رہے تھے مگر مسلمان
‫اقصی کے صحن کو
‫چھوٹی چھوٹی مسجدوں یا گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ صلیبیوں اور یہودیوں کے بچوں نے مسج ِد
‫ٰ
‫کھیل کا میدان بنایا ہوا تھا جہاں بے شمار بچے جوتوں سمیت کھیل رہے تھے۔ صلیبیوں نے وہاں کے مسلمانوں کو خوف زدہ
‫ِ
‫اقص ی کے مقدس مقام اور مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھا ۔ وہ جب
‫مسجد
‫کر رکھا تھا ۔ حسن
‫ٰ
‫وہاں گیا تھا تو اُس کا نام ریلف نکلسن تھا ۔
20:58
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 135سنت‪ ،سارہ اور صلیب
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اقصی کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کے گنبد پر بے شمار کبوتر
‫اُس کا نام ریلف نکلسن تھا ۔ اب وہ بیروت میں خواب میں مسج ِد
‫ٰ
‫ِ
‫اقصی کے اردگرد گرنے لگے۔
‫مسجد
‫بیٹھے تھے۔ کبوتر ایک بار اڑے اور تمام کبوتر فضا میں جاکر شرارے بن گئے۔ یہ شرارے
‫ٰ
‫مسجد کے اندر سے صلیبیوں اور یہودیوں کا ایک ہجوم نکال۔ ان سب کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ سب اِدھر اُدھر
‫بھاگ گئے۔ وہ سب چیخ اور چال رہے تھے مگر کسی کو آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔ فضا سے برستے ہوئے شرارے رنگ
‫اقص ی کے سبز گنبد پر بیٹھنے لگے۔ اب مسجد میں نہ کوئی صلیبی تھا
‫برنگ کے پرندے بن گئے اور ایک ایک کرکے مسج ِد
‫ٰ
‫نہ یہودی ۔ حسن آہستہ آہستہ مسجد کی طرف چال ۔ آسمان نیال تھا ۔ دن کی روشنی بھی نیلی تھی ۔ مسجد کے دروازے
‫میں ایسی چمک دکھائی دی جیسے بہت بڑے آئینے پر سورج کی کرنیں پڑی ہوں۔
‫حسن کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ ا ُس نے آنکھیں بند کرکے کھولیں۔ چمک یا نور کا یہ گوال وہاں نہیں تھا ۔ وہاں سارہ کھڑی
‫ُمسکرا رہی تھی۔ حسن حیرت زدہ ہو کے ُرک گیا۔ سارہ پائوں سے سرتک چاندکی طرح سفید لبادے میں ملبوس تھی ۔ اُس
‫کا چہرہ اور دونوں ہاتھ نظر آرہے تھے ۔ اُس کی ُمسکراہٹ سے اُس کے دانت اتنے زیادہ سفید نظر آرہے تھے جتنی سفیدی
‫اس زمین کے لوگوں نے کبھی نہیں دیکھی ۔ سارہ نے بازو پھیال دئیے۔ اس کے ہونٹ ہلے نہیں تھے‪ ،لیکن حسن کو اس
‫اقصی ہماری ہے۔ اس مسجد میں جو کافر داخل ہوگا اُس پر آسمان آگ برسائے
‫مترنم آواز سنائی دی …… '' آجائو ‪ ،مسج ِد
‫ٰ
‫گا اور جو مسلمان اس مسجد کے تقدس کو بھول گئے ہیں ‪ ،ان پر بھی آگ برسے گی۔میں نے اس کے صحن کو زم زم کے
‫پانی سے دھویا ہے۔ میرے گناہ ُدھل گئے ہیں آئو …… آئو ''۔
‫حسن کی آنکھ کھل گئی ۔ ا ُس نے پھر آنکھیں موند لیں۔ وہ اس خواب سے دست بردار نہیں ہونا چاہتا تھا مگر موندھی
‫ہوئی آنکھوں میں اندھیرے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ وہ اب حقیقت کی ُدنیا میں لوٹ آیا تھا ۔ چھت پر ادھر ادھر موسال
‫دھار بارش کا قیامت خیز شور اور جھکڑ کی چیخیں تھیں۔ اس میں سمندر کی بھی آواز تھی جو پہلے سے زیادہ غصے میں
‫آگیا تھا ۔ بادو باراں اور بحیرئہ روم کے اس ہنگامے میں حسن کو ایسے لگا جیسے کسی نے اُس کے دروازے پر دستک
‫عیسی علیہ السالم کو اور مریم
‫ہوئی۔ یہ اس کا وہم بھی ہوسکتا تھا ۔ وہ وہم سے ہی بیدار ہوگیا۔ اُس نے صلیب‪ ،حضرت
‫ٰ
‫کی تصویر ا ُٹھا کر سب کو اپنی اپنی جگہ لٹکا دیا ۔ اس دوران دروازے پر دستک بڑی صاف ہوئی۔ حسن نے مصلّٰی لپیٹ کر
‫تکیے کے نیچے رکھ دیا اور دروازہ کھول دیا ۔
‫دروازے میں سارہ کھڑی ُم سکرارہی تھی ۔ بادوباراں کا یہ سماں کہ برآمدے سے پرے کچھ اور نظر نہیں آتا تھا ۔ سارہ کے
‫کپڑوں اور بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا ۔
‫تم اس طوفان میں میرے پاس آئی ہو؟'' …… حسن نے اُسے بازو سے پکڑ کر اندر گھسیٹتے ہوئے کہا۔ ''
‫نہیں جیکب !'' …… سارہ نے جواب دیا …… '' میں کسی اور کے پاس گئی تھی ۔ وہ مال نہیں ۔ گہری نیند سویا ''
‫ہوا تھا ۔ رات بھر سب شراب پیتے اور بیہودگی کرتے رہے ہیں۔ اب شام کو ہی جاگیں گے۔ میں نے انتظار کیا لیکن مایوس
‫ہو کر اِ دھر آگئی۔ یہ طوفان آگے نہیں جانے دے رہا تھا ۔ دن کے وقت تو تمہارے پاس آنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا
‫''۔
‫حسن نے ایک کپڑا اُٹھایا جو ا ُس نے سارہ کے سر پر ڈال دیا اور اپنے ہی ہاتھوں سے اس کے بال اس کپڑے سے خشک
‫کرنے لگا۔ سارہ کو یہ بے تکلفی بہت پسند آئی۔ حسن نے اس کا چہرہ بھی پونچھ دیا ۔ پھر ایک چادراُسے دے کر کہا ……

‫'' میں منہ اُدھر پھیر لیتا ہوں تم بھیگے ہوئے کپڑے اُتار کر چادر لپیٹ لو''۔
‫سارہ نے جب بھیگے ہوئے کپڑے اتارے تو وہ سوچنے لگی کہ اس شخص کو اتنی زیادہ روحانی محبت ہے کہ اُس کے جسم
‫کی دل کشی کے ساتھ اسے کوئی دل چسپی نہیں یا ابس کا ِدل بالکل ہی مردہ ہے…… سارہ نے جب اُسے کہا کہ میں نے
‫کپڑے بدل لیے ہیں تو حسن نے منہ پھیرا اور اُس کے کپڑے برآمدے میں جاکر نچوڑالیا۔
‫اب بتائو تم کہاں گئی تھی '' …… حسن نے پوچھا …… '' اور رات میرے بعد کیا ہوا تھا ؟ وہ عورت اندر آگئی تھی ''
‫؟
‫اسی سلسلے میں اِدھر آئی تھی '' …… سارہ نے کہا اور اُسے بتایا کہ رات کو اس عورت نے اُس کے کمرے میں آکر ''
‫معافی کی کیا شرط پیش کی ہیں۔ اُس نے کہا …… '' میں نے یہ نہیں بتایا کہ تم میرے کمرے میں آئے تھے۔ میں نے
‫صرف اس لیے یہ شرط مان لی کہ تمہارا نام لیا تو میرے ساتھ تمہیں بھی سزا ملے گی اور تم جانتے ہو کہ یہ سزا کیسی
‫بھیانک ہوگی۔ تم شاید حیران ہوگئے ہوگے کہ میں کوئی پاک صاف لڑکی نہیں‪ ،پھر بھی میں موصل کے مہمانوں یا کسی
‫اورکی خواب گاہ میں جانے کو پسند نہیں کرتی۔ میں رقاصہ ضرور ہوں لیکن میں یوں کھلونا بننا نہیں چاہتی جس طرح یہ
‫بڑھیا مجھے بنانا چاہتی ہے۔ میری اپنی بھی کوئی پسند اور نا پسند ہے ۔ میں نے بہت گناہ کیے ہیں لیکن کسی کی آمدنی
‫کا اور کسی اورکے گناہوں کا ذریعہ نہیں بنوں گی۔ اس عورت نے کہا ہے کہ وہ مجھے اس چوری چھپے کے کاروبار میں سے
‫معاوضہ دے گی۔ وہ مجھے معاوضوں کی بھوکی سمجھتی ہے۔ میں نے اُسے کہہ دیا ہے کہ میں اس کی خواہش کے مطابق آج
‫رات موصل کے ایک مہمان کے پاس چلی جائوں گی لیکن میں اب کوشش کر رہی ہوں کہ حاکموں کو بتادوں کہ اس عورت
‫نے درپردہ کیا کاروبار شروع کر رکھا ہے''۔
‫اور وہ کہہ دے گی کہ رات تمہارے کمرے میں آدمی آتے جاتے ہیں ''۔ حسن نے کہا ''
‫کہتی رہے''۔ سارہ نے کہا …… '' میں تو اب سزا لینے کو بھی تیار ہوں اور خودکشی کے لیے بھی تیار ہوں۔ میں ''
‫اس عورت کو بے نقاب کرکے رہوں گی ۔ میں رقاصہ ہوں۔ میں عصمت فروشی نہیں کروں گی''۔
‫میں سامنے آکر یہ کیوں نہ کہہ دوں کہ تمہارے کمرے میں َمیں گیا تھا ''۔ حسن نے کہا …… '' میں کہوں گا کہ میرا ''
‫تمہارے ساتھ جسمانی نہیں ‪ ،جذباتی تعلق ہے''۔
‫اگر یہ کہنا ہوتا تومیں خود کہہ دیتی کہ میرے کمرے میں جیکب آیا تھا '' ۔ سارہ نے کہا …… '' مگر ایسا کہنا تمہیں
‫گھوڑے کے پیچھے باندھ کر گھوڑا دوڑادینے کے برابر ہے۔ کوئی نہیں مانے گا کہ میرا تمہارا جذباتی تعلق ہے۔ یہ لوگ کسی
‫کے جذبات سے واقف نہیں ۔ ان کے ہاں سب کچھ جسمانی ہے …… تم البر کو تو جانتے ہو۔ اٹلی کا رہنے واال ہے۔ نیک
‫اوررحم دل افسر ہے۔بالڈون پر ا ُس کا خاصا اثرہے۔ صرف ایک بڑا افسر ہے جو مجھ جیسی لڑکیوں کو صاف ستھری نگاہوں سے
‫دیکھتا ہے۔ میں ا ُسے رات کی بات سنائوں گی اوراپنی عزت بچانے کی کوشش کروں گی۔ اگر میری یہ کوشش ناکام رہی تو
‫میں سمندر میں کود جائوں گی ۔ اگر سمندر نے میری الش اُگل دی تو تم بھی مجھے دیکھ لینا‪ ،ورنہ الوداع۔ بحیرئہ روم کی
‫مچھلیاں کھائو گے توشاید اُن میں تم میرے جسم کی بوسونگھ سکو گے ''۔
‫سارہ!'' حسن نے کہا …… '' تم عیسائی نہیں ہو۔ تمہارے ساتھ رہنے والی کوئی ایک بھی لڑکی نہیں جو جسمانی ''
‫عیاشی اور معاوضے کو تمہاری طرح ٹھکرادے۔ تم نے آج تک میرے ساتھ جو باتیں کی ہیں‪ ،ان سے مجھے یقین ہوگیا ہے
‫تمہاری رگوں میں مسلمان کا خون ہے۔اس خون میں اب اُبال آیا ہے جب تم صلیبیوں کی گناہوں کی دلدل میں پھنس گئی
‫ہو۔ کہو‪ ،میں جھوٹ بول رہا ہوں؟''۔
‫……''! سارہ نے اُس کی طرف دیکھا ۔ آہ لی اور بولی …… ''سنو جیکب
‫میں جیکب نہیں سارہ !'' حسن نے کہا …… '' میرا نام حسن االدریس ہے اور ملک شام کا رہنے واال ہوں۔ یہاں ''
‫میرانام گلبرٹ جیکب ہے''۔
‫''جاسوس ہو؟''
‫کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے''۔ حسن نے کہا …… '' جاسوسی ہی وجہ نہیں ۔ جس طرح ہم دونوں ایک دوسرے ''
‫کی ُروح میں ا ُتر گئے ہیں ‪ ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں مسلمان کی اوالد ہیں ''۔اُس نے تکیے کے نیچے سے مصلّٰی
‫نکاال اور دیوار میں سے ایک پتھر ہٹاکر اس کے پیچھے سے قرآن کا ایک چھوٹا سا نسخہ نکاال ۔ سارہ کو دکھا کر کہا ……
‫'' میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتا ‪ ،یہ بت‪ ،یہ تصویر اور یہ صلیب دھوکہ ہے ''۔
‫اگر میں کسی سے کہہ دوں کہ تم عیسائی نہیں ‪ ،مسلمان ہو تو کیا کرو گے؟'' سارہ نے ہنس کر کہا …… '' تم ''
‫جاسوس نہیں ہو سکتے ۔ جاسوس اپنا آپ اس طرح ظاہر نہیں کیا کرتے ''۔
‫طوفان بادوباراں میں غائب ہو جائوں گا ۔ جاسوس ''
‫کہہ دو''۔ حسن نے کہا …… '' میں تمہاری نظروں کے سامنے اس
‫ِ
‫میری طرح اپنا آپ ظاہر نہیں کیا کرتے اورجب ظاہر ہوتے ہیں تو اتنی آسانی سے ہاتھ بھی نہیں آتے‪ ،جتنا تم سمجھتی ہو
‫…… لیکن سارہ! مجھے یقین ہے کہ تم کسی سے نہیں کہو گی ''۔
‫حسن نے آگے بڑھ کر سارہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر بالکل قریب کرلیا ۔ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال
‫کر دھیمی مگر پُ ر اثر آواز میں کہا …… '' تم کسی سے نہیں کہوگی یہ شخص جیکب نہیں حسن ہے۔ تم کہہ ہی نہیں
‫سکو گی۔ ہماری رگو ں میں رسولۖ کے شیدائیوں کا خون ہے۔ یہ خون سفید نہیں ہوسکتا ۔ یہ خون اپنے قطروں کو دھوکہ
‫نہیں دے سکتا '' …… سارہ کی آنکھوں کو حسن کی آنکھوں نے جکڑ لیا۔ وہ محسوس کرنے لگی جیسے یہ خوبرو جوان بڑے
‫ہی حسین آسیب کی طرح اُس کے دماغ اوراس کے ِدل پر غالب آگیا ہو۔ حسن کہہ رہا تھا …… '' تم رقص کے لیے نہیں
‫اقص ی کو کفار سے آزاد کرانے کے لیے پیدا ہوئی ہو۔ خدا نے مجھے خواب میں بشارت دے دی ہے۔ اب یہ نہ کہنا کہ
‫مسج ِد
‫ٰ
‫تم مسلمان نہیں ۔ تم کہہ ہی نہیں سکو گی۔ بولو سارہ! میں نے تمہیں اپنا راز دیا ہے ‪ ،تم مجھے اپنا راز دے دو۔ مجھے
‫تمہارے جسم سے کوئی سروکار نہیں ۔ میں تمہاری روح کو پاک دیکھنا چاہتا ہوں''۔
‫گناہ کسی کے بھی تھے ''۔ حسن نے کہا …… '' میں نے آج تک تمہاری زبان سے جو باتیں سنی ہیں اور جس ''
‫انداز سے تم نے یہ باتیں کی ہیں ‪ ،میں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ گناہ تمہارے دل اور روح میں ُچبھ گئے ہیں ۔ تم صلیبیوں
‫کے خالف نفرت کا اور مسلمانوں کی پسندیدگی کا اظہار کرتی رہی ہو۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ چبھن تمہیں بے چین
‫رکھتی ہے''۔
‫جب سے تم نے میری ُر وح کو پاک پیار سے آشنا کیا ہے ‪ ،مجھے عیش و عشرت کی یہ زندگی جہنم سے زیادہ آتشیں ''
‫اور اذیت ناک محسوس ہونے لگی ہے۔ میں گناہوں میں پلی بڑھی اور گناہوں میں جوان ہوئی ۔ گناہوں کا حسن اب زہریال

‫ناگ بن گیا ہے۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی ''۔
‫اپنی جان لینا بھی گناہ ہے''۔ حسن نے کہا …… '' اللہ بخشنے واال مہربان ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ گناہوں کا کفارہ ''
‫اداکردو‪ ،سب بے قراریاں روحانی سکون میں بدل جائیں گی ''۔
‫''کیا کروں؟'' سارہ نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا …… '' نماز پڑھا کروں؟ تارک الدنیا ہوجائوں؟ بتائو کیا کروں؟''
‫جاسوسی ''۔ حسن نے جواب دیا ……'' صرف ایک بار۔ پہلی اور آخری بار…… لیکن تم اُس وقت تک جاسوسی نہیں کر''
‫سکو گی جب تک یہ نہ سمجھ لو کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ انسان اپنے مقصد کی عظمت سے عظیم بنا کرتے ہیں۔ جانتی ہو
‫نورالدین زنگی کا مقصد کیا تھا ؟ سلطان صالح الدین ایوبی کا مقصد کیا ہے؟ یہ تو بہت بڑے لوگوں کی باتیں ہیں ۔ میں اُن
‫کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ‪ ،لیکن تم نے میری ذات میں اور میری آنکھوں میں ایسا تاثر دیکھا ہوگا جس نے تم سے سچ
‫بات کہلوالی ہے۔ یہ دراصل میری ذات کا اثرنہیں یہ میرے مقصد کی عظمت ہے جو مجھے ایمان سے زیادہ عزیز ہے۔ مقصد
‫کی ہی عظمت ہے اور اسی کا تقدس ہے کہ تمہارا یہ حسن اور تمہارے جسم کی یہ کشش جو عبادت گزاروں کو چونکا دیتی
‫ہے ‪ ،مجھ پر اثر نہیں کر سکی ۔ کیوں نہیں کر سکی ؟ صرف اس لیے کہ میں انسانوں اور اشیاء کو روح کی نظروں سے
‫دیکھا کرتا ہوں''۔
‫میں سلطان صالح الدین ایوبی کا مقصد اچھی طرح جانتی ہوں''۔ سارہ نے کہا …… '' میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ''
‫صلیبی حکمران مسلمان ا ُمراء اور حکمرانوں کو مدد اورعیاشی کا سامان دے کر انہیں سلطان ایوبی کے خالف لڑا رہے ہیں ……
‫اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ صلیبی عال ِم اسالم کو صلیب کے سائے میں النا چاہتے ہیں۔ حسن! میں نے یہ مقصد یہاں آکر
‫پہچانا ہے‪ ،ورنہ میں بھی صلیب کے سیالب میں بہہ گئی تھی ۔ یہ سیالب مجھے یہاں تک لے آیا ہے۔ میں یہ بھی سنائوں
‫اقصی
‫اقص ی میرے دل پر غالب آگئی ہے۔ دو راتیں گزریں‪ ،میں نے خواب میں مسج ِد
‫گی کہ کیسے۔ کچھ دنوں سے مسج ِد
‫ٰ
‫ٰ
‫دیکھی ہے۔ میں نے ابھی تک یہ مسجد نہیں دیکھی۔ مجھے معلوم نہیں یہ کیسی ہے۔ خواب میں یہ مسجد دیکھی اوراُس کے
‫اندر گئی۔ مسجد خالی اور ویران تھی ۔ مجھے ایک گونج سنائی دی …… '' یہ تیرے خدا کا گھر ہے‪ ،اسے آباد کرو''……
‫میں دیکھ رہی ہوں کہ آواز کہاں سے آئی ہے لیکن میری آنکھ کھل گئی۔ یہ آواز میرے دل میں اُتر گئی ہے …… کیا اسے
‫''میں اپنا مقصد بنا سکتی ہوں؟
‫یہ ہر مسلمان کا فرض ہے''۔ حسن نے کہا …… '' لیکن اس کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔ میں بیروت میں ہر ''
‫لمحہ موت کا انتظار کرتا ہوں۔ میں جس روز پکڑا گیا ‪ ،وہ زندگی کا آخری دن ہوگا''۔
‫میں قربانی دینے کو تیار ہوں''۔ سارہ نے کہا …… ''مجھے میرا فرض بتائو ''۔ ''
‫تمہیں اس بوڑھی اور بھدی عورت نے موصل کے جس ایلچی کی تفریح کے لیے جانے کو کہا ہے ‪ ،تم اُس کے پاس چلی ''
‫جائو'' …… حسن نے کہا
‫سارہ نے اُسے اتنی زیادہ حیرت سے دیکھا کہ اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔
‫ہاں سارہ!'' حسن نے کہا …… '' تمہیں یہ قربانی دینی ہوگئی ۔ سلطان صالح الدین ایوبی عورت کو جاسوسی کے '' ‪:
‫لیے نہیں بھیجا کرتے ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ایک عورت کی عصمت بچانے کے لیے میں ایک مضبوط قلعہ دشمن کو دینے
‫کے لیے تیار ہوں۔ ہم عصمتوں کے محافظ ہیں ‪ ،مگر سارہ! تم یہاں موجود ہو۔ ہمیں جو فرض ادا کرنا ہے ‪ ،وہ صرف تمہارے
‫ذریعے ہو سکتا ہے۔ تمہارے لیے یہ کوئی نئ بات نہیں ہوگی کہ کسی کی تفریح کا سامان بنو۔ میں تمہیں ایک دو طریقے
‫بتائوں گا جن سے تم ان بوڑھے مسلمانوں کے سینوں سے راز بھی نکال سکوگی اور اپنی عزت بھی بچالوگی۔ تمہارا مقصد بڑا
‫پاک اور بلند ہے ۔ مجھے اُمید ہے کہ خدا تمہاری آبروکی حفاظت کرے گا ''۔
‫مجھے بتائو کرنا کیا ہے''۔ سارہ نے کہا …… '' میں بے آبرو لڑکی ہوں۔ اگرخدا بھی مجھ سے یہی قربانی لے کر خو ش
‫ہوسکتا ہے تو میں یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہوں''۔
‫یہ دونوں ایلچی موصل کے حکمران عزالدین کی طرف سے آئے ہیں ''۔ حسن نے اُسے بتایا …… '' مجھے یقین ہے ''
‫کہ وہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف بالڈون سے مدد لینے آئے ہیں۔ اس وقت ہماری فوج نصیبہ کے مقام پر خیمہ زن
‫ہے۔ سلطان کو یہ خوش فہمی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے درمیان خیمہ زن ہیں مگر وہ اپنے مسلمان دشمنوں کے نرغے میں
‫آئے ہوئے ہیں ۔ ہمیں یہ معلوم کرکے سلطان کو خبردار کرنا ہے کہ صلیبی کیسا جنگی اقدام کریں گے اور موصل او ر حلب
‫اور دیگر چھوٹی چھوٹی مسلمان امارتوں کا رویہ کیا ہوگا۔ کیا وہ صلیبیوں کے اتحادی بن جائیں گے ؟'' حسن نے اُسے بڑی
‫لمبی تفصیل سے اس کا کام سمجھا دیا اور یہ بھی بتایا کہ صلیبی لڑکیاں مسلمان عالقوں میں جاکر کس طرح مسلمان اُمراء
‫ساالروں اوردیگر حکام پر اپنی پُ ر کشش نسوانیت کا جادو طاری کرکے راز لے آتی ہیں ۔ حسن نے کہا …… '' تمہیں خود
‫کشی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ میں تمہیں پاک اور ُپر مسرت زندگی میں داخل کررہا ہوں۔ تم مظلوم لڑکی ہو۔
‫تمہیں غالبا ً بچپن میں صلیبیوں نے کسی قافلے سے اغوا کیا تھا ۔ انہیں نے تمہیں گناہوں کی زندگی میں داخل کیا ہے''۔
‫نہیں حسن !'' سارہ نے کہا …… '' میں نے اپنے آپ کوخود ہی اغوا کیا تھا۔ یہ کہانی پھر کبھی سنائوں گی ۔ ''
‫مجھے ابھی یہ کام کرنے دو۔ ُد عا کرو اللہ مجھے سرخرو کرے اورمیں گناہوں کا کفارہ ادا کرسکوں''۔
‫بارش تھم گئی تو سارہ اپنے کپڑے پہن کر حسن کے کمرے سے نکلی ۔ وہ جب اُس عمارت میں داخل ہوئی جہاں اُس کا
‫کمرہ تھا تو ا ُسے وہ عورت مل گئی جو ان سب لڑکیوں کی کمانڈر تھی ۔ اس نے سارہ کو دیکھا اور ُمسکرا کر کہا …… ''
‫رات کو تیار رہنا۔ میرے آدمی نے موصل کے ایک ایلچی کے ساتھ بات کرلی ہے۔ آج رات نہ کہیں ناچ گانا ہوگا نہ کوئی
‫ضیافت۔ میں تمہیں اُس کے کمرے میں چھوڑ آئوں گی ''۔
‫میں تیار رہوں گی ''۔ سارہ نے کہا ۔ ''
‫٭ ٭ ٭
‫موصل کے دونوں ایلچیوں کی حالت بھوکے بھیڑوں جیسی تھی ۔ وہ یہاں عزالدین کا اور اپنا ایمان فروخت کرنے آئے تھے۔وہ
‫اپنی غداری کو کامیاب بنانے کے لیے صلیبی بادشاہ سے مدد لینے آئے تھے۔ یہ بادشاہ اپنے مفاد کی خاطر اور مسلمانوں کے
‫حکمرانوں کو آپس میں لڑانے کی خاطر انہیں پشت پناہی اور مدد دے رہا تھا ۔ ان مسلمان ایلچیوں کے پاس نہ ایمان رہا تھا
‫‪ ،نہ ذاتی وقار اور نہ قومی وقار۔ ا ُن کی دلچسپی اب اس میں رہ گئی تھی کہ شاہ بالڈون انہیں زیادہ عیاشی کرائے اور انعام
‫و کرام دے۔ اِ ن دونوں کو بیروت کے گردو نواح اور سمندر کی سیر کرانے کے لیے روک دیا گیا تھا۔ اس دوران ناچنے گانے
‫والی لڑکیوں کی کمانڈر نے اپنے ایک آدمی کو ا ُن کے پاس بھیجاتھا۔ اس آدمی نے انہیں کہا تھا کہ وہ انہیں ایسی لڑکیاں
‫الدے گا جو انہوں نے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔ ان دونوں کی باچھیں کھل گئیں اور معاوضہ طے ہوگیا۔ ان میں سے ایک

‫کے پاس سارہ کو بھیجنے کے لیے تیار کیا گیا۔
‫رات سارہ کو سیاہ لبادے میں چھپا کر ایک ایلچی کے کمرے تک پہنچایا گیا۔ ایلچی جو والئی موصل عزالدین کا فوجی مشیر
‫تھا‪ ،پچاس سال سے اوپر کی عمر کا آدمی تھا ۔گزشتہ رات اُس نے اس قدر شراب پی لی تھی کہ بے ہوش ہوگیا تھا ‪،
‫لیکن آج رات وہ اپنے کمرے میں آہستہ آہستہ پی رہا تھا ۔ وہ ایک رقاصہ کا انتظار بے تابی سے کر رہا تھا جس کے ُحسن
‫کے اُسے افسانے سنائے گئے تھے۔ ا ُس کا دروازہ کھال۔ ایک لڑکی سر سے پائوں تک سیاہ لبادے میں مستور اس کے کمرے
‫میں داخل ہوئی ۔ دروازہ بند ہوگیا۔ ایلچی اُس کی طرف لپکا ۔ وہ اپنی عمر کو بھی بھول گیا۔
‫سارہ نے اُس کے بازوئوں سے آزاد ہوکر سیاہ لبادے کو اُتار کر پرے پھینک دیا۔ اُس نے ایلچی کی طرف دیکھا تو حیرت ‪:
‫حتی کہ اس کی پیٹھ دیوار سے جالگی۔اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان
‫سے اُس کامنہ کھل گیا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگی
‫ٰ
‫''ڈھانپ لیے۔ ایلچی نے سارہ کا چہرہ دیکھا تو اُسے ہچکی سی آئی اور اُس کے منہ سے سرگوشی نکلی…… '' سائرہ؟
‫سارہ خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی جیسے ا ُس کی زبان بند ہوگئی ہو۔ ایلچی نے گھبرائی ہوئی اور حیرت زدہ آواز میں ایک
‫بار پھر پوچھا۔ '' سائرہ؟ تم سائرہ ہو؟'' …… وہ کھسیانی ہی ہنسی ہنس کر بوال۔ '' نہیں مجھے غلطی لگی ہے ۔
‫تمہاری شکل میری ایک بیٹی سے بالکل ملتی جلتی ہے۔ اُس کا نام سائرہ ہے''۔
‫وہ سائرہ میں ہی ہوں جو آپ کی بیٹی ہے''۔ سارہ کی زبان اچانک کھل گئی۔ اُس نے نفرت سے دانت پیس کر کہا ''
‫…… '' میں ہی آپ کی بیٹی ہوں۔ محالت میں دوسروں کی بیٹیوں کو نچانے والے کی بیٹی بھی ناچ سکتی ہے۔ میں ایک
‫بے غیرت باپ کی بے غیرت بیٹی ہوں''۔
‫ایلچی لڑکھڑایا اور پلنگ پر گرپڑنے کے انداز سے بیٹھ گیا۔ اب اس کی زبان بند ہو گئی تھی ۔ سائرہ اسی کی بیٹی تھی۔
‫باپ بیٹی کو جدا ہوئے دو سال گزر گئے تھے۔
‫ایمان فروشوں کی بیٹیاں عصمت فروش ہوا کرتی ہیں ''۔ سارہ آگے بڑھی اور باپ کے سامنے ُر ک کر نفرت سے دانت ''
‫پیسنے لگی۔ ا ُس نے کہا …… '' آج اپنی غیرت اور اپنی عزت کا انجام دیکھ ۔ تو اپنی بیٹھی کی عصمت کا گاہک ہے۔
‫تیری بیٹی تیری خوابگاہ میں رات گزارنے آئی ہے'' …… سارہ نے تیر کی تیزی سے ایک ہاتھ آگے کیا اور کہا …… '' ال‪،
‫میری اُجرت نکال۔ میں رات تیرے ساتھ بسر کرنے آئی ہوں''۔
‫تو … تو … '' ا ُس کے باپ کی زبان لڑکھڑاکر ہکالنے لگی …… '' تو گھر سے بھاگ آئی تھی ۔ میں بے غیرت نہیں ''
‫ہو ں تو بے غیرت ہے''۔
‫جو باپ اپنی جوان بیٹی کے سامنے بیٹی کی عمر کی لڑکیوں سے ساتھ بے حیائی کی حرکتیں کرتا ہے اور اپنی بیٹی ''
‫جیسی لڑکیوں کو نچاتا اور شراب کے نشے میں بدمست ہوکر ان کے ساتھ بیٹی کے سامنے دست درازی کرتا ہے‪ ،اُس باپ کی
‫بیٹی غیرت والی نہیں بن سکتی۔ وہ بھی رقاصہ اور طوائف بنتی ہے۔ اپ اُس کی شادی کردے تو وہ اپنے خاوند کو دھوکے
‫دیتی اور درپردہ کئی خاوند بنائے رکھتی ہے۔ سن میرے باپ! تجھے تیرا ماضی اور اپنا حال بتاتی ہوں۔ میں نے تیرے گھر
‫میں دمشق میں ہوش سنبھاال تو تجھے عورتوں سے درپردہ عیش کرتے دیکھا۔ نورالدین زنگی مر گئے تو تو الملک الصالح کے
‫ساتھ حلب کو بھاگ گیا۔ تو مجھے اور میری ماں کو بھی ساتھ لے آیا۔ حلب میں تو شراب بھی پینے لگا۔ تب میں لڑکپن
‫میں تھی ۔ تیرے پاس گورے چٹے صلیبی آنے لگے۔ انہوں نے تجھے دولت دی ۔ بڑی خوبصورت لڑکیاں دیں اور تو کھلے عام
‫شراب پینے لگا۔ تیرے گھر میں شراب کی محفلیں جمنے لگیں۔ لڑکیاں ناچنے لگیں۔ صلیبیوں نے میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی
‫……''تو تُو خوش ہوا
‫پھر الملک الصالح مرگیا ۔ ترے پاس صلیبی پہلے سے زیادہ آنے لگے۔ تو پہلے سے زیادہ عیاش ہوگیا۔ عزالدین نے تجھے ''
‫بہت بڑا عہدہ اور ُرتبا دیا۔ میں تیری چہیتی رقاصہ لڑکیوں میں اُٹھنے بیٹھنے لگی ۔ اُن سے میں نے رقص سیکھا۔ تجھے پتہ
‫چال تو تُ و خوش ہوا۔ صلیبیوں نے مجھے دیکھا تو انہوں نے تیرے سامنے مجھے اپنے سینوں سے لگایا۔ تو نے بُرا کیوں نہ
‫منایا؟ صرف اس لیے کہ وہ میرے بدلے تجھے یورپ کی ایک لڑکی دے دیتے تھے تو تو نے اپنا ایمان بیچ ڈاال۔ صالح الدین
‫ایوبی کے خالف سازشیں کیں۔ تیرا کردار ختم ہوگیا تو یہ بھی نہ دیکھ سکا کہ اپنی بیٹی کو بھی تو نے اپنی راہ پر ڈال دیا
‫ہے۔ پھر ایک صلیبی نے مجھے سبز باغ دکھائے اور میں تیرے گھر کو خیر بادکہہ کر اپنے خیالوں میں جنت کو روانہ
‫ہوگئی ۔ مجھ سے یہ مت پوچھ کہ میں جس طرح آج تیری خواب گاہ میں آئی ہوں‪ ،اس طرح کتنی خواب گاہوں کی رونق
‫بنی ہوں۔ ا ُس صلیبی نے مجھے محبت کا فریب دے کر مجھے بیچ ڈاال۔ میں تجھ جیسے بے شمار دولت مندوں کی تفریخ کا
‫ذریعہ بن کر بیروت پہنچی ‪ ،جہاں مجھے شاہی رقاصہ کی حیثیت سے رکھ لیا گیا۔ آج اپنا باپ میری عصمت کا گاہک
‫ہے''۔
‫ایلچی نے سر اپنے ہاتھوں میں تھام لیا تھا ۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا ۔‪ '' :آج تو اپنے ایمان کی قیمت وصول کرنے آیا
‫ہے''۔ سارہ نے حقارت آمیز لہجے میں کہا …… '' تو فلسطین اور قبلہ ّاول کا سودا کرنے آیا ہے۔ اپنی بیٹی کی قیمت
‫دینے آیا ہے''۔ سارہ کی آواز بھرا گئی ۔ اُس نے کہا …… '' یہ میری زندگی کی آخری رات ہے۔ میں باپ کے گناہوں کی
‫سزا بھگت کر اس ُدنیا سے جارہی ہوں''۔
‫اُس کے باپ نے آہستہ آہستہ سر اُٹھایا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر اس کے گالوں کو تر کر رہے تھے۔ اُس نے اُٹھ
‫کر دیوار لٹکتی ہوئی تلوار ا ُتاری۔ نیام سے نکالی اور سارہ کے آگے کرکے کہا …… '' یہ لو۔ اپنے ہاتھوں مجھے ختم کردو۔
‫شاید میرے گناہوں کا کفارہ ادا ہوجائے''۔
‫سارہ نے اُس کے ہاتھ سے تلوار لے لی اور کہا …… '' آج رسول ۖ کی اُمت اس مقام پر آپہنچی ہے جہاں ایک باپ اپنی
‫بیٹی کے ہاتھ میں تلوار دے کر یہ کہنے کی بجائے کہ جا بیٹی قبلہ ّاول کو اس تلوار سے آزاد اور آباد کر‪ ،یہ کہہ رہا ہے کہ
‫مجھے اس تلوار سے قتل کرکے میرے گناہوں کا کفارہ ادا کردے''۔ اپنے باپ کی جذباتی حالت اور شرمساری کے آنسو دیکھ
‫کر سارہ کا لہجہ بدل گیا۔ باپ کا احترام لوٹ آیا۔ ا ُس نے کہا …… '' مرکر بھی گناہوں کا کفارہ ادا نہیں کیا جا سکتا ۔
‫ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ زندہ رہو اور دشمن کو قتل کرو۔ میں آپ کو بتائوں؟
‫باپ نے شکست خوردگی کے انداز سے بیٹی کی طرف دیکھا۔
‫شاہ بالڈون کے ساتھ آپ نے جو معاہدہ کیا ہے اور سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دینے کے لیے جو منصوبہ تیار ''
‫اور طے کیا ہے ‪ ،وہ مجھے بتا دیں''۔ سار ہ نے کہا …… '' میں یہ سلطان تک پہنچا دوں گی۔ اس سے بڑی نیکی اور
‫کوئی نہیں ہو سکتی۔ آپ کے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے '' …… باپ خاموشی سے سن رہا تھا ۔ سارہ نے کہا ……
‫'' ہم دونوں کی نجات اس میں ہے کہ ہم دونوں یہاں سے فرار ہو کر سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس پہنچ جائیں اور

‫''آپ اسے ساری بات اپنی زبانی سنا دیں''۔ میں تیار ہوں۔ باپ نے کہا …… '' لیکن ہم یہاں سے نکلیں گے کیسے ؟
‫انتظام ہو جائے گا''۔ سارہ نے کہا''
‫باپ نے بیٹی کو گلے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔ اس کے اپنے گناہوں نے اس سے ہتھیار ڈلوا لیے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫لڑکیوں کی کمانڈر عورت بہت خوش تھی کہ ا ُسے بڑا موٹا گاہک مل گیا ہے۔ وہ اطمینان سے سو گئی۔ اُسے معلوم تھا کہ
‫سارہ صبح واپس آئے گی مگر سارہ حسن االدریس کے کمرے میں تھی ۔ اُس نے جب حسن کو بتایا کہ اس کا گاہک اس
‫باپ تھا تو حسن کو چکر آگیا تھا ۔ سارہ نے حسن کو بتایا کہ اُس کے باپ نے گھر کا ماحول کس قدر گناہ آلود بنا رکھا
‫تھا اور وہ کس طرح انہی گناہوں کی شیدائی ہو کر ایک صلیبی کے ساتھ گھر سے بھاگی اور کس طرح اس مقام تک
‫پہنچی ۔ سارہ نے اُسے بتایا کہ اُس کا باپ سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس جانے کو تیار ہے۔
‫میں نے تمہیں کہا تھا کہ تمہارا مقصد پاک ہے''۔ حسن نے کہا ……'' مجھے اُمید ہے کہ خدا تمہاری آبرو کی حفاظت ''
‫کرے گا ۔ خدا نے میری اُمید پوری کردی ہے…… اب میں تمہارے باپ سے ملوں گا اور اُسے کہوں گا کہ تیار رہنا''۔
‫دن کو حسن سارہ کے باپ سے مال۔ بچ بچ کر بات کی ۔ اس کی غیرت کو جھنجوڑا اور جب دیکھا کہ وہ بہت ہی نادم
‫ہے تو حسن نے ا ُسے وہاں سے نکلنے کا سہل طریقہ بتایا۔ اس کے ساتھ ساری بات طے کرکے وہ سارہ سے اُس محفوظ جگہ
‫مال جہاں وہ کبھی کبھی مال کرتے تھے۔ سارہ کے باپ نے اپنے میزبانوں سے خواہش ظاہر کی کہ وہ اکیلے ذرا سیر کے لیے
‫جانا چاہتا ہے۔ ا ُسے گھوڑا دے دیا گیا۔ وہ اپنے ساتھی ایلچی کو یہ بتا کر چال گیا کہ شام تک لوٹ آئے گا۔ وہ شہر سے
‫نکال تو ایک جگہ حسن گھوڑے پر سوار اس کے انتظار میں کھڑا تھا ۔ ایک اور جگہ سارہ چھپی ہوئی تھی ۔ اُسے باپ نے
‫اپنے گھوڑے پر سوار کرلیا اور وہ نصیبہ کی سمت روانہ ہوگئے۔
‫وہ بچ بچ کر اور چھپ چھپ کر چلتے رہے۔ بہت ُد ور نکل گئے توانہوں نے گھوڑے دوڑا دئیے۔ سفر بہت لمباتھا جو انہوں نے
‫ایک رات اور ایک دن میں طے کیا ۔ بیروت کے سراغ رسانوں کے لیے شاہ بالڈون قہر بنا ہوا تھا ۔ موصل کا ایک ایلچی
‫الپتہ ہوگیا تھا ۔ ایک شاہی رقاصہ جو شاہ بالڈون کو ذاتی طور پر اچھی لگتی تھی ‪ ،غائب تھی اور گلبرٹ جیکب نام کا
‫ایک خصوصی باڈی گارڈ بھی الپتہ تھا ۔ تینوں کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ لڑکیوں کی کمانڈر عورت کی زبان بند تھی ۔
‫وہ کسی کو بتانے سے ڈرتی تھی کہ اُس نے سارہ کو گمشدہ ایلچی کے کمرے میں بھیجا تھا۔ بیروت میں صرف ایک آدمی
‫کو معلوم تھا کہ یہ تینوں
‫کہا ں ہیں۔ اس آدمی کا نام حاتم تھا مگر حاتم گمنام سا فعل ساز تھا ۔ اُسے وہی لوگ جانتے تھے جو اُس سے گھوڑوں کو
‫نعل لگوایا کرتے تھے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ غریب سا نعل ساز سلطان ایوبی کے اُس جاسوس گروہ
‫کا لیڈر ہے جو بیروت کے اندر سر گرم ہے۔ سراغ رساہ اپنے قیافوں اور قیاس آرائیوں سے بائولے ہوئے جا رہے تھے۔
‫حسن اال دریس ‪ ،سارہ اور اس کا باپ سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس پہنچ چکے تھے۔ سلطان ایوبی عادت کے مطابق
‫خیمے میں ٹہل رہا تھا سارہ کا باپ اُسے بتا چکا تھا کہ بالڈون کے ساتھ اُس نے کیا منصوبہ تیار کیا ہے۔ سلطان ایوبی نے
‫ا ُسی وقت اپنے ساالروں کو بال لیا اور نقشہ سامنے رکھ کر انہیں بتانے لگا کہ صلیبیوں کا منصوبہ کیا ہے اور ان کے خالف وہ
‫کیا کاروائی کرنا چاہتا ہے۔
‫ختم ہوا)سنت‪ ،سارہ اور صلیب(
20:58
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 136چلے قافلے حجاز کے
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اس خبر نے سلطان صالح الدین ایوبی کو حیران نہ کیا کہ حلب اور موصل کے حکمرانوں‪ ،عمادالدین اور عزالدین نے صلیبیوں
‫کے ساتھ اس کے خالف در پردہ گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ یہ تو جیسے اس دور میں رسم بن گئی تھی کہ چھوٹے بڑے مسلمان
‫امراء صلیبیوں کے ساتھ درپردہ دوستانہ گانٹھنے لگے تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ سلطان ایوبی ان سب کو ایک
‫خالفت کے تحت الکر انہیں ایک متحد قوم بنانا چاہتا تھا مگر یہ امراء اپنی الگ الگ ریاستیں برقرار رکھ کر ان کے حکمران
‫بنے رہنے کو اپنا مقصد بنائے ہوئے تھے۔ انہیں توقع تھی کہ ان کا یہ مقصد صلیبیوں کی دوستی سے پورا ہوسکتا ہے۔
‫آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ ان سب میں اہم حکمران عزالدین اور عمادالدین تھے۔ ان کی ریاستیں‪ ،حلب اور موصل‪ ،محل
‫وقوع‪ ،وسعت‪ ،دفاعی استحکام وغیرہ کے لحاظ سے جنگی اہمیت کی حامل تھیں۔ صلیبی اس کوشش میں تھے کہ مسلمانوں
‫کے یہ دونوں مقام ان کے قبضے میں آجائیں یا یہ سلطان ایوبی کے قبضے میں نہ چلے جائیں‪ ،کیونکہ ان پر سلطان ایوبی کا
‫قبضہ ہوجانے سے افواج اور رسد وغیرہ کے لیے دو ایسے اڈے مل جاتے تھے جہاں سے وہ آسانی سے بیت المقدس پر فوج
‫کشی کرسکتا تھا۔
‫رب کعبہ کی قسم! میں حلب اور موصل پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا''۔ سلطان ایوبی نے متعدد بار کہا تھا… ''میں کسی ''
‫مسلمان ریاست میں سے اپنی فوجیں گزارنا بھی پسند نہیں کروں گا۔ میرا مدعا یہ ہے کہ یہ امراء یہ حکمران صلیبیوں کے
‫خالف متحد ہوجائیں۔ خالفت بغداد کے وفادار ہوجائیں جو قرآن کا حکم ہے۔ میں انہیں اپنے زیرزنگین نہیں کروں گا۔ میں
‫خلیفہ نہیں ہوں‪ ،میں تو خود خلیفہ کا پیروکار اور خادم ہوں''۔
‫خالفت کے تحت آجانے سے ان لوگوں کو یہ خطرہ نظر آرہا تھا کہ ان کی عیاشیاں بند ہوجائیں گی اور صلیبیوں کی طرف
‫سے انہیں لڑکیوں اور شراب کے جو تحفے ملتے تھے‪ ،وہ بند ہوجائیں گے۔ وہ حکومت‪ ،دنیا کی جھوٹی شان وشوکت اور عیش
‫وعشرت کے عادی ہوگئے تھے۔ ان کی نظروں میں سلطنت اسالمیہ کی کوئی وقعت نہیں رہی تھی۔
‫‪ ١١٨٣ء کے اوائل میں سلطان صالح الدین ایوبی نصیبہ کے مقام پر خیمہ زن تھا۔ یہاں سے اسے بیت المقدس کی طرف پیش
‫قدمی کرنی تھی مگر اسے مسلمان امراء کی نیت میں فتور نظر آرہا تھا۔ وہ اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ
‫حلب اور موصل کے والیان کی درپردہ سرگرمیاں کیا ہیں اور صلیبی کیا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
‫اسے اپنے جاسوس حسن االدریس نے بیروت سے آکر پوری اطالع دے دی۔ اس جاسوس نے دوسرا
‫کا رنامہ یہ کر دکھایا کہ عزالدین کے ایک فوجی مشیر اور اس کی بیٹی جو گھر سے بھاگ کر بیروت میں صلیبیوں کے پاس
‫رقاصہ تھی‪ ،اپنے ساتھ لے آیا۔ حسن االدریس سلطان ایوبی کے پاس آیا اور بتایا کہ عزالدین نے بیروت دو ایلچی صلیبیوں کے
‫پاس جنگی امداد کے لیے بھیجے ہیں۔ سلطان اس اطالع پر حیران ہوا‪ ،البتہ یہ اطالع اس کے لیے اہم تھی۔ اس نے اسی

‫وقت ساالروں کو بال لیا اور نقشہ سامنے رکھ کر انہیں بتایا کہ صلیبیوں کا منصوبہ کیا ہے۔
‫عزالدین کا جو ایلچی بیروت صلیبیوں سے مدد لینے گیا تھا‪ ،اس کا نام احتشام الدین تھا۔ اب سلطان ایوبی کے پاس اس کی
‫حیثیت ایک قیدی کی تھی لیکن سلطان ایوبی نے احترام سے اسے اپنے ساالروں کے ساتھ بٹھایا۔ احتشام الدین کو تقریبا ً ہر
‫ایک ساالر جانتا تھا۔ کوئی اسے حقارت سے گھور رہا تھا اور کسی کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے کہ وہ ان کے درمیان
‫بیٹھا ہے اور قید ہے۔ سلطان ایوبی نے حسن االدریس کی رپورٹ سن لی تھی۔
‫مجھے امید ہے کہ ہمارا دوست احتشام الدین آپ کو خود ہی بتائے گا کہ عزالدین اور عماد الدین کی نیت کیا ہے''۔ ''
‫سلطان ایوبی نے کہا… ''میں احتشام الدین پر الزام عائد نہیں کرتا کہ یہ ہمارے خالف لڑنے کے لیے صلیبیوں سے جنگی
‫امداد لینے گیا تھا۔ اسے والئی موصل عزالدین نے بھیجا تھا۔ یہ عزالدین کا مالزم ہے''۔
‫سلطان محترم!'' ایک ساالر نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ آپ مجھے یہ کہنے سے نہیں روکیں گے کہ احتشام الدین ''
‫اپنے حکمران کا معمولی سا مالزم نہیں۔ یہ اس کا فوجی مشیر ہے۔ یہ ساالر ہے۔ اسے اپنے حکمران کو ایسا مشورہ نہیں دینا
‫چاہیے تھا کہ صلیبیوں سے مدد حاصل کی جائے''۔
‫مجھے حکم دیا گیا تھا''۔ احتشام الدین نے جواب دیا… ''اگر میں حکم عدولی کرتا ''تو آپ کو جالد کے حوالے کردیا ''
‫جاتا''… ایک نائب ساالر نے کہا… ''آپ نے موت کے ڈر سے اپنے بادشاہ کا ایسا حکم مانا جو آپ کی اپنی قوم اور اپنے
‫مذہب کی ذلت کا باعث ہے۔ کیا ہم اپنے گھروں سے دور‪ ،اپنی اوالد سے بے خبر‪ ،اپنے آپ سے بے نیاز یہاں اپنی عمریں
‫لمبی کرنے بیٹھے ہیں؟ ایک مدت سے ہم ان چٹانوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور رات اس پتھریلی زمین پر سوتے ہیں۔
‫جبکہ آپ حلب کے محل میں شہزادوں جیسی زندگی بسر کررہے ہیں۔ آپ شراب پیتے ہیں‪ ،ناچنے والی حسین یہودی‪ ،صلیبی
‫اور مسلمان لڑکیاں آپ کا دل بہالتی ہیں اور آپ نرم بستر پر سوتے ہیں‪ ،جن پر مخمل کے پلنگ پوش بچھے ہیں۔ ہم یہاں
‫مرنے آئے ہیں۔ ہمارے رفیقوں کی الشیں جانے کہاں کہاں گم ہوگئی ہیں۔ ہمارے سپاہیوں کی ہڈیاں سارے عالقے میں بکھر گئی
‫ہیں۔ تم کسی شہید کی کوئی ہڈی دیکھو گے تو کہو گے یہ کسی جانور کی ہڈی ہے۔ عیش وعشرت نے تمہاری نظروں میں
‫''شہیدوں کو شراب میں ڈبو دیا ہے۔ دوست اور دشمن کو ایک کردیا ہے‪ ،ہم مرنے آئے ہیں تو تمہیں جینے کا کیا حق ہے؟
‫احترام!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''احتشام الدین نے میرے پاس آکر گناہوں کا کفارہ ادا کردیا ہے اگر اسے طعنے دینے ''
‫ہوتے تو میں بھی دے سکتا تھا''۔
‫سلطان ذی شان!'' ایک اور ساالر نے کہا۔''
‫خدا کے لیے مجھے صرف سلطان کہو''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''مجھے شان وشوکت سے دور رہنے دو‪ ،مجھے بادشاہ ''
‫''بنانے کی کوشش نہ کرو۔ میں سپاہی ہوں‪ ،مجھے سپاہی رہنے دو… کہو تم کیا کہنا چاہتے ہو؟
‫میں احتشام الدین کو اور اپنے ان تمام ہتھیار بند بھائیوں کو جو یہاں موجود ہیں‪ ،یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو ساالر اپنے ''
‫حکمران کا اتنا غالم ہوجاتا کہ اسے خوش کرنے کے لیے اس کا غلط حکم بھی مان لیتا ہے‪ ،وہ اپنی قوم کی عزت کا قاتل
‫ہوتا ہے۔ قوم کی عزت کے محافظ ہم ہیں‪ ،سلطنت کا بادشاہ یا سلطان نہیں قوم ہوتی ہے۔ آج ہم جس دور میں سے گزر
‫رہے ہیں‪ ،یہ سپاہی کا دور ہے‪ ،یہ جہاد کا دور ہے۔ اگر خلیفہ اور سلطان سلطنت کا کاروبار دیانتداری سے نہیں چالئیں گے تو
‫اللہ کے سپاہیوں پر بھی سلطان بننے کا نشہ طاری ہوجائے گا تو ال الہ اال اللہ کی الشوں پر گرجوں کے گھنٹے بجیں گے''۔
‫اسالم پر جو بھی دور آئے گا وہ اللہ کے سپاہی کا دور ہوگا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''جب تک اسالم زندہ ہے‪ ،کفار ''
‫اسالم کے دشمن ہی رہیں گے۔ آج ہمارے ساالروں کے دلوں میں جاہ وحشمت کی جو خواہش پیدا ہوگئی ہے‪ ،وہ کسی بھی
‫وقت اسالم کو لے ڈوبے گی۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ اسالم زندہ رہے گا مگر اس شیر کی طرح زندہ رہے گا جسے سدھا لیا
‫گیا ہو اور اسے فراموش کرادیا گیا ہو کہ وہ بادشاہ ہے۔ یہ شیر بکریوں سے بھی ڈرتا رہے گا۔ مسلمان کفار کی انگلیوں پر
‫ناچیں گے۔ اللہ کا سپاہی موجود ہوگا مگر اس کے ہاتھ میں تلوار نہیں ہوگی۔ اگر تلوار ہوگی تو وہ کسی صلیبی کی دی ہوئی
‫ہوگی جسے وہ نیام سے باہر نکالنے کے لیے صلیبی سے اجازت لے گا''۔ سلطان ایوبی بولتے بولتے چپ ہوگیا۔ اس نے
‫نظریں گھما کر سب کو دیکھا اور بوال… ''میں بھی باتوں میں الجھ گیا ہوں۔ میرے رفیقو! ہمیں کام کرنا ہے۔ اگر ہم اس
‫بحث میں پڑ گئے کہ یہ گناہ کس کا ہے اور وہ خطا کس کی ہے اور کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے تو ہم صرف باتیں ہی
‫کرتے رہیں گے… احتشام الدین تمہیں بتائے گا کہ حلب اور موصل کے حکمرانوں نے صلیبیوں کے ساتھ کیا طے کیا ہے اور
‫ہمیں کس قسم کے دشمن سے کس قسم کی لڑائی لڑنی پڑے گی''۔
‫٭ ٭ ٭
‫احتشام الدین اٹھا اور سب کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ سب کو نظریں گھما کر دیکھا اور بوال… ''میرے دوستو! میں تمہاری
‫نظروں میں حقارت اور قہر دیکھ رہا ہوں۔ تمہیں حق پہنچتا ہے کہ میرے لیے سزائے موت تجویز کرو‪ ،مگر میں تمہارے لیے
‫عبرت کا سامان ہوں۔ یہ درست ہے کہ میں نے والئی موصل عزالدین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنا ایمان فروخت
‫کیا اور اس کا ایلچی بن کر بیروت گیا اور صلیبیوں سے مدد مانگی‪ ،مگر یہ بھی درست ہے کہ جس طلسم نے میری عقل اور
‫میرے ایمان کو اپنے قبضے میں لیا‪ ،اس سے تم میں سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔ کیا تم میں سے ساالر اور حاکم غداری
‫کا جرم کرتے نہیں پکڑے گئے؟ ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن پر سلطان کو اتنا اعتماد تھا جتنا انہیں اپنی ذات پر
‫ہے مگر وہ ایمان فروش نکلے۔ میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انسانی فطرت میں ایک ایسی کمزوری ہے جو انسان کو عیش
‫وعشرت میں ڈال دیتی ہے اور جہاں کے روز وشب میں حکومت اور معاشرے میں گناہ کی ترغیب دینے والی باتیں ہوں‪ ،وہاں
‫زاہد بھی عیش پسند اور گناہ گار بن جاتے ہیں۔ ہر کوئی امیر اور سلطان بننے کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ ہر کسی کی ذات
‫…''کا قلعہ مسمار ہوجاتا ہے
‫اگر تم مجھے گناہ گار سمجھتے ہو تو میری تلوار سے میرا سرتن سے جدا کردو‪ ،اگر مجھے توبہ کا موقع دیتے ہو تو میں''
‫عظمت اسالم کی پاسبانی اور سلطنت اسالمیہ کی توسیع کے لیے تمہاری بہت مدد کرسکتا ہوں''۔
‫صلیبی شاید تم سے آمنے سامنے کی ٹکر نہیں لیں گے''۔ احتشام الدین نے کہا… ''انہوں نے ہمیں ہماری اپنی تلواروں ''
‫سے مروانے کا انتظام کرلیا ہے۔ انہیں اپنی فوجیں مروانے کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے خالف لڑانے
‫کے لیے انہیں مدد اور شہ دے رہے ہیں۔ یہ چھوٹی بڑی مسلمان امارتیں اور ریاستیں جو دراصل خالفت بغداد کے صوبے ہیں‪،
‫سب در پردہ صلیبیوں کے غالم بن گئے ہیں تاکہ خودمختار رہیں۔ا پنے مرکز سے کٹ کر خودمختاری اسی صورت میں حاصل
‫کی جاسکتی ہے کہ دشمن کی مدد لو اور اپنے بھائی کو دشمن کہو۔ خانہ جنگی میں صرف ایک فریق سچا اور محب وطن
‫ہوتا ہے۔ دوسرا فریق دشمن کا دوست ہوتا ہے۔ دشمن اسے خلوص سے مدد نہیں دیتا بلکہ اپنے فائدہ اور اپنے عزائم کی

‫…''تسکین کے لیے مدد دیتا ہے
‫صلیبی ہمارے مخالف دھڑے کو مدد دے رہے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ موصل کو اپنے چھاپہ مار دستوں کا اڈا بنا ''
‫رہے ہیں۔ وہ کچھ عرصے تک چھاپوں اور شب خونوں کی جنگ لڑیں گے۔ رفتہ رفتہ وہ حلب کو اور دیگر تمام مسلمان
‫ریاستوں کو اپنے اڈے بنا لیں گے جو آپ کے خالف استعمال ہوں گے۔ میں جب بیروت میں تھا تو مجھے پتہ چال تھا کہ
‫صلیبی موصل سے کچھ دور پہاڑی عالقے میں بے شمار اسلحہ اور سامان چھپا کر رکھیں گے۔ اس میں آتش گیر مادہ بہت
‫زیادہ ہوگا۔ اسے وہ اپنے چھاپہ ماروں کے لیے استعمال کریں گے اور بعد میں کھلی جنگ میں بھی۔ وہ کھلی جنگ اسی
‫صورت میں لڑیں گے جب بہت سی مسلمان امارتوں میں اپنے اڈے بنا کر مستحکم کر چکے ہوں گے۔ میں ابھی یہ معلوم
‫نہیں کرسکا کہ وہ اسلحہ اور آتش گیر مادہ کس مقام پر رکھیں گے۔ یہ معلوم کرنا آپ کے جاسوسوں کا کام ہے''۔
‫سلطان ایوبی نے ساالروں کو بھیج دیا‪ ،سوائے حسن بن عبداللہ کے جو جاسوسی اور سراغ رسانی کے محکمے کا سربراہ تھا
‫اور ساالر صارم مصری کو بھی سلطان ایوبی نے اپنے پاس روک لیا۔ یہ چھاپہ مار دستوں کا ساالر تھا۔
‫میرا قیاس صحیح نکال ہے''۔ سلطان ایوبی نے ان دونوں سے کہا… ''مجھے معلوم تھا کہ صلیبی موصل اور حلب کو در ''
‫پردہ طریقوں سے اپنے اڈے بنانے کی کوشش کریں گے اور ہمارے مسلمان بھائی ان کے ساتھ پورا تعاون کریں گے۔ تم نے
‫احتشام الدین کی زبانی سن لیا ہے کہ بالڈون اور دوسرے صلیبی موصل سے کچھ دور کہیں جنگی سامان اور آتش گیر سیال کا
‫بہت بڑا ذخیرہ جمع کررہے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ جس طرح ہمیں رسد کے ذخیرے کی ضرورت ہے‪ ،اسی طرح صلیبیوں کو
‫بھی ضرورت ہے۔ ہم میں سے جس کا ذخیرہ ختم یا تباہ ہوگیا وہ آدھی جنگ ہار جائے گا۔ ہمارے کچھ دستے ٹولیوں میں
‫تقسیم ہوکر موصل اور حلب کے درمیان بیٹھے ہیں۔ انہیں میں نے عزالدین اور عمادالدین کا آپس کا رابطہ توڑنے کے لیے بٹھایا
‫ہے۔ اب بیروت اور ان دونوں جگہوں کے راستے روکنے ہیں۔ یہ مہم ذرا مشکل اور خطرناک ہوگی کیونکہ چھاپہ ماروں کو اپنے
‫مستقر سے دور جانا ہوگا''۔
‫یہ مجھے دیکھنا ہے کہ یہ مہم مشکل ہے یا آسان''۔ صارم مصری نے کہا… ''اور یہ میرا فرض ہے کہ مشکل کو آسان ''
‫کروں۔ آپ حکم دیں''۔
‫کوئی قافلہ نظر آئے‪ ،اسے روک لو''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''تالشی لو‪ ،مزاحمت ہو تو پورا معرکہ لڑو۔ کوشش کرو کہ ''
‫قیدی زیادہ ہوں''۔ اس نے حسن بن عبداللہ سے کہا… ''اور حسن! تم مجھے یہ کام کرکے دکھائو کہ معلوم کرو کہ صلیبی
‫اسلحہ اور آتش گیر سیال کا ذخیرہ کہاں جمع کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے‪ ،وہ ذخیرہ کر بھی چکے ہوں۔ اگر تم جگہ معلوم کرسکو
‫تو میں اس کی تباہی کا انتظام کردوں گا''۔
‫یہ انتظام انشاء اللہ میرا ہوگا''۔ صارم مصری نے کہا۔''
‫یہ ذہن میں رکھو کہ کچھ عرصے تک ہماری جنگ آنکھ مچولی جیسی ہوگی''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''صلیبی کھلی ''
‫جنگ لڑنے کے بجائے شب خونوں اور تخریب کاری کی جنگ لڑیں گے۔ وہ شاید مجھے مشتعل کرنے کی کوشش کریں گے کہ
‫میں ان پر کھال حملہ کروں۔ میں ایسی حماقت نہیں کروں گا‪ ،ہم کئی جگہوں پر گھات لگائیں گے۔ میں سب سے پہلے اپنے
‫ان امراء کو ساتھ مالئوں گا جو صلیبیوں کے دوست بنتے جارہے ہیں۔ میں ان سے تعاون کی بھیک نہیں مانگوں گا۔ میں اب
‫تلوار کی نوک پر ان سے تعاون لوں گا۔ میں ان میں سے کسی کا بھی خون بہانے سے دریغ نہیں کروں گا۔ یہ برائے نام
‫مسلمان ہیں۔ مسلمان کے خالف کافر کے ساتھ دوستی کرنے واال مسلمان بھی کافر ہوتا ہے۔ مجھے اب پروا نہیں کہ تاریخ
‫مجھے کیا کہے گی۔ اگر مجھے آج کوئی کہے کہ آنے والی نسلیں مجھے اپنے بھائیوں کا قاتل اور خانہ جنگی کا مجرم کہیں
‫گی تو بھی میں اپنے ارادوں سے باز نہیں آئوں گا۔ میں تاریخ اور آنے والی نسلوں کے آگے نہیں‪ ،خدا کے آگے
‫جواب دہ ہوں۔ خدا کے سوا نیت کو اور کوئی نہیں جانتا۔ میرے اور فلسطین کے درمیان اگر میرے بیٹے حائل ہوں گے تو ‪:
‫میں انہیں بھی قتل کردوں گا۔ اگر ہم نے آج قبلہ اول کو صلیبیوں سے آزاد نہ کرایا تو ہمارے بعد صلیبی اور یہودی خانہ کعبہ
‫پر بھی قابض ہوجائیں گے۔ مجھے اپنے امراء اور حکمرانوں کے تیور اور طور طریقے بتا رہے ہیں کہ وہ بادشاہ بنیں گے اور ان
‫کی اوالد بھی بادشاہ ہوگی اور یہ لوگ فلسطین کو یہودیوں کے تسلط میں دے دیں گے۔ تلوار کے سوا میرے پاس اب کوئی
‫عالج نہیں رہا''۔
‫ہم آپ کے حکم کے منتظر ہیں''۔ صارم مصری نے کہا… ''اگر آپ میری رائے لیں تو میں یہی کہوں گا کہ مرکز سے ''
‫خودمختاری یا نیم خودمختاری مانگنے والوں کو غداری کی سزا ملنی چاہیے''۔
‫اور میں انہیں سزا دوں گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔''
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے صارم مصری اور حسن بن عبداللہ کو جنگی نوعیت کی ہدایات دے کر رخصت کردیا''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫وہ دونوں چلے گئے تو سلطان ایوبی ایک اور مسئلے پر غور کرنے لگا۔ اس نے جب بیروت سے محاصرہ اٹھایا تھا اور وہ
‫نصیبہ کے مقام پر آکر خیمہ زن ہوگیا تھا‪ ،اس سے کچھ عرصے پہلے اسے بحیرٔہ قلزم کے مشرقی عالقے کے متعلق یہ
‫اطالعات ملی تھیں کہ صلیبی فوجی دستے اس عالقے میں قافلوں کو لوٹ لیتے ہیں۔ صلیبی صرف مسلمان قافلوں کو لوٹتے
‫تھے۔ مال ودولت کے عالوہ اونٹ اور گھوڑے لے جاتے اور کمسن اور نوجوان لڑکیوں کو بھی اٹھا لے جاتے تھے۔ زیادہ تر
‫راہزنی ان دنوں ہوتی تھی جن دنوں مصر کے حاجیوں کے قافلے جاتے اور آتے تھے۔ ان ڈاکوئوں کو فوجی پیمانے پر ہی روکا
‫جاسکتا تھا لیکن سلطان ایوبی کے پاس اتنی فوج نہیں تھی۔ اس کے عالوہ اس کے دماغ میں فلسطین اور وہ مسلمان امراء
‫سوار تھے جو صلیبیوں کے ساتھ درپردہ صلح اور مدد کے معاہدے کررہے تھے۔ اس لیے سلطان ایوبی ادھر توجہ نہیں دے سکا
‫تھا۔
‫آپ پڑھ چکے ہیں کہ بیروت کے محاصرے میں سلطان ایوبی نے بحری بیڑہ بھی استعمال کیا تھا جس کا امیر البحر حسام
‫الدین لولو تھا۔ محاصرہ ابتداء میں ہی ناکام ہوگیا تو سلطان ایوبی نے حسام الدین کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ بیڑہ سکندریہ لے
‫جائے۔ اس کے فورا ً بعد قاہرہ سے سلطان ایوبی کو پیغام مال کہ صلیبیوں نے قافلوں کو لوٹنا باقاعدہ پیشہ بنا لیا ہے اور اب
‫کوئی قافلہ منزل تک پہنچتا ہی نہیں۔ سلطان ایوبی نے قاہرہ کو جواب دینے کے بجائے سکندریہ امیر البحر حسام الدین کو
‫حکم بھیجا کہ وہ اپنے بیڑے کے اس حصے کی جاکر کمان لے لے جو بحیرٔہ قلزم میں ہے۔
‫سلطان ایوبی کا حکم یہ تھا… ''بحیرٔہ قلزم میں تمہارا مقابلہ دشمن کے بحری بیڑے سے نہیں ہوگا بلکہ تم خشکی پر گھات
‫لگا کر ان ڈاکوئوں کو پکڑو گے جو مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ ڈاکو صلیبی فوجی ہیں جو
‫باقاعدہ منصوبے اور اوپر والوں کے احکام کے تحت لوٹ مار کررہے ہیں۔ یہ صحرا میں نہیں رہتے۔ سمندر کے کنارے رہتے

‫ہیں۔ تم فوج کا ایک منتخب دستہ لے جائو اور سمندر میں گھومتے پھرتے رہو‪ ،جہاں تمہیں ڈاکوئوں کا شبہ ہو وہاں سپاہیوں
‫کو کشتیوں سے اتار کر خشکی پر بھیجو اور ڈاکوئوں کا خاتمہ کرو۔ میرے اگلے حکم تک تم قلزم میں ہی رہو گے''۔
‫حسام الدین حکم ملتے ہی بحیرٔہ قلزم میں چال گیا۔ اس دور میں بحیرٔہ روم اور قلزم کو مالنے کے لیے نہر سویز نہیں تھی۔
‫وسطی کا نقشہ دیکھیں تو
‫بحیرٔہ قلزم میں سلطان ایوبی نے چند ایک جنگی جہاز اور کشتیاں رکھی ہوئی تھی۔ اگر آپ مشرق
‫ٰ
‫آپ کو بحیرٔہ قلزم اور اس کے اوپر خلیج سویز نظر آئے گی۔ اس سمندر کے مغربی کنارے پر مصر اور مشرقی کنارے پر
‫سعودی عرب ہے۔ شمال میں صحرائے سینائی اور خلیج عقبہ ہے۔ بعض قافلے جو مصر سے حج کے لیے جاتے تھے وہ اونٹوں
‫اور گھوڑوں سمیت کشتیوں کے ذریعے خلیج سویز عبور کرتے تھے۔ اکثر قافلے خشکی پر ہی جاتے تھے اور بحیرٔہ قلزم کے
‫ساتھ ساتھ سفر کرتے تھے۔ کیونکہ سمندر کے قریب گرمی میں کمی رہتی تھی۔
‫حسام الدین نے وہاں جاتے ہی ساحل کے ساتھ ساتھ خشکی پر چھاپے مارنے شروع کردیئے اور چند ایک ڈاکوئوں کو پکڑ کر
‫وہیں قتل کردیا لیکن اسے ان میں صلیبی افواج کا کوئی ایک بھی سپاہی نہ مال۔
‫حسام الدین کو ایک روز اطالع ملی کہ مصر سے ایک بہت بڑا قافلہ حجاز کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ اس وقت قافلے کو
‫صحرائے عرب میں ہونا چاہیے تھا۔ حسام الدین نے تین چار سپاہیوں کو خانہ بدوشوں کے لباس میں گشت کے لیے بھیجا مگر
‫انہیں کہیں قافلہ نظر نہ آیا۔ یہ ایک بدقسمت قافلہ تھا جو ساحل سے دور دور جارہا تھا۔ ایک رات قافلے نے ایک جگہ قیام
‫کیا۔ اس میں تاجر بھی تھے اور حجاج بھی۔ کئی ایک پورے پورے کنبوں کے ساتھ لیے جارہے تھے۔ ان میں بچے بھی تھے‪،
‫بوڑھے بھی اور چند ایک کمسن اور نوجوان لڑکیاں بھی تھیں۔ اونٹوں اور گھوڑوں کی تعداد خاصی تھی اور افراد کم وبیش چھ
‫سو تھے۔ یہ سب کھا پی کر سوگئے تھے۔
‫قافلہ سحر کی تاریکی میں جاگا۔ کسی نے اذان دی۔ سب نے تیمم کرکے باجماعت نماز پڑھی اور جب روانگی کی تیاری ‪:
‫ہونے لگی تو کہیں سے بلند للکار سنائی دی… ''سامان مت باندھو۔ سب ایک طرف کھڑے ہوجائو۔ کسی نے مقابلہ کرنے کی
‫کوشش کی تو وہ زندہ نہیں رہے گا''۔
‫قافلے میں کئی ایک گھبرائی ہوئی آوازیں سنائی دیں… ''ڈاکو‪ ،ڈاکو''۔
‫صبح کی روشنی صاف ہوگئی۔ قافلے والوں نے دیکھا۔ ان کے اردگرد صحرائی لباس میں ملبوس سینکڑوں آدمی کھڑے تھے۔ ان
‫میں بعض گھوڑوں پر سوار تھے۔ ان کے ہاتھوں میں برچھیاں اور بعض کے پاس تلواریں تھیں۔ ان کے سر اور چہرے صافوں
‫میں لپٹے ہوئے تھے۔ قافلے کی تعداد زیادہ تھی‪ ،اس لیے یہ عارضی قیام گاہ وسیع تھی۔ ڈاکوئوں نے گھیرا تنگ کرنا شروع
‫کردیا۔ قافلے والے مسلمان تھے۔ خاموشی سے ہتھیار ڈال دینا ان کا اصول نہیں تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ قافلوں پر حملے ہوا
‫کرتے ہیں‪ ،اس لیے وہ مسلح تھے اور لڑنے کے لیے تیار تھے۔
‫عورتوں اور بچوں کو درمیان میں ایک جگہ کرلو''۔ کسی نے آہستہ سے کہا اور یہ ہدایت کانوں کان بکھرے ہوئے قافلے ''
‫تک پہنچ گئی۔
‫عورتیں اور بچے قیام گاہ کے وسط کو جانے لگے۔ ڈاکو آگے بڑھنے لگے‪ ،قافلے میں سے تلواریں نکل آئی۔ کچھ برچھیاں بھی
‫تھیں۔ ڈاکوئوں نے ہلہ بول دیا۔ اس کے بعد گھوڑوں کے دوڑنے کا‪ ،للکار کا اور تلواریں ٹکرانے کا شور تھا جس میں عورتوں
‫اور بچوں کی چیخیں سنائی دیتیں اور شور میں ڈوب جاتی تھیں۔ ڈاکوئوں میں سے زیادہ تر گھوڑوں پر سوار تھے‪ ،اس لیے
‫پلہ انہی کا بھاری تھا اور وہ تربیت یافتہ اور تجربہ کار فوجی تھے۔ قافلے والے بھی جم کر مقابلہ کررہے تھے اور نعرے بھی
‫لگا رہے تھے۔ ایک آواز بار بار سنائی دیتی تھی… ''لڑکیوں کو درمیان میں رکھنا… لڑکیوں کو الگ نہ ہونے دینا''۔
‫ایک لڑکی کی بلند آواز سنائی دی… ''ہمارا غم نہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں''۔
‫قافلے والوں کو اگر گھوڑوں پر سوار ہونے کا موقع مل جاتا تو وہ زیادہ بہتر طریقے سے لڑ سکتے‪ ،مگر ان کے گھوڑے ابھی
‫زینوں کے بغیر بندھے ہوئے تھے۔ وہ صلیبیوں کے گھوڑوں تلے روندے جارہے تھے۔ ان میں بعض گر بھی رہے تھے۔ زیادہ تر
‫نقصان قافلے والوں کا ہورہا تھا۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ عورتوں اور بچوں کو اپنے حصار میں لیے ہوئے تھے۔ وہ
‫گھوم پھر کر نہیں لڑ سکتے تھے۔ معرکہ پھیلتا بھی جارہا تھا۔ قافلے میں سات آٹھ جوان لڑکیاں تھیں۔ ان میں سکندریہ کی
‫رہنے والی ایک رقاصہ بھی تھی جس کا نام رعدی تھا۔ وہ اپنے پیشے سے اسی عمر میں متنفر ہوگئی اور حج کے لیے
‫جارہی تھی۔ اس کے ساتھ وہ آدمی تھا جس سے اسے محبت ہوگئی تھی۔ وہ اسی کے سہارے اپنے آقائوں سے بھاگ آئی
‫تھی۔ انہوں نے ابھی شادی نہیں کی تھی۔ دونوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ مکہ معظمہ جاکر شادی اور پھر حج کریں گے۔
‫رعدی رقاصہ تھی‪ ،اس لیے اس کا جسم پھرتیال تھا۔ کچھ دیر تک وہ اس آدمی کے ساتھ رہی جس کے ساتھ وہ حج کو
‫جارہی تھی۔ اس آدمی کے پاس تلوار نہیں تھی جو اس زمانے میں لوگ لباس کا حصہ سمجھ کر اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اس
‫کے بجائے اس کے پاس خنجر تھا۔ اس نے رعدی کو اپنے ساتھ رکھا اور اس کا چہرہ اور سر اس طرح کپڑے میں لپیٹ دیا
‫کہ پتہ نہ چلے کہ یہ لڑکی ہے۔ اس آدمی نے ایک ڈاکو کو جو گھوڑے پر سوار نہیں تھا‪ ،پیچھے سے پیٹھ پر خنجر مارا۔
‫خنجر اتنا گہرا اترا کہ فورا ً باہر نکل نہ سکا۔ ڈاکو نے گھوم کر اس آدمی کے پہلو میں برچھی کی طرح تلوار گھونپ دی‪ ،پھر
‫دونوں گر پڑے۔
‫اس ڈاکو کی پیٹھ کے ساتھ تیروں سے بھری ہوئی ترکش بندھی ہوئی تھی اور اس کے کندھے اور گردن میں کمان بھی لٹک
‫رہی تھی۔ رعدی نے اس کی کمان اور ترکش اتارلی۔ یہ تینوں قیام گاہ کے کنارے پر تھے۔ قریب ہی کچھ سامان پڑا تھا جس
‫میں خیمے بھی تھے۔ رعدی سامان اور خیموں کے ڈھیر میں چھپ گئی۔ صلیبی ڈاکوئوں کے گھوڑے دوڑتے ہوئے اس کے
‫سامنے سے گزرتے تھے‪ ،رعدی کی کمان سے تیر نکلتا اور گھوڑ سوار اوندھا ہوجاتا۔ اس طرح اس نے کچھ سواروں کو گرا لیا
‫اور اس کے بعض تیر گھوڑوں کو لگے جو بے قابو ہوکر اور زیادہ تباہی مچانے لگے۔
‫رعدی کو کوئی بھی نہ دیکھ سکا مگر اس نے ایک سوار پر تیر چالیا جو سوا ر کے بجائے گھوڑے کی گردن میں اتر گیا۔
‫گھوڑا بے قابو ہوکر گھوما اور دور کا چکر کاٹ کر سامان اور خیموں کے اسی ڈھیر پر آگیا جس میں رعدی چھپی ہوئی تھی۔
‫گھوڑا سامان کے ساتھ ٹکرایا اور ڈھیر پر گر پڑا۔ سوار دور جاپڑا۔ ڈھیر سے ایک چیخ سنائی دی۔ گھوڑا رعدی کے اوپر گرا
‫تھا لیکن وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ اس کی گردن میں تیر اترا ہوا تھا۔ وہ فورا ً اٹھا اور اندھا دھند بھاگ گیا۔ سوار اٹھا تو اسے
‫لپٹے ہوئے خیموں میں ایک سر نظر آیا جو کسی عورت کا تھا۔ سوار نے خیمے ہٹا کر دیکھا‪ ،اسے ایک بڑی ہی خوبصورت
‫لڑکی نظر آئی۔ وہ اٹھنے کے قابل نہیں تھی اور وہ بے ہوش بھی نہیں تھی۔ صلیبی نے اسے اٹھایا تو وہ کراہنے
‫لگی۔
‫دو روز بعد حسام الدین ایک بحری جہاز میں اپنے کیبن میں بیٹھا ہوا تھا‪ ،دروازے پر دستک ہوئی۔ بری فوج کے دستے کا

‫کمانڈر دروازہ کھول کر اندر آیا۔ اس کے ساتھ ایک آدمی تھا جس کا چہرہ اترا ہوا اور الش کی طرح سفید تھا۔
‫صلیبی ڈاکوئوں نے بہت بڑے قافلے کو لوٹ لیا ہے''۔ دستے کے کمانڈر نے حسام الدین سے کہا… ''یہ آدمی ان کی قید''
‫سے بھاگ آیا ہے‪ ،باقی اس سے سن لیں''۔
‫اس آدمی نے تفصیل سے بتایا کہ قافلے پر کس طرح حملہ ہوا تھا… ''ہم نے بہت مقابلہ کیا لیکن ہمارے گھوڑے زینوں کے
‫بغیر ابھی بندھے ہوئے تھے‪ ،ورنہ ہم گھوڑ سواروں کو کامیاب نہ ہونے دیتے۔ قافلے کے تھوڑے سے آدمی زندہ ہیں جو ڈاکوئوں
‫کے قبضے میں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب تک انہیں قتل کیا جا چکا ہوگا۔ میں بھی انہی قیدیوں میں تھا۔ ہم تو مرد تھے‪،
‫شرمناک صورت یہ پیدا ہوگئی ہے کہ پانچ جوان لڑکیاں اور دس کمسن لڑکیاں ان کے قبضے میں ہیں۔ قافلے میں بڑا قیمتی
‫سامان تھا۔ نقدی ہر ایک کے پاس تھی۔ نوے گھوڑے اور تقریبا ً ڈیڑھ سو اونٹ ہیں''۔
‫''وہ اب کہاں ہیں؟''
‫وہاں ڈرائونے ڈرائونے سے سیدھے کھڑے ٹیلے ہیں''۔ اس نے جواب دیا… ''ٹیلوں میں ڈاکوئوں نے کمروں جیسے غار بنا ''
‫رکھے ہیں۔ ان کے پاس پانی کا ذخیرہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کا مستقل اڈا ہے۔ ویرانے میں ہوتے ہوئے یہ جگہ ویران
‫نہیں لگتی''۔ اس نے جو جگہ بتائی وہ سمندر سے بیس میل دور تھی۔ اس نے کہا… ''کچھ ڈاکو بھی ہماری تلواروں اور
‫برچھیوں سے مرے ہیں لیکن زیادہ نقصان ہمارا ہوا ہے۔ ہم جو زندہ رہ گئے ہیں‪ ،انہیں وہ اپنے ساتھ لے آئے۔ شام تک وہ
‫ہمارے تمام اونٹ‪ ،گھوڑے اور سارا سامان اٹھا کر اپنے ٹیلوں والے اڈے پر لے آئے۔ رات کو انہوں نے شراب پی اور ہمارا
‫سامان کھول کھول کر دیکھنے لگے۔ ان کا ایک سردار بھی ہے۔ لڑکیاں اس کے حوالے کردی گئی تھیں۔ میں نے پھر لڑکیوں
‫کو نہیں دیکھا۔ وہ ہم سے سامان اٹھوا کر ایک وسیع غار میں رکھوا رہے تھے‪ ،بہت سی مشعلیں جل رہی تھیں۔ میرے زیادہ
‫تر ساتھی زخمی تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں بھاگنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان میں سے کسی نے بتایا کہ اگر خیریت
‫سے نکل جائو تو سمندر تک پہنچنے کی کوشش کرنا‪ ،وہاں اپنی فوج کی گشتی کشتی مل جائے گی۔ اس میں اپنے عسکری
‫…''ہوں گے۔ انہیں بتانا کہ ہم پر کیا مصیبت ٹوٹی ہے
‫مجھے یاد آگیا کہ ہم مصر کی سرحد سے نکل رہے تھے تو وہاں اپنے عسکری ملے تھے۔ انہوں نے ہمیں کہا تھا کہ ''
‫راستے میں کوئی مشکل پیش آجائے تو ساحل پر چلے جانا‪ ،وہاں سے تمہیں فوج کی مدد مل جائے گی… ڈاکو شراب میں
‫بدمست ہوئے جارہے تھے۔ ہم سامان اٹھا اٹھا کر غار میں رکھ رہے تھے۔ مجھے اندھیرے میں بھاگنے کا موقع مل گیا۔ ان
‫ٹیلوں میں سے نکلنے کا راستہ نہیں ملتا تھا۔ دوبار میں گھوم پھر کر وہیں پہنچ گیا جہاں سے بھاگا تھا۔ میں نے اللہ کو یاد
‫کیا اور قرآن کی جو آیات یاد تھیں‪ ،وہ پڑھنے لگا اور آدھی رات کے بعد ٹیلوں کی گلیوں سے نکل آیا۔ سمندر کی سمت کا
‫خیال نہ رہا۔ میں اندھا دھند چلتا رہا اور صبح ہونے تک اتنی دور آگیا جہاں ڈاکو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ سارا دن اللہ کو یاد
‫…''کرتا رہا۔ پانی کا یہ چھوٹا مشکیزہ ساتھ تھا۔ تھوڑی سی کھجوریں بھی تھیں۔ انہوں نے مجھے زندہ رکھا
‫تھکن سے چال نہ گیا تو دوپہر کے وقت ایک ریتلے ٹیلے کے دامن میں گر پڑا۔ ٹیلے کے سائے میں نیند آگئی۔ سورج ''
‫غروب ہوا تو آنکھ کھلی۔ ستارے روشن ہوئے تو سمت کا اندازہ ہوا‪ ،بہت دیر بعد ہوا میں سمندر کی بو محسوس ہونے لگی۔
‫میں ہوا کے مخالف چلتا چال آیا اور شاید سحر کا وقت تھا جب میں ساحل پر آگیا اور جسم نے جواب دے دیا۔ میں گراور
‫بے ہوش ہوگیا یا سوگیا۔ کسی نے مجھے جگایا۔ سورج بہت اوپر آگیا تھا۔ مجھے جگانے واال کوئی عسکری تھا۔ ساحل کے
‫ساتھ مجھے ایک کشتی نظر آئی۔ اس میں بھی عسکری تھے۔ وہ سب میرے پاس آئے‪ ،میں نے انہیں یہی قصہ سنایا جو آپ
‫کو سنا رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے کشتی میں بٹھا لیا‪ ،کھالیا پالیا اور مجھے یہاں لے آئے۔ یہاں ان (کمانڈر) کے حوالے کردیا۔
‫یہ مجھے آپ کے پاس لے آئے''۔
‫ہماری رہنمائی کے لیے تم ہمارے ساتھ چلو گے''۔ حسام الدین نے کہا… ''لیکن تمہاری حالت ایسی بری ہے کہ فورا ً ''
‫ہمارے ساتھ نہیں چل سکو گے۔ تھکن نے تمہیں الش بنا دیا ہے''۔
‫میں فورا ً آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں''۔ اس آدمی نے کہا… ''میں آرام کس طرح کرسکتا ہوں‪ ،جب مسلمان لڑکیاں ''
‫ڈاکوئوں کے قبضے میں ہیں‪ ،اگر اس سفر میں مجھے تھکن سے مرنا ہے تو میں مرنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے قرآن کی
‫آیات نے اس جہنم سے نکاال ہے‪ ،مجھ پر قرآن کا فرض عائد ہوتا ہے کہ ان معصوم بچیوں کو ظالموں کے چنگل سے
‫چھڑائوں۔ میں اس فرض پر جان دینا چاہتا ہوں''۔
‫''ڈاکوئوں کی تعداد کتنی ہے؟''
‫پانچ سو سے زیادہ ہوگی''۔ اس نے جواب دیا۔''
‫پانچ سو آدمی کافی ہوں گے؟'' ‪ '' :حسام الدین نے بری دستے کے کمانڈر سے پوچھا… ''مجھے ساتھ ہونا چاہیے''۔''
‫کافی ہوں گے'' ۔ کمانڈر نے جواب دیا… ''ان میں کم از کم ایک سو سوار اور باقی پیادے ہوں گے۔ ہمیں چھاپہ مارنا ''
‫ہے‪ ،اس لیے ہدف تک خاموشی برقرار رکھنی ہوگی۔ گھوڑے جتنے زیادہ ہوں گے اتنا ہی شور کا خطرہ ہوگا۔ اس شخص سے
‫اس جگہ کی مزید تفصیل پوچھ لیتے ہیں اور ابھی روانہ ہوجائیں گے۔ یہ چونکہ بھٹکتا اور گرتا پڑتا آیا ہے‪ ،اس لیے اتنی دیر
‫سے پہنچا ہے۔ میں نے سمت کا اندازہ کرلیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم شام کے چلے آدھی رات کے قریب ہدف پر پہنچ
‫جائیں گے''۔
‫چھوٹی منجنیقیں ساتھ لے لینا'' ۔ حسام الدین نے کہا… ''ہانڈیاں (آتش گیر سیال والی) اور فلیتے والے تیر بھی ساتھ ''
‫ہوں… اور اسے شام تک مکمل آرام کرنے دو… سب کو بتا دینا کہ مقابلہ ڈاکوئوں سے نہیں‪ ،صلیب کے تجربہ کار فوجیوں کے
‫ساتھ ہے''۔
‫بری فوج کا کمانڈر اس آدمی کو اپنے ساتھ لے گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صحرا کا وہ خطہ جہاں صلیبی ڈاکوئو ں نے اپنا اڈا بنا رکھا تھا‪ ،قلعے سے کم نہ تھا بلکہ اس لحاظ سے قلعے سے زیادہ
‫مضبوط اور ناقابل تسخیر تھا کہ وہاں ٹیلوں نے بھول بھلیوں جیسی گلیاں بنا رکھی تھیں‪ ،جو تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مڑ جاتیں
‫یا شاخوں میں تقسیم ہوجاتی تھیں۔ اس خطے کے درمیان ایک وسیع میدان تھا۔ اس کے اردگرد ٹیلوں میں صلیبیوں نے اونچے
‫اور لمبے چوڑے کمرے کھود رکھے تھے۔ اونٹوں اور گھوڑوں کے رہنے کی جگہ الگ تھی۔ حسام الدین کا بری فوج کا دستہ
‫پوری خاموشی سے آدھی رات سے پہلے اس خطے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ صلیبیوں نے پکڑے جانے کا خطرہ غالبا ً کبھی
‫بھی نہیں محسوس کیا تھا‪ ،ورنہ وہ ادھر ادھر پہرے کا انتظام کرتے۔
‫حسام الدین نے گھوڑوں کو پیچھے رکھا تاکہ ان کے ہنہنانے کی آواز دشمن تک نہ پہنچے۔ دستے کا کمانڈر چار سپاہیوں کو

‫ساتھ لے کر ٹیلوں کی ایک گلی میں چال گیا۔ گھومتا مڑتا بہت آگے گیا تو اسے گھوڑوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دینے
‫لگیں۔ وہ گھوڑوں کی رات کی آوازوں سے واقف تھا۔ ایک جگہ وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ گیا۔ وہ شب خون کا ماہر تھا اور
‫اسے چھپے ہوئے ہدف پر پہنچنے کا تجربہ تھا۔ وہ ٹیلے کے اوپر گیا۔ اوپر چڑھائی تھی‪ ،وہاں سے اترنا پڑا‪ ،پھر ایک اور
‫بلندی پر چڑھا۔ اسے آدمیوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں جو ہلڑ بازی کی طرح تھیں۔ وہاں سے بھی اسے اترنا پڑا۔ وہ ایک
‫گلی میں جارہا تھا کہ قریب ہی اسے کسی کے بولنے کی آواز سنائی دی۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو اشارہ کیا اور سب اپنے
‫ہتھیار تان کر ٹیلے کے ساتھ ہوگئے۔ آگے موڑ تھا۔
‫دو آدمی باتیں کرتے موڑ مڑے‪ ،وہ شراب پئے ہوئے تھے جو ان کے لہجے سے ظاہر تھا۔ سپاہیوں سے دوچارقدم آگے گئے تو
‫پیچھے سے سپاہیوں نے تلوار ان کے پہلوئوں سے لگا دیں۔ کمانڈر نے ان کی زبان میں جو فلسطینی‪ ،عربی اور عبرانی کی
‫آمیزش تھی کہا کہ آواز نکالی تو مارے جائو گے۔ انہیں وہاں سے دور لے گئے۔ انہوں نے جان کے خوف سے بتا دیا کہ ان
‫کے ساتھی کہاں ہیں اور ان تک کون سا راستہ جاتا ہے۔ مسلمان کمانڈر‪ ،ان میں سے ایک کو اپنے ساتھ بلندی پر لے گیا
‫جہاں سے وہ میدان نظر آتا تھا۔ جہاں اس کے ساتھی جشن منا رہے تھے۔ کمانڈر نے اوپر سے دیکھا اور وہ حیران رہ گیا۔
‫اس بے رحم صحرامیں جو جہنم سے کم نہ تھا‪ ،ان صلیبیوں نے جنت کا منظر بنا رکھا تھا‪ ،جہاں مسافر پیاسے مرجاتے تھے‪،
‫وہاں یہ لوگ شراب پی رہے تھے۔ ان میں سے کچھ ادھر ادھر بے سدھ پڑے تھے۔ بعض ٹولیوں میں بیٹھے گا رہے تھے یا
‫ہلڑ بازی میں مصروف تھے۔ ایک جگہ ایک لڑکی ناچ رہی تھی۔ مشعلیں اس طرح جل رہی تھیں کہ ان کے ڈنڈے عمومی
‫ٹیلوں میں گاڑے ہوئے تھے۔
‫بہت سے اندر ہیں''… صلیبی قیدی نے کمانڈر کو بتایا… ''وہ شراب پی کربے ہوش پڑے ہوں گے‪ ،ایسا جشن صرف اس ''
‫وقت منایا جاتا ہے جب کوئی بہت بڑا قافلہ لوٹا جاتا ہے۔ تین چار راتیں جشن منایا جاتا ہے''۔
‫''تعداد کتنی ہے؟''
‫چھ سو کے قریب ہوگی''… اس نے جواب دیا… ''کمانڈر ایک نائٹ ہے‪ ،وہ اس وقت لڑکیوں کے درمیان بدمست پڑا ''
‫''ہوگا
‫کمانڈر نے بلندی سے میدان کا جائزہ لیا۔ اسے مشعلوں کی روشنی میں جو کچھ نظر آرہا تھا۔ وہ اس نے دیکھ لیا۔ جو نظر
‫نہیں آتا تھا وہ اسے صلیبی قیدی نے بتا دیا۔ وہ ایسے راستے معلوم کررہا تھا جن کی ناکہ بندی کی جاسکے۔ اس نے اپنے
‫قیدی کو ساتھ لیا اور وہاں سے اتر آیا۔ دوسرے قیدی اور اپنے ساتھیوں کو بھی ساتھ لے کر وہ حسام الدین کے پاس گیا اور
‫اسے بتایا کہ کس قسم کی کارروائی کرنی چاہیے۔
‫٭ ٭ ٭
‫میدان میں مشعلوں کی روشنی میں ہلڑ بازی کرنے والے صلیبیوں کی تعداد کم ہوگئی تھی۔ اب ان میں سے چند ایک ہی
‫جاگ رہے تھے۔ حسام الدین نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ ڈاکوئوں کو زندہ باہر النا۔ کمانڈر نے اس پر اعتراض کیا اور کہا…
‫''میں ان سے انتقام لینا چاہتا ہوں۔ میں ان کی الشیں یہیں گلنے سڑنے کے لیے اور صحرائی لومڑیوں کے لیے پڑی رہنے
‫دوں گا۔ آپ انہیں زندہ قیدی بنا کر ان کے حکمران کے ساتھ کوئی سودا کرنا چاہتے ہیں''۔
‫نہیں''… حسام الدین نے کہا… ''مجھے بھی انتقام لینا ہے۔ مجھے اپنے ان مسلمان قیدیوں کے خون کا انتقام لینا ہے''
20:59
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 137چلے قافلے حجاز کے
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫خون کا انتقام لینا ہے۔ جنہیں صلیب کے ایک جنگجو بادشاہ ارناط نے عکرہ لے جا کر قتل کیا تھا۔ جنگی قیدیوں کو قتل
‫نہیں کیا جاتا مگر ارناط نے ہمارے تمام قیدیوں کو پہلے بھوکا رکھا۔ ان سے مشقت کرائی پھر انہیں قطار میں کھڑا کرکے قتل
‫کیا تھا۔ اس واقعہ کو سات سال گزر گئے ہیں۔ میں اسے ساری عمر نہیں بھول سکتا۔ آج انتقام کا موقع مال ہے۔ میں یہ
‫نہیں سننا چاہتا کہ یہ صلیبی ڈاکو ہمارے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے۔ انہیں زندہ الئو لیکن میں انہیں زندہ نہیں رہنے دوں گا۔
‫میں انہیں اسی طرح قتل کروں گا جس طرح صلیبیوں نے ہمارے قیدی قتل کیے تھے''۔
‫حسام الدین کے سپاہی تین راستوں سے میدان میں داخل ہوئے۔ انہوں نے جلتی ہوئی مشعلوں سے اپنی مشعلیں جالئیں۔ جو
‫صلیبی جاگ رہے تھے‪ ،انہوں نے نشے کی حالت میں گالیاں دیں۔ وہ لڑنے کی حالت میں نہیں تھے۔ حملہ آور سپاہیوں نے
‫انہیں زندہ پکڑنے کے بجائے تلواروں سے ختم کردیا‪ ،جو سوئے ہوئے تھے وہ شوروغل سے جاگ اٹھے۔ بیشتر اس کے کہ وہ
‫سمجھ پاتے کہ یہ کیا ہورہا ہے‪ ،وہ برچھیوں کی انیوں پر دھر لیے گئے۔ انہیں ہتھیار اٹھانے کی مہلت نہ ملی۔ غار نما
‫کمروں میں سے چند ایک برچھیاں اور تلواریں لے کر نکلے لیکن کچھ مارے گئے‪ ،باقی ہتھیار پھینک کر الگ کھڑے ہوگئے۔ ان
‫کا نائٹ اس حالت میں مدہوش پڑا تھا کہ اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہ تھا۔ وہ گالیاں بکنے لگا۔ مسلمان سپاہیوں کو وہ
‫اپنے سپاہی سمجھ رہا تھا۔ اس کے کمرے سے تین مسلمان لڑکیاں برآمد ہوئیں۔
‫دوسرے کمروں سے بھی چند ایک لڑکیاں نکلیں۔ یہ سب مسلمان تھیں۔ ان کی حالت بہت بری تھی۔ وہ مسلمان سپاہیوں کو
‫شاید ڈاکوئوں کا کوئی دوسرا گروہ سمجھ رہی تھیں‪ ،اسی لیے وہ دہشت سے دبکی ہوئی تھیں۔ جب انہیں پتا چال کہ یہ
‫مسلمان سپاہی ہیں تو لڑکیاں پاگلوں کی سی حرکتیں کرنے لگی۔ وہ روتی تھیں اور کبھی صلیبیوں کو دانت پیس پیس کر
‫گالیاں دیتیں اور کبھی مسلمان سپاہیوں کو کوسنے لگتیں۔ انہوں نے انہیں بے غیرت اور بزدل کہا ور ان میں سے بعض بار بار
‫کہتی تھیں… '' اگر تم مسلمان ہو تو ان کافروں کو قتل کیوں نہیں کرتے؟ کیا ہم تمہاری بہنیں اور بیٹیاں نہیں؟ کیا ہماری
‫''عصمتیں تمہاری بیٹیوں کی عصمتوں جیسی نہیں؟
‫اس وقت حسام الدین اور بری دستے کا کمانڈر کمروں کی تالشی لے رہے تھے۔ باہر اب کوئی لڑائی نہیں ہورہی تھی۔ صلیبیوں
‫کو ایک جگہ بٹھا دیا۔ ان کے گرد مسلح سپاہی کھڑے تھے‪ ،جن میں بہت سے سپاہیوں نے کمانوں میں تیر ڈال رکھے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫صبح جب صلیبیوں کا نشہ اترا تو وہ سمندر کے کنارے بیٹھے تھے۔ لڑکیوں کو حسام الدین نے اپنے بحری جہاز میں رکھا۔
‫قیدیوں کی تعداد کم وبیش پانچ سو تھی۔ باقی مارے گئے تھے۔ انہوں نے ٹیلوں کے اندر جو سامان اور رقم جمع کررکھی تھی‪،
‫وہ قیدیوں سے اٹھوا کر ساحل پر الئی گئی۔ ان قیدیوں کے کمانڈر سے جو معلومات حاصل ہوئیں‪ ،ان سے یہ انکشاف ہوا کہ
‫یہ ایک مشہور صلیبی بادشاہ رینالڈڈی شائتون کی فوج کا دستہ تھا۔ مسلمان قافلوں کو لوٹنے کے لیے اتنی نفری کا ایک دستہ

‫یہاں موجود رہتا تھا۔ کچھ عرصے بعد دوسرا دستہ بھیج دیا جاتا تھا۔ سامان جو لوٹا جاتا‪ ،اس میں سے کچھ حصہ سپاہیوں کو
‫ملتا اور باقی سب اپنے بادشاہ کو بھیج دیا جاتا تھا۔ اونٹ اور گھوڑے بھی سرکاری ملکیت میں چلے جاتے تھے۔
‫لڑکیوں کے متعلق یہ احکام تھے کہ کمسن بچیاں جو غیرمعمولی طور پر خوبصورت ہوتی تھیں‪ ،وہ صلیبیوں کے ہیڈکوارٹروں میں
‫بھیج دی جاتی تھیں جہاں انہیں ٹریننگ دے کر جوانی کی عمر میں جاسوسی اور تخریب کاری کے لیے مسلمانوں کے عالقوں
‫میں بھیجا جاتا تھا۔ جوان لڑکیوں میں کوئی بہت ہی خوبصورت ہو تو اسے بھی ہیڈکوارٹروں کے حوالے کردیا جاتا تھا۔ باقی
‫لڑکیوں کو یہ صلیبی سپاہی اور کمانڈر اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔
‫اس قافلے کے ساتھ بھی بچیاں ہوں گی''… حسام الدین نے پوچھا۔''
‫بارہ چودہ تھیں''… صلیبی کمانڈر نے بتایا… ''صرف ایک بھیجی گئی ہے''۔''
‫''اور باقی؟''
‫قتل ہوچکی ہیں''۔''
‫''اور قافلے کے جن آدمیوں کو ساتھ الئے تھے؟''
‫انہیں سامان اٹھانے کے لیے الئے تھے‪ ،پھر انہیں قتل کردیا تھا''۔''
‫اس نے جوان لڑکیوں کے متعلق بتایا کہ ان میں ایک رقاصہ تھی۔ بہت خوبصورت تھی۔ اس کا جسم‪ ،حسن اور اس کا رقص
‫ہماری اس ضرورت کے مطابق تھا جس کے لیے ہم لڑکیاں حاصل کرتے ہیں۔ اس رقاصہ کو اسی شام بھیج دیا گیا تھا۔ فورا ً
‫بھیجنے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ایسی قیمتی اور دلکش لڑکی کو سپاہیوں میں رکھنا خطرناک ہوتا ہے۔ کوئی بھی سپاہی
‫اسے آزادی کا جھانسہ دے کر بھگا لے جاسکتا ہے۔
‫انہوں نے اس قافلے کو قتل کیا ہے جو حج کو جارہا تھا''… حسام الدین نے کمانڈر سے کہا… ''قافلہ حجاز تک نہ پہنچ''
‫سکا۔ ان بدنصیبوں کے بجائے میں ان کے قاتلوں کو حجاز بھیجوں گا اور وہاں انہیں قتل کرائوں گا''۔
‫حسام الدین تمام قیدیوں کو اس جگہ لے گیا جہاں انہوں نے قافلے کو لوٹا اور قتل عام کیا تھا‪ ،وہاں لومڑیوں‪ ،بھیڑیوں اور
‫گیڈروں کی کھائی ہوئی الشیں بکھری ہوئی تھیں۔ حسام الدین نے قیدیوں سے قبریں کھدوائیں۔ اس نے سب کی نماز جنازہ
‫پڑھائی اور سب کو دفن کردیا۔ اس نے قاہرہ سے حکم لیے بغیر ان تمام قیدیوں کو ایک ہی بحری جہاز میں ٹھونسا اور جدہ
‫منی کے میدان میں قتل کردیا جائے۔
‫کی طرف لے گیا‪ ،وہاں انہیں اتارا اور اس پیغام کے ساتھ حجاز روانہ کردیا کہ انہیں
‫ٰ
‫پیغام میں اس نے تفصیل سے لکھا کہ ان کا جرم کیا ہے۔
‫یورپی مؤرخوں نے صلیبی سپاہیوں اور ان کے کمانڈر کے قتل کو بہت اچھاال اور غلط رنگ میں پیش کیا ہے۔ انہیں انہوں نے
‫جنگی قیدی کہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سی جنگ کے جنگی قیدی تھے۔ وہ کسی قلعے میں نہیں تھے۔ مسلمان
‫مؤرخوں نے اصل واقعہ لکھا ہے۔ ان کی تحریروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ امیر البحر حسام الدین لولو کا قافلہ تھا جس
‫سے سلطان صالح الدین ایوبی بالکل بے خبر تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس صلیبی ڈاکو دستے کے کمانڈر نے جس رقاصہ کے متعلق بتایا تھا کہ اسے اسی شام یہاں سے بھیج دیا گیا تھا۔ وہ رعدی
‫تھی۔ اس کے کہنے کے مطابق اسے اتنی جلدی اس لیے بھیج دیا گیا تھا کہ گھوڑے کے نیچے آکر اس کی حالت اچھی نہیں
‫تھی۔ کمانڈر نے اس ڈر سے اسے بھیج دیا کہ اس پر یہ الزام عائد نہ ہوسکے کہ اس رقاصہ کو اس کے تشدد نے اس حالت
‫تک پہنچایا ہے۔ یہ کمانڈر جس وقت حسام الدین کو اپنا بیان دے رہا تھا‪ ،اس وقت رقاصہ رعدی چار صلیبی سپاہیوں کے
‫ساتھ وہاں سے بہت دور پہنچ چکی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار تھی۔ اس کی حالت بہت بہتر ہوگئی تھی۔ راستے میں اس نے
‫سپاہیوں سے کئی بار کہا تھا کہ وہ اسے قاہرہ لے چلیں جہاں وہ انہیں بے شمار رقم دے گی مگر سپاہی نہ مانے۔ آخر ایک
‫سپاہی نے اسے کہا… ''تم دیکھ رہی ہو کہ ہم تمہیں شہزادیوں کی طرح ساتھ لے جارہے ہیں‪ ،تم اتنی زیاہ خوبصورت ہو اور
‫تمہارے جسم میں ایسا جادو ہے کہ جسے اشارہ کرو‪ ،وہ تمہارے قدموں میں جان دے دے گا لیکن ہم تمہارے جسم سے چار
‫قدم دور رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ تم ہمارے پاس امانت ہو اور یہ امانت ہمارے بادشاہ کی ہے جو صلیب کا بادشاہ ہے۔ اگر
‫تمہارا کہا مان لیں یا تمہیں اپنی ملکیت سمجھ لیں تو ہمیں نہ بادشاہ بخشے گا‪ ،نہ صلیب''۔
‫ہماری منزل کہا ہے؟''… رعدی نے پوچھا۔''
‫بہت دور''… اسے جواب مال… ''سفر کٹھن ہے اور لمبا بھی۔ ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اس عالقے میں سے بھی''
‫گزرنا پڑے گا جو مسلمانوں کے قبضے میں ہے''۔
‫رعدی کو یہ چار صلیبی واقعی شہزادیوں کی طرح لے جارہے تھے۔ ''تم کسی بڑے حاکم کی بیٹی معلوم ہوتی ہو یا کسی
‫دولت مند تاجر کی بیٹی۔ تم اپنے خاندان کے ساتھ حج کو جارہی تھی؟''… ایک صلیبی نے پوچھا۔
‫تمہیں کسی نے بتایا نہیں کہ میں رقاصہ ہوں؟''… رعدی نے جواب دیا… ''میرا کوئی باپ نہیں‪ ،کوئی بھائی نہیں‪ ،میری ''
‫اسم عیلیہ میں مشہور رقاصہ اور مغنیہ ہے۔ مجھے بالکل علم نہیں کہ میں اس کے کس چاہنے والی کی بیٹی ہوں۔ ماں
‫ماں
‫ٰ
‫نے بچپن میں ہی مجھے رقص کی تربیت دینی شروع کردی تھی‪ ،مجھے رقص اور گانا اچھا لگتا تھا۔ میں سولہ سترہ سال
‫کی ہوئی تو ماں نے مجھے ایک بہت امیر آدمی کے گھر بھیجا۔ وہ بوڑھا آدمی تھا‪ ،شراب پئے ہوئے تھا‪ ،بوڑھے نے مجھے
‫کہا کہ وہ میری محبت میں دیوانہ ہوا جارہا ہے۔ مجھے اس بوڑھے سے نفرت ہوگئی‪ ،مجھے یہ احساس ہوا کہ یہ میرا باپ
‫…''نہیں ہے‪ ،نہ اس کے دل میں میری محبت ہے‪ ،یہ میرا گاہک ہے
‫میں وہاں سے اکیلی بھاگ گئی۔ ماں کو بتایا تو اس نے مجھے سمجھایا کہ یہ ہمارا پیشہ ہے‪ ،میں نہ مانی۔ ماں نے ''
‫مجھے مارا پیٹا‪ ،میں نے کہا کہ میں ناچوں گی‪ ،گائوں گی لیکن کسی کے گھر نہیں جائوں گی۔ ماں نے میری شرط مان لی۔
‫جن کے پاس دولت تھی‪ ،وہ ہمارے گھر آنے لگے۔ میں چونکہ کسی کے گھر نہیں جاتی تھیں‪ ،اس لیے میری قیمت چڑھ گئی۔
‫تین سال گزر گئے اور اس دوران میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کوئی میرے حسن اور میرے رقص کے بجائے میرے ساتھ
‫محبت کرے جس میں عیاشی اور بدمعاشی کا دخل نہ ہو۔ آخر ایک آدمی مجھے مل گیا۔ وہ دوبار میرے ہاں آیا تھا۔ وہ
‫مجھے اچھا لگتا تھا۔ مجھ سے سات آٹھ سال بڑا تھا۔ میری اور اس کی مالقاتیں ہونے لگیں۔ میں بگھی میں سیر کے
‫''بہانے چلی جاتی اور وہ وہاں موجود ہوتا
‫وہ تو شہزادہ تھا‪ ،شراب پیتا تھا‪ ،میں نے ایک شام اسے کہا کہ شراب چھوڑ دو۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ وہ آئندہ'' ‪:
‫شراب نہیں پئے گا۔ اس نے وعدہ پورا کر دکھایا۔ ایک روز اس نے مجھے کہا کہ ناچنا چھوڑ دو‪ ،میں نے قسم کھا کر کہا کہ
‫میں اس پیشے پر لعنت بھیجوں گی لیکن جب تک اس گھر میں ہوں‪ ،یہ ممکن نہیں۔ اس نے کہا کہ میں عیاش باپ کا

‫عیاش بیٹا ہوں‪ ،میرے باپ کے حرم میں تم سے چھوٹی عمر کی بھی لڑکیاں ہیں۔میں اس گھر میں رہ کر نیک نہیں بن
‫سکتا۔ میں نے اسے کہا کہ میں ناچنے والی ماں کی ناچنے والی بیٹی ہوں۔ تمہیں اپنے باپ کی عیاشی خراب کررہی ہے اور
‫مجھے اپنی ماں کا پیشہ خراب کررہا ہے۔ آئو کہیں دور چلے چلیں اور میاں بیوی کی طرح پاک زندگی بسر کریں۔ وہ مان
‫…''گیا
‫وہ مسلمان تھا‪ ،میرا کوئی مذہب نہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میرا باپ مسلمان تھا‪ ،عیسائی یا یہودی تھا۔ میں نے''
‫اسے کہا کہ مجھے مسلمان سمجھو اور بتائو کہ مذہب کیا ہے۔ مجھے محبت دو‪ ،مجھے پاک زندگی دو‪ ،اس نے بہت سوچا
‫ور بوال کہ پاک ہونا ہے تو حجاز چلو۔ میں نے حجاز کی بہت باتیں سنی تھیں۔ مجھے ایسے گانے بہت پسند آتے تھے جن
‫میں حجاز اور حجاز کے قافلوں کا ذکر ہوتا۔ میں ایک گانا اکیلے میں بھی گنگنایا کرتی تھی… ''چلے قافلے حجاز کے''…
‫اس نے حجاز کا نام لے کر میری آرزو کو شعلہ بنا دیا۔ میں نے اسے کہا کہ میں تیار ہوں۔ ہمت کرو‪ ،میری آرزو پوری کردو۔
‫اس نے پوچھا۔ تم جانتی ہو کہ میں تمہیں حجاز کیوں لے جارہا ہوں؟ میں نے کہا کہ وہ بہت خوبصورت سرزمین ہے۔ اس
‫نے کہا کہ صرف خوبصورت نہیں‪ ،وہ پاک سرزمین ہے‪ ،وہاں خانہ کعبہ ہے‪ ،وہاں آب زمزم ہے اور وہا ں جو جاتا ہے اس کی
‫روح پاک ہوجاتی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہاں ہم حج کعبہ کریں گے اور پاک ہوکر شادی کریں گے پھر وہیں رہیں
‫…''گے
‫میں اس وقت کو بھول نہیں سکتی جب وہ میرے ساتھ یہ باتیں بچوں کی طرح کررہا تھا اور میں جیسے اس کی آنکھوں ''
‫میں اتر کر اس کی روح میں سما گئی تھی۔ میری ذات فنا ہوگئی تھی‪ ،میرا وجود اس کے وجود میں تحلیل ہوگیا تھا اور
‫میں نے اسے کہا تھا کہ کل چلنا ہے تو ابھی چلو۔ اس نے کہا کہ قافلے جاتے رہتے ہیں‪ ،میں معلوم کرلوں گا… پھر ایک
‫شام اس نے کہا کہ آج رات یہیں آجانا۔ قافلہ روانہ ہوگیا ہے۔ ہم اس سے جاملیں گے۔ میں نے اسے کہا کہ میں گھر چلی
‫گئی تو رات کو کوئی آنے نہیں دے گا۔ ابھی لے چلو۔ اس نے کہا آجائو۔ میں نے بگھی والے کو کچھ نہ بتایا۔ شام گہری
‫ہوگئی تھی۔ چھپ کر اس کے ساتھ چلی گئی۔ اس نے مجھے ایک کھنڈر میں چھپا دیا اور چال گیا۔ وہ کچھ دیر بعد دو
‫…''گھوڑے لیکر آگیا۔ وہ گھوڑے پر سوار تھا‪ ،دوسرا گھوڑا خالی تھا۔ دونوں کے ساتھ پانی اور کھانے کا سامان بندھا تھا
‫ہم اگلی شام قافلے سے جاملے اور رات وہاں جاپہنچے جہاں تم نے میرے خواب میری محبت کے لہو میں غرق کر دئیے۔''
‫وہ مارا گیا میں پکڑی گئی۔ حجاز کا قافلہ لوٹا گیا اور خانہ کعبہ سے دور ہی اللہ کے حضور چال گیا… خدا نے میرے گناہ
‫بخشے نہیں‪ ،میرے ماتھے کی قسمت میں کعبہ کا سجدہ نہیں لکھا تھا۔ میرا وجود ناپاک تھا جو اللہ کو پسند نہیں تھا کہ
‫اس کے کعبے تک پہنچے''۔
‫تم مذہب میں پناہ لینا چاہتی ہو تو ہمارے مذہب کو قریب سے دیکھنا''… ایک سپاہی نے کہا۔۔''
‫تم نے میرا ایک پاک تصور ریزہ ریزہ کردیا ہے''… رعدی نے کہا… ''کیا تمہارے مذہب نے یہ حکم دیا ہے جس کی تم ''
‫''نے تعمیل کی ہے؟ جو تصور لے کر نکلی تھی وہ ایسا بھیانک تو نہیں تھا؟
‫یہ ہمارا مذہب نہیں''… سپاہی نے کہا… ''یہ ان انسانوں کا حکم تھا جن کے ہم مالزم ہیں''۔''
‫تم سے تو میں اچھی ہوں جس کے قدموں میں شہزادے زروجواہرات کے ساتھ اپنا سر بھی رکھتے تھے''… رعدی نے کہا…''
‫''مگر میں صحرائوں کی خاک چھاننے نکل آئی… حکم وہ مانو جو اپنی روح سے نکلے۔ میں اس کے مذہب کی مرید ہوں
‫جس نے مجھے پاک محبت دی اور پاکیزہ تصور دیا۔ اس سے میں سمجھی کہ اس کا مذہب بھی پاک ہوگا۔ وہ مجھے میرے
‫''تصوروں کی سرزمین حجاز کی طرف لے جارہا تھا۔ تم مجھے کہاں لے جارہے ہو؟
‫ہم انسانوں کے حکم کے پابند ہیں''… سپاہی نے کہا۔''
‫میں خدا کے حکم کی پابند ہوں''… رعدی نے کہا۔''
‫خدا نے تمہیں دھتکار دیا ہے''… ایک اور سپاہی بوال… ''تم اس وقت ہماری پابند ہو۔ ہم جہاں تمہیں لے جارہے ہیں ''
‫وہاں سوچنا کہ خدا کو راضی کس طرح کیا جائے۔ کوئی نیکی کرنا‪ ،شاید خدا تمہیں بخش دے''۔
‫میں جانتی ہوں‪ ،تم مجھے کہاں لے جارہے ہو اور کیوں لے جارہے ہو''… رعدی نے کہا… ''میرا وجود سراپا گناہ ہوگیا'' ‪:
‫اور میں کوئی نیکی نہیں کرسکوں گی''۔
‫تم کوئی نیکی سوچ بھی نہیں سکتی''… ایک سپاہی نے کہا… ''تم گناہ کی پیداوار ہو۔ گناہوں میں تم نے پرورش پائی ''
‫''ہے۔ ایک گناہ گار کے ساتھ گھر سے بھاگ کر جارہی تھی… تم نیکی کیا کرو گی؟
‫ان بے گناہوں کے خون کا انتقام لوں گی جنہیں تم نے قتل کیا ہے''… رعدی نے دانت پیس کر کہا۔''
‫چاروں سپاہیوں نے بڑی زور سے قہقہہ لگایا اور ایک نے کہا… ''ہم پر تمہارا احترام فرض ہے۔ ہمیں حکم ہی ایسا مال ہے‪،
‫ورنہ تم ایسے الفاظ دوبارہ زبان سے نہ نکالتی''۔
‫رعدی انہیں دیکھتی رہی اور اس کے دل میں نفرت گہری ہوتی گئی۔
‫موصل میں ایک درویش کی شہرت آنا ً فانا ً پھیل گئی۔ وہ ایک ضعیف العمر انسان تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ کسی خوش
‫نصیب انسان کے ساتھ ہی بات کرتا ہے اور وہ جس کی بات کرتا ہے‪ ،اس کی ہر مراد پوری ہوجاتی ہے۔ کسی نے اسے شہر
‫کی دیواروں کے باہر ایک جھونپڑہ دے دیا تھا۔ اس کی کرامات سارے شہر میں مشہور ہوگئیں۔ لوگ اس کے جھونپڑے کے گرد
‫ہجوم کیے رکھتے۔ وہ ذرا سی دیر کے لیے باہر آتا‪ ،بازو اوپر کرکے لوگوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتا‪ ،ہجوم پر خاموشی
‫طاری ہوجاتی۔ وہ اشاروں میں انہیں تسلی دیتا اور جھونپڑے میں چال جاتا۔ اس کے ساتھ چار پانچ خوبرو آدمی تھے جن کے
‫چہرے سفید اور گالبی تھے اور وہ سر سے پائوں تک سبز لبادوں میں ملبوس تھے۔
‫پھر یہ مشہور ہوگیا کہ درویش موصل والوں کے لیے خوشخبری الیا ہے۔ شہر میں اجنبی سے کچھ لوگ نظر آتے تھے‪ ،وہ
‫لوگوں کو درویش کے متعلق کچھ ایسی باتیں سناتے تھے جو ہر کسی کے دل میں اتر جاتی تھیں۔ ہر کسی کو اپنی اپنی مراد
‫عیسی علیہ السالم
‫پوری ہوتی نظر آتی تھی۔ چند دنوں میں یہ مشہور ہوگیا کہ درویش امام مہدی ہے۔ بعض اسے حضرت
‫ٰ
‫کہنے لگے‪ ،پھر ایک روز لوگوں نے دیکھا کہ درویش والئی موصل عزالدین کی بگھی پر محل کو جارہا تھا۔ عزالدین کے
‫محافظوں نے اس کا استقبال کیا اور وہ محل میں چال گیا۔ کئی گھنٹوں بعد وہاں سے نکال اور شاہی بگھی پر چال گیا۔ لوگ
‫جب اس کے جھونپڑے کو گئے تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ درویش کو بگھی کہیں دور لے گئی تھی۔ شام کو بگھی واپس
‫آئی۔ اس میں بگھی بان اور دو محافظ تھے‪ ،لوگوں نے بگھی روک لی اور محافظوں سے پوچھا کہ درویش کہاں چال گیا ہے۔
‫ہمیں کچھ علم نہیں‪ ،وہ کہاں ہے؟''… ایک محافظ نے لوگوں کو بتایا… ''اس نے پہاڑیوں کے قریب بگھی رکوالی اور ''
‫ہمیں کہا کہ تم چلے جائو۔ ہم نے اس کے ساتھ ایک آدمی سے پوچھا کہ درویش کہاں جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ان

‫پہاڑیوں میں سے کسی کی چوٹی پر بیٹھے گا۔ اسے افق سے ایک نشانی نظر آئے گی۔ درویش پہاڑی کی چوڑی سے اتر آئے
‫گا اور والئی موصل کو بتائے گا کہ وہ کیا کرے‪ ،پھر موصل کی فوج جدھر جائے گی‪ ،ادھر پہاڑ اسے راستہ دے دیں گے۔ صحرا
‫سرسبز ہوجائیں گے‪ ،دشمن کی فوجیں اندھی ہوجائیں گی اور والئی موصل جہاں تک پہنچ سکے گا وہاں تک اس کی حکمرانی
‫ہوگی۔ صالح الدین ایوبی عزالدین کے آگے ہتھیار ڈال دے گا۔ صلیبی اس کے غالم ہوجائیں گے اور موصل کے لوگ آدھی دنیا
‫کے بادشاہ ہوں گے۔ سونے چاندی میں کھیلیں گے… ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کون سی پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھے گا''۔
‫موصل کے کچھ دور کوہستانی عالقہ تھا‪ ،وہاں کوئی آبادی نہیں تھی‪ ،جہاں کہیں پہاڑوں میں گھرا ہوا میدان تھا‪ ،وہاں دو چار
‫جھونپڑے نظر آتے تھے۔ عالقہ ہرابھرا تھا‪ ،گڈریئے مویشی لے کر وہاں جاتے تھے۔ ایک روز گڈریوں کو ادھر جانے سے روک دیا
‫گیا۔ لوگوں کو دور سے گزرنے کی اجازت تھی۔ موصل کی فوج کے سنتری گشت کررہے تھے۔ ان کے ساتھ باہر کے اجنبی
‫لوگ بھی تھے۔ کوہستان کا ایک وسیع عالقہ تھا جس کے قریب جانے سے لوگوں کو منع کردیا گیا۔ ان پابندیوں کا نتیجہ یہ
‫ہوا کہ یہ خطہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس کے متعلق عجیب وغریب باتیں سننے میں آنے لگیں۔ یہ تو ایک دن
‫میں ہر کسی کی زبان پر چڑھ گیا کہ درویش کو آسمان سے ایک نشانی نظر آئے گی پھر آدھی دنیا پر موصل والوں کی
‫بادشاہی ہوگی۔
‫٭ ٭ ٭
‫صرف ایک چار دیواری تھی جس کے اندر چار آدمی بیٹھے کچھ اور قسم کی باتیں کررہے تھے۔ ان میں ایک حسن االدریس ‪:
‫بھی تھا۔ پچھلی قسط میں آپ تفصیل سے پڑھ چکے ہیں کہ حسن االدریس سلطان ایوبی کا جاسوس تھا جو بیروت سے نہایت
‫قیمتی خبر الیا تھا اور اس خبر کے ساتھ والئی موصل عزالدین کے ایلچی احتشام الدین اور اس کی رقاصہ بیٹی سائرہ کو بھی
‫سلطان ایوبی کے پاس لے آیا تھا۔ یہ ایک بے مثال کامیابی تھی۔ اسالم کی تاریخ پر اس جاسوس نے بہت بڑا احسان کیا
‫تھا۔ احتشام الدین نے سلطان ایوبی کو بتایا تھا کہ صلیبی موصل کے قریب پہاڑیوں کی کھوہ میں اسلحہ اور آتش گیر سیال
‫اور رسد کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کریں گے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس کوہستان کو اپنی فوج کا اڈہ بنائیں گے۔ موصل
‫کو تو وہ اپنے چھاپہ ماروں کا اڈہ بنا رہے تھے۔ اس حقیقت کو سلطان ایوبی اور ساالر سمجھ سکتے تھے کہ جس فوج کا اڈہ
‫اور رسد قریب ہو‪ ،وہ آدھی جنگ جیت لیتی ہے۔ صلیبی فوج کو یہ تلخ تجربہ ہوچکا تھا کہ انہوں نے جب کبھی پیش قدمی
‫کی یا حملہ کیا‪ ،سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں نے عقب میں جاکر ان کی رسد تباہ کردی یا رسد اور فوج کے درمیان حائل
‫ہوکر رسد روک لی۔ آگے سلطان ایوبی نے یہ انتظام کررکھا ہوتا تھا کہ پانی جہاں کہیں ہوتا تھا‪ ،وہاں قبضہ کرلیتا تھا۔ جہاں
‫کہیں گھاس اور چارہ ہوتا وہاں بھی وہ قبضہ کرلیتا یا گھاس وغیرہ کٹوا لیتا یا تباہ کردیتا تاکہ صلیبیوں کے گھوڑوں اور اونٹوں
‫کو چارہ نہ مل سکے‪ ،اس کے عالوہ وہ بلندیوں پر اپنے تیر اندازوں کی ٹولیاں بٹھا دیتا تھا۔
‫آپ پڑھ چکے ہیں کہ سلطان ایوبی نے اپنی انٹیلی جنس کے سربراہ حسن بن عبداللہ سے کہا تھا کہ وہ معلوم کرے کہ
‫صلیبی کس مقام پر ذخیرہ کررہے ہیں‪ ،اس نے چھاپہ مار دستوں کے ساالر صارم مصری سے کہا تھا کہ جب ذخیرے کا مقام
‫معلوم ہوجائے تو اسے تباہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ سلطان ایوبی کی دوربین نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی اب مکمل
‫تیاری کرکے کھلی جنگ لڑیں گے۔ اس سے پہلے وہ صلیبی عالقوں پر حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
‫اسے جب احتشام الدین کی زبانی صلیبیوں کے عزائم کی اطالع ملی تو اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ صلیبیوں کو کہیں بھی قدم
‫نہ جمانے دئیے جائیں۔ اس نے ایک حکم یہ دیا کہ معلوم کرو کہ صلیبی کوہستان میں کہاں ذخیرہ جمع کررہے ہیں اور دوسرا
‫حکم یہ دیا کہ سنجار کی طرف پیش قدمی کرو اور قلعے کو محاصرے میں لے لو۔ سنجار موصل سے کچھ دور ایک اہم قلعہ
‫اور جنگی اہمیت کا ایک قصبہ تھا۔ اس کا امیر شرف الدین بن قطب الدین تھا۔ سنجار کو اپنے قبضے میں لینے کا اقدام
‫سلطان ایوبی کے اس منصوبے کی کڑی تھی جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ وہ اب کسی سے تعاون کی بھیک نہیں مانگے
‫گا بلکہ تلوار کی نوک پر تعاون حاصل کرے گا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے مسلمان امراء خودمختار حکمران رہنا
‫چاہتے ہیں‪ ،اس لیے صلیبیوں کے ساتھ درپردہ معاہدے کررہے ہیں۔ سنجار کے امیر شرف الدین کے متعلق سلطان ایوبی کو
‫یقین ہوگیا تھا کہ وہ والئی موصل عزالدین کا دوست ہے اور اس دوستی کی بنیاد یہی ہے کہ سلطان ایوبی کے خالف محاذ
‫مضبوط کیا جائے۔
‫حسن بن عبداللہ نے اپنے جاسوسوں کا جائزہ لیا۔ موصل میں اس کے جاسوس موجود تھے لیکن وہ محسوس کررہا تھا کہ
‫کسی زیادہ ذہین اور جرٔات مند جاسوس کو ان کے پاس بھیجا جائے کیونکہ اسے خیال تھا کہ صلیبیوں کا ذخیرہ معلوم کرنا
‫مشکل کام ہوسکتا ہے۔ حسن االدریس نے اپنی خدمات پیش کیں۔ حسن بن عبداللہ اسے نہیں بھیجنا چاہتا تھا کیونکہ وہ لمبے
‫عرصے تک بیروت رہا تھا‪ ،اس لیے اسے پہچانا جاسکتا تھا۔ حسن االدریس بھیس اور اپنا لب ولہجہ بدلنے کا ماہر تھا۔ اس
‫نے حسن بن عبداللہ سے کہا کہ وہ اگر بیروت چال جائے تو ایسا بہروپ دھارے گا کہ جو اسے پہچانتے ہیں‪ ،وہ بھی نہیں
‫پہچان سکیں گے۔ موصل میں تو اسے کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ آخر اسی کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور سلطان ایوبی
‫نے خود اسے کچھ ہدایات دیں۔
‫میرے عزیز دوست!''… سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھ سینے پر رکھ کر حسن االدریس سے کہا۔ ''تاریخ میں نام سلطان ''
‫ایوبی کاآئے گا۔ شکست کھائوں گا تو تاریخ مجھے شرمسار کرے گی اور فتح حاصل کرکے مروں گا لوگ میری قبر پر پھول
‫چڑھائیں گے اور آنے والی نسلیں مجھے خراج تحسین پیش کریں گی۔ یہ بہت بڑی بے انصافی ہوگی۔ فتح کا سہرا تمہارے سر
‫ہوگا‪ ،تمہارے ان ساتھیوں کے سر ہوگا جو دشمن کے اندر جاکر خبر التے اور میری فتح کا باعث بنتے ہیں۔ خدا اس حقیقت
‫کو دیکھ رہا ہے‪ ،تمہارے سر پر سہرا خدا اپنے ہاتھوں باندھے گا۔ میں شکست کھائوں گا تو یہ میری اپنی غلطی ہوگی کہ
‫میں نے تمہاری اطالع کے مطابق عمل نہ کیا اور میں فتح حاصل کروں گا تو یہ تمہاری فتح ہوگی کیونکہ میری آنکھیں اور
‫میرے کان تم ہو۔ میری روح تمہاری قبر پر پھول چڑھاتی رہے گی۔ عظیم تم ہو ‪ :اور تمہارے جاسوس ساتھی۔ میری کوئی
‫عظمت نہیں‪ ،میں پوری فوج لے کر سنجار جارہا ہوں۔ تم اکیلے جارہے ہو۔ میں جو فتح پوری فوج کے ساتھ حاصل کروں گا‪،
‫وہ تم اکیلے کرلو گے۔ جائو میرے دوست! خدا حافظ''۔
‫جب حسن االدریس ایک غریب مسافر کے بھیس میں ایک اونٹ پر سوار ہوکر نصیبہ کی خیمہ گاہ سے نکال‪ ،اس وقت سورج
‫غروب ہوچکا تھا۔ وہ دور نکل گیا تو اسے بے شمار گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دینے لگے۔ وہ رک گیا۔ اسے معلوم تھا یہ گھوڑے
‫کس کے ہیں‪ ،یہ صالح الدین ایوبی سنجار کو محاصرے میں لینے جارہا تھا۔ اس نے نصیبہ سے اپنا کیمپ اکھاڑا نہیں تھا۔ اپنا
‫ہیڈکوارٹر اور کچھ عملہ وہیں رہنے دیا ور اپنے محفوظہ ( ریزروٹروپس) کو بھی تیاری کی حالت میں نصیبہ چھوڑ گیا تھا۔
‫٭ ٭ ٭

‫تم یہاں یہ معلوم کرنے آئے ہو کہ صلیبی پہاڑوں میں اپنا ذخیرہ کہاں رکھیں گے''… موصل کے جاسوسوں کے کمانڈر نے ''
‫کہا… ''اور ہم یہاں یہ معلوم کرنے کی سوچ رہے ہیں کہ یہ درویش کون ہے جو انہی پہاڑوں میں کہیں جا بیٹھا ہے۔ کوئی
‫عیسی''… اس نے حسن االدریس کو پوری تفصیل سے بتایا کہ اس درویش کو شہر میں اور
‫اسے امام مہدی کہتا ہے اور کوئی
‫ٰ
‫اردگرد کے عالقے میں کیسی شہرت حاصل ہوئی ہے… ''ان پہاڑیوں کے قریب سے گزرنے کی بھی اجازت نہیں۔ کچھ تو اپنی
‫فوج کے سنتری ہیں اور کچھ اجنبی سے آدمی ہیں جو کسی کو آگے نہیں جانے دیتے۔ درویش کسی پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھا
‫ہے۔ اسے خدا آسمان سے کوئی اشارہ دے گا‪ ،رات کو لوگ اپنی چھتوں پر کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی
‫ستارہ ٹوٹتا ہے تو وہ چال اٹھتے ہیں‪ ،وہ رہا اشارہ۔ لوگ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھولتے جارہے ہیں''۔
‫یہ چاروں جاسوس تھے۔ انہیں خصوصی ٹریننگ دی گئی تھی جس میں یہ تعلیم بھی شامل تھی کہ توہم پرستی حرام ہے اور
‫خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو کچھ ہے وہ انسان خود ہے۔ جہاں موصل کے ہر باشندے کے دماغ پر یہ
‫درویش غالب آگیا تھا‪ ،وہاں یہ چار جاسوس درویش کی حقیقت معلوم کرنے کی فکر میں تھے۔
‫میرے دوستو! میری بات ہنسی میں نہ ٹال دو تو کہوں''۔ حسن االدریس نے کہا۔ ''جہاں درویش ہے وہاں صلیبیوں کا ''
‫ذخیرہ ہے اور یہ کوئی معمولی ذخیرہ ہوتا تو اس عالقے کے لوگوں کے لیے ممنوع قرار دے کر درویش کا ڈھونگ نہ رچایا
‫جاتا۔ تم جانتے ہو کہ اتنے وسیع عالقے کے اردگرد پوری فوج کا پہرہ کھڑا کردو تو بھی کوئی نہ کوئی اندر چال ہی جاتا ہے
‫لیکن صرف یہ کہہ دینا کہ یہاں خدا کا بھیجا ہوا ایک درویش بیٹھا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس عالقے میں کوئی آئے تو
‫کوئی ادھر دیکھنے کی جرٔات بھی نہیں کرتا''۔
‫یہ اعالن میں کہا گیا ہے کہ جس نے اس عالقے میں جانے کی اور درویش کو دیکھنے کی کوشش کی تو وہ کوڑھی ہوجائے''
‫گا اور اس کے بچے اندھے ہوجائیں گے''… حسن االدریس کے ایک اور ساتھی نے کہا… ''تم نے یہ بتا کر کہ صلیبی وہاں
‫کچھ رکھیں گے‪ ،ہمارا آدھا مسئلہ حل کردیا ہے۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ درویش صلیبیوں کا کوئی
‫''ڈھونگ ہے یا یہ معلوم کرنا ہے کہ انہوں نے وہاں ذخیرہ کیا ہے؟
‫درویش کو ذخیرہ کے ساتھ تباہ کرنا ہے''۔ حسن االدریس نے کہا۔''
‫اور لوگوں کو اس وہم سے بچانا ہے جو ان پر طاری کردیا گیا ہے''۔ جاسوسوں کے کمانڈر نے کہا… ''صلیبیوں کی عقل ''
‫کی تعریف کرو۔ وہ اس جگہ ایک درویش کو بٹھا کر اپنے ذخیرے کو لوگوں کی نظروں سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے
‫ساتھ ہی وہ موصل کی فوج اور لوگوں کو اور والئی موصل کو بھی خدا کے اشارے کا جھانسہ دے کر جنگی تیاریوں سے باز
‫رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ فوج بھی اور لوگ بھی خدا کے اس اشارے کے انتظار میں بیٹھ گئے ہیں جو
‫درویش کو ملے گا''۔
‫والئی موصل کا درویش کے متعلق کیا رویہ ہے؟'' حسن االدریس نے پوچھا۔''
‫درویش اس کے محل میں اس کی چھ گھوڑوں کی بگھی پر گیا تھا''… کمانڈر نے جواب دیا… ''اور درویش اسی بگھی ''
‫میں پہاڑیوں میں گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عزالدین بھی اس سازش میں شامل ہے یا وہ اس سازش کا شکار ہے
‫جو کچھ بھی ہے‪ ،ہمیں معلوم ہوجائے گا۔ رضیع خاتون محل میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوجائے گا کہ محل میں درویش
‫کی حیثیت کیا ہے''۔
‫انہوں نے اس عالقے اور درویش کی حیثیت معلوم کرنے پر غور کرنا شروع کردیا۔
20:59
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 138چلے قافلے حجاز کے
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫غور کرنا شروع کردیا۔ سنجار کے قلعے کی دیواروں پر سنتری نیم بیدار تھے۔ وہ زمانہ جنگ وجدل کا تھا مگر سنجار کے امیر
‫شرف الدین بن قطب الدین کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہورہا تھا۔ وہ صلیبیوں کا حاشیہ بردار تھا۔ اس لیے ان سے اسے
‫کوئی خطرہ نہیں تھا۔ والئی حلب عماد الدین اور والئی موصل عزالدین نے اسے کہا کہ اسے جب بھی ضرورت پڑی وہ دونوں
‫اس کی مدد کو پہنچیں گے۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتال تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو اس کی نیت کا علم نہیں۔ وہ
‫شراب اور عورت میں بدمست ہوکر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ صلیبیوں نے اسے دو بڑی حسین لڑکیاں تحفے کے طور پر بھیجی
‫تھیں۔ یہ لڑکیاں اسے بیداری کے خوابوں میں مگن رکھتی تھیں۔
‫قلعے کی دیوار کے اوپر سے ایک شرارہ سا گزر گیا۔ اس کے فورا ً بعد ایک اور پھر ایک اور… سنتری پر دہشت طاری ہوگئی۔
‫یہ شرارے قلعے کے اندر گرے اور بھیانک شعلے بن گئے۔ قریب ہی کوئی سامان پڑا تھا اور اس کے قریب ایک مکان تھا۔
‫دونوں کو آگ لگ گئی۔ یہ آتش گیر سیال کی ہانڈیاں تھیں جو سلطان ایوبی کی فوج نے منجنیقوں سے پھینکی تھیں۔ ان کے
‫ساتھ جلتے ہوئے فلیتے بندھے ہوئے تھے۔ ہانڈیاں مٹی کی تھیں جو گر کر ٹوٹیں تو اندر کا سیال پھیل گیا اور جلتے ہوئے
‫فلیتوں نے اسے آگ لگا دی۔
‫قلعے میں قیامت بپا ہوگئی۔ قلعے کے اوپر رات روشن ہوگئی۔ ہر کوئی جاگ اٹھا۔ امیر شرف الدین کو جگایا گیا‪ ،اس نے
‫کھڑکی میں سے شعلے دیکھے تو واہی تباہی بکتا باہر آیا۔ کسی وقت شرف الدین مرد میدان ہوا کرتا تھا مگر صلیبیوں نے
‫اسے شراب اور لڑکیوں سے اس حال تک پہنچا دیا تھا کہ اس رات اس کے قدم نہیں اٹھتے تھے۔ راتوں کو ریگزاروں اور
‫سنگالخ وادیوں میں بال تھکے لڑنے واال جنگجو چلنے کے قابل نہیں رہا تھا… پھر قلعے کا رات کی ڈیوٹی واال کمان دار اوپر
‫سے دوڑا آیا اور شرف الدین کو بتایا کہ قلعہ محاصرے میں ہے۔
‫کس بدبخت نے محاصرہ کیا ہے؟'' اس نے پوچھا۔''
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے''۔ کمان دار نے جواب دیا۔ ''وہ باہر سے للکار رہے ہیں کہ قلعے کے دروازے کھول دو‪'' ،
‫ورنہ ہم قلعے کو جال کر بھسم کردیں گے''۔
‫شرف الدین کا نشہ اتر گیا… وہ سوچ میں پڑ گیا۔ بہت دیر بعد بوال… ''دروازہ کھول دو‪ ،ہم خود باہر جائیں گے''۔
‫کچھ دیر بعد قلعے کا دروازہ کھال ور شرف الدین باہر نکال۔ اس کے ساتھ مشعل بردار تھے۔ ادھر سے سلطان ایوبی نے اپنے
‫ایک ساالر سے کہا کہ وہ آگے جاکر شرف الدین کو اس کے پاس لے آئے۔ وہ خود ہی آرہا تھا۔ اس کے استقبال کے لیے
‫سلطان ایوبی ایک قدم آگے نہ بڑھا۔ شرف الدین سلطان ایوبی کے سامنے جاکر گھوڑے سے اترا اور بازو پھیال کر اس کی
‫طرف دوڑا لیکن سلطان ایوبی نے ایسا سرد رویہ اختیار کیا کہ بددلی سے اس کے ساتھ ہاتھ مالیا۔

‫شرف الدین!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''اپنی فوج اور جنگی سامان کے سوا قلعے میں سے جو کچھ لے جانا چاہتے ہو‪''،
‫صبح طلوع ہونے سے پہلے نکال کر لے جائو‪ ،پھر ادھر کا رخ نہ کرنا''۔ اس نے اپنے ایک ساالر سے کہا… ''کچھ نفری
‫اپنے ساتھ لے جائو اور نظر رکھو کے قلعے سے فوج اور جنگی سامان باہر نہ جائے۔ فوج کی گنتی کرو اور اسے اپنی فوج
‫میں شامل کرلو''۔
‫میں آپ کا غالم ہوں سلطان!'' شرف الدین نے کہا۔ ''قلعہ اور فوج آپ کی ہوگی۔ مجھے قلعے میں رہنے دیں''۔''
‫قلعے کی ضرورت تھی تو مقابلہ کرتے''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''تم جیسے بزدلوں اور ایمان فروشوں کو حق حاصل نہیں''
‫کہ اتنے بڑے قلعے کے امیر کہالئیں''۔
‫میں اور آپ کا مقابلہ کرتا؟'' شرف الدین نے کہا۔ ''میں نے سنا کہ آپ آئے ہیں تو میں باہر آگیا۔ مسلمان مسلمان کے''
‫خالف کیسے لڑ سکتا ہے؟''۔
‫جیسے پہلے لڑ چکا ہے'' ۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''شرف الدین! تم صلیبیوں کے دوست ہو اور نام کے مسلمان‪ ،ذرا اپنی''
‫حالت دیکھو‪ ،تم سپاہی سے کیا بن گئے ہو۔ ایمان بیچ کر عیاشی خریدنے والوں کی یہی حالت ہوتی ہے۔ شراب اور عورت
‫نے تم میں جرٔات نہیں رہنے دی۔ تم جھوٹ بھی بولتے ہو‪ ،اگر تم میں ذرا سی بھی غیرت ہوتی تو اپنا قلعہ یوں لڑے بغیر
‫اور مرے بغیر میرے حوالے نہ کرتے''۔
‫سلطان عالی مقام!'' شرف الدین نے التجا کی۔ ''مجھے قلعے میں رہنے دیجیے''۔''
‫سلطان نے اپنے ایک ساالر سے کہا۔ ''اسے قلعے میں لے جائو اور قید میں ڈال دو۔ اس کی خواہش پوری کردو''۔
‫تین چار آدمی آگے بڑھے تو شرف الدین نے سلطان ایوبی کے قریب ہوکر کہا… ''میں موصل جانا چاہتا ہوں''۔
‫ہاں۔ عزالدین تمہارا دوست ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اس کے پاس چلے جائو''۔''
‫سنجار پر سلطان ایوبی نے قبضہ کرلیا اور تقی الدین کو اس کا قلعہ دار اور امیر مقرر کیا۔
‫اس سے آگے آمد ایک قلعہ تھا۔ سلطان ایوبی نے رات باقی حصہ سنجار قلعے میں گزارا اور صبح آمد کی طرف کوچ کرگیا۔
‫آمد جسے آج کل امیدہ کہا جاتا ہے‪ ،دجلہ کے کنارے ایک مشہور قصبہ تھا اور اس کا بھی امیر مسلمان تھا۔ یہ قصبہ ایک
‫قلعہ تھا۔ سلطان ایوبی نے اسے محاصرے میں لے لیا‪ ،وہاں کی فوج اور شہریوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر آٹھویں
‫روز امیر نے ہتھیار ڈال دئیے۔ سلطان ایوبی نے وہاں کا جو امیر اور قلعہ دار مقرر کیا اس کا نام نورالدین تھا جو کارا ارسالن
‫کا بیٹا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫رعدی چار صلیبیوں کے ساتھ ابھی سفر میں تھی۔ اس کی جسمانی حالت ٹھیک ہوگئی تھی۔ صلیبیوں نے اس کے آرام کا
‫بہت خیال رکھا تھا لیکن اس رات کے بعد جب اس نے انہیں اپنی زندگی کی کہانی سنائی تھی‪ ،ان کے ساتھ کوئی بات نہ
‫کی۔ اس کے ذہن میں صلیبی کے یہ الفاظ گونج رہے تھے۔ ''تمہیں خدا نے دھتکار دیا ہے‪ ،کوئی نیکی کرو‪ ،خدا تمہیں بخش
‫دے گا''… اس کی جسمانی حالت تو ٹھیک تھی لیکن جذباتی حالت بہت بری تھی۔ وہ جس کے ساتھ حج کو جارہی تھی‪،
‫اس کی یاد اسے تڑپاتی رہتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس کے تصوروں میں حجاز کے قافلے سوئے منزل چلتے رہتے تھے۔ وہ
‫جب بہت پریشان ہوجاتی تو یہ سوچنے لگتی کہ خدا اسے اس کے گناہوں کی سزا دے رہا ہے۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ
‫گناہوں سے بخشش کس طرح مانگی جاتی ہے۔
‫رعدی اپنے چار محافظوں کے ساتھ منزل کے قریب آگئی تھی۔ یہ اب موصل کے عالقے میں داخل ہوگئے تھے۔ ایک روز
‫انہوں نے ایک شتر سوار دیکھا جس نے انہیں دیکھ کر اونٹ روک لیا تھا۔ اس نے سر اور چہرہ سیاہ پگڑی میں لپیٹ رکھا
‫تھا۔ صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ اس کی نظریں رعدی پر جمی ہوئی تھیں۔ صلیبی سپاہی اپنی فوجی وردی میں نہیں تھے‪،
‫اس لیے کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ صلیبی سپاہی ہیں۔ انہیں ڈاکو یا مسافر کہا جاسکتا تھا۔
‫اس شتر سوار کی آنکھیں دیکھی تھیں؟'' ایک صلیبی نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا۔''
‫بہت غور سے دیکھی تھیں'' ۔ دوسرے سپاہی نے جواب دیا۔ ''میں ان نظروں کو پہچانتا ہوں۔ اب ہمیں زیادہ ہوشیار رہنا''
‫پڑے گا۔ یہ لڑکی اتنی خوبصورت ہے کہ کسی ڈاکو کی نظر میں آگئی تو مشکل پیدا ہوجائے گی۔ آگے عالقہ پہاڑی ہے''۔
‫وہ دن بھر چلتے رہے۔ شام کے بعد دو چٹانوں کے درمیان موزوں جگہ دیکھ کر انہوں نے گھوڑے روک لیے اور کھانے پینے کا
‫اہتمام کرنے لگے۔ کھانے کے بعد وہ بے سدھ ہوگئے۔ صرف ایک سپاہی ہر رات کی طرح جاگتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اسے کوئی
‫آہٹ سنائی دی۔ یہ کسی گیڈر وغیرہ کے چلنے سے ڈھالن سے پتھر لڑھکا ہوگا لیکن سپاہی چوکنا ہوگیا۔ اس نے کان کھڑے
‫کرلیے‪ ،آہٹ سنائی دی۔ اس نے اپنے ایک ساتھی کو جگایا اور اسے کان میں بتایا کہ اسے کسی کی آہٹ سنائی دے رہی
‫ہے۔ وہ بھی اٹھا۔ دونوں نے کمانوں میں تیر ڈال لیے اور ایک ایک طرف ا ور دوسرا دوسری طرف کھڑا ہوگیا۔
‫رات تاریک تھی‪ ،کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ اب کوئی آہٹ سنائی نہیں دیتی تھی۔ رات کے سکوت میں یکے بعد دیگرے دو مرتبہ
‫'' پنگ پنگ'' کی آواز سنائی دی۔ پیشتر اس کے کہ دونوں سپاہی ان آوازوں کی سمت معلوم کرسکتے‪ ،ایک ایک تیر دونوں
‫کی پسلیوں میں اتر گیا۔ ان کے ساتھی دن بھر کے تھکے ہوئے گہری نیند سورہے تھے۔ ان دونوں نے تیر کھا کر انہیں آوازیں
‫دیں تو وہ ہڑبڑا کر اٹھے‪ ،بھاگتے قدموں کی آوازیں سنائی دیں تو ایک مشعل بھی جل اٹھی جو ان دونوں سپاہیوں کی طرف
‫بڑھ رہی تھی۔ فورا ً بعد وہ سات آٹھ آدمیوں کے محاصرے میں آگئے۔ ان میں ایک نے چہرہ اور سر پگڑی میں لپیٹ رکھا تھا۔
‫یہ وہی معلوم ہوتا تھا جو دن کے وقت اونٹ پرسوار تھا اور اس نے رک کر رعدی کو گہری نظروں سے دیکھا تھا۔
‫دونوں سپاہی تھے‪ ،انہوں نے تلواروں سے مقابلہ کیا لیکن سات آٹھ برچھیوں نے ان کے جسم چھلنی کردئیے اور رعدی ‪:
‫حملہ آوروں کے قبضے میں آگئی۔ وہ الگ کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر خوف کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی۔ مشعل
‫کے ناچتے ہوئے شعلے میں اس کا حسن ایسا پراسرار لگ رہا تھا جیسے وہ اس دنیا کی مخلوق نہ ہو۔
‫رعدی کو گھوڑے پر سوار کرلیا گیا۔ سیاہ پگڑی واال بھی گھوڑے پر سوار ہوا اور دونوں گھوڑے پہلو بہ پہلو چلنے لگے۔ اس
‫آدمی نے رعدی سے پوچھا… ''اپنے متعلق کچھ بتائو گی؟''… رعدی نے اپنے متعلق سب کچھ بتا دیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫رعدی کو جہاں لے جایا گیا‪ ،وہ کوئی محل یا مکان نہیں بلکہ ایک چوکور خیمہ تھا۔ اس کا آدھا حصہ زمین کے اوپر اور باقی
‫نصف زمین میں تھا۔ قناتیں اور اوپر شامیانہ پھول دار ریشمی کپڑے کا تھا۔ اندر قالین بچھا ہوا اور چوڑا پلنگ تھا۔ فانوس
‫روشن تھے۔ گمان نہیں ہوتا تھا کہ یہ خیمہ ہے۔ شراب کی صراحی بھی رکھی تھی۔ وہاں تین آدمی موجود تھے جن کے
‫متعلق فورا ً پتہ چل گیا کہ صلیبی ہیں۔ انہوں نے رعدی کو دیکھا تو وہ خاموشی سے اور حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ سیاہ

‫نقاب پوش اس کے ساتھ تھا۔ اس نے پگڑی کا نقاب اتار پھینکا اور بوال… ''ایسا تحفہ پہلے کبھی دیکھا ہے؟… اور یہ رقاصہ
‫ہے''۔
‫رعدی خاموش کھڑی رہی۔ فانونس کی روشنی میں اس کا حسن اور زیادہ طلسماتی لگتا تھا۔ وہ یہاں بھی خوفزدہ نہیں تھی۔
‫اسے پلنگ پر بٹھایا گیا اور پوچھا گیا کہ وہ کون ہے اور کہاں جارہی تھی۔ رعدی نے اپنی زندگی کی کہانی ایک بار پھر سنا
‫دی۔ اس کی کہانی سے وہاں کوئی بھی متاثر نہ ہوا۔ ان لوگوں کے پاس متاثر ہونے والے جذبات کی کمی تھی۔ اس سوال
‫کے جواب میں کہ وہ کہاں جارہی تھی‪ ،اس نے کہا… ''مجھے کسی صلیبی بادشاہ کے پاس لے جایا جارہا تھا''۔
‫تو کیا تم نے چار صلیبیوں کو قتل کردیا ہے؟'' ایک آدمی نے غصے سے اس آدمی سے پوچھا جو رعدی کو الیا تھا۔''
‫وہ صلیبی نہیں لگتے تھے''۔ اس نے جواب دیا… ''تم نے مجھے کہا کہ دو تین لڑکیاں لے آئو تاکہ اس ویرانے میں دل ''
‫بہالنے کا کوئی ذریعہ ہو۔ مجھے اتفاق سے یہ نظر آگئی۔ میں نے ان چاروں کو مشکوک مسلمان سمجھا۔ پیچھا کیا اور انہیں
‫قتل کرکے لڑکی لے آیا''۔
‫''تمہارے ساتھ کون کون تھا؟''
‫صرف دو آدمی تھے''۔ اس نے جواب دیا… ''باقی پانچ موصل کے مسلمان تھے جو یہاں پہرے کا کام کرتے ہیں''۔''
‫اگر یہ راز فاش ہوگیا کہ تم نے اپنے کسی حکمران کا تحفہ اس کے محافظوں کو قتل کرکے اڑا لیا ہے تو اس کا نتیجہ ''
‫''جانتے ہو کیا ہوگا؟
‫وہ خاموش رہا۔ اچانک ایک آدمی خیمے میں اترا اور بوال… ''یہ راز فاش نہیں ہوگا۔ تم ڈرتے ہو کہ ہم جو مسلمان تمہارے
‫ساتھ ہیں‪ ،یہ راز فاش کردیں گے۔ ایسا نہیں ہوگا''۔
‫''یہ کون ہے؟''
‫یہ میرا خاص آدمی ہے''۔ سیاہ پگڑی والے نے جواب دیا اور موصل کے کسی بڑے آدمی کا نام لے کر کہا… ''اس نے ''
‫دیا ہے‪ ،قابل اعتماد اور عقل مند ہے''۔
‫میں آپ کا ہی آدمی ہوں'' اس نے کہا… ''موصل اور اس عالقے کے جو راز آپ کے پاس جاتے ہیں‪ ،وہ میرے اور ''
‫میرے ساتھیوں کے حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں''۔
‫اس سے کچھ اور باتیں پوچھی گئیں جن کے جواب میں اس نے ایسے انداز سے باتیں کیں کہ سب نے اسے قابل اعتماد
‫سمجھ لیا۔ کسی کو ذرا سا بھی شبہ نہ ہوا کہ یہ صالح الدین ایوبی کا بڑا ہی خطرناک جاسوس ہے جس کا اصل نام حسن
‫االدریس ہے۔ خدا نے اس کے چہرے مہرے اور جسم کی ساخت میں ایسی جاذبیت پیدا کی تھی کہ دیکھنے واال اسے نظر انداز
‫نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے اپنی زبان اور لب ولہجے میں ایسا جادو پیدا کرلیا تھا جسے سننے واال مسحور ہوجاتا تھا۔ وہ
‫اداکاری اور لہجہ بدل کر بات کرنے کا ماہر تھا۔ موصل میں سلطان ایوبی کے جو جاسوس تھے‪ ،ان کا رابطہ حکام کے حلقے
‫تک بھی تھا۔ انہوں نے معلوم کرلیا تھا کہ اس درویش سے والئی موصل عزالدین بھی متاثر ہے۔ اس نے موصل کے ہر
‫باشندے کی طرح تسلیم کرلیا تھا کہ درویش کو آسمان سے اشارہ ملے گا اور اس کے بعد عزالدین اپنی فوج کو باہر نکالے گا
‫پھر یہ فوج فتح پر فتح حاصل کرتی چلی جائے گی۔
‫جاسوسوں کو عزالدین کے عقیدے کے متعلق اس کی بیوی رضیع خاتون (بیوہ نورالدین زنگی) نے اطالع دی تھی۔ اس ‪:
‫خاتون کے متعلق آپ پچھلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں۔ وہ سلطان ایوبی کی عقیدت مند تھی۔ محل کی خبریں اسی کے
‫ذریعے باہر آتی تھیں۔ اس نے جاسوسوں کو تفصیل سے بتایا تھا کہ عزالدین صلیبیوں کے جال میں بری طرح پھنس گیا ہے۔
‫صلیبیوں نے اس پر جادو ساکردیا ہے۔ یہ درویش اگر صلیبیوں کا کوئی ڈھونگ نہیں اور درویش ہی ہے تو یہ کوئی پاگل ہے۔
‫اس کا یہ کہنا ہے کہ خدا اسے فتح کا اشارہ دے گا‪ ،ہمارے اسالمی عقیدے کے منافی ہے۔ اس پیغام کے ساتھ رضیع خاتون
‫نے جاسوسوں سے کہا تھا کہ اس درویش کو بے نقاب کریں اور ممکن ہو تو قتل کردیں۔ رضیع خاتون نے اس شک کا بھی
‫اظہار کیا کہ صلیبی ان پہاڑیوں کے اندر کچھ اور کررہے ہیں۔ معلوم کرو کہ یہ کیا ہے اور اس کی اطالع سلطان ایوبی تک
‫پہنچائو۔
‫حسن االدریس درویش کی پراسرار دنیا میں داخل ہوگیا تھا اور اس نے ان صلیبیوں میں اعتماد حاصل کرلیا تھا جو پہاڑیوں میں
‫رہتے تھے مگر اسے ایک حد سے آگے پہاڑیوں میں نہیں جانے دیا جاتا تھا جو راز تھا‪ ،وہ اس حد سے آگے تھا۔ وہاں
‫پہاڑیاں اونچی تھیں اور ان میں گھری ہوئی چٹانیں تھیں۔ حسن االدریس درویش کو دیکھنا چاہتا تھا مگر وہ اسے نظر نہیں آتا
‫تھا۔ وہ کسی سے پوچھتا نہیں تھا‪ ،تاکہ اس پر کوی شک نہ کرے۔ اس نے اس قدر اعتماد حاصل کرلیا تھا کہ وہ اسے رعدی
‫کے اغوا کے لیے بھی ساتھ لے گئے تھے۔
‫رعدی اس نیم زمین دوز سائبان میں رہنے والے دو تین صلیبیوں کے تفریح کا سامان بن گئی تھی۔ ان میں جو ان کا سربراہ
‫تھا‪ ،وہ رعدی کو تفریح کے ذریعے سے کچھ زیادہ اہمیت دینے لگا تھا۔ اس لیے وہ اس لڑکی کو ہر کسی کا کھلونا بننے کی
‫اجازت نہیں دیتا تھا۔ یہ رعدی کے حسن کا اثر بھی تھا جو بازاری قسم کی ناچنے والیوں کی نسبت پاک اور معصوم لگتا تھا
‫اور یہ اثر اس کی باتوں کا بھی تھا جو ناچنے والیوں جیسی نہیں تھیں۔ ایک رات اس سربراہ نے اس سے پوچھا… ''کیا تم
‫''میری خوشنودی کے لیے ناچتی ہو اور کیا تم میرے ساتھ راتیں گزارنے میں خوشی محسوس کرتی ہو؟
‫نہ آپ کو خوش ہونا چاہیے‪ ،نہ میں خوش ہوں''۔ رعدی نے متانت سے کہا… ''مجبوری نے مجھے کھلونا بنا دیا ہے۔ ''
‫میں دل کی بات کہنے سے ڈروں گی نہیں۔ مجھے آپ سے نفرت ہے۔ میں آپ کے ہر حکم کی تعمیل شدید حقارت سے
‫کرتی ہوں''۔
‫تم جانتی ہو کہ اس بدزبانی کی پاداش میں‪ ،میں تمہارا سر تن سے جدا کرسکتا ہوں؟'' سربراہ نے کہا۔ ''میں تمہارا یہ''
‫حسین چہرہ گدھوں کے آگے پھینک سکتا ہوں''۔
‫اور یہ میرے لیے بہت بڑا انعام ہوگا''۔ رعدی نے کہا… ''میرے لیے یہ بہت سخت سزا ہے کہ میرا سر میرے تن کے ''
‫ساتھ ہے اور آپ جیسا گدھ میری
‫رو ح کو کھا رہا ہے۔ آپ اپنے آپ کو جنگجو اور بہادر سمجھتے ہیں‪ ،ایک بے بس اور مجبور لڑکی کو قید میں رکھ کر
‫فخر محسوس کرتے ہیں‪ ،مردانگی اور تلوار کے زور سے آپ مجھے اپنی لونڈی بنانا چاہتے ہیں۔ میرے دل پر اس طرح حکومت
‫کریں کہ آپ مجھ سے یہ نہ پوچھیں کہ میں آپ کی خوشنودی کے لیے آپ کا حکم مانتی ہوں؟ بلکہ میں آپ سے پوچھوں
‫''کہ میرے رقص اور میرے وجود سے آپ کو مسرت حاصل ہوتی ہے یا نہیں؟
‫''اگر میں تمہارے سامنے سونے کی ڈلیاں رکھ دو تو دل سے مجھے اپنا آقا تسلیم کرلو گی؟''

‫نہیں''۔ رعدی نے جواب دیا… ''مجھے جس انعام کی ضرورت ہے‪ ،وہ تمہارے پاس نہیں ہے۔ وہ جس کے پاس تھا وہ ''
‫مرگیا۔ وہ انسان تھا‪ ،جسے میرے جسم کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں تھی… اور تم؟… تم گدھ ہو‪ ،گیڈر ہو‪ ،بھیڑیے ہو''۔
‫''اس نے تمہیں محبت دی تھی''۔ سربراہ نے کہا… ''اگر میں تمہیں وہی محبت دے دوں تو؟''
‫میں نہیں‪ ،میری روح محبت کی پیاسی ہے''۔ اس نے کہا۔ سربراہ نے شراب کا پیالہ اٹھایا۔ منہ سے لگانے لگا تو ''
‫رعدی نے پیالہ پکڑ لیا اور اس کے ہاتھ سے لے کر رکھا نہیں بلکہ پرے پھینک دیا ور کہا… ''مجھے باتوں پر اکسایا ہے تو
‫میری باتیں سن لو۔ شراب پی لو گے تو تمہاری عقل اور جذبات پر بھی پردے پڑ جائیں گے۔ تم نے پوچھا ہے کہ تم مجھے
‫وہی محبت دے دو تو میں قبول کرلوں گی؟ مجھے پہلے اپنی محبت دکھائو۔ یہ سچی ہوئی تو مجھے اپنے ساتھ جلتے ہوئے
‫صحرا میں لے چلو گے تو ہنسی خوشی چلوں گی۔ تمہارے ساتھ جل کر مرجائوں گی''۔
‫سربراہ نے اسے دیکھا۔ اس نے اس لڑکی کے جسم کے روئیں روئیں کو دیکھا تھا۔ کئی روز سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے بھورے
‫مگر لڑکی نے نفرت اور حقارت کا اظہار ایسی بے خوفی
‫بھورے‪ ،بکھرے بکھرے بالوں کے گداز سے بھی لطف اندوز ہوا تھا۔
‫سے کردیاا ور اس کے ہاتھ سے پیالہ چھین کر پرے پھینک دیا تو اس شخص کی مردانگی جواب دے گئی۔ اس نے اپنے آپ
‫میں ایسی بے بسی محسوس کی جیسے یہ لڑکی اس پر طلسم بن کر غالب آگئی ہو۔ یہ مرد کی فطرت ہے کہ دس مردوں کا
‫مقابلہ کرسکتا ہے‪ ،درندوں سے بھی لڑ جاتا ہے مگر ایک عورت جسے وہ پسند کرتا ہے‪ ،وہ اسے کہہ دے کہ مجھے تم سے
‫نفرت ہے تو وہ ریت کی ڈھیری بن جاتا ہے۔ یہی جذباتی حالت اس شخص کی ہوئی جس نے جوانی میدان جنگ میں گزاری
‫اور مسلسل موت سے کھیل رہا تھا۔
‫میں تمہیں اپنے کسی ساتھی کے ہاتھ کھلونا نہیں بننے دوں گا''۔''
‫میں حکم کی پابند ہوں''۔ رعدی نے کہا… ''میں خودکشی نہیں کروں گی۔ یہ بزدلی ہے۔ میں بھاگنے کی بھی کوشش ''
‫نہیں کروں گی‪ ،یہ دھوکہ ہے۔ میں خودکشی کرچکی ہوں‪،اپنا من مار دیا ہے''۔
‫وہ آہستہ آہستہ اٹھا اور اس طرح قدم پھونک کر رعدی کی طرف بڑھا جیسے اس لڑکی نے اسے ہیپناٹائز کرلیا ہو۔ اس نے
‫آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ اٹھایا اور رعدی کے بالوں پر ہاتھ پھیر کربوال… ''تم میرے تصوروں سے بھی زیادہ خوبصورت ہو''۔ اس
‫نے ہاتھ پیچھے کرلیا اور بوال… ''میں نے آج پہلی بار محسوس کیا کہ تمہاری آواز میں سوز ہے‪ ،تم رقاصہ ہو۔ مغنیہ تو
‫''نہیں؟
‫میں گاتی بھی ہوں''۔ رعدی نے کہا… ''لیکن نغمہ وہ سنائوں گی جو مجھے پسند ہوگا‪ ،جس میں میرا درد ہوگا''۔''
‫وہ گنگنانے لگی ''چلے قافلے حجاز کے''۔
‫سائبان کے اندر کے ماحول پر وجد طاری ہوگیا۔ آواز رعدی کے دل سے نکل رہی تھی۔ اس نغمے میں اس کی محبت کے
‫بین تھے۔ دل کی آہیں تھیں‪ ،آرزوئوں کا سوز تھا اور اس کے ان خوابوں کا حسن تھا جو حجاز کے راستے میں شہید ہوگئے
‫تھے۔ رعدی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے‪ ،اس کی لے اور پرسوز ہوگئی… اور عجیب بات یہ ہوئی کہ صلیبی سربراہ کی
‫ایسی غنودگی آنے لگی جو اسے پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔ اسے ہر رات شراب مدہوش کرتی اور وہ اسی مدہوشی میں
‫سوجایا کرتا تھا۔
‫وہ گہری نیند سوگیا تو رعدی کی نظر اس خنجر پر پڑی جو پلنگ کے قریب تپائی پر پڑا تھا۔ رعدی نے آہستہ سے خنجر
‫نیام سے نکاال۔ اس کی نوک پر انگلی رکھی اور خنجر مضبوطی سے پکڑ کر سوئے ہوئے صلیبی کے قریب گئی۔ اس نے خنجر
‫کی نوک اس کی شہ رگ کے قریب کی‪ ،پھر دل کے قریب لے گئی۔ ہاتھ اوپر اٹھایا تو اسے آواز سنائی دی… ''شی''…
‫اس نے ادھر دیکھا۔ سائبان کا پردہ اٹھائے وہی خوبرو آدمی کھڑا تھا جس نے کہا تھا کہ وہ صلیبیوں کا جاسوس ہے۔ وہ حسن
‫االدریس تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫حسن االدریس نے رعدی کو اشارے سے اپنی طرف بالیا۔ رعدی نے خنجر نیام میں ڈاال اور پردے تک گئی… حسن االدریس ‪:
‫نے اسے بازو سے پکڑا اور باہر لے گیا‪ ،بوال… ''آج رات یہ اکیال ہے‪ ،دوسرے بہت دنوں کے لیے چلے گئے ہیں۔ یہ شخص
‫میری ذمہ داری اور حفاظت میں ہے لیکن میں سوئے ہوئے کو قتل نہیں کروں گا۔ اسے جو قتل کرنے آئے گا‪ ،وہ میرے ہاتھوں
‫مارا جائے گا… تم تو اسے کہہ رہی تھی کہ میں خود کشی نہیں کروں گی کہ یہ بزدلی ہے اور میں بھاگوں گی نہیں کہ یہ
‫''دھوکہ ہے‪ ،مگر سوئے ہوئے کو قتل کرنے لگی تھیں‪ ،کیا یہ دھوکہ نہیں؟
‫تم اسے بتا دو گے کہ میں نے اس کی شہ رگ اور دل پر خنجر رکھا تھا؟'' اس نے پوچھا اور آہ لے کے بولی… ''بتا ''
‫دینا۔ وہ مجھے قتل کردے گا۔ اس سے میرا بھال ہوجائے گا اور وہ تمہیں انعام دے گا‪ ،اس سے تمہارا بھال ہوجائے گا''۔
‫مجھے اس شخص سے اتنی ہی نفرت ہے جتنی تمہارے دل میں ہے''۔ حسن االدریس نے کہا… ''میں اسے کچھ نہیں ''
‫بتائوں گا''۔
‫''اور مجھ سے اس کا انعام مانگو گے؟'' رعدی نے پوچھا… ''بلکہ مجھے انعام کے طور پر مانگو گے؟''
‫نہیں'' حسن االدریس نے کہا… ''مجھے کسی انعام کی ضرورت نہیں''… وہ لڑکی کو ذرا پرے لے گیا اور اپنائیت کے ''
‫لہجے میں بوال… ''میں بھی تمہارے طرح حجاز کا مسافر ہوں۔ ہم نے جس رات تمہیں ان آدمیوں سے چھینا تھا‪ ،اس رات
‫تم نے اپنی زندگی کی کہانی سنائی تھی۔ تم نے اپنے جذبات اور اپنی ایک خواہش کا بھی ذکر کیا تھا۔ میں اس رات سے
‫سوچ رہا ہوں کہ تمہیں کون سی نیکی بتائوں جس سے تم خدا کی خوشنودی حاصل کرسکتی ہو''۔ حسن االدریس کی زبان
‫کے سحر نے رعدی کو مسحور کرلیا۔ وہ بولتا رہا‪ ،وہ سنتی رہی۔ سلطان ایوبی کے اس جاسوس نے اس حسینہ کے دل پر
‫قبضہ کرلیا… رعدی وہاں سے اٹھنے پر آمادہ نہیں تھی… حسن االدریس نے اسے جانے پر مجبور کیا تو وہ چلی گئی۔
‫وہ تین چار راتیں ملے۔ حسن االدریس نے رعدی کو اپنی جذباتی باتوں اور نیک نیتی کے جادو میں گرفتار کرلیا تھا۔ رعدی
‫اس سے حجاز کی باتیں پوچھتی تھی اور وہ جذباتی انداز میں اسے حجاز کی دلکش باتیں سناتا تھا۔ دن کے وقت حسن
‫االدریس اس کوشش میں لگا رہتا کہ معلوم کرسکے کہ جہاں اسے نہیں جانے دیا جاتا‪ ،وہاں کیا ہے مگر وہ کچھ بھی معلوم نہ
‫کرسکا۔ ایک رات اس نے لڑکی کو اعتماد میں لے لیا اور کہا کہ ان لوگوں نے ان پہاڑوں میں کیا چھپا رکھا ہے۔ رعدی نے
‫فورا ً جواب دیا۔ '' جنگی سامان ہے۔ اس ( سربراہ) نے مجھے بتایا تھا۔ کہتا تھا کہ اس میں آگ لگانے واال تیل اتنا زیادہ
‫ہے کہ مسلمانوں کے سارے شہروں کو جال کر بھی ختم نہ ہو… بے شک میں اس شخص کی لونڈی بلکہ داشتہ ہوں لیکن یہ
‫میرے آگے غالموں جیسی حرکتیں کرتا ہے''۔
‫''کیا تم اس سے خوش ہو کہ تم اتنے اونچے رتبے والے صلیبی کی داشتہ ہو اور یہ تمہارا غالم ہے؟''

‫نہیں!'' رعدی نے اداس لہجے میں جواب دیا… ''میں اپنے جسم کی بات کررہی ہوں۔ میری روح کبھی خوش نہیں ''
‫ہوگی۔ مجھے جو حجاز کے راستے سے اغوا کرکے الئے تھے‪ ،وہ کہتے تھے کہ خدا تم سے ناراض ہے۔ کوئی ایسی نیکی کرو
‫کہ خدا تمہارے گناہ بخش دے اور جو مجھے حجاز لے جارہا تھا اور جسے میں نے چاہا تھا‪ ،کہتا تھا کہ حج کرکے ہم پاک
‫ہوجائیں گے‪ ،پھر وہیں شادی کریں گے۔ میں تو گناہوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہوں۔ میں کیا نیکی کروں گی۔ خدا مجھے سزا
‫دیتا چال جائے گا''۔
‫زم زم کا پانی ہی نہیں‪ ،آگ بھی تمہیں پاک کرسکتی ہے''… حسن االدریس نے ہنس کر کہا… ''تم حجاز نہ پہنچ سکی‪''،
‫پاسبان حجاز کو خوش کردو تو خدا تمہاری روح کو گناہوں سے پاک کردے گا‪ ،تم نجات پالو گی''۔
‫''کون ہے پاسبان حجاز؟'' رعدی نے حیران ہوکر پوچھا… ''اور یہ کون سی آگ ہے جو مجھے پاک کرسکتی ہے؟''
‫پاسبان حجاز سلطان صالح الدین ایوبی ہے''۔ حسن االدریس نے کہا… ''اور آگ یہ ہے جو ان پہاڑوں میں کنستروں اور ''
‫مٹکوں میں تیل کی صورت میں بھری پڑی ہے۔ اس سے حجاز تک کو آگ لگائی جائے گی۔ تم کسی طرح مجھے وہاں تک
‫پہنچا دو‪ ،جہاں آگ اور جنگ کا سامان بھرا پڑا ہے''۔
‫رعدی کچھ سمجھ نہ سکی۔ حسن االدریس نے اسے بڑی لمبی کہانی سنائی۔ سلطان ایوبی کا عزم اور اس کا کردار بتایا۔
‫صلیبیوں کے عزائم بتائے اور اسے ایسی باتیں سنائیں کہ اس کے دل میں صلیبیوں کی نفرت پیدا ہوگئی اور اسے حق اور
‫باطل کا تضاد معلوم ہوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫دوسرے دن حسن االدریس نے دیکھا کہ رعدی گھوڑے پر سوار صلیبی سربراہ کے ہمراہ پہاڑیوں کے اس حصے کی طرف ‪:
‫جارہی تھی جدھر حسن االدریس کو اور صلیبی پہرہ داروں کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی… رات کو سربراہ رعدی سے دل
‫بہال کر گہری نیند سوگیا۔ یہ نیند بہت ہی گہری تھی کیونکہ رعدی نے حسن االدریس کا دیا ہوا چٹکی بھر سفوف اس کے
‫شراب کے پیالے میں ڈال دیا تھا۔ جاسوس بے ہوش کرنے واال سفوف اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے۔ رعدی اس جگہ پہنچ گئی
‫جہاں حسن االدریس اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔
‫وہاں تو بہت بڑا غار ہے'' ۔ رعدی نے اسے بتایا… ''ان لوگوں نے کھود کھود کر اسے زیادہ وسیع کرلیا ہے۔ اتنا چوڑا اور''
‫لمبا کہ دہانے سے دوسرا سرا نظر نہیں آتا۔ اندر آگ لگانے والے تیل کے ہزار ہا مٹکے اور کنستر رکھے ہیں۔ ساتھ ہی
‫برچھیاں‪ ،تیروکمان‪ ،اناج‪ ،خیمے‪ ،کپڑے اور بے انداز سامان پڑا ہے… میں نے اس صلیبی سردار سے بچوں کی طرح کہا کہ میں
‫ان پہاڑیوں کے اندر سیر کرنا چاہتی ہوں۔ اس نے کہا کہ کل دن کو لے چلوں گا۔ تم تو میری ملکہ ہو۔ کسی کو بتانا مت
‫کہ میں تمہیں ادھر لے گیا تھا۔ وہ مجھے لے گیا''… رعدی نے اسے بتایا کہ اس غار میں سامنے دو آدمی پہرے پر کھڑے
‫رہتے ہیں اور غار کا دہانہ کھال رہتا ہے۔ غار سے سو ڈیڑھ سو گز دور پہرہ دار دستے کے خیمے ہیں۔ رعدی نے کہا… ''غار
‫سے ذرا پرے ایک خیمہ ہے جس کے باہر ایک ضعیف آمی بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ سربراہ نے اسے پائوں کی ٹھوکر سے بیدار
‫کرکے کہا… ''اوئے درویش! کوئی تکلیف تو نہیں؟ کھانا ٹھیک ملتا ہے؟… بوڑھے نے صغیف آواز میں پوچھا۔ ''جناب‪ ،مجھے
‫کب رہا کرو گے؟ مجھے اب جانے دو''… سربراہ نے نفرت سے کہا… ''ابھی انتظار کرو‪ ،بہت انعام ملے گا''… یہ شاید
‫وہی درویش ہے جس کا تم نے ذکر کیا تھا''۔
‫ہاں!'' حسن االدریس نے کہا… ''یہ صلیبیوں کا وہی ڈھونگ ہے جس نے موصل کے باشندوں اور ان کے والئی عزالدین ''
‫کو بھی دیوانہ بنا رکھا ہے… آئو رعدی! ہم دونوں مل کر خدا سے تمہارے گناہوں کی بخشش حاصل کریں گے''۔
‫دونوں چل پڑے مگر چھپ چھپ کر۔ رات کا اندھیرا فائدہ دے رہا تھا۔ وہ چٹانوں کی تنگ گلیوں سے گزرتے‪ ،رکتے‪ ،ادھر ادھر
‫دیکھتے‪ ،کان کھڑے کیے ہوئے اس جگہ پہنچ گئے‪ ،جہاں دو پہرہ دار کھڑے تھے۔ ان کے قریب ایک مشعل جل رہی تھی جس
‫کا ڈنڈا زمین میں گڑھا ہوا تھا۔ حسن االدریس اور رعدی ان سے پندرہ بیس قدم دور چھپے رہے۔ دونوں اپنی اپنی جان کی
‫بازی لگانے آئے تھے۔ خدا دیکھ رہا تھا۔ حسن االدریس کھانسا اور رعدی کو ایک طرف کردیا اور خود بیٹھ گیا۔ ایک سنتری
‫''کون ہے؟'' پکار کر ادھر آیا۔ اندھیرے میں اسے کچھ نظر نہ آیا۔ حسن االدریس نے پیچھے سے اس کی گردن بازو کے
‫گھیرے میں جکڑ لی اور دوسرے ہاتھ سے خنجر کے تین چار وار اس کے دل کے مقام پر کیے۔ سنتری گر پڑا۔
‫حسن االدریس انتظارکرتا رہا۔ دوسری سنتری نے اپنے ساتھی کو پکارا۔ اسے جواب نہ مال تو وہ آہستہ آہستہ ادھر آیا۔ وہ جب
‫اپنے مرے ہوئے ساتھی کے قریب پہنچا تو اندھیرے میں اسے کوئی زمین پر پڑا نظر آیا۔ اس نے جھک کر دیکھا اور وہ حسن
‫االدریس کے شکنجے میں آگیا۔ رعدی نے انتظار نہ کیا۔ وہ غار کی طرف دوڑی اور زمین سے مشعل اکھاڑ کر غار کے اندر
‫چلی گئی۔ حسن االدریس نے دوسرے سنتری کو بھی ختم کردیا۔ پہرے داروں کا دستہ خیموں میں سویا ہوا تھا۔ حسن االدریس
‫نے رعدی کو پکارا مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ وہ غار کی طرف دوڑا۔ وہاں مشعل بھی نہیں تھی۔
‫اتنے میں غار میں ایک شعلہ اٹھا۔ رعدی دوڑتی باہر آئی۔ اس کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے غار کے اندر آتش
‫گیر سیال کا ایک مٹکا اوندھا کرکے مشعل سے اسے آگ لگا دی تھی۔ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ سیال کس طرح بھڑک کر
‫جل اٹھتا ہے۔ شعلے نے پھیل کر رعدی کو بھی زد میں لے لیا۔ جب حسن االدریس نے اسے پکڑا‪ ،اس وقت اس کا اتنا
‫حسین چہرہ سیاہ ہوچکا تھا اور اس کے ریشم جیسے بال جل چکے تھے۔ حسن االدریس نے اس کے کپڑوں کی آگ بجھاتے
‫اپنے ہاتھ جال لیے۔ کپڑوں کی آگ تو بجھ گئی مگر رعدی پر غشی طاری ہورہی تھی۔ اس کی آنکھیں جھلس کر بند ہوگئی
‫تھیں۔
‫حسن االدریس نے اسے کندھے پر اٹھایا اور دوڑ پڑا۔ ممنوعہ عالقے سے نکل کر اسے اگلے عالقے سے پوری واقفیت تھی۔ غار
‫میں ُر کی ہوئی آگ نے بند کنستروں اور مٹکوں کو اتنی حرارت دے دی کہ ایک مہیب دھماکہ ہوا جس سے زمین زلزلے کی
‫طرح کانپی۔ ہزاروں من بند آتش گیر سیال ایک ہی بار پھٹ گیا تھا۔ اس نے جہاں تباہی کا سارا سامان تباہ کیا‪ ،وہاں
‫صلیبیوں کا چھپایا ہوا تمام تر اسلحہ اور دیگر سامان بھی بھسم ہوگیا۔
‫دھماکے نے موصل شہر کو جگا دیا۔ لوگوں پر دہشت طاری ہوگئی۔ حسن االدریس شہر میں داخل نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ ‪:
‫شہر کے دروازے بند تھے۔ وہ شہر کے بجائے نصیبہ کی طرف چل پڑا۔ وہ خطرے سے نکل گیا تھا۔ اس نے رعدی کو کندھے
‫پر ڈال رکھا تھا۔ بہت دور جاکر وہ تھک گیا۔ ُرکا اور رعدی کو زمین پر لٹا دیا۔ رعدی نے سرگوشی کی… ''آگ نے مجھے
‫پاک کردیا ہے''… وہ ہنسی اور خواب میں بڑبڑانے کے لہجے میں بولی… ''قافلہ حجاز کو جارہا ہے۔ وہاں جاکر شادی کریں
‫گے''۔
‫رعدی‪ ،رعدی''۔ حسن االدریس نے اسے بالیا۔''

‫خدا نے میرے گناہ بخش دئیے ہیں نا؟'' رعدی نے پوچھا۔ وہ اٹھ بیٹھی اور بازو آگے کرکے بولی… ''وہ جارہے ہیں‪'' ،
‫دیکھو۔ وہ قافلے حجاز کو جارہے ہیں۔ میں بھی جارہی ہوں''۔
‫وہ ایک طرف گری۔ حسن االدریس نے اسے بالیا‪ ،ہالیا‪ ،آخر نبض پر ہاتھ رکھا… رعدی کی روح حجاز کے قافلے کے ساتھ
‫جاچکی تھی۔
‫حسن االدریس نے خنجر سے قبر کھودی۔ صبح تک وہ دو اڑھائی فٹ گہرا اور رعدی کے قد جتنا لمبا گڑھا کھود سکا۔ اس نے
‫رعدی کو اس میں لٹایا اور اوپر مٹی ڈال دی۔
‫جب کچھ روز بعد سلطان صالح الدین ایوبی کو صلیبیوں کے ذخیرے کی تباہی کی اطالع ملی تو اس وقت وہ ایک مشہور مقام
‫تل خالد کی طرف پیش قدمی کررہا تھا۔ تل خالد ایک بڑی ریاست تھی جس کا حکمران سوکمان القطبی شاہ ارمن تھا۔ وہ
‫اس وقت ہر زم کے مقام پر تھا جہاں اسے والئی موصل عزالدین کو فوج اور دیگر جنگی مدد دیتا۔ سلطان ایوبی کو اس
‫مالقات کا علم قبل از وقت ہوگیا۔ اس نے شاہ ارمن کے دارالحکومت تل خالد کو محاصرے میں لینے کے لیے پیش قدمی
‫کردی۔
20:59
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 139دوسرا درویش
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫صلیبیوں کے لیے یہ چوٹ معمولی نہیں تھی کہ انہوں نے مسلمان کے عالقے موصل کے قریب پہاڑیوں کے غاروں کو وسیع
‫کرکے اتنا زیادہ اسلحہ اور آتش گیر سیال چھپا کر رکھا تھا جس سے وہ سلطنت اسالمیہ کی تمام تر قلعہ بندیوں کو کھنڈروں
‫میں بدل سکتے تھے‪ ،مگر سلطان ایوبی کے تباہ کار جاسوسوں نے اسے اڑا دیا۔ یہ سامان چونکہ پہاڑی کے اندر وسیع غار
‫میں تھا۔ اس کے دھماکے نے دور دور تک زمین یوں ہال دی تھی جیسے زلزلہ آیا ہو۔ یہ تو کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ
‫یہ تباہی کس طرح بپا کی گئی ہے جس سے صرف صلیبیوں کی ہی نہیں بلکہ صلیبیوں کے سب سے بڑے اتحادی عزالدین
‫کی بھی کمر ٹوٹ گئی تھی۔ انہوں نے سلطان ایوبی کے خالف جو درپردہ معاہدہ کررکھا تھا‪ ،اس معاہدے کے پرخچے اڑ گئے
‫تھے۔ صلیبیوں کو یقین تھا کہ یہ سلطان ایوبی کے جاسوسوں کا کام ہے۔ انہوں نے سوچا ہی نہیں کہ یہ اتفاقیہ حادثہ بھی
‫ہوسکتا ہے۔
‫پچھلی قسط میں تفصیل سے بیان کیا جاچکا ہے کہ صلیبی موصل کے والی عزالدین کو اپنا اتحادی بنا کر موصل کے پہاڑی
‫عالقے کو اپنا فوجی اڈہ اور اسلحہ بارود اور دیگر رسدکا بہت بڑا ذخیرہ بنانا چاہتے تھے مگر رعدی نام کی صرف ایک لڑکی
‫نے اپنے ساتھی حسن االدریس کے تعاون سے ان کا ذخیرہ تباہ کردیا۔ اس عالقے سے لوگوں کو دور رکھنے کے لیے ایک
‫درویش کی نمائش کرکے اس کی زبانی یہ مشہور کرادیا گیا تھا کہ یہ درویش اس عالقے کی ایک پہاڑی پر بیٹھے گا اور اسے
‫خدا موصل کی فتح کا اشارہ دے گا پھر موصل یعنی عزالدین کی سلطنت دور دور تک پھیل جائے گی۔ اس درویش کا یہ
‫انجام ہوا کہ اسلحہ اور آتش گیر سیال کی تباہی کے ساتھ ہی تباہ ہوگیا۔
‫دوسرے دن موصل کے لوگوں پر دہشت طاری تھی۔ انہیں بتانے واال کوئی نہ تھا کہ رات یہ دھماکہ اور زمین کا لرزہ کیسا تھا
‫اور پہاڑیوں میں سے یہ جو سیاہ بادل اٹھ اٹھ کر آسمان کو جارہے ہیں‪ ،یہ کیسے ہیں۔ آتش گیر سیال کئی روز جلتا رہا تھا۔
‫اس کے ساتھ وسیع غار میں اندر جو سامان رکھا تھا‪ ،وہ بھی جل رہا تھا۔ ڈر کے مارے کوئی ادھر جاتا نہیں تھا۔ سب اسے
‫درویش کی کرامات یا قہر سمجھ رہے تھے۔ ایسی دہشت زدگی کی اذیت ناک کیفیت میں انہیں ایک صدا سنائی دی… ''وہ
‫جہنم کی آگ میں جل گیا ہے۔ وہ اپنے جہنم میں جل گیا ہے''۔
‫یہ ایک اور درویش تھا جو سبز قبا میں ملبوس تھا۔ سر کے بال لمبے اور سفید تھے‪ ،داڑھی بھی لمبی اور سفید تھی۔ اس
‫کے چہرے پر بڑھاپے کی جھریاں تھیں۔ ایک ہاتھ میں لمبا عصا اور دوسرے میں قرآن تھا۔ یہ اسی درویش کی مانند تھا جو
‫اسی کی طرح اچانک نمودار ہوا اور جب وہ بازار میں آیا تو خوف سے کانپتے ہوئے لوگوں نے اسے روک کر گھیر لیا۔ اس
‫کی آنکھیں نیم وا تھیں۔ اس نے رک کر کہا… ''وہ جہنم میں جل گیا ہے جو کہتا تھا خدا اشارہ دے گا۔ اس کے انجام سے
‫عبرت حاصل نہ کرنے والو! تم سب اسی جہنم میں‪ ،اسی دنیا میں جلو گے۔ خدا نے تمہیں رات کو بجلی کی کڑک کی آواز
‫سے اشارہ دے دیا ہے۔ وہ سیاہ دھواں دیکھو۔ اللہ کے قہر سے ڈرو۔ اس کتاب کو مانو جو میرے ہاتھ میں ہے۔ یہ اللہ کا
‫کالم ہے۔ یہ قرآن پاک ہے''۔
‫خدا کے لیے ہمیں کچھ بتا''۔ ایک بوڑھے نے آگے ہوکر پوچھا۔ ''یہ سب کچھ کیا تھا؟ وہ کون تھا؟ تم کون ہو؟ ہمیں ''
‫بتا کہ رات زمین کیوں لرزی تھی اور یہ سیاہ دھواں کیسا ہے؟''۔
‫وہ مجذوب تھا''۔ نئے د رویش نے کہا… ''پاگل تھا‪ ،اس نے اللہ کے رازوں کی دنیا میں دخل دیا۔ اللہ کے سوا کوئی ''
‫اور فتح کا یا کسی خوشخبری کا اشارہ نہیں دے سکتا۔ فتح اور شکست‪ ،خوشی اور غم اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے اپنے
‫آپ کو اللہ کا ایلچی کہا اور گناہ گار ہوا۔ اس نے سزا پالی۔ جاکر دیکھو‪ ،اس کی ایک ہڈی بھی نظر نہیں آئے گی۔ وہ جس
‫پہاڑ پر بیٹھا تھا‪ ،اس پہاڑ کو بھی سزا ملی۔ وہ سیاہ دھواں دیکھو‪ ،پہاڑ ابھی تک جل رہا ہے۔ اس جھوٹے درویش کو اب
‫بھی سچا مانو گے تو تم بھی جلو گے''۔
‫''ہمیں بتا سچا کون ہے؟'' لوگوں نے پوچھا… ''کیا تو سچا ہے؟''
‫نہیں'' ۔ اس نے جواب دیا اور قرآن بلند کرکے کہا… ''اللہ کا یہ کالم سچا ہے۔ اس درویش کو بھول جائو‪ ،اس کتاب کی''
‫بات مانو جو اشارے اللہ نے اس میں دئیے ہیں‪ ،وہ کوئی انسان نہیں دے سکتا''۔
‫وہ آگے چل پڑا۔
‫٭ ٭ ٭
‫٭
‫وہ دن بھر موصل میں یہی صدا لگاتا پھرتا رہا… ''وہ جہنم کی آگ میں جل گیا ہے‪ ،وہ اپنی آگ میں جل گیا ہے‪ ،جہاں
‫اسے لوگ روک لیتے‪ ،وہ اس موضوع پر وعظ دیتا کہ غیب کا حال کوئی انسان نہیں جانتا اور خدا کے اشارے یہی ہیں جو
‫قرآن میں ہیں۔ اس نے ظہر کی نماز ایک مسجد میں پڑھی‪ ،عصر کی کسی دوسری مسجد میں اور مغرب کی ایک اور مسجد
‫میں پڑھی۔ وہ جس مسجد میں گیا وہاں نمازیوں کے ہجوم جمع ہوگئے۔ اس نے ہر مسجد میں یہی وعظ دیا کہ برحق صرف
‫قرآن پاک ہے اور اے لوگو! قرآن کے اشاروں پر عمل کرو''۔

‫وہ مغرب کی نماز پڑھ کر نکال تو رات گہری ہورہی تھی۔ وہ ایک ویرانے کی طرف چل پڑا۔ لوگ بھی اس کے پیچھے چل
‫پڑے۔ اس نے سب کو روک کر کہا… ''اب میرے پیچھے کوئی نہ آئے۔ میں ساری رات ویرانے میں عبادت کروں گا اور
‫تمہارے گناہوں کی بخشش مانگوں گا''۔
‫اس نے لوگوں پر ایسا تاثر پیدا کردیا تھا کہ ان کے دلوں میں پہلے درویش کی دہشت نکل گئی تھی۔ اس نے لوگوں سے
‫وہیں رکنے کو کہا تو وہ رک گئے۔ اس نے دعائیہ الفاظ کہے اور اندھیرے میں غائب ہوگیا۔ لوگ وہیں کھڑے چہ میگوئیاں کرتے
‫رہے۔ کسی میں اس کے پیچھے جانے کی جرٔات نظر نہیں آتی تھی مگر ایک آدمی ایسا تھا جو اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے
‫ہوئے لوگوں کی نظریں بچا کر درویش کے پیچھے جارہا تھا۔ درویش لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوکر تیز چلنے لگا تھا۔ اس
‫کے پیچھے جانے والے آدمی نے بھی قدم تیز کرلیے۔ اس کے قدموں کی آواز پر درویش رکا اور پیچھے دیکھا۔ وہ آدمی جسے
‫اندھیرے میں درویش سائے کی طرح نظر آرہا تھا‪ ،فورا ً رکا اور بیٹھ گیا۔ درویش کو کچھ بھی نظر نہ آیا تو وہ چل پڑا لیکن وہ
‫بار بار گھوم کر دیکھتا تھا۔
‫کچھ اور آگے گئے تو یہ آدمی درویش کے قریب پہنچ گیا۔ درویش نے بلند آواز سے کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ یہ کسی آیت کا
‫ورد تھا۔ اس نے قدم سست کرلیے۔ پیچھے والے آدمی نے اپنے کمر بند سے خنجر نکاال اور دبے پائوں وہ فاصلے طے کیا جو
‫اس کے اور درویش کے درمیان رہ گیا تھا۔ اس نے خنجر واال ہاتھ اوپر کیا۔ وہ پیچھے سے درویش پر وار کرکے اسے ختم
‫کرنے کو تھا۔ خنجر ابھی اوپر ہی تھا کہ درویش بجلی کی تیزی سے گھوما۔ اس نے اپنا موٹا عصا اوپر کو گھمایا۔ عصا اس
‫آدمی کی خنجر والی کالئی پر لگا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اس آدمی کے پیٹ میں ایسی الت جمائی کہ وہ آدمی دہرا
‫ہوگیا۔ درویش کے ایک ہاتھ میں قرآن تھا‪ ،اس لیے وہ ایک ہی ہاتھ سے لڑ سکتا تھا۔ اس نے عصا اس آدمی کے سر پر
‫مارا۔ اس کا خنجر اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
‫درویش نے خنجر اٹھا لیا۔ وہ آدمی آہستہ آہستہ اٹھ رہا تھا۔ درویش نے اسے کہا… ''خنجر میرے ہاتھ میں ہے‪ ،پیٹ کے بل
‫لیٹے رہو''۔
‫وہ آدمی پیٹ کے بل لیٹ گیا۔ درویش نے منہ سے کسی جانور کی آواز نکالی۔ ایسی ہی آواز دور سے بھی سنائی دی۔ اس
‫نے پھر آواز نکالی۔ اندھیرے میں دوڑتے قدموں کی آہٹیں سنائی دیں۔ دو آدمی درویش کے قریب آرکے۔ درویش نے ہنس کر
‫کہا… ''اس بدبخت نے وہی حرکت کی ہے جس کا ہمیں پہلے ہی خطرہ تھا۔ مجھے تو امید تھی کہ دن کے وقت موصل
‫کے کسی دریچے سے تیر آئے گا اور میرے دل میں اتر جائے گا لیکن انہوں نے مجھے رات کو اس سے قتل کرانے کی
‫کوشش کی ہے۔ یہ لو اس کا خنجر''… درویش نے زمین پر لیٹے ہوئے آدمی کو عصا کی ہلکی سے ضرب لگا کر کہا… ''اٹھ
‫''مردود! تو مسلمان ہے؟
‫ہاں میرے بزرگ!'' اس شخص نے ادب سے کہا… ''میں مسلمان ہوں''۔''
‫درویش اور اس کے دونوں ساتھیوں نے قہقہہ لگایا۔ درویش نے اسے کہا… ''مجھے بزرگ نہ کہو دوست! میں تم سے زیادہ
‫جوان ہوں''۔
‫تمہارا بہروپ کامیاب رہا ہے''۔ درویش کو اس کے ایک ساتھی نے کہا۔''
‫اس آدمی کو تینوں اپنے ساتھ دور ایک خیمے میں لے گئے جس کے قریب چار پانچ اونٹ بندھے تھے۔ اردگرد چٹانیں ‪:
‫تھیں۔ اس آدمی کو خیمے میں بٹھایا گیا۔ ایک دیا جل رہا تھا‪ ،اس نے دیکھا کہ درویش کا چہرہ تو جھریوں بھرا تھا جیسے
‫وہ اسی سال کا بوڑھا ہو لیکن اب اس کی آواز جوانوں جیسی تھی۔ درویش نے سفید داڑھی اور سر کے لمبے بال اتار دئیے۔
‫اس کے ایک ساتھی نے اسے پانی میں بھیگا ہوا کپڑا دیا جو درویش نے اپنے منہ پر رگڑا۔ بڑھاپے کی جھریاں غائب ہوگئیں۔
‫ان میں سے جوان چہرہ برآمد ہوا‪ ،وہ ایک جوان آدمی کا چہرہ تھا‪ ،جس پر سلیقے سے تراشی ہوئی چھوٹی چھوٹی داڑھی
‫تھی۔
‫تم اصل میں کون ہو؟'' حملہ کرنے والے نے اس سے پوچھا۔''
‫جسے تم قتل کرنے آئے تھے''۔ اس نے کہا… ''اب تم بتا دو کہ تمہیں کس نے میرے قتل کے لیے بھیجا تھا۔ کچھ ''
‫چھپانے کی کوشش کرو گے تو بہت بری موت مرو گے''۔
‫میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں''۔ اس آدمی نے جواب دیا… ''مجھے محل کے ایک حاکم احمد بن عمرو نے''
‫کہا تھا کہ شہر میں ایک درویش پھر رہا ہے۔ اس نے مجھے تمہارا حلیہ اور تمہاری صدائیں بتائی تھیں اور کہا تھا کہ اس
‫درویش کو اندھیرے میں قتل کرنا ہے۔ کسی کو پتہ نہ چلے۔ احمد بن عمرو نے کہا تھا کہ درویش کو قتل کرکے آئو گے تو دو
‫سو دینار ملیں گے''۔
‫''کیا احمد بن عمرو مجھے بوڑھا درویش سمجھ رہا تھا؟''
‫اس نے بتایا نہیں''۔ اس آدمی نے جواب دیا… ''اس نے یہی کہا تھا کہ درویش کو قتل کرنا ہے''۔''
‫درویش کا بہروپ دھارنے والے اس کے دونوں ساتھی صالح الدین ایوبی کے زمین دوز گروہ کے آدمی تھے جو موصل میں کام
‫کررہے تھے۔ پچھلی کہانی میں جس درویش کا ذکر آیا ہے‪ ،اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے سلطان ایوبی کے گروہ کے
‫ان آدمیوں نے ایک آدمی کو درویش بنایا اور اسے شہر میں گھمایا تھا۔ لوگ توہم پرست تھے‪ ،درویشوں کو خدا کی آواز
‫سمجھتے تھے۔ پہلے درویشوں کو صلیبیوں نے اپنے ایک فریب کی کامیابی کے لیے استعمال کیا تھا۔ سلطان ایوبی کے آدمیوں
‫نے اپنے ایک جوان ساتھی کو درویش کے بہروپ میں پیش کرکے لوگوں کو توہم پرستی سے ہٹا کر قرآن کی طرف مائل کرنے
‫کی کامیاب کوشش کی تھی۔
‫اعلی حاکم تھا
‫احمد بن عمرو جو موصل میں بن عمرو کے نام سے مشہور تھا‪ ،والئی موصل عزالدین کی انتظامیہ کا ایک
‫ٰ
‫جس کی حیثیت وزیر جتنی تھی۔ اسے اطالع ملی کہ ایک درویش شہر میں پہلے درویش کے خالف صدائیں لگاتا پھر رہا ہے
‫لہذا اسے قتل کرنا ضروری ہے‪ ،ورنہ لوگوں کو پہلے درویش
‫تو وہ سمجھ گیا کہ یہ سلطان ایوبی کے حامی گروہ کا آدمی ہے‪ٰ ،
‫کی اصلیت کا علم ہوجائے گا اور انہیں یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ پہاڑوں میں کیا جل رہا ہے۔ سلطان ایوبی کے اس آدمی
‫کو قتل کرنے کے لیے محل کے حفاظتی دستے کا ایک سپاہی منتخب کیا گیا اور اسے دو سو دینار کا اللچ دے کر
‫'' درویش'' کے قتل کے لیے بھیجا گیا۔ کرائے کا یہ قاتل جسے بوڑھا سمجھ رہا تھا‪ ،وہ ایک جوان آدمی نکال۔ اسے معلوم
‫نہیں تھا کہ بوڑھے کے بہروپ میں یہ جوان آدمی تجربہ کار لڑاکا جاسوس اور چھاپہ مار ہے۔
‫بن عمرو کے بھیجے ہوئے اس قاتل کو دئیے کی روشنی میں خیمے میں بٹھا کر بہت کچھ پوچھا گیا‪ ،لیکن اس سے کوئی راز
‫معلوم نہ ہوسکا۔ وہ صلیبیوں کے کسی باقاعدہ جاسوس یا تخریب کار گروہ کا آدمی نہیں تھا۔ وہ اجرت پر صرف قتل کرنے

‫آیا تھا۔ جس آدمی نے درویش کا بہروپ دھارا تھا‪ ،اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ تینوں نے آنکھوں ہی آنکھوں
‫میں کچھ طے کرلیا۔ ان میں سے ایک اٹھا اور خیمے سے رسی کا ایک گز بھر لمبا ٹکڑا اٹھایا۔ وہ کرائے کے اس قاتل کے
‫پیچھے ہوا اور تیزی سے رسی اس کے گردن کے گرد لپیٹ کر ایسا پھندا بنایا کہ یہ آدمی تڑپنے لگا اور ذرا سی دیر میں
‫ٹھنڈا ہوگیا۔ دوسرے دن احمد بن عمرو والئی موصل عزالدین کے دیوڑھی نما کمرے میں اس کے پاس کھڑا تھا۔ وہ غصے میں
‫تھا اور عزالدین کے چہرے پر پریشانی تھی۔ احمد بن عمرو کے ہاتھ میں ایک کاغذ ان کے سامنے فرش پر ایک الش پڑی
‫تھی جس کی گردن کے گرد رسی لپٹی ہوئی تھی اور اس رسی کے ساتھ یہ کاغذ بندھا ہوا تھا جو عزالدین کے پاس تھا۔ یہ
‫حفاظتی دستے کے اس سپاہی کی الش تھی جسے اس نے نئے درویش کو اندھیرے میں کہیں جاکر قتل کرنے کو بھیجا تھا۔ بن
‫عمرو ساری رات اس سپاہی کا انتظار کرتا رہا تھا۔ صبح اسے اطالع ملی کہ اس کے گھر کے سامنے ایک الش پڑی ہے۔ وہ
‫باہر آیا۔ زمین پر اس کے سپاہی کی الش پڑی تھی۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھی‪ ،زبان باہر آگئی تھی۔ گردن کے گرد رسی تھی
‫اور رسی کے ساتھ کاغذ بندھا تھا۔
‫کاغذ پر لکھا تھا۔ ''عزالدین والئی موصل کے نام… تمہارے ایک حاکم احمد بن عمرو نے اس آدمی کو میرے قتل کے لیے ‪:
‫بھیجا تھا۔ میں اس کی الش عزت واحترام سے احمد بن عمرو کی دہلیز پر رکھ چال ہوں۔ یہ بدنصیب سپاہی مجھے قتل
‫نہیں کرسکتا۔ تم بھی اسی طرح کے بدنصیب ہو جو سلطان ایوبی کا ابھی تک کچھ نہیں بگاڑ سکے اور آئندہ بھی کچھ نہیں
‫بگاڑ سکو گے۔ کفار کی دوستی سے تم ذلت کے سوا کچھ حاصل نہیں کرسکو گے۔ ہم تمہیں چین سے جینے نہیں دیں گے۔
‫ایک روز تمہاری الش بھی تمہارے محل کی دہلیز پر پڑی ہوگی۔ احمد بن عمرو جیسے حاکموں اور مشیروں سے بچو۔ یہ
‫خوشامدی ٹولہ تمہارا کبھی وفادار نہیں ہوسکتا۔ یہی لوگ تمہارے زوال کا باعث بنیں گے۔ ہماری طاقت دیکھو‪ ،تمہارا فوجی
‫مشیر احتشام الدین بیروت صلیبیوں کے ساتھ درپردہ معاہدے کے لیے گیا لیکن ہم نے اسے الپتہ کردیا۔ وہ اب سلطان ایوبی کے
‫پاس ہے۔ تمہارے صلیبی دوستوں نے پہاڑیوں کو کھود کر ان کے اندر جنگی سامان رکھا۔ ہم نے یہ سامان نذرآتش کرکے تمہاری
‫ریاست کو زلزلے کا جھٹکا دیا۔ تم نے اپنے ایک سپاہی کو میرے قتل کے لیے بھیجا اور ہم نے تمہارے سپاہی کی الش تم
‫تک پہنچا دی۔ ہم جنوں اور بھوتوں کی طرح تم پر غالب رہیں گے مگر تم ہمیں دیکھ نہیں سکو گے۔ تمہارا زوال شروع
‫ہوچکا ہے۔ تمہاری نجات اسی میں ہے کہ سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کرلو اور اپنی فوج اس کے حوالے کردو۔ ہمیں قبلہ
‫اول آزاد کرانا ہے۔ اس دنیاوی بادشاہی اور جاہ وجالل سے باز آجائو۔ تخت وتاج نے کسی کا کبھی ساتھ نہیں دیا''۔
‫احمد بن عمرو نے الش اپنے گھر کے سامنے سے اٹھوائی اور عزالدین کے سامنے جا رکھوائی۔ عزالدین نے بھی یہ تحریر
‫پڑھی اور کاغذ بن عمرو کو دے کر گہری سوچ میں کھو گیا۔احمد بن عمرو غصے کا اظہار کررہا تھا لیکن عزالدین کا غصہ
‫سرد پڑ چکا تھا۔
‫مجھے اطالع ملی ہے کہ مسجدوں میں بھی اس نئے درویش کے چرچے ہورہے ہیں''… عزالدین نے کہا … ''اور اب اس ''
‫تحریر سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ کوئی درویش نہیں بلکہ صالح الدین ایوبی کا کوئی آدمی ہے''۔ اس نے کاغذ مروڑ کر
‫الش پر پھینک دیا۔
‫میں اسے تالش کرلوں گا''… احمدبن عمرو نے غصے سے کہا… ''اور سرعام اس کا سرتن سے جدا کرائوں گا''۔''
‫ٹھنڈے دل سے سوچو''… عزالدین نے کہا… ''اس ایک آدمی کو قتل کردینے سے تم صالح الدین ایوبی کو کوئی نقصان ''
‫نہیں پہنچا سکتے۔ ہمیں کچھ اور کرنا ہے‪ ،کچھ اور سوچنا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ صلیبی صالح الدین ایوبی پر حملہ کردیتے‪،
‫مگر معلوم نہیں وہ آگے کیوں نہیں آرہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں صالح الدین ایوبی سے براہ راست ٹکر لوں‪ ،پھر وہ میری مدد
‫اس طرح کریں گے کہ ان کے چھاپہ مار دستے صالح الدین ایوبی کے پہلوئوں اور عقب پر اور اس کی رسد پر شب خون
‫مارتے رہیں گے۔ اس طرح مجھے میدان جنگ میں برتری اور کامیابی حاصل ہوگی''۔
‫اور ضرور ہوگی''… احمد بن عمرو نے فرش پر پائو مارتے ہوئے کہا۔''
‫اس تحریر میں صحیح لکھا ہے کہ تم خوشامدی ہو''… عزالدین نے کہا… ''میں ایک الجھن میں پڑا ہوا ہوں اور تم خوش''
‫کرنے کے لیے بچوں کی طرح باتیں کررہے ہو۔ کیا تم مجھے کوئی بہتر مشورہ نہیں دے سکتے؟''… اس نے تالی بجائی۔ ایک
‫نوجوان خادمہ دوڑی آئی۔ اس نے جھک کر سالم کیا۔ عزالدین نے کہا… ''دربان سے کہو کہ یہ الش اٹھوالے اور کہیں دفن
‫کردے''… یہ کہہ کر وہ دوسرے کمرے میں چال گیا جو اس کا خاص کمرہ تھا۔ احمد بن عمرو بھی ساتھ تھا۔ عزالدین پھر
‫ادھر آیا اور خادمہ سے کہا… ''صراحی اور پیالے لے آئو۔ دربان سے کہو کسی کو ادھر نہ آنے دے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫خادمہ نے الش دیکھی تو وہ ڈر گئی۔ اس کی نظر مروڑے ہوئے کاغذ پر پڑی۔ وہ عربی پڑھ سکتی تھی۔ اس نے تحریر پڑھی
‫اور کاغذ اپنے کپڑوں کے اندر چھپا لیا۔ دوڑ کر باہر گئی۔ دربان سے کہا کہ الش اٹھوا کر دفن کرادے اور صراحی اور دو پیالے
‫سنہری تھال میں رکھ کر عزالدین کے کمرے میں چلی گئی۔
‫شاہ آرمینیا نے میرے پیغام کا جواب دے دیا ہے''… عزالدین بن عمرو سے کہہ رہا تھا… ''اس نے مجھے اپنے ''
‫دارالحکومت تل خالد میں ملنے کے بجائے مجھے ہر زم بالیا ہے۔ وہ تل خالد سے روانہ ہوگیا ہے۔ میں دو روز بعد اسے
‫ملنے جارہا ہوں''۔
‫خادمہ نے پیالوں میں جلدی جلدی شراب ڈالنے کے بجائے کپڑے سے پیالے پونچھنے شروع کردئیے۔ اس کے کان عزالدین ‪:
‫کی باتوں پر لگے ہوئے تھے۔
‫میرا خیال ہے شاہ آرمینیا تل خالد سے ہرزم جانے کی غلطی کررہا ہے''… احمد بن عمرو نے کہا۔''
‫کیونکہ صالح الدین ایوبی تل خالد کی طرف پیش قدمی کررہا ہے''… عزالدین نے کہا… ''تمہیں یہ ڈر ہے کہ شاہ آرمینیا''
‫کی غیر حاضری میں صالح الدین ایوبی تل خالد کو محاصرے میں لے لے گا… ایسا نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہوا بھی تو ہم صالح
‫الدین ایوبی کی فوج پر عقب سے حملہ کردیں گے۔ ہم اس لڑائی کو طول دیں گے اور صلیبیوں کو اطالع دیں گے کہ وہ بھی
‫صالح الدین ایوبی پر حملہ کردیں۔ مجھے یقین ہے کہ صالح الدین ایوبی کی فوج پس کے رہ جائے گی''۔
‫آپ کب جارہے ہیں؟''…احمد بن عمرو نے پوچھا۔''
‫دو روز بعد''… عزالدین نے جواب دیا۔''
‫خادمہ شراب پیش کرنے میں اس سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتی تھی۔ اس نے پیالوں میں شراب ڈالی اور دونوں کو پیش کی۔
‫عزالدین نے اسے کہا کہ وہ چلی جائے۔ وہ ڈیوڑھی نما کمرے میں گئی تو وہاں سے الش اٹھائی جاچکی تھی۔ خادمہ ابھی
‫وہاں سے باہر نہیں جاسکتی تھی۔ اسے ڈیوٹی پر رہنا تھا۔ وہ بیٹھ گئی اور سوچنے لگی۔ اچانک اس کے منہ سے ''ہائے''

‫نکلی۔ اس نے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھ لیے اور دوہری ہوگئی۔ دربان اور دوسرے مالزم دوڑے آئے۔ اس نے کراہتے ہوئے بتایا کہ
‫اسے پیٹ میں اچانک درد اٹھا ہے۔ اس کی جگہ فورا ً دوسری خادمہ بال کر وہاں بٹھا دی گئی اور اسے طبیب کے پاس لے
‫گئے۔ طبیب کو اس نے بتایا کہ اسے پیٹ میں درد ہے۔ اسے دوائی دی گئی۔ اس نے کہا کہ وہ کام کے قابل نہیں رہی۔
‫کچھ دیر بعد اس کی طبیعت سنبھل گئی۔ طبیب نے اسے دو دنوں کی چھٹی لکھ دی اور اسے کہا کہ اپنے گھر چلی
‫جائے ۔ وہ اپنے گھر کو جانے کے بجائے غالم گردشوں وغیرہ سے گزرتی عزالدین کی بیوی رضیع خاتون کے کمرے میں چلی
‫گئی۔ رضیع خاتون کے متعلق پہلے تفصیل سے بتایا جاچکا ہے کہ نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ تھی۔ عزالدین نے اس کے
‫ساتھ شادی کرلی تھی۔ رضیع خاتون نے اس امید پر شادی قبول کرلی تھی کہ عزالدین کو وہ سلطان ایوبی کا دوست اور
‫اتحادی بنا دے گی اور مسلمان امراء اور حکمران متحد ہوکر فلسطین سے صلیبیوں کو نکال دیں گے مگر عزالدین نے جس نیت
‫سے شادی کی تھی وہ رضیع خاتون کی نیت سے الٹ تھی۔ دمشق‪ ،بغداد اور ان مقامات کے گردونواح کے تمام عالقوں پر
‫رضیع خاتون کا اثر تھا اور رضیع خاتون اپنے مرحوم خاوند نورالدین زنگی کی طرح سلطان ایوبی کی معتقد اور اس کے نیک
‫عزائم کی حامی تھی۔ اس نے جوان لڑکیوں کی فوج بنا رکھی تھی۔
‫عزالدین نے اس عظیم خاتون کے ساتھ اس نیت سے شادی کی تھی کہ اسے سلطان ایوبی کے خالف استعمال کرے اور اگر
‫یہ ممکن نہ ہوسکا کہ اسے زوجیت کی قید میں رکھے تاکہ دمشق اور بغداد کے لوگ اس کی قیادت سے محروم ہوجائیں۔
‫رضیع خاتون نے شادی کے بعد اس کی نیت پہچان لی تھی۔ پہلے تو اس نے احتجاج کیا لیکن عورت عقل والی تھی۔ اس
‫نے عزالدین پر اپنا اعتماد پیدا کرکے جاسوسی شروع کردی اور شہر میں سلطان ایوبی کے جو جاسوس تھے‪ ،ان کے ساتھ
‫درپردہ رابطہ قائم کرلیا۔ اس کی بیٹی ( جو زنگی کی بیٹی تھی) شمس النساء جوان تھی۔ وہ بھی جاسوسی کررہی تھی۔ ماں
‫بیٹی نے سلطان ایوبی تک بڑے ہی قیمتی راز پہنچائے تھے۔ اس کے ساتھ ہی رضیع خاتون نے عزالدین کے دو ساالروں اور
‫ایک مشیر کو اپنے ہاتھ میں کرلیا تھا۔ عزالدین کو اس نے یقین دال دیا تھا کہ وہ اب سلطان ایوبی کے حق میں نہیں رہی یا
‫کم از کم اس کے خالف نہیں رہی۔ رضیع خاتون خوبصورت عورت تھی۔ اس نے نسوانیت کی شیرینی اور زبان کی چاشنی
‫سے عزالدین کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی محل کے اندر بھی جاسوسوں کا گروہ بنا لیا تھا۔
‫وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کہ عزالدین کی نوجوان خادمہ اندر آئی۔
‫پیٹ درد کا بہانہ کرکے آئی ہوں''… خادمہ نے رضیع خاتون سے کہا… ''طبیب نے آج اور کل کی چھٹی دے دی ''
‫ہے''… اس نے قمیض کے اندر سے وہ کاغذ نکاال جو اس نے الش سے اٹھایا تھا۔ کاغذ رضیع خاتون کو دیا اور اسے بتایا کہ
‫یہ کاغذ ایک سپاہی کی الش کے ساتھ تھا۔
‫رضیع خاتون نے تحریر پڑھی اور بولی… ''آفرین‪ ،ہمارے مجاہد کام کررہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کم بختوں نے
‫ہمارے آدمی کو قتل کرانے کی کوشش کی تھی۔ مجھے اطالع مل چکی ہے کہ ہمارے اس درویش نے لوگوں کے دلوں سے
‫صلیبیوں کے درویش کی دہشت اور وہم نکال دیا ہے''۔
‫یہ تحریر اسی کی ہے''… خادمہ نے کہا… ''میں اس کا ہاتھ پہچانتی ہوں''۔''
‫رضیع خاتون نے ہنس کر کہا… ''مجھے معلوم ہے کہ تم اس کا ہاتھ ہی نہیں‪ ،اس کا دل بھی پہچانتی ہو‪ ،لیکن یہ خیال
‫رکھنا کہ دلوں کے جال میں نہ الجھ جانا۔ فرض پہلے''۔
‫خادمہ شرما سی گئی۔ کہنے لگی… ''ابھی تک اپنے جذبات کو فرض کے راستے میں نہیں آنے دیا۔ میں فہد کو بھی یہی کہا
‫کرتی ہوں کہ اسے مجھ سے دلی محبت ہے تو اپنے فرض کو جذبات پر حاوی رکھے''۔
‫فہد وہی جواں سال آدمی تھا جس نے نئے درویش کا روپ دھارا تھا۔ وہ بغداد کا رہنے واال تھا۔ اس میں جاسوس بننے کی
‫تمام تر خوبیاں موجود تھیں۔ خوبرو جوان تھا‪ ،دو سال سے موصل میں مقیم تھا اور کامیابی سے جاسوسی کررہا تھا اور
‫نظریاتی محاذ پر بھی اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نمایاں کامیابیاں حاصل کرلی تھیں۔ اسی سلسلے میں اس کی مالقات
‫عزالدین کی خادمہ سے ہوئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے دل میں اتر گئے تھے۔ خادمہ شہر میں رہتی تھی لیکن اس کا
‫زیادہ وقت محل میں گزرتا تھا۔ جاسوسی کی زمین دوز کارروائیوں کے عالوہ بھی ان دونوں کی مالقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔
‫میں جو خبر الئی ہوں‪ ،وہ ابھی بتائی ہی نہیں''… خادمہ نے رضیع خاتون سے کہا… ''عزالدین دو روز بعد شاہ آرمینیا ''
‫سے ملنے ہر زم جارہے ہیں۔ میں نے شراب پیش کرنے کے دوران اس سے یہ بات سنی ہے۔ وہ احمد بن عمرو کو بتا رہے
‫تھے کہ شاہ آرمینیا نے انہیں پیغام بھیجا ہے کہ وہ تل خالد سے ہرزم روانہ ہورہا ہے اور عزالدین اسے وہاں ملیں… میں رات
‫تک فارغ نہیں ہوسکتی تھی۔ میں نے پیٹ درد کا بہانہ بنایا اور آپ تک پہنچی ہوں''۔
‫رضیع خاتون نے اپنے زانو پر ہاتھ مار کر کہا… ''صالح الدین ایوبی تل خالد کی طرف پیش قدمی کررہا ہے‪ ،مجھے معلوم
‫نہیں کہ تل خالد میں اپنے جاسوس ہیں یا نہیں۔ یہ خبر صالح الدین ایوبی تک پہنچنی چاہیے۔ ہوسکتا ہے وہ ان دونوں کو
‫ہرزم میں پکڑ لے۔ یہ کام تم ہی کرو۔ فہد یا اس کے کسی اور ساتھی تک پہنچو اور اسے یہ خبر سنا کر میرا پیغام دو کہ
‫صالح الدین ایوبی ابھی تل خالد کے راستے میں ہوگا‪ ،یہ خبر اس تک پہنچا دو۔ ابھی جائو''۔
‫خادمہ چلی گئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫کچھ ہی دیر بعد عزالدین رضیع خاتون کے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ بڑی صاف تھی۔ رضیع خاتون کو
‫معلوم تھا کہ وہ کیوں پریشان ہے‪ ،پھر بھی اس پریشانی کی وجہ پوچھی۔
‫میں صالح الدین ایوبی کی دشمنی اور صلیبیوں کی دوستی کے پتھروں میں پس رہا ہوں''… عزالدین نے ہارے ہوئے لہجے ''
‫میں کہا۔
‫میری تمام دلچسپیاں آپ کے ساتھ ہیں''… رضیع خاتون نے کہا… ''مگر میں صالح الدین ایوبی کے حق میں کوئی بات ''
‫کرتی ہوں تو آپ کو شک ہوتا ہے کہ میں اس کی حامی اور آپ کے خالف ہوں۔ آپ کی پریشانی کی وجہ یہ نہیں کہ آپ
‫کے اور صالح الدین ایوبی کے درمیان عداوت پیدا ہوگئی ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ آپ نے اس قوم کو دوست سمجھ لیا ہے
‫جو آپ کی دوست نہیں ہوسکتی ہے‪ ،وہ آپ کے مذہب کی دشمن ہی رہے گی۔ صلیبی اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے آپ
‫کو دھوکہ دیں گے اور ضرور دیں گے''۔
‫تو کیا میں صالح الدین ایوبی کے قدموں میں جاکر تلوار رکھ دوں؟''… عزالدین نے طنزیہ لہجے میں پوچھا… ''اگر میں ''
‫ایسا کر گزروں تو اپنی فوج کے سامنے کس منہ سے کھڑا ہوں گا''۔
‫صالح الدین ایوبی آپ کو اپنا محکوم نہیں‪ ،اپنا اتحادی بنانا چاہتا ہے''… رضیع خاتون نے کہا۔'' ‪:

‫تم اس شخص کی نیت کو نہیں سمجھ سکی''… عزالدین نے کہا… ''وہ سلطنت اسالمیہ کی بات کرتا ہے مگر اسے اپنی''
‫ذاتی سلطنت بنائے گا''۔
‫اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اس سے لڑیں گے''… رضیع خاتون نے کہا… ''اگر آپ کا یہی ارادہ ہے تو پریشان ہونے کے''
‫بجائے جنگ کی تیاری کریں۔ فوج میں اضافہ کریں''۔
‫میری پریشانی یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی نے جاسوسوں اور تباہ کاروں کا جال بچھا دیا ہے''… عزالدین نے کہا… ''
‫'' تمہیں معلوم ہے کہ میرا اتنا قابل فوجی مشیر احتشام الدین بیروت بالڈون سے معاہدہ کرنے گیا اور وہاں سے غائب ہوگیا۔
‫مجھے اطالع ملی ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کے ساتھ ہے۔ ہمارے تمام راز اس کے پاس ہیں۔ میں نے صلیبیوں سے اسلحہ
‫آتش گیر سیال اور دیگر سامان کا ذخیرہ اپنے قریب جمع کرایا تھا۔ وہ تباہ ہوگیا ہے۔ آج میرے حفاظتی دستے کے ایک
‫سپاہی کی الش میرے پاس آئی ہے''۔
‫اسے کسی نے قتل کیا ہے؟''… رضیع خاتون نے انجان بن کر پوچھا۔''
‫ہاں''… عزالدین نے اصل بات پر پردہ ڈال کر کہا… ''اسے کسی نے قتل کردیا ہے‪ ،اسے ایک خاص کام کے لیے بھیجا ''
‫گیا تھا۔ اس کے قاتل صالح الدین ایوبی کے آدمی معلوم ہوتے ہیں''۔
‫اس الش کے ساتھ فہد کا لکھا ہوا جو کاغذ تھا وہ رضیع خاتون کے پاس تھا لیکن وہ انجان بنی رہی۔ اس نے سوچا کہ
‫عزالدین گھبرایا ہوا ہے‪ ،اس پر اور زیادہ گھبراہٹ طاری کی جائے۔
‫میدان جنگ میں نہیں لڑتا''… رضیع خاتون نے کہا… ''وہ جب''
‫آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ صالح الدین ایوبی صرف
‫ِ
‫اپنے گھر میں سویا ہوا ہوتا ہے تو اس کے دشمن سمجھتے ہیں جیسے وہ ان کے سر پر بیٹھا ہے۔ اس وقت وہ تل خالد کی
‫طرف جارہا ہے لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ موصل میں بیٹھا ہے اور اپنی نگرانی میں تباہی کرارہا ہے۔ صلیبیوں کی
‫فوج کا اندازہ کریں۔ صالح الدین ایوبی کی فوج سے دس گناہ زیادہ ہے مگر صلیبی آگے بڑھ کر اس پر حملہ کرنے کی جرٔات
‫نہیں کرتے۔ صلیبیوں کے مقابلے میں آپ کے پاس جو فوج ہے وہ آپ جانتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ آپ کی
‫فوج میں ایسے کمان دار موجود ہیں جو آپ کے وفادار نہیں۔ وہ آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں''۔
‫عزالدین اور زیادہ گھبرا گیا اور بوال… ''میں اس حد تک پہنچ چکا ہوں جہاں سے آسانی سے واپس نہیں آسکتا۔ میں دو روز
‫بعد کہیں باہر جارہا ہوں‪ ،اگر حاالت نے ساتھ دیا تو کامیاب ہوجائوں گا''… وہ چپ ہوکر گہری سوچ میں گھو گیا۔ کچھ دیر
‫بعد بوال… ''رضیع! میں نے ایک امید تمہارے ساتھ وابستہ کررکھی ہے''۔
‫میں آپ کی ہر امید پوری کروں گی''… رضیع خاتون نے کہا… ''اگر آپ مجھے صالح الدین ایوبی کے خالف کوئی ''
‫کارروائی کرنے کو کہیں گے تو میں کر گزروں گی۔ میں آپ کے ایک بچے کی ماں بن چکی ہوں۔ مجھے بتائیں میں آپ کی
‫کون سی امید پوری کرسکتی ہوں۔ مجھے کسی کڑی آزمائش میں ڈالیں''۔
‫میں باہر جارہا ہوں''… عزالدین نے کہا… ''مجھ سے ابھی یہ نہ پوچھنا کہ میں کہاں جارہا ہوں۔ اسے ابھی راز میں ''
‫رکھنا ہے‪ ،اس کے بعد میں صالح الدین ایوبی کے خالف کوئی کارروائی کروں گا۔ اگر حاالت میرے خالف ہوگئے تو میں تم
‫سے امید رکھوں گا کہ تم میری طرف سے سلطان ایوبی کے پاس جائو گی اور اس کے ساتھ میرا سمجھوتہ کرا دو گی۔
‫''ہوسکتا ہے کہ اس وقت میں اس کے پاس جائوں تو وہ مجھے ملنے سے بھی انکار کردے
‫رضیع خاتون نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ شکست سے پہلے ہی سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ سمجھوتہ کرلے۔ اس نے
‫عزالدین سے یہ بھی نہ پوچھا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ اسے خادمہ بتا گئی تھی کہ وہ ہرزم شاہ آرمینیا سے ملنے جارہا ہے
‫اور یہ سلطان کے خالف محاذ بن رہا ہے۔ رضیع خاتون کو وہ ابھی نہیں بتانا چاہتا تھا کہ وہ کہاں جارہا ہے‪ ،کیونکہ اسے وہ
‫راز رکھنا چاہتا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ سلطان ایوبی کی جاسوسہ سے باتیں کررہا ہے۔ تاہم رضیع خاتون نے اسے
‫یقین دالیا کہ وہ جب بھی کہے گا سلطان ایوبی کے ساتھ اس کا سمجھوتہ کرا دیا جائے گا۔ عزالدین کی گھبراہٹ سے رضیع
‫خاتون کو خوشی محسوس ہورہی تھی۔
‫عزالدین سرجھکائے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔ رضیع خاتون کی ذاتی خادمہ جو اسی کی عمر کی تھی‪ ،اندر آئی اور رضیع
‫خاتون سے پوچھا کہ والئی موصل بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ یہ خادمہ بھی رضیع خاتون کے زمین دوز گروہ کی فرد تھی۔
‫ایمان اور کردار سے منحرف ہوکر انسان کی یہی حالت ہوا کرتی ہے''۔ رضیع خاتون نے کہا… ''یہ حکمران جو قوم ''
‫سے الگ ہوکر اپنی اپنی ریاستوں کے بادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں‪ ،کسی درخت کی ان ٹہنیوں کی مانند ہیں جو
‫درخت سے الگ ہوگئی ہیں۔ ان کی قسمت میں اب یہی لکھا ہے۔ ان کے پتے جھڑ جائیں گے‪ ،بکھر جائیں گے اور یہ ٹہنیاں
‫سوکھ کر مٹی میں مل جائیں گے۔ یہ حکومت کا اللچ ہے جس نے میرے خاوند کو شراب اور عورت کا شیدائی بنایا ہے۔ اس
‫شخص نے صلیبیوں کا میٹھا زہر اپنی رگوں میں انڈیل لیا ہے۔ عزالدین میدان جنگ کا بادشاہ تھا۔ اس کی تلوار سے صلیب کا
‫دل کٹتا تھا لیکن آج اس کے دل پر خوف طاری ہے۔ اس شخص کی جرٔات جواب دے گئی ہے۔ مجھ سے‪ ،ایک عورت سے
‫مدد مانگ رہا ہے۔ بادشاہی کا نشہ‪ ،شراب اور عورت انسان کا یہی حشر کیا کرتی ہیں۔ اس کی قسمت میں شکست لکھ دی
‫گئی ہے جب ایک ساالر تخت وتاج کا خواہاں ہوجاتا ہے تو اس کی پوری فوج دین وایمان سے دستبردار ہوجاتی ہے‪ ،پھر
‫ملک وملت کا وقار خاک میں ملتا ہے اور دشمن سر پر سوار ہوجاتا ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ نوجوان خادمہ جو فہد کو یہ پیغام دینے نکلی تھی کہ عزالدین شاہ آرمینیا سے ملنے ہرزم جارہا ہے‪ ،اس ٹھکانے پر گئی
‫جہاں فہد کو ہونا چاہیے تھا مگر وہاں تاال لگا ہوا تھا۔ فہد عموما ً شتر بانوں کے بھیس میں رہتا تھا۔ وہ دو اونٹ اپنے ساتھ
‫رکھتا تھا اور تاجروں وغیرہ کا سامان ادھر ادھر لے جاتا تھا۔ وہ اس جگہ گئی جہاں وہ اپنے اونٹوں کے ساتھ بیٹھا یا کھڑا
‫ہوتا تھا۔ وہ وہاں بھی نہیں تھا۔ اس نے ایک شتربان سے پوچھا کہ فہد کہاں ہے‪ ،شتر بان کی حیثیت سے اس کا نام کچھ
‫اور تھا۔ اسے بتایا گیا کہ وہ اونٹوں پر سامان الد کر فالں جگہ چال گیا ہے۔ خادمہ ادھر کو چل پڑی… اور اسے پتہ نہ چال
‫کہ ایک اور آدمی اس کے تعاقب میں آرہا ہے۔
‫یہ آدمی تھا تو موصل کا مسلمان لیکن صلیبیوں کا جاسوس تھا اور اس کا تعلق عزالدین کے محل کے عملے سے تھا۔ اس
‫نے خادمہ کو طبیب کے پاس پیٹ کے شدید درد کی حالت میں دیکھا تھا۔ وہ اس لڑکی کو جانتا تھا‪ ،اس نے اس لڑکی کو
‫اس وقت بھی دیکھا تھا جب وہ دوائی لے کرمحل سے نکل رہی تھی۔ اسے یہ تو معلوم نہ تھا کہ یہ رضیع خاتون سے مل
‫کر آئی ہے‪ ،اس نے یہ دیکھا تھا کہ لڑکی اتنی تیز چل رہی تھی جیسے اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔ یہ آدمی صلیبیوں کا تیار
‫کیا ہوا جاسوس تھا۔ اسے اس لڑکی پر شک ہوا۔ عزالدین کا اپنا جاسوسی کا نظام اتنا اچھا نہیں تھا۔ صلیبیوں نے اسے بتائے

‫بغیر وہاں اپنے جاسوس چھوڑ رکھے تھے۔ ان کے ذمے دو کام تھے۔ ایک یہ کہ عزالدین پر نظر رکھیں کہ وہ کہیں درپردہ
‫سلطان ایوبی کا دوست تو نہیں بن رہا۔ دوسرا یہ کہ ان افراد کی نشاندہی کریں جو عزالدین کے محل میں اور موصل میں
‫موجود ہیں اور جاسوسی کررہے ہیں۔
‫صلیبیوں کے اس جاسوس نے اس لڑکی کا تعاقب شروع کردیا اور جب دیکھا کہ وہ اور زیادہ تیز چل رہی ہے اور کسی کو
‫ڈھونڈتی پھرتی ہے تو اس کا شک پختہ ہوگیا۔ اسے اب یہ دیکھنا تھا کہ وہ کسے ڈھونڈ رہی ہے۔ اگر یہ لڑکی واقعی جاسوس
‫ہے تو اس سے ایک یا ایک سے زیادہ جاسوسوں کو پکڑا جاسکتا تھا۔ لڑکی کو اب ایک شتربان نے بتایا تھا کہ وہ کہاں گیا
‫ہے۔ وہ اس طرف جارہی تھی اور جاسوس اس کے پیچھے جارہا تھا۔
‫ایک جگہ اونٹوں سے سامان اتارا جارہا تھا۔ فہد بھی سامان اتار رہا تھا۔ اس نے لڑکی کو دیکھ لیا۔ قریب سے گزرتے ہوئے
‫لڑکی نے فہد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور آگے نکل گئی۔ فہد کو معلوم تھا کہ وہ کہاں اس کا انتظار کرے گی۔ جاسوس
‫اس کے پیچھے لگا رہا۔ لڑکی کو معلوم نہ تھا۔ فہد نے جلدی جلدی اپنے اونٹوں سے سامان اتارا اور لڑکی کے پیچھے گیا۔
‫اس نے ایک اونٹ کی مہار پکڑ رکھی تھی۔ دوسرے اونٹ کی مہار اس اونٹ کے پیچھے بندھی تھی۔ لوگ آجارہے تھے۔ فہد
‫لڑکی کے ساتھ ہوگیا۔ لڑکی رکی نہیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اپنے دھیان سے جارہی ہو‪ ،فہد بھی بظاہر اس کی طرف
‫توجہ نہیں دے رہا تھا لیکن لڑکی اسے پیغام دے رہی تھی۔
‫چند قدموں تک لڑکی نے پیغام سنا دیا اور کہا… ''یہ کام کرکے آئو گے تو وہاں ملوں گی جہاں ہم کچھ دیر بیٹھا کرتے ہیں‪،
‫''ابھی نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے فرض سے بھٹک جائیں… تمہیں معلوم ہوگا۔ سلطان کی فوج کہاں ہوگی؟
‫مجھے معلوم ہے''… فہد نے جواب دیا… ''میں ابھی روانہ ہوجائوں گا''۔''
‫خدا حافظ''… لڑکی نے کہا۔''
‫فی امان اللہ''۔''
‫لڑکی ایک طرف مڑ گئی۔ وہ ایک گلی تھی۔ تب اس نے گھوم کر دیکھا۔ ایک آدمی اس کے پیچھے آرہا تھا۔ اسے یاد آیا کہ
‫اس آدمی کو اس نے فہد کی تالش کے دوران تین چار مرتبہ دیکھا تھا۔ اسے یہ بھی خیال آیا کہ اس آدمی کو اس نے محل
‫میں بھی دیکھا ہے۔ ذہن پر زور دیا تو اسے یاد آیا کہ یہ شخص محل میں مالزم ہے۔
21:00
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 140دوسرا درویش
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫یہ شخص محل میں مالزم ہے۔ لڑکی کو کچھ شک ہوا۔ اس نے اس آدمی کی نیت معلوم کرنے کے لیے گلیوں کے دو تین
‫موڑ مڑے۔ یہ آدمی اس کے پیچھے رہا۔ لڑکی آبادی سے باہر نکل گئی۔ یہ آدمی بھی باہر نکل گیا۔ کچھ دور درختوں کا جھنڈ
‫تھا۔ لڑکی وہاں بیٹھ گئی۔ یہ آدمی آگے نکل گیا۔ اسے غالبا ً یہ شک ہوگا کہ لڑکی کسی کے انتظار میں بیٹھی ہے۔ وہ بہت
‫آگے چال گیا۔
‫لڑکی ہوشیار تھی۔ وہ جلدی سے قریب کی جھاڑیوں میں چھپ گئی۔ وہاں سے سرکتی جھاڑیوں سے نکلی اور ایک گلی میں
‫غائب ہوگئی۔ وہ آدمی دور جاکر واپس آیا۔ اب اس نے دوسرا راستہ اختیار کیا تھا۔ اسے توقع تھی کہ لڑکی کے پاس کوئی
‫آدمی بیٹھا ہوگا مگر اس نے قریب آکر دیکھا‪ ،وہاں لڑکی نہیں تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ لڑکی کا نام ونشان نہیں تھا۔
‫لڑکی اپنے گھر پہنچ چکی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی آرمینیا کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا خطرہ مول لے رکھا تھا۔ صلیبی
‫افواج کسی بھی وقت متحد ہوکر اس پر حملہ کرسکتی تھیں اور وہ اکیال تھا۔ مسلمان امراء اس کے خالف تھے۔ اپنی اپنی
‫ریاست اور حکمرانی الگ الگ قائم کرنے کے لیے وہ اپنا ایمان صلیبیوں کے ہاتھ بیچ چکے تھے۔ خانہ جنگی تک ہوچکی تھی
‫جو صلیبیوں کی درپردہ کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اب سلطان ایوبی ان تمام مسلمان امراء کو بزور شمشیر اپنے محاذ پر متحد
‫کرنے کا عزم لیے ہوئے تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ان میں سے جو میری صفوں میں نہیں آتا‪ ،وہ خودمختار بھی نہیں رہے گا۔
‫اس نے چند ایک قلعوں پر قبضہ کرلیا تھا اور وہاں کے امراء اور قلعہ داروں نے اس کی اطاعت قبول کرلی تھی۔ اب وہ ان
‫حکمرانوں کی طرف بڑھ رہا تھا جو کچھ طاقت رکھتے تھے۔ وہ کمال دلیری سے ان دشمنوں کے درمیان فوج کو گھما پھرا رہا
‫تھا اور یہ بہت بڑا خطرہ تھا۔
‫اگر تمہارے ارادے نیک ہیں توتمہیں ڈرنا نہیں چاہیے''… سلطان ایوبی تل خالد کے راستے میں ایک پڑائو کیے پڑا تھا۔ اس''
‫نے اپنے خیمے میں ساالروں کو بال رکھا تھا‪ ،کہہ رہا تھا… ''میں جانتا ہوں کہ تم کیا سوچ رہے ہو۔ اگر تم میں سے کوئی
‫میرے اس فیصلے سے متفق نہیں کہ میں صلیبیوں کی طرف سے بے خبر ہوکر غلط سمت کو چل پڑا ہوں تو میں اسے حق
‫بجانب سمجھوں گا۔ میں اسے یہ نہیں کہوں گا کہ وہ میرا حکم مانے اور میرے غلط فیصلے پر عمل کرے۔ میں اسے یہی
‫کہوں گا کہ وہ میرے مقصد کو سمجھے اور دل سے تمام خوف اور وسوسے نکال دے۔ ہماری منزل یروشلم ہے۔ بیت المقدس‪،
‫قبلہ اول… خدا نے ہمیں اس کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے کہ ہمارے بھائی ایمان فروش نکلے۔ انہیں قبلہ اول نہیں حکمرانی
‫چاہیے… یاد رکھو میرے رفیقو! جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں یہ تحریر ہوگا کہ ہمارے دور کی فوج بزدل اور نااہل
‫تھی۔ شکست کی لعنت ہمیشہ فوج کے حصے میں آتی ہے۔ حکمران اگر کفار کے درپردہ دوست ہی ہوئے‪ ،آنے والی نسلیں
‫…''فوج پر لعنت بھیجیں گی
‫ہمیں خدا کے حضور بھی جانا ہے۔ خدا نے ہم پر فرض عائد کیا ہے وہ ہمیں پورا کرنا ہے یا اس فرض کی ادائیگی میں ''
‫جان دینی ہے۔ مرکز سے الگ ہونے والوں کے لیے میرے دل میں کوئی رحم نہیں۔ اگر ہم نے آج الگ الگ ریاستیں بنانے کے
‫رجحان کو نہ روکا تو ایک دن یہی رجحان اسالم کے زوال کا باعث بنے گا۔ کہنے کو یہ اسالمی ملک ہوں گے لیکن اپنی
‫بادشاہیاں اور عیش وعشرت قائم رکھنے کے لیے اپنے طاقتور دشمن کے ساتھ سمجھوتے کرتے اور اپنا ایمان نیالم کرتے پھریں
‫گے۔ اپنے طاقتور دشمن کو خوش کرنے کے لیے درپردہ ایک دوسرے کی جڑیں کھوکھلی کرتے رہیں گے۔ ان کا کمزور سا دشمن
‫بھی ان کے لیے طاقتور ہوگا۔ ایک حکمران اپنی پوری رعایا کو بے وقار بنا دے گا۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ قوم کے
‫…''بکھرے ہوئے شیرازے کو آج ہی سمیٹ لیں
‫میں اب یہ باتیں بار بار اس لیے کررہا ہوں کہ اپنا نقطہ نظر جو وقت کی ایک ضرورت ہے‪ ،تمہارے دلوں پر نقش ہوجائے''

‫اور ایسا نہ ہو کہ اپنے کسی ایسے بھائی کو دیکھ کر جو ہمارے مذہب کا دشمن ہو‪ ،تمہاری تلوار جھک جائے۔ قوم کی
‫مرکزیت اور اتحاد کو ختم کرنے واال بھائی دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے… میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ ہم تل خالد کے
‫محاصرے کے لیے جارہے ہیں اور یہ ہمارا آخری پڑائو ہے۔ اس کے آگے تل خالد ہے۔ محاصرے کے لیے میں تم سب کو بتا
‫چکا ہوں کہ کس کس کے دستے ہوں گے۔ محفوظہ میرے ہاتھ میں ہوگا۔ چھاپہ مار دستے ٹولیوں میں تقسیم ہوکر ان راستوں
‫کو زد میں لے لیں گے جن سے صلیبی فوج کے آنے کا خطرہ ہوسکتا ہے یا آرمینیا کی فوج محاصرہ توڑنے کے لیے آسکتی
‫…''ہے۔ جاسوسوں کی اطالع کے مطابق صلیبی حملے کا خطرہ نہیں‪ ،پھر بھی احتیاط الزمی ہے
‫ہم آرمینیا پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے‪ ،ہمیں شاہ آرمینیا سے اپنی شرائط تسلیم کرانی ہیں۔ میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ ''
‫عزالدین شاہ آرمینیا کی مدد کا طلب گار ہے۔ ہمیں آرمینیا پر خطرہ بن کر سوار ہوجانا ہے تاکہ شاہ آرمینیا عزالدین کو مدد
‫نہ دے سکے لیکن میں تمہیں کسی خوش فہمی میں مبتال نہیں کرنا چاہتا۔ یہ عین ممکن ہے کہ آرمینیا کی فوج اور شہری
‫ہمارا مقابلہ اتنا سخت کریں کہ ہمیں پسپا ہونا پڑے۔ اس صورت میں عزالدین بھی ہم پر حملہ کرسکتا ہے اور حلب کا والی
‫عمادالدین بھی۔ ہمیں گرتا دیکھ کر چھوٹے چھوٹے امراء بھی ہمیں گھوڑوں تلے روندیں گے۔ ان نتائج اور خطروں کو سامنے رکھ
‫کر ہمیں لڑنا ہے۔ میں تمہیں نقشہ دکھا چکا ہوں کسی کے دل میں کوئی شک ہو تو رفع کرلو۔ یہ محاصرہ اور حملہ ہمیں
‫اتنی بڑی مشکل میں ڈال سکتا ہے کہ ہم شکست بھی کھا سکتے ہیں''۔
‫رات کا پہال پہر تھا جب سلطان صالح الدین ایوبی اس آخری پڑائو میں اپنے ساالروں کو اپنی پہلے سے دی ہوئی ہدایات یاد
‫دال رہا تھا۔ اس کے سامنے نقشہ پڑا تھا۔ دربان نے خیمہ میں آکر اس کے کان میں کچھ کہا۔ سلطان ایوبی نے اسے کہا…
‫فورا ً اندر بھیج دو۔
‫دربان نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور سر سے اشارہ کیا۔ فہد خیمے میں داخل ہوا۔ اس نے موصل سے یہاں تک کہیں رکے بغیر
‫مسافت طے کی تھی۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ ہونٹ خشک تھے اور آنکھیں بند ہوئی جارہی تھیں۔ جاسوسی اور سراغ
‫رسانی کے محکمے کا سربراہ حسن بن عبداللہ خیمے میں موجودتھا۔
‫معلوم ہوتا ہے تم نے آرام کیے بغیر سفر کیا ہے''۔ فہد نے اکھڑی ہوئی سانسوں سے کہا… ''میرا گھوڑا شاید زندہ نہ رہ''
‫سکے''۔
‫''کیا خبر ہے؟''
‫شاہ آرمینیا اپنے دارالحکومت میں نہیں''۔ فہد نے کہا… ''وہ ہرزم میں خیمہ زن ہے۔ عزالدین اسے ملنے ہرزم جارہاہے۔ ''
‫ظاہر ہے کہ یہ ہماری فوج کے خالف معاہدہ ہوگا۔ شاہ آرمینیا کے ساتھ اپنی فوج کے بھی دو دستے ہوں گے اور عزالدین
‫بھی اپنی فوج کے دو تین دستے اپنے ساتھ ال رہا ہے''۔
‫یہ بادشاہ شاہی شان وشوکت سے ایک جگہ اکٹھے ہورہے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے مسکرا کر کہا‪ ،پھر پوچھا… ''موصل ''
‫میں صلیبیوں کے کیا رنگ ڈھنگ ہیں''۔
‫صلیبی ٹھنڈے ٹھنڈے سے معلوم ہوتے ہیں''۔ فہد نے جواب دیا… ''ان کے ذخیرے کی تباہی کی اطالع آپ کو مل چکی''
‫ہے۔ ہم نے وہاں کے لوگوں کے دلوں سے پہلے درویش کا وہم اور فریب نکال دیا ہے''۔
‫شاہ آرمینیا اور عزالدین کی ہرزم میں مالقات کے متعلق تمہیں کہاں سے اطالع ملی ہے؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا… ''
‫''''میں کیسے یقین کرلوں کہ یہ اطالع صحیح ہے؟
‫رضیع خاتون کی اطالع غلط نہیں ہوسکتی''۔ فہد نے کہا۔''
‫اللہ اس عظیم خاتون کو اپنی رحمتوں سے نوازے''۔ سلطان ایوبی نے کہا اور جذبات کے غلبے سے اس کی آواز بھرا ''
‫گئی۔
‫رضیع خاتون نے آپ کو سالم کہا ہے''۔ فہد نے کہا… ''اور یہ بھی کہ عزالدین کے پائوں لڑنے سے پہلے ہی اکھڑ گئے ''
‫ہیں۔ اس پر گھبراہٹ طاری ہے اوراگر اسے ایک ضرب اور پڑی تو وہ گھٹنے ٹیک دے گا''۔
‫''موصل میں کوئی فوجی ہلچل ہے؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا… ''کوئی جنگی تیاری؟''
‫صلیبی جاسوس اور مشیر سرگرم ہیں''۔ فہد نے جواب دیا… ''کوئی جنگی تیاری نظر نہیں آتی۔ عزالدین صلیبیوں سے ''
‫جس قسم کی اعانت مانگ رہا ہے‪ ،وہ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے۔ شہر میں ہمارے آدمی پوری کامیابی سے اپنا کام کررہے
‫ہیں اور رضیع خاتون اور ان کی بیٹی شمس النساء کی کوششوں سے قلعے اور محل کے اندر کا ہر گوشہ اور ہر راز ہماری
‫نظر میں ہے''۔
‫صد آفرین میرے دوست!'' سلطان ایوبی نے اٹھ کر اس کے گال کو تھپکایا اور کہا… ''تمہیں معلوم نہیں کہ تم جو اطالع''
‫الئے وہ کتنی کارآمد اور قیمتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ فوجوں کا اب اتنا خون خرابہ نہیں ہوگا‪ ،جتنا محاصرے اور حملے میں
‫ہوتا'' ۔ اس نے ساالروں سے مخاطب ہوکر کہا… ''اب ہم تل خالد کا محاصرہ نہیں کریں گے۔ فوج ادھر ہی رہے گی۔ چھاپہ
‫ماروں کا صرف ایک دستہ میرے ساتھ ہرزم کی سمت جائے گا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫ہرزم ایک خوبصورت جگہ تھی۔ ہر طرف سبزہ زار‪ ،چشمے اور ہرے بھرے درخت تھے۔ ہریالی سے ڈھکی ہوئی چٹانیں بھی
‫تھیں۔ اس خطے کو قدرت نے تو حسن دیا ہی تھا‪ ،آرمینیا کے بادشاہ نے اسے آکر جنت ارض بنا دیا۔ شامیانوں اور قناتوں نے
‫محل کا منظر بنا دیا۔ ان کے اندررنگین روشنیوں والے فانوس لٹکائے گئے تھے۔ چھ چھ گھوڑوں کی بگھیاں بھی تھیں اور
‫محافظ دستے کے سوار اور گھوڑے طلسماتی سی شان کے حامل تھے۔ رقص وسرور کا خاص انتظام تھا۔ آرمینیا کی سب سے
‫زیادہ حسین اور ناچنے والی لڑکیاں ساتھ الئی گئیں تھیں۔ حرم کی منتخب لڑکیوں کے خیمے الگ تھے۔ شاہ آرمینیا نے مروین
‫کے امیر کو بھی وہاں مدعو کیا تھا۔ مروین ہرزم کے قریب ہی ایک عالقہ تھا جس کا امیر قطب الدین غازی تھا۔ مروین اس
‫کی جاگیر تھی… شامیانوں‪ ،قناتوں اور خیموں سے کچھ دور شاہ آرمینیا کی دو دستے فوج خیمہ زن تھی۔
‫شاہ آرمینیا امیر مروین کے ساتھ دو تین روز شکار کھیلتا رہا‪ ،پھر ایک روز والئی موصل عزالدین آگیا۔ اس کے ساتھ بھی اپنی
‫فوج کے دو منتخب دستے تھے۔ رات کو رقص وسرور کی محفل جمی۔ شراب کی صراحیاں خالی ہوئیں‪ ،عورت اور شراب نے
‫وہ کیفیت پیدا کردی کہ یہ مسلمان حکمران‪ ،ان کے امرائ‪ ،وزراء اور ساالر قبلہ اول کے ساتھ خانہ کعبہ کو بھی بھول گئے۔
‫رات عیش وعشرت میں گزار کر وہ سارا دن گہری نیند میں سوئے رہے۔ اس رات جب وہ شراب اور عورت کے نشے میں
‫مخملیں قالینوں پر رنگین فانوسوں کے نیچے بدمست ہورہے تھے‪ ،اس رات سلطان صالح الدین ایوبی وہاں سے دو اڑھائی میل
‫دور چھاپہ ماروں کے ایک دستے کے ساتھ پتھریلی زمین پر سویا ہوا تھا۔ اس نے چھوٹا سا سفری خیمہ ساتھ رکھا تھا تاکہ

‫نصب کرنے اور گاڑھنے میں زیادہ وقت صرف نہ ہو۔ وہ یہاں سلطان نہیں چھاپہ مار بن کے آیا تھا۔
‫اس نے خانہ بدوشوں کے بہروپ میں اپنے جاسوس ہرزم کے اس شاہانہ کیمپ کا جائزہ لینے اور تمام تر ضروری معلومات
‫حاصل کرنے کے لیے بھیج دیئے تھے۔ ان میں فہد بھی تھا۔ اس نے پھٹے پرانے کپڑے پہن رکھے تھے۔ یہ تین چار جاسوس
‫اپنے اونٹوں کی مہاریں پکڑے کیمپ کے اردگرد گھومتے رہے تھے۔ انہیں کوئی وہاں ہٹ جانے کو کہتا تو وہ ہاتھ پھیال کر
‫کھانے کی بھیک مانگتے۔ فہد شاہی شامیانوں کے قریب سے گزرا تو اسے وہ نوجوان خادمہ نظر آئی جس نے اسے رضیع
‫خاتون کا پیغام دیا تھا۔ فہد نے اسے پہچان لیا۔ یہ لڑکی عزالدین کی خصوصی خادمہ تھی جو یہاں بھی اس کے ساتھ آئی
‫تھی۔
‫فہد نے بھکاریوں کی طرح صدا لگائی… ''شہزادی! آپ کا غالم سفر میں ہے‪ ،کچھ کھانے کو مل جائے''۔
‫بھاگ جائو یہاں سے''۔ لڑکی نے دور سے کہا… ''ورنہ پکڑے جائو گے''۔''
‫فہد کو موصل میں تو کوئی نہیں پکڑ سکا''۔ فہد نے اپنی اصلی آواز میں کہا… ''تم یہاں پکڑوا دو''۔''
‫اوہ!'' لڑکی ادھر ادھر دیکھ کر اس کے قریب آگئی… ''تم پہنچ گئے ہو؟ دیکھ لو۔ میری خبر غلط تو نہیں تھی… لیکن ''
‫یہاں نہ رکو۔ چلے جائو… تم رات کہاں ہوگے؟ آج رات شاید میں جلدی فارغ ہوجائوں۔ مل بیٹھے مدت گزر گئی ہے''۔
‫تم نے ہی کہا تھا کہ جذبات پر فرض کو غالب نہ آنے دینا''۔ فہد نے کہا… ''ہمارا فرض ابھی ادا نہیں ہوا۔ زندہ رہے ''
‫تو ملیں گے''۔
‫''تم نے سب کچھ دیکھ لیا ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔ ''سلطان کہاں ہیں؟''
‫سلطان جلدی آجائے گا''۔ فہد نے جواب دیا۔''
‫اوئے کون ہے یہ؟'' کسی کی آواز آئی۔ ''ہٹائو اس بدبخت کو یہاں سے''۔''
‫لڑکی فہد کو ڈانٹنے لگی اور فہد وہاں سے چال گیا۔ لڑکی ایک خیمے کی اوٹ سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔ اس خیال سے
‫اس کے آنسو نکل آئے کہ فہد کا فرض کیسا اذیت ناک ہے اور کتنا خطرناک ہے۔ وہ اس خوبرو اور تنومند جوان کو دل وجان
‫سے چاہتی تھی مگر وہ چوری چھپے ملتے تھے تو اپنے جذبات کی کم اور فرائض کی باتیں زیادہ کرتے تھے۔ کئی معرکے جو
‫ان کی فوج نے جیتے تھے‪ ،وہ فہد اور اس لڑکی جیسے جاسوسوں کی بدولت جیتے تھے۔ یہ دشمن کے گھر میں رہ کر زمین
‫دوز معرکہ لڑتے تھے۔ ان کی جان ہر لمحہ موت کے منہ میں رہتی تھی۔ اس نوجوان اور حسین خادمہ کے جذبات ابل آئے
‫اگر اس کا فرض راستے میں حائل نہ ہوتا تو وہ فہد کو یہاں مارا مارا پھرنے نہ دیتی۔ وہ جانتی تھی کہ فہد انہی پتھریلی
‫وادیوں میں کہیں سو جاتا ہوگا۔
‫ہم خدا کے حضور ملیں گے''۔ لڑکی نے اپنے آپ سے کہا اور اپنے کام کو چلی گئی۔''
‫رات کا پہال پہر تھا۔ آج رات ہرزم کے شاہی کیمپ میں کوئی گانا بجانا نہیں تھا۔ خاموشی طاری تھی۔ شاہ آرمینیا کے
‫شامیانے میں اس کے پاس عزالدین اور امیر مروین قطب الدین غازی بیٹھے تھے۔ عزالدین کہہ رہا تھا… ''اس میں کسی شک
‫کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ صالح الدین ایوبی اپنی سلطنت وسیع کررہا ہے۔ اگر ہم اس کے اتحادی بن جائیں تو وہ ہمیں
‫اپنا امیر بنا کر رکھے گا۔ ہم خودمختار نہیں ہوں گے۔ حال ہی میں وہ مسلمان امراء کے کئی قلعوں پر قبضہ کرچکا ہے اور
‫اس کی فوجی طاقت کے خوف سے یہ تمام امراء اور
‫قلعہ دار اس کی اطاعت قبول کرچکے ہیں۔ اگر میں نے اسے نہ روکا تو وہ صرف موصل پر نہیں‪ ،حلب پر بھی ہاتھ صاف
‫کرنے کی کوشش کرے گا مگر میں اکیال اس کے خالف نہیں لڑ سکتا۔ عمادالدین میرے ساتھ ہے لیکن اس صورت میں صالح
‫الدین ایوبی اپنی فوج لٹیروں کی طرح لیے دندناتا پھر رہا ہے‪ ،عمادالدین کو اپنی فوج حلب سے نہیں نکالنی چاہیے۔ حلب کا
‫دفاع زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ مقام بہت اہم ہے''۔
‫میں جانتا ہوں''۔ شاہ آرمینیا نے کہا… ''صلیبیوں کی بھی نظریں حلب پر لگی ہوئی ہیں''۔''
‫اسی لیے میں صلیبیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرتا''۔ عزالدین نے کہا… ''وہ ہم سے مدد کے عوض حلب مانگیں ''
‫گے''۔
‫اور وہ ضرور مانگیں گے''۔ قطب الدین غازی نے کہا… ''میں بہتر یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کو آپس میں کوئی معاہدہ ''
‫کرلینا چاہیے۔ آپ دونوں کی فوجیں مل کر صالح الدین ایوبی کو شکست دے سکتی ہیں''۔
‫مجھے معلوم ہوا ہے کہ صالح الدین ایوبی کی فوج تل خالد کی طرف جارہی ہے''۔ عزالدین نے کہا۔''
‫میری اس کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں''۔ شاہ آرمینیا نے کہا… ''میرا خیال ہے وہ میری سرحدوں سے دور رہے گا۔ میں ''
‫نے اس کی پیش قدمی کی سمت کا جائزہ لیا ہے۔ وہ کہیں اور جارہا ہے''۔
‫مجھے صلیبیوں پر بھروسہ نہیں''۔ عزالدین نے کہا… ''وہ مجھے ہر طرح کی مدد دیتے ہیں لیکن جنگ صرف سامان اور''
‫مشیروں سے نہیں لڑی جاسکتی۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ میں صالح الدین ایوبی کی فوج کو جنگ میں الجھا لیتا ہوں اور وہ
‫اس پر حملہ کردیں۔ میں نے انہیں یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ دمشق اور بغداد کو محاصرے میں لے لیں اگر وہ ایسا کریں
‫تو صالح الدین ایوبی ہمارے عالقوں سے نکل جائے گا مگر وہ نہ جانے کیا سوچ رہے ہیں''۔
‫وہ ہم سب کو اپنا محکوم بنانے کی سوچ رہے ہیں''۔ شاہ آرمینیا نے کہا… ''سلطان ایوبی نہ رہا تو صلیبی ہمیں کھا ''
‫جائیں گے۔ ہمیں ان پر بھروسہ کرنا ہی نہیں چاہیے''۔
‫پھر آپ میری مدد کریں''۔ عزالدین نے کہا… ''میں آگے بڑھ کر صالح الدین ایوبی سے لڑتا ہوں۔ آپ اس پر حملہ ''
‫کریں''۔
‫اس موضوع پر وہ بہت دیر تبادلہ خیاالت کرتے رہے۔ آخر شاہ آرمینیا نے اس شرط پر عزالدین کی تجویز مان لی کہ اس کی
‫فوج کے انسانوں اور جانوروں کی خوراک کی ذمہ داری عزالدین لے۔ عزالدین نے یہ شرط مان لی اور طے ہوا کہ عزالدین
‫سلطان ایوبی کے ساتھ آمنے سامنے کی ٹکر لے گا اور شاہ آرمینیا کی فوج سلطان ایوبی کی فوج پر عقب سے حملہ کردے
‫گی۔ عزالدین تجربہ کار جنگجو تھا۔ جنگ لڑنا اور لڑانا جانتا تھا۔ اس نے وہیں جنگ کی منصوبہ بندی کرلی۔
‫٭ ٭ ٭
‫آدھی رات سے کچھ دیر پہلے کا ذکر ہے۔ جب عزالدین اور شاہ آرمینیا جنگ کا پالن بنا رہے تھے۔ رات گھوڑوں کے ٹاپوئوں
‫سے لرزنے لگی۔ شاہ آرمینیا نے دربان کو بال کر غصے سے کہا… ''یہ جن سواروں کے گھوڑے کھل کر بھاگ رہے ہیں‪ ،انہیں
‫صبح یہاں لے آئو۔ بدبخت بے خبری کی نیند سو جاتے ہیں''۔
‫مگر یہ گھوڑے اس کے دستے کے نہیں تھے۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار سوار تھے جن کی تعداد چالیس اور

‫پچاس کے درمیان تھی۔ یہ ان کا شب خون تھا۔ ذرا سی دیر میں باہر قیامت بپا ہوگئی۔ چھاپہ مار دو حصوں میں تقسیم ہوکر
‫سرپٹ آئے اور گزر گئے۔ ان کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں جن سے وہ فوج کے خیموں کو جالتے گزر گئے۔ کئی خیموں کو
‫آگ لگ گئی تھی۔ سوئے ہوئے سپاہی ہڑبڑا کر اٹھے۔ فورا ً بعد سواروں کی ایک اور موج آئی جو برچھیوں اور تلواروں سے
‫اپنے سامنے آنے والوں کو کاٹتے گزر گئے۔ جلتے ہوئے خیموں نے روشنی کردی تھی۔ پھر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ ان میں
‫جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر بھی تھے۔ بندھے ہوئے گھوڑوں اور اونٹوں کا وہ غل کہ دہشت طاری ہوئی جارہی تھی۔ زخمیوں
‫کی چیخ وپکار قیامت خیز تھی۔
‫پھر جانوروں کے رسے کھل گئے۔ گھوڑے اور اونٹ ڈر کر ادھر ادھر بھاگنے دوڑنے لگے۔ اس غل غپاڑے اور چیخ وپکار میں
‫کیمپ کے اردگرد سے بلند آوازیں سنائی دے رہی تھیں… ''ہتھیار ڈال دو۔ عزالدین ہمارے سامنے آجائو‪ ،شاہ آرمینیا تل خالد
‫ہمارے محاصرے میں ہے''۔
‫ان میں سے کوئی بھی سامنے نہ آیا۔ عزالدین نے اپنے ایک وفادار کمان دار سے کہا کہ وہ اسے ایک گھوڑا ال دے۔ بڑی
‫مشکل سے اسے گھوڑا ال کر دیا گیا۔ وہ سوار ہوا اور افراتفری کے اس قیامت خیز عالم میں نکل گیا۔ اس نے اپنے دستوں
‫کی‪ ،اپنے ذاتی عملے کی اور اپنے ساتھ جو لڑکیاں الیا تھا‪ ،ان کی بھی پروا نہ کی۔ جان بچا کر بھاگ گیا۔
‫اس دور کا ایک واقعہ نگار اسد االسدی لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی گھیرا تنگ کرکے ان حکمرانوں کو گرفتار کرسکتا تھا لیکن
‫اس نے مصلحتا ً ایسا اقدام نہ کیا۔ اس کی وجہ یہی ہوسکتی تھی کہ وہ ان حکمرانوں کو اپنا اتحادی بنا کر ان کی فوجوں کو
‫فتح فلسطین کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ وجہ خواہ کچھ ہی تھی۔ فروری ‪١١٨٣ء (‪٥٧٩ہجری) کا یہ معرکہ سلطان ایوبی
‫نے چھاپہ ماروں سے اسی طرح لڑایا اور اس نے آگے بڑھ کر کسی کو گرفتار کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ اس شب خون کی
‫نگرانی اس نے خود کی تھی۔
‫شاہ آرمینیا نے بھاگنے کے بجائے وہیں رکے رہنا مناسب سمجھا۔ رات گزرگئی۔ صبح ہوئی تو کیمپ میں جلے ہوئے خیموں کی
‫راکھ بکھری ہوئی تھی‪ ،الشیں پڑی تھیں‪ ،زخمی تڑپ رہے تھے‪ ،گھوڑے اور اونٹ ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ حملہ آوروں کا
‫کچھ پتہ نہ تھا‪ ،کہاں ہیں۔ شاہ آرمینیا جانتا تھا کہ سلطان ایوبی یہیں کہیں قریب ہی ہوگا۔ وہ سوچنے لگا کہ سلطان ایوبی
‫کو کہاں تالش کرے۔ اتنے میں اسے دو سوار آتے نظر آئے۔ وہ شاہ آرمینیا کے سامنے آکر اترے اور سالم کیا۔ وہ سلطان ایوبی
‫کے فوجی حکام تھے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے سالم بھیجا ہے''۔ ایک نے کہا… ''انہوں نے کہا ہے کہ وہ کسی کو گرفتار کرنے کا ارادہ ''
‫نہیں رکھتے۔ عزالدین واپس موصل چال جائے اور آرام سے بیٹھ کر سوچے اور شاہ آرمینیا کے لیے سلطان محترم نے پیغام دیا
‫ہے کہ ان کی فوج تل خالد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ آپ کو شام تک وہاں سے اطالع مل جائے گی۔ آپ کے پہنچنے تک
‫آپ کا دارالحکومت ہمارے قبضے میں ہوگا۔ اگر آپ سلطان شام ومصر کی شرائط قبول کرلیں تو تل خالد سے فوج واپس
‫آسکتی ہے۔ اگر آپ مقابلے کا فیصلہ کرتے ہیں تو نتائج کو پہلے ذہن میں رکھ لیں۔ ہمیں پیغام کا جواب دیں۔ آپ ہمارے
‫محاصرے میں ہیں''۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو میرا سالم کہو''۔ شاہ آرمینیا نے کہا… ''میں اپنے ایک وزیر کو شام سے پہلے سلطان کے ''
‫پاس بھیج رہا ہوں''۔
‫دونوں سوار چلے گئے۔ شاہ آرمینیا کا یہ وزیر بکتیمور تھا جو اس کے ساتھ تھا۔ شاہ آرمینیا نے اسے کہا کہ ''ہمیں ان
‫لوگوں کے اختالفات اور عداوت میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ادھر تل خالد محاصرے میں ہے اور ہم یہاں ہیں۔ جائو اور صالح
‫الدین ایوبی سے کہو کہ اپنی فوج واپس بال لے۔ ہم اس کے کسی دشمن کے ساتھ کوئی معاہدہ اور کوئی اتحاد نہیں کریں
‫گے''۔
‫بکتیمور دانش مند وزیر تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کے ساتھ بات کی۔ سلطان ایوبی نے بڑی سخت شرائط پیش کیں اور
‫منوالیں۔ بکتیمور نے تحریری وعدہ دے دیا کہ شاہ آرمینیا کی فوج سلطان ایوبی کے کسی دشمن کی مدد کو نہیں جائے گی۔
‫سلطان ایوبی نے محاصرہ اٹھا لیا اور شاہ آرمینیا سے ملے بغیر تل خالد کو روانہ ہوگیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫دیار بکر تھا جو اس زمانے میں عمیدہ کہالتا تھا۔ اس مقام کو جنگی اہمیت حاصل تھی اور اس کی اہمیت
‫ایک اور اہم مقام
‫ِ
‫یہ بھی تھی کہ اس کے گردونواح کے عالقے کے لوگ جنگجو اور فن سپہ گری کے ماہر تھے۔ سلطان ایوبی کی فوج میں
‫بہت سے سپاہی اسی عالقے کے تھے۔ اپنی فوج کی کمی سلطان اسی عالقے سے پوری کیا کرتا تھا۔ یہاں کے لوگ تو
‫سلطان ایوبی کے حامی تھے مگر ان کا حکمران اپنی حکمرانی قائم رکھنے کی خاطر سلطان ایوبی کا مخالف تھا اور مسلمان
‫ہوتے ہوئے صلیبیوں کے ساتھ درپردہ دوستی کی کوشش میں تھا۔
‫دیار بکر کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا۔ یہ برق رفتار پیش قدمی تھی۔ سلطان ایوبی نے ‪:
‫سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو
‫ِ
‫دیار بکر کو محاصرے میں لے کر اس جگہ پر قبضہ کرنا ہے اور فتح کی صورت میں
‫اپنے ساالروں کو اتنا ہی بتایا تھا کہ
‫ِ
‫وہاں کے موجودہ امیر کی کوئی شرط تسلیم نہیں کی جائے گی اور کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔
‫میرا خیال ہے کہ ان امراء پر ظلم نہ کیا جائے''۔ ایک ساالر نے کہا… ''ان کی افواج کو اپنی فوج میں شامل کرکے ''
‫انہیں برائے نام امیر رہنے دیا جائے''۔
‫میں اب کسی سانپ کو قوم کی آستیں میں نہیں پلنے دوں گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''مجھے اطالعات ملی ہیں کہ ''
‫یہ شخص اپنے عالقے کے لوگوں کو ہماری فوج میں شامل ہونے سے روک رہا ہے اور وہ خالفت کے خالف کارروائیاں کررہا
‫ہے۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ مرکز سے خودمختاری مانگنے والے یا درپردہ کوششوں سے الگ ہونے والے غدار ہوتے ہیں اور یہ غدار
‫بہت خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ قوم کے دشمن سے مدد لیتے ہیں اور اپنی قوم یعنی خالفت کے خالف استعمال کرتے
‫ہیں۔ میں ان لوگوں کا سرکچل دینا چاہتا ہوں تاکہ جب آپ کا اصل دشمنی یعنی صلیبی آپ کے سامنے آئیں تو آپ کی پیٹھ
‫دیار بکر اللہ کے سپاہیوں
‫پیچھے سے کوئی وار کرنے واال نہ ہو اور کوئی سانپ زمین سے نکل کر آپ کو ڈنک نہ مار سکے۔
‫ِ
‫کا خطہ ہے۔ ہماری فوج کی ایک چوتھائی نفری اسی خطے کی ہے۔ اگر ہم نے ان جنگجوئوں کے غدار حکمران کو بخش دیا
‫فن سپاہ گری بھی
‫…''تو اس خطے کے لوگوں کا ایمان بھی تباہ ہوجائے گا اور ِ
‫ساری قوم یا کسی ملک کے تمام لوگ غدار یا بے ایمان نہیں ہوا کرتے۔ حکمران اگر ایمان فروش ہو تو قوم کے جوہر ختم''
‫ہوجاتے ہیں۔ اچھی بھلی قومیں بے وقار ہوجاتی ہیں۔ جذبے مرجاتے ہیں اور پھر قومیں آزاد قوموں کی طرح زندہ نہیں رہتیں۔
‫ہمیں اپنے اس قسم کے حکمرانوں کو ختم کرنا ہے اور سلطنت اسالمیہ کا ایک مرکز بنانا ہے۔ آپ نے دیکھا ہے کہ خالفت

‫بغداد مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ اگر خالفت کا حکم چلتا تو ہمیں فوج کشی نہ کرنی پڑتی۔ یہ فوج کا فرض ہے کہ ملک کے
‫اندر انتشار کو اور نااہل اور ایمان فروش حکمران کو ختم کرے۔ میں پھر وہی الفاظ دہراتا ہوں کہ تاریخ یہی کہے گی کہ چھٹی
‫صدی ہجری کی فوج نکمی تھی جس نے نہ خالفت کا وقار بحال کیا نہ دشمن کو نیست ونابود کیا''۔
‫دیار بکر کا محاصرہ اتنی تیزی سے ہوا کہ اندر والوں کو مزاحمت کی مہلت نہ ملی۔ سلطان ایوبی نے ہدایت جاری کی تھی
‫ِ
‫کہ شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو۔ اندر اپنے جاسوس موجود تھے ا ور سلطان ایوبی خود بھی شہر سے اور حکمران کے
‫محل اور ہیڈکوارٹر سے واقف تھا۔ اس لیے منجنیقوں سے جو پتھر اور آتش گیر سیال کی جو ہانڈیاں پھینکی گئیں‪ ،وہ سرکاری
‫عمارتوں پر پھینکی گئیں۔ باہر سے اعالن کیے گئے کہ امیر ہتھیار ڈال کر باہر آجائے لیکن قلعے کی دیواروں پر کھڑے امیر
‫نےجوابی اعالن کرایا کہ تھیار نہیں ڈالے جائیں گے۔ لڑو اور شہر لے لو۔
‫دیار بکر کی فوج نے جم کر مقابلہ کیا۔ سلطان ایوبی محاصروں کا ماہر تھا لیکن اس نے مزاحمت دیکھی تو سمجھ گیا کہ یہ
‫ِ
‫محاصرہ طول پکڑے گا اور اس کے لیے کچھ زیادہ ہی قربانی دینی پڑے گی۔ دیواریں توڑنے والے افراد رات کی تاریکی میں
‫دیوار تک پہنچ گئے لیکن اوپر سے ان پر آگ پھینکی گئی اور وزنی پتھر بھی پھینکے گئے۔ بڑے دروازے پر منجنیقوں سے
‫آتش گیر سیال کی ہانڈیاں پھینک کر فلیتے والے تیر مارے گئے جس سے
‫دروازے کا لکڑی کا حصہ جل گیا مگر اس کا لوہے کا ڈھانچہ گھنا تھا جس میں سے گزرنا ممکن نہیں تھا تاہم گزرنے کی
‫کوشش کی جاسکتی تھی۔ فضا میں تیر اڑ رہے تھے۔
‫دیار بکر نے
‫سلطان ایوبی حیران تھا کہ اندر والے ایسا سخت مقابلہ کیوں کررہے ہیں۔ یہ راز بعد میں کھال تھا کہ امیر
‫ِ
‫محاصرے کی اطالع ملتے ہی شہر میں اعالن کرادیا تھا کہ صلیبیوں نے شہر کا محاصرہ کرلیا ہے۔ اس اعالن پر شہر کے لوگ
‫لڑنے اور مرنے کے لیے تیار ہوگئے تھے اور انہوں نے فوج کے دوش بدوش شہر کی دیوار پر آکر محاصرہ کرنے والوں پر تیروں
‫اور برچھیوں کا مینہ برسا دیا۔ یہ دیکھا گیا تھا کہ چاروں طرف دیوار پر فوج کے ساتھ شہری بھی تھے۔ شہر کے لوگوں کا
‫حوصلہ بلند تھا لیکن سلطان ایوبی نے شہریوں کو لڑتے دیکھ کر بھی یہ حکم نہ دیا کہ شہر پر بھی آگ برسائی جائے۔
‫محاصرہ آٹھ روز جاری رہا۔ زیادہ تر نقصان سلطان ایوبی کی فوج کا ہورہا تھا کیونکہ اس کی ٹولیاں آگے بڑھتی اور تیروں کا
‫نشانہ بنتی تھیں۔ پھر ایک معجزہ ہوا۔ شہر کی دیوار سے نعرے گرجنے لگے… ''یہ صلیبی نہیں ہیں‪ ،یہ سلطان صالح الدین
‫دیار بکر کے عالقے کے
‫ایوبی ہے۔ ان کے جھنڈے دیکھو‪ ،مسلمانو! تم آپس میں لڑ رہے ہو''۔ تب سلطان ایوبی کی فوج میں
‫ِ
‫جو سپاہی اور کمان دار تھے‪ ،انہوں نے بلند آواز سے پکارنا شروع کردیا… ''ہم تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی ہیں‪ ،دروازے
‫کھول دو''۔
‫یہ انکشاف بھی بعد میں ہوا تھا کہ شہر کے اندر سلطان ایوبی کے جو جاسوس اور زمین دوز کارندے تھے‪ ،انہوں نے بھاگ ‪:
‫دوڑ کر لوگوں کو بتایا تھا کہ محاصرہ کرنے والے صلیبی نہیں‪ ،مسلمان ہیں اور یہ سلطان صالح الدین ایوبی ہے۔ یہ مہم آسان
‫نہیں تھی۔ جاسوس آزادی سے لوگوں کو سرکاری اعالن کے خالف کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔ اس مہم میں کچھ جاسوس پکڑے
‫بھی گئے تھے‪ ،انہوں نے کامیابی حاصل کرلی۔ نویں روز اندر کی فوج اور شہریوں کی سوچ اور جذبہ بدل گیا۔ شہریوں نے
‫حکمران اور اس کے حاشیہ برداروں کی دھمکیوں اور چیخ وپکار کی پروا نہ کرتے ہوئے شہر کے دروازے کھول دئیے۔ جب
‫سلطان ایوبی شہر میں داخل ہوا تو شہر کے لوگوں نے بے تابی سے نعرے لگا لگا کر اس کا استقبال کیا۔ عورتوں نے منڈیروں
‫اور دریچوں سے اس کی فوج پر اپنے دوپٹے اور رومال پھینکے۔
‫دیار بکر کے امیر کو شہر سے نکل جانے کا حکم دیا اور یہ شہر نورالدین ابن قاراارسالن اور
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے
‫ِ
‫ایک اور امیر کو دے دیا۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اس کا نام ابن نکن لکھا ہے جو نورالدین کے ہی خاندان کا فرد تھا۔
‫سلطان ایوبی نے انہیں ضروری ہدایات دیں۔وہاں کی فوج کو اپنی فوج کا حصہ بنایا اور حکم دیا کہ اس عالقے سے مزید فوج
‫تیار کی جائے۔
‫دیار بکر کو اپنی عمل داری میں لیا اور حلب کی سمت کوچ
‫مئی ‪١١٨٣ء (محرم الحرام ‪٥٧٩ہجری) میں سلطان ایوبی نے
‫ِ
‫کیا۔ اس کے سب سے بڑے دشمن حلب کا والی عمادالدین اور موصل کا والی عزالدین تھے۔ اب وہ ان کی طرف توجہ دینا
‫چاہتا تھا۔
21:01
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 141نہ میں تمہاری‪ ،نہ مصر تمہارا
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫فتح حاصل کرکے کون خوش نہیں ہوتا؟ سلطان صالح الدین ایوبی کو کسی معرکے‪ ،محاصرے یا بڑی جنگ میں فتح ہوتی تھی
‫تو اس کے چہرے پر نورانی سی رونق آجاتی تھی۔ اس کی فوج جشن مناتی‪ ،سپاہی رقص کرتے‪ ،گاتے اور راتوں کو سوتے
‫تھے۔ بکرے‪ ،دنبے اور اونٹ ذبح ہوتے۔ سپاہی خود پکاتے اور سلطان ایوبی ان کے لیے مشروبات کے مٹکے کھول دیا کرتا تھا
‫مگر ‪١١٨٣ء (‪٥٧٩ہجری) کے دوران اس کے چہرے پررونق نہیں تھی‪ ،نہ ہی اس کی فوج جشن منا رہی تھی‪ ،حاالنکہ اس نے
‫ایک سال کے عرصے میں متعدد قلعے سرکر لیے اور شاہ آرمینیا جیسے طاقتور حکمران سے شکست کے عہدنامے پر دستخط
‫کراکے اس سے اپنی شرائط منوالی تھیں۔
‫مؤرخوں نے اس دور کو سلطان ایوبی کی فتوحات کا دور کہا ہے مگر اس کی جذباتی کیفیت یہ تھی جیسے ہر فتح کے بعد
‫اس کے چہرے پر بڑھاپے کی ایک لکیر کا اضافہ ہوگیا ہو۔ یہ لکیریں بڑھاپے اور اداسی کی تھیں۔ وہ ان میں سے کسی ایک
‫فتح اور کسی ایک کامیابی پر بھی خوش نہ تھا۔ اسے جب چھاپہ ماروں کا ساالر صارم مصری فاتحانہ انداز سے رپورٹ دیتا
‫تھا کہ گزشتہ رات چھاپہ ماروں نے فالں جگہ شب خون مار کر دشمن کو اتنا نقصان پہنچایا ہے تو سلطان ایوبی آہستہ سے
‫سر ہال کر اسے خراج تحسین پیش کرتا اور پھر اس کا سر یوں جھک جاتا تھا جیسے اس کے ضمیر پر ایسا بوجھ آپڑا ہو
‫جو اس کی برداشت سے باہر ہو۔
‫مجھے مبارکباد اس روز کہنا جس روز تم صلیبیوں کو شکست دو گے''… ایک روز سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے کہا۔ ''
‫دیار بکر کی فتح کے بعد مبارکباد کہنے آئے تھے۔ اس روز تو اس کی آنکھیں الل ہوگئیں جیسے وہ آنسوئوں کو روکنے
‫وہ اسے
‫ِ
‫کی کوشش کررہا ہو۔ اس نے کہا… ''تم محسوس نہیں کررہے کہ ہم گھروں سے نکلے تھے‪ ،صلیبیوں کو شکست دینے اور
‫انہیں اپنی سرزمین سے نکالنے کے لیے مگر انگلیوں پر گنو کہ تم کتنے برسوں سے اپنے ہی بھائیوں سے لڑ رہے ہو اور
‫حساب کرو کہ ہم ایک دوسرے کا کتنا خون بہا چکے ہیں۔ کیا تم اسے فتح کہتے ہو؟ میں اس خانہ جنگی میں جو بھی فتح

‫حاصل کرتا ہوں‪ ،وہ میری اور تمہاری نہیں‪ ،وہ صلیبیوں کی فتح ہوتی ہے۔ جب دو بھائی آپس میں لڑتے ہیں تو خوشی اور
‫کامیابی ان کے دشمن کی ہوتی ہے۔ میں اسے فتح نہیں کہتا جو ہم نے اپنے بھائیوں پر حاصل کی ہے''۔
‫صلیبی کیوں دبک گئے ہیں؟''… ایک ساالر نے کہا… ''ہم آپ کو ان پر بھی فتح حاصل کرکے دکھا دیں گے''۔''
‫انہیں وہاں سے نکلنے اور لڑنے کی کیا ضرورت ہے‪ ،جہاں وہ دبک کر بیٹھ گئے ہیں''… سلطان ایوبی نے کہا… ''جنگ کا''
‫پہال اصول کیا ہے؟… دشمن کی عسکری قوت کو تباہ کرنا۔ صلیبیوں نے ہماری عسکری قوت کو ہمارے بھائیوں کے ہاتھوں تباہ
‫کرانے کا کامیاب انتظام کررکھا ہے۔ ہم آپس میں لڑ لڑ کر کمزور ہوتے جارہے ہیں اور صلیبی اس صورتحال سے اور اس وقت
‫سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روزبروز طاقتور ہوتے جارہے ہیں۔ فلسطین پر ان کا قبضہ مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ حکمرانی صدا اللہ کی
‫ہے مگر حکمرانی کا نشہ جب انسان پر طاری ہوتا ہے تو مذہب اورملت کا وقار تو دور کی بات ہے وہ اپنی بیٹیوں کو ننگا
‫نچانے لگتا ہے۔ جھوٹ اور فریب کاری کو وہ جائز اور ضرورت سمجھنے لگتا ہے۔ صلیبی امت رسول مقبول صلی اللہ علیہ
‫وآلہ وسلم کو ریاستوں میں تقسیم کرتے چلے جارہے ہیں اور اللہ کی فوج کو ان ریاستوں میں تقسیم کرکے اسالم کی عسکری
‫قوت کو پارہ پارہ کررہے ہیں''۔
‫ہمیں ان عالقوں سے فوج کے لیے بہت بھرتی مل رہی ہے''… ایک ساالر نے کہا… ''بڑے اچھے سپاہی اور سوار بڑی ''
‫خوشی سے آرہے ہیں''۔
‫لیکن مجھے اس کی کوئی خوشی نہیں''… سلطان ایوبی نے سب کو چونکا دیا۔ اس نے کہا… ''یہ لوگ صرف اس لیے ''
‫ہماری فوج میں بھرتی ہورہے ہیں کہ جس شہر کو فتح کیا جاتا ہے‪ ،وہاں ہماری فوج لوٹ مار کرتی ہے اور وہاں سے حسین
‫عورتیں ملتی ہیں''۔
‫ہم نے اپنی فوج کو اپنی لوٹ مار اور آبروریزی کی اجازت کبھی نہیں دی''… ایک اور ساالر نے کہا۔''
‫مگر ہمارا دشمن ہماری فوج کے خالف یہی مشہور کررہا ہے کہ صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج کو لوٹ مار کی اور مفتوح''
‫کی جوان لڑکیاں اٹھالے جانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ دشمن نے ہماری فوج کے خالف یہ بے بنیاد باتیں اس لیے مشہور
‫کررکھی ہیں کہ خود مسلمانوں کے دلوں میں اسالمی فوج کے خالف نفرت پیدا ہوجائے اور ہمیں کہیں سے بھی لوگوں کا
‫تعاون نہ ملے بلکہ ہم جس شہر کا محاصرہ کریں وہاں کے لوگ مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہماری اس فوج کے خالف لڑیں جو
‫اسالمی فوج ہے اور جو ہر لحاظ سے حزب اللہ کہالنے کی حق دار ہے۔ یاد رکھو میرے دوستو! قوم بغیر فوج کے اور فوج
‫قوم کے والہانہ تعاون کے بغیر دشمن کے لیے آسان ہوتی ہے۔ اپنے دشمن کو پہچانو۔ تمہارا دشمن دانشمند ہے‪ ،اس نے ہماری
‫قوم اور فوج میں نفرت پیدا کرنے کا بڑا اچھا اہتمام کیا ہے۔ قرآن نے سیسہ پالئی ہوئی دیوار بن جانے کا حکم صرف قوم یا
‫صرف فوج کو نہیں دیا۔ سیسہ پالئی ہوئی دیوار قوم اور فوج مل کر بنتی ہے۔ اس دیوار میں شگاف ڈالنے کا یہ طریقہ کارگر
‫ہے کہ فوج کو نااہل‪ ،بزدل‪ ،زانی اور ڈاکوکہہ کر قوم کی نظروں سے گرا دیا جائے''۔
‫دیار بکر کے لوگوں پر تو ایسا کوئی اثر نہیں دیکھا''… صارم مصری نے کہا… ''انہیں جونہی پتہ چال کہ محاصرہ کرنے ''
‫ِ
‫والے ہم ہیں اور ان کا حکمران اپنی فوج کے خالف لڑا رہا ہے تو لوگوں نے شہر کے دروازے کھول دئیے تھے''۔
‫وہاں ہمارے جاسوس زیادہ تعداد میں تھے''۔ سلطان ا یوبی نے کہا۔ ''وہاں کی تمام بڑی مسجدوں کے امام ہمارے آدمی ''
‫زکوة کے وعظ نہیں دئیے‪ ،اس کے ساتھ وہ لوگوں کو صلیبیوں کے
‫تھے۔ انہوں نے وہاں کے لوگوں کو صرف نماز‪ ،روزہ‪ ،حج اور
‫ٰ
‫عزائم اور اپنے ایمان فروش امراء اور حاکموں کے متعلق بھی بتاتے رہے ہیں اور یہ بھی کہ جب ایک مسلمان دوسرے کا خون
‫بہاتا ہے تو عرش معلی لرز جاتا ہے اور خدا اس بستی پر اپنا قہر نازل کرتا ہے جہاں کے مسلمان مسلمانوں کے خالف لڑتے
‫دیار بکر میں صلیبیوں کے جاسوس اور تخریب کار بھی درویشوں‪ ،صوفیوں اور
‫اور خون بہاتے ہیں۔ تمہیں یہ معلوم نہیں کہ
‫ِ
‫عالموں کے بہروپ میں موجود تھے اور نظریاتی تخریب کاری کررہے تھے لیکن ہمارے آدمیوں نے ان میں بعض کو خفیہ طریقوں
‫سے اغوا اور قتل کیا اور ان کی آواز کو بیکار کردیا مگر ہم اس وقت جس عالقے میں ہیں‪ ،یہاں صلیبیوں کی تخریب کاری
‫کامیاب ہورہی ہے''۔
‫یہ جو سپاہی اور سوار لوٹ مار کے اللچ سے بھرتی ہورہے ہیں‪ ،کیا یہ پوری فوج کو خراب نہیں کریں گے؟'' ساالر نے ''
‫پوچھا۔
‫تم نے دیکھا نہیں کہ انہیں کس قسم کی تربیت دی جارہی ہے؟''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں نے تمہیں تربیت اور ''
‫جنگی مشقوں کا جو نیا طریقہ بتایا ہے وہ انہیں صحیح سوچ پر لے آئے گا۔ میں فوج میں ان کی تقسیم ایسے طریقے سے
‫کررہا ہوں کہ یہ فوج پر نہیں بلکہ فوج ان پر اثرانداز ہوگی۔ تم بہت جلدی میرا یہ تحریری حکم بھی دیکھ لو گے کہ مفتوحہ
‫عالقے میں اپنا کوئی سپاہی لوٹ مار کرتا یا کسی عورت پر ہاتھ ڈالتا دیکھا جائے تو اسے تیر کا نشانہ بنا دیا جائے یا قریب
‫جاکر اس کی گردن اڑا دی جائے۔ دشمن کے بے بنیاد الزامات کو غلط ثابت کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ فوج اپنے کردار
‫سے مفتوح لوگوں پر اور اپنی قوم پر بھی دل موہ لینے واال اثر پیدا کرے۔ مجھے یہی خطرہ نظر آرہا ہے کہ صلیبی اور یہودی
‫ہر دور میں اسالم کی فوج اور قوم کے درمیان منافرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ قوم کی کردار کشی الگ اور فوج
‫کی الگ کریں گے اور اس طرح دونوں کا ایمان اور قومی جذبہ برباد کرکے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنائے رکھیں گے۔ یہ
‫کام وہ مسلمانوں کے ہاتھوں کرائیں گے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی دریائے فرات کے کنارے خیمہ زن تھا۔ اس نے کئی ایک چھوٹی چھوٹی مسلمان ریاستوں کے ‪:
‫حکمرانوں کو مطیع بنا لیا اور متعدد قلعوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ وہ مسلمان حکمران تھے جو درپردہ صلیبیوں کے دوست اور
‫سلطان ایوبی کے مخالف تھے۔ سلطان ایوبی کی منزل بیت المقدس تھی جس پر صلیبیوں نے قبضہ کرکے اسے یروشلم کا نام
‫دے رکھا تھا مگر اپنے مسلمان حکمران ا ور امراء سلطان ایوبی کے راستے میں حائل ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی فوج کو چند
‫دن آرام دینے کے لیے فرات کے کنارے رک گیا تھا‪ ،وہاں گھوڑوں‪ ،خچروں‪ ،اونٹوں اور رسد کی کمی پوری کی جارہی تھی۔
‫سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے سلطان ایوبی فرات کے کنارے ٹہل رہا تھا۔ اس کے ساتھ گھوڑ سوار دستوں کا ساالر اور
‫چھاپہ مار دستوں کا ساالر صارم مصری تھا۔ ان سے کچھ دور سفید جبے میں ملبوس ایک آدمی کھڑا تھا جس نے دعا کے لیے
‫ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔ سلطان ایوبی ادھر چل پڑا۔ قریب پہنچا تو دیکھا کہ وہاں چار قبریں ہیں۔ ان میں سے ایک قبر کے
‫‪:سرہانے ایک ڈنڈا گڑا تھا اور اس کے ساتھ لکڑی کی ایک تختی تھی جس پر الل رنگ سے عربی زبان میں لکھا تھا
‫عمرالملوک
‫اللہ تیری شہادت قبول کرے

‫نصرالملوک
‫!اس کے ساتھ کی قبر پر بھی ایسی تختی لگی ہوئی تھی جس پر اسی قسم کی الل تحریر تھی
‫نصرالملوک
‫اللہ میری شہادت قبول کرے
‫سلطان ایوبی نے دونوں تحریریں پڑھیں اور اس آدمی کی طرف دیکھا جو قبروں پر فاتحہ پڑھ رہا تھا۔ وہ وضع اور لباس سے
‫عالم فاضل لگتا تھا۔ سلطان ایوبی نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے ذرا جھک کر کہا… ''میں اس گائوں کا امام ہوں‪ ،جہاں
‫کہیں پتہ چلتا ہے کہ شہید کی قبر ہے وہاں چال جاتا ہوں اور فاتحہ پڑھتا ہوں۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ جس جگہ شہید کے
‫خون کا قطرہ گرتا ہے وہ جگہ مسجد جتنی مقدس ہوجاتی ہے۔ میں لوگوں کو یہی بتایا کرتا ہوں کہ مجاہد وہ عظیم شخصیت
‫ہے جس کے گھوڑے کے سموں کی اڑائی ہوئی گرد کا احترام خدا نے بھی کیا ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کو خدائے ذوالجالل
‫نے افضل عبادت کہا ہے''۔
‫مگر اللہ کے نام پر جانیں قربان کرنے والے ایسے ہی گمنام لوگ ہوتے ہیں جن کی قبریں آپ دیکھ رہے ہیں۔ تاریخ میں ''
‫ان کا نہیں میرا نام آئے گا مگر مجھے عظمت دینے والے یہ لوگ تھے''… اس نے اپنے ساالروں کی طرف دیکھا اور قبروں
‫کی دونوں تختیوں کی تحریروں پر ہاتھ پھیر کر کہا… ''یہ الفاظ الل رنگ میں انگلی ڈبو کر لکھے گئے ہیں۔ لکھنے واال ایک
‫ہی آدمی معلوم ہوتا ہے''۔
‫الل رنگ نہیں سلطان محترم!''… چھاپہ ماروں کے ساالر صارم مصری نے کہا… ''یہ خون ہے۔ عمرالملوک کی قبر کی ''
‫تختی نصرالملوک نے اپنے خون سے لکھی تھی اور اس نے اپنے ہی خون سے اپنی قبر کی بھی تختی لکھی اور شہید ہوگیا
‫تھا۔ سولہ سترہ دن گزرے رات کو دریا سے ہم نے ایک بہت بڑی کشتی پکڑی تھی جس میں دشمن کے چھاپہ ماروں کے لیے
‫رسد جارہی تھی۔ آپ کو اس کی اطالع دی گئی تھی۔ یہ کشتی ہمارے آٹھ چھاپہ ماروں نے پکڑی تھی۔ ان میں سے یہ چار
‫شہید ہوگئے تھے۔ ہمیں پہلے اطالع مل گئی تھی کہ ایک بڑی کشتی رات کو گزرے گی جس میں دشمن کی رسد اور اسلحہ
‫…''ہوگا۔ میں نے اپنے آٹھ چھاپہ مار بھیجے۔ یہ ایک چھوٹی سی کشتی میں تھے
‫آدھی رات دوسرے کنارے کے ساتھ ساتھ وہ کشتی جارہی تھی۔ ہمیں اطالع ملی تھی کہ اس میں چار پانچ آدمی ہوں گے ''
‫لیکن ہمارے چھاپہ ماروں کی کشتی اس کے قریب گئی تو اس میں کم وبیش بیس آدمی تھے۔ اس سے پہلے کہ ہمارے یہ
‫چھاپہ مار دشمن کی کشتی میں کود جاتے‪ ،دشمن کے آدمی جو تلواروں سے مسلح تھے‪ ،ہمارے کشتی میں کود آئے۔ ہمارے یہ
‫چھاپہ مار دریائی چھاپوں کا تجربہ رکھتے تھے۔ وہ اپنی کشتی سے دریا میں کودے اور دشمن کی کشتی پر چڑھ کر اس کے
‫بادبانوں کے رسے کاٹ دئیے۔ دونوں کشتیوں میں خون ریز معرکہ لڑا گیا۔ ہمارے چھاپہ ماروں نے بڑی کشتی سے اپنی کشتی
‫پر تیر پھینکے جس میں دشمن کے آدمی تھے۔ بہرحال ہمارے جانباز عقل اور دائوپیچ سے معرکہ لڑکر دونوں کشتیاں لے آئے۔
‫…''دشمن کے آدمی جو مرے نہیں تھے‪ ،دریا میں کود کر دوسرے کنارے پر چلے گئے
‫کشتیاں کنارے لگیں‪ ،مجھے اطالع ملی تو میں انہیں دیکھنے گیا۔ صبح طلوع ہورہی تھی۔ ایک کشتی میں عمرالملوک کی ''
‫اور اس کی دو ساتھیوں کی الشیں تھیں اور باقی سب زخمی تھے۔ نصرالملوک سب سے زیادہ زخمی تھا۔ دو گہرے زخم
‫برچھی کے اور تین زخم تلوار کے تھے۔ وہ ہوش میں تھا‪ ،مرہم پٹی کے لیے لے گئے تو اس نے مجھ سے کہا کہ اسے ایک
‫تختی دی جائے جو وہ اپنے دوست کی قبر پر لگانا چاہتا ہے۔ میں نے ترکھانوں سے اسے تختی منگوا دی۔ اس دوران اس
‫نے اپنی مرہم پٹی نہ ہونے دی۔ تختی آئی تو اس نے اپنے خون میں شہادت کی انگلی ڈبو
‫ڈبو ڈبو کر عمرالملوک کا نام اور یہ تحریر لکھی اور تختی مجھے دے کر کہا کہ یہ عمر کی قبر پر لگا دی جائے۔ میں ‪:
‫…''نے یہ تختی ایک ڈنڈے کے ساتھ لگا کر عمرالملوک کی قبر کے سرہانے لگا دی
‫نصرالملوک کے زخموں سے خون نکلتا رہا۔ بند نہیں ہورہا تھا۔ تیسرے دن اس کی حالت بگڑ گئی۔ میں اسے دیکھنے آیا تو''
‫جراح نے مایوسی کا اظہار کیا۔ خود نصرالملوک کو محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ زندہ نہیں رہ سکے گا۔اس نے مجھے کہا کہ
‫اسے ویسی ہی ایک تختی دی جائے۔ میں نے تختی منگوا دی۔ اس نے تختی اپنے پاس رکھ لی۔ رات کو مجھے اطالع ملی
‫کہ نصر شہید ہوگیا ہے۔ میں گیا تو اس کے ایک زخمی ساتھی نے تختی مجھے دی اور بتایا کہ نصر نے اپنے ایک زخم سے
‫پٹی کھول لی۔ خون نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے خون میں انگلی ڈبو ڈبو کر یہ تحریر لکھی… ''نصرالملوک… اللہ میری شہادت
‫قبول کرے''… اس کے ساتھی نے بتایا کہ نصر نے کہا تھا کہ اسے اپنے دوست عمرالملوک کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ اس
‫طرح یہ دونوں تختیاں ایک ہی شہید کے خون سے لکھی گئی ہیں''۔
‫یہ د ونوں مملوک تھے محترم امام!''… سلطان ایوبی نے امام سے کہا… ''آپ جانتے ہوں گے کہ مملوک کس نسل سے''
‫ہیں۔ یہ ان غالموں کی نسل سے ہیں جنہیں آزاد کرادیا گیا تھا۔ ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غالمی کو
‫ممنوع قرار دیا اور فرمایا تھا کہ انسان انسان کا غالم نہیں ہوسکتا۔ ذرا دیکھو‪ ،ان غالموں نے کیسا کارنامہ کردکھایا ہے۔ یہ آٹھ
‫تھے لیکن بیس آدمیوں سے اتنی بڑی کشتی چھین کر لے آئے ہیں۔ مجھے اپنی فوج میں مملوکوں اور ترکوں پر جتنا بھروسہ
‫ہے اور کسی پر نہیں''۔
‫اب انسان پھر انسان کا غالم بنتا جارہا ہے''… امام نے کہا… ''حکمرانی حاصل کرنے کے جتن اسی لیے کیے جاتے ہیں''
‫کہ انسانوں کو غالم بنایا جائے لیکن انسان سمجھتا نہیں کہ تخت وتاج نے کسی کے ساتھ کبھی وفا نہیں کی۔ فرعون بھی
‫مٹی میں مل گئے۔ خدا نے ہر اس انسان کو عبرتناک سزا دی ہے جس نے تخت وتاج سے پیار کیا اور ہر اس انسان کا
‫خون بہایا جس سے اسے اپنی بادشاہی کے لیے خطرے کی بو آئی''۔
‫سلطان ایوبی کے محافظ دستے کا کمانڈر ایک آدمی کو ساتھ لیے آرہا تھا۔ اس آدمی کی حالت بتا رہی تھی کہ بڑے لمبے
‫سفر سے آیا ہے۔ کمانڈر نے قریب آکر کہا… ''قاہرہ سے قاصد آیا ہے''۔
‫کیا خبر الئے ہو؟''… سلطان ایوبی نے اس سے پوچھا۔''
‫خبراچھی نہیں''… قاصد نے کہا اور کمربند سے ایک کاغذ نکال کر سلطان ایوبی کو دیا۔''
‫سلطان ایوبی اپنے خیمے کو چل پڑا۔ خیمے میں بیٹھ کر اس پیغام کو کھوال۔ یہ اس کے جاسوسی اور سراغ رسانی کے
‫سربراہ علی بن سفیان کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔ لکھا تھا… ''ہمارا سب سے زیادہ دین دار اور دلیر نائب ساالر حبیب القدوس
‫دس دنوں سے الپتہ ہے۔ صلیبیوں کی تخریب کاری زوروں پر ہے۔ ہم یہاں زمین دوز جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایمان فروشوں کی
‫تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس مسئلے پر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم دشمن کو کامیاب نہیں ہونے دیں
‫گے۔ پریشانی حبیب القدوس نے پیدا کردی ہے۔ اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ اس کا صرف الپتہ ہوجانا پریشان کن نہیں‪،

‫ہم ایک اور خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ حبیب القدوس کے ماتحت جتنے دستے ہیں‪ ،وہ ان میں اتنا ہر
‫دل عزیز ہے کہ سپاہی اس کے اشارے پر جانیں قربان کرتے ہیں۔ اگر وہ خود دشمن سے جامال ہے تو یہ خطرہ ہے کہ وہ
‫اپنے دستوں کو جو اس کے زیراثر ہیں‪ ،سلطنت کے خالف بغاوت پر آمادہ کرسکتا ہے۔ میں اسے تالش کرنے کی کوششوں
‫سے دستبردار یا مایوس نہیں ہوا۔ میں آپ سے صرف یہ اجازت لینا چاہتا ہوں کہ اگر تالش کے دوران وہ سامنے آجائے اور
‫ضرورت محسوس ہو کہ اسے مار ڈاال جائے تو اسے مار دیا جائے۔ آپ کے قائم مقام ا میر مصر نے اس کی اجازت نہیں دی۔
‫صرف یہ اجازت دی ہے کہ میں آپ کو براہ راست خط لکھ کر اجازت لے لوں۔ اگر میں اسے تالش نہ کرسکا تو آپ مجھ
‫سے بازپرس کریں گے اور اگر وہ میرے ہاتھ سے مارا گیا تو بھی آپ پسند نہیں کریں گے۔ اس نائب ساالر کا ہمارے دشمن
‫کے پاس رہنا ہمارے لیے بہت بڑا خطرہ ہے''۔
‫‪:سلطان ایوبی نے اسی وقت کاتب کو بالیا اور پیغام کا جواب لکھوانے لگا
‫عزیز علی بن سفیان! تم پر خدا کی رحمت ہو۔ حبیب القدوس پر مجھے اتنا ہی اعتماد تھا جتنا تم پر ہے‪ ،جو انسان ''
‫اپنا ایمان فروخت کرنے پر آجائے وہ خدا سے نہیں ڈرتا‪ ،وہ مجھ جیسے حقیر انسان کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔ ایمان ایک
‫قوت ہے مگر یہ ہیرے اور جواہرات کی طرح چمکتا نہیں۔اس میں عورت کے حسن وجمال کی کشش نہیں اور ایمان میں تخت
‫اور تاج بھی نہیں۔ جب انسان پر دنیا کی لذتوں کا سرور اور زروجواہرات کی ہوس پیدا ہوجاتی ہے تو ایمان سے دستبردار
‫ہونے میں کچھ وقت نہیں لگتا… حبیب القدوس کو تالش کرنے کی کوشش کرو اگر کبھی ضرورت محسوس ہو کہ اسے قتل
‫کردیا جائے تو تمہیں میری طرف سے اجازت ہے لیکن یہ معلوم کرنے کی بھی کوشش کرنا کہ اسے اغوا تو نہیں کیا گیا؟
‫حاالت تمہاری نظر میں ہیں۔ جو بہتر سمجھو وہ کرو۔ مفاد سلطنت اور مذہب مقدم ہے۔ ایک انسان کی زندگی اور موت اس
‫کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی‪ ،جہاں فوج کی اتنی زیادہ تعداد ماری جارہی ہے‪ ،سپاہی اپنی جانیں دے رہے ہیں‪ ،وہاں
‫ایک غدار حاکم کو مار دینے سے پہلے اتنا زیادہ نہ سوچو کہ تمہارا قیمتی وقت اس پر صرف ہوتا رہے۔ اللہ سے گناہوں کی
‫بخشش مانگتے رہو۔ ہم سب گناہ گار ہیں۔ پاک ذات صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔ تم حق
‫پر ہو تو اللہ تمہارے ساتھ ہے''۔
‫سلطان ایوبی نے پیغام کے نیچے اپنی مہر لگائی اور پیغام قاصد کے حوالے کردیا اور اسے کہا کہ وہ رات بھر آرام کرکے علی
‫الصبح روانہ ہوجائے۔
‫وہ تاریخ اسالم کا پرآشوب دور تھا۔ ادھر سرزمین عرب مسلمانوں کے خون سے الل ہورہی تھی۔ صلیبیوں اور یہودیوں نے
‫مسلمانوں میں غدار اور سازشی پیدا کرکے مسلمانوں کو خانہ جنگی میں الجھا دیا تھا۔ ادھر مصر میں یہی کفار مسلمان
‫حاکموں میں غدار پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ لوگوں میں سلطان ایوبی کی حکومت کے خالف نفرت پیدا کررہے
‫تھے اور سلطان ایوبی کی فوج پر بڑے ہی شرمناک الزامات کی تشہیر کررہے تھے۔ انہوں نے یہ مہم زمین دوز طریقے سے
‫چال رکھی تھی۔ علی بن سفیان اور قاہرہ کا کوتوال غیاث بلبیس اس مہم کے اثرات زائل کرنے اور مجرموں کو پکڑنے میں
‫سرگرم رہتے تھے۔
‫ایک نائب ساالر کا غائب ہوجانا معمولی واقعہ نہیں تھا مگر اس کا کچھ بھی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ حبیب القدوس کے
‫متعلق کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ بھی غداری کا مرتکب ہوسکتا ہے لیکن اس دور میں غداری ایک عام سی چیز
‫بن کے رہ گئی تھی۔ حبیب القدوس الپتہ ہوا تو سب نے یہی کہا کہ وہ کوئی فرشتہ تو نہیں تھا۔ اس کی تین بیویاں تھیں
‫اور یہ کوئی معیوب امر نہیں تھا۔ اس کی حیثیت کے حاکموں نے چار چار بیویاں رکھی ہوئی تھیں اور جو ذرا زندہ دل تھے‪،
‫ان کے ہاں ایک دو داشتہ عورتیں بھی ہوتی تھیں۔ حبیب القدوس کی زندگی میں شراب اور راگ رنگ کا ذرہ بھر دخل نہ
‫وصلو ة کا پابند تھا اور میدان جنگ میں دشمن کے لیے سراپا قہر۔ شجاعت کے عالوہ فن حرب وضرب میں مہارت
‫تھا۔ صوم
‫ٰ
‫رکھتا تھا۔ جنگی منصوبہ بندی ایسی کہ کم سے کم نفری سے کثیرتعداد دشمن کا ستیاناس کردیتا تھا۔
‫اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اپنے دستوں میں ہر دل عزیز تھا۔ اس کے ماتحت جو کمان دار اور سپاہی تھے ان
‫کے لڑنے کا انداز یہ ہوتا تھا جیسے وہ حکم سے نہیں عقیدت سے لڑ رہے ہوں۔ بعض اوقات تو یہ گمان ہوتا تھا کہ یہ
‫دستے اس کی ذاتی فوج ہیں اور یہ سلطان ایوبی کے حکم سے نہیں‪،حبیب القدوس کے اشارے پر ہی لڑتے ہیں۔ ان کی تربیت
‫اس نے اتنی سخت کررکھی تھی اور انہیں اتنی جنگی مشقیں کراتا تھا کہ آج کی زبان میں یہ ''کریک ٹروپس'' بن گئے
‫تھے۔ ان کی نفری تین ہزار پیادہ اور دو ہزار سوار تھی۔ تیر اندازی میں اتنے ماہر جیسے اندھیرے میں آواز پر تیر چالئیں تو
‫تیر بولنے والے کے منہ میں لگے۔
‫علی بن سفیان جاسوسی اور سراغ رسانی کا ماہر تھا۔ غیاث بلبیس کوتوال تھا اور سول انٹیلی جنس میں مہارت رکھتا تھا۔
‫ان دونوں کی رائے یہ تھی کہ حبیب القدوس کو دشمن نے اس کی اسی خوبی کی وجہ سے اپنے جال میں لیا ہے کہ وہ
‫اپنے پانچ ہزار نفری کے دستوں کو باغی کرسکے گا۔ پانچ ہزار نفری معمولی نفری نہیں تھی۔ ان دستوں کو نہتہ کردینے کی
‫بھی تجویز پیش ہوئی تھی جو علی بن سفیان اور غیاث بلبیس نے یہ دلیل دے کر مسترد کردی تھی کہ اس طرح یہ باغی
‫نہ ہوئے تو بھی باغی ہوجائیں گے۔ اس کے بجائے انہوں نے ان دستوں میں کسی نہ کسی بہروپ میں اپنے جاسوس چھوڑ
‫دئیے تھے جو بارکوں میں سپاہیوں کی گپ شپ سنتے رہتے تھے۔ کمان داروں پر بھی ان کی نظر تھی۔
‫گہری نظر حبیب القدوس کے گھر پر رکھی گئی تھی۔ اس کی تین بیویوں میں ایک کی عمر تیس اور چالیس کے درمیان تھی
‫اور دو چوبیس پچیس سال کی تھیں۔ ان سے پوچھا گیا۔ انہوں نے اتنا ہی بتایا تھا کہ ایک شام اس کے پاس دو آدمی آئے
‫تھے۔ حبیب القدوس ان کے ساتھ نکل گیا تھا‪ ،پھر واپس نہیں آیا۔ مالزموں سے بھی بہت گہری تفتیش کی گئی۔ ان سے
‫بھی کوئی سراغ نہ مال۔ بیویوں کے متعلق درپردہ معلوم کیا گیا۔ ان میں کوئی بھی مشکوک نہیں تھی۔ صرف اتنا پتہ چال کہ
‫چھوٹی عمر کی دو بیویوں میں سے ایک کے ساتھ جس کا نام زہرہ تھا‪ ،اسے سب سے زیادہ پیار تھا۔ یہ اس کے ایک سوار
‫دستے کے کمان دار کی بیٹی تھی۔
‫اس کمان دار سے پوچھاگیا کہ اس نے اپنی عمر کے آدمی کو اپنی جوان بیٹی کیوں دی تھی؟ کیا حبیب القدوس نے اسے
‫ماتحت سمجھ کر مجبور کیا تھا؟
‫نہیں'' ۔ کمان دار نے جواب دیا… ''نائب ساالر حبیب القدوس اسالم اور جہاد کے اتنے ہی متوالے ہیں جتنا میں ہوں۔ ''
‫میں نے ان کے ساتھ لڑائیاں لڑی ہیں‪ ،وہ کہا کرتے تھے کہ مومن کی تلوار نیام سے نکل آئے تو نیام میں اس وقت تک
‫نہیں آنی چاہیے جب تک دشمن کا ایک بھی سپاہی سامنے موجود ہے اور وہ کہا کرتے تھے کہ کفر کا فتنہ ختم ہونے تک
‫جہاد جاری رہتا ہے۔ غداروں سے وہ اتنی نفرت کرتے تھے کہ ایک سرحدی لڑائی میں سوڈانیوں نے اچانک حملہ کیا تو

‫ہمارے دو سوار بھاگ اٹھے۔ نائب ساالر نے دیکھ لیا‪ ،انہیں پکڑنے کا حکم دیا۔ انہیں پکڑ الئے۔ نائب ساالر نے ان سے کچھ
‫پوچھے اور کہے بغیر دونوں کو انہی کے گھوڑوں کے پیچھے اپنے ہاتھوں سے باندھا اور گھوڑوں پر دو سوار بٹھا کر حکم دیا کہ
‫…''گھوڑے دوڑائو اور رکو اس وقت جب گھوڑے خود تھک کر رک جائیں
‫جب گھوڑے واپس آئے تو ان کا پسینہ بہہ رہا تھا اور سانس لینا مشکل ہورہا تھا۔ ان کے پیچھے بندھے ہوئے سپاہیوں کا ''
‫یہ حال تھا کہ ان کے جسم پر کپڑے نہیں تھے اور ان کی کھالیں اتر گئی تھیں۔ جسم پر گوشت بھی پورا نہیں تھا۔ لڑائی
‫اس طرح ختم ہوگئی تھی کہ سوڈانیوں میں سے زیادہ تر مارے گئے‪ ،کچھ پکڑے گئے اور باقی بھاگ گئے۔ حبیب القدوس نے
‫تمام دستوں کو اکٹھا کرکے ان سپاہیوں کی الشیں دکھائیں اور کہا کہ اللہ کی راہ میں لڑنے سے بھاگنے والوں کی یہ سزا
‫…''دنیاوی ہے‪ ،اگلے جہان ان کے جسم سالم ہوں گے اور انہیں دوزخ میں پھینک دیا جائے گا
‫ہم سب جہاد اور شہادت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ ایک روز میری بیٹی میرے ساتھ تھی۔ میں نے اپنی بیٹی کو بھی ''
‫وہی تربیت دے رکھی ہے جو باپ نے مجھے دی تھی۔ میرا ایک بیٹا اس وقت سلطان کی فوج کے ساتھ شام میں ہے۔ میں
‫اپنی بیٹی کو بتایا کرتا تھا کہ ہمارے نائب ساالر حبیب القدوس سلطان صالح الدین ایوبی جیسے مجاہد ہیں۔ میری بیٹی کو
‫اس روز نائب ساالر نے دیکھ لیا اور پوچھا کہ یہ کون ہے؟ میں نے بتایا کہ یہ میری بیٹی ہے اور یہ مجاہدہ ہے۔ بہت دنوں
‫بعد انہوں نے مجھے کہا کہ وہ اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں نے اپنی بیٹی کی ماں سے بات کی
‫تو اس نے کہا کہ بیٹی پہلے ہی کہتی ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے جو اسالم کی پاسبانی میں
‫اپنی جان کی بازی لگانے واال ہو۔ اس طرح میں نے بڑی خوشی سے اپنی بیٹی کی شادی نائب ساالر سے کردی اور میری
‫بیٹی نے انہیں دلی طور پر قبول کر لیا۔ اب سنا ہے کہ وہ الپتہ ہیں‪ ،میں آپ کو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ان کے متعلق
‫اگر دل سے کسی کو رنج ہے تو وہ صرف میری بیٹی ہے۔ وہ اسی کو زیادہ چاہتے تھے‪ ،باقی دو بیویاں کہتی ہیں کہ یہ
‫مرگیا تو کسی اور کے ساتھ شادی کرلیں گی''۔
‫٭ ٭ ٭
‫مجھے اب یقین سا ہونے لگا ہے کہ اس کا دماغ ہمارے قبضے میں آگیا ہے''… یہ آواز قاہرہ سے بہت دور ان کھنڈروں ''
‫سے ابھری تھی جہاں کسی فرعون نے اپنے زمانے میں محل بنایا تھا۔ اس زمانے میں یہ جگہ بہت خوبصورت اور سرسبز
‫ہوگی۔ عالقہ پہاڑی تھا اور دریائے نیل کے کنارے پر تھا۔ پہاڑیوں پر درخت اور سبزہ تھا اور وہاں دریا کچھ اندر کو آجاتا تھا۔
‫کسی فرعون نے یہ محل بنایا تھا۔ سلطان کے دور میں یہ ڈرائونا کھنڈر بن چکا تھا۔ دیواروں اور ستونوں پر کائی اگی ہوئی
‫تھی۔ چیلوں جتنے بڑے چمگاڈروں کے سیاہ بادل اس کھنڈر میں سمٹے رہتے تھے۔ کھنڈروں کے برآمدوں اور کمروں میں انسانی
‫ہڈیاں اور کھونپڑیاں بکھری ہوئی تھیں۔ اس دور کے ہتھیار بھی ادھر ادھر پڑے نظر آتے ہیں‪ ،ادھر اب کوئی نہیں جاتا تھا‪،
‫مشہور ہوگیا تھا کہ وہاں جنوں‪ ،چڑیلوں اور بدروحوں کا بسیرا ہے جو زندہ انسانوں کا شکار کرتی ہیں۔
‫اس ہولناک کھنڈر میں جس کے میلوں دور سے بھی کوئی نہیں گزرتا تھا‪ ،ایک آدمی کہہ رہا تھا کہ مجھے اب یقین سا ہونے
‫لگا ہے کہ اس کا دماغ ہمارے قبضے میں آگیا ہے۔ پھر اس نے کہا… ''نہیں آئے گا تو یہاں سے زندہ نہیں نکلے گا''۔
‫ہم اسے اس لیے نہیں الئے کہ یہاں الکر اسے قتل کردیں''… دوسرے نے کہا… ''اگر قتل کرنا ہوتا تو اسے اس کے گھر ''
‫سے اٹھانے اور اتنی دور النے کے بجائے وہیں قتل نہ کردیتے؟ اسے اس کام کے لیے تیار کرنا ہے جس کے لیے اسے الئے
‫ہیں''۔
‫حشیش اپنا کام کررہی ہے''۔''
‫تم کسی کو نشہ پال کر اس سے ایسی باتیں کراسکتے ہو جن کا اس کی عقل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ حشیش سے''
‫تم کسی کے ایمان اور نظریئے کو نہیں بدل سکتے۔ یہ شخص پانچ ہزار نفری کی جنگی قوت کا حامل ہے۔ ہمیں صرف اسے
‫نہیں‪ ،اس کی پوری نفری کو اپنے ہاتھ میں لے لینا اور اسے مصر کی فوج کے خالف لڑانا ہے‪ ،پھر مصر ہمارا ہوگا اور پھر
‫صالح الدین ایوبی کی حالت اسی شیر جیسی ہوگی جو بہت سے شکاریوں کے گھیرے میں ہوگا۔ وہ سب کو چیرپھاڑ دینے کو
‫جھپٹے گا مگر اسے صرف موت ملے گی… اگر سلطان ایوبی کا یہ نائب ساالر حبیب القدوس اپنے دستوں کو اشارہ کردے تو وہ
‫کچھ سوچے بغیر اس کا حکم مانیں گے''۔
‫حبیب القدوس اسی کھنڈر کے ایک کمرے میں بیٹھا تھا جسے صاف کرلیا گیا تھا۔ اس کے نیچے نرم گدے بچھے ہوئے اور اس
‫کے پیچھے گول تکیے تھے۔ آسائش کا سارا سامان موجود تھا۔ اس کے سامنے ایک آدمی بیٹھا تھا جس نے اس کی آنکھوں
‫میں آنکھیں ڈال رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا… ''مصر میری مملکت ہے‪ ،صالح الدین ایوبی عراقی کرد ہے۔ اس نے میری
‫مملکت پر قبضہ کررکھا ہے۔ صالح ا لدین ایوبی نے میری مملکت کی حسین لڑکیوں سے اپنا حرم بھر رکھا ہے۔ میرے پانچ
‫ہزار جانباز پورے مصر پر قبضہ کرلیں گے''۔
‫حبیب القدوس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس کے چہرے پر رونق تھی‪ ،وہ بڑبڑانے کے لہجے میں کہنے لگا… ''میری تلوار
‫کہاں ہے؟ میرا گھوڑا تیار کرو۔ میں صالح الدین ایوبی کو قتل کروں گا۔ میرے پانچ ہزار جانباز ایک دن میں مصر کی فوج سے
‫ہتھیار ڈلوالیں گے''۔
‫صلیبی میرے دوست ہیں''… اس آدمی نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے کہا… ''وہ میری مدد کو آئیں گے۔ ''
‫دوست وہ جو برے وقت میں مدد دے''۔
‫میری تلوار کہاں ہے؟'' حبیب القدوس ذرا صاف آواز میں بولنے لگا… ''مصر بہت خوبصورت ہوگیا ہے۔ مصر کی لڑکیاں ''
‫زیادہ حسین ہوگئی ہیں‪ ،مصر میرا ہے‪ ،مصر میرا ہے''۔
‫ایک لڑکی اندر آئی جس کا لباس ایسا تھا کہ برہنہ لگتی تھی۔ اس کے بال مالئم اور کھلے ہوئے تھے۔ اس کا جسم ہلکے
‫گالبی رنگ کا اور سڈول تھا۔ وہ حبیب القدوس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنا ایک بازو حبیب القدوس کے کندھوں
‫پر ڈال دیا۔ حبیب القدوس اپنا گال اس کے ریشمی بالوں سے مس کرنے لگا۔ اس نے مخمور لہجے میں کہا… ''مصر بہت
‫حسین ہوگیا ہے''۔
‫لڑکی ایک طرف ہٹ گئی اور بولی… ''لیکن مجھ پر سلطان ایوبی کا قبضہ ہے''۔
‫حبیب القدوس نے لپک کر اسے اپنے بازوئوں میں لے لیا اور اپنے قریب گھسیٹ کر بوال… ''تم پر کوئی قبضہ نہیں کرسکتا۔
‫تم میری ہو‪ ،مصر میرا ہے''۔
‫جب تک صالح الدین ایوبی زندہ ہے یا جب تک مصر پر اس کی بادشاہی ہے‪ ،نہ میں تمہاری نہ مصر تمہار ہے''۔''
‫میں اسے قتل کردوں گا''۔ حبیب القدوس نے کہا… ''میں اسے قتل کردوں گا''۔''

‫رک جائو''۔ ایک سخت غصیلی آواز کمرے میں گونجی۔ یہ ایک صلیبی تھا جو مصری زبان بول رہا تھا۔ یہ وہی تھا '' ‪:
‫جسے کھنڈر میں کسی دوسری جگہ ایک مصری بتا رہاتھا کہ اب یقین ہونے لگا ہے کہ اس شخص (حبیب القدوس) کا دماغ
‫ہمارے قبضے میں آرہا ہے اور اس نے کہا تھا کہ اسے حشیش کے نشے کے بغیر اپنے کام میں النا ہے۔ وہ اس کمرے میں آیا
‫جہاں حبیب القدوس کے دماغ کو حشیش کے نشے کے زیراثر اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس نے غصے
‫میں کہا… ''تم حسن بن صباح کے پجاری حشیش اور خفیہ قتل کے سوا کچھ بھی نہیں جانتے۔ لڑکی کو اس کے پاس رہنے
‫دو اور تم میرے ساتھ آئو''۔
‫وہ اس آدمی کو اپنے ساتھ لے گیا۔ باہر لے جاکر اسے کہا… ''اب اسے حشیش نہ دینا۔ اس کا نشہ اتر جانے دو۔ ہمیں اس
‫کے ہاتھوں صالح الدین ایوبی کو قتل نہیں کرانا۔ ہمیں اس کے دستوں کو بغاوت پر آمادہ کرنا ہے۔ میں بہت دیر سے پہنچا
‫ورنہ اس کا یہ حال نہ ہونے دیتا۔ ہوش میں رکھ کر اسے صالح الدین ا یوبی کا دشمن بنانا ہے۔ تم لوگوں نے اسے جس
‫خوبی سے اغوا کیا ہے اس کی میں دل سے تعریف کرتا ہوں اور اس کی تمہیں اتنی قیمت دی جارہی ہے جو پہلے تمہیں
‫کہیں سے نہیں ملی ہوگی مگر تم نے اسے حشیش دے دے کر ہمارا کام مشکل بنا دیا ہے۔ اسے اب وہ سفوف اور شربت دو
‫جس سے نشے کا اثر اتر جاتا ہے''۔
‫صلیبیوں کی جاسوسی اور تخریب کاری اور مسلمان نوجوانوں کی کردارکشی کے طریقے اناڑیوں والے نہیں تھے۔
21:01
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 142نہ میں تمہاری‪ ،نہ مصر تمہارا
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫صلیبیوں کی جاسوسی اور تخریب کاری اور مسلمان نوجوانوں کی کردارکشی کے طریقے اناڑیوں والے نہیں تھے۔ ان کے اس فن
‫کے ماہرین انسانی فطرت کی کمزوریوں اور مطالبات سے اچھی طرح واقف تھے۔ ان کی نظر سلطان ایوبی کی فوج اور انتظامیہ
‫کے ہر افسر پر تھی۔ ادھر عرب کے امرائ‪ ،وزراء اور مختلف ریاستوں کے مسلمان حکمرانوں کی خامیوں سے بھی وہ آگاہ
‫تھے۔ ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ حکمران اور حاکم ان کے زیراثر ہوجائیں اور سلطان ایوبی کے خالف
‫لڑنے پر آمادہ ہوجائیں۔ یہودی اپنی دولت اور اپنی لڑکیوں کی صورت میں ان کی پوری مدد کررہے تھے۔ ان کفار کے ماہرین
‫نے مسلمان حکمرانوں وغیرہ کو چند ایک زمروں میں تقسیم کررکھا تھا۔
‫ایک زمرے میں انہیں رکھا گیا تھا جو ایک دو خوبصورت اور شوخ لڑکیوں‪ ،شراب اور زروجواہرات کے عوض اپنا ایمان بیچ
‫ڈالتے تھے۔ دوسرے زمرے میں وہ تھے جو اپنی الگ ریاست بنا کر اس کے خودمختار بادشاہ بننے کے خواب دیکھا کرتے
‫تھے۔ تیسرے میں وہ تھے جو ملک وملت کے وفادار اور پکے مسلمان تھے۔ ان میں سے صلیبی یہ دیکھتے تھے کہ کون
‫اثرورسوخ واال ہے جسے ہاتھ میں لیا جائے تو وہ سلطان ایوبی کی خفیہ پالیسیوں اور پرگراموں سے قبل از وقت اطالعات دے
‫سکتا ہو اور ان میں کون ایسا ہے جس کا فوج کے کچھ حصے پر اثر ہو اور وہ اسے حصے کو اپنی سلطنت کے خالف باغی
‫کرسکتا ہو۔ ان پکے دین داروں ا ور مجاہدوں کو ہاتھ میں لینے کے لیے ان کے پاس کچھ طریقے تھے جن میں ایک اغوا کرنا
‫اور اسے اپنا اتحادی بنانا تھا۔ ایک طریقہ قتل کا بھی تھا لیکن قتل کم ہی کرائے جاتے تھے۔ اگر ضرورت پڑے تو قتل حسن
‫بن صباح کے پیشہ ور قاتلوں سے کرایا جاتا تھا۔
‫نائب ساالر حبیب القدوس ایسا حاکم تھا جس کو قتل کرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ اسے ہاتھ میں لینا تھا۔ جیسا
‫کہ بتایا جاچکا ہے کہ مصر کی فوج کی پانچ ہزار نفری اس کی مرید تھی۔ صلیبیوں کے مسلمان ایجنٹوں نے انہیں بتایا تھا کہ
‫یہ شخص ایمان نہیں‪ ،جان دینے واال ہے اور اس میں اتنا شدید جذبہ اور غیرمعمولی اہمیت ہے کہ اگر اسے اپنے انہی دستوں
‫کے ساتھ ایک الکھ کے لشکرکے خالف لڑایا جائے تو شام کا سورج اتنی جلدی افق میں نہیں گرے گا جتنی جلدی اس کے
‫آگے دشمن کی الشیں اور ہتھیار گریں گے۔
‫صلیبیوں نے تجربہ کرلیا تھا۔ وہ اس طرح کہ انہوں نے کبھی اس کے پاس کوئی نوجوان اور غیرمعمولی طورپر خوبصورت لڑکی
‫ایک نادار‪ ،یتیم اور مظلوم لڑکی کے بہروپ میں مدد لینے کے لیے بھیجی۔ کبھی کسی لڑکی کو کسی اور ذاتی کام سے بھیجا۔
‫ضیافتوں اور کھیل تماشوں میں بڑی بڑی حسین لڑکیاں اس کے پیچھے ڈالیں مگر وہ اس جال میں نہ آیا‪ ،جیسے پتھر ہو۔ مصر
‫میں بغاوت کرانا صلیبیوں کے لیے ضروری ہوگیا تھا کیونکہ سلطان صالح الدین ایوبی شام اور فلسطین کے عالقوں کے بکھرے
‫ہوئے مسلمان امراء کو دالئل سے یا تلوار سے اپنا مطیع بناتا چال جارہا تھا اور اس کے بعد ا سے فلسطین کا رخ کرنا تھا۔
‫اس کی توجہ فلسطین سے ہٹانے کے لیے ایک طریقہ یہ ہوسکتا تھا کہ مصر میں اس کی جو فوج ہے اسے بغاوت پر آمادہ
‫کیا جائے۔
‫اس سے پہلے صلیبی سوڈانیوں کو مصری فوج کے خالف استعمال کرنے کی کوشش کرچکے تھے۔ سوڈانی فوج نے حملہ کیا تھا
‫مگر سوڈانی فوج میں اکثریت وہاں کے حبشیوں کی تھی اور وہ توہم پرست تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ ہجوم کی صورت میں
‫لڑتے اور ہجوم کی صورت میں بھاگتے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں مصر کے خالف ہی رکھا لیکن لڑنے کی نہ سوچی۔ اب بغاوت
‫مصر کی فوج ہی سے کرائی جاسکتی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے جو موزوں ساالر دیکھا وہ حبیب القدوس تھا۔ جاسوسوں اور
‫ماہرین نے اس کے اغوا کا فیصلہ کیا اور حسن بن صباح کے فرقے کے فدائیوں کو منہ مانگی اجرت دے کر ان سے اغوا
‫کرالیا۔
‫اغوا کا طریقہ یہ اختیار کیا کہ ایک شام دوآدمی اس کے گھر گئے اور کسی گائوں کا نام لے کرکہا کہ وہاں کی مسجد کی
‫چھت بیٹھ گئی ہے اور پوری مسجد ازسرنو تعمیر کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کو گائوں کے لوگ جمع ہورہے ہیں اور وہ
‫بھی چلیں تاکہ لوگ دل کھول کر مالی مدد دیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایسی جذباتی باتیں کیں کہ وہ ان کے ساتھ چل
‫پڑا۔ شہر سے باہر نکل گئے تو چار اور آدمی ملے۔ ان سب نے اسے جکڑ لیا اور اس کھنڈر میں لے گئے۔ وہاں پہنچتے ہی
‫اسے دھوکے میں حشیش پال دی۔ صلیبی جو اس سے بات کرنے اور اسے اپنا ہم خیال بنانے پر مامور تھا وہ کسی اور کام
‫سے کہیں چال گیا۔ اسے اغوا کرانے والے کھنڈر میں موجود رہے۔ کھنڈر کے ایک کمرے میں اس کے لیے آسائش کی ہر چیز
‫پہنچا دی گئی۔ دو لڑکیاں بھی تھیں جو حسین ہونے کے عالوہ دلوں کو موہ لینے اور پتھر جیسے پختہ کردار کے آدمیوں کو
‫بھی حیران بنا دینے کے فن کی ماہر تھیں۔
‫ان سب کو معلوم تھا کہ اس نائب ساالر کو کیوں اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے انعام واکرام کے اللچ میں از خود ہی اس کے
‫ذہن کو اپنے مخصوص طریقے سے اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں شروع کردیں۔ یہ طریقہ حشیش کی ایک خاص قسم

‫سے نشہ طاری کرنے کا تھا جس کے دوران مطلوبہ فرد کے ذہن میں باتوں کے ذریعے نہایت دلکش تصورات ڈالے جاتے تھے۔
‫یہ ایک قسم کا ہیپناٹائز کرنے کا طریقہ تھا۔ اس میں نیم عریاں خوبصورت لڑکیاں بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ یہ گروہ کئی
‫دنوں سے حبیب القدوس پر یہ طریقہ استعمال کررہا تھا اور اس نے ان کے ساتھ مطلب کی باتیں شروع کردی تھیں جن سے
‫انہیں امید بندھ چلی تھی کہ انہوں نے اس کے دماغ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫ادھر قاہرہ میں مصری فوج اور کوتوالی کے جاسوس اس کی تالش میں پریشان ہورہے تھے۔ سب کا یہی خیال تھا کہ وہ
‫سوڈانیوں یا صلیبیوں کے پاس چال گیا ہے۔ علی بن سفیان کو معلوم تھا کہ حبیب القدوس کا اثر اپنے دستوں پر کس قدر
‫زیادہ ہے‪ ،اس لیے اس نے مصر کے قائم مقام امیر کی اجازت سے سلطان ایوبی کو اطالع دے دی تھی۔ توقع یہی تھی کہ وہ
‫اپنے معتمد کمان داروں کو کوئی پیغام بھیجے گا۔ جاسوسوں اور سراغ رسانوں نے ہر طرف نظر رکھی لیکن معلوم یہی ہوتا
‫تھا کہ اس کا پیغام کسی کی طرف نہیں آیا۔ یہ بھی دیکھا جارہا تھا کہ ان دستوں میں سے کون سا کمان دار غائب ہوتا
‫ہے لیکن اتنے دنوں میں کوئی بھی غیرحاضر نہ ہوا۔
‫اتنے میں وہ صلیبی کھنڈرات میں آگیا جسے حبیب القدوس کے ساتھ بات چیت کرنی تھی۔ اس نے پہال کام یہ کیا کہ حشیش
‫رکوائی اور حبیب القدوس کا نشہ اتارا۔ صلیبی نے پوری رات نشے کے اثرات اترنے کا انتظار کیا۔ اگلے روز وہ حبیب القدوس
‫کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ ابھی سویا ہوا تھا۔ اس کی جب آنکھ کھلی تو اس نے ادھر ادھر دیکھا اورجب اس کی نظر صلیبی پر
‫پڑی تو وہ فورا ً اٹھ بیٹھا اور صلیبی کو بڑی غور سے دیکھنے لگا۔
‫مجھے افسوس ہے کہ ان لوگوں نے آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا''۔ صلیبی نے کہا… ''آپ اتنے حیران اور پریشان ''
‫نہ ہوں۔ یہ بدبخت آپ کو حشیش پالتے رہے اور آپ کو بڑے خوبصورت خواب دکھاتے رہے ہیں۔ آپ حشیش اور فدائیوں کے
‫اس طریقے سے یقینا واقف ہوں گے۔ آپ کی توہین کی گئی ہے جس کی میں معافی چاہتا ہوں۔ میں آپ کو کوئی خواب
‫نہیں دکھائوں گا۔ بڑی خوبصورت حقیقت آپ کے سامنے رکھوں گا۔ اپنے آپ کو قیدی نہ سمجھیں۔ میں آپ کا رتبہ اونچا
‫کروں گا‪ ،کم نہیں ہونے دوں گا''۔
‫یہ لوگ دھوکے میں مجھے یہاں لے آئے تھے''۔ حبیب القدوس نے کہا… ''پھر شاید مجھے کہیں اور لے گئے تھے''۔ ''
‫اس نے نگاہیں گھما کر ہر طرف دیکھا اور حیران سا ہوکے بوال… ''وہ کوئی بہت ہی خوبصورت جگہ تھی… مجھے یہاں کون
‫''الیا ہے؟
‫اپنے آپ کو بیدار کریں''۔ صلیبی نے کہا… ''یہ سب حشیش کا اثر تھا۔ آپ پہلے روز سے یہیں ہیں''۔''
‫''مجھے اغوا کیا گیا تھا؟'' حبیب القدوس نے حقیقت کو سمجھتے ہوئے ذرا رعب سے کہا… ''تم کون ہو؟''
‫میں آپ کا ایک مسلمان بھائی ہوں''۔ صلیبی نے کہا… ''مجھے آپ سے لینا کچھ بھی نہیں‪ ،کچھ دینا ہے''۔''
‫''اگر میں لینے دینے سے انکار کردوں تو؟''
‫تو زندہ واپس نہیں جاسکیں گے''۔ صلیبی نے کہا… ''آپ قاہرہ سے اتنی دور ہیں کہ آپ کو میں نے آزاد کردیا تو آپ ''
‫راستے میں مرجائیں گے''۔
‫مجھے وہ موت زیادہ پسند ہوگی''۔ حبیب القدوس نے کہا… ''میں اپنے دشمن کی قید میں نہیں مرنا چاہتا''۔''
‫نہ آپ قید میں ہیں‪ ،نہ میں آپ کا دشمن ہوں''… صلیبی نے کہا… ''ان خبیثوں نے آپ کے ساتھ توہین آمیز سلوک ''
‫کرکے آپ کو بدظن کردیا ہے۔ مجھے آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں''۔
‫''ان باتوں کے لیے مجھے اغوا کرکے اتنی دور النے کی کیا ضرورت تھی؟''
‫اگر میں یہ باتیں قاہرہ میں آپ کے ساتھ کرتا تو ہم دونوں قید خانے کے تہہ خانے میں ہوتے''۔ صلیبی نے کہا… ''
‫''وہاں قدم قدم پر علی بن سفیان اور کوتوال غیاث بلبیس نے جاسوس کھڑے کر رکھے ہیں''۔
‫حبیب القدوس کا ذہن صاف ہوچکا تھا۔ اس کا دماغ سوچنے کے قابل ہوگیا تھا۔ وہ جان گیا کہ وہ صلیبی تخریب کاروں کے
‫''چنگل میں آگیا ہے۔ اس نے پوچھا… ''تم صلیبیوں کے آدمی ہو یا سوڈانیوں کے؟
‫میں مصر کا آدمی ہوں''۔ اس نے جواب دیا… ''اور آپ بھی مصری ہیں۔ آپ بغدادی‪ ،شامی یا عربی نہیں۔ مصر مصریوں''
‫کا ہے۔ یہ نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کے خاندان کی جاگیر نہیں۔ یہ اسالمی ملک ہے۔ یہاں اللہ کی حکمرانی ہوگی
‫اور اس کا انتظام اور کاروبار مصری مسلمان چالئیں گے۔ کیا آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ ہم پر حکومت کرنے والے
‫''بغداد اور دمشق سے آئے ہیں اور انہوں نے مصر کو شام کے ساتھ مال کر ا یک سلطنت بنا لیا ہے؟
‫''تم مجھے مصر کو صالح الدین ایوبی سے آزاد کرانے پر اکسا رہے ہو؟''
‫میں جانتا ہوں کہ آپ صالح الدین ایوبی کو پیغمبر نہیں تو پیرومرشد ضرور سمجھتے ہیں''… صلیبی نے کہا… ''میں اس ''
‫کے خالف کوئی بات نہیں کروں گا۔ ایوبی میں بہت سی خوبیاں ہیں۔ میں بھی اسے اتنا ہی پسند کرتا ہوں جتنا آپ کرتے
‫ہیں مگر ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک زندہ رہے گا۔ اس کے بعد مصر اس کے جس بھائی یا بیٹے کے ہاتھ آئے گا‪،
‫اس میں صالح الدین ایوبی کی خوبیاں نہیں ہوں گی۔ مصر ایک فرعون کے قبضے میں آجائے گا''۔
‫''مجھ سے تم کیا کام لینا چاہتے ہو؟''
‫اگرآپ میری بات سمجھ گئے ہیں تو میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ آپ کیا کرسکتے ہیں''… صلیبی نے جواب دیا… ''اگر''
‫آپ کے دل میں شک ہے تو مجھ سے پوچھیں۔ پہلے اپنا شک رفع کریں۔ آپ سوچ لیں۔ آپ ابھی ابھی جاگے ہیں۔ ان
‫بدبختوں کی دی ہوئی حشیش کا بھی آپ پر اثر ہے۔ میں آپ کے لیے ناشتہ بھجواتا ہوں۔ اتنے دنوں آپ کو کسی نے نہانے
‫نہیں دیا۔ میں آپ کو ایک چشمے پر لے چلوں گا''۔
‫وہ اٹھا اور باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی آیا۔ اس نے کہا… ''میرے ساتھ چلیں۔ ناشتے سے پہلے نہالیں''۔
‫کھنڈر سے اسے کسی ایسے راستے سے نکاال گیا جو پہاڑیوں میں چال گیا تھا۔ کچھ آگے ایک چشمہ تھا جس کا شفاف پانی
‫چھوٹے سے قدرتی تاالب میں جمع ہورہا تھا۔ وہ پہاڑیوں سے گھوم کر چشمے کی طرف گئے تو وہاں ہر طرف پہاڑیاں تھیں۔
‫اس نے پیچھے دیکھا‪ ،کھنڈر ایک پہاڑی کے پیچھے آگیا تھا۔ اس کے ساتھ جو آدمی آیا تھا وہ اس کے آگے آگے جارہا تھا۔
‫حبیب القدوس نے لپک کر ایک بازو اس کی گردن کے گرد لپیٹ دیا اور بازو کا شکنجہ تنگ کرکے اس نے دوسرے ہاتھ سے
‫اس کی پیٹ میں پوری طاقت سے تین چار گھونسے مارے۔ یہ آدمی دم گھٹنے سے مر گیا۔ حبیب القدوس نے اسے گھسیٹ
‫کر ایک گھنی جھاڑی کے پیچھے پھینک دیا اور خود بھاگ اٹھا۔ اس نے ایک پہاڑی میں سے راستہ دیکھ لیا تھا۔ وہاں پہنچا
‫تو ایک آدمی برچھی تانے کھڑا تھا۔ اس نے اتنا ہی کہا… ''واپس''… وہ نہتہ تھا‪ ،سرجھکا کر پیچھے کو مڑا۔ چند قدم ہی

‫چال ہوگا کہ صلیبی اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔
‫میں آپ کو دانشمند سمجھتا ہوں''۔ صلیبی نے کہا… ''آپ اس عالقے سے نکل نہیں سکتے۔ احمق نہ بنیں‪ ،نہا لیں۔ ''
‫میرے ساتھ آئیں''۔
‫وہ جھیل سے نہا کر نکال اور کپڑے پہنے۔ صلیبی اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ راستے میں اس نے صلیبی سے پوچھا… ''یہ
‫''لڑکیاں تمہارے ساتھ ہیں؟
‫اس ویرانے میں ایسی رونق ساتھ رکھنا ضروری ہے''۔ صلیبی نے کہا… ''کیا آپ کی تین بیویاں نہیں؟… اگر آپ کو ان'' ‪:
‫کے ساتھ دلچسپی نہیں تو نہ سہی۔ اگر آپ تنہائی یا گھبراہٹ محسوس کریں تو ان لڑکیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ
‫رکھ سکتے ہیں''۔
‫اتنے میں ایک لڑکی ناشتہ لے کر آئی۔ حبیب القدوس اسے دیکھتا رہا۔ لڑکی اس کے پاس بیٹھ گئی اور صلیبی باہر نکل گیا۔
‫لڑکی نے باتوں اور ادائوں سے اس پر طلسم طاری کردیا۔ بہت دیر بعد جب صلیبی واپس آیا اور لڑکی چلی گئی تو حبیب
‫القدوس کو افسوس سا ہوا۔
‫ساالر اعلی ہوں گے''… صلیبی نے اسے کہا… ''آپ کے دستوں میں جو تین ہزار پیادے اور دو ہزار ''
‫آپ آزاد مصر کے
‫ِ
‫سوار ہیں‪ ،وہ آپ کے مرید ہیں۔ آپ ان کی مدد سے مصر کی حکومت پر قبضہ کرسکتے ہیں''۔
‫''صالح الدین ایوبی حملہ کرے گا تو کیا میں انہی دستوں سے مصر کو اس سے بچا لوں گا؟''
‫سوڈانی مسلمان جو کبھی مصر کی فوج میں ہوا کرتے تھے‪ ،ہمارے ساتھ ہوں گے''… صلیبی نے کہا۔ ''صالح الدین ایوبی''
‫کی فوج میں جو مصری ہیں‪ ،ان تک ہم خبر پہنچائیں گے کہ یہ خانہ جنگی نہیں بلکہ مصری مصر کو آزاد کرانے کے لیے لڑ
‫رہے ہیں۔ آپ اپنے دستوں سے بغاوت کرائیں۔ آپ کو جنگی طاقت دینا ہمارا کام ہے''۔
‫اس آدمی نے لمبی تفصیل سے اسے اپنا منصوبہ بتایا۔ حبیب القدوس اب انکار نہیں کررہا تھا بلکہ یوں سوال کررہا تھا جیسے
‫وہ قائل ہوگیا ہو۔
‫میں واپس قاہرہ نہیں جائوں گا تو بغاوت کیسے کرائوں گا؟''… حبیب القدوس نے پوچھا۔''
‫آپ واپس نہیں جائیں گے''… صلیبی نے کہا… ''آپ یہیں سے اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کو پیغام دیں گے۔ اس کا انتظام''
‫ہم کریں گے… آپ نے ہمارے ایک قیمتی آدمی کو مار ڈاال ہے۔ ہم آپ کو قتل کرسکتے ہیں۔ ہمارے بازو اتنے لمبے ہیں کہ
‫آپ کے خاندان کے بچے بچے کو قتل کرسکتے ہیں۔ اگر آپ نے ہمیں دھوکہ دیا تو ہم ایسا کرکے دکھا بھی دیں گے''۔
‫پھر مجھے یہاں لمبے عرصے کے لیے رہنا پڑے گا''… حبیب القدوس نے کہا۔''
‫کچھ عرصہ تو لگے گا''۔ صلیبی نے جواب دیا۔''
‫میری ایک ضرورت پوری کردو''… حبیب القدوس نے کہا… ''تم نے مجھے دو لڑکیاں پیش کی ہیں‪ ،میں گناہ سے بچنا ''
‫چاہتا ہوں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ میں اتنی حسین لڑکی میں الجھ کر اپنا اصل مقصد بھول جائوں۔ اس کے بجائے یہ انتظام
‫کردو کہ میری سب سے چھوٹی بیوی کو جس کا نام زہرہ ہے‪ ،یہاں لے آئو۔ اسے میں پیغام رسانی کے لیے بھی استعمال
‫کرسکوں گا''۔
‫اسے اغوا کرنا پڑے گا''… صلیبی نے کہا… ''اگر اسے ہم یہ کہیں گے کہ آپ اسے بال رہے ہیں تو وہ ہم پر اعتبار نہیں''
‫کرے گی۔ وہ ہمیں پکڑوا بھی سکتی ہے۔ ہم آپ کو اس کا جو نعم البدل دے رہے ہیں‪ ،اسے آپ قبول کرلیں اور پیغام رسانی
‫کے لیے اپنے کسی آدمی کا اتا پتہ دیں''۔
‫پھر مجھ پر اعتماد کرو'' ۔ حبیب القدوس نے کہا… ''مجھے قاہرہ پہنچا دو۔ میں ایک ماہ کے اندر بغاوت کردوں گا''۔''
‫یہ نہیں ہوسکتا''۔ صلیبی نے کہا… ''محترم! ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ مصر کے مفاد میں ہے اور اس میں آپ کا بھی''
‫فائدہ ہے۔ میں یا میری تنظیم کا کوئی بھی فرد مصر کا حکمران بننے کا خواب نہیں دیکھ رہا۔ آپ سمجھنے کی کوشش
‫کریں''۔
‫میں سمجھ گیا ہوں''۔ حبیب القدوس نے کہا… ''اور میں سوچ سمجھ کر بات کررہا ہوں۔ میری بیوی زہرہ تک میرا ''
‫پیغام پہنچائو کہ میرے پاس آجائے۔ جو کام وہ کرسکتی ہے وہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔ اس کے آنے کے بعد دیکھوں گا کہ اس
‫منصوبے کو کس طرح کامیاب بنایا جاسکتا ہے''۔
‫وہ ایک بھکارن تھی جس نے زہرہ کو راستہ میں روک لیا تھا۔ وہ دو تین دن سے دیکھ رہی تھی کہ زہرہ حبیب القدوس کے
‫گھر سے ہر روز بعد دوپہر اپنے ماں باپ کے گھر جاتی ہے۔ بھکارن نے اس کے آگے ہاتھ پھیال کر کہا… ''نائب ساالر حبیب
‫القدوس نے آپ کو بالیا ہے۔ یہ ان کے ہاتھ کی تحریر ہے''… زہرہ نے کاغذ ہاتھ میں لے کر تحریر پڑھی۔ یہ اس کے خاوند
‫کے ہاتھ کی تھی۔ بھکارن نے کہا… ''وہ جہاں کہیں بھی ہیں‪ ،خود گئے ہیں۔ اتنے بڑے آدمی کو کوئی اٹھا کر نہیں لے
‫جاسکتا۔ وہ صرف آپ کو چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زہرہ کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتا… اور میں آپ کو یہ بھی بتا
‫دوں کہ آپ نے مجھے پکڑوانے کی کوشش کی یا کوتوال کو اطالع دی تو دونوں کو قتل کردیا جائے گا۔ حبیب القدوس کے
‫پاس آپ کا جانا ضروری ہے''۔
‫میں تم پر کس طرح اعتبار کرلوں؟'' زہرہ نے پوچھا۔'' ‪:
‫میں بھکارن نہیں''۔ عورت نے جواب دیا۔ ''یہ میرا بہروپ ہے۔ میں بھی آپ کی طرح شہزادی ہوں‪ ،ہمارا مقصد نیک ''
‫اور مقدس ہے۔ آپ دل میں کوئی وہم نہ رکھیں''۔
‫اس عورت نے اور بھی بہت سی باتیں کیں جن سے زہرہ متاثر ہوگئی۔ اس نے اس عورت کے کہنے کے مطابق رات کو ایک
‫جگہ چوری چھپے پہنچنے کا وعدہ کردیا۔ اس نے اس ڈر سے کسی سے ذکر نہ کیا کہ اس عورت نے کہا تھا کہ اس کی اور
‫اس کے خاوند کی زندگی اور موت کا اور مصر کی آزادی اور غالمی کا سوال تھا۔
‫اسے رات مقرر کی ہوئی جگہ زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ دو آدمی جنہیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہ سکی‪ ،اسی بھکارن
‫کے ساتھ آئے۔ بھکارن کو اس نے آواز سے پہچانا مگر وہ اب بھکاریوں کے بہروپ میں نہیں تھی۔ وہ کوئی جوان اور
‫خوبصورت عورت تھی۔ اس نے زہرہ سے کہا۔ ''اللہ کے بھروسے پر ان کے ساتھ چلی جائو۔ دل میں کوئی ڈر نہ رکھنا''…
‫اسے ایک گھوڑے پر بٹھایا گیا۔ وہ دونوں بھی گھوڑوں پر سوارہوئے اور زہرہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہوگئی جس کی منزل کا
‫اسے علم نہ تھا۔ عورت وہیں کھڑی رہی۔ شہر سے دور جاکر سواروں نے زہرہ سے کہاکہ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھنا
‫ضروری ہے۔ زہرہ ان میں اکیلی تھی۔ مزاحمت نہیں کرسکتی تھی۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔
‫دو روز بعد پتہ چال کہ نائب ساالر حبیب القدوس کی چھوٹی بیوی بھی الپتہ ہوگئی ہے۔ سراغ رسانوں نے ابتدائی تفتیش کی

‫تو وہ ماننے کو تیار نہ ہوئے کہ اسے اغوا کیا گیا ہے۔ حبیب القدوس کے متعلق ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ وہ صلیبیوں یا
‫سوڈانیوں کے پاس چال گیا ہے۔ اب لوگ یہ بھی کہنے لگے کہ اس کی بیوی بھی اس کے پاس چلی گئی ہے۔ کسی کو
‫معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کس وقت اور کس طرح گئی ہے۔ اس وقت تک وہ حبیب القدوس کے پاس پہنچ چکی تھی۔ اس کی
‫آنکھیں اس کمرے میں کھولی گئی تھیں جہاں اس کا خاوند اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ پوری رات اور اگال آدھا دن سفر
‫میں رہی تھی۔ راستے میں اسے کھانے پالنے کے دوران ا نکھوں سے پٹی کھولی گئی تھی اور اسے ساتھ لے جانے والے
‫آدمیوں نے اس کے ساتھ کوئی بال ضرورت یا ایسی ویسی بات نہیں کی تھی۔ اسے انہوں نے یہ یقین بار بار دالیا تھا کہ اسے
‫ڈرنا نہیں چاہیے۔
‫حبیب القدوس کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔ اس کے ساتھ صلیبی بھی تھا۔ حبیب القدوس نے زہرہ سے کہا… ''یہ
‫ہمارا دوست ہے اور اپنے آپ کو یہاں قیدی نہ سمجھنا۔ تم بہت تھکی ہوئی ہو۔ آج رات آرام کرلو۔ کل صبح تمہیں بتائیں
‫گے کہ ہم کیا کرنے والے ہیں۔ تم اکثر کہا کرتی ہو کہ مردوں کی طرح جہاد میں شریک ہونا چاہتی ہو۔ میرے اس دوست نے
‫تمہارے لیے بڑااچھا موقعہ پیدا کردیا ہے''۔
‫صلیبی انہیں اکیال چھوڑ کر باہر نکل گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫زہرہ ابھی نوجوانی کی عمر میں تھی اور اس کے حسن میں خاصی کشش تھی۔ جسم چھریر اور طبیعت میں کچھ شوخی بھی
‫تھی۔ شام سے ذرا پہلے وہ دو لڑکیاں جنہیں حبیب القدوس نے تاالب میں نہاتے دیکھا تھا‪ ،اس کے کمرے میں آئیں اور زہرہ
‫کو بے تکلف سہیلیوں کی طرح اپنے ساتھ لے گئیں۔ یہ تھا تو ہیبت ناک کھنڈر لیکن لڑکیاں جہاں رہتی تھیں وہ کمرہ سجا
‫ہوا اور وہاں رنگین فانوس تھے۔ اس کمرے میں کھنڈر کا گماں نہیں ہوتا تھا۔ زہرہ تھوڑے سے وقت میں ان میں گھل مل
‫گئی۔ ان میں سے ایک لڑکی نے اسے کہا… ''تمہارے ماں باپ کتنے ظالم ہیں جنہوں نے تم جیسی نوخیز کلی کو اس بوڑھے
‫''کے قدموں میں پھینک دیا ہے۔ تمہیں اس نے خریدا تو نہیں تھا؟
‫ہاں'' زہرہ نے رنجیدہ لہجے میں کہا… ''اس نے مجھے خریدا تھا۔ میں بھاگ کر کہیں جا بھی تو نہیں سکتی''۔''
‫''اگر کوئی پناہ مل جائے تو بھاگ جائو گی؟''
‫اگر یہ پناہ میری موجودہ زندگی سے بہتر ہوئی تو میں ضرور بھاگوں گی''… زہرہ نے کہا اور پوچھا… ''اس نے مجھے ''
‫''یہاں کیوں بالیا ہے؟ تم لوگ کون ہو؟ کیا یہ مجھے بیچ رہا ہے؟
‫اگر تم ہمارے پاس آجائو تو شہزادی بن کے رہو گی''… ایک لڑکی نے اسے کہا… ''ہم تمہیں بتا دیں گی کہ ہم کون ہیں''
‫لیکن اس سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ تم ہمارے ساتھ رہنے کے قابل بھی ہو یا نہیں… تم ہمارے ساتھ باہر جاکر ہماری طرح
‫''کپڑے اتار کر تاالب میں نہا سکو گی؟
‫اس حیوان سے مجھے آزاد کرادو تو جو کہو گی‪ ،کروں گی''… زہرہ نے کہا۔''
‫ایک آدمی زہرہ کو کھانے کے لیے بالنے آگیا۔ اس نے کہا کہ نائب ساالر کھانے پر انتظار کررہے ہیں۔ زہرہ چلی گئی تو وہی
‫صلیبی آگیا جو حبیب القدوس کے ساتھ بات چیت کرتا رہا تھا۔ لڑکیوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بتایا… ''یہ لڑکی
‫ہمارے کام کی ہے اور وہ اس بوڑھے خاوند سے سخت نفرت کرتی ہے۔ اگر تم اجازت دو تو اسے اپنے رنگ میں رنگ لیتی
‫ہیں۔ تم نے دیکھ لیا ہے‪ ،یہ کتنی خوبصورت ہے۔ اس میں شوخی بھی ہے اور اس کا جسم سختی برداشت کرسکتا ہے۔
‫تربیت کی ضرورت ہے''۔
‫لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ شخص تو یہ کہتا تھا کہ اسے اپنی بیوی پر اعتماد ہے اور وہی پیغام رسانی کا کام ''
‫کرسکتی ہے''… صلیبی نے کہا… ''اگر یہ لڑکی اس شخص سے نفرت کرتی ہے تو اسے دھوکہ دے گی اور ہم سب کو
‫پکڑوائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ آدمی ہمارے فریب میں آگیا ہے۔
‫مجھے مصری مسلمان اور وطن پرست سمجھتا ہے۔ ہمارا کام کرنے کو تیار ہوگیا ہے۔ اگر یہ لڑکی اسے دھوکہ دینے کی سوچ
‫سکتی ہے تو ہم اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ میں اسے پرکھوں گا۔ تم رات کو تھوڑی دیر کے لیے اسے میرے پاس لے آنا
‫کسی بہانے باہر چلی جانا''۔
‫کھانے کے کچھ دیر بعد لڑکیاں پھر اسے ہنسنے کھیلنے اور گپ شپ کے لیے لے آئیں۔ اسے پہلے سے زیادہ بے تکلف بلکہ
‫کسی حد تک بے حیا کرلیا۔ صلیبی آگیا اور لڑکیاں کسی بہانے سے باہر نکل گئیں۔ صلیبی نے زہرہ سے وہی باتیں کیں جو
‫لڑکیاں اس کے ساتھ کرچکی تھیں۔ صلیبی نے اسے اپنے معیار کے مطابق پرکھا اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کرنے
‫لگا تو زہرہ نے اپنا بازو چھڑا کر کہا… ''میں ایسی عام اور سستی چیز نہیں کہ ذرا سے اشارے پر آپ کی گود میں گر
‫پڑوں گی''۔
‫صلیبی کو اس کی یہ بات پسند آئی۔ لڑکی ہر کسی کے ہاتھ آنے والی نظر نہیں آتی تھی۔ البتہ اس نے یہ دیکھ لیا کہ زہرہ
‫میں وہ جوہر موجود ہیں جو ان کی جاسوس اور تخریب کار لڑکیوں میں ہوتے تھے۔ ذرا تربیت کی ضرورت تھی۔ اسے بھی
‫زہرہ نے بتایا کہ اسے اپنے خاوند سے نفرت ہے لیکن وہ چونکہ مجبور ہے اور نفرت کا اظہار نہی کرسکتی‪ ،اس لیے وہ
‫سمجھتا ہے کہ وہ اسے چاہتی ہے۔
21:02
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 143نہ میں تمہاری‪ ،نہ مصر تمہارا
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫لیکن وہ چونکہ مجبور ہے اور نفرت کا انظہار نہی کرسکتی‪ ،اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے چاہتی ہے۔
‫اب بھی نفرت کا اظہار نہ کرنا''… صلیبی نے اسے کہا… ''میں تمہیں اس سے آزاد کرالوں گا اور تم شہزادیوں کی طرح '
‫زندگی بسر کروگی… تم یہیں بیٹھو۔ میں تمہاری سہیلیوں کو تمہارے پاس بھیج دیتا ہوں''۔
‫وہ کمرے سے نکل گیا اور لڑکیوں کے پاس چال گیا۔ انہیں کہا… ''لڑکی کام کی ہے۔ اسے اپنے سائے میں لے لو۔ حبیب
‫القدوس اسے بری طرح چاہتا ہے۔ اس لڑکی کو ہم اس بات پر الئیں گے کہ وہ اس کے ساتھ دیوانہ وار محبت کا عملی اظہار
‫کرتی رہے تاکہ وہ اپے قابل اعتماد کمان داروں وغیرہ کے ساتھ اس لڑکی کی معرفت رابطہ قائم کرسکے۔ یہ تمہارا کام ہے کہ
‫لڑکی کو اپنے جال میں لے لو۔ اسے اپنی زندگی کا شاہانہ پہلو دکھائو اور تم جانتی ہو کہ اسے کس طرح اور کس مقصد کے
‫لیے تیار کرنا ہے''۔

‫زہرہ حبیب القدوس کے ساتھ والہانہ محبت کا اظہار کرتی رہی اور صلیبی اور اس کے ساتھی لڑکیوں کو بتاتی رہی کہ اسے
‫حبیب القدوس سے نفرت ہے۔ دونوں لڑکیوں نے اسے اپنے ساتھ رکھنا اور باہر لے جانا شروع کردیا۔ اسے چشمے کے تاالب پر
‫لے گئیں تو وہ لڑکیوں کے ساتھ پانی میں کھیلنے لگی۔ پھر یہ ان کا روزمرہ کامعمول بن گیا۔ رات وہ حبیب القدوس کے
‫ساتھ گزارتی تھی‪ ،دن کا زیادہ تر وقت دونوں لڑکیاں اسے اپنے ساتھ رکھتیں اور کبھی صلیبی بھی اس کے ساتھ دوستانہ باتیں
‫کرتا تھا۔ زہرہ چار پانچ دنوں میں ان لڑکیوں جیسی ہوگئی۔ اس کی شوخیاں بے حیائی کا رنگ اختیار کرنے لگیں اور لڑکیاں
‫آہستہ آہستہ سے اپنی پراسرار زندگی کے متعلق بتانے لگیں۔
‫اس دوران صلیبی نے حبیب القدوس کے ساتھ بغاوت کا منصوبہ تیار کرلیا۔ حبیب القدوس نے یہ منصوبہ تیار کرنے میں بہت
‫اعلی حکام اور دوا نتظامیہ
‫مدد دی۔ اب صلیبی کو اس پر اعتبار آگیا تھا۔ اس نے حبیب القدوس کو مصری فوج کے ایک دو
‫ٰ
‫کے حاکموں کے نام بتائے جو درپردہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف تھے اور بغاوت کی سوچ رہے تھے۔ انہوں نے ہی یہ
‫فیصلہ کیا تھا کہ کسی طرح اسے ہاتھ میں لیا جائے۔ صلیبی نے اسے یہ نہ بتایا کہ وہ صلیبی ہے۔ وہ اپنے آپ کو مصری
‫وطن پرست ہی بتاتا رہا۔ اس کا مقصد بغاوت کرانا تھا۔
‫زہرہ ان دونوں لڑکیوں میں اس قدر شیروشکر ہوگئی تھی کہ اب یہ کہنا کہ وہ کسی شریف باپ کی بیٹی یا ایک مسلمان
‫نائب ساالر کی بیوی ہے‪ ،غلط تھا۔ حبیب القدوس اسے اپنی وفادار بیوی سمجھتا تھا۔ ایک روز اس نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ
‫اس کھنڈر سے اوپر پہاڑیوں میں گھری ہوئی دنیا سے تنگ آگئی ہے۔ لڑکیوں نے اسے کہا کہ وہ اسے ان پہاڑیوں سے پرے کی
‫دنیا دکھا الئیں گی۔ چنانچہ وہ اسے ایک پہاڑی راستے سے گزارتی ایک جھیل کے کنارے لے گئیں اور اس کے کنارے کنارے
‫جب وہ اور آگے گئی تو اسے دریائے نیل نظر آیا۔ اسی کا پانی پہاڑی کے اندر آکر جھیل بنا ہوا تھا۔ ایک جگہ پہاڑی کی
‫اوٹ میں ایک کشتی چھپی ہوئی تھی جس میں دو چپو تھے۔ یہ جگہ بہت ہی خوبصورت تھی۔ زہرہ ان لڑکیوں کے ساتھ
‫وہاں ہنستی کھیلتی رہی۔
‫یہاں فرعونوں کی شہزادیاں کھیال کرتی تھیں''… ایک لڑکی نے کہا۔''
‫اور تم دونوں ان کی بدروحیں لگتی ہو''… زہرہ نے ہنس کر کہا۔''
‫تمہارے مقابلے میں ہم دونوں واقعی بدروحیں لگتی ہیں''… دوسری لڑکی نے کہا۔''
‫سنو زہرہ!''… ایک لڑکی نے اس سے کہا… '' تمہیں معلوم ہوگیا ہوگا کہ تمہارا یہ بوڑھا خاوند یہاں کیوں چھپا بیٹھا ہے ''
‫''اور تمہیں کیوں الیا گیا ہے؟
‫وہ تو پہلے روز ہی اس نے بتا دیا تھا''… زہرہ نے کہا… ''میں یہ کام کردوں مگر کہتے ہیں کہ چند دن رک جائو''۔''
‫''اور تم جانتی ہو کہ ہم آزاد مصر کی شہزادیاں ہوں گی؟''
‫مجھے اس خاوند سے آزاد کرادینا تو میں اپنے آپ کو شہزادی سمجھنے لگوں گی''… زہرہ نے کہا۔''
‫یہ طے ہوچکا ہے لیکن تمہارے خاوند کو معلوم نہیں''… لڑکی نے کہا… ''کیا تم اس کام کے لیے تیار ہو جو اس سلسلے''
‫''میں تمہیں کرنا ہوگا؟
‫وقت آئے گا تو دیکھنا''… زہرہ نے کہا… ''اگر مجھے یہ کام نہ کرنا ہوتا تو اپنے خاوند کو یہاں قتل کرچکی ہوتی۔ یہاں''
‫اچھا موقعہ تھا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫دوسرے دن بھی وہ لڑکیوں کے ساتھ دریا کے کنارے چلی گئی۔ لڑکیاں اسے جس راستے دریا تک لے جاتی تھیں‪ ،وہ ایسا
‫راستہ تھا کہ وہ اکیلی جاتی تو اسے یہ راستہ کبھی نہ ملتا۔ یہ راستہ قدرتی تھا لیکن خفیہ۔ زہرہ نے انہیں ایک دو بار کہا
‫تھا کہ کشتی پر دریا میں چلیں لیکن لڑکیوں نے اسے روک دیا تھا۔ حبیب القدوس پر بھی اب پہلے جیسی پابندی نہیں رہی
‫تھی۔ اس نے یقین دال دیا تھا کہ وہ آزاد مصر کا حامی ہے اور سلطان صالح الدین ایوبی کا تختہ الٹ کر دم لے گا۔ اب
‫اس کا یہ حال تھا کہ صلیبی اس کے ساتھ اس موضوع پر اتنی باتیں نہیں کرتا تھا جتنی وہ خود کرنے لگا۔ اس شخص میں
‫انقالب آگیا تھا۔
‫ایک دوروز بعد اس کھنڈر میں دو اور آدمی آئے۔ ان میں ایک سوڈانی تھا اور دوسرا مصری۔ انہیں حبیب القدوس سے مالیا
‫گیا۔ وہ ان دونوں کو نہیں جانتا تھا۔ ان کے پاس مصر‪ ،سوڈان اور عرب کے نقشے تھے۔ کچھ اور کاغذات بھی تھے۔ انہوں
‫نے حبیب القدوس کے ساتھ بغاوت کے حقیقی پہلوئوں پر بڑی طویل بات کی۔ حبیب القدوس نے نہ صرف دلچسپی کا اظہار
‫کیا بلکہ انہیں ایسے مشورے دئیے جو ان کے ذہن میں نہیں آئے تھے۔ انہوں نے حبیب القدوس کو چند اور لوگوں کے نام
‫بتائے جو مصر کی فوج اور انتظامیہ میں تھے اور درپردہ سلطان ایوبی کے خالف زمین ہموار کررہے تھے۔ ان دونوں آدمیوں نے
‫یہ بھی بتایا کہ مصر پر مصری فوج کے جو دستے ہیں‪ ،انہیں غلط احکام دے کر سرحدی دفاع میں اتنا شگاف پیدا کرلیا جائے
‫گا جس سے سوڈان کی فوج کے کچھ دستے اندر آکر بغاوت میں جان ڈال سکیں گے۔
‫بغاوت کامیاب ہونے کی صورت میں مصر کا امیر کون ہوگا؟''… حبیب القدوس نے پوچھا۔''
‫اعلی آپ ہوں گے‪ ،اس لیے سب نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ امیر آپ ہی ہوں''
‫چونکہ تنظیم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ساالر
‫ٰ
‫گے''… مصری نے کہا… ''صالح الدین ایوبی یقینا حملہ کرے گا اور جنگ طول پکڑ سکتی ہے‪ ،اس لیے آزاد مصر کا پہال ا
‫میر ساالر ہی ہونا چاہیے کیونکہ جنگی حاالت میں کسی غیرعسکری کو امارت کی گدی پر بٹھانا مناسب نہیں ہوگا۔ آپ میں
‫جو خوبیاں ہیں وہ اور کسی ساالر میں نہیں''۔
‫حبیب القدوس کا سینہ اور زیادہ پھیل گیا اور اس کی گردن تن گئی۔
‫امید ہے کہ آپ کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا کہ ضرورت پڑنے پر ہم نے صلیبیوں سے بھی مدد لینے کا انتظام کرلیا ''
‫ہے''… سوڈانی نے کہا۔
‫انہیں معاوضہ کس شکل میں دیا جائے گا؟''… حبیب القدوس نے پوچھا۔''
‫ان کے لیے یہی معاوضہ کافی ہے کہ ہم صالح الدین ایوبی کے خالف لڑیں گے اور مصر کو آزاد کرائیں گے''۔ مصری نے ''
‫کہا… ''انہیں مصر نہیں چاہیے‪ ،وہ فلسطین کو ایوبی سے بچانے کی فکر میں ہیں۔ مصر ایوبی کے ہاتھ سے نکل گیا تو وہ
‫اس فوج سے جو مصر میں موجود ہے‪ ،محروم ہوجائے گا اور اسے یہاں سے جو رسد اور دیگر جنگی امداد ملتی ہے وہ بند
‫ہوجائے گی اور اگر اس نے مصر پر حملہ کیا تو اس کے ساتھ جو مصری سپاہی ہیں‪ ،وہ اپنے مصری بھائیوں کے خالف نہیں
‫لڑیں گے''۔
‫حبیب القدوس نے انہیں نہایت اچھی ترکیبیں بتائیں اور یقین دالیا کہ اس کے ماتحت پانچ ہزار نفری کے جو دستے ہیں‪ ،وہ

‫اس کے اشارے پر بغاوت پر آمادہ ہوجائیں گے۔ اب یہ طے کرنا تھا کہ ان دستوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کے کیا کیا طریقے
‫اور ذریعے اختیار کیے جائیں۔
‫صورت ایک ہی بہتر ہے کہ میں واپس چال جائوں''… حبیب القدوس نے کہا… ''مگر مجھے واپس نہیں جانا چاہیے کیونکہ''
‫مجھ سے پوچھا جائے گا کہ میں کہاں رہا۔ مجھے اپنی بیوی نے بتایا ہے کہ علی بن سفیان ا ور غیاث بلبیس یہ کہہ رہے
‫ہیں کہ میں اپنی مرضی سے دشمن کے پاس چال گیا ہوں۔ اس شک کی بناء پر وہ مجھے حراست میں لے لیں گے‪ ،پھر
‫ہمارا کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا۔ میں نے دراصل یہ غلطی کی ہے کہ بیوی کو یہاں بال لیا ہے۔ اس کو
‫اگر واپس بھیجا تو اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں ہوگا۔ مجھے یہیں رہنا چاہیے۔ ذرا مجھے سوچنے دیں کہ میں اپنے
‫کون کون سے کمان دار سے آپ کا رابطہ کرائوں''۔
‫اب حبیب القدوس کی وفاداری پر کوئی شک نہ رہا۔
‫٭ ٭ ٭
‫حلب کا محاصرہ کھیل نہیں ہوگا''… سلطان صالح الدین ایوبی فرات کے کنارے خیمے میں بیٹھا‪ ،اپنے ساالروں سے کہہ رہا''
‫تھا… ''تم سب کو یاد ہوگا کہ ہم نے پہلے بھی ایک بار اس شہر کو محاصرے میں لیا تھا لیکن حلب والے ایسی بے جگری
‫سے لڑے تھے کہ ہمیں محاصرہ اٹھانا پڑا تھا۔ یہ حلب والوں کی بہادری تھی جس نے ہمیں آنے پر مجبور کردیا۔ اب وہ
‫حاالت نہیں ہیں‪ ،پھر بھی ہمیں ہر خطرے کی پیش بندی کرلینی چاہیے۔ یہاں سے فوج میں جو بھرتی لی گئی ہے‪ ،اس پر
‫ابھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ مصر سے کمک منگوانی پڑے گی۔ ہوسکتا ہے کہ میں نائب ساالر حبیب القدوس کے دستوں کو
‫بال لوں''… یہ کہہ کر سلطان ا یوبی خاموش ہوگیا۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس نے دبی دبی سی آوازمیں کہا…
‫''میں مان نہیں سکتا کہ حبیب القدوس مجھے دھوکہ د ے گیا ہے… وہ آخر کہاں گیا؟… میں جب مصر سے روانہ ہونے لگا
‫تھا تو اس نے مجھے کہا تھا کہ آپ مصر کا غم دل سے نکال دیں‪ ،صلیبیوں یا سوڈانیوں نے آپ کی غیرحاضری میں مصر پر
‫حملہ کیا تو صرف میرے تین ہزار پیادے اور دو ہزار سوار ان کے حملے کو پسپا کردیں گے اور اگر کسی نے مصر کے اندر
‫سے سراٹھایا تو اس کا سر اس کے دھڑ کے ساتھ نہیں رہے گا… ہم اللہ کے سپاہی ہیں لیکن وہ اللہ کا شیر ہے''۔
‫معلوم ہوتا ہے اس کی انہی خوبیوں کو دیکھتے ہوئے دشمن نے اسے غائب کردیا ہے''… ایک ساالر نے کہا۔ ''اس کا'' ‪:
‫آدھی فوج پر بڑا گہرا اثر ہے۔ اس لحاظ سے وہ اپنی ذات میں ایک طاقت ہے۔ دشمن نے ہمیں اس طاقت سے محروم کیا
‫ہے''۔
‫اگر وہ نہ مال تو اس کے دستوں کو یہاں بال لوں گا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''لیکن اتنی جلدی نہیں بالئوں گا۔ مصر ''
‫کا دفاع زیادہ ضروری ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ مصر کو باہر سے اتنا زیادہ خطرہ نہیں جتنا اندر سے ہے۔ ایمان فروش ہمارے اندر
‫بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے فلسطین کو ہم سے بہت دور کردیا ہے''۔
‫اور اس وقت قاہرہ سے دور پہاڑیوں میں گھرے ہوئے ایک ڈرائونے کھنڈر میں سلطان ایوبی کا قابل اعتماد اور بڑا ہی قابل
‫نائب ساالر مصر میں بغاوت کا اہتمام کرچکا تھا۔ کھنڈر میں اس رات جشن منایا جارہا تھا۔ا گر باہر کے لوگ اس رات کھنڈر
‫میں آتے تو ڈر کر بھاگ جاتے۔ وہ ان چند ایک انسانوں اور اتنی حسین لڑکیوں کو جنات یا بدروحیں سمجھتے۔ صحیح معنوں
‫میں جنگل میں منگل بنا ہوا تھا۔ آٹھ دس آدمی تھے‪ ،ان میں سے حبیب القدوس صرف اس صلیبی کی جو پہلے دن سے اس
‫کے ساتھ تھا‪ ،مصری اور سوڈانی کو جن کے ساتھ اس نے بغاوت کے منصوبے کو آخری شکل دی تھی‪ ،جانتا تھا۔ د وسروں کو
‫اس نے پہلی بار دیکھا۔ یہ سب اسی کھنڈر میں حبیب القدوس کے آنے سے پہلے موجود تھے لیکن پہاڑیوں کے اندر اور اوپر
‫چھپ چھپ کر پہرہ دیتے رہتے تھے۔ وہ انہی کا ایک ساتھی تھا جسے حبیب القدوس نے فرار کی کوشش میں قتل کردیا
‫تھا۔ اب پہرے کی ضرورت نہیں تھی۔ حبیب القدوس ان کا قابل اعتماد دوست بن چکا تھا۔ اسے انہوں نے خفیہ طریقوں سے
‫آزما بھی لیا تھا۔
‫آج رات یہ پورا گروہ جشن میں شامل تھا۔ ضیافت کا ویسا ہی انتظام تھا جیسا کہ کسی محل میں ہوتا ہے۔ شراب کی
‫صراحیاں خالی ہورہی تھیں‪ ،ان کی دونوں لڑکیوں نے رقص بھی کیا تھا۔ حبیب القدوس جشن میں شریک تھا لیکن اس نے
‫شراب پینے سے انکار کردیا تھا‪ ،اسے مجبور نہ کیا گیا۔ زہرہ نے د وسری لڑکیوں کی طرح شراب پیش کی لیکن خود نہ پی۔
‫صلیبی نے مصری اور سوڈانی سے کہہ دیا تھا کہ زہرہ کے متعلق محتاط رہیں‪ ،ورنہ حبیب القدوس بگڑ جائے گا۔ زہرہ نے
‫دوسری لڑکیوں کی طرح بے حیائی کا مظاہرہ نہ کیا لیکن جشن میں دلچسپی اور جوش وخروش سے حصہ لے رہی تھی۔
‫آدھی رات تک سب شراب میں مدہوش ہوچکے تھے۔ مصری اورصلیبی دونوں لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ بعض تو بے ہوش
‫ہوگئے تھے۔ زہرہ نے حبیب القدوس کو آنکھ سے اشارہ کیا۔ وہ وہاں سے اٹھ گیا۔ زہرہ نے اس کمرے میں جاکر جھانکا جہاں
‫مصری اور سوڈانی لڑکیوں کو لے گئے تھے۔ وہ دونوں آدمی اور لڑکیاں برہنہ حالت میں پڑی تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی
‫ہوش میں نہیں تھا۔ زہرہ کو معلوم تھا کہ ہتھیار کہاں رکھے ہیں۔ وہ ایک برچھی‪ ،ایک تلوار‪ ،دو کمانیں اور تیروں سے بھرے
‫دو ترکش اٹھا الئی۔ حبیب القدوس اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔ اس نے زہرہ کے ہاتھ سے تلوار لے لی۔ ایک کمان اور ترکش
‫اپنے کندھوں سے لٹکایا اور دوسری زہرہ کے کندھوں سے لٹکا دی اور برچھی اسی کے پاس رہنے دی۔
‫ان سب کو قتل نہ کردیا جائے؟''… زہرہ نے حبیب القدوس سے پوچھا۔''
‫یہاں سے فورا ً نکلنا زیادہ ضروری ہے''… حبیب القدوس نے کہا۔ ''مجھے دریا تک لے چلو''۔''
‫زہرہ نے دریا تک راستہ دیکھ رکھا تھا‪ ،اگر پہلے یہ راستہ نہ دیکھا ہوتا تو وہ دونوں وہاں سے کبھی نہ نکل سکتے۔ زہرہ آگے
‫آگے چل پڑی۔ وہ دبے پائوں جارہے تھے اور ان کے کان ادھر ادھر کی آوازوں پر لگے ہوئے تھے۔ حبیب القدوس نے تلوار اور
‫زہرہ نے برچھی تان رکھی تھی۔ زہرہ حبیب القدوس کو کشتی تک لے گئی جو چھپا کر رکھی گئی تھی۔ دونوں نے کشتی
‫کھولی۔ اس میں بیٹھے اور نہایت آہستہ آہستہ چپو مارنے لگے تاکہ آواز پیدا نہ ہو۔ ہر لمحہ ڈر تھا کہ کہیں نہ کہیں سے
‫کوئی آدمی نکل آئے گا یا کہیں سے تیر آئے گا… کچھ بھی نہ ہوا۔ کشتی پہاڑیوں کے تنگ راستے سے نکل گئی اور دریا کا
‫شور شروع ہوگیا۔
21:02
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 144نہ میں تمہاری‪ ،نہ مصر تمہارا
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ہر لمحہ ڈر تھا کہ کہیں نہ کہیں سے کوئی آدمی نکل آئے گا یا کہیں سے تیر آئے گا… کچھ بھی نہ ہوا۔ کشتی پہاڑیوں کے

‫تنگ راستے سے نکل گئی اور دریا کا شور شروع ہوگیا۔''اللہ کا نام لو اور ایک چپو تم سنبھال لو''… حبیب القدوس نے
‫زہرہ سے کہا… ''تم جہاد میں حصہ لینے کی خواہش مند رہتی تھی۔ اللہ نے تمہیں موقعہ دے دیا ہے۔ ہم ابھی خطرے سے
‫نکلے نہیں۔ کشتی کو دریا کے درمیان لے چلتے ہیں''۔
‫ایک چپو زہرہ نے اور دوسرا حبیب القدوس نے لے لیا اور دونوں کشتی کھینچنے لگے۔ پہاڑیوں کے سیاہ بھوت پیچھے ہٹنے اور
‫چھوٹے ہونے لگے۔ ان دنوں دریائے نیل کنارے سے کنارے تک بھرا ہوا اور پورے جوبن پر تھا۔ کناروں کے ساتھ ساتھ بہائو
‫پرسکون تھا‪ ،درمیان میں بہت تیز اور سرکش لہریں اٹھ رہی تھیں۔ حبیب القدوس کو وہاں تک نہیں جانا چاہیے تھا لیکن
‫کنارے کے ساتھ ساتھ جانا بھی پرخطر تھا۔ جونہی کشتی تیزبہائو میں پہنچی‪ ،یوں لگا جیسے کسی قوت نے اسے اپنی طرف
‫گھسیٹ لیا ہو۔ کشتی تیزی سے بہنے‪ ،اوپر اٹھنے اورگرنے لگی۔ حبیب القدوس نے زہرہ سے کہا… ''گھبرا نہ جانا۔ ہم ڈوبیں
‫گے نہیں۔ میں ذرا سمت دیکھ لوں''۔
‫آپ میری فکر نہ کریں''… زہرہ نے کہا… ''ڈوب گئے تو کیا ہوجائے گا۔ ان کافروں کی قید سے تو نکل آئے ہیں''۔''
‫حبیب القدوس نے آنکھیں سکیڑ کر پہاڑوں کی طرف دیکھا جو اب زمین کے ابھار کی طرح نظر آرہے تھے‪ ،پھر اس نے آسمان
‫کی طرف دیکھا اور پرجوش لہجے میں بوال… ''میں اس جگہ کو پہچانتا ہوں۔ اس پہاڑی خطے کی صحرا والی طرف اپنے
‫دستوں کو پہاڑی جنگ کی مشق کراچکا ہوں۔ ادھر دریا والی طرف سے میں واقف نہیں تھا۔ ہم سیدھے قاہرہ جارہے ہیں۔ نیل
‫ہمیں بڑی تیزی سے قاہرہ لے جارہا ہے… اللہ کا شکر ادا کرو‪ ،زہرہ۔ یہ خدائی مدد ہے۔ اللہ نیتوں کو پہچانتا ہے… لیکن ہمیں
‫قاہرہ سے پہلے ایک اور جگہ رکنا ہے۔ کچھ دور آگے دریا کا موڑ ہے۔ اس کے قریب ہماری فوج کی ایک چوکی ہے۔ دریائی
‫گشت کے لیے ان کے پاس کشتیاں ہیں۔ اس چوکی کی نفری سے میں ان سب آدمیوں کو پکڑ سکوں گا مگر وہ بیدار ہوجائیں
‫گے''۔
‫مجھے امید ہے کہ کل دوپہر تک ان میں سے کوئی بھی بیدار نہیں ہوسکے گا''… زہرہ نے کہا… ''میرے ہاتھ سے انہوں''
‫نے شراب خاصی زیادہ پی لی تھی اور میں نے آخری بھری ہوئی صراحی سے انہیں جو ایک ایک پیالہ پالیا تھا‪ ،اس میں
‫خاکی سے رنگ کا تھوڑا سا سفو ف مال دیا تھا''۔
‫''وہ کیا تھا؟''
‫ان لڑکیوں پر میں نے جس طرح ا عتماد پیدا کرلیا تھا‪ ،وہ تو آپ کو ہر رات تنہائی میں بتاتی رہی ہوں''… زہرہ نے ''
‫کہا… ''کل کی بات ہے کہ انہوں نے حشیش دکھائی اور اس کا استعمال سمجھایا‪ ،پھر انہوں نے مجھے ایک ڈبیہ کھول کر
‫یہ سفوف دکھایا اور کہا کہ بعض آدمیوں کو بے ہوش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ چٹکی بھر سفوف شربت میں یا پانی یا کھانے
‫میں مال دو تو آدمی بے ہوش ہوجاتا ہے۔ اسے جہاں جی چاہے‪ ،اٹھا لے جائو… آج رات جب میں شراب کے مٹکے سے
‫آخری صراحی بھرنے گئی تو اس ڈبیہ سے آدھا سفوف اس میں مال دیا۔ اگر اس کا اثر ویسا ہی ہے جیسا لڑکیوں نے بتایا ہے
‫تو انہیں کل شام تک ہوش میں نہیں آنا چاہیے''۔
‫حبیب القدوس نے آنکھیں سکیڑ کر پہاڑوں کی طرف دیکھا اور پرجوش لہجے میں بوال… ''میں اس جگہ کو پہچانتا ہوں''۔
‫اس کے آنسو پھوٹ آئے۔ یہ جذبات کی شدت اور خراج تحسین کے آنسو تھے۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا… ''میں نے
‫تمہیں بہت سخت آزمائش میں ڈال دیا تھا زہرہ! میں نے تمہیں جس دنیا کا بھید لینے کو کہا تھا‪ ،وہ گناہوں کی غلیظ مگر
‫بڑی حسین دنیا ہے۔ تم نے میرے لیے بہت بڑی قربانی دی ہے''۔
‫آپ کے لیے نہیں اسالم کی عظمت کے لیے''… زہرہ نے کہا… ''میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے یہ ''
‫مقدس فرض ادا کرنے کا موقعہ دیا۔ آپ شاید مجھ پر اعتبار نہ کریں‪ ،گناہوں کی پرکشش دنیا میں جاکر بھی اپنا دامن گناہ
‫سے پاک رکھا ہے۔ یہ بھی اچھا ہوا کہ مجھے یہاں الیا گیا تو انہوں نے مجھے آپ کے ساتھ تنہا رہنے دیا‪ ،ورنہ آپ مجھے
‫بتا نہ سکتے کہ یہ لوگ آپ کو بغاوت کرانے کے لیے اغوا کرکے الئے ہیں اور مجھے ان لڑکیوں میں بے حیا اور شوخ لڑکی
‫بن کر یہ ظاہر کرنا ہے کہ مجھے آپ سے نفرت ہے اور میں اس سے بھاگنا چاہتی ہوں۔ آپ نے جب مجھے ان لڑکیوں کی
‫خصلتیں اور ان کے کماالت بتائے اور کہا کہ میں بھی ایسی ہی بن جائوں تو میں گھبرا گئی تھی‪ ،کیونکہ میں تو تصور میں
‫بھی ایسا نہیں کرسکتی تھی لیکن یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ حرکتیں اور یہ سب باتیں مجھ سے بغیر کوشش کے
‫ہوگئیں اور خدا نے مجھے کامیابی عطا فرمائی۔ اگر یہ لڑکیاں مجھے دریا تک کا راستہ نہ دکھاتیں تو ہم وہاں سے کبھی نہ
‫نکل سکتے… کیا آپ نے مجھے اسی کام کے لیے یہاں بالیا تھا
‫نہیں!''… حبیب القدوس نے کہا… ''یہ صورت تمہارے آنے سے ازخود پیدا ہوگئی ہے۔ میں نے کچھ اور سوچا تھا۔ '' ‪:
‫تمہیں استعمال اپنی رہائی کے لیے ہی کرنا تھا۔ تمہیں فرضی پیغام رساں بنانا تھا لیکن ان لڑکیوں نے تم میں کسی اور ہی
‫دلچسپی کا اظہار کیا تو میرے دماغ میں یہ ترکیب آگئی جس پر تم نے نہایت خوبی سے عمل کیا اور اب ہم آزاد ہیں… میں
‫نے ان لوگوں پر اعتماد کرلیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ یہ لوگ غیرمعمولی طور پر چاالک ہوتے ہیں لیکن ہم لوگ اپنے ہوش
‫میں ایمان قائم رکھیں تو یہ لوگ احمق ہیں۔ میرے ساتھ جس آدمی کو تم نے دیکھا تھا‪ ،یہ اپنے آپ کو مصری مسلمان ظاہر
‫کرتا تھا۔ میں پہلے روز ہی جان گیا تھا کہ یہ صلیبی ہے اور میں صلیبیوں کے جال میں آگیا ہوں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ پہاڑی خطہ بہت دور رہ گیا تھا۔ نیل کے د رمیان کی رو بہت ہی تیز ہوگئی اور زیادہ جوش میں آگئی تھی۔ کشتی اس
‫کے رحم وکرم پر اوپر اٹھتی گرتی اور اٹھتی جارہی تھی۔ چپو بیکار تھے‪ ،دریا کے جوش اور قہر میں جو اضافہ ہوگیا تھا‪ ،اس
‫سے اندازہ ہوتا تھا کہ دریا تنگ ہوگیا ہے اور آگے موڑ ہے۔ یہ وہی موڑ تھا جس سے کچھ آگے فوج کی چوکی تھی… اچانک
‫کشتی رکی اور گھوم گئی۔ حبیب القدوس نے چپو تھام لیے۔ د ریا کا شور بہت بڑھ گیا تھا۔ کشتی ایک چکر میں گھومنے
‫لگی۔ کشتی بھنور میں آگئی تھی۔ حبیب القدوس نے پوری طاقت سے چپو مارے مگر بھنور کے چاکر کی طاقت بہت زیادہ
‫تھی۔ کشتی قابو میں نہیں رہی تھی۔ اسے اپنے دونوں مسافروں سمیت دریا کی تہہ میں جانا تھا۔
‫زہرہ!''… حبیب القدوس نے چال کر کہا… ''میری پیٹھ پر آجائو''۔''
‫زہرہ اس کی پیٹھ پر سوار ہوگئی اور بازو اس کی گردن کے گرد لپیٹ لیے۔ حبیب القدوس نے اسے کہا۔ ''مجھے اور زیادہ
‫مضبوطی سے پکڑ لو اور مجھ سے الگ نہ ہونا''… یہ کہہ کر اس نے چکر میں بھنور کے زور پر تیرتی کشتی سے دریا میں
‫اس طرح چالنگ لگائی کہ بھنور سے باہر پہنچ جائے۔
‫وہ زہرہ کے ساتھ پانی کے اندر چال گیا اور جسم کی تمام تر قوتیں مرکوز کرکے ابھر آیا۔ وہ بھنور کی زد سے نکل گیا لیکن
‫یہ موڑ تھا اور دونوں طرف چٹانیں تھیں۔ پانی سکڑ گیا تھا اور موجیں زیادہ اونچی اور غضبناک ہوگئی تھیں۔ زہرہ تیرنا نہیں

‫جانتی تھی۔ اس نے خدا سے مدد مانگنی شروع کردی۔ حبیب القدوس اس کے بوجھ تلے سیالبی موجوں سے لڑ رہا تھا۔ وہ
‫اسے چٹان کے ساتھ پٹختی تھیں اور وہ چٹان سے بچنے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا تھا۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ اپنا اور
‫زہرہ کا منہ پانی سے باہر رکھے لیکن موجیں اسے بار بار ڈبو کر اوپر سے گزر جاتی تھیں۔
‫پھر مو جیں اسے موڑ سے نکال لے گئیں اور دریا چوڑا ہوگیا۔ حبیب القدوس کے بازو اور ٹانگیں شل ہوچکی تھیں۔ اس نے
‫طاقت کے آخری ذرے یکجا کیے اور اس تندرو سے نکلنے کو زور لگایا۔ اس نے محسوس کیا کہ زہرہ کی گرفت ڈھیلی ہوگئی
‫ہے۔ اس نے زہرہ کو پکارا مگر وہ نہ بولی۔ اس کے بازو بالکل ڈھیلے ہوگئے… حبیب القدوس سمجھ گیا کہ زہرہ کے منہ اور
‫ناک کے راستے پانی اندر چال گیا ہے۔ اسے بچانا اور تیرنا بہت مشکل ہوگیا۔ اس نے ایک ہاتھ سے اسے سنبھاال اور زور
‫لگایا تو تند رو سے نکل گیا۔ کنارا ابھی دور تھا۔ اب تیرنا آسان تھا۔ اس نے مدد کے لیے چالنا شروع کردیا۔
‫اس کا جسم اکڑ چکا تھا اور زہرہ گری جارہی تھی کہ ایک کشتی اس کے قریب آئی۔ اسے آواز سنائی دی… ''کون ہو؟''…
‫اس نے آخری بار بازو مارے اور لپک کر کشتی کا کنارا پکڑ لیا۔ اس نے کہا… ''اسے میرے اوپر سے اٹھا لو''… زہرہ کو
‫کشتی والوں نے اوپر گھسیٹ لیا۔ وہ بے ہوش ہوچکی تھی۔ کشتی میں اس کی فوج کے سپاہی تھے۔ ان کی چوکی یہیں تھی۔
‫وہ حبیب القدوس کی پکار پر ادھر آئے تھے۔
‫چوکی میں جاکر اس نے بتایا کہ وہ نائب ساالر حبیب القدوس ہے۔ چوکی کے کمان دار نے اسے پہچان لیا اور بہت حیران
‫ہوا۔ زہرہ بے ہوش پڑی تھی۔ حبیب القدوس نے اسے پیٹ کے بل لٹا کر پیٹھ اور پہلوئوں پر اپنا وزن ڈاال تو اس کے منہ اور
‫ناک سے بہت پانی نکال۔ وہ ابھی ہوش میں نہیں آئی تھی۔ حبیب القدوس نے کمان دار سے کہا کہ دو بڑی کشتیوں میں دس
‫دس سپاہی سوار کرو اور پہاڑی خطے تک چلو۔ اس نے بتایا کہ پہاڑیوں کے اندر جو کھنڈر ہے‪ ،اس میں دس بارہ صلیبی
‫تخریب کار بے ہوش پڑے ہیں‪ ،انہیں النا ہے اور ہوسکتا ہے وہاں کچھ اور آدمی پہنچ چکے ہوں‪ ،مجھے خشکی کی طرف سے
‫اندر جانے کے راستے کا علم نہیں۔
‫میں ایک راستہ جانتا ہوں''۔ کمان دار نے کہا… ''خشکی سے آسان رہے گا''۔''
‫بیس گھوڑ سواروں کے آگے حبیب القدوس اور چوکی کا کمان دار تھا۔ صبح کی روشنی ابھی دھندلی تھی۔ جب وہ پہاڑیوں میں
‫داخل ہوگئے۔ خاموشی کی خاطر انہوں نے گھوڑے باہر ہی رہنے دئیے اور پیدل آگے گئے۔ حبیب القدوس کی جسمانی حالت کو
‫دریا نے چوس لیا تھا۔ پھر بھی چال جارہا تھا۔ وہ اپنی بیوی کو بے ہوشی کی حالت میں چوکی میں چھوڑ آیا تھا۔ اس کے
‫لیے زیادہ ضروری تخریب کاروں کی گرفتاری تھی۔ وہ پہاڑیوں اور چٹانوں کے درمیان بھول بھلیوں جیسے راستوں سے گزرتے
‫گئے۔ کچھ دیر بعد انہیں کھنڈر نظر آنے لگا۔
‫سب سے پہلے حبیب القدوس کو صلیبی نظر آیا۔ اس کے قدم ڈگمگا رہے تھے اور سر ڈول رہا تھا۔ اسے پکڑا گیا تو وہ کچھ
‫بڑبڑایا۔ سات آٹھ آدمی وہیں بے ہوش پڑے تھے‪ ،جہاں رات کو گرے تھے۔ کمرے میں مصری اور سوڈانی اور دونوں لڑکیاں بے
‫ہوش پڑی تھیں۔ ان سب کو سپاہیوں نے اٹھا لیا۔ ان کا سامان بھی اٹھا لیا گیا اور ان سب کو گھوڑوں پر ڈال کر چوکی
‫میں لے گئے۔ اس وقت تک زہرہ ہوش میں آچکی تھی۔
‫دن کا پچھال پہر تھا‪ ،جب یہ تخریب کار ہوش میں آنے لگے۔ اس وقت قاہرہ کے راستے میں تھے۔ وہ گھوڑوں کے ساتھ
‫بندھے ہوئے تھے اور وہ بیس سپاہیوں کی حراست میں تھے۔ حبیب القدوس نے ان کے ساتھ کوئی بات نہ کی۔ قافلہ چلتا
‫رہا۔
‫آدھی رات کے بعد علی بن سفیان کے مالزم نے اسے جگایا اور کہا کہ امیر بالتے ہیں۔ وہ فورا ً پہنچا۔ وہاں غیاث بلبیس
‫بھی موجود تھا۔ علی بن سفیان یہ د یکھ کر حیران رہ گیا کہ حبیب القدوس بھی بیٹھا تھا۔ اس نے ان تمام فوجی اور
‫غیرفوجی حاکموں کے نام بتائے جو اسے کھنڈر میں معلوم ہوئے تھے۔ یہ غدار تھے۔ انہیں بغاوت میں شامل ہونا اور کامیاب
‫کرانا تھا۔ قائم مقام امیر کے حکم سے اسی وقت ان سب کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور سب کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان
‫کے گھروں سے جو زروجواہرات برآمد ہوئے‪ ،وہ ان کے جرم کو ثابت کررہے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی حلب کو محاصرے میں لینے کے لیے اس شہر کے قریب ایک مقام میدان االخدر پر خیمہ
‫زن تھا۔ اس نے شام اور دوسرے مقامات سے اپنی فوج کے تھوڑے تھوڑے دستے بال لیے تھے۔ حلب کے متعلق وہ اپنے
‫ساالروں سے کہہ چکا تھا کہ اس شہر کے لوگ اسی طرح بے جگری سے لڑیں گے جس طرح وہ پہلے محاصرے میں لڑے
‫تھے۔ گو اس کے جاسوسوں نے جو حلب کے اندر تھے‪ ،اسے یہ اطالع دی تھی کہ اب اتنے برسوں کی خانہ جنگی سے
‫حلب کے لوگوں کے خیاالت بدل گئے ہیں۔ خیاالت بدلنے کے لیے سلطان ایوبی نے بھی زمین دوز اہتمام کیا تھا۔ اب وہاں کا
‫حکمران سلطان عمادالدین تھا جسے لوگ زیادہ پسند نہیں کرتے تھے‪ ،پھر بھی سلطان ایوبی کسی خوش فہمی میں مبتال نہ
‫ہوا۔ اس نے ادھر ادھر سے دستے میدان االخدر میں جمع کرلیے۔
‫وہ اپنے ساالروں کو آخری ہدایات دے رہا تھا کہ قاہرہ کا قاصد پہنچا۔ اس نے جو پیغام دیا‪ ،اسے پڑھ کر اس کا چہرہ چمک
‫اٹھا۔ اس نے بلند آواز سے کہا… ''میرا دل کہہ رہا تھا کہ حبیب القدوس مجھے دھوکہ نہیں دے گا۔ اللہ اسالم کی ہر بیٹی
‫کو زہرہ کا جذبہ اور ایمان دے''۔ علی بن سفیان نے اسے نائب ساالر حبیب القدوس کی واپسی کی ساری روئیداد لکھی تھی
‫جس میں اس کی بیوی زہرہ کا تفصیلی ذکر تھا۔ اس نے اسی وقت پیغام کا جواب لکھوایا جس میں ان غداروں کے لیے جو
‫پکڑے گئے تھے‪ ،یہ سزا لکھی کہ انہیں گھوڑوں کے پیچھے باندھ کر گھوڑے شہر میں دوڑائے جائیں اور گھوڑے اس وقت روکے
‫جائیں جب ان غداروں کا گوشت ہڈیوں سے الگ ہوجائے۔
‫دو ر وز بعد سلطان ایوبی نے حلب پر چڑھائی کردی جو محاصرہ نہیں‪ ،یلغار تھی۔ بڑی منجنیقوں سے شہر کے دروازوں پر
‫پتھر اور آتش گیر سیال کی ہانڈیاں ماری گئیں۔ شہر کی دیواروں پر اور اندر بھی ہانڈیاں پھینک کر آتشیں تیروں کامینہ برسا
‫دیا گیا۔ دیواریں توڑنے والے جیش دیواریں توڑنے لگے لیکن شہر والوں اور فوج کی طرف سے مزاحمت میں اتنی شدت نہیں
‫تھی۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ حلب کے حکمران عمادالدین کے امرائ‪ ،وزراء اس کی خامیوں
‫سے آگاہ تھے۔ اس نے صلیبیوں سے جنگی امداد کے عالوہ سونے کی صورت میں دولت بہت لی تھی۔ اس کے امرائ‪ ،وزراء
‫کی نظر اس پر تھی۔ انہوں نے ایسے مطالبات پیش کیے کہ عمادالدین جو پہلے ہی سلطان ایوبی کی طوفانی یلغار سے خوفزدہ
‫تھا‪ ،ان مطالبات سے گھبرا گیا۔
‫اس نے حلب کے قلعہ دار ( گورنر) حسام الدین کو سلطان ایوبی کے پاس اس درخواست کے ساتھ بھیجا کہ اسے موصل کا
‫تھوڑا سا عالقہ دے دیا جائے۔ سلطان ایوبی نے اس کی یہ شرط مان لی۔ یہ خبر جب شہر کے لوگوں نے سنی تو اور لوگ

‫نے اپنا کوئی نمائندہ سلطان ایوبی کے پاس بھیج کر اس کے ساتھ صلح کرلیں یا جو کارروائی وہ کرنا چاہتے ہیں‪ ،کریں۔
‫شہر کے معززین نے عزالدین جردوک النوری اور زین الدین کو اپنی نمائندگی کے لیے سلطان ایوبی کے پاس بھیجا۔ جردوک ‪:
‫النوری مملوک تھا۔ وہ ‪ ١١جون ‪١١٨٣ء (‪١٧صفر ‪٥٧٩ہجری) کے روز سلطان ایوبی کے پاس گئے اور اپنی تمام فوج کو شہر
‫کے باہر بال کر سلطان ایوبی کے حوالے کردیا۔ فوج کے ساتھ حلب کے معززین اور امرائ‪ ،وزراء بھی آئے تھے۔ سلطان ایوبی
‫نے سب کو بیش قیمت لباس پیش کیے۔
‫چھٹے روز جب سلطان ایوبی اس فتح سے مسرور تھا۔ اسے اطالع ملی کہ اس کا بھائی تاج الملوک جو اسی جنگ میں
‫زخمی ہوگیا تھا‪ ،چل بسا ہے۔ سلطان ایوبی کی مسرت گہرے غم میں بدل گئی۔ تاج الملوک کے جنازے میں عمادالدین بھی
‫شامل ہوا۔ اس کے بعد عمادالدین حلب سے نکل گیا۔ سلطان ایوبی نے حلب کی حکومت سنبھال لی۔ بہائوالدین شداد کے
‫بیان کے مطابق اس نے اپنی تمام فوج کو جو لمبے عرصے سے مسلسل لڑ رہی تھی‪ ،رخصت پر گھروں کو بھیج دیا اور خود
‫حلب کے انتظامی امور میں مصروف ہوگیا۔ اس کی منزل بیت المقدس تھی۔
‫‪ ،اس کے ساتھ ہی قصہ *نہ میں تمہاری‪ ،نہ مصر تمہارا* ختم ہوا جاتا ھے
21:03
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 145ایوبی نے قسم کھائی تھی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫صالح الدین ایوبی کے چہرے پر اس روز رونق تھی اور آنکھوں میں وہ چمک جسے اس کی ہائی کمانڈ کے ساالر اور اس کے
‫قریب رہنے والے سول حکام بڑی اچھی طرح پہچانتے تھے۔ اس کے چہرے پر ایسی رونق اور آنکھوں میں ایسی چمک اس
‫وقت آیا کرتی تھی‪ ،جب وہ کوئی تاریخی فیصلہ کرچکتا تھا۔ وہ محرم ‪٥٨٣ہجری (مارچ ‪١١٨٧ئ) کا مہینہ تھا۔ سلطان ایوبی
‫دمشق میں تھا۔ وہ ان تمام مسلمان امرائ‪ ،حکمرانوں اور قلعے داروں کو اپنا مطیع اور اتحادی بنا چکا تھا جو صلیبیوں کے
‫دوست بن کر اس کے خالف محاذ آراء ہوگئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم حلب اور موصل کے والئی عزالدین اور
‫عمادالدین تھے۔ انہوں نے برسوں پر پھیلی ہوئی خانہ جنگی کے بعد سلطان ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ ان کی
‫فوجیں سلطان ایوبی کی مشترکہ کمان کے تحت آگئی تھیں۔
‫وہ دمشق اس وقت گیا تھا جب اس نے یہ عہد پورا کرلیا تھا کہ فلسطین کی طرف پیش قدمی سے پہلے ایمان فروشوں کو
‫گھٹنوں بٹھائوں گا
‫تا کہ ان میں سے کوئی بھی اس کے اور قبلہ اول کے درمیان حائل نہ ہوسکے۔ ان غداروں کوبزور شمشیر راہ راست پر الکر
‫سلطان ایوبی نے اپنی زبان سے یہ نہیں کہا تھا کہ فاتح ہوں۔ وہ کہا کرتا تھا کہ اسالم کی تاریخ کایہ باب بڑا ہی شرمناک
‫ہوگا جس میں یہ واقعات بیان کیے جائیں گے کہ صالح الدین ایوبی کا دور سیاہ دور تھا جب صلیبی بیت المقدس پر قابض
‫تھے اور مسلمان آپس میں لڑ رہے تھے۔ البتہ وہ ضرور کہا کرتا تھا کہ غداروں کو اپنا اتحادی بنا کر ہم نے صلیبیوں کے عزائم
‫تباہ کردئیے ہیں۔
‫اس روز دمشق میں اس نے اپنی ہائی کمانڈ کے ساالروں‪ ،مشیروں اور فوج سے تعلق رکھنے والے غیرفوجی حکام کو کانفرنس
‫کے لیے بالیا تو سب نے سلطان کے چہرے پر مخصوص رونق اور آنکھوں میں وہ چمک دیکھی جو کبھی کبھی دیکھنے میں آیا
‫کرتی تھی ۔ سب سمجھ گئے کہ ان کے سلطان نے اپنی منزل کو روانہ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس میں کسی کو شک
‫نہ تھا کہ ا ُس کی منزل بیت المقدس ہے۔ اب انہیں اس کی زبان سے یہ سننا تھا کہ کس روز اور کس وقت کوچ ہوگا اور
‫کوچ کس ترتیب سے ہوگا اور راستہ کون سا ہوگا۔
‫میرے دوستو! میرے رفیقو!''… سلطان صالح الدین ایوبی ٹھہری ہوئی آواز میں ان سے مخاطب ہوا… ''آپ سب یقینا ''
‫میری تائید کریں گے کہ ہم بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کے لیے تیار ہیں۔ آج میں آپ سے جو باتیں کروں گا اور آپ
‫اپنے شکوک رفع کرنے کے لیے مجھ سے جو سوال پوچھیں گے اور جو اعتراض کریں گے وہ ہماری تاریخ ہوگی۔ ہمارے الفاظ
‫اور ہمارے عہد تاریخ کی تحریر بنیں گے اور یہ تحریر ہماری آخری نسل تک جائے گی۔ یہ بھی نہ بھولنا کہ ہم اس دنیا میں
‫یہ تحریر چھوڑ کر جائیں گے اور خدا کے حضور اپنے اعمال لے کرجائیں گے۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ ہمیں اپنی آنے
‫والی نسلوں کے آگے اور خدائے ذوالجالل کے آگے شرمسار ہونا ہے یا سرخرو۔ فتح کی ضمانت ہم میں سے کوئی بھی نہیں
‫دے سکتا مگر ہم سب یہ عہد کرسکتے ہیں کہ ہم لڑیں گے‪ ،مریں گے‪ ،واپس نہیں آئیں گے''۔
‫سلطان ایوبی نے سب کو دیکھا۔ اس کی نگاہیں سب پر گھومیں۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس نے کہا ''میں
‫تمہیں خوش فہمیوں میں مبتال نہیں کروں گا لیکن آپ میں سے کسی کے دل میں یہ ڈر ہو کہ صلیبیوں کے پاس جتنی فوج
‫ہے ہم اس سے آدھی فوج تیار کرسکتے ہیں اور ہم اتنی دور لڑنے جارہے ہیں۔ میں آپ کو یاد دالنا چاہتا ہوں کہ ہم ہمیشہ
‫تھوڑی سی کم نہیں بلکہ بہت کم تعداد سے کئی گنا زیادہ دشمن سے لڑے اور فتح پائی ہے۔ جنگ تعداد سے نہیں جذبے اور
‫عقل سے لڑی جاتی ہے۔ ایمان مضبوط ہو تو بازو‪ ،تلواریں اور دل بھی مضبوط ہوجاتے ہیں۔ ہمارے پاس ایمان کی کمی نہیں‪،
‫عقل کی بھی کمی نہیں۔ اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں اور عقل کو استعمال کریں''۔
‫ہم میں کوئی ایک بھی نہیں جو اپنی اور دشمن کی فوجی طاقت کا موازنہ کررہا ہو''… چھاپہ ماروں کے ساالر صارم ''
‫مصری نے اٹھ کر کہا اور اپنے ساتھیوں پر نظریں دوڑائیں۔ ہر ایک نے اس کی تائید کی۔ صارم مصری نے کہا۔ ''البتہ یہ
‫دیکھنا ضروری ہے کہ ہم بیت المقدس تک کس طرف سے اور کس انداز سے پہنچیں گے۔ احتیاط الزمی ہے۔ ہم تکبر سے گریز
‫اور حقیقت کو تسلیم کریں گے''۔
‫میں نے آپ کو یہی بتانے کے لیے بالیا ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں نے پیش قدمی اور جنگ کا منصوبہ آپ ''
‫کے مشوروں سے تیار کیا ہے اور میں نے کئی راتوں کی سوچ کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ہماری پہلی منزل حطین ہوگی۔ آپ
‫سب حطین کی جنگی اہمیت سے آگاہ ہیں‪ ،وہاں مجھے وہ زمین مل جائے گی جہاں میں صلیبیوں کو لڑانا چاہتا ہوں۔ جنگ
‫کا یہ اصول جو میں آپ کو پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں اپنے ذہن پر نقش کرلو کہ جنگ میں آپ کی بہترین دوست وہ
‫زمین ہے جس پر آپ دشمن کو الکر لڑاتے ہیں۔ زمین ایسی منتخب کرو جو آپ کو فائدے اور دشمن کو نقصان دے۔ یہ زمین
‫ہمیں حطین کے عالقے میں میسر آئے گی‪ ،بشرطیکہ آپ برق رفتاری‪ ،رازداری اور پہل کاری سے اس زمین تک پہنچ جائیں اور
‫…''دشمن کو تمام فائدوں سے محروم کردیں
‫حطین کے عالقے میں بلندیاں بھی ہیں اور پانی بھی۔ آپ بلندیوں اور پانیوں پر قبضہ کرلیں تو سمجھ لیں کہ آپ آدھی ''

‫جنگ جیت گئے لیکن دشمن کو ایسی زمین پر النا آسان نہیں۔ اگر ہمارے منصوبے کی ایک بھی کڑی پر عمل نہ ہوسکا تو
‫سارا منصوبہ تباہ ہوجائے گا اور تباہی ہمیں وہاں تک لے جائے گی جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ ہم اس
‫ماہ کے وسط دمشق سے کوچ کرسکیں گے۔ میں نے حلب اور مصر قاصد بھیج دئیے ہیں۔ انہیں تیز رفتاری سے‪ ،کم سے کم
‫پڑائو کرکے فوجیں بھیجنی ہیں‪ ،جو ہمیں راستے میں ملیں گی۔ ہمیں اپنی تمام فوجوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہے۔ باہر سے
‫آنے والی فوج اور یہاں کی فوج کو مال کر اور ان کے ساالروں کو مکمل منصوبہ بتا کر فوجوں کی تقسیم کرنی ہے۔ ہماری
‫…''پیش قدمی فوج کے مختلف حصوں کی پیش قدمی ہوگی۔ ہر حصے کا راستہ الگ ہوگا
‫میں نے راز داری برقرار رکھنے کا انتظام حسب معمول کردیا ہے۔ آپ کے سوا کسی اور کو‪ ،کسی کمان دار اور کسی سپاہی''
‫کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کہاں جارہے ہیں۔ ہمارے جاسوس دشمن کے عالقے میں موجود ہیں۔ وہ دشمن کی ذرا ذرا
‫سی حرکت کی اطالعات باقاعدگی سے بھیج رہے ہیں۔ اب ضرورت یہ ہے کہ دشمن کے ان جاسوسوں کو اندھا‪ ،بہرہ اور
‫گمراہ کردیا جائے جو ہمارے عالقے میں موجود ہیں۔ حسن بن عبداللہ نے اس کا بھی انتظام کردیا ہے۔ ایک بات میں آپ کو
‫ابھی بتا دینا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ فوج کا ایک حصہ میرے ساتھ ہوگا جسے میں کرک لے جائوں گا''۔
‫سلطان ایوبی اچانک خاموش ہوگیا۔ اس کا سرجھک گیا‪ ،کچھ دیر بعد اس نے سرکو جھٹکا دے کر اوپر کیا اور بوال… ''چار
‫سال گزرے میں نے ایک قسم کھائی تھی‪ ،مجھے یہ قسم پوری کرنی ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی کی یہ قسم ایک تاریخی واقعہ تھا۔ اس نے کانفرنس میں چار سال پہلے کا یہ واقعہ سب کو یاد
‫دالیا۔ اس سلسلے کی پہلی کہانیوں میں تفصیل سے سنایا جاچکا ہے کہ صلیبی حکمران اخالق اور کردار سے ایسے عاری تھے
‫کہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے۔ یہ کام ان کی فوج کیا کرتی تھی جن دنوں حاجیوں کے قافلے حجاز کو جاتے اور
‫واپس آتے تھے‪ ،ان دنوں صلیبی فوج کے دستے ان قافلوں کو لوٹنے کے لیے راستوں میں گھات لگاتے تھے۔ ایک صلیبی
‫حکمران ارناط جو اس وقت کرک پر قابض تھا‪ ،یہ کام اپنے حکم اور اپنے خاص دستوں سے کرایا کرتا تھا۔ اپنے اس جرم پر
‫وہ ناز بھی کیا کرتا اور حاجیوں کے قافلے کو لوٹ کر فخر سے اس کا ذکر کیا کرتا تھا جیسے اس نے مسلمانوں پر بہت
‫بڑی فتح حاصل کی ہو۔ اس کی اس راہزنی کا ذکر صرف مسلمان مؤرخوں نے ہی نہیں کیا۔ یورپی مؤرخوں نے تفصیل سے
‫لکھا ہے کہ وہ قافلوں کو لوٹنے کا انتظام کس طرح کیا کرتا تھا۔
‫‪٨٤۔‪ ١١٨٣ء میں اس کے ایک دستے نے حجاز سے مصر کو واپس جانے والے حاجیوں کے ایک قافلے پر حملہ کیا اور لوٹ لیا
‫تھا۔ ایک مصری واقعہ نگار محمد فرید ابو حدید نے لکھا ہے کہ صالح الدین ایوبی کی بیٹی بھی اس قافلے میں تھی لیکن
‫اور کسی مؤرخ یا اس وقت کے واقعہ نگار نے یہ نہیں لکھا کہ اس قافلے میں سلطان ایوبی کی بیٹی تھی۔ قاضی بہائوالدین
‫شداد کی ڈائری مستند دستاویز ہے کیونکہ وہ واقعات کا عینی شاہد ہے۔ البتہ ایک اشارہ ایک واقعہ نگار کی تحریر سے ملتا
‫ہے جو اس طرح ہے کہ جب سلطان ایوبی کو اطالع ملی کہ ارناط کی فوج نے مصر کے ایک قافلے کو لوٹ لیا ہے تو
‫سلطان ایوبی کی غضب ناک اور گرج دار آواز سنائی دی تھی… ''وہ میری بیٹی تھی۔ میں اس کا انتقام لوں گا۔ وہ میری
‫بیٹی تھی''۔
‫قافلے میں کوئی نوجوان لڑکی تھی جسے صلیبی اٹھا لے گئے تھے۔ سلطان ایوبی نے اسی وقت قسم کھائی تھی… ''ارناط ‪:
‫کو میں آج سے اپنا ذاتی دشمن سمجھتا ہوں‪ ،میں قسم کھاتا ہوں کہ اس سے اپنے ہاتھوں انتقام لوں گا''۔
‫سب جانتے ہیں کہ ان کے سلطان نے اس انداز اور لب ولہجے میں کبھی بات نہیں کی۔ وہ بھڑک کر بات کرنے اور بڑ
‫مارنے کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اس کی ہر بات فیصلہ ہوا کرتی تھی۔ اس نے جب انتقام کی قسم کھائی تو سب سمجھ گئے
‫کہ یہ سلطان کا عزم اور فیصلہ ہے۔ یوں تو ہر صلیبی حکمران اسالم کا دشمن تھا لیکن ارناط اسالم کی اور رسول کریم صلی
‫اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرتا تھا۔ مسلمان قیدیوں کو سامنے کھڑا کرکے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وہ
‫رب کعبہ کو تمہاری مدد کرے۔ پڑھو اپنے رسول کا کلمہ کہ تم آزاد ہوجائے
‫دشنام طرازی کرتا اور کہا کرتا …'' بالئو اپنے ِ
‫''… اور وہ قہقہے لگایا کرتا تھا۔ اس کی اس عادت سے سلطان ایوبی بھی واقف تھا‪ ،اس لیے وہ ارناط کا جب نام لیتا تو
‫نفرت کا بھرپور اظہار کیا کرتا تھا۔
‫آج چار سال بعد سلطان ایوبی جب صلیبیوں کے خالف فوج کشی کی ہدایات اپنے ساالروں کو دے رہا تھا تو اس نے یہ سارا
‫واقعہ یاد دال کر کہا… '' اس بدبخت کافر ( ارناط) سے مجھے اپنے ہاتھوں سے انتقام لینا ہے۔ اللہ مجھے یہ موقعہ اور ہمت
‫عطا فرمائے کہ میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کا انتقام لے سکوں''… اس نے ساالروں کو مزید ہدایات
‫دیتے ہوئے کہا… ''مجھے امید ہے کہ ہم تین ماہ بعد اس موسم میں حطین کے عالقے میں پہنچیں گے جب سورج کے
‫شعلے پانی کے قطروں کو ریت کے ذروں میں بدل دیتے ہیں اور جب ریت کے یہ جلتے ہوئے ذرے انسانوں کو بھون ڈالتے
‫ہیں اور جب ریگزار میں سراب اور آسمانوں کو اٹھنے والے ریت کے بلولوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا‪ ،میں صلیبیوں کو اس وقت
‫لڑائوں گا جب سورج سر پر ہوگا۔ صلیبی لوہے کے خودوں اور زرہ بکتر میں جل جائیں گے۔ لوہے کا جو لباس وہ تیروں‪،
‫تلواروں اور برچھیوں سے بچنے کے لیے پہنتے ہیں‪ ،وہ ہر صلیبی کا اپنا اپنا جہنم بن جائے گا''۔
‫مؤرخوں اور جنگ کے یورپی ماہرین اور مبصروں نے سلطان ایوبی کے اس اقدام کی تعریف کی ہے کہ اس نے جنگ کے لیے
‫جس موسم کا انتخاب کیا وہ جون جوالئی کے دن تھے‪ ،جب ریگزار بھٹی سے نکالی ہوئی سل کی طرح گرم ہوتا ہے۔ صلیبی
‫فوجی آہنی چادروں کے لباس میں محفوظ ہوتے تھے۔ ان کے نائٹ (سردار) سر سے پائوں تک زرہ بکتر میں ملبوس ہوتے
‫تھے۔ تیر اور تلوار کا ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا تھا مگر سلطان ایوبی نے لوہے کا یہ لباس ان کی بہت بڑی کمزوری بنا دیا
‫تھا۔ ایک تو وہ چھاپہ مار قسم کی جنگ لڑتا تھا۔ تھوڑی سی نفری سے پہلوئوں پر برق رفتار حملے کرتا اور حملے آور
‫دستے ضرب لگا کر وہاں رکتے نہیں تھے۔ اس چال سے صلیبی فوج کو پھیلنا پڑتا اور رفتار تیز کرنی پڑتی لیکن زرہ بکتر کا
‫وزن رفتار اتنی نہیں ہونے دیتا تھا‪ ،جتنی سلطان ایوبی کے دستوں کی ہوتی تھی۔
‫سلطان ایوبی نے زرہ بکتر کا دوسرا توڑ یہ سوچا کہ وہ اس وقت جنگ شروع کرتا تھا جب سورج سر پر اور ریگستان شعلہ
‫بنا ہوتا تھا۔ زرہ بکتر تنور کی طرح تپ جاتی تھی۔ پیاس سے جسم خشک ہوجاتا تھا اور پانی پر سلطان ایوبی جنگ سے
‫پہلے قبضہ کرلیتا تھا۔ ریگستان کی جھلسا دینے والی تپش اسالمی فوج کے لیے بھی دشواریاں پیدا کرتی تھی‪ ،لیکن اس کے
‫لباس ہلکے پھلکے ہوتے تھے۔ اس کے عالوہ سلطان ایوبی کی ٹریننگ بڑی سخت تھی۔ وہ گھوڑوں‪ ،اونٹوں اور تمام فوج کو
‫لمبے لمبے عرصے کے لیے ریگستان میں رکھتا اور خود بھی ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس نے فوج کو بھوکا پیاس رہنے کی
‫ٹریننگ بھی دے رکھی تھی۔ رمضان کے مہینے میں وہ ٹریننگ اور جنگی مشقیں زیادہ کیا کرتا تھا کہ اس مبارک مہینے میں

‫خدائے ذوالجالل اپنے ہاتھوں ہماری تربیت کرتے ہیں۔
‫جسمانی ٹریننگ کے عالوہ اس نے سپاہیوں کی ذہنی بلکہ روحانی تربیت کا بھی انتظام کررکھا تھا۔ سپاہیوں کو یہ ذہن نشین
‫کرایا جاتا تھا کہ وہ اللہ کے سپاہی اور دین اسالم کے محافظ ہیں‪ ،کسی بادشاہ یا سلطان کی فوج کے مالزم نہیں۔ وہ مال
‫غنیمت سپاہیوں میں تقسیم کرتا تھا لیکن انہیں تاثر یہ دیا جاتا تھا کہ جنگ مال غنیمت کے لیے نہیں لڑی جاتی اور مال
‫غنیمت جہاد کا انعام بھی نہیں۔ انعام اللہ دیتا ہے۔ سب سے بڑی چیز غیرت تھی جو اس نے ساری فوج میں پیدا کررکھی
‫تھی۔ وہ سب سے زیادہ ذکر ان مسلمان لڑکیوں کا کرتا تھا جنہیں صلیبی اٹھا لے جاتے تھے اور ان خواتین کا بھی جو
‫صلیبیوں کے مقبوضہ عالقوں میں صلیبیوں کی درندگی کا شکار ہورہی تھیں۔
‫قوم کے شہیدوں کو اور قوم کی مظلوم بیٹیوں کو بھول جانے والی قوم کی قسمت میں کفار کی غالمی لکھ دی جاتی ''
‫ہے''… یہ الفاظ سلطان ایوبی کی زبان پر رہتے تھے۔ وہ سپاہیوں میں گھومتا پھرتا رہتا تھا‪ ،ان کی گپ شپ اور ان کی
‫کھیل کود میں شامل ہوجایا کرتا تھا۔ ان سے وہ کہا کرتا تھا… ''انتقام فوج لیا کرتی ہے‪ ،اگر فوج نے فرض ادا نہ کیا تو
‫اس کے لیے اس دنیا میں بھی ذلت ہے اور اگلی دنیا میں بھی''۔
‫٭ ٭ ٭
‫سامنے صلیب الصلبوت رکھی تھی اور اس کے پاس اس صلیب کا محافظ کھڑا تھا جو عکرہ کا بڑا پادری تھا۔ عیسائیوں کے
‫عیسی علیہ السالم کو مصلوب کیا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس چوبی
‫عقیدے کے مطابق یہ وہ اصل صلیب تھی جس پر حضرت
‫ٰ
‫عیسی علیہ السالم کے خون کے نشان موجود ہیں۔ اسے صلیب اعظم بھی کہتے ہیں۔ اسی لیے
‫صلیب پر ابھی تک حضرت
‫ٰ
‫عکرہ کا پادری '' محافظ صلیب اعظم'' کہالتا تھا اور اس کا حکم بادشاہوں کے حکم سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ بادشاہ بھی
‫اس کے حکم کے پابند ہوتے تھے۔ عیسائیوں اور یہودی لڑکیوں کو اسی کی اجازت سے مسلمانوں کے عالقوں میں جاسوسی‪،
‫کردار کشی اور نظریاتی تخریب کاری کے لیے بھیجا جاتا تھا جو لڑکی اس کام کی ٹریننگ مکمل کرکے باہر بھیج جاتی‪ ،اسے
‫صلیب کا محافظ اعظم اپنی دعائوں کے ساتھ رخصت کیا کرتا تھا۔
‫ان لڑکیوں سے صلیب الصلبوت پر ہاتھ رکھوا کر وفاداری کا اور صلیب کو دھوکہ نہ دینے کا حلف لیا جاتا تھا۔ ایسا ہی حلف
‫صلیبی فوج کے ہر افسر اور ہر سپاہی سے بھی لیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ایسی ہی ایک چھوٹی سی صلیب اس کے گلے
‫میں لٹکا دی جاتی تھی۔
‫ناصرہ کے مقام پر صلیبی حکمران جمع تھے۔ ان میں گائی آف لوزیناں‪ ،ریمانڈ آف تریپولی‪ ،گرینڈ ماسٹر گراڈ‪ ،مائونٹ فیرت‪،
‫ہمفرے آف توران‪ ،امارلک اور شہزادہ ارناط آف کرک قابل ذکر ہیں… اور وہاں عکرہ کا پادری ''محافظ صلیب اعظم'' بھی
‫موجود تھا۔ ان کے لیے جو شامیانے اور قناتیں لگائی گئی تھی‪ ،وہ کپڑوں کا ایک خوش نما محل تھا۔ محل کی طرح اس کے
‫کمرے‪ ،برآمدے اور غالم گردشیں تھیں‪ ،رنگا رنگ روشنی والے فانوسوں کی روشنی نے اسے مرمر اور خارا محالت سے زیادہ
‫حسین بنا رکھا تھا۔ اس کے اردگرد رہائشی شامیانوں اور قناتوں کے کمرے تھے اور ان کے اردگرد صلیبی نائٹوں کے خیمے اور
‫ان کی فوج کے منتخب دستے خیمہ زن تھے۔ شراب کے مٹکوں کے ساتھ ان حسین اور دلکش لڑکیوں کی کچھ تعداد بھی
‫موجود تھی جن کا طلسماتی حسن اور شوخیاں بھائی کو بھائی اور باپ کو بیٹے کا دشمن بنا دیتی تھیں۔
‫ایک شامیانے تلے جس پر پختہ محل کے کمرے کا گمان ہوتا تھا‪ ،صلیب الصلبوت رکھی ہوئی تھی
‫ا ور اس کے پاس عکرہ کا پادری کھڑا تھا۔ اس کے سامنے صلیبی حکمران اور ان کے جرنیل اور منتخب نائٹ بیٹھے تھے۔
‫سب کو معلوم تھا کہ یہ ایک تاریخی اجتماع ہے اور تاریخ کا ایک نیا باب لکھا جانے لگا ہے۔ اس باب کا عنوان تھا …
‫''صالح الدین ایوبی کو ہمیشہ کے لیے ختم کردو''۔
‫صلیب کے محافظو!''… عکرہ کے پادری نے کہا… ''یہ ہے وہ صلیب جس پر تم سب نے ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا تھا۔ ''
‫آج یہ صلیب تمہارے سامنے اس لیے عکرہ سے الکر رکھی گئی ہے کہ اس کے ساتھ تم نے جو عہد کیا تھا وہ تمہارے دلوں
‫میں تازہ ہوجائے۔ اب تمہیں ایک خونریز اور فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہونا ہے۔ یہ جنگ تمہیں لڑنی ہے۔ تم سب جنگجو
‫ہو‪ ،جرنیل ہو‪ ،تمہاری عمر میدان جنگ میں گزر گئی ہے۔ میں اس میدان کا آدمی نہیں ہوں۔ میں تمہارے مذہب کا پیشوا
‫ہوں۔ میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ صالح الدین ایوبی کو شکست دے کر دنیائے عرب پر صلیب کی حکمرانی قائم کرنی ہے۔
‫یروشلم تو ہے ہی ہمارا‪ ،یہ مت بھولو کہ مکہ اور مدینہ پر بھی قبضہ کرنا ہے اور اس مقدس صلیب کو مسلمانوں کے خانہ
‫…''کعبہ کے اوپر رکھنا اور اسے یسوع مسیح کی عبادت گاہ بنانا ہے
‫یاد رکھو کہ تم مدینہ سے تین میل دور تک پہنچ گئے تھے مگر مسلمانوں نے تمہیں اس سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ تمہیں ''
‫بھی اسی جنون سے لڑنا ہے جس جنون سے مسلمان اپنے کعبے کے تحفظ کے لیے لڑے تھے۔ صالح الدین ایوبی کی نظریں
‫یروشلم پر لگی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ یہ بیت المقدس ہے اور یہاں کا قبلٔہ اول ہے۔ اگر اس سے یروشلم کو بچانا چاہتے ہو تو
‫نظریں مکہ پر رکھو۔ ذہن میں یہ یاد رکھو کہ ہماری جنگ صالح الدین ایوبی سے نہیں‪ ،یہ صلیب اور اسالم کی جنگ ہے۔ یہ
‫دو مذہبوں کی‪ ،دو عقیدوں کی جنگ ہے۔ یہ جنگ ہم نہ جیت سکے تو ہماری اگلی نسل لڑے گی۔ وہ اسالم کا خاتمہ نہ
‫کرسکی تو اس سے اگلی نسل لڑے گی‪ ،تاکہ دونوں میں سے ایک مذہب ختم ہوجائے گا۔ خاتمہ اسالم کا ہوگا اور ساری دنیا
‫…''پر صلیب کی حکمرانی ہوگی
‫ہم نے مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے دوسرے طریقے بھی اختیار کیے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ تم سب کو ''
‫یاد ہوگا کہ ہم اس مہم میں کتنی لڑکیاں ضائع کرچکے ہیں۔ ہم بے شمار دولت اور اسلحہ بھی ضائع کرچکے ہیں جو مسلمان
‫امراء کو صالح الدین ایوبی کے خالف دیتے رہے۔ ہم نے ان لڑکیوں اور زروجواہرات سے یہ حاصل کیا ہے کہ مسلمانوں میں
‫شراب اور عیاشی کی عادت پیدا کردی ہے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہم چھ سات سال انہیں آپس میں لڑاتے رہے۔
‫ان کی اس خانہ جنگی سے ہم نے یہ فائدہ ضرور اٹھایا ہے کہ مسلمانوں کی جنگی قوت خاصی حد تک ضائع کردی ہے اور
‫سلطان ایوبی کے بہترین اور تجربہ کار سپاہی اور ان کے کمانڈر خانہ جنگی میں مروا دئیے ہیں۔ اس خانہ جنگی سے ہم نے
‫یہ فائدہ بھی اٹھایا ہے کہ سات آٹھ سال صالح الدین ایوبی کو اس کے اپنے عالقوں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ اس عرصے
‫میں ہم نے جنگی تیاریاں مکمل کرلیں اور یروشلم کا دفاع اتنا مضبوط کرلیا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے لیے ان راستوں تک
‫…''پہنچنا جو یروشلم کو جاتے ہیں۔ ناممکن ہوگیا ہے
‫مگر اس نے وہ کیفیت پھر حاصل کرلی ہے جو ان کی خانہ جنگی سے پہلے تھی۔ حلب اور موصل کی فوجیں بھی اسے ''
‫مل گئی ہیں۔ تمام مسلمان امراء اس کے حامی ہوگئے ہیں۔مظفرالدین اور ککبوری جیسے ساالر جو اس کے خالف لڑے اور
‫ہمارے دوست بن گئے تھے‪ ،اس کے پاس چلے گئے ہیں۔ غداروں کو اس نے اتنا کمزور اور بے بس کردیا ہے کہ وہ اب

‫ہمارے کسی کام کے نہیں رہے۔
21:03
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 146ایوبی نے قسم کھائی تھی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫غداروں کو اس نے اتنا کمزور اور بے بس کردیا ہے کہ وہ اب ہمارے کسی کام کے نہیں رہے۔ اب کوئی مسلمان حکمران ایسا
‫نہیں رہا جو صالح الدین ایوبی پر عقب سے حملہ کرے۔ ہم نے حشیشین کو بھی آزما دیکھا ہے۔ وہ چار پانچ قاتالنہ حملوں
‫میں بھی اسے قتل نہیں کرسکے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار اور کوئی حل اور راستہ نہیں رہا کہ ہم مل کر سلطان
‫صالح الدین ایوبی پر یلغار کریں لیکن اپنے جرنیلوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ حملے میں پہل اسے کرنے دیں۔ اس کی مجھے
‫دو وجوہات بتائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی فوجوں کو اتنی دور نہیں لے جانا چاہیے کہ رسد کے راستے مسدود اور خطرناک
‫ہوجائیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی جس طریقے کی جنگ لڑتا ہے‪ ،اس سے ہمیں اپنی فوج دور دور تک
‫پھیالنی پڑتی ہے۔ اب جبکہ دشمن کے عالقے میں ہمارا کوئی حامی نہیں رہا‪ ،اس لیے ہمیں حملے کا خطرہ سوچ سمجھ کر
‫…''مول لینا چاہیے
‫ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جاسوسوں کی اطالع کے مطابق صالح الدین ایوبی یروشلم کی طرف پیش قدمی کا ''
‫فیصلہ کرچکا ہے۔ یہ تمہیں دیکھنا ہے کہ اس کی پیش قدمی کا راستہ کون سا ہوگا اور وہ سیدھا یروشلم کی طرف آئے گا یا
‫کیا کرے گا۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ہم اکیلے اکیلے اس کے خالف نہیں لڑ سکتے۔ اب تم متحد ہوگئے ہو۔
‫صلیب اعظم کو یہاں اٹھا النے کا مقصد یہ ہے کہ تم سب ایک ہی بار صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھائو کہ تم دشمن کے
‫خالف یک جان ہوکر لڑو گے اور ذاتی رنجشوں اور ذاتی مفادات کو نظرانداز کرکے متحدہ مفاد کے لیے لڑو گے اور یہ مفاد
‫صلیب اعظم اور یسوع مسیح کے عقیدے کا ہوگا اور تم سب اسالم کے خاتمے کے لیے لڑو گے''۔
‫سب اٹھے۔ انہوں نے صلیب پر ہاتھ رکھے اور عکرہ کے پادری نے حلف کے جو الفاظ کہے‪ ،وہ سب نے دہرائے۔
‫دوسرے دن سب بہت دیر سے جاگے۔ رات جب پادری نے انہیں چھٹی دی تو وہ شراب اور رقص میں مگن ہوگئے۔ وہ اپنی
‫اپنی پسند کی لڑکیاں ساتھ الئے تھے۔ ان کے حسن وجمال‪ ،نیم عریاں جسموں‪ ،کھلے بکھرے ہوئے ریشمی بالوں‪ ،ناز وادا اور
‫شراب نے اس خطے کو جنت ارضی بنائے رکھا۔ دوسرے دن کا سورج طلوع ہوچکا تھا مگر صلیبیوں کے اس شاہانہ کیمپ میں
‫نیند نے موت کا سکوت طاری کررکھا تھا۔
‫شہزادہ ارناط کے خیمے سے ایک جواں سال لڑکی نکلی۔ بہت ہی خوبصورت اور لمبے قد کی لڑکی تھی۔ اس کا رنگ دلکش
‫تھا اور اس کی آنکھوں میں سحر تھا لیکن یہ رنگ اور یہ آنکھیں صلیبی یا یہودی لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔ یہ سوڈان‪ ،مصر
‫یا دمشق جیسے عالقوں کی پیداوار معلوم ہوتی تھی۔ اس کے حسن کی یہی ضمانت کافی تھی کہ ارناط اسے اپنے ساتھ الیا
‫تھا۔
‫اسے دیکھ کر ایک بوڑھی خادمہ دوڑتی اس تک پہنچی۔ وہاں جو فوج ان حکمرانوں کے ساتھ گئی تھی‪ ،اس کی اتنی نفری
‫نہیں تھی جتنی تعداد نوکروں اور نوکرانیوں کی ساتھ تھی۔ اس لڑکی کو ارناط پر نسیس للی کہا کرتا تھا۔ وہ شکل وصورت اور
‫قد بت سے شہزادی ہی لگتی تھی۔ اس نے خادمہ سے کہا کہ صرف میرے لیے ناشتہ جلدی الئو اور بگھی تیار کرو‪ ،میں اس
‫عالقے کی سیر کو جارہی ہوں۔
‫ارناط گہری نیند سویا ہوا تھا‪ ،اسے جاگنے کی کوئی جلدی نہیں تھی‪ ،وہاں تو صرف پادری صبح سویرے جاگا اور عبادت کرکے
‫پھر سوگیا تھا۔ للی کے لیے کوئی کام نہیں تھا۔ ناشتہ آنے تک وہ تیار ہوگئی اور جب ناشتہ کرچکی تھی تو بگھی آچکی
‫تھی۔ یہ دو گھوڑوں کی خوبصورت بگھی تھی۔ کرک سے ارناط کے ساتھ وہ اسی بگھی میں آئی تھی۔
‫بگھی میں بیٹھنے سے پہلے اس نے بگھی بان سے کہا… ''یہ عالقہ بہت خوبصورت لگتا ہے۔ میں سیر کے لیے جانا چاہتی
‫''ہوں۔ تم اس جگہ سے واقف تو نہیں ہوگے؟
‫اچھی طرح واقف ہوں شہزادی محترمہ!'' بگھی بان نے جواب دیا… ''اگر آپ سیر کے لیے جانا چاہتی ہیں تو میں کمان''
‫اور ترکش لیے چلتا ہوں۔ آپ شکار بھی کھیل سکتی ہیں۔ یہاں ہرن زیادہ تو نہیں لیکن کہیں کہیں نظر آجاتے ہیں۔ خرگوش
‫عام ہیں‪ ،پرندے ہیں''۔
‫للی نے مسکرا کر کہا… ''کیا تم مجھے تیر انداز سمجھتے ہو؟''… جائو لے آئو۔
‫کوئی مشکل نہیں'' ۔بگھی بان نے کہا… ''آپ لڑائی پر تو نہیں جارہیں۔ شکار پر چالیا ہوا تیر خطا ہوگیا تو کیا ہوجائے ''
‫گا''۔
‫وہ دوڑتا گیا اور کمان اور ترکش اٹھایا۔
‫بگھی خیمہ گاہ سے بہت دور چلی گئی۔ یہ خطہ سرسبز تھا۔ درخت بھی خاصے تھے اور اونچی نیچی ٹیکریاں تھیں۔ مارچ
‫اپریل کے دن تھے‪ ،بہار کا موسم تھا۔ اس سے یہ خطہ اور زیادہ خوبصورت ہوگیا تھا۔ بگھی آہستہ آہستہ چلی جارہی تھی۔
‫ایک جھنڈ کے نیچے للی کے کہنے پر بگھی رک گئی اور وہ اتری۔ اس کا بگھی بان سیبل نام کا عیسائی تھا اور انہی
‫عالقوں کا رہنے واال تھا۔ اس کی عمر تیس سال سے کچھ اوپر ہوگی۔ خوبرو اور دراز قد جوان تھا۔ اسی لیے اسے ارناط نے
‫بگھی کے لیے منتخب کیا تھا۔ للی کو بھی یہ آدمی پسند تھا۔ زندہ دل اور فرمانبردار تھا۔ للی جب ارناط کے پاس آئی‪ ،اس
‫سے ایک سال بعد سیبل ان کے پاس آیا تھا۔
‫مسلمانوں کی سرحد کہاں سے شروع ہوتی ہے؟'' للی نے بگھی سے اتر کر پوچھا۔''
‫جہاں تک کسی کی فوج پہنچ کر ڈیرے ڈال دے‪ ،وہ اس کی سرحد بن جاتی ہے''۔ بگھی بان نے جواب دیا… ''میں آپ''
‫کو اتنا بتا سکتا ہوں کہ یہاں سے آٹھ دس میل دور سمندر کی طرح ایک وسیع جھیل ہے جس کا نام گیلیلی ہے۔ اس کے
‫کنارے طبریہ نام کا ایک قصبہ ہے۔ اس سے کچھ ادھر حطین نام کا ایک مشہور گائوں ہے۔ اس جھیل سے آگے سے مسلمانوں
‫کا عالقہ شروع ہوجاتا ہے''۔
‫یعنی مسلمانوں کا عالقہ یہاں سے دور نہیں''۔ للی نے کہا… ''کیا ہم بگھی پر جھیل تک جاسکتے ہیں؟''۔''
‫ہم کرک سے بگھی پر آئے ہیں''۔ سیبل نے کہا… ''جھیل تو یہ قریب ہے۔ یہ دو گھوڑے بغیر تھکے وہاں تک پہنچا ''
‫سکتے ہیں''۔
‫للی نے بچوں کی طرح اس سے راستہ پوچھنا شروع کردیا اور بگھی بان زمین پر لکیریں ڈال کر اسے راستہ سمجھانے لگا۔

‫دمشق کو بھی راستہ جاتا ہوگا؟'' للی نے پوچھا۔''
‫بگھی بان نے اسے دمشق تک کا راستہ سمجھا دیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫للی نے ترکش سے تیر نکاال اور درختوں میں پرندے دیکھنے لگی۔ اس نے ایک پرندے پر تیر چالیا جو خطا گیا۔ للی نے قہقہہ
‫لگایا۔ بگھی بان نے اسے شست لینے کا طریقہ سمجھایا۔ اس نے کچھ تیر ادھر ادھر چالئے۔
‫اور آگے چلو''۔ للی نے بگھی میں بیٹھتے ہوئے کہا… ''اس جگہ چلوں جہاں ہرن ہوں۔میں ہرن کو تو مار لوں گی''۔''
‫سیبل اسے ڈیڑھ دو میل دور لے گیا۔ ایک جگہ بگھی روک کر اس نے کہا کہ تھوڑی دیر انتظار کریں‪ ،شاید کوئی ہرن یا
‫خرگوش نظر آجائے۔ وہ خود ایک طرف کو چل پڑا۔ کوئی بیس قدم دور ایک درخت تھا۔ سیبل اس کے ساتھ کندھا لگا کر
‫کھڑا ہوگیا۔ وہ شہزادی للی کے لیے ہرن یا خرگوش دیکھ رہا تھا۔ للی کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ للی نے کماند میں تیر
‫ڈاال اور سیبل کی پیٹھ کا نشانہ لیا۔ اسے کوئی دیکھتا تو یہ یہی کہتا کہ للی مذاق کررہی ہے۔ اس نے کمان کھینچی‪ ،اس
‫کے ہاتھوں میں کمان کانپ رہی تھی۔ ایک آنکھ بند کیے وہ سیبل کی پیٹھ کا نشانہ لیے ہوئے تھی۔
‫اس نے کمان اور زیادہ کھینچی اور تیر چال دیا۔ تیر سیبل کے کندھے کے بالکل قریب درخت کے تنے میں لگا۔ سیبل گھبرا
‫کر ہٹا اور مڑا۔ اس نے درخت میں اترے ہوئے تیر کو پھر للی کو دیکھا مگر للی ہنس نہیں رہی تھی۔ اس کے چہرے پر
‫ایسی سنجیدگی تھی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ پھر بھی اس نے ہنس کر کہا… ''آپ مجھ پر تیراندازی کی
‫مشق کررہی ہیں؟''… اور وہ للی کی طرف چل پڑا۔
‫للی نے ترکش سے اور تیر نکال کر کمان میں ڈال لیا اور بولی… ''وہیں رک جائو اور ادھرادھر نہ ہونا''۔
‫سیبل رک گیا اور للی نے کمان سامنے کرکے ایک بار پھر کھینچ۔ سیبل نے چال کر کہا… ''شہزادی آپ کیا کررہی ہیں''۔
‫شہزادی کی کمان سے تیر نکال‪ ،سیبل کی نظریں اسی پر تھیں۔ وہ بیٹھ گیا اور تیر زناٹے سے اس کے قریب سے گزر گیا۔
‫سیبل شہزادی کا احترام اور اپنی حیثیت کو بھول گیا۔ للی ترکش سے ایک اور تیر نکال رہی تھی۔ سیبل بڑی ہی تیزی سے
‫اس کی طرف دوڑا۔ للی اتنی جلدی تیر نکال کر کمان میں نہ ڈال سکی۔ سیبل اس پر لپکا تو للی دوڑ کر پرے ہوگئی لیکن
‫سیبل مرد تھا اور جوان بھی تھا۔ دوڑ کر للی تک پہنچا اور اسے پکڑ لیا۔ اس سے کمان چھین لی اور اس کے کندھوں سے
‫ترکش بھی اتارلی۔
‫میں ان غالموں میں سے نہیں ہوں جن پر ان کے آقا ہر طرح کا ظلم کرتے ہیں''۔ سیبل نے کہا اور ایک تیرکمان میں ''
‫''ڈال کر کمان للی پر تانی۔ بوال … ''کیا تم مجھ پر مشق کرنا چاہتی ہو؟ کیا میری خدمات اور فرمانبرداری کا یہ صلہ ہے؟
‫للی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے ہونٹ کانپے اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیبل نے کمان پرے پھینک دی اور
‫آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔
‫میں کچھ بھی نہیں سمجھ سکا کہ آپ نے مجھ پر تیر کیوں چالئے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں آگئے ہیں؟'' ''
‫سیبل نے پوچھا۔
‫تم میری کوئی مدد نہیں کرسکتے؟'' للی نے ایسے لہجے میں کہا جو کسی شہزادی کا نہیں ایک ڈری ہوئی لڑکی کا لہجہ''
‫تھا۔
‫''میں آپ کی خاطر جان تک د ے سکتا ہوں''۔ سیبل نے کہا۔ ''کیسی مدد؟''
‫انعام سے ماالمال کردوں گی''۔ للی نے کہا… ''مجھے انعام کے طور پر مانگو گے تو یہ بھی قبول کروں گی۔ مجھے ''
‫جھیل گیلیلی سے آگے مسلمانوں کے عالقے میں لے چلو… دمشق تک چلو۔ وہاں یہ بگھی اور دونوں گھوڑے تمہارے ہوں گے۔
‫انعام الگ دلوائوں گی''۔
‫مجھے شک ہے‪ ،آپ کے د ماغ پر کوئی اثر ہوگیا ہے''۔ سیبل نے کہا… ''چلئے‪ ،واپس چلیں''۔''
‫اگر میری بات نہیں مانو گے تو واپس جاکر شہزادہ ارناط سے کہوں گی کہ تم نے یہاں مجھ پر دست درازی کی تھی''۔ ''
‫للی نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔
‫اچھا ہوا‪ ،آپ نے بتا دیا''۔ سیبل نے کہا… ''اب آپ واپس نہیں جائیں گی‪ ،نہ میں واپس جارہا ہوں۔ آپ کے ہاتھ پائوں''
‫باندھ کر بگھی میں ڈال لوں گا اور کسی شہر میں جاکر آپ کو بردہ فروشوں کے ہاتھ بیچ ڈالوں گا… مجھے بتائو مسلمانوں
‫''کے پاس کیوں جانا چاہتی ہو؟
‫تب للی کو احساس ہوا کہ وہ ایک جال میں پھنس گئی ہے۔ وہ بیٹھ گئی اور سر گھٹنوں میں دے کر سسکنے لگی۔ سیبل
‫اسے دیکھتا رہا۔ یہ لڑکی اس کے لیے اجنبی نہیں تھی لیکن اب وہ اسے غور سے دیکھنے لگا۔ اس کے بال‪ ،اس کی رنگت
‫اور اس کی ڈیل ڈول صلیبی لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔ اسے معلوم تھا کہ صلیبیوں کے پاس مسلمانوں کی اغوا کی ہوئی لڑکیاں
‫بھی ہیں۔ یہ بھی شاید مغویہ ہوگی لیکن اسے تو وہ تین سالوں سے خوش وخرم دیکھ رہا تھا۔ وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔
‫اگر مسلمان ہو تو بتا دو''۔ سیبل نے کہا۔ ''تمہیں شاید اغوا کیا گیا تھا''۔''
‫اور تم شہزادہ ارناط کو بتا کر انعام لو گے''۔ للی نے کہا… ''اور اسے بتائو گے کہ میں نے بھاگنے کی کوشش کی ''
‫تھی''… اسے سیبل کے گلے میں ایک ڈوری لٹکتی نظر آئی۔ اس نے یہ ڈوری کھینچی تو چھوٹی سی صلیب ڈوری سے
‫باندھی ہوئی باہر آگئی۔ للی نے کہا… ''اسے ہاتھ میں لے کرقسم کھائو کہ مجھے دھوکہ نہیں دو گے‪ ،ارناط کو نہیں بتائو گے
‫کہ میں نے تم پر تیر کیوں چالئے تھے''۔
‫سیبل اس کی اصلیت سمجھ گیا اور بوال۔ ''صلیب پر کھائی ہوئی قسم جھوٹی ہوگی''۔ اس نے صلیب کی ڈوری گلے سے
‫اتاری اور صلیب پرے پھینک دی۔ کہنے لگا… ''مسلمان صلیب پر قسم نہیں کھایا کرتے''۔
‫للی نے چونک کر سیبل کو دیکھا جیسے اسے سیبل کے ا لفاظ پر یقین نہ آرہا ہو۔ اس نے صلیب کو دیکھا جو پرے زمین
‫پر پڑی تھی۔ کوئی صلیبی کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو‪ ،صلیب کی توہین نہیں کرتا۔ سیبل کو بہرحال یقین آگیا تھا کہ للی
‫کسی مسلمان کی بیٹی ہے۔
‫میں نے تم پر اپنا راز فاش کردیا ہے''۔ سیبل نے کہا… ''اب تم مجھے بتا دو کہ تمہیں کب اور کہاں سے اغوا کیا گیا''
‫تھا''۔
‫میں حج کعبہ سے اپنے والدین کے ساتھ مصر کو واپس جارہی تھی''۔ للی نے ڈرے ہوئے بچے کی طرح کہا… ''بہت بڑا''
‫قافلہ تھا۔ اس وقت میری عمر سولہ سترہ سال تھی۔ چار ساڑھے چار سال گزر گئے ہیں‪ ،کرک کے قریب ان کافروں نے
‫قافلے پر حملہ کیا اور مال واسباب لوٹ لیا۔ انہوں نے بہت کشت وخون کیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ میرے والدین مارے

‫گئے تھے یا زندہ ہیں۔ یہ کافر مجھے اپنے ساتھ لے آئے۔ یہ شاید میری بدقسمتی تھی کہ میں اتنی خوبصورت تھی کہ والئی
‫کرک شہزادہ ارناط نے مجھے پسند کرلیا اور اپنے لیے رکھ لیا۔ اگر میں اتنی خوبصورت نہ ہوتی تو معلوم نہیں کیسے کیسے
‫…''درندوں کے ہاتھوں اب تک مرچکی ہوتی
‫شہزادہ ارناط کے آگے میں بہت روئی مگر بے کار تھا۔ اس نے کہا کہ میں اپنی بادشاہی چھوڑ دوں گا‪ ،تمہیں نہیں چھوڑوں''
‫گا۔ پھر اس نے مجھے شہزادیوں کی طرح رکھا۔ اس نے میرے ساتھ شادی نہیں کی اور مجھے اپنا مذہب قبول کرنے کو بھی
‫نہیں کہا۔ میں اس کی عیاشی کا ذریعہ بنی رہی۔ اس کے پاس کئی اور جوان لڑکیاں تھیں۔ وہ میری دشمن بن گئیں لیکن
‫ارناط صرف مجھے ساتھ رکھتا اور میری بات مانتا تھا۔ میں نے اپنی اس حالت کو قبول کرلیا۔ میں اور کر بھی کیا سکتی
‫تھی۔ عورت کی قسمت یہی ہوتی ہے کہ جس کے قبضے میں آجائے‪ ،اس کی ملکیت اور اسی کی غالم ہوتی ہے''۔
‫وہ بولتے بولتے چپ ہوگئی۔ سیبل کو غور سے دیکھ کر بولی… ''کیا تم یہ ساری باتیں شہزادہ ارناط کو سنا دو گے؟ پھر وہ
‫مجھے کیا سزا دے گا؟''۔
‫اگر وہ واقعی سیبل ہوتا تو یہی کرتا جو تمہیں ڈر ہے''۔ بگھی بان نے کہا… ''میں شامی مسلمان ہوں۔ میرا نام بکر بن''
‫محمد ہے''۔
‫تم ان جاسوسوں میں سے تو نہیں جن کے متعلق ارناط کہا کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں چھپے ہوئے ہیں؟'' لڑکی نے'' ‪:
‫پوچھا اور بولی… ''میرا نام کلثوم ہوا کرتا تھا''۔
‫میں جو کچھ بھی ہوں''۔ بکر نے جواب دیا۔ ''مسلمان ہوں‪ ،میں تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ''
‫ایک اغوا کی ہوئی مسلمان لڑکی کی مالقات کسی ایسے مسلمان سے ہوگئی جو صلیبیوں کے پاس عیسائیوں کے بہروپ میں
‫مالزم تھا۔ ایسے واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ یہاں تک بھی ہوا ہے کہ بھائی جاسوس بن کر صلیبیوں کے کسی شہر میں
‫گیا تو وہاں اس کی مالقات اپنی بہن سے ہوگئی جو بہت عرصہ پہلے تمہاری طرح اغوا ہوئی تھی۔ حیران نہ ہو کلثوم! تم
‫حج کعبہ سے واپس آرہی تھی۔ خدا نے تمہارا حج قبول کرلیا ہے۔ میں عالم فاضل نہیں کہ تمہیں بتائوں کہ خدا نے تمہیں
‫یہ سزا کیوں دی ہے۔ البتہ اب یوں نظر آتا ہے جیسے خدا نے تم سے کوئی نیکی کا کام کرانے کے لیے اس جہنم میں
‫''پھینکا تھا… تم صرف فرار ہونا چاہتی ہو یا فرار کا کوئی مقصد بھی ہے؟
‫بہت بڑا مقصد''۔ کلثوم نے کہا… ''تم شاید نہیں جانتے کہ عکرہ کے پادری نے ان صلیبیوں کو یہاں کیوں بالیا ہے۔ رات''
‫ارناط جب اپنے خیمے میں آیا تو وہ نشے میں جھوم رہا تھا۔ اس نے مجھے بازوئوں پر اٹھا لیا اور بوال… ''بہت بڑے ملک
‫کی ملکہ بننے والی ہو‪ ،صالح الدین ایوبی چند دنوں کا مہمان ہے۔ وہ ہمارے جال میں آرہا ہے۔ بہت جلدی آرہا ہے''… میں
‫نے خوشی کا اظہار کیا اور اس سے پوچھا کہ ان کا منصوبہ کیا ہے۔ اس نے مجھے پوری تفصیل سے بتا دیا کہ یہاں جتنے
‫صلیبی حکمران آئے ہیں‪ ،انہوں نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر اتحاد اور ایک دوسرے سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے''۔
‫میرے فرار کا مقصد یہی ہے کہ سلطان ایوبی تک یہ خبر پہنچائوں کہ صلیبیوں کے ارادے اور منصوبے کیا ہیں اور انہوں نے''
‫کتنی فوج جمع کرلی ہے اور اسے کہاں کہاں تقسیم کرکے پھیالیا ہے۔ ارناط نے مجھے بتایا ہے کہ یہ لوگ حملہ کرنے نہیں
‫جائیں گے بلکہ سلطان ایوبی کو حملے کاموقعہ دیں گے تاکہ وہ اپنے مستقر سے دور آجائے اور اس کی رسد کے راستے لمبے
‫ہوجائیں۔ ان کا ارادہ یہ بھی ہے کہ اگر سلطان ایوبی نے کچھ عرصے تک حملہ نہ کیا تو یہ لوگ تین اطراف سے پیش
‫قدمی اور یلغار کریں گے''۔
‫تمہیں اچانک یہ خیال کیوں آیا ہے کہ خبر سلطان ایوبی تک پہنچنی چاہیے؟'' بکر بن محمد نے پوچھا اور اسے بتایا… ''
‫''کلثوم! میں اسی میدان کا مجاہد ہوں‪ ،اگر میں تمہیں کہوں کہ تم ارناط کے کہنے پر سلطان ایوبی کو غلط خبر دینے
‫''جارہی ہو تاکہ وہ گمراہ ہوجائے تو اس کا کیا جواب دو گی؟
‫یہ کہ تم کم عقل آدمی ہو''… کلثوم نے جواب دیا… ''اگر تم سلطان ایوبی کے جاسوس ہو تو تم بے وقوف جاسوس ہو۔''
‫تم اپنی فوجوں کو صلیبیوں کے ہاتھوں مروائو گے۔ اگر ارناط سلطان ایوبی کو گمراہ کرنے کی سوچتا تو وہ کوئی اور ذریعہ
‫اختیار کرسکتا تھا؟ اگر وہ یہ کام مجھ سے ہی کرانا چاہتا تو مجھے رات کو بگھی پر بٹھا کر مسلمانوں کے عالقوں کے
‫قریب نہ چھوڑ آتا… سنو بکر! غور سے سنو۔ میں نے تم پر پہال جو تیر چالیا تھا‪ ،اس کا ارادہ اچانک بجلی کی طرح میرے
‫دماغ میں آیا تھا۔ میں تو صرف سیر کے لیے نکلی تھی۔ یہ تم تھے جس نے کہا تھا کہ تیروکمان ساتھ لے چلیں‪ ،یہاں شکار
‫…''ہوگا
‫یہاں آکر میں نے تم سے مسلمانوں کی سرحد اور دمشق کے جو راستے پوچھے‪ ،وہ یہ معلوم کرنے کے لیے پوچھے تھے کہ''
‫اس سرحد سے کتنی دور ہوں اور کیا میں آسانی سے وہاں تک پہنچ سکتی ہوں؟ تم نے جب بتایا کہ وہ عالقہ چند میل دور
‫ہے تو میں سوچنے لگی کہ تمہیں کوئی اللچ دے کر ساتھ لے چلوں لیکن تمہیں میں عیسائی سمجھتی رہی اور بالکل امید
‫نہیں رکھتی تھی کہ تم میری مدد کروں گے بلکہ امید یہ تھی کہ تم ارناط سے انعام لینے کے لیے اسے بتا دو گے کہ یہ
‫لڑکی مسلمانوں کی جاسوس ہے۔ میرے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔ تم مجھ سے تھوڑی دور درخت کے ساتھ لگ کر کھڑے
‫ہوگئے تو میں نے درخت پر ایک پرندے پر تیر چالنے کے لیے تیر کمان میں ڈاال۔ اس وقت میری نظریں تمہاری پیٹھ پر جم
‫…''گئیں
‫تب مجھے اچانک خیال آیا کہ تم اتنے قریب ہو کہ تیر تمہاری پیٹھ میں گہرا اتر جائے گا اور مجھے دوسرا تیر چالنے ''
‫کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تم مرجائو گے تو میں بگھی بھگا کر اس راستے پر ہولوں گی جو تم نے مجھے سمجھا دیا تھا۔
‫میں نے کوئی اور خطرہ سوچا ہی نہیں تھا۔ شاید مجھ میں عقل کم اور جذبات زیادہ تھے اور ان جذبات میں انتقام کا جذبہ
‫زیادہ تھا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے تیر چال دیا۔ مجھ میں یہ اتنی سی بھی عقل نہ رہی کہ تمہیں کہہ دیتی کہ تیر غلطی
‫سے نکل گیا ہے۔ تم فورا ً مان لیتے کیونکہ تم جانتے ہو کہ میں نے کبھی کمان ہاتھ میں نہیں لی تھی۔ میں نے یہی راہ
‫نجات دیکھی کہ تمہیں مار ہی ڈالوں اور مسلمانوں کے عالقے کی طرف بھاگ جائوں مگر میں کامیاب نہ ہوسکی''۔
‫اس سے پہلے تمہیں کبھی بھاگنے کا خیال نہیں آیا؟'' بکر بن محمد نے پوچھا۔''
21:04
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 147ایوبی نے قسم کھائی تھی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫بکر بن محمد نے پوچھا۔''ابتدا میں بھاگنے کا ہی خیال میرے دماغ پر سوار رہا مگر مجھے حقیقت کو قبول کرنا پڑا کہ ''

‫میں بھاگ نہیں سکتی''۔ اس نے جواب دیا… ''اس میں کوئی شک نہیں کہ ارناط نے مجھے صحیح معنوں میں شہزادی بنا
‫دیا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ مجھے کسی لڑکی سے کبھی ایسی محبت نہیں ہوئی تھی‪ ،جیسی تم سے ہوئی ہے۔ میں اس کے
‫ساتھ شراب بھی پیتی رہی۔ اس سے میں بچ نہیں سکتی تھی۔ جسمانی طور پر میں اس زندگی میں تحلیل ہوچکی تھی۔
‫ایسی شاہانہ زندگی تو کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن تنہائی میں میرا دل مسلمان ہوجاتا تھا اور یہ خیال
‫مجھے تڑپا دیتا تھا کہ میں حج کعبہ سے آئی ہوں۔ کبھی کبھی میں خدا سے گلے شکوے بھی کیا کرتی تھی اور اکثر یوں
‫…''ہوتا کہ میں خدا کو بھول جاتی تھی
‫اسی دوران سلطان ایوبی نے کرک کا محاصرہ کیا اور آتشیں گولے پھینک کر شہر کا بہت سا حصہ تباہ کردیا تھا۔ میں تیار''
‫ہوگئی تھی کہ اپنی فوج شہر میں داخل ہوجائے گی اور میں ارناط کو اپنے ہاتھوں قتل کردوں گی مگر ہوا یوں کہ ایک ماہ
‫بعد سلطان ایوبی نے محاصرہ اٹھا لیا اور واپس چال گیا۔ ارناط قہقہے لگاتا میرے پاس آیا اور بوال… ''میں نے اسے پھر بے
‫وقوف بنا لیا ہے۔ میں نے اس کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے کہ آئندہ حاجیوں کے قافلوں پر ہاتھ نہیں اٹھائوں گا اور میں نے اس
‫…''کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا بھی معاہدہ کرلیا ہے
‫میرے دل کو بہت صدمہ ہوا۔ سلطان ایوبی کو واپس نہیں جانا چاہیے تھا۔ مجھے رہا کرائے بغیر اسے محاصرہ نہیں ا ٹھانا''
‫چاہیے تھا''۔
‫سلطان ایوبی کے سامنے اس سے زیادہ بڑی مہم ہے''۔ بکر نے کہا… ''اسے بلکہ ہمیں بیت المقدس آزاد کرانا ہے جہاں ''
‫ہمارا قبلٔہ اول ہے۔ ہمیں ارض فلسطین کو آزاد کرانا ہے جو ہمارے نبیوں اور پیغمبروں کی سرزمین ہے اگر سلطان ایوبی ایک
‫ایک مسلمان لڑکی کو آزاد کرانے نکل کھڑا ہو تو وہ اپنی منزل مقدس سے د ور بھٹکتا اور لڑتا ختم ہوجائے گا… قومیں اتنے
‫مقدس مقصد کی خاطر اپنے بچوں کو قربان کردیا کرتی ہیں''۔
‫ارناط کی ایک بری عادت نے مجھے یہ فراموش نہ کرنے دیا کہ میں مسلمان ہوں''۔ کلثوم نے کہا… ''وہ رسول خدا ''
‫صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا رہتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ سلطان ایوبی اپنے قبلٔہ اول تک پہنچنے
‫کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا ہے اور ہم اس کے خانہ کعبہ کو مسمار کرنے اور اپنی عبادت گاہ بنانے کے لیے جارہے ہیں''۔
‫صلیبیوں کے ان عزائم کا تذکرہ یورپی مؤرخوں نے بھی کیا ہے کہ صلیبیوں نے خانہ کعبہ اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ
‫وسلم کا روضٔہ مبارک مسمار کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا تھا اور ایک بار وہ مدینہ منورہ سے تین میل دور تک پہنچ بھی گئے
‫تھے۔ کرک کا جو محاصرہ سلطان ایوبی نے کیا اور ایک ماہ بعد اٹھا لیا تھا‪ ،یہ بھی ایک تاریخی واقعہ ہے۔ محاصرہ اٹھانے
‫کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ارناط نے جنگ نہ کرنے اور آئندہ حاجیوں کے قافلوں پر حملے نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا تھا۔ وہ تو
‫سلطان ایوبی کو معلوم تھا کہ صلیبی معاہدے توڑنے کے لیے کیا کرتے ہیں۔ محاصرہ اٹھانے کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ بیت
‫المقدس کی فتح کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ ارناط نے اس معاہدے کے دو ہی سال بعد حاجیوں کے ایک اور قافلے پر حملہ
‫کیا تھا۔ اس معاہدے کی میعاد ‪١١٨٨ء تک تھی۔ سلطان ایوبی نے ‪١١٨٧ء میں حطین کی طرف پیش قدمی کی تھی اور اس
‫عہد کے ساتھ وہ دمشق سے نکال تھا کہ ارناط کو اپنے ہاتھوں قتل کرے گا۔
‫کلثوم بکر کو بتا رہی تھی… ''ارناط کے ساتھ میں خوش بھی رہی اور میرے دل میں انتقام بھی موجود رہا۔ وہ کبھی کبھی
‫مجھے بتایا کرتا تھا کہ سلطان ایوبی کے جاسوس بھیس بدل کر آجاتے ہیں اور یہاں کے راز لے جاتے ہیں۔ اس نے یہ بھی
‫بتایا تھا کہ بڑی ہی حسین صلیبی اور یہودی لڑکیاں مسلمانوں کے عالقوں میں مسلمانوں کی طرح کے ناموں سے اونچے رتبوں
‫اور عہدوں والے حاکموں کو جال میں پھانس لیتی اور انہیں صلیب کے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ارناط مجھے ان
‫لڑکیوں کی کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ یہ سن کر مجھے کئی بار خیال آیا کہ یہ لڑکیاں اپنے مذہب کے لیے اپنی آبرو قربان
‫کردیتی ہیں۔ عصمت ہی وہ موتی ہے جس کے تحفظ کے لیے عورت جان پر کھیل جاتی ہے لیکن یہ لڑکیاں اتنی بڑی
‫…''قربانیاں دے ڈالتی ہیں
‫میری آبرو تو لٹ ہی چکی تھی۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ اپنے مذہب کے لیے قربانی دوں گی مگر مجھے موقعہ نہیں '' ‪:
‫ملتا تھا۔ اب یہاں آکر ارناط نے مجھے ایسے راز دے دیا ہے جو سلطان ایوبی تک پہنچنا چاہیے۔ شاید خدا نے مجھے اسی
‫نیکی کے لیے اس جہنم میں بھیجا تھا! کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ اس خبر سے سلطان ایوبی کو کوئی فائدہ پہنچے
‫''گا؟
‫بہت زیادہ''۔ بکر بن محمد نے کہا… ''لیکن یہ خبر تم لے کر نہیں جائو گی۔ اگر تم یا ہم دونوں یہاں سے غائب ''
‫ہوگئے تو شہزادہ ارناط فورا ً سمجھ لے گا کہ ہم دونوں جاسوس تھے۔ اس طرح یہ اپنے منصوبوں میں رد وبدل کردیں گے اور
‫ہم سلطان ایوبی تک جو خبر پہنچائیں گے‪ ،وہ ا س کی شکست کا باعث بن سکتی ہے''۔
‫اس کا مطلب یہ ہوا کہ اتنی اہم خبر سلطان ایوبی تک نہیں پہنچ سکتی''۔ کلثوم نے کہا۔''
‫پہنچ سکتی ہے اور پہنچائی بھی جائے گی''۔ بکر نے کہا… ''لیکن کرک واپس جاکر یہ انتظام ہوگا''۔''
‫تم جائو گے؟'' کلثوم نے پوچھا… ''میں یہاں سے بھاگنا بھی چاہتی ہوں''۔''
‫میں نہیں جائوں گا''۔ بکر نے کہا… ''تم بھی نہیں جائو گی۔ کرک میں میرے ساتھی موجود ہیں۔ خبریں لے جانے کا ''
‫کام ان کی ذمہ داری ہے۔ میرا کام خبریں حاصل کرنا ہے۔ اب یہ کام تم کروں گی۔ تمہارا کام ختم نہیں ہوا‪ ،ابھی شروع ہوا
‫ہے۔ میں تمہیں بتائوں گا کہ سلطان کو کس قسم کی معلومات کی ضرورت ہے۔ یہ معلومات تم مجھے دو گی اور میں انہیں
‫دمشق تک پہنچائوں گا''۔
‫تو مجھے اس جہنم میں ہی رہنا پڑے گا؟'' کلثوم نے اداس سی ہو کے پوچھا۔''
‫ہاں''۔ بکر نے جواب دیا۔ ''تمہیں اس جہنم میں اور مجھے موت کے منہ میں موجود رہنا پڑے گا… کلثوم! تمہیں یہ ''
‫قربانی دینی پڑے گی۔ سلطان کہا کرتے ہیں کہ ایک جاسوس یا ایک چھاپہ مار اپنی پوری فوج کی فتح یا شکست کا باعث
‫بن سکتا ہے لیکن جاسوس ہر لمحہ موت کے منہ میں کھڑا رہتا ہے۔ جاسوس جب دشمن کے ہاتھ چڑھ جاتا ہے تو فورا ً قتل
‫نہیں کردیا جاتا۔ اسے اذیتیں دی جاتی ہیں‪ ،اس کی کھال آہستہ آہستہ اتاری جاتی ہے۔ اسے مرنے نہیں دیا جاتا‪ ،اسے جینے
‫بھی نہیں دیا جاتا لیکن اپنے مذہب اور اپنے وطن کے لیے کسی نہ کسی کو اپنی زندہ کھال اتروانی ہی پڑتی ہے۔ قوموں کا
‫نام ونشان اس وقت مٹنا شروع ہوتا ہے جب ان میں قربانی کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے… تم نے جہاں چار سال گزار دئیے ہیں‪،
‫وہاں چار مہینے اور گزار دو۔ تم اب ارناط کو اپنا آقا نہ سمجھو۔ اس کے ساتھ پہلے سے زیادہ محبت کا اظہار کرو لیکن دل
‫میں یہ سمجھو کہ تم نے ایک ایسے زہریلے ناگ پر قبضہ کررکھا ہے جو تمہارے ہاتھ سے آزاد ہوگیا تو عالم اسالم کو ڈس
‫لے گا''۔

‫مجھے بتائو''۔ کلثوم نے بے تاب ہوکر کہا… ''خدا کے لیے مجھے بتاتے رہو کہ میں اپنے خدا کے حضور کس طرح ''
‫سرخرو ہوسکتی ہوں''۔
‫بکر نے اسے بتانا شروع کردیا۔ اسے مکمل ہدایات دیں اور کہا… ''سب کے سامنے یہ ظاہر نہ ہونے دینا کہ میرا اور تمہارا
‫کوئی اور تعلق بھی ہے۔ یہاں ہمارے جاسوسوں کا سراغ لگانے والے صلیبی جاسوس بھیس بدل کر گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ یہ
‫بھی یاد رکھو کہ صرف ہم دونوں جاسوس نہیں‪ ،ہمارے اور بھی بہت سے ساتھی ہیں۔ وہ ہر اس شہر میں موجود ہیں جہاں
‫صلیبی حکمران اور جرنیل موجود ہیں۔ ان میں ایک سے ایک بہادر اور عقلمند ہے۔ دل میں خوش فہمی نہ رکھنا کہ ہم دونوں
‫کوئی بہت بڑا کارنامہ کررہے ہیں۔ خدا پر احسان نہ کرنا‪ ،یہ ہمارا فرض ہے جو ہمیں ادا کرنا ہے‪ ،خواہ ہمیں کیسی ہی اذیت
‫میں کیوں نہ ڈال دیا جائے''۔
‫کلثوم جب خیمہ گاہ میں اپنے خیمے کے سامنے بگھی سے ا ُ تری‪ ،اس وقت وہ شہزادی للی تھی اور بکر بن محمد سیبل
‫تھا۔ کلثوم جب بگھی سے اتر رہی تھی اس وقت سیبل بگھی کے پاس کھڑا غالموں کی طرح جھکا ہوا تھا۔ خیمے میں گئی
‫تو ارناط ایک نقشے پر جھکا ہوا تھا۔ کلثوم نے اسے کہا کہ وہ سیر کے لیے نکل گئی تھی اور شکار بھی کھیال تھا۔
‫کیا مارا؟'' ارناط نے نقشے سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا۔''
‫کچھ بھی نہیں''۔ کلثوم نے جواب دیا… ''سب تیر خطا ہوگئے لیکن جلدی ہی شکار مارنے کے قابل ہوجائوں گی''۔ یہ''
‫''کہہ کر وہ بھی نقشے پر جھک گئی۔ اس نے پوچھا… ''پیش قدمی کا نقشہ ہے یا دفاع کا؟
‫پیش قدمی صالح الدین ایوبی کرے گا''۔ ارناط نے بے خیال کے عالم میں کہا… ''اور دفاع بھی اسی کو کرنا پڑے گا ''
‫کیونکہ ہم اسے جال میں ال رہے ہیں۔ اس کا دم خم ختم کرکے ہم پیش قدمی کریں گے۔ ہمیں روکنے واال کوئی نہ ہوگا۔ تم
‫اپنے خیمے میں جائو للی! مجھے بہت کچھ سوچنا ہے۔ آج رات ہماری جو کانفرنس ہوگی‪ ،اس میں جنگ کا منصوبہ اور نقشہ
‫بنایا جائے گا۔ مجھے جو مشورے دینے ہیں‪ ،ان میں کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس کا نام کلثوم ہے اور بکر بن محمد اس کے ساتھ ہے‪ ،وہ ارناط کا بگھی بان ہے''۔ سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس '' ‪:
‫کا نائب سربراہ حسن بن عبداللہ اسے کرک کے جاسوسوں کی بھیجی ہوئی پوری خبر سنا چکا تھا۔
‫سلطان کی آنکھیں الل ہوگئیں۔ اس نے کہا… ''کون بتا سکتا ہے کہ ہماری کتنی بیٹیاں ان کفار کے قبضے میں ہیں اور ان
‫کی عیاشی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ میں ارناط کو نہیں بخشوں گا۔ خیال رکھنا حسن! اس لڑکی کو وہاں سے نکالنا ہے لیکن
‫ابھی نہیں''۔
‫کرک میں ہمارے جو آدمی ہیں‪ ،وہ اسے موزوں وقت پر نکال الئیں گے''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔''
‫عکرہ کا پادری اور یہ صلیبی اتحادی ناصرہ میں تین روز رہے اور انہوں نے پالن اور نقشہ تیار کرلیا تھا۔ کلثوم نے ارناط سے
‫سب کچھ معلوم کرلیا تھا اور بکر کو بتا دیا۔ صلیبیوں کو بھی سلطان ایوبی کے کئی راز معلوم ہوگئے تھے۔ ان کے جاسوس
‫موصل‪ ،حلب‪ ،دمشق‪ ،قاہرہ اور ہر جگہ موجود تھے۔ انہوں نے صلیبیوں کو صحیح اطالعات بھیجی تھیں۔ صلیبیوں کو یہ بھی
‫پتہ چل گیا تھا کہ مصر سے بھی فوج آرہی ہے۔ صلیبیوں کو یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ سلطان ایوبی بہت جلدی پیش قدمی
‫لہ ذا انہوں نے دفاع میں لڑنے‪ ،پھر سلطان ایوبی کو گھیرے میں لینے کا پالن تیار کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے
‫کرنے واال ہے‪ٰ ،
‫انہوں نے مختلف جگہوں پر فوج خیمہ زن کردی تھی۔ انہیں ابھی یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ سلطان ایوبی کدھر سے آئے گا
‫اور میدان جنگ کون سا ہوگا۔ اپنے اندازے کے مطابق انہوں نے سلطان ایوبی کی فوج کی نفری‪ ،پیادہ اور سوار کا حساب لگا
‫لیا تھا۔
‫حسن بن عبداللہ نے کرک سے آئے ہوئے اپنے آدمی سے تفصیلی رپورٹ لی۔ اس جاسوس نے کلثوم اور بکر کے متعلق بھی
‫بتایا۔ حسن بن عبداللہ نے یہ رپورٹ سلطان ایوبی کو دی۔
‫یہ اطالع ان تمام اطالعات کی تصدیق کرتی ہے جو ہمیں دوسری جگہوں کے جاسوسوں نے بھیجی ہیں''… سلطان ایوبی ''
‫نے کہا… ''یہ تو ہمیں پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے کہ صلیبی میرا انتظار کررہے ہیں۔ اب کرک کی اطالع نے اس کی تصدیق
‫کردی ہے۔ اس میں نئی بات یہ ہے کہ چند ایک صلیبیوں نے اتحاد کرلیا ہے اور مجھے ان کی متحدہ فوج سے لڑنا ہوگا۔
‫اس کے عالوہ یہ اطالع نئی ہے کہ جنگی طاقت کتنی ہے۔ ان کے ساتھ دو ہزار دو سو نائٹ ہوں گے۔ یہ بالشبہ بہت بڑی
‫طاقت ہے۔ نائٹ سر سے پائوں تک زرہ بکتر میں ملبوس اور محفوظ ہوتا ہے۔ نائٹوں کے گھوڑے عام جنگی گھوڑوں کی نسبت
‫زیادہ طاقتور اور پھرتیلے ہوتے ہیں۔ میں انہیں گرمیوں کے عروج میں لڑائوں گا''۔
‫اور ان زرہ پوش نائٹوں کے ساتھ آٹھ ہزار سوار ہوں گے''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا… ''پیادہ فوج کی تعداد تیس ہزار ''
‫سے زیادہ بتائی گئی ہے''۔
‫میرے لیے یہ خبر نئی ہے کہ شاہ آرمینیا کی فوج بھی صلیبیوں کے پاس آرہی ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''یہ ''
‫صلیبیوں کی تیس بتیس ہزار فوج کے عالوہ ہوگی۔ یہ مال کر دشمن کی نفری چالیس ہزار ہوجائے گی۔ کرک کی اطالع اور
‫دوسری جگہوں سے آنے والی اطالعات سے یہ یقین ہوگیا ہے کہ صلیبی دفاعی جنگ لڑیں گے اور مجھے گھیرے میں لے لیں
‫گے۔ اس کے مطابق میرا یہ فیصلہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ میں حطین کے مضافات میں لڑوں گا۔ اس عالقے سے میں اچھی
‫طرح واقف ہوں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫میرے رفیقو! اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس فرض کی ادائیگی کے لیے نکل کھڑے ہوں‪ ،جو خدائے ذوالجالل نے ہمیں '' ‪:
‫سونپا ہے''… سلطان صالح الدین ایوبی نے دمشق میں اپنے بڑے کمرے میں ساالروں اور نائب ساالروں سے خطاب کرتے ہوئے
‫کہا… ''ہم اقتدار کے لیے آپس میں لڑنے اور مرنے کے لیے پیدا نہیں کیے گئے تھے۔ ہم نے آپس میں بہت کشت وخون کرلیا
‫ہے۔ اس دوران دشمن نے ارض فلسطین میں اپنے پنجے گہرے اتار لیے ہیں۔ قوم نے ہمارے ہاتھ میں تلوار دی ہے اور اس
‫اعتماد کے ساتھ دی ہے کہ ہم دشمنان دین کا خاتمہ کریں گے اور عرب کی مقدس سرزمین کو کفار کے ناپاک وجودسے پاک
‫…''کریں گے
‫آپ کئی برسوں سے مسلسل لڑ رہے ہیں لیکن اصل جنگ اب شروع ہورہی ہے۔ اپنے ذہنوں میں اس جنگ کے مقصد کو ''
‫تازہ کرلو۔ یہ فیصلہ کرلو کہ ہمیں ایک آزاد اور باوقار قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے اور ہمیں اپنے خدا کے عظیم مذہب
‫کو کفر کے گھنائونے سائے سے آزاد رکھنا ہے۔ ہمیں سلطنت اسالمیہ کو وہاں تک لے جانا ہے جہاں تک محمد بن قاسم لے
‫گیا تھا اور جہاں تک طارق بن زیاد لے گیا تھا۔ ان کے بعد آنے والوں کا فرض یہ تھا کہ اللہ کا پیغام وہاں سے بھی آگے

‫لے جاتے‪ ،جہاں تک قوم کے یہ بیٹے لے گئے تھے مگر اللہ کی سلطنت ایسی سکڑی کہ ہمارے دین کے دشمن ہمارے گھر
‫میں آن بیٹھے ہیں اور وہ خانہ کعبہ اور روضٔہ مبارک کو مسمار کرنے کے منصوبے بنائے ہوئے ہیں۔ کیوں؟… یہ کیوں کر ممکن
‫ہوا؟… جہاں بادشاہی کا جنون دماغوں پر قابض ہوتا ہے‪ ،وہاں سرحدیں سکڑتی ہیں اور تخت وتاج کی خاطر امراء اپنے مذہب
‫…''اور اپنی غیرت کو بھی ترک کردیا کرتے ہیں
‫ہمارے زوال کا باعث تخت وتاج کا نشہ اور زروجواہرات کی محبت ہے۔ کہاں وہ وقت کہ ہم دنیا پر چھاگئے تھے اور کہاں''
‫ہمارا وقت کہ دنیا ہم پر چھا گئی ہے اور ہم آخرت کو فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ ہم میں دوست اور دشمن کی پہچان نہیں
‫رہی۔ عسکری جذبے پر فانی دنیا کی جھوٹی لذتوں کا جادو چل گیا ہے۔ یاد رکھو میرے رفیقو! میں آپ کو کئی بار کہہ چکا
‫ہوں کہ قوم کی قسمت تلوار کی نوک سے لکھی جاتی ہے اور یہ تحریر ان مجاہدوں کی ہوتی ہے جن کے ہاتھ میں تلوار
‫ہوتی ہے۔ جب ساالر تخت پر بیٹھ کر سر پر تاج رکھ لیتے ہیں تو ان کے ہاتھوں میں طاقت نہیں رہتی کہ تلوار نیام سے
‫باہر کھینچ سکیں۔ ان کے دلوں میں اپنے عقیدے اور اپنی قوم کے وقار کے تحفظ کا جذبہ نہیں رہتا پھر مذہب کا استعمال
‫یہی رہ جاتا ہے کہ اپنی رعایا کہ مذہب کے نام پر دھوکے دو اور دشمن کے ساتھ در پردہ دوستی کرلو تاکہ آرام سے اللہ کے
‫…''نیک اور سادہ لوح بندوں پر حکومت کرسکو
‫ہم آج اسالم کی عظمت کی خاطر صرف اس لیے گھروں کو خیرباد کہنے اور دشمن پر ٹوٹ پڑنے کے قابل ہوئے ہیں کہ ''
‫ہم نے اقتدار کے پجاریوں کو ختم کردیا ہے۔ ہم نے آستین کے سانپوں کا سرکچل ڈاال ہے۔ اگر ہم ہار گئے تو اس کی وجہ
‫اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ ہماری نیت میں فتور تھا''۔
‫سلطان ایوبی ایسی جذباتی اور لمبی تقریر کرنے کا عادی نہیں تھا لیکن جس مہم کے لیے وہ نکل رہا تھا‪ ،اس کے لیے سب
‫کو ذہنی اور روحانی طور پر تیار کرنا ضروری تھا۔ یہ اس کے وفادار اور قابل اعتماد ساالر اور نائب ساالر تھے۔ ان میں مظفر
‫الدین جیسا قابل اور دلیر ساالر بھی تھا جو کسی وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ کر اس کے مخالف کیمپ میں چال گیا اور اس
‫کے خالف لڑا بھی تھا۔ اس کے ساتھ تقی الدین اور افضل الدین‪ ،فرخ شاہ اور ملک العادل جیسے ساالر بھی تھے جو اس کے
‫اپنے خاندان اور اپنے خون کے رشتے کے تھے۔ ساالر ککبوری اس کا دست راست تھا۔‪ ،ان میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو
‫فنی‪ ،تکنیکی اور جذباتی لحاظ سے کمتر ہوتا لیکن سلطان ایوبی پہلی بار ارض فلسطین میں حملے کے لیے جارہا تھا اور اس
‫کی منزل بیت المقدس تھی۔
21:04
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 148ایوبی نے قسم کھائی تھی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫منزل بیت المقدس تھی۔ یہ مہم آسان نہیں تھی‪ ،صلیبیوں کی جنگ قوت زیادہ بھی تھی اور برتر بھی۔ صلیبیوں کو یہ فائدہ
‫حاصل تھا کہ انہیں دفاع میں اپنی زمین پر لڑنا تھا‪ ،جہاں انہیں رسد کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور وہ اپنے مستقر کے
‫قریب تھے۔ سلطان ایوبی اپنے مستقر سے دور جارہا تھا جہاں تک رسد کے راستے مخدوش تھے۔ جنگی فنون کے مطابق زیادہ
‫دشواریاں حملہ آور کوہ پیش آتی ہیں اور حملہ آور کی نفری دشمن سے اگر سہ گنا نہیں تو دوگنی ضرور ہونی چاہیے مگر
‫سلطان ایوبی کی نفری کم تھی۔ اسے یہی یقین تھا کہ یہ جنگ بہت طول پکڑے گی اور گھروں کو واپس آنا ممکن نہیں ہوگا۔
‫اس لیے اس نے یہ ضروری سمجھا کہ اپنے ساالروں کو بتا دے کہ وہ طارق بن زیاد کی اس کارروائی کو ذہن میں رکھیں جس
‫میں اس نے بحیرٔہ روم پار کرکے کشتیاں جال ڈالی تھیں کہ واپسی کا خیال ہی ذہن سے نکل جائے۔
‫قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں بعنوان '' سلطان (صالح الدین ایوبی) پر کیا افتا پڑی'' میں لکھا ہے… ''سلطان کا
‫عقیدہ یہ تھا کہ خدا نے کفار کے خالف لڑنے کا جو حکم دیا ہے‪ ،یہ اس کا فرض اولین ہے جسے دنیا کے ہر کام اور ہر
‫فرض پر فوقیت حاصل ہے۔ کفار سے لڑنا اور اللہ کی حکمرانی قائم کرنا‪ ،اس کا ایسا فرض ہے جو خدا کے حکم سے اسے
‫سونپا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ ملکوں کو اللہ کی سلطنت میں شامل کرنا اور بنی نوع انسان کو اطاعت ال ٰہی کی طرف النا…
‫اس نے تمام فوجوں کو‪ ،جہاں جہاں وہ تھیں‪ ،ایشترا کے مقام پر جمع ہونے کا جو حکم بھیجا‪ ،اس میں اللہ کے حکم کے
‫الفاظ بھی لکھے''۔
‫سلطان ایوبی کی نظریں مستقبل کی تاریکیوں میں جھانک رہی تھیں‪ ،اس نے حطین کے مقام کو میدان جنگ بنانے کا فیصلہ
‫کیا تھا۔ حطین فلسطین کا ایک گمنام سا گائوں تھا لیکن سلطان ایوبی نے اسے وہ عظمت بخشی کہ عیسائی دنیا کے جنگی
‫مبصر آج بھی تجزیے کرتے نظرے آتے ہیں کہ صلیبی جنگوں کے اس ہیرو نے کس قسم کی چالوں اور سٹریٹجی سے اتنے
‫طاقتور اور برتر اسلحہ والے دشمن کو ایسی شرمناک شکست دی تھی کہ صلیبیوں کے ایک کے سوا باقی تمام حکمران جنگی
‫قیدی ہوگئے تھے۔
‫جنگی علوم کی باریکیاں سمجھنے والے مبصروں اور مؤرخوں نے سلطان ایوبی کی دیگر خوبیوں کے عالوہ اس کے انٹیلی جنس
‫اور کائونٹر انٹیلی جنس اور کمانڈو آپریشن کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یہ ہے بھی حقیقت کہ بکر بن محمد جیسے جاسوس
‫اپنی جانیں موت کے منہ میں رکھ کر اہم معلومات حاصل کررہے تھے اور سلطان ایوبی تک پہنچا رہے تھے۔ کلثوم جیسی
‫مظلوم لڑکیاں شاہانہ زندگی اور عیش وعشرت کو ٹھکرا کر اپنے طور پر اسالمی فوج کی مدد کررہی تھیں۔ تاریخ ان گمنام
‫غازیوں اور شہیدوں کے نام بتانے سے قاصر ہیں جنہوں نے پس پردہ اور زمین دوز جہاد کیا اور حطین کو تاریخ اسالم کی
‫عظمت کا نشان بنا دیا۔
‫سلطان ایوبی ہمیشہ جمعہ کے مبارک دن لڑائی کے لیے کوچ کیا کرتا تھا کہ یہ قبولیت کا دن ہے۔ اس مبارک روز ہر مسلمان
‫خدا کے حضور جھکا ہوا ہوتا ہے اور جب سپاہی اپنی قوم کو عبادت میں مصروف چھوڑ کر جہاد کے لیے نکلتا ہے تو ساری
‫قوم کی دعائیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ حطین کو کوچ کرنے کے لیے بھی اس نے جمعہ کا دن منتخب کیا۔ یہ ‪١٥مارچ
‫‪ ١١٨٧ء کا دن تھا۔ اس نے فوج کا صرف ایک حصہ ساتھ لیا اور کرک کے قریب جاکر خیمہ زن ہوا۔
‫صلیبی جاسوسوں نے فورا ً اپنی اتحادی فوج کو خبر پہنچا دی کہ سلطان ایوبی کرک کے قریب خیمہ زن ہوگیا ہے۔ اس سے
‫یہ مطلب لیا گیا کہ وہ کرک کا محاصرہ کرے گا لیکن اس کا مقصد یہ تھا کہ مصر اور شام کے قافلے حج کعبہ سے واپس
‫آرہے تھے‪ ،ان پر کرک کے قریب ہی حملے ہوا کرتے تھے۔ والئی کرک شہزادہ ارناط اس معاملے میں بڑا ہی بدنیت تھا۔
‫سلطان ایوبی ان قافلوں کو خیریت سے وہاں سے گزارنے کے لیے اس عالقے میں چال گیا تھا۔ اس کے عالوہ اس کا مقصد یہ
‫بھی تھا کہ صلیبیوں کو دھوکہ دے اور وہ اپنا دفاع

‫پھیالد ینے پر مجبور ہوجائیں۔ اس نے اپنے ساالروں کو بتا دیا کہ قافلے گزار کر وہ کہاں جائے گا۔
‫٭ ٭ ٭
‫کرک کے محل میں تو جیسے زلزلہ آگیا تھا۔ شہزادہ ارناط کو نصف شب کے بعد جگا کر بتایا گیا کہ کوئی بہت بڑی فوج
‫شہر سے کچھ دور خیمے گاڑ رہی ہے۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا۔ یہ سلطان ایوبی کے سوا کون ہوسکتا تھا۔ کلثوم اس کی خواب گاہ
‫میں تھی۔ وہ ارناط کے ساتھ دوڑتی شہر کے بڑے دروازے کے اوپر والی دیوار پر گئی۔ وہاں سے سینکڑوں مشعلیں نظر آرہی
‫تھیں۔ زیادہ تر مشعلیں متحرک تھیں۔ خیمے گاڑے جارہے تھے‪ ،رات کی خاموشی میں گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں صاف
‫سنائی دے رہی تھیں۔
‫ارناط نے اپنی فوج کو محاصرے میں لڑنے کے لیے دیواروں پر مورچہ بند کردیا۔
‫دروازوں پر دفاعی انتظامات مضبوط کردیئے گئے۔ ارناط بھاگ دوڑ رہا تھا۔ اسے کلثوم کا کوئی خیال نہیں تھا۔ کلثوم واپس ‪:
‫گئی تو ارناط کا محافظ دستہ بیدار ہوکر حکم کا منتظر کھڑا تھا اور ایک جگہ وہ شاہی بگھی کھڑی تھی جس پر کلثوم ناصرہ
‫گئی اور سیر کے لیے بھی گئی تھی۔ اس کے پاس بکر بن محمد چاک وچوبند کھڑا تھا‪ ،وہاں ہر آدمی اپنی ڈیوٹی پر پہنچ
‫گیا تھا۔
‫کلثوم نے حکم کے لہجے میں بکر سے کہا… ''سیبل! بگھی ادھر الئو''۔
‫بکر بگھی الیا تو کلثوم اس میں بیٹھ گئی اور اسے کسی طرف لے گئی۔ ارناط کے حرم کی عورتیں بھی جاگ کر باہر آگئی
‫تھیں‪ ،انہوں نے کلثوم کو جوان کے لیے پرنسس للی تھی‪ ،بگھی بان کو حکم دیتے اور بگھی میں بیٹھ کر جاتے دیکھا تو ان
‫میں سے ایک نے دانت پیس کرکہا… ''یہ بدبخت کسی مسلمان کی اوالد اپنے آپ کو ملکہ سمجھنے لگی ہے۔ اسے ٹھکانے
‫لگانا ہی پڑے گا''۔
‫وقت آگیا ہے''۔ دوسری نے کہا… ''صالح الدین ایوبی کا محاصرہ بہت خوفناک ہوتا ہے۔ وہ آگ پھینکے گا‪ ،منجنیقوں ''
‫سے پتھر پھینکے گا۔ اندر بھگدڑ اور تباہی مچے گی اور یہ وقت ہوگا جب ہم اس منہ چڑھی ڈائن کو ٹھکانے لگا دیں گی''۔
‫تمہارا چاہنے واال وہ جرنیل بھی تو کچھ نہیں کرسکا''۔ تیسری نے کہا۔''
‫اور بہت ہیں کچھ کرنے والے''۔ اس نے جواب دیا۔ ''کل شام تک شہر کی حالت دیکھنا‪ ،پھر شہزادہ ارناط کسی اور ''
‫شہزادی للی کو تالش کرے گا''۔
‫اس وقت کلثوم نے بگھی ایک اندھیری جگہ رکوا رکھی تھی۔ بکر بگھی کے ساتھ کھڑا تھا۔ کلثوم اس سے پوچھ رہی تھی…
‫''ہمارے آدمی اندر سے کوئی دروازہ کھولنے کا انتظام کرسکیں گے؟''۔
‫کوشش کی جائے گی''۔ بکر نے کہا… ''اگر یہ فوج ہماری ہے تو میں حیران ہوں کہ ہمیں پہلے اطالع کیوں نہیں دی ''
‫گئی۔ سلطان ایوبی ایسی غلطی نہیں کیا کرتے‪ ،مجھے کچھ شک ہے۔ یہ صبح پتہ چلے گا کہ یہ کس کی فوج ہے''۔
‫کیا ہم یہاں سے فرار ہوسکیں گے؟''۔ کلثوم نے پوچھا۔''
‫حاالت پر منحصر ہے''۔''
‫میں اس افراتفری میں ارناط کو آسانی سے قتل کرسکتی ہوں''۔''
‫ایسی حرکت نہ کرنا''… بکر بن محمد نے کہا… ''فوج شہر میں داخل ہوگئی تو ہم نظر رکھیں گے کہ وہ فرار ہونے کی''
‫''کوشش نہ کرے… کوئی نئی خبر؟
‫ارناط سلطان ایوبی کو دیکھ رہا تھا کہ کس طرف پیش قدمی کرتا ہے''۔ کلثوم نے کہا… ''اب حاالت کچھ اور ہوگئے ۔ ''
‫پہلے کہتا تھا کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ جھیل گیلیلی کو جارہا ہے''۔
‫زیادہ دیر نہ رکو''۔ بکر نے کہا… ''چلو واپس چلیں''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫صبح طلوع ہوئی تو کرک کی دیواروں پر دور مارکمانوں والے تیر انداز مستعد کھڑے تھے۔ پتھر اور آگ کی ہانڈیاں پھینکنے والی
‫منجنیقیں نصب ہوچکی تھیں۔ فوج تیاری کی حالت میں کھڑی تھی اور شہزادہ ارناط دیوار پر کھڑا سلطان ایوبی کی فوج کو
‫دیکھ رہا تھا۔ یہ یقین ہوگیا کہ یہ سلطان ایوبی کی فوج ہے۔ یہ معلوم نہ ہوسکا کہ سلطان خود بھی ساتھ ہے مگر اس فوج
‫میں محاصرے والی کوئی حرکت اور سرگرمی نہیں تھی۔ خیمے لگے ہوئے تھے اور سپاہی روزمرہ معمول میں لگے ہوئے تھے۔
‫یہ دن گزر گیا‪ ،پھر پانچ چھ دن گزر گئے۔ ارناط پر انتظار اور اضطراب کی کیفیت طاری رہی۔ اسے جو نظر نہیں آرہا تھا‪ ،وہ
‫یہ تھا کہ رات کو سلطان
‫ا یوبی نے اپنے گھوڑ سوار چھاپہ مار اس راستے پر دور تک پھیال دئیے تھے جن پر حجاج کے قافلوں کو گزرنا تھا۔ چند
‫دنوں بعد پہال قافلہ آتا نظر آیا۔ یہ مصر کا قافلہ تھا۔ گھوڑ سوار اس کے ساتھ ہوگئے۔ قافلہ سلطان ایوبی کی خیمہ گاہ کے
‫قریب پہنچا تو سلطان دوڑ کر آگے بڑھا اور حجاج سے مصافحہ کیا۔ اس نے عقیدت اور احترام سے سب کے ہاتھ چومے اور
‫اپنی خیمہ گاہ میں انہیں آرام اور کھانے کے لیے روکا اور اس کے چھاپہ مار دور تک حجاج کے ساتھ گئے۔ ایک ہی روز بعد
‫شامی حجاج کا قافلہ بھی آگیا۔ اس کا بھی سلطان ایوبی نے استقبال کیا۔ کھانا کھالیا اور اپنے حفاظتی انتظامات میں اسے
‫رخصت کیا۔
‫اتنے دن کرک کے اندر صلیبی فوج تیاری کی حالت میں رہی اور شہر پر خوف طاری رہا۔ سلطان ایوبی کے جاسوس اپنی
‫سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ ایک صبح ارناط کو اطالع ملی کہ سلطان ایوبی کی فوج جارہی ہے۔ا رناط اس کے سوا کچھ بھی
‫نہ دیکھ سکا کہ حجاج کے دونوں قافلے سلطان ایوبی کی فوج کی حفاظت میں گزر گئے ہیں۔سلطان ایوبی کے صرف جاسوسوں
‫کو معلوم تھا کہ اصل قصہ کیا تھا۔ اس نے کوچ سے پہلے انہیں اطالع بھجوا دی تھی کہ فوج کہیں اور جارہی ہے اور وہ
‫(جاسوس) ارناط کی نقل وحرکت کی اطالعات دیتے رہیں۔
‫‪٢٧مئی ‪١١٨٧ء (‪ ١٧ربیع االول) کے روز سلطان ایشترا کے مقام پر جا کر خیمہ زن ہوا‪ ،وہاں مصر اور شام کی فوجیں اس ‪:
‫سے جاملیں۔ اس کا سب سے بڑا بیٹا الملک االفضل جس کی عمر سولہ سال تھی‪ ،ایک مشہور ساالر مظفرالدین کے ساتھ
‫جامال۔ اس طرح اس کی ساری فوج جمع ہوگئی۔ اس نے تمام ساالروں‪ ،نائب ساالروں کو آخری ہدایات کے لیے جمع کیا اور
‫کہا… '' میرے رفیقو! اللہ تمہارا مدد گار ہو۔ دلوں سے اپنے عزیزوں ا ور اپنے گھروں کا خیال نکال دو اور دلوں میں قبلٔہ اول
‫کو بسا لو اور دلوں میں خدائے ذوالجالل کا اسم مبارک نقش کرلو جس نے ہمیں یہ سعادت بخشی ہے کہ قبلٔہ اول کو آزاد
‫…''کرائیں اور اپنی بیٹیوں کی بے عزتی کاانتقام لیں جو کفار کے ہاتھوں بے آبرو ہوئیں
‫اب ہم جو بات کریں گے‪ ،وہ حقیقت کی کریں گے۔ ہماری تعداد دشمن کے مقابلے میں کم ہے ا ور آپ کا مقابلہ سات ''

‫صلیبی بادشاہوں کی متحدہ فوج کے ساتھ ہے جس میں دو ہزار دو سو سر سے پائوں تک زرہ بکتر میں ڈوبے ہوئے نائٹ ہیں۔
‫ان کی دوسری فوج نیم زرہ پوش ہے۔ اس فوج کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اپنے مستقر کے قریب ہے اور یہ سارا عالقہ اس
‫کا اپنا ہے جہاں اسے رسد کی کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ ہمیں دو جنگیں لڑنی ہیں‪ ،ایک براہ راست دشمن کے خالف اور
‫دوسری ان دشواریوں کے خالف جو ہمیں درپیش ہیں۔ یہ دشواریاں دشمن کی طرف منتقل کرنی ہیں''۔
‫اس نے نقشہ پھیال کر اپنی تلوار کی نوک سے سب کو بتایا کہ اس کا میدان جنگ کون سا ہوگا۔ جو ساالر اس جگہ سے
‫واقف تھے‪ ،انہوں نے چونک کر سلطان ایوبی کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ سلطان ایوبی ان کے استعجاب
‫کو سمجھ گیا اور مسکرایا۔
‫یہ حطین کے مضافات کا میدان ہے''۔ اس نے کہا… ''آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ زمین سوکھے ہوئے درخت کی کھال کی''
‫طرح خشک‪ ،اونچی نیچی اور موسم کی بے رحمی سے کٹی پھٹی ہے اور یہ زمین اتنی پیاسی ہے کہ انسانوں اور ہمارے
‫گھوڑوں کا خون پی جائے گی۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ اس کے اردگرد اونچی نیچی ٹیکریاں ہیں۔ہاں‪ ،یہ سب بے آب وگیاہ اور
‫پیاسی ہیں۔ یہ لوہے کی طرح تپ رہی ہیں۔ آپ کی آنکھوں میں جو سوال ہے‪ ،وہ میں سمجھتا ہوں‪ ،وہ کون سی فوج ہے
‫جو اس جہنم نماا عالقے میں لڑے گی؟… وہ ہماری فوج ہوگی۔ آپ کے ہلکے پھلکے سواروں کے دستے (الئٹ کیولری) یہاں
‫تتلیوں کی طرح اڑتے پھریں گے اور وہ لوہے کے لباس میں ملبوس نائٹوں اور نیم زرہ پوش صلیبی سواروں کو نچاتے پھریں
‫گے۔ دشمن کے یہ سوار اور پیادے لوہے کی تپش سے بہت جلدی پیاس سے بے حال ہوجائیں گے اور لوہے کا وزن انہیں اتنی
‫…''پھرتی سے حرکت نہیں کرنے دے گا‪ ،جس تیزی سے ہمارے سوار بھاگیں دوڑیں گے
‫آپ جانتے ہیں کہ میں ہر کارروائی جمعہ کے مبارک روز کیا کرتا ہوں۔ میں اس وقت آگے بڑھوں گا‪ ،جب مسجدوں میں ''
‫قوم خطبہ سن رہی ہوگی۔ یہ وقت قبولیت کا ہوتا ہے۔ میں نے ہر قصبے اور ہر گائوں میں اطالع بھجوا دی تھی کہ جمعہ
‫کے روز دعائوں میں اپنے ان مجاہدین کو شامل رکھا کریں جو جمعہ کی نماز سے محروم ہوکر میدان جنگ میں زخمی ہوکر
‫گرتے ہیں۔ اٹھتے ہیں اور جمعہ نہ پڑھ سکنے کا خراج لہو کے نذرانوں سے ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوگا جب سورج سر
‫…''پر ہوگا اور زمین کو لوہے کی پھٹی کی طرح گرم کردے گا
‫اور یہ دیکھو‪ ،یہ گیلیلی کی جھیل ہے اور یہ دریا ہے''۔ اس نے تلوار کو چھڑی کی طرح نقشے پر مار مار کر بتایا… ''
‫''اور یہ واحد تاالب ہے جس میں پانی ہے۔ باقی تمام تاالب خشک ہوگئے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جسے صلیب کے پجاری
‫جون کہا کرتے ہیں۔ ہمیں پانی اور دشمن کے درمیان آنا ہے۔ میں الفاظ میں دشمن کو پانی سے محروم کرچکا ہوں‪ ،اس کو
‫عملی طور پر پیاسا مارنا آپ کا کام ہے۔ دشمن حطین کے میدان میں لڑنے سے گریز کرے گا‪ ،میں اسے یہیں لڑائوں گا۔ فوج
‫کو میں نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مظفرالدین اور میرا بیٹا االفضل ہم میں نہیں ہیں۔ وہ ایک
‫حصے کو ساتھ لے کر دریائے اردن جھیل گیلیلی کے جنوب سے پار کرگئے ہیں۔ یہ دستے طبور (جبل طور) تک پہنچیں گے‪،
‫شاید پہنچ چکے ہوں گے۔ یہ ایک دھوکہ ہے جو میں دشمن کو دے رہا ہوں''۔
‫اس نے فوج کے باقی تین حصوں کی تفصیالت اور ان کے مشن بتائے۔ ان تین میں سے ایک حصہ (مین باڈی) اپنی کمان
‫میں رکھا۔ مؤرخین کے مطابق یہی حصہ ریزرو اور ٹاسک فورس کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ یہ فیصلہ کن کارروائی کے لیے
‫تھا۔ ان حصوں کو مختلف مقامات سے دریا پار کرایا گیا۔ صلیبی اپنے مخبروں اور دیکھ بھال کے دستوں کے ذریعے یہ نقل
‫وحرکت دیکھ رہے تھے لیکن یہ نہ سمجھ سکے کہ سلطان ایوبی کا پالن کیا ہے۔ سلطان ایوبی نے جھیل گیلیلی کے مغربی
‫کنارے پر طبریہ کے مقام پر ایک پہاڑی پر جا کر ڈیرے ڈالے۔
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبیوں کو ایک اور دھوکہ بھی ہوا۔ سلطان ایوبی اکثر چھاپہ مار قسم کی جنگ لڑا کرتا تھا‪ ،شب خون زیادہ مارتا تھا۔ کم ‪:
‫سے کم نفری سے دشمن کی زیادہ تعداد پر ''ضرب لگائو اور بھاگو'' کے اصول پر حملے کرتا اور دشمن کو پھیال دیتا تھا۔
‫صلیبی اس کی اسی جنگ کے لیے تیار تھے۔ اس کی فوج کا جو حصہ مظفرالدین اور االفضل کی زیرکمان دریا پار کرگیا تھا‪،
‫اس نے صلیبیوں کی فوج کی چوکیوں ( آئوٹ پوسٹوں) پر شب خون مارنے شروع کردئیے تھے۔ اس سے صلیبیوں کو یہ دھوکہ
‫ہوا کہ سلطان ایوبی اپنے مخصوص انداز سے لڑے گا لیکن اب اس نے کوئی اور ہی انداز سوچ رکھا تھا۔ چھاپہ ماروں کو اس
‫نے حسب معمول وہی مشن دئیے جو ہر جنگ میں انہیں دیا کرتا تھا۔
‫صلیبی فوج قلعہ بندیوں میں تھی اور باہر بھی تھی۔ سلطان ایوبی نے تیز رفتاری سے فوج کو اس طرح ڈیپالئے کیا کہ جھیل
‫گیلیلی اور جو ایک دو پانی کے تاالب تھے‪ ،وہ اس کے قبضے میں آگئے۔ صلیبیوں کی فوج کے ایک حصے (فرنگیوں) نے
‫سیفوریہ کے مقام پر اجتماع کیا لیکن سلطان ایوبی آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے کے بجائے طبریہ کے مقام پر رکا رہا۔ وہ صلیبیوں
‫کو حطین کے قریب النا چاہتا تھا۔ صلیبی آگے آتے نظر نہ آئے تو اس نے پیادہ دستے ذرا سا آگے بڑھا دئیے اور خود ہلکا
‫رسالہ ( الئٹ کیولری) لے کر طبریہ پر حملہ کردیا اور حکم دیا کہ طبریہ کو تباہ وبرباد کرکے شہر کو آگ لگا دی جائے۔ اس
‫حکم پر عمل کیا گیا۔
‫طبریہ کا قلعہ ذرا ہٹ کر تھا۔ فوج قلعہ میں تھی‪ ،شہر کو بچانے کے لیے فوج قلعے سے نکل کر شہر کو روانہ ہوئی۔ سلطان
‫ایوبی نے اس کا راستہ روک لیا۔ سلطان ایوبی نے اپنی فوج کے دوسرے حصے مختلف سمتوں کو روانہ کردئیے تھے۔ صلیبیوں
‫کی فوج جو قلعے سے آئی تھی‪ ،اس کی کمان شاہ ریمانڈ کے ہاتھ میں تھی۔ طبریہ کی ٹیکریوں پر اس کی اور سلطان ایوبی
‫کی آمنے سامنے کی لڑائی ہوئی۔ قاضی بہائوالدین شداد اس لڑائی کا آنکھوں دیکھا حال ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ ''دونوں
‫فوجوں کے سواروں نے ایک دوسرے پر ہلہ بوال۔ ہر اول کے سوار تیر چالتے آرہے تھے‪ ،پھر پیادہ دستوں کو بھی میدان میں
‫اتار دیا گیا۔ صلیبیوں کو موت نظر آنے لگی تھی اور مسلمانوں کو پیچھے دریا اور سامنے دشمن نظر آرہا تھا۔ پیچھے ہٹنے کے
‫لیے ان کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی‪ ،اس لیے دونوں فوجیں اتنے قہر سے لڑیں جس کی مثال تاریخ پیش نہیں کرسکتی''۔
‫سارا دن لڑائی جاری رہی۔ رات مسلمان چھاپہ ماروں نے دشمن کو پریشان رکھا۔ دشمن کی فوج اور گھوڑے پیاسے تھے لیکن
‫پانی پر مسلمان قابض تھے۔ چھاپہ مار دشمن کو پانی کی تالش میں جانے بھی نہیں دیتے تھے۔ اگلے روز صلیبیوں نے
‫ٹیکریوں پر چڑھ کر لڑائی لڑی۔ مسلمان بڑھ بڑھ کر حملے کرتے تھے مگر صلیبی بلندیوں سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مسلمانوں کا
‫رسالہ چونکہ ہلکا تھا‪ ،اس لیے انہوں نے ٹیکریوں کا گھیرا کرکے اوپر چڑھنا شروع کیا‪ ،پیادہ تیر اندازوں نے ان کے سروں کے
‫اوپر تیر برسائے۔ اتنے میں صلیبیوں نے دیکھا کہ ان کے کمانڈر کا جھنڈا نظر نہیں آرہا۔ یہ فورا ً ہی معلوم ہوگیا کہ ان کا
‫بادشاہ ریمانڈ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہے‪ ،حاالنکہ اس نے صلیب اعظم پر ہاتھ رکھ کر اپنے اتحادیوں کا وفادار رہنے اور
‫پیٹھ نہ دکھانے کا حلف اٹھایا تھا۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ صلیب اعظم حطین کی اس جنگ میں ساتھ الئی گئی تھی۔

‫صلیبیوں کے بھاگنے کے راستے مسدود ہوچکے تھے۔ وہ اب دفاعی جنگ لڑ رہے تھے۔ بلندیاں ان کی مدد کررہی تھیں۔ یہ دن
‫بھی گزر گیا۔ مسلمان فوج نے بے انداز خشک گھاس اور لکڑیاں جمع کرکے صلیبیوں کے اردگرد آگ لگا دی۔ رات کو سلطان
‫ایوبی کی فوج گھاس اور لکڑیاں جمع کرتی اور آگ تیز کرتی رہی۔ دن بھر کے پیاسے اور تھکے ہوئے صلیبی ٹیکریوں پر
‫جھلسنے لگے۔ ان میں سے ایک دستے نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہ
‫جانے دیا۔ دوسرے دن صلیبی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے اور جرنیلوں سمیت سلطان ایوبی کی قید میں آگئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی کی فوج کے د وسرے تین حصے مختلف جگہوں پر اس قسم کی جنگ لڑ رہے تھے کہ کبھی صلیبیوں کے ‪:
‫پہلو پر حملہ کرتے اور نکل جاتے اور کبھی عقب پر حملہ کرکے ادھر ادھر ہوجاتے۔ ایک دو پیادہ دستے اس انداز سے دشمن
‫کے سامنے رہے کہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹ آتے۔ اس طرح دشمن حطین کے میدان میں آگیا مگر اس وقت تک وہ اور اس
‫کے گھوڑے پیاس سے ادھ موئے ہوچکے تھے۔
‫‪٣جوالئی ‪ ١١٨٧ء کے روز سلطان ا یوبی نے اپنے پالن کی اس کڑی پر کارروائی شروع کی جو اس نے حطین کے لیے بنایا تھا۔
‫یہ بھی جمعہ کا مبارک دن تھا۔ اسے پہلے سے جاسوسوں نے جن میں کلثوم اور بکر قابل ذکر ہیں‪ ،یہ بتا دیا تھا کہ سات
‫لہ ذا سلطان ایوبی کی جنگی طاقت جو تھی‪ ،سو تھی‪ ،اس نے اپنی چالوں‪ ،فوج کی تقسیم‪ ،چھاپہ
‫صلیبیوں نے اتحاد کرلیا ہے‪ٰ ،
‫ماروں کے استعمال‪ ،دیکھ بھال کے انتظام اور میدان جنگ میں برق رفتار نقل وحرکت کے انداز میں ردوبدل اور کارگر طریقے
‫اور دائو سوچ لیے تھے۔ دشمن کو وہ بڑی خوبی سے حطین میں لے آیا تھا۔ اردگرد کی قلعہ بندیوں اور آبادیوں پر وہ قابض
‫ہوچکا تھا۔ پانی اس کے قبضے میں تھا اور اب موسم کا قہر اس کے حق میں تھا۔
‫دشمن جب حطین میں آیا تو وہ جان نہ سکا کہ وہ سلطان ایوبی کی نہایت خوبی سے تقسیم اور ڈیپالئے کی ہوئی فوج کے
‫نرغے میں آگیا ہے۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں نے دشمن کی دیکھ بھال کی چوکیوں اور گشتی جیشوں‪ ،آئوٹ پوسٹوں اور
‫رسد کے لیے قیامت بپاکررکھی تھی۔ رات کو وہ دشمن کو نہ آرام کرنے دیتے تھے‪ ،نہ جرنیلوں کو سوچنے کی مہلت دیتے
‫تھے۔
‫‪٤جوالئی ‪١١٨٧ء کے روز سلطان ایوبی کی فوج کے درمیانی حصے نے آمنے سامنے حملہ کیا۔ ٹیکریوں کی وجہ سے میدان
‫جنگ تنگ تھا۔ صلیبی ادھر ادھر سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تو مسلمانوں کا الئٹ رسالہ حرکت میں آجاتا۔ تیرانداز
‫بلندیوں پر تھے جہاں سے وہ صلیبیوں پر تیروں کا مینہ برسا رہے تھے۔ سلطان ایوبی کی کیفیت یہ تھی کہ کبھی اوپر جاتا
‫اور کبھی نیچے آتا اور اس کے صبا رفتار قاصد پیغام ال اور لے جارہے تھے۔ صلیبی نائٹوں کو زرہ بکتر جال رہی تھی۔ ان کے
‫گھوڑے پیاسے تھے‪ ،پانی سامنے نظر آرہا تھا جو پیاس کو بڑھا رہا تھا۔
‫صلیبیوں نے کمک منگوا کر ایک جوابی حملہ کیا جو ان کی آخری امید تھی۔ جہاں انہوں نے حملہ کیا وہاں کی کمان تقی
‫الدین کے ہاتھ تھی۔ اس نے حملہ روکنے کے لیے اپنے دستوں کو نیم دائرے کی شکل میں کردیا۔ دشمن سیدھا اور سرپٹ آیا۔
‫تقی الدین نے نیم دائرے کے سرے بند کردئیے اور صلیبی گھیرے میں آگئے۔ مسلمان سواروں نے انہیں کاٹ اور کچل ڈاال۔
‫اب جنگ کی یہ صورت تھی کہ صلیبی حطین کے میدان میں دفاعی جنگ لڑ رہے تھے۔ حطین سے دور ان کا اگر کوئی
‫دستہ رہ گیا تھا تو اسے مسلمانوں نے وہیں بے کار کردیا جہاں وہ تھا۔ یہ پہال اور آخری موقع تھا کہ عکرہ کا پادری
‫''محافظ صلیب اعظم'' صلیب الصلبوت میدان جنگ میں موجود تھا‪ ،یعنی جس صلیب پر صلیبیوں نے اسالم کو ختم کرنے
‫کے حلف اٹھائے تھے‪ ،وہ صلیب میدان جنگ میں الئی گئی تھی مگر صلیبی بادشاہوں نے پیٹھ دکھانی شروع کردی۔ گائی آف
‫لوزینان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ بھاگ رہا تھا کہ اسے مسلمان سواروں نے دیکھ لیا اور انہیں زندہ پکڑ لیا۔
‫عکرہ کا پادری مارا گیا اور صلیب اعظم مسلمانوں کے قبضے میں آگئی۔ مشہور مؤرخوں نے اس صلیب کے متعلق کچھ نہیں
‫لکھا۔ اس دور کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ بیت المقدس کی فتح کے بعد سلطان ایوبی نے صلیب وہاں کے عیسائیوں کو
‫احترام سے لوٹا دی تھی۔
‫شام تک جنگ حطین کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ صلیبیوں کے جانی نقصان کا کوئی شمار نہ تھا۔ باقی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے
‫تھے۔ سلطان ایوبی کے سامنے جو قیدی الئے گئے‪ ،ان میں ریمانڈ کے سوا باقی چھ اتحادی تھے اور ان میں کرک کا شہزادہ
‫ارناط بھی تھا جسے اپنے ہاتھوں قتل کرنے کی قسم سلطان ایوبی نے کھائی تھی۔ مؤرخ لکھتے ہیں اور اس کا تفصیلی ذکر
‫قاضی بہائوالدین شداد نے کیا ہے کہ سلطان ایوبی نے صلیبی بادشاہ جیفرے کو شربت پیش کیا۔ جیفرے نے آدھا شربت پی کر
‫گالس ارناط کو دے دیا۔
‫ارناط شربت پینے لگا تو سلطان ایوئی نے اپنے ترجمان سے گرج کر کہا… ''اسے (ارناط سے) کہو کہ اسے میں نے نہیں‪،
‫اپنے بادشاہ نے شربت دیا ہے۔ عربی میزبان صرف اس دشمن کو شربت پیش کرتے ہیں جس کی وہ جان بخشی کردیتے ہیں۔
‫میں نے ارناط کو شربت پیش نہیں کیا''… بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی کی آنکھوں سے جیسے شعلے نکل رہے
‫تھے۔
21:04
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 149ایوبی نے قسم کھائی تھی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی کی آنکھوں سے جیسے شعلے نکل رہے تھے۔ سلطان نے مالزموں سے کہا کہ ان
‫سب کو کھانے پر بٹھائو۔ جب سب کھانے والے خیمے میں جاکر کھانا کھا چکے تو سلطان نے پھر جیفرے اور ارناط کو اپنے
‫خیمے میں بالیا۔ اس نے ارناط سے کہا کہ تم ہمیشہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرتے رہے ہو۔ تمہاری
‫نجات اس میں ہے کہ اسالم قبول کرلو۔ ارناط نے انکار کردیا۔ سلطان ایوبی کو یہی توقع تھی۔ اس نے بڑی تیزی سے تلوار
‫نکالی اور ایک ہی وار سے ارناط کا ایک بازو جسم سے الگ کردیا اور چال کر کہا… ''مردود! تو نے میرے رسول صلی اللہ
‫علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی‪ ،اگر یہ گالیاں مجھے دیتا تو آج تو زندہ ہوتا''… مؤرخ لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی کے خیمے
‫میں اس کے جو دو تین ساالر تھے‪ ،انہوں نے تلواروں سے ارناط کو ختم کردیا۔ سلطان نے نفرت کے لہجے میں حکم دیا…
‫''اس ناپاک الش کو باہر پھینک دو''۔
‫قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے… ''سلطان ایوبی نے اس کی الش خیمے سے باہر اور اس کی روح جہنم کے اندر پھینک
‫دی''۔

‫بادشاہ جیفرے نے اپنے اتحادی کا یہ انجام دیکھا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ سمجھ گیا کہ اب اس کی باری
‫ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے دیکھا تو آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور تحمل سے کہا… ''بادشاہ بادشاہوں کو
‫قتل نہیں کیا کرتے لیکن اس کے گناہ ایسے تھے کہ مجھے اسے اپنے ہاتھوں قتل کرنے کی قسم کھانی پڑی۔ آپ نہ ڈریں''۔
‫قیدی بادشاہوں کو قیدیوں کے خیموں میں بھیج دیا گیا اور سلطان ایوبی سجدے میں گر پڑا۔
‫کرک کے محل میں رات خاموش تھی‪ ،وہاں ارناط بھی نہیں تھا اور اس کے جرنیل اور درباری بھی نہیں تھے‪ ،وہاں اس کے
‫حرم کی عورتیں تھیں‪ ،کلثوم تھی اور ان کے نوکر اور نوکرانیاں تھیں اور قلعے میں مختصر سی فوج تھی۔ وہاں ابھی ارناط
‫کی موت کی اطالع نہیں پہنچی تھی۔ رات کا پہال پہر گزر چکا تھا‪ ،اس وقت تک کلثوم سو جاتی تھی۔
‫ایک عورت دبے پائوں کلثوم کی خواب گاہ میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ وہ کلثوم کے پلنگ تک پہنچی۔
‫کمرے میں کوئی روشنی نہیں تھی۔ عورت نے خنجر واال ہاتھ بلند کیا اور پوری طاقت سے خنجر کا وار کیا لیکن اسے کوئی
‫چیخ نہ سنائی دی۔ خنجر پلنگ میں اتر گیا تھا۔ اس نے بستر پر ہاتھ پھیرا‪ ،وہاں کلثوم نہیں تھی۔ عورت یہ سمجھ کر کہ
‫کلثوم کہیں نکل گئی ہوگی‪ ،پلنگ کے ساتھ چھپ کر بیٹھ گئی۔
‫ذرا سی دیر بعد کمرے میں دبے پائوں کسی کی آہٹ سنائی دی جو پلنگ تک گئی۔ عورت نے اٹھ کر اس پر خنجر کا وار
‫کیا۔ فورا ً بعد اس کے اپنے پیٹ میں خنجر اتر گیا‪ ،پھر دونوں طرف سے خنجروں کے وار ہوئے‪ ،دونوں باہر کو دوڑیں اور باہر
‫جا کر گر پڑیں۔ حرم کی دوسری عورتوں نے دیکھا کہ ان میں کلثوم نہیں تھی۔ یہ دونوں حرم کی عورتیں تھیں جو کلثوم کو
‫قتل کرنے گئی تھیں۔ اسی روز دونوں نے اس کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا مگر یہ غلط فہمی رہی کہ قتل کرنے کون جائے
‫گی۔ اندھیرے کمرے میں دونوں نے ایک دوسری کو کلثوم سمجھا۔
‫اس وقت کلثوم محل سے ہی نہیں‪ ،کرک سے ہی نکل گئی تھی۔ اسی روز بکر بن محمد کو اپنے جاسوس ساتھیوں کے
‫ذریعے اطالع ملی تھی کہ حطین میں صلیبیوں کو بہت بری شکست ہورہی ہے۔ کرک کے جاسوسوں نے ہی بکر کو مشورہ دیا
‫تھا کہ وہ کلثوم کو لے کر نکل جائے۔ کلثوم کے لیے رات قلعے کا دروازہ کھلوانا مشکل نہیں تھا۔ سب جانتے تھے کہ یہ
‫شہزادہ ارناط کی چہیتی ہے۔ بکر بن محمد سیبل کے روپ میں اس کے ساتھ اور اسے شاہی بگھی میں لے جارہا تھا۔ حرم
‫کی کوئی عورت کلثوم کو جاتے نہیں دیکھ سکی تھی۔
‫شہر سے دور جاکر انہیں وہ دو گھوڑے مل گئے جو جاسوسوں کے انتظام کے تحت وہاں انتظار میں کھڑے تھے۔ بگھی وہیں
‫چھوڑ دی گئی۔ کلثوم اور بکر گھوڑوں پر سوار ہوئے اور غائب ہوگئے۔ دوسرے دن راستے میں انہیں اپنی فوج کے ایک قاصد
‫نے بتایا کہ صلیبیوں کو شکست ہوچکی ہے‪ ،ارناط مارا جاچکا ہے اور سلطان ایوبی ابھی حطین میں ناصرہ کے عالقے میں ہے۔
‫کلثوم سلطان کے پاس جانا چاہتی تھی۔
‫وہ جھیل گیلیلی پہنچ گئے… اور جب کلثوم کو سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا تو وہ سلطان کے پائوں پر گر پڑی۔
‫میری بیٹی!''… سلطان ایوبی نے اسے اٹھا کر شفقت سے گلے لگایا اور کہا… ''میری فتح میں تم جیسی نہ جانے کتنی''
‫بیٹیوں کا ہاتھ ہے''۔
‫میں اس کی الش دیکھنا چاہتی ہوں''… کلثوم نے کہا۔''
‫سب کی الشیں دریا میں پھینک دی گئی ہیں''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اسے میں نے اپنے ہاتھوں سزا دی ہے… تمہیں''
‫کل قاہرہ بھجوا دیا جائے گا۔ مجھے ابھی بہت دور جانا ہے‪ ،جہاں بھی رہو بیٹی! میرے لیے دعا کرتی رہنا کہ میں آگے ہی
‫آگے دور ہی ‪ :دور جاتا رہوں اور جہاں شام کو سورج ڈوب جاتا ہے۔ وہاں تک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ
‫وسلم کا پیغام پہنچا دوں''۔
‫حطین کی فتح اس لیے بہت اہم تھی کہ اس سے سلطان ایوبی نے ارض فلسطین کا دروازہ توڑ لیا اور اس میں داخل ہوگیا
‫تھا۔ اتنا وسیع عالقہ لے کر اس کے لیے بیت المقدس کی فتح آسان ہوگئی تھی۔ اس نے اس عالقے کو فوجی مستقر بنالیا
‫اور بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کی تیاری اور اسلحہ اور رسد ذخیرہ کرنے لگا۔
21:05
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 150فصل صلیبی جس نے کاٹی تھی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫حطین میں سلطان صالح الدین ایوبی نے جو فتح حاصل کی تھی‪ ،وہ معمولی نوعیت کی نہیں تھی۔ سات صلیبی حکمران
‫متحد ہوکر سلطان ایوبی کی جنگی قوت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے اور اس کے بعد مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر قبضہ
‫کرنے آئے تھے لیکن وہ اپنی جنگی قوت کا یہ حشر کرا بیٹھے جیسے صحرا کا ٹیلہ آندھی سے ریت کے ذروں کی صورت
‫میں صحرا میں بکھر جاتا ہے۔
‫چار مشہور اور طاقتور حکمران جنگی قیدی بنے جن میں یروشلم (بیت المقدس) کا حکمران گائی آف لوزینان قابل ذکر ہے۔
‫صلیبی فوج کا مورال ٹوٹ گیا اور سلطان ایوبی کی فوج کا مورال بلند ہوگیا۔
‫جنگ ختم ہوچکی تھی‪ ،چھاپہ ماروں کی جنگ جاری تھی۔ وہ بھاگنے والے صلیبی سپاہیوں کو پکڑ رہے تھے۔ صلیبیوں کے
‫حوصلے اس حد تک پست ہوچکے تھے کہ قاضی بہائوالدین شداد کے الفاظ میں ''ایک شخص نے جس کے متعلق مجھے یقین
‫ہے کہ سچ بولتا ہے‪ ،مجھے بتایا کہ اس نے اپنی فوج کے سپاہی کو د یکھا جو تیس صلیبی سپاہیوں کو خیمے کی ایک ہی
‫رسی سے باندھے ہوئے الرہا تھا''۔ ایسے مناظر تو کئی ایک دیکھنے میں آئے کہ ایک ایک مسلمان سپاہی کئی کئی صلیبی
‫سپاہیوں کو نہتہ کرکے ہانک کر ال رہا ہے۔ بعض یورپی مؤرخوں نے صلیبیوں کی اس شکست کے اسی قسم کے کئی واقعات
‫لکھے ہیں اور سلطان صالح الدین ایوبی کی جنگی اہلیت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
‫بحیرٔہ روم کے ساحل پر اسرائیل کے شمال میں عکرہ ایک مشہور شہر تھا جسے بعض نے عل ّہ بھی لکھا ہے۔
‫اس شہر کی شہرت کی وجہ یہ ہے کہ وہاں صلیب اعظم کا محافظ پادری رہتا تھا۔ پچھلی قسط میں سنایا جاچکا ہے کہ وہ
‫عیسی علیہ السالم کو اسی پر
‫صلیب عکرہ کے بڑے گرجے میں رکھی تھی جس کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت
‫ٰ
‫مصلوب کیا گیا تھا۔ اسے صلیب الصلبوت کہتے تھے۔ سلطان ایوبی کے خالف لڑنے والے بلکہ دنیائے عرب پر قبضہ کرنے کے
‫لیے لڑنے والے عیسائی اسی صلیب پر حلف اٹھاتے تھے۔ اسی لیے انہیں صلیبی کہا گیا تھا۔ حلف اٹھانے والے ہر صلیبی کے
‫لہذا جتنے صلیبی فوجی جنگ میں گرتے تھے‪ ،اتنی
‫گلے میں لکڑی کی چھوٹی سی صلیب تعویذ کی طرح ڈال دی جاتی تھی۔ ٰ
‫فصل صلیبی کہا ہے۔
‫ہی صلیبیں گرتی تھیں۔ عالمہ اقبال نے اس کو
‫ِ

‫حطین اور اس کے گردونواح کے میل ہا میل عالقے میں اور اس سے بھی دور دور جہاں جہاں جنگ لڑی گئی تھی‪ ،صلیبیوں
‫کی الشیں بکھری ہوئی تھیں۔ مرنے والے تڑپ تڑپ کر مرے تھے۔ معمولی طور پر زخمی ہونے والے بھی مر گئے تھے جس
‫کی وجہ زخم نہیں پیاس تھی۔ آہن پوش نائٹوں کے لیے زرہ بکتر تنور بن گئی اور ان کی موت کا باعث بنی تھی۔ زخمیوں
‫کو پانی پالنے واال کوئی نہ تھا‪ ،نہ کوئی ان کی مرہم پٹی کرنے واال تھا۔ ان میں مسلمان زخمی اور شہید بھی تھے۔ انہیں
‫رات مشعلوں کی روشنی میں اٹھا لیا گیا تھا۔
‫آج کے دور کا ایک مؤرخ انتونی ویسٹ اس دور کے مؤرخوں کے حوالے سے لکھتا ہے کہ حطین کے میدان جنگ میں الشوں
‫کی تعداد تیس ہزار سے اوپر تھی۔ الشیں اٹھانے کا کوئی انتظام نہ کیا گیا۔ ان کے جو ساتھی زندہ رہے‪ ،وہ جنگی قیدی
‫ہوگئے یا تتر بتر ہوکر بھاگ گئے تھے۔ انتونی ویسٹ نے لکھا ہے کہ ان الشوں کو مردار خور پرندوں اور درندوں نے کھایا۔
‫مردار خور اتنے نہیں تھے جتنی الشیں تھیں۔ بہت سی الشیں چند دنوں میں ہڈیوں کے سالم ڈھانچوں میں بدل گئیں۔ بلندی
‫سے دیکھنے والے کو حد نگاہ تک زمین ہڈیوں کی وجہ سے سفید نظر آتی تھی۔ ان ہڈیوں میں ہزاروں چھوٹی چھوٹی صلیبیں
‫بکھری ہوئی تھیں جیسے پکے ہوئی فصل سے پھل گر کر خشک ہوگیا ہو۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے یہ فصل کاٹ ڈالی تھی۔ اسے اس عالقے کو الشوں سے صاف کرنے کی ضرورت نہیں تھی
‫کیونکہ اسے وہاں رکنا نہیں تھا۔ اس کی منزل بیت المقدس تھی لیکن وہ باتیں عکرہ کی کررہا تھا۔ عکرہ کے متعلق ہم بتا
‫چکے ہیں کہ صلیب الصلبوت کی بدولت اسے وہی مقام حاصل ہوگیا تھا جو ہمارے لیے مکہ معظمہ کا ہے۔ تمام صلیبی
‫حکمران عکرہ جاکر صلیب کے محافظ اعظم سے دعا لیتے اور صلیب اعظم کو چوم کر میدان جنگ میں جاتے تھے لیکن اب
‫یہ صلیب سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے کے باہر پڑی تھی۔ اس کا محافظ اعظم پادری مارا جاچکا تھا۔ یہ بھی ایک
‫وجہ تھی کہ صلیبی دل چھوڑ بیٹھے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫ہمیں اب سیدھا عکرہ پر یلغار کرنی ہے''… سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں اور نائب ساالروں سے کہا… ''اللہ کا شکر'' ‪:
‫ادا کرتا ہوں کہ مجھے پورا محفوظہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑی''… اس نے سب پر نگاہیں دوڑائیں اور مسکرا کر
‫کہا… ''یہ نہ سمجھو کہ مجھے آپ کی اور آپ کے دستوں کی تھکن کا احساس نہیں۔ اس کا اجر تمہیں اللہ دے گا۔ تمہارا
‫اقصی میں ہوگا۔ اگر ہم یہاں آرام کرنے بیٹھ گئے تو صلیبی کہیں جمع ہوکر تازہ دم ہوجائیں گے۔ میں انہیں زخم
‫حج مسجد
‫ٰ
‫چاٹنے کی بھی مہلت نہیں دینا چاہتا''۔
‫ساالر قدرے حیران ہوئے۔ انہیں توقع تھی کہ سلطان بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کا حکم دے گا مگر اس نے عکرہ پر
‫حملے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس کے پیچھے صلیب الصلبوت رکھی تھی۔ اس نے صلیب کو دیکھا اور کچھ دیر دیکھتا رہا۔ حاضرین
‫پر خاموشی طاری رہی۔ اس نے اچانک تیزی سے ساالروں کی طرف گھوم کر کہا… ''میرے رفیقو! یہ د و عقیدوں کی جنگ
‫عیسی علیہ السالم کا نہیں‪ ،یہ خون
‫ہے۔ یہ حق اور باطل کا تصادم ہے‪ ،اس صلیب پر جما ہوا خون دیکھو۔ یہ خون حضرت
‫ٰ
‫اس پادری کا نہیں جسے عیسائی دنیا اس صلیب کا محافظ مانتی تھی اور یہ خون ان راہبوں کا بھی نہیں جنہوں نے یہ اتنی
‫بڑی صلیب میدان جنگ میں اٹھا رکھی تھی۔ وہ سب اللہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں لیکن یہ خون ان میں سے
‫کسی کا بھی نہیں۔ یہ باطل کا خون ہے‪ ،یہ بے بنیاد عقیدے کا اور یہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظریئے کا خون ہے''۔
‫سلطان ایوبی کی آواز میں جذبات کا جوش پیدا ہوگیا۔ اس نے کہا… ''میں ہر جنگی مہم جمعہ کے روز شروع کرتا ہوں۔ پیش
‫قدمی جمعہ کے روز کرتا ہوں‪ ،جمعہ مبارک دن ہے۔ میں ہر مہم کی ابتداء جمعہ کے خطبے کے وقت کیا کرتا ہوں کیونکہ یہ
‫وقت قبولیت ایزدی کا ہوتا ہے اور جب تم دشمن سے لڑ رہے ہوتے ہو‪ ،تم پر تیروں کا مینہ برس رہا ہوتا ہے‪ ،دشمن کی
‫منجنیقیں تم پر آگ اور پتھر برسا رہی ہوتی ہیں‪ ،اس وقت قوم کے ہر فرد بشر کے ہاتھ اللہ کے حضور تمہاری سالمتی اور
‫فتح کے لیے اٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے کوچ جمعہ کے روز کیا تھا اور اس جنگ کی ابتدا بھی
‫جمعہ کے روز کی تھی؟ اور تم فاتح ہو۔ تمہیں اللہ کی خوشنودی حاصل ہے۔ یہ ہمارے عظیم عقیدے اور نظریئے کی فتح ہے۔
‫یہ چاند ستارے اور چوبی صلیب کا معرکہ تھا جو چاند ستارے نے جیت لیا… میں تم سے یہ باتیں کیوں کہہ رہا ہوں؟ اس
‫لیے کہ تم میں سے کسی کے دل میں اپنے عقیدے کے متعلق کچھ شک ہو تو وہ رفع ہوجائے اور تم اللہ کی رسی کو اور
‫…''زیادہ مضبوطی سے پکڑ لو
‫تم شاید حیران ہورہے ہو کہ میں نے عکرہ پر حملے کا فیصلہ کیوں کیا ہے۔ جذباتی لحاظ سے اس کی وجہ یہ ہے کہ ''
‫صلیبیوں نے ایک بار مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ شہزادہ ارناط (کائونٹ ریجنالڈ) مکہ معظمہ
‫سے صرف دو کوس دور رہ گیا تھا۔ میں نے ارناط سے مکہ معظمہ کو بری نظر سے دیکھنے کا انتقام لے لیا۔ اب مجھے
‫اقصی کی جو
‫صلیبیوں کے حکمرانوں اور نائٹوں سے انتقام لینا ہے۔ عکرہ ان کا مکہ ہے۔ میں اسے تہہ تیغ کروں گا۔ مسجد
‫ٰ
‫بے حرمتی ہورہی ہے ‪ ،میں اس کا انتقام لوں گا… اور جنگی لحاظ سے بیت المقدس سے پہلے عکرہ پر قبضہ کرنا اس لیے
‫ضروری ہے کہ اس سے صلیبیوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے''۔
‫سلطان ایوبی نے بہت بڑا نقشہ جو اس نے اپنے ہاتھ سے بنا رکھا تھا‪ ،کھول کر سب کے آگے پھیالیا اور حطین پر انگلی
‫رکھ کر کہا… ''تم اس وقت یہاں ہو''… وہ اپنی انگلی اس طرح عکرہ تک تیزی سے لے گیا جیسے اس نے کچھ کاٹنے کے
‫لیے خنجر کی نوک چالئی ہو۔ کہنے لگا… ''میں صلیبیوں کے حکمرانوں کو دو حصوں میں کاٹ کر ان حصوں کے درمیان
‫آجائوں گا ۔ عکرہ پر قبضہ کرکے میں ٹاِئ ر‪ ،بیروت‪ ،حیفہ‪ ،عسقالن اور چھوٹے بڑے تمام ساحلی شہروں اور قصبوں کو تباہ و
‫بربادکروں گا۔ کسی بھی صلیبی کو خواہ وہ فوجی ہے یا غیرفوجی ان عالقوں میں نہیں رہنے دوں گا۔ ساحلی عالقوں پر قبضہ
‫اس لیے بھی ضرورت ہے کہ یورپ کی کچھ اور بادشاہ یہاں اپنے صلیبی بھائیوں کی مدد کے لیے اپنی فوجیں‪ ،مال ودولت اور
‫جنگی سامان بھیجیں گی۔ ساحل تمہارا ہوگا تو دشمن کا کوئی بحری جہاز ساحل کے قریب نہیں آسکے گا۔ یہاں سے ہم بیت
‫المقدس کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ ہمیں جنگ جاری رکھنی ہے''۔
‫اگر آپ فلسطین ( موجودہ اسرائیل) اور لبنان کا نقشہ دیکھیں تو آپ کو جھیل گیلیلی کے کنارے پر حطین اور اس کے بالمقابل
‫سمندر کے کنارے عکرہ نظر آئیں گے۔ جنوب میں یروشلم (بیت المقدس) ہے۔ حطین سے عکرہ پچیس میل اور حطین سے
‫بیت المقدس ستر میل ہے۔ آج کے لبنان اور فلسطین پر صلیبی قابض تھے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے
‫پالن بنایا تھا کہ حطین سے عکرہ تک اس طرح پیش قدمی کرے گا کہ راستے میں آنے والے عالقوں پر قبضہ کرتا جائے گا
‫اور وہاں کے صرف مسلمان باشندوں کو وہاں رہنے دے گا اور صلیبیوں کو وہاں سے نکال دے گا۔ جنگی علوم کے ماہرین نے
‫اسے نہایت عمدہ پالن کہا ہے۔ سلطان ایوبی نے یہ پالن صلیبیوں کی جنگی قوت کو دو حصوں میں کاٹنے کے لیے ہی بنایا

‫تھا۔ اس کی فوج صلیبیوں کے مقابلے میں صلیبیوں کے اتنے زیادہ جانی نقصان کے باوجود کم تھی لیکن اس کی جنگی چالیں
‫صلیبیوں سے برتر اور نقل وحرکت کی رفتار بہت تیز تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫عکرہ کا دفاع بہت مضبوط ہے''… سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے کہا… ''ہمارے جاسوسوں نے بتایا ہے کہ وہاں جوان''
‫اور تندرست مسلمان باشندے قید میں پڑے ہیں۔ عورتیں اور بچے بھی قید میں ہیں‪ ،وہاں کے عیسائی شہری شہر کے دفاع
‫میں جان کی بازی لگا کر لڑیں گے۔ چونکہ مسلمان قید میں ہیں‪ ،اس لیے وہ اندر سے ہماری کوئی مدد نہیں کرسکیں گے۔
‫میں لمبا محاصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ تمہاری یلغار طوفانی ہونی چاہیے۔ عکرہ تک ہماری پیش قدمی کی حفاظت چھاپہ مار کریں
‫گے۔ پیش قدمی پھیل کر ہوگی۔ راستے میں کوئی بستی آباد نہ رہے مگر سپاہی مال غنیمت کے لیے رکیں نہیں۔ اس کام کے
‫لیے الگ جیش مقرر کردئیے گئے ہیں''۔
‫عکرہ میں مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ کوئی بوڑھا یا ا پاہج مسلمان آزاد ہوگا۔ باقی سب دہشت زدگی کی زندگی گزار رہے
‫تھے۔ بہائوالدین شداد نے ان مسلمانوں کی تعداد جو قید میں تھے‪ ،چار ہزار سے زائد لکھی ہے۔ شداد کے عالوہ اس دور کے
‫دو واقعہ نگاروں نے پانچ اور چھ ہزار کے درمیان لکھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ عکرہ مسلمانوں کے لیے قید
‫خانہ تھا۔ کسی مسلمان کی بہو بیٹی کی عزت محفوظ نہیں تھی۔ صلیبیوں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان چلتی پھرتی الشیں بن
‫کے رہ جائیں اور ان کے بچوں میں مذہب اور قومیت کا احساس ہی پیدا نہ ہو‪ ،وہاں کی مسجدیں ویران ہوگئی تھیں۔
‫‪٤جوالئی ‪ ١١٨٧ء کے بعد وہاں کے مسلمانوں پر صلیبیوں نے ظلم وتشدد کا اضافہ کردیا۔ گھروں میں جو مسلمان تھے‪ ،انہیں بھی
‫ہانک کر کھلے قید خانے میں لے گئے۔ یہ ایک طرح کا بیگار کیمپ تھا۔ وہاں مسلمانوں سے مویشیوں کی طرح کام لیا جاتا
‫تھا۔ ‪٥جوالئی ‪ ١١٨٧ء کے بعد انہیں کام کے لیے باہر نہ نکاال گیا اور ان پر پہرہ اور سخت کردیا گیا۔ اس سے ان بدنصیبوں
‫نے اندازہ لگا لیا کہ صلیبیوں کو کہیں شکست ہوئی ہے یا اسالمی فوج نے شہر کا محاصرہ کرلیا ہے۔ عورتیں خدا کے حضور
‫گڑگڑانے لگیں۔ سجدوں پہ سجدے کرنے لگیں۔ قید خانے میں سسکیاں سنائی دینے لگیں‪ ،مائوں نے ننھے ننھے بچوں کے ہاتھ
‫پکڑ کر دعا کے لیے اٹھائے اور کہا… ''بیٹا! کہو اللہ اسالم کو فتح دے‪ ،کہو میرے اللہ باہر کے مسلمانوں کو ہمت دے کہ
‫ہمیں ظالموں کی بستی سے نکال لے جائیں''۔
‫سینکڑوں بچے اور سینکڑوں عورتیں اللہ کے حضور دست دعا تھیں۔ بچے اپنی مائوں کو سسکتا دیکھ کر رونے لگے تھے۔ انہیں
‫آہ وبکا سنائی دی اور اس کے ساتھ کوڑوں کے زناٹے بھی سنائی دینے لگے۔ سب سہم گئے‪ ،انہوں نے دیکھا کہ بہت سے
‫قیدی الئے جارہے تھے۔ یہ شہر کے وہ باشندے تھے جو گھروں میں تھے۔ ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی ساتھ لے آئے
‫تھے‪ ،ان پر کوڑے برسائے جارہے تھے۔
‫‪ ٧/٦جوالئی کی درمیانی رات آدھی گزر گئی تھی جب شہر میں بڑبونگ بپا ہوگئی اور آگ کے شعلے کہیں کہیں سے بلند ہونے
‫لگے۔ تیر اس کھلے قید خانوں میں بھی گرنے لگے۔ ان قیدیوں کے اردگرد خشک زردار جھاڑیوں کی گھنی باڑ بچھی ہوئی تھی
‫اور رسوں کے جال بھی تنے ہوئے تھے۔ رات کو قید خانے کے اردگرد جگہ جگہ مشعلیں جال کر رکھ دی گئیں تاکہ قیدیوں پر
‫نظر رکھی جاسکے۔ کسی قیدی نے باہر سے آیا ہوا ایک تیر اٹھا کر مشعل کی روشنی میں دیکھا تو اس نے چال کر کہا…
‫''میں اس تیر کو پہچانتا ہوں‪ ،یہ اسالمی فوج کا تیر ہے''۔
‫رسوں کے جال میں سے ایک تیر سنسناتا آیا جو اس قیدی کے سینے میں اتر گیا۔ یہ کسی صلیبی سنتری نے اس مسلمان
‫کو خاموش کرنے کے لیے چالیا تھا۔ شہر جاگ اٹھا۔ شہر اور قلعے کی دیواروں پر بھاگ دوڑ اور شور میں اضافہ ہوتا جارہا تھا
‫اور کمانوں سے تیر نکلنے کی آوازیں بڑھتی جارہی تھی۔ باہر ''اللہ اکبر'' کے نعرے گرجنے لگے تھے‪ ،دھمک دھمک کی
‫آوازیں بھی سنائی دینے لگی تھیں۔ یہ بڑے بڑے پتھر تھے جو سلطان ایوبی کی فوج کی منجنیقیں دیوار کے کسی ایک مقام
‫پر پھینک رہی تھیں۔
‫یہ سلطان صالح الدین ایوبی کا محاصرہ تھا جو محاصرہ کم اور یلغار زیادہ تھی۔ شہر میں آگ پھینکنے والی منجنیقوں کے
‫عالوہ دروازوں اور دیوار پر وزنی پتھر پھینکنے والی بڑی منجنیقیں بھی استعمال کی جارہی تھیں۔ بلند مچانیں ساتھ الئی گئی
‫تھیں‪ ،ہر ایک مچان میں دس اور بیس تک سپاہی کھڑے ہوسکتے تھے۔ ان کے نیچے پہئے تھے‪ ،انہیں گھوڑے یا اونٹ
‫کھینچتے تھے۔ یہ متحرک مچانیں دیوار تک لے جائی جاتی تھیں مگر صلیبی شہر کے دفاع میں بے جگری سے لڑ رہے تھے۔
‫شہر ی بھی اپنی فوج کے دوش بدوش لڑ رہے تھے۔ وہ سلطان ایوبی کی متحرک مچانوں پر تیروں کی بوچھاڑیں مار کر
‫مسلمان سپاہیوں کو ختم کردیتے تھے۔ بعض مچانیں جو دیوار کے قریب چلی گئی تھیں‪ ،ان پر صلیبیوں نے جلتی ہوئی مشعلیں
‫پھینکیں اور آتش گیر سیال کی ہانڈیاں پھینک کر انہیں جال ڈاال۔
‫اندر قیدی کیمپ میں اب یہ کیفیت تھی کہ ہزار ہا قیدی ایک ہی آواز میں ال الہ اال اللہ کا ورد کررہے تھے۔ عورتوں نے
‫جھولیاں پھیال رکھی تھیں اور بہتے آنسوئوں سے مردوں کے ساتھ آواز مال کر کلمہ شریف کا ورد کررہی تھیں۔ پھر کسی نے
‫بلند آواز سے کہا… ''نصر من اللہ وفتح وقریب''… فورا ً ہی تمام مردوں‪ ،عورتوں اور بچوں کی آوازیں ایک آواز بن گئی جو
‫جنگ کے شوروغل سے زیادہ بلند تھیں اور سارے شہر میں سنائی دے رہی تھی۔
‫دو تین سنتری اندر آگئے‪ ،وہ قیدیوں کو خاموش کرانے کی کوشش کرنے لگے‪ ،تین چار جوشیلے جوان اٹھے اور سنتریوں پر
‫ٹوٹ پڑے۔ پھاٹک کھال تھا‪ ،باقی قیدی باہر کو دوڑے مگر تیروں کی بوچھاڑ نے آگے والوں کو گرا دیا‪ ،پھر گھوڑے سرپٹ دوڑتے
‫آئے۔ سواروں کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں‪ ،قیدی اندر کو بھاگے اور جو پیچھے رہ گئے تھے‪ ،وہ سواروں کی برچھیوں سے
‫شہید ہوگئے۔ فرار کامیاب نہ ہوسکا۔ عورتیں اور بچے اللہ کے حضور سجدے کرنے لگے اور پھر سب ایک ہی آواز میں کالم
‫پاک کا ورد کرنے لگے۔
‫رات بھر سلطان ایوبی کے جانباز جیش دیوار تک پہنچنے اور شگاف ڈالنے یا سرنگ کھودنے کے لیے آگے بڑھتے رہے اور اوپر
‫سے صلیبی ان پر تیر‪ ،پتھر اور آگ پھینکتے رہے۔ سلطان ایوبی بے دریغ قربانی دے رہا تھا۔ شہر کی دیوار کے ایک مقام پر
‫بڑی منجنیقوں سے وزنی پتھر مارے جارہے تھے۔ صبح طلوع ہوئی تو دیوار پر ہر طرف عکرہ کے شہری اور فوجی مکھیوں کی
‫طرح نظر آرہے تھے۔ وہ تیر برسا رہے تھے‪ ،یہ بھی نظر آیا کہ دیوار ایک جگہ سے پھٹ رہی تھی۔ سلطان ایوبی گھوڑے پر
‫سوار ذرا پیچھے کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اس نے حکم دیا کہ جہاں سے دیوار پھٹ رہی ہے‪ ،اس کے اوپر اور دائیں بائیں سے
‫دشمن پر تیروں کا مینہ برسا دو۔ اس نے دوسری طرف سے بھی تیر انداز بال کر اسی مقام پر مرکوز کردئیے۔ اس نے سرنگیں
‫کھودنے والے جیش سے کہا کہ دوڑ کر دیوار تک پہنچیں۔
‫جانبازوں کا جیش پہنچ گیا۔ دیوار کے اوپر اتنے زیاد اور اتنے تیز تیر برسائے جارہے تھے کہ اوپر والوں کے لیے سر اٹھانا

‫محال ہوگیا۔ جانبازوں نے دیوار میں اتنا شگاف ڈال لیا جس میں سے دو آدمی بیک وقت گزر سکتے تھے۔ سپاہیوں میں اس
‫قدر جوش وخروش تھا کہ وہ حکم کے بغیر شگاف کی طرف اٹھ دوڑے اور ایک دوسرے کے پیچھے اندر چلے گئے۔ صلیبیوں نے
‫دیوار کے اوپر سے نیچے آتے اتنا وقت لگا دیا کہ بہت سے مسلمان سپاہی اندر چلے گئے۔ صلیبیوں نے بے جگری سے مقابلہ
‫کیا مگر ان مسلمان عورتوں اور معصوم بچوں کی دعائیں جو اندر قید میں پڑے کفار کا ظلم وستم سہہ رہے تھے‪ ،عرش تک
‫پہنچ چکی تھیں۔ سلطان ایوبی کی دراصل قوت تو یہ تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫شہر کے اندر بھگدڑ بپا ہوگئی۔ وہاں یہ خبر پہلے ہی پہنچ چکی تھی کہ صلیب الصلبوت مسلمانوں کے قبضے میں چلی گئی
‫ہے اور اس کا محافظ اعظم مارا گیا ہے۔ حطین کی جنگ سے بھاگے ہوئے صلیبی سپاہی بھی اس شہر میں آئے تھے۔ کچھ
‫زخمی بھی پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے اپنی شکست اور پسپائی کو برحق ثابت کرنے کے لیے بڑی دہشت ناک افواہیں پھیالئی
‫تھیں۔ ان کے اثرات اس وقت سامنے آئے جب سلطان ایوبی کے جانبازوں نے دیوار توڑ ڈالی اور رکے ہوئے سیالب کی طرح
‫اندر جانے لگے۔ صلیبیوں نے مقابلہ کیا لیکن شہریوں میں بھگدڑ بپا ہوگئی۔ وہ شہر سے بھاگنے کے لیے دروازوں پر ٹوٹ پڑے
‫اور سپاہیوں کے روکنے کے باوجود تین دروازے کھول دئیے۔
‫شہریوں کا ہجوم دروازوں میں پھنس گیا۔ مسلمان سواروں نے اپنے کمان داروں کے حکم سے گھوڑوں کو ایڑی لگا دی۔ گھوڑے
‫شہریوں کو کچلتے ہوئے اندر چلے گئے‪ ،پھر مجاہدین کے سیالب کو کوئی نہ روک سکا۔ تمام دروازے کھل گئے اور صلیبی
‫ہتھیار ڈالنے لگے۔ سورج غروب ہونے سے پہلے عکرہ کا حکمران سلطان صالح الدین ایوبی کے سامنے کھڑا تھا۔ سلطان ایوبی
‫نے صلیبی فوج کے جرنیلوں اور دیگر کمانڈروں کو الگ کردیا اور اس جگہ چال گیا جہاں مسلمانوں کے پورے پورے کنبے قید
‫میں پڑے تھے۔ ان کے سنتری بھاگ گئے تھے اور قیدی پھاٹک اور رسوں کا جال توڑنے کی کوشش کررہے تھے۔
‫سلطان ایوبی ان سے دور ہی رک گیا۔ یہ تو انسانی الشیں تھیں‪ ،اس نے عورتوں اور بچوں کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں
‫آنسو آگئے۔
‫جائو‪ ،رسے کاٹ دو۔ انہیں آزاد کردو''… سلطان ایوبی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا… ''اور انہیں یہ نہ بتانا کہ میں شہر''
‫میں موجود ہوں‪ ،میں ان کا سامنا نہیں کرسکتا''۔
‫سلطان ایوبی کے حکم پر چند ایک سوار سرپٹ گھوڑے دوڑا کر پہنچے۔ انہوں نے لکڑی کا پھاٹک توڑ دیا۔ کئی جگہوں سے
‫رسوں کا جال کاٹ کر جھاڑیاں ہٹا دیں۔ قیدیوں کا ہجوم بھگدڑ کے انداز سے نکل رہا تھا۔ سواروں نے ان پر قابو پانے کے
‫لیے چال چال کر کہا… '' آرام سے نکلو‪ ،اب تمہیں پکڑنے کوئی نہیں آئے گا۔ وہ دیکھو‪ ،قلعے پر تمہارا جھنڈا لہرا رہا ہے''۔
‫انہوں نے ہمارے گناہوں کی سزا بھگتی ہے''… سلطان ایوبی نے اپنے پاس کھڑے ایک ساالر سے کہا… ''یہ غداروں کے ''
‫گناہ تھے جن کی سزا ان معصوموں کو ملی۔ اپنے دین کے دشمنوں کو دوست سمجھنے والوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ قوم
‫کا کیا حشر ہوگا۔ اگر میرا راستہ تخت وتاج کے شیدائی اور غدار نہ روک لیتے تو ہمارے ان ہزاروں بچوں اور بیٹیوں کی یہ
‫عیسی علیہ ا لسالم نے محبت اور امن کا سبق دیا تھا لیکن صلیب کے پجاریوں میں مسلمانوں کے
‫حالت نہ ہوتی… حضرت
‫ٰ
‫خالف اتنی نفرت بھری ہوئی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کے فرمان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ دنیا میں صرف دو مذہب باقی رہیں
‫گے۔ اسالم اور عیسائیت۔ اگر ہم نے دل سے دنیا کی جھوٹی لذتوں کو نہ نکاال تو عیسائیت ہماری اس کمزوری سے اسالم کا
‫خاتمہ کردے گی''۔
‫سلطان ایوبی اس جگہ گیا جہاں صلیبی جرنیل اور دیگر کمانڈر الگ کھڑے تھے۔ اس نے کہا… ''ان سب کو ساحل پر لے
‫جائو اور سب کو قتل کرکے سمندر میں پھینک دو۔ دوسرے جنگی قیدیوں میں سے چھانٹی کرلو‪ ،جنہیں زندہ رکھنا چاہتے ہو‪،
‫انہیں دمشق بھیج دو اور باقی سب کو ختم کردو۔ کسی نہتے شہری پر ہاتھ نہ اٹھانا۔ ان میں سے جو شہر سے جانا چاہتے
‫ہیں انہیں مت روکو‪ ،جو یہاں رہنا چاہتے ہیں‪ ،انہیں عزت سے رہنے دو''۔
‫‪٨جوالئی ‪١١٨٧ء عکرہ پر قبضہ مکمل ہوچکا تھا۔
‫رات جب سلطان ایوبی کھانے سے فارغ ہوا تو اسے اطالع دی گئی کہ ایک نہایت اہم قیدی اس کے سامنے الیا جارہا ہے۔
‫''کون ہے وہ؟''
‫ہرمن''۔ سلطان کو بتایا گیا۔ ''صلیبیوں کا علی بن سفیان''۔''
‫قارئین نے اس سلسلے کی پچھلی کہانیوں میں ہرمن کا نام کئی بار پڑھا ہوگا۔ یہ علی بن سفیان کی طرح صلیبیوں کی انٹیلی
‫جنس کا سربراہ تھا اور کردار کشی کا ماہر‪ ،جو صلیبی اور یہودی لڑکیاں مسلمان عالقوں میں جاسوسی اور کردار کشی کے لیے
‫بھیجی جاتی تھیں‪ ،انہیں ٹریننگ دینے واال ہرمن تھا۔ وہ اپنی بہت سی لڑکیوں کے ساتھ عکرہ میں تھا اور پکڑا گیا۔ وہ شہر
‫سے نکل رہا تھا لیکن ایوبی کا ایک جاسوس اس کے تعاقب میں تھا۔ اس نے ہرمن کو اس کے بہروپ میں بھی پہچان لیا۔
‫وہ لڑکیوں کو کسان عورتوں جیسا لباس پہنا کر ساتھ لے جارہا تھا۔ جاسوس نے ایک کمان دار کو بتایا۔
‫کمان دار نے دو تین سپاہیوں کے ساتھ ہرمن اور اس کے زنانہ قافلے کو گھیر لیا۔ ہرمن لڑکیوں کے عالوہ اپنے ساتھ سونا
‫بھی لے جارہا تھا۔ اس نے لڑکیاں کمان دار اور اس کے سپاہیوں کے سامنے کھڑی کردیں اور سونا ان کے آگے رکھ دیا۔ بوال…
‫''جسے جو لڑکی پسند ہے لے لے اور یہ سونا بھی آپس میں بانٹ لو''۔
‫مجھے تمام لڑکیاں پسند ہیں''۔ کمان دار نے کہا… ''اور میں سارا سونا لے لوں گا۔ تم بھی میرے ساتھ چلو''۔''
‫وہ ان سب کو ساتھ لے آیا اور ان سب کو سونے سمیت سلطان ایوبی کے ذاتی عملے کے حوالے کردیا۔ ہرمن سلطان ایوبی
‫کے لیے اہم اور قیمتی قیدی تھا۔ اسے سلطان ایوبی کے کمرے میں داخل کردیا گیا۔
‫تم میری زبان جانتے ہو ہرمن!''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اس لیے میری زبان میں بات کرو۔ میں تمہارے فن اور ''
‫تمہاری دانشمندی کا اعتراف کرتا ہوں۔ تمہاری قدر جتنی میں کرسکتا ہوں‪ ،اتنی تمہارے حکمران نہیں کرسکے۔ میں تمہارے
‫ساتھ کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں''۔
‫اگر آپ مجھ سے باتیں کیے بغیر میرے قتل کا حکم دے دیں تو زیادہ اچھا ہوگا''۔ ہرمن نے کہا… ''اگر مجھے عکرہ ''
‫کی فوج کے جرنیلوں اور کمانڈروں کی طرح قتل ہونا اور میری الشوں کو مچھلیوں کی خوراک بننا ہے تو باتیں کرنے سے کیا
‫حاصل؟''۔
‫تم قتل نہیں ہوگے ہرمن!''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں جسے قتل کرایا کرتا ہوں‪ ،اس کی صرف صورت دیکھا کرتا ''
‫ہوں‪ ،اس سے کبھی بات نہیں کرتا''۔
‫سلطان نے دربان کو بالیا اور اسے کہا کہ ہرمن کو شربت پیش کرے۔ ہرمن کے چہرے پررونق آگئی۔ وہ عرب کے اس رواج

‫سے واقف تھا کہ عربی میزبان دشمن کو پانی یا شربت پیش کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے دل سے دشمنی
‫نکال دی ہے اور اس نے جاں بخشی کردی ہے۔ دربان نے شربت پیش کیا جو ہرمن نے پی لیا۔
‫آپ مجھ سے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کون کون سے عالقے میں ہماری کتنی کتنی فوج ہے''… ہرمن نے کہا… ''اور آپ''
‫یہ جاننا چاہیں گے کہ ان کی لڑنے کی اہلیت کیسی ہے''۔
‫نہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''یہ تم مجھ سے پوچھو کہ تمہارے کس عالقے میں کتنی فوج ہے۔ میرے جاسوس تمہارے''
‫سینے کے اندر بیٹھے رہے ہیں… اور اب مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کہاں کتنی فوج ہے۔ حطین میں تمہاری فوج تھوڑی
‫نہیں تھی۔ تھوڑی فوج میری تھی۔ اب اور تھوڑی رہ گئی ہے۔ ارض مقدس سے اب مجھے کوئی فوج نہیں نکال سکتی۔ تم یہ
‫خبر سنو گے کہ صالح الدین ایوبی مرگیا ہے‪ ،پسپا نہیں ہوا''۔
‫اگر آپ کے تمام کمان دار اس کمان دار کے کردار کے ہیں جو مجھے پکڑ الیا ہے تو میں آپ کو یقین کے ساتھ کہتا ہوں''
‫کہ آپ کو بڑی سے بڑی فوج بھی یہاں سے نہیں نکال سکتی''۔ ہرمن نے کہا… ''میں نے اسے جو لڑکیاں پیش کی تھیں‪،
‫انہوں نے آپ کے پتھروں جیسے ساالروں اور قلعہ داروں کو موم کیا اور صلیب کے سانچے میں ڈھاال ہے اور سونا ایسی چیز
‫ہے جس کی چمک آنکھوں کو نہیں‪ ،عقل کو اندھا کردیتی ہے۔ میں سونے کو شیطان کی پیداوار کہا کرتا ہوں۔ آپ کے کمان
‫دار نے سونے کی طرف دیکھا تک نہیں‪ ،میری نظر انسانی فطرت کی کمزوریوں پر رہتی ہے۔ لذت اور ذہنی عیاشی ایمان کو
‫کھا جاتی ہے۔ میں نے آپ کے خالف یہی ہتھیار استعمال کیا ہے۔ جب یہ کمزوریاں کسی جرنیل میں پیدا ہوجاتی ہیں یا
‫پیدا کردی جاتی ہیں تو شکست اس کے ماتھے پر لکھ دی جاتی ہے۔ میں نے آپ کے ہاں جتنے غدار پیدا کیے ہیں‪ ،ان میں
‫پہلے یہی کمزوریاں پیدا کی تھیں۔ حکومت کرنے کا نشہ انسانوں کو لے ڈوبتا ہے''۔
‫میری فوج کے کردار کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
‫اگر آپ کی فوج کا کردار ویسا ہی ہوتا‪ ،جیسا میں بنانے کی کوشش کررہا تھا تو آج آپ کی فوج یہاں نہ ہوتی''… ہرمن''
‫نے کہا… '' اگر آپ بدکردار حکمرانوں‪ ،امیروں‪ ،وزیروں اور ساالروں کو ختم نہ کرچکے ہوتے تو وہ آپ کو کبھی کے ہماری قید
‫میں ڈال چکے ہوتے۔ میں آپ کی تعریف کروں گا کہ آپ نے دل میں حکومت کی خواہش نہیں رکھی''۔
‫ہرمن!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''میں نے تمہاری جان بخشی کی ہے‪ ،تمہیں اپنا دوست کہا ہے‪ ،مجھے یہ بتائو کہ میں''
‫اپنی فوج کے کردار کو کس طرح مضبوط اور بلند رکھ سکتا ہوں اور میرے مرنے کے بعد یہ کردار کس طرح مضبوط رہ سکتا
‫ہے''۔
‫محترم سلطان!'' ہرمن نے کہا… ''میں آپ کو جاسوسی اور سراغ رسانی کا استاد سمجھتا ہوں۔ آپ صحیح مقام پر ''
‫ضرب لگاتے ہیں۔ آپ کا جاسوسی کا نظام نہایت کارگر ہے‪ ،علی بن سفیان‪ ،حسن بن عبداللہ اور بلبیس جیسے جاسوسی کے
‫ماہرین کی موجودگی میں آپ ناکام نہیں ہوسکتے مگر میں آپ کو یہ بتا دو کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک ہے۔ ہم نے آپ
‫کے ہاں جو بیج بویا ہے‪ ،وہ ضائع نہیں ہوگا۔ آپ چونکہ ایمان والے ہیں‪ ،اس لیے آپ نے بے دین عناصر کو دبا لیا ہے۔ خانہ
‫جنگی کس نے کرائی تھی؟… ہم نے۔ ہم نے آپ کے امراء کے دلوں میں حکومت‪ ،دولت‪ ،لذت اور عورت کا نشہ بھر دیا ہے۔
‫…''آپ کے جانشین اس نشے کو اتار نہیں سکیں گے۔ میرے جانشین اس نشے کو تیز کرتے رہیں گے
‫محترم سلطان! یہ جنگ جو ہم لڑ رہے ہیں‪ ،یہ میری اور آپ کی یا ہمارے بادشاہوں کی اور آپ کی جنگ نہیں۔ یہ کلیسا''
‫اور کعبہ کی جنگ ہے جو ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گی۔ ہم میدان جنگ میں نہیں لڑیں گے۔ ہم کوئی ملک فتح
‫نہیں کریں گے‪ ،ہم مسلمانوں کے دل ودماغ کو فتح کریں گے۔ ہم مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا محاصرہ کریں گے‪ ،ہماری یہ
‫لڑکیاں‪ ،ہماری دولت اور ہماری تہذیب کی کشش‪ ،جسے آپ بے حیائی کہتے ہیں‪ ،اسالم کی دیواروں میں شگاف ڈالیں گی‪ ،پھر
‫مسلمان اپنی تہذیب سے نفرت اور یورپ کے طور طریقوں سے محبت کریں گے۔ وہ وقت آپ نہیں دیکھیں گے‪ ،میں نہیں
‫دیکھوں گا۔ ہماری روحیں دیکھیں گی''۔
‫سلطان ایوبی جرمن نژاد ہرمن کی باتیں بڑی غور سے سن رہا تھا۔ ہرمن کہہ رہا تھا… ''ہم نے فارس‪ ،افغانستان یا ہندوستان
‫پر جا کرقبضہ کیوں نہیں جمایا؟ ہم نے عرب کو کیوں میدان جنگ بنایا ہے؟… صرف اس لیے کہ ساری دنیا کے مسلمان اسی
‫خطے کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہیں اور یہاں مسلمانوں کا کعبہ ہے۔ ہم مسلمانوں کے اس مرکز کو ختم کررہے ہیں۔
‫اقصی سے آسمانوں پر گئے تھے‪ ،ہم نے اس کی منڈیر پر
‫آپ کا عقیدہ ہے کہ آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد
‫ٰ
‫صلیب رکھ دی ہے اور وہاں کے مسلمانوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ غلط ہے کہ ان کے رسول صلی اللہ علیہ
‫وآلہ وسلم کبھی یہاں آئے اور یہاں سے معراج کو گئے تھے''۔
‫ہرمن!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''میں تمہارے نظریئے اور عزائم کی تعریف کرتا ہوں‪ ،اپنے مذہب کے ساتھ ہر کسی کو ''
‫اسی طرح وفادار ہونا چاہیے جیسے تم ہو۔ زندہ وہی قوم رہتی ہے جو اپنے مذہب اور اپنی معاشرتی اقدار کی پاسبانی کرے
‫اور ان کے گرد ایسا حصار کھینچے کہ کوئی باطل نظریہ انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ میں جانتا ہوں کہ یہودی ہمارے ہاں
‫نظریاتی تخریب کاری کررہے ہیں اور وہ تمہارا ساتھ دے رہے ہیں۔ میں بیت المقدس جارہا ہوں اور اسی غرض سے جارہا ہوں
‫تعالی نے یہاں
‫جس غرض سے تم یہاں آئے ہو۔ یہ ہمارے عقیدوں کا مرکز ہے۔ میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ
‫ٰ
‫سے معراج کی سعادت بخشی تھی۔ میں اسے صلیب کے قبضے سے چھڑائوں گا''۔
‫قصی پھر ہماری عبادت گاہ بن جائے ''
‫پھر کیا ہوگا؟'' ہرمن نے کہا… ''پھر آپ اس دنیا سے اٹھ جائیں گے۔ مسجد ا
‫ٰ
‫گی۔ میں جو پیشن گوئی کررہا ہوں‪ ،یہ اپنی اور آپ کی قوم کی فطرت کو بڑی غور سے
‫د یکھ کر کررہا ہوں۔ ہم آپ کی قوم کو ریاستوں اور ملکوں میں تقسیم کر کے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیں گے اور
‫فلسطین کا نام ونشان نہیں رہے گا۔ یہودیوں نے آپ کی قوم کے لڑکوں اور لڑکیوں میں لذت پرستی کا بیج بونا شروع کردیا
‫ہے۔ ان میں سے اب کوئی نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی پیدا نہیں ہوگا''۔
‫سلطان ایوبی کا ذہن فارغ نہیں تھا۔ اس نے ہرمن سے مسکرا کر ہاتھ مالیا اور کہا… ''تمہاری باتیں بہت قیمتی ہیں۔ میں
‫تمہیں دمشق بھیج رہا ہوں‪ ،وہاں تمہیں معزز قیدیوں میں رکھا جائے گا''۔
‫''اور یہ لڑکیاں جو میرے ساتھ ہیں؟''
‫سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھوگیا۔ کچھ دیر بعد بوال… ''میں عورتوں کو جنگی قیدی نہیں بنایا کرتا‪ ،انہیں قتل کرکے
‫سمندر میں پھینک سکتا ہوں''۔
‫محترم سلطان! یہ بہت ہی خوبصورت لڑکیاں ہیں''۔ ہرمن نے کہا… ''آپ انہیں ایک نظر دیکھیں تو آپ انہیں قتل نہیں''
‫کریں گے‪ ،قید میں بھی نہیں ڈالیں گے۔ آپ کے مذہب میں لونڈی کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت ہے‪ ،لونڈیوں کو حرم میں

‫رکھا جاسکتا ہے''۔
‫میرے مذہب نے ایسی عیاشی کی اجازت کبھی نہیں دی''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں اپنے گھر میں یا کسی بھی ''
‫مسلمان کے گھر سانپ نہیں پال سکتا''۔
‫مگر ان کا کوئی قصور نہیں''۔ ہرمن نے کہا… ''انہیں اس کام کے لیے بچپن سے تیار کیا گیا تھا''۔''
‫اسی لیے میں ان کے قتل کا حکم نہیں دے رہا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں انہیں چلے جانے کی اجازت دیتا ہوں۔ ''
‫میں تمہاری اس سوچ کی تعریف کرتا ہوں کہ تم یہ شیریں زہر میری قوم میں پھیالنا چاہتے ہو لیکن میں بھی تمہاری طرح
‫نظر آگئی تو اسے
‫سوچ سکتا ہوں۔ انہیں کہہ دو کہ عکرہ سے نکل جائیں۔ ان میں کوئی بھی یہاں کہیں یا جہاں کہیں
‫قتل کردیا جائے گا''۔
‫سلطان ایوبی نے دو تین دنوں میں عکرہ میں اپنی حکومت قائم کردی۔ مسجدوں کو صاف کرایا۔ جو مال غنیمت ہاتھ آیا تھا‪،
‫اس میں سے خاصا حصہ اپنی فوج میں تقسیم کیا۔ کچھ ان مسلمان گھرانوں کو دیا جو قید میں پڑے رہے تھے مگر اس کی
‫دلچسپیوں کا مرکز فلسطین کا نقشہ تھا۔ اس کی انگلی آج کے لبنان اور اسرائیل کے ساحل کے ساتھ ساتھ نقشے پر چل رہی
‫تھی اور اس کے دل ودماغ پر بیت المقدس غالب تھا۔ اسے ادھر ادھر کی کوئی ہوش نہیں تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا
‫کون سا دستہ کہاں ہے۔ چھاپہ مار دستوں کی تقسیم نہایت اچھی تھی۔ ان کا دوسرے دستوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ تھا۔
‫سلطان عالی مقام!'' سلطان ایوبی کو حسن بن عبداللہ کی آواز سنائی دی۔''
‫حسن!'' سلطان نے نقشے سے آنکھیں ہٹائے بغیر کہا… ''جو کہنا ہوتا ہے‪ ،فورا ً کہہ دیا کرو۔ ہمارے پاس وقت نہیں کہ ''
‫ہر بات سرکاری طور طریقوں سے کریں۔ میرا مقام اس روز عالی ہوگا جس روز میں فاتح کی حیثیت سے بیت المقدس میں
‫داخل ہوں گا''۔
‫تریپولی سے اطالع آئی ہے کہ ریمانڈ مرگیا ہے''۔''
‫''زخمی تھا؟''
‫نہیں سلطان!'' حسن بن عبداللہ نے جواب دیا… ''وہ صحیح وسالمت تریپولی پہنچا تھا۔ دوسرے دن اپنے کمرے میں مرا''
‫ہوا پایا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس نے خودکشی کی ہو''۔
‫وہ اتنا خوددار اور غیور نہیں تھا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''وہ پہلے بھی کئی بار شکست کھا کر میدان سے بھاگ چکا''
‫ہے۔ بہرحال مجھے اس کے مرنے کا افسوس ہے۔ اس نے مجھے قتل کرانے کے لیے حشیشین سے تین حملے کرائے تھے''۔
‫مؤرخین نے ریمانڈ آف تریپولی ( موجودہ لبنان) کی موت کی مختلف وجوہات لکھی ہیں۔ قاضی بہائوالدین شداد نے پھیپھڑوں
‫کی بیماری لکھی ہے لیکن زیادہ تر نے لکھا ہے کہ اسے حشیشین نے زہر دے دیا تھا۔ ریمانڈ دوغلے کردار کا اور سازشی ذہن
‫کا صلیبی حکمران تھا۔ مسلمانوں میں خانہ جنگی کرانے میں اس کا بھی ہاتھ تھا۔ صلیبی حکمرانوں میں منافرت پھیالنے سے
‫بھی باز نہیں آتا تھا۔ اس کا یارانہ حسن بن صباح کے فدائیوں کے ساتھ تھا۔ سلطان ایوبی پر اس نے ایک دو قاتالنہ حملہ
‫کرائے تھے۔ اس نے ایک دو صلیبی حکمرانوں کو بھی فدائی حشیشین سے قتل کرانے کی کوشش کی تھی مگر نہ صرف ناکام
‫رہا بلکہ جنہیں وہ قتل کرانا چاہتا تھا‪ ،انہیں اس کے منصوبے کا علم بھی ہوگیا تھا۔ اس دور کے کاتبوں اورواقعہ نگاروں کی
‫غیرمطبوعہ تحریروں میں ایسے اشارے ملتے ہیں کہ ریمانڈ اتحادیوں کے ساتھ صلیب الصلبوت پر حلف اٹھا کر حطین کے میدان
‫میں گیا تھا لیکن بھاگ آیا۔ تریپولی پہنچا تو اگلے ہی روز اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ زندگی کی آخری رات حشیشین کا
‫سردار شیخ سنان اس کے پاس گیا تھا۔
21:05
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 151فصل صلیبی جس نے کاٹی تھی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫زندگی کی آخری رات حشیشین کا سردار شیخ سنان اس کے پاس گیا تھا۔ اس سے پہلے ایک ا ور مشہور صلیبی حکمران
‫بالڈون مرگیا تھا۔ یہ فرنگیوں ( فرینکس) کا جنگجو بادشاہ تھا۔ آپ نے اس کا ذکر ان کہانیوں میں کئی بار پڑھا ہوگا۔ بیت
‫المقدس اس کی عملدار میں تھا۔ بالڈون جنگی امورکا ماہر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سلطان ایوبی بیت المقدس کو فتح کرنا چاہتا
‫ہے۔ بالڈون نے بیت المقدس کو بچانے کا یہ اہتمام کیے رکھا کہ اپنی فوجیں مسلمان عالقوں میں گھماتا پھراتا اور لڑتا رہا اور
‫یہ اس کی قابلیت کا ثبوت ہے کہ اس نے عزالدین‪ ،سیف الدین اور گمشتگین کو متحد کرکے سلطان ایوبی کے خالف محاذ آرا
‫کردیا تھا اور اس محاذ کو وہ جنگی سازوسامان‪ ،شراب‪ ،زروجواہرات ا ور حسین لڑکیوں سے مستحکم کرتا رہتا تھا۔ بوڑھا آدمی
‫تھا‪ ،جنگ حطین سے چند روز پہلے مرگیا۔ اس کی جگہ گائی آف لوزینان نے بیت المقدس کی حکومت سنبھال لی تھی۔
‫٭ ٭ ٭
‫تاریخ آج تک کمانڈو اور گوریال آپریشن کی ایسی مثال پیش نہیں کرسکی جیسی سلطان ایوبی کے چھاپہ مار دستوں نے کی
‫تھی۔ چھاپہ مار دشمن کے ہاں تباہی بپا کرسکتے ہیں لیکن کسی عالقے پر قبضہ نہیں کرسکتے۔ قبضہ فوج کیا کرتی ہے
‫بشرطیکہ وہ فوج تیز ہو اور چھاپہ ماروں کی بپا کی ہوئی افراتفری اور تباہی کے فورا ً بعد حملہ کردے۔ سلطان ایوبی نے چھاپہ
‫ماروں اور فوج کو مشن دے دیا تھا‪ ،جو مختصرا ً یوں تھا کہ بیت المقدس کے اردگرد‪ ،دوردور تک کے عالقوں سے صلیبی کو
‫بے دخل اور تباہ کرنا‪ ،ساحلی عالقوں کی قلعہ بندیوں پر قبضہ کرنا اور دشمن کا جس قدر اسلحہ اور رسد ہاتھ آئے‪ ،اسے
‫محفوظ مقامات پر ذخیرہ کرنا۔
‫سلطان ا یوبی نے اپنی فوج کو واضح مقصد دے رکھا تھا۔ یہی اس کی اصل قوت تھی۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے
‫کہہ رکھا تھا کہ جس شہر اور قصبے پر قبضہ کرو‪ ،وہاں کے مسلمانوں کی حالت اپنے سپاہیوں کو دکھائو‪ ،انہیں وہ مسجدیں
‫دکھائو جنہیں صلیبیوں نے ویران کیا اور بے حرمتی کی تھی۔ انہیں وہ مسلمان خواتین دکھائو جو صلیبیوں کے ہاتھوں بے آبرو
‫ہوتی رہیں۔ انہیں اچھی طرح دکھائو کہ ہمارا دشمن کیسا ہے اور اس کے عزائم کیا ہیں۔
‫یہی وجہ تھی کہ سلطان ایوبی کی فوج کا چھوٹے سے چھوٹا دستہ بڑے سے بڑے دستے پر قہر بن کر ٹوٹا۔ سپاہیوں نے وہ
‫سب کچھ دیکھ لیا تھا جو سلطان ایوبی انہیں دکھانا چاہتا تھا۔ یہ دیوانگی کی کیفیت تھی‪ ،ایک جنون تھا‪ ،سلطان ایوبی کے
‫کانوں میں ایک ہی آواز پڑتی تھی… ''فالں قصبے پر قبضہ کرلیا گیا ہے… فالں مورچے سے صلیبی پسپا ہوگئے ہیں''…
‫سپاہی آرام کے بغیر مسلسل لڑ اور بڑھ رہے تھے مگر ایک روز سلطان ایوبی سر سے پائوں تک ہل گیا۔
‫وہ اپنے کمرے میں نقشے پر جھکا ہوا اپنی ہائی کمان کے ساالروں اور مشیروں سے اگال پالن تیار کررہا تھا‪ ،باہر شور اٹھا۔

‫''میں تمہارے سلطان کو بھی قتل کردوں گا۔ تم صلیب کے پجاری ہو‪ ،چھوڑ دو مجھے… نعرٔہ تکبیر… اللہ اکبر''… یہ ایک
‫ہی آدمی کی آواز تھی۔ اس کے ساتھ کئی اور آوازیں سنائی دے رہی تھیں… ''یہاں سے لے جائو اسے… سلطان خفا ہوں
‫گے… ماردو‪ ،جان سے مار دو اسے… اس کے منہ پر پانی پھینکو… پاگل ہوگیا ہے''۔
‫سلطان ایوبی دوڑ کر باہر نکال۔ اسے توقع تھی کہ کوئی صلیبی سپاہی ہوگا مگر وہ اس کی اپنی فوج کا ایک کمان دار تھا
‫جس کے دونوں ہاتھ خون سے الل تھے اور اس کے کپڑوں پر خون ہی خون تھا۔ اس کی آنکھیں خون کی طرح گہری الل
‫تھیں اور اس کے ہونٹوں کے کونوں سے جھاگ پھوٹ رہی تھی۔ اسے چار آدمیوں نے بازوئوں سے جکڑ رکھا تھا‪ ،وہ قابو میں
‫نہیں آرہا تھا۔
‫چھوڑ دو اسے''۔ سلطان ایوبی نے گرج کرکہا۔''
‫سلطان!'' اس کمان دار نے قہر بھری آواز میں کہا۔ ''یہاں آکر تمہاری سب فوج بے غیرت ہوگئی ہے‪ ،کفار کیوں زندہ ''
‫''نکل رہے ہیں۔ تم ہمارے سلطان بنے پھرتے ہو‪ ،تم نے ان مسلمان عورتوں اور بچوں کو دیکھا تھا جو قید میں پڑے تھے؟
‫سلطان کے محافظ دستے کے کمانڈر نے لپک کر اس کمان دار کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ کمان دار نے اس کمانڈر کے بازو کو
‫پکڑ کر اتنی زور سے جھٹکا دیا کہ کمانڈر اس کے کندھوں کے اوپر سے ہوتا ہوا سلطان ایوبی کے سامنے جاپڑا۔
‫مت روکو اسے بولنے سے''… سلطان ایوبی نے ایک بار پھر گرج کر کہا… ''آگے آئو دوست! امجھے بتائو انہوں نے ''
‫''تمہیں کیوں پکڑ لیا ہے؟
‫بات یہ کھلی کہ وہ ایک جیش کا کمان دار تھا۔ اسے یہ فرض سونپا گیا تھا کہ جو مسلمان کنبے قید میں پڑے رہے تھے‪،
‫ان کے گھروں میں اناج وغیرہ پہنچائے اور ان میں جو بیمار ہیں‪ ،انہیں فوج کے طبیبوں کے پاس بھیجے۔ اس کام کے لیے
‫سو سو سپاہیوں کے دو جیش مقرر کیے گئے تھے۔ یہ کمان دار مظلوم مسلمانوں کے گھروں میں جاتا رہا۔ ان سے اسے معلوم
‫ہوتا رہا کہ عیسائیوں نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا۔ یہ تفصیالت بڑی ہی دردناک اور بڑی ہی شرمناک تھیں۔ اس کمان
‫دار نے اپنی فوج کے سپاہیوں کو مسجدیں صاف کرتے دیکھا۔ ایک مسجد میں دو عورتوں کی برہنہ الشیں نکلیں جو گل سڑ
‫رہی تھیں۔ یہ اس کمان دار نے دیکھ لیں۔
‫الشیں نکالنے اور مسجد کو صاف کرنے والے سپاہیوں کے آنسو بہہ رہے تھے۔ ان میں سے ایک کہہ رہا تھا۔ ہماری بہنوں اور
‫بیٹیوں کی یہ حالت ہوتی رہی اورہمارے سلطان نے کفار کو اجازت دے دی ہے کہ جو یہاں سے جانا چاہے‪ ،اپنے کنبے کو لے
‫کر چال جائے۔
‫اس کمان دار کا خون کھول اٹھا۔ وہ آگے گیا تو پندرہ بیس لڑکیاں اسے جاتی نظر آئیں‪ ،ان کے ساتھ اس کا ایک ساتھی
‫کمان دار چند ایک سپاہیوں کے ساتھ جارہا تھا۔ لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں‪ ،کمان دار نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ یہ
‫لڑکیاں کون ہیں اور ان کے ساتھ سپاہی کیوں جارہے ہیں؟
‫یہ وہ لڑکیاں ہیں جنہوں نے مصر اور شام میں غدار پیدا کیے تھے''… کمان دار نے اسے بتایا۔ وہ اسے قافلے کے ساتھ ''
‫چل پڑا۔ اس کے ساتھی نے اسے سنایا… ''ان کی کارستانیاں تم سنتے رہے ہو۔ ان کا سردار (ہرمن) پکڑا گیا ہے۔ یہ سب
‫صلیبی ہیں۔ سلطان نے ان کے سردار کو قید میں ڈال دیا ہے اور لڑکیوں کے متعلق حکم دیا ہے کہ انہیں شہر سے دور لے
‫جا کر ان عیسائیوں کے حوالے کردو جو عکرہ سے جارہے ہیں''۔
‫اور تم انہیں زندہ چھوڑ آئو گے؟'' کمان دار نے پوچھا۔''
‫ہاں‪ ،حکم یہی مال ہے''۔''
‫کیا یہ ہماری ان بہنوں سے زیادہ پاک اور مقدس ہیں جن کی برہنہ الشیں مسجدوں سے نکل رہی ہیں اور جنہیں قید میں''
‫''رکھ کر بے آبرو کیا جاتا رہا ہے؟
‫اس کے ساتھی نے آہ بھر کر کہا… ''میں حکم کا پابند ہوں''۔
‫کمان دار رک گیا اور اس قافلے کو جاتے دیکھتا رہا۔ا چانک اس نے تلوار نکال لی اور ان کی طرف دوڑ پڑا۔ اس نے نعرہ
‫لگایا… ''میں کسی کا پابند نہیں''… اس نے تلوار اس قدر تیز چالئی کہ پلک جھپکتے ہی تین چار لڑکیوں کے سر کاٹ
‫ڈالے۔ ان کا محافظ کمان دار اسے پکڑنے کو دوڑا۔ لڑکیاں چیختی چالتی ادھر ادھر بھاگیں۔ کمان دار ایک ایک لڑکی کے
‫پیچھے گیا اور مزید تین چار لڑکیوں کو ختم کردیا۔ ایک سپاہی اسے پکڑنے کے لیے قریب گیا تو اس نے اس سپاہی کے پیٹ
‫میں تلوار برچھی کی طرح گھونپ دی۔ پھر اس کے قریب کوئی نہیں جاتا تھا۔ اس نے باقی لڑکیوں کو دیکھا جو ادھر ادھر
‫بھاگ گئی تھیں۔
‫اس طرح وہ شہر سے باہر نکل گئے۔ اسے کچھ عیسائی شہر سے جاتے نظر آئے۔ کمان دار نے ان پر حملہ کردیا۔ اس کے
‫سامنے جو آیا‪ ،اسے اس نے قتل کیا اور یہی نعرے لگاتا رہا… ''میں بے غیرت نہیں ہوں۔ اللہ اکبر''۔
‫اس کے ساتھی کمان دار کے واویلے پر کئی ایک سپاہی اکٹھے ہوگئے جنہوں نے اسے گھیر کر پکڑ لیا۔ اسے گھسیٹ کر الرہے
‫تھے کہ اس عمارت کے قریب سے گزرے جہاں سلطان ایوبی اپنے عملے کے ساتھ قیام پذیر تھا۔ کسی نے کہا کہ اسے
‫سلطان کے عملے کے حوالے کردو۔ وہ ڈرتے تھے کہ سلطان کے حکم کی خالف ورزی ہوئی ہے‪ ،کسی نہتے شہری پر ہاتھ
‫اٹھانے کا جرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ کمان دار چال رہا تھا۔ اس کا شور سن کر سلطان ایوبی باہر نکل آیا۔
‫سلطان ایوبی نے یہ واردات سنی اور کمان دار کی لعن طعن بھی سنی۔ سب ڈر رہے تھے کہ سلطان اسے قید میں ڈال دے
‫گا لیکن سلطان نے اسے گلے لگا لیا اور اندر لے گیا۔ اسے شربت پالیا اور اسے ذہن نشین کرایا کہ ان کا مقصد صلیبیوں کا
‫قتل نہیں بلکہ اپنے قبلٔہ اول کو آزاد کرکے اس تمام سرزمین عرب سے صلیبیوں کو نکالنا ہے۔ کمان دار کی ذہنی حالت
‫ٹھکانے نہیں تھی۔ اسے سلطان ایوبی نے اپنے طبیب کے حوالے کردیا۔
‫فوج کو اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے''۔ سلطان ایوبی نے ساالروں اور مشیروں سے کہا… ''لیکن ایمان دیوانگی کی حد تک''
‫ہی پختہ ہونا چاہیے۔ ہمارا یہ کمان دار ہوش اور عقل کھو بیٹھا ہے۔ اگر مسلمان اپنے دین کے دشمن کو دیکھ کر دیوانے
‫ہوجائیں تو اسالم کا پرچم وہاں تک پہنچ جائے جہاں یہ زمین ختم ہوجاتی ہے''۔
‫ہرمن کی جو لڑکیاں اس کمان دار سے بچ کر بھاگ گئی تھیں‪ ،ان میں سے دو سمندر کے کنارے جا پہنچیں۔ سمندر دور نہیں
‫تھا۔ وہ خوف سے کانپ رہی تھیں اور پناہ ڈھونڈ رہی تھیں۔ وہ ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گئیں۔ فورا ً بعد ایک کشتی کنارے
‫آلگی۔ اس میں دو مالح تھے‪ ،تیسرا کوئی افسر معلوم ہوتا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کی بحریہ کا ایک افسر تھا جس کا نام
‫الفارس بیدرین لکھا گیا ہے۔ بحریہ کا سب سے بڑا کمانڈر عبدل الحسن تھا جو رئیس البحرین (دو سمندروں‪ ،بحروم اور بحیرٔہ
‫احمر) کا ''ہائی ایڈمرل'' کہالتا تھا۔ اس کے نیچے امیر البحر حسام الدین لولو تھا۔

‫سلطان ایوبی کے حکم سے بحری بیڑہ جس کا ہیڈکوارٹر سکندریہ میں تھا‪ ،بحیرٔہ روم میں گشت کرتا تھا کہ یورپ سے
‫صلیبیوں کے لیے کمک اور سامان وغیرہ آئے تو ان کے جہازوں کو راستے میں ہی روکا جاسکے۔ حسام الدین لولو‪ ،بحیرٔہ احمر
‫میں تھا۔ سلطان ایوبی چونکہ ساحلی عالقے پر قبضہ کرنا چاہتا تھا‪ ،اس لیے مصری بیڑے کو حکم بھیجا تھا کہ چھ بحری
‫جہاز ساحل کے ساتھ بھیج دئیے جائیں۔ یہ جنگی جہاز تھے جن میں منجنیقوں کے عالوہ دور مار تیر انداز اور لڑاکا دستے
‫بھی تھے۔
‫رئیس البحرین نے الفارس بیدرین کی کمانڈ میں چھ جہاز بھیجے تھے اور الفارس اپنے بحری جہاز سے کشتی میں آیا تھا۔ وہ
‫احکام لینے کے لیے سلطان ایوبی کے پاس جارہا تھا۔ ساحل پر اسے یہ دو صلیبی لڑکیاں نظر آئیں جو کسانوں کے لباس میں
‫تھیں۔ الفارس ان کے قریب چال گیا اور پوچھا کہ وہ کون ہیں اور یہاں کیا کررہی ہیں؟ لڑکیوں نے بتایا کہ وہ خانہ بدوش
‫قبیلے کی ہیں جو جنگ کی زد میں آگیا تھا۔ ان کے بہت سے مرد مارے گئے اور باقی ادھر ادھر بھاگ گئے ہیں۔
‫اور ہم چھپتی پھر رہی ہیں''۔ ایک لڑکی نے کہا… ''عیسائیوں سے ہم اس لیے ڈرتی ہیں کہ وہ ہمیں مسلمان سمجھتے…''
‫ہیں اور مسلمان ہمیں عیسائی سمجھتے ہیں''۔
‫''تم مسلمان ہو یا عیسائی؟''
‫ہمارا مذہب وہی ہے جو ہمارے مالک کا ہوگا''۔ دوسری لڑکی نے کہا… ''ہمیں کسی نہ کسی کے ہاتھ فروخت ہی ہونا ''
‫ہے''۔
‫الفارس بیدرین بحری لڑائی کا ماہر اور غیرمعمولی طور پر دلیر کمانڈر تھا۔ ان خوبیوں کے عالوہ اسے اس لیے بھی پسند کیا
‫جاتا ہے کہ وہ شگفتہ طبیعت کا زندہ مزاج آدمی تھا۔ اس دور میں اس کی حیثیت کے آدمی بیک وقت دو دو تین تین بیویاں
‫رکھتے تھے لیکن اس نے شادی ہی نہیں کی تھی۔ وہ جنگ وجدل کا زمانہ تھا۔ بحریہ کو کئی کئی مہینے سمندر میں رہنا
‫پڑتا اور خشکی دیکھنی نصیب نہیں ہوتی تھی۔ ہر بحری جہاز کا کپتان اپنی بیوی یا بیویوں کو ساتھ رکھتا تھا۔
‫الفارس کو ان لڑکیوں کے حسن نے ایسا متاثر کیا کہ اس کے اندر یہ احساس بیدار ہوگیا کہ وہ تین مہینوں سے زیادہ عرصے
‫سے سمندر میں گھوم پھر رہا ہے‪ ،اس نے لڑکیوں سے پوچھا کہ وہ اس کے ساتھ رہنا پسند کریں تو انہیں اپنے جہاز میں
‫رکھے گا۔
‫ہم بے بس اور کمزور لڑکیاں ہیں‪ ،ہمارے ساتھ دھوکہ نہیں ہونا چاہیے''۔''
‫میں تمہیں فروخت نہیں کروں گا''۔ الفارس نے کہا۔ ''مصر لے جائوں گا اور دونوں کے ساتھ شادی کرلوں گا''۔''
‫لڑکیوں نے ایک دوسری کی طرف دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ طے کیا اور الفارس کے ساتھ چلنے کی رضا مندی ظاہر
‫کردی۔ الفارس نے اپنی کشتی کے مالحوں سے کہا… ''انہیں میرے جہاز میں لے جائو۔ انہیں میرے کمرے میں کھانا دو اور
‫انہیں وہیں چھوڑ کر واپس یہیں آجائو اور میرا انتظار کرو''۔
‫لڑکیوں کو کشتی میں بٹھا کر الفارس رومانی گیت گنگناتا عکرہ کو چل دیا۔
‫الفارس!'' سلطان ایوبی نے اسے کہا… ''میں تمہارے نام سے واقف ہوں۔ تمہارے دو تین بحری کارنامے بھی سنے ہیں ''
‫لیکن اب صورتحال کچھ اور ہے۔ پہلے تم اکا دکا معرکہ لڑتے رہے ہو۔ اب بڑے پیمانے کی بڑی جنگ کا امکان ہے۔ میں بیت
‫المقدس فتح کرنے آیا ہوں لیکن اس سے پہلے میں تمام بڑی بڑی بندرگاہوں پر قبضہ کرنا اور شمال سے جنوب تک کے
‫ساحلی عالقوں کو اپنی تحویل میں لینا ضروری سمجھتا ہوں۔ ان ساحلی شہروں میں بیروت‪ ،ٹائر اور عسقالن بہت اہم ہیں۔
‫تمہارے ساتھ میرا رابطہ قاصدوں سے ہوگا۔ تمہاری دو تین کشتیاں ساحل کے ساتھ موجود رہنی چاہئیں۔میں خشکی پر جدھر
‫جائوں گا تمہیں اطالع دیتا رہوں گا۔ تمہارے جہاز سمندر میں گشت کرتے رہیں گے… تمہارے جہازوں میں اسلحہ اور رسد کی
‫''کمی تو نہیں؟
‫ہم ہر لحاظ سے تیار ہوکر آئے ہیں''۔ الفارس بیدرین نے جواب دیا۔''
‫بڑے پیمانے کی جنگ کا بھی امکان ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''صلیبیوں نے حطین میں جو شکست کھائی ہے اور'' ‪:
‫جس برے طریقے سے یہ بھاگے ہیں‪ ،یہ دنیائے صلیب کے لیے معمولی سا واقعہ نہیں۔ ان کے چار حکمران میری قید میں
‫ہیں‪ ،ایک کو میں نے قتل کردیا ہے۔ ریمانڈ مر گیا ہے۔ ان کا بڑا ہی قابل اور دلیر بادشاہ بالڈون بھی مرگیا ہے۔ اس کے
‫فرنگی بہت بڑی طاقت ہیں‪ ،مجھے قاہرہ سے علی بن سفیان نے اطالع دی ہے کہ انگلستان کا بادشاہ رچرڈ اور جرمنی کا
‫بادشاہ فریڈرک ارض فلسطین پر صلیب کی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے اپنی فوجوں اور بحری بیڑے کے ساتھ آنے کی تیاری
‫کررہے ہیں۔ وہ آئے تو میں فیصلہ کرسکوں گا کہ انہیں خشکی پر آنے دوں یا سمندر میں ہی روکنے کی کوشش کروں۔
‫انگلستان کے بحری بیڑے کے متعلق سنا ہے کہ زیادہ طاقت ور ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے بارود تیار کیا ہے اور ایسی
‫نلکیوں میں بھرا ہے جنہیں آگ لگائو تو نلکیاں اڑتی ہوئی آتی اور جہازوں کو آگ لگا دیتی ہیں۔ میں ایسی نلکیاں حاصل
‫کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہم خود بنا لیں گے… بہرحال تم ساحل کے ساتھ اپنے جہازوں کو رکھنا۔ رئیس البحرین المحسن
‫کھلے سمندر میں رہے گا''۔
‫الفارس نے مزید احکامات لیے اور چال گیا۔ کشتی اس کے انتظار میں کھڑی تھی۔ اپنے بحری جہاز میں جاکر اس نے د وسرے
‫جہازوں کے کپتانوں کو بالیا‪ ،انہیں ہدایات اور احکامات دے کر رخصت کردیا اور اپنے کیبن میں چال گیا جہاں دو لڑکیاں اس
‫کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔ وہ بھولی بھالی بنی رہیں اور اس سے پوچھتی رہیں کہ وہ سمندر میں کیا کرتا ہے۔ الفارس لمبے
‫عرصے سے سمندر میں تھا۔ اس پر ہنسنے کھیلنے کی کیفیت طاری ہوگی۔ ان لڑکیوں کو مردوں کی اس کیفیت میں النے اور
‫انہیں اپنے رنگ میں استعمال کرنے کی مہارت حاصل تھی۔
‫‪ ٢٠جوالئی ‪ ١١٨٧ء کے روز سلطان صالح الدین ایوبی عکرہ سے نکال۔ اس کے چھاپہ مار دستوں نے اس کے لیے راستہ صاف
‫کررکھا تھا۔ ساحل کے ساتھ ساتھ اس نے کئی ایک قلعے اور قصبے فتح کرلیے۔ ‪٣٠جوالئی ‪١١٨٧ء کے روز اس نے بیروت کا
‫محاصرہ کیا۔ صلیبیوں نے اس اہم شہر کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن سلطان ایوبی نے بے دریغ قربانی دے کر بیروت
‫لے لیا۔ وہاں بھی مسلمانوں کی وہی حالت تھی جو عکرہ میں تھی۔
‫‪ ٢٩جوالئی تک بیروت کو اپنی عمل داری میں لے کر سلطان ایوبی نے ایک اور مشہور ساحلی شہر ٹائر کا رخ کیا۔ وہ
‫جاسوسوں اور دیکھ بھال کے جیشوں سے رپورٹیں لیے بغیر پیش قدمی نہیں کیا کرتا تھا۔ اسے بتایا گیا کہ اپنی فوج بہت
‫زیادہ عالقے میں پھیل گئی ہے اور ادھر ادھر سے بھاگے ہوئے صلیبی ٹائر میں جمع ہوکر منظم ہورہے ہیں۔ تمام فرنگی بھی
‫ساحلی عالقے سے پسپا ہوکر ٹائر چلے گئے تھے۔ سلطان ایوبی نے ٹائر پر حملے کا ارادہ ترک کردیا۔ وہ بیت المقدس کے
‫لیے فوج بچا کر رکھنا چاہتا تھا۔

‫اس دوران الفارس بیدرین کے بحری جہاز ساحل سے دور گشت اور دیکھ بھال کرتے رہے۔ دونوں لڑکیاں اس کے جہاز میں
‫رہیں۔ وہ اس کے دل پر غالب آگئی تھیں لیکن اس نے اپنے فرائض میں کوتاہی نہ کی۔ جب کوئی بحری جہاز ساحل کے
‫قریب لنگر انداز ہوتا تھا‪ ،چھوٹی کشتیاں اس کے اردگرد گھومنے لگتی تھیں۔ یہ غریب دیہاتیوں کی کشتیاں تھیں جو پھل‪ ،انڈے
‫اور مکھن وغیرہ مالحوں اور فوجی دستوں کے پاس بیچتے تھے۔ جہازوں کے کپتان ان میں سے کسی کو رسہ پھینک کر جہاز
‫میں اٹھا لیتے اور اس سے خشکی کی دنیا کی خبریں سنتے تھے۔
‫ایک روز الفارس کا جہاز ساحل پر چال گیا۔ اسے وہاں سے بری فوج کے کسی کمان دار سے کچھ پوچھنا تھا۔ دونوں لڑکیاں
‫جہاز کے عرشے پر جنگلے کا سہارا لیے کھڑی تھیں۔ چھوٹی چھوٹی تین چار کشتیاں آگئیں۔ ان میں پھل وغیرہ تھا۔ ان کے
‫مالح جہاز والوں کی منتیں کرنے لگے کہ وہ ان سے کچھ لے لیں۔ ایک کشتی میں ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا‪ ،جس کے جسم
‫پر تہمند کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ بہت غریب معلوم ہوتا تھا۔ اس نے دونوں لڑکیوں کو جہاز میں کھڑے دیکھا تو کشتی
‫قریب لے گیا۔
‫کچھ لے لو شہزادی!'' اس نے کہا… ''بہت غریب آدمی ہوں''۔''
‫لڑکیوں نے اسے نظر بھر کر دیکھا تو اس نے بائیں آنکھ سے خفیف سا اشارہ کردیا۔ دونوں نے حیران سا ہوکے ایک دوسری
‫کی طرف دیکھا۔ اس آدمی نے ادھر ادھر دیکھ کر سینے پر انگلی اوپر نیچے اور پھر دائیں بائیں چال کر صلیب کا نشان بنایا۔
‫ایک لڑکی نے اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی رکھ کر کراس بنایا۔ آدمی مسکرایا۔
‫ایک لڑکی نے جہاز کے مالح سے کہا کہ اس آدمی کو اوپر الئو۔
‫مالحوں کو معلوم تھا کہ یہ لڑکیاں ان کے جہاز کے کپتان کی ہیں جو تمام جہازوں کا کمانڈر ہے۔ انہوں نے فورا ً رسوں کی ‪:
‫سیڑھی پھینکی۔ وہ آدمی ٹوکری میں مختلف چیزیں رکھ کر اوپر لے آیا اور ٹوکری لڑکیوں کے آگے رکھ دی۔ لڑکیاں چیزیں
‫دیکھنے لگیں۔ کسی اور کو ان کے قریب آنے کی جرٔات نہیں ہوسکتی تھی۔
‫تم یہاں کیسے پہنچ گئی ہو؟'' کشتی کے مالح نے پوچھا۔''
‫اتفاق کی بات ہے''۔ ایک لڑکی نے جواب دیا… ''ہرمن پکڑا گیا ہے''… اس نے اس آدمی کو سارا واقعہ سنا دیا اور ''
‫الفارس کے متعلق بتایا کہ وہ انہیں خانہ بدوش سمجھ کر اپنے ساتھ لے آیا ہے۔
‫''کچھ سوچا ہے کیا کروگی؟'' مالح نے پوچھا۔ ''جائو گی کہاں؟''
‫ابھی تو صرف جان بچانے کا بندوبست کیا ہے''۔ لڑکی نے جواب دیا… ''کمانڈر الفارس کی رگوں پر ہم نے قبضہ کرلیا ''
‫ہے۔ کہیں موقعہ مال تو بھاگنے کی کوشش کریں گی۔ اگر تم رہنمائی کرو تو یہیں رہ کر کچھ اور کریں گی''۔
‫یہ غریب سا ماہی گیر مالح صلیبیوں کا جاسوس تھا اور وہ ان لڑکیوں کو اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ بھی اسے جانتی تھیں۔
‫اس نے کہا… '' ساحل پر اتر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرنا۔ بہت بری موت مروگی۔ بیروت تک مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔
‫ہماری صلیبی فوج ہر جگہ سے پسپا ہورہی ہے۔ اب ٹائر ایک جگہ رہ گئی ہے جہاں تمہیں پناہ مل سکتی ہے۔ ابھی اسی
‫جہاز میں رہو۔ میں تمہیں ملتا رہوں گا۔ ہمارے لیے حاالت بہت ہی خطرناک ہوگئے ہیں۔ ہر طرف مسلمان سپاہی دندناتے پھر
‫رہے ہیں''۔
‫''تم یہاں کیا کررہے ہو؟''
‫صلیب پر ہاتھ رکھ کر جو حلف اٹھایا تھا‪ ،وہ پورا کرنے کی کوشش کررہا ہوں''۔ اس نے جواب دیا… ''ان چھ جہازوں ''
‫کی نقل وحرکت دیکھ رہا ہوں۔ انہیں تباہ کرانے کا انتظام کروں گا''۔
‫''اپنے جہاز کہاں ہیں؟''
‫ٹائر کے قریب''۔ اس نے بتایا… ''یہ جہاز ادھر گئے تو اپنے جہازوں کو پہلے سے اطالع کردوں گا۔ اب اتفاق سے تم ''
‫کمانڈر کے جہاز میں آگئی ہو۔ تم میری مدد کرسکو گی اور میں تمہیں اس جہاز سے نکال کر ٹائر پہنچا سکوں گا۔ مجھے اب
‫جانا چاہیے۔ اشارے مقرر کرلو۔ میں ان جہازوں کے ساتھ سائے کی طرح لگا ہوا ہوں۔ یہ جہاز کہیں بھی ساحل کے قریب
‫لنگر ڈالے گا‪ ،وہاں اسی بھیس میں موجود ہوں گا''۔
‫انہوں نے اشارے مقرر کرلیے۔ لڑکیوں نے اس کی ٹوکری میں سے کچھ چیزیں اٹھالیں۔ اسے پیسے دئیے اور وہ رسوں کی
‫سیڑھی سے اپنی کشتی میں اتر گیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫‪٢ستمبر‪ ١١٨٧ء کے روز سلطان ایوبی نے ایک اور مشہور ساحلی شہر عسقالن کا محاصرہ کرلیا۔ یہاں بھی وزنی پتھر پھینکنے
‫والی منجنیقیں اور پہیوں پر چلنے والی مچانیں استعمال کی گئیں۔ سرنگیں کھودنے والے جیش رات کو دیوار توڑنے کی کوشش
‫کرتے رہے۔ قریب ہی ایک بلندی تھی۔ وہاں سے منجنیقوں سے شہر کے اندر پتھر اور آتشیں گولے پھینکے گئے۔ دوسرے دن
‫محصورین نے گھبرا کر شہر کے دروازے کھول دئیے اور ہتھیار ڈال دئیے۔
‫اس شہر پر فرینکس نے ‪ ١٩ستمبر ‪١١٥٣ء میں قبضہ کیا تھا۔ پورے چونتیس برس بعد یہ شہر آزاد کرایا گیا۔
‫عسقالن سے بیت المقدس چالیس میل مشرق کی سمت واقع ہے۔ سلطان ایوبی کے تیز رفتار دستوں کے لیے یہ دو دن کا
‫سفر تھا۔ اس کے بعض دستے اور چھاپہ مار جیش پہلے ہی بیت المقدس کے قریب پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے صلیبیوں کی
‫بیرونی چوکیاں تباہ کردی تھیں۔ بچے کھچے صلیبی بیت المقدس پہنچ رہے تھے۔سلطان ایوبی نے اپنے بکھرے ہوئے دستوں کو
‫عسقالن میں اکٹھا ہونے کا حکم دیا اور بیت المقدس پر حملے کی تیاری کرنے لگا۔
‫سلطان ایوبی کی فتوحات اور طوفانی پیش قدمی کی خبریں دمشق‪ ،بغداد‪ ،حلب‪ ،موصل اور ادھر قاہرہ تک پہنچ چکی تھیں۔
‫آخری خبر یہ پہنچی کہ سلطان عسقالن میں ہے اور بیت المقدس پر حملہ کرنے واال ہے۔ قاضی بہائوالدین شداد جو اس حملے
‫میں سلطان ایوبی کے ساتھ تھا‪ ،اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی کی فوج مسلسل فتوحات کی بدولت تھکن کے
‫احساس سے بیگانہ تھی۔ وہ جوں جوں ان مقبوضہ عالقوں میں مسلمانوں کی حالت دیکھتی گئی‪ ،قہر بنتی گئی جو بیت
‫المقدس پر ٹوٹنے کو بے تاب تھا۔ یہ تو سلطان کی جنگی قوت تھی۔ قاضی شداد لکھتا ہے کہ عسقالن میں سلطان ایوبی کے
‫پاس روحانی قوت بھی پہنچنے لگی۔ یہ دمشق‪ ،بغداد اور دیگر بڑے شہروں کے علماء درویش اور صوفی منش لوگ تھے۔ وہ
‫سلطان ایوبی کے ساتھ بیت المقدس میں داخل ہونے آئے تھے۔ انہوں نے آکر سلطان ایوبی کو دعائیں دیں اور اس کی فوج کو
‫بیت المقدس کی اہمیت اور تقدس بتایا اور سپاہیوں کو آگ بگوال کردیا۔ سلطان ایوبی علماء اور درویشوں کا بہت احترام کیا
‫کرتا تھا۔ انہیں اپنے ساتھ دیکھ کر اس کی تھکن ختم ہوگئی اور اس نے جوش وجذبات سے کہا… ''اب دنیا کی کوئی طاقت
‫مجھے شکست نہیں دے سکتی''۔

‫عسقالن سے کوچ سے دو چار روز پہلے سلطان ایوبی کے پاس حلب سے ایک مہمان آیا جسے دیکھ کر سلطان حیران رہ گیا۔
‫اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا… یہ نورالدین زنگی مرحوم کی
‫بیوہ رضیع خاتون تھی جس نے عزالدین کے ساتھ شادی کرلی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار تھی۔ کود کر گھوڑے سے اتری اور ‪:
‫دوڑ کر سلطان ایوبی کو گلے لگا لیا۔ دونوں کے جذبات ابھر آئے اور ان پر رقت طاری ہوگئی۔
‫ذرا دیر بعد اونٹوں کی ایک لمبی قطار آرکی۔ ان پر کم وبیش دو سو لڑکیاں سوار تھیں۔
‫یہ کیا؟'' سلطان ایوبی نے رضیع خاتون سے پوچھا۔''
‫زخمیوں کی مرہم پٹی کے لیے تربیت یافتہ لڑکیاں''۔ رضیع خاتون نے جواب دیا۔ ''میں نے انہیں لڑائی کی تربیت بھی ''
‫دے رکھی ہے۔ تیر اندازی کی بھی انہیں خاصی مشق ہے… مجھے معلوم ہے کہ تم عورت کو میدان جنگ میں نہیں دیکھنا
‫چاہتے لیکن میرے اور ان کے جذبے کو کچلنے کی کوشش نہ کرنا۔ تم نہیں جانتے کہ شام میں جو ان لڑکیوں پر قابو پانا
‫محال ہورہا ہے‪ ،جسے دیکھو وہ محاذ پر پہنچنے کے لیے بے تاب ہے۔ اگر تم اجازت دو تو میں ایک ہزار لڑکیاں محاذ پر
‫بھیج دوں۔ سپاہیوں کی طرح لڑیں گی‪ ،جن مائوں کے بیٹے یہاں لڑ رہے ہیں‪ ،وہ مائیں ان کی خیریت کی نہیں‪ ،فتح کی خبر
‫سننا چاہتی ہیں۔ آبادیوں میں ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے… ''محاذ کی کیا خبر ہے؟''… کہو صالح الدین! کتنی لڑکیاں
‫''بھیجوں؟
‫میں انہیں اپنے ساتھ رکھ لوں گا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اور کسی کو نہ بھیجنا''۔''
‫اس اونٹ پر ایک منبر لدا ہوا ہے''… رضیع خاتون نے کہا۔ یہ کہتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ذرا خاموش ''
‫رہنے کے بعد کہنے لگی… '' تمہیں شاید یاد نہیں‪ ،میرے مرحوم شوہر (نورالدین زنگی) نے یہ منبر اس عہد کے ساتھ بنواکر
‫اقصی میں رکھے گا۔ بہت خوبصورت منبر
‫پاس رکھ لیا تھا کہ بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرائے گا تو یہ منبر مسجد
‫ٰ
‫اقصی
‫مسجد
‫منبر
‫یہ
‫نے
‫تم
‫کہ
‫دیکھوں
‫میں
‫ہے۔ یہ دمشق میں رکھا تھا‪ ،اٹھا الئی ہوں۔ اللہ تمہیں فتح دے صالح الدین اور
‫ٰ
‫میں رکھ کر میرے مرحوم شوہر کا عہد پورا کردیا ہے''۔
‫سلطان ایوبی پر رقت طاری ہوگئی۔ اس کے منہ سے سسکی سی نکلی… ''اللہ یہ عہد مجھ سے پورا کرائے''۔
‫ایک جواں سال لڑکی ان کے قریب آکھڑی ہوئی اور سلطان ایوبی کو مسکرا کر سالم کیا۔ رضیع خاتون نے کہا… ''پہچانا نہیں
‫صالح الدین؟ یہ میری بیٹی شمس النساء ہے''… سلطان ایوبی نے لپک کر اسے گلے لگا لیا اور پھر وہ اپنے آنسو نہ روک
‫سکا۔ اس نے اس لڑکی کو اس وقت دیکھا تھا جب یہ بہت چھوٹی تھی۔
‫یہ تمہارے ساتھ محاذ پر رہے گی''۔ رضیع خاتون نے کہا… ''لڑکیاں اس کی کمان میں رہیں گی۔ مجھے واپس جانا ''
‫ہے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ علماء اور درویش وغیرہ جو سلطان ایوبی کے پاس آگئے تھے‪ ،ورد‪ ،وظیفے اور دعائوں میں مصروف رہتے یا سپاہیوں میں
‫گھومتے پھرتے اور انہیں روحانی حوصلہ دیتے رہتے۔ وہ عسقالن سے باہر وہاں تک بھی گئے جہاں دستے اور جیش موجود
‫تھے۔ ان کے وعظ اور خطبوں کے الفاظ کچھ اس قسم کے تھے… ''نوے سال سے کفار تمہارے قبلٔہ اول پر قابض ہیں۔ قرآن
‫کے احکام پڑھو تو قبلٔہ اول کو کفار کے ناپاک قبضے سے چھڑانے تک کسی مسلمانوں کو نیند نہیں آنی چاہیے تھی۔ وہ مسجد
‫اقصی جہاں سے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بالوے پر معراج پر تشریف لے گئے تھے‪ ،کفار کی عباد گاہ
‫ٰ
‫بنی ہوئی ہے۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مقدس ہم پر لعنت بھیج رہی ہے۔ ہم پر نیند‪ ،کھانا‪ ،پینا اور
‫…''ہم پر اپنی بیویاں حرام ہونی چاہئیں تھیں مگر نوے سال سے ہم گہری نیند سورہے ہیں اور عیش وعشرت میں مگن ہیں
‫اللہ کے سپاہیو! ہمارے حکمرانوں نے صلیبیوں اور یہودیوں کے خوبصورت جال میں پھنس کر ان کے خالف خانہ جنگی کی‪''،
‫جنہوں نے قبلٔہ اول کو آزاد کرانے کا عہد کیا تھا۔ بیت المقدس وہ پاک جگہ ہے جہاں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
‫کے مبارک قدم آ ئے اور ان کی جبین مبارک نے یہاں سجدے کیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السالم‪ ،حضرت سلیمان علیہ السالم‪،
‫تعالی عنہ اور ہمارے جانے کتنے انبیاء نے یہاں ورد فرمایا مگر نوے سال سے یہاں مسلمانوں پر جو قہر
‫حضرت عمر رضی اللہ
‫ٰ
‫اقصی پر صلیب کھڑی ہے۔ مسجدیں اصطبل بنی ہوئی ہیں۔ مسلمانوں کا
‫مسجد
‫گے۔
‫دیکھو
‫جاکر
‫میں
‫شہر
‫ٹوٹ رہا ہے‪ ،وہ تم
‫ٰ
‫قتل عام اس طرح ہوا ہے کہ گلیوں میں خون ندی کی طرح چلتا رہا۔ مسلمان قیدوبند کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہماری
‫…''بیٹیاں کفار کی لونڈیاں بنا دی گئی ہیں
‫اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس پر مرمٹنے والو! اللہ نے یہ سعادت تمہیں عطا کی ہے کہ بیت '' ‪:
‫المقدس کو آزاد کرائو‪ ،پاک کرو اور اگر تم ناکام رہو تو وہاں سے تمہاری الشیں اٹھائی جائیں… اور تم سن کر حیران ہوگے کہ
‫عیسی علیہ السالم نے بنی نوع انسان کو محبت کا سبق دیا تھا‪ ،وہاں صلیب کے پجاریوں نے
‫جس بیت المقدس میں حضرت
‫ٰ
‫یہاں تک درندگی کی ہے کہ جب انہیں کسی محاذ پر فتح ہوتی تو وہ بیت المقدس میں جشن مناتے جس میں ہماری بیٹیوں
‫کو برہنہ کرکے نچاتے اور چند ایک تندرست وتوانا مسلمانوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت پکا کر کھاتے… اب تمہیں ایک ایک
‫معصوم کے خون کے ایک ایک قطرے کا انتقام لینا ہے۔ دمشق سے سلطان نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ وہ منبر الئی ہے جو
‫اقصی میں رکھنے کے لیے بنوایا تھا۔ یہ خاتون دو سو لڑکیوں کے ساتھ بہت دور کا سفر کرکے آئی ہے۔ یہ
‫مرحوم نے مسجد
‫ٰ
‫عہد تمہیں پورا کرنا ہے''۔
‫اس دوران سلطان ایوبی اپنے دستوں کو یکجا کرکے ان کی تقسیم کرتا رہا اور جاسوسوں کی رپورٹوں کے مطابق بیت المقدس
‫کے محاصرے کا پالن بناتا رہا۔
‫اس کے ساتھ ہی قصہ * فصل صلیبی جس نے کاٹی تھی * ختم ہوا جاتا ہے
21:06
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫اقصی کی دہلیز پر
‫قسط نمبر‪ 152ایوبی مسجد
‫ٰ
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫لڑکیاں جو بحریہ کے کمان دار الفارس بیدرون کے جہاز میں تھیں اسی کی طرح شگفتہ مزاج تھیں۔ سمندر کی تنہائی میں یہ
‫دونوں لڑکیاں الفارس کے دل کو نئی زندگی دے رہی تھیں لیکن یہ اس کے لیے معمہ سا بن گئی تھیں اور ان کے لیے الفارس
‫عجیب آدمی بنا ہوا تھا۔ لڑکیوں نے اسے بتایا تھا کہ وہ خانہ بدوش ہیں۔ ان کا قبیلہ جنگ کی زد میں آگیا تھا اور وہ دونوں
‫بڑی مشکل سے چھپتی چھپاتی ساحل تک پہنچی ہیں مگر الفارس دیکھ رہا تھا کہ دونوں کی عادتیں اور طور طریقے خانہ

‫بدوشوں والے نہیں۔ خانہ بدوش حسین ہوسکتی تھیں مگر ان میں یہ شائستگی نہیں ہوسکتی تھی جو ان دونوں میں تھی۔ ان
‫دونوں لڑکیوں میں کسی حد تک بے حیائی بھی تھی جو خانہ بدوش عورتوں میں عموما ً نہیں ہوا کرتی تھی۔
‫لڑکیوں کے لیے الفارس عجیب آدمی تھا۔ لڑکیوں کو توقع تھی کہ وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو ہر اس مرد نے ان
‫کے ساتھ کیا ہے جس کے ذہن پر قبضہ کرنے کے لیے انہیں بھیجا گیا تھا۔ الفارس نے ان میں اس قسم کی دلچسپی کا اظہار
‫نہ کیا جس سے یہ لڑکیاں ابتداء میں مایوس ہوئیں لیکن انہوں نے اس کی ایک اور کمزوری بھانپ لی۔ وہ یہ تھی کہ وہ
‫فرض کے معاملے میں جہاں بڑا ہی سخت گیر اور سخت کوش تھا وہاں فراغت کے وقت کھلنڈرہ بچہ بن جایا کرتا تھا۔ ان
‫لڑکیوں کے ساتھ وہ ہم راز سہیلیوں کی طرح کھیلتا اور ان کے حسن اور ان کی شوخیوں سے لطف اٹھاتا تھا۔ ان کے بکھرے
‫بکھرے ریشمی بالوں سے کھیلتا اور ان میں مگن ہوکر دنیا کو بھول جاتا تھا۔
‫ایک روز ایک لڑکی نے جب دوسری لڑکی کمرے میں نہیں تھی‪ ،اس کے جذبات کو مشتعل کرنے کی یا یہ سمجھنے کی
‫کوشش کی کہ اس آدمی کے اندر جذبات ہیں بھی یا نہیں تو الفارس نے یہ کھلے اشارے سمجھتے ہوئے کہا۔ ''میں نے جب
‫تمہیں پہلے روز ساحل پر کہا کہ میں تمہیں اپنے جہاز میں پناہ دے سکتا ہوں تو تم نے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ نہیں
‫ہونا چاہیے۔ میں نے کہا تھا کہ تمہیں مصر لے جائوں گا اور شادی کرلوں گا… میں اپنے اس وعدے پر قائم رہنا چاہتا ہوں۔
‫شادی سے پہلے میں کوئی ایسی حرکت نہیں کروں گا جس سے تمہیں یہ شک ہو کہ میں وقتی طور پر دل بہالنے کے لیے
‫تمہیں یہاں الیا ہوں۔ میں تمہاری مجبوری اور بے بسی سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا۔ مصر جانے تک تم سوچ لو۔ اگر میرے
‫ساتھ رہنا پسند نہیں کروگی تو جہاں کہو گی‪ ،وہاں بھیج دوں گا''۔
‫لڑکی نے بے تابی سے بازو اس کے گلے میں ڈال دئیے اور گال اس کے گال کے ساتھ لگا کر کہا… ''ہم دونوں تمہیں چھوڑ
‫کر کہیں نہیں جائیں گی۔ تم پہلے مرد ملے ہو جس کے دل میں انسانیت کی پاکیزگی ہے‪ ،شیطانیت اور حیوانیت نہیں''۔
‫لڑکی نے والہانہ محبت کااظہار ایسے الفاظ میں اور ایسے انداز سے کیا کہ الفارس کو پانی پر تیرنے واال بحری جہاز فضا کی
‫وسعتوں میں اڑتا محسوس ہونے لگا۔ یہی اس کی کمزوری تھی جو انسانی فطرت کی سب سے زیادہ خطرناک کمزوری ہے۔
‫سمندر میں اتنا طویل عرصہ دن رات گشت کرتے رہنے سے اور وقتا ً فوقتا ً چھوٹی موٹی جھڑپیں لڑنے سے اس کے اعصاب پر
‫جو تھکن اور ذہن پر جو کوفت تھی‪ ،وہ ختم ہوگئی۔ اعصاب پرسکون ہوگئے۔ اب تو اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔
‫اس کے ہاتھ میں چھ جہازوں کی کمانڈ تھی اور وہ فلسطین کے ساحل سے کچھ دور گشت کرتا رہتا تھا۔ سلطان صالح الدین
‫ایوبی بجلی کی طرح ارض فلسطین پر ٹوٹ پڑا تھا۔ اس نے ساحلی عالقوں پر قبضہ کرلیا اور اب عسقالن میں بیت المقدس
‫پر حملے کی تیاری کررہا تھا۔ الفارس کی ذمہ داری یہ تھی کہ سمندر کی طرف سے صلیبیوں کے لیے مدد اور رسد وغیرہ
‫آئے تو اسے ساحل تک نہ پہنچنے دے۔ اس ذمہ داری نے اس کی نیندیں بھی حرام کررکھی تھیں۔ یہ دو لڑکیاں اس کے
‫اعصاب کو سہال لیا کرتی تھیں۔
‫الفارس نے ان لڑکیوں سے ایک روز کہا کہ ان میں خانہ بدوشوں والی عادتیں نہیں‪ ،ان کے بجائے ان میں شائستگی اور
‫نفاست ہے۔ یہ ان میں کہاں سے آگئی ہے۔
‫ہم بڑے بڑے عیسائی گھروں میں نوکری کرتی رہی ہیں''… ایک لڑکی نے جواب دیا… ''انہوں نے ہمیں میزبانی کے آداب ''
‫اور اونچے درجے کے مہمانوں کے ساتھ سلوک اور برتائو کے طور طریقے سکھا دئیے تھے۔ اگر آپ معمولی آدمی ہوتے تو ہم
‫آپ کے ساتھ خانہ بدوشوں جیسا سلوک کرتیں۔ ہماری باتیں اور حرکتیں خانہ بدوشوں جیسی ہوتی۔ آپ بحریہ کے اتنے بڑے
‫کمانڈر ہیں اور آپ کے دل میں ہماری اتنی زیادہ محبت ہے کہ ہم آپ کے ساتھ اجڈوں جیسا سلوک نہیں کرسکتیں''۔
‫دوسرے پانچ جہازوں کے کپتانوں کو پتہ چل چکا تھا کہ ان کا کمانڈر الفارس اپنے جہاز میں دو لڑکیاں الیا ہے۔ سب یہ خبر
‫سن کر ہنسے یا مسکرائے تھے لیکن سب نے محسوس کیا تھا کہ جہاز میں جنگ کے دوران اپنی بیوی کو تو رکھا جاسکتا
‫ہے‪ ،اجنبی لڑکیوں کو رکھنا خطرے سے خالی نہیں۔ انہوں نے الفارس سے بات کی تھی اور اس نے سب کو مطمئن کردیا تھا۔
‫سب اس لیے جلدی مطمئن ہوگئے تھے کہ وہ الفارس کو عرصے سے جانتے تھے۔ وہ بدکار آدمی نہیں تھا۔ فرائض سے کوتاہی
‫برداشت نہیں کرتا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫بیت المقدس کے اندر کی کیفیت غیرمعمولی تھی۔ یہاں مسلمانوں پر جو ظلم وتشدد ہورہا تھا‪ ،اس کی مثال کم از کم فلسطین
‫کے مقبوضہ عالقوں میں نہیں ملتی تھی۔ اس ظلم وتشدد کی تاریخ پرانی تھی۔ ‪١٠٩٩ء میں صلیبیوں نے بیت المقدس فتح کیا
‫تھا۔ یہ مسلمانوں کی بے اتفاقی اور اقتدار کی خاطر غداری کرنے والوں کا کرشمہ تھا۔ تاریخ میں حملہ آوروں نے اس سے
‫زیادہ بڑے اور اہم شہر فتح کیے ہیں لیکن صلیبیوں نے بیت المقدس فتح کیا تو اسے اس قدر اہمیت دی جیسے انہوں نے
‫آدھی دنیا فتح کرلی ہو‪ ،سارے یورپ بلکہ تمام تر عیسائی دنیا اور کلیسا کی نظریں بیت المقدس پر لگی ہوئی تھیں۔
‫اس اہمیت کی وجہ یہ تھی کہ بیت المقدس کو عیسائی اپنا مقدس مقام سمجھتے تھے۔ ان کے عقیدے کے مطابق حضرت
‫عیسی علیہ السالم کو اسی عالقے میں کہیں مصلوب کیا گیا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلٔہ اول
‫ٰ
‫اقصی کا تقدس خانہ
‫ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہیں سے معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ اس لحاظ سے مسجد
‫ٰ
‫کعبہ سے کم نہ تھا۔ مسلمان بیت المقدس کو اپنا نظریاتی مرکز سمجھتے تھے۔ یہ ہمارے عقیدوں کا مرکز تھا۔ (اور اب بھی
‫ہے) عیسائی مسلمانوں کے اس نظریاتی سرچشمے پر قبضہ کرکے ہمارے نظریات اور عقائد کو باطل قرار دینا چاہتے تھے۔
‫صلیبیوں کی انٹیلی جنس کے سربراہ ہرمن نے غلط نہیں کہا تھا کہ صلیبی جنگیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے بادشاہوں کی
‫نہیں‪ ،یہ کلیسا اور کعبہ کی جنگیں ہیں جو اس وقت تک لڑی جاتی رہیں گی جب تک دونوں میں سے ایک ختم نہیں
‫ہوجاتا۔
‫جس طرح ہندوئوں نے مسلمانوں کے خالف جنگ کو اور مسلمانوں کو شکست دینے کو اور مسلمانوں کو نہ صرف میدان جنگ
‫میں بلکہ دھوکے سے بھی قتل کرنے کو مذہبی فریضہ قرار دے رکھا ہے‪ ،اسی طرح عیسائیوں کے پادریوں نے بھی مسلمان کے
‫کار ثواب قرار دے رکھا تھا۔ عیسائیوں کو جنگ کے احکام بڑے پادری (پوپ) کی طرف سے ملتے تھے۔ آپ نے پڑھ
‫قتل کو ِ
‫عیسی علیہ
‫حضرت
‫پر
‫جس
‫تھا
‫موجود
‫میں
‫جنگ
‫میدان
‫ساتھ
‫کے
‫صلیب
‫اس
‫پادری
‫کا
‫عکرہ
‫میں
‫جنگ
‫کی
‫حطین
‫لیا ہے کہ
‫ٰ
‫السالم کو مصلوب کیا گیا تھا۔ یہ ثبوت ہے اس حقیقت کا کہ کعبہ کے خالف جنگ کلیسا نے شروع کی تھی اور یہ دو
‫مذہبوں اور دو نظریات کی جنگ تھی۔
‫ادنی سپاہیوں تک سے صلیب الصلبوت پر
‫یہ بتایا جاچکا ہے کہ صلیبی جنگوں میں شامل ہونے والے بادشاہوں‪ ،جرنیلوں اور
‫ٰ
‫صلیب سے وفاداری اور جان ومال کی قربانی کا حلف لیا جاتا تھا۔ اس حلف سے وہ صلیبی کہالئے اور بیت المقدس کے لیے

‫جو جنگیں لڑی گئیں‪ ،انہیں صلیبی جنگیں کہا گیا۔ عیسائی دنیا میں مسلمانوں کے خالف جنگ اور سرزمین عرب پر قبضہ
‫کرنے کو ایسا جنون بنا دیا گیا تھا کہ عورتیں اپنے زیورات اور مال ودولت کلیسا کے حوالے کردیتی تھیں۔ جنون کی انتہا یہ
‫تھی کہ جوان لڑکیوں نے اپنی عصمتیں صلیب کی فتح اور مسلمانوں کی شکست کے لیے پیش کردیں۔ کلیسا نے کھلی اجازت
‫دے دی کہ مسلمانوں کی کردار کشی اور نظریاتی تخریب کاری کے لیے عیسائی لڑکیوں کو استعمال کیا جائے۔ لڑکیوں کو یقین
‫دالیا گیا کہ کلیسا کے مقاصد اور عزائم کی خاطر عصمت قربان کرنے والی لڑکی بہشت میں جائے گی۔
‫اسی عقیدے کے تحت خوبصورت لڑکیوں کو باقاعدہ تربیت دے کر مسلمانوں کے عالقوں میں بھیجا گیا۔ یہ مسلمان امراء کے
‫حرموں میں داخل ہوئیں اور وہ تباہی بپا کی جو آپ اس سلسلے کی کہانیوں میں پوری تفصیل سے پڑھ چکے ہیں۔ اس مقابلے
‫میں مسلمان آپس میں ٹکراتے رہے اور صلیبیوں کے پھیالئے ہوئے اس حسین جال میں ایسے آئے کہ مذہبی نظریات اور عقائد
‫کو نظرانداز کرکے تخت وتاج کے شیدائی ہوگئے۔ انہوں نے ایمان نیالم کردئیے۔ پھر بھی کچھ لوگ ابھی زندہ تھے جن کی
‫روحیں ایمان کے نور سے منور تھیں۔ وہ بیت المقدس کی پاسبانی کرتے اور لہو کے نذرانے دیتے رہے مگر یہ قانون فطرت ہے
‫کہ ایک غدار ساری قوم کو بے وقار کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے اور جب غدار صاحب اقتدار ہو تو دشمن سے دس گنا زیادہ
‫فوج بھی شکست کھا جاتی ہے۔
‫اسی کانتیجہ تھا کہ صلیبی ‪١٥جوالئی ‪١٠٩٩ء (‪٢٣شعبان ‪٤٩٢ہجری) کے روز بیت المقدس پر قابض ہوگئے۔ اس فتح میں جن
‫مسلمان امراء اور ریاستوں کے حکمرانوں نے صلیبیوں کو مدد دی اور جس طرح مدد دی‪ ،وہ ایک طویل اور شرمناک کہانی ہے۔
‫مثال کے طور پر اتنا ہی بتانا کافی ہوگا کہ جب صلیبی فوج بیت المقدس کی طرف بڑھ رہی تھی تو شہزاء کے امیر نے نہ
‫صرف یہ کہ اس فوج کو نہ روکا بلکہ اسے رسد بھی دی اور رہبر (گائیڈ) بھی دئیے۔ حماة اور تریپولی کے مسلمان امراء نے
‫بھی صلیبی فوج کو راستہ دے کر رسد بلکہ تحائف بھی دئیے اور اپنے قبلٔہ اول کی طرف روانہ کیا۔ راستے میں کئی ایک
‫مسلمان ریاستیں آتی تھیں۔ انہوں نے اپنی ریاست اور حکومت کے تحفظ کی خاطر صلیبیوں کے دلکش اور حسین تحفے قبول
‫کیے اور ان کے عوض صلیبی فوج کی ضروریات پوری کیں۔
‫عرقہ کا امیر مردمومن تھا جس کی جنگی طاقت صلیبیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی لیکن اس نے صلیبی فوج کے
‫جرنیلوں کے مطالبے پر بھی انہیں کچھ نہ دیا بلکہ ان کے چیلنج کو قبول کرکے انہیں مقابلے کے لیے للکارا۔ صلیبی فوج نے
‫عرقہ کو محاصرے میں لے لیا۔ ‪١٤فروری سے ‪١٣مئی ‪١٠٩٩ء تک عرقہ کے مسلمانوں نے ایسی بے جگری سے مقابلہ کیا کہ
‫صلیبی فوج نے بہت سا جانی نقصان اٹھا کر محاصرہ اٹھا لیا اور راستہ بدل کر آگے چلی گئی۔ اگر یہ تمام مسلمان امراء
‫اپنے اپنے عالقے میں بیت المقدس کی طرف بڑھتی ہوئی صلیبی فوج کے سامنے مزاحم ہوتے رہتے تو ان کا اپنا نقصان تو
‫ضرور ہوتا لیکن صلیبی فوج کا خون قطرہ قطرہ بہہ کر ختم ہوجاتا۔ یہ فوج اپنے پالن سے دو اڑھائی سال تاخیر سے بیت
‫المقدس پہنچتی اور اس کے جسم میں خون کا ایک قطرہ نہ ہوتا۔
‫٭ ٭ ٭
‫یہ کہنا غلط نہیں کہ صلیبیوں کو بیت المقدس تک مسلمان امراء نے تازہ دم اور رسد سے ماال مال کرکے پہنچایا۔ اس کی
‫سزا ان مسلمانوں کو ملی جو بیت المقدس میں آباد تھے۔ وہاں مسلمان زائرین بھی گئے ہوئے تھے‪ ،وہ بھی کچلے گئے۔
‫‪٧جون ‪ ١٠٩٩ء کے روز صلیبیوں نے اس عظیم اور مقدس شہر کا محاصرہ کیا‪ ،وہاں حکومت مصر کا گورنر افتخار الدولہ تھا‪ ،جس
‫نے محاصرے میں بے مثال شجاعت اور عسکری ذہانت سے مقابلہ کیا۔ شہر کے جیش قلعے سے نکال کر صلیبیوں پر حملے
‫کرائے گئے مگر صلیبیوں کے پاس سازوسامان کی افراط تھی اور فوج تو بے شمار تھی۔ ‪١٥جوالئی ‪١٠٩٩ء صلیبی فوج شہر میں
‫داخل ہوگئی۔
‫تمام تر یورپ اور ہر عیسائی ملک میں جشن منائے گئے مگر بھیانک اور ہولناک جشن وہ تھا جو فاتح صلیبیوں نے بیت
‫المقدس کے اندر منایا۔ صلیبی سپاہی مسلمانوں کے گھروں میں گھس گئے۔ لوٹ مار کی‪ ،کسی گھر میں کسی فرد کو‪ ،خواہ وہ
‫بوڑھا تھا یا دودھ پیتا بچہ‪ ،زندہ نہ چھوڑا۔ زندہ رہنے دیا تو صرف جوان لڑکیوں کو جوان کی درندگی کی اذیتوں سے مریں۔
‫گلیوں میں بھاگتے ہوئے مسلمان بچوں‪ ،عورتوں اور مردوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔ صلیبی ننھے ننھے بچوں کو
‫برچھیوں کی انیوں میں اڑس کر اوپر اٹھاتے اور چیخ چیخ کر قہقہے لگاتے تھے۔ کھلے عام آبروریزی اور مقتولین کے سرکاٹ
‫کر انہیں ٹھڈ مارنا صلیبیوں کا من پسند کھیل بن گیا تھا۔
‫مسلمانوں کو ایک ہی پناہ نظر آتی تھی جس کے متعلق انہیں یقین تھا کہ جان کی امان ملے گی اور کسی بھی مذہب کا
‫اقصی میں
‫اقصی۔ مسلمان اپنے بال بچوں کو لے کرمسجد
‫پیروکار وہاں ان پر زیادتی کرنے کو گناہ سمجھے گا۔ یہ تھی مسجد
‫ٰ
‫ٰ
‫چلے گئے جنہیں وہاں پائوں رکھنے کو بھی جگہ نہ ملی۔ وہ باب دائود اور دوسری مسجدوں میں چلے گئے۔ خود عیسائی
‫اقصی کو اپنی عبادت
‫مؤرخین لکھتے ہیں کہ ان پناہ گزین مسلمانوں کی تعداد ستر ہزار کے لگ بھگ تھی۔ صلیبی جو مسجد
‫ٰ
‫گاہ کہتے تھے‪ ،اس کے احترام کا ذرہ بھر خیال نہ کیا۔ وہ پناہ گزینوں پر ٹوٹ پڑے۔ کسی ایک کو زندہ نہ چھوڑا۔ مسجد
‫اقصی ‪ ،باب دائود اور تمام مسجدیں الشوں سے اٹ گئیں اور خون باہر بہنے لگا۔ مؤرخین نے ان الفاظ میں یہ کیفیت بیان کی
‫ٰ
‫ہے… ''صلیبیوں کے گھوڑوں کے پائوں ٹخنوں تک مسلمان شہریوں کے خون میں ڈوب گئے تھے''۔
‫لڑکیوں کو مسجدوں اور مسلمانوں کے دیگر مقدس مقامات میں لے جا کر بے آبرو کیا جاتا تھا۔ سب سے زیادہ بدنصیب یہ
‫لڑکیاں تھیں اور ان کے جنگی قیدی۔ جنگی قیدیوں کو مویشی بنا لیا گیا تھا۔ انہیں کھانے کو کم دیا جاتا اور مشقت زیادہ لی
‫جاتی۔ جن کاموں میں پہلے گھوڑے اور اونٹ استعمال ہوتے تھے‪ ،ان میں اب جنگی قیدی استعمال ہونے لگے۔ ان کے ہاتھوں
‫مسجدیں مسمار کرائی گئیں۔ جنہوں نے انکار کیا‪ ،انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ کسی وحشی صلیبی نے ایک جنگی قیدی
‫کو قتل کرکے اس کے جسم کا گوشت کاٹا اور پکا کر کھا گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ گوشت لذیذ ہے۔ اس کے
‫بعد صلیبیوں نے انسان خوری ( بلکہ مسلمان خوری) شروع کردی۔ جب کبھی کوئی جشن یا تقریب مناتے ایک دو تندرست اور
‫توانا مسلمان کو قتل کرکے ان کا گوشت کھاتے تھے۔
‫اس کی تردید عیسائی مؤرخین نے کی ہے لیکن انسان خوری کے واقعات خود یورپین مؤرخوں نے ہی اپنی تحریروں میں بیان
‫کیے ہیں۔
‫اقصی میں مختلف مسلمان
‫مسجدوں کو حرام کاری کے لیے استعمال کرنے کے عالوہ صلیبیوں نے ان میں گھوڑے باندھے‪ ،مسجد
‫ٰ
‫سالطین اور دیگر دولت مند زائرین نے سونے اور چاندی کے فانونس اور قندیلیں لگوائی تھیں۔ تحفے کے طور پر سونے اور
‫چاندی کی کئی ایک اشیاء رکھی تھیں۔ صلیبیوں نے یہ تمام فانوس‪ ،قندیلیں اور بیش قیمت اشیاء اٹھا لیں اور مسجد کے منڈیر
‫پر صلیب نصب کردی۔

‫٭ ٭ ٭
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو بیت المقدس کی بے حرمتی اور وہاں کے مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کی یہ روئیداد اس کے باپ
‫نجم الدین ایوبی نے بچپن سے سنانی شروع کردی تھی۔ نجم الدین ایوبی کو یہ روئیداد اس اس کے باپ (سلطان ایوبی کے
‫دادا) شادی نے سنائی تھی۔ یہ روئیداد سلطان ایوبی کے خون میں شامل ہوگئی تھی۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ بیت
‫المقدس کو آزاد کرائے گا‪ ،اب جبکہ وہ اس مقدس شہر کو فتح کرنے نکال تھا تو اس کے دو بیٹے‪ ،الملک االفضل اور الملک
‫الظاہر جوان تھے اور اس کی فوج میں تھے۔ بیت المقدس کے متعلق جو باتیں اسے اپنے باپ نے سنائی تھیں‪ ،وہ اس نے
‫اپنے بیٹوں کو یوں سنا دی تھیں جیسے ایک قیمتی ورثہ ان کے حوالے کیا ہو۔
‫بے مقصد جینے سے قبل از وقت مرجانا بہتر ہے''۔ اس نے اپنے بیٹوں کی جنگی تربیت مکمل کرکے انہیں اپنی فوج ''
‫میں شامل کرتے وقت کہا تھا… ''یہ الفاظ تمہارے دادا مرحوم کے ہیں جو انہوں نے مجھے اس وقت کہے تھے جب میں
‫چچا شیر کوہ کے ساتھ صلیبیوں کے خالف پہلی جنگ لڑنے کے لیے چال تھا۔ انہوں نے کہا تھا‪ ،مجھے نظر آرہا ہے کہ تم
‫کسی جگہ کے حکمران بنو گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم سلطان بن جائو۔ یاد رکھو بیٹے! تم آج سے میرے بیٹے نہیں‪،
‫قوم کے بیٹے ہو۔ قرآن کا حکم ہے کہ ماں باپ کی خدمت کرو۔ اب تمہارے ماں باپ قوم اور سلطنت ہے۔ اوالد کو ماں باپ
‫پر حکم چالنے اور ان کا دل دکھانے سے اللہ نے منع کیا ہے۔ خیال رکھنا یوسف! قوم کا دل نہ دکھانا۔ دیکھنا کہ تم پر قوم
‫…''کے کیا کیا حقوق ہیں۔ یہ ادا کرنا
‫اور میرے عزیز بیٹو! تمہارے دادا نے کہا تھا کہ جو لوگ قوم کی آن پر اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ہیں‪ ،انہیں نہ بھولنا۔''
‫جو قوم اپنے شہیدوں کو بھول جاتی ہے‪ ،اس قوم کو خدا بھول جاتا ہے۔ جس قوم سے خدا نظریں پھیر لیتا ہے‪ ،تم نہیں
‫جانتے کہ یہ دنیا اس کے لیے جہنم بن جاتی ہے۔ اس کی عبادت گاہیں اصطبل اور اس کی بیٹیاں دشمن کی عیاشی کا
‫سامان بن جاتی ہیں۔ اس قوم کی تقدیر اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے… جب تمہیں حکومت کی مسند پر بٹھایا جائے گا
‫تو قوم کو رعایا نہ سمجھنا۔ بندوں پر حکومت کا حق صرف اللہ کا ہے‪ ،بندوں پر حکومت کرکے اللہ کی برابری کاگناہ کرو
‫گے تو انجام مصر کے فرعونوں واال ہوگا۔ حکومت کا مطلب وہ ذمہ داری ہوتی ہے جو قوم کی طرف سے اللہ اس کے
‫حکمران پر عائد کرتا ہے۔ حکمران کی اپنی کوئی ذات نہیں رہتی۔ وہ فرد کی حیثیت سے مرجاتا ہے۔ وہ قوم کا امین اور
‫قوم کا حصہ بن جاتا ہے۔ قوم کو فاقے کرنے پڑیں تو حکمران کو اپنا پیٹ نہیں بھرنا چاہیے۔ وہ اپنے منہ میں نوالہ ڈالے تو
‫اسے یقین کرلینا چاہیے کہ قوم کے ہر فرد کے منہ میں ایسا ہی نواال جارہا ہے۔ وہ جب گھوڑے پر سوار ہوتو دیکھے کہ اس
‫…''کی گردن مسجد کے مینار کی طرح اکڑ کر سیدھی تو نہیں ہوگئی؟
‫اقصی کو کفار سے آزاد کرالو ''
‫اور میرے عزیز بیٹو! تمہارے دادا نے کہا تھا کہ گردن اس روز اونچی کرنا جس روز مسجد
‫ٰ
‫اقصی میں فتح کے نفل پڑھ لو گے اور اس مسجد کی دہلیز جہاں سے
‫گے۔ اطمینان کی نیند اس رات سونا جس رات مسجد
‫ٰ
‫ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج کے لیے اللہ کے حضور گئے تھے‪ ،اپنے آنسوئوں سے دھوئوگے… اور میرے بیٹو!
‫وہ بچے جو بیت المقدس کی گلیوں اور مسجدوں میں قتل ہوئے تھے اور قوم کی وہ دو بیٹیاں جو وہاں بے آبرو ہوئی تھیں‪،
‫مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتیں۔ جس مسجد میں میرے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قدم گئے اور
‫جس مسجد میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک جبیں نے سجدے کیے تھے‪ ،اس مسجد کی اینٹیں رات بھر
‫میرے اوپر گرتی رہتی ہیں۔ میں بدک بدک جاتا ہوں۔ کبھی ورد سے کراہتی ہوئی ایسی صدائی سنائی دیتی ہیں جیسے مسجد
‫اقصی میں قتل ہونے والے بچے بزبان گریہ اذانیں دے رہے ہوں… وہ تمہیں پکار رہے ہیں میرے بیٹو! وہ مجھے پکار رہے
‫ٰ
‫…''ہیں
‫اور تمہارے دادا نے بڑھاپے سے کانپتے ہوئے ہاتھ مجھے دکھا کر کہا تھا کہ میں نے اپنی جوانی تمہیں دے دی ہے جو کام''
‫میں نہیں کرسکا وہ تم کرو۔ بیت المقدس جائو اور یہی تمہارے جینے کا مقصد ہوگا۔ سلطنت کی مسند پر بیٹھ کر اپنے دشمن
‫کو اس لیے نظر انداز کیے رکھو گے کہ اطمینان سے قوم پر حکومت کرسکو تو اس مسند کی عمر طویل نہیں ہوگی۔ شہیدوں
‫کی روحیں جنات بن کر تمہاری مسند کو الٹ دیں گی۔ جینے کا مقصد وہ رکھو جو خدا کو عزیز ہو اور جس میں قرآن کا
‫…''حکم شامل ہو
‫میرے عزیز بیٹو! آج میں اپنے باپ کا ورثہ تمہارے سپرد کرتاہوں۔ آج سے تم میرے نہیں سلطنت اسالمیہ کے بیٹے ہو۔ ''
‫میں نے تمہاری ماں سے کہہ دیا کہ بھول جا تیری کوکھ نے کوئی بیٹے جنے تھے۔ اگر انہیں بھول نہ سکی تو ان کی زندگی
‫کی دعا نہ کرنا‪ ،میں انہیں وہاں ذبح کرانے لے جارہا ہوں جہاں ابراہیم علیہ السالم نے اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ پر قربان
‫کرنے کے لیے اس کی گردن پر چھری رکھی تھی۔ اگر دعا کرنی ہے تو اللہ سے یہ التجا کرنا کہ تو نے جو دودھ ان بچوں
‫اقصی کا فرش دھو ڈالے… اور اللہ کرے گا ایسا ہی ہوگا۔ عہد کرو میرے
‫کو پالیا ہے‪ ،یہ نور سے منور خون بن کر مسجد
‫ٰ
‫بیٹو! میں زندہ نہ رہا تو بیت المقدس کو تم آزاد کرائو گے''۔
‫اس نے دونوں بیٹوں کو ‪١٠٩٩ء کی خونچکاں داستاں سنائی اور جب اس نے بیٹوں کو جانے کی اجازت دی تو انہوں نے
‫سلطان ایوبی کو اس طرح سالم نہ کیا جس طرح بیٹے اپنے باپ کو کیا کرتے ہیں۔ وہ اٹھے اور االفضل جو بڑا تھا‪ ،بوال…
‫'' سلطان عالی مقام! صرف شہید ہونا کوئی کارنامہ نہیں‪ ،ہم شہادت سے پہلے بیت المقدس کی گلیوں میں دشمنوں کا اتنا
‫اقصی سے صلیب اپنے ہاتھوں اتار
‫خون بہائیں گے کہ آپ کے گھوڑے کے پائوں پھسلیں گے اور ہم دیکھیں گے کہ آپ مسجد
‫ٰ
‫کر صلیبیوں کے غلیظ خون میں پھینک رہے ہیں''۔
‫مگر یہ خون نہتے شہریوں کا نہیں ہوگا‪ ،االفضل''… سلطان ایوبی نے کہا۔''
‫یہ خون زرہ پوش صلیبیوں کا ہوگا''… االفضل نے کہا… ''یہ خون اس لوہے سے ٹپکے گا جس سے صلیبیوں نے اپنے ''
‫جسم ڈھانپ رکھے ہیں۔ ایمان کی تلوار باطل کے فوالد کو کاٹنے کی طاقت رکھتی ہے''۔
‫اللہ تمہاری زبان مبارک کرے''… سلطان ایوبی نے کہا۔''
‫بیٹوں نے فوجی انداز سے باپ کو سالم کیا اور باہر نکل گئے۔
‫اب سلطان ایوبی بیت المقدس سے چالیس میل دور بحیرٔہ روم کے کنارے عسقالن میں اس چیتے کی طرح بیٹھا تھاجو اپنے
‫شکار پر جھپٹنے کے لیے تیار ہو۔ جذباتی طور پر وہ فورا ً بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کرنے کو تیار تھا لیکن وہ جنگ
‫کے حقائق کو دیکھ رہا تھا۔ یہ چالیس میل کا فاصلہ تو جیسے آتش فشاں چٹانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بیت المقدس کا دفاع ہی
‫ایسا تھا۔ صرف شہر کے اردگرد ہی دیوار نہیں تھی بلکہ اس شہر کے اردگرد دور دور تک کے عالقے میں چھوٹی چھوٹی قلعہ
‫بندیاں اور صلیبی فوج کی چوکیاں ( آئوٹ پوسٹیں) تھیں۔ گشتی پہرے کا انتظام بھی تھا۔ گھوڑ سوار پارٹیاں ان راستوں پر

‫گھومتی پھرتی رہتی تھیں جن سے بیت المقدس تک پہنچا جاسکتا تھا۔ اب یہ دفاعی انتظامات پہلے سے زیادہ سخت کردئیے
‫گئے تھے۔ بیت المقدس کے اندر جو فوج تھی اس کے جرنیلوں کو سلطان ایوبی کی ہر ایک نقل وحرکت کا علم تھا مگر ان
‫میں اب اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ سلطان ایوبی کو عسقالن میں روک لیتے یا اس پر جوابی حملہ کرتے۔ حطین تک
‫سلطان ایوبی نے ان کی عسکری قوت کا بہت زیادہ خون نکال لیا تھا۔
‫بیت المقدس کا حکمران گائی آف لوزینان تھا جو حطین میں جنگی قیدی ہوگیا اور اب دمشق کے قید خانے میں تھا۔ وہ جو
‫فوج اپنے ساتھ لے گیا تھا اس کا کچھ حصہ مارا گیا۔ کچھ جنگی قیدی ہوا اور باقی فوج ایسی بھاگی کہ اب اس کے افسر‪،
‫سپاہی اور زرہ پوش نائٹ زخمی یا خوفزدگی کی حالت میں بیت المقدس میں آرہے تھے۔ نائٹوں کے مورال میں کچھ جان
‫تھی کیونکہ انہیں اپنے رتبے اوراعزاز کا پاس تھا۔ دیگر فوج نے شہر میں جاکر دہشت پھیال دی۔ جرنیلوں نے نائٹوں کو ازسرنو
‫منظم کرلیا۔ اس طرح بیت المقدس کے اندر کی تعداد ساٹھ ہزار ہوگئی تھی۔ چونکہ یہ تمام آبادی کو معلوم ہوگیا تھا کہ
‫سلطان ایوبی شہر پر شہر فتح کرتا آرہا ہے‪ ،اس لیے شہری بھی لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ شہر کے دفاع کو اور زیادہ
‫مستحکم کرلیا گیا۔
‫شہرکے ایک دو دروازوں کو دن کے دوران کھال رکھنا پڑتا تھا کیونکہ میدان جنگ سے بھاگے ہوئے صلیبی اکیلے اکیلے اور دو
‫دو‪ ،چارچار کی ٹولیوں میں آتے رہتے تھے۔ سلطان ایوبی کے جاسوس پہلے ہی شہر میں موجود تھے‪ ،اب بھاگے ہوئے صلیبیوں
‫کے بھیس میں چند اور جاسوس اندر چلے گئے اور شہر کے دفاعی انتظامات اور دیوار کو اچھی طرح دیکھ کر نکل بھی آئے۔
‫مسلمانوں پر پابندیاں پہلے سے زیادہ سخت کردی گئیں۔
‫٭ ٭ ٭
‫بیت المقدس سے دس بارہ میل عسقالن کی طرف صلیبیوں کی ایک چوکی تھی جس میں ایک سو کے قریب صلیبی فوجی
‫رہتے تھے‪ ،انہوں نے خیمے نصب کررکھے تھے۔ ستمبر ‪١١٨٧ء کی ایک رات ان کی چوکی کے قریب ایک دھماکہ سا ہوا‪ ،پھر
‫دو تین اور ایسے ہی دھماکے ہوئے۔ ان کے فورا ً بعد شعلے اٹھے اور تین چار خیمے جلنے لگے۔ سپاہی جاگ کر ادھر ادھر
‫بھاگے۔ جونہی فوجیوں میں ہلچل مچی‪ ،ان پر ہر طرف سے تیر آنے لگے۔ جلتے خیموں کی روشنی میں وہ نظر آرہے تھے۔یہ
‫آتش گیر سیال کی ہانڈیاں تھیں جو سلطان ایوبی کے ایک چھاپہ مار جیش نے چھوٹی منجنیق سے پھینکی تھیں۔ یہ چوکی
‫میں گر کر ٹوٹیں تو جہاں یہ گری تھیں وہاں جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر چالئے گئے۔ آتش گیر سیال جل اٹھا۔
‫صلیبی ادھر ادھر بھاگے تو انہیں پتہ چال کہ وہ گھیر میں آئے ہوئے ہیں اورزندہ نکل نہیں سکیں گے۔ چھاپہ ماروں نے للکارنا
‫شروع کردیا… '' زندہ رہنا چاہتے ہو تو ہتھیار ڈال کر ایک طرف کھڑے ہوجائو''… شعلوں کی دہشت اور تباہ کاری تو اپنی
‫جگہ تھی‪ ،سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں کی للکار نے صلیبیوں کا رہا سہا دم خم بھی ختم کردیا۔ وہ ہتھیار ڈال کر چھاپہ
‫ماروں کی حراست میں آگئے۔ ان کی تعداد پچیس تیس رہ گئی تھی۔ ان سے ہتھیار اور گھوڑے وغیرہ لے کر پیچھے بھیج دیا
‫گیا۔
‫صبح طلوع ہوئی تو اس جلی ہوئی چوکی میں سلطان ایوبی کے ہر اول دستے کاایک جیش پہنچ چکا تھا۔ اس سے فوج کی
‫پیش قدمی خاصے دور عالقے تک محفوظ ہوگئی۔ چھاپہ ماروں کی حالت جنگل کے درندوں کی سی ہوگئی تھی۔ دو دو جانباز
‫جھاڑیوں‪ ،ٹیکریوں اور چٹانوں میں چھپ چھپ کر گھومتے پھرتے رہتے تھے۔ جہاں انہیں گشتی سواروں یا پیادہ سپاہیوں کی
‫آواز آتی‪ ،وہ چھپ جاتے اور جب صلیبی قریب آتے یہ ان پر ٹوٹ پڑتے۔ دو آدمی اگر چھ آدمیوں پر ٹوٹ پڑیں تو دو کا کیا
‫حشر ہوتا ہوگا۔ اس سے چھاپہ مار شہید بھی ہوتے تھے‪ ،زخمی بھی۔
‫یہ ان کی انفرادی جنگ تھی۔ انہیں کوئی کمانڈر نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ کہیں ادھر ادھر چھپے رہتے تو کوئی پوچھنے واال نہیں
‫تھا لیکن جسمانی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ انہیں جو روحانی اور ذہنی ٹریننگ دی گئی تھی اس نے انہیں آگ بگوال کررکھا تھا۔
‫حطین کی فتح کے بعد سلطان ایوبی نے جو بڑے شہر فتح کیے تھے‪ ،وہاں کے مسلمانوں کی حالت فوج کو دکھائی گئی تھی۔
‫انہیں مسجدوں کی بربادی اور بے حرمتی دکھائی گئی تھی اور انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ جنگ کسی بادشاہ کی بادشاہی کے
‫تحفظ کے لیے نہیں لڑی جارہی بلکہ یہ اسالم کے تحفظ اور اس عظیم مذہب کے دشمن کے خالف لڑی جارہی ہے۔ اس
‫ٹریننگ سے یہ جنگ ان کے ایمان کا جزو بن گئی تھی۔
‫عسقالن میں سلطان ایوبی رات کو سوتا بھی کم ہی تھا۔ چھاپہ ماروں کی طرف قاصد آتے رہتے تھے اور بیت المقدس سے
‫کوئی جاسوس بھی آجاتا تھا۔ یہ رات کو بھی آتے تھے‪ ،سلطان ایوبی نے حکم دے رکھا تھا کہ کہیں سے کوئی پیغام کسی
‫بھی وقت آئے تو اسے اسی وقت دیا جائے‪ ،خواہ وہ گہری نیند سورہا ہو۔ چھاپہ ماروں کی رپورٹیں یہی ہوتی تھیں کہ فالں
‫مقام پر صلیبیوں کی ایک چوکی پر حملہ کیا گیا۔ اتنے صلیبی مارے گئے اور اتنے چھاپہ مار شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور
‫فالں راستہ صاف کرلیا گیا ہے۔ اس کے مطابق سلطان ایوبی نقشے پر پیش قدمی کے راستے کی لکیر میں ردوبدل کرتا رہتا
‫تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی نے ساالروں اور نائب ساالروں کی آخری کانفرنس منعقد کی۔ اس میں بحریہ کے کپتان الفارس بیدرون کو بھی بالیا
‫گیا۔ الفارس کے پاس جب قاصد پہنچا‪ ،اس وقت اس کا جہاز عسقالن کے بیس میل دور کھلے سمندر میں تھا۔ کشتی اس تک
‫پہنچتے آدھا دن لگ گیا اور الفارس اسی کشتی میں رات کو عسقالن پہنچا۔ قاصد نے اسے بتایا تھا کہ سلطان نے تمام
‫ساالروں کو بالیا ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ بیت المقدس پر حملے کے متعلق اجالس ہوگا۔ جہاز سے قاصد کے ساتھ روانہ ہوتے
‫وقت اس نے دونوں لڑکیوں کو بتایا کہ وہ عسقالن جارہا ہے۔
‫سلطان نے بالیا ہے؟''ایک لڑکی نے پوچھا۔''
‫کیوں بالیا ہے؟'' دوسری نے پوچھا۔''
‫میرے سرکاری فرائض کے متعلق تم پوچھنا کیوں ضروری سمجھتی ہو؟'' الفارس نے انہیں کہا… ''تمہیں کئی بار کہہ چکا ''
‫ہوں کہ میری ذات کے سوا کچھ اور نہ پوچھا کرو''۔
‫دونوں ہنس پڑیں۔ ایک بولی۔ ''اگر ہم اس قابل ہوتیں تو آپ کی غیرحاضری میں آپ کے جہاز کو سنبھالے رکھتیں اور
‫دشمن کے جہاز آجاتے تو ان سے لڑائی کرتیں''۔
‫تم جس قابل ہو‪ ،میں تم سے وہی کام لوں گا''۔ الفارس نے کہا… ''میری غیرحاضری میں زیادہ وقت نیچے ہی گزارنا۔ ''
‫اوپر جاکر مالحوں اور عسکریوں کے کام میں دخل نہ دینا''۔
‫''آپ کب واپس آئیں گے؟''

‫رات شاید نہ آسکوں''۔ الفارس نے جواب دیا۔ ''کل شام تک آسکوں گا''۔''
‫الفارس لڑکیوں میں پوری طرح گھل مل گیا تھا۔ وہ اس سے سلطان ایوبی کے آئندہ اقدامات کے متعلق اکثر پوچھتی تھیں۔ یہ
‫بھی پوچھا کرتیں کہ بحیرٔہ روم میں مصر اور شام کا بحری بیڑہ بندرگاہوں میں ہے یا سمندر میں اور کل کتنے جہاز ہیں‪ ،ان
‫میں فوج کتنی ہے۔ الفارس نے انہیں ٹالنے کے بجائے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ اس سے ایسے سوال نہ پوچھا کریں۔ اس کے
‫باوجود اپنے حسن اور نازوادا کا طلسم طاری کرکے اس سے کوئی ایسی بات پوچھ ہی بیٹھتیں تھیں جو فوجی راز ہوتا تھا۔
‫الفارس جذباتی مدہوشی سے فورا ً بیدار ہوجاتا اور انہیں پیار سے ڈانٹ دیا کرتا تھا۔
‫نشے کی حالت میں انسان دل میں چھپائی ہوئی بات اگل دیا کرتا ہے۔ نشہ خواہ شراب کا ہو یا کسی دوائی کا مگر الفارس
‫شراب نہیں پیتا تھا‪ ،نہ جہاز میں کسی کو شراب یا کوئی اور نشہ آور چیز رکھنے کی اجازت تھی۔ الفارس بدکار بھی نہیں
‫تھا مگر وہ اپنے آپ پر ان لڑکیوں کا نشہ طاری کرلیا کرتا تھا جس سے اس کی تھکن دور ہوجاتی اور وہ تازہ دم ہوجایا کرتا
‫تھا۔ یہ لڑکیاں تربیت یافتہ تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ الفارس میں نہ شراب کی عادت ہے‪ ،نہ اس کے جذبات سفلی اور
‫حیوانی ہیں تو انہوں نے اس پر پیار اور محبت کا نشہ طاری کرنا شروع کردیا تھا مگر الفارس اپنے فرائض اور ذمہ داری کا
‫اتنا پکا تھا کہ جذبات پر مدہوشی طاری ہوتی تو بھی اپنے فرض سے کوتاہی نہیں کرتا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫ایک رات الفارس گہری نیند سویا ہوا تھا۔ لڑکیاں اپنے کیبن میں تھیں‪ ،دونوں اوپر چلی گئیں اور عرشے کے جنگلے کے سہارے
‫سمندر پر چاندنی کے بکھرے اور چمکتے ہوئے موتیوں سے لطف اٹھانے لگیں۔
‫روزی!'' ایک لڑکی نے دوسری سے کہا… ''مجھے اپنے سامنے گہرا اندھیرا نظر آتا ہے۔ الفارس لگتا موم ہے لیکن کوئی ''
‫ایسی ویسی بات پوچھو تو پتھر بن جاتا ہے۔ میرا خیال ہے ہم اپنا یہاں کام نہیں کرسکیں گی۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ
‫''اینڈریو آئے تو اسے کہیں کہ ممکن ہو توہمیں یہاں سے لے جائے؟
‫اینڈریو وہ آدمی تھا جو چھوٹی سی کشتی جہازوں کے قریب لے جا کر کھانے پینے اور ضروریات کی اشیاء جہاز کے مالحوں
‫اور سپاہیوں کے ہاتھ بیچتا تھا۔ آپ نے پچھلی قسط میں پڑھا ہے کہ یہ آدمی ان لڑکیوں کو اتفاق سے مال تھا۔ وہ غریب
‫ماہی گیروں کے بہروپ میں اپنی کشتی پر الفارس کے جہاز کے قریب چیزیں بیچنے آیا تھا۔ اس نے لڑکیوں اور لڑکیوں نے
‫اسے پہچان لیا تھا اور انہوں نے رسیوں کی سیڑھی نیچے کروا کر اسے چیزیں خریدنے کے بہانے اوپر بال لیا تھا۔ اس نے
‫لڑکیوں کو بتایا تھا کہ وہ الفارس کے ان چھ جہازوں کے ساتھ سائے کی طرح لگا ہوا ہے اور وہ موقع ملتے ہی ان جہازوں کو
‫تباہ کرا دے گا۔ لڑکیوں نے اسے بتایا تھا کہ وہ کس طرح الفارس سے ملی تھیں اور انہوں نے خانہ بدوش بن کر اس جہاز
‫میں پناہ لے لی ہے۔ لڑکیوں نے اسے یہ بھی بتایا کہ وہ پناہ کے بہانے جاسوسی اور تباہ کاری کریں گی۔
‫اس آدمی کا نام اینڈریو تھا اور وہ تخریب کار جاسوس تھا۔ پہلی مالقات کے بعد وہ دوبار اپنے بہروپ میں آیا اور لڑکیوں ‪:
‫سے مال تھا۔ لڑکیوں نے اسے بتایا تھا کہ الفارس ان کے جال میں نہیں آرہا اور وہ کوئی راز نہیں دیتا۔ اینڈریو یہ معلوم کرنا
‫چاہتا تھا کہ یہ جہاز کب تک اس ڈیوٹی پر رہیں گے اور یہ ٹائر کی طرف جائیں گے یا نہیں۔ اس نے لڑکیوں سے کہا تھا …
‫'' معلوم ہوتا ہے تم اپنا فن بھول گئی ہو۔ اس جہاز میں اکیال الفارس نہیں‪ ،اس کا نائب بھی ہے اور اس کے نیچے ایک
‫افسر اور بھی ہے۔ ان میں سے کسی کو گانٹھ لو۔ ان میں رقابت پیدا کردو۔ الفارس کے نائب کو اس کا دشمن بنا دو۔ اپنا
‫جادو چالئو۔ تم کیا نہیں جانتیں؟ سب جانتی ہو''۔
‫اس رات ایک لڑکی دوسری سے مایوس ہوکر کہہ رہی تھی کہ روزی‪ ،اینڈریو آئے تو اسے کہتے ہیں کہ ہمیں یہاں سے نکال
‫لے جائے۔
‫سنو فلوری!'' روزی نے اسے جواب دیا… ''اینڈریو ہمیں یہاں سے نہیں نکال سکے گا۔ یہ جنگی جہاز ہے۔ تم دیکھ رہی''
‫ہو کہ رات کو عرشے پر بلکہ وہ اوپر دیکھو‪ ،مستول پر مچان بنائے ایک بحری سپاہی کھڑا ہے۔ فرار کی کوشش میں ہمارے
‫ساتھ اینڈریو کے پکڑے جانے کا بھی امکان ہے۔ ہمیں اتنی جلدی مایوس نہیں ہونا چاہیے''۔
‫دوسرا حربہ استعمال کریں؟'' فلوری نے پوچھا۔''
‫کرنا پڑے گا'' ۔ روزی نے کہا… ''الفارس کا نائب کپتان تو پہلے ہی ہمیں بھوکی نظروں سے دیکھتا اور مسکراتا رہتا ہے۔ ''
‫یہ لوگ بڑے لمبے عرصے سے سمندر میں ہیں۔ ان کے سروں پر موت منڈالتی رہتی ہے۔ خدا نے مرد میں عورت کی جو
‫کمزوری پیدا کی ہے‪ ،وہ اسی کیفیت میں ابھرتی ہے۔ اشارے کی دیر ہے۔ یہ بتا دو کہ یہ کام میں کروں یا تم کرو گی۔
‫تمہیں مجھ سے زیادہ تجربہ حاصل ہے''۔
‫میں ہی کرلیتی ہوں''۔ فلوری نے کہا۔''
‫لیکن اس کام کے اصول یاد رکھنا''… روزی نے کہا… ''راز لے لینا لیکن اس کی قیمت صرف دکھا دینا‪ ،ادا نہ کرنا۔ اس ''
‫شخص میں اتنی تشنگی بلکہ دیوانگی پیدا کرنا کہ یہ شخص تمہیں یا الفارس کو قتل کرنے کی باتیں کرنے لگے''۔
‫الفارس کا نائب رئوف کرد تھا۔ وہ ان لڑکیوں کو دیکھتا اور مسکراتا رہتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ الفارس کی بیویاں یا داشتہ
‫نہیں اور یہ خانہ بدوش ہیں‪ ،جنہیں الفارس نے اپنے جہاز میں پناہ دی ہے۔ رئوف کرد کے دل میں لڑکیوں نے ہلچل بپا کردی
‫تھی۔ اس رات جب یہ لڑکیاں عرشے پر جنگلے کا سہارا لیے باتیں کررہی تھیں‪ ،رئوف اپنی ڈیوٹی پر کھڑا انہیں دیکھ رہا
‫تھا۔ الفارس سلطان ایوبی کے بالوے پر جاچکا تھا۔ اب جہاز رئوف کرد کی تحویل میں تھا۔
‫فلوری عرشے کے جنگلے کے ساتھ کھڑی رہی۔ روزی ٹہلنے کے انداز سے وہاں سے چل پڑی اور رئوف کرد کے قریب سے
‫گزرتے مسکرائی۔ رئوف کرد نے اسے اپنے پاس بالیا اور رسمی سی باتیں کیں۔ روزی چلنے لگی تو رئوف کردنے اسے رکنے کو
‫کہا۔
21:06
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫اقصی کی دہلیز پر
‫قسط نمبر‪ 153ایوبی مسجد
‫ٰ
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫روزی چلنے لگی تو رئوف کردنے اسے رکنے کو کہا۔''میں آپ کے پاس رکی رہتی تو وہ (فلوری) ناراض ہوگی''۔ روزی نے
‫''کہا۔''ناراض کیوں ہوگی؟
‫اپنے اپنے دل کی بات ہے''۔ روزی نے کہا… ''ایک روز الفارس نیچے سو رہے تھے اور میں اوپر آپ کے پاس کھڑی ''
‫تھی تو اس ( فلوری) نے دیکھ لیا۔ بعد میں کہنے لگی… ''میری ملکیت پر قبضہ نہ کرو۔ رئوف میرا ہے۔ جب ہم مصر

‫جائیں گے تو میں اس کے ساتھ چلی جائوں گی''… یہ الفارس کو پسند نہیں کرتی اور اس ڈر سے آپ کے قریب نہیں آتی
‫کہ الفارس ناراض ہوگا''۔
‫رئوف کرد کے جذبات میں زلزلے بپا ہوگئے۔ مردانہ فطرت کی کمزوری نے اس سے ہتھیار ڈلوا لیے۔ اس نے فلوری اور روزی
‫سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں بھی دیکھی تھیں لیکن ان کے حسن اور ڈیل ڈول میں جو کشش تھی وہ اس نے کسی لڑکی میں
‫کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اب اسے یہ پتہ چال کہ ان میں سے ایک اسے چاہتی ہے تو اس کا دماغ جذبات کے بنائے اس
‫راستے پر چلنے لگا جس پر مرد جاتے نظر آتے ہیں‪ ،واپس آتے دکھائی نہیں دیتے۔ روزی اسے طلسم ہوشربا میں چھوڑ کر
‫چلی گئی۔ اس نے اپنے کیبن میں اترنے والی سیڑھیوں پر پائوں رکھ کر پیچھے دیکھا۔ رئوف کرد آہستہ آہستہ فلوری کی طرف
‫جارہا تھا۔
‫آج رات سوئو گی نہیں جواشی؟'' رئوف کرد نے فلوری کا وہ نام لیا جو اس نے الفارس کو بتایا تھا۔ روزی نے اپنا نام از''
‫میز بتایا تھا۔ خانہ بدوشوں کے نام اسی قسم کے ہوا کرتے تھے۔
‫رئوف کرد کو اپنے قریب کھڑا دیکھ کر وہ ٹریننگ کے مطابق ایسے انداز سے شرمائی اور مسکرائی کہ اس انداز سے کنواری
‫دلہن بھی نہ شرماتی ہوگی۔ رئوف کرد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو فلوری سکڑ گئی۔
‫''ازمیر نے مجھے تمہارے متعلق کچھ بتایا ہے''… رئوف کرد نے کہا… ''کیا یہ سچ ہے؟''
‫فلوری نے اس کی طرف دیکھا اور فورا ً گردن گھما کر سمندر کی طرف دیکھنے لگی۔ رئوف کرد نے اپنا سوال دہرایا اور فلوری
‫کے اس ہاتھ پر ہاتھ رکھا جو جنگلے پر رکھا تھا۔ فلوری نے آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ الٹا کرکے انگلیاں رئوف کرد کی انگلیوں
‫میں الجھا دیں… تھوڑی ہی دیر بعد فلوری اس جگہ رئوف کرد کے ساتھ بیٹھی تھی‪ ،جہاں اس کی ڈیوٹی تھی۔ جہاز نے لنگر
‫ڈال رکھے تھے۔ دو تین چار بتیاں سمندر پر تیر رہی تھیں۔ یہ الفارس کے جہاز تھے جو گشت کررہے تھے۔
‫آدھی رات کو رئوف کرد کی جگہ اس کے ایک ماتحت افسر کو ڈیوٹی پر آنا تھا۔ رئوف کرد نے فلوری سے کہا کہ وہ اس
‫کے کیبن میں چلے اور وہ آتا ہے۔ فلوری چلی گئی۔
‫جہاز کے عرشے سے صبح کی اذان کی آواز آئی تو فلوری رئوف کرد کے کیبن سے نکلی۔ اس نے الفارس کے اس نائب کو
‫یقین دال دیا تھا کہ وہ اسے دل وجان سے چاہتی ہے اور الفارس کو وہ خاوند کی حیثیت سے کبھی قبول نہیں کرے گی۔ اس
‫نے رئوف کرد سے یہ بھی کہا… ''الفارس مجھے کہتا تھا کہ رئوف کے ساتھ بات نہ کرنا‪ ،بہت برا آدمی ہے۔ حقیقت یہ ہے
‫کہ وہ خود بہت برا آدمی ہے۔ اس نے ہمیں پناہ تو دی ہے لیکن ہماری مجبوری سے پورا پورا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اگر ہم
‫اتنی مجبور نہ ہوتی تو اتنی زیادہ قیمت کبھی نہ دیتیں''۔
‫رئوف کرد کے دل میں اپنی محبت کا دھوکہ اور الفارس کی دشمنی پیدا کرکے وہ اس کے کیبن سے نکل آئی اور جو باتیں
‫اسے الفارس نے کبھی نہیں بتائی تھیں وہ رئوف کرد نے اسے بتا دیں۔
‫اس رات سلطان ایوبی سویا نہیں‪ ،رات اجالس میں گزر گئی۔ وہ ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا جس سے بیت
‫المقدس کا محاصرہ ناکام ہوجائے۔ اس نے ساالروں وغیرہ کو بیت المقدس تک پہنچنے کا راستہ نقشے پر دکھایا۔ اس نے نقشے
‫پر ان جگہوں پر نشان لگا رکھے تھے جہاں کچھ دن پہلے صلیبیوں کی چوکیاں تھیں اور اب وہاں اپنے چھاپہ مار تھے یا ہر
‫اول کی تھوڑی تھوڑی نفری تھی یا وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ راستہ صاف تھا۔ ایسی جگہوں پر بھی اس نے نشان لگا رکھے
‫تھے جہاں صلیبیوں کی قلعہ بندیوں کی ساخت کی چوکیاں ابھی موجود تھیں اور ان میں نفری کچھ زیادہ تھی۔ سلطان ایوبی
‫نے سب کو بتایا کہ اس نے ان پر قبضہ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کیونکہ وہ اپنی جنگی طاقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔
‫اس کا عالج اس نے یہ بتایا کہ یہ سب چوکیاں بلندیوں پر ہیں‪ ،اس لیے انہیں نظرانداز کرکے ذرا سا دور سے گزرنا ہے۔ ان
‫میں جو فوج ہے‪ ،وہ ان میں بیٹھی رہے۔ یہ تھوڑی تھوڑی نفری باہر آکر ہمارا راستہ روکنے کی جرٔات نہیں کرے گی۔
‫لیکن دور سے ہمیں دیکھ کر ان میں سے قاصد بیت المقدس جا کرخبر دیں گے''۔ ایک ساالر نے کہا… ''پھر ہم بیت ''
‫المقدس والوں کو بے خبری میں نہیں لے سکیں گے''۔
‫بے خبری میں جا لینے کی امید دل سے نکال دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''صلیبیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم ''
‫بیت المقدس جارہے ہیں۔ ان کا انداز بتاتا ہے کہ وہ بیت المقدس کے راستے میں ہمارے مقابلے میں نہیں آئیں گے۔ ایک تو
‫شہر میں پہلی فوج ہے جو کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئی۔ یہ شہر کے دفاع کے لیے محفوظ اور تیار رکھی گئی ہے‪ ،وہاں
‫سے جاسوس اطالع الئے ہیں کہ یہ فوج دن رات محاصرے میں لڑنے اور محاصرہ توڑنے کی مشق کرتی رہتی ہے۔ اس میں
‫اضافہ یوں ہوا ہے کہ ہم نے جو مقامات فتح کیے وہاں کی بھاگی ہوئی فوج بھی بیت المقدس چلی گئی ہے۔ اس میں زرہ
‫پوش نائٹ بھی ہیں۔ ہمارے جاسوسوں نے بتایا ہے کہ محاصرے کے دوران یہ نائٹ دروازوں سے باہر آکر حملے کریں گے اور
‫لہذا یہ نہ
‫ہر حملے کے بعد شہر میں چلے جائیں گے۔ انہوں نے یہ طریقہ ہم سے سیکھا ہے۔ جھپٹا مارو اور غائب ہوجائو۔ ٰ
‫سمجھو کہ تم دشمن کو بے خبری میں جالو گے۔ دشمن تمہارے انتظار میں تیار کھڑا ہے‪ ،پھر بھی میں نے انتظام کررکھا ہے
‫کہ صلیبیوں کی کسی چوکی سے کوئی قاصد بیت المقدس نہ پہنچ سکے۔ بیت المقدس اور ان کی چوکیوں کے درمیان ہمارے
‫…''چھاپہ مار موجود ہیں۔ کسی کو زندہ نہیں جانے دیں گے
‫فوج کی تعداد کے متعلق جاسوس مختلف اطالعات الئے ہیں۔ ان سے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ بیت المقدس کے اندر''
‫صلیبیوں کی باقاعدہ فوج کی تعداد ساٹھ ہزار سے کچھ زیادہ ہوسکتی ہے‪ ،کم نہیں ہوگی۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا کہ وہاں
‫مسلمان قید اور نظر بندی میں ہیں‪ ،اس لیے وہ اندر سے ہماری کوئی مدد نہیں کرسکیں گے۔ اس مقابلے میں عیسائی شہری
‫اپنی فوج کے دوش بدوش محاصرے میں بے جگری سے لڑیں گے۔ عیسائیوں نے اپنے بچوں کو بھی تیراندازی کی تربیت دے
‫رکھی ہے۔ شہر کی دیواروں کے اوپر سے ہم پر تیر صحیح معنوں میں موسال دھار بارش کی طرح آئیں گے۔ یہ بھی ذہن میں
‫رکھو کہ صلیبی تیر پھینکنے کے لیے ایک نئی کمان الئے ہیں جس کی شکل صلیب کی سی ہے۔ اس سے تیر دور بھی جاتا
‫ہے اور نشانہ بھی صحیح ہوتا ہے''۔
‫سلطان ایوبی نے نقشے پر حاضرین کو تمام جگہیں اور راستے وغیرہ دکھائے پھر محاصرے کے متعلق ہدایات دیں اور سب سے
‫پوچھا کہ یہ آخری اجالس ہے‪ ،اس لیے کسی کے ذہن میں کوئی ذرا سا بھی شک ہو تو وہ رفع کرلے اور کوئی سوال خواہ
‫وہ کتنا ہی بے معنی کیوں نہ ہو‪ ،پوچھ لے۔ قاضی بہائوالدین شداد جو اس تاریخی جنگی مہم میں سلطان ایوبی کے ساتھ تھا‪،
‫اپنی ڈائری '' سلطان یوسف پر کیا افتاد پڑی'' میں لکھتا ہے… ''سلطان ایوبی نے (اس آخری اجالس میں) رسول اکرم
‫صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سنائی… ''جس کے لیے کامیابی کا دروازہ کھل جاتا ہے‪ ،اسے فورا ً داخل ہوجانا
‫چاہیے‪ ،معلوم نہیں‪ ،یہ دروازہ کب بند ہوجائے۔ سلطان ایوبی بہت تیزی سے مقبوضہ عالقے اور قلعے فتح کرتا آرہا ہے‪ ،اس

‫لیے وہ بیت المقدس پر یلغار کو التوا میں ڈالنے کے سخت خالف تھا۔ اس نے کہا… ''خدا نے ہماری کامیابی کا دروازہ کھول
‫دیا ہے۔ بند ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائو''۔
‫میرے رفیقو!'' اس نے نقشہ الگ رکھتے ہوئے کہا… ''حطین کی جنگ سے پہلے میں نے تمہیں ایک دو باتیں کہی ''
‫تھیں‪ ،انہیں دہرانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد ہم باتیں نہیں کرسکیں گے۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ ہم ایک دوسرے کو
‫زندہ ملیں گے بھی یا نہیں۔ اس سے پہلے ہم نے صرف لڑائیاں لڑی ہیں۔ خانہ جنگی میں ایک دوسرے کا خون بہایا اور
‫دشمن کو وقت اور مواقع فراہم کیے ہیں کہ ہمارے عالقوں میں اپنے قلعے مضبوط اور بیت المقدس کا دفاع مستحکم کرلے‪ ،پھر
‫ہم زمین دوز جنگ لڑتے رہے۔ صلیبی طلسماتی حسن والی اور نازو ادا اور چرب زبانی کی ماہر لڑکیاں ہمارے امیروں‪ ،وزیروں‪،
‫فوجی اور شہری حاکموں کے پاس بھیجتے رہے۔ صلیبیوں نے تخریب کاری اور سازش کے ماہرین ہماری صفوں میں داخل کیے۔
‫ان لڑکیوں اور ان آدمیوں نے جو تباہی مچائی‪ ،اس سے تم میں سے کوئی بھی بے خبر نہیں۔ علی بن سفیان‪ ،غیاث بلبیس
‫اور ان کے محکموں نے بڑی جانفشانی سے اس نظر نہ آنے والے محاذ پر دشمن کا مقابلہ کیا۔ میرے ہاتھوں تجربہ کار حکام
‫…''اور ساالر غداری کے جرم میں قتل ہوئے۔ بغاوتیں ہوئیں اور ہم نے دبائیں
‫دشمن کا مقصد کیا تھا؟… نظریاتی تخریب کاری اور ہمارے مذہب اور ایمان کو کمزور کرنا اور ہماری اٹھتی ہوئی نسل کو ''
‫ذہنی عیاشی کا عادی بنا دینا۔ دشمن نے ہمارے درمیان ایمان فروش پیدا کیے۔ دشمن کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے قبلٔہ اول پر
‫قابض رہے اور ہمارے ایمان فروش بھائیوں کی مدد سے مکہ معظمہ پر بھی قابض ہوجائے‪ ،تم بھولے نہیں ہوگے کہ پانچ سال
‫گزرے جب میں شمالی عالقوں میں دشمن سے الجھا ہوا تھا‪ ،ریجنالڈ (شہزادہ ارناط) مدینہ منورہ سے تھوڑی ہی دور رہ گیا
‫تھا۔ یہ میرے بھائی الملک العادل اور امیر البحرحسام الدین لولو کا کمال تھا کہ انہوں نے بروقت حرکت کی اور اس صلیبی
‫…''کو پسپا کیا۔ میں نے اسے اپنے ہاتھوں قتل کرکے انتقام لے لیا ہے
‫دشمن کا مقصد ہمارے مذہب کے سرچشموں کو بند کرنا اور انہیں عیسائیت کا منبع بنانا ہے۔ ہمیں دشمن کے مقصد اور ''
‫لہ ذا ضروری ہے کہ اس جنگ کے اس پہلو کو سامنے رکھو‪ ،یہ ہماری نظریاتی جنگ ہے۔ مذہب تلوار
‫عزائم کو تباہ کرنا ہے۔ ٰ
‫کے زور سے پھیال تھا یا نہیں لیکن مذہب کے تحفظ کے لیے میں تلوار کو ضروری سمجھتا ہوں۔ قوم نے تلوار سپاہی کے ہاتھ
‫میں دی ہے اور قوم کی تاریخ نے نظر ہم پر لگا دی ہے۔ خدائے ذوالجالل کی نظریں بھی قوم کے سپاہی پر لگی ہوئی ہیں۔
‫خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک ہمیں دیکھ رہی ہے۔ ذرا غور کرو‪ ،ہماری ذمہ داری کتنی مقدس اور
‫ہمارا فرض کتنا عظیم ہے۔ اللہ کا سپاہی حکومت نہیں کرتا‪ ،اللہ کی حکومت کا تحفظ کیا کرتا ہے''۔
‫سلطان ایوبی نے جذباتی سی آہ لے کر کہا… ''آہ میرے رفیقو! سولہ ہجری کا ربیع االول یاد کرو جب عمرو بن العاص اور
‫ان کے ساتھی ساالروں نے بیت المقدس کو کفار سے آزاد کرایا تھا۔ حضرت عمر اس وقت خلیفہ تھے۔ وہ بیت المقدس گئے۔
‫اقصی میں نماز پڑھی تھی اور اس نماز کی اذان بڑی مدت بعد حضرت
‫حضرت بالل ان کے ساتھ تھے‪ ،ان سب نے مسجد
‫ٰ
‫بالل نے دی تھی۔ حضرت بالل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ایسے خاموش ہوئے تھے کہ لوگ ان
‫اقصی میں آکر حضرت عمر نے انہیں کہا
‫کی پرسوز آواز کو ترس گئے تھے۔ انہوں نے اذان دینی چھوڑ دی تھی لیکن مسجد
‫ٰ
‫اقصی اور بیت المقدس کے درودیوار نے بڑی لمبی مدت سے اذان نہیں سنی۔ آزادی کی پہلی اذان تم نہ دو
‫کہ بالل! مسجد
‫ٰ
‫گے؟''… حضور مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد پہلی بار حضرت بالل نے اذان دی اور جب انہوں نے کہا
‫اقصی میں سب کی دھاڑیں نکل گئی تھیں''۔
‫''اشھدان محمد رسول اللہ'' تو مسجد
‫ٰ
‫اقصی اذان کو ترس رہی ہے۔ نوے برسوں سے اس عظیم مسجد کے''
‫میرے عزیز دوستو! ہمارے دور میں ایک بار پھر مسجد
‫ٰ
‫اقصی کی اذانیں ساری دنیا میں سنائی دیتی ہیں۔ صلیبی ان اذانوں
‫درودیوار کسی مؤذن کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ یاد رکھو‪ ،مسجد
‫ٰ
‫کا گال گھونٹ رہے ہیں… اس مقدس مقصد کو سامنے رکھو۔ ہم کوئی عام سی جنگ لڑنے نہیں جارہے ہیں‪ ،ہم اپنے خون سے
‫تاریخ کا وہ باب پھر لکھنے جارہے ہیں جو عمرو بن العاص اور ان کے ساتھیوں نے لکھا اور ان کے بعد آنے والوں نے اس
‫درخشاں باب پر سیاہی پھیر دی تھی‪ ،اگر چاہتے ہو کہ خدا کے حضور ماتھوں پر روشنی لے کر جائو اور اگر چاہتے ہو کہ
‫آنے والی نسلیں تمہاری قبروں پر آکر پھول چڑھایا کریں تو تمہیں بیت المقدس میں یہ منبر رکھنا ہوگا جو بیس سال گزرے
‫نورالدین زنگی مرحوم ومغفور نے وہاں رکھنے کے لیے بنوایا تھا''۔
‫اس نے یہ منبر سب کو دکھایا اور کہا… ''یہ منبر زنگی مرحوم کی بیوہ اور اس کی بیٹی الئی ہیں۔ ہمیں اس بیٹی کی
‫الج رکھنی ہے جو قوم کی دو سو بیٹیاں کو ساتھ الئی ہے کہ ہم میں سے کوئی میدان جنگ میں پیاسا نہ مرجائے۔ کوئی
‫زخموں سے اس لیے نہ مرجائے کہ مرہم پٹی کرنے واال کوئی نہ تھا۔ تم جانتے ہو کہ میں میدان جنگ میں عورتوں کو النے
‫کے حق میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ ان لڑکیوں کو میں نے اس لیے رکھ لیا ہے کہ غیرت اور قومی وقار کی یہ عالمت ہمارے
‫سامنے رہے اور ہم سب یاد رکھیں کہ ہماری اسی قسم کی بٹیاں بیت المقدس میں کفار کی درندگی اور عیاشی کا شکار ہورہی
‫ہیں۔ یاد رکھو میرے رفیقو! قوم کی بیٹی اور قوم کے شہید کو فراموش کردینے والی قوم کو خدا بھی فراموش کردیا کرتا ہے
‫اور اس کی لوح تقدیر پر عمر بھر کی لعنت لکھ دی جاتی ہے… یہ فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تم روز قیامت لعنتیوں میں
‫اٹھائے جائو گے یا ان میں جن کے متعلق رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا سے کہیں گے کہ یہ ہیں وہ سرفروش
‫جنہوں نے کفر کے طوفان کو روکا اور تیرے مذہب کا نام بلند کیا تھا''۔
‫سلطان ایوبی ایسی جذباتی باتیں کرنے کا عادی نہیں تھا لیکن ( قاضی بہائوالدین شداد اور اس دورکے واقعہ نگاروں کی
‫غیرمطبوعہ تحریروں کے مطابق) بیت المقدس کے معاملے میں وہ اس قدر جذباتی تھا کہ جب بھی اس کا ذکر کرتا‪ ،اس کی
‫آنکھوں میں آنسو آجاتے یا وہ غصے میں ایک ہاتھ کی ہتھیلی پر دوسرے ہاتھ کے گھونسے مارنے لگتا اور بے چینی سے اٹھ
‫کر ٹہلنے لگتا تھا۔ اس آخری جنگی اجالس میں اس نے ساالروں وغیرہ کے جذبات کی یہ حالت کردی کہ وہ جب باہر نکلے
‫تو انہوں نے آپس میں کوئی بات نہ کی۔ ان کی چال ڈھال ہی بدل گئی تھی۔ وہ سیدھے اپنے اپنے دستوں میں گئے اور
‫اپنے کمان داروں کی بھی جذباتی حالت وہی کردی جو ان کی اپنی اور سلطان ایوبی کی تھی۔ سب چلے گئے تو سلطان
‫ایوبی نے بحریہ کے کمانڈر الفارس بیدرون کو اپنے پاس بالیا اور اس سے پوچھا کہ سمندر کی کیا خبر ہے۔ الفارس نے اسے
‫تفصیل سے بتایا کہ اس کے جہاز گشت کرتے رہتے ہیں اور سکندریہ سے اسے پیغام ملتے رہتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے
‫کہ صلیبیوں کے بحری بیڑے کے کوئی آثار نہیں۔ ٹائر کی بندرگاہ میں ان کے جنگی جہاز موجود ہیں۔ میرے جاسوس چھوٹی
‫بادبانی کشتیوں میں ماہی گیروں کے بہروپ میں وہاں جاتے رہتے ہیں۔ ٹائر اور اس سے آگے صلیبیوں کے بیڑے میں کوئی
‫اضافہ نہیں ہوا۔ جو بیڑہ موجود ہے‪ ،یہ تیاری کی حالت میں ہے اور صلیبیوں نے جہازوں میں جل کر اڑنے والے بارود کی
‫نلکیاں لگا دی ہیں جو دور سے آتی ہیں اور بادبانوں کو آگ لگا دیتی ہیں۔

‫یہ نلکیاں اتنی ہی دور سے آسکتی ہیں جتنی دور تمہارے جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر جاسکتے ہیں''… سلطان ایوبی نے ''
‫کہا… ''ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں''۔
‫ہم میں سے کسی کے بھی دل میں ڈر نہیں''۔ الفارس نے کہا… ''بحری چھاپہ مار اس حد تک تیار ہیں کہ بحری جنگ''
‫کے دوران وہ چھوٹی کشتیوں میں دشمن کے جہازوں کے قریب جا کر ان میں سوراخ کرنے اور ان پر آگ پھینکنے کو تیار
‫ہیں''۔
‫بشرطیکہ جنگ رات کو ہو''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''دن کے وقت کسی چھاپہ مار کو سمندر میں نہ اتارنا۔ جوش میں ''
‫آکر جانیں ضائع ہوں گی… محتاط رہنا الفارس! جس طرح تم ماہی گیروں کے بہروپ میں اپنے جاسوس ٹائر تک بھیجتے ہو‪،
‫اسی طرح دشمن کے جاسوس تمہارے جہازوں کے قریب آتے ہوں گے۔ اپنے جہازوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنا تاکہ اچانک
‫حملے کی صورت میں سب گھیرے میں نہ آجائیں۔ انہیں اس طرح پھیال رکھو کہ دشمن کو گھیرے میں لے سکو۔ آپس میں
‫رابطہ دن میں جھنڈیوں سے اور رات کو بتیوں سے رکھو''۔
‫جب الفارس سلطان ایوبی سے رخصت ہوا‪ ،سحر کا وقت ہوگیا تھا۔ وہ نماز کے لیے وہیں رک گیا۔
‫الفارس!'' اسے اپنے قریب آواز سنائی دی۔ اس نے دیکھا‪ ،وہ انٹیلی جنس کا کمانڈر حسن بن عبداللہ تھا‪ ،اس نے الفارس''
‫سے ہاتھ مال کر پوچھا… '' مبارک ہو بھائی! ایک ہی بار دو لڑکیوں سے شادی کرلی ہے؟ دونوں کو ساتھ رکھا ہوا ہے؟ اپنے
‫''ساتھ مروانے کا ارادہ ہے؟
‫اوہ حسن!'' الفارس نے اندھیرے میں اسے پہچانتے ہوئے کہا… ''وہ تو یار‪ ،پناہ گزین لڑکیاں ہیں‪ ،یہیں ساحل پر چھپی ''
‫ہوئی تھیں۔ خانہ بدوش ہیں۔ کہتی تھیں کہ ان کا سارا قبیلہ جنگ کی زد میں آکر گھوڑوں تلے کچال گیا ہے''۔
‫اور یہ محض اتفاق ہے کہ یہ دو لڑکیاں زندہ رہیں اور ساحل تک پہنچ گئیں''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا… ''صلیبیوں نے''
‫باقی سب خانہ بدوشوں کو گھوڑوں تلے روند ڈاال اور اتنی زیادہ خوبصورت دو لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا… سمندر میں رہ کر تم
‫خشکی پر رہنے والے انسانوں کی فطرت کو شاید بھول گئے ہو''۔
‫الفارس ہنس پڑا اور بوال… ''حسن بھائی! جاسوسی کرتے کرتے تم اب چیلوں اور کوئوں کو بھی صلیبیوں کے جاسوس ‪:
‫سمجھنے لگے ہو۔ تم یہی کہنا چاہتے ہو نا کہ یہ لڑکیاں دشمن کی جاسوس ہوں گی''۔
‫ہوسکتی ہیں'' ۔ حسن نے کہا… ''تم کچھ زیادہ ہی زندہ دل ہو‪ ،الفارس! ان لڑکیوں کو ٹائر کے قریب ساحل پر اتار آئو۔''
‫اجنبی لڑکیوں کو جنگی جہاز میں رکھنا مناسب نہیں''۔
‫یہ نیکی نہیں ہوگی کہ میں انہیں مصر لے جا کر ان کے ساتھ شادی کرلوں؟'' الفارس نے کہا… ''یا ایک کے ساتھ شادی''
‫کرلوں اور دوسری کی شادی کسی اور اچھے آدمی سے کرادوں؟ غریب لڑکیاں ہیں۔ انہیں ساحل پر اتار دوں تو تم جانتے ہو کہ
‫صلیبی ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے''۔
‫ہوسکتا ہے‪ ،وہ صلیبی ہی ہوں''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا… ''سنو الفارس! تم بچے نہیں ہو‪ ،معمولی سپاہی بھی نہیں ''
‫ہو۔ بحریہ کے تجربہ کار کمانڈر ہو۔ سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کرو‪ ،مجھے بتایا گیا ہے کہ تم فرصت کا سارا وقت ان
‫لڑکیوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے گزارتے ہو۔ ہزار قسمیں کھائو‪ ،میں نہیں مانوں گا کہ تم نے انہیں پاک صاف اور نیک لڑکیاں
‫بنا کے رکھا ہوا ہے۔ وہ اگر تمہیں دھوکہ نہ دیں تو تم اپنے آپ کو دھوکہ دے سکتے ہو۔ حسین اور جوان عورت کاجادو
‫فرائض سے گمراہ کردیتا ہے… بہت کچھ ہوسکتا ہے الفارس! ان لڑکیوں کو کہیں چھوڑ آئو''۔
‫''اگر میں نے تمہارا کہا نہ مانا تو؟''
‫تو مجھے دیکھنا پڑے گا کہ یہ لڑکیاں کیسی ہیں''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا… ''اگر مشکوک ہیں تو میں انہیں تمہارے ''
‫جہاز سے اتروا کر اپنے پاس بال لوں گا مگر میں تم پر چھوڑتا ہوں۔ ہم پرانے د وست ہیں۔ تم خود ہی کوشش کرو کہ میں
‫فرض کی ادائیگی میں دوستی کو قربان نہ کردوں''۔
‫مجھ سے کسی بے ہودگی کی توقع نہ رکھو حسن!'' الفارس نے کہا… ''تم دوستی کی بات کرتے ہو۔ میں تو فرض کی ''
‫ادائیگی میں اپنی جان بھی قربان کردوں گا۔ یہ لڑکیاں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ مجھے ان پر ذرا سا بھی شک ہوا تو
‫انہیں ساحل پر اتاروں گا نہیں‪ ،زندہ سمندر میں پھینک دو گا''۔
‫واپس کس وقت جارہے ہو؟'' حسن بن عبداللہ نے پوچھا۔''
‫نماز پڑھ کر کچھ دیر سوئوں گا۔ بہت تھک گیا ہوں''۔ الفارس نے کہا… ''پھر چال جائوں گا۔ شام تک کشتی جہاز تک ''
‫پہنچا دے گی''۔
‫٭ ٭ ٭
‫الفارس سے فارغ ہوکر حسن بن عبداللہ اس کمرے کی طرف چال گیا جہاں اس کے محکمے کے آدمی رہتے تھے۔ ان میں سے
‫ایک کو باہر بال کر اسے کہا کہ الفارس بیدرون کا جہاز فالں مقام پر لنگر انداز ہے۔ وہ کشتی میں جہاز تک جائے اور الفارس
‫کے نائب رئوف کرد سے کہے کہ اسے حسن بن عبداللہ نے بھیجا ہے۔ رئوف کرد کے نام حسن نے پیغام دیا کہ اس آدمی کو
‫کسی ڈیوٹی پر لگا لے۔ اسے دونوں لڑکیوں کے متعلق معلوم کرنا ہے کہ جہاز میں ان کی کوئی درپردہ سرگرمی تو نہیں؟ اگر
‫ہے تو لڑکیوں کو جہاز سے ہٹا کر اپنے پاس بال لیا جائے۔
‫حسن بن عبداللہ نے اپنے اس آدمی کو ہدایات دیں اور ایک بادبانی کشتی کا انتظام کرکے اسے رخصت کردیا۔ ہوا کا رخ بڑا
‫اچھا تھا اور ہوا تیز تھی۔ کشتی جلدی جہاز تک پہنچ گئی۔ جہاز سے رسہ لٹکا کر اس آدمی کو اوپر کرلیا گیا۔ وہ رئوف کرد
‫سے مال۔ اسے پیغام دیا اور اپنا مقصد زبانی بھی بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ تجربہ کار جاسوس ہے۔ رئوف کرد کا چہرہ بتا
‫رہا تھا کہ اسے یہ آدمی اچھا نہیں لگا لیکن اس آدمی کے خالف وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ
‫سلطان ایوبی کے دل میں جتنی قدر ایک جاسوس کی ہے‪ ،اتنی ساالر کی بھی نہیں اور ایک جاسوس کی رپورٹ پر ایک
‫ساالر کو سزائے موت دی جاسکتی ہے‪ ،چنانچہ اس نے حسن بن عبداللہ کے اس جاسوس کی خاطر تواضع کی۔
‫آپ لڑکیوں کو پہلے دن سے دیکھ رہے ہیں''۔ جاسوس نے رئوف کرد سے پوچھا… ''ان کے متعلق آپ کو ذرا سا بھی ''
‫شک ہے تو بتا دیں۔ ہم انہیں عسقالن تفتیش کے لیے لے جائیں گے''۔
‫میں نے ابھی تک ان کی کوئی حرکت مشکوک نہیں دیکھی''۔ رئوف کرد نے جواب دیا… ''زیادہ تر الفارس کے کمرے ''
‫میں رہتی ہیں''۔
‫رئوف کرد کو فورا ً فلوری کا خیال آگیا تھا۔ اگر جاسوس ایک روز پہلے آتا تو رئوف کرد کا جواب یہ ہوتا کہ ان لڑکیوں کو
‫یہاں سے لے جائو کیونکہ چھ جہازوں کا کمانڈر ان لڑکیوں کے ساتھ مگن رہتا ہے مگر فلوری نے گزشتہ رات اسے بتایا تھا کہ

‫وہ اسے دل وجان سے چاہتی ہے۔ روزی ان کی ہم راز تھی۔ اب رئوف کرد کسی قیمت پر فلوری سے جدا نہیں ہونا چاہتا
‫تھا۔ اس کے دل میں الفارس کی دشمنی پیدا ہوگئی تھی لیکن وہ الفارس کو لڑکیوں سے محروم نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ
‫خود فلوری سے محروم ہوجاتا۔
‫مجھے اب آپ کے ساتھ رہنا ہے''۔ جاسوس نے کہا… ''الفارس کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ میں جاسوسی کے لیے یہاں''
‫آیا ہوں۔ آپ نے حکم پڑھ لیا ہے۔ میں خود دیکھوں گا کہ لڑکیاں کیسی ہیں اور کیا کرتی ہیں۔ مجھے اگر ان پر جاسوسی کا
‫نہیں‪ ،صرف یہ شک بھی ہوا کہ الفارس ان میں فرائض کے اوقات میں محو رہے ہیں تو میں ان لڑکیوں کو یہاں نہیں رہنے
‫دوں گا۔ اگر الفارس کو پتہ چل گیا کہ میں یہاں جاسوسی کررہا ہوں تو مجھے آپ کے خالف یہ بیان دینا پڑے گا کہ میرے
‫متعلق الفارس کو آپ نے بتایا ہے کیونکہ آپ کے سوا کسی کو علم نہیں کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں''۔
‫یہ جنگی جہاز تھا جس میں جہاز کا عملہ بھی تھا اور اس میں بحری لڑائی کی تربیت یافتہ بری فوج بھی تھی۔ جہاز کی
‫صفائی وغیرہ‪ ،کھانا پکانے اور دیگر کاموں کے لیے فوجی مالزم بھی تھے۔ وہاں ایک آدمی کا اصل روپ چھپائے رکھنا مشکل
‫نہ تھا۔ الفارس کمانڈر تھا۔ وہ ان چھوٹے چھوٹے مالزموں اور سپاہیوں میں سے کسی کو الگ کرکے نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ
‫آدمی ا جنبی ہے جسے اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ رئوف کرد جگہ جگہ گھوم پھر سکتا تھا مگر رئوف کو یہ شخص
‫بالکل پسند نہیں آیا تھا۔
‫جاسوس نے اسی روز دونوں لڑکیوں کو دیکھ لیا اور اس نے اسی روز رئوف کرد سے کہہ دیا… ''یہ لڑکیاں خانہ بدوش نہیں
‫اور یہ مصیبت زدہ بھی نہیں۔ مجھے شک ہوگیا ہے''۔
‫اتنے دنوں سے ہمارے ساتھ ہیں''۔ رئوف کرد نے کہا… ''مجھے ان پر کوئی شک نہیں ہوا''۔''
‫آپ کی آنکھ وہ نہیں دیکھ سکتی جو میری آنکھ دیکھ سکتی ہے''۔ جاسوس نے کہا… ''ٹھنڈے عالقوں کی خانہ بدوش ''
‫عورتوں کے رنگ ایسے ہی ہوتے ہیں لیکن ان کی آنکھوں کا رنگ ایسا نہیں ہوتا اور ان میں یہ نفاست اور نزاکت نہیں
‫ہوتی… محترم! ہماری جنگ ایسی ہی لڑکیوں سے رہتی ہے۔ یہ لڑکیاں یہاں نہیں رہیں گی''۔
‫کچھ دن دیکھ لو''۔ رئوف کرد نے کہا… ''کہیں ایسا نہ ہو کہ جو واقعی مصیبت زدہ ہوں اور تم انہیں کسی اور مصیبت ''
‫میں ڈال دو''۔
‫ہاں!'' جاسوس نے کہا۔ ''میں جلد بازی نہیں کروں گا‪ ،کچھ دن دیکھ کر یقین کروں گا''۔''
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے ٹھیک کہا تھا کہ بیت المقدس میں جو صلیبی جرنیل ہیں‪ ،انہیں معلوم ہے کہ اسالمی فوج
‫بیت المقدس پر آرہی ہے۔ ادھر جب سلطان ایوبی اپنے ساالروں کو آخری ہدایات دے رہا تھا‪ ،ادھر بیت المقدس میں صلیبی
‫ہائی کمانڈ اپنے جرنیلوں کو محاصرے میں لڑنے کے لیے تیار کررہی تھی۔
‫ہم صالح الدین ایوبی کو راستے میں نہیں روکیں گے''… ان کا کمانڈر ان چیف کہہ رہا تھا… ''بے شک اس کی فوج ''
‫تعداد میں کم ہے لیکن اسے اسلحہ اور رسد کی کوئی پریشانی نہیں۔ اس کے امدادی انتظامات مضبوط اور قابل اعتماد ہیں۔
‫اسے بیت المقدس کا محاصرہ کرنے دو۔ ہمارے پاس لمبے عرصے کے لیے خوراک اور دیگر سامان موجود ہے۔ اگر محاصرہ
‫طویل اور خوراک کم رہ گئی تو ہم مسلمانوں کو بھوکا اور پیاسا رکھیں گے۔ اس سے خوراک بچے گی اور کھانے والے بھی کم
‫ہوجائیں گے۔ مجھے سب سے زیادہ بھروسہ نائٹوں پر ہے۔ انہیں باہر نکل کر حملے کرنے اور واپس آنا ہے۔ میں آپ سب کو
‫یقین دالتا ہوں کہ محاصرہ ناکام رہے گا''۔
‫آپ نے فوج کی حالت کو پیش نظر نہیں رکھا''۔ ایک جرنیل نے کہا… ''شہر میں فوج کی آدھی نفری ایسی ہے جو ''
‫حطین سے عسقالت تک کی لڑائیوں سے بھاگی ہوئی ہے اور ان کا لڑنے کا جذبہ سرد پڑ گیا ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا
‫کہ ان پر صالح الدین ایوبی کی فوج کا خوف طاری ہوگیا ہے۔ تازہ دم دستے وہی ہیں جو شہر میں موجود رہے ہیں‪ ،میدان
‫جنگ میں نہیں گئے''۔
‫ہم نے اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے''… کمانڈر ان چیف نے کہا… ''پادری فوج میں گھومنے پھرنے لگے ہیں۔ وہ ''
‫سپاہیوں کو انجیل کے حوالے دے کر ذہن نشین کرا رہے ہیں کہ اسالمی فوج کو شکست دینا کیوں ضروری ہے اور یہ مذہبی
‫فریضہ ہے… اگر جرنیل اور دیگر کمانڈر اسے مذہبی جنگ سمجھ کر لڑیں گے تو سپاہی بھی مذہبی جوش وخروش سے لڑیں
‫گے۔ اگر ہم بیت المقدس کی جنگ ہار گئے تو بحیرٔہ روم بھی ہمیں پناہ نہیں دے سکے گا۔ صالح الدین ایوبی کیوں کامیاب
‫ہوا ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ اپنے مذہب کا پکا ہے جسے وہ ایمان کہتا ہے۔ ہم نے اسے خانہ جنگی سے تباہ کرنے کی
‫کوشش کی مگر اس نے خانہ جنگی بھی جیت لی۔ ہم نے جن مسلمان حکمرانوں کو اس کے خالف کیا تھا وہ اس کے مطیع
‫ہوگئے۔ ہم نے اپنی بیٹیوں کی عصمتوں سے اس کی جنگی طاقت اور سلطنت کو کمزور کرنے کی کوشش کی مگر یہ قربانی
‫بھی ضائع ہوئی۔ یہ شاید ہماری غلطی تھی کہ ہم نے عورت کو استعمال کیا اور اس امید پر بیٹھ گئے کہ صالح الدین ایوبی
‫گھر بیٹھے مرجائے گا''۔
‫ہماری کوئی قربانی ضائع نہیں ہوئی''۔ بطریق اعظم جو وہاں موجود تھا‪ ،بوال… ''آپ کی یہ سوچ غلط ہے کہ دو مذہبوں ''
‫کی جنگ صرف فوجیں لڑا کرتی ہیں۔ا پنے مذہب کے فروغ اور دشمن مذہب کی تباہی کے لیے بے شک تلوار ضروری ہے
‫لیکن دشمن کے ذہن اور اس کی روح کو گمراہ کرنے کے لیے یہ طریقے ضروری تھے جن کے متعلق آپ کہہ رہے ہیں کہ
‫قربانیاں ضائع ہوئیں۔ ہم اپنی ان بیٹیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے غیرمعمولی حسن کی بدولت بڑے
‫اونچے
‫د رجے کے حاکموں کی بیویاں بننا اور شاہانہ زندگی گزارنی تھی مگر انہوں نے اپنا آپ اور اپنا مستقبل صلیب پر قربان کردیا
‫اور وہ مسلمانوں کے حرموں اور درباروں میں ذلیل وخوار ہوئیں۔ مسلمانوں میں خانہ جنگی انہوں نے کرائی۔ مسلمان حکمرانوں
‫کے ایمان ان لڑکیوں نے خریدے۔ ایک ہی حکمران کے اہم حاکموں میں رقابت پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا
‫…''دیا
‫صلیب کے جرنیلو! یہ مت بھولو کہ دشمن کو مارنے کا بہترین طریقہ ہے کہ اس میں ذہنی عیاشی اور جنسی جذبات ''
‫پرستی پیدا کردو۔ اسے راگ رنگ اور جھوٹی لذتوں کا عادی بنا دو۔ اس کے حکمرانوں کو تخت وتاج اور زروجواہرات کی ہوس
‫میں مبتال کردو۔ مسلمان دنیا بھر کا مانا ہوا اور دلیر سپاہی ہے۔ جنگی جذبہ اور مذہبی جنگ (جہاد) کا جتنا جنون مسلمانوں
‫اعلی جرنیل مسلمانوں نے پیدا کیے ہیں‪ ،اتنے ہم نہیں کرسکے۔ یہ ان کی روایت ہے۔ اگر
‫میں ہے‪ ،اتنا ہم میں نہیں۔ جتنے
‫ٰ
‫ہم نے ان کے ذہن بدلنے کی کوشش نہ کی تو ان کا جذبہ‪ ،مذہبی جنون اور ان کی روایت زندہ رہے گی۔ اگر ان کی روایت

‫زندہ رہی تو صلیب زندہ نہیں رہ سکے گی۔ اسالم یورپ تک گیا‪ ،ہندوستان اور اس سے اوپر چین تک گیا۔ چین کا امیرالبحر
‫مسلمان رہا۔ وہاں کے بعض جرنیل اب بھی مسلمان ہیں‪ ،ہندوستان کے مشرق بڑے بڑے جزیروں میں چلے جائو تو وہاں بھی
‫…''تمہیں عربوں کی یعنی اسالم کی حکمرانی نظر آئے گی
‫آپ یہ طوفان صرف تلوار سے نہیں روک سکتے۔ ہمیں اسالم کے اس مرکز کو جسے مسلمان خانہ کعبہ کہتے ہیں‪ ،مردہ ''
‫کرنا پڑے گا۔ بیت المقدس پر قبضہ برقرار رکھنا پڑے گا۔ مسلمان حکمران اور بادشاہ جہاں کہیں بھی ہیں‪ ،انہیں جنگی اور
‫مالی مدد دے کر بے کار کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی ان کے حرموں میں اپنی تجربہ کار لڑکیاں اسی طرح داخل کرتے
‫رہیں گے جس طرح عرب کی ریاستوں میں کرتے رہے ہیں۔ ہم نے یہ طریقہ یہودیوں سے سیکھا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی
‫کردار کشی اور مذہبی بیخ کنی کا نہایت دانشمند منصوبہ بنا رکھا ہے اور وہ اس پر عمل کررہے ہیں۔ وہ ہماری مدد کررہے
‫ہیں۔ میں آپ کو یقین دالتا ہوں کہ وہ وقت تیزی سے آرہا ہے کہ بیت المقدس پر ہمارا مستقل قبضہ ہوجائے گا۔ اس کے
‫اردگرد دور دور کے عالقے بھی ہمارے قبضے میں ہوں گے۔ مسلمان ریاستوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔
‫اگر دشمن نہ ہوئے تو ان میں اتحاد بھی نہیں ہوگا۔ یہودیوں کے دانشوروں نے صحیح کہا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو بادشاہ
‫سمجھیں گے لیکن ان کی بادشاہی اور آزادی کی باگ دوڑ ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔ یہ کام آپ ہم پر چھوڑیں۔ یہ درپردہ اور
‫زمین دوز کام دانشوروں کا اور مذہبی پیشوائوں کا ہے۔ آپ فوجی ہیں۔ میدان جنگ کی بات کریں۔ آپ کا بڑا ہی خطرناک
‫دشمن بیت المقدس پر آرہا ہے۔ آپ اس کو شکست دینے کی سوچیں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ اتوار کی صبح تھی اور ‪١١٨٧ء کے ماہ ستمبر کی بیس تاریخ تھی‪ ،جب سلطان ایوبی حیران کن تیز رفتاری سے بیت ‪:
‫المقدس پہنچ گیا۔ ہجری کیلنڈر کے مطابق ‪١٥رجب ‪٥٨٣ہجری کا روز تھا۔ صلیبیوں کو سلطان ایوبی کا انتظار تھا لیکن انہیں یہ
‫توقع نہیں تھی کہ وہ اس قدر تیزی سے آئے گا۔ اس نے راستے میں صلیبیوں کی بلندیوں والی قلعہ بندیوں اور پوسٹوں کو
‫نظر انداز ( بائی پاس) کیا اور فوج کو گزار کر لے گیا تھا۔ رات کا وقت تھا‪ ،قلعہ بندیوں سے صلیبیوں نے بیت المقدس کو
‫قبل از وقت اطالع دینے کے لیے قاصد روانہ کیے ہوں گے لیکن کوئی بھی وہاں تک نہ پہنچ سکا جس کا ثبوت یہ ہے کہ
‫جب سلطان ایوبی کے ہر اول دستے شہر تک پہنچے تو اس وقت اوپر دیوار پر دو چار سنتری کھڑے تھے۔ شہر کے دروازے
‫بند تھے‪ ،اندر سے گرجوں کے گھنٹوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
‫نقارے اور بگل بج اٹھے۔ دیوار پر ہر طرف انسانوں کے سر ابھرنے لگے۔ ان سروں پر فوالدی خودیں تھیں اور کمانیں صاف نظر
‫آرہی تھیں۔ ان سروں میں اضافہ ہوتا چال گیا اور پھر یوں نظر آنے لگا جیسے دیوار کے اوپر انسانی سروں کی ایک فصیل
‫کھڑی کردی گئی ہو۔ شہر کے مغرب کی جانب کچھ عالقہ چٹانی تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے خصوصی دستوں کو وہاں خیمہ
‫زن کردیا اور خود شہر کے اردگرد یہ دیکھنے کے لیے گھومنے پھرنے لگا کہ دیوار کس جگہ سے کمزور ہے اور نقب کہاں لگائی
‫جاسکتی ہے یا کہیں سے سرنگ کھودی جاسکتی ہے یا نہیں۔ سلطان ایوبی کے نقب زن جیش جانبازی میں مشہور تھے۔
‫اسالمی فوج شہر کے ہر طرف موجود تھی لیکن بڑا اجتماع مغرب کی جانب تھا جس جانب شہر کی دیوار کے دو مستحکم
‫برج تھے۔ ایک دائود برج اور دوسرا تن کر ڈبرج تھا۔ ان میں دورمار تیرانداز تھے اور وہاں منجنیقیں بھی نصب تھیں۔ سلطان
‫ایوبی شہر کے اردگرد دیوار کا جائزہ لیتا پھر رہا تھا۔ اس دوران مغرب کی جانب والے دستوں کے ساالر نے آگ اور پتھر
‫پھینکنے والی منجنیقیں نصب کرنی شروع کردی۔ صلیبیوں نے بہادری کا یہ مظاہرہ کیا کہ اپنی دفاعی سکیم کے مطابق شہر کا
‫ایک دروازہ کھول دیا۔ اس میں سے زرہ پوش نائٹ گھوڑوں پر سوار ہاتھوں میں برچھیاں تانے سرپٹ گھوڑے دوڑاتے نکلے اور
‫منجنیقیں نصب کرنے والے مجاہدین پر ہلہ بول دیا۔ ان کے پیچھے دروازہ بند کردیا گیا۔
‫گھوڑوں کے گھومنے پھرنے کے لیے جگہ کافی تھی۔ نائٹ آہن پوش تھے۔ اس لیے ان پر تیر کوئی اثر نہیں کرتے تھے۔ ان کا
‫ہلہ ( چارج) اس قدر تیز‪ ،شدید اور غیرمتوقع تھا کہ مجاہدین کو پراثر مزاحمت کی مہلت نہ ملی۔ ان میں سے کئی نائٹوں
‫کی برچھیوں سے زخمی اور شہید ہوئے اور پیچھے آنے والے گھوڑوں تلے کچلے گئے۔ گھوڑے بگولے کی طرح آئے تھے‪ ،اپنی
‫اڑاتی ہوئی گرد میں گھومیں اور جب دروازے کے قریب پہنچے تو دروازہ بند ہوگیا۔ وہ اپنے پیچھے خاک وخون میں تڑپتے کئی
‫ایک مسلمان مہندس (منجنیقیں چالنے والے) چھوڑ گئے۔
‫سپاہی انہیں اٹھانے کو دوڑے تو دو تین نسوانی آوازیں سنائی دیں… ''پیچھے رہو‪ ،یہ ہمارا کام ہے''۔ اس کے ساتھ ہی بہت
‫سی لڑکیاں دوڑتی آئیں۔ انہوں نے درختوں کی ٹہنیوں کے بنے ہوئے سٹریچر اٹھا رکھے تھے۔ بعض لڑکیوں کے کندھوں سے پانی
‫کے چھوٹے مشکیزے لٹک رہے تھے۔ اوپر سے صلیبیوں کے تیر آرہے تھے جن سے دو تین لڑکیاں گر پڑیں۔ بہت سے مسلمان
‫تیر انداز دوڑ کر لڑکیوں اور اوپر سے آنے والے تیروں کے درمیان آگئے اور انہوں نے برجوں پر تیز تیراندازی شروع کردی جو
‫تیر انداز پیچھے تھے‪ ،انہوں نے بھی برجوں اور دیوار کے اوپر بڑی ہی تیز تیراندازی شروع کردی۔ اوپر سے تیروں کا مینہ تھم
‫گیا اور دونوں طرف کے تیروں کے سائے میں لڑکیاں زخمیوں کو اٹھا الئیں اور پیچھے درختوں کے سائے میں لے گئیں۔
‫اسداالسدی جو اس دور کا واقعہ نگار تھا‪ ،اپنی ایک غیرمطبوعہ تحریر میں لکھتا ہے کہ سپاہی ہر جنگ میں زخمی ہوتے
‫تھے۔ انہیں اٹھا کر جراحوں کے خیموں تک پہنچا دیا جاتا تھا مگر انہیں اٹھانے والے انہی کی طرح مرد اور سپاہی ہوتے تھے
‫اور اس معاملے میں کوتاہی بھی نہیں کرتے تھے لیکن بیت المقدس کے محاصرے میں لڑکیوں نے زخمیوں کو اٹھایاا ور جراحوں
‫کے جیش کے ساتھ ان کی مرہم پٹی میں ہاتھ بٹایا اور زخمیوں کے سر اپنی گودیوں میں رکھ کر پانی پالیا تو کئی ایک
‫زخمی جو ہوش میں تھے جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور للکارنے لگے۔ ''یہ زخم ہمیں لڑنے سے نہیں روک سکتے''… اور
‫ایسی آوازیں بھی سنائی دیں۔
21:06
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫اقصی کی دہلیز پر
‫قسط نمبر‪ 154ایوبی مسجد
‫ٰ
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اور ایسی آوازیں بھی سنائی دیں۔''ہم بیت المقدس کے اندر جاکر زخموں پر پٹی باندھیں گے''… اور جب زخمیوں نے دیکھا
‫کہ تین چار لڑکیوں کو بھی تیر لگے ہیں تو زخمیوں کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ لڑکیوں نے سب کے جوش اور جذبے میں آگ
‫بھر دی تھی۔ اسی مقام پر منجنیقیں نصب کرنے کے لیے مہندسوں کا ایک اور جیش آگے بڑھا۔ تیراندازی تیز کردی گئی۔
‫منجنیقیں نصب ہوگئیں۔ ان سے وزنی پتھر اور آگ کے گولے پھینکے جانے لگے جو دیوار پر بھی گرتے تھے اور اندر بھی۔
‫دروازہ ایک بار پھر کھال اور نائٹوں کے گھوڑے منجنیقوں کی طرف ہوا کی رفتار سے آئے تو ان کے پہلو سے مسلمان سوار ان

‫پر ٹوٹ پڑے۔ عقب سے مزید مسلمان سوار ان کی واپسی کا راستہ روکنے کو آگئے۔ مسلمانوں نے نائٹوں کے گھوڑوں کو
‫برچھیوں اور تلواروں سے زخمی کرنا شروع کردیا۔ نائٹوں کی زرہ بکتر انہیں محفوظ رکھے ہوئے تھی۔
‫گھوڑوں کے ساتھ نائٹ بھی گرنے لگے۔ زمین پر انہیں گھائل کرنا اتنا مشکل نہ تھا مگر وہ تجربہ کار لڑاکا سوار تھے۔ سب
‫کو نہ گرایا جاسکا۔ اس کے بجائے وہ کئی ایک مسلمان سواروں کو گرا گئے۔ وہ واپس ہوئے تو مسلمان سواروں نے انہیں
‫روکنے کی کوشش کی مگر جو نائٹ گھوڑوں کی پیٹھوں پر رہے وہ اندر چلے گئے اور دروازہ بند ہوگیا… اس کے بعد یہ سلسلہ
‫چلتا رہا۔ برج دائود کے سامنے اس طرح کے جو معرکے لڑے گئے وہ رفتار‪ ،شدید‪ ،خونریزی اور دونوں طرف کی شجاعت کے
‫لحاظ سے بے مثال مانے جاتے ہیں۔ دونوں فوجوں کے عزم اور جذبے کی پختگی کا اندازہ ان معرکوں سے ہوتا تھا۔ مؤرخ
‫بیان کرتے ہیں کہ بیت المقدس نے دونوں فوجوں پر جنون کی کیفیت طاری کردی تھی۔ وہ صلیبی سوار جو زخمی ہوئے اور
‫باہر ہی گر پڑے وہ اس لحاظ سے بدقسمت تھے کہ انہیں اٹھانے واال کوئی نہ تھا۔ ستمبر کی گرمی اور دوپہر کا سورج انہیں
‫زرہ بکتر میں جال جال کر مار رہا تھا۔ ان کے مقابلے میں مسلمان زخمیوں کو لڑکیاں فورا ً اٹھا لے جاتیں‪ ،انہیں پانی پالتیں‪،
‫ان کے منہ سر دھوتیں‪ ،ان کے کپڑے تبدیل کرتیں اور ان میں کچھ لڑکیاں مشکیزے اٹھائے چٹانوں میں کہیں سے پانی الال کر
‫ادھ موئی ہوئی جا رہی تھیں۔
‫دیوار کی دیگر اطراف سے بھی پتھر اور آتش گیر سیال کی ہانڈیاں پھینکی جارہی تھیں۔ باہر کہیں کہیں زمین بلند تھی۔ وہاں
‫سے پتھر اور ہانڈیاں ( آتش گیر گولے) دیوار کے اوپر سے دور اندر چلے جاتے تھے۔ ان کے پیچھے فلیتے والے تیر بھی چلتے
‫جاتے تھے۔ انہوں نے شہر میں کئی جگہوں پر آگ لگا دی۔ دھواں باہر سے نظر آرہا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫صلیبی فوج جو پہلے سے شہر میں اندر موجود تھی‪ ،اس کا مورال مضبوط تھا۔ دوسرے عالقوں سے جو فوجی بھاگ کر آئے
‫تھے‪ ،ان میں ایسے بھی تھے جو اپنی شکست کا انتقام لینے کے لیے حوصلہ مند اور جوشیلے تھے اور ان میں ایسے بھی
‫تھے جن پر دہشت طاری تھی۔ یہ سب جم کر مقابلہ کررہے تھے۔ ان کے جوش وخروش سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ سلطان
‫ایوبی کو پسپا کردیں گے۔ ایک اور دروازے سے بھی سوار باہر جاکر محاصرے پر حملہ کرنے لگے تھے مگر شہریوں کی کیفیت
‫فوجیوں سے مختلف تھی۔ شہریوں میں عکرہ اور عسقالن وغیرہ سے آئے ہوئے پناہ گزین عیسائی بھی تھے‪ ،وہ تو سراپا
‫دہشت بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے سارے شہر میں دہشت پھیال رکھی تھی۔ ان کے سامنے سلطان ایوبی کی فوج نے کئی
‫بستیاں سلطان کے حکم سے نذرآتش کی تھیں۔
‫بیت المقدس کے تمام گرجوں کے گھنٹے مسلسل بج رہے تھے۔ دن اور رات ایک ہوگئے تھے۔ عیسائی گرجوں میں ہجوم کیے
‫ہوئے تھے اور پادریوں کے ساتھ آواز مال کر بلند آواز سے دعائیہ گیت گا رہے تھے۔ شہر کے باہر سلطان ایوبی کی فوج کے
‫نعرے شہر کے اندر یوں سنائی دیتے تھے جیسے گھٹائیں گرجتی آرہی ہوں۔ شہر میں جلتے شعلے عیسائیوں کا دم خم ختم
‫کررہے تھے۔ سلطان ایوبی کے جو جاسوس شہر میں عیسائیوں کے بھیس میں موجود تھے‪ ،وہ اس طرح نفسیاتی حملے کررہے
‫تھے کہ دہشت ناک افواہیں پھیال رہے تھے۔ ایک افواہ یہ پھیالئی گئی کہ سلطان ایوبی بیت المقدس پر قبضہ نہیں کرے گا
‫بلکہ شہر کو تباہ وبرباد کرکے تمام عیسائیوں کو قتل کردے گا اور ان کی جوان لڑکیوں کو اور تمام مسلمان آبادی کو اپنے
‫ساتھ لے جائے گا۔ دہشت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ سب کو معلوم تھا کہ صلیب الصلبوت سلطان ایوبی کے قبضے
‫میں ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع مسیح عیسائیوں سے ناراض ہیں۔
‫اس دور کے مفکروں کی جو تحریریں ملتی ہیں‪ ،ان سے پتہ چلتا ہے کہ عیسائیوں کو اپنے وہ گناہ خوفزدہ کررہے تھے جن کا
‫تختہ مشق انہوں نے وہاں کے مسلمانوں کو بنایا تھا (اس کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے) انہوں نے مسلمانوں کا قتل عام
‫کیا‪ ،بچوں کو برچھیوں پر اٹھا کر قہقہے لگائے اور مسلمان خواتین کی بے حرمتی کی تھی۔
‫۔ مسجدوں اور قرآن کی بے حرمتی کی تھی اور نوے برسوں سے مسلمان ا ن کے وحشیانہ سلوک اور بربریت کا مسلسل
‫شکار ہورہے تھے۔ عیسائیوں نے اپنے عقیدے کے مطابق گرجوں میں جاکر اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا شروع کردیا۔
‫موجودہ صدی کا ایک امریکی تاریخ دان انتھونی ویسٹ بہت سے مؤرخوں کے حوالوں سے لکھتا ہے کہ بیت المقدس کے
‫عیسائی محاصرے میں اس قدر دہشت زدہ ہوگئے تھے کہ بہت سے عیسائی گلیوں میں نکل آئے۔ ان میں سے بعض سینہ
‫کوبی کرنے لگے اور بعض اپنے آپ کو کوڑے مارنے لگے۔ یہ خدا سے گناہ بخشوانے کا ایک طریقہ تھا۔ جو عیسائی لڑکیاں
‫جوان تھیں‪ ،ان کی مائوں نے ان کے سروں کے بال بالکل صاف کردئیے اور انہیں پانی میں غوطے دینے لگیں۔ ان کا عقیدہ
‫تھا کہ اس طرح یہ لڑکیاں بے آبرو ہونے سے بچ جائیں گی۔ پادریوں نے بہت کوشش کی کہ لوگوں کو اس خوف اور دہشت
‫سے نجات دالئیں مگر ان کے وعظ بے اثر ہوگئے تھے۔
‫مسلمان آبادی کی کیفیت کچھ اور تھی۔ تین ہزار سے زیادہ مسلمان مرد‪ ،عورتیں اور بچے قید میں تھے۔ گھروں میں جو
‫مسلمان تھے وہ نظربندی کی زندگی گزار رہے تھے۔ عیسائیوں سے ڈرتے کسی مسجد میں نہیں جاتے تھے۔ تمام مسلمانوں کو
‫پتہ چل گیا کہ سلطان ایوبی نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا ہے۔ انہوں نے عیسائیوں کی خوفزدگی اور بزدلی کے مظاہرے
‫دیکھے تو کئی ایک جوشیلے مسلمان جوانوں نے چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دینی شروع کردیں۔ قید میں جو مسلمان تھے‪ ،انہوں
‫ِ
‫آیات قرآنی اور درود شریف کا ورد شروع کردیا۔ عورتیں گھروں میں تھیں یا قید میں‪ ،انہوں نے اللہ کے
‫نے بلند آواز سے
‫حضور آہ و زاری اور حمدوثنا شروع کردی۔
‫عیسائی انہیں دیکھتے تھے مگر چپ رہے کیونکہ وہ پہلے ہی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ انہوں نے مسلمانوں پر جو وحشیانہ اور
‫غیرانسانی ظلم وتشدد کیا ہے‪ ،انہیں اس کی سزا مل رہی ہے۔ وہ آنے والی سزا کے تصور سے کانپ رہے تھے‪ ،اس لیے اب
‫وہ مسلمانوں کو اذان اور ورد وظیفے سے روکنے کی جرٔات نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں نے عیسائیوں کا یہ رویہ دیکھا تو جواں
‫سال مسلمان گلی گلی چالنے لگے… ''امام مہدی آگیا ہے… ہمارا نجات دہندہ آگیا ہے… شہر کی دیواروں کے اوپر سے آرہا
‫ہے… دروازے توڑ کر آرہا ہے''۔
‫شہر کے اندر حق اور باطل کی‪،گرجوں کے گھنٹوں اور اذانوں کی معرکہ آرائی تھی۔ باہر گھوڑوں‪ ،تلواروں‪ ،برچھیوں اور تیروں
‫کے معرے لڑے جارہے تھے۔ جوں جوں گرجوں میں دعائیہ گیت بلند ہوتے جارہے تھے‪ ،تالوت قرآن پاک بھی بلند سے بلند
‫ہوتی جارہی تھی۔ ننھے ننھے بچے بھی خدا کے حضور سجدہ ریز تھے… مگر باہر سلطان ایوبی کو ابھی تک کوئی جگہ نہیں
‫مل رہی تھی جہاں سے دیوار میں شگاف ڈلوا سکتا یا سرنگ کھدوا سکتا۔ دیوار کے اوپر سے تیر موسال دھار بارش کی مانند
‫آرہے تھے۔ مسلمان مہندسوں اور پتھر النے والے سپاہیوں کے ہاتھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ زرہ پوش نائٹ ابھی تک باہر نکل
‫نکل کر حملے کررہے تھے اور انتہائی خونریز معرکے لڑے جارہے تھے۔

‫٭ ٭ ٭
‫چالیس میل دور بحیرٔہ روم میں الفارس بیدرون کے چھ جہاز پھیلے ہوئے گشت کررہے تھے‪ ،تاکہ ٹائر میں صلیبیوں کا جو
‫بحری بیڑہ ہے‪ ،وہ فوج اور سامان لے کر ادھر نہ آسکے۔ دونوں لڑکیاں اس جہاز میں تھیں مگر اسے اب لڑکیوں کی طرف
‫توجہ دینے کی مہلت نہیں ملتی تھی۔ سلطان ایوبی اور رئیس البحرین المحسن نے اسے بڑی نازک ذمہ داری سونپی تھی۔
‫کبھی کبھی وہ خود مستول کے اوپر بنی ہوئی مچان پر چڑھ جاتا اور سمندر کی وسعت کو گہری نظروں سے دیکھتا رہتا تھا۔
‫دوسرے جہازوں میں بھی جاتا رہتا‪ ،تاکہ ہر جہاز کا عملہ اپنے فرائض سے غافل نہ ہوجائے۔
‫اس کے جہاز میں اس کا نائب رئوف کرد فلوری سے ملتا رہتا تھا جو بہت حد تک چوری چھپے کی مالقاتیں ہوتی تھیں۔
‫حسن بن عبداللہ کا بھیجا ہوا جاسوس دونوں کو دیکھتا اور ان پر گہری نظر رکھتا تھا۔
‫مصر کا بحری بیڑہ بحیرٔہ روم میں دور دور تک گشت کرتا تھا‪ ،کیونکہ خطرہ تھا کہ یورپ‪ ،خصوصا ً انگلستان سے بیت المقدس
‫کو بچانے کے لیے مدد آئے گی۔ سلطان ایوبی کی طوفانی پیش قدمی اور صلیبیوں کے ہر قلعے اور شہر پر یلغار دیکھی تو
‫انہوں نے جرمنی کے شہنشاہ فریڈرک اور انگلستان کے شہنشاہ چرڈ کو ان الفاظ کے پیغام بھیج دیئے تھے کہ عرب سے
‫صلیب اکھڑ رہی ہے اور بیت المقدس کو بچانا مشکل نظر آرہا ہے۔ ان پیغامات کا لب لباب یہ تھا کہ آئو اور ہمیں بچائو۔
‫سلطان ایوبی کی توقع یہی تھی کہ بیت المقدس کی جنگ بحیرٔہ روم میں بھی لڑی جائے گی جو بڑی خوفناک جنگ ہوگی
‫مگر جرمنی اور انگلستان سے کسی حرکت کی کوئی اطالع نہیں آرہی تھی۔ شکست خوردہ صلیبیوں کا بحری بیڑہ ٹائر کی
‫بندرگاہ میں دبکا ہوا تھا۔ تاہم سلطان ایوبی کا رئیس البحر دشمن کی بحریہ کی اس خاموشی کو کسی خطرے کا پیش خیمہ
‫سمجھ رہا تھا‪ ،اس لیے پوری طرح چوکنا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫محاصرے کی چوتھی رات تھی۔ کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ صلیبی نائٹوں اور دیگر سواروں نے باہر آ آکر بڑے ہی
‫دلیرانہ حملے کیے اور جانوں کی قربانی دی تھی۔ سلطان ایوبی نے جب چار دنوں کے اپنے زخمیوں اور شہیدوں کا حساب کیا
‫تو اس کے ماتھے کے شکن گہرے ہوگئے۔ اس کے پاس اسلحہ اور سامان کی کمی نہیں تھی۔ مفتوحہ جگہوں سے اس نے
‫لمبی جنگ کے لیے اسلحہ وغیرہ اکٹھا کرلیا تھا مگر کمی نفری کی تھی۔ نفری تیزی سے کم ہورہی تھی اور بیت المقدس
‫کی دیوار اس کے لیے بدستور چیلنج بنی ہوئی تھی۔
‫پانچویں دن سلطان ایوبی نے مغرب کی جانب یعنی دائود برج کے سامنے سے کیمپ اکھاڑ دیا اور وہاں کی لڑائی بند کرادی۔
‫اس نے شمال کی طرف ایک جگہ دیوار کو کمزور دیکھا تھا۔ مغرب سے جب منجنیقیں ہٹائی جارہی تھی اور دور پیچھے جو
‫خیمے لگے ہوئے تھے‪ ،وہ اکھاڑے جارہے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سلطان ایوبی محاصرہ اٹھا کر جارہے ہیں۔ دیوار کے
‫اوپر جو شہری عیسائی تھے انہوں نے شہر میں خبر پھیال دی کہ محاصرہ اٹھ گیا ہے اور مسلمانوں کی فوج پسپا ہورہی ہے۔
‫سلطان ایوبی دیوار سے دور فوج کو منتقل کررہا تھا اور شام ہوگئی۔
‫شہر میں جہاں آہ وزاری ‪ ،دہشت زدگی اور دعائوں کا واویال تھا‪ ،وہاں خوشی کے نعرے گرجنے لگے۔ رات ہی رات عیسائی
‫گرجوں میں جمع ہوکر خدا کا شکر ادا کرنے لگے۔ عیسائی جو شام تک اپنے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے‪ ،مسلمان
‫شہریوں پر ظلم وتشدد کا ازسرنو آغاز کرنے کا پروگرام بنانے لگے۔ اس کی ابتدا انہوں نے طعنوں اور گالیوں سے کی۔ مسلمان
‫بجھ کر رہ گئے۔
‫دوسرے دن (‪٢٥ستمبر ‪١١٨٧ئ) بروز جمعہ دیوار پر کھڑے صلیبیوں نے دیکھا کہ شمال کی جانب جبل زیتون پر سلطان ایوبی
‫کا جھنڈا لہرا رہا ہے اور اس سے آگے دیوار سے ذرا ہی دور مسلمانوں نے منجنیقیں نصب کردی ہیں اور کم وبیش دس ہزار
‫فوج ( سوار اور پیادہ) حملے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ سلطان ایوبی ہر جنگی مہم کا آغاز جمعہ
‫کے روز اس وقت کیا کرتا تھا جس وقت مسجدوں میں خطبے دئیے جارہے ہوتے تھے۔ اس کاعقیدہ تھا کہ دعائوں کی قبولیت
‫کا وقت ہوتا ہے۔ بیت المقدس پر بھی اس نے پوزیشن اور پالن بدل کر جمعہ کے رزو فیصلہ کن حملہ کیا۔
‫شہر پر پہلے سے زیادہ پتھر اور ہانڈیاں گرنے لگیں۔ شہر میں فورا ً خبر پھیل گئی کہ مسلمانوں کی اور زیادہ فوج آگئی ہے اور
‫اب شہر ایک دو دن کا مہمان ہے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ شہر میں دہشت زدگی کی لہر آئی۔ لوگ گھروں سے نکل کر گلیوں
‫اور بازاروں میں واویال کرنے لگے۔ مسلمانوں کی اذانیں ایک بار پھر سنائی دینے لگیں۔ عیسائیوں کی حالت زار سے خود پادری
‫متاثر ہوئے۔ وہ صلیبیں ہاتھوں میں اٹھائے گلی گلی‪ ،کوچہ کوچہ پھرنے لگے۔ وہ بھی روتے تھے اور د عائیں مانگتے تھے۔
‫صلیبی سواروں نے ایک بار پھر نکل کر منجنیقوں پر ہلہ بوال مگر سلطان ایوبی نے اب یہ معرکہ اپنی نگرانی میں لے لیا ‪:
‫تھا۔ اس کے سوار تین اطراف سے صلیبی سواروں کی طرف سرپٹ رفتار سے بڑھے اور انہیں پیس کر رکھ دیا۔ صلیبی
‫مہندسوں تک پہنچ ہی نہ سکے اس کے بعد صلیبیوں نے دو اور ہلے بولے لیکن مسلمان شاہسواروں نے انہیں دروازے سے زیادہ
‫آگے نہ آنے دیا۔ سلطان ایوبی نے پہلی بار اپنے ایک نقب زن جیش ( سرنگیں کھودنے اور دیواریں توڑنے والوں) کو آگے بڑھایا۔
‫اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ ہر ایک کے ہاتھ میں لمبی ڈھال تھی جس کے پیچھے وہ سر سے پائوں تک چھپا ہوا تھا۔
‫ان ڈھالوں کے عالوہ ا نہیں اوپر سے آنے والے تیروں سے بچانے کے لیے سلطان ایوبی کے ہزاروں تیر اندازوں نے نہایت تیزی
‫سے دیوار کے اسے حصے پر تیر برسانے شروع کردئیے جس حصے کے نیچے نقب لگائی یا سرنگ کھودنی تھی۔ کہتے ہیں کہ
‫تیر اس قدر زیادہ برسائے جارہے تھے کہ دیوار ان کے پیچھے چھپ گئی تھی اور دیوار کے اوپر کسی صلیبی کا سر نظر نہیں
‫آتا تھا۔
‫وہاں ایک دروازہ تھا جس کے اوپر عمارت بنی ہوئی تھی۔ اس دروازے کے پیچھے بھی ایسا ہی ایک مضبوط دروازہ تھا۔ دونوں
‫کے کے درمیان ڈیوڑھی تھی جس کے اوپر عمارت تھی۔ سلطان ایوبی اس کے نیچے سرنگ کھدوانا چاہتا تھا۔ اس دروازے سے
‫کچھ دور دیوار ذرا کمزور نظر آتی تھی‪ ،وہاں بڑی منجنیقیں جو نورالدین زنگی مرحوم نے اپنی زندگی میں بنوائی تھیں‪ ،کئی
‫کئی من وزنی پتھر مار رہی تھیں۔ دیوار خاصی چوڑی تھی لیکن مسلسل ایک ہی جگہ سنگ باری سے اس میں شگاف پڑنے
‫لگا تھا۔ پتھروں کے دھماکے شہر والوں کا خون خشک کررہے تھے۔
‫دن کے وقت نقب زن جیش ڈھالوں کی اوٹ میں تیروں کے سائے میں دروازے تک پہنچ گئے۔ اب اوپر سے ان پر کوئی تیر
‫نہیں چال سکتا تھا۔ رات کے وقت سینکڑوں جانبازوں نے مل کر دروازے یعنی ڈیوڑھی کے نیچے تیس گز سے زیادہ لمبی
‫سرنگ کھود لی‪ ،جو ڈیوڑھی جتنی چوڑی تھی۔ اوپر کی عمارت کو مضبوط شہتیروں سے سہارا دیا گیا۔ اس مہم میں دو دن
‫صرف ہوئے۔ شہتیر آگے پہنچانے میں کئی مجاہد شہید ہوگئے۔ پھر اس سرنگ میں گھاس اور لکڑیاں بھر کر ان پر آتش گیر
‫سیال اور مادہ پھینکا گیا اور اسے آگ لگا دی گئی۔ تمام نقب زن جانباز وہاں سے بھاگ آئے۔

‫آگ نے شہتیروں کو بھی جال دیا اور اوپر سے عمارت دھنسنے لگی پھر مہیب گڑ گڑاہٹ سے گر پڑی۔ ادھر دیوار سے جس
‫جگہ وزنی پتھر مارے جارہے تھے‪ ،وہاں بھی شگاف ہوگیا۔ اب ملبے کے اوپر سے گزر کر شہر میں داخل ہونا تھا مگر یہ بڑا
‫ہی خطرناک اقدام تھا‪ ،یہاں سے ملبہ ہٹانے کی مہم شروع ہوئی۔
‫٭ ٭ ٭
‫شہر میں گرجوں کے گھنٹے اور زیادہ تیزی سے بجنے لگے۔ اذانوں کی مقدس اور فاتحانہ آوازیں اور زیادہ بلند ہونے لگیں۔
‫صلیبی جرنیلوں اور حکمران ٹولے کے بھی حوصلے پست ہوگئے۔ انہوں نے کانفرنس بالئی جس میں جرنیلوں نے یہ تجویز پیش
‫کی کہ تمام تر فوج اور جتنے بھی عیسائی شہری رضاکارانہ طور پر ہمارے ساتھ آسکتے ہیں‪ ،ایک ہی بار باہر نکل کر سلطان
‫ایوبی کی فوج پر ہلہ بول دیں۔ یہ تجویز طریق اعظم ہرکولیز نے اس لیے منظور نہ کی کہ شکست کی صورت میں شہر میں
‫عورتیں اور بچے رہ جائیں گے جو مسلمانوں کے انتقام کا نشانہ بنیں گے۔ آخر کار یہ تجویز منظور ہوئی کہ سلطان ایوبی کے
‫ساتھ صلح کی بات چیت کی جائے۔ اس کی نمائندگی ایک عیسائی سردار بالیان کو دی گئی۔
‫باہر سے سلطان ایوبی کی فوج نے دیکھا کہ دروازے کی گری ہوئی عمارت کے ملبے پر سفید جھنڈا لہرا رہا ہے۔ تیر ‪:
‫اندازوں کو روک دیا گیا۔ جھنڈے کے ساتھ تین چار آدمی نمودار ہوئے۔ ایک نے بلند آواز سے کہا… ''ہم سلطان صالح الدین
‫ایوبی کے ساتھ صلح کی بات چیت کرنا چاہتے ہیں''… سلطان ایوبی سن رہا تھا۔ اس نے کہا کہ انہیں آگے لے آئو۔
‫سلطان ایوبی نے ان کا استقبال کیا اور انہیں اپنے خیمے میں لے گیا۔ بات صلیبی سردار بالیان نے شروع کی اور کہا کہ
‫مسلمان فوج محاصرہ اٹھا کر واپس چلی جائے اور سلطان ایوبی اپنی شرائط بتائے۔ صلیبی دراصل بیت المقدس سے دستبردار
‫نہیں ہونا چاہتے تھے۔ سلطان ایوبی بیت المقدس لیے بغیر ٹلنے واال نہیں تھا مگر اس کا ابھی ایک بھی سپاہی شہر میں
‫دعوی نہیں کرسکتا تھا کہ اس نے شہر لے لیا ہے۔ ابھی صلیبی یہ کہہ سکتے تھے کہ
‫داخل نہیں ہوسکا تھا۔ وہ ابھی یہ
‫ٰ
‫شہر پر ان کا قبضہ ہے۔
‫ادھر صلح کی بات چیت ہورہی تھی‪ ،ادھر محاصرے کی جنگ جاری تھی۔ سلطان ایوبی معاہدوں اور مذاکرات کا قائل نہیں
‫تھا۔ بات چیت کے ساتھ اس نے جنگ جاری رکھی تھی‪ ،دیوار کا شگاف کھل گیا تھا۔ ادھر مجاہدین نے جوش میں آکر گری
‫ہوئی عمارت کے ملبے پر ہلہ بول دیا۔ دیوار کے شگاف میں سے بھی جانباز اندر جانے لگے اور نقب زن جیش فوج کی
‫سہولت کے لیے شگاف کوکھال کرنے لگے مگر صلیبی اس شہر سے دستبردار نہ ہونے کا پختہ عزم کیے ہوئے تھے۔ انہوں نے
‫دونوں جگہوں سے حملہ آوروں کو باہر دھکیل دیا۔ باہر سے دستے سیالب اور طوفان کی طرح بڑھے۔ آگے جانے والے صلیبیوں
‫کے تیروں اور برچھیوں سے گرے۔ پیچھے والے انہیں روندتے ہوئے آگے گئے۔ بڑا ہی خونریز معرکہ لڑا گیا۔ اس دوران کسی
‫جانباز نے شہر کے بڑے دروازے کے برج سے الل کراس واال جھنڈا اتار پھینکا اور وہاں اسالمی جھنڈا چڑھا دیا۔ عیسائی شہریوں
‫نے ایسی بھگدڑ مچائی کہ صلیبی فوج کے لیے رکاوٹ اور مسئلہ بن گئے۔
‫اقصی میں داخل ہوگئے اور اوپر سے صلیب اتار کر
‫سلطان ایوبی کے جانباز دیوانے ہوئے جارہے تھے۔ ان میں سے کچھ مسجد
‫ٰ
‫دور پھینک دی‪ ،وہاں بھی اسالمی پرچم لہرانے لگا لیکن شہر میں دونوں فوجیں ایک دوسرے کا بری طرح کشت وخون کررہی
‫تھیں۔ یہ ضرور نظر آرہا تھا کہ صلیبیوں کی جارحیت اور مزاحمت کی شدت تیزی سے کم ہورہی تھی۔
‫سلطان ایوبی صلیبیوں کے وفد کے ساتھ صلح کی بات چیت کررہا تھا۔ اسے باہر کی اور شہر کی ابھی کچھ خبر نہیں تھی۔
‫اس نے بالیان سے کہا… ''میں نے بیت المقدس کو اپنی طاقت سے آزاد کرانے کی قسم کھائی تھی۔ اگر آپ لوگ یہ شہر
‫مجھے اس طرح دے دیں جیسے میں نے فتح کیا ہے تو میں صلح کی بات سن لوں گا''۔
‫صالح الدین!'' بالیان نے ذرا دبدبے سے کہا… ''اس شہر کا نام ابھی یروشلم ہے‪ ،بیت المقدس نہیں۔ اگر صلح نہیں کرنا''
‫چاہتے تو ہم آپ کو مجبور نہیں کریں گے لیکن یہ سن لو کہ اس شہر میں آپ کے چار ہزار فوجی ہمارے جنگی قیدی ہیں
‫اور جو مسلمان شہری ہماری قید میں ہیں‪ ،ان کی تعداد تین ہزار ہے۔ ہم ان تمام قیدیوں کو اور شہر کے ہر ایک مسلمان
‫باشندے کو خواہ وہ عورت ہے یا بچہ‪ ،جوان ہے یا بوڑھا‪ ،قتل کردیں گے''۔
‫سلطان ایوبی کی آنکھیں غصے سے الل ہوگئیں اور اس کے ہونٹ کانپے۔ وہ کچھ کہنے لگا تھا کہ خیمے کا پردہ اٹھا۔ اس کا
‫ایک کمان دار اندر آیا تھا۔ سلطان ایوبی نے اسے اشارہ سے اپنے پاس بالیا۔ کمان دار نے اس کے کان میں سرگوشی کی…
‫اقصی پر جھنڈے چڑھا دئیے گئے ہیں''۔
‫''شہر لے لیا گیا ہے۔ بڑے دروازے اور مسجد
‫ٰ
‫سلطان ایوبی کو بالیان کی دھمکی کا جواب مل گیا۔ اس کی الل انگارہ آنکھوں میں غیرمعمولی چمک پیدا ہوئی۔ اس نے
‫بڑے زور سے اپنی ران پر ہاتھ مار کر صلیبی سردار بالیان سے کہا… ''فاتح مفتوح کے ساتھ صلح کی بات نہیں کیا کرتے‪،
‫کوئی ایک بھی مسلمان تمہارا قیدی نہیں''… واقعہ نگاروں نے لکھا ہے کہ سلطان ایوبی بڑے تحمل سے بات کیا کرتا تھا
‫مگر بالیان کی دھمکی کے ساتھ ہی فتح کی خبر سن کر اس کی آواز میں قہر اور گرج پیدا ہوگئی۔ اس نے کہا… ''تم سب
‫قیدی ہو‪ ،تمہاری ساری فوج میری قیدی ہے‪ ،شہر میں رہنے واال ہر ایک عیسائی میرا قیدی ہے۔ اس شہر سے اب وہ عیسائی
‫نکل کر جاسکے گا جو میرا مقرر کیا ہوا زرفدیہ ادا کرے گا۔ جائو اندر جا کر دیکھو‪ ،یہ یروشلم ہے یا بیت المقدس''۔
‫بالیان ا ور اس کے ساتھ آئے ہوئے صلیبی گھبرا گئے۔ خیمے سے نکل کر دیکھا۔ سلطان ایوبی کی فوج کا بیشتر حصہ شہر
‫میں داخل ہوچکا تھا اور بڑے دروازے پر اسالمی پرچم لہرا رہا تھا۔
‫یہ اتفاق تھا یا سلطان ایوبی نے پالن ہی ایسا بنایا تھا یا خدائے ذوالجالل کا منشا یہی تھا کہ سلطان ایوبی بروز جمعہ
‫‪٢اکتوبر ‪١١٨٧ء بمطابق ‪٢٧رجب ‪٥٧٣ہجری شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوا۔ غور فرمائیے یہ رجب کی ستائیسویں رات
‫تھی اور یہ وہ رات ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی مقام سے معراج کو تشریف لے گئے تھے۔ تمام مسلم
‫اور غیر مسلم مؤرخین نے بیت المقدس کی فتح کی یہی تاریخ لکھی ہے۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی جب شہر میں داخل ہوا تو مسلمان گھروں سے نکل آئے۔ عورتوں نے سروں سے
‫اوڑھنیاں اتار کر اس کے راستے میں پھینک دی۔ سلطان ایوبی کے باڈی گارڈوں نے گھوڑوں سے اتر کر اوڑھنیاں راستے سے
‫اٹھا لیں کیونکہ سلطان اپنی پرستش اور خوشامد سے سخت نفرت کرتا تھا۔ ظلم وتشدد کے مارے ہوئے مسلمان چیخ چیخ کر
‫نعرے لگا رہے تھے اور بعض سجدے میں گر پڑے۔ آنسو تو سب کے جاری تھے۔ یہ بڑا ہی جذباتی اور دردناک منظر تھا۔
‫عینی شاہدوں کے مطابق سلطان ایوبی اس قدر جذباتی ہوگیا تھا کہ نعروں کے جواب میں ہاتھ بلند کرکے ہالتا تھا لیکن اس
‫کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں تھی بلکہ وہ ہونٹوں کو بھینچتا اور دانتوں میں دبانے کی کوشش کرتا تھا۔ یہ کوشش جذباتیت کو
‫دبانے اور سسکیاں روکنے کی تھی۔

21:07
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫اقصی کی دہلیز پر
‫قسط نمبر‪ 155ایوبی مسجد
‫ٰ
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫یہ کوشش جذباتیت کو دبانے اور سسکیاں روکنے کی تھی۔ عیسائی شہری گھروں میں دبکے خوف سے کانپ رہے تھے۔ انہوں
‫نے اپنی جوان لڑکیوں کو چھپا لیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اکثر لڑکیوں کو مردانہ لباس پہنا دئیے گئے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ
‫مسلمان سپاہی خواتین کی بے حرمتی کا انتقام لینے کے لیے ان کی بیٹیوں کو بے آبرو کریں گے لیکن یورپی مؤرخ لین پول
‫لکھتا ہے کہ صالح الدین ایوبی نے اپنے آپ کو ایسا عالی ظرف اور کشادہ دل کبھی ثابت نہیں کیا جتنا اس وقت کیا۔ جب
‫اس کی فوج صلیبی فوج سے شہر کا قبضہ لے رہی تھی۔ اس کی فوج کے سپاہی اور افسر گلی کوچوں میں امن وامان برقرار
‫رکھنے کے لیے گھوم پھر رہے تھے اور ان کی نظر اس پر تھی کہ کوئی مسلمان شہری کسی عیسائی شہری پر انتقاما ً حملہ
‫نہ کردے۔ سلطان ایوبی کے احکام ہی ایسے تھے۔ البتہ کسی عیسائی کو شہر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
‫اقصی میں گیا۔ جذبات کی شدت سے وہ مسجد کی دہلیز پر گھٹنوں کے بل جیسے گر پڑا
‫سلطان ایوبی سب سے پہلے مسجد
‫ٰ
‫ہو۔ وہ دہلیز پر سجدہ ریز ہوگیا اور بہائوالدین شداد اور احمدبیلی مصری کے مطابق سلطان ایوبی کے آنسو اس طرح بہہ رہے
‫تھے کہ اس عظیم مسجد کی دہلیز دھل رہی تھی مسجد کی حالت بہت بری تھی۔ کئی ایک مسلمان حکمرانوں نے وقتا ً فوقتا ً
‫مسجد میں سونے اور چاندی کے فانون اور شمع دان رکھے تھے‪ ،انہوں نے عقیدت کے طور پر مسجد میں طرح طرح کے پیش
‫قیمت تحائف بھی رکھے تھے۔ صلیبی تمام فانوس شمع دان اور قیمتی تحائف اٹھا لے گئے تھے۔ فرش سے جگہ جگہ خارا
‫اور مرمر کی سلیں غائب تھیں۔ مسجد مرمت طلب تھی۔
‫مرمت کی طرف توجہ دینے سے پہلے سلطان ایوبی نے شکست خوردہ عیسائیوں کے متعلق فیصلہ کرنا ضروری سمجھا‪ ،اس نے
‫اپنی مشاورتی مجلس سے مشورہ کیا اور حکم نامہ جاری کیا کہ ہر عیسائی مرد دس اشرفی (دینار) عورت پانچ اشرفی اور ہر
‫بچہ ایک اشرفی زر فدیہ ادا کرکے شہر سے باہر نکل جائے۔ کوئی بھی عیسائی وہاں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ برج دائود کے نیچے
‫واال دروازہ کھول دیا گیا‪ ،جہاں مسلمان حاکم فدیہ وصول کرنے کے لیے بیٹھ گئے اور عیسائی آبادی کا انخال شروع ہوگیا۔ سب
‫سے پہلے عیسائیوں کا سربراہ بالیان شہر سے نکال۔ اس کے پاس انگلستان کے بادشاہ ہنری کی بھیجی ہوئی بے اندازہ رقم
‫تھی۔ اس میں سے اس نے تیس ہزار اشرفی طالئی زر فدیہ ادا کی اور اس کے عوض دس ہزار عیسائیوں کو رہا کرالیا۔
‫باب دائود پر باہر جانے والے عیسائیوں کا تانتا بندھ گیا۔ وہ پورے پورے خاندان کا زرفدیہ ادا کرکے جارہے تھے۔ یہ رواج تھا
‫کہ مفتوحہ شہر کو فوج بری طرح لوٹ لیتی تھی… بیت المقدس تو وہ شہر تھا جہاں صلیبیوں نے فتح کے بعد مسلمانوں کا
‫قتل عام کیا اور ان کے گھر لوٹ لیے اور ان کی بیٹیوں اور مسجدوں کی بے حرمتی کی مگر مسلمانوں نے یہ شہر فتح کیا
‫تو لوٹ مار کے بجائے یوں ہوا کہ سلطان ایوبی کے فوجیوں نے اور باہر سے فورا ً پہنچ جانے والے مسلمان تاجروں نے
‫عیسائیوں کے گھروں کا سامان خریدا تاکہ وہ زرفدیہ دینے کے قابل ہوجائیں۔ اس طرح وہ عیسائی خاندان بھی رہا ہوگئے جن
‫کے پاس زر فدیہ پورا نہیں تھا۔
‫اس موقع پر ایک تضاد دیکھنے میں آیا جو کئی ایک مؤرخوں اور اس دور کے واقعہ نگاروں نے بیان کیا ہے۔ بیت المقدس کے
‫سب سے بڑے پادری بطریق اعظم ہرکولیز نے یہ حرکت کی کہ تمام گرجوں کی جمع شدہ رقم اپنے قبضے میں لے لی۔
‫گرجوں سے سونے کے پیالے اور دیگر پیش قیمت اشیاء چرالیں۔ کہتے ہیں کہ یہ دولت اتنی زیادہ تھی کہ اس سے سینکڑوں
‫غریب عیسائیوں کے خاندانوں کو رہا کرایا جاسکتا تھا مگر ان کے اس سب سے بڑے پادری نے کسی ایک کا بھی زرفدیہ نہ
‫دیا۔ وہ اپنا فدیہ ادا کرکے نکل گیا۔ کسی مسلمان فوجی نے دیکھ لیا کہ یہ شخص بہت سی دولت ساتھ لے جارہا ہے۔ اس
‫فوجی کی رپورٹ پر کسی حاکم نے سلطان ایوبی سے کہا کہ اسے اتنی دولت اور اتنا سونا نہ لے جانے دیا جائے۔
‫اگر اس نے زرفدیہ ادا کردیا ہے تو اسے نہ روکا جائے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں ان لوگوں سے کہہ چکا ہوں کہ ''
‫کسی سے فالتو رقم نہیں لی جائے گی جو کوئی جتنا ذاتی سامان ساتھ لے جاسکتا ہے‪ ،لے جائے۔ میں اپنے وعدے کی خالف
‫ورزی نہیں ہونے دوں گا''۔
‫بطریق اعظم اپنے گرجوں سے چرائی ہوئی دولت اور قیمتی سامان لے گیا۔
‫سلطان ایوبی نے زر فدیہ ادا کرنے کی میعاد چالیس دن مقرر کی تھی۔ چالیس دن پورے ہوئے تو ابھی تک ہزاروں غریب ‪:
‫اور نادار عیسائی شہر میں موجود تھے۔ نوے برس پہلے جب صلیبیوں نے بیت المقدس فتح کیا تو دور دور سے عیسائی یہاں
‫آکر آباد ہوگئے تھے۔ انہیں توقع نہیں تھی کہ کبھی یہاں سے نکلنا بھی پڑے گا۔ یہ حالت دیکھ کر سلطان ایوبی کا بھائی
‫العادل اس کے پاس آیا۔
‫محترم سلطان!'' العادل نے کہا… ''آپ جانتے ہیں کہ اس شہر کی فتح میں میرا اور میرے دستوں کا کتنا ہاتھ ہے۔ اس''
‫کے عوض مجھے ایک ہزار عیسائی بطور غالم دے دیں''۔
‫اتنے غالم کیا کرو گے؟'' سلطان صالح الدین ایوبی نے پوچھا۔''
‫یہ میری مرضی پر ہوگا‪ ،میں جو چاہوں کروں''۔''
‫سلطان ایوبی نے العادل کو ایک ہزار عیسائی دینے کا حکم دے دیا۔ العادل نے ایک ہزار عیسائی منتخب کیے اور انہیں باب
‫دائود لے جاکر سب کو رہاکردیا۔
‫سلطان محترم!'' العادل نے واپس آکر سلطان ایوبی سے کہا… ''میں نے ان تمام عیسائی غالموں کو شہر سے رخصت ''
‫کردیا ہے۔ ان کے پاس زرفدیہ نہیں تھا''۔
‫میں جانتا تھا‪ ،تم ایسا ہی کرو گے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''ورنہ میں تمہیں ایک بھی غالم نہ دیتا۔ انسان انسان کا ''
‫غالم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تمہاری یہ نیکی قبول کرے''۔
‫یہ واقعات افسانے نہیں‪ ،مؤرخوں نے بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ عیسائی عورتوں کا ایک ہجوم سلطان ایوبی کے پاس
‫آیا۔ پتہ چال کہ یہ ان صلیبی فوجیوں کی بیویاں‪ ،بیٹیاں یا بہنیں ہیں جو مارے گئے ہیں یا قید ہوگئے ہیں اور ان کے پاس
‫زرفدیہ نہیں۔ سلطان ایوبی نے سب کو صرف رہا ہی نہ کیا بلکہ انہیں کچھ رقم دے کر رخصت کیا۔ اس کے بعد اس نے عام
‫حکم جاری کردیا کہ تمام عیسائیوں کو جو شہر میں رہ گئے ہیں‪ ،زرفدیہ معاف کیا جاتا ہے‪ ،وہ جاسکتے ہیں۔ صلیبیوں کی
‫صرف فوج قید میں رہی۔
‫اقصی کی صفائی اور مرمت کروائی تھی۔ اس دور کی تحریروں کے مطابق سلطان ایوبی
‫اس سے پہلے سلطان ایوبی نے مسجد
‫ٰ

‫خود سپاہیوں کے ساتھ اینٹیں اور گارا اٹھاتا رہا۔ ‪١٩اکتوبر ‪١١٨٧ء جمعہ کا مبارک دن تھا۔ سلطان ایوبی جمعہ کی نماز کے
‫اقصی میں گیا تو وہ منبر جو نورالدین زنگی مرحوم نے بنوایا تھا اور مرحوم کی بیوہ اور بیٹی الئی تھی‪ ،اس کے
‫لیے مسجد
‫ٰ
‫ساتھ تھا۔ اس نے منبر اپنے ہاتھوں مسجد میں رکھا۔ جمعہ کا خطبہ دمشق سے آئے ہوئے ایک خطیب نے پڑھا۔
‫اقصی کی آرائش کی طرف توجہ دی۔ مرمر کے پتھر منگوا کر فرش میں لگوائے اور مسجد
‫اس کے بعد سلطان ایوبی نے مسجد
‫ٰ
‫اقصی میں
‫مسجد
‫بھی
‫آج
‫تھے‪،
‫لگوائے
‫ہاتھوں
‫اپنے
‫نے
‫ایوبی
‫سلطان
‫جو
‫پتھر
‫خوبصورت
‫وہ
‫کو جی بھر کر خوبصورت بنایا۔
‫ٰ
‫موجود ہیں اور ان کی خوبصورتی میں کوئی فرق نہیں آیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫بیت المقدس کی فتح تاریخ اسالم کا بہت بڑا واقعہ اور عظیم کارنامہ تھی مگر سلطان ایوبی کا جہاد ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
‫اسے سرزمین عرب اور فلسطین کو صلیبیوں سے پاک کرنا تھا۔ اس نے بیت المقدس کو جہاں ایک مضبوط چھائونی اور
‫عسکری مستقر بنایا‪ ،وہاں اس مقدس مقام کو علم وفضل کا مرکز بنا دیا۔ ‪٥رمضان المبارک ‪٥٧٣ہجری (‪٨نومبر ‪١١٨٧ئ) کے روز
‫اس نے بیت المقدس سے کوچ کیا۔ اس کا رخ شمال کی طرف تھا۔ اس نے اپنے بیٹے الملک الظاہر کو جو کسی اور جگہ
‫تھا‪ ،پیغام بھیجا کہ اپنے دستے لے کراس کے پاس آئے۔ سلطان ٹائر پر حملہ کرنے جارہا تھا۔ یہ صلیبیوں کی مضبوط چھائونی
‫تھی اور بندرگاہ تھی۔ سلطان ایوبی نے بحریہ کے کمانڈر الفارس بیدرون کو پیغام بھیجا کہ وہ ٹائر سے کچھ دور تک آجائے اور
‫جب سلطان اس شہر کا محاصرہ کرے تو الفارس صلیبی بیڑے پر حملہ کردے۔ سلطان ایوبی نے الفارس کو حملے کے جو دن
‫بتائے وہ دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع کے دن تھے۔
‫جاسوس اس وقت تک بحیرٔہ روم کی تہہ میں مچھلیوں کی خوراک بن چکا تھا اور رئوف کرد اس کے اس انجام سے اچھی
‫طرح واقف تھا۔ کچھ روز پہلے جاسوس نے رئوف کرد سے کہا تھا کہ ان لڑکیوں کو وہ یہاں نہیں رہنے دے گا۔ اس نے دیکھا
‫تھا کہ جب جہاز ساحل کے قریب لنگر انداز ہوتا ہے تو چھوٹی چھوٹی کشتیاں اس کے قریب آجاتی اور ماہی گیر قسم کے
‫لوگ مختلف چیزیں فروخت کرتے ہیں۔ ان میں ایک آدمی کو اس نے تین چار جگہوں پر دیکھا تھا۔ لڑکیاں اسے رسے کی
‫سیڑھی لٹکا کر اوپر بالتی ہیں اور اس سے کچھ خریدنے کے بجائے اس کے ساتھ باتیں کرتی رہتی ہیں۔ جہاز اگر دس پندرہ
‫میل دور ساحل کے ساتھ کہیں لنگر انداز ہوا تو وہاں بھی یہ آدمی کشتی لے کر آگیا۔ جاسوس کو اس آدمی پر شک تھا۔
‫فلوری نے رئوف کرد کی عقل مار ڈالی تھی۔ وہ اس سے راز کی باتیں پوچھتی اور وہ اسے سب کچھ بتا دیتا تھا۔ الفارس
‫بہت مصروف رہتا تھا۔ وہ دوسرے جہازوں میں بھی چال جاتا تھا۔ ایک روز رئوف کرد نے فلوری کے طلسم سے مسحور ہوکر
‫اسے بتا دیا کہ جہاز میں ایک خطرناک آدمی ہے‪ ،اس کے ساتھ کوئی بات نہ کرنا۔ رئوف کرد ان لڑکیوں کو ابھی تک خانہ
‫بدوش سمجھ رہا تھا اور وہ ان کے اصلی ناموں‪ ،فلوری اور روزی سے واقف نہیں تھا۔ لڑکیاں دراصل تجربہ کار جاسوس تھیں۔
‫وہ سمجھ گئیں کہ جس آدمی کے متعلق رئوف کردنے بات کی ہے وہ جاسوس ہے۔ رئوف کرد کو گوارا نہ تھا کہ فلوری جہاز
‫سے چلی جائے۔ اس نے ان لڑکیوں کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ جاسوس ہے۔
‫ایک رات الفارس کسی دوسرے جہاز میں گیا ہوا تھا۔ آدھی رات کے وقت رئوف کرد اور فلوری عرشے پر جنگلے کے ساتھ
‫ایسی جگہ چھپے ہوئے تھے جہاں پیچھے اور دائیں بائیں سامان پڑا تھا۔ حسن بن عبداللہ کا جاسوس دانستہ یا اتفاقیہ ادھر
‫آنکال۔ رئوف کرد گھبرانے یا کوئی جھوٹ بولنے کے بجائے اٹھ کر اسے ذرا پرے لے گیا اور کہا کہ وہ اس لڑکی کو اللچ وغیرہ
‫دے کر پوچھ رہا تھا کہ وہ دونوں کون ہیں۔ اس نے جاسوس سے کہا کہ میں چال جاتا ہوں‪ ،تم اس کے پاس بیٹھ جائو اور
‫اپنے تجربے اور علم کے مطابق اس سے باتیں کرکے بھید لو کہ یہ ہیں کون؟
‫جاسوس کو فلوری کے پاس بھیج کر اس نے روزی کو جگایا اور اسے کہا کہ شکار فالں جگہ ہے‪ ،تم بھی چلی جائو۔ میں
‫ادھر ادھر دیکھتا رہوں گا کہ کوئی دیکھ نہ لے۔
‫روزی اوپر آئی‪ ،رئوف کرد نے اسے گز بھر لمبی رسی دی اور وہ اس جگہ چلی گئی جہاں جاسوس اور فلوری بیٹھے تھے۔
‫وہاں اندھیرا تھا۔ روزی ان کے پاس بیٹھ گئی۔ جاسوس گپ شپ کے انداز سے ان کی اصلیت کا بھید حاصل کرنے کی کوشش
‫کررہا تھا۔ روزی نے رسی اس کی گردن کے گرد لپیٹ دی۔ لڑکیاں تربیت یافتہ تھیں۔ فلوری نے فورا ً رسی کا دوسرا سرا پکڑ
‫لیا۔ پیشتر اس کے جاسوس اپنا بچائو کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا‪ ،اس کی گردن کا پھندا لڑکیوں نے رسی اپنی اپنی طرف
‫کھینچ کر تنگ کردیا۔ وہ ذرا دیر تڑپا پھر اس کا جسم ساکت ہوگیا۔
‫رئوف کرد ذرا پرے کھڑا تھا۔ وہاں اگر کوئی مالزم تھا تو اسے اس نے کوئی کام بتا کر وہاں سے ہٹا دیا تھا۔ لڑکیوں نے
‫جاسوس کی الش سمندر میں پھینک دی۔ روزی چلی گئی۔ فلوری وہیں بیٹھی رہی۔ رئوف کرد اس کے پاس چال گیا اور دونوں
‫ایک دوسرے میں گم ہوگئے۔
‫٭ ٭ ٭
‫الفارس کو معلوم ہی نہ تھا کہ اس کے جہاز میں کوئی جاسوس آیا یا رئوف کرد نے کسی نئے آدمی کو جہاز میں کسی کام
‫پر لگایا تھا۔ اس کے قتل کے دو چار روز بعد الفارس کو خیال آیا کہ اس کے اپنے اور دوسرے پانچ جہازوں میں جاکر مالحوں
‫اور سپاہیوں کی کیفیت دیکھی تھی۔ وہ خشکی کی رونق سے دور فراغت اور بے یقینی کیفیت سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ اگر
‫کبھی کبھی بحری معرکہ ہوجایا کرتا تو ان کی ذہنی حالت یہ نہ ہوتی۔ چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ ایک رات وہ تمام
‫جہازوں کو اکٹھا کرکے لنگر ڈال دے گا اور جشن منائے گا۔ مالح اور سپاہی گائیں بجائیں گے اور سب کواچھا کھانا دیا جائے
‫گا۔
‫اس نے رئوف کرد اور اپنے ماتحت افسروں سے بات کی۔ اس وقت دونوں لڑکیاں بھی موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ناچیں
‫گی۔ الفارس زندہ دل انسان تھا۔ وہ خود بھی جشن اور راگ رنگ کی ضرورت محسوس کررہا تھا۔ اس نے ابھی کوئی رات
‫مقرر نہ کی‪ ،کیونکہ اسے خشکی سے سلطان ایوبی کے قاصد کا انتظار تھا۔ دسمبر کا آخری ہفتہ تھا۔
‫دو روز بعد قاصد آگیا۔ اس نے بتایا کہ سلطان ایوبی ٹائر سے تھوڑی ہی دور رہ گیا ہے اور الفارس اپنے جہازوں کو ٹائر کے
‫قریب لے جائے تاکہ محاصرے کے وقت وہ کم وقت میں ٹائر پہنچ سکے۔ قاصد نے خاص طور پر کہا تھا کہ اب دن اور رات
‫چوکس رہیں کیونکہ صلیبی جہاز قریب ہی موجود ہیں… الفارس نے قاصد کو رخصت کیا اور اس شام اپنے بکھرے ہوئے جہازوں
‫کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کا اشارہ دے دیا۔ اس نے رئوف کردکو بتایا کہ چند روز بعد شاید انہیں بحری جنگ لڑنی پڑے‪ ،اس
‫لیے دو رات بعد جشن منالیا جائے۔
‫رئوف کرد نے بتا دیا کہ فالں رات جہاز اکٹھے ہوں
‫اور رونق میلہ ہوگا۔

‫اینڈریو کی کشتی آتی رہتی تھی۔ حسن بن عبداللہ کے جاسوس نے اسے کئی جگہوں پر دیکھا تھا۔ اب جہاز ساحل کے قریب
‫آکر رکا تو اینڈریو آگیا۔ لڑکیوں نے حسب معمول اسے اوپر بال لیا اور اس سے کچھ خریدا اور اس کے کان میں یہ قیمتی
‫اطالع ڈال دی کہ فالں رات جہاز اکٹھے کھڑے ہوں گے اور عرشوں پر جشن ہوگا۔ اینڈریو دیکھ رہا تھا کہ دور سے الفارس کے
‫دوسرے جہاز آرہے تھے۔ وہ لڑکیوں کو یہ کہہ کر چال گیا… ''اس رات اسی طرف میری کشتی آجائے گی۔ سیڑھی پھینک کر
‫اتر آنا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫وہ رات آگئی۔ چھ جہاز بادبان لپیٹے پہلو بہ پہلو کھڑے تھے۔ جہازوں کے کپتان اور دیگر افسر الفارس کے جہاز میں اکٹھے
‫ہوگئے تھے۔ پرتکلف کھانا ہورہا تھا۔ مالح اور سپاہی اپنے اپنے جہازوں میں ناچ‪ ،کوچ اور گا رہے تھے۔ الفارس کے جہاز میں
‫دونوں لڑکیاں رقص کررہی تھیں۔ دف اور ساز موجود تھے۔ جہازوں پر بہت سی مشعلیں جال دی گئی تھیں۔ رات کو دن بنا دیا
‫گیا تھا۔
‫یہ رونق جب عروج پر پہنچی تو رات خاصی گزر چکی تھی۔ صلیبیوں کے دس بارہ جنگی جہاز بتیاں بجھائے ہوئے الفارس کے
‫جہازوں کی طرف بڑھے آرہے تھے۔ وہ نئے چاند کی ترتیب میں تھے۔ وہ قریب آگئے تو بھی کسی کو پتہ نہ چال۔ ادھر
‫چھوٹی سی ایک کشتی الفارس کے جہاز کے قریب ہورہی تھی۔ اچانک الفارس کے جہازوں پر جلتے ہوئے گولے گرنے لگے اور
‫تیروں کی ایسی بوچھاڑیں آئیں کہ کئی مالح اور سپاہی تڑپنے لگے۔ الفارس اور اس کے کپتانوں نے اس اچانک حملے سے
‫نکلنے کی کوشش کی مگر جہازوں کا نکالنا ممکن نہ تھا۔ سپاہیوں نے تیروں سے جواب دیا۔ منجنیقوں سے آگ پھینکی۔ ایک
‫صلیبی جہاز کو آگ لگی مگر صلیبی اپنا کام کرچکے تھے۔ ان کے جہاز واپس چلے گئے۔
‫معرکہ جس طرح اچانک شروع ہوا تھا‪ ،اسی طرح اچانک ختم ہوگیا۔ قاضی بہائوالدین شداد کی تحریر کے مطابق الفارس کے
‫پانچ جہاز جل کر تباہ ہوگئے۔ دو کپتان اور بہت سے بحری سپاہی شہید ہوگئے۔ قاضی شداد نے اس کی تاریخ ‪٢٧شوال
‫‪٥٨٣ہجری (‪٣٠دسمبر ‪١١٨٧ئ) لکھی ہے۔
‫چونکہ جہاز جل رہے تھے‪ ،اس لیے روشنی بہت تھی۔ کسی نے دیکھا کہ ایک کشتی جارہی ہے جس میں دو مرد اور دو
‫عورتیں تھیں۔ الفارس نےاپنے جہاز سے ایک کشتی اتروائی اور اس کشتی کو پکڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس کشتی سے تیر
‫آنے لگے۔ ادھر سے بھی تیر چلے اور کشتی کو گھیر لیا گیا۔ دونوں مرد اور ایک لڑکی تیروں کا نشانہ بن گئی۔ ایک بچ گئی۔
‫بعد میں اسی لڑکی کے بیان سے تباہی کی اصل حقیقت کھلی۔
‫اس وقت سلطان ایوبی ٹائر سے کچھ دور خیمہ زن تھا۔ یہاں سے اسے سیدھا ٹائر پر یلغار کرنی تھی۔ کوچ سے ایک ہی روز
‫پہلے اسے اطالع ملی کہ چھ میں سے پانچ جہاز تباہ ہوگئے ہیں۔ سلطان ایوبی بجھ کر رہ گیا۔ وہ ایسی بری خبر سننے کے
‫لیے تیار نہیں تھا اور وہ اتنی جلدی دل چھوڑنے واال بھی نہیں تھا۔ اس نے پیش قدمی ملتوی کردی اور الفارس اور دوسرے
‫کپتانوں کو بالیا۔ الفارس نے اسے صاف الفاظ میں بتا دیا کہ مالح اور سپاہی فراغت اور سمندر سے اکتائے ہوئے تھے‪ ،اس
‫لیے اس نے جشن کا اہتمام کیا تھا۔
‫سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں اور مشیروں کا اجالس بالیا اور یہ صورتحال سب کے سامنے رکھی۔ سب نے یہ مشورہ دیا کہ
‫سخت سردی پڑ رہی ہے اور بارشیں شروع ہوچکی ہیں۔ اس موسم میں جنگ جاری نہیں رکھی جاسکتی۔ اس کے عالوہ
‫سپاہی مسلسل جنگ اور تیز رفتار کوچ اور پیش قدمی سے اتنے تھک چکے تھے کہ انہیں جذبات میں الکر لڑاتے رہنا ظلم ہے
‫اور اس کا نتیجہ شکست بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بحری بیڑے کی تباہی کی مثال دے کر کہا کہ اتنا طویل عرصہ سپاہیوں
‫کو گھروں سے دور رکھنے کے اثرات ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیت المقدس کی عظیم فتح ہمارے لیے کوئی
‫اور حادثہ بن جائے۔
‫سلطان ایوبی ڈکٹیٹر نہیں تھا۔ اس نے یہ مشورہ منظور کرلیا اور حکم دیا کہ مفتوحہ عالقوں سے جو عارضی فوج بنائی گئی
‫تھی‪ ،وہ توڑ دی جائے اور ان لوگوں کو کچھ رقم دے کر گھروں کو بھیج دیا جائے۔ اس نے اپنی باقاعدہ فوج کے بھی کچھ
‫حصے کو تھوڑی تھوڑی چھٹی دے کر گھروں کو بھیج دیا اور ‪٣٠جنوری ‪١١٨٨ء کے روز عکرہ کو روانہ ہوگیا۔ مارچ ‪١١٨٨ء تک
‫وہ عکرہ میں رہا۔
21:07
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫اقصی میں گرے
‫قسط نمبر‪ 156آنسو جو مسج ِد
‫ٰ
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫صلیبی جنگ عروج کو پہنچ گئی تھی۔ بیت المقدس کی فتح نے سارے یورپ کو زلزلے کے بڑے ہی شدید جھٹکے کی طرح
‫جھنجھوڑ ڈاال تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی زندگی کا مشن پورا کردیا تھا لیکن بیت المقدس صلیبیوں کے قبضے سے
‫چھڑا لینا ہی کافی نہیں تھا۔ اس مقدس شہر کا دفاع مستحکم کرنا تھا جو صرف شہر کی دیواریں مضبوط کرلینے تک محدود
‫نہیں تھا۔ بیت المقدس کو صلیبیوں سے بچائے رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ اردگرد دور دور کے عالقے پر قبضہ کیا جائے اور
‫ساحل کو بھی اپنی تحویل میں رکھا جائے۔ بہت سے اہم مقامات پر سلطان ایوبی نے پہلے قبضہ کرلیا تھا جو باقی رہ گئے
‫تھے ان پر سلطان ایوبی کی فوج حملے کرتی اور قابض ہوتی چلی جارہی تھی۔
‫مفتوحہ مقامات سے عیسائی آبادی بھاگتی چلی جارہی تھی جن مقامات پر عیسائیوں کا قبضہ تھا‪ ،وہاں انہوں نے مسلمانوں کا
‫جینا حرام کررکھا تھا۔ ان کے لیے مسلمانوں کا قتل عام روزمرہ کا معمول اور مذہبی فریضہ تھا۔ اس کے برعکس سلطان ایوبی
‫جو جگہ فتح کرتا تھا وہاں کے عیسائی باشندوں کو اپنی فوج کے حفاظت میں نکال دیتا تھا‪ ،سوائے جنگی قیدیوں یعنی صلیبی
‫فوجیوں کے۔ارض فلسطین کی اب یہ کیفیت تھی کہ سلطان ایوبی ہر ایک دستے کو خواہ وہ اس کے ہیڈکوارٹر سے کتنی ہی
‫دور کیوں نہ تھا‪ ،رابطے اور اپنے احکام کا پابند رکھے ہوئے تھا۔ چھاپہ مار جیش عقابوں اور چیتوں کی طرح پہاڑیوں‪ ،جنگلوں
‫اور صحرائوں میں گھومتے پھرتے رہتے تھے‪ ،جہاں انہیں صلیبی فوج کا کوئی دستہ یا رسد کا قافلہ نظر آیا‪ ،وہ اس پر ٹوٹ
‫پڑتے‪ ،شب خون مارتے اور انہیں ہالک‪ ،زخمی اور تتر بتر کرکے ان کے گھوڑے‪ ،اسلحہ اور رسد اٹھا التے۔
‫ان چھاپہ ماروں نے جو شب خون مارے‪ ،وہ ہماری تاریخ کی ولولہ انگیز‪ ،ایمان افروز اور مافوق الفطرت شجاعت کی داستانیں
‫ہیں۔ ہر ایک کا بیان شروع ہوجائے تو یہ داستان بڑی لمبی مدت تک ختم نہ ہو۔ یہ ارض فلسطین کے پاسبان تھے جو
‫اکیلے اکیلے‪ ،دو دو اور چار چار کی ٹولیوں میں کئی کئی سو نفری کے دستوں اور دشمن کے کیمپوں پر شب خون مارتے اور
‫شب کی تاریکی میں گم یا اپنے خون میں ڈوب جاتے تھے۔ انہوں نے دشمن سے رسد چھین کر اپنی فوجوں کو دی اور خود

‫دشمن کی تالش میں بھوکے بھٹکتے رہے‪ ،لڑتے اور کٹتے رہے‪ ،اپنی لگائی ہوئی آگ میں زندہ جلتے رہے۔ انہیں کفن نصیب نہ
‫ہوئے‪ ،کسی نے ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی اور وہ کسی قبر میں دفن نہ ہوئے۔
‫وہ قہر تھے جو دشمن پر ٹوٹتے رہے۔ انہی کے بھروسے سلطان ایوبی بیت المقدس کی فتح کے بعد پورے فلسطین میں شیر
‫کی طرح دندناتا‪ ،دھاڑتا اور گرجتا رہا۔ سلطان ایوبی کی ان گوریال اور کمانڈو (چھاپہ مار) پارٹیوں کے متعلق مشہورومعروف
‫یورپی مؤرخ لین پول لکھتا ہے… ''یہ بے دین (مسلمان) ہماری نائٹوں (جنگجو سرداروں) کی طرح وزنی زرہ بکتر نہیں پہنتے
‫تھے لیکن ہمارے زرہ پوش نائٹوں کو ناکوں چنے چبوا دیتے تھے۔ ان پر حملہ کیا جاتا تو بھاگتے نہیں تھے۔ ان کے گھوڑے
‫ساری دنیا میں تیز رفتار مانے گئے تھے۔ وہ جب دیکھتے تھے کہ (صلیبی) ان کے تعاقب سے ہٹ گئے ہیں تو وہ پھر واپس
‫آجاتے تھے۔ ان ( مسلمان چھاپہ ماروں) کی حالت ان کبھی نہ تھکنے والی مکھیوں جیسی تھی جنہیں اڑائو تو ایک لمحے کے
‫لیے اڑ کر پھر تمہارے اوپر بیٹھ جاتی ہیں‪ ،اگر انہیں ہر وقت دور رکھنے کی کوشش کرتے رہو تو وہ دور رہتے تھے۔ جونہی یہ
‫کوشش ترک کردی جاتی‪ ،وہ شب خون مارجاتے… وہ پہاڑی عالقے کی طوفانی بارش کی طرح چھوٹی چھوٹی پارٹیوں میں آتے
‫اور صلیبی فوج کی ترتیب توڑ کر غائب ہوجائے۔ ہمارے نائٹوں کو وہ قدم قدم پر پریشان کرتے اور ہماری فوج کی پیش قدمی
‫کو سست کیے رکھتے''۔
‫٭ ٭ ٭
‫یہ خطہ جو آج اسرائیل کہالتا ہے‪ ،سلطان ایوبی کے دور میں ارض مقدس تھا جسے صلیبیوں سے پاک کرنے کے لیے اللہ کے
‫ایک ایک سپاہی نے وہاں اپنے خون کا نذرانہ دیا۔ سلطان ایوبی نے بعض بستیاں تباہ وبرباد کرادی تھیں۔ بعض اوقات یوں لگتا
‫تھا جیسے اس کے دل میں رحم کا ایک ذرہ بھی نہیں رہا لیکن اس نے رحم دلی کے ایسے مظاہرے کیے کہ صلیبی مؤرخوں
‫نے بھی اسے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس سے رحم کی بھیک مانگنے کے لیے صلیبیوں کی ایک ملکہ بھی آئی اور ایک
‫غریب صلیبی عورت بھی۔
‫صلیبی ملکہ کا نام سبیال تھا۔ وہ مشہور حکمران ریمانڈ کی بیوی تھی۔ جنگ حطین کے وقت وہ طبریہ کے قلعے کی ملکہ
‫تھی۔ آپ پچھلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں کہ ر یمانڈ جنگ حطین کے میدان سے بھاگ گیا تھا۔ اس کی بیوی نے طبریہ کا
‫قلعہ سلطان ایوبی کے حوالے کردیا تھا اور سلطان ایوبی نے اسے قید نہیں کیا تھا۔ اسی جنگ میں سلطان ایوبی نے بیت
‫المقدس کے حکمران گائی آف لوزینان کو جنگی قیدی بنا لیا تھا۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد جب سلطان ایوبی عکرہ کے
‫مقام پر خیمہ زن تھا‪ ،اسے اطالع ملی کہ ملکہ سبیال اسے ملنے آرہی ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے آنے سے نہ روکا بلکہ آگے
‫بڑھ کر اس کا استقبال کیا۔
‫صالح الدین!''… ملکہ سبیال جو شکست کھا چکنے کے بعد بھی ملکہ ہی کہالنا پسند کرتی تھی‪ ،کیونکہ اپنے خاوند کے ''
‫قتل کے بعد وہ تریپولی کی حکمران تھی‪ ،بولی… ''کیا آپ کو معلوم ہے کہ کتنے ہزار یا کتنے الکھ عیسائی گھروں سے بے
‫گھر ہوگئے ہیں؟ ان پر ظلم آپ کے حکم سے ہوا ہے''۔
‫اور جن بے گناہ مسلمانوں کا آپ نے قتل عام کرایا اور کرایا جارہا ہے‪ ،وہ کس کے حکم سے کرایا جارہا ہے؟''… سلطان''
‫ایوبی نے اس کا جواب سنے بغیر کہا… ''اگر میں خون کا بدلہ خون سے لوں تو ایک بھی عیسائی زندہ نہ رہے… آپ کیوں
‫''آئی ہیں؟… یہی شکایت مجھ تک پہنچانے؟
‫نہیں''۔ ملکہ سبیال نے جواب دیا… ''میں ایک درخواست لے کر آئی ہوں… گائی آف لوزینان آپ کے پاس جنگی قیدی ''
‫ہے‪ ،میں اسے رہا کرانے آئی ہوں''۔
‫میں آپ سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ آپ اسے کیوں رہا کرانا چاہتی ہیں''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں یہ ضرور ''
‫''پوچھوں گا کہ کس شرط پر میں اسے رہا کروں؟
‫اگر آپ کا بیٹا یا بھائی قید ہوجائے تو کیا آپ اسے رہا کرانے کی کوشش نہیں کریں گے؟''… ملکہ سبیال نے پوچھا۔''
‫میرے وہ کمان دار‪ ،عہدے دار اور سپاہی جو آپ کے جنگی قیدی ہیں‪ ،وہ سب میرے بیٹے اور میرے بھائی ہیں''… سلطان''
‫ایوبی نے کہا… '' اگر میں خود قید ہوگیا تو میں بھی آپ سے رہائی کی بھیک نہیں مانگوں گا۔ میرا کوئی بیٹا اور میرا کوئی
‫بھائی میری رہائی کے لیے آپ کے پاس نہیں جائے گا''۔
‫صالح الدین!'' ملکہ سبیال نے کہا… ''آپ خود بادشاہ ہیں۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ ایک بادشاہ کا قید میں پڑے''
‫رہنا‪ ،اس کی کتنی توہین ہے۔ وہ یروشلم اور گردونواح کے دور دور کے عالقے کا حکمران تھا''۔
‫یروشلم نہیں بیت المقدس''… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''گائی اس خطے کا غاصب تھا‪ ،کسی غاصب کو ہم ''
‫بادشاہ نہیں کہا کرتے۔ اگر آپ یہ کہتیں کہ وہ اسالم کا خاتمہ کرکے یہاں صلیب کی حکمرانی قائم کرنے آیا تھا تو میں آپ
‫کی بھی اور اس کی بھی قدر کرتا۔ میں ہر اس انسان کی قدر دل وجان سے کرتا ہوں جو اپنے مذہب اور عقیدے کا قدر دان
‫ہوتا ہے۔ اس کا مذہب چاہے بے بنیاد اور جھوٹے عقیدوں کا ہی مجموعہ کیوں نہ ہو۔ میں نہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا
‫ہوں‪ ،نہ کسی کی بادشاہی کو تسلیم کرتا ہوں۔ بادشاہی صرف اللہ کی ذات کی ہے اور ہم اس کی بادشاہی کے محافظ ہیں۔
‫ہم اللہ کے سپاہی ہیں''۔
‫ہم بھی خدا کی حکمرانی کے لیے کوشاں ہیں''… ملکہ سبیال نے کہا۔''
‫اگر آپ اس خدا کی قائل ہوتیں جس کا میں قائل ہوں تو آپ ایک بادشاہ کی رہائی کے بجائے یہ درخواست لے کرآتیں ''
‫کہ اس بادشاہ کے سپاہیوں کو رہا کردو''۔ سلطان نے کہا… ''آپ کو اس سے انکار نہیں ہونا چاہیے کہ یہ خطہ ہمارا ہے‪،
‫آپ کا نہیں۔ یہاں صلیبی امن پسند باشندوں کی طرح رہ سکتے ہیں‪ ،بادشاہ بن کر نہیں۔ اپنے صلیبی دوستوں کو بتا دیں کہ
‫انسانوں کی قتل وغارت سے باز آجائو اور یہاں سے نکل جائو۔ آپ کا ہر حربہ ناکام ہوچکا ہے۔ آپ نے اپنی معصوم بیٹیوں
‫کو گناہوں کی تربیت دی اور ان کی عصمتیں دائو پر لگائیں۔ آپ نے ہمارے مذہبی پیشوائوں کے بہروپ میں اپنے تخریب کار
‫بھیج کر میری قوم کے عقیدوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے زروجواہرات‪ ،شراب اور دلکش لڑکیوں کے ذریعے میری
‫قوم میں غداری کا بیج بویا اور خانہ جنگی کرائی۔ آپ نے حشیشین سے مجھے قتل کرانے کی کئی بار کوشش کی۔ آپ نے
‫مسلمانوں میں خانہ جنگی کرائی اور ہماری جنگی طاقت کو تباہ کردیا… ہاں ملکہ صلیب میں اعتراف کرتا ہوں کہ آپ اس
‫…''میں کامیاب ہوئیں کہ اسالمی سلطنت کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا اور مسلمان نے مسلمان کا خون بہایا
‫میں جانتا ہوں کہ آپ اس کے بعد میرے پاس نہیں آئیں گی''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں آپ کو یہ بھی بتا دینا ''
‫چاہتا ہوں کہ آپ میرے اس خیمے سے ہی ہمیشہ کے لیے نہیں چلی جائیں گی بلکہ آپ اس خطے سے جارہی ہیں‪ ،پھر آپ
‫کبھی ادھر کا رخ نہیں کریں گی۔ آپ جب ادھر کا کبھی رخ کریں گی تو بحیرٔہ روم کا پانی آپ کے جہازوں کے لیے ابلتا

‫ہوا سمندر بن جائے گا۔ میں آپ کو کسی بحث میں الجھانا نہیں چاہتا‪ ،آپ کو ایک پیغام دے رہا ہوں اور آپ سے یہ د
‫…''رخواست کرتا ہوں کہ یہ پیغام اپنی صلیب کے تمام پجاریوں تک پہنچا دینا
‫کہاں ہے آپ کی صلیب الصلبوت جس پر آپ سب حلف اٹھا کر آئے تھے کہ سرزمین عرب کو تہہ تیغ کریں گے۔ مسجد ''
‫اقصی اور خانہ کعبہ کو مسمار کرکے اپنی عبادت گاہیں بنائیں گے؟… وہ صلیب میرے قبضے میں ہے اور آپ کے عزائم میرے
‫ٰ
‫رحم وکرم پر ہیں۔ آپ جسے یروشلم کہتے ہیں‪ ،وہ پھر بیت المقدس ہے اور ہمیشہ بیت المقدس رہے گا''۔
‫آپ کی فوج بہتر اور زیادہ ہے''… ملکہ سبیال نے کہا… … ''ہماری فوج کی قیادت ناقص ہے''۔''
‫حقیقت سے چشم پوشی نہ کرو ملکہ!''… سلطان''
‫ا یوبی نے کہا… ''اپنے آپ کو دھوکہ نہ دو۔ خود فریبی شکست کی عالمت ہوتی ہے۔ میری فوج کبھی بھی صلیب کی
‫فوج سے زیادہ نہیں ہوئی۔ کبھی بہتر بھی نہیں ہوئی۔ میری فوج کو کبھی زرہ نصیب نہیں ہوئی۔ میرے ساالروں کو ایسی
‫حسین لڑکیاں کبھی نہیں ملیں جو آپ کے ساالروں کے خیموں میں رہتی ہیں۔ میری فوج کا اسلحہ آپ سے بہتر نہیں۔ البتہ
‫راز کی ایک بات آپ کو بتا دیتا ہوں۔ میری فوج کے پاس صرف ایک قوت ہے جس سے آپ کی فوج محروم ہے۔ اسے ہم
‫ایمان اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں۔ اگر آپ کا عقیدہ سچا ہوتا تو آپ کی قوم خدا کو عزیز ہوتی مگر
‫اس خدا کو جو وحدہ الشریک ہے‪ ،آپ نے ایک بیٹے کا باپ بنا رکھا ہے۔ آپ خدا کو انسان کی سطح پر لے آئے ہیں اور
‫اس کی حکومت کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنے آپ کو بادشاہ کہتے اور کہالتے ہیں''۔
‫کیا آپ مجھے اسالم قبول کرنے کی دعوت دے رہے ہیں؟''۔ ملکہ سبیال نے کہا۔''
‫ملکہ سبیال!''… سلطان ایوبی نے اس کے لہجے میں طنز کی جھلک دیکھتے ہوئے کہا… ''میرے خدا نے قرآن کی ''
‫معرفت مجھے بتایا ہے کہ ہم نے انہیں دماغ دیئے ہیں لیکن وہ سوچتے نہیں‪ ،ہم نے انہیں آنکھیں دی ہیں لیکن وہ دیکھتے
‫نہیں‪ ،ہم نے انہیں کان دئیے ہیں لیکن وہ سنتے نہیں… اور خدائے ذوالجالل نے فرمایا ہے کہ ہم ان لوگوں کو جب سزا دینے
‫پر آتے ہیں تو ان کے دلوں اور دماغوں پر مہر ثبت کردیتے ہیں… آپ اسالم قبول نہ کریں۔ میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ
‫فتح اسے ملتی ہے جس کے دل میں ایمان ہوتا ہے۔ میری قوم کے قائدین کے دلوں سے جب آپ نے دولت‪ ،عورت اور
‫شراب کے ذریعے ایمان نکال دیا تھا تو ہم آپس میں لڑتے اور ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے۔ خدا نے ہمیں سزا دی۔ ساری
‫قوم گناہ گار نہیں ہوا کرتی‪ ،قائدین گناہ گار ہوتے ہیں مگر سزا پوری قوم کو ملتی ہے۔ قوم گناہ گار نہیں ہوتی‪ ،اسے گمراہ
‫…''کیا جاتا ہے
‫میری اصل قوت یہ ہے کہ میں نے شکست کھائی تو اس کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ میں نے اپنے ساالروں سے بھی ''
‫یہی کہا کہ غلطی ہے تو ہم سب کی۔ بدقسمتی ہے تو ہم سب کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں شکست ہوئی ہے اور اب
‫قومی وقار کا تقاضا یہ ہے کہ شکست کو فتح میں بدلو۔ اگر شکست کی ذمہ داری ایک دوسرے پر پھینکتے اور اپنے آپ کو
‫بے گناہ ثابت کرتے رہو گے تو ایک اور شکست سے دوچار ہوگے اور سلطنت اسالمیہ جو آج دو دھڑوں میں بٹ گئی ہے‪ ،کل
‫کئی ٹکڑوں میں بٹے گی اور کفار ایک ایک ٹکڑے کو نگل لیں گے… محترمہ! ہماری خانہ جنگی کا ذمہ دار الملک الصالح تھا
‫یا سیف الدین غازی‪ ،آپ تھے یا گمشتگین مگر میں نے اپنے ساالروں سے کہا کہ یہ بھی میری ذمہ داری ہے۔ میں نے ہر
‫حربہ استعمال کیا اور اللہ کے سپاہیوں نے اپنے خون سے سلطنت کے ٹکڑے جوڑ دئیے۔ خون سے جوڑے ہوئے ٹکڑے پھر
‫کبھی الگ نہیں ہوتے ملکہ سبیال!… آج دیکھ لیں‪ ،وہ وقت یاد کریں جب آپ کی فوجیں مدینہ منورہ تک جا پہنچی تھیں
‫مگر آپ میرے پاس اپنے ایک بادشاہ کی رہائی کی بھیک مانگ رہی ہیں۔ یہ کس عمل کا نتیجہ ہے؟… صرف اس عمل کا
‫کہ اللہ کی ذات نے مجھ پر جو فرض عائد کیا تھا‪ ،وہ میں نے جان کی بازی لگا کر ادا کیا اور اللہ نے مجھے انعام سے
‫نوازا''۔
‫ملکہ سبیال سلطان ایوبی کی باتیں انہماک سے سن رہی تھی لیکن اس کے ہونٹوں پر جن میں جوانی‪ ،کشش اور حسن ابھی
‫قائم تھا‪ ،طنزیہ سی مسکراہٹ تھی۔
‫میں آپ کو اسالم قبول کرنے کی دعوت نہیں دے رہا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''آپ کی مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ ''
‫میرے خیمے سے نکل کر آپ میری باتوں کو ذہن سے اس طرح پھینک دیں گی جس طرح آپ کی فوج نے حطین اور بیت
‫المقدس میں ہتھیار پھینکے تھے‪ ،میں آپ کو یہ باتیں صرف اس لیے سنا رہا ہوں کہ یہ میرے خدا اور میرے رسول صلی اللہ
‫علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے کہ جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے‪ ،ان کی پٹی کھول دو اور انہیں دکھائو کہ حق کیا اور
‫باطل کیا ہے… غور کرو ملکہ محترمہ! آپ کے خاوند نے حسن بن صباح کے فدائیوں سے مجھے قتل کرانے کے لیے چار
‫قاتالنہ حملے کرائے۔ ایک بار میں گہری نیند سویا ہوا تھا‪ ،جب انہوں نے مجھ پر حملہ کیا لیکن ہوا کیا؟ وہ خود قتل
‫ہوگئے۔ ایک بار میں ا کیال ان کے گھیر ے میں آگیا تھا لیکن میں بچ گیا اور وہ مارے گئے… اور اب آپ اس حقیقت سے
‫کس طرح انکار کرسکتی ہیں کہ آپ کا خاوند جو مجھے فدائیوں سے قتل کرانے کی کوشش کرتا رہا‪ ،انہی کے ہاتھوں خود قتل
‫…''ہوا۔ اسے کوئی نہ بچا سکا
‫غور سے سنو ملکہ! حطین کے میدان سے آپ کا خاوند لڑے بغیر بھاگ گیا۔ آپ نے لڑے بغیر طبریہ کا قلعہ میرے حوالے''
‫کردیا۔ آپ سب نے جس صلیب الصلبوت پر لڑنے اور لڑتے ہوئے مرنے کی قسم کھائی تھی۔ وہ اسی میدان جنگ میں آپ کے
‫اسی پادری کے خون میں ڈوب گئی جسے آپ اس صلیب کامحافظ اعظم کہتے تھے۔ یہ صلیب اب میرے قبضے میں ہے اور
‫آپ میرے پاس التجا لے کر آئی ہیں کہ گائی کو رہا کردوں''۔
‫آپ مجھے یہ باتیں کیوں یاد دال رہے ہیں؟'' ملکہ سبیال نے جھنجھال کر کہا۔''
‫اس لیے کہ آپ خدا کے ان واضح اشاروں کو سمجھیں''۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا۔ ''آپ کی آنکھوں پر شہنشاہیت ''
‫کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ آپ کو شہنشاہیت پر بھروسہ ہے اور آپ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کریں گی کہ آپ کو اس
‫پر بھی ناز ہے کہ آپ عورت ہیں اور حسین عورت ہیں۔ میں یہ کہہ کر آپ کو خوش کرسکتا ہوں کہ آپ واقعی حسین ہیں
‫مگر یہ کہہ کر آپ کو مایوس کروں گا کہ میں کوئی فیصلہ آپ کے حسن سے متاثر ہوکر نہیں کروں گا۔ آپ کا یہ نیم عریاں
‫ِ
‫صراط مستقیم سے ہٹا نہیں سکتا''۔
‫جسم مجھے
‫ملکہ سبیال ایک عام عورت کی طرح ہنس پڑی اور بولی… ''مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ پتھر ہیں''۔
‫سلطان ا یوبی نے مسکرا کر کہا… ''آپ کے لیے میں یقینا پتھر ہوں مگر میں ایسا موم ہوں جو ایمان کی حرارت سے پگھل
‫جاتا ہے اور اسے رحم کا جذبہ بھی پگھال دیتا ہے۔ جسمانی لذت اور آسائش انسان کو نہ اپنے کام کا رہنے دیتی ہے‪ ،نہ قوم
‫کے کام کا اور اسے خدا بھی دھتکار دیتا ہے''۔

‫میں آپ کے دل میں رحم کا جذبہ ہی بیدار کرنے آئی ہوں''… ملکہ سبیال نے کہا… ''گائی کو رہا کردیں‪ ،میں نے سنا ''
‫ہے کہ سچے مسلمان کے گھر اس کا دشمن چال جائے تو وہ اسے بھی بخش دیتا ہے''۔
‫اس کے بعد ملکہ سبیال منت سماجت پر آگئی۔ سلطان ایوبی نے اسے کہا کہ وہ گائی کو اس شرط پر چھوڑ دے گا کہ وہ
‫تحریری عہد کرے کہ میرے خالف ہتھیار نہیں اٹھائے گا۔ ملکہ سبیال نے کہا کہ تحریری عہد نامہ دیا جائے گا اور یہ بھی
‫تحریر کردیا جائے گا کہ گائی اس عہد سے پھر جائے اور پھر کبھی گرفتار ہوجائے تو اسے قتل کردیا جائے۔ آخر یہی طے
‫ہوا۔ ملکہ سبیال چلی گئی۔ سلطان ایوبی نے اسی روز گائی آف لوزنیان کی رہائی کا حکم نامہ قاصد کو دے کر دمشق روانہ
‫کردیا۔ تین چار دنوں بعد گائی کو سلطان ایوبی کے پاس الیا گیا۔ سلطان ایوبی نے اپنے ترجمان سے جس کی معرفت وہ
‫صلیبیوں کے ساتھ بات چیت کیا کرتا اور ان کی سمجھا کرتا تھا‪ ،کہا کہ اسے اس عہد نامے کا ترجمہ اس کی زبان میں سنا
‫دو اور اگر یہ چاہے کہ اس کا ترجمہ اس کی زبان میں بھی تحریر کیا جائے تو کردو اور اس پر اس کے دستخط کرالو۔
‫اور اسے یہ بھی کہہ دو کہ میں اس کے ساتھ کوئی بات نہیں کرنا چاہتا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اسے کہہ دو کہ ''
‫میں جانتا ہوں کہ یہ عہدنامے کی خالف ورزی کرے گا اور میرے خالف لڑے گا۔ اسے کہہ دو کہ میں نے ملکہ سبیال سے
‫متاثر ہوکر اسے رہا نہیں کیا۔ میں اسے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اس جیسے گناہ گار آدمی کو بھی بخش سکتا ہوں میں اللہ
‫کی راہ میں لڑ رہا ہوں‪ ،کسی سے میں ذاتی انتقام نہیں لینا چاہتا… اور یہ جہاں جانا چاہتا ہے‪ ،وہاں تک اسے محافظوں کی
‫حفاظت میں پہنچا دو''۔
‫گائی آف لوزینان جو بیت المقدس کا حکمران تھا اور جنگ حطین میں جنگی قیدی ہوا تھا‪ ،عہدنامے پر دستخط کرکے سلطان
‫ایوبی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ سلطان نے ہاتھ بڑھایا۔ گائی نے پرجوش طریقے سے ہاتھ مالیا اور کہا… ''ایوبی! تم عظیم
‫ہو''… اور خیمے سے نکل گیا۔
‫گائی کی رہائی کو یورپی مؤرخوں نے کھل کر بیان کیا ہے اور اسے ملکہ سبیال کا کارنامہ لکھا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے
‫جیسے سلطان صالح الدین ایوبی نے ملکہ سبیال سے متاثر ہوکر اور گائی کو اپنے جیسا بادشاہ سمجھ کر رہا کیا تھا اور جیسے
‫اسے عام اور غریب لوگوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ قاضی بہائوالدین شداد نے جو صلیبی جنگوں میں سلطان ایوبی
‫کے ساتھ تھا اور اس کی وفات تک اس کے ساتھ رہا‪ ،اپنی یادداشتوں میں ایک غریب عیسائی عورت کا واقعہ تحریر کیا ہے۔
‫یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب گائی آف لوزینان کی رہائی کے بعد صلیبیوں نے ساحلی شہر عکرہ کا محاصرہ کررکھا تھا۔ (اس
‫محاصرے کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا) صلیبی فوج کے کیمپ کے ساتھ ہی ان عیسائی شہریوں کا کیمپ تھا جو دوسری جگہوں
‫اور بیت المقدس سے نکل کر یہاں جمع ہوگئے تھے۔ محاصرہ دو سال طویل ہوگیا تھا۔ سلطان ایوبی کے ایک تو چھاپہ مار
‫تھے جو محاصرہ کرنے والی صلیبی فوج کے کسی نہ کسی حصے پر شب خون مارتے رہتے تھے‪ ،دوسرے کچھ غیرفوجی
‫مسلمان تھے جو انہی عالقوں کے رہنے والے تھے۔ انہیں اجازت دی گئی تھی کہ صلیبی فوج کو پریشان کرتے رہیں‪ ،چونکہ
‫عیسائی شہری اپنی فوج کے ساتھ تھے‪ ،اس لیے وہ فوج کی بہت مدد کرتے تھے۔
‫مسلمان غیرفوجی گروہ ان عیسائی شہریوں کو بھی پریشان کرتے رہتے تھے۔ رات کو ان کے کیمپ میں گھس جاتے اور ان کا
‫سامان اٹھا التے تھے۔ کبھی کبھی وہ ایک دو عیسائیوں کو بھی اٹھا التے اور انہیں جنگی قید میں دے دیتے۔ عیسائی شہری
‫اپنی فوج سے شکایت کرتے رہتے تھے کہ ''مسلمان چور اور ڈاکو'' رات کو آکر ان کا سامان چوری کرلیتے ہیں۔ فوج نے
‫پہرے کا انتظام کردیا۔ اس کے باوجود ''چوری چکاری'' اور اغوا کا سلسلہ جاری رہا۔
‫ایک رات ایک آدمی عیسائیوں کے کیمپ سے تین ماہ عمر ایک بچی اٹھا الیا۔ ماں کی یہ ایک ہی بچی تھی اور وہ بھی
‫دودھ پیتی بچی۔ اس نے واویال بپا کردیا۔ وہ صلیبی کمانڈروں کے پاس گئی۔ وہ پاگل ہوئی جارہی تھی۔ کسی کے ہاتھ نہیں
‫اعلی کمانڈر تک وہ جاپہنچی۔ اس نے اس عورت کو اجازت دے دی کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا
‫آتی تھی۔ صلیبیوں کے
‫ٰ
‫کیمپ قریب ہی ہے‪ ،اس کے پاس چلی جائو۔ سب کو یقین تھا کہ بچی کو مسلمان اٹھا لے گئے ہیں۔
‫مامتا کی ماری ہوئی ماں پوچھتی بھٹکتی سلطان ایوبی کے کیمپ میں آن پہنچی۔ قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ اس وقت
‫وہ سلطان ایوبی کے پاس کھڑا تھا اور سلطان کہیں جانے کے لیے گھوڑے پر سوار ہوچکا تھا۔ کسی نے اسے بتایا کہ ایک
‫غریب سی عیسائی عورت روتی آئی ہے اور سلطان سے ملنا چاہتی ہے۔ سلطان ایوبی نے کہا کہ اسے فورا ً لے آئو‪ ،اس پر
‫یقینا ہماری طرف سے زیادتی ہوئی ہوگی۔
‫عورت جب سلطان ایوبی کے سامنے آئی تو وہ گھوڑے کے قریب زمین پر پیٹ کے بل لیٹ گئی۔ وہ بار بار ماتھا زمین پر
‫رگڑتی اور روتی تھی۔ سلطان ایوبی نے اسے کہا کہ اٹھو اور بتائو کہ تم پر کس نے زیادتی کی ہے؟
‫مجھے اپنے فوجی کمانڈروں نے کہا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے پاس چلی جائو۔ وہ بہت رحم دل ہے اور فریاد سنے ''
‫گا''… عورت نے کہا… ''آپ کے آدمی میری دودھ پیتی بچی اٹھا الئے ہیں''۔
‫قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ عورت جس انداز سے روتی تھی اور جو فریادیں کرتی تھی‪ ،اس سے سلطان ایوبی کی
‫آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بچی کو اغوا ہوئے چھ سات دن گزر چکے تھے۔ سلطان ایوبی گھوڑے سے اتر آیا۔ اس نے حکم دیا
‫کہ ابھی معلوم کرو کہ بچی کون الیا ہے۔ اس نے عورت کو کھانا کھالنے کو کہا اور جہاں کہیں وہ جارہا تھا‪ ،وہاں نہ گیا۔ وہ
‫مسلمان شہری جو عیسائی کیمپ میں سامان وغیرہ اٹھانے جاتے تھے‪ ،فوج کے ساتھ رہتے تھے۔ ان میں جو آدمی بچی اٹھا
‫الیا تھا‪ ،وہ وہاں موجود تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے پاس آگیا۔ اس نے بتایا کہ بچی اسی نے اغوا کی تھی اور اسے وہ فروخت
‫کرآیا ہے۔ سلطان ایوبی نے حکم دیا کہ اس آدمی کے ساتھ اس شخص کے پاس جائو جس نے اس سے بچی خریدی ہے اور
‫اس نے جو قیمت دی تھی‪ ،وہ اسے دے کر بچی لے آئو۔
‫سلطان ایوبی بچی کی واپسی تک اپنے خیمے میں موجود رہا۔ بچی دور نہیں گئی تھی۔ جلدی مل گئی۔ اس کی قیمت واپس
‫کردی گئی۔ سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھوں بچی ماں کے ہاتھوں میں دی۔ ماں نے بچی کو فورا ً اپنی چھاتیوں کے ساتھ لگا لیا
‫اور ایسی بے تابی سے پیار کیا کہ ( شداد کے الفاظ میں) ہم سب پر رقت طاری ہوگئی۔ سلطان ایوبی نے اسے ایک گھوڑی
‫پر رخصت کیا۔
‫بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا اور ارض فلسطین میں صلیبیوں کو ہر مقام پر شکست ہوئی تو صلیبی دنیا میں
‫پھونچال آگیا۔ اس وقت تین بادشاہیاں جنگی لحاظ سے بہت طاقتور مانی جاتی تھیں۔ ایک تھی فرانس‪ ،دوسری جرمنی اور
‫تیسری انگلستان۔ ان کے پوپ ( پاپائے روم اربانوس ثانی) نے خود ہر ایک کو پاس جاکر انہیں جنگ کے لیے تیار کیا۔ اس
‫‪:کی زبان پر ہر جگہ یہی الفاظ تھے
‫اگر تم صالح ا لدین ایوبی کے خالف نہ اٹھے تو سارے یورپ میں صلیب اٹھ جائے گی اور ہر جگہ تمہیں اسالمی جھنڈے ''

‫لہراتے نظر آئیں گے۔ یہ جنگ صالح الدین ایوبی کی ذاتی جنگ نہیں‪ ،یہ عیسائیت اور اسالم کی جنگ ہے۔ صلیب اعظم
‫مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔ یروشلم پر مسلمانوں کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ ہزار ہا عیسائی عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں چلی
‫گئی ہیں۔ وہ مسلمان فوج میں تقسیم کی جارہی ہیں‪ ،کیا تم گھر بیٹھے اسالم کے بڑھتے ہوئے طوفان کو روک سکو گے؟ تم
‫عیسی علیہ السالم کو مصلوب کیا گیا تھا‪ ،مسلمانوں کے قبضے میں
‫کس طرح برداشت کررہے ہو کہ وہ صلیب جس پر حضرت
‫ٰ
‫چلی جائے؟
‫''
‫پوپ نے اس قسم کی جھوٹی سچی باتیں سنا کر بڑے بڑے صلیبی بادشاہوں کو مشتعل کردیا۔ جرمنی کا بادشاہ فریڈرک دو
‫الکھ فوج لے کر سب سے پہلے آگیا۔ یہ فوج اتنی زیادہ تھی کہ اس نے کسی صلیبی بادشاہ کو اپنا اتحادی نہ بنایا۔ اس نے
‫اپنا پالن بنا رکھا تھا۔ اس کے مطابق اس نے دمشق پر حملہ کیا۔ اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ سلطان ایوبی کے طریقہ
‫جنگ سے واقف نہیں تھا۔ وہ دو الکھ نفری کے لشکر کے بھروسے پر سرزمین عرب پر قبضہ کرنے آیا تھا۔ دمشق پر اس کے
‫حملے کو دوسری صلیبی جنگ کہتے ہیں‪ ،جو فریڈرک نے اپنی کثیر افواج کے زعم میں لڑنے کی کوشش کی اور جس میں
‫دمشق کی وہ ایک اینٹ بھی نہ اکھاڑ سکا۔ مسلمان چھاپہ ماروں نے اس کی رسد پر ایسے دلیرانہ چھاپے مارے کہ اس کے
‫سینکڑوں گھوڑے اور گھوڑا گاڑیاں اپنے ساتھ لے آئے۔ رسد جو ان کے ہاتھ لگی‪ ،وہ انہوں نے اپنی فوج کے حوالے کردی۔
‫فریڈرک بری طرح ناکام ہوا۔ اس کے پاس رسد کی کمی ہوگئی اور فوج کا جانی نقصان بھی بہت ہوا۔ اس نے پیچھے ہٹ کر
‫دمشق پر ازسرنو حملے کی تیاریاں شروع کردیں لیکن مسلمان چھاپہ ماروں نے اس کی فوج کو چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ پانی
‫کے ذخیروں پر مسلمانوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ اس کی تاریخ ‪٢٠جنوری ‪١١٩١ء (‪٢٢ذی الحج ‪٥٧٦ہجری) لکھی گئی ہے۔ اس کے
‫ماتم میں جرمنوں نے اپنے کیمپ میں جگہ جگہ لکڑیاں جمع کرکے اس طرح آگ لگائی جیسے ان کا کیمپ جل رہا ہو۔ ادھر
‫مسلمان سپاہیوں نے وہ رات خوشی سے دف اور نقارے بجاتے اور ناچتے گاتے گزار دی۔
‫جرمن فوج کی کمان اس کے بیٹے نے سنبھال لی۔ اسے معلوم تھا کہ شاہ فرانس فلپس آگسٹس اور شہنشاہ انگلستان رچرڈ
‫بھی آرہے ہیں۔ وہ بحری جہاز سے آرہے تھے‪ ،فریڈرک کے بیٹے نے فلسطین کے ساحی شہر عکرہ کی طرف کوچ کا حکم دے
‫دیا۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں کو ہدایات دے رکھی تھیں‪ ،ان کے مطابق اس کی فوج پر جوابی حملہ نہ کیا بلکہ اسے
‫جانے دیا۔ ان ساالروں کو معلوم تھا کہ راستے میں اپنے چھاپہ مار جیش موجود ہیں۔ ان چھاپہ ماروں کا انداز یہ تھا کہ
‫دشمن کی فوج کے آخری حصے پر شب خون مارتے اور غائب ہوجاتے۔ یہ زیادہ نفری کے جیش تھے۔ رات کو جرمن پڑائو
‫کرتے تو چھاپہ مار آتش گیر سیال کی ہانڈیاں چھوٹی منجنیقوں سے جرمنوں کے کیمپ پر پھینکتے اور ان کے پیچھے جلتے
‫ہوئے فلیتوں والے تیر چالتے جن سے کیمپ میں آگ لگ جاتی۔
‫جرمن فوج جب عکرہ پہنچی تو اس کی نفری صرف بیس ہزار رہ گئی تھی۔ یہ فوج جب ارض مقدس میں داخل ہوئی تھی
‫تو اس کی نفری دو الکھ تھی۔ اس میں سے کچھ دمشق پر حملے کے دوران تباہ ہوئی‪ ،کچھ بیماری‪ ،بھوک اور پیاس کی نذر
‫ہوگئی‪ ،کچھ دمشق سے عکرہ تک کوچ کے دوران چھاپہ ماروں کا شکار ہوگئی اور ان سپاہیوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں
‫تھی جو فوج سے بھگوڑے ہوگئے تھے‪ ،جو بیس ہزار نفری رہ گئی تھی وہ بری طرح بد دل ہوچکی تھی۔ اس کے دل سے
‫صلیب کا احترام اور اپنا حلف صاف ہوچکا تھا۔
‫ادھر سے شاہ فرانس اور شہنشاہ انگلستان سمندر کے راستے چلے آرہے تھے۔ سلطان ایوبی کو جاسوسوں نے قبل از وقت بتا
‫دیا تھا کہ انگلستان کی فوج جو اس وقت قبرص میں پہنچ چکی تھی‪ ،کیسی ہے اور اس کی نفری کتنی ہے۔ اس کی نفری
‫ساٹھ ہزار تھی۔ فرانس کی فوج کی نفری بھی تقریبا ً اتنی ہی تھی۔ بیس ہزار جرمن فوج تھی۔ صلیبیوں کی کچھ فوج پہلے
‫سے ارض مقدس میں موجود تھی۔
‫سلطان ایوبی کو جاسوسوں نے یہ اطالع بھی دی کہ گائی آف لوزینان جو یہ عہدنامہ کرکے سلطان ایوبی کی جنگی قید سے
‫رہا ہوا تھا کہ آئندہ مسلمانوں کے خالف ہتھیار نہیں اٹھائے گا‪ ،کائونٹ کونراڈ کے ساتھ مل کر الگ فوج جمع کرچکا ہے جس
‫میں سات سو نائٹ ( زرپوش سردار) ہیں‪ ،نو ہزار فرنگی فوج اور بارہ ولندیزی اور دیگر یورپی افسر اور سپاہی ہیں۔ اس طرح
‫صرف اس فوج کی نفری تقریبا ً بائیس ہزار ہوگئی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق صلیبی فوج کی مجموعی نفری چھ الکھ تھی جو
‫اسلحہ اور دیگر جنگی سازوسامان کے لحاظ سے اسالمی فوج سے برتر تھی۔
‫سلطان ایوبی کے ساتھ دس ہزار مملوک تھے‪ ،یہ اس کی منتخب فوج تھی جس پر اسے پورا پورا بھروسہ تھا۔ عکرہ نہایت
‫اہم مقام تھا۔ یہ بندرگاہ بھی تھی جسے قدرت نے ایسا بنایا تھا کہ بحریہ کا بہت بڑا اور محفوظ اڈہ بن سکتی تھی۔ عکرہ
‫شہر میں سلطان ایوبی کی فوج کی نفری دس ہزار تھی۔ سلطان ایوبی بیت المقدس سے کمک نہیں لے سکتا تھا کیونکہ یہی
‫وہ شہر تھا جس کی خاطر صلیبیوں نے اتنا زیادہ لشکر اکٹھا کیا تھا۔ اس شہر کے د فاع کو کمزور نہیں کیا جاسکتا تھا۔
‫دوسرے شہروں اور قلعوں سے بھی فوج کو نہیں نکاال جاسکتا تھا۔ انگلستان کا بحری بیڑہ بہت طاقتور اور خوفناک تھا۔ سلطان
‫ایوبی کو اچھی طرح احساس تھا کہ اس کا مصری بحری بیڑہ انگلستان کے بیڑے کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
‫سلطان ایوبی کے لیے یہ اتنا بڑا اور زیادہ خطرناک چیلنج تھا جو اسے قبول کرنا تھا مگر اس کا مقابلہ مخدوش نظر آرہا ‪:
‫تھا۔ اسے ایک خطرہ اور بھی نظر آرہا تھا جو یہ تھا کہ اس کی فوج چار سال سے لڑ رہی تھی۔ اس کے چھاپہ مار اتنی
‫لمبی مدت سے جنگلوں اور پہاڑوں میں لڑ اور مر رہے تھے اور وہ وہیں زندگی بسر کررہے تھے۔ جنگ کے جسمانی پہلو کو
‫دیکھا جائے تو یہ فوج لڑنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ مذہب کی لگن کے جذبے کے زور پر وہ اس قلیل اور تھکی ہوئی فوج
‫کو چھ الکھ تازہ دم صلیبی فوج کے خالف کس طرح لڑا سکتا تھا۔
‫قاضی بہائوالدین شداد جو اس کی مجلس مشاورت کا رکن اور اس کا مشیر خاص اور ہم راز بھی تھا‪ ،لکھتا ہے کہ سلطان
‫ایوبی کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ راتوں کو سوتا بھی نہیں تھا۔ ہر وقت گہری سوچ میں غرق رہتا اور ذہن میں جنگ کے
‫نقشے بناتا رہتا تھا۔ اس کی صحت گر رہی تھی اور ایک بار وہ بیمار پڑ گیا۔ چوتھے روز اٹھ بیٹھا لیکن اس کی صحت میں
‫پہلی والی جان نہیں رہی تھی۔ اس کی عمر ‪٥٤برس ہوگئی تھی۔ وہ نوجوانی میں میدان جنگ میں اترا تھا اور ابھی تک
‫جنگلوں‪ ،پہاڑوں اور صحرائوں میں لڑ رہا تھا۔ اس نے بیت المقدس کی فتح کی قسم کھائی تھی جو اس نے پوری کردی تھی۔
‫اس کے بعد اس نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ اپنے جیتے جی بیت المقدس سے اسالمی پرچم نہیں اترنے دے گا۔ یہ تھا
‫وہ عہد جس نے اسے نیند اور آرام سے محروم کردیا تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫امریکی تاریخ دان اور محقق اینتھونی ویسٹ نے ہیر لڈلیم‪ ،لین پول‪ ،گبن اور ارنول جیسے مشہورومعروف مؤرخوں کے حوالے سے

‫تعالی کے حضور گڑگڑا کر دعا کرتا رہا کہ خدا اسے اس
‫اقصی میں جا بیٹھا اور سارا دن خدا
‫لکھا ہے۔ ''سلطان ایوبی مسجد
‫ٰ
‫ٰ
‫نازک موقعہ پر اسالمی فوج کی صحیح عسکری قیادت کی توفیق عطا فرمائے۔ ایک شخص کے بیان کے مطابق جس نے اسے
‫مسجد میں پڑے دیکھا تھا‪ ،اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ شام ہوئی تو وہ مسجد سے نکال۔ اس وقت اس کے
‫چہرے پر اطمینان اور سکون تھا''۔
‫اقصی میں جاکر سجدہ ریز ہوا اور اس نے رو رو کر خدائے ذوالجالل سے مدد اور رہبری
‫یہ صحیح ہے کہ سلطان ایوبی مسجد
‫ٰ
‫مانگی تھی لیکن اس وقت کے عینی شاہدوں اور واقعہ نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ دن کے وقت نہیں بلکہ رات کے وقت
‫اقصی گیا تھا۔ اس نے ساری رات نوافل‪ ،دعا اور ورد وظیفے میں گزاری اور صبح کی نماز پڑھ کر باہر آیا تھا۔
‫مسجد
‫ٰ
‫اس رات وہ مسجد میں اکیال نہیں تھا۔ مسجد کے صحن میں ایک کونے میں کوئی آدمی اپنے اوپر کمبل ڈالے بیٹھا تھا۔ وہ
‫کبھی ایک سجدے کرتا‪ ،کبھی دو اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہاتھ منہ پر پھیرتا اور پھر سجدے میں چال جاتا تھا۔ اسے نماز
‫پڑھنی نہیں آتی تھی یا وہ کوئی ایسا ورد یا وظیفہ کررہا تھا جس میں اسی طرح سجدے اور دعا کرنی تھی۔ یہ شخص اس
‫وقت مسجد کے کونے میں آبیٹھا تھا جس وقت عشاء کی نماز پڑھ کر آخری نمازی مسجد سے نکل گیا تھا۔ اس کا چہرہ
‫کمبل میں چھپا ہوا تھا۔
‫صبح جب مؤذن نے اذان دی تو وہ اٹھا اور اپنے آپ کو کمبل میں چھپا کر مسجد سے نکل گیا تھا۔ ایک آدمی جو مسجد
‫کے دروازے میں داخل ہورہا تھا‪ ،اسے دیکھ کر رک گیا۔ کچھ دیر دیکھتا رہا پھر اس کے پیچھے چل پڑا۔ کمبل والے نے گھوم
‫کر دیکھا اور قدم تیز کرلیے۔ اس کے تعاقب میں جانے واال بھی تیز تیز چلنے لگا۔ آگے ایک اور آدمی کھڑا تھا۔ کمبل واال
‫اس کے پاس رکا اور کچھ کہہ کر آگے چال گیا۔ دوسرا آدمی وہیں کھڑا رہا۔ تعاقب میں جانے والے نے اس سے پوچھا کہ یہ
‫کون تھا۔
‫''اوہ! یہ تم ہو''۔ اس آدمی نے کہا۔ ''تم اس کا تعاقب کررہے ہو؟''
‫میں نے اس کے پائوں دیکھے ہیں''… تعاقب کرنے والے نے کہا… ''یہ مرد نہیں‪ ،عورت ہے۔ تمہاری رشتہ دار ہے؟ تم ''
‫''اسے جانتے ہو؟
‫احتشام دوست!''… اس آدمی نے کہا… ''میں جانتا ہوں تم اپنا فرض ادا کررہے ہو۔ ہر کسی پر نظر رکھنا تمہارے فرائض''
‫میں شامل ہے اور میرا فرض ہے کہ میں تم سے کچھ بھی نہ چھپائوں‪ ،لیکن ایک عورت کا مسجد میں جانا گناہ تو نہیں''۔
‫بالکل نہیں''… احتشام نے کہا… ''مجھے شک اس سے ہوا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو کمبل میں کیوں لپیٹ رکھا ہے؟''
‫… سنو العاص رات کو ہم تین آدمی مسجد کے اردگرد پہرے پر پھرتے رہے ہیں کیونکہ سلطان نے رات مسجد میں گزاری ہے۔
‫انہیں معلوم نہیں کہ ہم بہروپ میں ان کی حفاظت کے لیے پہرہ دیتے رہے ہیں۔ سلطان کسی کو بتائے بغیر مسجد میں آئے
‫تھے۔ انہیں معلوم نہیں کہ ان کے باوردی محافظوں کے عالوہ بھی کوئی ان کی حفاظت پر مامور ہے۔ یہ حسن بن عبداللہ کا
‫انتظام ہے۔ تم خود فوج کے کمان دار ہو اور مجھے اچھی طرح جانتے ہو‪ ،اس لیے تمہیں یہ سب کچھ بتا رہا ہوں''۔
‫اقصی کے اتنی قریب کھڑے ہوکر مسلمان ''
‫ضرور بتائو احتشام!''… العاص نے جواب دیا… ''بیت المقدس میں اور مسجد
‫ٰ
‫''جھوٹ نہیں بول سکتا۔ میں تمہیں بتا دوں گا کہ یہ کون ہے۔ تم یہ بتائو کہ تم نے اس پر کیوں شک کیا ہے؟
‫میں نے رات اسے صحن کے کونے میں دیکھا''… احتشام نے جواب دیا… ''سلطان کی حفاظت کے لیے ضروری تھا کہ ''
‫اسے وہاں سے اٹھا دیا جاتا۔ عشاء کا وقت گزر گیا تھا۔ اس آدمی کو چلے جانا چاہیے تھا۔ اس وقت سلطان اندر منبر کے
‫سامنے عبادت اور وظیفے میں مصروف تھا۔ یہ آدمی جو کمبل میں لپٹا ہوا تھا۔ سلطان پر قاتالنہ حملہ کرسکتا تھا لیکن کسی
‫کو مسجد سے اٹھایا اور نکاال نہیں جاسکتا۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ یہ شخص عجیب طریقے سے عبادت کررہا تھا۔ سجدے
‫سے اٹھتا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیتا۔ اس نے باقاعدہ نماز نہیں پڑھی۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا۔ میرے دونوں
‫ساتھیوں نے باری باری اندر آکر اس طرح اسے دیکھا کہ اسے پتہ نہ چلے کہ اسے کوئی دیکھ رہا ہے۔ میرے اس ساتھی نے
‫باہر آکر بتایا کہ اس پر نظر رکھو لیکن اسے اٹھانا نہیں‪ ،کیونکہ میں نے اس کے بالکل پیچھے بیٹھ کر اس کی سسکیاں سنی
‫…''ہیں اور اس کے بعض الفاظ ایسے سنے ہیں جیسے یہ اپنے گناہوں کی بخشش اور صلیبیوں کی شکست کی دعا کررہا ہے
21:07
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫اقصی میں گرے
‫قسط نمبر‪ 157آنسو جو مسج ِد
‫ٰ
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫صلیبیوں کی شکست کی دعا کررہا ہے'' ''اس سے مجھے اور زیادہ شک ہوا۔ وہ اتنا بے خبر نہیں ہوسکتا تھا کہ اسے یہ
‫بھی پتہ نہ چل سکتا کہ اس کے پیچھے کوئی آکر بیٹھ گیا ہے۔ ہم کوئی فیصلہ نہ کرسکے کہ کیا کیا جائے۔ اس شش وپنج
‫میں رات گزر گئی۔ صبح کی اذان کے ساتھ ہی یہ آدمی مسجد سے نکال۔ ہم نے باری باری ساری رات اس پر نظر رکھی
‫تھی۔ میں نے مسجد کی روشنی میں
‫د یکھا کہ یہ جب باہر آرہا تھا تو کمبل میں سے اس کے پائوں نظر آرہے تھے اور میں نے اس کے ہاتھ بھی دیکھے جو اس
‫نے فورا ً کمبل میں چھپا لیے تھے۔ میں اس کے تعاقب میں چل پڑا''۔
‫ہاں میرے دوست!''… العاص نے کہا… ''تم نے ٹھیک دیکھا ہے۔ یہ مرد نہیں عورت ہے اور بڑی ہی خوبصورت اور جوان''
‫عورت ہے اور میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ یہ ایک گناہ گار عورت ہے جو دس سال ہمارے خالف جاسوسی کرتی رہی
‫ہے''۔
‫''یہ صلیبی ہے؟''
‫صلیبی تھی''… العاص نے جواب دیا … ''اب مسلمان ہے۔ میں نے اسے ایک مسلمان گھر میں رکھا ہوا ہے۔ اسے تم ''
‫مجذوب کہہ سکتے ہو۔ درویشوں کی طرح باتیں کرتی ہے''۔
‫اور تم لوگ اس کی باتوں میں آگئے ہو''… احتشام نے کہا… ''تم میدان جنگ میں لڑنے والے فوجی ان عورتوں کی ''
‫چالبازیوں کو نہیں سمجھ سکتے''۔
‫تو میرے ساتھ آئو''… العاص نے کہا… ''تم اسے دیکھو‪ ،اس کی باتیں سنو‪ ،اپنا شک رفع کرو۔ ہمیں بھی کچھ بتائو۔ یہ ''
‫تمہارا فن ہے تم بہتر سمجھ سکتے ہوں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں اس کی باتوں کا قائل ہوگیا ہوں۔ میں نے اسے پناہ
‫دلوائی ہے۔ میرے ساتھ آئو''۔
‫اور احتشام العاص کے ساتھ چال گیا۔

‫٭ ٭ ٭
‫وہ ایک بزرگ کا مکان تھا جو مدت سے بیت المقدس میں رہتا تھا۔ احتشام اور العاص اس کے ڈیوڑھی میں جا بیٹھے۔ یہ
‫بزرگ انسان جو عالم فاضل بھی تھا‪ ،نماز کے لیے مسجد میں چال گیا تھا۔ احتشام نے العاص سے کہا کہ ''اس عورت کو
‫دیکھنے سے پہلے میں تم سے پوچھوں گا کہ یہ عورت کہاں سے آئی ہے۔ اس کے متعلق تم جو کچھ جانتے ہو‪ ،مجھے بتا
‫دو''۔
‫یہ پچھلی گرمیوں کا واقعہ ہے''… العاص نے احتشام کو سنایا… ''میں مصر کی سرحد سے تھوڑی دور چھاپہ ماروں کے ''
‫ایک دستے میں تھا‪ ،بیت المقدس فتح ہوچکا تھا۔ ہماری زندگی ٹیلوں‪ ،ٹیکریوں اور صحرا میں گزر رہی تھی۔ اس عالقے میں
‫ہمارا وہ کام نہیں رہ گیا تھا جو ادھر کے چھاپہ مار ابھی تک کررہے ہیں۔ آخر ہمیں واپسی کا حکم مل گیا۔ مجھے ایک
‫جیش کی کمان دے دی گئی۔ میرے ساتھ سولہ چھاپہ مار تھے۔ ہر ایک جیش اپنے اپنے طور پر واپس آرہا تھا۔ ایک جگہ
‫ٹیلے ستونوں کی طرح کھڑے تھے اور بعض کی شکلیں بڑی ڈرائونی اور عجیب عجیب سی تھیں۔ میرے ایک چھاپہ مار نے
‫مذاق سے کہا کہ یہ جنات اور چڑیلوں کے محل ہیں‪ ،یہاں خوبصورت اور بدکار عورتوں کی بدروحیں بھی ہوں گی۔ ہم یہ سن
‫…''کر ہنس پڑے اور ان ٹیلوں میں داخل ہوگئے
‫ہمیں ان ٹیلوں نے کیا ڈرانا تھا‪ ،ہم نے تو ان ٹیلوں سے زیادہ خوفناک جگہوں میں راتیں گزاریں ہیں۔ ہم اس جگہ بھی ''
‫رات کو سوئے ہیں جہاں انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے اور کھونپڑیاں بکھری ہوئی تھیں لیکن ان ٹیلوں کے اندر گئے تو ہم ٹھٹھک
‫کر رک گئے۔ میں نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا کہ خوف کیا ہوتا ہے۔ میرا سارا جیش رک کر کلمہ شریف کا ورد
‫کررہا تھا… سامنے ایک ٹیلے کے سائے میں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی جو مادر زاد برہنہ تھی۔ اس کے سامنے ایک عورت
‫پیٹھ کے بل لیٹی ہوئی تھی۔ وہ بھی برہنہ تھی۔ بیٹھی ہوئی عورت جوان لگتی تھی‪ ،اس کا چہرہ بادامی رنگ کا تھا‪ ،ہونٹ
‫ریت کے ڈھیلے کی طرح خشک اور پھٹے پھٹے۔ اس کا منہ کھال ہوا تھا‪ ،بال بکھرے ہوئے تھے‪ ،برہنہ جسم کی ہڈیاں نظر
‫…''آرہی تھیں۔ اس حالت میں بھی پتہ چلتا تھا کہ وہ بہت خوبصورت ہے
‫یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ دونوں انسان ہوتیں۔ یہ راستہ نہیں تھا کہ کوئی قافلہ یہاں سے گزرا ہوتا اور ڈاکوئوں نے ''
‫انہیں لوٹ لیا ہوتا اور یہ بچ بچا کر یہاں چھپ گئی ہوتیں۔ میں اپنے سپاہیوں کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا مگر میں خود ڈر گیا
‫اور انہیں دیکھتے ہی مجھے یقین ہوگیا کہ یہ گناہ گار عورتوں کی بھٹکتی ہوئی روحیں ہیں۔ میں اس امید پر د ور ہی رکا رہا
‫کہ یہ غائب ہوجائیں گی مگر جو عورت بیٹھی ہوئی تھی‪ ،بیٹھی رہی اور جو لیٹی ہوئی تھی‪ ،وہ لیٹی رہی۔ بیٹھی ہوئی
‫عورت پھٹی پھٹی نظروں سے ہمیں دیکھتی رہی۔ میرے ایک ساتھی نے آہستہ سے کہا… ''پیچھے کو لوٹ چلو''… ایک اور
‫نے کہا… ''ہاں… پیچھے چلو لیکن ان کی طرف پیٹھ نہ کرنا''… ہمارا ان سے فاصلہ پندرہ قدم ہوگا‪ ،ہم سب نہایت آہستہ
‫آہستہ ایک ایک قدم پیچھے ہٹے۔ تب بیٹھی ہوئی عورت نے سرکا اشارہ کیا جیسے ہمیں بال رہی ہو۔
‫میں نے ایک قدم اور پیچھے اٹھایا تو اس نے سر سے پھر اشارہ کیا۔ مجھے صاف نظر آیا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ
‫نکلے تھے۔ میں بتا نہیں سکتا کہ میں نے واقعی کوئی آواز سنی تھی یا میرے دل میں خیال آیا تھا۔ مجھے اپنے آپ میں
‫آواز سنائی دی… ''بھاگو مت العاص! دیکھ لو۔ یہ انسان ہی نہ ہوں''… اچانک میرا ہاتھ اپنی کمر پر پڑا اور اس ہاتھ سے
‫تلوار نیام سے نکال لی۔ میرے قدم اپنے آپ آگے کو اٹھنے لگے۔ مجھے اپنے ساتھیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ مجھے آگے
‫…''جانے سے روک رہے تھے۔ میری زبان پر آیتہ الکرسی کا ورد تھا
‫میں اس سے تین چار قدم دور رک گیا۔ وہ آہستہ آہستہ اٹھی۔ پھر اس نے میری طرف قدم اٹھایا۔ اس کا سر ڈولنے لگا۔ ''
‫اس نے دوسرا قدم ا ٹھایا۔ اس کی آنکھیں بند ہوگئیں اور وہ اس طرح گری کہ اس کا سر میرے پائوں کے قریب آکر اور اس
‫کے بال میرے پائوں پر بکھر گئے۔ میں برہنہ عورت کو ہاتھ لگانے سے گھبرا رہا تھا۔ وہ برہنہ نہ ہوتی توبھی میں گھبرایا ہوا
‫تھا لیکن مجھے دیکھنا تھا کہ یہ انسان ہے یا کوئی شرشرار۔ میں بیٹھ گیا اور اس کی نبض دیکھی۔ نبض چل رہی تھی۔
‫مجھے خیال آیا کہ جنات اور چڑویلوں کی نبض شاید نہیں ہوتی۔ میں نے اس سے ہٹ کر اس عورت کی نبض پر ہاتھ رکھا
‫جو لیٹی ہوئی تھی۔ اتنی جھلسا دینے والی گرمی کے باوجود اس عورت کا جسم غیرمعمولی طور پر سرد تھا جیسے رات کو
‫صحرا کی ریت سرد ہوجاتی ہے۔ اس کی نبضوں میں جان نہیں تھی۔ اس کا منہ کھال ہوا اور آنکھیں ایک جگہ ٹھہری ہوئی
‫…''تھیں۔ جسم سفید تھا‪ ،میں نے اس میں موت کی تمام نشانیاں دیکھیں
‫اور وہ جو میرے سامنے گری تھی‪ ،اس کا جسم گرم تھا۔ یہ بدروحیں یا جنات نہیں ہوسکتی تھیں۔ اللہ نے مجھے عقل اور''
‫دلیری عطا فرمائی۔ میں نے اپنے جیش کو بالیا۔ ہمارے پاس پانی کے چھوٹے مشکیزے تھے۔ کھانے کا سامان بھی تھا جو تین
‫ٹٹوئوں پر لدا ہوا تھا۔ میرا جیش پیادہ تھا۔ میں نے کہا کہ فورا ً پانی اور دوچاردریں الئو۔ میرے ساتھی پانی اور چادریں لے
‫آئے۔ سورج ابھی سر پر نہیں آیا تھا۔ وہاں عمودی ٹیلے کا سایہ تھا۔ میں نے بے ہوش عورت پر چادر ڈالی اور اسے سیدھا
‫کرکے ٹیلے کے دامن میں کردیا۔ اس کے جسم کو اچھی طرح لپیٹ دیا۔ دوسری چادر نیچے بچھا کر اس پر لٹا دیا اور اس
‫…''کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے‪ ،اس کا منہ کھال ہوا تھا۔ اس میں پانی ٹپکایا جو اس کے حلق میں اترتا چال گیا
‫مجھے ساتھی روکتے رہے کہ اپنے آپ کو مصیبت میں نہ ڈالوں لیکن مجھ پر اب نہ ڈر کا اثر تھا‪ ،نہ اپنے ساتھیوں کی ''
‫باتوں کا اثر۔ کچھ دیر بعد اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں۔ اس کے ہونٹ بند ہوئے اور پھر کھل گئے۔ میں نے اس کے
‫منہ میں اور پانی ٹپکایا‪ ،پھر ایک کھجور کی گٹھلی نکال کر کھجور اس کے منہ میں رکھی‪ ،وہ کھانے لگی۔ اس نے اٹھنے کی
‫کوشش کی تو میں نے اسے سہارا دے کر بٹھا دیا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫العاص احتشام کو سنا رہا تھا… ''اسے میں نے کھانے کو دیا جو کچھ ہمارے پاس تھا۔ اس نے اور پانی پیا‪ ،پھر ہم نے اسے
‫کھانے پینے سے روک دیا کیونکہ اس کا پیٹ بہت دنوں سے خالی معلوم ہوتا تھا۔ اس نے نحیف آواز میں کہا… ''میں
‫تمہاری زبان سمجھتی اور بولتی ہوں… یہ مرگئی ہے''… پھر اس نے پوچھا کہ ہم کون ہیں۔ میں نے بتایا کہ ہم اسالمی فوج
‫کے چھاپہ مار ہیں۔ بیت المقدس کو جارہے ہیں۔ اس نے کہا ''پھر مجھے تم سے رحم کی توقع نہیں رکھنی چاہیے''… میں
‫نے اسے کہا کہ تم مسلمان معلوم نہیں ہوتی۔ اس نے کہا… ''میں جھوٹ نہیں بولوں گی لیکن سچ بولوں گی تو تم پچھتائو
‫گے کہ تم نے مجھے مرنے کیوں نہ دیا''… میں نے اسے کہا… ''تم صرف یہ یقین دال دو کہ تم انسان ہو''… اس کے
‫…''ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ آگئی۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا۔ اس کے جسم میں خون حرکت میں آرہا تھا
‫اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ کھانے اور پانی سے اسے نیند آرہی تھی۔ وہ بچوں کی طرح لڑھک گئی اور گہری نیند ''
‫سوگئی۔ ہم نے بہت قتل وغارت کی تھی۔ بہت شب خون مارے تھے۔ ہمارے کئی ساتھی ہمارے سامنے شہید ہوئے تھے‪ ،مرنا

‫اور مارنا ہمارے لیے بچوں کا کھیل تھا لیکن ایک عورت پر‪ ،خواہ وہ ہماری دشمن ہی تھی‪ ،ہاتھ اٹھانا ہمارے لیے گناہ کبیرہ
‫تھا۔ میں نے ا پنے جیش سے کہا کہ سورج سر پر آرہا ہے۔ جھکے ہوئے ٹیلے دیکھو اور ان کے سائے میں آرام کرلو۔ یہ
‫…''جاگے گی تو اسے ساتھ لے جائیں گے
‫میرے ایک دو ساتھیوں نے کہا کہ جاسوس معلوم ہوتی ہے لیکن باقی سب کہہ رہے تھے کہ اس جگہ جاسوس عورتوں کا ''
‫کیا کام‪ ،یہ انسان نہیں۔ میری رائے یہ تھی کہ چونکہ ہمارے چھاپہ مار جیش مصر اور فلسطین کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ
‫سرگرم تھے‪ ،اس لیے ان لڑکیوں کو یہاں بھیجا گیا ہوگا کہ ہمیں گمراہ کریں لیکن مجھے یقین نہیں آتا تھا۔ ان کے ساتھ ایک
‫…''دو مردوں کا ہونا ضروری تھا
‫غروب آفتاب سے ذرا پہلے وہ جاگی اور اٹھ بیٹھی۔ میں اس کے قریب جابیٹھا۔ اس نے پانی پیا اور کھانے کو کچھ اور ''
‫مانگا۔ میں نے اسے کھانا دیا۔ اب وہ اچھی طرح بول سکتی تھی۔ اس نے مری ہوئی عورت کی طرف اشارہ کرکے کہا…
‫''اسے دفن کردو''۔ میرے سپاہی دین دار تھے۔ ایک نے اپنی چادر دے دی۔ الش کو چادر میں لپیٹ دیا گیا۔ سپاہیوں نے
‫قبر کھودی اور اسے دفن کردیا''۔العاص نے احتشام کو بتایا… ''اس عورت نے یہ بتانے کے بجائے کہ وہ کون ہے وہ دونوں
‫کہاں سے آرہی تھیں اور کہاں جارہی تھیں‪ ،اس نے پوچھا… ''تم نے اپنے خدا کو کبھی دیکھا ہے؟''… میں نے جو جواب
‫زبان پر آیا دے دیا۔ اس نے کہا… ''میں نے تمہارا خدا دیکھ لیا ہے۔ ابھی ابھی اسے دیکھا ہے۔ تم کہو گے کہ تم نے
‫خواب دیکھا ہے لیکن یہ خواب نہیں تھا۔ خدا نے مجھے کہا ہے کہ میں نے تجھے وہ آنکھیں دے دی ہیں جو آنے والے
‫وقت کے اندھیرے میں دیکھ سکیں گی۔ خدا نے مجھے یہ بھی کہا ہے کہ تو نے گناہ کی پھر کبھی سوچی تو تیرے اپنے
‫ہاتھ خنجر سے تیری آنکھیں نکال دیں گے۔ خدا نے مجھے یہ بھی کہا ہے کہ میں تجھے اس جگہ لے جارہا ہوں جہاں سے
‫…''میں نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس بالیا تھا
‫اس نے ایسی بہت سی باتیں کیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ صحرا کے سفر اور صعوبتوں نے اس کے دماغ پر اتنا اثر کیا ''
‫ہے کہ اس کا دماغ مائوف ہوگیا ہے۔ مثال ً اس نے یہ بھی کہا… ''تم نے میرا جسم کیوں ڈھانپ دیا ہے؟ اسے ننگا رہنے
‫دیتے تو کیا ہوجاتا؟… میں اب جسم نہیں‪ ،صرف روح ہوں۔ روح پاک ہوجائے تو جسم کے گناہ دھل جاتے ہیں''… وہ زیادہ تر
‫اسی قسم کی باتیں کرتی رہی۔ ان سے مجھے یقین تو ہوگیا کہ یہ انسان ہے‪ ،بدروح نہیں اور مجھے اس کے بتانے کے بغیر
‫ہی پتہ چل گیا کہ یہ ان صلیبی لڑکیوں میں سے ہے جو ہمارے امیروں‪ ،وزیروں اور ساالروں کو غدار بنانے اور راز لے کر اپنے
‫ملک کو بھیجنے کے لیے ہماری طرف بھیجی جاتی ہیں لیکن اس کی ان باتوں سے مجھے یہ شک ہونے لگا کہ اس کے
‫دماغ پر کچھ بھی اثر نہیں ہوا اور یہ اس قسم کی باتیں کرکے مجھے بے وقوف بنا رہی ہے تاکہ میں اسے وہاں تک حفاظت
‫…''سے پہنچا دو جہاں یہ جانا چاہتی ہے
‫میں نے اسے کہا کہ مجھے صحیح صحیح بتا دو کہ تم دونوں کہاں جارہی تھیں۔ میں نے اسے دھمکیاں دیں‪ ،پھر یہ بھی ''
‫ظاہر کیا کہ میں بے وقوف بن چکا ہوں اور وہ مجھے استعمال کرسکتی ہے مگر اس کے انداز اور اس کی مجذوبانہ باتوں میں
‫کوئی تبدیلی نہ آئی۔ سورج غروب ہونے کے بعد میں نے اسے سامان والے ٹٹو پر بٹھا دیا اور ہم چل پڑے۔ سفر رات کو ہی
‫کرنا ہوتا تھا۔ دن کو صحرا جلنے اور جالنے لگتا تھا۔ میں نے اپنے جیش سے کہہ دیا تھا کہ مجھ پر کوئی شک نہ کرنا‪ ،اگر
‫…''اسے تنہا میں لے جائوں تو اس سے میرا مقصد صرف یہ ہوگا کہ میں اس سے بھید لینے کی کوشش کررہا ہوں
‫میرا جیش آگے آگے چلتا رہا اور میں اس عورت کے ٹٹو کے ساتھ بہت پیچھے رہا۔ وہ اب سنبھلتی جارہی تھی لیکن اس''
‫کی باتیں درویشوں کی طرح ہی رہیں۔ آدھی رات کے بعد ہم نے پڑائو کیا۔ اسے میں نے سب سے الگ رکھا اور خود بھی
‫اس کے ساتھ رہا۔ میں نے اس سے ایک بار پھر پوچھا کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہے۔ اس نے جواب دیا… ''قید خانے میں
‫بھی خدا ہوتا ہے''… پھر میں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا وہ یہ تھا کہ میں نے سفلہ پن کا حیوانیت کا مظاہرہ کیا۔ مجھے
‫توقع تھی کہ وہ میرے ساتھ سودا بازی کرے گی یا کہے گی کہ میں اسے کسی ایسے شہر میں پہنچا دو جو صلیبیوں کے
‫قبضے میں ہو لیکن اس پر کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ اس نے میری طرف توجہ ہی نہ دی۔ اگلی رات اس نے بتایا کہ وہ کون ہے
‫…''اور کہاں سے آئی ہے
‫اس نے بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال سے قاہرہ رہی ہے‪ ،وہاں کسی امیر کبیر تاجر کی بیٹی بنی رہی۔ ایک مسلمان حاکم کی ''
‫داشتہ رہی اور دو حاکموں کو اس کا دشمن بنایا‪ ،پھر تینوں کو آپس میں ٹکرایا۔ قاہرہ کے سرکاری کاموں میں گڑبڑ کرائی۔ دو
‫صلیبی جاسوسوں کو قید خانے سے رہا کرایا۔ ایک بڑے خطرناک جاسوس اور تخریب کار کو جسے سزائے موت دی جانے والی
‫تھی‪ ،ان مسلمان حاکموں کی مدد سے فرار کرایا۔ اس نے اور بھی بہت سے کام کیے۔ آخر میں وہ جاسوسی اور سراغ رسانی
‫…''کے استاد اور سربراہ علی بن سفیان کو قتل کرانے کا بندوبست کررہی تھی
‫اسے جنگ حطین کے نتیجے کی اطالع ملی۔ اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ صلیب الصلبوت سلطان ایوبی کے قبضے میں آگئی''
‫ہے اور اس صلیب کا محافظ اعظم میدان جنگ میں مارا گیا ہے۔ اسے یہ بھی پتہ چال کہ کچھ صلیبی حکمران مارے گئے اور
‫جنگی قیدی ہوگئے ہیں اور بیت المقدس کا حکمران گائی آف لوزینان بھی قید ہوگیا ہے۔ یہ خبریں اس کے دماغ پر ہتھوڑوں
‫کی طرح پڑتی رہیں‪ ،پھر اسے دو اور خبریں ملیں۔ ایک یہ کہ اس کا پیر استاد ہرمن (جو لڑکیوں کو ٹریننگ دے کر مسلمان
‫عالقوں میں بھیجا کرتا تھا) قید ہوگیا ہے اور بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ ان خبروں نے اس کا دماغ ہال
‫ڈاال۔ اسے تربیت دے کر اور تیار کرکے قاہرہ بھیجا گیا اور گناہوں کی تربیت کہیں لڑکپن کے آغاز میں شروع کی گئی تھی۔
‫اس کے اندر جذبات کی جگہ فریب اور دھوکہ بھر دیا گیا لیکن مذہب کے معاملہ میں یہ کوری نہیں تھی۔ اسے بتایا گیا تھا
‫کہ اسے صلیب الصلبوت اور یسوع مسیح کی خوشنودی کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ اسے تربیت کے بعد ا خری اشیر باد عکرہ
‫…''کے بڑے گرجے میں صلیب الصلبوت کے پادری نے دی تھی جسے محافظ اعظم کہتے ہیں
‫عیسی ''
‫اس نے اسے بتایا تھا کہ صلیب کی حکمرانی ناقابل تسخیر ہے اور اس کا مرکز یروشلم ہے جس کے قریب حضرت
‫ٰ
‫علیہ السالم کو مصلوب کیا گیا تھا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ اسالم کوئی مذہب نہیں اور مسلمانوں کو عیسائیت میں النا یا انہیں
‫قتل کرنا ثواب کا کام ہے اور یہ کہ جو لڑکیاں صلیب کے نام پر عصمتیں قربان کررہی ہیں‪ ،انہیں اگلے جہان بہشت کی
‫حوریں بنایا جائے گا۔ ایسی ہی کچھ اور باتیں تھیں جو اس کے ذہن میں دل پر نقش کرکے عقیدہ بنا دی گئیں اور وہ گناہوں
‫کار ثواب سمجھتی رہی
‫…''کو نیکی سمجھتی رہی۔ فریب کاری اور دھوکہ دہی کو ِ
‫اسے جب پتہ چال کہ صلیب الصلبوت بھی نہیں رہی۔ اس کا محافظ اعظم پادری بھی نہیں اور یسوع مسیح کی حکمرانی ''
‫کا مرکز یروشلم بھی نہیں رہا تو اس کے عقیدے ٹوٹ پھوٹ گئے۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ قاہرہ میں جو اس کے مرد
‫ساتھی یعنی صلیبی جاسوس تھے‪ ،وہ وہاں سے بھاگنے لگے تھے‪ ،پھر ایک روز وہ اپنے کسی ساتھی کی تالش میں نکلی تو

‫پتہ چال کہ وہ غائب ہے۔ اسے ایک اور ساتھی مال۔ اس نے اسے کہا کہ ہماری مدد کرنے واال کوئی نہیں۔ مسلمان ہوکر کسی
‫…''سے شادی کرلو یا یہاں سے بھاگ جائو
‫اب تو اس پر دیوانگی طاری ہونے لگی۔ اس نے اپنی اس سہیلی کو ساتھ لیا۔ اپنے چاہنے والے ایک مسلمان حاکم سے دو''
‫گھوڑے شوقیہ سواری اور سیر سپاٹے کے لیے لیے اور دونوں شام کے وقت نکلیں۔ اندھیرا گہرا ہوا تو شہر سے نکل آئیں۔
‫انہوں نے کھانے اور پانی کا کچھ انتظام کررکھا تھا مگر انہیں صحرا کے سفر کی ذرا سی بھی سوجھ بوجھ نہیں تھی‪ ،نہ
‫انہیں اپنی منزل کا کچھ پتہ تھا۔ انہیں ا مید تھی کہ راستے میں انہیں صلیبی فوج کا کوئی دستہ مل جائے گا۔ ان کی
‫…''بدقسمتی اور بہت بڑی حماقت تھی کہ راستے کے متعلق کچھ بھی نہ جانتے ہوئے چل پڑیں
‫رات تو گزر گئی۔ انہوں نے گھوڑے سرپٹ دوڑائے تھے۔ دوسرے دن جب سورج اوپر آکر صحرا کو جالنے لگا تو گھوڑے ''
‫تھکن اور پیاس سے بے حال ہونے لگے۔ ان لڑکیوں کا اپنا حال بہت برا ہونے لگا۔ انہیں صحرا میں پانی اور سبزہ زار کے
‫سراب نظر آنے لگے اور وہ ان کے پیچھے گھوڑے دوڑانے لگیں۔ اس روز تو گھوڑوں نے کچھ ساتھ دیا مگر دوسرے دن بھی
‫…''انہیں کچھ کھانے کو اور پانی نہ مال تو دونوں گھوڑے پہلے رکے‪ ،پھر گرے اور پھر کبھی نہ اٹھے
‫اس کے بعد جو ان دونوں کا سفر شروع ہوااسے احتشام دوست! تم اچھی طرح سمجھ سکتے ہو۔ تم جانتے ہو کہ ظالم ''
‫صحرا اس قسم کے مسافروں کو کس انجام تک پہنچایا کرتا ہے۔ اس لڑکی نے اپنی زبان سے مجھے بتایا کہ میں نے جو
‫دھوکے لوگوں کو دئیے تھے‪ ،اس سے زیادہ ظالمانہ دھوکے مجھے صحرا نے دیئے۔ میں نے صحرا میں ندیاں بہتی دیکھیں‪ ،ان
‫کے قریب گئی تو وہ دور ہٹتی گئیں۔ ہم دونوں ان کے پیچھے بھاگتی رہیں۔ میں نے نخلستان دیکھے‪ ،گلستان دیکھے اور میں
‫نے صحرا میں بحری جہاز اور بادبانی کشتیاں تیرتی دیکھیں۔ ہم ہاتھ اوپر کرکے ہالتی‪ ،چالتی اور ان کے پیچھے دوڑتی رہیں‪،
‫…''بعض جگہوں پر ہمیں پانی مل بھی گیا۔ ہم نے ایسی ہر جگہ کئی کئی دن گزارے
‫لڑکی نے مجھے بتایا کہ صحرا میں اس کا وہ وجود مرگیا جس نے قاہرہ کے حاکموں پر جادو کررکھا تھا۔ اسے ہمارے خدا''
‫کا خیال آگیا اور اس کے اندر یہ احساس کانٹے کی طرح چبھنے لگا کہ صلیب الصلبوت کے محافظ اعظم نے اسے دھوکہ دیا
‫ہے اور اب وہ دوسروں کے گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے۔ اس پر یہ حقیقت کھلی کہ اپنی عصمت پیش کرکے کسی کو
‫دھوکہ دینا ثواب کا کام نہیں ہوسکتا۔ اسے یہ خیال بھی آگیا کہ مسلمان اپنی لڑکیوں کو اس طرح استعمال نہیں کرتے۔ ایک
‫روز صحرا میں اسے یہ احساس بھی ہوا جیسے وہ اور ‪،اس کی سہیلی مرچکی ہیں اور وہ دوزخ میں پھینک دی گئی ہیں یا
‫…''وہ بدروحیں بن چکی ہیں اور دوزخ کی طرح جلتے ہوئے میدان میں بھٹک رہی ہیں
‫ایک رات اس نے اپنی سہیلی سے کہا کہ وہ اپنے عقیدے سے دلبرداشتہ ہوگئی ہے اور اب وہ مسلمانوں کے خدا کو پکارے''
‫گی۔ دونوں کے ہونٹ اور زبانیں لکڑی کی طرح ہوگئی تھیں۔ حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے اور وہ بڑی مشکل سے بات کرتی
‫تھیں۔ اس کی سہیلی نے بہت برا منایا کہ وہ اپنے عقیدے سے منحرف ہورہی ہے اور اپنے دشمن کے عقیدے کو اپنانا چاہتی
‫ہے۔ اس نے اس کی نہ سنی۔ اس کی جب سہیلی سو گئی تو یہ اس سے کچھ دور چلی گئی۔ اس نے سجدے کیے اور ہاتھ
‫اٹھا اٹھا کر خدا کو پکارتی اور گناہوں کی بخشش مانگتی رہی۔ وہ ساری رات روتی رہی۔ سجدے کے سوا عبادت کا اسے
‫…''کوئی اور طریقہ نہیں آتا تھا
‫اسی رات اس کے دماغ میں اثر ہوگیا یا واقعی خدا نے اسے کوئی اشارہ دیا۔ یہ کہتی ہے کہ اسے اپنے سامنے دھوئیں ''
‫کی طرح ایک باریش انسان کھڑا نظر آیا۔ اس نے کہا… ''اگر تو نے دل سے توبہ کی ہے تو اس ریگستان میں جہاں سے
‫انسانوں کا گزر نہیں ہوا کرتا‪ ،وہ انسان آئیں گے جن کے خدا کو تو نے پکارا ہے۔ تو یہاں سے زندہ نکل جائے گی''… اسے
‫یاد نہیں کہ اس سے کتنی مدت بعد میں اپنے جیش کے ساتھ وہاں سے گزرا۔ اسے زندہ دیکھا اور اس کی سہیلی مرچکی
‫…''تھی
‫تم جانتے ہو کہ یہ برہنہ کیوں تھیں۔ صحرا کا بھٹکا ہوا مسافر جب جلنے لگتا ہے تو پہلے اپنا سامان پھینکتا ہے‪ ،پھر ''
‫حتی
‫اپنے جسم سے ایک ایک کپڑا اتارتا اورپھینکتا جاتا ہے۔ یہ کام وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں کرتا اور چلتا رہتا ہے‪،
‫ٰ
‫…''کہ وہ کہیں گر پڑتا ہے۔ اس لڑکی کو یاد نہیں کہ اس نے اور اس کی سہیلی نے کپڑے کب اور کہاں اتار پھینکے تھے
‫ہم دس بارہ روز بعد بیت المقدس پہنچے۔ اس کی صحت بحال ہوگئی تھی۔ اس کی خوبصورتی نکھر آئی تھی لیکن یہ ''
‫باتیں مجذوبوں کی طرح کرتی رہی۔ اگر یہ ایسی باتیں تمہارے ساتھ کرتی تو تم بھی اس سے متاثر ہوجاتے۔ اس نے بار بار
‫کہا… ''بیت المقدس پر اب صلیبیوں کا قبضہ نہیں ہوسکتا۔ خدا انہیں راستے میں غرق کرے گا''… وہ اسی طرح کی پیشن
‫…''گوئیاں کرتی رہی۔ رات کو اس کی عبادت شروع ہوتی تھی‪ ،طریقہ یہی تھا کہ سجدے کرتی‪ ،روتی اور دعا مانگتی تھی
‫اب یہ جن کے گھر رہتی ہے‪ ،انہیں میں بہت عرصے سے جانتا ہوں۔ یہ عالم فاضل بزرگ ہیں۔ میں ان کا معتقد ہوں۔ ''
‫میں نے اسے ان کے حوالے کردیا''۔
‫٭ ٭ ٭
‫العاص یہ باتیں سنا رہا تھا اور یہ بزرگ نماز پڑھ کر آگیا۔ اس نے احتشام سے کہا… ''یہ ضروری نہیں کہ خدا سے یہ
‫فضیلت اسی کوعطا ہوتی ہے جس کے پاس علم وفضل ہوتاہے۔ معلوم نہیں کس وقت کیسی فریاد اس کے سینے سے نکلی جو
‫خدا نے سن لی اور اس لڑکی کو یہ مقام عطا کردیا۔ یہ مجذوب ہے۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ یہ پاگل نہیں اور یہ دھوکہ بھی
‫نہیں دے رہی۔ اس نے اپنی خواہش پر اسالم قبول کرلیا ہے۔ میں نے اسے نماز پڑھانے اور سکھانے کی بہت کوشش کی ہے
‫لیکن اس کی عبادت کا اپنا ہی طریقہ ہے۔ خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مانتی ہے اور جب بولتی ہے تو
‫پتہ چلتا ہے کہ اسے غیب سے کوئی اشارہ مال ہے''۔
‫اقصی میں جاتی رہتی ہے؟'' احتشام نے پوچھا۔''
‫یہ مسجد
‫ٰ
‫نہیں''۔ بزرگ نے کہا… ''رات کو پہلی بار مسجد میں گئی ہے۔ العاص صبح آیا تو میں نے اسے بتایا کہ وہ مسجد میں''
‫چلی گئی ہے۔ العاص اس کے پیچھے چال گیا اور اسے شاید راستے میں مل گئی''۔
‫''یہیں سے شک پیدا ہوتا ہے کہ یہ اسی رات کیوں مسجد میں گئی جس رات سلطان مسجد میں موجود تھے؟''
‫میں اس کا جواب نہیں دے سکتا''۔ بزرگ نے کہا۔''
‫احتشام نے کہا کہ میرا فرض ہے کہ میں لڑکی کو حسن بن عبداللہ کے پاس لے جائوں۔ یہ اس کی مرضی ہے کہ اسے آپ
‫کے حوالے کردے یا سلطان کے پاس لے جائے۔
‫لڑکی کو جب بتایا گیا کہ اسے احتشام کے ساتھ جانا پڑے گا تو وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑی۔ العاص بھی ساتھ
‫گیا۔ حسن بن عبداللہ نے اس کی کہانی العاص اور احتشام سے سن کر لڑکی سے کچھ باتیں پوچھیں تو اس نے یہی جواب

‫دیا… ''اب تو سمندر سے آئے ہوئے بیڑے تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ مجھ سے کیوں ڈرتے ہو… مجھے اپنے سلطان کے
‫پاس لے چلو۔ اس نے رات کو جو دعا کی تھی‪ ،وہ خدا نے قبول کرلی ہے''۔
‫بہت کوشش کے باوجود اس نے کچھ نہ بتایا تو اس کے متعلق سلطان ایوبی کو اطالع دی گئی۔ سلطان کو اسی روز عکرہ
‫جانا تھا۔ اس نے کہا کہ لڑکی کو لے آئو… لڑکی سلطان ایوبی کے سامنے گئی تو دوزانو ہوکر سلطان کا دایاں ہاتھ چوما‪ ،پھر
‫اٹھی اور سلطان ایوبی کی آنکھوں میں قریب ہوکر دیکھا۔ اس نے اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے لہجے میں کہا… ''ان
‫آنکھوں سے رات سجدے میں آنسو گرے تھے۔ مجھے تمہارے دشمن کے جہاز ان آنسوئوں میں ڈوبتے نظر آرہے ہیں۔ بیت
‫المقدس کی دیواروں تک کوئی نہیں پہنچ سکے گا… خون کا سمندر بہہ جائے گا… وہ راستے میں مرجائیں گے… وہ تباہ ہورہے
‫ہیں۔ آنسو جو خدا کے حضور سجدے میں بہتے ہیں‪ ،انہیں فرشتے موتی سمجھ کر اٹھا لیتے ہیں۔ خدا ان موتیوں کو ضائع
‫نہیں کرتا۔ نیت صاف ہو تو راستے صاف ملتے ہیں''۔
‫بہت کوشش کی گئی کہ لڑکی کو اس کے اصلی روپ میں الیا جائے لیکن وہ ایسی باتیں کرتی رہی جیسے اسے آنے واال وقت
‫نظر آرہا ہو۔ اسے آخر مجذوب سمجھ کر اسی بزرگ کے حوالے کردیا گیا اور اسے ہدایت دی گئی کہ وہ اس پر نظر رکھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫اقصی میں خدا کے حضور جو آنسو بہائے تھے‪ ،وہ فرشتوں نے موتی سمجھ کر اٹھا لیے۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی نے مسجد
‫ٰ
‫سب سے پہلے اسے یہ اطالع ملی کہ جرمنی کا شہنشاہ فریڈرک مرگیا ہے۔ اس سے چند دن بعد ایک صلیبی حکمران کائونٹ
‫ہنری کے مرنے کی اطالع ملی۔ یہ بھی صلیبی فوج کا ایک اتحادی تھا اور بیت المقدس کو مسلمانوں کے قبضے سے چھڑانے
‫آیا تھا۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ کائونٹ ہنری کی موت کو صلیبیوں نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔
‫اس کا انکشاف اس طرح ہوا کہ سلطان ایوبی کے بحری چھاپہ ماروں نے صلیبیوں کی دو جنگی کشتیاں پکڑیں جو فلسطین کے
‫ساحل سے کچھ دور سے گزر رہی تھیں۔ اس میں پچاس صلیبی بحری سپاہی تھے۔ انہیں قیدی بنا لیا گیا۔
‫اس سے اگلے ہی روز صلیبیوں کی ایک بڑی کشتی پکڑی گئی۔ اس میں ایک کوٹ تھا جس پر ہیرے جواہرات لگے ہوئے
‫تھے۔ یہ کسی بادشاہ کا کوٹ ہوسکتا تھا۔ صلیبی قیدیوں نے بتایا کہ یہ کائونٹ ہنری کا کوٹ ہے اور وہ مرگیا ہے۔ اس کشتی
‫میں ایک قیدی اور بھی تھا جو بحری کمانڈر معلوم ہوتا تھا۔ اس کے متعلق انکشاف ہوا کہ کائونٹ ہنری کا بھانجا ہے۔ ان
‫سب کو جنگی قید میں ڈال دیا گیا۔
‫کائونٹ ہنری کی موت کے متعلق تین مختلف روائتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دریا میں ڈوب گیا تھا۔ مسلمان مؤرخ کہتے ہیں کہ
‫صرف ایک گز گہرے پانی میں گرا اور مرگیا۔ ایک روایت یہ ہے کہ وہ دریا میں نہانے اترا تو بیمار پڑ گیا اور مرگیا۔
‫سلطان ایوبی جس کے متعلق سب سے زیادہ سنجیدہ بلکہ متفکر تھا‪ ،وہ انگلستان کا جنگجو بادشاہ رچرڈ تھا جو بلیک پرنس
‫( سیاہ شہزادہ) کے نام سے مشہور تھا اور اسے ''شیر دل رچرڈ'' بھی کہا جاتا تھا۔ وہ جنگ کا ماہر تھا۔ ذاتی طور پر
‫بہت دلیر اور اسے قدرت نے یہ وصف عطا کیا تھا کہ اس کا قد لمبا اور بازو بھی لمبے تھے۔ اس سے اسے یہ فائدہ حاصل
‫تھا کہ اس کی تلوار دشمن تک پہنچ جاتی تھی مگر دشمن کی تلوار اس تک مشکل سے ہی پہنچتی تھی۔ صلیبی دنیا میں
‫سب کی نظریں اسی پر لگی ہوئی تھیں۔ اس کی جنگی قوت بھی زیادہ تھی اور اس کی بحری جنگی قوت اس وقت دنیا
‫کی سب سے زیادہ طاقتور تھی۔ سلطان ایوبی کو یہی خطرہ نظر آرہا تھا۔
‫آپ نے اس سلسلے کی کہانیوں میں سلطان ایوبی کے ایک امیر البحر حسام الدین لولو کا نام پڑھا ہوگا۔ رئیس البحرین
‫عبدالمحسن تھا۔ سلطان ایوبی کو جب یہ اطالع ملی کہ رچرڈ اپنے بحری بیڑے کے ساتھ آرہا ہے تو اس نے المحسن کو یہ
‫حکم بھیجا کہ وہ رچرڈ کے بیڑے کے سامنے نہ آئے اور اپنے جہاز بکھیر کر رکھے۔ حسام الدین لولو کو اس نے چند ایک
‫جہازوں اور جنگی کشتیوں کے ساتھ عسقالن بال لیا تھا اور اسے کہا تھا کہ دشمن کے جہازوں پر نظر رکھے لیکن آمنے سامنے
‫کی ٹکر نہ لے۔ اس کے بجائے بحری چھاپہ ماروں کو دشمن کے اکیلے دھکیلے جہازوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرے۔
‫سلطان ایوبی نے دیکھ لیا تھا کہ سمندر میں بھی اسے چھاپہ مار جنگ لڑنی پڑے گی۔ یہ وہ دن تھے جو سلطان ایوبی کے
‫لیے بڑے ہی اذیت ناک تھے۔ وہ رات کو سوتا بھی نہیں تھا‪ ،اس نے اپنی مجلس مشاورت میں کہا کہ ہمیں ایک ساحلی
‫شہر قربان کرنا پڑے گا اور وہ عکرہ ہی ہوسکتا ہے۔ میں دشمن کو یہ تاثر دینا چاہتا ہوں کہ جو کچھ ہے عکرہ میں ہے اور
‫اگر عکرہ لے لیا گیا تو مسلمانوں کی کمر ٹوٹ جائے گی پھر بیت المقدس کو مسلمانوں کے قبضے سے چھڑانا آسان ہوجائے
‫گا۔ سلطان ایوبی نے مجلس مشاورت کو بتایا کہ وہ دشمن کو عکرہ میں النے میں کامیاب ہوگیا تو دشمن عکرہ کی دیواروں
‫کے ساتھ ہی سر پٹختا رہے گا۔ مجلس مشاورت نے اسے اجازت دے دی کہ جس طرح وہ مناسب اور سود مند سمجھتا ہے
‫کرے۔
‫٭ ٭ ٭
‫اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بیت المقدس اور ارض مقدس کو سلطان ایوبی کے وہ آنسو ہی بچا سکتے تھے جو
‫اقصی میں سجدے میں گر کر
‫اقصی میں بہائے تھے اور وہ دعائیں بچا سکتی تھیں جو اس نے اس رات مسجد
‫اس نے مسجد
‫ٰ
‫ٰ
‫اقصی میں ہی مانگی تھیں جس نے سلطان ایوبی کی آنکھوں میں جھانک کر
‫مانگی تھیں… دعائیں اس لڑکی نے بھی مسجد
‫ٰ
‫کہا تھا… ''تمہارے دشمن کے جہاز تمہارے آنسوئوں میں ڈوبتے نظر آرہے ہیں''۔
‫یہ تو کوئی مؤرخ نہیں بتا سکتا کہ رات سلطان ایوبی نے خدائے ذوالجالل سے کیا کیا باتیں کی تھیں‪ ،البتہ یہ حقیقت ہر
‫مؤرخ نے بیان کی ہے کہ رچرڈ کا وہ بحری بیڑہ جس سے ایوبی جیسا مر ِد خدا بھی خوفزدہ تھا‪ ،انگلستان سے روانہ ہو تو
‫بحیرٔہ روم میں داخل ہوتے ہی ایک خوفناک طوفان کی لپیٹ میں آگیا۔ تمام جہاز بکھر گئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس بیڑے
‫میں پانچ سو بیس جہاز تھے۔ ان میں چند ایک بڑے جنگی جہاز تھے۔ یہ سب فوج‪ ،گھوڑوں‪ ،رسد اور سازوسامان سے بھرے
‫ہوئے تھے۔
‫طوفان میں بیڑہ ایسا بکھرا کہ رچرڈ کو اپنی جان کے اللے پڑ گئے۔ طوفان کے بعد جب کئی دنوں کی تگ ودو سے بیڑہ یکجا
‫کیا گیا تو پتہ چال کہ پچیس جہاز غرق ہوگئے ہیں اور دو بہت بڑے باربردار جہاز بھی ڈوب گئے ہیں۔ ان میں بے ا نداز
‫اسلحہ اور دیگر سامان تھا۔ رچرڈ کو جو سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا‪ ،وہ ایک خطیر رقم تھی جو وہ اپنے ساتھ ال
‫رہا تھا۔ یہ بے بہا خزانہ تھا جو بحیرٔہ روم کی تہہ میں چال گیا۔
‫رچرڈ قبرص کے جزیرے میں لنگر انداز ہوا تو اسے پتہ چال کہ اس کے بیڑے کے تین چار جہازوں کو طوفان نے قبرص کے
‫ساحل پر پہنچا دیا ہے۔ ان میں سے ایک میں اس کی نوجوان بہن جوآنا بھی تھی اور اس کی منگیتر بیرنگاریا بھی۔ ان
‫دونوں کے متعلق اس نے سمجھ لیا تھا کہ ڈوب مری ہیں لیکن وہ زندہ سالمت تھیں‪ ،البتہ قبرص کے بادشاہ آئزک نے رچرڈ

‫کے لیے یہ مسئلہ کھڑا کررکھا تھا کہ اس نے اپنے ساحل کے ساتھ آنے والے ان تین جہازوں سے سامان نکلوا کر اپنے قبضے
‫میں لے لیا اور تمام آدمیوں کو رچرڈ کی بہن اور منگیتر سمیت قید میں ڈال دیا تھا۔ رچرڈ کو آئزک کے خالف جنگ لڑنی
‫پڑی۔ آئزک کو شکست دے کر اسے ایک خیمے میں قید کیا مگر آئزک رات کو اس طرف سے خیمہ پھاڑ کر جدھر کوئی پہرہ
‫دار نہیں تھا‪ ،فرار ہوگیا۔ رچرڈ پندرہ بیس روز اسے جزیرے میں ڈھونڈتا پھرا۔ آخر وہ اسے مل گیا۔ رچرڈ نے اس کاگھوڑا لے
‫لیا۔ یہ غیر معمولی طور پر تیز رفتار گھوڑا تھا۔ رچرڈ ارض مقدس میں لڑنے آیا تو یہی گھوڑا اس کے پاس تھا۔
‫٭ ٭ ٭
‫رچرڈ جب ارض مقدس کے ساحل کے قریب آیا تو اس وقت اس کے اتحادی صلیبی عکرہ کو محاصرے میں لے چکے تھے۔
‫سب سے پہلے جس کی فوج نے محاصرہ کیا وہ گائی آف لوزینان تھا جسے ملکہ سبیال نے اس عہدنامے پر رہا کرایا تھا کہ
‫وہ سلطان کے خالف نہیں لڑے گا۔ اس کے ساتھ فرانس کے بادشاہ فلپس آگسٹس کی فوج آن ملی اور محاصرہ مستحکم ہوگیا۔
‫شہر کے اندر مسلمان فوجوں کی تعداد دس ہزار تھی اور رسد کم وبیش ایک سال کے لیے کافی تھی۔ محاصرہ ‪١٣اگست
‫‪١١٨٩ء کے روز شروع ہوا۔
‫شکل کی دیوار تھی اور تین اطراف کو سمندر ‪ Lعکرہ کے شہر کے محل وقوع کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس کے ایک طرف
‫تھا۔ سمندر میں صلیبیوں کا بحری بیڑہ موجود تھا۔ جہاز بکھیر کر کھڑے کیے گئے تھے۔ دیوار سے دور صلیبی فوج نے ڈیرے
‫ڈال دئیے تھے۔ اس طرح خشکی کے تمام راستے بند ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی شہر کے اندر نہیں‪ ،باہر تھا۔ اس نے اپنے
‫جاسوسوں کے ذریعے اور اپنی نقل وحرکت کی جھلک دکھا کر دشمن کو عکرہ میں گھسیٹ لیا تھا۔ صلیبیوں نے جب اس
‫شہر کامحاصرہ کیا‪ ،اس وقت انہیں یہی بتایا گیا تھا کہ سلطان ایوبی شہر میں ہے مگر جب انہوں نے تمام فوج محاصرے میں
‫لگا دی تو اس کے ایک حصے پر عقب سے حملہ ہوا۔ تب انہیں پتہ چال کہ سلطان ایوبی باہر ہے اور اس نے اس صلیبی
‫فوج کو محاصرے میں لے لیا جس نے عکرہ کو محاصرے میں لے رکھا تھا۔
‫سلطان ایوبی کی یہ دشواری تھی کہ اس کے پاس فوج کی کمی تھی۔ تاہم اسے توقع تھی کہ وہ محاصرہ توڑ لے گا لیکن وہ
‫یہ بھی چاہتا تھا کہ محاصرہ زیادہ مدت تک رہے تاکہ صلیبیوں کی طاقت یہیں پر صرف ہوتی رہے۔ ‪ ٤اکتوبر ‪١١٨٩ء کے روز
‫صلیبیوں پر زبردست حملہ کیا۔ صلیبی مقابلے کے لیے تیار تھے۔ بڑی ہی خونریز جنگ ہوئی‪ ،جس میں نو ہزار صلیبی مارے
‫گئے لیکن ان کے پاس چھ الکھ کا لشکر تھا۔ نو ہزار کے مرجانے سے کوئی فرق نہ پڑا۔ انہوں نے شہر کو فتح کرنے پر زیادہ
‫توجہ مرکوز رکھی لیکن ان کی فوج دیوار کے قریب جانے سے ڈرتی تھی کیونکہ دیوار کے اوپر سے مسلمان ان پر تیروں کے
‫عالوہ آتش گیر سیال کی ہانڈیاں پھینکتے تھے۔
‫صلیبیوں نے دیوار کے قریب پہنچنے‪ ،شہر کے اندر پتھر اور آگ برسانے اور دیوار پھالنگنے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ بہت ‪:
‫اونچے دبابے ( برج) تیار کیے جو لکڑی کے بنے ہوئے تھے۔ ان کے نیچے لکڑی کے پہئے لگائے اور یہ برج اتنے بڑے تھے کہ
‫ان میں کئی سو سپاہی سما جاتے تھے۔ انہیں مسلمانوں کے پھینکے ہوئے آتشیں سیال اور آگ سے بچانے کے لیے ان کے
‫فریموں پر تانبا چڑھا دیا گیا تھا۔ یہ برج جب دیوار کے قریب لے جائے گئے تو دیوار سے مسلمانوں نے ان پر آتش گیر سیال
‫کی ہانڈیاں پھینکنی شروع کردیں۔ سیال برجوں پر بھی پھیال اور ان کے اندر جو سپاہی کھڑے تھے‪ ،ان پر بھی پڑا۔ جب چند
‫ہانڈیاں پھینکنے کے بعد برج بھیگ گئے تو صرف ایک ایک جلتی ہوئی لکڑی آئی‪ ،ہر برج سے ایک لکڑی ٹکرائی اور برج
‫مہیب شعلوں کی لپیٹ میں آگئے۔ ان میں سے ایک بھی سپاہی زندہ نہ رہا۔
‫دیوار کے باہر ایک خندق تھی جسے پار کرنا صلیبیوں کے لیے مشکل تھا۔ انہوں نے اس خندق کو مٹی سے بھرنا شروع کردیا
‫لیکن شہر کے اندر کی فوج اس قدر دلیر تھی کہ اس کے جیش باہر آکر صلیبیوں پر حملہ کرتے اور واپس چلے جاتے۔
‫صلیبیوں نے خندق بھرنے کے لیے یہاں تک کیا کہ اس میں اپنے مرے ہوئے سپاہیوں کی الشیں پھینک دیں‪ ،پھر ان کے جتنے
‫سپاہی مرتے‪ ،ان سب کی الشیں خندق میں پھینک دیتے۔ عقب سے ان پر سلطان ایوبی نے وسیع پیمانے کے شب خونوں
‫کے انداز کے حملے کیے مگر صلیبیوں کا محاصرہ ٹوٹنے کے بجائے مستحکم ہوتا گیا۔
‫شہر والوں کے ساتھ سلطان ایوبی نے پیامبر کبوتروں کے ذریعے رابطہ قائم کررکھا تھا۔ دوسرا ذریعہ یہ تھا کہ ایک آدمی جس
‫عیسی العموام تھا‪ ،چمڑے میں پیغام باندھ کر کمر کے ساتھ باندھ لیتا اور سمندر میں اتر جاتا۔ وہ رات کو یہ کام کرتا
‫کا نام
‫ٰ
‫تھا۔ وہ دشمن کے لنگر انداز جہازوں کے نیچے سے گزر آیا کرتا تھا۔ وہ پیغام التا اور لے جاتا تھا۔ ایک رات وہ اسی طرح
‫آیا۔ اسے شہر میں لے جانے کے لیے سونے کے
‫ایک ہزار سکوں سے بھری ہوئی تھیلی اور تحریری پیغامات دئیے گئے۔
‫اسالم اور انسان ‪ 21:08
‫صالح الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫اقصی میں گرے
‫قسط ‪ 158/آنسو جو مسج ِد
‫ٰ
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫تحریری پیغامات دئیے گئے۔ قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے… ''وہ جب خیریت سے شہر میں داخل ہوجایا کرتا تھا تو ایک
‫عیسی خیریت سے پہنچ گیا ہے۔ ہم اس کے
‫کبوتر اڑا دیتا تھا جو ہمارے پاس آجاتا تھا۔ اس سے ہم سمجھ لیتے تھے کہ
‫ٰ
‫کبوتر کو واپس اڑا دیتے تھے جس رات وہ ایک ہزار سونے کے سکے لے کر گیا‪ ،اس سے اگلے دن اس کا کبوتر نہ آیا۔ ہم
‫عیسی کی الش عکرہ کے ساحل کے ساتھ تیرتی ہوئی
‫سمجھ گئے کہ وہ پکڑا گیا ہے۔ کئی روز بعد شہر سے اطالع ملی کہ
‫ٰ
‫ملی تھی۔ سونے کے سکے اس کے جسم کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ الش کی حالت بہت بری تھی۔ وہ سونے کے وزن سے
‫تیر نہ سکا اور ڈوب گیا''۔
‫عکرہ کا حاکم میر فراقوش تھا اور سپہ ساالر علی ابن احمد المشطوب تھا۔ وہ بار بار سلطان ایوبی کو یہی پیغام بھیجتے تھے
‫کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے لیکن باہر سے صلیبیوں پر حملے جاری رکھے جائیں اور کسی نہ کسی طرح شہر میں فوج‪ ،اسلحہ
‫اور رسد پہنچائی جائے۔
‫یہی سلطان ایوبی کے سامنے ایک پیچیدہ مسئلہ تھا کہ شہر تک مدد کس طرح پہنچائے۔ اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ بخار
‫سے اس کا جسم جل رہا تھا۔ اس کی ایک وجہ شب بیداری‪ ،دوسری وجہ اعصاب پر بوجھ اور تیسری وجہ یہ تھی کہ وہاں
‫الشوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ گلی سڑی الشوں کی اتنی زیادہ بدبو تھی کہ وہاں ٹھہرا نہیں جاسکتا تھا۔ اس نے سلطان
‫ایوبی کی بیماری میں اضافہ کیا۔ تین چار روز تو وہ اٹھ بھی نہ سکا۔ اسے عکرہ ہاتھ سے جاتا نظر آرہا تھا۔

‫اقصی میں گرے * ختم ہوا جاتا ھے
‫‪،اس کے ساتھ ہی قصہ * آنسو جو مسج ِد
‫ٰ
21:08
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 159پھر شمع بجھ گئی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫سلطان صالح الدین ایوبی اپنے خیمے میں بیمار پڑا تھا۔ اس سے تھوڑی ہی دور عکرہ کے باہر اس کے جانباز دستے اس
‫صلیبی لشکر پر حملے کررہے تھے جس نے عکرہ کو محاصرے میں لے رکھا تھا۔ فلسطین کی تاریخ میں سب سے زیادہ خونریز
‫معرکے لڑے جارہے تھے مگر محاصرہ ٹوتا نظر نہیں آرہا تھا۔ شہر کے ا ندر سلطان ایوبی کی محصور فوج کی نفری دس ہزار
‫تھی اور محاصرہ کرنے والے صلیبیوں کی تعداد پانچ الکھ سے زیادہ تھی۔ سلطان ایوبی صلیبیوں کے عقب میں یعنی شہر سے
‫باہر تھا۔ اس کے پاس دس ہزار مملوک تھے جن پر اسے بہت بھروسہ تھا۔ مملوک عقب سے صلیبیوں پر بڑے ہی جانبازانہ
‫حملے کرتے تھے مگر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی تھی۔ دشمن کی تعداد زیادہ ہونے کے عالوہ محاصرہ نہ ٹوٹ سکنے کی
‫وجہ یہ تھی کہ صلیبیوں نے عکرہ کے اردگرد مورچے کھود لیے تھے جو سلطان ایوبی کی فوج کے لیے خطرناک تھے۔ سوار
‫جب حملہ کرتے تو گھوڑے مورچوں میں گر پڑتے تھے۔
‫عکرہ کے باہر میلوں وسعت میدان جنگ بنی ہوئی تھی۔ الشوں کا کوئی شمار نہیں تھا۔ عکرہ کی دیوار کے باہر دیوار جتنی
‫لمبی اور اتنی چوڑی خندق تھی جسے عبورکرنا مشکل تھا۔ صلیبیوں نے اس خندق کے ایک حصے میں اپنے مرے ہوئے
‫فوجیوں کی الشیں اور مرے ہوئے گھوڑے پھینکنے شروع کردئیے تھے‪ ،تاکہ یہاں سے خندق بھرجائے اور خندق سے گزر کر دیوار
‫تک پہنچا جائے۔ جنگ کا شوروغل اتنا زیادہ تھا کہ فضا میں سوائے گدھوں کے کوئی اور پرندہ نظر نہیں آتا تھا۔ گدھ کہیں
‫اترتے‪ ،الشوں کو کھاتے اور اڑ جاتے تھے۔
‫ان گدھوں کے درمیان تقریبا ً ہر روز ایک کبوتر عکرہ سے اڑتا اور سلطان ایوبی کے کیمپ میں جااترتا تھا اور بہت دیر بعد
‫کیمپ سے اڑ کر عکرہ کو واپس چال جاتا تھا۔ محاصرے اور خونریز معرکوں کے دوران ایک روز یہ کبوتر عکرہ سے اڑا۔ انگلینڈ
‫کا بادشاہ رچرڈ اپنے خیمے سے باہر کھڑا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی بہن جوآنا بھی تھی۔
‫اس کبوتر پر نظر رکھو''۔ رچرڈ نے حکم دیا۔ ''جونہی نظر آئے‪ ،اس پر باز چھوڑ دو۔ یہ کبوتر ہماری شکست کا باعث ''
‫بن سکتا ہے''۔
‫اس کے پاس اس کی بہن جوآنا اور اس کی منگیتر بیرنگاریا کھڑی تھیں۔ رچرڈ کی عمر خاصی ہوگئی تھی اور اب اس نوجوان
‫لڑکی کو اپنے ساتھ اس ارادے سے الیا تھا کہ بیت المقدس فتح کرکے اس سے کی شادی کرے گا۔ اس کی بہن جوآنا تھوڑا
‫ہی عرصہ پہلے تک سسلی کے بادشاہ کی بیوی تھی۔ بادشاہ مرگیا تو جوآنا جوانی میں بیوہ ہوگئی۔ وہ اس قدر خوبصورت
‫تھی کہ کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ اس لڑکی کی شادی ہوئی تھی۔ رچرڈ انگلستان سے آئے ہوئے اسے سسلی سے اپنے ساتھ
‫لے آیا تھا۔
‫رچرڈ کو جوآنا کی ہنسی سنائی دی۔ رچرڈ نے اس کی طرف دیکھا تو جوآنا نے اس سے پوچھا۔ ''میرے بھائی! کیا اس
‫کبوتر کے مرجانے سے صالح الدین ایوبی بھی مرجائے گا''۔
‫یہ کبوتر پیامبر ہے جوآنا!''… رچرڈ نے کہا… ''اس کی ایک ٹانگ کے ساتھ عکرہ والوں کا پیغام بندھا ہوتا ہے جو صالح''
‫الدین ایوبی کے پاس جاتا ہے۔ صالح الدین ایوبی پیغام کا جواب اسی کبوتر کے ساتھ بھیجتا ہے۔ صالح الدین ایوبی ہم پر
‫باہر سے جو حملے کرتا ہے‪ ،وہ عکرہ والوں کے پیغاموں کے مطابق ہوتے ہیں۔ عکرہ والوں کا جوش اور جذبہ اور ہتھیار نہ
‫ڈالنے کا عزم اس کبوتر کی وجہ سے قائم ہے‪ ،ورنہ کوئی محصور فوج اتنے شدید حملے زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتی۔
‫تم دیکھ رہی ہو کہ ہماری منجنیقوں کے پھینکے ہوئے پتھروں نے کئی جگہوں سے دیوار کا اوپر کا حصہ گرادیا ہے اور ہماری
‫پھینکی ہوئی آگ نے شہر میں تباہی بپا کررکھی ہے مگر وہ ہتھیار نہیں ڈال رہے''۔
‫آپ کا اصل مقصد اور منزل یروشلم ہے جو ابھی بہت دور ہے''۔ جوآنا نے کہا… ''اگر عکرہ کی فتح میں کئی سال گزر''
‫گئے تو کیا آپ اپنی زندگی میں یروشلم تک پہنچ سکیں گے؟ ہمارے جاسوس اور مسلمان جنگی قیدی بتاتے ہیں کہ شہر کے
‫اندر صرف دس ہزار تعداد کی فوج ہے۔ ہماری تعداد ابتدا میں چھ الکھ تھی۔ اب پانچ الکھ رہ گئی ہوگی۔ محاصرہ پچھلے
‫سال (‪١١٨٩ئ) ‪١٣اگست کے روز شروع ہوا تھا۔ اب ‪١١٩١ء کا اگست آگیا ہے۔ دو سال… میرے بھائی! دو سال… ابھی آپ
‫دس ہزار نفری کے محصورین سے ہتھیار نہیں ڈلوا سکے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کو محاصرے میں شامل ہوئے ابھی چند
‫مہینے گزرے ہیں لیکن چند مہینوں میں آپ نے عکرہ کی تھوڑی سی دیوار توڑنے اور منجنیقوں سے شہر کے کچھ حصے کو
‫آگ لگانے کے سوا کیا کامیابی حاصل کی ہے؟ مجھے تو یہ نظر آرہا ہے کہ اس شہر کے کھنڈر ہی آپ کو ملیں گے''۔
‫رچرڈ نے اپنی منگیتر کو وہاں سے چلے جانے کو کہا۔ وہ چلی گئی تو رچرڈ اپنی بہن سے مخاطب ہوا۔ ''صلیب ‪:
‫الصلبوت اور یروشلم کے وقار اور تقدس کا مطالبہ یہ ہے کہ تم بھول جائو کہ تم میری بہن ہو۔ تم اس صلیب کی بیٹی ہو جو
‫مسلمانوں کے قبضے میں ہے اور یروشلم جہاں ہمارے پیغمبر کی عبادت گاہ ہے‪ ،اس پر بھی مسلمان قابض ہیں۔ تم جانتی ہو
‫کہ ہمیں اسالم کو ختم کرنا ہے اور تم یہ بھی دیکھ رہی ہو کہ مسلمان خودکشی کی طرح لڑ رہے ہیں۔ یہ لوگ موت کی
‫پرواہ نہیں کرتے۔ یہ فتح حاصل کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔ میں پہلی بار یہاں آیا اور انہیں لڑتے دیکھا ہے۔ ان کے جذبے کے
‫جنون کی جو کہانیاں سنی تھیں وہ اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مسلمان کو عورت مار سکتی
‫ہے۔ ان کے درمیان جو خانہ جنگی ہوئی تھی‪ ،وہ ہمارے بادشاہوں نے ان پر ایک سازش کے تحت بادشاہی‪ ،زروجواہرات‪،
‫شراب اور عورت کا نشہ طاری کرکے کرائی تھی مگر صالح الدین ایوبی ایسا پتھر نکال کہ اس کے عزم کو متزلزل نہ کرسکے۔
‫اس نے اپنے ان بھائیوں کو جو ہمارے ہاتھ میں آگئے تھے‪ ،تلوار کے زور سے اپنا مطیع کرلیا یا ان کے دلوں میں اسالمی
‫جذبہ بیدار کرلیا''۔
‫میں نے بھی یہ سنا ہے''۔ جوآنا نے کہا… ''میں نے ان لڑکیوں کے ا یثار کی کہانیاں بھی سنی ہیں جنہیں مسلمان ''
‫امراء اور حاکموں کے پاس جاسوسی اور دیگر تخریب کاری کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ میرے خیال میں یہ طریقہ کامیاب نہیں
‫رہا''۔
‫میں اسے ناکام بھی نہیں کہتا''… رچرڈ نے کہا… ''اگر مسلمانوں کے قومی جذبے کو تباہ کرنے کے لیے یہ لڑکیاں ''
‫استعمال نہ کی جاتیں تو یہ لوگ بہت عرصہ پہلے نہ صرف یروشلم کو فتح کرچکے ہوتے بلکہ آدھے یورپ پر بھی قابض
‫ہوچکے ہوتے۔ ہم نے عورت کے حسن اور جسم کے جادو سے اور ان میں سے بہت سے امیروں‪ ،وزیروں اور ساالروں کو سلطان

‫بنانے کے اللچ سے ان کا اتحاد توڑ دیا تھا۔ ان کی جنگی قوت انہیں آپس میں لڑا کر تباہ کردی تھی مگر یہ پھر متحد
‫ہوگئے ہیں''۔
‫آپ یہ باتیں مجھے کیوں سنا رہے ہیں؟'' جوآنا نے کہا… ''آپ کے بولنے کے انداز میں مایوسی کیوں ہے؟ میں آپ کی''
‫''کیا مدد کرسکتی ہوں؟
‫میں نے تمہیں کہا تھا کہ تم بھول جائو کہ تم میری بہن ہو۔ تم صلیب کی بیٹی ہو۔ صلیب کی فتح کے لیے تم بہت ''
‫کچھ کرسکتی ہو… تم دیکھ رہی ہو کہ ہم مسلمانوں کے خالف لڑ بھی رہے ہیں اور ہماری آپس میں مالقاتیں بھی ہوتی رہتی
‫ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی طرف اپنے ایلچی بھیجتے رہتے ہیں۔ میری مالقات صالح الدین ایوبی کے بھائی العادل سے بھی
‫ہوچکی ہے۔ میں ان سے اپنی شرائط منوانے کی کوشش کررہا ہوں جو وہ نہیں مان رہے ہیں۔ میں انہیں کہہ رہا ہوں کہ
‫یروشلم اور صلیب الصلبوت ہمارے حوالے کردو اور تم ان عالقوں سے نکل جائو جن پر صلیبیوں کا قبضہ تھا۔ صالح الدین ایوبی
‫نے ایک بھی شرط ماننے سے انکار کردیا ہے''۔
‫''آپ صالح الدین ایوبی سے کیوں نہیں ملتے؟''
‫وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتا''… رچرڈ نے جواب دیا… ''وہ بیمار بھی ہے‪ ،معلوم ہوتا ہے اس کا بھائی العادل اس جیسا ''
‫پرعزم اور پکا مسلمان ہے۔ وہ صالح الدین ایوبی کی جگہ لے رہا ہے۔ میں نے اس میں یہ کمزوری دیکھی ہے کہ جوان ہے
‫اور زندہ دل بھی لگتا ہے۔ میں اس شخص کے دل پر قبضہ کرنے کی سوچ رہا ہوں۔ میں اسے دوست بنا سکوں گا لیکن جو
‫''کام تمہارا ہے‪ ،وہ میں کیسے کرسکتا ہوں؟… کیا تم نے اسے پسند نہیں کیا تھا؟
‫''آپ مجھ سے وہ کام لینے کی سوچ رہے ہیں جو ہماری تربیت یافتہ لڑکیاں بہت مدت سے کررہی ہیں؟''
‫ہاں!'' رچرڈ نے کہا… ''اس کے دل پر قبضہ کرو۔ محبت کا والہانہ اظہار کرو اور اسے کہو کہ تم اس کے ساتھ شادی ''
‫کرنا چاہتی ہو۔ میں درمیان میں آجائوں گا اور صالح الدین ایوبی سے کہوں گا کہ وہ اگر ساحلی عالقے اپنے بھائی اور میری
‫بہن کو دے دے تو میں اپنی بہن کی شادی العادل کے ساتھ کرنے کو تیار ہوں۔ تم العادل کو تیار کرنا کہ وہ اپنا مذہب ترک
‫کرکے عیسائیت کو قبول کرلے۔ اسے یہ اللچ دو کہ وہ ساحلی عالقے کی اتنی وسیع سلطنت کا سلطان بن جائے گا۔ مجھے
‫امید ہے کہ تم اسے صالح الدین ایوبی کے خالف کرسکو گی''۔
‫جوآنا کچھ دیر خاموش رہی۔ رچرڈ اسے دیکھتا رہا۔ آخر جوآنا نے آہ لی اور بولی۔ ''میں کوشش کروں گی''۔ ‪:
‫مسلمانوں کو اسی دھوکے سے مارا جاسکے گا''۔ رچرڈ نے کہا… ''میں میدان جنگ میں انہیں شکست دینے کی پوری ''
‫کوشش کروں گا لیکن بہت لمبی مدت درکار ہوگی۔ میں شاید اس وقت تک زندہ نہ رہوں۔ مجھے واپس انگلستان بھی جانا ہے‪،
‫وہاں کے حاالت مخدوش ہیں۔ مخالفین میری غیرحاضری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں''۔
‫٭ ٭ ٭
‫جو کبوتر رچرڈ کے اوپر سے گزر کر آگیا تھا‪ ،وہ صالح الدین ایوبی کے خیمے کے سامنے بنی ہوئی ایک کھپریل پر آن بیٹھا۔
‫دربان نے دوڑ کر اس کی ٹانگ سے بندھا ہوا پیغام کھوال اور خیمے میں لے گیا۔ سلطان ایوبی کمزوری محسوس کررہا تھا۔
‫ا سے آرام کی سخت ضروری تھی لیکن وہ اٹھ بیٹھا اور پیغام پڑھنے لگا۔ شہر کے اندر کی فوج کے ساتھ سلطان ایوبی کا
‫رابطہ پیامبر کبوتروں کے ذریعے قائم تھا۔ یہ پیغام عکرہ کے د ونوں حاکموں المشطوب اور بہائوالدین قراقوش کا تھا۔ قاضی
‫بہائوالدین شداد جو سلطان ایوبی کی مجلس مشاورت کااہم رکن اور اس کا ہم راز دوست بھی تھا‪ ،اپنی یادداشتوں میں لکھتا
‫ہے کہ یہ دونوں غیرمعمولی طور پر دلیر اور ذہین ساالر تھے‪ ،محاصرے میں ان کی حالت بہت بری ہوگئی تھی۔ شہر تباہ
‫ہورہا تھا لیکن یہ دونوں ہتھیار ڈالنے کی لیے تیار نہیں تھے۔ باہر والے ہر وقت یہ خبر سننے کے لیے تیار رہتے تھے کہ
‫عکرہ کی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔
‫اس پیغام میں بھی المشطوب اور قراقوش نے سلطان ایوبی کو وہی کچھ لکھا تھا جو وہ ہر پیغام میں لکھتے ہیں۔ اب کے
‫انہوں نے زیادہ زور دے کر لکھا تھا کہ ہم سے یہ توقع نہ رکھنا کہ ہم جیتے جی ہتھیار ڈال دیں گے لیکن آپ کی مدد یہ
‫ہمارے لیے بے حد ضروری ہوگئی ہے کہ صلیبیوں پر باہر سے حملے زیادہ کردیں۔ سپاہیوں سے کہیں کہ وہ اسی جذبے سے
‫لڑیں جس جذبے سے شہر والے مقابلہ کررہے ہیں۔ آدھا شہر جل چکا ہے۔ فوج بھی آدھی رہ گئی ہے لیکن شہریوں کے جذبے
‫کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیا ہے۔ عورتیں بھی ہمارا ساتھ دے رہی ہیں۔ لوگ کھانا خود کم کھاتے
‫اور فوج کو زیادہ کھالتے ہیں۔
‫انہوں نے دیوار کی یہ کیفیت لکھی کہ صلیبیوں کی منجنیقوں کی مسلسل سنگ باری سے دیوار کئی جگہوں سے ٹوٹ گئی
‫ہے۔ باالئی حصہ ختم ہوچکا ہے۔ برج گر پڑے ہیں۔ دشمن نے باہر خندق کو کئی جگہوں سے اپنے سپاہیوں کی الشوں اور
‫مرے ہوئے گھوڑوں اور مٹی سے بھرلی ہے۔ جہاں سے وہ دیوار کے قریب آکر دیوار پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ جب
‫ڈھولوں کی آوازیں سنیں‪ ،عقب سے صلیبیوں پر بہت ہی سخت حملہ کریں۔ ہم ڈھول اس وقت بجایا کریں گے جب صلیبی
‫دیوار پر حملہ کیا کریں گے۔آپ ایسے جانباز تیار کریں جو سمندر کی طرف سے ہم تک اسلحہ پہنچائیں۔
‫سلطان ایوبی کمزوری اور بخار کے باوجود اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے پیغام کا جواب لکھوایا جس میں اس نے عکرہ والوں کی
‫حوصلہ افزائی کی۔ یہ بھی لکھا کہ جانباز پہلے ہی شہر تک اسلحہ پہنچانے کے لیے جاچکے ہیں۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
‫اسالم پر بڑا ہی سخت وقت آن پڑا ہے۔یہ میری ہی کوشش تھی کہ صلیبی بیت المقدس کی طرف بڑھنے کے بجائے عکرہ کا
‫محاصرہ کریں تاکہ میں انہیں یہیں الجھا کر ان کی جنگی طاقت کمزور کردوں۔ تم لوگ عکرہ کے دفاع کے لیے نہیں‪ ،مسجد
‫اقصی کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہو۔
‫ٰ
‫یہ پیغام کبوتر کے ذریعے بھجوا کر سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں کو بالیا اور انہیں کہ میرے پاس ہر ایک کمان دار اور ہر
‫ایک سپاہی کے پاس جانے کا وقت نہیں رہا۔ میرے جسم میں جو طاقت رہ گئی ہے‪ ،اسے میں جہاد میں صرف کرنا چاہتا
‫ہوں۔ اپنے کمان دار اور سپاہیوں سے کہو کہ اپنے اللہ‪ ،اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے مذہب کے لیے لڑو۔
‫اب یہ نہ سوچو کہ تم اپنے سلطان کے حکم سے لڑ رہے ہو‪ ،یہ بھی نہ سوچو کہ تمہیں اب زندہ رہنا ہے۔ اس کا اجر
‫تمہیں اللہ دے گا۔
‫قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی ایسا جذباتی کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس کی جذباتی حالت بالکل اس ماں سے ‪:
‫ملتی جلتی تھی جس کا بچہ کھو گیا ہو۔ وہ سوتا نہیں تھا۔ آرام نہیں کرتا تھا۔ میں نے اسے کئی بار کہا کہ سلطان! اپنی
‫صحت کا خیال رکھو۔ تم اپنے اعصاب کو تباہ کررہے ہو۔ اللہ کو یاد کرو۔ فتح وشکست اسی کے ہاتھ میں ہے… سلطان کے
‫آنسو نکل آئے۔ اس نے جذباتیت سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا… ''بہائوالدین شداد! میں صلیبیوں کو بیت المقدس نہیں دوں

‫گا۔ میں اس مقدس جگہ کی بے حرمتی نہیں ہونے دوں گا جہاں سے میرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے
‫حضور گئے تھے۔ اس جگہ میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تھا… وہ گرج کر بوال… نہیں… بہائوالدین! نہیں۔
‫میں مرکے بھی صلیبیوں کو بیت المقدس نہیں دوں گا''۔
‫قاضی شداد آگے چل کر لکھتا ہے کہ ایک رات وہ اس قدر بے چین تھا کہ میں بہت دیر اس کے ساتھ رہا۔ اسے نیند نہیں
‫آرہی تھی۔ میں نے اسے قرآن کی دو تین آیتیں بتائیں اور کہا کہ یہ پڑھتے رہو۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور اس کے ہونٹ
‫ہلنے لگے۔ وہ آیتیں پڑھ رہا تھا۔ پڑھتے پڑھتے سوگیا۔ سوتے میں بڑبڑایا… ''یعقوب کی کوئی خبر نہیں آئی؟… وہ شہر میں
‫داخل ہوجائے گا''… پھر وہ سوگیا لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ وہ نیند میں بھی بے چین تھا۔
‫سلطان ایوبی کے خیمے سے عکرہ کی دیوار نظر آتی تھی۔ اس کے باہر صلیبی لشکر یوں دکھائی دیتا تھا جیسے چیونٹیاں
‫کسی چیز پر اکٹھی ہوگئی ہوں۔ رات کو عکرہ کی دیواروں پر مشعلیں چلتی پھرتی رہتی تھیں اور رات کے اندھیرے میں آگ
‫کے گولے دیوار کے اوپر سے اندر جاتے نظر آتے تھے۔ دیوار سے بھی ایسے گولے باہر آتے تھے۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ مار
‫راتوں کو دشمن پر شب خون مارتے رہتے تھے۔
‫٭ ٭ ٭
‫نیند میں سلطان ایوبی جس یعقوب کا نام لے رہا تھا۔ وہ اس کی بحریہ کا ایک بڑا ہی دلیر کپتان تھا۔ عکرہ شہر کے اندر
‫رسد ا ور اسلحہ پہنچانا نا ممکن ہوگیا تھا۔ پچھلی قسط میں بیان کیا جاچکا ہے کہ شہر کے ایک طرف سمندر تھا اور ادھر
‫صلیبیوں کے بحری جہاز بکھرے ہوئے تھے۔ شہر والوں کو سامان پہنچانا بڑا ہی ضروری تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے اس بحری
‫بیڑے سے اس مہم کے لیے رضاکار مانگے تھے۔ یعقوب نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ اس وقت کے واقعہ نگاروں‪ ،قاضی
‫بہائوالدین شداد اور دو اور مؤرخوں نے یعقوب کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ وہ حلب کا رہنے واال تھا۔ اس نے بحریہ اور فوج
‫کے سپاہی منتخب کیے۔ ان کی تعداد چھ سو پچاس تھی۔ انہیں یعقوب اپنے جہاز میں لے گیا اور بیروت چال گیا وہاں سے
‫اس نے جہاز کو ( جو بڑا جنگی جہاز تھا) رسد اور اسلحہ سے بھر لیا۔ یہ اتنا زیادہ سامان تھا جو عکرہ والوں کو بڑے لمبے
‫عرصے تک لڑنے کے قابل بنا سکتا تھا۔
‫یعقوب نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ جانیں قربان کردینی ہیں‪ ،یہ سامان عکرہ تک پہنچانا ہے۔ جہاز جب عکرہ سے کچھ ہی
‫دور رہ گیا تھا کہ صلیبیوں کے چالیس جہازوں نے اسے گھیر لیا۔ یعقوب کے جانبازوں نے بے جگری سے مقابلہ کیا۔ جہاز چلتا
‫رہا اور یعقوب اسے عکرہ کے ساحل کی طرف لے جاتا رہا۔ جانبازوں نے دشمن کے جہازوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ ایک
‫فرانسیسی مؤرخ ڈی ونسوف نے لکھا ہے کہ وہ جنات اور بدروحوں کی طرح لڑے لیکن دشمن کے گھیرے سے نہ نکل سکے۔
‫آدھے سے زیادہ مسلمن سپاہی تیروں کا نشانہ بن گئے۔
‫یعقوب نے جب دیکھا کہ جہاز بادبان برباد ہوجانے سے کھلے سمندرکی طرف بہہ گیا ہے اور اب دشمن جہاز پر قبضہ کرلے گا
‫تو اس نے اپنے جانبازوں سے چال کر کہا… ''خدا کی قسم! ہم وقار سے مریں گے‪ ،دشمن کو نہ یہ جہاز ملے گا نہ اس
‫میں سے کوئی چیز اس کے ہاتھ آئے گی… جہاز میں سوراخ کردو۔ سمندر کو جہاز کے اندر آنے دو''… عینی شاہدوں کا بیان
‫ہے کہ جو جانباز زاندہ رہ گئے تھے‪ ،انہوں نے عرشے کے نیچے جاکر جہاز کو توڑنا شروع کردیا۔ تختے ٹوٹے تو سمندر جہاز
‫میں داخل ہونے لگے۔ کسی بھی جانباز نے جہاز سے کود کود کر جان بچانے کی کوشش نہ کی۔ سب جہاز کے ساتھ سمندر
‫کی تہہ میں چلے گئے۔
‫اس واقعہ کی تاریخ ‪٨جون ‪١١٩١ء لکھی گئی ہے۔
‫سلطان ایوبی کو اس واقعہ کی اطالع ملی تو وہ خیمے سے نکال۔ اس کا گھوڑا ہر وقت تیار رہتا تھا۔ اس نے بلند آواز سے
‫حکم دیا… ''دف بجائو''۔ دف بج اٹھے… یہ حملے کا سگنل تھا۔ ذرا سی دیر میں اس کے دستے حملے کی تیاری کے لیے
‫جمع ہوگئے… سلطان ایوبی نے اتنا ہی کہا… ''آج دشمن کو چیر کر دیوار تک پہنچنا ہے''… اس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی
‫اور اس کے تمام دستے سوار اور پیادے اس کے پیچھے گئے۔ یہ بظاہر اندھا دھند حملہ تھا لیکن سلطان ایوبی نے پہلے ہی
‫فوج کو ترتیب بتا رکھی تھی۔ صلیبیوں نے مسلمانوں کو یوں قہر وغضب سے آتے دیکھا تو ان کے پیادہ دستے کمانوں میں تیر
‫ڈال کر دیوار کی مانند کھڑے ہوگئے۔ صلیبی فوج کے مورچے بھی تھے۔ انہوں نے تیر برسانے شروع کردئیے۔
‫حملے کی قیادت سلطان ایوبی خود کررہا تھا۔ اس لیے اس کے مملوک بجلیوں کی طرح صلیبیوں پر ٹوٹے مگر صلیبیوں کی
‫تعداد بہت ہی زیادہ تھی۔ مسلمان یوں لڑے جیسے وہ زندہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ گھوڑ سوار گھوڑے گھما گھما کر التے اور
‫حملے کرتے تھے۔ یہ معرکہ اس وقت ختم ہوا جب شام تاریک ہوگئی۔ صلیبیوں کا نقصان بہت ہی زیادہ ہوا تھا مگر وہ
‫کامیابی حاصل نہ کی جاسکی جس کے لیے سلطان ایوبی نے حملہ کرایا تھا۔
‫ایسا حملہ پہال اور آخری نہیں تھا۔ عکر ہ دوسال محاصرے میں رہا۔ اس دوران سلطان ا یوبی نے عقب سے ایسے کئی حملے
‫کرائے۔ ہر حملے میں جانبازوں نے بہادری کی ایسی مثالیں پیش کیں جو اس سے پہلے وہ خود بھی پیش نہیں کرسکے تھے۔
‫اس دوران سلطان ایوبی کو مصر سے بھی کمک ملی اور کئی ایک مسلمان عمارتوں نے اسے اپنی فوجیں اور سامان بھیجا۔
‫اگر ہر حملے کا ذکر تفصیل سے کیا جائے تو سینکڑوں صفحے درکار ہوں گے۔ یہ جہاد کا جذبہ نہیں‪ ،بلکہ جنون تھا۔ ان
‫حملوں سے عکرہ کا محاصرہ تو نہ توڑا جاسکا لیکن صلیبیوں پر یہ خوف طاری ہوگیا کہ مسلمان ا نہیں یہاں سے زندہ نہیں
‫نکلنے دیں گے۔ صلیبیوں کا چونکہ لشکر زیادہ تھا‪ ،اس لیے ان کا جانی نقصان بھی زیادہ ہوتا تھا۔ اتنی زیادہ الشوں اور
‫زخمیوں کو د یکھ دیکھ کر صلیبیوں کا حوصلہ مجروح ہورہا تھا۔ مسلمانوں کے قہر کا اثر خود رچرڈ کے دل پر پڑ رہا تھا۔
‫اس دوران رچرڈ سلطان ایوبی کے پاس صلح کے لیے اپنے ایلچی بھیجتا رہتا تھا۔ اس کا ایلچی العادل کے پاس آیا کرتا اور
‫العادل صلح کا پیغام سلطان ایوبی تک پہنچایا کرتا تھا۔ اس کے مطالبات یہ تھے کہ بیت المقدس جسے وہ یروشلم کہتے تھے‪،
‫انہیں دے دیا جائے۔ صلیب الصلبوت انہیں واپس دے دی جائے اور صلیبی جن عالقوں پر حطین کی جنگ سے پہلے قابض
‫ہوچکے تھے‪ ،وہ عالقے صلیبیوں کو واپس دے دئیے جائیں… سلطان ایوبی یروشلم کا نام سن کر بھڑک اٹھتا تھا۔ تاہم اس نے
‫العادل کو اجازت دے رکھی تھی کہ وہ رچرڈ کے ساتھ صلح کی بات چیت جاری رکھے۔ تقریبا ً تمام مؤرخ لکھتے ہیں کہ رچرڈ
‫اور العادل دوست بن گئے تھے اور العادل جب رچرڈ کے پاس جاتا یا رچرڈ اسے ملنے آتا تو رچرڈ کی بہن جوآنا بھی ساتھ
‫ہوتی تھی۔ اس دوستی کے باوجود العادل رچرڈ کی شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔
‫ان مالقاتوں کے ساتھ عکرہ کی جنگ جاری تھی۔ خونریزی بڑھتی جارہی تھی اور عکرہ والوں کی حالت بہت ہی بری ہوتی
‫جارہی تھی۔ محاصرہ کرنے والوں میں د وسرے صلیبی بادشاہ بھی تھے جن میں قابل ذکر فرانس کا بادشاہ تھا۔ انگلستان کا
‫بادشاہ رچرڈ ان سب کا لیڈر بن گیا تھا۔

‫٭ ٭ ٭
‫میں نے یہ کامیابی حاصل کرلی ہے کہ اس نے میری محبت قبول کرلی ہے''… جوآنا نے اپنے بھائی رچرڈ سے کہا… ''
‫''لیکن میں نے اس میں وہ کمزوری نہیں دیکھی جو آپ بتاتے تھے کہ ہر مسلمان امیر اور حاکم میں پائی جاتی ہے۔ وہ
‫میرے ساتھ شادی کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے لیکن اپنا مذہب چھوڑنے کے بجائے مجھے اسالم قبول کرنے کو کہتا ہے''۔
‫معلوم ہوتا ہے تم نے اپنا جادو اس طرح نہیں چالیا جس طرح اس فن کی ماہر لڑکیاں چالتی رہتی ہیں''… رچرڈ نے کہا…''
‫'' یہ میں نے بھی دیکھ لیا ہے کہ العادل کردار کا پکا ہے۔ میں اسے کہہ چکا ہوں کہ اگر وہ تمہارے ساتھ شادی کرنا چاہتا
‫ہے تو عیسائیت قبول کرلے اور اپنے بھائی سے کہے کہ ساحلی عالقہ اسے دے دے جس پر اس کی اور تمہاری حکمرانی
‫ہوگی۔ اس نے جواب دیا کہ اپنا مذہب ترک کرنا ہوتا تو اتنے خون خرابے کی کیا ضرورت تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ
‫تم میری بہن کو پسند کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ اپنی بہن سے پوچھو‪ ،میں اسے اتنا ہی چاہتا ہوں جتنا وہ مجھے
‫چاہتی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے ان کے میل مالقات اور محبت پر کوئی اعتراض نہیں… شکار جال میں آگیا ہے۔ اب
‫یہ تمہارا کمال ہوگا کہ اسے شیشے میں اتار لو''۔
‫مجھے یاد آیا''… جوآنا نے کہا… ''میری دونوں خادمائیں کہیں نظر نہیں آرہیں۔ رات یہیں تھیں۔ صبح سے غائب ہیں''۔''
‫میرا خیال ہے وہ اب غائب ہی رہیں گی''۔ رچرڈ نے کہا۔ ''وہ مسلمان تھیں''۔''
‫وہ سسلی کی مسلمان تھیں''… جوآنا نے کہا… ''اور وہ اس وقت سے میرے ساتھ تھیں‪ ،جب میری شادی ہوئی اور میں''
‫سسلی گئی تھی''۔
‫مسلمان کہیں کا بھی رہنے واال کیوں نہ ہو‪ ،سب کا جذبہ ایک سا ہوتا ہے''… رچرڈ نے کہا… ''اسی لیے ہم اس قوم کو''
‫خطرناک سمجھتے ہیں اور ہم اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ان کا اتحاد ٹوٹ جائے۔ ان دونوں نے یہاں آکر دیکھا کہ ہم
‫ان کی قوم کے خالف لڑ رہے ہیں تو وہ ان کے پاس چلی گئیں''۔
‫رچرڈ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اس وقت یہ دونوں عورتیں سلطان ایوبی کے پاس پہنچ چکی تھیں۔ ان کی چھان بین کرکے انہیں
‫سلطان کے پاس لے جایا گیا۔ انہوں نے سلطان سے ملنے کی خواہش کی تھی اور کہا تھا کہ وہ کچھ باتیں صرف سلطان کو
‫بتانا چاہتی ہیں۔انہوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ سسلی میں جنی پلی ہیں اور لڑکپن میں شاہی محل میں مالزم ہوگئی
‫تھیں‪ ،جب جوآنا بادشاہ کی بیوی بن کر آگئی تو ان دونوں کو جسمانی چستی اور اچھی شکل وصورت کی وجہ سے جوآنا کی
‫خاص خادمائیں بنا دیا گیا… سسلی میں مسلمانوں کی اکثریت تھی‪ ،اس لیے وہاں اسالم زندہ تھا۔ ان دونوں کو بھی اپنا مذہب
‫یاد رہا۔ جوآنا بیوہ ہوگئی تو شہنشاہ رچرڈ آگیا۔ وہ جوآنا کو اپنے ساتھ الیا تو ان دونوں کو بھی ساتھ آنا پڑا۔ یہاں انہوں نے
‫عیسائیوں کو مسلمانوں کے خالف لڑتے دیکھا تو کفار کی نوکری سے ان کا دل اچاٹ ہوگیا۔
‫یہ دونوں عورتیں صرف جسمانی طورپر ہی چست اور چاالک نہیں تھیں‪ ،ذہنی طور پر بھی ہوشیار تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ
‫جوآنا رچرڈ کی منگیتر کو بتا رہی تھی کہ اس نے صالح الدین ایوبی کے بھائی العادل کو پھانس لیا ہے۔ وہ کہتی تھی کہ
‫العادل کے دل میں اس کی اور اس کے دل میں العادل کی محبت پیدا ہوگئی ہے اور اگر العادل نے اپنا مذہب ترک کردیا تو
‫ان کی شادی ہوجائے گی پھر صالح الدین ایوبی کو مارنا اور یروشلم پر قبضہ کرنا آسان ہوجائے گا۔ ان عورتوں نے اس شک
‫کا بھی اظہار کیا کہ العادل اور جوآنا کہیں ملتے مالتے بھی ہیں۔ یہ خبر سلطان ایوبی تک پہنچانے کے لیے دونوں عورتیں
‫وہاں سے بھاگ آئیں۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں ان عورتوں کے نام نہیں لکھے‪ ،یہ لکھا ہے کہ سلطان
‫ایوبی نے ان دونوں کو نہایت عزت واحترام اور انعام واکرام کے ساتھ دمشق بھیج دیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫سلطان ایوبی نے ان عورتوں کی اطالع پر تو یقین کرلیا لیکن اسے یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کا سگا بھائی اسے دھوکہ
‫دے رہا ہے۔ اسے اپنے ہر ساالر پر اعتماد تھا لیکن العادل اور اپنے دو بیٹوں (االفضل اور الظاہر) کی موجودگی میں وہ بہت
‫سی پریشانیوں سے آزاد تھا۔ صلیبیوں پر عقب سے جو حملے کیے جاتے تھے‪ ،ان کی قیادت یہ تینوں کرتے یا وہ خود کرتا
‫تھا۔ اس کے عالوہ العادل ہی صلیبی حکمرانوں‪ ،خصوصا ً رچرڈ سے ملتا اور بات چیت کرتا تھا۔ تاہم اس نے العادل کے ساتھ
‫بات کرلینا مناسب سمجھا مگر عکرہ کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ مسلمانوں کی کمک آرہی تھی۔
‫العادل کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے متعلق سلطان ایوبی کو یہی اطالعات ملتی تھیں کہ آج اس نے فالں جگہ حملہ کیا
‫ہے اور آج فالں جگہ۔ سلطان ا یوبی کو اپنے بیٹے بھی نہیں ملتے تھے۔ اب تو اس کی اپنی یہ حالت تھی کہ صحت کی
‫خرابی کے باوجود جنگ میں شریک رہتا تھا۔
‫عکرہ کی دیوار ایک جگہ سے مسلسل سنگ باری سے گر پڑی تھی۔ صلیبی وہاں سے اندر جانے کی کوشش کرتے تو مسلمان
‫جانوں کی بازی لگا کر انہیں روکتے تھے۔ دور سے نظر آنے لگا تھا کہ یہ شگاف دونوں فریقوں کی الشوں سے بھرتا جارہا
‫ہے۔ آخر اندر سے کبوتر یہ پیغام الیا… ''اگر کل تک ہمیں مدد نہ پہنچی یا آپ نے باہر سے محاصرہ توڑنے کی کوشش نہ
‫کی تو ہمیں ہتھیار ڈالنے پڑیں گے‪ ،کیونکہ شہریوں کے بچے بھوک سے بلبال رہے ہیں۔ شہر جل رہا ہے اور فوج تھوڑی رہ
‫گئی ہے اور جو رہ گئی ہے وہ مسلسل دو سال بغیر آرام کیے لڑ لڑ کر الشیں بن گئی ہیں''۔
‫سلطان ایوبی کے آنسو نکل آئے۔ اس نے اسی وقت اپنے تمام تر دستے یکجا کرکے بڑا ہی شدید حملہ کیا۔ ایسی خونریزی
‫ہوئی کہ تاریخ کے ورق پھڑپھڑانے لگے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ انسانی ذہن ایسی خونریزی کو تصور میں نہیں السکتا۔ رات کو
‫بھی مسلمانوں نے صلیبیوں کو چین نہ لینے دیا۔ آدھی رات کے بعد سلطان ایوبی اس طرح اپنے خیمے میں آیا اور پلنگ پر
‫گرا جیسے اس کا جسم زخموں سے چور ہوگیا ہو۔ اس نے ہانپتی کانپتی آواز میں حکم دیا کہ صبح پھر ایسا ہی حملہ ہوگا
‫مگر صبح کی روشنی نے اسے جو منظر دکھایا‪ ،اس سے اس پر نیم غشی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ عکرہ کی دیواروں پر
‫صلیبیوں کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ صلیبیوں کا لشکر شگاف سے ا ندر جارہا تھا… یہ جمعہ کا دن تھا۔ تاریخ ‪١٧جمادی الثانی
‫‪٥٨٧ہجری (‪١٢جوالئی ‪١١٩٢ئ) تھی۔
‫المشطوب اور قراقوش نے صلیبیوں سے شرائط طے کرلی تھیں۔ اس کے باوجود سلطان ایوبی کو یہ منظر بھی دیکھنا پڑا کہ
‫فرنگی تقریبا ً تین ہزار مسلمان قیدیوں کو رسوں سے باندھے عکرہ سے باہر الئے۔ ان میں فوجی تھے اور شہری بھی۔ انہیں
‫ایک جگہ کھڑا کردیا گیا اور چاروں طرف سے صلیبیوں کی فوج کے سوار اور پیادہ دستوں نے ان بندھے ہوئے نہتے قیدیوں پر
‫حملہ کردیا۔ سلطان ایوبی کی فوج کو بالکل توقع نہیں تھی کہ صلیبی اس قدر درندگی اور ذلت کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں۔
‫جب صلیبی فوج قیدیوں پر ٹوٹ پڑی۔ مسلمان فوج کسی کے حکم کے بغیر اٹھ دوڑی اور صلیبیوں پر پورے قہر سے حملہ کیا
‫مگر تمام قیدی شہید کیے جاچکے تھے۔ دونوں فوجوں میں بڑا سخت تصادم ہوا۔

‫٭ ٭ ٭
‫اس دوران رچرڈ پر بھی سلطان ایوبی کی طرح بیماری کے شدید حملے ہوئے۔ دنیائے صلیب کو اس پر بڑا ہی بھروسہ تھا۔ اس
‫میں کوئی شک نہیں کہ وہ شیردل تھا مگر عکرہ کے محاصرے میں جہاں وہ کامیاب ہوا تھا‪ ،وہاں اس کا حوصلہ بھی ٹوٹ
‫گیا تھا‪ ،اسے توقع نہیں تھی کہ مسلمان اتنی بے جگری سے لڑتے ہیں۔ اس کی منزل اب بیت المقدس تھی۔ اس نے ساحل
‫کے ساتھ ساتھ کوچ کیا۔ آگے عسقالن اور حیفہ جیسے بڑے شہر اور قلعے تھے۔ سلطان ایوبی نے اس کا ارادہ بھانپ لیا۔ وہ
‫ان شہروں اور قلعوں پر قبضہ کرکے یہاں اپنے اڈے بنانا اور بیت المقدس پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔
‫سلطان ایوبی نے بیت المقدس کی خاطر بہت بڑی قربانی دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے حکم دیا۔ ''عسقالن کو تباہ کردو‪،
‫قلعے اور شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دو''… ساالروں اور مشیروں پر سکتہ طاری ہوگیا۔ اتنا بڑا شہر؟ اتنا مضبوط قلعہ؟… سلطان
‫ایوبی نے گرج کر کہا… ''شہر پھر آباد ہوجائیں گے۔ انسان پیدا ہوتے رہیں گے مگر بیت المقدس کو صلیبیوں سے بچائے
‫اقصی پر قربان کردو''۔
‫رکھنے کے لیے صالح الدین ایوبی شاید پھر پیدا نہ ہوہ… اپنے تمام شہر اور بچے مسجد
‫ٰ
‫سلطان ایوبی بے شک جذباتی ہوگیا تھا لیکن اس نے فن حرب وضرب اور حقائق سے چشم پوشی نہ کی۔ اپنے چھاپہ مار
‫دستوں کو صلیبی لشکر کے پیچھے ڈال دیا۔ یہ دستے بکھر کر رچرڈ کے لشکر پرجو کوچ کررہا تھا‪ ،عقبی حصے میں شب
‫خون مارتے اور غائب ہوجاتے۔ اس طرح اس لشکر کا کوچ بہت ہی سست رہا۔ دشمن کی رسد محفوظ نہ رہی۔ رچرڈ عسقالن
‫جارہا تھا‪ ،وہاں پہنچا تو قلعہ اور شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ وہاں جو مسلمان فوج تھی‪ ،اسے بیت المقدس کے دفاع
‫کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔ رچرڈ کے راستے میں جتنے قلعے آئے وہ سب مسمار ہوچکے تھے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ رچرڈ کا
‫دماغ خراب ہونے لگا تھا کہ مسلمان ایسی قربانی بھی دے سکتے ہیں۔ وہ جان گیا کہ بیت المقدس پر قبضہ آسان نہیں۔
‫اس پر یہ افتاد بھی پڑی کہ فرانس کا بادشاہ اس کا ساتھ چھوڑ گیا۔ انہوں نے عکرہ لے تو لیا تھا لیکن مسلمانوں نے اس
‫کامیابی میں ان کی کمر توڑ دی تھی۔ سلطان ایوبی عکرہ کے ہاتھ سے نکل جانے کا بہت افسوس تھا لیکن اس کی یہ چال
‫کامیاب تھی کہ اس نے صلیبیوں کا جنگی طاقت کا گھمنڈ توڑ دیا تھا۔ اس نے اب پھر اپنا مخصوص طریقہ جنگ شروع کردیا
‫تھا۔ یہ شب خونوں اور چھاپوں کا سلسلہ تھا۔ یورپی مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمان چھاپہ مار رات کی تاریکی میں طوفان
‫کی طرح آتے اور صلیبی فوج کے عقبی حصے پر شب خون مار کر بے تحاشہ نقصان کرتے اور غائب ہوجاتے تھے۔ اس طرح
‫صلیبیوں کے لیے ایک ماہ کا سفر تین ماہ کا ہوجاتا تھا۔ سلطان ایوبی نے صلیبیوں کے کوچ کی رفتار سست کرکے بیت
‫المقدس کا دفاع مضبوط کرلیا۔
‫٭ ٭ ٭
‫جوآنا کچھ کرو… صلیب کی خاطر کچھ کرو''… رچرڈ نے اپنی بہن سے کہا… ''العادل کو ہاتھ میں لو۔ ہم لڑ کر بیت ''
‫المقدس نہیں لے سکتے''۔
‫وہ مجھے چاہتا ہے''… جوآنا نے جواب دیا… ''کوچ کے دوران بھی میری اس سے مالقات ہوچکی ہے‪ ،میں یہ بھی کہہ ''
‫سکتی ہوں کہ وہ مجھے والہانہ طور پر چاہنے لگا ہے لیکن کہتا ہے کہ مسلمان ہوجائو۔ وہ میری کوئی شرط ماننے پر آمادہ
‫نہیں ہوتا''۔
‫ادھر سلطان ایوبی نے العادل‪ ،اپنے بیٹوں کو ساالروں کو بال رکھا تھا۔ اس کی زبان پر اب دو ہی لفظ رہتے تھے… ''اسالم
‫اور بیت المقدس''… اس نے ان سب کو بیت المقدس کے دفاع کی ہدایات دیں۔ کانفرنس کے بعد العادل اسے تنہائی میں مال
‫اور کہا… ''رچرڈ مجھے اپنی بہن پیش کررہا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اپنا مذہب ترک کردوں''۔
‫''تمہیں اسالم سے زیادہ محبت ہے یا رچرڈ کی بہن سے؟''
‫دونوں سے''۔''
‫تو اسے ا پنے مذہب میں الئو اور شادی کرلو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں اجازت دیتا ہوں''۔''
‫میں آپ سے شادی کی اجازت لینے نہیں آیا''… العادل نے کہا… ''میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ رچرڈ جیسا دلیر اور ''
‫جنگجو بادشاہ بھی ان ذلیل ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے اس کی بہن اچھی لگتی ہے لیکن میں
‫آپ کو یقین دالتا ہوں کہ اپنے مذہب سے غداری نہیں کروں گا''۔
‫اور وہ بھی اپنے مذہب سے غداری نہیں کرے گی''۔''
‫جائے جہنم میں''… العادل نے کہا… ''ان حربوں سے رچرڈ بیت المقدس نہیں لے سکتا''۔''
‫سلطان ایوبی کے چہرے پر رونق آگئی۔ ‪ :۔ یورپی مؤرخوں نے رچرڈ کی اس حرکت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ وہ
‫لکھتے ہیں کہ رچرڈ نے اس شرط پر اپنی بہن العادل کو پیش کی تھی کہ وہ عیسائی ہوجائے لیکن رچرڈ کی بہن نے العادل
‫کو دھتکار دیا تھا۔
‫یہ پردہ اسی وقت چاک ہوگیا تھا‪ ،جب رچرڈ بیت المقدس کے قریب جاکر خیمہ زن ہوا۔ یہاں عکرہ کی جنگ سے زیادہ
‫خونریز معرکوں کی توقع تھی لیکن رچرڈ نے اپنی وہی شرائط پیش کرنی شروع کردیں جو وہ پہلے کرچکا تھا۔ ایک بار سلطان
‫ایوبی نے اس کے ایلچی کی بے عزتی کردی اور اسے فورا ً واپس چلے جانے کو کہہ دیا۔ اس دوران سلطان ایوبی کو پتہ چال
‫کہ رچرڈ اتنا زیادہ بیمار ہوگیا ہے کہ اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی۔ سلطان ایوبی رات کو اپنے خیمے سے نکال ارو
‫رچرڈ کے خیموں کا رخ کرلیا۔ اس نے صرف العادل کو بتایا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ العادل نے ہنس کرکہا کہ فالں جگہ
‫رچرڈکی بہن میرے انتظار میں کھڑی ہوگی۔ اسے بھی ساتھ لے جانا۔
‫جوآنا وہاں کھڑی تھی۔ اس نے گھوڑے کے قدموں کی آہٹ سنی تو دوڑ کر آئی اور بولی… ''تم آگئے العادل؟''… سلطان
‫ایوبی گھوڑے سے اترا اور جوآنا کو گھوڑے پر بٹھا کر خاموشی سے رچرڈ کی خیمہ گاہ کی طرف چل پڑا۔ جوآنا کچھ کہہ رہی
‫تھی۔ سلطان ایوبی نے عربی زبان میں کہا… ''تمہاری زبان میرا بھائی سمجھ سکتا ہے میں نہیں سمجھتا''… یہ جوآنا نہ
‫سمجھ سکی۔
‫سلطان ایوبی رچرڈ کے خیمے میں داخل ہوا۔ رچرڈ واقعی سخت بیمار تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کے ساتھ بات کرنے کے لیے
‫اپنا ترجمان بال لیا۔ سلطان ایوبی نے پہلی بات یہ کہی… ''اپنی بہن کو سنبھالو۔ میرا بھائی اپنا مذہب ترک نہیں کرے گا…
‫اور مجھے بتائو کہ تمہیں تکلیف کیا ہے۔ میں تمہیں دیکھنے آیا ہوں۔ یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں مرتا دیکھ کر میں حملہ کردوں
‫گا۔ صحت یاب ہوجاو گے تو دیکھا جائے گا''۔
‫رچرڈ حیرت سے اٹھ بیٹھا اور بے ساختہ بوال… ''تم عظیم ہو صالح الدین ایوبی… تم سچے جنگجو ہو''… اس نے اپنی
‫تکلیف بتائی۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''ہمارے عالقے میں بیمار ہونے والے کو ہمارے ہی طبیب ٹھیک کرسکتے ہیں جس طرح

‫انگلستان کی فوج یہاں آکر بے کار ہوجاتی ہے‪ ،اسی طرح تمہارے ڈاکٹر بھی یہاں آکر اناڑی ہوجاتے ہیں۔ میں اپنا طبیب
‫بھیجوں گا''۔
21:09
‫ُ
‫داستان ایمان فروشوں کی ۔
‫قسط نمبر‪ 160/پھر شمع بجھ گئی
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫اسی طرح تمہارے ڈاکٹر بھی یہاں آکر اناڑی ہوجاتے ہیں۔ میں اپنا طبیب بھیجوں گا''۔''صالح الدین! ہم کب تک ایک
‫دوسرے کا خون بہاتے رہیں گے؟''… رچرڈ نے کہا… ''آئو‪ ،صلح اور دوستی کرلیں''۔
‫لیکن میں دوستی کی وہ قیمت نہیں دوں گا جو تم مانگ رہے ہو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''تم خون خرابے سے ڈرتے''
‫ہو‪ ،بیت المقدس کی خاطر میری پوری قوم اپنا خون قربان کردے گی''۔
‫وہاں سے واپس آکر سلطان ایوبی نے اپنا طبیب رچرڈ کے عالج کے لیے بھیجا۔ اسے صحت یاب ہوتے ہوتے بہت دن گزر
‫گئے۔ سلطان ایوبی جنگ کے لیے تیار ہوچکا تھا لیکن حملے کے بجائے رچرڈ کی طرف سے صلح کی نئی شرطیں آئیں۔ رچرڈ
‫بیت المقدس سے دستبردار ہوگیا تھا۔ اس نے صرف یہ رعایت مانگی کہ عیسائی زائرین کو بیت المقدس میں داخلے کی
‫اجازت دے دی جائے اور ساحل کا کچھ عالقہ صلیبیوں کو دے دیا جائے۔ سلطان ایوبی نے یہ شرائط مان لیں۔ اس کی وجہ
‫یہ بیان کی گئی ہے کہ سلطان ایوبی کی فوج مسلسل لڑ رہی تھی اور شہادت اتنی زیادہ ہوچکی تھی کہ اب کم تعداد سے
‫اتنی بڑی فوج سے لڑنا ممکن نہیں رہا تھا۔ قاضی بہائوالدین شداد نے یہ بھی لکھا ہے کہ دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا
‫تھا۔ سپاہی دن رات لڑتے رہے تھے۔ وہ ذہنی طور پر شل ہوچکے تھے۔ بعض دستوں میں احتجاج بھی شروع ہوگیا تھا۔
‫سلطان ایوبی جسمانی طور پر تھکی ہوئی اور ذہنی طورپر پژ مردہ فوج کے بل بوتے پر بیت المقدس کو خطرے میں ڈالنے سے
‫گریز کررہا تھا۔
‫رچرڈ مسلمانوں کی بے خوفی اور جذبے سے گھبرا رہا تھا۔ اس کی صحت بھی جواب دے گئی تھی۔ اس کے عالوہ اس کے
‫اپنے ملک میں اس کے مخالفین سراٹھا رہے تھے۔ انگلستان کا تخت وتاج خطرے میں پڑ گیا تھا۔
‫اس معاہدے پر ‪٢ستمبر ‪١١٩٢ء (‪٢٢شعبان ‪٥٨٨ہجری) کے روز دستخط ہوئے۔ رچرڈ ‪٩اکتوبر ‪١١٩٢ء کے روز اپنی فوج کے ساتھ
‫انگلستان کے لیے روانہ ہوا۔ اس معاہدے کی میعاد تین سال مقرر کی گئی۔ رچرڈ نے بوقت رخصت سلطان ایوبی کو پیغام
‫بھیجا کہ میں معاہدے کی میعاد گزرنے کے بعد یروشلم فتح کرنے آئوں گا… اس کے بعد کوئی صلیبی بیت المقدس کو فتح نہ
‫کرسکا۔ اس صدی میں جون ‪ ١٩٦٧ء میں عربوں کی بے اتفاقی نے اور ان کی انہی کمزوریوں نے جو کفار سلطان ایوبی کے دور
‫میں مسلمان امراء میں پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے‪ ،بیت المقدس یہودیوں کے حوالے کردیا ہے۔
‫رچرڈ کی روانگی کے بعد سلطان ایوبی نے اعالن کیا کہ اس کی فوج کے جو افراد حج کے لیے جانا چاہتے ہیں‪ ،اپنے نام دے
‫دیں‪ ،انہیں سرکاری انتظامات کے تحت حج کے لیے بھیجا جائے گا۔ فہرستیں تیار ہوگئیں اور ان سب کو حج کے لیے روانہ
‫کردیا گیا۔ خود سلطان ایوبی کی دیرینہ خواہش تھی کہ حج کعبہ کو جائے مگر جہاد نے اسے مہلت نہ دی اور جب مہلت
‫ملی تو اس کے پاس سفر خرچ کے لیے پیسے نہیں تھے۔ اسے سرکاری خزانے سے پیسے پیش کیے گئے جو اس نے یہ کہہ
‫کر قبول نہ کیے کہ یہ خزانہ میرا ذاتی نہیں۔ اس نے اپنے آپ کو حج کی سعادت سے محروم کردیا‪ ،سرکاری خزانے سے
‫ایک پیسہ نہ لیا۔ مصری واقعہ نگار محمد فرید ابوحدید لکھتا ہے کہ وفات کے وقت سلطان ایوبی کی کل دولت ‪٤٧درہم چاندی
‫کے اور ایک ٹکڑا سونے کا تھا۔ اس کا ذاتی مکان بھی نہیں تھا۔۔
‫سلطان صالح الدین ایوبی ‪٤نومبر ‪١١٩٢ء کے روز بیت المقدس سے دمشق پہنچا۔ اس کے چار ماہ بعد سلطان خالق حقیقی سے
‫جامال۔ دمشق پہنچنے سے وفات تک کا آنکھوں دیکھا حال قاضی بہائوالدین شداد کے الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے۔
‫اس کے بچے دمشق میں تھے‪ ،اس نے سستانے کے لیے اسی شہر کو پسند کیا۔ اس کے بچے اسے دیکھ کر تو خوش …''
‫ہوئے ہی تھے‪ ،دمشق اور گردونواح کے لوگ اپنے فاتح سلطان کو دیکھنے کے لیے ہجوم د ر ہجوم آگئے۔ سلطان صالح الدین
‫ایوبی نے اپنی قوم کی یہ بے تابانہ عقیدت مندی دیکھی تو اگلے ہی روز (‪٥نومبر بروز جمعرات) دربار عام منعقد کیا جس
‫میں سلطان کو ملنے اور اگر کسی کو کوئی شکایت ہو تو بیان کرنے کی ہر کسی کو اجازت تھی… مرد‪ ،عورتیں‪ ،بوڑھے‪ ،بچے‪،
‫امیر ‪ ،غریب‪ ،حاکم اور عوام سلطان صالح الدین ایوبی سے ملنے جمع ہوگئے۔ شاعروں نے اس تقریب میں سلطان ایوبی کی
‫…''شان میں نظمیں سنائیں
‫سلطان صالح الدین ایوبی کو مسلسل جہاد اور سلطنت کی مصروفیات نے نہ دن کو کبھی چین لینے دیا‪ ،نہ راتوں کو ''
‫اطمینان کی نیند سونے دیا تھا۔ وہ جسمانی طور پر بھی نڈھال ہوچکا تھا اور ذہنی طور پر بھی۔ تھکے ہوئے اعصاب کو تازہ
‫دم کرنے کے لیے اس نے دمشق کے عالقے میں ہرنوں (غزال) کے شکار کو شغل بنا لیا۔ وہ اپنے بھائیوں اور بچوں کے
‫ساتھ شکار کھیال کرتا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ کچھ روز آرام کرکے مصر چال جائے گا مگر دمشق میں بھی سرکاری کاموں نے
‫…''اس کا پیچھا نہ چھوڑا
‫…
‫میں اس وقت بیت المقدس میں ( وزیر) تھا۔ ایک روز دمشق سے مجھے سلطان صالح الدین ایوبی کا خط مال۔ اس نے ''
‫مجھے دمشق میں بالیا تھا۔ میں فورا ً روانہ ہونے لگا مگر مسلسل موسالدھار بارشوں نے راستوں کو دلدل بنا دیا تھا۔ اس قدر
‫کیچڑ اور اتنی بارش میں میں انیس روز بعد بیت المقدس سے نکل سکا۔ میں ‪٢٣محرم الحرام بروز جمعہ وہاں سے روانہ ہوا
‫اور ‪ ١٢صفر بروز منگل دمشق پہنچا۔ اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی کے مالقات کے کمرے میں امراء اور دیگر حکام سلطان
‫ایوبی کاانتظار کررہے تھے۔ سلطان ایوبی کو میری آمد کی اطالع دی گئی۔ اس نے مجھے فورا ً اپنے خاص کمرے میں بال لیا۔
‫میں جب اس کے سامنے گیا تو وہ بازو پھیال کر اٹھا اور مجھ سے بغل گیر ہوگیا۔ میں نے اس کے چہرے پر ایسا اطمینان
‫…''اور سکون کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے
‫اگلے روز اس نے مجھے بالیا۔ اس کے خاص کمرے میں پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ مالقات کے کمرے میں کون ''
‫لوگ بیٹھے ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ ( اس کا بیٹا) الملک االفضل‪ ،چند ایک امراء اور بہت سے دوسرے لوگ آپ کی
‫مالقات کے لیے بیٹھے ہیں۔ اس نے جمال الدین اقبال سے کہا کہ ان لوگوں سے میری طرف سے معذرت کرکے کہہ دو کہ
‫…''آج میں کسی سے نہیں مل سکوں گا۔ اس نے میرے ساتھ کچھ ضروری باتیں کیں اور میں چال آیا
‫دوسرے دن اس نے مجھے علی الصبح بال لیا۔ میں گیا تو وہ اپنے باغیچے میں بیٹھا‪ ،اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ ''

‫اس نے پوچھا کہ مالقات کے کمرے میں کوئی مالقاتی ہے؟ اسے بتایا گیا کہ فرنگیوں (فرینکس) کے ایلچی آئے بیٹھے ہیں۔
‫سلطان ایوبی نے کہا کہ فرنگی ایلچیوں کو یہیں بھیج دو۔ اس کے بچے وہاں سے چلے گئے۔ اس کا سب سے چھوٹا بچہ
‫امیر ابوبکر جس سے سلطان ایوبی کو بہت پیار تھا‪ ،وہیں رہا۔ جب فرنگی آئے تو بچے نے ان کے بغیر داڑھیوں کے چہرے
‫اور ان کا لباس دیکھا تو بچہ ڈر کر رونے لگا۔ بچے نے بغیر داڑھی کے کبھی کوئی انسان نہیں دیکھا تھا۔ سلطان ایوبی نے
‫فرنگیوں سے معذرت کی کہ ان کے حلیے کو دیکھ کر بچہ رو پڑا ہے مگر سلطان نے بچے کو اندر بھیجنے کے بجائے فرنگیوں
‫…''سے کہا کہ وہ آج ان سے نہیں مل سکے گا۔ اس نے انہیں بغیر بات چیت کیے رخصت کردیا
‫ان کے جانے کے بعد اس نے کہا… ''جو کچھ پکا ہے لے آئو''… اس کے آگے ہلکی پھلکی غذا رکھی گئی جس میں ''
‫کھیر بھی تھی۔ اس نے بہت تھوڑا کھایا۔ میں نے محسوس کیا جیسے اس کی بھوک مرچکی ہو۔ میں نے اس کے ساتھ کھانا
‫کھایا۔ اس نے بتایا کہ وہ مالقاتیں کم کررہا ہے کیونکہ وہ بدہضمی اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔ کھانے کے بعد اس نے مجھ
‫سے پوچھا… ''حاجی واپس آگئے ہیں؟''… میں نے اسے بتایا کہ راستے میں کیچڑ زیادہ ہے۔ شاید کل تک حاجی آجائیں۔
‫سلطان نے کہا… ''ہم ان کے استقبال کے لیے جائیں گے''… یہ کہہ کر اس نے ایک حاکم کو بال کر حکم دیا کہ حاجی
‫آرہے ہیں اور راستے میں کیچڑ اور پانی ہے۔ فورا ً آدمیوں کو بھیجو اور جس راستے سے حاجی آرہے ہیں‪ ،اس راستے سے
‫کیچڑ اور پانی صاف کردو۔ میں اس سے اجازت لے کرچال آیا۔ میں دیکھ رہاتھا کہ اس کا جوش وخروش اور اس کی مستعدی
‫…''ماند پڑ گئی تھی
‫دوسرے دن وہ گھوڑے پر سوار ہوکر حاجیوں کے استقبال کے لیے نکال۔ میں بھی گھوڑے پر سوار ہوکر اس کے پیچھے گیا۔''
‫اس کا بیٹا الملک االفضل بھی آگیا۔ لوگوں میں جنگل کی آگ کی طرح یہ خبر پھیل گئی کہ سلطان باہر آیا ہے۔ لوگ کام
‫کاج چھوڑ کر اٹھ دوڑے۔ وہ اپنے فاتح سلطان کو قریب سے دیکھنا اور اس سے ہاتھ بھی مالنا چاہتے تھے۔ جب سلطان
‫عقیدت مندوں کے اس بے صبر اور بے قابو ہجوم میں گھر گیا تو اس کے بیٹے الملک االفضل نے گھبراہٹ کے عالم میں
‫مجھے کہا کہ سلطان نے سواری واال لباس نہیں پہن رکھا۔ (یہ زرہ بکتر کی قسم کا لباس ہوا کرتا تھا‪ ،سلطان صالح الدین
‫ایوبی اس لباس کے بغیر کبھی باہر نہیں نکال تھا) ہمیں پریشانی ہوئی۔ سلطان کے ساتھ باڈی گارڈ بھی نہیں تھے۔ مجھ سے
‫رہا نہ گیا۔ ( سلطان ایوبی پر اس سے پہلے قاتالنہ حملے ہوچکے تھے‪ ،اب بھی حملہ ہوسکتا تھا) میں ہجوم کو چیرتا ہوا
‫سلطان تک پہنچا اور اسے کہا کہ آپ اپنے مخصوص لباس میں نہیں ہیں۔ وہ اس طرح چونکا جیسے نیند سے جگا دیا گیا ہو۔
‫اس نے کہا کہ میرا لباس یہیں الیا جائے مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا جو اسے لباس الدیتا۔ مجھے کچھ زیادہ ہی خطرہ
‫…''محسوس ہونے لگا
‫مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے کوئی حادثہ ہونے واال ہو۔ میں نے اسے کہا کہ میں یہاں کے راستوں سے واقف نہیں۔''
‫کیا کوئی ایسا راستہ ہے جہاں لوگ کم ہوں اور آپ واپس جاسکیں؟ اس نے کہا کہ ایک راستہ ہے۔ اس نے گھوڑا اس رخ کو
‫موڑ لیا۔ لوگوں کا ہجوم بے پناہ تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے گھوڑا باغوں کے درمیانی راستے پر ڈال دیا۔ میں اور الملک
‫االفضل اس کے ساتھ تھے۔ میرا دل بوجھل تھا۔ میں اس کی جان کو بھی خطرے میں محسوس کررہا تھا اور اس کی صحت
‫…''کو بھی۔ ہم المبینہ کے چشمے سے ہوتے ہوئے قلعے میں داخل ہوئے
‫جمعہ کی شام سلطان ایوبی نے غیرمعمولی کمزوری محسوس کی۔ آدھی رات سے ذرا پہلے اسے بخار ہوگیا۔ یہ صفرادی ''
‫بخاری تھا جسم کے اندر زیادہ تھا‪ ،باہر کم لگتا تھا۔ صبح (‪٢١فروری ‪١١٩٣ئ) وہ نقاہت سے نڈھال ہوچکا تھا۔ جسم کو ہاتھ
‫لگانے سے حرارت کم لگتی تھی۔ میں اسے دیکھنے گیا۔ اس کا بیٹا الملک االفضل اس کے پاس تھا۔ سلطان نے بتایا کہ اس
‫نے رات بڑی تکلیف میں گزاری ہے۔ اس نے ادھر ادھر کی باتیں شروع کردیں۔ ہم نے گپ شپ میں ان کا ساتھ دیا۔ اس
‫سے اس کی مزاجی شگفتگی بحال ہوگئی۔ دن کے دوسرے پہر تک وہ خاصا بہتر ہوگیا۔ ہم وہاں سے اٹھنے لگے تو اس نے
‫کہا کہ الملک االفضل کے ساتھ کھانا کھا کر جائیں۔میرے ساتھ قاضی الفضل بھی تھا۔ وہ کسی اور کے ہاں کھانا کھانے کا
‫عادی نہ تھا۔ وہ معذرت کرکے چال گیا۔ میں کھانے کے کمرے میں چال گیا۔ صالح الدین ایوبی سے رخصت ہوتے ہوئے مجھے
‫یوں لگا جیسے میں اپنا دل سلطان ایوبی کے پاس چھوڑ چال ہوں۔ کھانے کے کمرے میں گیا۔ دسترخوان بچھ چکا تھا۔ بہت
‫سے افراد بیٹھے تھے۔ الملک االفضل اپنے باپ کی جگہ بیٹھا تھا۔ بے شک االفضل صالح الدین ایوبی کا بیٹا تھا لیکن سلطان
‫کی جگہ بیٹے کو بیٹھا دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ کھانے پر جو لوگ بیٹھے تھے ان کی بھی جذباتی حالت میرے جیسی تھی۔
‫…''ان میں سے بعض کے تو آنسو نکل آئے
‫اس روز کے بعد سلطان ایوبی کی صحت بگڑتی چلی گئی۔ میں اور قاضی الفضل روزانہ کئی کئی بار اس کمرے میں جاتے ''
‫تھے‪ ،جہاں سلطان صالح الدین ایوبی بیمار پڑا تھا۔ اسے تکلیف میں ذرا سا بھی افاقہ ہوتا تو ہمارے ساتھ باتیں کرتا تھا‪ ،ورنہ
‫اکثر یوں ہوتا کہ وہ آنکھیں بند کیے پڑا رہتا اور ہم اسے دیکھتے رہتے۔ اس کی جان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ
‫اس کا طبیب خاص غیرحاضر تھا۔ ( قاضی بہائوالدین شداد نے یہ نہیں لکھا کہ طبیب خاص کہاں چال گیا تھا) سلطان کا عالج
‫…''چار طبیب مل کر کررہے تھے مگر مرض بڑھتا جارہا تھا
‫بیماری کے چوتھے روز چاروں طبیبوں نے فیصلہ کیا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے جسم سے خون نکال دیا جائے۔ اسی ''
‫وقت سلطان کی حالت زیادہ بگڑ گئی اور اس کے بعد اہم غدود بے کار ہوگئے۔ اس سے اس کے جسم میں اندر کی رطوبتیں
‫خشک ہونے لگیں۔ سلطان ایوبی نقاہت کی آخری حد تک جا پہنچا۔ چھٹے دن ہم نے اسے سہارا دے کر بٹھایا۔ اسے ایک
‫دوائی دی گئی جس کے بعد ہلکا گرم پانی پینا ضروری تھا۔ پانی الیا گیا۔ اسے ہلکا گرم ہونا چاہیے تھا۔ سلطان ایوبی کے
‫منہ سے پیالہ لگایا گیا تو اس نے کہا کہ پانی بہت گرم ہے۔اس نے نہ پیا۔ پانی ذرا ٹھنڈا کرکے الیا گیا تو سلطان ایوبی نے
‫کہا کہ یہ بالکل ٹھنڈا ہے۔ اس نے غصے یا خفگی کا اظہار نہ کیا۔ مایوسی کے لہجے میں اتنا ہی کہا… ''اوخدا! کوئی بھی
‫…نہیں جو مجھے ہلکا گرم پانی دے سکے
‫میری اور الفضل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ( دنیائے صلیب پر دہشت طاری کردینے واال انسان بالکل بے بس ہوگیا تھا)… ''
‫ہم دونوں دوسرے کمرے میں آگئے۔ قاضی الفضل نے کہا… ''قوم کتنے عظیم انسان سے محروم ہوجائے گی۔ بخدا اس کی جگہ
‫کوئی اور ہوتا تو پانی کا یہ پیالہ اس کے سر پر دے مارتا جو اس کی پسند کا پانی نہیں الیا تھا''… ساتویں اورا ٹھویں روز
‫صالح الدین ایوبی کی حالت اتنی زیادہ بگڑ گئی کہ اس کا ذہن بھٹکنے لگا۔ نویں روز اس پر غشی طاری ہوگئی۔ وہ پانی
‫بھی نہ پی سکا۔ شہر میں خبر پھیل گئی کہ سلطان ایوبی کی حالت تشویشناک ہوگئی ہے۔ تمام شہر پر موت کی اداسی
‫طاری ہوگئی۔ ہر جگہ اور ہر زبان پر اس کی صحت یابی کی دعائیں تھیں۔ تاجر اور سوداگر ایسے ڈرے کہ انہوں نے بازاروں
‫…''سے اپنا مال اٹھانا شروع کردیا۔ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا کہ ہر ایک فرد کس طرح اداس اور کتنا پریشان تھا

‫میں اور قاضی الفضل رات کا پہال پہر سلطان ایوبی کے پاس رہتے اور اسے دیکھتے رہتے تھے۔ وہ بول اور دیکھ نہیں سکتا''
‫تھا۔ باقی رات ہم باہرکھڑے رہتے۔ کوئی اندر سے آتا تو اس سے پوچھ لیتے کہ سلطان کی حالت کیسی ہے۔ ہم جب علی
‫الصبح وہاں سے باہر نکلتے تو باہر لوگوں کا ہجوم کھڑا دیکھتے۔ اب لوگ ہم سے یہ پوچھنے سے بھی ڈرتے تھے کہ سلطان
‫کی صحت کیسی ہے۔ وہ ہمارے چہروں سے جان لیتے تھے کہ سلطان کی حالت ٹھیک نہیں۔ ہجوم چپ چاپ ہمیں دیکھتا
‫اور ہم ہجوم کو دیکھ کر سر جھکا لیتے تھے… دسویں روز طبیبوں نے اسے انتڑیاں صاف کرنے والی دوا دی جس سے اسے
‫کچھ افاقہ ہوگیا۔ اس کے بعد جب سب کو پتہ چال کہ سلطان ایوبی نے جو کا پانی پیا ہے تو سب نے خوشی منائی۔ اس
‫رات ہم چند گھنٹے اس کے پاس جانے کا انتظار کرتے رہے لیکن محل میں چلے گئے جہاں جمال الدین اقبال بیٹھا تھا۔ اس
‫سے صالح الدین ایوبی کی حالت پوچھی۔ وہ اندر چال گیا اور توران شاہ سے پوچھ کر ہمیں بتایا کہ سلطان کے دونوں
‫پھیپھڑوں میں نمی اورہوا آنے جانے لگی ہے۔ ہم نے خدا کا شکر ادا کیا۔ ہم نے جمال الدین سے کہا کہ خود جاکر دیکھے کہ
‫باقی جسم پر پسینے کے آثار ہیں یا نہیں۔ اس نے اندر جاکر دیکھااور واپس آکر بتایا کہ پسینہ بہت آرہا ہے۔ یہ ایک
‫…''خوشخبری تھی۔ ہم سکون اور اطمینان سے چلے آئے
‫دوسرے دن جو منگل کا دن تھا‪ ،صفر کی ‪٢٦تاریخ اور سلطان صالح الدین ایوبی کی عاللت کا گیارہواں روز تھا‪ ،ہم سلطان ''
‫کو دیکھنے گئے۔ اندر نہ جاسکے۔ ہمیں بتایا گیا کہ پسینہ اس قدر زیادہ نکل رہا ہے کہ بستر میں سے ہوتا ہوا فرش پر ٹپک
‫رہا ہے۔ یہ خبر اچھی نہیں تھی۔ جسم کی رطوبت تیزی سے ختم ہورہی تھی… طبیبوں نے حیرت سے بتایا کہ جسم اندر سے
‫…''خشک ہوجانے کے باوجود سلطان کے جسم میں ابھی توانائی موجودہے
‫صالح الدین ایوبی کے بیٹے الملک االفضل نے دیکھا کہ سلطان کی صحت یابی کی کوئی امید نہیں رہی تو اس نے امراء ''
‫اور وزراء سے حلف وفاداری لینے کا فوری انتظام کیا۔ اس نے تمام قاضیوں کو رضوان محل میں بالیا اور انہیں کہا کہ نئے
‫حلف کا مسودہ تیار کریں جس میں صالح الدین ایوبی جب تک زندہ ہے‪ ،اس کی وفاداری کا حلف نامہ ہو اور ان کی وفات
‫کے بعد الملک االفضل کی وفاداری کا۔ االفضل نے معذرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا حلف نامہ کبھی تیار
‫…''نہ کراتا لیکن سلطان ایوبی کی حالت تشویشناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے
‫حلف نامہ تیار ہوگیا۔ دوسرے دن حلف اٹھانے کے لیے متعلقہ امراء اور وزراء کو بالیا گیا۔ سب سے پہلے دمشق کے گورنر ''
‫سعدالدین مسعود نے حلف اٹھایا۔ اس کے بعد نصرالدین آیا جو سہیون کاگورنر تھا‪ ،اس نے اس شرط پر حلف اٹھایا کہ جس
‫قلعے کا وہ گورنر ہے وہ سلطان ایوبی کی وفات کے بعد اس کی (نصرالدین کی) ذاتی ملکیت سمجھا جائے گا۔ تمام امرائ‪،
‫وزرا اور گورنروں نے حلف اٹھالیا۔ دو تین نے اپنی شرائط منوا کر حلف اٹھایا۔ حلف نامے کے الفاظ یہ تھے… ''اس لمحے
‫سے میں متحدہ مقصد کی خاطر الملک النصر ( صالح الدین ایوبی) کا وفادار رہوں گا جب تک کہ وہ زندہ ہے۔ اس کی
‫حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے ان تھک اور مسلسل کوشش کرتا رہوں گا۔ اس کی خاطر اپنی جان‪ ،اپنا مال‪ ،اپنی تلوار اور
‫اپنی فوج اور اپنی رعایا کو وقف کیے رکھوں گا۔ میں اس کا ہر حکم مانوں گا اور اس کی ہر خواہش کی تکمیل کروں گا اور
‫اس کے بعد االفضل کے بیٹوں کے لیے۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اس کے احکام کی تعمیل کروں گا۔ اس کے لیے میں
‫…''اپنی جان‪ ،اپنا مال‪ ،اپنی تلوار اور اپنی فوج کو وقف کیے رکھوں… میں اپنے حلف وفاداری میں خدا کو گواہ ٹھہراتا ہوں
‫حلف نامے کی دوسری شق یہ تھی… ''اگر میں اپنے حلف کی خالف ورزی کروں تو میں حلفیہ تسلیم کرتا ہوں کہ صرف ''
‫اس خالف ورزی کی بنا پر میری بیویاں مطلقہ ہوجائیں ( یعنی بیویاں میری نہیں رہیں گی) اور مجھے تمام ذاتی اور سرکاری
‫خادموں سے محروم کردیا جائے
‫…''گا اور مجھے الزم ہوگا کہ میں ننگے پائوں یا پیادہ حج کعبہ کو جائوں
‫‪٢٦صفر ‪٥٨٩ہجری (‪٣مارچ ‪١١٩٣ئ) منگل کی شام تھی اور سلطان صالح الدین ایوبی کی بیماری کا گیارہواں روز۔ اس کی ''
‫توانائی بالکل ختم ہوگئی اور امید دم توڑ گئی۔ رات کو ایسے وقت مجھے قاضی الفضل اور ابن ذکی کو بالیا گیا جس وقت
‫سے پہلے کبھی نہیں بالیا گیا تھا۔ وہ قانون‪ ،علم اور سائنس کا عالم تھا۔ صالح الدین ایوبی کا بہت احترام کرتا تھا۔ جب
‫اقصی میں پہلے جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے سلطان ایوبی نے اسی کو منتخب کیا
‫سلطان ایوبی نے یروشلم فتح کیا تو مسجد
‫ٰ
‫…''تھا۔ بعد میں اسے دمشق کا قاضی مقرر کردیا گیا تھا
‫ہم گئے تو الملک االفضل نے کہا کہ ہم تینوں ساری رات اس کے ساتھ رہیں۔ وہ سوگوار تھا اور گھبرایا ہوا بھی۔ قاضی ''
‫الفضل نے اعتراض کیا اور کہا رات بھر لوگ باہر کھڑے سلطان کی صحت کی خبر سننے کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر ہم ساری
‫رات اندر رہے تو وہ کچھ اور سمجھ لیں گے اور شہر میں غلط خبر پھیل جائے گی۔ االفضل سمجھ گیا۔ اس نے کہا کہ ہم
‫لوگ چلے جائیں۔ ہمارے بجائے اس نے امام ابوجعفر کو اس مقصد کے لیے بال لیا کہ اگر رات کو صالح الدین ایوبی پر نزع
‫کا عالم طاری ہوگیا تو امام اس کے سرہانے قرآن پڑھے گا۔ ہم وہاں سے آگئے''۔
‫اس کے بعد امام ابوجعفر نے سلطان صالح الدین ایوبی کی آخری رات کی جو روئیداد سنائی‪ ،وہ میں تحریر کرتا ہوں۔ اس''
‫نے بتایا کہ اس نے سلطان کے سرہانے قرآن خوانی کی۔ اس دوران سلطان پرکبھی غشی طاری ہوجاتی‪ ،کبھی ہوش میں آجاتا
‫اورکبھی اس کا ذہن بھٹک جاتا۔ آدھی رات کے بعد ‪٢٧صفر ‪٥٨٩ہجری (‪٤مارچ ‪١١٩٣ئ) کی تاریخ شروع ہوچکی تھی۔ امام ابو
‫جعفر نے بتایا… ''میں بائیسویں پارے کی سورٔہ الحج پڑھ رہا تھا۔ میں نے جب پڑھا… ''خدا ہی قادر مطلق ہے‪ ،برحق ہے
‫اور وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے''… تو میں نے سلطان صالح الدین ایوبی کی نحیف سی
‫سرگوشی سنی۔ وہ کہہ رہا تھا… ''یہ سچ ہے۔ یہ سچ ہے''… یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔ اس کے فورا ً بعد صبح کی اذان
‫سنائی دی۔ میں نے قرآن پاک بند کردیا۔ اذان ختم ہوتے ہی سلطان صالح ا لدین ایوبی نہایت سکون اور اطمینان سے اپنے
‫خالق حقیقی سے جامال''… امام ابوجعفر نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اذان شروع ہوئی تو وہ ایک آیت پڑھ رہا تھا… ''اللہ
‫کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں''… تو سلطان ایوبی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس کا چہرہ د
‫…''مک اٹھا اور وہ اسی کیفیت میں اپنے خدا کے حضور گیا
‫میں جب پہنچا اس وقت صالح الدین ایوبی فوت ہوچکا تھا۔ خلفائے راشدین کے بعد اگر قوم پر کوئی کاری ضرب پڑی ہے''
‫تو وہ سلطان ایوبی کے انتقال کی تھی۔ قلعے‪ ،شہر‪ ،وہاں کے لوگوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر غم کی ایسی گھٹا چھا گئی
‫جو صرف خدا جانتا ہے کہ کتنی گہری تھی۔ میں نے لوگوں کو اکثر کہتے سنا ہے کہ انہیں جو شخص سب سے زیادہ عزیز
‫ہے‪ ،اس کے لیے وہ اپنی جان قربان کردیں گے لیکن میں نے کبھی کسی کو کسی کے لیے جان قربان کرتے نہیں دیکھا۔ البتہ
‫میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سلطان ایوبی کی زندگی کی آخری رات ہم سے کوئی پوچھتا کہ سلطان ایوبی کی جگہ کون
‫…''مرنے کو تیار ہیں تو ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی جانیں قربان کرکے سلطان ایوبی کوزندہ رکھتے

‫اس روز شہر میں جسے دیکھا بے ا ختیار آنسو بہاتے دیکھا۔ لوگ رونے کے سوا کچھ اور سوچتے ہی نہیں تھے۔ کسی '' ‪:
‫شاعر کو مرثیہ سنانے کی اجازت نہ دی گئی۔ کسی امام‪ ،کسی قاضی اورکسی عالم نے لوگوں کو صبر کی تلقین نہ کی۔ وہ
‫خود رو رہے تھے‪ ،ہچکیاں لے رہے تھے۔ صالح الدین ایوبی کے بچے روتے چیختے‪ ،گلیوں میں نکل گئے۔ انہیں روتا دیکھ کر
‫لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے تھے… ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ اس وقت سلطان ایوبی کی میت کو آخری غسل دے کر کفن
‫پہنایا جاچکا تھا۔ غسل عدالت کے ایک اہلکار الدالئی نے دیا تھا۔ غسل کے لیے مجھے کہا گیاتھا مگر میرا دل اتنا مضبوط نہ
‫تھا۔ میں نے انکار کردیا۔ میت باہر الکر رکھی گئی۔ جنازے پر جو کپڑا ڈاال گیا وہ قاضی الفضل نے دیا تھا۔ جب جنازہ لوگوں
‫کے سامنے رکھا تو مردوں کے دھاڑوں اور عورتوں کی چیخوں سے آسمان کا جگر چاک ہونے لگا۔ دمشق کی عورتوں کے بین
‫…''سنے نہیں جاتے تھے
‫قاضی محی الدین ابن ذکی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ میں کچھ نہیں بتا سکتا کہ جنازے میں کتنے لوگ تھے۔ البتہ یہ بتا ''
‫سکتا ہوں کہ سب نماز جنازہ میں کھڑے تھے مگر نماز پڑھنے کے بجائے سب ہچکیاں لے رہے تھے اور بعض بے قابو ہوکر
‫دھاڑیں مار اٹھتے تھے۔ اردگرد عورتوں کا بے انداز ہجوم بین کررہا تھا۔ نمازجنازہ کے بعد میت باغیچے کے اس مکان میں
‫رکھی گئی جہاں مرحوم نے عاللت کے دن گزارے تھے۔ عصر سے کچھ دیر پہلے سلطان ایوبی کو قبر میں اتار دیا گیا۔ لوگ
‫گھروں کو واپس گئے تو یوں لگتا تھا جیسے الشوں کا ہجوم چال جارہا ہو۔ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ قبر پر قرآن خوانی
‫…''کرتا رہا
‫بہائوالدین ابن شداد نے یہ یادداشتیں خلیفہ کی اجازت سے قلم بند کی ہیں اور اس تحریر کو الملک النصر ابو ظفر یوسف ''
‫ابن نجم ایوب صالح الدین ایوبی کی وفات پر ختم کیا ہے۔ خدا اس پر رحمت فرمائے۔ اس تحریر سے میرا مقصد خدا کی
‫خوشنودی ہے اور میرا مقصود یہ بھی ہے کہ اسے یاد رکھو جو نیک تھا اور صرف نیکی پر دھیان رکھو''۔
‫ان یادداشتوں کے بعد یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ سلطان ایوبی کی ایک خواہش یہ تھی کہ فلسطین کو صلیبیوں سے پاک
‫کریں۔ اس کی یہ خواہش پوری ہوگئی۔ اس کی دوسری خواہش یہ تھی کہ فتح فلسطین کے فریضہ کے بعد فریضٔہ حج ادا کرے
‫مگر اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ بیماری نہیں تھی بلکہ یہ کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔ اس
‫کی ذاتی جیب خالی تھی۔ بالل نو کی درانتی سے فصل صلیبی کاٹنے واال مرد مجاہد‪ ،مصر‪ ،شام اور فلسطین کا سلطان جس
‫کے قدموں میں سلطنت کے خزانے تھے‪ ،وہ اتنا غریب تھا کہ حج کو نہ جاسکا اور اسے جو کفن پہنایا گیا تھا۔ وہ قاضی
‫بہائوالدین شداد‪ ،قاضی الفضل ابن ذکی نے درپردہ پیسے جمع کرکے خریدا تھا… آج فلسطین صالح الدین ایوبی کا ماتم اسی
‫طرح کررہا ہے جس طرح ‪٤مارچ ‪١١٩٣ء کے روز دمشق کی بیٹیوں نے بین کیے تھے۔
‫ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‫ضرورت اس امر کی ہےکہ انتظار سلطان محمود غزنوی رحمت اللہ علیہ سے بہتر ہے اپنے اندر وہ ایمان ‪،تقوی ‪،جرآت ہو
‫ہم کٹ تو جائیں لیکن جھک نہ سکیں۔ اللہ تعالی ہمارا خاتمہ بل خیر ایمان پر کرے اور ہمیں غزوہ الہند کے مجاہدین میں
‫شامل فرمائے ۔ آمین
‫اس کے ساتھ ہی داستان ایمان فروشوں کی تاریخ کا باب ختم ہوا جاتا ہے۔ اس ناول کی پانچ جلدیں تھیں